تفہیمات، دوم

خطب تقسیم اسناد

خطب تقسیم اسناد

[ یہ خطبہ ۱۹۴۰ء میں پنجاب کے ایک اسلامیہ کالج میں تقسیم اسناد کی تقریب پر عرض کیا گیا تھا۔]

فاضل اساتذہ معزز حاضرین اور عزیز طلبہ!

آپ کے اس جلسہ تقسیم اسناد ( قدیم اصطلاح کےمطابق جلسه دستار بندی ) میں مجھے اپنے خیالات کے اظہار کا جو موقع دیا گیا ہے اس کےلیےمیں حقیقتا بہت شکر گذار ہوں ۔ حقیقتاً کا لفظ میں خصوصیت کے ساتھ اس لیے بول رہا ہوں کہ یہ شکر گزاری رسمی نہیں بلکہ حقیقی ہے اور گہرے جذبۂ قدر شناسی پر مبنی ہے۔جس نظام تعلیم کے تحت آپ کا یہ عالی شان ادارہ قائم ہے اور جس کے تحت تعلیم پا کر آپ کے کامیاب طلبہ مسند فراغ حاصل کر رہے ہیں، میں اُس کا سخت دشمن ہوں اور میری دشمنی کسی ایسے شخص سے چھپی ہوئی نہیں جو مجھے جانتا ہے۔اس امیر واقعی کے معلوم و معروف ہونےکےباوجود جب یہاں اس تقریب پر مجھےخطبہ عرض کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تو فطری بات تھی کہ میرا دل ایسےلوگوں کے لیے قدر د اعتراف کے جذبے سے بھر جائے جو اپنے طریق کار کے دشمن کی باتیں سننے کے لیے بھی اپنے قلب میں کافی وسعت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ مجھے آپ کی اس مہربانی پر بھی شکر گزار ہونا چاہیے کہ آپ نے مجھے عین اس وقت اپنی قوم کے ان نو جوانوں سے خطاب کرنے کا موقع دیا ہے جبکہ یہ آپ سے رخصت ہو کر ہماری طرف عملی زندگی کے میدان میں آنے والے ہیں۔

معزز سامعین ! اب مجھے اجازت دیجیے کہ میں تھوڑی دیر کے لیے آپ کی طرف سے رخ پھیر کر اپنے ان عزیزوں سے مخاطب ہو جاؤں جو آج یہاں سے ڈگری لے رہے ہیں کیونکہ وقت کم ہے اور

غریب شہر سخن ہائے گفتنی دارد!

عزیزان من! آپ نے یہاں اپنی زندگی کے بہت سے قیمتی سال صرف کر کےتعلیم حاصل کی ہے۔ بڑی اُمنگوں کے ساتھ آپ اس وقت کا انتظار کر رہے تھے جبکہ آپ کو اپنی مملوں کا پھل ایک ڈگری کی صورت میں یہاں سے ملنے والا ہے۔ ایسے موقع پر جسے آپ اپنے نزدیک مبارک موقع سمجھتے ہوں گے آپ کے جذبات کی نزاکت کا مجھےپورا احساس ہے اور اسی لیے آپ کے سامنے اپنے خیالات کا صاف صاف اظہار کرتےہوئے میرا دل دُکھتا ہے۔ مگر میں آپ سے خیانت کروں گا اگر محض نمائشی طور پر آپ کےجذبات کی رعایت کر کے وہ بات آپ سے نہ کہوں جو میرے نزدیک نیچی ہے اور جس سےآپ کو آگاہ کرنا اس وقت اور اسی وقت میں ضروری سمجھتا ہوں، کیونکہ اس وقت آپ اپنی زندگی کے ایک مرحلے سے گزر کر دوسرے مرحلے کی طرف جا رہے ہیں ۔ دراصل میں آپ کی اس مادر تعلیمی کو۔۔۔ اور مخصوص طور پر اسی کو نہیں بلکہ تمام مادران تعلیمی کو۔۔۔درسگاہ کے بجائے قتل گاہ سمجھتا ہوں ۔ میرے نزدیک آپ فی الواقع یہاں قتل کیے جاتےرہے ہیں، اور یہ ڈگریاں جو آپ کو ملنے والی ہیں، یہ دراصل موت کے صداقت نامے(Death Certificates) ہیں جو قاتل کی طرف سے آپ کو اُس وقت دیے جا رہے ہیں جبکہ وہ اپنی حد تک اس بات کا اطمینان کر چکا ہے کہ اس نے آپ کی گردن کا تسمہ تک لگا رہنےنہیں دیا ہے۔ اب یہ آپ کی اپنی خوش قسمتی ہے کہ اس منضبط اور منتظم قتل گاہ سے بھی جان سلامت لے کر نکل آئیں۔میں یہاں اس صداقت نامہ موت کے حصول پر آپ کو مبارک باد دینےنہیں آیا ہوں بلکہ آپ کا ہم قوم ہونے کی وجہ سے جو ہمدردی قدرتی طور پر میں آپ کے ساتھ رکھتا ہوں وہ مجھے یہاں کھینچ لائی ہے۔ میری مثال اس شخص کی سی ہےجو اپنے بھائی بندوں کا قتل عام ہو چکنے کے بعد لاشوں کے ڈھیر میں یہ ڈھونڈتا پھرتا ہو کہ کہاں کوئی سخت جان بہل ابھی سانس لے رہا ہے۔

یقین جانیے یہ بات میں مبالغہ کی راہ سے نہیں کہہ رہا ہوں۔میں اخباری زبان میں سنسنی پیدا کرنا نہیں چاہتا۔ فی الواقع اس نظام تعلیم کے متعلق میرا نقطہ نظر یہی ہے۔اور اگر میں اس کو ذرا تفصیل کے ساتھ بتاؤں کہ میں کیوں اس نتیجے پر پہنچا ہوں، تو کیا جب کہ آپ خود بھی مجھ سے اتفاق کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

شاید آپ میں سے ہر شخص اس بات کو جانتا ہوگا کہ اگر کوئی پودا ایک جگہ سےاُکھاڑ کر دوسری ایسی جگہ لگا دیا جائے جہاں کی زمین، آب و ہوا موسم ہر چیز اس کی طبیعت کےخلاف ہو تو وہ وہاں کبھی جڑ نہ پکڑ سکے گا۔یہ دوسری بات ہےکہ مصنوعی طور پر اس کےلیےوہی حالات پیدا کر دیےجائیں جو اس کی قدرتی جائےپیدائش میں تھے۔ لیکن ظاہر ہے کہ لیبارٹری کی مصنوعی زندگی ہر پودے کو تمام عمر کے لیے میسر نہیں آ سکتی ۔ اس غیر معمولی صورت حال کو نظر انداز کر دینےکے بعد یہ کہنا بالکل صحیح ہو گا کہ کسی پودے کو اس کی اصلی جائے پیدائش سے اُکھاڑنا اور ایک بالکل مختلف قسم کے ماحول میں لے جا کر لگا دینا دراصل اسے ہلاک کرنا ہے۔

اچھا اب ذرا اُس بدقسمت پودے کی حالت کا اندازہ کیجیے جو اپنی زمین میں سےاُکھاڑا نہیں گیا اپنے ماحول سے نکالا بھی نہیں گیا۔ وہی زمین ہے وہی آب و ہوا ہے وہی موسم ہے جس میں وہ پیدا ہوا تھا۔ مگر سائنٹفک طریقوں سے اُس کے اندر ایسی تبدیلی پیدا کر دی گئی کہ اپنی ہی جائے پیدائش میں اُس کی طبیعت اپنے وطن کی زمین اُس کی آب و ہوا اور اُس کے موسم سے بے لگاؤ اور بیگا نہ ہو کر رہ گئی اور وہ اس قابل نہ رہا کہ اس زمین میں اپنی جڑیں پھیلا سکے اس ہوا اور اس پانی سے غذا حاصل کر سکے اور اس موسم میں پھل پھول سکے۔ اس اندرونی تغیر کی وجہ سے وہ بعینہ ایسا ہو گیا جیسے کسی دوسری زمین کا پودا ہےاور اجنبی ماحول میں لاکر لگا دیا گیا ہے۔ اب وہ اس کا محتاج ہو گیا ہے کہ اس کے گرد مصنوعی فضا تیار کی جائے اور مصنوعی طور پر اس کی زندگی کا سامان کیا جائے ۔ یہ لیبارٹری کی زندگی اگر اسے ہم نہ پہنچے تو وہ جہاں پیدا ہوا ہے وہیں کھڑے کھڑے زمین چھوڑ دے گا اور مرجھا کر رہ جائے گا۔

پہلا فعل، یعنی ایک پودے کو اُکھاڑ کر اجنبی ماحول میں جالگانا تو چھوٹے درجے کا ظلم ہے۔ مگر دوسر افعل، یعنی ایک پودے کو اسی جگہ جہاں وہ پیدا ہو ا ہے اپنے ماحول سےاجنبی بنا دینا اس سے عظیم تر ظلم ہے۔ اور جب ایک دو نہیں لاکھوں پودوں کے ساتھ یہی سلوک ہو رہا ہو اور اتنے کثیر التعداد پودوں کے لیے لیبارٹری کی مصنوعی فضا ہم پہنچانا محال ہو تو بے جانہ ہوگا اگر اسے ظلم کے بجائے قتل عام کہا جائے۔

حقیقی صورت حال کا جو مطالعہ میں نےکیا ہے وہ مجھے بتاتا ہے کہ ان درس گاہوں میں آپ کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔ آپ ہندوستان (۱) کی سرزمین میں مسلم سوسائٹی کےاندر پیدا ہوئے ہیں۔ یہی زمین، یہی تمدنی آب و ہوا اور یہی تہذیبی ماحول ہے جس کی پیداوار آپ ہیں ۔ آپ کے نشو و نما پانے اور پھل پھول لانے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ آپ اسی زمین میں جڑیں پھیلائیں اور اسی آب و ہوا سے زندگی کی طاقت حاصل کریں۔ اس ماحول سے آپ کو جتنی زیادہ مناسبت ہوگی اسی قدر زیادہ بالیدگی آپ کو نصیب ہوگی اور اسی قدر زیادہ اس چمن کی بہار میں آپ اضافہ کریں گے ۔ مگر واقعہ کیا ہے؟ یہاں جو تعلیم اور تربیت آپ کو ملتی ہے جو ذہنیت آپ کے اندر پیدا ہوتی ہے جو خیالات جذبات اور داعیات آپ کے اندر پرورش پاتے ہیں، جو عادات اطوار اور خصائل آپ میں راسخ ہوتے ہیں، اور جس طرز فکر رنگ طبیعت اور طریق زندگی کے سانچے میں آپ ڈھالے جاتے ہیں، کیا وہ سب مل جل کر اس زمین اس آب و ہوا اور اس موسم سےکوئی مناسبت بھی آپ کے اندر باقی رہنے دیتے ہیں؟ یہ زبان جو آپ لکھتے اور بولتےہیں یہ لباس جو آپ پہنتے ہیں، یہ طرز زندگی جو آپ اختیار کرتے ہیں، یہ نظریات اور افکار جو آپ اس تعلیم سے حاصل کرتے ہیں، ان سب چیزوں کو آخر کون سا لگاؤ ان کروڑوں بھائیوں کے ساتھ ہے جن کے درمیان آپ کا جینا اور مرنا ہے اور اُس تمدن کے ساتھ ہے جو آپ کے چاروں طرف چھایا ہوا ہے؟ آپ کی شخصیت اس ماحول میں کس قدر بیگانہ اور یہ ماحول آپ کی شخصیت کے لیے کتنا اجنبی ہے! کاش آپ کے اندر اتنی حس ہی باقی رہنے دی گئی ہوتی کہ آپ اس بیگانگی کو اور اس کی اذیت کو محسوس کر سکتے ۔


١-خیال رہے کہ تقسیم ہند سے کئی سال پہلے کا خطبہ ہے۔

آپ اتنا تو بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ خام اشیاء کو صنعت اور کاریگری سے تیار کرنےکا مدعا یہی ہوتا ہے کہ وہ زندگی کےلیےکارآمد اور مفید بن سکیں۔ جو چیز اس طرح تیار کی گئی ہو کہ اُس سےیہ مدعا حاصل نہ ہو سکےوہ خود بھی ضائع ہوئی اور اس پر کاریگری بھی فضول صرف کی گئی ۔کپڑے پر خیاطی کی قابلیت اسی لیے صرف کی جاتی ہے کہ وہ جسم پر راست آئےیہ بات حاصل نہ ہوئی تو اس کا ریگری نےکپڑے کو بنایا نہیں، بگاڑ دیا۔ خام جنس پر طلبافی کا فن صرف کرنےکا مقصد یہ ہوتا ہےکہ وہ کھانےکےقابل ہو جائےاگر وہ کھانے ہی کے قابل نہ ہوئی تو باورچی نےاُسےضائع کیا نہ کہ بنایا۔بالکل اسی طرح تعلیم کا مدعا بھی یہ ہوتا ہےکہ سوسائٹی میں جن نئے انسانوں نےجنم لیا ہےاور جن کی جبلتی صلاحیتیں ابھی خام حالت میں ہیں،ان کو بنا سنوار کر اور بہتر طریقے پر نشو ونما دے کر اس قابل بنا دیا جائےکہ جس سوسائٹی نے انھیں جنم دیا ہےوہ اس کےمفید اور کارآمد فرد بن سکیں اور اس کی زندگی کےلیےبالیدگی اور فلاح و ترقی کا ذریعہ ہوں مگر جو تعلیم افراد کو اپنی سوسائٹی اور اس کی حقیقی زندگی سے اجنبی بنا دے اس کے حق میں اس کے سوا آپ اور کیا فتوی دے سکتے ہیں کہ وہ افراد کو بناتی نہیں بلکہ ضائع کرتی ہے؟ ہر قوم کے بچےدراصل اس کے مستقبل کا محضر ہوتے ہیں۔ قدرت کی طرف سے یہ محض ایک لوح سادہ کی شکل میں آتا ہے اور قوم کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ خود اس پر اپنے مستقبل کا فیصلہ لکھے۔ہم وہ دیوالیہ قوم ہیں جو اس محضر پر اپنے مستقبل کا فیصلہ خود لکھنے کے بجائے اسے دوسروں کے حوالے کر دیتی ہے کہ وہ اس پر جو چاہیں ثبت کر دیں، خواہ وہ ہماری اپنی موت کا فتویٰ ہی کیوں نہ ہو۔

جب آپ کوئی کپڑا اسلواتے ہیں اور وہ آپ کے جسم پر راست نہیں آتا تو مجبوراً آپ اُسے مارکیٹ میں لے جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اونے پونے بیچ کر کچھ دام ہی سیدھے کر لیں ۔ اگر کپڑا کوئی ذی شعور ہستی ہو تو وہ خود بھی اپنا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں سوچ سکتا کہ کہیں نہ کہیں اس کے سے ناپ اور اس کی سی تراش خراش کے کپڑے کی مانگ ہو تو وہ وہاں کھپ جائے۔ جب تک کسی جسم پر وہ راست نہ آئے گا نیلام گھروں اور کباڑ خانوں میں مارا مارا پھرتا رہےگا۔ ایسا ہی حال اُن لوگوں کا بھی ہے جو ان درسگاہوں سےتیار ہو کر نکلتے ہیں۔ جس سوسائٹی نے انھیں تیار کرایا ہے اس کے پاس جب یہ تیار ہو کر واپس پہنچتے ہیں، تو وہ بھی محسوس کرتی ہے اور یہ خود بھی محسوس کرتے ہیں کہ یہ اُس کے تمدن اور اس کی زندگی کے لیے ٹھیک نہیں بنے ۔ جس طرح معدہ اس غذا کو قبول نہیں کرتا جو اس کے لیے مناسب نہ ہو۔ اسی طرح سوسائٹی بھی طبعی طور پر اُن افراد کو اپنے اندر کھپا نہیں سکتی جو اس کے لیے مناسب نہ ہوں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کو اپنے کام کا نہ پا کر نیلام کےلیے پیش کر دیتی ہےجس قدر قیمت پر بھی یہ بک سکتےہیں بیچ ڈالتی ہےاور یہ خود بھی اپنی زندگی کا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں سمجھتے کہ کہیں بک جائیں۔آپ غور تو کیجیے کس قدر سخت خسارے میں ہےوہ قوم جو اپنی بہترین انسانی متاع دوسروں کے ہاتھ بیچتی ہے؟ ہم وہ زیاں کارلوگ ہیں جو انسان دے کر جوتا اور کپڑا اور روٹی حاصل کرتے ہیں! قدرت نے جو انسانی طاقت (Man (Power) اور دماغی طاقت (Brain Power) ہم کو خود ہمارےاپنے کام کے لیے دی تھی وہ دوسروں کے کام آتی ہے۔ ان ہٹے کئے جسموں میں جو قوت بھری ہوئی ہے ان بڑے بڑے سروں میں جو یا ہلتیں بھری ہوئی ہیں،ان چوڑے چکلےسینوں میں جو دل طرح طرح کی طاقتیں رکھتے ہیں، جنھیں خدا نے ہمارے لیے عطا کیا تھا ان میں سے بمشکل ایک دو فی صد ہی ہمارے کام آتے ہیں۔ باقی سب کو دوسرے خرید لے جاتے ہیں۔ اور لطف یہ ہے کہ اس خسارے کی تجارت کو ہم بڑی کامیابی سمجھ رہےہیں۔کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارا اصل سرمایہ زندگی تو یہی انسانی طاقت ہے۔ اسے بیچنا نفع کا سودا نہیں بلکہ سراسر ٹوٹا ہے۔

مجھے بکثرت ایسے نوجوانوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے جو اعلیٰ تعلیم پا رہے ہیں، یا تازه تازہ فارغ ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے میں یہ تحقیق کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ انھوں نے اپنی زندگی کا کوئی مقصد بھی معین کیا ہے یا نہیں ۔ مگر میری مایوسی کی انتہا نہیں رہتی جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ مشکل سے ہزاروں میں کوئی ایک ایسا ملتا ہے جو اپنے سامنےزندگی کا کوئی مقصد رکھتا ہو بلکہ بیشتر اصحاب تو ایسے ہیں جن کے ذہن میں اس امر کا سرےسے کوئی تصور ہی نہیں ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی مقصد بھی ہونا چاہیے یا ہو سکتا ہے۔ مقصد کے سوال کو وہ محض فلسفیانہ یا شاعرانہ مسئلہ سمجھتے ہیں اور عملی حیثیت سے یہ طے کرنے کی کوئی ضرورت اُن کو محسوس نہیں ہوتی کہ آخر دُنیا کی زندگی میں ہماری کوششوں اور محنتوں کا اور ہماری تمام دوڑ دھوپ کا کوئی منہا (Goal) اور کوئی مقصود بھی ہونا چاہیے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی یہ حالت دیکھ کر میرا سر چکرانے لگتا ہے۔ میں حیران ہو کر سوچنے لگتا ہوں کہ اُس نظام تعلیم کو کس نام سے یاد کروں جو پندرہ میں سال مسلسل دماغی تربیت کے بعد بھی انسان کو اس قابل نہیں بنا تا کہ وہ اپنی قوتوں اور قابلیتوں کا کوئی مصرف اور اپنی کوششوں کا کوئی مقصود معین کر سکے بلکہ زندگی کے لیے کسی نصب العین کی ضرورت ہی محسوس کر سکے۔یہ انسانیت کو بنانے والی تعلیم ہے یا اس کو قتل کرنے والی؟ بے مقصد (Almless) زندگی بسر کرنا تو حیوانات کا کام ہے۔ اگر آدمی بھی صرف اس لیے جیسے کہ جینا ہے اور اپنی قوتوں کا مصرف بقائے نفس اور تناسل کے سوا کچھ نہ سمجھے تو آخر اس میں اور دوسرے حیوانات میں کیا فرق باقی رہا۔

میری اس تنقید کا یہ مدعا ہر گز نہیں ہے کہ آپ کو ملامت کروں ۔ ملامت تو قصور وار کو کی جاتی ہے اور آپ قصور وار نہیں بلکہ مظلوم ہیں۔ اس لیے میں دراصل آپ کی ہمدردی میں یہ سب کچھ کہہ رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اب جو آپ زندگی کے عملی میدان میں قدم رکھنے کے لیے جا رہے ہیں تو پوری طرح اپنا جائزہ لے کر دیکھ لیں کہ فی الواقع اس مرحلہ پر آپ کس پوزیشن میں ہیں۔

آپ ملت اسلام کے افراد ہیں۔ یہ ملت کوئی نسلی قومیت نہیں ہے کہ جو اس میں پیدا ہو وہ آپ سے آپ مسلم ہو۔یہ محض ایک ایسےتمدنی گروہ (Cultural Group) کا نام بھی نہیں ہےجس کےساتھ محض معاشرتی حیثیت سے وابستہ ہونا مسلم ہونے کے لیے کافی ہو ۔ دراصل اسلام ایک مخصوص نظام فکر (Ideology) کا نام ہے جس کی بنیاد پر تمدنی زندگی اپنے تمام شعبوں اور پہلوؤں کے ساتھ تعمیر ہوتی ہے۔ اس ملت کا بقاء بالکل اس بات پر منحصر ہے کہ جو افراد اس میں شامل ہوں وہ اس نظام فکر کو سمجھتے ہوں، اس کی رُوح سے آشنا ہوں اور اپنی تمدنی زندگی کے ہر شعبے میں اس روح کی عملی تفسیر و تعبیر پیش کرنے پر قادر بھی ہوں اور آمادہ بھی۔ خصوصیت کے ساتھ ملت کے اہل دماغ طبقے (Intelligentsia) کےلیے تو سب سے بڑھ کر اس علم و فہم اور اس عمل کی ضرورت ہے کیونکہ یہی طبقہ ملت کا رہنما اور پیش رو ہے۔اگرچہ ہر قوم اور ہر گروہ کو اس کی ضرورت ہوتی ہےکہ اس کا اہل دماغ طبقہ اس کی مخصوص قومی تہذیب کے رنگ میں پوری طرح رنگا ہوا ہو لیکن ملتِ اسلام کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ یہاں ہماری انفرادیت (Individuality) کی اساس نہ خاک ہے نہ خون نہ رنگ نہ زبان نہ کوئی اور ماڈی چیز بلکہ صرف اسلام ہےہمارے زندہ رہنےاور ترقی کرنےکی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ ہماری ملت کےافراد اور خصوصاً اہل دماغ طبقے اسلامی طرز فکر اور اسلامی طرز عمل کے سانچے میں ڈھلےہوئے ہوں۔ اس لحاظ سے ان کی تعلیم اور تربیت میں جتنی اور جیسی کمزوری ہوگی اس کا عکس ہماری ملت کی زندگی میں جوں کا توں نمودار ہوگا اور اگر وہ اس سےبالکل خالی ہوں تو یہ دراصل ہماری موت کا نشان ہوگا۔

یہ وہ حقیقت ہے جس سے یہاں کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ مگر کیا یہ واقعہ نہیں ہےکہ موجودہ نظام تعلیم میں ملتِ اسلام کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت کے لیے جو انتظام کیا جاتا ہے۔ وہ دراصل اُن کو اس ملت کی پیشوائی کے لیے نہیں بلکہ اس کی غارت گری کےلیے تیار کرتا ہے؟ ان درس گاہوں میں آپ کو فلسفہ سائنس' معاشیات، قانون، سیاسیات تاریخ اور دوسرے تمام وہ علوم پڑھائےجاتے ہیں جن کی مارکیٹ میں مانگ ہے مگر آپ کو اسلام کےفلسفےاسلام کی اساس حکمت اسلام کے اصول معیشت اسلام کے اصول قانون اسلام کے نظریه سیاسی اور اسلام کی تاریخ اور فلسفہ تاریخ کی ہوا تک نہیں لگنےپاتی۔اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ آپ کے ذہن میں زندگی کا پورا نقشہ اپنےتمام جزئیات اور تمام پہلوؤں کےساتھ بالکل غیر اسلامی خطوط پر بنتا ہےآپ غیر اسلامی طرز پر سوچنےلگتے ہیں ۔ غیر اسلامی نقطۂ نظر سے زندگی کے ہر معاملہ کو دیکھتے ہیں اور دیکھنے پر مجبور ہوتےہیں کیونکہ اسلامی نقطہ نظر کبھی آپ کے سامنے آتا ہی نہیں۔ منتشر طور پر کچھ معلومات اسلام کے متعلق آپ تک پہنچتی ہیں۔ مگر وہ غیر مستند اور بسا اوقات غلط اوہام و خرافات کے ساتھ ملی جلی ہوتی ہیں۔ ان معلومات سے اس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا کہ آپ ذہنی طور پر اسلام سے اور زیادہ بعید ہو جاتے ہیں۔ آپ میں سے جو لوگ محض آبائی مذہب کی وجہ سے اسلام کے ساتھ گہری عقیدت رکھتے ہیں وہ دماغی طور پر غیر مسلم ہو جانے کے باوجود کسی نہ کسی طرح اپنے دل کو سمجھاتے رہتے ہیں کہ اسلام حق تو ضرور ہوگا، اگر چہ مجھ میں نہیں آتا ۔ اور جو لوگ اس عقیدت سے بھی خالی ہو چکے ہیں وہ اسلام پر اعتراض کرنے اور اس کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں چوکنے۔

اس قسم کی تعلیم پانے کے ساتھ عملاً جو تربیت آپ کو میسر آتی ہے، جس ماحول میں آپ گھرے رہتے ہیں، اور عملی زندگی کے جن نمونوں سے آپ کو واسطہ پیش آتا ہے اُن میں مشکل ہی سے کہیں اسلامی سیرت و اخلاق اور اسلامی طرز عمل کا نشان پایا جاتا ہے۔اب یہ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کو نہ علمی حیثیت سے اسلام کی واقفیت ہم پہنچائی گئی ہو نہ عملی حیثیت سے اسلامی تربیت دی گئی ہو وہ فرشتے تو نہیں ہیں کہ خود بخود مسلمان بن کر اُٹھیں ان پر وحی تو نازل نہیں ہوتی کہ خود بخود ان کے دل میں علم دین ڈال دیا جائے۔ وہ پانی اور ہوا سے تو اسلامی تربیت اخذ نہیں کر سکتے۔اگر وہ فکر اور عمل دونوں حیثیتوں سےغیر اسلامی شان رکھتے ہیں،تو یہ اُن کا قصور نہیں بلکہ ان درس گاہوں کا قصور ہےجو موجودہ نظام تعلیم کےماتحت قائم کی گئی ہیں۔ در حقیقت یہ میرا وجدان ہے جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ان درس گاہوں میں دراصل آپ کو ذبح کیا جاتا ہےاور اس ملت کی قبر کھودی جاتی ہےجس کےنونہال آپ ہیں۔ آپ نےجس سوسائٹی میں جنم لیا' جس کےخرچ پر تعلیم پائی جس کی فلاح کے ساتھ آپ کی فلاح اور جس کی زندگی کے ساتھ آپ کی زندگی وابستہ ہے اس کے لیے آپ بیکار بنا کر رکھ دیے گئے ہیں ۔ آپ کو صرف یہی نہیں کہ اس کی اصطلاح کے لیے کام کرنے کے قابل نہیں بنایا گیا، بلکہ دراصل آپ کو باضابطہ اور منظم طریقےپر ایسا بنا دیا گیا ہے کہ بلا ارادہ آپ کی ہر حرکت اس ملت کے لیے فتنہ ساماں ہوا حتی کہ آپ اس کی خیر خواہی کے لیے بھی کچھ کرنا چاہیں تو وہ اس کے حق میں مضر ثابت ہو۔اس لیےکہ آپ اس کی فطرت سے بیگانہ اور اس کے ابتدائی اُصولوں تک سےبیگانہ رکھے گئےہیں اور آپ کی پوری دماغی تربیت اس نقشے پر کی گئی ہے جو ملت اسلام کے نقشے کےبالکل بر عکس ہے۔

اپنی اس پوزیشن کو اگر آپ سمجھ لیں،اور اگر آپ کو پوری طرح احساس ہو جائےکہ فی الواقع کس قدر خطرناک حالت کو پہنچا کر اب آپ کو کارزار زندگی کی طرف جانےکے لیے چھوڑا جا رہا ہے تو مجھےیقین ہے کہ آپ کچھ نہ کچھ تلافی مافات کی کوشش ضرور کریں گے۔ پوری تلافی تو شاید اب بہت ہی مشکل ہے، تاہم میں آپ کو تین باتوں کا مشورہ دوں گا جن سے آپ کافی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں:۔

ا۔ جہاں تک ممکن ہو عربی زبان سیکھنے کی کوشش کیجیے کیونکہ اسلام کا ماخذ اصلی یعنی قرآن اسی زبان میں ہے اور اس کو جب تک آپ اس کی اپنی زبان میں نہ پڑھیں گے اسلام کا نظام فکر کبھی آپ کی سمجھ میں پوری طرح نہ آ سکے گا۔ عربی زبان کی تعلیم کا پرانا هولناک طریقہ اب غیر ضروری ہو گیا ہے ۔ جدید طرز تعلیم سے آپ چھ مہینے میں آتنی عربی سیکھ سکتے ہیں کہ قرآن کی عبارت سمجھنے لگیں۔

٢- قرآن مجید سیرت رسول اور صحابہ کرام کی زندگی کا مطالعہ اسلام کو سمجھنے کے لیےناگزیر ہے۔ جہاں آپ نے اپنی زندگی کے ۱۲ ۱۵ سال دوسری چیزوں کےپڑھنے میں ضائع کیے ہیں، وہاں اس سے آدھا بلکہ چوتھائی وقت ہی اس چیز کےسمجھنے میں صرف کر دیجیے جس پر آپ کی ملت کی اساس قائم ہے اور جس کو جانے بغیر آپ اس ملت کے کسی کام نہیں آسکتے۔

٣- جو کچھ بھلی یا بری رائے آپ نے ناکافی اور منتشر معلومات کی بنا پر اسلام کےمتعلق قائم کر رکھی ہو اس سے اپنے ذہن کو خالی کر کے اس کا با قاعدہ مطالعہ (Systematic Study) کیجیے پھر جس رائے پر بھی آپ پہنچیں گے وہ قابل وقعت ہوگی۔ تعلیم یافتہ آدمیوں کے لیے یہ کسی طرح موزوں نہیں ہے کہ وہ کسی چیز کے متعلق کافی معلومات حاصل کیے بغیر رائے قائم کریں۔

اب میں اس دُعا کے ساتھ اپنا یہ خطبہ ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرےاور آپ کو اس خطرے سے بچائے جس میں آپ پھنسا دیے گئے ہیں۔

ترجمان القرآن

( محرم صفر ۱۳۶۳ھ مطابق جنوری فروری ۱۹۴۴ء)

کتاب تفہیمات، دوم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Understandings