تفہیمات، دوم

غلاموں اور لونڈیوں کے متعلق چند سوالات

غلاموں اور لونڈیوں کے متعلق چند سوالات

اسلام کے جن مسائل کے بارے میں موجودہ زمانے کے لوگوں کو سب سے زیادہ شکوک لاحق ہوتے ہیں ان میں سےایک غلامی کا مسئلہ بھی ہے۔ اس باب میں متعدد مرتبہ ہم سےسوالات کیےگئے اور کئی مرتبہ ان کے مفصل جوابات ترجمان القرآن میں دیے جاچکے ہیں۔ ذیل میں ان سوالات اور جوابات کو ترتیب وار درج کیا جاتا ہے۔

(١)

سوال:-

اکثر علماء لونڈیوں سے بلا نکاح تمتع کے جواز میں الا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ إِيْمَانِهِمْ (المومنون : ۶ ) پیش کرتے ہیں۔ اس سلسلےمیں مندرجہ ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا جواب کیا ہے؟

الف- لونڈیوں سے بلا نکاح تمتع محض شہوت رانی ہے اور اسلام اس کے خلاف ہے۔بضحوا مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ (النساء:۲۴)

ب - اگر ملکتیت کی بناء پر مالک کو حق ولی حاصل ہو جاتا ہے تو ایک غلام کی مالکہ جو غیر شادی شدہ ہو اس کو بھی اپنے غلام سے استفادہ کا موقع حاصل ہونا چاہیے ۔مخلوط نسل کی پیدائش کو روکنے کے لیے وہ مانعات عمل استعمال کر سکتی ہے۔

ج غیر مسلم محارب تو میں اگر گرفتار شدہ مسلمان عورتوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں تو عقلاً اس کے خلاف مسلمانوں کو احتجاج کا کیا حق ہے؟

د- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور بے لوث زندگی بالخصوص عالم شباب میں خانگی زندگی کی بہترین مثال ہے۔ یہ کہاں تک صحیح ہے کہ آخری عمر میں جب کہ متعدد ازواج مطہرات موجود تھیں آپ نے بھی لونڈیوں سے تمتع کیا ؟

ر- اگر ملکیت سے حق ولی حاصل ہوتا ہے تو فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ اَهْلِهِنَّ (النساء: ۲۵) کی صورت میں جب لونڈی کا نکاح کسی شخص سے کر دیا جائے تو کیا اس لونڈی پر دو اشخاص کو مباشرت کا حق ہوگا ؟ ایک خاوند کو بلحاظ نکاح اور دوسرے مالک کو بلحاظ مالکیت ۔ اگر نہیں تو کیوں؟“

جواب:-

ان سوالات کے جواب میں پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ حق ملکیت کی بنا پر تمتع کی اجازت قرآن مجید کی متعدد آیات میں صریح طور پر وارد ہوئی ہے۔ بہت سے لوگ اس معاملہ میں بڑی بے باکی کے ساتھ یہ لکھتے ہوئے اعتراضات کر ڈالتے ہیں کہ یہ شاید محض مولویوں کا گھڑا ہوا مسئلہ ہوگا۔ اور بعض منکرین حدیث اس کو اپنے نزدیک حدیث کے خرافات میں سے سمجھ کر زبان درازی کرنے لگتے ہیں۔ لہذا ایسے سب لوگوں کو آگاہ رہنا چاہیے کہ ان کا معاملہ مولویوں کی فقہ اور محدثین کی روایات سے نہیں بلکہ خود خدا کی کتاب سے ہے۔ اس کے لیے حسب ذیل آیات ملاحظہ ہوں :-

فَإِنْ خِفْتُمُ الَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ (النساء:۲)

اگر تم کو خوف ہو کہ متعدد بیویوں کے درمیان عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی بیوی رکھو یا جو لونڈی تمھارے قبضے میں ہو۔

وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ إِيْمَانُكُمُ (النساء:۲۴)

اور حرام ہو گئیں تم پر بیاہی ہوئی عورتیں سوائے اُن (شوہر دار ) عورتوں کے جن کے مالک تمھارے سیدھے ہاتھ ہوں (یعنی جو جنگ میں تمھارے قبضے میں آئیں )۔

وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَفِظُونَ - إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ - (المومنون : ۶۵)

اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں بجز اپنی بیویوں کے یا ان عورتوں کے جو اُن کے قبضے میں ہیں (یعنی لونڈیاں) اس میں ان پر کچھ ملامت نہیں ۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلَنَالَكَ أَزْوَاجَكَ الَّتِي اتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ (الاحزاب: ۵)

اے نبی ہم نے تمھارے لیے تمھاری ان بیویوں کو حلال کر دیا جن کے مہر تم نے ادا کر دیے ہیں، اور اُن عورتوں کو بھی جو اُن لونڈیوں میں سے تمھارے قبضے میں ہیں جنھیں اللہ نے تم کو غنیمت میں عطا فرمایا ہے۔

آگے چل کر پھر فرمایا:

لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجِ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ - (احزاب: ۵۲)

اب اس کے بعد دوسری عورتیں تمھارے لیے حلال نہیں ہیں اور نہ یہ حلال ہے کہ ان کے بجائے تم دوسری بیویاں کر لو خواہ اُن کا حسن تم کو کتنا ہی پسند آئے البتہ وہ لونڈیاں حلال ہیں جو تمھارے قبضہ میں آئیں۔

ان آیات سے یہ بات صریح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ قرآن کی رُو سے ملک یمین کی بناپر تمتع جائز ہے۔ اب تحقیق طلب امر یہ ہے کہ یہ اجازت کن حالات میں دی گئی ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ اور اس سے استفادہ کی کیا کیا صورتیں شارع نے تجویز کی ہیں؟

جنگ میں گرفتار ہونے والے سبایا (لونڈی غلاموں) کے حق میں اسلام نے جو قوانین وضع کیے تھے ان کو سمجھنے میں آج لوگوں کو اس لیے دقتیں پیش آ رہی ہیں کہ اس زمانے میں وہ حالات باقی نہیں رہے ہیں جن کے لیے یہ قوانین وضع کیے گئے تھے مگر قدیم ترین زمانے سے اٹھارویں صدی عیسوی کے آغاز تک دنیا میں اسیران جنگ کو غلام بنا کر رکھنے اور انھیں خرید و فروخت کرنے کا طریقہ رائج تھا۔ اُس زمانہ میں بہت ہی کم ایسا ہوتا تھا کہ دو محارب سلطنتیں صلح کےبعد اسیران جنگ کا مبادلہ کرتیں یا اُن کو فدیہ دے کر چھڑا تیں۔ زیادہ تر قاعدہ یہی تھا کہ جو لوگ جنگ میں گرفتار ہوتے وہ اسی سلطنت کے قبضہ میں رہتے جس کی فوج ان کو گرفتار کر کے لےجاتی۔اس طرح آبادیوں کی آبادیاں قید ہو کر ایک ملک سےدوسرے ملک میں چلی جاتی تھیں اور کسی سلطنت کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ ان کثیر التعداد قیدیوں کو مقید رکھ کر اُن کے کھانے کپڑے کا بار اٹھاتی۔ اس لیےسلطنتیں اپنی ضرورت کے مطابق قیدیوں کو اپنے قبضے میں رکھتی تھیں اور باقیوں کو فوج کےافراد میں تقسیم کر دیتی تھیں جن کے پاس وہ لونڈی غلام بن کر رہتے تھے۔

یہ حالات تھے جن سے اسلام کو سابقہ در پیش تھا۔ اس نے ان حالات میں دُنیا کے سامنے یہ اصول پیش کیا کہ جو لوگ جنگ میں قید ہوں اُن کو فدیہ لے کر چھوڑ دو یا اسیران جنگ سےمبادله کر لو یا بطریق احسان رہا کر دو لیکن اس اصلاحی تعلیم کا نفاذ تنہا مسلمانوں کےعمل سےنہ ہو سکتا تھا، بلکہ اس کےلیے اُن غیر مسلم قوموں کا راضی ہونا بھی ضروری تھا جن سے مسلمانوں کو جنگ پیش آتی تھی۔ اور وہ اس وقت اس اصلاح کو قبول کرنے پر آمادہ تھیں، نہ اُس کے بعد بارہ صدیوں تک آمادہ ہوئیں۔ اس لیے اسلام نےبدرجہ آخر اس کی اجازت دی کہ دشمن کے اسیران جنگ کو اسی طرح غلام بنا کر رکھا جائے۔ جس طرح دوسری قو میں مسلمانوں کے اسیران جنگ کو رکھتی ہیں۔

مگر اس اجازت سے یہ خطرہ تھا کہ کہیں مسلمانوں کے اجتماعی نظام میں بھی ایک پست طبقہ (Depressed Class) پیدا نہ ہو جائے جیسا کہ ہر اُس قوم کے اجتماعی نظام میں ہوا ہے جس نے دوسری قوموں کو مغلوب کیا ہے۔قطع نظر اس سےکہ اسیران جنگ کےساتھ یہ معاملہ خلاف انسانیت تھا،اس سےاُن بہت سےاخلاقی و تمدنی مفاسد کےپیدا ہونے کا بھی اندیشہ تھا جو کسی نظام اجتماعی میں ایک ایسے طبقہ کی پیدائش کا لازمی نتیجه ہیں۔لہذا اسلام نے اسیران جنگ کو غلام بنا کر رکھنے کی اجازت تو ضرورت کی بنا پر دی مگر اس کے ساتھ ایسے قوانین بھی مقرر کیےجن کا منشاء یہ تھا کہ غلامی کی حالت میں بہتر سےبہتر سلوک جو ان کےساتھ ممکن ہو وہ کیا جائے اور ایسے اسباب مہیا کیے جائیں جن سے وہ رفته رفته اسلامی سوسائٹی میں جذب ہو جائیں۔

یہی مقصد ہے جس کے لیے لونڈیوں سے تمتع کی اجازت دی گئی ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے اپنے تصور کو اب سے چند سو برس پیچھے لے جائیے۔ فرض کیجیے کہ ایک غیر قوم سےمسلمانوں کی جنگ ہوتی ہے۔ اس میں ہزاروں عورتیں اُن کے ہاتھ آتی ہیں۔اُن میں بہت سی جوان اور خوبصورت عورتیں بھی ہیں۔ فریق مخالف نہ ان کو فدیہ دے کر چھڑاتا ہےنہ اُن مسلمان عورتوں سےاُن کا تبادلہ کرتا ہےجو اُس کےقبضہ میں چلی گئی ہیں۔ مسلمان أن عورتوں کو بطریق احسان بھی نہیں چھوڑ سکتےکیونکہ اس طرح تو اُن کی اپنی عورتوں کےچھوٹنےکی کوئی اُمید کی ہی نہیں جا سکتی۔ ناچار وہ ان کو اپنے قبضے میں رکھتےہیں۔اب فرمائیے کہ اتنی کثیر تعداد میں جو عورتیں دار الاسلام میں آگئی ہیں ان کو کیا کیا جائے ۔ان کو وائم الکسبس کر دینا ظلم ہے۔ان کو ملک میں آزاد چھوڑ دینا گویا فسق و فجور کے جراثیم پھیلا دینا ہے۔ ان کو جہاں جہاں بھی رکھا جائے گا ان سے اخلاقی مفاسد پھیلیں گے ایک طرف سوسائٹی خراب ہوگی اور دوسری طرف خود ان کی پیشانیوں پر ہمیشہ کےلیےذلت کے داغ لگ جائیں گے۔ اسلام اس مسئلہ کو یوں حل کرتا ہے کہ انھیں افراد قوم میں تقسیم کر دیتا ہے اور ان افراد کو ہدایت کرتا ہے کہ خبرداران کو رنڈیاں نہ بنا دینا کہ ان سےحرام کراؤ اور ان کو اپنی آمدنی کا ذریعہ بناؤ بلکہ یا تو خود ان کو اپنے تصرف میں لاؤ ۔یا نہیں تو ان کےنکاح کر دو تا کہ یہ بدکاریاں اور آشنائیاں نہ کرتی پھریں۔اس قانون کی مختلف دفعات قرآن مجید میں مختلف مقامات پر بیان کی گئی ہیں (١) سورۃ نور کے چوتھے رکوع میں ہے:۔

وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيْتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تُحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الحَيوةِ الدُّنْيَا - ( النور : ٣٣)

اور اپنی لونڈیوں کو جو پاک دامن رہنا چاہتی ہیں، دُنیا کی زندگی کےعارضی فائدوں کی خاطر بدکاری پر مجبور نہ کرو (٢)

یہ اس قانون کی پہلی دفعہ ہے جس نے لونڈیوں کے ایک برے مصرف کا دروازہ قطعی بند کر دیا۔

مگر یہ اُن کے لیے ہے جو اپنی عصمت کی حفاظت کرنا چاہتی ہوں۔ رہیں وہ لونڈیاں جو آپ ہی بدکاری کی طرف مائل ہوں تو اُن کے بارے میں یہ حکم دیا گیا : -

فَإِن أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحَصْنَتِ مِنَ الْعَذَابِ - (النساء: ۲۵)

پھر اگر وہ کوئی نخش کام کریں تو ان پر اس سزا کا نصف ہے جو شریف خاندانی عورتوں کے لیے رکھی گئی ہے۔


١- اس مقام پر یہ بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اسیران جنگ میں سے کوئی عورت کسی شخص کی ملکیت میں صرف اسی وقت آتی ہے جبکہ وہ حکومت کی طرف سے باقاعدہ اس کے حوالے کی جائے اور اس کے بعد اس عورت کے ساتھ مباشرت کا حق صرف اسی شخص کو حاصل ہوتا ہے۔ سرکاری طور پر تقسیم ہونےسے پہلے کسی عورت سے مباشرت کرنا زنا ہے۔ اور اس طرح تقسیم کے بعد ایک مالک کے سوا کسی اور آدمی کا اس کے ساتھ ایسا فعل کرنا زنا ہے۔ اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اسلام میں زنا ایک قانونی جرم ہے۔

٢- عرب جاہلیت میں یہ کثرت لوگ ایسے تھے جنھوں نے اپنی لونڈیوں کے ذریعہ سے با قاعدہ قحبہ خانےکھول رکھے تھے۔ وہ ان کی کمائی کھاتے تھے اور ان کی ناجائز اولاد کو پال کر اپنے خدم و حشم میں اضافہ کرتے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے ہیں تو وہاں عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کا ایک مجتبہ خانہ موجود تھا جس میں اس نے چھ لونڈیاں اسی غرض سےرکھ چھوڑی تھیں ۔ اسی چیز کی ممانعت اس آیت میں کی گئی ہے۔

اس طرح ان لونڈیوں کے لیے بدکاری کا راستہ تو بالکل بند کر دیا گیا، خواہ مجبورانہ ہو یا رضا کارانہ۔ مگر نفس تو وہ بھی رکھتی ہیں اور ان کے داعیات فطرت کی تکمیل بھی ضروری ہےاور نہ ظلم بھی ہوگا اور اخلاقی مفاسد کے چور دروازے بھی کھلیں گے۔ اس لیے ان کی نفسانی ضرورتوں کو باعزت طریقہ سے پورا کرنے کی دو صورتیں تجویز کی گئی ہیں:۔

ا۔ ایک صورت یہ ہے کہ ان کے آقا اُن کے نکاح کر دیں:۔

وَانْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمُ وَالصَّلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ (النور:۳۲)

تم میں جو لوگ غیر شادی شدہ ہیں ان کے نکاح کر دو اور تمھارےلونڈی غلام جو نیکو کار ہوں ان کے بھی ۔

اسی طرح جو نادار لوگ زیادہ مہر دے کر معزز خاندانوں میں شادیاں کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں ان کو بھی ترغیب دی گئی کہ تھوڑے مہر پر لونڈیوں سے نکاح کرلیں۔

وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا أَنْ يُنْكِحَ الْمُحْصَنَتِ الْمُؤْمِنتِ فَمَنْ مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيْتِكُمُ الْمُؤْمِنَتِ - (النساء : ۲۵)

اور جو شخص تم میں اتنی استطاعت نہ رکھتا ہو کہ شریف خاندانوں کی مومن عورتوں سے نکاح کر سکے تو وہ تمھاری مومن لونڈیوں سےنکاح کرے۔

لونڈی کو جب اُس کا مالک کسی دوسرے شخص کے نکاح میں دے دے تو پھر خود اس مالک کو اُس لونڈی کے ساتھ مباشرت کرنے کا حق باقی نہیں رہتا کیوں کہ وہ اپنی رضی سے اپنا یہ حق مہر کے عوض دوسرے شخص کی طرف منتقل کر چکا ہے۔ اس بنا پر ایسی ونڈیاں بھی محصنات میں داخل ہو جاتی ہیں جن کو نص قرآنی نے شوہر کے سوا سب کے لیےتمام کر دیا ہے ۔ چنانچہ آیت مذکورہ کے بعد اس کی تصریح کردی گئی ہے۔

فَانْكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَتٍ غَيْرَ مُنحت ولا مُتحِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أَحْصِنُ فَإِنْ آتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَتِ مِنَ الْعَذَابِ (النساء: ۲۵)

پس اُن کے مالکوں کی اجازت سے اُن کے ساتھ نکاح کرو اور دستور کے مطابق ان کے مہر ادا کر دو۔ وہ قید نکاح میں لائی جائیں نہ کہ کھلی اور چھپی بد کا زیاں کریں۔ پھر جب وہ نکاح سے پابند ہو جائیں اور اس کے بعد بدکاری کریں تو اُن پر اُس سزا کا نصف ہے جو شریف خاندانی عورتوں کے لیے ہے۔

۲- دوسری صورت یہ ہے کہ خود مالک اُن سے تمتع کرے۔ اس کی تین شکلیں ہیں:ایک یہ کہ محض ملک یمین ہی کو قید نکاح سمجھ کر تمتع کیا جائے ۔دوسری یہ کہ لونڈی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کیا جائے اور اس آزادی ہی کو اس کا مہر قرار دیا جائے۔تیسرے یہ کہ اس کو آزاد کر کے جدید مہر کے ساتھ نکاح ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلّم نےدوسری اور تیسری شکل کو ترجیح دی ہے اور اس کی فضیلت میں متعدد احادیث آئی ہیں :-

أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ عِنْدَهُ وَلِيْدَةٌ فَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيْمَهَا وَادَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا ثُمَّ اعْتَقَهَا وَتَزَوْجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ (بخاری كتاب النکاح باب اتخاذ السراری)

جس شخص کے پاس لونڈی ہو اور وہ اس کو خوب اچھی تعلیم دئے اور اس کو اچھا ادب سکھائے پھر اس کو آزاد کر دے اور اس کے بعد خود اس سے نکاح کر لے تو اس کو دوہرا اجر ملے گا۔

دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ اعتقها ثم اصدقہ یعنی اس کو آزاد کر کےمہر دے کر اُس کے ساتھ نکاح کرے۔ ابوداؤد الطیالسی نے ایک اور حدیث نقل کی ہےجس میں حضور نے فرمایا ہے:۔

إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ آمَتَهُ ثُمَّ أَمْهَرَهَا مَهْرًا جَدِيدًا كَانَ لَهُ أَجْرَانِ

جب کسی شخص نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا پھر اس کو جدید مہر دے کر اس سے نکاح کیا تو اس کے لیے دو اجر ہوں گے۔

خود آنحضرت نے حضرت صفیه اور جویریه کے ساتھ اسی طرح نکاح کیا ہے کہ پہلے ان کو آزاد یا پھر قید نکاح میں لائے۔ اس باب میں روایات مختلف ہیں کہ آپ نےجدید مہر ادا کیا تھا یا آزادی ہی کو مہر قرار دیا؟ لیکن اغلب یہ ہے کہ آپ نے جواز کی دونوں صورتیں ظاہر کرنے کے لیے دونوں طریقوں پر عمل فرمایا ہے۔ کسی کو جدید مہر دیا ہے اور کسی کی آزادی ہی کو مہر قرار دیا ہے - (١)

رہی پہلی شکل یعنی حق ملکیت کی بنا پر جمع کرنا تو وہ بھی جائز ہے اس لیے کہ قرآن مجید میں ملک یمین کی بنا پر تمتع کی صریح اجازت دی گئی ہے اور اس کے ساتھ کوئی شرط یا قید نہیں لگائی گئی ہے۔ اس میں بظاہر جو کراہت نظر آتی ہے وہ محض ایک وہمی کراہت ہے۔ چونکہ طبیعتیں نکاح کے عام اور معروف طریقے کی خوگر ہو چکی ہیں اس لیے لوگ سمجھتےہیں کہ عورت اور مرد کا صرف وہی تعلق جائز ہے جس میں قاضی صاحب آئیں، دو گواہ ہوں ایجاب و قبول ہو خطبہ نکاح پڑھا جائے۔ اس کے سوا جو صورت ہے وہ محض شہوت رانی ہے۔ لیکن اسلام کوئی رسمی (Coventional) مذہب نہیں بلکہ ایک عقلی (Rational) مذہب ہے۔ وہ رسم کو نہیں حقیقت کو دیکھتا ہے۔ نکاح سے ایک عورت جو ایک مرد کے لیے حلال ہوتی ہے تو آخری اسی بناء پر تو حلال ہوتی ہے کہ اللہ کے قانون نے اس کو حلال کیا ہے۔ اسی طرح اگر ملک یمین کی بنا پر اللہ کا قانون اس کو حلال کرے تو اس میں کراہت کی کون سی بات ہے؟ نکاح کا مقصد انسان کے جذبہ شہوت رانی کو ایک حد کے اندر محمد ود کرنا اور ایک ضابطہ سے منضبط کرنا اور مردوزن کے تعلق کو ایک باقاعدہ حمدانی تعلق کی صورت میں قائم کرنا ہے۔ اس لیے اعلان کی شرط لگائی گئی ہے کہ سوسائٹی میں یہ امر معلوم و مشتہر ہو جائے کہ فلاں عورت فلاں مرد کے لیے مختص ہو چکی ہے اس کے بطن سے جو اولاد ہو گی وہ فلاں شخص کی ہوگی، اور اس عورت کے ساتھ کسی دوسرے شخص کا زوجی تعلق نہ ہوگا۔ یہ سب اغراض ملک یمین سے بھی پوری ہو سکتی ہیں۔ سوسائٹی میں یہ امر معلوم و مشتہر ہوتا ہے کہ فلاں لونڈی فلاں شخص کی مملوکہ ہے ۔ کسی دوسرے شخص کے لیے اس لونڈی سے زوجی تعلق پیدا کرنا جائز نہیں ہوتا جب تک کہ مالک اپنی رضامندی سے اس کو نکاح میں نہ دےدے۔ لہذا ایک عورت کا مرد کے لیے مخصوص ہونا اس صورت میں بھی ویسا ہی قطعیت اور شہرت کے ساتھ واقع ہوتا ہے جس طرح کہ نکاح کی صورت میں ہوا کرتا ہے۔ مالک کےتصرف میں آجانے کے بعد ایک عورت اگر صاحب اولاد ہو جائے تو وہ اس خاندان کی ایک فرد بن جاتی ہے۔ اس کو اتم والد کہا جاتا ہے۔ مالک کی وفات کے بعد وہ آپ سےآپ آزاد ہو جاتی ہے۔ اس کی اولاد جائز بھی جاتی ہے اور اپنے باپ سے شرعی ورثہ پاتی ہے۔ پھر کیا یہ نکاح کی طرح باقاعدہ زوجی تعلق نہیں ہے۔


١- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی حیات طیبہ کےاخیر زمانےمیں لونڈیوں کےساتھ نکاح کرنا خود اس بات کی دلیل ہےکہ آپ کا اصل مقصد اسلامی سوسائٹی میں لونڈیوں کےلیے عزت کی جگہ پیدا کرنا تھا۔ اور آپ خود اپنےعمل سےمسلمانوں کو یہ تعلیم دینا چاہتےتھےکہ انسانی برادری کے اس بد قسمت گروہ کے ساتھ ان کو ایسا سلوک کرنا چاہیےمگر دشمنان اسلام کی بدطینتی نےآپ کےاس انتہائی شریفانہ فعل کو بھی نفسانیت پر محمول کر کے چھوڑا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان عیب چینی پر اتر آئے تو دُنیا کا کوئی نیک سےنیک فعل بھی ایسا نہیں جس میں وہ بدنی کا پہلو نہ نکال سکتا ہو۔

ہاں اس طریقہ میں ایک کراہت ضرور ہے مگر وہ ایک دوسرے پہلو سے ہے۔ملک یمین کی بنا پر جس لونڈی سے نکاح کیے بغیر تمتع کیا جاتا ہے وہ اصلا لونڈی ہی رہتی ہے۔ اُس کو محصنات کے برابر مرتبہ حاصل نہیں ہوتا اور اس کی اولاد پر بھی پرستار زادگی کا داغ رہتا ہے۔ اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فضیلت اس طریقے کو دی ہے کہ پہلےاس کو آزاد کر کے شریف عورتوں کے مرتبہ میں لے آؤ پھر اُس سے بطریق معروف نکاح کرو تا کہ اُس میں عزت نفس کا وہ احساس پیدا ہو جائے جو شریف عورتوں میں ہوتا ہے اور وہ مساویانہ حیثیت سے تمھاری سوسائٹی میں داخل ہو جائے اور اس پر لونڈی بن کا اور اس کی اولاد پر پرستار زادگی کا داغ نہ رہے۔

آپ آپ کے صرف دو سوالوں کا جواب باقی ہے۔ ایک یہ کہ اگر مرد کو ملک یمین کی بناء پر تمتع کا حق حاصل ہے تو عورت کو یہ حق حاصل کیوں نہیں؟ دُوسرے یہ کہ اگر غیر مسلم محار بین مسلمان عورتوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں تو ہم کو اس پر احتجاج کا کیا حق ہے؟ ذیل میں ان دونوں کا جواب علی الترتیب دیا جاتا ہے۔

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں ملک یمین کی بنا پر تمتع کا حق صرف مردوں ہی کو دیا گیا ہے، عورتوں کو نہیں دیا گیا ۔ والذِيْنَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَفِظُونَ - إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمُ (مومنون: (۶۵) اسی طرح دوسری تمام آیات میں بھی خطاب صرف مردوں سے ہے۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ زوجی تعلق کے معاملہ میں عورت اور مرد کے درمیان ہمیشہ سے انسان نے امتیاز کیا ہے اور یہ امتیاز خود اس کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے عورت میں عصمت کا احساس مرد سے زیادہ ہوتا ہے۔عورت سےباعصمت رہنے کی توقع بھی مرد کی بہ نسبت زیادہ کی جاتی ہےاگر مرد بخش کاری کا مرتکب ہو تو اس کو اتنی بری نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا جس سےعورت کی فاحشہ گری کو دیکھا جاتا ہے۔ عورت کی قدر و قیمت ازالہ بکارت کے بعد آدھی رہ جاتی ہے، مگر مرد دس بیویاں بھی کر چکا ہو تو اس کی قدر و قیمت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ عورت اگر کسی غیر قوم کے مرد کے پاس چلی جاتی ہے تو اس کی ساری قوم اس کو اپنے لیے بےعزتی سمجھتی ہے۔ لیکن مرد کا غیر قوم کی عورت سےتعلق پیدا کرنا کچھ زیادہ معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ یہ انسانی فطرت ہے اور اس کو اسلام نے ایک حد خاص تک طوظ رکھا ہے۔مگر جب یہ چیز جہالت کی حد تک پہنچ جاتی ہےتو وہ اس کو پامال کرنےمیں بھی تامل نہیں کرتا۔مثلاً اسلام مردوں کو کتابیہ عورتوں سےنکاح کی اجازت دیتا ہے مگر عورتوں کو اہل کتاب سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہاں تک اس نےانسانی فطرت کا لحاظ کیا ہےلیکن اگر یہودی یا نصرانی مسلمان ہو جائےتو اسلام بلا تامل اس کےساتھ نکاح کرنےکی هر مسلمان عورت کو اجازت دیتا ہے خواہ وہ کیسے ہی شریف گھرانے کی ہو ۔ محض نو مسلم ہونے کی بنا پر اس سے نکاح کو مکروہ سمجھنا اسلام کی نگاہ میں خود مکروہ ہے۔ اس قاعدے کو اگر آپ سمجھ لیں تو یہ بات آپ کی سمجھ میں بآسانی آسکتی ہےکہ اسلام عورت کو اپنےغلام سےتمتع کی اجازت کیوں نہیں دیتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایسا کیا جائےتو معاشرے میں ایسی عورت کی قدر و قیمت گھٹ جائےاور اس کےبعد اگر وہ اس غلام سے قطع تعلق کر کےکسی شخص سےنکاح کرنا چاہے تو اُمید نہیں کی جاسکتی کہ اُس کےکفو میں کوئی مرد اس کو قبول کرے گا۔ یہی نہیں بلکہ اگر عورت اپنے غلام سے تمتع کرے تو خود اپنے خاندان میں اس کا مرتبہ گھٹ جانے کا اندیشہ ہے۔اس لیے کہ عورت کو عائلی زندگی میں جو وزن حاصل ہوتا ہے وہ اس کے شوہر کی بدولت ہوا کرتا ہے اور یہاں شوہر خود غلام ہےجس کو آزاد مرد کا سا مرتبہ حاصل نہیں۔اس حد تک اسلام نےفطرت انسانی کی رعایت ملحوظ رکھی ہےلیکن اگر کوئی غلام آزاد کر دیا گیا ہو تو شریف سےشریف خاندان کی عورت کا بھی اس سےنکاح ہو سکتا ہے۔ حتی کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی زاد بہن کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام سے کیا۔


١- اس کے طبعی و نفسیاتی وجوہ پر بحث کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔ جو لوگ اس کو سمجھنا چاہتےہوں وہ ہماری کتاب "پردہ" میں " قوانین فطرت کا باب بغور مطالعہ فرمائیں۔

عورت کو غلام سے تمتع کی اجازت نہ دینے کی دوسری اور زیادہ اہم وجہ یہ ہےکہ ملک یمین مرد کے لیے تو بھولہ نکاح ہو سکتا ہےمگر عورت کے لیے نہیں ہو سکتا۔اسلام نےخانگی زندگی کے لیے جو قانون مقرر کیا ہے اس کا اصل الاصول یہ ہے کہ مرد کو عورت پر قوام ہونا چاہیے۔اسی لیے عورت کا مہر مرد پر واجب کیا گیا ہےاور عورت پر مرد کو اقتدار کا ایک درجہ دیا گیا ہے تا کہ وہ عورت کی خبر گیری اور حفاظت کرنےاور اپنے گھر میں وہ حاکمانہ قوت استعمال کر سکےجو خانگی زندگی کےنظام کو درست رکھنے کےلیےضروری ہے۔ یہ مصلحت عظمی غلام سے تمتع کرنے کی صورت میں فوت ہو جاتی ہےاپنےغلام سے کسی عورت کا تعلق شہوت رانی کی غرض تو پوری کر سکتا ہے مگر اسلامی نظام تمدن کے اندر ان دوسری اغراض کو پورا نہیں کر سکتا جن کو شریعت نے عورت اور مرد کے ازدواجی تعلق میں ملحوظ رکھنا ضروری سمجھا ہےکیونکہ اس صورت میں مرد غلام ہونےکی حیثیت سےعورت کا تابع فرمان ہوگا اور اسےگھر میں وہ اقتدار حاصل نہ ہو سکےگا جو اخلاق و معاملات کی نگرانی کےلیےاور خاندانی نظام کو درست رکھنے کے لیے مرد ہونے کی حیثیت سے اُسے حاصل ہونا چاہیے۔

رہا آپ کا آخری سوال تو ایسا معلوم ہوتا ہےکہ یہ سوال کرتے وقت آپ نے یہ فرض کر لیا تھا کہ دشمن کے قبضے میں جو مسلمان عورتیں جاتی ہوں گی ان کو تو وہ بالکل گھر کی بیٹیاں بنا کر رکھتے ہوں گے ۔ کیا واقعی آپ کا یہ مفروضہ صحیح ہے؟ اور آپ کا یہ کہنا کہ اس پر ہمیں احتجاج کا کیا حق ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہےکہ ہم عورتوں ہی کو نہیں مردوں کو بھی غلام بنا کر رکھنا نہ چاہتے تھے ۔ اگر دشمن اسیران جنگ کے تبادلے پر راضی ہوتے تو ہم ان کے ایک مرد یا عورت کو بھی اپنے پاس غلام بنا کر رکھنے پر اصرار نہ کرتے ۔ لہذا اگر صدیوں تک دُنیا میں غلامی کا رواج رہا اور ایک قوم کی شریف عورتیں لونڈیاں بن بن کر دوسری قوموں کے تصرف میں آتی رہیں تو یہ ہمارے کسی قصور کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کے ذمےدار وہ لوگ تھے جو صدیوں تک اسیران جنگ کے بارے میں کسی مهذب اور معقول رویےکو اختیار کرنے پر راضی نہ ہوئے۔

ترجمان القرآن، جمادی الاولی ۱۳۵۴ھ - اگست ۱۹۳۵ء)


(٢)

سوال :-

"اسلامی شریعت میں نکاح کےلیےتو چار کی حد مقرر ہے کہ ایک وقت میں آدمی چار بیویوں سے زیادہ نہیں رکھ سکتا،لیکن لونڈیوں کے لیے کوئی حد سرے سے رکھی ہی نہیں گئی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہےکہ اس اجازت نےچار کی حد مقرر کرنےکےسارے فوائد کو باطل کر دیا۔اس نےخوش حال لوگوں کےلیےبے تحا شا عیاشی کا دروازہ کھول دیا۔امراء ورؤسا کےلیےیہ گنجائش نکال دی کہ بےشمار عورتوں کو خرید خرید کر گھروں میں ڈال لیں اور خوب داد عیش دیں۔ یہ محض مفروضہ ہی نہیں ہےبلکہ مسلمانوں کی پچھلی تاریخ میں عملا یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ کیا آپ اس کی کوئی معقول تو جیہ کر سکتے ہیں؟“

جواب: -

آپ کےسوال کا مختصر جواب یہ ہےکہ لونڈیوں سے تمتع کی اجازت جن اہم تمدنی مصالح کی بنا پر دی گئی ہے۔ وہ تعداد کےتعین سےفوت ہو جاتےہیں۔اس امر کا تعین نہیں کیا جا سکتا کہ کسی زمانےاور کس لڑائی میں کتنی عورتیں سہایا کی حیثیت سےدار الاسلام میں آئیں گی اور ایک خاص وقت میں مسلمان آبادی کے اندر سبایا کا تناسب کس قدر ہوگا۔اب اگر تمتع کی اجازت دینےکا مقصد ہی عورتوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے تمدنی مخطرات کا سد باب تھا،تو آپ خود غور کیجیےکہ اضافہ کی مقدار متعین نہ ہونےکی صورت میں جمع کی حد کا تعین آخر کس طرح کیا جا سکتا تھا۔ جس حکیم نےیہ قانون بنایا ہے وہ ایک چشم نہیں ہےکہ ایک وقت میں معاملہ کے ایک ہی رُخ کو دیکھ سکتا ہو ۔اس کی حاوی نگاہ بیک وقت تمام پہلوؤں پر پڑتی ہے۔اسی لیےاس سے وضع قانون میں وہ بے اعتدالی صادر نہیں ہوئی جس کے صادر نہ ہونے کی شکایت انسان نے اکثر اس سے کی ہے۔

رہا آپ کا یہ شبہ کہ لونڈیوں کی ان گنت تعداد سے تمتع کرنے کی اجازت جنسی آوارگی کا دروازہ کھولتی ہے۔ اور یہ کہ لونڈیوں کے قابل بیچ وشرا ہونے کی وجہ سےاس کا امکان ہے کہ مال دار لوگ لونڈیاں خرید خرید کر عورتوں کا ایک پورا بیڑہ فراہم کر لیں اور اپنے گھروں کو عیاشی کا اڈہ بنا کر رکھ دیں تو یہ اور اس نوعیت کےاکثر شبہات عموماً اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ معاملہ کا ایک ہی پہلو نگاہ کے سامنے ہوتا ہے اور دوسرے پہلو چھپےرہتے ہیں۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے کہ شارع نے اپنا قانون انسان کی بھلائی کےلیے بنایا ہے اور اس قانون میں جو سہولتیں اور گنجائش رکھی ہیں وہ ان حقیقی ضرورتوں کےلیے رکھی ہیں جو عموما انسان کو پیش آتی ہیں یا پیش آ سکتی ہیں۔ اگر بعض لوگ ان گنجائشوں سے اس قسم کے غلط فائدے اٹھاتے ہیں جن کے لیے دراصل شارع نے یہ گنجائشیں نہیں رکھی تھیں، تو یہ اُن کی اپنی نافہمی ہے یا شرارت نفس ۔ لیکن اس قسم کی انفرادی غلطیوں کے امکان یا وقوع سے ڈر کر قانون میں ایسی تنگی پیدا کرنا جس سے عام لوگوں کی قیقی ضرورتیں پوری ہونے میں مشکلات واقع ہوں، کسی حکیم کا کام نہیں ہو سکتا۔

شارع نے لونڈیوں کی غیر محدود تعداد سے تمتع کی اجازت اس لیے نہیں دی تھی کہ ایک ایک مسلمان اپنے گھر میں راجہ اندر بن جائے اور بے شمار عورتوں کے جھرمٹ میں بس رات دن دار عیش ہی دیتا ر ہے۔ بلکہ در اصل مقصد یہ تھا کہ اگر کبھی غیر معمولی حالات پیش آجانے کی وجہ سے سوسائٹی میں عورتوں کی تعداد یکا یک بہت بڑھ جائے تو اس کو آسانی کے ساتھ جذب کیا جا سکے اور اس کی بدولت اخلاقی مفاسد نہ پھیلنے پائیں۔ اس غرض کےلیے کئی صورتیں رکھی گئیں ۔ مثلاً یہ کہ لونڈیوں کے نکاح غلاموں سے کر دیے جائیں۔لونڈیوں کے نکاح کم استطاعت مردوں سے کر دیے جائیں۔ لونڈیوں کو آزاد کر کے خود مالک ان سے نکاح کر لیں۔ جن لوگوں کے پاس لونڈیاں ہوں وہ خود آزاد کیے بغیر ہی ان سے تمتع کریں۔

اسی طرح لونڈیوں کی بیع و شراء کو جائز کرنے کا مقصد بھی یہ نہیں تھا کہ آوارہ مزاج لوگ محض عیاشی کی خاطر بہت سی لونڈیاں خرید خرید کر جمع کر لیا کریں،اور جب دل بھر جائےتو انھیں بیچ کر دوسرا بیڑا بھرتی کر لیں۔بلکہ در اصل یہ سہولت ان ضرورتوں کو مد نظر رکھ کردی گئی تھی جو عموماً انسان کو پیش آتی ہیں مثلاً ایک شخص مفلس ہو گیا ہے اور لونڈی غلام رکھنےکی استطاعت اس میں نہیں رہی ہے۔ یا اس کے پاس ضرورت سےزائد لونڈی غلام جمع ہو گئے ہیں ۔یا ان میں سے کسی کو وہ پسند نہیں کرتا۔ کیا ان حقیقی ضرورتوں کو نظر انداز کر کےمحض اس خوف سےلونڈیوں اور غلاموں کی خرید و فروخت ممنوع کر دی جاتی کہ بعض لوگ اس قانونی حق سےناجائز فائدہ اُٹھا ئیں گے؟ایسی برائیوں کےامکانات تو خود نکاح و طلاق کےقانون میں بھی ہیں۔اگر کوئی شریر آدمی" جائز زنا کاری پر اُتر آئےتو وہ روز ایک نئی عورت سےچند روپوں پر نکاح کر سکتا ہےاور دوسرے دن اسے طلاق دے کر کسی دوسری عورت کو تلاش کر سکتا ہے۔ پھر کیا ایسی انفرادی شرارتوں کے خوف سے یہ صحیح ہوگا کہ طلاق اور نکاح کے قانون میں ایسی بندشیں بڑھا دی جائیں جن سے عام لوگوں کی زندگی تنگ ہو جائے ۔

( ترجمان القرآن، مئی جون ۱۹۴۰ء - ربیع الاول ربیع الثانی ۱۳۵۹ھ )


(٣)

سوال :-

(١) "کیا نظام شریعت میں جنگ کےقیدیوں کو غلام اور لونڈی بنانے کی اجازت ہوگی؟ کیا ان غلاموں اور لونڈیوں کو فروخت کرنے کا بھی حق حاصل ہوگا؟ کیا ان لونڈیوں سے بیویوں کےعلاوہ تمتع جائز ہوگا اور اس پر تعداد کی کوئی قید نہ ہوگی ؟

(۲) کیا اس نظامِ شریعت میں لونڈی وغلام کی خرید وفروخت (علاوہ ان لونڈی و غلام کے جو جنگی قیدی ہوں ) بھی پاکستان کے اندر جائز ہوگی جس طرح آج کل حجاز میں بردہ فروشی ہوتی ہے؟

جواب :-

نظام شریعت میں جنگی قیدیوں کو لونڈی غلام بنانے کی اجازت ایسی حالت میں دی گئی ہے جب کہ وہ قوم جس سے ہماری جنگ ہو نہ قیدیوں کے تبادلے پر راضی ہوا نہ فدیہ لے کر ہمارے قیدی چھوڑے اور نہ فدیہ دے کر اپنے قیدی چھڑائے۔ آپ خود غور کریں تو سمجھ سکتےہیں کہ اس صورت میں جو قیدی کسی حکومت کے پاس رہ جائیں وہ یا تو انھیں قتل کرے گی یا انھیں عمر بھر اس قسم کے انسانی باڑوں میں رکھے گی۔ جنھیں آج کل (Concentration Camps) کہا جاتا ہے۔اور کسی قسم کے انسانی حقوق دیے بغیر ان سےجبری محنت لیتی رہے گی۔ظاہر ہےکہ یہ صورت بے رحمانہ بھی ہےاور خود اس ملک کےلیےبھی کچھ بہت مفید نہیں ہے جس میں اس طرح کے قیدیوں کی ایک بڑی تعداد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک خارجی عصر کی حیثیت سے موجود رہے۔ اسلام نے ایسےحالات کےلیے جو شکل اختیار کی ہے وہ یہ ہے کہ ان قیدیوں کو فرداً فرداً مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے اور ان کی ایک قانونی حیثیت مشخص کر دی جائے مگر اس طرح جو انفرادی رابطہ ایک ایک قیدی کو ایک ایک مسلم خاندان سے پیدا ہوگا اس میں اس امر کا امکان زیادہ ہے کہ ان سےانسانیت اور شرافت کا برتاؤ ہو اور ان کا ایک اچھا خاصا حصہ بتدریج مسلمانوں کی سوسائٹی میں جذب ہو جائے۔

جن مسلمانوں کو ایسے اسیران جنگ پر حقوق ملکیت حاصل ہوتے ہیں، اُن کے لیےشریعت نے یہ ضابطہ مقرر کیا ہے کہ اگر کوئی لونڈی یا غلام اپنے مالک سے درخواست کرےکہ میں محنت مزدوری کر کے اپنے فدیہ کی رقم فراہم کرنا چاہتا ہوں، تو مالک اس کی درخواست کو رڈ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اسے از روئے قانون ایک خاص مدت تک کےلیے اس مهلت دینی اور میں اگر وہ رقم ادا تو کر لیے اس کو مہلت دینی ہوگی اور اس مدت میں اگر وہ فدیہ کی رقم ادا کرے تو اسے آزاد کر دینا پڑے گا (١)

اس قسم کےلونڈی غلاموں کو بیچنےکی اجازت در اصل اس معنی میں ہےکہ ایک شخص کو اُن سےفدیہ وصول کرنےاور فدیہ وصول نہ ہونےتک ان سےخدمت لینےکا جو حق حاصل ہےاس کو وہ معاوضہ لے کر دوسرے شخص کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ قانون میں یہ گنجائش جس مصلحت سے رکھی گئی ہے اس کو آپ پوری طرح اُسی صورت میں سمجھ سکتےہیں جبکہ دشمن فوج کےکسی سپاہی کو بطور قیدی رکھنےکا آپ کو اتفاق ہوا ہو۔ فوجی سپاہیوں سےخدمت لینا کوئی آسان کام نہیں ہے اور اسی طرح دشمن قوم کی کسی عورت کو گھر میں رکھنا بھی کوئی کھیل نہیں ہے، اگر کسی شخص کے لیے یہ گنجائش نہ چھوڑی جاتی کہ جس قیدی مرد یا عورت سےدو عہدہ برآ نہ ہو سکےاس کےحقوق ملکیت کسی دوسرےکی طرف منتقل کر دےتو یہ لوگ جس کے بھی حوالے کیے جاتے اس کے حق میں بلائے جان بن جاتے ۔


١- سورۃ نور رکوع ۴ میں ہے: وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَبَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُؤُهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خيرا (۳۳)

جنگ میں گرفتار ہونے والی عورتوں کے لیے (جبکہ نہ ان کا تبادلہ ہو اور نہ فدیہ کا معاملہ ہی ملے ہو سکے ) اس سے بہتر حل اور کیا ہو سکتا ہے کہ جو عورت حکومت کی طرف سےجس شخص کی ملکیت میں دی جائے اُس کے ساتھ اُس شخص کو جنسی تعلقات قائم کرنے کا قانونی حق دے دیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو یہ عورتیں ملک میں بداخلاقی پھیلنے کا ایک مستقل ذریعه بن جاتیں۔ قانونی حیثیت سے ملک یمین اور عقد نکاح میں کوئی خاص فرق نہیں ہے بلکہ اس صورت میں تو خود حکومت با قاعدہ طریقہ سے ایک عورت کو ایک مرد کے حوالے کرتی ہے۔ پھر جو معاشرتی حیثیت ان عورتوں کو شریعت میں دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کسی شخص کی ملک یمین میں جانے کے بعد اس عورت کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو جنسی تعلق رکھنے کا حق نہیں ہوتا۔ جو اولاد اس سے ہو اس کا نسب اُس شخص سے ثابت ہوتا ہےاور وہ اپنے باپ کی اسی طرح جائز وارث ہوتی ہے جس طرح کسی آزاد بیوی کی اولاد۔جس لونڈی سے اولاد ہو جائے اسے بیچنے کا مالک کو حق نہیں رہتا اور مالک کے مرنے کےبعد وہ خود بخود آزاد ہو جاتی ہے۔

لونڈیوں سے تمتع کے لیے تعداد کی قید اس لیے نہیں لگائی گئی کہ اُن عورتوں کی تعداد کا کوئی تعمین ممکن نہیں ہے جو کسی جنگ میں گرفتار ہو کر آ سکتی ہیں ۔ بالفرض اگر ایسی عورتوں کی بہت بڑی تعداد جمع ہو جائے تو سوسائٹی میں انھیں کھپانے کی کیا تدبیر ہو سکتی ہے جب کہ لونڈیوں سے تمتع کے لیے تعداد کا تعین پہلے ہی کر دیا گیا ہو؟

بعد کے زمانوں میں امراء و ر و سانےاس قانونی گنجائش کو جس طرح عیاشی کا حیلہ بنا لیا وہ ظاہر ہے کہ شریعت کے منشاء کے بالکل خلاف تھا۔ کوئی رئیس اگر عیاشی کرنا چاہےاور قانون کے منشاء کے خلاف قانون کی گنجائشوں سے فائدہ اٹھانے پر اتر آئے تو نکاح کا ضابطہ ہی کب اس کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہے۔ وہ روز ایک نئی عورت سے نکاح کر سکتا ہے اور دُوسرے دن اسے طلاق دے سکتا ہے۔

حجاز میں جو بردہ فروشی آج کل ہوتی ہے اس کی تفصیل مجھے نہیں معلوم ۔ لیکن اصولی طور پر میں یہ عرض کر سکتا ہوں کہ جنگ کے سوا کسی طریقے سے آزاد انسانوں کو پکڑنا اور ان کی خرید وفروخت کرنا شریعت میں حرام ہے (١)

ترجمان القرآن

(ذی القعده ۱۳۶۷ھ - ستمبر ۱۹۴۸ء)


١- غلامی کےمسئلے پر مزید تفصیل کےلیےملاحظہ ہو ہماری کتاب "رسائل و مسائل“اور ”تفہیم القرآن“ جلد اول ۔

کتاب تفہیمات، دوم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Understandings