(۱) قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ حضرت یوسف کو تمکن فی الارض عطا فرمایا گیا اور وہ دائرہ حکومت میں ایک ممتاز حیثیت سے شریک ہو گئے ۔ لیکن ظاہر ہے کہ آپ رسول تھے، اس لیے فریضۂ رسالت کی سرانجام دہی بھی آپ کے لیے ضروری تھی۔ دربار فرعون کےمرد مومن نے اپنی تقریر میں اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ حضرت یوسف کی نبوت پر قوم فرعون ایمان نہیں لائی تھی اور یہ بھی کہ آپ اپنی وفات تک ڈھیل دیتے رہے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی نبوت کو پیش کیا۔ لیکن فرعون اور اس کی قوم اس پر ایمان نہ لائی۔ اس کے باوجود حضرت یوسف اُن کی حکومت میں شریک کار رہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کا ایک برگزیدہ رسول ایک غیر خدائی نظام حکومت کا شریک کار کس طرح رہا۔در آنحالیکہ وہ اس قوم کے سامنے اپنی نبوت بھی پیش کر چکےتھےاور اس قوم نےاسے تسلیم نہیں کیا تھا۔ ایسےمنکرین دعوتِ اسلامی کےخلاف یا تو حضرت یوسف علیہ السلام کو جہاد کرنا چاہیے تھا یا بر سبیلی تنزل وہاں سے ہجرت لازم تھی۔ لیکن آپ نے نہ تو ہجرت ہی فرمائی اور نہ ہی ان کے خلاف جہاد کیا بلکہ ان کے خلاف تبری و بیزاری کا اعلان بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ کیا آپ اس گتھی کو سلجھائیں گے؟
بنی اسرائیل کی تاریخ کا وہ دور جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے گزرا ہےقریب قریب بالکل تاریکی میں ہے۔ اس لیے قرآن کے اشارات کی تفصیل معلوم کرنا مشکل ہے۔ تاہم قرآن کریم نے اپنے مجمل اشارات سے اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہنے دیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی حیثیت مصر میں خدائی نظام حکومت کے شریک کار کی نہ تھی بلکہ مختار کل کی تھی اور انھوں نے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں، میں لی ہی اس شرط کے ساتھ تھی کہ کل اختیارات اُن کے ہاتھ میں ہوں۔ اس آیت کو بغور پڑھیے :
یوسف علیہ السلام نے کہا مجھے ملک کے خزانوں پر حاکم بنا دئے یقیناً میں حفاظت کرنے والا ہوں اور علم رکھتا ہوں اور اس طرح ہم نےیوسف کو اس سرزمین میں اقتدار عطا کیا۔ وہ وہاں جس جگہ بھی چاہتا اپنی جگہ بنا سکتا تھا۔
خط کشیدہ الفاظ صاف ظاہر کر رہے ہیں کہ مطالبہ کلّی اختیارات کا تھا اور ملے بھی کلی اختیارات ہیں۔ "خزائن الارض کا لفظ دیکھ کر بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ یہ جگہ شاید فینانس منسٹر یا ریونیو ممبر کی تھی، حالانکہ دراصل اس سے مراد ملک کے جملہ وسائل (Resources) ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا مطالبہ یہ تھا کہ سلطنت مصر کے تمام وسائل میرے ہاتھ میں دیے جائیں اور اس کے نتیجے میں جو اختیارات انھیں ملے وہ ایسےتھے کہ پھر ساری سرزمین مصران کی تھی يتبوا منها حيث يشاء کو بھی لوگوں نے بہت ہی محدود معنوں میں لے لیا ہے۔ ان کے نزدیک اس کا مفہوم بس اتنا ہے کہ حضرت یوسف ہر جگہ مکان بنا لینے یا قیام کرنے کے مجاز تھے۔ حالانکہ درحقیقت اس فقرے سے یہ تصور دلا نا مقصود ہے کہ اس سرزمین پر حضرت یوسف کا اقتدار ویسا ہی تھا، جیسا ایک زمین کےمالک کو اپنی زمین پر حاصل ہوتا ہے۔
