پچھلے سال عید الضحی کے موقع پر پنجاب کی ایک جماعت نے ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں قربانی کو ایک بے محل بے معنی، فضول، بلکہ مضر اور مُسرفانہ رسم قرار دیا گیا تھا اور مسلمانوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ ارض غیر ذی زرع کی اس نام نہاد سنت کو چھوڑ کر اس روپےکو جو قربانی میں ضائع کیا جاتا ہےقومی ادارات کی اعانت قیموں اور بیواؤں کی پرورش اور بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے میں صرف کریں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس جماعت نے اس کام کو اپنی تبلیغ کا ایک مستقل جزو بنالیا ہے کہ ہر سال بقرعید کے موقع پر مسلمانوں کو قربانی سے باز رہنے کی تلقین کی جائے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اب تک ان حضرات کی یہ کوششیں کس قدر بار آور ہوئی ہیں لیکن تبلیغ کا جو انداز اختیار کیا گیا ہے۔۔۔مسلمانوں کے نفسیات کا جو حال اس زمانے میں ہم دیکھ رہے ہیں، اس کو مد نظر رکھتےہوئے ہم کو خوف ہے کہ ہزاروں مسلمان اب تک اس فریب میں جتلا ہو چکے ہوں گئے اور اگر اس کا تدارک نہ کیا گیا تو آگے چل کر نہ معلوم اور کتنے مسلمان اس کے شکار ہوں۔ اس لیے ہم بقر عید کی آمد سے پہلے ضروری سمجھتے ہیں کہ ان غلط فہمیوں کو رفع کریں جو ان لوگوں کی طرف سے قربانی کے خلاف پھیلائی جارہی ہیں۔ (۱)
١- یه مضمون ذی القعده ۱۳۵۵ھ میں لکھا گیا تھا۔ افسوس ہے کہ یہ جماعت اب تک قربانی کےخلاف اپنی ( باقی بر صفحه ۲۱۶)
ایک یہ کہ قربانی ان کے نزدیک رسوم جاہلیت میں سے ایک رسم ہے جس کو "مولویوں" نےمحض جہالت کی بناء پر ایک اسلامی طریقہ قرار دےلیا ہےچنانچہ ان کےگروہ کا ایک مصنف قربانی کےمتعلق اپنی تحقیق انیق ان الفاظ میں پیش کرتا ہےکہ ” قربانی کی رسم تمام دنیا کی وحشی و مدنی قوموں میں تھی۔ آج سوائے مسلمانوں کے کوئی اس کو نہیں کرتا“۔
تیسرے یہ کہ ان کو قرآن میں قربانی کا حکم کہیں نظر نہیں آیا۔رہی حدیث تو اس سےانکار کر دینا ان کے نزدیک ہر چیز سے زیادہ سہل ہے اور اس کو رڈ کرنے کا مسلک اختیار ہی اس لیےکیا گیا ہے کہ اسلام کے جس حکم پر غیر قوموں کو اعتراض ہو یا جس حکم کی مصلحت خود اپنی سمجھ میں نہ آئے اس کو آسانی کے ساتھ دائرہ دین سے خارج کیا جاسکے۔
چونکہ یہ اعتراضات ایسے لوگوں کی طرف سے پیش کیے گئے ہیں جو اپنے آپ کو مسلم کہتے ہیں اور قرآن کو حجت قطعی مانتے ہیں۔ اس لیے ہم قرآن ہی سے قربانی کے احکام بیان کریں گے اور قرآن ہی سے یہ بھی بتائیں گے کہ اللہ تعالی نے کن مصالح کی بنا پر عبادت کے مخصوص طریقوں میں قربانی کو شامل فرمایا ہے۔
(بقیه حاشیه صفحه ۲۱۵) تبلیغ سے باز نہیں آئی ہے۔ چنانچہ ۱۳۶۸ھ میں بھی بقر عید کی آمد پر ہمیں معلوم ہوا کہ اس نے حسب دستور عوام الناس کو اس غلط فہمی میں ڈالنے کی کوشش کی کہ قربانی ایک بدعت ہے جسے”مولویوں“ نے ایجاد کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ وہی جماعت ہے جس کا ذکر دامِ ہم رنگ زمیں میں گزر چکا ہے۔
وَإِذْ بَوَّانَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ .... وَأَذِنُ فِي النَّاسِ بِالْحَجّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَا بَيْنَ مِنْ كُلِّ نَجْ عَمِيقٍ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُو اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ - (الحج: ۲۶ ۲۷ ۲۸)
اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے خانہ کعبہ کی جگہ مقرر کی ( تو حکم دیا کہ ..... اور لوگوں میں حج کے لیے پکار دے کہ ہر راہ دُور دراز سے تیرے پاس پیدل اور ہر طرح کی ڈیلی سواریوں پر آئیں۔ یہ اس غرض کے لیے ہے کہ وہ اپنے حق میں منافع دیکھیں اور چند معلوم دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔ پھر تم ان جانوروں میں سے خود بھی کھاؤ اور تنگ دست فقیر کو بھی کھلاؤ۔
جیسا کہ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے حج قائم کرنے کا یہ حکم بناے کعبہ کےساتھ ہی ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا تھا اور اس کی غرض یہ بیان کی گئی تھی کہ لوگ یہاں آکر دین و دنیا کے منافع سےمستفید ہوں اور خدا کےنام پر قربانی کریں۔پھر یہی فرض انھی مناسک کےساتھ اُمت محمدیہ پر مقرر کیا گیا،کیونکہ یہ ملت ابراہیمی کی وارث ہے- واللہ علَى النَّاسِ جِجُ البَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيْلاً ( آل عمران : ۹۷) اور قربانی جس طرح ملت ابراہیمی کے مناسک حج میں شامل تھی اسی طرح اُمت محمدیہ کے حج میں بھی شامل رہی۔ چنانچہ سورہ حج کے پانچھویں رکوع میں امت محمدیہ کو خطاب کر کے ارشاد ہوتا ہے:۔
اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمھارے لیے اللہ کے شعائر میں سےقرار دیا ہے تمھارے لیے اُن میں بھلائی ہے، پس تم ان کو صف بسته کھڑا کرکے ان پر اللہ کا نام لو ( یعنی انھیں قربان کرو ) اور جب وہ پہلو کے بل ٹھہر جائیں (یعنی ان کی جان نکل چکے ) تو ان میں سے خود بھی کھاؤ اور اس کو بھی کھلاؤ ( جو اللہ کے دیے ہوئے ) رزق پر قانع ہے۔ اور اس کو بھی جو سوال کرتا ہے۔
دوسری قسم کی قربانی وہ ہے جو تمتع یا قرآن کے فدیہ میں یا احصار کی صورت میں یا اُن جنایات کی جزا میں واجب ہوتی ہے جو محرم سے حالت احرام میں سرزد ہوں۔اس کے احکام حسب ذیل ہیں :۔
اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔ لیکن اگر کہیں تم روک دیے جاؤ تو جو کچھ ہدیہ کی قربانی میسر آئے بھیج دو اور اپنے سرمنڈواؤ جب تک کہ قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے۔
پھر جو کوئی تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو ( اور اس بنا پر اسے احرام کی قیود توڑنی پڑیں) تو وہ فدیہ میں یا تو روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔
پھر جو کوئی عمرہ کے ذریعے سے حج تک فائدہ اٹھائے_١ تو جو کچھ قربانی میسر آئے، کر دے۔ اور جسے قربانی میسر نہ ہو تو وہ حج کے دنوں میں تین دن کے اور واپس گھر پہنچ کر سات دن کے روزے رکھے۔
اے اہل ایمان! شکار نہ مارو جب تک کہ تم حالت احرام میں ہو ، اور تم میں سے جو کوئی جان بوجھ کر شکار مارلے وہ اس کے بدلے مویشیوں میں سے اُس کے ہم قدر ایک جانور قربان کرے جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں ، اور یہ قربانی کعبہ پہنچادی جائے۔
ان آیات میں قربانی کے جانوروں کو لفظ حدی (٢) سے تعبیر کیا ہے۔ امام رازی نےاس لفظ کی لغوی تحقیق بیان کرتے ہوئے کہیں یہ لکھ دیا تھا کہ مَعْنَى الْهَدْي مَا يُهْدَى إِلَى بَيْتِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ تَقْرِيبًا إِلَيْهِ بِمَنزِلَةِ الْهَدْيَةِ يُهْدِيهَا الْإِنْسَانُ إِلَى غَيْرِهِ تَقَرُّبًا اليه - اتنی گنجائش سے فائدہ اُٹھا کر مانعین قربانی نے بے تکلف فیصلہ کر دیا کہ ہدی سے مراد قربانی نہیں بلکہ کوئی بھی ہدیہ اللہ کے حضور پیش کر دینا ہے۔ لیکن امام رازی نے اسی عبارت سے چند سطر آگے یہ بھی لکھا تھا کہ :
١- اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص حج سے چند روز پہلے مکہ پہنچ گیا وہ عمرہ کر کے احرام کھول دے اور ان قیود سے آزاد ہو جائے جو حالت احرام کے لیے شریعت نے مقرر کی ہیں۔ پھر جب حج کی تاریخیں آئیں تو دوبارہ احرام باندھ لے۔ اس صورت میں جو فائدہ عمرہ کے ذریعے سے اٹھایا جاتا ہے اس کے شکرانہ کے طور پر قربانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
٢- ہدی کے معنی ہیں وہ چیز جو اللہ تعالیٰ سے تقرب حاصل کرنے کے لیےاس کےگھر کی طرف بطور ہدیہ لے جائی جائےجس طرح کوئی انسان کسی دوسرے انسان سے تقرب پیدا کرنے کے لیے اس کے پاس ہدیہ لے جاتا ہے۔
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب تک بدی اپنے مقام پر پہنچ کر ذبح نہ کر دی جائے اس وقت تک سر نہ منڈ واؤ اور جب ذبح ہو جائے منڈا دو۔
مگر چونکہ یہ عبارت مفید طلب نہ تھی اس لیے دور جدید کے محققین اسلام نےاس کی طرف توجہ کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اور یہ تو خیر امام رازی ہیں، انھوں نے خود اللہ تعالی کی عبارت کو بھی قابل اعتنا نہ سمجھا جس نے سورہ مائدہ والی آیت میں هَدْيَا بِالِغَ الْكَعْبَةِ کی تغير فجزاء مثل ما أَصل مِنَ النَّعم سے کر دی ہے۔ یہ آیت قطعی طور پر بندی کے معنی متعین کر رہی ہے کہ قرآن میں جہاں یہ لفظ آیا ہے وہاں اس سے مراد قربانی ہی ہے نہ کہ کچھ اور ۔
کہو اے محمد کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ پروردگار عالم کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھےاس کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمانبرداروں میں سب سے پہلے ہوں۔
اس آیت میں صلوٰۃ کے بعد ٹسک کا ذکر ہے جس کے معنی عبادت اور تطوع کے بھی ہیں اور قربانی کے بھی۔ قرآن میں یہ لفظ زیادہ تر دوسرے ہی معنی کے لیے آیا ہے۔ چنانچہ سورہ حج میں ہے:۔
اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر کی ہے تا کہ وہ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انھیں بخشے ہیں۔
ان آیات سے ٹسک کے معنی متعین ہو گئے ۔ اب یہ دیکھیے کہ صلوۃ کے ساتھ ٹسک کے لیے بھی بنا لک امرٹ ( مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں یعنی مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد انا اول المُسْلِمِينَ فرمایا گیا ہے جس سےصاف ظاہر ہوتا ہےکہ یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ خاص نہیں ہے بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ اسی بنا پر حضور نے تمام مستطیع مسلمانوں کو قربانی ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ احادیث میں آیا ہے:-
یہ ہیں قربانی کے متعلق قرآن کے صاف اور صریح احکام جن میں کسی شک وشبہ اور تاویل کی گنجائش نہیں ۔ پڑھیے ان کو اور پھر دارد بیجیے اُن لوگوں کی جرات کی جو ایک طرف تو قرآن پر سب سے بڑھ کر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف علی الاعلان یہ الفاظ لکھتے اور شائع کرتے ہیں کہ:-
"وہ روپیہ جو بکرے کی گردن پر چھری پھیر نے اور اسے زمین میں گاڑ دینے کے لیے صرف کیا جاتا ہے قومی اداروں کو ملنا چاہیے ۔ وہ اس روپے سے ہر سال ایک عظیم الشان تجارتی بینک کھول سکتے ہیں،قرآن حکیم اور دوسرے علوم کی توسیع و اشاعت کر سکتے ہیں، اعتقادات و اخلاق کی اصلاح کر سکتے ہیں، بیواؤں اور ناداروں کی مدد کر سکتے ہیں اور ہزاروں نیکی کے کام کر سکتے ہیں بشرطیکہ تقلید کےجال سےآزاد ہو جائیں اور فضول بلکہ مضر رسوم کو چھوڑ دیں۔"
یہ قرآن سے کھلا ہوا معارضہ نہیں تو اور کیا ہے؟ قرآن حکیم ایک چیز کا حکم دیتا ہےاور آپ کہتے ہیں کہ پہلے اس کے عقلی و تجربی فوائد پر روشنی ڈالی جائے ۔ قرآن ایک چیز کےمتعلق کہتا ہے کہ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ( تمھارے لیے اس میں بھلائی ہے ) اور آپ اسے ایک فضول بلکہ مُسرفانہ رسم قرار دیتے ہیں۔ قرآن ایک چیز کو شعائر اللہ میں شمار کرتا ہے اور خبر دیتا ہے کہ اللہ نے اس کو مقرر کیا ہے مگر آپ اس کے مقابلے میں مغربی مستشرقین کی یہ تحقیق پیش فرماتے ہیں کہ یہ عہد جاہلیت کی ایک رسم تھی جس کو آج صرف مسلمانوں نے اختیارکر رکھا ہے۔
قرآن پر ایمان رکھنے کا دعوئی اور پھر قرآن کے مقابلے میں یہ جرات! اگر ان دونوں کا اجتماع ممکن ہے تو مانا پڑے گا کہ وجود شئےاور عدم شئے کا اجتماع بھی ممکن ہے۔قرآن کا یہ بھی ایک اعجاز ہے کہ جس قدر اعتراضات اس پر ہو سکتےہیں ان کا جواب وہ خود ہی دے دیتا ہےآئیے ذرا یہ بھی دیکھیےکہ قربانی کےحکم پر جو اعتراضات کیے گئے ہیں ان کے جواب میں قرآن کیا کہتا ہے۔
جاہلیت میں جس طرح غیر اللہ کے لیے رکوع و سجود ہوتے تھے اور غیر اللہ سے دُعا اور استعانت کی جاتی تھی، اُسی طرح غیر اللہ کے لیے نذریں اور قربانیاں بھی ہوتی تھیں۔عرب ہندوستان ایران مصر روم فرض کون سا ملک ایسا ہے جہاں معبودان باطل کےاصنام اور ہیکلوں پر قربانیاں نہ چڑھائی جاتی ہوں۔حتی کہ خدا پرست یہودی قوم بھی اس شرک میں مبتلا ہوئی اور بار بار اس نےبتوں پر قربانیاں چڑھانےکا ارتکاب کیا جس کی شکایت جگہ جگہ بائیل کے عہد عتیق میں آتی ہے۔ قرآن میں بھی جاہلیت کی ان مشرکانہ رسموں کا ذکر ہے مثلاً فرمایا :-
اور انھوں نے کھیتی کی پیداوار اور مواشی میں سے اللہ کا ایک حصہ ٹھہرا دیا اور بخیال خود کہنے لگے کہ یہ اللہ کا ہے اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کا ہے۔
اور انھوں نے کہا کہ یہ جانور اور کھیتیاں ممنوع ہیں کہ ان کو اس شخص کے سوا کوئی نہیں کھا سکتا جسے ہم اپنے خیال کے مطابق کھلانا چاہیں۔اور کچھ ایسے جانور ہیں جن کی پشت پر سوار ہونا حرام کر دیا گیا ہےاور کچھ ایسے ہیں جن پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے۔ یہ ان کی افتراپردازی ہے (کہ ایسی جاہلانہ اور مشرکانہ باتوں کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں )
قرآن نے آکر جس طرح عبادت کی تمام دوسری صورتوں کا رُخ غیر اللہ سے اللہ کی طرف پھیر دیا۔ اسی طرح نذروں اور قربانیوں کا رُخ بھی اُدھر سے ادھر پھیرا۔ اس نے ہدایت کی کہ مشرکین غیر خدا کے لیے رکوع و سجود اور قربانی کرتے ہیں، تم کہو کہ ہمارا رکوع و سجود اور ہماری قربانی خدا کےلیے ہے۔کل ان صَلَونِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: ۱۶۳) مشرکین اپنے جانوروں پر غیر خدا کا نام لیتے ہیں۔ تم ان پر صرف خدا کا نام لو ۔فَاذْكُرُو اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا ۔وہ غیر اللہ کے نام پر جانوروں کو چھوڑ دیتےہیں اور پھر نہ کسی کو ان پر سوار ہونے دیتے ہیں اور نہ ان کا گوشت کھانا یا کھلانا پسند کرتے ہیں ۔ تم اس جہالت کے جواب میں ہدی کے اونٹوں سے ہر طرح کا فائدہ اٹھاؤ۔لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ –(الج:۳۳) قربانی کا گوشت کھاؤ اور اللہ کےبندوں کو کھلاؤ۔فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرُ (۳۶) اس لیےکہ اللہ کو خون اور گوشت نہیں پہنچتا بلکہ تمھاری وہ خالص نیت پہنچتی ہے جس نے تم سےغیر اللہ کو ترک کر کے اللہ کی طرف رُجوع کرایا ۔ لَنْ يُنالَ اللَّهُ لَحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ ينَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ ( الج:۳۷)
ہر شخص جو حکمت تشریح میں ادنی بصیرت بھی رکھتا ہے اس کے لیے یہ سمجھنا بھی کچھ مشکل نہیں کہ شرک و بت پرستی اور رسوم جاہلیت کو مٹانے کے لیے اس سے زیادہ کارگر کوئی تدبیر نہیں ہو سکتی کہ جن اقسام اور جن شکلوں کی عبادتیں مشرک قوموں میں رائج ہوں اُن سب کو اللہ کے لیے مخصوص کر دیا جائے اور غیر اللہ کے لیے انھی سب کو ممنوع ٹھہرا دیا جائے ۔ دنیا میں توحید فی العبادت اور اس کے ذریعے سے توحید فی الاعتقاد کا قیام بغیر اس تدبیر کے ممکن ہی نہ تھا۔ یہ بات کچھ انسان کی فطرت ہی میں ہے کہ وہ جس کسی کو اپنا ملجاد ماوی سمجھتا ہے اس کے سامنے نذر و نیاز اور قربانی ضرور پیش کرتا ہے۔ چنانچہ ابتداء آفرینش سے آج تک دنیا میں کم و بیش اس طریق عبادت کا سلسلہ جاری ہے۔ حتی کہ جہالت کی بناء پر خود مسلمان بھی اس قسم کے شرک فی العبادت میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ پس جب عبادت کے مختلف طریقوں میں سے ایک یہ طریقہ بھی نوع انسانی میں رائج ہے اور اس طریقے کی طرف نوع انسانی میں ایک فطری میلان پایا جاتا ہے تو اخلاص فی العبادت کے لیے ناگزیر ہے کہ نذرو نیاز اور قربانی کو بھی غیر اللہ کے لیے ممنوع کر کے صرف اللہ کےلیے مخصوص کر دیا جائے۔ اس چیز کی عقلی و روحانی اور اخلاقی و مادی منفعت سطحی نظروں کو اگر محسوس نہ ہو تو یہ اُن کی اپنی نظر کا قصور ہے۔ اللہ کے علم اور اس کی حکمت میں تو لوگوں کا مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ اور حُنَفَاءَ لِلَّهِ بن جانا اس سے بدرجہا زیادہ مفید ہے کہ اُن کے لیےایک نہیں دس لاکھ عظیم الشان بنک کھل جائیں یا ۲۰ ہزار کالج قائم ہو جائیں۔
نوع انسانی کا ایک گروہ تو وہ ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے یعنی وہ جو خدا کے ساتھ اس کی مخلوق کو اعتقاد اور عبادت میں شریک ٹھہراتا ہے اور خدا کے بخشے ہوئے رزق میں سے غیر خدا کے سامنے نذریں اور قربانیاں پیش کرتا ہے۔ اس کےساتھ ایک دوسرا گروہ بھی ہمیشہ موجود رہا ہے اور اب بڑھتا جا رہا ہے اور یہ وہ گروہ ہے جو سرے سے خدا کا قائل ہی نہیں یا اگر ہے بھی تو محض وجوب عقلی کی بناء پر اس کو اس طرح مانتا ہے جیسے ریاضی کےکسی فارمولےکو مانتا ہے۔ باقی رہا خدا سے کوئی تعلق تو وہ ان کے ہاں مفقود ہے۔ ان لوگوں کو یہ احساس تک نہیں کہ دُنیا کے جس مال و متاع سے وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس زمین کی پیداوار کھا رہے ہیں؛ جس دولت و ثروت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، جن حیوانات سے خدمت لے رہے ہیں، ان میں سے کسی چیز کے بھی وہ مالک نہیں ہیں، نہ کسی چیز پر ان کو ذاتی استحقاق حاصل ہے بلکہ یہ خدا کی بخشش اور اس کا انعام ہے۔ یہ غفلت جس میں لوگ مبتلا ہیں، اُن کو کیسے کیسے رُوحانی، اخلاقی اور عملی مفاسد میں مبتلا کر رہی ہےاس کے بیان کی حاجت نہیں۔ آج ہر آنکھوں والا ان خرابیوں کا برائی العین مشاہدہ کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی مفاسد کا سد باب کرنے کے لیے مال و دولت اور زمین کی پیداوار میں سے زکوۃ کا اور حیوانی دولت میں سے قربانی کا قاعدہ مقرر کیا تا کہ اللہ تعالیٰ نےانسان کو جو کچھ رزق عطا فرمایا ہے اس کا ایک حصہ وہ ہمیشہ خدا کی جناب میں نذر کرتا ہےاور یہ حقیقت اس کو یادر ہے کہ ہم ان چیزوں کے مالک اور مختار مطلق نہیں ہیں بلکہ یہ بغیر کسی استحقاق ذاتی کے ہم کو عطا کی گئی ہیں، اور ان میں عطا کرنے والے کی مرضی کےخلاف تصرف کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے۔ دیکھیے اس مضمون کی طرف آیات ذیل میں کس قدر لطیف اشارے کیے گئے ہیں :-
وَهُوَ الَّذِي أَنْشَاءَ جَنَّتٍ مَّعْرُوشَتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ .... كُلُوا مِنْ ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَأَتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حِصَادِهِ وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُرُلَةٌ وَّفَرُشًا كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَنِ (الانعام: (۱۴۳۱۴۲)
اور وہی ہےجس نےباغ اُگائےہیں جن میں سےکسی میں بیلیں تقیوں چڑھائی جاتی ہیں اور کسی میں نہیں چڑھائی جاتیں اور اسی نے نخلستان اور کھیت پیدا کیے ہیں - - - جب وہ پھل لائیں تو ان کےپھل کھاؤ اور فصل کاٹتے وقت اس کا (یعنی خدا کا )حق ادا کرو اور حد سےنہ گزرو کہ وہ حد سےگزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ اور اسی نےجانوروں میں سےبعض بلند قامت پیدا کیے ہیں جو بار برداری کےکام آتےہیں اور بعض پست قامت ہیں ۔اللہ نے تم کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو ۔اللہ نے تم کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو ۔
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُو اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ الذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمُ وَالضَّبِرِينَ عَلَى مَا أَصَابَهُمْ وَالْمُقِيمِي الصَّلَوةِ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ - (الج:۳۵٬۳۴)
اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کر دی ہے تا کہ وہ اللہ کا نام لیں اُن جانوروں پر جو اللہ نے ان کو بخشے ہیں۔ پس یاد رکھو کہ تمھارا خدا وہی ایک خدا ہے اس کی اطاعت میں تم سر تسلیم خم کرو۔ اور اےنيا أن عاجزی کرنے والوں کو خوش خبری سنادو جن کا حال یہ ہےکہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرز اٹھتےہیں اور جو مصیبتوں کے مقابلہ میں ثابت قدم رہتے ہیں اور جو نماز پڑھتے ہیں اور ہمارے بخشے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔
یہ رسم قربانی کی دوسری مصلحت ہے۔ اگر کسی کے پاس عقلی ترازو ہو تو وہ ایک پلڑے میں اس کو رکھے اور دوسرے پلڑے میں اُن تمام قومی اداروں اور تجارتی بینکوں اور یتیم خانوں کو رکھے جنھیں چندہ دینے کے لیے یہ مخالفین حدیث قربانی کو بند کرانا چاہتےہیں اور پھر موازنہ کر کے ہمیں بتائیے کہ ان دونوں میں سے کون سا زیادہ وزنی ہے۔
اب ذرا اقتصادی اعتراضات کو بھی جانچ لیجیے۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ اطاعت مال ہے۔ مگر قرآن کہتا ہے : لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ اور فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْفَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ اس میں تمھارے لیے بھلائی ہے۔ اور اس میں سے خود بھی کھاؤ اور مانگنے والے غریب اور مانگنے والے سائل کو بھی کھلاؤ۔ آج آپ کے اپنے ملک میں لاکھوں اللہ کےبندے ایسے ہیں جنھیں ہفتوں اور مہینوں اچھی قوت بخش غذا نصیب نہیں ہوتی ۔ کیا اُن کو صدقہ اور ہندی اور ٹک کے ذریعے سے گوشت بہم پہنچانا آپ کی رائے میں اصول معیشت کے خلاف ہے؟ لاکھوں انسان اور گلہ بان ہیں جو سال بھر تک جانور پالتے ہیں اور بقر عید کے موقع پر اُن سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کیا ان کی روزی کا دروازہ بند کرنا آپ کے نزدیک بے روزگاروں کو روزگار مہیا کرنا ہے؟ ہزار ہا غریب ہیں جن کو قربانی کی کھالیں مل جاتی ہیں اور ہزار ہا قصائی ہیں جن کو ذبح کرنے کی اُجرت مل جاتی ہے۔ کیا یہ سب آپ کی قوم سےخارج ہیں کہ آپ ان کی رزق رسانی کو فضول بلکہ مضر اور داخلِ اسراف سمجھتے ہیں؟
پھر یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ کو تمام قومی ضروریات اور سارے فوائد و منافع صرف اسی وقت یاد آتے ہیں جب خدا کے کسی حکم کی پابندی میں روپیہ صرف ہو رہا ہو؟ گویا کہ بینکوں کا قیام اور قومی ادارات کا فروغ اور اعتقاد و اخلاق کی اصلاح اور تیموں اور بیواؤں کی پرورش کا سارا کام صرف قربانی ہی کی وجہ سے رُکا پڑا ہے۔ ادھر یہ بند ہوئی اور اُدھر قومی اداروں پر روپیه برسنا شروع ہو جائے گا۔
اور اگر آپ کی قومی تنظیم ایسی ہی مکمل ہے کہ سارے ہندوستان کا روپیہ جمع کر کےآپ ہر سال ایک تجارتی بینک کھول سکتے ہیں تو ذراسی تکلیف گوارا کر کے پہلے ملک بھر کےسینما ہالوں اور مجتبہ خانوں اور بدکاری و اسراف کے دوسرے اڈوں پر تو اپنے ایجنٹ مقرر فرمائیے تاکہ مسلمانوں کا جس قدر روپیہ وہاں ضائع ہوتا ہے وہ قومی فنڈ میں وصول ہونا شروع ہو جائے ۔ اس طرح آپ ہر سال نہیں ہر روز ایک تجارتی بینک کھول سکیں گے۔
پھر اگر آپ میں کچھ تعمیری قوت ہے تو قربانی کی تخریب کے بجائے آپ اُسےزکوۃ کی تعمیر ہی میں کیوں نہیں صرف فرماتے کہ تنہا اسی ایک چیز سے آپ وہ تمام قومی ضروریات پوری کر سکتے ہیں جن کی خاطر قربانی بند کرنے کی تبلیغ آپ نے شروع کی ہے۔
آخری گذارش یہ ہے کہ اگر ایک دفعہ مسلمانوں میں یہ ذہنیت پیدا ہو گئی کہ جن جن جن مذہبی مراسم میں روپیہ صرف ہوتا ہے اُن کو بند کر کے وہ روپیہ قومی اداروں اور تجارتی ٹینکوں پر صرف ہونا چاہیئے تو معاملہ صرف قربانی ہی پر ز کا نہ رہ جائے گا۔ کل کوئی اور بندہ خدا اُٹھ کر کہے گا کہ یہ حج، جس پر کروڑوں روپیہ ہر سال خرچ ہو رہا ہے اور جس کا کوئی فائدہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا؟ اسے بند ہونا چاہیے اور اس روپے سے تجارتی بینک کھلنے چاہئیں! سارا معاملہ اصل میں اقدار ہی کا ہے۔ جب ایک دفعہ معیار قدر بدل گیا پھر آج قربانی بند ہوگی اور کل خواہ آپ نے چاہایا نہ چاہا حج کی باری آکر رہے گی۔
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |