یہ مضمون بھی اُسی بحث کے سلسلہ میں لکھا گیا تھا جس میں سابق مضمون "حقیقت جن" لکھا گیا تھا۔ مصنف نے دعوی کیا تھا کہ آدم علیہ السلام کو جو خلافت اللہ تعالیٰ نے عطا کی تھی وہ اس معنی میں نہ تھی کہ اللہ نے اُن کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا تھا، بلکہ اس معنی میں تھی کہ اُن کو اپنے سے پہلے ساکنان زمین کا جانشین بنایا گیا تھا۔ نیز مصنف نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ خلافت کے معنی صرف جانشینی ہی کے ہیں اس لیےخلافت الہیہ کا تصور ہی بے معنی ہے۔ اس پر ہم نے ترجمان القرآن میں مختصر تنقید کی، پھر انھی اہل قلم بزرگ نے جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہےاس پر تعاقب کیا اور اس کے جواب میں یہ مضمون لکھا گیا۔
خلافت کی بحث میں سب سے پہلے ہم کو لغت عرب کی طرف رجوع کر کے یہ تحقیق کرنا چاہیے کہ کیا فی الواقع عربی زبان میں اس لفظ کے معنی صرف ” جانشینی‘ ہی کےہیں یا اس کے معنی نیابت کے بھی آتے ہیں۔
خلافت کسی دوسرے کی نیابت ہے خواہ منوب عنہ کے غائب ہونے کی وجہ سے ہو یا اس کی موت کے سبب سے ہویا اس کے بجز کے سبب سے یا اُس شخص کو بزرگی عطا کرنے کے لیے جسے خلیفہ بنایا گیا ہے۔
لین (Lane) نے اپنی مشہور لغت مد القاموس (Arabic English Lexicon) میں لفظ خلیفہ کے معنی (Successor) کے علاوہ (Vicegerent) کے بھی لکھے ہیں ۔
خلافت کے لیے ضروری نہیں ہے کہ منوب عنہ مر جائے یا موجود نہ ہو۔ امام راغب لکھتے ہیں: خَلَفَ فَلاَنٌ فَلانَا قَامَ بِالْأَمْرِ عَنْهُ إِمَّا مَعَهُ وَإِمَّا بَعْدَهُ "فلاں شخص فلاں شخص کا خلیفہ ہو یعنی اُس کی طرف سے کار پرداز ہوا خواہ اس کے ساتھ یا اس کے بعد۔"
خَلَفَ خِلافَةٌ کے معنی خلیفہ ہونے یا بعد میں آنے یا پیچھے رہنے کے ہیں ۔ خَلَفَهُ خِلَافَةٌ كَانَ خَلِيفَتَهُ وَبَقَى بَعْدَهُ وَجَاءَ بَعْدَهُ (تاج العروس) قرآن مجید میں ہے: فَخَلَفَ .مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَبَ (اعراف: ۱۶۹) '' ان کے بعد ایسے ناخلف آئے یا ان کے جانشین ہوئے جو کتاب کے وارث ہوئے۔ وَقَالَ مُوسَى لَآخِيْهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي (اعراف: ۱۴۲) اور موسی نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ تو میری قوم کے اندر میرے بعد میرا جانشین یا نا ئب ہو ۔ قَالَ بِئْسَمَا خَلَقْتُمُونِي مِنْ بَعْدِى (اعراف: ۱۵) موسی نے کہا کہ میرے بعد تم نے میری بہت بری نیابت کی ۔ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلَئِكَةٌ فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ (الزخرف:۲۰) اگر ہم چاہیں تو زمین میں تم میں سےملائکہ پیدا کریں جو تمھاری جگہ آباد ہوں۔"
أخْلَفَ کے معنی کھوئی ہوئی چیز واپس دینے یا دلانے یا اس کا بدل عطا کرنے کےہیں ۔ اَخْلَفَ اللهُ لَكَ وَعَلَيْكَ خَيْرًا أَى أَبْدَلَكَ بِمَا ذَهَبَ عَنْكَ وَعَوَّضَكَ عَنْهُ (نهای ابن اثیر ) ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَمَا انْفَقْتُمْ مِنْ شَيْ فَهُوَ يُخْلِفَهُ وَهُوَ خير الرازقین (سبا: ۳۹) " جو تم خرچ کرو گے اللہ اس کا نعم البدل تم کو دے گا اور وہ بہترین رازق ہے ۔ حدیث میں ہے: تَكَفَّلَ اللهُ لِلْغَازِي أَنْ يُخْلِفَ نَفْقَتَهُ اللَّہ نےغازی کے لیے ذمہ لیا ہے کہ جو کچھ وہ خرچ کرے گا اللہ اس کا بدل عطا کرے گا“۔
استخلف کہہ کر اگر منوب عنہ کی تصریح نہ کی گئی ہو تو معنی یہ ہوں گے کہ اپنا خلیفہ بنايا إِسْتَخْلَفَ فُلانَا أَى جَعَلَهُ خَلِيفَةً لَّهُ ۔ اور اگر منوب عنہ کی تصحیح ہو تو پھر معنی یہ ہوں گےکہ اس شخص کا جانشین بنایا جس کا ذکر کیا گیا ہےاِسْتَخْلَفَ فُلَانَـا مِـنْ فَلَانٍ أَى جَعَلَهُ مَكَانَهُ (اقرب الموارد) پس جہاں قرآن مجید نے محض استخلاف کا ذکر کیا ہے اور مستخلف لہ کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا مثلاً لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمُ (النور: ۵۵) ایسےمقامات پر استخلاف کےمعنی یہی ہوں گےکہ اللہ نےاپنا خلیفہ بنایا۔اور جہاں مستخلف لڑ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہاں معنی یہ ہوں گے کہ دوسرے کی جگہ یا دوسرے کے بعد خلیفہ بنایا۔ لیکن واضح رہے کہ جب کبھی پچھلے نائب کو بنا کر اس کی جگہ دوسرا نائب مقرر کرنےکا ذکر کیا جائے گا تو اس میں دونوں مفہوم شامل ہوں گے یعنی اس کا مفہوم یہ بھی ہوگا کہ حاکم اعلیٰ نے فلاں شخص کو فلاں شخص کی جگہ مقرر کیا اور یہ بھی کہ اس نے فلاں شخص کے بعد فلاں شخص کو اپنا نائب مقرر کیا۔ مثلا اگر کہا جائے کہ استخلف الملک اللوردارون بعد اللورد ریدنك في ولاية الهند تو اس کےیہ معنی بھی ہوں گےکہ بادشاہ نے لارڈارون کو لارڈ ریڈنگ کےبعد اس کی جگہ ہندوستان کا وائسرائےبنایا اور یہ بھی ہوں گےکہ اُس نےاردن کوریڈنگ کے بعد ہندوستان کی ولایت میں اپنا وائسرائے مقرر کیا۔ ان دونوں مفہوموں میں کوئی تضاد و تناقص نہیں ہے کہ بیک وقت صادق نہ آسکیں ۔ پس اِنْ يَّشَا يُذْهِبُكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ مِنْ بَعْدِكُمْ مَّا يَشَآءُ (انعام:۱۳۴) کا یہ مفہوم بھی ہے کہ خدا تمھاری جگہ دوسروں کو دے دے گا اور یہ بھی کہ خدا تمھاری جگہ دوسروں کو اپنا خلیفہ بنا لے گا۔ جہاں تک لغت کا تعلق ہے کوئی امر ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں مفہوم لینے میں مانع نہیں ہے۔
جَعَلَهُ خَلِيفَةً کے معنی صرف خلیفہ بنانے کے ہیں۔ خلیفہ کےمعنی خواہ نائب کےہوں یا جانشین کے دونوں صورتوں میں اس کا مفہوم ایک اضافی مفہوم ہےاور اس کا اتمام بغیر اس کےنہیں ہو سکتا کہ کوئی مستخلف لہ اور منوب عنہ بھی ہو عام اس سےکہ مقدر ہو یا مذکور۔پس جس جگہ جعل خلیفہ کےساتھ قرآن مجید نے مستخلف لا کی تصریح کر دی ہے وہاں تو مفہوم واضح ہے مثلاً وَ اذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمٍ نُوحٍ (اعراف:۲۹) اور وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمٍ عَادٍ (اعراف: ۷۴ ) اور ثُمَّ جَعَلْنَكُمْ خَلِيفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِتَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (یونس: ۱۴) لیکن جہاں مستخلف لۂ کی طرف قطعا کوئی اشارہ نہیں ہے وہاں ایک مستخلف لۂ مقدر مانا پڑے گا مثلا يَا دَاوُدَ إِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ (ص:۲۶) اور وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ (النمل: ۶۲ ) اور وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَليفَ الْأَرْضِ (انعام:(۱۶۶) اور اِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (بقره:٣٠) اس طرح کی تمام آیات کے بارے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان میں انسان یا انسانوں کو کس کا خلیفہ بنانے کا ذکر ہے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ چھلی مخلوقات یا گذشتہ اقوام یا شاہان پیشین کا خلیفہ تو قطع نظر اس سے کہ یہ ایک تکلف ہے بعض آیتیوں میں یہ معنے کہتے ہیں نہیں ۔ مثال کے طور پر وَيَجْعَلَكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْض میں خلفاء کو زمین کی طرف مضاف کیا گیا ہے جس کا لفظی ترجمہ زمین کے خلفاء ہے۔ اس سے یہ معنے نکالنے کی کہاں گنجائش ہےکہ زمین پر پہلے جو لوگ متمکن تھے ان کے خلفاء؟ پھر انِي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً کےمعنی اگر یہ لیے جائیں کہ " میں پچھلے ساکنین ارض کا ایک خلیفہ بنانےوالا ہوں ۔ تو یہ سوال پیدا ہو گا کہ کیا اللہ تعالی نے قرآن میں کہیں اُن ساکنین ارض کا ذکر کیا ہےجن کی خلافت انسان کےسپرد کی گئی ہے؟ اگر کیا ہےتو حوالہ پیش کیجیےاگر نہیں کیا تو فرمائیے کہ ایسی صورت میں محض زبان اور ادب کے نقطۂ نظر سے اس فقرے کا یہ مفہوم زیادہ اقرب الی الفہم ہے کہ " میں پچھلے مجہول الحال ساکنین ارض کا ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ یا یہ کہ ” میں زمین میں اپنا ایک نائب مقرر کرنےوالا ہوں؟ اگر سامع صرف عربی جانتا ہو اور ان عقلی مقدمات سےنا آشنائےمحض ہو جنھیں مولانا نے ترتیب دے کر ایک نتیجہ اخذ کیا ہے تو اس فقرے کو سن کر وہ ان دونوں معنوں میں سے کون سے معنی مراد لے گا؟
اس لغوی تحقیق کے بعد میں آپ کو دعوت دوں گا کہ آپ خلافت کے اس مفہوم پر غور کیجیے جس کو خود آپ نے اور مولانا نے مراد لیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:
مولانا .... إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (بقرہ:۳۰) کا ترجمہ ” میں زمین میں ایک بادشاہ بنانے والا ہوں“ کرتے ہیں اور اس پر نوٹ لکھتے ہیں:
غور فرمائیے کہ خلافت کے معنی تو محض جانشینی یا قائم مقامی یا بعد میں آنے کےہیں۔ پھر اس میں بادشاہی اور فرمانروائی کا مفہوم کہاں سے آگیا؟ اگر نفس خلافت اس مفہوم سے خالی ہے اور یقیناً خالی ہے تو اس میں یہ مفہوم اس اعتبار ہی سے آسکتا ہے کہ خلیفہ کو خلافت کسی فرمانروا اور کسی سلطان سے ملی ہو۔ پھر جب انسان کو وہ خلافت ملی جس میں خود آپ کےاعتراف کےمطابق سلطنت و فرمانروائی کی جھلک ہےتو لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ انسان جس کا خلیفہ ہوا وہ کوئی فرمانروا تھا۔ اب فرمائیے کہ کیا قرآن سے یا علمی تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان سے پہلے زمین پر کوئی ایسی مخلوق تھی جس میں فرمانروائی کی شان تھی؟ فرمانروائی کے لیے علم حکمت اختیار اراده قدرت وغیرہ صفات کا ہونا ضروری ہے کیونکہ ان کے بغیر زمین اور اس کی موجودات پر فرمانروائی نہیں ہو سکتی۔علمی تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس کرہ خاکی پر انسان سے پہلے کوئی مخلوق ایسی موجود نہ تھی جو ان صفات سے متصف ہوتی۔ اس کی تصدیق قرآن بھی کرتا ہے۔ وہ ہم کو بتاتا ہےکہ انسان سے پہلے خدا کی جو مخلوق سب سے افضل تھی یعنی ملائکہ جن کو (عِبادُ مُكْرِمُونَ) کہا گیا ہے۔ اس کا بھی یہ حال تھا کہ وہ علم اشیا سے بے خبر تھی (ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَئِكَةِ فَقَالَ انْبِتُونِي بِأَسْمَاءِ هَوْلَاءِ إِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ - قَالُوا سُبُحْنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا (بقره: ۳۱-۳۲) اور ارادہ و اختیار کی آزادی سے بالکل محروم تھی (لا يَعْصُونَ اللهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ - (التحريم : 1 ) دوسری مخلوق جن تھے' سوان کے متعلق کوئی بات قرآن مجید نے ایسی بیان نہیں کی جس سے معلوم ہوتا ہو کہ ان کو زمین کی فرمانروائی حاصل تھی۔ رہے حیوانات ونباتات و جمادات تو ان کا حال آپ جانتے ہیں۔پھر آخر وہ کون سی مخلوق تھی جس کی خلافت زمین کی فرمانروائی کے اعزاز کے ساتھ انسان کو حاصل ہوئی؟
تا ہم اگر مان لیا جائے کہ یہ پرانے ساکنین ارض ہی کی خلافت ہے اور وہ ساکنین ارض انسان سے پہلے زمین کے فرمانروا تھےتو کیا وہ بالاصالت فرمانروا تھے یا ان کی فرمانروائی بھی نا ئبانہ تھی ؟ پہلی حق تو آپ اختیار نہیں کر سکتے،کیونکہ اسلامی عقیدہ کی رُو سے بالاصل اور بالذات فرمانروا صرف حق تعالٰی ہے اور اس کے سوا سب کی فرمانروائی محض عطائی ہے۔اب رہی دوسری شق تو اس کو اختیار کرنے کی صورت میں یا تو آپ کو خلافت در خلافت کا ایک لامتناہی سلسلہ ماننا پڑے گا یا پھر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ فرمانروائی کی شان خواہ یکے بعد دیگر کتنے ہی خلفاء کو ملی ہو بہر حال اس کا سر چشمہ وہی ذات حق تعالیٰ ہے اور خلافت میں بادشاہی کی جھلک اُسی وقت آ سکتی ہے جبکہ وہ خلافت الہی ہو۔
اب میں آپ کو اُن قرآنی اشارات کی طرف توجہ دلاؤں گا جن سے معلوم ہوتا ہےکہ انسان کو جس خلافت سے سرفراز کیا گیا ہے وہ دراصل خلافتِ الہی ہے۔
قرآن مجید کا بیان ہے کہ خدا نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تقویم ( تمن: ۱۴) اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بنا یا کھال یا ابلیس ما مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ (ص: ۷۵ ) اس میں اپنی طرف سے رُوح پھونکی ثُمَّ سَولَهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُوحِهِ (السجده : 9) اس کو علم کی نعمت سے سرفراز کیا، وَعَلَّمَ ادَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا (البقره: ۳۱) زمین و آسمان کی ساری چیزوں کو اس کے حق میں مسخر کر دیا وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثي: ۱۳)
ان صفات کے ساتھ جب انسان کی تخلیق پایہ تکمیل کو پہنچ گئی تو اللہ تعالی نےفرشتوں کو حکم دیا کہ اس کے آگے سجدہ کریں۔ یہ حکم سورہ ص کے آخر میں جس انداز سےبیان کیا گیا ہے وہ خاص طور پر قابل غور ہے۔
إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَئِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ طِينٍ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ فَسَجَدَ الْمَلَئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَى اسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ العَالِينَ- قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ قَالَ فَاخْرُجُ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَحِيمٌ -(ص: ۷۱-۷۷)
جبکہ تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنےوالا ہوں، پس جب میں اس کو پورا بنالوں اور اس کےاندر اپنی زوح سےکچھ پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدہ میں گر جانا۔ چنانچہ تمام ملائکہ نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے نہ کیا۔ وہ گھمنڈ میں پڑ گیا اور کافروں میں سےہو گیا۔ اللہ تعالٰی نےفرمایا کہ اے ابلیس کس چیز نے تجھے اس ہستی کو سجدہ کرنے سے منع کیا ہے جسےمیں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟ تو نےاپنے آپ کو بڑا سمجھ لیا ہے یا واقعی تو کچھ بڑےلوگوں میں سےہے۔ اس نےکہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نےمجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے بنایا ہے۔ اس پر اللہ نےفرمایا اچھا تو یہاں سے تو نکل جا کیونکہ تو مردود ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو سجدہ کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ نے اس کو اپنےدونوں ہاتھوں سے بنایا تھا۔ یعنی وہ قدرت اور صنعت انہی کا مظہر اتم تھا۔ اور اس کے اندر خود اپنی طرف سےایک خاص روح پھونکی تھی اور ایک محدود بیانے پر اس میں وہ صفات پیدا کر دی تھیں جو بدرجہ فوق التمام خود باری تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں۔ اس شان اور ان صفات پر انسان کو پیدا کرنے کے بعد اعلان کیا گیا کہ ہم اس کو زمین میں خلیفہ بنانے والے ہیں۔ جیسا کہ سورہ بقرہ کے چوتھے رکوع میں ارشاد ہوا ہے۔ فرشتوں نے اس معاملہ میں کچھ اپنے شکوک پیش کیے تو اللہ تعالی نےان کے سامنےانسان کی سب سےافضل صفت یعنی علم کا مظاہرہ کرایا۔ اس طرح جب خلافت کے لیےانسان کی اہمیت ثابت کر دی گئی تو فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ اس کی خلافت تسلیم کرو اور علامت تسلیم کے طور پر اُسے سجدہ کرو ۔ تمام فرشتوں نے اسے تسلیم کیا اور سر بسجو د ہو گئے، مگر شیطان نے اس کی خلافت ماننے سے انکار کیا اس لیے اس کو راندہ درگاہ کر دیا گیا۔
یہ تمام اشارات کیا ظاہر کر رہے ہیں؟ تمام مخلوقات پر انسان کی فضیلت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ عام مقابلہ میں اس کی فضیلت ثابت کی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ہماری صفات کا مظہر اتم ہے اور ہم نے اس میں اپنی طرف سے ایک خاص روح پھونکی ہے۔ حکم ہوتا ہے اور وہ بھی کس کو؟ فرشتوں کو کہ اس کو سجدہ کرو ۔ ان سب باتوں کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم اس کو خلیفہ بنانے والے ہیں۔ ان تیاریوں کے ساتھ جس خلیفہ کی خلافت کا اعلان کیا گیا، کیا وہ محض پرانے ساکنین ارض ہی کا خلیفہ تھا؟ اگر بات صرف اتنی ہی تھی کہ پرانے لینے والوں کی جگہ کسی دوسرے کو بسایا جا رہا تھا تو اس کے لیے فرشتوں کے سامنےاس کی خلافت کا اعلان کرنے اور یوں اس کی فضیلت کا مظاہرہ کرانے کی کیا ضرورت تھی؟ اور پھر ملائکہ کو یہ حکم کیوں دیا گیا کہ اس کرہ خاکی کے نو آباد کار کو جو فقط دوسرے لوگوں کی جگہ لینے کے لیے جا رہا تھا، سجدہ کریں؟
ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تھا مگر انھوں نے اس کا بار اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم اور انجام سے بے خبر نکلا ۔
اس آیت میں بار امانت سے مراد اختیار Freedom of Choice) اور ذمہ داری و جواب دعی (Responsibility) ہےاور ارشاد الہی کا مطلب یہ ہےکہ آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں میں اس بار کو اٹھانےکی تاب نہ تھی۔ انسان سےپہلےکوئی مخلوق ایسی نہ تھی جو یہ پوزیشن قبول کر سکتی۔آخر کار انسان آیا اور اس نے یہ بار اُٹھا لیا۔ اس بیان سے متعدد نکات نکلتے ہیں۔
3- خلافت کے مفہوم کو امانت کا لفظ واضح کر دیتا ہے اور یہ دونوں لفظ نظام عالم میں انسان کی صحیح حیثیت پر روشنی ڈالتےہیں۔انسان زمین کا فرمانروا ہے۔ مگر اس کی فرمانروائی بالا صالت نہیں ہے بلکہ تفویض کردہ (Delegated) ہے۔ لہذا اللہ نےاس کے اختیارات مفوضه (Delegated Power) کو امانت سے تعبیر کیا ہے اور اس حیثیت سے کہ وہ اس کی طرف سے ان اختیارات مفوضه کو استعمال کرتا ہےاُسے خلیفہ (Vicegerent) کہا ہے۔اس تشریح کے مطابق خلیفہ کےمعنی یہ ہوئےکہ وہ شخص جو کسی کےبخشے ہوئے اختیارات کو استعمال کرئے“۔
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |