(۱) تعزیرات کے باب میں سب سے پہلے اس قاعدہ کلیہ کو ذہن نشین کر لینا چاہیےکہ ہاتھ کاٹنے کی سزا اور دوسری شرعی حدیں صرف اسی جگہ نافذ کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہیں جہاں مملکت کا نظم و نسق اسلامی اصولوں پر ہو اور تمدن و معاشرت کی ترتیب و تنظیم اس طرز پر کی گئی ہو جو اسلام نے تجویز کیا ہے۔ اسلام کے اصول اور قوانین نا قابل تجزیہ ہیں ۔ یہ صحیح نہیں ہے کہ بعض اصول اور قوانین تو نافذ کیے جائیں اور بعض کو چھوڑ دیا جائے۔
مثلا زنا اور قذف (۱) کی حدود کو لیجیے ۔ نکاح و طلاق اور حجاب شرعی کے اسلامی قوانین اور اخلاق صنفی کے متعلق اسلام کی تعلیمات سے ان حدود کا نہایت گہرا ربط ہےجسے منفک نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے زانی اور قاذف کے لیے ایسی سخت سزائیں مقرر ہی اُس سوسائٹی کے لیے فرمائی ہیں جس میں عورتیں بن سنور کر بے محابا نہ پھرتی ہوں جس میں برہنہ اور نیم برہنہ تصویر ہیں اور عشق و محبت کےافسانے اور شہوانی جذبات کو دائما متحرک کرنے والےتماشےرائج نہ ہوں، جس میں نکاح کےلیےپوری آسانیاں ہوں اور فسخ و تفریق اور طلاق وضلع کے اسلامی احکام ٹھیک ٹھیک نافذ کیے جاتے ہوں ۔ ایسی سوسائٹی اپنی عین فطرت کے اعتبار سے اس امر کی مقتضی ہوتی ہے کہ اس میں معاشرت کا جو معتدل نظام قائم کیا گیا ہے اس کی حفاظت کےلیے سخت سزائیں مقرر کی جائیں۔ اور اتنی سخت سزائیں اُس حالت میں ہرگز نا منصفانہ نہیں ہیں جب کہ جائز ذرائع سے صنفی خواہشات کی تسکین آسان کر دی گئی ہو اور معاشرت کے ماحول کو بدکاری کی سہولتوں اور غیر معموی اسباب تحریک سے پاک کر دیا گیا ہو۔ ان حالات میں صنفی جرائم کا ارتکاب صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو غایت درجہ کے بدطینت ہوں اور جن کے شرسے خلق اللہ کو محفوظ رکھنےکے لیے نہایت عبرت ناک سزاؤں کے بغیر چارہ نہ ہو۔
(١) قذف سے مراد کی عورت یا مرد پر زنا کی تہمت لگانا ہے اور قاذف وہ شخص ہے جو ایسی تہمت لگاتا ہے۔
لیکن جہاں حالات اس سےمختلف ہوں،جہاں عورتوں اور مردوں کی سوسائٹی مخلوط رکھی گئی ہو جہاں مدرسوں میں،دفتروں میں،کلبوں اور تفریح گاہوں میں،خلوت اور جلوت میں ہر جگہ جوان مردوں اور بنی ٹھنی عورتوں کو آزادانہ ملنے جلنے اور ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا موقع ملتا ہو جہاں ہر طرف بے شمار صنفی محرکات پھیلے ہوئے ہوں، جہاں معیار اخلاق بھی اتنا پست ہو کہ ناجائز تعلقات کو کچھ معیوب نہ سمجھا جاتا ہو ایسی جگہ زنا اور قذف کی شرعی حد جاری کرنا بلاشبہ ظلم ہوگا۔ اس لیے کہ وہاں ایک معمولی قسم (Normal Type) کے معتدل مزاج اور سلیم الفطرت آدمی کا بھی زنا سے بچنا مشکل ہے اور ایسے حالات میں کسی شخص کا جتلائے گناہ ہونا یہ نتیجہ نکالنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ وہ غیر معمولی قسم (Abnormal Type) کا اخلاقی مجرم ہے۔ رقم اور کوڑوں کی سزا در حقیقت ایسے گندے حالات کے لیے اللہ نےمقرر ہی نہیں کی ہے۔
اسی پر حد سرقہ کو بھی قیاس کر لیجے کہ وہ صرف اُس سوسائٹی کے لیے مقرر کی گئی ہےجس میں اسلام کے معاشی تصورات اور اصول اور قوانین پوری طرح نافذ ہوں ۔ قطع ید اور اسلامی نظم معیشت میں ایسا رابطہ ہے جس کو منقطع نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں یہ نظم معیشت قائم ہو وہاں قطع ید ہی میں انصاف اور عین مقتضائے فطرت ہے۔ اور جہاں یہ نظم معیشت نہ ہو وہاں چور کا ہاتھ کا شادو ہر اعظم ہے۔ حقیقت میں ہاتھ کاٹنے کی سزا اُس ظالم سوسائٹی کے لیے مقرر ہی نہیں کی گئی ہے جس میں سُود جائز ہو زکوۃ متروک ہو انصاف قیمتا فروخت کیا جاتا ہو ٹیکسوں کی بھر مار سے ضروریات زندگی نہایت گراں ہو گئی ہوں اور تمام ٹیکس چند مخصوص طبقوں کے لیے سامان بیش فراہم کرنے پر صرف ہوتے ہوں۔ ایسی جگہ تو چوری کے لیے ہاتھ کا شاہی نہیں بلکہ قید کی سزا بھی بعض حالات میں ظلم ہوگی۔
عام طور پر اسلامی قانونِ فوج داری کو سمجھنے میں لوگوں کو جو دقت پیش آتی ہے اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ وہ اپنے پیش نظر تو رکھتے ہیں سوسائٹی کے اس غلط نظام کو جو اس وقت دنیا کے متمدن ممالک میں قائم ہے اور پھر چوری' زنا قذف اور شراب نوشی جیسے" عامتہ الورود جرائم کا موازانہ قطع ید رحم اور کوڑوں کی سزاؤں سے کر کے رائے قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس موازنہ میں ان کو اسلام کی سزائیں سخت اور ہولناک ہی نظر آئیں گی۔ کیونکہ نیم شعوری طور پر وہ خود سمجھتے ہیں کہ جو حالات اس نظامِ حیات نے پیدا کر رکھے ہیں اُن میں چوری ایک عام چیز ہونی ہی چاہیے زنا میں بکثرت مردوں اور عورتوں بلکہ بچوں اور بوڑھوں تک کو مبتلا ہونا ہی چاہیے۔ آئے دن مشتبہ طریقوں سےملنے والے جوڑوں کے متعلق بُری خبریں مشہور ہونی ہی چاہیں، بری صحبتوں میں نوخیز نسلوں کو بُری عادتیں پڑنی ہی چاہئیں ۔ لہذا اُن کا دل یہ سوچ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ اگر ان حالات میں اسلامی قانون فوجداری رائج کر دیا جائے تو شاید کوئی پیٹھ بھی کوڑوں سےنہ بچ سکے ہزار ہا آدمیوں کے ہاتھ روزانہ کٹنے لگیں اور ہر روز سینکڑوں آدمی سنگسار کیےجائیں۔
بلا شبہ ان کا یہ خوف بالکل بجا ہے۔ اس بیہودہ سوسائٹی کے بیہودہ نظام کو باقی رکھ کر اسلام کے قوانین میں سے محض اُس کے قانون فوجداری کو نافذ کر دینا ہمارے نزدیک بھی ویسا ہی ظلم ہوگا جیسا وہ خیال کرتے ہیں ۔ مگر جس غلطی کو وہ محسوس نہیں کرتے وہ دراصل یہ ہے کہ اُنھوں نے سوسائٹی کے اس بیہودہ نظام کو جس کی بے ہودگیوں سے وہ مانوس ہو چکے ہیں، ایک فطری حالت سمجھ رکھا ہے۔ حالانکہ یہ فطری حالت نہیں ہے بلکہ شیطنت کے غلبے نے اس غیر فطری حالت کو عالم انسانی پر مسلط کر دیا ہے اور اس حالت کا باقی رہنا بجائے خود ایک ظلم عظیم ہے۔ آپ اسلام کے نظام اجتماعی کو من حیث الکل قبول کر کےاس ظلم کا انسداد کیجیے پھر آپ پر خود روشن ہو جائے گا کہ زنا اور قذف اور چوری اور شراب نوشی انسان کے عام اور فطری مشاغل نہیں ہیں اور انسانوں کی کثیر تعداد کا ان میں بتلا ہونا متوقع ہی نہیں ہے۔ جو اجتماعی حالات اسلام پیدا کرتا ہے ان میں صرف غیر معمولی قسم کے چند افراد ہی ان افعال قبیحه کا ارتکاب کر سکتے ہیں اور ان کے لیے صحیح تدارک رجیم اور کوڑے اور قطع ید ہی ہو سکتے ہیں۔
(۲) دوسری بات جو اس سلسلے میں پیش نظر رکھنی ضروری ہے وہ اسلام کی شان حکمت و اعتدال ہے۔ حدود اور تعزیرات کے باب میں اسلام کے احکام کو وہ شخص سمجھ ہی نہیں سکتا جو اس مذہب کی ان خصوصیات سے واقف نہ ہو۔
یہاں ایک طرف ارتکاب جرائم کے اسباب و محرکات کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مٹایا جاتا ہے تا کہ کوئی بندہ خدا ایسے حالات میں مبتلا ہی نہ ہونے پائے کہ اُسے اپنی طبعی خواهشات و ضروریات کے لیے مجرمانه طریقے استعمال کرنے پڑیں۔ اور دوسری طرف جرائم کےلیےایسی سزائیں مقرر کی جاتی ہیں جو نہ صرف اعادہ جرم سے اس خاص شخص کو روک دینےوالی ہوں، بلکہ دوسرے تمام لوگوں کو بھی،جن میں مجرمانہ میلانات پائے جاتے ہوں، ہیبت زدہ کریں-
ایک طرف اس امر کی کوشش کی جاتی ہے کہ لوگ جہاں تک ممکن ہو سزا سےبچائے جائیں۔ چنانچہ ثبوت جرم کے لیے شہادت کا معیار بہت سخت رکھا جاتا ہے۔اجرائے حد سے پہلے کچھ مدت تحقیقات کے لیے معین کی جاتی ہے کہ شاید اس دوران میں گواہوں کی غلطی کھل جائے، قاضیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ لوگوں کو حتی الامکان سزا سےبچاؤ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ امرؤ الحُدُودَ مَا اسْتَطَعْتُم اپنے امکان بھر حد کو دفع کرو ۔ فَإِنَّ الْإِمَامَ أَنْ يُخْطِيَ فِى الْعَفْوِ خَيْرٌ أَنْ يُخْطِلَى فِي الْعَقُوبَةِ امام کا معاف کرنے میں غلطی کر جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کرے ۔
دوسری طرف جب جرم ثابت ہو جائےتو پھر مجرم پر ترس کھانا یا اس کےحق میں کسی قسم کی سعی سفارش قبول کرنا یا اس کے مرتبے اور خاندان وغیرہ کا لحاظ کرنا قطعا ممنوع ہے۔ قرآن کہتا ہے: وَلَا تَاحُدُكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْم الأخر (النور:۲) ''اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین کے معاملےمیں رحم اور شفقت کے جذبات تمھارے دامن گیر نہ ہونے چاہئیں"۔ حدیث میں یہ واقعہ مشہور ہے کہ بنی مخزوم کے معزز گھرانے کی ایک عورت فاطمہ لوگوں کے زیور اور سامان عاریخ منگوائی اور پھر مکر جایا کرتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں مقدمہ سےپیش ہوا اور جرم ثابت ہو گیا۔ قریش میں کھلبلی مچ گئی کہ کہیں اس کا ہاتھ نہ کاٹ ڈالا جائے۔ مگر حضور کے سامنے سفارش کی جرات کے تھی۔ آخر کار یہ مشورہ ہوا کہ اُسامہ سےجو حضور کےآزاد کردہ غلام حضرت زید کے بیٹے تھے سفارش کرائی جائےکیونکہ حضور کو ان سے محبت تھی۔ اُسامہ نے حاضر ہو کر سفارش کی۔ سنتے ہی آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا: "کیا تم حدود اللہ کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟" اُسامہ سہم گئے اور معافی مانگی۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا: " تم سے پہلے جو تو میں تباہ ہوئی ہیں اُن کا طریقہ یہ تھا کہ جب ان میں کوئی معزز آدمی جرم کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی ادنی درجے کا آدمی جرم کرتا تو اس کو سزا دیتے تھے۔ میں تو اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں ۔جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹے بغیر نہ چھوڑتا۔"
(۳) ان دو باتوں کو سمجھ لینے کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی خود اسلام کی روح سے بھی غافل نہ ہو کیونکہ وہی تمام اسلامی قوانین کی جان ہے۔ اسلام میں سزا کا تصور خیرخواہانہ ہے نہ کہ بدخواہانہ۔ اسلام کسی کو غصہ اور طیش میں نہیں مارتا۔ دشمنی کا جذبہ اس کے کسی قانون میں نہیں پایا جاتا۔ یہاں سزا کے اندر تطہیر کا داعیہ کارفرما ہے۔یہاں آدمی کو اس لیے سزا دی جاتی ہے کہ ارتکاب جرم سے اس کے نفس و روح کو جو نجاست لگ گئی ہے اسے دھو ڈالا جائے۔ اسے پاک کر دیا جائے تا کہ وہ آخرت کی سزا سے بچ جائے۔ خود مجرم کے اندر اسلام یہ اعتقاد پیدا کرتا ہے کہ اصلی حاکم خدا ہے جس سے تو اپنے کسی فعل کو نہیں چھپا سکتا ۔ اور اصلی عدالت آخرت کی عدالت ہے جس میں بہر حال تجھے پیش ہونا ہی پڑے گا اور وہاں کی سزا بڑی رسوا کن ہوگی۔ اگر تو نے دُنیا میں اپنا جرم چھپا لیا تو اسی گندگی کو لیے ہوئے تو خدا کی عدالت میں حاضر ہوگا۔ لیکن اگر تو نےیہاں خود اپنے آپ کو سزا کے لیے پیش کر دیا تو یہ سزا تجھے پاک کر دے گی اور تو اس طرح خدا کے ہاں پہنچے گا کہ گویا تو نے یہ جرم کیا ہی نہ تھا (1) حدیث میں اس مضمون کو یوں بیان کیا گیا ہے:-
ان گناہوں میں سے کسی گناہ کی نجاست اگر کسی کو لگ گئی اور دنیا ہی میں اس کی سزا بھی اسے دے دی گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو جائے گی۔ لیکن اگر اللہ کی حکمت سے اس کا گناہ چھپارہ گیا تو معاملہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ وہ چاہے گا تو معاف کر دے گا ورنہ سزا دے گا۔
اس تعلیم نے حیرت انگیز اخلاقی احساس ہمارے ہی جیسے گوشت پوست سے بنےہوئے انسانوں میں پیدا کر دیا۔ اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں ۔ ان مثالوں میں آپ کو اسلامی عدل اسلامی اخلاق اور اسلام کے عجیب وغریب انقلابی تصورات کی وہ شان نظر آئے گی کہ آپ شاید حیرت سے سوچنے لگیں گے کہ آدمی اتنا بلند بھی ہو سکتا ہے!
(١) اس مقام پر یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جو شخص خود اپنے آپ کو سزا کے لیے پیش کرےاس کا یہ فعل خود تو بہ اور شرم شاری کو مستلزم ہے۔ اسی لیے ایسا آدمی سزا پانے کے بعد دُنیا اور دین دونوں میں گناہ سےپاک ہو جاتا ہے۔ رہا وہ مجرم جو خود نہ آیا ہو بلکہ پچھڑا ہوا آیا ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا کہ سزا نافذ کرنے کے بعد اسے تو بہ کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ ایک چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا جس نےایک شملہ چرایا تھا۔ آپ نے اُسے دیکھ کر فرمایا ” میں نہیں سمجھتا کہ اس نے چوری کی ہوگی۔ ملزم نے آگے بڑھ کر عرض کیا نہیں یا رسول اللہ میں نے چوری کی ہے"۔ آپ نے اس کے اقرار کو قبول کر کے حکم دیا کہ " جاؤ اس کا ہاتھ کا ٹو' پھر میرے پاس حاضر کرو ۔ چنانچہ ہاتھ کاٹنے کے بعد اُسے دوبارہ حاضر خدمت کیا گیا۔ حضور نے فرمایا " اب اللہ سے توبہ کر۔ اس نے کہا ”میں نے توبہ کی۔ آپ نے فرمایا ” جا اللہ نے تیری تو بہ قبول کر لی۔"
ایک اور موقع پر ایک شخص (عمر بن سمرہ ) نے حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ " میں نے فلاں قبیلہ کا اونٹ چرا لیا ہے، آپ مجھے پاک کر دیں ۔ حضور نے اُس قبیلے میں آدمی بھیج کر حقیقت حال دریافت کرائی۔ معلوم ہوا کہ فی الواقع اونٹ غائب ہے۔ اس پر آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ جب سزا اس پر نافذ کی گئی تو اس نےکہا ”شکر ہے اس خدا کا جس نےمجھے پاک کر دیا۔پھر اپنے کئےہوئے ہاتھ کو مخاطب کر کے کہتا ہے تو مجھے دوزخ میں لے جانا چاہتا تھا اللہ نے مجھے تجھ سے بچا لیا۔"
اوپر بنی مخزوم کی جس عورت کا قصہ مذکور ہوا ہے ۔ اس کے مقدمے کا جب حضور نے فیصلہ سنایا تو اس کی قوم نے کہا یا رسول اللہ ہم فدیہ دینے کو حاضر ہیں، آپ اسے چھوڑ دیں۔ مگر آپ نے فرمایا ” اس کا ہاتھ کا ٹو۔ انھوں نے عرض کیا:ہم پانچ سو دینار اس کےہاتھ کے بدلےمیں دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس کا ہاتھ کاٹو“۔ جب ہاتھ کاٹ ڈالا گیا تو اس عورت نےحاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ خدا کے ہاں بھی میرے بچنےکی کوئی صورت ہے؟ آپ نے جواب دیا ”ہاں ! اب تو اپنے گناہ سے اس طرح پاک ہو چکی ہے جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئی ہو۔
ماعز اسلمی کا مشہور واقعہ ہے کہ اُس نے مسجد میں حاضر ہو کر عرض کیا، یا رسول اللہ ! میں نے زناء کی ہے مجھے پاک کر دیجیے۔ آپ نے منہ پھیر کر فرمایا " جا تو یہ کر اور خدا سے مغفرت مانگ ۔ وہ پھر سامنے آیا اور وہی بات عرض کی۔ آپ نے منہ پھیر لیا۔ اس نے پھر سامنے آکر اپنی بات دہرائی۔ اس طرح جب چار مرتبہ وہ اقرار کر چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تو دیوانہ ہے؟ اُس نے کہا نہیں۔ پھر دریافت فرمایا کیا تو نے شراب پی ہے؟ اُس نے کہا نہیں۔ پھر پوچھا کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر آپ نےفرمایا کہ شاید تو نے صرف بوس و کنار کیا ہو گا؟ اس نے کہا، نہیں ۔ آپ نے پوچھا کیا تو ہم بستر ہوا؟ اس نے کہا ہاں۔ پوچھا کیا تو نے مباشرت کی؟ جواب دیا ہاں۔ اس طرح مباشرت کے ہم معنی کئی الفاظ بول بول کر آپ پوچھتے رہے اور وہ اثبات میں جواب دیتا رہا۔ آخر آپ نے پوچھا کیا تو جانتا ہے کہ زنا کے کہتے ہیں؟ اس نے کہا ہاں۔ میں نے اُس کے حرام کے طور پر وہ کام کیا ہے جو شوہر حلال کے طور پر اپنی بیوی سے کرتا ہے۔آپ نے پوچھا اس بیان سے تیری غرض کیا ہے؟ اس نے عرض کیا' پاک ہونا چاہتا ہوں۔تب آپ نےحکم دیا کہ جاؤ اس کو رحم کر دو۔ اس واقعہ کے دو تین بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی مجلس میں فرمایا دعا مانگو ماعز ابن الملک کے لیے اُس نے توبہ کی اور ایسی توبہ کی کہ اگر پوری قوم پر بانٹ دی جائے تو سب کی مغفرت کے لیے کافی ہو جائے“۔
غامد یہ کا واقعہ بھی حدیث کے مشہور واقعات میں سے ہے۔ اس نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں زنا کی مرتکب ہوئی ہوں، مجھے پاک کر دیجیے ۔ آپ نے جواب دیا ”جا تو بہ کر اور اللہ سے مغفرت مانگ"۔ اس نے عرض کیا آپ مجھےبھی ماعز کی طرح پلٹانا چاہتے ہیں؟ میں عرض کرتی ہوں کہ مجھے زنا کا حمل ہے۔ آپ نے فرمایا جا اور جب تک بچہ نہ پیدا ہو جائے اُس وقت تک ٹھہر"۔ جب زچگی ہوگئی تو وہ پھر حاضر ہوئی اور کہا کہ بچہ بھی پیدا ہو گیا، اب کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا ” اس کو دودھ پلا رضاعت ختم ہونے کے بعد دیکھا جائے گا“۔جب رضاعت کا زمانہ ختم ہو گیا تو وہ پھر بچے کو لیے ہوئے آئی اور عرض کیا کہ میں اس سےبھی فارغ ہو چکی ہوں ۔ تب آپ نے بچے کو ایک مسلمان کے حوالے کیا کہ اس کی پرورش کرے اور اس عورت پر رحم کی حد جاری کی۔ اس واقعے کے بعد کہیں حضرت خالد بن ولید کی زبان سے اس عورت کے حق میں برے الفاظ نکل گئے ۔ حضور نے سنا تو فرمایا خبر دار اے خالد! اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اُس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر نا جائز محصول لینے والا بھی ایسی تو بہ کرے تو بخشا جائے۔ پھر آپ نے خود اُس کی میت پر جنازے کی نماز پڑھائی۔
جنگ قادسیہ کے موقع پر ابو محجن ثقفی شراب نوشی کے جرم میں محبوس تھے ۔ جب ہنگامہ جنگ برپا ہوا تو ابونجن قید خانے میں تڑپنے لگے اور حضرت سعد بن ابی وقاص (اسلامی فوج کر جنرل) کی بیوی سے انھوں نے درخواست کی کہ ”مجھے معرکہ میں شریک ہونے کے لیے چھوڑ دو۔ اگر میں جنگ میں مارا گیا تو سزا کی حاجت ہی نہ رہے گی ۔ اور اگر زندہ رہا تو خود آ کر پاؤں میں بیڑیاں پہن لوں گا۔ ایک مسلمان خواہ وہ مجرم ہی کیوں نہ ہو اس کا وعدہ اتنا وزن رکھتا تھا کہ حضرت سعد کی بیگم صاحبہ کو اس پر اعتبار نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہ آئی چنانچہ انھوں نے ابو جن کو نہ صرف رہا کر دیا بلکہ سواری کے لیے حضرت سعد کی بہترین گھوڑی بھی دی۔ جنگ میں اُس شخص نےجس کی پیٹھ پر ۸۰ کوڑے لگنےکی سزا تجویز کی گئی تھی،اسلام اور حکومت اسلامی کے لیے وہ جاں فشانی دکھائی کہ خود حضرت سعد دیکھ کر ششدر رہ گئے ۔ اور جب معرکہ ختم ہوا تو اُس اللہ کے بندے نے اپنے وعدے کےمطابق خود آکر بیڑیاں پہن لیں۔ حضرت سعد نے ان کی اس مجاہدانہ سرفروشی کے صلےمیں ان کو رہا کر دیا اور فرمایا کہ ” جو شخص خدا کی راہ میں ایسی جاں شاری دکھاتا ہے میں اس کی پیٹھ پر کوڑے نہیں برساؤں گا۔ ابو مجن نے جواب دیا کہ میں بھی اب شراب نہ پیوں گا کیونکہ اب تک تو یہ توقع تھی کہ تم حد جاری کر کے مجھے پاک کر دو گے مگر تم نے اس توقع کا خاتمہ کر دیا۔"
یہ واقعات کسی تبصرے کے محتاج نہیں۔ ان سے آفتاب کی طرح روشن ہو جاتا ہےکہ اسلام میں سزا کا تصور کیا ہے اور اسلام کس طرح جرائم کا سد باب کرنے کے ساتھ ساتھ مجرموں کے اندر بلند ترین اخلاقی احساسات پیدا کرتا ہے اور کس طرح اسلام میں مجرموں کو سزا دینے کے بعد از سر نو سوسائٹی کے ایک معزز رکن کی حیثیت دے دی جاتی ہے۔ جو لوگ اس قانون کو وحشیانہ قانون کہتے ہیں وہ خود وحشی ہیں۔ تہذیب نفس اور انسانیت فاضلہ کے جس بلند مرتبے پر اس قانون نے بنی آدم کو پہنچا دیا اس کی مثال دُنیا کی تاریخ میں کہاں ملتی ہے؟
(۴) اقامت حدود میں وقت کے حالات اور ملزم کے حالات کا بھی لحاظ کیا جاتا ہے ۔ زمانہ جنگ میں حد موقوف رکھی جاتی ہے۔ قحط کے زمانے میں بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ۔ ملزم کے حالات سے اگر ثابت ہو کہ حقیقت میں وہ چوری پر مجبور ہو گیا تھا تب بھی اس کےساتھ رعایت کی جاتی ہےمثلاً حاطب ابن ابی بلتعہ کے غلاموں کا قصہ آثار میں منقول ہوا ہے کہ انھوں نے قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کا اونٹ چرا لیا تھا۔ مزنی نے آکر حضرت عمر سے شکایت کی۔ آپ نے مقدمہ کی تحقیقات کے بعد حکم دے دیا کہ ان کےہاتھ کاٹ ڈالے جائیں۔ پھر دفعتہ آپ کو اُن غلاموں کے حالات کی طرف توجہ ہوئی اور آپ نے فرمایا کہ تم نے ان غریبوں سے کام لیا مگر ان کو بھوکا مار دیا اور اس حال کو پہنچایا که اگر ان میں سے کوئی شخص حرام چیز کھالے تو اس کے لیے وہ جائز ہو"۔ یہ کہہ کر حضرت عمر رض اللہ عنہ نے ان غلاموں کو چھوڑ دیا اور ان کے مالک حضرت حاطب سے اُونٹ والے کو تاوان دلوایا ۔
اس قسم کی اور متعدد مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا قانون اندھا قانون نہیں ہے بلکہ وہ فرق کرتا ہے اُس شخص میں جو حقیقتا ارتکاب جرم پر مجبور ہو گیا ہو اور اس شخص میں جس نےحقیقی مجبوری کے بغیر جرم کیا ہو ۔ اسی بنا پر غیر شادی شدہ زانی اور شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق کیا گیا ہے۔ اور اسی بناء پر قحط کے مارے ہوئے شخص اور کھاتے پیتے شخص کی چوری کو ایک مرتبے پر نہیں رکھا گیا۔
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |