تفہیمات، دوم

قرآن

قرآن

اپنے لانے والے کو کس رنگ میں پیش کرتا ہے؟

دنیا میں انسان کی ہدایت و رہنمائی کےلیےہمیشہ ایسےپاک نفوس پیدا ہوتےرہے ہیں جنھوں نے اپنی زبان اور اپنے عمل سےاس کو حق و صداقت کا سیدھا راستہ دکھایا ہے۔لیکن انسان اکثر اُن کےاس احسان کا بدلہ علم ہی کی شکل میں دیتا رہا ہے۔ اُن پر ظلم صرف اُن کے اپنے مخالفوں ہی نے نہیں کیسے کہ اُن کے پیغام سے بے رخی برقی اُن کی صداقت سے انکار کیا اُن کی دعوت کو رد کر دیا اور ان کو تکلیفیں دے کر راہ حق سے پھیر نےکی کوشش کی۔ بلکہ اُن پر ظلم اُن کے عقیدت مندوں نے بھی کیا کہ ان کے بعد ان کی تعلیمات کو مسخ کیا، ان کی ہدایتوں کو بدل ڈالا اُن کی لائی ہوئی کتابوں میں تحریف کی اور خود اُن کی شخصیتوں کو اپنی عجائب پسندی کا کھلونا بنا کر الوہیت اور خدائی کا رنگ دے دیا۔پہلی قسم کا ظلم تو ان نفوس قدسیہ کی زندگی تک یا حد سے حد اس کےچند سال بعد تک ہی محمد و در رہا۔ مگر یہ دوسری قسم کا ظلم ان کے بعد صدیوں تک ہوتارہا اور بہت سے بزرگوں کےساتھ اب تک ہوئے جا رہا ہے۔

دُنیا میں آج تک جتنے داعیان حق مبعوث ہوئے ہیں سب نے اپنی زندگی ان جھوٹے خداؤں کی خدائی ختم کرنے میں صرف کی ہے جنھیں انسان نے خدائے واحد کو چھوڑ کر اپنا خدا بنا لیا تھا۔ لیکن ہمیشہ یہی ہوتا رہا کہ ان کے بعد ان کے پیروؤں نے جاہلانہ عقیدت کی بنا پر خود انہی کو خدا یا خدائی میں خدا کا شریک بنالیا اور وہ بھی اُن بتوں میں شامل کر لیے گئے، جنھیں توڑنے میں انھوں نے اپنی تمام عمر کی منتیں صرف کر دی تھیں ۔

دراصل انسان اپنے آپ سے کچھ ایسا بدگمان ہے کہ اسے انسانیت میں قدسی و ملکوتی صفات کے امکان اور وجود کا بہت کم یقین آتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو محض کمزور ہوں اور پستیوں ہی کا مجموعہ سمجھتا ہے۔ اس کا ذہن اس حقیقت کبری کے علم و اذعان سے عموماً خالی رہتا ہے کہ اس کا لبد خاکی میں حق جل مجدہ نے وہ قوتیں بھی ودیعت کی ہیں جو اس کو بشر ہونے اور بشری صفات سے متصف رہنے کے باوجود عالم پاک میں ملائکہ مقربین سےبھی بلند درجہ تک پہنچا سکتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی اس دُنیا میں کسی انسان نے اپنےآپ کو خدا کےنمائندے کی حیثیت سے پیش کیا ہےتو اس کےہم جنسوں نےپہلے تو یہ دیکھ کر کہ یہ تو ہماری ہی طرح گوشت پوست کا انسان ہےاُسےخدا رسیدہ ماننے سےصاف انکار کر دیا اور جب بالآخر اس کی ذات میں غیر معمولی محاسن کا جلوہ دیکھ کر سر عقیدت جھکایا تو پھر کہا کہ جو ہستی ایسی غیر معمولی خوبیوں کی مالک ہو وہ ہرگز بشر نہیں ہوسکتی۔پھر کسی گروہ نےاس کو خدا بنایا، کسی نے حلول کا عقیدہ ایجاد کر کے یقین کر لیا کہ خدا نے اس کی شکل میں ظہور کیا تھا، کسی نے اس کے اندر خدائی صفات اور خداوند انہ اختیارات کا گمان کیا اور کسی نے حکم لگا دیا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے۔ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُونَ

دُنیا کےکسی پیشوائےدین کی زندگی کو لےلو۔تم دیکھو گےکہ اس کی ذات پر سب سےزیادہ ظلم اس کے معتقدین ہی نے کیا ہے۔ انھوں نےاس پر اپنےتخیلات و اوهام کےاتنے پردے ڈال دیے ہیں کہ اس کی شکل وصورت دیکھنا ہی بالکل محال ہو گیا ہےصرف یہی نہیں کہ ان کی محرف کتابوں سےیہ معلوم کرنا مشکل ہو گیا ہےکہ اس کی اصلی تعلیم کیا تھی۔ بلکہ ہم اُن سے یہ بھی معلوم نہیں کر سکتےکہ وہ خود اصل میں کیا ہیں' اس کی پیدائش میں انجم نیگی' اس کی طفولیت میں انجونگی، اس کی جوانی اور بڑھاپے میں اجمونگی، اس کی زندگی کی ہر ہر بات میں انجونگی اور اس کی موت تک میں انجونگی، غرض ابتدا سےلےکر انتہا تک وہ ایک افسانہ ہی افسانہ نظر آتا ہے اور اس کو اس شکل میں پیش کیا جاتا ہے کہ یا تو وہ خود خدا تھا، یا خدا کا بیٹا تھا، یا خدا اس میں حلول کر گیا تھا، یا کم از کم وہ خدائی میں کسی حد تک شریک وسہیم تھا۔

مثال کےطور پر گوتم بدھ کو دیکھو۔بدھ مذہب کےنہایت گہرےمطالعہ سےصرف اتنا اندازه کیا جا سکتا ہےکہ اُس اُولُو العزم انسان نےبرہمنیت کےبہت سےنقائص کی اصلاح کی تھی اور خصوصیت کےساتھ اُن بے شمار ہستیوں کی خدائی کا بطلان کیا تھا جن کو اس عہد کے لوگوں نے اپنا معبود بنا لیا تھا۔ مگر اس کے انتقال کو پوری ایک صدی بھی نہ گزری تھی کہ ویسالی کی کونسل میں اس کے پیروؤں نے اس کی تمام تعلیمات کو بدل ڈالا۔اصل سوتروں کے بجائے نئے سوتر بنا لیے اور اصول اور فروع میں اپنے اہواؤ افکار کےمطابق جس طرح چاہا تصرف کر ڈالا ۔ایک طرف انھوں نے بودھ کے نام سے اپنےمذہب کے ایسے عقائد مقرر کر لیے جن میں خدا کا سرے سے وجود ہی نہ تھا اور دوسری طرف بودھ کو عقل کل مدار کائنات اور ایک ایسی ہستی قرار دے لیا جو ہر عہد میں دُنیا کی اصلاح کےلیے بدھ بن کر آیا کرتی ہے۔ اس کی پیدائش، زندگی اور گذشتہ و آئندہ جنموں کےمتعلق ایسے ایسے عجیب افسانے بنا لیے جن کو پڑھ کر پروفیسر ولسن جیسے محققین حیران ہو کر یہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ تاریخ میں فی الواقع بودھ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ تین چار صدی کے اندران افسانوں نے بودھ میں اُلوہیت کا رنگ بھر دیا اور کنشک کے زمانہ میں بودھ مت کےاعیان و آئمہ کی ایک بہت بڑی کونسل نے(جو کشمیر میں منعقد ہوئی تھی ) فیصلہ دے دیا کہ بوده در اصل خدا کا مادی ظہور تھا یا بالفاظ دیگر خدا اس کے جسم میں حلول کر گیا تھا۔

یہی سلوک رام چندر جی کے ساتھ ہوا۔ رامائن کے مطالعہ سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ راجہ رام چندر جی محض ایک انسان تھے ۔ نیک دلی انصاف، شجاعت فیاضی، تواضع علم اور ایثار میں کمال کا مرتبہ تو انھیں ضرور حاصل تھا تمر الوہیت کا شائبہ تک ان میں نہ تھا۔ لیکن بشریت اور ان اعلیٰ صفات کا اجتماع ایک ایسا معما ثابت ہوا کہ اہل ہند کی عقل اس کو حل نہ کر سکی۔ چنانچہ رام چندر کی وفات پر ایک زمانہ گزرنے کے بعد یہ عقیدہ تسلیم کر لیا گیا کہ ان کے اندر وشنو (1) نے حلول کیا تھا اور وہ ان ہستیوں میں سے ایک تھے جن کی شکل میں وشنو جی سنسار کی اصلاح کے لیے باوقات مختلفہ ظہور کرتے رہے ہیں۔

سری کرشن اس معاملہ میں ان دونوں سے زیادہ مظلوم ہیں ۔ بھگوت گیتا تحریف و تنسیخ کے کئی عملوں سے نکل کر جس شکل میں ہم تک پہنچی ہے اس کے عمیق مطالعہ سےکم از کم اتنا معلوم ہوتا ہے کہ کرشن جی ایک موحد تھے اور انھوں نے ہستی باری تعالیٰ کے ہمہ گیر قادر مطلق اور شدید القوی ہونے کا وعظ کیا تھا۔ لیکن مہا بھارت وشنو پر ان بھا گوت پران وغیرہ کتابیں اور خود گیتا اُن کو اس طرح پیش کرتی ہیں کہ ایک طرف وہ وشنو کے جسمانی مظہر خالق موجودات اور مدبر کائنات نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ایسی ایسی کمزوریاں اُن کی طرف منسوب ہیں کہ انھیں خدا تو خدا پاکیزہ اخلاق کا انسان بھی تسلیم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گیتا میں کرشن جی کے یہ اقوال ملتے ہیں:

"اس دُنیا کا ماں باپ سہارا اور بابا میں ہی ہوں۔ جو کچھ پاکیزہ یا جو کچھ جاننے کے قابل ہے وہ سب اور اونکار (2)، رگ ویڈ یجر وید سام دید بھی میں ہی ہوں سب کا پالنے والا مالک گواہ جائے قیام جائے پناہ باعث پیدائش، باعث خاتمہ باعث قیام خزانہ اور پیدائش کا لازوال بیج میں ہی ہوں۔ ارے اربن ! میں گرمی دیتا ہوں، میں پانی روکتا ہوں، میں برساتا ہوں، میں امرت ہوں، اور موت ست اور است (3) بھی میں ہی ہوں“ ۔ (۹: ۱۷-۱۹)


١- وشنو ہندوؤں کے موجودہ عقائد کے مطابق کائنات کی پرورش کرنے والے خدا یا دیوتا کا نام ہے۔غالباً اصل میں یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا تصور تھا جسے بعد میں ایک مستقل شخصیت قرار دے لیا گیا۔ہندوؤں میں دیوتا پرستی کی ابتدا اسی طرح سے ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہر صفت کو انھوں نےذات حق سے الگ کر کے بجائے خود ایک خدا ٹھیرا لیا۔

٢- ساهوکار گزار۔

٣- یعنی سچ اور جھوٹ

"تمام دیوتا گن (۱) اور میرشی (2) میری پیدائش کو نہیں جانتے ۔ کیونکہ سب دیوتاؤں اور مہر شیوں کی ابتداء بہر حال مجھ ہی سے ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ میں پرتھوی (3) وغیرہ سب لوگوں (4) کا بڑا ایشور ہوں اور میرا جنم یعنی آغاز نہیں ہے وہی انسانوں میں موہ (5) سےآزاد ہو کر سب پاپوں سے چھوٹ جاتا ہے ۔ (۲:۱۰-۳)

" ہے گڈا کیش !(6) سب ' جانداروں میں رہنے والی آتما (7) یا ہوں ۔ سب جانداروں کا آغاز وسط اور انجام بھی میں ہی ہوں۔بارہ آویتوں میں وشنو (8) میں ہوں ۔ تیسبو یوں (9) میں کرنوں کی مالا والا سورج مرتوں میں مریچی (10) اور نکھشتر وں میں چندر ماں (11)بھی میں ہوں ۔ ( ۲:۱۰-۲۱)

"ایسا کوئی متحرک یا ساکن جاندار نہیں جو مجھ سے باہر ہو' میں صرف اپنے ایک ہی حصہ سے اس تمام جگت میں پھیلا ہوا ہوں“۔(۴۴-۲۹:۱۰)

"ہے پانڈ وا جو شخص اس بدھی (12) کے ساتھ کرم (13) کرتا ہے کہ یہ سب کرم میرے یعنی پر میشور کے ہیں، جو میرا بھروسہ رکھ کر اور سب تعلقات چھوڑ کر جانداروں کے بارے میں نردیہ ( ہے۔ وہ میرا بھگت مجھ میں مل جاتا ہے ۔ (۵۵:۱۱)


(1) یعنی دیوتا لوگ ۔ (2) یعنی اولیا۔ (3) زمین ۔ (4) لوک یعنی عالم جہان ۔ (5) یعنی لگاؤ دُنیا کی محبت ۔ (6) یعنی اے گندھے ہوئے بالوں والے مراد ارجن ہے۔ (7) یعنی تمام جانداروں کی رُوح۔ (8) ہندوؤں کے تمام دیوتاؤں میں سے۱۲ دیوتا سب سے بڑے ہیں جن کو آو یہ کہتے ہیں اور وشنو ان میں سب سے بڑا دیوتا ہے۔ یہ ۱۲ آدتیہ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق اویتی کے بیٹے تھے ۔ (9) تحسبوی یعنی نیر (10) ہندوؤں کی اصطلاح میں مُرت ان ۴۹ دیوتاؤں کا نام ہے جو ہوا کا انتظام کرتے ہیں اور ان کے سردار کا نام مریچی ہے۔ (11) یعنی تاروں میں چاند۔ (12) بدھی یعنی شعور ۔ (13) یعنی فعل کام۔ (14) عداوت سے مبرا۔

"میں سب جانداروں کا مالک ہوں اور پیدائش سے بالا تر ہوں۔اگر چہ میرے آتم مروپ میں کبھی تغیر نہیں ہوتا (۱) مگر پھر بھی میں اپنی پر کرتی ( خاصیت) میں قائم ہو کر اپنی مایا (2) سے جنم لیا کرتا ہوں ۔ ہے بھارت ! (3) جب دھرم کا تنزل ہوتا ہے اور ادھرم کا زور پھیل جاتا ہےتب میں خود ہی جنم لیا کرتا ہوں۔نیکوں کی حفاظت اور بڑوں کی ناش کرنے کے لیے اور بیگ یک (4) میں دھرم قائم کرنے کے لیے میں جنم لیا کرتا ہوں“ ۔ (۶:۴-۸)

ان اقوال میں صاف طور پر گیتا کے کرشن نے خدا ہونے کا دعوی کیا ہے۔(5) مگر دوسری طرف بھاگوت پر ان انہی کرشن جی کو اس شکل میں پیش کرتی ہے کہ وہ نہاتے میں گوپیوں کے کپڑے چھپالیتے ہیں، اُن سے لطف اندوز ہونے کے لیے اتنے ہی ہم پیدا کر لیتے ہیں جتنی کہ گو پیاں تھیں اور جب شک رشی سے راجہ پرکشت پوچھتا ہے کہ ”خدا تو اوتار کی شکل میں اس لیے ظاہر ہوتا ہے کہ سچا دھرم پھیلائے ۔ پھر یہ کیسا خدا ہے کہ دھرم کے تمام اصول کے خلاف دوسروں کی عورتوں سے ناجائز تعلقات رکھتا ہے؟ تو رشی کو یہ اعتراض رفع کرنے کے لیے اس حیلہ کے دامن میں پناہ لینی پڑتی ہے کہ " خود دیوتا بھی بعض اوقات نیکی کی راہ سے ہٹ جاتے ہیں، مگر اُن کے گناہ ان کی ذات پر اسی طرح اثر نہیں کرتےجس طرح آگ تمام چیزوں کو جلانے کے باوجود مورد الزام نہیں ہوسکتی۔"

کوئی سلیم العقل آدمی یہ باور نہیں کر سکتا کہ کسی بلند پایہ علم دین کی زندگی ایسی ناپاک ہو سکتی ہے اور نہ وہ یہی تصور کر سکتا ہے کہ کسی نے مذہبی پیشوا نے فی الحقیقت اپنےآپ کو انسانوں کے اور کائنات کے رب کی حیثیت سےپیش کیا ہوگا۔لیکن قرآن اور بائییل کےمتقابل مطالعہ سےیہ حقیقت واضح طور پر ہمارے سامنے روشن ہو جاتی ہےکہ قوموں نےاپنےذہنی انحطاط اور اخلاقی زوال کےدور میں کس طرح دنیا کےپاکیزہ ترین انسانوں کی سیرتوں کو ایک طرف گندی سے گندی شکل میں ڈھالا ہے تا کہ خود اپنی کمزوریوں کےلیےوجہ جواز پیدا کریں اور دوسری طرف ان کی شخصیتوں کےگرد کیسےکیسےوہمی افسانے جمع کر دیے ہیں۔اس لیےہم سمجھتے ہیں کہ یہی سب کچھ کرشن جی کے ساتھ بھی ہوا ہوگا اور ان کی اصل تعلیم اور اصل شخصیت اُس سے بالکل مختلف ہوگی جیسی ہندوؤں کی کتابیں اسے پیش کرتی ہیں۔


(1) یعنی میری ذات میں کبھی تغیر نہیں ہوتا۔ (2) مایا یعنی قدرت یا تدبیر (3) بھارت یعنی نیک۔(4) ایک یعنی زمانہ (5) اگر گیتا خود اس بات کی مدعی ہوتی کہ وہ خدا کی کتاب ہے اور کرشن اس کے پیش کرنے والےنبی ہیں تو مندرجہ بالا اقوال بیشتر خدا کے قرار پا سکتے تھے اور کرشن جی کی طرف خدائی کا دعوئی منسوب نہ ہوتا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ یہ کتاب خود اپنے آپ کو کرشن کے اپدیش کی حیثیت سے پیش کرتی ہے۔ پوری گیتا میں کہیں کوئی اشارہ تک بھی اس بات کی طرف نہیں ہے کہ وہ کلام الہی ہے۔

جن بزرگوں کی نبوت معلوم و مسلّم ہے اُن میں سب سے بڑھ کر ظلم سید نا عیسیٰ علیہ السلام پر کیا گیا ہے۔ حضرت عیسی ویسے ہی ایک انسان تھے جیسے سب انسان ہوا کرتےہیں۔ بشریت کی تمام خصوصیتیں ان میں بھی اسی طرح موجود تھیں جس طرح ہر انسان میں ہوتی ہیں۔فرق صرف اتنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نےان کو حکمت و نبوت اور اعجاز کی قوتیں عطا فرما کر ایک بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کے لیے مامور فرمایا تھا۔ لیکن اول تو اُن کی قوم نے اُن کو جھٹلایا اور پورے تین سال بھی ان کے وجود مسعود کو برداشت نہ کرسکی، یہاں تک کہ عین عالم شباب میں انھیں قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ پھر جب وہ اُن کے بعد اُن کی عظمت کی قائل ہوئی تو اس قدرحد سے تجاوز کر گئی کہ ان کو خدا کا بیٹا بلکہ عین خدا بنا دیا اور یہ عقیدہ اُن کی طرف منسوب کیا کہ خدا مسیح کی شکل میں اس لیے نمودار ہوا تھا کہ صلیب پر چڑھ کر انسان کےگناہوں کا کفارہ ادا کرےکیونکہ انسان فطرتاً گناہ گار تھا اور خود اپنےعمل سے اپنے لیے نجات حاصل نہ کر سکتا تھا۔ معاذ اللہ ! ایک نبی صادق اپنے پروردگار پر اتنا بڑا بهتان کس طرح اٹھا سکتا تھا۔ مگر اس کے معتقدوں نے جوشِ عقیدت میں اس پر یہ بہتان اُٹھایا اور اس کی تعلیمات میں اپنی ہوائے نفس کے مطابق اتنی تحریف کی کہ آج دنیا کی کسی کتاب میں (سوائے قرآن کے ) مسیح کی اصلی تعلیم اور خود اُن کی حقیقت کا نشان نہیں ملتا۔ بائیبل کے عہد جدید میں جو کتابیں اناجیل اربعہ کے نام سے موجود ہیں انھیں اٹھا کر دیکھ جاؤ ۔سب حلول ابنیت اور کمینت کے فاسد تخیلات سے آلودہ ہیں۔کہیں حضرت مریم کو بشارت ہوتی ہے کہ تیرا بچہ خدا کا بیٹا کہلائے گا (لوقا ۱: ۳۵)۔ کہیں خدا کی روح کبوتر کے مانند یسوع پر اتر آتی ہے اور پکار کر کہتی ہے کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے" (متی ۱۷:۱) ۔ کہیں مسیح خود کہتا ہے کہ میں خدا کا بیٹا ہوں اور تم مجھے قادر مطلق کے رہنی جانب بیٹھے ہوئے دیکھو گے (مرقس ۶۲:۱۴)۔ کہیں روز جزا میں خدا کے بجائے مسیح کو تخت جلال پر بٹھایا جاتا ہے اور وہ سزا و جزا کے فرمان کو نافذ کرتا ہے (متی ۳۱:۲۵-۴۶) ۔ کہیں مسیح کے منہ سے کہلوایا جاتا ہے کہ ”باپ جد میں ہے اور میں باپ میں ہوں“ (یوحنا 1: ۳۸)۔کہیں اس راست گو انسان کی زبان سے یہ غلط الفاظ نکلوائے جاتے ہیں کہ ” میں خدا میں سے نکل کر آیا ہوں ( ہو تا ۴۲:۸) ۔ کہیں اس کو اور خدا کو بالکل ایک کر دیا جاتا ہے اور اس کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے باپ کو دیکھا اور باپ مجھ میں رہ کر اپنے کام کرتا ہے (یوحنا ۹:۱۴-۱۰) ۔ کہیں خدا کی تمام چیزیں مسیح کی طرف منتقل کر دی جاتی ہیں ( یوحنا ۳ : ۳۵)۔ اور خدا اپنی خدائی کا سارا کاروبار مسیح کے سپرد کر دیتا ہے (یوحنا ۵ : ۲۰-۲۲)۔

ان مختلف قوموں نے اپنے پیشواؤں اور ہادیوں پر جتنے بہتان و افترا کے رڈےچڑھائے ہیں۔ ان کی اصل وجہ وہی غلو ہے جس کا ہم نے ابتدا میں ذکر کیا ہے۔ پھر اس خرابی کو جس چیز سے سب سے زیادہ مدد لی وہ یہ تھی کہ ان بزرگوں کے بعد اکثر حالات میں تو ان کی ہدایات اور تعلیمات کو تحریری شکل میں قلمبند ہی نہ کیا گیا اور بعض حالات میں اس طرف توجہ کی بھی گئی تو اس کی حفاظت کا کوئی خاص اہتمام نہ کیا گیا۔ اس لیے تھوڑا زمانہ گزرنے کے بعد اس میں اتنی آمیزش اور تحریف و ترمیم ہو گئی کہ اصل وجعل میں امتیاز کرنا محال ہو گیا۔ اسی طرح کسی واضح ہدایت کے موجود نہ ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جتنا جتنا زمانہ گزرتا گیا، حقیقت پر اوہام غالب آتے گئے اور چند صدیوں میں ساری حقیقت کم ہو گئی۔ صرف افسانے ہی افسانے باقی رہ گئے۔

دنیا کے تمام ہادیوں میں یہ خصوصیت صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے کہ آپ کی تعلیم اور آپ کی شخصیت ۱۳ صدیوں سے بالکل اپنےحقیقی رنگ میں محفوظ ہےاور خدا کےفضل سےکچھ ایسا انتظام ہو گیا ہےکہ اب اس کا بدلنا غیر ممکن ہے۔انسان کی اوہام پرستی اور انجو بہ پرستی سےبعید نہ تھا کہ وہ اس برگزیدہ ہستی کو بھی، جو کمال کے سب سے اعلیٰ درجہ پر پہنچ چکی تھی افسانہ بنا کر الوہیت سے کسی نہ کسی طرح متصف کر ڈالتی اور پیروی کےبجائےمحض ایک تحیر و استعجاب اور عبادت و پرستش کا موضوع بنا لیتی۔لیکن اللہ تعالیٰ کو بعثت انبیاء کے آخری مرحلہ میں ایک ایسا ہادی و رہنما بھیجنا منظور تھا جس کی ذات انسان کے لیے دائی نمونہ عمل اور عالمگیر سر چشمہ ہدایت ہو ۔اس لیےاس نےمحمد ابن عبدالله صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو اس ظلم سے محفوظ رکھا جو جاہل معتقدوں کے ہاتھوں دُوسرے انبیاء اور بادیان اقوام کے ساتھ ہوتا رہا ہےاول تو آپ کے صحابہ و تابعین اور بعد کے محدثین نےپچھلی امتوں کے برعکس اپنے نبی کی سیرت کو محفوظ رکھنے کا خود ہی غیر معمولی اہتمام کیا ہےجس کی وجہ سے ہم آپ کی شخصیت کو ساڑھے تیرہ سو برس گزر جانے پر بھی آج تقریباً اتنے ہی قریب سے دیکھ سکتےہیں جتنےقریب سےخود آپ کےعہد کے لوگ دیکھ سکتے تھے۔ لیکن اگر کتابوں کا وہ تمام ذخیرہ دنیا سےمٹ جائےجو آئمہ اسلام نےسالہا سال کی محنتوں سےمہیا کیا ہے حدیث وسیر کا ایک ورق بھی دُنیا میں نہ رہےجس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کچھ حال معلوم ہو سکتا ہو اور صرف کتاب اللہ ( قرآن ) ہی باقی رہ جائے۔ تب بھی ہم اس کتاب سے اُن تمام بنیادی سوالات کا جواب حاصل کر سکتے ہیں جو اس کے لانے والے کے متعلق ایک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہو سکتے ہیں ۔

آئیے اب ہم دیکھیں کہ قرآن اپنے لانے والے کو کس رنگ میں پیش کرتا ہے؟

١- قرآن مجید نے رسالت کے معاملہ میں سب سے پہلےجس مسئلہ کو انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے وہ رسول کی بشریت ہے۔ نزول قرآن سے پہلے صدیوں کے معتقدات نے یہ ایک طے شدہ مسئلہ بنا دیا تھا کہ انسان بھی اللہ کا رسول اور نائب نہیں بن سکتا دُنیا کی اصلاح کے لیے جب کبھی ضرورت ہوتی ہے خدا خود ہی انسان کی صورت میں ظاہر ہوا کرتا ہے یا کسی فرشتے یا دیوتا کو بھیج دیتا ہے اور یہ کہ جتنے بزرگ دنیا میں اصلاح کے لیے آئے ہیں، وہ سب کے سب فوق البشر ہستی تھے۔ اس عقیدے نے انسان میں اتنی گہری جڑیں پکڑ لی تھیں کہ جب کبھی اللہ کا کوئی نیک بندہ لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے آتا تو سب سے پہلے لوگ حیرت سے پوچھتے تھے یہ کیسا نبی ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا سوتا اور چلتا پھرتا ہے؟ یہ کیسا پیغمبر ہے کہ ہماری طرح تمام عوارض اس کو بھی لاحق ہوتے ہیں؟ بیمار ہوتا ہے، تکلیف اور راحت میں مبتلا ہوتا ہے اور رنج ومسرت سے متاثر ہوا کرتا ہے۔ اگر اللہ کو ہماری ہدایت مقصود ہوتی تو وہ ہم جیسا ایک کمزور انسان کیوں بھیجتا ؟ کیا خدا خود نہیں آسکتا تھا؟ یہ سوالات ہر نبی کی بعثت پر ہوتے تھے اور انہی کو محجبت بنا کر لوگ انبیاء کا انکار کیا کرتے تھے ۔ حضرت نوح علیہ السلام جب اپنی قوم کی طرف پیغام لے کر آئے تو کہا گیا:

مَا هَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُرِيدُ أَنْ يَّنَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَا نُزَلَ مَلَئِكَةٌ مَّا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي آبَائِنَا الْأَوَّلِينَ - (مومنون: ۲۴)

یہ شخص اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ تم ہی جیسا ایک انسان ہے جو تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ اگر خدا چاہتا تو فرشتوں کو اُتارتا۔ یہ انوکھی بات تو ہم نے اپنے بزرگوں سے کبھی سنی ہی نہ تھی (کہ انسان خدا کا پیغمبر بن کر آئے )

جب حضرت ہود علیہ السلام اپنی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے تو ان پر بھی سب سے پہلے یہی اعتراض ہوا:

مَا هَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ وَلَئِنَ أَطَعْتُمُ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ إِنَّكُمْ إِذَا لَخَسِرُونَ - (مومنون: ۳۳-۳۴)

یہ شخص اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک بشر ہے تم ہی جیسا۔ وہی کچھ کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی کچھ پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔ اگر تم نے اپنےجیسے ایک بشر کی اطاعت کی تو بڑے ٹوٹے میں رہو گے۔

جب حضرت موسیٰ اور ہارون علیہا السلام فرعون کے پاس صداقت کا پیغام لے کر پہنچے تو ان کی بات ماننے سے بھی اسی بنا پر انکار کر دیا گیا:

انُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنَ مِثْلِنَا (مومنون: ۴۷)

کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں؟

چنانچہ ٹھیک یہی سوال اُس وقت بھی اٹھا جب مکہ کے ایک اُمی انسان نے چالیس برس تک خاموش زندگی بسر کرنے کے بعد دفعتہ اعلان کیا کہ میں خدا کی طرف سے رسول مقرر کیا گیا ہوں۔ لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی تھی کہ ایک شخص جو ہماری طرح ہاتھ پاؤں آنکھ ناک اور جسم و جان رکھتا ہے کیونکر اللہ کا رسول ہو سکتا ہے ۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے تھے کہ:

وَقَالُوا مَا لِهَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ؟ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا يُلْقَى إِلَيْهِ كَنرٌ أَوْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا (الفرقان: ۷-۸)

یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟ کیوں نہ اس پر کوئی فرشتہ اترا کہ اس کے ساتھ رہ کر لوگوں کو ڈراتا ؟ یا کم از کم اس کے لیے کوئی خزانہ ہی اتارا جاتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس کے پھل یہ کھاتا۔

یہ غلط فہمی چونکہ رسالت کے تسلیم کیے جانے میں سب سے زیادہ مانع ہو رہی تھی۔اس لیے قرآن مجید میں پورے زور کے ساتھ اس کی تردید کی گئی اور دلائل کے ساتھ بتایا گیا کہ انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ بعثت کا مقصود صرف تعلیم ہی دینا نہیں ہے بلکہ خود عمل کر کے دکھانا اور تقلید و پیروی کےلیےایک نمونہ پیش کرنا بھی ہے۔اور اس مقصد کےلیےایک فرشته یا اور کوئی فوق البشر بستی بھیجی جائے جس میں بشری خصائص اور کمزوریاں موجود نہ ہوں تو انسان کہہ سکتا ہے کہ ہم اس طرح کیونکر عمل کر سکتے ہیں جب کہ وہ ہماری طرح نفس اور نفسانی خواہشات ہی نہیں رکھتا اور اس کی فطرت میں وہ قو تیں ہی نہیں جو انسان کو گناہ کی طرف راغب کرتی ہیں۔

لَوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلِئِكَةٌ يَّمْشُونَ مُطْمَئِيِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمُ مِنَ السَّمَاءِ مَلَكاً رَّسُولاً - (بنی اسرائیل: ۹۵)

اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو البتہ ہم بھی ان پر آسمان سے کسی فرشتے کو رسول بنا کر اتارتے ۔

پھر صاف طور پر تصریح کی کہ اس سے پہلے جتنے انبیاء اور بادیان برحق مختلف قوموں میں بھیجے گئے ہیں وہ سب ایسے ہی انسان تھے جیسے محمد رسول اللہ ہیں اور اسی طرح کھاتے پیتے اور چلتے پھرتے تھے جس طرح ہر انسان کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِيَ إِلَيْهِمْ فَسُتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ وَمَا جَعَلْنَهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَلِدِينَ (انبیاء: ۷-۸)

ہم نے تم سے پہلے جن لوگوں کو بھیجا تھا وہ بھی آدمی ہی تھے جن پر ہم وحی نازل کرتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لو۔ ہم نے ان انبیاء کو ایسے جسم نہیں دیے تھے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ غیر فانی تھے۔

وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَا كُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ - (الفرقان: ٢٠)

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے وہ سب کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلُنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وذُرِّيَة- (الرعد: ۳۸)

اور ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے تھے اور ان کے لیےہم نے ہیویاں بھی پیدا کی تھیں اور ان کی اولاد بھی تھی۔

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ تم اپنے بشر ہونے کا صاف اعلان کرو تا کہ آپ کے بعد لوگ آپ کو بھی اسی طرح الوہیت سے متصف نہ کرنے لگیں جس طرح آپ سے پہلے دوسرے انبیاء کو کر چکے تھے۔ چنانچہ قرآن مجید میں متعدد جگہ یہ آیت آئی ہے:

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوْحِيَ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهُ واحِدٌ - (كهف)

اے محمداً کہہ دو کہ میں تو محض تمھی جیسا انسان ہوں، مجھ پر وحی کی جاتی ہےکہ تمھارا خدا ایک ہی ہے۔

ان تصریحات نے صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے متعلق تمام فاسد عقائد کا دروازہ بند نہیں کیا بلکہ تمام انبیاء سابقین و بزرگان دین کی ذات سے بھی اس غلط فہمی کا ازالہ کر دیا۔

۲-دوسری چیز جس کو نہایت وضاحت کے ساتھ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہےنبی کی قوت و قدرت کا مسئلہ ہے۔ جہل و نادانی نے جب خدا رسیدگی کو خدائی کا ہم معنی بنا دیا تو طبعا اس کے ساتھ یہ عقیدہ بھی پیدا ہو گیا کہ خدا رسیدہ لوگوں میں غیر معمولی طاقتیں ہوتی ہیں، خدا کے کارخانہ میں ان کو کچھ خاص اختیارات حاصل ہوتے ہیں، جزا و سزا میں اں کو دخل ہوتا ہے غیب و شہادت سب کچھ ان پر روشن ہوتا ہے، قسمتوں کے فیصلے ان کی مرضی ورائے سے ادلتے بدلتے ہیں، نفع و ضرر پر ان کو اقتدار ہوتا ہے، خیر وشر کے وہ مالک ہوتے ہیں، کائنات کی تمام قوتیں ان کےتابع ہوتی ہیں اور وہ بیک نظر لوگوں کےدلوں کو بدل کر ان کی ظلمت و ضلالت کو دُور کر سکتےہیں،ایسےہی خیالات تھےجن کی بناء پر لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عجیب عجیب مطالبے کرتے تھے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:

وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَلَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعًا أَوُ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهَارَ خِلَلُهَا تَفْجِيْرًا أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلَئِكَةِ قَبِيلاً أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْتَى فِي السَّمَاءَ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقَتِكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاً - ( بنی اسرائیل: ۱۰)

انھوں نے کہا ہم تو تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہمارے لیے زمین میں سے ایک چشمہ نہ نکال دو یا تمھارےلیےخرما اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور اس میں تم نہریں رواں کر دو یا جیسا کہ تم کہا کرتےہوآسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دو یا اللہ اور ملائکہ کو ہمارے سامنے لاکھڑا کر دیا تمہارے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھنےپر بھی اس وقت تک یقین نہ کریں گئے جب تک کہ تم ہمارے اوپر ایسی ایک تحریر نازل نہ کرو جسےہم پڑھیں اےمحمد ان سےکہو پاک ہےمیرا رب کیا میں ایک پیغمبر انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں؟

خدا از سیدگی اور بزرگی کے متعلق یہ جتنے غلط تصورات لوگوں میں پائے جاتے تھےاللہ تعالیٰ نے ان سب کی تردید فرمائی اور صاف بتا دیا کہ رسول کا خدائی طاقتوں اور خدائی کاموں میں ذرہ برابر کوئی حصہ نہیں ہے۔ چنانچہ فرمایا نبی ہمارے اذن کے بغیر دوسروں کو ضرر سے بچانا تو در کنار خود اپنے آپ سے بھی ضرر کو دفع کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔

وَإِن يَمْسَسْكَ اللهُ بِضُرٍ فَلا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَان يُمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلَّ شَيْنِي قَدِيرٌ - (انعام: ۱۷)

اے نبی! اگر خدا تمہیں کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نقصان کا دُور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تمہیں فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِى ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَاءَ الله - (یونس:۴۹)

اے محمد ! کہو میں تو اپنی ذات کے لیے بھی نفع یا نقصان کی قدرت نہیں رکھتا سوائے اُس کے جو خدا چاہے۔

اور فرمایا کہ نبی کے پاس اللہ کے خزانوں کی کنجیاں نہیں، نہ وہ علم غیب رکھتا ہے اور نہ اس کو فوق العادت قو تیں حاصل ہیں:

قُلْ لا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكَ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى (انعام:۵۰)

اے محمد! کہو میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب کا حال جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہی کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں (یعنی انسانی کمزوریوں سے پاک ہوں) میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔

وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (اعراف: ۱۸۸)

اور اگر میں غیب جاننے والا ہوتا تو اپنے لیے بہت کچھ فائدے سمیٹ لیتا اور مجھ کو کوئی نقصان نہ پہنچاتا۔ میں تو محض ایک متنبہ کرنے والا ہوں اور جو میری بات مان لیں ان کو خوشخبری دینے والا ہوں۔

اور فرمایا نبی کو حساب کتاب اور جزا و سزا میں بھی کچھ دخل نہیں، اس کا کام صرف پیغام پہنچانا اور سیدھی راہ دکھانا ہے۔ آگے محاسبه اور مواخذه کرنا اور لوگوں کو جزا و سزا دینا خدا کا کام ہے۔

قُلْ إِنِّي عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي وَكَذَّبْتُمُ بِهِ مَا عِنْدِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بهِ إِن الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَصِلِينَ قُلْ لَوْ أَنَّ عِنْدِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِيَ الْأَمْرُ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَاللهُ اَعْلَمُ بِالظَّلِمِينَ - (انعام:۵۷ ۵۸ )

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ان لوگوں سے کہو کہ میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے۔ اب یہ بات میرے اختیار میں نہیں ہے کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہےہو وہ میں خود تمہارے اوپر نازل کر دوں فیصلہ بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنےوالا ہے۔ ان سے کہو کہ اگر کہیں وہ عذاب میرے اختیار میں ہوتا جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہو چکا ہوتا ۔ مگر اللہ ہی ظالموں سے نمٹنا خوب جانتا ہے۔

فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ - (الرعد : ٤٠ )

اے نبی ! تمہارا کام تو بس پیغام پہنچا دینا ہے حساب لینا ہمارا کام ہے -

إِنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ فَمَنِ اهْتَدَى فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيْلٍ - (الزمر: ۴۱)

اے نبی ! ہم نے لوگوں ( کی ہدایت ) کے لیے تم پر یہ کتاب حق کےساتھ اُتاری ہے۔ اب جو کوئی ہدایت قبول کرتا ہے اپنے ہی لیےاچھا کرتا ہے اور جو گمراہی میں پڑتا ہے اپنے ہی حق میں بڑا کرتا ہےاور تم اُن پر کوئی حوالہ دار نہیں ہو۔

اور فرمایا لوگوں کے دلوں کو پھیر دینا اور جن لوگوں میں قبول حق کی آمادگی نہ ہو ان میں ایمان پیدا کر دیتا نبی کے بس کی بات نہیں ہے۔ وہ ہادی صرف اس معنی میں ہے کہ نصیحت اور تذکیر کا جو حق ہے اس کو وہ پورا پورا ادا کر دیتا ہے اور جو راستہ دیکھنا چاہے اُسے راستہ دکھا دیتا ہے۔

إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّو مُدْبِرِينَ وَمَا أَنْتَ بِهِدِى الْعُمُيِ عَنْ ضَلَا لَتِهِمُ إِنْ تُسْمِعُ إِلَّا مَنْ يُؤْمِنُ بِايْتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُونَ - (النمل: ۸۰-۸۱)

تم مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں تک آواز پہنچا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر لوٹ جائیں۔ اور نہ تم اندھوں کو گمراہی سے نکال کر سیدھے راستہ پر ڈال سکتے ہو۔ تم تو صرف انھی لوگوں کو سنا سکتےہو جو ہماری نشانیوں پر ایمان لاتے ہیں پھر سر اطاعت جھکا دیتےہیں۔

وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مِّنْ فِي الْقُبُورِ إِنْ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ إِنَّا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَّنَذِيرًا - (فاطر:۳)

تم قبر کے مردوں کو سنانے والے نہیں ہوا تم تو صرف آگاہ کر دینے والے ہو اور ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

پھر یہ بھی صاف بتا دیا کہ نبی کو جو کچھ قدر وعزت اور علو مرتبت حاصل ہے سب اس بنا پر ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے اس کے احکام پر ٹھیک ٹھیک چلتا ہے اور جو کچھ کلام اس پر نازل کیا جاتا ہے اسے جوں کا توں اللہ کے بندوں تک پہنچا دیتا ہے۔ ورنہ اگر وہ اطاعت سے منہ موڑے اور اللہ کے کلام میں اپنے دل سے گھڑ کر باتیں ملا دے تو اس کا کوئی امتیاز باقی نہ رہے بلکہ وہ خدا کی پکڑ سے بیچ بھی نہ سکے۔

وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَ هُم مِّنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ لا إِنَّكَ إِذًا لَمِنَ الظَّلِمِينَ - (البقره: ۱۴۵)

اور اگر تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس علم کے باوجود جو تمھارے پاس آ گیا ہے تو یقینا اس صورت میں تم ظالم ہو گے۔

وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَ هُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلَيَ وَلَا نَصِيرٍ - (البقره: ۱۳۰ )

اور اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آیا ہے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو تمہیں اللہ کی سزا سے بچانے والا کوئی حامی اور مددگار نہ ہوگا۔

قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِ لَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (یونس: ۱۵۰)

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ان سے کہو مجھ کو اس کلام میں اپنی طرف سے کچھ رد و بدل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

یہ باتیں اس لیے نہیں کہی گئی ہیں کہ معاذ اللہ رسول اکرم سے کسی نافرمانی یا تحریف وتلبیس کا ادنی سا اندیشه تھا۔ دراصل ان سے مقصود دُنیا پر یہ حقیقت واضح کرنا تھا کہ نبی کو بارگاہ رب العزت میں جو تقرب حاصل ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ نبی کی ذات سے اللہ کا کوئی رشتہ ہے بلکہ اس کے مقرب ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کا نہایت درجہ مطیع فرمان اور دل و جان سے اُس کا بندہ ہے۔

۳۔ تیسری چیز جس کا بارہا نهایت صراحت کے ساتھ قرآن مجید میں ذکر کیا گیا یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نئے نبی نہیں ہیں، بلکہ جماعت انبیاء کے ایک فرد اور اس سلسلۂ نبوت کی ایک کڑی ہیں جو ابتدائے آفرینش سے لے کر آپ کی بعثت تک جاری رہا اور جس میں ہر قوم اور ہر زمانہ کے انبیاء ورسل شامل ہیں۔ قرآن حکیم نبوت و رسالت کو کسی ایک ذات یا ایک ملک یا ایک قوم سے مخصوص نہیں کرتا بلکہ وہ صاف صاف اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم اور ہر ملک اور ہر زمانہ میں مقدس نفوس پیدا کیے ہیں جنھوں نے انسان کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دی ہے اور گمراہی کے بڑے نتائج سے ڈرایا ہے:

وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ - (فاطر:۲۴)

کوئی قوم ایسی نہیں گزری ہے جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو۔

وَلَقَدْ بَعْضُنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَيوا الطَّاغُوتَ - (النحل : ٣٦)

اور ہم نے ہر قوم میں ایک پیغمبر بھیجا جس نے پیغام دیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے پرهیز کرو۔

اور انہی پیغمبروں اور ڈرانے والوں مین سے ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں ۔ چنانچہ جگہ جگہ ارشاد ہوتا ہے:

هَذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذْرِ الْأُولى – (النجم:۵۶)

إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ - (يس:۳)

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ا یقینا تم پیغمبروں میں سے ہو۔

قُلْ مَا كُنتُ بِدُعَا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِى مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمُ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ (احقاف:۹)

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ا کہو میں کوئی نرالا رسول نہیں ہوں۔میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ برتا جائےگا اور تمہارےساتھ کیا سلوک ہوگا۔میں تو اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے اور میں محض ایک ڈرانے والا ہوں صاف صاف ۔

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ - (آل عمران: ۱۴۴)

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ا کچھ نہیں ہے مگر ایک رسول اور اس سے پہلے بھی رسول گزر چکےہیں۔

یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ رسول عربی کی دعوت وہی دعوت ہے جس کی طرف ابتدائے آفرینش سے ہر داعی حق بلاتا رہا ہے، اور آپ اُسی دین فطرت کی طرف تلقین کرتے ہیں جس کی تلقین ہمیشہ اللہ کے ہر نبی اور رسول نے کی ہے۔

قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَعِيلَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمُ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوُا - (البقره: ۱۲)

کہو ہم ایمان لائےاللہ پر اور اس کی تعلیم پر جو ہماری طرف اتاری گئی ہےاور تعلیم پرجو ابراهیم اسماعیل اسحاق یعقوب علیہم السلام اور ان کی اولاد پر اتاری گئی تھی اور جو موسیٰ، عیسی علیہم السلام اور دوسرے نبیوں کو اُن کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم اُن کےدرمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مطیع فرمان ہیں۔ پس اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم لائے ہو تو وہ سیدھے راستے پر ہیں ۔

قرآن مجید کی یہ تصریحات اس حقیقت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہنےدیتیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پچھلے پیغمبروں میں سے کسی کی تکذیب یا کسی کے لائے ہوئےپیغام کی تردید کرنے کے لیے نہیں آئے بلکہ اس لیے آئے تھے کہ اُس بچے مذہب کو جو اول دن سے تمام قوموں کے پیغمبر پیش کرتے چلے آئے تھے بعد کے لوگوں کی ملاوٹ سےپاک کر کے پھر پیش کر دیں۔

۴۔ اسی طرح قرآن مجید اپنے لانے والے کی صحیح حیثیت واضح کرنے کے بعد اُن کاموں کی تفصیل بیان کرتا ہے جن کے لیے اللہ نے اسے بھیجا تھا۔

یہ کام بحیثیت مجموعی دو شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں: ایک شعبہ تعلیمی، دوسرا شعبہ عملی۔

پہلے شعبہ کے کام حسب ذیل ہیں:

(۱) تلاوت آیات تزکیہ نفوس اور تعلیم کتاب و حکمت

لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ اللَّهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ - (آل عمران : ۱۶۴)

درحقیقت ایمان لانے والوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا رسول اٹھایا جو انھیں اس کی آیات سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ورنہ اس سے پہلے تو وہ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔

تلاوت آیات سے مراد اللہ کے فرامین اور ارشادات جوں کا توں سنا دینا ہےتزکیہ سےمراد یہ ہےکہ لوگوں کے اخلاق اور اُن کی زندگی کو بڑی صفات بڑی رسموں اور بڑے طریقوں سےپاک کیا جائےاور اُن کےاندر اچھے اوصاف پاکیزہ اخلاق اور صحیح طریقوں کو نشو ونما دیا جائے۔تعلیم کتاب و حکمت یہ ہےکہ لوگوں کو خدا کی کتاب کا صحیح منشاء مدعا سمجھایا جائےان کے اندر ایسی بصیرت پیدا کی جائے کہ وہ کتاب کی اصل روح تک پہنچ سکیں اور انھیں وہ حکمت سکھائی جائے جس سے وہ اپنی زندگی کے تمام مختلف وسعت پذیر پہلوؤں کو کتاب اللہ کے مطابق ڈھالتے چلے جائیں۔

(۲) تکمیل دین۔

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِينًا - (المائده :٣)

آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لیے اسلام کے طریقے کو پسند کیا۔

دوسرے الفاظ میں قرآن کے بھیجنے والے نے اس کے لانے والے سے صرف اتنی ہی خدمت نہیں لی کہ وہ اس کی آیات کی تلاوت کرے نفوس کا تزکیہ کرے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دئے بلکہ اس نے اپنے اس نیک بندے کے ذریعہ سے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا جو آیات نوع انسانی تک بھیجنی تھیں وہ سب اُس کے واسطہ سےبھیج دیں۔ جن خرابیوں سےانسانی زندگی کو پاک کرنا مقصود تھا وہ سب اُس کےہاتھوں سے ڈور گرا کر دکھا دیں۔جن خوبیوں کا نشو و نما جس شان کےساتھ افراد اور سوسائٹی میں ہونا چاہیےتھا اس کا بہترین نمونہ اس کی رہنمائی میں پیش کر دیا اور کتاب و حکمت کی ایسی تعلیم اس کےذریعےسےدلوا دی کہ آنےوالےتمام زمانوں میں مقصودِ کتاب کے مطابق انسانی زندگی کی تشکیل و تعمیر کی جاسکتی ہے۔

(۳) ان تمام اختلافات کی حقیقت واضح کرنا جو اصل دین سےپچھلےانبیا کی امتوں کےدرمیان پیدا ہو گئےتھےاور تمام پردوں کو ہٹا کرا تمام آمیزشوں کو چھانٹ کر تمام اُلجھنوں کو صاف کر کےاُس راہ راست کو پوری روشنی میں نمایاں کر دینا جس کی پیروی ہمیشہ سے خدا کی رضا کو پہنچنے کی ایک ہی راہ رہی ہے:

وَاللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَّ لَهُمُ الشَّيْطَنُ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إلا لِبينَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ - (النحل: ۶۳-۶۴)

بخدا کہ ہم نے (اے محمد) تم سے پہلے مختلف امتوں کی طرف ہدایت بھیجی، مگر اس کے بعد شیطان نے ان کے غلط اعمال کو ان کے لیےخوشنما بنا دیا چنانچہ آج وہی اُن کا سرپرست بنا ہوا ہے اور وہ دردناک عذاب کے مستحق ہو گئے ہیں۔ اور ہم نے تم پر یہ کتاب صرف اس لیے نازل کی ہے کہ اس حقیقت کو اُن کے سامنے واضح کر دو جس میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اور اس لیےپیروی قبول کر لیں۔

يَاهْلَ الْكِتَبِ قَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِمَّا كُنتُمُ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَبِ وَيَعْفُوا عَنْ كَثِيرٍ قَدْ جَاءَ كُمْ مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَّكِتَابٌ مُّبِينٌ يَهْدِى بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلمتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ - (المائده: ۱۵-۱۶)

اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا رسول آ گیا ہے جو تمہارےسامنے بہت سی اُن چیزوں کو کھول کر بیان کرتا ہے جنھیں تم کتاب میں سے چھپاتے ہو اور بہت سی باتوں کو معاف کر دیتا ہے۔تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور ایک واضح کتاب آگئی ہے جس کے ذریعہ سے اللہ اُن لوگوں کو جو اس کی پسند کےمطابق چلتے ہیں، امن و سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے اور انھیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور سیدھی راہ کی طرف اُن کی رہنمائی کرتا ہے۔

(۴) نافرمانوں کو ڈرانا فرمانبرداروں کو رحمت الہی کی خوشخبری دینا اور اللہ کےدین کی اشاعت کرنا۔

يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا اَرْسَلُنكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللهِ بِاذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا - (احزاب: ۴۵-۴۶)

اے نبی ! ہم نے تم کو گواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور ایک روشن گر آفتاب بنا کر بھیجا ہے۔

دوسرا شعبہ عملی زندگی اور اس کے معاملات سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے دو کام ہیں:

(۱) نیکی کا حکم دینا برائی سے روکنا حرام و حلال کی حدود قائم کرنا اور انسان کو خدا کے سوا دوسروں کی عائد کردہ پابندیوں سے آزاد اور ان کے لا دے ہوئے بوجھوں سے ہلکا کرنا:

يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيَحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمُ اِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا التَّوْرَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (اعراف: ۱۵۷)

وہ اُن کو نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے اور اُن پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے اور ان بندشوں کو کاٹتا ہے جن میں وہ دبے اور جکڑے ہوئے تھے ۔ پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے وہی فلاح پانے والے ہیں۔

(۲) بندگان خدا میں حق اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا:

إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ حَصِيمًا (النساء:۱۲)

اے محمد ! ہم نے تم پر حق کے ساتھ یہ کتاب نازل کی ہے تا کہ تم اللہ کے بتائے ہوئے قوانین کے مطابق لوگوں کے فیصلے کرو اور خیانت کرنے والوں کے وکیل نہ بنو۔

(۳) اللہ کے دین کو اس طرح قائم کر دینا کہ انسانی زندگی کا پورا نظام اسی کےتابع ہو اور دوسرے سب طریقے اس کے مقابلے میں دب کر رہ جائیں :

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدين كله - (الفتح : ۲۸)

وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اسے پوری جنس حق پر غالب کر دے۔

اس طرح نبی کے کام کا یہ شعبہ سیاست عدالت اصلاح اخلاق و تمدن اور قیام تہذیب صالح کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو جاتا ہے۔

٥- محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کام کسی ایک قوم یا ملک یا دور کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام نوع انسانی کے لیے اور تمام زمانوں کے لیے عام ہے:

وَمَا أَرْسَلُنكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَّنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ - (اليا : ۲۸)

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے ڈرانے والا اور بشارت دینے والا بنا کر بھیجا ہے۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا بِالَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِ وَيُمِيتُ فَامِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِي الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (اعراف: ۱۵۸)

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کہو اے انسانو! میں تم سب کی طرف خدا کا رسول ہوں اُس خدا کا جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے جس کےسوا کوئی خدا نہیں، جو مارنے اور جلانے والا ہے۔ پس ایمان لاؤ خدا پر اور اُس کے رسول نبی امی پر جو خدا اور اس کے فرامین پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو اُمید ہے کہ تم راہ راست پالو گے۔

وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِانْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ (انعام: ۱۹)

(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کہو ) اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تا کہ میں اس کے ذریعہ سے تم کو متنبہ کروں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے۔

إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَلَمِينَ لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ - (التکویر: ۲۷ - ۲۸)

یہ ( قرآن ) تو ایک نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لیے ہر اُس شخص کے لیے جو تم میں سے راست رو بنا چاہیے۔

(٦) نبوت محمدی کی ایک اور خصوصیت قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اس پر سلسله نبوت و رسالت ختم کر دیا گیا اور اس کے بعد دنیا کو پھر کسی نبی کی حاجت باقی نہ رہی۔

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (احزاب:۴۰)

محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کےرسول ہیں اور نبیوں کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں۔

یہ درحقیقت لازمی نتیجہ ہے نبوت محمدی کی عالمگیری اور ابد بیت اور تکمیل دین کا۔چونکہ قرآن کےمذکورہ بالا بیانات کی زد سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تمام دنیا کےانسانوں کے لیے ہے نہ کہ ایک قوم کے لیے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے نہ کہ ایک زمانےکے لیے اور آپ کے ذریعہ سے یہ کام بھی پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے جس کے لیے دنیا میں انبیاء کے آنے کی ضرورت تھی، اس لیے یہ سراسر معقول بات ہے کہ آپ پر سلسلہ نبوت کو ختم کر دیا گیا۔ اس مضمون کو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین اسلوب کے ساتھ ایک حدیث میں واضح کیا ہے۔فرماتے ہیں کہ میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نےایک نہایت خوبصورت مکان بنایا اور تمام عمارت بنا کر صرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔اب جو لوگوں نےاس کے گرد چکر لگایا تو وہ خالی جگہ انھیں کھٹکنے لگی اور وہ کہنےلگےکہ اگر یہ آخری اینٹ بھی رکھ دی جاتی تو مکان بالکل مکمل ہو جاتا۔ سو وہ آخری اینٹ جس کی جگہ نبوت کے محل میں باقی رہ گئی تھی میں ہی ہوں۔ اب میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔اس مثال سےختم نبوت کی وجہ صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔جب دین کامل ہو چکا آیات الہی پوری وضاحت کے ساتھ بیان ہو چکیں، اوامر ونواہی عقائد وعبادات، تمدن و معاشرت، حکومت و سیاست، غرض انسانی زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق پورے پورے احکام بیان کر دیے گئے اور دُنیا کے سامنے اللہ کا کلام اور اللہ کے رسول کا اُسوۂ حسنہ اس طرح پیش کر دیا گیا کہ ہر قسم کی تکلیس و تحریف سے پاک ہے اور ہر عہد میں اس سے ہدایت حاصل کی جاسکتی ہے تو نبوت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ صرف تجدید و تذکیر کی ضرورت رہ گئی ہے جس کے لیے علمائے حق اور مومنین صادقین کی جماعت کافی ہے۔

۷۔ آخری سوال جو دریافت طلب رہ جاتا ہے یہ ہے کہ اس کتاب کا لانے والا ذاتی طور پر کس قسم کے اخلاق کا انسان تھا ؟ اس سوال کے جواب میں قرآن مجید نےدوسری رائج الوقت کتابوں کی طرح اپنےلانے اولے کی تعریف کے پل نہیں باندھے ہیں نہ آپ کی تعریف کو ایک مستقل موضوع گفتگو بنایا ہے۔ البتہ آمد مشن میں محض اشارة آنحضرت کی اخلاقی خصوصیات ظاہر کی ہیں جن سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس وجودِ مسعود میں کمال انسانیت کے بہترین خصائص موجود تھے۔

(۱) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا اخلاق کے نہایت بلند مقام پر تھا:

وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (ن-۱) سوره قلم : ۱۳

اور اے محمد ! یقینا تم اخلاق کے بڑے درجے پر ہو۔

(۲) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک ایسا راسخ العزم مستقیم الا رادہ اور اللہ پر ہر حال میں بھروسہ رکھنے والا انسان تھا کہ جس وقت اس کی ساری قوم اسے مٹا دینےپر آمادہ ہو گئی تھی اور وہ صرف ایک مددگار کے ساتھ ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوا تھا اُس سخت مصیبت کے وقت بھی اُس نے ہمت نہ ہاری اور اپنے عزم پر قائم رہا:

إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْهُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لا تَحْزَنُ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا - (توبه: ۴۰)

یاد کرو جب کہ کافروں نے اس کو نکال دیا تھا، جبکہ وہ غار میں صرف ایک آدمی کے ساتھ تھا جبکہ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

(۳) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک نہایت فراخ حوصلہ اور فیاض انسان تھا جس نے اپنے بدترین دشمنوں کے لیے بھی بخشش کی دعا کی اور آخر اللہ تعالی کو اسے اپنا یه قطعی فیصلہ سنا دینا پڑا کہ وہ ان لوگوں کو نہیں بخشے گا۔

اسْتَغْفِرُلَهُمْ وَلَا تَسْتَغْفِرُلَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ - (توبه)

چاہے تم ان کے لیے معافی مانگو چاہے نہ مانگو اگر تم ستر بار بھی ان کے لیے معافی مانگو گے تب بھی اللہ ان کو معاف نہ کرے گا۔

(۴) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والے کا مزاج نہایت نرم تھا۔ وہ کبھی کسی کےساتھ درشتی سے پیش نہیں آتا تھا اور اسی لیے دُنیا اس کی گرویدہ ہو گئی تھی۔

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ - (آل عمران: ۱۵۹)

یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان کے ساتھ نرم ہو ورنہ اگر تم زبان کے تیز اور دل کے سخت ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ کر الگ ہو جاتے ۔

(۵) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا بندگان خدا کو راہ راست پر لانے کی سچی ترپ دل میں رکھتا تھا اور ان کے گمراہی پر اصرار کرنے سے اُس کی روح کو صدمہ پہنچتا تھا حتیٰ کہ وہ ان کے غم میں گھلا جاتا تھا۔

فَلَعَلَّكَ بَاعِعٌ نَفْسَكَ عَلَى اثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا - (الكهف:۶)

اے محمد ! (صلعم) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم ان کے پیچھے رنج و غم میں اپنی جان کھو دو گے ۔ اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔

(٦)وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کو اپنی امت سے بے حد محبت تھی وہ ان کی بھلائی کا حریص تھا، اُن کے نقصان میں پڑنے سے گڑھتا تھا اور ان کے حق میں سراپا شفقت و رحمت تھا:

لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَّحِيمٌ - (توبه : ۱۲۸)

تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایک ایسا رسول آیا ہے جسے ہر وہ چیز شاق گزرتی ہے جو تمہیں نقصان پہنچانے والی ہوا جو تمہاری فلاح کا حریص ہے اور اہل ایمان کے ساتھ نہایت شفیق درحیم ہے۔

(۷) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا صرف اپنی قوم ہی کے لیے نہیں بلکہ تمام عالم کے لیے اللہ کی رحمت تھا:

وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ - (انبياء: ۱۰۷)

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے تم کو تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

(۸) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا راتوں کو گھنٹوں اللہ کی عبادت کرتا اور خدا کی یاد میں کھڑا رہتا تھا:

إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ إِنَّكَ تَقُومُ أَدْنَى مِنْ ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ (المزمل: ۲۰)

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تمہارا رب جانتا ہے کہ تم رات کو تقریباً دو تہائی حصہ تک اور کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی حصہ تک نماز میں کھڑے رہتے ہو۔

(۹) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک سچا انسان تھا، نہ کبھی اپنی زندگی میں راہِ حق سے بھٹکا نہ فاسد خیالات سے متاثر ہوا اور نہ کبھی اُس نے ایک لفظ خواہش نفس کی پیروی میں حق کے خلاف زبان سے نکالا :

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا هُوَى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى (النجم: ۳-۲)

لوگو! تمہارا صاحب نہ کبھی سیدھی راہ سے بھٹکا اور نہ صحیح خیالات سے بہکا اور نہ وہ خواہش نفس سے بولتا ہے۔

(۱۰) وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کی ذات تمام عالم کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ تھی اور اس کی پوری زندگی کمال اخلاق کا صحیح معیار تھی :

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ – (احزاب: ۲۱)

تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک اچھا نمونہ ہے۔

قرآن مجید کا تبع کرنے سے صاحب قرآن کی بعض اور خصوصیات پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ لیکن اس مضمون میں تفصیل کی گنجائش نہیں۔ جو کوئی قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ خود دیکھےلے گا کہ بخلاف دوسری موجود الوقت مذہبی کتابوں کے یہ کتاب اپنے لانے والے کو جس رنگ میں پیش کرتی ہے وہ کس قدر صاف واضح اور آلودگی سے پاک ہے۔ اس میں نہ اُلوہیت کا کوئی شائبہ ہے نہ تعریف و ثنا میں مبالغہ ہے نہ غیر معمولی قوتیں آپ کی طرف منسوب کی گئی ہیں، نہ آپ کو خدا کے کاروبار میں شریک و سہیم بنایا گیا ہے اور نہ آپ کو ایسی کتروریوں سے مہتم کیا گیا ہے جو ایک بادی اور داعی الی الحق کی شان سے گری ہوئی ہوں۔اگر اسلامی لٹریچر کی دوسری تمام کتابیں دُنیا سے ناپید ہو جائیں اور صرف قرآن مجید ہی باقی رہ جائے تب بھی رسول اکرم کی شخصیت کےمتعلق کسی غلط فہمی کسی شک و شبہ اور کسی لغزش عقیدت کی گنجائش نہیں نکل سکتی۔ ہم اچھی طرح معلوم کر سکتے ہیں کہ اس کتاب کا لانے والا ایک کامل انسان تھا، بہترین اخلاق سے متصف تھا انبیاء سابقین کی تصدیق کرتا تھا، کسی نئےمذہب کا بانی نہ تھا اور کسی فوق البشر حیثیت کا مدعی نہ تھا۔ اس کی دعوت تمام عالم کے لیےتھی اس کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے چند مقرر خدمات پر مامور کیا گیا تھا اور جب اس نےخدمات کو پوری طرح انجام دے دیا تو نبوت کا سلسلہ اس کی ذات پر ختم ہو گیا ۔ (١)


١- دراصل یہ مضمون ۱۹۲۷ء میں اخبار الجمعیت دہلی کے حبیب نمبر کے لیے لکھا گیا تھا۔ پھر دوبارہ ۱۹۴۴ء میں ترجمان القرآن میں شائع کیا گیا۔

کتاب تفہیمات، دوم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Understandings