١- بائیل اور تلمود بھی اس پر کوئی خاص روشنی نہیں ڈالتیں، اور نہ مصر کی قدیم تاریخ اور اثریات سے اس معاملے میں کچھ معلومات حاصل ہوتی ہیں۔
اب رہا یہ سوال کہ اس طرح حضرت یوسف کو جو اقتدار حاصل ہوا اس کےذریعے سے انھوں نے ملک کے نظام تہذیب و تمدن و اخلاق و سیاست کو اصول اسلام کے مطابق تبدیل کرنے کی کیا کوشش کی اور اس میں کس قدر کامیابی ہوئی تو اس کے متعلق کوئی تفصیل ہمیں تاریخ میں نہیں ملتی۔ البتہ سورہ مائدہ کے ایک اشارے سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں حضرت یوسف کا اقتدار محض ایک فرد واحد کا عارضی اقتدار نہ تھا بلکہ آپ کے بعد ایک مدت دراز تک آپ ہی کے جانشین، جو یقینا مسلمان ہی تھے مصر پر حکمران رہے۔ انھیں وہ عظمت و شوکت حاصل ہوئی جو اُس دور میں دُنیا کی کسی قوم کو حاصل نہ تھی ۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں:
یاد کرو جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں انبیاء پیدا کیے اور تم کو فرمانروا بنایا اور تمھیں وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا۔
اس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اس اسلامی غلبہ و تسلط کا لازمی اثر ملک کی پوری زندگی پر مترتب ہوا ہوگا۔
سورہ مومن کی جس آیت سے آپ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قبطی قوم نے حضرت یوسف کو ماننے سے انکار کر دیا تھا، دراصل اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا۔ میں ایسا سمجھا ہوں کہ وہاں ہندوستان کی سی صورت پیش آئی تھی کہ ملک کی آبادی کے معتد بہ حصے نے اسلام قبول کیا اور بڑی اکثریت اپنے شرک پر قائم رہی۔ پھر جس حصے نے اسلام قبول کیا وہی ایک مدت تک برسر اقتدار رہا، مگر رفته رفته اخلاقی و اعتقادی انحطاط نے اس کو غلامی اور گمراہی کی پستیوں میں گراد یا حتی کہ غلو اور اشخاص پرستی کے فتنے میں پڑ کر عملاً اس میں اور دوسرے مشرکین میں کوئی خاص فرق باقی نہ رہا۔ اسی چیز کی طرف مومن آل فرعون نےاشارہ کیا ہے:
اس سےپہلےیوسف تم لوگوں کےپاس صریح نشانیاں لے کر آئےتھے مگر تم اس چیز میں برابر شک کرتے رہے جسے وہ لائے تھے پھر جب ان کا انتقال ہو گیا تو تم نے کہا کہ اب ان کے بعد اللہ کسی رسول کو ہرگز نہ بھیجے گا۔
خط کشیدہ دو فقروں میں سے پہلا فقرہ بتاتا ہے کہ حضرت یوسف کی زندگی میں ملک کی بیشتر آبادی آپ کی نبوت کے متعلق شک میں رہی' جیسا کہ اکثر انبیاء کے ساتھ ہوا ہے۔ اور دوسرے فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنجناب کے بعد جو لوگ آپ کے معتقد ہوئےوہ آپ کی شخصیت کے گرویدہ ہو کر غلو میں مبتلا ہو گئے اور کہنے لگے کہ اب کوئی رسول نہیں آسکتا اور اسی بنا پر انھوں نے بعد کے آنے والے کو ماننے سے انکار کر دیا' جیسا کہ آگےچل کر یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا درآنحالیکہ حضرت یوسف یا حضرت موسیٰ یا حضرت عیسی علیہم السلام میں سے کسی کے بعد بھی اللہ کی طرف سے ختم نبوت کا اعلان نہ ہوا تھا۔
١- بائیل کا بیان ہے کہ مصر سے حضرت موسیٰ کے ساتھ جو لوگ نکلے تھے ان میں چھ لاکھ تو صرف مردان جنگی تھے ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی مجموعی تعداد ۲۰ لاکھ سے کم نہ ہوگی اور یہ مصر کی آبادی کا کم از کم ١٠ فی صد حصہ تھی۔
بہر حال اس آیت کے یہ معنی نہیں نکالے جا سکتے کہ حضرت یوسف علیہ السلام پر ملک میں کوئی بھی ایمان نہیں لایا تھا بلکہ دوسرے اشارات کی مدد سے قیاس یہی ہوتا ہے کہ ملک میں اہل ایمان کا ایک گروہ پیدا ہو گیا تھا جس نے بنی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک مدت تک اسلامی نظام حکومت کو قائم رکھا اور بعد میں بتدریج مائل انحطاط (degenerate) ہوتا چلا گیا۔
حضرت یوسف کو اُن کے والدین اور بھائیوں نے جو سجدہ کیا تھا اُس کی حقیقت جہاں تک میں تحقیق کر سکا ہوں یہ ہےکہ قرآن مجید کےاس مقام پر"سجدہ " کا لفظ اس معنی میں استعمال نہیں ہوا ہےجو اسلامی اصطلاح کے ساتھ مخصوص ہےیعنی زمین پر ہاتھ گھٹنےاور پیشانی لگانا۔ یہ اصطلاحی سجدہ تو فی الحقیقت سجدہ کی وہ مکمل صورت ہےجسےعبادت الہی کے لیے مختص کیا گیا ہےورنہ لغت میں اس کےمعنی عاجزی اور نیازمندی کے ہیں جس کا اظہار کسی فعل یا حالت سے ہو سکتا ہے۔ بنی اسرائیل کے ہاں یہ چیز آداب تہذیب میں داخل تھی کہ کسی کے احسان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے یا کسی کے سامنے احترام کا اظہار کرنے کے لیے اس کے آگے کھڑے ہو کر سرخم کرتے تھے اور اسے ان کی زبان میں لفظ مسجود سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ چنانچہ تورات کے عربی ترجمے میں لکھا ہے کہ قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے فرشتے جب حضرت ابراہیم کے پاس انسانی صورت میں پہنچے تو حضرت ابراہیم ان کے استقبال کے لیے نکلے اور زمین کی طرف جھکے ۔ (فَلَمَّا نَظَرَ رَكَضَ لِاسْتِقْبَالِهِمْ مِنْ بَابِ الْحِيُفَةِ وَسَجَد إِلَى الْأَرْضِ) ۔ اسی طرح جب حضرت سارہ کا انتقال ہوا اور بنی حت نے اُن کی قبر کے لیے زمین بلا معاوضہ پیش کی تو یہاں بھی حضرت ابراہیم نے اس قوم کےلیے اعتراف احسان میں سجدہ کیا (فَقَامَ إِبْرَاهِيمُ وَسَجَدَ لِشِعُبِ الْأَرْضِ لِبَنِي حِبَّ اور فَسَجَدَ إِبْرَاهِيمُ امام شعب الارض ) یہ وہی چیز ہے جس کو انگریزی میں Bow کرنا کہتےہیں جو آج تک یورپ میں داخلِ آداب ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنےبھائیوں کے ظلم کے جواب میں جس عضو اور فضل و احسان کا سلوک کیا تھا اور کنعان کی بدوی زندگی کےبجائےمصر میں شان اور عزت کے جس مقام پر انھیں پہنچایا تھا' اس کےاعتراف اور تشکر میں ان کے بھائیوں اور ان کے والدین نے اپنے ہاں کی تہذیب کےمطابق سر خم کیا اور یہی وہ بے اختیارا نہ جھکاؤ تھا جسے قرآن مجید نے خَرُّو الَهُ سُجَّدًا کےالفاظ سے تعبیر کیا ہے۔
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |