خطبہ جمعہ کی زبان کے مسئلے پر جناب نے نقلا و عقلاً جو روشنی ڈالی ہے اور حالات زمانہ کے لحاظ سے جو نتائج اخذ فرمائے ہیں اس حد تک تو مجال اختلاف نہیں۔ سچ ہے کہ عربی زبان تو در کنار مسلمان اپنی ابتدائی دینی تعلیم بھی لازمی نہیں کرا سکتے تو خطبۂ جمعہ کا تحکم کیا معنی ۔ مجبوری کے لیے تو حرام کھانے کی بھی اجازت ہے۔ لیکن اس تحقیق میں جناب نے جو اصولی بحث چھیڑ دی ہے وہ محل نظر ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے عمل کو مصلحت شرعی کےبجائے ایک طبعی فعل قرار دینے پر جو دلائل اور وجوہ جناب نے تحریر فرمائے ہیں وہ قلب کو مطمئن نہیں کرتے ۔ بلاشبہ اسلام کو وطنی اور لسانی عصبیت سے کوئی علاقہ نہیں بلکہ وہ آیا ہی اس لیے ہے کہ گروہ انسانی میں جو ملکی ونسلی اور لسانی غلط تخیلات بناء تفریق و تقسیم ہیں ان کو مٹا کر مختلف اقوام کی جگہ ایک قومیت کی تعمیر کی جائے۔ اس قومیت کا نام اسلام إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الاسلام (آل عمران : ۱۹) اور قوم کا نام مسلم رکھا گیا۔ سمكُمُ الْمُسْلِمِينَ (الحج: ۷۸ ) جس طرح دنیا میں مختلف قومیں آباد ہوئیں اور ہیں اور ہر قوم کی ایک زبان رہی ہےتو فطرتا اس قوم مسلم کی بھی کوئی ایک زبان ہونی چاہیےجو نتائج فطرتاً ولا زما پیدا ہوتے ہیں ان کو حاصل کرنے کا حکم نہیں دیا جاتا۔ حکیم یہ نہیں کہے گا کہ تم مرض کو دفع کرو بلکہ ان ہدایتوں پر عمل کرائے گا جن پر عمل کرنے کا نتیجہ صحت ہے۔ حاکم قوم محکوم کی زبان کو بدل دینےکا حکم نہیں دیتی ۔فطرتا محکوم حاکم قوم کی زبان اختیار کریں گےپھر خالق فطرت ایسا حکم کیوں دیتا اور خالق فطرت کا رسول ایسی ہدایت کیوں دےجسکا ظہور بطور نتیجہ لازمی ہوتا ؟ نزول قرآن کا مقصد یہی ہے کہ گروہ انسانی میں حکومت الہیہ قائم کی جائے۔ حکومت کی زبان عربی ہے۔ حکومت کے کاروبار انجام دینے والوں کی زبان اور اس کے محکوم کی زبان لازماً وہی ہوگی۔قرآن عربی ہونے کے متعلق جو آیتیں ہیں وہ ملاحظہ ہوں :-
ہم نے اس قرآن کو تیری زبان میں آسان کر دیا تا کہ تو اس کےذریعہ سے پر ہیز گاروں کو بشارت دے اور اکھڑ لوگوں کو عذاب سے ڈرائے ۔
اگر ان آیتوں کا صرف یہ مطلب ہےکہ رسول اللہ عرب تھےدعوتِ اسلام ابتداء اہل عرب کو دی گئی اس لیے قرآن عربی زبان میں نازل ہوا تو یہ ایسی کیا حکمت کی بات تھی جو ایک حکیم نے بتائی۔ یہ نہ بھی بتایا جاتا تو بھی یہی سمجھا جاتا ۔ قرآن اور رسول اللہ اہل عرب ہی کے لیے نہیں تھے تو پھر یہ کوئی قرینہ نہیں کہ ان آیتوں کے مخاطب تو اہل عرب تھے اور باقی آیتوں کے مخاطب تمام بنی آدم ۔ اگر قرآن اپنے مخاطب کی زبان کے لحاظ سے عربی میں نازل ہوا ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ اکثر احکام بھی اہل عرب کے طبعی و ملکی حالات کے لحاظ سے نازل ہوئے۔جیسا کہ بعض کج فہم کہتےہیں۔وہ قرآن جو تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَلَمِينَ (الواقعہ : ۸۴) اور مِنَ اللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمُ (الزمر: ۱) ہےجو هُدَى لِلنَّاسِ (البقره: ۱۸۵) وَذِكْرٌ لِلْعَلَمِينَ (التکویر: ۲۷) ہےکل بنی آدم کےلیےجس کو صراط مستقیم کہا جا رہا ہے۔پھر وہ بنی آدم جن میں بیسیوں زبانیں بولی جاتی ہیں،ان سب کےلیےقرآن عربی نازل کرنے میں کیا حکمت پنہاں ہے؟ وہ خدا جو اپنے رسول کو وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (الانشراح: ۴) اور رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ (انبیاء : ۱۰۷) کا مرتبہ دے کر معلم کتاب و حکمت‘ بنا کر تمام بنی آدم کی ہدایت کے لیے بھیجتا ہے کیا اس بات پر قادر نہ تھا کہ ایسے عظیم المرتبت رسول کو کل زبانوں سے واقف کرا دے اگر "احکم الحاکمین" کا یہ مقصد نہ تھا کہ اس کا دین ایک ہی زبان جاننے والوں کا دین ہو کر رہ جائے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عربی زبان میں خطبہ دینا کسی شرعی مصلحت کا حامل نہیں تو غیر عربی جاننے والوں کےلیےقرآن عربی نازل کرنا اور اس کی اشاعت کےلیےصرف عربی زبان جاننےوالوں کو منتخب کرنا کیا نزول قرآن کےمقصد کو فوت نہیں کرتا؟بلاشبہ رسول عربی کےمخاطب اهل عرب تھےمجلسِ نبوی کے حاضرین میں غیر زبان جاننےوالوں کی تعداد کم رہتی تھی۔مگر نبی کریم نےجو دعوت نامےقیصر روم و شاہ ایران کو بھیجے تھے وہ کیوں عربی زبان میں بھیجے گئے؟اگر مصلحت شرعی یہ نہیں ہے کہ دین کی اشاعت ایک ہی زبان میں ہو تو نبی کریم نےاس کو کیوں ملحوظ رکھا؟ "معلم کتاب و حکمت" کا کوئی فعل جس کا تعلق رسالت سےہو خالی از حکمت نہ ہونا چاہیے۔تمام دنیا کےلیے قرآن عربی نازل کرنا اسی حکمت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس دین سے جو قوم پیدا ہوگی اس کے افراد ایک ہی زبان بولنےوالے ہوں۔ یہ بناء تفریق نہیں نتیجہ وحدت ہے ۔خلاف فطرت نہیں عین فطرت ہے۔ دین الہی قائم ہوگا تو یہ مقصد خود بخود پورا ہو جائےگا۔ کسی قوم کو بھی لیجیے افراد قوم کی ایک ہی زبان ہوگی۔آج ہندوستان میں جہاں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ہندوستانی قومیت کی تعمیر کےلیےوحدت زبان کی گتھی سلجھائی جا رہی ہے۔دین اسلام اپنے متبعین میں رشتہ اخوت قائم کرتا ہے۔ زبان کےاختلاف سے اجمیت باقی رہے گی جو منافی اخوت ہے۔ ایک انگریز ایک ہندی، ایک عرب ایک ترک ایک جاپانی ایک چینی یہ چھ مسلمان ایک جگہ جمع ہیں۔ آپس میں تبادلہ خیالات تو کجا اسلامی طریقے سے سلام بھی نہیں کر سکتے ۔
ایک مقام پر آپ یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اصلی اسلامی اسبرٹ کا تحفظ خالص عربیت کے تحفظ پر موقوف تھا۔ اس کے بعد یہ ارشاد که سیدنا عمر و سیدنا علی رضی اللہ عنہما میں اسی اسلامی اسپرٹ نےعربیت کا تعصب اور بھی زیادہ پیدا کر دیا! مولانا!غور مکرر کا محتاج ہے۔وہ لوگ جن کی مثال دنیائےاسلام آج تک نہ پیش کرسکی، جو نور ہدایت اور علم و عمل سے آراستہ ہو کر عصبیت جاہلیت کو مٹانےکے لیے اُٹھے تھے ۔ اُن میں اسلام نے وہی عصبیت پیدا کر دی! حیرت کا مقام ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اصلی اسلامی اسپرٹ کا تحفظ خالص عربیت کے تحفظ پر موقوف تھا اس لیے عربیت کا تعصب نہیں بلکہ اسلام کی عصبیت عربی زبان کے تحفظ کی متقاضی تھی ۔ ورنہ جو استدلال جناب نے فرمایا ہے وہ تسلیم کر لیا جائے تو جہاد اسلامی کےمتعلق یہ اعتراض کس قدر وزنی ہو جائے گا کہ چونکہ عرب پہلے سےقتل و غارت گری کے عادی تھے ۔اسلام نے اس جذبہ کو اور اُبھار دیا۔ گویا ان مقدس ہستیوں سے جو جان شاریاں ہوئیں وہ دینی جذ بہ نہیں تھا بلکہ ان کا عادی و طبیعی فعل تھا۔ جس طرح عادی و طبیعی فعل اور شرعی عمل کا امتیاز مشکل ہے اس سے زیادہ اُس فعل کا تعین مشکل ہے جو عادی وطبیعی بھی ہو اور مصلحت شرعی کا تقاضا بھی ۔
صحابہ کرام یا آئمہ سلف نے اگر غیر عربی زبان میں خطبہ نہیں دیا، یا عجمیوں کو دعوتِ اسلام نہیں دی یا غیر عربی زبان میں بات کرنا بھی مکر وہ سمجھتے تھے تو وہ عادی وطبیعی فعل یا حالات زمانی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ (البقرہ: ۱۶۵) کا نتیجہ تھا۔ دین الہی اُن کے رگ و پے میں جاری و ساری تھا۔ ان کی رُوح ان کے دل و دماغ احکام الہی کے تابع تھے۔وہ حکومت الہیہ کے سچےمحکوم تھے ۔ جس طرح یہ حکومت ان کو دنیا کی ہر چیز سے محبوب تھی اسی طرح حکومت کی زبان ( جو عربوں کی نہیں بلکہ خدا کی حکومت کی زبان تھی ) ان کو دوسری زبانوں سےزیادہ عزیز تھی کہ یہی انسانی فطرت ہے۔آج جو لوگ حکومت کےشیدائی ہیں، فرنگیت میں جذب ہو گئے ہیں، اُن کا اوڑھنا بچھونا، انگریزی زبان ہے۔ حالانکہ شاہ انگلستان نے یا وائسرائے بہادر نے ان کو اپنی زبان بدل دینے کا کوئی حکم نہیں دیا۔
عصبیت لسانی کو مٹانے کا منشا یہ ہے کہ عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ۔ اسلام سے پہلے یہی چیز وجہ امتیاز تھی ۔ مجھی مسلمان ہونےکے بعد اُسی طرح صاحب عزت و توقیر ہیں جیسےعرب۔ اگر وہ عربی سےواقف نہیں تو ان کو کم تر نہ جانو ۔ اسلامی قومیت میں جذب اور دین الہی میں شامل ہو جانے کے بعد ان کی زبان لازماً وہی ہو جائے گی جو حکومت کی زبان ہے کہ قوم مسلم دراصل حکومت الہی کی محکوم ہے۔
جس قوم کے ایمانیات و اعتقادات ایک جس کا مقصد حیات ایک جس کی زندگی کا نصب العین ایک ہو۔ جس کی تعلیمات اخلاقیات معاملات عادات میں یکسانیت ہو اس قوم کی زبان ایک ہونا دین کا مقصد نہیں! تعجب ہے! جس طرح اسلام سے پہلے کعبہ صرف عربوں کا تھا، اسلام کے بعد وہ ہر مسلم کا کعبہ ہو گیا۔ اسی طرح اسلام سے پہلے عربی زبان صرف عربوں کی تھی، اسلام کے بعد وہ زبان صرف عربوں کی نہیں رہی بلکہ قوم مسلم کی زبان ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ محترم مراسلہ نگار نے مسئلہ زیر بحث پر اصولی طریقہ سے غور نہیں کیا ہے اسی وجہ سے ان کے کلام میں مختلف مباحث ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ہو گئے ہیں۔
مسئلہ کا ایک پہلو فقہی ہے اور اس نقطۂ نظر سے صرف یہ امر بحث طلب ہے کہ آیا خطبہ کو عربی زبان میں پڑھنا شرعا ضروری ہے یا نہیں ؟ اس سوال کے متعلق کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لیے حسب ذیل امور کی تحقیق ہونی چاہیے:۔ کیا خطبہ عربیہ کے وجوب پر کوئی نص ہے ؟ اگر نص ہے؟ اور یہ حکم صرف شارع کے عمل سے ماخوذ ہے تو کیا شارع کا یہ عمل سنت کی تعریف میں آتا ہے؟ آیا اصطلاح شرع میں سنت ہر اُس عمل کو کہتے ہیں جو شارع نے کیا ہو اس باب میں شرعی عمل اور عادی و طبیعی عمل میں کوئی فرق کیا گیا ہے؟ اگر فرق ہے تو شارع کا عربی میں خطبہ دینا کس قسم کا فعل ہے، شرعی یا طبیعی؟
مسئلہ کا دوسرا پہلو مصالح سے تعلق رکھتا ہے اور اس بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کے لیے حسب ذیل اُمور کا تصفیہ ضروری ہے: ۔ خطبہ کا مقصد کیا ہے؟ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے شارع نے اور صد راول کے آئمہ نےجوطریقہ اختیار کیا تھا اُس کی پابندی سےآج بھی وہ مقصد حاصل ہوتا ہےیا نہیں ؟ شریعت میں مقصد زیادہ اہمیت رکھتا ہےیا وہ وسیلہ جو اس کو حاصل کرنے کے لیےمقرر کیا گیا ہو؟ اگر مقصد زیاده اہمیت رکھتا ہےاور کسی خاص صورت حال میں طریقہ متوارثہ کی پابندی سے وہ فوت ہو رہا ہو اور اس صورت حال کو بدلنے پر ہم قادر نہ ہوں تو کیا ہم اس اصول شرع کے تحت طریقہ متوارثہ میں کوئی تغیر کر سکتے ہیں؟ اگر تغیر کرنے کا حق ہم کو حاصل ہے تو حالات کے لحاظ سے ہمیں کتنا اور کس طرح کا تغیر کرنا چاہیے؟
یہ ہیں وہ تنقیحات جن کے تصفیہ پر زبان خطبہ کے سوال کا حل منحصر ہے۔ اگر مراسلہ نگار نے ان تنقیحات کو پیش نظر رکھ کر بحث کی ہوتی تو ہم کو یہ معلوم کرنے میں آسانی ہوتی کہ انھیں کن امور میں ہم سے اتفاق ہے اور کن امور میں اختلاف ۔ پھر جو اُمور مختلف فیہ باقی رہ جاتے ان پر مزید بحث کر کے صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی جا سکتی تھی ۔لیکن جو طریق بحث انھوں نے اختیار کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل اُمور تنقیح طلب ان کے سامنے واضح نہیں ہیں بلکہ وہ محض چند ضمنی مباحث میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ بہر حال چونکہ وہ خطبہ کے مسئلہ میں مانعین تغیر کے عام خیالات کی ترجمانی کر رہے ہیں، اس لیے ہم ان کے مضمون کو شائع کر کے اختصار کے ساتھ ان غلط فہمیوں کو رفع کرنے کی کوشش کرتےہیں جن کی وجہ سے ان کو اور اسی طرز خیال کے دوسرے لوگوں کو اس مسئلہ میں اُلجھن پیش آئی ہے۔
صاحب مضمون نےزبان کےمتعلق جو طریق استدلال اختیار کیا ہےوہ قریب قریب اسی طرح کا استدلال ہے جس کی بنا پر ایک گروہ اس سےپہلےقرآن مجید کا ترجمہ دوسری زبانوں میں کرنےکی مخالفت کر چکا ہے۔اور یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ اگر ان دلائل کو تسلیم کر لیا جائے تو قرآن مجید کا ترجمہ کرنا بھی اسی طرح ناجائز قرار پائے گا جس طرح غیر عربی میں خطبہ دینا ناجائز قرار دیا جاتا ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ عربی زبان اسلام کی سرکاری زبان ہے جو لوگ اسلام کے محکوم ہیں ان پر اس زبان سےواقف ہونا لازم ہے۔اور اگر وہ عربی سےواقفیت پیدا نہیں کرتے تو یہ ان کا قصور ہے، لہذا ان کو سمجھانے کےلیےقرآن کے مطالب کو ان کی مادری زبان یا بالفاظ دیگر کسی غیر سرکاری زبان میں بیان نہیں کیا جائے گا۔ اسی طریقے سے آپ یہ بھی کہہ دیجیے کہ ان کے سامنے اسلامی احکام اسلامی عقائد اسلام کی اخلاقی تعلیمات اور دوسری ”سرکاری“ چیزوں کو بھی صرف سرکاری زبان ہی میں بیان کیا جائےگا۔کوئی چیز غیر سرکاری زبان میں نہ بیان ہوگی خواہ وعظ کی صورت میں ہو یا تحریر کی صورت میں۔
فرمائیے!اگر کوئی شخص یہ موقف اختیار کرےتو کیا آپ اس کو قبول کریں گے؟ غالبا نہیں۔اس لیے کہ آپ اچھی طرح جانتےہیں کہ موجودہ حالات میں ایسا کرنےسےمسلمانوں کی تقریباً ۸۰ فی صد آبادی اسلام کےعلم سے بالکل بے بہرہ ہو جائے گی۔اسی بناء پر آپ قرآن حکیم کے ترجمے دوسری زبانوں میں کرنے کو صرف جائز ہی نہیں بلکہ ضروری سمجھتے ہیں، اور اسی بنا پر آپ غیر سرکاری زبان میں ”سرکاری مضامین کی اشاعت کو مواعظ اور تحریروں کی شکل میں صرف گوارا ہی نہیں بلکہ پسند کرتے ہیں۔جب حال یہ ہےتو آخر کیا وجہ ہے کہ یہ تمام بخشیں صرف خطبہ جمعہ کےمسئلہ میں پیدا ہوتی ہیں؟ مسجد میں اگر کوئی شخص نماز کے بعد یا خطبہ سے پہلے مجھی زبان میں وعظ کہے تو جائز بلکه مفید ۔ اور انھی مضامین کو اگر وہی شخص منبر کی دو سیڑھیوں پر چڑھ کر خطبہ جمعہ کی حیثیت سےبیان کرنے لگے تو نا جائز بلکہ بدعت ! یہ کھلی ہوئی ناہمواری جو آپ کے طرز عمل میں پائی جاتی ہے اس کو شریعت کی طرف منسوب کرنے سے پہلے اپنے نفس کو ٹول کر دیکھیے کہ وہاں کوئی غیر شرعی محرک تو چھپا ہوا نہیں ہے؟
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ عادت قدیمہ کی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور جب کوئی مجتہد حالات کے تغیر اور زمانے کی بدلی ہوئی ضروریات کو محسوس کر کے طریقہ متوارثہ میں ترمیم کی جرات کرتا ہے تو وہ محض اس بناء پر اس کی مخالفت کرنے لگتے ہیں کہ اس نےایک ایسا طریقہ اختیار کیا ہے جس سے ان کے طبائع مانوس نہیں ہیں ۔ مگر جب یہ نیا طریقہ چل پڑتا ہے اور اجنبیت دُور ہو جاتی ہے تو لوگ اس کو نہ صرف جائز بلکہ مفید سمجھنے لگتےہیں ۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے جب قرآن مجید کا ترجمہ فارسی میں کیا تو اسی بنا پر ان کی مخالفت کی گئی تھی۔اُن سےپہلے ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جس میں عربی زبان کے سوا کسی اور زبان میں دُعا کرنا وعظ کہنا اور دینی مسائل پر اظہار خیال کرنا ایک نئی چیز تھی،اور لوگ اس پر معترض ہوتے تھے۔ ترکی میں جب پہلی مرتبہ جدید طرز پر فوجوں کو مرتب کرنےاور نئےآلات جنگ کا استعمال رائج کرنے کی کوشس کی گئی تو ایک جماعت نےاس پر سخت اعتراض کیا تھا۔ان میں سے ہر موقع پر یہی کہا گیا کہ یہ بدعت اور احداث فی الدین ہے۔مگر آج کوئی نہیں جس کو ان چیزوں پر اعتراض ہو ۔ اعتراض تو در کنار آج عالمی اور عالم سب ان کو جائز بلکہ مستحسن سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ پر آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس قسم کے اعتراضات دراصل غیر شرعی محرکات سےپیدا ہوتے ہیں، پھر ان کی تائید میں شریعت سے استدلال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسلام میں عربی زبان کی حیثیت کے متعلق آپ نے جو کچھ لکھا ہے اس میں صحیح اور غلط دونوں کی آمیزش ہے۔ یہاں تک تو آپ کی بات بالکل درست ہے کہ اسلام سے عربی زبان کا خاص تعلق ہے۔ قرآن عربی میں نازل ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور صحابہ کرام کی سیرت کےمتعلق تمام معلومات عربی میں ہیں ۔ اسلام کا صحیح علم حاصل ہونا جس پر انسان کے مسلمان ہونے کا مدار ہے عربی زبان کی واقفیت ضروری اور ناگزیر ذریعه ہےانھی وجوہ سےہر زمانہ کےعلماء نےعربی کی تعلیم پر زور دیا ہےاور انھی وجوہ سےآج بھی ہر صاحب و عقل و فہم مسلمان یہ ضروری سمجھتا ہےکہ مسلمانوں کی تعلیم میں عربی کو بحیثیت ایک ثانوی زبان کے لازمی طور پر شامل ہونا چاہیے۔یہ تمام باتیں بالکل برحق ہیں اور ان میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن جیسا کہ اس سے پہلے میں عرض کر چکا ہوں ” ہے“ اور ”ہونا چاہیئے میں بڑا فرق ہے۔ جو کچھ ہونا چاہیے اس کے لیے ضرور کوشش کیجئے، لیکن اگر عالم واقعہ میں موجود نہیں ہے تو اپنے طرز عمل کو واقعات کے مطابق بنانے سے انکار نہ کر دیجیے۔ عقل اور دین دونوں کا اقتضا یہ ہے کہ مقصد کو وسیلہ پر مقدم رکھا جائے ۔ ایک وسیلہ اگر زیادہ بہتر ہے، لیکن اب کارگر نہیں رہا تو دوسرا وسیلہ اختیار کیجیے جو کارگر ہو اگر چہ بہتر نہ ہو۔ لیکن اگر آپ وسیلہ پر اصرار کر کے اصل مقصد کو کھو دیں گے تو یہ نہ عقل مندی ہے نہ دین داری۔
اب آپ خود غور کیجیے کہ دین کا اصل مقصد کیا ہے؟ آیا یہ ہے کہ عربی زبان کو سرکاری اور قومی زبان کی حیثیت سے پھیلایا جائے؟ یا یہ کہ خدا کے بندوں کو اس کی تعلیم اور اس کے احکام سے واقف کرایا جائے ؟ ظاہر ہے کہ اصل مقصد دوسری چیز ہے۔ پس جب حال یہ ہے اور ہر شخص اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ غیر عربی ممالک میں دو فی صدی آدمی بھی عربی زبان سمجھنے والے باقی نہ رہے اور ہم اس طاقت سے محروم ہو چکے ہیں جس سے صدر اول کے مسلمانوں نے عربی کے علم کو پھیلایا تھا، تو آپ کو سوچنا چاہیے کہ ہمارے لیے صحیح طریق کار کیا ہے؟ یہ کہ مقصد اصلی کو کسی دوسرے ممکن ذریعہ سےحاصل کریں؟ یا یہ کہ قدیم ذریعہ پر اصرار کر کے مقصد کو فوت ہو جانے دیں؟
آپ نے جن دلائل سے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ دین کی اشاعت ایک ہی زبان میں ہونی ضروری ہے وہ در حقیقت نہایت کمزور ہیں، اور اگر آپ زیادہ غور و فکر سے کام لیں گے تو ان کی کمزوری آپ پر خود ہی واضح ہو جائے گی۔ دین ایک عالمگیر حقیقت ہے۔انسانی زبانوں میں سے کسی کے ساتھ اس کا مختص بالذات رشتہ نہیں ہے۔ اللہ تعالی کا اصل مقصد دین کو اپنےبندوں تک پہنچانا ہےاور اس مقصد کےلیے جس طرح وہ ایک انسان کو وسیلہ بناتا ہے اسی طرح ایک زبان کو بھی وسیلہ بناتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےپہلے اسی دین کو پہنچانے کے لیے وہ دوسری قوموں کے انسانوں اور دوسری قوموں کی زبانوں کو بھی وسیلہ بنا چکا ہے۔ پس اگر آخری تبلیغ کے موقع پر اس نے عربی قوم اور عربی زبان کو وسیلہ بنایا تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ اب صرف عربی زبان ہی سےاسلام کا رشتہ ہو گیا ہے اور دوسری زبانوں کو تبلیغ دین کے لیے استعمال کرنا نا جائز یا مکروہ ہے۔اگر ایسا ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صریح ہدایت فرما دیتے کہ عربی زبان کے سوا کسی زبان کو تبلیغ دین کےلیےقیامت تک استعمال نہ کرنا۔حالانکہ احادیث سےیہ ثابت ہےکہ آپ نےبعض صحابہ کو غیر زبانیں سیکھنےکا حکم دیا تھا اور عہد صحابہ میں حضرت سلمان فارسی جیسےغیر عربی الاصل حضرات عجمیوں کو ان کی اپنی زبانوں میں دین کی تعلیمات سمجھاتے تھے۔
رہی یہ بات کہ قیصر روم اور شاہ ایران کو جو دعوت نامے بھیجے گئے تھے وہ عربی میں کیوں بھیجے گئے تو اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطوط ان لوگوں کو بھیجے تھے وہ ایک ملک کے فرمانروا کی طرف سے دوسرے ملک کے فرمانرواؤں کی جانب تھے اور ایسی مراسلت میں اپنے ملک کی زبان کے بجائے مخاطب کے ملک کی زبان استعمال کرنا اس مملکت کی تو ہین ہے جس کا فرمانروا کمتر موقف اختیار کرے اور اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر حضور تبلیغ کی خاطر ہر مخاطب فرمانروا کو اسی کی زبان میں خطاب فرمانا چاہتے بھی تو اس وقت عملاً اس کا انتظام مشکل تھا کیونکہ صحابہ میں بہت کم لوگ ایسے تھے جو غیر عربی زبانیں جانتےہوں اور جو لوگ جانتے تھے وہ بھی ان زبانوں کے ایسےادیب نہ تھے کہ ایک نبی کےشایان شان فصیح و بلیغ محط لکھ سکتے۔ نیز یہ بات بھی حضور کو معلوم تھی کہ جن بادشاہوں کے نام آپ دعوت نامے بھیج رہے ہیں، ان کو ایسے لوگ میسر آسکتے ہیں جو ان خطوط کا صحیح مفہوم انھیں سمجھا سکتے ہیں (١) پس حضور کا عربی میں اسلام کے دعوت نامےبھیجنا عملی زندگی کے موانع کا نتیجہ تھا اور اس کی حیثیت بالکل ایسی ہی تھی جیسے پانی نہ ملنے کی صورت میں آپ نے تم بھی کیا ہے اور قیام کی طاقت نہ ہونے کی حالت میں بیٹھ کر بھی نماز پڑھی ہےحالانکہ اگر اللہ چاہتا تو ہر جگہ آپ کےلیےایک چشمہ پیدا کر سکتا تھا اور آپ کو ہمیشہ بیماری اور ضعف سےمحفوظ رکھ سکتا تھا۔ایسی مثالوں سےیہ نتیجہ نکالنا ہرگز درست نہیں کہ شریعت دین کی تبلیغ کو صرف عربی زبان تک محدود رکھنا چاہتی ہےاور اس کا منشاء یہ ہےکہ جو لوگ اس زبان سے واقف نہ ہوں، ان کو ضلالت اور جہالت میں مبتلا رہنے دیا جائے۔
صحابہ کرام اور آئمہ متقدمین کی غیر زبانوں سے نفرت اور عربیت پر ان کےاصرار کے متعلق میں نے تعصب کا لفظ جو استعمال کیا تھا اس سے آپ غلط فہمی میں پڑ گئے۔ آپ نے یہ سمجھا کہ میں ان کی طرف عصبیت جاہلیہ کو منسوب کر رہا ہوں۔حالانکہ میرا مقصد کچھ اور تھا۔تعصب محض جاہلیت ہی کا نہیں ہوتا۔ ایک قسم کا تعصب وہ ہےجو ہر انسان کی فطرت میں ہوتا ہےاور جس کو عیب میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔مثال کے طور پر ایک ہندوستانی جب چین جائےگا تو وہاں کی زبان عادات خصائل، طرز بود و ماند هر چیز سےاجنبیت محسوس کرے گا۔ ان پر ناک بھوں چڑھائے گا۔ اور اس کو پسند نہ کرے گا کہ اس کے اہل وعیال چینیت اختیار کریں۔ یہ ایک فطری منافرت ہے جو ہر انسان کی طبیعت میں اجنبی چیزوں سے ہوتی ہے۔ صحابہ کرام بھی بہر حال انسان تھے اور عجمیت سے ان کی نفرت ایک حد تک اس بناء پر بھی تھی۔ اس میں مزید اضافہ اس وجہ سے ہو گیا کہ عجمی اقوام اس وقت سب کی سب کا فرتھیں اور ان کے جو افراد مسلمان ہو جاتے تھے ان کو صحابہ کرام عربیت کے رنگ میں رنگ لینا ضروری سمجھتے تھے تا کہ وہ کفار کی جمعیت سے الگ ہو کر اہل اسلام کی جمعیت میں جذب ہو جائیں۔ نیز صحابہ کرام یہ بھی پسند نہ کرتےتھےکہ مسلمان (جو اس وقت تمام تر عرب ہی تھے )عجمی ممالک میں اہل عجم کی سی بولیاں بولنا اور ان کےسےلباس پہننا شروع کر دیں۔ کیونکہ اس طرح کفار کی اکثریت میں ان کےجذب ہو جانےکا اندیشہ تھا۔پس صحابہ کرام نےجو طرز عمل اختیار کیا اس کی بنیاد دو وجوہ پر تھی۔ ایک وجہ فطری تھی اور دوسری وجہ حالات کے اقتصاء سے تعلق رکھتی تھی۔ ان میں سے پہلی وجہ کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتی اس لیےاس کو حجت بنانا درست نہیں۔رہی دوسری وجہ تو اب وہ حالات باقی نہیں ہیں۔اُردو فارسی،ترکی جاوی اور ایسی ہی دوسری زبانیں بھی عربی کی طرح اب مسلمانوں کی زبانیں ہیں اور ان سے کسی اسلامی مصلحت کے تحت نفرت و اجتناب کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی ہے۔
١- واضح رہے کہ ایرانی اور رومی، دونوں سلطنتوں کے حدود میں، اور ان کے زیراثر علاقوں میں عربی ریاستیں موجود تھیں، بڑے بڑے عرب قبائل آباد تھے اور عرب سرداروں کی رسانی قیصر و کسرٹی کے درباروں میں تھی ۔ اسی طرح مصر اور جبش کے ساتھ بھی عرب کے وسیع تجارتی تعلقات تھے اور دونوں ملکوں کے اپنےحدود میں عربی بولنے والی آبادیاں پائی جاتی تھیں۔
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |