پنجاب کے ایک تعلیم یافتہ نوجوان دریافت کرتے ہیں کہ نماز میں آلہ تکبر الصوت ( لاؤڈ اسپیکر) کے استعمال کا شرعی حکم کیا ہے؟ وہ لکھتے ہیں :۔
یہاں عیدالفطر کے موقع پر عیدگاہ کے منتظم حضرات نے لاؤڈ اسپیکر نصب کرایا تھا۔ نماز کے بعد مقامی علماء نے اس کی مخالفت شروع کی اور باہر سے فتوے حاصل کر کے عوام سے کہا تھا کہ تمھاری نمازیں نہیں ہوئیں۔ اب عوام پریشان ہیں، اور منتظمین عیدگاہ خائف ہیں کہ اگر ہم نے اس دفعہ پھر لاؤڈ اسپیکر نصب کرایا تو عوام ہم سے برگشتہ ہو جائیں گے اور علما ہمارے خلاف الحاد کا فتوی صادر کردیں گے۔
پچھلی دفعہ لاؤڈ اسپیکر کےاستعمال سےیہ فائدہ ہوا تھا کہ امام کی آواز تمام مقتدیوں تک صاف طور پر پہنچتی رہی اور نماز میں با قاعدگی پیدا ہو گئی تھی ۔ حالانکہ اس سے پہلے بدنظمی کی یہ حالت ہوتی تھی کہ صفوں میں انتشار ہوتا تھا۔ کوئی مقتدی رکوع میں ہوتا تھا اور کوئی سجود میں۔
مقامی علماء سے عدم جواز کے دلائل پوچھے گئے تو انھوں نے دو باتیں بیان کیں:۔
لیکن ان دلائل سے ہمارا اطمینان نہیں ہوتا۔ پہلی بات تو دلیل نہیں بلکہ خود ایک دعویٰ ہے بلا دلیل ۔ دوسری بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات لاؤڈ اسپیکر کے اصول ساخت ہی سے واقف نہیں۔ اس آلہ کے ذریعہ سے نشر شدہ آواز کو غیر امام کی آواز کسی طرح نہیں کہا جا سکتا۔ علماء کی ایسی بودی اور کمزور باتوں سے تعلیم یافتہ طبقہ سخت بددل ہو رہا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارےپیشوایان دین ہندوستان کے مسلمان نوجوانوں کو بھی اسی بغاوت پر مجبور کرنا چاہتے ہیں جس پر اتاترک اور رضا شاہ مجبور ہوئے۔ لیکن کیا اس رد عمل میں ہمارے لیے صحیح اسلام سے بھی اسی طرح دُور جاپڑنے کا خطرہ نہیں جس طرح یہ دو فرمانروایانِ اسلام صراط سے بھٹک کر ثابت کر چکے ہیں ۔
اس معاملہ میں ہمیں آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے کہ ہمیں آپ کی بصیرت اور اجتہاد پر پورا اعتماد ہے۔ اگر آپ ایسے بڑےمجمعوں میں نماز پڑھانے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو جائز سمجھتے ہیں تو تفصیلاً اس کے دلائل تحریر فرمائیں تا کہ ہم علمائے کرام کی تشفی کر سکیں اور اگر آپ کے خیال میں کچھ ایسے مصالح دینی ہیں جن کے پیش نظر اس کا استعمال خلاف احتیاط ہو تو بھی ہمیں اس کے متعلق واضح طور پر لکھیں تا که نو جوانوں کو سمجھایا جا سکے۔
یہ استفسار بتمام و کمال اس لیے نقل کیا گیا ہے کہ علمائے اسلام اس وقت کےرجحانات کو سمجھیں اور غور فرمائیں کہ جس دور میں وہ رہتے ہیں وہ کس طرز پر مذہبی رہنمائی کا طالب ہے اور اس دور میں دو سو برس پرانےطریق رہنمائی کو اختیار کرنےکےنتائج کیا ہیں؟ اب سےدو تین سال قبل حیدر آباد میں بھی ایسی ہی صورت پیش آئی تھی۔ عید گاہ میں لاؤڈ اسپیکر لگایا گیا؟ لوگوں نے بہت اچھی طرح نماز ادا کی اور ہر شخص اس سے مطمئن تھا۔مگر بعد میں علماء نے مخالفت کی اور کمیٹیاں ہوئیں، اور آخر کار فیصلہ کردیا گیا کہ نمار میں اس آلہ کا استعمال ناجائز ہے۔ میں اس وقت حیدر آباد ہی میں تھا۔ مجھے معلوم ہے کہ اس کا کنائبُرا اثر تعلیم یافتہ طبقہ پر ہوا اور کیا کیا خیالات علماء کے متعلق ظاہر کیے گئے ۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو احکام دین کو اس تعلیم یافتہ طبقہ کی اہوا کا تابع بنانا چاہتےہیں اور اس کو روشن خیالی سمجھتےہیں۔اگر میں یہ دعوی کروں تو شاید غلط نہ ہوگا کہ اس گروہ کے غیر اسلامی رجحانات کےخلاف جہاد کرنے میں میرا قدم کسی متشدد سے متشدد عالم دین سے بھی پیچھے نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی میں اس بات کا بھی سخت مخالف ہوں کہ علماء کرام وقت کے رجحانات سے منہ موڑ کر بیٹھ جائیں اور اس امر کو بالکل بھول جائیں کہ وہ ہدایہ اور بدائع کے زمانہ تصنیف میں نہیں بلکہ نت نئی سائنٹفک ایجادات اور تیز رفتار تمدنی انقلابات کے دور میں رہتے ہیں۔ اس دور میں روز بروز نئےمسائل کا پیدا ہونا لابد ہےاور مسائل کو ہداید و بدائع کی روشنی میں حل کرنے کا نتیجہ اسکے سوا کچھ نہیں جس کا خطرہ نوجوان سائل نےاپنے استفسار میں ظاہر کیا ہے۔ ہماری نئی نسلیں مذت کے ساتھ اپنے زمانہ کے حالات سےمتاثر ہو رہی ہیں، اور یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ زمانہ اپنی طبعی رفتار سے جو حالات اور جو مسائل پیدا کر دے ان سے وہ قوم یک سر بے تعلق ہو کر رہے جو کروڑوں کی تعداد میں دنیا کے ہر حصہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ ان نئی نسلوں میں اگر کوئی غیر اسلامی رجحان پیدا ہو تو اس کو روکنےکے لیے علما اسلام کے پاس وہ طاقت ور دلائل چاہئیں جو اس زمانے کے دماغوں سے اپنا لوہا منوا سکتے ہوں۔ چھٹی صدی ہجری کی منطق اب کام نہیں دے سکتی۔ اور اگر یہ لوگ جدید حمد نی زندگی میں اسلام کی شاہراہ پر آگے بڑھنا چاہیں تو ان کی رہنمائی کے لیے علما اسلام میں وسعت نظر اور زوج اجتہاد کی ضرورت ہےقدم قدم پر عالمگیری اور تاتار خانی کو لاکر سد راہ بنانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ نئےزمانے کے مسلمان قرآن اور حدیث کو بھی پیچھے چھوڑ کر جدھر منہ اُٹھے گا چل نکلیں گے ۔ جس طرح ترک اور ایرانی چل نکلے۔
مسئلہ زیر بحث کا جواب چند الفاظ میں دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے میں چند اصول بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں تا کہ اسی نوعیت کےدوسرے مسائل میں بھی شریعت کا حکم آسانی کےساتھ معلوم کیا جا سکے۔
١- سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جزئیات کے متعلق صریح شرعی احکام ہم کو صرف انھی حوادث اور انھی اُمور کے متعلق معلوم ہو سکتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیش آئے تھے ۔ باقی رہے وہ حوادث جو حضور کےبعد پیش آئےتو ان کے متعلق شرع میں کوئی صریح حکم نہیں مل سکتا، بلکہ صرف اصول و کلیات شرع ہی سےایک حکم نکالا جا سکتا ہےصحابہ کرام اور تابعین و ائمه مجتهدین نے بعد کے حوادث پر جتنے شرعی احکام لگائے ہیں وہ اسی طرح اصول و کلیات سےاخذ کیے ہوئے ہیں،نہ که منصوص ۔ اب اگر کوئی ایسا حادثہ پیش آتا ہےجو صحابہ یا آئمہ کے دور میں پیش نہیں آیا یا کوئی ایسی چیز ایجاد ہوتی ہے جو اس دور میں موجود ہی نہ تھی، تو اس کےمتعلق متقدمین کے اجتہادی احکام میں کوئی حکم تلاش کرنا بداہتہ غلط ہے۔ ایسے ہر حادثہ اور ایسی ہر چیز کے لیے ہم کو بھی اسی طرح اصول و کلیات کی طرف رجوع کرنا پڑے گا جس طرح صحابہ اور آئمہ نے اپنے عہد کے حوادث میں کیا تھا۔
٢-کسی نو ایجاد چیز کےاستعمال کو مکروه یا نا جائز ٹھیرانےکےلیےمحض یہ بات کافی نہیں ہےکہ وہ عہد رسالت میں یا عہد صحابہ میں یا عہد آئمہ میں موجود نہ تھی ۔ تنزیل شرائع سے اللہ تعالٰی کا یہ مقصد ہرگز نہ تھا کہ انسان کی قوت ایجاد ایک خاص زور کے بعد ختم ہو جائے اور اسباب کی تلاش و جستجو اور ان سے کام لینے کے نئےنئےطریقوں کی دریافت کا سلسلہ ایک خاص زمانہ تک تو جائز ہو اور اسکےبعد حرام قرار دےدیا جائےجو لوگ سنت اور بدعت کی تعبیر اس طرح پر کرتےہیں وہ اسلام اور مسلمانوں پر سب سےبڑا ظلم کرتےہیں، کیونکہ یہ دشمنان اسلام کے اس الزام کی تصدیق ہے کہ اسلام کوئی دائی مذہب نہیں بلکہ ایک خاص زمانے کے لیے آیا تھا اور اب اس کے اتباع سے انسانی تمدن کے نشو وارتقاء کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
٣ - تنزیل شرائع سے اللہ تعالیٰ کا اصل مقصد انسان کو وہ اصول سکھانا ہے جن کے تحت وہ اسباب عالم سے غلط کام لینے کے بجائے صحیح کام لے سکئے اور ان کو مضرت کےبجائے حقیقی منفعت اور نیچی فلاح کے لیے استعمال کرے۔ ان اصولوں کی محض لفظی تعلیم ہی ہم کو قرآن اور حدیث میں نہیں دی گئی ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جن اسباب عالم پر انسان کو دسترس حاصل تھی، انھیں اسلامی طریق پر برت کر بھی ہم کو بتا دیا گیا ہے کہ آئندہ جن اسباب پر دسترس حاصل ہو انھیں اس طور پر اور ان مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ صحابہ کرام اور ائمه سلف نے اصول شرع کو اسی اسپرٹ میں سمجھا اور تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ نئے حوادث اور نئی اشیاء پر اصول اسلام کو منطبق کر کے انھوں نے شرع کی ہدایت کو ہمارے لیے اور زیادہ روشن کر دیا۔ اب اگر ہم ان اصولوں کو سمجھ جائیں تو قوائے فطرت میں سے جونئی قوت ہمارےعلم میں آئےگی اور اسباب کائنات میں سے جس نئے سیب پر ہمیں دسترس حاصل ہوگی اس کے معاملہ میں ہم کو ہرگز کوئی حیرانی و سرگردانی پیش نہ آئےگی۔ ہم نہ تو اس اجنبی چیز سے اپرا ئیں گے اور نہ اس کے سامنے ٹھٹھک کر کھڑےہو جائیں گئے بلکہ اصول شرع میں تدبر کر کے بلا تکلف یہ معلوم کر لیں گے کہ اس کو استعمال کیا جائے یا نہ کیا جائے اور اگر استعمال کیا جائے تو استعمال کا پسندیدہ طریقہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیا ہے اور نا پسندیدہ طریقہ کون سا ہے۔ ہرنئی چیز سے اُپرانےاور تمدن کی ترقی کے راستے میں ہر ہر قدم پر ٹھٹک کر کھڑے ہو جانے کی کیفیت جو آج کل پیش آ رہی ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ شرع کے اصول وکلیات کو سمجھنےکے بجائے ہمارے علماء زیادہ تر فقہی جزئیات کے استقصاء میں منہمک رہتے ہیں۔
۴ - قرآن وحدیث سے ہم کو یہ قاعدہ کلیہ معلوم ہوتا ہے کہ اشیاء میں اصل چیز اباحت ہے تاوقتیکہ عدم اباحت پر کوئی دلیل نہ ہو۔یعنی ہر چیز کو پاک حلال اور مباح سمجھا جائےگا۔جب تک اس کےنجس یا حرام ہونے پر کوئی دلیل نہ لائی جائے۔ قرآن میں ارشاد ہے:۔
ان دونوں آیتوں سے ظاہر ہے کہ زمین و آسمان کی ساری چیزیں انسان کے لیےہیں لہذا انسان ان سے کام لینے اور فائدہ اُٹھانےکا مستحق ہے۔ایک ایک چیز کے لیےالگ الگ اجازت کی ضرورت نہیں، بلکہ جب تک کسی خاص چیز کے استعمال یا طریق استعمال کی ممانعت نہ ہو سب چیزوں کو مباح اور طاہر ہی سمجھا جائے گا۔ اسی اصل کی طرف وہ حدیث اشارہ کرتی ہےجو ابو داؤد نےحضرت سلمان فارسی سے بدیں الفاظ نقل کی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمیا:
حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہےجسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کر دیا۔ رہیں وہ چیز ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا تو وہ معاف ہیں ۔
اور اسی کی تفسیر حدیث میں فرمائی گئی ہے: لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ فِي الْإِسْلَامَ -لهذا جن چیزوں کی حرمت کا صریح حکم نہیں ہے ان کے معاملہ میں اس قاعدہ کلیہ کے لحاظ سےدیکھا جائے گا کہ آیا وہ انسان کےلیے مضرت رساں ہیں یا منفعت بخش ۔ اگر وہ مضر ثابت ہوں تو وہ حرام ہیں اور منفعت بخش ثابت ہوں تو حلال۔ اسی طرح ان کے طریقہ ہائےاستعمال کو بھی اسی قاعدے کے لحاظ سےجانچا جائے گا۔جوطریق استعمال موجب فساد ہو وہ ممنوع ہے اور جو طریق استعمال موجب اصلاح ہو وہ مباح ہے۔
٦- منفعت اور مضرت صلاح اور فساد کے بارے میں بھی شارع نے ہم کو ایک معیار دیا ہے۔ ہم اندھیرے میں نہیں چھوڑے گئے ہیں کہ جس چیز کو چاہیں مفید اور جس کو چاہیں منفر ٹھیرا لیں ۔ بلکہ ہمیں چند اصول بتائے گئے ہیں جن کے لحاظ سے فائدے اور مضرت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انھی اصولوں میں سے ایک اصل یہ بھی ہے کہ جو چیز فرائض دینی کی بجا آوری میں مانع ہو وہ مضر ہے اس لیےاس سے اجتناب کرنا چاہیے اور جو چیز اس میں مددگار ہو وہ مفید ہے اس لیےاس کا استعمال نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے۔ مثلا رویت ہلال میں اگر برہنہ آنکھ کی بہ نسبت دور بین کے استعمال سے زیادہ سہولت پیدا ہوتی ہے تو اسےمستحسن سمجھنا چاہیے۔ رمضان میں سحر کا آخری وقت معلوم کرنے کےلیےاور روز مرہ نماز کے اوقات معین کرنے کےلیےگھڑی زیادہ مددگار ہوتی ہےتو اس کا استعمال بھی مستحسن ہونا چاہیےسفر حج کےلیےاونٹ کی به نسبت موٹر یا ہوائی جہاز سےزیادہ سہولت پیدا ہوتی ہےتو اس کا استحسان بھی نا قابلِ انکار ہے۔ فریضہ جہاد کی بجا آوری میں نیزہ و شمشیر اور اسپ و فیل کی به نسبت بندوق توپ جنگی جہاز اور ہوائی جہاز زیادہ کارآمد ہیں تو ان کے مستحسن ہونےمیں بھی کلام نہیں کیا جا سکتا۔اگر کوئی شخص ان چیزوں کےحق میں حرمت یا کراهت یا توقف کا مسلک اختیار کرتا ہے محض اس لیے کہ زمانہ سلف میں یہ چیزیں استعمال نہیں ہو ئیں تو وہ شرع سے قطعا بے بہرہ ہے۔
٧- جو چیز کسی ایسے مقصد کے لیے بنائی گئی ہو جسے شرع نے حرام قرار دیا ہے اور اس امر ممنوع کے سوا اس چیز کا کوئی اور استعمال بھی نہ ہو تو اس کے مطلقا ممنوع ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ مگر جو چیز اچھے اور برے مفید اور مضر دونوں طرح کے کاموں کے لیے آلہ کے طور پر کام آتی ہو اس کو محض اس بنا پر حرام نہیں کیا جا سکتا کہ فاسقین کے ہاتھوں میں اس کا غالب استعمال ممنوعات کے لیے ہےمثلا گراموفون محض ایک آلہ ہے جس کو اچھے اور برے دونوں مقاصد کے لیےاستعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم نفس گراموفون کو حرام نہیں کہہ سکتے بلکہ حرمت کا حکم صرف اس طریق استعمال سےمتعلق ہو گا جو شہوات کو اُبھارنےوالا اور فواحش کی اشاعت کرنے والا ہے۔
ان اصولوں کو سامنے رکھ کر جب ہم اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ لاؤڈ اسپیکر کےمتعلق شرع کا حکم کیا ہے تو کوئی امر ہمیں اس نتیجے تک پہنچنے سے نہیں روکتا کہ اس آلے کا استعمال مستحسن ہے۔ یہ اُن اسباب عالم میں سے ایک سبب ہے جنھیں خدا نے ہمارے لیےپیدا کیا ہے۔ اس کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ قدرتی طور پر جو آواز نکلتی ہے یہ آلہ اسی آواز کو لے کر زیادہ بلند کر دیتا ہے۔ چونکہ اس پر حال ہی میں ہم کو دسترس حاصل ہوئی ہےاس لیے اس کے متعلق کوئی حکم سنت اور اجتہادات متقدمین میں تلاش کرنا اصلاً غلط ہے۔البتہ شرع نےجو اصول ہم کو کسی چیز کی اباحت یا حرمت معلوم کرنے کےلیےدیے ہیں ان کے لحاظ سے اس کے مطلقاً مباح ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ۔ رہے استعمالات تو باطل کی آواز بلند کرنے اور فواحش کا بول بالا کرنے میں اس کا استعمال حرام ہے۔جائز آوازوں کے بلند کرنے میں اس کا استعمال جائز ہےاور خدا کا نام بلند کرنے میں خدا ہی کی پیدا کی ہوئی اس طاقت سے کام لینا بالیقین مستحسن ہے۔ یہ بالکل ایک عجیب بات ہوگی کہ کفار تو خدا کے مسخر کیے ہوئے اس خادم سے مدد لے کر باطل کا آوازہ بلند کریں اور ہم حق کا آواز و بلند کرنے کے لیے اس سے خدمت لینے میں تامل کرتے رہیں۔
اب صرف ایک شک باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ نماز میں امام کے سواکسی اور کی آواز پر مقتدیوں کا حرکت کرنا مفسد صلوۃ ہے لہذا اگر لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر مقتدی رکوع و سجود کرین گے تو ان کی نماز نہ ہوگی۔ لیکن یہ شک متعدد حیثیات سے غلط ہے۔
اولاً لاؤڈ اسپیکر سے جو آواز نکلتی ہے وہ غیر امام کی آواز نہیں ہے بلکہ بعینہ وہی آواز ہے جو امام کے منہ سے نکلتی ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ بجلی کی طاقت سے وہ زیادہ بلند ہو جاتی ہے اور اس لحاظ سے اس کی حیثیت قریب قریب اس گونج کی سی ہے جو مسجد کی محراب سے امام کی آواز پر بلند ہوتی ہے۔
ثانیاً اصول فقہ کا متفقہ مسئلہ ہے کہ التباع تابع ۔ یعنی جو حکم متبوع کا ہے وہی تابع کا ہے۔اسی قائدے کی بناء پر بڑی جماعتوں میں جو معتبر کھڑےکیےجاتےہیں ان کی آواز پر رکوع و سجود اور قیام و قعود کرنا مقتدیوں کے لیے جائز ہے کیونکہ اگر چہ وہ غیر امام ہیں، مگر امام کے تابع ہیں، اس لیے ان کی آواز کا حکم امام کی آواز کا حکم ہے۔ پس اگر بالفرض لاؤڈ اسپیکر کی آواز غیر امام کی آواز بھی ہو تب بھی وہ تابع امام ہونے کی حیثیت سے اُس مقتدی کے مانند ہے جو صفوں کے درمیان تکبیر بلند کرنے کےلیے کھڑا کیا جاتا ہے۔ بلکہ جب ہم زیادہ غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تابع ہونے میں یہ آلہ مقتدی سے بھی بڑھا ہوا ہے۔ مقتدی تو خود بھی آواز نکالنے پر قادر ہوتا ہے، حتی کہ اگر جماعت میں کوئی منافق موجود ہو تو وہ امام کے خلاف تکبیریں بلند کر کے ہزاروں آدمیوں کی نمازیں خراب کر سکتا ہے۔ لیکن لاؤڈ اسپیکر اس قدر کامل طور پر امام کا تابع ہے کہ جب تک امام نہ بولے گا وہ بھی نہ بولے گا جو آواز امام کی زبان سے نکلے کی ٹھیک ٹھیک وہی آواز بلا ادنی تغیر اس سےبھی بلند ہوگی، حتی کہ امام کا لہجہ اور اس کا تلفظ تک جوں کا توں منتقل ہوگا،اور جو شخص امام کی آواز پہچانتا ہو وہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز سن کر پہچان لے گا کہ یہ امام ہی کی آواز ہے۔اتنے کمال درجے کے تابع کا حکم متبوع کے حکم سے کیسے مختلف ہو سکتا ہے؟ اور اگر کوئی مخص یہ کہے کہ بکتر نماز میں شریک ہوتا ہے، لیکن آلہ مکبر الصوت شریک نماز نہیں ہوتا تو اے ہم صرف یہ آیت یاد دلائیں گے کہ وان من شمسي الا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِن لَّا تَفْقَهُونَ تنيحهم (بنی اسرائیل: ۴۴) قرآن کی رو سے تو مسلمان جب نماز پڑھتا ہےتو وہ تنہانہیں پڑھتا بلکہ ساری کائنات اس کے ساتھ شریک نماز ہوتی ہے اگر چہ نا واقفان راز اُن غیر ناطق اشیاء کی نماز کو سمجھ نہیں سکتے ۔
ثالثا ، اگر کوئی شخص اس جگہ آیت مذکورۃ الصدر کے اطلاق کو تسلیم نہ کرے اور آلہ مكبر الصوت کو خارج از صلوۃ قرار دے کر اس کو تابع امام نہ مانے تو ہم کہیں گے کہ نماز میں غیر امام کی آواز پر حرکت کرنا مطلقاً مفسد صلوٰۃ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر :-
١- اگر آدمی نماز میں ہو اور کوئی سلام کرے تو اشارے سے جواب دینا مفسد صلوٰۃ نہیں۔ ترندی میں حضرت بلال سے اور نسائی میں حضرت صہیب سے مروی ہےکہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت نماز میں سلام کیا جاتا تو آپ ہاتھ کے اشارے سے جواب دیتے تھے۔
۲- نماز میں اگر کسی شخص سے کسی ضروری بات سے متعلق سوال کیا جائے تو اشارےسے جواب دینا بھی مفسد صلوٰۃ نہیں۔ چنانچہ خلاصہ میں ہے کہ مصلی کو سلام کیا جائے اور وہ ہاتھ یا سر کے اشارے سے جواب دے یا اسے کسی چیز کی خبر دےاور وہ سر کی برکت سے ہاں یا نہیں کا اشارہ کر دئے یا اس سے پوچھا جائے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں اور وہ انگلیوں کے اشارے سے بتا دے تو یہ مفسد صلوٰۃ نہیں ۔ (فتح القدیر جلد اول صفحہ ۲۹۲)
٣- اگر کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی اسے پکار دے اور وہ اس کو یہ بتانے کے لیےکہ میں نماز میں ہوں زور سے لا الہ الا اللہ کہہ دے تو اس سےنماز میں کوئی خرابی نہیں آتی ۔ ( ہدایہ باب ما يفسد الصلوة وما يكره فيها )
٤- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جب کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو نماز مختصر کر دیتے تھے تاکہ بچے کی ماں اگر شریک جماعت ہو تو وہ پریشان نہ ہونےپائے ۔ ( بخاری اور مسلم میں اس مضمون کی متعدد روایتیں ہیں )
٥- حضرت عائشہ کا ارشاد ہےکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض سخت ہو گیا تو آپ کےحکم سےحضرت ابوبکر نماز پڑھانےلگے۔ایک روز حضور نےمرض میں کمی محسوس فرمائی اور نماز میں شریک ہونےکےلیےتشریف لےگئے۔حضرت ابوبکر نےجب آپ کےآنےکی آہٹ پائی تو پیچھے بنےلگےمگر آپ نے اشارےسے ان کو منع کیا۔ چنانچہ وہ اپنی جگہ کھڑے رہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بائیں جانب جا کر بیٹھ گئے ۔ (متفق علیہ )
٦- مسجد قبا میں لوگ نماز پڑھ رہے تھے کہ تحویل قبلہ کی منادی اُن کے کانوں میں پہنچی اور انھوں نے اسی حالت میں اپنا رُخ کعبہ کی طرف پھیر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس فعل کو نہ صرف جائز رکھا بلکہ پسند فرمایا۔اسی سے فقہا نےیہ مسئله نکالا ہےکہ اگر کوئی شخص سمت قبلہ سےناواقف ہو اور گمانِ غالب کی بنا پر کسی رُخ پر نماز پڑھ رہا ہو پھر اسی حالت میں کوئی اسےقبلہ کی صحیح سمت بتا دے تو اسی وقت اس کو صحیح سمت کی طرف پھر جانا چاہیے۔ (ہدایہ باب شروط الصلوة التي تتقدمها )
اسی طرح کی اور بھی بکثرت مثالیں احادیث و آثار میں موجود ہیں اور ان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر غیر مصلی کے ذریعہ سے بھی مقتدیوں کو امام کے رکوع و سجود اور قیام و قعود کی اطلاع پہنچے اور وہ ذریعہ قابل اعتماد ہو تو اس کے مطابق حرکت کرنے سےنماز میں کوئی قباحت واقع نہیں ہوتی ۔ قاطع صلوٰۃ جو چیز ہے وہ دراصل اس نوعیت کا فعل ہے جس میں آپ کو مشغول دیکھ کر نا واقف آدمی یہ گمان کرے کہ آپ نماز نہیں پڑھ رہےہیں،یا پھر مصلی کےدرمیان ایسا معاملہ ہو جو مکالمہ اور تعلیم وتعلم کی حد تک پہنچا ہواہو۔ چنانچہ مبسوط میں ہے :-
كُل عَمَلٍ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهِ النَّاطِرُ مِنْ بَعِيْدِ لَا يَشُكُ أَنَّهُ فِي غَيْرِ الصَّلَوَةِ فَهُوَ مُفْسِدٌ لِصَلوتِهِ وَكُلُّ عَمَلٍ لَوْ نَظَرَ إِلَيْهِ النَّاظِرُ فَرُبَمَا يَشْتَبِهُ عَلَيْهِ أَنَّهُ فِي الصَّلوةِ فَذَالِكَ غَيْرُ مُفْسِدٍ -( جلد اوّل، ص ۱۹۵)
ہر وہ عمل جسے دُور سے دیکھ کر آدمی بلا شک یہ سمجھے کہ اس کا مرتکب نماز میں نہیں ہے مفسد صلوٰۃ ہے۔ اور ہر وہ عمل جسے دیکھنے کے باوجود آدمی یہ طلبہ کر سکتا ہو کہ وہ نماز میں ہے۔ مفسد صلوٰۃ نہیں ہے۔
فَأَمَّا غَيْرُ الْمُقْتَدِى إِذَا فَتَحَ عَلَى الْمُصَلِّي تَفْسُدُ بِهِ صَلوةُ الْمُصَلَّى وَكَذَالِكَ الْمُصَلَّى إِذَا فَتَحَ غَيْرُ الْمُصَلَّى، لَأَنَّهُ تَعْلِيمٌ وَتَعَلَّمْ وَالْقَارِئُ إِذَا اسْتَفْتَحَ غَيْرَهُ فَكَانَّهُ يَقُولُ بَعْدَ مَا قَرَأْتُ مَاذَا فَذَكِّرُ فِي وَالَّذِي يَفْتَحُ عَلَيْهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ بَعْدَ مَا قَرَأْتُ كَذَا فَخُذُ منى - (ص: ۱۹۳)
اگر غیر مقتدی (خواہ الگ نماز پڑھ رہا ہو یا نماز نہ پڑھ رہا ہو ) مصلی کو لقمہ دے تو مصلی کی نماز فاسد ہو جائے گی اور اسی طرح اگر مصلی غیر مصلی کو لقمہ دے تب بھی نماز فاسد ہو جائے گی کیوں کہ یہ تعلیم و تعلم ہے۔ قاری جب پڑھتے پڑھتے دوسرے سے لقمہ مانگتا ہے تو گویا وہ سامع سے کہتا ہے کہ " اس کے بعد کیا ہے؟ مجھے یاد دلاؤ۔ اور القمہ دینے والا گویا اس کے جواب میں یہ کہتا ہے کہ " اس کے بعد یہ ہے یہ لو۔"
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے۔حضرت فارعہ بن رافع کو چھینک آئی اور انھوں نے زور سے کہا: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمُدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُّبَارَكًا فِيْهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى - نماز ختم ہونے کے بعد حضور نےفرمایا : یہ کون تھا جس نے یہ فقرہ کہا تھا؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمہیں سےزیادہ فرشتےاس قول کو لےجانےکےلیےایک دوسرے سےبازی لےجانا چاہتے تھے۔" (ترمذی ابوداؤ ؤ نسائی)۔ دوسری حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اس حال میں نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ کے کندھے پر ایک بچی ( امامہ بنت ابی العاص (۱) بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ جب رکوع میں جاتے تو اس کو اتار دیتے اور جب کھڑےہوتے تو اسے پھر کندھے پر بٹھا لیتے (بخاری و مسلم )۔ اسی بنا پر فقہا نے مسئلہ نکالا ہے کہ اگر نماز میں بچے کو اٹھائے رہے تو یہ فعل مفسد صلوٰۃ نہیں ہے (عالمگیری)۔ نیز حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے اتنے میں ایک بچھونےآپ کو کاٹ لیا اور اسی حالت میں آپ نے اپنی جوتی رکھ کر اس کو مارڈالا۔ پھر آپ نےفرمایا که اقْتُلُوا الأَسْوَدَيْنِ وَلَوْ كُنتُمْ فِي الصَّلوة ۔ یعنی بچھو اور سانپ کو مارو خواہ تم نماز ہی میں کیوں نہ ہو ۔ ( احمد ابو داؤد ترمذی، نسائی)
پس جب کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر رکوع و سجود کرنا نہ فعل کثیر ہےنہ تعلیم و تعلم اور مکالمہ کی تعریف میں آتا ہے تو اس کےمفسد صلوٰۃ ہونےکی کوئی وجہ نہیں ۔ اور جبکہ نماز میں بہت سے ایسے افعال کو بھی جائز رکھا گیا ہے جن کا نفس نماز سے کوئی تعلق بھی نہیں، تو فقط اتنی سی بات کہ ایک آلہ کے ذریعہ سے امام کے الفاظ کی نقل سن کر آدمی رکوع یا سجدہ میں چلا جائے ۔ کس طرح مفسد صلوٰۃ ہو سکتی ہے؟
یہ دلائل ہیں جن کی بنا پر میں نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو نہ صرف جائز بلکہ احسن سمجھتا ہوں اور میرا وجدان یہ گواہی دیتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں یہ آلہ موجود ہوتا تو آپ یقیناً اس کو نماز اور اذان اور خطبہ میں استعمال فرماتے، جس طرح آپ نے غزوہ خندق میں خندق کھودنے کا ایرانی طریقہ بلاتامل اختیار فرمایا۔تا ہم اگر کوئی عالم دین میری اس رائے کو دلائل شرعیہ سے (نہ کہ مقلدیت کے طعنوں سے ) غلط ثابت فرما دیں تو مجھے اس سے رُجوع کرنے میں بھی تامل نہ ہوگا ۔ إِنْ أَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَامَا أَنَا بِمُسْتَقِي وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أُخِطَى وَاصِيْبُ، فَانْظُرُوانِي رَأْنِي، فَكُلَّمَا وَافَقَ الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ فَخُذُوا بِهِ وَكُلَّمَا لَمْ يُوَافِقِ الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ فَأَتُرَكُوهُ _
١- یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں، حضرت زینب بنت رسول اللہ کی بیٹی۔
مذکورہ بالا بحث کو پڑھ کر ایک صاحب نےمولانا اشرف علی صاحب تھانوی مرحوم و مغفور کا جو اس وقت بقید حیات تھے ایک فتویٰ بھیجا اور خواہش ظاہر کی کہ اس پر بھی اظہار رائے کیا جائے۔فتویٰ حسب ذیل تھا :-
سوال: - " کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے میں کہ ایک مشین ایسی ایجاد ہوئی ہے کہ مقرر کی آواز کو بہت فاصلے تک اُسی طرح پہنچا دیتی ہے جس طرح پاس کے اشخاص کو پہنچتی ہے۔ پس کیا جائز ہےکہ ان مشینوں کے ذریعہ سے خطیب کی آواز کو تمام سامعین تک پہنچا دیا جائے“۔
"جواب: - اول ایک قاعدہ سمجھ لیا جائے جو کہ عقلی بھی ہے اور نعلی بھی۔ اور فقہائے حنفیہ نے اس قاعدے پر بہت سےاحکام کو متفرع کیا ہے۔ وہ یہ کہ جو مباح یا مندوب درجه ضرورت و مقصودیت فی الشرع تک نہ پہنچا ہو اور اس میں کوئی مفسدہ باحتمال قریب محتمل ہو تو اس مباح یا مندوب کا ترک اور ان کا منع کرنا لازم ہے۔ عقلی ہونا تو اس کا ظاہر ہے اور قبول فقہا کے بعد اس کےماخذ نعلی کی نقل ضروری نہ تھی ۔ مگر تبرعا اس کو بھی نقل کرتا ہوں۔سو اس کےنعلی ہونےکی تفصیل یہ ہےکہ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: وَلَا تَسُبُوا الذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ علم (الانعام: ١٠٩ )سب اللہ باطلہ مباح تو ضرور ہی ہےاور بعض حالات میں مندوب بھی ۔ مگر مقصود مستقل نہیں ۔ کیونکہ اس کی غایت دوسرے طریق سے بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ یعنی حکمت و موعظت اور مجادلۂ حسنہ سے ۔ اور اس میں مفسدہ سب مشرکین لیلانہ الحق کا ہے۔ اس لیے اس سے نہی فرما دی گئی ہے۔ اور اس قاعدے کی تمہید کے بعد جواب ظاہر کہ تبلیغ صورت سامعین بعید تک شرعا غیر ضروری ہے کیونکہ بعید ین کو دوسرے غیر مخدوش ذریعہ سے تبلیغ ممکن ہے اور اس میں یہ مفسدہ محتمل کہ لوگ اس سےگنجائش سمجھ جائیں گے اس آلہ کو لہو میں استعمال کرنے کی یا دوسرے آلات لہو کے استعمال کرنے کی ۔ لہذا ترک اور منع لازم ہوگا۔ یہ تو اس وقت ہے جب خطیب سے مراد مطلق واعظ اور لکچرار ہو۔ اور اگر اس سے مراد خطیب جمعہ وعیدین کا ہے تو اس وقت تبلیغی صوت کا غیر ضروری ہونا اظہر ہے اس لیے کہ خطبہ میں حضور مقصود ہے نہ کہ سماع صوت اور مفسدہ اقوئی ہے کیونکہ اس آلہ کو مسجد میں داخل کرنا ہوگا جو کہ اس احترام کے خلاف ہے۔ نیز تشبہ ہے مجالس غیر مشروعہ کے ساتھ ۔ اسی تشبہ کی بنا پر فقہا نے غرس اشجار فی المسجد کو منع فرمایا ہے اور تقشر بالبیعہ والکنیسہ سے معلل کیا ہے۔ واللہ اعلم !
یہ ایک ایسے جلیل القدر عالم کا فتویٰ ہے جو اس وقت دنیائے اسلام کے ممتاز ترین علماء کی صف اول میں ہیں۔ میرے علم کو ان کے علم سے وہ نسبت ہے جو ذرے کو آفتاب سے ہوتی ہے۔ اگر اس نسبت کا لحاظ کروں تو مجھے نہ صرف یہ کہ اس پر کلام نہ کرنا چاہیے بلکہ اپنی تحقیق کو چھوڑ کر حضرت ممدوح کی تحقیق قبول کر لینی چاہیے۔ لیکن جب سلف کےطریق پر نظر ڈالتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں مَنْ قَالَ کو نہیں بلکہ ما قال کو دیکھنے کا قاعدہ جاری تھا۔ شاگرد استاد کی تحقیق کے مقابلہ میں اور چھوٹے بڑے کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے اور تحقیق بے تکلف پیش کیا کرتے تھے ۔ نہ اس زعم کے ساتھ کہ بڑوں کے علم سے ان کا علم زیادہ یا ان کے برابر ہے بلکہ یہ سمجھ کر کہ حق کی تلاش و تحقیق ہر طالب علم پر فرض ہے اور اس تلاش و تحقیق میں اس کو شخصی عظمتوں سے خالی الذہن ہو کر نفس حقائق کو دیکھنا چاہیے۔ اُن کے نزدیک یہ ضروری نہ تھا کہ ایک شخص دوسرے شخص کےبرابر یا اس سےزیادہ علم رکھتا ہو تب ہی اس کے مقابلے میں اپنی تحقیق پیش کرے ورنہ چپ رہے اور اپنی فکر و نظر کو معطل کر کے اس کی تحقیق کو مان لے۔ اگر یہ ذہنیت اس زمانے میں ہوتی تو امام ابوحنیفہ اور امام مالک کےمقابلہ میں امام شافعی اور امام شافعی کےمقابلےمیں امام احمد کوئی مذہب اختیار ہی نہ فرماتے۔یہ حضرات رشد و ہدایت کےامام تھےاور ان کا طریقہ ہر زمانے میں طالبان علم کے لیے بہترین نشانِ راہ ہے اس لیےان کی پیروی کرتے ہوئےمیں بھی حضرت مولانا تھانوی کے مقابلہ میں اپنی علمی بے مائیگی کو جاننے کے باوجود اس فتوے پر کلام کر رہا ہوں۔
فتوے کی بنا جس قاعدے پر رکھی گئی ہے وہ یقینا مسلم ہے۔ صرف فقہائے حنفیہ ہی نے نہیں بلکہ دوسرے آئمہ اسلام نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے اور ایک آیت ہی نہیں بلکہ کتاب وسنت کی متعدد تصریحات اس کا ماخذ ہیں ۔ لیکن یہ امر محل نظر ہے کہ آیا اس خاص جزئیہ میں بھی یہ قاعدہ جاری ہو سکتا ہے یا نہیں۔
آلہ مکبر الصوت کو کسی حیثیت سے بھی آلہ لہو نہیں کہا جا سکتا۔ آلہ لہو کا اطلاق اصلاً تو اُس آلہ پر ہوتا ہے جو لہو ہی کے لیے بنایا گیا ہو اور اس کا کوئی دوسرا استعمال بجز لہو کے نہ ہو مثلاً بانسری یا ہارمونیم ۔ اور تبعاً اس کا اطلاق ایسےآلہ پر بھی ہوسکتا ہے جو اگرچہ بجائےخود لہو کےلیےنہ بنایا گیا ہو لیکن اس کا غالب استعمال لہو میں ہو مثلاً گراموفون۔مكبر الصوت ان دونوں صنفوں میں سےکسی صنف میں داخل نہیں ۔ اس کو صرف اس لیےبنایا گیا ہے کہ چھوٹی آواز کو بڑا کر دے اور دُور تک پہنچائے ۔ اس کا استعمال لہو اور غیر لہو دونوں میں ہوتا ہے اور غیر لہو میں بہ نسبت لہو کے زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی مثال تو ایسی ہےجیسے شیشے کا گلاس کہ اس میں شراب بھی پی جاتی ہے اور حلال مشروبات بھی۔ یا بجلی کا لیمپ اور برقی پنکھا کہ یہ چیزیں تھیڑوں اور رقص خانوں اور مخش کدوں میں بھی استعمال ہوتی ہیں اور پاک مجلسوں اور مباح اغراض میں بھی۔ اب اگر ناجائز استعمال کی وجہ سے ان چیزوں کو آلہ لہو یا آلہ منکر نہیں کہا جا سکتا تو مکبر الصوت کو بھی نہیں کہا جا سکتا ۔ اگر گلاس اور پنکھےاور لیمپ کے استعمال میں مجالس غیر مشروعہ سےکہہ نہیں ہے تو مکبر الصوت میں بھی نہیں ہے۔ اگر شیشے کا گلاس استعمال کرنے سے اس مفسدہ کا احتمال نہیں ہے کہ لوگ اس کو شراب نوشی میں استعمال کرنے کی گنجائش نکال لیں گئے اور اگر مسجدوں میں بجلی کی روشنی اور پنکھا لگانے سے یہ مفسدہ پیدا نہیں ہوتا کہ لوگوں کے لیے رقص خانوں میں جانے کی گنجائش نکل آئے گئی تو منبر الصوت کے استعمال میں بھی ایسے کسی مفسدہ کا احتمال نہیں ۔ جب برقی لکھےاور روشنی کے متھے لگانا احترام مسجد کے خلاف نہیں ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مختبر الصوت لگانا اہانت مسجد کا موجب ہو۔
اس میں شک نہیں کہ معتبر النضوت اس زمانے میں زیادہ تر معروف کے بجائے منکر کی خدمت کر رہا ہے۔ لیکن آج کون سی چیز ہے جو منکر کی خدمت نہیں کر رہی ہے؟ قلم دوات سےلے کر چھاپہ کی مشین، ریل، موٹر، ہوائی جہاز اور ریڈیو تک ہر چیز کا غالب استعمال آج لکھنا و منکری کےلیےہو رہا ہےہر چیز سےظلم وعصیاں کی خدمت لی جا رہی ہے۔ہر آلہ اور ہر طاقت سےاس تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہےجس کی بنیاد نا خدا شناسی بلکہ خدا سے بغاوت پر رکھی گئی ہے۔ اس کی وجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ خدا کی پیدا کی ہوئی طاقتوں کو دریافت کرنےاور ان سےخدمت لینے کا سارا کام آج وہ لوگ کر رہے ہیں جو خدا پر ایمان نہیں رکھتےاور جو لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں انھوں نے اسباب عالم کو قابو میں لانے اور ان سے معروف کی خدمت لینے کا کام چھوڑ رکھا ہے۔ اسی وجہ سے پورا انسانی تمدن ناپاک ہو گیا ہے اور دنیا کی ہر چیز آلہ منکر بن کر رہ گئی ہے۔
اب اگر ہم ایک ایک چیز کو اس بنا پر چھوڑتے چلے جائیں کہ فلاں چیز آلہ منکر ہےاور فلاں چیز کو استعمال کرنے سے فاسقین و ظالمین کے ساتھ تشبۂ ہو جائے گا، تو ہمیں حمذن ہی سے الگ ہو جانا پڑے گا اور یہ مزید غلطی ہوگی۔ اس سے خدا پرستانه تہذیب اور زیادہ مغلوب اور ظالمانه و فاسقانہ تہذیب اور زیادہ غالب ہوتی چلی جائے گی۔ اس لیےکہ جو تہذیب مشینوں کے زور سےپھیل رہی ہو اس کے مقابلےمیں وہ تہذیب کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جو تمام کارگر ذرائع اور طاقتور اسباب سے خود ہی دست بردار ہو جائے ۔ ظاہر ہے کہ موٹر پر دوڑنے والے کا مقابلہ چھکڑے پر چلنے والا نہیں کر سکتا۔ جولوگ ریڈیو کے زور سے ایک سکنڈ کے اندر باطل کی آواز کرہ زمین کے ایک ایک کونے میں پہنچا دیں اور کروڑہا کروڑ انسانوں کے خیالات کو ایک جنبش زبان سے مسموم کر کے رکھ دیں اُن کے مقابلہ میں وہ لوگ کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں جو ایک جلسہ کے سامعین تک بھی حق کی آواز پہنچانے میں خدا کی پیدا کی ہوئی ایک طاقت سے کام لیتے ہوئے جھجکتے ہوں؟منکر کی آواز بلند کرنے والے تو ایک شخص کو بھی اپنی بات سنائے بغیر چھوڑ نا پسند نہیں کریں اور معروف کی آواز بلند کرنے والوں کا انداز فکر یہ ہو کہ سامعین بعید تک تبلیغ صوت شرعاً ضروری تو ہے نہیں، لہذا کیوں اس کی کوشش کی جائے ؟
اس طرز عمل کا انجام جو کچھ ہوگا بلکہ ہو رہا ہے اس کو ہر شخص بادنی تامل جان سکتا ہے۔ اس کے معنی در اصل یہ ہیں کہ ہم ایک ایک ہتھیار کو یہ کہ کر پھینکتے جائیں کہ دشمن کےاستعمال سے وہ گندہ ہو گیا ہے اور دشمن ان سب ہتھیاروں کو اٹھا کر ہم پر حملہ کرتا چلا جائے۔
یہ ارشاد بالکل بجا ہے کہ دُور کے سامعین تک آواز پہنچانا شرعاً ضروری نہیں ہے۔مگر یہ درست نہیں ہے کہ آواز پہنچانا اور سامعین کا اُسے سنا شریعت میں مقصودیت کا درجہ ہی نہیں رکھتا۔ نماز میں قرآن اسی لیے پڑھا جاتا ہے کہ مقتدی اس کو سنیں۔ خود قرآن میں اس مقصد کی تصریح موجود ہے کہ وَإِذا قرئ القرانُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَانْصِتُوا - (اعراف : ٢٠٤) خطبہ کے وقت بات چیت سے منع کیا ہے۔ استماع کا مقصود ہونا تو نقل بھی ثابت ہے اور عقلاً بھی۔ ظاہر ہے کہ کلام اس لیے ہوتا ہے کہ لوگ اس کو سنیں ۔ منہ سے آواز اسی لیےنکالی جاتی ہے کہ کانوں تک پہنچےاب رہا یہ امر کہ شارع نےاسکو ضروری کیوں نہیں قرار دیا ؟تو میں عرض کروں گاکہ یہ رخصت کے قبیل سے ہے۔ چونکہ اُس زمانےمیں کوئی ایسا ذریعہ موجود نہ تھا جس سےدُور تک آواز پہنچائی جا سکئے اور آج بھی ہر وقت ہر جگہ مكبر الصوت مہیا نہیں ہو سکتا۔ اس لیےاستماع کو لازم نہیں کیا گیا کہ اس کےبغیر نماز ہی نہ ہویا حضور خطبہ کا ثواب ہی حاصل نہ ہو سکے ۔ مگر اس نرمی اور رخصت کو جو محض طبعی موانع کا لحاظ کر کے عطا کی گئی ہے اس امر کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا کہ تبلیغ صوت کا اہتمام سرےسے غیر ضروری ہے حتی کہ اگر اس کے لیے کوئی ذریعہ مہیا ہو جائے تب بھی اسے قصداً ترک کر دیا جائے۔
آخر میں یہ بات بھی صاف کر دینا چاہتا ہوں کہ اس مسئلے پر میرے بار بار لکھنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مجھے خاص طور پر لاؤڈ اسپیکر سے کوئی دلچسپی ہے بلکہ دراصل میرا مقصد یہ ہے کہ سائنٹفک ایجادات اور تمدن جدید کے آلات و وسائل کے متعلق مسلمان اپنا رو یہ بدلیں۔ یہ آلات بجائے خود نا پاک نہیں ہیں۔ اصل میں وہ طریق استعمال نا پاک ہے جو مغرب کی باغیانہ تہذیب نے اختیار کر رکھا ہے۔ خداوند عالم نےجن چیزوں کو انسان کےلیے مسخر کیا ہے وہ بالیقین پاک اور مطہر ہیں اور ان کی فطرت یہ چاہتی کہ ان سے خدائی قانون کے مطابق کام لیا جائے ۔ مگر ان پر ڈہر اظلم ہو رہا ہے کہ جن کے پاس خدائی قانون موجود ہے وہ ان سے کام نہیں لیتے ، اور جو ان سے کام لے رہے ہیں وہ شیطانی قانون کے متبع ہیں۔
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |