اگر تمدن کے پیدا کردہ زوائد سے الگ کر کے لباس کو محض اس فطری احتیاج کےلحاظ سے دیکھا جائے جس نے اول اول انسان کو اس کے اختیار کرنے پر اکسایا تھا تو وہ صرف ایک ایسی چیز ہے جو شرم و حیا _١کے فطری جذبات کے تحت جسم کےخاص حصوں کو چھپائےاور موسمی اثرات سےاس کو محفوظ کرے۔اپنی سادہ صورت میں ایسا لباس جوان دوضرورتوں کو پورا کرتا ہوا قریب قریب ایک ہی وضع کا ہونا چاہیے۔کیونکہ سب انسانوں کےجسم ایک سےہیں اور ان کو چھپانےکی آسان اور متبادر صورتیں بھی ایک ہی سی ہیں۔زیادہ سےزیادہ موسموں کے اختلاف کی بنا پر ان کی صورتوں میں اتنا اختلاف ہو سکتا ہےکہ جہاں گرمی ہو وہاں کے لباس ہلکے اور کم حصہ جسم پر حاوی ہوں،اور جہاں سردی ہو وہاں کے لباس بھاری اور زیادہ حصہ جسم پر چھائےہوئے ہوں۔
قدیم ترین انسانوں کے متعلق جو معلومات ہم تک پہنچی ہیں، اُن سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ لباس جس زمانے میں محض فطرت کے ابتدائی اقتضا اور مجرد انسانی ضروریات پر مبنی تھا اس وقت اس کی صورتوں میں کچھ زیادہ جوع نہ تھا، اور جو کچھ تھا بھی تو وہ زیادہ تر موسمی اثر کے اختلاف کی بنا پر تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ جب انسان کے شعور نے ترقی کی تہذیب کی طرف قدم بڑھایا، صنعتیں پیدا ہوئیں نئے نئے وسائل دریافت کیے گئے اور اُس فطری ملکہ نے انسان کے مزاج میں نشوونما پایا جسے "ذاق“ کہتے ہیں، تو رفتہ رفتہ فطرت کی ابتدائی ضروریات پر کچھ اور چیزوں کا اضافہ ہونے لگا۔ یہ نئے آنے والے اثرات چونکہ مختلف قوموں میں کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے مختلف تھے اس لیے مختلف قوموں نےابتدائی فطری لباس پر جو اضافے کیے وہ بھی اپنی صورتوں اور کیفیتوں کے لحاظ سے لامحالہ مختلف ہی ہونے چاہیے تھے اور فی الواقع مختلف ہوئے۔
١- یہ مضمون ابتداء ۱۹۲۹ء میں رسالہ ”معارف، اعظم گڑھ کے لیے لکھا گیا تھا، پھر ۱۹۴۰ء میں اسےترجمان القرآن“ میں دوبارہ شائع کیا گیا، اور اب وہاں سے اسے نقل کیا جا رہا ہے۔
مختلف قوموں میں لباس کی مختلف وضعوں کی پیدائش اور پھر ان کا تغییر و تبدل اور نشو و ارتقاء جن بے شمار چھوٹے بڑے اسباب کے زیر اثر ہوتا ہے اُن سب کا احاطہ ناممکن ہے۔ ہزار ہا سال کے دوران میں قوموں کی اجتماعی زندگی اور ہر قوم کے افراد کی شخصی زندگی بے حد و حساب خارجی و داخلی تاثیرات سے متاثر ہوتی ہے جن کا ریکارڈ کہیں محفوظ نہیں رہتا۔ بلکہ بہت سے اثرات تو ایسے لطیف ہوتے ہیں کہ محسوس تک نہیں ہوتے ۔ لیکن جزئیات سے قطع نظر کر کے اگر ہم ان بڑے بڑے عوامل کا استقصاء کریں جن کے اثر سےمختلف قوموں میں مختلف طرزوں کے لباس رواج پاتے ہیں، تو وہ حسب ذیل آٹھ عنوانات کے تحت تقسیم کیے جاسکتے ہیں :-
یہ وہ بڑے بڑے عوامل ہیں جو ایک قوم کے لباس اور صرف لباس ہی نہیں بلکہ اس کی پوری اجتماعی زندگی پر ہمہ گیر اقتدار رکھتے ہیں اور ہر قوم کا لباس انھی کے مشترک عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس تجزیہ کی مدد سے جب ہم قومی لباس کے مسئلہ پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ دو بنیادی حقیقتیں ہمارے ہاتھ آتی ہیں:۔
ایک یہ کہ لباس محض ایک بیرونی آلہ ستر پوشی اور اوپری ذریعہ حفاظت جسم ہی نہیں ہے بلکہ قومی نفسیات قومی تہذیب و تمدن قومی روایات اور قوم کی اجتماعی حالت کے اندر بہت گہری جڑیں رکھتا ہے۔ وہ دراصل اُس رُوح کا مظہر اور ذریعہ نمود ہے جو جسم قومی میں کار فرما ہوتی ہے۔ ہر قوم کا لباس در حقیقت ایک زبان ہے جس کے ذریعہ سے اس کی قومیت کلام کرتی ہے اور دُنیا کو اپنی اجتماعی شخصیت سے روشناس کراتی ہے۔
دوسرے یہ کہ لباس کی تہہ میں جتنے عوامل کارفرما ہیں، جغرافی حالات کےسوا باقی سب کے سب ایسے ہیں جو ہر قوم میں ہر آن ایک غیر محسوس رفتار کے ساتھ بدلتے رہتےہیں۔ اُن میں کوئی چیز ساکن و جامد نہیں ہے۔ بلکہ ہر ایک فطرنا تغیر پذیر ہے-اور اُن کا تغییر وارتقاء لازمی طور پر صرف لباس ہی پر نہیں بلکہ پوری قومی زندگی پر آہستہ آہستہ اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔ ایک ترقی کرنےوالی قوم میں جب علوم وفنون پھلتےہیں،خیالات میں روشنی آتی ہے صنعت و حرفت اور تجارت میں فروغ ہوتا ہے معاشی حیثیت سے خوش حالی بڑھتی ہے دوسری قوموں کے ساتھ زیادہ میل جول کا موقع ملتا ہے اور اُن کے اخلاق و معاشرت اور تہذیب و تمدن سے اس کو مختلف قسم کے سبق حاصل ہوتے ہیں، تو قدرتی طور پر خود بخود اس کی اجتماعی زندگی میں ایک ارتقائی حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے جذبات بدلتےہیں۔ فطری مذاق سدھرتا ہے۔ طرز معاشرت میں خوبی و نفاست آجاتی ہے۔ شائستگی کا معیار بلند ہوتا ہے۔ نئی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے نئی صورتیں اختیار کی جاتی ہیں۔ قومی روایات کا احترام زیادہ ستھری شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔زندگی کے تمام شعبوں کی تدریجی ترقی کے ساتھ ساتھ قومی لباس بھی مادہ وصورت دونوں کے اعتبار سے زیادہ حسین، زیادہ خوش وضع اور زیادہ شائستہ ہوتا چلا جاتا ہے۔اس ارتقائی عمل کی کسی منزل میں بھی اس کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ کوئی کانفرنس منعقد کر کے یا پارلیمنٹ میں کوئی ریزولیوشن پاس کر کے ساری قوم کےلیے لباس کی کوئی خاص تراش مقرر کی جائے یا کسی خاص طرز لباس کو یک لخت رائج کر دیا جائے۔ اجتماعی عوامل کی مشترک گردش کے اثر سےخود بخود ہی پرانےاوضاع لباس میں اصلاحیں ہوتی جاتی ہیں، نئی نئی وضعیں چل نکلتی ہیں، اور مجموعی حیثیت سے پوری قوم کا مذاق و مزاج اپنی افتاد و پرواز کے مطابق لباس کو بہتر بنا تا چلا جاتا ہے۔
قومی لباس کی پیدائش اس کے تغیر و تبدل اور اس کے نشو وارتقاء کی فطری صورت یہی ہے۔ اور اس کے برعکس غیر فطری یا مصنوعی صورت یہ ہے کہ ایک قوم کا لباس یہ تکلف بدلوایا جائے اور کسی دوسری قوم سے اس کا لباس مانگ لایا جائے ۔ جہاں تک نفس تغیر کا تعلق ہے وہ فطری ارتقاء کی صورت میں بھی ہوتا ہے اور غیر فطری انقلاب کی صورت میں بھی ۔ مگر دونوں قسموں کے تغیر میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ پہلی قسم کا تغیر ایسا ہے جیسےایک درخت کا نشو ونما کہ وہ جتنا جتنا بڑھتا ہے اس کے رنگ روپ جسامت، پھل پھول پتیوں اور شاخوں میں تغیرات واقع ہوتے رہتے ہیں، مگر ان تمام تغیرات کے باوجود درخت کی خودی جوں کی توں رہتی ہے۔ املی کا درخت ہے تو آخر وقت تک املی کا درخت ہی رہے گا اور آم کا درخت ہے تو ارتقاء کے ہر درجے میں اس کی آمیت بدستور قائم رہے گی۔ زمین ہوا' پانی' گرمی' دھوپ ہر ایک چیز سے بہت کچھ لے گا مگر جو کچھ بھی لےگا اسے اپنی خودی کا جز بنالے گا۔ بخلاف اس کے دوسری قسم کا تغیر ایسا ہے جیسے ایک درخت چلا تو تھا امی ہونے کی حیثیت سے مگر یکا یک اس پر آم کی چھال لا کر چپکا دی گئی اور آم ہی کی شاخیں اور پتیاں اس پر جڑ دی گئیں ۔ اب کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ عجوبہ فی الحقیقت ہے کیا۔ آم ہے کہ اہلی؟ اس طرح کہ مصنوعی اور جعلی تغیرات سے فی الواقع کوئی حقیقی اور نتیجہ خیز تغیر پیدا نہیں ہوتا، بلکہ فطری ارتقاء کے راستے میں اُلٹا خلل واقع ہوتا ہے ۔ مگر جو لوگ اجتماعی مسائل میں کوئی بصیرت نہیں رکھتے اور محض سطحی نظر سے زندگی کے معاملات کو دیکھتے ہیں، وہ بچوں کی سی سادہ لوحی کے ساتھ یہ خیال کرتے ہیں کہ لباس اور طرز معاشرت کی کچھ ظاہری شکلوں کے بدل دینے سے ایک قوم فی الحقیقت بدل جاتی ہے۔
عموماً تغیر لباس کے حق میں جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اس سے ایک پسماندہ قوم کی ذہنیت بدلتی ہے۔ سکون و جمود کی جگہ حرکت پیدا ہوتی ہے۔ تنزل و انحطاط کے دور کا لباس اُتارتے ہی وہ تمام اندرونی کمزوریاں جو اُس دور کے ساتھ مختص تھیں، اور وه ساری دلچسپیاں جو اُس دور کی زندگی کے ساتھ وابستہ تھیں یکا یک کافور کی طرح اُڑ جاتی ہیں ۔ نیا لباس پہنتے ہی، خصوصاً جبکہ وہ کسی ترقی یافتہ قوم سے لیا گیا ہؤ قوم کے نفسیات اور اس کی زندگی میں ایک آئی اور وقتی تغیر واقع ہوتا ہے۔ اُس میں خود بخود ترقی یافتہ ہونے کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو آگے بڑھی ہوئی قوموں کے برابر سمجنے لگتی ہے۔دوسری قو میں بھی اس کو اپنے برابر کا سمجھنے لگتی ہیں ۔ اور جب وہ ترقی یافتہ قوموں کا سا طرز زندگی اختیار کر لیتی ہے تو اُس میں اُنھی جیسی شائستگی، عملی سرگرمی اور فعالیت بھی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ مہذب اور کارکن قوموں میں جو لباس اور طرزِ زندگی پیدا ہوا ہے اسےاختیار کرنا مہذب اور کارکن بننے کے لیے ضروری بھی ہے اور مفید بھی۔۔۔ یہ اور اسی قسم کے بہت سے دلائل اس فعل کی تائید میں دیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ سب محض سطحی خیالات ہیں جن کی تہ میں کوئی تفکر اور کوئی بصیرت نہیں ہے۔ پھر ان خیالات کی سند میں بعض بڑی بڑی نامور شخصیتیں بھی پیش کی جاتی ہیں اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ ان خصیوں کے نام سنتے ہی آدمی پر ہول طاری ہو جائے گا(١) مگر واقعہ یہ ہے کہ جن کی سند پیش کی جاتی ہےفکر و بصیرت کے اعتبار سے اُن کا درجہ بھی اُن لوگوں سےکچھ زیادہ اونچا نہیں ہے جو ان کی سند پیش کرتے ہیں۔اپنے متبعین کی طرح وہ بیچارے خود بھی فکری حیثیت سے سطح میں اور علمی حیثیت سے کم مایہ ہیں۔ ہنگامی حالات میں کامیاب تدبیر میں اختیار کر کے اگر کسی فوجی جنرل نے اپنی قوم کو تباہی سے بچا لیا ہو تو بلاشبہ وہ قدر و عزت کا مستحق ہے مگر اس کی قدر اتنی ہی کی جاسکتی ہے جتنا وہ فی الواقع ہے اور اُسی حیثیت سے کی جا سکتی ہے جس حیثیت سے اس نے کارنمایاں انجام دیا ہے۔ اُس کے حقیقی مرتبے سے آگے بڑھا کر اسے مظفر اور مصلح اور معمار تہذیب و تمدن کی حیثیت دینا ایسی ہی بے عقلی ہے جیسے کسی اچھے انجینئر نےاگر سیلاب کے بند باندھ کر کسی بستی کو تباہی سے بچا لیا ہو تو اسے ہر معنیٰ میں مدبر اعظم اور نجات دہندہ سمجھ لیا جائے اور کہا جائے کہ اب محکمہ حفظان صحت کا نگران بھی اس کو بنا دو اور تعلیمات کی نگرانی بھی اسی کے سپرد کر دو۔
١- واضح رہے کہ یہ مضن اُس زمانے میں لکھا گیا تھا جبکہ بعض مسلمان ملکوں کے فرمانروا اپنی اپنی قوموں کے لباس زبردستی بدلوا کر ان کو ترقی یافتہ بنا رہے تھے اور ہمارے ملک میں بھی بعض طبقے ترقی کے اس نسخے کو آزمانے پر زور دے رہے تھے۔
أصولی حیثیت سے جو کچھ اوپر بیان کیا جا چکا ہے وہ تغیر پسند حضرات کے دلائل کی غلطی واضح کرنے کے لیے بالکل کافی ہے۔ لیکن زمانے کی روش کے اثر سے جو غلط فہمیاں عام طور پر دماغوں میں گھر کر چکی ہیں ان کا نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔ لهذا ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ میں اس حرکت کے خلاف اپنے دلائل زیادہ صراحت کے ساتھ بیان کروں۔
ا۔ پہلے یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ لباس کی وضع قطع بجائے خود کوئی مستقل بالذات چیز نہیں ہے بلکہ بہت سے قدرتی اور اجتماعی عوامل کے مشترک عمل کا نتیجہ ہے۔ یہ حقیقت اگر تسلیم کر لی جائے تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان عوامل کے عمل سے کسی قوم میں جو خاص وضع لباس پیدا ہوئی ہو وہی اُس کی فطری وضع ہے اُس کو ترک کر کے یکا یک کوئی ایسی نئی وضع اختیار کر لینا جو مناسب طور پر ان عوامل کےمشترک عمل سے نہ پیدا ہوئی ہو بالکل ایک خلاف وضع فطری فعل ہے۔
٢- ایک قوم کے لباس کا نہایت قریبی تعلق اُس کے طرز معاشرت سے ہوتا ہے اور اس کا طرز معاشرت اس کی پوری تمدنی زندگی سے کئی طرح کےروابط اور مناسبتیں رکھتا ہے۔لباس و طرز معاشرت کے فطری تغییرات میں تو یہ مناسبتیں برقرار رہتی ہیں، کیونکہ اس صورت میں زندگی اپنےتمام شعبوں کےساتھ بحیثیت مجموعی حرکت کرتی ہے۔ لیکن اگر غیر فطری طریقه پر تکلف اور تصنع کے ساتھ لباس و طرز معاشرت کو بدل دیا جائے یا صرف لباس میں تغییر کرد یا جائےتو ساری اجتماعی زندگی میں ایک برہمی و بے ربطی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ زندگی کے دوسرے شعبے اس تغیر کا ساتھ نہیں دیتے اور ایک دوسرے سے بے جوڑ ہو کر رہ جاتے ہیں۔
٣- لباس کا شائستہ و خوب صورت ہونا اور ترقی یافتہ حالات کے مناسب ہونا دراصل منحصر ہے اس بات پر کہ قوم خود اجتماعی حیثیت سے ترقی کرے اور ایک شائستہ متمدن، خوش مذاق روشن خیال اور عملی قوم بن جائے۔ اِس راہ میں وہ جتنی جتنی آگے بڑھتی جائے گی اسی نسبت سے اس کے قومی لباس میں خود بخود اصلاح ہوتی جائے گی۔ ترقی پذیر نفس اجتماعی آپ سے آپ خالص فطری طریقے سےبلا ارادہ اور بلا تکلف کچھ اپنی پرانی چیزوں میں ترمیم و اصلاح کرے گا اور کچھ دوسروں کی مناسب چیزیں لے کر اپنے ہاں اس طرح سجا لے گا کہ وہ موزونیت کے ساتھ اس میں کھپ جائیں گی۔ اصلاح و ترقی میں پیش قدمی کے اس فطری طریقے کو چھوڑ کر آن واحد میں ایک لباس کی جگہ دوسرا لباس بدل لینا ایسا ہی ہےجیسے چھلانگ مار کر ایک حالت سے دوسری حالت میں پہنچ جانے کی کوشش کی جائے ۔ اجتماعی زندگی میں اس قسم کی چھلانگیں مارنے سے کوئی حقیقی تغیر واقع نہیں ہوتا ۔
٤- کسی قوم کی اجتماعی حالت کے ترقی کرنے سے پہلے اس کے لباس و معاشرت کو بلند کرنا اور اسے کسی ایسے مرتبے پر لے جانے کی کوشش کرنا جو اس کے حقیقی مرتبے سے اُونچا ہو بالکل ایسا ہے جیسے کسی نا بالغ بچے کو ہیجان خیز ماحول میں رکھ کر گرم گرم غذا ئیں اور تیز تیز دوائیں کھلا کر زبردستی حد بلوغ کو پہنچایا جائے۔اس طرح کی غیر معمولی تبلیغ سے اس غریب بچے کے نظامِ جسمانی و احوالِ وانی میں جو شدید اختلال پیدا ہو گا اس پر اُس برہمی و ابتری کو قیاس کر لینا چاہیےجو زبردستی ” مہذب و شائستہ بنائے جانے سے کسی قوم کے اجتماعی نظام اور اس کی ذہنی و اخلاقی حالت میں برپا ہوگی۔
٥- ایک قوم کی معاشی حالت جس طرز لباس و معاشرت کا بار برداشت کر سکتی ہو اس سے زیادہ بھاری لباس و معاشرت کا بوجھ اُس پر لاد دینا اُسے عملاً تباہ کرنے کا ہم معنی ہے۔لباس و معاشرت کے ساتھ وہ خوش حال قوموں کے دوسرے تمدنی ڈھنگ اختیار کرنے کی بھی کوشش کرے گی اور اس کے نتائج اس کے حق میں تباہ کن ہوں گے۔
٦- لباس زبان اور رسم الخط وہ اولین چیزیں ہیں جن کے سہارے ایک قوم کی انفرادیت قائم ہوتی ہے۔ اگر کسی قومیت کے ان سہاروں کو گرادیا جائےتو اس کی انفرادیت آہستہ آہستہ محو ہونے لگتی ہے اور آخر کار وہ دوسری قوموں میں جذب ہو کر رہ جاتی ہے۔ قدیم زمانے کی وہ قو میں جو آج صفحہ ہستی سے نا پید ہو چکی ہیں،اور جنھیں ہم اہم بائدہ کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں، سب کی سب اسی وجہ سےفنا ہوئیں۔ ان کے فنا ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اشخاص جن پر وہ قومیں مشتمل تھیں،سب مٹ گئےاور کوئی نسل دنیا میں چھوڑ کر نہیں گئے۔بلکہ دراصل ان کی گم شدگی اور فنائیت اس معنی میں ہے کہ ان کی قومی انفرادیت باقی نہیں رہی۔ انھوں نے اپنی قومیت کے سہاروں کو خود گرا دیا یا گر جانے دیا۔ ان کے افراد دوسری قوموں کے لباس زبان رسم الخط اور آداب معاشرت اختیار کرتے چلے گئے۔آخر کار اُن کی قومیت مشکل ہوتے ہوتے ناپید ہو گئی۔ یہی حشر اب بھی اُن قوموں کے لیے مقدر ہے جو اپنے نادان لیڈروں کی احمقانہ تدبیروں کو ترقی کا ذریعہ سمجھ کر قبول کر رہی ہیں۔
٧- ایک قوم کا دوسری قوم کے لباس و طرز معاشرت کو اختیار کرنا دراصل احساس کمتری کا نتیجہ اور اس کا اعلان ہے۔اس کےمعنی دراصل یہ ہیں کہ وہ اپنےآپ کو خود ذلیل، دنی اور پست سمجھتی ہے۔ اس کے پاس کچھ نہیں ہے جس پر وہ فخر کر سکے۔ اس کےاسلاف کوئی ایسی چیز چھوڑ جانے کے قابل ہی نہ تھے جسے وہ شرم کیے بغیر برقرار رکھ سکتی ہو۔ اس کا قومی مذاق اتنا پست اور اس کا قومی ذہن اتنا گند ہے اور اس کے اندر تخلیقی قوتوں کا ایسا فقدان ہےکہ وہ خود اپنےلیےکوئی بہتر طرز زندگی پیدا نہیں کر سکتی۔ وہ اپنےآپ کو مہذب دکھانے کے لیے سب کچھ دوسروں سے مانگ لاتی ہے اور بغیر کسی شرم کے دنیا کے سامنے اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ تہذیب، شائستگی حضارت اور حسن و جمال جو کچھ بھی ہےدوسروں کی زندگی میں ہے وہی ہر کمال کا معیار ہیں اور ہم خود سینکڑوں ہزاروں برس کی زندگی میں گویا صرف جانوروں کی طرح جیتےرہےہیں۔ہم کوئی چیز بھی ایسی پیدا نہ کر سکےجو قدر و عزت کے لائق ہو یا زندہ رہنے کی مستحق ہو۔۔۔ یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ جس قوم میں خود داری کا شائبہ بھی باقی ہو وہ اس طرح اپنی ذلت و پستی کا مجسم اشتہار بننا گوارا نہیں کر سکتی۔ تاریخ اس بات پر گواہ ہے اور خود موجودہ زمانے کے حالات جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس امر پر شہادت دیتےہیں کہ اس حقیر وذلیل حیثیت کو ایک قوم دو ہی حالتوں میں گوارا کرتی ہےیا تو اُس وقت جبکہ وہ ہر میدان میں دوسری قوموں سےپٹ کر اور پیم شکستیں کھا کر ہار مان لےاور ڈگیں ڈال دے۔مثلاً ہندوستان ترکی مصر ایران وغیرہ۔ یا پھر اُس صورت میں جبکہ فی الواقع اس کی پشت پر کسی قسم کی قابل فخر روایات (Traditions) نہ ہوں' اس کی اپنی کوئی تہذیب و ثقافت پہلےسے نہ رہی ہو اس میں اعلیٰ درجہ کی تخلیقی قوتیں بھی نہ ہوں اور وہ اقوامِ عالم کے درمیان محض ایک نو دولتے کی حیثیت رکھتی ہو جیسے جاپان۔
٨- ایک قوم سے دوسری قوم کو اگر کوئی چیز لینی چاہیے اور کوئی چیز در حقیقت لینے کےقابل ہے تو وہ محض اس کی علمی تحقیقات کے نتائج اس کی تخلیقی و اختراعی قوتوں کے ثمرات اور اس کے وہ عملی طریقے ہیں جن سےاس نےدنیا میں کامیابی حاصل کی ہو ۔اُس کی تاریخ میں نیا اُس کی تنظیمات میں یا اس کے اخلاقیات میں اگر کوئی مفید سبق ہے تو اسے ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ اس کی ترقی اور کامیابی کےاسباب کا پوری چھان بین کے ساتھ استقصاء کرنا چاہیے اور ایک ایک چیز جو مفید ہواسے لےلینا چاہیے۔ یہ چیزیں انسانیت کی مشترک میراث ہیں۔ ان کی قدر نہ کرنا اور ان کے لینے میں قومی عصبیت کی بناء پر بخل کرنا محض جاہلیت ہے۔لیکن ان چیزوں کو چھوڑ کر دوسری قوم سے اس کے پہننے کے کپڑے اور اس کے رہنےسہنے کے لیے طریقے اور اس کے کھانے کی چیزیں مانگنا اور انھی کو ترقی کا ذریعہ سمجھنا بجز اس کے کہ کند ذہنی کی علامت ہے اور کچھ نہیں ۔ کیا کوئی معقل منڈ ایک لحہ کے لیے بھی یہ تصور کر سکتا ہے کہ یورپ نے کوٹ پتلون، ٹائی کا لڑ ہیٹ اور بوٹ کے ذریعے سے ترقی کی ہے؟ یا اس کی ترقی کے اسباب یہ ہیں کہ وہ چھری کانٹے سے کھانا کھاتا ہے؟ یا اس کی تزئین و آرائش کے سامان پاؤڈر اور اپ اسٹک اور کا ٹیکس وغیرہ اس کو اڑا کر ترقی کے آسمان پر لے گئے ہیں؟ یہ بات اگر نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نہیں ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ اصلاح و ترقی کا نام لینےوالے سب سے پہلے انھی چیزوں کی طرف لپکتے ہیں؟ کیوں ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ یورپ کی زندگی میں یہ چمک دمک جو نظر آتی ہے یہ دراصل صدیوں کی پیہم جدوجہد کا ثمرہ ہے اور جو قوم بھی لگا تار محنت اور صبر وعزم کے ساتھ کام کرے گی اس کی زندگی اسی طرح قابل رشک ہو سکتی ہے جس طرح آج یورپ کی زندگی پر رشک کیا جاتا ہے۔
ان دلائل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایک قوم کا کسی دوسری قوم کے لباس و معاشرت کو اختیار کرنا ایک غیر طبعی اور غیر معقول حالت ہےاور اس میں کسی پہلو سےبھی کوئی معقولیت نہیں ہے۔معمولی حالات میں کوئی شخص یہ سوچنےکی ضرورت ہی محسوس نہیں کر سکتا کہ اس کے گرد و پیش جو عام طریق زندگی پہلے سے رائج ہے اسے وہ کیوں چھوڑ دے اور کیوں اس کی جگہ اجنبی لوگوں کا طریق زندگی اختیار کر لے ۔ اس قسم کے خیالات ہمیشہ غیر معمولی حالات (Abnormal Condition) ہی میں پیدا ہوا کرتے ہیں اور ان کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے زمانہ حمل میں بعض عورتیں مٹی کھانے لگتی ہیں یا جب آنکھ کی ساخت میں خرابی آجاتی ہے تو آدمی ہر چیز کو ٹیڑھا دیکھنے لگتا ہے۔
اسلام دین فطرت ہے۔ وہ ہر معاملے میں وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو عقل عام اور فطرت سلیمہ کے عین مطابق ہے۔ آپ رنگین عینکیں اتار کر صاف نگاہ سے معاملات کو ان کی حقیقی و فطری صورت میں دیکھیے۔ اس طرح کے مشاہدے سے جس نتیجے پر آپ پہنچیں گے وہ بعینہ وہی نتیجہ ہو گا جس پر اسلام پہنچا ہے۔ وہ کوئی خاص لباس اور کوئی خاص طرز زندگی انسان کےلیےمقرر نہیں کرتا، بلکہ فطری طور پر جس جس طرز زندگی اور وضع لباس نے نشو و نما پایا ہے اس کو جوں کا توں تسلیم کر لیتا ہے۔البته خالص اخلاقی اور اجتماعی نقطہ نظر سے وہ چند اصول مقرر کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہر قوم اپنے قومی لباس اور طرزِ معاشرت میں ان اصولوں کے مطابق اصلاح کرلے۔
ان میں سب سے پہلی چیز ستر کے حدود ہیں ۔ اخلاق کے نقطۂ نظر سے اسلام اس کو ضروری سمجھتا ہے کہ تمام مرد خواہ وہ کسی ملک اور کسی قوم کے ہوں لازمی طور پر اپنے جسم کے اُن حصوں کو چھپائیں جو ناف اور گھٹنے کے درمیان ہیں۔ اور تمام عورتیں، خواہ زمین کے کسی خطے میں رہتی ہوں، چہرے اور ہاتھ پاؤں کے سوا اپنے پورے جسم کو مستو (١)رکھیں۔ اگر کسی قوم کی وضع لباس ایسی ہو کہ ستر کی یہ شرطیں اس میں پوری نہ ہوتی ہوں تو اسلام اس سے مطالبہ کرے گا کہ اپنی وضع میں ان شرطوں کے مطابق اصلاح کرلے ۔ اور جب وہ اصلاح کرلے گی تو اسلام کا خشا پورا ہو جائے گا۔ پھر اس کو اس سے کوئی بحث نہیں کہ وہ کس تراش خراش کا لباس پہنتی ہے۔
دوسری ضروری اصلاح جو اسلام نے تجویز کی ہے وہ یہ ہے کہ مرد ریشم کا لباس اور سونے چاندی کے زیورات پہننا چھوڑ دیں۔ اور مرد اور عورتیں سب ایسے لباس پہنے سےاحتراز کریں جن سے فخر و غرور بے جا نمائش اور عیش پسندی کا اظہار ہو۔ وہ تکبر کے لباس جو زمین پر لٹکتے ہوئے چلتے ہوں (١) اور جنھیں پہن کر ایک انسان دوسرے انسانوں کےمقابلے میں اپنی بڑائی جتاتا ہے،اسلام کی نظر میں لعنت کے قابل ہیں۔ وہ فخر وریا کے لباس جنھیں پہن کر ایک طبقے کے لوگ عام انسانوں پر اپنی شان اور ترفع کا رُعب جماتے ہیں یا اپنی خوش حالی کی نمائش کرتے ہیں، اسلام کے نزدیک حرام ہیں۔وہ بھر کیلےلباس بھی اسلام کو پسند نہیں جن کے اندر نفس پرستی اور عیاشی کی پرورش ہوتی ہے۔ان چیزوں کو اپنی پوشش سے خارج کر دیجیے۔پھر آپ کے لیے وہی وضع لباس اسلامی وضع ہے جو آپ کےملک میں رائج ہو یا آپ کی سوسائٹی میں مستعمل ہو ۔
(١) واضح رہے کہ یہ عورت کے لیے ستر کے حدود ہیں، نہ کہ حجاب کے ستر وہ چیز ہے جسے عورت کو اپنے شوہر کے سوا ہر ایک سے چھپانا چاہیے۔ خواہ وہ اس کا باپ یا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اور حجاب اس سے زائد ایک چیز کا نام ہے جس میں قریبی رشتہ داروں اور غیر مردوں کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا کہ عورتیں اپنی خانگی زندگی کے حدود سے باہر اپنے حسن اور اپنی آرائش کی نمائش کرتی پھریں۔
تیسری چیز جس کا مطالبہ اسلام کرتا ہے وہ یہ ہے کہ شرک اور بت پرستی کی وہ مخصوص علامتیں جنھیں کسی مذہبی فرقے نے اپنے لیے خاص کر رکھا ہو آپ کے لباس سےخارج ہونی چاہئیں ۔ مثلاً زنار، صلیب، تصویریں یا ایسی ہی دوسری چیزیں جو غیر اسلامی شعائر کی تعریف میں آتی ہیں ۔
ان اخلاقی و تمدنی اصلاحات کےساتھ ہی اسلام یہ بھی چاہتا ہے کہ مسلمانوں کےلباس میں کوئی ایسی امتیازی چیز ضرور ہو جس سے وہ غیر مسلموں کے مقابلے میں میز ہو سکتےہوں تا کہ وہ غیر مسلموں میں خلط ملط نہ ہو جائیں ایک دوسرےکو پہچان سکیں اور ان کےدر میان جماعتی زندگی مستحکم ہو سکےاس غرض کےلیےاسلام نےکوئی خاص وضع یا علامت مقرر نہیں کی ہےبلکہ اسےعرف عام پر چھوڑ دیا ہے۔عرب میں جب اسلامی تحریک کا آغاز ہوا تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرےمسلمان وہی لباس پہنتےتھےجو عرب کا عام قومی لباس تھا۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو مشرکین عرب سےممتاز کرنے کے لیے یہ علامت تجویز فرمادی تھی کہ مسلمان ٹوپی پر عمامہ باندھیں (١) عام عرب یا تو صرف عمامہ باندھتےتھےیا صرف ٹوپی پہنا کرتے تھے۔ اس وجہ سے ٹوپی پر عمامہ باندھنا مسلمانوں کےلیےوجہ امتیاز بن گیا اور اتنےامتیاز کو اس غرض کےلیےکافی سمجھا گیا کہ اس نئی تحریک کےپیرو اپنےملک کے عام باشندوں سے الگ پہچانے جاسکیں بعد میں جب تمام عرب مسلمان ہو گیا تو اس علامت کی حاجت باقی نہ رہی کیونکہ اب عربی لباس ہی اسلامی لباس بن گیا تھا اور اس لباس کو پہنےوالا کوئی شخص کافر و مشرک نہ رہا کہ اسےمسلمانوں سےممیز کرنے کے لیےکسی امتیازی نشان کی حاجت ہوتی۔ اسی طرح جب ایران اور دوسرے ممالک میں اسلام پھیلنا شروع ہوا تو اوّل اوّل اس بات کی ضرورت پیش آئی کہ نو مسلم یا تو عربی لباس پہنیں یا اپنے پرانے ملکی لباس میں کسی خاص علامت(مثلاً عمامه یا خاص طرز کی عبا)کا اضافہ کر لیں۔کیونکہ اُس وقت اُن کاملکی لباس غیرمسلموں کا لباس تھا اور بغیر کسی شان متیاز کےاس کو استعمال کرنےکی صورت میں مسلمانوں کی الگ جماعتی زندگی کسی طرح نہیں بن سکتی تھی مگر جب ان ممالک کےاکثر باشندے مسلمان ہو گئے اور ان کے ملی لباس میں وہ اخلاقی و تمدنی اصلاحات نافذ کر دی گئیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے تو ان کے مختلف مقامی لباس بعینہ اسلامی لباس بن گئے ۔ موجودہ زمانے میں بھی جن ممالک کے تمام یا اکثر باشندے مسلمان ہو چکے ہیں اُن کے ملکی لباس اپنی مختلف وضعوں کے باوجود سب کے سب اسلامی لباس ہیں ۔ اور جہاں مسلم اور غیر مسلم آبادی مخلوط ہے وہاں ہر وہ لباس اسلامی لباس ہے جسے پہن کر ایک مسلمان اور ایک غیر مسلم میں تمیز ہو سکے۔ اور جہاں کی ساری آبادی غیر مسلم ہے وہاں ہر اس شخص کے لیے جو اسلام قبول کرئے یہ ضروری ہے کہ عام غیر مسلموں سے ممتاز ہونے کے لیے اپنی وضع میں کسی ایسی علامت کا اضافہ کر لے جو عموماً اسلامی نشان کی حیثیت سے معروف ہو ۔
(١) اس کی ایک نمایاں مثال وہ مخصوص لباس ہیں جو بادشاہ پوپ اور پادری ہائی کورٹوں کے حج اور اسی طرح کے بعض اونچے اہل مناصب خاص خاص رسموں کے موقع پر پہنتے ہیں اور جو شادی کے موقع پر دلہنوں کو بھی پہنائے جاتے ہیں۔ یہ لباس اتنا لمبا ہوتا ہے کہ پیچھے کئی کئی آدمی اس کو تھامے ہوئے چلتے ہیں ۔یہی وہ لباس تکبر ہے، جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ القيمة "جو شخص غرور کے ساتھ اپنا کپڑ از مین پر لٹکا تا ہوا چلے گا خدا قیامت کے روز اس کی صورت دیکھنا ہرگز پسند نہ کرے گا“۔
(١) ابوداؤ د ترندی اور مستدرک میں یہ روایت آئی ہے کہ حضور نے فرمایا: فَرْقَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِم عَلَى الْقَلَائِس یعنی ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق کرنے والی چیز ٹوپی پر عمامہ باندھنا ہے ۔بعض لوگوں نے اس سےیہ سمجھ لیاکہ یہ تمام مسلمانوں کےلیےدائمی قانون ہےچنانچہ اب بھی بعض لوگ اس فعل کو مسنون قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ محض بے سمجھے حدیث پڑنے کا نتیجہ ہے۔ دراصل مسنون صرف یہ ہے کہ جب مسلمان کسی ایسی قوم میں ہو جس کے اکثر افراد غیر مسلم ہوں تو وہ اپنے لباس میں اُن سے الگ کوئی امتیازی نشان پیدا کر لے۔
اس مرحلے پر پہنچ کر ہمارے سامنے کتبہ کا مسئلہ آ جاتا ہے۔ کبہ کے معنی ہیں کسی کے مشابہ بنا۔ اور اس معنی کے لحاظ سے تشبہ کی چار صورتی ممکن ہیں جن میں سے ہر ایک کے متعلق اسلام کے رویہ کی توضیح یہاں کی جاتی ہے:۔
١- صنفی محبہ :یعنی مرد کا عورت کے مانند بنا یا عورت کا مرد کے مانند بنا۔ یہ فعل چونکہ فطرت سے انحراف ہےاور ایک بگڑی ہوئی ذہنیت کی علامت ہے۔اس لیےاسلام اسےملعون قرار دیتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر جو زنانہ لباس پہنیں اور اُن عورتوں پر جو مردانہ لباس پہنیں صاف الفاظ میں لعنت فرمائی ہے اور یقینا ہر وہ شخص جس کا ذہن صحیح و سلیم ہو گا اس معاملے میں وہی نقطه نظر اختیار کرے گا جو اللہ کے نبی کا نقطہ نظر ہے۔ مرد میں زنانہ پن اور عورت میں مردانہ پن خواہ کسی حیثیت سے بھی ہو ایک نفرت انگیز چیز ہے جسے دیکھ کر طبیعت بے اختیار بغاوت کرتی ہے۔
٢- قومی تشبہ : یعنی ایک قوم کا بحیثیت مجموعی کسی دوسری قوم کی وضع اختیار کر لینا۔ یہ چیز بھی غیر طبعی اور غیر معقول ہے اور ہمیشہ اُن حالات میں پیدا ہوتی ہے جب کسی قوم میں دنائت کی وبائے عام پھوٹ رہی ہو۔ لہذا اسلام اس کو بھی جائز نہیں رکھتا۔ صحابہ کرام کے دور میں قومی تشبہ کی جس طرح روک تھام کی گئی تھی، اور مفتوح ممالک کے باشندوں کو عربیت اختیار کرنے سے جس سختی کے ساتھ منع کیا گیا تھا، اس سے صحیح اسلامی رُوح کا اظہار ہوتا ہے۔
٣- انفرادی کشبہ : یعنی کسی قوم کے بعض افراد کا کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کرنا ۔ یہ دراصل انفرادی سیرت کی کمزوری کا نشان ہے۔جو افراد اس قسم کی روش اختیار کرتےہیں وہ دراصل اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ ان کے نفس میں تلون کی بیماری موجود ہے۔ ان کی سیرت میں پختگی اور استحکام نہیں ہے بلکہ وہ ایک سیال مادہ کی طرح ہے جو ہر سانچے میں ڈھلنے پر آمادہ رہتا ہے۔ علاوہ ازیں اخلاقی حیثیت سے یہ ایک مگر وہ فعل ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص اپنا نسب کسی دوسرے سے ملائے۔ جس طرح وہ قابل ملامت ہے اس لیےکہ اپنی اس حرکت سے دراصل وہ ثابت کرتا ہے کہ اپنے حقیقی باپ کی اولاد ہونے کو وہ باعث ننگ سمجھ رہا ہے اسی طرح وہ شخص بھی قابل ملامت ہے جو پیدا تو ایک قوم میں ہو مگر عزت و افتخار حاصل کرنے کے لیے وضع دوسری قوم کی اختیار کرے کیونکہ اس طرح وہ دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ جس قوم نے اسے جنم دیا ہے اس سے وابستہ ہونا اس کی نگاہ میں موجب عار ہے اور اس کے نزدیک عزت کی شکل صرف یہ ہے کہ اگر اس کا شمار دوسری قوم میں ہو ۔ تمدنی حیثیت سے بھی یہ رویہ سراسر غلط ہے جو لوگ اسے اختیار کرتے ہیں وہ چمگادڑ بن کر رہ جاتے ہیں۔ نہ اس قوم کے رہتے ہیں جس میں پیدا ہوئے ہیں اور نہ اس قوم کےبن سکتے ہیں جس کےبنا چاہتے ہیں لا انسى هؤُلاء وَلَا إِلى هؤلاء (ثاء: ۱۴۳) ان ہی وجوہ سے صحابہ کرام اور خصوصاً حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نے عرب کے اُن افراد کو زجر و تواریخ کی تھی جو بیرونی ممالک میں جا کر عرب کے بدوی لباس چھوڑ بیٹھے تھے اور روم و ایران کے شان دار تمدن سے مرعوب ہو کر اُن کے لباس اختیار کر لیے تھے۔
٤- تشبہ بالکفار یعنی کسی مسلمان کا غیر مسلم کے مشابہ بنا۔ یہ فعل مسلمانوں کی جماعتی وحدت کے لیے نقصان دہ ہے۔اس کی وجہ سےمسلمان اور مسلمان کےدرمیان اجنیت پیدا ہوتی ہے اور ان کے باہمی تعلقات میں وہ تعاون و تناضر نہیں ہو سکتا جو اسلام چاہتا ہے کہ ہو یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ ایک شخص مسلمان ہونے کے باوجود غیر مسلمانوں کی طرف میلان طبع رکھتا ہے۔ اور سیاسی نقطۂ نظر سے بھی یہ حرکت مضر ہے کیونکہ اس میں یہ خطرہ ہے کہ جو شخص غیر مسلموں کےمانند بنا ہوا ہے اُس کے ساتھ مسلمان ناواقفیت کی وجہ سےغیر مسلموں کا سا معاملہ کریں گے۔ ان وجوہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار اس قسم کے تشبہ کی ممانعت فرمائی ہے ۔ خَالِفُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ خَالِفُوا الْمَجُوسَ - يہ الفاظ متعدد احادیث میں ہم کو ملتے ہیں جن سے حضور کا صاف منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان مسلمان کو دیکھ کر پہچان سکے اور اس کے ساتھ مسلمان کا سا معاملہ کر سکے ۔ آپ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ جو مسلمان غیر مسلموں میں مخلوط ہو کر رہے گا میں اس سے بری الذمہ ہوں، یعنی اگر کسی جنگ میں مسلمان اسے دشمن کا آدمی سمجھ کر قتل کر دیں تو اپنے خون کا وہ خود ذمہ دار ہوگا ۔ مَنْ تَشَبَّهُ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ مَا نشا بھی یہی تھا کہ جو شخص کسی قوم کے مشابہ بن کر رہے گا وہ لامحالہ اُس کا فرد سمجھا جائے گا اور اس کے ساتھ وہی برتاؤ کیا جائے گا جو اس قوم کے دوسرے افراد کےساتھ کیا جاتا ہے (١)
١- اس مسئلے پر مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو ہماری کتاب ”مسئلہ قومیت ،ص ۹۶-۱۰۱
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |