کچھ مدت سے اخبارات میں یہ غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ بقر عید کے موقع پر جانوروں کی قربانی کرنے کا کوئی حکم اسلام میں نہیں ہے یہ محض ایک رسم ہے جو ملاؤں نےایجاد کر لی ہے اور اس فضول رسم پر روپیہ ضائع کرنےسےبہتر یہ ہےکہ اس روپےکو کسی اجتماعی مفاد کے کام پر خرچ کیا جائے۔ ان خیالات کی تبلیغ اب سے کئی سال پہلےبعض منکرین حدیث نے شروع کی تھی اور اس زمانے میں میں نے رسالہ ترجمان القرآن میں قرآن و حدیث کی سند اور عقلی دلائل سے ان کی مفصل تردید کر دی تھی ۔ لیکن آب دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان میں پھر یہ فتنہ اُٹھایا جا رہا ہے۔ اس لیے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ مختصراً اس مسئلے کے متعلق اسلامی احکام واضح طور پر بیان کر دوں تا کہ محض نا واقفیت کی وجہ سے کوئی شخص اس فتنے سے متاثر نہ ہو جائے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ قربانی کے متعلق قرآن مجید کیا کہتا ہے ۔ کیا وہ قربانی کو صرف حج اور متعلقات حج تک محدود رکھتا ہے یا دوسرے حالات میں بھی اس کا حکم دیتا ہے؟ اس باب میں دو آیتیں بالکل صاف ہیں جن کا حج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پہلی آیت سورہ انعام کے آخری رکوع میں ہے:
”اے نبی ! کہو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت غم کرنے والا میں ہوں۔"
یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی تھی جبکہ نہ حج فرض ہوا تھا نہ اس کے مراسم و مناسک مقرر ہوئے تھے ۔ اور اس میں کوئی اشارہ بھی ایسا نہیں ہے جس سے یہ سمجھا جائےکہ اس حکم سے مُراد حج میں قربانی کرتا ہے۔ ٹسک کا لفظ جو اس آیت میں مستعمل ہوا ہےاسے خود قرآن مجید میں دوسری جگہ قربانی ہی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ فمن كان مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ اَدَى مِنْ رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكِ (بقره: ۱۹۴) "تم میں سے جو شخص سفر حج میں بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سرمنڈ وا لے تو فدیہ میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے“ (البقرہ:۲۴)۔ اس نظیر سےمعلوم ہوا کہ سورہ انعام کی مذکورہ بالا آیت میں بھی ٹسک کے معنی قربانی کے ہیں۔ تاہم اگر اس لفظ کو عام عبادات کے معنی میں بھی لیا جائے تو قربانی کا مفہوم اس میں ضرور شامل مانا جائے گا۔
یہ آیت بھی ملتی ہے اور اس میں بھی کوئی اشارہ یا قرینہ ایسا نہیں ہے جس کی بنا پر کہا جا سکے کہ قربانی کا یہ حکم حج کے لیے خاص ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اہل لغت نے"نحر کے معنی سینے پر ہاتھ باندھنے اور قبلہ رخ ہونے اور اول وقت نماز پڑھنے کے بھی بیان کیے ہیں، لیکن یہ سب ڈور کے معنی ہیں۔ عام فہم عربی میں اس لفظ کا مفہوم قربانی کرنا ہی لیا جاتا ہے۔ چنانچہ احکام القرآن“ میں علامہ جصاص لکھتے ہیں :۔
"جن لوگوں نے اس کے معنی اونٹ ذبح کرنے کے بیان کیےہیں ۔ انھی کی بات صحیح ہے، کیونکہ اس لفظ کا حقیقی مفہوم یہی ہے اور مطلق لفظ نحر سُن کر ایک عرب اس مفہوم کے سوا اور کوئی مفہوم نہ سمجھے گا۔ اگر کہا جائے کہ فلاں شخص نے آج نحر کیا ہے تو ہر شخص یہی سمجھے گا کہ اس نے آج اونٹ ذریج کیا نہ یہ کہ اس نے آج بائیں ہاتھ پر سیدھا ہاتھ باندھا۔ (جلد ۳ ص۵۸۵)
یہی وجہ ہے کہ قرآن کے تمام مترجمین، شاہ ولی اللہ صاحب شاہ عبد القادر صاحب شاہ رفیع الدین صاحب مولانا محمودالحسن، مولانا اشرف علی صاحب ڈپٹی نذیراحمد صاحب وغیر ہم نے بالا تفاق اس لفظ کا ترجمہ قربانی ہی کیا ہے۔
اب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کے اس حکم کا منشا کیا سمجھا اور اس پر کیا عمل فرمایا۔ کیا آپ نے صرف حج ہی میں قربانی کی ہے یا مدینہ حقیہ میں بھی آپ عید الاضحی کے موقع پر قربانی کرتے رہے؟ اور کیا آپ نے بقر عید پر قربانی کبھی کبھار کی ہے یا بالالتزام کرتے رہے؟ اور کیا آپ نے محض بذاتِ خود اس پر عمل کیا ہے یا مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا ہے؟ اس باب میں جومستند روایات ہم تک پہنچی ہیں، میں انھیں بے کم و کاست یہاں نقل کیے دیتا ہوں :-
” سب سے پہلا کام جس سے ہم آج کے روز ابتدا کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں پھر واپس جا کر قربانی کرتے ہیں (١) جس نے اس پر عمل کیا اس نے ہمارے طریقے کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا تو اس کا شمار قربانی میں نہیں ہے بلکہ وہ ایک گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے مہیا کیا۔دوسری روایت میں ہے کہ " جس نے نماز کے بعد ذبح کیا۔ اس کی قربانی پوری ہوئی اور اس نے مسلمانوں کا طریقہ پالیا“۔
ظاہر ہے کہ یہ روایت بقر عید ہی سے متعلق ہے۔ اور اس کا کوئی تعلق حج سے نہیں ہے کیونکہ حج میں کوئی خاص نماز ایسی نہیں ہے جس سے پہلے قربانی کرنا اس سنت مسلمین کے خلاف اور بعد قربانی کرنا اس سنت کے مطابق ہے۔
" یحی بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ بن سہل انصاری سےبنا وہ کہتے تھے کہ ہم لوگ مدینہ میں قربانی کے جانور کو خوب کھلا پلا کر موٹا کرتے تھے اور عام مسلمانوں کا یہی طریقہ تھا۔"
١- صریح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ فَصَلِّ لِرَتِكَ وَانْحَرُ اور اِنَّ صَلوتِی وَنُسْکی کی تفسیر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیک ٹھیک قرآن کی ہدایت کے مطابق یہ طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ پہلے نماز پڑھی جائے پھر قربانی کی جائے۔
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص انس بن مالک کہتے ہیں کہ "حضور دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دو ہی مینڈھوں کی قربانی کرتا ہوں"۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم مدینہ میں قربانی کے گوشت کو نمک لگا کر رکھ دیا کرتے تھے اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔
(٦) عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى بْنِ اذْهَرَ أَنَّهُ شُهِدَ الْعِيدَ يَوْمَ الْأَضْحَى مَعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسِ فَقَالَ أيُّهَا النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ عَنْ صِيَامٍ هَذِيْنِ الْعِيْدَيْنِ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ وَأَمَّا الْأَحَرُفَيُوم تَأْكُلُونَ مِنْ تُسْكِكُم ( بخاری کتاب الاضاحی)
ابو عبید مولی این از ہر کہتے ہیں کہ انھوں نے بقر عید کے روز حضرت عمر کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے پہلے نماز پڑھائی۔ پھر خطبہ دینےکھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ”لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو ان دونوں عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک عید تو تمھارے لیے افطار کا دن ہے رہی یہ دوسری عید تو اس میں تم قربانی کا گوشت کھاتے ہو“۔
یہاں یہ بات جان لینی چاہیے کہ حج میں بقر عید کی نماز سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے۔ لہذا حضرت عمر کا یہ خطبہ یقینی طور پر مدینہ طیبہ میں ہوا ہے اور جو حکم انھوں نے بقرعید کی قربانی کے متعلق بیان کیا ہے اس کا تعلق بھی لازما مکہ سے باہر دوسرے مقامات سے ہے:۔
(۷) قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَوَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ أَخَرَ وَلَا يَسْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- (مسلم باب وقت الاضحمیہ )
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ ”میں نے جابر بن عبداللہ سے سنا وہ کہتے تھےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم النحر کو مدینہ میں نماز پڑھائی۔پھر بعض لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ حضور قربانی کر چکے ہیں آگے بڑھ کر اپنے جانور قربان کر لیے۔ اس پر حضور نے حکم دیا کہ جس نے مجھےسے پہلے قربانی کر لی ہے اسے پھر دوسری قربانی کرنی چاہیے اور آئندہ کوئی شخص اس وقت تک قربانی نہ کرے جب تک کہ میں نہ کر لوں۔"
(۸) عَنْ جَابِرٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَ الْأَضْحَى فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِكَيْشِ فَذَبَحَهُ فَقَالَ بِسْمِ الله والله اكبر اللهم هذا عَنِّى وَعَمَّنْ لَّمْ يُضَحُ مِنْ أُمَّتِي - (مسند احمد ابوداؤ د ترندی)
جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ بقرعید کی نماز پڑھی۔ پھر جب آپ پلٹے تو آپ کی خدمت میں ایک مینڈھا پیش کیا گیا اور آپ نے اسے ذبح کرتے ہوئے فرمایا: اللہ کے نام پر اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ خدایا یہ میری طرف سے اور میری اُمت کے اُن سب لوگوں کی طرف سے ہے جنھوں نے قربانی نہ کی ہو“۔
(۹) عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ضَحْى اشْتَرَى كَبُشَيْنِ سَمِيْنَيْنِ أَقْرَنَيْنِ املحَيْن فَإِذَا صَلَّى وَخَطَبَ النَّاسَ أَتَى بِأَحَدِهِمَا وَهُوَ قَائِمٌ فِي مُصَلاهُ فَذَبَحَهُ بِنَفْسِهِ بِالْمَدِينَةِ - (مند احمد )
علی بن حسین رضی اللہ عنہ ابو رافع سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقر عید کے موقع پر دو مینڈھے خریدتے تھےخوب موٹے تازے بڑے سینگوں والے اور چت کبرے۔ پھر جب آپ نماز پڑھ چکتے اور خطبے سے فارغ ہو لیتے تو ان میں سےایک مینڈھا پیش کیا جاتا اور آپ اپنے مصلے پر کھڑے کھڑے اس کو ذبح فرما دیتے“۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص استطاعت رکھتا ہو پھر قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔
ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مدینہ میں رہے اور ہمیشہ قربانی کرتے رہے۔"
یہ گیارہ روایتیں مختلف صحابیوں سے حدیث کی ۔ ۶ معتبر ترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔ اور ان سے ثابت ہوتا ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے مذکورہ بالا احکام کا منشا یہ سمجھا تھا کہ قربانی صرف حاجیوں کے لیے مخصوص نہ ہو بلکہ ذی استطاعت مسلمان بھی اپنی اپنی جگہ بقر عید کے موقع پر قربانی کرتے رہیں۔ اس طریقہ پر حضور خود عامل رہے۔ دوسرےمسلمانوں کو حکم دیا اور اسے سنت اسلام کے طور پر مسلمانوں میں جاری کیا۔
قرآن اور حدیث کے ان دلائل کی بناء پر فقهاء اُمت نے بقر عید کی قربانی کےمتعلق بالاتفاق یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک مشروع فعل ہے اور سنن اسلام میں سے ہے۔اختلاف اگر ہے تو اس میں کہ یہ واجب ہے یا نہیں ۔ مگر اس کا مشروع اور سنت ہونا متفق علیہ ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں مذاہب فقہاء کا خلاصہ اس طرح بیان کرتے ہیں :۔
"اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ بقرعید کی قربانی شرائع دین میں سے ہے۔ شافعیوں اور جمہور کے نزدیک یہ سنت مؤکدہ ہے بطریق کفایت ۔ اور شافعیہ میں ایک دوسری رائے یہ ہے کہ فرضِ کفایہ ہے۔ امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ مقیم اور خوش حال آدمی پر واجب ہے۔ امام مالک کی رائے بھی ایک روایت کی رُو سے یہی ہے ۔ مگر انھوں نے مقیم کی قید نہیں لگائی ہے۔ اوزاعی ربیعہ اور کیٹ کی بھی یہی رائے ہے۔ حنفیوں میں سے ابو یوسف اور مالکیوں میں اشہب نے جمہور کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل کی رائے یہ ہے کہ قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنا مکروہ ہے ۔ ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ قربانی کرنا واجب ہے۔امام محمد کہتے ہیں کہ قربانی ایک ایسی سنت ہے جسے چھوڑ دینے کی اجازت نہیں ہے“ ۔ ( جلد ۱۰ صفحہ ۲ )
اس سے معلوم ہوا کہ جہاں تک قربانی کے سنت اور مشروع ہونے کا تعلق ہے۔یہ مسئلہ ابتداء سے اُمت میں متفق علیہ ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں رہا ہے۔
سب سے بڑا ثبوت اس کے سنت اور مشروع ہونے کا یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے لے کر آج تک مسلمانوں کی ہر نسل کے بعد دوسری نسل اس پر عمل کرتی چلی آ رہی ہے۔ دو چار یا دس پانچ آدمیوں نے نہیں بلکہ ہر پشت کے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں نے اپنے سے پہلی پشت کے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں سے اس طریقے کو اخذ کیا ہے اور اپنے سے بعد والی پشت کے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں تک اسےپہنچایا ہے۔ اگر تاریخ اسلام کے کسی مرحلے پر کسی نے اس کو ایجاد کر کے دین میں شامل کرنے کی کوشش کی ہوتی تو کس طرح ممکن تھا کہ تمام مسلمان بالاتفاق اس کو قبول کر لیتےاور کہیں کوئی بھی اس کے خلاف لب کشائی نہ کرتا ؟ اور کس طرح یہ بات تاریخ میں چھپی رہ سکتی تھی کہ اس طریقہ کو کب کس نے کہاں ایجاد کیا؟ آخر یہ امت ساری کی ساری منافقوں ہی پر تو مشتمل نہیں رہی ہے کہ حدیثوں پر حدیثیں قربانی کی مشروعیت پر گھڑ دی جائیں اور ایک نیا طریقہ ایجاد کر کے رسول خدا کی طرف منسوب کر دیا جائے اور پوری اُمت آنکھیں بند کر کے اسے قبول کر بیٹھے ۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ہماری پچھلی نسلیں ایسی ہی منافق تھیں تو معامله قربانی تک کب محدود رہتا ہے۔ پھر تو نماز روزہ حج زکوۃ بلکہ خود رسالت محمد یہ اور قرآن تک سب ہی کچھ مشکوک و مشتبہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ کیونکہ جس تواتر کے ساتھ پچھلی زملوں سے ہم کو قربانی پہنچی ہے اُسی تو اتر کےساتھ اٹھی نسلوں سےیہ سب چیزیں بھی پہنچی ہیں ۔اگر ان کا متواتر عمل اس معاملے میں مشکوک ہےتو آخر دوسرا کون سا ایسا معاملہ رہ جاتا ہے جس میں اسے شک سے بالا تر ٹھیرایا جا سکے۔
افسوس ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگ نہ خدا کا خوف رکھتے ہیں نہ خلق کی شرم۔ علم اور سمجھ بوجھ کے بغیر جو شخص جس دینی مسئلے پر چاہتا ہے بے تکلف نتیشہ چلا دیتا ہے پھر اسے کچھ پروا نہیں ہوتی کہ اس ضرب سے صرف اسی مسئلے کی جڑ کٹتی ہے یا ساتھ ہی ساتھ دین کی جڑ بھی کٹ جاتی ہے۔
دراصل اس وقت قربانی کی جو مخالفت کی جارہی ہے اس کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ کسی نے علمی طریقے پر قرآن وحدیث کا مطالعہ کیا ہوا اور اس میں قربانی کا حکم نہ پایا جا تا ہو۔ بلکہ اس مخالفت کی حقیقی بنیاد صرف یہ ہے کہ اس مادہ پرستی کے دور میں لوگوں کے دل و دماغ پر معاشی مفاد کی اہمیت بری طرح مسلط ہو گئی ہے اور معاشی قدر کے سوا کسی چیز کی کوئی دوسری قدر ان کی نگاہ میں باقی نہیں رہی ہے۔ وہ حساب لگا کر دیکھتےہیں کہ ہر سال کتنےلاکھ یا کتنے کروڑ مسلمان قربانی کرتے ہیں اور اس پر اوسطانی کس کتنا روپیه خرچ آتا ہے۔اس حساب سے ان کے سامنے قربانی کے مجموعی خرچ کی ایک بہت بڑی رقم آتی ہے اور وہ یخ اٹھتے ہیں کہ اتنا روپیہ محض جانوروں کی قربانی پر ضائع کیا جا رہا ہے حالانکہ اگر یہی رقم قومی اداروں یا معاشی منصوبوں پر صرف کیا جاتا تو اس سے بے شمار فائدے حاصل ہو سکتےتھے۔مگر میں کہتا ہوں کہ یہ ایک سراسر غلط ذہنیت ہےجو غیر اسلامی انداز فکر سے ہمارےاندر پرورش پا رہی ہے۔ اگر اس کو اسی طرح نشو ونما پانے دیا گیا تو کل ٹھیک اسی طریقےسے استدلال کرتے ہوئے کہا جائے گا کہ ہر سال اتنے لاکھ مسلمان اوسطاً اتنا روپیہ سفر حج پر صرف کر دیتے ہیں جو مجموعی طور پر اتنے کروڑ روپیہ بنتا ہے محض چند مقامات کی زیارت پر اتنی خطیر رقم سالانہ صرف کر دینے کے بجائے کیوں نہ اسے بھی قومی اداروں اور معاشی منصوبوں اور ملکی دفاع پر خرچ کیا جائے۔ یہ محض ایک فرضی قیاس ہی نہیں ہے بلکہ فی الواقع اسی ذہنیت کے زیر اثر ترکیہ کی لادینی حکومت نے ۲۵ سال تک حج بند کیے رکھا ہے۔پھر کوئی دوسرا شخص حساب لگائےگا کہ ہر روز اتنےکروڑ مسلمان پانچ وقت نماز پڑھتےہیں اور اس میں اوسطاً فی کس اتنا وقت صرف ہوتا ہےجس کا مجموعہ اتنے لاکھ گھنٹوں تک جا پہنچتا ہے۔اس وقت کو اگر کسی مفید معاشی کام میں استعمال کیا جا تا تو اس سےاتنی معاشی دولت پیدا ہو سکتی تھی ۔ لیکن بُرا ہو ان ملاؤں کا کہ انھوں نے مسلمانوں کو نماز میں لگا کر صدیوں سے انھیں اس قدر خسارےمیں مبتلا کر رکھا ہے۔یہ بھی کوئی فرضی قیاس نہیں ہےبلکہ فی الواقع سوویت روس میں بہت سے ناصحین مشفقین نے وہاں کے مسلمانوں کو نماز کےمعاشی نقصانات اسی منطق سے سمجھائے ہیں۔۔۔ پھر یہی منطق روزے کے خلاف بھی بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہے۔ اور اس کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان نری معیشت کی میزان پر تول تول کر اسلام کی ایک ایک چیز کو دیکھتا جائے گا اور ہر اس چیز کو ملاؤں کی ایجاد قرار دے کر ساقط کرتا چلا جائے گا جو اس میزان میں اس کو بے وزن نظر آئے گی ۔ کیا فی الواقع اب مسلمانوں کے پاس اپنے دین کے احکام کو جانچنے کے لیےصرف ایک یہی معیار رہ گیا ہے؟
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |