گذشتہ مضمون " سورۃ یوسف کے متعلق چند سوالات کی اشاعت کے کچھ مدت بعد ایک مشہور بزرگ نے جن کا اب انتقال ہو چکا ہےاور جو خان بہادر کا خطاب رکھتےتھے یوپی میں کلکٹر اور ہندوستان کی ایک ریاست میں دیوان رہ چکے تھے اس پر ایک مفصل تنقید لکھی۔چونکہ ہمارے جواب کو سمجھنا بغیر اس کے ممکن نہیں کہ صاحب موصوف کی تنقید ناظرین کے سامنے ہو اس لیے ہم پہلے اس کے متعلقہ حصے یہاں نقل کرتے ہیں، پھر اپنا جواب نقل کریں گئے
مستفسر نےجو بات دریافت کی تھی اور جو بات دراصل بحث طلب ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ آیا یوسف علیہ السلام ایک غیر اسلامی نظام حکومت کے رکن اور شریک کار بنے ہیں یا نہیں؟ اور اگر بنے تو حضرت یوسف علیہ السلام کا ایسا کرنا اسلامی نقطۂ نظر سےجائز ہے یا نہیں؟ مولانا مودودی فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی حیثیت مصر میں غیر خدائی نظام حکومت کے شریک کار کی نہ تھی۔ اور تعجب ہے کہ اپنی اس رائے کی تائید میں کلام پاک کی وہی آیت قَالَ اجْعَلِی عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ (يوسف: ۵۵) پیش کرتے ہیں جو دراصل اس کے ضد کو ثابت کرتی ہے۔
آیت مذکور کا لفظی ترجمہ شیخ الہند مولانامحمود الحسن کے الفاظ میں یہ ہے کہ: یوسف نے کہا مجھ کو مقرر کر ملک کے خزانوں پر میں نگہبان ہوں خوب جاننے والا اور یوں قدرت دی ہم نے یوسف کو اس زمین میں جگہ پکڑتا تھا اس میں جہاں چاہتا۔"
اب دیکھیے که حضرت یوسف علیہ السلام فرعون مصر سےخواہش کرتے ہیں کہ تو مجھ کو ملک کے خزانوں پر مقرر کر دے۔فرعون آپ کا مطالبہ منظور کرتا ہے اور آپ فرعون کےمحکمہ مال کے افسر مقرر ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ ظاہر ہےکہ آپ فرعون کے نظامِ حکومت کےایک رکن یا شریک کار بن جاتے ہیں۔ مولانا مودودی صاحب اس بدیہی نتیجےسےبیچنےکی ناکام کوشش کرتےہیں جبکہ وہ فرماتےہیں کہ مطالبہ کلی اختیارات کا تھا اور ملےبھی کلی اختیارات" - - - - اول تو کلی اختیارات کا لفظ کلام پاک میں ہے نہیں یہ لفظ مولانا اپنی طرف سے کلامِ پاک کی عبارت پر بڑھانا چاہتے ہیں تا کہ کلامِ پاک مولانا کے ذاتی نظریوں کا تابع ہو جائے نہ یہ کہ مولانا اپنے ذاتی نظریوں کی اصلاح مفہوم قرآنی کےمطابق کر لیں۔اسی جیسی ذهنیت کےمتعلق غالباً اقبال مرحوم نےکہا تھا: ”خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں۔ لیکن اس کلّی کے لفظ کے ناجائز اضافے سے بھی مولانا کےاجتہاد یا نظریہ کی تائید نہیں ہوتی۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے بھی کہ حضرت یوسف علیہ السلام نےکلی اختیارات مال کا مطالبہ کیا تھا اور کھی اختیارات ہی ملے تھے لیکن وہ اختیارات فرعون مصر ہی سے تو مانگے گئے تھے اور فرعون مصر ہی نے تو وہ اختیارات عطا کیے تھے۔ اس لیےباوجود اُن کلی اختیارات کے حضرت یوسف علیہ السلام کی حیثیت اس وقت کے نظام حکومت میں ایک رکن یا ایک شریک کار سے زائد کی نہیں ہوسکتی۔
اسی طرح مولانا مودودی صاحب کا یہ فرمانا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا مطالبہ یہ تھا کہ سلطنت مصر کے تمام وسائل میرے اختیار میں دے دیے جائیں اور اس کےنتیجے میں جو اختیارات ان کو ملے وہ ایسے تھے کہ پھر ساری زمین مصر ان کی تھی“۔ بالکل خلاف واقعہ ہے۔ یہ مان بھی لیا جائے کہ یوسف علیہ السلام نے مال کے جملہ اختیارات کا مطالبہ کیا تھا اور مال کےجملہ اختیارات آپ کو تفویض ہو گئےتھےتاہم سلطنت میں مال کے علاوہ بہت سےدیگر محکمےہوتےہیں،مثلاً پولیس، فوج عدالت ان میں سےنہ کسی کا مطالبہ یوسف علیہ السلام کی طرف سے کیا گیا نہ یہ محکمے آپ کے سپرد کیے گئے۔ تو پھر مولانا موودی کا یہ کہنا کہ " جو اختیارات انھیں ملے وہ ایسے تھے کہ پھر ساری زمین مصر اُن کی تھی۔ بالکل بے بنیاد ہے۔
اس لیےیوسف علیہ السلام کی حیثیت مصر کےخزائن پر متصرف ہونےکےبعد بھی سلطنت کے ایک رکن یا شریک کار کی رہتی ہے جب تک کہ کسی ذریعے سے یہ ثابت نہ ہو که فرعون مصر اپنی سلطنت اور حکومت سے دست بردار ہو گیا تھا اور حضرت یوسف علیہ السلام اس کی جگہ مصر کے بادشاہ اور ملک بن گئے تھے۔ سو یہ تاریخ سے ثابت ہے نہ کلام پاک سے بلکہ کلام پاک سے بصراحت اس کی تردید ہوتی ہے۔ آیت زیر بحث سے عین ما قبل یہ آیات ہیں:
انھیں میرے پاس لے آؤ کہ میں انھیں اپنے لیے چن لوں۔ پھر جب اس سے (یوسف علیہ السلام) بات کی کہا بے شک آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں۔
ان ہر دو آیات سےبالکل واضح ہے کہ فرعونِ مصر نےیوسف علیہ السلام کو اپنی سلطنت کا معزز اور معتمد رکن اوراپنا مشیر خاص بنایا۔ان آیات میں اس بات کا شائبه بھی نہیں کہ فرعون مصر اپنی سلطنت یا اپنےاختیارات سےدست برادر ہو گیا تھا نیز ایک مابعد کی آیت سےبصراحت ثابت ہوتا ہےکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خزائن مصر پر متصرف ہونے کے عرصہ بعد تک فرعون مصر کی سلطنت قائم تھی اور فرعونِ مصر کا دین ہی ملک پر جاری تھا ۔ کیونکہ جب برادران یوسف دوسری مرتبہ غلے کی بھرتی کرنے آئے ہیں اور اپنے ساتھ حضرت یوسف علیہ السلام کی خواہش کے مطابق حضرت یوسف کے حقیقی بھائی بن یامین کو بھی لائے اور حضرت یوسف نےاپنےبھائی بن یامین کو اپنےپاس رکھا اور بن یامین پر ظاہر بھی کر دیا کہ وہ ان کا حقیقی بھائی ہے مگر اپنےدوسرے بھائیوں پر اس امر کو ظاہر نہیں کیااور چونکہ حضرت یوسف بن یامین کو اپنےپاس رکھنا چاہتےتھے اس لیےدوسرے بھائیوں پر اس امر کےظاہر کیےبغیر کہ بن یامین ان کا بھائی ہےاس کی یہ تدبیر کی کہ جب برادران یوسف کےواسطےان کا اسباب تیار کیا گیا تو بن یامین کےاسباب میں ایک پانی پینےکا پیالہ رکھوا دیا اور جب قافلہ روانہ ہونے لگا تو مؤذن یا پکارنے والے نے پکار کر کہا کہ اے قافلے والو تم البتہ چور ہو۔ برادران یوسف نےاس سےانکار کیا تو پکارنےوالے نےکہا کہ کیا سزا ہےاس کی اگر تم جھوٹےنکلے؟ برادرانِ یوسف نےکہا اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ہاتھ آوے وہی اس کے بدلے میں جاوے۔ ہم یہی سزا دیتے ہیں ظالموں کو ۔ اس کے بعد تلاشی لی گئی اور پیالہ بن یامین کے اسباب میں سے برآمد ہوا۔ چنانچہ بن یامین پیالے کے بدلے میں روک لیے گئے ۔ اس موقعہ پر ارشاد خداوندی ہے: مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَنْ يَّشَاءَ الله (يوسف: ۷۶) جس کا لفظی ترجمہ ہے"وہ (یعنی یوسف ) ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنےبھائی کو دین میں اس بادشاہ کےمگر جو چاہے اللہ۔
خط کشیده عبارت صاف بیاتی ہےکہ مصر کا ملکی قانون اُس وقت تک ملک مصر میں جاری تھا اور اس قانون کےمطابق حضرت یوسف علیہ السلام اپنےبھائی بن یامین کو چوری کےالزام میں اپنے بھائیوں سے لے نہیں سکتے تھے مگر خداوند عالم نے خود ان کےبھائیوں کے منہ سے کہلوا دیا کہ چوری کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں سےچوری کا مال ہاتھ آوے وہی اس کے بدلے میں جاوے۔ چنانچہ اس آیت کریمہ کی جو تفسیر مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی نےکی ہے وہ یہ ہے کہ: " یعنی بھائیوں کی زبان سےآپ ہی نکلا کہ جس کے پاس سےمال نکلے اس کو غلام بنا لو۔اس پر پکڑے گئےورنہ حکومت مصر کا قانون یہ نہ تھا۔ اگر ایسی تدبیر نہ کی جاتی کہ وہ اپنے اقرار میں بندھ جاویں تو ملکی قانون کےمطابق کوئی صورت بن یامین کو روک لینے کی نہ تھی۔
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ملک مصر کی وزارت پر متمکن ہونے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے تبلیغ کا کام نہیں کیا یا اپنی رسالت کے اعلان سے گریز کیا۔ برخلاف اس کے صاحب ممدوح نے اس وقت جبکہ آپ سجن یا جیل میں تھےاسی وقت وحدانیت کی تبلیغ شروع کر دی تھی۔چنانچه حضرت یوسف علیہ السلام اپنےساتھی قیدیوں سے فرماتےہیں: يصاحِبَي السِّجْنِ ءَ اَرُبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرَامِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاء سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَأَبَاءُ كُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَنٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا للهِ آمَرَ الَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ (يوسف:۳۹-۴۰) اسی طرح وزارت کےعہدےپر متمکن ہونےکےبعد بھی حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی تبلیغ کا کام ضرور جاری رکھا ہوگا۔البتہ جو بات ان آیات سے بلا شک و شبہ ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ایک غیر اسلامی نظام حکومت کےرُکن خود اپنی خواہش اور درخواست پر بنےاور حضرت یوسف کے اس حکومت کے رُکن بننے کے بعد بھی ملک میں غیر اسلامی نظام حکومت اور غیر اسلامی قانون ہی نافذ رہا اور یوسف علیہ السلام کےاس پر عمل پر بجائےاس کے کہ خداوند عالم کی طرف سےکوئی سرزنش کی جاوے یوسف علیہ السلام کے اس عمل کو ایک طرح سراہا جاتا ہے کیونکہ یوسف علیہ السلام کے اس تمکن فی الارض کو انعام خداوندی سےتعبیر کیا گیا ہے۔چنانچہ ارشاد ہے: وَكَذَالِكَ مَكَنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْأَرْضِ يَتَبَوَّأْ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ “۔جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمان تو مسلمان انبیاء تک کےلیےغیر اسلامی نظامِ حکومت کا رکن بنا جائز ہےاور جائز ہی نہیں بلکہ بعض صورتوں میں بطور فرض کفایہ کےواجب ہے کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کا خود خواہش کر کے مصر کے خزائن پر متصرف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا کرنے کو یوسف علیہ السلام اپنے لیے جائز ہی نہیں بلکہ اپنے اوپر واجب خیال فرماتے تھے ۔ ورنہ وہ فرعون سےایسی خواہش بھی نہ فرماتے اور نہ ایسی خواہش کرتے وقت وہ اپنےحفیظ و علیم ہونےکااظہار کرتےکیونکہ اگر آپ کےنزدیک ملک مصر کاوزیر بنا آپ پر لازم اور واجب نہیں تھا تو آپ کا اپنےآپ کو حفیظ اور علیم بنانا بےجا مدح سرائی اورخودستائی میں داخل ہوتا ہےمولانا شبیر احمد عثمانی کا حاشیہ جو اس آیت پر مولانا نےلکھا ہےبڑی حد تک میرےخیال کی تائید کرتا ہےچنانچہ مولانا فرماتے ہیں:
" یعنی دولت کی حفاظت بھی کروں گا اور اس کی آمد وخرچ کے ذرائع اور حساب و کتاب سے بھی خوب واقف ہوں۔ یوسف علیہ السلام نےخود درخواست کر کے مالیات کا کام اپنے ذمے لیا تا کہ اس ذریعےسے عامہ خلائق کو پورا نفع پہنچا سکیں۔ خصوصا آنے والے خوف ناک قحط میں نہایت خوش انتظامی نے مخلوق کی خبر گیری اور حکومت کی مالی حالت کو مضبوط رکھ سکیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہےکہ ہمدردی خلائق کےلیے مالیات کے قصوں میں پڑنا شان نبوت کے خلاف نہیں ہے۔ نیز اگر ایک آدمی نیک نیتی سے یہ سمجھے کہ فلاں منصب کا اہل ہوں اور دوسروں سے یہ کام اچھی طرح نہ بن پڑے تو مسلمانوں کی خیر طلبی اور نفع رسانی کی غرض سے اس کی خواہش یا درخواست کر سکتا ہے۔ اور اگر حسب ضرورت اپنے بعض خصائل حسنہ اور اوصاف حمیدہ کا تذکرہ کرنا پڑے تو یہ نا جائز مدح سرائی میں داخل نہیں ہے"۔
مولانا عثمانی صاحب کی اوپر کی تفسیر سے بھی ناظرین کرام پر ظاہر ہو گیا ہوگا کہ حضرت یوسف نے خود درخواست کر کے مالیات کا کام اپنے ذمے لیا تھا۔ وہ مختار کل یا خود مختار حاکم نہیں بن گئے تھے۔ عبدالغفار صاحب چند واڑی جن کا مراسلہ "مسلمان" لاہور مورخہ ۱۳ جنوری ۱۹۴۲ء میں شائع ہوا ہے اپنے مراسلے میں فرماتے ہیں کہ "حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب کے نزدیک انگریزی عدالتی اور پولیس کی نوکری جائز ہے نیز مولا نا عبدالحی فرنگی محلی نے بھی بشرط عدم ظلم و معصیت جائز رکھا ہے بلکہ ضرور نامقصد اسلامی قرار دیا ہے"۔
علمائے متاخرین میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی مسلمہ طور پر اس پایہ کےفقیہ تھے کہ ہندوستان میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ اُن کے نزدیک بھی موجودہ نظامِ حکومت میں ملازمت کرنا نا جائز نہیں تھا کیونکہ ان کے بعض اجل خلیفہ سرکاری ملازم تھےجیسے مولا نا خواجہ عزیز الحسن صاحب فوری۔
جمعیت العلماء ہند جو ہندوستان کے مستند علماء کی سب سے بڑی جماعت ہے اُس کے نزدیک بھی موجودہ نظام حکومت کا رکن بننا نا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ علماء کی اس محترم جماعت کے علم اور اجازت سے پچھلی کانگرسی حکومتوں کے دور میں بہت سے مسلمان کانگرسی حکومتوں کے ممبر بنے۔ اس لیے جمہور علما کا مسلک یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک غیر اسلامی نظام کارکن بننا اور اس حکومت کے نظام میں حصہ لینا نا جائز نہیں ہے۔ اس لیے اگر حضرت یوسف علیہ السلام کا فرعون کی حکومت کا رکن یا شریک کار بنا در آنحالیکہ وہ حکومت اپنے کفر پر قائم تھی ہمارے لیے ایک سند کا کام دے سکتا ہے۔ یا مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب اور مولانا عبدالحی فرنگی محلی اور جمہور علماء ہند کا اس باب میں اجتہاد ہمارے لیے قابل اتباع ہے۔ تو مولانا مودودی صاحب اور اسلامی جماعت کے وہ سب فتاوے جو مسلمانوں کو موجودہ نظام حکومت میں کسی حیثیت سے ملازمت کرنے سے روکتےہیں اور یہ ایسے مسلمانوں کی اُس آمدنی کو جو ان ذرائع سے ہوتی ہو حرام بتاتے ہیں مثل حرف باطل کے مٹا دینے کے قابل ہیں۔ برخلاف اس کے حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال اور عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم مسلمانوں کے لیے موجودہ نظام حکومت میں شریک کار ہونا صرف جائز ہی نہیں ہے بلکہ بطور فرض کفایہ کے واجب ہے۔ (اس کے بعد خان بہادر صاحب نے کچھ عقلی دلائل بھی پیش فرمائے ہیں اور ان کے سلسلے میں ہجرت حبشہ سے بھی استدلال فرمایا ہے۔ جس کو بخوف طوالت یہاں حذف کیا جاتا ہے )۔
ہم جناب خان بہادر صاحب کے بہت شکر گذار ہیں کہ انھوں نے اس مسئلے کو چھیٹر کر پھر ایک مرتبہ ہمیں اپنا نقطۂ نظر صاف صاف پیش کرنے کا موقع بہم پہنچا دیا۔ ہم اس بحث میں اپنا وقت صرف اس امید پر صرف کر رہے ہیں کہ بہت سے طالبین حق کو اس سلسلےمیں اکثر گمراہ کن دلائل کا جواب مل جائے گا جو اطاعت غیر اللہ یا بالفاظ دیگر اسلام لغیر اللہ کو جائز قرار دینے اور نظام کفر کی بندگی کو مباح بلکہ فرض کفایہ ٹھیرانے کے حق میں پیش کیےجاتے ہیں۔
قصہ یوسف علیہ السلام کے زیر نظر پہلو پر ہم اس سے پہلے دو مرتبہ بحث کر چکےہیں۔ پہلی بحث زیادہ مفصل و مدلل تھی اور دوسری مجمل و مختصر ۔ لیکن خان بہادر صاحب نےنہ معلوم کیوں پہلی کو چھوڑ کر دوسری کو مدار گفتگو بنایا۔ حالانکہ جو اعتراضات انھوں نے اپنےمضمون میں درج فرمائے ہیں ان میں سے اکثر کا بلکہ شاید سب ہی کا جواب ہماری پہلی بحث میں انھیں مل جاتا) بہر حال یہ عدم التفات خواہ کسی وجہ سے ہوا ہمارےلیےاس میں خیر ہی کا پہلو نکل آیا کہ جن باتوں کو بار بار چھیڑ کر ہمارے لیےواضح کرنا مشکل تھا، انھیں دوسروں کے چھیڑنے پر بیان کرنے کا ہمیں موقع مل گیا۔
دنیا میں ایک معقول آدمی سے جن چیزوں کی توقع کی جاتی ہے غالباً ان میں سب سے پہلی چیز یہی ہوتی ہے کہ اس کی باتوں میں تناقض نہ ہو۔ ایک معمولی عقل کا گنوار آدمی بھی جب کسی شخص کو ایسی باتیں کرتے دیکھتا ہے جو ایک دوسرے کے خلاف پڑتی ہوں تو فوراً ٹوک دیتا ہے۔ کیونکہ اس کی نہایت موئی عقل بھی متناقض باتوں کی غیر معقولیت کو برداشت نہیں کر سکتی ۔ لیکن یہ عجیب ماجرا ہے کہ جن باتوں کی توقع کسی گھٹیا سے گھٹیا مگر ڈی عقل انسان سے نہیں کی جاسکتی اُن کی توقع اُس خدا سے کی جاتی ہے جو خود عقل کا خالق اور تمام حکمت کا مالک ہے اور اس سے بھی عجیب تر ماجرا یہ ہے کہ خدا سے اس انتہائی نا معقولیت کی توقع رکھنے والے بلکہ اس کا مطالبہ کرنے والے کوئی جاہل کو دن لوگ نہیں ہیں بلکہ وہ ذی علم لوگ ہیں جو دنیا بھر کو علم و عقل کے درس دیتے ہیں اور وہ فاضل اصحاب ہیں جن کی عقلیں اپنی دنیا کے معاملات چلنے میں خوب لڑتی ہیں۔ یہ ہوش مند حضرات اپنے خدا سے چاہتے ہیں اور یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ اس کی باتوں میں تناقض ہو۔ یعنی وہ یہ بھی کہے کہ میں بادشاہ زمین و آسمان ہوں اور پھر اپنی زمین کے کسی گوشے پر کسی اور کی بادشاہی تسلیم بھی کرے۔ وہ یہ بھی کہے کہ لوگو تم سب میرے احکام کی اطاعت کرو پھر لوگوں کو یہ اجازت بھی دئےبلکہ اس کو فرض تک قرار دےدے کہ اُن حاکموں کی اطاعت بجالا میں جو اس کےحکم کی سند کےبغیر اور اکثر حالات میں اُس کے حکم کے خلاف احکام دیتے ہیں ۔ وہ انسانوں کے لیے خود ایک قانون بھی بنائے اور یہ اعلان کرے کہ میرا یہی قانون ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے باطل ہے اور پھر اس کے ساتھ دوسرے قوانین کےنفاذ کو بھی جائز رکھےاور انھی انسانوں کو جن کےلیےاس نے قانون بنایا ہے یہ ”حق“ بھی دے کہ چاہیں خود اپنے لیے قانون بنائیں اور چاہیں دوسروں کے قوانین کی پیروی کرتےرہیں ۔وہ اپنے پیغمبروں کو خاص اسی غرض کےلیے مبعوث بھی کرے کہ زمین کےباشندوں کو اس کا دین قبول کرنے کی دعوت دیں اور پھر انھی پیغمبروں کو یا ان میں سے کسی کو اس بات کی اجازت بھی دے ( بلکہ خان بہادر صاحب کےبقول اس خدمت پر سرا ہےبھی)کہ اس دین کےسوا کسی اور دین کےنظام میں کارکن و خدمت گزار بن جائیں اور اسے کامیابی کےساتھ چلانےمیں اپنی قابلیتیں صرف کر دیں۔ وہ ساری دنیا کےباشندوں میں سے چھانٹ کر ایک اُمتِ خاص اس مقصد کے لیے بنائے کہ اُس معروف کا حکم دے ہے اُس نے معروف قرار دیا ہے اور اس منکر کو مٹائے جسے اُس نے مکر ٹھیرایا ہے اور پھر اسی امت کے لیے اس بات کو حلال بلکہ اس کے بعض " برگزیدہ افراد کے لیے فرض کفایہ ٹھیرا دے کہ اُن منکرات کو قائم کرنے اور رواج دینے میں حصہ لیں جنھیں اس کے بانی معروف ٹھہرا چکے ہیں اور ان معروضات کو مٹانے اور دبانے میں آلہ کار بنیں جو اس کے نافرمانوں کی نگاہ میں منکر قرار پا چکے ہیں۔
١- ملاحظہ ہو اس کتاب کا مضمون ” رواداری کا غیر اسلامی تصور“۔
یہ ایسی صریح متناقض باتیں ہیں جن کے تناقض کو سمجھنے کے لیے کسی گہرے غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے لیکن عجیب بات ہے کہ جو لوگ تفسیریں لکھنے اور فقہ و معقولات کا درس دینے کی قابلیت رکھتے ہیں اور جو اتنی عقل رکھتے ہیں کہ کلکٹری اور دیوانی جیسے بڑے بڑے مناصب کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں، انھیں یا تو ان باتوں میں کوئی تناقض نظر نہیں آتا یا پھر خداوند عالم کے متعلق اُن کی رائے اتنی بُری ہے کہ وہ اس سے اُن بے عقلیوں اور نادانیوں کی توقع رکھتے ہیں جنھیں ایک جاہل گنوار بھی اپنی چوپال کے کسی رفیق میں پا کر صبر نہیں کر سکتا۔
ایک بعد کی آیت سے بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کے خزائن پر متصرف ہونے کے بعد تک فرعون مصر کی سلطنت قائم تھی اور فرعون مصر کا دین ہی ملک میں جاری تھا..... مَا كَانَ لِيَاخُذ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَن يُشَاءَ الله (يوسف: ۷۶ ) ( ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو دین میں اس بادشاہ کے مگر جو چاہے اللہ ) یہ عبارت صاف بتاتی ہے کہ مصر کا ملکی قانون اس وقت تک مصر میں جاری تھا“۔
إن الفاظ کو تحریر کرتے وقت صاحب موصوف جس بات کو ثابت کرنے کی دھن میں لگے ہوئے تھے اُس نے شاید انھیں اتنی مہلت نہ دی کہ کچھ دیر ٹھہر کر اُس صریح تناقض پر غور کر لیتےجو ان کی مزعومة تفسیر کے لحاظ سے یہاں قرآن کے بیان میں پیدا ہو جاتا ہے۔براہ کرم اب وہ ہمارے ہی توجہ دلانے سے غور فرمائیں۔ یہاں خود اُن کی اپنی نقل کردہ آیت میں اللہ تعالی نے مصر کے ملکی قانون کو جو فرعون مصر کی حاکمیت کی بنیاد پر تھا: ” دین الملک بادشاہ کا دین ) کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ دین صرف اُس پوجا پاٹ ہی کا نام نہیں ہے جو مندروں اور معبدوں میں کی جاتی ہےبلکہ اس قانون کا نام بھی ہے جس کے مطابق پولیس مجرموں کو پکڑتی ہے جس کے تحت عدالت معاملات دیوانی و فوجداری کا فیصلہ کرتی ہے جس کی پیروی میں ملک کا انتظام چلایا جاتا ہےاور جس پر تمدن کا سارا نظام قائم ہوتا ہےزندگی کےیہ سارےشعبےبحیثیت مجموعی جس طریقےپر چلتے ہیں اسی کا نام قرآن کی اصطلاح میں ”دین“ ہے۔ اور چونکہ ملک مصر میں وہ طریقہ فرعون کی مشیت سےماخوذ اور اس کےاقتدار اعلیٰ پر مبنی تھا، اس لیے قرآن اس کو "دین الملک" کہہ رہا ہے۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہو گئی کہ دین اللہ"بھی صرف اسی چیز کا نام نہیں ہےجو مسجدوں اور نماز روزےتک محدود ہو بلکہ اس سےمراد بھی اُس پوری شریعت کی پابندی ہےجو اللہ کی رضا سےماخوذ اور اس کی حاکمیت پر مبنی ہو اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اپنی گرفت میں لے لے۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نبی ہونے کی حیثیت سے کس کام کے لیے مبعوث فرمائے گئے تھے؟ دین اللہ کی دعوت دینے کے لیے یا دین الملک کو فروغ دینے کے لیے؟ اگر خان بہادر صاحب کی تاویل اور اُن حضرات کی تفسیر جن کے بڑے بڑے نام لے کر خان بہادر صاحب ہم کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں، مان لی جائےتو اس سےلازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو اپنےنبی کو اس بات پر مامور فرمایا کہ اس کی مخلوق کو اور خصوصاً اُس مخلوق کو جو مصر میں رہتی تھی،دین اللہ اختیار کرنے کی دعوت دے اور دوسری طرف وہی نبی خود اللہ تعالیٰ کی ہدایت و نگرانی میں دین الملک کے قیام و استحکام کی خدمت انجام دینے لگا۔ اور لطف یہ ہے کہ اللہ میاں اس صریح متناقض طرز عمل کا تناقض تو کیا محسوس فرماتے الٹا اس نبی کے اس فعل کو خان بہادر صاحب کے اپنے الفاظ میں سراہنے لگے اور نظامِ کفر میں اپنےنبی کے بعہدہ وزارت فائز ہو جانےکو انعام خداوندی سے تعبیر فرمانے گئے۔ گویا کہ اللہ میاں کا حال بھی معاذ اللہ ہمارے زمانےکے اُن دین دار بزرگوں کا سا ہے جو خود تو پیشانی پر سیاہ گفا لیے ہوئے مصلے پر سجدہ گردانی فرما رہےہوتےہیں مگر صاحبزادے جب ایم ۔اے پاس کر کےنیم انگریز بنےہوئےآبکاری کی انسپکٹری پر فائز ہو جاتے ہیں تو وہی دین جسم بزرگ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ان کے خاندان کو اپنی نعمت سے نواز دیا۔
"اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ملک مصر کی وزارت پر متمکن ہونےکے بعد حضرت یوسف نے تبلیغ حق کا کام نہیں کیا، یا اپنی رسالت کے اعلان سے گریز کیا۔ برخلاف اس کے صاحب ممدوح نے اس وقت جب کہ آپ جیل میں تھے اسی وقت وحدانیت کی تبلیغ شروع کر دی تھی ۔ البته جو بات آیات سے بلاشک وشبہ ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف ایک غیر اسلامی نظام حکومت کےرکن خود اپنی خواہش اور درخواست پر بنے اور حضرت یوسف کےاس حکومت کے رُکن بننے کے بعد بھی ملک میں غیر اسلامی نظامِ حکومت اور غیر اسلامی قانون ہی نافذ رہا۔"
یہاں پھر کھلا ہوا تناقض پایا جاتا ہے جس کی طرف صاحب موصوف نے اپنے مدعا کی دُھن میں توجہ نہیں فرمائی۔حضرت یوسف علیہ السلام نےآخر یہ کس قسم کی وحدانیت کی تبلیغ فرمائی تھی؟ اگر اس "وحدانیت" کے معنی یہ تھے کہ وہ ہو جا جو معبد میں کی جاتی ہے اور وہ اطاعت قانون جس پر سوسائٹی کا نظم اور ملک کا انتظام قائم ہوتا ہے، ایک ہی خدا کے لیےہو یعنی پوری زندگی دین اللہ کی تابع ہو جائے تو خان بہادر کی تاویل کے لحاظ سے حضرت یوسف نے نوکری کر کے خود اپنی اس تبلیغ حق کے خلاف عمل کیا اور اگر یہ تبلیغ اس بات کی تھی کہ معبد میں دین اللہ " جاری ہو اور ملک اور سوسائٹی کا سارا ا " . م دین الملک“ پر بدستور چلتا رہے تو ظاہر ہے کہ یہ وحدانیت کی نہیں بلکہ معنویت اور دو عملی کی تبلیغ تھی۔
پھر مزید سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف نے اپنی رسالت کا اعلان آخر کس معنی میں کیا تھا؟ اگر انھوں نے بادشاہ سمیت تمام لوگوں سے کہا تھا کہ میں مالک زمین و آسمان کا نمائندہ ہوں۔لہذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو جیسا کہ تمام انبیاء کہتےرہے ہیں کہ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ( شعر : ۱۰۸) تو اس اعلان کے ساتھ اُن کا غیر مسلم بادشاہ کی آقائی تسلیم کرنا اور اس کی اطاعت میں اسلامی نظام کے بجائے غیر اسلامی نظام کی خدمت انجام دینا کسی طرح مطابقت نہیں رکھتا۔ اور اگر انھوں نے یہ کہا تھا کہ لوگو! میں ہوں تو بادشاہِ ارض و سما کا نمائندہ مگر میرا مسلک یہ ہے کہ بادشاہ مصر کی اطاعت کروں اور تم کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ اسی کی اطاعت کرو۔ تو صرف یہی نہیں کہ یہ ایک صریح متناقض بات کا اعلان تھا جس کا استقبال سنجیدگی کے بجائے قہقہے کے ساتھ ہونا چاہیے تھا اور ایسا اعلان کرنے والے کو ایوان وزارت کے بجائے پاگل خانے میں جگہ ملنی چاہیے تھی بلکہ آج بھی ایسی کتاب ہرگز ایمان لائے جانے کے قابل نہیں رہتی جو ایک طرف تو خود ہی یہ قاعدہ کلیہ بیان کرتی ہے کہ خدا نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کے تحت وہ مطاع بن کر رہے ، (وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا لِيطُاع باذن الله (نساء:۶۴) اور دوسری طرف ہی کتاب ایک ایسے شخص کو رسول بھی قرار دیتی ہے جو مطاع بن کر نہیں بلکہ غیر اللہ کا مطیع بن کر رہا اور دوسرے بندگانِ خدا کو بھی اذنِ خداوندی کے تحت اپنا نہیں بلکہ اسی غیر خدا کا مطیع بنا تا رہا۔ قرآن اپنے من جانب اللہ ہونے کے ثبوت میں خود یہ معیار پیش کرتا ہے کہ لَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (نساء: ۸۲) یعنی اگر یہ کتاب اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتی تو لوگ اس میں بہت کچھ اختلاف بیان پاتے لیکن اگر ہم خان بہادر صاحب اور ان کے طرز خیال کےلوگوں کی تاویلات تسلیم کر لیں تو قرآن کے بیانات میں یہاں ایسے کھلے ہوئے تناقضات پائے جائیں گے جن سے قرآن اپنے آپ ہی پیش کردہ معیار کی رو سے اللہ کے سوا کسی اور کا کلام قرار پائے گا بلکہ وہ " اور " بھی جس کی تصنیف اسے سمجھا جائے گا بہر حال کوئی صحیح الدماغ انسان تو نہ ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ خان بہادر صاحب جس طر ز خیال کی نمائندگی فرما رہے ہیں وہ اپنے پیسے اخلاقی انحطاط کی ایک طویل اور دردناک تاریخ رکھتا ہے۔
مسلمان جب اپنےاصل مقصد کو بھول کر اور اپنےحقیقی مشن کو چھوڑ کر دنیا پرستی میں مبتلا ہو گئےاور دین داری کےمعنی ان کی نگاہ میں صرف یہ رہ گئےکہ عبادات اور معاشرت میں چند شرعی طور طریقوں کی پابندی کی جاتی رہےخواہ مقاصد زندگی وہی ہوں جو دنیا پرستوں کےہوتے ہیں، خواہ نظام اجتماعی کی زمام کار صالحین کے ہاتھ میں ہو یا تجار کےہاتھ میں، اور خواہ اجتماعی امامت اپنے اصول اور نصب العین کے اعتبار سے اسلامی ہو یا غیر اسلامی تو اس غفلت کی سزا اللہ تعالیٰ کی طرف سےانھیں اس شکل میں دی گئی کہ ان کی بڑی بڑی آبادیاں پے در پے کفار کی تابع فرمان ہوتی چلی گئیں ۔ لیکن انھوں نے اور ان کے علماء نے اسے سزا سمجھنے اور اُس اصلی قصور کی، جس کی پاداش میں یہ سزا ملی تھی،تلافی کرنے کے بجائے الٹا یہ سوچنا شروع کر دیا کہ نظام کفر میں اسلامی زندگی کیسے بسر کی جائے۔چنانچه اضطرار" کے بہانے سے اُس شرعی اور اسلامی زندگی کا ایک نیا نقشہ مرتب کیا گیا جو غیر شرعی اور غیر اسلامی نظام کے اندر بسر کی جاسکے۔
اس پر اللہ تعالی کی طرف نے مزید سزاؤں کا سلسلہ شروع ہوا تا کہ انھیں آزمایا جائے کہ یہ سنبھل کر چلتے ہیں یا اپنی ضلالت میں بعید سے بعید تر ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ وہ اضطرار جسے ابتداء صرف ایک ہی اضطرار سمجھا گیا تھا اللہ کی سنت کےمطابق آگےبڑھا اور اس نے دائی روز افزوں اور غیر متناہی اضطراروں کی شکل اختیار کرلی۔ ہر نئے اضطرار نےمطالبہ کیا کہ جو حدود تم نے کفر کے اندر اسلام اور کفر کے ماتحت اسلامی زندگی کے لیے تجویز کیے ہیں انھیں شکیردو اور سکیڑتےچلےجاؤ۔مگر یہ جتنےعذاب خدا کی طرف سے آئے ہیں ان میں سے کسی نےبھی مسلمانوں کی آنکھیں نہ کھولیں اور انھوں نے مستقل طور پر یہ قاعدہ ہی طے کر لیا کہ واقعی ہر اضطرار کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اسلامی زندگی کے حدود سکیٹر تے رہیں اور تسلط کفر کی حدوں کو پھیلنے دیں۔
پھر اس "اضطرار" کے تصور نے بھی انھیں ستانا شروع کیا کیونکہ اضطرار کے نیچےحرمت کا تصور لازماً موجود رہتا ہے۔ کوئی صاحب عقل آدمی اس صریح بات کو محسوس کیےبغیر نہیں رہ سکتا کہ جب آپ محض مضطر ہونے کی وجہ سے سور کا گوشت کھا ئیں گے تو بہر حال سؤر آپ کی نگاہ میں حرام تو ضرور ہی رہے گا۔ اور جب اسےآپ فی الاصل حرام سمجھتےہوئےمجبوراً کھا ئیں گےتو ناممکن ہے کہ آپ کےدل میں اس سےنفرت و کراهت نہ ہو۔ ناممکن ہے کہ آپ اس سے لذت لیں، شوق سے کھا ئیں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے اور پیٹ بھر کر کھانے کی کوشش کریں اور اس کے کباب اور قورمہ اور پلاؤ پکوانےکی فکر کریں۔ ایسے ہی اجتناب اور تحفر کا جذبہ ان تمام معاملات میں ناگز برطور پر پیدا ہوتا ہے جنھیں آپ حقیقت کے اعتبار سے حرام کھتے ہوں اور صرف اضطرار کی وجہ سےاپنےلیےعارضی طور پر جائز کر لیں۔مگر ایک پوری قوم کا اپنی زندگی کےسارےتمدنی معاشی سیاسی معاملات میں دائما اس طرح رہنا کہ اس پر اضطرار کی شرعی و نفسیاتی کیفیت طاری رہےاور وہ حاضر الوقت نظام زندگی سے نفرت و کراهت کے ساتھ ہمہ گیر اجتناب کرتی رہے اور صرف اس حد تک اس سے تعلق رکھے جس حد تک ایسا تعلق جینے کے لیے ناگزیر ہو عملاً محال ہے۔ ایسی حالت کو ایک قلیل مدت سے زیادہ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔بہت جلدی طبائع اس سے تھک جاتی ہیں۔ چنانچہ یہ تھکاوٹ بھی مسلمانوں میں ٹھیک اپنے وقت پر پیدا ہوئی لیکن پہلے سے دینی انحطاط جس تسلسل کے ساتھ بڑھتا چلا آ رہا تھا اس نے ان جھکنے والوں کےذہن کو اس طرف متوجہ نہ ہونےدیا کہ اپنے اس غلط نظریہ پر نظر ثانی کر لے جو نظام کفر میں اسلامی زندگی کے امکان کے متعلق انھوں نے ابتداء قائم کیا تھا اور اس حالت اضطرار کو ختم کرنے کی تدبیریں سوچتےجس کی وجہ سے وہ ہر طرف ہر شعبہ زندگی میں حرمتوں سے محصور اور خبائث میں مبتلا ہونے پر مجبور ہو گئے تھے ۔ اس کے برعکس دینی انحطاط کی سابق رفتار انھیں جس رُخ پر بڑھا لے گئی وہ یہ تھا کہ سرے سے اضطرار کے بہانے ہی کو ختم کر دیں تا کہ جو حرمتیں نظام کفر میں ترقیات اور آسائشوں کےدروازے ان پر بند کیے ہوئے ہیں وہ ٹوٹ جائیں اور اباحت وحلت میں تبدیل ہو کر رہیں۔
اس غرض کے لیے دین کا ایک نیا نظریہ قائم کیا گیا۔ وہ نظریہ یہ تھا کہ دین کا تعلق صرف عقائد و عبادات اور چند معاشرتی امور مثل نکاح و طلاق وغیرہ سے ہے۔ اگر ان معاملات میں کوئی نظام حکومت مسلمانوں کو امن دینے کا ذمہ لے لے تو اسلامی زندگی کا اصل مدعا حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد دار الکفر دارالامن ہے۔ اس کی وفاداری و اطاعت لازم ہے اس کے تحت سارے تمدنی معاملات ( جو اس نئے نظریے کے مطابق دنیا بمقابلہ دین کے زیر عنوان آ جاتے ہیں) انھی قوانین کے مطابق چلنے چاہئیں جو کافرانہ اصولوں پر بنائے گئے ہوں اور اس کی قانونی و انتظامی مشین کو چلانے میں، بلکہ اس کے تحفظ اور اس کی توسیع کے لیے جان کی قربانیاں تک دینے میں بھی کوئی "مضایقه" نہیں ہے۔
لیکن یہ معاملہ صرف "عدم مضائقہ" یا اباحت وحلت پر بھی نہ رکا۔ دارالکفر میں مسلمانوں کی ضروریات نے جلدی ہی انھیں مجبور کرنا شروع کیا کہ اپنی نئی نسلوں کو خدمت کفر کا شوق دلانے کی کوشش کریں تا کہ ان نقصانات کی تلافی ہو جو اول اول کچھ مدت کےمضایقه نےانھیں پہنچایا تھا۔اس لیےایک آخری دلیل یہ تصنیف کی گئی کہ مسلمانوں کی ترقی و فلاح اور بعض حالات میں اُن کی زندگی کا انحصار ہی اس بات پر ہےکہ وہ نظام کفر کےعدالتی تشریعی انتظامی فوجی،صنعتی،غرض تمام شعبوں میں زیادہ سےزیادہ حصہ لیں ورنہ امت کےوفات پا جانےیا کم از کم ترقی کی دوڑ میں غیر مسلموں سے پیچھے رہ جانے کا اندیشہ ہے۔ اس دلیل نے بہ یک جنبش قلم اسی چیز کو جو کل تک صرف مباح کےمقام پر تھی فرض کے درجے پر پہنچا دیا اور واجب ہو گیا کہ اگر ساری قوم نہیں تو اس میں سے ایک طبقہ تو اس فرض کے انجام دینے کے لیے ضرور نکلتا ہی رہے گویا حکم الہی یوں قرار پایا کہ فَلَوْلَا نَفَرٍ مِنْ كُلَّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الْكُفْرِ لِيُضِلُّوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمُ لَعَلَّهُمْ يُضِلُّونَ اور وَلَتَكُن مِنكُمْ أُمَّةٌ يُدْعُونَ إِلَى الشَّرِ يَأْمُرُونَ بِالْمُنكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ!
دین میں یہی وہ عظیم الشان ترمیم تھی جس کی بدولت بڑےبڑےمتقی و دین دار حضرات تسبیحوں کوگردش دیتے ہوئے وکالت اور منصفی کے پیشوں میں داخل ہوئے تاکہ جس قانون پر وہ ایمان نہیں رکھتے اس کے مطابق وہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کریں اور کرائیں اور جس قانون پر ایمان رکھتے ہیں اس کی تلاوت صرف اپنے گھروں میں کرتےرہیں۔ اس ترمیم کی بدولت بڑے بڑے صلحاء و اتقیاء کے بچے نئی درس گاہوں میں داخل ہوئے اور وہاں سے بے دینی و مادہ پرستی اور بداخلاقی کے سبق لے لے کر نکلے اور پھر اس نظام کفر کے صرف عملی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ اکثر حالات میں اخلاقی اور اعتقادی حیثیت سے بھی خدمت گزار بن گئے جو ان کے اسلاف کی غفلتوں اور کمزوریوں کی بدولت ان پر ابتداء محض اوپر سے مسلط ہوا تھا۔ پھر اسی ترمیم نے یہاں تک نوبت پہنچائی کہ مردوں سےگزر کر جاہلیت اور ضلالت اور بداخلاقی کا طوفان عورتوں تک پہنچا۔وہی فرض کفایہ جسےادا کرنے کےلیےپہلےمرد اُٹھےتھےعورتوں پر بھی عائد ہو گیا اور ان بیچاریوں کو بھی آخر اس "دینی خدمت" کی بجا آوری کے لیے نکلنا پڑا۔ نہ نکلتیں تو خطرہ تھا کہ کہیں غیر مسلم ان سے بازی نہ لے جائیں_ (١)
اور کہیں یہ گمان نہ کر لیجیےگا کہ دین میں یہ ترمیم آج کچھ نئی ہوئی ہے۔درحقیقت اس کی بنا آج سے صدیوں پہلے پڑ چکی تھی جبکہ تاتار کے کفار مسلمانوں پر مسلط ہوئےتھے ۔ صرف یہی نہیں کہ نظام کفر میں اسلامی زندگی کا نقشہ پہلی مرتبہ اسی دور کے علماء نے مرتب کیا تھا بلکہ اُس زمانے میں بڑے بڑے علماء وصلحاء نے خود نظام کفر کی خدمت گزاری اختیار فرمائی تھی اور ان میں بکثرت لوگ وہ تھے جن کی کتابیں پڑھ پڑھ کر آج ہمارے مدارس عربیہ میں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین تیار ہوتے ہیں ۔ اسی قدامت کی وجہ سے غلطی اب ایک مقدس غلطی بن چکی ہے اور کوئی تعجب نہیں ہے اگر ہمارے زمانےکے فقیه اور محدث اور معتمر سب اس میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ غلط بات نہ اس دلیل سے صحیح ہو سکتی ہے کہ وہ پہلے سے ہوتی چلی آ رہی ہے اور نہ اس کو صحیح ثابت کرنے کے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ بڑے بڑے لوگ اس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ حق کا اثبات اگر ہو سکتا ہے تو خدا کی کتاب اور رسولوں کی سنت ہی سے ہو سکتا ہے۔
اس پورے انحطاط کے دوران میں، جو ابتدائی اضطرار کی بنا پر اسلام "زیر سایہ کفر" کے نظریہ سے شروع ہوا پھر رفتہ رفتہ نظامِ کفر کی خدمت جائز ---مستحب --- فرض کفایہ کے نظریہ تک پہنچا اور بالآ خر کرتے کرتے اس انتہائی ذلیل نقطہ نظر کی پستیوں میں جا گرا کہ مذہبی آزادی دینے والے حکمرانوں کی وفاداری مین متفائے دین ہے ۔ مسلمانوں کی کوشش برابر یہی رہی کہ اپنے تنزل کے ہر مرحلے میں نیچے اور زیادہ نیچے اترنے کے لیے دلیل بہر حال انھیں خدا کے دین ہی سے ملنی چاہیے۔ یہ مطالبہ بظاہر تو اُن کے زعم میں اس فارمولے پر مبنی تھا کہ خدا کا دین چونکہ ہماری تمام ضرورتوں کا ضامن ہے۔اس لیےجو ضرورتیں اب پیش آ رہی ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے بھی اسی دین سے ہم کو رہنمائی ملنی چاہیے ۔ لیکن دراصل اس ظاہری فارمولے کے باطن میں جو حقیقی فارمولا چھپا ہوا تھا اور جس پر فی الواقع یہ لوگ کام کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ ”جب ہم نے اس دین پر یہ احسان کیا ہے کہ اس کو اپنے ایمان سے سرفراز کیا تو اس کے بدلے میں کم سے کم جو فرض اس دین پر عائد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ہمارے آگے چلنے کے بجائے ہمارے پیچھے چلنا شروع کر دے"۔ یعنی اب ہمارا اور اس کا تعلق یہ نہ ہو کہ ہم اسے اپنے اوپر اور خدا کی زمین پر قائم کرنے کی سعی کریں اور اس سعی کے سلسلے میں جو جو ضرور تیں ہم کو پیش آتی جا ئیں یہ انھیں پورا کرنے کی ضمانت لیتا جائے بلکہ تعلق کی صورت اب یہ ہونی چاہیے کہ ہم اس کی اقامت کا کام حتی کہ اس کا خیال تک چھوڑ کر اپنے نفس کی پیروی میں جس جس وادی کی خاک چھانتے پھریں اس میں یہ ہمارے ساتھ ساتھ گردش کرتا رہے اور جن جن ادیان باطلہ کے ہم تابع فرمان بنتے جائیں ان کے ماتحت ساری غلامانہ حیثیتیں یہ بھی اختیار کرتا چلا جائے اور اس کے منشاء کے خلاف جو جو طرزِ زندگی ہم قبول کریں ان میں پیش آنےوالی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کا یہ ضامن ہو"۔ چنانچہ اسی نقطہ نظر کو لیے ہوئے ان لوگوں نے قرآن وسنت میں رہنمائی تلاش کرنی شروع کی اور حاصل یہ ہوا کہ پورے قرآن میں اگر کسی چیز پر جا کر ان کی نگاہ پھیری تو وہ سورۂ عنکبوت تھی نہ بقرہ نہ آل عمران نہ انفال نہ تو بہ بلکہ سورہ یوسف تھی ۔ اور اس کے بھی صرف وہ مقامات جن سے خان بہادر صاحب استدلال فرما رہے ہیں۔ اسی طرح پوری سیرت نبوی میں بھی اگر کوئی چیز ان کو قابل اتباع ملی تو وہ ملتے کی تپتی ہوئی ریت تھی، نہ طائف کی سنگ باری نہ بدر و اُحد کے میدان بلکہ صرف یہ واقعہ کہ مسلمانوں کی ایک جماعت ہجرت کر کے عبش گئی تھی اور وہاں ایک عیسائی بادشاہ کے ماتحت چند سال رعا یا بن کر رہی ۔
١- قیام پاکستان کے بعد اب معامله اور آگے بڑھ گیا ہے۔ اب اُمت کے جینے کی صرف یہ صورت رہ گئی ہے کہ شرفا کی لڑکیاں کھلے میدانوں میں فوجی ڈرل کریں، اور مسلمان صاحبزادیان نرسنگ کی ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے مغربی ممالک میں جائیں اور غیر ممالک میں مسلمانوں کی نیابت کا فریضہ ان کےنمائندےہی نہیں، بلکہ نمائند یاں بھی انجام دیا کریں۔
لیکن جو شخص مطلب جو ذہنیت نہ رکھتا ہو بلکہ طالب حق ہو اس کے لیے یہ سوال غایت درجہ اہمیت رکھتا ہے کہ در حقیقت یوسف کے زیر بحث واقعات اور ہجرت حبشہ کےحالات سے بھی کیا وہی نتیجہ نکلتا ہے جو یہ حضرات نکالنا چاہتے ہیں؟ اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ وہی نتیجہ کھتا ہے یعنی یہ کہ ایک نبی نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت ایک نظام کفر کی خدمت اور غیر الہی قانون (دین الملک) کے اجرا و نفاذ کی ذمہ داری اس غرض کےلیے قبول کی تھی کہ ایسا کرنا فی نفسہ مقصود تھا، اور یہ کہ مسلمانوں نے مکہ سے جبش کی طرف اسی بنیاد پر ہجرت کی تھی کہ ایک مسلم جماعت کےلیےایک غیر مسلم نظام تمدن و سیاست بالکل ایک موزوں جائےقیام ہےبشرطیکہ وہ مسجد میں اپنے منشاء کے مطابق پوجا کر لینے کی اور اپنےسینےمیں کچھ عقائد رکھ لینے اور زبان سے ان کے بھاگ اُڑا لینے کی اس کو اجازت دے دے تو اس کے بعد کچھ مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں جو اوپر کے سوال سےبدرجہا زیادہ اہم اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ یہ بات مان لینے کے بعد تو یہی امر تحقیق طلب ہو جاتا ہے کہ :
ان سوالات کا ایک جواب یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ نے جو دین بھیجا ہے اس کا تعلق صرف اُس محدود زندگی سے ہےجو آج کل کے تصور کےلحاظ سے”مذہبی“ کہلاتی ہےمگر یہ مان لینے کے بعد قرآن میں اور دوسری کتب آسمانی میں تمدن، معاشرت، معیشت سیاست قانون دیوانی و فوجداری ضوابط شهادت و عدالت اور مسائل صلح و جنگ وغیرہ کےمتعلق جو ہدایات دی گئی ہیں وہ سب بے معنی قرار پاتی ہیں ۔ یا پھر ان کی حیثیت احکام کی نہیں بلکہ سفارشات کی رہ جاتی ہے جن پر عمل ہو جائے تو اچھا اور نہ ہو تو اللہ میاں کو کوئی خاص شکایت نہ ہوگی۔
اسی طرح دوسرےسوال کا جواب بھی یہ ہو سکتا ہےاور ہو سکتا کیا معنی آج کل عام طور پر نبوت کا تصور یہی ہےکہ مختلف انبیاء مختلف مشن لےکر آئےہیں،حتی کہ ایک نبی کا مقصد بعثت اگر یہ رہا ہےکہ نظام کفر کوتوڑنے کےلیےلڑنےاور اسکی جگہ نظام اسلامی کو زمین پر حکمران ہونےکی حیثیت سےقائم کرےتو دوسرےنبی کا مقصد بعثت اس کےبر عکس یہ رہا ہےکہ نظام کفر کےاندر نہ صرف یہ کہ محدود قسم کی مذہبی و اخلاقی اصلاح پر اکتفا کرے بلکہ اس نظام کفر کا مطیع و وفادار بن کر رہے اور موقع ملےتو اس کو چلانے اور فروغ دینے کے لیے خود اپنی خدمات پیش کر دے۔ مگر یہ بات نہ تو قرآن کے بیان کےمطابق ہے جو پورے زور کےساتھ یہ تصور پیش کرتا ہےکہ سارے انبیاء کا مقصد بعثت ایک ہی تھا اور نہ عقل یہ باور کرنے کےلیےتیار ہےکہ اللہ تعالیٰ سےایسی متضاد اور باہم متصادم حرکات کا ظہور ہو سکتا ہے۔شاید کوئی معقول آدمی بھی اس خدا کو ایک حکیم خدا ماننےکے لیے تیار نہیں ہو سکتا جو انسانوں کی طرف اپنے پیغمبر بھی کسی مقصد کے لیے بھیجے اور کبھی اس کے بالکل برعکس کسی دوسرے مقصد کے لیے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک نبی نظام اسلامی کو قائم کرنے کی جدو جہد میں کامیابی کے آخری مرحلوں پر پہنچ جائے دوسرا نبی بیچ کے کسی مرحلے میں یا ابتدائی مرحلہ ہی میں آخر وقت تک کام کرتا رہے اور کوئی تیسرا نبی دعوت و تبلیغ یا جنگ کے بجائے کسی درمیانی صورت کو اپنے مخصوص حالات میں قابل عمل پا کر اسےاختیار کرلئے اور ان اشکال کےاختلاف کے باوجود مقصد سب کا ایک ہی ہو یعنی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے نظام زندگی کو مکمل طور پر دنیا میں قائم کرنےکی سعی کرنا، لیکن اس اختلاف اشکال کو یہ معنی پہنانا کہ انبیاء کے مقاصد بعثت ہی سرے سے مختلف و متضاد تھےاللہ پر ایسا بہتان لگانا ہے جس سے بدتر بہتان شاید کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح تیسرے سوال کا جواب بھی یہ ہو سکتا ہےاور آج کل کے مسلمان بالعموم یہی سمجھتے ہیں کہ انسان سےاللہ تعالیٰ کا مطالبہ صرف اتنا ہی ہے کہ وہ اس کی پوجا کر لیا کرے اور کچھ مسائل غسل و طهارت اور چند مخصوص حدود حلال و حرام کی پابندی کر لے۔اس سے آگے نہ اللہ کا کوئی مطالبہ ہے اور نہ اس سے کچھ بحث کہ آدمی زندگی کے وسیع تر معاملات میں اپنے نفس کے قوانین کی پیروی کرتا ہے یا اُن شیاطین جن و انس کے احکام کی جو اس کی وسیع زمین پر مسلط ہو گئے ۔ مگر یہ جواب موجودہ زمانےکے ڈنیا پرستوں کےلیے خواہ کتنا ہی اطمینان بخش ہو اور خواہ الدينُ يُسر“ اور ”مَاجَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ خرج کا یہ مشا قرار دے کر وہ اپنے لیے اس سےکتنی ہی سہولتیں پیدا کر لیں' بہر حال یہ تصور عبدیت و بندگی کے تصور کی قطعی نفی ہے۔ بندگی کا شاید اس سے زیادہ مضحکہ انگیز مفہوم کوئی اور نہیں ہو سکتا کہ بندہ چوبیس گھنٹوں میں سے دو گھنٹوں کےلیےہندہ ہو اور باقی اوقات میں آزاد یا صرف آقا کو سلامی دےدینےپر اس کی بندگی ختم ہو جائےاور پھرسارے کام اسے اپنے یا دوسروں کے منشاء کے مطابق کرتے رہنے کی آزادی حاصل ہو ۔پھر وہ خدا تو ہرگز خدا مانے جانے کے قابل نہیں ہے جو ایک طرف اپنے آپ کو انسان کا خالق اور رب بھی کہتا ہو اور دوسری طرف پورے انسان کو چھوڑ کر صرف اس کےایک نہایت ہی قلیل اور غیر اہم جز تک اپنی آقائی وفرماں روائی کو اور اس کی بندگی و غلامی کو محدود رکھنے پر راضی ہو جائے۔کوئی باپ اپنےبیٹےپر اپنی پدرانہ حیثیت کو کوئی شوہر اپنی بیوی پر اپنی شوہرانہ حیثیت کو کوئی حاکم اپنی مملکت اور اپنی رعایا پر اپنی حاکمانہ حیثیت کو اس حد تک محدود کرنے پر راضی نہیں ہوتا کہ چند مراسم اطاعت و وفاداری ادا ہو جانے کے بعد پدریت اور شوہر یت اور حاکمیت کا مقتضا پو را ہو جائے اور پھر بیٹے کو اختیار ہو کہ جس جس کو چاہے اپنا باپ بتاتا پھرئے اور رعایا کو اختیار ہو کہ جس جس کے قانون کی چاہے پیروی کرنے، جس کو چاہے ٹیکس دے اور جس کے احکام کی چاہےاطاعت کرتی رہے مگر یہ خدا آخر کیسا خدا ہےکہ جو انسان سارا کا سارا اس کا مخلوق اور اسی کا پروردہ ہےاور اسی کے بل پر قائم و موجود ہےاس پر وہ اپنی آقائی کو محدود کر لینے اور اس سےبندگی کی چند رسمی باتیں قبول کر کے اسے خود مختار یا ہر ایک کی غلامی کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دینے پر راضی ہے؟
دین اور نبوت اور تقاضائےعبدیت کے یہ تصورات اگر صحیح نہیں ہیں،اگر فی الواقع خدا کا بھیجا ہوا دین انسان کی ساری اجتماعی و انفرادی زندگی سےتعلق رکھتا ہے اگر خدا کا مطالبہ اپنے بندوں سے یہی ہے کہ وہ ہر حیثیت سے اس کے قانون کے پیرو اور اس کی ہدایت کے متبع ہو کر رہیں، اور اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو اسی غرض سے بھیجا تھا کہ وہ اس بر حق نظام زندگی کو قائم کرنے کی دعوت دیں اور اسی کی اقامت کے لیے سعی کریں جو خدائے واحد کی اطاعت پر مبنی ہو تو کسی معقول آدمی کے لیے یہ تسلیم کرنا سخت مشکل ہے کہ سارے نبیوں میں سے تنہا ایک حضرت یوسف علیہ السلام ہی ایسے انوکھی قسم کے نبی تھےجن کے سپر د دین اللہ کو قائم کرنے کی سعی کی بجائےیہ خدمت کی گئی تھی کہ دین الملک کےتحت وزارت مال کی نوکری کریں اور اسی طرح کوئی معقول آدمی ان دو متضاد باتوں کو بھی با هم منطبق نہیں کر سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف تو عرب کے غیر اسلامی نظام میں دین حق کی اقامت کے لیے جد و جہد بھی فرمارہے تھے اور دوسری طرف آپ کے نزدیک جبش کا غیر اسلامی نظام اس درجہ برحق بھی تھا کہ ایک مسلم جمعیت کے لیے وہ ایک مناسب جائے قیام ہو سکتا تھا۔ جو لوگ دین کو ایک معقول و متناسب نظام فکر کی حیثیت سے نہیں دیکھتے بلکہ اس کو منتشر اور ایک دوسرے سے بے تعلق اجزا کا مجموعہ سمجھتے ہیں، اُن کے لیے تو یہ بہت آسان ہے کہ انبیاء کے حالات زندگی، قرآن کی تعلیمات اور دین کے احکام و اوامر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک کی ایسی تاویلیں اور تفسیریں کریں جن سے ایک جز دوسرےجز سے اور ایک پہلو دوسرے پہلو سے صریح تناقض کا رنگ اختیار کر لے۔لیکن اس دین کو ایک حکیم کے بنائے ہوئے مرتب و مربوط اور متناسب نظام کی حیثیت سے دیکھنے والوں کے لیے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ اُس کے ہر پہلو اور ہر جز کی وہی تفسیر و تاویل اختیار کریں جو کلی نظام کےمزاج سے مناسبت رکھتی ہو اور کسی ایسی تعبیر کو خواہ وہ کیسے ہی بڑے علماء کی طرف سے پیش کی گئی ہو قبول نہ کریں جس سے اس دین کے اندر تناقض اور اس کی تعلیمات اور انبیاء علیہم السلام کے کاموں کے درمیان تصادم لازم آتا ہو ۔
حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ جس طریقےسےسورہ یوسف میں بیان ہوا ہےاس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنجناب قبل اس کے کہ نبوت سے سرفراز ہوتےاپنے بھائیوں کی غداری اور ایک تجارتی قافله کی خیانت کی بدولت عزیز مصر کے مملوک ہو چکے تھے ۔ اس مملوکیت کے زمانے میں 'یا اس کے بعد جبکہ آپ قید کیے جاچکے تھے، آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سےنبوت کا منصب عطا کیا گیا ۔۔۔اغلب یہی ہےکہ یہ سرفرازی قید ہی کے زمانے میں ہوئی ہوگی کیونکہ قید ہونےسےپہلےآپ کے کلام کا انداز پیغمبرانہ شان کا نہیں بلکہ صرف ایک مرد صالح کا سا نظر آتا ہے۔۔۔اس حالت میں جب آپ نبوت سےسرفراز ہوئےتو آپ نےمعا اپنی پیغمبرانہ دعوت کی ابتدا کر دی اورساتھ کےقیدیوں ہی کو اس چیز کی طرف بلانا شروع کر دیا جس کےلیےآپ مامور ہوئےتھےاس دعوت کا خلاصہ سورۃ یوسف رکوع ۵ میں بیان ہوا ہےجس کا مطالعہ کر کے آج بھی ہر شخص یہ دیکھ سکتا ہےکہ ان کا بلاوا ازباب متفرقون" کی بندگی کی طرف نہیں تھا، بلکہ ایک رب کی بندگی کی طرف تھا اور وہ بار بار اہل مصر پر یہ واضح کرتےرہےتھےکہ جس بادشاہ کو تم نےرب بنا رکھا ہےوہ میرا رب نہیں ہے بلکہ میرا رب اللہ ہے اور جس ملت کی میں پیروی کرتا ہوں وہ اللہ ہی کی بندگی سے عبارت ہےیہ تبلیغ جو وہ قید خانہ میں کر رہے تھے اس کےدوران میں یکا یک یہ صورت حال پیش آئی کہ دیانت و تقویٰ اور حکمت و بصیرت کےجو غیر معمولی نشانات ان کی ذات سے ظاہر ہوئے تھےفرماں روائے مصر ان سے متاثر ہو گیا اور اس حد تک متاثر ہوا کہ انھیں یہ توقع ہوگئی کہ اگر وہ سلطنت کےپورے اختیارات اس سے مانگیں تو وہ انھیں دینے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ اب یوسف علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے ۔ ایک راستہ یہ کہ وہ اسلامی انقلاب کے لیے دعوت عام جد و جہد کشمکش اور جنگ کے طویل عمل ہی کو اختیار کریں، جو عام حالات میں اختیار کرنا پڑتا ہے۔ دوسرا راستہ یہ کہ وہ اس موقع کو جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ان کے ہاتھ آ گیا تھا' استعمال کریں اور عقیدت مند بادشاہ سے جو اختیارات مل رہے تھے انھیں لے کر ملک کے نظام فکر و خلاق اور نظام تمدن و سیاست کو بدلنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالی نے جو بصیرت اُن کو عطا کی تھی اس کی بنا پر انھوں نے پہلے راستے کی بہ نسبت دوسرے راستے کو اپنے مقصد کے لیے مفید تر اور اپنی منزل مقصود سے قریب تر سمجھا اور اسے اختیار کر لیا۔
یہ غیر اسلامی نظام کی نوکری نہیں تھی جو پیٹ پالنے کےلیےیا ذاتی جاہ و منزلت کے لیے یا نظام فاسد کےجزوی مصالح کےلیےکی گئی ہوا بلکہ یہ ایک تدبیر تھی جو اسی ایک مقصد کےلیے اختیار کی گئی تھی جس کے لیے تمام انبیاء علیہم السلام کی طرح حضرت یوسف بھی مبعوث ہوئے تھے ۔ جن لوگوں نے اسے محض نوکری سمجھا ہے اور یہ خیال کیا ہےکہ حضرت یوسف علیہ السلام نےنظامِ اسلامی کےقیام کےلیےاس کو ذریعہ ہونےکی حیثیت سے نہیں بلکہ اس غرض کےلیےحاصل کیا تھا کہ کافرانہ نظام بدستور قائم رہےاور وہ اس کےتحت بس فنانس منسٹر کی خدمت انجام دیتےرہیں،اُن کےنزدیک حضرت یوسف علیہ السلام کا مرتبہ موجودہ حکومتوں اور ریاستوں کے تنخواہ دار ملازموں سے کچھ بھی بلند نہیں ہے۔ حتی کہ اتنا بلند بھی نہیں جتنا ہمارے اس ملک میں کانگرسی وزارتوں کا مقام ثابت ہوا ہےجن کا طرز عمل تمام ملک دیکھ چکا ہے کہ جب تک انھیں اپنے مقصد ( آزادی ملک) کے لیے وزارت کے مفید ہونے کا یقین نہ ہو گیا، انھوں نے اور ان کے کسی گرے پڑے شخص نے بھی وزارت قبول کرنے کا خیال تک نہ کیا اور پھر جب وزارتیں قبول کیں تو یہ دیکھ کر کہ فی الواقع جو ہر اقتدار (Substance of Power) ان کی طرف منتقل نہیں کیا گیا ہے انھوں نے تمام وزارتوں کو لات مار دی۔
یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ اختیارات بادشاہ سے مانگے گئے تھے یا اس سےچھینے گئے تھے ۔اور نہ یہ بات کوئی اہمیت رکھتی ہےکہ حضرت یوسف کےبرسر اقتدار آتےہی بادشاہ معزول کر دیا گیا یا تخت سلطنت پر قائم رہا۔ اصل اہمیت جو چیز رکھتی ہے وہ یہ ہےکہ حضرت یوسف علیہ السلام نے جو منصب طلب کیا تھا وہ آیا کافرانہ نظام کو چلانےکےلیےاور اسکی ملازمت قبول کرنےکی خاطر کیا تھا یا اپنےمقصد بعثت یعنی نظام اسلامی کو قائم کرنے کی خاطر دوسری چیز جو اہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ آیا فی الواقع ان کو ایسےاختیارات ملے تھے یا نہیں جن سے وہ ملک کے نظام میں تبدیلی کرنے کے قابل ہو سکتے ؟ہمارے نزدیک دین اور نبوت کے پورے تصور کا تقاضا یہ ہے کہ ہم حضرت یوسف کےمطالبہ قَالَ أَجَعَلِي عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ (يوسف : ۵۵) کا مقصد نظام اسلامی کا قیام سمجھیں اور یہ سمجھیں کہ خزائن الارض کے مطالبہ سے حضرت یوسف علیہ السلام کا مدعا یہ تھا کہ ملک کے تمام ذرائع وسائل (Resources) ان کے ہاتھ میں دیے جائیں۔ خان بہادر صاحب خواہ مخواہ خزائن کے لفظ کو مالیات کے معنی میں لے رہے ہیں۔ حالانکہ قرآن میں کہیں بھی یہ لفظ مالیات کے معنوں میں نہیں آیا ہے۔ قرآنی تعلیمات کا تنتبع کرنے سے یہ بات واضح ہو سکتی ہے کہ اس لفظ کا مفہوم وہی ہے جو ذرائع و وسائل" کا مفہوم ہے اور ظاہر بات ہے کہ کسی شخص کے ہاتھ میں کسی ملک کے تمام ذرائع و وسائل کا ہونا اور اس کا ملک کے تمام سپید و سیاہ پر متصرف ہو جانا دونوں بالکل ہم معنی ہیں_(١) اسی بات کی تصدیق بائیبل سے بھی ہوتی ہے۔ جس میں بصراحت یہ بیان ہوا ہے کہ فرعونِ مصر صرف برائےنام بادشاہ رہا۔ ورنہ تمام ملک عملاً حضرت یوسف علیہ السلام کے زیر نگیں ہو گیا (٢)
١- مثلاً: آیت وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ (منافقون: ) وَإِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ (حجر: ۲۱) أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ ( الطُّور : ۳۷) وَقَالَ الَّذِيْنَ فِي النَّارِ لِخَزِينَةٍ جَهَنَّمَ (مومن: ٤٠)
٢- بائیل میں سیدنا یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرعون کی جو گفتگو نقل کی ہےاس کے الفاظ یہ ہیں:
"سوفرعون نے اپنےخادموں سےکہا کہ کیا ہم کو ایسا آدمی جیسا یہ ہےجس میں خدا کی روح ہے مل سکتا ہے؟ اور فرعون نےیوسف سےکہا چونکہ خدا نےتجھےیہ سب کچھ دیا ہےاس لیےتیرےمانند دانشور اورعقمند کوئی نہیں سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا اور میری ساری رعایا اور میری ساری رعایا تیرےحکم پر چلےگی۔صرف تخت کا مالک ہونے کےسبب سےمیں بزرگ تر ہوں گا۔ اور اس نےاسےسارے ملک مصر کا حاکم بنا دیا اور فرعون نےیوسف سے کہا میں فرعون ہوں اور تیرے حکم کے بغیر کوئی آدمی اس سارے ملک مصر میں اپنا ہاتھ پاؤں ہلانے نہ پائے گا ( پیدائش باب ۴۱ آیت ۳۸ تا ۴۴)
خط کشیدہ فقرے صحیح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ فرعون حضرت یوسف علیہ السلام کا عقیدت مند ہو چکا تھا اور اگر اس نے آپ کی نبوت تسلیم نہیں کی تھی، تب بھی وہ پہلی ہی ملاقات میں ایمان لانے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ پھر اس کے سات آٹھ برس بعد جب حضرت یوسف کے بھائی مصر پہنچتے ہیں تو حضرت یوسف ان سے کہتے ہیں: پس تم نے نہیں بلکہ خدا نے مجھے یہاں بھیجا اور اس نے مجھے گویا فرعون کا باپ اور اس کے سارےگھر کا حاکم بنا دیا۔ سو تم جلد میرے باپ کے پاس جا کر اس سے کہو تیرا بیٹا یوسف یوں کہتا ہے کہ خدا نے مجھے سارے ملک مصر کا مالک بنا دیا ہے ۔ ( پیدائش باب ۴۵ آیت ۸ تا ۹)
اب رہا یہ دعویٰ کہ حضرت یوسف کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھی ملک میں سکہ تو دین الملک ہی کا رواں رہا جیسا کہ آیت مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكَ (یوسف: ۷۶ ) سے ظاہر ہوتا ہے تو اس کے متعلق پہلی بات تو یہ ذہن نشین کر لینی چاہیےکہ عام طور پر اس آیت کا جو ترجمہ کیا جاتا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ مترجمین اس کا مفہوم یہ لیتےہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام دین الملک کےتحت اپنےبھائی کو نہیں پکڑ سکتےتھےحالانکہ اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ یوسف کا یہ کام نہ تھا یا یوسف کے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ اپنے بھائی کو دین الملک کے تحت پکڑتا۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی اس محاورے کا مفہوم عدم قدرت نہیں، بلکہ عدم موزونیت و عدم مناسبت ہی ہے ۔ مثلا ما كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ (آل عمران: ۱۷۹) اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تم کو غیب پر مطلع نہیں کر سکتا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ تمھیں غیب پر مطلع نہیں کر سکتا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ تمھیں غیب پر مطلع کرے۔ اسی طرح مَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ اِيْمَانَكُمُ (بقره: ۱۴۳) اور فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمُ اور مَا كَانَ اللهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمُ عَلَيْهِ (آل عمران: ۱۷۹) میں اللہ تعالٰی کی عدم قدرت کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ ذکر ہے کہ ظلم اور اضاعت ایمان اور مومنین و منافقین کو خلط ملط چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کا طریقہ نہیں ہے۔ اور خودسورہ یوسف میں اس آیت سے پہلےایک مقام پر جو ارشاد ہوا ہے: مَا كَانَ لَنَا اَنْ نُّشْرِكَ بِاللَّهِ مِنْ شَيْءٍ (یوسف: ۳۸) تو اس کے معنی بھی یہ نہیں ہیں کہ ہم خدا کے ساتھ کسی کو شریک کرنے پر قادر نہیں ہیں، بلکہ اس کےمعنی یہ ہیں کہ ہم لوگوں کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کریں ۔ پس آیت زیر بحث کو بھی یہ معنی پہنا نا صحیح نہیں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام دین الملک پر عمل کرنا چاہتے تھے مگر اس کے تحت اپنے بھائی کو گرفتار نہیں کر سکتے تھے بلکہ قرآنی استعمالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا صحیح مطلب یہی ہے کہ دین الملک کے تحت اپنے بھائی کو گرفتار کرنا یوسف علیہ السلام کے شایانِ شان نہیں تھا۔ البتہ اس آیت سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے صاحب اقتدار ہونے کے باوجود غیر اسلامی قانون تعزیرات کم از کم سات آٹھ برس بعد تک ( جبکہ حضرت یوسف کے بھائی وہاں پہنچے تھے ) ملک میں نافذ تھا۔ لیکن اس کے متعلق اس سے پہلے بھی ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ایک ملک کے نظام تمدن کو ایک رات کے اندر کلی طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور اسلامی انقلاب کا یہ تصور صحیح نہیں ہے کہ اقتدار ہاتھ میں آتے ہی جاہلیت کے تمام قوانین و رسوم کو یک لخت بدل ڈالا جائے ۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ملک کے نظام تمدن کو کلی طور پر تبدیل کرنے میں پورے دس برس لگے تھے۔ لہذا حضرت یوسف علیہ السلام کے دورِ حکومت میں چند سال تک غیر اسلامی قانون تعزیرات یا اس کے ساتھ کچھ دوسرے غیر اسلامی قوانین بھی جاری رہے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پیش نظر خدائی قوانین کا اجراء سرے سے تھا ہی نہیں اور وہ کافرانہ قوانین ہی ملک میں برقرار رکھنا چاہتے تھے۔
اب بحث ختم کرنے سے پہلے ذرا ایک نظر ہجرت حبشہ کے مسئلے پر بھی ڈال لیجیے۔اس معاملے کو جس انداز سے پیش کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ جبش میں ایک غیر مسلم حکومت قائم تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی ایک جماعت کو وہاں بھیج دیا تاکہ اس کی رعیت بن کر رہیں، پھر صحابہ کرام وہاں غیر مسلم بادشاہ کے وفادار بن کر رہے کیونکہ انھیں اس کے ماتحت عقیدے اور پوجا کی آزادی حاصل تھی اور جب ایک ہمسایہ بادشاہ نے اس کے ملک پر حملہ کیا تو انھوں نے اس کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگیں لیکن یہ واقعات کی بالکل غلط نقشہ کشی ہے۔
اول تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو جبش بھیجا تھا اسی وقت آپ کو اس امر کا اندازہ تھا کہ نجاشی صالحین نصاریٰ میں سے ہے، چنانچہ حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ آپ نے مہاجرین سے اُس کی مملکت کے متعلق فرمایا تھا وہی أَرْضُ صِدْقٍ
دوسرے مہاجرین کو وہاں بھیجنے کی غرض یہ نہ تھی کہ وہاں کی رعایا بن کر رہیں نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کی ہجرت کا مشورہ دیتےوقت یہ فرمایا تھا کہ لو خرجتم إلى أَرْضِ الْحَبْشَةِ حَتَّى يَجْعَلَ اللَّهُ لَكُمْ فَرَجًا وَمَخْرَجًا -" کاش تم لوگ جش کی طرف چلےجاتےیہاں تک کہ اللہ تمھارے لیے کوئی صورت نکالے“۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہےکہ اس وقت پیش نظر صرف یہ چیز تھی کہ جو مسلمان کشمکش کے اس مرحلے میں اپنی قوتِ برداشت سے زیادہ مصائب کے شکار ہو رہے تھے ان کو آپ نے عارضی طور پر ایک ایسی جگہ بھیج دیا جہاں اس قسم کے مصائب کی توقع نہ تھی اور مقصود یہ تھا کہ بعد میں جب حالات سازگار ہو جائیں تو یہ لوگ وہاں سے واپس آجائیں۔ اس کو نظیر بنا کر یہ نتیجہ نکالنا آخر کس طرح صحیح ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کو اگر کسی غیر مسلم حکومت میں عقیدہ اور پوجا کی آزادی حاصل ہو تو یہ اس کے تحت ان کے وفادار رعیت بن کر رو پڑنے کے لیے کافی ہے اور اس کے آگے کچھ اور مطلوب نہیں ہے۔
پھر جب مہاجرین وہاں پہنچے اور کفار مکہ نے نجاشی سے ان کو واپس مانگنےکےلیےاپنا وفد روانہ کیا اور حضرت جعفر اور نجاشی کےدرمیان مکالمہ ہوا تو محدثین اور اہل سیرت کی متفقہ روایت کےمطابق نجاشی نےنہ صرف یہ کہ حضرت عیسی کے متعلق اس عقیدے کی تصدیق کی جو قرآن میں بیان ہوا ہے بلکہ مزید برآں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار بھی کیا۔ اس کے بعد نجاشی کے مسلمان ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے؟ امام احمد نے عبد اللہ بن مسعود کے حوالہ سے ( جو اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں ) نجاشی کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ اس نے کہا مَرْحَبًا بِكُمْ وَلِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ الَّذِى نَجِدُ فِي الْإِنْجِيلِ وَانَّهُ الرَّسُولُ الَّذِى بَشَّرَبِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ_١ کیا یہ الفاظ کسی غیر مسلم کے ہو سکتے ہیں۔ بیہقی میں خود عمرو بن عاص سے ( جو مہاجرین کو واپس لانے کے لیے کفار مکہ کی طرف سے جبش بھیجے گئے تھے ) یہ الفاظ مروی ہیں کہ انھوں نےآکر اہل مکہ کو جور پورٹ دی وہ یہ تھی کہ اَنَّ اَصْحَمَةَ يَزْعَمُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ نَبِيٍّ - احمد نجاشی بیان کرتا ہے کہ تمھارا ساتھی نبی ہے۔ کیا کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کر کے بھی غیر مسلم قرار پا سکتا ہے؟
(1) خوش آمدید ہو تمھارے لیےاور ان کے لیے جن کے پاس سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہی ہیں جن کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور آنحضرت وہی ہیں جن کی بشارت حضرت عیسی ابن مریم نے دی ہے۔
ابن ہشام نے اپنی سیرت نبوی میں حضرت عمرو بن عاص کے قبول اسلام کا جو قصہ لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اول اول نجاشی ہی کی تبلیغ نے ان کے دل میں ایمان پیدا کیا تھا۔اور صلح حدیبیہ سے پہلے وہ نجاشی کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کر چکےتھے۔ اس موقع پر جو الفاظ اس نے حضرت عمرو بن عاص سے کہے تھے وہ یہ تھےکہ اطغنی وَاتَّبِعُهُ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَعَلَى الْحَقِّ وَلَيَظْهَرَنَّ عَلَى مَنْ خَالَفَهُ كَمَا ظَهَرَ مَوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ وجنوده - " میری بات مانو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی قبول کرلو کیونکہ وہ حق پرہیں اوروہ اسی طرح اپنےمخالفین پر غالب آ کر رہیں گے جس طرح موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کے لشکروں پر غالب آئے تھے۔
علامہ ابن عبدالبر نے استیعاب میں وہ خطبہ نقل کیا ہے جو نجاشی نے حضرت ام حبیبہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا غائبانہ نکاح پڑھاتے ہوئے دیا تھا۔ اس میں صاف طور پر یہ الفاظ موجود ہیں: اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ وَانَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى بُنُ مَرْيَمَ - میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں جن کی آمد کی خبر عیسی ابن مریم نے دی تھی۔ ان سب سے بڑھ کر مستند و معتبر وہ روایت ہے جو بخاری ومسلم میں آئی ہے کہ نجاشی کی وفات کی خبر پا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی اور فرمايا: مات اليَومَ رَجُلٌ صَالِحٌ فَقَوْمُوا فَصَلُّوا على أجيْكُمْ أَصْحَمَةً - " آج ایک مرد صالح نے وفات پائی ہے اٹھو اور اپنے بھائی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھو۔اس کے بعد تو سرے سے اس استدلال کی بنا ہی منہدم ہو جاتی ہے جو ہجرت حبشہ کے واقعہ سے کیا جاتا ہے۔
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |