اس سے پہلے دیہات میں اقامت جمعہ کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے میں نےمسلک حنفی کی جو تعبیر پیش کی ہے اس کے متعلق میرے پاس دو بزرگوں کی تحریریں آئی ہیں جو بجنہ درج ذیل ہیں :-
(۱) "جمعہ فی القریٰ کے متعلق صرف یہ عرض کرنا ہے کہ اصل مسئلہ میں تو کافی گنجائش ہے۔ آخر سوائے حنفیہ کے دوسرے حضرات کا مسلک یہی ہے۔ لیکن حنفیہ کے مذہب کی یہ تعبیر سمجھ میں نہیں آئی۔اہل قرمئی پر جمعہ کی عدم فرضیت ان کا کھلا ہوا مسلک ہے۔ اس کےمتعلق اگر کوئی خاص تحقیق ہو تو بشرط فرصت مطلع فرمائیں۔
(۲) ”جمعہ اور اس کے خطبات اور دیہات میں جمعہ فرض ہونے کا جو فتویٰ دیا ہے وہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اور ہماری سمجھ میں مذاہب اربعہ میں سے کسی مذہب پر منطبق نہیں، کیونکہ ہر مذہب میں جمعہ کے لیے کچھ کچھ شرائک ہیں ۔ موجودہ غیر مقلدین کی رائے البتہ وہی ہے جو مدیر ترجمان القرآن نے اختیار کی ہے۔"
اس باب میں کچھ عرض کرنے سے پہلے ایک بات صاف کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ میری حیثیت ایک معاند کی نہیں ہے جو دلائل شرعیہ سے بے پروا ہو کر محض اپنی رائے سے امور دینی میں ایک مسلک اختیار کر لیتا ہو اور اہل علم کی حجتوں کا جواب مکابرہ سےدیتا ہو بلکہ میں ایک طالب علم ہوں۔اپنی جد استطاعت تک مسائل کی تحقیق کرنےکے بعد جس نتیجه پر پہنچتا ہوں اس کا اظہار بے کم و کاست کر دیتا ہوں ۔ اور اگر میری رائےکے خلاف حجت قائم ہو جائے تو اس سے رجوع کے لیے بھی ہر وقت تیار رہتا ہوں۔جمعہ فی القریٰ کا مسئلہ چھیڑنے سے میرا مقصد کسی نئے فتنے کا دروازہ کھولنا نہیں ہے۔ دراصل حالات زمانہ کو دیکھتے ہوئے میں محسوس کر رہا ہوں کہ اس وقت اس مسئلے کی چھان بین کر کے صحیح شرعی حکم معلوم کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اس لیے میں نے علمائے کرام کو اس طرف توجہ دلائی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جن بزرگوں کو اللہ نے علم شریعت دیا ہے وہ بھی مسئلے کی اہمیت کو محسوس فرما ئیں اور اپنی تحقیق سےمجھے اور عام مسلمانوں کو استفادہ کا موقع دیں ۔البتہ چونکہ مسئلے کو چھیڑنے کا باعث میں خود ہوں اس لیے اپنی تحقیق کو واضح طور پر بیان کرنا مجھ پر لازم ہے۔
جمعہ فی القرنی کے مسئلے پر اس سے پہلے جو بحث کی گئی تھی اُس کی بنا چونکہ زیادہ تر آثار وسنن اور قیاس شرعی پر رکھی گئی تھی، اس وجہ سے غالباً بعض حضرات کو یہ محبہ ہوا کہ میں مسلک حنفی کا مخالف ہو کر خود ایک مجتہدانہ ( جسے عرف عام میں غیر مقلدانہ کہا جاتا ہے)رائے ظاہر کر رہا ہوں۔ لہذا اب میں چاہتا ہوں کہ صرف مسلک حنفی کے مطابق اپنےدلائل بیان کروں۔
تمام علمائے امت کا اس امر پر اجماع ہے کہ جمعہ فرضِ عین ہے ۔ فقہائے حنفیہ بھی اس اجتماع میں شریک ہیں۔ چنانچہ علامہ سرخسی اپنی کتاب " المبسوط میں لکھتے ہیں:۔
"ہم نے فرضیت کے باب میں ایک طرح کے طول کلام سےاس لیےکام لیا ہے کہ بعض جاہلوں کے متعلق سننے میں آیا ہے کہ وہ جمعہ کی عدم فرضیت کا خیال مذہب حنفی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اُن کی یہ غلط فہمی در اصل قدری کے اس قول سے ہوئی جس پر ہم آگے چل کر بحث کریں گے کہ جس نے جمعہ کے روز بغیر کسی عذر کے گھر ہی پر ظہر کی نماز پڑھ لی اس کی نماز تو ہو گئی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے ۔ اس قول میں مکروہ سے مراد در اصل حرام ہے اور نماز ظہر کےصحیح ہو جانے کا جو مطلب ہےوہ ہم آگےبیان کریں گے ۔ بہر حال ہمارے اصحاب (حنفیہ ) نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ جمعہ کی فرضیت ظہر کی فرضیت سےبھی زیادہ سخت ہے، اور یہ کہ جمعہ کا منکر کافر ہے“ ۔ (ص ۴۰۸)
ہم کو اقامت جمعہ کی خاطر نماز ظہر چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور ظہر لامحالہ فرض ہے، اور فرض صرف اسی چیز کے لیے چھوڑا جا سکتا ہے جو اس سے زیادہ فرض ہو ۔ ( جلد اول ص ۴۰۸)
ان اقوال سے معلوم ہوا کہ نماز جمعہ استنباطی اور اجتہادی واجبات میں سے نہیں ہے بلکہ نصوص صریحہ نے اس کو مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور اس کی فرضیت اس نوع کی ہےکہ اس سے (یعنی اس کی فرضیت سے ) انکار انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے فرض کو مسلمانوں کے کسی گروہ پر سے ساقط کرنے میں سخت احتیاط اور خشیت کی ضرورت ہے۔
اوّل تو فرض منصوص کو صرف نص ہی ساقط کر سکتی ہے۔ کسی انسان کا قول اس درجہ کی حجت نہیں ہے کہ اس کی بنیاد پر اُسے ساقط کیا جاسکے۔
دوسرے اگر کسی امام یا فقیہ کے کسی قول سے اس کے اسقاط کا پہلو نکلتا ہو تو نہایت احتیاط کے ساتھ یہ تحقیق کرنا چاہیے کہ قائل کا مدعا حقیقت میں ہے کیا ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جن حالات اور جن وجوہ سے اس نے یہ پہلو اختیار کیا تھا وہ اپنی جگہ درست ہوں، اور ہم وجوہ و احوال سے صرف نظر کر کے مجرد اس کے الفاظ کی پیروی کرنے میں غلطی کر رہے ہوں؟
پھر کسی فرض کو کسی حال یا مقام پر غیر فرض قرار دینے میں جتنی احتیاط کی ضرورت ہے اُس سے بدرجہا زیادہ احتیاط کی ضرورت اُسے ممنوع اور حرام اور گناہ قرار دینے میں برتنی چاہیے ۔ فرض منصوص اور حرمت و معصیت کے درمیان بہت بڑی مسافت ہے اس مسافت کو قطع کرنے کے لیے بڑی محکم سواری کی ضرورت ہے۔ کمزور سواریوں کے بل پر. اس راہ میں آگے بڑھنا خطر ناک ہے۔
اب دیکھنا چاہیے کہ جمعہ کی وہ شرائط جن کے فقدان سے فرض کے سقوط کا حکم لگایا جا سکتا ہے کون کون سی ہیں، اور ان کی کیا نوعیت ہے۔
حنفیہ کے نزدیک جمعہ کی شرائط دو قسم کی ہیں: ایک وہ جو مصلی کی ذات میں پائی جانی چاہئیں ۔ دوسری وہ جو خارج میں متحقق ہونی چاہئیں۔
پہلی قسم کی شرائط یہ ہیں کہ مصلی مقیم ہو مسافر نہ ہو آزاد ہو مملوک نہ ہو ۔ مرد بالغ ہو بچہ یا عورت نہ ہو صحیح و تندرست ہو بیمار یا معذور نہ ہو ۔ (المبسوط جلد دوم ص۲۲)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہو اس پر جمعہ فرض ہے ۔ مگر مسافر غلام بچہ عورت اور مریض اس سے مستثنیٰ ہیں ۔
یہ رعایت جو مسافروں غلاموں، عورتوں اور مریضوں کے ساتھ کی گئی ہے اس کےمعنی صرف یہی ہیں کہ اگر یہ جمعہ میں شریک نہ ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ کسی شخص نے بھی اس کا یہ مطلب نہیں سمجھا کہ ان کے لیے نماز جمعہ ممنوع ہے۔ نہ کسی نے یہ کہا کہ اگر وہ شریک جمعہ ہوں تو ترک ظہر کی وجہ سے گنہگار ہوں گے ۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عورتیں جمعہ کے لیے حاضر ہوتی تھیں ۔ غلام بھی شریک ہوتے تھے ۔ اندھوں کو بھی اگر کوئی ہاتھ پکڑ کر پہنچا دینے والا مل جاتا تو وہ گھر نہ بیٹھے رہتے تھے ۔ ان میں سے کسی شخص سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تم پر سے جمعہ کا فرض ساقط ہو گیا' تم کو جمعہ کے بجائے ظہر پڑھنی چاہیے ورنہ ترک ظہر کی وجہ سے گنہ گار ہو گے ۔ علامہ سرخسی لکھتے ہیں :-
"یہ وجوب کی شرائط ہیں نہ کہ ادا کی شرائط ۔ اگر مسافر اور غلام اور عورت اور مریض نماز جمعہ میں شریک ہو جائیں تو جائز ہوگا۔حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ عورتیں رسول اللہ کےساتھ جمعہ پڑھتی تھیں اور ان سےکہا جاتا تھا کہ خوشبو لگا کر نہ آیا کرو۔ ان لوگوں سےفرض کےسقوط کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس نماز میں کوئی ایسی بات ہے جو ان کی شرکت سے مانع ہو۔ بلکہ صرف ان کو تکلیف سے بچانے کے لیے مستقلی کیا گیا ہے۔ اگر یہ اس تکلیف کو برداشت کر لیں تو پھر اداء نماز میں یہ بھی دوسرےلوگوں کے ساتھ مساوی ہوں گے“ ۔ ( ج ۲ ص ۲۳)
دوسری قسم کی شرائط کو شرائط ادایاشرائط صحت قرار دیا گیا ہےیعنی اگریہ نہ ہوں تو جمعہ ادا ہی نہ ہوگا یہ چھ شرطیں ہیں۔مصر وقت،خطبہ جماعت سلطان اذنِ عام اِن میں سےپہلی شرط یعنی مصر کی شرط ہی یہاں زیر بحث ہےلیکن اس پرکلام کرنےسےپہلےیہ تحقیق کرنا ضروری ہےکہ بجائےخود ان شرائط کی نوعیت کیا ہے؟
ان میں سے بعض شرائط ایسی ہیں جو نصوص قولی و عملی سے صریحاً ثابت ہیں، مثلاً وقت کہ اس کا وقت ظہر ہونا ثابت ہے۔ اسی طرح خطبہ بھی صریحاً شرط جمعہ ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خطبہ کے بغیر جمعہ نہیں پڑھا اورقرآن میں بھی اسکی طرف اشارہ موجود ہےاسی طرح جماعت کابھی شرائط جمعہ میں سےہونا ثابت ہے اور اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ اختلاف جو کچھ بھی ہوا ہے مقدار جماعت میں ہوا ہے۔ اذنِ عام بھی رسول اکرم اور صحابہ اور ائمه کےمتواتر عمل سےثابت ہےاور اہم مصالح شرعیہ اسکی مقتضی ہیں۔
بخلاف اس کے مصر اور سلطان کی شرائط ایسی ہیں جن کا ماخذ کوئی نص صریح نہیں ہے بلکہ زیادہ تر ان کا مدار استنباط و اجتہاد پر ہے اور اسی لیے ان کا شرط ادا ہونا بھی مختلف فیہ ہے۔
. . . پس جس نے جمعہ کو ایک معمولی چیز سمجھ کر اور اس کے حق کو ہلکا جان کر چھوڑ دیا در آنحالیکہ اس کا کوئی ظالم یا عادل امام موجود ہو تو خدا اسکی پراگندگی کو دُور نہ کرے۔جان رکھو کہ نہ اس کی نماز درست نہ اس کا روزہ درست جب تک کہ وہ تو بہ نہ کرے۔ اگر تو بہ کرے گا تو اس کی تو بہ اللہ قبول کرے گا۔
لیکن اُوپر کی حدیث اور یہ اثر دونوں اس باب میں ناطق نہیں ہیں کہ امام یا سلطان کےبغیر اقامت جمعہ جائز ہی نہیں ہے۔ حدیث سے تو صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں اسلامی نظام جماعت قائم ہو وہاں جمعہ کو ترک کرنا اور بھی زیادہ شدید گناہ ہے۔اس کی مثال ایسی ہےجیسے کوئی کہے کہ جس نے مسجد میں چوری کی اس پر خدا کی لعنت۔اس کےیہ معنی نہیں ہیں کہ اس شخص کے نزدیک چوری کا حرام ہونا اس شرط کےساتھ مشروط ہے کہ اسکا ارتکاب مسجد میں ہو بلکہ دراصل وہ ارتکاب فی المسجد کو ایک مزید وجہ شناعت کی حیثیت سے بیان کر رہا ہے۔بالکل اسی طرح حضور نےبھی امام المسلمین کی موجودگی یا بالفاظ دیگر اسلامی نظام جماعت کی موجودگی کو ترک جمعہ کےلیےایک اور سبب مردود نت کی حیثیت سےبیان فرمایا ہے۔یہی وجہ ہےکہ دوسری احادیث جن میں فرضیتِ جمعہ کی تاکید آئی ہےامام کےذکر سےخالی ہیں، اور دوسری احادیث میں تارک جمعہ کو جتنی تو یخ کی گئی ہےاس حدیث میں اس سےزیادہ تو یخ پائی جاتی ہےاسی طرح وہ اثر بھی جو ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے جمعہ کے لیے سلطان کے اشتراط پر دال نہیں ہے۔ اس میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ چار چیزوں کا اہتمام سلطان کو کرنا چاہیے جن میں سے ایک اقامت جمعہ و عیدین ہے۔ اس سے یہ مطلب کیونکر نکالا جا سکتا ہے کہ اگر سلطان نہ ہو تو یہ کام بندر ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ لڑکی کی شادی کرنا باپ کا کام ہے تو اس کا یہ مطلب نہ ہوگا کہ باپ نہ ہو تو لڑکی بیٹھی رہے۔
لیکن "مصر جامع" کی کوئی تعریف کسی نص سے ماخوذ نہیں ہے۔ میں نے حتی الامکان پوری جستجو کی، مگر مجھےابھی تک کسی حدیث یا کسی اثر سے یہ نہ معلوم ہو سکا کہ مصر کی حد کیا ہے۔ فقہائے حنفیہ کی کتابوں میں مصر کی جو تعریفات بیان ہوئی ہیں ان میں سے کسی میں بھی کسی حدیث یا اثر کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
یہ ہے ان دونوں شرطوں کا حال اور یہی وجہ ہے کہ ان کے شرائط صحت دادا ہونے میں کلام کیا جا سکتا ہے اور کیا گیا ہے۔ خود علمائے احناف نے وقتاً فوقتاً ان شرائط میں ترمیمیں کی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلک حنفی میں اتنی گنجائش ہے کہ حسب موقع وضرورت ان میں قواعد شرعیہ کو لوظ رکھ کر مزید ترمیم کی جاسکے۔
سب سے پہلے سلطان کی شرط کو لیجیے۔ امام شافعی نے تو اس کے شرط جمعہ ہونےسے ابتدا ہی میں انکار کر دیا تھا،مگر خود فقہائےحنفیہ بھی بعد میں اس شرط کے اسقاط پر مجبور ہو گئے۔جب تک ایسےسلاطین و امراء برسراقتدار ر ہے جو کسی حد تک اپنےفرائض دینی کا احساس رکھتےتھےاس وقت تک تو حنفیہ کو اپنےساتھ اس فتوےمیں بظاہر کوئی قباحت نظر نہ آئی کہ جمعہ کی اقامت اذن سلطان کےساتھ مشروط ہےاور سلطان کے بغیر اقامت جمعہ جائز نہیں۔مگر جب دین سےغافل حکام و سلاطین کادور آیا تو فقہاء نےمحسوس کیا کہ شرط سلطان نےایک دینی فرض کو دنیوی سلاطین کی مرضی پرموقوف کر دیا ہےحتی کہ اگر وہ نہ چاہیں تو فرض ہی ساقط ہوا جاتا ہے۔ اس لیے انھوں نےفیصلہ کیا کہ اگر حکام غفلت برتیں تو جمعہ مسلمانوں کی باہمی رضامندی پر قائم کیا جائے ۔ پھر وہ دور آیا جب اسلامی ممالک پر کفار مسلط ہونے لگے اور بڑی بڑی اسلامی آبادیاں سلطانِ اسلام سے کلیتہ محروم ہو گئیں ۔ اس وقت فقہا کو یہ فتویٰ دینا پڑا۔
١- واضح رہے کہ یہ حدیث حضرت علی کے واسطے سے مرفوعاً روایت ہوئی ہے۔ مگر امام احمد کہتےہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ (نیل الاوطاری، ج ۳، ص ۱۹۸)
رہے وہ ممالک جن پر کافر حکام مسلط ہیں، تو ان میں مسلمانوں کےلیے اقامت جمعه وعیدین کا خود انتظام کر لینا جائز ہےاور وہاں مسلمانوں کی باہمی رضامندی سےجو قاضی مقرر ہو وہ قاضی ہو سکتا ہےاور ان پر مسلمان حاکم کی طلب واجب ہے۔
اس طرح وہی شرط جو پہلے شرط ادا کبھی گئی تھی، شرط وجوب بھی نہ رہی اور تحقیق سےمعلوم ہو گیا کہ سلطان اسلام کی موجودگی سرے سے شرط جمعہ ہی نہیں ہے۔
یہیں سے نبی اور مجتہد کا فرق واضح ہوتا ہے۔ نبی کی بصیرت براہ راست علم الہی سے مستفاد ہوتی ہے اس لیے کہ اس کےاحکام تمام از منہ واحوال کےلیے مناسب ہوتےہیں۔ مگر مجتہد خواہ کتنا ہی باکمال ہو زمان و مکان کے تعینات سے بالکل آزاد نہیں ہو سکتا نہ اس کی نظر تمام از منہ احوال پر وسیع ہو سکتی ہے لہذا اس کے تمام اجتہادات کا تمام زمانوں اور تمام حالات کے مطابق ہونا غیر ممکن ہے۔
جن لوگوں کو اللہ نےتفقه فی الدین کی نعمت سے نوازا تھا وہ چوتھی صدی ہجری کےبعد بھی اس راز کو سمجھتےتھےاور تغیر احوال کےساتھ اپنے مذہب فقہی کے جزوی احکام میں مناسب ترمیم کر دیتےتھے اور ان کی ترمیمات اجتہادی ترمیمات ہونے کےباوجود اُسی مذہب کا ایک جزو بن جاتی تھیں جس کےوہ متبع ہوتےتھے۔ مگر افسوس کہ دور انحطاط کےلوگ امام کی نص کو خدا اور رسول کی نص کی طرح محکم اور اٹل سمجھنے لگے اور انھوں نے اس بات کو گناہ سمجھ لیا کہ مجتہد کے کسی قول پر جو فتویٰ مبنی ہو اس میں تغیر احوال کے ساتھ کوئی ترمیم کی جائےخواہ اس سےخدا اور رسول ہی کا کوئی حکم منصوص کیوں نہ ساقط ہو جائےچنانچہ اس قسم کےبعض فقہاء جامد نےانگریزی تسلط کےبعد ہندوستان میں فتوےدینےشروع کر دیےتھےکہ اب یہاں اقامت جمعہ جائز نہیں کیونکہ سلطان اسلام کے اُٹھ جانےسے اقامت جمعہ کی ایک شرط مفقود ہو گئی ہے۔ مگر خوش قسمتی سے اس وقت ہندوستان میں ایسے علماء بھی موجود تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے علم حق سے سرفراز فرمایا تھا۔ انھوں نے اٹھ کر سختی کے ساتھ اس تحریک کی مخالفت کی حتیٰ کہ مولانا عبدائی فرنگی محلی نے زیادہ درشت الفاظ میں یہاں تک لکھ دیا :-
اس میں شک نہیں کہ بلادِ ہند میں جہاں نصاریٰ کا غلبہ ہو گیا ہے اور انھوں نے کافر حکام مقرر کر دیے ہیں، جمعه واجب ہے اور مسلمانوں کے باہمی اتفاق اور رضامندی سے اس کو ادا کرنا درست ہے۔ جس کسی نے سقوط جمعہ کا فتویٰ دیا وہ خود بھی گمراہ ہوا اور اس نےدوسروں کو بھی گمراہ کیا۔
اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تمام ہندوستان کے حنفی عالم اور عامی سب اس ملک میں جمعہ پڑھ رہے ہیں (١) حالانکہ ہدایہ کی یہ عبارت اب بھی پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے کہ الاتجُورُ إِقَامَتُهَا إِلَّا لِسُلْطَانٍ أو لِمَنْ آمَرَهُ السلطان- (٢) اگر احوال کے لحاظ سےمجتہدین کےاحکام میں جزوی ترمیم کرنا بھی غیر مقلدیت ہے تو ایسی غیر مقلدیت میں تمام احناف ہند پہلے مبتلا ہو چکے ہیں ۔
شرط سلطان کی طرح شریا مصر کو بھی امام شافعی اور امام مالک نے تسلیم کرنے سےانکار کر دیا ہے۔ یہ امر تو متفق علیہ ہے کہ جنگوں اور خیموں اور عارضی فرودگاہوں میں جمعہ قائم کرنا درست نہیں۔ یہ امر بھی متفق علیہ ہے کہ جمعہ کے لیے ایک نوع کا تمدن ضروری ہے۔مگر اس امر میں اختلاف ہےکہ جمعہ کتنی بڑی بستی میں قائم کیا جا سکتا ہے۔ امام شافعی فرماتےہیں کہ جس جگہ کم از کم چالیس آدمیوں کی مستقل بستی ہو ( یعنی وہ گرمی جاڑے میں مہاجرت نہ کرتے رہتے ہوں) وہ مقام اقامتِ جمعہ کا ہےامام مالک کے نزدیک چالیس آدمیوں سے کم کی بستی میں بھی ! قامت جمعہ ہو سکتی ہے مگر حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ اقامت جمعہ کےلیے "مصر جامع" ہونا چاہیے۔
اس میں شک نہیں کہ "مصر جامع " کا لفظ حدیث میں آیا ہے مگر جیسا کہ میں اوپر عرض کر چکا ہوں، اس کی کوئی حد نہ اس حدیث میں مذکور ہےنہ کسی دوسری مرفوع یا موقوف روایت میں۔اسی لیےاس میں اجتہاد کی گنجائش ہے اور اجتہاد ہی سے مختلف زمانوں میں مختلف حدیں مقرر کی گئی ہیں، حتیٰ کہ ایک ہی امام نے مختلف اوقات میں اسکی مختلف حدیں بیان کی ہیں۔
١- حقیقت یہ ہے کہ اگر اس وقت خدانخواستہ یہ غلطی جڑ پکڑ گئی ہوتی تو آج ہم اپنے بڑے بوڑھوں ہی سےیہ سنتے کہ اس ملک میں کبھی نماز جمعہ بھی ہوا کرتی تھی۔
٢- اور جائز نہیں ہے جمعہ کا قائم کرنا سوائے سلطان کے یا ایسے شخص کے جس کو سلطان نے حکم دیا ہو۔
ا۔ مصر جامع وہ ہےجہاں امیر اور قاضی احکام اسلامی کی تنفیذ اور حدود شرعی کی اقامت کرتا ہو ۔امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی ایک قول اسی مضمون کا منقول ہے۔ اور کرخی وغیرہ فقہاء نے اس کو اختیار کیا ہے۔
٢- مصر وہ مقام ہے جس کے باشندے (یعنی وہ لوگ جن پر جمعہ فرض ہے ) اگر سب کے سب وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں جمع ہو جائیں تو وہ ان کے لیے کافی نہ ہو اور ایک دوسری مسجد بنانے کی ضرورت پڑ جائے ۔ اس رائے کو ابن شجاع نےپسند کیا ہے۔ اور ابوعبدالله الجی نے بھی اس کو اختیار کیا ہے۔
٣- مصر وہ جگہ ہے جہاں کم از کم دس ہزار کی آبادی ہو ۔
ظاہر ہے کہ یہ تینوں تعریفیں ایک دوسرے سےمختلف ہیں، اور ایک ہی امام نے ان کو مختلف اوقات میں اختیار کیا ہے۔ پھر بعد کےمختلف فقہاء نے اپنی پسند کےمطابق ان میں سے بعض کو ر ڈ اور بعض کو قبول کیا حالانکہ وہ مجتہد مطلق نہ تھے ۔
"مصر وہ ہے جہاں سڑکیں اور بازار ہوں محلے ہوں، کوئی والی ظالم سے مظلوم کا انصاف لینے والا ہو اور کوئی عالم ہو جس سے مسائل شرعیہ میں رجوع کیا جا سکے"، (١)
اس طرح امام اعظم نے دو مرتبہ اور امام ابو یوسف نے تین مرتبہ مصر کی تعریف میں ترمیم فرمائی۔ اس کے بعد مختلف لوگوں نے مختلف تعریفیں کیں اور ترمیمات کا سلسلہ جاری رہا۔ مثلا علامہ سرخسی لکھتے ہیں:۔
”ہمارے بعض مشائخ کا قول ہے (بلا اس تصریح کے کہ وہ مشائخ ہیں کون؟ ) کہ مصر وہ ہے جہاں ہر پیشے کا آدمی اسی مقام پر کام کر کےگزر بسر کر سکتا ہو اور اسے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے"۔ (١)
١- ملاحظه ہو ہدایہ فتح القدیر وشرح العنایه علی الهدایه جلد اول، صفحه ۴۱۱٬۴۰۹ ۔
ایک اور تعریف بر جندی نے کنز العباد سے نقل کی ہے کہ بعض فقہاء کے نزدیک :۔
اسی قسم کی اور تعریفات کا سلسلہ قریب قریب ہر زمانے میں برابر جاری رہا ہے۔ختی کہ ہم سے بہت قریبی دور میں بھی مختلف علماء نے مختلف تعریفیں کی ہیں جن کی تعداد درجنوں سے متجاوز ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مصر کی تعریف خود حنفیہ میں مختلف فیہ ہے مصر کوئی معنین چیز نہیں ہے۔ اگر اب اس کی کوئی نئی تعریف کی جائے تو حقیقت سےخارج ہو کر غیر مقلدیت کے دائرے میں چلے جانے کا خطرہ ہے اور سب سے زیادہ یہ کہ اگر حنفیہ ہی کے اصول پر مصر کے مفہوم کا تعین اس طرح کیا جائے کہ اس سے اسقاط فرض کےبجائے اقامت فرض میں مدد ملتی ہو تو وہ اہل تقویٰ کے لیے زیادہ قابل قبول ہونا چاہیے۔
اب میں آخری تنقیح کی طرف توجہ کرتا ہوں جس پر مسئلے کے تصفیے کا مدار ہے۔ اس تنقیح کے الفاظ پھر ایک مرتبہ ملاحظہ فرما لیجیے:۔
" کیا یہ جائز ہے کہ اس فرض کو ادا کرنے کے لیے ایک ایسا نظام اختیار کیا جا سکے جو فقہائے حفیہ کے فتاوی سے چاہے مختلف ہوا مگر ان کے اصول کے خلاف نہ ہو۔
١- ملاحظہ ہو کتاب المبسوط ج دوم ص ۲۴۔
او پر میں نے جو کچھ عرض کیا ہے اس سے یہ تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے۔ اگر شرط سلطان کو بالکل ساقط کر دینے اور مصر کی تعریفات میں پے در پے ترمیمات کرنے کے باوجود حقیت کے دائرے سے کوئی شخص خارج نہیں ہوتا تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے مذہب کے دائرے میں ادائے فرض کے کسی ایسے نظام کی گنجائش نہ ہو جو اصولِ مذهب حنفی پر پورا اترتا ہو۔ لهذا اب مجھ پر صرف اس امر کا بار ثبوت رہ جاتا ہے کہ جو نظام میں تجویز کر رہا ہوں وہ اصول مذہب حنفی کے مطابق ہے۔
میں نے جہاں تک احکام پر غور کیا ہے اس سے مجھے شریعت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہےکہ نماز جمعہ کو منتشر طور پر چھوٹے چھوٹے قریوں میں الگ الگ ادا کرنا مقاصد جمعہ کےلیے مفید نہیں ہے اس لیے شارع نے حکم دیا کہ جمعہ مصر جامع" میں ادا کیا جائے۔"مصر جامع “ کا لفظ خود اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اس سے مراد کوئی ایسی بستی ہے جو چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو یک جا کرنے والی یا جامع الجماعات ہو یعنی جہاں بہت سی چھوٹی بستیوں کے لوگ اکٹھے ہو کر جمعہ ادا کریں۔ اس غرض کے لیے دکانوں اور بازاروں،اور آبادی کی تعداد اور ایسی ہی دوسری چیزوں کو مصر کی جامعیت میں کوئی دخل نہیں ہے۔نہ اقامت جمعہ سے ان اجزائے مصر کا براہِ راست کوئی تعلق ہےکہ جمعہ کی نماز اپنی صحت کےلیےبازار اور بہت سی دکا نہیں مانگتی ہو۔ اس کے لیے صرف ایک ایسی بستی کی ضرورت ہےجو مرکزی حیثیت رکھتی ہو تا کہ اطراف کے منتشر مسلمان وہاں مجتمع ہو جا ئیں ۔ اگر کوئی بڑا شہر موجود ہو جسے تمدن نے خود ہی ایک مرکزی حیثیت دے رکھی ہو تو بہت اچھا ورنہ امامِ وقت جس بستی کو مناسب سمجھے ۔ مصر جامع قرار دے کر اطراف کے لوگوں کو وہاں جمع ہونے کا حکم دے سکتا ہے۔
چنانچہ علامہ ابن ہمام فتح القدیر میں لکھتے ہیں کہ: وَلَوْ مَصَّرَ الْإِمَامُ مَوْضِعًا وَأَمَرَهُمُ بِالْإِقَامَةِ فِيهِ جَازِ وَلَوْ مَنَعَ أَهْلُ مِصْرٍ أَنْ يَجْمَعُوا لَمْ يَجْمَعُوا - یعنی اگر امام کسی جگہ کو مصر ٹھیرا دے اور لوگوں کو وہاں جمعہ قائم کرنے کا حکم دے تو وہاں نماز جائز ہے اور اگر کسی مقام کے باشندوں کو جمعہ قائم کرنے سےمنع کر دے تو ان کو قائم نہ کرنا چاہیے، ( جلد اول ص ۴۰۹) ۔ لیکن اگر امام موجود نہ ہو تو جس طرح مسلمانوں کی تراضی سے جمعہ قائم ہو سکتا ہے اور جس طرح ان کی تراضی سے قاضی مقرر ہو سکتا ہے، اسی طرح ان کی تراضی امام کی قائم مقام بن کر کسی بستی کو "مصر جامع" بھی ٹھیر اسکتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس میں کون سی نص مانع ہے یا یہ بات اصول میں سے کس اصل کے خلاف پڑتی ہے۔
مصر جامع کی شرط لگانے سےشارع کا منشا تو یہ تھا کہ دیہات کے لوگ فریضہ جمعہ کو منتشر طور پر ادا کرنے کے بجائے ایک مرکزی مقام پر مجتمع ہو کر ادا کریں۔ مگر نہ معلوم کن وجوہ سے اس شرط کے معنی بالکل الٹ دیے گئےاور دیہات کےلوگوں کو اجتماع کا حکم دینے کے بجائے الٹا فریضہ جمعہ ہی سے سبکدوش کر دیا گیا۔ غالبا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ لفظ ”مصر“سے علماء کا ذہن شہر" کے عرفی مفہوم کی طرف منتقل ہو گیا اور انھوں نے حدیث کا مطلب یہ سمجھا کہ جمعہ صرف شہروں میں قائم کیا جا سکتا ہے۔پھر چونکہ شہر بہت دُور دُور ہوتے ہیں،اور مسافت بعیدہ طےکر کےان کی طرف جانےسےآدمی مسافر کی تعریف میں آ جاتا ہےجس پر جمعہ از روئے نص فرض ہی نہیں ہےاس لیےبات یہاں تک پہنچ گئی کہ مضافات شہر کےسوا باقی تمام دیہات کے باشندوں پر سے فریضہ جمعہ ساقط ہے۔ حالانکہ جس چیز کو قرآن اور احادیث مشہورہ اور سنت و اجماع نے مسلمانوں پر فرض مین ٹھیرایا ہو اسے دیبات کےرہنے والےکروڑوں مسلمانوں کے لیے غیر فرض بنا دینا اور وہ بھی ایک ضعیف الاسناد مختلف فیہ اور مسم المعنی حدیث کی بناء پر کسی طرح مقتضائےاحتیاط نہیں ہےحدیث نے تو اقامت جمعہ کے لیے محض مصر جامع“ کی شرط لگائی ہے۔ مردم شماری کی ایک خاص مقدار اور دکانوں کی ایک خاص تعداد اور ایسی ہی دوسری چیزوں کی تصریح اس میں نہیں ہے۔ لہذا یہ چیزیں بجائے خود اقامت جمعہ کے لیے شرط منصوص نہیں ہیں، بلکہ ان کو اُس مفہوم نے شرط بنایا ہے جو لفظ مصر سے علما نے سمجھا۔ بالفاظ دیگر فریضہ منصوصہ کو دیہات کے مسلمانوں پر سے ساقط کرنے والی چیز خود نص نہیں ہے بلکہ وہ مفہوم ہے جو نص سے اخذ کیا گیا ہے۔ اگر اس مفہوم کے سوانص کا کوئی اور مفہوم نہ ہوتا' یا نص اپنے الفاظ میں صریح ہوتی تو بلا شبہ اس کی بناء پر اسقاط فرض درست ہوتا۔ مگر جبکہ اس کا کوئی دوسرا مفہوم بھی ہو سکتا ہے تو میرے نزدیک تقویٰ اور خشیت کا تقاضا یہ ہے کہ اسقاط فرض کا راستہ کھولنے والے مفہوم کی بہ نسبت اقامت فرض کا راستہ کھولنے والا مفہوم زیادہ لائق تر جیح ہو۔
میں نےمصر کی جو تعریف کی ہےاس کو اختیار کرنےسےاکثر و بیشتر دیہاتی مسلمانوں کے لیئے بلکہ خانہ بدوش مسلمانوں کےلیےبھی صحیح شرعی طریق پر جمعہ ادا کرنا ممکن ہو جاتا ہےاس کی صورت یہ ہےکہ دیہی علاقوں کو چھوٹے چھوٹے حلقوں میں تقسیم کیا جائے جن کا دور مقامی حالات کا لحاظ کرتے ہوئے ۴ ۵ میل سے لے کر ۹۸ میل تک ہو۔ ان حلقوں میں ایک مرکزی مقام کو مسلمان باشندوں کی باہمی رضامندی ۔مصر جامع قرار دے دیا جائے اور گرد و پیش کے دیہات کو توابع مصر قرار دےکر اعلان کر دیا جائےکہ ان کےمسلمان باشندے وہاں آکر جمعہ کی نماز ادا کریں۔ یہ نظام نہ صرف احادیث صحیحہ کی رُو سےدرست ہوگا بلکہ فقہائےحنفیہ کی تصریحات کے بھی خلاف نہ ہوگا۔فقہا نے توابع مصر کی مختلف تعریفیں کی ہیں۔ بعض لوگوں نے توابع مصر کی حد 4 میل مقرر کی ہے بعض نے ۲ میل ، بعض نے ۶ میل، اور بعض کہتے ہیں کہ جس مقام سے مصر میں آکر نماز ادا کرنے کے بعد آدمی رات ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ سکے وہ توابع مصر میں شمار ہوگا۔ صاحب بدائع نے اس آخری تعریف کو پسند کیا ہے اور حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ ترندی میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے:۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ اس پر فرض ہے جو رات سےپہلے اپنے گھر پہنچ جائے۔
١- اس حدیث کی سند اگر چہ ضعیف ہے، لیکن یہ مضمون متعدد طریقوں سے حضرت ابو ہریرہ حضرت انس ، حضرت ابن عمر اور حضرت معاویہ سے منقول ہوا ہے۔ اور اسے نافع، حسن اور عکرمہ اور ابراہیم نخعی اور عطاء اور اوزاعی اور ابو ثور نے قبول کیا ہے۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَلَاهَلْ عَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَتَّخِذَ الصبة مِنَ الْغَنَمِ عَلَى رَأْسِ مِيْلٍ أَوْ مَلَيْنِ فَتَعَدَّرَ عَلَيْهِ الْكَلَاءُ فَيَرُ تَفِعُ ثُمَّ تَجِتُى الْجُمُعَةَ فَلَا يَجِئُى وَلَا يَشْهَدُ هَا (ثَلاثًا) حَتَّى يُطْبَعَ عَلَى قَلْبِهِ -
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سنو! تم میں سے ایک شخص بکریوں کا ریوڑ لیےہوئے چارے کی تلاش میں تو میل دومیل چلا جائے مگر جب جمعہ آئے تو اس میں شریک ہونے کے لیے یہاں نہ آئے! ( یہ جملہ آپ نے تین مرتبہ دہرایا پھر فرمایا ) ایسے شخص کے دل پر مہر لگائی جائے گی۔
ان احادیث سے اور فقہاء کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ توابع مصر کی حد ٦.٧ میل یا اس کے قریب قریب ہےجہاں کے باشندے نماز پڑھ کر شام تک اپنے گھر پہنچ سکیں۔ اس حد کے اندر رہنے والے تمام مسلمانوں پر خواہ وہ مستقل دیہات میں رہتےہوں، یا خانہ بدوش ہوں، مصر جامع میں حاضر ہو کر نماز جمعہ ادا کرنا فرض ہے۔ جیسا کہ ابن ہمام نے فتح میں لکھا ہے :-
وَمَنْ كَانَ مِنْ مَّكَانٍ مِنْ تَوَابِعِ الْمِصْرِ فَحُكْمُهُ حُكمُ أَهْلِ الْمِصْرِ فِي وُجُوبِ الْجُمُعَةِ عَلَيْهِ بِأَنْ يَأْتِيَ الْمِصْرَ فَلْيُصَلَّيْهَا فِيهِ ( ج ۱ ص ۴۱۱ )
اور جو شخص توابع مصر میں سے کسی جگہ ہو اس کے لیے خود اہل مصر کی طرح جمعہ واجب ہے۔ اسے مصر میں حاضر ہو کر نماز ادا کرنی چاہیے۔
اب میں اپنے مدعا کی تسہیل کےلیے مناسب سمجھتا ہوں کہ پچھلے مباحث کا ایک خلاصہ آپ کے سامنے پیش کر دوں تا کہ بیک نظر آپ کو معلوم ہو جائے کہ اقامت جمعہ فی القری کے لیے جو نظام میں تجویز کر رہا ہوں وہ کہاں تک مسلک حنفی کے خلاف یا موافق ہے۔
٣- حنفیہ صرف دو قسم کے مقامات کو مصر جامع تسلیم کرتے ہیں۔ ایک وہ جن کو تمدن نے خود بخود جامع بنا دیا ہو جیسےشہر اور تھے۔دوسرے وہ جن کو امام وقت جمعہ قائم کرنے کے لیے مصر ٹھہرا دے۔۔۔ اس میں صرف اتنی ترمیم میں نے تجویز کی ہے کہ جہاں امام موجود نہ ہو وہاں عامتہ المسلمین کے اتفاق کو امام کا قائم مقام قرار دیا جائے اور ان کے اس اختیار کو تسلیم کیا جائے کہ وہ کسی علاقے میں کسی مقام کو مصر جامع قرار دے لیں۔ چونکہ اقامت جمعہ کے معاملے میں حنفیہ نےمسلمانوں کی تراضی کو امام کا قائم مقام تسلیم کیا ہے لہذا کوئی وجہ نہیں کہ تعمین مصر کے معاملہ میں ایسا کرنا حنفیہ کے اصول کے خلاف سمجھا جائے ۔
٤- خنفیہ نے دیہاتیوں کے حق میں جمعہ کی عدم فرضیت کا حکم صرف اس لیے لگایا ہےکہ امرا و سلاطین نے اقامت جمعہ کے لیے کوئی نظام قائم کرنے سے بے پروائی برقی، جس کی وجہ سے جمعہ محض پہلی قسم کے امصار جامعہ یعنی شہروں اور بڑےبڑے قصبوں تک محدود ہو کر رہ گیا اور چونکہ شہر دُور دُور ہوتے ہیں اس لیے مجبوراً حنفیہ کو یہ فتویٰ دینا پڑا کہ دیہات کے باشندوں پر جمعہ فرض نہیں۔ ورنہ یہ ظاہر ہے کہ دیہاتی کا محض دیہاتی ہونا اس پر سے جمعہ کے ساقط ہونے کا سبب نہیں ہے۔ چنانچہ جو دیہات توابع مصر میں ہوں، یعنی ”مصر“ سے ۸۷ یا ۹ میل کی حد میں ہوں ان پر حنفیہ کے نزدیک جمعہ اسی طرح فرض ہے جس طرح اہل مصر پر فرض ہے۔۔۔ میں کہتا ہوں کہ جو فتویٰ اس مجبوری کی بنا پر دیا گیا ہے اس کےسب کو دُور کرنا ہم پر لازم ہے تا کہ سبب زائل ہونے کے ساتھ فتویٰ خود بخود زائل ہو جائے ۔ اور مسلمانوں کے لیے ایک فرض مکتوب کے ادا کرنے کا راستہ کھلے۔ بخلاف اس کے بعض علما فرماتے ہیں کہ سب کو قائم رکھو تا کہ وہ پرانا فتوئی جو قدامت کی وجہ سے مقدس ہو چکا ہے اہل رہے چاہے فرض مکتوب کی رحمتوں ہے کروڑوں مسلمان محروم رہ جائیں۔
بحث کے اس خلاصہ کو دیکھ کر بآسانی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اقامت جمعہ کا جو نظام میں تجویز کر رہا ہوں، اس کے لیے مذہب حنفی میں پوری گنجائش موجود ہے اور اسے ناجائز ٹھیرانے کے لیے حقیقتا کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ اب میں مختصر یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس قسم کا ایک نظام تجویز کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی ہے اور شرعی نقطۂ نظر سے اس ضرورت کی اہمیت کیا ہے۔
ہندوستان میں جب تک مسلمانوں کی حکومت تھی،خواہ وہ شرعی حیثیت سےکتنی ہی ناقص ہو بہر حال اس کی وجہ سے اسلام کا اجتماعی نظام کسی نہ کسی حد تک ضرور قائم تھا۔ کم از کم اتنا تو تھا کہ اسلامی قوانین مسلمان حاکموں کے ذریعہ سے نافذ ہوتے تھے اور ہماری قوم کے عوام و خواص، شہری اور دیہاتی اپنی زندگی کے معاملات میں ان کی طرف رُجوع کرتے تھے ۔ افرادِ اُمت کو ایک دینی سررشتہ سے وابستہ رکھنے کا یہ ایک قوی ذریعہ تھا۔ مگر جب وہ نیم اسلامی حکومت بھی ختم ہو گئی تو امت کو باہم مربوط رکھنے کےلیےکوئی نظام باقی نہ رہا۔ اب لے دے کے ہماری جمعیت، بلکہ حیات ملی کا تمام تر انحصار اُن روابط پر رہ گیا ہے جو عقائد عبادات اور تمدن و معاشرت کے شرعی قوانین سے پیدا ہوتے ہیں۔ انھی کی طاقت سے ہماری طاقت ہے ان کی کمزوری سے ہماری کمزوری ہے اور اُن کی موت سےہماری موت ہے۔ ابھی تک بے شمار مخالف اسباب کی کارفرمائی کے باوجود شہروں میں یہ روابط نسبتا کافی طاقتور ہیں، مگر دیہات میں مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی منتشر آبادیاں جو لاکھوں میل کے رقبہ پر پھیلی ہوئی ہیں، ان کو دینی رابطہ میں جوڑنے والا سر رشتہ اب اس درجہ کمزور ہو چکا ہے کہ ایک اشارہ میں ٹوٹ سکتا ہے۔ وہ منتشر بھیڑوں کی طرح ہر گمراہ کن بھیڑیے کے لیے آسان شکار بن گئے ہیں، اور جہاں وہ قلیل التعداد ہیں، وہاں تو ان کی جان و مال اور عزت و آبرو تک محفوظ نہیں۔ اس صورت حال کی اصلاح اگر جلدی نہ کی گئی تو آپ دیکھیں گے کہ دیہات کی مسلمان آبادیاں فوج در فوج اُمت سے کٹتی چلی جائیں گی اور ان کا کٹ جانا گویا اُمت کا ختم ہو جاتا ہے کیونکہ ہماری آٹھ کروڑ آبادی میں سے کم از کم ساڑھے چھ کروڑ افراد دیہات میں آباد ہیں۔
اب اگر محض غیر قوموں کی تقلید کرنی ہو تو دیہات سدھار کے بہت سے پروگرام بن سکتے ہیں اور بن رہے ہیں۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ایسے پروگرام سے اسلامی جمعیت اور دینی شیراز و بندی ممکن نہیں۔ اسلامی جمعیت تو صرف رابطہ دینی کو مضبوط کرنے سے پیدا ہو سکتی ہے اور اس کو مضبوط کرنے کے جتنے طریقے نہیں اُن میں سے کوئی بھی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کہ دیہات میں اقامت جمعہ کا نظام قائم نہ کر دیا جائے۔ دینی اصلاح و تنظیم کی راہ میں پہلا قدم منتشر افراد اور پراکنده ٹکڑیوں میں دین کے واسطے سےربط و مرکزیت پیدا کرتا ہے اور اس ربط و مرکزیت کو پیدا کرنے کی بہترین صورت جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے پسند فرمائی ہے وہ اقامت جمعہ ہے۔
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |