تفہیمات، دوم

دام ہم رنگ زمیں

دام ہم رنگ زمیں

جس طرح عداوتوں میں سب سے زیادہ خطرناک وہ عداوت ہے جو دوستی کےپیرائے میں کی جائے اُسی طرح گمراہیوں میں سب سے زیادہ خطر ناک وہ گمراہی ہے جو ہدایت کے لباس میں جلوہ گر ہو۔ آپ کھلے دشمن سے زک تو اٹھا سکتے ہیں مگر دھوکا نہیں کھا سکتے۔اسی طرح آپ کھلی کھلی گمراہی کی طرف بلانے والے سے متاثر ہو کر مُرتد تو بن سکتےہیں مگر اس غلط فہمی میں نہیں پڑ سکتے کہ اصل اسلام وہی ہے جس میں اب آپ داخل ہوئےہیں۔ ایک مخلص علانیہ آکر اسلام کی مخالفت کرئے قرآن پر حملہ کرئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر اعتراضات کرنے اور اسلام کے عقائد اصول احکام سب کو غلط ٹھیرائے تو مسلمان یا تو اس کی بات رڈ کر دے گا اور اسلام پر قائم رہے گا یا پھر اسلام کو چھوڑ کر اس کےمذہب میں چلا جائے گا اور اپنے آپ کو مسلمان کہنا چھوڑ دے گا۔ لیکن اُس شخص کا معاملہ کتنا پُر فریب ہےجو آ کر مسند ارشاد پر بیٹھے، قرآن کھول کر وعظ شروع کر دےآیات النبی کی تفسیر بیان کرےایمان و عمل صالح کی طرف دعوت دئےعبادات و خلوص کی تلقین کرے اور جب اس طرح آپ کے دل پر اُس کے ہادی برحق اور دائی خیر ہونے کا سکہ بیٹھ جائے تو وہ آپ کو یہ سمجھانا شروع کر دے کہ نماز پانچ وقت کی نہیں صرف تین وقت کی فرض ہےروزے پورے رمضان کے نہیں صرف تین یا حد سے حدوس دن کے فرض ہیں۔زکوۃ کے لیے کوئی نصاب مقرر نہیں جس قدر دل چاہے خیرات کر دیا کرو اور اس طرح اسلامی احکام میں سے ایک ایک کی قطع و یرید کرتے ہوئے ہر قدم پر وہ ساتھ ساتھ آپ کو یہ بھی یقین دلاتا جائےکہ یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی رسول کا اسوۂ حسنہ ہےبیچارےعام نا واقف مسلمانوں کا ایسے زہر سے بچنا کس قدر مشکل ہے جو یوں مٹھائی میں ملا کر ان کو دیا جا رہا ہو۔

یوپی کے ایک مسلمان ڈپٹی کلکٹر صاحب جو حق گو تخلص فرماتے ہیں، اور اس سے پہلے اشاعت اسلام کی خاطر سور کا گوشت حلال کرنے کی تجویز پیش کر چکے ہیں ۔(١) آج کل انھوں نے ”مواعظ قرآن کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جس میں وہ عام مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا یہی پُر فریب طریقہ اختیار فرما رہے ہیں۔ اُن مواعظ کو امرت سر کی ایک مشہور مخالف حدیث جماعت (٢) اپنے ماہوار رسالے میں شائع کر رہی ہے۔

اس وقت اس سلسلہ کا تیسرا " وعظ ہمارے پیش نظر ہے جس میں فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ( ماعون : ۴) کی تفسیر ارشاد ہوئی ہے۔ واعظ اپنا وعظ اس طرح شروع کرتا ہے کہ آیت میں تمام آنے والی مسلمان نسلوں کے لیے تنبیہ ہے کہ:

"خبر دار ایسا نہ کرنا کہ نماز کے معنی بس یہ سمجھ لینا کہ چاہے دل لگےیا نہ لگے سمجھ میں آئے یا نہ آئے کیسا ہی بے محل کیوں نہ ہو مصلی بچھا کر چار ٹکریں مار لیں اور منہ سے کچھ بڑ بڑا دیا۔ ایسی نماز سےبجائے فائدے کے الٹا نقصان ہوتا ہے۔ وہ صرف دکھانے کےلیے پڑھی جاتی ہے اور عند اللہ مکروہ بلکہ مغضوب ہے"

"نماز کو بچوں کا کھیل مت سمجھنا۔ اس کے ادا کرنے میں بڑی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ وہ درحقیقت خدا اور اس کے فرشتوں کی حضوری اور شہادت کا وقت ہوتا ہے۔ تو کیا تمھاری بے دلی کی نماز اُس کا منہ چڑانا نہ ہوگا۔ نماز میں خدائے واحد وقد وس کے جلال و بزرگی و کبریائی کا اعتراف ہوتا ہے۔ تم اس کے حضور میں ادب سے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہو۔ بھلا سوچو تو یہ کتنی بڑی گستاخی ہوگی کہ ایسے بڑے دربار میں حاضر ہو کہ تم ایسی حرکتیں کرو کہ اگر کسی دنیاوی امیر کے سامنے کرو تو تم کو فورا دربار سے نکال کر باہر کر دے۔ تم پر حیف و صد حیف ہے کہ اپنی نماز میں اُلٹا خدا کا غضب مول لو ۔ لہذا نماز کے لیے چار ضروری شرطیں ہیں ۔ مشاغل دنیاوی سے یکسوئی۔جسم ولباس کی طہارت الفاظ قرآن کو سمجھنا اور با ایمان ہونا“۔



١- صاحب موصوف کی اس تجویز پر ہم نے اپنے مضمون " عقلیت کا فریب‘ میں تبصرہ کیا ہے۔(ملاحظہ ہو تنقیحات صفحه ۷۲)

٢- امرتسر کی بربادی کے بعد اب یہ جماعت لاہور آ گئی ہے۔

دیکھیے قرآن کا وعظ ہے " قرآنی تعلیمات کی نشر و اشاعت" کرنے والے رسالےمیں شائع ہو رہا ہے۔ حق گو کی زبان سے ادا ہو رہا ہے۔ تمہید ایسی ہے کہ جو مسلمان پڑھے گا یقین لے آئے گا کہ واعظ کا مقصود عبادت میں اخلاص کی تلقین کرنا ہے۔ یہ سب باتیں جمع ہو کر ایک سیدھے سادے مسلمان کو واعظ کی طرف سے بالکل مطمئن کر دیتی ہیں،اور اس کے دل میں کوئی خوف اس امر کا باقی نہیں رہتا کہ اس کے وعظ میں کوئی چیز اس کو گمراہ کرنے والی بھی ہو گی۔ اس طرح جب آدمی ضلالت کے تمام خطرات سے مامون ہو جاتا ہے تو اسی مرشدانہ انداز میں اس سے کہا جاتا ہے:

"یکسوئی کے بہترین اوقات فطرتا ہمیشہ وہی ہوتے ہیں ۔ جب کہ آدمی سو کر اٹھتا ہے یا جب سونے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اور جب وہ اپنے گھر کام سے فارغ ہو کر سر شام لوٹتا ہے۔ اس کے علاوہ جو اوقات بھی نماز کے ہوں گے وہ دنیاوی مصروفیت یا آرام و سیر و تفریح کے ہوتے ہیں۔ ایسے اوقات میں نماز میں یکسوئی پیدا کرنا ذرا مشکل ہے ورنہ ایسے وقتوں میں نماز پڑھنا خطرے سے خالی نہیں۔ بہت کم ایسے لوگ ہیں جو ان وقتوں میں یکسوئی حاصل کرتےہیں اور یہی وجہ ہے کہ جولوگ ان اوقات میں نماز ادا کرتے ہیں وہ نهایت بددلی اور سراسیمگی سے ادا کرتے ہیں۔

اس کے بعد سامع کو وعظ کی ایک اور خوراک دی جاتی ہے تا کہ وہ اس دعوت ضلالت سے منحرف نہ ہو جائے :-

" حرکات جسمانی کا مقصد نماز نہیں، وہ اظہارِ خشوع و خضوع کےساتھ یکسوئی پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اصل نماز تمھاری تقدیس و تکبیر و تحمید و تلاوت قرآن پاک ہے جس کے لیے تمھارےدماغ اور دل کا مستعد اور یک تو ہونا شرط ہے۔"

یہ دوسری خوراک ہضم کر کے جب سیدھا سادا مسلمان دوبارہ گمراہی کے خطرےسے بے خوف ہو جاتا ہے تو زہر کا یہ آخری مجمعہ اُس کے حلق سے نیچے اتارا جاتا ہے:۔

میرے فہم ناقص میں تو یہ آتا ہے کہ اس کا اشارہ (یعنی ويمنعون الماعون كا اشاره ) أن فتقووں کی طرف ہے جن کی کوئی سند قرآن میں نہیں ہے لیکن وہ قرآن کے احکام سے بڑھ کر ہمارے لیےمعمول یہ ہیں اور ان کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خلاف فطرت اوقات میں ہم سے نماز پڑھوائی جاتی ہے جن میں نہ ہم تہ دل سے نماز میں رجوع ہو سکتے ہیں اور نہ اپنے مفاد زندگی کے لیے کوئی کام کر سکتےہیں۔"

اس تمام وعظ کا اصل مقصد بجز اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ ظہر اور مغرب کی نماز کا وقت اڑا دیا جائے کیونکہ ظہر کی نماز کے لیے انگریزی حکومت اور انگریزی کمپنیوں نےاپنے مسلمان ملازموں کے لیے کوئی وقت دینا پسند نہیں کیا ہے۔ اور مغرب کی نماز کا وقت بد قسمتی سے وہی ہے جو سینما کا ہے کلب کی تفریحات کا ہے ٹینس بلیرڈ اور برج کھیلنے کا ہے۔ اس وقت کھیل چھوڑ کر نماز پڑھنا ہمارے صاحب لوگوں کو ناگوار ہوتا ہے۔ اس مقصد کو خود ” واعظ صاحب ہی نے کھول کر اس طرح بیان فرمایا ہے :-

"میرے بعض دوست ایسےہیں جو ماشاء اللہ بڑے پابند نماز ہیں۔میں نےاُن کو دیکھا ہےکہ شام کو ٹینس اور برج کھیلتے کھیلتے وہ دفعتہ نماز پڑھنے لگ گئے یا کسی پارٹی میں کھاتے کھاتے اُٹھ کھڑےہوئے اور جہت نماز پڑھا۔ یا اجلاس میں مقدمہ کی سماعت کر رہے ہیں کہ یکا یک گھڑی نےان کو ظہر کی نماز یاد دلا دی۔اُٹھ کھڑے ہوئے اور عادتا نماز کے ارکان چبوترے پر ادا کر ڈالے۔میں کبھی اس قسم کی نمازوں کو نماز ہی شمار نہیں کرتا اور ہمیشہ قرآن کی یہ آیت یاد کر کے میں کانپ جاتا ہوں۔

اب ذرا غور کیجیے دشمنوں کی ایک قسم تو وہ تھی جنھوں نےدفتروں کے اوقات میں مسلمانوں کو نماز کے لیے چھٹی دینے سے انکار کر دیا اور اس معاملہ میں اُن پر سختیاں کیں۔مسلمان ان دشمنوں کا مقابلہ تو کر سکتے تھے اور انھوں نے کیا۔ جو سچے مسلمان تھےانھوں نے حکم خداو و رسول کے مقابلہ میں کسی جابر کے حکم کی پروانہ کی حتیٰ کہ بہتوں نےنماز کی خاطر اپنے روز گار تک سےہاتھ دھو لیا۔اور جو ضعیف الایمان تھےانھوں نےاگر چه روزگار کی خاطر نماز ترک کر دی، مگر پھر بھی دل میں اپنی اس کمزوری پر شرمسار رہے۔ ایک دوسری قسم دشمنوں کی وہ تھی جنھوں نےنماز کےخلاف تبلیغ کی اسکو فضول اور لغو کہا اور مسلمانوں کو اس سےمنحرف کرنے کے لیے طرح طرح کی تحریصوں کے جال بچھائے۔مسلمان ان دشمنوں کا مقابلہ بھی کر سکتے تھے اور انھوں نے کیا،اس لیےکہ وہ کھلےدشمن تھے اُن کے شر سے بچ جانا آسان تھا۔ لیکن اُس دشمن کے شر سے بچنا کس قدر مشکل ہے جو انھی دشمنوں کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جبر اور مخالفانہ تبلیغ کے ذرائع چھوڑ کر نصیحت اور وعظ کا ذریعہ اختیار کرتا ہے۔ قرآن کو آلہ کار بنا کر مسلمانوں کو یقین دلاتا ہےکہ ظہر اور مغرب کی نماز تو خدا نے تم پر فرض ہی نہیں کی تھی ان نمازوں کا پھندا تو دراصل اُن جاہل ملاؤں نے تمھارے گلے میں ڈال دیا ہے جو یمنعون الماعون کے مصداق ہیں ۔ ان ظالموں نے تم کو بالکل خلاف فطرت اوقات پر نمازوں میں لگا دیا اور اس کا انجام یہ ہوا کہ تم سے دفتروں کی ملازمتیں چھوٹیں، دنیا کے کاروبار چھوٹے کلب اور سینما چھوٹے، غرض ترقی کی تمام راہوں سے تم الگ ہو گئے ۔ قرآن نے ہرگز ایسی نماز کا حکم نہیں دیا۔ وہ تو صرف تین وقت کی نماز تم سے پڑھوانا چاہتا ہے اور وہ بھی اس ضروری شرط کے ساتھ کہ مشاغل دنیوی سے یکسوئی ہو۔

یہ وہ دشمنی ہے جو دوستی کے پیرایہ میں کی گئی ہے۔ وہ ضلالت ہے جس کو ہدایت کا نهایت خوش نما لباس پہنایا گیا ہے۔ جو کام کھلے دشمن نہ کر سکے علانیہ گمراہ کرنے والے نہ کر سکے اس کو انجام دینے کے لیے اب یہ دوست نما دشمن اور مدعی اصلاح مفسد اُٹھے ہیں۔اب سادہ لوح مسلمان کے دین وایمان کا اللہ ہی حافظ ہے۔

بادی النظر میں تو یہ حملہ صرف اوقات نماز ہی پر ہےلیکن غور سےدیکھیےتو معلوم ہوگا کہ یہ ایک بڑے خطرے کی ابتدا ہے۔مسلمانوں کو پنج وقتہ نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب قریب اس تواتر کے ساتھ پہنچی ہےجس کے ساتھ قرآن پہنچا ہے۔ جس طرح قرآن کے متعلق ہمارا یقین کہ وہ ہر تحریف سےمحفوظ ہے اس بنیاد پر مبنی ہےکہ اس کو لاکھوں آدمیوں نے حضور سے سنا ہے پھر کروڑوں آدمیوں نے صحابہ سے سنا ہے اور اُن کے بعد ہر گزرنے والی نسل سے آنے والی نسل کو قرآن انھی الفاظ کے ساتھ پہنچتا رہا ہے، اسی طرح نج وقتہ نماز کی فرضیت پر یقین کرنے کے لیے بھی ہمارے پاس اس سے زیادہ مضبوط اور متحکم کوئی دوسرا ثبوت نہیں ہے کہ ہزاروں لاکھوں آدمیوں نے آنحضرت صلعم سےیہ حکم سنا اور آپ کی اقتداء میں اس پر سالہا سال تک عمل کیا ہے ان کے بعد نسلاً بعد نسل کروڑہا کروڑ مسلمان یہی سنتے اور دیکھتے اور عمل کرتے چلے آئے ہیں کہ اسلام میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے اور مسلمانوں میں ہر قسم کی فرقہ بندیوں کے باوجود کبھی اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہوا ہے۔ اس تواتر سے جو یقین نماز کے معاملے میں حاصل ہوتا ہے وہ اگر کسی کے شک ڈالنے سےمتزلزل ہو جائے تو پھر اُس یقین کو متزلزل کر دینا بھی کچھ مشکل نہیں رہتا جو ہمیں قرآن مجید کے متعلق ایسے ہی تواتر سے حاصل ہوا ہے۔ بلکہ ہم تو یہاں تک کہہ سکتے ہیں کہ اگر ایسی متواتر خبریں بھی شک و شبہ کی زد میں آ سکتی ہیں تو ایک شخص اس امر میں بھی شک کر سکتا ہے کہ آیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم فی الواقع مبعوث بھی ہوئے تھے یا نہیں۔ اس لیے کہ جس تواتر کے ساتھ ہم کو آنحضرت سے پنج وقتہ نماز پہنچی ہے اس تواتر کے ساتھ خود آنحضرت کے مبعوث ہونے کی خبر بھی پہنچی ہے۔ اگر شک کی بیماری ہمارےدل پر اس قدر غالب ہو جائے کہ آج ہم پنج وقتہ نماز کے فرض ہونے میں شبہ کرنے لگیں تو کچھ عجب نہیں کہ کل یہی بیماری ہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے متعلق بھی شک میں ڈال دے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔

باطل کی طرف دعوت دینے والوں کا یہ عام قاعدہ ہے کہ وہ اپنی دعوتِ ضلالت کے تمام مقاصد کو بیک وقت بے نقاب نہیں کرتے بلکہ سب سےپہلےدین کے مسلمات و یغمیات میں سےکسی ایک چیز پر حملہ کر کے اپنی پوری قوت صرف اسی کو متزلزل کرنےمیں صرف کر ڈالتے ہیں۔ یہ ایک گہری نفسیاتی چال ہے۔اگر وہ سب کچھ ابتداء ہی میں کھول دیں تو شاید کوئی مسلمان بھی ان کے جال میں نہ پھنے۔ اس لیے وہ اپنے کام کی ابتدا شکوک و شبہات کی قسم ریزی سے اور کسی ایک یقین کی بنیاد ڈھانے سے کرتے ہیں۔ جو لوگ اس پہلے حملے کے مقابلے میں ثابت قدم رہ جاتے ہیں ان کا دین و ایمان تو ہمیشہ کےلیے محفوظ ہو جاتا ہے۔ لیکن جو کمزور طبیعت کے لوگ اس حملے کی تاب نہیں لا سکتے وہ پہلےمورچے پر شکست کھانےکےبعد ایسے مغلوب ہو جاتے ہیں کہ گمراہ کرنے والا ان کےیقینیات میں سے ایک ایک کو مسمار کرتا چلا جاتا ہے اور وہ گمراہی کی آخری منزل تک اُسی کی پیروی کیسے چلے جاتے ہیں۔

یہ ایک فطری بات ہے کہ آدمی کے دل میں جب شک کی بیماری پیدا ہو جاتی ہےاور یقین کی قوت پر شک کا مادہ غالب آ جاتا ہے تو پھر شکوک کے سیلاب میں اس کے پاؤں اکٹر جاتے ہیں۔ اور جب وہ ایک دفعہ بہہ نکلتا ہے تو پھر بہتا ہی چلا جاتا ہے کہیں اس کے قدم جمنے نہیں پاتے ۔ ایک یقینی بات کا انکار در اصل اسی ایک بات کے انکار پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس سے انسان کے نفس میں یہ استعداد پیدا ہو جاتی ہے کہ ویسے ہی دوسرے یقینیات کا بھی انکار کر دے۔اس لیے کہ تمام یقینیات کی بنیاد ایک ہی ہوتی ہے۔ جب وہ بنیاد کسی ایک معاملے میں متزلزل ہو جاتی ہے تو دوسرے تمام یقینی امور بھی کمزور پڑ جاتےہیں اور اس وقت یہ بات بالکل داعی ضلالت کے اپنے اختیار میں ہوتی ہے کہ اپنے متبع سے جس چیز کا چاہے انکار کر والے۔

اسلام میں جتنے باطل فرقے پیدا ہوئے ہیں اُن سب کے بانیوں نے اسی طریقےسے کامیابی حاصل کی ہے۔ قادیانی تحریک کی نمایاں مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس کےبانی نے بھی سب سے پہلے اسلام کے ایک یقینی مسئلے ( یعنی ختم نبوت ) کے متعلق لوگوں کےدلوں میں شکوک ڈالنے شروع کیے تھے ۔ جو لوگ اس پہلے حملے سے بچ گئے وہ تو ہمیشہ کےلیےبچ گئے۔مگر جن کےیقین کی بنیاد اس مسئلےمیں متزلزل ہو گئی وہ گمراہی کی دعوت سے ایسے مغلوب ہوئے کہ مرزا صاحب نے پھر جس جس چیز کا چاہا ان سے انکار کرا لیا اور جو چیز بھی اسلامی تعلیمات کے خلاف پیش کی اُس کا اقرار اُن سے کرا کے چھوڑا۔

اس حقیقت کو نگاہ میں رکھ کر ذرا سوچیے تو سہی که پنج وقتہ نماز جیسی ایک یقینی چیز بھی جن لوگوں کے دلوں میں شک کا شکار ہو جائے گی کیا ان کا شک صرف اسی ایک چیز پر آ کر رک جائے گا ؟

جناب "حق گو " صاحب جس مذہب کی بنیا د رکھ رہے ہیں اُس کے تمام خدو خال ہم کو اُن کی کتاب ” مطالعہ حدیث میں نظر آچکے ہیں۔ اس کی حقیقت کھولنے کا تو یہاں موقع نہیں مگر ہم اس مخالف حدیث جماعت سے جو ان کے افکار ونظریات کو مسلمانوں میں پھیلا رہی ہے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا اب حدیث کی دشمنی میں آپ لوگ اس حد تک بڑھے جا رہے ہیں کہ قرآن سے بھی آپ کی جنگ چھڑ چلی ہے؟ حق گو صاحب حدیث کی روشنی میں آپ کے دوست سہی مگر نماز کے اوقات پنجگانہ پر یہ حملہ تو صرف حدیث ہی پر نہیں خود قرآن پر حملہ ہے۔ کیا قرآن میں آپ کو یہ آیت نہیں ملی ؟

اقم الصلوة لِدارُكَ الشَّمْسِ (بنی اسرائیل: ۷۸ )

نماز قائم کرو آفتاب ڈھلنے پر۔


١- یہ تنقید "تفہیمات‘" حصہ اوّل میں درج ہے۔

اس آیت میں آفتاب ڈھلنے پر سے مراد ظہر کے سوا اور کون سا وقت ہو سکتا ہے؟ اور کیا آپ نے قرآن میں یہ بھی نہیں پڑھا؟

وَأَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفِي النَّهَارِ وَزُلْقًا مِّنَ الَّيْلِ ( بور : ۱۱۴)

نماز قائم کرو دن کہ دونوں کناروں پر اور تھوڑی رات گزرنے کے بعد۔

یہاں دن کے دونوں کناروں سے مراد اگر فجر اور مغرب نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر کیا یہ آیت بھی قرآن میں آپ کو نہیں ملی ؟

وَسَبِّحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ انَاتِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ طُهُ : ۱۳۰)

اور تسبیح کر اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ آفتاب نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اور رات کے وقتوں میں پھر تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر۔

کیا اس آیت میں چار علیحدہ علیحدہ اوقات کی تصریح نہیں ہے " تل طلوع الشمس اور دن کے کناروں میں سے ایک کنارا تو ظاہر ہے کہ صبح کا وقت ہے۔ قبل غروب سے مراد عصر ہے۔ انائی اللیل سے مراد عشاء ہے۔ ان تین وقتوں سے الگ دن کے دوسرےکنارے سے مراد اگر مغرب کا وقت نہیں تو کیا ہے؟ پھر یہ آیت بھی تو قرآن میں تھی' آپ نے اس کو کیوں نہ دیکھا؟

فَسُبْحَنَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِيْنَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِيْنَ تُظْهِرُونَ - (الروم: ۱۸۱۷)

پس اللہ کی تسبح کرو جب تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔اور آسمان و زمین میں اس کے لیے حمد ہے۔ اور اس کی تسبیح کروسہ پہر کو اور جب تم پر دو پہر کا وقت آئے۔

کیا اس آیت میں حِينَ تُمْسُونَ سے مراد مغرب کے سوا کوئی اور وقت ہے؟ اورکیا جنین تظهرُونَ سے ظہر کے سوا کوئی دوسرا وقت مراد ہو سکتا ہے؟

اگر یہ آیات قرآن ہی کی ہیں اور ان سے نماز کے پورے پانچ وقت ثابت ہوتےہیں تو کیا اُس وعظ کو قرآنی وعظ کہا جا سکتا ہے جس میں مسلمانوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ نماز صرف تین وقت کی ہے اور یہ کہ ظہر و مغرب کی نماز کا حکم قرآن میں نہیں ہے؟

اب ذرا "حق گو" صاحب کے اُس عقلی استدلال پر بھی ایک نگاہ ڈال دیکھیے جو انھوں نے ظہر اور مغرب کے اوقات کو ساقط کرنے کے حق میں پیش فرمایا ہے۔

وہ کہتےہیں کہ دونوں اوقات ایسے ہیں جن میں آدمی کو یکسوئی میسر نہیں ہو سکتی،اور نماز کے لیے یکسوئی ایک ضروری شرط ہےلہذا نماز کےلیےیہ بالکل غیر فطری اوقات ہیں۔لیکن یہ عجیب بات ہےکہ یہی حق گو صاحب اپنی کتاب "مطالعہ حدیث" میں تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نماز کو پابندی وقت کےساتھ فرض کیا ہے اِنَّ الصلوة كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتابًا مُرْفُونًا (النساء : ۱۰۳) اب اگر وہ اپنی عقل پر کچھ بھی زور دیتےہیں تو ان کو خود معلوم ہو جاتا کہ پابندی وقت کے ساتھ یکسوئی کی شرط لگانا کسی عاقل کا کام نہیں ہو سکتا۔ عملی زندگی میں ان دونوں شرطوں کا ساتھ ساتھ نجھنا تقریبا محال ہے۔ وقت کی پابندی ہوں تو لازما جب وقت آئے گا نماز ضرور پڑھنی پڑے گی خواہ یکسوئی ہو یا نہ ہو۔ یکسوئی شرط ہوگی تو پھر وقت کی پابندی نہیں ہو سکتی۔ جب جس شخص کو کام کاج سے فرصت ہوگی نماز پڑھ لے گا۔ یہ دو مختلف شرطیں جہاں ایک ساتھ لگائی جائیں گی وہاں ان میں سے کوئی ایک ساقط ہو کر رہے گی ۔

معلوم ہوتا ہے کہ "حق گو" صاحب نےایک خود بین آدمی کی حیثیت سےصرف اپنی اور اپنےطبقےہی کی یکسوئی کے اوقات کا لحاظ فرمایا ہے ورنہ اگر وہ مجموعی طور پر عام انسانوں کےحالات پر نظر رکھتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ ایک سوئی کو نماز کے لیے ضروری شرط قرار دینے کے بعد صرف مغرب اور ظہر ہی نہیں بلکہ اس کام کے لیے سرے سے کوئی وقت مقرر کیا ہی نہیں جا سکتا۔آپ کہتےہیں کہ صبح کا وقت یکسوئی کا ہوتا ہے ۔ مگر کیا اُس مزدور کو بھی صبح کے وقت یکسوئی حاصل ہوتی ہے جسے طلوع آفتاب سے پہلے اپنے کارخانےمیں پہنچ جانا ہے؟ آپ کہتے ہیں کہ عصر کا وقت یکسوئی کا ہےممکن ہےکہ ڈپٹی کلکٹروں کےلیے ہو جو چار بجے دفتر سے اُٹھ کر گھر پہنچ جاتے ہیں۔مگر کیا اُس دکاندار کےلیےبھی یہ وقت یکسوئی کا ہوتا ہے جس کے پاس تیسرے پہر ہی خریداروں کا ہجوم ہو ا کرتا ہے۔آپ کہتے ہیں کہ عشاء کا وقت یکسوئی کا ہے۔ ممکن ہےکہ آپ کے لیے ایسا ہو۔مگر اُس ملازم سے پوچھیے جو اپنی ٹائٹ ڈیوٹی پر ہوتا ہے۔ کیا وہ بھی اقرار کرے گا کہ عشاء کے وقت اُسے یکسوئی میسر آتی ہے؟ نماز تنہا ایک شخص یا ایک مخصوص گروہ کےلیےتو نہیں ہےنہ اس کےاوقات مقرر کرنےمیں محض " صاحب لوگوں“ کے نظام الاوقات کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ یہ تو تمام لوگوں کے لیے ہے اور تمام لوگوں کےلیے رات دن کے اوقات میں سے کوئی وقت بھی ایسا معین نہیں کیا جا سکتا جس میں سب کو یک سوئی حاصل ہوتی ہو۔

تمام لوگوں کو بھی چھوڑیے۔ ایک شخص ہی کو لے لیجیے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ روزانہ دو یا تین مرتبہ نہ سہی ایک ہی مرتبہ مقررہ وقت پر اسے ہمیشہ یکسوئی حاصل ہوا کرتی ہے؟ سیکسوئی گھڑی کی سوئی کی پابند تو نہیں ہے کہ جہاں سوئی چکر کاٹ کر ایک خاص نشان پر پہنچی اور یکسوئی حاصل ہوئی۔ ممکن ہے کہ صبح کا وقت کسی شخص کے لیے عموماً یکسوئی کا ہوتا ہو۔ مگر لازم نہیں کہ ہمیشہ ایسا ہو۔ لہذا آپ کے فتوے کے مطابق جس روز صبح کو اُسےیکسوئی نصیب نہ ہو اس روز وہ صبح کی نماز چھوڑ دے۔ اسی طرح عصر اور عشا کے اوقات کی تعیین بھی اگر یکسوئی کے ساتھ مشروط ہو تو شاید کوئی شخص بھی ہمیشہ پابندی کے ساتھ ان اوقات میں نماز نہ پڑھ سکے گا۔ لہذا فتویٰ اس صورت میں مرتب کرنا پڑے گا کہ ان اوقات میں سے اگر کسی وقت یکسوئی حاصل ہو تو نماز ادا کر لو ورنہ دوسرے وقت کے لیے اٹھا رکھو۔یہ لازمی نتیجہ ہے نماز کے لیے یکسوئی کو ضروری شرط قرار دینے کا اور اس شرط کو پورا کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دوسری شرط یعنی پابندی وقت کی شرط ساقط ہو جائے۔

سوال یہ ہے کہ مجتہد صاحب نے یہ شرط قرآن کی کس آیت سے نکالی ہے؟ قرآن میں کہاں ارشاد ہوا ہے کہ نماز کے لیے ایک سوئی اور حضور قلب ضروری ہے؟

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ (مومنون: ۲۱) سےاستدلال صحیح نہیں۔ اس لیے کہ خشوع کے معنی یکسوئی کے نہیں، ضراعت کے ہیں ۔ یعنی خدا کے سامنے اپنے آپ کو ذلیل اور حقیر اور ضعیف و عاجز سمجھنا اور اعضا و جوارح سے اس کا اظہار کرنا۔ یہ بات یکسوئی کے بغیر بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ اگر انسان دل میں یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ وہ خدا کے سامنے عاجز اور ذلیل ہے اور اسی اعتقاد کے ساتھ وہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو رکوع میں جھکے اور زمین پر پیشانی رکھ کر سجدہ کرے تو بہر حال وہ خاشعین میں داخل ہو گیا خواہ اُسے مشاغل دنیوی سے یکسوئی حاصل ہو یا نہ ہو۔

وَلَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ وَأَنتُمْ سُكَاری (نساء: ۴۳) سے بھی استدلال غلط ہے۔ اس لیے کہ اس حکم سے متصل ہی اس کی غایت بھی بتا دی گئی ہے یعنی حتی تعلموا ما تقولون-حق گو صاحب کا استدلال یہ ہے کہ جب شراب حرام نہ ہوئی تھی اس وقت نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت کر دی گئی تھی اور اس ممانعت کی اصلی وجہ یہ تھی کہ نشہ کی حالت میں یکسوئی نہیں ہوتی۔مگر یہ سراسر غلط ہے۔نشےکی تو سب سےبڑی خصوصیت یہی ہے کہ اس میں یکسوئی (Concentration) خوب ہوتی ہے۔ قرآن کا بھیجنے والا ایسی خلاف واقعہ بات کیسے کہہ سکتا ہے۔ اس نے ممانعت کے ساتھ خود ہی اس کی یہ وجہ بھی بیان کر دی کہ نشے کی حالت میں تم کو اپنے او پر قابو نہیں رہتا، زبان سے کچھ کا کچھ نکل جاتا ہے اور تم کو خبر تک نہیں ہوتی کہ تمھاری زبان سے کیا نکل رہا ہے۔ لہذا جب تم اس حال میں ہو تو نماز کے قریب بھی نہ پھٹکو ۔ نماز اس وقت پڑھو جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو۔

اس میں شک نہیں کہ یکسوئی کے ساتھ نماز پڑھنا افضل ہےجس قدر زیادہ حضور قلب انابت اور توجہ الی اللہ کے ساتھ نماز پڑھی جائے گی اُسی قدر زیادہ کامل اور بارگاہ الہی میں مقبول ہوگی۔ مگر کسی چیز کا وجہ کمال ہونا اور چیز ہے اور شرط لازم ہونا اور چیز ۔ نماز کے لیے جو ارکان مقرر کیےگئے ہیں،اگر ان کو ایمان کےساتھ اوقات مقرر میں ادا کر دیا۔جائے تو بہر حال نماز ہو جائے گی 'خواہ کامل ہو یا نہ ہو ۔اس لیے ہم کو صرف اطاعت امر کی تکلیف دی گئی ہے نہ کہ درجہ کمال کو پہنچنے کی ۔ اگر ہم ادائے فرض پر اکتفا نہ کریں اور خود اپنی دلی رغبت سے کمال کو پہنچنے کی کوشش کریں تو یہ احسان کا درجہ ہے جس کےلیے مزید ثواب اور انعام ہے۔ لیکن احسان کو ہم پر فرض نہیں کیا گیا کیونکہ اس کی فرضیت اسلام کو صرف کاملین کے لیے مخصوص کر دیتی اور عام افراد انسانی جن میں کمال کو پہنچنے کی صلاحیت نہیں ہے اس سے محروم رہ جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں نماز کی فرضیت پر تو بہت زور دیا گیا ہے مگراس کے ساتھ حضور قلب اور مشاغل دنیادی سے یک سوئی کی شرط نہیں لگائی گئی۔

"حق گو" صاحب نے اسلام کی نماز کو بھی راہیوں کی عبادت اور جوگیوں کی ضرورت سمجھ لیا ہے اسی لیے وہ ایک سوئی کو نماز کےلیےضروری شرط قرار دےرہےہیں جو قریب قریب دھیان اور مراقبہ کی ہم معنی ہے۔حالانکہ نماز دراصل تارک الدنیا لوگوں کےلیے نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کےلیےہےجن کو دنیا کےدھندوں میں پھننےاور فطرت کے تمام داعیات پورے کرنےاور دنیوی زندگی کی ساری ذمہ داریاں اپنےسر لینےکا حکم دیا گیا ہے۔ اگر جناب " حق گو ذرا غور وفکر سے کام لیتے اور اسلام کی اسپرٹ اور اس کے نظام کی عقلی بنیادوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو ان کو معلوم ہو جا تا کہ یہ مذہب دین کو دنیا سے الگ نہیں کرتا بلکہ دنیا داری کی اس طرح اصلاح کرنا چاہتا ہے کہ وہی عین دین داری بن جائے۔ اس نے نجات کا راستہ دنیا سے باہر نہیں نکالا ہے۔ وہ دُنیوی کاروبار کے عین منجدھار میں سے ایک سیدھا راستہ نکالتا ہے اور کہتا ہےکہ یہی راستہ تم کو جنت النعیم کی طرف لے جائے گا۔اس کا اصل الاصول یہ ہےکہ تم دنیا کے تمام کاروبار ایک پورے اور پکےدنیا دار کی طرح انجام دو مگر یہ حقیقت پیش نظر رکھو کہ تمھارا اصلی حاکم خدا ہےاُسی کےحکم کی اطاعت تم پر واجب ہے ظاہر اور باطن میں جو کچھ تم کرتے ہو سب کو وہ جانتا ہےاور ایک دن تم سے تمھاری زندگی کے تمام اعمال کا حساب لینے والا ہے۔ اگر تم نے دنیا میں اس کے احکام کی اطاعت کی اپنے معاملات میں اس کے حدود کوملحوظ رکھا اور اس کے مقبرر کیے ہوئے قوانین پر عمل کیا تو اس کی خوشنودی سے سرفراز کیے جاؤ گے ورنہ اس کے غضب میں گرفتار کیے جاؤ گے۔ یہی سبق ہے جس کو بار بار یاد دلانے کے لیے نماز فرض کی گئی ہےاور اس کے لیے ایسے اوقات مقرر کیے گئے ہیں جن میں اس تذکیر کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

قرآن کا پہلا ورق کھولتے ہی آپ کو یہ آیت ملتی ہے۔

ذَالِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِيْنَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ - وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ (البقره :۲تا۴)

یہ خدا کی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ ہدایت ہے اُن پرہیز گاروں کےلیےجو غیب پر ایمان لاتےہیں، نماز قائم کرتےہیں،جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتےہیں اور جو ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر جو ہم نے تیری طرف نازل کی ہے اور ان کتابوں پر جو تجھ سے پہلے نازل کی گئی تھیں اور جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

اس آیت پر غور کیجیے ۔ قرآن کی ہدایت و رہنمائی سے مراد بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ انسان کو دنیا میں فکر و عمل کی صحیح راہ بتاتا ہے علم کی روشنی دیتا ہے زاویہ نظر کو سیدھا کر دیتا ہے اور عمل کا وہ راستہ دکھاتا ہے جو انسان کو اس دنیوی زندگی کے بیچ در پیچ راستوں میں سے سلامتی کے ساتھ گزار کر فلاح اُخروی کی طرف لے جانے والا ہے ۔ مگر یہ راستہ صرف اُس شخص کے لیے کھل سکتا ہے اور اس کے لیے آسان ہو سکتا ہے جو غیب پر ایمان لائےخدا کو مانے یومِ آخر کے پیش آنے پر یقین رکھئے نماز پڑھے اور محض خدا کی خوشنودی کےلیے اپنا وہ مال خرچ کرےجس کو وہ عزیز رکھتا ہے۔ جو شخص ان شرائط کو پورا کرے گا وہی قرآن کےبتائےہوئے طریق زندگی پر چل سکے گا اور وہی کامیاب ہوگا او لنگ غلی هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (بقره:۵)

اس سے نماز کی اہمیت سمجھ میں آسکتی ہے۔

نماز ایمان بالغیب کو راسخ کر دیتی ہے۔ وہ ایک ان دیکھے خدا پر ایمان ہی ہے جو ایک شخص کو اپنا آرام اپنا کام کاج اپنے فوائد ومنافع سب کچھ چھوڑ کر دن میں کئی دفعہ نماز پڑھنے پر آمادہ کرتا ہے اور اس کو بار بار کھینچ کر مسجد یا مصلی کی طرف لے جاتا ہے۔ ایمان کی تحریک سے نفس کے اس طرح بار بار متاثر ہونے اور اسی کی متابعت میں جوارح کےحرکت کرنےکا نتیجه یہ ہوتا ہےکہ رفتہ رفتہ نفس پر ایمان کا اقتدار مستحکم ہوتا چلا جاتا ہےاور اس میں اتنی قوت پیدا ہو جاتی ہے کہ مقتضیات ایمان کے مطابق سیرت کی تشکیل کر سکے۔در حقیقت نماز ہی ایک ایسا فعل ہے جس میں انسان قول و عملاً اسلام کے پورے عقیدےکا اعادہ کرتا ہے۔ تکبیر سے لے کر سلام تک جو کچھ ہے وہ اُسی عقیدے کی تکرار ہے۔ خدا پر ایمان اس کے رسول پر ایمان اس کی کتابوں پر ایمان اس کے یومِ الحساب پر ایمان اس کو حاکم حقیقی سمجھنا اس کی خوشنودی کا طلب گار ہونا اس کے حساب سے ڈرنا‘ اس کو علیم و خبیر جانتا یہ سب کچھ نماز میں آجاتا ہے۔ شعور جلی میں نہ سہی، شعور مخفی میں تو ضرور یہ سب اُمور ہر اُس شخص کے دل میں موجود ہوتے ہیں جو نماز کی پابندی کرتا ہے کیونکہ اگر ذہن ان سے خالی ہو تو انسان نماز کی پابندی کر ہی نہیں سکتا۔

جب اس بار بار کی تکرار اور پیہم اعادہ کی وجہ سے یہ عمل انسان کے ذہن میں اسلام کے عقیدے کو مستحکم کر دیتا ہے اور اُس کی متابعت میں جسم کو امتثال امر کا خوگر بنا دیتا ہے تو اس سے لازمی طور پر انسان کو عملاً اطاعت احکام الہی کی مشق ہوتی چلی جاتی ہے۔اس میں فرض شناسی کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس میں یہ قابلیت نشو ونما پاتی ہے کہ اپنی زندگی کے معاملات میں اسلام کے ڈسپلن کی پابندی کر سکے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص روزانہ صبح کی نیند کا لطف چھوڑ کر نماز کے لیے اُٹھے گا محض اس لیے کہ خدا نے اس کو نماز کا حکم دیا ہے۔ جو شخص ہر روز ظہر اور عصر کے اوقات میں اپنی کا روباری مصروفیتوں سے ہاتھ اٹھا کر مسجد کی طرف دوڑے گا محض اس لیےکہ اس کا ان دیکھا خدا اسے بلا رہا ہے جو شخص ہمیشہ مغرب کے وقت اپنی شام کی تفریحوں اور دلچسپیوں کو چھوڑ چھاڑ کر نماز کے لیے کھڑا ہو گا محض اس لیے کہ خدا نے یہ فرض اس پر عائد کیا ہےجو شخص ہر رات کو معصیت کےمواقع کی طرف جانے کے بجائے اپنے خدا کی طرف جائے گا محض اس لیے کہ خدا کے حکم کی اطاعت کو وہ اپنا فرض جانتا ہے اس سے یہ امید بھی کی جاسکتی ہے اور اسی سے یہ اُمید کی جاسکتی ہےکہ نماز سےفارغ ہو کر جب وہ عملی زندگی کے میدان میں قدم رکھے گا تو اُسی ان دیکھے علیم و خبیر معبود کا خوف اس کو خفیہ اور علانیہ گناہوں سے روکے گا اس کے ہاتھ کو ظلم و تعدی کی طرف بڑھنے سے باز رکھے گا اسے خدا کے احکام کی اطاعت اور اس کے قوانین کی پابندی اور اس کے قائم کردہ حدود کا لحاظ کرنے پر اُبھارے گا اور اس میں اتنی قوت پیدا کر دے گا کہ نہ آسائش کا خیال اسے ادائے فرض سے روک سکے نہ دُنیوی فوائد کی طمع اس کو حد سےتجاوز کرنے پر آمادہ کر سکے اور نہ دنیا کی دلچسپیاں اس کو خدا سے غافل کر سکیں ۔ بالفرض اگر نماز سے اُس کی اخلاقی تربیت اتنی مکمل نہ بھی ہو سکے تو کم از کم اُس کی فرض شناسی اور اطاعت کیشی اور خدا تری اُس شخص سے تو زیادہ ہی ہوگی جو خدا کی پکار سنتا ہے اور ٹس سےمس نہیں ہوتا۔ یا جس کو کبھی یہ عادت ہی نہیں پڑی کہ جب خدا اور خلق کے تقاضے اُسےمخالف سمتوں میں کھینچیں تو وہ خلق سے کٹ کر خدا کی طرف جائے ۔

نماز اگر حضور قلب اور کامل توجہ کے ساتھ ہو تو اس کے رُوحانی فوائد کا پوچھنا ہی کیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جس مصلحت عظمیٰ کےلیےاس چیز کو فرض کیا ہےوہ تو سیکسوئی کے بغیر بھی اوقات مقررہ پر نماز کے ارکان ادا کر لینےسےحاصل ہو جاتی ہے۔یہی وجہ ہےکہ قرآن میں ایک سوئی اور حضور قلب پر زور دینے کے بجائے اوقات کی پابندی پر زیادہ زور دیا گیا ہے اور رات کے وقت سکون و اطمینان کی حالت میں جو نماز ادا کی جاتی ہے اس کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی جتنی اُس کو دی گئی ہے جو دنیوی کاروبار کے انہماک سے اُٹھ کر ادا کی جاتی ہے۔ ارشاد ہے کہ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلوةِ الْوُسْطَى (بقره: ۲۳۸) صلوة وسطی سے مراد عموماً عصر کا وقت لیا گیا ہے اور احادیث بھی زیادہ تر اسی کی تائید میں ہیں۔ تمام نمازوں سے الگ اس نماز کی پابندی پر خاص طور سے زور دینے کی وجہ یہی ہے کہ اس نماز کا وقت ایسا ہے جس میں عام طور پر لوگ زیادہ مشغول ہوتے ہیں۔ یہ تخصیص صاف بتا رہی ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک تمھاری توجہ اتنی پسندیدہ نہیں ہے جتنی یہ ادا پسندیدہ ہے کہ جب اس کی پکار تمھارے کان میں پہنچے تو تم اپنے مشاغل اپنی دلچسپیاں اپنے فوائد و منافع سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کی طرف لپکو اور اس کےحکم کی بجا آوری کو ہر اُس چیز پر ترجیح دو جو تمھیں عزیز ہو۔ اس لیے نماز جمعہ کا حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے کہ إِذا نُودِي لِلصَّلوة مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا البَيْعَ ذَالِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ (الجمعہ: ۱۰۹) جب جمعہ کی نماز کے لیے پکارے جاؤ تو یاد خدا کی طرف دوڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو ۔ یہ تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ پھر جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اپنے کاروبار میں خدا کا فضل تلاش کرو۔

آپ کہتے ہیں کہ دنیوی مشاغل کے اوقات میں نماز بے دلی سے ہوتی ہے۔ دل اپنے کاروبار یا کھیل کود میں پڑا رہتا ہے۔ خدا کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ بغیر سمجھے بوجھےمحض رٹے ہوئے الفاظ زبان سے ادا ہوتے ہیں اور بلا ارادہ چند جسمانی حرکات سرزد ہو جاتی ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ یہی نماز بڑی قیمت رکھتی ہے۔ جو شخص اپنے کاروبار یا اپنی تفریح سے اتنی دلچسپی رکھتا ہے کہ اُس سے ہٹنے کے بعد بھی اُس کا دل وہیں پڑا رہتا ہے وہ تو اپنےخدا کے لیے بڑی قربانی کرتا ہے کہ اپنی ایسی دلچسپی میں بھی اس کا حکم یاد کرتا ہے اور اس کے فرمان کی بجا آوری کے لیے مسجد کی طرف دوڑ جاتا ہے۔ کیسا اچھا بندہ ہے وہ کہ اپنی توجہ اپنی پسند خاطر چیز سےہٹا کر خدا کی طرف پھیر دیتا ہے اور بادلِ ناخواستہ ہی سہی مگر دل پر جبر کر کے خدا کا ذکر کرتا ہے۔ کیا آپ کے نزدیک اس ایثار اس اطاعت امر اور اس فرض شناسی کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے؟کیا یہ شخص اپنےخدا کی آزمائش میں پورا نہیں اُترا؟ کیا اس نے ضبط نفس اور خدا ترسی کا ثبوت نہیں دیا ؟ کیا اس نے اپنے عمل سے ثابت نہیں کر دیا کہ اس میں فرض کی خاطر اپنے مرغو بات کو قربان کر دینے کی قوت موجود ہے؟ اگر وہ ان ایمانی اور اخلاقی صفات کا مالک نہ تھا تو کیا چیز تھی جو اس کو فائدہ بخش یا دل پسند کام سے بنا کر نماز کی طرف کھینچ لائی ؟ یہاں بجز اطاعت امر اور خوف خدا کے اور کیا صفت یا دلچسپی ہے؟

افسوس ہے کہ اسلام کے ایسے ایسے اہم مسائل اور احکام پر آج وہ لوگ اپنےاجتہاد کی قینچیاں چلا رہے ہیں جن میں نہ اتنی علمی و عقلی استعداد ہےکہ اسرار دین تو در کنار اس کے مبادی بہی کو سمجھ سکیں' نہ اتنا خوف خدا ہے کہ مہمات دینی اپنےسطحی اور جاهلانه اجتهادات کی اشاعت سے ہزاروں مسلمانوں کے اعتقاد و محمل کو خراب کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لیتے ہوئے ڈریں، نہ اتنی اخلاقی جرات ہے کہ علم وفہم کا جھوٹا پندار چھوڑ کر جو کچھ نہ جانتے ہوں اس کے جانے والوں سے پوچھیں اور جو کچھ نہ کجھتے ہوں اس کو سمجھنے والوں سے سمجھیں۔ مسلمانوں کی کیسی شامت ہے کہ آج اس حیثیت کے لوگ دین و دنیا میں ان کی رہنمائی کرنے کے لیے اٹھنے کی جرات کر رہے ہیں۔

ترجمان القرآن

( ربیع الثانی و جمادی الاولی ۱۳۵۴ھ / جولائی داگست ۱۹۳۵ء)

کتاب تفہیمات، دوم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Understandings