تفہیمات، دوم

نکاح کتابیه

نکاح کتابیه

ایک دوست کا تقاضا ہے کہ ”فرنگیات" کی درآمد کا فتنہ بڑھتا جا رہا ہے اور "اہل کتاب عورتوں سے نکاح کی شرعی اجازت ایک بہانہ بن گئی ہے لہذا اس کے متعلق شرعی احکام کی صحیح تشریح ہونی چاہیے۔

اس میں شک نہیں کہ فی الواقع یہ ایک بڑا فتنہ ہے۔ ہندوستان، مصر اور شام وغیرہ ممالک میں تو اس کا اثر صرف اسی حد تک رہا ہے کہ میم صاحبات نے اسلامی نظامِ معاشرت میں گھس کر تہذیب اسلامی کی خوب بیخ کنی فرمائی۔لیکن ترکی میں اس کےسیاسی نتائج بھی نہایت خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔ یہ اُن اہم اسباب میں سےہےجن کی بدولت ترکوں کی عظیم الشان سلطنت تباہ ہوئی۔ اس بنا پر اگر دردمند مسلمانوں کو اس کے سد باب کی ضرورت کا احساس ہو تو یہ بالکل جائز ہے۔لیکن ہمارے نزدیک مصالح کےکسی ایک پہلو پر ضرورت سے زیادہ زور دےکر کسی شرعی مسئلہ میں ترمیم کرنا درست نہیں۔ قرآن مجید جس نےنازل کیا ہے وہ حکیم مطلق ہے اور اس کی نظر تمام مصالح و ضروریات پر غایت درجہ توازن و تناسب کے ساتھ پڑتی ہے۔ اس کے احکام کو سمجھنے اور حالات پر ان کو ٹھیک ٹھیک منطبق کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حتی الامکان نظر کو زیادہ سے زیادہ وسعت دے کر تمام چھوٹی اور بڑی مصالح کا جائزہ لیا جائے اور ہر ایک کو رعایت کا وہی درجہ دیا جائے جو خود شارع نے دیا ہے۔

قرآن مجید کی جس آیت میں اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں :-

الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَتُ وَطَعَامُ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَبَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الْمُؤْمِنَتِ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا اتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِى أَخْدَانِ (المائدہ:۵)

آج تمھارے لیے پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اور اُن لوگوں کا کھانا جن کو کتاب دی گئی ہے تمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور مومن عورتوں میں سے پاک دامن عورتیں اور ان لوگوں کی بھی پاک دامن عورتیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی جا چکی ہے (تمھارے لیے حلال ہیں ) بشر طیکہ تم اُن کو اُن کے مہر ادا کر کے قید نکاح میں لاؤ نہ یہ کہ کھلم کھلا بدکاری کرنے والے یا چوری چھپے تعلقات رکھنے والے بنو ۔

اختلافات سلف :

اس آیت کی تفسیر میں سلف کے درمیان بہت کچھ اختلافات ہوئے ہیں۔لیکن جمہور علماء نے ہر زمانے میں اس کے حکم کو ظاہر الفاظ اور عموم اطلاق ہی پر باقی رکھا ہےاس لیے کہ کسی حکم قرآنی کو ظاہر سے پھیرنے اور عام کو خاص کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت ہے اور یہاں سرے سے کوئی دلیل ہے ہی نہیں ۔ قرآن بھیجنے والے سے بڑھ کرصاحب حکمت متقن کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔وہ خود اپنےحکم میں کسی استثناء یا تخصیص کی ضرورت سمجھتا تو وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ کے ساتھ کوئی قید ضرور بڑھاتا ۔ اس کی شان تشریع سے یہ امر بہت بعید ہے کہ وہ قانونی احکام کے بیان میں اتنی چست زبان بھی استعمال نہ کر سکے جتنی دُنیا کےواضعین قانون استعمال کر لیتے ہیں ۔کس طرح ممکن ہے کہ اس کا مقصد تو اہل کتاب کے کسی خاص گروہ کو حلال کرنا ہو اور وہ بیان حکم کے لیے الفاظ ایسے منتخب کرے جو تمام اہل کتاب کے لیے عام ہوں اور جن میں استثناء اور تخصیص کے لیے قطعاً کوئی اشارہ تک نہ ہو یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین اور آئمہ سلف نے عموماً اس آیت کو اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کی عام اجازت پر محمول کیا ہےاور صرف محمول ہی نہیں کیا ہے بلکہ اس کے مطابق عمل بھی کیا ہے۔ چنانچہ حضرت عثمان بن عفان نے نائلہ بنت فرافصہ گلبیہ سےنکاح کیا جو نصرانی تھی ۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ نےایک شامی یہودیہ سے نکاح کیا۔ حذیفہ بن الیمان اور کعب بن مالک اور مغیرہ بن شعبہ وغیر ہم نے بھی کتابیات سے نکاح کیے یا ان کو نکاح کے پیغام دیے۔

ابن عمر کا مسلک :

صحابہ میں سے صرف ایک ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جنھوں نے اہل کتاب کی عورتوں سےنکاح کو مطلقا نا جائز قرار دیا ہے۔وہ کہتےہیں کہ اللہ تعالی نے مشرک عورتوں کو حرام کیا ہے" ۔ وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ (بقره: ۲۲۱) مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں اور میں نہیں جانتا کہ اس سے بڑھ کر بھی کوئی شرک ہو سکتا ہے کہ عیسی بن مریم یا کسی بندہ خدا کو خدا قرار دیا جائے۔ اس بنا پر وہ تمام اُن اہل کتاب کی عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں جن کے اعتقاد میں کفر و شرک پایا جاتا ہو۔ والمحصنت کی تغییر انھوں نے والمسلمات سے کی ہے۔ یعنی اُن کی رائےمیں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے جو عورتیں مسلمان ہو جائیں اُن کے ساتھ بھی نکاح کرنا تمھارے لیے حلال ہے۔

لیکن اس مسئلے میں ابن عمر کی رائے درست نہیں ہے جس کے وجوہ مختصر اہم بیان کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں خود ہی اہل کتاب کے وہ تمام عقائد بیان فرمائے ہیں جو صریح شرک پر مبنی ہیں ۔ مثلاً اُن کا یہ اعتقاد کہ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ (مائده: ۷۳) اور یہ کہ اِنَّ الله ثالث ثلثة (مائدہ:۷۲) اور قَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرُ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصْرِى الْمَسِيحُ ابْنُ اللهِ (التوبہ: ۳۰) ۔ یہی نہیں بلکہ اس نے لفظ شرک اور کفر کو بھی ان کی طرف منسوب کیا ہےمگر اس کے باوجود اس نے کسی جگہ بھی ان کے لیے مشرک کا لفظ اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا۔تمام قرآن میں جہاں کہیں بھی ان کا ذکر آیا ہےاہل کتاب یا اس کےہم معنی دوسرے الفاظ کے ساتھ ہی آیا ہے۔ قرآن کو اوّل سے آخر تک دیکھ جائیے۔ تین گروہ بالکل الگ الگ نظر آ ئیں گے ۔ ایک گروہ مشرکین و کفار یعنی وہ لوگ جن کے پاس کوئی آسمانی ہدایت محترف یا غیر محترف موجود نہیں ہے۔ دوسرے اہل کتاب جو اپنی تمام اعتقادی و عملی گمراہیوں کے باوجود کسی نبی اور کسی آسمانی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں۔ تیسرے مومنین جن سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو ہیں.عام اس سے کہ وہ اسلام میں پیدا ہوئے ہوں یا اہل کتاب کے گروہ سے اسلام میں آئےہوں یا مشرکین و کفار کے گروہ سے نکل کر مسلمان ہو گئے ہوں ۔ قرآن ان تینوں گروہوں کے درمیان واضح امتیاز برتا ہے اور کہیں ان کو خلط ملط نہیں کرتا کہ مطلقاً اہل کتاب بول کر مشرک مراد لئے یا مطلقاً مشرک بول کر اہل کتاب مراد لے یا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ کہہ کر مسلمان مراد لے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ وَلا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكاتِ فرما کر نکاح سے منع فرمایا اور دوسری جگہ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ کہہ کر نکاح کی اجازت دی تو لا محالہ یہ ماننا پڑے گا کہ پہلی آیت میں المُشْرِكَاتِ سے بت پرستوں اور دوسری غیر کتابی قوموں کی عورتیں مراد ہیں۔ اور دوسری آیت میں اُن غیر مسلم گروہوں کی عورتیں مراد ہیں جن کے پاس قرآن سے پہلے کتابیں تھیں۔ اگر یہ معنی نہ لیے جائیں تو قرآن کی دو آنتوں میں صریح تعارض لازم آتا ہے جس کو یہ کہہ کر دفع نہیں کیا جا سکتا کہ والمُحصنت مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتب سے مراد وہ عورتیں ہیں جو یہودیت ونصرانیت چھوڑ کر مسلمان ہو گئی تھیں یا اُن کتابی فرقوں کی عورتیں ہیں جو شرک و کفر سے پاک تھے اس لیے کہ:۔

اولا اللہ تعالیٰ نے وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ سے پہلےوَالْمُحْصَنَنتُ مِنَ الْمُؤمِنتِ فرما دیا ہے۔اور مومنات سے صرف وہی عورتیں مراد نہیں ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئی ہوں بلکہ وہ سب عورتیں بھی مراد ہیں جو اپنے سابق مذہب کو چھوڑ کر اسلام میں آئی ہوں۔ پس جب مومنات سے نکاح کو عموماً حلال کر دیا تھا اور ان میں وہ عورتیں بھی آپ سےآپ داخل تھیں جو اسلام سےپہلےنصرانی یا یہودی تھیں،تو پھرخاص طور پر وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الكِتب کےذکر کی کون سی ضرورت تھی؟اس طرح تو یہ فقرہ بالکل بےمعنی اور عبث ہو جاتا ہے۔

ثانیا اس آیت سے پہلے یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اُن لوگوں کا کھانا تمھارے لیےحلال ہے جن کو کتاب دی گئی ہے۔ کیا وہاں بھی اہل کتاب سے مراد وہ مسلمان ہیں جو نصرانیت اور یہودیت چھوڑ کر مسلمان ہوئے ہوں؟ اگر نہیں تو کس بنا پر جائز ہوا کہ ایک ہی آیت کے ایک ٹکڑے میں لفظ اہل کتاب کے ایک معنی لیے جائیں اور دوسرے ٹکڑے میں دوسرے معنی ؟

ثالثاً ، نصاری اور یہود کا کون سا فرقہ ایسا ہے جو شرک یا کفر سے پاک ہو؟ خدا کےبارے میں صحیح اعتقاد اُن میں باقی ہی کہاں تھا اور کہاں سے آ سکتا تھا ؟ موسیٰ اور عیسی علیہما السلام کی اصل تعلیمات ہی ان کے ہاں محترف ہو چکی تھیں ۔ پھر صحت اعتقاد کا راستہ مل کہاں سکتا تھا کہ ان میں کوئی فرقہ راہِ راست پر ہوتا ؟ پس یہ خیال قطعا صحیح نہیں کہ والمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أولُوا الكتب سے یہود یا نصاری کا کوئی صحیح العقیدہ گروہ مراد ہے۔ قرآن کی جن آیات سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ ان میں کچھ صحیح العقیدہ فرقے بھی تھے ان کا اشارہ دراصل ایسے اہل کتاب کی طرف ہے جو نیک دل اور سلیم الفطرت ہونے کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو قبول کر چکے تھے یا عنقریب قبول کرنے والے تھے۔

رابعاً اگر بالفرض یہود و نصاریٰ کا کوئی خاص گروہ ایسا ہو بھی تو اللہ تعالی نے الَّذِينَ أوتوا الكتب من قبلِكُمُ کے ساتھ کوئی ایسی قید ایسی نہیں بڑھائی ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہو کہ یہ حکم صرف اسی گروہ کے ساتھ مخصوص ہے اور دوسرے اہل کتاب اس سے خارج ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم خواہ مخواہ اہل کتاب کے اعتقادات کی چھان بین میں لگ جائیں اور اپنے قیاس سے یہ طے کریں کہ ان میں سے کس فرقے کی عورتیں حلال ہیں اور کس فرقے کی حرام ۔

جن لوگوں نے حضرت ابن عمر کے قول کی تائید کی ہے وہ آیت وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ (المتخنه : ۱۰) سے بھی استدلال کرتے ہیں، لیکن یہ آیت خاص طور پر اُن مردوں اور عورتوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف مسلمان ہو کر ہجرت کر آئے ہوں اور جن کے شوہر یا بیویاں دارالحرب میں بحالت کفررہ گئی ہوں ۔ آیت کا منشا یہ ہے کہ ان کے دارالاسلام میں آتے ہی جاہلیت کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور مہاجر مرد و عورت دونوں نکاح کے لیے آزاد ہو جاتے ہیں ۔ یہ معنی تو شانِ نزول کے لحاظ سے متفق ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص نفس الفاظ ہی پر حصر کرے تو ہم کہیں گے کہ ایک جگہ وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ سے ایک عام حکم بیان کیا گیا تھا، پھر دوسری جگہ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتب کہہ کر بتا دیا گیا کہ کفار میں سے ایک خاص جماعت یعنی اہل کتاب اس عام ممانعت سے مستثنیٰ ہیں۔ اگر آپ یہ نہیں مانتے کہ پہلے حکیم عام کو یہ دوسرا حکیم خاص کر رہا ہے تو آپ کو مانا پڑے گا کہ اللہ تعالی متضاد باتیں کرتا ہے، ایک جگہ ایک چیز کی اجازت دیتا ہے اور دوسری جگہ اس کی ممانعت کر دیتا ہے معاذ اللہ

ابن عباس کا مسلک :

ابن عمر کے بعد دوسرے صحابی جنھوں نے نکاح کتابیات کی اجازت کو محمد ود کرنے کی کوشش کی ہے ابن عباس ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حکم صرف ذمی عورتوں کےساتھ مخصوص ہے۔ نصاری اور یہود میں جو لوگ اسلامی سلطنت کی رعایا ہوں صرف اُنھی کی عورتوں سے نکاح کیا جا سکتا ہے، خواہ اُن کے اعتقادات میں کیسا ہی فساد ہو ۔ رہے اہل حرب ( یعنی وہ لوگ جو حدود دار الاسلام سے باہر رہتے نہوں ) تو ان کی عورتوں سے نکاح جائز نہیں۔ دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اہل کتاب کے اس گروہ سے جنگ کا حکم دیا ہے:قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدِوَّهُمْ صَاغِرُونَ (التوبہ:۲۹) نیز یہ بھی فرمایا ہے کہ جو لوگ خدا اور رسول کے دشمن ہوں ان سےمحبت رکھنا اہل ایمان کا کام نہیں ہے۔ لا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ .. يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ (المجادلہ: (۲۲) دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے ازدواجی تعلق کی بنیاد جس چیز پر رکھی ہے وہ مودت اور رحمت کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَرَحَمُةٌ- (الروم : ۲۱) پس جب نکاح کا تعلق محبت و اخلاص کا مقتضی ہے اور حربی مشرکین و اہل کتاب سے محبت رکھنا حرام اور جنگ کرنا مامور بہ تو لازم آیا کہ اُن کی عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہ ہو۔

یہ ہے ابن عباس کا استدلال ۔ مگر ابن عمر کی طرح اُن کی اس رائےکو بھی جمہور صحابہ و تابعین و آئمہ متقین نے تسلیم نہیں کیا۔ اگر چہ دارالحرب اور دارالکفر کی رہنے والی کتابی عورت سے نکاح کو بالا تفاق سب مگر وہ قرار دیتےہیں،لیکن اس کی حرمت کا کوئی بھی قائل نہ ہوا۔ کیونکہ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الکتب کی اجازت حربی اور غیر حربی سب کو شامل ہے اور اس میں اللہ تعالی نے کوئی قید نہیں رکھی ہے۔ پس جہاں تک قانونی جواز کا تعلق ہے اس کو ٹھیک اُسی عموم پر باقی رکھنا چاہیے جو آیت قرآنی میں پایا جاتا ہے۔ رہا قومی مصالح یا شخصی حالات کے لحاظ سےنکاح کا مناسب نہ ہونا اور اس کا لائق پرهیز ہونا تو یہ بالکل ایک دوسری چیز ہے۔ ہم جائز کو نا جائز نہیں کر سکتے ۔ البتہ یہ حق ہم کو حاصل ہے کہ جو فعل جائز کسی خاص حالت میں یا کسی خاص وجہ سے ہمارے لیے مناسب نہ ہو اس سے ہم پر ہیز کریں کیونکہ جواز کے معنی امر اور لزوم کے نہیں ہیں۔

جمہور کا مسلک اور اُن کے اختلافات :

ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہا کی رائے کو رڈ کر دینے کے بعد جو لوگ آیت زیر بحث کے حکم کو عام قرار دیتے ہیں اُن کے درمیان تمام تر اختلاف صرف دو لفظوں کی تفسیر میں ہے: ایک الْمُحْصَنَتُ - دوسرے الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتب _______

مصنہ کے معنی ایک گروہ کے نزدیک’پاک دامن عورت“ کے ہیں۔ اور دوسرا گروہ کہتا ہے کہ محمد وہ عورت ہے جو آزاد ہو۔ لونڈی نہ ہو۔ پہلے گروہ کے نزدیک اہل کتاب کی صرف اُن عورتوں سے نکاح جائز ہے جو عفیفہ ہوں ۔ بدکار اور آبرو باختہ اور بے حیا عورتیں اس حکم سے خارج ہیں ۔ دوسرے گروہ کی رائے میں کتابیہ لونڈی سے نکاح جائز نہیں خواہ وہ عفیفہ ہی کیوں نہ ہو اور آزاد کتابیہ سے جائز ہے خواہ وہ بدکار ہی کیوں نہ ہو۔

اہل کتاب کے متعلق اختلاف اس امر میں ہے کہ کون کون سے گروہ ان میں شامل ہیں۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ اہل کتاب صرف وہ یہودی اور نصرانی ہیں جو بنی اسرائیل سےہوں۔ رہیں دوسری قومیں جنھوں نے یہودیت یا نصرانیت قبول کر لی ہے تو وہ اہل کتاب نہیں ہیں ۔ کیونکہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی صرف بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھےدوسری قو میں ان کی دعوت کی مخاطب ہی نہ تھیں ۔ حنفیہ اور جمہور فقہاء کہتے ہیں کہ ہر وہ قوم جو کسی نبی کو مانتی ہو اور کسی کتاب الہی پر ایمان رکھتی ہو اہل کتاب شمار کی جائے گی۔ اس میں یہود و نصاریٰ کی بھی کوئی قید نہیں۔ اگر کوئی گروہ صُحف ابراہیم کا ماننے والا یا صرف زبور داؤد پر ایمان رکھنے والا ہوتا تو وہ کتابی گروہ ہوتا۔ سلف میں ایک قلیل جماعت اس طرف بھی گئی ہے کہ جن قوموں کے پاس کوئی ایسی کتاب ہے جس پر آسمانی ہونے کا طلبہ کیا جا سکتا ہے وہ بھی اہل کتاب میں سے ہیں مثلا مجوی۔ موجودہ زمانے کے بعض " مجتہدین" نے اسی خیال کو وسعت دے کر یہ اجتہاد فرمایا ہے کہ ہندو اور چینی اور بودھ مت والے بھی اہل کتاب ہیں اور ان کی عورتوں سے بھی نکاح جائز ہے کیونکہ بہر حال ان کے ہاں بھی کوئی نہ کوئی نبی آیا ہوگا اور کوئی نہ کوئی کتاب ان کو ضرور دی گئی ہوگی ۔

صحیح مسلک :

ان تمام اختلافات میں جو مسلک سب سے زیادہ صحیح ہے وہ یہ ہے کہ اہل کتاب سے مراد صرف یہود و نصاریٰ ہیں عام اس سے کہ وہ اسرائیلی ہوں یا غیر اسرائیلی ۔ قرآن مجید میں اہل کتاب کا لفظ انھی دونوں گروہوں کے لیے آیا ہے۔ اور ایک جگہ تو تصریح کر دی گئی ہے کہ یہی دو گروہ اہل کتاب ہیں، وهذا كِتابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكَ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقَوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ -اَنْ تَقُولُوا إِنَّمَا أُنْزِلَ الْكِتَبْ عَلَى طَائِفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا (انعام:۱۵۶ ۱۵۷) ان دو گروہوں کےعلاوہ جن دوسری قوموں کے پاس کتابیں بھیجی گئی تھیں، انھوں نے چونکہ اپنی کتابوں کو بالکل ضائع کر دیا اور ان کے اعتقاد و عمل میں کوئی چیز بھی تعلیمات انبیاء پر باقی نہیں رہی، اس لیے اُن پر لفظ اہل کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوسیوں کو اہل کتاب قرار نہیں دیا حالانکہ وہ زردشت کو مانتے ہیں جس پر نبی ہونے کا شبہ کیا جا سکتا ہے۔ ہجر کے مجوسیوں سے جب معاملہ پیش آیا تو حضور نے فرمایا کہ ستوابهم سنة أهل الكتب " ان کے ساتھ اہل کتاب کا سا معاملہ کرو۔ یہ نہیں فرمایا کہ وہ اہل کتاب ہیں ۔ پھر جو نامہ مبارک آپ نے مجوس بنجر کو لکھا تھا اس میں صراحت کےساتھ یہ تحریر فرما دیا تھا کہ : ” ان کے ساتھ اہل کتاب کا سا معاملہ کرو“۔ یہ نہیں فرمایا کہ وہ اہل کتاب ہیں ۔ پھر جو نامہ مبارک آپ نے مجوس ہجر کو لکھا تھا اس میں صراحت کے ساتھ یہ تحریر فرما دیا تھا کہ:

فَإِنْ أَسْلَمْتُمُ فَلَكُمْ مَالَنَا وَعَلَيْكُمُ مَا عَلَيْنَا وَمَنْ أَبَى فَعَلَيْهِ الْجِزْيَةُ غَيْرَ أَكُلِ ذَبَائِحِهِمْ وَلَا نِكَاحَ نِسَاءِ هِمْ -

اگر تم اسلام قبول کرو گے تو تمھارے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے ہیں اور تم پر وہی واجبات ہوں گے جو ہم پر ہیں ۔ اور جو لوگ تم میں سے انکار کریں گے اُن پر جزیہ عائد کر دیا جائے گا۔ مگر نہ ان کا ذبیحہ کھایا جائے گا اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح کیا جائے گا۔

اس تصریح کے بعد یہ طلبہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ غیر یہود و نصاری کو بھی اکل ذبائح اور نکاح محصنات کی اغراض کے لیے اہل کتاب میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

رہی اسرائیلیت کی قید جو امام شافعی نے لگائی ہے تو وہ بھی درست نہیں۔ بلائبہ دعوت موسوی و عیسوی کے مخاطب صرف بنی اسرائیل تھے ۔ مگر جن غیر اسرائیلی قوموں نےنصرانیت کو قبول کیا انھیں بھی تو خدا اور رسول نے اہل کتاب ہی میں شمار کیا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نامہ مبارک قیصر روم کے نام لکھا تھا اس میں یہ آیت نقل فرمائی تھی که ياهْلَ الْكِتَبِ تَعَالَوُا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَا وَبَيْنَكُمُ ( آل عمران :۱۴ ) دیکھیے، یہاں رومیوں کو اے اہل کتاب کہہ کر خطاب کیا جا رہا ہے اور ظاہر ہے کہ رومی اسرائیلی نہ تھے۔

پھر جن لوگوں نے محصنات کا ترجمہ عفیفہ یا 7 ہ کیا ہے اور عفت یا حریت کو نکاح کتابیہ کے لیے شرط قرار دیا ہے اُن کا مسلک بھی درست نہیں معلوم ہوتا ۔ اس میں شک نہیں کہ احصان کے مفہوم میں عفت اور شرافت دونوں داخل ہیں اور مکھنہ سے مراد ایسی ہی عورت ہے جو پاک دامن بھی ہو اور شریف و معزز بھی۔لیکن شارع کا مقصود ان دونوں چیزوں کو نکاح کےلیےشرط قرار دینا نہیں ہےبلکہ محض افضلیت اور اولیت کا اظہار مقصود ہے۔شارع در اصول یہ بتانا چاہتا ہے کہ تم نکاح کرنے کو تو ہر مومن اور کتابی عورت سے کر سکتے ہو مگر اولی اور افضل یہ ہےکہ وہ عورت کھنہ یعنی شریف اور پاک دامن ہو۔ قرآنی احکام میں اس قسم کی قیود بکثرت لگائی گئی ہیں جو ثبوت حکم کے لیے شرط کی حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ کسی فعل جائز کے افضل پہلو یا فعل نا جائز کے ارذل پہلو کو ظاہر کرنے کے لیےبطور ایک قید زائد کے رکھ دی گئی ہیں تا کہ اہل ایمان افضل کے اختیار اور ارذل سےاجتناب کا اہتمام کریں۔ بعینہ یہی مسلک ہے جو اس باب میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اختیار فرمایا ہے۔ حضرت حذیفہ بن الیمان نے ایک یہودیہ سے نکاح کیا۔ حضرت عمرؓ کو اطلاع پہنچی تو آپ نے لکھا کہ اسے چھوڑ دو ۔ انھوں نے دریافت کیا کہ یہ حکم کس بناء پر ہے؟ کیا کتابیہ سے نکاح کرنا حرام ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ حرام نہیں ہے بلکہ مجھےخوف ہے کہ کہیں تم لوگ اہل کتاب کی آبرو باختہ عورتوں میں نہ پھنس جاؤ۔

پس تمام مسالک میں جو مسلک ہمارے نزدیک اصح ہے وہ یہ ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنے کے شرعی جواز کو عام قرار دیا جائے خواہ وہ تربیہ ہوں یا زمیہ عفیفہ ہوں، لونڈیاں ہوں یا آزاد ۔

مصالح وحكم :

یہاں تک تو مسئلہ کی صرف قانونی حیثیت سے بحث تھی ۔ اب ہم اس پہلو سے اس مسئلے پر بحث کرتے ہیں کہ دینی وملتی مصالح کے لحاظ سے صحیح اور مناسب کیا طرز عمل ہے اور رُوح دین کے تقاضے کیا ہیں ۔

نکاح کے متعلق اسلامی نقطۂ نظر :

شریعت اسلامیہ میں نکاح کی حیثیت محض ایک عمرانی معاہدہ (Social Contract) ہی کی نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ آج کل تعبیر کر رہے ہیں، بلکہ اس میں ایک مذہبی تقدس کی شان بھی ہے۔ یہ تقدس ہندوؤں اور عیسائیوں کے نکاح کی طرح (Sacrament) کی حد تک تو نہیں پہنچتا، مگر عبادت کی حد تک ضرور پہنچ جاتا ہے۔ شارع اس سے نہ صرف تمدنی و عمرانی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے بلکہ دینی و روحانی فوائد بھی چاہتا ہے۔ اس سےاخلاق کی اصلاح مقصود ہے۔ سوسائٹی کی پاکیزگی مقصود ہے۔ ایک خالص اسلامی نظامِ معاشرت کا بقاء و دوام اور نشو و ارتقاء مقصود ہے۔ دنیا میں خدا کا نام لینے والی اور کلمتہ اللہ کو بلند کرنے والی نسلیں پیدا کرنا مقصود ہے۔ ان مقاصد میں مددگار ہونے کی وجہ سے نکاح کو عبادات کے قریب جگہ دی گئی ہے۔ بعض فقہائے اسلام نے تو یہاں تک کہ دیا کہ بعض حیثیات سے نکاح کو جہاد پر بھی فضیلت ہے۔ کیونکہ نکاح اور جہاد دونوں وجود مسلم اور وجود اسلام کے اسباب ہیں، مگر جو کچھ افراد مسلمین کی مناکحت سے حاصل ہوتا ہے وہ اس سے بدرجہا زیادہ ہے جو جہاد سے حاصل ہوتا ہے۔ جہاد میں تو زیادہ تر امکان اس کا ہےکہ کفار قتل ہوں گے یا ذمی بن کر حالت کفر ہی میں رہیں گےبخلاف اس کے اہل اسلام کی شادیوں کا خالص نتیجہ یہ ہے کہ اس سے مسلمانوں کی ایک نسل کے اخلاق محفوظ ہوں گے اور دوسری نسل متبعین اسلام کی وجود میں آئے گی۔

اس باب میں اسلام کے نقطۂ نظر کو پوری طرح سمجھنےکےلیےان احادیث پر ایک نگاہ ڈالنی چاہیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےنکاح کےمتعلق مروی ہیں۔ابو یعلی نےاپنی مسند میں نقل کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےایک مرتبہ عطاف بن وداعتہ الہلالی سےپوچھا کیا تمھاری شادی ہو چکی ہے؟ انھوں نے کہا نہیں۔ آپ نے پوچھا: لونڈی بھی نہیں؟ انھوں نے کہا، نہیں۔ آپ نےدریافت فرمایا' کیا تم تندرست اور خوش حال ہو؟ انھوں نے عرض کیا ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”تب تو تم شیطان کے بھائیوں میں سےہو یا عیسائیوں میں ہے۔اگر تم ہماری جماعت میں شامل ہونا چاہتے ہو تو وہی کرو جو ہم کرتےہیں ۔ اور ہمارے طریقوں میں سے ایک نکاح بھی ہے۔ تم میں بدترین لوگ وہ ہیں جو مجرد رہتے ہیں اور تمھارے مرنے والوں میں بدترین وہ ہیں جو مجرد مرتے ہیں۔"

ایک اور حدیث میں ہے کہ تَنَا كَحُوا تَنَاسَلُوا تَكْثُرُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ أَبِكُمُ الْامَمَ يَوْمَ الْقِيمَةِ ”نکاح کرو نسلیں بڑھاؤ اپنی تعداد میں اضافہ کرو کیونکہ میں قیامت کےروز تمام امتوں کےمقابلہ میں تمھاری تعداد زیادہ دیکھنا چاہتاہوں۔

ایک موقع پر فرمایا: أَرْبَعٌ مَنْ أَعْطِيَهُنَّ فَقَدْ أُعْطِيَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَلْبًا شَاكِرًا وَلِسَانًا ذَاكِرًا وَبَدْنَا عَلَى الْبَلَاءِ صَابِرًا وَزَوْجَةً لَا تَبْغِيهِ خَوْنًا فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ ( رواه الطبرانی فی الکبیر والا وسط ) چار چیزیں ہیں کہ جس کو وہ دی گئیں اسے دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی دے دی گئی۔ ایک وہ دل کہ خدا جو کچھ دے اس پر وہ شکر ادا کرے۔ دوسرے وہ زبان جو خدا کا ذکر کرنے والی ہو تیسرے وہ بدن جو مصیبتوں کےمقابلے میں ٹھیرنے کی قوت رکھتا ہو۔ چوتھے وہ بیوی جوشو ہر کے مال اور اپنی عصمت میں کسی خیانت کی طرف مائل نہ ہو“۔

ایک اور موقع پر ارشاد ہوا : مَنْ أَرَادَ أَنْ يُلْقَى اللَّهَ ظَاهِرًا مُطَهَّرًا فَلْيَتَزَوْجِ الْحَرَائِرَ (ابن ماجہ ) ” جو کوئی اللہ سے پاک صاف ملنا چاہتا ہوا سے شریف عورتوں سے شادی کرنی چاہیے"۔

ایک دوسری حدیث میں ہے: لا تُزَوَجُوُا البَسَاءَ لِحُسْنِهُنَّ فَعَسَى حُسْنُهُنَّ إِنْ يُرْدِيَهُنَّ وَلَا تُزَوِّجُوهُنَّ لِاَمْوَالِهِنَّ فَعَسَى أَمْوَالُهُنَّ أَنْ تُطْعِيَهُنَّ وَلَكِنْ تُزَوِّجُوهُنَّ عَلَى الدِّينِ فَلَامَةٌ حُرَقَاءُ سُوْدَاءُ دَاتُ دِيْنِ أَفْضَلُ - ابن ماجہ ) '' عورتوں سے اُن کے حسن کی خاطر شادیاں نہ کرو۔ ممکن ہے کہ ان کا حسن ان کو بگاڑ دے۔ اور تم ان کے مال و دولت کی خاطر بھی شادیاں نہ کرو ۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے اموال ان کو سرکش بنا دیں ۔ تم کو اُن میں جو چیز دیکھنی چاہیے وہ دین ہے۔ ایک کالی کلوٹی کم عقل لونڈی بھی اگر دین دار ہو تو وہ دوسری عورتوں سے افضل ہے“۔

اسی قسم کی بہت سی احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں نکاح کی اہمیت صرف ایک تمدنی ضرورت کو پورا کرنےہی کےلیے نہیں ہےبلکہ سب سےبڑا نصد تحصینِ نفس اور طهارت اخلاق اور تہذیب اسلامی کا فروغ اور خالص مسلمان نسلیں پیدا کرنا ہے۔ اور ان اغراض کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ مسلمان نکاح کریں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے نکاح ایسی عورتوں سے ہوں جو مسلمان ہوں، دین دار ہوں،شریف اور باعصمت ہوں ۔ کیونکہ ایک صالح اسلامی سوسائٹی ایسے ہی مردوں اور عورتوں کے ازدواج سے وجود میں آسکتی ہے اور ایک صالح مسلمان نسل ایسی ہی ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوسکتی ہے۔

مخلوط شادیوں کی مضرت:

دینی نقطۂ نظر سے ہٹ کر خالص عمرانی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مخلوط شادیوں سے بڑھ کر کوئی چیز نظام معاشرت اور خاندانی زندگی کو فاسد کرنے والی نہیں ہو سکتی۔دو ایسےمیاں بیوی جن کےخیالات میں بعد المشرقین ہو اور جنھوں نےدو بالکل مختلف ماحولوں میں مختلف روایات اور مختلف معاشرتوں کے زیراثر پرورش پائی ہو اپنے باہمی اختلاط سے نہ تو خود اپنی زندگی میں سکون و راحت حاصل کر سکتےہیں نہ اپنے گھر کو کسی نظام معاشرت کا صالح رکن بنا سکتے ہیں اور نہ کوئی ایسی نسل پیدا کر سکتے ہیں جو کسی نظام تمدن میں اچھی طرح کھپ سکتی ہو۔ یہ ممکن ہے کہ اُن کے درمیان محبت ہو اور آخر تک رہے۔ مگر اُن کی محبت اور رفاقت زیادہ سے زیادہ صرف انھی کی ذات کے لیے لطف ولذت کی موجب ہو سکتی ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کا کوئی تمدنی فائدہ نہیں ہے۔ اختلاف مذہب اور اختلاف قومیت تو خیر بڑی چیز ہے۔ خاندانی زندگی کی کامیابی اور نظام تمدن کی بہتری کے لیے تو ایسی شادیاں بھی مفید نہیں ہوتیں جن کے دونوں فریق ایک ہی سوسائٹی کے دو مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہوں ۔ شہری اور دیہاتی تک کا فرق بارہا ناموافقت کا موجب بن جاتا ہے۔ نباہ کے لیے ضروری ہے کہ زوجین اور ان کےخاندانوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ امور میں اتحاد ہو ۔ صرف یہی کافی نہیں ہے کہ ان کا دین ایک ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ان کا طرزِ معاشرت ایک ہو ان کے خیالات اور اصولِ حیات میں یکسانی ہو ان کے معاشی اور معاشرتی مرتبے میں ہمواری ہو اور ان کی خاندانی روایات ایک دوسرے سےبہت زیادہ مختلف نہ ہوں ۔ یہی چیز ہے جس کو اصطلاح شریعت میں کفاء ت کہتے ہیں۔ شارع نے مناکحت میں کفو کو جو اہمیت دی ہے وہ اسی لیے ہے کہ زوجین میں زیادہ سے زیادہ مماثلت ہو کیونکہ مماثلت صرف زوجین ہی کےلیے مودت و رحمت کی موجب نہیں ہےبلکہ پوری سوسائٹی کے لیے مفید ہے اور آئندہ نسلوں کی بہتری بھی اسی پر موقوف ہے۔ جن زوجین میں مماثلت نہیں ہوتی ان کی مواصلت محض ایک جسمانی مواصلت ہے جو تمدن و تہذیب کے نقطہ نظر سے قطعی بانجھ یا قریب قریب بانجھ ہوتی ہے۔

اختلاف مذہب کے نقصانات :

عدم کفاء ت کے نقصانات تو صرف اسی قدر ہیں کہ اس سے زوجین میں مودت و رحمت کم اور نتیجہ خیز اشتراک کمتر ہوتا ہے۔ مگر اختلاف مذہب و قومیت کے نقصانات اس سے بدرجہا زیادہ ہیں۔ اس میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ایک غیر مسلم ماں کی آغوش میں جو اولا د تربیت پا کر اٹھے گی وہ دین و اخلاق کے اعتبار سے اسلامی سوسائٹی کے کسی کام کی نہ ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ بھی خطرہ ہے کہ وہ ایک مسلمان گھر میں غیر اسلامی طریقےرائج کرے گی اور جن جن کے گھروں سے اس کے روابط ہوں گےوہ سب کم و بیش اس عضو فاسد کے شر سے متاثر ہوں گے ۔ پھر خود شوہر بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہ رہےگا۔ اگر وہ اس کی محبت میں زیادہ گرفتار ہو تو ممکن ہے کہ اپنے دین و ایمان کو بھی ہاتھ سےکھو بیٹھے۔ لیکن یہ فساد اس حد تک نہ بھی پہنچے تو اس کا کم سےکم یہ اثر تو ضرور ہوگا کہ وہ اپنےگھر میں اپنی آنکھوں سے اسلامی اخلاق اور اسلامی تہذیب کے بہت سے ارکان کی بر بادی ہوتے دیکھے گا اور اس کو گوارا کرے گا۔ سیاسی حیثیت سے بھی اس قسم کی شادیاں خالی از مضرت نہیں سازش اور جاسوسی اور سلطنت اسلامی کی بیخ کنی کے لیے مسلمان گھر کی کافر بہو بہت آسانی کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہے اور اگر وہ زیادہ ہوشیار ہو تو اپنےشوہر کو بھی ان اغراض کے لیے آلہ کار بنا سکتی ہے۔ یہ سب وہ مضرتیں ہیں جو پہلے بھی ظاہر ہو چکی ہیں اور آج بھی ظاہر ہو رہی ہیں ۔ ہندوستان میں ہمارے نظام معاشرت کو مشرکانہ رسموں اور جاہلانہ عادتوں سے کس نے آلودہ کیا ؟ انھی عورتوں نے جو مذ ہب شرک پر قائم رہ کر یا برائے نام مسلمان ہو کر مسلمان خاندانوں میں داخل ہوئیں ۔ مسلمانوں کی نسلوں کو دین و اخلاق کے اعتبار سےکس نے تباہ کیا؟ انھی ماؤں نے جن کے سینوں سےمسلمانوں کے بچے شرک و جاہلیت کا دودھ پی پی کر بڑے ہوئے ۔ اسلامی حکومتوں کو کس چیز نے غارت کیا؟ زیادہ تر اُن کافر عورتوں کی محبت نے جو مسلمان اُمراء کے دلوں پر حضرف ہو گئی تھیں ۔ آج اسلامی نظام معاشرت کی بنیادوں کو کون سی چیز کھو کھلا کر رہی ہے؟ ایک بڑی حد تک اُن مغربی عورتوں کی حکومت جو ہماری سوسائٹی کے خوش حال اور بااثر طبقوں پر مسلط ہوگئی ہیں ۔

اسلامی قانون ازدواج کی شان اعتدال:

جب حال یہ ہے تو ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ غیر مسلم عورتوں سے نکاح کرنا بالکلیہ ممنوع ہونا چاہیے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ شارع نے اس چیز کو جائز رکھا؟ اس کا صحیح جواب معلوم کرنے کے لیے ہم کو اس مسئلہ کے دوسرے پہلو پر نگاہ ڈالنی چاہیے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں شارع کا کمال حکمت اور اس کے طریق تشریع کا انتہائی اعتدال و توازن نظر آتا ہے-

انسان جب کوئی قانون بناتا ہے تو عموماً وہ کسی ایک پہلو کی طرف اس قدر جھک جاتا ہے کہ دوسرے پہلو اس کی رعایت سے محروم ہو جاتے ہیں ۔کبھی وہ اجتماعی مصالح پر زیادہ زور دیتا ہے اور شخصی مصالح نظر انداز کر دیتا ہے اور کبھی شخصی مصالح کی اتنی رعایت کرتا ہے کہ اجتماعی مصالح باطل ہو جاتے ہیں۔ مگر شارع اسلام کی حکیمانہ شان ایسی ہے کہ وہ ہر مصلحت پر نظر رکھتا ہے اور ہر ایک کی اتنی ہی رعایت کرتا ہے جس کی وہ مستحق ہوتی ہےجیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ اجتماعی مصالح کا اور ایک بڑی حد تک شخصی مصالح کا بھی اقتضا یہ تھا کہ مسلمانوں کی شادیاں مسلمان عورتوں ہی سے نہوں اور پھر ان میں بھی مماثلت اور اتحاد کو ملحوظ رکھا جائے ۔ چنانچہ اس کے لیے کفاء ت کا ضابطہ مقرر کیا گیا۔

تَخَيَّرُوا لِنُطَفِكُمْ وَأَنكُحُوا الْأَكْفَاءَ رُوِيَ ذَالِكَ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ وَأَنَسٍ وَعُمَرَ مِنْ طُرُقٍ عَدِيْدَةٍ)

اپنے نطفوں کے لیے اچھی قرارگا میں تلاش کرو اور اپنے جوڑ کے لوگوں میں شادیاں کرو۔

اور صاف طور پر بتا دیا گیا کہ کفاءت میں سب سے پہلی اور سب سے اہم چیز دین ہے-

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بَعْضُهُمُ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَا مُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ (التوبہ: ۷۱ )

مومنین اور مومنات ایک دوسرے کے ولی ہیں (اس لیے کہ ) وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں، بدی سے منع کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں اور خدا اور سول کی اطاعت کرتے ہیں۔

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا - (التحريم:١)

اے اہل ایمان اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ ۔

وَمَنْ لَّ مِنكُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَنَتِ الْمُؤْمِنَتِ فَمِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيْمَانِكُمُ بَعْضُكُمْ مِّنْ بَعْضٍ - (النساء: ۲۵ ) .

اور تم میں سے جو کوئی پاک دامن مومن عورتوں سے نکاح کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ اُن مومن لڑکیوں میں سے اپنے لیے جوڑا منتخب کرے جو تمھاری مملوک ہیں ۔ اللہ تمھارے ایمان کو خوب جانتا ہے اور تم سب ایک دوسرے کے ہو ۔

تَزَوَّجُوْهُنَّ عَلَى الدِّينِ فَلَامَةٌ خَرْقَاءُ سَوْدَاء ذَاتُ دِينِ افضل - ( الحديث )

تم ان سے دین کی بناء پر شادیاں کرو کیونکہ ایک کالی کلوٹی کم عقل لونڈی بھی اگر دین دار ہو تو وہ دوسری عورتوں سے افضل ہے۔

دوسری طرف بعض شخصی مصالح اس کی بھی مقتضی تھیں کہ غیر قوموں میں نکاح کرنے کا درواز و قطعی طور پر بند نہ کر دیا جاتا۔ہو سکتا ہےکہ ایک شخص کسی غیر مسلم عورت کےعشق میں مبتلا ہو جائےاور حصول مقصود کا دروازہ بالکل بند پا کر حرام کی طرف جھک پڑے۔یہ بھی ہو سکتا ہےکہ ایک شخص کسی ایسی جگہ رہتا ہو جہاں مسلمان عورت ہم نہ پہنچ سکتی ہو اور مجرد رہنے کی وجہ سے اس کے اخلاق بگڑنے اور اس کی خانگی زندگی خراب ہونے کا اندیشہ ہو ۔ ایسے مخصوص حالات کے لیے کسی حد تک رُخصت کا دروازہ کھول دینا ضروری تھا۔ چنانچہ شارع نے یہ دروازہ کھولا ۔ مگر اس فتح باب میں شخصی مصالح کی رعایت کے ساتھ یہ بات ملحوظ رکھی کہ اجتماعی مصالح کو کم سے کم نقصان پہنچے ۔

مسلمہ اور غیر مسلم کے نکاح کی حرمت:

سب سے پہلے تو یہ بات طے کر دی گئی کہ غیر مسلموں کے ساتھ شادی کرنے کی رخصت صرف مردوں کو دی جاسکتی ہے، عورتوں کے لیے یہ دروازہ قطعا مسدود ہے۔

لاهُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَاهُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ - (الممتحنة: ١٠)

نہ مسلمان عورتیں کافر مردوں کے لیے حلال ہیں اور نہ کافر مرد مسلمان عورتوں کے لیے حلال ۔

یہ اس لیے کہ عورت کی فطرت ایک انفعالی فطرت ہے ۔ اس میں ڈھال لینے سےزیادہ ڈھل جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ وہ مرد کے اثرات اور اپنے ماحول کے اثرات کو زیاد و عدت کے ساتھ قبول کرتی ہے اور خانگی زندگی میں وہ عموماً شوہر سے مغلوب ہی ہو کر رہتی ہے۔ ایک غیر مسلم مرد سے اس کی شادی ہونے میں کم از کم 90 فی صد خطرہ اس بات کا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اسلام اور اس کی تہذیب سے کٹ جائے گی اور یہ خطرہ تو سو فی صدی ہے کہ اس کے پیٹ سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ ملت کفر پر رہے گی ۔ پس تمام مصالح و حکم اس بات کے مقتضی تھےکہ مسلمان عورتوں کے لیے غیر مسلموں کی زوجیت قطعی طور پر حرام کر دی جائے اور رخصت کا دروازہ اگر کھولا بھی جائے تو وہ صرف مردوں کے لیے ہو ۔

مسلم اور غیر مسلمہ کے نکاح کے قیود:

پھر مردوں کے لیے بھی یہ رخصت عام نہیں ہے۔ غیر مسلموں کو ازدواجی اغراض کے لیے دوطبقوں پر تقسیم کیا گیا ہے۔

ایک وہ طبقہ جو اسلام اور اس کی تہذیب سے کوسوں دُور ہے جس کے عقائد اور اصول حیات اور قوانین اخلاق و معاشرت کسی جہت میں بھی مسلمانوں سے نہیں ملتے ۔

دوسرا وہ طبقہ جو تمام غیر مسلموں میں اسلام سے اقرب ہے نبوت اور وحی کو کسی نہ کسی حد تک مانتا ہے خدا اور یوم آخر کے اعتقاد میں بھی کسی حد تک اسلام کے قریب ہےاصول اخلاق اور قوانین معاشرت میں بھی بہت سی ایسی چیزیں ابھی تک اُس کے پاس محفوظ ہیں جو منبع نبوت سے نکلی ہوئی ہیں۔

ان دونوں طبقوں میں سے پہلے طبقے کے ساتھ شادی بیاہ کرنا مسلمانوں کے لیےقطعی ممنوع کر دیا گیا۔

وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتَ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَامَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتُكُمْ وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُّشْرِب وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّهُ يَدْعُوا إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ- (البقره: ۲۲۱)

اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں ایک مومن لونڈی ایک مشرکہ سے بہتر ہے خواہ وہ تم کو کتنی ہی پسند ہو ۔ اور اپنی عورتوں کی شادیاں بھی مشرک مردوں سے نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ ایک مومن غلام ایک مشرک سے بہتر ہے خواہ تمھیں کتنا ہی پسند ہو۔ وہ آگ کی طرف دعوت دیتے ہیں اور خدا اپنے اذن سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے۔

نکاح کتابیه کی اجازت:

رہا دوسرا طبقہ تو اس کی عورتوں سے شادیاں کرنے کی اجازت دے دی گئی مگر اس طرف بھی اشارہ کر دیا گیا کہ یہ کام خطرے سے خالی نہیں ہے، تاہم یہ رخصت صرف اس لیے عطا کی گئی ہے کہ تم حرام کاری میں مبتلا نہ ہو :-

وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أَجُورَهُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسَافِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ ۚ وَمَنْ يَكْفُرُ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنْ الْخَسِرِينَ(المائدہ:۵)

اور حلال کی گئی ہیں تمھارے لیے ان لوگوں کی عورتیں بھی جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کر کے انھیں قید نکاح میں لاؤ علانیه یا چوری چھپے زنا کاری نہ کرو ۔( اور یاد رکھو کہ ) جو شخص اپنے ایمان سے پھرا اس کا سب کیا کرایا غارت ہو جائے گا۔

اور آخرت میں وہ نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

آخری فقرہ قابل غور ہے۔ اس میں صاف طور پر متنبہ کر دیا گیا ہے کہ غیر مسلم عورت سے شادی کرنے میں ایمان کا خطرہ ہے۔ اس کے بعد ظاہر ہے کہ اگر ایسےخطر ناک کام کی اجازت دی گئی ہے تو وہ غیر معمولی حالات وضروریات ہی کے لیے ہے۔

نکاح کتابیه کی کراہیت :

جو لوگ شریعت اسلام کی رُوح سے اچھی طرح واقف تھے انھوں نے اسی بنا پر اس اجازت کو ہمیشہ رخصت ہی کے قبیل سے سمجھا اور اس کو پسند نہ کیا کہ مسلمانوں میں کتابیات سے شادی کرنے کے عام رواج ہو ۔ شریعت کے سب سے بڑے راز دان اپنے عہد میں حضرت عمر تھے۔ انھوں نے حضرت حذیفہ کو جو کچھ لکھا تھا وہ شریعت کے مقصد پر خوب روشنی ڈالتا ہے۔ زمانہ اسلام کے غلبے کا تھا۔ مسلمان علاقہ شام میں فاتح اور حکمران کی حیثیت سے تھے۔ معاملہ ایک ایسے جلیل القدر مسلمان کا تھا جس نے براہِ راست شمع نبوت سے نور ایمان کا اکتساب کیا تھا۔ اسلامی اخلاق اور اسلامی تہذیب میں اس سے بڑھ کر اور کون پختہ ہو سکتا تھا۔ مگر باوجود اس کے حضرت عمرؓ نے حضرت حذیفہ کو ایک کتابیہ کےساتھ ازدواجی تعلق رکھنے سے منع کیا۔ پھر یہ نہیں فرمایا کہ کتابیہ سے شادی کرنا حرام ہےبلکہ یہ فرمایا کہ اس سے مسلمان گھروں میں اہل کتاب کی بد اخلاق عورتوں کے گھس آنے کا اندیشہ ہے لہذا اس اجازت سے فائدہ نہ اُٹھانا ہی بہتر ہے۔

غور کیجیے کہ جب غلبے کی حالت میں نکاح کتابیہ کے متعلق اسلام کا یہ طرز عمل ہے تو ایسی حالت میں کیا طرز عمل ہونا چاہیے جب کہ ایک مسلمان کفار سے مغلوب اور مرعوب ہو اور ان کی سوسائٹی میں گھرا ہوا ہو ۔ اس وقت تو نکاح کتابیہ کی کراهت اور زیادہ بڑھ جانی چاہیے کیونکہ دارالکفر میں اس کی مضرتیں کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہیں ۔ یہیں وجہ ہے کہ آئمہ اسلام نے عموماً نکاح کتابیہ کومکروہ اور خصوصاً دارالکفر میں نہایت مکروہ قرار دیا ہے۔شمس الائمہ سرخی اپنی کتاب المبسوط میں لکھتے ہیں ۔

يَجُوزُ لِلْمُسْلِمِ أَنْ يُتَزَوَّجَ كِتَابِيَّةً فِي دَارِ الْحَرْبِ وَلَكِنَّهُ يُكْرَهُ لَأَنَّهُ إِذَا تَزَوَّجَهَا ثَمُهُ رُبَمَا يَخْتَارُ الْمُقَامَ فِيهِمُ .... وَإِذَا وَلَدَتْ تَخَلَّقَ الْوَلَدُ بِأَخْلاقِ الْكُفَّارِ وَفِيهِ بَعْضُ الْفِتْنَةِ فَيُكْرَهُ لِها ... وَسُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ مُنَا كَحَةِ أَهْلِ الْحَرْبِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ فَكِرَهَ ذَالِكَ- (ج ۵، ص۵۰)

مسلمان کے لیے دار الحرب میں کتابیہ سے شادی کرنا جائز تو ہے مگر مکروہ ہے کیونکہ اگر وہ وہاں شادی کرے گا تو ممکن ہے کہ کفار ہی کے ملک میں رہ پڑے ... اور جب کتابیہ کے پیٹ سے اولاد پیدا ہو تو وہ کفار کے اخلاق پر اُٹھے۔ اس میں اور بھی فتنے ہیں۔ اس لیے یہ مکروہ ہے. حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حربی عورتوں کے ساتھ نکاح کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اس کو مکروہ فرمایا۔

امام ابن جریر طبری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:-

"ذمیہ اور تربیہ دونوں سے نکاح جائز ہے بشرطیکہ نکاح کرنے والا ایسی جگہ نہ ہو جہاں اس کی اولاد کے کفر پر مجبور ہونے کا خوف ہو۔ ( جزء سادس، ص ۶۱ )

ہدایہ میں ہے کہ:۔

وَيَجُوزُ تَزُويْحُ الْكِتَابِياتِ وَالْأُولَى أَنْ لَّا يَفْعَلَ وَلَا يَأْكُلَ ذَبِيحَتَهُمْ إِلَّا لِضَرُورَةٍ وَتُكْرَهُ الْكِتَابِيَّةُ الْحَرْبِيَّةُ إِجْمَاعًا لأَنفَتَاحِ بَابِ الْفِتْنَةِ مِنْ إِمْكَانِ التَّعَلُّقِ الْمُسْتَدْعِي لِلْمَقَامِ مَعَهَا فِي دَارِ الْحَرَبِ وَتَعْرِيضُ الْوَلَدِ عَلَى التَّخَلُّقِ بِأَخْلَاقِ أَهْلِ الْكُفْرِ - (کتاب النکاح)

کتابیات سے نکاح کرنا جائز تو ہے مگر بہتر یہی ہے کہ نہ کیا جائےاور نہ ان کا ذبیحہ کھایا جائے الا یہ کہ کوئی ضرورت آپڑے ۔ اور حربی کتابیہ سے نکاح کرنا تو بالا جماع مکروہ ہے کیونکہ اس سے فتنہ کا دروازہ کھلتا ہے۔ مثلاً یہ کہ عورت سے ایسا گہرا تعلق ہو جائے کہ مسلمان شوہر اسی کے ساتھ کافروں کے ملک میں رہ پڑے اور یہ کہ اس کی اولا د اہل کفر کے اخلاق سے متخلق ہو کر اٹھے۔

اس بحث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کتابیہ کو حرام اور باطل ٹھیرانا تو درست نہیں ہے البتہ قانونِ اسلامی کی رُوح اور آئمہ اسلام کے اجماع سے اس کا مکروہ ہونا اور خصوصاً دارالکفر میں، اور غلبہ کفار کی حالت میں نہایت درجہ مکروہ ومبغوض ہونا ثابت ہے۔ اس کے ساتھ حضرت عمر کے فعل سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ صرف نکاح کتابیہ ہی کےمعاملے میں نہیں بلکہ شریعت کی تمام رخصتوں کے معاملے میں، جن سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کا اندیشہ پایا جاتا ہو مسلمانوں کے اولی الامر کو امتناعی احکام جاری کرنے کا حق ہے اور اس قسم کے امتناعی احکام جائز کو نا جائز اور حلال کو حرام کیے بغیر نافذ کیے جاسکتےہیں۔مگر ایسے احکام جاری کرنے والوں میں اتنا تلقہ ہونا چاہیے کہ وہ قانون شریعت کی شان اعتدال کو ضائع نہ کریں۔

ترجمان القرآن

( محرم ۱۳۵۶ھ )

کتاب تفہیمات، دوم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Understandings