تفہیمات، دوم

گناہِ کبیرہ پر تکفیر

گناہِ کبیرہ پر تکفیر

کچھ مدت ہوئی ہندوستان کی ایک اصلاحی جماعت کے بعض ارکان نے (غالباً اپنی جماعت کی انتہا پسندی سے غیر مطمئن ہو کر ) مدیر ترجمان القرآن کو ایک خط لکھا تھا جس میں یہ سوال کیا گیا تھا: -

”ہم نے اپنی ایک جماعت بنائی ہے جس کا عقیدہ یہ ہے کہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب کا فر ہو جاتا ہے۔ ہم فسق اور کفر میں کوئی فرق نہیں سمجھتے ۔ ہماری جماعت عام مسلمانوں کو وہی حیثیت دیتی ہے جو قرآن نے اہل کتاب کو دی ہے مثلاً ہم شادی بیاہ اپنی جماعت کےاندر ہی کرتے ہیں۔ غیر جماعتی مسلمانوں سے لڑکیاں لے تو لیتےہیں مگر اپنی لڑکیاں ان کو دیتےنہیں ہیں۔ ہمارے اس عقیدے اور طرز عمل کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ یہ صحیح ہے یا غلط؟ اگر غلط ہے تو تشفی بخش طریقے سے ہماری غلطی ہم پر واضح فرمائیے۔"

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ضروری سمجھا گیا کہ اس جماعت کے حالات کی اچھی طرح تحقیق کر لی جائے ۔ چنانچہ ضروری واقفیت بہم پہنچانے کے بعد اُن کو حسب ذیل جواب دیا گیا:

تحقیق کرنے سے مجھ کو معلوم ہوا ہے کہ آپ کی جماعت میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو دین کا صحیح علم اور نقطه رکھتا ہو۔اور اس کا ثبوت خود ان مسائل کی نوعیت سے بھی ملا جن کے متعلق آپ نےسوال کیا ہے۔ یہ مسائل خود بھی یہی ظاہر کر رہےہیں کہ ان کو پیدا کرنے والا ذہن کتاب اللہ اور سنت رسول میں نظر نہیں رکھتا ۔ اب اگر میں یہ کہوں تو اس پر بُرا نہ مانا جائے بلکہ اسے اس حق نصیحت کی ادائیگی سمجھا جائے جو ایک مسلمان کے لیےدوسرے مسلمان پر واجب ہے کہ علم کے بغیر دین کے مسائل میں رائیں قائم کرنا اور اُن کو دین قرار دےکر انفرادی یا اجتماعی زندگی کےلیے اصول بنا لینا خود سب سےبڑا فسق اور تمام کہائر سے بڑھ کر کبیرہ ہے۔ اس لیے کہ ہم اگر مسلمان ہو سکتے ہیں تو اُس دین پر ایمان لا کر اور اس کی پیروی کر کے ہی ہو سکتے ہیں جو خدا کی کتاب اور رسول کی سخت میں پیش کیا گیا ہے۔ اور اس ایمان اور اتباع کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی اصول اخذ کریں اور اپنے عقائد و اعمال کے لیے جن چیزوں کو بنیاد قرار دیں وہ سب کتاب اللہ اور سنت رسول سے ماخوذ ہوں۔ لیکن جو شخص یا گروہ قرآن اور سنت میں بصیرت اور تفقہ نہ رکھتا ہو اور اپنے رجحانات کی بنا پر کچھ رائیں قائم کر کے ان کو دین قرار دے بیٹھے وہ حقیقت میں دین کا پیرو تو نہیں ہے اپنی آراء اور رجحانات کا پیرو ہے۔ اس گناہ کے مقابلے میں دوسرے کبائر کی کیا حقیقت ہے۔

اس سلسلے میں یہ بات بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ دین پر ایمان لانے کے لیےجو مجمل علم کافی ہے اور دین کے موٹے موٹے اصول جاننے کے لیے قرآن کی عام فہم تعلیمات اور حدیث پر جو سرسری نظر کافی ہے اُسے مسائل دینی میں رائے قائم کرنے اور دینی طریق پر لوگوں کی رہنمائی کرنے کے لیے کافی سمجھ لینا غلطی ہے اور اس غلطی کا نتیجہ وہ بڑی خطرناک غلطی ہے جس کی طرف میں نے اُوپر اشارہ کیا ہے۔

اس مختصر تمہید کے بعد اب میں ان مسائل کا مختصر جواب دیتا ہوں جو آپ نےمیرےسامنےپیش کیے ہیں :-

کفر در اصل اس چیز کا نام ہے کہ کسی آدمی کے سامنے دین کو پیش کیا جائے یا دین اس کے سامنے پیش ہو اور وہ جان لے کہ یہ کیا چیز ہے اور پھر وہ اس کے ماننے یا اس کےمطالبات اور احکام کے آگے سر جھکانے سے انکار کر دے۔ نادانی کی حالت جس میں آدمی دین کو جانتا ہی نہ ہو اور اس وجہ سے اُس کے خلاف زندگی بسر کر رہا ہو کفر کی تعریف میں نہیں آتی بلکہ اس کو جاہلیت کہتے ہیں۔ کفار عرب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلےجاہلیت میں مبتلا تھے ۔ جب آپ نے دین پیش کیا اور انھوں نے اسے رڈ کر دیا تب وہ کافر قرار پائے۔

پھر کفر کے متعلق یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے دو پہلو ہیں :-

ایک پہلو سے کفر اس منکرانہ اور باغیانہ حالت کو کہتے ہیں جو اپنی اصل حقیقت کےاعتبار سے خروج از ایمان ہو۔

دوسرے پہلو سے کفر اُس غیر مسلمانہ حالت کو کہتے ہیں جس کے رُونما ہونے پر ایک آدمی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا اور مسلمانوں کی سوسائٹی سے اس کا تعلق کاٹ ڈالا جائے گا۔

پہلی قسم کےکفر کو معصیت کےساتھ خلط ملط کرنا زیادتی اور خلاف قرآن ہے۔اس میں شک نہیں کہ معصیت ایمان کی ضد ہے۔ لیکن مجرد معصیت خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہو لازماً ایمان کے مستقل طور پر سلب ہو جانے کی موجب نہیں ہوتی ۔ کافر کی طرح مومن سے بھی بڑے سے بڑا گناہ سرزد ہو سکتا ہے۔ البتہ جو چیز مومن کے گناہ اور کافر کےگناہ میں فرق کرتی ہےوہ یہ ہے کہ مومن جب گناہ کرتا ہے تو عین ارتکاب گناہ کی حالت میں تو ایمان سے نکلا ہوا ہے لیکن جب وہ شہوات نفس کے اس غلبے اور نادانی کے اس پردے سے جو عارضی طور پر اس کے قلب پر پڑ گیا تھا یا ہر نکل آتا ہے تو اس کو شرم ساری لاحق ہوتی ہےخدا سے نادم ہوتا ہے۔آخرت کی سزا کا خوف کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ پھر ایسی حرکت کا ارتکاب نہ ہو ۔ اس قسم کی معصیت خواہ کتنی ہی بڑی ہو آدمی کو کا فرنہیں بناتی ، صرف گناہ گار بناتی ہے۔اور تو یہ اس کو پھر ایمان کی طرف واپس لے آتی ہے۔ برعکس اس کے کافر کے گناہ کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ اسی گناہ گارانہ طرزعمل اور طرز زندگی کو اپنے لیےمناسب اور لذیذ اور درست سمجھتا ہے۔ اس کو اس بات کی کچھ پروا نہیں ہوتی کہ خدا اور رسول نے اس فعل کو گناہ اور حرام قرار دیا ہے۔ وہ پورے اصرار و استکبار کے ساتھ اُسی فعل کا ارتکاب کیے جاتا ہے۔ ندامت اس کے پاس نہیں پھنکتی۔ یہ دوسری قسم کی گناہ گاری سلب ایمان (۱) کی موجب ہے خواہ اس جذبے کے ساتھ کوئی بڑا گناہ نہیں بلکہ کوئی ایسا کام ہی کیا جائے جس کو عرف عام میں صغیرہ سمجھا جاتا ہو۔ ان دونوں قسم کے گناہ گاروں کو ایک ہی حیثیت دینا اور ان پر یکساں کفر کا حکم لگا دینا بالکل غلط ہےاور اس قسم کی افراط و تفریط خود کبیرہ کی تعریف میں آتی ہے۔ پہلی صدی سے آج تک بجز خارجیوں کے یا معتزلہ کےایک گروہ کے اور کسی نے یہ رائے قائم نہیں کی ہے۔ مزید برآں آپ چاہے اصولی طور پر یہ کہہ دیں کہ اشکبار کے ساتھ حکیم خدا و رسول کو جان بوجھ کر ٹھکرا دینے والا کافر ہو جاتا ہے لیکن کسی شخص خاص کے متعلق یہ حکم لگا دینے کا آپ کو حق نہیں ہے کہ وہ کا فرانہ طرز عمل کی وجہ سے کافر ہو گیا ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ یہ معاملہ صرف اللہ ہی کےفیصلہ کرنے کا ہےکہ کس شخص کے اندر حقیقی غیر ایمانی حالت پائی جاتی ہےاور کس میں نہیں پائی جاتی۔

اب دوسری قسم کے کفر کو لیجیے جو کسی انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دینے اور مسلمانوں کی برادری سے اس کا رشتہ کاٹ دینے کے لیے کافی ہو ۔ اس چیز کے متعلق جان لینا چاہیے کہ شریعت نے ایسی تکفیر کو ہر کس و ناکس کی رائے کا کھلونا نہیں بنایا ہے۔ جس طرح کسی انسان کے جسمانی قتل کےلیے یہ شرط ہے کہ نظام اسلامی موجود ہو با اختیار قاضی تمام شہادتوں اور پوری صورت حال پر اچھی طرح غور کر کے پوری تحقیق کے ساتھ یہ رائے قائم کرے کہ یہ شخص واجب القتل ہے تب اس کو قتل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص کے روحانی قتل یعنی تکفیر کے لیے بھی یہ شرط ہے کہ اس کے اوپر جو الزام کفر لگایا گیا ہو اس کی ایک قاضی شرع پوری تحقیق کرے اس کا اپنا بیان لئے اس کے دوسرے اقوال و افعال کو بھی جانچ کر دیکھئے شہادتوں پر بھی غور کرئے اور اس کے بعد فیصلہ کرے کہ یہ شخص جماعت مسلمین سے کاٹ کر پھینک دینے کے لائق ہے۔ جہاں ایسا نظام موجود نہ ہو نہ قضائے شرعی ہو اور نہ وہ شرائط جو تکفیر کے لیے ناگزیر ہیں پوری ہو سکتی ہوں، وہاں تکفیر کا فیصلہ کر دینا اور کسی شخص یا گروہ کو مسلم سوسائٹی سے خارج قرار دینا اگر صحت کا احتمال رکھتا ہے تو غلطی کا احتمال بھی رکھتا ہے۔ نیز یہ افراد کے اور بے اختیار جماعتوں کے شرعی تو اختیارات سے باہر ہے اور اس کا فساد اُس فساد سے کچھ کم نہیں ہے جو غیر مومن لوگوں کےمسلم سوسائٹی کے ساتھ جڑے رہنے سے رونما ہوتا ہے۔


١- یعنی سلب ایمان باعتبار حقیقت نہ کہ باعتبار احکام ظاہر ۔

جو گروہ یا جو شخص فی الواقع عوام الناس کی دینی اصلاح کرنا چاہتا ہو اس کو چاہیےکہ پہلے مسلمانوں کے مختلف طبقات کا باہمی فرق اچھی طرح سمجھ لے۔ ایک طبقہ جہالت میں مبتلا ہے۔ دوسرا طبقہ گناہ گار ہے۔ تیسرا طبقہ حقیقی کفر کی پستی میں گر چکا ہے۔ چوتھا طبقہ فی الواقع اس قابل ہو چکا ہے کہ مسلمانوں کی سوسائٹی سے کاٹ پھینکا جائے۔ ان سب کو ایک ہی لکڑی سے ہانکنا درست نہیں ہے۔

جاہلوں تک دین کا علم پہنچانے کی کوشش کیجیے اور جب وہ اپنے آپ کو خود مسلمان سمجھتے ہیں تو خواہ مخواہ انھیں یہ یقین دلانے کی کوشش نہ کیجیے کہ تم مسلمان نہیں ہو ۔ اس کےبجائے آپ کو یوں کہنا چاہیے کہ جب تم مسلمان ہو اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہو مسلمان رہنا چاہتے ہو تو جانو کہ اسلام کیا ہے اور جان کر اس کی پیروی کرو۔

گناہ گاروں کو خدا کا خوف دلائیے اور ان کے اندر ایمان کی جو چنگاری دبی ہوئی ہے اس کو بھڑکانے کی کوشش کیجیے۔

جن لوگوں کے اندر حقیقی کفر محسوس ہوتا ہے ان کو کافر کہنے اور ان کی تکفیر کا اعلان کرنے پر اصرار نہ کیجیے بلکہ اپنی جگہ یہ سمجھ کر کہ یہ لوگ حالت کفر میں مبتلا ہو چکے ہیں ان کو ایمان کی دعوت دیجیے اور حکمت و موعظت حسنہ سے اُن کے دلوں میں ایمان اتارنے کی سعی فرمائیے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی طبیب کسی شخص کے اندر دق کی بیماری محسوس کرے تو اس کا اپنی جگہ یہ سمجھ لینا اور جان لینا تو ضروری ہے کہ یہ دق میں مبتلا ہے کیونکہ اس کے بغیر تو اس کا علاج ہی نہیں کیا جا سکتا، لیکن ایک طبیب کے لیے اس سے بڑی اور کوئی حماقت نہیں ہو سکتی کہ وہ جس کسی میں رق محسوس کرے اس کے منہ پر بھی پھٹ سےکہہ دے کہ تو دق میں جتلا ہے۔ یہ اس کے علاج کا نسخہ تو نہیں ہے بلکہ مار دینے کا نسخہ ہے۔

رہے وہ لوگ جو صریح طور پر آپ کو اس قابل نظر آتے ہیں کہ مسلمانوں کی سوسائٹی سے ان کو کاٹ پھینکا جائے تو ان کے معاملے میں صحیح طرز عمل یہ ہے کہ جب قضائے شرعی موجود نہیں ہے اور ایسا نظام نافذ نہیں ہے کہ جو شخص اسلامی نظام جماعت سےنکال دینے کے قابل ہے اس کو واقعی نکال دیا جائے تو تکفیر اور خروج از ایمان کے اعلانات سے پرهیز کیا جائے اور صرف اس بات پر اکتفا کیا جائے کہ اہل ایمان خود ہی ایسے لوگوں سے ولایت اور محبت کے ساتھ تعلقات اور دوستی و همنشینی ترک کر دیں۔ مر تبلیغ کے لیےملنے کا دروازہ کسی حال میں بند نہ کرنا چاہیے۔

شادی بیاہ کے متعلق آپ کے طرز عمل کی بنیاد وہی غلط فہمی ہے جو تکفیر کے باب میں آپ لوگوں کو لاحق ہوئی ہے اور اس کے دُور ہو جانے سے یہ سوال خود بخود حل ہو جاتا ہے۔ لیکن میں مزید توضیح کے لیے اتنا کہہ دینا کافی سمجھتا ہوں کہ جو مسلم سوسائٹی اس وقت پائی جاتی ہے اس کو جملہ واحدہ قرار دے کر اس پوری سوسائٹی کے ساتھ ایک ہی طرح کا سخت معاملہ کرنا بڑی زیادتی اور ایک غیر شرعی طرز عمل ہے۔ اس سوسائٹی میں ہر طرح کےلوگ پائے جاتے ہیں۔ وہ بھی جو سچے مومن دین دار اور صالح ہیں ۔ وہ بھی ہیں جو جاہلیت میں مبتلا ہیں۔ وہ بھی ہیں جو علم اور ایمان کے باوجود گناہوں میں آلودہ ہیں۔ وہ بھی ہیں جن کے اندر کفر پایا جاتا ہے اور وہ بھی ہیں جو اس قابل تو ہیں کہ انھیں مسلم سوسائٹی سےکاٹ پھینکا جائے مگر اس وقت محض نظام اسلامی نہ ہونے کی وجہ سے اُن کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان سب کو ایک گروہ قرار دے کر ان سے اہل کتاب کا سا معاملہ کرنا آخر کس شریعت کی رو سے صحیح ہے؟ ان میں جو لوگ مومن اور دین دار ہیں ان سے شادی بیاہ کےتعلقات محض اس وجہ سے منقطع کرنا کہ وہ آپ کی جماعت میں نہیں ہیں بے جا تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟ اس قسم کی تفریقین کرنے کا شریعت نے آپ کو حق نہیں دیا ہے۔ رہےجاہلیت میں پڑے ہوئے لوگ اور وہ لوگ جو فسق و فجور اور کافرانہ خصائل میں مبتلا ہیں، تو ان سے فی الواقع شادی بیاہ کے تعلقات قائم نہیں کرنے چاہیں، نہ اس بنا پر کہ وہ سب کے سب کا فر ہیں، بلکہ اس بنا پر کہ شریعت میں ہم کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم شادی بیاہ کےمعاملات میں سب سے پہلے آدمی کے دین اور تقومی کو دیکھیں۔

غللباً جس چیز نے آپ لوگوں کو اپنی جماعت سے باہر کے تمام مسلمانوں سے اہل کتاب کا سا معاملہ کرنے پر آمادہ کیا ہے وہ التزام جماعت کے متعلق احادیث کے وہ احکام ہیں جن کی رُو سے جماعتی زندگی ہی اسلامی زندگی ہے اور جماعت کے بغیر جو زندگی ہے وہ جاہلیت کی زندگی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپ حضرات اچھے خاصے صالح مسلمانوں کو بھی، جو آپ کی جماعت سے باہر ہیں من خلخل فِي النَّارِ کا مصداق تھیرا کر انھیں بیٹیاں دینا جائز نہیں سمجھتے۔ لیکن اگر یہ آپ کا خیال ہے تو قطعاً غلط خیال ہے۔حدیث میں جس جماعت کو یہ حیثیت دی گئی ہے کہ اس سے علیحد گی اسلام سے علیحدگی کی ہم معنی ہے وہ ”الجماعت ہے نہ کہ کوئی جماعت جسے چند مسلمان مل کر بنا لیں۔ اور "الجماعت" کا اطلاق صرف اس جماعت پر ہو سکتا ہے جو :

(١) خالص اقامت دین کے لیے بنی ہو ۔ یعنی جس کے وجود کا مقصد ہی یہ ہو کہ اللہ کے دین کو بحیثیت ایک نظام زندگی کے عملاً قائم کرے۔

(۲) جس میں اہل ایمان کا سواد اعظم شامل ہو۔

(۳) جس کے ہاتھوں دین کے وہ تمام کام انجام پا رہے ہوں جن کی خاطر اللہ تعالی چاہتا ہے کہ دنیا میں ایک اُمستند مسلمہ قائم ہو۔

ایسی جماعت اگر موجود ہو تو اس سے انقطاع یقیناً دین سے انقطاع ہے اور اس شخص کا ایمان و اسلام ہرگز معتبر نہیں ہے جو اس سے علیحدہ ہو یا علیحدہ رہے لیکن اس نظام جماعت کے درہم برہم ہو جانے اور اُمت کا شیرازہ بکھر جانے کے بعد جو جماعتیں اس رض سے بنائی جائیں کہ "الجماعت" کے فقدان کی تلافی ہو ان میں سے کسی کو بھی الجماعت کے شرعی حقوق و اختیارات اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ عملاً الجماعت کے مرتے کو نہ پہنچ جائے ۔ آپ خواہ کتنے ہی صالح اور نیک نیت ہوں اور آپ کا مقصد خواہ ٹھیک ٹھیک وہی ہو جو انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا مقصد تھا اور آپ کے اصول اجتماع بھی وہی ہوں جو اسلامی نظام جماعت کے اُصول ہیں، بہر حال شریعت آپ کو یہ حق ہر گز نہیں دیتی کہ آج آپ چند آدمی مل کر ایک جماعت بنا ئیں اور کل یہ اعلان کر دیں کہ دنیا بھر کے وہ سارے مسلمان غیر مسلم ہیں جو آپ کی اس جماعت میں شامل نہیں ہیں اور ہر اس مسلمان کی موت جاہلیت کی موت ہے جس کی گردن میں آپ کے امیر کی بیعت کا حلقہ نہیں ہے۔ اس طرح کا رویہ آپ اختیار کریں گے تو اپنے شرعی حقوق سے تجاوز کریں گے اور اصلاح کے بجائے اُمت کے اندر مزید خرابیوں کے موجب بنیں گے ۔ آپ خود ہی ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ آخر اس بچارے صادق الایمان وصالح العمل مسلمان کے کافر ہونے کی کیا وجہ ہے جو استکبار و نفسانیت کی بنا پر نہیں بلکہ نا واقفیت یا عدم اطمینان کی وجہ سے آپ کی جماعت میں شامل نہیں ہوتا؟ اور اس بات کی کون سی معقول وجہ ہے کہ جماعت بنانے کا حق صرف آپ کو حاصل ہو اور دوسرے مسلمانوں کو نہ ہو؟ دور انتشار میں تو اصلاح کی کوشش کرنے والا گر وہ لازماً ایک ہی نہیں ہوتا بلکہ بیک وقت ایسے بہت سےگروہ موجود ہوتے ہیں اور ہو سکتےہیں جو سیح مقصد کے لیے صحیح طریقہ پر کام کر رہےہوں۔ اور بکثرت افراد ایسے بھی ہوتے ہیں اور ہو سکتے ہیں جو ایک مدت تک یہی فیصلہ نہ کر سکیں کہ ان میں سے کسی کے ساتھ شامل ہوں یا نہ ہوں اور شامل ہوں تو کس کے ساتھ ہوں۔ اس حالت میں کسی گروہ کا اپنے لیے وہ حقوق ثابت کرنا جو شریعت میں صرف الجماعت کو دیے گئے ہوں، جھوٹ بھی ہے اور فساد انگیز بھی ۔ ایسے دعوے کرنے کے بجائےہر گروہ کو اپنی اپنی جگہ کام کرنا چاہیئے اور اپنےدل میں یہ مخلصانہ خواہش رکھنی چاہیےکہ کسی طرح پھر وہی الجماعت وجود میں آجائے جو عہد خلافت راشدہ میں موجود تھی۔ اور ہمیشہ اس بات سے چوکنا رہنا چاہیے کہ کہیں اس کی اپنی گروہ بندی اس الجماعت کی پیدائش میں۔مددگار ہونے کے بجائے الٹی مانع و مزاحم نہ ہو جائے۔

ترجمان القرآن

ذی القعده و ذی الحجه ۱۳۶۴ھ / نومبر دسمبر ۱۹۴۵ء)

کتاب تفہیمات، دوم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Understandings