تفہیمات، دوم

حضرت سلیمان اور ملکہ سبا

حضرت سلیمان اور ملکہ سبا

سورہ نمل کے دوسرے اور تیسرے رکوع میں ملکه سبا اور حضرت سلیمان کا ذکر آیا ہے۔ اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو جب ہدہد کے ذریعے سےقوم سبا کے شرک اور آفتاب پرستی کا حال معلوم ہوا تو آپ نےاس قوم کی ملکہ کو اسلام کی طرف دعوت دی (١) ملکہ نےاس باب میں اپنےامراء داعیانِ سلطنت سےمشورہ لیا۔انھوں نے کہا کہ ہم بھی زور بازور کھتے ہیں۔ جنگ کیے بغیر اطاعت نہ کریں گے ۔ مگر ملکہ نے جنگ کی رائے سےاتفاق نہ کیا اور اس کے بُرے نتائج سے آگاہ کر کے مصالحانه روش اختیار کرنےکی رائےدی۔چنانچه سب کے اتفاق سے ایک بیش قیمت ہدیہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا گیا۔ حضرت سلیمان نے فرمایا کہ مجھے تمھارے ہدیے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمھارے اسلام یا اطاعت کا طالب ہوں ۔ غرض جنگ کا اعلان ہو گیا۔اس اعلان کے بعد حضرت سلیمان اپنے اعیانِ دولت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم میں کون ہےجو اس ملکہ کا تخت میرےپاس اُٹھا لائے؟ ایک جن نے عرض کیا کہ میں دربار کے برخاست ہونے سے پہلے اس کو لے آؤں گا۔ ایک دوسرے شخص نے جو " کتاب کا علم رکھتا تھا کہا کہ میں چشم زدن میں اس کو حاضر کیے دیتا ہوں۔ چنانچہ اُس نے فی الواقع پلک جھپکاتے تخت لا حاضر کیا۔ اس موقع پر حضرت شاہ عبد القادر رحمتہ اللہ علیہ موضح القرآن میں لکھتے ہیں :


١- معلوم رہے کہ سبا کی مملکت عرب کے علاقہ یمن میں واقع تھی اور حضرت سلیمان فلسطین و شام پر حکمران تھے

"کافر جو اپنے ایمان میں نہیں اس کا مال زبر دستی حلال ہے۔ جب وہ مسلمان ہوا پھر حلال نہیں“۔

پھر جب حضرت سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر پایا تو بے اختیار بول اٹھےکہ یہ میرے رب کا فضل ہے۔ وہ مجھ کو آزماتا ہے کہ میں شاکر بندوں کی طرح اس کی نعمتوں کا ٹھیک ٹھیک حق ادا کرتا ہوں یا کافروں کی طرح کفرانِ نعمت کرتا ہوں۔ یہاں حضرت شاہ صاحب نے پھر شرح فرماتے ہوئے لکھا ہے:

"یعنی ظاہر کے اسباب سے نہیں آیا۔ اللہ تعالی کا فضل ہے کہ میرے رفیق اس درجہ کو پہنچے جن سے کرامت ہونے گئی- - - - اور اس کے پاس ایک علم تھا کتاب کا ۔ یعنی اللہ کے اسماء اور کلام کی تاثیر کا۔ وہ شخص آصف تھا اُن کا وزیر۔

آیات مذکورہ بالا اور ان کے متعلق حضرت شاہ صاحب کے حواشی پر ایک صاحب نے حسب ذیل شبہات ظاہر کیے ہیں اور ہم سے چاہا ہے کہ ان کو صاف کریں۔

١- ایک جلیل القدر پیغمبر کی شان سےیہ بہت بعید معلوم ہوتا ہےکہ وہ دوسروں کی املاک پر اس طرح کرامتوں کے زور سے تصرف کرے۔ مانا کہ کافر حربی کا مال مباح ہےمگر پیغمبر کا تقویٰ اس سے بالاتر ہونا چاہیے کہ وہ میدانِ جنگ میں مال غنیمت حاصل کرنےکے بجائے اس طرح کرامتوں کے زور سے لوگوں کی قیمتی چیزیں اٹھوا منگایا کرے۔

٢- ملکه سبا کا تخت اٹھا منگانا حضرت سلیمان کا معجزہ نہیں ہوا بلکہ ان کے ایک مصاحب کی کرامت ہوئی۔ جو پیغمبر شیاطین اور جنات کو مسخر کر سکتا تھا کیا خود اپنی قوت اعجاز سے تخت نہیں لاسکتا تھا ؟

۳۔ بائیبل اور تلمود میں جہاں انبیاء بنی اسرائیل کے مفصل سوانح حیات مذکور ہیں کوئی تذکرہ اس قسم کا نہیں پایا جاتا کہ حضرت سلیمان نے اس طرح تخنت اٹھوا منگوایا تھا۔

ذیل میں ان شبہات پر مختصر بحث کی جاتی ہے۔

سب سےپہلےیہ سمجھ لیجیےکہ اسلام نہ تو حکومت خود اختیاری(سیلف گورنمنٹ ) کا قائل ہےاور نہ جہانگیری (امپریلزم) کا۔اس کا نظریۂ سلطنت تمام دنیا کےنظریات سےمختلف ہےاور جذبات و خواهشات نفس کےبجائے خالص عقلی اصول پراسکی بنیاد رکھی گئی ہےاس نظریہ کا لب لباب یه ہےکہ زمین کی حکومت صرف صالحین کا حق ہےاور مرد صالح وہ ہےجو خدا کا مطیع فرمان اور اس کی ہدایت کا پیرو ہو جو خدا کی بخشی ہوئی طاقت کو اس کےقانون کی صحیح پیروی میں استعمال کر سکتا ہو اور جس کےپیش نظر اپنےنفس یا اپنی قوم کا مفاد نہیں بلکہ کل نوع انسانی کا اخلاقی و روحانی اور مادی فائدہ ہو۔ ایسا شخص کسی ایک قوم کی میراث نہیں تمام انسانیت کا مشترک سرمایہ ہے۔ اس کو یہ حق پہنچتا ہے اور اسی پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہےکہ تمام دنیا میں خدا کےقانون کی حکومت قائم کرےاور خدا کےبندوں کو گمراہوں اورظالموں کی حکومت سے اور اُن کےبےجا قوانین کی جکڑ بندی سے نجات ولائے اُس کے مقابلہ میں وہ لوگ جن کے پاس نہ ہدایت الہی ہے نہ الہی قانون ہے۔نہ ایسی طہارت نفس ہےکہ خود غرضی اور تکبر سےبالا تر ہو کر خالص مفاد انسانیت کی خدمت کےلیے حکومت کریں ہرگز اس کا حق نہیں رکھتےکہ حکومت وسلطنت کی باگیں ان کےہاتھوں میں رہیں۔ وہ خواہ اپنی قوم پر حاکم ہوں یا غیر قوموں پر بہر حال وہ ظالم ہیں ۔ مرد صالح کو حق پہنچتا ہے کہ اگر طاقت اس کے ہاتھ میں ہو تو ایسے لوگوں سے حکومت چھین لے۔

اس معاملہ میں اسلامی قاعدہ یہ ہے کہ پہلے ان کو قبول حق کی دعوت دی جائے گی۔اگر انھوں نے مان لیا اور قانون الہی کے متبع بن گئے تو وہ صالحین کے گروہ میں شامل ہو جائیں گے اور اپنی صلاحیت کے مطابق ان کو حکومت میں حصہ لینے کا حق مل جائے گا۔ لیکن اگر انھوں نے انکار کیا تو وہ حاکم بن کر نہیں رہ سکتے ۔ ان کو طاقت سے مغلوب کر کے ان کی حکومت مٹا دی جائے گی اور انھیں اسلام کے سیاسی اقتدار کا تابع بن کر رہنا پڑے گا۔تا کہ وہ کم از کم خدا کی زمین میں شر و فساد تو نہ پھیلا سکیں ۔ باقی رہا ان کا شرک و کفر تو اس کو سزا ان کو خود اللہ تعالیٰ قیامت کے روز دے گا۔ دُنیا میں ان کو یہ آزادی حاصل رہے گی کہ جس اعتقاد اور جس مذہب کی چاہیں، پیروی کریں۔

اس اصولی بات کو سمجھ لینے کے بعد اب حضرت سلیمان علیہ السلام کے طرز عمل کو ملاحظہ کیجیے۔ وہ اللہ کے پیغمبر ہیں اللہ نےان کو علم حق عطا کیا ہے ۔ وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُدَ سُلَيْمَان عِلْمًا (النمل: ۱۵) ان کو اخلاق اور عمل صالح کے اعتبار سے نہ صرف کفار پر بلکہ عام مومنین پر بھی برتری عطا فرمائی گئی ہے (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِینَ - النمل : ۱۵) ۔ وہ خدا کی بندگی اور فرمانبرداری میں کامل ہیں ۔ (نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ اواب-ص: ۳۰) اور ان کے والد ماجد حضرت داؤد علیہ السلام ہی کی زبان سے اللہ تعالیٰ اپنے اس قانون کا اعلان کر چکا ہےکہ زمین کے جائز وارث اور خلافت ارضی کےاصلی حقدار صرف وہ بندےہیں جو صالح ہوں۔ (وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ - الانبياء : ۱۰۵) اسی بنیاد پر وہ فلسطین و شام کی اسلامی مملکت پر فرمانروائی کر رہے ہیں۔

اس حالت میں ان کو خبر ملتی ہے کہ ایک قوم آفتاب کی پرستار شیطان کی متبع اور راہِ راست سے ہٹی ہوئی ہے (يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنُ لَهُمُ الشَّيْطَنُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّ عَنِ السَّبِيْلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ - انمل: ۲۴) قاعدہ اسلامی کے مطابق وہ اس قوم کے اہل حل و عقد کو دعوت دیتے ہیں کہ یا اسلام قبول کرو یا حکومت صالحہ کے مطیع بن کر رہو کیونکہ شیطانی طریقہ کے پیرو ر ہتے ہوئے تم کو خدا کی زمین پر حکومت کرنے کا حق نہیں ہے۔ (الَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأتُوتِى مُسْلِمِينَ - النمل: ۳۱) اس قوم کی ملکہ اس نامہ گرامی کو دیکھ کر ایمان کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔ (وَأَوْتِيْنَا الْعِلْمِ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِين - النمل : ۴۲ ) مگر قومی عصبیت اور دین آبائی کی محبت اس کو ایمان لانے سےروک دیتی ہے۔ (وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كَفِرِينَ النمل :۴۳) اپنی سلطنت کے امرا داعیان سے رائے لیتی ہے ۔ وہ لڑنے پر آمادہ ہو جاتےہیں۔ ملکہ ان کو روکتی ہے اور حضرت سلیمان کو ہدیہ بھیج کر راضی کرنا چاہتی ہے۔ لیکن حضرت سلیمان اس پیش کش کو رو فرما دیتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ دنیوی بادشاہوں کی طرح نہیں ہیں جن کا مقصود محض مال و دولت ہوتا ہے بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس کام پر مامور ہیں کہ لوگوں کو دین الہی کا پیرو بنائیں یا کم از کم ان حکومتوں کو جو عصیان و طغیان پر قائم ہوں، مٹاکر ان کی جگہ انہی قانون کی حکومت قائم کر دیں۔ اس بنا پر وہ مالی نذرانہ کو رڈ کر کے ملکہ سبا کو جنگ کی دھمکی دیتے ہیں۔ (قال الْمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا النِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا انكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بِهَذِتِبِكُمْ تَفْرَحُونَ - ارْجِعُ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْ تِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَلَنُخْرِ جَنَّهُمْ مِنْهَا أَذِلَّةٌ وَهُمْ صَاغِرُوْنَ - امل : ۳۶-۳۷) یہ دھمکی کارگر ہو جاتی ہے اور ملکه خود اطاعت قبول کر کے حضرت سلیمان سے ملنے کے لیے بیت المقدس حاضر ہوتی ہے۔

اس موقع پر حضرت سلیمان اپنے اہل دربار سے فرماتے ہیں کہ ملکہ کے حاضر ہونے سے پہلے اس کے محل سے اس کا تخت اٹھا لاؤ۔ اس فرمائش کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اس کے تخت کی تعریف سن کر حضرت سلیمان کے منہ میں پانی بھر آیا اور وہ اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے ۔ بلکہ اصل غرض یہ تھی کہ ملکہ کے سامنے خدا کی بخشی ہوئی طاقتوں کا ایک ایسا مظاہر کیا جائے جسے دیکھ کر وہ ذقی بن کر رہنے کے بجائے نعمت ایمان پالے اور مومن بن کر رہے۔ چنانچه تخت منگا لیا گیا اور جب ملکہ ملاقات کے لیے حاضر ہوئی تو اس کےسامنے اس کا اپنا تخت بالکل انجام بن کر پیش کیا گیا (قَالَ نَكَّرُوا لَهَا عَرْفَهَا فَتَنظُرُ اتَهْتَدِى أَلَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِيْنَ لَا يَهْتَدُونَ - النمل: ۴۱ ) ملکہ نے دیکھا تو پہچان گئی کہ یہ اسی کا تخت ہے۔ اس چیز نے اس کی آنکھیں کھول دیں اور وہ ایمان جو حضرت سلیمان کی پہلی دعوت پر محض ایک جھلک دکھا کر غائب ہو گیا تھا اپنی پوری روشنی کے ساتھ اس کے دل میں اتركيا (قَالَتْ كَانَّهُ هُوَ وَ أَوتِينَا الْعِلْمِ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ - امل : ٣٢)

اس تشریح سے یہ شبہ رفع ہو جاتا ہے کہ ایک جلیل القدر پیغمبر نےکرامت کےزور سےدوسرے کی ملک پر تصرف کیا در اصل وہاں سرےسےقبضہ و تصرف کیا ہی نہیں گیا تھا بلکہ ایک مشرک قوم کی ملکہ اور اسکےاعیان سلطنت کو خدا داد قوتوں کا ایک کرشمہ دکھایا گیا تھا اور وہ بھی تماشہ گری کی غرض سےنہیں بلکہ اس غرض سےدکھایا گیا تھا کہ وہ شرک چھوڑ کرخالص خداپرستی اختیار کرلیں۔اس سلسلہ میں قرآن مجید حضرت سلیمان علیہ السلام کےاخلاص اور لهیب کی جو شہادت پیش کرتا ہےوہ ان شہبات کےلیےکوئی گنجایش نہیں چھوڑتی جو مستبصر نےپیش کیےہیں۔ملکه سبا ان کے سامنےایک کثیر رقم نذرانہ کےطور پر پیش کرتی ہے مگر وہ اس مال و دولت کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیتے ہیں کہ میرے خدا نے جو کچھ مجھ کو دیا ہے وہ تمھارے مال سے بہتر ہے۔ ملکہ کا تخت جب آن کی آن میں ان کے سامنے حاضر ہو جاتا ہے تو اپنی طاقت و شوکت پر فخر و غرور کا ایک حرف بھی اُن کی زبان پر نہیں آتا۔ بے اختیار اپنے پروردگار کے فضل و احسان کی تعریف کرتے ہیں اور سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔ پھر جب سبا کی ملکہ اطاعت گزار بن کر دربار میں آتی ہے تو اس کے ملک کا کوئی حصہ نہیں مانگا جاتا۔اس سےتجارتی اور معاشی مراعات و امتیازات کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ اس کی ریاست پر انتداب ( مینڈیٹ ) یا حمایت (پروٹیکٹوریٹ ) قائم کرنےکی تجویز نہیں کی جاتی ۔ اس کےہاں ریذیڈنسی اور ہائی کمشنری قائم کرنےکا ذکر بھی درمیان میں نہیں آتا۔ان سب چیزوں کےبجائے اس کے سامنے صرف ایک چیز پیش کی جاتی ہے اور وہ ہے کلمہ حق اور اس کی تائید میں خدائی طاقت کا ایک نشان (یعنی خود اس کا تخت ) اس کو دکھایا جاتا ہےتا کہ اس کو ہدایت ہو۔ اس معجزہ کو دیکھ کر ادھر ملکہ پکار اٹھتی ہےکہ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (النمل: ۲۴) اور ادھر اسلامی سلطنت کا فرمانروا مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس کا مقصد پورا ہو گیا۔

اب دوسرے سوال کو لیجیےیعنی یہ کہ یمن سے ملکہ کا تخت اٹھوا منگوانےکا معجزہ حضرت سلیمان کے بجائے ایک دوسرے شخص کےذریعہ سےکیوں صادر ہوا ؟ ظاہر ہے کہ یہ کام اللہ ہی کے اذن اور اسی کی طاقت سے ہوا تھا۔ اور اللہ چاہتا تو یہی کام اپنے پیغمبر سےبھی لےسکتا تھا۔ مگر جب اس نے ان کے بجائے ایک دوسرے شخص کو اس کےلیےانتخاب کیا تو ضرور ہے کہ اس میں بھی کوئی مصلحت ہوگی۔ وہ مصلحت کیا تھی؟اس بارےمیں یقین کےساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔تا ہم غور کرنے سے میری سمجھ میں جو بات آئی ہےوہ یہ ہے کہ شاید یہاں جن کی قوت ناریہ اور انسان کی قوت علمیہ کا فرق ظاہر کرنا مقصود(۱)تھا۔ انسان اگر چہ قید جسمانی میں رہ کر اپنی محدود ماڑی طاقت سےکوئی فوق العادت کام نہیں کرسکتا اوراس حیثیت سےجن کا وجود ناری انسان کے وجودِ خاکی سےبہت زیادہ قوی ہے۔لیکن جب علم کی قوت انسان کےساتھ ہو تو وہ تمام طاقت ور مخلوقات سے بڑھ کر طاقتور ہو جاتا ہے۔ اس قوتِ علمیہ کا مظاہرہ اگر ایک پیغمبر کے ذریعہ سے کرایا جاتا تو اس شبہ کی گنجائش نکل سکتی تھی کہ پیغمبر تو جن وانس میں سب سے افضل ہے۔ اس کی فوقیت اگر ثابت ہو گئی تو اس سے بشر من حیث البشر کا علمی تفوق ظاہر نہیں ہوا۔ اس لیے اللہ تعالی نےایک معمولی غیر بنی انسان سے اس علمی طاقت کا مظاہرہ کرا دیا تا کہ حقیقت بالکل عیاں ہو جائے۔ادنی شبہ بھی باقی نہ رہے۔

رہا یہ سوال کہ اس قصہ کی یہ تفصیلات جو قرآن میں ہیں، وہ بائیل اور تلمود میں کیوں نہیں ہیں ؟ تو اس کا جواب آپ کو قرآن اور ان کتابوں کے متقابل مطالعہ سےخودمل جائےگا۔ بائیل اور تلمود میں ہر طرح کے رطب و یابس افسانے بھرے ہوئے ہیں اور ان میں اکثر ہیرے چھوڑ کر کو نکلے چنے گئے ہیں۔ بیسیویں صفحے پڑھ جائے تو کہیں انفاق سےکوئی ایک کام کی بات ملے گی۔ جو قصہ بیان ہوگا اُس کی غیر ضروری تفصیلات تو بہت مل جائیں گی مگر کم ہی کوئی ایسی چیز پائی جائے گی جو اپنےاندر کوئی حکمت کوئی موصلت' کوئی دینی اخلاقی، شرعی یا سیاسی سبق رکھتی ہو ۔ بخلاف اس کےکہ قرآن میں تمام غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ کر انبیاء علیہم السلام کی سیرتوں کا عطر نکال لیا گیا ہے اور صرف وہ چیزیں پیش کی گئی ہیں جو ہر زمانے اور ہر قوم کے انسانوں کے لیے اپنے اندر بے حد و حساب ہدایتیں رکھتی ہیں ۔ بیکار تاریخی جزئیات ان کتابوں میں بہت ہیں اور قرآن میں کہیں نہیں ۔سبق آموز واقعات تمام تر قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور یہ کتا بیں ان سے خالی ہیں۔


١- قصے کا یہ پہلو پیش نظر رہے کہ دربار سلیمانی کے ایک نہایت طاقتور جن نے کہا تھا کہ میں دربار برخاست ہونے سے پہلے پہلے یمن سے تخت اٹھا لاؤں گا مگر جس انسان کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے پلک جھپکاتے ہی تخت لا حاضر کیا۔

بات یہیں تک نہیں، اس سے بھی زیادہ افسوس ناک ہے۔ متعدد پیغمبروں کی زندگیوں کو بائیل اور دوسری اسرائیلی روایات میں اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ ان کو پیغمبر مانا در کنار کوئی اعلیٰ درجہ کا شریف انسان تسلیم کرنا بھی مشکل ہے۔ یہ فخر صرف قرآن کو حاصل ہے کہ اس نے انبیاء علیہم السلام کی سیرتوں کو ان اسرائیلی نجاستوں سے پاک کیا ہے اور از سرنو دنیا میں اُن پاک شخصیتوں کی وہ عظمت و حرمت قائم کی ہے جس کے وہ در اصل مستحق تھے ۔ حضرت نوع حضرت ابراہیم حضرت لوط “ حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب حضرت یوسف حضرت ہارون حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کےحالات بائیل میں پڑھیئے کتنے ہی سیاہ دھبے آپ کو وہاں نظر آئیں گے ۔ قرآن میں دیکھیے ۔ آسمان عز و شرف کے چمکتے ہوئے مہ و انجم دکھائی دیں گے ۔خود حضرت سلیمان کو اسرائیلیات میں نبوت کیا معنی ایمان سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ بائیل کہتی ہے کہ آخر عمر میں دو زن پرستی میں ایسے غرق ہوئے کہ شرک تک میں مبتلا ہو گئے ۔ اس کے برعکس قرآن کہتا ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ کے مومن اور اللہ کے جلیل القدر پیغمبر تھے اور آخر وقت تک یہی کچھ رہے۔

بنی اسرائیل کا مذاق اخلاقی و روحانی معاملات میں کچھ اس درجہ پست ہو گیا تھا کہ انھوں نے صرف یہی نہیں کہ اپنی مذہبی کتابوں میں خود اپنے انبیا ء کی سیرتوں کو بھونےافسانوں سے داغ دار بنایا بلکہ جب قرآن مجید نے ان بزرگوں کے ملکات فاضله اور اخلاق حسنہ اور ان کے بلند پایہ کارناموں کی صحیح تصویر کھینچی اب بھی انھوں نے اسے قبول نہ کیا۔ان کو یقین ہی نہ آیا کہ انسانی سیرت اتنی پاکیزہ بھی ہو سکتی ہے، بشری اخلاق اتنے بلند بھی ہو سکتے ہیں' آب و گل کے بنے ہوئے آدمی اس قدر پاک نفس عالی حوصلہ اور فانی فی اللہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اُن کے تصور سے یہ چیزیں بہت بالا و برتر تھیں۔ اسی لیے نزول قرآن کے بعد اسرائیلی مذاق کی کارفرمائی پھر شروع ہو گئی۔ قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کے جو قصے بیان ہوئے ہیں ان میں سے ایک ایک پر ہاتھ صاف کیا گیا اور ہر ایک کی جان نکال لی گئی۔ قرآن کا انداز بیان یہ ہے کہ وہ قصوں کی غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ کر صرف کام کی باتیں لے لیتا ہے۔اس طرح واقعات کےدرمیان جو خلا چھوٹ جاتا ہے پڑھنے والا خود اس کو اپنے تصور سےیا بیرونی معلومات سے(اگر ہوں تو ) بھر سکتا ہے۔مگر اسرائیلی مذاق رکھنے والوں نے اس خلا کو افسانوں سے پر کیا اور افسانےبھی ایسےپست اور گھٹیا کہ اُن کی آمیزش سےان قصوں کے سارے اخلاقی فوائد برباد ہو کر رہ گئےبدقسمتی سےقصص القرآن کی تفسیروں میں یہی اسرائیلیات کثرت سے رائج ہو گئے ہیں، اور قرآن کا مطالعہ کرنے والوں کو اکثر شبہات انھی کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔

اس قصه سلیمان و ملکه سبا کو دیکھ لیجیے۔ قرآن کے صاف اور سادہ بیان میں حضرت سلیمان کی سیرت پاک کا کتنا اچھا نقشہ کھینچا گیا ہے مگر اسرائیلی مذاق کی کارفرمائی نے اس کی اہم خصوصیات میں سے ایک ایک کو مٹا کر چھوڑا اور اس کو اپنے بلند مقام سے گرا کر ایسی پستی میں پھینک دیا کہ اس میں کوئی تعلیمی روح باقی ہی نہ رہی بلکہ پڑھنے والا اگر اس روشنی میں اس قصے کو پڑھے تو اس کو تعجب ہوگا کہ قرآن میں اس قصہ کی ضرورت ہی کیا تھی۔

ملکہ سبا کے ہدیے کو واپس کرنے کی وجہ اوپر بیان ہو چکی ہے۔ مگر اسرائیلی مذاق نے اس کی جو توجیہ کی ہے وہ بھی سنیے :

ملکہ نے دوسو غلاموں اور دوسولونڈیوں کو ایک سالباس پہنا کر بھیجا تھا جس میں تمیز نہ ہوتی تھی کہ غلام کون ہے اور لونڈی کون ۔ وہ اس سے حضرت سلیمان کی عقل کا اندازہ کرنا چاہتی تھی۔ حضرت سلیمان کےپاس یہ جماعت پہنچی تو انھوں نےلونڈیوں کو الگ اور غلاموں کو الگ کر دیا اور کہا کہ ان کو لےجاؤ ایسا ہد یہ تمہیں کو مبارک رہے۔ اس توجیہ کے بعد اب ذرا پھر حضرت سلیمان کے جواب پر ایک نظر ڈالیے ۔ کیا اب بھی اس میں کوئی جان کوئی بلند اخلاقی زوح باقی رہ جاتی ہے۔

تخت اُٹھوا کر منگوانے کی مصلحت بھی آپ کو اوپر معلوم ہو چکی ہے۔ اب ذرا اس کی توجیہ کو بھی دیکھیے جو اسرائیلیات کےزیر اثر کی گئی ہے۔ ہد ہد نے حضرت سلیمان سےسبا کے تخت شاہی کی بڑی تعریف کی تھی۔ سارا تخت سونےاور بیش قیمت جواہرات کا بنا ہوا ہےکاریگری کا عجیب نمونہ ہے۔ ایک بے بہا چیز ہے۔حضرت سلیمان ان تعریفوں کوسن کر بے تاب ہو گئے ۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ فوج ملکہ سبا اور اعیانِ سلطنت کو لیے آتی ہے تو انھیں خیال ہوا کہ اگر یہ لوگ مسلمان ہو گئے یا انھوں نے اطاعت قبول کر لی تو پھر یہ چیز ہاتھ نہ آسکے گی۔ لہذا انھوں نے حکم دیا کہ ان کے آنے سے پہلے تخت یہاں لے آؤ انا اللہ وانا الیہ راجعون!

کہاں وہ پاک نیت اور کہاں یہ طمع و حرص ! کس بلندی سے کس پستی میں اس واقعہ کو پھینکا گیا ہے۔

تخت کو ملکہ کےسامنےپیش کرنےکااصل مقصد تو یہ بتانا تھا کہ تو جس متاع عزیز کو قفلوں میں بند کرکےبڑے چوکی پیروں میں رکھ آئی تھی وہ یہاں حاضر ہے۔ یہ الہی علم کی طاقت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے اور تیری آنکھوں کےسامنے ہے۔دلائل عقلی کے ساتھ اس وليلي ماڈی کو محض اس لیے پیش کیا گیا تھا کہ کسی طرح اس عورت کو ہدایت نصیب ہو جائےخود حضرت سلیمان نے اس فعل کی غرض یہی بتائی ہےکہ نَنظُرُ أَتَهْتَدِى لَمْ تَكُونُ من اللين لا يفتنون (النمل: (۳) عمر ایسی کھلی ہوئی بات بھی افسانہ طلب حضرات کےذہن کی رسائی سے بالاتر ثابت ہوئی۔ انھوں نے تخت کو پیش کرنے کی توجیہ یہ کی ہے کہ حضرت سلیمان اس کی معقل کا امتحان لینا چاہتے تھے اس لیے تخت کی ساخت میں کچھ ترمیم کرا دی اور اس کے سامنے رکھوا دیا یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ اس کو پہچانتی ہے یا نہیں ۔ انبیاء کے کاموں کو جب عامیانہ نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے تو وہ اسی طرح بلند مقاصد اور اعلیٰ درجہ کے مصالح وحکم سے خالی نظر آتے ہیں۔

سب سےزیادہ رکیک بات جو اس سلسلہ میں کہی گئی ہے وہ شیش محل میں ملکہ سبا کی حاضری کے متعلق ہےقرآن مجید میں ارشاد ہوا ہےکہ حضرت سلیمان نےملکہ کےسامنےاس کا تخت پیش کرنےکےبعد اسےاپنا شیش محل دکھایا جس کا فرش بھی شیشےیا بلور کا تھا۔ملکہ جب وہاں پہنچی تو شیشےکےفرش کو پانی سمجھ کر اپنے پانچے اُٹھانے لگی۔حضرت سلیمان نے کہا کہ یہ شیشے کا فرش ہےاب ملکہ کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں ۔ اُس کےدل نے گواہی دی کہ جس شخص کے پاس اتنی بڑی سلطنت ہے اتنی دولت ہے اس قدر اسباب میش و نعمت ہیں، ایسی غیر معمولی طاقتیں ہیں کہ چشم زدن میں خود میرا تخت ہزاروں میل سےاُٹھوا منگاتا ہے اور پھر ان سب چیزوں کے باوجود اس کے اخلاق کا اس کی طہارت نفس کا اس کے تقویٰ اور خلوص وللہیت کا یہ حال ہے وہ یقینا ایک سچا آدمی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اس کے دعوائے نبوت کی تکذیب کی جائے اسی لیے وہ بے اختیار پکار اٹھی که رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِى وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (النمل :۴۴) اے پروردگارا میں نے اپنے اوپر ظلم کیا کہ اب تک تجھے چھوڑ کر آفتاب کی پرستش کرتی رہی۔اب میں سلیمان کے ساتھ اُس اللہ کی بندگی اختیار کرتی ہوں جو سارے جہان کا ربّ ہے ۔یہ تو ہے قرآن کا بیان ۔ مگر اب ذرا اسرائیلی مذاق کی تفسیر دیکھیے جو شیاطین اور جن حضرت سلیمان کے تابع فرمان تھے۔ انھیں خوف ہوا کہ حضرت کہیں ملکہ سبا پر ریجھ نہ جائیں۔ اس لیے انھوں نے کہا کہ یہ عورت ایک جتنی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوئی ہے اور اس کے پاؤں انسان کے سے پاؤں نہیں بلکہ گدھی کے سے کھر ہیں۔ حضرت سلیمان نے اس بیان کی حقیقت معلوم کرنے کے لیےحکم دیا کہ ایک شیش محل بنایا جائے جس کا فرش بھی شیشے کا ہو اور اس فرش کے نیچے پانی بھر دیا جائے۔مقصد یہ تھا کہ ملکہ جب وہاں داخل ہو گی تو پانی دیکھ کر اپنے پانچے اٹھا لے گی اور یوں اس کی پنڈلیاں دیکھنےکا موقع مل جائےگا۔ نعوذ بالله من ذلک۔ یہ ایک نبی کا قصہ ہےیا کسی نفس پرست اور دنی الطبع بادشاہ کا؟

یہ چند نمونے ہیں جن سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی مذاق اور اسرائیلی ذهنیت نے توریت کی تعلیمات کو مسخ کرنے کے بعد قرآن کی تعلیمات کو بھی مسخ کرنے اور انبیاء علیہم السلام کی پاک زندگیوں پر اپنے تخیل کےسیاہ دھبتے ڈالنےمیں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی تھی۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ اُس نے قرآن کو اس کے اصل الفاظ میں محفوظ کر دیا ہے جن کی طرف رجوع کر کے ہر صاحب نظر انسان حقیقت کو افسانوں سے الگ کر سکتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص قرآن کی موجودگی میں بھی اسرائیلیات سے شغف رکھے اور انھی کے افسانوں کو قرآن کی تعبیر وتفسیر کا ذریعہ سمجھتا ر ہے تو یہ اس کی اپنی غلطی ہے۔

ترجمان القرآن

ربیع الثانی ۱۳۵۵ھ - جولائی ۱۹۳۶ء

کتاب تفہیمات، دوم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Understandings