تفہیمات، دوم

کیا خطبہ غیر عربیہ واجب ہے؟

کیا خطبہ غیر عربیہ واجب ہے؟

مراد آباد سے ایک صاحب لکھتے ہیں:۔

جناب نے خطبہ غیر عربیہ کی نسبت جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ خطبہ جمعہ غیر عربی میں دیا جانا صرف جائز ہے، اور یہ کہ سامعین کی زبان میں دیا جا سکتا ہےجس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی درجہ میں ضروری نہیں ہے، کیونکہ جواز کا اطلاق اولویت عدمِ اولویت اباحث، حتی کہ کراہت پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس کا باعث ہے کہ آخر میں جناب نے جو عملی مشکلات تحریر فرمائی ہیں ان سے متاثر ہو کر اپنی رائے موجودہ طرز عمل کی پسندیدگی اور خطبہ غیر عربیہ کے عدم اجزاء کی بہتری کے متعلق صاف طور پر ظاہری فرمائی ہےحالانکہ اگر جناب کےنزدیک یہ کوئی ضروری چیز ہوتی تو ان احتمالی مضرتوں سےمتاثر ہو کر ایسا کرنے کے بجائے ان کی اصلاح کے ذرائع پر زور دیا جاتا۔ اور چاہے ان میں کامیابی متوقع ہوتی یا نہ ہوتی بہر حال خطبہ کو سامعین کی زبان میں دیا جانا ضروری قرار دیا جاتا اس لیے کہ کوئی واجب چیز کسی مصلحت یا مضرت سے متروک العمل نہیں ہو سکتی۔ البتہ وہ جائز چیز جو اولویت یا اباحت وغیرہ کے معنی میں ہو بعض مصالح و مضار کی بنا پر ترک ہو سکتی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہےکہ جلب منفعت اور دفع مضرت کے جو ذرائع ہوں ان کا اختیار کرنا بھی بجائےخود ضروری ہے۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جب تک وہ ذرائع حاصل نہ ہوں ہم ایک واجب کو ترک کیے بیٹھےرہیں اور شارع نے جو ہمارے افادہ اور استفادہ کے لیے ہر ہفتہ ایک اجتماع کا موقع پیدا کیا تھا اس کو آئیندہ کے لیے بھی ہم اسی طرح ضائع کرتے رہیں جس طرح کہ اب تک کرتے رہے۔

ظاہر ہے کہ خطبہ جمعہ کم از کم واجب ضرور ہے۔ اور یہ بھی آپ کو مسلم ہے کہ اس کا مقصد ذکر اللہ اور رجوع الی اللہ کےساتھ وعظ و تذکیر اور احکام دین کی تعلیم وتبلیغ بھی ہے۔پس جب خطبه واجب ہےتو اس کے مقاصد کی تحصیل بھی واجب اور اظہر من الشمس ہےکہ اس کے مقاصد کا جزو اعظم بدونِ سامعین کی زبان اختیار کیےحاصل نہیں ہو سکتا۔ تو بحکم مقدمۃ الواجب واجب اس کا اختیار کرنا بھی واجب ہوگا۔

پس واجب ہوا تو پھر کسی مصلحت اور مضرت کی وجہ سے اس کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں جن مضرتوں کا وقوع متوقع ہو ان کی اصلاح کے لیے سعی مستقل طور پر ضروری ہے۔

خطبہ غیر عربیہ کے اجراء میں جو سب سے بڑی مضرت آپ نےظاہر فرمائی ہے وہ مسائل مختلف فیہ کا بیان اور ان کی وجہ سےنزاعات کا رُونما ہونا ہے۔ لیکن آپ نے اس کے نیز دوسرےمقاصد کے انسداد کی جو تدبیر بیان کی ہے میری رائے میں وہ بھی کافی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اوّل تو بقول آپ ہی کے اس کی اُمید ہی کم ہے اور میرے نزدیک تو آج کل کے علماء کی طرف سے کسی ایسے کام کا انجام پا جانا گویا کہ خرق عادت ہے۔ تو ایسی حالت میں نہ نومن تیل ہوگا اور نہ رادھا رانی ناچے گی۔ پس نتیجہ معلوم کہ وہی تیلی کے بیل کی طرح جہاں تھے وہاں ہی رہیں گے۔

دوسرے یہ کہ فرض کیجیے کہ اہل علم کی کسی معتدل جماعت ہی کےتیار کردہ خطے جاری کیے جائیں اور ان میں نزاعی مسائل سے کوئی تعرض بھی نہیں کیا گیا ہو تا ہم وہ خطیب جس کی زبان میں بقول آپ کے اللہ نے ایسا ڈنک رکھ دیا ہے جس سے دلوں کو زخمی کیےبغیر وہ کوئی بات نہیں کر سکتا اور جو اپنے مشرب میں اتنا سخت ہے کہ دُوسرے مشرب والوں کے ساتھ وہ کوئی رعایت نہیں کر سکتا، وہ اس معتدل جماعت ہی کے تیار کردہ خطبے پڑھنے کے باوجود اپنےمشرب کی تبلیغ اور اس کے خلاف سے تعرض کیے بغیر کیسے رہ سکے گا؟اول تو کسی مقرر کےنزدیک یہ امر کچھ مشکل نہیں ہےکہ اپنی تقریر کا رُخ جدھر چاہےاُدھر پھیر دے۔ پھر خصوصیت سے مولوی مقرر کو تو ایسا کر لیتا بہت ہی سہل ہے۔ مولوی اپنے مشرب کی تبلیغ کرتا ہے تو قرآن اس کے ہاتھ میں ہوتا ہےکسی کی مدح کرتا ہے تو قرآن سےاس کا استدلال ہوتا ہے،کسی کو گالیاں دیتا ہے تو قرآن ہی سے اس کا استناد ہوتا ہے۔غرض وہ اپنےہر اُس قول و فعل کو جس پر اُس کو کسی نہ کسی حد تک اصرار ہےیا کسی وجہ سے اس کو پسند ہے قرآن ہی کی آیات تلاوت کر کے لوگوں کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہے چاہےفی الحقیقت اس کا وہ مسلک شریعت حقہ کی روشنی میں بالکل ہی باطل محض ہو۔ پس ایسی حالت میں وہ کون سی قوت ہے جو اس کو روک سکے؟

اور اگر یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ وہ خطیب صرف انھی مرتب شدہ خطبوں کے مضامین میں اپنی تقریر کو محصور رکھے اور اس کے علاوہ کسی مضمون پر زبان نہ کھولے تو یہ چیز ایک حد تک پھر خطبہ کے اصل مقصد کو فوت نہ کر دے گی۔اس لیے کہ اس کے مقاصد میں یہ بھی داخل ہے کہ خطیب حسب ضرورت زمان و مکان کی حالت کےمناسب خطبہ دے۔ورنہ دق کے مریض کو ہیضہ کا علاج بتلانےکےمترادف ہوگا۔اور اس صورت مذکورہ میں وہ اگر بالکل نہیں تو من وجہ موجودہ صورتِ مروجہ کے مشابہ ضرور ہو جائے ۔ فرق صرف تبدیل لسان کا ہوگا اور مضامین میں وہی تعیین و تقیید رہے گی جو اب ہے۔ اور متعدد مضامین کے خطبوں کا بھی اس غرض سے ہونا کہ ان میں جو مناسب ہو پڑھ لیا جایا کرے کافی نہ ہوگا۔ کیونکہ ہر جگہ اور ہر وقت کی بعض ضرورتیں مخصوص ہوتی ہیں جو ان مضامین میں نہیں آسکتیں جو عمومی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے مرتب کیے گئےہوں۔

اور اگر ان تمام اُمور سے بھی نظر کو منقطع کر لیا جائے تو ان خطبوں میں کم از کم عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الخ مَنْ أَحْدَتْ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدُّ وَإِيَّاكُمُ وَمُحْدَثَاتِ الأمور، كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ اَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ - إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَالِكَ لِمَنْ يُشَاءُ (الخ) - یا اسی قسم کے دوسرے الفاظ اور مضامین تو ضرور ہی ہوں گے ۔کم از کم کلمہ شہادت ہونا اور اس میں اَشْهَدُ اَنْ لاَ إِلهُ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ کا پڑھا جانا تو بالکل یقینی امر ہے۔پس اس نیشن زن مولوی کو تو یہی بہت ہے۔ اگر وہ اپنی سرشت کےمطابق چاہے گا تو اسی کے ضمن میں سب کچھ کہہ سکتا ہے اپنےمشرب کے اعتبار سے ردّ او قبولا ہر حیثیت سے اس میں گفتگو کو طویل کر سکتا ہے۔

پھر یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ اختلافی مسائل سے مطلقاً روک دینا کیوں ضروری قرار دیا گیا؟ اس میں جو مضرت بیان کی گئی ہےاُس کے ممکن الوقوع ہونے سے انکار نہیں ہے۔ لیکن کیا محض ایک محتمل چیز کی خاطر یقینی معضرت اختیار کی جاسکتی ہے؟

یہ ضرور ہے کہ جب تک کوئی خاص ضرورت اور مقامی حیثیت سے ان مسائل کو بیان کرنے کی وقتی مصلحت پیش نہ آئے بلا وجہ ان مسائل پر لب کشائی نہ کی جائے ۔ لیکن جب ضرورت داعی ہو تو پھر ان کی تبلیغ بھی ایسی ہی ضرور ہونی چاہیے جیسی دوسری اصلاحات کی۔

ظاہر ہے کہ فی زمانہ جو زیادہ فسادات اور نزاعات رونما ہوتےہیں وہ اکثر شرک و بدعت کی مذمت اور ان کی جزئیات کی تفصیل سے واقع ہوتے ہیں، اور یہ موضوع مسلمانوں کی اصلاح کے لیےایسا ضروری ہے کہ بہر حال ناگزیر ہے اور کسی وقت کسی حال میں اس سے تغافل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر خطبہ میں اصلاح عقائد توحید و رسالت کا اصل مفہوم اِعَتِصَامُ بِالسُّنْهُ إِجْتِنَابُ عَنِ الْبِدْعَتُ شرک کی مذمت اور اس کے اقسام کی تفصیل ہی سے سامعین کو خبر دار نہ کیا گیا تو میں نہیں سمجھتا کہ ان مضامین سے زیادہ کون سا وہ موضوع ہے جو مسلمانوں کے دین کی اصلاح سے متعلق ہو۔

پس میری رائے میں صرف یہی طریقہ مناسب معلوم ہوتا ہےکہ خطبہ کا وہ حصہ جو تبلیغ احکام سے متعلق ہو لازما بہر حال سامعین کی زبان میں ہونا ضروری ہے اور جن مضرتوں کے پیدا ہونے کا امکان ہے ان کا انسداد دوسرے خارجی ذرائع سے کیا جائے مثلاً یہ کہ خطباء کو بذریعہ تحریر و تقریر سمجھا دیا جائے کہ وہ بلاضرورت ان مسائل کی تفصیل میں نہ پڑا کریں اور جب ضرورت ہو تو بے شک بیان کریں، مگر طرز بیان تشدد آمیز اور ڈنک مارنے والا نہ ہو۔ صاف اور سیدھے طریقہ سے نرم الفاظ میں مسلک حق کو واضح کیا کریں۔ ذاتیات کے حملوں سے بچتے رہیں۔

آخراب بھی تو اس قسم کے مولویوں کی تقریروں سے نزاعات ہوتے ہی ہیں، ان کو روکنے کے لیے جو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ان پر یہاں بھی عمل کیا جا سکتا ہے۔

پھر قابل لحاظ یہ امر بھی ہے کہ اب تو اس قسم کے اختلافات کا اثر عوام پر اس درجہ گہرا ہو چکا ہے کہ اکثر و بیشتر ایک عقیدہ اور خیال کا آدمی دوسرے عقیدہ اور خیال والے کی اقتداء ہی نہیں کرتا۔ اور ہر عقیدہ و خیال کےلوگوں کی نماز جماعت عموماً اور نماز جمعہ الگ الگ ہوتی ہے۔ایک دوسرےکی اقتداء سےمحترز ہے مسجدیں سب کی الگ الگ باعتبار اکثریت کے بنی ہوئی ہیں۔ پس اپنے اپنے ہم خیال لوگوں اور اپنی اپنی مسجدوں میں جیسی چاہیں تقریر کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔کوئی مانع نہیں ہوسکتا اور اکثر نہیں ہوتا۔

یہ جو کچھ عرض کیا گیا ہےصرف ان دو فرقوں کو ذہن میں لےکر عرض کیا گیا ہےجو عوام کی زبان میں دیوبندی اور بریلوی وهابی اور بدعتی کے ناموں سے مشہور ہیں۔ اس لیے کہ ہندوستان میں انھی دونوں کی کثرت ہے اور واقعات کے اعتبار سے بھی جہاں جہاں فسادات ہوتے ہیں غالباً ان دونوں کے علاوہ اور فرقوں میں نہیں ہوتے یا مجھ کو معلوم نہیں ۔ لیکن اگر ہوتے ہوں گے تو بہت ہی کم ۔بہر حال اکثریت کے لحاظ سے یہی دونوں قابل لحاظ معلوم ہوئےاور جب اکثریت کے بارے میں میری یہ رائے ہے تو اقلیتوں کےمتعلق تو بدرجہ اولی سمجھنی چاہیے۔

رہا موضوعات اور بے اصل قصص کے بیان کا خطرہ تو وہ اس طرح رفع ہو سکتا ہے کہ ہر جگہ کے بااثر لوگ اس امر کا خاص اہتمام کریں کہ امامت جمعہ کے لیے جاہل اور پیشہ ور واعظوں کو ہرگز منتخب کریں۔ حتی الامکان مستند اور ذی فہم علماء کے سپرد یہ کام کیا جائے۔ یا اگر وہ عالم نہ ہوں تو مشاہیر علما میں سے کوئی صاحب اس کو قابلِ اعتماد اور اس کے بیان کو قابل سماعت تجویز کر دیں۔

پھر علماء کی طرف سے کوئی ایسا رسالہ ان تمام آئمہ کے لیےتالیف کر کے شائع کر دیا جائے جس میں واضح طور پر ان مفاسد سے بچنے کے اصول بتلا دیے گئے ہوں۔ مثلاً یہ کہ کوئی روایت حدیثی یا قصہ تاریخی بدون کامل تحقیق کے نہ بیان کیا کریں یا یہ کہ فلاں کتاب فلاں ابواب میں فلاں فلاں شرائط سے اس قابل ہےکہ اس کی روایات کو بیان کیا جا سکتا ہے اور فلاں فلاں کتاب ایسی ہے کہ اس سے غیر محقق کو بالکلیہ اجتناب کرنا چاہیے۔ غرض یہ یا اور جو مفید اُمور ہوں اس رسالے کے ذریعے سے آئمہ جمعہ کو آگاہ کر دیا جائے ۔ میری رائے میں اس طرح کرنے سے اس مفسدہ کا غالباً بہت بڑا انسداد ہو سکے گا۔

هَذَا مَا عِنْدِي وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ الْعَلِيمِ الْخَبِيْرِ


جواب :

یہ ایک دلچسپ صورت حال ہے ۔ ایک جماعت گجھی زبان کے خطبہ کو مکروہ تحریمی ثابت کر رہی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہےکہ اس کا فاعل گناہ گار ہو۔دوسری جماعت اسی چیز کو واجب ثابت کرنےکی کوشش کر رہی ہےجس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا تارک گناہ گار ہو۔حالانکہ نہ ایک فریق کے پاس اس کی حرمت کا کوئی شرعی ثبوت ہے اور نہ دوسرے کے پاس اس کے وجوب کا ۔ اس معاملہ میں یہ بات ہر شخص کو بطور ایک اصول کے سمجھ لینی چاہیے کہ شریعت میں فرض و واجب یا حرام و ناجائز صرف وہی اُمور ہیں جن کو شارع نے خود یہ حیثیت دی ہو اور جن کے بارے میں کتاب وسنت سے اس طرح کا کوئی حکم ثابت ہو ۔ایسے ہی اُمور کے فعل یا ترک پر گناہ کا حکم لگایا جا سکتا ہے۔ باقی رہے وہ امور جو ہم قیاس و استدلال کے ذریعہ سے شارع کو قول یا عمل سے مستنبط کرتے ہیں، تو اُن کو فرض یا واجب قرار دینا یا حرام یا نا جائز ٹھیرانا، اور ان کی بنا پر ثواب یا عقاب کا حکم لگانا اصلاً غلط ہے۔اس لیے کہ انسان کو انسان پر کوئی چیز فرض و واجب کرنے یا حرام و ناجائز ٹھیرانے کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے اور عذاب و ثواب خدا کے اختیار میں ہیں نہ کہ انسان کے اختیار میں۔وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ الْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَّهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ (انحل: ۱۱۶) ایک بڑے سےبڑا عالم اور امام جلیل القدر بھی زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہنے کا حق رکھتا ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ میں کتاب اللہ وسنت رسول اللہ سے ایسا سمجھتا ہوں میرے نزدیک فلاں بات کی جا سکتی ہے یا اس کا کرنا اولی ہے یا فلاں بات نہیں کی جا سکتی یا اس کا کرنا درست نہیں۔اگرچہ رائے کا اختلاف اس صورت میں بھی باقی رہتا ہے اس لیے کہ ایک شخص کا فہم دوسرے شخص کے فہم سے بالکل مطابق نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ اختلاف احکام شریعت میں نہیں بلکہ انسانی اجتہاد میں ہوگا اور اس کی وجہ سے وہ فتنے نہ پیدا ہوسکیں گے جو اجتہادی اختلافات کی بنیاد پر فرض اور حرام کا فرق پیدا کرنے اور پھر ایک دوسرے کو گناہ گار اور گمراہ ظہرانے سے پیدا ہوتے ہیں۔

اس اصل کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔اس کےبعد زبان خطبہ کےمسئلہ پر غور کیجیےشارع نے ایسی کوئی تصریح نہیں فرمائی ہے کہ خطبہ فلاں زبان میں دینا واجب ہے یا فلاں زبان میں دینا مکروہ تحریمی ہے۔ اسی طرح شارع نےاُن مقاصد کی تفصیل بھی بیان نہیں کی ہے جن کے لیے خطبہ کو نماز جمعہ کے ساتھ لازم کیا گیا ہے۔ اس باب میں جتنی مختلف باتیں مختلف خیالات کے اہل علم بیان کرتے ہیں وہ شارع کے کسی صریح حکم پر مبنی نہیں ہیں بلکہ انھوں نے صاحب شریعت کے عمل کو دیکھ کر اپنی فہم کے مطابق مختلف امور اخذ کیےہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک گروہ کا فہم صحیح ہو ہو سکتا ہےکہ دوسرے گروہ کا فہم صحیح ہو۔دونوں کو اپنےاپنےدلائل پیش کرنے کا حق ہے۔لیکن کسی کو یہ حق نہیں کہ اپنے فہم سےجو حکم وہ نکال رہا ہے اسے واجب ٹھیرائے اور اس کے تارک کو گناہ گار قرار دئے یا اسے حرام ٹھیرائےاور اس کے فاعل کو مجرم ٹھیرائے ۔ لوگوں کو پوری آزادی حاصل ہے کہ جس کے دلائل کو وہ زیادہ وزنی سمجھیں اور جس کی رائے پر ان کو اطمینان ہو جائے اس کا اتباع کر لیں ۔ شارع کا تصریح نہ کرنا خود اس بات پر دلالت کرتا ہےکہ اس نے لوگوں کو اس باب میں آزادی بخشی ہے۔ اگر اس میں لوگوں کے طریقے مختلف ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ جس کا مسلک زیادہ قوی دلائل پر مبنی ہوگا، اور جس کی رائے مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر کو زیادہ مطمئن کرنے والی ہو گئی، اُس کے اتباع پر بالآخر سواد اعظم مجتمع ہو جائے گا اور اختلاف عمل کا دائرہ خود بخود گھٹتا چلا جائے گا۔

خطبہ غیر عربیہ کو واجب قرار دینےکےلیےجو طریق استدلال ہمارے مراسلہ نگار نےاختیار کیا ہے۔وہ بالکل ایسا ہی ہےجیسےکوئی یوں کہےکہ نماز کےمقاصد میں سےاہم ترین مقصد رجوع الی اللہ ہےاور رجوع الی اللہ بغیر خشوع و خضوع کےممکن نہیں۔اور جس چیز پر فرض کےمقصد کا حصول موقوف ہو وہ بھی فرض ہونی چاہیےلہذا خشوع و خضوع نماز ہی کی طرح فرض ہے۔یہ طرز استدلال ممکن ہےکہ منطق کی رُو سےدرست ہو مگر شرع کی رو سے درست نہیں۔ اس لیے کہ یہ شخص اُمت پر ایسی چیز فرض کرتا ہے جسے خدا نے فرض نہیں کیا۔ شریعت میں صرف وہی چیز فرض یا حرام ہے جس کو خدا نے فرض یا حرام قرار دیا ہے۔ ہم کو منطقی استدلال سے فرائض اور حرمات کی فہرست میں اضافہ کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ پچھلی اُمتوں نے یہی غلط طریقہ اختیار کر کے اپنے اوپر بہت سی چیزیں لازم کر لی تھیں جو خدا نے ان کے اوپر لازم نہیں کی تھیں اور یہی وہ بوجھ اور پھندے تھے جن سےانسانیت کو آزاد کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے وَيَضَعُ عَنْهُمُ اصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ (الاعراف: ۱۵۷)

پس زبانِ خطبہ کے متعلق جو رائے میں نے ظاہر کی ہے اور اس کے خلاف جو رائے بعض علماء کرام ظاہر فرماتے ہیں، ان میں سے کسی کو بھی یہ حیثیت حاصل نہیں ہے کہ لوگوں پر اس کا ماننا واجب ہو اور اس کی خلاف ورزی کرنے سے ان پر کوئی گناہ لازم آتا ہو۔ اگر کوئی شخص تحکم کے انداز میں اپنی رائے بیان کرتا ہے تو یہ اس کی غلطی ہے۔

میں نے زبان خطبہ کو بدلنےسےپہلےجن امور کی اصلاح کو ضروری قرار دیا ہےان پر صاحب مراسلہ نے پوری طرح غور نہیں فرمایا۔اسی بنا پر وہ شبہات پیدا ہوئےجو انھوں نے بیان کیے ہیں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ شرعی نظام کے درہم برہم ہو جانے کی وجہ سے اسلام کا کوئی حکم اپنی اصل پر باقی نہیں رہا ہے۔جمعہ اور خطبہ ہمارے شرعی نظام کےاہم ترین اجزاء میں سے تھے۔ایک عظیم الشان اجتماعی مقصد تھا جس کی تحصیل کےلیےدوسرے اجزاء کےساتھ ان دونوں چیزوں کو بھی خاص حکیمانہ تناسب سے ایک نظام میں نصب کیا گیا تھا۔ اب وہ نظام لوٹ گیا اجزاء پراگندہ ہو گئےان کا باہمی ربط اور اجتماعی زندگی کےساتھ ان سب کا مجموعی ربط ٹوٹ گیا اور سرے سےوہ عظیم الشان مقصد ہی اب دلوں سےمحو ہوتا جا رہا ہےجسکےلیےیہ تمام اجزاء فراہم کیےگئےتھے۔اس حالت کی صحیح اصلاح تو اسی صورت میں ہو سکتی ہےکہ وہ شرعی نظام پھر سےقائم کیا جائےاور اس کےبکھرےہوئے اجزاء کو پھر اسی طرح جمع کر کےایک مشین کے پرزوں کی طرح نصب کر دیا جائےتا کہ اس کی حرکت کے ساتھ ساتھ وہ نتائج بر آمد ہوتے چلے جائیں جو اس سےمطلوب ہیں۔ تاہم اگر یہ نہیں ہو سکتا تو کم از کم اتنا ہی ہو کہ مسلمانوں میں ایک رائےعام پیدا کر دی جائے،بڑے پیمانے پر نہیں تو چھوٹے پیمانے پر ہی ان کو اپنے اجتماعی کام ایک نظم کے ساتھ انجام دینےکی عادت ڈالی جائےاور رائےعام کی طاقت سے ان مضرتوں کا سد باب کیا جائے جو غیر ذمہ دارلوگوں کی منتشر حرکات سےپیدا ہوتی ہیں۔لیکن اگر یہ بھی نہیں ہو سکتا تو پھر اصلاح کا نام نہ لیجیےاور جو کچھ ہو رہا ہےاسکو اسی طرح ہونےدیجیےکیونکہ ہر شخص اپنےذہن میں اصلاح کاجو مفہوم سمجھے بیٹا ہے اگر وہ اسی کے مطابق انفرادی طور پر عمل شروع کر دے تو بے شمار مصلحین' ایک دوسرے کے خلاف عمل کرنےوالے پیدا ہو جائیں گے اور ان کی کارگذاریوں کا نتیجہ اصلاح کے بجائے مزید فساد ہوگا۔

نظامِ شرعی میں خطیب جمعہ کی حیثیت محض ایک واعظ کی نہیں ہےبلکہ وہ ایک ذمہ دار شخص کی حیثیت رکھتا ہےجس پر اپنےحلقہ کی جماعت مسلمین کی نگرانی کرنےاور ان کی اجتماعی زندگی کو مفاسد سے بچانےاور ان سب کو عام قومی پالیسی کےمطابق چلانےکی ذمہ داری عائد ہوتی ہےذمہ داری بجائے خود ایک معلم ہے۔جس شخص پر اس کےبار پڑتا ہےوہ خود ذمہ داری سے ہی سیکھ لیتا ہے کہ اس سے کیونکر عہدہ برآ ہو بخلاف اس کے ایک غیر ذمہ دار شخص جو نہ کسی نظام جماعت سے تعلق رکھتا ہو نہ کسی کے سامنے جواب دہ ہو نہ اس امر کا کوئی تصور رکھتا ہو کہ اس کا خطبہ جماعت کی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہےبلکہ اثر انداز بھی ہےیا نہیں، ایسا شخص خطبہ جمعہ کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ اس کےلیے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ جماعت کی فلاح و بہبود کن چیزوں کی مقتضی ہے؟ کون سےمفاسد ہیں جن کی اصلاح اس کو پہلےکرنی چاہیے؟ کن تعلیمات کی تلقین اور کن احکام کی تبلیغ مقدم ہےاور اس کام کو کس طرح انجام دیا جائےکہ فائدہ مطلوب حاصل ہو؟ ہمارے جمعوں کےامام چونکہ کوئی ذمہ دارانہ حیثیت ہی نہیں رکھتےاس لیےدرحقیقت وہ خطیب کے ان فرائض کو ادا کرنےکےناقابل ہیں۔وہ اگر عالم بھی ہوں تو انکی حیثیت ایک واعظ اور مبلغ کی رہےگی۔وہ محض اپنےشخصی اختیار تمیزی کی بنا پر تعلیم و تبلیغ کریں گے۔اور اس سے کوئی خاص اجتماعی فائدہ حاصل نہ ہوگا بلکہ اس کے برعکس ان کے غیر ذمہ دارانہ مواعظ سے یہ تھوڑی بہت اجتماعیت بھی، جو اب حاصل ہوتی ہے پراگندہ ہو جائے گی۔

اگر نظام شرعی کا احیاء اس وقت ممکن نہیں ہے جیسا کہ بظاہر نظر آتا ہے تو آخری صورت وہی ہے جو میں نے بیان کی ہے۔ اہل علم کی ایک جماعت جو کسی حد تک ذمہ دارانہ حیثیت رکھتی ہو خطبات جمعہ مرتب کرنے کےلیے مقرر ہونی چاہیئے اور اس کو ایسےخطبات مرتب کرنے چاہئیں جن میں اصول اسلام کو غیر اختلافی طریقوں سے بیان کیا جائے مسلمانوں میں وحدت ملی کا احساس پیدا کیا جائے ان کو عام اخلاقی مفاسد اور خلاف شریعت اعمال پر ( جو متفق علیہ میں ) متنبہ کیا جائے اور ایسے احکام بیان کیے جائیں جن سے مسلمانوں کے کسی فرقہ کو بھی اختلاف نہیں ہے۔ اجتماع جمعہ کے مقاصد کی تحصیل کا کم سے کم ذریعہ یہی ہے۔ہمیں کوشش کرنی چاہیےکہ مختلف فرقوں کے جمعے جو الگ الگ ہونے لگے ہیں، ان کو بند کیا جائے اور ایسی صورتیں پیدا کی جائیں کہ کم از کم جمعہ میں تمام یا اکثر فرقوں کےمسلمان ایک جگہ اکٹھے ہو جائیں۔ جمعوں کا الگ ہونا غایت درجہ نقصان دہ چیز ہے۔ اس کو منانے کی ضرورت ہے نہ یہ کہ ایسےاسباب پیدا کیے جائیں جن سے یہ بیماری اور زیادہ ترقی کرے۔ واعظوں کو اگر اپنے نقطہ نظر کے مطابق وعظ کہنا ہے اور وہ اپنے مسلک کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں تو وہ مسجدوں سے باہر جہاں چاہیں لب کشائی کریں۔مسجدیں جمع کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں، نہ کہ تفریق کرنے کے لیے ۔ ان کو مساجد ضرار بنانا ایک بدترین فعل ہے جسے کسی حال میں گوارا نہیں کیا جا سکتا۔

ترجمان القرآن

( جمادی الآخره و رجب ۱۳۵۶ھ - اگست د ستمبر ۱۹۳۷ء )

کتاب تفہیمات، دوم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Understandings