نام کتاب : تفہیمات (حصہ دوم) مصنف : مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اشاعت : ایڈیشن تعداد ٢٣ ١١٠٠ فروری ٢٠٠٦ ء اہتمام : پروفیسر محمد امین جاوید ( منیجنگ ڈائریکٹر ) اسلامک پبلی کیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ ٣- کورٹ سٹریٹ ،لوئر مال لاہور ۔ پاکستان فون : 042-7320961-7248676 فیکس7214974 ویب سائٹ : www.islamicpak.com.pk ای میل : Islamicpak@hotmail.com Islamicpak@yahoo.com مطبع : حیدری پرنٹرز، لاہور قیمت : -/160 روپے
یوں تو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی جملہ تصانیف و تالیفات اپنا ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں لیکن کچھ کتب تو یقین آفرینی اور اثر انگیزی میں اپنا جواب نہیں رکھتیں۔انھی چند کتب میں سے ایک کتاب یہ بھی ہے۔ اس کتاب میں اسلام کےچند.مهمات مسائل پر قلم اٹھایا گیا ہے اور واقعہ یہ ہےکہ جس سلجھے ہوئے انداز اور پر زور استدلال کے ساتھ اصل مسئلہ کو واضح کیا ہے اُس نے بےشمار اُلجھے ہوئے ذہنوں کو صاف کیا ہے۔ کتنے ہی شک وریب کےمارےہوؤں کو دولت ایمان و یقین سےمالا مال کیا ہےاور ان پر اسلام کی حقانیت کا گہرا نقش ثبت کیا ہے۔ہر اُس شخص کےلیےجو راہ حق کا متلاشی ہو اور اس پر پورے اطمینان و سکون کےساتھ چلنا چاہتا ہو ۔ اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔
١- دیباچه ٧ ٢- قرآن اپنے لانے والے کو کس رنگ میں پیش کرتا ہے ٩ ٣- قصه داود علیہ السلام اور اسرائیلی خرافات ٣٩ ٤- حضرت سلیمان و ملکه سبا ٥٨ ٥- حقیقت جن ٦* ٦- معني خلافت ٩٣ ٧- رواداری کا غیر اسلامی تصور ١٠٣ ٨- سورہ یوسف کے متعلق چند سوالات ١١٨ ٩- حضرت یوسف اور غیر اسلامی حکومت کی رکنیت ١٢٤ ١٠- بےاصل فتنے ١٥٣ ١١- فتنئہ تکفیر ١٦٨ ١٢- گناه کبیره پر تکفیر ١٨١ ١٣- دام هم رنگ زمین ١٨٩ ١٤- نماز کے متعلق ایک عام شبه ٢٠٧ ١٥- قربانی پر منکرین حدیث کا حملہ ٢١٥ ١٦- "تحقیق قربانی" پر تنقید ٢٢٩ ١٧- قربانی کی شرعی حیثیت ٢٣٨ ١٨- ہیگل اور مارکس کا فلسفہ تاریخ ٢٤٩ ١٩- ڈارون کا نظریہ ارتقاء ٢٦٢ ٢٠- خطبه تقسیم اسناد ٢٧٠ ٢١- لباس کا مسئلہ ٢٨١ ٢٢- نکاح کتابیه ٢٩٨ ٢٣- قطع ید اور دوسرے شرعی حدود ٣٢٠ ٢٤- غلامی کا مسئلہ ٣٣٠ ٢٥- غلاموں اور لونڈیوں کے متعلق چند سوالات ٣٤٧ ٢٦- نماز اور خطبہ جمعہ کی زبان ٣٦٦ ٢٧- خطبہ جمعہ کی زبان پر مزید بحث ٤٠٣ ٢٨- کیا خطبہ غیر عربیہ واجب ہے؟ ٤١٦ ٢٩- نماز میں آلہ مكبر الصوت کا استعمال ٤٢٨ ٣٠- دیہات میں نماز جمعہ ٤٤٧ ٣١- دیہات میں نماز جمعہ اور مسلک حنفی ٤٦٣
تفہیمات کے نام سے میرے مضامین کا ایک مجموعہ کئی سال پہلے شائع ہو چکا ہے۔اب ایک طویل مدت کے بعد اس کا یہ دوسرا حصہ پیش کیا جا جا رہا ہے۔ اگر چہ اس مجموعہ کے سارے مضامین لکھے اور چھپے ہوئے موجود تھے اور صرف نظر ثانی کر کے انھیں مرتب کر دینے ہی کی کسر تھی، لیکن اس ذرا سے کام کی فرصت بھی کئی سال تک نہ مل سکی اور یہ ذخیرہ یونہی میرے کاغذات میں دفن پڑا رہا۔ اب حکومت پاکستان کی عنایت سے جیل میں زندگی بسر کرنے کا جو موقع مجھے حاصل ہوا ہے اور اس سے جہاں اور بہت سے اخلاقی روحانی اور علمی فوائد میں نے اٹھائے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پچھلے بہت سے کام جو ادھورے پڑے ہوئے تھے انھیں مکمل کر رہا ہوں۔ چنانچہ اس مجموعہ کی ترتیب بھی اسی فرصت کا ایک ثمرہ ہے۔
اس مجموعہ کے مضامین بالکل مختلف موضوعات پر ہیں اور پندرہ میں سال کےدوران میں مختلف مواقع پر لکھے گئے ہیں۔ ان میں کوئی ربط اس کے سوا نہیں ہے کہ ان سب کے اندر ایک ہی مقصد کارفرما ہے۔ یعنی اسلام کے متعلق مختلف پہلوؤں سے جو غلط فہمیاں اور اُلجھنیں لوگوں کے ذہنوں میں پائی جاتی ہیں ان کو ڈور کیا جائے مسلمانوں کے اندر مختلف سمتوں سے گمراہی کی آمد کے جتنے دروازے پائے جاتے ہیں ان کو بند کیا جائے اور مسائل دینی کے فہم و تعبیر کا ایک ہموار راستہ لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے ۔
ہر مضمون کے آخر میں اس کی ابتدائی تاریخ اشاعت کا جو حوالہ دیا گیا ہے اس کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ اسے کسی ترمیم و اصلاح کے بغیر لفظ بہ لفظ ترجمان القرآن سےیہاں نقل کر دیا گیا ہے۔ نظر ثانی کرتے ہوئے میں نے زبان اور عبارات میں بھی اصلاح کی ہے، بعض غیر ضروری چیزوں کو حذف بھی کیا ہے اور کہیں کہیں بعض ضروری چیزوں کا اضافہ بھی کر دیا ہے۔ نیوسنٹرل جیل ___ ملتان ابوالاعلیٰ ۲۰ ربیع الاول ۱۳۶۹ھ ۱۰ جنوری ۱۹۵۰ء
دنیا میں انسان کی ہدایت و رہنمائی کےلیےہمیشہ ایسےپاک نفوس پیدا ہوتےرہے ہیں جنھوں نے اپنی زبان اور اپنے عمل سےاس کو حق و صداقت کا سیدھا راستہ دکھایا ہے۔لیکن انسان اکثر اُن کےاس احسان کا بدلہ علم ہی کی شکل میں دیتا رہا ہے۔ اُن پر ظلم صرف اُن کے اپنے مخالفوں ہی نے نہیں کیسے کہ اُن کے پیغام سے بے رخی برقی اُن کی صداقت سے انکار کیا اُن کی دعوت کو رد کر دیا اور ان کو تکلیفیں دے کر راہ حق سے پھیر نےکی کوشش کی۔ بلکہ اُن پر ظلم اُن کے عقیدت مندوں نے بھی کیا کہ ان کے بعد ان کی تعلیمات کو مسخ کیا، ان کی ہدایتوں کو بدل ڈالا اُن کی لائی ہوئی کتابوں میں تحریف کی اور خود اُن کی شخصیتوں کو اپنی عجائب پسندی کا کھلونا بنا کر الوہیت اور خدائی کا رنگ دے دیا۔پہلی قسم کا ظلم تو ان نفوس قدسیہ کی زندگی تک یا حد سے حد اس کےچند سال بعد تک ہی محمد و در رہا۔ مگر یہ دوسری قسم کا ظلم ان کے بعد صدیوں تک ہوتارہا اور بہت سے بزرگوں کےساتھ اب تک ہوئے جا رہا ہے۔
دُنیا میں آج تک جتنے داعیان حق مبعوث ہوئے ہیں سب نے اپنی زندگی ان جھوٹے خداؤں کی خدائی ختم کرنے میں صرف کی ہے جنھیں انسان نے خدائے واحد کو چھوڑ کر اپنا خدا بنا لیا تھا۔ لیکن ہمیشہ یہی ہوتا رہا کہ ان کے بعد ان کے پیروؤں نے جاہلانہ عقیدت کی بنا پر خود انہی کو خدا یا خدائی میں خدا کا شریک بنالیا اور وہ بھی اُن بتوں میں شامل کر لیے گئے، جنھیں توڑنے میں انھوں نے اپنی تمام عمر کی منتیں صرف کر دی تھیں ۔
دراصل انسان اپنے آپ سے کچھ ایسا بدگمان ہے کہ اسے انسانیت میں قدسی و ملکوتی صفات کے امکان اور وجود کا بہت کم یقین آتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو محض کمزور ہوں اور پستیوں ہی کا مجموعہ سمجھتا ہے۔ اس کا ذہن اس حقیقت کبری کے علم و اذعان سے عموماً خالی رہتا ہے کہ اس کا لبد خاکی میں حق جل مجدہ نے وہ قوتیں بھی ودیعت کی ہیں جو اس کو بشر ہونے اور بشری صفات سے متصف رہنے کے باوجود عالم پاک میں ملائکہ مقربین سےبھی بلند درجہ تک پہنچا سکتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی اس دُنیا میں کسی انسان نے اپنےآپ کو خدا کےنمائندے کی حیثیت سے پیش کیا ہےتو اس کےہم جنسوں نےپہلے تو یہ دیکھ کر کہ یہ تو ہماری ہی طرح گوشت پوست کا انسان ہےاُسےخدا رسیدہ ماننے سےصاف انکار کر دیا اور جب بالآخر اس کی ذات میں غیر معمولی محاسن کا جلوہ دیکھ کر سر عقیدت جھکایا تو پھر کہا کہ جو ہستی ایسی غیر معمولی خوبیوں کی مالک ہو وہ ہرگز بشر نہیں ہوسکتی۔پھر کسی گروہ نےاس کو خدا بنایا، کسی نے حلول کا عقیدہ ایجاد کر کے یقین کر لیا کہ خدا نے اس کی شکل میں ظہور کیا تھا، کسی نے اس کے اندر خدائی صفات اور خداوند انہ اختیارات کا گمان کیا اور کسی نے حکم لگا دیا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے۔ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُونَ
دُنیا کےکسی پیشوائےدین کی زندگی کو لےلو۔تم دیکھو گےکہ اس کی ذات پر سب سےزیادہ ظلم اس کے معتقدین ہی نے کیا ہے۔ انھوں نےاس پر اپنےتخیلات و اوهام کےاتنے پردے ڈال دیے ہیں کہ اس کی شکل وصورت دیکھنا ہی بالکل محال ہو گیا ہےصرف یہی نہیں کہ ان کی محرف کتابوں سےیہ معلوم کرنا مشکل ہو گیا ہےکہ اس کی اصلی تعلیم کیا تھی۔ بلکہ ہم اُن سے یہ بھی معلوم نہیں کر سکتےکہ وہ خود اصل میں کیا ہیں' اس کی پیدائش میں انجم نیگی' اس کی طفولیت میں انجونگی، اس کی جوانی اور بڑھاپے میں اجمونگی، اس کی زندگی کی ہر ہر بات میں انجونگی اور اس کی موت تک میں انجونگی، غرض ابتدا سےلےکر انتہا تک وہ ایک افسانہ ہی افسانہ نظر آتا ہے اور اس کو اس شکل میں پیش کیا جاتا ہے کہ یا تو وہ خود خدا تھا، یا خدا کا بیٹا تھا، یا خدا اس میں حلول کر گیا تھا، یا کم از کم وہ خدائی میں کسی حد تک شریک وسہیم تھا۔
مثال کےطور پر گوتم بدھ کو دیکھو۔بدھ مذہب کےنہایت گہرےمطالعہ سےصرف اتنا اندازه کیا جا سکتا ہےکہ اُس اُولُو العزم انسان نےبرہمنیت کےبہت سےنقائص کی اصلاح کی تھی اور خصوصیت کےساتھ اُن بے شمار ہستیوں کی خدائی کا بطلان کیا تھا جن کو اس عہد کے لوگوں نے اپنا معبود بنا لیا تھا۔ مگر اس کے انتقال کو پوری ایک صدی بھی نہ گزری تھی کہ ویسالی کی کونسل میں اس کے پیروؤں نے اس کی تمام تعلیمات کو بدل ڈالا۔اصل سوتروں کے بجائے نئے سوتر بنا لیے اور اصول اور فروع میں اپنے اہواؤ افکار کےمطابق جس طرح چاہا تصرف کر ڈالا ۔ایک طرف انھوں نے بودھ کے نام سے اپنےمذہب کے ایسے عقائد مقرر کر لیے جن میں خدا کا سرے سے وجود ہی نہ تھا اور دوسری طرف بودھ کو عقل کل مدار کائنات اور ایک ایسی ہستی قرار دے لیا جو ہر عہد میں دُنیا کی اصلاح کےلیے بدھ بن کر آیا کرتی ہے۔ اس کی پیدائش، زندگی اور گذشتہ و آئندہ جنموں کےمتعلق ایسے ایسے عجیب افسانے بنا لیے جن کو پڑھ کر پروفیسر ولسن جیسے محققین حیران ہو کر یہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ تاریخ میں فی الواقع بودھ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ تین چار صدی کے اندران افسانوں نے بودھ میں اُلوہیت کا رنگ بھر دیا اور کنشک کے زمانہ میں بودھ مت کےاعیان و آئمہ کی ایک بہت بڑی کونسل نے(جو کشمیر میں منعقد ہوئی تھی ) فیصلہ دے دیا کہ بوده در اصل خدا کا مادی ظہور تھا یا بالفاظ دیگر خدا اس کے جسم میں حلول کر گیا تھا۔
یہی سلوک رام چندر جی کے ساتھ ہوا۔ رامائن کے مطالعہ سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ راجہ رام چندر جی محض ایک انسان تھے ۔ نیک دلی انصاف، شجاعت فیاضی، تواضع علم اور ایثار میں کمال کا مرتبہ تو انھیں ضرور حاصل تھا تمر الوہیت کا شائبہ تک ان میں نہ تھا۔ لیکن بشریت اور ان اعلیٰ صفات کا اجتماع ایک ایسا معما ثابت ہوا کہ اہل ہند کی عقل اس کو حل نہ کر سکی۔ چنانچہ رام چندر کی وفات پر ایک زمانہ گزرنے کے بعد یہ عقیدہ تسلیم کر لیا گیا کہ ان کے اندر وشنو (1) نے حلول کیا تھا اور وہ ان ہستیوں میں سے ایک تھے جن کی شکل میں وشنو جی سنسار کی اصلاح کے لیے باوقات مختلفہ ظہور کرتے رہے ہیں۔
سری کرشن اس معاملہ میں ان دونوں سے زیادہ مظلوم ہیں ۔ بھگوت گیتا تحریف و تنسیخ کے کئی عملوں سے نکل کر جس شکل میں ہم تک پہنچی ہے اس کے عمیق مطالعہ سےکم از کم اتنا معلوم ہوتا ہے کہ کرشن جی ایک موحد تھے اور انھوں نے ہستی باری تعالیٰ کے ہمہ گیر قادر مطلق اور شدید القوی ہونے کا وعظ کیا تھا۔ لیکن مہا بھارت وشنو پر ان بھا گوت پران وغیرہ کتابیں اور خود گیتا اُن کو اس طرح پیش کرتی ہیں کہ ایک طرف وہ وشنو کے جسمانی مظہر خالق موجودات اور مدبر کائنات نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ایسی ایسی کمزوریاں اُن کی طرف منسوب ہیں کہ انھیں خدا تو خدا پاکیزہ اخلاق کا انسان بھی تسلیم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گیتا میں کرشن جی کے یہ اقوال ملتے ہیں:
"اس دُنیا کا ماں باپ سہارا اور بابا میں ہی ہوں۔ جو کچھ پاکیزہ یا جو کچھ جاننے کے قابل ہے وہ سب اور اونکار (2)، رگ ویڈ یجر وید سام دید بھی میں ہی ہوں سب کا پالنے والا مالک گواہ جائے قیام جائے پناہ باعث پیدائش، باعث خاتمہ باعث قیام خزانہ اور پیدائش کا لازوال بیج میں ہی ہوں۔ ارے اربن ! میں گرمی دیتا ہوں، میں پانی روکتا ہوں، میں برساتا ہوں، میں امرت ہوں، اور موت ست اور است (3) بھی میں ہی ہوں“ ۔ (۹: ۱۷-۱۹)
١- وشنو ہندوؤں کے موجودہ عقائد کے مطابق کائنات کی پرورش کرنے والے خدا یا دیوتا کا نام ہے۔غالباً اصل میں یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا تصور تھا جسے بعد میں ایک مستقل شخصیت قرار دے لیا گیا۔ہندوؤں میں دیوتا پرستی کی ابتدا اسی طرح سے ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہر صفت کو انھوں نےذات حق سے الگ کر کے بجائے خود ایک خدا ٹھیرا لیا۔
"تمام دیوتا گن (۱) اور میرشی (2) میری پیدائش کو نہیں جانتے ۔ کیونکہ سب دیوتاؤں اور مہر شیوں کی ابتداء بہر حال مجھ ہی سے ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ میں پرتھوی (3) وغیرہ سب لوگوں (4) کا بڑا ایشور ہوں اور میرا جنم یعنی آغاز نہیں ہے وہی انسانوں میں موہ (5) سےآزاد ہو کر سب پاپوں سے چھوٹ جاتا ہے ۔ (۲:۱۰-۳)
" ہے گڈا کیش !(6) سب ' جانداروں میں رہنے والی آتما (7) یا ہوں ۔ سب جانداروں کا آغاز وسط اور انجام بھی میں ہی ہوں۔بارہ آویتوں میں وشنو (8) میں ہوں ۔ تیسبو یوں (9) میں کرنوں کی مالا والا سورج مرتوں میں مریچی (10) اور نکھشتر وں میں چندر ماں (11)بھی میں ہوں ۔ ( ۲:۱۰-۲۱)
"ایسا کوئی متحرک یا ساکن جاندار نہیں جو مجھ سے باہر ہو' میں صرف اپنے ایک ہی حصہ سے اس تمام جگت میں پھیلا ہوا ہوں“۔(۴۴-۲۹:۱۰)
"ہے پانڈ وا جو شخص اس بدھی (12) کے ساتھ کرم (13) کرتا ہے کہ یہ سب کرم میرے یعنی پر میشور کے ہیں، جو میرا بھروسہ رکھ کر اور سب تعلقات چھوڑ کر جانداروں کے بارے میں نردیہ ( ہے۔ وہ میرا بھگت مجھ میں مل جاتا ہے ۔ (۵۵:۱۱)
(1) یعنی دیوتا لوگ ۔ (2) یعنی اولیا۔ (3) زمین ۔ (4) لوک یعنی عالم جہان ۔ (5) یعنی لگاؤ دُنیا کی محبت ۔ (6) یعنی اے گندھے ہوئے بالوں والے مراد ارجن ہے۔ (7) یعنی تمام جانداروں کی رُوح۔ (8) ہندوؤں کے تمام دیوتاؤں میں سے۱۲ دیوتا سب سے بڑے ہیں جن کو آو یہ کہتے ہیں اور وشنو ان میں سب سے بڑا دیوتا ہے۔ یہ ۱۲ آدتیہ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق اویتی کے بیٹے تھے ۔ (9) تحسبوی یعنی نیر (10) ہندوؤں کی اصطلاح میں مُرت ان ۴۹ دیوتاؤں کا نام ہے جو ہوا کا انتظام کرتے ہیں اور ان کے سردار کا نام مریچی ہے۔ (11) یعنی تاروں میں چاند۔ (12) بدھی یعنی شعور ۔ (13) یعنی فعل کام۔ (14) عداوت سے مبرا۔
"میں سب جانداروں کا مالک ہوں اور پیدائش سے بالا تر ہوں۔اگر چہ میرے آتم مروپ میں کبھی تغیر نہیں ہوتا (۱) مگر پھر بھی میں اپنی پر کرتی ( خاصیت) میں قائم ہو کر اپنی مایا (2) سے جنم لیا کرتا ہوں ۔ ہے بھارت ! (3) جب دھرم کا تنزل ہوتا ہے اور ادھرم کا زور پھیل جاتا ہےتب میں خود ہی جنم لیا کرتا ہوں۔نیکوں کی حفاظت اور بڑوں کی ناش کرنے کے لیے اور بیگ یک (4) میں دھرم قائم کرنے کے لیے میں جنم لیا کرتا ہوں“ ۔ (۶:۴-۸)
ان اقوال میں صاف طور پر گیتا کے کرشن نے خدا ہونے کا دعوی کیا ہے۔(5) مگر دوسری طرف بھاگوت پر ان انہی کرشن جی کو اس شکل میں پیش کرتی ہے کہ وہ نہاتے میں گوپیوں کے کپڑے چھپالیتے ہیں، اُن سے لطف اندوز ہونے کے لیے اتنے ہی ہم پیدا کر لیتے ہیں جتنی کہ گو پیاں تھیں اور جب شک رشی سے راجہ پرکشت پوچھتا ہے کہ ”خدا تو اوتار کی شکل میں اس لیے ظاہر ہوتا ہے کہ سچا دھرم پھیلائے ۔ پھر یہ کیسا خدا ہے کہ دھرم کے تمام اصول کے خلاف دوسروں کی عورتوں سے ناجائز تعلقات رکھتا ہے؟ تو رشی کو یہ اعتراض رفع کرنے کے لیے اس حیلہ کے دامن میں پناہ لینی پڑتی ہے کہ " خود دیوتا بھی بعض اوقات نیکی کی راہ سے ہٹ جاتے ہیں، مگر اُن کے گناہ ان کی ذات پر اسی طرح اثر نہیں کرتےجس طرح آگ تمام چیزوں کو جلانے کے باوجود مورد الزام نہیں ہوسکتی۔"
کوئی سلیم العقل آدمی یہ باور نہیں کر سکتا کہ کسی بلند پایہ علم دین کی زندگی ایسی ناپاک ہو سکتی ہے اور نہ وہ یہی تصور کر سکتا ہے کہ کسی نے مذہبی پیشوا نے فی الحقیقت اپنےآپ کو انسانوں کے اور کائنات کے رب کی حیثیت سےپیش کیا ہوگا۔لیکن قرآن اور بائییل کےمتقابل مطالعہ سےیہ حقیقت واضح طور پر ہمارے سامنے روشن ہو جاتی ہےکہ قوموں نےاپنےذہنی انحطاط اور اخلاقی زوال کےدور میں کس طرح دنیا کےپاکیزہ ترین انسانوں کی سیرتوں کو ایک طرف گندی سے گندی شکل میں ڈھالا ہے تا کہ خود اپنی کمزوریوں کےلیےوجہ جواز پیدا کریں اور دوسری طرف ان کی شخصیتوں کےگرد کیسےکیسےوہمی افسانے جمع کر دیے ہیں۔اس لیےہم سمجھتے ہیں کہ یہی سب کچھ کرشن جی کے ساتھ بھی ہوا ہوگا اور ان کی اصل تعلیم اور اصل شخصیت اُس سے بالکل مختلف ہوگی جیسی ہندوؤں کی کتابیں اسے پیش کرتی ہیں۔
(1) یعنی میری ذات میں کبھی تغیر نہیں ہوتا۔ (2) مایا یعنی قدرت یا تدبیر (3) بھارت یعنی نیک۔(4) ایک یعنی زمانہ (5) اگر گیتا خود اس بات کی مدعی ہوتی کہ وہ خدا کی کتاب ہے اور کرشن اس کے پیش کرنے والےنبی ہیں تو مندرجہ بالا اقوال بیشتر خدا کے قرار پا سکتے تھے اور کرشن جی کی طرف خدائی کا دعوئی منسوب نہ ہوتا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ یہ کتاب خود اپنے آپ کو کرشن کے اپدیش کی حیثیت سے پیش کرتی ہے۔ پوری گیتا میں کہیں کوئی اشارہ تک بھی اس بات کی طرف نہیں ہے کہ وہ کلام الہی ہے۔
جن بزرگوں کی نبوت معلوم و مسلّم ہے اُن میں سب سے بڑھ کر ظلم سید نا عیسیٰ علیہ السلام پر کیا گیا ہے۔ حضرت عیسی ویسے ہی ایک انسان تھے جیسے سب انسان ہوا کرتےہیں۔ بشریت کی تمام خصوصیتیں ان میں بھی اسی طرح موجود تھیں جس طرح ہر انسان میں ہوتی ہیں۔فرق صرف اتنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نےان کو حکمت و نبوت اور اعجاز کی قوتیں عطا فرما کر ایک بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کے لیے مامور فرمایا تھا۔ لیکن اول تو اُن کی قوم نے اُن کو جھٹلایا اور پورے تین سال بھی ان کے وجود مسعود کو برداشت نہ کرسکی، یہاں تک کہ عین عالم شباب میں انھیں قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ پھر جب وہ اُن کے بعد اُن کی عظمت کی قائل ہوئی تو اس قدرحد سے تجاوز کر گئی کہ ان کو خدا کا بیٹا بلکہ عین خدا بنا دیا اور یہ عقیدہ اُن کی طرف منسوب کیا کہ خدا مسیح کی شکل میں اس لیے نمودار ہوا تھا کہ صلیب پر چڑھ کر انسان کےگناہوں کا کفارہ ادا کرےکیونکہ انسان فطرتاً گناہ گار تھا اور خود اپنےعمل سے اپنے لیے نجات حاصل نہ کر سکتا تھا۔ معاذ اللہ ! ایک نبی صادق اپنے پروردگار پر اتنا بڑا بهتان کس طرح اٹھا سکتا تھا۔ مگر اس کے معتقدوں نے جوشِ عقیدت میں اس پر یہ بہتان اُٹھایا اور اس کی تعلیمات میں اپنی ہوائے نفس کے مطابق اتنی تحریف کی کہ آج دنیا کی کسی کتاب میں (سوائے قرآن کے ) مسیح کی اصلی تعلیم اور خود اُن کی حقیقت کا نشان نہیں ملتا۔ بائیبل کے عہد جدید میں جو کتابیں اناجیل اربعہ کے نام سے موجود ہیں انھیں اٹھا کر دیکھ جاؤ ۔سب حلول ابنیت اور کمینت کے فاسد تخیلات سے آلودہ ہیں۔کہیں حضرت مریم کو بشارت ہوتی ہے کہ تیرا بچہ خدا کا بیٹا کہلائے گا (لوقا ۱: ۳۵)۔ کہیں خدا کی روح کبوتر کے مانند یسوع پر اتر آتی ہے اور پکار کر کہتی ہے کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے" (متی ۱۷:۱) ۔ کہیں مسیح خود کہتا ہے کہ میں خدا کا بیٹا ہوں اور تم مجھے قادر مطلق کے رہنی جانب بیٹھے ہوئے دیکھو گے (مرقس ۶۲:۱۴)۔ کہیں روز جزا میں خدا کے بجائے مسیح کو تخت جلال پر بٹھایا جاتا ہے اور وہ سزا و جزا کے فرمان کو نافذ کرتا ہے (متی ۳۱:۲۵-۴۶) ۔ کہیں مسیح کے منہ سے کہلوایا جاتا ہے کہ ”باپ جد میں ہے اور میں باپ میں ہوں“ (یوحنا 1: ۳۸)۔کہیں اس راست گو انسان کی زبان سے یہ غلط الفاظ نکلوائے جاتے ہیں کہ ” میں خدا میں سے نکل کر آیا ہوں ( ہو تا ۴۲:۸) ۔ کہیں اس کو اور خدا کو بالکل ایک کر دیا جاتا ہے اور اس کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے باپ کو دیکھا اور باپ مجھ میں رہ کر اپنے کام کرتا ہے (یوحنا ۹:۱۴-۱۰) ۔ کہیں خدا کی تمام چیزیں مسیح کی طرف منتقل کر دی جاتی ہیں ( یوحنا ۳ : ۳۵)۔ اور خدا اپنی خدائی کا سارا کاروبار مسیح کے سپرد کر دیتا ہے (یوحنا ۵ : ۲۰-۲۲)۔
ان مختلف قوموں نے اپنے پیشواؤں اور ہادیوں پر جتنے بہتان و افترا کے رڈےچڑھائے ہیں۔ ان کی اصل وجہ وہی غلو ہے جس کا ہم نے ابتدا میں ذکر کیا ہے۔ پھر اس خرابی کو جس چیز سے سب سے زیادہ مدد لی وہ یہ تھی کہ ان بزرگوں کے بعد اکثر حالات میں تو ان کی ہدایات اور تعلیمات کو تحریری شکل میں قلمبند ہی نہ کیا گیا اور بعض حالات میں اس طرف توجہ کی بھی گئی تو اس کی حفاظت کا کوئی خاص اہتمام نہ کیا گیا۔ اس لیے تھوڑا زمانہ گزرنے کے بعد اس میں اتنی آمیزش اور تحریف و ترمیم ہو گئی کہ اصل وجعل میں امتیاز کرنا محال ہو گیا۔ اسی طرح کسی واضح ہدایت کے موجود نہ ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جتنا جتنا زمانہ گزرتا گیا، حقیقت پر اوہام غالب آتے گئے اور چند صدیوں میں ساری حقیقت کم ہو گئی۔ صرف افسانے ہی افسانے باقی رہ گئے۔
دنیا کے تمام ہادیوں میں یہ خصوصیت صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے کہ آپ کی تعلیم اور آپ کی شخصیت ۱۳ صدیوں سے بالکل اپنےحقیقی رنگ میں محفوظ ہےاور خدا کےفضل سےکچھ ایسا انتظام ہو گیا ہےکہ اب اس کا بدلنا غیر ممکن ہے۔انسان کی اوہام پرستی اور انجو بہ پرستی سےبعید نہ تھا کہ وہ اس برگزیدہ ہستی کو بھی، جو کمال کے سب سے اعلیٰ درجہ پر پہنچ چکی تھی افسانہ بنا کر الوہیت سے کسی نہ کسی طرح متصف کر ڈالتی اور پیروی کےبجائےمحض ایک تحیر و استعجاب اور عبادت و پرستش کا موضوع بنا لیتی۔لیکن اللہ تعالیٰ کو بعثت انبیاء کے آخری مرحلہ میں ایک ایسا ہادی و رہنما بھیجنا منظور تھا جس کی ذات انسان کے لیے دائی نمونہ عمل اور عالمگیر سر چشمہ ہدایت ہو ۔اس لیےاس نےمحمد ابن عبدالله صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو اس ظلم سے محفوظ رکھا جو جاہل معتقدوں کے ہاتھوں دُوسرے انبیاء اور بادیان اقوام کے ساتھ ہوتا رہا ہےاول تو آپ کے صحابہ و تابعین اور بعد کے محدثین نےپچھلی امتوں کے برعکس اپنے نبی کی سیرت کو محفوظ رکھنے کا خود ہی غیر معمولی اہتمام کیا ہےجس کی وجہ سے ہم آپ کی شخصیت کو ساڑھے تیرہ سو برس گزر جانے پر بھی آج تقریباً اتنے ہی قریب سے دیکھ سکتےہیں جتنےقریب سےخود آپ کےعہد کے لوگ دیکھ سکتے تھے۔ لیکن اگر کتابوں کا وہ تمام ذخیرہ دنیا سےمٹ جائےجو آئمہ اسلام نےسالہا سال کی محنتوں سےمہیا کیا ہے حدیث وسیر کا ایک ورق بھی دُنیا میں نہ رہےجس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کچھ حال معلوم ہو سکتا ہو اور صرف کتاب اللہ ( قرآن ) ہی باقی رہ جائے۔ تب بھی ہم اس کتاب سے اُن تمام بنیادی سوالات کا جواب حاصل کر سکتے ہیں جو اس کے لانے والے کے متعلق ایک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہو سکتے ہیں ۔
١- قرآن مجید نے رسالت کے معاملہ میں سب سے پہلےجس مسئلہ کو انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے وہ رسول کی بشریت ہے۔ نزول قرآن سے پہلے صدیوں کے معتقدات نے یہ ایک طے شدہ مسئلہ بنا دیا تھا کہ انسان بھی اللہ کا رسول اور نائب نہیں بن سکتا دُنیا کی اصلاح کے لیے جب کبھی ضرورت ہوتی ہے خدا خود ہی انسان کی صورت میں ظاہر ہوا کرتا ہے یا کسی فرشتے یا دیوتا کو بھیج دیتا ہے اور یہ کہ جتنے بزرگ دنیا میں اصلاح کے لیے آئے ہیں، وہ سب کے سب فوق البشر ہستی تھے۔ اس عقیدے نے انسان میں اتنی گہری جڑیں پکڑ لی تھیں کہ جب کبھی اللہ کا کوئی نیک بندہ لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے آتا تو سب سے پہلے لوگ حیرت سے پوچھتے تھے یہ کیسا نبی ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا سوتا اور چلتا پھرتا ہے؟ یہ کیسا پیغمبر ہے کہ ہماری طرح تمام عوارض اس کو بھی لاحق ہوتے ہیں؟ بیمار ہوتا ہے، تکلیف اور راحت میں مبتلا ہوتا ہے اور رنج ومسرت سے متاثر ہوا کرتا ہے۔ اگر اللہ کو ہماری ہدایت مقصود ہوتی تو وہ ہم جیسا ایک کمزور انسان کیوں بھیجتا ؟ کیا خدا خود نہیں آسکتا تھا؟ یہ سوالات ہر نبی کی بعثت پر ہوتے تھے اور انہی کو محجبت بنا کر لوگ انبیاء کا انکار کیا کرتے تھے ۔ حضرت نوح علیہ السلام جب اپنی قوم کی طرف پیغام لے کر آئے تو کہا گیا:
یہ شخص اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ تم ہی جیسا ایک انسان ہے جو تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ اگر خدا چاہتا تو فرشتوں کو اُتارتا۔ یہ انوکھی بات تو ہم نے اپنے بزرگوں سے کبھی سنی ہی نہ تھی (کہ انسان خدا کا پیغمبر بن کر آئے )
یہ شخص اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک بشر ہے تم ہی جیسا۔ وہی کچھ کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی کچھ پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔ اگر تم نے اپنےجیسے ایک بشر کی اطاعت کی تو بڑے ٹوٹے میں رہو گے۔
جب حضرت موسیٰ اور ہارون علیہا السلام فرعون کے پاس صداقت کا پیغام لے کر پہنچے تو ان کی بات ماننے سے بھی اسی بنا پر انکار کر دیا گیا:
چنانچہ ٹھیک یہی سوال اُس وقت بھی اٹھا جب مکہ کے ایک اُمی انسان نے چالیس برس تک خاموش زندگی بسر کرنے کے بعد دفعتہ اعلان کیا کہ میں خدا کی طرف سے رسول مقرر کیا گیا ہوں۔ لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی تھی کہ ایک شخص جو ہماری طرح ہاتھ پاؤں آنکھ ناک اور جسم و جان رکھتا ہے کیونکر اللہ کا رسول ہو سکتا ہے ۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے تھے کہ:
یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟ کیوں نہ اس پر کوئی فرشتہ اترا کہ اس کے ساتھ رہ کر لوگوں کو ڈراتا ؟ یا کم از کم اس کے لیے کوئی خزانہ ہی اتارا جاتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس کے پھل یہ کھاتا۔
یہ غلط فہمی چونکہ رسالت کے تسلیم کیے جانے میں سب سے زیادہ مانع ہو رہی تھی۔اس لیے قرآن مجید میں پورے زور کے ساتھ اس کی تردید کی گئی اور دلائل کے ساتھ بتایا گیا کہ انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ بعثت کا مقصود صرف تعلیم ہی دینا نہیں ہے بلکہ خود عمل کر کے دکھانا اور تقلید و پیروی کےلیےایک نمونہ پیش کرنا بھی ہے۔اور اس مقصد کےلیےایک فرشته یا اور کوئی فوق البشر بستی بھیجی جائے جس میں بشری خصائص اور کمزوریاں موجود نہ ہوں تو انسان کہہ سکتا ہے کہ ہم اس طرح کیونکر عمل کر سکتے ہیں جب کہ وہ ہماری طرح نفس اور نفسانی خواہشات ہی نہیں رکھتا اور اس کی فطرت میں وہ قو تیں ہی نہیں جو انسان کو گناہ کی طرف راغب کرتی ہیں۔
پھر صاف طور پر تصریح کی کہ اس سے پہلے جتنے انبیاء اور بادیان برحق مختلف قوموں میں بھیجے گئے ہیں وہ سب ایسے ہی انسان تھے جیسے محمد رسول اللہ ہیں اور اسی طرح کھاتے پیتے اور چلتے پھرتے تھے جس طرح ہر انسان کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا ہے:
اور ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے تھے اور ان کے لیےہم نے ہیویاں بھی پیدا کی تھیں اور ان کی اولاد بھی تھی۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ تم اپنے بشر ہونے کا صاف اعلان کرو تا کہ آپ کے بعد لوگ آپ کو بھی اسی طرح الوہیت سے متصف نہ کرنے لگیں جس طرح آپ سے پہلے دوسرے انبیاء کو کر چکے تھے۔ چنانچہ قرآن مجید میں متعدد جگہ یہ آیت آئی ہے:
اے محمداً کہہ دو کہ میں تو محض تمھی جیسا انسان ہوں، مجھ پر وحی کی جاتی ہےکہ تمھارا خدا ایک ہی ہے۔
ان تصریحات نے صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے متعلق تمام فاسد عقائد کا دروازہ بند نہیں کیا بلکہ تمام انبیاء سابقین و بزرگان دین کی ذات سے بھی اس غلط فہمی کا ازالہ کر دیا۔
۲-دوسری چیز جس کو نہایت وضاحت کے ساتھ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہےنبی کی قوت و قدرت کا مسئلہ ہے۔ جہل و نادانی نے جب خدا رسیدگی کو خدائی کا ہم معنی بنا دیا تو طبعا اس کے ساتھ یہ عقیدہ بھی پیدا ہو گیا کہ خدا رسیدہ لوگوں میں غیر معمولی طاقتیں ہوتی ہیں، خدا کے کارخانہ میں ان کو کچھ خاص اختیارات حاصل ہوتے ہیں، جزا و سزا میں اں کو دخل ہوتا ہے غیب و شہادت سب کچھ ان پر روشن ہوتا ہے، قسمتوں کے فیصلے ان کی مرضی ورائے سے ادلتے بدلتے ہیں، نفع و ضرر پر ان کو اقتدار ہوتا ہے، خیر وشر کے وہ مالک ہوتے ہیں، کائنات کی تمام قوتیں ان کےتابع ہوتی ہیں اور وہ بیک نظر لوگوں کےدلوں کو بدل کر ان کی ظلمت و ضلالت کو دُور کر سکتےہیں،ایسےہی خیالات تھےجن کی بناء پر لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عجیب عجیب مطالبے کرتے تھے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَلَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعًا أَوُ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهَارَ خِلَلُهَا تَفْجِيْرًا أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلَئِكَةِ قَبِيلاً أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْتَى فِي السَّمَاءَ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقَتِكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاً - ( بنی اسرائیل: ۱۰)
انھوں نے کہا ہم تو تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہمارے لیے زمین میں سے ایک چشمہ نہ نکال دو یا تمھارےلیےخرما اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور اس میں تم نہریں رواں کر دو یا جیسا کہ تم کہا کرتےہوآسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دو یا اللہ اور ملائکہ کو ہمارے سامنے لاکھڑا کر دیا تمہارے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھنےپر بھی اس وقت تک یقین نہ کریں گئے جب تک کہ تم ہمارے اوپر ایسی ایک تحریر نازل نہ کرو جسےہم پڑھیں اےمحمد ان سےکہو پاک ہےمیرا رب کیا میں ایک پیغمبر انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں؟
خدا از سیدگی اور بزرگی کے متعلق یہ جتنے غلط تصورات لوگوں میں پائے جاتے تھےاللہ تعالیٰ نے ان سب کی تردید فرمائی اور صاف بتا دیا کہ رسول کا خدائی طاقتوں اور خدائی کاموں میں ذرہ برابر کوئی حصہ نہیں ہے۔ چنانچہ فرمایا نبی ہمارے اذن کے بغیر دوسروں کو ضرر سے بچانا تو در کنار خود اپنے آپ سے بھی ضرر کو دفع کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔
اے نبی! اگر خدا تمہیں کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نقصان کا دُور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تمہیں فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اے محمد ! کہو میں تو اپنی ذات کے لیے بھی نفع یا نقصان کی قدرت نہیں رکھتا سوائے اُس کے جو خدا چاہے۔
اور فرمایا کہ نبی کے پاس اللہ کے خزانوں کی کنجیاں نہیں، نہ وہ علم غیب رکھتا ہے اور نہ اس کو فوق العادت قو تیں حاصل ہیں:
اے محمد! کہو میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب کا حال جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہی کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں (یعنی انسانی کمزوریوں سے پاک ہوں) میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔
اور اگر میں غیب جاننے والا ہوتا تو اپنے لیے بہت کچھ فائدے سمیٹ لیتا اور مجھ کو کوئی نقصان نہ پہنچاتا۔ میں تو محض ایک متنبہ کرنے والا ہوں اور جو میری بات مان لیں ان کو خوشخبری دینے والا ہوں۔
اور فرمایا نبی کو حساب کتاب اور جزا و سزا میں بھی کچھ دخل نہیں، اس کا کام صرف پیغام پہنچانا اور سیدھی راہ دکھانا ہے۔ آگے محاسبه اور مواخذه کرنا اور لوگوں کو جزا و سزا دینا خدا کا کام ہے۔
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ان لوگوں سے کہو کہ میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے۔ اب یہ بات میرے اختیار میں نہیں ہے کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہےہو وہ میں خود تمہارے اوپر نازل کر دوں فیصلہ بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنےوالا ہے۔ ان سے کہو کہ اگر کہیں وہ عذاب میرے اختیار میں ہوتا جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہو چکا ہوتا ۔ مگر اللہ ہی ظالموں سے نمٹنا خوب جانتا ہے۔
اے نبی ! ہم نے لوگوں ( کی ہدایت ) کے لیے تم پر یہ کتاب حق کےساتھ اُتاری ہے۔ اب جو کوئی ہدایت قبول کرتا ہے اپنے ہی لیےاچھا کرتا ہے اور جو گمراہی میں پڑتا ہے اپنے ہی حق میں بڑا کرتا ہےاور تم اُن پر کوئی حوالہ دار نہیں ہو۔
اور فرمایا لوگوں کے دلوں کو پھیر دینا اور جن لوگوں میں قبول حق کی آمادگی نہ ہو ان میں ایمان پیدا کر دیتا نبی کے بس کی بات نہیں ہے۔ وہ ہادی صرف اس معنی میں ہے کہ نصیحت اور تذکیر کا جو حق ہے اس کو وہ پورا پورا ادا کر دیتا ہے اور جو راستہ دیکھنا چاہے اُسے راستہ دکھا دیتا ہے۔
تم مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں تک آواز پہنچا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر لوٹ جائیں۔ اور نہ تم اندھوں کو گمراہی سے نکال کر سیدھے راستہ پر ڈال سکتے ہو۔ تم تو صرف انھی لوگوں کو سنا سکتےہو جو ہماری نشانیوں پر ایمان لاتے ہیں پھر سر اطاعت جھکا دیتےہیں۔
تم قبر کے مردوں کو سنانے والے نہیں ہوا تم تو صرف آگاہ کر دینے والے ہو اور ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
پھر یہ بھی صاف بتا دیا کہ نبی کو جو کچھ قدر وعزت اور علو مرتبت حاصل ہے سب اس بنا پر ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے اس کے احکام پر ٹھیک ٹھیک چلتا ہے اور جو کچھ کلام اس پر نازل کیا جاتا ہے اسے جوں کا توں اللہ کے بندوں تک پہنچا دیتا ہے۔ ورنہ اگر وہ اطاعت سے منہ موڑے اور اللہ کے کلام میں اپنے دل سے گھڑ کر باتیں ملا دے تو اس کا کوئی امتیاز باقی نہ رہے بلکہ وہ خدا کی پکڑ سے بیچ بھی نہ سکے۔
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ان سے کہو مجھ کو اس کلام میں اپنی طرف سے کچھ رد و بدل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔
یہ باتیں اس لیے نہیں کہی گئی ہیں کہ معاذ اللہ رسول اکرم سے کسی نافرمانی یا تحریف وتلبیس کا ادنی سا اندیشه تھا۔ دراصل ان سے مقصود دُنیا پر یہ حقیقت واضح کرنا تھا کہ نبی کو بارگاہ رب العزت میں جو تقرب حاصل ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ نبی کی ذات سے اللہ کا کوئی رشتہ ہے بلکہ اس کے مقرب ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کا نہایت درجہ مطیع فرمان اور دل و جان سے اُس کا بندہ ہے۔
۳۔ تیسری چیز جس کا بارہا نهایت صراحت کے ساتھ قرآن مجید میں ذکر کیا گیا یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نئے نبی نہیں ہیں، بلکہ جماعت انبیاء کے ایک فرد اور اس سلسلۂ نبوت کی ایک کڑی ہیں جو ابتدائے آفرینش سے لے کر آپ کی بعثت تک جاری رہا اور جس میں ہر قوم اور ہر زمانہ کے انبیاء ورسل شامل ہیں۔ قرآن حکیم نبوت و رسالت کو کسی ایک ذات یا ایک ملک یا ایک قوم سے مخصوص نہیں کرتا بلکہ وہ صاف صاف اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم اور ہر ملک اور ہر زمانہ میں مقدس نفوس پیدا کیے ہیں جنھوں نے انسان کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دی ہے اور گمراہی کے بڑے نتائج سے ڈرایا ہے:
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ا کہو میں کوئی نرالا رسول نہیں ہوں۔میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ برتا جائےگا اور تمہارےساتھ کیا سلوک ہوگا۔میں تو اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے اور میں محض ایک ڈرانے والا ہوں صاف صاف ۔
یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ رسول عربی کی دعوت وہی دعوت ہے جس کی طرف ابتدائے آفرینش سے ہر داعی حق بلاتا رہا ہے، اور آپ اُسی دین فطرت کی طرف تلقین کرتے ہیں جس کی تلقین ہمیشہ اللہ کے ہر نبی اور رسول نے کی ہے۔
قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَعِيلَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمُ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوُا - (البقره: ۱۲)
کہو ہم ایمان لائےاللہ پر اور اس کی تعلیم پر جو ہماری طرف اتاری گئی ہےاور تعلیم پرجو ابراهیم اسماعیل اسحاق یعقوب علیہم السلام اور ان کی اولاد پر اتاری گئی تھی اور جو موسیٰ، عیسی علیہم السلام اور دوسرے نبیوں کو اُن کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم اُن کےدرمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مطیع فرمان ہیں۔ پس اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم لائے ہو تو وہ سیدھے راستے پر ہیں ۔
قرآن مجید کی یہ تصریحات اس حقیقت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہنےدیتیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پچھلے پیغمبروں میں سے کسی کی تکذیب یا کسی کے لائے ہوئےپیغام کی تردید کرنے کے لیے نہیں آئے بلکہ اس لیے آئے تھے کہ اُس بچے مذہب کو جو اول دن سے تمام قوموں کے پیغمبر پیش کرتے چلے آئے تھے بعد کے لوگوں کی ملاوٹ سےپاک کر کے پھر پیش کر دیں۔
۴۔ اسی طرح قرآن مجید اپنے لانے والے کی صحیح حیثیت واضح کرنے کے بعد اُن کاموں کی تفصیل بیان کرتا ہے جن کے لیے اللہ نے اسے بھیجا تھا۔
درحقیقت ایمان لانے والوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا رسول اٹھایا جو انھیں اس کی آیات سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ورنہ اس سے پہلے تو وہ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔
تلاوت آیات سے مراد اللہ کے فرامین اور ارشادات جوں کا توں سنا دینا ہےتزکیہ سےمراد یہ ہےکہ لوگوں کے اخلاق اور اُن کی زندگی کو بڑی صفات بڑی رسموں اور بڑے طریقوں سےپاک کیا جائےاور اُن کےاندر اچھے اوصاف پاکیزہ اخلاق اور صحیح طریقوں کو نشو ونما دیا جائے۔تعلیم کتاب و حکمت یہ ہےکہ لوگوں کو خدا کی کتاب کا صحیح منشاء مدعا سمجھایا جائےان کے اندر ایسی بصیرت پیدا کی جائے کہ وہ کتاب کی اصل روح تک پہنچ سکیں اور انھیں وہ حکمت سکھائی جائے جس سے وہ اپنی زندگی کے تمام مختلف وسعت پذیر پہلوؤں کو کتاب اللہ کے مطابق ڈھالتے چلے جائیں۔
دوسرے الفاظ میں قرآن کے بھیجنے والے نے اس کے لانے والے سے صرف اتنی ہی خدمت نہیں لی کہ وہ اس کی آیات کی تلاوت کرے نفوس کا تزکیہ کرے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دئے بلکہ اس نے اپنے اس نیک بندے کے ذریعہ سے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا جو آیات نوع انسانی تک بھیجنی تھیں وہ سب اُس کے واسطہ سےبھیج دیں۔ جن خرابیوں سےانسانی زندگی کو پاک کرنا مقصود تھا وہ سب اُس کےہاتھوں سے ڈور گرا کر دکھا دیں۔جن خوبیوں کا نشو و نما جس شان کےساتھ افراد اور سوسائٹی میں ہونا چاہیےتھا اس کا بہترین نمونہ اس کی رہنمائی میں پیش کر دیا اور کتاب و حکمت کی ایسی تعلیم اس کےذریعےسےدلوا دی کہ آنےوالےتمام زمانوں میں مقصودِ کتاب کے مطابق انسانی زندگی کی تشکیل و تعمیر کی جاسکتی ہے۔
(۳) ان تمام اختلافات کی حقیقت واضح کرنا جو اصل دین سےپچھلےانبیا کی امتوں کےدرمیان پیدا ہو گئےتھےاور تمام پردوں کو ہٹا کرا تمام آمیزشوں کو چھانٹ کر تمام اُلجھنوں کو صاف کر کےاُس راہ راست کو پوری روشنی میں نمایاں کر دینا جس کی پیروی ہمیشہ سے خدا کی رضا کو پہنچنے کی ایک ہی راہ رہی ہے:
وَاللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَّ لَهُمُ الشَّيْطَنُ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إلا لِبينَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ - (النحل: ۶۳-۶۴)
بخدا کہ ہم نے (اے محمد) تم سے پہلے مختلف امتوں کی طرف ہدایت بھیجی، مگر اس کے بعد شیطان نے ان کے غلط اعمال کو ان کے لیےخوشنما بنا دیا چنانچہ آج وہی اُن کا سرپرست بنا ہوا ہے اور وہ دردناک عذاب کے مستحق ہو گئے ہیں۔ اور ہم نے تم پر یہ کتاب صرف اس لیے نازل کی ہے کہ اس حقیقت کو اُن کے سامنے واضح کر دو جس میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اور اس لیےپیروی قبول کر لیں۔
اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا رسول آ گیا ہے جو تمہارےسامنے بہت سی اُن چیزوں کو کھول کر بیان کرتا ہے جنھیں تم کتاب میں سے چھپاتے ہو اور بہت سی باتوں کو معاف کر دیتا ہے۔تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور ایک واضح کتاب آگئی ہے جس کے ذریعہ سے اللہ اُن لوگوں کو جو اس کی پسند کےمطابق چلتے ہیں، امن و سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے اور انھیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور سیدھی راہ کی طرف اُن کی رہنمائی کرتا ہے۔
اے نبی ! ہم نے تم کو گواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور ایک روشن گر آفتاب بنا کر بھیجا ہے۔
وہ اُن کو نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے اور اُن پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے اور ان بندشوں کو کاٹتا ہے جن میں وہ دبے اور جکڑے ہوئے تھے ۔ پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے وہی فلاح پانے والے ہیں۔
اے محمد ! ہم نے تم پر حق کے ساتھ یہ کتاب نازل کی ہے تا کہ تم اللہ کے بتائے ہوئے قوانین کے مطابق لوگوں کے فیصلے کرو اور خیانت کرنے والوں کے وکیل نہ بنو۔
(۳) اللہ کے دین کو اس طرح قائم کر دینا کہ انسانی زندگی کا پورا نظام اسی کےتابع ہو اور دوسرے سب طریقے اس کے مقابلے میں دب کر رہ جائیں :
٥- محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کام کسی ایک قوم یا ملک یا دور کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام نوع انسانی کے لیے اور تمام زمانوں کے لیے عام ہے:
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے ڈرانے والا اور بشارت دینے والا بنا کر بھیجا ہے۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کہو اے انسانو! میں تم سب کی طرف خدا کا رسول ہوں اُس خدا کا جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے جس کےسوا کوئی خدا نہیں، جو مارنے اور جلانے والا ہے۔ پس ایمان لاؤ خدا پر اور اُس کے رسول نبی امی پر جو خدا اور اس کے فرامین پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو اُمید ہے کہ تم راہ راست پالو گے۔
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کہو ) اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تا کہ میں اس کے ذریعہ سے تم کو متنبہ کروں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے۔
(٦) نبوت محمدی کی ایک اور خصوصیت قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اس پر سلسله نبوت و رسالت ختم کر دیا گیا اور اس کے بعد دنیا کو پھر کسی نبی کی حاجت باقی نہ رہی۔
یہ درحقیقت لازمی نتیجہ ہے نبوت محمدی کی عالمگیری اور ابد بیت اور تکمیل دین کا۔چونکہ قرآن کےمذکورہ بالا بیانات کی زد سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تمام دنیا کےانسانوں کے لیے ہے نہ کہ ایک قوم کے لیے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے نہ کہ ایک زمانےکے لیے اور آپ کے ذریعہ سے یہ کام بھی پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے جس کے لیے دنیا میں انبیاء کے آنے کی ضرورت تھی، اس لیے یہ سراسر معقول بات ہے کہ آپ پر سلسلہ نبوت کو ختم کر دیا گیا۔ اس مضمون کو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین اسلوب کے ساتھ ایک حدیث میں واضح کیا ہے۔فرماتے ہیں کہ میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نےایک نہایت خوبصورت مکان بنایا اور تمام عمارت بنا کر صرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔اب جو لوگوں نےاس کے گرد چکر لگایا تو وہ خالی جگہ انھیں کھٹکنے لگی اور وہ کہنےلگےکہ اگر یہ آخری اینٹ بھی رکھ دی جاتی تو مکان بالکل مکمل ہو جاتا۔ سو وہ آخری اینٹ جس کی جگہ نبوت کے محل میں باقی رہ گئی تھی میں ہی ہوں۔ اب میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔اس مثال سےختم نبوت کی وجہ صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔جب دین کامل ہو چکا آیات الہی پوری وضاحت کے ساتھ بیان ہو چکیں، اوامر ونواہی عقائد وعبادات، تمدن و معاشرت، حکومت و سیاست، غرض انسانی زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق پورے پورے احکام بیان کر دیے گئے اور دُنیا کے سامنے اللہ کا کلام اور اللہ کے رسول کا اُسوۂ حسنہ اس طرح پیش کر دیا گیا کہ ہر قسم کی تکلیس و تحریف سے پاک ہے اور ہر عہد میں اس سے ہدایت حاصل کی جاسکتی ہے تو نبوت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ صرف تجدید و تذکیر کی ضرورت رہ گئی ہے جس کے لیے علمائے حق اور مومنین صادقین کی جماعت کافی ہے۔
۷۔ آخری سوال جو دریافت طلب رہ جاتا ہے یہ ہے کہ اس کتاب کا لانے والا ذاتی طور پر کس قسم کے اخلاق کا انسان تھا ؟ اس سوال کے جواب میں قرآن مجید نےدوسری رائج الوقت کتابوں کی طرح اپنےلانے اولے کی تعریف کے پل نہیں باندھے ہیں نہ آپ کی تعریف کو ایک مستقل موضوع گفتگو بنایا ہے۔ البتہ آمد مشن میں محض اشارة آنحضرت کی اخلاقی خصوصیات ظاہر کی ہیں جن سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس وجودِ مسعود میں کمال انسانیت کے بہترین خصائص موجود تھے۔
(۲) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک ایسا راسخ العزم مستقیم الا رادہ اور اللہ پر ہر حال میں بھروسہ رکھنے والا انسان تھا کہ جس وقت اس کی ساری قوم اسے مٹا دینےپر آمادہ ہو گئی تھی اور وہ صرف ایک مددگار کے ساتھ ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوا تھا اُس سخت مصیبت کے وقت بھی اُس نے ہمت نہ ہاری اور اپنے عزم پر قائم رہا:
یاد کرو جب کہ کافروں نے اس کو نکال دیا تھا، جبکہ وہ غار میں صرف ایک آدمی کے ساتھ تھا جبکہ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
(۳) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک نہایت فراخ حوصلہ اور فیاض انسان تھا جس نے اپنے بدترین دشمنوں کے لیے بھی بخشش کی دعا کی اور آخر اللہ تعالی کو اسے اپنا یه قطعی فیصلہ سنا دینا پڑا کہ وہ ان لوگوں کو نہیں بخشے گا۔
چاہے تم ان کے لیے معافی مانگو چاہے نہ مانگو اگر تم ستر بار بھی ان کے لیے معافی مانگو گے تب بھی اللہ ان کو معاف نہ کرے گا۔
(۴) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والے کا مزاج نہایت نرم تھا۔ وہ کبھی کسی کےساتھ درشتی سے پیش نہیں آتا تھا اور اسی لیے دُنیا اس کی گرویدہ ہو گئی تھی۔
یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان کے ساتھ نرم ہو ورنہ اگر تم زبان کے تیز اور دل کے سخت ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ کر الگ ہو جاتے ۔
اے محمد ! (صلعم) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم ان کے پیچھے رنج و غم میں اپنی جان کھو دو گے ۔ اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔
(٦)وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کو اپنی امت سے بے حد محبت تھی وہ ان کی بھلائی کا حریص تھا، اُن کے نقصان میں پڑنے سے گڑھتا تھا اور ان کے حق میں سراپا شفقت و رحمت تھا:
تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایک ایسا رسول آیا ہے جسے ہر وہ چیز شاق گزرتی ہے جو تمہیں نقصان پہنچانے والی ہوا جو تمہاری فلاح کا حریص ہے اور اہل ایمان کے ساتھ نہایت شفیق درحیم ہے۔
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تمہارا رب جانتا ہے کہ تم رات کو تقریباً دو تہائی حصہ تک اور کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی حصہ تک نماز میں کھڑے رہتے ہو۔
لوگو! تمہارا صاحب نہ کبھی سیدھی راہ سے بھٹکا اور نہ صحیح خیالات سے بہکا اور نہ وہ خواہش نفس سے بولتا ہے۔
قرآن مجید کا تبع کرنے سے صاحب قرآن کی بعض اور خصوصیات پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ لیکن اس مضمون میں تفصیل کی گنجائش نہیں۔ جو کوئی قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ خود دیکھےلے گا کہ بخلاف دوسری موجود الوقت مذہبی کتابوں کے یہ کتاب اپنے لانے والے کو جس رنگ میں پیش کرتی ہے وہ کس قدر صاف واضح اور آلودگی سے پاک ہے۔ اس میں نہ اُلوہیت کا کوئی شائبہ ہے نہ تعریف و ثنا میں مبالغہ ہے نہ غیر معمولی قوتیں آپ کی طرف منسوب کی گئی ہیں، نہ آپ کو خدا کے کاروبار میں شریک و سہیم بنایا گیا ہے اور نہ آپ کو ایسی کتروریوں سے مہتم کیا گیا ہے جو ایک بادی اور داعی الی الحق کی شان سے گری ہوئی ہوں۔اگر اسلامی لٹریچر کی دوسری تمام کتابیں دُنیا سے ناپید ہو جائیں اور صرف قرآن مجید ہی باقی رہ جائے تب بھی رسول اکرم کی شخصیت کےمتعلق کسی غلط فہمی کسی شک و شبہ اور کسی لغزش عقیدت کی گنجائش نہیں نکل سکتی۔ ہم اچھی طرح معلوم کر سکتے ہیں کہ اس کتاب کا لانے والا ایک کامل انسان تھا، بہترین اخلاق سے متصف تھا انبیاء سابقین کی تصدیق کرتا تھا، کسی نئےمذہب کا بانی نہ تھا اور کسی فوق البشر حیثیت کا مدعی نہ تھا۔ اس کی دعوت تمام عالم کے لیےتھی اس کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے چند مقرر خدمات پر مامور کیا گیا تھا اور جب اس نےخدمات کو پوری طرح انجام دے دیا تو نبوت کا سلسلہ اس کی ذات پر ختم ہو گیا ۔ (١)
١- دراصل یہ مضمون ۱۹۲۷ء میں اخبار الجمعیت دہلی کے حبیب نمبر کے لیے لکھا گیا تھا۔ پھر دوبارہ ۱۹۴۴ء میں ترجمان القرآن میں شائع کیا گیا۔
کچھ مدت ہوئی ناظرین ترجمان القرآن میں سے ایک صاحب نے اس قصے کےمتعلق اپنے شکوک کا اظہار کیا تھا جو سور وص کے دوسرے رکوع میں حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق بیان ہوا ہے(۱) اگرچہ ان کو ایک مختصر جواب بر وقت دے دیا گیا،مگر بعد میں خیال آیا کہ یہ قصہ قرآن مجید کےاُن مقامات میں سےہے جن کے حسن و جمال کو اسرائیلی خرافات کےغبار نےاکثر لوگوں کی نظروں سےچھپا دیا ہےاور جن کےمتعلق عام طور پر متداول تفسیروں یا ترجموں کی مدد سے قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والوں کو شبہات اور سخت شبهات پیش آتے ہیں۔ لہذا اس پر ایک مستقل مضمون لکھنے کی ضرورت ہےتا کہ لوگوں کو معلوم ہو جائےکہ یہ قصہ قرآن حکیم میں کسی فائدے کے لیے بیان کیا گیا ہے اور اس کا صحیح مفہوم کیا ہے۔
سورہ ص اس مضمون سے شروع ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سن کر کفار ضد اور ہٹ دھرمی اور تقلید آبائی کی بنا پر آپ کو جھٹلاتےہیں اور ان کےجواب میں اللہ تعالیٰ قوم نوح" اور عاد اور فرعون اور شموڈ اور قوم لوط اور قوم شعیب کا حوالہ دے کر انھیں متنبہ کرتا ہے کہ یاد رکھو! ہمارے قانون میں کسی کے لیے رو رعایت نہیں ہے تم سے پہلےجس جس نے ہمارے فرمان سے سرتابی کی ہے اُس کو سخت سزا دی جا چکی ہے اور اب اگر تم سرکشی کرو گے تو کوئی چیز تم کو ہمارے عذاب سے نہ بچا سکے گی۔
١-عموماً پرانےطرز کی تفسیروں میں یہ قصہ کچھ بیان ہی اس طرح ہوا ہےکہ جو اللہ کا بندہ اسےپڑھتا ہےوہ خلجان میں پڑ جاتا ہے۔
اسی تنبیہ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ آگے چل کر بیان فرماتا ہے کہ ہمارا قانون تو ایسا بے لاگ ہے کہ معمولی درجہ کے انسان تو کیا چیز ہیں، بڑے بڑے عالی مرتبہ لوگ حتی کہ نبی اور پیغمبر بھی اگر ہمارے مقرر کیے ہوئے طریق حق سے بال برابر جنبش کرتے ہیں تو ہم ان کو بھی گرفت کیے بغیر نہیں چھوڑتے ۔ وَاذْكُرُ عَبْدَنَا دَاوُدَ - اے نبی ! ان کو ذرا ہمارےخاص بندے داؤد کا حال سناؤ۔ یہ کس پائے کا مشخص تھا؟ ڈالا ئید۔ بڑی قوتوں کا مالک بڑی نعمتوں سے سرفراز کیا ہوا۔ اِنَّهُ أَوَّابٌ (ص: ۱۷) اور اس کےساتھ نہایت خدا ترس ۔دائماً اپنے مالک کی طرف رجوع کرنے والا ۔ اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةٌ كُلٌّ لَهُ اَوَّابٌ ) ص: ۱۹۱۸) - صبح و شام خدا کا ذکر اس جوش اس جذبہ کے ساتھ کرتا تھا کہ پہاڑ اور پرندے تک اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتےتھے ۔ وَشَدَدْنَا مُلُكَهُ وَآتَيْنَهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ (ص:۲۰) ہم نے اس کو نہایت مضبوط طاقتور سلطنت عطا کی تھی،حکمت اور دانش مندی کی نعمت سےنوازا تھا اور اس کو فیصلہ کن بات کہنے کی قابلیت بخشی تھی۔ مگر تمہیں معلوم ہے کہ جب اس سے ایک معاملہ میں لغزش ہو گئی تھی تو ہم نے کیا کیا ؟
وَهَلْ أَتَكَ بَنَوُا الْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُو الْمِحْرَابَ - إِذْ دَخَلُوا عَلَى دَاوُدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوا لَا تَخَفْ خَصْمْنِ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطُ وَاهْدِنَا إِلَى سَوَاءِ الصِّرَاطِ - (ص: ۲۲۲۱)
کیا تمہیں اور مقدمہ والوں کی خبر پہنچی ہے جو دیوار پھاند کر داؤد کی خلوت_١ گاہ میں گھس آئے تھے؟ ان کے اس طرح اچانک ایسی جگہ پہنچ جانے سے جب داؤد گھبرا گئے، تو انھوں نے کہا آپ پریشان نہ ہوں، ہم دونوں فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نےدوسرے پر زیادتی کی ہے۔ آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیں حق سے تجاوز نہ کریں اور ہمیں عدل کا راستہ دکھا ئیں۔
١- محراب سے مراد محراب مسجد نہیں ہے جیسا کہ ایک عام اُردو خواں آدمی سمجھتا ہے بلکہ دراصل اس سے مراد بالا خانہ ہے۔
بے شک یہ میرا بھائی ہے یعنی دینی بھائی اور ہم قوم اس کے پاس ۹۹ دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دُنبی ۔ یہ مجھ سے کہتا ہےکہ تو اپنی ایک دُنبی بھی مجھے دے دے اور اس مطالبہ میں یہ اپنی شان وشوکت سے مجھے دبا لیتا ہے۔
بلا شبہ اس شخص نے ظلم کیا کہ اتنی دنبیاں رکھتے ہوئے بھی تیری ایک ذنبی مانگ بیٹھا اور اکثر ہمسایوں کا یہی حال ہے کہ ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے ہیں بجز ایسے لوگوں کے جو ایمان دار اور نیکوکار ہیں ۔ مگر ایسے لوگ کم ہی ہیں۔
یہ فیصلہ دینے کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کو ایکا ایک خیال آیا کہ ایسی ہی ایک لغزش مجھ سے بھی ہو چکی ہے چنانچہ وہ فوراً خدا کے خوف سے لرز اُٹھنے اور توبہ و استغفار کرنے لگے:
داؤد (علیہ السلام) کو معا یہ گمان ہوا کہ یہ مقدمہ بھیج کر ہم نے اس کو آزمائش میں ڈالا ہے۔ چنانچہ اسی وقت اس نے اپنے پروردگار سے عفو و بخشش کی دعا کی اور سجدے میں گر پڑا اور بار بار توبہ کی۔
يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلُنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ (ص: ۲۶)
اے داؤد! (علیہ السلام) ہم نے تجھ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور اپنے نفس کی پیروی نہ کر کہ یہ خواہشات کہیں تجھ کو خدا کے راستہ سے بھٹکا نہ دیں۔ جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹکتے ہیں یقینا ان کے لیے سخت عذاب ہےکیونکہ وہ روزِ حساب کو بھول گئے ۔
جیسا کہ ابتدا میں بیان کیا جا چکا ہے۔ سورۃ ص میں اس قصے کو بیان کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ جو لوگ خدا سے بے خوف اور اس کے بے لاگ قانون سے ناواقف ہیں انھیں متنبہ کر دیا جائے کہ اس احکم الحاکمین کے ہاں کسی کے ساتھ اور عایت نہیں ہے۔ اس کے قانون سے بال برابر انحراف بھی اگر ہوگا تو اس پر گرفت ضرور ہوگی اور کوئی بڑی سےیدی شخصیت بھی اس کی گرفت سے نہ بچے گی، بلا یہ کہ نیچے دل سے تو بہ کرئے اخلاص کےساتھ اس کی جناب میں رجوع لائے اور اپنے آقا کے مقابلے میں کبر کے بجائے عجز اختیار کرے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک اور ضمنی فائدہ بھی ہے جس کے لیے یہ قصہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور وہ ایک جلیل القدر نبی کے حق میں یہود کی غلط بیانیوں کو دور کرنا ہے۔
یہود کے متعلق معلوم ہے کہ انھوں نے خود اپنی قوم کے انبیاء پر ناپاک الزامات لگانے اور ان کی سیرتوں کو داغ دار کرنے میں کوئی تامل نہیں کیا ہے ۔ حضرت نوع ، حضرت ابراہیم حضرت لوط حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب حضرت یوسف حضرت موسیٰ ،حضرت ہارون غرض کوئی ان بدگوئیوں سے نہ بچ سکا لیکن سب سے زیادہ فلم انھوں نے حضرت داود اور حضرت سلیمان علیہم السلام پر کیا کہ ان کو انبیاء کی صف سے نکال کر معمولی بادشاہوں کی صف میں اتار لائے اور ان کو اس حیثیت سے پیش کیا کہ وہ ڈپلومیٹ ہیں فاتح اور مدبر ہیں، جھوٹ ، فریب، ظلم اور ان تمام وسائل سے تو سیع مملکت کرتے ہیں جن سے دنیا کے دوسرے فاتحوں اور جہانگیروں نےکام لیا ہےاور اپنےنفس کی خواہشات پوری کرنے کے لیے وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں جو عام بادشاہوں کا شیوہ ہے۔حد یہ کہ کہ ان لوگوں نے حضرت داؤد پر زنا اور حضرت سلیمان پر شرک کا الزام لگانے میں بھی باک نہیں کیا (١) یہ اس قوم کا برتاؤ اپنے اُن بزرگوں کے ساتھ ہے جنھوں نے اس کو ڈنٹ کی خاک سے اٹھا کر عزت کے آسمان پر پہنچا یا۔ آج جن تاریخی مفاخر پر یہ قوم ناز کرتی ہے وہ سب انھی بزرگوں کی بدولت اسے نصیب ہوئے ہیں اور انھی کی پاک سیرتوں پر اس نے سیاہی کے چھینٹے پھینکے ہیں۔
١- جو اصحاب اس کی تفصیل معلوم کرنا چاہیں وہ بائیل کے حسب ذیل مقامات نکال کر دیکھیں:
دُنیا میں صرف ایک قرآن ہی ایسی کتاب ہے جس نے ان انبیا کرام میں سے ایک ایک کی پوزیشن صاف کی اور ان کے اصل مرتبہ و مقام سے دنیا کو روشناس کیا۔ اگر قرآن نہ آتا تو آج کوئی شخص ان بزرگوں کو نبی ماننا تو در کنار عزت سےان کا نام لینا بھی گوارا نہ کرتا۔ بنی اسرائیل چاہےاس احسان کو نہ مانیں،مگر احسان کا احسان ہونا اس کا محتاج نہیں کہ اس کا اعتراف بھی ہو۔
سیدنا داؤد علیہ السلام کے متعلق یہود کی پہلی غلطی تو یہ ہے کہ وہ ان کی نبوت کےقائل نہیں ہیں بلکہ ان کو محض اپنی قوم کا ایک ہیرو سمجھتے ہیں(٢) قرآن اس کی اصلاح کرتےہوئے بیان کرتا ہے کہ وہ ایک جلیل القدر نبی تھے اور اللہ نے ان کو بڑا مرتبه عطا فرمایا تھا۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کے سلسلے میں وہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کا بھی ذکر کرتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ كُلُّ مِنَ الصَّالِحِينَ (انعام: ۸۸) یہ سب لوگ صالح تھے ۔ كُلَّا فَضْلُنَا عَلَى العَلَمِينَ (انعام: ۸۷ ) ان سب کو ہم نے دنیا جہان والوں پر فضیلت عطا کی۔ وَاجْتَبَيْنَهُمْ وَهَدَيْنَهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ - (انعام: ۸۸) ”اور ہم نے ان کو برگزیدہ کیا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی۔ اُوتسنک الَّذِينَ آتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ وَالْحُكْمَ والنُّبُوَّةَ (انعام: ٩٠ ) یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور ثبوت سے سرفراز کیا ۔ اور یہ سب کچھ کہنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اوليك الذين هَدَى اللهُ فَهُدَهُمُ اقْتَدِهِ ( انعام ۹۱ ) ان لوگوں کو اللہ نے راہ راست دکھائی تھی، لہذا جس راستے پر وہ چلے ہیں اُسی پر تم بھی چلو“۔
١- ملاحظہ ہو سلاطین اول باب ا آیت ۱-۱۰
٢- بائیل میں ان کی فضیلت صرف اس قدر بیان کی گئی ہے کہ وہ خدا کی طرف سےبنی اسرائیل کے لیے بادشاہ نامزد کیے گئے تھے اور خدا کے حکم سے ان کے وقت کے نبی نے ان کو مسح کیا تھا جو بنی اسرائیل میں کسی کے مامور من اللہ ہونے کی علامت تھی۔
دوسرا از بر دست داغ جو حضرت داؤد علیہ السلام کی سیرت پر یہودیوں نے لگایا وہ اور باجی کی بیوی کے معاملہ میں ہے۔ کتاب صموئیل، باب ۱۱-۱۲ میں اس کی پوری تفصیل درج ہے جس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے:
"ایک روز شام کے وقت داؤ د اپنے محل کی چھت پر ٹہل رہا تھا کہ اس کی نظر ایک عورت پر پڑی جو نہا رہی تھی' بے حد خوبصورت عورت تھی۔ داؤد نے دریافت کرایا کہ یہ کون ہے؟ معلوم ہوا بت سبع بنت العام اس کا نام ہے اور پانی کی بیوی ہے۔ داؤد نے اس کو بلا بھیجا اور رات اپنے پاس رکھا۔ اُسی رات وہ حاملہ ہو گئی اور بعد میں داؤد کو اُس نے اپنے حمل کی اطلاع دے دی ۔"
"اس کے بعد داؤد نے اور یا کو یو آب کے پاس بھیج دیا جو اس وقت بنی عمون سے لڑنے گیا ہوا تھا اور شہر رتبہ کا محاصرہ کیے پڑا تھا۔اُس نے یو آپ کو لکھا کہ اور یاہ کو جنگ میں کسی ایسی جگہ یا تصور کر جہاں سخت معرکہ ہو اور پھر اس کو اکیلا چھوڑ کر الگ ہو جاتا کہ وہ مارا جائے۔ چنانچہ یو آب نے ایسا ہی کیا اور وہ مارا گیا۔"
" خدا کو داؤد (علیہ السلام) کا یہ فعل ناگوار گزرا اور اس نے ناتن نبی کو داؤد کے پاس بھیجا۔ نائن نے اس سے کہا کہ ایک شہر میں دو شخص تھے۔ ایک مالدار تھا' دوسرا فقیر۔ مالدار شخص کے پاس بہت سی بکریاں اور گائیں تھیں اور فقیر کے پاس صرف ایک چھوٹی سی دُنبی تھی جس کو وہ بڑی محبت سے پالتا تھا۔ ایک مرتبہ مال دار شخص کےپاس کچھ مہمان آئے ۔ اس نے نہ چاہا کہ اپنی بکریوں اور گایوں میں سے کسی کو کاٹے ۔ فقیر کی دُنبی لے لی اور اس سے ضیافت کا سامان کیا۔ یہ قصہ سن کر داؤد بہت غضب ناک ہوا اور کہا کہ ایسا شخص ضرور مارا جائے گا اور فقیر کو ایک کے بدلے چار دنبیاں دلوائی جائیں گی ۔ ناتن نبی نے کہا کہ وہ شخص تو تو ہی ہے اور اسے اور یادتی کا واقعہ یاد دلایا۔"
اس قصے میں حضرت داؤد علیہ السلام کے اخلاق کی ایسی تصویر کھینچی گئی ہے جو ایک نبی تو در کنار ایک معمولی پادشاہ کے لیے بھی انتہائی شرم ناک ہے۔ یہودیوں میں یہ قصہ بچےبچے کی زبان پر چڑھا ہوا تھا۔ حضرت داؤڑ کی زندگی کے نمایاں واقعات میں اس کو شمار کیا جاتا تھا، اس پر عجیب عجیب حاشیے چڑھائے گئے تھے اور مزے لے لے کر اس کو بیان کیا جاتا تھا۔ غیر ممکن تھا کہ قرآن ایک عالی مرتبہ پیغمبر کی سیرت پر اس داغ کو گوارا کرتا۔ اس نے مذکورہ بالا آیات میں حکمت و موعظت کا درس دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ اصل واقعہ کیا ہے اور اس پر جھوٹے حاشیے کتنے چڑھائے گئے ہیں۔
قرآن مجید کےبیان سےواقعہ کی حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ سید نا داؤد علیہ السلام نے اور یا (یا جو کچھ بھی اس کا نام رہا ہو ) سےمحض یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دےدے۔ ان کی شخصی عظمت کو پیش نظر رکھ کر وہ ایک طرح سےاپنےآپ کو طلاق دینے پر مجبور پا رہا تھا ۔ مگر قبل اس کے کہ وہ طلاق دیتا قوم کے دو نیک آدمی حضرت داؤد کے پاس اچانک پہنچ گئے اور انھوں نے اس معاملہ کو ایک فرضی مقدمہ کی صورت میں ان کے سامنے پیش کیا۔ مقدمہ سن کر حضرت داؤد نے وہی فیصلہ دیا جو ایسے معاملہ کا برحق فیصلہ ہو سکتا تھا۔لیکن معا ان کو خیال آیا کہ یہ تو میرا رب میری آزمائش کر رہا ہےچنانچہ فوراً انھوں نے توبہ کی اور غایت درجہ کی عاجزی کے ساتھ خدا سے اپنے قصور کی بخشش چاہی۔
اس بیان کو سامنے رکھ کر جب ہم تو رات کی روایت کو دیکھتے ہیں تو بادنی تامل یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اصل واقعہ جب مشہور ہوا ہوگا تو اس پر حاشیے کس طرح چڑھ گئےہوں گے۔
شریر انفس اور خبیث طینت لوگوں کا قاعدہ ہے کہ جب کسی آدمی،خصوصاً بڑے آدمی کے متعلق چھوٹی سی بات کی پھنک ان کےکان میں پڑ جاتی ہے تو فوراً ان کی قوتِ متخیله اپنا کام شروع کر دیتی ہےاور وہ محض اپنے ذہن سے بہت سی امکانی صورتیں فرض کرکے ان کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ گویا یہ محقق واقعات ہیں۔ ہر انسان سےخواہ وہ کیسےہی بڑے درجےکا آدمی ہوا کبھی نہ کبھی کوئی ایسا فعل ضرور ہو جاتا ہےجس کو آسانی کےساتھ بڑے معنی پہنائے جاسکتے ہیں۔ حضرت داؤد و علیہ السلام نے جو کچھ کیا تھا اگر چہ وہ بنی اسرائیل کے ہاں ایک عام دستور (1) تھا اور اسی دستور سے متاثر ہو کر ان سے یہ لغزش سرزد ہو گئی تھی ۔ مگر چونکہ ایک بڑے آدمی کا فعل تھا اس لیے فورا شہرت پکڑ گیا اور اس پر لوگوں نےحاشیےچڑھانےشروع کر دیے۔اور یا سےطلاق کا مطالبہ یہ گمان کرنے کے لیےکافی تھا کہ حضرت داؤ د اس کی بیوی کی طرف میلان رکھتے ہیں ۔اب لوگوں کے ذہن نے مولنا شروع کیا کہ یہ میلان آخر ہوا کیونکر؟ کسی ذات شریف کو یہ بات سوجھ گئی کہ غالباً اپنے محل پر سے اس کو نہاتے میں دیکھ لیا ہو گا ۔ مگر اُن کی صداقت شعاری نے ہو گا" کو محض ” ہو گا"کی صورت میں بیان کرنا پسند نہ کیا، اس لیے انھوں نے ہو گا“ کو ” ہے“ میں تبدیل کر کےلوگوں سے بیان کیا۔ رفتہ رفتہ یہ ایک واقعہ بن گیا۔ حالانکہ میلان ہونے کے بہت سےاسباب ہو سکتے تھے۔ ممکن ہے کہ حضرت داؤد نے اس خاتون کی قابلیت اور اس کی اعلیٰ صلاحیتوں کا حال سن کر اسے پسند کیا ہو لیکن برے نفوس کی شرارت ہمیشہ ایسے بُرے امکانات ہی کی طرف مائل ہوتی ہے۔
١- اسرائیلیوں کے ہاں یہ کوئی معیوب بات نہ تھی کہ کوئی شخص کسی کی بیوی کو پسند کر کےاس سے طلاق کی درخواست کرے۔ نہ درخواست کرنے والا اس میں تکلف کرتا تھا اور نہ وہ شخص، جس سےدرخواست کی جاتی اس پر بُرا مانتا تھا۔ اور یہ تو ایک عمدہ اخلاق کی بات سمجھی جاتی تھی کہ کوئی شخص کسی دوست کو خوش کرنے یا اس کی تکلیف رفع کرنے کے لیے اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کے نکاح میں دے دے۔ چنانچہ یہ یہودی اخلاق ہی کا اثر تھا کہ مدینہ میں بعض انصار اپنے مہاجر بھائیوں کی خاطر اپنی بیویوں کو طلاق دے کر اُن سےبیاہ دینے پر آمادہ ہو گئے تھے۔
پھر جب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ حضرت داؤ د اس عورت کی طرف مائل ہیں، تو ان کی نالائق فطرت یہ بات ماننے کےلیےکسی طرح تیار نہ ہوئی کہ ایک بادشاہ کسی عورت کی طرف مائل ہو اور وہ اسے حاصل نہ کرے۔ چنانچہ انھوں نے یہ بھی فرض کر لیا کہ بادشاہ نے اس عورت کو بلایا ہوگا اور اس سے زنا کیا ہوگا۔ یہ ہوگا“ بھی بہت جلدی ہے میں تبدیل ہو گیا اور اس پر حمل کا مزید حاشیه چڑھا دیا گیا۔
اسرائیلی قوم اس وقت تک ایک زندہ قوم تھی اور اس میں ایسے لوگ بھی موجود تھےجو کسی بڑے سے بڑے آدمی کو بھی اس کی غلطی پر ٹوکنے میں تامل نہیں کرتے ۔ جب یہ قصہ مشہور ہوا تو اس قسم کے لوگوں میں سے دو آدمی حضرت داؤد کے پاس پہنچ گئے اور انھوں نے تمثیل کے پیرایه میں ان کو متنبه کیا۔ چنانچه آنجناب فورا اپنے فعل سے تائب ہو گئے۔ لیکن یا تو اس تو بہ کا علم لوگوں کو نہیں ہوا یا اگر ہوا بھی تو بدفطرت لوگوں کو اس کا یقین نہ آیا۔ بہر حال تو بہ کے بعد حضرت داؤ د تو اپنی جگہ اور یا کی بیوی کا خیال چھوڑ چکےتھے مگر لوگوں نے اس کا خیال نہ چھوڑا۔ اور یا ایک فوجی افسر تھا۔ اس کا کسی مہم پر جانا کوئی انوکھا فعل نہ تھا، اور جنگ میں اس کا مارا جانا بھی کوئی نرالی بات نہ تھی ۔ مگر چونکہ لوگوں کےذہن میں وہ واقعہ تازہ تھا اور وہ ایک نبی کی بادشاہت اور ایک نفس پرست آدمی کی پادشاہت میں فرق کرنے سے اپنی طبیعت کی افتاد کی بناء پر عاجز تھے، اس لیے جب اور یا جنگ میں گیا اور مارا گیا، تو انھوں نے اس طرح قیاس قائم کیا کہ داؤد علیہ السلام اس کی بیوی پر مائل تھے اور وہ پادشاہ ہونے کی حیثیت سے اور یا کا قصہ پاک کر کے اس کی بیوی کو حاصل کرنے کی قدرت بھی رکھتے تھے اس لیے ضرور انھوں نے قصداً اور یا کو جنگ پر بھجوایا ہو گا اور قصداً ایسی تدبیر کی ہوگی کہ وہ مارا جائے۔ یہ ہو گا بھی بآسانی ” ہے" میں تبدیل کر دیا گیا اور بڑھتے بڑھتے یو آب کو خط لکھنے کا قصہ تصنیف ہو گیا۔
کوئی شخص کسی عورت کو پسند کرتا ہو اور وہ عورت بیوہ ہو جائے، تو اس شخص کا اس عورت سے نکاح کر لینا کوئی نرالی یا معیوب بات نہیں ہے۔ مگر جب حضرت داؤد نے بت سیع سے نکاح کیا (جیسا کہ بائیل کا بیان ہے ) تو اسرائیلی عوام نے سمجھا کہ یہ ان تمام افواہوں کی صداقت کا قطعی ثبوت ہے جو اس سلسلہ میں اُڑ رہی تھیں۔یہاں پھر اسرائیلیوں نے اپنی اصلی طینت کا اظہار کیا۔ گو ایسےمعاملہ میں ہمیشہ دو مساوی الدرجہ امکان ہوا کرتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص نے اپنی پسندیدہ عورت کو حاصل کرنے کی کوشس نہ کی ہو اور اس کے بیوہ ہو جانے کے بعد کوئی اخلاقی و قانونی مانع نہ پا کر اس سے نکاح کر لیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس نے اسے حاصل کرنے کے لیے مجرمانہ تدبیریں کی ہوں۔کسی شہادت کی غیر موجودگی میں ایک امکان کو دوسرےامکان پر قطعی ترجیح نہیں دی جا سکتی۔لیکن ایسے مواقع پر انسان کی طینت اپنے آپ کو بے نقاب کرتی ہے۔ نیک طینت آدمی کا میلان ہمیشہ اچھے امکان کی طرف ہوتا ہے اور اگر وہ شخص جس سے ایسا واقعہ متعلق ہو صالح اور نیک چلن ہو تو نیک طینت یہی حکم لگائےگا کہ اس کا دامن (١) پاک ہےلیکن بدطینت آدمی ہمیشہ ہر طرف گندگی ہی گندگی ڈھونڈتا ہے۔ اس کی فطرت خود گندگی مانگتی ہے اس لیے معاملات میں وہ ہمیشہ نمے امکان ہی کو ترجیح دیتا ہے ۔ حتی کہ اگر شہادت سے اس کی تردید ہو جائے، تب بھی اندر سے اس کا دل نہیں مانتا۔
یہاں پہنچ کر قرآن اور بائیل میں اتنا نمایاں فرق ہو جاتا ہے جتنا روشنی اور تاریکی کا فرق ہے۔ قرآن بنی اسرائیل کے ایک ہیرو کی زندگی کو روشن کر کے دکھاتا ہے اور اس کے دامن پر ایک معمولی لغزش کا داغ بھی دھوئے بغیر نہیں چھوڑتا۔مگر خود بنی اسرائیل جس کتاب کو کتاب مقدس کہہ کر پیش کرتےہیں وہ اُن کےہیرو کی وہ تصویر بھی پیش نہیں کرتی جو پاک طینت انسانوں کے ذہن میں آنی چاہئے بلکہ ایسی تصویر پیش کرتی ہے جسے اس قوم کے نہایت بدطینت سفہاء نے کھینچا تھا۔ یہودی اور عیسائی اس کتاب کو خدا کی کتاب کہتےہیں حالانکہ اس میں ایک جگہ نہیں سینکڑوں مقامات پر ایسے بیانات اور ایسے خیالات ملتےہیں جو خدا تو در کنار شریف انسانوں کے نفس کی بھی ترجمانی نہیں کرتے ۔
١- نیک گمان کرنے کے لیے حضرت داؤد کی پوری سیرت کافی گواہ تھی۔ خود بائیل میں جہاں یہ قصہ بیان ہوا ہے اس سےپہلے اور اس کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کی پوری سوانح عمری درج ہے۔ ہر شخص اس کو دیکھ کر اندازہ کر سکتا ہے کہ جو شخص ایسا عالی ظرف اور خدا ترس تھا اس سے وہ حرکات کیسےسرزد ہوسکتی تھیں جو اسی بائیبل میں اس مردِ خدا کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔
اسرائیلی کیریکٹر کے کمالات ہیں ختم نہیں ہوتے ۔ اس کی معراج آپ کو دیکھنی ہو تو یہ دیکھیے کہ جب قرآن نے اس قوم کے انبیاء کی صفائی پیش کی اور اس کا لگایا ہوا ایک ایک داغ ان کے دامنوں پر سے دھویا تو یہ خوش ہونےکے بجائےالٹےکبیدہ خاطر ہوئےاحسان مند ہونےکےبجائے مقابلےپر اُتر آئےاور انھوں نے ان سب دامنوں کو جنھیں قرآن نے دھویا تھا، پھر سے داغدار کرنے کی کوشش کی ۔ قرآن جب نازل ہوا تو مدینہ میں یہودی موجود تھے اور نزول قرآن کے چند سال بعد جب مسلمان ایشیا اور افریقہ کے وسیع علاقوں پر پھیلے ہوئے تھے تو یہودیوں کی ایک کثیر تعداد کوان سے میل جول کا موقع ملا۔ ان لوگوں نے ہر نبی کے متعلق وہی تمام پرانے قصے جو ان کے ہاں مشہور تھےمسلمانوں میں بھی پھیلا دیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن مجید کی بہت سی تفسیر میں جو مسلمانوں نے لکھیں، ان کےاثر سے مسموم ہو کر رہ گئیں۔ یہ معاملہ متداول تفاسیر کا مطالعہ کرنے والوں سے پوشیدہ نہیں ہےاور حضرت داؤد کے قصےمیں بھی یہی صورت پیش آئی ہے۔مدینہ کے یہودیوں نےاور یا کی بیوی کا قصہ اس کثرت سے مسلمانوں میں پھیلایا تھا کہ عام طور پر لوگ قرآن پاک کے اس رکوع کی تفسیر، بائیل اور اسرائیکی خرافات ہی کے رنگ میں کرنے لگے تھےحتی کہ قرآن کی معنوی تحریف کا اندیشہ پیدا ہو گیا۔ آخر کا رسید نا علی رضی اللہ عنہ کو یہ اعلان کرانے کی ضرورت پیش آئی کہ جو شخص اور پانی کا قصہ روایت کرے گا اس کو ۱۶۰ کوڑے لگائے جائیں گئے ۸۰ کوڑے حد قذف کے اور مزید ۸۰ کوڑے ایک نبی کی تو ہین (١) کے۔
١- ملاحظه ہو کشاف، تفسیر کبیر اور تفسیر بیضاوی۔
(١) عام طور پر مفسرین اور اہل الروایت وہی اور یا کا قصہ بیان کرتے ہیں جو یہودیوں سے منقول ہے اور ان کے نزدیک داؤد علیہ السلام نے جس گناہ سے توبہ کی تھی وہ یہی زنا کا گناہ تھا۔ لیکن قرآن کے الفاظ اس تاویل کا ساتھ نہیں دیتے ۔ قرآن نے مستغیث کا جو بیان نقل کیا ہے اس میں وہ صرف یہ کہتا ہے کہ قَالَ اكْفِلْبَيْهَا وَعَرْنِي فِي الْخِطَابِ (ص: ۲۳) (اس نے کہا کہ اپنی یہ دنبی بھی مجھے دے دئے اور گفتگو میں اپنی شان وشوکت سے مجھے دبا لیا ) یہ نہیں کہتا کہ اس نے ڈبی مجھ سے چھین لی یا مجھے کو قتل کروا کر چھینٹےکی تدبیر کی۔
(۲) بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اور یاہ سے بت سبع کی صرف منگنی ہوئی تھی اور حضرت داؤد کا یہ قصور تھا کہ انھوں نےاپنے ایک مسلمان بھائی کی منگنی پر اپنی منگنی بھیجی۔لیکن قرآن کے الفاظ اس کی تائید نہیں کرتے۔ تمثیل میں بسی نعجة کا لفظ آیا ہے جس کےمعنی یہ ہیں کہ دُنبی اس کی ملک تھی یہ نہیں کہ وہ اس کو خریدنا چاہتا تھا اور اس کے مال دار بھائی نے اس کی بولی پر بولی دے دی۔
(۳) بعض مفسرین کے نزدیک حضرت داؤد کی لغزش یہ تھی کہ جب اس عورت کا شوہر مارا گیا تو ان کو وہ رنج نہ ہوا جو ہونا چاہیے تھا، محض اس لیے کہ وہ اس عورت کی طرف میلان رکھتے تھے ۔ لیکن یہ ایک بے سروپا بات ہے اور اس سے وہ تمثیل بالکل بے معنی ہو جاتی ہے جو قرآن میں مستغیث کی زبان سے بیان ہوئی ہے۔
(۴) ایک جماعت کا خیال ہے کہ عورت کے قصہ کی سرے سے کوئی اصلیت ہی نہیں ہے۔ دراصل حضرت داؤد کےقتل کی سازش ہوئی تھی اور کچھ لوگ دیوار پھاند کر آگئےتھے۔ مگر جب حضرت داؤد ہوشیار ہو گئے تو انھوں نے محض بات بنانے کے لیے یہ مقدمہ گھڑ لیا۔ حضرت داؤدان کی نیت تاڑ گئے اور انہوں نے ان لوگوں سے انتقام لینا چاہا۔ پھر بعد میں یا تو وہ اس بنا پر نادم ہوئے کہ انتظام کی خواہش ہی ان کے مرتبے سے گری ہوئی چیز تھی 'یا اس پر نادم ہوئے کہ بغیر کسی ثبوت کے انھوں نے محض گمان پر ان لوگوں کو دشمن سمجھےلیا اور انھیں سزا دینی چاہی۔ بہر حال ان دو وجوہ میں سے کوئی ایک وجہ تھی جس پر انھیں ندامت ہوئی اور انھوں نے تو بہ واستغفار کیا ۔ لیکن اس تاویل پر متعدد اعتراض ہوتے ہیں:
ثانیا، قرآن میں کوئی لفظ اس واقعہ پر دلالت نہیں کرتا کہ یہ لوگ قتل کے لیے آئےتھے اور حضرت داؤد اس بات پر نادم ہوئے کہ انھوں نے ان سے انتقام لینا چاہا تھا یا بلا ثبوت ان پر بدگمانی کی تھی۔
ثالثاً ، قرآن کی عبارت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دُنبیوں کے مقدمے میں اپنا فیصلہ سناتے ہی حضرت داؤد کو یہ گمان ہوا کہ ان کے رب نے ان کو آزمائش میں ڈالا ہے۔ اس سے متبادر یہی ہوتا ہے کہ اس تمثیل اور اس فیصلہ کا آزمائش سے کوئی تعلق ضرور تھا اور اسی پر انھوں نے استغفار کیا۔
رابعاً اگر وہ لوگ حقیقت میں دشمن تھے اور قتل کی نیت سے آئے تھے تو ان سےانتقام لینے کی خواہش نا جائز نہ تھی اور اس پر وہ تنبیہ غیر ضروری تھی جو ہداوُدُ إِنَّا جَعَلنک خليفة .... الخ (ص: ۲۶) میں کی گئی ہے اور اگر وہ دشمن نہ تھے تو ان کا تمثیلی مقدمہ محض بات بنانے پر محمول نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس میں لامحالہ کوئی معنویت ہونی چاہیے۔ نیز قرآن مجید میں کوئی اشارہ ایسا ہونا چاہیے تھا جس سے معلوم ہوتا کہ یہ مقدمہ محض بات بنانے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔
(۵) بعض مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت داؤد نے دراصل اپنے لیے استغفار نہیں کیا تھا بلکہ ان لوگوں کے لیے استغفار کیا تھا جو ان کے قتل کو آئے تھے۔ لیکن اس صورت میں آزمائش کا ذکر بے معنی ہو جاتا ہے اور یداودُ اِنَّا جَعَلُنَكَ خَلِيفَةً کی تنبیہ قطعاً بےمحل بھرتی ہے۔
(٦) موجودہ زمانے کے مفسرین کہتے ہیں کہ استغفار دراصل قاتلوں کے لیے نہ تھا بلکہ حضرت داؤد نے دیکھا کہ یہ لوگ قتل کے لیے آئے ہیں تو انھوں نے اللہ سے حفاظت اور پناہ کی دُعا کی تھی۔ اس تاویل کی بنا یہ ہے کہ وہ استغفار کو لغوی معنوں میں لیتے ہیں یعنی اس امر کی دُعا کہ اللہ ان کو اپنی حفظ و امان میں چھپالے۔ مگر اول تو یہ تاویل عربیت کےخلاف ہے۔ دوسرے یہ نہایت رکیک بات ہے کہ داؤد علیہ السلام جیسا بہادر سپاہی محض دو دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے رکوع و سجود میں لگ جائے ۔ تیسرے اس تاویل میں ظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَتْهُ (ص:۲۴) اور فَغَفَرُنَا لَهُ ذَلِكَ (ص:۲۵) اور يَدَاوُدُ إِنَّا جَعَلُنَكَ خَلِيفَةً .... الخ (ص:۲۶) کے فقرے بے معنی ہو جاتے ہیں۔
(۷) بعض حضرات کےنزدیک حضرت داؤد کی لغزش یہ تھی کہ انھوں نےمحض ایک فریق کا بیان سن کر فیصلہ صادر کر دیا اور دوسرےفریق کا بیان نہ لیا۔ لیکن یہ تاویل بھی مہمل ہے۔کیونکہ اول تو قرآن میں دوسرے فریق کا بیان درج نہ ہونےسے لا ز ما یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ اس کا بیان نہیں لیا گیا۔ ممکن ہے کہ اس نے اقرار کر لیا ہو اس لیے اس کے ذکر کی ضرورت ہی نہ کبھی گئی ہو۔ اور یہ قرآن کا عام انداز بیان ہے کہ وہ کسی واقعہ کی غیر ضروری تفصیلات نہیں دیتا۔ دوسرے اس تاویل کے لحاظ سے وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلُّكَ عَنْ سَبَيْلِ اللهِ (ص: ۲۶) (اپنی خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ کہیں یہ تجھ کو خدا کے راستے سے بھٹکا نہ دے) کی تنبیہ بے محل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ایک فریق کا بیان سُن کر فیصلہ کر دینے میں حضرت داؤد کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہ تھا کہ اس سے اتباع ہوئی لازم آئے۔ زیادہ سے زیادہ اس کو اصول عدالت سے ایک نا دانستہ انحراف کہا جا سکتا ہے جس پر تعصبیہ کی دوسری صورت ہونی چاہیے تھی۔
(۸) کچھ لوگوں نے ایک دوسری ہی تاویل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے اوقات کو چار حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ایک دن محض عبادت کرتےتھے۔ ایک دن مقدمات کے فیصلے فرماتے تھے۔ ایک دن اپنے خانگی معاملات کو دیکھتے تھےاور ایک دن بنی اسرائیل کو وعظ و تلقین کرتے تھے ۔ یہ تقسیم چونکہ وحی الہی کے بغیر کی گئی تھی اور نبی کو وحی کے خلاف کوئی کام نہ کرنا چاہیے اس لیے اور اس لیے کہ نبی کو زیادہ تر اپنا وقت وعظ ونصیحت اور فصلِ معاملات میں صرف کرنا چاہیئے اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ فرمائی۔ لیکن اس تاویل میں متعدد کمزوریاں ہیں :
اولاً تقسیم اوقات کی روایت محض ایک شاؤ روایت ہے جو بعض مفسرین نےحضرت ابن عباس سے نقل کی ہے۔ اور خود حضرت ابن عباس سے جو قوی روایتیں مسروق اور سعید بن جبیر نے نقل کی ہیں وہ اس تاویل کی تائید کرتی ہیں جو ہم نے اختیار کی ہے، یعنی مَاذَا دَاوُدُ عَلَى أَنْ قَالَ انْزِلُ لِي عَنْهَا ( حضرت داؤد نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تھا کہ اس سے طلاق کی درخواست کی ) اسی کی تائید قرآن کے الفاظ قَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ (ص:۲۴) سے بھی ہوتی ہے۔
ثانیا اگر کسی شخص کے پیش نظر حضرت ابن عباس کی یہ روایت نہ ہو تو وہ صرف یہی نہیں کہ قرآن مجید کی ان آیات کا مطلب نہیں سمجھ سکتا، بلکہ ظاہر الفاظ سے وہ اس کے بالکل خلاف مطلب نکالے گا ۔ یہ بات کتاب الہی تو در کنار معمولی انسانی تصنیفوں کے لیے بھی معیوب ہے کہ اس کے اپنے الفاظ اس کا مدعا ظاہر کر نے سے اس درجہ قاصر ہوں کہ اگر ایک خاص روایت اس کی تشریح کرنے والی سامنے نہ ہو تو ناظر اس کا بالکل الٹا مطلب لے نکلے۔ روایت اگر اصل متن کے متبادر مفہوم کی مزید تشریح کرتی ہو تو اس کے مفید ہونے میں کلام نہیں۔ لیکن اگر وہ متبادر مفہوم سے ہٹا کر بات کو کسی اور طرف پھیر لےجائے تو ایسی روایت کو شارح کے بجائے ستم کہنا پڑے گا اور اس سے لازم آئے گا کہ اس متم کے بغیر قرآن ناقص ہے۔
ثالنا ، خود حضرت ابن عباس نے بھی اپنی اس روایت کو وجہ عتاب کی تفسیر میں بیان نہیں کیا ہےبلکہ صرف اس امر کی تشریح میں بیان کیا ہےکہ ضمین کو دیوار پھاند کر محراب میں جانےکی ضرورت کیوں پیش آئی تھی۔ اس کی شرح میں وہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ دن حضرت داؤد کی عبادت کا تھا اور وہ اپنی محراب ( بالا خانہ ) میں تشریف رکھتےتھے۔ باقی رہی یہ بات کہ عبادت کے لیے ایک دن مخصوص کرنے پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا تو اس کا اشارہ تک ابن عباس کی روایت میں نہیں ہے۔
رابعاً اگر بات یہی تھی جو یہ مفسرین بیان کرتے ہیں تو خصمین کے پورے مقدمہ کو نقل کرنے کی کوئی حاجت نہ تھی۔ یہ بات قرآن کے اسلوب کے خلاف ہے کہ وہ کسی واقعہ کی ایسی تفصیلات نقل کرے جن سے اصل مقصود پر کوئی روشنی نہ پڑتی ہو۔ اس مقصد کے لیے صرف یہ بیان کرنا کافی ہو جاتا کہ لوگ ایک دوسرے پر ظلم کرنے لگے اور اس قسم کا ایک معاملہ ہم نے داؤد کو متنبہ کرنے کے لیے اس کے پاس بھی بھیج دیا۔
خامساً عبادت میں افراط اور کثرت ایسی چیز نہیں ہے جس کو "ہوئی " سے تعبیر کیاجائے ۔ قرآن نے کہیں بھی اس فعل کو ہوائے نفس کی طرف منسوب نہیں کیا ہے اور نہ کوئی ایک مثال ایسی ملتی ہے کہ کثرت عبادت پر کسی کو عتاب فرمایا گیا ہو ۔ پھر کس طرح تصور کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عبادت گزار بندے کو عبادت کی زیادتی پر ان الفاظ میں تنبیہ فرما تا کہ خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ یہ تجھے گمراہ کر دے گی۔"
ان تمام احتمالات کے ساقط ہو جانے کے بعد وہی تاویل باقی رہ جاتی ہے جس کو ہم نے اختیار کیا ہے اور جس کی طرف بعض قدیم مفسرین بھی گئے ہیں، یعنی یہ کہ معاملہ اور بیاہ کی بیوی ہی کا تھا مگر اس کی اصلیت صرف اس قدر تھی کہ حضرت داؤد نے اپنے عہد کی اسرائیلی سوسائٹی کے عام رواج سے متاثر ہو کر اور یاہ سے طلاق کم، درخواست کی تھی۔یہ تاویل اس لحاظ سے بھی مرقع ہے کہ اگر اور یاہ کی بیوی کے معاملے کی سرے سے کوئی اصلیت ہی نہ ہوتی تو قرآن مجید اس موقع پر صاف الفاظ میں اس کی تردید کرتا جس طرح حضرت سلیمان کے حق میں کفر و شرک اور ساحری کے الزام کی تردید(١) کی۔ کیونکہ یہودیوں میں یہ قصہ ایک امر واقعی کی طرح مشہور تھا اور قرآن کے لیے یہ غیر ممکن تھا کہ ایک نبی کا ذکر تو کرے مگر اس کے دامن پر ایسے شدید الزامات کا داغ بدستور رہنےدے (٢) اس تاویل کو قبول کرنے میں لوگوں نے صرف اس بناء پر تامل کیا ہے کہ انبیاء کی طرف اس قسم کی لغزشوں کا انتساب عصمت انبیاء کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ان حضرات نے شاید اس امر پر غور نہیں کیا کہ عصمت دراصل انبیاء کے لوازم ذات سے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو منصب نبوت کی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرنے کے لیے مصلحتا خطاؤں اور لغزشوں سے محفوظ فرمایا ہے۔ ورنہ اگر اللہ کی حفاظت تھوڑی دیر کے لیے بھی ان سے منفک ہو جائے تو جس طرح عام انسانوں سے بھول چوک اور غلطی ہوتی ہے، اسی طرح انبیاء سے بھی ہو سکتی ہے۔ اور یہ ایک لطیف نکتہ ہے کہ اللہ نے بالا رادہ ہر نبی سے کسی نہ کسی وقت اپنی حفاظت اُٹھا کر ایک دو لغزشیں سرزد ہو جانے دی ہیں، تا کہ لوگ انبیاء کو خدا نہ سمجھ لیں، اور جان لیں کہ یہ بشر ہیں، خدا نہیں ہیں۔
١- ملاحظہ ہو سورہ بقرہ رکوع ۱۲
٢- خصوصاً جبکہ قرآن کے اپنے بیان سے ملتا جلتا قصہ بائیل میں موجود ہو اور وہی ایک نبی پر بدگمانیوں اور تہمتوں کا موجب بن رہا ہو۔
ایک یہ کہ سید نا داؤد علیہ السلام کی ۹۹ بیویاں تھیں۔ اس غلط فہمی کی بنا یہ ہے کہ تمثیل میں ۹۹ د نبیوں کا ذکر ہوا ہے۔ لیکن در حقیقت ۹۹ سے محض کثرت مراد ہے نہ کہ بعینہ یه عدد۔ مستغیث نےدر اصل تمثیل کے پیرایہ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ آپ کے پاس بہت سی عورتیں موجود ہیں۔ اور بہت سی عورتوں سے بیاہ کرنے کی آپ قدرت رکھتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ جو اشخاص فریق مقدمہ بن کر حضرت داؤد کے پاس پہنچے تھے وہ انسان نہیں بلکہ فرشتے تھے۔ اس گمان کی بناء اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ دیوار پھاند کر محراب میں پہنچ گئے تھے ۔ لیکن یہ ایک بہت کمزور بات ہے۔ فرشتوں کا انسانی صورت میں آنا بجائے خود مستبعد نہیں، مگر یہاں نہ تو فرشتوں کے آنے کی کوئی خاص ضرورت نظر آتی ہےاور نہ دیوار پھاند نا کوئی ایسی عجیب بات ہے کہ انسان کے لیے غیر ممکن ہو اور صرف فرشتوں سے ہی بن آئے ۔ پس جب اللہ نے تصریح نہیں کی کہ وہ فرشتے تھے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے دل سے ان کو فرشته بنا دیں۔
بعض لوگوں نے ان کے فرشتہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی بیان کی ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) ان کے آنے سے گھبرا گئے تھے۔ لیکن یہ استدلال بھی کمزور ہے۔ جب کوئی شخص اپنی خلوت گاہ میں ہو جہاں کسی غیر کے آنے کا سان گمان بھی نہ ہو اور اچانک کوئی شخص دیوار پھاند کراس کے پاس پہنچ جائے تو فطرت کا تقاضا ہی ہے کہ وہ گھبرا جائے۔ اس میں ایسی کون کی انوکھی بات ہے کہ آنے والوں پر فرشتہ ہونے کا گمان کیا جائے۔
سورہ نمل کے دوسرے اور تیسرے رکوع میں ملکه سبا اور حضرت سلیمان کا ذکر آیا ہے۔ اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو جب ہدہد کے ذریعے سےقوم سبا کے شرک اور آفتاب پرستی کا حال معلوم ہوا تو آپ نےاس قوم کی ملکہ کو اسلام کی طرف دعوت دی (١) ملکہ نےاس باب میں اپنےامراء داعیانِ سلطنت سےمشورہ لیا۔انھوں نے کہا کہ ہم بھی زور بازور کھتے ہیں۔ جنگ کیے بغیر اطاعت نہ کریں گے ۔ مگر ملکہ نے جنگ کی رائے سےاتفاق نہ کیا اور اس کے بُرے نتائج سے آگاہ کر کے مصالحانه روش اختیار کرنےکی رائےدی۔چنانچه سب کے اتفاق سے ایک بیش قیمت ہدیہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا گیا۔ حضرت سلیمان نے فرمایا کہ مجھے تمھارے ہدیے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمھارے اسلام یا اطاعت کا طالب ہوں ۔ غرض جنگ کا اعلان ہو گیا۔اس اعلان کے بعد حضرت سلیمان اپنے اعیانِ دولت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم میں کون ہےجو اس ملکہ کا تخت میرےپاس اُٹھا لائے؟ ایک جن نے عرض کیا کہ میں دربار کے برخاست ہونے سے پہلے اس کو لے آؤں گا۔ ایک دوسرے شخص نے جو " کتاب کا علم رکھتا تھا کہا کہ میں چشم زدن میں اس کو حاضر کیے دیتا ہوں۔ چنانچہ اُس نے فی الواقع پلک جھپکاتے تخت لا حاضر کیا۔ اس موقع پر حضرت شاہ عبد القادر رحمتہ اللہ علیہ موضح القرآن میں لکھتے ہیں :
١- معلوم رہے کہ سبا کی مملکت عرب کے علاقہ یمن میں واقع تھی اور حضرت سلیمان فلسطین و شام پر حکمران تھے
پھر جب حضرت سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر پایا تو بے اختیار بول اٹھےکہ یہ میرے رب کا فضل ہے۔ وہ مجھ کو آزماتا ہے کہ میں شاکر بندوں کی طرح اس کی نعمتوں کا ٹھیک ٹھیک حق ادا کرتا ہوں یا کافروں کی طرح کفرانِ نعمت کرتا ہوں۔ یہاں حضرت شاہ صاحب نے پھر شرح فرماتے ہوئے لکھا ہے:
"یعنی ظاہر کے اسباب سے نہیں آیا۔ اللہ تعالی کا فضل ہے کہ میرے رفیق اس درجہ کو پہنچے جن سے کرامت ہونے گئی- - - - اور اس کے پاس ایک علم تھا کتاب کا ۔ یعنی اللہ کے اسماء اور کلام کی تاثیر کا۔ وہ شخص آصف تھا اُن کا وزیر۔
آیات مذکورہ بالا اور ان کے متعلق حضرت شاہ صاحب کے حواشی پر ایک صاحب نے حسب ذیل شبہات ظاہر کیے ہیں اور ہم سے چاہا ہے کہ ان کو صاف کریں۔
١- ایک جلیل القدر پیغمبر کی شان سےیہ بہت بعید معلوم ہوتا ہےکہ وہ دوسروں کی املاک پر اس طرح کرامتوں کے زور سے تصرف کرے۔ مانا کہ کافر حربی کا مال مباح ہےمگر پیغمبر کا تقویٰ اس سے بالاتر ہونا چاہیے کہ وہ میدانِ جنگ میں مال غنیمت حاصل کرنےکے بجائے اس طرح کرامتوں کے زور سے لوگوں کی قیمتی چیزیں اٹھوا منگایا کرے۔
٢- ملکه سبا کا تخت اٹھا منگانا حضرت سلیمان کا معجزہ نہیں ہوا بلکہ ان کے ایک مصاحب کی کرامت ہوئی۔ جو پیغمبر شیاطین اور جنات کو مسخر کر سکتا تھا کیا خود اپنی قوت اعجاز سے تخت نہیں لاسکتا تھا ؟
۳۔ بائیبل اور تلمود میں جہاں انبیاء بنی اسرائیل کے مفصل سوانح حیات مذکور ہیں کوئی تذکرہ اس قسم کا نہیں پایا جاتا کہ حضرت سلیمان نے اس طرح تخنت اٹھوا منگوایا تھا۔
سب سےپہلےیہ سمجھ لیجیےکہ اسلام نہ تو حکومت خود اختیاری(سیلف گورنمنٹ ) کا قائل ہےاور نہ جہانگیری (امپریلزم) کا۔اس کا نظریۂ سلطنت تمام دنیا کےنظریات سےمختلف ہےاور جذبات و خواهشات نفس کےبجائے خالص عقلی اصول پراسکی بنیاد رکھی گئی ہےاس نظریہ کا لب لباب یه ہےکہ زمین کی حکومت صرف صالحین کا حق ہےاور مرد صالح وہ ہےجو خدا کا مطیع فرمان اور اس کی ہدایت کا پیرو ہو جو خدا کی بخشی ہوئی طاقت کو اس کےقانون کی صحیح پیروی میں استعمال کر سکتا ہو اور جس کےپیش نظر اپنےنفس یا اپنی قوم کا مفاد نہیں بلکہ کل نوع انسانی کا اخلاقی و روحانی اور مادی فائدہ ہو۔ ایسا شخص کسی ایک قوم کی میراث نہیں تمام انسانیت کا مشترک سرمایہ ہے۔ اس کو یہ حق پہنچتا ہے اور اسی پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہےکہ تمام دنیا میں خدا کےقانون کی حکومت قائم کرےاور خدا کےبندوں کو گمراہوں اورظالموں کی حکومت سے اور اُن کےبےجا قوانین کی جکڑ بندی سے نجات ولائے اُس کے مقابلہ میں وہ لوگ جن کے پاس نہ ہدایت الہی ہے نہ الہی قانون ہے۔نہ ایسی طہارت نفس ہےکہ خود غرضی اور تکبر سےبالا تر ہو کر خالص مفاد انسانیت کی خدمت کےلیے حکومت کریں ہرگز اس کا حق نہیں رکھتےکہ حکومت وسلطنت کی باگیں ان کےہاتھوں میں رہیں۔ وہ خواہ اپنی قوم پر حاکم ہوں یا غیر قوموں پر بہر حال وہ ظالم ہیں ۔ مرد صالح کو حق پہنچتا ہے کہ اگر طاقت اس کے ہاتھ میں ہو تو ایسے لوگوں سے حکومت چھین لے۔
اس معاملہ میں اسلامی قاعدہ یہ ہے کہ پہلے ان کو قبول حق کی دعوت دی جائے گی۔اگر انھوں نے مان لیا اور قانون الہی کے متبع بن گئے تو وہ صالحین کے گروہ میں شامل ہو جائیں گے اور اپنی صلاحیت کے مطابق ان کو حکومت میں حصہ لینے کا حق مل جائے گا۔ لیکن اگر انھوں نے انکار کیا تو وہ حاکم بن کر نہیں رہ سکتے ۔ ان کو طاقت سے مغلوب کر کے ان کی حکومت مٹا دی جائے گی اور انھیں اسلام کے سیاسی اقتدار کا تابع بن کر رہنا پڑے گا۔تا کہ وہ کم از کم خدا کی زمین میں شر و فساد تو نہ پھیلا سکیں ۔ باقی رہا ان کا شرک و کفر تو اس کو سزا ان کو خود اللہ تعالیٰ قیامت کے روز دے گا۔ دُنیا میں ان کو یہ آزادی حاصل رہے گی کہ جس اعتقاد اور جس مذہب کی چاہیں، پیروی کریں۔
اس اصولی بات کو سمجھ لینے کے بعد اب حضرت سلیمان علیہ السلام کے طرز عمل کو ملاحظہ کیجیے۔ وہ اللہ کے پیغمبر ہیں اللہ نےان کو علم حق عطا کیا ہے ۔ وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُدَ سُلَيْمَان عِلْمًا (النمل: ۱۵) ان کو اخلاق اور عمل صالح کے اعتبار سے نہ صرف کفار پر بلکہ عام مومنین پر بھی برتری عطا فرمائی گئی ہے (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِینَ - النمل : ۱۵) ۔ وہ خدا کی بندگی اور فرمانبرداری میں کامل ہیں ۔ (نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ اواب-ص: ۳۰) اور ان کے والد ماجد حضرت داؤد علیہ السلام ہی کی زبان سے اللہ تعالیٰ اپنے اس قانون کا اعلان کر چکا ہےکہ زمین کے جائز وارث اور خلافت ارضی کےاصلی حقدار صرف وہ بندےہیں جو صالح ہوں۔ (وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ - الانبياء : ۱۰۵) اسی بنیاد پر وہ فلسطین و شام کی اسلامی مملکت پر فرمانروائی کر رہے ہیں۔
اس حالت میں ان کو خبر ملتی ہے کہ ایک قوم آفتاب کی پرستار شیطان کی متبع اور راہِ راست سے ہٹی ہوئی ہے (يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنُ لَهُمُ الشَّيْطَنُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّ عَنِ السَّبِيْلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ - انمل: ۲۴) قاعدہ اسلامی کے مطابق وہ اس قوم کے اہل حل و عقد کو دعوت دیتے ہیں کہ یا اسلام قبول کرو یا حکومت صالحہ کے مطیع بن کر رہو کیونکہ شیطانی طریقہ کے پیرو ر ہتے ہوئے تم کو خدا کی زمین پر حکومت کرنے کا حق نہیں ہے۔ (الَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأتُوتِى مُسْلِمِينَ - النمل: ۳۱) اس قوم کی ملکہ اس نامہ گرامی کو دیکھ کر ایمان کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔ (وَأَوْتِيْنَا الْعِلْمِ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِين - النمل : ۴۲ ) مگر قومی عصبیت اور دین آبائی کی محبت اس کو ایمان لانے سےروک دیتی ہے۔ (وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كَفِرِينَ النمل :۴۳) اپنی سلطنت کے امرا داعیان سے رائے لیتی ہے ۔ وہ لڑنے پر آمادہ ہو جاتےہیں۔ ملکہ ان کو روکتی ہے اور حضرت سلیمان کو ہدیہ بھیج کر راضی کرنا چاہتی ہے۔ لیکن حضرت سلیمان اس پیش کش کو رو فرما دیتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ دنیوی بادشاہوں کی طرح نہیں ہیں جن کا مقصود محض مال و دولت ہوتا ہے بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس کام پر مامور ہیں کہ لوگوں کو دین الہی کا پیرو بنائیں یا کم از کم ان حکومتوں کو جو عصیان و طغیان پر قائم ہوں، مٹاکر ان کی جگہ انہی قانون کی حکومت قائم کر دیں۔ اس بنا پر وہ مالی نذرانہ کو رڈ کر کے ملکہ سبا کو جنگ کی دھمکی دیتے ہیں۔ (قال الْمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا النِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا انكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بِهَذِتِبِكُمْ تَفْرَحُونَ - ارْجِعُ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْ تِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَلَنُخْرِ جَنَّهُمْ مِنْهَا أَذِلَّةٌ وَهُمْ صَاغِرُوْنَ - امل : ۳۶-۳۷) یہ دھمکی کارگر ہو جاتی ہے اور ملکه خود اطاعت قبول کر کے حضرت سلیمان سے ملنے کے لیے بیت المقدس حاضر ہوتی ہے۔
اس موقع پر حضرت سلیمان اپنے اہل دربار سے فرماتے ہیں کہ ملکہ کے حاضر ہونے سے پہلے اس کے محل سے اس کا تخت اٹھا لاؤ۔ اس فرمائش کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اس کے تخت کی تعریف سن کر حضرت سلیمان کے منہ میں پانی بھر آیا اور وہ اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے ۔ بلکہ اصل غرض یہ تھی کہ ملکہ کے سامنے خدا کی بخشی ہوئی طاقتوں کا ایک ایسا مظاہر کیا جائے جسے دیکھ کر وہ ذقی بن کر رہنے کے بجائے نعمت ایمان پالے اور مومن بن کر رہے۔ چنانچه تخت منگا لیا گیا اور جب ملکہ ملاقات کے لیے حاضر ہوئی تو اس کےسامنے اس کا اپنا تخت بالکل انجام بن کر پیش کیا گیا (قَالَ نَكَّرُوا لَهَا عَرْفَهَا فَتَنظُرُ اتَهْتَدِى أَلَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِيْنَ لَا يَهْتَدُونَ - النمل: ۴۱ ) ملکہ نے دیکھا تو پہچان گئی کہ یہ اسی کا تخت ہے۔ اس چیز نے اس کی آنکھیں کھول دیں اور وہ ایمان جو حضرت سلیمان کی پہلی دعوت پر محض ایک جھلک دکھا کر غائب ہو گیا تھا اپنی پوری روشنی کے ساتھ اس کے دل میں اتركيا (قَالَتْ كَانَّهُ هُوَ وَ أَوتِينَا الْعِلْمِ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ - امل : ٣٢)
اس تشریح سے یہ شبہ رفع ہو جاتا ہے کہ ایک جلیل القدر پیغمبر نےکرامت کےزور سےدوسرے کی ملک پر تصرف کیا در اصل وہاں سرےسےقبضہ و تصرف کیا ہی نہیں گیا تھا بلکہ ایک مشرک قوم کی ملکہ اور اسکےاعیان سلطنت کو خدا داد قوتوں کا ایک کرشمہ دکھایا گیا تھا اور وہ بھی تماشہ گری کی غرض سےنہیں بلکہ اس غرض سےدکھایا گیا تھا کہ وہ شرک چھوڑ کرخالص خداپرستی اختیار کرلیں۔اس سلسلہ میں قرآن مجید حضرت سلیمان علیہ السلام کےاخلاص اور لهیب کی جو شہادت پیش کرتا ہےوہ ان شہبات کےلیےکوئی گنجایش نہیں چھوڑتی جو مستبصر نےپیش کیےہیں۔ملکه سبا ان کے سامنےایک کثیر رقم نذرانہ کےطور پر پیش کرتی ہے مگر وہ اس مال و دولت کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیتے ہیں کہ میرے خدا نے جو کچھ مجھ کو دیا ہے وہ تمھارے مال سے بہتر ہے۔ ملکہ کا تخت جب آن کی آن میں ان کے سامنے حاضر ہو جاتا ہے تو اپنی طاقت و شوکت پر فخر و غرور کا ایک حرف بھی اُن کی زبان پر نہیں آتا۔ بے اختیار اپنے پروردگار کے فضل و احسان کی تعریف کرتے ہیں اور سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔ پھر جب سبا کی ملکہ اطاعت گزار بن کر دربار میں آتی ہے تو اس کے ملک کا کوئی حصہ نہیں مانگا جاتا۔اس سےتجارتی اور معاشی مراعات و امتیازات کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ اس کی ریاست پر انتداب ( مینڈیٹ ) یا حمایت (پروٹیکٹوریٹ ) قائم کرنےکی تجویز نہیں کی جاتی ۔ اس کےہاں ریذیڈنسی اور ہائی کمشنری قائم کرنےکا ذکر بھی درمیان میں نہیں آتا۔ان سب چیزوں کےبجائے اس کے سامنے صرف ایک چیز پیش کی جاتی ہے اور وہ ہے کلمہ حق اور اس کی تائید میں خدائی طاقت کا ایک نشان (یعنی خود اس کا تخت ) اس کو دکھایا جاتا ہےتا کہ اس کو ہدایت ہو۔ اس معجزہ کو دیکھ کر ادھر ملکہ پکار اٹھتی ہےکہ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (النمل: ۲۴) اور ادھر اسلامی سلطنت کا فرمانروا مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس کا مقصد پورا ہو گیا۔
اب دوسرے سوال کو لیجیےیعنی یہ کہ یمن سے ملکہ کا تخت اٹھوا منگوانےکا معجزہ حضرت سلیمان کے بجائے ایک دوسرے شخص کےذریعہ سےکیوں صادر ہوا ؟ ظاہر ہے کہ یہ کام اللہ ہی کے اذن اور اسی کی طاقت سے ہوا تھا۔ اور اللہ چاہتا تو یہی کام اپنے پیغمبر سےبھی لےسکتا تھا۔ مگر جب اس نے ان کے بجائے ایک دوسرے شخص کو اس کےلیےانتخاب کیا تو ضرور ہے کہ اس میں بھی کوئی مصلحت ہوگی۔ وہ مصلحت کیا تھی؟اس بارےمیں یقین کےساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔تا ہم غور کرنے سے میری سمجھ میں جو بات آئی ہےوہ یہ ہے کہ شاید یہاں جن کی قوت ناریہ اور انسان کی قوت علمیہ کا فرق ظاہر کرنا مقصود(۱)تھا۔ انسان اگر چہ قید جسمانی میں رہ کر اپنی محدود ماڑی طاقت سےکوئی فوق العادت کام نہیں کرسکتا اوراس حیثیت سےجن کا وجود ناری انسان کے وجودِ خاکی سےبہت زیادہ قوی ہے۔لیکن جب علم کی قوت انسان کےساتھ ہو تو وہ تمام طاقت ور مخلوقات سے بڑھ کر طاقتور ہو جاتا ہے۔ اس قوتِ علمیہ کا مظاہرہ اگر ایک پیغمبر کے ذریعہ سے کرایا جاتا تو اس شبہ کی گنجائش نکل سکتی تھی کہ پیغمبر تو جن وانس میں سب سے افضل ہے۔ اس کی فوقیت اگر ثابت ہو گئی تو اس سے بشر من حیث البشر کا علمی تفوق ظاہر نہیں ہوا۔ اس لیے اللہ تعالی نےایک معمولی غیر بنی انسان سے اس علمی طاقت کا مظاہرہ کرا دیا تا کہ حقیقت بالکل عیاں ہو جائے۔ادنی شبہ بھی باقی نہ رہے۔
رہا یہ سوال کہ اس قصہ کی یہ تفصیلات جو قرآن میں ہیں، وہ بائیل اور تلمود میں کیوں نہیں ہیں ؟ تو اس کا جواب آپ کو قرآن اور ان کتابوں کے متقابل مطالعہ سےخودمل جائےگا۔ بائیل اور تلمود میں ہر طرح کے رطب و یابس افسانے بھرے ہوئے ہیں اور ان میں اکثر ہیرے چھوڑ کر کو نکلے چنے گئے ہیں۔ بیسیویں صفحے پڑھ جائے تو کہیں انفاق سےکوئی ایک کام کی بات ملے گی۔ جو قصہ بیان ہوگا اُس کی غیر ضروری تفصیلات تو بہت مل جائیں گی مگر کم ہی کوئی ایسی چیز پائی جائے گی جو اپنےاندر کوئی حکمت کوئی موصلت' کوئی دینی اخلاقی، شرعی یا سیاسی سبق رکھتی ہو ۔ بخلاف اس کےکہ قرآن میں تمام غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ کر انبیاء علیہم السلام کی سیرتوں کا عطر نکال لیا گیا ہے اور صرف وہ چیزیں پیش کی گئی ہیں جو ہر زمانے اور ہر قوم کے انسانوں کے لیے اپنے اندر بے حد و حساب ہدایتیں رکھتی ہیں ۔ بیکار تاریخی جزئیات ان کتابوں میں بہت ہیں اور قرآن میں کہیں نہیں ۔سبق آموز واقعات تمام تر قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور یہ کتا بیں ان سے خالی ہیں۔
١- قصے کا یہ پہلو پیش نظر رہے کہ دربار سلیمانی کے ایک نہایت طاقتور جن نے کہا تھا کہ میں دربار برخاست ہونے سے پہلے پہلے یمن سے تخت اٹھا لاؤں گا مگر جس انسان کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے پلک جھپکاتے ہی تخت لا حاضر کیا۔
بات یہیں تک نہیں، اس سے بھی زیادہ افسوس ناک ہے۔ متعدد پیغمبروں کی زندگیوں کو بائیل اور دوسری اسرائیلی روایات میں اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ ان کو پیغمبر مانا در کنار کوئی اعلیٰ درجہ کا شریف انسان تسلیم کرنا بھی مشکل ہے۔ یہ فخر صرف قرآن کو حاصل ہے کہ اس نے انبیاء علیہم السلام کی سیرتوں کو ان اسرائیلی نجاستوں سے پاک کیا ہے اور از سرنو دنیا میں اُن پاک شخصیتوں کی وہ عظمت و حرمت قائم کی ہے جس کے وہ در اصل مستحق تھے ۔ حضرت نوع حضرت ابراہیم حضرت لوط “ حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب حضرت یوسف حضرت ہارون حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کےحالات بائیل میں پڑھیئے کتنے ہی سیاہ دھبے آپ کو وہاں نظر آئیں گے ۔ قرآن میں دیکھیے ۔ آسمان عز و شرف کے چمکتے ہوئے مہ و انجم دکھائی دیں گے ۔خود حضرت سلیمان کو اسرائیلیات میں نبوت کیا معنی ایمان سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ بائیل کہتی ہے کہ آخر عمر میں دو زن پرستی میں ایسے غرق ہوئے کہ شرک تک میں مبتلا ہو گئے ۔ اس کے برعکس قرآن کہتا ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ کے مومن اور اللہ کے جلیل القدر پیغمبر تھے اور آخر وقت تک یہی کچھ رہے۔
بنی اسرائیل کا مذاق اخلاقی و روحانی معاملات میں کچھ اس درجہ پست ہو گیا تھا کہ انھوں نے صرف یہی نہیں کہ اپنی مذہبی کتابوں میں خود اپنے انبیا ء کی سیرتوں کو بھونےافسانوں سے داغ دار بنایا بلکہ جب قرآن مجید نے ان بزرگوں کے ملکات فاضله اور اخلاق حسنہ اور ان کے بلند پایہ کارناموں کی صحیح تصویر کھینچی اب بھی انھوں نے اسے قبول نہ کیا۔ان کو یقین ہی نہ آیا کہ انسانی سیرت اتنی پاکیزہ بھی ہو سکتی ہے، بشری اخلاق اتنے بلند بھی ہو سکتے ہیں' آب و گل کے بنے ہوئے آدمی اس قدر پاک نفس عالی حوصلہ اور فانی فی اللہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اُن کے تصور سے یہ چیزیں بہت بالا و برتر تھیں۔ اسی لیے نزول قرآن کے بعد اسرائیلی مذاق کی کارفرمائی پھر شروع ہو گئی۔ قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کے جو قصے بیان ہوئے ہیں ان میں سے ایک ایک پر ہاتھ صاف کیا گیا اور ہر ایک کی جان نکال لی گئی۔ قرآن کا انداز بیان یہ ہے کہ وہ قصوں کی غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ کر صرف کام کی باتیں لے لیتا ہے۔اس طرح واقعات کےدرمیان جو خلا چھوٹ جاتا ہے پڑھنے والا خود اس کو اپنے تصور سےیا بیرونی معلومات سے(اگر ہوں تو ) بھر سکتا ہے۔مگر اسرائیلی مذاق رکھنے والوں نے اس خلا کو افسانوں سے پر کیا اور افسانےبھی ایسےپست اور گھٹیا کہ اُن کی آمیزش سےان قصوں کے سارے اخلاقی فوائد برباد ہو کر رہ گئےبدقسمتی سےقصص القرآن کی تفسیروں میں یہی اسرائیلیات کثرت سے رائج ہو گئے ہیں، اور قرآن کا مطالعہ کرنے والوں کو اکثر شبہات انھی کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔
اس قصه سلیمان و ملکه سبا کو دیکھ لیجیے۔ قرآن کے صاف اور سادہ بیان میں حضرت سلیمان کی سیرت پاک کا کتنا اچھا نقشہ کھینچا گیا ہے مگر اسرائیلی مذاق کی کارفرمائی نے اس کی اہم خصوصیات میں سے ایک ایک کو مٹا کر چھوڑا اور اس کو اپنے بلند مقام سے گرا کر ایسی پستی میں پھینک دیا کہ اس میں کوئی تعلیمی روح باقی ہی نہ رہی بلکہ پڑھنے والا اگر اس روشنی میں اس قصے کو پڑھے تو اس کو تعجب ہوگا کہ قرآن میں اس قصہ کی ضرورت ہی کیا تھی۔
ملکہ نے دوسو غلاموں اور دوسولونڈیوں کو ایک سالباس پہنا کر بھیجا تھا جس میں تمیز نہ ہوتی تھی کہ غلام کون ہے اور لونڈی کون ۔ وہ اس سے حضرت سلیمان کی عقل کا اندازہ کرنا چاہتی تھی۔ حضرت سلیمان کےپاس یہ جماعت پہنچی تو انھوں نےلونڈیوں کو الگ اور غلاموں کو الگ کر دیا اور کہا کہ ان کو لےجاؤ ایسا ہد یہ تمہیں کو مبارک رہے۔ اس توجیہ کے بعد اب ذرا پھر حضرت سلیمان کے جواب پر ایک نظر ڈالیے ۔ کیا اب بھی اس میں کوئی جان کوئی بلند اخلاقی زوح باقی رہ جاتی ہے۔
تخت اُٹھوا کر منگوانے کی مصلحت بھی آپ کو اوپر معلوم ہو چکی ہے۔ اب ذرا اس کی توجیہ کو بھی دیکھیے جو اسرائیلیات کےزیر اثر کی گئی ہے۔ ہد ہد نے حضرت سلیمان سےسبا کے تخت شاہی کی بڑی تعریف کی تھی۔ سارا تخت سونےاور بیش قیمت جواہرات کا بنا ہوا ہےکاریگری کا عجیب نمونہ ہے۔ ایک بے بہا چیز ہے۔حضرت سلیمان ان تعریفوں کوسن کر بے تاب ہو گئے ۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ فوج ملکہ سبا اور اعیانِ سلطنت کو لیے آتی ہے تو انھیں خیال ہوا کہ اگر یہ لوگ مسلمان ہو گئے یا انھوں نے اطاعت قبول کر لی تو پھر یہ چیز ہاتھ نہ آسکے گی۔ لہذا انھوں نے حکم دیا کہ ان کے آنے سے پہلے تخت یہاں لے آؤ انا اللہ وانا الیہ راجعون!
تخت کو ملکہ کےسامنےپیش کرنےکااصل مقصد تو یہ بتانا تھا کہ تو جس متاع عزیز کو قفلوں میں بند کرکےبڑے چوکی پیروں میں رکھ آئی تھی وہ یہاں حاضر ہے۔ یہ الہی علم کی طاقت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے اور تیری آنکھوں کےسامنے ہے۔دلائل عقلی کے ساتھ اس وليلي ماڈی کو محض اس لیے پیش کیا گیا تھا کہ کسی طرح اس عورت کو ہدایت نصیب ہو جائےخود حضرت سلیمان نے اس فعل کی غرض یہی بتائی ہےکہ نَنظُرُ أَتَهْتَدِى لَمْ تَكُونُ من اللين لا يفتنون (النمل: (۳) عمر ایسی کھلی ہوئی بات بھی افسانہ طلب حضرات کےذہن کی رسائی سے بالاتر ثابت ہوئی۔ انھوں نے تخت کو پیش کرنے کی توجیہ یہ کی ہے کہ حضرت سلیمان اس کی معقل کا امتحان لینا چاہتے تھے اس لیے تخت کی ساخت میں کچھ ترمیم کرا دی اور اس کے سامنے رکھوا دیا یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ اس کو پہچانتی ہے یا نہیں ۔ انبیاء کے کاموں کو جب عامیانہ نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے تو وہ اسی طرح بلند مقاصد اور اعلیٰ درجہ کے مصالح وحکم سے خالی نظر آتے ہیں۔
سب سےزیادہ رکیک بات جو اس سلسلہ میں کہی گئی ہے وہ شیش محل میں ملکہ سبا کی حاضری کے متعلق ہےقرآن مجید میں ارشاد ہوا ہےکہ حضرت سلیمان نےملکہ کےسامنےاس کا تخت پیش کرنےکےبعد اسےاپنا شیش محل دکھایا جس کا فرش بھی شیشےیا بلور کا تھا۔ملکہ جب وہاں پہنچی تو شیشےکےفرش کو پانی سمجھ کر اپنے پانچے اُٹھانے لگی۔حضرت سلیمان نے کہا کہ یہ شیشے کا فرش ہےاب ملکہ کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں ۔ اُس کےدل نے گواہی دی کہ جس شخص کے پاس اتنی بڑی سلطنت ہے اتنی دولت ہے اس قدر اسباب میش و نعمت ہیں، ایسی غیر معمولی طاقتیں ہیں کہ چشم زدن میں خود میرا تخت ہزاروں میل سےاُٹھوا منگاتا ہے اور پھر ان سب چیزوں کے باوجود اس کے اخلاق کا اس کی طہارت نفس کا اس کے تقویٰ اور خلوص وللہیت کا یہ حال ہے وہ یقینا ایک سچا آدمی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اس کے دعوائے نبوت کی تکذیب کی جائے اسی لیے وہ بے اختیار پکار اٹھی که رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِى وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (النمل :۴۴) اے پروردگارا میں نے اپنے اوپر ظلم کیا کہ اب تک تجھے چھوڑ کر آفتاب کی پرستش کرتی رہی۔اب میں سلیمان کے ساتھ اُس اللہ کی بندگی اختیار کرتی ہوں جو سارے جہان کا ربّ ہے ۔یہ تو ہے قرآن کا بیان ۔ مگر اب ذرا اسرائیلی مذاق کی تفسیر دیکھیے جو شیاطین اور جن حضرت سلیمان کے تابع فرمان تھے۔ انھیں خوف ہوا کہ حضرت کہیں ملکہ سبا پر ریجھ نہ جائیں۔ اس لیے انھوں نے کہا کہ یہ عورت ایک جتنی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوئی ہے اور اس کے پاؤں انسان کے سے پاؤں نہیں بلکہ گدھی کے سے کھر ہیں۔ حضرت سلیمان نے اس بیان کی حقیقت معلوم کرنے کے لیےحکم دیا کہ ایک شیش محل بنایا جائے جس کا فرش بھی شیشے کا ہو اور اس فرش کے نیچے پانی بھر دیا جائے۔مقصد یہ تھا کہ ملکہ جب وہاں داخل ہو گی تو پانی دیکھ کر اپنے پانچے اٹھا لے گی اور یوں اس کی پنڈلیاں دیکھنےکا موقع مل جائےگا۔ نعوذ بالله من ذلک۔ یہ ایک نبی کا قصہ ہےیا کسی نفس پرست اور دنی الطبع بادشاہ کا؟
یہ چند نمونے ہیں جن سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی مذاق اور اسرائیلی ذهنیت نے توریت کی تعلیمات کو مسخ کرنے کے بعد قرآن کی تعلیمات کو بھی مسخ کرنے اور انبیاء علیہم السلام کی پاک زندگیوں پر اپنے تخیل کےسیاہ دھبتے ڈالنےمیں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی تھی۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ اُس نے قرآن کو اس کے اصل الفاظ میں محفوظ کر دیا ہے جن کی طرف رجوع کر کے ہر صاحب نظر انسان حقیقت کو افسانوں سے الگ کر سکتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص قرآن کی موجودگی میں بھی اسرائیلیات سے شغف رکھے اور انھی کے افسانوں کو قرآن کی تعبیر وتفسیر کا ذریعہ سمجھتا ر ہے تو یہ اس کی اپنی غلطی ہے۔
یہ مضمون ایک کتاب پر تنقید کےسلسلےمیں لکھا گیا تھا جو چند سال قبل شائع ہوئی تھی۔ابتداء ہم نےمصنف کے ان خیالات پر مختصر تنقید کی تھی جو انھوں نے اپنی کتاب میں جنوں کے متعلق ظاہر کیے تھے۔پھر ایک اہل قلم نے اس تنقید پر تعاقب کیا تھا۔ اس کے جواب میں یہ مضمون لکھا گیا۔ چونکہ اس سے مقصود محض فائدہ علمی ہے کسی پرانی بحث کو تازہ کرنا نہیں ہے۔ اس لیے دونوں صاحبوں کے نام حذف کر دیے گئے ہیں۔
"جن" کی حقیقت کےمتعلق شبہات کی ابتدا دور جدید میں غالبا انیسویں صدی کےوسط آخر میں ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں محض کسی مذہبی کتاب کی سند پر کسی ایسی شےکو موجود مائنا جس کےوجود کا کوئی سائنٹفک ثبوت موجود نہ ہو بڑے شرم کی بات ہوگئی تھی اور ایسی شرم ناک بات کا ارتکاب صرف وہی شخص کر سکتا تھا جو اس زمانےکے اہل علم کی نگاہوں میں تاریک خیال اور تو ہم پرست گٹھ ملا بننےکے لیے تیار ہوتا۔ ان حالات میں ان مسلمانوں نے جو اپنی دنیوی ترقی کےلیےاپنےغیر مسلم آقاؤں اور پیشواؤں کی نگاہ میں روشن خیال اور عقل پرست بننا ضروری سمجھتےتھےایک نئی نگاہ سےقرآن مجید کا مطالعہ شروع کیا اور ہر اس مسئلےکوجسے ماننےکےلیےانیسویں صدی کےمادہ پرست بندگانِ حواس و پرستاران عادت آمادہ نہ ہو سکتےتھےایسے عجیب طریقوں سےتاویل کی خراد پر چڑھایا کہ وہ مسئلہ قرآن سےخارج بھی نہ ہوا اور ان لوگوں کےافکار و تخیلات کے مطابق ڈھل بھی گیا جو قرآن کی رُوح اور اس کے اصول اولیہ سے بنیادی اختلاف رکھتے تھے۔اس سلسلہ میں جن قرآنی ارشادات کو تو ڑا مروڑا گیا، انھی میں سے ایک وہ ارشادات ہیں جو ابلیس، شیاطین اور جنوں سے تعلق رکھتےہیں۔کہا گیا ہےکہ ان الفاظ سےکوئی ایسی مخلوق مراد نہیں ہےجو انسان سےالگ فوق الطبیعی وجود رکھتی ہو بلکہ اُن سے کہیں تو انسان کی اپنی بہیمی قوتیں مراد ہیں، جنھیں شیطان کہا گیا ہے اور کہیں ان سے مراد وحشی اور جنگلی اور پہاڑی قو تیں ہیں اور کہیں ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو چھپ چھپ کر قرآن مجید سنا کرتےتھے ۔ یہ تاویلات اتنی رکیک ہیں کہ ان کا ارتکاب صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو یا تو عربی زبان اور قرآن مجید کا تھوڑا سا علم بھی نہ رکھتا ہویا پھر وہ جس کے دل میں خدا اور یوم آخر کےخوف سے زیادہ اہل دنیا کا خوف ہو۔ لیکن ۱۸۵۷ء کے ہنگامے کے بعد جن حالات سے ہندوستان کے مسلمان گزرے ہیں ان میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئی تھیں، اس لیے یہ اور ان سے بھی زیادہ رکیک تاویلات قرآن مجید میں کی گئیں، اور طرفہ ماجرا یہ کہ ادعائے علم و حمایت اسلام کے ساتھ کی گئیں۔
جس طرح انسان پر بہت سے دور گزر چکے ہیں اسی طرح یہ دور بھی گزر گیا۔ اب خود یورپ میں بھی ایک بڑا گر وہ ایسا پیدا ہو چکا ہے جو روحانیت کا قائل ہےاور اس محسوس و مرئی دنیا کے علاوہ ایک ایسےعالم کے وجود کو بھی مانتا ہےجو ہمارےحواس سے پوشیدہ ہے۔ اس لیے اب جن و شیاطین کے مستقل وجود کو تسلیم کرنا اتنا خطر ناک نہیں رہا ہے جتنا اب سے پہلے کچھ مدت تھا۔ تاہم ابھی اس دور کے اثرات بالکل زائل نہیں ہوئے ہیں اور ابھی ایک محض قرآن کی سند پر کسی ایسی بات کو ماننے سے دماغ انکار کر رہے ہیں جو فوق الطبیعی ہونے کے ساتھ خارق عادت بھی ہو ۔ یہ اسی دور کے بچے کھچے اثرات تھے جو اس کتاب میں ہم کو نظر آئے ۔ مولانا قرآن کے صحیح ارشادات کو دیکھ کر یہ تو مانے پر مجبور ہو گئے کہ جن سے مراد وہ ایک آتشیں مخلوق ہے جو انسان سے علیحدہ وجود رکھتی ہے۔ لیکن قرآن مجید میں جگہ جگہ جنوں کی طرف جو امور منسوب کیے گئے ہیں، وہ چونکہ خارق عادت ہیں اور ان کو بعینہ اس طرح مانتا جس طرح قرآن میں وہ بیان ہوئے ہیں اقتضائے عقلیت کےخلاف محسوس ہوتا ہے اس لیے انھوں نے کسی نہ کسی طرح تاویل کر کے جنوں کی دو قسمیں قرار دے لیں۔ ایک وہ مخصوص نوع کی مخلوق جو تاری الوجود ہے اور انسان سےاصلاً مختلف ہے۔ دوسرے انسانوں کا کوئی خاص طبقہ جس کے متعلق نہ وہ خود جانتے ہیں نہ کسی حوالہ سے بتا سکتے ہیں کہ وہ کون سا طبقہ ہے اور کس بنا پر جن کے نام سے موسوم ہو گیا ؟
ہمارے دوست ... الحمد لله ان اثرات سے محفوظ ہیں مگر پھر بھی ایک مقام پر ان کو "جن" کے انسان ہونے کا شبہ ہو ہی گیا۔ وہ مولانا کےاس خیال سےتو متفق نہیں ہیں کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں جن وانس کے الفاظ ساتھ ساتھ آئےہیں وہاں جن سےمراد وہ آتشیں جن نہیں بلکہ انسانوں ہی کا ایک طبقہ ہےلیکن خاص کر حضرت سلیمان کے جنوں پر ان کو بھی شبہ ہے کہ وہ انسان ہی تھے آتشیں نہ تھے۔ کیونکہ وہ نظر نہ آتے تھےاور انسانوں کی طرح غوطے لگاتے اور برتن بناتے تھے۔
اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ جب اپنی معلومات میں سے کسی ایسی شے کو جو ہمارے دائرہ علم و ادراک سے خارج ہے ہمارے علم میں لانا چاہتا ہے تو لامحالہ وہ اس شے کو ہماری زبان کے کسی ایسے ہی لفظ سے تعبیر کرتا ہے جس کو ہم نے اُس چیز کے ساتھ کسی قریب تر مشابهت رکھنے والی کسی چیز کے لیے وضع کیا تھا۔ تا کہ ہم اُس شے کا کسی حد تک صحیح تصور کر سکیں جو اللہ کےعلم میں ہےاور ہمارےعلم میں نہیں ہے۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ حق تعالیٰ کسی چیز کو یونہی کسی مناسبت اور ربط معنوی کے بغیر کسی خاص لفظ سے موسوم کر دئے درآنحالیکہ اس چیز کے لیے دوسرے الفاظ کو چھوڑ کر اس خاص لفظ کو ترجیح دینے کی کوئی معقول وجہ نہ ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو جس چیز کو جنت" سے تعبیر کیا گیا ہے اس کے لیے "جنت" کا لفظ "جہنم "کے مقابلہ میں اولی نہ ہوتا اور جس چیز کو ”نور“ سے تعبیر کیا گیا ہے اس کے لیے”نار“ کا استعمال بھی اسی طرح جائز ہوتا جس طرح کہ نور کا لفظ ہے۔
دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ جب انسانی زبان کا کوئی ایسا لفظ اپنی کتاب میں استعمال فرماتا ہے جس کے ایک معنی لغت اور محاورے میں معلوم و معروف ہوں تو لا محالہ کتاب الہی میں بھی اس لفظ کے وہی معنی قرار پائیں گے جو لغت اور محاورے میں شائع و ذائع ہیں ۔ الا یہ کہ کسی صریح علامت سے ہم کو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کو کسی خاص موقع پر یا مستقل طور پر عام معنی سے الگ اپنے ایک اصطلاحی معنی میں استعمال فرمایا ہے۔ ایسی کوئی علامت موجود نہ ہونے کی صورت میں یہ کسی طرح درست نہیں ہو سکتا کہ لغت اور محاورے سے قطع نظر کر کے کتاب الہی کے کسی لفظ کا خواہ مخواہ کوئی من مانا مفہوم لے لیا جائے ۔ یہ دروازہ اگر کھل جائے تو پھر تاویل و تفسیر سے گزر کر معاملہ مسخ و تحریف تک جا پہنچتا ہے اور اس کے بعد انکل کچھ تفسیروں کا سلسلہ کسی حد پر جا کر رک نہیں سکتا۔
"جن" کا مادہ ج ن ن ہے۔ اس مادہ کا مرکزی تصور ” پوشیدگی ہے اور اس کےتمام مشتقات میں کسی نہ کسی طور پر یہ تصور ضرور پایا جاتا ہے۔ أَصْلُ الجِن سِترُ اللنِي مِنَ الْحَاجَّةِ (راغب) كُلُّ شَيْئَ سَتَرَ عَنكَ فَقَدْ جَنَّ عَنكَ (جمہره ابن ورید ولسان العرب)۔ اسی بنا پر جنان ہر چیز کے جوف کو کہتے ہیں جو نظر نہیں آتا۔ رُوح کو جنان اس لیےکہتےہیں کہ جسم اس کو چھپائے ہوئے ہے۔دل کو جنان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ صندوق سینہ میں مستور ہے۔ حریم خانہ کو جنان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ چار دیواری میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ باغ کو جنت اس لیے کہتے ہیں کہ درختوں کے جھنڈ اس کی زمین کو چھپا لیتےہیں۔ اگر باغ میں یہ صفت نہ ہو تو اس کو جنت نہیں کہہ سکتے ۔ بچہ جب تک ماں کے پیٹ میں ہے جنین ہے۔ رحم کو بھی جنین کہتے ہیں۔ میت جب دفن کر دی جائے تو وہ بھی جنین ہے۔ حتی کہ ہر چیز جو چھپی ہوئی ہے اس پر جنین کا اطلاق ہوگا۔چنانچہ چھپےہوئے کہنے کو حقد جنین کہا گیا ہے۔ قبر کو جکن کہتے ہیں ۔ کفن کے لیے بھی یہ لفظ آیا ہے۔ دفن کرنےکے لیے اجنان کا لفظ آتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے: وَلِيَ دَفْنَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاجْنَانَهُ عَلى وَالْعَبَّاسُ - پردے اور آپ کو نہ کہتے ہیں۔ چنانچہ قرآن میں ہے الخذوا أيْمَانَهُمْ جُنَّة (منافقون : ۲) انھوں نے اپنی قسموں کو اُس نفاق کے لیے پردہ بنا لیا ہے جو وہ اپنے دلوں میں لیے ہوئے ہیں ۔ جَنَّهُ وَجَنَّ عَلَيْهِ ۔ ”چھپا لیا اس کو ۔چنانچہ قرآن میں ہے: فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ ۔ جب رات کی تاریکی اس پر چھا گئی ۔ اجنان کے معنی چھپا دینا اور استحان کے معنی چھپ جانا ۔ جن الليل وخسانُ اللَّيْلِ وَجُنُونُ اللَّيْلِ - رات کی شدید تاریکی جو پردہ پوش ہوتی ہے۔ چنانچہ ورید بن الصمہ کہتا ہے:
راز اور پوشیدگی کو بھی جن کہتے ہیں ۔ مثل ہے لاجن بهذا الأمر ۔ یعنی اس معاملہ میں کوئی راز نہیں ہے ۔ جنُ النَّاسِ اور اِحْسَانُ النَّاسِ ۔ آدمیوں کو اس بھیڑ کہتے ہیں جس میں اگر کوئی آدمی گھر جائے تو پتہ نہ چل سکے کہ کہاں ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ عربی زبان میں جن کے نام سے جس نوع مخلوقات کو بھی موسوم کیا جائے گا وہ بہر حال غیر محسوس یا کم از کم مستور ہی ہوگی ۔ جس مخلوق میں مستوری کی صفت نہ پائی جائے اُس کو اس نام سے بھی موسوم نہیں کیا جا سکتا۔ تمام اکابر اہل لغت نے بالا تفاق ہی بات جنوں کی وجہ تسمیہ میں لکھی ہے۔ چنانچہ جمہرہ ابن ورید مفردات امام راغب صحاح، قاموس لسان العرب تاج العروس، غرض زبان کی کسی مستند لغت کو اُٹھا کر دیکھ لیجیے ۔ سب میں یہی لکھا ملے گا کہ ”جن“ اس نام سے اس لیے موسوم ہوئے کہ وہ نگاہوں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔
لغت کے بعد کلام عرب پر نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ قرآن مجید نے بطور خود یہ کوئی نئی اصطلاح وضع نہیں کی تھی۔ اہل عرب پہلے سے ایک ایسی فوق الطبیعی مخلوق کو جن کےنام سے یاد کرتے تھےجو بالاصل غیر مرئی و غیر محسوس تھی، مگر کبھی کبھی ان کو مختلف شکلوں میں نظر آتی تھی، جس کے متعلق ان کا خیال یہ تھا کہ وہ غیر معمولی افعال پر قادر ہے اور عالم طبیعت و اجسام پر مختلف طریقوں سے اثر انداز ہوتی ہے۔ اُن کا خیال تھا کہ خاص خاص مقامات پر یہ حقوق قابض ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ایسے مقامات کو وہ ارض مجھے کہا کرتے تھے۔سنسان جنگلوں اور بیابانوں کے متعلق ان کا عقیدہ تھا کہ وہ کسی نہ کسی جن کے قبضے میں ہوتے ہیں چنانچہ جب وہ کسی بیابان میں رات کو پڑاؤ کرتے تو کہتے نَعُوذُ بِعَزِيز هذا الْوَادِي مِنَ الْجِنَ اللَّيْلَةَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ - یعنی ہم اس وادی کے مالک جن کی پناہ مانگتےہیں کہ وہ آج رات ہمیں یہاں خیریت سے ٹھیر جانے دے“۔ خالی مکانوں کے متعلق ان کا اعتقاد تھا کہ ان میں جنوں کا تسلط ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جو شخص کسی خالی مکان میں رات گزارتا اس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ رات کو جنوں کا مہمان تھا۔ اخطل کہتا ہے:
جہلائے عرب جب کوئی نیا مکان بنواتےتو پہلےوہاں جنوں کے لیےقربانی کرتےتا کہ وہ ساکنین مکان کو نہ ستائیں۔ اس کی طرف سےحدیث میں اشارہ ہے کہ انہ نھی عن ذبائح الجن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےجنوں کےلیےقربانی کی ممانعت کر دی۔"
جب کوئی انسان پاگل ہو جاتا تو عرب یہ سمجھتےتھےکہ اس پر جن مسلط ہو گیا ہے۔اسی لیے وہ اس کو مجنون کہتے تھے ۔ قرآن مجید میں بھی ان کے اس خیال کو بیان کیا گیا ہےکه افترى على الله كذاباً ام به جنة (سبا: ۸ ) یعنی مشرکین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہتے تھے کہ یہ شخص یا تو خدا پر افترا باندھتا ہے یا اس پر جن آتا ہے۔
ان کا وہم تھا کہ ایک جن ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کو وہ ” تابع یعنی ہمزاد کہا کرتے تھے۔ ہر غیر معمولی چیز جنوں کی طرف منسوب کی جاتی تھی۔ چنانچہ جو شخص کام میں بہت تیز ہوتا اس کے متعلق وہ سمجھتےتھےکہ جن اس میں سما جاتا ہےاس لیےاس کو جتنی ( یعنی منسوب به جن' نہ کہ خود "جن") کہا جاتا تھا۔ ہر شاعر کا ایک خاص جن ہوتا تھا اور وہی اس کو شعر کہلوایا کرتا تھا۔ جب کسی شخص کا زور ٹوٹ جاتا تو کہتے کہ نفرت جگہ یعنی اس کا جن نَفَرَتْ جس کے زور سے وہ کام کر رہا تھا، بھاگ گیا۔ جو عورت بہت جمیل ہوتی اس کو مجاز اجنبیہ یعنی ”پری“ کہتے تھے کیونکہ جن عورتوں کا جمال اُن کے نزدیک فوق الانسانی جمال تھا۔
جنوں کی انھی فوق الانسانی صفات اور قدرتوں کی بنا پر اہل عرب خدا سے اُن کا نسب ملاتے تھے ۔ چنانچہ قرآن میں ہے: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا (١) ( الصفت : ۱۵۸) اور اسی بنا پر وہ عبادت میں ان کو خدا کا شریک بناتے تھے بَل كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُونَ(٢) سبا:٤١ ) وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُوا لَهُ بَنِيْنَ وبَنتِ بِغَيْرِ عِلم (٣) (انعام:١٠) ۔ نیز وہ مصیبت اور خوف کے وقت انھی جنوں سے پناہ مانگتے تھے ۔ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْأَنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِن (٤) (الجن : ٦)
(١) یعنی "انھوں نے اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری قرار دے لی ہے۔
(٢) "بلکہ وہ جنوں کی پرستش کرتے تھے اور ان میں سے اکثر لوگ انھی کے معتقد بنے ہوئے تھے۔
(٣)’ "اور انھوں نے اللہ کے ساتھ جن شریک ٹھیرا لیے ہیں حالانکہ اللہ ان کا خالق ہے اور انھوں نے علم کےبغیر خدا کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تجویز کر لی ہیں“۔
(٤) انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے ۔ واضح ہے کہ اس آیت میں ایک ہی جگہ انس اور جن کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ جن ہرگز انسانی جنس سے تعلق نہیں رکھتے۔ لہذا یہ آیت مولانا - - - کے اس بیان کی صریح تردید کرتی ہے کہ " قرآن میں جہاں جہاں جن اور انس کے الفاظ ساتھ ساتھ آئے ہیں وہاں جن سے مراد آتشیں جن نہیں بلکہ انسانوں ہی کا ایک طبقہ ہے۔
فرشتوں کے متعلق جہلائے عرب کا خیال تھا کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ چنانچہ اس کی طرف متعدد مقامات پر قرآن میں اشارہ کیا گیا ہے مثلا: وَجَعَلُوا الْمَائِكَةَ الَّذِينَ هُم عِبَادُ الرَّحْمَنِ إِنَاثًا (١)(الزخرف: ۱۹) اور آفَاصْفكُمُ بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلِئِكَةِ إِنَاثًا (٢) (بنی اسرائیل: ۴۰)
ان شہادتوں کے مقابلہ میں ایک شہادت بھی عرب کی روایات سے ایسی پیش نہیں کی جاسکتی جس سے معلوم ہوتا کہ عرب بھی لفظ جن کا اطلاق حقیقی معنوں میں انسان پر بھی کر دیتے تھے۔ اس کے برعکس تمام شواہد یہی بتاتے ہیں کہ اہل عرب ”جن“ اور ”انس“ کو دو مختلف نوع کی مخلوقیں سمجھتے تھے۔ مثال کے طور پر بدر بن عامر کہتا ہے ۔
١- ''انھوں نے ملائکہ کو جو رحمن کے بندے ہیں لڑکیاں ( یا دیویاں ) قرار دیا ہے۔
٢- "کیا تمھارے رب نے تم کو تو بیٹوں سے سرفراز کیا اور خود اپنے لیے بیٹیاں رکھیں؟“
اول یہ کہ لغت عرب میں جن کے وہی معنی ہیں جو ہماری زبان میں "چھپےہوئے“اور "پوشیدہ" کے ہیں۔ اس لفظ کو جب انواع مخلوقات میں سےکسی نوع کے لیےنام کےطور پر استعمال کیا جائے گا تو ضرور ہےکہ وہ کوئی ایسی نوع ہو جو عادتنا مخفی ومستور ہو حتیٰ کہ اس کا ظاہر اور نمایاں ہونا خرق عادت میں سےشمار کیا جائے۔نہ یہ کہ وہ عادتنا ظاہر اور نمایاں ہو جیسےانسان۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ لفظ سیال کا اطلاق کسی ایسی چیز پر کیا جائےگا جو عادتا بہنےوالی ہوا اور اگر بھی وہ جامد پائی جائےتو اس کا جمود خلاف معمول شمار کیا جائےگا مثلا پانی۔ لیکن اگر کوئی شخص لفظ سیال کا اطلاق کسی ایسی چیز پر کرے جو عادتاً جامد ہو (مثلاً پتھر ) اور جس کا جامد ہونا نہیں بلکہ سیال ہونا خلاف معمول ہو تو آپ یقینا حکم لگا دیں گےکہ وہ شخص لفظ سیال کے معنی سے نا واقف ہے اور لفظ کو اس کے غیر معنی موضوع لا میں استعمال کر رہا ہے۔ اسی طرح اگر قرآن مجید میں لفظ جن (مخفی و مستور ) کا اطلاق کسی ایسی مخلوق پر کیا جاتا جو عادتنا مخفی و مستور نہیں ہے بلکہ اپنی فطرت کے اعتبار سے مرئی و محسوس ہے(مثلاً انسان) تو نعوذ باللہ یہ اس بات کی دلیل ہوتی کہ اس کتاب کو پیش کرنے والا یا تو مجنون ہے یا لفظ جن کے معنے سے ناواقف ہے۔ یقین مانیے کہ ایسی صورت میں خواہ تمام عجم قرآن پر ایمان لے آتا مگر کوئی عرب تو کبھی اس پر ایمان نہ لاتا۔ کیونکہ وہ جن کا بطور معجزه و خرق عادت مرئی و محسوس بن جانا تو مان سکتا ہے مگر یہ کبھی نہیں مان سکتا کہ مرئی و محسوس انسان کو جن کے لفظ سے تعبیر کیا جائے ۔ جس وقت کفارِ عرب نے کہا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کوئی مجھی شخص قرآن سکھاتا ہے تو اپنے اس دعوے کی تائید میں وہ کوئی دلیل پیش نہ کر سکے اور جب قرآن نے اس الزام کا یہ جواب دیا کہ لِسَانُ الَّذِى يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ (النحل : ۱۰۳) ''جس شخص کو یہ سکھانےوالا بتاتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے حالانکہ قرآن جس زبان میں ہے وہ عربی مبین ہے۔ تو اس جواب کو سن کر تمام عرب کی زبانیں بند ہو گئی تھیں ۔ لیکن اگر کہیں اس وقت کفارہ عرب کو ایک مثال بھی قرآن میں ایسی مل گئی ہوتی جس میں لفظ "جن" کا اطلاق انسان پر کیا گیا ہو تو وہ پلٹ کر جواب دیتے کہ یہ کہاں کی لسان عربی مبین ہے جس میں "جن“ کا اطلاق انسان پر کیا جا رہا ہے۔
١- ''جن بخلاف انس' اس نام سے اس لیے موسوم ہوئے کہ وہ پوشیدہ ہیں نظر نہیں آتے“۔
٢- "جن ایک نوع کی مخلوق ہے جس کا یہ نام اس لیے پڑا کہ وہ نگاہوں سے مخفی ہے دکھائی نہیں دیتی ۔
دوم یہ کہ عرب میں پہلےسے "جن" کا نام ایک ایسی فوق الطبیعی غیر جسمانی مخلوق کےلیے موضوع اور شائع و متعارف تھا جو عادتا محسوس نہ ہوتی تھی، جس کو کبھی کبھی وہ سعالی“ اور ”غول وغیرہ کی شکل میں دیکھتےتھےاور جس کےمتعلق ان کا اعتقاد تھا کہ وہ فوق الطبیعی انداز سےان پر اثر انداز ہوتی ہے۔پس جب قرآن نےاس شائع شدہ لفظ کو استعمال کیا تو لا محالہ اس کے معنی وہی لیے جائیں گے جن کے لیے وہ پہلے سے وضع کیا ہوا تھا اور شائع تھا۔قرآن کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ عربی میں اتارا گیا ہےتاکہ عرب جو اس کےاولین مخاطب ہیں، اس کو سمجھ سکیں ۔ إِنَّا اَنْزَلْنَهُ قُرَانًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (يوسف:۲) ۔ یہ دعوی اسی صورت میں سچا ہو سکتا تھا جبکہ قرآن میں وہی الفاظ اور اصطلاحات اور انداز بیان استعمال کیے جاتے جو عرب میں رائج و معروف تھے یا اگر اہل عرب کی زبان کے کسی لفظ کو معلوم و متعارف معنی کے سوا کسی خاص معنی میں استعمال کیا بھی جاتا تو وہ اصل لغت کےخلاف نہ ہوتا اور اس خاص معنی کی تشریح کر دی جاتی تاکہ عرب اس کو سمجھ سکتے۔لیکن آپ لفظ "جن" کےجو معنی بیان کرتےہیں، نہ کلام عرب میں معلوم و متعارف ہیں اور نہ اُن کی کوئی ایسی تشریح ہی قرآن میں ملتی ہے جس سے واضح طور پر معلوم ہو جائے کہ اس نام کا وہ مسٹمی مراد نہیں ہے جو اہل عرب نزول قرآن کے زمانہ میں عموما اس سے مراد لیا کرتےتھے۔ اب اگر آپ کی بات مان لی جائے تو قرآن کا اپنا یہ دعوئی باطل ہو جاتا ہے کہ وہ عام فہم عربی میں اترا ہے۔
سوم یہ کہ قرآن میں جگہ جگہ عربوں کےاس اعتقاد باطل کا ذکر کیا گیا کہ وہ جن اور ملائکہ کو خدائی میں شریک ٹھیراتے تھے خدا سے اُن کا نسب جوڑتے تھے اُن سے پناہ مانگتےاور اُن کی عبادت کرتے تھے۔ پھر اس اعتقاد کا ابطال اس طرح کیا گیا ہےکہ جن خدا کےشریک نہیں ہیں، نہ اس کی اولاد ہیں، بلکہ وہ بھی اسی طرح خدا کی ایک مخلوق ہیں جس طرح انسان اُس کی مخلوق ہے۔ فرق یہ ہے کہ انسان مٹی کے ست سے پیدا کیا گیا ہے اور ”جن“آگ کی پھونک سے۔ مگر احکام خداوندی کے مخاطب دونوں ہیں۔ خدا کے سامنے جواب دو ہونے میں دونوں برابر کے شریک ہیں اور نافرمانی کی سزا دونوں کے لیے یکساں ہے۔پس انسان کا اُن کی عبادت کرنا محض ایک جاہلانہ فعل ہے۔ بلکہ اس میں انسان کے لیےذلت بھی ہے۔ اس لیےکہ انسان ایک بالا تر نوع ہے۔ جنوں کے نمائندے ابلیس کو آدم کے سامنےسجدہ کرنےکا حکم دیا گیا تھا اور انکار کرنےپر وہ راندہ درگار کیا گیا۔ انسان کو خلافت اور رسالت کے بلند مناصب پر سرفراز کیا گیا اور جنوں کو اس کی اطاعت اور پیروی کا حکم دیا گیا، جیسا کہ سورہ احقاف کےآخری اور سورہ جن کےپہلے رکوع میں بیان ہوا ہے۔ پھر انسانوں ہی میں سے ایک برگزیدہ ہستی حضرت سلیمان علیہ السلام کو یہ شرف عطا ہوا کہ جن اُن کےتابع کیےگئےیہ تمام باتیں جو قرآن میں عربوں کےاعتقادات باطلہ کی تردید کےلیےکہی گئی تھیں، اُسی صورت میں بامعنی ہو سکتی تھیں جبکہ اُن میں ”جن“ سےمراد وہی مخلوق ہوتی جس کو اہل عرب خدائی میں شریک اور عبادت میں خدا کا ساتھی بناتے تھے۔ ورنہ اگر ان میں ”جن“ سے مراد انسان ہی ہوتے تو پھر یہ کسی طرح بھی عربوں کے اوہام کا ابطال کرنے والی نہ ہوتیں اور عربوں کے وہ اعتقادات اپنی جگہ رہ جاتے جو وہ اپنے تصور میں جنوں کے متعلق رکھتے تھے۔
چہارم یہ کہ اگر جنوں کے ذکر سے کسی خاص مقام یا بعض مخصوص مقامات پر قرآن کا مقصود دراصل انسانوں یا ان کے کسی خاص گروہ ہی کا ذکر کرنا تھا، تو سوال پیدا ہوتا ہےکہ آخر ان کو لفظ ”جن“ سے تعبیر کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ کیوں نہ ان کو لفظ انسان ہی سے تعبیر کیا گیا ؟ خواہ مخواہ ایسے الفاظ استعمال کرنے کی کیا حاجت پیش آئی تھی جن سےناری جن اور خاکی جن کے درمیان التباس واقع ہوتا ؟ اس طرح کی تاویلات کے بارےمیں یہ ایک اہم اصولی سوال ہے جس کو ہمارے زمانے کے اکثر نرالی تاویلیں کرنے والےحضرات قرانی الفاظ کے معنی بیان کرتے وقت نظر انداز کر جاتے ہیں ۔ وہ اس پہلو پر کبھی غور نہیں کرتے کہ جب کسی خاص معنی کو بیان کرنے کے لیے معروف اور شائع الفاظ عربی زبان میں موجود ہیں اور خود قرآن نے بھی اس معنی کو بیان کرنے کے لیے حسب موقع وہی الفاظ استعمال کیے ہیں، تو آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ کسی خاص مقام پر اس معنی کو بیان کرنے کے لیے (اگر واقع میں اس کا مقصود وہاں وہی معنی بیان کرنا ہو ) بعض دوسرےالفاظ استعمال کرتا در آنحالیکہ وہ الفاظ اس معنی کے لیے شائع اور متعارف نہ تھے اور نہ ہیں؟ مثال کے طور پر اگر واقع یہی تھا کہ حضرت سلیمان کو مصر سے یا دوسرے مقامات سےاعلیٰ درجہ کے خواص ظروف ساز معمار اور سنگ تراش آدمی فراہم کر دیےگئےتھےتو یہی کہہ دینے میں کون سا امر مانع تھا کہ ہم نے سلیمان علیہ السلام کو ایسے اور ایسے آدمی فراہم کر دیے تھےکیا اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے اللہ تعالی کے پاس الفاظ کا کافی ذخیرہ موجود نہ تھا کہ مجبوراً اس کو جن اور شیاطین کے الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی؟ (١) کیا خود اللہ تعالیٰ نےآدمیوں کا ذکر کرنے کے مواقع پر اُن کو انسان یا بنی آدم کے الفاظ سےتعبیر نہیں کیا ہے؟ اور اگر خاص آدمیوں میں کوئی خصوصیت ایسی تھی کہ ان کو جن اور شیاطین کے استعماروں میں ادا کرنا ضروری تھا تب بھی اس تصریح میں کیا چیز مانع تھی کہ یہ "جن" بنی آدم سے تھے؟
١- ملاحظہ ہو سورۃ سبا رکوع ۲۔ سورۂ ص، رکوع ۳
ان مقدمات کو ذہن نشین کرنے کے بعد اب دیکھیے کہ قرآن مجید نے لفظ ”جن“ کو کس معنی میں استعمال کیا ہے۔آپ تسلیم کرتےہیں کہ قرآن میں "جن" اور ”انسان“ کی حقیقتیں الگ الگ بیان کی گئی ہیں، اور بالفاظ صریح ایک جگہ نہیں، متعدد جگہ بتایا گیا ہے کہ جن ایک ناری الاصل مخلوق ہے اور انسان ارضی الاصل ہے۔لفظ "جن" کو استعمال کرنے کے ساتھ جب اس کے معنی کی یہ تصریح بھی خود قرآن ہی نے کر دی ہے تو عقل یہ چاہتی ہے کہ جہاں کہیں وہ الفاظ استعمال ہوں وہاں اس کے وہی معنے لیے جائیں جن کی تصریح کی جا چکی ہے (١) اس کے خلاف کوئی اور معنی کے لیے ضروری ہے کہ یا تو اس دوسرے معنی کی بھی کوئی ویسی ہی تصریح قرآن میں موجود ہو یا پھر آپ کے پاس ایسے قوی دلائل ہوں جن کی بنا پر قرآن کی تصریح کے خلاف معنی میں اس لفظ کو لینا جائز ہو۔ اگر پہلی صورت ہے تو براہ کرم کوئی ایک ہی آیت ایسی پیش فرمائیے جس میں "جن" یہ معنی ”انسان“ کی ویسی ہی تصریح ہو جیسی کہ جن بہ معنی آتشیں مخلوق کی تصریح ہے ۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہم کو حق ہے کہ آپ کے دلائل کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ آیا وہ اس حد تک قوی ہیں کہ قرآن نے جن کے جس معنی کی تصریح کی ہے اس کو چھوڑ کر آپ کےتجویز کردہ معنی کو قبول کیا جائے۔
١- بلاشبہ قرآن میں دو جگہ "جان" کا لفظ "سانپ" کے معنی میں آیا ہے لیکن اول تو خود قرآن ہی میں دوسری جگہ اس چیز کے لیے ثعبان اور حیہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن سے معلوم ہو گیا کہ وہاں جان کا لفظ کس معنی میں آیا ہے۔ دوسرے لفظ جان بمعنی سانپ عربی میں عام طور پر مستعمل ہےاور موقع ومحل سے ہر عربی دان خود جان لیتا ہے کہ یہاں "جان" سے مراد سانپ ہے۔
"جن کا لفظ قرآن میں صرف مکی سورتوں میں آیا ہے۔ مدنی سورتوں میں کہیں نہیں آیا۔ اور انس کا لفظ بلا جان کے سارے قرآن میں کہیں مستعمل نہیں ہوا ہے۔ اس سے خیال ہوسکتا ہے کہ جن و انس کےالفاظ جہاں جہاں ساتھ آئے ہیں وہاں جن کے معنی اُس آتشیں جن کے نہیں ہیں بلکہ انسانوں ہی کے ایک طبقہ کے ہیں"۔
میں پوچھتا ہوں کیا یہ کوئی دلیل ہے ؟ کس سورت کے مکی یا مدنی ہونے اور جن کے ساتھ انس کا لفظ آنے یا نہ آنے کو لفظ "جن“ کے معنی میں آخر کس قسم کا دخل حاصل ہے؟ آپ اُن تمام آنوں کو نکال کر دیکھ لیجیے جن میں جن اور انس" کے الفاظ ساتھ ساتھ آئے ہیں۔ کسی جگہ بھی آپ کوئی اشارہ ایسا نہ پائیں گے جو انس کے عام اور جن کے خاص ہونے پر دلالت کرتا ہو۔ جہاں کہیں جن اور انس کے الفاظ معطوف و معطوف علیہ کی حیثیت سے آئے ہیں، وہاں عطف نہ تو عَطْفُ الْعَامِ عَلَى الْخَاصِ کے طور پر آیا ہےن عَطْفُ الْخَاصِ عَلَى الْعَامِ کے طور پر اور نہ عَطْفُ الشَّنِي عَلَى مُرَادِ فِيْهِ کے طور پر ۔ اِن تینوں قسموں میں سے کسی قسم کے عطف کا حکم لگانے کے لیے ضروری ہے کہ سامع کو پہلےسے اس کا علم ہو کہ معطوف و معطوف علیہ میں سے ایک عام ہے اور دوسرا خاص یا دونوں مترادف ہیں ۔ مثلا ربِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِي مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ (نوح: ۲۸) میں سامع خود سمجھ سکتا ہے کہ عطف عطف العال علی الخاص کےقبیل سے ہے۔ یا وَإِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِنْ نُوحٍ (احزاب:ے ) میں صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ عطف الخاص علی العام کے قبیل سے ہے۔ یا فَأَلْقَى قَوْلَهُ كِذَبًا وَمَيْنا میں عطف کا عطف الشني على مراد فیہ کے قبیل سے ہونا ہر وہ شخص جانتا ہےجو "كذب ‘ اور مین “ کے معنی سے واقف ہے۔ پس جب جن وانس میں یہ تینوں صورتیں نہیں ہیں تو لامحالہ یہ مانا پڑے گا کہ ان دونوں کے درمیان واؤ عطف مطلق معیت کےلیے ہے۔ کیونکہ لغت سے یا عرف سے یا کسی قرینہ عقلی سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان دونوں کے درمیان عموم و خصوص یا ترادف کا تعلق ہے۔ اگر قرآن کی اصطلاح خاص میں ان دونوں کے درمیان محض واؤ عطف کا استعمال کرتا تو یہ اس کے بیان کا نقص ہوتا۔ اس مقصد کے لیے اس کو کم از کم الانس والجن منهم ہی کہنا چاہیے تھا تا کہ سامعین کو معلوم ہو جاتا کہ جن کے نام سے جس گروہ کو یاد کیا جا رہا ہے وہ لغت اور عرف عام کے خلاف انسانوں ہی کا ایک گروہ ہے۔
لیکن ہم کو عطف و معطوف کی بحث میں بھی پڑنےکی کوئی ضرورت نہیں۔ مدعی کا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن میں جہاں جن وانس کےالفاظ ساتھ ساتھ آئےہیں وہاں جن سےمراد انسانوں ہی کا ایک طبقہ ہے۔اب آپ ان تمام آیات کو پڑھ جائیے جن میں یہ دونوں لفظ یکجا استعمال ہوئے ہیں۔ اگر خود انھی میں متعدد آیتیں آپ کو ایسی مل جائیں جن میں ان دونوں گروہوں کی مغائرت صاف نظر آتی ہو تو مدعی کا دعویٰ آپ باطل ہو جائے گا۔
ہم نے انسان کو کالے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا اور اس سے پہلے جنوں کو ہم نے ٹو کی گرمی سے پیدا کیا تھا۔
اس نے انسان کو پیری کی طرح بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا اور جنوں کو آگ کی لپٹ سے ۔
پس اس روز نہ کسی انسان سے اس کے گناہ کی بابت پوچھا جائے گا اور نہ کسی جن سے۔
اُن سے پہلے ان جوڑوں کو نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا ہوگا اور نہ کسی جن نے ۔
انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے۔
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَئِكَةِ أَهْؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ - قَالُوا سُبُحْنَكَ أَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُونِهِمْ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُؤْمِنُونَ (سوره سیا: ۴۰ - ۴۱)
جس روز اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع کرے گا پھر ملائکہ سے پوچھے گا کیا یہ لوگ تمھیں کو پوجا کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے تو پاک ہمارا ولی تو ہے نہ کہ یہ۔ دراصل یہ لوگ ہماری نہیں بلکہ جنوں کی پرستش کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر در حقیقت انھی پر ایمان رکھتےتھے۔
اور انھوں نے خدا کے اور جنوں کے درمیان رشتہ جوڑ رکھا تھا۔
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَمَعْشَرَ الْجِنَّ قَدِ اسْتَكْثَرُتُمْ مِّنَ الْإِنْسِ وَقَالَ أَوْلِيَاءُ هُمُ مِنَ الإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِي أَجْلُتَ لَنَا - (انعام: ۱۲۹)
اور جس دن خدا ان سب کو جمع کرے گا تو فرمائے گا۔ اے گروہ جن تم نے تو انسانوں میں سے بہتوں کو اپنے دام میں گرفتار کر لیا اور انسانوں میں سے جو ان کے دوست تھے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم میں سے بعض نے بعض سے خوب فائدہ اٹھایا اور ہم اب اس مدت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کی تھی۔
ان آیات سے کیا ثابت ہو رہا ہے۔ یہ کہ جن اور انس دو الگ اور متبائن الحقیقت گروہ ہیں؟ یا یہ کہ ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ کا ایک جز ہے۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ ابلیس اور اس کی ذریت کو جو حسب تصریح قرآن ”جن“ ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے غیر مرئی بیان کیا ہے۔ انـه یـرنـكـم هـو وقبيله من حيث لا ترونهم (اعراف: ۲۷) بخلاف اس کے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس جو جن تھے وہ نظر آتے تھے اور انسانوں کے سے کام کرتے تھے۔ لہذا حضرت سلیمان والے جن وہ آتشیں جن نہیں ہیں بلکہ انسان ہیں ۔
اس کے جواب میں بڑی آسانی کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت سلیمان والے جنوں کے متعلق قرآن میں کہیں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ وہ نظر آتے تھے انسانی شکل میں تھے اور حضرت سلیمان کے علاوہ عام لوگ بھی اُن کو دیکھتےتھےلہذا قرآن کی جو آیت آپ اپنے استدلال میں پیش فرما رہے ہیں، وہ ان آیات کے خلاف نہیں ہے جن میں حضرت سلیمان والے جنوں کا ذکر آیا ہے۔ رہا آپ کا یہ گمان کہ وہ انسانوں کے سے کام کرتے تھے تو یہ بھی قرآن سے ثابت نہیں ۔ قرآن میں یہ کہاں کہا گیا ۔ اردو انسانوں کی طرح پانی میں غوطے لگاتے تھے۔ یا انسانوں کی طرح برتن اور عمارتیں بناتے تھےیا انسانوں کی طرح باندھے جاتےتھے۔وہاں تو مطلقاً غواصی اور ظروف سازی اور معماری وغیرہ کا ذکر ہےاور محض اس ذکر سےیہ لازم نہیں آتا کہ وہ غواصی وغیرہ انسانوں کی سی خواصی وغیرہ تھی۔ تا وقتیکہ یہ ثابت نہ کر دیا جائےکہ خواصی بغیر اس طریقےکےممکن نہیں ہے جس طریقہ سے انسان غوطہ لگاتا ہےاور ظروف سازی وغیرہ انھی طریقوں میں منحصر ہیں جنھیں انسان استعمال کرتےہیں۔اگر محض یہ بات کہ جو فعل انسان کرتا ہے وہ کسی ہستی کی طرف منسوب کیا گیا ہے یہ حکم لگانے کےلیے کافی ہو کہ وہ ہستی لامحالہ انسان ہی ہوئی چاہیئے تو ایک مخص نعوذ باللہ خود اللہ تعالی کو انسان کہہ سکتا ہےکیونکہ قرآن میں بعض وہ افعال جو انسان کرتے ہیں، خدا کی طرف منسوب کیے گئے ہیں مثلا بولنا' دیکھنا' سنتا وغیرہ۔
لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر اس پہلو سے قطع نظر کر کے یہ بھی مان لیا جائے کہ وہ انسانوں کی طرح نظر آتے تھے اور انسانوں ہی کی طرح وہ سب افعال کرتے تھےجن کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہےتب بھی جو آیت آپ پیش فرما رہے ہیں اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اس گروہ مخلوقات سےخارج تھے جو نظر نہیں آتا ۔ اس لیے کہ کسی مخلوق کا ایسا ہوتا کہ وہ انسان کو نظر نہ آئے اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ اس کا نظر آنا ممکن ہی نہ ہو اور بطور خرق عادت بھی وہ نظر نہ آسکے۔ قرآن مجید میں شیاطین جن کے غیر مرئی ہونے کی صفت تو صرف ایک ہی جگہ بیان ہوئی ہے مگر ملائکہ کی اس صفت کا متعدد مقامات پر ذکر آیا ہے مثلاً:
یعنی شیطان نے اپنے اولیاء سے کہا کہ میں فرشتوں کی وہ فوجیں دیکھ رہا ہوں جو تم کو نظر نہیں آتیں۔
پھر اللہ نے اپنی سکیت اس پر اتاری اور ایسے لشکروں سے اس کی تائید کی جن کو تم نہ دیکھتے تھے۔
اور اللہ نے وہ لشکر اُتارے جن کو تم نہ دیکھتے تھے۔
جب تم پر فوجیں حملہ آور ہو ئیں تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور وہ لشکر بھیجے جو تم کو نظر نہ آتے تھے۔
جس روز یہ لوگ ملائکہ کو دیکھیں گے اس روز مجرموں کی خیر نہ ہوگی۔
اس کے باوجود متعدد مواقع قرآن مجیدی نے بیان کیا ہے کہ ملائکہ انسانی شکل میں آئے ہیں۔ نہ صرف انبیاء نے بلکہ عام انسانوں تک نے ان کو دیکھا ہےاور ان کی باتیں سنی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان بہت سی مستقلی مثالوں کو دیکھ کر آپ نے ملائکہ کے متعلق بھی کیوں نہ کہہ دیا کہ ان سے مراد بھی انسانوں ہی کا ایک طبقہ ہے؟ غیر مرئی ہونےمیں دونوں برابر ۔ انسانی شکل میں ظاہر ہونے کے واقعات ملائکہ میں متعدد اور جنوں میں صرف ایک ۔ باوجود اس کےتعجب ہےکہ آپ ملائکہ کے متعلق تو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کےحکم سے بطور معجزہ وخرق عادت بار بار وہ انسانی صورت اختیار کرتے رہے ہیں۔لیکن جنوں کے متعلق اس قسم کا ایک واقعہ سن کر آپ کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ حضرت سلیمان کی غیر معمولی دُعا کو قبول کر کے جس طرح اللہ تعالی نے خرق عادت کے طور پر ہوا اور پرندوں کو اُن کےتابع کیا تھا اور ان کو جانوروں کی بولیاں سکھائی تھیں، اُسی طرح بطور خرق عادت اُس نےجنوں کو بھی مرئی و محسوس بنا دیا ہوگا۔ اس کےبرعکس آپ قرآن کی تمام تصریحات اور لغت عرب کےخلاف یہ تاویل کرنا زیادہ پسند کرتےہیں کہ صرف اس خاص موقع پر انسانوں کو "جن" کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور مولانا تو اس ایک مثال سے فائدہ اٹھا کر انسانوں کی ایک مستقل قسم کا نام ہی ”جن، فرض کر لیتے ہیں، درآنحالیکہ اس کے لیے کوئی ثبوت اُن کو قرآن سے نہیں ملا اور اس کے خلاف قرآن مجید کی صریح آیات اور کلام عرب کی واضح شہادتیں موجود ہیں۔ اتنی بڑی ذمہ داری کا بار اٹھانے سے پہلے کیا اس بات پر غور کر لینا بہتر نہ تھا کہ اللہ تعالی کا ایک غیر مرئی مخلوق کو مرئی بنا دینا کون سا ایسا مستبعد اور محال امر ہے کہ اس سے بچنےکےلیےاتنی مشقت اور اتنے تکلف کی حاجت پیش آئے؟ جب آپ نے ملائکہ جیسی لطیف مخلوق کا مرئی ہونا مان لیا تو شیاطین جیسی کثیف مخلوق کےمرئی ہو جانے میں اتنا استبعاد کیوں محسوس ہوتا ہے؟ قرآن مجید میں جنوں کی جو کچھ حقیقت بیان کی گئی ہے وہ اس سے زیادہ نہیں کہ وہ ایک آتشیں مخلوق ہیں ۔ لیکن جبریل فرشتے کے متعلق تو یہ کہا ہے کہ وہ "روح" اور وہ بھی روح اللہ ہیں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو بھیجا اور وہ اس کے سامنےاچھے خاصے آدمی کی شکل میں نمودار ہوئی۔
یہ قرآن رب العالمین کا اُتارا ہوا ہے۔ اس کو لے کر روح الامین اُترا ہے۔
جب "روح اللہ" جیسی مجرد از عوارض مازہ شے کو باذن الہی مرئی ہو جانا ممکن ہے تو ناد السموم جیسی چیز کا جو ماڈے اور ماڈی تکاثف سے قریب تر ہے (۱) جسمیت اختیار کر لیتا کیوں نا ممکن یا بعید از عقل و قیاس ہے کہ اس سے بچنےکی خاطر قرآن میں تاویلات بعیدہ کا دروازہ کھولا جائے؟ قرآن کی رُو سے تو صرف باری تعالی ہی کی ذات ایسی ہے کہ انسان کی نگاہیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں لاتدركه الأنصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (انعام: ۱۰۴) اور قَالَ رَبِّ أَرِنِى انْظُرُ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِيُّ (اعراف: ۱۴۳) یہ صفت بالذات صرف خدا تعالی کےلیے ہے۔ باقی جتنی مخلوقات ہیں ان میں سے کسی کے لیے بھی یہ صفت بالذات نہیں ہے۔ البتہ بعض کو اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ وہ عادتا نظر نہیں آتیں۔لیکن اگر خدا چاہے تو وہ اس پر قادر ہے کہ خواہ ان کو مرئی کر دے یا ہماری نظروں کو اتنا تیز کر دے کہ ان کی لطیف تر صورتوں کو دیکھ سکیں۔
(١) جنوں کی تخلیق جس آگ سےہوئی ہےوہ میرے نزدیک وہ آگ نہیں ہےجو کیمیاوی استحالات سےمادی اجسام میں پیدا ہوئی ہے بلکہ وہ ایک خاص طور کی آگ ہے ہماری ان ماڈی آگوں سے مختلف۔چونکہ انسانی زبان میں اس کو تعبیر کرنے کےلیے”نار سےزیادہ اقرب کوئی لفظ نہ تھا اس لیےحق تعالیٰ نےاس کو اس لفظ سے تعبیر فرمایا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ سے مراد وہ شعاع نہیں ہے جو مادی غیرات سے نکلتی ہے بلکہ ایک غایت درجہ مجرد اور منزہ حقیقت ہے جس کے تصور سے انسان کے ذہن کو روشناس کرنے کے لیے لفظ ”نور“ سے زیادہ اقرب اور کوئی لفظ نہیں ۔ تا ہم اگر آپ کی یہ رائے مان لی جائےکہ جن اسی ماڑی آگ کے بنے ہوئے ہیں جو آکسیجن اور کاربن کےاشتعال مواصلت سےپیدا ہوتی ہےتو روحانی فرشتوں کےمقابلہ میں ان ماؤی جنوں کا مرئی ومحسوس بن جانا تو اور بھی زیادہ قریب از عقل و قیاس ہے۔
آپ نے اور مولانا- - - - - - نےاس بات سےبھی فائدہ اٹھانےکی کوشش کی ہےکہ حضرت سلیمان کے پاس جو غوطہ خور اور معمار وغیرہ تھے ان کو شیاطین“ کہا گیا ہے اور شیاطین کا اطلاق جنوں کی طرح انسانوں پر بھی کیا گیا ہے اس لیے آپ کہتے ہیں کہ ان معماروں اور غوطہ خوروں کو ان کے مرئی ہونے اور انسانوں کے سے کام کرنے کی بنا پر شیاطین الانس کیوں نہ سمجھا جائے۔
اس کو دلیل کے بجائے میں صرف غلط فہمی کہوں گا ۔ اوّل تو قرآن مجید میں حضرت سلیمان کے کاریگروں اور خادموں کے لیے صرف شیاطین ہی کا لفظ نہیں آیا ہے جن کا لفظ بھی آیا ہے مثلاً :
ور سلیمان کے لیے اس کے لشکر از قسم جن و انس و پرند جمع کیےگئے۔
وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِاِذْنِ رَبِّهِ ... آیت......١٢...... يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانِ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رسيتٍ ..... (١٣). فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَاتَهُ فَلَمَّا خَرَّتَبَيَّنَتِ الْجِنَّ أَنْ لَوُ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ - (سبا :۱۴)
اور جنوں میں سے جو اس کے (حضرت سلیمان ) آگے اس کےرب کے اذن سے کام کرتے تھے . جو کچھ وہ چاہتا وہ اس کے لیے بناتے تھے بڑی بڑی عمارتیں، مورتیں اور حوض جیسے بڑے بڑے تھال اور ایک جگہ جمی رہنے والی بھاری دیکھیں پھر جب ہم نے سلیمان پر موت کا فیصلہ نافذ کر دیا تو ان کو اس کی موت کی خبر جس چیز نے دی وہ کچھ اور نہ تھا، محض زمین کا کیڑا جو سلیمان کے عصا کو کھا رہا تھا۔ جب سلیمان گر پڑا تب ان جنوں پر یہ راز کھلا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اتنی مدت تک اس ذلیل غلامی کے عذاب میں نہ پڑے رہتے (١)
دوسرے یہ بات آپ کی اور مولانا کی نظر سے پوشید و رہ گئی کہ قرآن مجید میں کہیں مطلقاً الشیطان اور الشیاطین بول کر انسان مراد نہیں لیے گئے ہیں، بلکہ ابلیس اور اس کی وریت ہی مراد لی گئی ہے۔ ہاں اگر کہیں انسانوں کے کسی گروہ کے لیے شیاطین کا لفظ بطور صفت استعمال کیا گیا ہے تو ایسے ہر موقع پر صراحتہ یا کنا بیتہ یہ بتا دیا گیا ہے کہ وہاں شیاطین سے مراد انسان ہیں، جیسے وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِي عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ (انعام:۱۱۳) اور وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ (بقره: ۱۴)
اس بحث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کوئی ایسی قوی دلیل موجود نہیں ہے جس کی بنا پر سیدنا سلیمان کے قصہ میں یا کسی دوسرے مقام پر لفظ ”جن“ کے معنی متعین کرنےمیں،اس معنی سےانحراف کرنا جائز ہو جس کی تصریح خود قرآن مجید متعدد مواقع پر کر چکا ہےاور جب اس کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے تو کسی شخص کے لیے جو قرآن مجید کےکلام الہی ہونے پر ایمان رکھتا ہو یہ جائز نہیں ہےکہ جس کو خدا نے" جن" کہا ہے اور آدمی نہیں کہا اُس کو وہ اپنے قیاس سے آدمی کہہ دے۔ ایسا قیاس کرنے کے لیے اگر کوئی سبب داعی ہو سکتا ہے تو صرف یہ ہے کہ عادت جاریہ جس کا مشاہدہ اور اور اک کرنے کے ہم خوگر ہیں اُن واقعات کے خلاف ہے جو بعض مواقع پر قرآن مجید میں جنوں کی طرف منسوب کیےگئےہیں۔ لیکن اسی طرح آگ کا ایک خاص شخص کے لیے سرد ہو جانا، لکڑی کا ایک خاص موقع پر اثر ر ہا بن جانا دریا کا ایک خاص وقت میں پھٹ کر راستہ دے دینا ایک شخص کا مٹی کےپرند بنا کر ان میں جان ڈال دینا اور مُردوں کو زندہ کر دینا چند آدمیوں کا ایک غار میں تین -سو برس تک سوتے پڑے رہنا اور پھر بھی زندہ رہنا ایک شخص کا مرنے کے سو برس بعد جی اٹھنا اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کا جوں کا توں بالکل تازہ حالت میں پانا ایک شخص کا ساڑھے نو سو برس تک زندہ رہنا اور وہ بھی لوگ کی مشقوں سے نہیں بلکہ ایک منکر قوم کےمقابلہ میں تبلیغ دین کی تھکا دینے والی مشقوں کے ساتھ یہ اور ایسے ہی متعدد واقعات ہیں جو قرآن مجید میں بیان کیے گئے ہیں اور سب اُس عادت جاریہ کے خلاف ہیں جس کو دیکھنےکے ہم خوگر رہے ہیں۔
١- یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں جن کے ساتھ انس کا لفظ نہیں آیا ہے۔ اور یہ بھی اشارہ ہے کہ یہ جن وہ جن تھے جن کو غیب دانی کا گھمنڈ تھا اور جنھیں اہل عرب بھی عالم الغیب سمجھتے تھے۔انبھی جنوں میں سے ایک گروہ بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سن کر اپنے دوسرے ہم قوموں سے کہتا ہے کہ اب ہمارے غیب دانی کے وسائل ہم سے چھن گئے ہیں اور اس کی وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ وَأَنَّا لَمَسُنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَا مُلِئَتْ حُرَسًا شَدِيدًا وَشُهَبًا - وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدُ لَهُ شِهَابًا رُصَدًا (الجن: ۸-۹) اس آیت میں غیب کی خبریں حاصل کرنے کی جو صورت بیان کی گئی ہے وہ انسان کی سمجھ میں بھی نہیں آتی کجا کہ کوئی انسان اس پر قادر ہو۔
اگر ہم قرآن کو خدائےعلیم و خبیر اور قادر و توانا کا کلام نہ مانیں تو سرےسےان واقعات کی تاویل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔محض اس بنیاد پر ان سب کو جھٹلا دیا جا سکتا ہے کہ ایسا ہوتے ہم نے کبھی نہیں سنا اور نہ دیکھا۔ اور اگر ہم یہ مان لیں کہ قرآن اس خدا کا کلام ہےجو ازل سے ابد تک عالم وجود کے ہر چھوٹے بڑے واقعہ کا حقیقی علم رکھتا ہےاور خدا وہ خدا ہے جس کے معجزے ہم کو سورج اور ستیاروں اور زمین اور خود اپنے وجود میں هر آن نظر آ رہےہیں، تو ہمیں کسی غیر معمولی اور خلاف عادت واقعہ کو بعینہ اسی طرح تسلیم کرنے میں تامل نہیں ہو سکتا جس طرح وہ قرآن میں بیان ہوا ہے۔ یہ واقعات تو کیا چیز ہیں، اگر قرآن میں کہا گیا ہوتا کہ ایک وقت میں چاند کو ماؤنٹ ایورسٹ پر لا کر رکھ دیا گیا تھا اور کسی وقت خدا نے سورج کو مشرق کے بجائے مغرب سے نکالا تھا، تب بھی ایک مومن صادق کو اس بیان کی صداقت میں ایک لمحہ کے لیے شک نہ ہو سکتا تھا اور نہ کسی طرح تاویل کر کے اس کو عادت جاریہ کے مطابق ثابت کرنے کی ضرورت پیش آسکتی تھی ۔ اس لیے کہ یہ کائنات، جس کی وسعت کا تصور کرنے سے ہمارا دماغ تھک جاتا ہے اور اس کائنات کی ہر شے حتیٰ کہ گھاس کا ایک تنکا اور کسی جانور کے جسم کا ایک بال بھی اپنی پیدائش میں در حقیقت اتنا ہی حیرت انگیز معجزہ ہے جتنا چاند کا ایورسٹ پر آ جانا اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ۔ فرق اگر کچھ ہے تو صرف یہ کہ ایک قسم کے واقعات کو دیکھنے کی ہمیں عادت ہو گئی ہے اس لیے ہم کو ان کے معجزہ ہونے کا شعور نہیں ہوتا، اور دوسری قسم کے واقعات شاذ ہیں اس لیے اُن کی خبر جب ہم کو دی جاتی ہے تو ہمیں اچنبھا ہوتا ہے اور ہماری عقل جو صرف مشاهدات و تجربیات پر اعتماد کرنے کی خوگر ہو گئی ہے اُن کو باور کرنے میں مجھجکتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اپنے واقعات کے متعلق جب ہم کو کوئی خبر دی جائے تو ہمیں حق ہے کہ ان کے وقوع کے متعلق قابل وثوق شہادت طلب کریں ۔ لیکن ایک مومن کےلیے قرآن سے بڑھ کر قابل وثوق شہادت اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ وہ دل سے یقین رکھتا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے اور خدا کے فعل پر خود خدا ہی کی شہادت سب سے زیادہ معتبر ہے۔ البتہ جو شخص قرآن کے کلام الہی ہونے میں شک رکھتا ہو اس کو حق ہے کہ قرآن کے ہر بیان میں شک کرے خواہ وہ عادت جاریہ کے موافق ہو یا مخالف ۔
یہ مضمون بھی اُسی بحث کے سلسلہ میں لکھا گیا تھا جس میں سابق مضمون "حقیقت جن" لکھا گیا تھا۔ مصنف نے دعوی کیا تھا کہ آدم علیہ السلام کو جو خلافت اللہ تعالیٰ نے عطا کی تھی وہ اس معنی میں نہ تھی کہ اللہ نے اُن کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا تھا، بلکہ اس معنی میں تھی کہ اُن کو اپنے سے پہلے ساکنان زمین کا جانشین بنایا گیا تھا۔ نیز مصنف نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ خلافت کے معنی صرف جانشینی ہی کے ہیں اس لیےخلافت الہیہ کا تصور ہی بے معنی ہے۔ اس پر ہم نے ترجمان القرآن میں مختصر تنقید کی، پھر انھی اہل قلم بزرگ نے جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہےاس پر تعاقب کیا اور اس کے جواب میں یہ مضمون لکھا گیا۔
خلافت کی بحث میں سب سے پہلے ہم کو لغت عرب کی طرف رجوع کر کے یہ تحقیق کرنا چاہیے کہ کیا فی الواقع عربی زبان میں اس لفظ کے معنی صرف ” جانشینی‘ ہی کےہیں یا اس کے معنی نیابت کے بھی آتے ہیں۔
خلافت کسی دوسرے کی نیابت ہے خواہ منوب عنہ کے غائب ہونے کی وجہ سے ہو یا اس کی موت کے سبب سے ہویا اس کے بجز کے سبب سے یا اُس شخص کو بزرگی عطا کرنے کے لیے جسے خلیفہ بنایا گیا ہے۔
لین (Lane) نے اپنی مشہور لغت مد القاموس (Arabic English Lexicon) میں لفظ خلیفہ کے معنی (Successor) کے علاوہ (Vicegerent) کے بھی لکھے ہیں ۔
خلافت کے لیے ضروری نہیں ہے کہ منوب عنہ مر جائے یا موجود نہ ہو۔ امام راغب لکھتے ہیں: خَلَفَ فَلاَنٌ فَلانَا قَامَ بِالْأَمْرِ عَنْهُ إِمَّا مَعَهُ وَإِمَّا بَعْدَهُ "فلاں شخص فلاں شخص کا خلیفہ ہو یعنی اُس کی طرف سے کار پرداز ہوا خواہ اس کے ساتھ یا اس کے بعد۔"
خَلَفَ خِلافَةٌ کے معنی خلیفہ ہونے یا بعد میں آنے یا پیچھے رہنے کے ہیں ۔ خَلَفَهُ خِلَافَةٌ كَانَ خَلِيفَتَهُ وَبَقَى بَعْدَهُ وَجَاءَ بَعْدَهُ (تاج العروس) قرآن مجید میں ہے: فَخَلَفَ .مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَبَ (اعراف: ۱۶۹) '' ان کے بعد ایسے ناخلف آئے یا ان کے جانشین ہوئے جو کتاب کے وارث ہوئے۔ وَقَالَ مُوسَى لَآخِيْهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي (اعراف: ۱۴۲) اور موسی نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ تو میری قوم کے اندر میرے بعد میرا جانشین یا نا ئب ہو ۔ قَالَ بِئْسَمَا خَلَقْتُمُونِي مِنْ بَعْدِى (اعراف: ۱۵) موسی نے کہا کہ میرے بعد تم نے میری بہت بری نیابت کی ۔ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلَئِكَةٌ فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ (الزخرف:۲۰) اگر ہم چاہیں تو زمین میں تم میں سےملائکہ پیدا کریں جو تمھاری جگہ آباد ہوں۔"
أخْلَفَ کے معنی کھوئی ہوئی چیز واپس دینے یا دلانے یا اس کا بدل عطا کرنے کےہیں ۔ اَخْلَفَ اللهُ لَكَ وَعَلَيْكَ خَيْرًا أَى أَبْدَلَكَ بِمَا ذَهَبَ عَنْكَ وَعَوَّضَكَ عَنْهُ (نهای ابن اثیر ) ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَمَا انْفَقْتُمْ مِنْ شَيْ فَهُوَ يُخْلِفَهُ وَهُوَ خير الرازقین (سبا: ۳۹) " جو تم خرچ کرو گے اللہ اس کا نعم البدل تم کو دے گا اور وہ بہترین رازق ہے ۔ حدیث میں ہے: تَكَفَّلَ اللهُ لِلْغَازِي أَنْ يُخْلِفَ نَفْقَتَهُ اللَّہ نےغازی کے لیے ذمہ لیا ہے کہ جو کچھ وہ خرچ کرے گا اللہ اس کا بدل عطا کرے گا“۔
استخلف کہہ کر اگر منوب عنہ کی تصریح نہ کی گئی ہو تو معنی یہ ہوں گے کہ اپنا خلیفہ بنايا إِسْتَخْلَفَ فُلانَا أَى جَعَلَهُ خَلِيفَةً لَّهُ ۔ اور اگر منوب عنہ کی تصحیح ہو تو پھر معنی یہ ہوں گےکہ اس شخص کا جانشین بنایا جس کا ذکر کیا گیا ہےاِسْتَخْلَفَ فُلَانَـا مِـنْ فَلَانٍ أَى جَعَلَهُ مَكَانَهُ (اقرب الموارد) پس جہاں قرآن مجید نے محض استخلاف کا ذکر کیا ہے اور مستخلف لہ کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا مثلاً لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمُ (النور: ۵۵) ایسےمقامات پر استخلاف کےمعنی یہی ہوں گےکہ اللہ نےاپنا خلیفہ بنایا۔اور جہاں مستخلف لڑ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہاں معنی یہ ہوں گے کہ دوسرے کی جگہ یا دوسرے کے بعد خلیفہ بنایا۔ لیکن واضح رہے کہ جب کبھی پچھلے نائب کو بنا کر اس کی جگہ دوسرا نائب مقرر کرنےکا ذکر کیا جائے گا تو اس میں دونوں مفہوم شامل ہوں گے یعنی اس کا مفہوم یہ بھی ہوگا کہ حاکم اعلیٰ نے فلاں شخص کو فلاں شخص کی جگہ مقرر کیا اور یہ بھی کہ اس نے فلاں شخص کے بعد فلاں شخص کو اپنا نائب مقرر کیا۔ مثلا اگر کہا جائے کہ استخلف الملک اللوردارون بعد اللورد ریدنك في ولاية الهند تو اس کےیہ معنی بھی ہوں گےکہ بادشاہ نے لارڈارون کو لارڈ ریڈنگ کےبعد اس کی جگہ ہندوستان کا وائسرائےبنایا اور یہ بھی ہوں گےکہ اُس نےاردن کوریڈنگ کے بعد ہندوستان کی ولایت میں اپنا وائسرائے مقرر کیا۔ ان دونوں مفہوموں میں کوئی تضاد و تناقص نہیں ہے کہ بیک وقت صادق نہ آسکیں ۔ پس اِنْ يَّشَا يُذْهِبُكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ مِنْ بَعْدِكُمْ مَّا يَشَآءُ (انعام:۱۳۴) کا یہ مفہوم بھی ہے کہ خدا تمھاری جگہ دوسروں کو دے دے گا اور یہ بھی کہ خدا تمھاری جگہ دوسروں کو اپنا خلیفہ بنا لے گا۔ جہاں تک لغت کا تعلق ہے کوئی امر ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں مفہوم لینے میں مانع نہیں ہے۔
جَعَلَهُ خَلِيفَةً کے معنی صرف خلیفہ بنانے کے ہیں۔ خلیفہ کےمعنی خواہ نائب کےہوں یا جانشین کے دونوں صورتوں میں اس کا مفہوم ایک اضافی مفہوم ہےاور اس کا اتمام بغیر اس کےنہیں ہو سکتا کہ کوئی مستخلف لہ اور منوب عنہ بھی ہو عام اس سےکہ مقدر ہو یا مذکور۔پس جس جگہ جعل خلیفہ کےساتھ قرآن مجید نے مستخلف لا کی تصریح کر دی ہے وہاں تو مفہوم واضح ہے مثلاً وَ اذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمٍ نُوحٍ (اعراف:۲۹) اور وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمٍ عَادٍ (اعراف: ۷۴ ) اور ثُمَّ جَعَلْنَكُمْ خَلِيفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِتَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (یونس: ۱۴) لیکن جہاں مستخلف لۂ کی طرف قطعا کوئی اشارہ نہیں ہے وہاں ایک مستخلف لۂ مقدر مانا پڑے گا مثلا يَا دَاوُدَ إِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ (ص:۲۶) اور وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ (النمل: ۶۲ ) اور وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَليفَ الْأَرْضِ (انعام:(۱۶۶) اور اِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (بقره:٣٠) اس طرح کی تمام آیات کے بارے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان میں انسان یا انسانوں کو کس کا خلیفہ بنانے کا ذکر ہے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ چھلی مخلوقات یا گذشتہ اقوام یا شاہان پیشین کا خلیفہ تو قطع نظر اس سے کہ یہ ایک تکلف ہے بعض آیتیوں میں یہ معنے کہتے ہیں نہیں ۔ مثال کے طور پر وَيَجْعَلَكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْض میں خلفاء کو زمین کی طرف مضاف کیا گیا ہے جس کا لفظی ترجمہ زمین کے خلفاء ہے۔ اس سے یہ معنے نکالنے کی کہاں گنجائش ہےکہ زمین پر پہلے جو لوگ متمکن تھے ان کے خلفاء؟ پھر انِي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً کےمعنی اگر یہ لیے جائیں کہ " میں پچھلے ساکنین ارض کا ایک خلیفہ بنانےوالا ہوں ۔ تو یہ سوال پیدا ہو گا کہ کیا اللہ تعالی نے قرآن میں کہیں اُن ساکنین ارض کا ذکر کیا ہےجن کی خلافت انسان کےسپرد کی گئی ہے؟ اگر کیا ہےتو حوالہ پیش کیجیےاگر نہیں کیا تو فرمائیے کہ ایسی صورت میں محض زبان اور ادب کے نقطۂ نظر سے اس فقرے کا یہ مفہوم زیادہ اقرب الی الفہم ہے کہ " میں پچھلے مجہول الحال ساکنین ارض کا ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ یا یہ کہ ” میں زمین میں اپنا ایک نائب مقرر کرنےوالا ہوں؟ اگر سامع صرف عربی جانتا ہو اور ان عقلی مقدمات سےنا آشنائےمحض ہو جنھیں مولانا نے ترتیب دے کر ایک نتیجہ اخذ کیا ہے تو اس فقرے کو سن کر وہ ان دونوں معنوں میں سے کون سے معنی مراد لے گا؟
اس لغوی تحقیق کے بعد میں آپ کو دعوت دوں گا کہ آپ خلافت کے اس مفہوم پر غور کیجیے جس کو خود آپ نے اور مولانا نے مراد لیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:
مولانا .... إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (بقرہ:۳۰) کا ترجمہ ” میں زمین میں ایک بادشاہ بنانے والا ہوں“ کرتے ہیں اور اس پر نوٹ لکھتے ہیں:
غور فرمائیے کہ خلافت کے معنی تو محض جانشینی یا قائم مقامی یا بعد میں آنے کےہیں۔ پھر اس میں بادشاہی اور فرمانروائی کا مفہوم کہاں سے آگیا؟ اگر نفس خلافت اس مفہوم سے خالی ہے اور یقیناً خالی ہے تو اس میں یہ مفہوم اس اعتبار ہی سے آسکتا ہے کہ خلیفہ کو خلافت کسی فرمانروا اور کسی سلطان سے ملی ہو۔ پھر جب انسان کو وہ خلافت ملی جس میں خود آپ کےاعتراف کےمطابق سلطنت و فرمانروائی کی جھلک ہےتو لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ انسان جس کا خلیفہ ہوا وہ کوئی فرمانروا تھا۔ اب فرمائیے کہ کیا قرآن سے یا علمی تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان سے پہلے زمین پر کوئی ایسی مخلوق تھی جس میں فرمانروائی کی شان تھی؟ فرمانروائی کے لیے علم حکمت اختیار اراده قدرت وغیرہ صفات کا ہونا ضروری ہے کیونکہ ان کے بغیر زمین اور اس کی موجودات پر فرمانروائی نہیں ہو سکتی۔علمی تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس کرہ خاکی پر انسان سے پہلے کوئی مخلوق ایسی موجود نہ تھی جو ان صفات سے متصف ہوتی۔ اس کی تصدیق قرآن بھی کرتا ہے۔ وہ ہم کو بتاتا ہےکہ انسان سے پہلے خدا کی جو مخلوق سب سے افضل تھی یعنی ملائکہ جن کو (عِبادُ مُكْرِمُونَ) کہا گیا ہے۔ اس کا بھی یہ حال تھا کہ وہ علم اشیا سے بے خبر تھی (ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَئِكَةِ فَقَالَ انْبِتُونِي بِأَسْمَاءِ هَوْلَاءِ إِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ - قَالُوا سُبُحْنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا (بقره: ۳۱-۳۲) اور ارادہ و اختیار کی آزادی سے بالکل محروم تھی (لا يَعْصُونَ اللهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ - (التحريم : 1 ) دوسری مخلوق جن تھے' سوان کے متعلق کوئی بات قرآن مجید نے ایسی بیان نہیں کی جس سے معلوم ہوتا ہو کہ ان کو زمین کی فرمانروائی حاصل تھی۔ رہے حیوانات ونباتات و جمادات تو ان کا حال آپ جانتے ہیں۔پھر آخر وہ کون سی مخلوق تھی جس کی خلافت زمین کی فرمانروائی کے اعزاز کے ساتھ انسان کو حاصل ہوئی؟
تا ہم اگر مان لیا جائے کہ یہ پرانے ساکنین ارض ہی کی خلافت ہے اور وہ ساکنین ارض انسان سے پہلے زمین کے فرمانروا تھےتو کیا وہ بالاصالت فرمانروا تھے یا ان کی فرمانروائی بھی نا ئبانہ تھی ؟ پہلی حق تو آپ اختیار نہیں کر سکتے،کیونکہ اسلامی عقیدہ کی رُو سے بالاصل اور بالذات فرمانروا صرف حق تعالٰی ہے اور اس کے سوا سب کی فرمانروائی محض عطائی ہے۔اب رہی دوسری شق تو اس کو اختیار کرنے کی صورت میں یا تو آپ کو خلافت در خلافت کا ایک لامتناہی سلسلہ ماننا پڑے گا یا پھر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ فرمانروائی کی شان خواہ یکے بعد دیگر کتنے ہی خلفاء کو ملی ہو بہر حال اس کا سر چشمہ وہی ذات حق تعالیٰ ہے اور خلافت میں بادشاہی کی جھلک اُسی وقت آ سکتی ہے جبکہ وہ خلافت الہی ہو۔
اب میں آپ کو اُن قرآنی اشارات کی طرف توجہ دلاؤں گا جن سے معلوم ہوتا ہےکہ انسان کو جس خلافت سے سرفراز کیا گیا ہے وہ دراصل خلافتِ الہی ہے۔
قرآن مجید کا بیان ہے کہ خدا نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تقویم ( تمن: ۱۴) اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بنا یا کھال یا ابلیس ما مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ (ص: ۷۵ ) اس میں اپنی طرف سے رُوح پھونکی ثُمَّ سَولَهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُوحِهِ (السجده : 9) اس کو علم کی نعمت سے سرفراز کیا، وَعَلَّمَ ادَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا (البقره: ۳۱) زمین و آسمان کی ساری چیزوں کو اس کے حق میں مسخر کر دیا وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثي: ۱۳)
ان صفات کے ساتھ جب انسان کی تخلیق پایہ تکمیل کو پہنچ گئی تو اللہ تعالی نےفرشتوں کو حکم دیا کہ اس کے آگے سجدہ کریں۔ یہ حکم سورہ ص کے آخر میں جس انداز سےبیان کیا گیا ہے وہ خاص طور پر قابل غور ہے۔
إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَئِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ طِينٍ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ فَسَجَدَ الْمَلَئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَى اسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ العَالِينَ- قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ قَالَ فَاخْرُجُ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَحِيمٌ -(ص: ۷۱-۷۷)
جبکہ تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنےوالا ہوں، پس جب میں اس کو پورا بنالوں اور اس کےاندر اپنی زوح سےکچھ پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدہ میں گر جانا۔ چنانچہ تمام ملائکہ نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے نہ کیا۔ وہ گھمنڈ میں پڑ گیا اور کافروں میں سےہو گیا۔ اللہ تعالٰی نےفرمایا کہ اے ابلیس کس چیز نے تجھے اس ہستی کو سجدہ کرنے سے منع کیا ہے جسےمیں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟ تو نےاپنے آپ کو بڑا سمجھ لیا ہے یا واقعی تو کچھ بڑےلوگوں میں سےہے۔ اس نےکہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نےمجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے بنایا ہے۔ اس پر اللہ نےفرمایا اچھا تو یہاں سے تو نکل جا کیونکہ تو مردود ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو سجدہ کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ نے اس کو اپنےدونوں ہاتھوں سے بنایا تھا۔ یعنی وہ قدرت اور صنعت انہی کا مظہر اتم تھا۔ اور اس کے اندر خود اپنی طرف سےایک خاص روح پھونکی تھی اور ایک محدود بیانے پر اس میں وہ صفات پیدا کر دی تھیں جو بدرجہ فوق التمام خود باری تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں۔ اس شان اور ان صفات پر انسان کو پیدا کرنے کے بعد اعلان کیا گیا کہ ہم اس کو زمین میں خلیفہ بنانے والے ہیں۔ جیسا کہ سورہ بقرہ کے چوتھے رکوع میں ارشاد ہوا ہے۔ فرشتوں نے اس معاملہ میں کچھ اپنے شکوک پیش کیے تو اللہ تعالی نےان کے سامنےانسان کی سب سےافضل صفت یعنی علم کا مظاہرہ کرایا۔ اس طرح جب خلافت کے لیےانسان کی اہمیت ثابت کر دی گئی تو فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ اس کی خلافت تسلیم کرو اور علامت تسلیم کے طور پر اُسے سجدہ کرو ۔ تمام فرشتوں نے اسے تسلیم کیا اور سر بسجو د ہو گئے، مگر شیطان نے اس کی خلافت ماننے سے انکار کیا اس لیے اس کو راندہ درگاہ کر دیا گیا۔
یہ تمام اشارات کیا ظاہر کر رہے ہیں؟ تمام مخلوقات پر انسان کی فضیلت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ عام مقابلہ میں اس کی فضیلت ثابت کی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ہماری صفات کا مظہر اتم ہے اور ہم نے اس میں اپنی طرف سے ایک خاص روح پھونکی ہے۔ حکم ہوتا ہے اور وہ بھی کس کو؟ فرشتوں کو کہ اس کو سجدہ کرو ۔ ان سب باتوں کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم اس کو خلیفہ بنانے والے ہیں۔ ان تیاریوں کے ساتھ جس خلیفہ کی خلافت کا اعلان کیا گیا، کیا وہ محض پرانے ساکنین ارض ہی کا خلیفہ تھا؟ اگر بات صرف اتنی ہی تھی کہ پرانے لینے والوں کی جگہ کسی دوسرے کو بسایا جا رہا تھا تو اس کے لیے فرشتوں کے سامنےاس کی خلافت کا اعلان کرنے اور یوں اس کی فضیلت کا مظاہرہ کرانے کی کیا ضرورت تھی؟ اور پھر ملائکہ کو یہ حکم کیوں دیا گیا کہ اس کرہ خاکی کے نو آباد کار کو جو فقط دوسرے لوگوں کی جگہ لینے کے لیے جا رہا تھا، سجدہ کریں؟
ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تھا مگر انھوں نے اس کا بار اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم اور انجام سے بے خبر نکلا ۔
اس آیت میں بار امانت سے مراد اختیار Freedom of Choice) اور ذمہ داری و جواب دعی (Responsibility) ہےاور ارشاد الہی کا مطلب یہ ہےکہ آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں میں اس بار کو اٹھانےکی تاب نہ تھی۔ انسان سےپہلےکوئی مخلوق ایسی نہ تھی جو یہ پوزیشن قبول کر سکتی۔آخر کار انسان آیا اور اس نے یہ بار اُٹھا لیا۔ اس بیان سے متعدد نکات نکلتے ہیں۔
3- خلافت کے مفہوم کو امانت کا لفظ واضح کر دیتا ہے اور یہ دونوں لفظ نظام عالم میں انسان کی صحیح حیثیت پر روشنی ڈالتےہیں۔انسان زمین کا فرمانروا ہے۔ مگر اس کی فرمانروائی بالا صالت نہیں ہے بلکہ تفویض کردہ (Delegated) ہے۔ لہذا اللہ نےاس کے اختیارات مفوضه (Delegated Power) کو امانت سے تعبیر کیا ہے اور اس حیثیت سے کہ وہ اس کی طرف سے ان اختیارات مفوضه کو استعمال کرتا ہےاُسے خلیفہ (Vicegerent) کہا ہے۔اس تشریح کے مطابق خلیفہ کےمعنی یہ ہوئےکہ وہ شخص جو کسی کےبخشے ہوئے اختیارات کو استعمال کرئے“۔
تفہیم القرآن میں آیت وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ ويَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فإن التهو افلا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّلِمِينَ )_١ (بقره: ۱۹۳) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ باز آجانے سے مراد کافروں کا اپنے کفر و شرک سے باز آجاتا نہیں بلکہ فتنہ سےباز آجاتا ہے۔کافر مشرک دہریے ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنا جو عقیدہ رکھتا ہے رکھے اور جس کی چاہے عبادت کرنے یا کسی کی نہ کرے۔ اس گمراہی سے اس کو نکالنے کے لیے ہم اسےفہمائش اور نصیحت تو کریں گے مگر اس سے لڑیں گے نہیں۔ لیکن اسے یہ حق ہرگز نہیں ہے کہ خدا کی زمین پر خدا کے قانون کے بجائے اپنے باطل قوانین جاری کرےاور خدا کےبندوں کو غیر از خدا کسی کا بندہ بنائے۔ یہ فتنہ بزور شمشیر مٹایا جائے گا اور مومن کی تلوار اس وقت تک نیام میں نہ جائے گی جب تک کفار اپنی روش سے باز نہ آجائیں“۔ اس تفسیر کے خط کشیدہ فقرے پر ناظرین ترجمان القرآن میں سے ایک صاحب علم بزرگ نے حسب ذیل اعتراض کیا ہے:
١- آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے : ” اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کےلیے ہو جائے ۔ پھر اگر وہ باز نہ آجائیں تو دست درازی جائز نہیں ہے مگر ظالموں پر۔"
(الف) اس کے معنے یہ ہیں کہ اسلام جو امن اور سلامتی کا حامی اور مویہ ہے دوسروں کے مذہب میں مداخلت اور اس بنا پر لڑائی روا رکھتا ہے حالانکہ یہ امر لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (بقره: ۲۵۲) کے مخالف ہے۔
(ب) مخالفین کو اپنےاپنےمذہب اور عقائد پر قائم رہنے کی آزادی لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِيَ دِينِ (کافرون: ۶) سےبھی ظاہر ہے جو کوئی اپنےعقائد میں آزاد ہو گا اسےان کی اشاعت اور تبلیغ میں بھی آزادی ہونی چاہیےکیونکہ وہ انھی عقائد کو برحق سمجھتا ہے۔ قرآنی مفہوم سےای آزادی کا پتہ چلتا ہے اور باہمی مناظرات کا ثبوت بھی ملتا ہےمثلا لا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ( عنكبوت: ۴۶-۴۵) غیر مذاہب کےعبادت خانے اور طریق عبادت اسلامی مداخلت سے محفوظ رہے ہیں ۔ حتیٰ کہ مسجد نبوی میں اہل کتاب کو اپنے طریق پر عبادت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے عزیز مصر کی ملازمت اختیار کی جس کا عقیدہ اور عمل مشر کا نہ تھا۔ ہاں اپنے طور پر امن کے ساتھ تبلیغ کرتے رہےجيسا كہ يَا صَاحِبَي السِّجْنِ ءَ أَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (يوسف: ۳۹) سے ظاہر ہے اس طرح دوسروں کو بھی اپنے خیالات کی اشاعت کا حق پہنچتا ہے۔
(ج) زیر خط عبارت کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلمان کہیں بھی مخلوط آبادی میں امن سے زندگی نہیں گزار سکتے غیر مسلم تمدنی اور معاشرتی امور میں بھی کیوں نہ ان کے ساتھ تعاون باہمی اور رواداری سے کام لیں ۔ جبکہ ان کا سیاسی اور اساسی عقیدہ ہی سد راہ ہو؟ ایسے مسلمان اگر ترکی اور ایران میں بھی آباد ہوں تو بقول آپ کےوہاں بھی انھیں حکیم جہاد بلند کرنا ہوگا کیونکہ ان ممالک میں حدود اور قوانین اسلامی نافذ نہیں۔اس زمانہ میں عالمگیر سیاست اس نہج پر مدون ہے کہ کوئی جماعت غیر معروف طریقوں سےغیر مسلموں کےساتھ تعاون و تعامل باہمی سےکام نہیں لے سکتی کیونکہ آپ کا فرموده استدلال کسی اشتراک عمل کے لیے مانع ہوگا۔ اگر اسلامی جماعت اپنےعقائد کی اشاعت کا حق رکھتی ہےتو اسےغیر مسلموں کو بھی،خصوصاً جبکہ وہ حکمران ہوں، وہی حق دیتا ہوگا۔ ہر چہ بر خود نہ پسندی بر دیگراں ملپسند ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کےاہل کتاب کے ساتھ جو تعامل باہمی کے معاہدے کیے تھےکیا وہ معاہدے ایسی ہی شرائط پر مبنی تھے؟ مکی زندگی کے ابتدائی مراحل آپ کے استدلال کے موید نہیں۔ بالفاظ دیگر ایسی جماعت کا وجود ہی کسی غیر مسلم حکومت کے لیے کھلا چیلنج ہے کہ جونہی اسےقوت ملی وہ اس کے قوانین اور اس کے نظام حکومت کو مٹانے کےلیے تلوار ہاتھ میں لے لے گی ۔ کون اس کو برداشت کرے گا؟“
اس اعتراض کا مختصر جواب تو چند جملوں میں بھی دیا جا سکتا ہے، لیکن در حقیقت یہ اعتراض اپنی پشت پر غلط فہمیوں کا ایک بڑا انبار رکھتا ہے اور وہ غلط فہمیاں اُمت میں بڑی کثرت سے پھیلی ہوئی ہیں، حتی کہ ان کی وجہ سے مسلمان بالعموم اپنے دین کے بنیادی تقاضوں تک کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں، اس لیے یہاں ذرا اس پر تفصیل سے بحث کی جاتی ہے۔
یہ بحث تو بعد میں ہوتی رہے گی کہ اسلام امن اور سلامتی کا مؤید کس معنی میں ہےاور لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ اور لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِى دِینِ کا کیا مطلب ہے اور یہ کہ حضرت یوسف علیہ السلام نبوت کرنے آئے تھے یا تلاش روزگار میں نکلے تھے۔ ان باتوں سے پہلے اس سوال کا تصفیہ ہونا چاہیے کہ فی الواقع اسلام کا مشن اس دنیا میں ہے کیا ؟ کیا وہ جتہاروں کی سواری کے لیے انسانوں کو سدھانے آیا ہے تا کہ ہر جبار جب دنیا میں خدائی کرنے اٹھے تو اسلام کے پیروؤں کو اپنا اطاعت گزار خادم پائے؟ کیا اس نے دنیا بھر کی حکومتوں اور سلطنتوں کے لیے پر امن رعیت فراہم کرنے کا اجارہ لیا ہے کہ ہر حکومت کو خواہ اس کا نظام کسی نوعیت کا ہو اپنی مشینری چلانے کے لیے اسلام کے کارخانہ سے ہر قسم کے ڈھلےڈھلائے پُرزے حاصل ہو جایا کریں؟ کیا اس کا کام بس یہی ہے کہ چند عقائد اور چند اصول اخلاق کی تعلیم دے کر آدمیوں میں اتنی لچک اور اتنی نرمی پیدا کر دے کہ وہ ہر نظام حمدن میں، خواہ وہ کسی قسم کا تمدن ہو بآسانی کھپ سکیں ؟ اگر معاملہ حقیقت میں یہی ہے تو اسلام بودھ مذہب اور سینٹ پال کی بنائی ہوئی مسیحیت سے کچھ بہت زیادہ مختلف چیز نہیں ہے اور اس کے بعد یہ سمجھنا ہمارے لیے مشکل ہے کہ ایسے مذہب کی کتاب میں قَاتِلُوهُمُ جیسا خوف ناک لفظ سرے سے آیا ہی کیوں۔ اسے تو اپنے پیرووں کو جنگ اور جہاد کا حکم دینے کے بجائے اپنے مخالفین سے یہ کہنا چاہیے تھا کہ :
"ہم غریبوں کو آخر کیوں مارتےہو؟ ہم نہ نظام حکومت میں کوئی انقلاب کرنا چاہیں نہ نظام تمدن میں کسی ترمیم و تنسیخ کی دعوت دیں۔اقتدار کسی کا بھی ہو اُس کےماتحت پر امن باشندوں کی حیثیت سے رہنا ہمارا مسلک اور حکومت وقت کی وفاداری ہمارا دین و ایمان۔پھر ہم سےتمھیں پر خاش کی کیا وجہ؟ رہا ہمارا مذ ہبی عقیدہ اور ہمارا پوجا پاٹ کا نظام تو اس سےتمھارا کیا بگڑتا ہے؟تمھارا کون سا تمدنی ادارہ اور کون سا مفاد ایسا ہےجس پر ہمارے عقیدے یا ہماری پوجا کی ضرب پڑتی ہو؟“
یہ جواب اگر اچھےمعقول پیرایہ میں دیا جاتا اور عملاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کےپیر و وفادارانه خدمات بھی انجام دیتے رہتے تو مشرکین مکہ ہمارے انگریز آقاؤں کےمقابلہ (1) میں کچھ ایسے زیادہ نا معقول نہ تھے کہ مسجدوں میں اذان و نماز کی آزادی اور تبلیغی انجمنوں کے قیام کی اجازت نہ دیتے۔
١- واضح رہے کہ یہ مضمون ۱۹۴۲ء میں لکھا گیا تھا۔
لیکن اگر حقیقت یہ نہیں ہےبلکہ اسلام خود ایک نظام زندگی رکھتا ہےجس میں عقائہ اخلاق اور عبادات کےساتھ انفرادی طرز عمل اور اجتماعی زندگی کےتمام معاملات سےمتعلق احکام و قوانین بھی ہیں،اور اگر اسلام کی دعوت اپنے اس پورے نظام کی طرف ہے اور اگر اس کا دعوی یہ ہے کہ اس کا اپنا نظام ہی برحق ہے اور اسی میں انسان کی فلاح ہےاور اس کے سوا ہر دوسرا نظام باطل ہے تو ان باتوں کے ساتھ یہ قطعی ناگزیر ہے کہ اسلام زمین میں اپنےنظام کو غالب اور دوسرے نظامات کو مغلوب کرنےکا بھی تقاضا کرے۔ایک نظام زندگی کو حق اور صدق ہونےکی حیثیت سےپیش کرنا اور پھر عملاً اس کی اقامت کی دعوت نہ دینا سراسر ایک مہمل بات ہے۔اور اس سےبھی زیادہ مہمل بات یہ ہےکہ دوسرے نظامات کو باطل بھی کہا جائےاور پھر ان کےغلبےکو برداشت بھی کیا جائے۔مزید برآں یہ بات بداہتہ محال ہے کہ ایک نظام زندگی کی پیروی کسی دوسرے نظام زندگی کے ماتحت رہتے ہوئے کی جاسکے۔اس لیےوہ صرف ایک فاتر العقل ہی ہو سکتا ہے جو ایک ہی وقت میں اپنے پیش کردہ نظام کی پیروی کا مطالبہ بھی کرے اور ساتھ ہی دوسرےنظامات کے اندر پر امن و فادارانہ زندگی بسر کرنے کی تعلیم بھی دے۔
بس اسلام کا اپنے مخصوص نظام زندگی کی طرف دعوت دینا عین اپنی فطرت میں اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ دوسرے نظامات کو ہٹا کر ان کی جگہ اپنے نظام کی اقامت کا مطالبہ کرنے اور اس مقصد کے لیے اپنے پیرووں کو جدوجہد کی ان تمام صورتوں کے اختیار کرنے کا حکم دےجن سے یہ مقصد حاصل ہوا کرتا ہے اور مدعیان اتباع کےایمان و عدم ایمان کا نشان امتیاز اسی سوال کو قرار دےکہ آیا وہ اس جدوجہد میں جان و مال کی بازی لگاتے ہیں یا باطل نظامات کے ماتحت جینےپر راضی رہتے ہیں؟ قرآن اور حدیث دونوں کو اٹھا کر دیکھ لیجیے آپ کو صاف نظر آ جائے گا۔۔۔ بشرطیکہ دل میں کوئی چور نہ ہو۔۔۔ کہ اسلام کا اصل موقف یہی ہے نہ کہ وہ جو آپ بیان فرما رہے ہیں۔
پھر جب حقیقت یہ ہے اور ہم اسلام کی حقیقت کو جان کر اس پر ایمان لائے ہیں تو یقیناً ہمارے وجود کو ہر غیر اسلامی حکومت کے لیے کھلا چیلنج ہونا ہی چاہیے۔ کوئی اس کو برداشت کرے یا نہ کرے، غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل ہو سکےیا نہ ہو سکے، بہر حال اگر ہم اپنے ایمان میں صادق ہیں تو ہمارا کام یہی ہے کہ جہاں بھی خدا کا قانونِ شرعی نافذ نہیں ہےوہاں ہم اس کےنفاذ کےلیےجد و جہد کریں۔ ہمارا مسلمان ہونا اس شرط کےساتھ مشروط نہیں ہےکہ جو لوگ خدا سےپھرےہوئےہیں وہ ہماری اس جدوجہد کو برداشت بھی کریں۔اور غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل بھی ہمارے لیے کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس نظام زندگی پر ہم ایمان لائے ہیں اس کے قیام کی جدو جہد صرف اس لیےچھوڑ دیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل اس صورت میں نہ ہو سکے گا۔ اسلام بےشک امن اور سلامتی کا حامی اور مؤید ہے مگر اس کی نگاہ میں حقیقی امن اور سلامتی وہی ہےجو حدود اللہ کی اقامت سےحاصل ہوتی ہے۔جس کسی نےامن اور سلامتی کا مطلب یہ سمجھا ہےکہ شیطانی نظامات کےزیر سایہ اطمینان کے ساتھ سارے کاروبار چلتےہیں اور مسلمان کی نکسیر تک نہ پھوٹے اس نے اسلام کا نقطۂ نظر بالکل نہیں سمجھا۔اسےاچھی طرح معلوم ہو جانا چاہیےکہ اسلام ایسےامن اور ایسی سلامتی کا ہرگز حامی اور موید نہیں ہے۔ اُسےدوسروں کا قائم کردہ امن نہیں بلکہ اپنا قائم کردہ امن مطلوب ہے اور اس میں وہ انسان کی سلامتی دیکھتا ہے۔
رہا لا إِكْرَاهَ فِى الدِّينِ، تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام اپنے عقائد زبر دستی کسی سے نہیں منواتا کیونکہ یہ بزور منوانے کی چیز نہیں ہے۔ اسی طرح وہ اپنی عبادات بھی، جن کا لازمی تعلق اس کےعقائد سےہےزبر دستی کسی پر مسلط نہیں کرتا، کیونکہ ایمان صحیح کے بغیر یہ عبادات محض بے معنی ہیں۔ ان دونوں امور میں وہ ہر ایک کو آزادی دینے کے لیے تیار ہے۔ لیکن وہ اس بات کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ قوانین تمدن جن پر اسٹیٹ کا نظام قائم ہوتا ہے خدا کے سوا کسی اور کے بنائے ہوئے ہوں اور خدا کی زمین پر اس کے بانی اس کو نافذ کریں اور مسلمان اُن کے تابع ہو کر رہیں۔ اس معالمہ میں بہر حال ایک فریق کو دوسرے فریق کے "مذہب" میں مداخلت کرنی ہی پڑےگی۔اگر مسلمان مذہب کفر میں مداخلت نہ کریں گے تو کافر”مذہب اسلام" میں مداخلت کر کےرہیں گے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی زندگی کے بہت بڑے حصے پر مذہب کفر جاری ہوگا۔ لہذا بجائے اس کے کہ یہ مداخلت کفار کی طرف سے ہو اسلام یہ تقاضا کرتا ہے کہ مسلمان آگے بڑھ کر نظام زندگی پر قبضہ کریں اور پھر جہاں تک مذہبی عقائد اور عبادات کا تعلق ہے غیر مسلموں کے ساتھ لا الخراهُ فِی الدِّینِ کے اصول پر عمل کریں۔
ان کی پہلی دلیل یہ ہے کہ جب تم " فتنے سے مراد کفر کا غلبہ اور کفار کی بالا دستی لیتےہو اور جہاد و قتال کی غایت یہ قرار دیتے ہو کہ تمھاری اس تفسیر کے مطابق جس چیز کا نام "فتنہ"وہ مٹ جائے اور اس کی جگہ "اللہ کا دین" قائم ہو تو اس سے یہ مانا لازم آتا ہےکہ اسلام دو بالکل متضاد حیثیتیں اختیار کر رہا ہے۔ ایک طرف کہتا ہے: لا إِكْرَاهَ فِى الدین دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیں ہےدوسری طرف غیر مسلموں کا یہ حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ وہ اپنے نظریہ و مسلک کے مطابق حکومت کا نظام چلائیں اور ان کےقوانین کا اجرا موقوف کر کےزبر دستی اُن پر اللہ کےدین کو مسلط کرنا چاہتا ہےایک طرف لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِيَ دِينِ کہہ کر غیر مذاہب کے پیرووں کو اپنےمذہب و عقائد پر قائم رہنےکی آزادی دیتا ہے۔دوسری طرف اُن سےٹھیک اسی بات پر لڑائی چھیڑتا ہے کہ وہ اپنے عقیدے اور اپنےاصولوں کے مطابق معاملات دنیا کا انتظام کیوں کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسلام ہر گز اس تضاد کا حامل نہیں ہو سکتا۔لہذا تمھاری تغییر صحیح نہیں ہے-
دوسری دلیل یہ ہےکہ اگر غیر اسلامی حکومت کا نفس وجود اسلام کی نگاہ میں فتنہ ہوتا اور اس کو مٹانےپر مسلمان مامور ہوتےتو کس طرح ممکن تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام مصر کی غیر اسلامی حکومت میں وزارت کا عہدہ طلب کرتے اور اپنی وزارت کے دور میں مصر کے شاہی قوانین کے پابند رہ کر کام کرتے جیسا کہ آیت مَا كَانَ لِيَاخَذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ (یوسف: ۷۶) سے ظاہر ہے۔
تیسری دلیل یہ ہے کہ اگر تمھاری اس تغیر کو صحیح مان لیا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑےگا کہ اسلام دنیا میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ چھیڑتا ہے اور اپنے پیرووں پر جارحانہ جنگ کا ایک ایسا فرض عائد کرتا ہے جس کی وجہ سے مسلمان دنیا میں کہیں امن کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس تغیر کی رُو سے تو ہم پر لازم ہو جاتا ہےکہ نہ صرف تمام غیر مسلم حکومتوں کے خلاف بلکہ ان مسلمان حکومتوں کے خلاف بھی علم جہاد بلند کریں جن میں اسلامی حدود قوانین نافذ نہیں ہیں۔ اور جب یہ ہمارا نظریہ اور یہ ہمارا دینی فریضہ ہو تو کس طرح ممکن ہے کہ غیر مسلم ہم کو اپنا پر امن ہمسایہ سمجھ کر باطمینان ہمارے ساتھ معاملت کر سکیں اور غیر مسلم حکومتیں اپنے حدودہ عمل میں ہمارے وجود کو برداشت کر سکیں۔
(١) ان دلائل میں سے پہلی دلیل در اصل ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ کسی شخص کا بجائے خود ایک عقیدے کو ماننا اور اپنی زندگی میں ایک خاص طریقہ کی پیروی کرنا اور چیز ہے اور اس کا اپنے نظریات کے مطابق اجتماعی زندگی کے لیے ایک نظام بنانا اور اس نظام کو بزور ایک ملک کے باشندوں پر جاری کر دینا بالکل ایک دوسری چیز ۔معترضین ان دونوں چیزوں کو ایک سمجھتےہیں اور ان کے فرق کو نظر انداز کر کےلا اکراہ فی الدین اور لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِی دِيْنِ وغیرہ آیات کو ان کےمجموعہ پر چسپاں کر دیتے ہیں۔حالانکہ ان آیات کا تعلق صرف امراوّل سے ہے۔ بلا شبہ ہم کسی غیر مسلم کو مجبور نہ کریں گے کہ وہ اپنا عقیدہ چھوڑ کر اسلامی عقیدہ قبول کرےیا اپنی مذہبی عبادات کو ترک کر کےنماز روزہ کی پابندی اختیار کرلےلیکن ہم اس کا یہ حق کسی طرح تسلیم نہیں کر سکتے کہ وہ اخلاق، تعلیم تمدن معاشرت، معیشت، قانون اور سیاست و غیره اجتماعی امور کے متعلق اپنے نظریات کو حاکمانہ قوت کے ساتھ بجبر ہم پر مسلط کر دے۔ دوسروں کو ان کے مسلک پر چلنے دینا بیشک رواداری ہے مگر یہ کوئی رواداری نہیں ہے کہ اپنے مسلک کے خلاف ہم اپنے اوپر دوسروں کے مسلک کا تسلط برداشت کر لیں۔ملک کی حکومت جس فلسفہ زندگی پر مبنی ہوگی لامحالہ تمام قوانین اور پوری انتظامی پالیسی اور سارا کاروبار معیشت اسی فلسفے کے نظریات پر چلےگا اور ایسی حکومت کے تحت رہتے ہوئے یہ کسی طرح ممکن ہی نہ ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کا نظام اپنے مذہب و مسلک کے اصولوں پر چلا سکیں ۔ ہم خواہ راضی ہوں یا نہ ہوں، بہر حال مذہب مخالف کے پیرو اپنے سیاسی غلبے کی بدولت اپنے نظریات کو زبردستی ہماری پوری زندگی میں نافذ کر کے چھوڑیں گے۔ اس معاملہ میں رواداری برتنے کے معنی یہ ہیں کہ اگر وہ زنا کو حلال سمجھتے ہوں اور لوگوں کو اس کی عام اجازت دیتے ہوں تو ان کی حکومت میں بے بس رعیت کی حیثیت سے رہتے ہوئے خود ہماری سوسائٹی میں زنا پھیلتی چلی جائے اور ہم اسے گوارا کریں۔ اگر وہ سود کو جائز سمجھتے ہوں اور خود ان کی حکومت سودی لین دین کرتی ہو تو ملک کا انتظام ان کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے ہمارا کوئی بڑے سے بڑا زاہد و متقی تک سود کے غبار سے نہ بچ سکے اور ہم ایک دیا سلائی اور روٹی کا ایک کھلا بھی نہ خرید سکیں جب تک کہ اس کی قیمت میں سے سود کا ایک حصہ بالواسطہ ٹیکہ دن کی شکل میں ہماری جیب سے نہ نکل جائے۔ اگر وہ دہریت والحاد کے نظریات پر اعتقاد رکھتے ہوں تو ملک کی عمومی تعلیم کا پورا نظام انھی نظریات اور اس ذهنیت اور اسی محمد انہ اخلاق پر تعمیر ہو جائے اور باشندگان ملک کے لیے ترقی و خوشحالی کے تمام دروازے اس ایک جہنم کے دروازے کےسوا بند ہو جائیں اور ہمارا کوئی بڑے سے بڑا خدا پرست بھی اپنی نسل کو اس الحاد اور ملحدانہ اخلاق کے اثرات سے نہ بچا سکے۔ اگر وہ خدا کے قوانین کو منسوخ کر کے خود قوانین بنا ئیں اور ملک کا نظام تمدن اپنے خود ساختہ قوانین پر قائم کریں تو ہماری معاشی و معاشرتی اور حمدنی زندگی کا ایک بڑا حصہ مجبورا اس قانون کی پابندی سے آلہ او ہو جائے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں اور اس قانون پر چلنے لگے جس پر ہمارا ایمان نہیں ہے۔ کوئی ہمیں بتائےکہ آخر یہ رواداری کی کون کی قسم ہے؟ یا اخراء في اللبن کا یہ مطلب آخر کس مقل کی رو سے صحیح ہو سکتا ہے کہ دوسروں کی طرف سے دین میں جوا کراہ ہو اُسے ہم برداشت کر لیں؟
١- واضح رہےکہ حکومت در اصل جبر و اکراه (Coersive) ہی کا دوسرا نام ہے۔جو نظریات،اصول اور قوانین کسی حکومت کی اساس قرار پائیں گے وہ ظاہر ہے کہ اُن سب لوگوں پر بزور ہی نافذ کیے جائیں گےجو اس حکومت کے دائرے میں رہتے ہیں۔
یہ ظاہر ہےکہ اجتماعی زندگی کے نظم کو قائم کرنےکےلیےبہر حال ایک قوتو قاہرہ (Coercive Power) کی ضرورت ہے جسے اسٹیٹ یا ریاست کہتے ہیں۔۔۔ اس ضرورت کا انکار انار کی پر اعتقاد رکھنے والوں کے سوا آج تک کسی نے نہیں کیا ہے۔ یا پھر اشترا کی تصوف میں ایک ایسے مقام کا تصور کیا گیا ہے جہاں پہنچ کر انسان کی حیات اجتماعی اسٹیٹ کی ضرورت سے بے نیاز ہو جائے گی۔ لیکن یہ صرف عالم خیال کی باتیں ہیں جن کی تائید میں کوئی تجربہ یا مشاہدہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ عملی زندگی کا تجربہ اور انسانی فطرت کا علم ہی بتاتا ہے کہ تمدن کا قیام ایک قوت قاہرہ کا یقینا محتاج ہے۔۔۔پھر یہ بھی ظاہر ہےکہ یہ قوت جو اپنےقہر و غلبه سےنظام تمدن کو قائم رکھتی ہے بجائے خود کسی نہ کسی نظریےاور کسی نہ کسی اجتماعی مسلک کی قائل ہوتی ہے۔ اسی نظریہ و مسلک کے مطابق وہ اپنے لیےایک لائحہ عمل بناتی ہے۔ اسی لائحہ عمل کو وہ قاہرانہ طاقت کے ساتھ اجتماعی زندگی میں نافذ کرتی ہے۔اور حمدنی شکل کےبننے اور بگڑنےمیں اس قبر کی نوعیت اور اس لائحہ عمل کی اصولی و تفصیلی صورت کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ صرف اجتماعی زندگی ہی نہیں، انفرادی زندگی بھی بڑی حد تک طوعاً و کرہا اس سانچے میں ڈھل کر ہی رہتی ہے جسے اسٹیٹ اپنے قہر و تسلط سے بنا دیتی ہے۔ جو لوگ کسی اسٹیٹ کے دائرے میں رہتے ہوں وہ چاہے اُس کےبنیادی نظریے اور اس کے تفصیلی لائحہ عمل پر ایمان نہ رکھتے ہوں اور کسی طرح اس پر راضی نہ ہوں، لیکن انھیں چارونا چار اپنے عقیدہ و مسلک کے ۹۰ فی صد حصہ سے دست بردار ہو کر اسٹیٹ کے عقیدہ و مسلک پر چلنا پڑتا ہے اور باقی مافی صدی میں بھی ان کے عقیدہ و مسلک کی گفت روز بروز ڈھیلی ہی ہوتی جاتی ہے۔
اسٹیٹ کی اس نوعیت کو ملحوظ رکھنے اور یہ سمجھ لینے کے بعد کہ اجتماعی زندگی کے لیےاسٹیٹ بہر حال ہے ناگزیر ایک صاحب فکر و نظر آدمی کے لیے اس حقیقت کا ادراک کچھ مشکل نہیں رہتا کہ جو گروہ آج کل کے محدود معنوں میں محض ایک مذہب کا معتقد نہ ہو بلکہ ایک ہمہ گیر نظام زندگی یعنی ”دین“ پر اعتقاد رکھتا ہو وہ اگر اپنے اعتقاد میں سچا ہے اور اپنے اعتقاد کے خلاف زندگی گزارنا نہیں چاہتا تو اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ آگے بڑھ کر خود اس قوت قاہرہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے جو عظیم اجتماعی کی صورت گری کرتی ہے اور اپنے زور سے اس کو قائم رکھتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو دوسرے اس قوت پر قبضہ کرین گے اور پھر یہ گروہ مجبور ہوگا کہ اجتماعی و انفرادی زندگی کے کم از کم ٩٠ فیصد اُمور میں اپنے دین کے بجائے اُن کے دین پر چلے ۔ متمدن زندگی میں یہ اکراه لا محالہ ہم میں سے کسی ایک کو کرنا ہی پڑے گا۔ اگر ہم نہ کریں گے تو کفار کریں گے لہذا بجائے اس کے کہ کفار اس دائرے میں ہم پر اکراہ کریں اور ہمیں جہنم کی طرف گھسیٹ کر لے جائیں یہ زیادہ بہتر ہے کہ ہم ان پر اکراہ کریں اور انھیں اس مقام کےقریب لا کھڑا کریں جہاں اگر وہ چاہیں تو ان کو بآسانی جنت کا راستہ مل سکتا ہے۔
یہ اس معاملہ کا ایک پہلو ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ زمین کا مالک اللہ ہے۔اس کی زمین پر رہنے اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے اور اس کی ملکیت میں تصرف کرنےکا حق صرف اس کو پہنچتا ہےجو اس کا مطیع فرمان ہو اور اس کے قانون فطری وشرعی کا اتباع کرے۔ جو ایسا نہیں کرتا وہ ظالم ہے غاصب ہے باغی ہے۔ اس کی یہ نافرمانی صرف خلاف حق ہی نہیں بلکہ زمین کے انتظام میں فساد اور اہل زمین کے لیے فتنے کی موجب بھی ہےلہذا حق تو یہ ہے کہ جو لوگ خدا سےپھرےہوئےہیں اور اُس کےقانونِ فطری و شرعی کی پیروی سےمنحرف ہیں اُن کو زمین میں جینے کا حق بھی نہ ہونا چاہیے۔ لیکن یہ اللہ کی بہت بڑی عنایت اور اس کا انتہائی حلم ہے کہ وہ ان کو نہ صرف جینے کی مہلت دیتا ہے بلکہ ان کو ان کے کفر شرک دہریت اور الحاد پر اس حد تک قائم رہنےکا اختیار بھی دیتا ہے جہاں تک ان کی بغاوت دوسرے بندگانِ خدا کےلیے فتنہ وفساد کی موجب نہ ہو سکے۔ البتہ وہ اس بات کو ہرگز جائز نہیں رکھتا کہ یہ لوگ اس کےقانون شرعی کو منسوخ کر کےاپنےخود ساختہ قوانین پر اس کی زمین کا نظم و نسق چلا ئیں اور اس کی زمین کو فساد سے بھر دیں۔اس لیے وہ اپنے قانون شرعی پر ایمان لانے والوں کو حکم دیتا ہے کہ کفار کو دین حق پر ایمان لانے کے لیے تو مجبور نہ کرو لیکن غلبہ کفر و کفار کے فتنے کو پوری طاقت سے مٹانے کی کوشش کرو یہاں تک کہ زمین کا انتظام عملاً میرے دین پر قائم ہو جائے اور جو میرےدین کو نہیں مانتے وہ " کابر" نہیں بلکہ "صاغر" بن کر رہیں ۔ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدِوَّهُمْ صَاغِرُونَ (توبه : ۲۹)
(۲) ان حقائق کو ذہن نشین کر لینے کے بعد دوسری دلیل کا زور آپ سے آپ ختم ہو جاتا ہے۔ اگر حضرت یوسف علیہ السلام فی الواقع خدا کے فرستادہ پیغمبر تھے تو یقیناً ان کی زندگی کا مشن اُس ایک مشن کے سوا کچھ اور نہ ہو سکتا تھا جو ہر رسول برحق کا مشن رہا ہے یعنی خدا کے دین کو ہر دوسرے دین پر غالب کر دینا یہ ایک اصولی حقیقت ہے جسے تمام پیغمبروں کی سیرتوں کے مختلف واقعات کی تعبیر و تفسیر میں ہم کو ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر محوظ رکھنا ہوگا ۔ ورنہ اگر ہم یہ مان لیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنی حکومت میں ملک پر خدا کے دین کی جگہ بادشاہ کا دین نافذ کرتے تھے تب تو پھر یوسف صدیق اور سر سکندر و فضل الحق (١) میں کوئی اصولی فرق باقی نہیں رہتا۔ افسوس ہے کہ اس معاملے میں لوگ حقیقت سے بہت دور چلے گئے ۔ انھوں نے دراصل قصہ یوسف علیہ السلام کو نہیں سمجھا ہے۔ وہ گمان کرتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام نے اپنے وقت کے بادشاہ سے جو کہا تھا کہ اجعلنی عَلى خَزَائِنِ الْأَرْضِ (یوسف: ۵۵) تو یہ ان کی طرف سے محض ملازمت کی ایک درخواست تھی جو دربار شاہی میں قبول ہو گئی اور ان کو وہ منصب مل گیا جو اکبر کے ہاں ٹوڈرمل کا منصب تھا۔ حالانکہ وہاں صورت حال کچھ اور ہی تھی۔
سیدنا یوسف علیہ السلام نے ابتداء دین حق کی اقامت کے لیے وہی راستہ اختیار فرمایا تھا جو انبیاء علیہم السلام اختیار فرماتے رہے ہیں، یعنی پہلے دعوت عام پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کریں اُن کی تربیت و تنظیم، پھر انھیں ساتھ لے کر اقامت دین کے لیےمجاہدہ ۔ چنانچہ انھوں نے اپنی اس دعوت کا سلسلہ جیل ہی میں شروع کر دیا تھا جس کےمواعظ میں سے ایک بے نظیر وعظ سورۃ یوسف کے پانچویں رکوع میں نقل کیا گیا ہے۔ لیکن آگے چل کر ان کے سامنے یکایک ایک ایسا موقع آ گیا جس سے وہ اپنے مقصود تک مختصر راستے سے پہنچ سکتے تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ عزیز مصر کی بیوی اور اس کی سہیلیوں کےمعاملے میں جس پاکیزہ اور مضبوط سیرت کا اظہار اُن سے ہوا تھا اور پھر تعبیر خواب کےمعاملے میں جس بصیرت کا ثبوت انھوں نے دیا تھا اس کی وجہ سے بادشاہ مصر ان کا اس حد تک معتقد ہو چکا تھا کہ اگر وہ اس وقت حکمرانی کے کامل اختیارات اس سے طلب کریں تو وہ بلا تامل پیش کر دے گا۔ اس لیے انھوں نے تحریک عمومی کی راہ سے اپنا مشن پورا کرنےکے بجائے اقتدار حکومت پر فوراً قبضہ کر کے دین حق قائم کر دینے کو زیادہ قریب کا راستہ پایا اور بادشاہ سے مطالبہ کر دیا کہ اِجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ (یوسف: ۵۵) زمین مصر کے تمام وسائل و ذرائع میرے اختیار میں دئے“۔ یہ محض وزیر مالیات کے منصب کا مطالبہ نہیں تھا، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں، بلکہ یہ ڈکٹیٹر شپ کا مطالبہ تھا اور اس کے نتیجےمیں سیدنا یوسف علیہ السلام کو جو پوزیشن حاصل ہوئی وہ قریب قریب وہی پوزیشن تھی جو اس وقت اٹلی میں مسولینی کو حاصل (١) ہے اس فرق کے ساتھ کہ اٹلی کا بادشاہ مسولینی کا معتقد نہیں بلکہ محض اس کی پارٹی کے اثر سے مجبور ہے اور مصر میں بادشاہ خود حضرت یوسف کا مرید ہو چکا تھا۔ (٢)
١- مضمون لکھتے وقت یہ حضرات پنجاب اور بنگال کے وزیر اعظم تھے۔ اب ان کی جگہ کسی غیر اسلامی حکومت کے مسلمان وزیر کو فرض کیا جا سکتا ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے اقتدار کی شہادت اللہ تعالی خود دیتا ہے کہ کذالک مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ (یوسف: ۵۶ ) '' اس طرح ہم نےیوسف کو اس سرزمین میں اقتدار بخشا۔ وہ اس کے جس حصے کو چاہتا اپنی جگہ بنا سکتا تھا“۔یعنی پورا ملک اس کے قابو میں تھا۔
پھر اس کی مزید شہادت ہمیں سورہ مائدہ میں ملتی ہے جہاں حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں: يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيُكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوكًا وانكُمْ مَالَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعَلَمِينَ "اے میری قوم کے لوگو! یاد کرو اللہ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر کیا کہ تم میں انبیاء پیدا کیے تھے تم کو حکمران قوم بنایا تھا اور تمہیں وہ کچھ دیا تھا جو دنیا میں کسی کو نہیں دیا گیا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر میں جو اقتدار حاصل ہوا تھا اس کی وجہ سے وہاں آخر کار مکمل انقلاب رونما ہوا فراعنہ کے بجائے بنی اسرائیل حکمران ہوئے اور ان کو وہ عروج نصیب ہوا جو ان کی ہمسر قوموں میں کسی کو حاصل نہ تھا۔
١- مضمون لکھتے وقت مسولینی زندہ تھا اور اٹلی کا مختار مطلق بنا ہوا تھا۔
٢- بلکہ مشہور مفسر امام مجاہد تو کہتے ہیں کہ وہ آپ کے ہاتھ پر اسلام بھی قبول کر چکا تھا۔ (ابن جریر )
پھر جو مذہبی اثر حضرت یوسف نے مصر میں چھوڑا اس کی شہادت ہم کو سورہ مومن میں ملتی ہے۔ وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم عصر فرعون کو خطاب کر کے قبطی قوم کا ایک صاحب ایمان شخص کہتا ہے : وَلَقَدْ جَاءَ كُمُ يُوْسُفَ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَةٍ مِمَّا جَاءَ كُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُم لَنْ يُبَعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولًا (مومن : ۳۴) "تمھارے پاس یوسف روشن نشانیاں لے کر آئے تھے مگر پہلے تو تم اس چیز کی طرف سےشک میں رہے جسےوہ لائے تھےاور جب وہ انتقال فرما گئے تو تم نے کہا کہ اب اللہ کوئی رسول نہ بھیجے گا" ۔ یعنی تم نے کہا کہ اس پائے کا مشخص اب نہیں آ سکتا۔
حضرت یوسف کے معاملے میں یہ حقیقت جاننے کے بعد کون اس سے یہ استدلال کرنے کی جرات کر سکتا ہے کہ غیر اسلامی نظام حکومت کا پرزہ بننا بر حق ہے کیونکہ ایک نبی برحق ایسا کر چکا ہے۔ رہی آیت مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ (يوسف: ۷۶ ) جس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام فرعونی قوانین کی پابندی کرتےتھے تو اگر چہ اس آیت کے مفہوم و معنی میں بہت کچھ کلام کی گنجائش ہے، لیکن اس کا جو مفهوم بیان کیا جاتا ہے۔ اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے تب بھی زیادہ سے زیادہ جو کچھ اس سے ثابت ہوتا ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے دورِ حکومت میں جس موقع پر یہ معاملہ پیش آیا (اور قرائن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابتدائی دور ہی کا واقعہ تھا کیونکہ آنجناب کے عزیز مصر ہونے کے چند ہی سال بعد وہ مشہور ہفت سالہ قحط شروع ہوا جس میں آپ کے بھائیوں کو غلہ حاصل کرنے کے لیے مصر آنا پڑا تھا) اس وقت تک مصر میں فوجداری قانون وہی رائج تھا جو پہلےسےچلا آ رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایک ملک کے نظام تمدن کو آنِ واحد میں نہیں بدلا جا سکتا۔یہ کام بہر حال تدریج ہی کےساتھ کیا جا سکتا ہے۔خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی عرب کے نظام تمدن کو بدلتے بدلتے دس سال لگ گئے تھے۔ وراثت کا قانون ۳ ھ یا ۴ ھ میں بدلا گیا۔نکاح و طلاق کےقوانین ہجرت کے بعد پانچ چھ سال میں مکمل طور پر نافذ کیے گئے۔ فوجداری قوانین کی تکمیل میں پورےآٹھ سال لگ گئے۔ملک کا معاشی نظام بتدریج ۹ سال میں بدلا گیا۔شراب کا قطعی انسداد ٨ھ میں ہوا اور سود کی کلی ممانعت 9ھ میں کی گئی۔ اسی طرح اگر حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی ملک کے قوانین بدلنے میں تدریج سے کام لیا ہو اور ایک خاص وقت تک ان کےزمانہ حکومت میں سابق قوانین جاری رہے ہوں تو کیا اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہےکہ ایک پیغمبر خدا کے سوا دوسروں کے جاہلی قوانین کو جائز سمجھ کر ان کی پابندی کرتا تھا۔
"اور جہاد میری بعثت کے وقت سے اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جبکہ اس امت کا آخری گروہ دجال سے جنگ کرے گا۔ نہ کسی ظالم کا ظلم اسے باطل کر سکتا ہے اور نہ کسی عادل کا عدل۔"
یعنی جہاد کو نہ اس عذر کی بنا پر بند کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت بڑے جبابرہ ہم پر مسلط ہیں۔ نہ اس بات کو جہاد نہ کرنے کے لیے بہا نہ بنایا جا سکتا ہے کہ حکومت اگر چہ کفار کی ہے مگر ہم کو امن نصیب ہے اور ہمارے ساتھ انصاف ہو رہا ہے۔ اور نہ مسلمانوں کے لیے یہ جائز ہے کہ اگر ان کے اپنے ملک میں عدل کا دور دورہ ہو تو وہ مطمئن ہو کر بیٹھے رہیں اور باہر کی دنیا میں جو ظلم و فساد برپا ہو اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں۔
(۱) قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ حضرت یوسف کو تمکن فی الارض عطا فرمایا گیا اور وہ دائرہ حکومت میں ایک ممتاز حیثیت سے شریک ہو گئے ۔ لیکن ظاہر ہے کہ آپ رسول تھے، اس لیے فریضۂ رسالت کی سرانجام دہی بھی آپ کے لیے ضروری تھی۔ دربار فرعون کےمرد مومن نے اپنی تقریر میں اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ حضرت یوسف کی نبوت پر قوم فرعون ایمان نہیں لائی تھی اور یہ بھی کہ آپ اپنی وفات تک ڈھیل دیتے رہے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی نبوت کو پیش کیا۔ لیکن فرعون اور اس کی قوم اس پر ایمان نہ لائی۔ اس کے باوجود حضرت یوسف اُن کی حکومت میں شریک کار رہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کا ایک برگزیدہ رسول ایک غیر خدائی نظام حکومت کا شریک کار کس طرح رہا۔در آنحالیکہ وہ اس قوم کے سامنے اپنی نبوت بھی پیش کر چکےتھےاور اس قوم نےاسے تسلیم نہیں کیا تھا۔ ایسےمنکرین دعوتِ اسلامی کےخلاف یا تو حضرت یوسف علیہ السلام کو جہاد کرنا چاہیے تھا یا بر سبیلی تنزل وہاں سے ہجرت لازم تھی۔ لیکن آپ نے نہ تو ہجرت ہی فرمائی اور نہ ہی ان کے خلاف جہاد کیا بلکہ ان کے خلاف تبری و بیزاری کا اعلان بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ کیا آپ اس گتھی کو سلجھائیں گے؟
بنی اسرائیل کی تاریخ کا وہ دور جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے گزرا ہےقریب قریب بالکل تاریکی میں ہے۔ اس لیے قرآن کے اشارات کی تفصیل معلوم کرنا مشکل ہے۔ تاہم قرآن کریم نے اپنے مجمل اشارات سے اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہنے دیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی حیثیت مصر میں خدائی نظام حکومت کے شریک کار کی نہ تھی بلکہ مختار کل کی تھی اور انھوں نے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں، میں لی ہی اس شرط کے ساتھ تھی کہ کل اختیارات اُن کے ہاتھ میں ہوں۔ اس آیت کو بغور پڑھیے :
یوسف علیہ السلام نے کہا مجھے ملک کے خزانوں پر حاکم بنا دئے یقیناً میں حفاظت کرنے والا ہوں اور علم رکھتا ہوں اور اس طرح ہم نےیوسف کو اس سرزمین میں اقتدار عطا کیا۔ وہ وہاں جس جگہ بھی چاہتا اپنی جگہ بنا سکتا تھا۔
خط کشیدہ الفاظ صاف ظاہر کر رہے ہیں کہ مطالبہ کلّی اختیارات کا تھا اور ملے بھی کلی اختیارات ہیں۔ "خزائن الارض کا لفظ دیکھ کر بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ یہ جگہ شاید فینانس منسٹر یا ریونیو ممبر کی تھی، حالانکہ دراصل اس سے مراد ملک کے جملہ وسائل (Resources) ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا مطالبہ یہ تھا کہ سلطنت مصر کے تمام وسائل میرے ہاتھ میں دیے جائیں اور اس کے نتیجے میں جو اختیارات انھیں ملے وہ ایسےتھے کہ پھر ساری سرزمین مصران کی تھی يتبوا منها حيث يشاء کو بھی لوگوں نے بہت ہی محدود معنوں میں لے لیا ہے۔ ان کے نزدیک اس کا مفہوم بس اتنا ہے کہ حضرت یوسف ہر جگہ مکان بنا لینے یا قیام کرنے کے مجاز تھے۔ حالانکہ درحقیقت اس فقرے سے یہ تصور دلا نا مقصود ہے کہ اس سرزمین پر حضرت یوسف کا اقتدار ویسا ہی تھا، جیسا ایک زمین کےمالک کو اپنی زمین پر حاصل ہوتا ہے۔
١- بائیل اور تلمود بھی اس پر کوئی خاص روشنی نہیں ڈالتیں، اور نہ مصر کی قدیم تاریخ اور اثریات سے اس معاملے میں کچھ معلومات حاصل ہوتی ہیں۔
اب رہا یہ سوال کہ اس طرح حضرت یوسف کو جو اقتدار حاصل ہوا اس کےذریعے سے انھوں نے ملک کے نظام تہذیب و تمدن و اخلاق و سیاست کو اصول اسلام کے مطابق تبدیل کرنے کی کیا کوشش کی اور اس میں کس قدر کامیابی ہوئی تو اس کے متعلق کوئی تفصیل ہمیں تاریخ میں نہیں ملتی۔ البتہ سورہ مائدہ کے ایک اشارے سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں حضرت یوسف کا اقتدار محض ایک فرد واحد کا عارضی اقتدار نہ تھا بلکہ آپ کے بعد ایک مدت دراز تک آپ ہی کے جانشین، جو یقینا مسلمان ہی تھے مصر پر حکمران رہے۔ انھیں وہ عظمت و شوکت حاصل ہوئی جو اُس دور میں دُنیا کی کسی قوم کو حاصل نہ تھی ۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں:
یاد کرو جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں انبیاء پیدا کیے اور تم کو فرمانروا بنایا اور تمھیں وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا۔
اس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اس اسلامی غلبہ و تسلط کا لازمی اثر ملک کی پوری زندگی پر مترتب ہوا ہوگا۔
سورہ مومن کی جس آیت سے آپ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قبطی قوم نے حضرت یوسف کو ماننے سے انکار کر دیا تھا، دراصل اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا۔ میں ایسا سمجھا ہوں کہ وہاں ہندوستان کی سی صورت پیش آئی تھی کہ ملک کی آبادی کے معتد بہ حصے نے اسلام قبول کیا اور بڑی اکثریت اپنے شرک پر قائم رہی۔ پھر جس حصے نے اسلام قبول کیا وہی ایک مدت تک برسر اقتدار رہا، مگر رفته رفته اخلاقی و اعتقادی انحطاط نے اس کو غلامی اور گمراہی کی پستیوں میں گراد یا حتی کہ غلو اور اشخاص پرستی کے فتنے میں پڑ کر عملاً اس میں اور دوسرے مشرکین میں کوئی خاص فرق باقی نہ رہا۔ اسی چیز کی طرف مومن آل فرعون نےاشارہ کیا ہے:
اس سےپہلےیوسف تم لوگوں کےپاس صریح نشانیاں لے کر آئےتھے مگر تم اس چیز میں برابر شک کرتے رہے جسے وہ لائے تھے پھر جب ان کا انتقال ہو گیا تو تم نے کہا کہ اب ان کے بعد اللہ کسی رسول کو ہرگز نہ بھیجے گا۔
خط کشیدہ دو فقروں میں سے پہلا فقرہ بتاتا ہے کہ حضرت یوسف کی زندگی میں ملک کی بیشتر آبادی آپ کی نبوت کے متعلق شک میں رہی' جیسا کہ اکثر انبیاء کے ساتھ ہوا ہے۔ اور دوسرے فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنجناب کے بعد جو لوگ آپ کے معتقد ہوئےوہ آپ کی شخصیت کے گرویدہ ہو کر غلو میں مبتلا ہو گئے اور کہنے لگے کہ اب کوئی رسول نہیں آسکتا اور اسی بنا پر انھوں نے بعد کے آنے والے کو ماننے سے انکار کر دیا' جیسا کہ آگےچل کر یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا درآنحالیکہ حضرت یوسف یا حضرت موسیٰ یا حضرت عیسی علیہم السلام میں سے کسی کے بعد بھی اللہ کی طرف سے ختم نبوت کا اعلان نہ ہوا تھا۔
١- بائیل کا بیان ہے کہ مصر سے حضرت موسیٰ کے ساتھ جو لوگ نکلے تھے ان میں چھ لاکھ تو صرف مردان جنگی تھے ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی مجموعی تعداد ۲۰ لاکھ سے کم نہ ہوگی اور یہ مصر کی آبادی کا کم از کم ١٠ فی صد حصہ تھی۔
بہر حال اس آیت کے یہ معنی نہیں نکالے جا سکتے کہ حضرت یوسف علیہ السلام پر ملک میں کوئی بھی ایمان نہیں لایا تھا بلکہ دوسرے اشارات کی مدد سے قیاس یہی ہوتا ہے کہ ملک میں اہل ایمان کا ایک گروہ پیدا ہو گیا تھا جس نے بنی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک مدت تک اسلامی نظام حکومت کو قائم رکھا اور بعد میں بتدریج مائل انحطاط (degenerate) ہوتا چلا گیا۔
حضرت یوسف کو اُن کے والدین اور بھائیوں نے جو سجدہ کیا تھا اُس کی حقیقت جہاں تک میں تحقیق کر سکا ہوں یہ ہےکہ قرآن مجید کےاس مقام پر"سجدہ " کا لفظ اس معنی میں استعمال نہیں ہوا ہےجو اسلامی اصطلاح کے ساتھ مخصوص ہےیعنی زمین پر ہاتھ گھٹنےاور پیشانی لگانا۔ یہ اصطلاحی سجدہ تو فی الحقیقت سجدہ کی وہ مکمل صورت ہےجسےعبادت الہی کے لیے مختص کیا گیا ہےورنہ لغت میں اس کےمعنی عاجزی اور نیازمندی کے ہیں جس کا اظہار کسی فعل یا حالت سے ہو سکتا ہے۔ بنی اسرائیل کے ہاں یہ چیز آداب تہذیب میں داخل تھی کہ کسی کے احسان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے یا کسی کے سامنے احترام کا اظہار کرنے کے لیے اس کے آگے کھڑے ہو کر سرخم کرتے تھے اور اسے ان کی زبان میں لفظ مسجود سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ چنانچہ تورات کے عربی ترجمے میں لکھا ہے کہ قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے فرشتے جب حضرت ابراہیم کے پاس انسانی صورت میں پہنچے تو حضرت ابراہیم ان کے استقبال کے لیے نکلے اور زمین کی طرف جھکے ۔ (فَلَمَّا نَظَرَ رَكَضَ لِاسْتِقْبَالِهِمْ مِنْ بَابِ الْحِيُفَةِ وَسَجَد إِلَى الْأَرْضِ) ۔ اسی طرح جب حضرت سارہ کا انتقال ہوا اور بنی حت نے اُن کی قبر کے لیے زمین بلا معاوضہ پیش کی تو یہاں بھی حضرت ابراہیم نے اس قوم کےلیے اعتراف احسان میں سجدہ کیا (فَقَامَ إِبْرَاهِيمُ وَسَجَدَ لِشِعُبِ الْأَرْضِ لِبَنِي حِبَّ اور فَسَجَدَ إِبْرَاهِيمُ امام شعب الارض ) یہ وہی چیز ہے جس کو انگریزی میں Bow کرنا کہتےہیں جو آج تک یورپ میں داخلِ آداب ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنےبھائیوں کے ظلم کے جواب میں جس عضو اور فضل و احسان کا سلوک کیا تھا اور کنعان کی بدوی زندگی کےبجائےمصر میں شان اور عزت کے جس مقام پر انھیں پہنچایا تھا' اس کےاعتراف اور تشکر میں ان کے بھائیوں اور ان کے والدین نے اپنے ہاں کی تہذیب کےمطابق سر خم کیا اور یہی وہ بے اختیارا نہ جھکاؤ تھا جسے قرآن مجید نے خَرُّو الَهُ سُجَّدًا کےالفاظ سے تعبیر کیا ہے۔
گذشتہ مضمون " سورۃ یوسف کے متعلق چند سوالات کی اشاعت کے کچھ مدت بعد ایک مشہور بزرگ نے جن کا اب انتقال ہو چکا ہےاور جو خان بہادر کا خطاب رکھتےتھے یوپی میں کلکٹر اور ہندوستان کی ایک ریاست میں دیوان رہ چکے تھے اس پر ایک مفصل تنقید لکھی۔چونکہ ہمارے جواب کو سمجھنا بغیر اس کے ممکن نہیں کہ صاحب موصوف کی تنقید ناظرین کے سامنے ہو اس لیے ہم پہلے اس کے متعلقہ حصے یہاں نقل کرتے ہیں، پھر اپنا جواب نقل کریں گئے
مستفسر نےجو بات دریافت کی تھی اور جو بات دراصل بحث طلب ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ آیا یوسف علیہ السلام ایک غیر اسلامی نظام حکومت کے رکن اور شریک کار بنے ہیں یا نہیں؟ اور اگر بنے تو حضرت یوسف علیہ السلام کا ایسا کرنا اسلامی نقطۂ نظر سےجائز ہے یا نہیں؟ مولانا مودودی فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی حیثیت مصر میں غیر خدائی نظام حکومت کے شریک کار کی نہ تھی۔ اور تعجب ہے کہ اپنی اس رائے کی تائید میں کلام پاک کی وہی آیت قَالَ اجْعَلِی عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ (يوسف: ۵۵) پیش کرتے ہیں جو دراصل اس کے ضد کو ثابت کرتی ہے۔
آیت مذکور کا لفظی ترجمہ شیخ الہند مولانامحمود الحسن کے الفاظ میں یہ ہے کہ: یوسف نے کہا مجھ کو مقرر کر ملک کے خزانوں پر میں نگہبان ہوں خوب جاننے والا اور یوں قدرت دی ہم نے یوسف کو اس زمین میں جگہ پکڑتا تھا اس میں جہاں چاہتا۔"
اب دیکھیے که حضرت یوسف علیہ السلام فرعون مصر سےخواہش کرتے ہیں کہ تو مجھ کو ملک کے خزانوں پر مقرر کر دے۔فرعون آپ کا مطالبہ منظور کرتا ہے اور آپ فرعون کےمحکمہ مال کے افسر مقرر ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ ظاہر ہےکہ آپ فرعون کے نظامِ حکومت کےایک رکن یا شریک کار بن جاتے ہیں۔ مولانا مودودی صاحب اس بدیہی نتیجےسےبیچنےکی ناکام کوشش کرتےہیں جبکہ وہ فرماتےہیں کہ مطالبہ کلی اختیارات کا تھا اور ملےبھی کلی اختیارات" - - - - اول تو کلی اختیارات کا لفظ کلام پاک میں ہے نہیں یہ لفظ مولانا اپنی طرف سے کلامِ پاک کی عبارت پر بڑھانا چاہتے ہیں تا کہ کلامِ پاک مولانا کے ذاتی نظریوں کا تابع ہو جائے نہ یہ کہ مولانا اپنے ذاتی نظریوں کی اصلاح مفہوم قرآنی کےمطابق کر لیں۔اسی جیسی ذهنیت کےمتعلق غالباً اقبال مرحوم نےکہا تھا: ”خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں۔ لیکن اس کلّی کے لفظ کے ناجائز اضافے سے بھی مولانا کےاجتہاد یا نظریہ کی تائید نہیں ہوتی۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے بھی کہ حضرت یوسف علیہ السلام نےکلی اختیارات مال کا مطالبہ کیا تھا اور کھی اختیارات ہی ملے تھے لیکن وہ اختیارات فرعون مصر ہی سے تو مانگے گئے تھے اور فرعون مصر ہی نے تو وہ اختیارات عطا کیے تھے۔ اس لیےباوجود اُن کلی اختیارات کے حضرت یوسف علیہ السلام کی حیثیت اس وقت کے نظام حکومت میں ایک رکن یا ایک شریک کار سے زائد کی نہیں ہوسکتی۔
اسی طرح مولانا مودودی صاحب کا یہ فرمانا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا مطالبہ یہ تھا کہ سلطنت مصر کے تمام وسائل میرے اختیار میں دے دیے جائیں اور اس کےنتیجے میں جو اختیارات ان کو ملے وہ ایسے تھے کہ پھر ساری زمین مصر ان کی تھی“۔ بالکل خلاف واقعہ ہے۔ یہ مان بھی لیا جائے کہ یوسف علیہ السلام نے مال کے جملہ اختیارات کا مطالبہ کیا تھا اور مال کےجملہ اختیارات آپ کو تفویض ہو گئےتھےتاہم سلطنت میں مال کے علاوہ بہت سےدیگر محکمےہوتےہیں،مثلاً پولیس، فوج عدالت ان میں سےنہ کسی کا مطالبہ یوسف علیہ السلام کی طرف سے کیا گیا نہ یہ محکمے آپ کے سپرد کیے گئے۔ تو پھر مولانا موودی کا یہ کہنا کہ " جو اختیارات انھیں ملے وہ ایسے تھے کہ پھر ساری زمین مصر اُن کی تھی۔ بالکل بے بنیاد ہے۔
اس لیےیوسف علیہ السلام کی حیثیت مصر کےخزائن پر متصرف ہونےکےبعد بھی سلطنت کے ایک رکن یا شریک کار کی رہتی ہے جب تک کہ کسی ذریعے سے یہ ثابت نہ ہو که فرعون مصر اپنی سلطنت اور حکومت سے دست بردار ہو گیا تھا اور حضرت یوسف علیہ السلام اس کی جگہ مصر کے بادشاہ اور ملک بن گئے تھے۔ سو یہ تاریخ سے ثابت ہے نہ کلام پاک سے بلکہ کلام پاک سے بصراحت اس کی تردید ہوتی ہے۔ آیت زیر بحث سے عین ما قبل یہ آیات ہیں:
انھیں میرے پاس لے آؤ کہ میں انھیں اپنے لیے چن لوں۔ پھر جب اس سے (یوسف علیہ السلام) بات کی کہا بے شک آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں۔
ان ہر دو آیات سےبالکل واضح ہے کہ فرعونِ مصر نےیوسف علیہ السلام کو اپنی سلطنت کا معزز اور معتمد رکن اوراپنا مشیر خاص بنایا۔ان آیات میں اس بات کا شائبه بھی نہیں کہ فرعون مصر اپنی سلطنت یا اپنےاختیارات سےدست برادر ہو گیا تھا نیز ایک مابعد کی آیت سےبصراحت ثابت ہوتا ہےکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خزائن مصر پر متصرف ہونے کے عرصہ بعد تک فرعون مصر کی سلطنت قائم تھی اور فرعونِ مصر کا دین ہی ملک پر جاری تھا ۔ کیونکہ جب برادران یوسف دوسری مرتبہ غلے کی بھرتی کرنے آئے ہیں اور اپنے ساتھ حضرت یوسف علیہ السلام کی خواہش کے مطابق حضرت یوسف کے حقیقی بھائی بن یامین کو بھی لائے اور حضرت یوسف نےاپنےبھائی بن یامین کو اپنےپاس رکھا اور بن یامین پر ظاہر بھی کر دیا کہ وہ ان کا حقیقی بھائی ہے مگر اپنےدوسرے بھائیوں پر اس امر کو ظاہر نہیں کیااور چونکہ حضرت یوسف بن یامین کو اپنےپاس رکھنا چاہتےتھے اس لیےدوسرے بھائیوں پر اس امر کےظاہر کیےبغیر کہ بن یامین ان کا بھائی ہےاس کی یہ تدبیر کی کہ جب برادران یوسف کےواسطےان کا اسباب تیار کیا گیا تو بن یامین کےاسباب میں ایک پانی پینےکا پیالہ رکھوا دیا اور جب قافلہ روانہ ہونے لگا تو مؤذن یا پکارنے والے نے پکار کر کہا کہ اے قافلے والو تم البتہ چور ہو۔ برادران یوسف نےاس سےانکار کیا تو پکارنےوالے نےکہا کہ کیا سزا ہےاس کی اگر تم جھوٹےنکلے؟ برادرانِ یوسف نےکہا اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ہاتھ آوے وہی اس کے بدلے میں جاوے۔ ہم یہی سزا دیتے ہیں ظالموں کو ۔ اس کے بعد تلاشی لی گئی اور پیالہ بن یامین کے اسباب میں سے برآمد ہوا۔ چنانچہ بن یامین پیالے کے بدلے میں روک لیے گئے ۔ اس موقعہ پر ارشاد خداوندی ہے: مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَنْ يَّشَاءَ الله (يوسف: ۷۶) جس کا لفظی ترجمہ ہے"وہ (یعنی یوسف ) ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنےبھائی کو دین میں اس بادشاہ کےمگر جو چاہے اللہ۔
خط کشیده عبارت صاف بیاتی ہےکہ مصر کا ملکی قانون اُس وقت تک ملک مصر میں جاری تھا اور اس قانون کےمطابق حضرت یوسف علیہ السلام اپنےبھائی بن یامین کو چوری کےالزام میں اپنے بھائیوں سے لے نہیں سکتے تھے مگر خداوند عالم نے خود ان کےبھائیوں کے منہ سے کہلوا دیا کہ چوری کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں سےچوری کا مال ہاتھ آوے وہی اس کے بدلے میں جاوے۔ چنانچہ اس آیت کریمہ کی جو تفسیر مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی نےکی ہے وہ یہ ہے کہ: " یعنی بھائیوں کی زبان سےآپ ہی نکلا کہ جس کے پاس سےمال نکلے اس کو غلام بنا لو۔اس پر پکڑے گئےورنہ حکومت مصر کا قانون یہ نہ تھا۔ اگر ایسی تدبیر نہ کی جاتی کہ وہ اپنے اقرار میں بندھ جاویں تو ملکی قانون کےمطابق کوئی صورت بن یامین کو روک لینے کی نہ تھی۔
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ملک مصر کی وزارت پر متمکن ہونے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے تبلیغ کا کام نہیں کیا یا اپنی رسالت کے اعلان سے گریز کیا۔ برخلاف اس کے صاحب ممدوح نے اس وقت جبکہ آپ سجن یا جیل میں تھےاسی وقت وحدانیت کی تبلیغ شروع کر دی تھی۔چنانچه حضرت یوسف علیہ السلام اپنےساتھی قیدیوں سے فرماتےہیں: يصاحِبَي السِّجْنِ ءَ اَرُبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرَامِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاء سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَأَبَاءُ كُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَنٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا للهِ آمَرَ الَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ (يوسف:۳۹-۴۰) اسی طرح وزارت کےعہدےپر متمکن ہونےکےبعد بھی حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی تبلیغ کا کام ضرور جاری رکھا ہوگا۔البتہ جو بات ان آیات سے بلا شک و شبہ ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ایک غیر اسلامی نظام حکومت کےرُکن خود اپنی خواہش اور درخواست پر بنےاور حضرت یوسف کے اس حکومت کے رُکن بننے کے بعد بھی ملک میں غیر اسلامی نظام حکومت اور غیر اسلامی قانون ہی نافذ رہا اور یوسف علیہ السلام کےاس پر عمل پر بجائےاس کے کہ خداوند عالم کی طرف سےکوئی سرزنش کی جاوے یوسف علیہ السلام کے اس عمل کو ایک طرح سراہا جاتا ہے کیونکہ یوسف علیہ السلام کے اس تمکن فی الارض کو انعام خداوندی سےتعبیر کیا گیا ہے۔چنانچہ ارشاد ہے: وَكَذَالِكَ مَكَنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْأَرْضِ يَتَبَوَّأْ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ “۔جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمان تو مسلمان انبیاء تک کےلیےغیر اسلامی نظامِ حکومت کا رکن بنا جائز ہےاور جائز ہی نہیں بلکہ بعض صورتوں میں بطور فرض کفایہ کےواجب ہے کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کا خود خواہش کر کے مصر کے خزائن پر متصرف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا کرنے کو یوسف علیہ السلام اپنے لیے جائز ہی نہیں بلکہ اپنے اوپر واجب خیال فرماتے تھے ۔ ورنہ وہ فرعون سےایسی خواہش بھی نہ فرماتے اور نہ ایسی خواہش کرتے وقت وہ اپنےحفیظ و علیم ہونےکااظہار کرتےکیونکہ اگر آپ کےنزدیک ملک مصر کاوزیر بنا آپ پر لازم اور واجب نہیں تھا تو آپ کا اپنےآپ کو حفیظ اور علیم بنانا بےجا مدح سرائی اورخودستائی میں داخل ہوتا ہےمولانا شبیر احمد عثمانی کا حاشیہ جو اس آیت پر مولانا نےلکھا ہےبڑی حد تک میرےخیال کی تائید کرتا ہےچنانچہ مولانا فرماتے ہیں:
" یعنی دولت کی حفاظت بھی کروں گا اور اس کی آمد وخرچ کے ذرائع اور حساب و کتاب سے بھی خوب واقف ہوں۔ یوسف علیہ السلام نےخود درخواست کر کے مالیات کا کام اپنے ذمے لیا تا کہ اس ذریعےسے عامہ خلائق کو پورا نفع پہنچا سکیں۔ خصوصا آنے والے خوف ناک قحط میں نہایت خوش انتظامی نے مخلوق کی خبر گیری اور حکومت کی مالی حالت کو مضبوط رکھ سکیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہےکہ ہمدردی خلائق کےلیے مالیات کے قصوں میں پڑنا شان نبوت کے خلاف نہیں ہے۔ نیز اگر ایک آدمی نیک نیتی سے یہ سمجھے کہ فلاں منصب کا اہل ہوں اور دوسروں سے یہ کام اچھی طرح نہ بن پڑے تو مسلمانوں کی خیر طلبی اور نفع رسانی کی غرض سے اس کی خواہش یا درخواست کر سکتا ہے۔ اور اگر حسب ضرورت اپنے بعض خصائل حسنہ اور اوصاف حمیدہ کا تذکرہ کرنا پڑے تو یہ نا جائز مدح سرائی میں داخل نہیں ہے"۔
مولانا عثمانی صاحب کی اوپر کی تفسیر سے بھی ناظرین کرام پر ظاہر ہو گیا ہوگا کہ حضرت یوسف نے خود درخواست کر کے مالیات کا کام اپنے ذمے لیا تھا۔ وہ مختار کل یا خود مختار حاکم نہیں بن گئے تھے۔ عبدالغفار صاحب چند واڑی جن کا مراسلہ "مسلمان" لاہور مورخہ ۱۳ جنوری ۱۹۴۲ء میں شائع ہوا ہے اپنے مراسلے میں فرماتے ہیں کہ "حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب کے نزدیک انگریزی عدالتی اور پولیس کی نوکری جائز ہے نیز مولا نا عبدالحی فرنگی محلی نے بھی بشرط عدم ظلم و معصیت جائز رکھا ہے بلکہ ضرور نامقصد اسلامی قرار دیا ہے"۔
علمائے متاخرین میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی مسلمہ طور پر اس پایہ کےفقیہ تھے کہ ہندوستان میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ اُن کے نزدیک بھی موجودہ نظامِ حکومت میں ملازمت کرنا نا جائز نہیں تھا کیونکہ ان کے بعض اجل خلیفہ سرکاری ملازم تھےجیسے مولا نا خواجہ عزیز الحسن صاحب فوری۔
جمعیت العلماء ہند جو ہندوستان کے مستند علماء کی سب سے بڑی جماعت ہے اُس کے نزدیک بھی موجودہ نظام حکومت کا رکن بننا نا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ علماء کی اس محترم جماعت کے علم اور اجازت سے پچھلی کانگرسی حکومتوں کے دور میں بہت سے مسلمان کانگرسی حکومتوں کے ممبر بنے۔ اس لیے جمہور علما کا مسلک یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک غیر اسلامی نظام کارکن بننا اور اس حکومت کے نظام میں حصہ لینا نا جائز نہیں ہے۔ اس لیے اگر حضرت یوسف علیہ السلام کا فرعون کی حکومت کا رکن یا شریک کار بنا در آنحالیکہ وہ حکومت اپنے کفر پر قائم تھی ہمارے لیے ایک سند کا کام دے سکتا ہے۔ یا مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب اور مولانا عبدالحی فرنگی محلی اور جمہور علماء ہند کا اس باب میں اجتہاد ہمارے لیے قابل اتباع ہے۔ تو مولانا مودودی صاحب اور اسلامی جماعت کے وہ سب فتاوے جو مسلمانوں کو موجودہ نظام حکومت میں کسی حیثیت سے ملازمت کرنے سے روکتےہیں اور یہ ایسے مسلمانوں کی اُس آمدنی کو جو ان ذرائع سے ہوتی ہو حرام بتاتے ہیں مثل حرف باطل کے مٹا دینے کے قابل ہیں۔ برخلاف اس کے حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال اور عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم مسلمانوں کے لیے موجودہ نظام حکومت میں شریک کار ہونا صرف جائز ہی نہیں ہے بلکہ بطور فرض کفایہ کے واجب ہے۔ (اس کے بعد خان بہادر صاحب نے کچھ عقلی دلائل بھی پیش فرمائے ہیں اور ان کے سلسلے میں ہجرت حبشہ سے بھی استدلال فرمایا ہے۔ جس کو بخوف طوالت یہاں حذف کیا جاتا ہے )۔
ہم جناب خان بہادر صاحب کے بہت شکر گذار ہیں کہ انھوں نے اس مسئلے کو چھیٹر کر پھر ایک مرتبہ ہمیں اپنا نقطۂ نظر صاف صاف پیش کرنے کا موقع بہم پہنچا دیا۔ ہم اس بحث میں اپنا وقت صرف اس امید پر صرف کر رہے ہیں کہ بہت سے طالبین حق کو اس سلسلےمیں اکثر گمراہ کن دلائل کا جواب مل جائے گا جو اطاعت غیر اللہ یا بالفاظ دیگر اسلام لغیر اللہ کو جائز قرار دینے اور نظام کفر کی بندگی کو مباح بلکہ فرض کفایہ ٹھیرانے کے حق میں پیش کیےجاتے ہیں۔
قصہ یوسف علیہ السلام کے زیر نظر پہلو پر ہم اس سے پہلے دو مرتبہ بحث کر چکےہیں۔ پہلی بحث زیادہ مفصل و مدلل تھی اور دوسری مجمل و مختصر ۔ لیکن خان بہادر صاحب نےنہ معلوم کیوں پہلی کو چھوڑ کر دوسری کو مدار گفتگو بنایا۔ حالانکہ جو اعتراضات انھوں نے اپنےمضمون میں درج فرمائے ہیں ان میں سے اکثر کا بلکہ شاید سب ہی کا جواب ہماری پہلی بحث میں انھیں مل جاتا) بہر حال یہ عدم التفات خواہ کسی وجہ سے ہوا ہمارےلیےاس میں خیر ہی کا پہلو نکل آیا کہ جن باتوں کو بار بار چھیڑ کر ہمارے لیےواضح کرنا مشکل تھا، انھیں دوسروں کے چھیڑنے پر بیان کرنے کا ہمیں موقع مل گیا۔
دنیا میں ایک معقول آدمی سے جن چیزوں کی توقع کی جاتی ہے غالباً ان میں سب سے پہلی چیز یہی ہوتی ہے کہ اس کی باتوں میں تناقض نہ ہو۔ ایک معمولی عقل کا گنوار آدمی بھی جب کسی شخص کو ایسی باتیں کرتے دیکھتا ہے جو ایک دوسرے کے خلاف پڑتی ہوں تو فوراً ٹوک دیتا ہے۔ کیونکہ اس کی نہایت موئی عقل بھی متناقض باتوں کی غیر معقولیت کو برداشت نہیں کر سکتی ۔ لیکن یہ عجیب ماجرا ہے کہ جن باتوں کی توقع کسی گھٹیا سے گھٹیا مگر ڈی عقل انسان سے نہیں کی جاسکتی اُن کی توقع اُس خدا سے کی جاتی ہے جو خود عقل کا خالق اور تمام حکمت کا مالک ہے اور اس سے بھی عجیب تر ماجرا یہ ہے کہ خدا سے اس انتہائی نا معقولیت کی توقع رکھنے والے بلکہ اس کا مطالبہ کرنے والے کوئی جاہل کو دن لوگ نہیں ہیں بلکہ وہ ذی علم لوگ ہیں جو دنیا بھر کو علم و عقل کے درس دیتے ہیں اور وہ فاضل اصحاب ہیں جن کی عقلیں اپنی دنیا کے معاملات چلنے میں خوب لڑتی ہیں۔ یہ ہوش مند حضرات اپنے خدا سے چاہتے ہیں اور یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ اس کی باتوں میں تناقض ہو۔ یعنی وہ یہ بھی کہے کہ میں بادشاہ زمین و آسمان ہوں اور پھر اپنی زمین کے کسی گوشے پر کسی اور کی بادشاہی تسلیم بھی کرے۔ وہ یہ بھی کہے کہ لوگو تم سب میرے احکام کی اطاعت کرو پھر لوگوں کو یہ اجازت بھی دئےبلکہ اس کو فرض تک قرار دےدے کہ اُن حاکموں کی اطاعت بجالا میں جو اس کےحکم کی سند کےبغیر اور اکثر حالات میں اُس کے حکم کے خلاف احکام دیتے ہیں ۔ وہ انسانوں کے لیے خود ایک قانون بھی بنائے اور یہ اعلان کرے کہ میرا یہی قانون ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے باطل ہے اور پھر اس کے ساتھ دوسرے قوانین کےنفاذ کو بھی جائز رکھےاور انھی انسانوں کو جن کےلیےاس نے قانون بنایا ہے یہ ”حق“ بھی دے کہ چاہیں خود اپنے لیے قانون بنائیں اور چاہیں دوسروں کے قوانین کی پیروی کرتےرہیں ۔وہ اپنے پیغمبروں کو خاص اسی غرض کےلیے مبعوث بھی کرے کہ زمین کےباشندوں کو اس کا دین قبول کرنے کی دعوت دیں اور پھر انھی پیغمبروں کو یا ان میں سے کسی کو اس بات کی اجازت بھی دے ( بلکہ خان بہادر صاحب کےبقول اس خدمت پر سرا ہےبھی)کہ اس دین کےسوا کسی اور دین کےنظام میں کارکن و خدمت گزار بن جائیں اور اسے کامیابی کےساتھ چلانےمیں اپنی قابلیتیں صرف کر دیں۔ وہ ساری دنیا کےباشندوں میں سے چھانٹ کر ایک اُمتِ خاص اس مقصد کے لیے بنائے کہ اُس معروف کا حکم دے ہے اُس نے معروف قرار دیا ہے اور اس منکر کو مٹائے جسے اُس نے مکر ٹھیرایا ہے اور پھر اسی امت کے لیے اس بات کو حلال بلکہ اس کے بعض " برگزیدہ افراد کے لیے فرض کفایہ ٹھیرا دے کہ اُن منکرات کو قائم کرنے اور رواج دینے میں حصہ لیں جنھیں اس کے بانی معروف ٹھہرا چکے ہیں اور ان معروضات کو مٹانے اور دبانے میں آلہ کار بنیں جو اس کے نافرمانوں کی نگاہ میں منکر قرار پا چکے ہیں۔
١- ملاحظہ ہو اس کتاب کا مضمون ” رواداری کا غیر اسلامی تصور“۔
یہ ایسی صریح متناقض باتیں ہیں جن کے تناقض کو سمجھنے کے لیے کسی گہرے غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے لیکن عجیب بات ہے کہ جو لوگ تفسیریں لکھنے اور فقہ و معقولات کا درس دینے کی قابلیت رکھتے ہیں اور جو اتنی عقل رکھتے ہیں کہ کلکٹری اور دیوانی جیسے بڑے بڑے مناصب کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں، انھیں یا تو ان باتوں میں کوئی تناقض نظر نہیں آتا یا پھر خداوند عالم کے متعلق اُن کی رائے اتنی بُری ہے کہ وہ اس سے اُن بے عقلیوں اور نادانیوں کی توقع رکھتے ہیں جنھیں ایک جاہل گنوار بھی اپنی چوپال کے کسی رفیق میں پا کر صبر نہیں کر سکتا۔
ایک بعد کی آیت سے بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کے خزائن پر متصرف ہونے کے بعد تک فرعون مصر کی سلطنت قائم تھی اور فرعون مصر کا دین ہی ملک میں جاری تھا..... مَا كَانَ لِيَاخُذ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَن يُشَاءَ الله (يوسف: ۷۶ ) ( ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو دین میں اس بادشاہ کے مگر جو چاہے اللہ ) یہ عبارت صاف بتاتی ہے کہ مصر کا ملکی قانون اس وقت تک مصر میں جاری تھا“۔
إن الفاظ کو تحریر کرتے وقت صاحب موصوف جس بات کو ثابت کرنے کی دھن میں لگے ہوئے تھے اُس نے شاید انھیں اتنی مہلت نہ دی کہ کچھ دیر ٹھہر کر اُس صریح تناقض پر غور کر لیتےجو ان کی مزعومة تفسیر کے لحاظ سے یہاں قرآن کے بیان میں پیدا ہو جاتا ہے۔براہ کرم اب وہ ہمارے ہی توجہ دلانے سے غور فرمائیں۔ یہاں خود اُن کی اپنی نقل کردہ آیت میں اللہ تعالی نے مصر کے ملکی قانون کو جو فرعون مصر کی حاکمیت کی بنیاد پر تھا: ” دین الملک بادشاہ کا دین ) کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ دین صرف اُس پوجا پاٹ ہی کا نام نہیں ہے جو مندروں اور معبدوں میں کی جاتی ہےبلکہ اس قانون کا نام بھی ہے جس کے مطابق پولیس مجرموں کو پکڑتی ہے جس کے تحت عدالت معاملات دیوانی و فوجداری کا فیصلہ کرتی ہے جس کی پیروی میں ملک کا انتظام چلایا جاتا ہےاور جس پر تمدن کا سارا نظام قائم ہوتا ہےزندگی کےیہ سارےشعبےبحیثیت مجموعی جس طریقےپر چلتے ہیں اسی کا نام قرآن کی اصطلاح میں ”دین“ ہے۔ اور چونکہ ملک مصر میں وہ طریقہ فرعون کی مشیت سےماخوذ اور اس کےاقتدار اعلیٰ پر مبنی تھا، اس لیے قرآن اس کو "دین الملک" کہہ رہا ہے۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہو گئی کہ دین اللہ"بھی صرف اسی چیز کا نام نہیں ہےجو مسجدوں اور نماز روزےتک محدود ہو بلکہ اس سےمراد بھی اُس پوری شریعت کی پابندی ہےجو اللہ کی رضا سےماخوذ اور اس کی حاکمیت پر مبنی ہو اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اپنی گرفت میں لے لے۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نبی ہونے کی حیثیت سے کس کام کے لیے مبعوث فرمائے گئے تھے؟ دین اللہ کی دعوت دینے کے لیے یا دین الملک کو فروغ دینے کے لیے؟ اگر خان بہادر صاحب کی تاویل اور اُن حضرات کی تفسیر جن کے بڑے بڑے نام لے کر خان بہادر صاحب ہم کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں، مان لی جائےتو اس سےلازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو اپنےنبی کو اس بات پر مامور فرمایا کہ اس کی مخلوق کو اور خصوصاً اُس مخلوق کو جو مصر میں رہتی تھی،دین اللہ اختیار کرنے کی دعوت دے اور دوسری طرف وہی نبی خود اللہ تعالیٰ کی ہدایت و نگرانی میں دین الملک کے قیام و استحکام کی خدمت انجام دینے لگا۔ اور لطف یہ ہے کہ اللہ میاں اس صریح متناقض طرز عمل کا تناقض تو کیا محسوس فرماتے الٹا اس نبی کے اس فعل کو خان بہادر صاحب کے اپنے الفاظ میں سراہنے لگے اور نظامِ کفر میں اپنےنبی کے بعہدہ وزارت فائز ہو جانےکو انعام خداوندی سے تعبیر فرمانے گئے۔ گویا کہ اللہ میاں کا حال بھی معاذ اللہ ہمارے زمانےکے اُن دین دار بزرگوں کا سا ہے جو خود تو پیشانی پر سیاہ گفا لیے ہوئے مصلے پر سجدہ گردانی فرما رہےہوتےہیں مگر صاحبزادے جب ایم ۔اے پاس کر کےنیم انگریز بنےہوئےآبکاری کی انسپکٹری پر فائز ہو جاتے ہیں تو وہی دین جسم بزرگ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ان کے خاندان کو اپنی نعمت سے نواز دیا۔
"اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ملک مصر کی وزارت پر متمکن ہونےکے بعد حضرت یوسف نے تبلیغ حق کا کام نہیں کیا، یا اپنی رسالت کے اعلان سے گریز کیا۔ برخلاف اس کے صاحب ممدوح نے اس وقت جب کہ آپ جیل میں تھے اسی وقت وحدانیت کی تبلیغ شروع کر دی تھی ۔ البته جو بات آیات سے بلاشک وشبہ ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف ایک غیر اسلامی نظام حکومت کےرکن خود اپنی خواہش اور درخواست پر بنے اور حضرت یوسف کےاس حکومت کے رُکن بننے کے بعد بھی ملک میں غیر اسلامی نظامِ حکومت اور غیر اسلامی قانون ہی نافذ رہا۔"
یہاں پھر کھلا ہوا تناقض پایا جاتا ہے جس کی طرف صاحب موصوف نے اپنے مدعا کی دُھن میں توجہ نہیں فرمائی۔حضرت یوسف علیہ السلام نےآخر یہ کس قسم کی وحدانیت کی تبلیغ فرمائی تھی؟ اگر اس "وحدانیت" کے معنی یہ تھے کہ وہ ہو جا جو معبد میں کی جاتی ہے اور وہ اطاعت قانون جس پر سوسائٹی کا نظم اور ملک کا انتظام قائم ہوتا ہے، ایک ہی خدا کے لیےہو یعنی پوری زندگی دین اللہ کی تابع ہو جائے تو خان بہادر کی تاویل کے لحاظ سے حضرت یوسف نے نوکری کر کے خود اپنی اس تبلیغ حق کے خلاف عمل کیا اور اگر یہ تبلیغ اس بات کی تھی کہ معبد میں دین اللہ " جاری ہو اور ملک اور سوسائٹی کا سارا ا " . م دین الملک“ پر بدستور چلتا رہے تو ظاہر ہے کہ یہ وحدانیت کی نہیں بلکہ معنویت اور دو عملی کی تبلیغ تھی۔
پھر مزید سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف نے اپنی رسالت کا اعلان آخر کس معنی میں کیا تھا؟ اگر انھوں نے بادشاہ سمیت تمام لوگوں سے کہا تھا کہ میں مالک زمین و آسمان کا نمائندہ ہوں۔لہذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو جیسا کہ تمام انبیاء کہتےرہے ہیں کہ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ( شعر : ۱۰۸) تو اس اعلان کے ساتھ اُن کا غیر مسلم بادشاہ کی آقائی تسلیم کرنا اور اس کی اطاعت میں اسلامی نظام کے بجائے غیر اسلامی نظام کی خدمت انجام دینا کسی طرح مطابقت نہیں رکھتا۔ اور اگر انھوں نے یہ کہا تھا کہ لوگو! میں ہوں تو بادشاہِ ارض و سما کا نمائندہ مگر میرا مسلک یہ ہے کہ بادشاہ مصر کی اطاعت کروں اور تم کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ اسی کی اطاعت کرو۔ تو صرف یہی نہیں کہ یہ ایک صریح متناقض بات کا اعلان تھا جس کا استقبال سنجیدگی کے بجائے قہقہے کے ساتھ ہونا چاہیے تھا اور ایسا اعلان کرنے والے کو ایوان وزارت کے بجائے پاگل خانے میں جگہ ملنی چاہیے تھی بلکہ آج بھی ایسی کتاب ہرگز ایمان لائے جانے کے قابل نہیں رہتی جو ایک طرف تو خود ہی یہ قاعدہ کلیہ بیان کرتی ہے کہ خدا نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کے تحت وہ مطاع بن کر رہے ، (وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا لِيطُاع باذن الله (نساء:۶۴) اور دوسری طرف ہی کتاب ایک ایسے شخص کو رسول بھی قرار دیتی ہے جو مطاع بن کر نہیں بلکہ غیر اللہ کا مطیع بن کر رہا اور دوسرے بندگانِ خدا کو بھی اذنِ خداوندی کے تحت اپنا نہیں بلکہ اسی غیر خدا کا مطیع بنا تا رہا۔ قرآن اپنے من جانب اللہ ہونے کے ثبوت میں خود یہ معیار پیش کرتا ہے کہ لَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (نساء: ۸۲) یعنی اگر یہ کتاب اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتی تو لوگ اس میں بہت کچھ اختلاف بیان پاتے لیکن اگر ہم خان بہادر صاحب اور ان کے طرز خیال کےلوگوں کی تاویلات تسلیم کر لیں تو قرآن کے بیانات میں یہاں ایسے کھلے ہوئے تناقضات پائے جائیں گے جن سے قرآن اپنے آپ ہی پیش کردہ معیار کی رو سے اللہ کے سوا کسی اور کا کلام قرار پائے گا بلکہ وہ " اور " بھی جس کی تصنیف اسے سمجھا جائے گا بہر حال کوئی صحیح الدماغ انسان تو نہ ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ خان بہادر صاحب جس طر ز خیال کی نمائندگی فرما رہے ہیں وہ اپنے پیسے اخلاقی انحطاط کی ایک طویل اور دردناک تاریخ رکھتا ہے۔
مسلمان جب اپنےاصل مقصد کو بھول کر اور اپنےحقیقی مشن کو چھوڑ کر دنیا پرستی میں مبتلا ہو گئےاور دین داری کےمعنی ان کی نگاہ میں صرف یہ رہ گئےکہ عبادات اور معاشرت میں چند شرعی طور طریقوں کی پابندی کی جاتی رہےخواہ مقاصد زندگی وہی ہوں جو دنیا پرستوں کےہوتے ہیں، خواہ نظام اجتماعی کی زمام کار صالحین کے ہاتھ میں ہو یا تجار کےہاتھ میں، اور خواہ اجتماعی امامت اپنے اصول اور نصب العین کے اعتبار سے اسلامی ہو یا غیر اسلامی تو اس غفلت کی سزا اللہ تعالیٰ کی طرف سےانھیں اس شکل میں دی گئی کہ ان کی بڑی بڑی آبادیاں پے در پے کفار کی تابع فرمان ہوتی چلی گئیں ۔ لیکن انھوں نے اور ان کے علماء نے اسے سزا سمجھنے اور اُس اصلی قصور کی، جس کی پاداش میں یہ سزا ملی تھی،تلافی کرنے کے بجائے الٹا یہ سوچنا شروع کر دیا کہ نظام کفر میں اسلامی زندگی کیسے بسر کی جائے۔چنانچه اضطرار" کے بہانے سے اُس شرعی اور اسلامی زندگی کا ایک نیا نقشہ مرتب کیا گیا جو غیر شرعی اور غیر اسلامی نظام کے اندر بسر کی جاسکے۔
اس پر اللہ تعالی کی طرف نے مزید سزاؤں کا سلسلہ شروع ہوا تا کہ انھیں آزمایا جائے کہ یہ سنبھل کر چلتے ہیں یا اپنی ضلالت میں بعید سے بعید تر ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ وہ اضطرار جسے ابتداء صرف ایک ہی اضطرار سمجھا گیا تھا اللہ کی سنت کےمطابق آگےبڑھا اور اس نے دائی روز افزوں اور غیر متناہی اضطراروں کی شکل اختیار کرلی۔ ہر نئے اضطرار نےمطالبہ کیا کہ جو حدود تم نے کفر کے اندر اسلام اور کفر کے ماتحت اسلامی زندگی کے لیے تجویز کیے ہیں انھیں شکیردو اور سکیڑتےچلےجاؤ۔مگر یہ جتنےعذاب خدا کی طرف سے آئے ہیں ان میں سے کسی نےبھی مسلمانوں کی آنکھیں نہ کھولیں اور انھوں نے مستقل طور پر یہ قاعدہ ہی طے کر لیا کہ واقعی ہر اضطرار کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اسلامی زندگی کے حدود سکیٹر تے رہیں اور تسلط کفر کی حدوں کو پھیلنے دیں۔
پھر اس "اضطرار" کے تصور نے بھی انھیں ستانا شروع کیا کیونکہ اضطرار کے نیچےحرمت کا تصور لازماً موجود رہتا ہے۔ کوئی صاحب عقل آدمی اس صریح بات کو محسوس کیےبغیر نہیں رہ سکتا کہ جب آپ محض مضطر ہونے کی وجہ سے سور کا گوشت کھا ئیں گے تو بہر حال سؤر آپ کی نگاہ میں حرام تو ضرور ہی رہے گا۔ اور جب اسےآپ فی الاصل حرام سمجھتےہوئےمجبوراً کھا ئیں گےتو ناممکن ہے کہ آپ کےدل میں اس سےنفرت و کراهت نہ ہو۔ ناممکن ہے کہ آپ اس سے لذت لیں، شوق سے کھا ئیں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے اور پیٹ بھر کر کھانے کی کوشش کریں اور اس کے کباب اور قورمہ اور پلاؤ پکوانےکی فکر کریں۔ ایسے ہی اجتناب اور تحفر کا جذبہ ان تمام معاملات میں ناگز برطور پر پیدا ہوتا ہے جنھیں آپ حقیقت کے اعتبار سے حرام کھتے ہوں اور صرف اضطرار کی وجہ سےاپنےلیےعارضی طور پر جائز کر لیں۔مگر ایک پوری قوم کا اپنی زندگی کےسارےتمدنی معاشی سیاسی معاملات میں دائما اس طرح رہنا کہ اس پر اضطرار کی شرعی و نفسیاتی کیفیت طاری رہےاور وہ حاضر الوقت نظام زندگی سے نفرت و کراهت کے ساتھ ہمہ گیر اجتناب کرتی رہے اور صرف اس حد تک اس سے تعلق رکھے جس حد تک ایسا تعلق جینے کے لیے ناگزیر ہو عملاً محال ہے۔ ایسی حالت کو ایک قلیل مدت سے زیادہ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔بہت جلدی طبائع اس سے تھک جاتی ہیں۔ چنانچہ یہ تھکاوٹ بھی مسلمانوں میں ٹھیک اپنے وقت پر پیدا ہوئی لیکن پہلے سے دینی انحطاط جس تسلسل کے ساتھ بڑھتا چلا آ رہا تھا اس نے ان جھکنے والوں کےذہن کو اس طرف متوجہ نہ ہونےدیا کہ اپنے اس غلط نظریہ پر نظر ثانی کر لے جو نظام کفر میں اسلامی زندگی کے امکان کے متعلق انھوں نے ابتداء قائم کیا تھا اور اس حالت اضطرار کو ختم کرنے کی تدبیریں سوچتےجس کی وجہ سے وہ ہر طرف ہر شعبہ زندگی میں حرمتوں سے محصور اور خبائث میں مبتلا ہونے پر مجبور ہو گئے تھے ۔ اس کے برعکس دینی انحطاط کی سابق رفتار انھیں جس رُخ پر بڑھا لے گئی وہ یہ تھا کہ سرے سے اضطرار کے بہانے ہی کو ختم کر دیں تا کہ جو حرمتیں نظام کفر میں ترقیات اور آسائشوں کےدروازے ان پر بند کیے ہوئے ہیں وہ ٹوٹ جائیں اور اباحت وحلت میں تبدیل ہو کر رہیں۔
اس غرض کے لیے دین کا ایک نیا نظریہ قائم کیا گیا۔ وہ نظریہ یہ تھا کہ دین کا تعلق صرف عقائد و عبادات اور چند معاشرتی امور مثل نکاح و طلاق وغیرہ سے ہے۔ اگر ان معاملات میں کوئی نظام حکومت مسلمانوں کو امن دینے کا ذمہ لے لے تو اسلامی زندگی کا اصل مدعا حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد دار الکفر دارالامن ہے۔ اس کی وفاداری و اطاعت لازم ہے اس کے تحت سارے تمدنی معاملات ( جو اس نئے نظریے کے مطابق دنیا بمقابلہ دین کے زیر عنوان آ جاتے ہیں) انھی قوانین کے مطابق چلنے چاہئیں جو کافرانہ اصولوں پر بنائے گئے ہوں اور اس کی قانونی و انتظامی مشین کو چلانے میں، بلکہ اس کے تحفظ اور اس کی توسیع کے لیے جان کی قربانیاں تک دینے میں بھی کوئی "مضایقه" نہیں ہے۔
لیکن یہ معاملہ صرف "عدم مضائقہ" یا اباحت وحلت پر بھی نہ رکا۔ دارالکفر میں مسلمانوں کی ضروریات نے جلدی ہی انھیں مجبور کرنا شروع کیا کہ اپنی نئی نسلوں کو خدمت کفر کا شوق دلانے کی کوشش کریں تا کہ ان نقصانات کی تلافی ہو جو اول اول کچھ مدت کےمضایقه نےانھیں پہنچایا تھا۔اس لیےایک آخری دلیل یہ تصنیف کی گئی کہ مسلمانوں کی ترقی و فلاح اور بعض حالات میں اُن کی زندگی کا انحصار ہی اس بات پر ہےکہ وہ نظام کفر کےعدالتی تشریعی انتظامی فوجی،صنعتی،غرض تمام شعبوں میں زیادہ سےزیادہ حصہ لیں ورنہ امت کےوفات پا جانےیا کم از کم ترقی کی دوڑ میں غیر مسلموں سے پیچھے رہ جانے کا اندیشہ ہے۔ اس دلیل نے بہ یک جنبش قلم اسی چیز کو جو کل تک صرف مباح کےمقام پر تھی فرض کے درجے پر پہنچا دیا اور واجب ہو گیا کہ اگر ساری قوم نہیں تو اس میں سے ایک طبقہ تو اس فرض کے انجام دینے کے لیے ضرور نکلتا ہی رہے گویا حکم الہی یوں قرار پایا کہ فَلَوْلَا نَفَرٍ مِنْ كُلَّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الْكُفْرِ لِيُضِلُّوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمُ لَعَلَّهُمْ يُضِلُّونَ اور وَلَتَكُن مِنكُمْ أُمَّةٌ يُدْعُونَ إِلَى الشَّرِ يَأْمُرُونَ بِالْمُنكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ!
دین میں یہی وہ عظیم الشان ترمیم تھی جس کی بدولت بڑےبڑےمتقی و دین دار حضرات تسبیحوں کوگردش دیتے ہوئے وکالت اور منصفی کے پیشوں میں داخل ہوئے تاکہ جس قانون پر وہ ایمان نہیں رکھتے اس کے مطابق وہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کریں اور کرائیں اور جس قانون پر ایمان رکھتے ہیں اس کی تلاوت صرف اپنے گھروں میں کرتےرہیں۔ اس ترمیم کی بدولت بڑے بڑے صلحاء و اتقیاء کے بچے نئی درس گاہوں میں داخل ہوئے اور وہاں سے بے دینی و مادہ پرستی اور بداخلاقی کے سبق لے لے کر نکلے اور پھر اس نظام کفر کے صرف عملی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ اکثر حالات میں اخلاقی اور اعتقادی حیثیت سے بھی خدمت گزار بن گئے جو ان کے اسلاف کی غفلتوں اور کمزوریوں کی بدولت ان پر ابتداء محض اوپر سے مسلط ہوا تھا۔ پھر اسی ترمیم نے یہاں تک نوبت پہنچائی کہ مردوں سےگزر کر جاہلیت اور ضلالت اور بداخلاقی کا طوفان عورتوں تک پہنچا۔وہی فرض کفایہ جسےادا کرنے کےلیےپہلےمرد اُٹھےتھےعورتوں پر بھی عائد ہو گیا اور ان بیچاریوں کو بھی آخر اس "دینی خدمت" کی بجا آوری کے لیے نکلنا پڑا۔ نہ نکلتیں تو خطرہ تھا کہ کہیں غیر مسلم ان سے بازی نہ لے جائیں_ (١)
اور کہیں یہ گمان نہ کر لیجیےگا کہ دین میں یہ ترمیم آج کچھ نئی ہوئی ہے۔درحقیقت اس کی بنا آج سے صدیوں پہلے پڑ چکی تھی جبکہ تاتار کے کفار مسلمانوں پر مسلط ہوئےتھے ۔ صرف یہی نہیں کہ نظام کفر میں اسلامی زندگی کا نقشہ پہلی مرتبہ اسی دور کے علماء نے مرتب کیا تھا بلکہ اُس زمانے میں بڑے بڑے علماء وصلحاء نے خود نظام کفر کی خدمت گزاری اختیار فرمائی تھی اور ان میں بکثرت لوگ وہ تھے جن کی کتابیں پڑھ پڑھ کر آج ہمارے مدارس عربیہ میں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین تیار ہوتے ہیں ۔ اسی قدامت کی وجہ سے غلطی اب ایک مقدس غلطی بن چکی ہے اور کوئی تعجب نہیں ہے اگر ہمارے زمانےکے فقیه اور محدث اور معتمر سب اس میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ غلط بات نہ اس دلیل سے صحیح ہو سکتی ہے کہ وہ پہلے سے ہوتی چلی آ رہی ہے اور نہ اس کو صحیح ثابت کرنے کے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ بڑے بڑے لوگ اس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ حق کا اثبات اگر ہو سکتا ہے تو خدا کی کتاب اور رسولوں کی سنت ہی سے ہو سکتا ہے۔
اس پورے انحطاط کے دوران میں، جو ابتدائی اضطرار کی بنا پر اسلام "زیر سایہ کفر" کے نظریہ سے شروع ہوا پھر رفتہ رفتہ نظامِ کفر کی خدمت جائز ---مستحب --- فرض کفایہ کے نظریہ تک پہنچا اور بالآ خر کرتے کرتے اس انتہائی ذلیل نقطہ نظر کی پستیوں میں جا گرا کہ مذہبی آزادی دینے والے حکمرانوں کی وفاداری مین متفائے دین ہے ۔ مسلمانوں کی کوشش برابر یہی رہی کہ اپنے تنزل کے ہر مرحلے میں نیچے اور زیادہ نیچے اترنے کے لیے دلیل بہر حال انھیں خدا کے دین ہی سے ملنی چاہیے۔ یہ مطالبہ بظاہر تو اُن کے زعم میں اس فارمولے پر مبنی تھا کہ خدا کا دین چونکہ ہماری تمام ضرورتوں کا ضامن ہے۔اس لیےجو ضرورتیں اب پیش آ رہی ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے بھی اسی دین سے ہم کو رہنمائی ملنی چاہیے ۔ لیکن دراصل اس ظاہری فارمولے کے باطن میں جو حقیقی فارمولا چھپا ہوا تھا اور جس پر فی الواقع یہ لوگ کام کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ ”جب ہم نے اس دین پر یہ احسان کیا ہے کہ اس کو اپنے ایمان سے سرفراز کیا تو اس کے بدلے میں کم سے کم جو فرض اس دین پر عائد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ہمارے آگے چلنے کے بجائے ہمارے پیچھے چلنا شروع کر دے"۔ یعنی اب ہمارا اور اس کا تعلق یہ نہ ہو کہ ہم اسے اپنے اوپر اور خدا کی زمین پر قائم کرنے کی سعی کریں اور اس سعی کے سلسلے میں جو جو ضرور تیں ہم کو پیش آتی جا ئیں یہ انھیں پورا کرنے کی ضمانت لیتا جائے بلکہ تعلق کی صورت اب یہ ہونی چاہیے کہ ہم اس کی اقامت کا کام حتی کہ اس کا خیال تک چھوڑ کر اپنے نفس کی پیروی میں جس جس وادی کی خاک چھانتے پھریں اس میں یہ ہمارے ساتھ ساتھ گردش کرتا رہے اور جن جن ادیان باطلہ کے ہم تابع فرمان بنتے جائیں ان کے ماتحت ساری غلامانہ حیثیتیں یہ بھی اختیار کرتا چلا جائے اور اس کے منشاء کے خلاف جو جو طرزِ زندگی ہم قبول کریں ان میں پیش آنےوالی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کا یہ ضامن ہو"۔ چنانچہ اسی نقطہ نظر کو لیے ہوئے ان لوگوں نے قرآن وسنت میں رہنمائی تلاش کرنی شروع کی اور حاصل یہ ہوا کہ پورے قرآن میں اگر کسی چیز پر جا کر ان کی نگاہ پھیری تو وہ سورۂ عنکبوت تھی نہ بقرہ نہ آل عمران نہ انفال نہ تو بہ بلکہ سورہ یوسف تھی ۔ اور اس کے بھی صرف وہ مقامات جن سے خان بہادر صاحب استدلال فرما رہے ہیں۔ اسی طرح پوری سیرت نبوی میں بھی اگر کوئی چیز ان کو قابل اتباع ملی تو وہ ملتے کی تپتی ہوئی ریت تھی، نہ طائف کی سنگ باری نہ بدر و اُحد کے میدان بلکہ صرف یہ واقعہ کہ مسلمانوں کی ایک جماعت ہجرت کر کے عبش گئی تھی اور وہاں ایک عیسائی بادشاہ کے ماتحت چند سال رعا یا بن کر رہی ۔
١- قیام پاکستان کے بعد اب معامله اور آگے بڑھ گیا ہے۔ اب اُمت کے جینے کی صرف یہ صورت رہ گئی ہے کہ شرفا کی لڑکیاں کھلے میدانوں میں فوجی ڈرل کریں، اور مسلمان صاحبزادیان نرسنگ کی ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے مغربی ممالک میں جائیں اور غیر ممالک میں مسلمانوں کی نیابت کا فریضہ ان کےنمائندےہی نہیں، بلکہ نمائند یاں بھی انجام دیا کریں۔
لیکن جو شخص مطلب جو ذہنیت نہ رکھتا ہو بلکہ طالب حق ہو اس کے لیے یہ سوال غایت درجہ اہمیت رکھتا ہے کہ در حقیقت یوسف کے زیر بحث واقعات اور ہجرت حبشہ کےحالات سے بھی کیا وہی نتیجہ نکلتا ہے جو یہ حضرات نکالنا چاہتے ہیں؟ اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ وہی نتیجہ کھتا ہے یعنی یہ کہ ایک نبی نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت ایک نظام کفر کی خدمت اور غیر الہی قانون (دین الملک) کے اجرا و نفاذ کی ذمہ داری اس غرض کےلیے قبول کی تھی کہ ایسا کرنا فی نفسہ مقصود تھا، اور یہ کہ مسلمانوں نے مکہ سے جبش کی طرف اسی بنیاد پر ہجرت کی تھی کہ ایک مسلم جماعت کےلیےایک غیر مسلم نظام تمدن و سیاست بالکل ایک موزوں جائےقیام ہےبشرطیکہ وہ مسجد میں اپنے منشاء کے مطابق پوجا کر لینے کی اور اپنےسینےمیں کچھ عقائد رکھ لینے اور زبان سے ان کے بھاگ اُڑا لینے کی اس کو اجازت دے دے تو اس کے بعد کچھ مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں جو اوپر کے سوال سےبدرجہا زیادہ اہم اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ یہ بات مان لینے کے بعد تو یہی امر تحقیق طلب ہو جاتا ہے کہ :
ان سوالات کا ایک جواب یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ نے جو دین بھیجا ہے اس کا تعلق صرف اُس محدود زندگی سے ہےجو آج کل کے تصور کےلحاظ سے”مذہبی“ کہلاتی ہےمگر یہ مان لینے کے بعد قرآن میں اور دوسری کتب آسمانی میں تمدن، معاشرت، معیشت سیاست قانون دیوانی و فوجداری ضوابط شهادت و عدالت اور مسائل صلح و جنگ وغیرہ کےمتعلق جو ہدایات دی گئی ہیں وہ سب بے معنی قرار پاتی ہیں ۔ یا پھر ان کی حیثیت احکام کی نہیں بلکہ سفارشات کی رہ جاتی ہے جن پر عمل ہو جائے تو اچھا اور نہ ہو تو اللہ میاں کو کوئی خاص شکایت نہ ہوگی۔
اسی طرح دوسرےسوال کا جواب بھی یہ ہو سکتا ہےاور ہو سکتا کیا معنی آج کل عام طور پر نبوت کا تصور یہی ہےکہ مختلف انبیاء مختلف مشن لےکر آئےہیں،حتی کہ ایک نبی کا مقصد بعثت اگر یہ رہا ہےکہ نظام کفر کوتوڑنے کےلیےلڑنےاور اسکی جگہ نظام اسلامی کو زمین پر حکمران ہونےکی حیثیت سےقائم کرےتو دوسرےنبی کا مقصد بعثت اس کےبر عکس یہ رہا ہےکہ نظام کفر کےاندر نہ صرف یہ کہ محدود قسم کی مذہبی و اخلاقی اصلاح پر اکتفا کرے بلکہ اس نظام کفر کا مطیع و وفادار بن کر رہے اور موقع ملےتو اس کو چلانے اور فروغ دینے کے لیے خود اپنی خدمات پیش کر دے۔ مگر یہ بات نہ تو قرآن کے بیان کےمطابق ہے جو پورے زور کےساتھ یہ تصور پیش کرتا ہےکہ سارے انبیاء کا مقصد بعثت ایک ہی تھا اور نہ عقل یہ باور کرنے کےلیےتیار ہےکہ اللہ تعالیٰ سےایسی متضاد اور باہم متصادم حرکات کا ظہور ہو سکتا ہے۔شاید کوئی معقول آدمی بھی اس خدا کو ایک حکیم خدا ماننےکے لیے تیار نہیں ہو سکتا جو انسانوں کی طرف اپنے پیغمبر بھی کسی مقصد کے لیے بھیجے اور کبھی اس کے بالکل برعکس کسی دوسرے مقصد کے لیے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک نبی نظام اسلامی کو قائم کرنے کی جدو جہد میں کامیابی کے آخری مرحلوں پر پہنچ جائے دوسرا نبی بیچ کے کسی مرحلے میں یا ابتدائی مرحلہ ہی میں آخر وقت تک کام کرتا رہے اور کوئی تیسرا نبی دعوت و تبلیغ یا جنگ کے بجائے کسی درمیانی صورت کو اپنے مخصوص حالات میں قابل عمل پا کر اسےاختیار کرلئے اور ان اشکال کےاختلاف کے باوجود مقصد سب کا ایک ہی ہو یعنی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے نظام زندگی کو مکمل طور پر دنیا میں قائم کرنےکی سعی کرنا، لیکن اس اختلاف اشکال کو یہ معنی پہنانا کہ انبیاء کے مقاصد بعثت ہی سرے سے مختلف و متضاد تھےاللہ پر ایسا بہتان لگانا ہے جس سے بدتر بہتان شاید کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح تیسرے سوال کا جواب بھی یہ ہو سکتا ہےاور آج کل کے مسلمان بالعموم یہی سمجھتے ہیں کہ انسان سےاللہ تعالیٰ کا مطالبہ صرف اتنا ہی ہے کہ وہ اس کی پوجا کر لیا کرے اور کچھ مسائل غسل و طهارت اور چند مخصوص حدود حلال و حرام کی پابندی کر لے۔اس سے آگے نہ اللہ کا کوئی مطالبہ ہے اور نہ اس سے کچھ بحث کہ آدمی زندگی کے وسیع تر معاملات میں اپنے نفس کے قوانین کی پیروی کرتا ہے یا اُن شیاطین جن و انس کے احکام کی جو اس کی وسیع زمین پر مسلط ہو گئے ۔ مگر یہ جواب موجودہ زمانےکے ڈنیا پرستوں کےلیے خواہ کتنا ہی اطمینان بخش ہو اور خواہ الدينُ يُسر“ اور ”مَاجَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ خرج کا یہ مشا قرار دے کر وہ اپنے لیے اس سےکتنی ہی سہولتیں پیدا کر لیں' بہر حال یہ تصور عبدیت و بندگی کے تصور کی قطعی نفی ہے۔ بندگی کا شاید اس سے زیادہ مضحکہ انگیز مفہوم کوئی اور نہیں ہو سکتا کہ بندہ چوبیس گھنٹوں میں سے دو گھنٹوں کےلیےہندہ ہو اور باقی اوقات میں آزاد یا صرف آقا کو سلامی دےدینےپر اس کی بندگی ختم ہو جائےاور پھرسارے کام اسے اپنے یا دوسروں کے منشاء کے مطابق کرتے رہنے کی آزادی حاصل ہو ۔پھر وہ خدا تو ہرگز خدا مانے جانے کے قابل نہیں ہے جو ایک طرف اپنے آپ کو انسان کا خالق اور رب بھی کہتا ہو اور دوسری طرف پورے انسان کو چھوڑ کر صرف اس کےایک نہایت ہی قلیل اور غیر اہم جز تک اپنی آقائی وفرماں روائی کو اور اس کی بندگی و غلامی کو محدود رکھنے پر راضی ہو جائے۔کوئی باپ اپنےبیٹےپر اپنی پدرانہ حیثیت کو کوئی شوہر اپنی بیوی پر اپنی شوہرانہ حیثیت کو کوئی حاکم اپنی مملکت اور اپنی رعایا پر اپنی حاکمانہ حیثیت کو اس حد تک محدود کرنے پر راضی نہیں ہوتا کہ چند مراسم اطاعت و وفاداری ادا ہو جانے کے بعد پدریت اور شوہر یت اور حاکمیت کا مقتضا پو را ہو جائے اور پھر بیٹے کو اختیار ہو کہ جس جس کو چاہے اپنا باپ بتاتا پھرئے اور رعایا کو اختیار ہو کہ جس جس کے قانون کی چاہے پیروی کرنے، جس کو چاہے ٹیکس دے اور جس کے احکام کی چاہےاطاعت کرتی رہے مگر یہ خدا آخر کیسا خدا ہےکہ جو انسان سارا کا سارا اس کا مخلوق اور اسی کا پروردہ ہےاور اسی کے بل پر قائم و موجود ہےاس پر وہ اپنی آقائی کو محدود کر لینے اور اس سےبندگی کی چند رسمی باتیں قبول کر کے اسے خود مختار یا ہر ایک کی غلامی کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دینے پر راضی ہے؟
دین اور نبوت اور تقاضائےعبدیت کے یہ تصورات اگر صحیح نہیں ہیں،اگر فی الواقع خدا کا بھیجا ہوا دین انسان کی ساری اجتماعی و انفرادی زندگی سےتعلق رکھتا ہے اگر خدا کا مطالبہ اپنے بندوں سے یہی ہے کہ وہ ہر حیثیت سے اس کے قانون کے پیرو اور اس کی ہدایت کے متبع ہو کر رہیں، اور اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو اسی غرض سے بھیجا تھا کہ وہ اس بر حق نظام زندگی کو قائم کرنے کی دعوت دیں اور اسی کی اقامت کے لیے سعی کریں جو خدائے واحد کی اطاعت پر مبنی ہو تو کسی معقول آدمی کے لیے یہ تسلیم کرنا سخت مشکل ہے کہ سارے نبیوں میں سے تنہا ایک حضرت یوسف علیہ السلام ہی ایسے انوکھی قسم کے نبی تھےجن کے سپر د دین اللہ کو قائم کرنے کی سعی کی بجائےیہ خدمت کی گئی تھی کہ دین الملک کےتحت وزارت مال کی نوکری کریں اور اسی طرح کوئی معقول آدمی ان دو متضاد باتوں کو بھی با هم منطبق نہیں کر سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف تو عرب کے غیر اسلامی نظام میں دین حق کی اقامت کے لیے جد و جہد بھی فرمارہے تھے اور دوسری طرف آپ کے نزدیک جبش کا غیر اسلامی نظام اس درجہ برحق بھی تھا کہ ایک مسلم جمعیت کے لیے وہ ایک مناسب جائے قیام ہو سکتا تھا۔ جو لوگ دین کو ایک معقول و متناسب نظام فکر کی حیثیت سے نہیں دیکھتے بلکہ اس کو منتشر اور ایک دوسرے سے بے تعلق اجزا کا مجموعہ سمجھتے ہیں، اُن کے لیے تو یہ بہت آسان ہے کہ انبیاء کے حالات زندگی، قرآن کی تعلیمات اور دین کے احکام و اوامر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک کی ایسی تاویلیں اور تفسیریں کریں جن سے ایک جز دوسرےجز سے اور ایک پہلو دوسرے پہلو سے صریح تناقض کا رنگ اختیار کر لے۔لیکن اس دین کو ایک حکیم کے بنائے ہوئے مرتب و مربوط اور متناسب نظام کی حیثیت سے دیکھنے والوں کے لیے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ اُس کے ہر پہلو اور ہر جز کی وہی تفسیر و تاویل اختیار کریں جو کلی نظام کےمزاج سے مناسبت رکھتی ہو اور کسی ایسی تعبیر کو خواہ وہ کیسے ہی بڑے علماء کی طرف سے پیش کی گئی ہو قبول نہ کریں جس سے اس دین کے اندر تناقض اور اس کی تعلیمات اور انبیاء علیہم السلام کے کاموں کے درمیان تصادم لازم آتا ہو ۔
حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ جس طریقےسےسورہ یوسف میں بیان ہوا ہےاس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنجناب قبل اس کے کہ نبوت سے سرفراز ہوتےاپنے بھائیوں کی غداری اور ایک تجارتی قافله کی خیانت کی بدولت عزیز مصر کے مملوک ہو چکے تھے ۔ اس مملوکیت کے زمانے میں 'یا اس کے بعد جبکہ آپ قید کیے جاچکے تھے، آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سےنبوت کا منصب عطا کیا گیا ۔۔۔اغلب یہی ہےکہ یہ سرفرازی قید ہی کے زمانے میں ہوئی ہوگی کیونکہ قید ہونےسےپہلےآپ کے کلام کا انداز پیغمبرانہ شان کا نہیں بلکہ صرف ایک مرد صالح کا سا نظر آتا ہے۔۔۔اس حالت میں جب آپ نبوت سےسرفراز ہوئےتو آپ نےمعا اپنی پیغمبرانہ دعوت کی ابتدا کر دی اورساتھ کےقیدیوں ہی کو اس چیز کی طرف بلانا شروع کر دیا جس کےلیےآپ مامور ہوئےتھےاس دعوت کا خلاصہ سورۃ یوسف رکوع ۵ میں بیان ہوا ہےجس کا مطالعہ کر کے آج بھی ہر شخص یہ دیکھ سکتا ہےکہ ان کا بلاوا ازباب متفرقون" کی بندگی کی طرف نہیں تھا، بلکہ ایک رب کی بندگی کی طرف تھا اور وہ بار بار اہل مصر پر یہ واضح کرتےرہےتھےکہ جس بادشاہ کو تم نےرب بنا رکھا ہےوہ میرا رب نہیں ہے بلکہ میرا رب اللہ ہے اور جس ملت کی میں پیروی کرتا ہوں وہ اللہ ہی کی بندگی سے عبارت ہےیہ تبلیغ جو وہ قید خانہ میں کر رہے تھے اس کےدوران میں یکا یک یہ صورت حال پیش آئی کہ دیانت و تقویٰ اور حکمت و بصیرت کےجو غیر معمولی نشانات ان کی ذات سے ظاہر ہوئے تھےفرماں روائے مصر ان سے متاثر ہو گیا اور اس حد تک متاثر ہوا کہ انھیں یہ توقع ہوگئی کہ اگر وہ سلطنت کےپورے اختیارات اس سے مانگیں تو وہ انھیں دینے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ اب یوسف علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے ۔ ایک راستہ یہ کہ وہ اسلامی انقلاب کے لیے دعوت عام جد و جہد کشمکش اور جنگ کے طویل عمل ہی کو اختیار کریں، جو عام حالات میں اختیار کرنا پڑتا ہے۔ دوسرا راستہ یہ کہ وہ اس موقع کو جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ان کے ہاتھ آ گیا تھا' استعمال کریں اور عقیدت مند بادشاہ سے جو اختیارات مل رہے تھے انھیں لے کر ملک کے نظام فکر و خلاق اور نظام تمدن و سیاست کو بدلنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالی نے جو بصیرت اُن کو عطا کی تھی اس کی بنا پر انھوں نے پہلے راستے کی بہ نسبت دوسرے راستے کو اپنے مقصد کے لیے مفید تر اور اپنی منزل مقصود سے قریب تر سمجھا اور اسے اختیار کر لیا۔
یہ غیر اسلامی نظام کی نوکری نہیں تھی جو پیٹ پالنے کےلیےیا ذاتی جاہ و منزلت کے لیے یا نظام فاسد کےجزوی مصالح کےلیےکی گئی ہوا بلکہ یہ ایک تدبیر تھی جو اسی ایک مقصد کےلیے اختیار کی گئی تھی جس کے لیے تمام انبیاء علیہم السلام کی طرح حضرت یوسف بھی مبعوث ہوئے تھے ۔ جن لوگوں نے اسے محض نوکری سمجھا ہے اور یہ خیال کیا ہےکہ حضرت یوسف علیہ السلام نےنظامِ اسلامی کےقیام کےلیےاس کو ذریعہ ہونےکی حیثیت سے نہیں بلکہ اس غرض کےلیےحاصل کیا تھا کہ کافرانہ نظام بدستور قائم رہےاور وہ اس کےتحت بس فنانس منسٹر کی خدمت انجام دیتےرہیں،اُن کےنزدیک حضرت یوسف علیہ السلام کا مرتبہ موجودہ حکومتوں اور ریاستوں کے تنخواہ دار ملازموں سے کچھ بھی بلند نہیں ہے۔ حتی کہ اتنا بلند بھی نہیں جتنا ہمارے اس ملک میں کانگرسی وزارتوں کا مقام ثابت ہوا ہےجن کا طرز عمل تمام ملک دیکھ چکا ہے کہ جب تک انھیں اپنے مقصد ( آزادی ملک) کے لیے وزارت کے مفید ہونے کا یقین نہ ہو گیا، انھوں نے اور ان کے کسی گرے پڑے شخص نے بھی وزارت قبول کرنے کا خیال تک نہ کیا اور پھر جب وزارتیں قبول کیں تو یہ دیکھ کر کہ فی الواقع جو ہر اقتدار (Substance of Power) ان کی طرف منتقل نہیں کیا گیا ہے انھوں نے تمام وزارتوں کو لات مار دی۔
یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ اختیارات بادشاہ سے مانگے گئے تھے یا اس سےچھینے گئے تھے ۔اور نہ یہ بات کوئی اہمیت رکھتی ہےکہ حضرت یوسف کےبرسر اقتدار آتےہی بادشاہ معزول کر دیا گیا یا تخت سلطنت پر قائم رہا۔ اصل اہمیت جو چیز رکھتی ہے وہ یہ ہےکہ حضرت یوسف علیہ السلام نے جو منصب طلب کیا تھا وہ آیا کافرانہ نظام کو چلانےکےلیےاور اسکی ملازمت قبول کرنےکی خاطر کیا تھا یا اپنےمقصد بعثت یعنی نظام اسلامی کو قائم کرنے کی خاطر دوسری چیز جو اہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ آیا فی الواقع ان کو ایسےاختیارات ملے تھے یا نہیں جن سے وہ ملک کے نظام میں تبدیلی کرنے کے قابل ہو سکتے ؟ہمارے نزدیک دین اور نبوت کے پورے تصور کا تقاضا یہ ہے کہ ہم حضرت یوسف کےمطالبہ قَالَ أَجَعَلِي عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ (يوسف : ۵۵) کا مقصد نظام اسلامی کا قیام سمجھیں اور یہ سمجھیں کہ خزائن الارض کے مطالبہ سے حضرت یوسف علیہ السلام کا مدعا یہ تھا کہ ملک کے تمام ذرائع وسائل (Resources) ان کے ہاتھ میں دیے جائیں۔ خان بہادر صاحب خواہ مخواہ خزائن کے لفظ کو مالیات کے معنی میں لے رہے ہیں۔ حالانکہ قرآن میں کہیں بھی یہ لفظ مالیات کے معنوں میں نہیں آیا ہے۔ قرآنی تعلیمات کا تنتبع کرنے سے یہ بات واضح ہو سکتی ہے کہ اس لفظ کا مفہوم وہی ہے جو ذرائع و وسائل" کا مفہوم ہے اور ظاہر بات ہے کہ کسی شخص کے ہاتھ میں کسی ملک کے تمام ذرائع و وسائل کا ہونا اور اس کا ملک کے تمام سپید و سیاہ پر متصرف ہو جانا دونوں بالکل ہم معنی ہیں_(١) اسی بات کی تصدیق بائیبل سے بھی ہوتی ہے۔ جس میں بصراحت یہ بیان ہوا ہے کہ فرعونِ مصر صرف برائےنام بادشاہ رہا۔ ورنہ تمام ملک عملاً حضرت یوسف علیہ السلام کے زیر نگیں ہو گیا (٢)
١- مثلاً: آیت وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ (منافقون: ) وَإِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ (حجر: ۲۱) أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ ( الطُّور : ۳۷) وَقَالَ الَّذِيْنَ فِي النَّارِ لِخَزِينَةٍ جَهَنَّمَ (مومن: ٤٠)
٢- بائیل میں سیدنا یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرعون کی جو گفتگو نقل کی ہےاس کے الفاظ یہ ہیں:
"سوفرعون نے اپنےخادموں سےکہا کہ کیا ہم کو ایسا آدمی جیسا یہ ہےجس میں خدا کی روح ہے مل سکتا ہے؟ اور فرعون نےیوسف سےکہا چونکہ خدا نےتجھےیہ سب کچھ دیا ہےاس لیےتیرےمانند دانشور اورعقمند کوئی نہیں سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا اور میری ساری رعایا اور میری ساری رعایا تیرےحکم پر چلےگی۔صرف تخت کا مالک ہونے کےسبب سےمیں بزرگ تر ہوں گا۔ اور اس نےاسےسارے ملک مصر کا حاکم بنا دیا اور فرعون نےیوسف سے کہا میں فرعون ہوں اور تیرے حکم کے بغیر کوئی آدمی اس سارے ملک مصر میں اپنا ہاتھ پاؤں ہلانے نہ پائے گا ( پیدائش باب ۴۱ آیت ۳۸ تا ۴۴)
خط کشیدہ فقرے صحیح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ فرعون حضرت یوسف علیہ السلام کا عقیدت مند ہو چکا تھا اور اگر اس نے آپ کی نبوت تسلیم نہیں کی تھی، تب بھی وہ پہلی ہی ملاقات میں ایمان لانے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ پھر اس کے سات آٹھ برس بعد جب حضرت یوسف کے بھائی مصر پہنچتے ہیں تو حضرت یوسف ان سے کہتے ہیں: پس تم نے نہیں بلکہ خدا نے مجھے یہاں بھیجا اور اس نے مجھے گویا فرعون کا باپ اور اس کے سارےگھر کا حاکم بنا دیا۔ سو تم جلد میرے باپ کے پاس جا کر اس سے کہو تیرا بیٹا یوسف یوں کہتا ہے کہ خدا نے مجھے سارے ملک مصر کا مالک بنا دیا ہے ۔ ( پیدائش باب ۴۵ آیت ۸ تا ۹)
اب رہا یہ دعویٰ کہ حضرت یوسف کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھی ملک میں سکہ تو دین الملک ہی کا رواں رہا جیسا کہ آیت مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكَ (یوسف: ۷۶ ) سے ظاہر ہوتا ہے تو اس کے متعلق پہلی بات تو یہ ذہن نشین کر لینی چاہیےکہ عام طور پر اس آیت کا جو ترجمہ کیا جاتا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ مترجمین اس کا مفہوم یہ لیتےہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام دین الملک کےتحت اپنےبھائی کو نہیں پکڑ سکتےتھےحالانکہ اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ یوسف کا یہ کام نہ تھا یا یوسف کے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ اپنے بھائی کو دین الملک کے تحت پکڑتا۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی اس محاورے کا مفہوم عدم قدرت نہیں، بلکہ عدم موزونیت و عدم مناسبت ہی ہے ۔ مثلا ما كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ (آل عمران: ۱۷۹) اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تم کو غیب پر مطلع نہیں کر سکتا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ تمھیں غیب پر مطلع نہیں کر سکتا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ تمھیں غیب پر مطلع کرے۔ اسی طرح مَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ اِيْمَانَكُمُ (بقره: ۱۴۳) اور فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمُ اور مَا كَانَ اللهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمُ عَلَيْهِ (آل عمران: ۱۷۹) میں اللہ تعالٰی کی عدم قدرت کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ ذکر ہے کہ ظلم اور اضاعت ایمان اور مومنین و منافقین کو خلط ملط چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کا طریقہ نہیں ہے۔ اور خودسورہ یوسف میں اس آیت سے پہلےایک مقام پر جو ارشاد ہوا ہے: مَا كَانَ لَنَا اَنْ نُّشْرِكَ بِاللَّهِ مِنْ شَيْءٍ (یوسف: ۳۸) تو اس کے معنی بھی یہ نہیں ہیں کہ ہم خدا کے ساتھ کسی کو شریک کرنے پر قادر نہیں ہیں، بلکہ اس کےمعنی یہ ہیں کہ ہم لوگوں کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کریں ۔ پس آیت زیر بحث کو بھی یہ معنی پہنا نا صحیح نہیں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام دین الملک پر عمل کرنا چاہتے تھے مگر اس کے تحت اپنے بھائی کو گرفتار نہیں کر سکتے تھے بلکہ قرآنی استعمالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا صحیح مطلب یہی ہے کہ دین الملک کے تحت اپنے بھائی کو گرفتار کرنا یوسف علیہ السلام کے شایانِ شان نہیں تھا۔ البتہ اس آیت سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے صاحب اقتدار ہونے کے باوجود غیر اسلامی قانون تعزیرات کم از کم سات آٹھ برس بعد تک ( جبکہ حضرت یوسف کے بھائی وہاں پہنچے تھے ) ملک میں نافذ تھا۔ لیکن اس کے متعلق اس سے پہلے بھی ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ایک ملک کے نظام تمدن کو ایک رات کے اندر کلی طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور اسلامی انقلاب کا یہ تصور صحیح نہیں ہے کہ اقتدار ہاتھ میں آتے ہی جاہلیت کے تمام قوانین و رسوم کو یک لخت بدل ڈالا جائے ۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ملک کے نظام تمدن کو کلی طور پر تبدیل کرنے میں پورے دس برس لگے تھے۔ لہذا حضرت یوسف علیہ السلام کے دورِ حکومت میں چند سال تک غیر اسلامی قانون تعزیرات یا اس کے ساتھ کچھ دوسرے غیر اسلامی قوانین بھی جاری رہے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پیش نظر خدائی قوانین کا اجراء سرے سے تھا ہی نہیں اور وہ کافرانہ قوانین ہی ملک میں برقرار رکھنا چاہتے تھے۔
اب بحث ختم کرنے سے پہلے ذرا ایک نظر ہجرت حبشہ کے مسئلے پر بھی ڈال لیجیے۔اس معاملے کو جس انداز سے پیش کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ جبش میں ایک غیر مسلم حکومت قائم تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی ایک جماعت کو وہاں بھیج دیا تاکہ اس کی رعیت بن کر رہیں، پھر صحابہ کرام وہاں غیر مسلم بادشاہ کے وفادار بن کر رہے کیونکہ انھیں اس کے ماتحت عقیدے اور پوجا کی آزادی حاصل تھی اور جب ایک ہمسایہ بادشاہ نے اس کے ملک پر حملہ کیا تو انھوں نے اس کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگیں لیکن یہ واقعات کی بالکل غلط نقشہ کشی ہے۔
اول تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو جبش بھیجا تھا اسی وقت آپ کو اس امر کا اندازہ تھا کہ نجاشی صالحین نصاریٰ میں سے ہے، چنانچہ حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ آپ نے مہاجرین سے اُس کی مملکت کے متعلق فرمایا تھا وہی أَرْضُ صِدْقٍ
دوسرے مہاجرین کو وہاں بھیجنے کی غرض یہ نہ تھی کہ وہاں کی رعایا بن کر رہیں نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کی ہجرت کا مشورہ دیتےوقت یہ فرمایا تھا کہ لو خرجتم إلى أَرْضِ الْحَبْشَةِ حَتَّى يَجْعَلَ اللَّهُ لَكُمْ فَرَجًا وَمَخْرَجًا -" کاش تم لوگ جش کی طرف چلےجاتےیہاں تک کہ اللہ تمھارے لیے کوئی صورت نکالے“۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہےکہ اس وقت پیش نظر صرف یہ چیز تھی کہ جو مسلمان کشمکش کے اس مرحلے میں اپنی قوتِ برداشت سے زیادہ مصائب کے شکار ہو رہے تھے ان کو آپ نے عارضی طور پر ایک ایسی جگہ بھیج دیا جہاں اس قسم کے مصائب کی توقع نہ تھی اور مقصود یہ تھا کہ بعد میں جب حالات سازگار ہو جائیں تو یہ لوگ وہاں سے واپس آجائیں۔ اس کو نظیر بنا کر یہ نتیجہ نکالنا آخر کس طرح صحیح ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کو اگر کسی غیر مسلم حکومت میں عقیدہ اور پوجا کی آزادی حاصل ہو تو یہ اس کے تحت ان کے وفادار رعیت بن کر رو پڑنے کے لیے کافی ہے اور اس کے آگے کچھ اور مطلوب نہیں ہے۔
پھر جب مہاجرین وہاں پہنچے اور کفار مکہ نے نجاشی سے ان کو واپس مانگنےکےلیےاپنا وفد روانہ کیا اور حضرت جعفر اور نجاشی کےدرمیان مکالمہ ہوا تو محدثین اور اہل سیرت کی متفقہ روایت کےمطابق نجاشی نےنہ صرف یہ کہ حضرت عیسی کے متعلق اس عقیدے کی تصدیق کی جو قرآن میں بیان ہوا ہے بلکہ مزید برآں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار بھی کیا۔ اس کے بعد نجاشی کے مسلمان ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے؟ امام احمد نے عبد اللہ بن مسعود کے حوالہ سے ( جو اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں ) نجاشی کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ اس نے کہا مَرْحَبًا بِكُمْ وَلِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ الَّذِى نَجِدُ فِي الْإِنْجِيلِ وَانَّهُ الرَّسُولُ الَّذِى بَشَّرَبِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ_١ کیا یہ الفاظ کسی غیر مسلم کے ہو سکتے ہیں۔ بیہقی میں خود عمرو بن عاص سے ( جو مہاجرین کو واپس لانے کے لیے کفار مکہ کی طرف سے جبش بھیجے گئے تھے ) یہ الفاظ مروی ہیں کہ انھوں نےآکر اہل مکہ کو جور پورٹ دی وہ یہ تھی کہ اَنَّ اَصْحَمَةَ يَزْعَمُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ نَبِيٍّ - احمد نجاشی بیان کرتا ہے کہ تمھارا ساتھی نبی ہے۔ کیا کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کر کے بھی غیر مسلم قرار پا سکتا ہے؟
(1) خوش آمدید ہو تمھارے لیےاور ان کے لیے جن کے پاس سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہی ہیں جن کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور آنحضرت وہی ہیں جن کی بشارت حضرت عیسی ابن مریم نے دی ہے۔
ابن ہشام نے اپنی سیرت نبوی میں حضرت عمرو بن عاص کے قبول اسلام کا جو قصہ لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اول اول نجاشی ہی کی تبلیغ نے ان کے دل میں ایمان پیدا کیا تھا۔اور صلح حدیبیہ سے پہلے وہ نجاشی کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کر چکےتھے۔ اس موقع پر جو الفاظ اس نے حضرت عمرو بن عاص سے کہے تھے وہ یہ تھےکہ اطغنی وَاتَّبِعُهُ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَعَلَى الْحَقِّ وَلَيَظْهَرَنَّ عَلَى مَنْ خَالَفَهُ كَمَا ظَهَرَ مَوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ وجنوده - " میری بات مانو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی قبول کرلو کیونکہ وہ حق پرہیں اوروہ اسی طرح اپنےمخالفین پر غالب آ کر رہیں گے جس طرح موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کے لشکروں پر غالب آئے تھے۔
علامہ ابن عبدالبر نے استیعاب میں وہ خطبہ نقل کیا ہے جو نجاشی نے حضرت ام حبیبہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا غائبانہ نکاح پڑھاتے ہوئے دیا تھا۔ اس میں صاف طور پر یہ الفاظ موجود ہیں: اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ وَانَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى بُنُ مَرْيَمَ - میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں جن کی آمد کی خبر عیسی ابن مریم نے دی تھی۔ ان سب سے بڑھ کر مستند و معتبر وہ روایت ہے جو بخاری ومسلم میں آئی ہے کہ نجاشی کی وفات کی خبر پا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی اور فرمايا: مات اليَومَ رَجُلٌ صَالِحٌ فَقَوْمُوا فَصَلُّوا على أجيْكُمْ أَصْحَمَةً - " آج ایک مرد صالح نے وفات پائی ہے اٹھو اور اپنے بھائی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھو۔اس کے بعد تو سرے سے اس استدلال کی بنا ہی منہدم ہو جاتی ہے جو ہجرت حبشہ کے واقعہ سے کیا جاتا ہے۔
"چند امور متعلقه تفسیر قرآن نے بکثرت لوگوں کو خلفشار میں ڈال رکھا ہے۔ ایک تفسیر لکھی گئی ہے۔ اس پر یہ اعتراض کیا جا رہا ہےکہ وہ اسلام کےعقائد کے خلاف ہےاور الہاد و دہریت کی موجب ہے چند آیات کی تفسیر بطور نمونہ اس کتاب سے نقل کرتا ہوں اور اس پر جو اعتراضات کیے گئے ہیں وہ بھی مختصر بیان کیے دیتا ہوں ۔معترضین اس کتاب کے مصنف کی تکفیر کرتے ہیں ۔ مہربانی فرما کر آپ ایک فیصلہ کن بحث کر کے بتائیں کہ آیا ان میں کوئی چیز موجب کفر ہے یا الحادود ہر یت ہے؟“
تفسير: "حط کشیدہ فقرے کے مطلب یہ ہے کہ چار پرندے لے لو اور ان کو اپنی طرف مائل کر لو۔ یعنی اپنے سے اس طرح مانوس کر لو کہ جب تم انھیں چھوڑ دو تو تمھاری طرف پلٹ کر آئیں۔ پھر ان کا ایک جز ایک ایک پہاڑ پر رکھ دو۔
اعتراض: اس تفسیر میں نیچریت کا رنگ غالب ہے متعدد آیات قرآنی کا مندرجہ بالا معانی سے انکار لازم آتا ہے۔ قرآن کا سیاق وسباق بتلاتا ہے کہ پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد کے ساتھ مشغول تسبیح ہوا کرتے تھے۔
تفسير: "مطلب یہ ہے کہ حضرت مریم اس رزق کو اللہ کی بخشش کی طرف منسوب کرتی تھیں۔ اس آیت میں کوئی دلیل اس پر نہیں ہے کہ حضرت مریم کو گرمی کا میوہ جاڑے میں اور جاڑے کا گرمی میں ملتا تھا“۔
اعتراض: امام احمد بخاری اور مسلم کی روایات سے ثابت ہے کہ اس سے وہ دن مراد ہے جب سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ یہ تفسیر اس روایت کے خلاف ہے۔
اعتراض یہ حدیث صحیح کے خلاف ہے جس میں ثابت سے مراد یہ بتائی گئی ہے کہ قبر میں جب مومن سے سوال ہوگا تو وہ اَشْهَدُ اَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ الله کہے گا۔
یہ ایک نمونہ ہے ان فضول لایعنی اور لاطائل جھگڑوں کا جن میں ہمارے بہت سے علماء دین اور بہت سے دین دار لوگ نہ صرف خود اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں بلکہ عام مسلمانوں کے ذہن کو بھی اس بُری طرح اُلجھا رہے ہیں کہ ان غریبوں کو دین کی حقیقت اور اپنے زندگی کے مقصد پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی ۔ ان لوگوں کی دنیا تنگ اور محدود ہے اور اس تنگ دنیا میں بیٹھے ہوئے یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی اور ساری دنیا کی فلاح کا مدار بس اسی قسم کے سوالات پر ہےکہ حضرت مریم " کو گرمی کا میوہ جاڑےمیں ملتا تھا یا نہیں، اور لوہا حضرت داؤد کے ہاتھ میں آتے ہی موم بن جا تا تھا یا نہیں ۔ کاش کوئی صورت ایسی ہوتی کہ انھیں ان کے حجروں کی تنگ دنیا سے نکال کر خدا کی وسیع دنیا کا مشاہدہ کرایا جاتا اور یہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ وہ حقیقی مسائل کون سے ہیں جن پر نوع انسانی کی فلاح و سعادت کا انحصار ہے اور وہ مہمات امور کون سے ہیں جن پر قوموں کی قسمتیں بنتی اور بگڑتی ہیں۔
سب سے بڑھ کر افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان مسائل میں مغز پاشی کرنے والےایسے لوگ ہیں جو ہمارے دین کے عالم اور ملت اسلامیہ کے علمبر دار کہلاتے ہیں ۔مسلمان ان کی طرف اس لیےرجوع کرتے ہیں کہ ان کے پاس سے دین کا علم ملے گا۔ دنیا ان کو اس نظر سے دیکھتی ہےکہ یہ اس دین کے نمائندے ہیں جسےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئےتھے۔ مگر اس اہم ذمہ دارانہ منصب پر متمکن ہو کر وہ اس قسم کے مسائل پر زبان و قلم کا زور صرف کر رہے ہیں جن کا ایک چھوٹا سا نمونہ اوپر کے سوال میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ باتیں دیکھ کر مسلمان اور غیر مسلم سب اس غلط انہی میں پڑ جاتےہیں کہ شاید اسلام کے مہمات مسائل یہی کچھ ہوں گے اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عالمگیر دائمی نبوت کے اتنےعظیم الشان منصب پر مقرر کر کے اسی لیے بھیجا ہوگا کہ آپ ان مسائل کا تصفیه فرمائیں اور یہ اسلام جو ساری دنیا کو راہ راست دکھانےاور دین و دنیا کی سعادت سے بہرہ ور کرنےکا دعوی کر رہا ہے اس کے اہم ترین مسائل ۔۔۔ ایسے اہم جن پر مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا مدار ہے۔۔۔ بس یہی ہوں گے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اور مراۃ العزیز کے قضیہ میں فیصلہ کرنے والا بچہ تھا یا جوان اور حضرت موسیٰ کو اللہ میاں نے اپنے ہاتھ سے تو رات لکھ کر دی تھی یا نہیں ۔ نعوذ باللهِ مِنْ ذلِکَ اگر یہی اسلام ہےجس کی نمائندگی اس طرح کی جارہی ہے تو دنیا کا دائرہ اسلام میں آنا تو در کنار خود مسلمانوں کا بھی اس دائر ہے میں رہنا مشکل ہے کیونکہ ایک چھوٹے سے جاہل طبقے کے سوا عامتہ الناس کو ان مسائل میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے کہ وہ ان کی تحقیق میں اپنا وقت صرف کریں اور ان کے لیے لڑیں جھگڑیں۔
میں سائل کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے کتاب کے مصنف اور معترض گروہ کے نام ظاہر نہیں کیے۔ فریقین کی شخصیت سےبےخبر ہو کر جو رائے ظاہر کی جائے گی اس پر کسی کو یہ شبہ کرنے کا موقع نہیں مل سکتا کہ اس میں کسی کی جانب داری یا مخالفت کی گئی ہےمیں صاف صاف کہنا چاہتا ہوں کہ جس طرح کے اعتراضات اوپر کے سوال میں درج کیے گئےہیں، ایسے اعتراضات کی بنیاد پر کسی مسلمان کی تکفیر کرنا یا اس کو ملحد اور دہر یہ ٹھیرانا قطعاً نا جائز ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ دین ۔ وہ دین کے علم سے بے بہرہ ہیں ۔ معلوم ہوتا ہےکہ ان کو کفر الحاد اور دہریت کے معنی بھی معلوم نہیں، ورنہ وہ ان الفاظ کو اس طرح بےجا استعمال نہ کرتے کفر سےمراد یہ ہےکہ جو تعلیم و ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو اس کا انکار یا اس سے معارضہ کیا جائے ۔ الحاد یہ ہے کہ آدمی حق سے روگردانی کر کےباطل کی طرف مائل ہو ( اور حق و باطل کا معیار پھر وہی علم ہےجو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےثابت ہو )۔ دہریت یہ ہے کہ انسان خدا کا منکر ہو یا کائنات کے نظم ونسق میں خدا کی خدائی کو غیر موثر مانتا ہو ۔اب غور کیجیےکہ بعض آیات کی جو تفسیر میں او پر نقل کی گئی ہیں ان میں سے کس میں کفر یا الحاد یا د ہریت ہے؟
(۱) پہلی آیت کی تفسیر صحیح ہے یا غلط اس سےیہاں کچھ بحث نہیں ۔ مان لیجیےکہ غلط ہےمگر کیا ہر غلطی کفر یا الحاد یاد ہریت ہوتی ہے؟ صُرْهُنَّ إِلیک کا جو مطلب مصنف نے بیان کیا ہے وہ لغت کے اعتبار سے درست ہے۔ بعض مفسرین نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے ۔ پھر وہ دوسرے فقرے (ثُمَّ اجْعَلْ عَلى كُلَّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءً) کا وہی مفہوم بیان کر رہا ہےجو آیت کےالفاظ سےمطابقت رکھتا ہےاس کے بعد وہ کس طرح معجزہ ابراہیمی کا منکر قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر مان لیا جائے کہ وہ اس آیت کی ایسی تاویل کرتا ہے جو اس خاص واقعہ کے معجزہ ہونے کو تسلیم نہیں کرتی تب بھی الحاد کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔ الحاد صرف اس صورت میں ہوگا جبکہ نفس معجزہ کی حقیقت سےانکار کیا جائےرہا فردا فردا ایک ایک معجزہ تو قرآن میں متعدد مقامات ایسے ہیں جہاں اس امر میں اختلاف کی گنجائش ہے اور اختلاف کیا بھی گیا ہے کہ آیا انھیں معجزہ قرار دیا جائے یا معمولی فطری واقعات۔ لہذا اگر ایسے کسی موقع پر کوئی شخص آیت کی تاویل اس طرح کرتا ہو کہ ایک واقعہ معجزہ کے بجائے محض فطری واقعہ قرار پائے تو الحاد کا الزام لگانا درست نہیں، اسےمحض غلطی کہا جا سکتا ہے۔
(۲) دوسری آیت کی تفسیر بلاشبہ الفاظ قرآنی سے ہٹی ہوئی ہے۔ مگر اس کو بھی کفر کہنے کے بجائے غلطی کہنا چاہیے۔کفر اس وقت ہوتا ہے جب قرآن کے علی الرغم مصنف یہ کہتا کہ پہاڑ اور پرندے تسبیح نہیں کہتے یا نہیں کر سکتے ۔ ایسی کسی بات کا ارتکاب مصنف نےنہیں کیا ہے، بلکہ اس نے اپنی عقل کے مطابق آیت کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔اس نوع کی تاویلات پر اگر لوگوں کی تکفیر کی جانے لگے تو کسی شخص کا بھی کفر کےالزام سےبچنا ممکن نہ ہوگا ۔کیونکہ قرآن میں بہت سی ایسی آیات متشابہات ہیں جن کا مفہوم مختلف لوگ اپنی اپنی منتقل کے مطابق مختلف طور پر متعین کرتے ہیں۔ پہاڑوں اور پرندوں کا تسبیح کرنا ایک ایسا امر ہے جس کی کیفیت خدا کےسوا کوئی نہیں جانتا۔اگر کوئی اس کا مطلب یہ لیتا ہے کہ پہاڑوں اور پرندوں کے پاس بھی ویسی ہی دانہ دار تسبیجیں ہوتی ہیں جیسی ہمارے زاہد پھیرا کرتے ہیں، تو میں اس کی رائے کو غلط کہہ سکتا ہوں مگر اس کی تکفیر نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی دوسرا شخص اس کا یہ مطلب لیتا ہے کہ حکیم الہی کے آگے اُن کا مسخر ہونا ہی اس کی تسبیح ہے اور اس تسبیح کے عالم میں ان کو دیکھ کر حضرت داؤد پر یاد الہی کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی (جیسا کہ اس تفسیر کے مصنف کا خیال ہے ) تو میں اس کی رائے سے بھی اختلاف کر سکتا ہوں، مگر اس کی تعمیر نہیں کر سکتا۔ میں خود اس آیت کی تاویل یوں کرتا ہوں کہ حضرت داؤد کو اللہ نے بہترین سریلی اور بلند آواز عطا فرمائی تھی ۔ اس آواز کے ساتھ جب وہ زبور پڑھتے تو وادیاں گونج اٹھتیں، چرند و پرند جمع ہو جاتے اور تمام گردو پیش کی چیزوں پر ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ اس تفسیر کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسی(١) اشعری قرآن پڑھ رہےتھےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستہ چلتے چلتے ان کی آواز سن کر ٹھہر گئے اور کچھ دیر لطف لینے کے بعد فرمایا: لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَنَا مِيُرالِ دَاؤُدَ ( اس شخص کولحن داؤدی میں سے ایک حصہ ملا ہے ) یہ تاویل میرے ذوق اور بصیرت سے مطابقت رکھتی ہے ۔ اگر کوئی شخص اس کو پسند نہیں کرتا تو اسے غلط کہہ سکتا ہے مگر میری تکفیر نہیں کرسکتا۔
(۳) تیسری آیت کا جو مفہوم مصنف نے بیان کیا ہے وہ الفاظ قرآنی کے خلاف نہیں ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں کہ ”ہم نے اس کے لیے لو ہے کو نرم کر دیا ۔ رہا سلف کا یہ قول کہ حضرت داؤد کے ہاتھ میں آتے ہی لوہا آنے کی طرح نرم ہو جاتا تھا ، تو بلا شبہ یہ قول حسن بصری اور قتادہ اور اعمش وغیر ہم سے منقول ہے، مگر یہ لوگ خدا کی طرف سےکب مبعوث ہوئے تھے کہ ان کے اقوال کو ترک کر دینے سے انسان کا فر ہو جائے ؟ قرآن میں کہیں اس مفہوم کی تصریح نہیں کی گئی ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث اس معنی میں مروی ہےپھر یہ کیا غضب ہے کہ لوگوں کو قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حسن اور قتادہ اور اعمش پر بھی ایمان لانے کے لیے پابند کیا جاتا ہے اور جو شخص ان کے اقوال کو چھوڑتا ہے اسے بھی ویسا ہی کا فرٹھیرایا جاتا ہے جیسا اس شخص کو جو قرآن اور نبی کے ارشاد سے انحراف کرے۔
(۴) اس آیت کی تفسیر پر جو اعتراض کیا گیا ہےوہ بھی اتنا ہی لغو ہے جتنا آیت نمبر ۳ کی تفسیر پر ہے۔ آیت کے الفاظ صرف یہ کہتے ہیں کہ " حضرت زکریا جب کبھی حضرت مریم علیہا السلام کے پاس محراب میں جاتے تو ان کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے کا سامان موجود پاتے ۔ اور جب حضرت مریم سے پوچھتے کہ یہ کہاں سے آیا ؟ تو وہ جواب دیتیں کہ خدا کے پاس سے۔ اب رہا یہ امر کہ وہ کھانے کا سامان دراصل گرمی کا میوہ جاڑے میں اور جاڑے کا گرمی میں ہوتا تھا تو یہ نہ قرآن میں مذکور ہے اور نہ کسی حدیث صحیح میں بلکہ یہ قتادہ اور عکرمہ اور سعید بن جبیر اور ضحاک وغیر ہم کا بیان ہے۔ تو اب ان لوگوں کی رائے سے اختلاف کرنے والے بھی کافر بنائے جائیں گے؟ اگر ایسا ہے تو آپ امام مجاہد کے حق میں کیا فرما ئیں گے جنھوں نے مذکورہ بالا بزرگوں سے اختلاف کر کےرزق کی تاویل علم سے کی اور کہا کہ حضرت مریم کے پاس صحیفے پائے جاتے تھے جن میں علم ہوتا تھا ؟ اور اس حدیث کے متعلق کیا ارشاد ہے جو جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ کے ہاں بھوک میں تشریف لے گئے اور کچھ کھانے کو طلب کیا۔ انھوں نے کہا کہ واللہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ حضور واپس تشریف لے گئے ۔ اتنے میں حضرت فاطمہ کی ایک ہمسائی نے دو روٹیاں اور کچھ گوشت بھیج دیا۔ حضرت فاطمہ نے فوراً اپنے بچوں میں سے ایک کو دوڑایا کہ حضور کو واپس بلا لائیں۔ جب حضور تشریف لائے تو حضرت فاطمہ نے کھانا پیش کیا۔ آپ نے پوچھا کہ بیٹی یہ کہاں سےآیا؟ حضرت فاطمہؓ نے عرض کیا يَا أَبَتِ هُوَ مِنْ عِندِ اللهِ (ابا جان یہ اللہ کے ہاں سے آیا ہے) اس پر حضور نے فرمایا بیٹی خدا کا شکر ہے جس نے تجھے سیدۃ النساء بنی اسرائیل ( مریم علیہا السلام) کے مشابہ بنایا۔ ان کے پاس بھی جب خدا کی طرف سے رزق آتا اور ان سے پوچھا جاتا کہ یہ کہاں سے آیا ہے تو وہ کہتی تھیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے"۔ اس حدیث کو حجت بنا کر اگر کوئی کہے کہ حضرت مریم کے پاس پردہ غیب سے رزق نہیں اترتا تھا، بلکہ اللہ نے ان کےلیےایسا سامان کر دیا تھا کہ وہ بے سہارے اور بے وسیلہ ایک محراب میں بیٹھی ہوتی تھیں اور وقت پر کوئی نہ کوئی شخص ان کو کھانا پہنچا دیا کرتا تھا تو کیا ایسی تاویل کرنےوالے کو کافر ٹھیرایا جائے گا؟ پھر یہ امر بھی غور طلب ہےکہ گرمی کا میوہ جاڑے میں اور جاڑے کا گرمی میں ملنا بجز خرق عادت کے اور کون سی خوبی اپنے اندر رکھتا ہے؟ اللہ نے جو میوہ جس موسم میں پیدا کیا ہے وہ اسی موسم کےلیے نعمت ہے کیونکہ وہ اس موسم کی طبیعت کے لحاظ سے پیدا کیا گیا ہے۔ دوسرے موسم میں اس میوے کا ملنا بجو بہ تو ہوسکتا ہے مگر نعمت نہیں ۔
١- حضرت ابو موسیٰ بڑے خوش آواز مشخص تھے۔ ابو عثمان نہدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمر بھر کوئی آواز موسیٰ کی آواز سے اچھی نہیں سنی۔
معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت کے الفاظ سے واضح طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ لوحیں کیسی تھیں اور اس کتابت کی کیفیت کیا تھی اب اگر کسی دوسری قوی دلیل سے یہ تفصیل ثابت ہو تب تو اس کا قائل ہو جانا چاہیے ورنہ اس باب میں سکوت ہی مناسب ہے۔
کیا امام رازی کی بھی تکفیر کی جائےگی کہ انھوں نے بخاری کی حدیث مذکور ہوتےہوئےکیلیت کتابت کی تفصیل کو غیر ثابت سمجھا ہے؟کیا اس سےبڑھ کر بھی کوئی ظلم ہو سکتا ہےکہ اگر کسی شخص کےنزدیک کسی حدیث کےالفاظ یا اسناد مشتبہ ہوں اور اس بنا پر وہ اس کا قائل نہ ہو تو اسے قول رسول کا منکر مخبرا دیا جائے ؟ اس نوعیت کے کفر سے علماء سلف میں سے کون سا عالم اور امام بیچ سکتا ہے؟ چھوٹے لوگوں کو چھوڑیے بڑے بڑے ائمه سےجن کی امامت صدیوں سے دنیائے اسلام میں مسلم ہےایسےاقوال منقول ہیں جو بعض روایات کے خلاف پڑتے ہیں ۔ کیا ان سب کو منکر فرمان رسول قرار دیا جائے گا ؟
امام مسلم نے کتاب القدر میں چار حدیثیں نقل کی ہیں جو سب حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہیں اور ان میں سے تین اس مضمون سے خالی ہیں۔ دوسری معتبر کتب حدیث میں بھی یہی حال ہے کہ اکثر روایات میں ایسی کوئی عبارت نہیں جو ہاتھ سے تو رات لکھنے کی تصریح کرتی ہو۔ اس تقابل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اول تو یہ حدیث باللفظ نہیں بلکہ بالمعنی روایت ہوئی ہے۔ دوسرے یہ امر مشکوک ہے کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےخط لک بیدم (یعنی اللہ نے تو رات اپنے ہاتھ سے آپ کو لکھ کر دی تھی) کے الفاظ فرمائےتھے یا نہیں۔ پس یہ انتہا درجے کی بے احتیاطی بلکہ جرم ہے کہ ایسے ایک مشتبه امر کی بنیاد پر کسی مسلمان کی تکفیر کی جائے۔
(٦) اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس کے قول کو حجت بنا کر مصنف کی تکفیر کی گئی ہے۔ حالانکہ خود حضرت ابن عباس سےتین مختلف قول منقول ہیں۔ایک قول یہ ہے کہ وہ شاہد جس نے حضرت یوسف اور امراۃ العزیز کےمعاملےمیں فیصلہ دیا تھا ذُولِحَيَّة ( ڈاڑھی والا تھا) ۔ دوسرا قول یہ ہےکہ شاہ مصر کے مصاحبوں میں سے تھا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ایک بچہ تھا گہوارے میں اب کیوں نہ معترضین جرات کر کے خود حضرت ابن عباس ہی کی تکفیر کر دیں؟ اور کیوں نہ ساتھ ہی مجاہد مکرمہ حسن عمارہ محمد ابن اسحاق سدی اور زید بن اسلم کو بھی لپیٹ لیں کیونکہ یہ سب بالاتفاق کہتے ہیں کہ وہ بچہ نہ تھا بلکہ مرد تھا ؟
کس قدر افسوس کا مقام ہےکہ اللہ تعالی نےجس بات کو قطعاً اہمیت نہیں دی حتی کہ جس کا ذکر تک ضروری نہ سمجھا اس کو اتنی اہمیت دی جائےکہ اگر کوئی شخص اسےنظر انداز کر دےتو اسے کا فرٹھہرایا جائے قرآن واقعات کی غیر ضروری تفصیلات کو عموماً چھوڑ دیتا ہےاور نہ صرف اُن اہم اجزاء کو بیان کرتا ہےجو نفس مقصود سےتعلق رکھتےہیں مگر بعض مفسرین کا ذوق اس طرح کا ہے کہ وہ اُن غیر ضروری تفصیلات کا کھوج لگاتے ہیں جنھیں قرآن نے نظر انداز کر دیا ہے۔ مثلاً قرآن کہتا ہے کہ حضرت ابراہیم کو چار پرندے لینے کا حکم دیا گیا۔ یہ واقعہ جس غرض کے لیے بیان کیا گیا ہے اس میں یہ تفصیل غیر ضروری تھی کہ وہ پرندے کون کون سے تھے مگر بعض مفسرین نے معلوم نہیں کس جگہ سے پتہ چلایا کہ وہ پرندے مور اور کو آ اور کبوتر تھےاسی طرح قرآن حضرت یوسف کے واقعہ میں صرف اتنا بیان کرتا ہےکہ ایک شاہد نےقرائن کی شہادت سے حضرت یوسف کی برکت ثابت کی۔اس میں یہ سوال کہ شاہد کی عمر کیا تھی بالکل غیر اہم تھا اس لیےقرآن نےاسکا کوئی ذکر نہیں کیا۔مگر بعض مفسرین نےشاہد کی عمر کا کھوج لگانا بھی ضروری سمجھا۔ایسی باتوں سےجس شخص کو دلچسپی ہو وہ مفسرین کے اقوال کو قبول کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ لیکن یہ کیا ظلم کہ جو لوگ ان اقوال کو نظر انداز کر دیں اور صرف انھی امور تک تفسیر کو محدود رکھیں جنھیں قرآن نے بیان کیا ہے تو ان کی تکفیر کی جائےاور پھر تکفیر بھی اس بنیاد پر کہ تم نےسلف کےقول سے انحراف کیا ہے؟ آخر معلوم تو ہو کہ یہ "سلف" کون سے انبیاء تھے جن پر ایمان لانے کی مسلمانوں کو تکلیف دی گئی ہے؟
" کیا یہ لوگ اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس ملائکہ آئیں یا تیرا رب (خود) آجائے یا تیرے رب کی بعض کھلی نشانیاں آجائیں؟ جس روز تیرے رب کی کھلی نشانیاں آجائیں گی اس روز تو کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ اکتساب نہ کیا ہو۔
خط کشیدہ فقرے میں جس دن کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد وہ دن بھی ہو سکتا ہےجب خدا کا عذاب سر پر آجائے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمُ إِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوُا بَأْسَنَا (المومن : ۸۵) اور اس سے مراد موت کا وقت بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدقِ مَالَمُ يُغَرُ غِرُ یعنی جب جان کنی شروع ہو جائے اور حلق میں گھونگر و بولنے لگے اس وقت اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول نہیں کرتا۔ اور اس سے مراد وہ وقت بھی ہو سکتا ہے جب قیامت کی کھلی ہوئی علامات ظاہر ہونے لگیں، جیسا کہ اُس حدیث میں مذکور ہوا ہے جس کا حوالہ معترضین نے دیا ہے۔اب اگر کوئی شخص ان معانی میں سے ایک معنی بیان کرتا ہے اور دوسرے معنی کی تکذیب نہیں کرتا تو آخر اس کی تکفیر کس بناء پر کی جاتی ہے۔ جبکہ قرآن کے الفاظ متینوں معنوں کے متحمل ہیں اور ہر معنی کی تائید قرآن یا حدیث سے ہوتی ہے تو ان تینوں میں سے ایک معنی بیان کرنے والا آخر کس جرم کی پاداش میں کافر ہو جائے گا؟
(۸) آٹھویں آیت کے جو معنی مصنف نے بیان کیے ہیں وہ الفاظ قرآنی کےبالکل مطابق ہیں، اور اس حدیث کے بھی خلاف نہیں ہیں جس کا حوالہ معترضین نے دیا ہے۔ وہ اس آیت کے صرف ایک پہلو پر روشنی ڈالتی ہے یعنی یہ کہ حیات اُخروی کےدروازے میں قدم رکھتے ہی اللہ تعالیٰ مومن کو کلمہ توحید سے کس طرح ثبات بخشے گا۔ سو مصنف اس کا منکر نہیں ہے۔ وہ بھی آخرت میں ثبات بخشے جانے کا قائل ہے۔ البته اگر معترضین اس حدیث کو حجت بنا کر دنیا کی زندگی میں کلمہ توحید سے ثبات حاصل ہونے کا انکار کرتے ہیں تو وہ خود قرآن کی تکذیب کے مجرم ہیں کیونکہ قرآن فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الأخرة کہہ رہا ہے اور حدیث میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جو فی الحیوۃ الدنیا کی تردید کرتا ہو۔
یہ سخت جہالت کی بات ہے کہ بعض آیات کی تفسیر میں جو احادیث یا آثار منقول ہیں ان کو حصر کے معنی میں لے لیا جائے اور یہ گمان کر لیا جائےکہ ان آیات کا کوئی مفہوم اُس مفہوم کےسوا یا اس مفہوم سےزائد نہیں ہے جو ان احاء کی شام آئے جو لوگ تفسیر کی کتابوں میں کوئی حدیث یا اثر دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ آیت کا مفہوم صرف اسی قدر ہے اور اس سے زائد یا اس سے مختلف مفہوم بیان کرنے والے کو حدیث یا اثر کا منکر قرار دیتے ہیں وہ دراصل سلف کے طریقے سے ناواقف ہیں اور اپنے جہل کی کند چھری سے بندگان خدا کے ایمان کو ذبح کرتے ہیں۔ انھیں علامہ ابن القیم کے ان الفاظ کو غور سے پڑھنا چاہیے۔
"ابن عباس اور دوسرے بندگانِ سلف کا طریقہ یہ ہے کہ بسا اوقات وہ آیت کے معنی اور دلالات میں سے کسی ایک چیز کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں ۔مگر نا واقف لوگ اس غلط نہی میں پڑ جاتے ہیں کہ آیت کا کوئی اور مفہوم اس معنی کے سوا نہیں ہے“۔
(۹) البیت المعمور کی تفسیر پر جو اعتراض کیا گیا ہے وہ بھی اسی نوعیت کا ہے جیسا نمبر ۸ میں مذکور ہوا۔ حدیث میں جو ارشاد ہوا ہے کہ بیت المعمور آسمان میں ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بیت المعمور زمین میں نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آسمان میں بھی ہے۔ حصر کا پہلو اختیار کرنا محض ناواقفیت کی دلیل ہے۔ آیت کے الفاظ عام ہیں اور دوسرے معانی کا بھی احتمال رکھتے ہیں۔ ایک شخص بیت المعمور سے مراد بیت اللہ بھی لےسکتا ہے۔ پوری زمین کو بھی بیت المعمور قرار دے سکتا ہے۔ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ البیت کا الف لام تعریف جنس کے لیے ہے اور اس سے مراد ہر آباد جگہ ہے۔ یہ سب معانی اس مقصود سے مطابقت رکھتے ہیں جس کے لیے اللہ تعالی نے البیت المعمور کی قسم کھائی ہے۔پھر آخر کس دلیل سے انسان کے فہم پر دوسرے تمام معانی کا دروازہ بند کیا جا سکتا ہے؟
مزید برآں یہ کتنی زیادتی ہے کہ جو شخص کسی حدیث کے بارے میں ساکت ہو اسے حدیث کا منکر یا مکذب ٹھیرا دیا جائے۔کیا سکوت کے معنی صرف انکار اور تکذیب ہی کے ہیں؟ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ اسے اس حدیث کا علم نہ ہو؟ اگر بالفرض وہ اس لیے سکوت اختیار کرتا ہے کہ وہ اس حدیث کا قائل نہیں ہے تب بھی اس کی تکفیر کیسے کی جاسکتی ہے؟تکفیر صرف اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ ایک شخص حدیث کو صحیح مانے اور پھر یہ کہے کہ جو بات رسول اللہ مسلم سے ثابت ہے اس کو میں تسلیم نہیں کرتا۔ لیکن اگر وہ اس امر میں شک رکھتا ہو کہ یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے یا نہیں، اور اس بناء پر حدیث کو رد کرتا ہو تو اسے کفر یا الحاد کا الزام کیسے دیا جا سکتا ہے؟
اس بحث سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ کفر الحاد اور دہریت جن چیزوں کا نام ہے ان میں سے کوئی بھی چیز ان عبارات میں نہیں پائی جاتی جو زیر بحث تفسیر سے سائل نےنقل کی ہیں۔ اس کے مصنف کی بعض باتوں کو غلط کہا جا سکتا ہے مگر کسی چیز کا غلط ہونا اور چیز ہے اور اس کا کفریا د ہر یت یا الحاد ہونا اور چیز ۔ جو شخص قواعد شرعیہ سے واقف ہو اور یہ جانتا ہو کہ ثبوت کفر کے لیے کن چیزوں کا متحقق ہونا ضروری ہے وہ ہرگز یہ جسارت نہیں کر سکتا کہ جہاں اپنےنزدیک کوئی بات غلط پائےوہاں کفر کا حکم لگا دےمگر یہ مسلمانوں کی سخت بد قسمتی ہے کہ جو لوگ ان کے مقتدا بنے ہوئے ہیں ان میں سے بعض تو حقیقت قواعد شرعیہ سے ناواقف ہیں اور صرف حمل اسفار کی حد تک علم رکھتے ہیں، اور بعض ذی علم تو ہیں مگر خدا کے سامنے اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں رکھتے، اس لیے انھوں نے اپنا یہ شیوہ بنالیا ہے کہ جہاں کسی سے ناراض ہوئے بلا تامل اس کے خلاف کفر کا حکم صادر کر دیا۔ یہ لوگ بے تکلف کفر و الحاد کے الفاظ کو غلط“ کے معنی میں بولتے ہیں۔ ہر وہ چیز جو ان کی رائےمیں غلط ہے وہ یا تو کفر ہے یا الحاد یا دہریت ۔ بہت رعایت کریں گے تو فسق اور گمراہی کا حکم لگا دیں گے ۔ اس سے کم وزن کا لفظ ان کی لغت میں ہے ہی نہیں۔
جو لوگ میری روش سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں اس قسم کے جھگڑوں سےہمیشہ الگ رہتا ہوں، حتی کہ اگر کوئی مناظرے کے شوقین جھگڑے پر اتر آئیں تو باؤل قبلہ ہی ان سے ہار مان کر پیچھا چھڑا لیتا ہوں۔ اب اگر آج اپنے طریقےسےہٹ کر اس بحث میں چند صفحےسیاہ کر رہا ہوں تو اس سےمیرا مقصد اُس خاص مقدمہ میں دخل دینا ہرگز نہیں ہے جسے سائل نے اپنے سوال میں پیش کیا ہے۔ ایسے مقدمات تو ہماری قوم میں اس کثرت سے چھڑے ہوئے ہیں کہ ان کا تصفیہ کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے۔ میرا مقصد اس بحث سے صرف یہ ہے کہ اول تو میں اُن علماء کے ضمیر سے اپیل کرنا چاہتا ہوں جو اس قسم کے جھگڑے مسلمانوں میں برپا کر کے اسلام کی طاقت کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دُنیا کی نگاہوں میں اپنے ساتھ اپنے دین کو بھی مضحکہ بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ میں عام مسلمانوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ان کے مذہبی پیشوا عام طور پر جن مسائل کو چھیڑ کر انھیں آپس میں لڑا رہے ہیں وہ کس قدر بے حقیقت ہیں اور ان میں الجھ کر اپنا وقت اور روپیہ یر باد کرنا اور اپنی قومی طاقت کو ضائع کرنا کیسی حماقت ہےکہ دنیا میں بھی اس سے رُسوائی ہو اور خدا بھی خوش نہ ہو۔
١٩٣٥ء کی بات ہے کہ ہندوستان میں دو نامور بزرگوں کے خلاف بعض مشہور علماء کرام نے کفر کا فتویٰ دے دیا تھا۔ اس موقع پر ترجمان القرآن میں حسب ذیل اشارات لکھے گئے تھے جن کےخلاف فتویٰ دیا گیا تھا۔ ان کا تو پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا۔ اب فتویٰ دینے والے بزرگوں میں سے بھی بعض کا انتقال ہو چکا ہے۔ اللہ ان سب کی مغفرت فرمائےاس مضمون کو یہاں نقل کرنے سے مقصود کسی پرانی بحث کو تازہ کرنا نہیں ہے بلکہ محض فائدہ عام پیش نظر ہے۔
مسلمانوں کےدور انحطاط میں جہاں اور بہت سےفتنے پیدا ہوئے ہیں وہاں ایک بڑا اور خطرناک فتنہ ایک دوسرے کو کافر اور فاسق مظہر انےاور ایک دوسرے پر لعنت کرنےکا بھی ہے۔ لوگوں نےاسلام کےسیدھےسادے عقائد میں موشگافیاں کیں اور قیاس و تاویل سے اُن کے اندر بہت سے ایسے فروع اور جزئیات پیدا کر لیے جو ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد تھے اور جن کی کوئی تصریح کتاب وسنت میں نہ تھی یا اگر تھی بھی تو اللہ اور اس کے رسول نےان کو کوئی اہمیت نہ دی تھی۔پھر ان اللہ کے بندوں نے (اللہ انھیں معاف فرمائے) اپنے وضع کردہ فروعی مسائل کے ساتھ اتنا اهتمام کیا کہ انھی پر ایمان کا مدار ٹھہرا دیا ان کی بنیاد پر اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، بیسیوں فرقےبنا دیےاور ہر فرقنےنےایک دوسرےکو کافر فاسق، گمراہ دوزخی اور خدا جانےکیا کیا کہہ ڈالا۔ حالانکہ کفر و اسلام کے درمیان اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین میں ایک واضح خط امتیاز کھینچ دیا تھا اور کسی کو یہ حق نہ دیا تھا کہ اپنےاختیار سےجس چیز کو چاہے کفر اور جسے چاہے اسلام ٹھیرا لےاس فتنے کی محرک خواہ تنگ نظری ہو نیک نیتی کے ساتھ یا خود غرضی اور حسد اور نفسانیت ہو بد نیتی کے ساتھ بہر حال اس نے مسلمانوں کی جماعت کو جتنا نقصان پہنچایا ہے شاید کسی اور چیز نے نہیں پہنچایا۔ __________________________________
جہاں تک کسی شخص کے در حقیقت مومن یا غیر مومن ہونے کا تعلق ہے اس کا فیصلہ کرنا تو کسی انسان کا کام نہیں ہے۔ یہ معاملہ تو براہ راست خدا سے تعلق رکھتا ہے اور وہی اس کا فیصلہ قیامت کے روز فرمائے گا۔ رہے بندے تو ان کے فیصلے کرنے کی چیز اگر کوئی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ خدا اور اُس کے رسول نے ملتِ اسلام کے جو امتیازی نشانات بتائے ہیں اُن کے لحاظ سے کون شخص سرحد اسلام کے اندر ہے اور کون اس سے باہر نکل گیا ہے۔ اس غرض کے لیے جو چیزیں ہم کو بنائے اسلام کی حیثیت سے بتائی گئی ہیں وہ یہ ہیں :-
الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمَ الصَّلوةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَوةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا (مسلم ابوداؤ د ترندی نسائی)
اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے اگر وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔
أُمِرْتُ أَنْ أَقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَن لَّا اللَّهُ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَوةَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَالِكَ عَصَمُوا مِنَى دِمَاءَ هُمُ إِلَّا بِحَق الْإِسْلَام وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ - ( بخاری، مسلم احمد )
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ شہادت دین کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کےرسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں۔ جب وہ ایسا کر دیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں بچالیں گئے الا یہ کہ اسلام کا کوئی حق اُن کے خلاف قائم ہو اور ان کا حساب عز و جل کے ذمے ہے۔
یہ ہیں اسلامی سوسائٹی کے سرحدی نشانات ۔ جو لوگ ان سرحدوں کے اندر ہیں ہم کو حکم ہے کہ ان کے ساتھ مسلمان کا سا معاملہ کرئیں۔ انھیں ملت سے خارج کرنے کا کسی کو حق نہیں۔ اور جو لوگ ان سرحدوں سے باہر نکل گئے ہوں ان کے ساتھ ہم کو وہی معاملہ کرنا چاہیے جو حق الاسلام کے لحاظ سے واجبی ہو ۔ دونوں صورتوں میں ہم باطن کا حساب لگانے کے مجاز نہیں ہیں۔ ہمارا کام صرف ظاہر کو دیکھنا ہے اور ہم کیا، اس معاملےمیں خود رسول اللہ نےبھی ظاہر ہی کو دیکھا ہےچنانچہ بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت ہےکہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے کچھ رقم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجی اور حضور نے اسے چار آدمیوں پر تقسیم کر دیا۔ اس پر حاضرین میں سے ایک شخص بول اٹھا: يَا رَسُولَ اللهِ اِتَّقِ اللهَ (یا رسول اللہ خدا سے ڈریے ) حضور نے فرمایا: وَيْلَکَ أو لَستُ أحق أهلِ الأرْضِ أنْ يُنفِى الله (افسوس تیرے حال پر روئے زمین کے بسنےوالوں میں مجھے سے زیادہ کس کو یہ سزاوار ہے کہ خدا سے ڈرے؟) حضرت خالد اس موقع پر موجود تھے۔ انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟ فرمایا: لا لعله أن يكُونَ يُصَلَّى ( نہیں، شاید کہ وہ نماز پڑھتا ہو ) انھوں نے عرض کیا کتنے ہی نماز پڑھنےوالے ایسے ہیں جو زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ۔ فرمایا: اني لم أؤمَرُ ان العب عن قُلُوبِ النَّاسِ وَلا أَدُقُّ بُطُونَهُمْ ) مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا ہے کہ لوگوں کے دل کھول کر اور پیٹ چاک کر کے دیکھوں )۔
امام شافعی اور احمد نے اپنی مسندوں میں اور امام مالک نے موطا میں یہ روایت نقل کی ہے کہ انصار میں سے ایک صاحب ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راز میں بات کر رہے تھے ۔ اتنے میں حضور نے بآواز بلند فرمایا: اليْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ ( کیا وہ شخص لا الہ الا اللہ کی شہادت نہیں دیتا ہے؟ ) انصاری نے عرض کیا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا شهادة لة (جی ہاں یا رسول اللہ مگر اس کی شہادت کا کوئی اعتبار نہیں ) حضور نے فرمایا: آلیس يَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولَ اللهِ ؟ ( کیا وہ محمد کو اللہ کا رسول نہیں مانتا ؟ ) انھوں نے پھر عرض کیا: بلى ولا شَهَادَة لَهُ (جی ہاں وہ اقرار تو کرتا ہے مگر اس کے اقرار کا کوئی اعتبار نہیں ) حضور نے پھر فرمایا: آلیس يُضلي؟ (کیا وہ نماز نہیں پڑھتا ؟ ) انھوں نے عرض کیا : بلی ولا صلوۃ لہ (جی ہاں پڑھتا ہے مگر اس کی نماز کا کوئی اعتبار نہیں ) اس پر حضور نے فرمایا: أُولئِكَ الَّذِيْنَ نَهَانِي اللهُ عَنْ قَتْلِهِمُ (ایسے لوگوں کو قتل کرنے سے اللہ نے مجھے منع فرمایا ہے) ______________________________
اب یہ کتنی بڑی زیادتی کی بات ہے کہ جو مسلمان خدا اور رسول کے بتائے ہوئےایمانیات پر اعتقاد کا اقرار کرتا ہو اور مذکورہ بالا تصریحات کے مطابق اسلام کی سرحدوں کےاندر ہوا سےکوئی شخص خارج از ملت قرار دے بیٹھے یہ جسارت بندوں کے مقابلےمیں نہیں خدا کے مقابلہ میں ہے۔ در حقیقت یہ خدا ہی سے معارضہ ہے کہ جس کے حق میں خدا کا قانون مسلمان ہونے کا فیصلہ کرتا ہے اس کے حق میں ایک بندہ خدا کفر کا فیصلہ صادر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت سختی کے ساتھ تکفیر و تفسیق سے منع فرمایا ہے اور یہاں تک فرما دیا ہے کہ جو شخص کسی کو کافر کہے گا در آنحالیکہ وہ حقیقت میں کافر نہ ہو تو وہ کفر کا فتویٰ خود تکفیر کرنے والے کی طرف پلٹ آئے گا۔
اس طرح کی تکفیر و تفسیق محض ایک فرد ہی کے حق پر دست درازی نہیں ہے بلکہ ایک اجتماعی جرم بھی ہے۔ یہ پوری اسلامی سوسائٹی کے خلاف ایک زیادتی ہے اور اس سےمسلمانوں کو بحیثیت مجموعی سخت نقصان پہنچتا ہے۔ اس کی وجہ تھوڑے غور سے بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے۔
اسلامی معاشرے اور غیر اسلامی معاشروں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ غیر اسلامی معاشرے رنگ، نسل، زبان اور وطن کے رشتوں پر قائم ہوئے ہیں اور ان کےبرعکس اسلامی معاشرے کا قیام صرف دین کے رشتے پر ہوا ہےغیر اسلامی معاشروں میں عقائد و افکار کےاختلاف سے کوئی رخنہ نہیں پڑتا' اس لیےکہ خیالات اور اعتقادات کا اختلاف ان کے افراد کو اس رشتے سے خارج نہیں کرتا جونسل یا وطن یا زبان یا رنگ کی وحدت سے قائم ہوتا ہے۔ باطن میں خواہ زمین و آسمان کا تفاوت ہو جائے، لیکن خون کا تعلق منقطع نہیں ہو سکتا، نہ وطن کا رشتہ کٹ سکتا ہے نہ زبان کا رابطہ منفک ہو سکتا ہے نہ رنگ کی وحدت میں کوئی فرق آ سکتا ہے۔ اس لیے اختلاف عقائد سے غیر مسلم معاشروں کو کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ لیکن اسلام میں جو چیز مختلف نسلوں مختلف رنگوں، مختلف زبانوں اور مختلف ملکوں کے افراد کو جوڑ کر ایک قوم بناتی ہے وہ عقیدے کی وحدت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہاں عقیدہ ہی سب کچھ ہے۔ نسل، رنگ، زبان وطن کچھ بھی نہیں ۔ لہذا جو شخص دین اور اعتقاد کے رشتے کو کاتا ہے وہ دراصل اللہ کی اس رتی پر قیچی چلاتا ہے جس نے ایک خدا کی پرستش کرنے والوں اور ایک رسول کے ماننے والوں اور ایک کتاب پر ایمان لانےوالوں کو ایک دوسرے سے وابستہ کیا ہے۔ اسلام میں کسی شخص یا گروہ کو کافر کہہ دینے کےمعنی صرف یہی نہیں ہیں کہ اس کے اعتقاد اور نیت پر حملہ کیا گیا بلکہ اس کےمعنی یہ ہیں کہ اسلامی معاشرےاور اس کےایک فرد یا چند افراد کےدرمیان برادری،محبت معاشرت معامت اور تعاون باہمی کے جتنے رشتے تھے سب کاٹ دیے گئے اور امت مسلمہ کے جسم سے اس کے ایک عضو یا متعدد اعضا کو چھانٹ کر پھینک دیا گیا۔
یہ فعل اگر حکم خدا اور رسول کےمطابق ہو تو یقینا حق ہے۔ اس صورت میں سڑےہوئے عضو کو کاٹ کر پھینک دینا ہی اسلام کےساتھ نیچی خیر خواہی ہے۔لیکن اگر قانون الہی کی رُو سےوہ عضو سڑا ہوا نہ ہوا اور محض ظلماً اس کو کاٹ ڈالا جائے تو یہ ظلم خود اس عضو سےبڑھ کر اس جسم پر ہوگا جس سے وہ کاٹا گیا ہے۔ _________________________________
حدیث میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ ایک سریہ میں ایک شخص نے مسلمانوں کو دیکھ کر کیا السّلامُ عَلَيْكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ۔ مگر ایک مسلمان نے یہ گمان کر کے کہ اس نے محض جان بچانے کےلیے کلمہ پڑھا ہے اسے قتل کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو حضور اس پر سخت ناراض ہوئے اور اس مسلمان سے باز پرس کی۔ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اس شخص نے محض ہماری تلوار سے بچنے کے لیے کلمہ پڑھ دیا تھا۔ اس پر سر کار نے فرمایا: هَلَا شَفَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ " کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟“
ایک صحابی نے پوچھا کہ اگر ایک شخص مجھ پر حملہ کر کے میرا ہاتھ کاٹ ڈالے اور جب میں اس پر حملہ کروں تو وہ کلمہ پڑھ لئے کیا ایسی حالت میں میں اس کو قتل کر سکتا ہوں؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اس نے تو میرا ہاتھ کاٹ دیا۔آپ نے فرمایا: باوجود اس کے تم اس کو نہیں مار سکتے ۔ اگر تم نے اس کو مارا تو وہ اس مرتبےمیں ہوگا جس میں تم اس کے قتل سے پہلے تھے اور تم اس مرتبے میں ہو جاؤ گے جس میں وہ لا الہ الا اللہ کہنے سے پہلے تھا۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمایا اگر کوئی شخص کسی کافر پر نیزہ تانے اور جب سنان اس کے حلق تک پہنچ جائے اس وقت وہ لا الہ الا اللہ کہہ دے تو مسلمان کو لازم ہے کہ وہ فورا اپنے نیزے کو واپس کھینچ لے۔
یہ سب کچھ اس لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی قوت اور جمعیت کا قیام رابطہ دینی کے سوا کسی دوسری چیز سے نہیں ہے۔ اگر مسلمانوں میں اس رابطے کا احترام نہ ہو اور وہ بات بات پر اس کو کاٹنے لگیں تو امت کا سارا شیرازہ بکھر کر رہ جائے اور اس قوم کی کوئی اجتماعی قوت باقی ہی نہ رہے جو باطل پرستوں کے مقابلے میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے خیر و تقوی کی طرف دعوت دینے کے لیے قائم کی گئی ہے۔
ہمارا یہ منشاء نہیں کہ تکفیر تفسیق سے مطلقا پر ہیز کیا جائے، حتی کہ اگر کوئی شخص صریح کفریات بکنے اور لکھنے لگے تب بھی اس کو مسلمان کہا اور سمجھا جاتا رہے۔ یہ مثانہ کتاب و سنت کی مندرجہ بالا نصوص کا ہے نہ ہماری پچھلی گزارشات کا ۔ اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے؟ کسی مسلمان کو اسلام سے خارج کرنا جس قدر نقصان دہ ہے کسی کافر کو اسلامی جمعیت میں شامل کرنا یا رکھنا اس سے کچھ کم نقصان دہ نہیں ہے۔ لیکن جس بات پر ہم زور دینا چاہتےہیں وہ یہ ہے کہ مسلمان کی تکفیر کے معاملے میں انتہا درجہ کی احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے اتنی ہی احتیاط جتنی ایک شخص کے قتل کے خوئی صادر کرنے میں ملحوظ رکھی جاتی ہے۔ ہر شخص جو مسلمان ہے اور لا الہ الا اللہ کا قائل ہے اس کے حق میں یہی گمان ہونا چاہیے کہ اس کےدل میں ایمان ہے۔ اگر وہ کوئی ایسی بات کرتا ہے جس میں کفر کا شائبہ پایا جاتا ہو تو اس کے حق میں یہ امید رکھنی چاہیے کہ اس نے کفر کے ارادے سے ایسی بات نہ کی ہوگی بلکہ محض جہل اور نا کبھی سے کی ہوگی۔ اس لیے اس کی بات سنتے ہی کفر کا فتوی نہ جڑ دینا چاہیے بلکہ عمدہ طریقے سے اس کو سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر وہ پھر بھی نہ مانے اور اپنی بات پر اصرار کرئے تو اس بات کو جس پر وہ اصرار کر رہا ہے کتاب اللہ پر پیش کر کےدیکھا جائے کہ آیا وہ کفر و ایمان کے درمیان فرق کرنے والی صریح نصوص کے خلاف ہے یا نہیں؟ اور اس شخص کے زیر بحث قول یا فعل میں کسی تاویل کی گنجائش ہے یا نہیں ؟ اگر صریح نصوص کے خلاف نہ ہو اور تاویل کی گنجائش ہو تو کفر کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ زیادہ سے زیادہ ایسےشخص کو گمراہ کہا جاسکتا ہےاور وہ بھی اُس خاص مسئلہ میں نہ کہ بالکلیہ۔ البتہ اگر اس کا اعتقاد نص صریح کے خلاف ہوا اور وہ شخص یہ معلوم کرنے کے بعد بھی کہ اُس کا اعتقاد کتاب اللہ کی تعلیم کےخلاف ہوا اور وہ شخص یہ معلوم کرنے کے بعد بھی کہ اُس کا اعتقاد کتاب اللہ کی تعلیم کے خلاف ہے اپنی بات پر قائم رہے اور اس کے قول کی کوئی مناسب تاویل بھی نہ کی جا سکتی ہو تو ایسی صورت میں مسئلہ کی نوعیت کا لحاظ رکھتے ہوئے فسق یا کفر کا حکم لگا یا جا سکتا ہے۔ لیکن اس پر بھی اندراج و مراتب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ تمام جرم اور تمام مجرم یکساں نہیں ہیں۔ ان میں بھی فرق مراتب ہوتا ہے اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس فرق کو ملحوظ رکھ کر سزا تجویز کی جائے ۔ سب کو ایک ہی لکڑی سے ہانکنا یقیناً بے انصافی ہے۔ __________________________________
جیسا کہ ابتدا میں ہم بیان کر آئے ہیں، کفر و اسلام کا ایک پہلو باطنی ہے اور ایک اہری۔ باطن کا تعلق انسان کے دل سے اور نیت سے ہے اور ظاہر کا تعلق اس کی زبان اور عمل ہے۔ ہم ایک حد تک آدمی کے قول و فعل سے بھی اس کی قلیمی حالت کا انداز ہو کر سکتے ہیں۔ مگر یہ محض قیاس و گمان ہو گا، علم و یقین نہ ہوگا اور علم و یقین کے بغیر صرف قیاس و عمان کی بنا پر کسی کے ایمان یا کفر کا فیصلہ کر ڈالنا یقینا ظلم ہوگا، اگر چہ ایسا فیصلہ فلس الامر کےمطابق ہی کیوں نہ ہو۔ لہذا حق یہی ہےکہ ایمان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ اس کےسوا کوئی نہیں جان سکتا کہ کسی کے دل میں ایمان ہے اور کس کے دل میں ایمان نہیں ہے ۔ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَى (النجم:۳۰) ہماری نظر صرف ظاہر تک جاسکتی ہے اور ظاہری اقوال و افعال کو دیکھ کر ہم رائے قائم کر سکتے ہیں کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ جو شخص ظاہر میں جہالت و نادانی سے کفریات بک رہا ہو باطن میں وہ ایک سچا اور پکا مومن ہو اور اس کے دل میں خدا اور رسول کی محبت بہت سے واعظوں اور مرشدوں سے بڑھ کر ہو ۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ جو شخص زور شور کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کرتا ہو اور بظاہر احکام شریعت کی پابندی میں کوئی کمی بھی نہ کرتا ہو در حقیقت وہ محض ایک ریا کار منافق ہو ۔ لہذا ظاہر کی بناء پر کسی کے کفر کا فیصلہ کرتے ہوئے انسان کو خدا کی پکڑ سے بہت ڈرنا چاہیے۔ ایسا فیصلہ صادر کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچ لینا چاہیے کہ ہم کیسی ذمہ داری اپنے سر لے رہے ہیں اور کیا ایسےمعقول وجوہ موجود ہیں جن کی بنا پر اس ذمہ داری سے بچنے کی بہ نسبت اس کا بار اٹھا لینا ہمارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ __________________________________
یہ ظاہر ہے کہ انسانوں کی طبیعتیں استعدادیں اور اعلی صلاحیتیں مختلف ہیں۔ بعض لوگ نہایت سادہ لوح ہوتے ہیں ۔ ایک سیدھی سادی بات کو اجتمائی تفصیلات اور باریکیوں کو سمجھنے کی نہ اُن میں قابلیت ہوتی ہے اور نہ وہ ان کے طالب ہوتےہیں۔ برعکس اس کے بعض لوگوں میں غور و فکر کا مادہ ہوتا ہے۔ اجمال سے اُن کی تشفی نہیں ہوتی ۔ تفصیلات ڈھونڈتے ہیں تو نہیں ملتیں تو تخیل سے پیدا کر لیتے ہیں۔ پھر غور وفکر کرنے والوں کے رجحانات اور مدارج عقلی بھی بے شمار ہیں ۔ کسی کا میلان شک کی طرف ہوتا ہےاور کسی کا یقین کی طرف۔ کوئی مادیات و محسوسات پر فریفتہ ہے اور کوئی معقولات پر ۔ کوئی بات کی تہ تک پہنچ جاتا ہے اور کوئی بیچ کی راہوں میں بھٹک کر رہ جاتا ہے۔ کوئی حقیقت پسند (Realist) ہوتا ہے اور کسی کو وہم و خیال کی وادیوں میں گھومنا ہی اچھا معلوم ہوتا ہے۔غرض نظر و فکر کے بہت سے راستے ہیں جن کو انسانی اذہان اپنی اپنی افتاد طبع کے مطابق اختیار کرتے ہیں ۔ کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کی طبعی افتاد اور فطری رجحانات اور عقلی استعداد کو بدل دے۔ اور کسی انسان کو یہ مطالبہ کرنے کا حق بھی نہیں ہے کہ اُس کی اپنی افتاد طبع اور اس کا اپنا مذاق و رجحان ہی سب انسانوں کے لیےمعیار قرار پائے جس کے مطابق ڈھل جانا سب پر فرض ہو۔ ___________________________
جس خدا نےاسلام کو تمام نوع انسانی کی ہدایت کےلیے نازل کیا ہے اس سےبڑھ کر انسانی طبائع کے ان اختلافات کو جاننے والا اور ان کی رعایت ملحوظ رکھنے والا اور کون ہو سکتا تھا؟ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے دین کی بنیاد ایسےسادہ اور مجمل عقائد پررکھی ہےجنھیں ایک کم عقل دہقان سےلےکر ایک نکته سنج فلسفی اور ایک حقیقت طلب سائنٹسٹ تک سب قبول کر سکتے ہیں۔ ان عقائد کی سادگی اور ان کا اجمال ہی وہ چیز ہے جس نےان کو ایک عالمگیر انسانی مذہب کے لیے بنیادی اصول بننے کے قابل بنایا ہے۔ جو شخص غور و فکر کی صلاحیت نہیں رکھتا اس کے لیے صرف اتنا مان لینا ہی کافی ہے کہ خدا ایک ہےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں، قرآن اس کی کتاب ہے اور قیامت کے روز ہمیں اس کے سامنے حاضر ہوتا ہے۔ اور جو شخص غور و فکر کی قوت رکھتا ہے اس کے لیے اسی اجمال میں اتنی وسعتیں ہیں کہ وہ اپنی استعداد اور اپنے رجحان کے مطابق جستجوئے حقیقت کےلیے بے شمار راہوں پر جا سکتا ہے، جتنی دُور چاہے جاسکتا ہے۔ ساری عمر اسی جستجو میں کھپا سکتا ہے بغیر اس کے کہ کسی مقام پر پہنچ کر وہ یہ کہہ سکے کہ جو کچھ جانا تھا وہ میں جان چکا ہوں۔
پھر ایک سوچنے والا آدمی اپنی فکر و تلاش کےلیے چاہے کوئی راہ اختیار کرے اور خواہ کتنی ہی دُور تک چلا جائے، بہر حال جب تک وہ ان حدود کے اندر چل رہا ہے جو کلام اللہ نے اسلام اور کفر کے درمیان کھینچ دی ہیں، وہ دائرہ ایمان سے خارج نہیں قرار دیا جا سکتا، اگرچہ اس کے ذہن کی جولانیوں سے ہم کو کتنا ہی اختلاف ہو۔
مثال کےطور پر ایمان باللہ کےمسئلےمیں ملاک امر(اصل حکم ) صرف یہ ہے کہ کائنات کا بنانے اور چلانے والا ایک خدا ہےاور وہی اس لائق ہےکہ اس کی بندگی کی جائےاس بات کو ایک سیدھا سادا کسان جس طور پر مان سکتا ہے ممکن نہیں ہے کہ ایک غور و فکر کرنے والا آدمی بھی بس اُسی طرح اور اتنا ہی مجمل طور پر مانے ۔ پھر ایک خاص طرح کا رجحان طبع رکھنے والا آدمی اس میں تدبیر کر کے خدا کی ہستی اور اس کی صفات اور کائنات کے ساتھ اس کے تعلق کی کیقیت کے متعلق جو تفصیلی تصورات اپنے ذہن میں جمائے گا، ممکن نہیں ہے کہ ان امور کے متعلق ایک دوسرے رُجحان والے آدمی کےتصورات بھی بالکل اُس کے مطابق ہی ہوں۔ لیکن جب تک یہ سب اصل بنیادی عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں، سب کے سب مسلمان ہیں، خواہ تفصیلات میں اُن کے تفکرات باہم کتنےہی مختلف ہوں اور ان میں سے بعض نے بعض گوشوں میں کیسی ہی سخت ٹھوکریں کھائی ہوں۔
اسی طرح وحی رسالت، ملائکہ اور آخرت کے متعلق بھی اسلامی عقائد میں چند امور اصولی ہیں جن کو دین کےضروریات (Essentials) کہنا چاہیےاور باقی تفصیلات بھی جن میں سے بعض کے لیے انسان کو کلام اللہ میں صریح یا قابل تاویل اشارات مل جاتےہیں اور بعض کو انسان خود اپنے رجحان طبع کے مطابق اپنے ذہن سے پیدا کر لیتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ان میں سے اکثر تفصیلات کا حکم لگانے میں کسی انسان کی عقل غلطی کر لے اور اس کے تصورات حقیقت سے بہت دُور جا پڑیں لیکن جب تک وہ ان عقائد میں ملاک امر کا سر رشتہ ہاتھ سے نہیں چھوڑتا، عقل و فکر کی کوئی گمراہی اس کو دائرہ دین سے خارج نہیں کر سکتی، چاہے مرکز دین سے اس کو کتنا ہی بُعد ہو جائے اور ہمیں اس کی ان اعتقادی بے راہ رویوں پر کتنی ہی ملامت اور مذمت کرنی پڑے۔ ________________________________
یہاں پہنچ کر ہم ذرا سا غور کریں تو بآسانی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام میں فرقوں کی پیداوار کس طرح ہوئی ہے۔ قرآن اور حدیث میں ضروریات دین کے متعلق جو سادہ اور مختصر باتیں ارشاد ہوئی ہیں، اور کہیں کہیں ان کی تفصیل میں جو لطیف اشارات کر دیے گئےہیں، اُن کو سمجھنے میں مختلف لوگوں نے اپنی عقلی استعدادوں اور اپنے طبیعی رجحانات کی بنا پر مختلف را ہیں اختیار کیں اور ان کے تفصیلی فہم کے لیے قیاس و استدلال کے ذریعے سےالگ الگ جزئیات اور فروع اخذ کر لیے۔ اس حد تک تو کچھ مضائقہ نہ تھا۔ اور اس میں بھی کوئی خرابی نہ تھی کہ ایک گروہ صرف اپنے مسلک کو حق سمجھتا اور دوسرے گروہوں سےبحث کر کے ان کو اپنے مسلک کی طرف لانے کی کوشش کرتا۔ لیکن غضب یہ ہوا کہ لوگوں نے بے جا تشدد برت کر اپنے اپنے قیاسی و تاویلی عقائد کو بھی اصول و ضروریات دین میں شامل کر لیا اور پھر ہر ایک گروہ نے ان تمام گروہوں کی تکفیر شروع کر دی جو اُس کےاستنباطی عقائد کے منکر تھے۔ یہیں سے حرب عقائد کی ابتدا ہوئی ہے اور یہی اس ظلم کا نقطہ آغاز ہے۔ یہ صحیح ہے کہ عقائد کے باب میں قیاسات و تاویلات سے جو راہیں اختیار کی گئی ہیں ان میں بہت سی راہیں غلط ہیں۔لیکن ہر غلطی لازما کفر ہی نہیں ہےغلطی کو غلطی کہنا اور اس کا ارتکاب کرنے والے کو گمراہ اور غلط کا رسمجھنا اور اس کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرنا بلاشبہ جائز ہے لیکن جب تک کوئی شخص اُس نفس حقیقت کا انکار نہیں کرتا جس پر اللہ تعالی نے ایمان لانے کا حکم دیا ہے، اس کو کافر کہنا کسی طرح بھی جائز نہیں، خواہ اس کی گمراہی کتنی ہی بڑھ گئی ہو ۔ ______________________________
افسوس ہے کہ مدتوں کی چلی ہوئی اس روش کو چھوڑنے پر ہمارے علمائے کرام کسی طرح راضی نہیں ہوتے ۔ انھوں نے اصل اور فرع نص اور تاویل کے فرق کو نظر انداز کر دیا ہے۔ وہ اُن فروع کو بھی اصول بنائے بیٹھے ہیں جن کو انھوں نے خود یا اُن کے اسلاف نے اپنے مخصوص فہم کی بنا پر اصول سے اخذ کیا ہے۔ وہ ان تاویلات کو بھی نصوص کےدرجے میں رکھتے ہیں جو نصوص سے معانی اخذ کرنے میں ان کے گروہ نے اختیار کی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنے فروع اور اپنی تاویلات کے منکر کو بھی اسی طرح کا فرقرار دیتےہیں، جس طرح اصول اور نصوص کے منکر کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس کھینچ تان اور بے اعتدالی نے پہلے تو اسلامی جمعیت میں صرف تفرقہ ہی پیدا کیا تھا مگر اب دیکھ رہے ہیں کہ علماء کی یہ کا فرگری مسلمانوں کے دلوں میں نہ صرف علماء کی طرف سے بلکہ خود اُس مذہب کی طرف سے بھی بدگمانیاں پیدا کر رہی ہے جس کی نمائندگی یہ علماء کر رہے ہیں۔ روز بروز علماء کا اقتدار مسلمانوں پر سے اُٹھتا جا رہا ہے۔ ان کی باتیں سن کر دل و مذہب کی طرف راغب ہونے کے بجائے اس سے دُور بھاگنے لگے ہیں۔ مذہبی مجلسوں اور مذہبی تحریروں کے متلق یہ عام خیال پیدا ہو گیا ہےکہ ان میں فضول جھگڑوں کےسوا کچھ نہیں ہوتا۔اس غلبہ کفر و فسق کےزمانے میں عام مسلمانوں کو مذہبی علوم کی واقفیت بہم پہنچانے کا اگر کوئی ذریعہ ہو سکتا تھا تو وہ یہ تھا کہ علمائے دین پر لوگوں کو اعتماد ہوتا اور وہ ان کی تحریروں اور تقریروں سے فائدہ اٹھاتے ۔ مگر افسوس کہ ان فرقہ بندی کی لڑائیوں اور ان تکفیر کے مشغلوں سے یہ ایک ذریعہ بھی ختم ہوا جا رہا ہے اور یہ مسلمانوں میں مذہب سے عام نا واقفیت اور گمراہی کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کاش! ہمارے علماء اپنی غلطی ک محسوس کریں اور اسلام اور مسلمانوں پر نہیں تو خود اپنے اوپر ہی رحم کر کے اس روش سے باز آجائیں جس نے ان کو اپنی قوم میں اس قدر رسوا کر دیا ہے درآنحالیکہ یہی وہ قوم تھی جو کبھی اُن کو سر آنکھوں پر بٹھاتی تھی۔
کچھ مدت ہوئی ہندوستان کی ایک اصلاحی جماعت کے بعض ارکان نے (غالباً اپنی جماعت کی انتہا پسندی سے غیر مطمئن ہو کر ) مدیر ترجمان القرآن کو ایک خط لکھا تھا جس میں یہ سوال کیا گیا تھا: -
”ہم نے اپنی ایک جماعت بنائی ہے جس کا عقیدہ یہ ہے کہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب کا فر ہو جاتا ہے۔ ہم فسق اور کفر میں کوئی فرق نہیں سمجھتے ۔ ہماری جماعت عام مسلمانوں کو وہی حیثیت دیتی ہے جو قرآن نے اہل کتاب کو دی ہے مثلاً ہم شادی بیاہ اپنی جماعت کےاندر ہی کرتے ہیں۔ غیر جماعتی مسلمانوں سے لڑکیاں لے تو لیتےہیں مگر اپنی لڑکیاں ان کو دیتےنہیں ہیں۔ ہمارے اس عقیدے اور طرز عمل کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ یہ صحیح ہے یا غلط؟ اگر غلط ہے تو تشفی بخش طریقے سے ہماری غلطی ہم پر واضح فرمائیے۔"
اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ضروری سمجھا گیا کہ اس جماعت کے حالات کی اچھی طرح تحقیق کر لی جائے ۔ چنانچہ ضروری واقفیت بہم پہنچانے کے بعد اُن کو حسب ذیل جواب دیا گیا:
تحقیق کرنے سے مجھ کو معلوم ہوا ہے کہ آپ کی جماعت میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو دین کا صحیح علم اور نقطه رکھتا ہو۔اور اس کا ثبوت خود ان مسائل کی نوعیت سے بھی ملا جن کے متعلق آپ نےسوال کیا ہے۔ یہ مسائل خود بھی یہی ظاہر کر رہےہیں کہ ان کو پیدا کرنے والا ذہن کتاب اللہ اور سنت رسول میں نظر نہیں رکھتا ۔ اب اگر میں یہ کہوں تو اس پر بُرا نہ مانا جائے بلکہ اسے اس حق نصیحت کی ادائیگی سمجھا جائے جو ایک مسلمان کے لیےدوسرے مسلمان پر واجب ہے کہ علم کے بغیر دین کے مسائل میں رائیں قائم کرنا اور اُن کو دین قرار دےکر انفرادی یا اجتماعی زندگی کےلیے اصول بنا لینا خود سب سےبڑا فسق اور تمام کہائر سے بڑھ کر کبیرہ ہے۔ اس لیے کہ ہم اگر مسلمان ہو سکتے ہیں تو اُس دین پر ایمان لا کر اور اس کی پیروی کر کے ہی ہو سکتے ہیں جو خدا کی کتاب اور رسول کی سخت میں پیش کیا گیا ہے۔ اور اس ایمان اور اتباع کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی اصول اخذ کریں اور اپنے عقائد و اعمال کے لیے جن چیزوں کو بنیاد قرار دیں وہ سب کتاب اللہ اور سنت رسول سے ماخوذ ہوں۔ لیکن جو شخص یا گروہ قرآن اور سنت میں بصیرت اور تفقہ نہ رکھتا ہو اور اپنے رجحانات کی بنا پر کچھ رائیں قائم کر کے ان کو دین قرار دے بیٹھے وہ حقیقت میں دین کا پیرو تو نہیں ہے اپنی آراء اور رجحانات کا پیرو ہے۔ اس گناہ کے مقابلے میں دوسرے کبائر کی کیا حقیقت ہے۔
اس سلسلے میں یہ بات بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ دین پر ایمان لانے کے لیےجو مجمل علم کافی ہے اور دین کے موٹے موٹے اصول جاننے کے لیے قرآن کی عام فہم تعلیمات اور حدیث پر جو سرسری نظر کافی ہے اُسے مسائل دینی میں رائے قائم کرنے اور دینی طریق پر لوگوں کی رہنمائی کرنے کے لیے کافی سمجھ لینا غلطی ہے اور اس غلطی کا نتیجہ وہ بڑی خطرناک غلطی ہے جس کی طرف میں نے اُوپر اشارہ کیا ہے۔
کفر در اصل اس چیز کا نام ہے کہ کسی آدمی کے سامنے دین کو پیش کیا جائے یا دین اس کے سامنے پیش ہو اور وہ جان لے کہ یہ کیا چیز ہے اور پھر وہ اس کے ماننے یا اس کےمطالبات اور احکام کے آگے سر جھکانے سے انکار کر دے۔ نادانی کی حالت جس میں آدمی دین کو جانتا ہی نہ ہو اور اس وجہ سے اُس کے خلاف زندگی بسر کر رہا ہو کفر کی تعریف میں نہیں آتی بلکہ اس کو جاہلیت کہتے ہیں۔ کفار عرب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلےجاہلیت میں مبتلا تھے ۔ جب آپ نے دین پیش کیا اور انھوں نے اسے رڈ کر دیا تب وہ کافر قرار پائے۔
دوسرے پہلو سے کفر اُس غیر مسلمانہ حالت کو کہتے ہیں جس کے رُونما ہونے پر ایک آدمی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا اور مسلمانوں کی سوسائٹی سے اس کا تعلق کاٹ ڈالا جائے گا۔
پہلی قسم کےکفر کو معصیت کےساتھ خلط ملط کرنا زیادتی اور خلاف قرآن ہے۔اس میں شک نہیں کہ معصیت ایمان کی ضد ہے۔ لیکن مجرد معصیت خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہو لازماً ایمان کے مستقل طور پر سلب ہو جانے کی موجب نہیں ہوتی ۔ کافر کی طرح مومن سے بھی بڑے سے بڑا گناہ سرزد ہو سکتا ہے۔ البتہ جو چیز مومن کے گناہ اور کافر کےگناہ میں فرق کرتی ہےوہ یہ ہے کہ مومن جب گناہ کرتا ہے تو عین ارتکاب گناہ کی حالت میں تو ایمان سے نکلا ہوا ہے لیکن جب وہ شہوات نفس کے اس غلبے اور نادانی کے اس پردے سے جو عارضی طور پر اس کے قلب پر پڑ گیا تھا یا ہر نکل آتا ہے تو اس کو شرم ساری لاحق ہوتی ہےخدا سے نادم ہوتا ہے۔آخرت کی سزا کا خوف کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ پھر ایسی حرکت کا ارتکاب نہ ہو ۔ اس قسم کی معصیت خواہ کتنی ہی بڑی ہو آدمی کو کا فرنہیں بناتی ، صرف گناہ گار بناتی ہے۔اور تو یہ اس کو پھر ایمان کی طرف واپس لے آتی ہے۔ برعکس اس کے کافر کے گناہ کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ اسی گناہ گارانہ طرزعمل اور طرز زندگی کو اپنے لیےمناسب اور لذیذ اور درست سمجھتا ہے۔ اس کو اس بات کی کچھ پروا نہیں ہوتی کہ خدا اور رسول نے اس فعل کو گناہ اور حرام قرار دیا ہے۔ وہ پورے اصرار و استکبار کے ساتھ اُسی فعل کا ارتکاب کیے جاتا ہے۔ ندامت اس کے پاس نہیں پھنکتی۔ یہ دوسری قسم کی گناہ گاری سلب ایمان (۱) کی موجب ہے خواہ اس جذبے کے ساتھ کوئی بڑا گناہ نہیں بلکہ کوئی ایسا کام ہی کیا جائے جس کو عرف عام میں صغیرہ سمجھا جاتا ہو۔ ان دونوں قسم کے گناہ گاروں کو ایک ہی حیثیت دینا اور ان پر یکساں کفر کا حکم لگا دینا بالکل غلط ہےاور اس قسم کی افراط و تفریط خود کبیرہ کی تعریف میں آتی ہے۔ پہلی صدی سے آج تک بجز خارجیوں کے یا معتزلہ کےایک گروہ کے اور کسی نے یہ رائے قائم نہیں کی ہے۔ مزید برآں آپ چاہے اصولی طور پر یہ کہہ دیں کہ اشکبار کے ساتھ حکیم خدا و رسول کو جان بوجھ کر ٹھکرا دینے والا کافر ہو جاتا ہے لیکن کسی شخص خاص کے متعلق یہ حکم لگا دینے کا آپ کو حق نہیں ہے کہ وہ کا فرانہ طرز عمل کی وجہ سے کافر ہو گیا ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ یہ معاملہ صرف اللہ ہی کےفیصلہ کرنے کا ہےکہ کس شخص کے اندر حقیقی غیر ایمانی حالت پائی جاتی ہےاور کس میں نہیں پائی جاتی۔
اب دوسری قسم کے کفر کو لیجیے جو کسی انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دینے اور مسلمانوں کی برادری سے اس کا رشتہ کاٹ دینے کے لیے کافی ہو ۔ اس چیز کے متعلق جان لینا چاہیے کہ شریعت نے ایسی تکفیر کو ہر کس و ناکس کی رائے کا کھلونا نہیں بنایا ہے۔ جس طرح کسی انسان کے جسمانی قتل کےلیے یہ شرط ہے کہ نظام اسلامی موجود ہو با اختیار قاضی تمام شہادتوں اور پوری صورت حال پر اچھی طرح غور کر کے پوری تحقیق کے ساتھ یہ رائے قائم کرے کہ یہ شخص واجب القتل ہے تب اس کو قتل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص کے روحانی قتل یعنی تکفیر کے لیے بھی یہ شرط ہے کہ اس کے اوپر جو الزام کفر لگایا گیا ہو اس کی ایک قاضی شرع پوری تحقیق کرے اس کا اپنا بیان لئے اس کے دوسرے اقوال و افعال کو بھی جانچ کر دیکھئے شہادتوں پر بھی غور کرئے اور اس کے بعد فیصلہ کرے کہ یہ شخص جماعت مسلمین سے کاٹ کر پھینک دینے کے لائق ہے۔ جہاں ایسا نظام موجود نہ ہو نہ قضائے شرعی ہو اور نہ وہ شرائط جو تکفیر کے لیے ناگزیر ہیں پوری ہو سکتی ہوں، وہاں تکفیر کا فیصلہ کر دینا اور کسی شخص یا گروہ کو مسلم سوسائٹی سے خارج قرار دینا اگر صحت کا احتمال رکھتا ہے تو غلطی کا احتمال بھی رکھتا ہے۔ نیز یہ افراد کے اور بے اختیار جماعتوں کے شرعی تو اختیارات سے باہر ہے اور اس کا فساد اُس فساد سے کچھ کم نہیں ہے جو غیر مومن لوگوں کےمسلم سوسائٹی کے ساتھ جڑے رہنے سے رونما ہوتا ہے۔
١- یعنی سلب ایمان باعتبار حقیقت نہ کہ باعتبار احکام ظاہر ۔
جو گروہ یا جو شخص فی الواقع عوام الناس کی دینی اصلاح کرنا چاہتا ہو اس کو چاہیےکہ پہلے مسلمانوں کے مختلف طبقات کا باہمی فرق اچھی طرح سمجھ لے۔ ایک طبقہ جہالت میں مبتلا ہے۔ دوسرا طبقہ گناہ گار ہے۔ تیسرا طبقہ حقیقی کفر کی پستی میں گر چکا ہے۔ چوتھا طبقہ فی الواقع اس قابل ہو چکا ہے کہ مسلمانوں کی سوسائٹی سے کاٹ پھینکا جائے۔ ان سب کو ایک ہی لکڑی سے ہانکنا درست نہیں ہے۔
جاہلوں تک دین کا علم پہنچانے کی کوشش کیجیے اور جب وہ اپنے آپ کو خود مسلمان سمجھتے ہیں تو خواہ مخواہ انھیں یہ یقین دلانے کی کوشش نہ کیجیے کہ تم مسلمان نہیں ہو ۔ اس کےبجائے آپ کو یوں کہنا چاہیے کہ جب تم مسلمان ہو اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہو مسلمان رہنا چاہتے ہو تو جانو کہ اسلام کیا ہے اور جان کر اس کی پیروی کرو۔
گناہ گاروں کو خدا کا خوف دلائیے اور ان کے اندر ایمان کی جو چنگاری دبی ہوئی ہے اس کو بھڑکانے کی کوشش کیجیے۔
جن لوگوں کے اندر حقیقی کفر محسوس ہوتا ہے ان کو کافر کہنے اور ان کی تکفیر کا اعلان کرنے پر اصرار نہ کیجیے بلکہ اپنی جگہ یہ سمجھ کر کہ یہ لوگ حالت کفر میں مبتلا ہو چکے ہیں ان کو ایمان کی دعوت دیجیے اور حکمت و موعظت حسنہ سے اُن کے دلوں میں ایمان اتارنے کی سعی فرمائیے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی طبیب کسی شخص کے اندر دق کی بیماری محسوس کرے تو اس کا اپنی جگہ یہ سمجھ لینا اور جان لینا تو ضروری ہے کہ یہ دق میں مبتلا ہے کیونکہ اس کے بغیر تو اس کا علاج ہی نہیں کیا جا سکتا، لیکن ایک طبیب کے لیے اس سے بڑی اور کوئی حماقت نہیں ہو سکتی کہ وہ جس کسی میں رق محسوس کرے اس کے منہ پر بھی پھٹ سےکہہ دے کہ تو دق میں جتلا ہے۔ یہ اس کے علاج کا نسخہ تو نہیں ہے بلکہ مار دینے کا نسخہ ہے۔
رہے وہ لوگ جو صریح طور پر آپ کو اس قابل نظر آتے ہیں کہ مسلمانوں کی سوسائٹی سے ان کو کاٹ پھینکا جائے تو ان کے معاملے میں صحیح طرز عمل یہ ہے کہ جب قضائے شرعی موجود نہیں ہے اور ایسا نظام نافذ نہیں ہے کہ جو شخص اسلامی نظام جماعت سےنکال دینے کے قابل ہے اس کو واقعی نکال دیا جائے تو تکفیر اور خروج از ایمان کے اعلانات سے پرهیز کیا جائے اور صرف اس بات پر اکتفا کیا جائے کہ اہل ایمان خود ہی ایسے لوگوں سے ولایت اور محبت کے ساتھ تعلقات اور دوستی و همنشینی ترک کر دیں۔ مر تبلیغ کے لیےملنے کا دروازہ کسی حال میں بند نہ کرنا چاہیے۔
شادی بیاہ کے متعلق آپ کے طرز عمل کی بنیاد وہی غلط فہمی ہے جو تکفیر کے باب میں آپ لوگوں کو لاحق ہوئی ہے اور اس کے دُور ہو جانے سے یہ سوال خود بخود حل ہو جاتا ہے۔ لیکن میں مزید توضیح کے لیے اتنا کہہ دینا کافی سمجھتا ہوں کہ جو مسلم سوسائٹی اس وقت پائی جاتی ہے اس کو جملہ واحدہ قرار دے کر اس پوری سوسائٹی کے ساتھ ایک ہی طرح کا سخت معاملہ کرنا بڑی زیادتی اور ایک غیر شرعی طرز عمل ہے۔ اس سوسائٹی میں ہر طرح کےلوگ پائے جاتے ہیں۔ وہ بھی جو سچے مومن دین دار اور صالح ہیں ۔ وہ بھی ہیں جو جاہلیت میں مبتلا ہیں۔ وہ بھی ہیں جو علم اور ایمان کے باوجود گناہوں میں آلودہ ہیں۔ وہ بھی ہیں جن کے اندر کفر پایا جاتا ہے اور وہ بھی ہیں جو اس قابل تو ہیں کہ انھیں مسلم سوسائٹی سےکاٹ پھینکا جائے مگر اس وقت محض نظام اسلامی نہ ہونے کی وجہ سے اُن کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان سب کو ایک گروہ قرار دے کر ان سے اہل کتاب کا سا معاملہ کرنا آخر کس شریعت کی رو سے صحیح ہے؟ ان میں جو لوگ مومن اور دین دار ہیں ان سے شادی بیاہ کےتعلقات محض اس وجہ سے منقطع کرنا کہ وہ آپ کی جماعت میں نہیں ہیں بے جا تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟ اس قسم کی تفریقین کرنے کا شریعت نے آپ کو حق نہیں دیا ہے۔ رہےجاہلیت میں پڑے ہوئے لوگ اور وہ لوگ جو فسق و فجور اور کافرانہ خصائل میں مبتلا ہیں، تو ان سے فی الواقع شادی بیاہ کے تعلقات قائم نہیں کرنے چاہیں، نہ اس بنا پر کہ وہ سب کے سب کا فر ہیں، بلکہ اس بنا پر کہ شریعت میں ہم کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم شادی بیاہ کےمعاملات میں سب سے پہلے آدمی کے دین اور تقومی کو دیکھیں۔
غللباً جس چیز نے آپ لوگوں کو اپنی جماعت سے باہر کے تمام مسلمانوں سے اہل کتاب کا سا معاملہ کرنے پر آمادہ کیا ہے وہ التزام جماعت کے متعلق احادیث کے وہ احکام ہیں جن کی رُو سے جماعتی زندگی ہی اسلامی زندگی ہے اور جماعت کے بغیر جو زندگی ہے وہ جاہلیت کی زندگی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپ حضرات اچھے خاصے صالح مسلمانوں کو بھی، جو آپ کی جماعت سے باہر ہیں من خلخل فِي النَّارِ کا مصداق تھیرا کر انھیں بیٹیاں دینا جائز نہیں سمجھتے۔ لیکن اگر یہ آپ کا خیال ہے تو قطعاً غلط خیال ہے۔حدیث میں جس جماعت کو یہ حیثیت دی گئی ہے کہ اس سے علیحد گی اسلام سے علیحدگی کی ہم معنی ہے وہ ”الجماعت ہے نہ کہ کوئی جماعت جسے چند مسلمان مل کر بنا لیں۔ اور "الجماعت" کا اطلاق صرف اس جماعت پر ہو سکتا ہے جو :
ایسی جماعت اگر موجود ہو تو اس سے انقطاع یقیناً دین سے انقطاع ہے اور اس شخص کا ایمان و اسلام ہرگز معتبر نہیں ہے جو اس سے علیحدہ ہو یا علیحدہ رہے لیکن اس نظام جماعت کے درہم برہم ہو جانے اور اُمت کا شیرازہ بکھر جانے کے بعد جو جماعتیں اس رض سے بنائی جائیں کہ "الجماعت" کے فقدان کی تلافی ہو ان میں سے کسی کو بھی الجماعت کے شرعی حقوق و اختیارات اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ عملاً الجماعت کے مرتے کو نہ پہنچ جائے ۔ آپ خواہ کتنے ہی صالح اور نیک نیت ہوں اور آپ کا مقصد خواہ ٹھیک ٹھیک وہی ہو جو انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا مقصد تھا اور آپ کے اصول اجتماع بھی وہی ہوں جو اسلامی نظام جماعت کے اُصول ہیں، بہر حال شریعت آپ کو یہ حق ہر گز نہیں دیتی کہ آج آپ چند آدمی مل کر ایک جماعت بنا ئیں اور کل یہ اعلان کر دیں کہ دنیا بھر کے وہ سارے مسلمان غیر مسلم ہیں جو آپ کی اس جماعت میں شامل نہیں ہیں اور ہر اس مسلمان کی موت جاہلیت کی موت ہے جس کی گردن میں آپ کے امیر کی بیعت کا حلقہ نہیں ہے۔ اس طرح کا رویہ آپ اختیار کریں گے تو اپنے شرعی حقوق سے تجاوز کریں گے اور اصلاح کے بجائے اُمت کے اندر مزید خرابیوں کے موجب بنیں گے ۔ آپ خود ہی ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ آخر اس بچارے صادق الایمان وصالح العمل مسلمان کے کافر ہونے کی کیا وجہ ہے جو استکبار و نفسانیت کی بنا پر نہیں بلکہ نا واقفیت یا عدم اطمینان کی وجہ سے آپ کی جماعت میں شامل نہیں ہوتا؟ اور اس بات کی کون سی معقول وجہ ہے کہ جماعت بنانے کا حق صرف آپ کو حاصل ہو اور دوسرے مسلمانوں کو نہ ہو؟ دور انتشار میں تو اصلاح کی کوشش کرنے والا گر وہ لازماً ایک ہی نہیں ہوتا بلکہ بیک وقت ایسے بہت سےگروہ موجود ہوتے ہیں اور ہو سکتےہیں جو سیح مقصد کے لیے صحیح طریقہ پر کام کر رہےہوں۔ اور بکثرت افراد ایسے بھی ہوتے ہیں اور ہو سکتے ہیں جو ایک مدت تک یہی فیصلہ نہ کر سکیں کہ ان میں سے کسی کے ساتھ شامل ہوں یا نہ ہوں اور شامل ہوں تو کس کے ساتھ ہوں۔ اس حالت میں کسی گروہ کا اپنے لیے وہ حقوق ثابت کرنا جو شریعت میں صرف الجماعت کو دیے گئے ہوں، جھوٹ بھی ہے اور فساد انگیز بھی ۔ ایسے دعوے کرنے کے بجائےہر گروہ کو اپنی اپنی جگہ کام کرنا چاہیئے اور اپنےدل میں یہ مخلصانہ خواہش رکھنی چاہیےکہ کسی طرح پھر وہی الجماعت وجود میں آجائے جو عہد خلافت راشدہ میں موجود تھی۔ اور ہمیشہ اس بات سے چوکنا رہنا چاہیے کہ کہیں اس کی اپنی گروہ بندی اس الجماعت کی پیدائش میں۔مددگار ہونے کے بجائے الٹی مانع و مزاحم نہ ہو جائے۔
جس طرح عداوتوں میں سب سے زیادہ خطرناک وہ عداوت ہے جو دوستی کےپیرائے میں کی جائے اُسی طرح گمراہیوں میں سب سے زیادہ خطر ناک وہ گمراہی ہے جو ہدایت کے لباس میں جلوہ گر ہو۔ آپ کھلے دشمن سے زک تو اٹھا سکتے ہیں مگر دھوکا نہیں کھا سکتے۔اسی طرح آپ کھلی کھلی گمراہی کی طرف بلانے والے سے متاثر ہو کر مُرتد تو بن سکتےہیں مگر اس غلط فہمی میں نہیں پڑ سکتے کہ اصل اسلام وہی ہے جس میں اب آپ داخل ہوئےہیں۔ ایک مخلص علانیہ آکر اسلام کی مخالفت کرئے قرآن پر حملہ کرئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر اعتراضات کرنے اور اسلام کے عقائد اصول احکام سب کو غلط ٹھیرائے تو مسلمان یا تو اس کی بات رڈ کر دے گا اور اسلام پر قائم رہے گا یا پھر اسلام کو چھوڑ کر اس کےمذہب میں چلا جائے گا اور اپنے آپ کو مسلمان کہنا چھوڑ دے گا۔ لیکن اُس شخص کا معاملہ کتنا پُر فریب ہےجو آ کر مسند ارشاد پر بیٹھے، قرآن کھول کر وعظ شروع کر دےآیات النبی کی تفسیر بیان کرےایمان و عمل صالح کی طرف دعوت دئےعبادات و خلوص کی تلقین کرے اور جب اس طرح آپ کے دل پر اُس کے ہادی برحق اور دائی خیر ہونے کا سکہ بیٹھ جائے تو وہ آپ کو یہ سمجھانا شروع کر دے کہ نماز پانچ وقت کی نہیں صرف تین وقت کی فرض ہےروزے پورے رمضان کے نہیں صرف تین یا حد سے حدوس دن کے فرض ہیں۔زکوۃ کے لیے کوئی نصاب مقرر نہیں جس قدر دل چاہے خیرات کر دیا کرو اور اس طرح اسلامی احکام میں سے ایک ایک کی قطع و یرید کرتے ہوئے ہر قدم پر وہ ساتھ ساتھ آپ کو یہ بھی یقین دلاتا جائےکہ یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی رسول کا اسوۂ حسنہ ہےبیچارےعام نا واقف مسلمانوں کا ایسے زہر سے بچنا کس قدر مشکل ہے جو یوں مٹھائی میں ملا کر ان کو دیا جا رہا ہو۔
یوپی کے ایک مسلمان ڈپٹی کلکٹر صاحب جو حق گو تخلص فرماتے ہیں، اور اس سے پہلے اشاعت اسلام کی خاطر سور کا گوشت حلال کرنے کی تجویز پیش کر چکے ہیں ۔(١) آج کل انھوں نے ”مواعظ قرآن کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جس میں وہ عام مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا یہی پُر فریب طریقہ اختیار فرما رہے ہیں۔ اُن مواعظ کو امرت سر کی ایک مشہور مخالف حدیث جماعت (٢) اپنے ماہوار رسالے میں شائع کر رہی ہے۔
اس وقت اس سلسلہ کا تیسرا " وعظ ہمارے پیش نظر ہے جس میں فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ( ماعون : ۴) کی تفسیر ارشاد ہوئی ہے۔ واعظ اپنا وعظ اس طرح شروع کرتا ہے کہ آیت میں تمام آنے والی مسلمان نسلوں کے لیے تنبیہ ہے کہ:
"خبر دار ایسا نہ کرنا کہ نماز کے معنی بس یہ سمجھ لینا کہ چاہے دل لگےیا نہ لگے سمجھ میں آئے یا نہ آئے کیسا ہی بے محل کیوں نہ ہو مصلی بچھا کر چار ٹکریں مار لیں اور منہ سے کچھ بڑ بڑا دیا۔ ایسی نماز سےبجائے فائدے کے الٹا نقصان ہوتا ہے۔ وہ صرف دکھانے کےلیے پڑھی جاتی ہے اور عند اللہ مکروہ بلکہ مغضوب ہے"
"نماز کو بچوں کا کھیل مت سمجھنا۔ اس کے ادا کرنے میں بڑی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ وہ درحقیقت خدا اور اس کے فرشتوں کی حضوری اور شہادت کا وقت ہوتا ہے۔ تو کیا تمھاری بے دلی کی نماز اُس کا منہ چڑانا نہ ہوگا۔ نماز میں خدائے واحد وقد وس کے جلال و بزرگی و کبریائی کا اعتراف ہوتا ہے۔ تم اس کے حضور میں ادب سے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہو۔ بھلا سوچو تو یہ کتنی بڑی گستاخی ہوگی کہ ایسے بڑے دربار میں حاضر ہو کہ تم ایسی حرکتیں کرو کہ اگر کسی دنیاوی امیر کے سامنے کرو تو تم کو فورا دربار سے نکال کر باہر کر دے۔ تم پر حیف و صد حیف ہے کہ اپنی نماز میں اُلٹا خدا کا غضب مول لو ۔ لہذا نماز کے لیے چار ضروری شرطیں ہیں ۔ مشاغل دنیاوی سے یکسوئی۔جسم ولباس کی طہارت الفاظ قرآن کو سمجھنا اور با ایمان ہونا“۔
١- صاحب موصوف کی اس تجویز پر ہم نے اپنے مضمون " عقلیت کا فریب‘ میں تبصرہ کیا ہے۔(ملاحظہ ہو تنقیحات صفحه ۷۲)
٢- امرتسر کی بربادی کے بعد اب یہ جماعت لاہور آ گئی ہے۔
دیکھیے قرآن کا وعظ ہے " قرآنی تعلیمات کی نشر و اشاعت" کرنے والے رسالےمیں شائع ہو رہا ہے۔ حق گو کی زبان سے ادا ہو رہا ہے۔ تمہید ایسی ہے کہ جو مسلمان پڑھے گا یقین لے آئے گا کہ واعظ کا مقصود عبادت میں اخلاص کی تلقین کرنا ہے۔ یہ سب باتیں جمع ہو کر ایک سیدھے سادے مسلمان کو واعظ کی طرف سے بالکل مطمئن کر دیتی ہیں،اور اس کے دل میں کوئی خوف اس امر کا باقی نہیں رہتا کہ اس کے وعظ میں کوئی چیز اس کو گمراہ کرنے والی بھی ہو گی۔ اس طرح جب آدمی ضلالت کے تمام خطرات سے مامون ہو جاتا ہے تو اسی مرشدانہ انداز میں اس سے کہا جاتا ہے:
"یکسوئی کے بہترین اوقات فطرتا ہمیشہ وہی ہوتے ہیں ۔ جب کہ آدمی سو کر اٹھتا ہے یا جب سونے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اور جب وہ اپنے گھر کام سے فارغ ہو کر سر شام لوٹتا ہے۔ اس کے علاوہ جو اوقات بھی نماز کے ہوں گے وہ دنیاوی مصروفیت یا آرام و سیر و تفریح کے ہوتے ہیں۔ ایسے اوقات میں نماز میں یکسوئی پیدا کرنا ذرا مشکل ہے ورنہ ایسے وقتوں میں نماز پڑھنا خطرے سے خالی نہیں۔ بہت کم ایسے لوگ ہیں جو ان وقتوں میں یکسوئی حاصل کرتےہیں اور یہی وجہ ہے کہ جولوگ ان اوقات میں نماز ادا کرتے ہیں وہ نهایت بددلی اور سراسیمگی سے ادا کرتے ہیں۔
" حرکات جسمانی کا مقصد نماز نہیں، وہ اظہارِ خشوع و خضوع کےساتھ یکسوئی پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اصل نماز تمھاری تقدیس و تکبیر و تحمید و تلاوت قرآن پاک ہے جس کے لیے تمھارےدماغ اور دل کا مستعد اور یک تو ہونا شرط ہے۔"
یہ دوسری خوراک ہضم کر کے جب سیدھا سادا مسلمان دوبارہ گمراہی کے خطرےسے بے خوف ہو جاتا ہے تو زہر کا یہ آخری مجمعہ اُس کے حلق سے نیچے اتارا جاتا ہے:۔
میرے فہم ناقص میں تو یہ آتا ہے کہ اس کا اشارہ (یعنی ويمنعون الماعون كا اشاره ) أن فتقووں کی طرف ہے جن کی کوئی سند قرآن میں نہیں ہے لیکن وہ قرآن کے احکام سے بڑھ کر ہمارے لیےمعمول یہ ہیں اور ان کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خلاف فطرت اوقات میں ہم سے نماز پڑھوائی جاتی ہے جن میں نہ ہم تہ دل سے نماز میں رجوع ہو سکتے ہیں اور نہ اپنے مفاد زندگی کے لیے کوئی کام کر سکتےہیں۔"
اس تمام وعظ کا اصل مقصد بجز اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ ظہر اور مغرب کی نماز کا وقت اڑا دیا جائے کیونکہ ظہر کی نماز کے لیے انگریزی حکومت اور انگریزی کمپنیوں نےاپنے مسلمان ملازموں کے لیے کوئی وقت دینا پسند نہیں کیا ہے۔ اور مغرب کی نماز کا وقت بد قسمتی سے وہی ہے جو سینما کا ہے کلب کی تفریحات کا ہے ٹینس بلیرڈ اور برج کھیلنے کا ہے۔ اس وقت کھیل چھوڑ کر نماز پڑھنا ہمارے صاحب لوگوں کو ناگوار ہوتا ہے۔ اس مقصد کو خود ” واعظ صاحب ہی نے کھول کر اس طرح بیان فرمایا ہے :-
"میرے بعض دوست ایسےہیں جو ماشاء اللہ بڑے پابند نماز ہیں۔میں نےاُن کو دیکھا ہےکہ شام کو ٹینس اور برج کھیلتے کھیلتے وہ دفعتہ نماز پڑھنے لگ گئے یا کسی پارٹی میں کھاتے کھاتے اُٹھ کھڑےہوئے اور جہت نماز پڑھا۔ یا اجلاس میں مقدمہ کی سماعت کر رہے ہیں کہ یکا یک گھڑی نےان کو ظہر کی نماز یاد دلا دی۔اُٹھ کھڑے ہوئے اور عادتا نماز کے ارکان چبوترے پر ادا کر ڈالے۔میں کبھی اس قسم کی نمازوں کو نماز ہی شمار نہیں کرتا اور ہمیشہ قرآن کی یہ آیت یاد کر کے میں کانپ جاتا ہوں۔
اب ذرا غور کیجیے دشمنوں کی ایک قسم تو وہ تھی جنھوں نےدفتروں کے اوقات میں مسلمانوں کو نماز کے لیے چھٹی دینے سے انکار کر دیا اور اس معاملہ میں اُن پر سختیاں کیں۔مسلمان ان دشمنوں کا مقابلہ تو کر سکتے تھے اور انھوں نے کیا۔ جو سچے مسلمان تھےانھوں نے حکم خداو و رسول کے مقابلہ میں کسی جابر کے حکم کی پروانہ کی حتیٰ کہ بہتوں نےنماز کی خاطر اپنے روز گار تک سےہاتھ دھو لیا۔اور جو ضعیف الایمان تھےانھوں نےاگر چه روزگار کی خاطر نماز ترک کر دی، مگر پھر بھی دل میں اپنی اس کمزوری پر شرمسار رہے۔ ایک دوسری قسم دشمنوں کی وہ تھی جنھوں نےنماز کےخلاف تبلیغ کی اسکو فضول اور لغو کہا اور مسلمانوں کو اس سےمنحرف کرنے کے لیے طرح طرح کی تحریصوں کے جال بچھائے۔مسلمان ان دشمنوں کا مقابلہ بھی کر سکتے تھے اور انھوں نے کیا،اس لیےکہ وہ کھلےدشمن تھے اُن کے شر سے بچ جانا آسان تھا۔ لیکن اُس دشمن کے شر سے بچنا کس قدر مشکل ہے جو انھی دشمنوں کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جبر اور مخالفانہ تبلیغ کے ذرائع چھوڑ کر نصیحت اور وعظ کا ذریعہ اختیار کرتا ہے۔ قرآن کو آلہ کار بنا کر مسلمانوں کو یقین دلاتا ہےکہ ظہر اور مغرب کی نماز تو خدا نے تم پر فرض ہی نہیں کی تھی ان نمازوں کا پھندا تو دراصل اُن جاہل ملاؤں نے تمھارے گلے میں ڈال دیا ہے جو یمنعون الماعون کے مصداق ہیں ۔ ان ظالموں نے تم کو بالکل خلاف فطرت اوقات پر نمازوں میں لگا دیا اور اس کا انجام یہ ہوا کہ تم سے دفتروں کی ملازمتیں چھوٹیں، دنیا کے کاروبار چھوٹے کلب اور سینما چھوٹے، غرض ترقی کی تمام راہوں سے تم الگ ہو گئے ۔ قرآن نے ہرگز ایسی نماز کا حکم نہیں دیا۔ وہ تو صرف تین وقت کی نماز تم سے پڑھوانا چاہتا ہے اور وہ بھی اس ضروری شرط کے ساتھ کہ مشاغل دنیوی سے یکسوئی ہو۔
یہ وہ دشمنی ہے جو دوستی کے پیرایہ میں کی گئی ہے۔ وہ ضلالت ہے جس کو ہدایت کا نهایت خوش نما لباس پہنایا گیا ہے۔ جو کام کھلے دشمن نہ کر سکے علانیہ گمراہ کرنے والے نہ کر سکے اس کو انجام دینے کے لیے اب یہ دوست نما دشمن اور مدعی اصلاح مفسد اُٹھے ہیں۔اب سادہ لوح مسلمان کے دین وایمان کا اللہ ہی حافظ ہے۔
بادی النظر میں تو یہ حملہ صرف اوقات نماز ہی پر ہےلیکن غور سےدیکھیےتو معلوم ہوگا کہ یہ ایک بڑے خطرے کی ابتدا ہے۔مسلمانوں کو پنج وقتہ نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب قریب اس تواتر کے ساتھ پہنچی ہےجس کے ساتھ قرآن پہنچا ہے۔ جس طرح قرآن کے متعلق ہمارا یقین کہ وہ ہر تحریف سےمحفوظ ہے اس بنیاد پر مبنی ہےکہ اس کو لاکھوں آدمیوں نے حضور سے سنا ہے پھر کروڑوں آدمیوں نے صحابہ سے سنا ہے اور اُن کے بعد ہر گزرنے والی نسل سے آنے والی نسل کو قرآن انھی الفاظ کے ساتھ پہنچتا رہا ہے، اسی طرح نج وقتہ نماز کی فرضیت پر یقین کرنے کے لیے بھی ہمارے پاس اس سے زیادہ مضبوط اور متحکم کوئی دوسرا ثبوت نہیں ہے کہ ہزاروں لاکھوں آدمیوں نے آنحضرت صلعم سےیہ حکم سنا اور آپ کی اقتداء میں اس پر سالہا سال تک عمل کیا ہے ان کے بعد نسلاً بعد نسل کروڑہا کروڑ مسلمان یہی سنتے اور دیکھتے اور عمل کرتے چلے آئے ہیں کہ اسلام میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے اور مسلمانوں میں ہر قسم کی فرقہ بندیوں کے باوجود کبھی اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہوا ہے۔ اس تواتر سے جو یقین نماز کے معاملے میں حاصل ہوتا ہے وہ اگر کسی کے شک ڈالنے سےمتزلزل ہو جائے تو پھر اُس یقین کو متزلزل کر دینا بھی کچھ مشکل نہیں رہتا جو ہمیں قرآن مجید کے متعلق ایسے ہی تواتر سے حاصل ہوا ہے۔ بلکہ ہم تو یہاں تک کہہ سکتے ہیں کہ اگر ایسی متواتر خبریں بھی شک و شبہ کی زد میں آ سکتی ہیں تو ایک شخص اس امر میں بھی شک کر سکتا ہے کہ آیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم فی الواقع مبعوث بھی ہوئے تھے یا نہیں۔ اس لیے کہ جس تواتر کے ساتھ ہم کو آنحضرت سے پنج وقتہ نماز پہنچی ہے اس تواتر کے ساتھ خود آنحضرت کے مبعوث ہونے کی خبر بھی پہنچی ہے۔ اگر شک کی بیماری ہمارےدل پر اس قدر غالب ہو جائے کہ آج ہم پنج وقتہ نماز کے فرض ہونے میں شبہ کرنے لگیں تو کچھ عجب نہیں کہ کل یہی بیماری ہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے متعلق بھی شک میں ڈال دے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔
باطل کی طرف دعوت دینے والوں کا یہ عام قاعدہ ہے کہ وہ اپنی دعوتِ ضلالت کے تمام مقاصد کو بیک وقت بے نقاب نہیں کرتے بلکہ سب سےپہلےدین کے مسلمات و یغمیات میں سےکسی ایک چیز پر حملہ کر کے اپنی پوری قوت صرف اسی کو متزلزل کرنےمیں صرف کر ڈالتے ہیں۔ یہ ایک گہری نفسیاتی چال ہے۔اگر وہ سب کچھ ابتداء ہی میں کھول دیں تو شاید کوئی مسلمان بھی ان کے جال میں نہ پھنے۔ اس لیے وہ اپنے کام کی ابتدا شکوک و شبہات کی قسم ریزی سے اور کسی ایک یقین کی بنیاد ڈھانے سے کرتے ہیں۔ جو لوگ اس پہلے حملے کے مقابلے میں ثابت قدم رہ جاتے ہیں ان کا دین و ایمان تو ہمیشہ کےلیے محفوظ ہو جاتا ہے۔ لیکن جو کمزور طبیعت کے لوگ اس حملے کی تاب نہیں لا سکتے وہ پہلےمورچے پر شکست کھانےکےبعد ایسے مغلوب ہو جاتے ہیں کہ گمراہ کرنے والا ان کےیقینیات میں سے ایک ایک کو مسمار کرتا چلا جاتا ہے اور وہ گمراہی کی آخری منزل تک اُسی کی پیروی کیسے چلے جاتے ہیں۔
یہ ایک فطری بات ہے کہ آدمی کے دل میں جب شک کی بیماری پیدا ہو جاتی ہےاور یقین کی قوت پر شک کا مادہ غالب آ جاتا ہے تو پھر شکوک کے سیلاب میں اس کے پاؤں اکٹر جاتے ہیں۔ اور جب وہ ایک دفعہ بہہ نکلتا ہے تو پھر بہتا ہی چلا جاتا ہے کہیں اس کے قدم جمنے نہیں پاتے ۔ ایک یقینی بات کا انکار در اصل اسی ایک بات کے انکار پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس سے انسان کے نفس میں یہ استعداد پیدا ہو جاتی ہے کہ ویسے ہی دوسرے یقینیات کا بھی انکار کر دے۔اس لیے کہ تمام یقینیات کی بنیاد ایک ہی ہوتی ہے۔ جب وہ بنیاد کسی ایک معاملے میں متزلزل ہو جاتی ہے تو دوسرے تمام یقینی امور بھی کمزور پڑ جاتےہیں اور اس وقت یہ بات بالکل داعی ضلالت کے اپنے اختیار میں ہوتی ہے کہ اپنے متبع سے جس چیز کا چاہے انکار کر والے۔
اسلام میں جتنے باطل فرقے پیدا ہوئے ہیں اُن سب کے بانیوں نے اسی طریقےسے کامیابی حاصل کی ہے۔ قادیانی تحریک کی نمایاں مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس کےبانی نے بھی سب سے پہلے اسلام کے ایک یقینی مسئلے ( یعنی ختم نبوت ) کے متعلق لوگوں کےدلوں میں شکوک ڈالنے شروع کیے تھے ۔ جو لوگ اس پہلے حملے سے بچ گئے وہ تو ہمیشہ کےلیےبچ گئے۔مگر جن کےیقین کی بنیاد اس مسئلےمیں متزلزل ہو گئی وہ گمراہی کی دعوت سے ایسے مغلوب ہوئے کہ مرزا صاحب نے پھر جس جس چیز کا چاہا ان سے انکار کرا لیا اور جو چیز بھی اسلامی تعلیمات کے خلاف پیش کی اُس کا اقرار اُن سے کرا کے چھوڑا۔
اس حقیقت کو نگاہ میں رکھ کر ذرا سوچیے تو سہی که پنج وقتہ نماز جیسی ایک یقینی چیز بھی جن لوگوں کے دلوں میں شک کا شکار ہو جائے گی کیا ان کا شک صرف اسی ایک چیز پر آ کر رک جائے گا ؟
جناب "حق گو " صاحب جس مذہب کی بنیا د رکھ رہے ہیں اُس کے تمام خدو خال ہم کو اُن کی کتاب ” مطالعہ حدیث میں نظر آچکے ہیں۔ اس کی حقیقت کھولنے کا تو یہاں موقع نہیں مگر ہم اس مخالف حدیث جماعت سے جو ان کے افکار ونظریات کو مسلمانوں میں پھیلا رہی ہے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا اب حدیث کی دشمنی میں آپ لوگ اس حد تک بڑھے جا رہے ہیں کہ قرآن سے بھی آپ کی جنگ چھڑ چلی ہے؟ حق گو صاحب حدیث کی روشنی میں آپ کے دوست سہی مگر نماز کے اوقات پنجگانہ پر یہ حملہ تو صرف حدیث ہی پر نہیں خود قرآن پر حملہ ہے۔ کیا قرآن میں آپ کو یہ آیت نہیں ملی ؟
١- یہ تنقید "تفہیمات‘" حصہ اوّل میں درج ہے۔
اس آیت میں آفتاب ڈھلنے پر سے مراد ظہر کے سوا اور کون سا وقت ہو سکتا ہے؟ اور کیا آپ نے قرآن میں یہ بھی نہیں پڑھا؟
وَأَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفِي النَّهَارِ وَزُلْقًا مِّنَ الَّيْلِ ( بور : ۱۱۴)
اور تسبیح کر اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ آفتاب نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اور رات کے وقتوں میں پھر تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر۔
کیا اس آیت میں چار علیحدہ علیحدہ اوقات کی تصریح نہیں ہے " تل طلوع الشمس اور دن کے کناروں میں سے ایک کنارا تو ظاہر ہے کہ صبح کا وقت ہے۔ قبل غروب سے مراد عصر ہے۔ انائی اللیل سے مراد عشاء ہے۔ ان تین وقتوں سے الگ دن کے دوسرےکنارے سے مراد اگر مغرب کا وقت نہیں تو کیا ہے؟ پھر یہ آیت بھی تو قرآن میں تھی' آپ نے اس کو کیوں نہ دیکھا؟
پس اللہ کی تسبح کرو جب تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔اور آسمان و زمین میں اس کے لیے حمد ہے۔ اور اس کی تسبیح کروسہ پہر کو اور جب تم پر دو پہر کا وقت آئے۔
کیا اس آیت میں حِينَ تُمْسُونَ سے مراد مغرب کے سوا کوئی اور وقت ہے؟ اورکیا جنین تظهرُونَ سے ظہر کے سوا کوئی دوسرا وقت مراد ہو سکتا ہے؟
اگر یہ آیات قرآن ہی کی ہیں اور ان سے نماز کے پورے پانچ وقت ثابت ہوتےہیں تو کیا اُس وعظ کو قرآنی وعظ کہا جا سکتا ہے جس میں مسلمانوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ نماز صرف تین وقت کی ہے اور یہ کہ ظہر و مغرب کی نماز کا حکم قرآن میں نہیں ہے؟
وہ کہتےہیں کہ دونوں اوقات ایسے ہیں جن میں آدمی کو یکسوئی میسر نہیں ہو سکتی،اور نماز کے لیے یکسوئی ایک ضروری شرط ہےلہذا نماز کےلیےیہ بالکل غیر فطری اوقات ہیں۔لیکن یہ عجیب بات ہےکہ یہی حق گو صاحب اپنی کتاب "مطالعہ حدیث" میں تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نماز کو پابندی وقت کےساتھ فرض کیا ہے اِنَّ الصلوة كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتابًا مُرْفُونًا (النساء : ۱۰۳) اب اگر وہ اپنی عقل پر کچھ بھی زور دیتےہیں تو ان کو خود معلوم ہو جاتا کہ پابندی وقت کے ساتھ یکسوئی کی شرط لگانا کسی عاقل کا کام نہیں ہو سکتا۔ عملی زندگی میں ان دونوں شرطوں کا ساتھ ساتھ نجھنا تقریبا محال ہے۔ وقت کی پابندی ہوں تو لازما جب وقت آئے گا نماز ضرور پڑھنی پڑے گی خواہ یکسوئی ہو یا نہ ہو۔ یکسوئی شرط ہوگی تو پھر وقت کی پابندی نہیں ہو سکتی۔ جب جس شخص کو کام کاج سے فرصت ہوگی نماز پڑھ لے گا۔ یہ دو مختلف شرطیں جہاں ایک ساتھ لگائی جائیں گی وہاں ان میں سے کوئی ایک ساقط ہو کر رہے گی ۔
معلوم ہوتا ہے کہ "حق گو" صاحب نےایک خود بین آدمی کی حیثیت سےصرف اپنی اور اپنےطبقےہی کی یکسوئی کے اوقات کا لحاظ فرمایا ہے ورنہ اگر وہ مجموعی طور پر عام انسانوں کےحالات پر نظر رکھتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ ایک سوئی کو نماز کے لیے ضروری شرط قرار دینے کے بعد صرف مغرب اور ظہر ہی نہیں بلکہ اس کام کے لیے سرے سے کوئی وقت مقرر کیا ہی نہیں جا سکتا۔آپ کہتےہیں کہ صبح کا وقت یکسوئی کا ہوتا ہے ۔ مگر کیا اُس مزدور کو بھی صبح کے وقت یکسوئی حاصل ہوتی ہے جسے طلوع آفتاب سے پہلے اپنے کارخانےمیں پہنچ جانا ہے؟ آپ کہتے ہیں کہ عصر کا وقت یکسوئی کا ہےممکن ہےکہ ڈپٹی کلکٹروں کےلیے ہو جو چار بجے دفتر سے اُٹھ کر گھر پہنچ جاتے ہیں۔مگر کیا اُس دکاندار کےلیےبھی یہ وقت یکسوئی کا ہوتا ہے جس کے پاس تیسرے پہر ہی خریداروں کا ہجوم ہو ا کرتا ہے۔آپ کہتے ہیں کہ عشاء کا وقت یکسوئی کا ہے۔ ممکن ہےکہ آپ کے لیے ایسا ہو۔مگر اُس ملازم سے پوچھیے جو اپنی ٹائٹ ڈیوٹی پر ہوتا ہے۔ کیا وہ بھی اقرار کرے گا کہ عشاء کے وقت اُسے یکسوئی میسر آتی ہے؟ نماز تنہا ایک شخص یا ایک مخصوص گروہ کےلیےتو نہیں ہےنہ اس کےاوقات مقرر کرنےمیں محض " صاحب لوگوں“ کے نظام الاوقات کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ یہ تو تمام لوگوں کے لیے ہے اور تمام لوگوں کےلیے رات دن کے اوقات میں سے کوئی وقت بھی ایسا معین نہیں کیا جا سکتا جس میں سب کو یک سوئی حاصل ہوتی ہو۔
تمام لوگوں کو بھی چھوڑیے۔ ایک شخص ہی کو لے لیجیے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ روزانہ دو یا تین مرتبہ نہ سہی ایک ہی مرتبہ مقررہ وقت پر اسے ہمیشہ یکسوئی حاصل ہوا کرتی ہے؟ سیکسوئی گھڑی کی سوئی کی پابند تو نہیں ہے کہ جہاں سوئی چکر کاٹ کر ایک خاص نشان پر پہنچی اور یکسوئی حاصل ہوئی۔ ممکن ہے کہ صبح کا وقت کسی شخص کے لیے عموماً یکسوئی کا ہوتا ہو۔ مگر لازم نہیں کہ ہمیشہ ایسا ہو۔ لہذا آپ کے فتوے کے مطابق جس روز صبح کو اُسےیکسوئی نصیب نہ ہو اس روز وہ صبح کی نماز چھوڑ دے۔ اسی طرح عصر اور عشا کے اوقات کی تعیین بھی اگر یکسوئی کے ساتھ مشروط ہو تو شاید کوئی شخص بھی ہمیشہ پابندی کے ساتھ ان اوقات میں نماز نہ پڑھ سکے گا۔ لہذا فتویٰ اس صورت میں مرتب کرنا پڑے گا کہ ان اوقات میں سے اگر کسی وقت یکسوئی حاصل ہو تو نماز ادا کر لو ورنہ دوسرے وقت کے لیے اٹھا رکھو۔یہ لازمی نتیجہ ہے نماز کے لیے یکسوئی کو ضروری شرط قرار دینے کا اور اس شرط کو پورا کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دوسری شرط یعنی پابندی وقت کی شرط ساقط ہو جائے۔
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ (مومنون: ۲۱) سےاستدلال صحیح نہیں۔ اس لیے کہ خشوع کے معنی یکسوئی کے نہیں، ضراعت کے ہیں ۔ یعنی خدا کے سامنے اپنے آپ کو ذلیل اور حقیر اور ضعیف و عاجز سمجھنا اور اعضا و جوارح سے اس کا اظہار کرنا۔ یہ بات یکسوئی کے بغیر بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ اگر انسان دل میں یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ وہ خدا کے سامنے عاجز اور ذلیل ہے اور اسی اعتقاد کے ساتھ وہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو رکوع میں جھکے اور زمین پر پیشانی رکھ کر سجدہ کرے تو بہر حال وہ خاشعین میں داخل ہو گیا خواہ اُسے مشاغل دنیوی سے یکسوئی حاصل ہو یا نہ ہو۔
وَلَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ وَأَنتُمْ سُكَاری (نساء: ۴۳) سے بھی استدلال غلط ہے۔ اس لیے کہ اس حکم سے متصل ہی اس کی غایت بھی بتا دی گئی ہے یعنی حتی تعلموا ما تقولون-حق گو صاحب کا استدلال یہ ہے کہ جب شراب حرام نہ ہوئی تھی اس وقت نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت کر دی گئی تھی اور اس ممانعت کی اصلی وجہ یہ تھی کہ نشہ کی حالت میں یکسوئی نہیں ہوتی۔مگر یہ سراسر غلط ہے۔نشےکی تو سب سےبڑی خصوصیت یہی ہے کہ اس میں یکسوئی (Concentration) خوب ہوتی ہے۔ قرآن کا بھیجنے والا ایسی خلاف واقعہ بات کیسے کہہ سکتا ہے۔ اس نے ممانعت کے ساتھ خود ہی اس کی یہ وجہ بھی بیان کر دی کہ نشے کی حالت میں تم کو اپنے او پر قابو نہیں رہتا، زبان سے کچھ کا کچھ نکل جاتا ہے اور تم کو خبر تک نہیں ہوتی کہ تمھاری زبان سے کیا نکل رہا ہے۔ لہذا جب تم اس حال میں ہو تو نماز کے قریب بھی نہ پھٹکو ۔ نماز اس وقت پڑھو جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو۔
اس میں شک نہیں کہ یکسوئی کے ساتھ نماز پڑھنا افضل ہےجس قدر زیادہ حضور قلب انابت اور توجہ الی اللہ کے ساتھ نماز پڑھی جائے گی اُسی قدر زیادہ کامل اور بارگاہ الہی میں مقبول ہوگی۔ مگر کسی چیز کا وجہ کمال ہونا اور چیز ہے اور شرط لازم ہونا اور چیز ۔ نماز کے لیے جو ارکان مقرر کیےگئے ہیں،اگر ان کو ایمان کےساتھ اوقات مقرر میں ادا کر دیا۔جائے تو بہر حال نماز ہو جائے گی 'خواہ کامل ہو یا نہ ہو ۔اس لیے ہم کو صرف اطاعت امر کی تکلیف دی گئی ہے نہ کہ درجہ کمال کو پہنچنے کی ۔ اگر ہم ادائے فرض پر اکتفا نہ کریں اور خود اپنی دلی رغبت سے کمال کو پہنچنے کی کوشش کریں تو یہ احسان کا درجہ ہے جس کےلیے مزید ثواب اور انعام ہے۔ لیکن احسان کو ہم پر فرض نہیں کیا گیا کیونکہ اس کی فرضیت اسلام کو صرف کاملین کے لیے مخصوص کر دیتی اور عام افراد انسانی جن میں کمال کو پہنچنے کی صلاحیت نہیں ہے اس سے محروم رہ جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں نماز کی فرضیت پر تو بہت زور دیا گیا ہے مگراس کے ساتھ حضور قلب اور مشاغل دنیادی سے یک سوئی کی شرط نہیں لگائی گئی۔
"حق گو" صاحب نے اسلام کی نماز کو بھی راہیوں کی عبادت اور جوگیوں کی ضرورت سمجھ لیا ہے اسی لیے وہ ایک سوئی کو نماز کےلیےضروری شرط قرار دےرہےہیں جو قریب قریب دھیان اور مراقبہ کی ہم معنی ہے۔حالانکہ نماز دراصل تارک الدنیا لوگوں کےلیے نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کےلیےہےجن کو دنیا کےدھندوں میں پھننےاور فطرت کے تمام داعیات پورے کرنےاور دنیوی زندگی کی ساری ذمہ داریاں اپنےسر لینےکا حکم دیا گیا ہے۔ اگر جناب " حق گو ذرا غور وفکر سے کام لیتے اور اسلام کی اسپرٹ اور اس کے نظام کی عقلی بنیادوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو ان کو معلوم ہو جا تا کہ یہ مذہب دین کو دنیا سے الگ نہیں کرتا بلکہ دنیا داری کی اس طرح اصلاح کرنا چاہتا ہے کہ وہی عین دین داری بن جائے۔ اس نے نجات کا راستہ دنیا سے باہر نہیں نکالا ہے۔ وہ دُنیوی کاروبار کے عین منجدھار میں سے ایک سیدھا راستہ نکالتا ہے اور کہتا ہےکہ یہی راستہ تم کو جنت النعیم کی طرف لے جائے گا۔اس کا اصل الاصول یہ ہےکہ تم دنیا کے تمام کاروبار ایک پورے اور پکےدنیا دار کی طرح انجام دو مگر یہ حقیقت پیش نظر رکھو کہ تمھارا اصلی حاکم خدا ہےاُسی کےحکم کی اطاعت تم پر واجب ہے ظاہر اور باطن میں جو کچھ تم کرتے ہو سب کو وہ جانتا ہےاور ایک دن تم سے تمھاری زندگی کے تمام اعمال کا حساب لینے والا ہے۔ اگر تم نے دنیا میں اس کے احکام کی اطاعت کی اپنے معاملات میں اس کے حدود کوملحوظ رکھا اور اس کے مقبرر کیے ہوئے قوانین پر عمل کیا تو اس کی خوشنودی سے سرفراز کیے جاؤ گے ورنہ اس کے غضب میں گرفتار کیے جاؤ گے۔ یہی سبق ہے جس کو بار بار یاد دلانے کے لیے نماز فرض کی گئی ہےاور اس کے لیے ایسے اوقات مقرر کیے گئے ہیں جن میں اس تذکیر کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
یہ خدا کی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ ہدایت ہے اُن پرہیز گاروں کےلیےجو غیب پر ایمان لاتےہیں، نماز قائم کرتےہیں،جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتےہیں اور جو ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر جو ہم نے تیری طرف نازل کی ہے اور ان کتابوں پر جو تجھ سے پہلے نازل کی گئی تھیں اور جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
اس آیت پر غور کیجیے ۔ قرآن کی ہدایت و رہنمائی سے مراد بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ انسان کو دنیا میں فکر و عمل کی صحیح راہ بتاتا ہے علم کی روشنی دیتا ہے زاویہ نظر کو سیدھا کر دیتا ہے اور عمل کا وہ راستہ دکھاتا ہے جو انسان کو اس دنیوی زندگی کے بیچ در پیچ راستوں میں سے سلامتی کے ساتھ گزار کر فلاح اُخروی کی طرف لے جانے والا ہے ۔ مگر یہ راستہ صرف اُس شخص کے لیے کھل سکتا ہے اور اس کے لیے آسان ہو سکتا ہے جو غیب پر ایمان لائےخدا کو مانے یومِ آخر کے پیش آنے پر یقین رکھئے نماز پڑھے اور محض خدا کی خوشنودی کےلیے اپنا وہ مال خرچ کرےجس کو وہ عزیز رکھتا ہے۔ جو شخص ان شرائط کو پورا کرے گا وہی قرآن کےبتائےہوئے طریق زندگی پر چل سکے گا اور وہی کامیاب ہوگا او لنگ غلی هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (بقره:۵)
نماز ایمان بالغیب کو راسخ کر دیتی ہے۔ وہ ایک ان دیکھے خدا پر ایمان ہی ہے جو ایک شخص کو اپنا آرام اپنا کام کاج اپنے فوائد ومنافع سب کچھ چھوڑ کر دن میں کئی دفعہ نماز پڑھنے پر آمادہ کرتا ہے اور اس کو بار بار کھینچ کر مسجد یا مصلی کی طرف لے جاتا ہے۔ ایمان کی تحریک سے نفس کے اس طرح بار بار متاثر ہونے اور اسی کی متابعت میں جوارح کےحرکت کرنےکا نتیجه یہ ہوتا ہےکہ رفتہ رفتہ نفس پر ایمان کا اقتدار مستحکم ہوتا چلا جاتا ہےاور اس میں اتنی قوت پیدا ہو جاتی ہے کہ مقتضیات ایمان کے مطابق سیرت کی تشکیل کر سکے۔در حقیقت نماز ہی ایک ایسا فعل ہے جس میں انسان قول و عملاً اسلام کے پورے عقیدےکا اعادہ کرتا ہے۔ تکبیر سے لے کر سلام تک جو کچھ ہے وہ اُسی عقیدے کی تکرار ہے۔ خدا پر ایمان اس کے رسول پر ایمان اس کی کتابوں پر ایمان اس کے یومِ الحساب پر ایمان اس کو حاکم حقیقی سمجھنا اس کی خوشنودی کا طلب گار ہونا اس کے حساب سے ڈرنا‘ اس کو علیم و خبیر جانتا یہ سب کچھ نماز میں آجاتا ہے۔ شعور جلی میں نہ سہی، شعور مخفی میں تو ضرور یہ سب اُمور ہر اُس شخص کے دل میں موجود ہوتے ہیں جو نماز کی پابندی کرتا ہے کیونکہ اگر ذہن ان سے خالی ہو تو انسان نماز کی پابندی کر ہی نہیں سکتا۔
جب اس بار بار کی تکرار اور پیہم اعادہ کی وجہ سے یہ عمل انسان کے ذہن میں اسلام کے عقیدے کو مستحکم کر دیتا ہے اور اُس کی متابعت میں جسم کو امتثال امر کا خوگر بنا دیتا ہے تو اس سے لازمی طور پر انسان کو عملاً اطاعت احکام الہی کی مشق ہوتی چلی جاتی ہے۔اس میں فرض شناسی کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس میں یہ قابلیت نشو ونما پاتی ہے کہ اپنی زندگی کے معاملات میں اسلام کے ڈسپلن کی پابندی کر سکے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص روزانہ صبح کی نیند کا لطف چھوڑ کر نماز کے لیے اُٹھے گا محض اس لیے کہ خدا نے اس کو نماز کا حکم دیا ہے۔ جو شخص ہر روز ظہر اور عصر کے اوقات میں اپنی کا روباری مصروفیتوں سے ہاتھ اٹھا کر مسجد کی طرف دوڑے گا محض اس لیےکہ اس کا ان دیکھا خدا اسے بلا رہا ہے جو شخص ہمیشہ مغرب کے وقت اپنی شام کی تفریحوں اور دلچسپیوں کو چھوڑ چھاڑ کر نماز کے لیے کھڑا ہو گا محض اس لیے کہ خدا نے یہ فرض اس پر عائد کیا ہےجو شخص ہر رات کو معصیت کےمواقع کی طرف جانے کے بجائے اپنے خدا کی طرف جائے گا محض اس لیے کہ خدا کے حکم کی اطاعت کو وہ اپنا فرض جانتا ہے اس سے یہ امید بھی کی جاسکتی ہے اور اسی سے یہ اُمید کی جاسکتی ہےکہ نماز سےفارغ ہو کر جب وہ عملی زندگی کے میدان میں قدم رکھے گا تو اُسی ان دیکھے علیم و خبیر معبود کا خوف اس کو خفیہ اور علانیہ گناہوں سے روکے گا اس کے ہاتھ کو ظلم و تعدی کی طرف بڑھنے سے باز رکھے گا اسے خدا کے احکام کی اطاعت اور اس کے قوانین کی پابندی اور اس کے قائم کردہ حدود کا لحاظ کرنے پر اُبھارے گا اور اس میں اتنی قوت پیدا کر دے گا کہ نہ آسائش کا خیال اسے ادائے فرض سے روک سکے نہ دُنیوی فوائد کی طمع اس کو حد سےتجاوز کرنے پر آمادہ کر سکے اور نہ دنیا کی دلچسپیاں اس کو خدا سے غافل کر سکیں ۔ بالفرض اگر نماز سے اُس کی اخلاقی تربیت اتنی مکمل نہ بھی ہو سکے تو کم از کم اُس کی فرض شناسی اور اطاعت کیشی اور خدا تری اُس شخص سے تو زیادہ ہی ہوگی جو خدا کی پکار سنتا ہے اور ٹس سےمس نہیں ہوتا۔ یا جس کو کبھی یہ عادت ہی نہیں پڑی کہ جب خدا اور خلق کے تقاضے اُسےمخالف سمتوں میں کھینچیں تو وہ خلق سے کٹ کر خدا کی طرف جائے ۔
نماز اگر حضور قلب اور کامل توجہ کے ساتھ ہو تو اس کے رُوحانی فوائد کا پوچھنا ہی کیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جس مصلحت عظمیٰ کےلیےاس چیز کو فرض کیا ہےوہ تو سیکسوئی کے بغیر بھی اوقات مقررہ پر نماز کے ارکان ادا کر لینےسےحاصل ہو جاتی ہے۔یہی وجہ ہےکہ قرآن میں ایک سوئی اور حضور قلب پر زور دینے کے بجائے اوقات کی پابندی پر زیادہ زور دیا گیا ہے اور رات کے وقت سکون و اطمینان کی حالت میں جو نماز ادا کی جاتی ہے اس کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی جتنی اُس کو دی گئی ہے جو دنیوی کاروبار کے انہماک سے اُٹھ کر ادا کی جاتی ہے۔ ارشاد ہے کہ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلوةِ الْوُسْطَى (بقره: ۲۳۸) صلوة وسطی سے مراد عموماً عصر کا وقت لیا گیا ہے اور احادیث بھی زیادہ تر اسی کی تائید میں ہیں۔ تمام نمازوں سے الگ اس نماز کی پابندی پر خاص طور سے زور دینے کی وجہ یہی ہے کہ اس نماز کا وقت ایسا ہے جس میں عام طور پر لوگ زیادہ مشغول ہوتے ہیں۔ یہ تخصیص صاف بتا رہی ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک تمھاری توجہ اتنی پسندیدہ نہیں ہے جتنی یہ ادا پسندیدہ ہے کہ جب اس کی پکار تمھارے کان میں پہنچے تو تم اپنے مشاغل اپنی دلچسپیاں اپنے فوائد و منافع سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کی طرف لپکو اور اس کےحکم کی بجا آوری کو ہر اُس چیز پر ترجیح دو جو تمھیں عزیز ہو۔ اس لیے نماز جمعہ کا حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے کہ إِذا نُودِي لِلصَّلوة مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا البَيْعَ ذَالِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ (الجمعہ: ۱۰۹) جب جمعہ کی نماز کے لیے پکارے جاؤ تو یاد خدا کی طرف دوڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو ۔ یہ تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ پھر جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اپنے کاروبار میں خدا کا فضل تلاش کرو۔
آپ کہتے ہیں کہ دنیوی مشاغل کے اوقات میں نماز بے دلی سے ہوتی ہے۔ دل اپنے کاروبار یا کھیل کود میں پڑا رہتا ہے۔ خدا کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ بغیر سمجھے بوجھےمحض رٹے ہوئے الفاظ زبان سے ادا ہوتے ہیں اور بلا ارادہ چند جسمانی حرکات سرزد ہو جاتی ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ یہی نماز بڑی قیمت رکھتی ہے۔ جو شخص اپنے کاروبار یا اپنی تفریح سے اتنی دلچسپی رکھتا ہے کہ اُس سے ہٹنے کے بعد بھی اُس کا دل وہیں پڑا رہتا ہے وہ تو اپنےخدا کے لیے بڑی قربانی کرتا ہے کہ اپنی ایسی دلچسپی میں بھی اس کا حکم یاد کرتا ہے اور اس کے فرمان کی بجا آوری کے لیے مسجد کی طرف دوڑ جاتا ہے۔ کیسا اچھا بندہ ہے وہ کہ اپنی توجہ اپنی پسند خاطر چیز سےہٹا کر خدا کی طرف پھیر دیتا ہے اور بادلِ ناخواستہ ہی سہی مگر دل پر جبر کر کے خدا کا ذکر کرتا ہے۔ کیا آپ کے نزدیک اس ایثار اس اطاعت امر اور اس فرض شناسی کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے؟کیا یہ شخص اپنےخدا کی آزمائش میں پورا نہیں اُترا؟ کیا اس نے ضبط نفس اور خدا ترسی کا ثبوت نہیں دیا ؟ کیا اس نے اپنے عمل سے ثابت نہیں کر دیا کہ اس میں فرض کی خاطر اپنے مرغو بات کو قربان کر دینے کی قوت موجود ہے؟ اگر وہ ان ایمانی اور اخلاقی صفات کا مالک نہ تھا تو کیا چیز تھی جو اس کو فائدہ بخش یا دل پسند کام سے بنا کر نماز کی طرف کھینچ لائی ؟ یہاں بجز اطاعت امر اور خوف خدا کے اور کیا صفت یا دلچسپی ہے؟
افسوس ہے کہ اسلام کے ایسے ایسے اہم مسائل اور احکام پر آج وہ لوگ اپنےاجتہاد کی قینچیاں چلا رہے ہیں جن میں نہ اتنی علمی و عقلی استعداد ہےکہ اسرار دین تو در کنار اس کے مبادی بہی کو سمجھ سکیں' نہ اتنا خوف خدا ہے کہ مہمات دینی اپنےسطحی اور جاهلانه اجتهادات کی اشاعت سے ہزاروں مسلمانوں کے اعتقاد و محمل کو خراب کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لیتے ہوئے ڈریں، نہ اتنی اخلاقی جرات ہے کہ علم وفہم کا جھوٹا پندار چھوڑ کر جو کچھ نہ جانتے ہوں اس کے جانے والوں سے پوچھیں اور جو کچھ نہ کجھتے ہوں اس کو سمجھنے والوں سے سمجھیں۔ مسلمانوں کی کیسی شامت ہے کہ آج اس حیثیت کے لوگ دین و دنیا میں ان کی رہنمائی کرنے کے لیے اٹھنے کی جرات کر رہے ہیں۔
"جہاں تک اوقات نماز کا تعلق ہے آپ نے "حق گو" کے شبہات کو اس طرح دُور کر دیا ہے کہ کسی بحث و کلام کی گنجائش باقی نہیں رہی، لیکن جہاں آپ نے یہ بتایا ہے کہ انسان کی عملی زندگی پر نماز کا کیا اثر مترتب ہوتا ہے اور نماز کس طرح انسان کو اطاعت احکام الہی کا خوگر بناتی اور اس میں فرض شناسی کا مادہ پیدا کرتی اور اسےزندگی کے معاملات میں اسلام کے ڈسپلن کی پابندی کرنے کےقابل بناتی ہے وہاں ایک طہ پیدا ہوتا ہے جس کا کوئی جواب میری سمجھ میں نہیں آتا۔ نظریہ کی حد تک تو میں مانتا ہوں کہ نماز اور صرف نماز ہی نہیں، اسلام کی دوسری فرض عبادات بھی اسی غرض کے لیےرکھی گئی ہیں کہ انسان کی عملی زندگی پر ان کا اثر مترتب ہو اور ان کےلیے جو صورت مقرر کی گئی ہے وہ یقیناً ایسی ہے کہ اس کا وہی اثر اخلاق وسیرت اور کردار پر مترتب ہونا چاہیے جو مقصود ہے ۔ مگر اس کی کیا وجہ ہے کہ آج ہم اس اثر کو مسلمانوں کی عملی زندگی میں مفقود پاتے ہیں؟ چاہیے تو یہ تھا کہ نماز پڑھنے والے روزہ رکھنےوالے حج اور زکوۃ ادا کرنے والے مسلمان اسلامی اخلاق کے نمونے ہوتےصداقت امانت، تقوی وطہارت کے پتلے ہوتے ۔ مگر واقعہ اس کےخلاف نظر آتا ہے۔ نمازیوں روزہ داروں اور حاجیوں کو ہم باعتبار اخلاق و معاملات ان لوگوں سے کچھ بھی مختلف نہیں پاتے جو نماز روزہ اور دوسری عبادات کے تارک ہیں۔ بلکہ بہت سے عبادت گزار لوگوں کا حال تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انھوں نے اپنی عبادت گذاری کو اپنے معاملات کی خرابی کے لیے سپر بنا رکھا ہے اور ان کے اعمال کی خرابیوں کو دیکھ دیکھ کر اکثر نئے تعلیم یافتہ حضرات خود نماز روزے کی طرف سے بدگمان ہوتے جارہے ہیں۔"
اس خط میں معترض نے جو شبہ ظاہر کیا ہے وہ آج کل عام طور پر دلوں میں پایا جاتا ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایک حد تک واقعات پر مبنی بھی ہے مگر اس میں کوئی ایسا اشکال نہیں ہے جس کے حل میں دشواری ہو۔ معترض خود تسلیم کرتا ہےکہ اسلامی عبادات کا نظریہ اپنی جگہ بالکل درست ہے۔ عقل حکم لگاتی ہے کہ جس غرض کے لیے یہ عبادات فرض کی گئی ہیں وہ اُن سے بدرجہ اتم پوری ہونی چاہیے کیونکہ انسان کے نفس کو خدا کی طرف متوجہ کرنے اور احکامِ خداوندی کی اطاعت کا خوگر بنانے کے لیے اس سےبہتر کوئی عملی طریقہ نہیں ہو سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ عالم واقعہ میں بھی اس نظریہ کی صحت ثابت ہو چکی ہے۔ قرون اولی میں اسی نماز روزے اور حج و زکوۃ نے اسلام کے نصب امین کے مطابق عرب و عجم کے لاکھوں کروڑوں انسانوں کی رُوحانی و اخلاقی تربیت کی تھی اور ان کے اخلاق وسیرت اور کردار پر وہی اثر ڈالا تھا جو اسلام کا مقصود تھا۔ اب اگر ہم کسی شخص یا جماعت کی عملی زندگی میں ان عبادات کے وہ اثرات نہیں دیکھتےتو ان عبادات کی تاثیر میں طلبہ کرنے کے بجائے ہم کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نفوس کی اثر پذیری کی صلاحیت کسی وجہ سے ماؤف ہو گئی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے۔ تجربہ و مشاہدہ کی حمرار نے اس امر میں کسی طلبہ کی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے کہ آگ کا کام جلانا اور لکڑی کا کام جل جاتا ہے۔ اس یقینی علم کے بعد اگر کسی وقت ہم یہ دیکھتے ہیں کہ لکڑی کو آگ پر رکھا جا رہا ہے اور وہ نہیں جلتی تو ہم کو یہ گمان نہیں ہوتا کہ آگ میں جلانے کی خاصیت نہیں رہی ہے بلکہ ہم یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ لکڑی گیلی ہے اس میں آگ کا اثر قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح جس طریق تربیت و ہدایت کے متعلق از روئے عقل ہم جانتے ہیں کہ نفوس پر اس سے ایک خاص اثر مترتب ہونا چاہیےاور اس کی عین فطرت اس کی مقتضی ہےکہ اس سے نفوس پر وہی اثر مترتب ہو اور تجربےسےثابت بھی ہو چکا ہےکه مختلف زمانوں اور مختلف حالات میں بے شمار نفوس پر فی الواقع وہی اثر مترتب ہوا ہےاس کی تاثیر کو اگر ہم بعض نفوس کے حق میں ناکام دیکھتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہمارے دل میں اس کی تاثیر کے متعلق کوئی شک پیدا ہو؟ کیوں نہ ہم سمجھیں کہ گیلی لکڑی کی طرح ان نفوس میں بھی اثر قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے؟
جہاں تک نماز کی ظاہری صورت کا تعلق ہےوہ تو اس کےسوا کچھ بھی نہیں ہےکہ اوقات مقررہ پر چند جسمانی حرکات کا اعادہ اور چند مقرر الفاظ کی تکرار ہے اور یہی حال دوسری عبادات کا بھی ہے۔ ایک خاص مہینے میں صبح سے شام تک اکل و شرب اور مباشرت سےمجتنب رہے اس کا نام روزہ ہو گیا۔سال میں ایک مرتبہ اپنے مال میں سے ایک مقررہ مقدار مخصوص مصارف کےلیے نکال دی یہ زکوۃ ہوگئی۔ ایک خاص زمانے میں تجاز کا سفر کر لیا اور مخصوص مقامات پر چند مناسک ادا کر دیئے یہ حج ہو گیا۔ ظاہر ہے کہ بجائے خودان افعال میں کوئی ایسی چیز نہیں ہےجو انسان کے نفس پر اثر انداز ہو سکتی ہو مجرد افعال ہونےکےلحاظ سےنماز اور ایک جسمانی ورزش روزےاور فاقےزکوۃ اور سرکاری ٹیکس حج اور عام سفروں کےدرمیان کچھ بھی فرق نہیں۔اور کوئی صاحب عقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ ورزش جسمانی سےرُوح میں لطافت پیدا ہوتی ہےیا فاقہ کرنےسے اخلاقی تربیت ہوتی ہےیا ٹیکس ادا کرنے اور کسی مقام کا سفر کر آنے سے انسان میں اعلیٰ درجے کے اوصاف پیدا ہو جاتے ہیں۔
مگر جو چیز ان اعمال کو دوسرے افعال سے ممتاز اور ان کو تہذیب اخلاق و تزکیه نفس و تصفیه رُوح کا ایک بہترین ذریعہ بناتی ہےوہ ایمان ہےایمان ہی رکوع و سجود اور قیام و قعود کو "نماز" بہاتا ہے۔ وہی فاقے کو "روزے" میں تبدیل کر دیتا ہے۔ وہی ٹیکس کی ماہیت میں انقلاب پیدا کر کے اُسے"زکوۃ" کا بلند مرتبہ بخشتا ہے اور وہی ایک خاص قسم کےسفر کو سیر و سیاحت کےادنیٰ مقام سےاُٹھا کر "حج" کےاعلیٰ مقام پر پہنچا دیتا ہےدر حقیقت ان تمام عبادات کی روح اور ان کا جو ہر وہی ہے۔ اس سے ارکان عبادت میں معنویت پیدا ہوتی ہے۔ وہی اُن ارکان کو تاثیر کی قوت بخشتا ہے۔ اُسی کی بدولت نفس میں اُن سے متاثر ہونے کی استعداد پیدا ہوتی ہے۔
اب ظاہر ہےکہ اگر کوئی شخص واقعی ایمان رکھتا ہو خدا کو اپنا خدا سمجھتا ہو آخرت کی زندگی پر عقیدہ رکھتا ہو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول مانتا ہو اور ان کی لائی ہوئی تعلیم کو خدا کی تعلیم سمجھتا ہو تو ممکن نہیں ہے کہ وہ دن میں پانچ وقت نماز کا سبق تازہ کرے اور پھر بھی اس کی لوح دل اس سبق کے اثر سے یکسر خالی رہے اور اس کی روز مرہ زندگی میں خوف خدا اور اطاعت احکام الہی کا کوئی نشان نمایاں نہ ہو ۔ ہر سال پورے ایک مہینے تک سخت ضوابط کے ماتحت پر ہیز گاری اور خدا ترسی کی تربیت پاتا رہے اور پھر بھی اس کی زندگی میں قطعاً کوئی انقلاب نہ ہو حتی کہ وہ بالکل ایسا کورے کا کورا رہ جائے کہ گویا اس نے کوئی تربیت پائی ہی نہیں۔ خالص ایمان بالغیب کی تحریک پر ہر سال اپنے محبوب مال کی قربانی کرتا رہے۔ اور پھر بھی اُسی فتح نفس اور قساوت قلب اور حرام خوری و خود غرضی کےمرض میں مبتلا رہے جو ایک بے ایمان خود پرست انسان میں پائی جاتی ہے۔ اپنے رب کی پکار پر تیک تیک کہتا ہوا اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنے مفید و محبوب مشاغل ترک کر کےفقیرانہ لباس پہن کر نکلئے ایک مدت دراز تک اسی شوق اور عشق کی لگن دل میں لیے ہوئےسفر کرئے یہاں تک کہ مرکز اسلام میں پہنچ کر اپنی آنکھوں سے اللہ کی اُن روشن نشانیوں کا مشاہدہ کر لے جو خدا کے نیچے اور مطیع فرمان بندوں کی سرفرازیوں پر اور سرکشوں کی نامرادیوں پر کھلی گواہی دے رہی ہیں، اور پھر بھی جب واپس آئے تو اس سفر کے آثار اور نتائج سے اس کی سیرت ایسی معر ا ہو کہ وہ گویا کہیں گیا ہی نہیں اور اس کی آنکھوں نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔
یہ ضرور ہے کہ کمیت و کیفیت کے اعتبار سے ہر نفس پر ان عبادات کی تاثیرات یکساں نہیں ہو سکتیں۔ نفوس کی کم و بیش صلاحیتوں کےلحاظ سےاور قوت ایمانی کی زیادتی اور کمی کےلحاظ سےاُن کا کم و بیش اور شدید وضعیف ہونا ایک فطری بات ہے۔ لیکن یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ ایمان کے ساتھ جو عبادت کی جائے وہ بالکل ہی بے اثر ثابت ہو۔ہم یہ بات قطعیت کےساتھ کہہ سکتےہیں کہ جو شخص نماز کو فحشاء ومنکر کے ساتھ جمع کرتا ہےجس کی زندگی میں روزہ اور فسق ایک ساتھ پائے جاتےہیں،جس کی سیرت میں حرام خوری اور زکوۃ دونوں بہم ہیں' جو حج اور جتک حرمات کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا رہا ہے اس کی نماز نماز نہیں ایک عادی حرکت ہے اس کا روزہ، روزہ نہیں فاقہ ہے اس کی زكوة " زکوۃ نہیں چندہ یا ٹیکس ہے اس کا حج، "حج" ، نہیں بلکہ اس کے حق میں ویسا ہی ایک سفر ہے جیسا پیرس اور لندن کا سفر ۔
یہ جو کچھ کہا گیا' اس کے مصداق صرف وہی لوگ ہیں جن کی سیرت اور کردار پر معترض کے بیان کے مطابق عبادات اسلامی کا کوئی اثر مترتب نہیں ہوتا ۔ لیکن مجھے یہ تسلیم کرنے سے قطعی انکار ہے کہ مسلمانوں میں جتنے نمازی روزہ دار زکوۃ کے پابند اور حج ادا کرنے والے ہیں سب کے سب ایسے ہی ہیں۔ ممکن ہے کہ ایک قلیل تعداد ایسے منافقین پر بھی مشتمل ہو لیکن الحمد للہ کہ اکثریت کا یہ حال نہیں ہے۔ اکثریت جس مرض میں مبتلا ہےوہ نفاق نہیں، بلکہ ضعف ایمانی ہے۔ اسی ضعف کا یہ نتیجہ ہے کہ عبادات کی تاثیریں بھی ضعیف ہوگئی ہیں۔ نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں، حج بھی کر آتےہیں مگر یہ سب چیزیں دلوں کو مس کرتی ہوئی اس طرح گزر جاتی ہیں جیسے بھاپ آئینے کی سطح پر ایک ہلکی سی نمی چھوڑ کر گزر جائے ۔ یہ تاثیر کا عدم نہیں بلکہ اس کا ضعف ہے۔ ایمان کی چنگاریاں دلوں میں دبی چھپی اب بھی موجود ہیں اور ان کی حرارت سے عبادتیں کچھ نہ کچھ اثر ضرور کر رہی ہیں۔ لیکن وہ اثر اتنا کمزور ہوتا ہے کہ عبادت گزاروں کی سیرت اور کردار میں اس کے نشانات کچھ بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوتے ۔
میں یہ ماننے سے بھی انکار کرتا ہوں کہ مسلمانوں میں جو لوگ عبادات کے پابند ہیں، ان کا حال عبادت نہ کرنے والوں سے بدتر یا اُن کے برابر ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہماری قوم میں اب بھی اگر مجموعی حیثیت سے دیکھا جائے تو اخلاقی حیثیت سے وہی عصر زیادہ بہتر پایا جائے گا جو نماز روزے کا پابند ہے۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ دیکھنے والوں کی نگاہوں میں خدا فراموش لوگوں کی بہ نسبت عبادت گزاروں کی برائیاں زیادہ کھنکتی ہیں۔ایک تارک صوم و صلوۃ کی بدسیرتی و بد معاملگی اتنی زیادہ بری معلوم نہیں ہوتی جتنی ایک پابند صوم و صلوۃ کی بدسیرتی و بد معاملگی بےنمازی سےبرائی بھی متوقع ہوتی ہے اس لیےجب وہ بُرائی کرتا ہے تو اس کی کچھ زیادہ شکایت نہیں ہوتی ۔مگر نمازی سے ہر شخص یہ امید رکھتا ہے کہ وہ خدا سے ڈرنے والا اور پرہیز گار ہوگا۔ اس لیے جب اس سے عام توقعات کے خلاف بُرے اوصاف کا ظہور ہوتا ہے تو یہ معاملہ ہر آنکھ میں کھٹک اور ہر زبان پر شکایت پیدا کر دیتا ہے۔ سفید دیوار پر سیاہی کی ایک چھینٹ بھی ہو تو ہر دیکھنےوالا اس عیب پر انگلی اٹھائے گا۔ باورچی خانے کی سیاہ دیواروں پر جتنا چاہے کوئلہ مل دیکھیے۔ کسی کو بھی اس کی پروا نہ ہوگی۔
بے جا مبالغہ اگر نہ کیا جائے تو حقیقت صرف اتنی ہی ہے کہ ہمارے درمیان ایک عظیم اکثریت ایسے نمازیوں اور عبادت گزاروں اور حاجیوں کی ہے جو ان عبادات سےاصلاح نفس کے وہ پورے فوائد حاصل نہیں کر رہی ہے جو دراصل ان سے حاصل ہو سکتےہیں ۔ اور یہ بات کچھ بے سبب نہیں ہے۔ اس کا ایک اہم سبب ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایمان جو ان عبادات کی جان اور ان کی تاثیر کا اصل موجب تھا، دلوں میں ضعیف ہو گیا ہے۔
پھر ضعف ایمان کا بھی ایک سبب ہے اور وہ ہے قرآن کی تعلیم سے نابلد ہونا۔ خدا نے ایمان کی دعوت دینے کے لیے جس چیز کو ذریعہ بنایا تھا وہ تو یہی قرآن تھا مگر عام مسلمان اس کے فہم سے محروم اور اسی کی تعلیم سے ناواقف ہیں ۔ اب آخر دلوں میں ایمان کانشو ونما ہو تو کس طرح ۔
ایک اور چیز جس کا ہماری عبادتوں کو ضعیف الاثر بنانے میں بڑا حصہ ہے دین اور دنیا کی علیحدگی کا غلط تخیل ہے۔ یہ دراصل جاہلیت کا اعتقاد تھا جس کو اسلام نے بالکل مٹا دیا تھا۔ مگر نہ معلوم اس نے کس طرح مسلمانوں میں راہ پالی۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ یہ سمجھتےتھے کہ دین انسانی زندگی کے شعبوں میں سے محض ایک شعبہ ہے جس کا دوسرے شعبوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مذہبی رسوم عبادات اور قربانیاں محض اس لیے ضروری ہیں کہ خدا یا دیوتاؤں کو خوش کیا جائے اور زندگی کے معاملات میں اُن کی تائید حاصل کی جائے۔ ان فرائض کو انجام دے کر جب انسان عبادت گاہوں سے باہر نکلے تو مذہب کی طرف سے اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور وہ مختار ہوتا ہے کہ اپنی دنیا کے معاملات جس ڈھنگ پر چاہے چلائے ۔ اسلام نے اس غلط حد بندی کو مٹایا۔ دین کو زندگی کا ایک شعبہ نہیں بلکہ پوری زندگی کا نظام العمل قرار دیا تھا۔ عقائد اور اخلاق کے درمیان ایمان اور سیرت کےدرمیان عبادات اور معاملات کے درمیان مذہبی اعمال اور دنیوی اعمال کے درمیان ایک گہرا ربط قائم کیا۔ اور انسان کی دنیوی زندگی ہی کو بالکلیہ دینی زندگی دیا۔ اس نے بتایا کہ دین اس دنیا کے معاملات سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اسی دنیا کے کاروبار میں اللہ تعالی کے قانون کی پیروی اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی اور اس کی رضا کےاتباع کا نام دین ہے۔ عبادات اور معاملات دو مختلف چیزیں نہیں ہیں بلکہ معاملات ہی میں حدود اللہ کی پابندی اور خوشنودی الہی کی طلب اور تقرب الی اللہ کی سعی کا نام عبادت ہے۔نماز روز اور اور حج و زکوۃ کو عبادت اور فرض قرار دینے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ عبادت کو انھی اعمال میں منحصر کر دیا جائے بلکہ دراصل یہ اعمال انسان کو اُس بڑی عبادت کے لیے مستعد کرنے والے ہیں جس کا دائرہ اُس کی پوری زندگی پر وسیع ہے۔ مسلمان کی عبادت گاہ پوری کائنات ہے۔ اس کی ساری زندگی عبادت ہے۔ اس کو ہر آن خدا کا عبادت گزار بندہ ہونا چاہیے۔ اس کا معبد صرف اس کی مسجد تک محدود نہیں بلکہ مسجد اس کی تربیت گاہ ہےجہاں وہ عبادت کی قابلیت پیدا کرتا ہے۔ اگر اس کی نماز اور اس کے روزے اور اس کی دوسری عبادتوں کا ربط اس کے معاملات سے منقطع ہو جائے اور وہ اپنی زندگی کے اعمال میں قانون الہی کے اتباع سے آزاد ہو تو محض صوم و صلوۃ کی پابندی سے وہ دین دار اور عبادت گزار بندہ نہیں بن سکتا۔
افسوس ہے کہ دین کا یہ تصور رفتہ رفتہ مسلمانوں کے ذہن سے محو ہوتا جا رہا ہے اور دین و دنیا کی علیحدگی کا وہی جاہلی تصور اس کی جگہ لےرہا ہےجس کو اسلام نےمٹا دیا تھا۔اور یہ اسی غلط تصور کا نتیجہ ہےکہ عبادات اور معاملات کا باہمی تعلق منقطع ہو گیا۔ عملی زندگی سے نمازوں کا ربط ٹوٹ گیا۔ معاشیات پر زکوۃ کی فرماں روائی باقی نہ رہی۔سال کےگیارہ مہینےرمضان کی حکومت سے آزاد ہو گئے بلکہ رمضان المبارک غریب خود بھی اپنےحدود میں صرف حلق کا دربان بنا کر رکھ دیا گیا۔ حج کی حیثیت ہندوؤں کی جاترا اور عیسائیوں کے Pilgrimage سے زیادہ نہ رہی ۔ اور یہ غلط نہی عام طور پر لوگوں میں پھیل گئی کہ نماز اور فحشاء و منکر روزے اور فسق و فجور زکوۃ اور حرام خوری اور ہتک حرمات ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔
پچھلے سال عید الضحی کے موقع پر پنجاب کی ایک جماعت نے ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں قربانی کو ایک بے محل بے معنی، فضول، بلکہ مضر اور مُسرفانہ رسم قرار دیا گیا تھا اور مسلمانوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ ارض غیر ذی زرع کی اس نام نہاد سنت کو چھوڑ کر اس روپےکو جو قربانی میں ضائع کیا جاتا ہےقومی ادارات کی اعانت قیموں اور بیواؤں کی پرورش اور بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے میں صرف کریں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس جماعت نے اس کام کو اپنی تبلیغ کا ایک مستقل جزو بنالیا ہے کہ ہر سال بقرعید کے موقع پر مسلمانوں کو قربانی سے باز رہنے کی تلقین کی جائے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اب تک ان حضرات کی یہ کوششیں کس قدر بار آور ہوئی ہیں لیکن تبلیغ کا جو انداز اختیار کیا گیا ہے۔۔۔مسلمانوں کے نفسیات کا جو حال اس زمانے میں ہم دیکھ رہے ہیں، اس کو مد نظر رکھتےہوئے ہم کو خوف ہے کہ ہزاروں مسلمان اب تک اس فریب میں جتلا ہو چکے ہوں گئے اور اگر اس کا تدارک نہ کیا گیا تو آگے چل کر نہ معلوم اور کتنے مسلمان اس کے شکار ہوں۔ اس لیے ہم بقر عید کی آمد سے پہلے ضروری سمجھتے ہیں کہ ان غلط فہمیوں کو رفع کریں جو ان لوگوں کی طرف سے قربانی کے خلاف پھیلائی جارہی ہیں۔ (۱)
١- یه مضمون ذی القعده ۱۳۵۵ھ میں لکھا گیا تھا۔ افسوس ہے کہ یہ جماعت اب تک قربانی کےخلاف اپنی ( باقی بر صفحه ۲۱۶)
ایک یہ کہ قربانی ان کے نزدیک رسوم جاہلیت میں سے ایک رسم ہے جس کو "مولویوں" نےمحض جہالت کی بناء پر ایک اسلامی طریقہ قرار دےلیا ہےچنانچہ ان کےگروہ کا ایک مصنف قربانی کےمتعلق اپنی تحقیق انیق ان الفاظ میں پیش کرتا ہےکہ ” قربانی کی رسم تمام دنیا کی وحشی و مدنی قوموں میں تھی۔ آج سوائے مسلمانوں کے کوئی اس کو نہیں کرتا“۔
تیسرے یہ کہ ان کو قرآن میں قربانی کا حکم کہیں نظر نہیں آیا۔رہی حدیث تو اس سےانکار کر دینا ان کے نزدیک ہر چیز سے زیادہ سہل ہے اور اس کو رڈ کرنے کا مسلک اختیار ہی اس لیےکیا گیا ہے کہ اسلام کے جس حکم پر غیر قوموں کو اعتراض ہو یا جس حکم کی مصلحت خود اپنی سمجھ میں نہ آئے اس کو آسانی کے ساتھ دائرہ دین سے خارج کیا جاسکے۔
چونکہ یہ اعتراضات ایسے لوگوں کی طرف سے پیش کیے گئے ہیں جو اپنے آپ کو مسلم کہتے ہیں اور قرآن کو حجت قطعی مانتے ہیں۔ اس لیے ہم قرآن ہی سے قربانی کے احکام بیان کریں گے اور قرآن ہی سے یہ بھی بتائیں گے کہ اللہ تعالی نے کن مصالح کی بنا پر عبادت کے مخصوص طریقوں میں قربانی کو شامل فرمایا ہے۔
(بقیه حاشیه صفحه ۲۱۵) تبلیغ سے باز نہیں آئی ہے۔ چنانچہ ۱۳۶۸ھ میں بھی بقر عید کی آمد پر ہمیں معلوم ہوا کہ اس نے حسب دستور عوام الناس کو اس غلط فہمی میں ڈالنے کی کوشش کی کہ قربانی ایک بدعت ہے جسے”مولویوں“ نے ایجاد کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ وہی جماعت ہے جس کا ذکر دامِ ہم رنگ زمیں میں گزر چکا ہے۔
وَإِذْ بَوَّانَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ .... وَأَذِنُ فِي النَّاسِ بِالْحَجّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَا بَيْنَ مِنْ كُلِّ نَجْ عَمِيقٍ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُو اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ - (الحج: ۲۶ ۲۷ ۲۸)
اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے خانہ کعبہ کی جگہ مقرر کی ( تو حکم دیا کہ ..... اور لوگوں میں حج کے لیے پکار دے کہ ہر راہ دُور دراز سے تیرے پاس پیدل اور ہر طرح کی ڈیلی سواریوں پر آئیں۔ یہ اس غرض کے لیے ہے کہ وہ اپنے حق میں منافع دیکھیں اور چند معلوم دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔ پھر تم ان جانوروں میں سے خود بھی کھاؤ اور تنگ دست فقیر کو بھی کھلاؤ۔
جیسا کہ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے حج قائم کرنے کا یہ حکم بناے کعبہ کےساتھ ہی ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا تھا اور اس کی غرض یہ بیان کی گئی تھی کہ لوگ یہاں آکر دین و دنیا کے منافع سےمستفید ہوں اور خدا کےنام پر قربانی کریں۔پھر یہی فرض انھی مناسک کےساتھ اُمت محمدیہ پر مقرر کیا گیا،کیونکہ یہ ملت ابراہیمی کی وارث ہے- واللہ علَى النَّاسِ جِجُ البَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيْلاً ( آل عمران : ۹۷) اور قربانی جس طرح ملت ابراہیمی کے مناسک حج میں شامل تھی اسی طرح اُمت محمدیہ کے حج میں بھی شامل رہی۔ چنانچہ سورہ حج کے پانچھویں رکوع میں امت محمدیہ کو خطاب کر کے ارشاد ہوتا ہے:۔
اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمھارے لیے اللہ کے شعائر میں سےقرار دیا ہے تمھارے لیے اُن میں بھلائی ہے، پس تم ان کو صف بسته کھڑا کرکے ان پر اللہ کا نام لو ( یعنی انھیں قربان کرو ) اور جب وہ پہلو کے بل ٹھہر جائیں (یعنی ان کی جان نکل چکے ) تو ان میں سے خود بھی کھاؤ اور اس کو بھی کھلاؤ ( جو اللہ کے دیے ہوئے ) رزق پر قانع ہے۔ اور اس کو بھی جو سوال کرتا ہے۔
دوسری قسم کی قربانی وہ ہے جو تمتع یا قرآن کے فدیہ میں یا احصار کی صورت میں یا اُن جنایات کی جزا میں واجب ہوتی ہے جو محرم سے حالت احرام میں سرزد ہوں۔اس کے احکام حسب ذیل ہیں :۔
اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔ لیکن اگر کہیں تم روک دیے جاؤ تو جو کچھ ہدیہ کی قربانی میسر آئے بھیج دو اور اپنے سرمنڈواؤ جب تک کہ قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے۔
پھر جو کوئی تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو ( اور اس بنا پر اسے احرام کی قیود توڑنی پڑیں) تو وہ فدیہ میں یا تو روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔
پھر جو کوئی عمرہ کے ذریعے سے حج تک فائدہ اٹھائے_١ تو جو کچھ قربانی میسر آئے، کر دے۔ اور جسے قربانی میسر نہ ہو تو وہ حج کے دنوں میں تین دن کے اور واپس گھر پہنچ کر سات دن کے روزے رکھے۔
اے اہل ایمان! شکار نہ مارو جب تک کہ تم حالت احرام میں ہو ، اور تم میں سے جو کوئی جان بوجھ کر شکار مارلے وہ اس کے بدلے مویشیوں میں سے اُس کے ہم قدر ایک جانور قربان کرے جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں ، اور یہ قربانی کعبہ پہنچادی جائے۔
ان آیات میں قربانی کے جانوروں کو لفظ حدی (٢) سے تعبیر کیا ہے۔ امام رازی نےاس لفظ کی لغوی تحقیق بیان کرتے ہوئے کہیں یہ لکھ دیا تھا کہ مَعْنَى الْهَدْي مَا يُهْدَى إِلَى بَيْتِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ تَقْرِيبًا إِلَيْهِ بِمَنزِلَةِ الْهَدْيَةِ يُهْدِيهَا الْإِنْسَانُ إِلَى غَيْرِهِ تَقَرُّبًا اليه - اتنی گنجائش سے فائدہ اُٹھا کر مانعین قربانی نے بے تکلف فیصلہ کر دیا کہ ہدی سے مراد قربانی نہیں بلکہ کوئی بھی ہدیہ اللہ کے حضور پیش کر دینا ہے۔ لیکن امام رازی نے اسی عبارت سے چند سطر آگے یہ بھی لکھا تھا کہ :
١- اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص حج سے چند روز پہلے مکہ پہنچ گیا وہ عمرہ کر کے احرام کھول دے اور ان قیود سے آزاد ہو جائے جو حالت احرام کے لیے شریعت نے مقرر کی ہیں۔ پھر جب حج کی تاریخیں آئیں تو دوبارہ احرام باندھ لے۔ اس صورت میں جو فائدہ عمرہ کے ذریعے سے اٹھایا جاتا ہے اس کے شکرانہ کے طور پر قربانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
٢- ہدی کے معنی ہیں وہ چیز جو اللہ تعالیٰ سے تقرب حاصل کرنے کے لیےاس کےگھر کی طرف بطور ہدیہ لے جائی جائےجس طرح کوئی انسان کسی دوسرے انسان سے تقرب پیدا کرنے کے لیے اس کے پاس ہدیہ لے جاتا ہے۔
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب تک بدی اپنے مقام پر پہنچ کر ذبح نہ کر دی جائے اس وقت تک سر نہ منڈ واؤ اور جب ذبح ہو جائے منڈا دو۔
مگر چونکہ یہ عبارت مفید طلب نہ تھی اس لیے دور جدید کے محققین اسلام نےاس کی طرف توجہ کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اور یہ تو خیر امام رازی ہیں، انھوں نے خود اللہ تعالی کی عبارت کو بھی قابل اعتنا نہ سمجھا جس نے سورہ مائدہ والی آیت میں هَدْيَا بِالِغَ الْكَعْبَةِ کی تغير فجزاء مثل ما أَصل مِنَ النَّعم سے کر دی ہے۔ یہ آیت قطعی طور پر بندی کے معنی متعین کر رہی ہے کہ قرآن میں جہاں یہ لفظ آیا ہے وہاں اس سے مراد قربانی ہی ہے نہ کہ کچھ اور ۔
کہو اے محمد کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ پروردگار عالم کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھےاس کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمانبرداروں میں سب سے پہلے ہوں۔
اس آیت میں صلوٰۃ کے بعد ٹسک کا ذکر ہے جس کے معنی عبادت اور تطوع کے بھی ہیں اور قربانی کے بھی۔ قرآن میں یہ لفظ زیادہ تر دوسرے ہی معنی کے لیے آیا ہے۔ چنانچہ سورہ حج میں ہے:۔
اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر کی ہے تا کہ وہ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انھیں بخشے ہیں۔
ان آیات سے ٹسک کے معنی متعین ہو گئے ۔ اب یہ دیکھیے کہ صلوۃ کے ساتھ ٹسک کے لیے بھی بنا لک امرٹ ( مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں یعنی مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد انا اول المُسْلِمِينَ فرمایا گیا ہے جس سےصاف ظاہر ہوتا ہےکہ یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ خاص نہیں ہے بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ اسی بنا پر حضور نے تمام مستطیع مسلمانوں کو قربانی ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ احادیث میں آیا ہے:-
یہ ہیں قربانی کے متعلق قرآن کے صاف اور صریح احکام جن میں کسی شک وشبہ اور تاویل کی گنجائش نہیں ۔ پڑھیے ان کو اور پھر دارد بیجیے اُن لوگوں کی جرات کی جو ایک طرف تو قرآن پر سب سے بڑھ کر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف علی الاعلان یہ الفاظ لکھتے اور شائع کرتے ہیں کہ:-
"وہ روپیہ جو بکرے کی گردن پر چھری پھیر نے اور اسے زمین میں گاڑ دینے کے لیے صرف کیا جاتا ہے قومی اداروں کو ملنا چاہیے ۔ وہ اس روپے سے ہر سال ایک عظیم الشان تجارتی بینک کھول سکتے ہیں،قرآن حکیم اور دوسرے علوم کی توسیع و اشاعت کر سکتے ہیں، اعتقادات و اخلاق کی اصلاح کر سکتے ہیں، بیواؤں اور ناداروں کی مدد کر سکتے ہیں اور ہزاروں نیکی کے کام کر سکتے ہیں بشرطیکہ تقلید کےجال سےآزاد ہو جائیں اور فضول بلکہ مضر رسوم کو چھوڑ دیں۔"
یہ قرآن سے کھلا ہوا معارضہ نہیں تو اور کیا ہے؟ قرآن حکیم ایک چیز کا حکم دیتا ہےاور آپ کہتے ہیں کہ پہلے اس کے عقلی و تجربی فوائد پر روشنی ڈالی جائے ۔ قرآن ایک چیز کےمتعلق کہتا ہے کہ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ( تمھارے لیے اس میں بھلائی ہے ) اور آپ اسے ایک فضول بلکہ مُسرفانہ رسم قرار دیتے ہیں۔ قرآن ایک چیز کو شعائر اللہ میں شمار کرتا ہے اور خبر دیتا ہے کہ اللہ نے اس کو مقرر کیا ہے مگر آپ اس کے مقابلے میں مغربی مستشرقین کی یہ تحقیق پیش فرماتے ہیں کہ یہ عہد جاہلیت کی ایک رسم تھی جس کو آج صرف مسلمانوں نے اختیارکر رکھا ہے۔
قرآن پر ایمان رکھنے کا دعوئی اور پھر قرآن کے مقابلے میں یہ جرات! اگر ان دونوں کا اجتماع ممکن ہے تو مانا پڑے گا کہ وجود شئےاور عدم شئے کا اجتماع بھی ممکن ہے۔قرآن کا یہ بھی ایک اعجاز ہے کہ جس قدر اعتراضات اس پر ہو سکتےہیں ان کا جواب وہ خود ہی دے دیتا ہےآئیے ذرا یہ بھی دیکھیےکہ قربانی کےحکم پر جو اعتراضات کیے گئے ہیں ان کے جواب میں قرآن کیا کہتا ہے۔
جاہلیت میں جس طرح غیر اللہ کے لیے رکوع و سجود ہوتے تھے اور غیر اللہ سے دُعا اور استعانت کی جاتی تھی، اُسی طرح غیر اللہ کے لیے نذریں اور قربانیاں بھی ہوتی تھیں۔عرب ہندوستان ایران مصر روم فرض کون سا ملک ایسا ہے جہاں معبودان باطل کےاصنام اور ہیکلوں پر قربانیاں نہ چڑھائی جاتی ہوں۔حتی کہ خدا پرست یہودی قوم بھی اس شرک میں مبتلا ہوئی اور بار بار اس نےبتوں پر قربانیاں چڑھانےکا ارتکاب کیا جس کی شکایت جگہ جگہ بائیل کے عہد عتیق میں آتی ہے۔ قرآن میں بھی جاہلیت کی ان مشرکانہ رسموں کا ذکر ہے مثلاً فرمایا :-
اور انھوں نے کھیتی کی پیداوار اور مواشی میں سے اللہ کا ایک حصہ ٹھہرا دیا اور بخیال خود کہنے لگے کہ یہ اللہ کا ہے اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کا ہے۔
اور انھوں نے کہا کہ یہ جانور اور کھیتیاں ممنوع ہیں کہ ان کو اس شخص کے سوا کوئی نہیں کھا سکتا جسے ہم اپنے خیال کے مطابق کھلانا چاہیں۔اور کچھ ایسے جانور ہیں جن کی پشت پر سوار ہونا حرام کر دیا گیا ہےاور کچھ ایسے ہیں جن پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے۔ یہ ان کی افتراپردازی ہے (کہ ایسی جاہلانہ اور مشرکانہ باتوں کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں )
قرآن نے آکر جس طرح عبادت کی تمام دوسری صورتوں کا رُخ غیر اللہ سے اللہ کی طرف پھیر دیا۔ اسی طرح نذروں اور قربانیوں کا رُخ بھی اُدھر سے ادھر پھیرا۔ اس نے ہدایت کی کہ مشرکین غیر خدا کے لیے رکوع و سجود اور قربانی کرتے ہیں، تم کہو کہ ہمارا رکوع و سجود اور ہماری قربانی خدا کےلیے ہے۔کل ان صَلَونِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: ۱۶۳) مشرکین اپنے جانوروں پر غیر خدا کا نام لیتے ہیں۔ تم ان پر صرف خدا کا نام لو ۔فَاذْكُرُو اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا ۔وہ غیر اللہ کے نام پر جانوروں کو چھوڑ دیتےہیں اور پھر نہ کسی کو ان پر سوار ہونے دیتے ہیں اور نہ ان کا گوشت کھانا یا کھلانا پسند کرتے ہیں ۔ تم اس جہالت کے جواب میں ہدی کے اونٹوں سے ہر طرح کا فائدہ اٹھاؤ۔لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ –(الج:۳۳) قربانی کا گوشت کھاؤ اور اللہ کےبندوں کو کھلاؤ۔فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرُ (۳۶) اس لیےکہ اللہ کو خون اور گوشت نہیں پہنچتا بلکہ تمھاری وہ خالص نیت پہنچتی ہے جس نے تم سےغیر اللہ کو ترک کر کے اللہ کی طرف رُجوع کرایا ۔ لَنْ يُنالَ اللَّهُ لَحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ ينَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ ( الج:۳۷)
ہر شخص جو حکمت تشریح میں ادنی بصیرت بھی رکھتا ہے اس کے لیے یہ سمجھنا بھی کچھ مشکل نہیں کہ شرک و بت پرستی اور رسوم جاہلیت کو مٹانے کے لیے اس سے زیادہ کارگر کوئی تدبیر نہیں ہو سکتی کہ جن اقسام اور جن شکلوں کی عبادتیں مشرک قوموں میں رائج ہوں اُن سب کو اللہ کے لیے مخصوص کر دیا جائے اور غیر اللہ کے لیے انھی سب کو ممنوع ٹھہرا دیا جائے ۔ دنیا میں توحید فی العبادت اور اس کے ذریعے سے توحید فی الاعتقاد کا قیام بغیر اس تدبیر کے ممکن ہی نہ تھا۔ یہ بات کچھ انسان کی فطرت ہی میں ہے کہ وہ جس کسی کو اپنا ملجاد ماوی سمجھتا ہے اس کے سامنے نذر و نیاز اور قربانی ضرور پیش کرتا ہے۔ چنانچہ ابتداء آفرینش سے آج تک دنیا میں کم و بیش اس طریق عبادت کا سلسلہ جاری ہے۔ حتی کہ جہالت کی بناء پر خود مسلمان بھی اس قسم کے شرک فی العبادت میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ پس جب عبادت کے مختلف طریقوں میں سے ایک یہ طریقہ بھی نوع انسانی میں رائج ہے اور اس طریقے کی طرف نوع انسانی میں ایک فطری میلان پایا جاتا ہے تو اخلاص فی العبادت کے لیے ناگزیر ہے کہ نذرو نیاز اور قربانی کو بھی غیر اللہ کے لیے ممنوع کر کے صرف اللہ کےلیے مخصوص کر دیا جائے۔ اس چیز کی عقلی و روحانی اور اخلاقی و مادی منفعت سطحی نظروں کو اگر محسوس نہ ہو تو یہ اُن کی اپنی نظر کا قصور ہے۔ اللہ کے علم اور اس کی حکمت میں تو لوگوں کا مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ اور حُنَفَاءَ لِلَّهِ بن جانا اس سے بدرجہا زیادہ مفید ہے کہ اُن کے لیےایک نہیں دس لاکھ عظیم الشان بنک کھل جائیں یا ۲۰ ہزار کالج قائم ہو جائیں۔
نوع انسانی کا ایک گروہ تو وہ ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے یعنی وہ جو خدا کے ساتھ اس کی مخلوق کو اعتقاد اور عبادت میں شریک ٹھہراتا ہے اور خدا کے بخشے ہوئے رزق میں سے غیر خدا کے سامنے نذریں اور قربانیاں پیش کرتا ہے۔ اس کےساتھ ایک دوسرا گروہ بھی ہمیشہ موجود رہا ہے اور اب بڑھتا جا رہا ہے اور یہ وہ گروہ ہے جو سرے سے خدا کا قائل ہی نہیں یا اگر ہے بھی تو محض وجوب عقلی کی بناء پر اس کو اس طرح مانتا ہے جیسے ریاضی کےکسی فارمولےکو مانتا ہے۔ باقی رہا خدا سے کوئی تعلق تو وہ ان کے ہاں مفقود ہے۔ ان لوگوں کو یہ احساس تک نہیں کہ دُنیا کے جس مال و متاع سے وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس زمین کی پیداوار کھا رہے ہیں؛ جس دولت و ثروت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، جن حیوانات سے خدمت لے رہے ہیں، ان میں سے کسی چیز کے بھی وہ مالک نہیں ہیں، نہ کسی چیز پر ان کو ذاتی استحقاق حاصل ہے بلکہ یہ خدا کی بخشش اور اس کا انعام ہے۔ یہ غفلت جس میں لوگ مبتلا ہیں، اُن کو کیسے کیسے رُوحانی، اخلاقی اور عملی مفاسد میں مبتلا کر رہی ہےاس کے بیان کی حاجت نہیں۔ آج ہر آنکھوں والا ان خرابیوں کا برائی العین مشاہدہ کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی مفاسد کا سد باب کرنے کے لیے مال و دولت اور زمین کی پیداوار میں سے زکوۃ کا اور حیوانی دولت میں سے قربانی کا قاعدہ مقرر کیا تا کہ اللہ تعالیٰ نےانسان کو جو کچھ رزق عطا فرمایا ہے اس کا ایک حصہ وہ ہمیشہ خدا کی جناب میں نذر کرتا ہےاور یہ حقیقت اس کو یادر ہے کہ ہم ان چیزوں کے مالک اور مختار مطلق نہیں ہیں بلکہ یہ بغیر کسی استحقاق ذاتی کے ہم کو عطا کی گئی ہیں، اور ان میں عطا کرنے والے کی مرضی کےخلاف تصرف کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے۔ دیکھیے اس مضمون کی طرف آیات ذیل میں کس قدر لطیف اشارے کیے گئے ہیں :-
وَهُوَ الَّذِي أَنْشَاءَ جَنَّتٍ مَّعْرُوشَتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ .... كُلُوا مِنْ ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَأَتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حِصَادِهِ وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُرُلَةٌ وَّفَرُشًا كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَنِ (الانعام: (۱۴۳۱۴۲)
اور وہی ہےجس نےباغ اُگائےہیں جن میں سےکسی میں بیلیں تقیوں چڑھائی جاتی ہیں اور کسی میں نہیں چڑھائی جاتیں اور اسی نے نخلستان اور کھیت پیدا کیے ہیں - - - جب وہ پھل لائیں تو ان کےپھل کھاؤ اور فصل کاٹتے وقت اس کا (یعنی خدا کا )حق ادا کرو اور حد سےنہ گزرو کہ وہ حد سےگزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ اور اسی نےجانوروں میں سےبعض بلند قامت پیدا کیے ہیں جو بار برداری کےکام آتےہیں اور بعض پست قامت ہیں ۔اللہ نے تم کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو ۔اللہ نے تم کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو ۔
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُو اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ الذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمُ وَالضَّبِرِينَ عَلَى مَا أَصَابَهُمْ وَالْمُقِيمِي الصَّلَوةِ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ - (الج:۳۵٬۳۴)
اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کر دی ہے تا کہ وہ اللہ کا نام لیں اُن جانوروں پر جو اللہ نے ان کو بخشے ہیں۔ پس یاد رکھو کہ تمھارا خدا وہی ایک خدا ہے اس کی اطاعت میں تم سر تسلیم خم کرو۔ اور اےنيا أن عاجزی کرنے والوں کو خوش خبری سنادو جن کا حال یہ ہےکہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرز اٹھتےہیں اور جو مصیبتوں کے مقابلہ میں ثابت قدم رہتے ہیں اور جو نماز پڑھتے ہیں اور ہمارے بخشے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔
یہ رسم قربانی کی دوسری مصلحت ہے۔ اگر کسی کے پاس عقلی ترازو ہو تو وہ ایک پلڑے میں اس کو رکھے اور دوسرے پلڑے میں اُن تمام قومی اداروں اور تجارتی بینکوں اور یتیم خانوں کو رکھے جنھیں چندہ دینے کے لیے یہ مخالفین حدیث قربانی کو بند کرانا چاہتےہیں اور پھر موازنہ کر کے ہمیں بتائیے کہ ان دونوں میں سے کون سا زیادہ وزنی ہے۔
اب ذرا اقتصادی اعتراضات کو بھی جانچ لیجیے۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ اطاعت مال ہے۔ مگر قرآن کہتا ہے : لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ اور فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْفَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ اس میں تمھارے لیے بھلائی ہے۔ اور اس میں سے خود بھی کھاؤ اور مانگنے والے غریب اور مانگنے والے سائل کو بھی کھلاؤ۔ آج آپ کے اپنے ملک میں لاکھوں اللہ کےبندے ایسے ہیں جنھیں ہفتوں اور مہینوں اچھی قوت بخش غذا نصیب نہیں ہوتی ۔ کیا اُن کو صدقہ اور ہندی اور ٹک کے ذریعے سے گوشت بہم پہنچانا آپ کی رائے میں اصول معیشت کے خلاف ہے؟ لاکھوں انسان اور گلہ بان ہیں جو سال بھر تک جانور پالتے ہیں اور بقر عید کے موقع پر اُن سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کیا ان کی روزی کا دروازہ بند کرنا آپ کے نزدیک بے روزگاروں کو روزگار مہیا کرنا ہے؟ ہزار ہا غریب ہیں جن کو قربانی کی کھالیں مل جاتی ہیں اور ہزار ہا قصائی ہیں جن کو ذبح کرنے کی اُجرت مل جاتی ہے۔ کیا یہ سب آپ کی قوم سےخارج ہیں کہ آپ ان کی رزق رسانی کو فضول بلکہ مضر اور داخلِ اسراف سمجھتے ہیں؟
پھر یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ کو تمام قومی ضروریات اور سارے فوائد و منافع صرف اسی وقت یاد آتے ہیں جب خدا کے کسی حکم کی پابندی میں روپیہ صرف ہو رہا ہو؟ گویا کہ بینکوں کا قیام اور قومی ادارات کا فروغ اور اعتقاد و اخلاق کی اصلاح اور تیموں اور بیواؤں کی پرورش کا سارا کام صرف قربانی ہی کی وجہ سے رُکا پڑا ہے۔ ادھر یہ بند ہوئی اور اُدھر قومی اداروں پر روپیه برسنا شروع ہو جائے گا۔
اور اگر آپ کی قومی تنظیم ایسی ہی مکمل ہے کہ سارے ہندوستان کا روپیہ جمع کر کےآپ ہر سال ایک تجارتی بینک کھول سکتے ہیں تو ذراسی تکلیف گوارا کر کے پہلے ملک بھر کےسینما ہالوں اور مجتبہ خانوں اور بدکاری و اسراف کے دوسرے اڈوں پر تو اپنے ایجنٹ مقرر فرمائیے تاکہ مسلمانوں کا جس قدر روپیہ وہاں ضائع ہوتا ہے وہ قومی فنڈ میں وصول ہونا شروع ہو جائے ۔ اس طرح آپ ہر سال نہیں ہر روز ایک تجارتی بینک کھول سکیں گے۔
پھر اگر آپ میں کچھ تعمیری قوت ہے تو قربانی کی تخریب کے بجائے آپ اُسےزکوۃ کی تعمیر ہی میں کیوں نہیں صرف فرماتے کہ تنہا اسی ایک چیز سے آپ وہ تمام قومی ضروریات پوری کر سکتے ہیں جن کی خاطر قربانی بند کرنے کی تبلیغ آپ نے شروع کی ہے۔
آخری گذارش یہ ہے کہ اگر ایک دفعہ مسلمانوں میں یہ ذہنیت پیدا ہو گئی کہ جن جن جن مذہبی مراسم میں روپیہ صرف ہوتا ہے اُن کو بند کر کے وہ روپیہ قومی اداروں اور تجارتی ٹینکوں پر صرف ہونا چاہیئے تو معاملہ صرف قربانی ہی پر ز کا نہ رہ جائے گا۔ کل کوئی اور بندہ خدا اُٹھ کر کہے گا کہ یہ حج، جس پر کروڑوں روپیہ ہر سال خرچ ہو رہا ہے اور جس کا کوئی فائدہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا؟ اسے بند ہونا چاہیے اور اس روپے سے تجارتی بینک کھلنے چاہئیں! سارا معاملہ اصل میں اقدار ہی کا ہے۔ جب ایک دفعہ معیار قدر بدل گیا پھر آج قربانی بند ہوگی اور کل خواہ آپ نے چاہایا نہ چاہا حج کی باری آکر رہے گی۔
پچھلا مضمون پریس میں جاچکا تھا کہ رسالہ " ابلاغ امرتسر کا تازہ پر چه ( بابت ماہ ذی القعدة ٥٥ ھ ) وصول ہوا جس میں جناب " عرشی" امرتسری نے "تحقیق قربانی" کےعنوان سے قربانی پر اپنی تحقیق پیش فرمائی ہے۔ اس مضمون میں قربانی کے خلاف جو دلائل پیش کیے گئے ہیں اگر چہ اُن میں سے اکثر کا جواب ہم اپنے پچھلے مضمون میں دے چکےہیں، لیکن پھر بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس تحقیق قربانی پر مفصل تبصرہ کیا جائے ۔
فاضل مضمون نگار نے اپنی تحقیق کی ابتدا انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے ایک اقتباس سےکی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ قربانی کے متعلق قدیم انسان“ کا نظریہ کیا تھا' رُوم اور یونان میں قربانی کی رسم کن عقائد پر مبنی تھی۔ سامی مذاہب میں یہود کا کیا عقیدہ تھا دور ثانی میں جب انسان دیوتاؤں کی حقیقت سے واقف ہو گیا تو اس نے قربانی کی رسم من تاویلوں کے ساتھ باقی رکھی یہود کے ربی اور یونان کے فلسفی خدا اور ارواح کے متعلق کیا عقیدہ رکھتے تھے اور قربانی کے ساتھ اس عقیدہ کا رابطہ کس قسم کا تھا قدیم آریوں اور اہل روم اور اہل عرب میں قربانی کی کیا ہمیں تھیں، پھر مسیحیت نے کس طرح قربانی کا ابطال کیا اور جاہلیت کے ان خیالات کو جو انسانی اقوام میں پھیلے ہوئے تھے کس طرح مٹایا اور یہ عاقلانہ تخیل انسانوں میں پیدا کیا کہ " غربا کو کچھ دینا قربانی کے برابر ہے اور جو خیرات دیتا ہے وہ گویا ستائش کی قربانی خدا کو پیش کرتا ہے۔ یہ تمام بیانات جو تمہید کے طور پر بیسویں صدی کی کتاب مقدس سے نقل کیے گئے ہیں بلاط یہ ہماری معلومات میں بیش قیمت اضافہ کرتے ہیں۔ مگر ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ ان کو اس مضمون میں کیوں نقل کیا گیا ہے۔
اوّل تو یہ تمام بحث غیر متعلق ہے، اس لیے کہ نفس مسئلہ صرف یہ ہے کہ آیا خدا اور رسول نے قربانی کا حکم دیا ہے یا نہیں؟ اگر ثابت ہو جائےکہ نہیں دیا ہے تو انسائیکلو پیڈیا کی شہادت قطعاً غیر ضروری ہےاور اگر تحقیق سے یہ ثابت ہو کہ قربانی ایک سنہ اسلام ہےاور خدا اور سول کےحکم سے جاری ہوئی ہے تو مسلمانوں کو بہر حال اس کا اتباع کرنا چاہیئےخواہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی نگاہ میں وہ کیسی ہی جہالت اور تاریک خیالی ہو ۔ اس لیے کہ ہمارا اتباع اسلام کسی انسائیکلو پیڈیا کی تائید و تصدیق پر موقوف نہیں ہے اور نہ ہونا چاہیے۔
پھر یہ بات سخت حیرت انگیز ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو قرآن کا مبلغ کہتے ہیں اور جن کا دعوئی یہ ہے کہ ہم قرآن کے سوا کسی چیز کے متبع نہیں ہیں، وہ ایک مذہبی مسئلہ کی تحقیق میں یورپ کی تحقیق کو سب پر مقدم رکھتے ہیں۔ اگر قربانی کی تاریخ اور جاہلیت اولی کےاعتقادات ہی پر کچھ روشنی ڈالنی تھی تو اس کے متعلق خود قرآن میں کافی مواد موجود تھا اور اس سے یہ بھی معلوم ہو سکتا تھا کہ جاہلیت کی قربانی اور اسلام کی قربانی میں فرق کیا ہے۔لیکن جناب عرشی نے قرآن کو چھوڑ کر محققین یورپ کی طرف توجہ فرمائی اور سب سے پہلےاٹھی سے دریافت کیا کہ یہ قربانی جو تیرہ سو برس سے اسلام میں رائج ہے اس کی اصلیت تمھاری تحقیق میں کیا ہے؟ یہ شرف تلزم جو ایک اسلامی مسئلہ کی تحقیق میں اہل فرنگ کےلم و رائے کو عطا کیا گیا ہے اس کی وجہ اگر ہم بیان کریں گے تو ہم پر بد گمانی کا الزام عائد ہوگا ۔ اس لیے جناب عرشی خود ہی اس پر روشنی ڈالیں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ جن مخفظین کے خیالات کو آپ نے مسئلہ قربانی میں اپنی تحقیق کا نقطہ آغاز قرار دیا ہے اگر آپ اجازت دیں تو ہم اسلام کے اصول ڈارکان بلکہ خود اسلام اور نبوت اور وحی اور قرآن کے متعلق بھی ان کی تحقیقات پیش کریں اور آپ سے دریافت کریں کہ ان کی نظر سے آپ اسلام کی کس کس چیز کو دیکھنے کے لیے تیار ہیں؟
مزید برآں یہ بات بھی کچھ کم قابل تعجب نہیں کہ جو لوگ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور آپ کے اسوۂ حسنہ کے متعلق بخاری اور مسلم اور مؤطا اور تمام دوسری کتب حدیث کی شہادتیں بے تکلف رد فرما دیتےہیں،اُن کےمعیار تنقید پر” قدیم انسان" اور روم و یونان اور اسم سامیہ اور اقوام آریہ کےمتعلق محققین فرنگ کے بیانات کس طرح پورا اتر جاتے ہیں؟ حالانکہ ان کا زمانہ عصر نبوت سے سینکڑوں ہزاروں سال قبل کا ہے۔اور اُن کے متعلق جو تاریخی شہادتیں آج دُنیا میں موجود ہیں وہ اُن تاریخی شہادتوں کےمقابلے میں کوئی وزن نہیں رکھتیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے متعلق حدیث میں پائی جاتی ہیں۔ جن ذرائع پر اعتماد کر کے آپ پرانی قوموں کے احوال پر عالمانہ کلام فرما رہے ہیں، اُن میں سے قوی سے قوی ذریعہ بھی ابن ماجہ اور حاکم اور بیہقی کی کسی ضعیف سے ضعیف روایت کے مقابلے میں نہیں لایا جا سکتا۔ پس جب آپ اُن ذرائع سے استناد فرماتے ہیں اور اُن کی سند پر ہم کو خبر دیتے ہیں کہ ” قدیم انسان یہ کرتا تھا اور سامی مذاہب میں یہ عقیدہ تھا اور روم و یونان والے یہ خیالات رکھتے تھے تو ہم کو بھی اجازت ہو کہ بخاری اور مسلم کی سند پر یہ عرض کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل تھا اور حضور نے فلاں مسئلے میں فلاں حکم دیا تھا۔ اگر اس کو ماننے سے آپ انکار فرما ئیں گے تو ہم آپ سے صرف اتنا دریافت کریں گے کہ أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ؟
اس فقرے کا مفہوم غالبا اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ قربانی اصل میں تو تھی ہی ایک مکروہ چیز نگر قدیم زمانے میں جہالت کی وجہ سے اس کی کراہت لوگوں سے مختلی تھی، اب چونکہ تہذیب ترقی کر چکی ہے اس لیےاس کا مکروہ ہونا واضح ہو گیا ہے۔ یہ الفاظ پیش نظر رکھیے اور پھر ذرا سورہ حج کی وہ آیت ملاحظہ فرمائیے جس میں ارشاد ہوا ہے:۔
"اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمھارے لیے اللہ کے شعائر میں سے قرار دیا ہے۔ تمھارے لیے ان میں بھلائی ہے لہذا تم ان کو صف بستہ کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو ( یعنی ذبح کرو ) اور جب وہ کسی پہلو پر گر جائیں تو ان میں سے خود کھاؤ اور قانع اور سائل کو بھی کھلاؤ“۔ (رکوع - ۵) حج
ہر شخص جس کو خدا نے تھوڑی سی عقل بھی عطا فرمائی ہے بیک نظر محسوس کرے گا کہ یہ دونوں عبارتیں صریحا ایک دوسرے سےنبرد آزما ہیں۔ سورہ حج میں جس چیز کو شعائر اللہ قرار دیا گیا ہے اور جسے ایک کارخیر کی حیثیت سے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اُسی کو عرشی صاحب کی مقدم الذکر عبارت مگر وہ ٹھہراتی ہے اور ہم کو یہ خبر سناتی ہے کہ اسے کار خیر سمجھنے کا خیال اُس زمانے کے جاہل انسانوں میں پایا جاتا تھا جب تہذیب نے ترقی نہ کی تھی ۔ چھوڑ دیجیے اس خیال کو کہ قربانی واجب ہے یا نہیں؟ ہر شہر اور قریہ میں کرنی چاہیے یا صرف مقام مٹی میں؟ قربانی کرنا افضل ہے یا اس کے بدلے میں کچھ خیرات کر دینا؟ سوال یہ ہے کہ اگر کسی درجے میں بھی قرآن سے قربانی کا حکم کیا معنی جواز بھی لکھتا ہے اگر کوئی ادنی سےادنی درجے کی فضیلت اور بھلائی بھی اس فعل کی طرف قرآن میں منسوب کی گئی ہے تب بھی کیا قرآن اس الزام سے بچ سکتا ہے کہ وہ اُس زمانے کی ایک کتاب ہے جب تہذیب نے کافی ترقی نہ کی تھی؟ اور پھر اس کے بعد کیا اسے خدا کی کتاب مانا جائے گا یا کسی ایسےشخص کی تصنیف جو بیسویں صدی کے مقابلے میں چھٹی صدی کا ایک نیم مہذب انسان تھا؟
یہ نتیجہ ہے قرآن سے پہلے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی طرف رجوع کرنے کا۔ جس مقام سے آپ نے اپنی تحقیق کی ابتدا کی اور جن مسلمات کو لے کر آپ مسئلہ قربانی کی بحث و تنقیح کے لیے چلے وہ پہلے ہی قدم پر آپ کا قدم پھسلا کر کہیں سے کہیں لے گئے۔ان کا منطقی نتیجہ تو یہ لکھتا ہے کہ آپ کو قرآن کے کتاب اللہ ہونے سے انکار کر دینا چاہیے۔لیکن چونکہ آپ کی عقل کے خلاف آپ کا وجدان اس کتاب پر ایمان رکھنے کے لیےاصرار کر رہا ہےاس وجہ سےآپ اس منطقی نتیجہ سے بچنےکی کوشش کر رہےہیں اور قرآن کےترجمہ و تفسیرمیں حد تحریف تک پہنچی ہوئی تاویلیں کر کے صرف یہ بات ثابت کرنا چاہتےہیں کہ قرآن نے قربانی کا حکم نہیں دیا ہے۔ حالانکہ اس سے وہ الزام جو خود آپ کے تسلیم کردہ اُصول کی بنا پر قرآن کے خلاف عائد ہوتا تھا، صرف ہلکا ہو جاتا ہے دُور کسی طرح نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس الزام سے تو قرآن صرف اُسی صورت میں بچ سکتا تھا جبکہ وہ قطعاً و ایجاباً قربانی بند کرنے کا حکم دیتا۔
انسان کی حیثیت اس وقت بڑی ہی عجیب ہو جاتی ہے جب وہ کسی نظام میں داخل بھی رہنا چاہتا ہو اور نظری و فکری حیثیت سے اس سے منحرف بھی ہو چکا ہو۔ ایسی حالت میں وہ اس نظام کی ہر چیز کو اپنے مزاج کے خلاف پاتا ہے اور اس کے ایک ایک تار کو اُدھیٹر کر از سر نو بننے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس اُدھیٹر بن کا راز فاش ہو ۔ اس لیے قدم قدم پر اس کو تاویل تحریف سخن سازی، کھینچ تان اور خدع و فریب کے اوزار استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ عرشی صاحب ہم کو معاف فرما ئیں اگر ہم عرض کریں کہ اس وقت وہ ایسے ہی مشکل موقف میں پڑے نظر آتے ہیں۔ قربانی کے متعلق ان کا نقطہ نظر وہ نہیں ہے جو اسلام کا نقطہ نظر ہے۔ قرآن، حدیث، تفسیر، فقہ اور سنتِ متواترہ میں قربانی ایک عبادت کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ ایک نیکی اور بھلائی ہے جسے ادا کرنے کےلیے احکام دیے گئے ہیں اور ان احکام کو بجالانے کے قواعد مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کےبرعکس آپ کے نزدیک وہ ایک مگر وہ چیز ہے جہالت ہے اور ترقی تہذیب کی وجہ سے مبغوض ہو چکی ہے۔ اب آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا یہ نقطہ نظر اسلام کا نقطہ نظر بن جائےاور سارے احکام اس کے مطابق ڈھل جائیں۔ لیکن ساڑھے تیرہ سو برس میں اسلام نےجس قدر لٹریچر پیدا کیا ہے وہ کل کا کل ایسے مواد سے بھرا ہوا ہے جو آپ کی اس غرض کےخلاف ہے حتی کہ قرآن کے صریح الفاظ بھی آپ کی اس غرض کے مخالف ہیں ۔ آپ سنتِ متواترہ کو جہالت متواتر " کہہ کر ٹال دیں گے ۔ حدیث فقہ اور تفسیر کے سارے لٹریچر کو جعلی ٹھہرا دیں گئے، مگر قرآن کی صریح آیات کا آپ کے پاس کیا علاج ہے؟ کن کن الفاظ کا مفہوم بدلیں گے؟ کن کن عبارتوں کو اُدھیڑیں گے؟ کہاں تک خدا کے کلام میں اپنے معنی بھریں گے؟
عرشی صاحب نے اس سلسلے میں قرآن کی معنوی تحریف کرنے کی جو حیرت ناک کوششیں کی ہیں اُن کی صرف دو مثالیں ہم محض اس لیے پیش کرتے ہیں کہ شاید ہمارےاس بھٹکے ہوئے بھائی اور اس کے ہم خیال حضرات کو تشبہ کی توفیق میسر ہو جائے
قرآن میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت ابراہیم نے خواب میں اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے کا اشارہ پایا تھا۔ اس کے امتثال میں وہ واقعی اپنے بیٹے کو قربان کرنے پر آمادہ ہو گئے ۔ جب انھوں نے اپنے لخت جگر کو ماتھے کے بل پچھاڑ دیا تو اللہ نے فرمایا کہ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَالِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينٌ (صافات: ۱۰۶۱۰۵) اے ابراہیم ! تو نے خواب سچا کر دکھایا ہم اسی طرح نیک بندوں کو جزا دیتے ہیں، بے شک یہ کھلی ہوئی آزمائش تھی ۔ اس قصے کا صاف مفہوم جس کو ہر صاحب فہم آدمی پہلی نظر میں محسوس کر سکتا ہے یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے خلیل کی آزمائش کرنی چاہی تھی، اس لیے بیٹے کو ذبح کرنے کا صریح حکم نہ دیا بلکہ کنا یہ خواب میں محبت کو قربان کرنے کا جذبہ رکھتے تھے اس لیے وہ محبوب حقیقی کے محض اس ذرا سے ڈھکےچھپے اشارے ہی پر بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے ۔ یہی اصل قربانی تھی اور جب یہ پوری ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے بیٹے کا خون بہانے سے اُن کو روک دیا اور ایک "ذبح عظیم“کو اس کا فدیہ بنا دیا۔
غور کیجئے یہ کتنا عظیم الشان واقعہ ہے اور لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: ۹۲) کی روح کو کس شاندار طریقے سے پیش کر رہا ہے۔ لیکن اب دیکھیے کہ "عرشی" صاحب اور ان کے ہم خیال حضرات محض قربانی کی مخالفت کی وجہ سے قرآن کے اس نہایت سبق آموز قصے کو کس طرح مسخ کرتے ہیں۔ اُن کی تاویل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے دراصل خواب کا مطلب ہی غلط سمجھا ۔ جوش ایمانی تو اُن میں ضرور تھا اور "شراب عشق کی سرمستی تک پہنچا ہوا تھا مگر فہم اتنی بھی نہ تھی جتنی عرشی صاحب اور مولوی احمد الدین صاحب مرحوم کو ارزانی ہوئی ہے۔ وہ خواب کا مطلب یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ بیٹے کو ذبح کر دو۔حالانکہ در اصل ذبح کرتےہوئے دکھانے سے خدا کا مقصد صرف یہ تھا کہ اس بچےسے دنیوی اُمید میں منقطع کر کے اسے خدا کےدین کی عظیم خدمت کے لیے وقف کر دو۔ پس جب وہ اپنے لخت جگر کو پچھاڑ کر ایک ضرر رساں غلطی کا ارتکاب کرنے لگےتو اللہ تعالیٰ نے ان کو متنبہ فرمایا اور ذبح عظیم (یعنی بیٹے کو دین کے لیے وقف کرنے ) کی طرف ان کی رہنمائی کی۔
اس تاویل میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا فرما کر خود یہ تصدیق فرمادی که حضرت ابراہیم نے خواب کی تعبیر صحیح سمجھی تھی۔ فاضل مفتر نے اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے آیت کے ترجمے میں ایک ذراسی تحریف کر دی۔ لفظی ترجمہ یہ تھا کہ تو نے تو خواب کو سچ کر دکھایا ۔ انھوں نے اس کا ترجمہ یہ کیا کہ تو نےخواب کو سچ کر دکھایا ۔ دیکھیے ایک چھوٹے سے لفظ ” تو نے مفہوم کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ جو تصدیق تھی وہ تعریض بن گئی۔ اس کے بعد اگر كَذَالِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِینَ کا فقرہ بے معنی ہو گیا تو کچھ پروا نہیں ۔رہا إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ ، تو اس نئی تاویل سے اس کے معنی یہ قرار پائے کہ یہ محض حضرت ابراہیم کی عقل کی آزمائش تھی کہ آیا وہ خواب کا مطلب صحیح سمجھتے بھی ہیں یا نہیں، اور افسوس کہ بیچارے اس امتحان میں بری طرح فیل ہوئے۔
دیکھا آپ نے محض ایک جزئی مسئلہ میں نقطہ نظر کے پھر جانے سے انسان پر کس طرح بڑے بڑے مسائل میں فہم قرآن کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ جو واقعہ حضرت ابراہیم کا عظیم الشان کارنامہ تھا وہ ان کی ایک غلطی بن گیا۔ جس واقعہ کو مسلمانوں کے سامنے اس لیے پیش کیا گیا تھا کہ وہ اسلام کی رُوح کو سمجھیں اور اپنے اندر ایثار و قربانی اور محبت خداوندی کا یہ جذبہ پیدا کریں، اس کے مقصد کو قطعی باطل کر دیا گیا، اس کی جان نکال لی گئی اور وہ محض اس امر کی ایک شہادت بن گیا کہ جلیل القدر انبیاء تک خدا کےاشارات کو نہیں سمجھ سکے بلکہ اس نعمت سے صرف بیسویں صدی کے ایک "مفسر اسرار" کو سرفراز فرمایا گیا ہے!
"اور ہر امت کے لیے ہم نے مقرر کیا عبادت کا ایک طریقہ تا کہ وہ نام لیں اللہ کا اوپر اس کے جو بخشا ہے اُس نے ان کو چارپایوں میں سے"-
دیکھیے اس "ذبح کرے تو “ نے مفہوم کو کدھر پھیر دیا ہے۔ اب آیت کے معنی یہ قرار پائے جو ند بوں میں روزانہ ہزاروں بکرے قصابوں کے ہاتھوں ذبح ہوتے ہیں اور ان پر بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا جاتا ہے یہی وہ مسک (عبادت کا طور طریقہ ) ہے جو اللہ نے ہر امت کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ اس قسم کی تحریفات کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو اصل الفاظ میں محفوظ کر کے اللہ تعالیٰ نے ہم پر کتنا بڑا فضل فرمایا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بعید نہ تھا کہ اس زمانے میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کو سامنے رکھ کر ایک نیا ہی قرآن تیار کر لیا جاتا ۔
" عرشی" صاحب نے تقریباً تمام ان آیات کی ایسی ہی تاویلیں فرمائی ہیں جن میں قربانی کے احکام آئے ہیں ۔ اور پھر فقہی مسائل کی ایسی توجیہات کی ہیں جن سےصاف معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اصل مسائل کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی' بلکہ حدیث و تغییر اور فقہ کی تمام کتابوں کے ورق الٹنےمیں صرف ایک مقصد اُن کے پیش نظر رہا ہےاور وہ یہ ہےکہ قربانی کی تائید میں اگر پہاڑ نظر آئےتو اس سےآنکھیں بند کر لیں اور اس کےخلاف ایک بال کی ذراسی نوک بھی نظر آئےتو اس کو پہاڑ بنا کر صرف ان مسلمانوں کےسامنےپیش کر دیں جوبیچارے اصل ماخذ تک نہیں پہنچ سکتے اور جن کے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ ان نمائشی پہاڑوں کی حقیقت کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جہاں بحث کا یہ طریقہ اور تحقیق کا یہ معیار ہو وہاں کسی سنجیدہ بحث کی کوئی گنجایش ہی نہیں ہو سکتی ۔ اگر وہ چاہیں تو ان کی ایک ایک غلطی کا راز فاش کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا تا وقتیکہ وہ اپنی ذهنیت اور اپنے طریق فکر کی اصلاح پر آمادہ نہ ہوں ۔
کچھ مدت سے اخبارات میں یہ غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ بقر عید کے موقع پر جانوروں کی قربانی کرنے کا کوئی حکم اسلام میں نہیں ہے یہ محض ایک رسم ہے جو ملاؤں نےایجاد کر لی ہے اور اس فضول رسم پر روپیہ ضائع کرنےسےبہتر یہ ہےکہ اس روپےکو کسی اجتماعی مفاد کے کام پر خرچ کیا جائے۔ ان خیالات کی تبلیغ اب سے کئی سال پہلےبعض منکرین حدیث نے شروع کی تھی اور اس زمانے میں میں نے رسالہ ترجمان القرآن میں قرآن و حدیث کی سند اور عقلی دلائل سے ان کی مفصل تردید کر دی تھی ۔ لیکن آب دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان میں پھر یہ فتنہ اُٹھایا جا رہا ہے۔ اس لیے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ مختصراً اس مسئلے کے متعلق اسلامی احکام واضح طور پر بیان کر دوں تا کہ محض نا واقفیت کی وجہ سے کوئی شخص اس فتنے سے متاثر نہ ہو جائے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ قربانی کے متعلق قرآن مجید کیا کہتا ہے ۔ کیا وہ قربانی کو صرف حج اور متعلقات حج تک محدود رکھتا ہے یا دوسرے حالات میں بھی اس کا حکم دیتا ہے؟ اس باب میں دو آیتیں بالکل صاف ہیں جن کا حج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پہلی آیت سورہ انعام کے آخری رکوع میں ہے:
”اے نبی ! کہو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت غم کرنے والا میں ہوں۔"
یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی تھی جبکہ نہ حج فرض ہوا تھا نہ اس کے مراسم و مناسک مقرر ہوئے تھے ۔ اور اس میں کوئی اشارہ بھی ایسا نہیں ہے جس سے یہ سمجھا جائےکہ اس حکم سے مُراد حج میں قربانی کرتا ہے۔ ٹسک کا لفظ جو اس آیت میں مستعمل ہوا ہےاسے خود قرآن مجید میں دوسری جگہ قربانی ہی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ فمن كان مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ اَدَى مِنْ رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكِ (بقره: ۱۹۴) "تم میں سے جو شخص سفر حج میں بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سرمنڈ وا لے تو فدیہ میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے“ (البقرہ:۲۴)۔ اس نظیر سےمعلوم ہوا کہ سورہ انعام کی مذکورہ بالا آیت میں بھی ٹسک کے معنی قربانی کے ہیں۔ تاہم اگر اس لفظ کو عام عبادات کے معنی میں بھی لیا جائے تو قربانی کا مفہوم اس میں ضرور شامل مانا جائے گا۔
یہ آیت بھی ملتی ہے اور اس میں بھی کوئی اشارہ یا قرینہ ایسا نہیں ہے جس کی بنا پر کہا جا سکے کہ قربانی کا یہ حکم حج کے لیے خاص ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اہل لغت نے"نحر کے معنی سینے پر ہاتھ باندھنے اور قبلہ رخ ہونے اور اول وقت نماز پڑھنے کے بھی بیان کیے ہیں، لیکن یہ سب ڈور کے معنی ہیں۔ عام فہم عربی میں اس لفظ کا مفہوم قربانی کرنا ہی لیا جاتا ہے۔ چنانچہ احکام القرآن“ میں علامہ جصاص لکھتے ہیں :۔
"جن لوگوں نے اس کے معنی اونٹ ذبح کرنے کے بیان کیےہیں ۔ انھی کی بات صحیح ہے، کیونکہ اس لفظ کا حقیقی مفہوم یہی ہے اور مطلق لفظ نحر سُن کر ایک عرب اس مفہوم کے سوا اور کوئی مفہوم نہ سمجھے گا۔ اگر کہا جائے کہ فلاں شخص نے آج نحر کیا ہے تو ہر شخص یہی سمجھے گا کہ اس نے آج اونٹ ذریج کیا نہ یہ کہ اس نے آج بائیں ہاتھ پر سیدھا ہاتھ باندھا۔ (جلد ۳ ص۵۸۵)
یہی وجہ ہے کہ قرآن کے تمام مترجمین، شاہ ولی اللہ صاحب شاہ عبد القادر صاحب شاہ رفیع الدین صاحب مولانا محمودالحسن، مولانا اشرف علی صاحب ڈپٹی نذیراحمد صاحب وغیر ہم نے بالا تفاق اس لفظ کا ترجمہ قربانی ہی کیا ہے۔
اب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کے اس حکم کا منشا کیا سمجھا اور اس پر کیا عمل فرمایا۔ کیا آپ نے صرف حج ہی میں قربانی کی ہے یا مدینہ حقیہ میں بھی آپ عید الاضحی کے موقع پر قربانی کرتے رہے؟ اور کیا آپ نے بقر عید پر قربانی کبھی کبھار کی ہے یا بالالتزام کرتے رہے؟ اور کیا آپ نے محض بذاتِ خود اس پر عمل کیا ہے یا مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا ہے؟ اس باب میں جومستند روایات ہم تک پہنچی ہیں، میں انھیں بے کم و کاست یہاں نقل کیے دیتا ہوں :-
” سب سے پہلا کام جس سے ہم آج کے روز ابتدا کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں پھر واپس جا کر قربانی کرتے ہیں (١) جس نے اس پر عمل کیا اس نے ہمارے طریقے کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا تو اس کا شمار قربانی میں نہیں ہے بلکہ وہ ایک گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے مہیا کیا۔دوسری روایت میں ہے کہ " جس نے نماز کے بعد ذبح کیا۔ اس کی قربانی پوری ہوئی اور اس نے مسلمانوں کا طریقہ پالیا“۔
ظاہر ہے کہ یہ روایت بقر عید ہی سے متعلق ہے۔ اور اس کا کوئی تعلق حج سے نہیں ہے کیونکہ حج میں کوئی خاص نماز ایسی نہیں ہے جس سے پہلے قربانی کرنا اس سنت مسلمین کے خلاف اور بعد قربانی کرنا اس سنت کے مطابق ہے۔
" یحی بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ بن سہل انصاری سےبنا وہ کہتے تھے کہ ہم لوگ مدینہ میں قربانی کے جانور کو خوب کھلا پلا کر موٹا کرتے تھے اور عام مسلمانوں کا یہی طریقہ تھا۔"
١- صریح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ فَصَلِّ لِرَتِكَ وَانْحَرُ اور اِنَّ صَلوتِی وَنُسْکی کی تفسیر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیک ٹھیک قرآن کی ہدایت کے مطابق یہ طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ پہلے نماز پڑھی جائے پھر قربانی کی جائے۔
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص انس بن مالک کہتے ہیں کہ "حضور دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دو ہی مینڈھوں کی قربانی کرتا ہوں"۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم مدینہ میں قربانی کے گوشت کو نمک لگا کر رکھ دیا کرتے تھے اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔
(٦) عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى بْنِ اذْهَرَ أَنَّهُ شُهِدَ الْعِيدَ يَوْمَ الْأَضْحَى مَعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسِ فَقَالَ أيُّهَا النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ عَنْ صِيَامٍ هَذِيْنِ الْعِيْدَيْنِ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ وَأَمَّا الْأَحَرُفَيُوم تَأْكُلُونَ مِنْ تُسْكِكُم ( بخاری کتاب الاضاحی)
ابو عبید مولی این از ہر کہتے ہیں کہ انھوں نے بقر عید کے روز حضرت عمر کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے پہلے نماز پڑھائی۔ پھر خطبہ دینےکھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ”لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو ان دونوں عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک عید تو تمھارے لیے افطار کا دن ہے رہی یہ دوسری عید تو اس میں تم قربانی کا گوشت کھاتے ہو“۔
یہاں یہ بات جان لینی چاہیے کہ حج میں بقر عید کی نماز سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے۔ لہذا حضرت عمر کا یہ خطبہ یقینی طور پر مدینہ طیبہ میں ہوا ہے اور جو حکم انھوں نے بقرعید کی قربانی کے متعلق بیان کیا ہے اس کا تعلق بھی لازما مکہ سے باہر دوسرے مقامات سے ہے:۔
(۷) قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَوَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ أَخَرَ وَلَا يَسْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- (مسلم باب وقت الاضحمیہ )
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ ”میں نے جابر بن عبداللہ سے سنا وہ کہتے تھےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم النحر کو مدینہ میں نماز پڑھائی۔پھر بعض لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ حضور قربانی کر چکے ہیں آگے بڑھ کر اپنے جانور قربان کر لیے۔ اس پر حضور نے حکم دیا کہ جس نے مجھےسے پہلے قربانی کر لی ہے اسے پھر دوسری قربانی کرنی چاہیے اور آئندہ کوئی شخص اس وقت تک قربانی نہ کرے جب تک کہ میں نہ کر لوں۔"
(۸) عَنْ جَابِرٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَ الْأَضْحَى فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِكَيْشِ فَذَبَحَهُ فَقَالَ بِسْمِ الله والله اكبر اللهم هذا عَنِّى وَعَمَّنْ لَّمْ يُضَحُ مِنْ أُمَّتِي - (مسند احمد ابوداؤ د ترندی)
جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ بقرعید کی نماز پڑھی۔ پھر جب آپ پلٹے تو آپ کی خدمت میں ایک مینڈھا پیش کیا گیا اور آپ نے اسے ذبح کرتے ہوئے فرمایا: اللہ کے نام پر اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ خدایا یہ میری طرف سے اور میری اُمت کے اُن سب لوگوں کی طرف سے ہے جنھوں نے قربانی نہ کی ہو“۔
(۹) عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ضَحْى اشْتَرَى كَبُشَيْنِ سَمِيْنَيْنِ أَقْرَنَيْنِ املحَيْن فَإِذَا صَلَّى وَخَطَبَ النَّاسَ أَتَى بِأَحَدِهِمَا وَهُوَ قَائِمٌ فِي مُصَلاهُ فَذَبَحَهُ بِنَفْسِهِ بِالْمَدِينَةِ - (مند احمد )
علی بن حسین رضی اللہ عنہ ابو رافع سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقر عید کے موقع پر دو مینڈھے خریدتے تھےخوب موٹے تازے بڑے سینگوں والے اور چت کبرے۔ پھر جب آپ نماز پڑھ چکتے اور خطبے سے فارغ ہو لیتے تو ان میں سےایک مینڈھا پیش کیا جاتا اور آپ اپنے مصلے پر کھڑے کھڑے اس کو ذبح فرما دیتے“۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص استطاعت رکھتا ہو پھر قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔
ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مدینہ میں رہے اور ہمیشہ قربانی کرتے رہے۔"
یہ گیارہ روایتیں مختلف صحابیوں سے حدیث کی ۔ ۶ معتبر ترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔ اور ان سے ثابت ہوتا ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے مذکورہ بالا احکام کا منشا یہ سمجھا تھا کہ قربانی صرف حاجیوں کے لیے مخصوص نہ ہو بلکہ ذی استطاعت مسلمان بھی اپنی اپنی جگہ بقر عید کے موقع پر قربانی کرتے رہیں۔ اس طریقہ پر حضور خود عامل رہے۔ دوسرےمسلمانوں کو حکم دیا اور اسے سنت اسلام کے طور پر مسلمانوں میں جاری کیا۔
قرآن اور حدیث کے ان دلائل کی بناء پر فقهاء اُمت نے بقر عید کی قربانی کےمتعلق بالاتفاق یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک مشروع فعل ہے اور سنن اسلام میں سے ہے۔اختلاف اگر ہے تو اس میں کہ یہ واجب ہے یا نہیں ۔ مگر اس کا مشروع اور سنت ہونا متفق علیہ ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں مذاہب فقہاء کا خلاصہ اس طرح بیان کرتے ہیں :۔
"اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ بقرعید کی قربانی شرائع دین میں سے ہے۔ شافعیوں اور جمہور کے نزدیک یہ سنت مؤکدہ ہے بطریق کفایت ۔ اور شافعیہ میں ایک دوسری رائے یہ ہے کہ فرضِ کفایہ ہے۔ امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ مقیم اور خوش حال آدمی پر واجب ہے۔ امام مالک کی رائے بھی ایک روایت کی رُو سے یہی ہے ۔ مگر انھوں نے مقیم کی قید نہیں لگائی ہے۔ اوزاعی ربیعہ اور کیٹ کی بھی یہی رائے ہے۔ حنفیوں میں سے ابو یوسف اور مالکیوں میں اشہب نے جمہور کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل کی رائے یہ ہے کہ قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنا مکروہ ہے ۔ ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ قربانی کرنا واجب ہے۔امام محمد کہتے ہیں کہ قربانی ایک ایسی سنت ہے جسے چھوڑ دینے کی اجازت نہیں ہے“ ۔ ( جلد ۱۰ صفحہ ۲ )
اس سے معلوم ہوا کہ جہاں تک قربانی کے سنت اور مشروع ہونے کا تعلق ہے۔یہ مسئلہ ابتداء سے اُمت میں متفق علیہ ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں رہا ہے۔
سب سے بڑا ثبوت اس کے سنت اور مشروع ہونے کا یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے لے کر آج تک مسلمانوں کی ہر نسل کے بعد دوسری نسل اس پر عمل کرتی چلی آ رہی ہے۔ دو چار یا دس پانچ آدمیوں نے نہیں بلکہ ہر پشت کے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں نے اپنے سے پہلی پشت کے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں سے اس طریقے کو اخذ کیا ہے اور اپنے سے بعد والی پشت کے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں تک اسےپہنچایا ہے۔ اگر تاریخ اسلام کے کسی مرحلے پر کسی نے اس کو ایجاد کر کے دین میں شامل کرنے کی کوشش کی ہوتی تو کس طرح ممکن تھا کہ تمام مسلمان بالاتفاق اس کو قبول کر لیتےاور کہیں کوئی بھی اس کے خلاف لب کشائی نہ کرتا ؟ اور کس طرح یہ بات تاریخ میں چھپی رہ سکتی تھی کہ اس طریقہ کو کب کس نے کہاں ایجاد کیا؟ آخر یہ امت ساری کی ساری منافقوں ہی پر تو مشتمل نہیں رہی ہے کہ حدیثوں پر حدیثیں قربانی کی مشروعیت پر گھڑ دی جائیں اور ایک نیا طریقہ ایجاد کر کے رسول خدا کی طرف منسوب کر دیا جائے اور پوری اُمت آنکھیں بند کر کے اسے قبول کر بیٹھے ۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ہماری پچھلی نسلیں ایسی ہی منافق تھیں تو معامله قربانی تک کب محدود رہتا ہے۔ پھر تو نماز روزہ حج زکوۃ بلکہ خود رسالت محمد یہ اور قرآن تک سب ہی کچھ مشکوک و مشتبہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ کیونکہ جس تواتر کے ساتھ پچھلی زملوں سے ہم کو قربانی پہنچی ہے اُسی تو اتر کےساتھ اٹھی نسلوں سےیہ سب چیزیں بھی پہنچی ہیں ۔اگر ان کا متواتر عمل اس معاملے میں مشکوک ہےتو آخر دوسرا کون سا ایسا معاملہ رہ جاتا ہے جس میں اسے شک سے بالا تر ٹھیرایا جا سکے۔
افسوس ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگ نہ خدا کا خوف رکھتے ہیں نہ خلق کی شرم۔ علم اور سمجھ بوجھ کے بغیر جو شخص جس دینی مسئلے پر چاہتا ہے بے تکلف نتیشہ چلا دیتا ہے پھر اسے کچھ پروا نہیں ہوتی کہ اس ضرب سے صرف اسی مسئلے کی جڑ کٹتی ہے یا ساتھ ہی ساتھ دین کی جڑ بھی کٹ جاتی ہے۔
دراصل اس وقت قربانی کی جو مخالفت کی جارہی ہے اس کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ کسی نے علمی طریقے پر قرآن وحدیث کا مطالعہ کیا ہوا اور اس میں قربانی کا حکم نہ پایا جا تا ہو۔ بلکہ اس مخالفت کی حقیقی بنیاد صرف یہ ہے کہ اس مادہ پرستی کے دور میں لوگوں کے دل و دماغ پر معاشی مفاد کی اہمیت بری طرح مسلط ہو گئی ہے اور معاشی قدر کے سوا کسی چیز کی کوئی دوسری قدر ان کی نگاہ میں باقی نہیں رہی ہے۔ وہ حساب لگا کر دیکھتےہیں کہ ہر سال کتنےلاکھ یا کتنے کروڑ مسلمان قربانی کرتے ہیں اور اس پر اوسطانی کس کتنا روپیه خرچ آتا ہے۔اس حساب سے ان کے سامنے قربانی کے مجموعی خرچ کی ایک بہت بڑی رقم آتی ہے اور وہ یخ اٹھتے ہیں کہ اتنا روپیہ محض جانوروں کی قربانی پر ضائع کیا جا رہا ہے حالانکہ اگر یہی رقم قومی اداروں یا معاشی منصوبوں پر صرف کیا جاتا تو اس سے بے شمار فائدے حاصل ہو سکتےتھے۔مگر میں کہتا ہوں کہ یہ ایک سراسر غلط ذہنیت ہےجو غیر اسلامی انداز فکر سے ہمارےاندر پرورش پا رہی ہے۔ اگر اس کو اسی طرح نشو ونما پانے دیا گیا تو کل ٹھیک اسی طریقےسے استدلال کرتے ہوئے کہا جائے گا کہ ہر سال اتنے لاکھ مسلمان اوسطاً اتنا روپیہ سفر حج پر صرف کر دیتے ہیں جو مجموعی طور پر اتنے کروڑ روپیہ بنتا ہے محض چند مقامات کی زیارت پر اتنی خطیر رقم سالانہ صرف کر دینے کے بجائے کیوں نہ اسے بھی قومی اداروں اور معاشی منصوبوں اور ملکی دفاع پر خرچ کیا جائے۔ یہ محض ایک فرضی قیاس ہی نہیں ہے بلکہ فی الواقع اسی ذہنیت کے زیر اثر ترکیہ کی لادینی حکومت نے ۲۵ سال تک حج بند کیے رکھا ہے۔پھر کوئی دوسرا شخص حساب لگائےگا کہ ہر روز اتنےکروڑ مسلمان پانچ وقت نماز پڑھتےہیں اور اس میں اوسطاً فی کس اتنا وقت صرف ہوتا ہےجس کا مجموعہ اتنے لاکھ گھنٹوں تک جا پہنچتا ہے۔اس وقت کو اگر کسی مفید معاشی کام میں استعمال کیا جا تا تو اس سےاتنی معاشی دولت پیدا ہو سکتی تھی ۔ لیکن بُرا ہو ان ملاؤں کا کہ انھوں نے مسلمانوں کو نماز میں لگا کر صدیوں سے انھیں اس قدر خسارےمیں مبتلا کر رکھا ہے۔یہ بھی کوئی فرضی قیاس نہیں ہےبلکہ فی الواقع سوویت روس میں بہت سے ناصحین مشفقین نے وہاں کے مسلمانوں کو نماز کےمعاشی نقصانات اسی منطق سے سمجھائے ہیں۔۔۔ پھر یہی منطق روزے کے خلاف بھی بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہے۔ اور اس کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان نری معیشت کی میزان پر تول تول کر اسلام کی ایک ایک چیز کو دیکھتا جائے گا اور ہر اس چیز کو ملاؤں کی ایجاد قرار دے کر ساقط کرتا چلا جائے گا جو اس میزان میں اس کو بے وزن نظر آئے گی ۔ کیا فی الواقع اب مسلمانوں کے پاس اپنے دین کے احکام کو جانچنے کے لیےصرف ایک یہی معیار رہ گیا ہے؟
جدید تہذیب جن عظیم الشان گمراہیوں کا سیلاب نوع انسانی پر اندا لائی ہے اُس کے فکری و نظری سرچشموں میں سےایک بڑا سر چشمہ وہ فلسفه تاریخ ہے جس کو هیگل نےپیش کیا اور جس کے مقدمات پر بعد میں کارل مارکس نےاپنی مادی تعبیر تاریخ کی بنا رکھی۔ہیگل کےتاریخی فلسفےکا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی تہذیب و تمدن کا ارتقاء دراصل اضداد کے ظہور، تصادم اور امتزاج سے واقع ہوتا ہے اور تاریخ کے ہر دور ایک وحدت ایک گل، یا اگر استعارہ کی زبان میں کہنا چاہیں تو کہہ سکتےہیں کہ گویا ایک زندہ نظام جسمانی ہوتا ہےاس دور میں انسان کے سیاسی، معاشی، تمدنی و اخلاقی، علمی و عقلی اور مذہبی تصورات ایک خاص مرتبے پر ہوتے ہیں۔ ان سب کے اندر ایک مناسبت ایک ہم آہنگ کلئیت ہوتی ہے۔ وہ گویا اس زندہ وجود یا اس عصری وحدت کے مختلف پہلو یا رخ ہوتےہیں اور ان سب میں اس پورے دور کی روح طاری و ساری ہوتی ہے۔
جب ایک بڑا ؤور اپنی روح کو انتہائی مدارج تک ترقی دے چکتا ہے اور اس دور کو چلانے والے اصول، نظریات اور افکار انسانی تہذیب و تمدن کو اپنی قوت و استعداد کی آخری حد تک پہنچا دیتے ہیں، تب خود اسی دور کی آغوش سے پرورش پا کر اس کا ایک دشمن ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی کچھ نئے افکار نئے رجحانات نئے نظریات اور نئے اصول، جو خود اسی ر و بزوال دور کے طبعی تقاضے سے پیدا ہوتے ہیں اور پرانے افکار سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔
کچھ مدت تک قدیم اور جدید میں کشمکش جاری رہتی ہے۔بالآخر کسر و انکسار کےبعد قدیم و جدید میں امتزاج ہو جاتا ہے۔ کچھ قدیم عناصر اور کچھ جدید عناصر کی آمیزش سے ایک نئی عصری تہذیب وجود میں آتی ہے اور اس طرح تاریخ کا ایک دوسرا دور شروع ہو جاتا ہے۔
پھر اس نئے دور کی رُوح بھی جب اپنے انتہائی مدارج تک ترقی کر جاتی ہےتو اس کی آغوش سے پھر ایک دشمن ظاہر ہوتا ہے، پھر ایک کشمکش شروع ہو جاتی ہے اور پھر کسر و انکسار کے بعد ایک نیا مرکب پیدا ہوتا ہے جو ایک نئے دور تہذیب و تمدن کی رُوح بن جاتا ہے۔
اس عملِ ارتقاء کو ہیگل اپنی اصطلاح میں جدلی عمل (Dialectic Process) کہتا ہے۔ اس کے نزدیک عرصہ تاریخ یا میدانِ دہر میں گویا ایک مسلسل منطقی مناظرہ و مجادلہ ہو رہا ہے۔ پہلے ایک دعوی (Thesis) سامنے آتا ہے۔ پھر اس کے مقابلے میں جواب دعوی (Antithesis) پیش ہوتا ہے۔ پھر ایک طویل جھگڑے کے بعد عقل کل یا روج گل ان کے درمیان صلح کراتی ہے، یعنی کچھ باتیں اس کی اور کچھ اس کی قبول کر کے ایک مرکب (Synthesis) بنا دیتی ہے۔ آگے چل کر یہ مرکب خود ایک دعوی بن جاتا ہے، پھر اس کا جواب دعوئی مقابلے میں آتا ہے اور پھر ان کے درمیان لڑائی کے بعد مصالحت ہوتی ہےجواب دعوئی مقابلے میں آتا ہے اور پھر ان کے درمیان لڑائی کے بعد مصالحت ہوتی ہےاور ایک نیا مرکب بنتا ہے۔
ہیگل کےبعد اس نظریہ کی رُو سےجدلی عمل ایک کلی اجتماعی عمل ہےیعنی تاریخ کے ایک دور کی پوری انسانی تہذیب گویا ایک زندہ جسم یا ایک واحد وجود کی حیثیت رکھتی ہے اور افراد اور گروہ گویا اس جسم کے اعضاء یا اجزاء ہیں ۔ اپنے دور کے اجتماعی مزاج یا اپنے دور کے تمدن د تہذیب کی ہمہ گیر رُوح میں سے کوئی فرد اور کوئی گروہ آزاد نہیں ہو سکتا۔ بڑے سے بڑے آدمی نامورترین تاریخی اشخاص تک اس جدلی کھیل، اس گل کی کشمکش با خود میں شطرنج کے پیادوں سےزیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتےاس دریا کے طوفانی بہاؤ میں’ "خیال مطلق" ایک شاہانہ شان کے ساتھ بے روک ٹوک تاریخ کی شاہراہ پر خود ہی دعوئی اور جواب دعوئی اور بالآخر خود ہی امتزاج بین الاضداد کرتا ہوا بڑھتا ہوا چلا جا رہا ہے۔ عقل کل یا جان جہاں کی ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ اشخاص اور گروہوں کو اس غلط نہی میں جتلا کرتی ہے کہ اس تاریخی ڈرامے میں وہ رہنمایانہ اور کارفرمایانہ پارٹ ادا کر رہے ہیں۔حالانکہ در اصل جان جہاں انھیں خود اپنی تشکیل ذات کے لیے استعمال کر رہی ہے ۔(۱)
کارل مارکس نے ہیگل کے اس فلسفیانہ نظریہ میں سے جدلی عمل کا خیال تو لے لیا مگر روح یا فکر کا تصور جو ہیگلی فلسفہ کی جان تھا، اس سے الگ کر دیا۔ فکر کےبجائے اس نے ماڈی اسباب یا معاشی محرکات کو تاریخی ارتقاء کی بنیاد قرار دیا۔
اس نے کہا کہ انسان کی زندگی میں اصل اہمیت جس چیز کی ہے وہ معیشت ہے۔ایک تاریخی عہد کا معاشی نظام اپنے عہد کی پوری انسانی تہذیب کی شکل وصورت بناتا ہے۔ہر عہد میں قانون، اخلاق مذہب فلسفه علوم وفنون اور فی الجمله تمام انسانی افکار و تصورات (Ideologies) اس نظام معیشت کے اثر سے یا اس نظام معیشت کو چلانے اور قائم رکھنےکے لیے بنتے ہیں جو اُس عہد کی سوسائٹی میں کارفرما ہو۔
مارکس کے نزدیک تاریخ کے دوران میں بدلی محمل اس طرح رونما ہوتا ہے کہ جب ایک معاشی نظام کے تحت ایک طبقہ اسباب زندگی کی تیاری و فراہمی اور ان کی تقسیم پر قابض ہو کر دوسرے طبقوں کو اپنا دست نگر بنا لیتا ہے تو رفتہ رفتہ ان دبے ہوئے طبقوں میں بے چینی شروع ہو جاتی ہے۔ وہ معاشی پیداوار (Production) اور اسباب زندگی کی تقسیم اور ملکیتی تعلقات (Property Relations) کے ایک نئے نظام کا مطالبہ کرتے ہیں جو ان کےمفاد سےزیادہ مناسبت رکھتا ہو۔ یہ گویا اُس پرانےنظام کا جواب دعویٰ (Antithesis) ہےیا اُس کا وہ دشمن ہے جو خود اس کی آغوش سے پرورش پا کر نکلتا ہے۔اب دونوں میں کشمکش شروع ہوتی ہے اور اس کشمکش میں حاضر الوقت نظام کے قوانین مذہب اخلاق اور تصورات کا پورا مجموعہ اُس نظام کی حمایت کرتا ہے جو اس دور میں پہلےسے قائم تھا۔ اس کے مقابلے میں نئی اُبھرنے والی طاقتیں، جن کا اصل مطالبہ معاشی نظام ہی کو بدلنے کے لیے ہوتا ہے اس امر پر مجبور ہوتی ہیں کہ قانونی ، مذہبی اور اجتماعی تصورات کے اس پرانے مجموعےکو رد کر دیں اور جواب میں ایک دوسرا مجموعہ مرتب کریں جو ان کےمطلوبہ معاشی نظام سے مناسبت رکھتا ہو۔ ایک مدت تک طبقاتی نزاع (Class Struggle) بر پا رہتی ہے۔ آخر کار اس نزاع کے نتیجے میں معاشی نظام بدل جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی پرانے قانونی، مذہبی اخلاقی اور فلسفیانہ تصورات کو بھی نئے تصورات کے لیے جگہ خالی کرنی پڑتی ہے۔
(١) بیگل در اصل خدا کو عقل کل (World Spirit) جان جہاں (World Reason)، روح مطلق Absolute Spirit) اور فکرِ مطلق یا خیال مطلق (Absolute Ideology) وغیرہ ناموں سے یاد کرتا ہے۔ اس کے نزدیک انسانی تمدن و تہذیب کے ارتقاء میں دراصل روح کل یعنی ذات خداوندی ترقی کر رہی ہے۔ خدا اس پردے میں آپ اپنی نمائش کر رہا ہے۔ اپنی ذات کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔ تاریخ کی شاہراہ پر مارچ کر رہا ہے۔ رہا انسان تو وہ بے چارہ محض خارجی مظہر یا آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ ہے مارکس کی وہ ماڈی تعبیر تاریخ، جس کو تاریخی مادیت( Historica Materialism )یا جدلی مادیت (Dialectic Materialism) کہا جاتا ہے۔ اس میں انسانی تمدن و تہذیب کے ارتقاء اور تاریخ کے تمام تغییرات کا محور اسباب معیشت کی فراہمی اور تقسیم کے سوال کو قرار دیا گیا ہے۔ مارکس کی نگاہ میں پوری انسانی زندگی اسی محور پر گھومتی ہے اور اس کو حرکت دینے والی طاقت دراصل طبقاتی نزاع کی طاقت ہے۔ اس کے نزدیک مذہب اخلاق اور انسانی تہذیب و تمدن کے لیے کوئی ایسے مستقل اصول موجود نہیں ہیں جو ازلی و ابدی ہوں اور بجائے خود حق اور صدق ہوں ۔ اس کے بجائے وہ یہ سمجھتا ہے کہ انسان پہلے اپنے مادی مفاد اور اپنی معاشی اغراض کے لیے ایک طریقہ اختیار کرتا ہے پھر اس کو مستحکم کرنے اور اچھی طرح کامیابی کے ساتھ چلانے اور برحق بنانے کے لیےایک مذہب اور ایک فلسفہ اخلاق اور ایک نظام افکار و تصورات گھڑ لیتا ہے۔ اُس کے خیال میں یہ بالکل ایک فطری اور معقول بات ہے کہ انسانوں کا جو طبقہ کسی دوسرے طریقےمیں اپنا معاشی مفاد مضمر پائے وہ سابق معاشی نظام کے تحت پچھلے مذاہب و اخلاق اور تہذیبی و تمدنی نظریات کو بھی رڈ کر دے اور اپنے مفاد کے مطابق دوسرے عقیدے اور اصول گھڑے۔ وہ سمجھتا ہے کہ خود غرضانہ کشمکش مین تقاضائے فطرت ہے اور انسانی تاریخ کےارتقاء کا راستہ بس یہی ایک ہے کہ انسانوں کےمختلف طبقے اپنی اغراض اور اپنے مفاد کے لیے جھگڑیں، ٹکرائیں اور چھین جھپٹ کریں۔ آدمی تاریخ کی شاہراہ پر اسی طرح لڑتا جھگڑتا آ رہا ہے اور اس کا کام یہی ہے کہ آگے بھی یونہی لڑ جھگڑ کر چلے ۔ مصالحت اور موافقت کی اگر کوئی بنیاد ہے تو وہ صرف معاشی اغراض کا اتحاد ہے۔ جو لوگ اس معاملےمیں متحد ہوں انھیں ایک گروہ بنتا ہی چاہیے۔ اور جن لوگوں سے اس معاملے میں ان کا اختلاف ہو ان سے انھیں لڑنا ہی چاہیے۔
اس مضمون میں ہمارے پیش نظر بینگل اور مارکس کے نظریات پر کوئی تفصیلی تنقید کرنا نہیں ہے۔ یہاں ہم جو کچھ بتانا چاہتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ ان نظریات نے مذہب اخلاق اور تہذیب و عمران کے متعلق بالعموم موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ لوگوں کا نقطۂ نظر بنیادی طور پر غلط کر کے رکھ دیا ہے۔
ایک یہ کہ ہر دور کی پوری تہذیب ایک وحدت ہوتی ہے۔ اخلاق قوانین مذہب' سائنس، فلسفہ آرٹ اور بین الانسانی روابط جو ایک دور میں پائے جاتے ہیں، سب کے سب اپنے دور کے اجتماعی مزاج یا اپنے عبید کی لکھی رُوح کے مظاہر ہوتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ جب ایک تہذیب خوب پک چلتی ہے تو خود بخود تاریخی اسباب کی بناء پر اُسی تہذیب کے اندر سےرجحات کا ایک نیا مجموعۂ افکار ونظریات اور تصورات کا ایک نیا لشکر نمودار ہوتا ہےجو پرانے اصول تہذیب و تمدن سےجنگ کرتا ہے،یہاں تک کہ ایک نئی تہذیب وجود میں آتی ہے جس میں پرانی تہذیب کے قیمتی اجزاء لے لیتےہیں ۔ اس طرح یکے بعد دیگرے جونئی تہذیبیں وجود میں آتی چلی جاتی ہیں ۔ ان میں سےہر بعد کی تہذیب پرانی تہذیبوں سے افضل ہوتی ہے، کیونکہ وہ پرانی تمام تہذیبوں کےصالح اجزاء پر مشتمل ہونے کے ساتھ نئے افکار ونظریات کے قیمتی اجزاء بھی اپنے اندر رکھتی ہے۔
ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے ذہن میں یہ دو خیال جم گئے ہوں وہ درحقیقت کسی ایسی تعلیم پر ایمان رکھ ہی نہیں سکتے جواب سے صدیوں پہلے ( ان کے عقیدے کے مطابق ایک گزرے ہوئے تہذیبی دور میں ) دی گئی ہو ۔ ان کے سامنے جب ابراہیم موسیٰ عینی اور محمد علیہم السلام کے نام لیے جائیں گے تو وہ یہی جواب دیں گے کہ یہ سب کے سب اپنےاپنے دور کی پیداوار تھے ۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنے عہد کی تہذیب کے مقابلے میں ایک جواب دھوئی (Antithesis) پیش کیا تھا، جو ایک کشمش کے بعد ایک مرکب تہذیب (Synthesis) کا جز بن گیا۔ اس کے بعد اور کتنے ہی جواب دھوئی پیش ہو چکے ہیں اور کتنےہی مرکب بن چکے ہیں یہاں تک کہ انسانی تہذیب ترقی کرتے کرتے ہمارے اس دور تک پہنچی ہے۔ ہم اُن لوگوں کی قدر اس لحاظ سے ضرور کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے اپنےعہد میں انسانی تہذیب کو آگے بڑھانے کے لیے کام کیا ۔ مگر اب کسی پرانے جواب دعوی کو پھر سے سامنے لانے کا کون سا موقع ہے“۔
مارکس کے پیرو ہیگل کے متبعین کے ساتھ مذکورہ بالا دونوں خیالات میں شریک ہیں اور پھر ایک تیسرے خیال کا اُن کے دماغ پر مزید تسلط ہو گیا ہے۔ وہ ان تمام مذہبی اخلاقی اور قانونی تصورات کو جو کسی خاص تاریخی عہد میں پائے جاتے ہوں اُسی خاص دور کے معاشی نظام کی پیدا کر دہ چیز سمجھتے ہیں، اور ان کا خیال یہ ہے کہ وہ تصورات اور اصول و قوانین اپنے ہی دور کے معاشی نظام کی حمایت و حفاظت کے لیے وضع کیے گئے ہوتےہیں۔ لہذا منطقی طور پر اُن کے اس عقیدے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب انسان کی معاشی ضروریات مہیا کرنے کا طریقہ (System of Production & Distribution) بدل جائے تو اس کے ساتھ ہی مذہب اخلاق، قانون، ہر چیز کو بدل جانا چاہیے، کیونکہ ان کا جوڑ صرف پرانے نظامِ معیشت ہی کے ساتھ تھا نئے نظام کی رُوح سے ان کو کوئی مناسبت نہیں ۔
کون کہہ سکتا ہے کہ اس مارکسی نظریہ پر جو شخص اعتقاد رکھتا ہو وہ صدیوں پہلے کی کسی مذہبی تعلیم یا کسی شریعت یا کسی اخلاقی سسٹم پر ایمان رکھ سکتا ہے۔
ابھی حال میں ہمارے ایک اشترا کی بھائی نے سوشلزم کیا نہیں ہے“ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا جس میں انھوں نے ثابت کرنا چاہا تھا کہ سوشلزم اور اسلام میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ ممکن ہے اُن کی طرح بعض دوسرے اشترا کی حضرات بھی اس غلط فہمی میں بتلا ہوں۔ اس لیے میں ان سے عرض کروں گا کہ ایک مرتبہ وہ مارکس کی مازی تعمیر تاریخ اور اس کے منطقی نتائج پر اچھی طرح غور کریں اور پھر سوچیں کہ اس نظریہ کو تسلیم کرنے کےبعد کسی شخص کے لیے اپنے آپ کو مسلمان کہنے کی کون سی گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔ ہر شخص کو عقیدے کے انتخاب کا حق حاصل ہے۔ وہ اگر مارکسی نظریہ کو صحیح سمجھتے ہیں تو اُسے ضرور اختیار کریں مگر انھیں کم از کم اپنے دماغ کو تو صاف رکھنا چاہیے۔ ایک عقیدے کی پیروی کے ساتھ یہ دعوی کرنا کہ ہم ساتھ ہی اس کی ضد کے بھی معتقد ہیں، سخت دماغی اُلجھاؤ کا پتہ دیتا ہے اور یہ البتہ افسوس ناک ہے۔
ہیگل اور مارکس دونوں نےحقیقت کو سمجھنےکی کوشش کی ہے مگر دونوں اس کی یافت میں ناکام ہوئے ہیں۔ انھوں نے حقیقت کے صرف ایک جزء کو پایا اور اُسے گل حقیقت قرار دینے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خود بھی غلطی میں مبتلا ہوئے اور دوسروں کےلیے بھی غلط فہمیوں کا جال بنا کر چھوڑ گئے ۔
ہیگل کے فلسفہ تاریخ میں جو چیز صحیح ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ تاریخ کے دوران میں انسانی تمدن و تہذیب کا ارتقاء اضداد کی جنگ اور پھر ان کی مصالحت کی صورت میں ہوتا رہا ہے۔ لیکن اس صحیح خیال کے ساتھ اس نے بہت سے تخیلات کی آمیزش کر کے ایک ایسے نظریہ کی عمارت کھڑی کر دی جس کے اکثر ستون محض ہو ا پر کھڑے کیے گئے ہیں۔
ا س کا خدا کو روح عالم قرار دینا اور یہ کہنا کہ خدا انسان کو خود اپنی تکمیل کا آلہ بنار با ہے اور انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقاء کی تاریخ در اصل اپنے منتہائے کمال کی طرف خود خدا کے سفر کی تاریخ ہے یہ سب کچھ محض ایک مہمل خیال آرائی ہے جس کے لیے زمین و آسمان میں کوئی ثبوت ۔۔۔ جسے ثبوت کہا جا سکے۔۔۔موجود نہیں ۔
پھر اس کا یہ خیال کہ تاریخ کے تھیٹر میں انسان محض ایک بے شعور بے اختیار ہےارادہ ایکٹر ہے اور یہ کہ در اصل وہ خدا ہی ہے جو انسانوں کے واسطے سے متضاد افکار پیش کرتا ہے ان کو لڑاتا ہے اور پھر اُن کے درمیان مصالحت سے فکر و خیال کی نئی صورتیں بناتا رہتا ہے یہ بھی ایک بے ثبوت اور بے بنیاد قیاس ہے جس کی تائید کسی علمی حقیقت سے نہیں ہوتی۔
یہ ہیگل کی بنیادی غلطیاں ہیں جنھوں نے اس کے پورے فلسفے کو ایک چیستان بنا دیا ہے۔ اس کے بعد جب ہم اس کے جدال تاریخی کے نظریہ کو دیکھتے ہیں تو باوجود یکہ یہ نظریہ اپنے اندر صداقت کی ایک جھلک رکھتا ہے،ہمیں اس کے اندر قیاس آرائی (Speculation) کا عنصر بہت زیادہ اور تاریخ کے حقیقی واقعات سے استشہاد بہت کم نظر آتا ہے۔ اس نےیہاں تک تو ٹھیک اندازہ لگایا کہ تاریخ کے دوران میں متضاد خیالات کے درمیان نزاع بر پا رہی ہے اور پھر ان اضداد کے درمیان مصالحت ہو کر ان کا ایک مرتب انسانی تہذیب و تمدن کا جزء بنتا رہا ہے۔ مگر اس نے واقعات کے اندر اتر کر یہ تحقیق کرنے کی زحمت نہیں اُٹھائی کہ جن اضداد کے درمیان نزاع ہوتی ہے ان کی حقیقی نوعیت کیا ہے، پھر ان کےدر میان مصالحت کیوں ہوتی ہے اور اس مصالحت سے جو مرکب بنتا ہے وہ آگے چل کر پھر کیوں اپنےاندر سےاپنا ایک دشمن پیدا کر دیتا ہے۔اس جدلی عمل کا تفصیلی اور تحلیلی مطالعہ کرنے کے بجائے، ہیگل اس پر یوں نگاہ ڈالتا ہے جیسے کوئی پرندہ فضا میں اڑتے ہوئے کسی شہر کا ایک مجمل جائزہ لیتا ہو۔
مارکس کو اتنی بلند خیالی بھی نصیب نہیں ہوئی جو ہیگل کے حصہ میں آئی ہے۔ وہ انسان کی فطرت' اس کی ساخت اور اس کی ترکیب کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا ۔ وہ باہر کے حیوان کو تو دیکھ لیتا ہے جسے معاشی ضروریات لاحق ہوتی ہیں مگر اس کے اندر کےانسان کو نہیں دیکھتا جو اس بیرونی حیوان کے خول میں رہتا ہے، جس کے لیے بیرونی حیوان کو آلہ بنایا گیا ہے اور جس کی فطرت کے مقتضیات بیرونی حیوان کی طبیعت سے بہت مختلف ہیں۔ اس کم نظری و کوتاہ بینی نے اس کے تمام عمرانی نظریات کو یکسر غلط کر کے رکھ دیا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ اندر کا انسان باہر کے حیوان کا تابع اور خادم بلکہ غلام ہے۔ اس کو عقل استدلال، فکر جستجو مشاہدہ وجدان تحقیق اور تخلیق کی جو قو تیں دی گئی ہیں وہ سب کی سب محض بیرونی حیوان کی خواہشات اغراض اور ضروریات کی خدمت کے لیے ہیں۔ لہذا اندر والے انسان نے آج تک اس کے سوا کچھ نہیں کیا، نہ وہ آئندہ کرے گا نہ وہ اس کے سوا کچھ کر سکتا ہے کہ بس اپنے آقا یعنی باہر والے حیوان کی خواہشات کے مطابق اخلاق اور قانون کے اصول بنائے مذہب کے تصورات گھڑے اور اپنے لیے زندگی کا راستہ معنین کرے۔۔۔ انسان کی حقیقت کا یہ کتنا گھٹیا اندازہ ہے! تہذیب کا یہ کتنا ذلیل تصور ہے! کتنا پست ہے وہ ذہن جس نے اس تصور کو پیدا کیا اور کتنے بلید ہیں وہ ذہن جو اسے قبول کرتے ہیں!
اس سے انکار نہیں کہ بیرونی حیوان کے احساسات اور مطالبے اندرونی انسان کی قوت فیصلہ پر اثر ڈالتے ہیں۔ اور اس سے بھی انکار نہیں کہ بہت سے انسان اپنی حیوانیت سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔ مگر مارکس کا یہ خال کتنا غلط ہے کہ اندر کا انسان باہر کے حیوان پر کوئی حاکمانہ اثر نہیں ڈالتا۔ اور اس نے تاریخ تہذیب انسانی کو کتنا غلط پڑھا ہے کہ ساری تہذیب اس کو انھی انسانوں کی بنائی ہوئی نظر آتی ہےجن کی انسانیت اپنی حیوانیت کی تابع تھی۔ حالانکہ اگر وہ آزادانہ نگاہ سے دیکھتا تو اسے نظر آتا کہ انسانی تہذیب میں جو کچھ قیمتی اور شریف اور صالح ہے وہ سب اُن لوگوں کا عطیہ ہے جنھوں نے حیوانیت کو انسانیت کا تابع اور محکوم بنا کر رکھا تھا، اور جنھوں نے اپنی طاقتور شخصیت سے حیوان صفت انسانوں کی عظیم اکثریت کو متاثر کر کےتہذیب و شائستگی اخلاق و روحانیت اور عدل و انصاف کےمستقل أصول انسانی زندگی میں داخل کیے تھے۔
اگر هیگل اور مارکس نے قرآن کو پڑھا ہوتا تو انھیں انسان کی حقیقت کو سمجھنے اور ارتقاء تہذیب انسانی کے اساسی قانون کو دریافت کرنے میں وہ ٹھوکریں نہ لگتیں جو انھوں نے خود گمان اور قیاس کے تیر تکے لڑانے کی وجہ سے کھائی ہیں ۔ قرآن کا علم الانسان اور فلسفہ تاریخ اُن تمام مسائل کو نهایت صحیح اور تشفی بخش طریقے سے حل کرتا ہے جن میں یہ لوگ اُلجھ کر رہ گئے ہیں ۔
قرآن کی رُو سے انسان محض اُس حیوانی Biological) وجود کا نام نہیں ہے جو بھوک، شہوت، حرص، خوف، غضب وغیرہ داعیات کا محل ہے۔ بلکہ دراصل ”انسان“ وہ روحانی وجود ہے جو اس اوپر کے حیوانی خول کے اندر رہتا ہے اور اخلاقی احکام کامل ہے۔ اس کو دُوسرے حیوانات کی طرح جبلت (Instinct) کا غلام نہیں بنایا گیا ہے بلکہ اسےعقل، تمیز اکتساب علم اور فیصلہ کی قوتیں دے کر ایک حد تک خود اختیاری (Autonomy) عطا کی گئی ہے۔ دوسرے حیوانات کی طرح قدرت اسے ایک لگے بندھے راستے پر نہیں چلاتی اور نہ اس کی ضروریات کی بالکلیہ خود کفیل بنتی ہے بلکہ اللہ تعالی نے اسے کوشش (سعی) کی قوت دے کر دُنیا میں چھوڑ دیا ہے تا کہ وہ جو کچھ حاصل کرے اپنی کوشش سے کرنے اپنی کوشش کے لیے جو رخ اور جو راستہ چاہے اختیار کرئے اور اپنے اختیار کردہ رُخ پر جہاں تک بڑھ سکتا ہے بڑھتا چلا جائے۔ اس خود اختیاری کی حامل اور اسی کوشش کی قوت رکھنے والی اور اپنی کوشش کے لیے خود ہی سمت اور راستہ منتخب کرنے والی رُوح کا نام انسان ہے۔
رہا باہر کا حیوان تو دراصل وہ اس اندرونی انسان کو خادم اور آلہ کار کے طور پر دیا گیا ہے۔ یہ خادم جاہل ہے۔ اس کے پاس صرف خواہشات اور جسمانی مطالبات ہیں۔ اس کا نصب العین محض اپنے مرغو بات کو حاصل کرنا اور اپنی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے۔ یہ اندر کے انسان کو اُلٹا اپنا ہی خادم بنانا چاہتا ہےاور اسےمجبور کرتا ہےکہ اپنی عقلی وعلمی قابلیتوں سمیت وہ محض اس کے حیوانی مقاصد کی تحصیل کا آلہ کار بن کر رہ جائے۔ یہ اس کی پرواز فکر کو اوپر کےبجائےنیچےکی طرف مائل کرتا ہے۔ اس کی نگاہ کو تنگ کرتا ہے۔ اسے محسوسات کا غلام بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اس کے اندر جاہلیت کے تعصبات پیدا کرتا ہے۔
اس کے برعکس وہ انسان جو اندر بیٹھا ہے، اُس کی فطرت تقاضا کرتی ہے کہ اس بیرونی حیوان کو اپنا خادم بنائے ۔ اللہ نے اس کو فجور اور تقویٰ کا الہامی علم دیا ہے ۔ نیکی اور بدی کے مختلف راستوں ( نجدین) میں تمیز کرنے کی استعداد بخشی ہے۔ اس کے اندر ایک ایسی اخلاقی جس رکھ دی ہے جو اندر ہی اندر تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنی حیوانی ضروریات کو بھی جانوروں کی طرح نہیں بلکہ انسانیت کے شایانِ شان طریقے سے پورا کرے۔ وہ حیوانی طریقے اختیار کرنے میں آپ سے آپ شرم محسوس کرتا ہے۔ اس کا نصب العین حیوانیت کے نصب العین سے بلند تر ہے۔ وہ ایک زیادہ اعلیٰ درجے کے وجود میں تبدیل ہونا چاہتا ہے۔ اُس کے اندر وجدانی طور پر یہ طلب پائی جاتی ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ اُس کی زندگی کسی اعلیٰ وارفع مقصد کے لیے ہے۔
پوری انسانی تاریخ در اصل اسی کشمکش کا ایک مرقع ہے جو اندر کے انسان اور باہر کے حیوان میں برپا ہے۔ باہر کا حیوان اندرونی انسان کو نیچے کھینچتا ہے اور اپنا تابع بنا کر زندگی کے وہ ٹیڑھے راستے پیدا کراتا ہے جن میں ظلم اور عدوان ہے فحشاء اور منکر ہے گناہ اور بنی ہے، شہوات کی بندگی ہے لذات نفس کی غلامی ہے انسانی تعلقات اور روابط کی ناهمواری ہے۔ اندر کا انسان اس حالت سے مطمئن نہیں ہوتا اور اس کے خلاف بغاوت کرتا ہے ۔ مگر بیرونی حیوان کو اپنا تابع بنانے کی کوشش میں وہ کچھ دوسرے ٹیڑھے راستےپیدا کر لیتا ہے جن میں رہبانیت اور ترک دنیا ہے، نفس کشی اور فطری ضروریات سےانحراف ہے تمدن اور اجتماعی زندگی کے فرائض سے فرار ہے۔ بیرونی حیوان بھی اس کےخلاف بغاوت کرتا ہے اور انسان کو پھر اپنے ٹیڑھے راستوں کی طرف کھینچ لے جاتا ہے۔
افراط اور تفریط کی یہ دونوں طاقتیں بار بار اپنا زور کرتی ہیں۔ ہر ایک کے اثر سےکچھ ایسے نظریات اصول اور طریقے پیدا ہوتے ہیں جو ایک عصر حق کا اور کچھ عناصر باطل کے اپنے اندر رکھتے ہیں۔ کچھ دونوں تک انسان ان مخلوط اصولوں اور طریقوں کا تجر بہ کرتا ہے۔ آخر کار اس کی اصلی فطرت' جو شعوری یا غیر شعوری طور پر صراط مستقیم کے لیے بےچین رہتی ہے ٹیڑھے راستوں سے بیزار ہو کر ان کے باطل عناصر کو پھینک دیتی ہے اور ان کے صرف وہ حضے انسانی زندگی میں باقی رہ جاتے ہیں جو حق اور راست ہیں۔كَذَالِكَ يَضْرِبُ اللهُ الحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَّأَمَّا مَا يَنْفَعُ الناس فينك في الأرْضِ (1) (الرعد: (۱۷) لیکن افراط و تفریط کے ایک مجموعے کی ناکامی کے بعد ایک دوسرا مجموعہ میدان میں آجاتا ہے، پھر کچھ مدت تک کشمکش بر پا رہتی ہے اور پھر انسانی فطرت اس کو ابھی وجوہ سے رو کر دیتی ہے جن وجوہ سے وہ پہلے حق و باطل کے مخلوط مجموعوں کو رد کرتی رہی ہے۔
اس طرح تاریخ کے دوران میں انسانی تہذیب و تمدن کا ارتقاء ایک ایسے خط منحنی کی شکل میں ہوتا رہا ہے جو بار بار ایک خط مستقیم کے گرد چکر کاٹتا چلا جاتا ہے۔ اس کی مثال اس نقش کی سی ہے:۔
اس مثال میں (۱- ب ) انسانی زندگی کا وہ فطری راستہ ہے جسے قرآن صراط مستقیم رشد ہدایت، سواء السبیل اور سبیل رب وغیرہ سے تعبیر کرتا ہے۔ انسانیت ابتدا میں اپنی فطری حالت پرتھی (كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً - بقرہ:۲۱۳) پھر انسانوں میں اپنی حد جائز سےگزرنے کے میلانات پیدا ہوئے ۔ (وَمَا اخْتَلَفَ فِيْهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوُهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ تُهُمُ الْبَيِّنْتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ - بقره: ۲۱۳) یہ میلانات انسان کو بار بار صراط مستقیم سے ہٹا کر دُور لے جاتے رہے۔ ہر بار تجربات کی تلخی اور انسانی فطرت کی بے چینی اس کو راہ فطرت کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کرتی رہی۔ مگر انسان راہ فطرت پر پہنچ کر پھر دوسری طرف دُور نکل جاتا رہا۔ اور پھر فطرت کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہوتا رہا۔
ہیگل جن کو دعوئی اور جواب دعوئی کہتا ہے وہ وہی انتہا پسندانہ میلانات ہیں جو کبھی خطرہ مستقیم کے اس طرف اور کبھی اُس طرف انسان کو کھینچ کر لے جاتے ہیں۔ اور وہ جسے ترکیب و امتزاج سے تعبیر کرتا ہے وہ بعینہ وہ نقطے ہیں جہاں یہ خط منحنی صراط مستقیم کو کاتا ہے۔
١- اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال دیتا ہے۔ جو جھاگ ہے وہ اکارت جاتا ہے اور جو انسانوں کےلیے فی الحقیقت نافع ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتا ہے“۔ (الرعد :۲)
ہیگل اور مارکس دونوں کو تاریخ میں یہ خط منحنی تو نظر آ گیا، مگر وہ اس خط مستقیم کو نہ دیکھ سکے جو ازل سے ابد تک سیدھا کھینچا ہوا ہے، جس پر چلنے کے لیے انسان کی اصلی فطرت خود بخود تقاضا کرتی ہے اور جس کا ان ٹیڑھے راستوں کے درمیان موجود ہونا ایک ایسی حقیقت ہے کہ ہر انسان کا قلب اس کی شہادت دیتا ہے۔ اسی کو تلاش کرنے کی بےچینی ہر سوچنے والے انسان کے اندر موجود ہے۔
صرف انبیاء علیہم السلام ہی وہ لوگ ہیں جن کو یہ صراط مستقیم معلوم تھی ۔ انھون نےبار بار آکر انسان کو اس درمیانی راہ راست کی طرف بلایا اور اس سید ھے خط پر انسانی تہذیب کو عملاً قائم کر کے دکھا دیا۔
ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) اتاری تا کہ لوگ معدل کے طریقے پر قائم ہوں ۔
"ڈارون کا نظریہ ارتقاء موجودہ زمانے کے علمی مسلمات میں سےہے۔ مگر قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے بار بار یہ محسوس ہوتا ہے کہ دونوں کے نقطۂ نظر میں قطعی) نضاد ہے۔سب سےزیادہ صریح بات جو بیک نظر محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کا انسان اوّل روز سےانسان ہی تھا جسے ایک خاص تاریخ کو یکا یک ایک تخلیقی عمل سے پیدا کر دیا گیا۔ پھر اس سے انسانی نسل چلی ۔ لیکن ہم کو جو طبعی علوم پڑھائے جاتے ہیں وہ شہادت دیتے ہیں کہ انسان حیوانات میں سےبتدریج ترقی کرتا ہوا آیا ہے اور اس ارتقائی تسلسل میں کسی نقطہ پر انگلی رکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک خاص تاریخ کو اس مرحلہ پر حیوانیت ختم ہوئی اور اس انسانیت کی ابتدا ہوئی جس کے متعلق قرآن کہتا ہےکہ وَإِذَانَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ (ص: ۷۲ حجر :۲۹) یہ قرآن اور نظریہ ارتقاء کے اختلاف کی صرف ایک صریح مثال ہے اور نہ تخلیق کے مسئلے میں بکثرت تفصیلات ایسی ہیں جہاں ان دونوں کے بیانات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں ۔ ان چیزوں کو دیکھ کر موجودہ سائنس کا ایک طالب علم اپنے ایمان کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ کیا آپ اس مشکل کا کوئی حل بتا سکتے ہیں؟“
یہ سوال جسے ہمارے مراسلہ نگار نے بڑی خوبی اور وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہےاپنے تصفیہ کے لیے اس بات کا محتاج نہیں ہے کہ ہم ڈارونی نظریہ ارتقاء کے دلائل و شواہد کا تفصیلی جائزہ لیں۔ بلکہ اس میں صرف اتنی ہی بات تحقیق طلب ہے کہ آیا ارتقاء کا وہ تصور جو ڈارون پیش کرتا ہے ایک ثابت شدہ حقیقت ہے یا صرف ایک نظریہ ہے؟ اور اگر وہ صرف ایک نظریہ ہی ہے تو کیا واقعی اس کا یہی مرتبہ ہے کہ اس کے سامنے آ جانے پر ایک مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ اسے مانوں یا قرآن کو؟
اس تنقیح کے جواب میں پہلے ہی قدم پر جان لیجیے کہ ڈارون کا نظریہ جس طرح انیسویں صدی کے وسط میں صرف ایک نظریہ تھا اسی طرح آج اس بیسویں صدی کےوسط میں بھی صرف ایک نظریہ ہی ہےواقعہ اور حقیقت (Fact) ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا ہے۔نظریہ اور واقعہ کا فرق کسی تعلیم یافتہ آدمی سےپوشیدہ نہیں ہو سکتا ۔ اور یہ بھی آپ سمجھ سکتےہیں کہ آدمی کے لیے اپنے ایمان پر نظر ثانی کرنے کا سوال اگر کہیں پیدا ہوسکتا ہے تو صرف اس صورت میں جب کہ وہ چیز جس پر وہ ایمان رکھتا ہے کسی ایسی چیز سے ٹکرا جائے جو ثابت شدہ واقعہ ہو ۔ ورنہ جو ایمان قیاسات و نظریات کی ٹکر بھی نہ سہہ سکے وہ ایمان تو نہیں محض ایک حسن ظن ہے جو نری افواہوں پر بد گمانی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
ڈارونی نظریہ ارتقاء کی اس حقیقت کو نگاہ میں رکھ کر اب ذرا اس کے علمی و استدلالی مرتبے کا ایک سرسری جائزہ لےلیجیےعلم الحیات (Biology) کےجس مشکل ترین مسئلہ میں سائنس کے علماء الجھ رہے ہیں وہ دراصل یہ سوال ہے کہ زندگی کا مہڈا کیا ہے۔قرآن اس کا جواب دیتا ہے کہ زندگی کا مبدا خدا کا حکم ( امر رب ) ہے۔ وہ صرف خدا کا حکم ہی ہےجو بے جان مادے میں آثارِ حیات پیدا کر دیتا ہے۔ لیکن مغرب کی نشاۃ ثانیہ کےدور میں موجودہ سائنس جن لوگوں کے ہاتھوں نشو و نما پاتا رہا ہے ان کی کوشش یہ رہی ہےکہ اس کا رخانہ ہستی میں کسی فوق الفطرت ذات (Super Natural) کی کارفرمائی و کارگری ماننے اور محسوس کرنے سے جس طرح بھی بن پڑے پہلو بچائیں۔ اُن کی خواہش یہ رہی ہے کہ اس کارگاہ فطرت کے اندر ہی انھیں اس کی کارفرما طاقت کا بھی کہیں سراغ مل جائے ۔ اسی بنیادی غلطی نے اُن کےلیےوہ مشکل سوالات پیدا کیے جنھیں حل کرنے کےلیے ان کو قیاس آرائیوں سے کام لینا پڑا۔ قیاس آرائیوں ہی سے انھوں نے اس سوال کو بھی سلجھانا چاہا کہ حیات میں اس تنوع کی وجہ کیا ہے اور مختلف انواع کے درمیان تفاضل کا سبب کیا ہے۔ ڈارون اُن لوگوں میں سے ایک ہے جنھوں نےاس طرز پر ان سوالات کی تحقیق کرنےکی کوشش کی ہے۔ اس نے خود بھی یہ نہیں کہا کہ وہ حقیقت کو پا گیا ہے۔ اس کے نظریہ کے قاتلین میں سے جو لوگ فی الواقع سائنٹسٹ ہیں وہ بھی اپنے قیاس کو حقیقت اور واقعہ نہیں قرار دیتے ۔ مگر جن لوگوں کو سائنس کی اُڑتی ہوئی ہوا لگ گئی ہے وہ اس زور شور سے اس کا ذکر کرتے ہیں کہ گویا حقیقت بے نقاب ہو کر ان کے سامنے آکھڑی ہوئی ہے۔
ڈارون نے جب تحقیق و تجسس کا آغاز کیا اس وقت اگر وہ قرآن کے دیے ہوئےنقطه آغاز (Starting Point) سے چلتا تو اس نتیجے پر پہنچتا کہ زندگی کی شکلوں میں یہ تنوع اور تفاضل، جو ایک بے نظیر ترتیب کے ساتھ واحد الخلیہ بھنگے (Unicellular Molecule) سےلے کر انسان تک میں نظر آ رہا ہے۔ یہ ایک حکیم کے منصوبے (Design) کا نتیجہ ہے جو مختلف انواع کی زندگی کے لیے مناسب ماحول اور سازگار حالات فراہم کرنے کے بعد انھیں ان کی مخصوص نوعی خصوصیات کے ساتھ بتدریج وجود میں لاتا چلا گیا ہے اور جن انواع کی ضرورت اس کے خاکے میں باقی نہیں رہی ہے انھیں مٹاتا بھی رہا ہے۔ لیکن جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں، یہ لوگ منصوبہ ساز (Designer) کو ماننے سے جی چراتے ہیں اور اُس کی کارگاہ میں اس کی کارفرمائی کے نشانات دیکھنا نہیں چاہتے ۔ اس لیے جو مشہورات ان کے مشاہدے میں آتے ہیں اُن کی توجیہہ یہ کسی ایسے طریقے سے کرنا چاہتےہیں جس سے یہ کارخانہ خود بخود چلتا اور ترقی کرتا ہوا سمجھا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈارون نے تنوع اور تفاضل کی توجیہہ ارتقاء کے اُس نظریہ سے کی جو اُس کے نام سے مشہور ہےاور یہی وجہ ہے کہ یورپ نے جو اُس وقت تک اپنے الحاد کو پاؤں کے بغیر چلا رہا تھا، لیک کر یہ لکڑی کے پاؤں ہاتھوں ہاتھ لیے اور نہ صرف اپنےسائنس کےتمام شعبوں میں بلکہ اپنےفلسفه و اخلاق اور اپنے علوم عمران تک میں ان کو نیچے سے نصب کر لیا۔حالانکہ علمی اور عقلی حیثیت سےاس توجیه میں اتنے جھول تھےاور ہیں کہ مشکل ہی سےکوئی صاف دماغ کا آدمی اس کو منظر (Phenomena) کی ممکن تو جیہات میں سے ایک قابل لحاظ تو جیہہ قرار دے سکتا ہے۔
پیچیدہ اور گہری علمی تنقید سے بچتے ہوئے میں آپ کو ایک مثال سے ڈاروینی نظریہ ارتقاء کا اصلی و بنیادی ضعف سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ فرض کیجیے کہ مریخ سےسائنس کا ایک پروفیسر اپنے کچھ شاگردوں کے ساتھ علمی تحقیقات کے لیے زمین پر آتا ہےاور یہ بھی تھوڑی دیر کے لیے مان لیجیے کہ ان آنے والوں کی بینائی میں کوئی ایسی کمزوری ہے جس کی وجہ سے وہ یہاں انسان کو تو نہیں دیکھ سکتے، مگر اس کی مصنوعات اور اس کےتمدن کے آلات و وسائل کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ محقق پروفیسر یہاں انسان کی جو مصنوعات دیکھتا ہے ان میں اسے شکلوں اور نوعیتوں کا فرق صاف نظر آتا ہے، وہ یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ ان میں سے بعض چیزیں دوسری چیزوں سے زیادہ بہتر ہیں ۔ دورانِ تحقیق میں اس کو یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بعض چیزیں پہلے رائج نہ تھیں۔ بعد میں ہوئیں، بعض قدیم سے رائج رہی ہیں اور اب تک رائج چلی آ رہی ہیں، اور بعض پہلے رائج تھیں مگر اب مفقود ہیں۔کچھ زمانہ تک وہ اس بکھرےہوئےمنظر کی اشیاء کو اپنے ذہن میں مرتب کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ مختلف قسم کی اشیاء کی انواع اور اصناف میں تقسیم کر کےان کے درجات قائم کر لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ تحقیق کا قدم آگے بڑھاتا ہے اور یہ معلوم کرنا چاہتا ہےکہ آخر یہ متنوع اور متفاضل اشیاء بنیں کیئے۔۔۔اور ان کےمتنوع اور تفاضل میں اور بعض کےباقی اور بعض کے معدوم ہو جانے میں کیا اسباب اور کیا قوانین کارفرما ہیں۔
اس سوال کا جواب اگر چہ یہ بھی ممکن تھا کہ یہاں اغلبا ایسی اور ایسی صفات کی کوئی ہستی وجود میں ہے جو ان چیزوں کو اپنی مختلف مصلحتوں کے لحاظ سے بناتی ہے جن چیزوں کی ضرورت باقی ہے انھیں بنائے چلی جاتی ہے جن کی ضرورت باقی نہیں رہی انھیں بنانا چھوڑ چکی ہے اور جن کی ضرورت اب کسی دوسری شکل کی چیز سے بہتر طور پر پوری ہونےلگی ہے انھیں بنانا چھوڑتی جارہی ہے۔ لیکن کسی وجہ سے یہ مریخی محقق کسی ایسی ہستی کو فرض کرنے سے بچنا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ قیاس کا رُخ دوسری طرف پھیر کر اپنے منتظر کی تو جیہہ اس طرح شروع کر دیتا ہے کہ ان تمام مصنوعات کی ابتداء غالباً صنعت کے ایک ہی ابتدائی قسم سے ہوئی تھی، پھر اس میں ارتقاء شروع ہوا اور ماحول کے فلاں فلاں اسباب سے ان اشیاء کی مختلف انواع وجود میں آئیں، پھر انواع نے ایک دوسرے کے خلاف کشمکش شروع کی اور ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنے ماحول سے اپنے آپ کو موافق کرنے اور ما حولی طاقتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اس کشمکش میں جو مصنوعات ناکام رہ گئیں وہ مٹ گئیں اور جو کامیاب ہوئیں انھیں ماحول نےبقاء کے لیے چن لیا۔یہی کشمکش ار مصنوعات کی شکلوں اور صفتوں کے ارتقاء کی موجب ہوئی اور بقاء کی جدو جہد ہی میں ایک ان نوع کی چیز میں ترقی کرتے کرتے دوسری نوع کی مصنوعات میں تبدیل ہوتی چلی گئیں۔
مثلاً وہ قیاس کرتا ہے کہ چھکڑےکی نوع مدتوں زور لگاتی رہی یہاں تک کہ اس کےبعض قابل تر افراد کی ترکیب میں تغیرات رونما ہوتے چلے گئے اور بالآخر وہ بگھی میں تبدیل ہو گئے ۔ پھر بگھی کی نوع نے زور لگانا شروع کیا حتی کہ اس کے بعض قابل افراد کی ترکیب میں پھر تغیر آنے لگا اور بالآخر وہ موٹر میں تبدیل ہو گئے۔ پھر بعض موٹروں نے اونچے اونچے درختوں اور مکانوں اور عمارتوں کو دیکھ کر ان کے اوپر پہنچنا چاہا اور اس کوشش میں آچکنا شروع کیا یہاں تک کہ اُچکتے اُچکتے اُن کے پر نکل آئے اور بالآخر وہ ہوائی جہاز میں تبدیل ہو گئیں۔
اس محقق جلیل کے ساتھ مریخ کے سائنس کالج سے جو طالب علم آئے تھے وہ عرض کرتے ہیں کہ قبلہ چھکڑے سے بجھی اور تجھی سے موٹر اور موٹر سے ہوائی جہاز تک بتدریج جو ارتقاء ہوا ہوگا تو لازما چکڑے اور تجھی کے درمیان اور بگھی اور موٹر کے درمیان اور موتر اور ہوائی جہاز کے درمیان بکثرت ایسی کڑیاں پائی جانی چاہئیں جو ان میں سے ہر دو ۔۔۔۔ کے بیچ کا فاصلہ ابھی طے کر رہی ہوں اور اس فاصلے میں ہر ہر قدم پر ان درمیانی کڑیوں کے مختلف افراد ایک قافلے کی طرح آگے پیچھے چلتے نظر آنے چاہئیں۔ مثلا بھی اور موٹر کے درمیانی فاصلے میں بہت سی ایسی اقسام کی گاڑیاں ملنی چاہئیں جو ابھی کچھ بھی ہوں اور کچھ موٹر ہونے کے مختلف درجوں میں ہوں ۔ اور اسی طرح موٹر اور ہوائی جہاز کےدر میان ایسی بہت سی اقسام کی سواریاں پائی جانی چاہئیں جو ابھی پر نکال رہی ہوں۔
اس سوال کو سُن کر پروفیسر صاحب کچھ دیر سوچتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ ہاں یہ درمیانی کڑیاں ضرور پائی جاتی ہوں گی ۔ بگھی تو دیکھو تمھارے سامنے موجود ہے ۔ اس بگھی سے بگھ موٹر بنا ہوگا، پھر وہ موٹر بگھے میں تبدیل ہوا ہوگا، پھر اُس نے موٹر مجھے کی شکل اختیار کی ہوگئی، پھر وہ اس موٹر کار میں تبدیل ہو گیا جسے تم دیکھ رہے ہو۔ پھر موٹر اپنی ارتقائی جدو جہد سے"پنکھ موٹر" اپنی ہوگئی، پھر وہ موٹر پنکھ میں تبدیل ہوئی ہوگی، پھر موٹر پنکھا پیدا ہوا ہوگا پھر وہی تبدیل ہو کر یہ ہوائی جہاز بن گیا جو تمھیں اُڑتا ہو انظر آ رہا ہے یہ بیچ کی کڑیاں جن کے نام میں نے لیے ہیں ضرور کہیں نہ کہیں پائی جاتی ہوں گئی' جاؤ اور مٹی کے ڈھیروں میں انھیں تلاش کرو۔
استاد تو یہ کہہ کر خاموش ہو گیا، مگر شاگرد جو مریخ ہی سے انسان کے خلاف ایک تعصب دل میں لیے ہوئے آئے تھے اس کی اس نادر تحقیق پر ایسا ایمان لائے کہ انھوں نے استاد کے کلام میں سے "غالبا" اور ہوا ہوگا" کو بھی نکال دیا اور اب وہ اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کو یقینا “ اور ” ہے“ کے ساتھ بیان کرنے لگے ہیں ۔ ان کے علمی لیکچروں میں موڑ بگھا اور پنکھ موٹر وغیرہ خیالی موجودات کا ذکر اس طرح آتا ہے گویا کہ یہ چیزیں کہیں ان کے میوزیم میں موجود ہیں ۔ حالانکہ موجودا گر کچھ ہے تو وہ صرف بھی موٹر اور ہوائی جہاز ہے۔
ڈارون کے نظریے اور ڈاروینیت کے متبعین پر یہ تمثیل بالکل ٹھیک ٹھیک راست آتی ہے۔ اس نظریے کے اصلی لٹریچر کو آپ دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کی ساری بنیاد "ہوگا'" پر ہے۔ حالانکہ سائنس میں اصل قابل اعتبار چیز "ہے" نہ کہ "ہو گا۔" میں پوچھتا ہوں کہ اگر سائنس میں ہوگا“ بھی کوئی اہمیت رکھتا ہے تو ایک ہوگا اور دوسرے ہوگا میں فرق کیوں ہو؟ خصوصاً جبکہ ایک "ہوگا"۔۔۔ دوسرے "ہوگا "۔کچھ زیادہ ہی لگتا ہوا ہو ۔ جب آپ اس کے لیے تیار ہیں کہ مشہورات کی توجیہ میں "ہو گا" کو بھی مان لیں تو ڈارون کے "ہوگا“ سے میرا یہ "ہوگا" کچھ زیادہ ہی لگتا ہو ا ہے کہ زندگی کا آغاز اور زندہ اشیاء کا تنوع اور ان کا تفاضل سب کا سب ایک حکیم کے امر اور حکیمانہ تدبر سے ہوا ہوگا ۔ میرا یہ ہوگا ڈارون کے ” ہوگا“ سے زیادہ بہتر طریقہ پر تمام مشہودات کی توجیہ کرتا ہے کسی سوال کو لا جواب نہیں چھوڑتا اور سب سے بڑھ کر اس کےحق میں وجہ ترجیح یہ ہے کہ اُس طرف تو کوئی آدمی صداقت کے ساتھ ہوگا“ سے زیادہ کچھ کہنے کے قابل نہیں ہے مگر اس طرف بہ کثرت صالح ترین انسان جو کبھی جھوٹ بولتےنہیں پائے گئے پورے زور کے ساتھ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ” ہے اور ہم آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں کہ " ہے"۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سائنس کے طالب علم ادھر آنے کے بجائےاُدھر جا رہے ہیں؟ کیا اس کی کوئی وجہ اُس خدا بیزاری سے سوا بھی ہے جو قرونِ متوسطہ سےسائنس کے طالب علموں کو میراث میں ملی ہے؟ اگر یہی بات ہے تو جذبات“ کا نام لوگوں نے ”علم“ کیوں رکھ چھوڑا ہے۔
علمی اور عقلی حیثیت سے اس نظریہ میں جو کمزوریاں میں اُن سے قطع نظر کر کے اگر دیکھا جائے کہ فلسفہ اور اخلاق اور علوم تمدن و اجتماع میں داخل ہو کر اس ظالم تخیل نےانسان کو برباد کرنے کے لیے کیسے شدید فتنے برپا کیے ہیں، تو شاید کسی صاحب بصیرت آدمی کو یہ ماننے میں ذرہ برابر تامل نہ ہوگا کہ موجودہ دور میں جن نظریات نے انسان کےساتھ سب سے زیادہ دشمنی کی ہے یہ ڈاروینیت اُن سب کی سرتاج ہے۔ اس نے انسان کو یقین دلایا ہے کہ تو جانوروں میں سے بس ایک جانور ہے۔در ہے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آدم کی اولاد آج پورے اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی کے ہر پہلو میں حیوانیت کا برتاؤ کر رہی ہےاور اسی کا یہ اثر ہے کہ انسان اپنی زندگی کے قوانین اور اصول کسی برتر ماخذ ہدایت میں تلاش کرنے کے بجائے حیوانات کی زندگی میں تلاش کر رہا ہے۔ پھر یہ ڈارون ہی کا نظریہ ہے جس نے انسان کے سامنے پورے نظام کائنات کو ایک رزم گاہ کی حیثیت سے پیش کیا ہے اور اس کو بتایا ہے کہ نزاع اور جنگ اور کشمکش ہی اصل تقاضائے فطرت ہے۔ اس کشمکش میں جو زور آور ہے وہی زندہ اور کامیاب ہے اور وہی صالح اور برحق ہے۔ بخلاف اس کے جو کمزور ہے وہی غیر صالح ہے اور اس کا مٹنا اور فنا ہو جانا قوانین فطرت کا ایک ایسا نتیجہ ہے جس کو برحق ہونا ہی چاہیے۔ آج یہ اسی طرز فکر کی برکات ہیں کہ انسانی افراد سےلےکر طبقات اقوام اور ممالک تک سب کےسب دنیا کو حقیقت میں ایک رزم گاہ بنائےہوئے ہیں اور فطرت کا تقاضا انھوں نے یہی سمجھا ہے کہ جو طاقتور ہے وہ کمزور کو فنا کردے۔
آپ کے اس جلسہ تقسیم اسناد ( قدیم اصطلاح کےمطابق جلسه دستار بندی ) میں مجھے اپنے خیالات کے اظہار کا جو موقع دیا گیا ہے اس کےلیےمیں حقیقتا بہت شکر گذار ہوں ۔ حقیقتاً کا لفظ میں خصوصیت کے ساتھ اس لیے بول رہا ہوں کہ یہ شکر گزاری رسمی نہیں بلکہ حقیقی ہے اور گہرے جذبۂ قدر شناسی پر مبنی ہے۔جس نظام تعلیم کے تحت آپ کا یہ عالی شان ادارہ قائم ہے اور جس کے تحت تعلیم پا کر آپ کے کامیاب طلبہ مسند فراغ حاصل کر رہے ہیں، میں اُس کا سخت دشمن ہوں اور میری دشمنی کسی ایسے شخص سے چھپی ہوئی نہیں جو مجھے جانتا ہے۔اس امیر واقعی کے معلوم و معروف ہونےکےباوجود جب یہاں اس تقریب پر مجھےخطبہ عرض کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تو فطری بات تھی کہ میرا دل ایسےلوگوں کے لیے قدر د اعتراف کے جذبے سے بھر جائے جو اپنے طریق کار کے دشمن کی باتیں سننے کے لیے بھی اپنے قلب میں کافی وسعت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ مجھے آپ کی اس مہربانی پر بھی شکر گزار ہونا چاہیے کہ آپ نے مجھے عین اس وقت اپنی قوم کے ان نو جوانوں سے خطاب کرنے کا موقع دیا ہے جبکہ یہ آپ سے رخصت ہو کر ہماری طرف عملی زندگی کے میدان میں آنے والے ہیں۔
معزز سامعین ! اب مجھے اجازت دیجیے کہ میں تھوڑی دیر کے لیے آپ کی طرف سے رخ پھیر کر اپنے ان عزیزوں سے مخاطب ہو جاؤں جو آج یہاں سے ڈگری لے رہے ہیں کیونکہ وقت کم ہے اور
عزیزان من! آپ نے یہاں اپنی زندگی کے بہت سے قیمتی سال صرف کر کےتعلیم حاصل کی ہے۔ بڑی اُمنگوں کے ساتھ آپ اس وقت کا انتظار کر رہے تھے جبکہ آپ کو اپنی مملوں کا پھل ایک ڈگری کی صورت میں یہاں سے ملنے والا ہے۔ ایسے موقع پر جسے آپ اپنے نزدیک مبارک موقع سمجھتے ہوں گے آپ کے جذبات کی نزاکت کا مجھےپورا احساس ہے اور اسی لیے آپ کے سامنے اپنے خیالات کا صاف صاف اظہار کرتےہوئے میرا دل دُکھتا ہے۔ مگر میں آپ سے خیانت کروں گا اگر محض نمائشی طور پر آپ کےجذبات کی رعایت کر کے وہ بات آپ سے نہ کہوں جو میرے نزدیک نیچی ہے اور جس سےآپ کو آگاہ کرنا اس وقت اور اسی وقت میں ضروری سمجھتا ہوں، کیونکہ اس وقت آپ اپنی زندگی کے ایک مرحلے سے گزر کر دوسرے مرحلے کی طرف جا رہے ہیں ۔ دراصل میں آپ کی اس مادر تعلیمی کو۔۔۔ اور مخصوص طور پر اسی کو نہیں بلکہ تمام مادران تعلیمی کو۔۔۔درسگاہ کے بجائے قتل گاہ سمجھتا ہوں ۔ میرے نزدیک آپ فی الواقع یہاں قتل کیے جاتےرہے ہیں، اور یہ ڈگریاں جو آپ کو ملنے والی ہیں، یہ دراصل موت کے صداقت نامے(Death Certificates) ہیں جو قاتل کی طرف سے آپ کو اُس وقت دیے جا رہے ہیں جبکہ وہ اپنی حد تک اس بات کا اطمینان کر چکا ہے کہ اس نے آپ کی گردن کا تسمہ تک لگا رہنےنہیں دیا ہے۔ اب یہ آپ کی اپنی خوش قسمتی ہے کہ اس منضبط اور منتظم قتل گاہ سے بھی جان سلامت لے کر نکل آئیں۔میں یہاں اس صداقت نامہ موت کے حصول پر آپ کو مبارک باد دینےنہیں آیا ہوں بلکہ آپ کا ہم قوم ہونے کی وجہ سے جو ہمدردی قدرتی طور پر میں آپ کے ساتھ رکھتا ہوں وہ مجھے یہاں کھینچ لائی ہے۔ میری مثال اس شخص کی سی ہےجو اپنے بھائی بندوں کا قتل عام ہو چکنے کے بعد لاشوں کے ڈھیر میں یہ ڈھونڈتا پھرتا ہو کہ کہاں کوئی سخت جان بہل ابھی سانس لے رہا ہے۔
یقین جانیے یہ بات میں مبالغہ کی راہ سے نہیں کہہ رہا ہوں۔میں اخباری زبان میں سنسنی پیدا کرنا نہیں چاہتا۔ فی الواقع اس نظام تعلیم کے متعلق میرا نقطہ نظر یہی ہے۔اور اگر میں اس کو ذرا تفصیل کے ساتھ بتاؤں کہ میں کیوں اس نتیجے پر پہنچا ہوں، تو کیا جب کہ آپ خود بھی مجھ سے اتفاق کرنے پر مجبور ہو جائیں۔
شاید آپ میں سے ہر شخص اس بات کو جانتا ہوگا کہ اگر کوئی پودا ایک جگہ سےاُکھاڑ کر دوسری ایسی جگہ لگا دیا جائے جہاں کی زمین، آب و ہوا موسم ہر چیز اس کی طبیعت کےخلاف ہو تو وہ وہاں کبھی جڑ نہ پکڑ سکے گا۔یہ دوسری بات ہےکہ مصنوعی طور پر اس کےلیےوہی حالات پیدا کر دیےجائیں جو اس کی قدرتی جائےپیدائش میں تھے۔ لیکن ظاہر ہے کہ لیبارٹری کی مصنوعی زندگی ہر پودے کو تمام عمر کے لیے میسر نہیں آ سکتی ۔ اس غیر معمولی صورت حال کو نظر انداز کر دینےکے بعد یہ کہنا بالکل صحیح ہو گا کہ کسی پودے کو اس کی اصلی جائے پیدائش سے اُکھاڑنا اور ایک بالکل مختلف قسم کے ماحول میں لے جا کر لگا دینا دراصل اسے ہلاک کرنا ہے۔
اچھا اب ذرا اُس بدقسمت پودے کی حالت کا اندازہ کیجیے جو اپنی زمین میں سےاُکھاڑا نہیں گیا اپنے ماحول سے نکالا بھی نہیں گیا۔ وہی زمین ہے وہی آب و ہوا ہے وہی موسم ہے جس میں وہ پیدا ہوا تھا۔ مگر سائنٹفک طریقوں سے اُس کے اندر ایسی تبدیلی پیدا کر دی گئی کہ اپنی ہی جائے پیدائش میں اُس کی طبیعت اپنے وطن کی زمین اُس کی آب و ہوا اور اُس کے موسم سے بے لگاؤ اور بیگا نہ ہو کر رہ گئی اور وہ اس قابل نہ رہا کہ اس زمین میں اپنی جڑیں پھیلا سکے اس ہوا اور اس پانی سے غذا حاصل کر سکے اور اس موسم میں پھل پھول سکے۔ اس اندرونی تغیر کی وجہ سے وہ بعینہ ایسا ہو گیا جیسے کسی دوسری زمین کا پودا ہےاور اجنبی ماحول میں لاکر لگا دیا گیا ہے۔ اب وہ اس کا محتاج ہو گیا ہے کہ اس کے گرد مصنوعی فضا تیار کی جائے اور مصنوعی طور پر اس کی زندگی کا سامان کیا جائے ۔ یہ لیبارٹری کی زندگی اگر اسے ہم نہ پہنچے تو وہ جہاں پیدا ہوا ہے وہیں کھڑے کھڑے زمین چھوڑ دے گا اور مرجھا کر رہ جائے گا۔
پہلا فعل، یعنی ایک پودے کو اُکھاڑ کر اجنبی ماحول میں جالگانا تو چھوٹے درجے کا ظلم ہے۔ مگر دوسر افعل، یعنی ایک پودے کو اسی جگہ جہاں وہ پیدا ہو ا ہے اپنے ماحول سےاجنبی بنا دینا اس سے عظیم تر ظلم ہے۔ اور جب ایک دو نہیں لاکھوں پودوں کے ساتھ یہی سلوک ہو رہا ہو اور اتنے کثیر التعداد پودوں کے لیے لیبارٹری کی مصنوعی فضا ہم پہنچانا محال ہو تو بے جانہ ہوگا اگر اسے ظلم کے بجائے قتل عام کہا جائے۔
حقیقی صورت حال کا جو مطالعہ میں نےکیا ہے وہ مجھے بتاتا ہے کہ ان درس گاہوں میں آپ کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔ آپ ہندوستان (۱) کی سرزمین میں مسلم سوسائٹی کےاندر پیدا ہوئے ہیں۔ یہی زمین، یہی تمدنی آب و ہوا اور یہی تہذیبی ماحول ہے جس کی پیداوار آپ ہیں ۔ آپ کے نشو و نما پانے اور پھل پھول لانے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ آپ اسی زمین میں جڑیں پھیلائیں اور اسی آب و ہوا سے زندگی کی طاقت حاصل کریں۔ اس ماحول سے آپ کو جتنی زیادہ مناسبت ہوگی اسی قدر زیادہ بالیدگی آپ کو نصیب ہوگی اور اسی قدر زیادہ اس چمن کی بہار میں آپ اضافہ کریں گے ۔ مگر واقعہ کیا ہے؟ یہاں جو تعلیم اور تربیت آپ کو ملتی ہے جو ذہنیت آپ کے اندر پیدا ہوتی ہے جو خیالات جذبات اور داعیات آپ کے اندر پرورش پاتے ہیں، جو عادات اطوار اور خصائل آپ میں راسخ ہوتے ہیں، اور جس طرز فکر رنگ طبیعت اور طریق زندگی کے سانچے میں آپ ڈھالے جاتے ہیں، کیا وہ سب مل جل کر اس زمین اس آب و ہوا اور اس موسم سےکوئی مناسبت بھی آپ کے اندر باقی رہنے دیتے ہیں؟ یہ زبان جو آپ لکھتے اور بولتےہیں یہ لباس جو آپ پہنتے ہیں، یہ طرز زندگی جو آپ اختیار کرتے ہیں، یہ نظریات اور افکار جو آپ اس تعلیم سے حاصل کرتے ہیں، ان سب چیزوں کو آخر کون سا لگاؤ ان کروڑوں بھائیوں کے ساتھ ہے جن کے درمیان آپ کا جینا اور مرنا ہے اور اُس تمدن کے ساتھ ہے جو آپ کے چاروں طرف چھایا ہوا ہے؟ آپ کی شخصیت اس ماحول میں کس قدر بیگانہ اور یہ ماحول آپ کی شخصیت کے لیے کتنا اجنبی ہے! کاش آپ کے اندر اتنی حس ہی باقی رہنے دی گئی ہوتی کہ آپ اس بیگانگی کو اور اس کی اذیت کو محسوس کر سکتے ۔
١-خیال رہے کہ تقسیم ہند سے کئی سال پہلے کا خطبہ ہے۔
آپ اتنا تو بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ خام اشیاء کو صنعت اور کاریگری سے تیار کرنےکا مدعا یہی ہوتا ہے کہ وہ زندگی کےلیےکارآمد اور مفید بن سکیں۔ جو چیز اس طرح تیار کی گئی ہو کہ اُس سےیہ مدعا حاصل نہ ہو سکےوہ خود بھی ضائع ہوئی اور اس پر کاریگری بھی فضول صرف کی گئی ۔کپڑے پر خیاطی کی قابلیت اسی لیے صرف کی جاتی ہے کہ وہ جسم پر راست آئےیہ بات حاصل نہ ہوئی تو اس کا ریگری نےکپڑے کو بنایا نہیں، بگاڑ دیا۔ خام جنس پر طلبافی کا فن صرف کرنےکا مقصد یہ ہوتا ہےکہ وہ کھانےکےقابل ہو جائےاگر وہ کھانے ہی کے قابل نہ ہوئی تو باورچی نےاُسےضائع کیا نہ کہ بنایا۔بالکل اسی طرح تعلیم کا مدعا بھی یہ ہوتا ہےکہ سوسائٹی میں جن نئے انسانوں نےجنم لیا ہےاور جن کی جبلتی صلاحیتیں ابھی خام حالت میں ہیں،ان کو بنا سنوار کر اور بہتر طریقے پر نشو ونما دے کر اس قابل بنا دیا جائےکہ جس سوسائٹی نے انھیں جنم دیا ہےوہ اس کےمفید اور کارآمد فرد بن سکیں اور اس کی زندگی کےلیےبالیدگی اور فلاح و ترقی کا ذریعہ ہوں مگر جو تعلیم افراد کو اپنی سوسائٹی اور اس کی حقیقی زندگی سے اجنبی بنا دے اس کے حق میں اس کے سوا آپ اور کیا فتوی دے سکتے ہیں کہ وہ افراد کو بناتی نہیں بلکہ ضائع کرتی ہے؟ ہر قوم کے بچےدراصل اس کے مستقبل کا محضر ہوتے ہیں۔ قدرت کی طرف سے یہ محض ایک لوح سادہ کی شکل میں آتا ہے اور قوم کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ خود اس پر اپنے مستقبل کا فیصلہ لکھے۔ہم وہ دیوالیہ قوم ہیں جو اس محضر پر اپنے مستقبل کا فیصلہ خود لکھنے کے بجائے اسے دوسروں کے حوالے کر دیتی ہے کہ وہ اس پر جو چاہیں ثبت کر دیں، خواہ وہ ہماری اپنی موت کا فتویٰ ہی کیوں نہ ہو۔
جب آپ کوئی کپڑا اسلواتے ہیں اور وہ آپ کے جسم پر راست نہیں آتا تو مجبوراً آپ اُسے مارکیٹ میں لے جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اونے پونے بیچ کر کچھ دام ہی سیدھے کر لیں ۔ اگر کپڑا کوئی ذی شعور ہستی ہو تو وہ خود بھی اپنا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں سوچ سکتا کہ کہیں نہ کہیں اس کے سے ناپ اور اس کی سی تراش خراش کے کپڑے کی مانگ ہو تو وہ وہاں کھپ جائے۔ جب تک کسی جسم پر وہ راست نہ آئے گا نیلام گھروں اور کباڑ خانوں میں مارا مارا پھرتا رہےگا۔ ایسا ہی حال اُن لوگوں کا بھی ہے جو ان درسگاہوں سےتیار ہو کر نکلتے ہیں۔ جس سوسائٹی نے انھیں تیار کرایا ہے اس کے پاس جب یہ تیار ہو کر واپس پہنچتے ہیں، تو وہ بھی محسوس کرتی ہے اور یہ خود بھی محسوس کرتے ہیں کہ یہ اُس کے تمدن اور اس کی زندگی کے لیے ٹھیک نہیں بنے ۔ جس طرح معدہ اس غذا کو قبول نہیں کرتا جو اس کے لیے مناسب نہ ہو۔ اسی طرح سوسائٹی بھی طبعی طور پر اُن افراد کو اپنے اندر کھپا نہیں سکتی جو اس کے لیے مناسب نہ ہوں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کو اپنے کام کا نہ پا کر نیلام کےلیے پیش کر دیتی ہےجس قدر قیمت پر بھی یہ بک سکتےہیں بیچ ڈالتی ہےاور یہ خود بھی اپنی زندگی کا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں سمجھتے کہ کہیں بک جائیں۔آپ غور تو کیجیے کس قدر سخت خسارے میں ہےوہ قوم جو اپنی بہترین انسانی متاع دوسروں کے ہاتھ بیچتی ہے؟ ہم وہ زیاں کارلوگ ہیں جو انسان دے کر جوتا اور کپڑا اور روٹی حاصل کرتے ہیں! قدرت نے جو انسانی طاقت (Man (Power) اور دماغی طاقت (Brain Power) ہم کو خود ہمارےاپنے کام کے لیے دی تھی وہ دوسروں کے کام آتی ہے۔ ان ہٹے کئے جسموں میں جو قوت بھری ہوئی ہے ان بڑے بڑے سروں میں جو یا ہلتیں بھری ہوئی ہیں،ان چوڑے چکلےسینوں میں جو دل طرح طرح کی طاقتیں رکھتے ہیں، جنھیں خدا نے ہمارے لیے عطا کیا تھا ان میں سے بمشکل ایک دو فی صد ہی ہمارے کام آتے ہیں۔ باقی سب کو دوسرے خرید لے جاتے ہیں۔ اور لطف یہ ہے کہ اس خسارے کی تجارت کو ہم بڑی کامیابی سمجھ رہےہیں۔کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارا اصل سرمایہ زندگی تو یہی انسانی طاقت ہے۔ اسے بیچنا نفع کا سودا نہیں بلکہ سراسر ٹوٹا ہے۔
مجھے بکثرت ایسے نوجوانوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے جو اعلیٰ تعلیم پا رہے ہیں، یا تازه تازہ فارغ ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے میں یہ تحقیق کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ انھوں نے اپنی زندگی کا کوئی مقصد بھی معین کیا ہے یا نہیں ۔ مگر میری مایوسی کی انتہا نہیں رہتی جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ مشکل سے ہزاروں میں کوئی ایک ایسا ملتا ہے جو اپنے سامنےزندگی کا کوئی مقصد رکھتا ہو بلکہ بیشتر اصحاب تو ایسے ہیں جن کے ذہن میں اس امر کا سرےسے کوئی تصور ہی نہیں ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی مقصد بھی ہونا چاہیے یا ہو سکتا ہے۔ مقصد کے سوال کو وہ محض فلسفیانہ یا شاعرانہ مسئلہ سمجھتے ہیں اور عملی حیثیت سے یہ طے کرنے کی کوئی ضرورت اُن کو محسوس نہیں ہوتی کہ آخر دُنیا کی زندگی میں ہماری کوششوں اور محنتوں کا اور ہماری تمام دوڑ دھوپ کا کوئی منہا (Goal) اور کوئی مقصود بھی ہونا چاہیے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی یہ حالت دیکھ کر میرا سر چکرانے لگتا ہے۔ میں حیران ہو کر سوچنے لگتا ہوں کہ اُس نظام تعلیم کو کس نام سے یاد کروں جو پندرہ میں سال مسلسل دماغی تربیت کے بعد بھی انسان کو اس قابل نہیں بنا تا کہ وہ اپنی قوتوں اور قابلیتوں کا کوئی مصرف اور اپنی کوششوں کا کوئی مقصود معین کر سکے بلکہ زندگی کے لیے کسی نصب العین کی ضرورت ہی محسوس کر سکے۔یہ انسانیت کو بنانے والی تعلیم ہے یا اس کو قتل کرنے والی؟ بے مقصد (Almless) زندگی بسر کرنا تو حیوانات کا کام ہے۔ اگر آدمی بھی صرف اس لیے جیسے کہ جینا ہے اور اپنی قوتوں کا مصرف بقائے نفس اور تناسل کے سوا کچھ نہ سمجھے تو آخر اس میں اور دوسرے حیوانات میں کیا فرق باقی رہا۔
میری اس تنقید کا یہ مدعا ہر گز نہیں ہے کہ آپ کو ملامت کروں ۔ ملامت تو قصور وار کو کی جاتی ہے اور آپ قصور وار نہیں بلکہ مظلوم ہیں۔ اس لیے میں دراصل آپ کی ہمدردی میں یہ سب کچھ کہہ رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اب جو آپ زندگی کے عملی میدان میں قدم رکھنے کے لیے جا رہے ہیں تو پوری طرح اپنا جائزہ لے کر دیکھ لیں کہ فی الواقع اس مرحلہ پر آپ کس پوزیشن میں ہیں۔
آپ ملت اسلام کے افراد ہیں۔ یہ ملت کوئی نسلی قومیت نہیں ہے کہ جو اس میں پیدا ہو وہ آپ سے آپ مسلم ہو۔یہ محض ایک ایسےتمدنی گروہ (Cultural Group) کا نام بھی نہیں ہےجس کےساتھ محض معاشرتی حیثیت سے وابستہ ہونا مسلم ہونے کے لیے کافی ہو ۔ دراصل اسلام ایک مخصوص نظام فکر (Ideology) کا نام ہے جس کی بنیاد پر تمدنی زندگی اپنے تمام شعبوں اور پہلوؤں کے ساتھ تعمیر ہوتی ہے۔ اس ملت کا بقاء بالکل اس بات پر منحصر ہے کہ جو افراد اس میں شامل ہوں وہ اس نظام فکر کو سمجھتے ہوں، اس کی رُوح سے آشنا ہوں اور اپنی تمدنی زندگی کے ہر شعبے میں اس روح کی عملی تفسیر و تعبیر پیش کرنے پر قادر بھی ہوں اور آمادہ بھی۔ خصوصیت کے ساتھ ملت کے اہل دماغ طبقے (Intelligentsia) کےلیے تو سب سے بڑھ کر اس علم و فہم اور اس عمل کی ضرورت ہے کیونکہ یہی طبقہ ملت کا رہنما اور پیش رو ہے۔اگرچہ ہر قوم اور ہر گروہ کو اس کی ضرورت ہوتی ہےکہ اس کا اہل دماغ طبقہ اس کی مخصوص قومی تہذیب کے رنگ میں پوری طرح رنگا ہوا ہو لیکن ملتِ اسلام کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ یہاں ہماری انفرادیت (Individuality) کی اساس نہ خاک ہے نہ خون نہ رنگ نہ زبان نہ کوئی اور ماڈی چیز بلکہ صرف اسلام ہےہمارے زندہ رہنےاور ترقی کرنےکی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ ہماری ملت کےافراد اور خصوصاً اہل دماغ طبقے اسلامی طرز فکر اور اسلامی طرز عمل کے سانچے میں ڈھلےہوئے ہوں۔ اس لحاظ سے ان کی تعلیم اور تربیت میں جتنی اور جیسی کمزوری ہوگی اس کا عکس ہماری ملت کی زندگی میں جوں کا توں نمودار ہوگا اور اگر وہ اس سےبالکل خالی ہوں تو یہ دراصل ہماری موت کا نشان ہوگا۔
یہ وہ حقیقت ہے جس سے یہاں کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ مگر کیا یہ واقعہ نہیں ہےکہ موجودہ نظام تعلیم میں ملتِ اسلام کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت کے لیے جو انتظام کیا جاتا ہے۔ وہ دراصل اُن کو اس ملت کی پیشوائی کے لیے نہیں بلکہ اس کی غارت گری کےلیے تیار کرتا ہے؟ ان درس گاہوں میں آپ کو فلسفہ سائنس' معاشیات، قانون، سیاسیات تاریخ اور دوسرے تمام وہ علوم پڑھائےجاتے ہیں جن کی مارکیٹ میں مانگ ہے مگر آپ کو اسلام کےفلسفےاسلام کی اساس حکمت اسلام کے اصول معیشت اسلام کے اصول قانون اسلام کے نظریه سیاسی اور اسلام کی تاریخ اور فلسفہ تاریخ کی ہوا تک نہیں لگنےپاتی۔اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ آپ کے ذہن میں زندگی کا پورا نقشہ اپنےتمام جزئیات اور تمام پہلوؤں کےساتھ بالکل غیر اسلامی خطوط پر بنتا ہےآپ غیر اسلامی طرز پر سوچنےلگتے ہیں ۔ غیر اسلامی نقطۂ نظر سے زندگی کے ہر معاملہ کو دیکھتے ہیں اور دیکھنے پر مجبور ہوتےہیں کیونکہ اسلامی نقطہ نظر کبھی آپ کے سامنے آتا ہی نہیں۔ منتشر طور پر کچھ معلومات اسلام کے متعلق آپ تک پہنچتی ہیں۔ مگر وہ غیر مستند اور بسا اوقات غلط اوہام و خرافات کے ساتھ ملی جلی ہوتی ہیں۔ ان معلومات سے اس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا کہ آپ ذہنی طور پر اسلام سے اور زیادہ بعید ہو جاتے ہیں۔ آپ میں سے جو لوگ محض آبائی مذہب کی وجہ سے اسلام کے ساتھ گہری عقیدت رکھتے ہیں وہ دماغی طور پر غیر مسلم ہو جانے کے باوجود کسی نہ کسی طرح اپنے دل کو سمجھاتے رہتے ہیں کہ اسلام حق تو ضرور ہوگا، اگر چہ مجھ میں نہیں آتا ۔ اور جو لوگ اس عقیدت سے بھی خالی ہو چکے ہیں وہ اسلام پر اعتراض کرنے اور اس کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں چوکنے۔
اس قسم کی تعلیم پانے کے ساتھ عملاً جو تربیت آپ کو میسر آتی ہے، جس ماحول میں آپ گھرے رہتے ہیں، اور عملی زندگی کے جن نمونوں سے آپ کو واسطہ پیش آتا ہے اُن میں مشکل ہی سے کہیں اسلامی سیرت و اخلاق اور اسلامی طرز عمل کا نشان پایا جاتا ہے۔اب یہ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کو نہ علمی حیثیت سے اسلام کی واقفیت ہم پہنچائی گئی ہو نہ عملی حیثیت سے اسلامی تربیت دی گئی ہو وہ فرشتے تو نہیں ہیں کہ خود بخود مسلمان بن کر اُٹھیں ان پر وحی تو نازل نہیں ہوتی کہ خود بخود ان کے دل میں علم دین ڈال دیا جائے۔ وہ پانی اور ہوا سے تو اسلامی تربیت اخذ نہیں کر سکتے۔اگر وہ فکر اور عمل دونوں حیثیتوں سےغیر اسلامی شان رکھتے ہیں،تو یہ اُن کا قصور نہیں بلکہ ان درس گاہوں کا قصور ہےجو موجودہ نظام تعلیم کےماتحت قائم کی گئی ہیں۔ در حقیقت یہ میرا وجدان ہے جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ان درس گاہوں میں دراصل آپ کو ذبح کیا جاتا ہےاور اس ملت کی قبر کھودی جاتی ہےجس کےنونہال آپ ہیں۔ آپ نےجس سوسائٹی میں جنم لیا' جس کےخرچ پر تعلیم پائی جس کی فلاح کے ساتھ آپ کی فلاح اور جس کی زندگی کے ساتھ آپ کی زندگی وابستہ ہے اس کے لیے آپ بیکار بنا کر رکھ دیے گئے ہیں ۔ آپ کو صرف یہی نہیں کہ اس کی اصطلاح کے لیے کام کرنے کے قابل نہیں بنایا گیا، بلکہ دراصل آپ کو باضابطہ اور منظم طریقےپر ایسا بنا دیا گیا ہے کہ بلا ارادہ آپ کی ہر حرکت اس ملت کے لیے فتنہ ساماں ہوا حتی کہ آپ اس کی خیر خواہی کے لیے بھی کچھ کرنا چاہیں تو وہ اس کے حق میں مضر ثابت ہو۔اس لیےکہ آپ اس کی فطرت سے بیگانہ اور اس کے ابتدائی اُصولوں تک سےبیگانہ رکھے گئےہیں اور آپ کی پوری دماغی تربیت اس نقشے پر کی گئی ہے جو ملت اسلام کے نقشے کےبالکل بر عکس ہے۔
اپنی اس پوزیشن کو اگر آپ سمجھ لیں،اور اگر آپ کو پوری طرح احساس ہو جائےکہ فی الواقع کس قدر خطرناک حالت کو پہنچا کر اب آپ کو کارزار زندگی کی طرف جانےکے لیے چھوڑا جا رہا ہے تو مجھےیقین ہے کہ آپ کچھ نہ کچھ تلافی مافات کی کوشش ضرور کریں گے۔ پوری تلافی تو شاید اب بہت ہی مشکل ہے، تاہم میں آپ کو تین باتوں کا مشورہ دوں گا جن سے آپ کافی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں:۔
ا۔ جہاں تک ممکن ہو عربی زبان سیکھنے کی کوشش کیجیے کیونکہ اسلام کا ماخذ اصلی یعنی قرآن اسی زبان میں ہے اور اس کو جب تک آپ اس کی اپنی زبان میں نہ پڑھیں گے اسلام کا نظام فکر کبھی آپ کی سمجھ میں پوری طرح نہ آ سکے گا۔ عربی زبان کی تعلیم کا پرانا هولناک طریقہ اب غیر ضروری ہو گیا ہے ۔ جدید طرز تعلیم سے آپ چھ مہینے میں آتنی عربی سیکھ سکتے ہیں کہ قرآن کی عبارت سمجھنے لگیں۔
٣- جو کچھ بھلی یا بری رائے آپ نے ناکافی اور منتشر معلومات کی بنا پر اسلام کےمتعلق قائم کر رکھی ہو اس سے اپنے ذہن کو خالی کر کے اس کا با قاعدہ مطالعہ (Systematic Study) کیجیے پھر جس رائے پر بھی آپ پہنچیں گے وہ قابل وقعت ہوگی۔ تعلیم یافتہ آدمیوں کے لیے یہ کسی طرح موزوں نہیں ہے کہ وہ کسی چیز کے متعلق کافی معلومات حاصل کیے بغیر رائے قائم کریں۔
اب میں اس دُعا کے ساتھ اپنا یہ خطبہ ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرےاور آپ کو اس خطرے سے بچائے جس میں آپ پھنسا دیے گئے ہیں۔
اگر تمدن کے پیدا کردہ زوائد سے الگ کر کے لباس کو محض اس فطری احتیاج کےلحاظ سے دیکھا جائے جس نے اول اول انسان کو اس کے اختیار کرنے پر اکسایا تھا تو وہ صرف ایک ایسی چیز ہے جو شرم و حیا _١کے فطری جذبات کے تحت جسم کےخاص حصوں کو چھپائےاور موسمی اثرات سےاس کو محفوظ کرے۔اپنی سادہ صورت میں ایسا لباس جوان دوضرورتوں کو پورا کرتا ہوا قریب قریب ایک ہی وضع کا ہونا چاہیے۔کیونکہ سب انسانوں کےجسم ایک سےہیں اور ان کو چھپانےکی آسان اور متبادر صورتیں بھی ایک ہی سی ہیں۔زیادہ سےزیادہ موسموں کے اختلاف کی بنا پر ان کی صورتوں میں اتنا اختلاف ہو سکتا ہےکہ جہاں گرمی ہو وہاں کے لباس ہلکے اور کم حصہ جسم پر حاوی ہوں،اور جہاں سردی ہو وہاں کے لباس بھاری اور زیادہ حصہ جسم پر چھائےہوئے ہوں۔
قدیم ترین انسانوں کے متعلق جو معلومات ہم تک پہنچی ہیں، اُن سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ لباس جس زمانے میں محض فطرت کے ابتدائی اقتضا اور مجرد انسانی ضروریات پر مبنی تھا اس وقت اس کی صورتوں میں کچھ زیادہ جوع نہ تھا، اور جو کچھ تھا بھی تو وہ زیادہ تر موسمی اثر کے اختلاف کی بنا پر تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ جب انسان کے شعور نے ترقی کی تہذیب کی طرف قدم بڑھایا، صنعتیں پیدا ہوئیں نئے نئے وسائل دریافت کیے گئے اور اُس فطری ملکہ نے انسان کے مزاج میں نشوونما پایا جسے "ذاق“ کہتے ہیں، تو رفتہ رفتہ فطرت کی ابتدائی ضروریات پر کچھ اور چیزوں کا اضافہ ہونے لگا۔ یہ نئے آنے والے اثرات چونکہ مختلف قوموں میں کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے مختلف تھے اس لیے مختلف قوموں نےابتدائی فطری لباس پر جو اضافے کیے وہ بھی اپنی صورتوں اور کیفیتوں کے لحاظ سے لامحالہ مختلف ہی ہونے چاہیے تھے اور فی الواقع مختلف ہوئے۔
١- یہ مضمون ابتداء ۱۹۲۹ء میں رسالہ ”معارف، اعظم گڑھ کے لیے لکھا گیا تھا، پھر ۱۹۴۰ء میں اسےترجمان القرآن“ میں دوبارہ شائع کیا گیا، اور اب وہاں سے اسے نقل کیا جا رہا ہے۔
مختلف قوموں میں لباس کی مختلف وضعوں کی پیدائش اور پھر ان کا تغییر و تبدل اور نشو و ارتقاء جن بے شمار چھوٹے بڑے اسباب کے زیر اثر ہوتا ہے اُن سب کا احاطہ ناممکن ہے۔ ہزار ہا سال کے دوران میں قوموں کی اجتماعی زندگی اور ہر قوم کے افراد کی شخصی زندگی بے حد و حساب خارجی و داخلی تاثیرات سے متاثر ہوتی ہے جن کا ریکارڈ کہیں محفوظ نہیں رہتا۔ بلکہ بہت سے اثرات تو ایسے لطیف ہوتے ہیں کہ محسوس تک نہیں ہوتے ۔ لیکن جزئیات سے قطع نظر کر کے اگر ہم ان بڑے بڑے عوامل کا استقصاء کریں جن کے اثر سےمختلف قوموں میں مختلف طرزوں کے لباس رواج پاتے ہیں، تو وہ حسب ذیل آٹھ عنوانات کے تحت تقسیم کیے جاسکتے ہیں :-
یہ وہ بڑے بڑے عوامل ہیں جو ایک قوم کے لباس اور صرف لباس ہی نہیں بلکہ اس کی پوری اجتماعی زندگی پر ہمہ گیر اقتدار رکھتے ہیں اور ہر قوم کا لباس انھی کے مشترک عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس تجزیہ کی مدد سے جب ہم قومی لباس کے مسئلہ پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ دو بنیادی حقیقتیں ہمارے ہاتھ آتی ہیں:۔
ایک یہ کہ لباس محض ایک بیرونی آلہ ستر پوشی اور اوپری ذریعہ حفاظت جسم ہی نہیں ہے بلکہ قومی نفسیات قومی تہذیب و تمدن قومی روایات اور قوم کی اجتماعی حالت کے اندر بہت گہری جڑیں رکھتا ہے۔ وہ دراصل اُس رُوح کا مظہر اور ذریعہ نمود ہے جو جسم قومی میں کار فرما ہوتی ہے۔ ہر قوم کا لباس در حقیقت ایک زبان ہے جس کے ذریعہ سے اس کی قومیت کلام کرتی ہے اور دُنیا کو اپنی اجتماعی شخصیت سے روشناس کراتی ہے۔
دوسرے یہ کہ لباس کی تہہ میں جتنے عوامل کارفرما ہیں، جغرافی حالات کےسوا باقی سب کے سب ایسے ہیں جو ہر قوم میں ہر آن ایک غیر محسوس رفتار کے ساتھ بدلتے رہتےہیں۔ اُن میں کوئی چیز ساکن و جامد نہیں ہے۔ بلکہ ہر ایک فطرنا تغیر پذیر ہے-اور اُن کا تغییر وارتقاء لازمی طور پر صرف لباس ہی پر نہیں بلکہ پوری قومی زندگی پر آہستہ آہستہ اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔ ایک ترقی کرنےوالی قوم میں جب علوم وفنون پھلتےہیں،خیالات میں روشنی آتی ہے صنعت و حرفت اور تجارت میں فروغ ہوتا ہے معاشی حیثیت سے خوش حالی بڑھتی ہے دوسری قوموں کے ساتھ زیادہ میل جول کا موقع ملتا ہے اور اُن کے اخلاق و معاشرت اور تہذیب و تمدن سے اس کو مختلف قسم کے سبق حاصل ہوتے ہیں، تو قدرتی طور پر خود بخود اس کی اجتماعی زندگی میں ایک ارتقائی حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے جذبات بدلتےہیں۔ فطری مذاق سدھرتا ہے۔ طرز معاشرت میں خوبی و نفاست آجاتی ہے۔ شائستگی کا معیار بلند ہوتا ہے۔ نئی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے نئی صورتیں اختیار کی جاتی ہیں۔ قومی روایات کا احترام زیادہ ستھری شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔زندگی کے تمام شعبوں کی تدریجی ترقی کے ساتھ ساتھ قومی لباس بھی مادہ وصورت دونوں کے اعتبار سے زیادہ حسین، زیادہ خوش وضع اور زیادہ شائستہ ہوتا چلا جاتا ہے۔اس ارتقائی عمل کی کسی منزل میں بھی اس کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ کوئی کانفرنس منعقد کر کے یا پارلیمنٹ میں کوئی ریزولیوشن پاس کر کے ساری قوم کےلیے لباس کی کوئی خاص تراش مقرر کی جائے یا کسی خاص طرز لباس کو یک لخت رائج کر دیا جائے۔ اجتماعی عوامل کی مشترک گردش کے اثر سےخود بخود ہی پرانےاوضاع لباس میں اصلاحیں ہوتی جاتی ہیں، نئی نئی وضعیں چل نکلتی ہیں، اور مجموعی حیثیت سے پوری قوم کا مذاق و مزاج اپنی افتاد و پرواز کے مطابق لباس کو بہتر بنا تا چلا جاتا ہے۔
قومی لباس کی پیدائش اس کے تغیر و تبدل اور اس کے نشو وارتقاء کی فطری صورت یہی ہے۔ اور اس کے برعکس غیر فطری یا مصنوعی صورت یہ ہے کہ ایک قوم کا لباس یہ تکلف بدلوایا جائے اور کسی دوسری قوم سے اس کا لباس مانگ لایا جائے ۔ جہاں تک نفس تغیر کا تعلق ہے وہ فطری ارتقاء کی صورت میں بھی ہوتا ہے اور غیر فطری انقلاب کی صورت میں بھی ۔ مگر دونوں قسموں کے تغیر میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ پہلی قسم کا تغیر ایسا ہے جیسےایک درخت کا نشو ونما کہ وہ جتنا جتنا بڑھتا ہے اس کے رنگ روپ جسامت، پھل پھول پتیوں اور شاخوں میں تغیرات واقع ہوتے رہتے ہیں، مگر ان تمام تغیرات کے باوجود درخت کی خودی جوں کی توں رہتی ہے۔ املی کا درخت ہے تو آخر وقت تک املی کا درخت ہی رہے گا اور آم کا درخت ہے تو ارتقاء کے ہر درجے میں اس کی آمیت بدستور قائم رہے گی۔ زمین ہوا' پانی' گرمی' دھوپ ہر ایک چیز سے بہت کچھ لے گا مگر جو کچھ بھی لےگا اسے اپنی خودی کا جز بنالے گا۔ بخلاف اس کے دوسری قسم کا تغیر ایسا ہے جیسے ایک درخت چلا تو تھا امی ہونے کی حیثیت سے مگر یکا یک اس پر آم کی چھال لا کر چپکا دی گئی اور آم ہی کی شاخیں اور پتیاں اس پر جڑ دی گئیں ۔ اب کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ عجوبہ فی الحقیقت ہے کیا۔ آم ہے کہ اہلی؟ اس طرح کہ مصنوعی اور جعلی تغیرات سے فی الواقع کوئی حقیقی اور نتیجہ خیز تغیر پیدا نہیں ہوتا، بلکہ فطری ارتقاء کے راستے میں اُلٹا خلل واقع ہوتا ہے ۔ مگر جو لوگ اجتماعی مسائل میں کوئی بصیرت نہیں رکھتے اور محض سطحی نظر سے زندگی کے معاملات کو دیکھتے ہیں، وہ بچوں کی سی سادہ لوحی کے ساتھ یہ خیال کرتے ہیں کہ لباس اور طرز معاشرت کی کچھ ظاہری شکلوں کے بدل دینے سے ایک قوم فی الحقیقت بدل جاتی ہے۔
عموماً تغیر لباس کے حق میں جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اس سے ایک پسماندہ قوم کی ذہنیت بدلتی ہے۔ سکون و جمود کی جگہ حرکت پیدا ہوتی ہے۔ تنزل و انحطاط کے دور کا لباس اُتارتے ہی وہ تمام اندرونی کمزوریاں جو اُس دور کے ساتھ مختص تھیں، اور وه ساری دلچسپیاں جو اُس دور کی زندگی کے ساتھ وابستہ تھیں یکا یک کافور کی طرح اُڑ جاتی ہیں ۔ نیا لباس پہنتے ہی، خصوصاً جبکہ وہ کسی ترقی یافتہ قوم سے لیا گیا ہؤ قوم کے نفسیات اور اس کی زندگی میں ایک آئی اور وقتی تغیر واقع ہوتا ہے۔ اُس میں خود بخود ترقی یافتہ ہونے کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو آگے بڑھی ہوئی قوموں کے برابر سمجنے لگتی ہے۔دوسری قو میں بھی اس کو اپنے برابر کا سمجھنے لگتی ہیں ۔ اور جب وہ ترقی یافتہ قوموں کا سا طرز زندگی اختیار کر لیتی ہے تو اُس میں اُنھی جیسی شائستگی، عملی سرگرمی اور فعالیت بھی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ مہذب اور کارکن قوموں میں جو لباس اور طرزِ زندگی پیدا ہوا ہے اسےاختیار کرنا مہذب اور کارکن بننے کے لیے ضروری بھی ہے اور مفید بھی۔۔۔ یہ اور اسی قسم کے بہت سے دلائل اس فعل کی تائید میں دیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ سب محض سطحی خیالات ہیں جن کی تہ میں کوئی تفکر اور کوئی بصیرت نہیں ہے۔ پھر ان خیالات کی سند میں بعض بڑی بڑی نامور شخصیتیں بھی پیش کی جاتی ہیں اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ ان خصیوں کے نام سنتے ہی آدمی پر ہول طاری ہو جائے گا(١) مگر واقعہ یہ ہے کہ جن کی سند پیش کی جاتی ہےفکر و بصیرت کے اعتبار سے اُن کا درجہ بھی اُن لوگوں سےکچھ زیادہ اونچا نہیں ہے جو ان کی سند پیش کرتے ہیں۔اپنے متبعین کی طرح وہ بیچارے خود بھی فکری حیثیت سے سطح میں اور علمی حیثیت سے کم مایہ ہیں۔ ہنگامی حالات میں کامیاب تدبیر میں اختیار کر کے اگر کسی فوجی جنرل نے اپنی قوم کو تباہی سے بچا لیا ہو تو بلاشبہ وہ قدر و عزت کا مستحق ہے مگر اس کی قدر اتنی ہی کی جاسکتی ہے جتنا وہ فی الواقع ہے اور اُسی حیثیت سے کی جا سکتی ہے جس حیثیت سے اس نے کارنمایاں انجام دیا ہے۔ اُس کے حقیقی مرتبے سے آگے بڑھا کر اسے مظفر اور مصلح اور معمار تہذیب و تمدن کی حیثیت دینا ایسی ہی بے عقلی ہے جیسے کسی اچھے انجینئر نےاگر سیلاب کے بند باندھ کر کسی بستی کو تباہی سے بچا لیا ہو تو اسے ہر معنیٰ میں مدبر اعظم اور نجات دہندہ سمجھ لیا جائے اور کہا جائے کہ اب محکمہ حفظان صحت کا نگران بھی اس کو بنا دو اور تعلیمات کی نگرانی بھی اسی کے سپرد کر دو۔
١- واضح رہے کہ یہ مضن اُس زمانے میں لکھا گیا تھا جبکہ بعض مسلمان ملکوں کے فرمانروا اپنی اپنی قوموں کے لباس زبردستی بدلوا کر ان کو ترقی یافتہ بنا رہے تھے اور ہمارے ملک میں بھی بعض طبقے ترقی کے اس نسخے کو آزمانے پر زور دے رہے تھے۔
أصولی حیثیت سے جو کچھ اوپر بیان کیا جا چکا ہے وہ تغیر پسند حضرات کے دلائل کی غلطی واضح کرنے کے لیے بالکل کافی ہے۔ لیکن زمانے کی روش کے اثر سے جو غلط فہمیاں عام طور پر دماغوں میں گھر کر چکی ہیں ان کا نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔ لهذا ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ میں اس حرکت کے خلاف اپنے دلائل زیادہ صراحت کے ساتھ بیان کروں۔
ا۔ پہلے یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ لباس کی وضع قطع بجائے خود کوئی مستقل بالذات چیز نہیں ہے بلکہ بہت سے قدرتی اور اجتماعی عوامل کے مشترک عمل کا نتیجہ ہے۔ یہ حقیقت اگر تسلیم کر لی جائے تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان عوامل کے عمل سے کسی قوم میں جو خاص وضع لباس پیدا ہوئی ہو وہی اُس کی فطری وضع ہے اُس کو ترک کر کے یکا یک کوئی ایسی نئی وضع اختیار کر لینا جو مناسب طور پر ان عوامل کےمشترک عمل سے نہ پیدا ہوئی ہو بالکل ایک خلاف وضع فطری فعل ہے۔
٢- ایک قوم کے لباس کا نہایت قریبی تعلق اُس کے طرز معاشرت سے ہوتا ہے اور اس کا طرز معاشرت اس کی پوری تمدنی زندگی سے کئی طرح کےروابط اور مناسبتیں رکھتا ہے۔لباس و طرز معاشرت کے فطری تغییرات میں تو یہ مناسبتیں برقرار رہتی ہیں، کیونکہ اس صورت میں زندگی اپنےتمام شعبوں کےساتھ بحیثیت مجموعی حرکت کرتی ہے۔ لیکن اگر غیر فطری طریقه پر تکلف اور تصنع کے ساتھ لباس و طرز معاشرت کو بدل دیا جائے یا صرف لباس میں تغییر کرد یا جائےتو ساری اجتماعی زندگی میں ایک برہمی و بے ربطی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ زندگی کے دوسرے شعبے اس تغیر کا ساتھ نہیں دیتے اور ایک دوسرے سے بے جوڑ ہو کر رہ جاتے ہیں۔
٣- لباس کا شائستہ و خوب صورت ہونا اور ترقی یافتہ حالات کے مناسب ہونا دراصل منحصر ہے اس بات پر کہ قوم خود اجتماعی حیثیت سے ترقی کرے اور ایک شائستہ متمدن، خوش مذاق روشن خیال اور عملی قوم بن جائے۔ اِس راہ میں وہ جتنی جتنی آگے بڑھتی جائے گی اسی نسبت سے اس کے قومی لباس میں خود بخود اصلاح ہوتی جائے گی۔ ترقی پذیر نفس اجتماعی آپ سے آپ خالص فطری طریقے سےبلا ارادہ اور بلا تکلف کچھ اپنی پرانی چیزوں میں ترمیم و اصلاح کرے گا اور کچھ دوسروں کی مناسب چیزیں لے کر اپنے ہاں اس طرح سجا لے گا کہ وہ موزونیت کے ساتھ اس میں کھپ جائیں گی۔ اصلاح و ترقی میں پیش قدمی کے اس فطری طریقے کو چھوڑ کر آن واحد میں ایک لباس کی جگہ دوسرا لباس بدل لینا ایسا ہی ہےجیسے چھلانگ مار کر ایک حالت سے دوسری حالت میں پہنچ جانے کی کوشش کی جائے ۔ اجتماعی زندگی میں اس قسم کی چھلانگیں مارنے سے کوئی حقیقی تغیر واقع نہیں ہوتا ۔
٤- کسی قوم کی اجتماعی حالت کے ترقی کرنے سے پہلے اس کے لباس و معاشرت کو بلند کرنا اور اسے کسی ایسے مرتبے پر لے جانے کی کوشش کرنا جو اس کے حقیقی مرتبے سے اُونچا ہو بالکل ایسا ہے جیسے کسی نا بالغ بچے کو ہیجان خیز ماحول میں رکھ کر گرم گرم غذا ئیں اور تیز تیز دوائیں کھلا کر زبردستی حد بلوغ کو پہنچایا جائے۔اس طرح کی غیر معمولی تبلیغ سے اس غریب بچے کے نظامِ جسمانی و احوالِ وانی میں جو شدید اختلال پیدا ہو گا اس پر اُس برہمی و ابتری کو قیاس کر لینا چاہیےجو زبردستی ” مہذب و شائستہ بنائے جانے سے کسی قوم کے اجتماعی نظام اور اس کی ذہنی و اخلاقی حالت میں برپا ہوگی۔
٥- ایک قوم کی معاشی حالت جس طرز لباس و معاشرت کا بار برداشت کر سکتی ہو اس سے زیادہ بھاری لباس و معاشرت کا بوجھ اُس پر لاد دینا اُسے عملاً تباہ کرنے کا ہم معنی ہے۔لباس و معاشرت کے ساتھ وہ خوش حال قوموں کے دوسرے تمدنی ڈھنگ اختیار کرنے کی بھی کوشش کرے گی اور اس کے نتائج اس کے حق میں تباہ کن ہوں گے۔
٦- لباس زبان اور رسم الخط وہ اولین چیزیں ہیں جن کے سہارے ایک قوم کی انفرادیت قائم ہوتی ہے۔ اگر کسی قومیت کے ان سہاروں کو گرادیا جائےتو اس کی انفرادیت آہستہ آہستہ محو ہونے لگتی ہے اور آخر کار وہ دوسری قوموں میں جذب ہو کر رہ جاتی ہے۔ قدیم زمانے کی وہ قو میں جو آج صفحہ ہستی سے نا پید ہو چکی ہیں،اور جنھیں ہم اہم بائدہ کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں، سب کی سب اسی وجہ سےفنا ہوئیں۔ ان کے فنا ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اشخاص جن پر وہ قومیں مشتمل تھیں،سب مٹ گئےاور کوئی نسل دنیا میں چھوڑ کر نہیں گئے۔بلکہ دراصل ان کی گم شدگی اور فنائیت اس معنی میں ہے کہ ان کی قومی انفرادیت باقی نہیں رہی۔ انھوں نے اپنی قومیت کے سہاروں کو خود گرا دیا یا گر جانے دیا۔ ان کے افراد دوسری قوموں کے لباس زبان رسم الخط اور آداب معاشرت اختیار کرتے چلے گئے۔آخر کار اُن کی قومیت مشکل ہوتے ہوتے ناپید ہو گئی۔ یہی حشر اب بھی اُن قوموں کے لیے مقدر ہے جو اپنے نادان لیڈروں کی احمقانہ تدبیروں کو ترقی کا ذریعہ سمجھ کر قبول کر رہی ہیں۔
٧- ایک قوم کا دوسری قوم کے لباس و طرز معاشرت کو اختیار کرنا دراصل احساس کمتری کا نتیجہ اور اس کا اعلان ہے۔اس کےمعنی دراصل یہ ہیں کہ وہ اپنےآپ کو خود ذلیل، دنی اور پست سمجھتی ہے۔ اس کے پاس کچھ نہیں ہے جس پر وہ فخر کر سکے۔ اس کےاسلاف کوئی ایسی چیز چھوڑ جانے کے قابل ہی نہ تھے جسے وہ شرم کیے بغیر برقرار رکھ سکتی ہو۔ اس کا قومی مذاق اتنا پست اور اس کا قومی ذہن اتنا گند ہے اور اس کے اندر تخلیقی قوتوں کا ایسا فقدان ہےکہ وہ خود اپنےلیےکوئی بہتر طرز زندگی پیدا نہیں کر سکتی۔ وہ اپنےآپ کو مہذب دکھانے کے لیے سب کچھ دوسروں سے مانگ لاتی ہے اور بغیر کسی شرم کے دنیا کے سامنے اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ تہذیب، شائستگی حضارت اور حسن و جمال جو کچھ بھی ہےدوسروں کی زندگی میں ہے وہی ہر کمال کا معیار ہیں اور ہم خود سینکڑوں ہزاروں برس کی زندگی میں گویا صرف جانوروں کی طرح جیتےرہےہیں۔ہم کوئی چیز بھی ایسی پیدا نہ کر سکےجو قدر و عزت کے لائق ہو یا زندہ رہنے کی مستحق ہو۔۔۔ یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ جس قوم میں خود داری کا شائبہ بھی باقی ہو وہ اس طرح اپنی ذلت و پستی کا مجسم اشتہار بننا گوارا نہیں کر سکتی۔ تاریخ اس بات پر گواہ ہے اور خود موجودہ زمانے کے حالات جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس امر پر شہادت دیتےہیں کہ اس حقیر وذلیل حیثیت کو ایک قوم دو ہی حالتوں میں گوارا کرتی ہےیا تو اُس وقت جبکہ وہ ہر میدان میں دوسری قوموں سےپٹ کر اور پیم شکستیں کھا کر ہار مان لےاور ڈگیں ڈال دے۔مثلاً ہندوستان ترکی مصر ایران وغیرہ۔ یا پھر اُس صورت میں جبکہ فی الواقع اس کی پشت پر کسی قسم کی قابل فخر روایات (Traditions) نہ ہوں' اس کی اپنی کوئی تہذیب و ثقافت پہلےسے نہ رہی ہو اس میں اعلیٰ درجہ کی تخلیقی قوتیں بھی نہ ہوں اور وہ اقوامِ عالم کے درمیان محض ایک نو دولتے کی حیثیت رکھتی ہو جیسے جاپان۔
٨- ایک قوم سے دوسری قوم کو اگر کوئی چیز لینی چاہیے اور کوئی چیز در حقیقت لینے کےقابل ہے تو وہ محض اس کی علمی تحقیقات کے نتائج اس کی تخلیقی و اختراعی قوتوں کے ثمرات اور اس کے وہ عملی طریقے ہیں جن سےاس نےدنیا میں کامیابی حاصل کی ہو ۔اُس کی تاریخ میں نیا اُس کی تنظیمات میں یا اس کے اخلاقیات میں اگر کوئی مفید سبق ہے تو اسے ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ اس کی ترقی اور کامیابی کےاسباب کا پوری چھان بین کے ساتھ استقصاء کرنا چاہیے اور ایک ایک چیز جو مفید ہواسے لےلینا چاہیے۔ یہ چیزیں انسانیت کی مشترک میراث ہیں۔ ان کی قدر نہ کرنا اور ان کے لینے میں قومی عصبیت کی بناء پر بخل کرنا محض جاہلیت ہے۔لیکن ان چیزوں کو چھوڑ کر دوسری قوم سے اس کے پہننے کے کپڑے اور اس کے رہنےسہنے کے لیے طریقے اور اس کے کھانے کی چیزیں مانگنا اور انھی کو ترقی کا ذریعہ سمجھنا بجز اس کے کہ کند ذہنی کی علامت ہے اور کچھ نہیں ۔ کیا کوئی معقل منڈ ایک لحہ کے لیے بھی یہ تصور کر سکتا ہے کہ یورپ نے کوٹ پتلون، ٹائی کا لڑ ہیٹ اور بوٹ کے ذریعے سے ترقی کی ہے؟ یا اس کی ترقی کے اسباب یہ ہیں کہ وہ چھری کانٹے سے کھانا کھاتا ہے؟ یا اس کی تزئین و آرائش کے سامان پاؤڈر اور اپ اسٹک اور کا ٹیکس وغیرہ اس کو اڑا کر ترقی کے آسمان پر لے گئے ہیں؟ یہ بات اگر نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نہیں ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ اصلاح و ترقی کا نام لینےوالے سب سے پہلے انھی چیزوں کی طرف لپکتے ہیں؟ کیوں ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ یورپ کی زندگی میں یہ چمک دمک جو نظر آتی ہے یہ دراصل صدیوں کی پیہم جدوجہد کا ثمرہ ہے اور جو قوم بھی لگا تار محنت اور صبر وعزم کے ساتھ کام کرے گی اس کی زندگی اسی طرح قابل رشک ہو سکتی ہے جس طرح آج یورپ کی زندگی پر رشک کیا جاتا ہے۔
ان دلائل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایک قوم کا کسی دوسری قوم کے لباس و معاشرت کو اختیار کرنا ایک غیر طبعی اور غیر معقول حالت ہےاور اس میں کسی پہلو سےبھی کوئی معقولیت نہیں ہے۔معمولی حالات میں کوئی شخص یہ سوچنےکی ضرورت ہی محسوس نہیں کر سکتا کہ اس کے گرد و پیش جو عام طریق زندگی پہلے سے رائج ہے اسے وہ کیوں چھوڑ دے اور کیوں اس کی جگہ اجنبی لوگوں کا طریق زندگی اختیار کر لے ۔ اس قسم کے خیالات ہمیشہ غیر معمولی حالات (Abnormal Condition) ہی میں پیدا ہوا کرتے ہیں اور ان کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے زمانہ حمل میں بعض عورتیں مٹی کھانے لگتی ہیں یا جب آنکھ کی ساخت میں خرابی آجاتی ہے تو آدمی ہر چیز کو ٹیڑھا دیکھنے لگتا ہے۔
اسلام دین فطرت ہے۔ وہ ہر معاملے میں وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو عقل عام اور فطرت سلیمہ کے عین مطابق ہے۔ آپ رنگین عینکیں اتار کر صاف نگاہ سے معاملات کو ان کی حقیقی و فطری صورت میں دیکھیے۔ اس طرح کے مشاہدے سے جس نتیجے پر آپ پہنچیں گے وہ بعینہ وہی نتیجہ ہو گا جس پر اسلام پہنچا ہے۔ وہ کوئی خاص لباس اور کوئی خاص طرز زندگی انسان کےلیےمقرر نہیں کرتا، بلکہ فطری طور پر جس جس طرز زندگی اور وضع لباس نے نشو و نما پایا ہے اس کو جوں کا توں تسلیم کر لیتا ہے۔البته خالص اخلاقی اور اجتماعی نقطہ نظر سے وہ چند اصول مقرر کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہر قوم اپنے قومی لباس اور طرزِ معاشرت میں ان اصولوں کے مطابق اصلاح کرلے۔
ان میں سب سے پہلی چیز ستر کے حدود ہیں ۔ اخلاق کے نقطۂ نظر سے اسلام اس کو ضروری سمجھتا ہے کہ تمام مرد خواہ وہ کسی ملک اور کسی قوم کے ہوں لازمی طور پر اپنے جسم کے اُن حصوں کو چھپائیں جو ناف اور گھٹنے کے درمیان ہیں۔ اور تمام عورتیں، خواہ زمین کے کسی خطے میں رہتی ہوں، چہرے اور ہاتھ پاؤں کے سوا اپنے پورے جسم کو مستو (١)رکھیں۔ اگر کسی قوم کی وضع لباس ایسی ہو کہ ستر کی یہ شرطیں اس میں پوری نہ ہوتی ہوں تو اسلام اس سے مطالبہ کرے گا کہ اپنی وضع میں ان شرطوں کے مطابق اصلاح کرلے ۔ اور جب وہ اصلاح کرلے گی تو اسلام کا خشا پورا ہو جائے گا۔ پھر اس کو اس سے کوئی بحث نہیں کہ وہ کس تراش خراش کا لباس پہنتی ہے۔
دوسری ضروری اصلاح جو اسلام نے تجویز کی ہے وہ یہ ہے کہ مرد ریشم کا لباس اور سونے چاندی کے زیورات پہننا چھوڑ دیں۔ اور مرد اور عورتیں سب ایسے لباس پہنے سےاحتراز کریں جن سے فخر و غرور بے جا نمائش اور عیش پسندی کا اظہار ہو۔ وہ تکبر کے لباس جو زمین پر لٹکتے ہوئے چلتے ہوں (١) اور جنھیں پہن کر ایک انسان دوسرے انسانوں کےمقابلے میں اپنی بڑائی جتاتا ہے،اسلام کی نظر میں لعنت کے قابل ہیں۔ وہ فخر وریا کے لباس جنھیں پہن کر ایک طبقے کے لوگ عام انسانوں پر اپنی شان اور ترفع کا رُعب جماتے ہیں یا اپنی خوش حالی کی نمائش کرتے ہیں، اسلام کے نزدیک حرام ہیں۔وہ بھر کیلےلباس بھی اسلام کو پسند نہیں جن کے اندر نفس پرستی اور عیاشی کی پرورش ہوتی ہے۔ان چیزوں کو اپنی پوشش سے خارج کر دیجیے۔پھر آپ کے لیے وہی وضع لباس اسلامی وضع ہے جو آپ کےملک میں رائج ہو یا آپ کی سوسائٹی میں مستعمل ہو ۔
(١) واضح رہے کہ یہ عورت کے لیے ستر کے حدود ہیں، نہ کہ حجاب کے ستر وہ چیز ہے جسے عورت کو اپنے شوہر کے سوا ہر ایک سے چھپانا چاہیے۔ خواہ وہ اس کا باپ یا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اور حجاب اس سے زائد ایک چیز کا نام ہے جس میں قریبی رشتہ داروں اور غیر مردوں کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا کہ عورتیں اپنی خانگی زندگی کے حدود سے باہر اپنے حسن اور اپنی آرائش کی نمائش کرتی پھریں۔
تیسری چیز جس کا مطالبہ اسلام کرتا ہے وہ یہ ہے کہ شرک اور بت پرستی کی وہ مخصوص علامتیں جنھیں کسی مذہبی فرقے نے اپنے لیے خاص کر رکھا ہو آپ کے لباس سےخارج ہونی چاہئیں ۔ مثلاً زنار، صلیب، تصویریں یا ایسی ہی دوسری چیزیں جو غیر اسلامی شعائر کی تعریف میں آتی ہیں ۔
ان اخلاقی و تمدنی اصلاحات کےساتھ ہی اسلام یہ بھی چاہتا ہے کہ مسلمانوں کےلباس میں کوئی ایسی امتیازی چیز ضرور ہو جس سے وہ غیر مسلموں کے مقابلے میں میز ہو سکتےہوں تا کہ وہ غیر مسلموں میں خلط ملط نہ ہو جائیں ایک دوسرےکو پہچان سکیں اور ان کےدر میان جماعتی زندگی مستحکم ہو سکےاس غرض کےلیےاسلام نےکوئی خاص وضع یا علامت مقرر نہیں کی ہےبلکہ اسےعرف عام پر چھوڑ دیا ہے۔عرب میں جب اسلامی تحریک کا آغاز ہوا تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرےمسلمان وہی لباس پہنتےتھےجو عرب کا عام قومی لباس تھا۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو مشرکین عرب سےممتاز کرنے کے لیے یہ علامت تجویز فرمادی تھی کہ مسلمان ٹوپی پر عمامہ باندھیں (١) عام عرب یا تو صرف عمامہ باندھتےتھےیا صرف ٹوپی پہنا کرتے تھے۔ اس وجہ سے ٹوپی پر عمامہ باندھنا مسلمانوں کےلیےوجہ امتیاز بن گیا اور اتنےامتیاز کو اس غرض کےلیےکافی سمجھا گیا کہ اس نئی تحریک کےپیرو اپنےملک کے عام باشندوں سے الگ پہچانے جاسکیں بعد میں جب تمام عرب مسلمان ہو گیا تو اس علامت کی حاجت باقی نہ رہی کیونکہ اب عربی لباس ہی اسلامی لباس بن گیا تھا اور اس لباس کو پہنےوالا کوئی شخص کافر و مشرک نہ رہا کہ اسےمسلمانوں سےممیز کرنے کے لیےکسی امتیازی نشان کی حاجت ہوتی۔ اسی طرح جب ایران اور دوسرے ممالک میں اسلام پھیلنا شروع ہوا تو اوّل اوّل اس بات کی ضرورت پیش آئی کہ نو مسلم یا تو عربی لباس پہنیں یا اپنے پرانے ملکی لباس میں کسی خاص علامت(مثلاً عمامه یا خاص طرز کی عبا)کا اضافہ کر لیں۔کیونکہ اُس وقت اُن کاملکی لباس غیرمسلموں کا لباس تھا اور بغیر کسی شان متیاز کےاس کو استعمال کرنےکی صورت میں مسلمانوں کی الگ جماعتی زندگی کسی طرح نہیں بن سکتی تھی مگر جب ان ممالک کےاکثر باشندے مسلمان ہو گئے اور ان کے ملی لباس میں وہ اخلاقی و تمدنی اصلاحات نافذ کر دی گئیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے تو ان کے مختلف مقامی لباس بعینہ اسلامی لباس بن گئے ۔ موجودہ زمانے میں بھی جن ممالک کے تمام یا اکثر باشندے مسلمان ہو چکے ہیں اُن کے ملکی لباس اپنی مختلف وضعوں کے باوجود سب کے سب اسلامی لباس ہیں ۔ اور جہاں مسلم اور غیر مسلم آبادی مخلوط ہے وہاں ہر وہ لباس اسلامی لباس ہے جسے پہن کر ایک مسلمان اور ایک غیر مسلم میں تمیز ہو سکے۔ اور جہاں کی ساری آبادی غیر مسلم ہے وہاں ہر اس شخص کے لیے جو اسلام قبول کرئے یہ ضروری ہے کہ عام غیر مسلموں سے ممتاز ہونے کے لیے اپنی وضع میں کسی ایسی علامت کا اضافہ کر لے جو عموماً اسلامی نشان کی حیثیت سے معروف ہو ۔
(١) اس کی ایک نمایاں مثال وہ مخصوص لباس ہیں جو بادشاہ پوپ اور پادری ہائی کورٹوں کے حج اور اسی طرح کے بعض اونچے اہل مناصب خاص خاص رسموں کے موقع پر پہنتے ہیں اور جو شادی کے موقع پر دلہنوں کو بھی پہنائے جاتے ہیں۔ یہ لباس اتنا لمبا ہوتا ہے کہ پیچھے کئی کئی آدمی اس کو تھامے ہوئے چلتے ہیں ۔یہی وہ لباس تکبر ہے، جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ القيمة "جو شخص غرور کے ساتھ اپنا کپڑ از مین پر لٹکا تا ہوا چلے گا خدا قیامت کے روز اس کی صورت دیکھنا ہرگز پسند نہ کرے گا“۔
(١) ابوداؤ د ترندی اور مستدرک میں یہ روایت آئی ہے کہ حضور نے فرمایا: فَرْقَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِم عَلَى الْقَلَائِس یعنی ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق کرنے والی چیز ٹوپی پر عمامہ باندھنا ہے ۔بعض لوگوں نے اس سےیہ سمجھ لیاکہ یہ تمام مسلمانوں کےلیےدائمی قانون ہےچنانچہ اب بھی بعض لوگ اس فعل کو مسنون قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ محض بے سمجھے حدیث پڑنے کا نتیجہ ہے۔ دراصل مسنون صرف یہ ہے کہ جب مسلمان کسی ایسی قوم میں ہو جس کے اکثر افراد غیر مسلم ہوں تو وہ اپنے لباس میں اُن سے الگ کوئی امتیازی نشان پیدا کر لے۔
اس مرحلے پر پہنچ کر ہمارے سامنے کتبہ کا مسئلہ آ جاتا ہے۔ کبہ کے معنی ہیں کسی کے مشابہ بنا۔ اور اس معنی کے لحاظ سے تشبہ کی چار صورتی ممکن ہیں جن میں سے ہر ایک کے متعلق اسلام کے رویہ کی توضیح یہاں کی جاتی ہے:۔
١- صنفی محبہ :یعنی مرد کا عورت کے مانند بنا یا عورت کا مرد کے مانند بنا۔ یہ فعل چونکہ فطرت سے انحراف ہےاور ایک بگڑی ہوئی ذہنیت کی علامت ہے۔اس لیےاسلام اسےملعون قرار دیتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر جو زنانہ لباس پہنیں اور اُن عورتوں پر جو مردانہ لباس پہنیں صاف الفاظ میں لعنت فرمائی ہے اور یقینا ہر وہ شخص جس کا ذہن صحیح و سلیم ہو گا اس معاملے میں وہی نقطه نظر اختیار کرے گا جو اللہ کے نبی کا نقطہ نظر ہے۔ مرد میں زنانہ پن اور عورت میں مردانہ پن خواہ کسی حیثیت سے بھی ہو ایک نفرت انگیز چیز ہے جسے دیکھ کر طبیعت بے اختیار بغاوت کرتی ہے۔
٢- قومی تشبہ : یعنی ایک قوم کا بحیثیت مجموعی کسی دوسری قوم کی وضع اختیار کر لینا۔ یہ چیز بھی غیر طبعی اور غیر معقول ہے اور ہمیشہ اُن حالات میں پیدا ہوتی ہے جب کسی قوم میں دنائت کی وبائے عام پھوٹ رہی ہو۔ لہذا اسلام اس کو بھی جائز نہیں رکھتا۔ صحابہ کرام کے دور میں قومی تشبہ کی جس طرح روک تھام کی گئی تھی، اور مفتوح ممالک کے باشندوں کو عربیت اختیار کرنے سے جس سختی کے ساتھ منع کیا گیا تھا، اس سے صحیح اسلامی رُوح کا اظہار ہوتا ہے۔
٣- انفرادی کشبہ : یعنی کسی قوم کے بعض افراد کا کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کرنا ۔ یہ دراصل انفرادی سیرت کی کمزوری کا نشان ہے۔جو افراد اس قسم کی روش اختیار کرتےہیں وہ دراصل اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ ان کے نفس میں تلون کی بیماری موجود ہے۔ ان کی سیرت میں پختگی اور استحکام نہیں ہے بلکہ وہ ایک سیال مادہ کی طرح ہے جو ہر سانچے میں ڈھلنے پر آمادہ رہتا ہے۔ علاوہ ازیں اخلاقی حیثیت سے یہ ایک مگر وہ فعل ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص اپنا نسب کسی دوسرے سے ملائے۔ جس طرح وہ قابل ملامت ہے اس لیےکہ اپنی اس حرکت سے دراصل وہ ثابت کرتا ہے کہ اپنے حقیقی باپ کی اولاد ہونے کو وہ باعث ننگ سمجھ رہا ہے اسی طرح وہ شخص بھی قابل ملامت ہے جو پیدا تو ایک قوم میں ہو مگر عزت و افتخار حاصل کرنے کے لیے وضع دوسری قوم کی اختیار کرے کیونکہ اس طرح وہ دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ جس قوم نے اسے جنم دیا ہے اس سے وابستہ ہونا اس کی نگاہ میں موجب عار ہے اور اس کے نزدیک عزت کی شکل صرف یہ ہے کہ اگر اس کا شمار دوسری قوم میں ہو ۔ تمدنی حیثیت سے بھی یہ رویہ سراسر غلط ہے جو لوگ اسے اختیار کرتے ہیں وہ چمگادڑ بن کر رہ جاتے ہیں۔ نہ اس قوم کے رہتے ہیں جس میں پیدا ہوئے ہیں اور نہ اس قوم کےبن سکتے ہیں جس کےبنا چاہتے ہیں لا انسى هؤُلاء وَلَا إِلى هؤلاء (ثاء: ۱۴۳) ان ہی وجوہ سے صحابہ کرام اور خصوصاً حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نے عرب کے اُن افراد کو زجر و تواریخ کی تھی جو بیرونی ممالک میں جا کر عرب کے بدوی لباس چھوڑ بیٹھے تھے اور روم و ایران کے شان دار تمدن سے مرعوب ہو کر اُن کے لباس اختیار کر لیے تھے۔
٤- تشبہ بالکفار یعنی کسی مسلمان کا غیر مسلم کے مشابہ بنا۔ یہ فعل مسلمانوں کی جماعتی وحدت کے لیے نقصان دہ ہے۔اس کی وجہ سےمسلمان اور مسلمان کےدرمیان اجنیت پیدا ہوتی ہے اور ان کے باہمی تعلقات میں وہ تعاون و تناضر نہیں ہو سکتا جو اسلام چاہتا ہے کہ ہو یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ ایک شخص مسلمان ہونے کے باوجود غیر مسلمانوں کی طرف میلان طبع رکھتا ہے۔ اور سیاسی نقطۂ نظر سے بھی یہ حرکت مضر ہے کیونکہ اس میں یہ خطرہ ہے کہ جو شخص غیر مسلموں کےمانند بنا ہوا ہے اُس کے ساتھ مسلمان ناواقفیت کی وجہ سےغیر مسلموں کا سا معاملہ کریں گے۔ ان وجوہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار اس قسم کے تشبہ کی ممانعت فرمائی ہے ۔ خَالِفُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ خَالِفُوا الْمَجُوسَ - يہ الفاظ متعدد احادیث میں ہم کو ملتے ہیں جن سے حضور کا صاف منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان مسلمان کو دیکھ کر پہچان سکے اور اس کے ساتھ مسلمان کا سا معاملہ کر سکے ۔ آپ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ جو مسلمان غیر مسلموں میں مخلوط ہو کر رہے گا میں اس سے بری الذمہ ہوں، یعنی اگر کسی جنگ میں مسلمان اسے دشمن کا آدمی سمجھ کر قتل کر دیں تو اپنے خون کا وہ خود ذمہ دار ہوگا ۔ مَنْ تَشَبَّهُ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ مَا نشا بھی یہی تھا کہ جو شخص کسی قوم کے مشابہ بن کر رہے گا وہ لامحالہ اُس کا فرد سمجھا جائے گا اور اس کے ساتھ وہی برتاؤ کیا جائے گا جو اس قوم کے دوسرے افراد کےساتھ کیا جاتا ہے (١)
١- اس مسئلے پر مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو ہماری کتاب ”مسئلہ قومیت ،ص ۹۶-۱۰۱
ایک دوست کا تقاضا ہے کہ ”فرنگیات" کی درآمد کا فتنہ بڑھتا جا رہا ہے اور "اہل کتاب عورتوں سے نکاح کی شرعی اجازت ایک بہانہ بن گئی ہے لہذا اس کے متعلق شرعی احکام کی صحیح تشریح ہونی چاہیے۔
اس میں شک نہیں کہ فی الواقع یہ ایک بڑا فتنہ ہے۔ ہندوستان، مصر اور شام وغیرہ ممالک میں تو اس کا اثر صرف اسی حد تک رہا ہے کہ میم صاحبات نے اسلامی نظامِ معاشرت میں گھس کر تہذیب اسلامی کی خوب بیخ کنی فرمائی۔لیکن ترکی میں اس کےسیاسی نتائج بھی نہایت خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔ یہ اُن اہم اسباب میں سےہےجن کی بدولت ترکوں کی عظیم الشان سلطنت تباہ ہوئی۔ اس بنا پر اگر دردمند مسلمانوں کو اس کے سد باب کی ضرورت کا احساس ہو تو یہ بالکل جائز ہے۔لیکن ہمارے نزدیک مصالح کےکسی ایک پہلو پر ضرورت سے زیادہ زور دےکر کسی شرعی مسئلہ میں ترمیم کرنا درست نہیں۔ قرآن مجید جس نےنازل کیا ہے وہ حکیم مطلق ہے اور اس کی نظر تمام مصالح و ضروریات پر غایت درجہ توازن و تناسب کے ساتھ پڑتی ہے۔ اس کے احکام کو سمجھنے اور حالات پر ان کو ٹھیک ٹھیک منطبق کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حتی الامکان نظر کو زیادہ سے زیادہ وسعت دے کر تمام چھوٹی اور بڑی مصالح کا جائزہ لیا جائے اور ہر ایک کو رعایت کا وہی درجہ دیا جائے جو خود شارع نے دیا ہے۔
آج تمھارے لیے پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اور اُن لوگوں کا کھانا جن کو کتاب دی گئی ہے تمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور مومن عورتوں میں سے پاک دامن عورتیں اور ان لوگوں کی بھی پاک دامن عورتیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی جا چکی ہے (تمھارے لیے حلال ہیں ) بشر طیکہ تم اُن کو اُن کے مہر ادا کر کے قید نکاح میں لاؤ نہ یہ کہ کھلم کھلا بدکاری کرنے والے یا چوری چھپے تعلقات رکھنے والے بنو ۔
اس آیت کی تفسیر میں سلف کے درمیان بہت کچھ اختلافات ہوئے ہیں۔لیکن جمہور علماء نے ہر زمانے میں اس کے حکم کو ظاہر الفاظ اور عموم اطلاق ہی پر باقی رکھا ہےاس لیے کہ کسی حکم قرآنی کو ظاہر سے پھیرنے اور عام کو خاص کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت ہے اور یہاں سرے سے کوئی دلیل ہے ہی نہیں ۔ قرآن بھیجنے والے سے بڑھ کرصاحب حکمت متقن کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔وہ خود اپنےحکم میں کسی استثناء یا تخصیص کی ضرورت سمجھتا تو وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ کے ساتھ کوئی قید ضرور بڑھاتا ۔ اس کی شان تشریع سے یہ امر بہت بعید ہے کہ وہ قانونی احکام کے بیان میں اتنی چست زبان بھی استعمال نہ کر سکے جتنی دُنیا کےواضعین قانون استعمال کر لیتے ہیں ۔کس طرح ممکن ہے کہ اس کا مقصد تو اہل کتاب کے کسی خاص گروہ کو حلال کرنا ہو اور وہ بیان حکم کے لیے الفاظ ایسے منتخب کرے جو تمام اہل کتاب کے لیے عام ہوں اور جن میں استثناء اور تخصیص کے لیے قطعاً کوئی اشارہ تک نہ ہو یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین اور آئمہ سلف نے عموماً اس آیت کو اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کی عام اجازت پر محمول کیا ہےاور صرف محمول ہی نہیں کیا ہے بلکہ اس کے مطابق عمل بھی کیا ہے۔ چنانچہ حضرت عثمان بن عفان نے نائلہ بنت فرافصہ گلبیہ سےنکاح کیا جو نصرانی تھی ۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ نےایک شامی یہودیہ سے نکاح کیا۔ حذیفہ بن الیمان اور کعب بن مالک اور مغیرہ بن شعبہ وغیر ہم نے بھی کتابیات سے نکاح کیے یا ان کو نکاح کے پیغام دیے۔
صحابہ میں سے صرف ایک ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جنھوں نے اہل کتاب کی عورتوں سےنکاح کو مطلقا نا جائز قرار دیا ہے۔وہ کہتےہیں کہ اللہ تعالی نے مشرک عورتوں کو حرام کیا ہے" ۔ وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ (بقره: ۲۲۱) مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں اور میں نہیں جانتا کہ اس سے بڑھ کر بھی کوئی شرک ہو سکتا ہے کہ عیسی بن مریم یا کسی بندہ خدا کو خدا قرار دیا جائے۔ اس بنا پر وہ تمام اُن اہل کتاب کی عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں جن کے اعتقاد میں کفر و شرک پایا جاتا ہو۔ والمحصنت کی تغییر انھوں نے والمسلمات سے کی ہے۔ یعنی اُن کی رائےمیں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے جو عورتیں مسلمان ہو جائیں اُن کے ساتھ بھی نکاح کرنا تمھارے لیے حلال ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں خود ہی اہل کتاب کے وہ تمام عقائد بیان فرمائے ہیں جو صریح شرک پر مبنی ہیں ۔ مثلاً اُن کا یہ اعتقاد کہ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ (مائده: ۷۳) اور یہ کہ اِنَّ الله ثالث ثلثة (مائدہ:۷۲) اور قَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرُ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصْرِى الْمَسِيحُ ابْنُ اللهِ (التوبہ: ۳۰) ۔ یہی نہیں بلکہ اس نے لفظ شرک اور کفر کو بھی ان کی طرف منسوب کیا ہےمگر اس کے باوجود اس نے کسی جگہ بھی ان کے لیے مشرک کا لفظ اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا۔تمام قرآن میں جہاں کہیں بھی ان کا ذکر آیا ہےاہل کتاب یا اس کےہم معنی دوسرے الفاظ کے ساتھ ہی آیا ہے۔ قرآن کو اوّل سے آخر تک دیکھ جائیے۔ تین گروہ بالکل الگ الگ نظر آ ئیں گے ۔ ایک گروہ مشرکین و کفار یعنی وہ لوگ جن کے پاس کوئی آسمانی ہدایت محترف یا غیر محترف موجود نہیں ہے۔ دوسرے اہل کتاب جو اپنی تمام اعتقادی و عملی گمراہیوں کے باوجود کسی نبی اور کسی آسمانی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں۔ تیسرے مومنین جن سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو ہیں.عام اس سے کہ وہ اسلام میں پیدا ہوئے ہوں یا اہل کتاب کے گروہ سے اسلام میں آئےہوں یا مشرکین و کفار کے گروہ سے نکل کر مسلمان ہو گئے ہوں ۔ قرآن ان تینوں گروہوں کے درمیان واضح امتیاز برتا ہے اور کہیں ان کو خلط ملط نہیں کرتا کہ مطلقاً اہل کتاب بول کر مشرک مراد لئے یا مطلقاً مشرک بول کر اہل کتاب مراد لے یا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ کہہ کر مسلمان مراد لے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ وَلا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكاتِ فرما کر نکاح سے منع فرمایا اور دوسری جگہ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ کہہ کر نکاح کی اجازت دی تو لا محالہ یہ ماننا پڑے گا کہ پہلی آیت میں المُشْرِكَاتِ سے بت پرستوں اور دوسری غیر کتابی قوموں کی عورتیں مراد ہیں۔ اور دوسری آیت میں اُن غیر مسلم گروہوں کی عورتیں مراد ہیں جن کے پاس قرآن سے پہلے کتابیں تھیں۔ اگر یہ معنی نہ لیے جائیں تو قرآن کی دو آنتوں میں صریح تعارض لازم آتا ہے جس کو یہ کہہ کر دفع نہیں کیا جا سکتا کہ والمُحصنت مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتب سے مراد وہ عورتیں ہیں جو یہودیت ونصرانیت چھوڑ کر مسلمان ہو گئی تھیں یا اُن کتابی فرقوں کی عورتیں ہیں جو شرک و کفر سے پاک تھے اس لیے کہ:۔
اولا اللہ تعالیٰ نے وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ سے پہلےوَالْمُحْصَنَنتُ مِنَ الْمُؤمِنتِ فرما دیا ہے۔اور مومنات سے صرف وہی عورتیں مراد نہیں ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئی ہوں بلکہ وہ سب عورتیں بھی مراد ہیں جو اپنے سابق مذہب کو چھوڑ کر اسلام میں آئی ہوں۔ پس جب مومنات سے نکاح کو عموماً حلال کر دیا تھا اور ان میں وہ عورتیں بھی آپ سےآپ داخل تھیں جو اسلام سےپہلےنصرانی یا یہودی تھیں،تو پھرخاص طور پر وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الكِتب کےذکر کی کون سی ضرورت تھی؟اس طرح تو یہ فقرہ بالکل بےمعنی اور عبث ہو جاتا ہے۔
ثانیا اس آیت سے پہلے یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اُن لوگوں کا کھانا تمھارے لیےحلال ہے جن کو کتاب دی گئی ہے۔ کیا وہاں بھی اہل کتاب سے مراد وہ مسلمان ہیں جو نصرانیت اور یہودیت چھوڑ کر مسلمان ہوئے ہوں؟ اگر نہیں تو کس بنا پر جائز ہوا کہ ایک ہی آیت کے ایک ٹکڑے میں لفظ اہل کتاب کے ایک معنی لیے جائیں اور دوسرے ٹکڑے میں دوسرے معنی ؟
ثالثاً ، نصاری اور یہود کا کون سا فرقہ ایسا ہے جو شرک یا کفر سے پاک ہو؟ خدا کےبارے میں صحیح اعتقاد اُن میں باقی ہی کہاں تھا اور کہاں سے آ سکتا تھا ؟ موسیٰ اور عیسی علیہما السلام کی اصل تعلیمات ہی ان کے ہاں محترف ہو چکی تھیں ۔ پھر صحت اعتقاد کا راستہ مل کہاں سکتا تھا کہ ان میں کوئی فرقہ راہِ راست پر ہوتا ؟ پس یہ خیال قطعا صحیح نہیں کہ والمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أولُوا الكتب سے یہود یا نصاری کا کوئی صحیح العقیدہ گروہ مراد ہے۔ قرآن کی جن آیات سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ ان میں کچھ صحیح العقیدہ فرقے بھی تھے ان کا اشارہ دراصل ایسے اہل کتاب کی طرف ہے جو نیک دل اور سلیم الفطرت ہونے کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو قبول کر چکے تھے یا عنقریب قبول کرنے والے تھے۔
رابعاً اگر بالفرض یہود و نصاریٰ کا کوئی خاص گروہ ایسا ہو بھی تو اللہ تعالی نے الَّذِينَ أوتوا الكتب من قبلِكُمُ کے ساتھ کوئی ایسی قید ایسی نہیں بڑھائی ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہو کہ یہ حکم صرف اسی گروہ کے ساتھ مخصوص ہے اور دوسرے اہل کتاب اس سے خارج ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم خواہ مخواہ اہل کتاب کے اعتقادات کی چھان بین میں لگ جائیں اور اپنے قیاس سے یہ طے کریں کہ ان میں سے کس فرقے کی عورتیں حلال ہیں اور کس فرقے کی حرام ۔
جن لوگوں نے حضرت ابن عمر کے قول کی تائید کی ہے وہ آیت وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ (المتخنه : ۱۰) سے بھی استدلال کرتے ہیں، لیکن یہ آیت خاص طور پر اُن مردوں اور عورتوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف مسلمان ہو کر ہجرت کر آئے ہوں اور جن کے شوہر یا بیویاں دارالحرب میں بحالت کفررہ گئی ہوں ۔ آیت کا منشا یہ ہے کہ ان کے دارالاسلام میں آتے ہی جاہلیت کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور مہاجر مرد و عورت دونوں نکاح کے لیے آزاد ہو جاتے ہیں ۔ یہ معنی تو شانِ نزول کے لحاظ سے متفق ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص نفس الفاظ ہی پر حصر کرے تو ہم کہیں گے کہ ایک جگہ وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ سے ایک عام حکم بیان کیا گیا تھا، پھر دوسری جگہ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتب کہہ کر بتا دیا گیا کہ کفار میں سے ایک خاص جماعت یعنی اہل کتاب اس عام ممانعت سے مستثنیٰ ہیں۔ اگر آپ یہ نہیں مانتے کہ پہلے حکیم عام کو یہ دوسرا حکیم خاص کر رہا ہے تو آپ کو مانا پڑے گا کہ اللہ تعالی متضاد باتیں کرتا ہے، ایک جگہ ایک چیز کی اجازت دیتا ہے اور دوسری جگہ اس کی ممانعت کر دیتا ہے معاذ اللہ
ابن عمر کے بعد دوسرے صحابی جنھوں نے نکاح کتابیات کی اجازت کو محمد ود کرنے کی کوشش کی ہے ابن عباس ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حکم صرف ذمی عورتوں کےساتھ مخصوص ہے۔ نصاری اور یہود میں جو لوگ اسلامی سلطنت کی رعایا ہوں صرف اُنھی کی عورتوں سے نکاح کیا جا سکتا ہے، خواہ اُن کے اعتقادات میں کیسا ہی فساد ہو ۔ رہے اہل حرب ( یعنی وہ لوگ جو حدود دار الاسلام سے باہر رہتے نہوں ) تو ان کی عورتوں سے نکاح جائز نہیں۔ دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اہل کتاب کے اس گروہ سے جنگ کا حکم دیا ہے:قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدِوَّهُمْ صَاغِرُونَ (التوبہ:۲۹) نیز یہ بھی فرمایا ہے کہ جو لوگ خدا اور رسول کے دشمن ہوں ان سےمحبت رکھنا اہل ایمان کا کام نہیں ہے۔ لا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ .. يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ (المجادلہ: (۲۲) دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے ازدواجی تعلق کی بنیاد جس چیز پر رکھی ہے وہ مودت اور رحمت کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَرَحَمُةٌ- (الروم : ۲۱) پس جب نکاح کا تعلق محبت و اخلاص کا مقتضی ہے اور حربی مشرکین و اہل کتاب سے محبت رکھنا حرام اور جنگ کرنا مامور بہ تو لازم آیا کہ اُن کی عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہ ہو۔
یہ ہے ابن عباس کا استدلال ۔ مگر ابن عمر کی طرح اُن کی اس رائےکو بھی جمہور صحابہ و تابعین و آئمہ متقین نے تسلیم نہیں کیا۔ اگر چہ دارالحرب اور دارالکفر کی رہنے والی کتابی عورت سے نکاح کو بالا تفاق سب مگر وہ قرار دیتےہیں،لیکن اس کی حرمت کا کوئی بھی قائل نہ ہوا۔ کیونکہ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الکتب کی اجازت حربی اور غیر حربی سب کو شامل ہے اور اس میں اللہ تعالی نے کوئی قید نہیں رکھی ہے۔ پس جہاں تک قانونی جواز کا تعلق ہے اس کو ٹھیک اُسی عموم پر باقی رکھنا چاہیے جو آیت قرآنی میں پایا جاتا ہے۔ رہا قومی مصالح یا شخصی حالات کے لحاظ سےنکاح کا مناسب نہ ہونا اور اس کا لائق پرهیز ہونا تو یہ بالکل ایک دوسری چیز ہے۔ ہم جائز کو نا جائز نہیں کر سکتے ۔ البتہ یہ حق ہم کو حاصل ہے کہ جو فعل جائز کسی خاص حالت میں یا کسی خاص وجہ سے ہمارے لیے مناسب نہ ہو اس سے ہم پر ہیز کریں کیونکہ جواز کے معنی امر اور لزوم کے نہیں ہیں۔
ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہا کی رائے کو رڈ کر دینے کے بعد جو لوگ آیت زیر بحث کے حکم کو عام قرار دیتے ہیں اُن کے درمیان تمام تر اختلاف صرف دو لفظوں کی تفسیر میں ہے: ایک الْمُحْصَنَتُ - دوسرے الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتب _______
مصنہ کے معنی ایک گروہ کے نزدیک’پاک دامن عورت“ کے ہیں۔ اور دوسرا گروہ کہتا ہے کہ محمد وہ عورت ہے جو آزاد ہو۔ لونڈی نہ ہو۔ پہلے گروہ کے نزدیک اہل کتاب کی صرف اُن عورتوں سے نکاح جائز ہے جو عفیفہ ہوں ۔ بدکار اور آبرو باختہ اور بے حیا عورتیں اس حکم سے خارج ہیں ۔ دوسرے گروہ کی رائے میں کتابیہ لونڈی سے نکاح جائز نہیں خواہ وہ عفیفہ ہی کیوں نہ ہو اور آزاد کتابیہ سے جائز ہے خواہ وہ بدکار ہی کیوں نہ ہو۔
اہل کتاب کے متعلق اختلاف اس امر میں ہے کہ کون کون سے گروہ ان میں شامل ہیں۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ اہل کتاب صرف وہ یہودی اور نصرانی ہیں جو بنی اسرائیل سےہوں۔ رہیں دوسری قومیں جنھوں نے یہودیت یا نصرانیت قبول کر لی ہے تو وہ اہل کتاب نہیں ہیں ۔ کیونکہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی صرف بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھےدوسری قو میں ان کی دعوت کی مخاطب ہی نہ تھیں ۔ حنفیہ اور جمہور فقہاء کہتے ہیں کہ ہر وہ قوم جو کسی نبی کو مانتی ہو اور کسی کتاب الہی پر ایمان رکھتی ہو اہل کتاب شمار کی جائے گی۔ اس میں یہود و نصاریٰ کی بھی کوئی قید نہیں۔ اگر کوئی گروہ صُحف ابراہیم کا ماننے والا یا صرف زبور داؤد پر ایمان رکھنے والا ہوتا تو وہ کتابی گروہ ہوتا۔ سلف میں ایک قلیل جماعت اس طرف بھی گئی ہے کہ جن قوموں کے پاس کوئی ایسی کتاب ہے جس پر آسمانی ہونے کا طلبہ کیا جا سکتا ہے وہ بھی اہل کتاب میں سے ہیں مثلا مجوی۔ موجودہ زمانے کے بعض " مجتہدین" نے اسی خیال کو وسعت دے کر یہ اجتہاد فرمایا ہے کہ ہندو اور چینی اور بودھ مت والے بھی اہل کتاب ہیں اور ان کی عورتوں سے بھی نکاح جائز ہے کیونکہ بہر حال ان کے ہاں بھی کوئی نہ کوئی نبی آیا ہوگا اور کوئی نہ کوئی کتاب ان کو ضرور دی گئی ہوگی ۔
ان تمام اختلافات میں جو مسلک سب سے زیادہ صحیح ہے وہ یہ ہے کہ اہل کتاب سے مراد صرف یہود و نصاریٰ ہیں عام اس سے کہ وہ اسرائیلی ہوں یا غیر اسرائیلی ۔ قرآن مجید میں اہل کتاب کا لفظ انھی دونوں گروہوں کے لیے آیا ہے۔ اور ایک جگہ تو تصریح کر دی گئی ہے کہ یہی دو گروہ اہل کتاب ہیں، وهذا كِتابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكَ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقَوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ -اَنْ تَقُولُوا إِنَّمَا أُنْزِلَ الْكِتَبْ عَلَى طَائِفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا (انعام:۱۵۶ ۱۵۷) ان دو گروہوں کےعلاوہ جن دوسری قوموں کے پاس کتابیں بھیجی گئی تھیں، انھوں نے چونکہ اپنی کتابوں کو بالکل ضائع کر دیا اور ان کے اعتقاد و عمل میں کوئی چیز بھی تعلیمات انبیاء پر باقی نہیں رہی، اس لیے اُن پر لفظ اہل کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوسیوں کو اہل کتاب قرار نہیں دیا حالانکہ وہ زردشت کو مانتے ہیں جس پر نبی ہونے کا شبہ کیا جا سکتا ہے۔ ہجر کے مجوسیوں سے جب معاملہ پیش آیا تو حضور نے فرمایا کہ ستوابهم سنة أهل الكتب " ان کے ساتھ اہل کتاب کا سا معاملہ کرو۔ یہ نہیں فرمایا کہ وہ اہل کتاب ہیں ۔ پھر جو نامہ مبارک آپ نے مجوس بنجر کو لکھا تھا اس میں صراحت کےساتھ یہ تحریر فرما دیا تھا کہ : ” ان کے ساتھ اہل کتاب کا سا معاملہ کرو“۔ یہ نہیں فرمایا کہ وہ اہل کتاب ہیں ۔ پھر جو نامہ مبارک آپ نے مجوس ہجر کو لکھا تھا اس میں صراحت کے ساتھ یہ تحریر فرما دیا تھا کہ:
اگر تم اسلام قبول کرو گے تو تمھارے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے ہیں اور تم پر وہی واجبات ہوں گے جو ہم پر ہیں ۔ اور جو لوگ تم میں سے انکار کریں گے اُن پر جزیہ عائد کر دیا جائے گا۔ مگر نہ ان کا ذبیحہ کھایا جائے گا اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح کیا جائے گا۔
اس تصریح کے بعد یہ طلبہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ غیر یہود و نصاری کو بھی اکل ذبائح اور نکاح محصنات کی اغراض کے لیے اہل کتاب میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
رہی اسرائیلیت کی قید جو امام شافعی نے لگائی ہے تو وہ بھی درست نہیں۔ بلائبہ دعوت موسوی و عیسوی کے مخاطب صرف بنی اسرائیل تھے ۔ مگر جن غیر اسرائیلی قوموں نےنصرانیت کو قبول کیا انھیں بھی تو خدا اور رسول نے اہل کتاب ہی میں شمار کیا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نامہ مبارک قیصر روم کے نام لکھا تھا اس میں یہ آیت نقل فرمائی تھی که ياهْلَ الْكِتَبِ تَعَالَوُا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَا وَبَيْنَكُمُ ( آل عمران :۱۴ ) دیکھیے، یہاں رومیوں کو اے اہل کتاب کہہ کر خطاب کیا جا رہا ہے اور ظاہر ہے کہ رومی اسرائیلی نہ تھے۔
پھر جن لوگوں نے محصنات کا ترجمہ عفیفہ یا 7 ہ کیا ہے اور عفت یا حریت کو نکاح کتابیہ کے لیے شرط قرار دیا ہے اُن کا مسلک بھی درست نہیں معلوم ہوتا ۔ اس میں شک نہیں کہ احصان کے مفہوم میں عفت اور شرافت دونوں داخل ہیں اور مکھنہ سے مراد ایسی ہی عورت ہے جو پاک دامن بھی ہو اور شریف و معزز بھی۔لیکن شارع کا مقصود ان دونوں چیزوں کو نکاح کےلیےشرط قرار دینا نہیں ہےبلکہ محض افضلیت اور اولیت کا اظہار مقصود ہے۔شارع در اصول یہ بتانا چاہتا ہے کہ تم نکاح کرنے کو تو ہر مومن اور کتابی عورت سے کر سکتے ہو مگر اولی اور افضل یہ ہےکہ وہ عورت کھنہ یعنی شریف اور پاک دامن ہو۔ قرآنی احکام میں اس قسم کی قیود بکثرت لگائی گئی ہیں جو ثبوت حکم کے لیے شرط کی حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ کسی فعل جائز کے افضل پہلو یا فعل نا جائز کے ارذل پہلو کو ظاہر کرنے کے لیےبطور ایک قید زائد کے رکھ دی گئی ہیں تا کہ اہل ایمان افضل کے اختیار اور ارذل سےاجتناب کا اہتمام کریں۔ بعینہ یہی مسلک ہے جو اس باب میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اختیار فرمایا ہے۔ حضرت حذیفہ بن الیمان نے ایک یہودیہ سے نکاح کیا۔ حضرت عمرؓ کو اطلاع پہنچی تو آپ نے لکھا کہ اسے چھوڑ دو ۔ انھوں نے دریافت کیا کہ یہ حکم کس بناء پر ہے؟ کیا کتابیہ سے نکاح کرنا حرام ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ حرام نہیں ہے بلکہ مجھےخوف ہے کہ کہیں تم لوگ اہل کتاب کی آبرو باختہ عورتوں میں نہ پھنس جاؤ۔
پس تمام مسالک میں جو مسلک ہمارے نزدیک اصح ہے وہ یہ ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنے کے شرعی جواز کو عام قرار دیا جائے خواہ وہ تربیہ ہوں یا زمیہ عفیفہ ہوں، لونڈیاں ہوں یا آزاد ۔
یہاں تک تو مسئلہ کی صرف قانونی حیثیت سے بحث تھی ۔ اب ہم اس پہلو سے اس مسئلے پر بحث کرتے ہیں کہ دینی وملتی مصالح کے لحاظ سے صحیح اور مناسب کیا طرز عمل ہے اور رُوح دین کے تقاضے کیا ہیں ۔
شریعت اسلامیہ میں نکاح کی حیثیت محض ایک عمرانی معاہدہ (Social Contract) ہی کی نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ آج کل تعبیر کر رہے ہیں، بلکہ اس میں ایک مذہبی تقدس کی شان بھی ہے۔ یہ تقدس ہندوؤں اور عیسائیوں کے نکاح کی طرح (Sacrament) کی حد تک تو نہیں پہنچتا، مگر عبادت کی حد تک ضرور پہنچ جاتا ہے۔ شارع اس سے نہ صرف تمدنی و عمرانی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے بلکہ دینی و روحانی فوائد بھی چاہتا ہے۔ اس سےاخلاق کی اصلاح مقصود ہے۔ سوسائٹی کی پاکیزگی مقصود ہے۔ ایک خالص اسلامی نظامِ معاشرت کا بقاء و دوام اور نشو و ارتقاء مقصود ہے۔ دنیا میں خدا کا نام لینے والی اور کلمتہ اللہ کو بلند کرنے والی نسلیں پیدا کرنا مقصود ہے۔ ان مقاصد میں مددگار ہونے کی وجہ سے نکاح کو عبادات کے قریب جگہ دی گئی ہے۔ بعض فقہائے اسلام نے تو یہاں تک کہ دیا کہ بعض حیثیات سے نکاح کو جہاد پر بھی فضیلت ہے۔ کیونکہ نکاح اور جہاد دونوں وجود مسلم اور وجود اسلام کے اسباب ہیں، مگر جو کچھ افراد مسلمین کی مناکحت سے حاصل ہوتا ہے وہ اس سے بدرجہا زیادہ ہے جو جہاد سے حاصل ہوتا ہے۔ جہاد میں تو زیادہ تر امکان اس کا ہےکہ کفار قتل ہوں گے یا ذمی بن کر حالت کفر ہی میں رہیں گےبخلاف اس کے اہل اسلام کی شادیوں کا خالص نتیجہ یہ ہے کہ اس سے مسلمانوں کی ایک نسل کے اخلاق محفوظ ہوں گے اور دوسری نسل متبعین اسلام کی وجود میں آئے گی۔
اس باب میں اسلام کے نقطۂ نظر کو پوری طرح سمجھنےکےلیےان احادیث پر ایک نگاہ ڈالنی چاہیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےنکاح کےمتعلق مروی ہیں۔ابو یعلی نےاپنی مسند میں نقل کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےایک مرتبہ عطاف بن وداعتہ الہلالی سےپوچھا کیا تمھاری شادی ہو چکی ہے؟ انھوں نے کہا نہیں۔ آپ نے پوچھا: لونڈی بھی نہیں؟ انھوں نے کہا، نہیں۔ آپ نےدریافت فرمایا' کیا تم تندرست اور خوش حال ہو؟ انھوں نے عرض کیا ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”تب تو تم شیطان کے بھائیوں میں سےہو یا عیسائیوں میں ہے۔اگر تم ہماری جماعت میں شامل ہونا چاہتے ہو تو وہی کرو جو ہم کرتےہیں ۔ اور ہمارے طریقوں میں سے ایک نکاح بھی ہے۔ تم میں بدترین لوگ وہ ہیں جو مجرد رہتے ہیں اور تمھارے مرنے والوں میں بدترین وہ ہیں جو مجرد مرتے ہیں۔"
ایک اور حدیث میں ہے کہ تَنَا كَحُوا تَنَاسَلُوا تَكْثُرُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ أَبِكُمُ الْامَمَ يَوْمَ الْقِيمَةِ ”نکاح کرو نسلیں بڑھاؤ اپنی تعداد میں اضافہ کرو کیونکہ میں قیامت کےروز تمام امتوں کےمقابلہ میں تمھاری تعداد زیادہ دیکھنا چاہتاہوں۔
ایک موقع پر فرمایا: أَرْبَعٌ مَنْ أَعْطِيَهُنَّ فَقَدْ أُعْطِيَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَلْبًا شَاكِرًا وَلِسَانًا ذَاكِرًا وَبَدْنَا عَلَى الْبَلَاءِ صَابِرًا وَزَوْجَةً لَا تَبْغِيهِ خَوْنًا فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ ( رواه الطبرانی فی الکبیر والا وسط ) چار چیزیں ہیں کہ جس کو وہ دی گئیں اسے دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی دے دی گئی۔ ایک وہ دل کہ خدا جو کچھ دے اس پر وہ شکر ادا کرے۔ دوسرے وہ زبان جو خدا کا ذکر کرنے والی ہو تیسرے وہ بدن جو مصیبتوں کےمقابلے میں ٹھیرنے کی قوت رکھتا ہو۔ چوتھے وہ بیوی جوشو ہر کے مال اور اپنی عصمت میں کسی خیانت کی طرف مائل نہ ہو“۔
ایک اور موقع پر ارشاد ہوا : مَنْ أَرَادَ أَنْ يُلْقَى اللَّهَ ظَاهِرًا مُطَهَّرًا فَلْيَتَزَوْجِ الْحَرَائِرَ (ابن ماجہ ) ” جو کوئی اللہ سے پاک صاف ملنا چاہتا ہوا سے شریف عورتوں سے شادی کرنی چاہیے"۔
ایک دوسری حدیث میں ہے: لا تُزَوَجُوُا البَسَاءَ لِحُسْنِهُنَّ فَعَسَى حُسْنُهُنَّ إِنْ يُرْدِيَهُنَّ وَلَا تُزَوِّجُوهُنَّ لِاَمْوَالِهِنَّ فَعَسَى أَمْوَالُهُنَّ أَنْ تُطْعِيَهُنَّ وَلَكِنْ تُزَوِّجُوهُنَّ عَلَى الدِّينِ فَلَامَةٌ حُرَقَاءُ سُوْدَاءُ دَاتُ دِيْنِ أَفْضَلُ - ابن ماجہ ) '' عورتوں سے اُن کے حسن کی خاطر شادیاں نہ کرو۔ ممکن ہے کہ ان کا حسن ان کو بگاڑ دے۔ اور تم ان کے مال و دولت کی خاطر بھی شادیاں نہ کرو ۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے اموال ان کو سرکش بنا دیں ۔ تم کو اُن میں جو چیز دیکھنی چاہیے وہ دین ہے۔ ایک کالی کلوٹی کم عقل لونڈی بھی اگر دین دار ہو تو وہ دوسری عورتوں سے افضل ہے“۔
اسی قسم کی بہت سی احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں نکاح کی اہمیت صرف ایک تمدنی ضرورت کو پورا کرنےہی کےلیے نہیں ہےبلکہ سب سےبڑا نصد تحصینِ نفس اور طهارت اخلاق اور تہذیب اسلامی کا فروغ اور خالص مسلمان نسلیں پیدا کرنا ہے۔ اور ان اغراض کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ مسلمان نکاح کریں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے نکاح ایسی عورتوں سے ہوں جو مسلمان ہوں، دین دار ہوں،شریف اور باعصمت ہوں ۔ کیونکہ ایک صالح اسلامی سوسائٹی ایسے ہی مردوں اور عورتوں کے ازدواج سے وجود میں آسکتی ہے اور ایک صالح مسلمان نسل ایسی ہی ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوسکتی ہے۔
دینی نقطۂ نظر سے ہٹ کر خالص عمرانی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مخلوط شادیوں سے بڑھ کر کوئی چیز نظام معاشرت اور خاندانی زندگی کو فاسد کرنے والی نہیں ہو سکتی۔دو ایسےمیاں بیوی جن کےخیالات میں بعد المشرقین ہو اور جنھوں نےدو بالکل مختلف ماحولوں میں مختلف روایات اور مختلف معاشرتوں کے زیراثر پرورش پائی ہو اپنے باہمی اختلاط سے نہ تو خود اپنی زندگی میں سکون و راحت حاصل کر سکتےہیں نہ اپنے گھر کو کسی نظام معاشرت کا صالح رکن بنا سکتے ہیں اور نہ کوئی ایسی نسل پیدا کر سکتے ہیں جو کسی نظام تمدن میں اچھی طرح کھپ سکتی ہو۔ یہ ممکن ہے کہ اُن کے درمیان محبت ہو اور آخر تک رہے۔ مگر اُن کی محبت اور رفاقت زیادہ سے زیادہ صرف انھی کی ذات کے لیے لطف ولذت کی موجب ہو سکتی ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کا کوئی تمدنی فائدہ نہیں ہے۔ اختلاف مذہب اور اختلاف قومیت تو خیر بڑی چیز ہے۔ خاندانی زندگی کی کامیابی اور نظام تمدن کی بہتری کے لیے تو ایسی شادیاں بھی مفید نہیں ہوتیں جن کے دونوں فریق ایک ہی سوسائٹی کے دو مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہوں ۔ شہری اور دیہاتی تک کا فرق بارہا ناموافقت کا موجب بن جاتا ہے۔ نباہ کے لیے ضروری ہے کہ زوجین اور ان کےخاندانوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ امور میں اتحاد ہو ۔ صرف یہی کافی نہیں ہے کہ ان کا دین ایک ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ان کا طرزِ معاشرت ایک ہو ان کے خیالات اور اصولِ حیات میں یکسانی ہو ان کے معاشی اور معاشرتی مرتبے میں ہمواری ہو اور ان کی خاندانی روایات ایک دوسرے سےبہت زیادہ مختلف نہ ہوں ۔ یہی چیز ہے جس کو اصطلاح شریعت میں کفاء ت کہتے ہیں۔ شارع نے مناکحت میں کفو کو جو اہمیت دی ہے وہ اسی لیے ہے کہ زوجین میں زیادہ سے زیادہ مماثلت ہو کیونکہ مماثلت صرف زوجین ہی کےلیے مودت و رحمت کی موجب نہیں ہےبلکہ پوری سوسائٹی کے لیے مفید ہے اور آئندہ نسلوں کی بہتری بھی اسی پر موقوف ہے۔ جن زوجین میں مماثلت نہیں ہوتی ان کی مواصلت محض ایک جسمانی مواصلت ہے جو تمدن و تہذیب کے نقطہ نظر سے قطعی بانجھ یا قریب قریب بانجھ ہوتی ہے۔
عدم کفاء ت کے نقصانات تو صرف اسی قدر ہیں کہ اس سے زوجین میں مودت و رحمت کم اور نتیجہ خیز اشتراک کمتر ہوتا ہے۔ مگر اختلاف مذہب و قومیت کے نقصانات اس سے بدرجہا زیادہ ہیں۔ اس میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ایک غیر مسلم ماں کی آغوش میں جو اولا د تربیت پا کر اٹھے گی وہ دین و اخلاق کے اعتبار سے اسلامی سوسائٹی کے کسی کام کی نہ ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ بھی خطرہ ہے کہ وہ ایک مسلمان گھر میں غیر اسلامی طریقےرائج کرے گی اور جن جن کے گھروں سے اس کے روابط ہوں گےوہ سب کم و بیش اس عضو فاسد کے شر سے متاثر ہوں گے ۔ پھر خود شوہر بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہ رہےگا۔ اگر وہ اس کی محبت میں زیادہ گرفتار ہو تو ممکن ہے کہ اپنے دین و ایمان کو بھی ہاتھ سےکھو بیٹھے۔ لیکن یہ فساد اس حد تک نہ بھی پہنچے تو اس کا کم سےکم یہ اثر تو ضرور ہوگا کہ وہ اپنےگھر میں اپنی آنکھوں سے اسلامی اخلاق اور اسلامی تہذیب کے بہت سے ارکان کی بر بادی ہوتے دیکھے گا اور اس کو گوارا کرے گا۔ سیاسی حیثیت سے بھی اس قسم کی شادیاں خالی از مضرت نہیں سازش اور جاسوسی اور سلطنت اسلامی کی بیخ کنی کے لیے مسلمان گھر کی کافر بہو بہت آسانی کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہے اور اگر وہ زیادہ ہوشیار ہو تو اپنےشوہر کو بھی ان اغراض کے لیے آلہ کار بنا سکتی ہے۔ یہ سب وہ مضرتیں ہیں جو پہلے بھی ظاہر ہو چکی ہیں اور آج بھی ظاہر ہو رہی ہیں ۔ ہندوستان میں ہمارے نظام معاشرت کو مشرکانہ رسموں اور جاہلانہ عادتوں سے کس نے آلودہ کیا ؟ انھی عورتوں نے جو مذ ہب شرک پر قائم رہ کر یا برائے نام مسلمان ہو کر مسلمان خاندانوں میں داخل ہوئیں ۔ مسلمانوں کی نسلوں کو دین و اخلاق کے اعتبار سےکس نے تباہ کیا؟ انھی ماؤں نے جن کے سینوں سےمسلمانوں کے بچے شرک و جاہلیت کا دودھ پی پی کر بڑے ہوئے ۔ اسلامی حکومتوں کو کس چیز نے غارت کیا؟ زیادہ تر اُن کافر عورتوں کی محبت نے جو مسلمان اُمراء کے دلوں پر حضرف ہو گئی تھیں ۔ آج اسلامی نظام معاشرت کی بنیادوں کو کون سی چیز کھو کھلا کر رہی ہے؟ ایک بڑی حد تک اُن مغربی عورتوں کی حکومت جو ہماری سوسائٹی کے خوش حال اور بااثر طبقوں پر مسلط ہوگئی ہیں ۔
جب حال یہ ہے تو ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ غیر مسلم عورتوں سے نکاح کرنا بالکلیہ ممنوع ہونا چاہیے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ شارع نے اس چیز کو جائز رکھا؟ اس کا صحیح جواب معلوم کرنے کے لیے ہم کو اس مسئلہ کے دوسرے پہلو پر نگاہ ڈالنی چاہیے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں شارع کا کمال حکمت اور اس کے طریق تشریع کا انتہائی اعتدال و توازن نظر آتا ہے-
انسان جب کوئی قانون بناتا ہے تو عموماً وہ کسی ایک پہلو کی طرف اس قدر جھک جاتا ہے کہ دوسرے پہلو اس کی رعایت سے محروم ہو جاتے ہیں ۔کبھی وہ اجتماعی مصالح پر زیادہ زور دیتا ہے اور شخصی مصالح نظر انداز کر دیتا ہے اور کبھی شخصی مصالح کی اتنی رعایت کرتا ہے کہ اجتماعی مصالح باطل ہو جاتے ہیں۔ مگر شارع اسلام کی حکیمانہ شان ایسی ہے کہ وہ ہر مصلحت پر نظر رکھتا ہے اور ہر ایک کی اتنی ہی رعایت کرتا ہے جس کی وہ مستحق ہوتی ہےجیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ اجتماعی مصالح کا اور ایک بڑی حد تک شخصی مصالح کا بھی اقتضا یہ تھا کہ مسلمانوں کی شادیاں مسلمان عورتوں ہی سے نہوں اور پھر ان میں بھی مماثلت اور اتحاد کو ملحوظ رکھا جائے ۔ چنانچہ اس کے لیے کفاء ت کا ضابطہ مقرر کیا گیا۔
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بَعْضُهُمُ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَا مُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ (التوبہ: ۷۱ )
مومنین اور مومنات ایک دوسرے کے ولی ہیں (اس لیے کہ ) وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں، بدی سے منع کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں اور خدا اور سول کی اطاعت کرتے ہیں۔
اور تم میں سے جو کوئی پاک دامن مومن عورتوں سے نکاح کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ اُن مومن لڑکیوں میں سے اپنے لیے جوڑا منتخب کرے جو تمھاری مملوک ہیں ۔ اللہ تمھارے ایمان کو خوب جانتا ہے اور تم سب ایک دوسرے کے ہو ۔
دوسری طرف بعض شخصی مصالح اس کی بھی مقتضی تھیں کہ غیر قوموں میں نکاح کرنے کا درواز و قطعی طور پر بند نہ کر دیا جاتا۔ہو سکتا ہےکہ ایک شخص کسی غیر مسلم عورت کےعشق میں مبتلا ہو جائےاور حصول مقصود کا دروازہ بالکل بند پا کر حرام کی طرف جھک پڑے۔یہ بھی ہو سکتا ہےکہ ایک شخص کسی ایسی جگہ رہتا ہو جہاں مسلمان عورت ہم نہ پہنچ سکتی ہو اور مجرد رہنے کی وجہ سے اس کے اخلاق بگڑنے اور اس کی خانگی زندگی خراب ہونے کا اندیشہ ہو ۔ ایسے مخصوص حالات کے لیے کسی حد تک رُخصت کا دروازہ کھول دینا ضروری تھا۔ چنانچہ شارع نے یہ دروازہ کھولا ۔ مگر اس فتح باب میں شخصی مصالح کی رعایت کے ساتھ یہ بات ملحوظ رکھی کہ اجتماعی مصالح کو کم سے کم نقصان پہنچے ۔
سب سے پہلے تو یہ بات طے کر دی گئی کہ غیر مسلموں کے ساتھ شادی کرنے کی رخصت صرف مردوں کو دی جاسکتی ہے، عورتوں کے لیے یہ دروازہ قطعا مسدود ہے۔
یہ اس لیے کہ عورت کی فطرت ایک انفعالی فطرت ہے ۔ اس میں ڈھال لینے سےزیادہ ڈھل جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ وہ مرد کے اثرات اور اپنے ماحول کے اثرات کو زیاد و عدت کے ساتھ قبول کرتی ہے اور خانگی زندگی میں وہ عموماً شوہر سے مغلوب ہی ہو کر رہتی ہے۔ ایک غیر مسلم مرد سے اس کی شادی ہونے میں کم از کم 90 فی صد خطرہ اس بات کا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اسلام اور اس کی تہذیب سے کٹ جائے گی اور یہ خطرہ تو سو فی صدی ہے کہ اس کے پیٹ سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ ملت کفر پر رہے گی ۔ پس تمام مصالح و حکم اس بات کے مقتضی تھےکہ مسلمان عورتوں کے لیے غیر مسلموں کی زوجیت قطعی طور پر حرام کر دی جائے اور رخصت کا دروازہ اگر کھولا بھی جائے تو وہ صرف مردوں کے لیے ہو ۔
پھر مردوں کے لیے بھی یہ رخصت عام نہیں ہے۔ غیر مسلموں کو ازدواجی اغراض کے لیے دوطبقوں پر تقسیم کیا گیا ہے۔
ایک وہ طبقہ جو اسلام اور اس کی تہذیب سے کوسوں دُور ہے جس کے عقائد اور اصول حیات اور قوانین اخلاق و معاشرت کسی جہت میں بھی مسلمانوں سے نہیں ملتے ۔
دوسرا وہ طبقہ جو تمام غیر مسلموں میں اسلام سے اقرب ہے نبوت اور وحی کو کسی نہ کسی حد تک مانتا ہے خدا اور یوم آخر کے اعتقاد میں بھی کسی حد تک اسلام کے قریب ہےاصول اخلاق اور قوانین معاشرت میں بھی بہت سی ایسی چیزیں ابھی تک اُس کے پاس محفوظ ہیں جو منبع نبوت سے نکلی ہوئی ہیں۔
ان دونوں طبقوں میں سے پہلے طبقے کے ساتھ شادی بیاہ کرنا مسلمانوں کے لیےقطعی ممنوع کر دیا گیا۔
وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتَ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَامَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتُكُمْ وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُّشْرِب وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّهُ يَدْعُوا إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ- (البقره: ۲۲۱)
اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں ایک مومن لونڈی ایک مشرکہ سے بہتر ہے خواہ وہ تم کو کتنی ہی پسند ہو ۔ اور اپنی عورتوں کی شادیاں بھی مشرک مردوں سے نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ ایک مومن غلام ایک مشرک سے بہتر ہے خواہ تمھیں کتنا ہی پسند ہو۔ وہ آگ کی طرف دعوت دیتے ہیں اور خدا اپنے اذن سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے۔
رہا دوسرا طبقہ تو اس کی عورتوں سے شادیاں کرنے کی اجازت دے دی گئی مگر اس طرف بھی اشارہ کر دیا گیا کہ یہ کام خطرے سے خالی نہیں ہے، تاہم یہ رخصت صرف اس لیے عطا کی گئی ہے کہ تم حرام کاری میں مبتلا نہ ہو :-
وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أَجُورَهُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسَافِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ ۚ وَمَنْ يَكْفُرُ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنْ الْخَسِرِينَ(المائدہ:۵)
اور حلال کی گئی ہیں تمھارے لیے ان لوگوں کی عورتیں بھی جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کر کے انھیں قید نکاح میں لاؤ علانیه یا چوری چھپے زنا کاری نہ کرو ۔( اور یاد رکھو کہ ) جو شخص اپنے ایمان سے پھرا اس کا سب کیا کرایا غارت ہو جائے گا۔
آخری فقرہ قابل غور ہے۔ اس میں صاف طور پر متنبہ کر دیا گیا ہے کہ غیر مسلم عورت سے شادی کرنے میں ایمان کا خطرہ ہے۔ اس کے بعد ظاہر ہے کہ اگر ایسےخطر ناک کام کی اجازت دی گئی ہے تو وہ غیر معمولی حالات وضروریات ہی کے لیے ہے۔
جو لوگ شریعت اسلام کی رُوح سے اچھی طرح واقف تھے انھوں نے اسی بنا پر اس اجازت کو ہمیشہ رخصت ہی کے قبیل سے سمجھا اور اس کو پسند نہ کیا کہ مسلمانوں میں کتابیات سے شادی کرنے کے عام رواج ہو ۔ شریعت کے سب سے بڑے راز دان اپنے عہد میں حضرت عمر تھے۔ انھوں نے حضرت حذیفہ کو جو کچھ لکھا تھا وہ شریعت کے مقصد پر خوب روشنی ڈالتا ہے۔ زمانہ اسلام کے غلبے کا تھا۔ مسلمان علاقہ شام میں فاتح اور حکمران کی حیثیت سے تھے۔ معاملہ ایک ایسے جلیل القدر مسلمان کا تھا جس نے براہِ راست شمع نبوت سے نور ایمان کا اکتساب کیا تھا۔ اسلامی اخلاق اور اسلامی تہذیب میں اس سے بڑھ کر اور کون پختہ ہو سکتا تھا۔ مگر باوجود اس کے حضرت عمرؓ نے حضرت حذیفہ کو ایک کتابیہ کےساتھ ازدواجی تعلق رکھنے سے منع کیا۔ پھر یہ نہیں فرمایا کہ کتابیہ سے شادی کرنا حرام ہےبلکہ یہ فرمایا کہ اس سے مسلمان گھروں میں اہل کتاب کی بد اخلاق عورتوں کے گھس آنے کا اندیشہ ہے لہذا اس اجازت سے فائدہ نہ اُٹھانا ہی بہتر ہے۔
غور کیجیے کہ جب غلبے کی حالت میں نکاح کتابیہ کے متعلق اسلام کا یہ طرز عمل ہے تو ایسی حالت میں کیا طرز عمل ہونا چاہیے جب کہ ایک مسلمان کفار سے مغلوب اور مرعوب ہو اور ان کی سوسائٹی میں گھرا ہوا ہو ۔ اس وقت تو نکاح کتابیہ کی کراهت اور زیادہ بڑھ جانی چاہیے کیونکہ دارالکفر میں اس کی مضرتیں کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہیں ۔ یہیں وجہ ہے کہ آئمہ اسلام نے عموماً نکاح کتابیہ کومکروہ اور خصوصاً دارالکفر میں نہایت مکروہ قرار دیا ہے۔شمس الائمہ سرخی اپنی کتاب المبسوط میں لکھتے ہیں ۔
يَجُوزُ لِلْمُسْلِمِ أَنْ يُتَزَوَّجَ كِتَابِيَّةً فِي دَارِ الْحَرْبِ وَلَكِنَّهُ يُكْرَهُ لَأَنَّهُ إِذَا تَزَوَّجَهَا ثَمُهُ رُبَمَا يَخْتَارُ الْمُقَامَ فِيهِمُ .... وَإِذَا وَلَدَتْ تَخَلَّقَ الْوَلَدُ بِأَخْلاقِ الْكُفَّارِ وَفِيهِ بَعْضُ الْفِتْنَةِ فَيُكْرَهُ لِها ... وَسُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ مُنَا كَحَةِ أَهْلِ الْحَرْبِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ فَكِرَهَ ذَالِكَ- (ج ۵، ص۵۰)
مسلمان کے لیے دار الحرب میں کتابیہ سے شادی کرنا جائز تو ہے مگر مکروہ ہے کیونکہ اگر وہ وہاں شادی کرے گا تو ممکن ہے کہ کفار ہی کے ملک میں رہ پڑے ... اور جب کتابیہ کے پیٹ سے اولاد پیدا ہو تو وہ کفار کے اخلاق پر اُٹھے۔ اس میں اور بھی فتنے ہیں۔ اس لیے یہ مکروہ ہے. حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حربی عورتوں کے ساتھ نکاح کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اس کو مکروہ فرمایا۔
"ذمیہ اور تربیہ دونوں سے نکاح جائز ہے بشرطیکہ نکاح کرنے والا ایسی جگہ نہ ہو جہاں اس کی اولاد کے کفر پر مجبور ہونے کا خوف ہو۔ ( جزء سادس، ص ۶۱ )
وَيَجُوزُ تَزُويْحُ الْكِتَابِياتِ وَالْأُولَى أَنْ لَّا يَفْعَلَ وَلَا يَأْكُلَ ذَبِيحَتَهُمْ إِلَّا لِضَرُورَةٍ وَتُكْرَهُ الْكِتَابِيَّةُ الْحَرْبِيَّةُ إِجْمَاعًا لأَنفَتَاحِ بَابِ الْفِتْنَةِ مِنْ إِمْكَانِ التَّعَلُّقِ الْمُسْتَدْعِي لِلْمَقَامِ مَعَهَا فِي دَارِ الْحَرَبِ وَتَعْرِيضُ الْوَلَدِ عَلَى التَّخَلُّقِ بِأَخْلَاقِ أَهْلِ الْكُفْرِ - (کتاب النکاح)
کتابیات سے نکاح کرنا جائز تو ہے مگر بہتر یہی ہے کہ نہ کیا جائےاور نہ ان کا ذبیحہ کھایا جائے الا یہ کہ کوئی ضرورت آپڑے ۔ اور حربی کتابیہ سے نکاح کرنا تو بالا جماع مکروہ ہے کیونکہ اس سے فتنہ کا دروازہ کھلتا ہے۔ مثلاً یہ کہ عورت سے ایسا گہرا تعلق ہو جائے کہ مسلمان شوہر اسی کے ساتھ کافروں کے ملک میں رہ پڑے اور یہ کہ اس کی اولا د اہل کفر کے اخلاق سے متخلق ہو کر اٹھے۔
اس بحث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کتابیہ کو حرام اور باطل ٹھیرانا تو درست نہیں ہے البتہ قانونِ اسلامی کی رُوح اور آئمہ اسلام کے اجماع سے اس کا مکروہ ہونا اور خصوصاً دارالکفر میں، اور غلبہ کفار کی حالت میں نہایت درجہ مکروہ ومبغوض ہونا ثابت ہے۔ اس کے ساتھ حضرت عمر کے فعل سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ صرف نکاح کتابیہ ہی کےمعاملے میں نہیں بلکہ شریعت کی تمام رخصتوں کے معاملے میں، جن سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کا اندیشہ پایا جاتا ہو مسلمانوں کے اولی الامر کو امتناعی احکام جاری کرنے کا حق ہے اور اس قسم کے امتناعی احکام جائز کو نا جائز اور حلال کو حرام کیے بغیر نافذ کیے جاسکتےہیں۔مگر ایسے احکام جاری کرنے والوں میں اتنا تلقہ ہونا چاہیے کہ وہ قانون شریعت کی شان اعتدال کو ضائع نہ کریں۔
(۱) تعزیرات کے باب میں سب سے پہلے اس قاعدہ کلیہ کو ذہن نشین کر لینا چاہیےکہ ہاتھ کاٹنے کی سزا اور دوسری شرعی حدیں صرف اسی جگہ نافذ کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہیں جہاں مملکت کا نظم و نسق اسلامی اصولوں پر ہو اور تمدن و معاشرت کی ترتیب و تنظیم اس طرز پر کی گئی ہو جو اسلام نے تجویز کیا ہے۔ اسلام کے اصول اور قوانین نا قابل تجزیہ ہیں ۔ یہ صحیح نہیں ہے کہ بعض اصول اور قوانین تو نافذ کیے جائیں اور بعض کو چھوڑ دیا جائے۔
مثلا زنا اور قذف (۱) کی حدود کو لیجیے ۔ نکاح و طلاق اور حجاب شرعی کے اسلامی قوانین اور اخلاق صنفی کے متعلق اسلام کی تعلیمات سے ان حدود کا نہایت گہرا ربط ہےجسے منفک نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے زانی اور قاذف کے لیے ایسی سخت سزائیں مقرر ہی اُس سوسائٹی کے لیے فرمائی ہیں جس میں عورتیں بن سنور کر بے محابا نہ پھرتی ہوں جس میں برہنہ اور نیم برہنہ تصویر ہیں اور عشق و محبت کےافسانے اور شہوانی جذبات کو دائما متحرک کرنے والےتماشےرائج نہ ہوں، جس میں نکاح کےلیےپوری آسانیاں ہوں اور فسخ و تفریق اور طلاق وضلع کے اسلامی احکام ٹھیک ٹھیک نافذ کیے جاتے ہوں ۔ ایسی سوسائٹی اپنی عین فطرت کے اعتبار سے اس امر کی مقتضی ہوتی ہے کہ اس میں معاشرت کا جو معتدل نظام قائم کیا گیا ہے اس کی حفاظت کےلیے سخت سزائیں مقرر کی جائیں۔ اور اتنی سخت سزائیں اُس حالت میں ہرگز نا منصفانہ نہیں ہیں جب کہ جائز ذرائع سے صنفی خواہشات کی تسکین آسان کر دی گئی ہو اور معاشرت کے ماحول کو بدکاری کی سہولتوں اور غیر معموی اسباب تحریک سے پاک کر دیا گیا ہو۔ ان حالات میں صنفی جرائم کا ارتکاب صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو غایت درجہ کے بدطینت ہوں اور جن کے شرسے خلق اللہ کو محفوظ رکھنےکے لیے نہایت عبرت ناک سزاؤں کے بغیر چارہ نہ ہو۔
(١) قذف سے مراد کی عورت یا مرد پر زنا کی تہمت لگانا ہے اور قاذف وہ شخص ہے جو ایسی تہمت لگاتا ہے۔
لیکن جہاں حالات اس سےمختلف ہوں،جہاں عورتوں اور مردوں کی سوسائٹی مخلوط رکھی گئی ہو جہاں مدرسوں میں،دفتروں میں،کلبوں اور تفریح گاہوں میں،خلوت اور جلوت میں ہر جگہ جوان مردوں اور بنی ٹھنی عورتوں کو آزادانہ ملنے جلنے اور ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا موقع ملتا ہو جہاں ہر طرف بے شمار صنفی محرکات پھیلے ہوئے ہوں، جہاں معیار اخلاق بھی اتنا پست ہو کہ ناجائز تعلقات کو کچھ معیوب نہ سمجھا جاتا ہو ایسی جگہ زنا اور قذف کی شرعی حد جاری کرنا بلاشبہ ظلم ہوگا۔ اس لیے کہ وہاں ایک معمولی قسم (Normal Type) کے معتدل مزاج اور سلیم الفطرت آدمی کا بھی زنا سے بچنا مشکل ہے اور ایسے حالات میں کسی شخص کا جتلائے گناہ ہونا یہ نتیجہ نکالنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ وہ غیر معمولی قسم (Abnormal Type) کا اخلاقی مجرم ہے۔ رقم اور کوڑوں کی سزا در حقیقت ایسے گندے حالات کے لیے اللہ نےمقرر ہی نہیں کی ہے۔
اسی پر حد سرقہ کو بھی قیاس کر لیجے کہ وہ صرف اُس سوسائٹی کے لیے مقرر کی گئی ہےجس میں اسلام کے معاشی تصورات اور اصول اور قوانین پوری طرح نافذ ہوں ۔ قطع ید اور اسلامی نظم معیشت میں ایسا رابطہ ہے جس کو منقطع نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں یہ نظم معیشت قائم ہو وہاں قطع ید ہی میں انصاف اور عین مقتضائے فطرت ہے۔ اور جہاں یہ نظم معیشت نہ ہو وہاں چور کا ہاتھ کا شادو ہر اعظم ہے۔ حقیقت میں ہاتھ کاٹنے کی سزا اُس ظالم سوسائٹی کے لیے مقرر ہی نہیں کی گئی ہے جس میں سُود جائز ہو زکوۃ متروک ہو انصاف قیمتا فروخت کیا جاتا ہو ٹیکسوں کی بھر مار سے ضروریات زندگی نہایت گراں ہو گئی ہوں اور تمام ٹیکس چند مخصوص طبقوں کے لیے سامان بیش فراہم کرنے پر صرف ہوتے ہوں۔ ایسی جگہ تو چوری کے لیے ہاتھ کا شاہی نہیں بلکہ قید کی سزا بھی بعض حالات میں ظلم ہوگی۔
عام طور پر اسلامی قانونِ فوج داری کو سمجھنے میں لوگوں کو جو دقت پیش آتی ہے اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ وہ اپنے پیش نظر تو رکھتے ہیں سوسائٹی کے اس غلط نظام کو جو اس وقت دنیا کے متمدن ممالک میں قائم ہے اور پھر چوری' زنا قذف اور شراب نوشی جیسے" عامتہ الورود جرائم کا موازانہ قطع ید رحم اور کوڑوں کی سزاؤں سے کر کے رائے قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس موازنہ میں ان کو اسلام کی سزائیں سخت اور ہولناک ہی نظر آئیں گی۔ کیونکہ نیم شعوری طور پر وہ خود سمجھتے ہیں کہ جو حالات اس نظامِ حیات نے پیدا کر رکھے ہیں اُن میں چوری ایک عام چیز ہونی ہی چاہیے زنا میں بکثرت مردوں اور عورتوں بلکہ بچوں اور بوڑھوں تک کو مبتلا ہونا ہی چاہیے۔ آئے دن مشتبہ طریقوں سےملنے والے جوڑوں کے متعلق بُری خبریں مشہور ہونی ہی چاہیں، بری صحبتوں میں نوخیز نسلوں کو بُری عادتیں پڑنی ہی چاہئیں ۔ لہذا اُن کا دل یہ سوچ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ اگر ان حالات میں اسلامی قانون فوجداری رائج کر دیا جائے تو شاید کوئی پیٹھ بھی کوڑوں سےنہ بچ سکے ہزار ہا آدمیوں کے ہاتھ روزانہ کٹنے لگیں اور ہر روز سینکڑوں آدمی سنگسار کیےجائیں۔
بلا شبہ ان کا یہ خوف بالکل بجا ہے۔ اس بیہودہ سوسائٹی کے بیہودہ نظام کو باقی رکھ کر اسلام کے قوانین میں سے محض اُس کے قانون فوجداری کو نافذ کر دینا ہمارے نزدیک بھی ویسا ہی ظلم ہوگا جیسا وہ خیال کرتے ہیں ۔ مگر جس غلطی کو وہ محسوس نہیں کرتے وہ دراصل یہ ہے کہ اُنھوں نے سوسائٹی کے اس بیہودہ نظام کو جس کی بے ہودگیوں سے وہ مانوس ہو چکے ہیں، ایک فطری حالت سمجھ رکھا ہے۔ حالانکہ یہ فطری حالت نہیں ہے بلکہ شیطنت کے غلبے نے اس غیر فطری حالت کو عالم انسانی پر مسلط کر دیا ہے اور اس حالت کا باقی رہنا بجائے خود ایک ظلم عظیم ہے۔ آپ اسلام کے نظام اجتماعی کو من حیث الکل قبول کر کےاس ظلم کا انسداد کیجیے پھر آپ پر خود روشن ہو جائے گا کہ زنا اور قذف اور چوری اور شراب نوشی انسان کے عام اور فطری مشاغل نہیں ہیں اور انسانوں کی کثیر تعداد کا ان میں بتلا ہونا متوقع ہی نہیں ہے۔ جو اجتماعی حالات اسلام پیدا کرتا ہے ان میں صرف غیر معمولی قسم کے چند افراد ہی ان افعال قبیحه کا ارتکاب کر سکتے ہیں اور ان کے لیے صحیح تدارک رجیم اور کوڑے اور قطع ید ہی ہو سکتے ہیں۔
(۲) دوسری بات جو اس سلسلے میں پیش نظر رکھنی ضروری ہے وہ اسلام کی شان حکمت و اعتدال ہے۔ حدود اور تعزیرات کے باب میں اسلام کے احکام کو وہ شخص سمجھ ہی نہیں سکتا جو اس مذہب کی ان خصوصیات سے واقف نہ ہو۔
یہاں ایک طرف ارتکاب جرائم کے اسباب و محرکات کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مٹایا جاتا ہے تا کہ کوئی بندہ خدا ایسے حالات میں مبتلا ہی نہ ہونے پائے کہ اُسے اپنی طبعی خواهشات و ضروریات کے لیے مجرمانه طریقے استعمال کرنے پڑیں۔ اور دوسری طرف جرائم کےلیےایسی سزائیں مقرر کی جاتی ہیں جو نہ صرف اعادہ جرم سے اس خاص شخص کو روک دینےوالی ہوں، بلکہ دوسرے تمام لوگوں کو بھی،جن میں مجرمانہ میلانات پائے جاتے ہوں، ہیبت زدہ کریں-
ایک طرف اس امر کی کوشش کی جاتی ہے کہ لوگ جہاں تک ممکن ہو سزا سےبچائے جائیں۔ چنانچہ ثبوت جرم کے لیے شہادت کا معیار بہت سخت رکھا جاتا ہے۔اجرائے حد سے پہلے کچھ مدت تحقیقات کے لیے معین کی جاتی ہے کہ شاید اس دوران میں گواہوں کی غلطی کھل جائے، قاضیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ لوگوں کو حتی الامکان سزا سےبچاؤ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ امرؤ الحُدُودَ مَا اسْتَطَعْتُم اپنے امکان بھر حد کو دفع کرو ۔ فَإِنَّ الْإِمَامَ أَنْ يُخْطِيَ فِى الْعَفْوِ خَيْرٌ أَنْ يُخْطِلَى فِي الْعَقُوبَةِ امام کا معاف کرنے میں غلطی کر جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کرے ۔
دوسری طرف جب جرم ثابت ہو جائےتو پھر مجرم پر ترس کھانا یا اس کےحق میں کسی قسم کی سعی سفارش قبول کرنا یا اس کے مرتبے اور خاندان وغیرہ کا لحاظ کرنا قطعا ممنوع ہے۔ قرآن کہتا ہے: وَلَا تَاحُدُكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْم الأخر (النور:۲) ''اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین کے معاملےمیں رحم اور شفقت کے جذبات تمھارے دامن گیر نہ ہونے چاہئیں"۔ حدیث میں یہ واقعہ مشہور ہے کہ بنی مخزوم کے معزز گھرانے کی ایک عورت فاطمہ لوگوں کے زیور اور سامان عاریخ منگوائی اور پھر مکر جایا کرتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں مقدمہ سےپیش ہوا اور جرم ثابت ہو گیا۔ قریش میں کھلبلی مچ گئی کہ کہیں اس کا ہاتھ نہ کاٹ ڈالا جائے۔ مگر حضور کے سامنے سفارش کی جرات کے تھی۔ آخر کار یہ مشورہ ہوا کہ اُسامہ سےجو حضور کےآزاد کردہ غلام حضرت زید کے بیٹے تھے سفارش کرائی جائےکیونکہ حضور کو ان سے محبت تھی۔ اُسامہ نے حاضر ہو کر سفارش کی۔ سنتے ہی آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا: "کیا تم حدود اللہ کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟" اُسامہ سہم گئے اور معافی مانگی۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا: " تم سے پہلے جو تو میں تباہ ہوئی ہیں اُن کا طریقہ یہ تھا کہ جب ان میں کوئی معزز آدمی جرم کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی ادنی درجے کا آدمی جرم کرتا تو اس کو سزا دیتے تھے۔ میں تو اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں ۔جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹے بغیر نہ چھوڑتا۔"
(۳) ان دو باتوں کو سمجھ لینے کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی خود اسلام کی روح سے بھی غافل نہ ہو کیونکہ وہی تمام اسلامی قوانین کی جان ہے۔ اسلام میں سزا کا تصور خیرخواہانہ ہے نہ کہ بدخواہانہ۔ اسلام کسی کو غصہ اور طیش میں نہیں مارتا۔ دشمنی کا جذبہ اس کے کسی قانون میں نہیں پایا جاتا۔ یہاں سزا کے اندر تطہیر کا داعیہ کارفرما ہے۔یہاں آدمی کو اس لیے سزا دی جاتی ہے کہ ارتکاب جرم سے اس کے نفس و روح کو جو نجاست لگ گئی ہے اسے دھو ڈالا جائے۔ اسے پاک کر دیا جائے تا کہ وہ آخرت کی سزا سے بچ جائے۔ خود مجرم کے اندر اسلام یہ اعتقاد پیدا کرتا ہے کہ اصلی حاکم خدا ہے جس سے تو اپنے کسی فعل کو نہیں چھپا سکتا ۔ اور اصلی عدالت آخرت کی عدالت ہے جس میں بہر حال تجھے پیش ہونا ہی پڑے گا اور وہاں کی سزا بڑی رسوا کن ہوگی۔ اگر تو نے دُنیا میں اپنا جرم چھپا لیا تو اسی گندگی کو لیے ہوئے تو خدا کی عدالت میں حاضر ہوگا۔ لیکن اگر تو نےیہاں خود اپنے آپ کو سزا کے لیے پیش کر دیا تو یہ سزا تجھے پاک کر دے گی اور تو اس طرح خدا کے ہاں پہنچے گا کہ گویا تو نے یہ جرم کیا ہی نہ تھا (1) حدیث میں اس مضمون کو یوں بیان کیا گیا ہے:-
ان گناہوں میں سے کسی گناہ کی نجاست اگر کسی کو لگ گئی اور دنیا ہی میں اس کی سزا بھی اسے دے دی گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو جائے گی۔ لیکن اگر اللہ کی حکمت سے اس کا گناہ چھپارہ گیا تو معاملہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ وہ چاہے گا تو معاف کر دے گا ورنہ سزا دے گا۔
اس تعلیم نے حیرت انگیز اخلاقی احساس ہمارے ہی جیسے گوشت پوست سے بنےہوئے انسانوں میں پیدا کر دیا۔ اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں ۔ ان مثالوں میں آپ کو اسلامی عدل اسلامی اخلاق اور اسلام کے عجیب وغریب انقلابی تصورات کی وہ شان نظر آئے گی کہ آپ شاید حیرت سے سوچنے لگیں گے کہ آدمی اتنا بلند بھی ہو سکتا ہے!
(١) اس مقام پر یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جو شخص خود اپنے آپ کو سزا کے لیے پیش کرےاس کا یہ فعل خود تو بہ اور شرم شاری کو مستلزم ہے۔ اسی لیے ایسا آدمی سزا پانے کے بعد دُنیا اور دین دونوں میں گناہ سےپاک ہو جاتا ہے۔ رہا وہ مجرم جو خود نہ آیا ہو بلکہ پچھڑا ہوا آیا ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا کہ سزا نافذ کرنے کے بعد اسے تو بہ کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ ایک چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا جس نےایک شملہ چرایا تھا۔ آپ نے اُسے دیکھ کر فرمایا ” میں نہیں سمجھتا کہ اس نے چوری کی ہوگی۔ ملزم نے آگے بڑھ کر عرض کیا نہیں یا رسول اللہ میں نے چوری کی ہے"۔ آپ نے اس کے اقرار کو قبول کر کے حکم دیا کہ " جاؤ اس کا ہاتھ کا ٹو' پھر میرے پاس حاضر کرو ۔ چنانچہ ہاتھ کاٹنے کے بعد اُسے دوبارہ حاضر خدمت کیا گیا۔ حضور نے فرمایا " اب اللہ سے توبہ کر۔ اس نے کہا ”میں نے توبہ کی۔ آپ نے فرمایا ” جا اللہ نے تیری تو بہ قبول کر لی۔"
ایک اور موقع پر ایک شخص (عمر بن سمرہ ) نے حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ " میں نے فلاں قبیلہ کا اونٹ چرا لیا ہے، آپ مجھے پاک کر دیں ۔ حضور نے اُس قبیلے میں آدمی بھیج کر حقیقت حال دریافت کرائی۔ معلوم ہوا کہ فی الواقع اونٹ غائب ہے۔ اس پر آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ جب سزا اس پر نافذ کی گئی تو اس نےکہا ”شکر ہے اس خدا کا جس نےمجھے پاک کر دیا۔پھر اپنے کئےہوئے ہاتھ کو مخاطب کر کے کہتا ہے تو مجھے دوزخ میں لے جانا چاہتا تھا اللہ نے مجھے تجھ سے بچا لیا۔"
اوپر بنی مخزوم کی جس عورت کا قصہ مذکور ہوا ہے ۔ اس کے مقدمے کا جب حضور نے فیصلہ سنایا تو اس کی قوم نے کہا یا رسول اللہ ہم فدیہ دینے کو حاضر ہیں، آپ اسے چھوڑ دیں۔ مگر آپ نے فرمایا ” اس کا ہاتھ کا ٹو۔ انھوں نے عرض کیا:ہم پانچ سو دینار اس کےہاتھ کے بدلےمیں دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس کا ہاتھ کاٹو“۔ جب ہاتھ کاٹ ڈالا گیا تو اس عورت نےحاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ خدا کے ہاں بھی میرے بچنےکی کوئی صورت ہے؟ آپ نے جواب دیا ”ہاں ! اب تو اپنے گناہ سے اس طرح پاک ہو چکی ہے جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئی ہو۔
ماعز اسلمی کا مشہور واقعہ ہے کہ اُس نے مسجد میں حاضر ہو کر عرض کیا، یا رسول اللہ ! میں نے زناء کی ہے مجھے پاک کر دیجیے۔ آپ نے منہ پھیر کر فرمایا " جا تو یہ کر اور خدا سے مغفرت مانگ ۔ وہ پھر سامنے آیا اور وہی بات عرض کی۔ آپ نے منہ پھیر لیا۔ اس نے پھر سامنے آکر اپنی بات دہرائی۔ اس طرح جب چار مرتبہ وہ اقرار کر چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تو دیوانہ ہے؟ اُس نے کہا نہیں۔ پھر دریافت فرمایا کیا تو نے شراب پی ہے؟ اُس نے کہا نہیں۔ پھر پوچھا کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر آپ نےفرمایا کہ شاید تو نے صرف بوس و کنار کیا ہو گا؟ اس نے کہا، نہیں ۔ آپ نے پوچھا کیا تو ہم بستر ہوا؟ اس نے کہا ہاں۔ پوچھا کیا تو نے مباشرت کی؟ جواب دیا ہاں۔ اس طرح مباشرت کے ہم معنی کئی الفاظ بول بول کر آپ پوچھتے رہے اور وہ اثبات میں جواب دیتا رہا۔ آخر آپ نے پوچھا کیا تو جانتا ہے کہ زنا کے کہتے ہیں؟ اس نے کہا ہاں۔ میں نے اُس کے حرام کے طور پر وہ کام کیا ہے جو شوہر حلال کے طور پر اپنی بیوی سے کرتا ہے۔آپ نے پوچھا اس بیان سے تیری غرض کیا ہے؟ اس نے عرض کیا' پاک ہونا چاہتا ہوں۔تب آپ نےحکم دیا کہ جاؤ اس کو رحم کر دو۔ اس واقعہ کے دو تین بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی مجلس میں فرمایا دعا مانگو ماعز ابن الملک کے لیے اُس نے توبہ کی اور ایسی توبہ کی کہ اگر پوری قوم پر بانٹ دی جائے تو سب کی مغفرت کے لیے کافی ہو جائے“۔
غامد یہ کا واقعہ بھی حدیث کے مشہور واقعات میں سے ہے۔ اس نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں زنا کی مرتکب ہوئی ہوں، مجھے پاک کر دیجیے ۔ آپ نے جواب دیا ”جا تو بہ کر اور اللہ سے مغفرت مانگ"۔ اس نے عرض کیا آپ مجھےبھی ماعز کی طرح پلٹانا چاہتے ہیں؟ میں عرض کرتی ہوں کہ مجھے زنا کا حمل ہے۔ آپ نے فرمایا جا اور جب تک بچہ نہ پیدا ہو جائے اُس وقت تک ٹھہر"۔ جب زچگی ہوگئی تو وہ پھر حاضر ہوئی اور کہا کہ بچہ بھی پیدا ہو گیا، اب کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا ” اس کو دودھ پلا رضاعت ختم ہونے کے بعد دیکھا جائے گا“۔جب رضاعت کا زمانہ ختم ہو گیا تو وہ پھر بچے کو لیے ہوئے آئی اور عرض کیا کہ میں اس سےبھی فارغ ہو چکی ہوں ۔ تب آپ نے بچے کو ایک مسلمان کے حوالے کیا کہ اس کی پرورش کرے اور اس عورت پر رحم کی حد جاری کی۔ اس واقعے کے بعد کہیں حضرت خالد بن ولید کی زبان سے اس عورت کے حق میں برے الفاظ نکل گئے ۔ حضور نے سنا تو فرمایا خبر دار اے خالد! اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اُس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر نا جائز محصول لینے والا بھی ایسی تو بہ کرے تو بخشا جائے۔ پھر آپ نے خود اُس کی میت پر جنازے کی نماز پڑھائی۔
جنگ قادسیہ کے موقع پر ابو محجن ثقفی شراب نوشی کے جرم میں محبوس تھے ۔ جب ہنگامہ جنگ برپا ہوا تو ابونجن قید خانے میں تڑپنے لگے اور حضرت سعد بن ابی وقاص (اسلامی فوج کر جنرل) کی بیوی سے انھوں نے درخواست کی کہ ”مجھے معرکہ میں شریک ہونے کے لیے چھوڑ دو۔ اگر میں جنگ میں مارا گیا تو سزا کی حاجت ہی نہ رہے گی ۔ اور اگر زندہ رہا تو خود آ کر پاؤں میں بیڑیاں پہن لوں گا۔ ایک مسلمان خواہ وہ مجرم ہی کیوں نہ ہو اس کا وعدہ اتنا وزن رکھتا تھا کہ حضرت سعد کی بیگم صاحبہ کو اس پر اعتبار نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہ آئی چنانچہ انھوں نے ابو جن کو نہ صرف رہا کر دیا بلکہ سواری کے لیے حضرت سعد کی بہترین گھوڑی بھی دی۔ جنگ میں اُس شخص نےجس کی پیٹھ پر ۸۰ کوڑے لگنےکی سزا تجویز کی گئی تھی،اسلام اور حکومت اسلامی کے لیے وہ جاں فشانی دکھائی کہ خود حضرت سعد دیکھ کر ششدر رہ گئے ۔ اور جب معرکہ ختم ہوا تو اُس اللہ کے بندے نے اپنے وعدے کےمطابق خود آکر بیڑیاں پہن لیں۔ حضرت سعد نے ان کی اس مجاہدانہ سرفروشی کے صلےمیں ان کو رہا کر دیا اور فرمایا کہ ” جو شخص خدا کی راہ میں ایسی جاں شاری دکھاتا ہے میں اس کی پیٹھ پر کوڑے نہیں برساؤں گا۔ ابو مجن نے جواب دیا کہ میں بھی اب شراب نہ پیوں گا کیونکہ اب تک تو یہ توقع تھی کہ تم حد جاری کر کے مجھے پاک کر دو گے مگر تم نے اس توقع کا خاتمہ کر دیا۔"
یہ واقعات کسی تبصرے کے محتاج نہیں۔ ان سے آفتاب کی طرح روشن ہو جاتا ہےکہ اسلام میں سزا کا تصور کیا ہے اور اسلام کس طرح جرائم کا سد باب کرنے کے ساتھ ساتھ مجرموں کے اندر بلند ترین اخلاقی احساسات پیدا کرتا ہے اور کس طرح اسلام میں مجرموں کو سزا دینے کے بعد از سر نو سوسائٹی کے ایک معزز رکن کی حیثیت دے دی جاتی ہے۔ جو لوگ اس قانون کو وحشیانہ قانون کہتے ہیں وہ خود وحشی ہیں۔ تہذیب نفس اور انسانیت فاضلہ کے جس بلند مرتبے پر اس قانون نے بنی آدم کو پہنچا دیا اس کی مثال دُنیا کی تاریخ میں کہاں ملتی ہے؟
(۴) اقامت حدود میں وقت کے حالات اور ملزم کے حالات کا بھی لحاظ کیا جاتا ہے ۔ زمانہ جنگ میں حد موقوف رکھی جاتی ہے۔ قحط کے زمانے میں بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ۔ ملزم کے حالات سے اگر ثابت ہو کہ حقیقت میں وہ چوری پر مجبور ہو گیا تھا تب بھی اس کےساتھ رعایت کی جاتی ہےمثلاً حاطب ابن ابی بلتعہ کے غلاموں کا قصہ آثار میں منقول ہوا ہے کہ انھوں نے قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کا اونٹ چرا لیا تھا۔ مزنی نے آکر حضرت عمر سے شکایت کی۔ آپ نے مقدمہ کی تحقیقات کے بعد حکم دے دیا کہ ان کےہاتھ کاٹ ڈالے جائیں۔ پھر دفعتہ آپ کو اُن غلاموں کے حالات کی طرف توجہ ہوئی اور آپ نے فرمایا کہ تم نے ان غریبوں سے کام لیا مگر ان کو بھوکا مار دیا اور اس حال کو پہنچایا که اگر ان میں سے کوئی شخص حرام چیز کھالے تو اس کے لیے وہ جائز ہو"۔ یہ کہہ کر حضرت عمر رض اللہ عنہ نے ان غلاموں کو چھوڑ دیا اور ان کے مالک حضرت حاطب سے اُونٹ والے کو تاوان دلوایا ۔
اس قسم کی اور متعدد مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا قانون اندھا قانون نہیں ہے بلکہ وہ فرق کرتا ہے اُس شخص میں جو حقیقتا ارتکاب جرم پر مجبور ہو گیا ہو اور اس شخص میں جس نےحقیقی مجبوری کے بغیر جرم کیا ہو ۔ اسی بنا پر غیر شادی شدہ زانی اور شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق کیا گیا ہے۔ اور اسی بناء پر قحط کے مارے ہوئے شخص اور کھاتے پیتے شخص کی چوری کو ایک مرتبے پر نہیں رکھا گیا۔
چونکہ اس سے مقصود کسی پرانی بحث کو تازہ کرنا نہیں ہے اس لیے نام حذف کر دیے گئے ہیں]۔
"ایک انسان کا دوسرے کو غلام بنانا فطرت کے خلاف ہے ۔ لیکن دنیا میں غلامی رائج ہو گئی تھی اور نزول قرآن کے زمانے میں عربوں کے پاس بھی مملوک تھے ۔ قرآن نے بعض مصالح کی وجہ سے اُن کے پاس بھی مملوک تھے ۔ قرآن نے بعض مصالح کی وجہ سے اُن رہنے دیا۔"
"قرآن میں جہاں بھی مملوکوں کا ذکر ہے صیغه ماضی یعنی مَا مَلَكَتْ ايمانكم (نساء:۲۴) ہے یعنی بصیغہ مستقبل کہیں نہیں ہے۔ جس سےظاہر ہوتا ہے کہ جن غلاموں کے وہ مالک ہو چکے تھے صرف اُٹھی کی ملکیت قائم رکھی گئی تھی۔"
یہ متن اور حاشیہ دونوں نظر ثانی کے محتاج ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن مجید میں انسانی کمزوریوں کا لحاظ رکھ کر اصلاح کا تدریجی طریقہ اختیار کیا گیا تھا،لیکن کوئی مثال ہم کو قرآن مجید میں ایسی نہیں ملتی کہ کسی مسئلے میں اُس نے اپنی تدریجی اصلاح کو نامکمل چھوڑ دیا ہو اور آخری اصلاح کا حکم نزول وحی کے زمانے ہی میں نہ دے دیا ہو ۔ یہ قاعدہ کلیہ اگر درست ہے تو کیا غلامی کے مسئلے میں قرآن مجید کا کوئی ایسا حکم دکھایا جا سکتا ہے جس نےغلامی کی ہر شکل کو قطعی طور پر ممنوع قرار دیا ہو؟ رہی یہ بات کہ عرب میں چونکہ غلامی رائج تھی اور لوگوں کے پاس پہلے سے غلام موجود تھے اس لیے غلامی کو مصلحنا باقی رکھا گیا، تو غور کرنے سے یہ امر واضح ہو جائے گا کہ ایسی مصلحت شناسی کو خدا کی طرف منسوب کرنا در اصل خدا کی طرف کمزوری کو منسوب کرتا ہے۔ جس خدا نے شراب کو حرام کر دیا اور اس معاملے میں بندوں کی خواہشات کی ذرا پروانہ کی جس نے زنا کو حرام کر دیا اور اس امر کی ذرا پروانہ کی کہ عرب اور دوسرے ممالک میں زنا کا کس قدر رواج تھا، اُس کو کون سا امر غلامی کی ہر صورت کو قطعاً حرام کر دینے سے روک سکتا تھا؟
ان دو شکلوں میں سے پہلی شکل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعاً ممنوع قرار دیا اور فرمایا کہ جو شخص کسی آزاد کو پکڑ کر نیچے گا اس کے غلاف میں خود قیامت کے روز مدعی بنوں گا ( بخاری، کتاب البیع (ع) اور دوسری شکل کے متعلق اسلام کا قانون یہ قرار پایا کہ جو لوگ جنگ میں گرفتار ہوں اُن کو یا تو احسان کے طور پر رہا کر دیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا دشمن کے مسلمان قیدیوں سے اُن کا مبادلہ کر لیا جائے لیکن اگر یونہی رہا کر دینا جنگی مصالح کےخلاف ہو اور فدیہ وصول نہ ہو سکےاور دشمن اسیرانِ جنگ کا مبادلہ کرنےپر بھی رضامند نہ ہو تو مسلمانوں کو حق ہےکہ انھیں غلام بنا کر رکھیں ۔البتہ اس قسم کے غلاموں کے ساتھ انتہائی حسن سلوک اور رحمت و رافت کےبرتاؤ کا حکم دیا گیا ہےاُن کی تعلیم و تربیت دینے اور انھیں سوسائٹی کے عمد و افراد بنانے کی ہدایت کی گئی ہے اور مختلف صورتیں اُن کی رہائی کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اس باب میں اسلام کا صحیح قانون معلوم کرنے کے لیے قرآنی احکام کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور آپ کے ارشادات اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مؤلف کی غلطی کا اصل سبب یہی ہے کہ انھوں نے صرف قرآن سے غلامی کا قانون اخذ کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔
مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمُ سے جو نکتہ مولف نے پیدا کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ نزول قرآن کے بعد بھی صحابہ کے عہد میں بہت سے اسیران جنگ کو ممالیک کی حیثیت سے رکھا گیا ہے۔ خود اہل بیت رسول کے گھروں میں جنگ سے پکڑے ہوئے غلام اور مفتوح ممالک سے آئی ہوئی لونڈیاں موجود تھیں۔ تو کیا ان سب لوگوں نے حکم قرآن کی دانستہ خلاف ورزی کی؟ یا یہ سب قرآن کے حکم سے ناواقف تھے؟
پھر اگر آپ کے نزدیک یہ کوئی قاعدہ ہے کہ جو کچھ قرآن میں بصیغۂ ماضی کہا گیا ہےاس سےمراد صرف ماضی ہی ہوگا،حال یا مستقبل نہ ہوگا تو حیرت ہےکہ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وانشق القمرُ (القمر: ١) کی تاویل آپ نےخود اپنی کتاب میں اس طرح کی ہےکہ " جب قیامت آئےگی تو چاند پھٹ جائے گا۔ اور نکانَ عَرْضُهُ عَلَى الْمَاءِ کا ترجمہ آپ نے۔ "اس کا عرش پانی پر ہے فرمایا ہے۔"
لیکن مصنف نے یہ خور نہ فرمایا کہ اگر کفار نہ مال کی صورت میں فدیہ دیں اور نہ اسیران جنگ کا مبادلہ کریں تو کیا ایسی صورت میں بھی مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے کہ وہ لازما اسیرانِ جنگ کو بطور احسان رہا کر دیں؟ اگر اسیران جنگ کو رہا کرنے سے دُشمن کو مزید قوت پہنچنے کا خطرہ ہو اور مسلمانوں کو اندیشہ ہو کہ یہ لوگ آزاد ہو کر پھر ہم سے لڑنےآئیں گے تو یا اس صورت میں بھی یہ حکم ہے کہ انھیں رہا کر دیا جائے ؟ کم از کم آیت کےالفاظ سےتو یہ قلعی اور لازمی حکم نہیں لگتا۔آیت میں منا کا لفظ ہےجس کےمعنی احسان رکھنے کےہیں اور قرآن میں احسان کا حکم کہیں نہیں دیا گیا ہےالبتہ اسےافضلیت کا درجہ دےکر اس کی طرف ترغیب دلائی گئی ہے۔چنانچہ اس آیت میں بھی قرآن کا منشاء صرف یہ ہےکہ احسان کےطور پر چھوڑ دینا زیادہ فضیلت کا کام ہے۔ لیکن اس سے یہ مقصود ہرگز نہیں ہےکہ اگر اسلامی مفاد کو نقصان پہنچتا ہو تب بھی احسان کیا جائے اور ضرور احسان ہی کیا جائے ۔
هر فرزند آدم زمین کا بادشاہ ہے ۔ آدم کے متعلق ہے : إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خليفة (البقره: ۳۰) اور فرزندان آدم کے بارے میں ہے وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الأرض (انعام: ۱۶۶) پھر ان کی شان میں ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ (بنی اسرائیل: ۷۰) کیا فرزند آدم کو جو زمین کی بادشاہت بلکہ آپ کی تفسیر کے مطابق ناب حق ہونےکے لیے پیدا کیا گیا ہے غلام بنا لینا فطرت کے خلاف نہیں ہے؟ پھر جو چیز فطرت کےخلاف ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن اس کو جاری رکھے؟ آپ اس قدر تو تسلیم کرتے ہیں کہ:
"غلامی کی دو صورتیں اس وقت تک دُنیا میں رائج تھیں۔ایک یہ کہ بعض ممالک کے باشندوں کو پکڑ کر اُن کی خرید و فروخت کی جاتی تھی۔دوسری یہ کہ جنگ میں جولوگ گرفتار ہوتےتھےان کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ان دونوں شکلوں میں سے پہلی شکل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعاً ممنوع قرار دیا اور فرمایا کہ جو شخص کسی آزاد کو پکڑ کر نیچےگا اس کےخلاف میں خود قیامت کےروز مدعی بنوں گا(بخاری کتاب البیوع ) اور دوسری شکل کےمتعلق اسلام کا قانون یہ قرار پایا کہ جو لوگ جنگ میں گرفتار ہوں ان کو یا تو احسان کےطور پر رہا کر دیا جائےیا فدیہ لےکر چھوڑ دیا جائےیا دشمن سےمسلمان قیدیوں کےساتھ ان کا مبادلہ کر لیا جائے ۔لیکن اگر رہا کر دینا جنگی مصالح کےخلاف ہو اور فدیہ وصول نہ ہو سکےاور دشمن اسیران جنگ کا مبادلہ کرنے پر بھی رضامند نہ ہو تو مسلمانوں کو حق ہے کہ انھیں غلام بنا کر رکھیں“۔
یہ تو مسلّم ہوا کہ کسی آزاد کو پکڑ کر غلام بنانا ایسا سنگین جرم ہے کہ اس کے مدعی قیامت کے دن خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے ۔ اب رہا اسیران جنگ کا معاملہ ان کےمتعلق قرآن میں قطعی حکم ہےکہ فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً (محمد :۴) پھر یا تو احسان رکھ کر انھیں چھوڑ دو یا فدیہ لے کر ۔ فدیہ خواہ زیر نقد یا سامان کی صورت میں ہو یا مبادلہ اسیران کی شکل میں، مگر یہ قطعی حکم ہے کہ ان کو چھوڑ دو۔ بے شک اُس وقت تک وہ اسیر رکھےجاسکتے ہیں جب تک کہ اسلامی مفاد کو ان کی رہائی سے خطرہ کا اندیشہ ہو۔لیکن ان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔قرآن نےخود حکومت کو یہ اختیار نہیں دیا کہ ان کو مملوک بنا کر بیچےیا سپاہیوں میں تقسیم کرے۔بلکہ وہ سرکاری قیدی رہیں گےاور عزت و آبرو کے ساتھ رکھےجائیں گے۔برخلاف اس کے آپ یہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو حق ہے کہ وہ اسیرانِ جنگ کو آپس میں بانٹ کر ملکیت بنالیں اور ان کو استعمال کرنا شروع کریں یا بھیڑ بکریوں کی طرح دست بدست بیچنے لگیں، اور قیامت تک جب تک ان کے مالک ان کو آزاد نہ کریں وہ نسلاً بعد نسل اور بطنا بعد بطن غلام اور ہر قسم کے انسانی حقوق سے محروم رکھےجائیں نہ ایک پیسے کے مالک ہو سکیں نہ ایک جبہ کے۔ اور خواہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو جائیں، اُن کو انسانیت کا کوئی حق کبھی نہ مل سکے۔
کیا یہ قرآن کی تعلیم ہے؟ کیا اس کو قرآن کی آیت یا کسی لفظ یا کسی حرف سے آپ ثابت کر سکتے ہیں؟ پھر میرے او پر اعتراض کیوں ہے؟ میں نے قرآن کی تعلیمات لکھی ہیں۔
" صحابہ کے عہد میں بہت سے اسیرانِ جنگ کو ممالیک کی حیثیت سےرکھا گیا ہے۔ خود اہل بیت رسول کے گھروں میں جنگ کے پکڑےہوئے غلام اور مفتوح ممالک سے آئی ہوئی لونڈیاں موجود تھیں“۔
آپ کےنزدیک صحابہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کا ہر فعل قرآنی تعلیم ہےمگر میرےنزدیک اُن کا وہی فعل دینی ہےجس کی سند قرآن سے مل سکے۔ ہاں اگر آپ تاریخی حدود میں آکر بحث کریں تو میں کافی اور شافی جواب دےسکتا ہوں کہ کن اسباب اور حالات کی وجہ سےصحابہ اور اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین مملوک بنانے پر مجبور ہوئےلیکن ان کے اس عمل کو جو ایک خاص ماحول میں تھا بلا کسی دلیل کےقرآنی تعلیم کہہ دینا جائز نہیں سمجھتا۔ قرآن ہر مسلمان کےگھر میں ہے۔ دیکھیے اور پھر دیکھیے ۔ اگر کوئی دلیل اس خلاف فطرت غلامی کی مل سکے تو پیش کیجیے۔
"میں نے لکھا تھا کہ عرب میں چونکہ غلامی رائج تھی اور لوگوں کے پاس مملوک موجود تھے ۔ قرآن نے انھی کو غلامی میں رہنے دیا اور ان کی آزادی کے لیے بھی بہت سی راہیں نکال دیں۔ اور آئیندہ کے لیے راستہ ہی بند کر دیا۔ اس پر آپ لکھتے ہیں :-
" ایسی مصلحت شناسی کو خدا کی طرف منسوب کرنا در اصل خدا کی طرف کمزوری کو منسوب کرنا ہے۔ جس خدا نے شراب کو حرام کر دیا تھا اور اس معاملے میں بندوں کی ذرا پروانہ کی، جس نے زنا کو حرام کر دیا اور اس کی ذرا پروا نہ کی کہ عرب اور دوسرے ممالک میں اس کا کس قدر رواج تھا،اس کو کون سا امر غلامی کی ہر صورت کو قطعاً حرام کر دینے سے روک سکتا تھا۔"
لیکن آپ نے یہ خیال نہ کیا کہ شراب خوری زنا، قمار بازی وغیره شخصی اخلاقی جرائم ہیں جن کو فور روک ہی دینا چاہیے تھا۔ بخلاف اس کے ممالیک اہل عرب کی معیشت میں داخل ہو چکے تھے۔ سینکڑوں گھرانے اور قبیلے اُن کی کمائی پر گزارہ کرتےتھے۔اُن کو فوراً آزادی کا حکم دینےسےبہت سےقبائل کی اقتصادی حالت خراب ہونےاور ابتری واقع ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ اس لیے اس کا انسداد بتدریج مناسب تھا اور یہی اُس علیم و حکیم نے کیا۔
غلامی کے مسئلے میں قرآن مجید نے یہ بات مسلمانوں کے اختیار پر موقوف رکھی ہےکہ خواہ احسان کے طور پر اسیران جنگ کو رہا کریں خواہ فدیہ(بصورت نقد یابصورت مبادله اسیران)لےکر چھوڑ دیں۔یہ کہیں حکم نہیں دیا ہےکہ اگردوسری صورت نہ ہو تو پہلی صورت پر عمل کرنا لازم ہےاس کی وجہ یہ ہےکہ حق تعالی فطرت انسانی سےواقف ہےاسکو معلوم ہےکہ اگر معاملہ دو چار یا دس پانچ قیدیوں کا ہو تو مسلمان ان کو بطیب خاطر بطور احسان رہا کر سکتےہیں،جیسا کہ انھوں نےعہدِ رسالت اور عہدِ صحابہ میں بارہا کیا ہے۔لیکن اگر سینکڑوں ہزاروں قیدیوں کا معاملہ ہو تو ایسی صورت میں جب کہ مسلمانوں کے بھی سینکڑوں ہزاروں آدمی کفار کے پاس قید ہوں اوران کو غلام بنا کر رکھا گیا ہو مسلمانوں کےلیےیہ بہت مشکل ہوگا کہ وہ کفار کےآدمیوں کو محض احسان کے طور پر رہا کر دیں۔ اس دُوسری صورت میں اسیرانِ جنگ کی رہائی کے لیے صرف یہی ایک راستہ کھلا ہوا ہے کہ یا تو وہ خود زیر نقد ادا کر کے رہا ہوں یا ان کی قومی حکومت سے اسیران جنگ کا مبادلہ ہو ۔ اب اگر اسیران جنگ زر نقد ادا نہ کر سکتےہوں اور حکومت سے مبادلہ کا معاملہ طےنہ ہو سکےاور دشمن کےملک میں مسلمان قیدیوں کی حیثیت مملوکوں کی سی ہو، جیسی کہ فی الواقع ہزار برس تک بلکہ اس سے بھی زیادہ زمانے تک رہی ہے تو کیا وجہ ہے کہ اُسی طرح مسلمانوں کو بھی حق نہ ہو کہ وہ کفار کے قیدیوں کو غلام بنا کر رکھیں؟ آپ اس مسئلہ پر آج کل کے حالات کی روشنی میں غور فرما رہے ہیں جب کہ غیر مسلم قوموں میں اسیران جنگ کو فلام بنانےکی رسم موقوف ہو چکی ہےمبادلۂ اسیران کا طریقہ عام طور پر دنیا میں رائج ہو چکا ہےاور وہ حالات باقی نہیں رہے جن میں اسیران جنگ کو غلام بنا کر رکھنےپر مسلمان مجبور ہوتےتھے۔ اس وجہ سے آپ کو غلامی کےاسلامی قانون کا جواز تسلیم کرنےمیں تامل ہو رہا ہےلیکن اگر آپ اُن حالات پر نظر رکھیں جواب سے ڈیڑھ سو برس پہلےتک دنیا میں رائج رہےہیں، تو آپ کو معلوم ہو جائےگا کہ اسلامی قانون میں غلامی کے لیے جو گنجائش رکھی گئی ہے وہ بے جانہیں ہے۔ یہ دراصل قرآن مجید کا کمال حکمت ہے کہ اُس نے غلامی کے مسئلہ میں ایسا حکم دیا جس میں وقت کے حالات کی رعایت بھی ملحوظ رکھی گئی تھی اور آیندہ کے لیے ایک اصلاحی قانون بھی بنا دیا گیا تھا تا کہ جب حالات بدل جائیں تو آپ سے آپ نیا قانون نافذ ہو جائے ۔
آپ نے غلامی کےمسئلہ پر جو اظہار خیال فرمایا ہے اس میں ایک طرف آپ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی رُو سے غلامی نا جائز ہے اور دوسری طرف آپ یہ بھی مانتےہیں کہ صحابہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم اسیران جنگ کو غلام بناتے رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ اور اہل بیت کا فعل قرآن کے خلاف اور نا جائز تھا۔ آپ تاریخی حدود میں جا کر اور اسباب و حالات کی مجبوریوں پر بحث فرما کر خواہ کیسا ہی کافی وشافی جواب عطا فرمائیں، مگر خود آپ کے اپنے مقدمات سے جو منطقی نتیجہ نکلتا ہے اس پر آپ کسی طرح پر وہ نہیں ڈال سکتے ۔ آپ کو نہ صرف یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ خلفائے راشدین اور اصحاب رسول اور اہل بیت رسول علیہ الرحمہ کا فعل قرآن مجید کے خلاف اور ناجائز تھا، بلکہ آپ کو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ معاذ اللہ قرآن مجید نے قبل از وقت ایک ایسا غیر حکیمانہ قانون بنا دیا تھا جس میں وقت کے حالات کی کوئی رعایت ملحوظ نہ رکھی گئی تھی، جس پر ۱۲ سو برس تک عمل کرنا دشوار رہا اور جس پر وہ لوگ بھی عمل درآمد نہ کر سکے جو خاص سرکار رسالت مآب کے تربیت یافتہ تھے اور جنھوں نے اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیم کے سانچے میں ڈھالنے کی وہ انتہائی کوشش کی تھی جو کسی انسان کے امکان میں ہے۔
یہ محض منطقی قیاس ہی نہیں ہے بلکہ اگر غور کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آیت فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَامَّا فِدَاءً کےجو معنی آپ بیان فرمارہےہیں اگروہی اسلام کا قانون قرار پائےتو بعض حالات میں وہ مسلمانوں کےلیےسخت نقصان دہ اور قطعاً نا قابل عمل ہو سکتا ہے۔ اس قانون پر عمل درآمد کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اگر کسی وقت کفار زرند یہ ادا نہ کریں اور اسیرانِ جنگ کا مبادلہ بھی قبول نہ کریں تو مسلمان بہر صورت اُن کے قیدیوں کو رہا کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر مسلمانوں کا قانون یہی ہوتا تو کوئی کا فرقوم اتنی احمق نہ تھی کہ زیر فدیہ ادا کرتی یا مسلمانوں کے قیدیوں کو رہا کر دیتی ۔ اس صورت میں لاکھوں مسلمان کفار کے ہاتھ قید ہوتے اور بھی رہا نہ ہو سکتے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غلامی کی مصیبت میں گرفتار رہتے اور اس کے مقابلےمیں کافروں کے آدمی ہر لڑائی کے بعد آزاد ہو جایا کرتے ۔ آپ ہی فرمائیے کیا ایسا قانون منصفانہ کہا جا سکتا ہے؟ اور کیا کسی زمانے میں اس پر انسان عمل کرسکتے ہیں؟
بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ اسیران جنگ کو یا تو احسا نا رہا کردیا جائے یا فدیه بشکل زرنقہ یا شکل مبادله اسیران جنگ) لےکر۔ لیکن اگر ایسی صورت پیدا ہو جائےکہ احسانا چھوڑ نا خلاف مصلحت ہو اور فدیہ ادا کرنے پر دشمن تیار نہ ہوں تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟صاحب تعلیمات نےلکھا ہےکہ ایسی صورت میں وہ شاہی قیدی ہوں گےاور ان سےایسا ہی سلوک کیا جائےگا لیکن آپ نےفرمایا ہےکہ ایسی شکل میں وہ غلام بنا۔لیں جائیں گے۔ صاحب تعلیمات نے آپ کے اس دعوے کی دلیل میں قرآن کریم سے ثبوت مانگا تھا، مگر آپ نے اپنے جواب میں اسطرف توجہ منعطف نہیں فرمائی اور قرآن کر سےاسیران جنگ کو غلام بنانےکا جواز پیش نہیں کیا۔ البته دو دلیلیں پیش کی ہیں: اول کہ جب دشمن مسلمان اسیران جنگ کوغلام بنا کر رکھیں تومسلمان اُنکے قیدیوں کو غلام کیوں نہ بنائیں۔ بات تو ہےیہ نبی لگتی ہوئی۔لیکن اس کا کیا علاج کہ قرآن کریم مسلمانوں کو اس سطح سے بہت بلند لے جانا چاہتا ہے کہ اگر دشمن تمھارے ساتھ نازیبا سلوک کریں تو تم بھی ایسا نا شائستہ سلوک ان سےکرو۔مسلمانوں کو تو یہ بھی اجازت نہیں دی گئی کہ مشرکین کی مٹی کی مورتیوں کو بھی گالی دیں۔آپ خود فرماتےہیں کہ ان غلاموں سےانتہائی رافت و رحمت کے سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ بات از خود آپ کے قائم کردہ اصول کے خلاف ہے۔کفار تو آپ کے قیدیوں سے انتہائی بد سلوکی کا برتاؤ کریں اور آپ انھیں اپنی سوسائٹی کےبہترین افراد میں جگہ دیں؟ پھر اگر آپ کا اصول مان لیا جائےتو کیا آپ اس کی بھی اجازت دیں گےکہ دشمن اگر مسلمان قیدی عورتوں سے کوئی گستاخی کریں تو کیا اس کے بدلے میں مسلمان بھی اُن کی قیدی عورتوں سے ایسا ہی سلوک کریں؟ اسلام کےاصول تو بالکل اپنے ہیں، اور یہ انھی کے ماتحت حکم دے گا دنیا خواہ کچھ کرے۔
دوسری دلیل پھر اصحاب رسول اور اہل بیت کےطرز عمل کی ہےمیرےلیےتو یہ کافی ہو سکتی ہے۔ لیکن معترض اگر کہیں کہ آپ تو وعدہ کر چکے ہیں کہ قرآن سے باہر نہیں جاؤں گا۔ پھر اسی سے ثبوت کیوں نہیں دیا جاتا تو کیا حق بجانب نہیں ہوگا۔
آپ نےفرمایا ہےکہ احساناً قیدیوں کو چھوڑ دینےمیں مسلمانوں کو بہت نقصان رہتا ہےکہ اس صورت میں کوئی قوم اتنی احمق نہ تھی کہ زرفدیہ ادا کرتی۔لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ بطور احسان چھوڑ دینے میں جو فائدے حاصل ہوئے زرفدیہ کے درہم و دیناران کا کم ہی مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس سے اسلام کے متعلق لوگوں کی ذہنیت بدل گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہزار ہا قیدی بلا فدیہ لیے رہا کر دیے اور ان احسانات کا جواثر ہوا اس کے شاہد زمین و آسمان ہیں۔ پھر سوال تو غلام بنانے اور انھیں فروخت کرنے کا ہے۔ اس کے متعلق فرمائیے کہ قرآن کا کیا حکم ہے؟ اور آج اگر کوئی قوم فدیہ نہ ادا کرے اور مسلمان ان کےاسیران جنگ کو احسانا نہ چھوڑنا چاہیں تو ان سے کیا سلوک کریں ؟ مَا مَلَكَتْ إِيْمَانِكُمْ اور اسیران جنگ کی بحث آج بڑے اہم مسائل میں سے ہے اسے ضرور حل کیجیے۔
(1) یہ مصنف کا اپنا ترجمہ ہے۔ اس میں چھوڑ دو" کا لفظ ان کا اپنا اضافہ ہے۔ آیت میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس کا یہ ترجمہ ہو۔
اس آیت سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسیرانِ جنگ کے حق میں دو ہی صورتیں قرآن نے تجویز کی ہیں۔ یا تو کسی معاوضہ کے بغیر ہی انھیں رہا کیا جائے یا معاوضہ لےکر ۔ لیکن رہا کرنے کا حکم قطعی ہے اور غلام بنا کر رکھنا کسی حال میں جائز نہیں ہے۔
آیت میں منا اور فِدَاء دونوں کے ساتھ لفظ اما ہے جو یا تو تخییر کے معنی میں ہےیا اباحت کے معنی میں ۔ یعنی اس کامطلب یا تو یہ ہےکہ تمھیں اختیار ہےچاہےاحسان کرو چاہے فدیہ لےلو یا یہ مطلب ہےکہ تمھارے لیے احسان کرنا بھی جائز ہے اور فدیہ لینا بھی۔ اس سے کسی طرح بھی یہ مطلب نہیں نکلتا کہ تم ان دونوں صورتوں میں سےکوئی ایک صورت اختیار کرنےپرمجبور ہو۔حکم قطعی تو صرف اس حد تک تھا فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرُبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا الْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاق۔یعنی جب کافروں سےتمھاری مڈبھیٹر ہو تو ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مار چکو اور ان میں مقابلے کی طاقت باقی نہ رہے تو بقیۃ السیف لوگوں کو باندھ لو اس حکم کے بعد اب مسلمانوں کو اختیار دیا جاتا ہے یا ان کو مجاز کیا جاتا ہے کہ چاہے قیدیوں کے ساتھ احسان کریں، چاہے فدیہ لے لیں۔
اس کے بعد لفظ منَّ قابل غور ہے ۔ مسن کے معنی صرف احسان کے ہیں ۔ ”احسان رکھ کر چھوڑ دو مترجم کا اپنا اضافہ ہے۔ اگر چہ احسان کی ایک صورت یہ بھی ہےکہ قیدیوں کو رہا کر دیا جائے،لیکن ایک صورت یہ بھی ہے کہ قید کی حالت میں اُن کےساتھ احسان کا برتاؤ کیا جائے۔اس صورت کی نفی اور صرف رہائی میں مفہوم احسان کا انحصار کہاں سےنکلتا ہے؟ اگر قرآن میں کوئی لفظ یا اشارہ ایسا ہے جس سے یہ مفہوم نکلتا ہو کہ احسان سے مراد صرف رہا کر دیتا ہے تو براہ کرم اس کو بیان کیا جائے۔
اب تلاش کیجیے کہ قرآن میں کون سی آیت ایسی ہے جس میں یہ حکم ہو کہ قیدیوں کو بلا معاوضہ رہا کرنا یا فدیہ لےکر چھوڑنےکےسوا کوئی تیسری صورت جائز نہیں ہے اور ان کو غلام بنا کر رکھنا حرام ہے؟ یقیناً ایسی کوئی آیت پیش نہیں کر سکتےبرعکس اس کے لونڈیوں اور غلاموں کے متعلق بکثرت احکام آپ کو قرآن میں ملتے ہیں جو مذکورہ بالا آیت کے بعد نازل ہوئے ہیں۔ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کے احکام کے متعلق تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت تک رہائی کا حکم قطعی نہیں آیا تھا اس لیے لونڈی غلاموں کو رکھنا جائز تھا اور ان کے متعلق احکام بھی آئے تھے ۔ لیکن بعد کی آیات کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟ اس آیت کا جو مفہوم آپ لے رہے ہیں اس کی رُو سے تو یہ آیت نازل ہوتے ہی تمام لونڈی غلام رہا ہو جانے چاہیے تھے ۔ مگر بعد کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ رہا نہیں ہوئے اور ان کے متعلق اُسی طرح احکام آتے رہے جس طرح پہلے آتے تھے۔
یہ آیت سورہ محمد کی ہے جس کا کچھ حصہ مکہ میں اُترا ہے اور کچھ حصہ مدینہ طیبہ کےابتدائی زمانے میں۔ ابن عباس نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا کا مطلب یہ ہے کہ جب جنگ بدر کے روز کفار سے تمھارا مقابلہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ آیت جنگ بدر سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس کی تائید قرآن مجید کی یہ آیت کرتی ہے: مَا كَانَ لِنَبِي أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُنخِنَ فِي الْأَرْضِ (الى آخر الآية - انفال: ۶۷) یہ آیت جنگ بدر کے قیدیوں کے حق میں نازل ہوئی ہے اور اس میں جو عتاب نازل ہوا ہے وہ صاف اشارہ کرتا ہے کہ سورۂ محمد والی آیت میں حمد وثاق سے پہلے الحانُ في الأرضِ کا جو حکم دیا گیا تھا اُس پر پورا پورا عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے عتاب فرمایا گیا۔ پس متحقق ہو گیا کہ سورہ محمد کی یہ آیت سے میں جنگ بدر سے پہلے نازل ہوئی تھی۔
اے نبی ہم نے تمھارے لیے حلال کی ہیں تمھاری وہ بیویاں جن کے تم نے مہر ادا کیے ہیں اور وہ لونڈیاں جو خدا نے تم کو جنگ میں بطور غنیمت دلوائی ہیں۔
اس آیت میں مَا مَلَكَتْ يَمِینُکَ سے مراد وہ لونڈیاں ہیں، اور لونڈیوں کی تعریف مِمَّا افَاءَ اللهُ عَلَيْكَ ( جو اللہ تعالیٰ نے تم کو لڑائی میں بطور غنیمت دلوائی ہوں) سے کی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ بدر سے پہلے اللہ تعالٰی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی کےعطا نہیں کیا تھا۔ لہذا بدر کے بعد لڑائیوں میں جو عورتیں مسلمانوں کے پاس قید ہو کر آئیں اتھی کو لونڈیاں بنا کر رکھنا قرآن مجید نے جائز قرار دیا تھا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے:۔
اس کے بعد تمھارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ یہ کہ اُن کو بدل کر دوسری بیبیاں کر لو اگر چہ تم کو ان کا حسن پسند آئے مگر لونڈیاں حلال ہیں۔
یہ آیت اس وقت نازل ہوئی ہے جب ازواج مطہرات کی تعداد گیارہ تک پہنچ چکی تھی۔ حضور کا آخری نکاح ٧ھ کے خاتمہ پر حضرت میمونہ سے ہوا ہے۔ لہذا اس آیت کے نزول کا زمانہ ٨ھ سمجھنا چاہیے۔ یہاں پھر لونڈیوں کو حلال کرنے کا حکم موجود ہے۔
٨ھ کے اواخر میں غزوہ اوطاس ہوا۔ بہت سی عورتیں پکڑی ہوئی آئیں۔ اُن میں جو شادی شدہ عورتیں تھیں ان کے معاملے میں مسلمان مترو د ہوئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :-
تمھارے لیے بیاہی ہوئی عورتیں حرام ہیں، مگر وہ عورتیں اس سےمستقلی ہیں جو جنگ میں گرفتار ہو کر تمھارے ہاتھ آئیں۔
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتْمَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمُ إِلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ (النساء:۳)
اور اگر تم کو خوف ہو کہ قتیموں کے ساتھ انصاف نہ کرسکو گے تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان سے نکاح کر لو دو دو تین تین چار چار۔ اور اگر تم کو خوف ہو کہ عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی نکاح کرو یا جو لونڈی تمھارے قبضہ میں ہو۔
یہ حکم بہر حال جنگ اُحد کے بعد کا ہے۔ ان مختلف احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً سے قرآن مجید کا مقصد وہ نہ تھا جو فاضل مصنف نے سمجھا ہے ورنہ اس آیت کے نزول کے بعد لونڈیوں کا رکھنا سرے سے ممنوع ہو جاتا نہ کہ اس کی اجازت دی جاتی اور ان کے متعلق احکام دیے جاتے۔
اس سلسلہ میں صاحب موصوف نے ایک لطیف نکتہ بھی بیان فرمایا ہے وہ یہ کہ قرآن میں جہاں جہاں مملوکوں کا ذکر ہے بصیغہ ماضی یعنی مَا مَلَكَتْ إِيْمَانُكُمُ ہے ۔ بصيغة مستقبل کہیں نہیں ہے۔ جس سےظاہر ہوتا ہےکہ جن غلاموں کے وہ مالک ہو چکےتھےصرف انھی کی ملکیت قائم رکھی گئی تھی۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن میں جو احکام بصیغہ ماضی ارشاد ہوئےہیں وہ مستقبل کے لیے نہیں ہیں۔مثلا سوتیلی بیٹیاں اپنے سوتیلے باپوں کے لیے جس آیت میں حرام کی گئی ہیں اُس کے الفاظ یہ ہیں: وَرَبَاتِكُمُ الَّتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِّسَاءِ كُمُ الَّتِي دَخَلْتُمُ بِهِنَّ - (النساء: ۲۳) یہاں دَخَلْتُمُ صیغہ ماضی ہےلہذا مصنف کے قاعدے کی رُو سے صرف اُن عورتوں کی بیٹیاں حرام ہوئیں جو نزول آیت سے پہلےمسلمانوں کےنکاح میں آچکی تھیں، آئندہ کےلیےیہ حکم نہ ہوگا۔ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَيتُم مِنْ عَيْنِي فَإِنَّ لِلَّهِ حُمْسَة- (انفال (۴۱) اس آیت میں بھی شمس کا حکم صرف ماضی کےلیے ہوگا، بعد کے غنائم میں شمس نہ ہوگا ۔ بايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِقِي لِلصَّلَوةِ مِنْ يُوْمَ الجمعة (سورہ جمعہ: ۹) میں جمعہ کی نماز کا حکم بھی صرف ان لوگوں کے لیے قرار پائے گا جو اُس وقت ایمان لا چکے تھے۔ بعد کے مسلمان اس حکم سے بچ گئے ۔ غرض جناب مولانا نے یہ ایسا نکتہ نکالا ہے جو آج تک کسی کو نہ سُوجھا تھا۔ ورنہ اب تک مسلمان ان بہت سےاحکام کی بندشوں سے آزاد ہو چکے ہوتے جو بصیغہ ماضی دیے گئے تھے اور جن میں اللہ میاں نے (نعوذ باللہ شاید بے احتیاطی کی بنا پر مستقبل کا صیغہ استعمال نہ کیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ اس طرح تو کافروں اور آیات الہی کو جھٹلانے والوں کے لیے بھی آتش دوزخ سےرہائی مل جاتی کیونکہ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِايْتِنَا أُولئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ - (بقره:٣٩) میں کفروا اور کذبوا دونوں ماضی کے صیغے ہیں ۔ لہذا بعد کے تمام کفار و مکذبین اس وعید سے بچ گئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی نکتہ آفرینی معنوی تحریف کی حد تک پہنچتی ہے۔۔قرآن مجید کے معنی میں ایسی تحریف کرتے ہوئے ایک مسلمان کا ایمان لرز جانا چاہیے۔
اب ہم کو دیکھنا چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فَإِما مَا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً اور مَا مَلَكَتْ إِیمَانُكُمْ کا کیا مفہوم سمجھا اور اس پر کس طرح عمل کیا۔
بنی قریظہ کے حق میں حضرت سعد بن معاذ نے فیصلہ کیا کہ ان کے بالغ مر وقتل کیےجائیں اور عورتوں اور بچوں کو لونڈی غلام بنا لیا جائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فیصلہ کو نافذ فرمایا۔
خیبر کی جنگ میں بہت سی عورتیں گرفتار ہوئیں اور وہ مسلمانوں میں تقسیم کی گئیں۔
غزوہ حنین میں ٦ ہزار عورتیں اور بچےقید ہوئے۔بعد میں ہوازن کا وفد حاضر ہوا اور اُس نےاُن کی رہائی کا مطالبہ کیا ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ جو میرے اور بنی عبدالمطلب کےقبضہ میں ہے ان کو میں احسان کے طور پر رہا کرتا ہوں ۔ مگر دوسروں کے معاملے میں حکم دینے کا مجھے حق نہیں۔ صرف سفارش کر سکتا ہوں ۔ چنانچہ حضور کی سفارش پر انصار اور مہاجرین نے اپنے اپنے حصے کے لونڈی غلاموں کو چھوڑ دیا۔ مگر بنوتمیم اور بنوفرازہ اور بنو سلیم کے نمائندوں نے انکار کیا۔ آخر کار حضور نے اُن سے وعدہ کیا کہ بعد کی لڑائیوں میں جولونڈی غلام ہاتھ آئیں گے ان میں ہم تم کو ایک کے بدلے چھ چھ دیں گے ۔ تب وہ ہوازن کے قیدیوں کو چھوڑنے پر راضی ہوئے۔
اس میں شک نہیں کہ حضور نےبعض مواقع پر قیدیوں کو احسان کےساتھ رہا بھی کیا ہےکبھی قیدیوں کا مبادلہ بھی کیا ہے اور کبھی زرفدیہ لےکر چھوڑ بھی دیا ہے۔ لیکن اس سےانکار نہیں کیا جا سکتا کہ آپ کےعہد میں بہت سے قیدی لونڈی غلام بنا کر رکھےگئےہیں اور ان کو مسلمانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کیا قرآن مجید کے احکام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سمجھنے والا اور ان کے مطابق عمل کرنے والا کوئی اور ہوسکتا ہے؟ اگر کوئی شخص اپنےآپ کو ایسا سمجھتا ہےتو سمجھنےدیجیئےاس کا معاملہ ہم خدا پر چھوڑتےہیں،لیک مسلمانوں کا عقیدہ یہ نہیں ہے اور وہ اسی قانون کو برحق رکھتے ہیں جو اللہ کے رسول نے اپنے قول و عمل سے بنا دیا ہے۔
اسلام کے جن مسائل کے بارے میں موجودہ زمانے کے لوگوں کو سب سے زیادہ شکوک لاحق ہوتے ہیں ان میں سےایک غلامی کا مسئلہ بھی ہے۔ اس باب میں متعدد مرتبہ ہم سےسوالات کیےگئے اور کئی مرتبہ ان کے مفصل جوابات ترجمان القرآن میں دیے جاچکے ہیں۔ ذیل میں ان سوالات اور جوابات کو ترتیب وار درج کیا جاتا ہے۔
اکثر علماء لونڈیوں سے بلا نکاح تمتع کے جواز میں الا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ إِيْمَانِهِمْ (المومنون : ۶ ) پیش کرتے ہیں۔ اس سلسلےمیں مندرجہ ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا جواب کیا ہے؟
ب - اگر ملکتیت کی بناء پر مالک کو حق ولی حاصل ہو جاتا ہے تو ایک غلام کی مالکہ جو غیر شادی شدہ ہو اس کو بھی اپنے غلام سے استفادہ کا موقع حاصل ہونا چاہیے ۔مخلوط نسل کی پیدائش کو روکنے کے لیے وہ مانعات عمل استعمال کر سکتی ہے۔
ج غیر مسلم محارب تو میں اگر گرفتار شدہ مسلمان عورتوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں تو عقلاً اس کے خلاف مسلمانوں کو احتجاج کا کیا حق ہے؟
د- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور بے لوث زندگی بالخصوص عالم شباب میں خانگی زندگی کی بہترین مثال ہے۔ یہ کہاں تک صحیح ہے کہ آخری عمر میں جب کہ متعدد ازواج مطہرات موجود تھیں آپ نے بھی لونڈیوں سے تمتع کیا ؟
ر- اگر ملکیت سے حق ولی حاصل ہوتا ہے تو فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ اَهْلِهِنَّ (النساء: ۲۵) کی صورت میں جب لونڈی کا نکاح کسی شخص سے کر دیا جائے تو کیا اس لونڈی پر دو اشخاص کو مباشرت کا حق ہوگا ؟ ایک خاوند کو بلحاظ نکاح اور دوسرے مالک کو بلحاظ مالکیت ۔ اگر نہیں تو کیوں؟“
ان سوالات کے جواب میں پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ حق ملکیت کی بنا پر تمتع کی اجازت قرآن مجید کی متعدد آیات میں صریح طور پر وارد ہوئی ہے۔ بہت سے لوگ اس معاملہ میں بڑی بے باکی کے ساتھ یہ لکھتے ہوئے اعتراضات کر ڈالتے ہیں کہ یہ شاید محض مولویوں کا گھڑا ہوا مسئلہ ہوگا۔ اور بعض منکرین حدیث اس کو اپنے نزدیک حدیث کے خرافات میں سے سمجھ کر زبان درازی کرنے لگتے ہیں۔ لہذا ایسے سب لوگوں کو آگاہ رہنا چاہیے کہ ان کا معاملہ مولویوں کی فقہ اور محدثین کی روایات سے نہیں بلکہ خود خدا کی کتاب سے ہے۔ اس کے لیے حسب ذیل آیات ملاحظہ ہوں :-
اگر تم کو خوف ہو کہ متعدد بیویوں کے درمیان عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی بیوی رکھو یا جو لونڈی تمھارے قبضے میں ہو۔
اور حرام ہو گئیں تم پر بیاہی ہوئی عورتیں سوائے اُن (شوہر دار ) عورتوں کے جن کے مالک تمھارے سیدھے ہاتھ ہوں (یعنی جو جنگ میں تمھارے قبضے میں آئیں )۔
اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں بجز اپنی بیویوں کے یا ان عورتوں کے جو اُن کے قبضے میں ہیں (یعنی لونڈیاں) اس میں ان پر کچھ ملامت نہیں ۔
اے نبی ہم نے تمھارے لیے تمھاری ان بیویوں کو حلال کر دیا جن کے مہر تم نے ادا کر دیے ہیں، اور اُن عورتوں کو بھی جو اُن لونڈیوں میں سے تمھارے قبضے میں ہیں جنھیں اللہ نے تم کو غنیمت میں عطا فرمایا ہے۔
اب اس کے بعد دوسری عورتیں تمھارے لیے حلال نہیں ہیں اور نہ یہ حلال ہے کہ ان کے بجائے تم دوسری بیویاں کر لو خواہ اُن کا حسن تم کو کتنا ہی پسند آئے البتہ وہ لونڈیاں حلال ہیں جو تمھارے قبضہ میں آئیں۔
ان آیات سے یہ بات صریح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ قرآن کی رُو سے ملک یمین کی بناپر تمتع جائز ہے۔ اب تحقیق طلب امر یہ ہے کہ یہ اجازت کن حالات میں دی گئی ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ اور اس سے استفادہ کی کیا کیا صورتیں شارع نے تجویز کی ہیں؟
جنگ میں گرفتار ہونے والے سبایا (لونڈی غلاموں) کے حق میں اسلام نے جو قوانین وضع کیے تھے ان کو سمجھنے میں آج لوگوں کو اس لیے دقتیں پیش آ رہی ہیں کہ اس زمانے میں وہ حالات باقی نہیں رہے ہیں جن کے لیے یہ قوانین وضع کیے گئے تھے مگر قدیم ترین زمانے سے اٹھارویں صدی عیسوی کے آغاز تک دنیا میں اسیران جنگ کو غلام بنا کر رکھنے اور انھیں خرید و فروخت کرنے کا طریقہ رائج تھا۔ اُس زمانہ میں بہت ہی کم ایسا ہوتا تھا کہ دو محارب سلطنتیں صلح کےبعد اسیران جنگ کا مبادلہ کرتیں یا اُن کو فدیہ دے کر چھڑا تیں۔ زیادہ تر قاعدہ یہی تھا کہ جو لوگ جنگ میں گرفتار ہوتے وہ اسی سلطنت کے قبضہ میں رہتے جس کی فوج ان کو گرفتار کر کے لےجاتی۔اس طرح آبادیوں کی آبادیاں قید ہو کر ایک ملک سےدوسرے ملک میں چلی جاتی تھیں اور کسی سلطنت کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ ان کثیر التعداد قیدیوں کو مقید رکھ کر اُن کے کھانے کپڑے کا بار اٹھاتی۔ اس لیےسلطنتیں اپنی ضرورت کے مطابق قیدیوں کو اپنے قبضے میں رکھتی تھیں اور باقیوں کو فوج کےافراد میں تقسیم کر دیتی تھیں جن کے پاس وہ لونڈی غلام بن کر رہتے تھے۔
یہ حالات تھے جن سے اسلام کو سابقہ در پیش تھا۔ اس نے ان حالات میں دُنیا کے سامنے یہ اصول پیش کیا کہ جو لوگ جنگ میں قید ہوں اُن کو فدیہ لے کر چھوڑ دو یا اسیران جنگ سےمبادله کر لو یا بطریق احسان رہا کر دو لیکن اس اصلاحی تعلیم کا نفاذ تنہا مسلمانوں کےعمل سےنہ ہو سکتا تھا، بلکہ اس کےلیے اُن غیر مسلم قوموں کا راضی ہونا بھی ضروری تھا جن سے مسلمانوں کو جنگ پیش آتی تھی۔ اور وہ اس وقت اس اصلاح کو قبول کرنے پر آمادہ تھیں، نہ اُس کے بعد بارہ صدیوں تک آمادہ ہوئیں۔ اس لیے اسلام نےبدرجہ آخر اس کی اجازت دی کہ دشمن کے اسیران جنگ کو اسی طرح غلام بنا کر رکھا جائے۔ جس طرح دوسری قو میں مسلمانوں کے اسیران جنگ کو رکھتی ہیں۔
مگر اس اجازت سے یہ خطرہ تھا کہ کہیں مسلمانوں کے اجتماعی نظام میں بھی ایک پست طبقہ (Depressed Class) پیدا نہ ہو جائے جیسا کہ ہر اُس قوم کے اجتماعی نظام میں ہوا ہے جس نے دوسری قوموں کو مغلوب کیا ہے۔قطع نظر اس سےکہ اسیران جنگ کےساتھ یہ معاملہ خلاف انسانیت تھا،اس سےاُن بہت سےاخلاقی و تمدنی مفاسد کےپیدا ہونے کا بھی اندیشہ تھا جو کسی نظام اجتماعی میں ایک ایسے طبقہ کی پیدائش کا لازمی نتیجه ہیں۔لہذا اسلام نے اسیران جنگ کو غلام بنا کر رکھنے کی اجازت تو ضرورت کی بنا پر دی مگر اس کے ساتھ ایسے قوانین بھی مقرر کیےجن کا منشاء یہ تھا کہ غلامی کی حالت میں بہتر سےبہتر سلوک جو ان کےساتھ ممکن ہو وہ کیا جائے اور ایسے اسباب مہیا کیے جائیں جن سے وہ رفته رفته اسلامی سوسائٹی میں جذب ہو جائیں۔
یہی مقصد ہے جس کے لیے لونڈیوں سے تمتع کی اجازت دی گئی ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے اپنے تصور کو اب سے چند سو برس پیچھے لے جائیے۔ فرض کیجیے کہ ایک غیر قوم سےمسلمانوں کی جنگ ہوتی ہے۔ اس میں ہزاروں عورتیں اُن کے ہاتھ آتی ہیں۔اُن میں بہت سی جوان اور خوبصورت عورتیں بھی ہیں۔ فریق مخالف نہ ان کو فدیہ دے کر چھڑاتا ہےنہ اُن مسلمان عورتوں سےاُن کا تبادلہ کرتا ہےجو اُس کےقبضہ میں چلی گئی ہیں۔ مسلمان أن عورتوں کو بطریق احسان بھی نہیں چھوڑ سکتےکیونکہ اس طرح تو اُن کی اپنی عورتوں کےچھوٹنےکی کوئی اُمید کی ہی نہیں جا سکتی۔ ناچار وہ ان کو اپنے قبضے میں رکھتےہیں۔اب فرمائیے کہ اتنی کثیر تعداد میں جو عورتیں دار الاسلام میں آگئی ہیں ان کو کیا کیا جائے ۔ان کو وائم الکسبس کر دینا ظلم ہے۔ان کو ملک میں آزاد چھوڑ دینا گویا فسق و فجور کے جراثیم پھیلا دینا ہے۔ ان کو جہاں جہاں بھی رکھا جائے گا ان سے اخلاقی مفاسد پھیلیں گے ایک طرف سوسائٹی خراب ہوگی اور دوسری طرف خود ان کی پیشانیوں پر ہمیشہ کےلیےذلت کے داغ لگ جائیں گے۔ اسلام اس مسئلہ کو یوں حل کرتا ہے کہ انھیں افراد قوم میں تقسیم کر دیتا ہے اور ان افراد کو ہدایت کرتا ہے کہ خبرداران کو رنڈیاں نہ بنا دینا کہ ان سےحرام کراؤ اور ان کو اپنی آمدنی کا ذریعہ بناؤ بلکہ یا تو خود ان کو اپنے تصرف میں لاؤ ۔یا نہیں تو ان کےنکاح کر دو تا کہ یہ بدکاریاں اور آشنائیاں نہ کرتی پھریں۔اس قانون کی مختلف دفعات قرآن مجید میں مختلف مقامات پر بیان کی گئی ہیں (١) سورۃ نور کے چوتھے رکوع میں ہے:۔
اور اپنی لونڈیوں کو جو پاک دامن رہنا چاہتی ہیں، دُنیا کی زندگی کےعارضی فائدوں کی خاطر بدکاری پر مجبور نہ کرو (٢)
مگر یہ اُن کے لیے ہے جو اپنی عصمت کی حفاظت کرنا چاہتی ہوں۔ رہیں وہ لونڈیاں جو آپ ہی بدکاری کی طرف مائل ہوں تو اُن کے بارے میں یہ حکم دیا گیا : -
پھر اگر وہ کوئی نخش کام کریں تو ان پر اس سزا کا نصف ہے جو شریف خاندانی عورتوں کے لیے رکھی گئی ہے۔
١- اس مقام پر یہ بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اسیران جنگ میں سے کوئی عورت کسی شخص کی ملکیت میں صرف اسی وقت آتی ہے جبکہ وہ حکومت کی طرف سے باقاعدہ اس کے حوالے کی جائے اور اس کے بعد اس عورت کے ساتھ مباشرت کا حق صرف اسی شخص کو حاصل ہوتا ہے۔ سرکاری طور پر تقسیم ہونےسے پہلے کسی عورت سے مباشرت کرنا زنا ہے۔ اور اس طرح تقسیم کے بعد ایک مالک کے سوا کسی اور آدمی کا اس کے ساتھ ایسا فعل کرنا زنا ہے۔ اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اسلام میں زنا ایک قانونی جرم ہے۔
٢- عرب جاہلیت میں یہ کثرت لوگ ایسے تھے جنھوں نے اپنی لونڈیوں کے ذریعہ سے با قاعدہ قحبہ خانےکھول رکھے تھے۔ وہ ان کی کمائی کھاتے تھے اور ان کی ناجائز اولاد کو پال کر اپنے خدم و حشم میں اضافہ کرتے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے ہیں تو وہاں عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کا ایک مجتبہ خانہ موجود تھا جس میں اس نے چھ لونڈیاں اسی غرض سےرکھ چھوڑی تھیں ۔ اسی چیز کی ممانعت اس آیت میں کی گئی ہے۔
اس طرح ان لونڈیوں کے لیے بدکاری کا راستہ تو بالکل بند کر دیا گیا، خواہ مجبورانہ ہو یا رضا کارانہ۔ مگر نفس تو وہ بھی رکھتی ہیں اور ان کے داعیات فطرت کی تکمیل بھی ضروری ہےاور نہ ظلم بھی ہوگا اور اخلاقی مفاسد کے چور دروازے بھی کھلیں گے۔ اس لیے ان کی نفسانی ضرورتوں کو باعزت طریقہ سے پورا کرنے کی دو صورتیں تجویز کی گئی ہیں:۔
تم میں جو لوگ غیر شادی شدہ ہیں ان کے نکاح کر دو اور تمھارےلونڈی غلام جو نیکو کار ہوں ان کے بھی ۔
اسی طرح جو نادار لوگ زیادہ مہر دے کر معزز خاندانوں میں شادیاں کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں ان کو بھی ترغیب دی گئی کہ تھوڑے مہر پر لونڈیوں سے نکاح کرلیں۔
اور جو شخص تم میں اتنی استطاعت نہ رکھتا ہو کہ شریف خاندانوں کی مومن عورتوں سے نکاح کر سکے تو وہ تمھاری مومن لونڈیوں سےنکاح کرے۔
لونڈی کو جب اُس کا مالک کسی دوسرے شخص کے نکاح میں دے دے تو پھر خود اس مالک کو اُس لونڈی کے ساتھ مباشرت کرنے کا حق باقی نہیں رہتا کیوں کہ وہ اپنی رضی سے اپنا یہ حق مہر کے عوض دوسرے شخص کی طرف منتقل کر چکا ہے۔ اس بنا پر ایسی ونڈیاں بھی محصنات میں داخل ہو جاتی ہیں جن کو نص قرآنی نے شوہر کے سوا سب کے لیےتمام کر دیا ہے ۔ چنانچہ آیت مذکورہ کے بعد اس کی تصریح کردی گئی ہے۔
پس اُن کے مالکوں کی اجازت سے اُن کے ساتھ نکاح کرو اور دستور کے مطابق ان کے مہر ادا کر دو۔ وہ قید نکاح میں لائی جائیں نہ کہ کھلی اور چھپی بد کا زیاں کریں۔ پھر جب وہ نکاح سے پابند ہو جائیں اور اس کے بعد بدکاری کریں تو اُن پر اُس سزا کا نصف ہے جو شریف خاندانی عورتوں کے لیے ہے۔
۲- دوسری صورت یہ ہے کہ خود مالک اُن سے تمتع کرے۔ اس کی تین شکلیں ہیں:ایک یہ کہ محض ملک یمین ہی کو قید نکاح سمجھ کر تمتع کیا جائے ۔دوسری یہ کہ لونڈی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کیا جائے اور اس آزادی ہی کو اس کا مہر قرار دیا جائے۔تیسرے یہ کہ اس کو آزاد کر کے جدید مہر کے ساتھ نکاح ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلّم نےدوسری اور تیسری شکل کو ترجیح دی ہے اور اس کی فضیلت میں متعدد احادیث آئی ہیں :-
جس شخص کے پاس لونڈی ہو اور وہ اس کو خوب اچھی تعلیم دئے اور اس کو اچھا ادب سکھائے پھر اس کو آزاد کر دے اور اس کے بعد خود اس سے نکاح کر لے تو اس کو دوہرا اجر ملے گا۔
دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ اعتقها ثم اصدقہ یعنی اس کو آزاد کر کےمہر دے کر اُس کے ساتھ نکاح کرے۔ ابوداؤد الطیالسی نے ایک اور حدیث نقل کی ہےجس میں حضور نے فرمایا ہے:۔
جب کسی شخص نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا پھر اس کو جدید مہر دے کر اس سے نکاح کیا تو اس کے لیے دو اجر ہوں گے۔
خود آنحضرت نے حضرت صفیه اور جویریه کے ساتھ اسی طرح نکاح کیا ہے کہ پہلے ان کو آزاد یا پھر قید نکاح میں لائے۔ اس باب میں روایات مختلف ہیں کہ آپ نےجدید مہر ادا کیا تھا یا آزادی ہی کو مہر قرار دیا؟ لیکن اغلب یہ ہے کہ آپ نے جواز کی دونوں صورتیں ظاہر کرنے کے لیے دونوں طریقوں پر عمل فرمایا ہے۔ کسی کو جدید مہر دیا ہے اور کسی کی آزادی ہی کو مہر قرار دیا ہے - (١)
رہی پہلی شکل یعنی حق ملکیت کی بنا پر جمع کرنا تو وہ بھی جائز ہے اس لیے کہ قرآن مجید میں ملک یمین کی بنا پر تمتع کی صریح اجازت دی گئی ہے اور اس کے ساتھ کوئی شرط یا قید نہیں لگائی گئی ہے۔ اس میں بظاہر جو کراہت نظر آتی ہے وہ محض ایک وہمی کراہت ہے۔ چونکہ طبیعتیں نکاح کے عام اور معروف طریقے کی خوگر ہو چکی ہیں اس لیے لوگ سمجھتےہیں کہ عورت اور مرد کا صرف وہی تعلق جائز ہے جس میں قاضی صاحب آئیں، دو گواہ ہوں ایجاب و قبول ہو خطبہ نکاح پڑھا جائے۔ اس کے سوا جو صورت ہے وہ محض شہوت رانی ہے۔ لیکن اسلام کوئی رسمی (Coventional) مذہب نہیں بلکہ ایک عقلی (Rational) مذہب ہے۔ وہ رسم کو نہیں حقیقت کو دیکھتا ہے۔ نکاح سے ایک عورت جو ایک مرد کے لیے حلال ہوتی ہے تو آخری اسی بناء پر تو حلال ہوتی ہے کہ اللہ کے قانون نے اس کو حلال کیا ہے۔ اسی طرح اگر ملک یمین کی بنا پر اللہ کا قانون اس کو حلال کرے تو اس میں کراہت کی کون سی بات ہے؟ نکاح کا مقصد انسان کے جذبہ شہوت رانی کو ایک حد کے اندر محمد ود کرنا اور ایک ضابطہ سے منضبط کرنا اور مردوزن کے تعلق کو ایک باقاعدہ حمدانی تعلق کی صورت میں قائم کرنا ہے۔ اس لیے اعلان کی شرط لگائی گئی ہے کہ سوسائٹی میں یہ امر معلوم و مشتہر ہو جائے کہ فلاں عورت فلاں مرد کے لیے مختص ہو چکی ہے اس کے بطن سے جو اولاد ہو گی وہ فلاں شخص کی ہوگی، اور اس عورت کے ساتھ کسی دوسرے شخص کا زوجی تعلق نہ ہوگا۔ یہ سب اغراض ملک یمین سے بھی پوری ہو سکتی ہیں۔ سوسائٹی میں یہ امر معلوم و مشتہر ہوتا ہے کہ فلاں لونڈی فلاں شخص کی مملوکہ ہے ۔ کسی دوسرے شخص کے لیے اس لونڈی سے زوجی تعلق پیدا کرنا جائز نہیں ہوتا جب تک کہ مالک اپنی رضامندی سے اس کو نکاح میں نہ دےدے۔ لہذا ایک عورت کا مرد کے لیے مخصوص ہونا اس صورت میں بھی ویسا ہی قطعیت اور شہرت کے ساتھ واقع ہوتا ہے جس طرح کہ نکاح کی صورت میں ہوا کرتا ہے۔ مالک کےتصرف میں آجانے کے بعد ایک عورت اگر صاحب اولاد ہو جائے تو وہ اس خاندان کی ایک فرد بن جاتی ہے۔ اس کو اتم والد کہا جاتا ہے۔ مالک کی وفات کے بعد وہ آپ سےآپ آزاد ہو جاتی ہے۔ اس کی اولاد جائز بھی جاتی ہے اور اپنے باپ سے شرعی ورثہ پاتی ہے۔ پھر کیا یہ نکاح کی طرح باقاعدہ زوجی تعلق نہیں ہے۔
١- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی حیات طیبہ کےاخیر زمانےمیں لونڈیوں کےساتھ نکاح کرنا خود اس بات کی دلیل ہےکہ آپ کا اصل مقصد اسلامی سوسائٹی میں لونڈیوں کےلیے عزت کی جگہ پیدا کرنا تھا۔ اور آپ خود اپنےعمل سےمسلمانوں کو یہ تعلیم دینا چاہتےتھےکہ انسانی برادری کے اس بد قسمت گروہ کے ساتھ ان کو ایسا سلوک کرنا چاہیےمگر دشمنان اسلام کی بدطینتی نےآپ کےاس انتہائی شریفانہ فعل کو بھی نفسانیت پر محمول کر کے چھوڑا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان عیب چینی پر اتر آئے تو دُنیا کا کوئی نیک سےنیک فعل بھی ایسا نہیں جس میں وہ بدنی کا پہلو نہ نکال سکتا ہو۔
ہاں اس طریقہ میں ایک کراہت ضرور ہے مگر وہ ایک دوسرے پہلو سے ہے۔ملک یمین کی بنا پر جس لونڈی سے نکاح کیے بغیر تمتع کیا جاتا ہے وہ اصلا لونڈی ہی رہتی ہے۔ اُس کو محصنات کے برابر مرتبہ حاصل نہیں ہوتا اور اس کی اولاد پر بھی پرستار زادگی کا داغ رہتا ہے۔ اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فضیلت اس طریقے کو دی ہے کہ پہلےاس کو آزاد کر کے شریف عورتوں کے مرتبہ میں لے آؤ پھر اُس سے بطریق معروف نکاح کرو تا کہ اُس میں عزت نفس کا وہ احساس پیدا ہو جائے جو شریف عورتوں میں ہوتا ہے اور وہ مساویانہ حیثیت سے تمھاری سوسائٹی میں داخل ہو جائے اور اس پر لونڈی بن کا اور اس کی اولاد پر پرستار زادگی کا داغ نہ رہے۔
آپ آپ کے صرف دو سوالوں کا جواب باقی ہے۔ ایک یہ کہ اگر مرد کو ملک یمین کی بناء پر تمتع کا حق حاصل ہے تو عورت کو یہ حق حاصل کیوں نہیں؟ دُوسرے یہ کہ اگر غیر مسلم محار بین مسلمان عورتوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں تو ہم کو اس پر احتجاج کا کیا حق ہے؟ ذیل میں ان دونوں کا جواب علی الترتیب دیا جاتا ہے۔
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں ملک یمین کی بنا پر تمتع کا حق صرف مردوں ہی کو دیا گیا ہے، عورتوں کو نہیں دیا گیا ۔ والذِيْنَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَفِظُونَ - إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمُ (مومنون: (۶۵) اسی طرح دوسری تمام آیات میں بھی خطاب صرف مردوں سے ہے۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ زوجی تعلق کے معاملہ میں عورت اور مرد کے درمیان ہمیشہ سے انسان نے امتیاز کیا ہے اور یہ امتیاز خود اس کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے عورت میں عصمت کا احساس مرد سے زیادہ ہوتا ہے۔عورت سےباعصمت رہنے کی توقع بھی مرد کی بہ نسبت زیادہ کی جاتی ہےاگر مرد بخش کاری کا مرتکب ہو تو اس کو اتنی بری نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا جس سےعورت کی فاحشہ گری کو دیکھا جاتا ہے۔ عورت کی قدر و قیمت ازالہ بکارت کے بعد آدھی رہ جاتی ہے، مگر مرد دس بیویاں بھی کر چکا ہو تو اس کی قدر و قیمت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ عورت اگر کسی غیر قوم کے مرد کے پاس چلی جاتی ہے تو اس کی ساری قوم اس کو اپنے لیے بےعزتی سمجھتی ہے۔ لیکن مرد کا غیر قوم کی عورت سےتعلق پیدا کرنا کچھ زیادہ معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ یہ انسانی فطرت ہے اور اس کو اسلام نے ایک حد خاص تک طوظ رکھا ہے۔مگر جب یہ چیز جہالت کی حد تک پہنچ جاتی ہےتو وہ اس کو پامال کرنےمیں بھی تامل نہیں کرتا۔مثلاً اسلام مردوں کو کتابیہ عورتوں سےنکاح کی اجازت دیتا ہے مگر عورتوں کو اہل کتاب سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہاں تک اس نےانسانی فطرت کا لحاظ کیا ہےلیکن اگر یہودی یا نصرانی مسلمان ہو جائےتو اسلام بلا تامل اس کےساتھ نکاح کرنےکی هر مسلمان عورت کو اجازت دیتا ہے خواہ وہ کیسے ہی شریف گھرانے کی ہو ۔ محض نو مسلم ہونے کی بنا پر اس سے نکاح کو مکروہ سمجھنا اسلام کی نگاہ میں خود مکروہ ہے۔ اس قاعدے کو اگر آپ سمجھ لیں تو یہ بات آپ کی سمجھ میں بآسانی آسکتی ہےکہ اسلام عورت کو اپنےغلام سےتمتع کی اجازت کیوں نہیں دیتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایسا کیا جائےتو معاشرے میں ایسی عورت کی قدر و قیمت گھٹ جائےاور اس کےبعد اگر وہ اس غلام سے قطع تعلق کر کےکسی شخص سےنکاح کرنا چاہے تو اُمید نہیں کی جاسکتی کہ اُس کےکفو میں کوئی مرد اس کو قبول کرے گا۔ یہی نہیں بلکہ اگر عورت اپنے غلام سے تمتع کرے تو خود اپنے خاندان میں اس کا مرتبہ گھٹ جانے کا اندیشہ ہے۔اس لیے کہ عورت کو عائلی زندگی میں جو وزن حاصل ہوتا ہے وہ اس کے شوہر کی بدولت ہوا کرتا ہے اور یہاں شوہر خود غلام ہےجس کو آزاد مرد کا سا مرتبہ حاصل نہیں۔اس حد تک اسلام نےفطرت انسانی کی رعایت ملحوظ رکھی ہےلیکن اگر کوئی غلام آزاد کر دیا گیا ہو تو شریف سےشریف خاندان کی عورت کا بھی اس سےنکاح ہو سکتا ہے۔ حتی کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی زاد بہن کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام سے کیا۔
١- اس کے طبعی و نفسیاتی وجوہ پر بحث کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔ جو لوگ اس کو سمجھنا چاہتےہوں وہ ہماری کتاب "پردہ" میں " قوانین فطرت کا باب بغور مطالعہ فرمائیں۔
عورت کو غلام سے تمتع کی اجازت نہ دینے کی دوسری اور زیادہ اہم وجہ یہ ہےکہ ملک یمین مرد کے لیے تو بھولہ نکاح ہو سکتا ہےمگر عورت کے لیے نہیں ہو سکتا۔اسلام نےخانگی زندگی کے لیے جو قانون مقرر کیا ہے اس کا اصل الاصول یہ ہے کہ مرد کو عورت پر قوام ہونا چاہیے۔اسی لیے عورت کا مہر مرد پر واجب کیا گیا ہےاور عورت پر مرد کو اقتدار کا ایک درجہ دیا گیا ہے تا کہ وہ عورت کی خبر گیری اور حفاظت کرنےاور اپنے گھر میں وہ حاکمانہ قوت استعمال کر سکےجو خانگی زندگی کےنظام کو درست رکھنے کےلیےضروری ہے۔ یہ مصلحت عظمی غلام سے تمتع کرنے کی صورت میں فوت ہو جاتی ہےاپنےغلام سے کسی عورت کا تعلق شہوت رانی کی غرض تو پوری کر سکتا ہے مگر اسلامی نظام تمدن کے اندر ان دوسری اغراض کو پورا نہیں کر سکتا جن کو شریعت نے عورت اور مرد کے ازدواجی تعلق میں ملحوظ رکھنا ضروری سمجھا ہےکیونکہ اس صورت میں مرد غلام ہونےکی حیثیت سےعورت کا تابع فرمان ہوگا اور اسےگھر میں وہ اقتدار حاصل نہ ہو سکےگا جو اخلاق و معاملات کی نگرانی کےلیےاور خاندانی نظام کو درست رکھنے کے لیے مرد ہونے کی حیثیت سے اُسے حاصل ہونا چاہیے۔
رہا آپ کا آخری سوال تو ایسا معلوم ہوتا ہےکہ یہ سوال کرتے وقت آپ نے یہ فرض کر لیا تھا کہ دشمن کے قبضے میں جو مسلمان عورتیں جاتی ہوں گی ان کو تو وہ بالکل گھر کی بیٹیاں بنا کر رکھتے ہوں گے ۔ کیا واقعی آپ کا یہ مفروضہ صحیح ہے؟ اور آپ کا یہ کہنا کہ اس پر ہمیں احتجاج کا کیا حق ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہےکہ ہم عورتوں ہی کو نہیں مردوں کو بھی غلام بنا کر رکھنا نہ چاہتے تھے ۔ اگر دشمن اسیران جنگ کے تبادلے پر راضی ہوتے تو ہم ان کے ایک مرد یا عورت کو بھی اپنے پاس غلام بنا کر رکھنے پر اصرار نہ کرتے ۔ لہذا اگر صدیوں تک دُنیا میں غلامی کا رواج رہا اور ایک قوم کی شریف عورتیں لونڈیاں بن بن کر دوسری قوموں کے تصرف میں آتی رہیں تو یہ ہمارے کسی قصور کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کے ذمےدار وہ لوگ تھے جو صدیوں تک اسیران جنگ کے بارے میں کسی مهذب اور معقول رویےکو اختیار کرنے پر راضی نہ ہوئے۔
"اسلامی شریعت میں نکاح کےلیےتو چار کی حد مقرر ہے کہ ایک وقت میں آدمی چار بیویوں سے زیادہ نہیں رکھ سکتا،لیکن لونڈیوں کے لیے کوئی حد سرے سے رکھی ہی نہیں گئی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہےکہ اس اجازت نےچار کی حد مقرر کرنےکےسارے فوائد کو باطل کر دیا۔اس نےخوش حال لوگوں کےلیےبے تحا شا عیاشی کا دروازہ کھول دیا۔امراء ورؤسا کےلیےیہ گنجائش نکال دی کہ بےشمار عورتوں کو خرید خرید کر گھروں میں ڈال لیں اور خوب داد عیش دیں۔ یہ محض مفروضہ ہی نہیں ہےبلکہ مسلمانوں کی پچھلی تاریخ میں عملا یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ کیا آپ اس کی کوئی معقول تو جیہ کر سکتے ہیں؟“
آپ کےسوال کا مختصر جواب یہ ہےکہ لونڈیوں سے تمتع کی اجازت جن اہم تمدنی مصالح کی بنا پر دی گئی ہے۔ وہ تعداد کےتعین سےفوت ہو جاتےہیں۔اس امر کا تعین نہیں کیا جا سکتا کہ کسی زمانےاور کس لڑائی میں کتنی عورتیں سہایا کی حیثیت سےدار الاسلام میں آئیں گی اور ایک خاص وقت میں مسلمان آبادی کے اندر سبایا کا تناسب کس قدر ہوگا۔اب اگر تمتع کی اجازت دینےکا مقصد ہی عورتوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے تمدنی مخطرات کا سد باب تھا،تو آپ خود غور کیجیےکہ اضافہ کی مقدار متعین نہ ہونےکی صورت میں جمع کی حد کا تعین آخر کس طرح کیا جا سکتا تھا۔ جس حکیم نےیہ قانون بنایا ہے وہ ایک چشم نہیں ہےکہ ایک وقت میں معاملہ کے ایک ہی رُخ کو دیکھ سکتا ہو ۔اس کی حاوی نگاہ بیک وقت تمام پہلوؤں پر پڑتی ہے۔اسی لیےاس سے وضع قانون میں وہ بے اعتدالی صادر نہیں ہوئی جس کے صادر نہ ہونے کی شکایت انسان نے اکثر اس سے کی ہے۔
رہا آپ کا یہ شبہ کہ لونڈیوں کی ان گنت تعداد سے تمتع کرنے کی اجازت جنسی آوارگی کا دروازہ کھولتی ہے۔ اور یہ کہ لونڈیوں کے قابل بیچ وشرا ہونے کی وجہ سےاس کا امکان ہے کہ مال دار لوگ لونڈیاں خرید خرید کر عورتوں کا ایک پورا بیڑہ فراہم کر لیں اور اپنے گھروں کو عیاشی کا اڈہ بنا کر رکھ دیں تو یہ اور اس نوعیت کےاکثر شبہات عموماً اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ معاملہ کا ایک ہی پہلو نگاہ کے سامنے ہوتا ہے اور دوسرے پہلو چھپےرہتے ہیں۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے کہ شارع نے اپنا قانون انسان کی بھلائی کےلیے بنایا ہے اور اس قانون میں جو سہولتیں اور گنجائش رکھی ہیں وہ ان حقیقی ضرورتوں کےلیے رکھی ہیں جو عموما انسان کو پیش آتی ہیں یا پیش آ سکتی ہیں۔ اگر بعض لوگ ان گنجائشوں سے اس قسم کے غلط فائدے اٹھاتے ہیں جن کے لیے دراصل شارع نے یہ گنجائشیں نہیں رکھی تھیں، تو یہ اُن کی اپنی نافہمی ہے یا شرارت نفس ۔ لیکن اس قسم کی انفرادی غلطیوں کے امکان یا وقوع سے ڈر کر قانون میں ایسی تنگی پیدا کرنا جس سے عام لوگوں کی قیقی ضرورتیں پوری ہونے میں مشکلات واقع ہوں، کسی حکیم کا کام نہیں ہو سکتا۔
شارع نے لونڈیوں کی غیر محدود تعداد سے تمتع کی اجازت اس لیے نہیں دی تھی کہ ایک ایک مسلمان اپنے گھر میں راجہ اندر بن جائے اور بے شمار عورتوں کے جھرمٹ میں بس رات دن دار عیش ہی دیتا ر ہے۔ بلکہ در اصل مقصد یہ تھا کہ اگر کبھی غیر معمولی حالات پیش آجانے کی وجہ سے سوسائٹی میں عورتوں کی تعداد یکا یک بہت بڑھ جائے تو اس کو آسانی کے ساتھ جذب کیا جا سکے اور اس کی بدولت اخلاقی مفاسد نہ پھیلنے پائیں۔ اس غرض کےلیے کئی صورتیں رکھی گئیں ۔ مثلاً یہ کہ لونڈیوں کے نکاح غلاموں سے کر دیے جائیں۔لونڈیوں کے نکاح کم استطاعت مردوں سے کر دیے جائیں۔ لونڈیوں کو آزاد کر کے خود مالک ان سے نکاح کر لیں۔ جن لوگوں کے پاس لونڈیاں ہوں وہ خود آزاد کیے بغیر ہی ان سے تمتع کریں۔
اسی طرح لونڈیوں کی بیع و شراء کو جائز کرنے کا مقصد بھی یہ نہیں تھا کہ آوارہ مزاج لوگ محض عیاشی کی خاطر بہت سی لونڈیاں خرید خرید کر جمع کر لیا کریں،اور جب دل بھر جائےتو انھیں بیچ کر دوسرا بیڑا بھرتی کر لیں۔بلکہ در اصل یہ سہولت ان ضرورتوں کو مد نظر رکھ کردی گئی تھی جو عموماً انسان کو پیش آتی ہیں مثلاً ایک شخص مفلس ہو گیا ہے اور لونڈی غلام رکھنےکی استطاعت اس میں نہیں رہی ہے۔ یا اس کے پاس ضرورت سےزائد لونڈی غلام جمع ہو گئے ہیں ۔یا ان میں سے کسی کو وہ پسند نہیں کرتا۔ کیا ان حقیقی ضرورتوں کو نظر انداز کر کےمحض اس خوف سےلونڈیوں اور غلاموں کی خرید و فروخت ممنوع کر دی جاتی کہ بعض لوگ اس قانونی حق سےناجائز فائدہ اُٹھا ئیں گے؟ایسی برائیوں کےامکانات تو خود نکاح و طلاق کےقانون میں بھی ہیں۔اگر کوئی شریر آدمی" جائز زنا کاری پر اُتر آئےتو وہ روز ایک نئی عورت سےچند روپوں پر نکاح کر سکتا ہےاور دوسرے دن اسے طلاق دے کر کسی دوسری عورت کو تلاش کر سکتا ہے۔ پھر کیا ایسی انفرادی شرارتوں کے خوف سے یہ صحیح ہوگا کہ طلاق اور نکاح کے قانون میں ایسی بندشیں بڑھا دی جائیں جن سے عام لوگوں کی زندگی تنگ ہو جائے ۔
(١) "کیا نظام شریعت میں جنگ کےقیدیوں کو غلام اور لونڈی بنانے کی اجازت ہوگی؟ کیا ان غلاموں اور لونڈیوں کو فروخت کرنے کا بھی حق حاصل ہوگا؟ کیا ان لونڈیوں سے بیویوں کےعلاوہ تمتع جائز ہوگا اور اس پر تعداد کی کوئی قید نہ ہوگی ؟
(۲) کیا اس نظامِ شریعت میں لونڈی وغلام کی خرید وفروخت (علاوہ ان لونڈی و غلام کے جو جنگی قیدی ہوں ) بھی پاکستان کے اندر جائز ہوگی جس طرح آج کل حجاز میں بردہ فروشی ہوتی ہے؟
نظام شریعت میں جنگی قیدیوں کو لونڈی غلام بنانے کی اجازت ایسی حالت میں دی گئی ہے جب کہ وہ قوم جس سے ہماری جنگ ہو نہ قیدیوں کے تبادلے پر راضی ہوا نہ فدیہ لے کر ہمارے قیدی چھوڑے اور نہ فدیہ دے کر اپنے قیدی چھڑائے۔ آپ خود غور کریں تو سمجھ سکتےہیں کہ اس صورت میں جو قیدی کسی حکومت کے پاس رہ جائیں وہ یا تو انھیں قتل کرے گی یا انھیں عمر بھر اس قسم کے انسانی باڑوں میں رکھے گی۔ جنھیں آج کل (Concentration Camps) کہا جاتا ہے۔اور کسی قسم کے انسانی حقوق دیے بغیر ان سےجبری محنت لیتی رہے گی۔ظاہر ہےکہ یہ صورت بے رحمانہ بھی ہےاور خود اس ملک کےلیےبھی کچھ بہت مفید نہیں ہے جس میں اس طرح کے قیدیوں کی ایک بڑی تعداد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک خارجی عصر کی حیثیت سے موجود رہے۔ اسلام نے ایسےحالات کےلیے جو شکل اختیار کی ہے وہ یہ ہے کہ ان قیدیوں کو فرداً فرداً مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے اور ان کی ایک قانونی حیثیت مشخص کر دی جائے مگر اس طرح جو انفرادی رابطہ ایک ایک قیدی کو ایک ایک مسلم خاندان سے پیدا ہوگا اس میں اس امر کا امکان زیادہ ہے کہ ان سےانسانیت اور شرافت کا برتاؤ ہو اور ان کا ایک اچھا خاصا حصہ بتدریج مسلمانوں کی سوسائٹی میں جذب ہو جائے۔
جن مسلمانوں کو ایسے اسیران جنگ پر حقوق ملکیت حاصل ہوتے ہیں، اُن کے لیےشریعت نے یہ ضابطہ مقرر کیا ہے کہ اگر کوئی لونڈی یا غلام اپنے مالک سے درخواست کرےکہ میں محنت مزدوری کر کے اپنے فدیہ کی رقم فراہم کرنا چاہتا ہوں، تو مالک اس کی درخواست کو رڈ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اسے از روئے قانون ایک خاص مدت تک کےلیے اس مهلت دینی اور میں اگر وہ رقم ادا تو کر لیے اس کو مہلت دینی ہوگی اور اس مدت میں اگر وہ فدیہ کی رقم ادا کرے تو اسے آزاد کر دینا پڑے گا (١)
اس قسم کےلونڈی غلاموں کو بیچنےکی اجازت در اصل اس معنی میں ہےکہ ایک شخص کو اُن سےفدیہ وصول کرنےاور فدیہ وصول نہ ہونےتک ان سےخدمت لینےکا جو حق حاصل ہےاس کو وہ معاوضہ لے کر دوسرے شخص کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ قانون میں یہ گنجائش جس مصلحت سے رکھی گئی ہے اس کو آپ پوری طرح اُسی صورت میں سمجھ سکتےہیں جبکہ دشمن فوج کےکسی سپاہی کو بطور قیدی رکھنےکا آپ کو اتفاق ہوا ہو۔ فوجی سپاہیوں سےخدمت لینا کوئی آسان کام نہیں ہے اور اسی طرح دشمن قوم کی کسی عورت کو گھر میں رکھنا بھی کوئی کھیل نہیں ہے، اگر کسی شخص کے لیے یہ گنجائش نہ چھوڑی جاتی کہ جس قیدی مرد یا عورت سےدو عہدہ برآ نہ ہو سکےاس کےحقوق ملکیت کسی دوسرےکی طرف منتقل کر دےتو یہ لوگ جس کے بھی حوالے کیے جاتے اس کے حق میں بلائے جان بن جاتے ۔
١- سورۃ نور رکوع ۴ میں ہے: وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَبَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُؤُهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خيرا (۳۳)
جنگ میں گرفتار ہونے والی عورتوں کے لیے (جبکہ نہ ان کا تبادلہ ہو اور نہ فدیہ کا معاملہ ہی ملے ہو سکے ) اس سے بہتر حل اور کیا ہو سکتا ہے کہ جو عورت حکومت کی طرف سےجس شخص کی ملکیت میں دی جائے اُس کے ساتھ اُس شخص کو جنسی تعلقات قائم کرنے کا قانونی حق دے دیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو یہ عورتیں ملک میں بداخلاقی پھیلنے کا ایک مستقل ذریعه بن جاتیں۔ قانونی حیثیت سے ملک یمین اور عقد نکاح میں کوئی خاص فرق نہیں ہے بلکہ اس صورت میں تو خود حکومت با قاعدہ طریقہ سے ایک عورت کو ایک مرد کے حوالے کرتی ہے۔ پھر جو معاشرتی حیثیت ان عورتوں کو شریعت میں دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کسی شخص کی ملک یمین میں جانے کے بعد اس عورت کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو جنسی تعلق رکھنے کا حق نہیں ہوتا۔ جو اولاد اس سے ہو اس کا نسب اُس شخص سے ثابت ہوتا ہےاور وہ اپنے باپ کی اسی طرح جائز وارث ہوتی ہے جس طرح کسی آزاد بیوی کی اولاد۔جس لونڈی سے اولاد ہو جائے اسے بیچنے کا مالک کو حق نہیں رہتا اور مالک کے مرنے کےبعد وہ خود بخود آزاد ہو جاتی ہے۔
لونڈیوں سے تمتع کے لیے تعداد کی قید اس لیے نہیں لگائی گئی کہ اُن عورتوں کی تعداد کا کوئی تعمین ممکن نہیں ہے جو کسی جنگ میں گرفتار ہو کر آ سکتی ہیں ۔ بالفرض اگر ایسی عورتوں کی بہت بڑی تعداد جمع ہو جائے تو سوسائٹی میں انھیں کھپانے کی کیا تدبیر ہو سکتی ہے جب کہ لونڈیوں سے تمتع کے لیے تعداد کا تعین پہلے ہی کر دیا گیا ہو؟
بعد کے زمانوں میں امراء و ر و سانےاس قانونی گنجائش کو جس طرح عیاشی کا حیلہ بنا لیا وہ ظاہر ہے کہ شریعت کے منشاء کے بالکل خلاف تھا۔ کوئی رئیس اگر عیاشی کرنا چاہےاور قانون کے منشاء کے خلاف قانون کی گنجائشوں سے فائدہ اٹھانے پر اتر آئے تو نکاح کا ضابطہ ہی کب اس کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہے۔ وہ روز ایک نئی عورت سے نکاح کر سکتا ہے اور دُوسرے دن اسے طلاق دے سکتا ہے۔
حجاز میں جو بردہ فروشی آج کل ہوتی ہے اس کی تفصیل مجھے نہیں معلوم ۔ لیکن اصولی طور پر میں یہ عرض کر سکتا ہوں کہ جنگ کے سوا کسی طریقے سے آزاد انسانوں کو پکڑنا اور ان کی خرید وفروخت کرنا شریعت میں حرام ہے (١)
١- غلامی کےمسئلے پر مزید تفصیل کےلیےملاحظہ ہو ہماری کتاب "رسائل و مسائل“اور ”تفہیم القرآن“ جلد اول ۔
(١) کیا یہ امر واقعہ ہے کہ امام اعظم یعنی امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ اجتہاد تھا کہ نماز عجمی زبان میں پڑھنا جائز ہے؟ اگر ایسا تھا تو کیا علماء دین امام صاحب کے اس اجتہاد پر از سر نو غور فرما کر نماز کے کسی عجمی زبان میں پڑھے جانے کی بابت جواز یا عدم جواز کا فتویٰ صادر فرمائیں گے؟
(۲) آیت کریمہ "لا تقربوا الصلوة وانتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون (النساء: ۴۳) میں بحالت شکر نماز پڑھنے کی نہی فرمائی گئی ہے اور اس کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ ایسی حالت میں انسان جو کچھ کہتا ہے اس کو سمجھتا نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ نماز کی صحت کے لیے ایک ضروری شرط یہ ہے کہ نماز میں جو کچھ پڑھا جائے اس کو پڑھنے والا سمجھے بھی ۔ اس لیے اگر کوئی شخص اپنی مادری زبان میں فریضہ نماز کو ادا کرتا ہے اور جو کچھ وہ اس نماز میں پڑھتا ہے اس کے ایک ایک لفظ کو سمجھتا ہے تو کون سی وجہ ہے کہ اس کی ایسی نماز جائز اور مقبول نہ ہو؟
١- یہ معلوم کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ یہ مستفتی وہی خان بہادر تھے جن سے ”حضرت یوسف اور غیر اسلامی حکومت کی رکنیت کے مسئلے پر ہماری بحث پچھلے صفحات میں گزر چکی ہے۔
(۳) آیا علماء کرام کے نزدیک عیدین اور جمعہ کا خطبہ مخاطبین کی مادری زبان میں دیا جانا جائز ہےیا نہیں؟ اگر نا جائز ہے تو کیوں؟ کہا جائے گا کہ عیدین اور جمعہ کا خطبہ عربی کے سوا کسی دوسری زبان میں دیا جانا سنت نبوی کے خلاف ہے اس لیے ناجائز ہے۔ لیکن سنت نبوی یہ تھی کہ ایسےخطبےکے دوران میں جو کچھ حضور پر نور کی زبان فیض ترجمان سے نکلے اس کو سامعین سنیں اور سمجھیں اور اس میں جو کچھ اوامر و نواہی ہوں ان پرکار بند ہونےکی کوشش کریں اور جو کچھ حکم اور نصائح ہوں ان سےسبق آموز ہوں۔وہ صورت جس میں سامعین میں سے ۹۹ فی صدی خطبہ کا ایک لفظ بھی نہ سمجھ سکتےہوں وہ ان اوامر و نواہی سے جو خطبہ میں بیان کیے جائیں کیونکر کسی قسم کا استفادہ حاصل کر سکتے ہیں ۔ اور ایسا خطبہ کیونکر سنت نبوی کے مطابق قرار دیا جا سکتا ہے؟
عیدین اور جمعہ کے خطبہ کو عربی زبان تک محدود رکھنے سے جو مواقع شارع اسلام نے اوامر و نواہی شرعیہ کی اشاعت کےکافتہ المسلمین کےلیےپیدا فرمائےہیں ان کا سد باب ہوتا ہےیا نہیں اور خطیب کا خطبہ ایسی صورت میں ایک فعل عبث ہو جاتا ہے یا نہیں جبکہ اس کےمفہوم کو سامعین میں سے کوئی یا اکثر نہیں سمجھتے۔
یہ میں جانتا ہوں کہ بعض لوگ جمعہ اور عیدین کے خطبوں میں علمی کی اُردو کی نظمیں پڑھتے ہیں۔ مگر میرا یہ خیال ہے کہ ان کا یہ عمل علماء کے مفتی بہ طریقے کے خلاف ہے۔ اس لیے اس کی ضرورت ہے کہ علماء اس مسئلہ کے متعلق خاص طور پر توجہ فرما کر اپنا فتویٰ عوام کےفائدے کے لیے صادر فرمائیں۔
یہ در حقیقت ایک استفتاء ہے جس کے اصل مخاطب علماء کرام ہیں ۔راقم سطور کو نہ منصب افتاد حاصل ہے نہ وہ اس کا اہل ہےکہ مسائلِ شرعیہ میں فتویٰ دینےکی ذمہ داری اُٹھا سکے۔مگر سائل محترم نے حسن ظن سے کام لےکر اس سےبھی خواہش کی ہےکہ اپنی تحقیق بیان کرےلهذا مختصر طور پر مندرجہ بالا سوالات کے متعلق احکام شریعت کی توضیح کی جاتی ہے۔اس توضیح کی حیثیت ہرگز کسی فتوے کی نہیں ہے۔ بلکہ یہ صرف اس غرض کےلیے ہے کہ حضرات علماء ان معروضات پر غور فرمائیں اور اگر مینی بر صواب پائیں تو قبول کرلیں۔
١- یہ امر مسلم ہےکہ شریعت حقہ کی بنیاد حکمت اور مصلحت پر قائم ہے۔شارع حکیم نےکوئی حکم بھی بے معنی اور بے مقصد نہیں دیا ہے۔ نہ کسی حکم کو بجا لانے کا طریقہ مقرر کرنے میں کہیں حکمت و مصلحت کو نظر انداز کیا ہے۔ جب یہ مسلم ہے تو لامحالہ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ شریعت کا صحیح اتباع تفقہ کے بغیر نہیں ہو سکتا۔جو شخص یہ نہیں جانتا کہ کسی کام کا حکم دینے یا کسی فعل سے منع کرنے میں شارع کے پیش نظر کون سا مقصد یا کون سی مصلحت ہے اور جو شخص یہ نہیں سمجھتا کہ کسی حکم کی بجا آوری کے لیے شارع نےجو عملی صورت مقرر کی ہے۔اس خاص صورت میں کیا حکمت مد نظر ہےاور اصل مقصد کی تحصیل میں کون کون سا جزئیہ کس کس طرح مددکار ہوتا ہےاس کےلیےزندگی کےمختلف احوال میں شریعت کا صحیح اتباع کرنا بہت مشکل بلکہ تقریباً محال ہو گا۔ اُس کے پاس شریعت کا صرف جسم ہو گا اس کی روح نہ ہوگی ۔ وہ محض استخواں کا مالک ہوگا، مغز کو نہ پاسکےگا۔ بعض حالات میں نہیں بلکہ اکثر حالات میں وہ اس طرح عمل کرےگا کہ بظاہر تو وہ شارع کےاحکام کی پیروی ہوگی،مگر در حقیقت شارع کےاصلی مقاصد فوت ہو جائیں گے کیونکہ اس کی نگاہ احکام کی مجرد عملی صورتوں اور ان کے جزئیات پر ہوگی۔ ان احکام میں جو مصالح اور مقاصد پوشیدہ ہیں وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہی رہیں گے پھر کس طرح وہ مقاصد و مصالح کےلحاظ سے جزئیات میں تغییر و تبدل کر سکے گا۔
یہ حقیقت یقیناً نا قابل انکار ہےکہ شارع نے غایت درجہ کی حکمت اور کمال درجہ کےعلم سےکام لےکر اپنے احکام کی بجا آوری کےلیےزیادہ تر ایسی ہی صورتیں تجویز کی ہیں جو تمام زمانوں اور تمام مقامات اور تمام حالات میں اس کے مقاصد کو پورا کرتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بکثرت جزئیات ایسے بھی ہیں جن میں تغیر حالات کے لحاظ سے احکام میں تغیر ہونا ضروری ہے ۔ جو حالات عہدِ رسالت اور عہد صحابہ میں عرب اور دنیائے اسلام کےتھےلازم نہیں کہ بعینہ وہی حالات ہر زمانے اور ہر ملک کے ہوں۔لہذا احکام اسلامی پر عمل کرنے کی جو صورتیں اُن حالات میں اختیار کی گئی تھیں، ان کو ہو بہو تمام زمانوں اور تمام حالات میں قائم رکھنا اور مصالح و حکم کےلحاظ سے ان کےجزئیات میں کسی قسم کا رد و بدل نہ کرنا ایک طرح کی رسم پرستی ہےجس کو روح اسلامی سے کوئی علاقہ نہیں۔ ایک موٹی سی مثال لے لیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے سورج کی حرکت کے لحاظ سے اوقات مقرر فرمائے ہیں۔ اس لیے کہ عرب اور ربع مسکوں کے بیشتر حصوں کےلیے تعین اوقات کی ہی صورت مناسب ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص قطب شمالی کے قریب رہنےوالوں کے لیے بھی نمازوں کے اوقات معین کرنےمیں وہی سورج کے طلوع و غروب اور سایہ کے اُتار چڑھاؤ کا لحاظ کرے تو بظاہر یہ شارع کے منصوص احکام کی حرف بحرف پیروی ہو گی مگر درحقیقت اس سےشارع کا اصل مقصد فوت ہو جائےگا اور اس کا شمار خلاف ورزی احکام میں ہوگا۔ کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ ترک صلوٰۃ احکام میں اور اسقاط فرض ہے۔ پس معلوم ہوا کہ جزئیات میں دلالتہ النص اور اشارۃ النص تو در کنار صراحتہ النص کی پیروی بھی تفقہ کے بغیر درست نہیں ہوتی ۔ اور تفقہ کا اقتضا یہ ہے کہ انسان ہر مسئلہ میں شارع کے مقاصد و مصالح پر نظر رکھے اور انھی کے لحاظ سے جزئیات میں تغیر احوال کے ساتھ ایسا تغیر کرتا رہے جو شارع کے اصول تشریح پر مبنی اور اس کے طرز عمل سے اقرب ہو۔
٢ - مگر تفقہ کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انسان محض اپنی عقل و فہم کی پیروی کرنے لگے اور اس کے پیچھے پیچھے جدھر چاہے نکل جائے خواہ وہ حدودِ شریعت سے متجاوز ہی کیوں نہ ہو۔ اس قسم کی عقل وہ چیز نہیں ہے جس کو اسلام کی اصطلاح میں ”حق“ کہتے ہیں بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کو قرآن میں اتباع ہوئی کہا گیا ہے۔ ہوئی پرستی کی لازمی خصوصیت افراط پسندی ہے اور اسلامی تفقہ کی سب سے بڑی خصوصیت اعتدال اور توازن ہے۔ ہوئی پرست ہر معاملہ میں کسی ایک مصلحت یا ایک فائدے کا ایسا شیدائی بن جاتا ہے کہ اس کی خاطر دوسرےمصالح اور فوائد سے آنکھیں بند کر لیتا ہےاور کسی مصلحت کو اگر نظر انداز کرتا بھی ہے تو صرف اس صورت میں جب کہ کوئی عظیم تر مصلحت اس چھوٹی مصلحت کی قربانی چاہتی ہو۔ پھر مصلحت اور مضرت کے معیار میں بھی اسلامی تفقہ اور ہوا پرستی کے درمیان اختلاف ہے۔ ہوا پرست اسلام کے معیار پر نہیں بلکہ اپنے رجحان طبع کےمعیار پر مصلحت و مضرات کا تعین کرتا اور مصالح میں سے بعض کو اہم اور بعض کو غیر اہم قرار دیتا ہے۔ بخلاف اس کے اسلامی تفقہ کا مقتضا یہ ہے کہ آپ کی نظر اسلام کی نظر ہو ۔ آپ اس چیز کو مصلحت سمجھیں جسےاسلام مصلحت سمجھتا ہے۔ اور اس چیز کو مضرت سمجھیں جسے اسلام مضرت سمجھتا ہے۔اور مختلف مصالح اور مضرات کےدرجے مقرر کرنے میں وہی معیار مد نظر رکھیں جو اسلام کے پیش نظر ہےپس کسی کو یہ عالم ہی نہ ہونی چاہیےکہ مجرد عقل پرستی کا نام تفقہ ہےاور ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی عقل کی پیروی میں شریعت کے جس حکم کو چاہے بدل دے۔ ہرگز نہیں اور یقینا نہیں ۔ اسلامی تفقہ یہ نہیں ہے کہ آپ اپنی نگاہ میں جس چیز کو مصلحت سمجھتے ہیں اس کی خاطر ان بہت سی مصلحتوں کو قربان کر دیں جنھیں شارع نے اپنے احکام میں ملحوظ رکھا ہے۔ یا آپ بزعم خود جس معنرت کو اہم سمجھتے ہیں اس سےبچنےکے لیے ایسی بہت سی مغفرتوں کو قبول کر لیں جن سےشارع آپ کو بچانا چاہتے ہیں، بلکہ اسلامی تلقہ یہ ہےکہ آپ شارع کی تمام مصلحتوں کو سمجھنےکی کوشش کریں اور ان میں سے ایک ایک کو وہی اہمیت دیں جو خود شارع نے دی ہے اور جزئیات میں تغیر و تبدل اس طور پر کریں کہ شارع کے قائم کیے ہوئے توازن میں فرق نہ آنے پائے۔ یاد رکھیے کہ شارع کے تجویز کردہ طرز عمل میں تغیر صرف اسی صورت میں جائز ہو سکتا ہے جب کہ تغییر احوال کی بنا پر اس کی پیروی سے کوئی ایسی مصلحت فوت ہوتی ہو جو آپ کے شخصی رجحان کے لحاظ سے نہیں بلکہ خود شارع کے نقطۂ نظر سے اہم ہو ۔ پھر ایسی صورت میں بھی صرف اس حد تک جزئی تغیر کیا جا سکتا ہے کہ اس اہم تر شرعی مصلحت کی حفاظت کے ساتھ دوسری شرعی مصلحتوں کو نقصان نہ پہنچے یا اگر پہنچے بھی تو وہ ایسی مصلحتیں ہوں جو شارع کی نگاہ میں نسبتا زیادہ اہمیت نہ رکھتی ہوں۔
۴- نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تربیت یافتہ بزرگوں کے عمل سے احکام کے استنباط میں ایک قاعدہ کو محوظ رکھنا نہایت ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ شرعی عمل اور طبیعی یا عادی عمل میں فرق کیا جائے ۔ شرعی عمل سے مراد ایسا عمل ہے جو اس بنا پر اختیار کیا گیا ہو کہ شریعت کا منشا وہی خاص طرز عمل اختیار کرنے سے پورا ہوتا ہے۔ اور طبیعی یا عادی عمل سے وہ طرز عمل مراد ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کےصحابہ نے اپنےشخصی و طبیعی رجحان یا اپنے خاص زمانے اور ملک کے اجتماعی حالات کے اقتضاء سے اختیار کیا تھا۔ یہ دوسری قسم کا طرز عمل متعدد حیثیات سے ہمارے لیےسبق آموز اور موجب رشد و ہدایت ہو سکتا ہے مگر اس سے شرعی احکام کا استنباط درست نہیں ۔ دلیل شرعی صرف پہلی قسم ہی کا طرز عمل ہے۔ بعض معاملات میں ان دونوں کا فرق بالکل نمایاں ہوتا ہے، حتیٰ کہ ہر شخصی سرسری نظر میں اس کو سمجھ سکتا ہے۔مگر بعض امور میں یہ دونوں طرز عمل اس درجہ مخلوط ہوتےہیں کہ ان کےدرمیان فرق کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک قسم کےطرز عمل کو دوسری قسم کے طرز عمل کی حیثیت سے لینے اور اس سے غیر مناسب نتائج اخذ کرنے کی غلطی اکثر پیش آئی ہے اور بڑے بڑوں کو پیش آئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی وقت میں رسول بھی تھے ۔ ایک انسان بھی تھے ایک عرب بھی تھے ۔ ایک خاص زمانے اور خاص اجتماعی ماحول کے رہنے والے بھی تھے۔ آپ کے ہر فعل میں خواہ وہ دینی ہو یا ڈ نیوی' یہ سب حیثیتیں ایک ساتھ موجود تھیں۔ ان مختلف حیثیات کے مخلوط ہونے کی وجہ سے بسا اوقات یہ تمیز کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ کسی فعل میں کون سا حصہ آپ کی حیثیت رسالت سے تعلق رکھتا ہے تا کہ اُسےحجت شرعی بنایا جائے اور کون سا حصہ آپ کی دوسری حیثیات سے متعلق ہے جو محبت شرعی نہیں ہے۔ اس سے زیادہ اختلاط حیثیات صحابہ کرام کے افعال میں ہے۔ہمارے لیے ان کے عمل میں شرعی رہنمائی صرف اس حیثیت سے ہےکہ انھوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سےبلا واسطہ تربیت پائی ہےاور آپ سے احکامِ شریعت کا براہِ راست استفادہ کیا ہے۔ اس حیثیت کے علاوہ ان کی دوسری حیثیات جس قدر بھی ہیں وہ خواہ کتنی ہی اہمیت رکھتی ہوں، بہر حال کسی شرعی ہدایت کی حامل نہیں ۔اب ان کے افعال میں، خصوصاً دینی افعال میں یہ تمیز کرنا بسا اوقات بہت مشکل ہو جاتا ہےکہ کون سی چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی ہدایت سے ماخوذ ہےکون کی ان کی اپنی رائےاور اجتهاد پر مبنی ہے اور کون کی ان کے خاص شخصی اور زمانی و مکانی حالات سے تعلق رکھتی ہے۔ یہاں امتیاز کا ذریعہ ہمارے پاس صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن اور سنت کے وسیع اور غائر مطالعہ سے آدمی کے اندر جو اسلامی بصیرت پیدا ہوتی ہے اس سے وہ شرعی عمل اور طبیعی و عادی عمل کے باریک فرق کو محسوس کر سکتا ہے اور اس کا ذوق اس کو بتا دیتا ہے کہ کون سی چیز طبیعت اسلام سےتعلق رکھتی ہے اور کون سی اس سے غیر متعلق ہے کون سی چیز مصالح شرعیہ کی حامل ہے اور کون سی نہیں، کون سی چیز اسلامی سسٹم کا ایک جز ہےاور کون سی نہیں ۔اس باب میں اختلاف کی بھی کافی گنجائش ہےکیونکہ ایک شخص کا ذوق اور اس کی بصیرت لازماً دوسرے شخص کے ذوق اور بصیرت کے بالکل مطابق نہیں ہو سکتی اگرچہ ماخذ دونوں کا ایک ہی ہو۔لہذا کسی شخص کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ صرف وہی چیز " شرعی" ہےجس کو میری بصیرت "شرعی" کہہ رہی ہےاور دوسرے شخص کی بصیرت جس کو شرعی کہتی ہے وہ قطعاً و یقیناً غلط ہے۔
ان مقدمات کو ذہن نشین کر لینے کے بعد نماز اور خطبہ جمعہ کی زبان کے مسائل پر الگ الگ غور کیجیے۔ اس لیے کہ ان دونوں مسئلوں کی نوعیتیں باہم مختلف ہیں، اگرچہ بظاہر ایک نظر آتی ہیں۔
نماز کی زبان کے متعلق آج کل عام طور پر اسی آیت سےاستدلال کیا جاتا ہےجس کا حوالہ سوال میں دیا گیا ہے، یعنی لا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ (النساء : ۴۳) (نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ تا وقتیکہ تم یہ نہ جانو کہ کیا کہہ رہے ہو )۔لیکن در حقیقت اس آیت سےاستدلال درست نہیں ہےاللہ تعالیٰ نےحتى تَعْلَمُوا فرمایا ہے حَتَّى تَفْقَهُوا يا حَتَّى تَفْهَمُوا نہیں فرمایا ۔ علم اور فقہ وفہم میں جو باریک فرق ہے اس کو محوظ نہ رکھنے کی وجہ سے لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ دورانِ نماز میں ایک ایک لفظ اور ایک ایک فقرے کےمعنی و مفہوم کوسمجھنا اور ہر لفظ کےمعنی کی طرف ملتفت ربنا ضروری ہےاور جب تک یہ فہم اور الفتات حاصل نہ ہو نماز صحیح نہیں ہوتی۔حالانکہ یہ راہتہ غلط ہے۔ اگر ایک عربی نہ جانے والے کی نماز محض اس وجہ سےصحیح نہیں ہو سکتی کہ وہ نماز میں جو کچھ پڑھتا ہےاسےنہیں سمجھتا تو ایک عربی دان کی نماز بھی ایسی حالت میں درست نہ ہونی چاہیے جبکہ وہ مجھ سمجھ کر نہ پڑھ رہا ہو اول سے لے کر آخر تک پوری نماز میں ایک ایک لفظ کے معنی کی طرف ملتفت نہ ہو ۔ ایسی کڑی شرط کے ساتھ تو شاید مشکل ہی سے کوئی شخص روزانہ پانچوں وقت کی نمازیں صحیح ادا کر سکتا ہے۔ زندگی میں انسان پر ہر طرح کے حالات گزرتے ہیں۔ کبھی رنجیدہ ہوتا ہے کبھی متفکر ہوتا ہے کبھی کسی کام میں اس کا ذہن مشغول ہوتا ہے کبھی غیر محسوس طور پر خیالات اور وسوسے اس کے ذہن میں داخل ہو جاتے ہیں اور کافی دیر تک اس کو یہ شعور بھی نہیں ہوتا کہ میرا ذ ہن کہیں بھٹک گیا ہے۔ اگر نماز کے لیے یہ شرط ہو کہ ان سب دماغی و قلبی کیفیات سے بالکل خالی ہو کر انسان پورے شعور اور التفات کے ساتھ کھڑا ہو تو نماز ادا کرنا ہی مشکل ہو جائے گا۔
یہ وہ سختیاں ہیں جو انسان خود اپنی عقل سے اپنے لیے پیدا کر لیتا ہے۔ شارع نےاس پر ایسی سختی نہیں کی کیونکہ وہ اس کی فطری کمزوریوں کو خوب جانتا ہے۔ اُس نےسمجھ اور التفات اور استغراق اور خشوع و خضوع کو نماز کا کمال اور اس کا حسن تو ضرور قرار دیا ہےاور اس کی خواہش یہی ہےکہ انسان کی نماز ایسی ہی کامل اور حسین ہو لیکن اس نے ان چیزوں کو شرط نماز قرار نہیں دیا کہ بغیر ان کے نماز دست ہی نہ ہو۔
اب ذرا آیت کے الفاظ پر پھر غور کیجیے۔ اگر سمجھنا اور معانی کی طرف ملتفت ہونا ہی صحت نماز کے لیے ضروری تھا اور اسی بنا پر حالت سکر میں نماز سے دُور رہنے کا حکم دیا گیا تھا تو پھر شکر ہی میں کون سی خصوصیت تھی؟ یہ بھی کہنا چاہیے کہ جب تم متفکر ہو تو نماز سے دور رہو۔ جب تمھیں رنج یا پریشانی یا کسی اور قسم کی ذہنی مشغولیت لاحق ہو تب بھی نماز کے پاس نہ آؤ۔ جب تمھیں محسوس ہو کہ دوران نماز میں تمھارے خیالات کسی اور طرف بھٹک گئے ہیں تب بھی نماز توڑ دو اور پھر سے شروع کرو ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں سےکوئی قید بھی نہیں لگائی بلکہ صرف حالت شکر میں نماز پڑھنےسےمنع فرمایا اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس حالت میں تم کو علم نہیں ہوتا کہ کیا کہہ رہے ہو ۔ اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ شکر میں کسی اور قسم کی بے خبری ہوتی ہے جو عدم فہم اور عدم التفات سے مختلف ہے۔ اس حالت میں انسان کو یہ بھی شعور نہیں ہوتا کہ وہ عبادت کے لیے کھڑا ہو رہا ہے یا کسی اور کام کے لیے قرآن پڑھ رہا ہے یا کچھ اور قبلہ رخ بھی ہے یا نہیں ۔ اس پر کچھ ایسی مدہوشی طاری ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپے میں نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ قرآن پڑھتےپڑھتے کوئی شعر گانے لگے ۔ یا خدا کا ذکر کرتے کرتے کچھ اول فول بک جائے ۔ یا قبلہ رخ کھڑے کھڑے کسی دوسری طرف ڈھلک پڑے۔ یا نماز پڑھتے پڑھتے بھول جائے کہ نماز پڑھ رہا ہوں اور ادھوری نماز چھوڑ کر کسی سے باتیں کرنے لگے۔ یا مصلے پر سے کہیں چل کھڑا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا مقصد حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ سے دراصل ایسی ہی بے شعوری کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ جب تم اپنی حماقت سے اپنے اوپر ایسی حالت طاری کر لو جس میں تم کو اپنی زبان اور اپنے دل و دماغ پر قابو نہ رہتا ہو تو ہمارے دربار میں حاضر ہونے کی جرات نہ کرو۔
اس تشریح سے یہ بات واضح ہو گئی کہ آیت مذکور و الصدر کا کوئی تعلق نماز کی زبان کے مسئلے سے نہیں ہے۔ اور اس سے یہ استدلال کرنا درست نہیں کہ نماز اُس زبان میں پڑھنا ضروری ہے جسے ملی اچھی طرح سمجھتا ہو۔
اب یہ سوال باقی رہ گیا کہ آیا نماز کا عربی زبان میں ہونا ضروری ہے؟ اور کیا غیر عربی میں نماز ناجائز ہے؟ اس سوال کا حل اپنے طریق پر عرض کرنے سے پہلے ہم اُن اختلافات کو بیان کیے دیتے ہیں جو اس باب میں آئمہ مجتہدین کے درمیان ہوئے ہیں تا کہ مسئلہ کی صحیح شرعی حیثیت کے سمجھنے میں آسانی ہو۔
امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی رائےیہ ہےکہ فارسی میں (اور فارسی کی کچھ خصوصیت نہیں ہےہر زبان میں۱) نماز پڑھنا یا خدا کا نام لے کر ذبح کرنا یا اذان دینا (بشرطیکہ وہ غیر عربی اذان معروف ہو اور اس کو سن کر لوگ جان لیں کہ یہ اذان ہے ) جائز ہے خواہ ایسا کرنے والا عربی پڑھنے پر قادر ہو یا نہ ہو۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا ہے وَإِنَّهُ لَفِی زُبُرِ الْأَوَّلِينَ (الشعر : ۱۹۶) یعنی وہ پچھلی کتابوں میں بھی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قرآن اپنے موجودہ نظم کے ساتھ پچھلی کتابوں میں نہ تھا۔ پس لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ وہ ان کتابوں میں اپنے معنی کے اعتبار سے تھا۔ اور جب وہ معنوی ہونے کےباوجود قرآن ہی تھا تو یہ ماننے میں کیا قباحت ہے کہ قرآن کا فارسی ترجمہ بھی معنی قرآن ہے اور نماز میں اس کا پڑھنا جائز ہے۔ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ولو جَعَلْتَهُ قُرَانًا أَعْجَمِيًّا ( حم سجدہ: ۴۴) (اگر ہم اس کو عجمی قرآن بناتے ) اس سے معلوم ہوا که اگر عجمی زبان میں بھی یہ معنی ادا کیے جاتے تب بھی وہ قرآن ہی ہوتا۔ مزید براں روایات میں آیا ہے کہ ایران کے نو مسلموں نے حضرت سلمان فارسی سے درخواست کی تھی کہ سورۃ فاتحہ ہم کو فارسی میں لکھ دیجیے۔ چنانچہ انھوں نے لکھ دی اور وہ اس کو نمازوں میں پڑھتے رہے یہاں تک کہ جب ان کی زبانیں نرم ہوگئیں اور وہ عربی پڑھنے پر قادر ہو گئےتو انھوں نے عربی میں پڑھنی شروع کر دی۔ ان دلائل کی بناء پر امام صاحب کی رائے یہ ہے کہ اگر غیر عربی میں نماز پڑھی جائے تو ادا ہو جائے گی۔ مگر وہ اس کو مکروہ قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ سنت متوارثہ کے خلاف ہے۔ بلکہ ابو بکر رازی نے تو لکھا ہے کہ امام صاحب نےآخر میں اپنی اس رائے سے بھی رجوع کر لیا تھا اور امام ابو یوسف اور امام محمد کی رائے قبول کر لی تھی۔
امام ابو یوسف اور امام محمد کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص عربی پڑھنے پر قدرت رکھتا ہو تو غیر عربی میں نماز پڑھنا درست نہیں ۔ ہاں اگر وہ عربی کا تلفظ کرنے پر قادر ہی نہ ہو تو غیر عربی میں پڑھ سکتا ہے۔ اُن کا استدلال یہ ہے کہ نماز میں قرآن پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فاقروا مَا تَيَسْرَ مِنَ القرآن (المول (۲۰) اور ظاہر ہے کہ قرآن کے ترجمہ پر "قرآن" کا اطلاق نہیں ہوتا۔ لہذا جس نماز میں قرآن کے بجائے اس کا ترجمہ پڑھا جائےوہ نماز ہی نہ ہوگی۔ مگر جو شخص عربی کے تلفظ پر قادر نہ ہو اس کے لیے مجبوری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی ہے۔ ایسے شخص کی نماز بالکل اُسی طرح ہو جائے گی جس طرح اُس شخص کی نماز جور کوع وتجود سے عاجز ہو اور اشارہ سےادا کرے۔
١- ابوسعید البروگی نے امام صاحب کا یہ مسلک نقل کیا ہے کہ فارسی کے سوا کسی دوسری زبان میں پڑھنا درست نہیں۔ لیکن کرخی نے لکھا ہے کہ امام اعظم کا صحیح مسلک یہ ہے کہ ہر زبان میں پڑھنا جائز ہے۔صاحب ہدایہ نےبھی اس کو صحیح قرار دیا ہے چنانچہ لکھتے ہیں: وَيَجُوزُ بَاتِ لِسَانٍ كَانَ سِوَى الْفَارِسِيِّةِ هُوَ الصَّحِيحُ -
امام شافعی کا ایک قول وہی ہے جو صاحبین کا اوپر مذکور ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جو شخص عربی تلفظ پر قادر نہ ہو وہ بغیر قرآت کے نماز ادا کرے۔ اگر اس نے دوسری زبان میں ترجمہ پڑھا تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ کیونکہ کلام اللہ کا ترجمہ کلام اللہ نہیں ۔ کلام الناس ہے۔ اللہ کا کلام صرف عربی قرآن ہے جیسا کہ اللہ تعالی خود فرماتا ہے: إِنَّا انزلناه قرآنا عربيا( ١) (يوسف:۲)
ان تحصیلات سے معلوم ہوا کہ سلف صالح کے پیش نظر سوال کی نوعیت صرف یہ تھی که اگر نماز غیر عربی میں پڑھی جائے تو آیا ہو بھی جائے گی یا نہیں؟ کسی نے کہا کہ ہوگی مگر کمر وہ ہوگی۔ کسی نے کہا سرے سے ہو گی ہی نہیں۔ کسی نے کہا کہ عاجز کی نماز ہو جائے گی بالکل اُسی طرح جیسے معذور کی نماز اشارہ سے ہو جاتی ہے۔ لیکن موجودہ زمانے کےمجتہدین کے سامنے سوال کی نوعیت اس سے بالکل مختلف ہوگئی ہے۔ وہ اس سوال پر اس حیثیت سے نگاہ ڈالتے ہیں کہ غیر عربی دان کی نماز عربی میں ادا ہوتی بھی ہے یا نہیں؟اور غیر عرب کے لیے عربی میں نماز اولیٰ ہے یا اپنی مادری زبان میں؟ اب چونکہ صورتِ مسئلہ بدل گئی ہے لہذا جواب مسئلہ کی صورت بھی بدل جانی چاہیے۔
١- اس بحث کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو کتاب المبسوط للسرخسی، جلد اول، صفحہ ۳۷ اور فتح القدير و شرح العنايه علی الھدایہ جز اول، صفحه ۱۹۹ تا ۲۰۱ -
نماز کے لیے کون سی زبان انسب اور اولیٰ ہے؟ اس سوال کے صحیح حل کا انحصار ایک دوسرے سوال کے صحیح حل پر ہے اور وہ ہے کہ اسلام میں نماز کی حیثیت کیا ہے؟ اور اس سے کون کون سے شرعی مصالح وابستہ ہیں؟
اس سے پہلے ہم اس حقیقت کی طرف بارہا اشارہ کر چکے ہیں کہ اسلام کا اصل مقصد محض فرد کی تہذیب نفس اور اس کا تزکیہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ افراد کو فردا فردا پاک اور متقی بنانے کے لیے انھیں باہم جوڑ کر ایک ایسی اعلیٰ درجے کی صالح جماعت بنانا چاہتا ہےجو زمین پر اللہ تعالی کی خلافت کے فرائض ادا کرے۔ اس غرض کے لیے اس نے تمام عبادات اس طریقہ پر فرض کی ہیں کہ افراد میں رُجوع الی اللہ کے ذریعہ سے تقویٰ کی روح پھونکنے کے ساتھ ساتھ ان کو صالحین کی ایک جماعت بھی بناتی چلی جائیں ۔ ان عبادات میں سب سے اہم عبادت نماز ہے جو تہذیب نفس بھی کرتی ہے، قرآنی ہدایات کی اشاعت بھی کرتی ہے قرآن کی حفاظت بھی کرتی ہے اور مسلمانوں کو ایک جماعت بھی بناتی ہے۔ نماز کی ان مختلف حیثیات اور اسلام کے ان متعدد مقاصد پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز محض ایک بندے کی اپنے خدا سے مناجات ہی نہیں ہے اور محض ایک ایک فرد میں الگ الگ رُوح تقویٰ پھونکنے کا ذریعہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ اسلام کا قوام بھی ہے اور انفرادی مصلحت سے عظیم تر مصالح بھی اس سے وابستہ ہیں۔
اب دیکھیےکہ جہاں تک انفرادی مصالح کا تعلق ہے ان کے لحاظ سے ضروری ہےکه انسان نماز میں جو کچھ پڑھے اس کو سمجھے بھی تا کہ تہذیب نفس اور تزکیۂ روح کا مقصد پوری طرح حاصل ہو سکے۔اس غرض کےلیے نماز کا اُس زبان میں ہونا مفید ہوگا جسےمصلی جانتا ہو اور سمجھتا ہو۔ لیکن انفرادی مصالح سے اہم تر جو مصالح شارع کے پیش نظر ہیں ان کو یہ چیز نقصان پہنچادے گی۔
اولاً قرآن کی حفاظت کا عظیم الشان مقصد اس سے بڑی حد تک فوت ہو جائے گا۔جب قرآن کے ترجمے کو بھی لوگ قرآن سکھنے لگیں گے اور یہ خیال عام ہو جائے گا کہ عبادت اور تلاوت کے مقاصد کے لیے ترجمه اصل کتاب کا قائم مقام ہے تو اصل کتاب سے اعتنا کم ہو جائے گا اس کو یاد کرنے کا ذوق بھی باقی نہ رہے گا اور ترجمہ ہی کو عملی بطور اصل لےلیا جائے گا۔
ثانیاً اصل کتاب اللہ سے بے اعتنائی اور تراجم کی طرف روز افزوں انتفات کا نتیجہ دین کی خرابی کے سوا کچھ نہ ہوگا کیونکہ ناقص اور باہم مختلف متعارض ترجموں کے الگ الگ جماعتوں اور الگ الگ قوموں میں معتبر بن جانے سے اسلام کا انجام بھی وہی ہوگا جو مسیحیت اور یہودیت کا ہوا۔
ثانیاً اس سےامت کی وحدت کا خاتمہ ہو جائےگا اور اسلام میں لسانی نوعیتوں کی بنیاد پڑ جائے گی۔ہر زبان کے بولنے والوں کی نمازیں اور جماعتیں الگ الگ ہوں گی۔نه ایرانی عرب کے پیچھے نماز پڑھے گا اور نہ ترک ہندیوں کی جماعت میں شریک ہوگا۔ایک ہی جگہ بنگالیوں اور مدراسیوں اور پنجابیوں کی جماعتیں لسانی قومیت کی بنیاد پر الگ الگ قائم ہوں گئی اور نماز کے ٹکڑے ہوتے ہی اُمت کے ٹکڑے ہو جائیں گے۔
ان عظیم تر اجتماعی نقصانات سےبچنےکےلیے ناگزیر ہے کہ نماز کے لیے ایک ہی بین الملی زبان ہو اور وہ وہی زبان ہو جس میں قرآن نازل ہوا ہے۔رہا انفرادی نقصان تو اس کو دور کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ نماز کا بیشتر حصہ وہ ہے جس کےلیے ایک ہی عبارت مقرر ہے۔تکبیر تسبیح، تسمیہ تعویذ سورہ فاتحہ تشہد ان سب کا ترجمہ زیادہ سے زیادہ ایک دو گھنٹہ میں بآسانی ذہن نشین ہو سکتا ہے۔ عام طور پر جو سورتیں نماز میں پڑھی جاتی ہیں وہ بھی دس بارہ سے زیادہ نہیں ہیں، اور بہت چھوٹی چھوٹی ہیں ۔ ان کے ترجمے یاد کر لینا بھی مشکل نہیں۔ اس کےبعد قرآن کریم کی لمبی لمبی سورتیں باقی رہ جاتی ہیں جو کبھی کبھار سورۃ فاتحہ کےساتھ ملالی جاتی ہیں۔ سو اگر بعض یا بیشتر مصلی ان کو نہ سمجھیں تو یہ ایسی کون سی قباحت ہے جس سے بچنے کے لیے تمام اجتماعی مصالح کی قربانی گوارا کر لی جائے۔
مصالح اور حکمتوں سے قطع نظر کر کے جب ہم منصوص احکام پر غور کرتے ہیں تو ہمیں امام ابو یوسف اور امام محمد کا مسلک سب سے زیادہ صحیح نظر آتا ہے اور قرین قیاس یہی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے بھی آخر کار اسی کی طرف رجوع فرمایا ہوگا۔
یہ تمام آیات نماز میں تلاوت قرآن کا حکم دیتی ہیں اور ان میں ”القرآن“ (الف لام تعریفی کے ساتھ ) پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے جس کا اطلاق ترجمہ قرآن پر نہ لغوی حیثیت سے ہو سکتا ہے
2- قرآن میں متعدد مقامات پر تصریح ہے کہ " قرآن صرف عربی قرآن کا نام ہے اور کلام اللہ وہی ہے جو عربی الفاظ کے ساتھ خدا نے نازل فرمایا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کے جو معنی بیان کیے جائیں گے، خواہ وہ عربی زبان ہی میں کیوں نہ بیان ہوں وہ نہ صرف یہ کہ قرآن نہ ہوں گے بلکہ اس کے مثل بھی نہ ہوں گے۔ لہذا وہ کبھی قرآن کے قائم مقام ہو ہی نہیں سکتے ۔
٣- یہ تصریح بھی قرآن ہی میں ہے کہ تحریف سے حفاظت کا وعدہ صرف اُس کتاب سےمتعلق ہے جو خدا کے پاس سے نازل ہوئی ہے۔ انسانوں کے کیے ہوئے تراجم سے متعلق نہیں ہے۔ ان میں ہر طرح سے تحریف کا دروازہ کھلا ہوا ہے، خواہ وہ ارادی تحریف ہو یا مترجمین کے مجمز اور ان کے عدم فہم اور اُن کی قلت علم کی بنا پر ہو ۔ وَانَّهُ لَكتُبُ عَزِيرٌ لا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حمید ( حم سجدہ: ۱۴۱ ۴۴) لہذا انماز میں قرآن کا ترجمہ پڑھنے والا یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ معنی قرآن کی صحیح تلاوت کر رہا ہے۔
۴- رجوع الی اللہ اور انابت اور خشیت جو نماز کی اصل جان ہے اس کو پیدا کرنے کی خاصیت جیسی قرآن منزل من اللہ میں ہے دیسی کسی اور کلام میں نہ ہو سکتی ہے نہ پائی جاسکتی ہے۔ اس پر بھی خود قرآن شاہد ہے: اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهَا فِي تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللهِ - (زمر :۲۳)
ایسے صریح اور محکم شرعی دلائل کو دیکھنے کے بعد یہ کہنا ہی مشکل ہے کہ جو نماز ترجمہ قرآن پڑھ کر ادا کی جائے وہ درست ہو جاتی ہے۔ کمر وہ ہونا کیسا ہم تو کہتے ہیں کہ وہ کسی درجے میں بھی ادائے فرض کےلیے کافی نہیں۔ البتہ جیسا کہ صاحبین نے فرمایا ہے اس شخض کا معاملہ بالکل جدا گانہ ہے جو عربی تلفظ پر قادر ہی نہ ہو۔اس کےحق میں یہی فتویٰ مناسب ہے کہ جب تک وہ عربی میں نماز پڑھنے کے قابل نہ ہو جائے اس کا فریضہ غیر عربی کے ساتھ ادا ہو جائے گا اس لیے کہ وہ رخصت اضطرار کے تحت آجاتا ہے۔
اب ہم سوال کےدوسرےحصہ کی طرف رجوع کرتےہیں جو خطبہ جمعہ کی زبان سےتعلق رکھتا ہےاس مسئلےمیں یہ ایک عام للطی ہےکہ خطبہ کی زبان کےسوال کو نماز کی زبان کےسوال سےمربوط کر دیا جاتا ہےاس سےبڑا خلط مبحث واقع ہوتا ہے۔ لہذا پہلےہم اسی امر کی توضیح کریں گے کہ نماز اور خطبہ کی حیثیتوں میں کیا فرق ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خطبہ نماز جمعہ کا جز ہے۔ اس کی دلیل وہ یہ بیان کرتےہیں کہ ظہر کی چار رکعتوں میں سے دور کعتیں خطبہ ہی کے لیے کم کی گئی ہیں، جیسا کہ احادیث میں حضرت عمرؓ اور حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ اِنَّمَا قُصِرَتِ الْجُمُعَةُ لَأَجْلِ الْخُطْبَةِ اس بنا پر وہ کہتے ہیں کہ خطبہ چونکہ نماز کی دورکعتوں کا قائم مقام ہے لہذا اس کی حیثیت بھی وہی ہے جو نماز کی ہے۔ اور جب نماز غیر عربی میں پڑھنا درست نہیں تو خطبہ بھی غیر عربی میں پڑھنا درست نہیں۔
لیکن یہ محض ایک سطحی رائے ہے۔ دونوں کے احکام کی تفصیل پر نظر ڈالنے سےصاف معلوم ہو جاتا ہے کہ جو اُمور نماز کے لیے شرط ہیں وہ خطبے کے لیے شرط نہیں ہیں۔
نماز کے لیے طہارت شرط ہے مگر خطبہ کے لیے شرط نہیں ہے، حتی کہ اگر سہوا حالت جنابت میں بھی خطبہ پڑھ دیا ہو تو اعادہ کی ضرورت نہیں۔
نماز کے لیے قبلہ رخ ہونا ضروری ہے۔ مگر خطبہ جمعہ کے لیے نہ صرف یہ کہ استقبال قبلہ ضروری نہیں ہے بلکہ قبلہ کی طرف پشت کر کے مقتدیوں کی طرف رُخ کرنے کا حکم ہے۔
نماز میں گفتگو کرنے سے فساد واقع ہو جاتا ہے۔ مگر خطبہ میں کلام کیا جا سکتا ہے اور خود نبی اکرم اور صحابہ کرام سے یہ فعل ثابت ہے۔ جیسا کہ آگے چل کر ہم بیان کریں ے۔ نماز کے لیے وقت بھی مشروط ہے، لیکن خطبہ اگر وقت سے پہلے شروع کر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
نماز جمعہ میں حنفیہ کے نزدیک کم از کم تین آدمیوں کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن خطبہ میں اگر امام کے سوا صرف ایک آدمی ہو تب بھی کافی ہے۔
نماز جمعہ اگر فاسد ہو جائے تو اس کا اعادہ کیا جائے گا۔ لیکن خطبہ کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ سب امور اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ خطبہ نماز جمعہ کا جزو نہیں ہے۔ چنانچہ علامہ سرخی لکھتے ہیں :۔
ہمارے بعض مشائخ کہتے ہیں کہ خطبہ چونکہ دو رکعت کا قائم مقام ہےاس لیے ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے خطبہ پڑھنا جائز نہیں۔ مگر صحیح یہ ہے کہ خطبہ کی حیثیت نماز کے ایک حصے کی نہیں ہے۔
خطبہ رکن نماز نہیں ہے۔ کیونکہ کسی چیز کا رکن تو وہ ہوتا ہے جس سے وہ چیز قائم ہوتی ہے اور نماز جمعہ خطبہ سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اپنے ارکان سے قائم ہوتی ہے لہذا خطبہ جمعہ کے لیے رکن نہیں بلکہ شرط ہے۔
اس میں شک نہیں کہ خطبہ بھی نماز کی طرح ایک عبادت ہے۔لیکن دونوں کےمقاصد مختلف ہیں۔ نماز سے جو کچھ مقصود ہےوہ بغیر اس کے بھی حاصل ہو سکتا ہےکہ انسان ان عبارات کو سمجھے جن کو وہ نماز میں پڑھتا ہے۔اس لیےکہ اس کا خدا کی فرض کی ہوئی. عبارت کو فرض سمجھنا اور نماز کا وقت آنے پر ادائے فرض کے لیے اٹھنا اور اس کا اہتمام کرنا پھر پوری شرائط اور تمام ارکان کےساتھ نماز کو اس طرح ادا کرنا کہ گویا اسے اس امر کا شعور ہے کہ خدا اس کی نفی سے خفی باتوں کو بھی سن رہا ہے اور یہ کہ اگر وہ نماز میں کوئی چیز بھی کم کر دے گا تو خدا کو اس کا علم ہو جائے گا، پھر اس کا یہ سمجھنا کہ یہ رکوع و سجود اور قیام و قعود جو کچھ بھی میں کر رہا ہوں صرف خدا کے لیے ہے اور خدا کے سوا میں کسی کا عبادت گزار نہیں ہوں یہ سب امور اس مقصد کی تحصیل کے لیے بالکل کافی ہیں جس کے لیے نماز فرض کی گئی ہے۔ لیکن خطبہ جس غرض کے لیے مقرر کیا گیا ہے وہ بغیر اس کے حاصل نہیں ہوسکتی کہ سامعین اس کو سمجھیں۔ اس لیے کہ خطبہ کا مقصد محض خدا کی یاد اور ذات حق کی طرف رجوع اور خشیت اور انابت ہی نہیں ہے بلکہ احکام دین کی تبلیغ و تعلیم اور وعظ و تذکیر بھی ہے۔ اور یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ لوگ اُن احکام اور مواعظ کو نہ سمجھیں۔جو خطبہ میں بیان کیے جاتے ہیں۔
بعض لوگ اس امر سے انکار کرتے ہیں کہ خطبہ کا مقصد تبلیغ احکام اور وعظ و تذکیر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالی نے خطبہ کو ذکر اللہ سے تعبیر کیا ہے۔ (فاسعوا إلى ذكر الله (الجمعة) لہذا خطبہ بھی ویسی ہی عبادت ہے جیسی کہ نماز ہے اور اس کے لیے بھی یه ضروری نہیں کہ لوگ اس کو سمجھیں، اس کی تائید میں وہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول پیش کرتے ہیں کہ خطبہ کی شرط پوری کرنے کے لیے صرف اللہ تعالی کی حمد وثنا کافی ہے اور عرف عام میں جس چیز کو خطبہ سے تعبیر کیا جاتا ہے وہ نماز جمعہ کے لیے شرط نہیں ہے۔ نیز وہ سید نا عثمان رضی اللہ عنہ کے اس واقعہ سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ جب آپ خلیفہ ہوئے اور خطبہ دینے کے لیے اٹھے تو آپ پر مجمع کا رُعب طاری ہو گیا اور صرف الحمد للہ کہہ کر بیٹھ گئے اور صحابہ کرام کی جماعت نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا۔
اولاً یہ یقینی نہیں کہ آیة فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللہ سے مراد خطبہ جمعہ ہے۔ ذکر سےمراد نماز بھی ہو سکتی ہے بلکہ قرآن میں اکثر اس لفظ سے نماز ہی مراد لی گئی ہے۔ معتمرین اور اہل فقہ میں یہ امر مختلف فیہ ہے کہ آیا ذکر سے مراد صرف خطبہ ہے یا صرف نماز یا نماز اور خطبہ دونوں (١) مگر آیت کے سیاق پر غور کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ذکر کو نماز کے معنی میں لینا زیادہ درست ہے کیونکہ پہلے اِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فرمایا پھر اس کی جزا یہ بیان کی کہ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللهِ - اس سے معلوم ہوا کہ اصل میں ذکر سے مراد نماز ہی ہے اور خطبہ محض ضمنا ذکر میں شامل ہو جاتا ہے۔ ورنہ اگر ذکر سے مراد صرف خطبہ ہوتا تو الى ذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلواۃ فرمایا جاتا ۔
ثانیاً ذِکر اللہ کو اگر نماز کے معنی میں نہ لیا جائے بلکہ یاد خدا کے معنی میں لیا جائےتو یہ کس دلیل سے ثابت ہوا کہ خدا کی یا د صرف عربی زبان ہی میں ہونی چاہیے؟ اللہ کےذکر کو عربی زبان تک محدود کرنا تو عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔ قرآن اور حدیث میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ خدا کو یاد کرنا ہو تو صرف عربی میں کرو ۔ چنانچہ اسی بنا پر امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللكر المفيد للتعْظِيمِ يَحْضُل خدائے بزرگ ہست كَمَا يَحْصُلُ بِقَوْلِهِ اللهُ اَكْبَرُ - یعنی اللہ کی بڑائی بیان کرنے کے لیے جس طرح اللہ اکبر کہنا مفید ہے اسی طرح فارسی میں ”خدا بزرگ است‘ کہنا بھی مفید ہے“۔ اور امام محمد ان کی تائید میں کہتے ہیں: الذِكرُ يَحْصل بكل "انسان " خدا کی یاد ہر زبان میں ہو سکتی ہے۔
١- ابن ہمام کہتے ہیں: فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ فَالظَّاهِرُ اَنَّ الْمُرَادَ بِالذِكْرِ الصَّلَوةُ وَيَجُوزُ كَوْنُ الْمُرَادِ بِهِ الخُطْبَةِ (فح القدير ) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں: وَالْمُرَادُ بِذِكْرِ اللَّهِ الْخُطْبَةِ وَالصَّلَوةُ وَسَتَظْهَرُانْ الْمُرَادَ بِهِ الصَّلوةُ وَيَجُوزُ كَوْنُ الْمُرَادِ بِهِ الْخُطْبَةِ - سعيد ابن المسیب کے نزدیک ذکر سے مراد موعظه الامام ہے۔ (احکام القرآن للجصاص، علامہ ابوبکر جصاص کی رائے یہ ہے کہ ذکر سے مراد صرف خطبہ ہے۔وَيَدُلُّ اَنَّ الْمُرَادُ بِالذِكرِ هَهُنَا الْخُطْبَةِ - لَاَنَّ الْخُطْبَةِ هِيَ الَّتِي تَلِي البَدَاءَ وَقَدْ أُمِرَ بِالسَّعُيِ إِلَيْهِ فَدَلَّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ الْخُطْبَةِ -
ثانیاً خطبہ کی شرط پوری کرنے کے لیے اگر حفیہ نے محض حمد و ثنا کو کافی سمجھا ہے تو اس کے معنی یہ کب ہیں کہ خطبہ کا جو مقصد ہے وہ بس حمد وثنا ہی سے حاصل ہو جاتا ہے اور اس کے سوا دوسری چیزیں محض زوائد ہیں جن کی کوئی اہمیت نہیں (١) حفیہ یہ بھی تو کہتے ہیں کہ نماز جمعہ کے لیے جماعت کی شرط صرف تین آدمیوں سے پوری ہو جاتی ہے۔ پھر کیا اس کا مطلب یہ لینا درست ہو گا کہ جمعہ کی اقامت سے جو مقصد ہےوہ بس اس مختصر سی جماعت سےحاصل ہو جاتا ہےاور جماعت کثیرہ کا فراہم ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
١- حضرت عثمان کے واقعہ سے اس معاملہ میں جو استدلال کیا جاتا ہے وہ درست نہیں ہے۔ اوّل تو اس واقعہ میں خود اس امر کی تصریح ہے کہ حضرت عثمان نے قصداً ایسا نہیں کیا تھا، بلکہ مجمع سےمرعوب ہو جانے کی وجہ سے ان کی قوت گویائی جواب دے گئی تھی۔ اس لیے انھوں نے خطبہ کو مختصر کر دیا۔دوسرے یہ بھی غلط ہےکہ انھوں نے صرف حمد و ثنا پر اکتفا کی تھی۔دراصل واقعہ یہ ہےکہ جب انھوں نے دیکھا کہ قوت گویائی جواب دے رہی ہے تو صرف اتنا کہہ کر بیٹھ گئے کہ اِنْ اَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانَ لَيُعِدَّانِ لِهَذَا الْمَقَامِ مَقَالَا وَأَنْتُمُ إلى إِمَامٍ فَعالِ أَحَوُجُ مِنْكُمُ إِلَى إِمَامٍ قَوَّالٍ وَسَتَأْتِيَكُمُ الْخُطَبُ بَعْدُ وَاسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِيْ وَلَكُمْ یعنی اس موقع کے لیے ابو بکر اور عمر تقریر تیار کر کے آتے تھے ۔ اور تم کو اصل حاجت تو کام کرنے والے امام کی ہےنہ کہ بولنے والے امام کی ۔ رہیں تقریریں تو وہ بھی آگے چل کر پیش کی جائیں گی اور میں اللہ سےاپنے لیےاور تم سب کے لیے مغفرت کی دُعا کرتا ہوں ۔
رابعاً خودا کا بر حنفیہ ہی نے یہ تصریح کی ہے کہ خطبہ سےمقصود ذکر اور موعظت ہے۔چنانچہ ہدایہ میں ہے: وَلَوْ خَطَبَ قَاعِدًا أَوْ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ جَازَ لِحُصُولِ الْمَقْصُودِ -"اگر امام بیٹھ کر خطبہ دےیا غیر طاہر ہونےکی حالت میں دےتب بھی جائز ہےکیونکہ مقصود اس طرح بھی حاصل ہو جاتا ہےاور علامہ ابن ہمام اس مقصود کی شرح یہ کرتےہیں کہ وھو الذکر والموصلة -یعنی اس سےمراد ذکر خدا اور نصیحت ہےایک حنفیہ پر ہی کیا موقوف ہے، متقدمین سب کےسب خطبہ کا مقصد یہی سمجھتےتھےاور اسی بناء پر ان کی زبان میں اکثر خطبہ کےلیے ” موعظة الامام کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ علامہ ابن حجر فتح الباری میں ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔
وَمِنْ حِكْمَةِ اسْتِقْبَالِهِمُ الْإِمَامَ التَّهَيقُ لِسِمَاعِ كَلَامِهِ وَسَلُوْكُ الْأَدْبِ مَعَهُ فِي اسْتَمِاعِ كَلَامِهِ فَإِذَا اسْتَقَبْلَهُ بِوَجِهِهِ وَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِجَسَدِهِ وَبِقَلْبِهِ وَحُضُورقَ ذِهْنِهِ كَانَ أَدْعَى لِتَفُهُم مَوْعِظَتِهِ وَمُوَافَقَتِهِ فِيْمَا شَرَعَ لَهُ الْقِيَامُ لَاجُلِهِ- (ج۲، ص۲۷۳)
حاضرین کو جو امام کی طرف رُخ کر کے بیٹھنے کی ہدایت کی گئی اس کی حکمت یہ ہے کہ وہ اس کے کلام کو سننے کے لیے تیار ہوں اور کلام کی سماعت میں اس کے ساتھ ادب کو ملحوظ رکھیں ۔ جب سننے والا اپنا چہرہ اس کی طرف رکھے گا اور اپنے جسم و قلب کے ساتھ اس کی جانب متوجہ ہوگا اور حضور ذہن کے ساتھ سنے گا تو امام کی موعظت اچھی طرح اس کی سمجھ میں آئے گی اور یہ اس مقصد کے لیے مددگار ہوگاجس کے لیے امام کو کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
خامساً یہ امر غور طلب ہے کہ اگر خطبہ کا طریقہ جاری کرنے سے شارع کا مقصد محض اللہ کا ذکر ہی کرنا ہوتا تو کیا اس کے لیے نماز کافی نہ تھی، حالانکہ وہ اس مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ نماز جیسی کامل اد اکمل عبادت کو مختصر کر کے اس کےوقت کا ایک حصہ خطبہ کو دیا گیا اور اُس کو جمعہ کی شرائط میں داخل کیا گیا ؟
سادساً نماز جمعہ کےلیےخطبہ کا شرط ہونا جس چیز سے فقہاء نے نکالا ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا متواتر عمل ہے۔چونکہ آنحضرت اور آپ کےخلفاء اور صحابہ کرام نےکبھی جمعہ بغیر خطبہ کے نہیں پڑھا اس لیے یہ حکم مستنبط کیا گیا کہ جمعہ کےلیےخطبہ شرط ہے۔بالکل اُسی طرح آپ کے اور صحابہ کرام کے متواتر عمل سے ہم کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خطبه محض حمد وثنا ہی پر مشتمل نہ ہوتا تھا بلکہ اس میں خوف خدا کی تلقین بھی ہوتی تھی شریعت کےاحکام بیان ہوتےتھےاخلاق و اعمال کی اصلاح کےلیےنصیحتیں ہوتی تھیں،قومی اورشخصی معاملات پر توجہ کی جاتی تھی،حتی کہ میں خطبہ کی ہی حالت میں امام کسی خاص شخص کی کوئی غلطی دیکھتا تو اس کی اصلاح کرتا کسی مصیبت زدہ کو دیکھتا تو اس کی مدد کے لیے لوگوں کو توجہ دلاتا عوام میں سےکسی کی کوئی شکایت ہوتی تو وہ امام کے سامنےاس کو پیش کرتا اور امام اس کی طرف متوجہ ہوتا ۔ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے کوئی جمعہ بغیر خطبہ کے نہیں پڑھا۔ اُسی طرح آپ نے اور آپ کے صحابہ نے کوئی خطبہ ایسا نہیں پڑھا جو مذکورہ بالا خصوصیات سے عاری ہو۔
اس مطلب کی توضیح کے لیے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چند خطبات یہاں نقل کرتے ہیں جن سے معلوم ہوگا کہ شارع کی نگاہ میں خطبہ جمعہ کی دراصل کیا حیثیت تھی ۔
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ مُرْسَلاً قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جُمُعَةٍ مِّنَ الْجُمُعِ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ جَعَلَهُ اللَّهُ عِيْدًا فَاغْتَسِلُوا وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طِيِّبٌ فَلَا يَضَرُّهُ أَنْ يُمَسَّ مِنْهُ عَلَيْكُمْ بِالسّوَاكِ -(موطا ابن ماجه )
عبید بن السباق سے مرسلاً مروی ہے کہ حضور نے ایک مرتبہ جمعہ کےخطبے میں فرمایا: ”اے مسلمانو ! اس دن کو اللہ نے عید مقرر کیا ہے۔لہذا تم آج کے دن غسل کیا کرو۔ اور جس کے پاس خوشبو موجود ہو وہ اگر استعمال کر لے تو کیا نقصان ہے۔ اور دیکھو مسواک ضرور کرو۔
ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ "مجھے تمھارے حق میں سب سےزیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ زمین کی برکات ہیں“۔کسی نے پوچھا یا رسول اللہ زمین کی برکات سےکیا مراد ہے؟ حضور نےجواب دیا: ”دنیا کی ز مینت و شوکت" اس پر ایک شخص نے عرض کیا: "یا رسول اللہ ! کیا بھلائی سےبھی برائی آتی ہے؟ حضور سن کر کچھ دیر خاموش رہے یہاں تک کہ لوگوں نے گمان کیا کہ کوئی چیز آپ پر اتر رہی ہے۔پھر آپ نےاپنی پیشانی سےپسینہ پونچھا اور فرمایا وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا میں حاضر ہوں ۔ آپ نے فرمایا:”بھلائی صرف بھلائی سےآتی ہےاس دنیا کا مال بہت خوش نما اور شیریں ہےفصل بہارمیں جب یہ پھلتی ہے تو اسے پیٹ بھر کر کھانے والا جانور بد ہضمی سےمرجاتا ہےیا مرنےکے قریب جا لگتا ہے۔ البته وہ جانور بیچ جاتا ہے جس نے دیکھا کہ کھاتے کھاتے کو بھیں پھول گئی ہیں تو کھانا چھوڑ دیا دھوپ میں چلا پھرا کچھ جگالی کی کچھ بول و براز کی راہ سے نکالا اور جب پیٹ خالی ہو گیا تب دوبارہ کھانےکی طرف متوجہ ہوا۔ اس مال کو جو شخص حق کی راہ سے لے گا اور حق کی راہ میں نکال دے گا اس کے لیے تو یہ بہترین مددگار ہے۔ اور جو حق کے بغیر لے گا اس کی مثال اُس شخص کی سی ہے جو کھاتا چلا جائے اور شکم سیر نہ ہو ۔ ( بخاری کتاب الرقاق وکتاب الزکوۃ)
عمرو بن تغلب کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور کے پاس کچھ مال آیا تھا جس کو آپ نے بعض لوگوں میں بانٹ دیا اور بعض کو چھوڑ دیا۔ بعد میں آپ کو معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ہے انھیں رنج ہے۔ اس کے متعلق آپ نے خطبہ میں فرمایا کہ " میں ایک شخص کو دیتا ہوں اور دوسرے کو نہیں دیتا۔ جس کو میں نہیں دیتا وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے جس کو میں دیتا ہوں۔ ایک جماعت کو دیتا ہوں جبکہ ان کے دلوں میں بےتابی اور بے چینی دیکھتا ہوں۔ اور ایک جماعت کو اس کی بے نیازی اور نیکی کے حوالے کر دیتا ہوں جو اللہ نے ان کے دلوں میں پیدا کی ہے ۔ ( بخاری )
مشہور حدیث ہے کہ ایک شخص نماز جمعہ میں حاضر ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ۔ آپ نے پکار کر اس سے پو چھا اے شخص! کیا تو نماز پڑھ چکا ہے؟اس نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے فرمایا تو اٹھ اور نماز پڑھ۔ دراصل یہ شخص پھٹے حالوں تھا۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اس کی بدحالی کو دیکھ لیں۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو آپ نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلائی۔ اس حدیث کے اطراف قریب قریب تمام صحاح اور سنن اور مسانید میں آئے ہیں۔ امام احمد نے جو حدیث نقل کی ہے اُس میں خود حضور کے یہ الفاظ منقول ہیں کہ یہ شخص جب مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ بہت شکستہ حال ہےاس لیے میں نے اسے حکم دیا کہ دو رکعت نماز پڑھ لے۔میں چاہتا تھا کہ کوئی شخص اس کی حالت دیکھ لےاور اس کو کچھ صدقہ دے دے“۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور خطبہ دے رہے تھے ۔ دیکھا کہ ایک شخص لوگوں کے اوپر سے پھاند تا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ آپ نے پکار کر فرمایا : " بیٹھ جاؤ تم نے لوگوں کو تکلیف دی“۔ (ابوداؤ د نسائی)
حضرت انس کی روایت ہے کہ ایک روز حضور خطبہ دے رہےتھےاور قحط سالی کا زمانہ تھا۔ایک شخص نے فریاد کی کہ یا رسول اللہ جانور مر گئے اور بال بچے فاقے کر رہےتھے اللہ سے دعا فرمائیے کہ بارش ہو جائے ۔ آپ نے اسی وقت دعا فرمائی۔خدا کےفضل سےبارش شروع ہو گئی اور دوسرےجمعہ تک لگاتار جاری رہی۔ پھر دوسرے جمعہ کو آپ خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو وہی شخص پھر اُٹھا اور بولا کہ یارسول اللہ مکان گر گئے اور مال و اسباب تباہ ہو رہے ہیں۔ خدا سے دعا فرمائیے ۔ آپ نے پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔
مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر خطبہ دے رہے تھے۔ اتنے میں حضرت عثمان تشریف لائے۔ حضرت عمر نے فرمایا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد نماز کے لیے آنے میں دیر کرتے ہیں۔ پھر حضرت عثمان کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: یہ کون سا وقت ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں کام میں لگا ہوا تھا۔ اذان کی آواز سنی تو گھر جانے کے بجائے وضو کر کے سیدھا یہاں چلا آ رہا ہوں۔ حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا:خوب! آنے میں دیر تو لگائی ہی تھی۔ اب معلوم ہوا کہ آپ صرف وضو ہی پر اکتفا کر کےآئے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے روز غسل کرنے کا حکم دیا ہے ۔ (بخاری موطا مسلم )
یہ اُن کثیر التعداد خطبوں میں سےچند ہیں جو معتبر روایات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے منقول ہیں۔ ان کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کا خطبہ جن کےمتواتر عمل کی بدولت مشروع سمجھا گیا ہے اُن کے ہاں خطبہ کے معنی محض ذکر اللہ کے نہ تھےبلکہ وہ اس سے تبلیغ ، تعلیم، اصلاح ہدایت اور بہت سے قومی و شخصی معاملات کی انجام دہی کا کام لیتے تھے۔ دراصل یہ چیز اس لیے مشروع نہیں کی گئی تھی کہ لوگ ہفتہ میں ایک بار نماز سے پہلے رسمی طور پر اسی قسم کی ایک چیز سن لیں جیسی مسیحی گر جاؤں میں درس (Sernion) کےنام سے سنائی جاتی ہے۔ بلکہ اس کو مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا ایک متحرک اور کار فرما پرزہ بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ ہفتہ میں ایک مرتبہ لازمی طور پر تمام مسلمانوں کو جمع کر کےاللہ کےاحکام سنائےجائیں دین کی تعلیمات ان کے ذہن نشین کی جائیں، اُن کی جماعت میں یا اُن کے افراد میں جو کچھ خرابیاں رُونما ہوں ان کی اصلاح کی جائے اور قومی فلاح و بہبود کے کاموں کی طرف انھیں توجہ دلائی جائے ۔ نیز مرکز حکومت میں امام براد راست خود اپنی حکومت کی پالیسی پبلک کے سامنے پیش کرتا رہے اور وہیں عوام الناس میں سے ہر ایک کو اُس سے سوال کرنے اور اس کے سامنے اپنی بات کہنے کا موقع حاصل ہو۔
نماز اور خطبہ جمعہ کے درمیان ایک فرق اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ نماز میں جتنی چیزیں پڑھی جاتی ہیں وہ سب لفظا لفظ معین کر دی گئی ہیں ۔ جو شخص عربی نہ جانتا ہو وہ تھوڑا سا وقت صرف کر کے بآسانی اُن کا ترجمہ یاد کر سکتا ہے یا اُن کے مفہومات ذہن نشین کر سکتا ہے۔ اس وجہ سے نماز کے عربی میں ہونے سے اس امر کا کوئی خوف نہیں ہے کہ عربی نہ جاننے والے ان عبارات کے معنوی فوائد سے بالکل ہی محروم رہ جائیں گے جنھیں نماز میں وہ پڑھتے ہیں۔ بخلاف اس کے خطبہ جمعہ کے لیے کوئی عبارت مقرر نہیں ہے ۔ ہر جمعہ کو ایک نیا خطبہ ہوتا ہے اور اس کا ترجمہ پہلے سے یاد کر لینا یا اس کا مفہوم ذہن نشین کر کے آنا لوگوں کے لیے کسی طرح ممکن نہیں ہوتا۔ لہذا خطبہ کے لیے عربی کو لازم کر دینے کا نتیجہ قطعاً یہی ہے کہ غیر عربی دان لوگوں کے حق میں وہ محض ایک بے معنی چیز اور ایک بے جان مذہبی رسم بن کر رہ جائے اور شارع کے وہ تمام مقاصد فوت ہو جائیں جن کے لیے اس نے جمعہ کا خطبہ مشروع کیا ہے۔ ایک معمولی عقل کا انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ ترکی بولنے والوں کے سامنے سنسکرت میں تقریر کرنا اور فارسی زبان والوں کو جرمن زبان میں مخاطب کرنا محض ایک مہمل حرکت ہے۔ پھر شارع حکیم کے متعلق یہ کیونکر ممان کیا جا سکتا ہے کہ وہ احکام دین کی تفہیم اور مکارم اخلاق کی تعلیم کے لیے کسی ایسی زبان میں وعظ کرنے کا حکم دے گا جس کو سامعین سمجھتے ہی نہ ہوں ۔
ایک یہ کہ خطبہ نماز کا جزو نہیں ہے لہذا نماز کے لیے عربی زبان کے لازم ہونےسے یہ لازم نہیں آتا کہ خطبہ کے لیے بھی عربی واجب ہو ۔
دوسرے یہ کہ خطبہ کا طریقہ مقرر کرنے سے شارع کے پیش نظر جس قدر مقاصد ہیں وہ سب کے سب ایسی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں جبکہ خطبہ کسی ایسی زبان میں پڑھ جائے جس کو سامعین نہ سمجھتے ہوں۔ بخلاف اس کے نماز جن مقاصد کے لیے شارع نےفرض کی ہے ان میں سے کوئی اہم مقصد مصلیوں کے عدم فہم سے فوت نہیں ہوتا۔ دوسرےالفاظ میں یوں سمجھئے کہ عدم فہم سے نماز میں تو محض ایک جزئی سا نقصان آتا ہے مگر خطبہ میں اس سے کلی نقصان واقع ہو جاتا ہے۔
تیسرےیہ کہ نماز میں عدم فہم سےجو ایک جزئی سا نقصان واقع ہوتا ہے وہ بھی نماز کا ترجمہ یاد کر کے بآسانی رفع کیا جا سکتا ہے لیکن خطبہ میں اس سے جو کلی نقصان واقع ہوتا ہے اسے رفع کرنے کی کوئی سبیل نہیں ۔
اب ہم کو یہ دیکھنا چاہیےکہ غیر عربی خطبےکےجواز میں کوئی امر شرعی تو مانع نہیں ہے؟اس سلسلے میں جب ہم قرآن اور سنت کاجائزہ لیتےہیں تو ہمکو کہیں صراحتہ کیا معنی کنایتا بھی کوئی حکم ایسانہیں ملتا جسسے خطبہ کے لیے عربی زبان ضروری کبھی جاسکے۔ جو لوگ عربی کے لزوم پر زور دیتے ہیں انھوں نے بھی کوئی آیت یا حدیث پیش نہیں کی ہےانکا استدلال صرف یہ ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کےصحابہ اور سلف صالح نےہمیشہ عربی زبان ہی میں خطبہ پڑھا ہے اور کبھی خطبہ کے لیے عربی کے سوا دوسری زبان استعمال نہیں کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں کبھی کبھی غیر عرب بھی موجود ہوتے تھے مگر کسی روایت میں نہیں آیا کہ آپ نے ان کی تفہیم کے لیے غیر عربی میں خطبہ دیا ہو یا مجھی زبانیں جاننے والے صحابہ میں سےکسی کو اُن کی تفہیم پر مامور کیا ہو۔حضور کے بعد صحابہ سب سے بڑھ کر تبلیغ دین اور تذکیر وارشاد کا جذبہ رکھتے تھے اور اُن کے عہد میں بکثرت عجمی ممالک بھی فتح ہو چکے تھے جن کے باشندے عربی نہ سمجھتے تھے۔ مگر ان بزرگوں نے بھی عربی کے سوا کسی دوسری زبان میں خطبہ جاری نہیں کیا۔ اسی بنا پر متقدمین اور متاخرین میں سے ایک گروہ کثیر نے یہ رائے قائم کی ہےکہ صحت خطبہ اور ادائے سنت کےلیے خطبہ کا عربی میں ہونا شرط ہے۔ صرف ایک امام ابوحنیفہ ہیں جو غیر عربی خطبہ کو مطلقاً جائز رکھتےہیں۔ان کے سوا سلف میں اور کوئی نہیں جو اس کے جواز کا قائل ہو (١)
١- امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہا اللہ کے متعلق بعض روایات میں آیا ہے کہ وہ خطبہ کےمسئلہ میں امام اعظم سےمتفق ہیں ۔ اور بعض روایات میں یہ ہےکہ وہ صرف اُس شخص کے لیے غیر عربی خطبہ کو جائز رکھتے ہیں جو عربی زبان میں خطبہ دینے پر قادر نہ ہو۔
ہمارے نزدیک اس استدلال میں متعدد اصولی غلطیاں ہیں۔ اولین غلطی یہ ہےکہ یہ حضرات شرعی عمل اور عادی و طبیعی عمل میں فرق نہیں کرتے جس کی طرف ہم ابتداء اپنے چوتھے مقدمے میں اشارہ کر آئے ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان عربی تھی ۔ آپ کے مخاطب بھی عرب تھے یا ایسے مجھی تھے جو عرب میں رہتے تھے اور عربی جان گئے تھے مثلاً سلمان فارسی ۔ اگر آپ ان کے سامنے عربی میں خطبہ نہ دیتے تو اور کس زبان میں دیتے؟ نبی عربی کا اہل عرب کے سامنے عربی میں تقریر کرنا ایک طبعی فعل ہے۔اس کو حجت شرعی بنانا کس طرح درست ہوسکتا ہے؟اگر آپ نےیہ فرمایا ہوتا کہ خطبہ عربی ہی میں دیا کرو اور کوئی دوسری زبان اس غرض کے لیے نہ استعمال کرو تو بلا شبہ یہ ارشاد حجت شرعی ہوتا۔ لیکن جب کہ آپ نے ایسا نہیں فرمایا تو خطبۂ عربیہ کو محض اس بناء پر "سنت"قرار نہیں دیا جا سکتا کہ حضور نے ہمیشہ عربی میں خطبہ دیا ہے ۔ اس طرح کے طبیعی اور عادی افعال کو شرعی اصطلاح میں سنت قرار دینے کے تو یہ معنی ہوں گے کہ عربی زبان میں گفتگو کرنے کو بھی مسنون ٹھیرایا جائے۔ کیونکہ حضور نے تمام عمر اسی زبان میں کلام فرمایا ہے اور غیر عربی میں گفتگو کرنا آپ سے ثابت نہیں ہے۔ اس کے جواب میں اگر کوئی یہ کہےکہ آپ کا عربی میں نماز پڑھنا بھی ایک طبیعی فعل تھا۔پھر تم اس کو کس بنا پر شرعی فعل قرار دیتےہو؟ تو اس کےجواب میں ہم کہیں گے کہ نماز کے لیے عربیت کا وجوب محض اس بنا پر نہیں ہے کہ حضور نے ہمیشہ عربی میں نماز پڑھی ہے بلکہ اس طبیعی عمل کے ساتھ شرعی حکم بھی موجود ہے اور متعدد مصالح شرعیہ بھی اس کے ساتھ وابستہ ہیں جن کو پہلے ہم بیان کر چکے ہیں اس لیے عربی زبان میں نماز ادا کرنا واجب قرار پایا ہے۔ بخلاف اس کے عربی نہ جاننے والےلوگوں کے سامنے عربی میں خطبہ دینا کسی مصلحت شرعی کا حامل نہیں۔ بلکہ اس سے شریعت کے مقاصد الئے فوت ہو جاتے ہیں۔ لہذا اس کو محض اس دلیل سےلازم قرار نہیں دیا جا سکتا کہ رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی جاننے والے لوگوں کے سامنے ہمیشہ عربی میں خطبہ دیا ہے۔
استدلال مذکور کی دوسری غلطی یہ ہے کہ اس میں زمانے اور حالات کے اختلاف سے قطع نظر کر لیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جو عجمی الاصل لوگ مجالس نبو یہ میں حاضر ہوتے تھے وہ زیادہ تر وہی تھے جو عربی زبان سےواقف تھےاور اگر بفرض محال ان میں کوئی اکا دکا ایسا ہو بھی جو عربی سےناواقف ہو توظاہر ہےکہ عربی بولنےوالوں کےكثير التعداد گروہ کو چھوڑ کر اُس ایک شخص یا دو چار شخصوں کی خاطر خطبہ کی زبان نہیں بدلی جاسکتی تھی(١)پھر عہد نبوی کےبعد جب صحابہ کرام فتح و ظفر کےجھنڈےلےکر عجمی ممالک میں پہنچےتو ان کی حیثیت ایک حاکم قوم کی تھی۔ان کےپاس سیاسی طاقت تھی۔وہ غالب تھےمغلوب نہ تھے وہ دوسروں کےسمجھانےکےحاجت مند نہ تھےبلکہ دوسرےخودان سےسمجھنےکےحاجت مند تھے۔ ان کے اندر اتنا بل ہوتا تھا کہ اپنی زبان کو دوسرےملکوں میں پھیلا دیں اور درحقیقت انھوں نےبخارا سےلےکر اسپین تک اسے پھیلا کر ہی چھوڑا۔حتی کہ ان کےفتح کردہ اکثر و بیشتر ممالک کی اصلی زبانیں عربی زبان کے مقابلےمیں قریب قریب فنا ہو گئیں۔پھر ان کو کیا ضرورت تھی کہ اپنی زبان کو چھوڑ کر مفتوح قوموں کی زبانوں میں خطبے دیتے ؟ لیکن آج وہ حالت نہیں ہے۔ مدتیں ہوئیں کہ عربیت کا غلبہ ختم ہو چکا ہے۔ دنیائے اسلام کے بیشتر ممالک میں اب صدیوں سےعربی زبان کا چرچا نہیں ہے اور سیاسی و علمی ضعف کی بناء پر روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے۔ عربی کےپاس اب وہ طاقت ہی نہیں ہےجس سےوہ پھیلےاور زبانوں پر چھائےاس کمزوری کی حالت میں اس طرز عمل پر اصرار کرنا کیونکر درست ہو سکتا ہےجو صحابہ کرام اور ان کے قریب العبد لوگوں نے غلبہ وطاقت کے عہد میں اختیار کیا تھا؟
تیسری غلطی یہ ہے کہ سلف صالح نے جو رائے مخصوص حالات میں قائم کی تھی اس کو شرعی معنوں میں اجماع کی حیثیت دی جارہی ہے۔ جیسا کہ ہم اُو پر عرض کر چکے ہیں ۔صدر اول کے تمام اکابر غالب اور فاتح قوم کےلوگ تھے۔اگر چہ اسلام نے ان کو وطنی اور نسلی اور لسانی عصبیتوں سے پاک ضرور کر دیا تھا، مگر یہ کیونکر ممکن تھا کہ ان کے اندر وہ کیفیات پیدا نہ ہوتیں جو طبعا ہر قوم میں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا مفتوح قوموں کی زبانوں سےپرہیز کرنا اور اپنےآپ کو اُن کی بولیوں سےبچانا اور ان کے اندر اپنی زبان پھیلانے کی کوشش کرنا اور اپنے آپ کو اُن کی بیویوں سے بچانا اور ان کے اندر اپنی زبان پھیلانے کی کوشش کرنا ایک طبعی امر تھا اور غلبہ وطاقت کی فطرت ہی اس کی مقتضی تھی کہ یہ بات اُن میں پیدا ہو۔ اس پر مزید یہ کہ اُن کی زبان قرآن اور سنت کی زبان تھی۔ اسلام کا سارا سرمایہ اسی زبان میں تھا۔ اسلام کی اصلی اسپرٹ کا تحفظ خالص عربیت کے تحفظ ہی پر موقوف تھا۔ اس چیز نے ان کے اندر زبان کی حد تک عربیت کا تعصب اور بھی زیادہ پیدا کر دیا تھا۔ یہی وجہ ہےکہ اکا بر سلف کسی حال میں بھی عجمی زبان بولنےکو پسند نہ کرتےتھے ۔ حتی کہ عجمی الفاظ کا استعمال بھی ان کو گوارا نہ تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھےکه لا تتعلموار طافة الاعاجم” عجمیوں کی بولی نہ سیکھو ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کےسامنے ایک مرتبہ نو روز کا ہدیہ پیش کیا گیا۔ آپ نے دریافت فرمایا کیا ہے؟ عرض کیا گیا آج نو روز ہے۔ آپ نو روز کا لفظ سن کر چین بچین ہو گئے ۔ محمد بن سعید بن ابی وقاص نےایک جماعت کو فارسی بولتے سنا تو کہنے لگے مابال المجوسية بعد ۔” یہ مجوسیت لوگوں میں کہاں سےگھس آئی؟‘ امام احمد ابن حنبل سے پوچھا گیا کہ عجمی زبان میں دُعا کرنا کیسا ہے؟ فرمانے لگے: لسان سوء ”بری زبان ہے ۔ امام مالک فرمایا کرتے تھے کہ عجمی زبان میں نہ دُعا مانگو اور نہ قسم کھاؤ“۔ امام شافعی عربی زبان کے سوا ہر دوسری زبان میں بات چیت کرنےکو مکروہ قرار دیتے تھےیہی حال اُس زمانے کے اکثر فقہا کا تھا۔ وہ عجمی زبان کے استعمال کو عموماً اور دعا و ذکر میں اس کے استعمال کو خصوصاً بُرا سمجھتے تھے۔ ان بزرگوں کےاس طرز عمل پر اگر آپ غور کریں گےتو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ دراصل کسی شرعی بنیاد پر نہ تھا بلکہ ایک بڑی حد تک اس طرز عمل کی بنا فطری اسباب پر تھی اور حالات کی طاقت نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ورنہ یہ بالکل ظاہر ہے کہ اسلام کو وطنی اور لسانی عصبیت سے کوئی علاقہ نہیں۔ وہ کسی خاص قوم کا مذہب نہیں ہے۔ نہ وہ اس لیے آیا ہے کہ کسی خاص زبان کی حمایت کرے اور بس ایک ہی زبان بولنے والوں کا دین بن کر رہ جاۓ۔
١- اس مقام پر یہ جاننا فائدے سے خالی نہ ہوگا کہ نبی صلی اللہ علہ وسلم نے غیر عرب لوگوں سےخط و کتابت کرنے کےلیےاپنے سیکرٹری حضرت زید بن ثابت کو سریانی زبان کی تعلیم دلوائی تھی۔(ملاحظہ ہو الاستیعاب لا بن عبد البر جلد اول، ص۱۸۹) ۔ اسی طرح بعض دوسرے صحابہ کے متعلق یہ ذکر ملتا ہے کہ انھوں نے غیر زبانیں سیکھی تھیں۔
بزرگان سلف نےعجمی زبانوں کی کراهت اور ان سےاجتناب اور دینی و دنیوی اغراض کے لیے ان کے استعمال کی ممانعت پر جو زور دیا تھا اس کا ایک سبب اور بھی تھا۔صدر اول کی تاریخ پر آپ نظر ڈالیں گےتو آپ کو معلوم ہوگا کہ اُس زمانے میں عرب کےسوا دوسری قومیں عموماً غیر مسلم تھیں اور اسلام زیادہ تر عربی قوم میں ہی تھا۔ اس صورت حال نےاس وقت عربیت کو اسلام کا اور عجمیت کو کفر کا ہم معنی بنا رکھا تھا۔ مجھی قوموں کے جو افراد اسلام لاتے تھے اُن کا رشتہ ملتِ کفر سے توڑنے کے لیے اور ملتِ اسلام میں اُن کو جذب کرنے کے لیے ناگزیر تھا کہ ان کو عربیت کے رنگ میں رنگنےکی کوشش کی جاتی اور ان کی معاشرت لباس، آداب و اطوار بول چال ہر چیز کو بدل ڈالا جاتا۔ کیونکہ باطنی تغییر کی تکمیل خارجی تغیر کےبغیر نہیں ہو سکتی۔اگر ان کو محض مسلمان بنا کر چھوڑ دیا جاتا اور تمدنی ولسانی اور ادبی حیثیت سے وہ بدستور کا فراقوام کا جز بنےرہتے تو کفر کے سمندر میں اسلام کے یہ چھوٹےچھوٹےجزیرے پیدا ہونے کے ساتھ ہی فنا بھی ہوتے چلےجاتےیہ حالت ایک طویل مدت تک رہی۔ اس کےبعد جب دوسرے ممالک کی بڑی بڑی قومیں مسلمان ہو گئیں تو عربیت اور اسلام کے ہم معنی ہونے کی وہ کیفیت جو ابتدائی صدیوں میں تھی باقی نہ رہی۔ اب ترکی فارسی، اردو اور دوسری مسلمان قوموں کی زبانیں کفار کی زبانیں نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کی زبانیں ہیں۔اب عربی لباس اور عربی طرزِ معاشرت بھی لازمی طور پر شعار اسلام نہیں ہےہندوستان میں مسلمانوں کا جو عام لباس ہے وہ بھی اسی طرح شعارِ اسلام ہےجس طرح عربی لباس۔ علیٰ ہذا القیاس دوسرے اسلامی ممالک میں بھی ہر وہ لباس اور ہر وہ طرز معاشرت، جس سے مسلمان غیر مسلموں کے مقابلے میں ممیز ہوتے ہیں یقیناً اسلامی شعار ہی ہےپس اب حالات کے بدل جانے کے باوجود فقہائے اسلام کا عربیت پر اُس طرح زور دینا درست نہیں جس طرح صدر اوّل کے فقہا بالکل مختلف حالات میں زور دیتےتھے۔ہمارے نزدیک متاخرین کی یہ ایک اُصولی غلطی ہے کہ وہ متقدمین کےزمانے اور ان کے حالات کو نہیں دیکھتے اور آنکھیں بند کر کے اُن کے اقوال سے استناد کرنے لگتے ہیں۔
خطبۂ عربیہ کے لزوم پر ایک دلیل یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ خدا کا کلام اور اسلام کے تمام احکام زبان عربی میں ہیں اور ہر مسلمان پر عربی سے واقف ہونا لازم ہے۔ اگر لوگ عربی کی تحصیل میں غفلت کرتے ہیں اور عربی نہیں سمجھتے تو یہ ان کا قصور ہے۔ ان کی خاطر خطبہ کی زبان بدلنا کیا ضرور؟
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے عربی سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر انھیں اپنے دین کی سمجھ حاصل نہیں ہو سکتی۔ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ مسلمانوں میں گمراہیوں کے پھیلنے کا ایک بڑا سبب یہی ہے کہ علم دین کے اصل ماخذ تک ان کی رسائی نہیں۔ اسی لیے ہم نے خود بارہا اس ضرورت کا اظہار کیا ہے اور ہماری قطعی رائے یہ ہے کہ مسلمانوں کی تعلیم میں عربی زبان کو لازمی طور پر شامل ہونا چاہیے۔ لیکن ہے اور ہونا چاہیئے میں بہت فرق ہے۔ جو کچھ ہونا چاہیے اس کے لیے کوشش کیجیے۔مگر جو کچھ فی الواقع ہے اس سے آنکھیں بند نہ کر لیجیے اور واقعات کی پروا نہ کیجیے۔ آپ کے حالات تو یہ ہیں کہ آپ کے ہاں مسلمانوں کے لیے عربی تو در کنار دین کی ابتدائی تعلیم تک لازم نہیں ہے اور اس پر آپ کے حکم کی کیفیت یہ ہے کہ مسلمان اگر عربی نہیں سمجھتے تو آپ فرماتے ہیں کہ ہمیں اس کی پروا نہیں، ہم تو عربی ہی میں خطبہ سنائیں گے۔ کیا عربی خطبہ پر آپ کے اصرار کا یہ نتیجہ نکلنے کی کوئی اُمید ہے کہ مسلمان محض اس کو سمجھنےکےلیےعربی زبان سیکھنے پر مجبور ہو جائیں؟
تیسری دلیل جو پیش کی جاتی ہے وہ نسبتا زیادہ وزنی ہے۔ یعنی یہ کہ عربی زبان کےسوا دوسری زبانوں میں خطبہ کےجاری ہونے سے اسلام میں لسانی قومیتوں کی بنا پڑنے کا خوف ہے۔ جمعہ تو تمام مسلمانوں کو بلالحاظ نسل اور زبان و وطن ایک جگہ جمع کرنا چاہتا ہےمگر غیر عربی خطبہ اُن کو چھانٹ دے گا اور مختلف زبانیں بولنے والوں کے جمعے الگ الگ کرا کے چھوڑے گا۔
یہ خطر و یقیناً اہمیت رکھتا ہے۔ مگر اس کا علاج کچھ زیادہ دشوار نہیں ۔ ہونا یہ چاہیےکہ خطبہ کا ایک حصہ تو لازماً عربی زبان میں ہو اور اسے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے آل و اصحاب پر صلوۃ و سلام اور آیات قرآنی کی تلاوت کے لیے مخصوص کر دیا جائے۔ اس کے بعد دوسرا حصہ جس میں احکام اور مواعظ اور ضروریاتِ زمانہ کے لحاظ سےاسلامی تعلیمات ہوں وہ ایسی زبان میں ہونا چاہیے جس کو حاضرین یا اُن کی اکثریت سمجھتی ہو اور اس غرض کے لیے بھی زیادہ تر آن زبانوں کو ترجیح دی جانی چاہیے جو مسلمانوں میں بین الاقوامی حیثیت رکھتی ہوں۔ مثلا ہندوستان میں صوبہ دار زبانوں اور مقامی بولیوں کے بجائے زیادہ تر اُردو زبان کا خطبہ ہونا چاہیے کیونکہ اسےقریب قریب ہر صوبہ کے مسلمان سمجھتے ہیں۔البته دُور دراز کے گوشوں میں جہاں اُردو سمجھنےوالے کم ہیں، مقامی زبانوں کو خطبہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جہاں مسلمانوں کا بین الاقوامی اجتماع ہو وہاں عربی کے سوا کسی دوسری زبان میں خطبہ نہ ہونا چاہیے۔
یہاں تک جو کچھ ہم نےعرض کیا ہےوہ صرف شرعی مسئلہ سےمتعلق تھا۔ یعنی قانون کی حد تک ہمارے نزدیک غیر عربی خطبے میں کوئی حکم شرعی مانع نہیں ہے اور جو لوگ اس کو نا جائز یا مکروہ تحریمی یا خلاف سنت قرار دیتے ہیں وہ ہماری رائے میں غلطی کرتےہیں۔ لیکن اس مسئلہ کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ احکام سے نہیں بلکہ عملی مشکلات اور قباحتوں سے تعلق رکھتا ہے۔
عام فہم زبان میں خطاب ہونےکی ضرورت جس بنا پر ظاہر کی جاتی ہےوہ تو یہی ہےکہ لوگ جب اسکو سمجھیں گےتو فائدہ اٹھا ئیں گےگویا اصل مقصود سمجھنا نہیں بلکہ فائدہ اُٹھانا ہےلیکن اگر صورت یہ ہو کہ بجائےفائدے کے الٹا نقصان ہونے لگئے تو ایسی صورت میں غالباً ہر صاحب عقل یہی کہے گا کہ ایسا سمجھنےسے نہ سمجھنا بہتر ہے۔ اب زرا اپنی قوم کی حالت کا جائزہ لیجیے۔
آپ کے ہاں امامت کا معیار حد سے زیادہ پست ہو چکا ہے۔ جو منصب مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں سب سے زیادہ اہم تھا، وہ اب سب سے زیادہ غیر اہم ہے۔ جس منصب کےلیے بہتر سے بہتر آدمی منتخب کرنے کا حکم تھا اب اس کےلیےبدتر سےبدتر آدمی چھانٹا جاتا ہےمسلمانوں کے ذہن میں اب امام کا تصور یہ ہے کہ جو شخص دُنیا کےکسی اور کام کا نہ ہو اس کو مسجد کا امام ہونا چاہیےدس پانچ روپیہ تنخواہ اور دونوں وقت کی روٹی مقرر کر دی اور کسی نیم خواندہ ملا کو رکھ لیا۔یہ گویا مسجد کی امامت کا انتظام ہو گیا۔امامت کو اس درجہ پست کر دینےکا نتیجہ یہ ہےکہ ہماری مسجدیں، وہی مسجد میں جنھوں نےکبھی ہماری قوم کے قصر فلک بوس کی تعمیر کی تھی، آج ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں جو بےعلم جنگ نظر پست حوصلہ اور دنی الاخلاق ہیں۔ کیا آپ ان لوگوں سے امید رکھتے ہیں کہ یہ اردو میں خطبے دے کر آپ کی دینی و دنیوی رہنمائی کرسکیں گے؟
اس گروہ کو چھوڑ کر اگر آپ نے جمعہ کی امامت کے لیے کسی دوسرے گروہ کا انتخاب کرنا چاہا تو لا محالہ اس کے لیے آپ کو علماء ہی کے طبقے کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور باستثناء چند اس طبقے کے سواد اعظم کا جو حال ہے اسے بیان کرنا گویا اپنی ٹانگ کھولنا اور آپ ہی لاجوں مرنا ہے۔ ان حضرات کو اگر آپ نے عام فہم زبان میں من مانے خطبےدینے کا موقع دیا تو یقین جانیے کہ آئے دن مسجدوں میں سر پھٹول ہوگی ۔ اس لیے کہ ان میں کا ہر شخص اپنا ایک الگ مشرب رکھتا ہے اور اپنے مشرب میں وہ اتنا سخت ہےکہ دوسرے مشرب والوں کےساتھ کسی قسم کی رعایت کرنا اس کےنزدیک گناہ سےکم نہیں۔پھر اللہ نےاس کی زبان میں ایک ڈنک رکھ دیا ہے جس سے دلوں کو زخمی کیے بغیر وہ کوئی بات نہیں کر سکتا۔ وہ جس ماحول سے تعلیم و تربیت پا کر آتا ہے اور جس ماحول میں زندگی بسر کرتا ہے وہاں دین کےمہمات اور قوم کے مصالح کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔ تمام دلچسپیاں سمٹ کر چند چھوٹی چھوٹی نزاعی باتوں میں جمع ہو گئی ہیں۔اس لیےلامحالہ جب وہ زبان کھولےگا انھی مسائل پر کھولےگا۔نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ کےگھر میں گالم گلوچ اور جوتی پیزار ہوگی اور آخر کار ہر مشرب کے مسلمان اپنے جمعے الگ الگ قائم کرنے لگیں گے۔ یہ تو مذہبی ذہنیت رکھنے والوں کا حال ہوا۔ رہے نئے تعلیم یافتہ حضرات جو ان مسائل سےدلچپسی نہیں رکھتے تو ان پر ایک دوسری مصیبت نازل ہوگی۔ وہ ہر جمعہ کو رسول اللہ کے منبر سے وہ موضوع اور ضعیف روایتیں اور لا طائل کہانیاں اور احکام اسلامی کی غلط تعبیریں سنیں گے جن کوسُن کر غیر مسلموں کا مسلمان ہونا تو در کنار ذی ہوش مسلمانوں کا مسلمان رہنا بھی مشکل ہے۔
مذہبی دھڑے بندیوں کے علاوہ اب مسلمانوں میں سیاسی دھڑے بندی کا بھی زور ہو رہا ہے۔ جہاں کہیں مولوی قسم کے مسٹروں یا مسٹر قسم کے مولویوں کو امامت و خطابت کا موقع مل گیا ہے وہاں وہ نہایت منہ پھٹ اور بے لگام طریقےسےاپنےسیاسی مسلک کی تائید اور مسلک مخالف کےلوگوں کی تذلیل و تضحیک و تفسیق کرنےلگےہیں۔یہ ایک اور فتنہ ہےجو اگر کچھ زیادہ بڑھ گیا تو مسلمانوں کےلیےمل کر نماز پڑھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔مسجدوں میں وہ کچھ ہونے لگا ہےجو پولنگ اسٹیشنوں پر ہوا کرتا ہےاور بالآخر ہر سیاسی مسلک کے لوگوں کی مسجد میں الگ ہو کر رہیں گی۔
خطبہ غیر عربیہ کے اجرا سے پہلے آپ کو ان خرابیوں کا کوئی علاج سوچنا چاہیے۔میری رائے میں ان کا علاج صرف یہی ہو سکتا ہے کہ اہل علم کی کوئی معتدل جماعت خطبات جمعہ کی تیاری کا کام اپنے ہاتھ میں لے اور ایسے خطبےلکھے جو نزاعی مسائل سے پاک ہوں اور مسلمانوں میں صحیح دینی رُوح پھو لنے والے ہوں ۔ پھر ہندوستان میں ہر جگہ صحیح الخیال اور بااثر لوگ کوشش کریں کہ اسی مرکزی جماعت کے تیار کیے ہوئے خطبےنماز جمعہ میں پڑھے جائیں۔اگر ایسی کوئی تعظیم ہو جائے(جس کی اُمید کم ہی نظر آتی ہے)تو خطبہ غیر عربیہ کے اجرا میں میری تحقیق کی حد تک کوئی امر شرعی مانع نہیں ہے۔ لیکن اگر یہ تنظیم نہ ہو سکے تو مصلحت کا اقتضا یہی ہے کہ عربی کے انھی پرانے خطبوں کو چلنے دیا جائےجن سے کوئی مفید نہیں تو مضر نتیجہ بھی برآمد نہیں ہوتا ۔ البته اگر خوش قسمتی سےکوئی موزوں خطیب میسر آجائےاور وہ اس خدمت کو باحسن وجوہ انجام دے سکے تو اس سے فائدہ اُٹھانے میں دریغ بھی نہ کرنا چاہیے۔
خطبہ جمعہ کی زبان کے مسئلے پر جناب نے نقلا و عقلاً جو روشنی ڈالی ہے اور حالات زمانہ کے لحاظ سے جو نتائج اخذ فرمائے ہیں اس حد تک تو مجال اختلاف نہیں۔ سچ ہے کہ عربی زبان تو در کنار مسلمان اپنی ابتدائی دینی تعلیم بھی لازمی نہیں کرا سکتے تو خطبۂ جمعہ کا تحکم کیا معنی ۔ مجبوری کے لیے تو حرام کھانے کی بھی اجازت ہے۔ لیکن اس تحقیق میں جناب نے جو اصولی بحث چھیڑ دی ہے وہ محل نظر ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے عمل کو مصلحت شرعی کےبجائے ایک طبعی فعل قرار دینے پر جو دلائل اور وجوہ جناب نے تحریر فرمائے ہیں وہ قلب کو مطمئن نہیں کرتے ۔ بلاشبہ اسلام کو وطنی اور لسانی عصبیت سے کوئی علاقہ نہیں بلکہ وہ آیا ہی اس لیے ہے کہ گروہ انسانی میں جو ملکی ونسلی اور لسانی غلط تخیلات بناء تفریق و تقسیم ہیں ان کو مٹا کر مختلف اقوام کی جگہ ایک قومیت کی تعمیر کی جائے۔ اس قومیت کا نام اسلام إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الاسلام (آل عمران : ۱۹) اور قوم کا نام مسلم رکھا گیا۔ سمكُمُ الْمُسْلِمِينَ (الحج: ۷۸ ) جس طرح دنیا میں مختلف قومیں آباد ہوئیں اور ہیں اور ہر قوم کی ایک زبان رہی ہےتو فطرتا اس قوم مسلم کی بھی کوئی ایک زبان ہونی چاہیےجو نتائج فطرتاً ولا زما پیدا ہوتے ہیں ان کو حاصل کرنے کا حکم نہیں دیا جاتا۔ حکیم یہ نہیں کہے گا کہ تم مرض کو دفع کرو بلکہ ان ہدایتوں پر عمل کرائے گا جن پر عمل کرنے کا نتیجہ صحت ہے۔ حاکم قوم محکوم کی زبان کو بدل دینےکا حکم نہیں دیتی ۔فطرتا محکوم حاکم قوم کی زبان اختیار کریں گےپھر خالق فطرت ایسا حکم کیوں دیتا اور خالق فطرت کا رسول ایسی ہدایت کیوں دےجسکا ظہور بطور نتیجہ لازمی ہوتا ؟ نزول قرآن کا مقصد یہی ہے کہ گروہ انسانی میں حکومت الہیہ قائم کی جائے۔ حکومت کی زبان عربی ہے۔ حکومت کے کاروبار انجام دینے والوں کی زبان اور اس کے محکوم کی زبان لازماً وہی ہوگی۔قرآن عربی ہونے کے متعلق جو آیتیں ہیں وہ ملاحظہ ہوں :-
ہم نے اس قرآن کو تیری زبان میں آسان کر دیا تا کہ تو اس کےذریعہ سے پر ہیز گاروں کو بشارت دے اور اکھڑ لوگوں کو عذاب سے ڈرائے ۔
اگر ان آیتوں کا صرف یہ مطلب ہےکہ رسول اللہ عرب تھےدعوتِ اسلام ابتداء اہل عرب کو دی گئی اس لیے قرآن عربی زبان میں نازل ہوا تو یہ ایسی کیا حکمت کی بات تھی جو ایک حکیم نے بتائی۔ یہ نہ بھی بتایا جاتا تو بھی یہی سمجھا جاتا ۔ قرآن اور رسول اللہ اہل عرب ہی کے لیے نہیں تھے تو پھر یہ کوئی قرینہ نہیں کہ ان آیتوں کے مخاطب تو اہل عرب تھے اور باقی آیتوں کے مخاطب تمام بنی آدم ۔ اگر قرآن اپنے مخاطب کی زبان کے لحاظ سے عربی میں نازل ہوا ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ اکثر احکام بھی اہل عرب کے طبعی و ملکی حالات کے لحاظ سے نازل ہوئے۔جیسا کہ بعض کج فہم کہتےہیں۔وہ قرآن جو تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَلَمِينَ (الواقعہ : ۸۴) اور مِنَ اللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمُ (الزمر: ۱) ہےجو هُدَى لِلنَّاسِ (البقره: ۱۸۵) وَذِكْرٌ لِلْعَلَمِينَ (التکویر: ۲۷) ہےکل بنی آدم کےلیےجس کو صراط مستقیم کہا جا رہا ہے۔پھر وہ بنی آدم جن میں بیسیوں زبانیں بولی جاتی ہیں،ان سب کےلیےقرآن عربی نازل کرنے میں کیا حکمت پنہاں ہے؟ وہ خدا جو اپنے رسول کو وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (الانشراح: ۴) اور رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ (انبیاء : ۱۰۷) کا مرتبہ دے کر معلم کتاب و حکمت‘ بنا کر تمام بنی آدم کی ہدایت کے لیے بھیجتا ہے کیا اس بات پر قادر نہ تھا کہ ایسے عظیم المرتبت رسول کو کل زبانوں سے واقف کرا دے اگر "احکم الحاکمین" کا یہ مقصد نہ تھا کہ اس کا دین ایک ہی زبان جاننے والوں کا دین ہو کر رہ جائے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عربی زبان میں خطبہ دینا کسی شرعی مصلحت کا حامل نہیں تو غیر عربی جاننے والوں کےلیےقرآن عربی نازل کرنا اور اس کی اشاعت کےلیےصرف عربی زبان جاننےوالوں کو منتخب کرنا کیا نزول قرآن کےمقصد کو فوت نہیں کرتا؟بلاشبہ رسول عربی کےمخاطب اهل عرب تھےمجلسِ نبوی کے حاضرین میں غیر زبان جاننےوالوں کی تعداد کم رہتی تھی۔مگر نبی کریم نےجو دعوت نامےقیصر روم و شاہ ایران کو بھیجے تھے وہ کیوں عربی زبان میں بھیجے گئے؟اگر مصلحت شرعی یہ نہیں ہے کہ دین کی اشاعت ایک ہی زبان میں ہو تو نبی کریم نےاس کو کیوں ملحوظ رکھا؟ "معلم کتاب و حکمت" کا کوئی فعل جس کا تعلق رسالت سےہو خالی از حکمت نہ ہونا چاہیے۔تمام دنیا کےلیے قرآن عربی نازل کرنا اسی حکمت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس دین سے جو قوم پیدا ہوگی اس کے افراد ایک ہی زبان بولنےوالے ہوں۔ یہ بناء تفریق نہیں نتیجہ وحدت ہے ۔خلاف فطرت نہیں عین فطرت ہے۔ دین الہی قائم ہوگا تو یہ مقصد خود بخود پورا ہو جائےگا۔ کسی قوم کو بھی لیجیے افراد قوم کی ایک ہی زبان ہوگی۔آج ہندوستان میں جہاں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ہندوستانی قومیت کی تعمیر کےلیےوحدت زبان کی گتھی سلجھائی جا رہی ہے۔دین اسلام اپنے متبعین میں رشتہ اخوت قائم کرتا ہے۔ زبان کےاختلاف سے اجمیت باقی رہے گی جو منافی اخوت ہے۔ ایک انگریز ایک ہندی، ایک عرب ایک ترک ایک جاپانی ایک چینی یہ چھ مسلمان ایک جگہ جمع ہیں۔ آپس میں تبادلہ خیالات تو کجا اسلامی طریقے سے سلام بھی نہیں کر سکتے ۔
ایک مقام پر آپ یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اصلی اسلامی اسبرٹ کا تحفظ خالص عربیت کے تحفظ پر موقوف تھا۔ اس کے بعد یہ ارشاد که سیدنا عمر و سیدنا علی رضی اللہ عنہما میں اسی اسلامی اسپرٹ نےعربیت کا تعصب اور بھی زیادہ پیدا کر دیا! مولانا!غور مکرر کا محتاج ہے۔وہ لوگ جن کی مثال دنیائےاسلام آج تک نہ پیش کرسکی، جو نور ہدایت اور علم و عمل سے آراستہ ہو کر عصبیت جاہلیت کو مٹانےکے لیے اُٹھے تھے ۔ اُن میں اسلام نے وہی عصبیت پیدا کر دی! حیرت کا مقام ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اصلی اسلامی اسپرٹ کا تحفظ خالص عربیت کے تحفظ پر موقوف تھا اس لیے عربیت کا تعصب نہیں بلکہ اسلام کی عصبیت عربی زبان کے تحفظ کی متقاضی تھی ۔ ورنہ جو استدلال جناب نے فرمایا ہے وہ تسلیم کر لیا جائے تو جہاد اسلامی کےمتعلق یہ اعتراض کس قدر وزنی ہو جائے گا کہ چونکہ عرب پہلے سےقتل و غارت گری کے عادی تھے ۔اسلام نے اس جذبہ کو اور اُبھار دیا۔ گویا ان مقدس ہستیوں سے جو جان شاریاں ہوئیں وہ دینی جذ بہ نہیں تھا بلکہ ان کا عادی و طبیعی فعل تھا۔ جس طرح عادی و طبیعی فعل اور شرعی عمل کا امتیاز مشکل ہے اس سے زیادہ اُس فعل کا تعین مشکل ہے جو عادی وطبیعی بھی ہو اور مصلحت شرعی کا تقاضا بھی ۔
صحابہ کرام یا آئمہ سلف نے اگر غیر عربی زبان میں خطبہ نہیں دیا، یا عجمیوں کو دعوتِ اسلام نہیں دی یا غیر عربی زبان میں بات کرنا بھی مکر وہ سمجھتے تھے تو وہ عادی وطبیعی فعل یا حالات زمانی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ (البقرہ: ۱۶۵) کا نتیجہ تھا۔ دین الہی اُن کے رگ و پے میں جاری و ساری تھا۔ ان کی رُوح ان کے دل و دماغ احکام الہی کے تابع تھے۔وہ حکومت الہیہ کے سچےمحکوم تھے ۔ جس طرح یہ حکومت ان کو دنیا کی ہر چیز سے محبوب تھی اسی طرح حکومت کی زبان ( جو عربوں کی نہیں بلکہ خدا کی حکومت کی زبان تھی ) ان کو دوسری زبانوں سےزیادہ عزیز تھی کہ یہی انسانی فطرت ہے۔آج جو لوگ حکومت کےشیدائی ہیں، فرنگیت میں جذب ہو گئے ہیں، اُن کا اوڑھنا بچھونا، انگریزی زبان ہے۔ حالانکہ شاہ انگلستان نے یا وائسرائے بہادر نے ان کو اپنی زبان بدل دینے کا کوئی حکم نہیں دیا۔
عصبیت لسانی کو مٹانے کا منشا یہ ہے کہ عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ۔ اسلام سے پہلے یہی چیز وجہ امتیاز تھی ۔ مجھی مسلمان ہونےکے بعد اُسی طرح صاحب عزت و توقیر ہیں جیسےعرب۔ اگر وہ عربی سےواقف نہیں تو ان کو کم تر نہ جانو ۔ اسلامی قومیت میں جذب اور دین الہی میں شامل ہو جانے کے بعد ان کی زبان لازماً وہی ہو جائے گی جو حکومت کی زبان ہے کہ قوم مسلم دراصل حکومت الہی کی محکوم ہے۔
جس قوم کے ایمانیات و اعتقادات ایک جس کا مقصد حیات ایک جس کی زندگی کا نصب العین ایک ہو۔ جس کی تعلیمات اخلاقیات معاملات عادات میں یکسانیت ہو اس قوم کی زبان ایک ہونا دین کا مقصد نہیں! تعجب ہے! جس طرح اسلام سے پہلے کعبہ صرف عربوں کا تھا، اسلام کے بعد وہ ہر مسلم کا کعبہ ہو گیا۔ اسی طرح اسلام سے پہلے عربی زبان صرف عربوں کی تھی، اسلام کے بعد وہ زبان صرف عربوں کی نہیں رہی بلکہ قوم مسلم کی زبان ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ محترم مراسلہ نگار نے مسئلہ زیر بحث پر اصولی طریقہ سے غور نہیں کیا ہے اسی وجہ سے ان کے کلام میں مختلف مباحث ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ہو گئے ہیں۔
مسئلہ کا ایک پہلو فقہی ہے اور اس نقطۂ نظر سے صرف یہ امر بحث طلب ہے کہ آیا خطبہ کو عربی زبان میں پڑھنا شرعا ضروری ہے یا نہیں ؟ اس سوال کے متعلق کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لیے حسب ذیل امور کی تحقیق ہونی چاہیے:۔ کیا خطبہ عربیہ کے وجوب پر کوئی نص ہے ؟ اگر نص ہے؟ اور یہ حکم صرف شارع کے عمل سے ماخوذ ہے تو کیا شارع کا یہ عمل سنت کی تعریف میں آتا ہے؟ آیا اصطلاح شرع میں سنت ہر اُس عمل کو کہتے ہیں جو شارع نے کیا ہو اس باب میں شرعی عمل اور عادی و طبیعی عمل میں کوئی فرق کیا گیا ہے؟ اگر فرق ہے تو شارع کا عربی میں خطبہ دینا کس قسم کا فعل ہے، شرعی یا طبیعی؟
مسئلہ کا دوسرا پہلو مصالح سے تعلق رکھتا ہے اور اس بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کے لیے حسب ذیل اُمور کا تصفیہ ضروری ہے: ۔ خطبہ کا مقصد کیا ہے؟ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے شارع نے اور صد راول کے آئمہ نےجوطریقہ اختیار کیا تھا اُس کی پابندی سےآج بھی وہ مقصد حاصل ہوتا ہےیا نہیں ؟ شریعت میں مقصد زیادہ اہمیت رکھتا ہےیا وہ وسیلہ جو اس کو حاصل کرنے کے لیےمقرر کیا گیا ہو؟ اگر مقصد زیاده اہمیت رکھتا ہےاور کسی خاص صورت حال میں طریقہ متوارثہ کی پابندی سے وہ فوت ہو رہا ہو اور اس صورت حال کو بدلنے پر ہم قادر نہ ہوں تو کیا ہم اس اصول شرع کے تحت طریقہ متوارثہ میں کوئی تغیر کر سکتے ہیں؟ اگر تغیر کرنے کا حق ہم کو حاصل ہے تو حالات کے لحاظ سے ہمیں کتنا اور کس طرح کا تغیر کرنا چاہیے؟
یہ ہیں وہ تنقیحات جن کے تصفیہ پر زبان خطبہ کے سوال کا حل منحصر ہے۔ اگر مراسلہ نگار نے ان تنقیحات کو پیش نظر رکھ کر بحث کی ہوتی تو ہم کو یہ معلوم کرنے میں آسانی ہوتی کہ انھیں کن امور میں ہم سے اتفاق ہے اور کن امور میں اختلاف ۔ پھر جو اُمور مختلف فیہ باقی رہ جاتے ان پر مزید بحث کر کے صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی جا سکتی تھی ۔لیکن جو طریق بحث انھوں نے اختیار کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل اُمور تنقیح طلب ان کے سامنے واضح نہیں ہیں بلکہ وہ محض چند ضمنی مباحث میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ بہر حال چونکہ وہ خطبہ کے مسئلہ میں مانعین تغیر کے عام خیالات کی ترجمانی کر رہے ہیں، اس لیے ہم ان کے مضمون کو شائع کر کے اختصار کے ساتھ ان غلط فہمیوں کو رفع کرنے کی کوشش کرتےہیں جن کی وجہ سے ان کو اور اسی طرز خیال کے دوسرے لوگوں کو اس مسئلہ میں اُلجھن پیش آئی ہے۔
صاحب مضمون نےزبان کےمتعلق جو طریق استدلال اختیار کیا ہےوہ قریب قریب اسی طرح کا استدلال ہے جس کی بنا پر ایک گروہ اس سےپہلےقرآن مجید کا ترجمہ دوسری زبانوں میں کرنےکی مخالفت کر چکا ہے۔اور یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ اگر ان دلائل کو تسلیم کر لیا جائے تو قرآن مجید کا ترجمہ کرنا بھی اسی طرح ناجائز قرار پائے گا جس طرح غیر عربی میں خطبہ دینا ناجائز قرار دیا جاتا ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ عربی زبان اسلام کی سرکاری زبان ہے جو لوگ اسلام کے محکوم ہیں ان پر اس زبان سےواقف ہونا لازم ہے۔اور اگر وہ عربی سےواقفیت پیدا نہیں کرتے تو یہ ان کا قصور ہے، لہذا ان کو سمجھانے کےلیےقرآن کے مطالب کو ان کی مادری زبان یا بالفاظ دیگر کسی غیر سرکاری زبان میں بیان نہیں کیا جائے گا۔ اسی طریقے سے آپ یہ بھی کہہ دیجیے کہ ان کے سامنے اسلامی احکام اسلامی عقائد اسلام کی اخلاقی تعلیمات اور دوسری ”سرکاری“ چیزوں کو بھی صرف سرکاری زبان ہی میں بیان کیا جائےگا۔کوئی چیز غیر سرکاری زبان میں نہ بیان ہوگی خواہ وعظ کی صورت میں ہو یا تحریر کی صورت میں۔
فرمائیے!اگر کوئی شخص یہ موقف اختیار کرےتو کیا آپ اس کو قبول کریں گے؟ غالبا نہیں۔اس لیے کہ آپ اچھی طرح جانتےہیں کہ موجودہ حالات میں ایسا کرنےسےمسلمانوں کی تقریباً ۸۰ فی صد آبادی اسلام کےعلم سے بالکل بے بہرہ ہو جائے گی۔اسی بناء پر آپ قرآن حکیم کے ترجمے دوسری زبانوں میں کرنے کو صرف جائز ہی نہیں بلکہ ضروری سمجھتے ہیں، اور اسی بنا پر آپ غیر سرکاری زبان میں ”سرکاری مضامین کی اشاعت کو مواعظ اور تحریروں کی شکل میں صرف گوارا ہی نہیں بلکہ پسند کرتے ہیں۔جب حال یہ ہےتو آخر کیا وجہ ہے کہ یہ تمام بخشیں صرف خطبہ جمعہ کےمسئلہ میں پیدا ہوتی ہیں؟ مسجد میں اگر کوئی شخص نماز کے بعد یا خطبہ سے پہلے مجھی زبان میں وعظ کہے تو جائز بلکه مفید ۔ اور انھی مضامین کو اگر وہی شخص منبر کی دو سیڑھیوں پر چڑھ کر خطبہ جمعہ کی حیثیت سےبیان کرنے لگے تو نا جائز بلکہ بدعت ! یہ کھلی ہوئی ناہمواری جو آپ کے طرز عمل میں پائی جاتی ہے اس کو شریعت کی طرف منسوب کرنے سے پہلے اپنے نفس کو ٹول کر دیکھیے کہ وہاں کوئی غیر شرعی محرک تو چھپا ہوا نہیں ہے؟
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ عادت قدیمہ کی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور جب کوئی مجتہد حالات کے تغیر اور زمانے کی بدلی ہوئی ضروریات کو محسوس کر کے طریقہ متوارثہ میں ترمیم کی جرات کرتا ہے تو وہ محض اس بناء پر اس کی مخالفت کرنے لگتے ہیں کہ اس نےایک ایسا طریقہ اختیار کیا ہے جس سے ان کے طبائع مانوس نہیں ہیں ۔ مگر جب یہ نیا طریقہ چل پڑتا ہے اور اجنبیت دُور ہو جاتی ہے تو لوگ اس کو نہ صرف جائز بلکہ مفید سمجھنے لگتےہیں ۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے جب قرآن مجید کا ترجمہ فارسی میں کیا تو اسی بنا پر ان کی مخالفت کی گئی تھی۔اُن سےپہلے ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جس میں عربی زبان کے سوا کسی اور زبان میں دُعا کرنا وعظ کہنا اور دینی مسائل پر اظہار خیال کرنا ایک نئی چیز تھی،اور لوگ اس پر معترض ہوتے تھے۔ ترکی میں جب پہلی مرتبہ جدید طرز پر فوجوں کو مرتب کرنےاور نئےآلات جنگ کا استعمال رائج کرنے کی کوشس کی گئی تو ایک جماعت نےاس پر سخت اعتراض کیا تھا۔ان میں سے ہر موقع پر یہی کہا گیا کہ یہ بدعت اور احداث فی الدین ہے۔مگر آج کوئی نہیں جس کو ان چیزوں پر اعتراض ہو ۔ اعتراض تو در کنار آج عالمی اور عالم سب ان کو جائز بلکہ مستحسن سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ پر آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس قسم کے اعتراضات دراصل غیر شرعی محرکات سےپیدا ہوتے ہیں، پھر ان کی تائید میں شریعت سے استدلال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسلام میں عربی زبان کی حیثیت کے متعلق آپ نے جو کچھ لکھا ہے اس میں صحیح اور غلط دونوں کی آمیزش ہے۔ یہاں تک تو آپ کی بات بالکل درست ہے کہ اسلام سے عربی زبان کا خاص تعلق ہے۔ قرآن عربی میں نازل ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور صحابہ کرام کی سیرت کےمتعلق تمام معلومات عربی میں ہیں ۔ اسلام کا صحیح علم حاصل ہونا جس پر انسان کے مسلمان ہونے کا مدار ہے عربی زبان کی واقفیت ضروری اور ناگزیر ذریعه ہےانھی وجوہ سےہر زمانہ کےعلماء نےعربی کی تعلیم پر زور دیا ہےاور انھی وجوہ سےآج بھی ہر صاحب و عقل و فہم مسلمان یہ ضروری سمجھتا ہےکہ مسلمانوں کی تعلیم میں عربی کو بحیثیت ایک ثانوی زبان کے لازمی طور پر شامل ہونا چاہیے۔یہ تمام باتیں بالکل برحق ہیں اور ان میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن جیسا کہ اس سے پہلے میں عرض کر چکا ہوں ” ہے“ اور ”ہونا چاہیئے میں بڑا فرق ہے۔ جو کچھ ہونا چاہیے اس کے لیے ضرور کوشش کیجئے، لیکن اگر عالم واقعہ میں موجود نہیں ہے تو اپنے طرز عمل کو واقعات کے مطابق بنانے سے انکار نہ کر دیجیے۔ عقل اور دین دونوں کا اقتضا یہ ہے کہ مقصد کو وسیلہ پر مقدم رکھا جائے ۔ ایک وسیلہ اگر زیادہ بہتر ہے، لیکن اب کارگر نہیں رہا تو دوسرا وسیلہ اختیار کیجیے جو کارگر ہو اگر چہ بہتر نہ ہو۔ لیکن اگر آپ وسیلہ پر اصرار کر کے اصل مقصد کو کھو دیں گے تو یہ نہ عقل مندی ہے نہ دین داری۔
اب آپ خود غور کیجیے کہ دین کا اصل مقصد کیا ہے؟ آیا یہ ہے کہ عربی زبان کو سرکاری اور قومی زبان کی حیثیت سے پھیلایا جائے؟ یا یہ کہ خدا کے بندوں کو اس کی تعلیم اور اس کے احکام سے واقف کرایا جائے ؟ ظاہر ہے کہ اصل مقصد دوسری چیز ہے۔ پس جب حال یہ ہے اور ہر شخص اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ غیر عربی ممالک میں دو فی صدی آدمی بھی عربی زبان سمجھنے والے باقی نہ رہے اور ہم اس طاقت سے محروم ہو چکے ہیں جس سے صدر اول کے مسلمانوں نے عربی کے علم کو پھیلایا تھا، تو آپ کو سوچنا چاہیے کہ ہمارے لیے صحیح طریق کار کیا ہے؟ یہ کہ مقصد اصلی کو کسی دوسرے ممکن ذریعہ سےحاصل کریں؟ یا یہ کہ قدیم ذریعہ پر اصرار کر کے مقصد کو فوت ہو جانے دیں؟
آپ نے جن دلائل سے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ دین کی اشاعت ایک ہی زبان میں ہونی ضروری ہے وہ در حقیقت نہایت کمزور ہیں، اور اگر آپ زیادہ غور و فکر سے کام لیں گے تو ان کی کمزوری آپ پر خود ہی واضح ہو جائے گی۔ دین ایک عالمگیر حقیقت ہے۔انسانی زبانوں میں سے کسی کے ساتھ اس کا مختص بالذات رشتہ نہیں ہے۔ اللہ تعالی کا اصل مقصد دین کو اپنےبندوں تک پہنچانا ہےاور اس مقصد کےلیے جس طرح وہ ایک انسان کو وسیلہ بناتا ہے اسی طرح ایک زبان کو بھی وسیلہ بناتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےپہلے اسی دین کو پہنچانے کے لیے وہ دوسری قوموں کے انسانوں اور دوسری قوموں کی زبانوں کو بھی وسیلہ بنا چکا ہے۔ پس اگر آخری تبلیغ کے موقع پر اس نے عربی قوم اور عربی زبان کو وسیلہ بنایا تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ اب صرف عربی زبان ہی سےاسلام کا رشتہ ہو گیا ہے اور دوسری زبانوں کو تبلیغ دین کے لیے استعمال کرنا نا جائز یا مکروہ ہے۔اگر ایسا ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صریح ہدایت فرما دیتے کہ عربی زبان کے سوا کسی زبان کو تبلیغ دین کےلیےقیامت تک استعمال نہ کرنا۔حالانکہ احادیث سےیہ ثابت ہےکہ آپ نےبعض صحابہ کو غیر زبانیں سیکھنےکا حکم دیا تھا اور عہد صحابہ میں حضرت سلمان فارسی جیسےغیر عربی الاصل حضرات عجمیوں کو ان کی اپنی زبانوں میں دین کی تعلیمات سمجھاتے تھے۔
رہی یہ بات کہ قیصر روم اور شاہ ایران کو جو دعوت نامے بھیجے گئے تھے وہ عربی میں کیوں بھیجے گئے تو اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطوط ان لوگوں کو بھیجے تھے وہ ایک ملک کے فرمانروا کی طرف سے دوسرے ملک کے فرمانرواؤں کی جانب تھے اور ایسی مراسلت میں اپنے ملک کی زبان کے بجائے مخاطب کے ملک کی زبان استعمال کرنا اس مملکت کی تو ہین ہے جس کا فرمانروا کمتر موقف اختیار کرے اور اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر حضور تبلیغ کی خاطر ہر مخاطب فرمانروا کو اسی کی زبان میں خطاب فرمانا چاہتے بھی تو اس وقت عملاً اس کا انتظام مشکل تھا کیونکہ صحابہ میں بہت کم لوگ ایسے تھے جو غیر عربی زبانیں جانتےہوں اور جو لوگ جانتے تھے وہ بھی ان زبانوں کے ایسےادیب نہ تھے کہ ایک نبی کےشایان شان فصیح و بلیغ محط لکھ سکتے۔ نیز یہ بات بھی حضور کو معلوم تھی کہ جن بادشاہوں کے نام آپ دعوت نامے بھیج رہے ہیں، ان کو ایسے لوگ میسر آسکتے ہیں جو ان خطوط کا صحیح مفہوم انھیں سمجھا سکتے ہیں (١) پس حضور کا عربی میں اسلام کے دعوت نامےبھیجنا عملی زندگی کے موانع کا نتیجہ تھا اور اس کی حیثیت بالکل ایسی ہی تھی جیسے پانی نہ ملنے کی صورت میں آپ نے تم بھی کیا ہے اور قیام کی طاقت نہ ہونے کی حالت میں بیٹھ کر بھی نماز پڑھی ہےحالانکہ اگر اللہ چاہتا تو ہر جگہ آپ کےلیےایک چشمہ پیدا کر سکتا تھا اور آپ کو ہمیشہ بیماری اور ضعف سےمحفوظ رکھ سکتا تھا۔ایسی مثالوں سےیہ نتیجہ نکالنا ہرگز درست نہیں کہ شریعت دین کی تبلیغ کو صرف عربی زبان تک محدود رکھنا چاہتی ہےاور اس کا منشاء یہ ہےکہ جو لوگ اس زبان سے واقف نہ ہوں، ان کو ضلالت اور جہالت میں مبتلا رہنے دیا جائے۔
صحابہ کرام اور آئمہ متقدمین کی غیر زبانوں سے نفرت اور عربیت پر ان کےاصرار کے متعلق میں نے تعصب کا لفظ جو استعمال کیا تھا اس سے آپ غلط فہمی میں پڑ گئے۔ آپ نے یہ سمجھا کہ میں ان کی طرف عصبیت جاہلیہ کو منسوب کر رہا ہوں۔حالانکہ میرا مقصد کچھ اور تھا۔تعصب محض جاہلیت ہی کا نہیں ہوتا۔ ایک قسم کا تعصب وہ ہےجو ہر انسان کی فطرت میں ہوتا ہےاور جس کو عیب میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔مثال کے طور پر ایک ہندوستانی جب چین جائےگا تو وہاں کی زبان عادات خصائل، طرز بود و ماند هر چیز سےاجنبیت محسوس کرے گا۔ ان پر ناک بھوں چڑھائے گا۔ اور اس کو پسند نہ کرے گا کہ اس کے اہل وعیال چینیت اختیار کریں۔ یہ ایک فطری منافرت ہے جو ہر انسان کی طبیعت میں اجنبی چیزوں سے ہوتی ہے۔ صحابہ کرام بھی بہر حال انسان تھے اور عجمیت سے ان کی نفرت ایک حد تک اس بناء پر بھی تھی۔ اس میں مزید اضافہ اس وجہ سے ہو گیا کہ عجمی اقوام اس وقت سب کی سب کا فرتھیں اور ان کے جو افراد مسلمان ہو جاتے تھے ان کو صحابہ کرام عربیت کے رنگ میں رنگ لینا ضروری سمجھتے تھے تا کہ وہ کفار کی جمعیت سے الگ ہو کر اہل اسلام کی جمعیت میں جذب ہو جائیں۔ نیز صحابہ کرام یہ بھی پسند نہ کرتےتھےکہ مسلمان (جو اس وقت تمام تر عرب ہی تھے )عجمی ممالک میں اہل عجم کی سی بولیاں بولنا اور ان کےسےلباس پہننا شروع کر دیں۔ کیونکہ اس طرح کفار کی اکثریت میں ان کےجذب ہو جانےکا اندیشہ تھا۔پس صحابہ کرام نےجو طرز عمل اختیار کیا اس کی بنیاد دو وجوہ پر تھی۔ ایک وجہ فطری تھی اور دوسری وجہ حالات کے اقتصاء سے تعلق رکھتی تھی۔ ان میں سے پہلی وجہ کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتی اس لیےاس کو حجت بنانا درست نہیں۔رہی دوسری وجہ تو اب وہ حالات باقی نہیں ہیں۔اُردو فارسی،ترکی جاوی اور ایسی ہی دوسری زبانیں بھی عربی کی طرح اب مسلمانوں کی زبانیں ہیں اور ان سے کسی اسلامی مصلحت کے تحت نفرت و اجتناب کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی ہے۔
١- واضح رہے کہ ایرانی اور رومی، دونوں سلطنتوں کے حدود میں، اور ان کے زیراثر علاقوں میں عربی ریاستیں موجود تھیں، بڑے بڑے عرب قبائل آباد تھے اور عرب سرداروں کی رسانی قیصر و کسرٹی کے درباروں میں تھی ۔ اسی طرح مصر اور جبش کے ساتھ بھی عرب کے وسیع تجارتی تعلقات تھے اور دونوں ملکوں کے اپنےحدود میں عربی بولنے والی آبادیاں پائی جاتی تھیں۔
جناب نے خطبہ غیر عربیہ کی نسبت جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ خطبہ جمعہ غیر عربی میں دیا جانا صرف جائز ہے، اور یہ کہ سامعین کی زبان میں دیا جا سکتا ہےجس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی درجہ میں ضروری نہیں ہے، کیونکہ جواز کا اطلاق اولویت عدمِ اولویت اباحث، حتی کہ کراہت پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس کا باعث ہے کہ آخر میں جناب نے جو عملی مشکلات تحریر فرمائی ہیں ان سے متاثر ہو کر اپنی رائے موجودہ طرز عمل کی پسندیدگی اور خطبہ غیر عربیہ کے عدم اجزاء کی بہتری کے متعلق صاف طور پر ظاہری فرمائی ہےحالانکہ اگر جناب کےنزدیک یہ کوئی ضروری چیز ہوتی تو ان احتمالی مضرتوں سےمتاثر ہو کر ایسا کرنے کے بجائے ان کی اصلاح کے ذرائع پر زور دیا جاتا۔ اور چاہے ان میں کامیابی متوقع ہوتی یا نہ ہوتی بہر حال خطبہ کو سامعین کی زبان میں دیا جانا ضروری قرار دیا جاتا اس لیے کہ کوئی واجب چیز کسی مصلحت یا مضرت سے متروک العمل نہیں ہو سکتی۔ البتہ وہ جائز چیز جو اولویت یا اباحت وغیرہ کے معنی میں ہو بعض مصالح و مضار کی بنا پر ترک ہو سکتی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہےکہ جلب منفعت اور دفع مضرت کے جو ذرائع ہوں ان کا اختیار کرنا بھی بجائےخود ضروری ہے۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جب تک وہ ذرائع حاصل نہ ہوں ہم ایک واجب کو ترک کیے بیٹھےرہیں اور شارع نے جو ہمارے افادہ اور استفادہ کے لیے ہر ہفتہ ایک اجتماع کا موقع پیدا کیا تھا اس کو آئیندہ کے لیے بھی ہم اسی طرح ضائع کرتے رہیں جس طرح کہ اب تک کرتے رہے۔
ظاہر ہے کہ خطبہ جمعہ کم از کم واجب ضرور ہے۔ اور یہ بھی آپ کو مسلم ہے کہ اس کا مقصد ذکر اللہ اور رجوع الی اللہ کےساتھ وعظ و تذکیر اور احکام دین کی تعلیم وتبلیغ بھی ہے۔پس جب خطبه واجب ہےتو اس کے مقاصد کی تحصیل بھی واجب اور اظہر من الشمس ہےکہ اس کے مقاصد کا جزو اعظم بدونِ سامعین کی زبان اختیار کیےحاصل نہیں ہو سکتا۔ تو بحکم مقدمۃ الواجب واجب اس کا اختیار کرنا بھی واجب ہوگا۔
پس واجب ہوا تو پھر کسی مصلحت اور مضرت کی وجہ سے اس کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں جن مضرتوں کا وقوع متوقع ہو ان کی اصلاح کے لیے سعی مستقل طور پر ضروری ہے۔
خطبہ غیر عربیہ کے اجراء میں جو سب سے بڑی مضرت آپ نےظاہر فرمائی ہے وہ مسائل مختلف فیہ کا بیان اور ان کی وجہ سےنزاعات کا رُونما ہونا ہے۔ لیکن آپ نے اس کے نیز دوسرےمقاصد کے انسداد کی جو تدبیر بیان کی ہے میری رائے میں وہ بھی کافی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اوّل تو بقول آپ ہی کے اس کی اُمید ہی کم ہے اور میرے نزدیک تو آج کل کے علماء کی طرف سے کسی ایسے کام کا انجام پا جانا گویا کہ خرق عادت ہے۔ تو ایسی حالت میں نہ نومن تیل ہوگا اور نہ رادھا رانی ناچے گی۔ پس نتیجہ معلوم کہ وہی تیلی کے بیل کی طرح جہاں تھے وہاں ہی رہیں گے۔
دوسرے یہ کہ فرض کیجیے کہ اہل علم کی کسی معتدل جماعت ہی کےتیار کردہ خطے جاری کیے جائیں اور ان میں نزاعی مسائل سے کوئی تعرض بھی نہیں کیا گیا ہو تا ہم وہ خطیب جس کی زبان میں بقول آپ کے اللہ نے ایسا ڈنک رکھ دیا ہے جس سے دلوں کو زخمی کیےبغیر وہ کوئی بات نہیں کر سکتا اور جو اپنے مشرب میں اتنا سخت ہے کہ دُوسرے مشرب والوں کے ساتھ وہ کوئی رعایت نہیں کر سکتا، وہ اس معتدل جماعت ہی کے تیار کردہ خطبے پڑھنے کے باوجود اپنےمشرب کی تبلیغ اور اس کے خلاف سے تعرض کیے بغیر کیسے رہ سکے گا؟اول تو کسی مقرر کےنزدیک یہ امر کچھ مشکل نہیں ہےکہ اپنی تقریر کا رُخ جدھر چاہےاُدھر پھیر دے۔ پھر خصوصیت سے مولوی مقرر کو تو ایسا کر لیتا بہت ہی سہل ہے۔ مولوی اپنے مشرب کی تبلیغ کرتا ہے تو قرآن اس کے ہاتھ میں ہوتا ہےکسی کی مدح کرتا ہے تو قرآن سےاس کا استدلال ہوتا ہے،کسی کو گالیاں دیتا ہے تو قرآن ہی سے اس کا استناد ہوتا ہے۔غرض وہ اپنےہر اُس قول و فعل کو جس پر اُس کو کسی نہ کسی حد تک اصرار ہےیا کسی وجہ سے اس کو پسند ہے قرآن ہی کی آیات تلاوت کر کے لوگوں کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہے چاہےفی الحقیقت اس کا وہ مسلک شریعت حقہ کی روشنی میں بالکل ہی باطل محض ہو۔ پس ایسی حالت میں وہ کون سی قوت ہے جو اس کو روک سکے؟
اور اگر یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ وہ خطیب صرف انھی مرتب شدہ خطبوں کے مضامین میں اپنی تقریر کو محصور رکھے اور اس کے علاوہ کسی مضمون پر زبان نہ کھولے تو یہ چیز ایک حد تک پھر خطبہ کے اصل مقصد کو فوت نہ کر دے گی۔اس لیے کہ اس کے مقاصد میں یہ بھی داخل ہے کہ خطیب حسب ضرورت زمان و مکان کی حالت کےمناسب خطبہ دے۔ورنہ دق کے مریض کو ہیضہ کا علاج بتلانےکےمترادف ہوگا۔اور اس صورت مذکورہ میں وہ اگر بالکل نہیں تو من وجہ موجودہ صورتِ مروجہ کے مشابہ ضرور ہو جائے ۔ فرق صرف تبدیل لسان کا ہوگا اور مضامین میں وہی تعیین و تقیید رہے گی جو اب ہے۔ اور متعدد مضامین کے خطبوں کا بھی اس غرض سے ہونا کہ ان میں جو مناسب ہو پڑھ لیا جایا کرے کافی نہ ہوگا۔ کیونکہ ہر جگہ اور ہر وقت کی بعض ضرورتیں مخصوص ہوتی ہیں جو ان مضامین میں نہیں آسکتیں جو عمومی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے مرتب کیے گئےہوں۔
اور اگر ان تمام اُمور سے بھی نظر کو منقطع کر لیا جائے تو ان خطبوں میں کم از کم عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الخ مَنْ أَحْدَتْ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدُّ وَإِيَّاكُمُ وَمُحْدَثَاتِ الأمور، كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ اَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ - إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَالِكَ لِمَنْ يُشَاءُ (الخ) - یا اسی قسم کے دوسرے الفاظ اور مضامین تو ضرور ہی ہوں گے ۔کم از کم کلمہ شہادت ہونا اور اس میں اَشْهَدُ اَنْ لاَ إِلهُ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ کا پڑھا جانا تو بالکل یقینی امر ہے۔پس اس نیشن زن مولوی کو تو یہی بہت ہے۔ اگر وہ اپنی سرشت کےمطابق چاہے گا تو اسی کے ضمن میں سب کچھ کہہ سکتا ہے اپنےمشرب کے اعتبار سے ردّ او قبولا ہر حیثیت سے اس میں گفتگو کو طویل کر سکتا ہے۔
پھر یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ اختلافی مسائل سے مطلقاً روک دینا کیوں ضروری قرار دیا گیا؟ اس میں جو مضرت بیان کی گئی ہےاُس کے ممکن الوقوع ہونے سے انکار نہیں ہے۔ لیکن کیا محض ایک محتمل چیز کی خاطر یقینی معضرت اختیار کی جاسکتی ہے؟
یہ ضرور ہے کہ جب تک کوئی خاص ضرورت اور مقامی حیثیت سے ان مسائل کو بیان کرنے کی وقتی مصلحت پیش نہ آئے بلا وجہ ان مسائل پر لب کشائی نہ کی جائے ۔ لیکن جب ضرورت داعی ہو تو پھر ان کی تبلیغ بھی ایسی ہی ضرور ہونی چاہیے جیسی دوسری اصلاحات کی۔
ظاہر ہے کہ فی زمانہ جو زیادہ فسادات اور نزاعات رونما ہوتےہیں وہ اکثر شرک و بدعت کی مذمت اور ان کی جزئیات کی تفصیل سے واقع ہوتے ہیں، اور یہ موضوع مسلمانوں کی اصلاح کے لیےایسا ضروری ہے کہ بہر حال ناگزیر ہے اور کسی وقت کسی حال میں اس سے تغافل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر خطبہ میں اصلاح عقائد توحید و رسالت کا اصل مفہوم اِعَتِصَامُ بِالسُّنْهُ إِجْتِنَابُ عَنِ الْبِدْعَتُ شرک کی مذمت اور اس کے اقسام کی تفصیل ہی سے سامعین کو خبر دار نہ کیا گیا تو میں نہیں سمجھتا کہ ان مضامین سے زیادہ کون سا وہ موضوع ہے جو مسلمانوں کے دین کی اصلاح سے متعلق ہو۔
پس میری رائے میں صرف یہی طریقہ مناسب معلوم ہوتا ہےکہ خطبہ کا وہ حصہ جو تبلیغ احکام سے متعلق ہو لازما بہر حال سامعین کی زبان میں ہونا ضروری ہے اور جن مضرتوں کے پیدا ہونے کا امکان ہے ان کا انسداد دوسرے خارجی ذرائع سے کیا جائے مثلاً یہ کہ خطباء کو بذریعہ تحریر و تقریر سمجھا دیا جائے کہ وہ بلاضرورت ان مسائل کی تفصیل میں نہ پڑا کریں اور جب ضرورت ہو تو بے شک بیان کریں، مگر طرز بیان تشدد آمیز اور ڈنک مارنے والا نہ ہو۔ صاف اور سیدھے طریقہ سے نرم الفاظ میں مسلک حق کو واضح کیا کریں۔ ذاتیات کے حملوں سے بچتے رہیں۔
آخراب بھی تو اس قسم کے مولویوں کی تقریروں سے نزاعات ہوتے ہی ہیں، ان کو روکنے کے لیے جو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ان پر یہاں بھی عمل کیا جا سکتا ہے۔
پھر قابل لحاظ یہ امر بھی ہے کہ اب تو اس قسم کے اختلافات کا اثر عوام پر اس درجہ گہرا ہو چکا ہے کہ اکثر و بیشتر ایک عقیدہ اور خیال کا آدمی دوسرے عقیدہ اور خیال والے کی اقتداء ہی نہیں کرتا۔ اور ہر عقیدہ و خیال کےلوگوں کی نماز جماعت عموماً اور نماز جمعہ الگ الگ ہوتی ہے۔ایک دوسرےکی اقتداء سےمحترز ہے مسجدیں سب کی الگ الگ باعتبار اکثریت کے بنی ہوئی ہیں۔ پس اپنے اپنے ہم خیال لوگوں اور اپنی اپنی مسجدوں میں جیسی چاہیں تقریر کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔کوئی مانع نہیں ہوسکتا اور اکثر نہیں ہوتا۔
یہ جو کچھ عرض کیا گیا ہےصرف ان دو فرقوں کو ذہن میں لےکر عرض کیا گیا ہےجو عوام کی زبان میں دیوبندی اور بریلوی وهابی اور بدعتی کے ناموں سے مشہور ہیں۔ اس لیے کہ ہندوستان میں انھی دونوں کی کثرت ہے اور واقعات کے اعتبار سے بھی جہاں جہاں فسادات ہوتے ہیں غالباً ان دونوں کے علاوہ اور فرقوں میں نہیں ہوتے یا مجھ کو معلوم نہیں ۔ لیکن اگر ہوتے ہوں گے تو بہت ہی کم ۔بہر حال اکثریت کے لحاظ سے یہی دونوں قابل لحاظ معلوم ہوئےاور جب اکثریت کے بارے میں میری یہ رائے ہے تو اقلیتوں کےمتعلق تو بدرجہ اولی سمجھنی چاہیے۔
رہا موضوعات اور بے اصل قصص کے بیان کا خطرہ تو وہ اس طرح رفع ہو سکتا ہے کہ ہر جگہ کے بااثر لوگ اس امر کا خاص اہتمام کریں کہ امامت جمعہ کے لیے جاہل اور پیشہ ور واعظوں کو ہرگز منتخب کریں۔ حتی الامکان مستند اور ذی فہم علماء کے سپرد یہ کام کیا جائے۔ یا اگر وہ عالم نہ ہوں تو مشاہیر علما میں سے کوئی صاحب اس کو قابلِ اعتماد اور اس کے بیان کو قابل سماعت تجویز کر دیں۔
پھر علماء کی طرف سے کوئی ایسا رسالہ ان تمام آئمہ کے لیےتالیف کر کے شائع کر دیا جائے جس میں واضح طور پر ان مفاسد سے بچنے کے اصول بتلا دیے گئے ہوں۔ مثلاً یہ کہ کوئی روایت حدیثی یا قصہ تاریخی بدون کامل تحقیق کے نہ بیان کیا کریں یا یہ کہ فلاں کتاب فلاں ابواب میں فلاں فلاں شرائط سے اس قابل ہےکہ اس کی روایات کو بیان کیا جا سکتا ہے اور فلاں فلاں کتاب ایسی ہے کہ اس سے غیر محقق کو بالکلیہ اجتناب کرنا چاہیے۔ غرض یہ یا اور جو مفید اُمور ہوں اس رسالے کے ذریعے سے آئمہ جمعہ کو آگاہ کر دیا جائے ۔ میری رائے میں اس طرح کرنے سے اس مفسدہ کا غالباً بہت بڑا انسداد ہو سکے گا۔
یہ ایک دلچسپ صورت حال ہے ۔ ایک جماعت گجھی زبان کے خطبہ کو مکروہ تحریمی ثابت کر رہی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہےکہ اس کا فاعل گناہ گار ہو۔دوسری جماعت اسی چیز کو واجب ثابت کرنےکی کوشش کر رہی ہےجس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا تارک گناہ گار ہو۔حالانکہ نہ ایک فریق کے پاس اس کی حرمت کا کوئی شرعی ثبوت ہے اور نہ دوسرے کے پاس اس کے وجوب کا ۔ اس معاملہ میں یہ بات ہر شخص کو بطور ایک اصول کے سمجھ لینی چاہیے کہ شریعت میں فرض و واجب یا حرام و ناجائز صرف وہی اُمور ہیں جن کو شارع نے خود یہ حیثیت دی ہو اور جن کے بارے میں کتاب وسنت سے اس طرح کا کوئی حکم ثابت ہو ۔ایسے ہی اُمور کے فعل یا ترک پر گناہ کا حکم لگایا جا سکتا ہے۔ باقی رہے وہ امور جو ہم قیاس و استدلال کے ذریعہ سے شارع کو قول یا عمل سے مستنبط کرتے ہیں، تو اُن کو فرض یا واجب قرار دینا یا حرام یا نا جائز ٹھیرانا، اور ان کی بنا پر ثواب یا عقاب کا حکم لگانا اصلاً غلط ہے۔اس لیے کہ انسان کو انسان پر کوئی چیز فرض و واجب کرنے یا حرام و ناجائز ٹھیرانے کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے اور عذاب و ثواب خدا کے اختیار میں ہیں نہ کہ انسان کے اختیار میں۔وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ الْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَّهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ (انحل: ۱۱۶) ایک بڑے سےبڑا عالم اور امام جلیل القدر بھی زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہنے کا حق رکھتا ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ میں کتاب اللہ وسنت رسول اللہ سے ایسا سمجھتا ہوں میرے نزدیک فلاں بات کی جا سکتی ہے یا اس کا کرنا اولی ہے یا فلاں بات نہیں کی جا سکتی یا اس کا کرنا درست نہیں۔اگرچہ رائے کا اختلاف اس صورت میں بھی باقی رہتا ہے اس لیے کہ ایک شخص کا فہم دوسرے شخص کے فہم سے بالکل مطابق نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ اختلاف احکام شریعت میں نہیں بلکہ انسانی اجتہاد میں ہوگا اور اس کی وجہ سے وہ فتنے نہ پیدا ہوسکیں گے جو اجتہادی اختلافات کی بنیاد پر فرض اور حرام کا فرق پیدا کرنے اور پھر ایک دوسرے کو گناہ گار اور گمراہ ظہرانے سے پیدا ہوتے ہیں۔
اس اصل کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔اس کےبعد زبان خطبہ کےمسئلہ پر غور کیجیےشارع نے ایسی کوئی تصریح نہیں فرمائی ہے کہ خطبہ فلاں زبان میں دینا واجب ہے یا فلاں زبان میں دینا مکروہ تحریمی ہے۔ اسی طرح شارع نےاُن مقاصد کی تفصیل بھی بیان نہیں کی ہے جن کے لیے خطبہ کو نماز جمعہ کے ساتھ لازم کیا گیا ہے۔ اس باب میں جتنی مختلف باتیں مختلف خیالات کے اہل علم بیان کرتے ہیں وہ شارع کے کسی صریح حکم پر مبنی نہیں ہیں بلکہ انھوں نے صاحب شریعت کے عمل کو دیکھ کر اپنی فہم کے مطابق مختلف امور اخذ کیےہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک گروہ کا فہم صحیح ہو ہو سکتا ہےکہ دوسرے گروہ کا فہم صحیح ہو۔دونوں کو اپنےاپنےدلائل پیش کرنے کا حق ہے۔لیکن کسی کو یہ حق نہیں کہ اپنے فہم سےجو حکم وہ نکال رہا ہے اسے واجب ٹھیرائے اور اس کے تارک کو گناہ گار قرار دئے یا اسے حرام ٹھیرائےاور اس کے فاعل کو مجرم ٹھیرائے ۔ لوگوں کو پوری آزادی حاصل ہے کہ جس کے دلائل کو وہ زیادہ وزنی سمجھیں اور جس کی رائے پر ان کو اطمینان ہو جائے اس کا اتباع کر لیں ۔ شارع کا تصریح نہ کرنا خود اس بات پر دلالت کرتا ہےکہ اس نے لوگوں کو اس باب میں آزادی بخشی ہے۔ اگر اس میں لوگوں کے طریقے مختلف ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ جس کا مسلک زیادہ قوی دلائل پر مبنی ہوگا، اور جس کی رائے مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر کو زیادہ مطمئن کرنے والی ہو گئی، اُس کے اتباع پر بالآخر سواد اعظم مجتمع ہو جائے گا اور اختلاف عمل کا دائرہ خود بخود گھٹتا چلا جائے گا۔
خطبہ غیر عربیہ کو واجب قرار دینےکےلیےجو طریق استدلال ہمارے مراسلہ نگار نےاختیار کیا ہے۔وہ بالکل ایسا ہی ہےجیسےکوئی یوں کہےکہ نماز کےمقاصد میں سےاہم ترین مقصد رجوع الی اللہ ہےاور رجوع الی اللہ بغیر خشوع و خضوع کےممکن نہیں۔اور جس چیز پر فرض کےمقصد کا حصول موقوف ہو وہ بھی فرض ہونی چاہیےلہذا خشوع و خضوع نماز ہی کی طرح فرض ہے۔یہ طرز استدلال ممکن ہےکہ منطق کی رُو سےدرست ہو مگر شرع کی رو سے درست نہیں۔ اس لیے کہ یہ شخص اُمت پر ایسی چیز فرض کرتا ہے جسے خدا نے فرض نہیں کیا۔ شریعت میں صرف وہی چیز فرض یا حرام ہے جس کو خدا نے فرض یا حرام قرار دیا ہے۔ ہم کو منطقی استدلال سے فرائض اور حرمات کی فہرست میں اضافہ کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ پچھلی اُمتوں نے یہی غلط طریقہ اختیار کر کے اپنے اوپر بہت سی چیزیں لازم کر لی تھیں جو خدا نے ان کے اوپر لازم نہیں کی تھیں اور یہی وہ بوجھ اور پھندے تھے جن سےانسانیت کو آزاد کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے وَيَضَعُ عَنْهُمُ اصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ (الاعراف: ۱۵۷)
پس زبانِ خطبہ کے متعلق جو رائے میں نے ظاہر کی ہے اور اس کے خلاف جو رائے بعض علماء کرام ظاہر فرماتے ہیں، ان میں سے کسی کو بھی یہ حیثیت حاصل نہیں ہے کہ لوگوں پر اس کا ماننا واجب ہو اور اس کی خلاف ورزی کرنے سے ان پر کوئی گناہ لازم آتا ہو۔ اگر کوئی شخص تحکم کے انداز میں اپنی رائے بیان کرتا ہے تو یہ اس کی غلطی ہے۔
میں نے زبان خطبہ کو بدلنےسےپہلےجن امور کی اصلاح کو ضروری قرار دیا ہےان پر صاحب مراسلہ نے پوری طرح غور نہیں فرمایا۔اسی بنا پر وہ شبہات پیدا ہوئےجو انھوں نے بیان کیے ہیں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ شرعی نظام کے درہم برہم ہو جانے کی وجہ سے اسلام کا کوئی حکم اپنی اصل پر باقی نہیں رہا ہے۔جمعہ اور خطبہ ہمارے شرعی نظام کےاہم ترین اجزاء میں سے تھے۔ایک عظیم الشان اجتماعی مقصد تھا جس کی تحصیل کےلیےدوسرے اجزاء کےساتھ ان دونوں چیزوں کو بھی خاص حکیمانہ تناسب سے ایک نظام میں نصب کیا گیا تھا۔ اب وہ نظام لوٹ گیا اجزاء پراگندہ ہو گئےان کا باہمی ربط اور اجتماعی زندگی کےساتھ ان سب کا مجموعی ربط ٹوٹ گیا اور سرے سےوہ عظیم الشان مقصد ہی اب دلوں سےمحو ہوتا جا رہا ہےجسکےلیےیہ تمام اجزاء فراہم کیےگئےتھے۔اس حالت کی صحیح اصلاح تو اسی صورت میں ہو سکتی ہےکہ وہ شرعی نظام پھر سےقائم کیا جائےاور اس کےبکھرےہوئے اجزاء کو پھر اسی طرح جمع کر کےایک مشین کے پرزوں کی طرح نصب کر دیا جائےتا کہ اس کی حرکت کے ساتھ ساتھ وہ نتائج بر آمد ہوتے چلے جائیں جو اس سےمطلوب ہیں۔ تاہم اگر یہ نہیں ہو سکتا تو کم از کم اتنا ہی ہو کہ مسلمانوں میں ایک رائےعام پیدا کر دی جائے،بڑے پیمانے پر نہیں تو چھوٹے پیمانے پر ہی ان کو اپنے اجتماعی کام ایک نظم کے ساتھ انجام دینےکی عادت ڈالی جائےاور رائےعام کی طاقت سے ان مضرتوں کا سد باب کیا جائے جو غیر ذمہ دارلوگوں کی منتشر حرکات سےپیدا ہوتی ہیں۔لیکن اگر یہ بھی نہیں ہو سکتا تو پھر اصلاح کا نام نہ لیجیےاور جو کچھ ہو رہا ہےاسکو اسی طرح ہونےدیجیےکیونکہ ہر شخص اپنےذہن میں اصلاح کاجو مفہوم سمجھے بیٹا ہے اگر وہ اسی کے مطابق انفرادی طور پر عمل شروع کر دے تو بے شمار مصلحین' ایک دوسرے کے خلاف عمل کرنےوالے پیدا ہو جائیں گے اور ان کی کارگذاریوں کا نتیجہ اصلاح کے بجائے مزید فساد ہوگا۔
نظامِ شرعی میں خطیب جمعہ کی حیثیت محض ایک واعظ کی نہیں ہےبلکہ وہ ایک ذمہ دار شخص کی حیثیت رکھتا ہےجس پر اپنےحلقہ کی جماعت مسلمین کی نگرانی کرنےاور ان کی اجتماعی زندگی کو مفاسد سے بچانےاور ان سب کو عام قومی پالیسی کےمطابق چلانےکی ذمہ داری عائد ہوتی ہےذمہ داری بجائے خود ایک معلم ہے۔جس شخص پر اس کےبار پڑتا ہےوہ خود ذمہ داری سے ہی سیکھ لیتا ہے کہ اس سے کیونکر عہدہ برآ ہو بخلاف اس کے ایک غیر ذمہ دار شخص جو نہ کسی نظام جماعت سے تعلق رکھتا ہو نہ کسی کے سامنے جواب دہ ہو نہ اس امر کا کوئی تصور رکھتا ہو کہ اس کا خطبہ جماعت کی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہےبلکہ اثر انداز بھی ہےیا نہیں، ایسا شخص خطبہ جمعہ کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ اس کےلیے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ جماعت کی فلاح و بہبود کن چیزوں کی مقتضی ہے؟ کون سےمفاسد ہیں جن کی اصلاح اس کو پہلےکرنی چاہیے؟ کن تعلیمات کی تلقین اور کن احکام کی تبلیغ مقدم ہےاور اس کام کو کس طرح انجام دیا جائےکہ فائدہ مطلوب حاصل ہو؟ ہمارے جمعوں کےامام چونکہ کوئی ذمہ دارانہ حیثیت ہی نہیں رکھتےاس لیےدرحقیقت وہ خطیب کے ان فرائض کو ادا کرنےکےناقابل ہیں۔وہ اگر عالم بھی ہوں تو انکی حیثیت ایک واعظ اور مبلغ کی رہےگی۔وہ محض اپنےشخصی اختیار تمیزی کی بنا پر تعلیم و تبلیغ کریں گے۔اور اس سے کوئی خاص اجتماعی فائدہ حاصل نہ ہوگا بلکہ اس کے برعکس ان کے غیر ذمہ دارانہ مواعظ سے یہ تھوڑی بہت اجتماعیت بھی، جو اب حاصل ہوتی ہے پراگندہ ہو جائے گی۔
اگر نظام شرعی کا احیاء اس وقت ممکن نہیں ہے جیسا کہ بظاہر نظر آتا ہے تو آخری صورت وہی ہے جو میں نے بیان کی ہے۔ اہل علم کی ایک جماعت جو کسی حد تک ذمہ دارانہ حیثیت رکھتی ہو خطبات جمعہ مرتب کرنے کےلیے مقرر ہونی چاہیئے اور اس کو ایسےخطبات مرتب کرنے چاہئیں جن میں اصول اسلام کو غیر اختلافی طریقوں سے بیان کیا جائے مسلمانوں میں وحدت ملی کا احساس پیدا کیا جائے ان کو عام اخلاقی مفاسد اور خلاف شریعت اعمال پر ( جو متفق علیہ میں ) متنبہ کیا جائے اور ایسے احکام بیان کیے جائیں جن سے مسلمانوں کے کسی فرقہ کو بھی اختلاف نہیں ہے۔ اجتماع جمعہ کے مقاصد کی تحصیل کا کم سے کم ذریعہ یہی ہے۔ہمیں کوشش کرنی چاہیےکہ مختلف فرقوں کے جمعے جو الگ الگ ہونے لگے ہیں، ان کو بند کیا جائے اور ایسی صورتیں پیدا کی جائیں کہ کم از کم جمعہ میں تمام یا اکثر فرقوں کےمسلمان ایک جگہ اکٹھے ہو جائیں۔ جمعوں کا الگ ہونا غایت درجہ نقصان دہ چیز ہے۔ اس کو منانے کی ضرورت ہے نہ یہ کہ ایسےاسباب پیدا کیے جائیں جن سے یہ بیماری اور زیادہ ترقی کرے۔ واعظوں کو اگر اپنے نقطہ نظر کے مطابق وعظ کہنا ہے اور وہ اپنے مسلک کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں تو وہ مسجدوں سے باہر جہاں چاہیں لب کشائی کریں۔مسجدیں جمع کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں، نہ کہ تفریق کرنے کے لیے ۔ ان کو مساجد ضرار بنانا ایک بدترین فعل ہے جسے کسی حال میں گوارا نہیں کیا جا سکتا۔
پنجاب کے ایک تعلیم یافتہ نوجوان دریافت کرتے ہیں کہ نماز میں آلہ تکبر الصوت ( لاؤڈ اسپیکر) کے استعمال کا شرعی حکم کیا ہے؟ وہ لکھتے ہیں :۔
یہاں عیدالفطر کے موقع پر عیدگاہ کے منتظم حضرات نے لاؤڈ اسپیکر نصب کرایا تھا۔ نماز کے بعد مقامی علماء نے اس کی مخالفت شروع کی اور باہر سے فتوے حاصل کر کے عوام سے کہا تھا کہ تمھاری نمازیں نہیں ہوئیں۔ اب عوام پریشان ہیں، اور منتظمین عیدگاہ خائف ہیں کہ اگر ہم نے اس دفعہ پھر لاؤڈ اسپیکر نصب کرایا تو عوام ہم سے برگشتہ ہو جائیں گے اور علما ہمارے خلاف الحاد کا فتوی صادر کردیں گے۔
پچھلی دفعہ لاؤڈ اسپیکر کےاستعمال سےیہ فائدہ ہوا تھا کہ امام کی آواز تمام مقتدیوں تک صاف طور پر پہنچتی رہی اور نماز میں با قاعدگی پیدا ہو گئی تھی ۔ حالانکہ اس سے پہلے بدنظمی کی یہ حالت ہوتی تھی کہ صفوں میں انتشار ہوتا تھا۔ کوئی مقتدی رکوع میں ہوتا تھا اور کوئی سجود میں۔
مقامی علماء سے عدم جواز کے دلائل پوچھے گئے تو انھوں نے دو باتیں بیان کیں:۔
لیکن ان دلائل سے ہمارا اطمینان نہیں ہوتا۔ پہلی بات تو دلیل نہیں بلکہ خود ایک دعویٰ ہے بلا دلیل ۔ دوسری بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات لاؤڈ اسپیکر کے اصول ساخت ہی سے واقف نہیں۔ اس آلہ کے ذریعہ سے نشر شدہ آواز کو غیر امام کی آواز کسی طرح نہیں کہا جا سکتا۔ علماء کی ایسی بودی اور کمزور باتوں سے تعلیم یافتہ طبقہ سخت بددل ہو رہا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارےپیشوایان دین ہندوستان کے مسلمان نوجوانوں کو بھی اسی بغاوت پر مجبور کرنا چاہتے ہیں جس پر اتاترک اور رضا شاہ مجبور ہوئے۔ لیکن کیا اس رد عمل میں ہمارے لیے صحیح اسلام سے بھی اسی طرح دُور جاپڑنے کا خطرہ نہیں جس طرح یہ دو فرمانروایانِ اسلام صراط سے بھٹک کر ثابت کر چکے ہیں ۔
اس معاملہ میں ہمیں آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے کہ ہمیں آپ کی بصیرت اور اجتہاد پر پورا اعتماد ہے۔ اگر آپ ایسے بڑےمجمعوں میں نماز پڑھانے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو جائز سمجھتے ہیں تو تفصیلاً اس کے دلائل تحریر فرمائیں تا کہ ہم علمائے کرام کی تشفی کر سکیں اور اگر آپ کے خیال میں کچھ ایسے مصالح دینی ہیں جن کے پیش نظر اس کا استعمال خلاف احتیاط ہو تو بھی ہمیں اس کے متعلق واضح طور پر لکھیں تا که نو جوانوں کو سمجھایا جا سکے۔
یہ استفسار بتمام و کمال اس لیے نقل کیا گیا ہے کہ علمائے اسلام اس وقت کےرجحانات کو سمجھیں اور غور فرمائیں کہ جس دور میں وہ رہتے ہیں وہ کس طرز پر مذہبی رہنمائی کا طالب ہے اور اس دور میں دو سو برس پرانےطریق رہنمائی کو اختیار کرنےکےنتائج کیا ہیں؟ اب سےدو تین سال قبل حیدر آباد میں بھی ایسی ہی صورت پیش آئی تھی۔ عید گاہ میں لاؤڈ اسپیکر لگایا گیا؟ لوگوں نے بہت اچھی طرح نماز ادا کی اور ہر شخص اس سے مطمئن تھا۔مگر بعد میں علماء نے مخالفت کی اور کمیٹیاں ہوئیں، اور آخر کار فیصلہ کردیا گیا کہ نمار میں اس آلہ کا استعمال ناجائز ہے۔ میں اس وقت حیدر آباد ہی میں تھا۔ مجھے معلوم ہے کہ اس کا کنائبُرا اثر تعلیم یافتہ طبقہ پر ہوا اور کیا کیا خیالات علماء کے متعلق ظاہر کیے گئے ۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو احکام دین کو اس تعلیم یافتہ طبقہ کی اہوا کا تابع بنانا چاہتےہیں اور اس کو روشن خیالی سمجھتےہیں۔اگر میں یہ دعوی کروں تو شاید غلط نہ ہوگا کہ اس گروہ کے غیر اسلامی رجحانات کےخلاف جہاد کرنے میں میرا قدم کسی متشدد سے متشدد عالم دین سے بھی پیچھے نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی میں اس بات کا بھی سخت مخالف ہوں کہ علماء کرام وقت کے رجحانات سے منہ موڑ کر بیٹھ جائیں اور اس امر کو بالکل بھول جائیں کہ وہ ہدایہ اور بدائع کے زمانہ تصنیف میں نہیں بلکہ نت نئی سائنٹفک ایجادات اور تیز رفتار تمدنی انقلابات کے دور میں رہتے ہیں۔ اس دور میں روز بروز نئےمسائل کا پیدا ہونا لابد ہےاور مسائل کو ہداید و بدائع کی روشنی میں حل کرنے کا نتیجہ اسکے سوا کچھ نہیں جس کا خطرہ نوجوان سائل نےاپنے استفسار میں ظاہر کیا ہے۔ ہماری نئی نسلیں مذت کے ساتھ اپنے زمانہ کے حالات سےمتاثر ہو رہی ہیں، اور یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ زمانہ اپنی طبعی رفتار سے جو حالات اور جو مسائل پیدا کر دے ان سے وہ قوم یک سر بے تعلق ہو کر رہے جو کروڑوں کی تعداد میں دنیا کے ہر حصہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ ان نئی نسلوں میں اگر کوئی غیر اسلامی رجحان پیدا ہو تو اس کو روکنےکے لیے علما اسلام کے پاس وہ طاقت ور دلائل چاہئیں جو اس زمانے کے دماغوں سے اپنا لوہا منوا سکتے ہوں۔ چھٹی صدی ہجری کی منطق اب کام نہیں دے سکتی۔ اور اگر یہ لوگ جدید حمد نی زندگی میں اسلام کی شاہراہ پر آگے بڑھنا چاہیں تو ان کی رہنمائی کے لیے علما اسلام میں وسعت نظر اور زوج اجتہاد کی ضرورت ہےقدم قدم پر عالمگیری اور تاتار خانی کو لاکر سد راہ بنانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ نئےزمانے کے مسلمان قرآن اور حدیث کو بھی پیچھے چھوڑ کر جدھر منہ اُٹھے گا چل نکلیں گے ۔ جس طرح ترک اور ایرانی چل نکلے۔
مسئلہ زیر بحث کا جواب چند الفاظ میں دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے میں چند اصول بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں تا کہ اسی نوعیت کےدوسرے مسائل میں بھی شریعت کا حکم آسانی کےساتھ معلوم کیا جا سکے۔
١- سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جزئیات کے متعلق صریح شرعی احکام ہم کو صرف انھی حوادث اور انھی اُمور کے متعلق معلوم ہو سکتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیش آئے تھے ۔ باقی رہے وہ حوادث جو حضور کےبعد پیش آئےتو ان کے متعلق شرع میں کوئی صریح حکم نہیں مل سکتا، بلکہ صرف اصول و کلیات شرع ہی سےایک حکم نکالا جا سکتا ہےصحابہ کرام اور تابعین و ائمه مجتهدین نے بعد کے حوادث پر جتنے شرعی احکام لگائے ہیں وہ اسی طرح اصول و کلیات سےاخذ کیے ہوئے ہیں،نہ که منصوص ۔ اب اگر کوئی ایسا حادثہ پیش آتا ہےجو صحابہ یا آئمہ کے دور میں پیش نہیں آیا یا کوئی ایسی چیز ایجاد ہوتی ہے جو اس دور میں موجود ہی نہ تھی، تو اس کےمتعلق متقدمین کے اجتہادی احکام میں کوئی حکم تلاش کرنا بداہتہ غلط ہے۔ ایسے ہر حادثہ اور ایسی ہر چیز کے لیے ہم کو بھی اسی طرح اصول و کلیات کی طرف رجوع کرنا پڑے گا جس طرح صحابہ اور آئمہ نے اپنے عہد کے حوادث میں کیا تھا۔
٢-کسی نو ایجاد چیز کےاستعمال کو مکروه یا نا جائز ٹھیرانےکےلیےمحض یہ بات کافی نہیں ہےکہ وہ عہد رسالت میں یا عہد صحابہ میں یا عہد آئمہ میں موجود نہ تھی ۔ تنزیل شرائع سے اللہ تعالٰی کا یہ مقصد ہرگز نہ تھا کہ انسان کی قوت ایجاد ایک خاص زور کے بعد ختم ہو جائے اور اسباب کی تلاش و جستجو اور ان سے کام لینے کے نئےنئےطریقوں کی دریافت کا سلسلہ ایک خاص زمانہ تک تو جائز ہو اور اسکےبعد حرام قرار دےدیا جائےجو لوگ سنت اور بدعت کی تعبیر اس طرح پر کرتےہیں وہ اسلام اور مسلمانوں پر سب سےبڑا ظلم کرتےہیں، کیونکہ یہ دشمنان اسلام کے اس الزام کی تصدیق ہے کہ اسلام کوئی دائی مذہب نہیں بلکہ ایک خاص زمانے کے لیے آیا تھا اور اب اس کے اتباع سے انسانی تمدن کے نشو وارتقاء کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
٣ - تنزیل شرائع سے اللہ تعالیٰ کا اصل مقصد انسان کو وہ اصول سکھانا ہے جن کے تحت وہ اسباب عالم سے غلط کام لینے کے بجائے صحیح کام لے سکئے اور ان کو مضرت کےبجائے حقیقی منفعت اور نیچی فلاح کے لیے استعمال کرے۔ ان اصولوں کی محض لفظی تعلیم ہی ہم کو قرآن اور حدیث میں نہیں دی گئی ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جن اسباب عالم پر انسان کو دسترس حاصل تھی، انھیں اسلامی طریق پر برت کر بھی ہم کو بتا دیا گیا ہے کہ آئندہ جن اسباب پر دسترس حاصل ہو انھیں اس طور پر اور ان مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ صحابہ کرام اور ائمه سلف نے اصول شرع کو اسی اسپرٹ میں سمجھا اور تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ نئے حوادث اور نئی اشیاء پر اصول اسلام کو منطبق کر کے انھوں نے شرع کی ہدایت کو ہمارے لیے اور زیادہ روشن کر دیا۔ اب اگر ہم ان اصولوں کو سمجھ جائیں تو قوائے فطرت میں سے جونئی قوت ہمارےعلم میں آئےگی اور اسباب کائنات میں سے جس نئے سیب پر ہمیں دسترس حاصل ہوگی اس کے معاملہ میں ہم کو ہرگز کوئی حیرانی و سرگردانی پیش نہ آئےگی۔ ہم نہ تو اس اجنبی چیز سے اپرا ئیں گے اور نہ اس کے سامنے ٹھٹھک کر کھڑےہو جائیں گئے بلکہ اصول شرع میں تدبر کر کے بلا تکلف یہ معلوم کر لیں گے کہ اس کو استعمال کیا جائے یا نہ کیا جائے اور اگر استعمال کیا جائے تو استعمال کا پسندیدہ طریقہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیا ہے اور نا پسندیدہ طریقہ کون سا ہے۔ ہرنئی چیز سے اُپرانےاور تمدن کی ترقی کے راستے میں ہر ہر قدم پر ٹھٹک کر کھڑے ہو جانے کی کیفیت جو آج کل پیش آ رہی ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ شرع کے اصول وکلیات کو سمجھنےکے بجائے ہمارے علماء زیادہ تر فقہی جزئیات کے استقصاء میں منہمک رہتے ہیں۔
۴ - قرآن وحدیث سے ہم کو یہ قاعدہ کلیہ معلوم ہوتا ہے کہ اشیاء میں اصل چیز اباحت ہے تاوقتیکہ عدم اباحت پر کوئی دلیل نہ ہو۔یعنی ہر چیز کو پاک حلال اور مباح سمجھا جائےگا۔جب تک اس کےنجس یا حرام ہونے پر کوئی دلیل نہ لائی جائے۔ قرآن میں ارشاد ہے:۔
ان دونوں آیتوں سے ظاہر ہے کہ زمین و آسمان کی ساری چیزیں انسان کے لیےہیں لہذا انسان ان سے کام لینے اور فائدہ اُٹھانےکا مستحق ہے۔ایک ایک چیز کے لیےالگ الگ اجازت کی ضرورت نہیں، بلکہ جب تک کسی خاص چیز کے استعمال یا طریق استعمال کی ممانعت نہ ہو سب چیزوں کو مباح اور طاہر ہی سمجھا جائے گا۔ اسی اصل کی طرف وہ حدیث اشارہ کرتی ہےجو ابو داؤد نےحضرت سلمان فارسی سے بدیں الفاظ نقل کی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمیا:
حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہےجسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کر دیا۔ رہیں وہ چیز ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا تو وہ معاف ہیں ۔
اور اسی کی تفسیر حدیث میں فرمائی گئی ہے: لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ فِي الْإِسْلَامَ -لهذا جن چیزوں کی حرمت کا صریح حکم نہیں ہے ان کے معاملہ میں اس قاعدہ کلیہ کے لحاظ سےدیکھا جائے گا کہ آیا وہ انسان کےلیے مضرت رساں ہیں یا منفعت بخش ۔ اگر وہ مضر ثابت ہوں تو وہ حرام ہیں اور منفعت بخش ثابت ہوں تو حلال۔ اسی طرح ان کے طریقہ ہائےاستعمال کو بھی اسی قاعدے کے لحاظ سےجانچا جائے گا۔جوطریق استعمال موجب فساد ہو وہ ممنوع ہے اور جو طریق استعمال موجب اصلاح ہو وہ مباح ہے۔
٦- منفعت اور مضرت صلاح اور فساد کے بارے میں بھی شارع نے ہم کو ایک معیار دیا ہے۔ ہم اندھیرے میں نہیں چھوڑے گئے ہیں کہ جس چیز کو چاہیں مفید اور جس کو چاہیں منفر ٹھیرا لیں ۔ بلکہ ہمیں چند اصول بتائے گئے ہیں جن کے لحاظ سے فائدے اور مضرت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انھی اصولوں میں سے ایک اصل یہ بھی ہے کہ جو چیز فرائض دینی کی بجا آوری میں مانع ہو وہ مضر ہے اس لیےاس سے اجتناب کرنا چاہیے اور جو چیز اس میں مددگار ہو وہ مفید ہے اس لیےاس کا استعمال نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے۔ مثلا رویت ہلال میں اگر برہنہ آنکھ کی بہ نسبت دور بین کے استعمال سے زیادہ سہولت پیدا ہوتی ہے تو اسےمستحسن سمجھنا چاہیے۔ رمضان میں سحر کا آخری وقت معلوم کرنے کےلیےاور روز مرہ نماز کے اوقات معین کرنے کےلیےگھڑی زیادہ مددگار ہوتی ہےتو اس کا استعمال بھی مستحسن ہونا چاہیےسفر حج کےلیےاونٹ کی به نسبت موٹر یا ہوائی جہاز سےزیادہ سہولت پیدا ہوتی ہےتو اس کا استحسان بھی نا قابلِ انکار ہے۔ فریضہ جہاد کی بجا آوری میں نیزہ و شمشیر اور اسپ و فیل کی به نسبت بندوق توپ جنگی جہاز اور ہوائی جہاز زیادہ کارآمد ہیں تو ان کے مستحسن ہونےمیں بھی کلام نہیں کیا جا سکتا۔اگر کوئی شخص ان چیزوں کےحق میں حرمت یا کراهت یا توقف کا مسلک اختیار کرتا ہے محض اس لیے کہ زمانہ سلف میں یہ چیزیں استعمال نہیں ہو ئیں تو وہ شرع سے قطعا بے بہرہ ہے۔
٧- جو چیز کسی ایسے مقصد کے لیے بنائی گئی ہو جسے شرع نے حرام قرار دیا ہے اور اس امر ممنوع کے سوا اس چیز کا کوئی اور استعمال بھی نہ ہو تو اس کے مطلقا ممنوع ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ مگر جو چیز اچھے اور برے مفید اور مضر دونوں طرح کے کاموں کے لیے آلہ کے طور پر کام آتی ہو اس کو محض اس بنا پر حرام نہیں کیا جا سکتا کہ فاسقین کے ہاتھوں میں اس کا غالب استعمال ممنوعات کے لیے ہےمثلا گراموفون محض ایک آلہ ہے جس کو اچھے اور برے دونوں مقاصد کے لیےاستعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم نفس گراموفون کو حرام نہیں کہہ سکتے بلکہ حرمت کا حکم صرف اس طریق استعمال سےمتعلق ہو گا جو شہوات کو اُبھارنےوالا اور فواحش کی اشاعت کرنے والا ہے۔
ان اصولوں کو سامنے رکھ کر جب ہم اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ لاؤڈ اسپیکر کےمتعلق شرع کا حکم کیا ہے تو کوئی امر ہمیں اس نتیجے تک پہنچنے سے نہیں روکتا کہ اس آلے کا استعمال مستحسن ہے۔ یہ اُن اسباب عالم میں سے ایک سبب ہے جنھیں خدا نے ہمارے لیےپیدا کیا ہے۔ اس کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ قدرتی طور پر جو آواز نکلتی ہے یہ آلہ اسی آواز کو لے کر زیادہ بلند کر دیتا ہے۔ چونکہ اس پر حال ہی میں ہم کو دسترس حاصل ہوئی ہےاس لیے اس کے متعلق کوئی حکم سنت اور اجتہادات متقدمین میں تلاش کرنا اصلاً غلط ہے۔البتہ شرع نےجو اصول ہم کو کسی چیز کی اباحت یا حرمت معلوم کرنے کےلیےدیے ہیں ان کے لحاظ سے اس کے مطلقاً مباح ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ۔ رہے استعمالات تو باطل کی آواز بلند کرنے اور فواحش کا بول بالا کرنے میں اس کا استعمال حرام ہے۔جائز آوازوں کے بلند کرنے میں اس کا استعمال جائز ہےاور خدا کا نام بلند کرنے میں خدا ہی کی پیدا کی ہوئی اس طاقت سے کام لینا بالیقین مستحسن ہے۔ یہ بالکل ایک عجیب بات ہوگی کہ کفار تو خدا کے مسخر کیے ہوئے اس خادم سے مدد لے کر باطل کا آوازہ بلند کریں اور ہم حق کا آواز و بلند کرنے کے لیے اس سے خدمت لینے میں تامل کرتے رہیں۔
اب صرف ایک شک باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ نماز میں امام کے سواکسی اور کی آواز پر مقتدیوں کا حرکت کرنا مفسد صلوۃ ہے لہذا اگر لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر مقتدی رکوع و سجود کرین گے تو ان کی نماز نہ ہوگی۔ لیکن یہ شک متعدد حیثیات سے غلط ہے۔
اولاً لاؤڈ اسپیکر سے جو آواز نکلتی ہے وہ غیر امام کی آواز نہیں ہے بلکہ بعینہ وہی آواز ہے جو امام کے منہ سے نکلتی ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ بجلی کی طاقت سے وہ زیادہ بلند ہو جاتی ہے اور اس لحاظ سے اس کی حیثیت قریب قریب اس گونج کی سی ہے جو مسجد کی محراب سے امام کی آواز پر بلند ہوتی ہے۔
ثانیاً اصول فقہ کا متفقہ مسئلہ ہے کہ التباع تابع ۔ یعنی جو حکم متبوع کا ہے وہی تابع کا ہے۔اسی قائدے کی بناء پر بڑی جماعتوں میں جو معتبر کھڑےکیےجاتےہیں ان کی آواز پر رکوع و سجود اور قیام و قعود کرنا مقتدیوں کے لیے جائز ہے کیونکہ اگر چہ وہ غیر امام ہیں، مگر امام کے تابع ہیں، اس لیے ان کی آواز کا حکم امام کی آواز کا حکم ہے۔ پس اگر بالفرض لاؤڈ اسپیکر کی آواز غیر امام کی آواز بھی ہو تب بھی وہ تابع امام ہونے کی حیثیت سے اُس مقتدی کے مانند ہے جو صفوں کے درمیان تکبیر بلند کرنے کےلیے کھڑا کیا جاتا ہے۔ بلکہ جب ہم زیادہ غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تابع ہونے میں یہ آلہ مقتدی سے بھی بڑھا ہوا ہے۔ مقتدی تو خود بھی آواز نکالنے پر قادر ہوتا ہے، حتی کہ اگر جماعت میں کوئی منافق موجود ہو تو وہ امام کے خلاف تکبیریں بلند کر کے ہزاروں آدمیوں کی نمازیں خراب کر سکتا ہے۔ لیکن لاؤڈ اسپیکر اس قدر کامل طور پر امام کا تابع ہے کہ جب تک امام نہ بولے گا وہ بھی نہ بولے گا جو آواز امام کی زبان سے نکلے کی ٹھیک ٹھیک وہی آواز بلا ادنی تغیر اس سےبھی بلند ہوگی، حتی کہ امام کا لہجہ اور اس کا تلفظ تک جوں کا توں منتقل ہوگا،اور جو شخص امام کی آواز پہچانتا ہو وہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز سن کر پہچان لے گا کہ یہ امام ہی کی آواز ہے۔اتنے کمال درجے کے تابع کا حکم متبوع کے حکم سے کیسے مختلف ہو سکتا ہے؟ اور اگر کوئی مخص یہ کہے کہ بکتر نماز میں شریک ہوتا ہے، لیکن آلہ مکبر الصوت شریک نماز نہیں ہوتا تو اے ہم صرف یہ آیت یاد دلائیں گے کہ وان من شمسي الا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِن لَّا تَفْقَهُونَ تنيحهم (بنی اسرائیل: ۴۴) قرآن کی رو سے تو مسلمان جب نماز پڑھتا ہےتو وہ تنہانہیں پڑھتا بلکہ ساری کائنات اس کے ساتھ شریک نماز ہوتی ہے اگر چہ نا واقفان راز اُن غیر ناطق اشیاء کی نماز کو سمجھ نہیں سکتے ۔
ثالثا ، اگر کوئی شخص اس جگہ آیت مذکورۃ الصدر کے اطلاق کو تسلیم نہ کرے اور آلہ مكبر الصوت کو خارج از صلوۃ قرار دے کر اس کو تابع امام نہ مانے تو ہم کہیں گے کہ نماز میں غیر امام کی آواز پر حرکت کرنا مطلقاً مفسد صلوٰۃ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر :-
١- اگر آدمی نماز میں ہو اور کوئی سلام کرے تو اشارے سے جواب دینا مفسد صلوٰۃ نہیں۔ ترندی میں حضرت بلال سے اور نسائی میں حضرت صہیب سے مروی ہےکہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت نماز میں سلام کیا جاتا تو آپ ہاتھ کے اشارے سے جواب دیتے تھے۔
۲- نماز میں اگر کسی شخص سے کسی ضروری بات سے متعلق سوال کیا جائے تو اشارےسے جواب دینا بھی مفسد صلوٰۃ نہیں۔ چنانچہ خلاصہ میں ہے کہ مصلی کو سلام کیا جائے اور وہ ہاتھ یا سر کے اشارے سے جواب دے یا اسے کسی چیز کی خبر دےاور وہ سر کی برکت سے ہاں یا نہیں کا اشارہ کر دئے یا اس سے پوچھا جائے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں اور وہ انگلیوں کے اشارے سے بتا دے تو یہ مفسد صلوٰۃ نہیں ۔ (فتح القدیر جلد اول صفحہ ۲۹۲)
٣- اگر کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی اسے پکار دے اور وہ اس کو یہ بتانے کے لیےکہ میں نماز میں ہوں زور سے لا الہ الا اللہ کہہ دے تو اس سےنماز میں کوئی خرابی نہیں آتی ۔ ( ہدایہ باب ما يفسد الصلوة وما يكره فيها )
٤- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جب کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو نماز مختصر کر دیتے تھے تاکہ بچے کی ماں اگر شریک جماعت ہو تو وہ پریشان نہ ہونےپائے ۔ ( بخاری اور مسلم میں اس مضمون کی متعدد روایتیں ہیں )
٥- حضرت عائشہ کا ارشاد ہےکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض سخت ہو گیا تو آپ کےحکم سےحضرت ابوبکر نماز پڑھانےلگے۔ایک روز حضور نےمرض میں کمی محسوس فرمائی اور نماز میں شریک ہونےکےلیےتشریف لےگئے۔حضرت ابوبکر نےجب آپ کےآنےکی آہٹ پائی تو پیچھے بنےلگےمگر آپ نے اشارےسے ان کو منع کیا۔ چنانچہ وہ اپنی جگہ کھڑے رہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بائیں جانب جا کر بیٹھ گئے ۔ (متفق علیہ )
٦- مسجد قبا میں لوگ نماز پڑھ رہے تھے کہ تحویل قبلہ کی منادی اُن کے کانوں میں پہنچی اور انھوں نے اسی حالت میں اپنا رُخ کعبہ کی طرف پھیر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس فعل کو نہ صرف جائز رکھا بلکہ پسند فرمایا۔اسی سے فقہا نےیہ مسئله نکالا ہےکہ اگر کوئی شخص سمت قبلہ سےناواقف ہو اور گمانِ غالب کی بنا پر کسی رُخ پر نماز پڑھ رہا ہو پھر اسی حالت میں کوئی اسےقبلہ کی صحیح سمت بتا دے تو اسی وقت اس کو صحیح سمت کی طرف پھر جانا چاہیے۔ (ہدایہ باب شروط الصلوة التي تتقدمها )
اسی طرح کی اور بھی بکثرت مثالیں احادیث و آثار میں موجود ہیں اور ان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر غیر مصلی کے ذریعہ سے بھی مقتدیوں کو امام کے رکوع و سجود اور قیام و قعود کی اطلاع پہنچے اور وہ ذریعہ قابل اعتماد ہو تو اس کے مطابق حرکت کرنے سےنماز میں کوئی قباحت واقع نہیں ہوتی ۔ قاطع صلوٰۃ جو چیز ہے وہ دراصل اس نوعیت کا فعل ہے جس میں آپ کو مشغول دیکھ کر نا واقف آدمی یہ گمان کرے کہ آپ نماز نہیں پڑھ رہےہیں،یا پھر مصلی کےدرمیان ایسا معاملہ ہو جو مکالمہ اور تعلیم وتعلم کی حد تک پہنچا ہواہو۔ چنانچہ مبسوط میں ہے :-
كُل عَمَلٍ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهِ النَّاطِرُ مِنْ بَعِيْدِ لَا يَشُكُ أَنَّهُ فِي غَيْرِ الصَّلَوَةِ فَهُوَ مُفْسِدٌ لِصَلوتِهِ وَكُلُّ عَمَلٍ لَوْ نَظَرَ إِلَيْهِ النَّاظِرُ فَرُبَمَا يَشْتَبِهُ عَلَيْهِ أَنَّهُ فِي الصَّلوةِ فَذَالِكَ غَيْرُ مُفْسِدٍ -( جلد اوّل، ص ۱۹۵)
ہر وہ عمل جسے دُور سے دیکھ کر آدمی بلا شک یہ سمجھے کہ اس کا مرتکب نماز میں نہیں ہے مفسد صلوٰۃ ہے۔ اور ہر وہ عمل جسے دیکھنے کے باوجود آدمی یہ طلبہ کر سکتا ہو کہ وہ نماز میں ہے۔ مفسد صلوٰۃ نہیں ہے۔
فَأَمَّا غَيْرُ الْمُقْتَدِى إِذَا فَتَحَ عَلَى الْمُصَلِّي تَفْسُدُ بِهِ صَلوةُ الْمُصَلَّى وَكَذَالِكَ الْمُصَلَّى إِذَا فَتَحَ غَيْرُ الْمُصَلَّى، لَأَنَّهُ تَعْلِيمٌ وَتَعَلَّمْ وَالْقَارِئُ إِذَا اسْتَفْتَحَ غَيْرَهُ فَكَانَّهُ يَقُولُ بَعْدَ مَا قَرَأْتُ مَاذَا فَذَكِّرُ فِي وَالَّذِي يَفْتَحُ عَلَيْهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ بَعْدَ مَا قَرَأْتُ كَذَا فَخُذُ منى - (ص: ۱۹۳)
اگر غیر مقتدی (خواہ الگ نماز پڑھ رہا ہو یا نماز نہ پڑھ رہا ہو ) مصلی کو لقمہ دے تو مصلی کی نماز فاسد ہو جائے گی اور اسی طرح اگر مصلی غیر مصلی کو لقمہ دے تب بھی نماز فاسد ہو جائے گی کیوں کہ یہ تعلیم و تعلم ہے۔ قاری جب پڑھتے پڑھتے دوسرے سے لقمہ مانگتا ہے تو گویا وہ سامع سے کہتا ہے کہ " اس کے بعد کیا ہے؟ مجھے یاد دلاؤ۔ اور القمہ دینے والا گویا اس کے جواب میں یہ کہتا ہے کہ " اس کے بعد یہ ہے یہ لو۔"
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے۔حضرت فارعہ بن رافع کو چھینک آئی اور انھوں نے زور سے کہا: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمُدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُّبَارَكًا فِيْهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى - نماز ختم ہونے کے بعد حضور نےفرمایا : یہ کون تھا جس نے یہ فقرہ کہا تھا؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمہیں سےزیادہ فرشتےاس قول کو لےجانےکےلیےایک دوسرے سےبازی لےجانا چاہتے تھے۔" (ترمذی ابوداؤ ؤ نسائی)۔ دوسری حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اس حال میں نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ کے کندھے پر ایک بچی ( امامہ بنت ابی العاص (۱) بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ جب رکوع میں جاتے تو اس کو اتار دیتے اور جب کھڑےہوتے تو اسے پھر کندھے پر بٹھا لیتے (بخاری و مسلم )۔ اسی بنا پر فقہا نے مسئلہ نکالا ہے کہ اگر نماز میں بچے کو اٹھائے رہے تو یہ فعل مفسد صلوٰۃ نہیں ہے (عالمگیری)۔ نیز حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے اتنے میں ایک بچھونےآپ کو کاٹ لیا اور اسی حالت میں آپ نے اپنی جوتی رکھ کر اس کو مارڈالا۔ پھر آپ نےفرمایا که اقْتُلُوا الأَسْوَدَيْنِ وَلَوْ كُنتُمْ فِي الصَّلوة ۔ یعنی بچھو اور سانپ کو مارو خواہ تم نماز ہی میں کیوں نہ ہو ۔ ( احمد ابو داؤد ترمذی، نسائی)
پس جب کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر رکوع و سجود کرنا نہ فعل کثیر ہےنہ تعلیم و تعلم اور مکالمہ کی تعریف میں آتا ہے تو اس کےمفسد صلوٰۃ ہونےکی کوئی وجہ نہیں ۔ اور جبکہ نماز میں بہت سے ایسے افعال کو بھی جائز رکھا گیا ہے جن کا نفس نماز سے کوئی تعلق بھی نہیں، تو فقط اتنی سی بات کہ ایک آلہ کے ذریعہ سے امام کے الفاظ کی نقل سن کر آدمی رکوع یا سجدہ میں چلا جائے ۔ کس طرح مفسد صلوٰۃ ہو سکتی ہے؟
یہ دلائل ہیں جن کی بنا پر میں نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو نہ صرف جائز بلکہ احسن سمجھتا ہوں اور میرا وجدان یہ گواہی دیتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں یہ آلہ موجود ہوتا تو آپ یقیناً اس کو نماز اور اذان اور خطبہ میں استعمال فرماتے، جس طرح آپ نے غزوہ خندق میں خندق کھودنے کا ایرانی طریقہ بلاتامل اختیار فرمایا۔تا ہم اگر کوئی عالم دین میری اس رائے کو دلائل شرعیہ سے (نہ کہ مقلدیت کے طعنوں سے ) غلط ثابت فرما دیں تو مجھے اس سے رُجوع کرنے میں بھی تامل نہ ہوگا ۔ إِنْ أَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَامَا أَنَا بِمُسْتَقِي وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أُخِطَى وَاصِيْبُ، فَانْظُرُوانِي رَأْنِي، فَكُلَّمَا وَافَقَ الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ فَخُذُوا بِهِ وَكُلَّمَا لَمْ يُوَافِقِ الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ فَأَتُرَكُوهُ _
١- یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں، حضرت زینب بنت رسول اللہ کی بیٹی۔
مذکورہ بالا بحث کو پڑھ کر ایک صاحب نےمولانا اشرف علی صاحب تھانوی مرحوم و مغفور کا جو اس وقت بقید حیات تھے ایک فتویٰ بھیجا اور خواہش ظاہر کی کہ اس پر بھی اظہار رائے کیا جائے۔فتویٰ حسب ذیل تھا :-
سوال: - " کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے میں کہ ایک مشین ایسی ایجاد ہوئی ہے کہ مقرر کی آواز کو بہت فاصلے تک اُسی طرح پہنچا دیتی ہے جس طرح پاس کے اشخاص کو پہنچتی ہے۔ پس کیا جائز ہےکہ ان مشینوں کے ذریعہ سے خطیب کی آواز کو تمام سامعین تک پہنچا دیا جائے“۔
"جواب: - اول ایک قاعدہ سمجھ لیا جائے جو کہ عقلی بھی ہے اور نعلی بھی۔ اور فقہائے حنفیہ نے اس قاعدے پر بہت سےاحکام کو متفرع کیا ہے۔ وہ یہ کہ جو مباح یا مندوب درجه ضرورت و مقصودیت فی الشرع تک نہ پہنچا ہو اور اس میں کوئی مفسدہ باحتمال قریب محتمل ہو تو اس مباح یا مندوب کا ترک اور ان کا منع کرنا لازم ہے۔ عقلی ہونا تو اس کا ظاہر ہے اور قبول فقہا کے بعد اس کےماخذ نعلی کی نقل ضروری نہ تھی ۔ مگر تبرعا اس کو بھی نقل کرتا ہوں۔سو اس کےنعلی ہونےکی تفصیل یہ ہےکہ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: وَلَا تَسُبُوا الذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ علم (الانعام: ١٠٩ )سب اللہ باطلہ مباح تو ضرور ہی ہےاور بعض حالات میں مندوب بھی ۔ مگر مقصود مستقل نہیں ۔ کیونکہ اس کی غایت دوسرے طریق سے بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ یعنی حکمت و موعظت اور مجادلۂ حسنہ سے ۔ اور اس میں مفسدہ سب مشرکین لیلانہ الحق کا ہے۔ اس لیے اس سے نہی فرما دی گئی ہے۔ اور اس قاعدے کی تمہید کے بعد جواب ظاہر کہ تبلیغ صورت سامعین بعید تک شرعا غیر ضروری ہے کیونکہ بعید ین کو دوسرے غیر مخدوش ذریعہ سے تبلیغ ممکن ہے اور اس میں یہ مفسدہ محتمل کہ لوگ اس سےگنجائش سمجھ جائیں گے اس آلہ کو لہو میں استعمال کرنے کی یا دوسرے آلات لہو کے استعمال کرنے کی ۔ لہذا ترک اور منع لازم ہوگا۔ یہ تو اس وقت ہے جب خطیب سے مراد مطلق واعظ اور لکچرار ہو۔ اور اگر اس سے مراد خطیب جمعہ وعیدین کا ہے تو اس وقت تبلیغی صوت کا غیر ضروری ہونا اظہر ہے اس لیے کہ خطبہ میں حضور مقصود ہے نہ کہ سماع صوت اور مفسدہ اقوئی ہے کیونکہ اس آلہ کو مسجد میں داخل کرنا ہوگا جو کہ اس احترام کے خلاف ہے۔ نیز تشبہ ہے مجالس غیر مشروعہ کے ساتھ ۔ اسی تشبہ کی بنا پر فقہا نے غرس اشجار فی المسجد کو منع فرمایا ہے اور تقشر بالبیعہ والکنیسہ سے معلل کیا ہے۔ واللہ اعلم !
یہ ایک ایسے جلیل القدر عالم کا فتویٰ ہے جو اس وقت دنیائے اسلام کے ممتاز ترین علماء کی صف اول میں ہیں۔ میرے علم کو ان کے علم سے وہ نسبت ہے جو ذرے کو آفتاب سے ہوتی ہے۔ اگر اس نسبت کا لحاظ کروں تو مجھے نہ صرف یہ کہ اس پر کلام نہ کرنا چاہیے بلکہ اپنی تحقیق کو چھوڑ کر حضرت ممدوح کی تحقیق قبول کر لینی چاہیے۔ لیکن جب سلف کےطریق پر نظر ڈالتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں مَنْ قَالَ کو نہیں بلکہ ما قال کو دیکھنے کا قاعدہ جاری تھا۔ شاگرد استاد کی تحقیق کے مقابلہ میں اور چھوٹے بڑے کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے اور تحقیق بے تکلف پیش کیا کرتے تھے ۔ نہ اس زعم کے ساتھ کہ بڑوں کے علم سے ان کا علم زیادہ یا ان کے برابر ہے بلکہ یہ سمجھ کر کہ حق کی تلاش و تحقیق ہر طالب علم پر فرض ہے اور اس تلاش و تحقیق میں اس کو شخصی عظمتوں سے خالی الذہن ہو کر نفس حقائق کو دیکھنا چاہیے۔ اُن کے نزدیک یہ ضروری نہ تھا کہ ایک شخص دوسرے شخص کےبرابر یا اس سےزیادہ علم رکھتا ہو تب ہی اس کے مقابلے میں اپنی تحقیق پیش کرے ورنہ چپ رہے اور اپنی فکر و نظر کو معطل کر کے اس کی تحقیق کو مان لے۔ اگر یہ ذہنیت اس زمانے میں ہوتی تو امام ابوحنیفہ اور امام مالک کےمقابلہ میں امام شافعی اور امام شافعی کےمقابلےمیں امام احمد کوئی مذہب اختیار ہی نہ فرماتے۔یہ حضرات رشد و ہدایت کےامام تھےاور ان کا طریقہ ہر زمانے میں طالبان علم کے لیے بہترین نشانِ راہ ہے اس لیےان کی پیروی کرتے ہوئےمیں بھی حضرت مولانا تھانوی کے مقابلہ میں اپنی علمی بے مائیگی کو جاننے کے باوجود اس فتوے پر کلام کر رہا ہوں۔
فتوے کی بنا جس قاعدے پر رکھی گئی ہے وہ یقینا مسلم ہے۔ صرف فقہائے حنفیہ ہی نے نہیں بلکہ دوسرے آئمہ اسلام نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے اور ایک آیت ہی نہیں بلکہ کتاب وسنت کی متعدد تصریحات اس کا ماخذ ہیں ۔ لیکن یہ امر محل نظر ہے کہ آیا اس خاص جزئیہ میں بھی یہ قاعدہ جاری ہو سکتا ہے یا نہیں۔
آلہ مکبر الصوت کو کسی حیثیت سے بھی آلہ لہو نہیں کہا جا سکتا۔ آلہ لہو کا اطلاق اصلاً تو اُس آلہ پر ہوتا ہے جو لہو ہی کے لیے بنایا گیا ہو اور اس کا کوئی دوسرا استعمال بجز لہو کے نہ ہو مثلاً بانسری یا ہارمونیم ۔ اور تبعاً اس کا اطلاق ایسےآلہ پر بھی ہوسکتا ہے جو اگرچہ بجائےخود لہو کےلیےنہ بنایا گیا ہو لیکن اس کا غالب استعمال لہو میں ہو مثلاً گراموفون۔مكبر الصوت ان دونوں صنفوں میں سےکسی صنف میں داخل نہیں ۔ اس کو صرف اس لیےبنایا گیا ہے کہ چھوٹی آواز کو بڑا کر دے اور دُور تک پہنچائے ۔ اس کا استعمال لہو اور غیر لہو دونوں میں ہوتا ہے اور غیر لہو میں بہ نسبت لہو کے زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی مثال تو ایسی ہےجیسے شیشے کا گلاس کہ اس میں شراب بھی پی جاتی ہے اور حلال مشروبات بھی۔ یا بجلی کا لیمپ اور برقی پنکھا کہ یہ چیزیں تھیڑوں اور رقص خانوں اور مخش کدوں میں بھی استعمال ہوتی ہیں اور پاک مجلسوں اور مباح اغراض میں بھی۔ اب اگر ناجائز استعمال کی وجہ سے ان چیزوں کو آلہ لہو یا آلہ منکر نہیں کہا جا سکتا تو مکبر الصوت کو بھی نہیں کہا جا سکتا ۔ اگر گلاس اور پنکھےاور لیمپ کے استعمال میں مجالس غیر مشروعہ سےکہہ نہیں ہے تو مکبر الصوت میں بھی نہیں ہے۔ اگر شیشے کا گلاس استعمال کرنے سے اس مفسدہ کا احتمال نہیں ہے کہ لوگ اس کو شراب نوشی میں استعمال کرنے کی گنجائش نکال لیں گئے اور اگر مسجدوں میں بجلی کی روشنی اور پنکھا لگانے سے یہ مفسدہ پیدا نہیں ہوتا کہ لوگوں کے لیے رقص خانوں میں جانے کی گنجائش نکل آئے گئی تو منبر الصوت کے استعمال میں بھی ایسے کسی مفسدہ کا احتمال نہیں ۔ جب برقی لکھےاور روشنی کے متھے لگانا احترام مسجد کے خلاف نہیں ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مختبر الصوت لگانا اہانت مسجد کا موجب ہو۔
اس میں شک نہیں کہ معتبر النضوت اس زمانے میں زیادہ تر معروف کے بجائے منکر کی خدمت کر رہا ہے۔ لیکن آج کون سی چیز ہے جو منکر کی خدمت نہیں کر رہی ہے؟ قلم دوات سےلے کر چھاپہ کی مشین، ریل، موٹر، ہوائی جہاز اور ریڈیو تک ہر چیز کا غالب استعمال آج لکھنا و منکری کےلیےہو رہا ہےہر چیز سےظلم وعصیاں کی خدمت لی جا رہی ہے۔ہر آلہ اور ہر طاقت سےاس تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہےجس کی بنیاد نا خدا شناسی بلکہ خدا سے بغاوت پر رکھی گئی ہے۔ اس کی وجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ خدا کی پیدا کی ہوئی طاقتوں کو دریافت کرنےاور ان سےخدمت لینے کا سارا کام آج وہ لوگ کر رہے ہیں جو خدا پر ایمان نہیں رکھتےاور جو لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں انھوں نے اسباب عالم کو قابو میں لانے اور ان سے معروف کی خدمت لینے کا کام چھوڑ رکھا ہے۔ اسی وجہ سے پورا انسانی تمدن ناپاک ہو گیا ہے اور دنیا کی ہر چیز آلہ منکر بن کر رہ گئی ہے۔
اب اگر ہم ایک ایک چیز کو اس بنا پر چھوڑتے چلے جائیں کہ فلاں چیز آلہ منکر ہےاور فلاں چیز کو استعمال کرنے سے فاسقین و ظالمین کے ساتھ تشبۂ ہو جائے گا، تو ہمیں حمذن ہی سے الگ ہو جانا پڑے گا اور یہ مزید غلطی ہوگی۔ اس سے خدا پرستانه تہذیب اور زیادہ مغلوب اور ظالمانه و فاسقانہ تہذیب اور زیادہ غالب ہوتی چلی جائے گی۔ اس لیےکہ جو تہذیب مشینوں کے زور سےپھیل رہی ہو اس کے مقابلےمیں وہ تہذیب کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جو تمام کارگر ذرائع اور طاقتور اسباب سے خود ہی دست بردار ہو جائے ۔ ظاہر ہے کہ موٹر پر دوڑنے والے کا مقابلہ چھکڑے پر چلنے والا نہیں کر سکتا۔ جولوگ ریڈیو کے زور سے ایک سکنڈ کے اندر باطل کی آواز کرہ زمین کے ایک ایک کونے میں پہنچا دیں اور کروڑہا کروڑ انسانوں کے خیالات کو ایک جنبش زبان سے مسموم کر کے رکھ دیں اُن کے مقابلہ میں وہ لوگ کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں جو ایک جلسہ کے سامعین تک بھی حق کی آواز پہنچانے میں خدا کی پیدا کی ہوئی ایک طاقت سے کام لیتے ہوئے جھجکتے ہوں؟منکر کی آواز بلند کرنے والے تو ایک شخص کو بھی اپنی بات سنائے بغیر چھوڑ نا پسند نہیں کریں اور معروف کی آواز بلند کرنے والوں کا انداز فکر یہ ہو کہ سامعین بعید تک تبلیغ صوت شرعاً ضروری تو ہے نہیں، لہذا کیوں اس کی کوشش کی جائے ؟
اس طرز عمل کا انجام جو کچھ ہوگا بلکہ ہو رہا ہے اس کو ہر شخص بادنی تامل جان سکتا ہے۔ اس کے معنی در اصل یہ ہیں کہ ہم ایک ایک ہتھیار کو یہ کہ کر پھینکتے جائیں کہ دشمن کےاستعمال سے وہ گندہ ہو گیا ہے اور دشمن ان سب ہتھیاروں کو اٹھا کر ہم پر حملہ کرتا چلا جائے۔
یہ ارشاد بالکل بجا ہے کہ دُور کے سامعین تک آواز پہنچانا شرعاً ضروری نہیں ہے۔مگر یہ درست نہیں ہے کہ آواز پہنچانا اور سامعین کا اُسے سنا شریعت میں مقصودیت کا درجہ ہی نہیں رکھتا۔ نماز میں قرآن اسی لیے پڑھا جاتا ہے کہ مقتدی اس کو سنیں۔ خود قرآن میں اس مقصد کی تصریح موجود ہے کہ وَإِذا قرئ القرانُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَانْصِتُوا - (اعراف : ٢٠٤) خطبہ کے وقت بات چیت سے منع کیا ہے۔ استماع کا مقصود ہونا تو نقل بھی ثابت ہے اور عقلاً بھی۔ ظاہر ہے کہ کلام اس لیے ہوتا ہے کہ لوگ اس کو سنیں ۔ منہ سے آواز اسی لیےنکالی جاتی ہے کہ کانوں تک پہنچےاب رہا یہ امر کہ شارع نےاسکو ضروری کیوں نہیں قرار دیا ؟تو میں عرض کروں گاکہ یہ رخصت کے قبیل سے ہے۔ چونکہ اُس زمانےمیں کوئی ایسا ذریعہ موجود نہ تھا جس سےدُور تک آواز پہنچائی جا سکئے اور آج بھی ہر وقت ہر جگہ مكبر الصوت مہیا نہیں ہو سکتا۔ اس لیےاستماع کو لازم نہیں کیا گیا کہ اس کےبغیر نماز ہی نہ ہویا حضور خطبہ کا ثواب ہی حاصل نہ ہو سکے ۔ مگر اس نرمی اور رخصت کو جو محض طبعی موانع کا لحاظ کر کے عطا کی گئی ہے اس امر کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا کہ تبلیغ صوت کا اہتمام سرےسے غیر ضروری ہے حتی کہ اگر اس کے لیے کوئی ذریعہ مہیا ہو جائے تب بھی اسے قصداً ترک کر دیا جائے۔
آخر میں یہ بات بھی صاف کر دینا چاہتا ہوں کہ اس مسئلے پر میرے بار بار لکھنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مجھے خاص طور پر لاؤڈ اسپیکر سے کوئی دلچسپی ہے بلکہ دراصل میرا مقصد یہ ہے کہ سائنٹفک ایجادات اور تمدن جدید کے آلات و وسائل کے متعلق مسلمان اپنا رو یہ بدلیں۔ یہ آلات بجائے خود نا پاک نہیں ہیں۔ اصل میں وہ طریق استعمال نا پاک ہے جو مغرب کی باغیانہ تہذیب نے اختیار کر رکھا ہے۔ خداوند عالم نےجن چیزوں کو انسان کےلیے مسخر کیا ہے وہ بالیقین پاک اور مطہر ہیں اور ان کی فطرت یہ چاہتی کہ ان سے خدائی قانون کے مطابق کام لیا جائے ۔ مگر ان پر ڈہر اظلم ہو رہا ہے کہ جن کے پاس خدائی قانون موجود ہے وہ ان سے کام نہیں لیتے ، اور جو ان سے کام لے رہے ہیں وہ شیطانی قانون کے متبع ہیں۔
"علماء احناف جمعہ کے لیے شہر کی شرط ابھی تک لگائے جاتےہیں ۔ حالانکہ شہروں کی حالت اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہاں دیہاتی مسلمانوں کو ( جو تمدن جدید کے مکروہات سے ابھی بہت کچھ محفوظ ہیں) جانے سے جس قدر روکا جائےاتنا ہی بہتر ہےمیں ایک موضع کا مالک ہوں جس میں مسجد تعمیر کی ہے اور ایک مکتب دینیات جاری کیا ہے ۔ اردگرد کے دیہات میں تھوڑی تھوڑی اسلامی آبادی ہے۔ وہ جمعہ کے جمعہ یہاں نماز کو آ جاتے ہیں اور قرآن شریف کا درس جمعہ کا خطبہ اور کچھ وعظ سن جاتے ہیں۔ مدرس مکتب نماز یاد کراتا ہے اور جن کو صحیح یاد نہیں اُن کی نماز صحیح کراتا ہے۔ رمضان شریف میں مجمع بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔مگر علماء اس جگہ کے جمعہ کو جائز نہیں بتاتے ۔ میں جمعہ کی نماز بند کر دوں تو یہ لوگ ہرگز شہر کو نہ جائیں گے۔ اگر ان کو کہا جائے کہ یہاں جمعہ نہیں ہو سکتا،جمعہ کےروز یہاں آکر ظہر کی نماز پڑھ جایا کرو تو اسےکوئی نہیں مانتا۔ جمعہ کی عظمت اور ثواب ہی کا اثر ہےجس کے باعث یہ لوگ آٹھویں روز نماز پڑھنےآجاتےہیں۔مجھے فکر ہے کہ اگر یہاں جمعہ کی نماز نہ ہوئی تو دیہات کے لوگ اس تعلیم اور وعظ سے بھی محروم ہو جائیں گے ۔ یہاں سے قریب چند میل کےفاصلےپر ایک شہر ہے جہاں کئی مسجدوں میں جمعہ ہوتا ہےمگر وہاں کوئی عالم صحیح خیالات کا نہیں جس سےکسی مفید تحریک کی اُمید ہو۔ اور شہر کےبازاروں میں سب کچھ وہی ہے جو آج سب جگہ ہے۔ اور کچھ نہیں تو جو دیہاتی وہاں جائے گا وہ کچھ نہ کچھ فضول خرچی تو کر ہی آئے گا۔ میری خواہش ہے کہ جناب اس کے متعلق ضرور کچھ نہ کچھ تحریر فرمائیں۔
دیہات میں نماز جمعہ قائم کرنے کا مسئلہ ایک سخت اختلافی مسئلہ ہے اور اس پر قدیم زمانے سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔ ایسے مسائل میں کوئی ایسی بحث تو نہیں کی جاسکتی جو اختلافات کو بالکل رفع کر دے۔ البتہ میں کوشش کروں گا کہ اس مسئلے میں میرےنزدیک جو مسلک درست ہے اُسے واضح طور پر بیان کر دوں ۔
سب سے پہلے ضروری ہے کہ جمعہ کی شرعی حیثیت اور اقامت جمعہ سے شارع کےمقصود کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے ۔ پھر یہ دیکھا جائے کہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ میں اقامت جمعہ کے متعلق کیا ہدایات دی گئی ہیں اور ان ہدایات میں کیا مصالح پوشیدہ ہیں۔نیز اس امر کی تحقیق بھی کی جائے کہ ان ہدایات کی بنا پر اقامت جمعہ فی القریٰ کے جواز اور عدم جواز میں آئمہ مجتہدین کے درمیان جو اختلافات ہوئے ہیں، ان میں سے ہر ایک گروہ نے شارع کے پیش نظر مقاصد و مصالح کو کس حد تک ملحوظ رکھا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ بات بخوبی سمجھ میں آسکے گی کہ اب انھی مقاصد و مصالح کا لحاظ کرتے ہوئے جواز و عدم جواز میں سے کون سا پہلو اختیار کرنا زیادہ صحیح اور مناسب ہوگا۔
شریعت اسلامی کےاحکام میں تدبر کرنےسے یہ بات ہم کو واضح طور پر معلوم ہوتی ہےکہ شریعت صرف انفرادی اصلاح و تزکیہ ہی کو اپنا آخری اور انتہائی مقصود نہیں بناتی ہے بلکہ اصلاح یافتہ اور تزکیہ شدہ افراد کو باہم جوڑ کر محققین و صالحین کی ایک ایسی جماعت بھی بنانا چاہتی ہےجو زمین میں خلافتِ النبی کےفرائض کو ادا کرےاور ایک ایسا تمدن وجود میں لائےجس میں انسانی فطرت کی بھلائیوں کو نشو و نما دینےاور برائیوں کو دبا دینےکی قوت ہو۔ یہ چیز شریعت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے تمام احکام کا رجحان خالص انفرادیت کے بجائے اجتماعیت کی طرف ہے۔ وہ اگر چہ اپنی پوری قوت افراد کے تزکیہ و تصفیہ پر صرف کرتی ہے مگر اس کام میں اُس کے پیش نظر محض فرد کو کیفیت فرد ہی کے پاک کر دینا نہیں ہوتا بلکہ اسے پاک کر کے ایک بہترین سوسائٹی کی رکنیت اور کارکنی کے لیے تیار کرنا بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے افراد کے لیے جتنی تدبیریں اختیار کی ہیں وہ کم و بیش سب کی سب ایسی ہیں جو فردا فردا ان کا تزکیہ بھی کرتی ہیں اور اس کے ساتھ اُن کو باہم جوڑ کر ایک اعلیٰ درجہ کی جماعت بھی بناتی ہیں۔
مثال کے طور پر روزے کو لیجیے۔ یہ بجائے خود صرف فرد کے تزکیہ نفس کا ذریعہ ہے۔لیکن شارع نے ایک ہی زمانے میں ۳۰ دن کے روزے تمام مسلمانوں پر فرض کیےتا کہ وہ اسی مزکی و مطہر حالت میں اس اجتماعی عبادت کے ذریعہ سے صالحین و متفقین کی ایک جماعت بن جائیں۔ زکوۃ کو دیکھیے ۔ اس کی تو بنیادی اجتماعیت پر ہے۔ یہ ایک نفس کا تزکیہ ہی اس طرح کرتی ہے کہ وہ دوسرے نفس یا نفوس کی امداد و اعانت کرے ۔ حج کو دیکھیےاس میں اجتماع کا پہلو اس قدر نمایاں ہےکہ اس کو نمایاں کرنےکی حاجت ہی نہیں۔ان سب کے بعد نماز کو لیجیے جو ان سب سےزیادہ اہم ہے اور افراد کو صلاح و تقویٰ کی تربیت دینے کےلیے سب سے زیادہ کارگر تدبیر ہے۔ وہ ہر روز پانچ مرتبہ وہی کام کرتی ہے جو سال میں تیس مرتبہ روزہ اور سال میں ایک مرتبہ قربانی اور عمر بھر میں ایک مرتبہ حج کرتا ہےاس عبادت میں بھی شارع نےتربیت افراد کےساتھ مدنیت صالحہ کی تاسیس اور جماعتِ علقین کی تنظیم کا مقصد پیش نظر رکھا ہے۔ وہ روزانہ پانچ مرتبہ نماز کو باجماعت ادا کرنے کا حکم دیتا ہے تا کہ کم یا زیادہ جتنےبھی مسلمان کہیں جمع ہوں یا جمع ہو سکتے ہیں، وہ سب مل کر فریضہ ادا کریں۔ پھر وہ ہفتہ میں ایک مرتبہ ایک خاص وقت اس غرض کے لیے مقرر کرتا ہےکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان یک جا مجتمع ہوں اور مل کر با قاعدگی کے ساتھ خدا کا ذکر سنیں اور اس کی عبادت بجالائیں۔ اس ہفتہ وار اجتماع کے بعد وہ ہر سال انتقام ماہ صیام اور یادگار اسوۂ ابراہیمی جیسے اہم نفسیاتی مواقع پر ان کو اجتماع عام کی دعوت دیتا ہے تا کہ اسی عمارت کی تکمیل ہو جس کی نماز پنج گانہ تاسیس کرتی ہے اور نماز جمعہ توسیع وتر صیص -
اس بیان سےیہ بات واضح ہو گئی کہ تمام فرض عبادات میں شارع کا رجحان اجتماعیت کی جانب ہے اور وہ ان میں سے ہر ایک میں موقع محل کی مناسبت کے لحاظ سےانفرادیت اور انتشار کو زیادہ سے زیادہ گھٹانے اور اجتماعیت کو زیادہ سےزیادہ بڑھانےکی کوشش کرتا ہےنماز پنجگانہ میں اس کا موقع نہ تھا کہ جماعت کو فرض کر دیا جاتا، کیونکہ ہر روز ہر شخص کےلیےپانچ مرتبہ جماعت کےالتزام کو فرض کر دینے میں بہت زیادہ حرج تھا۔ اس لیے صرف جماعت کی تاکید کر کے چھوڑ دیا گیا اور اجازت دے دی گئی کہ اگر کوئی شخص کسی وقت کی نماز با جماعت ادا نہ کر سکے تو تنہا پڑھ لے۔ یہ ڈھیل جو شخصی حالات و ضروریات کےلحاظ سے دی گئی تھی اس کی تلافی کے لیے ہفتہ میں ایک مرتبہ ایک ایسی نماز فرض کر دی گئی جو بغیر فرض کے ادا ہی نہیں ہوتی۔ یہی نماز جمعہ ہے ۔ اور یہ فرض چونکہ اس رعایت کے نقصان کو پورا کرنے کےلیےعائد کیا گیا ہے جو نماز پنج گانہ میں انفرادیت اور انتشار کو ایک حد تک راہ دیتی ہے اس لیے شارع کا منشا یہ ہے کہ اس فرض کو ادا کرنےمیں زیادہ سے زیادہ اجتماع ہو اور جہاں تک ہو سکے تفریق و انتشار کو دُور کیا جائے ۔
اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جمعہ کی فرضیت پر کتاب وسنت میں اس قدر زور کیوں دیا گیا ہے اور اس کی اقامت کو اتنی اہمیت کس لیے دی گئی ہے۔
اے ایمان لانے والو! جب جمعہ کے روز نماز کے لیے پکارا جائے تو دوڑ و خدا کی یاد کی طرف اور خرید و فروخت چھوڑ دو ۔ یہ تمھارےلیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
میرا جی چاہتا ہے کہ اپنی جگہ کسی کو نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کر جاؤں اور ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دوں جو جمعہ کی نماز کےلیے نہیں آتے ۔
جو شخص بلاضرورت جمعہ چھوڑ دے اس کا نام منافق کی حیثیت سےاس کتاب میں لکھا جائے گا جس کا لکھا نہ مٹایا جا سکتا ہے نہ بدلا جا سکتا ہے۔
جو کوئی اللہ اور روزہ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس پر جمعہ کے دن نمازی جمعہ لازم ہے. پھر جو کسی کھیل تماشے یا کاروبار کی خاطر اس سےلا پروائی ہر تے اللہ اس سے بے نیازی برتے گا اور وہ پاک بےنیاز ہے۔
جس نے جمعہ کی اذان سنی اور نماز کےلیے نہ آیا، پھر دوسرے جمعہ اذان کی آواز سنی اور پھر نہ آیا۔ اسی طرح مسلسل تین جمعہ تک کرتا رہا۔اس کےدل پر مہر لگا دی جاتی ہےاور اس کا دل ایک منافق کا دل بنا دیا جاتا ہے۔
غور کیجئے یہ جمعہ کے لیے دوڑنے اور کاروبار چھوڑنے کی تاکید کیوں ہے؟ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے رؤف و رحیم انسان کے دل میں تارکین جمعہ کے گھروں کو آگ لگا دینے کا جذبہ کس لیے پیدا ہوتا ہے؟ آخر جمعہ میں کیا ہے جس کی وجہ سے ترک جمعہ اور نفاق کو ہم معنی قرار دیا گیا اور اس پر اتنی سخت وعید میں بیان فرمائی گئیں؟ اس کی علت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ جمعہ کی اقامت سے دراصل اُمت مسلمہ کا قوام ہے۔ اس سے نماز پنج گانہ کے مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے۔یہ اسلام کے اُس مقصد عظیم کی تحصیل کا ایک اہم ذریعہ ہےجو حیات دُنیا کی حد تک اس کا منتہائے مطلوب ہے یعنی مدنیت فاضلہ کی تاسیس اور جمعیت صالحہ کی تشکیل۔ اس کا ضائع ہو نا گویا اسلام کے مقصد کا ضائع ہوتا ہے اور اس کی بنا کو صدمہ پہنچنا گویا اسلام کی عمارت کو صدمہ پہنچتا ہے۔
ایک یہ کہ جمعہ کی فرضیت عام نمازوں کی فرضیت سے زیادہ مؤکد ہے اور اس کی اقامت اسلام کے مقاصد اصلیہ کی تکمیل کے لیے غایت درجہ اہمیت رکھتی ہے لہذا فروعی و اجتہادی مسائل میں ان پہلوؤں سے بچنا اولیٰ ہے جن سے جمعہ ضائع ہوتا ہے اور ان پہلوؤں کو اختیار کرنا انسب ہے جن سے جمعہ قائم ہوتا ہو۔
دوسرے یہ کہ اقامت جمعہ میں شارع کے پیش نظر مدنیت و اجتماعیت ہے اور وہ اس ذریعہ سے انتشار دُور کر کے اہل ایمان کو اجتماع کی طرف لانا چاہتا ہے۔ لہذا جمعہ کو قائم کرنے میں اس امر کو خاص طور پر ملحوظ رکھنا چاہیے کہ جماعتیں منتشر نہ ہوں بلکہ زیادہ سےزیادہ اجتماع ہو۔
اب آگے بڑھیے ۔ کتاب اللہ میں جمعہ کی فرضیت اور اس کی تاکید تو اس قوت کےساتھ بیان کی گئی ہے کہ اس کی طرف دوڑنے اور اس کے لیےسب کا روبار چھوڑ دینے کا حکم ہے۔ مگر ان سوالات پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی کہ نماز کب پڑھی جائے ؟ کہاں پڑھی جائے؟ کون پڑھے اور کون نہ پڑھے؟ کن حالات میں پڑھی جائے اور کن میں نہ پڑھی جائے؟ ان سب سوالات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر چھوڑ دیا گیا اور اہل ایمان سے صرف اس قدر کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُو الْبَيْعَ - ” جب پکارا جائے جمعہ کی نماز کے لیے تو خدا کی یاد کی طرف دوڑو اور کاروبار چھوڑ دو۔"
مذکورہ بالا سوالات کے متعلق تفصیلی ہدایات ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےارشادات اور آپ کے متواتر عمل سے ملتی ہیں۔ اور مزید روشنی ان بزرگوں کے اقوال و اعمال سے حاصل ہوتی ہے جنھوں نے براہ راست حضور سے تعلیم پائی تھی ۔ ان ذرائع سےہم کو قطعی طور پر جو باتیں معلوم ہوتی ہیں وہ یہ ہیں :-
یہ وہ امور ہیں جن پر تمام امت کا اتفاق ہے کیونکہ یہ قلعی طور پر ثابت ہے۔ ان کے علاوہ جتنے جزئی امور ہیں ان میں سے کوئی بھی قطعی طور پر ثابت نہیں ہے۔ اسی لیے ان میں فقہاء کے درمیان بکثرت اختلافات ہوئے ہیں۔ مثلا یہ کہ نصاب جماعت کیا ہو؟ جمعہ کون قائم کرے؟ خطبے دو ہونے چاہئیں یا ایک ہی کافی ہے؟ وغیرہ۔
اسی قبیل سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ جمعہ کے لیے کس قسم کی بستی ہونی چاہیے اور اس بستی سے کتنے فاصلے تک کے لوگوں کو نماز کے لیے آنا چاہیے۔
امام شافعی کی رائے یہ ہے کہ ایسے قریوں میں جمعہ ناجائز ہےجن کے باشندےگرمی جاڑے میں کہیں اور منتقل ہو جاتے ہوں ۔ان کےسوا ایسےتمام قریوں میں جمعہ کی نماز ہو سکتی ہے جن میں چالیس یا اس سے زیادہ عاقل و بالغ آزاد مرد موجود ہوں۔ اس کی تائید میں وہ اُس ہدایت سے استدلال کرتے ہیں جو ابن عباس سے مروی ہے کہ مدینہ کےبعد پہلا جمعہ جو پڑھا گیا وہ بحرین کےایک قریہ جوائی میں تھا۔ نیز یہ روایت بھی ان کے دلائل میں سے ہے کہ حضرت عمرؓ نے اہل بحرین کے استفسار کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ جمعہ ادا کرو جہاں کہیں بھی ہو ۔ مگر ان میں سے پہلی روایت میں محض قریہ کا لفظ ہے جس کا کوئی مفہوم متعین نہیں ۔ کم از کم اس سے چالیس مردوں کی قید تو کسی طرح نہیں نکلتی ۔ اور ہم کچھ نہیں جانتے کہ امام صاحب کے نزدیک اس قید کا ماخذ کیا ہے ۔ رہی دوسری روایت تو وہ جس قدر امام صاحب کی تائید میں ہے اسی قدر ان کے خلاف بھی ہے۔ اس سے تو جنگل اور ویرانے میں بھی اقامت جمعہ کا جواز نکالا جا سکتا ہے حالانکہ امام صاحب اس کے ناجائز ہونے کو تسلیم کرتے ہیں ۔
حنفیہ نے جمعہ کے لیے جو مصر جامع کی شرط لگائی ہے اس کے حق میں اُن کا استدلال اس روایت سے ہے جو حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ لاجُمُعَةَ وَلَا تَشْرِيقَ وَلَا فطر ولا أَضْحَى إِلا في مصر جامع-(١) نیز وہ اس بات سے بھی دلیل لاتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جب ممالک فتح کیے تو دیہات میں کہیں بھی منبر نصب نہیں کیے۔گویا جمعہ کے لیے مصر کے شرط ہونے پر صحابہ کا اجماع ہے۔
١- اس روایت کو ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں اور عبدالرزاق نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔لیکن دونوں کے ہاں یہ حضرت علی کے اپنے قول ہی کی حیثیت سے ہے۔ نبی کریم کی طرف اس کو منسوب نہیں کیا گیا۔
لیکن مصر کی تعریف میں خود حنفیہ کے درمیان اختلافات ہیں، حتی کہ خود امام ابو حنیفہ کے بھی دو مختلف قول ہیں۔ مثال کے طور پر چند اقوال ملاحظہ ہوں :-
اب یہ امر غور طلب ہے کہ اوّل تو ”مصر“ کےشرط ہونے پر اُمت کا اجماع نہیں ہے بلکہ محدثین اور فقہاء کی ایک کثیر جماعت اس سےاختلاف رکھتی ہے دوسرے یہ شرط اگر ثابت بھی ہو تو واضح طور پر یہ معلوم نہیں کہ مصر کہتے کس کو ہیں۔ ایسی حالت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کی مختلف فیہ اور مہم شرط کے فقدان پر کیا نماز جمعہ جیسےمؤکد اور اہم فریضہ کو مسلمانوں کی آبادی کے ایک کثیر حصےپر سےساقط قرار دینا مناسب ہے؟میں سمجھتا ہوں ایک طرف تقویٰ اور دوسری طرف تلقہ اس کا مقتضی ہےکہ اسقاط فرض کا فتوی دینےسے پہلے ہم یہ تحقیق کرنے کی کوشش کریں کہ آئمہ مجتہدین رحمہم اللہ کے اختلافات کا منشا کیا ہے وہ جمعہ کے معاملہ میں شارع کا مقصد کیا سمجھے ہیں اور اسے پورا کرنے کے لیے جو عملی شکلیں انھوں نے اختیار کی ہیں ان کی اندرونی حکمت کیا ہے۔ شاید کہ اس طرح ہمیں ایک ایسا معتدل مسلک ہاتھ آ جائے جس سے ہماری آبادیوں کا ایک بڑا حصہ جمعہ کی برکات سے متمتع ہو سکے۔
آئمہ مجتہدین میں سے ہر ایک نے ان دونوں پہلوؤں پر نظر رکھی ہے اور دونوں کو مرگی رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس معاملہ میں اشکال یہ واقع ہوتا ہے کہ بعض حالات میں یہ دونوں پہلو جمع نہیں ہو سکتے ۔ اگر فرضیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے تو اجتماعیت کا پہلو چھوٹ جاتا ہے۔ کیونکہ فرضیت کا تقاضا یہ ہے کہ دو چار آدمی بھی جہاں موجود ہوں وہیں فرض ادا کر دیا جائے۔ اگر اجتماعیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے تو فرضیت کا پہلو کمزور ہو جاتا ہے،کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہےکہ جہاں کافی اجتماع نہ ہو وہاں افراد پر سے فرض ساقط کر دیا جائے ۔ آئمہ مجتہدین نے اس اشکال کو دُور کرنے کے لیے دونوں پہلوؤں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
امام شافعی اور امام احمد نے چالیس آدمیوں کے اجتماع کو جمعہ کے لیے کافی سمجھا اور ہر ایسے قریہ میں اقامت جمعہ کا حکم دے دیا جہاں اجتماع کا یہ نصاب پورا ہوتا ہو ۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی فتویٰ دیا کہ اس قریہ سے جہاں جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہو وہاں کے ہر بالغ اور آزاد مرد پر نامزد کے لیے آنا فرض ہے۔
امام مالک نے اجتماع کے لیے کم سے کم ۱۲ آدمیوں کی موجودگی کو کافی قرار دیا۔لہذا ان کے مسلک کی بنیاد پر نسبتا زیادہ چھوٹے قریوں میں بھی اقامت جمعہ کا حکم دیا گیا اور ان سب لوگوں پر جمعہ کی حاضری لازمی قرار دے دی گئی جو مقام جمعہ سے چھ میل کی حد میں ہوں ۔
امام ابو حنیفہ نےمحسوس کیا کہ اسطرح قریہ قریہ میں اقامت جمعہ کی اجازت دینےسےانتشار پیدا ہوتا ہے اور اجتماع سےشارع کا جو مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوتا ۔انھوں نےیہ بھی دیکھا کہ عراق و شام وغیرہ ممالک میں جہاں عہد صحابہ کےآثار اس وقت بالکل تازہ تھےکہیں دیہات میں نہ منبر پائےجاتےہیں اور نہ جامع مسجدوں کا پتہ چلتا ہےاُن تک حضرت علیؓ کا وہ اثر بھی پہنچا جس میں تصریح ہےکہ جمعہ صرف امصار ( شہروں ) میں قائم کیا جائے۔ انھوں نے یہ بھی سنا کہ جب حجاج بن یوسف نے اہواز میں جمعہ قائم کیا تو امام حسن بصری نے فرمایا لَعَنَ اللهُ الْحَجَّاجُ يَتْرُكُ الْجُمُعَةَ فِي الْآمُصَارِ وَيُقِيمُهَا فِي حَلاقِيمِ الْبِلادِ " خدا کی لعنت ہو حجاج پر یہ کم بخت شہروں کو چھوڑ کر ملک کےگوشوں میں جمعہ قائم کرتا ہے۔ ان سب باتوں پر نظر کر کے انھوں نے فتویٰ دیا کہ ہر علاقہ کے صدر مقام میں جمعہ قائم کیا جائے اور جن جن لوگوں پر جمعہ کا فرض عائد ہوتا ہو وہ تین تین میل کے مضافات سے صدر مقام پر اکٹھے ہو جایا کریں۔
اب ہمیں ایک نظر اس زمانے کے حالات پر بھی ڈالنی چاہیے۔ وہ اسلامی حکومت کا زمانہ تھا ۔ جگہ جگہ پر گنوں اور قصبوں میں قاضی اور اصحاب شرطه (تھانہ دار ) مقرر تھے جو خصومات کے فیصلے کرتے اور مظالم کی داد رسی کرتے تھے۔ ایک کثیر جماعت کے مجتمع ہونے میں چونکہ فتنہ و فساد پیدا ہونے کا بھی احتمال ہوتا ہے۔ اس لیے اجتماع کی غرض سےایسی ہی جگہ زیادہ مناسب تھی جہاں امن قائم کرنے والے موجود ہوں۔ پھرا کا براحناف کا زمانہ وہ تھا جب عراق اور الجزیرہ اور فارس وغیرہ ممالک کی آبادی بہت زیادہ اور گھنی تھی ۔قصبات اور دیہات کثرت آبادی کےسبب سےباہم پیوسته ہو گئےتھےتمدن بھی انتہائی عروج پر تھا۔صنعت و حرفت اور تجارت کےفروغ نےقصبوں کو بھی شہر بنا دیا تھا۔انھی وجوہ سے شہر" کی وہ تعریفیں کی گئیں جو آپ نےاُوپر دیکھی ہیں۔ورنہ فی نفسہ قاضی اور کوتوال کو یا بازار اور سڑکوں کو یا دس ہزار اور تین ہزار کی آبادی کو فرضیت جمعہ کے اشتراط میں کوئی بھی دخل نہیں ہے۔ اصل شرط ”مصر“ ہے اور اس کے مدلول کو متعین کرنے کے لیے ہر فقیہ مجتہد نے وہ خصوصیات بیان کی ہیں جو اس کے پیش نظر امصار میں پائی جاتی تھیں۔
ان خصوصیات سے قطع نظر کر کے اگر دیکھا جائے کہ وہ چیز کیا ہے جس کی بنا پر مصر" کو شرط جمعہ قرار دیا گیا ہے تو معلوم ہوگا کہ وہ مرکزیت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ جو مقام کسی علاقہ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہو یا جمعہ کی غرض کےلیےمرکزی مقام ٹھیر الیا جائےوہ ”مصر“ ہےاور اس کے سوا گر دو پیش کےمقامات پر اقامت جمعہ کا نا جائز ہونا اس معنی میں نہیں ہے کہ ان مقامات کےلوگوں سےجمعہ کا فرض ساقط ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کو جمعہ کے لیے اس مرکزی مقام پر آنا چاہیے۔ اگر بغیر عذر شرعی کے وہ نہ آئیں گے تو گنہگار ہوں گے۔
اس باب میں فقہاء حنفیہ کے اقوال کی چھان بین کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر کی شرط عائد کرنے اور دیہات میں اقامت جمعہ کو نا جائز قرار دینے سے ان کا منشا بھی وہی تھا جو ہم نے سمجھا ہے۔
یہاں ”مصر قرار دینے" کا مجاز امام کوٹھیرایا گیا ہے اس لیے کہ صحیح معنوں میں اسلامی زندگی بغیر امام اور امیر کےنہیں ہو سکتی۔لیکن جہاں بد قسمتی سےمسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں امامت و امارت کامنصب باقی نہ رہا ہو کیا نا جائز ہوگا، اگر وہاں امام مالک رحمہ اللہ کے اصول پر مسلمانوں کی جماعت باہمی اتفاق سے اپنے علاقے کے کسی بڑے گاؤں یا قصبہ کو جہاں مسلمانوں کی آبادی نسبتا زیادہ ہو اور جہاں کوئی بڑی مسجد بھی موجود ہوا جمعہ کی اغراض کے لیے ”مصر“ قرار دے لے؟
وَمَنْ كَانَ مِنْ مَّكَانٍ مِنْ تَوَابِعِ الْمِصْرِ فَحُكْمُهُ حُكُمْ أَهْلِ الْمِصْرِ فِي وُجُوبِ الْجُمُعَةِ عَلَيْهِ بِأَنْ يَأْتِيَ الْمِصْرَ فَلْيُصَلَّيْهَا فِيْهِ وَاخْتَلَفُوْا فِيْهِ فَعَنْ أَبِى يُوسُفَ أَنَّهَا تَجِبُ فِي ثَلَثَةِ فَرَاسِخَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْرَمِيْلٍ وَقِيْلَ قَدْرَ مِبْلَيْنِ وَقِيلَ سِتَّةَ أَمْيَالٍ وَعَنْ مَالِكِ سِتَّةَ وَقِيلَ أَنْ أَمْكَنَهُ أَنْ يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ وَيَبِيْتُ بِأَهْلِهِ مِنْ غَيْرِ تَكَلُّفٍ تَجِبُ عَلَيْهِ الْجُمُعَةُ وَإِلَّا فَلَا قَالَ فِي الْبَدَائِعِ وَهَذَ أحْسَنُ (فتح القدير ج ا ص ۴۱۱)
اور جو شخص مصر کے مضافات کا رہنے والا ہو اس پر بھی اہل مصر کی طرح جمعہ فرض ہے اور لازم ہے کہ وہ وہاں جا کر نماز پڑھےمضافات شہر کی تعریف میں فقہاء کےدرمیان اختلاف.ابو یوسف کہتےہیں کہ وہ تین کوس کی حد میں واجب ہے۔ بعض نےایک میل، بعض نےدو میل،بعض نےچھ میل کی حد قرار دی ہے۔امام مالک نےبھی چھ میل کہا ہے اور قول یہ ہےکہ اگر کوئی شخص جمعہ میں شریک ہونے کے بعد رات آنے سے پہلے بلاکسی زحمت و تکلیف کے اپنے گھر پہنچ سکتا ہو اس پر جمعہ کی حاضری واجب ہےاپنے سکتا ہو ور نہ نہیں ۔ صاحب بدائع نے اس قول کو پسند کیا ہے۔
بعض احادیث سے بھی اس مؤخر الذکر قول کی تائید نکلتی ہے۔ چنانچہ ترندی نےابو ہریرہ سے روایت کیا ہے:۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُوْنَ الْجُمُعَةَ مِنْ مَّنَازِلِهِمْ وَالْعَوَا فَيَأْتُونَ فِي الْعُبَارِ فَيُصِيبُهُمُ الْغُبَارُ وَالْعَرَقِ فَيُخْرُجُ مِنْهُمُ الْعَرَقْ فَاتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانٌ مِّنْهُمْ وَهُوَ عِنَدِي فَقَالَ لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا -
حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ لوگ اپنی فروگا ہوں اور حوالی سےنماز جمعه کےلیےآیا کرتے تھے اور ان پر گرد اور پسینہ کی تہیں چڑھ جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف رکھتے تھے کہ ان لوگوں میں سےایک شخص آپ کےپاس حاضر ہوا۔ آپ نےفرمایا بہتر ہوتا اگر تم لوگ آج کےدن غسل کر لیا کرتے۔
پہلی حدیث تو صاف ہے۔ رہی دوسری حدیث تو اس میں یہ ذکر ہے کہ لوگ شرکت جمعہ کے لیے حوالی سے آیا کرتے تھے۔ حوالی ان دیہات کا نام ہے جو مدینہ طیبہ کے مضافات میں واقع تھے اور علامہ ابن حجر نے لکھا ہے کہ یہ دیہات مدینہ سے چار میل اور اس سے زیادہ مختلف فاصلوں پر تھے ۔ ظاہر ہے کہ جولوگ حوالی ہے اونٹ پر یا پیدل جمعہ کےلیےآتےہوں گے وہ اس ریگ زار میں شام کےلگ بھگ ہی اپنےگھروں کو واپس پہنچتےہوں گے۔ یہ اُس زمانےکی کیفیت ہےجب بسیں اور لا ریاں نہ چلتی تھیں۔اُس زمانےمیں جب لوگوں کو چھ چھ میل کے فاصلوں سے آنے کے لیے کہا گیا تو آج جب که حمل و نقل کی آسانیاں بہت بڑھ گئی ہیں، لوگوں کے لیے ہیں میں میل سے بھی جمعہ کے لیے آنا کچھ مشکل نہیں۔ تاہم اختلاف احوال کو پیش نظر رکھ کر یہ مناسب نہیں کہ فاصلہ کی مقدار میلوں کے حساب سے متعین کی جائے بلکہ وہی قید بہتر ہے جو شارع نے بیان فرمائی ہے یعنی جو شخص نماز کے بعد مغرب تک اپنے گھر بآسانی پہنچ سکتا ہو وہ اپنے علاقےکے صدر مقام میں جا کر جمعہ پڑھئے اور جو نہ پہنچ سکتا ہو وہ اپنے ہی گاؤں میں ظہر کی نماز پڑھ لیا کرے۔
اس سلسلے میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ فقہائے کرام نے مصر کی جو خصوصیات بیان کی ہیں وہ بالکل نا قابل لحاظ نہیں ہیں۔کسی دیہاتی علاقہ کے مسلمان جب اپنے علاقے کےکسی قصبہ کو جمعہ کی اغراض کے لیے "مصر" قرار دینا چاہیں تو انھیں انتخاب میں حسب ذیل خصوصیات کو ترجیح دینی چاہیے:۔
یہ امورا قامت جمعہ کے شرائط میں سے نہیں ہیں بلکہ مقام جمعہ کے انتخاب میں ان کو ملحوظ رکھنا انسب اور اولی ہے۔
اس سے پہلے دیہات میں اقامت جمعہ کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے میں نےمسلک حنفی کی جو تعبیر پیش کی ہے اس کے متعلق میرے پاس دو بزرگوں کی تحریریں آئی ہیں جو بجنہ درج ذیل ہیں :-
(۱) "جمعہ فی القریٰ کے متعلق صرف یہ عرض کرنا ہے کہ اصل مسئلہ میں تو کافی گنجائش ہے۔ آخر سوائے حنفیہ کے دوسرے حضرات کا مسلک یہی ہے۔ لیکن حنفیہ کے مذہب کی یہ تعبیر سمجھ میں نہیں آئی۔اہل قرمئی پر جمعہ کی عدم فرضیت ان کا کھلا ہوا مسلک ہے۔ اس کےمتعلق اگر کوئی خاص تحقیق ہو تو بشرط فرصت مطلع فرمائیں۔
(۲) ”جمعہ اور اس کے خطبات اور دیہات میں جمعہ فرض ہونے کا جو فتویٰ دیا ہے وہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اور ہماری سمجھ میں مذاہب اربعہ میں سے کسی مذہب پر منطبق نہیں، کیونکہ ہر مذہب میں جمعہ کے لیے کچھ کچھ شرائک ہیں ۔ موجودہ غیر مقلدین کی رائے البتہ وہی ہے جو مدیر ترجمان القرآن نے اختیار کی ہے۔"
اس باب میں کچھ عرض کرنے سے پہلے ایک بات صاف کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ میری حیثیت ایک معاند کی نہیں ہے جو دلائل شرعیہ سے بے پروا ہو کر محض اپنی رائے سے امور دینی میں ایک مسلک اختیار کر لیتا ہو اور اہل علم کی حجتوں کا جواب مکابرہ سےدیتا ہو بلکہ میں ایک طالب علم ہوں۔اپنی جد استطاعت تک مسائل کی تحقیق کرنےکے بعد جس نتیجه پر پہنچتا ہوں اس کا اظہار بے کم و کاست کر دیتا ہوں ۔ اور اگر میری رائےکے خلاف حجت قائم ہو جائے تو اس سے رجوع کے لیے بھی ہر وقت تیار رہتا ہوں۔جمعہ فی القریٰ کا مسئلہ چھیڑنے سے میرا مقصد کسی نئے فتنے کا دروازہ کھولنا نہیں ہے۔ دراصل حالات زمانہ کو دیکھتے ہوئے میں محسوس کر رہا ہوں کہ اس وقت اس مسئلے کی چھان بین کر کے صحیح شرعی حکم معلوم کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اس لیے میں نے علمائے کرام کو اس طرف توجہ دلائی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جن بزرگوں کو اللہ نے علم شریعت دیا ہے وہ بھی مسئلے کی اہمیت کو محسوس فرما ئیں اور اپنی تحقیق سےمجھے اور عام مسلمانوں کو استفادہ کا موقع دیں ۔البتہ چونکہ مسئلے کو چھیڑنے کا باعث میں خود ہوں اس لیے اپنی تحقیق کو واضح طور پر بیان کرنا مجھ پر لازم ہے۔
جمعہ فی القرنی کے مسئلے پر اس سے پہلے جو بحث کی گئی تھی اُس کی بنا چونکہ زیادہ تر آثار وسنن اور قیاس شرعی پر رکھی گئی تھی، اس وجہ سے غالباً بعض حضرات کو یہ محبہ ہوا کہ میں مسلک حنفی کا مخالف ہو کر خود ایک مجتہدانہ ( جسے عرف عام میں غیر مقلدانہ کہا جاتا ہے)رائے ظاہر کر رہا ہوں۔ لہذا اب میں چاہتا ہوں کہ صرف مسلک حنفی کے مطابق اپنےدلائل بیان کروں۔
تمام علمائے امت کا اس امر پر اجماع ہے کہ جمعہ فرضِ عین ہے ۔ فقہائے حنفیہ بھی اس اجتماع میں شریک ہیں۔ چنانچہ علامہ سرخسی اپنی کتاب " المبسوط میں لکھتے ہیں:۔
"ہم نے فرضیت کے باب میں ایک طرح کے طول کلام سےاس لیےکام لیا ہے کہ بعض جاہلوں کے متعلق سننے میں آیا ہے کہ وہ جمعہ کی عدم فرضیت کا خیال مذہب حنفی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اُن کی یہ غلط فہمی در اصل قدری کے اس قول سے ہوئی جس پر ہم آگے چل کر بحث کریں گے کہ جس نے جمعہ کے روز بغیر کسی عذر کے گھر ہی پر ظہر کی نماز پڑھ لی اس کی نماز تو ہو گئی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے ۔ اس قول میں مکروہ سے مراد در اصل حرام ہے اور نماز ظہر کےصحیح ہو جانے کا جو مطلب ہےوہ ہم آگےبیان کریں گے ۔ بہر حال ہمارے اصحاب (حنفیہ ) نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ جمعہ کی فرضیت ظہر کی فرضیت سےبھی زیادہ سخت ہے، اور یہ کہ جمعہ کا منکر کافر ہے“ ۔ (ص ۴۰۸)
ہم کو اقامت جمعہ کی خاطر نماز ظہر چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور ظہر لامحالہ فرض ہے، اور فرض صرف اسی چیز کے لیے چھوڑا جا سکتا ہے جو اس سے زیادہ فرض ہو ۔ ( جلد اول ص ۴۰۸)
ان اقوال سے معلوم ہوا کہ نماز جمعہ استنباطی اور اجتہادی واجبات میں سے نہیں ہے بلکہ نصوص صریحہ نے اس کو مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور اس کی فرضیت اس نوع کی ہےکہ اس سے (یعنی اس کی فرضیت سے ) انکار انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے فرض کو مسلمانوں کے کسی گروہ پر سے ساقط کرنے میں سخت احتیاط اور خشیت کی ضرورت ہے۔
اوّل تو فرض منصوص کو صرف نص ہی ساقط کر سکتی ہے۔ کسی انسان کا قول اس درجہ کی حجت نہیں ہے کہ اس کی بنیاد پر اُسے ساقط کیا جاسکے۔
دوسرے اگر کسی امام یا فقیہ کے کسی قول سے اس کے اسقاط کا پہلو نکلتا ہو تو نہایت احتیاط کے ساتھ یہ تحقیق کرنا چاہیے کہ قائل کا مدعا حقیقت میں ہے کیا ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جن حالات اور جن وجوہ سے اس نے یہ پہلو اختیار کیا تھا وہ اپنی جگہ درست ہوں، اور ہم وجوہ و احوال سے صرف نظر کر کے مجرد اس کے الفاظ کی پیروی کرنے میں غلطی کر رہے ہوں؟
پھر کسی فرض کو کسی حال یا مقام پر غیر فرض قرار دینے میں جتنی احتیاط کی ضرورت ہے اُس سے بدرجہا زیادہ احتیاط کی ضرورت اُسے ممنوع اور حرام اور گناہ قرار دینے میں برتنی چاہیے ۔ فرض منصوص اور حرمت و معصیت کے درمیان بہت بڑی مسافت ہے اس مسافت کو قطع کرنے کے لیے بڑی محکم سواری کی ضرورت ہے۔ کمزور سواریوں کے بل پر. اس راہ میں آگے بڑھنا خطر ناک ہے۔
اب دیکھنا چاہیے کہ جمعہ کی وہ شرائط جن کے فقدان سے فرض کے سقوط کا حکم لگایا جا سکتا ہے کون کون سی ہیں، اور ان کی کیا نوعیت ہے۔
حنفیہ کے نزدیک جمعہ کی شرائط دو قسم کی ہیں: ایک وہ جو مصلی کی ذات میں پائی جانی چاہئیں ۔ دوسری وہ جو خارج میں متحقق ہونی چاہئیں۔
پہلی قسم کی شرائط یہ ہیں کہ مصلی مقیم ہو مسافر نہ ہو آزاد ہو مملوک نہ ہو ۔ مرد بالغ ہو بچہ یا عورت نہ ہو صحیح و تندرست ہو بیمار یا معذور نہ ہو ۔ (المبسوط جلد دوم ص۲۲)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہو اس پر جمعہ فرض ہے ۔ مگر مسافر غلام بچہ عورت اور مریض اس سے مستثنیٰ ہیں ۔
یہ رعایت جو مسافروں غلاموں، عورتوں اور مریضوں کے ساتھ کی گئی ہے اس کےمعنی صرف یہی ہیں کہ اگر یہ جمعہ میں شریک نہ ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ کسی شخص نے بھی اس کا یہ مطلب نہیں سمجھا کہ ان کے لیے نماز جمعہ ممنوع ہے۔ نہ کسی نے یہ کہا کہ اگر وہ شریک جمعہ ہوں تو ترک ظہر کی وجہ سے گنہگار ہوں گے ۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عورتیں جمعہ کے لیے حاضر ہوتی تھیں ۔ غلام بھی شریک ہوتے تھے ۔ اندھوں کو بھی اگر کوئی ہاتھ پکڑ کر پہنچا دینے والا مل جاتا تو وہ گھر نہ بیٹھے رہتے تھے ۔ ان میں سے کسی شخص سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تم پر سے جمعہ کا فرض ساقط ہو گیا' تم کو جمعہ کے بجائے ظہر پڑھنی چاہیے ورنہ ترک ظہر کی وجہ سے گنہ گار ہو گے ۔ علامہ سرخسی لکھتے ہیں :-
"یہ وجوب کی شرائط ہیں نہ کہ ادا کی شرائط ۔ اگر مسافر اور غلام اور عورت اور مریض نماز جمعہ میں شریک ہو جائیں تو جائز ہوگا۔حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ عورتیں رسول اللہ کےساتھ جمعہ پڑھتی تھیں اور ان سےکہا جاتا تھا کہ خوشبو لگا کر نہ آیا کرو۔ ان لوگوں سےفرض کےسقوط کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس نماز میں کوئی ایسی بات ہے جو ان کی شرکت سے مانع ہو۔ بلکہ صرف ان کو تکلیف سے بچانے کے لیے مستقلی کیا گیا ہے۔ اگر یہ اس تکلیف کو برداشت کر لیں تو پھر اداء نماز میں یہ بھی دوسرےلوگوں کے ساتھ مساوی ہوں گے“ ۔ ( ج ۲ ص ۲۳)
دوسری قسم کی شرائط کو شرائط ادایاشرائط صحت قرار دیا گیا ہےیعنی اگریہ نہ ہوں تو جمعہ ادا ہی نہ ہوگا یہ چھ شرطیں ہیں۔مصر وقت،خطبہ جماعت سلطان اذنِ عام اِن میں سےپہلی شرط یعنی مصر کی شرط ہی یہاں زیر بحث ہےلیکن اس پرکلام کرنےسےپہلےیہ تحقیق کرنا ضروری ہےکہ بجائےخود ان شرائط کی نوعیت کیا ہے؟
ان میں سے بعض شرائط ایسی ہیں جو نصوص قولی و عملی سے صریحاً ثابت ہیں، مثلاً وقت کہ اس کا وقت ظہر ہونا ثابت ہے۔ اسی طرح خطبہ بھی صریحاً شرط جمعہ ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خطبہ کے بغیر جمعہ نہیں پڑھا اورقرآن میں بھی اسکی طرف اشارہ موجود ہےاسی طرح جماعت کابھی شرائط جمعہ میں سےہونا ثابت ہے اور اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ اختلاف جو کچھ بھی ہوا ہے مقدار جماعت میں ہوا ہے۔ اذنِ عام بھی رسول اکرم اور صحابہ اور ائمه کےمتواتر عمل سےثابت ہےاور اہم مصالح شرعیہ اسکی مقتضی ہیں۔
بخلاف اس کے مصر اور سلطان کی شرائط ایسی ہیں جن کا ماخذ کوئی نص صریح نہیں ہے بلکہ زیادہ تر ان کا مدار استنباط و اجتہاد پر ہے اور اسی لیے ان کا شرط ادا ہونا بھی مختلف فیہ ہے۔
. . . پس جس نے جمعہ کو ایک معمولی چیز سمجھ کر اور اس کے حق کو ہلکا جان کر چھوڑ دیا در آنحالیکہ اس کا کوئی ظالم یا عادل امام موجود ہو تو خدا اسکی پراگندگی کو دُور نہ کرے۔جان رکھو کہ نہ اس کی نماز درست نہ اس کا روزہ درست جب تک کہ وہ تو بہ نہ کرے۔ اگر تو بہ کرے گا تو اس کی تو بہ اللہ قبول کرے گا۔
لیکن اُوپر کی حدیث اور یہ اثر دونوں اس باب میں ناطق نہیں ہیں کہ امام یا سلطان کےبغیر اقامت جمعہ جائز ہی نہیں ہے۔ حدیث سے تو صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں اسلامی نظام جماعت قائم ہو وہاں جمعہ کو ترک کرنا اور بھی زیادہ شدید گناہ ہے۔اس کی مثال ایسی ہےجیسے کوئی کہے کہ جس نے مسجد میں چوری کی اس پر خدا کی لعنت۔اس کےیہ معنی نہیں ہیں کہ اس شخص کے نزدیک چوری کا حرام ہونا اس شرط کےساتھ مشروط ہے کہ اسکا ارتکاب مسجد میں ہو بلکہ دراصل وہ ارتکاب فی المسجد کو ایک مزید وجہ شناعت کی حیثیت سے بیان کر رہا ہے۔بالکل اسی طرح حضور نےبھی امام المسلمین کی موجودگی یا بالفاظ دیگر اسلامی نظام جماعت کی موجودگی کو ترک جمعہ کےلیےایک اور سبب مردود نت کی حیثیت سےبیان فرمایا ہے۔یہی وجہ ہےکہ دوسری احادیث جن میں فرضیتِ جمعہ کی تاکید آئی ہےامام کےذکر سےخالی ہیں، اور دوسری احادیث میں تارک جمعہ کو جتنی تو یخ کی گئی ہےاس حدیث میں اس سےزیادہ تو یخ پائی جاتی ہےاسی طرح وہ اثر بھی جو ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے جمعہ کے لیے سلطان کے اشتراط پر دال نہیں ہے۔ اس میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ چار چیزوں کا اہتمام سلطان کو کرنا چاہیے جن میں سے ایک اقامت جمعہ و عیدین ہے۔ اس سے یہ مطلب کیونکر نکالا جا سکتا ہے کہ اگر سلطان نہ ہو تو یہ کام بندر ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ لڑکی کی شادی کرنا باپ کا کام ہے تو اس کا یہ مطلب نہ ہوگا کہ باپ نہ ہو تو لڑکی بیٹھی رہے۔
لیکن "مصر جامع" کی کوئی تعریف کسی نص سے ماخوذ نہیں ہے۔ میں نے حتی الامکان پوری جستجو کی، مگر مجھےابھی تک کسی حدیث یا کسی اثر سے یہ نہ معلوم ہو سکا کہ مصر کی حد کیا ہے۔ فقہائے حنفیہ کی کتابوں میں مصر کی جو تعریفات بیان ہوئی ہیں ان میں سے کسی میں بھی کسی حدیث یا اثر کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
یہ ہے ان دونوں شرطوں کا حال اور یہی وجہ ہے کہ ان کے شرائط صحت دادا ہونے میں کلام کیا جا سکتا ہے اور کیا گیا ہے۔ خود علمائے احناف نے وقتاً فوقتاً ان شرائط میں ترمیمیں کی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلک حنفی میں اتنی گنجائش ہے کہ حسب موقع وضرورت ان میں قواعد شرعیہ کو لوظ رکھ کر مزید ترمیم کی جاسکے۔
سب سے پہلے سلطان کی شرط کو لیجیے۔ امام شافعی نے تو اس کے شرط جمعہ ہونےسے ابتدا ہی میں انکار کر دیا تھا،مگر خود فقہائےحنفیہ بھی بعد میں اس شرط کے اسقاط پر مجبور ہو گئے۔جب تک ایسےسلاطین و امراء برسراقتدار ر ہے جو کسی حد تک اپنےفرائض دینی کا احساس رکھتےتھےاس وقت تک تو حنفیہ کو اپنےساتھ اس فتوےمیں بظاہر کوئی قباحت نظر نہ آئی کہ جمعہ کی اقامت اذن سلطان کےساتھ مشروط ہےاور سلطان کے بغیر اقامت جمعہ جائز نہیں۔مگر جب دین سےغافل حکام و سلاطین کادور آیا تو فقہاء نےمحسوس کیا کہ شرط سلطان نےایک دینی فرض کو دنیوی سلاطین کی مرضی پرموقوف کر دیا ہےحتی کہ اگر وہ نہ چاہیں تو فرض ہی ساقط ہوا جاتا ہے۔ اس لیے انھوں نےفیصلہ کیا کہ اگر حکام غفلت برتیں تو جمعہ مسلمانوں کی باہمی رضامندی پر قائم کیا جائے ۔ پھر وہ دور آیا جب اسلامی ممالک پر کفار مسلط ہونے لگے اور بڑی بڑی اسلامی آبادیاں سلطانِ اسلام سے کلیتہ محروم ہو گئیں ۔ اس وقت فقہا کو یہ فتویٰ دینا پڑا۔
١- واضح رہے کہ یہ حدیث حضرت علی کے واسطے سے مرفوعاً روایت ہوئی ہے۔ مگر امام احمد کہتےہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ (نیل الاوطاری، ج ۳، ص ۱۹۸)
رہے وہ ممالک جن پر کافر حکام مسلط ہیں، تو ان میں مسلمانوں کےلیے اقامت جمعه وعیدین کا خود انتظام کر لینا جائز ہےاور وہاں مسلمانوں کی باہمی رضامندی سےجو قاضی مقرر ہو وہ قاضی ہو سکتا ہےاور ان پر مسلمان حاکم کی طلب واجب ہے۔
اس طرح وہی شرط جو پہلے شرط ادا کبھی گئی تھی، شرط وجوب بھی نہ رہی اور تحقیق سےمعلوم ہو گیا کہ سلطان اسلام کی موجودگی سرے سے شرط جمعہ ہی نہیں ہے۔
یہیں سے نبی اور مجتہد کا فرق واضح ہوتا ہے۔ نبی کی بصیرت براہ راست علم الہی سے مستفاد ہوتی ہے اس لیے کہ اس کےاحکام تمام از منہ واحوال کےلیے مناسب ہوتےہیں۔ مگر مجتہد خواہ کتنا ہی باکمال ہو زمان و مکان کے تعینات سے بالکل آزاد نہیں ہو سکتا نہ اس کی نظر تمام از منہ احوال پر وسیع ہو سکتی ہے لہذا اس کے تمام اجتہادات کا تمام زمانوں اور تمام حالات کے مطابق ہونا غیر ممکن ہے۔
جن لوگوں کو اللہ نےتفقه فی الدین کی نعمت سے نوازا تھا وہ چوتھی صدی ہجری کےبعد بھی اس راز کو سمجھتےتھےاور تغیر احوال کےساتھ اپنے مذہب فقہی کے جزوی احکام میں مناسب ترمیم کر دیتےتھے اور ان کی ترمیمات اجتہادی ترمیمات ہونے کےباوجود اُسی مذہب کا ایک جزو بن جاتی تھیں جس کےوہ متبع ہوتےتھے۔ مگر افسوس کہ دور انحطاط کےلوگ امام کی نص کو خدا اور رسول کی نص کی طرح محکم اور اٹل سمجھنے لگے اور انھوں نے اس بات کو گناہ سمجھ لیا کہ مجتہد کے کسی قول پر جو فتویٰ مبنی ہو اس میں تغیر احوال کے ساتھ کوئی ترمیم کی جائےخواہ اس سےخدا اور رسول ہی کا کوئی حکم منصوص کیوں نہ ساقط ہو جائےچنانچہ اس قسم کےبعض فقہاء جامد نےانگریزی تسلط کےبعد ہندوستان میں فتوےدینےشروع کر دیےتھےکہ اب یہاں اقامت جمعہ جائز نہیں کیونکہ سلطان اسلام کے اُٹھ جانےسے اقامت جمعہ کی ایک شرط مفقود ہو گئی ہے۔ مگر خوش قسمتی سے اس وقت ہندوستان میں ایسے علماء بھی موجود تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے علم حق سے سرفراز فرمایا تھا۔ انھوں نے اٹھ کر سختی کے ساتھ اس تحریک کی مخالفت کی حتیٰ کہ مولانا عبدائی فرنگی محلی نے زیادہ درشت الفاظ میں یہاں تک لکھ دیا :-
اس میں شک نہیں کہ بلادِ ہند میں جہاں نصاریٰ کا غلبہ ہو گیا ہے اور انھوں نے کافر حکام مقرر کر دیے ہیں، جمعه واجب ہے اور مسلمانوں کے باہمی اتفاق اور رضامندی سے اس کو ادا کرنا درست ہے۔ جس کسی نے سقوط جمعہ کا فتویٰ دیا وہ خود بھی گمراہ ہوا اور اس نےدوسروں کو بھی گمراہ کیا۔
اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تمام ہندوستان کے حنفی عالم اور عامی سب اس ملک میں جمعہ پڑھ رہے ہیں (١) حالانکہ ہدایہ کی یہ عبارت اب بھی پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے کہ الاتجُورُ إِقَامَتُهَا إِلَّا لِسُلْطَانٍ أو لِمَنْ آمَرَهُ السلطان- (٢) اگر احوال کے لحاظ سےمجتہدین کےاحکام میں جزوی ترمیم کرنا بھی غیر مقلدیت ہے تو ایسی غیر مقلدیت میں تمام احناف ہند پہلے مبتلا ہو چکے ہیں ۔
شرط سلطان کی طرح شریا مصر کو بھی امام شافعی اور امام مالک نے تسلیم کرنے سےانکار کر دیا ہے۔ یہ امر تو متفق علیہ ہے کہ جنگوں اور خیموں اور عارضی فرودگاہوں میں جمعہ قائم کرنا درست نہیں۔ یہ امر بھی متفق علیہ ہے کہ جمعہ کے لیے ایک نوع کا تمدن ضروری ہے۔مگر اس امر میں اختلاف ہےکہ جمعہ کتنی بڑی بستی میں قائم کیا جا سکتا ہے۔ امام شافعی فرماتےہیں کہ جس جگہ کم از کم چالیس آدمیوں کی مستقل بستی ہو ( یعنی وہ گرمی جاڑے میں مہاجرت نہ کرتے رہتے ہوں) وہ مقام اقامتِ جمعہ کا ہےامام مالک کے نزدیک چالیس آدمیوں سے کم کی بستی میں بھی ! قامت جمعہ ہو سکتی ہے مگر حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ اقامت جمعہ کےلیے "مصر جامع" ہونا چاہیے۔
اس میں شک نہیں کہ "مصر جامع " کا لفظ حدیث میں آیا ہے مگر جیسا کہ میں اوپر عرض کر چکا ہوں، اس کی کوئی حد نہ اس حدیث میں مذکور ہےنہ کسی دوسری مرفوع یا موقوف روایت میں۔اسی لیےاس میں اجتہاد کی گنجائش ہے اور اجتہاد ہی سے مختلف زمانوں میں مختلف حدیں مقرر کی گئی ہیں، حتیٰ کہ ایک ہی امام نے مختلف اوقات میں اسکی مختلف حدیں بیان کی ہیں۔
١- حقیقت یہ ہے کہ اگر اس وقت خدانخواستہ یہ غلطی جڑ پکڑ گئی ہوتی تو آج ہم اپنے بڑے بوڑھوں ہی سےیہ سنتے کہ اس ملک میں کبھی نماز جمعہ بھی ہوا کرتی تھی۔
٢- اور جائز نہیں ہے جمعہ کا قائم کرنا سوائے سلطان کے یا ایسے شخص کے جس کو سلطان نے حکم دیا ہو۔
ا۔ مصر جامع وہ ہےجہاں امیر اور قاضی احکام اسلامی کی تنفیذ اور حدود شرعی کی اقامت کرتا ہو ۔امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی ایک قول اسی مضمون کا منقول ہے۔ اور کرخی وغیرہ فقہاء نے اس کو اختیار کیا ہے۔
٢- مصر وہ مقام ہے جس کے باشندے (یعنی وہ لوگ جن پر جمعہ فرض ہے ) اگر سب کے سب وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں جمع ہو جائیں تو وہ ان کے لیے کافی نہ ہو اور ایک دوسری مسجد بنانے کی ضرورت پڑ جائے ۔ اس رائے کو ابن شجاع نےپسند کیا ہے۔ اور ابوعبدالله الجی نے بھی اس کو اختیار کیا ہے۔
٣- مصر وہ جگہ ہے جہاں کم از کم دس ہزار کی آبادی ہو ۔
ظاہر ہے کہ یہ تینوں تعریفیں ایک دوسرے سےمختلف ہیں، اور ایک ہی امام نے ان کو مختلف اوقات میں اختیار کیا ہے۔ پھر بعد کےمختلف فقہاء نے اپنی پسند کےمطابق ان میں سے بعض کو ر ڈ اور بعض کو قبول کیا حالانکہ وہ مجتہد مطلق نہ تھے ۔
"مصر وہ ہے جہاں سڑکیں اور بازار ہوں محلے ہوں، کوئی والی ظالم سے مظلوم کا انصاف لینے والا ہو اور کوئی عالم ہو جس سے مسائل شرعیہ میں رجوع کیا جا سکے"، (١)
اس طرح امام اعظم نے دو مرتبہ اور امام ابو یوسف نے تین مرتبہ مصر کی تعریف میں ترمیم فرمائی۔ اس کے بعد مختلف لوگوں نے مختلف تعریفیں کیں اور ترمیمات کا سلسلہ جاری رہا۔ مثلا علامہ سرخسی لکھتے ہیں:۔
”ہمارے بعض مشائخ کا قول ہے (بلا اس تصریح کے کہ وہ مشائخ ہیں کون؟ ) کہ مصر وہ ہے جہاں ہر پیشے کا آدمی اسی مقام پر کام کر کےگزر بسر کر سکتا ہو اور اسے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے"۔ (١)
١- ملاحظه ہو ہدایہ فتح القدیر وشرح العنایه علی الهدایه جلد اول، صفحه ۴۱۱٬۴۰۹ ۔
ایک اور تعریف بر جندی نے کنز العباد سے نقل کی ہے کہ بعض فقہاء کے نزدیک :۔
اسی قسم کی اور تعریفات کا سلسلہ قریب قریب ہر زمانے میں برابر جاری رہا ہے۔ختی کہ ہم سے بہت قریبی دور میں بھی مختلف علماء نے مختلف تعریفیں کی ہیں جن کی تعداد درجنوں سے متجاوز ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مصر کی تعریف خود حنفیہ میں مختلف فیہ ہے مصر کوئی معنین چیز نہیں ہے۔ اگر اب اس کی کوئی نئی تعریف کی جائے تو حقیقت سےخارج ہو کر غیر مقلدیت کے دائرے میں چلے جانے کا خطرہ ہے اور سب سے زیادہ یہ کہ اگر حنفیہ ہی کے اصول پر مصر کے مفہوم کا تعین اس طرح کیا جائے کہ اس سے اسقاط فرض کےبجائے اقامت فرض میں مدد ملتی ہو تو وہ اہل تقویٰ کے لیے زیادہ قابل قبول ہونا چاہیے۔
اب میں آخری تنقیح کی طرف توجہ کرتا ہوں جس پر مسئلے کے تصفیے کا مدار ہے۔ اس تنقیح کے الفاظ پھر ایک مرتبہ ملاحظہ فرما لیجیے:۔
" کیا یہ جائز ہے کہ اس فرض کو ادا کرنے کے لیے ایک ایسا نظام اختیار کیا جا سکے جو فقہائے حفیہ کے فتاوی سے چاہے مختلف ہوا مگر ان کے اصول کے خلاف نہ ہو۔
١- ملاحظہ ہو کتاب المبسوط ج دوم ص ۲۴۔
او پر میں نے جو کچھ عرض کیا ہے اس سے یہ تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے۔ اگر شرط سلطان کو بالکل ساقط کر دینے اور مصر کی تعریفات میں پے در پے ترمیمات کرنے کے باوجود حقیت کے دائرے سے کوئی شخص خارج نہیں ہوتا تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے مذہب کے دائرے میں ادائے فرض کے کسی ایسے نظام کی گنجائش نہ ہو جو اصولِ مذهب حنفی پر پورا اترتا ہو۔ لهذا اب مجھ پر صرف اس امر کا بار ثبوت رہ جاتا ہے کہ جو نظام میں تجویز کر رہا ہوں وہ اصول مذہب حنفی کے مطابق ہے۔
میں نے جہاں تک احکام پر غور کیا ہے اس سے مجھے شریعت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہےکہ نماز جمعہ کو منتشر طور پر چھوٹے چھوٹے قریوں میں الگ الگ ادا کرنا مقاصد جمعہ کےلیے مفید نہیں ہے اس لیے شارع نے حکم دیا کہ جمعہ مصر جامع" میں ادا کیا جائے۔"مصر جامع “ کا لفظ خود اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اس سے مراد کوئی ایسی بستی ہے جو چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو یک جا کرنے والی یا جامع الجماعات ہو یعنی جہاں بہت سی چھوٹی بستیوں کے لوگ اکٹھے ہو کر جمعہ ادا کریں۔ اس غرض کے لیے دکانوں اور بازاروں،اور آبادی کی تعداد اور ایسی ہی دوسری چیزوں کو مصر کی جامعیت میں کوئی دخل نہیں ہے۔نہ اقامت جمعہ سے ان اجزائے مصر کا براہِ راست کوئی تعلق ہےکہ جمعہ کی نماز اپنی صحت کےلیےبازار اور بہت سی دکا نہیں مانگتی ہو۔ اس کے لیے صرف ایک ایسی بستی کی ضرورت ہےجو مرکزی حیثیت رکھتی ہو تا کہ اطراف کے منتشر مسلمان وہاں مجتمع ہو جا ئیں ۔ اگر کوئی بڑا شہر موجود ہو جسے تمدن نے خود ہی ایک مرکزی حیثیت دے رکھی ہو تو بہت اچھا ورنہ امامِ وقت جس بستی کو مناسب سمجھے ۔ مصر جامع قرار دے کر اطراف کے لوگوں کو وہاں جمع ہونے کا حکم دے سکتا ہے۔
چنانچہ علامہ ابن ہمام فتح القدیر میں لکھتے ہیں کہ: وَلَوْ مَصَّرَ الْإِمَامُ مَوْضِعًا وَأَمَرَهُمُ بِالْإِقَامَةِ فِيهِ جَازِ وَلَوْ مَنَعَ أَهْلُ مِصْرٍ أَنْ يَجْمَعُوا لَمْ يَجْمَعُوا - یعنی اگر امام کسی جگہ کو مصر ٹھیرا دے اور لوگوں کو وہاں جمعہ قائم کرنے کا حکم دے تو وہاں نماز جائز ہے اور اگر کسی مقام کے باشندوں کو جمعہ قائم کرنے سےمنع کر دے تو ان کو قائم نہ کرنا چاہیے، ( جلد اول ص ۴۰۹) ۔ لیکن اگر امام موجود نہ ہو تو جس طرح مسلمانوں کی تراضی سے جمعہ قائم ہو سکتا ہے اور جس طرح ان کی تراضی سے قاضی مقرر ہو سکتا ہے، اسی طرح ان کی تراضی امام کی قائم مقام بن کر کسی بستی کو "مصر جامع" بھی ٹھیر اسکتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس میں کون سی نص مانع ہے یا یہ بات اصول میں سے کس اصل کے خلاف پڑتی ہے۔
مصر جامع کی شرط لگانے سےشارع کا منشا تو یہ تھا کہ دیہات کے لوگ فریضہ جمعہ کو منتشر طور پر ادا کرنے کے بجائے ایک مرکزی مقام پر مجتمع ہو کر ادا کریں۔ مگر نہ معلوم کن وجوہ سے اس شرط کے معنی بالکل الٹ دیے گئےاور دیہات کےلوگوں کو اجتماع کا حکم دینے کے بجائے الٹا فریضہ جمعہ ہی سے سبکدوش کر دیا گیا۔ غالبا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ لفظ ”مصر“سے علماء کا ذہن شہر" کے عرفی مفہوم کی طرف منتقل ہو گیا اور انھوں نے حدیث کا مطلب یہ سمجھا کہ جمعہ صرف شہروں میں قائم کیا جا سکتا ہے۔پھر چونکہ شہر بہت دُور دُور ہوتے ہیں،اور مسافت بعیدہ طےکر کےان کی طرف جانےسےآدمی مسافر کی تعریف میں آ جاتا ہےجس پر جمعہ از روئے نص فرض ہی نہیں ہےاس لیےبات یہاں تک پہنچ گئی کہ مضافات شہر کےسوا باقی تمام دیہات کے باشندوں پر سے فریضہ جمعہ ساقط ہے۔ حالانکہ جس چیز کو قرآن اور احادیث مشہورہ اور سنت و اجماع نے مسلمانوں پر فرض مین ٹھیرایا ہو اسے دیبات کےرہنے والےکروڑوں مسلمانوں کے لیے غیر فرض بنا دینا اور وہ بھی ایک ضعیف الاسناد مختلف فیہ اور مسم المعنی حدیث کی بناء پر کسی طرح مقتضائےاحتیاط نہیں ہےحدیث نے تو اقامت جمعہ کے لیے محض مصر جامع“ کی شرط لگائی ہے۔ مردم شماری کی ایک خاص مقدار اور دکانوں کی ایک خاص تعداد اور ایسی ہی دوسری چیزوں کی تصریح اس میں نہیں ہے۔ لہذا یہ چیزیں بجائے خود اقامت جمعہ کے لیے شرط منصوص نہیں ہیں، بلکہ ان کو اُس مفہوم نے شرط بنایا ہے جو لفظ مصر سے علما نے سمجھا۔ بالفاظ دیگر فریضہ منصوصہ کو دیہات کے مسلمانوں پر سے ساقط کرنے والی چیز خود نص نہیں ہے بلکہ وہ مفہوم ہے جو نص سے اخذ کیا گیا ہے۔ اگر اس مفہوم کے سوانص کا کوئی اور مفہوم نہ ہوتا' یا نص اپنے الفاظ میں صریح ہوتی تو بلا شبہ اس کی بناء پر اسقاط فرض درست ہوتا۔ مگر جبکہ اس کا کوئی دوسرا مفہوم بھی ہو سکتا ہے تو میرے نزدیک تقویٰ اور خشیت کا تقاضا یہ ہے کہ اسقاط فرض کا راستہ کھولنے والے مفہوم کی بہ نسبت اقامت فرض کا راستہ کھولنے والا مفہوم زیادہ لائق تر جیح ہو۔
میں نےمصر کی جو تعریف کی ہےاس کو اختیار کرنےسےاکثر و بیشتر دیہاتی مسلمانوں کے لیئے بلکہ خانہ بدوش مسلمانوں کےلیےبھی صحیح شرعی طریق پر جمعہ ادا کرنا ممکن ہو جاتا ہےاس کی صورت یہ ہےکہ دیہی علاقوں کو چھوٹے چھوٹے حلقوں میں تقسیم کیا جائے جن کا دور مقامی حالات کا لحاظ کرتے ہوئے ۴ ۵ میل سے لے کر ۹۸ میل تک ہو۔ ان حلقوں میں ایک مرکزی مقام کو مسلمان باشندوں کی باہمی رضامندی ۔مصر جامع قرار دے دیا جائے اور گرد و پیش کے دیہات کو توابع مصر قرار دےکر اعلان کر دیا جائےکہ ان کےمسلمان باشندے وہاں آکر جمعہ کی نماز ادا کریں۔ یہ نظام نہ صرف احادیث صحیحہ کی رُو سےدرست ہوگا بلکہ فقہائےحنفیہ کی تصریحات کے بھی خلاف نہ ہوگا۔فقہا نے توابع مصر کی مختلف تعریفیں کی ہیں۔ بعض لوگوں نے توابع مصر کی حد 4 میل مقرر کی ہے بعض نے ۲ میل ، بعض نے ۶ میل، اور بعض کہتے ہیں کہ جس مقام سے مصر میں آکر نماز ادا کرنے کے بعد آدمی رات ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ سکے وہ توابع مصر میں شمار ہوگا۔ صاحب بدائع نے اس آخری تعریف کو پسند کیا ہے اور حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ ترندی میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے:۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ اس پر فرض ہے جو رات سےپہلے اپنے گھر پہنچ جائے۔
١- اس حدیث کی سند اگر چہ ضعیف ہے، لیکن یہ مضمون متعدد طریقوں سے حضرت ابو ہریرہ حضرت انس ، حضرت ابن عمر اور حضرت معاویہ سے منقول ہوا ہے۔ اور اسے نافع، حسن اور عکرمہ اور ابراہیم نخعی اور عطاء اور اوزاعی اور ابو ثور نے قبول کیا ہے۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَلَاهَلْ عَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَتَّخِذَ الصبة مِنَ الْغَنَمِ عَلَى رَأْسِ مِيْلٍ أَوْ مَلَيْنِ فَتَعَدَّرَ عَلَيْهِ الْكَلَاءُ فَيَرُ تَفِعُ ثُمَّ تَجِتُى الْجُمُعَةَ فَلَا يَجِئُى وَلَا يَشْهَدُ هَا (ثَلاثًا) حَتَّى يُطْبَعَ عَلَى قَلْبِهِ -
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سنو! تم میں سے ایک شخص بکریوں کا ریوڑ لیےہوئے چارے کی تلاش میں تو میل دومیل چلا جائے مگر جب جمعہ آئے تو اس میں شریک ہونے کے لیے یہاں نہ آئے! ( یہ جملہ آپ نے تین مرتبہ دہرایا پھر فرمایا ) ایسے شخص کے دل پر مہر لگائی جائے گی۔
ان احادیث سے اور فقہاء کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ توابع مصر کی حد ٦.٧ میل یا اس کے قریب قریب ہےجہاں کے باشندے نماز پڑھ کر شام تک اپنے گھر پہنچ سکیں۔ اس حد کے اندر رہنے والے تمام مسلمانوں پر خواہ وہ مستقل دیہات میں رہتےہوں، یا خانہ بدوش ہوں، مصر جامع میں حاضر ہو کر نماز جمعہ ادا کرنا فرض ہے۔ جیسا کہ ابن ہمام نے فتح میں لکھا ہے :-
وَمَنْ كَانَ مِنْ مَّكَانٍ مِنْ تَوَابِعِ الْمِصْرِ فَحُكْمُهُ حُكمُ أَهْلِ الْمِصْرِ فِي وُجُوبِ الْجُمُعَةِ عَلَيْهِ بِأَنْ يَأْتِيَ الْمِصْرَ فَلْيُصَلَّيْهَا فِيهِ ( ج ۱ ص ۴۱۱ )
اور جو شخص توابع مصر میں سے کسی جگہ ہو اس کے لیے خود اہل مصر کی طرح جمعہ واجب ہے۔ اسے مصر میں حاضر ہو کر نماز ادا کرنی چاہیے۔
اب میں اپنے مدعا کی تسہیل کےلیے مناسب سمجھتا ہوں کہ پچھلے مباحث کا ایک خلاصہ آپ کے سامنے پیش کر دوں تا کہ بیک نظر آپ کو معلوم ہو جائے کہ اقامت جمعہ فی القری کے لیے جو نظام میں تجویز کر رہا ہوں وہ کہاں تک مسلک حنفی کے خلاف یا موافق ہے۔
٣- حنفیہ صرف دو قسم کے مقامات کو مصر جامع تسلیم کرتے ہیں۔ ایک وہ جن کو تمدن نے خود بخود جامع بنا دیا ہو جیسےشہر اور تھے۔دوسرے وہ جن کو امام وقت جمعہ قائم کرنے کے لیے مصر ٹھہرا دے۔۔۔ اس میں صرف اتنی ترمیم میں نے تجویز کی ہے کہ جہاں امام موجود نہ ہو وہاں عامتہ المسلمین کے اتفاق کو امام کا قائم مقام قرار دیا جائے اور ان کے اس اختیار کو تسلیم کیا جائے کہ وہ کسی علاقے میں کسی مقام کو مصر جامع قرار دے لیں۔ چونکہ اقامت جمعہ کے معاملے میں حنفیہ نےمسلمانوں کی تراضی کو امام کا قائم مقام تسلیم کیا ہے لہذا کوئی وجہ نہیں کہ تعمین مصر کے معاملہ میں ایسا کرنا حنفیہ کے اصول کے خلاف سمجھا جائے ۔
٤- خنفیہ نے دیہاتیوں کے حق میں جمعہ کی عدم فرضیت کا حکم صرف اس لیے لگایا ہےکہ امرا و سلاطین نے اقامت جمعہ کے لیے کوئی نظام قائم کرنے سے بے پروائی برقی، جس کی وجہ سے جمعہ محض پہلی قسم کے امصار جامعہ یعنی شہروں اور بڑےبڑے قصبوں تک محدود ہو کر رہ گیا اور چونکہ شہر دُور دُور ہوتے ہیں اس لیے مجبوراً حنفیہ کو یہ فتویٰ دینا پڑا کہ دیہات کے باشندوں پر جمعہ فرض نہیں۔ ورنہ یہ ظاہر ہے کہ دیہاتی کا محض دیہاتی ہونا اس پر سے جمعہ کے ساقط ہونے کا سبب نہیں ہے۔ چنانچہ جو دیہات توابع مصر میں ہوں، یعنی ”مصر“ سے ۸۷ یا ۹ میل کی حد میں ہوں ان پر حنفیہ کے نزدیک جمعہ اسی طرح فرض ہے جس طرح اہل مصر پر فرض ہے۔۔۔ میں کہتا ہوں کہ جو فتویٰ اس مجبوری کی بنا پر دیا گیا ہے اس کےسب کو دُور کرنا ہم پر لازم ہے تا کہ سبب زائل ہونے کے ساتھ فتویٰ خود بخود زائل ہو جائے ۔ اور مسلمانوں کے لیے ایک فرض مکتوب کے ادا کرنے کا راستہ کھلے۔ بخلاف اس کے بعض علما فرماتے ہیں کہ سب کو قائم رکھو تا کہ وہ پرانا فتوئی جو قدامت کی وجہ سے مقدس ہو چکا ہے اہل رہے چاہے فرض مکتوب کی رحمتوں ہے کروڑوں مسلمان محروم رہ جائیں۔
بحث کے اس خلاصہ کو دیکھ کر بآسانی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اقامت جمعہ کا جو نظام میں تجویز کر رہا ہوں، اس کے لیے مذہب حنفی میں پوری گنجائش موجود ہے اور اسے ناجائز ٹھیرانے کے لیے حقیقتا کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ اب میں مختصر یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس قسم کا ایک نظام تجویز کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی ہے اور شرعی نقطۂ نظر سے اس ضرورت کی اہمیت کیا ہے۔
ہندوستان میں جب تک مسلمانوں کی حکومت تھی،خواہ وہ شرعی حیثیت سےکتنی ہی ناقص ہو بہر حال اس کی وجہ سے اسلام کا اجتماعی نظام کسی نہ کسی حد تک ضرور قائم تھا۔ کم از کم اتنا تو تھا کہ اسلامی قوانین مسلمان حاکموں کے ذریعہ سے نافذ ہوتے تھے اور ہماری قوم کے عوام و خواص، شہری اور دیہاتی اپنی زندگی کے معاملات میں ان کی طرف رُجوع کرتے تھے ۔ افرادِ اُمت کو ایک دینی سررشتہ سے وابستہ رکھنے کا یہ ایک قوی ذریعہ تھا۔ مگر جب وہ نیم اسلامی حکومت بھی ختم ہو گئی تو امت کو باہم مربوط رکھنے کےلیےکوئی نظام باقی نہ رہا۔ اب لے دے کے ہماری جمعیت، بلکہ حیات ملی کا تمام تر انحصار اُن روابط پر رہ گیا ہے جو عقائد عبادات اور تمدن و معاشرت کے شرعی قوانین سے پیدا ہوتے ہیں۔ انھی کی طاقت سے ہماری طاقت ہے ان کی کمزوری سے ہماری کمزوری ہے اور اُن کی موت سےہماری موت ہے۔ ابھی تک بے شمار مخالف اسباب کی کارفرمائی کے باوجود شہروں میں یہ روابط نسبتا کافی طاقتور ہیں، مگر دیہات میں مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی منتشر آبادیاں جو لاکھوں میل کے رقبہ پر پھیلی ہوئی ہیں، ان کو دینی رابطہ میں جوڑنے والا سر رشتہ اب اس درجہ کمزور ہو چکا ہے کہ ایک اشارہ میں ٹوٹ سکتا ہے۔ وہ منتشر بھیڑوں کی طرح ہر گمراہ کن بھیڑیے کے لیے آسان شکار بن گئے ہیں، اور جہاں وہ قلیل التعداد ہیں، وہاں تو ان کی جان و مال اور عزت و آبرو تک محفوظ نہیں۔ اس صورت حال کی اصلاح اگر جلدی نہ کی گئی تو آپ دیکھیں گے کہ دیہات کی مسلمان آبادیاں فوج در فوج اُمت سے کٹتی چلی جائیں گی اور ان کا کٹ جانا گویا اُمت کا ختم ہو جاتا ہے کیونکہ ہماری آٹھ کروڑ آبادی میں سے کم از کم ساڑھے چھ کروڑ افراد دیہات میں آباد ہیں۔
اب اگر محض غیر قوموں کی تقلید کرنی ہو تو دیہات سدھار کے بہت سے پروگرام بن سکتے ہیں اور بن رہے ہیں۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ایسے پروگرام سے اسلامی جمعیت اور دینی شیراز و بندی ممکن نہیں۔ اسلامی جمعیت تو صرف رابطہ دینی کو مضبوط کرنے سے پیدا ہو سکتی ہے اور اس کو مضبوط کرنے کے جتنے طریقے نہیں اُن میں سے کوئی بھی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کہ دیہات میں اقامت جمعہ کا نظام قائم نہ کر دیا جائے۔ دینی اصلاح و تنظیم کی راہ میں پہلا قدم منتشر افراد اور پراکنده ٹکڑیوں میں دین کے واسطے سےربط و مرکزیت پیدا کرتا ہے اور اس ربط و مرکزیت کو پیدا کرنے کی بہترین صورت جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے پسند فرمائی ہے وہ اقامت جمعہ ہے۔
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |