تفہیم القرآن میں آیت وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ ويَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فإن التهو افلا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّلِمِينَ )_١ (بقره: ۱۹۳) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ باز آجانے سے مراد کافروں کا اپنے کفر و شرک سے باز آجاتا نہیں بلکہ فتنہ سےباز آجاتا ہے۔کافر مشرک دہریے ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنا جو عقیدہ رکھتا ہے رکھے اور جس کی چاہے عبادت کرنے یا کسی کی نہ کرے۔ اس گمراہی سے اس کو نکالنے کے لیے ہم اسےفہمائش اور نصیحت تو کریں گے مگر اس سے لڑیں گے نہیں۔ لیکن اسے یہ حق ہرگز نہیں ہے کہ خدا کی زمین پر خدا کے قانون کے بجائے اپنے باطل قوانین جاری کرےاور خدا کےبندوں کو غیر از خدا کسی کا بندہ بنائے۔ یہ فتنہ بزور شمشیر مٹایا جائے گا اور مومن کی تلوار اس وقت تک نیام میں نہ جائے گی جب تک کفار اپنی روش سے باز نہ آجائیں“۔ اس تفسیر کے خط کشیدہ فقرے پر ناظرین ترجمان القرآن میں سے ایک صاحب علم بزرگ نے حسب ذیل اعتراض کیا ہے:
١- آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے : ” اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کےلیے ہو جائے ۔ پھر اگر وہ باز نہ آجائیں تو دست درازی جائز نہیں ہے مگر ظالموں پر۔"
(الف) اس کے معنے یہ ہیں کہ اسلام جو امن اور سلامتی کا حامی اور مویہ ہے دوسروں کے مذہب میں مداخلت اور اس بنا پر لڑائی روا رکھتا ہے حالانکہ یہ امر لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (بقره: ۲۵۲) کے مخالف ہے۔
(ب) مخالفین کو اپنےاپنےمذہب اور عقائد پر قائم رہنے کی آزادی لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِيَ دِينِ (کافرون: ۶) سےبھی ظاہر ہے جو کوئی اپنےعقائد میں آزاد ہو گا اسےان کی اشاعت اور تبلیغ میں بھی آزادی ہونی چاہیےکیونکہ وہ انھی عقائد کو برحق سمجھتا ہے۔ قرآنی مفہوم سےای آزادی کا پتہ چلتا ہے اور باہمی مناظرات کا ثبوت بھی ملتا ہےمثلا لا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ( عنكبوت: ۴۶-۴۵) غیر مذاہب کےعبادت خانے اور طریق عبادت اسلامی مداخلت سے محفوظ رہے ہیں ۔ حتیٰ کہ مسجد نبوی میں اہل کتاب کو اپنے طریق پر عبادت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے عزیز مصر کی ملازمت اختیار کی جس کا عقیدہ اور عمل مشر کا نہ تھا۔ ہاں اپنے طور پر امن کے ساتھ تبلیغ کرتے رہےجيسا كہ يَا صَاحِبَي السِّجْنِ ءَ أَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (يوسف: ۳۹) سے ظاہر ہے اس طرح دوسروں کو بھی اپنے خیالات کی اشاعت کا حق پہنچتا ہے۔
(ج) زیر خط عبارت کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلمان کہیں بھی مخلوط آبادی میں امن سے زندگی نہیں گزار سکتے غیر مسلم تمدنی اور معاشرتی امور میں بھی کیوں نہ ان کے ساتھ تعاون باہمی اور رواداری سے کام لیں ۔ جبکہ ان کا سیاسی اور اساسی عقیدہ ہی سد راہ ہو؟ ایسے مسلمان اگر ترکی اور ایران میں بھی آباد ہوں تو بقول آپ کےوہاں بھی انھیں حکیم جہاد بلند کرنا ہوگا کیونکہ ان ممالک میں حدود اور قوانین اسلامی نافذ نہیں۔اس زمانہ میں عالمگیر سیاست اس نہج پر مدون ہے کہ کوئی جماعت غیر معروف طریقوں سےغیر مسلموں کےساتھ تعاون و تعامل باہمی سےکام نہیں لے سکتی کیونکہ آپ کا فرموده استدلال کسی اشتراک عمل کے لیے مانع ہوگا۔ اگر اسلامی جماعت اپنےعقائد کی اشاعت کا حق رکھتی ہےتو اسےغیر مسلموں کو بھی،خصوصاً جبکہ وہ حکمران ہوں، وہی حق دیتا ہوگا۔ ہر چہ بر خود نہ پسندی بر دیگراں ملپسند ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کےاہل کتاب کے ساتھ جو تعامل باہمی کے معاہدے کیے تھےکیا وہ معاہدے ایسی ہی شرائط پر مبنی تھے؟ مکی زندگی کے ابتدائی مراحل آپ کے استدلال کے موید نہیں۔ بالفاظ دیگر ایسی جماعت کا وجود ہی کسی غیر مسلم حکومت کے لیے کھلا چیلنج ہے کہ جونہی اسےقوت ملی وہ اس کے قوانین اور اس کے نظام حکومت کو مٹانے کےلیے تلوار ہاتھ میں لے لے گی ۔ کون اس کو برداشت کرے گا؟“
اس اعتراض کا مختصر جواب تو چند جملوں میں بھی دیا جا سکتا ہے، لیکن در حقیقت یہ اعتراض اپنی پشت پر غلط فہمیوں کا ایک بڑا انبار رکھتا ہے اور وہ غلط فہمیاں اُمت میں بڑی کثرت سے پھیلی ہوئی ہیں، حتی کہ ان کی وجہ سے مسلمان بالعموم اپنے دین کے بنیادی تقاضوں تک کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں، اس لیے یہاں ذرا اس پر تفصیل سے بحث کی جاتی ہے۔
یہ بحث تو بعد میں ہوتی رہے گی کہ اسلام امن اور سلامتی کا مؤید کس معنی میں ہےاور لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ اور لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِى دِینِ کا کیا مطلب ہے اور یہ کہ حضرت یوسف علیہ السلام نبوت کرنے آئے تھے یا تلاش روزگار میں نکلے تھے۔ ان باتوں سے پہلے اس سوال کا تصفیہ ہونا چاہیے کہ فی الواقع اسلام کا مشن اس دنیا میں ہے کیا ؟ کیا وہ جتہاروں کی سواری کے لیے انسانوں کو سدھانے آیا ہے تا کہ ہر جبار جب دنیا میں خدائی کرنے اٹھے تو اسلام کے پیروؤں کو اپنا اطاعت گزار خادم پائے؟ کیا اس نے دنیا بھر کی حکومتوں اور سلطنتوں کے لیے پر امن رعیت فراہم کرنے کا اجارہ لیا ہے کہ ہر حکومت کو خواہ اس کا نظام کسی نوعیت کا ہو اپنی مشینری چلانے کے لیے اسلام کے کارخانہ سے ہر قسم کے ڈھلےڈھلائے پُرزے حاصل ہو جایا کریں؟ کیا اس کا کام بس یہی ہے کہ چند عقائد اور چند اصول اخلاق کی تعلیم دے کر آدمیوں میں اتنی لچک اور اتنی نرمی پیدا کر دے کہ وہ ہر نظام حمدن میں، خواہ وہ کسی قسم کا تمدن ہو بآسانی کھپ سکیں ؟ اگر معاملہ حقیقت میں یہی ہے تو اسلام بودھ مذہب اور سینٹ پال کی بنائی ہوئی مسیحیت سے کچھ بہت زیادہ مختلف چیز نہیں ہے اور اس کے بعد یہ سمجھنا ہمارے لیے مشکل ہے کہ ایسے مذہب کی کتاب میں قَاتِلُوهُمُ جیسا خوف ناک لفظ سرے سے آیا ہی کیوں۔ اسے تو اپنے پیرووں کو جنگ اور جہاد کا حکم دینے کے بجائے اپنے مخالفین سے یہ کہنا چاہیے تھا کہ :
"ہم غریبوں کو آخر کیوں مارتےہو؟ ہم نہ نظام حکومت میں کوئی انقلاب کرنا چاہیں نہ نظام تمدن میں کسی ترمیم و تنسیخ کی دعوت دیں۔اقتدار کسی کا بھی ہو اُس کےماتحت پر امن باشندوں کی حیثیت سے رہنا ہمارا مسلک اور حکومت وقت کی وفاداری ہمارا دین و ایمان۔پھر ہم سےتمھیں پر خاش کی کیا وجہ؟ رہا ہمارا مذ ہبی عقیدہ اور ہمارا پوجا پاٹ کا نظام تو اس سےتمھارا کیا بگڑتا ہے؟تمھارا کون سا تمدنی ادارہ اور کون سا مفاد ایسا ہےجس پر ہمارے عقیدے یا ہماری پوجا کی ضرب پڑتی ہو؟“
یہ جواب اگر اچھےمعقول پیرایہ میں دیا جاتا اور عملاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کےپیر و وفادارانه خدمات بھی انجام دیتے رہتے تو مشرکین مکہ ہمارے انگریز آقاؤں کےمقابلہ (1) میں کچھ ایسے زیادہ نا معقول نہ تھے کہ مسجدوں میں اذان و نماز کی آزادی اور تبلیغی انجمنوں کے قیام کی اجازت نہ دیتے۔
١- واضح رہے کہ یہ مضمون ۱۹۴۲ء میں لکھا گیا تھا۔
لیکن اگر حقیقت یہ نہیں ہےبلکہ اسلام خود ایک نظام زندگی رکھتا ہےجس میں عقائہ اخلاق اور عبادات کےساتھ انفرادی طرز عمل اور اجتماعی زندگی کےتمام معاملات سےمتعلق احکام و قوانین بھی ہیں،اور اگر اسلام کی دعوت اپنے اس پورے نظام کی طرف ہے اور اگر اس کا دعوی یہ ہے کہ اس کا اپنا نظام ہی برحق ہے اور اسی میں انسان کی فلاح ہےاور اس کے سوا ہر دوسرا نظام باطل ہے تو ان باتوں کے ساتھ یہ قطعی ناگزیر ہے کہ اسلام زمین میں اپنےنظام کو غالب اور دوسرے نظامات کو مغلوب کرنےکا بھی تقاضا کرے۔ایک نظام زندگی کو حق اور صدق ہونےکی حیثیت سےپیش کرنا اور پھر عملاً اس کی اقامت کی دعوت نہ دینا سراسر ایک مہمل بات ہے۔اور اس سےبھی زیادہ مہمل بات یہ ہےکہ دوسرے نظامات کو باطل بھی کہا جائےاور پھر ان کےغلبےکو برداشت بھی کیا جائے۔مزید برآں یہ بات بداہتہ محال ہے کہ ایک نظام زندگی کی پیروی کسی دوسرے نظام زندگی کے ماتحت رہتے ہوئے کی جاسکے۔اس لیےوہ صرف ایک فاتر العقل ہی ہو سکتا ہے جو ایک ہی وقت میں اپنے پیش کردہ نظام کی پیروی کا مطالبہ بھی کرے اور ساتھ ہی دوسرےنظامات کے اندر پر امن و فادارانہ زندگی بسر کرنے کی تعلیم بھی دے۔
بس اسلام کا اپنے مخصوص نظام زندگی کی طرف دعوت دینا عین اپنی فطرت میں اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ دوسرے نظامات کو ہٹا کر ان کی جگہ اپنے نظام کی اقامت کا مطالبہ کرنے اور اس مقصد کے لیے اپنے پیرووں کو جدوجہد کی ان تمام صورتوں کے اختیار کرنے کا حکم دےجن سے یہ مقصد حاصل ہوا کرتا ہے اور مدعیان اتباع کےایمان و عدم ایمان کا نشان امتیاز اسی سوال کو قرار دےکہ آیا وہ اس جدوجہد میں جان و مال کی بازی لگاتے ہیں یا باطل نظامات کے ماتحت جینےپر راضی رہتے ہیں؟ قرآن اور حدیث دونوں کو اٹھا کر دیکھ لیجیے آپ کو صاف نظر آ جائے گا۔۔۔ بشرطیکہ دل میں کوئی چور نہ ہو۔۔۔ کہ اسلام کا اصل موقف یہی ہے نہ کہ وہ جو آپ بیان فرما رہے ہیں۔
پھر جب حقیقت یہ ہے اور ہم اسلام کی حقیقت کو جان کر اس پر ایمان لائے ہیں تو یقیناً ہمارے وجود کو ہر غیر اسلامی حکومت کے لیے کھلا چیلنج ہونا ہی چاہیے۔ کوئی اس کو برداشت کرے یا نہ کرے، غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل ہو سکےیا نہ ہو سکے، بہر حال اگر ہم اپنے ایمان میں صادق ہیں تو ہمارا کام یہی ہے کہ جہاں بھی خدا کا قانونِ شرعی نافذ نہیں ہےوہاں ہم اس کےنفاذ کےلیےجد و جہد کریں۔ ہمارا مسلمان ہونا اس شرط کےساتھ مشروط نہیں ہےکہ جو لوگ خدا سےپھرےہوئےہیں وہ ہماری اس جدوجہد کو برداشت بھی کریں۔اور غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل بھی ہمارے لیے کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس نظام زندگی پر ہم ایمان لائے ہیں اس کے قیام کی جدو جہد صرف اس لیےچھوڑ دیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل اس صورت میں نہ ہو سکے گا۔ اسلام بےشک امن اور سلامتی کا حامی اور مؤید ہے مگر اس کی نگاہ میں حقیقی امن اور سلامتی وہی ہےجو حدود اللہ کی اقامت سےحاصل ہوتی ہے۔جس کسی نےامن اور سلامتی کا مطلب یہ سمجھا ہےکہ شیطانی نظامات کےزیر سایہ اطمینان کے ساتھ سارے کاروبار چلتےہیں اور مسلمان کی نکسیر تک نہ پھوٹے اس نے اسلام کا نقطۂ نظر بالکل نہیں سمجھا۔اسےاچھی طرح معلوم ہو جانا چاہیےکہ اسلام ایسےامن اور ایسی سلامتی کا ہرگز حامی اور موید نہیں ہے۔ اُسےدوسروں کا قائم کردہ امن نہیں بلکہ اپنا قائم کردہ امن مطلوب ہے اور اس میں وہ انسان کی سلامتی دیکھتا ہے۔
رہا لا إِكْرَاهَ فِى الدِّينِ، تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام اپنے عقائد زبر دستی کسی سے نہیں منواتا کیونکہ یہ بزور منوانے کی چیز نہیں ہے۔ اسی طرح وہ اپنی عبادات بھی، جن کا لازمی تعلق اس کےعقائد سےہےزبر دستی کسی پر مسلط نہیں کرتا، کیونکہ ایمان صحیح کے بغیر یہ عبادات محض بے معنی ہیں۔ ان دونوں امور میں وہ ہر ایک کو آزادی دینے کے لیے تیار ہے۔ لیکن وہ اس بات کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ قوانین تمدن جن پر اسٹیٹ کا نظام قائم ہوتا ہے خدا کے سوا کسی اور کے بنائے ہوئے ہوں اور خدا کی زمین پر اس کے بانی اس کو نافذ کریں اور مسلمان اُن کے تابع ہو کر رہیں۔ اس معالمہ میں بہر حال ایک فریق کو دوسرے فریق کے "مذہب" میں مداخلت کرنی ہی پڑےگی۔اگر مسلمان مذہب کفر میں مداخلت نہ کریں گے تو کافر”مذہب اسلام" میں مداخلت کر کےرہیں گے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی زندگی کے بہت بڑے حصے پر مذہب کفر جاری ہوگا۔ لہذا بجائے اس کے کہ یہ مداخلت کفار کی طرف سے ہو اسلام یہ تقاضا کرتا ہے کہ مسلمان آگے بڑھ کر نظام زندگی پر قبضہ کریں اور پھر جہاں تک مذہبی عقائد اور عبادات کا تعلق ہے غیر مسلموں کے ساتھ لا الخراهُ فِی الدِّینِ کے اصول پر عمل کریں۔
ان کی پہلی دلیل یہ ہے کہ جب تم " فتنے سے مراد کفر کا غلبہ اور کفار کی بالا دستی لیتےہو اور جہاد و قتال کی غایت یہ قرار دیتے ہو کہ تمھاری اس تفسیر کے مطابق جس چیز کا نام "فتنہ"وہ مٹ جائے اور اس کی جگہ "اللہ کا دین" قائم ہو تو اس سے یہ مانا لازم آتا ہےکہ اسلام دو بالکل متضاد حیثیتیں اختیار کر رہا ہے۔ ایک طرف کہتا ہے: لا إِكْرَاهَ فِى الدین دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیں ہےدوسری طرف غیر مسلموں کا یہ حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ وہ اپنے نظریہ و مسلک کے مطابق حکومت کا نظام چلائیں اور ان کےقوانین کا اجرا موقوف کر کےزبر دستی اُن پر اللہ کےدین کو مسلط کرنا چاہتا ہےایک طرف لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِيَ دِينِ کہہ کر غیر مذاہب کے پیرووں کو اپنےمذہب و عقائد پر قائم رہنےکی آزادی دیتا ہے۔دوسری طرف اُن سےٹھیک اسی بات پر لڑائی چھیڑتا ہے کہ وہ اپنے عقیدے اور اپنےاصولوں کے مطابق معاملات دنیا کا انتظام کیوں کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسلام ہر گز اس تضاد کا حامل نہیں ہو سکتا۔لہذا تمھاری تغییر صحیح نہیں ہے-
دوسری دلیل یہ ہےکہ اگر غیر اسلامی حکومت کا نفس وجود اسلام کی نگاہ میں فتنہ ہوتا اور اس کو مٹانےپر مسلمان مامور ہوتےتو کس طرح ممکن تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام مصر کی غیر اسلامی حکومت میں وزارت کا عہدہ طلب کرتے اور اپنی وزارت کے دور میں مصر کے شاہی قوانین کے پابند رہ کر کام کرتے جیسا کہ آیت مَا كَانَ لِيَاخَذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ (یوسف: ۷۶) سے ظاہر ہے۔
تیسری دلیل یہ ہے کہ اگر تمھاری اس تغیر کو صحیح مان لیا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑےگا کہ اسلام دنیا میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ چھیڑتا ہے اور اپنے پیرووں پر جارحانہ جنگ کا ایک ایسا فرض عائد کرتا ہے جس کی وجہ سے مسلمان دنیا میں کہیں امن کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس تغیر کی رُو سے تو ہم پر لازم ہو جاتا ہےکہ نہ صرف تمام غیر مسلم حکومتوں کے خلاف بلکہ ان مسلمان حکومتوں کے خلاف بھی علم جہاد بلند کریں جن میں اسلامی حدود قوانین نافذ نہیں ہیں۔ اور جب یہ ہمارا نظریہ اور یہ ہمارا دینی فریضہ ہو تو کس طرح ممکن ہے کہ غیر مسلم ہم کو اپنا پر امن ہمسایہ سمجھ کر باطمینان ہمارے ساتھ معاملت کر سکیں اور غیر مسلم حکومتیں اپنے حدودہ عمل میں ہمارے وجود کو برداشت کر سکیں۔
(١) ان دلائل میں سے پہلی دلیل در اصل ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ کسی شخص کا بجائے خود ایک عقیدے کو ماننا اور اپنی زندگی میں ایک خاص طریقہ کی پیروی کرنا اور چیز ہے اور اس کا اپنے نظریات کے مطابق اجتماعی زندگی کے لیے ایک نظام بنانا اور اس نظام کو بزور ایک ملک کے باشندوں پر جاری کر دینا بالکل ایک دوسری چیز ۔معترضین ان دونوں چیزوں کو ایک سمجھتےہیں اور ان کے فرق کو نظر انداز کر کےلا اکراہ فی الدین اور لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِی دِيْنِ وغیرہ آیات کو ان کےمجموعہ پر چسپاں کر دیتے ہیں۔حالانکہ ان آیات کا تعلق صرف امراوّل سے ہے۔ بلا شبہ ہم کسی غیر مسلم کو مجبور نہ کریں گے کہ وہ اپنا عقیدہ چھوڑ کر اسلامی عقیدہ قبول کرےیا اپنی مذہبی عبادات کو ترک کر کےنماز روزہ کی پابندی اختیار کرلےلیکن ہم اس کا یہ حق کسی طرح تسلیم نہیں کر سکتے کہ وہ اخلاق، تعلیم تمدن معاشرت، معیشت، قانون اور سیاست و غیره اجتماعی امور کے متعلق اپنے نظریات کو حاکمانہ قوت کے ساتھ بجبر ہم پر مسلط کر دے۔ دوسروں کو ان کے مسلک پر چلنے دینا بیشک رواداری ہے مگر یہ کوئی رواداری نہیں ہے کہ اپنے مسلک کے خلاف ہم اپنے اوپر دوسروں کے مسلک کا تسلط برداشت کر لیں۔ملک کی حکومت جس فلسفہ زندگی پر مبنی ہوگی لامحالہ تمام قوانین اور پوری انتظامی پالیسی اور سارا کاروبار معیشت اسی فلسفے کے نظریات پر چلےگا اور ایسی حکومت کے تحت رہتے ہوئے یہ کسی طرح ممکن ہی نہ ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کا نظام اپنے مذہب و مسلک کے اصولوں پر چلا سکیں ۔ ہم خواہ راضی ہوں یا نہ ہوں، بہر حال مذہب مخالف کے پیرو اپنے سیاسی غلبے کی بدولت اپنے نظریات کو زبردستی ہماری پوری زندگی میں نافذ کر کے چھوڑیں گے۔ اس معاملہ میں رواداری برتنے کے معنی یہ ہیں کہ اگر وہ زنا کو حلال سمجھتے ہوں اور لوگوں کو اس کی عام اجازت دیتے ہوں تو ان کی حکومت میں بے بس رعیت کی حیثیت سے رہتے ہوئے خود ہماری سوسائٹی میں زنا پھیلتی چلی جائے اور ہم اسے گوارا کریں۔ اگر وہ سود کو جائز سمجھتے ہوں اور خود ان کی حکومت سودی لین دین کرتی ہو تو ملک کا انتظام ان کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے ہمارا کوئی بڑے سے بڑا زاہد و متقی تک سود کے غبار سے نہ بچ سکے اور ہم ایک دیا سلائی اور روٹی کا ایک کھلا بھی نہ خرید سکیں جب تک کہ اس کی قیمت میں سے سود کا ایک حصہ بالواسطہ ٹیکہ دن کی شکل میں ہماری جیب سے نہ نکل جائے۔ اگر وہ دہریت والحاد کے نظریات پر اعتقاد رکھتے ہوں تو ملک کی عمومی تعلیم کا پورا نظام انھی نظریات اور اس ذهنیت اور اسی محمد انہ اخلاق پر تعمیر ہو جائے اور باشندگان ملک کے لیے ترقی و خوشحالی کے تمام دروازے اس ایک جہنم کے دروازے کےسوا بند ہو جائیں اور ہمارا کوئی بڑے سے بڑا خدا پرست بھی اپنی نسل کو اس الحاد اور ملحدانہ اخلاق کے اثرات سے نہ بچا سکے۔ اگر وہ خدا کے قوانین کو منسوخ کر کے خود قوانین بنا ئیں اور ملک کا نظام تمدن اپنے خود ساختہ قوانین پر قائم کریں تو ہماری معاشی و معاشرتی اور حمدنی زندگی کا ایک بڑا حصہ مجبورا اس قانون کی پابندی سے آلہ او ہو جائے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں اور اس قانون پر چلنے لگے جس پر ہمارا ایمان نہیں ہے۔ کوئی ہمیں بتائےکہ آخر یہ رواداری کی کون کی قسم ہے؟ یا اخراء في اللبن کا یہ مطلب آخر کس مقل کی رو سے صحیح ہو سکتا ہے کہ دوسروں کی طرف سے دین میں جوا کراہ ہو اُسے ہم برداشت کر لیں؟
١- واضح رہےکہ حکومت در اصل جبر و اکراه (Coersive) ہی کا دوسرا نام ہے۔جو نظریات،اصول اور قوانین کسی حکومت کی اساس قرار پائیں گے وہ ظاہر ہے کہ اُن سب لوگوں پر بزور ہی نافذ کیے جائیں گےجو اس حکومت کے دائرے میں رہتے ہیں۔
یہ ظاہر ہےکہ اجتماعی زندگی کے نظم کو قائم کرنےکےلیےبہر حال ایک قوتو قاہرہ (Coercive Power) کی ضرورت ہے جسے اسٹیٹ یا ریاست کہتے ہیں۔۔۔ اس ضرورت کا انکار انار کی پر اعتقاد رکھنے والوں کے سوا آج تک کسی نے نہیں کیا ہے۔ یا پھر اشترا کی تصوف میں ایک ایسے مقام کا تصور کیا گیا ہے جہاں پہنچ کر انسان کی حیات اجتماعی اسٹیٹ کی ضرورت سے بے نیاز ہو جائے گی۔ لیکن یہ صرف عالم خیال کی باتیں ہیں جن کی تائید میں کوئی تجربہ یا مشاہدہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ عملی زندگی کا تجربہ اور انسانی فطرت کا علم ہی بتاتا ہے کہ تمدن کا قیام ایک قوت قاہرہ کا یقینا محتاج ہے۔۔۔پھر یہ بھی ظاہر ہےکہ یہ قوت جو اپنےقہر و غلبه سےنظام تمدن کو قائم رکھتی ہے بجائے خود کسی نہ کسی نظریےاور کسی نہ کسی اجتماعی مسلک کی قائل ہوتی ہے۔ اسی نظریہ و مسلک کے مطابق وہ اپنے لیےایک لائحہ عمل بناتی ہے۔ اسی لائحہ عمل کو وہ قاہرانہ طاقت کے ساتھ اجتماعی زندگی میں نافذ کرتی ہے۔اور حمدنی شکل کےبننے اور بگڑنےمیں اس قبر کی نوعیت اور اس لائحہ عمل کی اصولی و تفصیلی صورت کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ صرف اجتماعی زندگی ہی نہیں، انفرادی زندگی بھی بڑی حد تک طوعاً و کرہا اس سانچے میں ڈھل کر ہی رہتی ہے جسے اسٹیٹ اپنے قہر و تسلط سے بنا دیتی ہے۔ جو لوگ کسی اسٹیٹ کے دائرے میں رہتے ہوں وہ چاہے اُس کےبنیادی نظریے اور اس کے تفصیلی لائحہ عمل پر ایمان نہ رکھتے ہوں اور کسی طرح اس پر راضی نہ ہوں، لیکن انھیں چارونا چار اپنے عقیدہ و مسلک کے ۹۰ فی صد حصہ سے دست بردار ہو کر اسٹیٹ کے عقیدہ و مسلک پر چلنا پڑتا ہے اور باقی مافی صدی میں بھی ان کے عقیدہ و مسلک کی گفت روز بروز ڈھیلی ہی ہوتی جاتی ہے۔
اسٹیٹ کی اس نوعیت کو ملحوظ رکھنے اور یہ سمجھ لینے کے بعد کہ اجتماعی زندگی کے لیےاسٹیٹ بہر حال ہے ناگزیر ایک صاحب فکر و نظر آدمی کے لیے اس حقیقت کا ادراک کچھ مشکل نہیں رہتا کہ جو گروہ آج کل کے محدود معنوں میں محض ایک مذہب کا معتقد نہ ہو بلکہ ایک ہمہ گیر نظام زندگی یعنی ”دین“ پر اعتقاد رکھتا ہو وہ اگر اپنے اعتقاد میں سچا ہے اور اپنے اعتقاد کے خلاف زندگی گزارنا نہیں چاہتا تو اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ آگے بڑھ کر خود اس قوت قاہرہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے جو عظیم اجتماعی کی صورت گری کرتی ہے اور اپنے زور سے اس کو قائم رکھتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو دوسرے اس قوت پر قبضہ کرین گے اور پھر یہ گروہ مجبور ہوگا کہ اجتماعی و انفرادی زندگی کے کم از کم ٩٠ فیصد اُمور میں اپنے دین کے بجائے اُن کے دین پر چلے ۔ متمدن زندگی میں یہ اکراه لا محالہ ہم میں سے کسی ایک کو کرنا ہی پڑے گا۔ اگر ہم نہ کریں گے تو کفار کریں گے لہذا بجائے اس کے کہ کفار اس دائرے میں ہم پر اکراہ کریں اور ہمیں جہنم کی طرف گھسیٹ کر لے جائیں یہ زیادہ بہتر ہے کہ ہم ان پر اکراہ کریں اور انھیں اس مقام کےقریب لا کھڑا کریں جہاں اگر وہ چاہیں تو ان کو بآسانی جنت کا راستہ مل سکتا ہے۔
یہ اس معاملہ کا ایک پہلو ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ زمین کا مالک اللہ ہے۔اس کی زمین پر رہنے اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے اور اس کی ملکیت میں تصرف کرنےکا حق صرف اس کو پہنچتا ہےجو اس کا مطیع فرمان ہو اور اس کے قانون فطری وشرعی کا اتباع کرے۔ جو ایسا نہیں کرتا وہ ظالم ہے غاصب ہے باغی ہے۔ اس کی یہ نافرمانی صرف خلاف حق ہی نہیں بلکہ زمین کے انتظام میں فساد اور اہل زمین کے لیے فتنے کی موجب بھی ہےلہذا حق تو یہ ہے کہ جو لوگ خدا سےپھرےہوئےہیں اور اُس کےقانونِ فطری و شرعی کی پیروی سےمنحرف ہیں اُن کو زمین میں جینے کا حق بھی نہ ہونا چاہیے۔ لیکن یہ اللہ کی بہت بڑی عنایت اور اس کا انتہائی حلم ہے کہ وہ ان کو نہ صرف جینے کی مہلت دیتا ہے بلکہ ان کو ان کے کفر شرک دہریت اور الحاد پر اس حد تک قائم رہنےکا اختیار بھی دیتا ہے جہاں تک ان کی بغاوت دوسرے بندگانِ خدا کےلیے فتنہ وفساد کی موجب نہ ہو سکے۔ البتہ وہ اس بات کو ہرگز جائز نہیں رکھتا کہ یہ لوگ اس کےقانون شرعی کو منسوخ کر کےاپنےخود ساختہ قوانین پر اس کی زمین کا نظم و نسق چلا ئیں اور اس کی زمین کو فساد سے بھر دیں۔اس لیے وہ اپنے قانون شرعی پر ایمان لانے والوں کو حکم دیتا ہے کہ کفار کو دین حق پر ایمان لانے کے لیے تو مجبور نہ کرو لیکن غلبہ کفر و کفار کے فتنے کو پوری طاقت سے مٹانے کی کوشش کرو یہاں تک کہ زمین کا انتظام عملاً میرے دین پر قائم ہو جائے اور جو میرےدین کو نہیں مانتے وہ " کابر" نہیں بلکہ "صاغر" بن کر رہیں ۔ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدِوَّهُمْ صَاغِرُونَ (توبه : ۲۹)
(۲) ان حقائق کو ذہن نشین کر لینے کے بعد دوسری دلیل کا زور آپ سے آپ ختم ہو جاتا ہے۔ اگر حضرت یوسف علیہ السلام فی الواقع خدا کے فرستادہ پیغمبر تھے تو یقیناً ان کی زندگی کا مشن اُس ایک مشن کے سوا کچھ اور نہ ہو سکتا تھا جو ہر رسول برحق کا مشن رہا ہے یعنی خدا کے دین کو ہر دوسرے دین پر غالب کر دینا یہ ایک اصولی حقیقت ہے جسے تمام پیغمبروں کی سیرتوں کے مختلف واقعات کی تعبیر و تفسیر میں ہم کو ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر محوظ رکھنا ہوگا ۔ ورنہ اگر ہم یہ مان لیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنی حکومت میں ملک پر خدا کے دین کی جگہ بادشاہ کا دین نافذ کرتے تھے تب تو پھر یوسف صدیق اور سر سکندر و فضل الحق (١) میں کوئی اصولی فرق باقی نہیں رہتا۔ افسوس ہے کہ اس معاملے میں لوگ حقیقت سے بہت دور چلے گئے ۔ انھوں نے دراصل قصہ یوسف علیہ السلام کو نہیں سمجھا ہے۔ وہ گمان کرتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام نے اپنے وقت کے بادشاہ سے جو کہا تھا کہ اجعلنی عَلى خَزَائِنِ الْأَرْضِ (یوسف: ۵۵) تو یہ ان کی طرف سے محض ملازمت کی ایک درخواست تھی جو دربار شاہی میں قبول ہو گئی اور ان کو وہ منصب مل گیا جو اکبر کے ہاں ٹوڈرمل کا منصب تھا۔ حالانکہ وہاں صورت حال کچھ اور ہی تھی۔
سیدنا یوسف علیہ السلام نے ابتداء دین حق کی اقامت کے لیے وہی راستہ اختیار فرمایا تھا جو انبیاء علیہم السلام اختیار فرماتے رہے ہیں، یعنی پہلے دعوت عام پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کریں اُن کی تربیت و تنظیم، پھر انھیں ساتھ لے کر اقامت دین کے لیےمجاہدہ ۔ چنانچہ انھوں نے اپنی اس دعوت کا سلسلہ جیل ہی میں شروع کر دیا تھا جس کےمواعظ میں سے ایک بے نظیر وعظ سورۃ یوسف کے پانچویں رکوع میں نقل کیا گیا ہے۔ لیکن آگے چل کر ان کے سامنے یکایک ایک ایسا موقع آ گیا جس سے وہ اپنے مقصود تک مختصر راستے سے پہنچ سکتے تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ عزیز مصر کی بیوی اور اس کی سہیلیوں کےمعاملے میں جس پاکیزہ اور مضبوط سیرت کا اظہار اُن سے ہوا تھا اور پھر تعبیر خواب کےمعاملے میں جس بصیرت کا ثبوت انھوں نے دیا تھا اس کی وجہ سے بادشاہ مصر ان کا اس حد تک معتقد ہو چکا تھا کہ اگر وہ اس وقت حکمرانی کے کامل اختیارات اس سے طلب کریں تو وہ بلا تامل پیش کر دے گا۔ اس لیے انھوں نے تحریک عمومی کی راہ سے اپنا مشن پورا کرنےکے بجائے اقتدار حکومت پر فوراً قبضہ کر کے دین حق قائم کر دینے کو زیادہ قریب کا راستہ پایا اور بادشاہ سے مطالبہ کر دیا کہ اِجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ (یوسف: ۵۵) زمین مصر کے تمام وسائل و ذرائع میرے اختیار میں دئے“۔ یہ محض وزیر مالیات کے منصب کا مطالبہ نہیں تھا، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں، بلکہ یہ ڈکٹیٹر شپ کا مطالبہ تھا اور اس کے نتیجےمیں سیدنا یوسف علیہ السلام کو جو پوزیشن حاصل ہوئی وہ قریب قریب وہی پوزیشن تھی جو اس وقت اٹلی میں مسولینی کو حاصل (١) ہے اس فرق کے ساتھ کہ اٹلی کا بادشاہ مسولینی کا معتقد نہیں بلکہ محض اس کی پارٹی کے اثر سے مجبور ہے اور مصر میں بادشاہ خود حضرت یوسف کا مرید ہو چکا تھا۔ (٢)
١- مضمون لکھتے وقت یہ حضرات پنجاب اور بنگال کے وزیر اعظم تھے۔ اب ان کی جگہ کسی غیر اسلامی حکومت کے مسلمان وزیر کو فرض کیا جا سکتا ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے اقتدار کی شہادت اللہ تعالی خود دیتا ہے کہ کذالک مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ (یوسف: ۵۶ ) '' اس طرح ہم نےیوسف کو اس سرزمین میں اقتدار بخشا۔ وہ اس کے جس حصے کو چاہتا اپنی جگہ بنا سکتا تھا“۔یعنی پورا ملک اس کے قابو میں تھا۔
پھر اس کی مزید شہادت ہمیں سورہ مائدہ میں ملتی ہے جہاں حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں: يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيُكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوكًا وانكُمْ مَالَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعَلَمِينَ "اے میری قوم کے لوگو! یاد کرو اللہ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر کیا کہ تم میں انبیاء پیدا کیے تھے تم کو حکمران قوم بنایا تھا اور تمہیں وہ کچھ دیا تھا جو دنیا میں کسی کو نہیں دیا گیا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر میں جو اقتدار حاصل ہوا تھا اس کی وجہ سے وہاں آخر کار مکمل انقلاب رونما ہوا فراعنہ کے بجائے بنی اسرائیل حکمران ہوئے اور ان کو وہ عروج نصیب ہوا جو ان کی ہمسر قوموں میں کسی کو حاصل نہ تھا۔
١- مضمون لکھتے وقت مسولینی زندہ تھا اور اٹلی کا مختار مطلق بنا ہوا تھا۔
٢- بلکہ مشہور مفسر امام مجاہد تو کہتے ہیں کہ وہ آپ کے ہاتھ پر اسلام بھی قبول کر چکا تھا۔ (ابن جریر )
پھر جو مذہبی اثر حضرت یوسف نے مصر میں چھوڑا اس کی شہادت ہم کو سورہ مومن میں ملتی ہے۔ وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم عصر فرعون کو خطاب کر کے قبطی قوم کا ایک صاحب ایمان شخص کہتا ہے : وَلَقَدْ جَاءَ كُمُ يُوْسُفَ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَةٍ مِمَّا جَاءَ كُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُم لَنْ يُبَعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولًا (مومن : ۳۴) "تمھارے پاس یوسف روشن نشانیاں لے کر آئے تھے مگر پہلے تو تم اس چیز کی طرف سےشک میں رہے جسےوہ لائے تھےاور جب وہ انتقال فرما گئے تو تم نے کہا کہ اب اللہ کوئی رسول نہ بھیجے گا" ۔ یعنی تم نے کہا کہ اس پائے کا مشخص اب نہیں آ سکتا۔
حضرت یوسف کے معاملے میں یہ حقیقت جاننے کے بعد کون اس سے یہ استدلال کرنے کی جرات کر سکتا ہے کہ غیر اسلامی نظام حکومت کا پرزہ بننا بر حق ہے کیونکہ ایک نبی برحق ایسا کر چکا ہے۔ رہی آیت مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ (يوسف: ۷۶ ) جس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام فرعونی قوانین کی پابندی کرتےتھے تو اگر چہ اس آیت کے مفہوم و معنی میں بہت کچھ کلام کی گنجائش ہے، لیکن اس کا جو مفهوم بیان کیا جاتا ہے۔ اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے تب بھی زیادہ سے زیادہ جو کچھ اس سے ثابت ہوتا ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے دورِ حکومت میں جس موقع پر یہ معاملہ پیش آیا (اور قرائن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابتدائی دور ہی کا واقعہ تھا کیونکہ آنجناب کے عزیز مصر ہونے کے چند ہی سال بعد وہ مشہور ہفت سالہ قحط شروع ہوا جس میں آپ کے بھائیوں کو غلہ حاصل کرنے کے لیے مصر آنا پڑا تھا) اس وقت تک مصر میں فوجداری قانون وہی رائج تھا جو پہلےسےچلا آ رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایک ملک کے نظام تمدن کو آنِ واحد میں نہیں بدلا جا سکتا۔یہ کام بہر حال تدریج ہی کےساتھ کیا جا سکتا ہے۔خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی عرب کے نظام تمدن کو بدلتے بدلتے دس سال لگ گئے تھے۔ وراثت کا قانون ۳ ھ یا ۴ ھ میں بدلا گیا۔نکاح و طلاق کےقوانین ہجرت کے بعد پانچ چھ سال میں مکمل طور پر نافذ کیے گئے۔ فوجداری قوانین کی تکمیل میں پورےآٹھ سال لگ گئے۔ملک کا معاشی نظام بتدریج ۹ سال میں بدلا گیا۔شراب کا قطعی انسداد ٨ھ میں ہوا اور سود کی کلی ممانعت 9ھ میں کی گئی۔ اسی طرح اگر حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی ملک کے قوانین بدلنے میں تدریج سے کام لیا ہو اور ایک خاص وقت تک ان کےزمانہ حکومت میں سابق قوانین جاری رہے ہوں تو کیا اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہےکہ ایک پیغمبر خدا کے سوا دوسروں کے جاہلی قوانین کو جائز سمجھ کر ان کی پابندی کرتا تھا۔
"اور جہاد میری بعثت کے وقت سے اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جبکہ اس امت کا آخری گروہ دجال سے جنگ کرے گا۔ نہ کسی ظالم کا ظلم اسے باطل کر سکتا ہے اور نہ کسی عادل کا عدل۔"
یعنی جہاد کو نہ اس عذر کی بنا پر بند کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت بڑے جبابرہ ہم پر مسلط ہیں۔ نہ اس بات کو جہاد نہ کرنے کے لیے بہا نہ بنایا جا سکتا ہے کہ حکومت اگر چہ کفار کی ہے مگر ہم کو امن نصیب ہے اور ہمارے ساتھ انصاف ہو رہا ہے۔ اور نہ مسلمانوں کے لیے یہ جائز ہے کہ اگر ان کے اپنے ملک میں عدل کا دور دورہ ہو تو وہ مطمئن ہو کر بیٹھے رہیں اور باہر کی دنیا میں جو ظلم و فساد برپا ہو اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں۔
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |