تفہیمات، دوم

حقیقت جن

حقیقت جن

یہ مضمون ایک کتاب پر تنقید کےسلسلےمیں لکھا گیا تھا جو چند سال قبل شائع ہوئی تھی۔ابتداء ہم نےمصنف کے ان خیالات پر مختصر تنقید کی تھی جو انھوں نے اپنی کتاب میں جنوں کے متعلق ظاہر کیے تھے۔پھر ایک اہل قلم نے اس تنقید پر تعاقب کیا تھا۔ اس کے جواب میں یہ مضمون لکھا گیا۔ چونکہ اس سے مقصود محض فائدہ علمی ہے کسی پرانی بحث کو تازہ کرنا نہیں ہے۔ اس لیے دونوں صاحبوں کے نام حذف کر دیے گئے ہیں۔

"جن" کی حقیقت کےمتعلق شبہات کی ابتدا دور جدید میں غالبا انیسویں صدی کےوسط آخر میں ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں محض کسی مذہبی کتاب کی سند پر کسی ایسی شےکو موجود مائنا جس کےوجود کا کوئی سائنٹفک ثبوت موجود نہ ہو بڑے شرم کی بات ہوگئی تھی اور ایسی شرم ناک بات کا ارتکاب صرف وہی شخص کر سکتا تھا جو اس زمانےکے اہل علم کی نگاہوں میں تاریک خیال اور تو ہم پرست گٹھ ملا بننےکے لیے تیار ہوتا۔ ان حالات میں ان مسلمانوں نے جو اپنی دنیوی ترقی کےلیےاپنےغیر مسلم آقاؤں اور پیشواؤں کی نگاہ میں روشن خیال اور عقل پرست بننا ضروری سمجھتےتھےایک نئی نگاہ سےقرآن مجید کا مطالعہ شروع کیا اور ہر اس مسئلےکوجسے ماننےکےلیےانیسویں صدی کےمادہ پرست بندگانِ حواس و پرستاران عادت آمادہ نہ ہو سکتےتھےایسے عجیب طریقوں سےتاویل کی خراد پر چڑھایا کہ وہ مسئلہ قرآن سےخارج بھی نہ ہوا اور ان لوگوں کےافکار و تخیلات کے مطابق ڈھل بھی گیا جو قرآن کی رُوح اور اس کے اصول اولیہ سے بنیادی اختلاف رکھتے تھے۔اس سلسلہ میں جن قرآنی ارشادات کو تو ڑا مروڑا گیا، انھی میں سے ایک وہ ارشادات ہیں جو ابلیس، شیاطین اور جنوں سے تعلق رکھتےہیں۔کہا گیا ہےکہ ان الفاظ سےکوئی ایسی مخلوق مراد نہیں ہےجو انسان سےالگ فوق الطبیعی وجود رکھتی ہو بلکہ اُن سے کہیں تو انسان کی اپنی بہیمی قوتیں مراد ہیں، جنھیں شیطان کہا گیا ہے اور کہیں ان سے مراد وحشی اور جنگلی اور پہاڑی قو تیں ہیں اور کہیں ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو چھپ چھپ کر قرآن مجید سنا کرتےتھے ۔ یہ تاویلات اتنی رکیک ہیں کہ ان کا ارتکاب صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو یا تو عربی زبان اور قرآن مجید کا تھوڑا سا علم بھی نہ رکھتا ہویا پھر وہ جس کے دل میں خدا اور یوم آخر کےخوف سے زیادہ اہل دنیا کا خوف ہو۔ لیکن ۱۸۵۷ء کے ہنگامے کے بعد جن حالات سے ہندوستان کے مسلمان گزرے ہیں ان میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئی تھیں، اس لیے یہ اور ان سے بھی زیادہ رکیک تاویلات قرآن مجید میں کی گئیں، اور طرفہ ماجرا یہ کہ ادعائے علم و حمایت اسلام کے ساتھ کی گئیں۔

جس طرح انسان پر بہت سے دور گزر چکے ہیں اسی طرح یہ دور بھی گزر گیا۔ اب خود یورپ میں بھی ایک بڑا گر وہ ایسا پیدا ہو چکا ہے جو روحانیت کا قائل ہےاور اس محسوس و مرئی دنیا کے علاوہ ایک ایسےعالم کے وجود کو بھی مانتا ہےجو ہمارےحواس سے پوشیدہ ہے۔ اس لیے اب جن و شیاطین کے مستقل وجود کو تسلیم کرنا اتنا خطر ناک نہیں رہا ہے جتنا اب سے پہلے کچھ مدت تھا۔ تاہم ابھی اس دور کے اثرات بالکل زائل نہیں ہوئے ہیں اور ابھی ایک محض قرآن کی سند پر کسی ایسی بات کو ماننے سے دماغ انکار کر رہے ہیں جو فوق الطبیعی ہونے کے ساتھ خارق عادت بھی ہو ۔ یہ اسی دور کے بچے کھچے اثرات تھے جو اس کتاب میں ہم کو نظر آئے ۔ مولانا قرآن کے صحیح ارشادات کو دیکھ کر یہ تو مانے پر مجبور ہو گئے کہ جن سے مراد وہ ایک آتشیں مخلوق ہے جو انسان سے علیحدہ وجود رکھتی ہے۔ لیکن قرآن مجید میں جگہ جگہ جنوں کی طرف جو امور منسوب کیے گئے ہیں، وہ چونکہ خارق عادت ہیں اور ان کو بعینہ اس طرح مانتا جس طرح قرآن میں وہ بیان ہوئے ہیں اقتضائے عقلیت کےخلاف محسوس ہوتا ہے اس لیے انھوں نے کسی نہ کسی طرح تاویل کر کے جنوں کی دو قسمیں قرار دے لیں۔ ایک وہ مخصوص نوع کی مخلوق جو تاری الوجود ہے اور انسان سےاصلاً مختلف ہے۔ دوسرے انسانوں کا کوئی خاص طبقہ جس کے متعلق نہ وہ خود جانتے ہیں نہ کسی حوالہ سے بتا سکتے ہیں کہ وہ کون سا طبقہ ہے اور کس بنا پر جن کے نام سے موسوم ہو گیا ؟

ہمارے دوست ... الحمد لله ان اثرات سے محفوظ ہیں مگر پھر بھی ایک مقام پر ان کو "جن" کے انسان ہونے کا شبہ ہو ہی گیا۔ وہ مولانا کےاس خیال سےتو متفق نہیں ہیں کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں جن وانس کے الفاظ ساتھ ساتھ آئےہیں وہاں جن سےمراد وہ آتشیں جن نہیں بلکہ انسانوں ہی کا ایک طبقہ ہےلیکن خاص کر حضرت سلیمان کے جنوں پر ان کو بھی شبہ ہے کہ وہ انسان ہی تھے آتشیں نہ تھے۔ کیونکہ وہ نظر نہ آتے تھےاور انسانوں کی طرح غوطے لگاتے اور برتن بناتے تھے۔

دو قاعدے:

اس مسئلے کی تحقیق میں آگے قدم بڑھانے سے پہلے دو قاعدے ذہن نشین کر لیجیے :

اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ جب اپنی معلومات میں سے کسی ایسی شے کو جو ہمارے دائرہ علم و ادراک سے خارج ہے ہمارے علم میں لانا چاہتا ہے تو لامحالہ وہ اس شے کو ہماری زبان کے کسی ایسے ہی لفظ سے تعبیر کرتا ہے جس کو ہم نے اُس چیز کے ساتھ کسی قریب تر مشابهت رکھنے والی کسی چیز کے لیے وضع کیا تھا۔ تا کہ ہم اُس شے کا کسی حد تک صحیح تصور کر سکیں جو اللہ کےعلم میں ہےاور ہمارےعلم میں نہیں ہے۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ حق تعالیٰ کسی چیز کو یونہی کسی مناسبت اور ربط معنوی کے بغیر کسی خاص لفظ سے موسوم کر دئے درآنحالیکہ اس چیز کے لیے دوسرے الفاظ کو چھوڑ کر اس خاص لفظ کو ترجیح دینے کی کوئی معقول وجہ نہ ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو جس چیز کو جنت" سے تعبیر کیا گیا ہے اس کے لیے "جنت" کا لفظ "جہنم "کے مقابلہ میں اولی نہ ہوتا اور جس چیز کو ”نور“ سے تعبیر کیا گیا ہے اس کے لیے”نار“ کا استعمال بھی اسی طرح جائز ہوتا جس طرح کہ نور کا لفظ ہے۔

دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ جب انسانی زبان کا کوئی ایسا لفظ اپنی کتاب میں استعمال فرماتا ہے جس کے ایک معنی لغت اور محاورے میں معلوم و معروف ہوں تو لا محالہ کتاب الہی میں بھی اس لفظ کے وہی معنی قرار پائیں گے جو لغت اور محاورے میں شائع و ذائع ہیں ۔ الا یہ کہ کسی صریح علامت سے ہم کو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کو کسی خاص موقع پر یا مستقل طور پر عام معنی سے الگ اپنے ایک اصطلاحی معنی میں استعمال فرمایا ہے۔ ایسی کوئی علامت موجود نہ ہونے کی صورت میں یہ کسی طرح درست نہیں ہو سکتا کہ لغت اور محاورے سے قطع نظر کر کے کتاب الہی کے کسی لفظ کا خواہ مخواہ کوئی من مانا مفہوم لے لیا جائے ۔ یہ دروازہ اگر کھل جائے تو پھر تاویل و تفسیر سے گزر کر معاملہ مسخ و تحریف تک جا پہنچتا ہے اور اس کے بعد انکل کچھ تفسیروں کا سلسلہ کسی حد پر جا کر رک نہیں سکتا۔

جن کی لغوی تحقیق:

قاعدہ اوّل کے مطابق ہم کو دیکھنا چاہیے کہ عربی لغت میں لفظ ”جن“ کا اصل کیا ہے اور اہل زبان نے اسے کسی مفہوم کے لیے وضع کیا ہے۔

"جن" کا مادہ ج ن ن ہے۔ اس مادہ کا مرکزی تصور ” پوشیدگی ہے اور اس کےتمام مشتقات میں کسی نہ کسی طور پر یہ تصور ضرور پایا جاتا ہے۔ أَصْلُ الجِن سِترُ اللنِي مِنَ الْحَاجَّةِ (راغب) كُلُّ شَيْئَ سَتَرَ عَنكَ فَقَدْ جَنَّ عَنكَ (جمہره ابن ورید ولسان العرب)۔ اسی بنا پر جنان ہر چیز کے جوف کو کہتے ہیں جو نظر نہیں آتا۔ رُوح کو جنان اس لیےکہتےہیں کہ جسم اس کو چھپائے ہوئے ہے۔دل کو جنان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ صندوق سینہ میں مستور ہے۔ حریم خانہ کو جنان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ چار دیواری میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ باغ کو جنت اس لیے کہتے ہیں کہ درختوں کے جھنڈ اس کی زمین کو چھپا لیتےہیں۔ اگر باغ میں یہ صفت نہ ہو تو اس کو جنت نہیں کہہ سکتے ۔ بچہ جب تک ماں کے پیٹ میں ہے جنین ہے۔ رحم کو بھی جنین کہتے ہیں۔ میت جب دفن کر دی جائے تو وہ بھی جنین ہے۔ حتی کہ ہر چیز جو چھپی ہوئی ہے اس پر جنین کا اطلاق ہوگا۔چنانچہ چھپےہوئے کہنے کو حقد جنین کہا گیا ہے۔ قبر کو جکن کہتے ہیں ۔ کفن کے لیے بھی یہ لفظ آیا ہے۔ دفن کرنےکے لیے اجنان کا لفظ آتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے: وَلِيَ دَفْنَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاجْنَانَهُ عَلى وَالْعَبَّاسُ - پردے اور آپ کو نہ کہتے ہیں۔ چنانچہ قرآن میں ہے الخذوا أيْمَانَهُمْ جُنَّة (منافقون : ۲) انھوں نے اپنی قسموں کو اُس نفاق کے لیے پردہ بنا لیا ہے جو وہ اپنے دلوں میں لیے ہوئے ہیں ۔ جَنَّهُ وَجَنَّ عَلَيْهِ ۔ ”چھپا لیا اس کو ۔چنانچہ قرآن میں ہے: فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ ۔ جب رات کی تاریکی اس پر چھا گئی ۔ اجنان کے معنی چھپا دینا اور استحان کے معنی چھپ جانا ۔ جن الليل وخسانُ اللَّيْلِ وَجُنُونُ اللَّيْلِ - رات کی شدید تاریکی جو پردہ پوش ہوتی ہے۔ چنانچہ ورید بن الصمہ کہتا ہے:

وَلَوْلَا جُنُونُ اللَّيْلِ أَوْرَكَ رَكفَنا

اور ہدلی کہتا ہے:

حَتَّى يَحيتى وَجُنُ اللَّيْلِ يُوْعِلُهُ

راز اور پوشیدگی کو بھی جن کہتے ہیں ۔ مثل ہے لاجن بهذا الأمر ۔ یعنی اس معاملہ میں کوئی راز نہیں ہے ۔ جنُ النَّاسِ اور اِحْسَانُ النَّاسِ ۔ آدمیوں کو اس بھیڑ کہتے ہیں جس میں اگر کوئی آدمی گھر جائے تو پتہ نہ چل سکے کہ کہاں ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ عربی زبان میں جن کے نام سے جس نوع مخلوقات کو بھی موسوم کیا جائے گا وہ بہر حال غیر محسوس یا کم از کم مستور ہی ہوگی ۔ جس مخلوق میں مستوری کی صفت نہ پائی جائے اُس کو اس نام سے بھی موسوم نہیں کیا جا سکتا۔ تمام اکابر اہل لغت نے بالا تفاق ہی بات جنوں کی وجہ تسمیہ میں لکھی ہے۔ چنانچہ جمہرہ ابن ورید مفردات امام راغب صحاح، قاموس لسان العرب تاج العروس، غرض زبان کی کسی مستند لغت کو اُٹھا کر دیکھ لیجیے ۔ سب میں یہی لکھا ملے گا کہ ”جن“ اس نام سے اس لیے موسوم ہوئے کہ وہ نگاہوں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔

کلام عرب کی شہادت:

لغت کے بعد کلام عرب پر نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ قرآن مجید نے بطور خود یہ کوئی نئی اصطلاح وضع نہیں کی تھی۔ اہل عرب پہلے سے ایک ایسی فوق الطبیعی مخلوق کو جن کےنام سے یاد کرتے تھےجو بالاصل غیر مرئی و غیر محسوس تھی، مگر کبھی کبھی ان کو مختلف شکلوں میں نظر آتی تھی، جس کے متعلق ان کا خیال یہ تھا کہ وہ غیر معمولی افعال پر قادر ہے اور عالم طبیعت و اجسام پر مختلف طریقوں سے اثر انداز ہوتی ہے۔ اُن کا خیال تھا کہ خاص خاص مقامات پر یہ حقوق قابض ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ایسے مقامات کو وہ ارض مجھے کہا کرتے تھے۔سنسان جنگلوں اور بیابانوں کے متعلق ان کا عقیدہ تھا کہ وہ کسی نہ کسی جن کے قبضے میں ہوتے ہیں چنانچہ جب وہ کسی بیابان میں رات کو پڑاؤ کرتے تو کہتے نَعُوذُ بِعَزِيز هذا الْوَادِي مِنَ الْجِنَ اللَّيْلَةَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ - یعنی ہم اس وادی کے مالک جن کی پناہ مانگتےہیں کہ وہ آج رات ہمیں یہاں خیریت سے ٹھیر جانے دے“۔ خالی مکانوں کے متعلق ان کا اعتقاد تھا کہ ان میں جنوں کا تسلط ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جو شخص کسی خالی مکان میں رات گزارتا اس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ رات کو جنوں کا مہمان تھا۔ اخطل کہتا ہے:

وَبِنَا كَانَّا ضَيْفَ جِن بِلَيْلَةٍ

جہلائے عرب جب کوئی نیا مکان بنواتےتو پہلےوہاں جنوں کے لیےقربانی کرتےتا کہ وہ ساکنین مکان کو نہ ستائیں۔ اس کی طرف سےحدیث میں اشارہ ہے کہ انہ نھی عن ذبائح الجن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےجنوں کےلیےقربانی کی ممانعت کر دی۔"

جب کوئی انسان پاگل ہو جاتا تو عرب یہ سمجھتےتھےکہ اس پر جن مسلط ہو گیا ہے۔اسی لیے وہ اس کو مجنون کہتے تھے ۔ قرآن مجید میں بھی ان کے اس خیال کو بیان کیا گیا ہےکه افترى على الله كذاباً ام به جنة (سبا: ۸ ) یعنی مشرکین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہتے تھے کہ یہ شخص یا تو خدا پر افترا باندھتا ہے یا اس پر جن آتا ہے۔

ان کا وہم تھا کہ ایک جن ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کو وہ ” تابع یعنی ہمزاد کہا کرتے تھے۔ ہر غیر معمولی چیز جنوں کی طرف منسوب کی جاتی تھی۔ چنانچہ جو شخص کام میں بہت تیز ہوتا اس کے متعلق وہ سمجھتےتھےکہ جن اس میں سما جاتا ہےاس لیےاس کو جتنی ( یعنی منسوب به جن' نہ کہ خود "جن") کہا جاتا تھا۔ ہر شاعر کا ایک خاص جن ہوتا تھا اور وہی اس کو شعر کہلوایا کرتا تھا۔ جب کسی شخص کا زور ٹوٹ جاتا تو کہتے کہ نفرت جگہ یعنی اس کا جن نَفَرَتْ جس کے زور سے وہ کام کر رہا تھا، بھاگ گیا۔ جو عورت بہت جمیل ہوتی اس کو مجاز اجنبیہ یعنی ”پری“ کہتے تھے کیونکہ جن عورتوں کا جمال اُن کے نزدیک فوق الانسانی جمال تھا۔

جنوں کی انھی فوق الانسانی صفات اور قدرتوں کی بنا پر اہل عرب خدا سے اُن کا نسب ملاتے تھے ۔ چنانچہ قرآن میں ہے: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا (١) ( الصفت : ۱۵۸) اور اسی بنا پر وہ عبادت میں ان کو خدا کا شریک بناتے تھے بَل كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُونَ(٢) سبا:٤١ ) وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُوا لَهُ بَنِيْنَ وبَنتِ بِغَيْرِ عِلم (٣) (انعام:١٠) ۔ نیز وہ مصیبت اور خوف کے وقت انھی جنوں سے پناہ مانگتے تھے ۔ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْأَنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِن (٤) (الجن : ٦)


(١) یعنی "انھوں نے اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری قرار دے لی ہے۔

(٢) "بلکہ وہ جنوں کی پرستش کرتے تھے اور ان میں سے اکثر لوگ انھی کے معتقد بنے ہوئے تھے۔

(٣)’ "اور انھوں نے اللہ کے ساتھ جن شریک ٹھیرا لیے ہیں حالانکہ اللہ ان کا خالق ہے اور انھوں نے علم کےبغیر خدا کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تجویز کر لی ہیں“۔

(٤) انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے ۔ واضح ہے کہ اس آیت میں ایک ہی جگہ انس اور جن کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ جن ہرگز انسانی جنس سے تعلق نہیں رکھتے۔ لہذا یہ آیت مولانا - - - کے اس بیان کی صریح تردید کرتی ہے کہ " قرآن میں جہاں جہاں جن اور انس کے الفاظ ساتھ ساتھ آئے ہیں وہاں جن سے مراد آتشیں جن نہیں بلکہ انسانوں ہی کا ایک طبقہ ہے۔

وہ ملائکہ کو بھی جن کہتے تھے۔ چنانچہ اشی کا قول ہے ؎

وَسَخَّرَ عَنْ مِنَ الْمَلَئِكَ تِسْعَةً

قيامًا لَذَنبِكَ يَعْمَلُونَ بِلا أَجْرِ

اس نے ملائکہ جن میں سے نو کو تابع کر لیا جو اس کے حضور کھڑے رہتے ہیں اور مفت خدمت کرتے ہیں ۔

فرشتوں کے متعلق جہلائے عرب کا خیال تھا کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ چنانچہ اس کی طرف متعدد مقامات پر قرآن میں اشارہ کیا گیا ہے مثلا: وَجَعَلُوا الْمَائِكَةَ الَّذِينَ هُم عِبَادُ الرَّحْمَنِ إِنَاثًا (١)(الزخرف: ۱۹) اور آفَاصْفكُمُ بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلِئِكَةِ إِنَاثًا (٢) (بنی اسرائیل: ۴۰)

ان شہادتوں کے مقابلہ میں ایک شہادت بھی عرب کی روایات سے ایسی پیش نہیں کی جاسکتی جس سے معلوم ہوتا کہ عرب بھی لفظ جن کا اطلاق حقیقی معنوں میں انسان پر بھی کر دیتے تھے۔ اس کے برعکس تمام شواہد یہی بتاتے ہیں کہ اہل عرب ”جن“ اور ”انس“ کو دو مختلف نوع کی مخلوقیں سمجھتے تھے۔ مثال کے طور پر بدر بن عامر کہتا ہے ۔

وَلَقَدْ نَطَقْتُ قَوَافِيَا إِنْسِيَّةٍ

وَلَقَدْ نَطَقْتُ قَوَافِي التَّجْنِينَ

اور عمران بن حطان الحروری کہتا ہے؎

قَدْ كُنتُ عِندَكَ حَوْلاً لَا تَدُوعُنِي

فِيهِ رَوَائِعُ عَنْ إِنسِ وَلَا جَانِـي


١- ''انھوں نے ملائکہ کو جو رحمن کے بندے ہیں لڑکیاں ( یا دیویاں ) قرار دیا ہے۔

٢- "کیا تمھارے رب نے تم کو تو بیٹوں سے سرفراز کیا اور خود اپنے لیے بیٹیاں رکھیں؟“

الْجِنُّ خَلَافَ الْإِنْسِ سُمِّيَتْ بِذَالِكَ لِأَنَّهَا تُخْفِي وَلَا تُرَى_ (١)

اور ابن سیدہ کہتا ہے:

الْجِنُّ نَوْعٌ مِنَ الْعَالَمِ سُمُّوا بِذَالِكَ لِاجْتِنَانِهِمْ عَنِ الْأَبْصَارِ وَلَانَّهُمْ اسْتَجَنُّوُا مِنَ الَّ ا مِنَ النَّاسِ فَلا يُرُونَ (٢)

ابن درید کہتا ہے:

وَالْجِن خَلاقَ الإنس _

چند مقدمات:

یہ جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس سے چند باتیں واضح طور پر معلوم ہوتی ہیں:

اول یہ کہ لغت عرب میں جن کے وہی معنی ہیں جو ہماری زبان میں "چھپےہوئے“اور "پوشیدہ" کے ہیں۔ اس لفظ کو جب انواع مخلوقات میں سےکسی نوع کے لیےنام کےطور پر استعمال کیا جائے گا تو ضرور ہےکہ وہ کوئی ایسی نوع ہو جو عادتنا مخفی ومستور ہو حتیٰ کہ اس کا ظاہر اور نمایاں ہونا خرق عادت میں سےشمار کیا جائے۔نہ یہ کہ وہ عادتنا ظاہر اور نمایاں ہو جیسےانسان۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ لفظ سیال کا اطلاق کسی ایسی چیز پر کیا جائےگا جو عادتا بہنےوالی ہوا اور اگر بھی وہ جامد پائی جائےتو اس کا جمود خلاف معمول شمار کیا جائےگا مثلا پانی۔ لیکن اگر کوئی شخص لفظ سیال کا اطلاق کسی ایسی چیز پر کرے جو عادتاً جامد ہو (مثلاً پتھر ) اور جس کا جامد ہونا نہیں بلکہ سیال ہونا خلاف معمول ہو تو آپ یقینا حکم لگا دیں گےکہ وہ شخص لفظ سیال کے معنی سے نا واقف ہے اور لفظ کو اس کے غیر معنی موضوع لا میں استعمال کر رہا ہے۔ اسی طرح اگر قرآن مجید میں لفظ جن (مخفی و مستور ) کا اطلاق کسی ایسی مخلوق پر کیا جاتا جو عادتنا مخفی و مستور نہیں ہے بلکہ اپنی فطرت کے اعتبار سے مرئی و محسوس ہے(مثلاً انسان) تو نعوذ باللہ یہ اس بات کی دلیل ہوتی کہ اس کتاب کو پیش کرنے والا یا تو مجنون ہے یا لفظ جن کے معنے سے ناواقف ہے۔ یقین مانیے کہ ایسی صورت میں خواہ تمام عجم قرآن پر ایمان لے آتا مگر کوئی عرب تو کبھی اس پر ایمان نہ لاتا۔ کیونکہ وہ جن کا بطور معجزه و خرق عادت مرئی و محسوس بن جانا تو مان سکتا ہے مگر یہ کبھی نہیں مان سکتا کہ مرئی و محسوس انسان کو جن کے لفظ سے تعبیر کیا جائے ۔ جس وقت کفارِ عرب نے کہا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کوئی مجھی شخص قرآن سکھاتا ہے تو اپنے اس دعوے کی تائید میں وہ کوئی دلیل پیش نہ کر سکے اور جب قرآن نے اس الزام کا یہ جواب دیا کہ لِسَانُ الَّذِى يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ (النحل : ۱۰۳) ''جس شخص کو یہ سکھانےوالا بتاتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے حالانکہ قرآن جس زبان میں ہے وہ عربی مبین ہے۔ تو اس جواب کو سن کر تمام عرب کی زبانیں بند ہو گئی تھیں ۔ لیکن اگر کہیں اس وقت کفارہ عرب کو ایک مثال بھی قرآن میں ایسی مل گئی ہوتی جس میں لفظ "جن" کا اطلاق انسان پر کیا گیا ہو تو وہ پلٹ کر جواب دیتے کہ یہ کہاں کی لسان عربی مبین ہے جس میں "جن“ کا اطلاق انسان پر کیا جا رہا ہے۔


١- ''جن بخلاف انس' اس نام سے اس لیے موسوم ہوئے کہ وہ پوشیدہ ہیں نظر نہیں آتے“۔

٢- "جن ایک نوع کی مخلوق ہے جس کا یہ نام اس لیے پڑا کہ وہ نگاہوں سے مخفی ہے دکھائی نہیں دیتی ۔

دوم یہ کہ عرب میں پہلےسے "جن" کا نام ایک ایسی فوق الطبیعی غیر جسمانی مخلوق کےلیے موضوع اور شائع و متعارف تھا جو عادتا محسوس نہ ہوتی تھی، جس کو کبھی کبھی وہ سعالی“ اور ”غول وغیرہ کی شکل میں دیکھتےتھےاور جس کےمتعلق ان کا اعتقاد تھا کہ وہ فوق الطبیعی انداز سےان پر اثر انداز ہوتی ہے۔پس جب قرآن نےاس شائع شدہ لفظ کو استعمال کیا تو لا محالہ اس کے معنی وہی لیے جائیں گے جن کے لیے وہ پہلے سے وضع کیا ہوا تھا اور شائع تھا۔قرآن کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ عربی میں اتارا گیا ہےتاکہ عرب جو اس کےاولین مخاطب ہیں، اس کو سمجھ سکیں ۔ إِنَّا اَنْزَلْنَهُ قُرَانًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (يوسف:۲) ۔ یہ دعوی اسی صورت میں سچا ہو سکتا تھا جبکہ قرآن میں وہی الفاظ اور اصطلاحات اور انداز بیان استعمال کیے جاتے جو عرب میں رائج و معروف تھے یا اگر اہل عرب کی زبان کے کسی لفظ کو معلوم و متعارف معنی کے سوا کسی خاص معنی میں استعمال کیا بھی جاتا تو وہ اصل لغت کےخلاف نہ ہوتا اور اس خاص معنی کی تشریح کر دی جاتی تاکہ عرب اس کو سمجھ سکتے۔لیکن آپ لفظ "جن" کےجو معنی بیان کرتےہیں، نہ کلام عرب میں معلوم و متعارف ہیں اور نہ اُن کی کوئی ایسی تشریح ہی قرآن میں ملتی ہے جس سے واضح طور پر معلوم ہو جائے کہ اس نام کا وہ مسٹمی مراد نہیں ہے جو اہل عرب نزول قرآن کے زمانہ میں عموما اس سے مراد لیا کرتےتھے۔ اب اگر آپ کی بات مان لی جائے تو قرآن کا اپنا یہ دعوئی باطل ہو جاتا ہے کہ وہ عام فہم عربی میں اترا ہے۔

سوم یہ کہ قرآن میں جگہ جگہ عربوں کےاس اعتقاد باطل کا ذکر کیا گیا کہ وہ جن اور ملائکہ کو خدائی میں شریک ٹھیراتے تھے خدا سے اُن کا نسب جوڑتے تھے اُن سے پناہ مانگتےاور اُن کی عبادت کرتے تھے۔ پھر اس اعتقاد کا ابطال اس طرح کیا گیا ہےکہ جن خدا کےشریک نہیں ہیں، نہ اس کی اولاد ہیں، بلکہ وہ بھی اسی طرح خدا کی ایک مخلوق ہیں جس طرح انسان اُس کی مخلوق ہے۔ فرق یہ ہے کہ انسان مٹی کے ست سے پیدا کیا گیا ہے اور ”جن“آگ کی پھونک سے۔ مگر احکام خداوندی کے مخاطب دونوں ہیں۔ خدا کے سامنے جواب دو ہونے میں دونوں برابر کے شریک ہیں اور نافرمانی کی سزا دونوں کے لیے یکساں ہے۔پس انسان کا اُن کی عبادت کرنا محض ایک جاہلانہ فعل ہے۔ بلکہ اس میں انسان کے لیےذلت بھی ہے۔ اس لیےکہ انسان ایک بالا تر نوع ہے۔ جنوں کے نمائندے ابلیس کو آدم کے سامنےسجدہ کرنےکا حکم دیا گیا تھا اور انکار کرنےپر وہ راندہ درگار کیا گیا۔ انسان کو خلافت اور رسالت کے بلند مناصب پر سرفراز کیا گیا اور جنوں کو اس کی اطاعت اور پیروی کا حکم دیا گیا، جیسا کہ سورہ احقاف کےآخری اور سورہ جن کےپہلے رکوع میں بیان ہوا ہے۔ پھر انسانوں ہی میں سے ایک برگزیدہ ہستی حضرت سلیمان علیہ السلام کو یہ شرف عطا ہوا کہ جن اُن کےتابع کیےگئےیہ تمام باتیں جو قرآن میں عربوں کےاعتقادات باطلہ کی تردید کےلیےکہی گئی تھیں، اُسی صورت میں بامعنی ہو سکتی تھیں جبکہ اُن میں ”جن“ سےمراد وہی مخلوق ہوتی جس کو اہل عرب خدائی میں شریک اور عبادت میں خدا کا ساتھی بناتے تھے۔ ورنہ اگر ان میں ”جن“ سے مراد انسان ہی ہوتے تو پھر یہ کسی طرح بھی عربوں کے اوہام کا ابطال کرنے والی نہ ہوتیں اور عربوں کے وہ اعتقادات اپنی جگہ رہ جاتے جو وہ اپنے تصور میں جنوں کے متعلق رکھتے تھے۔

چہارم یہ کہ اگر جنوں کے ذکر سے کسی خاص مقام یا بعض مخصوص مقامات پر قرآن کا مقصود دراصل انسانوں یا ان کے کسی خاص گروہ ہی کا ذکر کرنا تھا، تو سوال پیدا ہوتا ہےکہ آخر ان کو لفظ ”جن“ سے تعبیر کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ کیوں نہ ان کو لفظ انسان ہی سے تعبیر کیا گیا ؟ خواہ مخواہ ایسے الفاظ استعمال کرنے کی کیا حاجت پیش آئی تھی جن سےناری جن اور خاکی جن کے درمیان التباس واقع ہوتا ؟ اس طرح کی تاویلات کے بارےمیں یہ ایک اہم اصولی سوال ہے جس کو ہمارے زمانے کے اکثر نرالی تاویلیں کرنے والےحضرات قرانی الفاظ کے معنی بیان کرتے وقت نظر انداز کر جاتے ہیں ۔ وہ اس پہلو پر کبھی غور نہیں کرتے کہ جب کسی خاص معنی کو بیان کرنے کے لیے معروف اور شائع الفاظ عربی زبان میں موجود ہیں اور خود قرآن نے بھی اس معنی کو بیان کرنے کے لیے حسب موقع وہی الفاظ استعمال کیے ہیں، تو آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ کسی خاص مقام پر اس معنی کو بیان کرنے کے لیے (اگر واقع میں اس کا مقصود وہاں وہی معنی بیان کرنا ہو ) بعض دوسرےالفاظ استعمال کرتا در آنحالیکہ وہ الفاظ اس معنی کے لیے شائع اور متعارف نہ تھے اور نہ ہیں؟ مثال کے طور پر اگر واقع یہی تھا کہ حضرت سلیمان کو مصر سے یا دوسرے مقامات سےاعلیٰ درجہ کے خواص ظروف ساز معمار اور سنگ تراش آدمی فراہم کر دیےگئےتھےتو یہی کہہ دینے میں کون سا امر مانع تھا کہ ہم نے سلیمان علیہ السلام کو ایسے اور ایسے آدمی فراہم کر دیے تھےکیا اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے اللہ تعالی کے پاس الفاظ کا کافی ذخیرہ موجود نہ تھا کہ مجبوراً اس کو جن اور شیاطین کے الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی؟ (١) کیا خود اللہ تعالیٰ نےآدمیوں کا ذکر کرنے کے مواقع پر اُن کو انسان یا بنی آدم کے الفاظ سےتعبیر نہیں کیا ہے؟ اور اگر خاص آدمیوں میں کوئی خصوصیت ایسی تھی کہ ان کو جن اور شیاطین کے استعماروں میں ادا کرنا ضروری تھا تب بھی اس تصریح میں کیا چیز مانع تھی کہ یہ "جن" بنی آدم سے تھے؟

١- ملاحظہ ہو سورۃ سبا رکوع ۲۔ سورۂ ص، رکوع ۳

قرآن میں معنی جن کی تصریح :

ان مقدمات کو ذہن نشین کرنے کے بعد اب دیکھیے کہ قرآن مجید نے لفظ ”جن“ کو کس معنی میں استعمال کیا ہے۔آپ تسلیم کرتےہیں کہ قرآن میں "جن" اور ”انسان“ کی حقیقتیں الگ الگ بیان کی گئی ہیں، اور بالفاظ صریح ایک جگہ نہیں، متعدد جگہ بتایا گیا ہے کہ جن ایک ناری الاصل مخلوق ہے اور انسان ارضی الاصل ہے۔لفظ "جن" کو استعمال کرنے کے ساتھ جب اس کے معنی کی یہ تصریح بھی خود قرآن ہی نے کر دی ہے تو عقل یہ چاہتی ہے کہ جہاں کہیں وہ الفاظ استعمال ہوں وہاں اس کے وہی معنے لیے جائیں جن کی تصریح کی جا چکی ہے (١) اس کے خلاف کوئی اور معنی کے لیے ضروری ہے کہ یا تو اس دوسرے معنی کی بھی کوئی ویسی ہی تصریح قرآن میں موجود ہو یا پھر آپ کے پاس ایسے قوی دلائل ہوں جن کی بنا پر قرآن کی تصریح کے خلاف معنی میں اس لفظ کو لینا جائز ہو۔ اگر پہلی صورت ہے تو براہ کرم کوئی ایک ہی آیت ایسی پیش فرمائیے جس میں "جن" یہ معنی ”انسان“ کی ویسی ہی تصریح ہو جیسی کہ جن بہ معنی آتشیں مخلوق کی تصریح ہے ۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہم کو حق ہے کہ آپ کے دلائل کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ آیا وہ اس حد تک قوی ہیں کہ قرآن نے جن کے جس معنی کی تصریح کی ہے اس کو چھوڑ کر آپ کےتجویز کردہ معنی کو قبول کیا جائے۔

جن بمعنی انسان کی پہلی دلیل :

مولانا - - - - - نے جس بناء پر جن کے انسان ہونے کا گمان کیا ہے وہ خودان کےالفاظ میں یہ ہے:


١- بلاشبہ قرآن میں دو جگہ "جان" کا لفظ "سانپ" کے معنی میں آیا ہے لیکن اول تو خود قرآن ہی میں دوسری جگہ اس چیز کے لیے ثعبان اور حیہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن سے معلوم ہو گیا کہ وہاں جان کا لفظ کس معنی میں آیا ہے۔ دوسرے لفظ جان بمعنی سانپ عربی میں عام طور پر مستعمل ہےاور موقع ومحل سے ہر عربی دان خود جان لیتا ہے کہ یہاں "جان" سے مراد سانپ ہے۔

"جن کا لفظ قرآن میں صرف مکی سورتوں میں آیا ہے۔ مدنی سورتوں میں کہیں نہیں آیا۔ اور انس کا لفظ بلا جان کے سارے قرآن میں کہیں مستعمل نہیں ہوا ہے۔ اس سے خیال ہوسکتا ہے کہ جن و انس کےالفاظ جہاں جہاں ساتھ آئے ہیں وہاں جن کے معنی اُس آتشیں جن کے نہیں ہیں بلکہ انسانوں ہی کے ایک طبقہ کے ہیں"۔

میں پوچھتا ہوں کیا یہ کوئی دلیل ہے ؟ کس سورت کے مکی یا مدنی ہونے اور جن کے ساتھ انس کا لفظ آنے یا نہ آنے کو لفظ "جن“ کے معنی میں آخر کس قسم کا دخل حاصل ہے؟ آپ اُن تمام آنوں کو نکال کر دیکھ لیجیے جن میں جن اور انس" کے الفاظ ساتھ ساتھ آئے ہیں۔ کسی جگہ بھی آپ کوئی اشارہ ایسا نہ پائیں گے جو انس کے عام اور جن کے خاص ہونے پر دلالت کرتا ہو۔ جہاں کہیں جن اور انس کے الفاظ معطوف و معطوف علیہ کی حیثیت سے آئے ہیں، وہاں عطف نہ تو عَطْفُ الْعَامِ عَلَى الْخَاصِ کے طور پر آیا ہےن عَطْفُ الْخَاصِ عَلَى الْعَامِ کے طور پر اور نہ عَطْفُ الشَّنِي عَلَى مُرَادِ فِيْهِ کے طور پر ۔ اِن تینوں قسموں میں سے کسی قسم کے عطف کا حکم لگانے کے لیے ضروری ہے کہ سامع کو پہلےسے اس کا علم ہو کہ معطوف و معطوف علیہ میں سے ایک عام ہے اور دوسرا خاص یا دونوں مترادف ہیں ۔ مثلا ربِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِي مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ (نوح: ۲۸) میں سامع خود سمجھ سکتا ہے کہ عطف عطف العال علی الخاص کےقبیل سے ہے۔ یا وَإِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِنْ نُوحٍ (احزاب:ے ) میں صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ عطف الخاص علی العام کے قبیل سے ہے۔ یا فَأَلْقَى قَوْلَهُ كِذَبًا وَمَيْنا میں عطف کا عطف الشني على مراد فیہ کے قبیل سے ہونا ہر وہ شخص جانتا ہےجو "كذب ‘ اور مین “ کے معنی سے واقف ہے۔ پس جب جن وانس میں یہ تینوں صورتیں نہیں ہیں تو لامحالہ یہ مانا پڑے گا کہ ان دونوں کے درمیان واؤ عطف مطلق معیت کےلیے ہے۔ کیونکہ لغت سے یا عرف سے یا کسی قرینہ عقلی سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان دونوں کے درمیان عموم و خصوص یا ترادف کا تعلق ہے۔ اگر قرآن کی اصطلاح خاص میں ان دونوں کے درمیان محض واؤ عطف کا استعمال کرتا تو یہ اس کے بیان کا نقص ہوتا۔ اس مقصد کے لیے اس کو کم از کم الانس والجن منهم ہی کہنا چاہیے تھا تا کہ سامعین کو معلوم ہو جاتا کہ جن کے نام سے جس گروہ کو یاد کیا جا رہا ہے وہ لغت اور عرف عام کے خلاف انسانوں ہی کا ایک گروہ ہے۔

لیکن ہم کو عطف و معطوف کی بحث میں بھی پڑنےکی کوئی ضرورت نہیں۔ مدعی کا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن میں جہاں جن وانس کےالفاظ ساتھ ساتھ آئےہیں وہاں جن سےمراد انسانوں ہی کا ایک طبقہ ہے۔اب آپ ان تمام آیات کو پڑھ جائیے جن میں یہ دونوں لفظ یکجا استعمال ہوئے ہیں۔ اگر خود انھی میں متعدد آیتیں آپ کو ایسی مل جائیں جن میں ان دونوں گروہوں کی مغائرت صاف نظر آتی ہو تو مدعی کا دعویٰ آپ باطل ہو جائے گا۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ وَالْجَانَّ خَلَقْتَهُ مِنْ قَبْلُ مِن نَّارٍ السَّموم (الحجر: ۲۶-۲۷ )

ہم نے انسان کو کالے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا اور اس سے پہلے جنوں کو ہم نے ٹو کی گرمی سے پیدا کیا تھا۔

خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَحَّارٍ وَخَلَقَ الْجَانُ مِنْ مَّارِجٍ مِنْ نار (الرحمن: ۱۴-۱۵)

اس نے انسان کو پیری کی طرح بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا اور جنوں کو آگ کی لپٹ سے ۔

فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْئَلُ عَنْ ذِنْبِهِ إِنْسٌ وَّلَا جَانٌ (الرحمن: ٣٩)

پس اس روز نہ کسی انسان سے اس کے گناہ کی بابت پوچھا جائے گا اور نہ کسی جن سے۔

لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌ (الرحمٰن : ۵۶)

اُن سے پہلے ان جوڑوں کو نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا ہوگا اور نہ کسی جن نے ۔

كان رجال من الانس يعوذون برجال من الجن (الجن : ١)

انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے۔

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَئِكَةِ أَهْؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ - قَالُوا سُبُحْنَكَ أَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُونِهِمْ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُؤْمِنُونَ (سوره سیا: ۴۰ - ۴۱)

جس روز اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع کرے گا پھر ملائکہ سے پوچھے گا کیا یہ لوگ تمھیں کو پوجا کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے تو پاک ہمارا ولی تو ہے نہ کہ یہ۔ دراصل یہ لوگ ہماری نہیں بلکہ جنوں کی پرستش کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر در حقیقت انھی پر ایمان رکھتےتھے۔

وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا (صفت : ۱۵۸)

اور انھوں نے خدا کے اور جنوں کے درمیان رشتہ جوڑ رکھا تھا۔

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَمَعْشَرَ الْجِنَّ قَدِ اسْتَكْثَرُتُمْ مِّنَ الْإِنْسِ وَقَالَ أَوْلِيَاءُ هُمُ مِنَ الإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِي أَجْلُتَ لَنَا - (انعام: ۱۲۹)

اور جس دن خدا ان سب کو جمع کرے گا تو فرمائے گا۔ اے گروہ جن تم نے تو انسانوں میں سے بہتوں کو اپنے دام میں گرفتار کر لیا اور انسانوں میں سے جو ان کے دوست تھے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم میں سے بعض نے بعض سے خوب فائدہ اٹھایا اور ہم اب اس مدت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کی تھی۔

ان آیات سے کیا ثابت ہو رہا ہے۔ یہ کہ جن اور انس دو الگ اور متبائن الحقیقت گروہ ہیں؟ یا یہ کہ ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ کا ایک جز ہے۔

دوسری دلیل :

دوسری دلیل یہ ہے کہ ابلیس اور اس کی ذریت کو جو حسب تصریح قرآن ”جن“ ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے غیر مرئی بیان کیا ہے۔ انـه یـرنـكـم هـو وقبيله من حيث لا ترونهم (اعراف: ۲۷) بخلاف اس کے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس جو جن تھے وہ نظر آتے تھے اور انسانوں کے سے کام کرتے تھے۔ لہذا حضرت سلیمان والے جن وہ آتشیں جن نہیں ہیں بلکہ انسان ہیں ۔

اس کے جواب میں بڑی آسانی کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت سلیمان والے جنوں کے متعلق قرآن میں کہیں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ وہ نظر آتے تھے انسانی شکل میں تھے اور حضرت سلیمان کے علاوہ عام لوگ بھی اُن کو دیکھتےتھےلہذا قرآن کی جو آیت آپ اپنے استدلال میں پیش فرما رہے ہیں، وہ ان آیات کے خلاف نہیں ہے جن میں حضرت سلیمان والے جنوں کا ذکر آیا ہے۔ رہا آپ کا یہ گمان کہ وہ انسانوں کے سے کام کرتے تھے تو یہ بھی قرآن سے ثابت نہیں ۔ قرآن میں یہ کہاں کہا گیا ۔ اردو انسانوں کی طرح پانی میں غوطے لگاتے تھے۔ یا انسانوں کی طرح برتن اور عمارتیں بناتے تھےیا انسانوں کی طرح باندھے جاتےتھے۔وہاں تو مطلقاً غواصی اور ظروف سازی اور معماری وغیرہ کا ذکر ہےاور محض اس ذکر سےیہ لازم نہیں آتا کہ وہ غواصی وغیرہ انسانوں کی سی خواصی وغیرہ تھی۔ تا وقتیکہ یہ ثابت نہ کر دیا جائےکہ خواصی بغیر اس طریقےکےممکن نہیں ہے جس طریقہ سے انسان غوطہ لگاتا ہےاور ظروف سازی وغیرہ انھی طریقوں میں منحصر ہیں جنھیں انسان استعمال کرتےہیں۔اگر محض یہ بات کہ جو فعل انسان کرتا ہے وہ کسی ہستی کی طرف منسوب کیا گیا ہے یہ حکم لگانے کےلیے کافی ہو کہ وہ ہستی لامحالہ انسان ہی ہوئی چاہیئے تو ایک مخص نعوذ باللہ خود اللہ تعالی کو انسان کہہ سکتا ہےکیونکہ قرآن میں بعض وہ افعال جو انسان کرتے ہیں، خدا کی طرف منسوب کیے گئے ہیں مثلا بولنا' دیکھنا' سنتا وغیرہ۔

لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر اس پہلو سے قطع نظر کر کے یہ بھی مان لیا جائے کہ وہ انسانوں کی طرح نظر آتے تھے اور انسانوں ہی کی طرح وہ سب افعال کرتے تھےجن کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہےتب بھی جو آیت آپ پیش فرما رہے ہیں اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اس گروہ مخلوقات سےخارج تھے جو نظر نہیں آتا ۔ اس لیے کہ کسی مخلوق کا ایسا ہوتا کہ وہ انسان کو نظر نہ آئے اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ اس کا نظر آنا ممکن ہی نہ ہو اور بطور خرق عادت بھی وہ نظر نہ آسکے۔ قرآن مجید میں شیاطین جن کے غیر مرئی ہونے کی صفت تو صرف ایک ہی جگہ بیان ہوئی ہے مگر ملائکہ کی اس صفت کا متعدد مقامات پر ذکر آیا ہے مثلاً:

إِنِّي أَرَىٰ مَالَا تَرَوْنَ (انقَال: ۴۸)

یعنی شیطان نے اپنے اولیاء سے کہا کہ میں فرشتوں کی وہ فوجیں دیکھ رہا ہوں جو تم کو نظر نہیں آتیں۔

فَانْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا (التوبه:۴۰)

پھر اللہ نے اپنی سکیت اس پر اتاری اور ایسے لشکروں سے اس کی تائید کی جن کو تم نہ دیکھتے تھے۔

وَانزَلْ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا (التوبہ : ٢٦)

اور اللہ نے وہ لشکر اُتارے جن کو تم نہ دیکھتے تھے۔

إِذْ جَاءَ تُكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَّمُ تَرَوْهَا (احزاب: ٩)

جب تم پر فوجیں حملہ آور ہو ئیں تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور وہ لشکر بھیجے جو تم کو نظر نہ آتے تھے۔

يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلِئِكَةَ لَا بُشْرَى يَوْمِئِذٍ (فرقان : ۲۲)

جس روز یہ لوگ ملائکہ کو دیکھیں گے اس روز مجرموں کی خیر نہ ہوگی۔

اس کے باوجود متعدد مواقع قرآن مجیدی نے بیان کیا ہے کہ ملائکہ انسانی شکل میں آئے ہیں۔ نہ صرف انبیاء نے بلکہ عام انسانوں تک نے ان کو دیکھا ہےاور ان کی باتیں سنی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان بہت سی مستقلی مثالوں کو دیکھ کر آپ نے ملائکہ کے متعلق بھی کیوں نہ کہہ دیا کہ ان سے مراد بھی انسانوں ہی کا ایک طبقہ ہے؟ غیر مرئی ہونےمیں دونوں برابر ۔ انسانی شکل میں ظاہر ہونے کے واقعات ملائکہ میں متعدد اور جنوں میں صرف ایک ۔ باوجود اس کےتعجب ہےکہ آپ ملائکہ کے متعلق تو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کےحکم سے بطور معجزہ وخرق عادت بار بار وہ انسانی صورت اختیار کرتے رہے ہیں۔لیکن جنوں کے متعلق اس قسم کا ایک واقعہ سن کر آپ کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ حضرت سلیمان کی غیر معمولی دُعا کو قبول کر کے جس طرح اللہ تعالی نے خرق عادت کے طور پر ہوا اور پرندوں کو اُن کےتابع کیا تھا اور ان کو جانوروں کی بولیاں سکھائی تھیں، اُسی طرح بطور خرق عادت اُس نےجنوں کو بھی مرئی و محسوس بنا دیا ہوگا۔ اس کےبرعکس آپ قرآن کی تمام تصریحات اور لغت عرب کےخلاف یہ تاویل کرنا زیادہ پسند کرتےہیں کہ صرف اس خاص موقع پر انسانوں کو "جن" کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور مولانا تو اس ایک مثال سے فائدہ اٹھا کر انسانوں کی ایک مستقل قسم کا نام ہی ”جن، فرض کر لیتے ہیں، درآنحالیکہ اس کے لیے کوئی ثبوت اُن کو قرآن سے نہیں ملا اور اس کے خلاف قرآن مجید کی صریح آیات اور کلام عرب کی واضح شہادتیں موجود ہیں۔ اتنی بڑی ذمہ داری کا بار اٹھانے سے پہلے کیا اس بات پر غور کر لینا بہتر نہ تھا کہ اللہ تعالی کا ایک غیر مرئی مخلوق کو مرئی بنا دینا کون سا ایسا مستبعد اور محال امر ہے کہ اس سے بچنےکےلیےاتنی مشقت اور اتنے تکلف کی حاجت پیش آئے؟ جب آپ نے ملائکہ جیسی لطیف مخلوق کا مرئی ہونا مان لیا تو شیاطین جیسی کثیف مخلوق کےمرئی ہو جانے میں اتنا استبعاد کیوں محسوس ہوتا ہے؟ قرآن مجید میں جنوں کی جو کچھ حقیقت بیان کی گئی ہے وہ اس سے زیادہ نہیں کہ وہ ایک آتشیں مخلوق ہیں ۔ لیکن جبریل فرشتے کے متعلق تو یہ کہا ہے کہ وہ "روح" اور وہ بھی روح اللہ ہیں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا (مريم: ۱۷)

پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو بھیجا اور وہ اس کے سامنےاچھے خاصے آدمی کی شکل میں نمودار ہوئی۔

وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْآمِيْنُ (الشعرا:۱۹۳-۱۹۲)

یہ قرآن رب العالمین کا اُتارا ہوا ہے۔ اس کو لے کر روح الامین اُترا ہے۔

جب "روح اللہ" جیسی مجرد از عوارض مازہ شے کو باذن الہی مرئی ہو جانا ممکن ہے تو ناد السموم جیسی چیز کا جو ماڈے اور ماڈی تکاثف سے قریب تر ہے (۱) جسمیت اختیار کر لیتا کیوں نا ممکن یا بعید از عقل و قیاس ہے کہ اس سے بچنےکی خاطر قرآن میں تاویلات بعیدہ کا دروازہ کھولا جائے؟ قرآن کی رُو سے تو صرف باری تعالی ہی کی ذات ایسی ہے کہ انسان کی نگاہیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں لاتدركه الأنصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (انعام: ۱۰۴) اور قَالَ رَبِّ أَرِنِى انْظُرُ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِيُّ (اعراف: ۱۴۳) یہ صفت بالذات صرف خدا تعالی کےلیے ہے۔ باقی جتنی مخلوقات ہیں ان میں سے کسی کے لیے بھی یہ صفت بالذات نہیں ہے۔ البتہ بعض کو اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ وہ عادتا نظر نہیں آتیں۔لیکن اگر خدا چاہے تو وہ اس پر قادر ہے کہ خواہ ان کو مرئی کر دے یا ہماری نظروں کو اتنا تیز کر دے کہ ان کی لطیف تر صورتوں کو دیکھ سکیں۔


(١) جنوں کی تخلیق جس آگ سےہوئی ہےوہ میرے نزدیک وہ آگ نہیں ہےجو کیمیاوی استحالات سےمادی اجسام میں پیدا ہوئی ہے بلکہ وہ ایک خاص طور کی آگ ہے ہماری ان ماڈی آگوں سے مختلف۔چونکہ انسانی زبان میں اس کو تعبیر کرنے کےلیے”نار سےزیادہ اقرب کوئی لفظ نہ تھا اس لیےحق تعالیٰ نےاس کو اس لفظ سے تعبیر فرمایا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ سے مراد وہ شعاع نہیں ہے جو مادی غیرات سے نکلتی ہے بلکہ ایک غایت درجہ مجرد اور منزہ حقیقت ہے جس کے تصور سے انسان کے ذہن کو روشناس کرنے کے لیے لفظ ”نور“ سے زیادہ اقرب اور کوئی لفظ نہیں ۔ تا ہم اگر آپ کی یہ رائے مان لی جائےکہ جن اسی ماڑی آگ کے بنے ہوئے ہیں جو آکسیجن اور کاربن کےاشتعال مواصلت سےپیدا ہوتی ہےتو روحانی فرشتوں کےمقابلہ میں ان ماؤی جنوں کا مرئی ومحسوس بن جانا تو اور بھی زیادہ قریب از عقل و قیاس ہے۔

تیسری دلیل :

آپ نے اور مولانا- - - - - - نےاس بات سےبھی فائدہ اٹھانےکی کوشش کی ہےکہ حضرت سلیمان کے پاس جو غوطہ خور اور معمار وغیرہ تھے ان کو شیاطین“ کہا گیا ہے اور شیاطین کا اطلاق جنوں کی طرح انسانوں پر بھی کیا گیا ہے اس لیے آپ کہتے ہیں کہ ان معماروں اور غوطہ خوروں کو ان کے مرئی ہونے اور انسانوں کے سے کام کرنے کی بنا پر شیاطین الانس کیوں نہ سمجھا جائے۔

اس کو دلیل کے بجائے میں صرف غلط فہمی کہوں گا ۔ اوّل تو قرآن مجید میں حضرت سلیمان کے کاریگروں اور خادموں کے لیے صرف شیاطین ہی کا لفظ نہیں آیا ہے جن کا لفظ بھی آیا ہے مثلاً :

وَحُشِرَ لِسُلَيْمَنَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ وَالطَّيْرِ (نحل: ۱۷)

ور سلیمان کے لیے اس کے لشکر از قسم جن و انس و پرند جمع کیےگئے۔

وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِاِذْنِ رَبِّهِ ... آیت......١٢...... يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانِ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رسيتٍ ..... (١٣). فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَاتَهُ فَلَمَّا خَرَّتَبَيَّنَتِ الْجِنَّ أَنْ لَوُ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ - (سبا :۱۴)

اور جنوں میں سے جو اس کے (حضرت سلیمان ) آگے اس کےرب کے اذن سے کام کرتے تھے . جو کچھ وہ چاہتا وہ اس کے لیے بناتے تھے بڑی بڑی عمارتیں، مورتیں اور حوض جیسے بڑے بڑے تھال اور ایک جگہ جمی رہنے والی بھاری دیکھیں پھر جب ہم نے سلیمان پر موت کا فیصلہ نافذ کر دیا تو ان کو اس کی موت کی خبر جس چیز نے دی وہ کچھ اور نہ تھا، محض زمین کا کیڑا جو سلیمان کے عصا کو کھا رہا تھا۔ جب سلیمان گر پڑا تب ان جنوں پر یہ راز کھلا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اتنی مدت تک اس ذلیل غلامی کے عذاب میں نہ پڑے رہتے (١)

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ غوطہ خور اور معمار شیاطین جن کی قسم سےتھے شیاطین الانس نہ تھے۔

دوسرے یہ بات آپ کی اور مولانا کی نظر سے پوشید و رہ گئی کہ قرآن مجید میں کہیں مطلقاً الشیطان اور الشیاطین بول کر انسان مراد نہیں لیے گئے ہیں، بلکہ ابلیس اور اس کی وریت ہی مراد لی گئی ہے۔ ہاں اگر کہیں انسانوں کے کسی گروہ کے لیے شیاطین کا لفظ بطور صفت استعمال کیا گیا ہے تو ایسے ہر موقع پر صراحتہ یا کنا بیتہ یہ بتا دیا گیا ہے کہ وہاں شیاطین سے مراد انسان ہیں، جیسے وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِي عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ (انعام:۱۱۳) اور وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ (بقره: ۱۴)

ایمان بالکتاب کا مقتضی :

اس بحث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کوئی ایسی قوی دلیل موجود نہیں ہے جس کی بنا پر سیدنا سلیمان کے قصہ میں یا کسی دوسرے مقام پر لفظ ”جن“ کے معنی متعین کرنےمیں،اس معنی سےانحراف کرنا جائز ہو جس کی تصریح خود قرآن مجید متعدد مواقع پر کر چکا ہےاور جب اس کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے تو کسی شخص کے لیے جو قرآن مجید کےکلام الہی ہونے پر ایمان رکھتا ہو یہ جائز نہیں ہےکہ جس کو خدا نے" جن" کہا ہے اور آدمی نہیں کہا اُس کو وہ اپنے قیاس سے آدمی کہہ دے۔ ایسا قیاس کرنے کے لیے اگر کوئی سبب داعی ہو سکتا ہے تو صرف یہ ہے کہ عادت جاریہ جس کا مشاہدہ اور اور اک کرنے کے ہم خوگر ہیں اُن واقعات کے خلاف ہے جو بعض مواقع پر قرآن مجید میں جنوں کی طرف منسوب کیےگئےہیں۔ لیکن اسی طرح آگ کا ایک خاص شخص کے لیے سرد ہو جانا، لکڑی کا ایک خاص موقع پر اثر ر ہا بن جانا دریا کا ایک خاص وقت میں پھٹ کر راستہ دے دینا ایک شخص کا مٹی کےپرند بنا کر ان میں جان ڈال دینا اور مُردوں کو زندہ کر دینا چند آدمیوں کا ایک غار میں تین -سو برس تک سوتے پڑے رہنا اور پھر بھی زندہ رہنا ایک شخص کا مرنے کے سو برس بعد جی اٹھنا اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کا جوں کا توں بالکل تازہ حالت میں پانا ایک شخص کا ساڑھے نو سو برس تک زندہ رہنا اور وہ بھی لوگ کی مشقوں سے نہیں بلکہ ایک منکر قوم کےمقابلہ میں تبلیغ دین کی تھکا دینے والی مشقوں کے ساتھ یہ اور ایسے ہی متعدد واقعات ہیں جو قرآن مجید میں بیان کیے گئے ہیں اور سب اُس عادت جاریہ کے خلاف ہیں جس کو دیکھنےکے ہم خوگر رہے ہیں۔


١- یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں جن کے ساتھ انس کا لفظ نہیں آیا ہے۔ اور یہ بھی اشارہ ہے کہ یہ جن وہ جن تھے جن کو غیب دانی کا گھمنڈ تھا اور جنھیں اہل عرب بھی عالم الغیب سمجھتے تھے۔انبھی جنوں میں سے ایک گروہ بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سن کر اپنے دوسرے ہم قوموں سے کہتا ہے کہ اب ہمارے غیب دانی کے وسائل ہم سے چھن گئے ہیں اور اس کی وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ وَأَنَّا لَمَسُنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَا مُلِئَتْ حُرَسًا شَدِيدًا وَشُهَبًا - وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدُ لَهُ شِهَابًا رُصَدًا (الجن: ۸-۹) اس آیت میں غیب کی خبریں حاصل کرنے کی جو صورت بیان کی گئی ہے وہ انسان کی سمجھ میں بھی نہیں آتی کجا کہ کوئی انسان اس پر قادر ہو۔

اگر ہم قرآن کو خدائےعلیم و خبیر اور قادر و توانا کا کلام نہ مانیں تو سرےسےان واقعات کی تاویل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔محض اس بنیاد پر ان سب کو جھٹلا دیا جا سکتا ہے کہ ایسا ہوتے ہم نے کبھی نہیں سنا اور نہ دیکھا۔ اور اگر ہم یہ مان لیں کہ قرآن اس خدا کا کلام ہےجو ازل سے ابد تک عالم وجود کے ہر چھوٹے بڑے واقعہ کا حقیقی علم رکھتا ہےاور خدا وہ خدا ہے جس کے معجزے ہم کو سورج اور ستیاروں اور زمین اور خود اپنے وجود میں هر آن نظر آ رہےہیں، تو ہمیں کسی غیر معمولی اور خلاف عادت واقعہ کو بعینہ اسی طرح تسلیم کرنے میں تامل نہیں ہو سکتا جس طرح وہ قرآن میں بیان ہوا ہے۔ یہ واقعات تو کیا چیز ہیں، اگر قرآن میں کہا گیا ہوتا کہ ایک وقت میں چاند کو ماؤنٹ ایورسٹ پر لا کر رکھ دیا گیا تھا اور کسی وقت خدا نے سورج کو مشرق کے بجائے مغرب سے نکالا تھا، تب بھی ایک مومن صادق کو اس بیان کی صداقت میں ایک لمحہ کے لیے شک نہ ہو سکتا تھا اور نہ کسی طرح تاویل کر کے اس کو عادت جاریہ کے مطابق ثابت کرنے کی ضرورت پیش آسکتی تھی ۔ اس لیے کہ یہ کائنات، جس کی وسعت کا تصور کرنے سے ہمارا دماغ تھک جاتا ہے اور اس کائنات کی ہر شے حتیٰ کہ گھاس کا ایک تنکا اور کسی جانور کے جسم کا ایک بال بھی اپنی پیدائش میں در حقیقت اتنا ہی حیرت انگیز معجزہ ہے جتنا چاند کا ایورسٹ پر آ جانا اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ۔ فرق اگر کچھ ہے تو صرف یہ کہ ایک قسم کے واقعات کو دیکھنے کی ہمیں عادت ہو گئی ہے اس لیے ہم کو ان کے معجزہ ہونے کا شعور نہیں ہوتا، اور دوسری قسم کے واقعات شاذ ہیں اس لیے اُن کی خبر جب ہم کو دی جاتی ہے تو ہمیں اچنبھا ہوتا ہے اور ہماری عقل جو صرف مشاهدات و تجربیات پر اعتماد کرنے کی خوگر ہو گئی ہے اُن کو باور کرنے میں مجھجکتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اپنے واقعات کے متعلق جب ہم کو کوئی خبر دی جائے تو ہمیں حق ہے کہ ان کے وقوع کے متعلق قابل وثوق شہادت طلب کریں ۔ لیکن ایک مومن کےلیے قرآن سے بڑھ کر قابل وثوق شہادت اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ وہ دل سے یقین رکھتا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے اور خدا کے فعل پر خود خدا ہی کی شہادت سب سے زیادہ معتبر ہے۔ البتہ جو شخص قرآن کے کلام الہی ہونے میں شک رکھتا ہو اس کو حق ہے کہ قرآن کے ہر بیان میں شک کرے خواہ وہ عادت جاریہ کے موافق ہو یا مخالف ۔

ترجمان القرآن

(شوال ۱۳۵۳ھ - جنوری ۱۹۳۵ء)

کتاب تفہیمات، دوم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Understandings