تفہیمات، دوم

تحقیق قربانی پر تنقید

تحقیق قربانی پر تنقید

پچھلا مضمون پریس میں جاچکا تھا کہ رسالہ " ابلاغ امرتسر کا تازہ پر چه ( بابت ماہ ذی القعدة ٥٥ ھ ) وصول ہوا جس میں جناب " عرشی" امرتسری نے "تحقیق قربانی" کےعنوان سے قربانی پر اپنی تحقیق پیش فرمائی ہے۔ اس مضمون میں قربانی کے خلاف جو دلائل پیش کیے گئے ہیں اگر چہ اُن میں سے اکثر کا جواب ہم اپنے پچھلے مضمون میں دے چکےہیں، لیکن پھر بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس تحقیق قربانی پر مفصل تبصرہ کیا جائے ۔

فاضل مضمون نگار نے اپنی تحقیق کی ابتدا انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے ایک اقتباس سےکی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ قربانی کے متعلق قدیم انسان“ کا نظریہ کیا تھا' رُوم اور یونان میں قربانی کی رسم کن عقائد پر مبنی تھی۔ سامی مذاہب میں یہود کا کیا عقیدہ تھا دور ثانی میں جب انسان دیوتاؤں کی حقیقت سے واقف ہو گیا تو اس نے قربانی کی رسم من تاویلوں کے ساتھ باقی رکھی یہود کے ربی اور یونان کے فلسفی خدا اور ارواح کے متعلق کیا عقیدہ رکھتے تھے اور قربانی کے ساتھ اس عقیدہ کا رابطہ کس قسم کا تھا قدیم آریوں اور اہل روم اور اہل عرب میں قربانی کی کیا ہمیں تھیں، پھر مسیحیت نے کس طرح قربانی کا ابطال کیا اور جاہلیت کے ان خیالات کو جو انسانی اقوام میں پھیلے ہوئے تھے کس طرح مٹایا اور یہ عاقلانہ تخیل انسانوں میں پیدا کیا کہ " غربا کو کچھ دینا قربانی کے برابر ہے اور جو خیرات دیتا ہے وہ گویا ستائش کی قربانی خدا کو پیش کرتا ہے۔ یہ تمام بیانات جو تمہید کے طور پر بیسویں صدی کی کتاب مقدس سے نقل کیے گئے ہیں بلاط یہ ہماری معلومات میں بیش قیمت اضافہ کرتے ہیں۔ مگر ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ ان کو اس مضمون میں کیوں نقل کیا گیا ہے۔

اوّل تو یہ تمام بحث غیر متعلق ہے، اس لیے کہ نفس مسئلہ صرف یہ ہے کہ آیا خدا اور رسول نے قربانی کا حکم دیا ہے یا نہیں؟ اگر ثابت ہو جائےکہ نہیں دیا ہے تو انسائیکلو پیڈیا کی شہادت قطعاً غیر ضروری ہےاور اگر تحقیق سے یہ ثابت ہو کہ قربانی ایک سنہ اسلام ہےاور خدا اور سول کےحکم سے جاری ہوئی ہے تو مسلمانوں کو بہر حال اس کا اتباع کرنا چاہیئےخواہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی نگاہ میں وہ کیسی ہی جہالت اور تاریک خیالی ہو ۔ اس لیے کہ ہمارا اتباع اسلام کسی انسائیکلو پیڈیا کی تائید و تصدیق پر موقوف نہیں ہے اور نہ ہونا چاہیے۔

