تفہیمات، دوم

قصه داود علیہ السلام اور اسرائیلی خرافات

قصه داود علیہ السلام اور اسرائیلی خرافات

کچھ مدت ہوئی ناظرین ترجمان القرآن میں سے ایک صاحب نے اس قصے کےمتعلق اپنے شکوک کا اظہار کیا تھا جو سور وص کے دوسرے رکوع میں حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق بیان ہوا ہے(۱) اگرچہ ان کو ایک مختصر جواب بر وقت دے دیا گیا،مگر بعد میں خیال آیا کہ یہ قصہ قرآن مجید کےاُن مقامات میں سےہے جن کے حسن و جمال کو اسرائیلی خرافات کےغبار نےاکثر لوگوں کی نظروں سےچھپا دیا ہےاور جن کےمتعلق عام طور پر متداول تفسیروں یا ترجموں کی مدد سے قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والوں کو شبہات اور سخت شبهات پیش آتے ہیں۔ لہذا اس پر ایک مستقل مضمون لکھنے کی ضرورت ہےتا کہ لوگوں کو معلوم ہو جائےکہ یہ قصہ قرآن حکیم میں کسی فائدے کے لیے بیان کیا گیا ہے اور اس کا صحیح مفہوم کیا ہے۔

سورہ ص اس مضمون سے شروع ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سن کر کفار ضد اور ہٹ دھرمی اور تقلید آبائی کی بنا پر آپ کو جھٹلاتےہیں اور ان کےجواب میں اللہ تعالیٰ قوم نوح" اور عاد اور فرعون اور شموڈ اور قوم لوط اور قوم شعیب کا حوالہ دے کر انھیں متنبہ کرتا ہے کہ یاد رکھو! ہمارے قانون میں کسی کے لیے رو رعایت نہیں ہے تم سے پہلےجس جس نے ہمارے فرمان سے سرتابی کی ہے اُس کو سخت سزا دی جا چکی ہے اور اب اگر تم سرکشی کرو گے تو کوئی چیز تم کو ہمارے عذاب سے نہ بچا سکے گی۔


١-عموماً پرانےطرز کی تفسیروں میں یہ قصہ کچھ بیان ہی اس طرح ہوا ہےکہ جو اللہ کا بندہ اسےپڑھتا ہےوہ خلجان میں پڑ جاتا ہے۔

اسی تنبیہ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ آگے چل کر بیان فرماتا ہے کہ ہمارا قانون تو ایسا بے لاگ ہے کہ معمولی درجہ کے انسان تو کیا چیز ہیں، بڑے بڑے عالی مرتبہ لوگ حتی کہ نبی اور پیغمبر بھی اگر ہمارے مقرر کیے ہوئے طریق حق سے بال برابر جنبش کرتے ہیں تو ہم ان کو بھی گرفت کیے بغیر نہیں چھوڑتے ۔ وَاذْكُرُ عَبْدَنَا دَاوُدَ - اے نبی ! ان کو ذرا ہمارےخاص بندے داؤد کا حال سناؤ۔ یہ کس پائے کا مشخص تھا؟ ڈالا ئید۔ بڑی قوتوں کا مالک بڑی نعمتوں سے سرفراز کیا ہوا۔ اِنَّهُ أَوَّابٌ (ص: ۱۷) اور اس کےساتھ نہایت خدا ترس ۔دائماً اپنے مالک کی طرف رجوع کرنے والا ۔ اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةٌ كُلٌّ لَهُ اَوَّابٌ ) ص: ۱۹۱۸) - صبح و شام خدا کا ذکر اس جوش اس جذبہ کے ساتھ کرتا تھا کہ پہاڑ اور پرندے تک اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتےتھے ۔ وَشَدَدْنَا مُلُكَهُ وَآتَيْنَهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ (ص:۲۰) ہم نے اس کو نہایت مضبوط طاقتور سلطنت عطا کی تھی،حکمت اور دانش مندی کی نعمت سےنوازا تھا اور اس کو فیصلہ کن بات کہنے کی قابلیت بخشی تھی۔ مگر تمہیں معلوم ہے کہ جب اس سے ایک معاملہ میں لغزش ہو گئی تھی تو ہم نے کیا کیا ؟

وَهَلْ أَتَكَ بَنَوُا الْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُو الْمِحْرَابَ - إِذْ دَخَلُوا عَلَى دَاوُدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوا لَا تَخَفْ خَصْمْنِ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطُ وَاهْدِنَا إِلَى سَوَاءِ الصِّرَاطِ - (ص: ۲۲۲۱)

کیا تمہیں اور مقدمہ والوں کی خبر پہنچی ہے جو دیوار پھاند کر داؤد کی خلوت_١ گاہ میں گھس آئے تھے؟ ان کے اس طرح اچانک ایسی جگہ پہنچ جانے سے جب داؤد گھبرا گئے، تو انھوں نے کہا آپ پریشان نہ ہوں، ہم دونوں فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نےدوسرے پر زیادتی کی ہے۔ آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیں حق سے تجاوز نہ کریں اور ہمیں عدل کا راستہ دکھا ئیں۔


١- محراب سے مراد محراب مسجد نہیں ہے جیسا کہ ایک عام اُردو خواں آدمی سمجھتا ہے بلکہ دراصل اس سے مراد بالا خانہ ہے۔

مقدمہ کیا تھا؟ ایک فریق نے دوسرے فریق کی طرف اشارہ کر کے کہا:

إِنَّ هَذَا أَخِي لَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً وَّلِى نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ فَقَالَ اكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ - (ص:۲۳)

بے شک یہ میرا بھائی ہے یعنی دینی بھائی اور ہم قوم اس کے پاس ۹۹ دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دُنبی ۔ یہ مجھ سے کہتا ہےکہ تو اپنی ایک دُنبی بھی مجھے دے دے اور اس مطالبہ میں یہ اپنی شان وشوکت سے مجھے دبا لیتا ہے۔

داؤد علیہ السلام اس رُوداد مقدمہ کو سن کر فرماتے ہیں:

لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَى نِعَاجِهِ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْعُلَطَاءِ لَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلِحَتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمُ ( ص :۲۴)

بلا شبہ اس شخص نے ظلم کیا کہ اتنی دنبیاں رکھتے ہوئے بھی تیری ایک ذنبی مانگ بیٹھا اور اکثر ہمسایوں کا یہی حال ہے کہ ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے ہیں بجز ایسے لوگوں کے جو ایمان دار اور نیکوکار ہیں ۔ مگر ایسے لوگ کم ہی ہیں۔

یہ فیصلہ دینے کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کو ایکا ایک خیال آیا کہ ایسی ہی ایک لغزش مجھ سے بھی ہو چکی ہے چنانچہ وہ فوراً خدا کے خوف سے لرز اُٹھنے اور توبہ و استغفار کرنے لگے:

وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَتْهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَتَابَ (ص:۲۴)

داؤد (علیہ السلام) کو معا یہ گمان ہوا کہ یہ مقدمہ بھیج کر ہم نے اس کو آزمائش میں ڈالا ہے۔ چنانچہ اسی وقت اس نے اپنے پروردگار سے عفو و بخشش کی دعا کی اور سجدے میں گر پڑا اور بار بار توبہ کی۔

جب داؤد نے اس طرح اپنی لغزش کا اعتراف کیا اور نیچے دل سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:

فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَابِ (ص: ۲۵)

ہم نے اس کی وہ خطا معاف کر دی اور یقیناً وہ ہمارے ہاں مقرب ہے اور اس کی اچھی منزلت ہے۔

مگر اس کے ساتھ ہی ہم نے اس کو ان الفاظ میں سختی کے ساتھ تنبیہ بھی کی کہ:

يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلُنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ (ص: ۲۶)

اے داؤد! (علیہ السلام) ہم نے تجھ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور اپنے نفس کی پیروی نہ کر کہ یہ خواہشات کہیں تجھ کو خدا کے راستہ سے بھٹکا نہ دیں۔ جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹکتے ہیں یقینا ان کے لیے سخت عذاب ہےکیونکہ وہ روزِ حساب کو بھول گئے ۔

جیسا کہ ابتدا میں بیان کیا جا چکا ہے۔ سورۃ ص میں اس قصے کو بیان کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ جو لوگ خدا سے بے خوف اور اس کے بے لاگ قانون سے ناواقف ہیں انھیں متنبہ کر دیا جائے کہ اس احکم الحاکمین کے ہاں کسی کے ساتھ اور عایت نہیں ہے۔ اس کے قانون سے بال برابر انحراف بھی اگر ہوگا تو اس پر گرفت ضرور ہوگی اور کوئی بڑی سےیدی شخصیت بھی اس کی گرفت سے نہ بچے گی، بلا یہ کہ نیچے دل سے تو بہ کرئے اخلاص کےساتھ اس کی جناب میں رجوع لائے اور اپنے آقا کے مقابلے میں کبر کے بجائے عجز اختیار کرے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک اور ضمنی فائدہ بھی ہے جس کے لیے یہ قصہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور وہ ایک جلیل القدر نبی کے حق میں یہود کی غلط بیانیوں کو دور کرنا ہے۔

یہود کے متعلق معلوم ہے کہ انھوں نے خود اپنی قوم کے انبیاء پر ناپاک الزامات لگانے اور ان کی سیرتوں کو داغ دار کرنے میں کوئی تامل نہیں کیا ہے ۔ حضرت نوع ، حضرت ابراہیم حضرت لوط حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب حضرت یوسف حضرت موسیٰ ،حضرت ہارون غرض کوئی ان بدگوئیوں سے نہ بچ سکا لیکن سب سے زیادہ فلم انھوں نے حضرت داود اور حضرت سلیمان علیہم السلام پر کیا کہ ان کو انبیاء کی صف سے نکال کر معمولی بادشاہوں کی صف میں اتار لائے اور ان کو اس حیثیت سے پیش کیا کہ وہ ڈپلومیٹ ہیں فاتح اور مدبر ہیں، جھوٹ ، فریب، ظلم اور ان تمام وسائل سے تو سیع مملکت کرتے ہیں جن سے دنیا کے دوسرے فاتحوں اور جہانگیروں نےکام لیا ہےاور اپنےنفس کی خواہشات پوری کرنے کے لیے وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں جو عام بادشاہوں کا شیوہ ہے۔حد یہ کہ کہ ان لوگوں نے حضرت داؤد پر زنا اور حضرت سلیمان پر شرک کا الزام لگانے میں بھی باک نہیں کیا (١) یہ اس قوم کا برتاؤ اپنے اُن بزرگوں کے ساتھ ہے جنھوں نے اس کو ڈنٹ کی خاک سے اٹھا کر عزت کے آسمان پر پہنچا یا۔ آج جن تاریخی مفاخر پر یہ قوم ناز کرتی ہے وہ سب انھی بزرگوں کی بدولت اسے نصیب ہوئے ہیں اور انھی کی پاک سیرتوں پر اس نے سیاہی کے چھینٹے پھینکے ہیں۔


١- جو اصحاب اس کی تفصیل معلوم کرنا چاہیں وہ بائیل کے حسب ذیل مقامات نکال کر دیکھیں:

_______ حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں پیدائش باب ۹ آیت ۲۰ - ۲۵

______ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق، پیدائش باب ۱۲ آیت ۱۰-۲۰ باب ۲۰ آیت ۱-۱۳

______ حضرت لوط علیہ السلام کے متعلق پیدائش باب ۱۹ آیت ۳۰ - ۳۸

______ حضرت اسحاق علیہ السلام کے متعلق پیدائش باب ۲۶ آیت ۷-۱۱

_____ حضرت یعقوب علیہ السلام کے متعلق پیدائش باب ۲۷ آیت ۱- ۳۸ باب ٬۲۹ آیت ۱۶-۲۹ باب ۳۴ مکمل ۔ باب ۳۶، آیت ۲۲

_____ حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق پیدائش باب ۱۳۷ آیت ۲-۴

_____ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق گفتی باب ۳۱ آیت ۱ - ۱۸

_____ حضرت ہارون علیہ السلام کے متعلق خروج باب ۳۲ آیت ۱-۲۴

دُنیا میں صرف ایک قرآن ہی ایسی کتاب ہے جس نے ان انبیا کرام میں سے ایک ایک کی پوزیشن صاف کی اور ان کے اصل مرتبہ و مقام سے دنیا کو روشناس کیا۔ اگر قرآن نہ آتا تو آج کوئی شخص ان بزرگوں کو نبی ماننا تو در کنار عزت سےان کا نام لینا بھی گوارا نہ کرتا۔ بنی اسرائیل چاہےاس احسان کو نہ مانیں،مگر احسان کا احسان ہونا اس کا محتاج نہیں کہ اس کا اعتراف بھی ہو۔

سیدنا داؤد علیہ السلام کے متعلق یہود کی پہلی غلطی تو یہ ہے کہ وہ ان کی نبوت کےقائل نہیں ہیں بلکہ ان کو محض اپنی قوم کا ایک ہیرو سمجھتے ہیں(٢) قرآن اس کی اصلاح کرتےہوئے بیان کرتا ہے کہ وہ ایک جلیل القدر نبی تھے اور اللہ نے ان کو بڑا مرتبه عطا فرمایا تھا۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کے سلسلے میں وہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کا بھی ذکر کرتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ كُلُّ مِنَ الصَّالِحِينَ (انعام: ۸۸) یہ سب لوگ صالح تھے ۔ كُلَّا فَضْلُنَا عَلَى العَلَمِينَ (انعام: ۸۷ ) ان سب کو ہم نے دنیا جہان والوں پر فضیلت عطا کی۔ وَاجْتَبَيْنَهُمْ وَهَدَيْنَهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ - (انعام: ۸۸) ”اور ہم نے ان کو برگزیدہ کیا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی۔ اُوتسنک الَّذِينَ آتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ وَالْحُكْمَ والنُّبُوَّةَ (انعام: ٩٠ ) یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور ثبوت سے سرفراز کیا ۔ اور یہ سب کچھ کہنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اوليك الذين هَدَى اللهُ فَهُدَهُمُ اقْتَدِهِ ( انعام ۹۱ ) ان لوگوں کو اللہ نے راہ راست دکھائی تھی، لہذا جس راستے پر وہ چلے ہیں اُسی پر تم بھی چلو“۔


١- ملاحظہ ہو سلاطین اول باب ا آیت ۱-۱۰

٢- بائیل میں ان کی فضیلت صرف اس قدر بیان کی گئی ہے کہ وہ خدا کی طرف سےبنی اسرائیل کے لیے بادشاہ نامزد کیے گئے تھے اور خدا کے حکم سے ان کے وقت کے نبی نے ان کو مسح کیا تھا جو بنی اسرائیل میں کسی کے مامور من اللہ ہونے کی علامت تھی۔

دوسرا از بر دست داغ جو حضرت داؤد علیہ السلام کی سیرت پر یہودیوں نے لگایا وہ اور باجی کی بیوی کے معاملہ میں ہے۔ کتاب صموئیل، باب ۱۱-۱۲ میں اس کی پوری تفصیل درج ہے جس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے:

"ایک روز شام کے وقت داؤ د اپنے محل کی چھت پر ٹہل رہا تھا کہ اس کی نظر ایک عورت پر پڑی جو نہا رہی تھی' بے حد خوبصورت عورت تھی۔ داؤد نے دریافت کرایا کہ یہ کون ہے؟ معلوم ہوا بت سبع بنت العام اس کا نام ہے اور پانی کی بیوی ہے۔ داؤد نے اس کو بلا بھیجا اور رات اپنے پاس رکھا۔ اُسی رات وہ حاملہ ہو گئی اور بعد میں داؤد کو اُس نے اپنے حمل کی اطلاع دے دی ۔"

"اس کے بعد داؤد نے اور یا کو یو آب کے پاس بھیج دیا جو اس وقت بنی عمون سے لڑنے گیا ہوا تھا اور شہر رتبہ کا محاصرہ کیے پڑا تھا۔اُس نے یو آپ کو لکھا کہ اور یاہ کو جنگ میں کسی ایسی جگہ یا تصور کر جہاں سخت معرکہ ہو اور پھر اس کو اکیلا چھوڑ کر الگ ہو جاتا کہ وہ مارا جائے۔ چنانچہ یو آب نے ایسا ہی کیا اور وہ مارا گیا۔"

اس طرح اُور یا کو ٹھکانے لگانے کے بعد داؤد نے اس عورت سےنکاح کر لیا اور اسی کے پیٹ سے حضرت سلیمان پیدا ہوئے۔

" خدا کو داؤد (علیہ السلام) کا یہ فعل ناگوار گزرا اور اس نے ناتن نبی کو داؤد کے پاس بھیجا۔ نائن نے اس سے کہا کہ ایک شہر میں دو شخص تھے۔ ایک مالدار تھا' دوسرا فقیر۔ مالدار شخص کے پاس بہت سی بکریاں اور گائیں تھیں اور فقیر کے پاس صرف ایک چھوٹی سی دُنبی تھی جس کو وہ بڑی محبت سے پالتا تھا۔ ایک مرتبہ مال دار شخص کےپاس کچھ مہمان آئے ۔ اس نے نہ چاہا کہ اپنی بکریوں اور گایوں میں سے کسی کو کاٹے ۔ فقیر کی دُنبی لے لی اور اس سے ضیافت کا سامان کیا۔ یہ قصہ سن کر داؤد بہت غضب ناک ہوا اور کہا کہ ایسا شخص ضرور مارا جائے گا اور فقیر کو ایک کے بدلے چار دنبیاں دلوائی جائیں گی ۔ ناتن نبی نے کہا کہ وہ شخص تو تو ہی ہے اور اسے اور یادتی کا واقعہ یاد دلایا۔"

اس قصے میں حضرت داؤد علیہ السلام کے اخلاق کی ایسی تصویر کھینچی گئی ہے جو ایک نبی تو در کنار ایک معمولی پادشاہ کے لیے بھی انتہائی شرم ناک ہے۔ یہودیوں میں یہ قصہ بچےبچے کی زبان پر چڑھا ہوا تھا۔ حضرت داؤڑ کی زندگی کے نمایاں واقعات میں اس کو شمار کیا جاتا تھا، اس پر عجیب عجیب حاشیے چڑھائے گئے تھے اور مزے لے لے کر اس کو بیان کیا جاتا تھا۔ غیر ممکن تھا کہ قرآن ایک عالی مرتبہ پیغمبر کی سیرت پر اس داغ کو گوارا کرتا۔ اس نے مذکورہ بالا آیات میں حکمت و موعظت کا درس دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ اصل واقعہ کیا ہے اور اس پر جھوٹے حاشیے کتنے چڑھائے گئے ہیں۔

قرآن مجید کےبیان سےواقعہ کی حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ سید نا داؤد علیہ السلام نے اور یا (یا جو کچھ بھی اس کا نام رہا ہو ) سےمحض یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دےدے۔ ان کی شخصی عظمت کو پیش نظر رکھ کر وہ ایک طرح سےاپنےآپ کو طلاق دینے پر مجبور پا رہا تھا ۔ مگر قبل اس کے کہ وہ طلاق دیتا قوم کے دو نیک آدمی حضرت داؤد کے پاس اچانک پہنچ گئے اور انھوں نے اس معاملہ کو ایک فرضی مقدمہ کی صورت میں ان کے سامنے پیش کیا۔ مقدمہ سن کر حضرت داؤد نے وہی فیصلہ دیا جو ایسے معاملہ کا برحق فیصلہ ہو سکتا تھا۔لیکن معا ان کو خیال آیا کہ یہ تو میرا رب میری آزمائش کر رہا ہےچنانچہ فوراً انھوں نے توبہ کی اور غایت درجہ کی عاجزی کے ساتھ خدا سے اپنے قصور کی بخشش چاہی۔

اس بیان کو سامنے رکھ کر جب ہم تو رات کی روایت کو دیکھتے ہیں تو بادنی تامل یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اصل واقعہ جب مشہور ہوا ہوگا تو اس پر حاشیے کس طرح چڑھ گئےہوں گے۔

شریر انفس اور خبیث طینت لوگوں کا قاعدہ ہے کہ جب کسی آدمی،خصوصاً بڑے آدمی کے متعلق چھوٹی سی بات کی پھنک ان کےکان میں پڑ جاتی ہے تو فوراً ان کی قوتِ متخیله اپنا کام شروع کر دیتی ہےاور وہ محض اپنے ذہن سے بہت سی امکانی صورتیں فرض کرکے ان کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ گویا یہ محقق واقعات ہیں۔ ہر انسان سےخواہ وہ کیسےہی بڑے درجےکا آدمی ہوا کبھی نہ کبھی کوئی ایسا فعل ضرور ہو جاتا ہےجس کو آسانی کےساتھ بڑے معنی پہنائے جاسکتے ہیں۔ حضرت داؤد و علیہ السلام نے جو کچھ کیا تھا اگر چہ وہ بنی اسرائیل کے ہاں ایک عام دستور (1) تھا اور اسی دستور سے متاثر ہو کر ان سے یہ لغزش سرزد ہو گئی تھی ۔ مگر چونکہ ایک بڑے آدمی کا فعل تھا اس لیے فورا شہرت پکڑ گیا اور اس پر لوگوں نےحاشیےچڑھانےشروع کر دیے۔اور یا سےطلاق کا مطالبہ یہ گمان کرنے کے لیےکافی تھا کہ حضرت داؤ د اس کی بیوی کی طرف میلان رکھتے ہیں ۔اب لوگوں کے ذہن نے مولنا شروع کیا کہ یہ میلان آخر ہوا کیونکر؟ کسی ذات شریف کو یہ بات سوجھ گئی کہ غالباً اپنے محل پر سے اس کو نہاتے میں دیکھ لیا ہو گا ۔ مگر اُن کی صداقت شعاری نے ہو گا" کو محض ” ہو گا"کی صورت میں بیان کرنا پسند نہ کیا، اس لیے انھوں نے ہو گا“ کو ” ہے“ میں تبدیل کر کےلوگوں سے بیان کیا۔ رفتہ رفتہ یہ ایک واقعہ بن گیا۔ حالانکہ میلان ہونے کے بہت سےاسباب ہو سکتے تھے۔ ممکن ہے کہ حضرت داؤد نے اس خاتون کی قابلیت اور اس کی اعلیٰ صلاحیتوں کا حال سن کر اسے پسند کیا ہو لیکن برے نفوس کی شرارت ہمیشہ ایسے بُرے امکانات ہی کی طرف مائل ہوتی ہے۔


١- اسرائیلیوں کے ہاں یہ کوئی معیوب بات نہ تھی کہ کوئی شخص کسی کی بیوی کو پسند کر کےاس سے طلاق کی درخواست کرے۔ نہ درخواست کرنے والا اس میں تکلف کرتا تھا اور نہ وہ شخص، جس سےدرخواست کی جاتی اس پر بُرا مانتا تھا۔ اور یہ تو ایک عمدہ اخلاق کی بات سمجھی جاتی تھی کہ کوئی شخص کسی دوست کو خوش کرنے یا اس کی تکلیف رفع کرنے کے لیے اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کے نکاح میں دے دے۔ چنانچہ یہ یہودی اخلاق ہی کا اثر تھا کہ مدینہ میں بعض انصار اپنے مہاجر بھائیوں کی خاطر اپنی بیویوں کو طلاق دے کر اُن سےبیاہ دینے پر آمادہ ہو گئے تھے۔

پھر جب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ حضرت داؤ د اس عورت کی طرف مائل ہیں، تو ان کی نالائق فطرت یہ بات ماننے کےلیےکسی طرح تیار نہ ہوئی کہ ایک بادشاہ کسی عورت کی طرف مائل ہو اور وہ اسے حاصل نہ کرے۔ چنانچہ انھوں نے یہ بھی فرض کر لیا کہ بادشاہ نے اس عورت کو بلایا ہوگا اور اس سے زنا کیا ہوگا۔ یہ ہوگا“ بھی بہت جلدی ہے میں تبدیل ہو گیا اور اس پر حمل کا مزید حاشیه چڑھا دیا گیا۔

اسرائیلی قوم اس وقت تک ایک زندہ قوم تھی اور اس میں ایسے لوگ بھی موجود تھےجو کسی بڑے سے بڑے آدمی کو بھی اس کی غلطی پر ٹوکنے میں تامل نہیں کرتے ۔ جب یہ قصہ مشہور ہوا تو اس قسم کے لوگوں میں سے دو آدمی حضرت داؤد کے پاس پہنچ گئے اور انھوں نے تمثیل کے پیرایه میں ان کو متنبه کیا۔ چنانچه آنجناب فورا اپنے فعل سے تائب ہو گئے۔ لیکن یا تو اس تو بہ کا علم لوگوں کو نہیں ہوا یا اگر ہوا بھی تو بدفطرت لوگوں کو اس کا یقین نہ آیا۔ بہر حال تو بہ کے بعد حضرت داؤ د تو اپنی جگہ اور یا کی بیوی کا خیال چھوڑ چکےتھے مگر لوگوں نے اس کا خیال نہ چھوڑا۔ اور یا ایک فوجی افسر تھا۔ اس کا کسی مہم پر جانا کوئی انوکھا فعل نہ تھا، اور جنگ میں اس کا مارا جانا بھی کوئی نرالی بات نہ تھی ۔ مگر چونکہ لوگوں کےذہن میں وہ واقعہ تازہ تھا اور وہ ایک نبی کی بادشاہت اور ایک نفس پرست آدمی کی پادشاہت میں فرق کرنے سے اپنی طبیعت کی افتاد کی بناء پر عاجز تھے، اس لیے جب اور یا جنگ میں گیا اور مارا گیا، تو انھوں نے اس طرح قیاس قائم کیا کہ داؤد علیہ السلام اس کی بیوی پر مائل تھے اور وہ پادشاہ ہونے کی حیثیت سے اور یا کا قصہ پاک کر کے اس کی بیوی کو حاصل کرنے کی قدرت بھی رکھتے تھے اس لیے ضرور انھوں نے قصداً اور یا کو جنگ پر بھجوایا ہو گا اور قصداً ایسی تدبیر کی ہوگی کہ وہ مارا جائے۔ یہ ہو گا بھی بآسانی ” ہے" میں تبدیل کر دیا گیا اور بڑھتے بڑھتے یو آب کو خط لکھنے کا قصہ تصنیف ہو گیا۔

کوئی شخص کسی عورت کو پسند کرتا ہو اور وہ عورت بیوہ ہو جائے، تو اس شخص کا اس عورت سے نکاح کر لینا کوئی نرالی یا معیوب بات نہیں ہے۔ مگر جب حضرت داؤد نے بت سیع سے نکاح کیا (جیسا کہ بائیل کا بیان ہے ) تو اسرائیلی عوام نے سمجھا کہ یہ ان تمام افواہوں کی صداقت کا قطعی ثبوت ہے جو اس سلسلہ میں اُڑ رہی تھیں۔یہاں پھر اسرائیلیوں نے اپنی اصلی طینت کا اظہار کیا۔ گو ایسےمعاملہ میں ہمیشہ دو مساوی الدرجہ امکان ہوا کرتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص نے اپنی پسندیدہ عورت کو حاصل کرنے کی کوشس نہ کی ہو اور اس کے بیوہ ہو جانے کے بعد کوئی اخلاقی و قانونی مانع نہ پا کر اس سے نکاح کر لیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس نے اسے حاصل کرنے کے لیے مجرمانہ تدبیریں کی ہوں۔کسی شہادت کی غیر موجودگی میں ایک امکان کو دوسرےامکان پر قطعی ترجیح نہیں دی جا سکتی۔لیکن ایسے مواقع پر انسان کی طینت اپنے آپ کو بے نقاب کرتی ہے۔ نیک طینت آدمی کا میلان ہمیشہ اچھے امکان کی طرف ہوتا ہے اور اگر وہ شخص جس سے ایسا واقعہ متعلق ہو صالح اور نیک چلن ہو تو نیک طینت یہی حکم لگائےگا کہ اس کا دامن (١) پاک ہےلیکن بدطینت آدمی ہمیشہ ہر طرف گندگی ہی گندگی ڈھونڈتا ہے۔ اس کی فطرت خود گندگی مانگتی ہے اس لیے معاملات میں وہ ہمیشہ نمے امکان ہی کو ترجیح دیتا ہے ۔ حتی کہ اگر شہادت سے اس کی تردید ہو جائے، تب بھی اندر سے اس کا دل نہیں مانتا۔

یہاں پہنچ کر قرآن اور بائیل میں اتنا نمایاں فرق ہو جاتا ہے جتنا روشنی اور تاریکی کا فرق ہے۔ قرآن بنی اسرائیل کے ایک ہیرو کی زندگی کو روشن کر کے دکھاتا ہے اور اس کے دامن پر ایک معمولی لغزش کا داغ بھی دھوئے بغیر نہیں چھوڑتا۔مگر خود بنی اسرائیل جس کتاب کو کتاب مقدس کہہ کر پیش کرتےہیں وہ اُن کےہیرو کی وہ تصویر بھی پیش نہیں کرتی جو پاک طینت انسانوں کے ذہن میں آنی چاہئے بلکہ ایسی تصویر پیش کرتی ہے جسے اس قوم کے نہایت بدطینت سفہاء نے کھینچا تھا۔ یہودی اور عیسائی اس کتاب کو خدا کی کتاب کہتےہیں حالانکہ اس میں ایک جگہ نہیں سینکڑوں مقامات پر ایسے بیانات اور ایسے خیالات ملتےہیں جو خدا تو در کنار شریف انسانوں کے نفس کی بھی ترجمانی نہیں کرتے ۔


١- نیک گمان کرنے کے لیے حضرت داؤد کی پوری سیرت کافی گواہ تھی۔ خود بائیل میں جہاں یہ قصہ بیان ہوا ہے اس سےپہلے اور اس کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کی پوری سوانح عمری درج ہے۔ ہر شخص اس کو دیکھ کر اندازہ کر سکتا ہے کہ جو شخص ایسا عالی ظرف اور خدا ترس تھا اس سے وہ حرکات کیسےسرزد ہوسکتی تھیں جو اسی بائیبل میں اس مردِ خدا کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔

اسرائیلی کیریکٹر کے کمالات ہیں ختم نہیں ہوتے ۔ اس کی معراج آپ کو دیکھنی ہو تو یہ دیکھیے کہ جب قرآن نے اس قوم کے انبیاء کی صفائی پیش کی اور اس کا لگایا ہوا ایک ایک داغ ان کے دامنوں پر سے دھویا تو یہ خوش ہونےکے بجائےالٹےکبیدہ خاطر ہوئےاحسان مند ہونےکےبجائے مقابلےپر اُتر آئےاور انھوں نے ان سب دامنوں کو جنھیں قرآن نے دھویا تھا، پھر سے داغدار کرنے کی کوشش کی ۔ قرآن جب نازل ہوا تو مدینہ میں یہودی موجود تھے اور نزول قرآن کے چند سال بعد جب مسلمان ایشیا اور افریقہ کے وسیع علاقوں پر پھیلے ہوئے تھے تو یہودیوں کی ایک کثیر تعداد کوان سے میل جول کا موقع ملا۔ ان لوگوں نے ہر نبی کے متعلق وہی تمام پرانے قصے جو ان کے ہاں مشہور تھےمسلمانوں میں بھی پھیلا دیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن مجید کی بہت سی تفسیر میں جو مسلمانوں نے لکھیں، ان کےاثر سے مسموم ہو کر رہ گئیں۔ یہ معاملہ متداول تفاسیر کا مطالعہ کرنے والوں سے پوشیدہ نہیں ہےاور حضرت داؤد کے قصےمیں بھی یہی صورت پیش آئی ہے۔مدینہ کے یہودیوں نےاور یا کی بیوی کا قصہ اس کثرت سے مسلمانوں میں پھیلایا تھا کہ عام طور پر لوگ قرآن پاک کے اس رکوع کی تفسیر، بائیل اور اسرائیکی خرافات ہی کے رنگ میں کرنے لگے تھےحتی کہ قرآن کی معنوی تحریف کا اندیشہ پیدا ہو گیا۔ آخر کا رسید نا علی رضی اللہ عنہ کو یہ اعلان کرانے کی ضرورت پیش آئی کہ جو شخص اور پانی کا قصہ روایت کرے گا اس کو ۱۶۰ کوڑے لگائے جائیں گئے ۸۰ کوڑے حد قذف کے اور مزید ۸۰ کوڑے ایک نبی کی تو ہین (١) کے۔

اب ہم ان تاویلات پر ایک نظر ڈالیں گے جو اس قصہ کے سلسلے میں ہمارے مفسرین نے بیان کی ہیں۔


١- ملاحظه ہو کشاف، تفسیر کبیر اور تفسیر بیضاوی۔

(١) عام طور پر مفسرین اور اہل الروایت وہی اور یا کا قصہ بیان کرتے ہیں جو یہودیوں سے منقول ہے اور ان کے نزدیک داؤد علیہ السلام نے جس گناہ سے توبہ کی تھی وہ یہی زنا کا گناہ تھا۔ لیکن قرآن کے الفاظ اس تاویل کا ساتھ نہیں دیتے ۔ قرآن نے مستغیث کا جو بیان نقل کیا ہے اس میں وہ صرف یہ کہتا ہے کہ قَالَ اكْفِلْبَيْهَا وَعَرْنِي فِي الْخِطَابِ (ص: ۲۳) (اس نے کہا کہ اپنی یہ دنبی بھی مجھے دے دئے اور گفتگو میں اپنی شان وشوکت سے مجھے دبا لیا ) یہ نہیں کہتا کہ اس نے ڈبی مجھ سے چھین لی یا مجھے کو قتل کروا کر چھینٹےکی تدبیر کی۔

(۲) بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اور یاہ سے بت سبع کی صرف منگنی ہوئی تھی اور حضرت داؤد کا یہ قصور تھا کہ انھوں نےاپنے ایک مسلمان بھائی کی منگنی پر اپنی منگنی بھیجی۔لیکن قرآن کے الفاظ اس کی تائید نہیں کرتے۔ تمثیل میں بسی نعجة کا لفظ آیا ہے جس کےمعنی یہ ہیں کہ دُنبی اس کی ملک تھی یہ نہیں کہ وہ اس کو خریدنا چاہتا تھا اور اس کے مال دار بھائی نے اس کی بولی پر بولی دے دی۔

(۳) بعض مفسرین کے نزدیک حضرت داؤد کی لغزش یہ تھی کہ جب اس عورت کا شوہر مارا گیا تو ان کو وہ رنج نہ ہوا جو ہونا چاہیے تھا، محض اس لیے کہ وہ اس عورت کی طرف میلان رکھتے تھے ۔ لیکن یہ ایک بے سروپا بات ہے اور اس سے وہ تمثیل بالکل بے معنی ہو جاتی ہے جو قرآن میں مستغیث کی زبان سے بیان ہوئی ہے۔

(۴) ایک جماعت کا خیال ہے کہ عورت کے قصہ کی سرے سے کوئی اصلیت ہی نہیں ہے۔ دراصل حضرت داؤد کےقتل کی سازش ہوئی تھی اور کچھ لوگ دیوار پھاند کر آگئےتھے۔ مگر جب حضرت داؤد ہوشیار ہو گئے تو انھوں نے محض بات بنانے کے لیے یہ مقدمہ گھڑ لیا۔ حضرت داؤدان کی نیت تاڑ گئے اور انہوں نے ان لوگوں سے انتقام لینا چاہا۔ پھر بعد میں یا تو وہ اس بنا پر نادم ہوئے کہ انتظام کی خواہش ہی ان کے مرتبے سے گری ہوئی چیز تھی 'یا اس پر نادم ہوئے کہ بغیر کسی ثبوت کے انھوں نے محض گمان پر ان لوگوں کو دشمن سمجھےلیا اور انھیں سزا دینی چاہی۔ بہر حال ان دو وجوہ میں سے کوئی ایک وجہ تھی جس پر انھیں ندامت ہوئی اور انھوں نے تو بہ واستغفار کیا ۔ لیکن اس تاویل پر متعدد اعتراض ہوتے ہیں:

اوالا یہ کوئی ایسا اہم واقعہ نہیں کہ قرآن میں اس موقع پر اس شان سے اس کا ذکر ہوتا۔

ثانیا، قرآن میں کوئی لفظ اس واقعہ پر دلالت نہیں کرتا کہ یہ لوگ قتل کے لیے آئےتھے اور حضرت داؤد اس بات پر نادم ہوئے کہ انھوں نے ان سے انتقام لینا چاہا تھا یا بلا ثبوت ان پر بدگمانی کی تھی۔

ثالثاً ، قرآن کی عبارت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دُنبیوں کے مقدمے میں اپنا فیصلہ سناتے ہی حضرت داؤد کو یہ گمان ہوا کہ ان کے رب نے ان کو آزمائش میں ڈالا ہے۔ اس سے متبادر یہی ہوتا ہے کہ اس تمثیل اور اس فیصلہ کا آزمائش سے کوئی تعلق ضرور تھا اور اسی پر انھوں نے استغفار کیا۔

رابعاً اگر وہ لوگ حقیقت میں دشمن تھے اور قتل کی نیت سے آئے تھے تو ان سےانتقام لینے کی خواہش نا جائز نہ تھی اور اس پر وہ تنبیہ غیر ضروری تھی جو ہداوُدُ إِنَّا جَعَلنک خليفة .... الخ (ص: ۲۶) میں کی گئی ہے اور اگر وہ دشمن نہ تھے تو ان کا تمثیلی مقدمہ محض بات بنانے پر محمول نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس میں لامحالہ کوئی معنویت ہونی چاہیے۔ نیز قرآن مجید میں کوئی اشارہ ایسا ہونا چاہیے تھا جس سے معلوم ہوتا کہ یہ مقدمہ محض بات بنانے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

(۵) بعض مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت داؤد نے دراصل اپنے لیے استغفار نہیں کیا تھا بلکہ ان لوگوں کے لیے استغفار کیا تھا جو ان کے قتل کو آئے تھے۔ لیکن اس صورت میں آزمائش کا ذکر بے معنی ہو جاتا ہے اور یداودُ اِنَّا جَعَلُنَكَ خَلِيفَةً کی تنبیہ قطعاً بےمحل بھرتی ہے۔

(٦) موجودہ زمانے کے مفسرین کہتے ہیں کہ استغفار دراصل قاتلوں کے لیے نہ تھا بلکہ حضرت داؤد نے دیکھا کہ یہ لوگ قتل کے لیے آئے ہیں تو انھوں نے اللہ سے حفاظت اور پناہ کی دُعا کی تھی۔ اس تاویل کی بنا یہ ہے کہ وہ استغفار کو لغوی معنوں میں لیتے ہیں یعنی اس امر کی دُعا کہ اللہ ان کو اپنی حفظ و امان میں چھپالے۔ مگر اول تو یہ تاویل عربیت کےخلاف ہے۔ دوسرے یہ نہایت رکیک بات ہے کہ داؤد علیہ السلام جیسا بہادر سپاہی محض دو دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے رکوع و سجود میں لگ جائے ۔ تیسرے اس تاویل میں ظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَتْهُ (ص:۲۴) اور فَغَفَرُنَا لَهُ ذَلِكَ (ص:۲۵) اور يَدَاوُدُ إِنَّا جَعَلُنَكَ خَلِيفَةً .... الخ (ص:۲۶) کے فقرے بے معنی ہو جاتے ہیں۔

(۷) بعض حضرات کےنزدیک حضرت داؤد کی لغزش یہ تھی کہ انھوں نےمحض ایک فریق کا بیان سن کر فیصلہ صادر کر دیا اور دوسرےفریق کا بیان نہ لیا۔ لیکن یہ تاویل بھی مہمل ہے۔کیونکہ اول تو قرآن میں دوسرے فریق کا بیان درج نہ ہونےسے لا ز ما یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ اس کا بیان نہیں لیا گیا۔ ممکن ہے کہ اس نے اقرار کر لیا ہو اس لیے اس کے ذکر کی ضرورت ہی نہ کبھی گئی ہو۔ اور یہ قرآن کا عام انداز بیان ہے کہ وہ کسی واقعہ کی غیر ضروری تفصیلات نہیں دیتا۔ دوسرے اس تاویل کے لحاظ سے وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلُّكَ عَنْ سَبَيْلِ اللهِ (ص: ۲۶) (اپنی خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ کہیں یہ تجھ کو خدا کے راستے سے بھٹکا نہ دے) کی تنبیہ بے محل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ایک فریق کا بیان سُن کر فیصلہ کر دینے میں حضرت داؤد کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہ تھا کہ اس سے اتباع ہوئی لازم آئے۔ زیادہ سے زیادہ اس کو اصول عدالت سے ایک نا دانستہ انحراف کہا جا سکتا ہے جس پر تعصبیہ کی دوسری صورت ہونی چاہیے تھی۔

(۸) کچھ لوگوں نے ایک دوسری ہی تاویل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے اوقات کو چار حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ایک دن محض عبادت کرتےتھے۔ ایک دن مقدمات کے فیصلے فرماتے تھے۔ ایک دن اپنے خانگی معاملات کو دیکھتے تھےاور ایک دن بنی اسرائیل کو وعظ و تلقین کرتے تھے ۔ یہ تقسیم چونکہ وحی الہی کے بغیر کی گئی تھی اور نبی کو وحی کے خلاف کوئی کام نہ کرنا چاہیے اس لیے اور اس لیے کہ نبی کو زیادہ تر اپنا وقت وعظ ونصیحت اور فصلِ معاملات میں صرف کرنا چاہیئے اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ فرمائی۔ لیکن اس تاویل میں متعدد کمزوریاں ہیں :

اولاً تقسیم اوقات کی روایت محض ایک شاؤ روایت ہے جو بعض مفسرین نےحضرت ابن عباس سے نقل کی ہے۔ اور خود حضرت ابن عباس سے جو قوی روایتیں مسروق اور سعید بن جبیر نے نقل کی ہیں وہ اس تاویل کی تائید کرتی ہیں جو ہم نے اختیار کی ہے، یعنی مَاذَا دَاوُدُ عَلَى أَنْ قَالَ انْزِلُ لِي عَنْهَا ( حضرت داؤد نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تھا کہ اس سے طلاق کی درخواست کی ) اسی کی تائید قرآن کے الفاظ قَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ (ص:۲۴) سے بھی ہوتی ہے۔

ثانیا اگر کسی شخص کے پیش نظر حضرت ابن عباس کی یہ روایت نہ ہو تو وہ صرف یہی نہیں کہ قرآن مجید کی ان آیات کا مطلب نہیں سمجھ سکتا، بلکہ ظاہر الفاظ سے وہ اس کے بالکل خلاف مطلب نکالے گا ۔ یہ بات کتاب الہی تو در کنار معمولی انسانی تصنیفوں کے لیے بھی معیوب ہے کہ اس کے اپنے الفاظ اس کا مدعا ظاہر کر نے سے اس درجہ قاصر ہوں کہ اگر ایک خاص روایت اس کی تشریح کرنے والی سامنے نہ ہو تو ناظر اس کا بالکل الٹا مطلب لے نکلے۔ روایت اگر اصل متن کے متبادر مفہوم کی مزید تشریح کرتی ہو تو اس کے مفید ہونے میں کلام نہیں۔ لیکن اگر وہ متبادر مفہوم سے ہٹا کر بات کو کسی اور طرف پھیر لےجائے تو ایسی روایت کو شارح کے بجائے ستم کہنا پڑے گا اور اس سے لازم آئے گا کہ اس متم کے بغیر قرآن ناقص ہے۔

ثالنا ، خود حضرت ابن عباس نے بھی اپنی اس روایت کو وجہ عتاب کی تفسیر میں بیان نہیں کیا ہےبلکہ صرف اس امر کی تشریح میں بیان کیا ہےکہ ضمین کو دیوار پھاند کر محراب میں جانےکی ضرورت کیوں پیش آئی تھی۔ اس کی شرح میں وہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ دن حضرت داؤد کی عبادت کا تھا اور وہ اپنی محراب ( بالا خانہ ) میں تشریف رکھتےتھے۔ باقی رہی یہ بات کہ عبادت کے لیے ایک دن مخصوص کرنے پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا تو اس کا اشارہ تک ابن عباس کی روایت میں نہیں ہے۔

رابعاً اگر بات یہی تھی جو یہ مفسرین بیان کرتے ہیں تو خصمین کے پورے مقدمہ کو نقل کرنے کی کوئی حاجت نہ تھی۔ یہ بات قرآن کے اسلوب کے خلاف ہے کہ وہ کسی واقعہ کی ایسی تفصیلات نقل کرے جن سے اصل مقصود پر کوئی روشنی نہ پڑتی ہو۔ اس مقصد کے لیے صرف یہ بیان کرنا کافی ہو جاتا کہ لوگ ایک دوسرے پر ظلم کرنے لگے اور اس قسم کا ایک معاملہ ہم نے داؤد کو متنبہ کرنے کے لیے اس کے پاس بھی بھیج دیا۔

خامساً عبادت میں افراط اور کثرت ایسی چیز نہیں ہے جس کو "ہوئی " سے تعبیر کیاجائے ۔ قرآن نے کہیں بھی اس فعل کو ہوائے نفس کی طرف منسوب نہیں کیا ہے اور نہ کوئی ایک مثال ایسی ملتی ہے کہ کثرت عبادت پر کسی کو عتاب فرمایا گیا ہو ۔ پھر کس طرح تصور کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عبادت گزار بندے کو عبادت کی زیادتی پر ان الفاظ میں تنبیہ فرما تا کہ خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ یہ تجھے گمراہ کر دے گی۔"

ان وجوہ سے ہمارے نزدیک یہ تاویل بھی قبول نہیں ہے۔

ان تمام احتمالات کے ساقط ہو جانے کے بعد وہی تاویل باقی رہ جاتی ہے جس کو ہم نے اختیار کیا ہے اور جس کی طرف بعض قدیم مفسرین بھی گئے ہیں، یعنی یہ کہ معاملہ اور بیاہ کی بیوی ہی کا تھا مگر اس کی اصلیت صرف اس قدر تھی کہ حضرت داؤد نے اپنے عہد کی اسرائیلی سوسائٹی کے عام رواج سے متاثر ہو کر اور یاہ سے طلاق کم، درخواست کی تھی۔یہ تاویل اس لحاظ سے بھی مرقع ہے کہ اگر اور یاہ کی بیوی کے معاملے کی سرے سے کوئی اصلیت ہی نہ ہوتی تو قرآن مجید اس موقع پر صاف الفاظ میں اس کی تردید کرتا جس طرح حضرت سلیمان کے حق میں کفر و شرک اور ساحری کے الزام کی تردید(١) کی۔ کیونکہ یہودیوں میں یہ قصہ ایک امر واقعی کی طرح مشہور تھا اور قرآن کے لیے یہ غیر ممکن تھا کہ ایک نبی کا ذکر تو کرے مگر اس کے دامن پر ایسے شدید الزامات کا داغ بدستور رہنےدے (٢) اس تاویل کو قبول کرنے میں لوگوں نے صرف اس بناء پر تامل کیا ہے کہ انبیاء کی طرف اس قسم کی لغزشوں کا انتساب عصمت انبیاء کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ان حضرات نے شاید اس امر پر غور نہیں کیا کہ عصمت دراصل انبیاء کے لوازم ذات سے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو منصب نبوت کی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرنے کے لیے مصلحتا خطاؤں اور لغزشوں سے محفوظ فرمایا ہے۔ ورنہ اگر اللہ کی حفاظت تھوڑی دیر کے لیے بھی ان سے منفک ہو جائے تو جس طرح عام انسانوں سے بھول چوک اور غلطی ہوتی ہے، اسی طرح انبیاء سے بھی ہو سکتی ہے۔ اور یہ ایک لطیف نکتہ ہے کہ اللہ نے بالا رادہ ہر نبی سے کسی نہ کسی وقت اپنی حفاظت اُٹھا کر ایک دو لغزشیں سرزد ہو جانے دی ہیں، تا کہ لوگ انبیاء کو خدا نہ سمجھ لیں، اور جان لیں کہ یہ بشر ہیں، خدا نہیں ہیں۔


١- ملاحظہ ہو سورہ بقرہ رکوع ۱۲

٢- خصوصاً جبکہ قرآن کے اپنے بیان سے ملتا جلتا قصہ بائیل میں موجود ہو اور وہی ایک نبی پر بدگمانیوں اور تہمتوں کا موجب بن رہا ہو۔

اس قصہ میں دو چھوٹی چھوٹی غلط فہمیاں اور بھی ہیں جو زبان زد عام ہو گئی ہیں۔

ایک یہ کہ سید نا داؤد علیہ السلام کی ۹۹ بیویاں تھیں۔ اس غلط فہمی کی بنا یہ ہے کہ تمثیل میں ۹۹ د نبیوں کا ذکر ہوا ہے۔ لیکن در حقیقت ۹۹ سے محض کثرت مراد ہے نہ کہ بعینہ یه عدد۔ مستغیث نےدر اصل تمثیل کے پیرایہ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ آپ کے پاس بہت سی عورتیں موجود ہیں۔ اور بہت سی عورتوں سے بیاہ کرنے کی آپ قدرت رکھتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ جو اشخاص فریق مقدمہ بن کر حضرت داؤد کے پاس پہنچے تھے وہ انسان نہیں بلکہ فرشتے تھے۔ اس گمان کی بناء اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ دیوار پھاند کر محراب میں پہنچ گئے تھے ۔ لیکن یہ ایک بہت کمزور بات ہے۔ فرشتوں کا انسانی صورت میں آنا بجائے خود مستبعد نہیں، مگر یہاں نہ تو فرشتوں کے آنے کی کوئی خاص ضرورت نظر آتی ہےاور نہ دیوار پھاند نا کوئی ایسی عجیب بات ہے کہ انسان کے لیے غیر ممکن ہو اور صرف فرشتوں سے ہی بن آئے ۔ پس جب اللہ نے تصریح نہیں کی کہ وہ فرشتے تھے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے دل سے ان کو فرشته بنا دیں۔

بعض لوگوں نے ان کے فرشتہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی بیان کی ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) ان کے آنے سے گھبرا گئے تھے۔ لیکن یہ استدلال بھی کمزور ہے۔ جب کوئی شخص اپنی خلوت گاہ میں ہو جہاں کسی غیر کے آنے کا سان گمان بھی نہ ہو اور اچانک کوئی شخص دیوار پھاند کراس کے پاس پہنچ جائے تو فطرت کا تقاضا ہی ہے کہ وہ گھبرا جائے۔ اس میں ایسی کون کی انوکھی بات ہے کہ آنے والوں پر فرشتہ ہونے کا گمان کیا جائے۔

هَذَا مَا عِنْدِي وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ !

ترجمان القرآن

(رجب ۱۳۵۷ھ - ستمبر ۱۹۳۸ء)

کتاب تفہیمات، دوم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Understandings