تفہیمات، دوم

نماز کے متعلق ایک عام شبہ

نماز کے متعلق ایک عام شبہ

پچھلے مضمون کی اشاعت کے بعد ہمیں ایک خط موصول ہوا جس میں حسب ذیل شبہ کا اظہار کیا گیا ہے :-

"جہاں تک اوقات نماز کا تعلق ہے آپ نے "حق گو" کے شبہات کو اس طرح دُور کر دیا ہے کہ کسی بحث و کلام کی گنجائش باقی نہیں رہی، لیکن جہاں آپ نے یہ بتایا ہے کہ انسان کی عملی زندگی پر نماز کا کیا اثر مترتب ہوتا ہے اور نماز کس طرح انسان کو اطاعت احکام الہی کا خوگر بناتی اور اس میں فرض شناسی کا مادہ پیدا کرتی اور اسےزندگی کے معاملات میں اسلام کے ڈسپلن کی پابندی کرنے کےقابل بناتی ہے وہاں ایک طہ پیدا ہوتا ہے جس کا کوئی جواب میری سمجھ میں نہیں آتا۔ نظریہ کی حد تک تو میں مانتا ہوں کہ نماز اور صرف نماز ہی نہیں، اسلام کی دوسری فرض عبادات بھی اسی غرض کے لیےرکھی گئی ہیں کہ انسان کی عملی زندگی پر ان کا اثر مترتب ہو اور ان کےلیے جو صورت مقرر کی گئی ہے وہ یقیناً ایسی ہے کہ اس کا وہی اثر اخلاق وسیرت اور کردار پر مترتب ہونا چاہیے جو مقصود ہے ۔ مگر اس کی کیا وجہ ہے کہ آج ہم اس اثر کو مسلمانوں کی عملی زندگی میں مفقود پاتے ہیں؟ چاہیے تو یہ تھا کہ نماز پڑھنے والے روزہ رکھنےوالے حج اور زکوۃ ادا کرنے والے مسلمان اسلامی اخلاق کے نمونے ہوتےصداقت امانت، تقوی وطہارت کے پتلے ہوتے ۔ مگر واقعہ اس کےخلاف نظر آتا ہے۔ نمازیوں روزہ داروں اور حاجیوں کو ہم باعتبار اخلاق و معاملات ان لوگوں سے کچھ بھی مختلف نہیں پاتے جو نماز روزہ اور دوسری عبادات کے تارک ہیں۔ بلکہ بہت سے عبادت گزار لوگوں کا حال تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انھوں نے اپنی عبادت گذاری کو اپنے معاملات کی خرابی کے لیے سپر بنا رکھا ہے اور ان کے اعمال کی خرابیوں کو دیکھ دیکھ کر اکثر نئے تعلیم یافتہ حضرات خود نماز روزے کی طرف سے بدگمان ہوتے جارہے ہیں۔"

اس خط میں معترض نے جو شبہ ظاہر کیا ہے وہ آج کل عام طور پر دلوں میں پایا جاتا ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایک حد تک واقعات پر مبنی بھی ہے مگر اس میں کوئی ایسا اشکال نہیں ہے جس کے حل میں دشواری ہو۔ معترض خود تسلیم کرتا ہےکہ اسلامی عبادات کا نظریہ اپنی جگہ بالکل درست ہے۔ عقل حکم لگاتی ہے کہ جس غرض کے لیے یہ عبادات فرض کی گئی ہیں وہ اُن سے بدرجہ اتم پوری ہونی چاہیے کیونکہ انسان کے نفس کو خدا کی طرف متوجہ کرنے اور احکامِ خداوندی کی اطاعت کا خوگر بنانے کے لیے اس سےبہتر کوئی عملی طریقہ نہیں ہو سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ عالم واقعہ میں بھی اس نظریہ کی صحت ثابت ہو چکی ہے۔ قرون اولی میں اسی نماز روزے اور حج و زکوۃ نے اسلام کے نصب امین کے مطابق عرب و عجم کے لاکھوں کروڑوں انسانوں کی رُوحانی و اخلاقی تربیت کی تھی اور ان کے اخلاق وسیرت اور کردار پر وہی اثر ڈالا تھا جو اسلام کا مقصود تھا۔ اب اگر ہم کسی شخص یا جماعت کی عملی زندگی میں ان عبادات کے وہ اثرات نہیں دیکھتےتو ان عبادات کی تاثیر میں طلبہ کرنے کے بجائے ہم کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نفوس کی اثر پذیری کی صلاحیت کسی وجہ سے ماؤف ہو گئی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے۔ تجربہ و مشاہدہ کی حمرار نے اس امر میں کسی طلبہ کی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے کہ آگ کا کام جلانا اور لکڑی کا کام جل جاتا ہے۔ اس یقینی علم کے بعد اگر کسی وقت ہم یہ دیکھتے ہیں کہ لکڑی کو آگ پر رکھا جا رہا ہے اور وہ نہیں جلتی تو ہم کو یہ گمان نہیں ہوتا کہ آگ میں جلانے کی خاصیت نہیں رہی ہے بلکہ ہم یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ لکڑی گیلی ہے اس میں آگ کا اثر قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح جس طریق تربیت و ہدایت کے متعلق از روئے عقل ہم جانتے ہیں کہ نفوس پر اس سے ایک خاص اثر مترتب ہونا چاہیےاور اس کی عین فطرت اس کی مقتضی ہےکہ اس سے نفوس پر وہی اثر مترتب ہو اور تجربےسےثابت بھی ہو چکا ہےکه مختلف زمانوں اور مختلف حالات میں بے شمار نفوس پر فی الواقع وہی اثر مترتب ہوا ہےاس کی تاثیر کو اگر ہم بعض نفوس کے حق میں ناکام دیکھتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہمارے دل میں اس کی تاثیر کے متعلق کوئی شک پیدا ہو؟ کیوں نہ ہم سمجھیں کہ گیلی لکڑی کی طرح ان نفوس میں بھی اثر قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے؟

جہاں تک نماز کی ظاہری صورت کا تعلق ہےوہ تو اس کےسوا کچھ بھی نہیں ہےکہ اوقات مقررہ پر چند جسمانی حرکات کا اعادہ اور چند مقرر الفاظ کی تکرار ہے اور یہی حال دوسری عبادات کا بھی ہے۔ ایک خاص مہینے میں صبح سے شام تک اکل و شرب اور مباشرت سےمجتنب رہے اس کا نام روزہ ہو گیا۔سال میں ایک مرتبہ اپنے مال میں سے ایک مقررہ مقدار مخصوص مصارف کےلیے نکال دی یہ زکوۃ ہوگئی۔ ایک خاص زمانے میں تجاز کا سفر کر لیا اور مخصوص مقامات پر چند مناسک ادا کر دیئے یہ حج ہو گیا۔ ظاہر ہے کہ بجائے خودان افعال میں کوئی ایسی چیز نہیں ہےجو انسان کے نفس پر اثر انداز ہو سکتی ہو مجرد افعال ہونےکےلحاظ سےنماز اور ایک جسمانی ورزش روزےاور فاقےزکوۃ اور سرکاری ٹیکس حج اور عام سفروں کےدرمیان کچھ بھی فرق نہیں۔اور کوئی صاحب عقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ ورزش جسمانی سےرُوح میں لطافت پیدا ہوتی ہےیا فاقہ کرنےسے اخلاقی تربیت ہوتی ہےیا ٹیکس ادا کرنے اور کسی مقام کا سفر کر آنے سے انسان میں اعلیٰ درجے کے اوصاف پیدا ہو جاتے ہیں۔

مگر جو چیز ان اعمال کو دوسرے افعال سے ممتاز اور ان کو تہذیب اخلاق و تزکیه نفس و تصفیه رُوح کا ایک بہترین ذریعہ بناتی ہےوہ ایمان ہےایمان ہی رکوع و سجود اور قیام و قعود کو "نماز" بہاتا ہے۔ وہی فاقے کو "روزے" میں تبدیل کر دیتا ہے۔ وہی ٹیکس کی ماہیت میں انقلاب پیدا کر کے اُسے"زکوۃ" کا بلند مرتبہ بخشتا ہے اور وہی ایک خاص قسم کےسفر کو سیر و سیاحت کےادنیٰ مقام سےاُٹھا کر "حج" کےاعلیٰ مقام پر پہنچا دیتا ہےدر حقیقت ان تمام عبادات کی روح اور ان کا جو ہر وہی ہے۔ اس سے ارکان عبادت میں معنویت پیدا ہوتی ہے۔ وہی اُن ارکان کو تاثیر کی قوت بخشتا ہے۔ اُسی کی بدولت نفس میں اُن سے متاثر ہونے کی استعداد پیدا ہوتی ہے۔

اب ظاہر ہےکہ اگر کوئی شخص واقعی ایمان رکھتا ہو خدا کو اپنا خدا سمجھتا ہو آخرت کی زندگی پر عقیدہ رکھتا ہو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول مانتا ہو اور ان کی لائی ہوئی تعلیم کو خدا کی تعلیم سمجھتا ہو تو ممکن نہیں ہے کہ وہ دن میں پانچ وقت نماز کا سبق تازہ کرے اور پھر بھی اس کی لوح دل اس سبق کے اثر سے یکسر خالی رہے اور اس کی روز مرہ زندگی میں خوف خدا اور اطاعت احکام الہی کا کوئی نشان نمایاں نہ ہو ۔ ہر سال پورے ایک مہینے تک سخت ضوابط کے ماتحت پر ہیز گاری اور خدا ترسی کی تربیت پاتا رہے اور پھر بھی اس کی زندگی میں قطعاً کوئی انقلاب نہ ہو حتی کہ وہ بالکل ایسا کورے کا کورا رہ جائے کہ گویا اس نے کوئی تربیت پائی ہی نہیں۔ خالص ایمان بالغیب کی تحریک پر ہر سال اپنے محبوب مال کی قربانی کرتا رہے۔ اور پھر بھی اُسی فتح نفس اور قساوت قلب اور حرام خوری و خود غرضی کےمرض میں مبتلا رہے جو ایک بے ایمان خود پرست انسان میں پائی جاتی ہے۔ اپنے رب کی پکار پر تیک تیک کہتا ہوا اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنے مفید و محبوب مشاغل ترک کر کےفقیرانہ لباس پہن کر نکلئے ایک مدت دراز تک اسی شوق اور عشق کی لگن دل میں لیے ہوئےسفر کرئے یہاں تک کہ مرکز اسلام میں پہنچ کر اپنی آنکھوں سے اللہ کی اُن روشن نشانیوں کا مشاہدہ کر لے جو خدا کے نیچے اور مطیع فرمان بندوں کی سرفرازیوں پر اور سرکشوں کی نامرادیوں پر کھلی گواہی دے رہی ہیں، اور پھر بھی جب واپس آئے تو اس سفر کے آثار اور نتائج سے اس کی سیرت ایسی معر ا ہو کہ وہ گویا کہیں گیا ہی نہیں اور اس کی آنکھوں نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔

یہ ضرور ہے کہ کمیت و کیفیت کے اعتبار سے ہر نفس پر ان عبادات کی تاثیرات یکساں نہیں ہو سکتیں۔ نفوس کی کم و بیش صلاحیتوں کےلحاظ سےاور قوت ایمانی کی زیادتی اور کمی کےلحاظ سےاُن کا کم و بیش اور شدید وضعیف ہونا ایک فطری بات ہے۔ لیکن یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ ایمان کے ساتھ جو عبادت کی جائے وہ بالکل ہی بے اثر ثابت ہو۔ہم یہ بات قطعیت کےساتھ کہہ سکتےہیں کہ جو شخص نماز کو فحشاء ومنکر کے ساتھ جمع کرتا ہےجس کی زندگی میں روزہ اور فسق ایک ساتھ پائے جاتےہیں،جس کی سیرت میں حرام خوری اور زکوۃ دونوں بہم ہیں' جو حج اور جتک حرمات کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا رہا ہے اس کی نماز نماز نہیں ایک عادی حرکت ہے اس کا روزہ، روزہ نہیں فاقہ ہے اس کی زكوة " زکوۃ نہیں چندہ یا ٹیکس ہے اس کا حج، "حج" ، نہیں بلکہ اس کے حق میں ویسا ہی ایک سفر ہے جیسا پیرس اور لندن کا سفر ۔

یہ جو کچھ کہا گیا' اس کے مصداق صرف وہی لوگ ہیں جن کی سیرت اور کردار پر معترض کے بیان کے مطابق عبادات اسلامی کا کوئی اثر مترتب نہیں ہوتا ۔ لیکن مجھے یہ تسلیم کرنے سے قطعی انکار ہے کہ مسلمانوں میں جتنے نمازی روزہ دار زکوۃ کے پابند اور حج ادا کرنے والے ہیں سب کے سب ایسے ہی ہیں۔ ممکن ہے کہ ایک قلیل تعداد ایسے منافقین پر بھی مشتمل ہو لیکن الحمد للہ کہ اکثریت کا یہ حال نہیں ہے۔ اکثریت جس مرض میں مبتلا ہےوہ نفاق نہیں، بلکہ ضعف ایمانی ہے۔ اسی ضعف کا یہ نتیجہ ہے کہ عبادات کی تاثیریں بھی ضعیف ہوگئی ہیں۔ نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں، حج بھی کر آتےہیں مگر یہ سب چیزیں دلوں کو مس کرتی ہوئی اس طرح گزر جاتی ہیں جیسے بھاپ آئینے کی سطح پر ایک ہلکی سی نمی چھوڑ کر گزر جائے ۔ یہ تاثیر کا عدم نہیں بلکہ اس کا ضعف ہے۔ ایمان کی چنگاریاں دلوں میں دبی چھپی اب بھی موجود ہیں اور ان کی حرارت سے عبادتیں کچھ نہ کچھ اثر ضرور کر رہی ہیں۔ لیکن وہ اثر اتنا کمزور ہوتا ہے کہ عبادت گزاروں کی سیرت اور کردار میں اس کے نشانات کچھ بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوتے ۔

میں یہ ماننے سے بھی انکار کرتا ہوں کہ مسلمانوں میں جو لوگ عبادات کے پابند ہیں، ان کا حال عبادت نہ کرنے والوں سے بدتر یا اُن کے برابر ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہماری قوم میں اب بھی اگر مجموعی حیثیت سے دیکھا جائے تو اخلاقی حیثیت سے وہی عصر زیادہ بہتر پایا جائے گا جو نماز روزے کا پابند ہے۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ دیکھنے والوں کی نگاہوں میں خدا فراموش لوگوں کی بہ نسبت عبادت گزاروں کی برائیاں زیادہ کھنکتی ہیں۔ایک تارک صوم و صلوۃ کی بدسیرتی و بد معاملگی اتنی زیادہ بری معلوم نہیں ہوتی جتنی ایک پابند صوم و صلوۃ کی بدسیرتی و بد معاملگی بےنمازی سےبرائی بھی متوقع ہوتی ہے اس لیےجب وہ بُرائی کرتا ہے تو اس کی کچھ زیادہ شکایت نہیں ہوتی ۔مگر نمازی سے ہر شخص یہ امید رکھتا ہے کہ وہ خدا سے ڈرنے والا اور پرہیز گار ہوگا۔ اس لیے جب اس سے عام توقعات کے خلاف بُرے اوصاف کا ظہور ہوتا ہے تو یہ معاملہ ہر آنکھ میں کھٹک اور ہر زبان پر شکایت پیدا کر دیتا ہے۔ سفید دیوار پر سیاہی کی ایک چھینٹ بھی ہو تو ہر دیکھنےوالا اس عیب پر انگلی اٹھائے گا۔ باورچی خانے کی سیاہ دیواروں پر جتنا چاہے کوئلہ مل دیکھیے۔ کسی کو بھی اس کی پروا نہ ہوگی۔

بے جا مبالغہ اگر نہ کیا جائے تو حقیقت صرف اتنی ہی ہے کہ ہمارے درمیان ایک عظیم اکثریت ایسے نمازیوں اور عبادت گزاروں اور حاجیوں کی ہے جو ان عبادات سےاصلاح نفس کے وہ پورے فوائد حاصل نہیں کر رہی ہے جو دراصل ان سے حاصل ہو سکتےہیں ۔ اور یہ بات کچھ بے سبب نہیں ہے۔ اس کا ایک اہم سبب ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایمان جو ان عبادات کی جان اور ان کی تاثیر کا اصل موجب تھا، دلوں میں ضعیف ہو گیا ہے۔

پھر ضعف ایمان کا بھی ایک سبب ہے اور وہ ہے قرآن کی تعلیم سے نابلد ہونا۔ خدا نے ایمان کی دعوت دینے کے لیے جس چیز کو ذریعہ بنایا تھا وہ تو یہی قرآن تھا مگر عام مسلمان اس کے فہم سے محروم اور اسی کی تعلیم سے ناواقف ہیں ۔ اب آخر دلوں میں ایمان کانشو ونما ہو تو کس طرح ۔

ایک اور چیز جس کا ہماری عبادتوں کو ضعیف الاثر بنانے میں بڑا حصہ ہے دین اور دنیا کی علیحدگی کا غلط تخیل ہے۔ یہ دراصل جاہلیت کا اعتقاد تھا جس کو اسلام نے بالکل مٹا دیا تھا۔ مگر نہ معلوم اس نے کس طرح مسلمانوں میں راہ پالی۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ یہ سمجھتےتھے کہ دین انسانی زندگی کے شعبوں میں سے محض ایک شعبہ ہے جس کا دوسرے شعبوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مذہبی رسوم عبادات اور قربانیاں محض اس لیے ضروری ہیں کہ خدا یا دیوتاؤں کو خوش کیا جائے اور زندگی کے معاملات میں اُن کی تائید حاصل کی جائے۔ ان فرائض کو انجام دے کر جب انسان عبادت گاہوں سے باہر نکلے تو مذہب کی طرف سے اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور وہ مختار ہوتا ہے کہ اپنی دنیا کے معاملات جس ڈھنگ پر چاہے چلائے ۔ اسلام نے اس غلط حد بندی کو مٹایا۔ دین کو زندگی کا ایک شعبہ نہیں بلکہ پوری زندگی کا نظام العمل قرار دیا تھا۔ عقائد اور اخلاق کے درمیان ایمان اور سیرت کےدرمیان عبادات اور معاملات کے درمیان مذہبی اعمال اور دنیوی اعمال کے درمیان ایک گہرا ربط قائم کیا۔ اور انسان کی دنیوی زندگی ہی کو بالکلیہ دینی زندگی دیا۔ اس نے بتایا کہ دین اس دنیا کے معاملات سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اسی دنیا کے کاروبار میں اللہ تعالی کے قانون کی پیروی اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی اور اس کی رضا کےاتباع کا نام دین ہے۔ عبادات اور معاملات دو مختلف چیزیں نہیں ہیں بلکہ معاملات ہی میں حدود اللہ کی پابندی اور خوشنودی الہی کی طلب اور تقرب الی اللہ کی سعی کا نام عبادت ہے۔نماز روز اور اور حج و زکوۃ کو عبادت اور فرض قرار دینے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ عبادت کو انھی اعمال میں منحصر کر دیا جائے بلکہ دراصل یہ اعمال انسان کو اُس بڑی عبادت کے لیے مستعد کرنے والے ہیں جس کا دائرہ اُس کی پوری زندگی پر وسیع ہے۔ مسلمان کی عبادت گاہ پوری کائنات ہے۔ اس کی ساری زندگی عبادت ہے۔ اس کو ہر آن خدا کا عبادت گزار بندہ ہونا چاہیے۔ اس کا معبد صرف اس کی مسجد تک محدود نہیں بلکہ مسجد اس کی تربیت گاہ ہےجہاں وہ عبادت کی قابلیت پیدا کرتا ہے۔ اگر اس کی نماز اور اس کے روزے اور اس کی دوسری عبادتوں کا ربط اس کے معاملات سے منقطع ہو جائے اور وہ اپنی زندگی کے اعمال میں قانون الہی کے اتباع سے آزاد ہو تو محض صوم و صلوۃ کی پابندی سے وہ دین دار اور عبادت گزار بندہ نہیں بن سکتا۔

افسوس ہے کہ دین کا یہ تصور رفتہ رفتہ مسلمانوں کے ذہن سے محو ہوتا جا رہا ہے اور دین و دنیا کی علیحدگی کا وہی جاہلی تصور اس کی جگہ لےرہا ہےجس کو اسلام نےمٹا دیا تھا۔اور یہ اسی غلط تصور کا نتیجہ ہےکہ عبادات اور معاملات کا باہمی تعلق منقطع ہو گیا۔ عملی زندگی سے نمازوں کا ربط ٹوٹ گیا۔ معاشیات پر زکوۃ کی فرماں روائی باقی نہ رہی۔سال کےگیارہ مہینےرمضان کی حکومت سے آزاد ہو گئے بلکہ رمضان المبارک غریب خود بھی اپنےحدود میں صرف حلق کا دربان بنا کر رکھ دیا گیا۔ حج کی حیثیت ہندوؤں کی جاترا اور عیسائیوں کے Pilgrimage سے زیادہ نہ رہی ۔ اور یہ غلط نہی عام طور پر لوگوں میں پھیل گئی کہ نماز اور فحشاء و منکر روزے اور فسق و فجور زکوۃ اور حرام خوری اور ہتک حرمات ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔

ترجمان القرآن

( شعبان ۱۳۵۴ھ مطابق نومبر ۱۹۳۵ء)

کتاب تفہیمات، دوم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Understandings