پھر یہ بات سخت حیرت انگیز ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو قرآن کا مبلغ کہتے ہیں اور جن کا دعوئی یہ ہے کہ ہم قرآن کے سوا کسی چیز کے متبع نہیں ہیں، وہ ایک مذہبی مسئلہ کی تحقیق میں یورپ کی تحقیق کو سب پر مقدم رکھتے ہیں۔ اگر قربانی کی تاریخ اور جاہلیت اولی کےاعتقادات ہی پر کچھ روشنی ڈالنی تھی تو اس کے متعلق خود قرآن میں کافی مواد موجود تھا اور اس سے یہ بھی معلوم ہو سکتا تھا کہ جاہلیت کی قربانی اور اسلام کی قربانی میں فرق کیا ہے۔لیکن جناب عرشی نے قرآن کو چھوڑ کر محققین یورپ کی طرف توجہ فرمائی اور سب سے پہلےاٹھی سے دریافت کیا کہ یہ قربانی جو تیرہ سو برس سے اسلام میں رائج ہے اس کی اصلیت تمھاری تحقیق میں کیا ہے؟ یہ شرف تلزم جو ایک اسلامی مسئلہ کی تحقیق میں اہل فرنگ کےلم و رائے کو عطا کیا گیا ہے اس کی وجہ اگر ہم بیان کریں گے تو ہم پر بد گمانی کا الزام عائد ہوگا ۔ اس لیے جناب عرشی خود ہی اس پر روشنی ڈالیں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ جن مخفظین کے خیالات کو آپ نے مسئلہ قربانی میں اپنی تحقیق کا نقطہ آغاز قرار دیا ہے اگر آپ اجازت دیں تو ہم اسلام کے اصول ڈارکان بلکہ خود اسلام اور نبوت اور وحی اور قرآن کے متعلق بھی ان کی تحقیقات پیش کریں اور آپ سے دریافت کریں کہ ان کی نظر سے آپ اسلام کی کس کس چیز کو دیکھنے کے لیے تیار ہیں؟

مزید برآں یہ بات بھی کچھ کم قابل تعجب نہیں کہ جو لوگ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور آپ کے اسوۂ حسنہ کے متعلق بخاری اور مسلم اور مؤطا اور تمام دوسری کتب حدیث کی شہادتیں بے تکلف رد فرما دیتےہیں،اُن کےمعیار تنقید پر” قدیم انسان" اور روم و یونان اور اسم سامیہ اور اقوام آریہ کےمتعلق محققین فرنگ کے بیانات کس طرح پورا اتر جاتے ہیں؟ حالانکہ ان کا زمانہ عصر نبوت سے سینکڑوں ہزاروں سال قبل کا ہے۔اور اُن کے متعلق جو تاریخی شہادتیں آج دُنیا میں موجود ہیں وہ اُن تاریخی شہادتوں کےمقابلے میں کوئی وزن نہیں رکھتیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے متعلق حدیث میں پائی جاتی ہیں۔ جن ذرائع پر اعتماد کر کے آپ پرانی قوموں کے احوال پر عالمانہ کلام فرما رہے ہیں، اُن میں سے قوی سے قوی ذریعہ بھی ابن ماجہ اور حاکم اور بیہقی کی کسی ضعیف سے ضعیف روایت کے مقابلے میں نہیں لایا جا سکتا۔ پس جب آپ اُن ذرائع سے استناد فرماتے ہیں اور اُن کی سند پر ہم کو خبر دیتے ہیں کہ ” قدیم انسان یہ کرتا تھا اور سامی مذاہب میں یہ عقیدہ تھا اور روم و یونان والے یہ خیالات رکھتے تھے تو ہم کو بھی اجازت ہو کہ بخاری اور مسلم کی سند پر یہ عرض کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل تھا اور حضور نے فلاں مسئلے میں فلاں حکم دیا تھا۔ اگر اس کو ماننے سے آپ انکار فرما ئیں گے تو ہم آپ سے صرف اتنا دریافت کریں گے کہ أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ؟

قربانی کے متعلق انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی تحقیقات سے فاضل مضمون نگار جس نتیجےپر پہنچے ہیں وہ یہ ہے کہ : -

"ترقی تہذیب نے قربانی کی کراہت واضح کر دی۔"

اس فقرے کا مفہوم غالبا اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ قربانی اصل میں تو تھی ہی ایک مکروہ چیز نگر قدیم زمانے میں جہالت کی وجہ سے اس کی کراہت لوگوں سے مختلی تھی، اب چونکہ تہذیب ترقی کر چکی ہے اس لیےاس کا مکروہ ہونا واضح ہو گیا ہے۔ یہ الفاظ پیش نظر رکھیے اور پھر ذرا سورہ حج کی وہ آیت ملاحظہ فرمائیے جس میں ارشاد ہوا ہے:۔

"اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمھارے لیے اللہ کے شعائر میں سے قرار دیا ہے۔ تمھارے لیے ان میں بھلائی ہے لہذا تم ان کو صف بستہ کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو ( یعنی ذبح کرو ) اور جب وہ کسی پہلو پر گر جائیں تو ان میں سے خود کھاؤ اور قانع اور سائل کو بھی کھلاؤ“۔ (رکوع - ۵) حج

ہر شخص جس کو خدا نے تھوڑی سی عقل بھی عطا فرمائی ہے بیک نظر محسوس کرے گا کہ یہ دونوں عبارتیں صریحا ایک دوسرے سےنبرد آزما ہیں۔ سورہ حج میں جس چیز کو شعائر اللہ قرار دیا گیا ہے اور جسے ایک کارخیر کی حیثیت سے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اُسی کو عرشی صاحب کی مقدم الذکر عبارت مگر وہ ٹھہراتی ہے اور ہم کو یہ خبر سناتی ہے کہ اسے کار خیر سمجھنے کا خیال اُس زمانے کے جاہل انسانوں میں پایا جاتا تھا جب تہذیب نے ترقی نہ کی تھی ۔ چھوڑ دیجیے اس خیال کو کہ قربانی واجب ہے یا نہیں؟ ہر شہر اور قریہ میں کرنی چاہیے یا صرف مقام مٹی میں؟ قربانی کرنا افضل ہے یا اس کے بدلے میں کچھ خیرات کر دینا؟ سوال یہ ہے کہ اگر کسی درجے میں بھی قرآن سے قربانی کا حکم کیا معنی جواز بھی لکھتا ہے اگر کوئی ادنی سےادنی درجے کی فضیلت اور بھلائی بھی اس فعل کی طرف قرآن میں منسوب کی گئی ہے تب بھی کیا قرآن اس الزام سے بچ سکتا ہے کہ وہ اُس زمانے کی ایک کتاب ہے جب تہذیب نے کافی ترقی نہ کی تھی؟ اور پھر اس کے بعد کیا اسے خدا کی کتاب مانا جائے گا یا کسی ایسےشخص کی تصنیف جو بیسویں صدی کے مقابلے میں چھٹی صدی کا ایک نیم مہذب انسان تھا؟

یہ نتیجہ ہے قرآن سے پہلے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی طرف رجوع کرنے کا۔ جس مقام سے آپ نے اپنی تحقیق کی ابتدا کی اور جن مسلمات کو لے کر آپ مسئلہ قربانی کی بحث و تنقیح کے لیے چلے وہ پہلے ہی قدم پر آپ کا قدم پھسلا کر کہیں سے کہیں لے گئے۔ان کا منطقی نتیجہ تو یہ لکھتا ہے کہ آپ کو قرآن کے کتاب اللہ ہونے سے انکار کر دینا چاہیے۔لیکن چونکہ آپ کی عقل کے خلاف آپ کا وجدان اس کتاب پر ایمان رکھنے کے لیےاصرار کر رہا ہےاس وجہ سےآپ اس منطقی نتیجہ سے بچنےکی کوشش کر رہےہیں اور قرآن کےترجمہ و تفسیرمیں حد تحریف تک پہنچی ہوئی تاویلیں کر کے صرف یہ بات ثابت کرنا چاہتےہیں کہ قرآن نے قربانی کا حکم نہیں دیا ہے۔ حالانکہ اس سے وہ الزام جو خود آپ کے تسلیم کردہ اُصول کی بنا پر قرآن کے خلاف عائد ہوتا تھا، صرف ہلکا ہو جاتا ہے دُور کسی طرح نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس الزام سے تو قرآن صرف اُسی صورت میں بچ سکتا تھا جبکہ وہ قطعاً و ایجاباً قربانی بند کرنے کا حکم دیتا۔

انسان کی حیثیت اس وقت بڑی ہی عجیب ہو جاتی ہے جب وہ کسی نظام میں داخل بھی رہنا چاہتا ہو اور نظری و فکری حیثیت سے اس سے منحرف بھی ہو چکا ہو۔ ایسی حالت میں وہ اس نظام کی ہر چیز کو اپنے مزاج کے خلاف پاتا ہے اور اس کے ایک ایک تار کو اُدھیٹر کر از سر نو بننے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس اُدھیٹر بن کا راز فاش ہو ۔ اس لیے قدم قدم پر اس کو تاویل تحریف سخن سازی، کھینچ تان اور خدع و فریب کے اوزار استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ عرشی صاحب ہم کو معاف فرما ئیں اگر ہم عرض کریں کہ اس وقت وہ ایسے ہی مشکل موقف میں پڑے نظر آتے ہیں۔ قربانی کے متعلق ان کا نقطہ نظر وہ نہیں ہے جو اسلام کا نقطہ نظر ہے۔ قرآن، حدیث، تفسیر، فقہ اور سنتِ متواترہ میں قربانی ایک عبادت کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ ایک نیکی اور بھلائی ہے جسے ادا کرنے کےلیے احکام دیے گئے ہیں اور ان احکام کو بجالانے کے قواعد مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کےبرعکس آپ کے نزدیک وہ ایک مگر وہ چیز ہے جہالت ہے اور ترقی تہذیب کی وجہ سے مبغوض ہو چکی ہے۔ اب آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا یہ نقطہ نظر اسلام کا نقطہ نظر بن جائےاور سارے احکام اس کے مطابق ڈھل جائیں۔ لیکن ساڑھے تیرہ سو برس میں اسلام نےجس قدر لٹریچر پیدا کیا ہے وہ کل کا کل ایسے مواد سے بھرا ہوا ہے جو آپ کی اس غرض کےخلاف ہے حتی کہ قرآن کے صریح الفاظ بھی آپ کی اس غرض کے مخالف ہیں ۔ آپ سنتِ متواترہ کو جہالت متواتر " کہہ کر ٹال دیں گے ۔ حدیث فقہ اور تفسیر کے سارے لٹریچر کو جعلی ٹھہرا دیں گئے، مگر قرآن کی صریح آیات کا آپ کے پاس کیا علاج ہے؟ کن کن الفاظ کا مفہوم بدلیں گے؟ کن کن عبارتوں کو اُدھیڑیں گے؟ کہاں تک خدا کے کلام میں اپنے معنی بھریں گے؟

عرشی صاحب نے اس سلسلے میں قرآن کی معنوی تحریف کرنے کی جو حیرت ناک کوششیں کی ہیں اُن کی صرف دو مثالیں ہم محض اس لیے پیش کرتے ہیں کہ شاید ہمارےاس بھٹکے ہوئے بھائی اور اس کے ہم خیال حضرات کو تشبہ کی توفیق میسر ہو جائے

قرآن میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت ابراہیم نے خواب میں اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے کا اشارہ پایا تھا۔ اس کے امتثال میں وہ واقعی اپنے بیٹے کو قربان کرنے پر آمادہ ہو گئے ۔ جب انھوں نے اپنے لخت جگر کو ماتھے کے بل پچھاڑ دیا تو اللہ نے فرمایا کہ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَالِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينٌ (صافات: ۱۰۶۱۰۵) اے ابراہیم ! تو نے خواب سچا کر دکھایا ہم اسی طرح نیک بندوں کو جزا دیتے ہیں، بے شک یہ کھلی ہوئی آزمائش تھی ۔ اس قصے کا صاف مفہوم جس کو ہر صاحب فہم آدمی پہلی نظر میں محسوس کر سکتا ہے یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے خلیل کی آزمائش کرنی چاہی تھی، اس لیے بیٹے کو ذبح کرنے کا صریح حکم نہ دیا بلکہ کنا یہ خواب میں محبت کو قربان کرنے کا جذبہ رکھتے تھے اس لیے وہ محبوب حقیقی کے محض اس ذرا سے ڈھکےچھپے اشارے ہی پر بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے ۔ یہی اصل قربانی تھی اور جب یہ پوری ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے بیٹے کا خون بہانے سے اُن کو روک دیا اور ایک "ذبح عظیم“کو اس کا فدیہ بنا دیا۔

غور کیجئے یہ کتنا عظیم الشان واقعہ ہے اور لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: ۹۲) کی روح کو کس شاندار طریقے سے پیش کر رہا ہے۔ لیکن اب دیکھیے کہ "عرشی" صاحب اور ان کے ہم خیال حضرات محض قربانی کی مخالفت کی وجہ سے قرآن کے اس نہایت سبق آموز قصے کو کس طرح مسخ کرتے ہیں۔ اُن کی تاویل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے دراصل خواب کا مطلب ہی غلط سمجھا ۔ جوش ایمانی تو اُن میں ضرور تھا اور "شراب عشق کی سرمستی تک پہنچا ہوا تھا مگر فہم اتنی بھی نہ تھی جتنی عرشی صاحب اور مولوی احمد الدین صاحب مرحوم کو ارزانی ہوئی ہے۔ وہ خواب کا مطلب یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ بیٹے کو ذبح کر دو۔حالانکہ در اصل ذبح کرتےہوئے دکھانے سے خدا کا مقصد صرف یہ تھا کہ اس بچےسے دنیوی اُمید میں منقطع کر کے اسے خدا کےدین کی عظیم خدمت کے لیے وقف کر دو۔ پس جب وہ اپنے لخت جگر کو پچھاڑ کر ایک ضرر رساں غلطی کا ارتکاب کرنے لگےتو اللہ تعالیٰ نے ان کو متنبہ فرمایا اور ذبح عظیم (یعنی بیٹے کو دین کے لیے وقف کرنے ) کی طرف ان کی رہنمائی کی۔

اس تاویل میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا فرما کر خود یہ تصدیق فرمادی که حضرت ابراہیم نے خواب کی تعبیر صحیح سمجھی تھی۔ فاضل مفتر نے اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے آیت کے ترجمے میں ایک ذراسی تحریف کر دی۔ لفظی ترجمہ یہ تھا کہ تو نے تو خواب کو سچ کر دکھایا ۔ انھوں نے اس کا ترجمہ یہ کیا کہ تو نےخواب کو سچ کر دکھایا ۔ دیکھیے ایک چھوٹے سے لفظ ” تو نے مفہوم کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ جو تصدیق تھی وہ تعریض بن گئی۔ اس کے بعد اگر كَذَالِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِینَ کا فقرہ بے معنی ہو گیا تو کچھ پروا نہیں ۔رہا إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ ، تو اس نئی تاویل سے اس کے معنی یہ قرار پائے کہ یہ محض حضرت ابراہیم کی عقل کی آزمائش تھی کہ آیا وہ خواب کا مطلب صحیح سمجھتے بھی ہیں یا نہیں، اور افسوس کہ بیچارے اس امتحان میں بری طرح فیل ہوئے۔

دیکھا آپ نے محض ایک جزئی مسئلہ میں نقطہ نظر کے پھر جانے سے انسان پر کس طرح بڑے بڑے مسائل میں فہم قرآن کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ جو واقعہ حضرت ابراہیم کا عظیم الشان کارنامہ تھا وہ ان کی ایک غلطی بن گیا۔ جس واقعہ کو مسلمانوں کے سامنے اس لیے پیش کیا گیا تھا کہ وہ اسلام کی رُوح کو سمجھیں اور اپنے اندر ایثار و قربانی اور محبت خداوندی کا یہ جذبہ پیدا کریں، اس کے مقصد کو قطعی باطل کر دیا گیا، اس کی جان نکال لی گئی اور وہ محض اس امر کی ایک شہادت بن گیا کہ جلیل القدر انبیاء تک خدا کےاشارات کو نہیں سمجھ سکے بلکہ اس نعمت سے صرف بیسویں صدی کے ایک "مفسر اسرار" کو سرفراز فرمایا گیا ہے!

اب دوسری مثال ملاحظه ہو ۔ سوره حج میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بهيمة الأنعام - (امج :٣٤)

آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے:-

"اور ہر امت کے لیے ہم نے مقرر کیا عبادت کا ایک طریقہ تا کہ وہ نام لیں اللہ کا اوپر اس کے جو بخشا ہے اُس نے ان کو چارپایوں میں سے"-

یہ الفاظ صریح طور پر یہ بتا رہے ہیں کہ قربانی ایک عبادت ہے اور یہ طریقہ خدا کا اپنا مقرر کیا ہوا ہے۔

مگر عرشی صاحب اس کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں :-

"اور دیکھو ہر امت کے لیے ہم نے عبادت کا طور و طریقہ ٹھیرا دیا کہ ہمارے دیے ہوئے پالتو چار پائے ذبح کرے تو اللہ کا نام یاد کرے۔"

دیکھیے اس "ذبح کرے تو “ نے مفہوم کو کدھر پھیر دیا ہے۔ اب آیت کے معنی یہ قرار پائے جو ند بوں میں روزانہ ہزاروں بکرے قصابوں کے ہاتھوں ذبح ہوتے ہیں اور ان پر بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا جاتا ہے یہی وہ مسک (عبادت کا طور طریقہ ) ہے جو اللہ نے ہر امت کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ اس قسم کی تحریفات کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو اصل الفاظ میں محفوظ کر کے اللہ تعالیٰ نے ہم پر کتنا بڑا فضل فرمایا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بعید نہ تھا کہ اس زمانے میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کو سامنے رکھ کر ایک نیا ہی قرآن تیار کر لیا جاتا ۔

" عرشی" صاحب نے تقریباً تمام ان آیات کی ایسی ہی تاویلیں فرمائی ہیں جن میں قربانی کے احکام آئے ہیں ۔ اور پھر فقہی مسائل کی ایسی توجیہات کی ہیں جن سےصاف معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اصل مسائل کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی' بلکہ حدیث و تغییر اور فقہ کی تمام کتابوں کے ورق الٹنےمیں صرف ایک مقصد اُن کے پیش نظر رہا ہےاور وہ یہ ہےکہ قربانی کی تائید میں اگر پہاڑ نظر آئےتو اس سےآنکھیں بند کر لیں اور اس کےخلاف ایک بال کی ذراسی نوک بھی نظر آئےتو اس کو پہاڑ بنا کر صرف ان مسلمانوں کےسامنےپیش کر دیں جوبیچارے اصل ماخذ تک نہیں پہنچ سکتے اور جن کے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ ان نمائشی پہاڑوں کی حقیقت کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جہاں بحث کا یہ طریقہ اور تحقیق کا یہ معیار ہو وہاں کسی سنجیدہ بحث کی کوئی گنجایش ہی نہیں ہو سکتی ۔ اگر وہ چاہیں تو ان کی ایک ایک غلطی کا راز فاش کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا تا وقتیکہ وہ اپنی ذهنیت اور اپنے طریق فکر کی اصلاح پر آمادہ نہ ہوں ۔

ترجمان القرآن

(ذی القعده ۱۳۵۵ھ مطابق جنوری ۱۹۳۷ء)

کتاب تفہیمات، دوم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Understandings