تفہیمات، دوم

فتنئہ تکفیر

فتنئہ تکفیر

١٩٣٥ء کی بات ہے کہ ہندوستان میں دو نامور بزرگوں کے خلاف بعض مشہور علماء کرام نے کفر کا فتویٰ دے دیا تھا۔ اس موقع پر ترجمان القرآن میں حسب ذیل اشارات لکھے گئے تھے جن کےخلاف فتویٰ دیا گیا تھا۔ ان کا تو پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا۔ اب فتویٰ دینے والے بزرگوں میں سے بھی بعض کا انتقال ہو چکا ہے۔ اللہ ان سب کی مغفرت فرمائےاس مضمون کو یہاں نقل کرنے سے مقصود کسی پرانی بحث کو تازہ کرنا نہیں ہے بلکہ محض فائدہ عام پیش نظر ہے۔

مسلمانوں کےدور انحطاط میں جہاں اور بہت سےفتنے پیدا ہوئے ہیں وہاں ایک بڑا اور خطرناک فتنہ ایک دوسرے کو کافر اور فاسق مظہر انےاور ایک دوسرے پر لعنت کرنےکا بھی ہے۔ لوگوں نےاسلام کےسیدھےسادے عقائد میں موشگافیاں کیں اور قیاس و تاویل سے اُن کے اندر بہت سے ایسے فروع اور جزئیات پیدا کر لیے جو ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد تھے اور جن کی کوئی تصریح کتاب وسنت میں نہ تھی یا اگر تھی بھی تو اللہ اور اس کے رسول نےان کو کوئی اہمیت نہ دی تھی۔پھر ان اللہ کے بندوں نے (اللہ انھیں معاف فرمائے) اپنے وضع کردہ فروعی مسائل کے ساتھ اتنا اهتمام کیا کہ انھی پر ایمان کا مدار ٹھہرا دیا ان کی بنیاد پر اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، بیسیوں فرقےبنا دیےاور ہر فرقنےنےایک دوسرےکو کافر فاسق، گمراہ دوزخی اور خدا جانےکیا کیا کہہ ڈالا۔ حالانکہ کفر و اسلام کے درمیان اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین میں ایک واضح خط امتیاز کھینچ دیا تھا اور کسی کو یہ حق نہ دیا تھا کہ اپنےاختیار سےجس چیز کو چاہے کفر اور جسے چاہے اسلام ٹھیرا لےاس فتنے کی محرک خواہ تنگ نظری ہو نیک نیتی کے ساتھ یا خود غرضی اور حسد اور نفسانیت ہو بد نیتی کے ساتھ بہر حال اس نے مسلمانوں کی جماعت کو جتنا نقصان پہنچایا ہے شاید کسی اور چیز نے نہیں پہنچایا۔ __________________________________

جہاں تک کسی شخص کے در حقیقت مومن یا غیر مومن ہونے کا تعلق ہے اس کا فیصلہ کرنا تو کسی انسان کا کام نہیں ہے۔ یہ معاملہ تو براہ راست خدا سے تعلق رکھتا ہے اور وہی اس کا فیصلہ قیامت کے روز فرمائے گا۔ رہے بندے تو ان کے فیصلے کرنے کی چیز اگر کوئی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ خدا اور اُس کے رسول نے ملتِ اسلام کے جو امتیازی نشانات بتائے ہیں اُن کے لحاظ سے کون شخص سرحد اسلام کے اندر ہے اور کون اس سے باہر نکل گیا ہے۔ اس غرض کے لیے جو چیزیں ہم کو بنائے اسلام کی حیثیت سے بتائی گئی ہیں وہ یہ ہیں :-

الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمَ الصَّلوةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَوةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا (مسلم ابوداؤ د ترندی نسائی)

اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے اگر وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔

أُمِرْتُ أَنْ أَقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَن لَّا اللَّهُ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَوةَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَالِكَ عَصَمُوا مِنَى دِمَاءَ هُمُ إِلَّا بِحَق الْإِسْلَام وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ - ( بخاری، مسلم احمد )

مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ شہادت دین کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کےرسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں۔ جب وہ ایسا کر دیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں بچالیں گئے الا یہ کہ اسلام کا کوئی حق اُن کے خلاف قائم ہو اور ان کا حساب عز و جل کے ذمے ہے۔

یہ ہیں اسلامی سوسائٹی کے سرحدی نشانات ۔ جو لوگ ان سرحدوں کے اندر ہیں ہم کو حکم ہے کہ ان کے ساتھ مسلمان کا سا معاملہ کرئیں۔ انھیں ملت سے خارج کرنے کا کسی کو حق نہیں۔ اور جو لوگ ان سرحدوں سے باہر نکل گئے ہوں ان کے ساتھ ہم کو وہی معاملہ کرنا چاہیے جو حق الاسلام کے لحاظ سے واجبی ہو ۔ دونوں صورتوں میں ہم باطن کا حساب لگانے کے مجاز نہیں ہیں۔ ہمارا کام صرف ظاہر کو دیکھنا ہے اور ہم کیا، اس معاملےمیں خود رسول اللہ نےبھی ظاہر ہی کو دیکھا ہےچنانچہ بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت ہےکہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے کچھ رقم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجی اور حضور نے اسے چار آدمیوں پر تقسیم کر دیا۔ اس پر حاضرین میں سے ایک شخص بول اٹھا: يَا رَسُولَ اللهِ اِتَّقِ اللهَ (یا رسول اللہ خدا سے ڈریے ) حضور نے فرمایا: وَيْلَکَ أو لَستُ أحق أهلِ الأرْضِ أنْ يُنفِى الله (افسوس تیرے حال پر روئے زمین کے بسنےوالوں میں مجھے سے زیادہ کس کو یہ سزاوار ہے کہ خدا سے ڈرے؟) حضرت خالد اس موقع پر موجود تھے۔ انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟ فرمایا: لا لعله أن يكُونَ يُصَلَّى ( نہیں، شاید کہ وہ نماز پڑھتا ہو ) انھوں نے عرض کیا کتنے ہی نماز پڑھنےوالے ایسے ہیں جو زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ۔ فرمایا: اني لم أؤمَرُ ان العب عن قُلُوبِ النَّاسِ وَلا أَدُقُّ بُطُونَهُمْ ) مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا ہے کہ لوگوں کے دل کھول کر اور پیٹ چاک کر کے دیکھوں )۔

امام شافعی اور احمد نے اپنی مسندوں میں اور امام مالک نے موطا میں یہ روایت نقل کی ہے کہ انصار میں سے ایک صاحب ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راز میں بات کر رہے تھے ۔ اتنے میں حضور نے بآواز بلند فرمایا: اليْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ ( کیا وہ شخص لا الہ الا اللہ کی شہادت نہیں دیتا ہے؟ ) انصاری نے عرض کیا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا شهادة لة (جی ہاں یا رسول اللہ مگر اس کی شہادت کا کوئی اعتبار نہیں ) حضور نے فرمایا: آلیس يَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولَ اللهِ ؟ ( کیا وہ محمد کو اللہ کا رسول نہیں مانتا ؟ ) انھوں نے پھر عرض کیا: بلى ولا شَهَادَة لَهُ (جی ہاں وہ اقرار تو کرتا ہے مگر اس کے اقرار کا کوئی اعتبار نہیں ) حضور نے پھر فرمایا: آلیس يُضلي؟ (کیا وہ نماز نہیں پڑھتا ؟ ) انھوں نے عرض کیا : بلی ولا صلوۃ لہ (جی ہاں پڑھتا ہے مگر اس کی نماز کا کوئی اعتبار نہیں ) اس پر حضور نے فرمایا: أُولئِكَ الَّذِيْنَ نَهَانِي اللهُ عَنْ قَتْلِهِمُ (ایسے لوگوں کو قتل کرنے سے اللہ نے مجھے منع فرمایا ہے) ______________________________

اب یہ کتنی بڑی زیادتی کی بات ہے کہ جو مسلمان خدا اور رسول کے بتائے ہوئےایمانیات پر اعتقاد کا اقرار کرتا ہو اور مذکورہ بالا تصریحات کے مطابق اسلام کی سرحدوں کےاندر ہوا سےکوئی شخص خارج از ملت قرار دے بیٹھے یہ جسارت بندوں کے مقابلےمیں نہیں خدا کے مقابلہ میں ہے۔ در حقیقت یہ خدا ہی سے معارضہ ہے کہ جس کے حق میں خدا کا قانون مسلمان ہونے کا فیصلہ کرتا ہے اس کے حق میں ایک بندہ خدا کفر کا فیصلہ صادر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت سختی کے ساتھ تکفیر و تفسیق سے منع فرمایا ہے اور یہاں تک فرما دیا ہے کہ جو شخص کسی کو کافر کہے گا در آنحالیکہ وہ حقیقت میں کافر نہ ہو تو وہ کفر کا فتویٰ خود تکفیر کرنے والے کی طرف پلٹ آئے گا۔

أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لَا خِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدُبَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا (بخاری)

جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو کافر کہے گا تو یہ قول دونوں میں سےکسی ایک پر ضرور پڑے گا۔

لا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلاً بِالْفُسُوقِ وَلَا يَرْمِيْهِ بِالْكُفْرِ إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ إِن لَّمْ يَكُنُ صِاحِبُهُ كَذَالِكَ - ( بخاری )

جب کبھی ایک شخص دوسرے شخص پر فسق یا کفر کی تہمت لگائے گا تو وہ تہمت اسی پر پلٹ آئے گی اگر وہ شخص جس پر تہمت لگائی گئی ہےدر حقیقت کا فریا فاسق نہ ہو۔

مَنْ دَعَا رَجُلاً بِالْكُفْرِ أَوْ قَالَ عَدُوا اللَّهِ وَلَيْسَ كَذَالِكَ إِلَّا حَارَ عليه - (مسلم)

جس شخص نے کسی کو کا فریادشمن خدا کہہ دیا در آنحالیکہ وہ شخص ایسانہ تھا تو یہ قول خود قائل پر ضرور پلٹ جائے گا۔

مَنْ لَّعَنَ مُؤْمِنًا نَهُرَ كَقَتْلِهِ وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ نَهُرُ كَقَتْلِهِ ( بخاری )

جس نے کسی مومن پر لعنت کی اس نے گویا اسے قتل کر دیا اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی اس نے گویا اُسے قتل کر دیا۔

اس طرح کی تکفیر و تفسیق محض ایک فرد ہی کے حق پر دست درازی نہیں ہے بلکہ ایک اجتماعی جرم بھی ہے۔ یہ پوری اسلامی سوسائٹی کے خلاف ایک زیادتی ہے اور اس سےمسلمانوں کو بحیثیت مجموعی سخت نقصان پہنچتا ہے۔ اس کی وجہ تھوڑے غور سے بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے۔

اسلامی معاشرے اور غیر اسلامی معاشروں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ غیر اسلامی معاشرے رنگ، نسل، زبان اور وطن کے رشتوں پر قائم ہوئے ہیں اور ان کےبرعکس اسلامی معاشرے کا قیام صرف دین کے رشتے پر ہوا ہےغیر اسلامی معاشروں میں عقائد و افکار کےاختلاف سے کوئی رخنہ نہیں پڑتا' اس لیےکہ خیالات اور اعتقادات کا اختلاف ان کے افراد کو اس رشتے سے خارج نہیں کرتا جونسل یا وطن یا زبان یا رنگ کی وحدت سے قائم ہوتا ہے۔ باطن میں خواہ زمین و آسمان کا تفاوت ہو جائے، لیکن خون کا تعلق منقطع نہیں ہو سکتا، نہ وطن کا رشتہ کٹ سکتا ہے نہ زبان کا رابطہ منفک ہو سکتا ہے نہ رنگ کی وحدت میں کوئی فرق آ سکتا ہے۔ اس لیے اختلاف عقائد سے غیر مسلم معاشروں کو کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ لیکن اسلام میں جو چیز مختلف نسلوں مختلف رنگوں، مختلف زبانوں اور مختلف ملکوں کے افراد کو جوڑ کر ایک قوم بناتی ہے وہ عقیدے کی وحدت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہاں عقیدہ ہی سب کچھ ہے۔ نسل، رنگ، زبان وطن کچھ بھی نہیں ۔ لہذا جو شخص دین اور اعتقاد کے رشتے کو کاتا ہے وہ دراصل اللہ کی اس رتی پر قیچی چلاتا ہے جس نے ایک خدا کی پرستش کرنے والوں اور ایک رسول کے ماننے والوں اور ایک کتاب پر ایمان لانےوالوں کو ایک دوسرے سے وابستہ کیا ہے۔ اسلام میں کسی شخص یا گروہ کو کافر کہہ دینے کےمعنی صرف یہی نہیں ہیں کہ اس کے اعتقاد اور نیت پر حملہ کیا گیا بلکہ اس کےمعنی یہ ہیں کہ اسلامی معاشرےاور اس کےایک فرد یا چند افراد کےدرمیان برادری،محبت معاشرت معامت اور تعاون باہمی کے جتنے رشتے تھے سب کاٹ دیے گئے اور امت مسلمہ کے جسم سے اس کے ایک عضو یا متعدد اعضا کو چھانٹ کر پھینک دیا گیا۔

یہ فعل اگر حکم خدا اور رسول کےمطابق ہو تو یقینا حق ہے۔ اس صورت میں سڑےہوئے عضو کو کاٹ کر پھینک دینا ہی اسلام کےساتھ نیچی خیر خواہی ہے۔لیکن اگر قانون الہی کی رُو سےوہ عضو سڑا ہوا نہ ہوا اور محض ظلماً اس کو کاٹ ڈالا جائے تو یہ ظلم خود اس عضو سےبڑھ کر اس جسم پر ہوگا جس سے وہ کاٹا گیا ہے۔ _________________________________

یہی وجہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے رشتہ دینی کے احترام کی سخت تاکید فرمائی ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ الْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء:۹۴)

جو شخص (اظہار اسلام کےلیے) تم کو سلام کرے اس کو (بلا تحقیق یونہی ) نہ کہہ دیا کرو کہ تو مومن نہیں ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ ایک سریہ میں ایک شخص نے مسلمانوں کو دیکھ کر کیا السّلامُ عَلَيْكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ۔ مگر ایک مسلمان نے یہ گمان کر کے کہ اس نے محض جان بچانے کےلیے کلمہ پڑھا ہے اسے قتل کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو حضور اس پر سخت ناراض ہوئے اور اس مسلمان سے باز پرس کی۔ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اس شخص نے محض ہماری تلوار سے بچنے کے لیے کلمہ پڑھ دیا تھا۔ اس پر سر کار نے فرمایا: هَلَا شَفَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ " کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟“

ایک صحابی نے پوچھا کہ اگر ایک شخص مجھ پر حملہ کر کے میرا ہاتھ کاٹ ڈالے اور جب میں اس پر حملہ کروں تو وہ کلمہ پڑھ لئے کیا ایسی حالت میں میں اس کو قتل کر سکتا ہوں؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اس نے تو میرا ہاتھ کاٹ دیا۔آپ نے فرمایا: باوجود اس کے تم اس کو نہیں مار سکتے ۔ اگر تم نے اس کو مارا تو وہ اس مرتبےمیں ہوگا جس میں تم اس کے قتل سے پہلے تھے اور تم اس مرتبے میں ہو جاؤ گے جس میں وہ لا الہ الا اللہ کہنے سے پہلے تھا۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمایا اگر کوئی شخص کسی کافر پر نیزہ تانے اور جب سنان اس کے حلق تک پہنچ جائے اس وقت وہ لا الہ الا اللہ کہہ دے تو مسلمان کو لازم ہے کہ وہ فورا اپنے نیزے کو واپس کھینچ لے۔

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر-

یہ سب کچھ اس لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی قوت اور جمعیت کا قیام رابطہ دینی کے سوا کسی دوسری چیز سے نہیں ہے۔ اگر مسلمانوں میں اس رابطے کا احترام نہ ہو اور وہ بات بات پر اس کو کاٹنے لگیں تو امت کا سارا شیرازہ بکھر کر رہ جائے اور اس قوم کی کوئی اجتماعی قوت باقی ہی نہ رہے جو باطل پرستوں کے مقابلے میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے خیر و تقوی کی طرف دعوت دینے کے لیے قائم کی گئی ہے۔


ہمارا یہ منشاء نہیں کہ تکفیر تفسیق سے مطلقا پر ہیز کیا جائے، حتی کہ اگر کوئی شخص صریح کفریات بکنے اور لکھنے لگے تب بھی اس کو مسلمان کہا اور سمجھا جاتا رہے۔ یہ مثانہ کتاب و سنت کی مندرجہ بالا نصوص کا ہے نہ ہماری پچھلی گزارشات کا ۔ اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے؟ کسی مسلمان کو اسلام سے خارج کرنا جس قدر نقصان دہ ہے کسی کافر کو اسلامی جمعیت میں شامل کرنا یا رکھنا اس سے کچھ کم نقصان دہ نہیں ہے۔ لیکن جس بات پر ہم زور دینا چاہتےہیں وہ یہ ہے کہ مسلمان کی تکفیر کے معاملے میں انتہا درجہ کی احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے اتنی ہی احتیاط جتنی ایک شخص کے قتل کے خوئی صادر کرنے میں ملحوظ رکھی جاتی ہے۔ ہر شخص جو مسلمان ہے اور لا الہ الا اللہ کا قائل ہے اس کے حق میں یہی گمان ہونا چاہیے کہ اس کےدل میں ایمان ہے۔ اگر وہ کوئی ایسی بات کرتا ہے جس میں کفر کا شائبہ پایا جاتا ہو تو اس کے حق میں یہ امید رکھنی چاہیے کہ اس نے کفر کے ارادے سے ایسی بات نہ کی ہوگی بلکہ محض جہل اور نا کبھی سے کی ہوگی۔ اس لیے اس کی بات سنتے ہی کفر کا فتوی نہ جڑ دینا چاہیے بلکہ عمدہ طریقے سے اس کو سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر وہ پھر بھی نہ مانے اور اپنی بات پر اصرار کرئے تو اس بات کو جس پر وہ اصرار کر رہا ہے کتاب اللہ پر پیش کر کےدیکھا جائے کہ آیا وہ کفر و ایمان کے درمیان فرق کرنے والی صریح نصوص کے خلاف ہے یا نہیں؟ اور اس شخص کے زیر بحث قول یا فعل میں کسی تاویل کی گنجائش ہے یا نہیں ؟ اگر صریح نصوص کے خلاف نہ ہو اور تاویل کی گنجائش ہو تو کفر کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ زیادہ سے زیادہ ایسےشخص کو گمراہ کہا جاسکتا ہےاور وہ بھی اُس خاص مسئلہ میں نہ کہ بالکلیہ۔ البتہ اگر اس کا اعتقاد نص صریح کے خلاف ہوا اور وہ شخص یہ معلوم کرنے کے بعد بھی کہ اُس کا اعتقاد کتاب اللہ کی تعلیم کےخلاف ہوا اور وہ شخص یہ معلوم کرنے کے بعد بھی کہ اُس کا اعتقاد کتاب اللہ کی تعلیم کے خلاف ہے اپنی بات پر قائم رہے اور اس کے قول کی کوئی مناسب تاویل بھی نہ کی جا سکتی ہو تو ایسی صورت میں مسئلہ کی نوعیت کا لحاظ رکھتے ہوئے فسق یا کفر کا حکم لگا یا جا سکتا ہے۔ لیکن اس پر بھی اندراج و مراتب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ تمام جرم اور تمام مجرم یکساں نہیں ہیں۔ ان میں بھی فرق مراتب ہوتا ہے اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس فرق کو ملحوظ رکھ کر سزا تجویز کی جائے ۔ سب کو ایک ہی لکڑی سے ہانکنا یقیناً بے انصافی ہے۔ __________________________________

جیسا کہ ابتدا میں ہم بیان کر آئے ہیں، کفر و اسلام کا ایک پہلو باطنی ہے اور ایک اہری۔ باطن کا تعلق انسان کے دل سے اور نیت سے ہے اور ظاہر کا تعلق اس کی زبان اور عمل ہے۔ ہم ایک حد تک آدمی کے قول و فعل سے بھی اس کی قلیمی حالت کا انداز ہو کر سکتے ہیں۔ مگر یہ محض قیاس و گمان ہو گا، علم و یقین نہ ہوگا اور علم و یقین کے بغیر صرف قیاس و عمان کی بنا پر کسی کے ایمان یا کفر کا فیصلہ کر ڈالنا یقینا ظلم ہوگا، اگر چہ ایسا فیصلہ فلس الامر کےمطابق ہی کیوں نہ ہو۔ لہذا حق یہی ہےکہ ایمان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ اس کےسوا کوئی نہیں جان سکتا کہ کسی کے دل میں ایمان ہے اور کس کے دل میں ایمان نہیں ہے ۔ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَى (النجم:۳۰) ہماری نظر صرف ظاہر تک جاسکتی ہے اور ظاہری اقوال و افعال کو دیکھ کر ہم رائے قائم کر سکتے ہیں کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ جو شخص ظاہر میں جہالت و نادانی سے کفریات بک رہا ہو باطن میں وہ ایک سچا اور پکا مومن ہو اور اس کے دل میں خدا اور رسول کی محبت بہت سے واعظوں اور مرشدوں سے بڑھ کر ہو ۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ جو شخص زور شور کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کرتا ہو اور بظاہر احکام شریعت کی پابندی میں کوئی کمی بھی نہ کرتا ہو در حقیقت وہ محض ایک ریا کار منافق ہو ۔ لہذا ظاہر کی بناء پر کسی کے کفر کا فیصلہ کرتے ہوئے انسان کو خدا کی پکڑ سے بہت ڈرنا چاہیے۔ ایسا فیصلہ صادر کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچ لینا چاہیے کہ ہم کیسی ذمہ داری اپنے سر لے رہے ہیں اور کیا ایسےمعقول وجوہ موجود ہیں جن کی بنا پر اس ذمہ داری سے بچنے کی بہ نسبت اس کا بار اٹھا لینا ہمارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ __________________________________

یہ ظاہر ہے کہ انسانوں کی طبیعتیں استعدادیں اور اعلی صلاحیتیں مختلف ہیں۔ بعض لوگ نہایت سادہ لوح ہوتے ہیں ۔ ایک سیدھی سادی بات کو اجتمائی تفصیلات اور باریکیوں کو سمجھنے کی نہ اُن میں قابلیت ہوتی ہے اور نہ وہ ان کے طالب ہوتےہیں۔ برعکس اس کے بعض لوگوں میں غور و فکر کا مادہ ہوتا ہے۔ اجمال سے اُن کی تشفی نہیں ہوتی ۔ تفصیلات ڈھونڈتے ہیں تو نہیں ملتیں تو تخیل سے پیدا کر لیتے ہیں۔ پھر غور وفکر کرنے والوں کے رجحانات اور مدارج عقلی بھی بے شمار ہیں ۔ کسی کا میلان شک کی طرف ہوتا ہےاور کسی کا یقین کی طرف۔ کوئی مادیات و محسوسات پر فریفتہ ہے اور کوئی معقولات پر ۔ کوئی بات کی تہ تک پہنچ جاتا ہے اور کوئی بیچ کی راہوں میں بھٹک کر رہ جاتا ہے۔ کوئی حقیقت پسند (Realist) ہوتا ہے اور کسی کو وہم و خیال کی وادیوں میں گھومنا ہی اچھا معلوم ہوتا ہے۔غرض نظر و فکر کے بہت سے راستے ہیں جن کو انسانی اذہان اپنی اپنی افتاد طبع کے مطابق اختیار کرتے ہیں ۔ کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کی طبعی افتاد اور فطری رجحانات اور عقلی استعداد کو بدل دے۔ اور کسی انسان کو یہ مطالبہ کرنے کا حق بھی نہیں ہے کہ اُس کی اپنی افتاد طبع اور اس کا اپنا مذاق و رجحان ہی سب انسانوں کے لیےمعیار قرار پائے جس کے مطابق ڈھل جانا سب پر فرض ہو۔ ___________________________

جس خدا نےاسلام کو تمام نوع انسانی کی ہدایت کےلیے نازل کیا ہے اس سےبڑھ کر انسانی طبائع کے ان اختلافات کو جاننے والا اور ان کی رعایت ملحوظ رکھنے والا اور کون ہو سکتا تھا؟ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے دین کی بنیاد ایسےسادہ اور مجمل عقائد پررکھی ہےجنھیں ایک کم عقل دہقان سےلےکر ایک نکته سنج فلسفی اور ایک حقیقت طلب سائنٹسٹ تک سب قبول کر سکتے ہیں۔ ان عقائد کی سادگی اور ان کا اجمال ہی وہ چیز ہے جس نےان کو ایک عالمگیر انسانی مذہب کے لیے بنیادی اصول بننے کے قابل بنایا ہے۔ جو شخص غور و فکر کی صلاحیت نہیں رکھتا اس کے لیے صرف اتنا مان لینا ہی کافی ہے کہ خدا ایک ہےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں، قرآن اس کی کتاب ہے اور قیامت کے روز ہمیں اس کے سامنے حاضر ہوتا ہے۔ اور جو شخص غور و فکر کی قوت رکھتا ہے اس کے لیے اسی اجمال میں اتنی وسعتیں ہیں کہ وہ اپنی استعداد اور اپنے رجحان کے مطابق جستجوئے حقیقت کےلیے بے شمار راہوں پر جا سکتا ہے، جتنی دُور چاہے جاسکتا ہے۔ ساری عمر اسی جستجو میں کھپا سکتا ہے بغیر اس کے کہ کسی مقام پر پہنچ کر وہ یہ کہہ سکے کہ جو کچھ جانا تھا وہ میں جان چکا ہوں۔

پھر ایک سوچنے والا آدمی اپنی فکر و تلاش کےلیے چاہے کوئی راہ اختیار کرے اور خواہ کتنی ہی دُور تک چلا جائے، بہر حال جب تک وہ ان حدود کے اندر چل رہا ہے جو کلام اللہ نے اسلام اور کفر کے درمیان کھینچ دی ہیں، وہ دائرہ ایمان سے خارج نہیں قرار دیا جا سکتا، اگرچہ اس کے ذہن کی جولانیوں سے ہم کو کتنا ہی اختلاف ہو۔

مثال کےطور پر ایمان باللہ کےمسئلےمیں ملاک امر(اصل حکم ) صرف یہ ہے کہ کائنات کا بنانے اور چلانے والا ایک خدا ہےاور وہی اس لائق ہےکہ اس کی بندگی کی جائےاس بات کو ایک سیدھا سادا کسان جس طور پر مان سکتا ہے ممکن نہیں ہے کہ ایک غور و فکر کرنے والا آدمی بھی بس اُسی طرح اور اتنا ہی مجمل طور پر مانے ۔ پھر ایک خاص طرح کا رجحان طبع رکھنے والا آدمی اس میں تدبیر کر کے خدا کی ہستی اور اس کی صفات اور کائنات کے ساتھ اس کے تعلق کی کیقیت کے متعلق جو تفصیلی تصورات اپنے ذہن میں جمائے گا، ممکن نہیں ہے کہ ان امور کے متعلق ایک دوسرے رُجحان والے آدمی کےتصورات بھی بالکل اُس کے مطابق ہی ہوں۔ لیکن جب تک یہ سب اصل بنیادی عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں، سب کے سب مسلمان ہیں، خواہ تفصیلات میں اُن کے تفکرات باہم کتنےہی مختلف ہوں اور ان میں سے بعض نے بعض گوشوں میں کیسی ہی سخت ٹھوکریں کھائی ہوں۔

اسی طرح وحی رسالت، ملائکہ اور آخرت کے متعلق بھی اسلامی عقائد میں چند امور اصولی ہیں جن کو دین کےضروریات (Essentials) کہنا چاہیےاور باقی تفصیلات بھی جن میں سے بعض کے لیے انسان کو کلام اللہ میں صریح یا قابل تاویل اشارات مل جاتےہیں اور بعض کو انسان خود اپنے رجحان طبع کے مطابق اپنے ذہن سے پیدا کر لیتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ان میں سے اکثر تفصیلات کا حکم لگانے میں کسی انسان کی عقل غلطی کر لے اور اس کے تصورات حقیقت سے بہت دُور جا پڑیں لیکن جب تک وہ ان عقائد میں ملاک امر کا سر رشتہ ہاتھ سے نہیں چھوڑتا، عقل و فکر کی کوئی گمراہی اس کو دائرہ دین سے خارج نہیں کر سکتی، چاہے مرکز دین سے اس کو کتنا ہی بُعد ہو جائے اور ہمیں اس کی ان اعتقادی بے راہ رویوں پر کتنی ہی ملامت اور مذمت کرنی پڑے۔ ________________________________

یہاں پہنچ کر ہم ذرا سا غور کریں تو بآسانی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام میں فرقوں کی پیداوار کس طرح ہوئی ہے۔ قرآن اور حدیث میں ضروریات دین کے متعلق جو سادہ اور مختصر باتیں ارشاد ہوئی ہیں، اور کہیں کہیں ان کی تفصیل میں جو لطیف اشارات کر دیے گئےہیں، اُن کو سمجھنے میں مختلف لوگوں نے اپنی عقلی استعدادوں اور اپنے طبیعی رجحانات کی بنا پر مختلف را ہیں اختیار کیں اور ان کے تفصیلی فہم کے لیے قیاس و استدلال کے ذریعے سےالگ الگ جزئیات اور فروع اخذ کر لیے۔ اس حد تک تو کچھ مضائقہ نہ تھا۔ اور اس میں بھی کوئی خرابی نہ تھی کہ ایک گروہ صرف اپنے مسلک کو حق سمجھتا اور دوسرے گروہوں سےبحث کر کے ان کو اپنے مسلک کی طرف لانے کی کوشش کرتا۔ لیکن غضب یہ ہوا کہ لوگوں نے بے جا تشدد برت کر اپنے اپنے قیاسی و تاویلی عقائد کو بھی اصول و ضروریات دین میں شامل کر لیا اور پھر ہر ایک گروہ نے ان تمام گروہوں کی تکفیر شروع کر دی جو اُس کےاستنباطی عقائد کے منکر تھے۔ یہیں سے حرب عقائد کی ابتدا ہوئی ہے اور یہی اس ظلم کا نقطہ آغاز ہے۔ یہ صحیح ہے کہ عقائد کے باب میں قیاسات و تاویلات سے جو راہیں اختیار کی گئی ہیں ان میں بہت سی راہیں غلط ہیں۔لیکن ہر غلطی لازما کفر ہی نہیں ہےغلطی کو غلطی کہنا اور اس کا ارتکاب کرنے والے کو گمراہ اور غلط کا رسمجھنا اور اس کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرنا بلاشبہ جائز ہے لیکن جب تک کوئی شخص اُس نفس حقیقت کا انکار نہیں کرتا جس پر اللہ تعالی نے ایمان لانے کا حکم دیا ہے، اس کو کافر کہنا کسی طرح بھی جائز نہیں، خواہ اس کی گمراہی کتنی ہی بڑھ گئی ہو ۔ ______________________________

افسوس ہے کہ مدتوں کی چلی ہوئی اس روش کو چھوڑنے پر ہمارے علمائے کرام کسی طرح راضی نہیں ہوتے ۔ انھوں نے اصل اور فرع نص اور تاویل کے فرق کو نظر انداز کر دیا ہے۔ وہ اُن فروع کو بھی اصول بنائے بیٹھے ہیں جن کو انھوں نے خود یا اُن کے اسلاف نے اپنے مخصوص فہم کی بنا پر اصول سے اخذ کیا ہے۔ وہ ان تاویلات کو بھی نصوص کےدرجے میں رکھتے ہیں جو نصوص سے معانی اخذ کرنے میں ان کے گروہ نے اختیار کی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنے فروع اور اپنی تاویلات کے منکر کو بھی اسی طرح کا فرقرار دیتےہیں، جس طرح اصول اور نصوص کے منکر کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس کھینچ تان اور بے اعتدالی نے پہلے تو اسلامی جمعیت میں صرف تفرقہ ہی پیدا کیا تھا مگر اب دیکھ رہے ہیں کہ علماء کی یہ کا فرگری مسلمانوں کے دلوں میں نہ صرف علماء کی طرف سے بلکہ خود اُس مذہب کی طرف سے بھی بدگمانیاں پیدا کر رہی ہے جس کی نمائندگی یہ علماء کر رہے ہیں۔ روز بروز علماء کا اقتدار مسلمانوں پر سے اُٹھتا جا رہا ہے۔ ان کی باتیں سن کر دل و مذہب کی طرف راغب ہونے کے بجائے اس سے دُور بھاگنے لگے ہیں۔ مذہبی مجلسوں اور مذہبی تحریروں کے متلق یہ عام خیال پیدا ہو گیا ہےکہ ان میں فضول جھگڑوں کےسوا کچھ نہیں ہوتا۔اس غلبہ کفر و فسق کےزمانے میں عام مسلمانوں کو مذہبی علوم کی واقفیت بہم پہنچانے کا اگر کوئی ذریعہ ہو سکتا تھا تو وہ یہ تھا کہ علمائے دین پر لوگوں کو اعتماد ہوتا اور وہ ان کی تحریروں اور تقریروں سے فائدہ اٹھاتے ۔ مگر افسوس کہ ان فرقہ بندی کی لڑائیوں اور ان تکفیر کے مشغلوں سے یہ ایک ذریعہ بھی ختم ہوا جا رہا ہے اور یہ مسلمانوں میں مذہب سے عام نا واقفیت اور گمراہی کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کاش! ہمارے علماء اپنی غلطی ک محسوس کریں اور اسلام اور مسلمانوں پر نہیں تو خود اپنے اوپر ہی رحم کر کے اس روش سے باز آجائیں جس نے ان کو اپنی قوم میں اس قدر رسوا کر دیا ہے درآنحالیکہ یہی وہ قوم تھی جو کبھی اُن کو سر آنکھوں پر بٹھاتی تھی۔

ترجمان القرآن

( صفر ۱۳۵۴ھ مطابق مئی ۱۹۳۵ء)


کتاب تفہیمات، دوم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Understandings