"ڈارون کا نظریہ ارتقاء موجودہ زمانے کے علمی مسلمات میں سےہے۔ مگر قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے بار بار یہ محسوس ہوتا ہے کہ دونوں کے نقطۂ نظر میں قطعی) نضاد ہے۔سب سےزیادہ صریح بات جو بیک نظر محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کا انسان اوّل روز سےانسان ہی تھا جسے ایک خاص تاریخ کو یکا یک ایک تخلیقی عمل سے پیدا کر دیا گیا۔ پھر اس سے انسانی نسل چلی ۔ لیکن ہم کو جو طبعی علوم پڑھائے جاتے ہیں وہ شہادت دیتے ہیں کہ انسان حیوانات میں سےبتدریج ترقی کرتا ہوا آیا ہے اور اس ارتقائی تسلسل میں کسی نقطہ پر انگلی رکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک خاص تاریخ کو اس مرحلہ پر حیوانیت ختم ہوئی اور اس انسانیت کی ابتدا ہوئی جس کے متعلق قرآن کہتا ہےکہ وَإِذَانَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ (ص: ۷۲ حجر :۲۹) یہ قرآن اور نظریہ ارتقاء کے اختلاف کی صرف ایک صریح مثال ہے اور نہ تخلیق کے مسئلے میں بکثرت تفصیلات ایسی ہیں جہاں ان دونوں کے بیانات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں ۔ ان چیزوں کو دیکھ کر موجودہ سائنس کا ایک طالب علم اپنے ایمان کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ کیا آپ اس مشکل کا کوئی حل بتا سکتے ہیں؟“
یہ سوال جسے ہمارے مراسلہ نگار نے بڑی خوبی اور وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہےاپنے تصفیہ کے لیے اس بات کا محتاج نہیں ہے کہ ہم ڈارونی نظریہ ارتقاء کے دلائل و شواہد کا تفصیلی جائزہ لیں۔ بلکہ اس میں صرف اتنی ہی بات تحقیق طلب ہے کہ آیا ارتقاء کا وہ تصور جو ڈارون پیش کرتا ہے ایک ثابت شدہ حقیقت ہے یا صرف ایک نظریہ ہے؟ اور اگر وہ صرف ایک نظریہ ہی ہے تو کیا واقعی اس کا یہی مرتبہ ہے کہ اس کے سامنے آ جانے پر ایک مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ اسے مانوں یا قرآن کو؟
اس تنقیح کے جواب میں پہلے ہی قدم پر جان لیجیے کہ ڈارون کا نظریہ جس طرح انیسویں صدی کے وسط میں صرف ایک نظریہ تھا اسی طرح آج اس بیسویں صدی کےوسط میں بھی صرف ایک نظریہ ہی ہےواقعہ اور حقیقت (Fact) ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا ہے۔نظریہ اور واقعہ کا فرق کسی تعلیم یافتہ آدمی سےپوشیدہ نہیں ہو سکتا ۔ اور یہ بھی آپ سمجھ سکتےہیں کہ آدمی کے لیے اپنے ایمان پر نظر ثانی کرنے کا سوال اگر کہیں پیدا ہوسکتا ہے تو صرف اس صورت میں جب کہ وہ چیز جس پر وہ ایمان رکھتا ہے کسی ایسی چیز سے ٹکرا جائے جو ثابت شدہ واقعہ ہو ۔ ورنہ جو ایمان قیاسات و نظریات کی ٹکر بھی نہ سہہ سکے وہ ایمان تو نہیں محض ایک حسن ظن ہے جو نری افواہوں پر بد گمانی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
ڈارونی نظریہ ارتقاء کی اس حقیقت کو نگاہ میں رکھ کر اب ذرا اس کے علمی و استدلالی مرتبے کا ایک سرسری جائزہ لےلیجیےعلم الحیات (Biology) کےجس مشکل ترین مسئلہ میں سائنس کے علماء الجھ رہے ہیں وہ دراصل یہ سوال ہے کہ زندگی کا مہڈا کیا ہے۔قرآن اس کا جواب دیتا ہے کہ زندگی کا مبدا خدا کا حکم ( امر رب ) ہے۔ وہ صرف خدا کا حکم ہی ہےجو بے جان مادے میں آثارِ حیات پیدا کر دیتا ہے۔ لیکن مغرب کی نشاۃ ثانیہ کےدور میں موجودہ سائنس جن لوگوں کے ہاتھوں نشو و نما پاتا رہا ہے ان کی کوشش یہ رہی ہےکہ اس کا رخانہ ہستی میں کسی فوق الفطرت ذات (Super Natural) کی کارفرمائی و کارگری ماننے اور محسوس کرنے سے جس طرح بھی بن پڑے پہلو بچائیں۔ اُن کی خواہش یہ رہی ہے کہ اس کارگاہ فطرت کے اندر ہی انھیں اس کی کارفرما طاقت کا بھی کہیں سراغ مل جائے ۔ اسی بنیادی غلطی نے اُن کےلیےوہ مشکل سوالات پیدا کیے جنھیں حل کرنے کےلیے ان کو قیاس آرائیوں سے کام لینا پڑا۔ قیاس آرائیوں ہی سے انھوں نے اس سوال کو بھی سلجھانا چاہا کہ حیات میں اس تنوع کی وجہ کیا ہے اور مختلف انواع کے درمیان تفاضل کا سبب کیا ہے۔ ڈارون اُن لوگوں میں سے ایک ہے جنھوں نےاس طرز پر ان سوالات کی تحقیق کرنےکی کوشش کی ہے۔ اس نے خود بھی یہ نہیں کہا کہ وہ حقیقت کو پا گیا ہے۔ اس کے نظریہ کے قاتلین میں سے جو لوگ فی الواقع سائنٹسٹ ہیں وہ بھی اپنے قیاس کو حقیقت اور واقعہ نہیں قرار دیتے ۔ مگر جن لوگوں کو سائنس کی اُڑتی ہوئی ہوا لگ گئی ہے وہ اس زور شور سے اس کا ذکر کرتے ہیں کہ گویا حقیقت بے نقاب ہو کر ان کے سامنے آکھڑی ہوئی ہے۔
ڈارون نے جب تحقیق و تجسس کا آغاز کیا اس وقت اگر وہ قرآن کے دیے ہوئےنقطه آغاز (Starting Point) سے چلتا تو اس نتیجے پر پہنچتا کہ زندگی کی شکلوں میں یہ تنوع اور تفاضل، جو ایک بے نظیر ترتیب کے ساتھ واحد الخلیہ بھنگے (Unicellular Molecule) سےلے کر انسان تک میں نظر آ رہا ہے۔ یہ ایک حکیم کے منصوبے (Design) کا نتیجہ ہے جو مختلف انواع کی زندگی کے لیے مناسب ماحول اور سازگار حالات فراہم کرنے کے بعد انھیں ان کی مخصوص نوعی خصوصیات کے ساتھ بتدریج وجود میں لاتا چلا گیا ہے اور جن انواع کی ضرورت اس کے خاکے میں باقی نہیں رہی ہے انھیں مٹاتا بھی رہا ہے۔ لیکن جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں، یہ لوگ منصوبہ ساز (Designer) کو ماننے سے جی چراتے ہیں اور اُس کی کارگاہ میں اس کی کارفرمائی کے نشانات دیکھنا نہیں چاہتے ۔ اس لیے جو مشہورات ان کے مشاہدے میں آتے ہیں اُن کی توجیہہ یہ کسی ایسے طریقے سے کرنا چاہتےہیں جس سے یہ کارخانہ خود بخود چلتا اور ترقی کرتا ہوا سمجھا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈارون نے تنوع اور تفاضل کی توجیہہ ارتقاء کے اُس نظریہ سے کی جو اُس کے نام سے مشہور ہےاور یہی وجہ ہے کہ یورپ نے جو اُس وقت تک اپنے الحاد کو پاؤں کے بغیر چلا رہا تھا، لیک کر یہ لکڑی کے پاؤں ہاتھوں ہاتھ لیے اور نہ صرف اپنےسائنس کےتمام شعبوں میں بلکہ اپنےفلسفه و اخلاق اور اپنے علوم عمران تک میں ان کو نیچے سے نصب کر لیا۔حالانکہ علمی اور عقلی حیثیت سےاس توجیه میں اتنے جھول تھےاور ہیں کہ مشکل ہی سےکوئی صاف دماغ کا آدمی اس کو منظر (Phenomena) کی ممکن تو جیہات میں سے ایک قابل لحاظ تو جیہہ قرار دے سکتا ہے۔
پیچیدہ اور گہری علمی تنقید سے بچتے ہوئے میں آپ کو ایک مثال سے ڈاروینی نظریہ ارتقاء کا اصلی و بنیادی ضعف سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ فرض کیجیے کہ مریخ سےسائنس کا ایک پروفیسر اپنے کچھ شاگردوں کے ساتھ علمی تحقیقات کے لیے زمین پر آتا ہےاور یہ بھی تھوڑی دیر کے لیے مان لیجیے کہ ان آنے والوں کی بینائی میں کوئی ایسی کمزوری ہے جس کی وجہ سے وہ یہاں انسان کو تو نہیں دیکھ سکتے، مگر اس کی مصنوعات اور اس کےتمدن کے آلات و وسائل کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ محقق پروفیسر یہاں انسان کی جو مصنوعات دیکھتا ہے ان میں اسے شکلوں اور نوعیتوں کا فرق صاف نظر آتا ہے، وہ یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ ان میں سے بعض چیزیں دوسری چیزوں سے زیادہ بہتر ہیں ۔ دورانِ تحقیق میں اس کو یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بعض چیزیں پہلے رائج نہ تھیں۔ بعد میں ہوئیں، بعض قدیم سے رائج رہی ہیں اور اب تک رائج چلی آ رہی ہیں، اور بعض پہلے رائج تھیں مگر اب مفقود ہیں۔کچھ زمانہ تک وہ اس بکھرےہوئےمنظر کی اشیاء کو اپنے ذہن میں مرتب کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ مختلف قسم کی اشیاء کی انواع اور اصناف میں تقسیم کر کےان کے درجات قائم کر لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ تحقیق کا قدم آگے بڑھاتا ہے اور یہ معلوم کرنا چاہتا ہےکہ آخر یہ متنوع اور متفاضل اشیاء بنیں کیئے۔۔۔اور ان کےمتنوع اور تفاضل میں اور بعض کےباقی اور بعض کے معدوم ہو جانے میں کیا اسباب اور کیا قوانین کارفرما ہیں۔
اس سوال کا جواب اگر چہ یہ بھی ممکن تھا کہ یہاں اغلبا ایسی اور ایسی صفات کی کوئی ہستی وجود میں ہے جو ان چیزوں کو اپنی مختلف مصلحتوں کے لحاظ سے بناتی ہے جن چیزوں کی ضرورت باقی ہے انھیں بنائے چلی جاتی ہے جن کی ضرورت باقی نہیں رہی انھیں بنانا چھوڑ چکی ہے اور جن کی ضرورت اب کسی دوسری شکل کی چیز سے بہتر طور پر پوری ہونےلگی ہے انھیں بنانا چھوڑتی جارہی ہے۔ لیکن کسی وجہ سے یہ مریخی محقق کسی ایسی ہستی کو فرض کرنے سے بچنا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ قیاس کا رُخ دوسری طرف پھیر کر اپنے منتظر کی تو جیہہ اس طرح شروع کر دیتا ہے کہ ان تمام مصنوعات کی ابتداء غالباً صنعت کے ایک ہی ابتدائی قسم سے ہوئی تھی، پھر اس میں ارتقاء شروع ہوا اور ماحول کے فلاں فلاں اسباب سے ان اشیاء کی مختلف انواع وجود میں آئیں، پھر انواع نے ایک دوسرے کے خلاف کشمکش شروع کی اور ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنے ماحول سے اپنے آپ کو موافق کرنے اور ما حولی طاقتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اس کشمکش میں جو مصنوعات ناکام رہ گئیں وہ مٹ گئیں اور جو کامیاب ہوئیں انھیں ماحول نےبقاء کے لیے چن لیا۔یہی کشمکش ار مصنوعات کی شکلوں اور صفتوں کے ارتقاء کی موجب ہوئی اور بقاء کی جدو جہد ہی میں ایک ان نوع کی چیز میں ترقی کرتے کرتے دوسری نوع کی مصنوعات میں تبدیل ہوتی چلی گئیں۔
مثلاً وہ قیاس کرتا ہے کہ چھکڑےکی نوع مدتوں زور لگاتی رہی یہاں تک کہ اس کےبعض قابل تر افراد کی ترکیب میں تغیرات رونما ہوتے چلے گئے اور بالآخر وہ بگھی میں تبدیل ہو گئے ۔ پھر بگھی کی نوع نے زور لگانا شروع کیا حتی کہ اس کے بعض قابل افراد کی ترکیب میں پھر تغیر آنے لگا اور بالآخر وہ موٹر میں تبدیل ہو گئے۔ پھر بعض موٹروں نے اونچے اونچے درختوں اور مکانوں اور عمارتوں کو دیکھ کر ان کے اوپر پہنچنا چاہا اور اس کوشش میں آچکنا شروع کیا یہاں تک کہ اُچکتے اُچکتے اُن کے پر نکل آئے اور بالآخر وہ ہوائی جہاز میں تبدیل ہو گئیں۔
اس محقق جلیل کے ساتھ مریخ کے سائنس کالج سے جو طالب علم آئے تھے وہ عرض کرتے ہیں کہ قبلہ چھکڑے سے بجھی اور تجھی سے موٹر اور موٹر سے ہوائی جہاز تک بتدریج جو ارتقاء ہوا ہوگا تو لازما چکڑے اور تجھی کے درمیان اور بگھی اور موٹر کے درمیان اور موتر اور ہوائی جہاز کے درمیان بکثرت ایسی کڑیاں پائی جانی چاہئیں جو ان میں سے ہر دو ۔۔۔۔ کے بیچ کا فاصلہ ابھی طے کر رہی ہوں اور اس فاصلے میں ہر ہر قدم پر ان درمیانی کڑیوں کے مختلف افراد ایک قافلے کی طرح آگے پیچھے چلتے نظر آنے چاہئیں۔ مثلا بھی اور موٹر کے درمیانی فاصلے میں بہت سی ایسی اقسام کی گاڑیاں ملنی چاہئیں جو ابھی کچھ بھی ہوں اور کچھ موٹر ہونے کے مختلف درجوں میں ہوں ۔ اور اسی طرح موٹر اور ہوائی جہاز کےدر میان ایسی بہت سی اقسام کی سواریاں پائی جانی چاہئیں جو ابھی پر نکال رہی ہوں۔
اس سوال کو سُن کر پروفیسر صاحب کچھ دیر سوچتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ ہاں یہ درمیانی کڑیاں ضرور پائی جاتی ہوں گی ۔ بگھی تو دیکھو تمھارے سامنے موجود ہے ۔ اس بگھی سے بگھ موٹر بنا ہوگا، پھر وہ موٹر بگھے میں تبدیل ہوا ہوگا، پھر اُس نے موٹر مجھے کی شکل اختیار کی ہوگئی، پھر وہ اس موٹر کار میں تبدیل ہو گیا جسے تم دیکھ رہے ہو۔ پھر موٹر اپنی ارتقائی جدو جہد سے"پنکھ موٹر" اپنی ہوگئی، پھر وہ موٹر پنکھ میں تبدیل ہوئی ہوگی، پھر موٹر پنکھا پیدا ہوا ہوگا پھر وہی تبدیل ہو کر یہ ہوائی جہاز بن گیا جو تمھیں اُڑتا ہو انظر آ رہا ہے یہ بیچ کی کڑیاں جن کے نام میں نے لیے ہیں ضرور کہیں نہ کہیں پائی جاتی ہوں گئی' جاؤ اور مٹی کے ڈھیروں میں انھیں تلاش کرو۔
استاد تو یہ کہہ کر خاموش ہو گیا، مگر شاگرد جو مریخ ہی سے انسان کے خلاف ایک تعصب دل میں لیے ہوئے آئے تھے اس کی اس نادر تحقیق پر ایسا ایمان لائے کہ انھوں نے استاد کے کلام میں سے "غالبا" اور ہوا ہوگا" کو بھی نکال دیا اور اب وہ اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کو یقینا “ اور ” ہے“ کے ساتھ بیان کرنے لگے ہیں ۔ ان کے علمی لیکچروں میں موڑ بگھا اور پنکھ موٹر وغیرہ خیالی موجودات کا ذکر اس طرح آتا ہے گویا کہ یہ چیزیں کہیں ان کے میوزیم میں موجود ہیں ۔ حالانکہ موجودا گر کچھ ہے تو وہ صرف بھی موٹر اور ہوائی جہاز ہے۔
ڈارون کے نظریے اور ڈاروینیت کے متبعین پر یہ تمثیل بالکل ٹھیک ٹھیک راست آتی ہے۔ اس نظریے کے اصلی لٹریچر کو آپ دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کی ساری بنیاد "ہوگا'" پر ہے۔ حالانکہ سائنس میں اصل قابل اعتبار چیز "ہے" نہ کہ "ہو گا۔" میں پوچھتا ہوں کہ اگر سائنس میں ہوگا“ بھی کوئی اہمیت رکھتا ہے تو ایک ہوگا اور دوسرے ہوگا میں فرق کیوں ہو؟ خصوصاً جبکہ ایک "ہوگا"۔۔۔ دوسرے "ہوگا "۔کچھ زیادہ ہی لگتا ہوا ہو ۔ جب آپ اس کے لیے تیار ہیں کہ مشہورات کی توجیہ میں "ہو گا" کو بھی مان لیں تو ڈارون کے "ہوگا“ سے میرا یہ "ہوگا" کچھ زیادہ ہی لگتا ہو ا ہے کہ زندگی کا آغاز اور زندہ اشیاء کا تنوع اور ان کا تفاضل سب کا سب ایک حکیم کے امر اور حکیمانہ تدبر سے ہوا ہوگا ۔ میرا یہ ہوگا ڈارون کے ” ہوگا“ سے زیادہ بہتر طریقہ پر تمام مشہودات کی توجیہ کرتا ہے کسی سوال کو لا جواب نہیں چھوڑتا اور سب سے بڑھ کر اس کےحق میں وجہ ترجیح یہ ہے کہ اُس طرف تو کوئی آدمی صداقت کے ساتھ ہوگا“ سے زیادہ کچھ کہنے کے قابل نہیں ہے مگر اس طرف بہ کثرت صالح ترین انسان جو کبھی جھوٹ بولتےنہیں پائے گئے پورے زور کے ساتھ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ” ہے اور ہم آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں کہ " ہے"۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سائنس کے طالب علم ادھر آنے کے بجائےاُدھر جا رہے ہیں؟ کیا اس کی کوئی وجہ اُس خدا بیزاری سے سوا بھی ہے جو قرونِ متوسطہ سےسائنس کے طالب علموں کو میراث میں ملی ہے؟ اگر یہی بات ہے تو جذبات“ کا نام لوگوں نے ”علم“ کیوں رکھ چھوڑا ہے۔
علمی اور عقلی حیثیت سے اس نظریہ میں جو کمزوریاں میں اُن سے قطع نظر کر کے اگر دیکھا جائے کہ فلسفہ اور اخلاق اور علوم تمدن و اجتماع میں داخل ہو کر اس ظالم تخیل نےانسان کو برباد کرنے کے لیے کیسے شدید فتنے برپا کیے ہیں، تو شاید کسی صاحب بصیرت آدمی کو یہ ماننے میں ذرہ برابر تامل نہ ہوگا کہ موجودہ دور میں جن نظریات نے انسان کےساتھ سب سے زیادہ دشمنی کی ہے یہ ڈاروینیت اُن سب کی سرتاج ہے۔ اس نے انسان کو یقین دلایا ہے کہ تو جانوروں میں سے بس ایک جانور ہے۔در ہے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آدم کی اولاد آج پورے اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی کے ہر پہلو میں حیوانیت کا برتاؤ کر رہی ہےاور اسی کا یہ اثر ہے کہ انسان اپنی زندگی کے قوانین اور اصول کسی برتر ماخذ ہدایت میں تلاش کرنے کے بجائے حیوانات کی زندگی میں تلاش کر رہا ہے۔ پھر یہ ڈارون ہی کا نظریہ ہے جس نے انسان کے سامنے پورے نظام کائنات کو ایک رزم گاہ کی حیثیت سے پیش کیا ہے اور اس کو بتایا ہے کہ نزاع اور جنگ اور کشمکش ہی اصل تقاضائے فطرت ہے۔ اس کشمکش میں جو زور آور ہے وہی زندہ اور کامیاب ہے اور وہی صالح اور برحق ہے۔ بخلاف اس کے جو کمزور ہے وہی غیر صالح ہے اور اس کا مٹنا اور فنا ہو جانا قوانین فطرت کا ایک ایسا نتیجہ ہے جس کو برحق ہونا ہی چاہیے۔ آج یہ اسی طرز فکر کی برکات ہیں کہ انسانی افراد سےلےکر طبقات اقوام اور ممالک تک سب کےسب دنیا کو حقیقت میں ایک رزم گاہ بنائےہوئے ہیں اور فطرت کا تقاضا انھوں نے یہی سمجھا ہے کہ جو طاقتور ہے وہ کمزور کو فنا کردے۔
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |