تفہیمات، دوم

بے اصل فتنے

بے اصل فتنے

کلکتہ سے ایک صاحب لکھتے ہیں:

"چند امور متعلقه تفسیر قرآن نے بکثرت لوگوں کو خلفشار میں ڈال رکھا ہے۔ ایک تفسیر لکھی گئی ہے۔ اس پر یہ اعتراض کیا جا رہا ہےکہ وہ اسلام کےعقائد کے خلاف ہےاور الہاد و دہریت کی موجب ہے چند آیات کی تفسیر بطور نمونہ اس کتاب سے نقل کرتا ہوں اور اس پر جو اعتراضات کیے گئے ہیں وہ بھی مختصر بیان کیے دیتا ہوں ۔معترضین اس کتاب کے مصنف کی تکفیر کرتے ہیں ۔ مہربانی فرما کر آپ ایک فیصلہ کن بحث کر کے بتائیں کہ آیا ان میں کوئی چیز موجب کفر ہے یا الحادود ہر یت ہے؟“

اس کے بعد مستفسر نے جو اقتباسات نقل کیے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:

(1) وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنُ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي قَالَ فَخُذُ أَرْبَعَةٌ مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرُهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلَ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَك سَعيًا - (البقره: ۲۶۰)

تفسير: "حط کشیدہ فقرے کے مطلب یہ ہے کہ چار پرندے لے لو اور ان کو اپنی طرف مائل کر لو۔ یعنی اپنے سے اس طرح مانوس کر لو کہ جب تم انھیں چھوڑ دو تو تمھاری طرف پلٹ کر آئیں۔ پھر ان کا ایک جز ایک ایک پہاڑ پر رکھ دو۔

اعتراض: مفسر نے مندرجہ بالا الفاظ میں معجزہ ابراہیمی کا انکار کیا ہے۔

(۲) إِنَّا سَخَّرُنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةٌ كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ - (ص: ۱۸-۱۹)

تفسير: "حضرت داؤد علیہ السلام جب پہاڑوں اور پرندوں کو دیکھتے تو ان کو دا یاد آتا۔"

اعتراض: اس تفسیر میں نیچریت کا رنگ غالب ہے متعدد آیات قرآنی کا مندرجہ بالا معانی سے انکار لازم آتا ہے۔ قرآن کا سیاق وسباق بتلاتا ہے کہ پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد کے ساتھ مشغول تسبیح ہوا کرتے تھے۔

(۳) وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُدَ مِنَّا فَضْلًا بِجِبَالُ أَوَّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرُ وَالَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ - (سبا: ١٠)

تفسير: النَّا لَهُ الْحَدِيدَ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو لوہا نرم کرنے کا طریقہ سکھا دیا تھا۔

اعتراض: سلف کی تفسیر کے خلاف ہے۔ سلف کا قول یہ ہے کہ لوہا حضرت داؤد کے ہاتھ میں آٹے کی طرح نرم ہو جاتا تھا۔

(۴) كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا قَالَ يَمَرْيَمُ إِنِّي لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ (آل عمران: ۳۷)

تفسير: "مطلب یہ ہے کہ حضرت مریم اس رزق کو اللہ کی بخشش کی طرف منسوب کرتی تھیں۔ اس آیت میں کوئی دلیل اس پر نہیں ہے کہ حضرت مریم کو گرمی کا میوہ جاڑے میں اور جاڑے کا گرمی میں ملتا تھا“۔

اعتراض: یہ سلف کی تفسیر کے خلاف ہے۔

(۵) وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ (اعراف: ۱۴۵)

تفسیر: مطلب یہ ہے کہ ”ہم نے ان احکام کو الواح میں لکھنے کا حکم دیا“۔

اعتراض: بخاری کی روایت و خط لک التوراۃ بیدہ کی تکذیب ہوتی ہے۔

(۶) وَشَهِدَ شَاهَدِ مِّنَ أَهْلِهَا (يوسف: ۲۶)

تفسیر: " یعنی اس نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔"

اعتراض: حضرت ابن عباس کی تفسیر کہ وہ شاہد بچہ تھا کی تکذیب ہے۔

(۷) يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ ايْتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنُ امَنَتْ مِنْ قَبْلُ (انعام: ۱۵۹)

تفسير: "یعنی جب موت کا دن آئے گا“۔

اعتراض: امام احمد بخاری اور مسلم کی روایات سے ثابت ہے کہ اس سے وہ دن مراد ہے جب سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ یہ تفسیر اس روایت کے خلاف ہے۔

(۸) يُتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (ابراہیم : ۲۷)

تفسیر: اللہ توحید کی برکت سے دنیا اور آخرت کی زندگی میں مومنوں کو ثبات بخشے گا-"

اعتراض یہ حدیث صحیح کے خلاف ہے جس میں ثابت سے مراد یہ بتائی گئی ہے کہ قبر میں جب مومن سے سوال ہوگا تو وہ اَشْهَدُ اَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ الله کہے گا۔

(۹) وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ (طور:۴)

تفسير: "بيت معمور سے مراد مساجد ہیں۔"

اعتراض یہ اس حدیث کے خلاف ہے جس میں تصریح کی گئی ہے کہ البیت المعمور ساتویں آسمان پر ہے۔

یہ ایک نمونہ ہے ان فضول لایعنی اور لاطائل جھگڑوں کا جن میں ہمارے بہت سے علماء دین اور بہت سے دین دار لوگ نہ صرف خود اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں بلکہ عام مسلمانوں کے ذہن کو بھی اس بُری طرح اُلجھا رہے ہیں کہ ان غریبوں کو دین کی حقیقت اور اپنے زندگی کے مقصد پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی ۔ ان لوگوں کی دنیا تنگ اور محدود ہے اور اس تنگ دنیا میں بیٹھے ہوئے یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی اور ساری دنیا کی فلاح کا مدار بس اسی قسم کے سوالات پر ہےکہ حضرت مریم " کو گرمی کا میوہ جاڑےمیں ملتا تھا یا نہیں، اور لوہا حضرت داؤد کے ہاتھ میں آتے ہی موم بن جا تا تھا یا نہیں ۔ کاش کوئی صورت ایسی ہوتی کہ انھیں ان کے حجروں کی تنگ دنیا سے نکال کر خدا کی وسیع دنیا کا مشاہدہ کرایا جاتا اور یہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ وہ حقیقی مسائل کون سے ہیں جن پر نوع انسانی کی فلاح و سعادت کا انحصار ہے اور وہ مہمات امور کون سے ہیں جن پر قوموں کی قسمتیں بنتی اور بگڑتی ہیں۔

سب سے بڑھ کر افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان مسائل میں مغز پاشی کرنے والےایسے لوگ ہیں جو ہمارے دین کے عالم اور ملت اسلامیہ کے علمبر دار کہلاتے ہیں ۔مسلمان ان کی طرف اس لیےرجوع کرتے ہیں کہ ان کے پاس سے دین کا علم ملے گا۔ دنیا ان کو اس نظر سے دیکھتی ہےکہ یہ اس دین کے نمائندے ہیں جسےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئےتھے۔ مگر اس اہم ذمہ دارانہ منصب پر متمکن ہو کر وہ اس قسم کے مسائل پر زبان و قلم کا زور صرف کر رہے ہیں جن کا ایک چھوٹا سا نمونہ اوپر کے سوال میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ باتیں دیکھ کر مسلمان اور غیر مسلم سب اس غلط انہی میں پڑ جاتےہیں کہ شاید اسلام کے مہمات مسائل یہی کچھ ہوں گے اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عالمگیر دائمی نبوت کے اتنےعظیم الشان منصب پر مقرر کر کے اسی لیے بھیجا ہوگا کہ آپ ان مسائل کا تصفیه فرمائیں اور یہ اسلام جو ساری دنیا کو راہ راست دکھانےاور دین و دنیا کی سعادت سے بہرہ ور کرنےکا دعوی کر رہا ہے اس کے اہم ترین مسائل ۔۔۔ ایسے اہم جن پر مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا مدار ہے۔۔۔ بس یہی ہوں گے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اور مراۃ العزیز کے قضیہ میں فیصلہ کرنے والا بچہ تھا یا جوان اور حضرت موسیٰ کو اللہ میاں نے اپنے ہاتھ سے تو رات لکھ کر دی تھی یا نہیں ۔ نعوذ باللهِ مِنْ ذلِکَ اگر یہی اسلام ہےجس کی نمائندگی اس طرح کی جارہی ہے تو دنیا کا دائرہ اسلام میں آنا تو در کنار خود مسلمانوں کا بھی اس دائر ہے میں رہنا مشکل ہے کیونکہ ایک چھوٹے سے جاہل طبقے کے سوا عامتہ الناس کو ان مسائل میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے کہ وہ ان کی تحقیق میں اپنا وقت صرف کریں اور ان کے لیے لڑیں جھگڑیں۔

میں سائل کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے کتاب کے مصنف اور معترض گروہ کے نام ظاہر نہیں کیے۔ فریقین کی شخصیت سےبےخبر ہو کر جو رائے ظاہر کی جائے گی اس پر کسی کو یہ شبہ کرنے کا موقع نہیں مل سکتا کہ اس میں کسی کی جانب داری یا مخالفت کی گئی ہےمیں صاف صاف کہنا چاہتا ہوں کہ جس طرح کے اعتراضات اوپر کے سوال میں درج کیے گئےہیں، ایسے اعتراضات کی بنیاد پر کسی مسلمان کی تکفیر کرنا یا اس کو ملحد اور دہر یہ ٹھیرانا قطعاً نا جائز ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ دین ۔ وہ دین کے علم سے بے بہرہ ہیں ۔ معلوم ہوتا ہےکہ ان کو کفر الحاد اور دہریت کے معنی بھی معلوم نہیں، ورنہ وہ ان الفاظ کو اس طرح بےجا استعمال نہ کرتے کفر سےمراد یہ ہےکہ جو تعلیم و ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو اس کا انکار یا اس سے معارضہ کیا جائے ۔ الحاد یہ ہے کہ آدمی حق سے روگردانی کر کےباطل کی طرف مائل ہو ( اور حق و باطل کا معیار پھر وہی علم ہےجو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےثابت ہو )۔ دہریت یہ ہے کہ انسان خدا کا منکر ہو یا کائنات کے نظم ونسق میں خدا کی خدائی کو غیر موثر مانتا ہو ۔اب غور کیجیےکہ بعض آیات کی جو تفسیر میں او پر نقل کی گئی ہیں ان میں سے کس میں کفر یا الحاد یا د ہریت ہے؟

(۱) پہلی آیت کی تفسیر صحیح ہے یا غلط اس سےیہاں کچھ بحث نہیں ۔ مان لیجیےکہ غلط ہےمگر کیا ہر غلطی کفر یا الحاد یاد ہریت ہوتی ہے؟ صُرْهُنَّ إِلیک کا جو مطلب مصنف نے بیان کیا ہے وہ لغت کے اعتبار سے درست ہے۔ بعض مفسرین نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے ۔ پھر وہ دوسرے فقرے (ثُمَّ اجْعَلْ عَلى كُلَّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءً) کا وہی مفہوم بیان کر رہا ہےجو آیت کےالفاظ سےمطابقت رکھتا ہےاس کے بعد وہ کس طرح معجزہ ابراہیمی کا منکر قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر مان لیا جائے کہ وہ اس آیت کی ایسی تاویل کرتا ہے جو اس خاص واقعہ کے معجزہ ہونے کو تسلیم نہیں کرتی تب بھی الحاد کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔ الحاد صرف اس صورت میں ہوگا جبکہ نفس معجزہ کی حقیقت سےانکار کیا جائےرہا فردا فردا ایک ایک معجزہ تو قرآن میں متعدد مقامات ایسے ہیں جہاں اس امر میں اختلاف کی گنجائش ہے اور اختلاف کیا بھی گیا ہے کہ آیا انھیں معجزہ قرار دیا جائے یا معمولی فطری واقعات۔ لہذا اگر ایسے کسی موقع پر کوئی شخص آیت کی تاویل اس طرح کرتا ہو کہ ایک واقعہ معجزہ کے بجائے محض فطری واقعہ قرار پائے تو الحاد کا الزام لگانا درست نہیں، اسےمحض غلطی کہا جا سکتا ہے۔

(۲) دوسری آیت کی تفسیر بلاشبہ الفاظ قرآنی سے ہٹی ہوئی ہے۔ مگر اس کو بھی کفر کہنے کے بجائے غلطی کہنا چاہیے۔کفر اس وقت ہوتا ہے جب قرآن کے علی الرغم مصنف یہ کہتا کہ پہاڑ اور پرندے تسبیح نہیں کہتے یا نہیں کر سکتے ۔ ایسی کسی بات کا ارتکاب مصنف نےنہیں کیا ہے، بلکہ اس نے اپنی عقل کے مطابق آیت کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔اس نوع کی تاویلات پر اگر لوگوں کی تکفیر کی جانے لگے تو کسی شخص کا بھی کفر کےالزام سےبچنا ممکن نہ ہوگا ۔کیونکہ قرآن میں بہت سی ایسی آیات متشابہات ہیں جن کا مفہوم مختلف لوگ اپنی اپنی منتقل کے مطابق مختلف طور پر متعین کرتے ہیں۔ پہاڑوں اور پرندوں کا تسبیح کرنا ایک ایسا امر ہے جس کی کیفیت خدا کےسوا کوئی نہیں جانتا۔اگر کوئی اس کا مطلب یہ لیتا ہے کہ پہاڑوں اور پرندوں کے پاس بھی ویسی ہی دانہ دار تسبیجیں ہوتی ہیں جیسی ہمارے زاہد پھیرا کرتے ہیں، تو میں اس کی رائے کو غلط کہہ سکتا ہوں مگر اس کی تکفیر نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی دوسرا شخص اس کا یہ مطلب لیتا ہے کہ حکیم الہی کے آگے اُن کا مسخر ہونا ہی اس کی تسبیح ہے اور اس تسبیح کے عالم میں ان کو دیکھ کر حضرت داؤد پر یاد الہی کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی (جیسا کہ اس تفسیر کے مصنف کا خیال ہے ) تو میں اس کی رائے سے بھی اختلاف کر سکتا ہوں، مگر اس کی تعمیر نہیں کر سکتا۔ میں خود اس آیت کی تاویل یوں کرتا ہوں کہ حضرت داؤد کو اللہ نے بہترین سریلی اور بلند آواز عطا فرمائی تھی ۔ اس آواز کے ساتھ جب وہ زبور پڑھتے تو وادیاں گونج اٹھتیں، چرند و پرند جمع ہو جاتے اور تمام گردو پیش کی چیزوں پر ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ اس تفسیر کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسی(١) اشعری قرآن پڑھ رہےتھےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستہ چلتے چلتے ان کی آواز سن کر ٹھہر گئے اور کچھ دیر لطف لینے کے بعد فرمایا: لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَنَا مِيُرالِ دَاؤُدَ ( اس شخص کولحن داؤدی میں سے ایک حصہ ملا ہے ) یہ تاویل میرے ذوق اور بصیرت سے مطابقت رکھتی ہے ۔ اگر کوئی شخص اس کو پسند نہیں کرتا تو اسے غلط کہہ سکتا ہے مگر میری تکفیر نہیں کرسکتا۔

(۳) تیسری آیت کا جو مفہوم مصنف نے بیان کیا ہے وہ الفاظ قرآنی کے خلاف نہیں ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں کہ ”ہم نے اس کے لیے لو ہے کو نرم کر دیا ۔ رہا سلف کا یہ قول کہ حضرت داؤد کے ہاتھ میں آتے ہی لوہا آنے کی طرح نرم ہو جاتا تھا ، تو بلا شبہ یہ قول حسن بصری اور قتادہ اور اعمش وغیر ہم سے منقول ہے، مگر یہ لوگ خدا کی طرف سےکب مبعوث ہوئے تھے کہ ان کے اقوال کو ترک کر دینے سے انسان کا فر ہو جائے ؟ قرآن میں کہیں اس مفہوم کی تصریح نہیں کی گئی ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث اس معنی میں مروی ہےپھر یہ کیا غضب ہے کہ لوگوں کو قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حسن اور قتادہ اور اعمش پر بھی ایمان لانے کے لیے پابند کیا جاتا ہے اور جو شخص ان کے اقوال کو چھوڑتا ہے اسے بھی ویسا ہی کا فرٹھیرایا جاتا ہے جیسا اس شخص کو جو قرآن اور نبی کے ارشاد سے انحراف کرے۔

(۴) اس آیت کی تفسیر پر جو اعتراض کیا گیا ہےوہ بھی اتنا ہی لغو ہے جتنا آیت نمبر ۳ کی تفسیر پر ہے۔ آیت کے الفاظ صرف یہ کہتے ہیں کہ " حضرت زکریا جب کبھی حضرت مریم علیہا السلام کے پاس محراب میں جاتے تو ان کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے کا سامان موجود پاتے ۔ اور جب حضرت مریم سے پوچھتے کہ یہ کہاں سے آیا ؟ تو وہ جواب دیتیں کہ خدا کے پاس سے۔ اب رہا یہ امر کہ وہ کھانے کا سامان دراصل گرمی کا میوہ جاڑے میں اور جاڑے کا گرمی میں ہوتا تھا تو یہ نہ قرآن میں مذکور ہے اور نہ کسی حدیث صحیح میں بلکہ یہ قتادہ اور عکرمہ اور سعید بن جبیر اور ضحاک وغیر ہم کا بیان ہے۔ تو اب ان لوگوں کی رائے سے اختلاف کرنے والے بھی کافر بنائے جائیں گے؟ اگر ایسا ہے تو آپ امام مجاہد کے حق میں کیا فرما ئیں گے جنھوں نے مذکورہ بالا بزرگوں سے اختلاف کر کےرزق کی تاویل علم سے کی اور کہا کہ حضرت مریم کے پاس صحیفے پائے جاتے تھے جن میں علم ہوتا تھا ؟ اور اس حدیث کے متعلق کیا ارشاد ہے جو جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ کے ہاں بھوک میں تشریف لے گئے اور کچھ کھانے کو طلب کیا۔ انھوں نے کہا کہ واللہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ حضور واپس تشریف لے گئے ۔ اتنے میں حضرت فاطمہ کی ایک ہمسائی نے دو روٹیاں اور کچھ گوشت بھیج دیا۔ حضرت فاطمہ نے فوراً اپنے بچوں میں سے ایک کو دوڑایا کہ حضور کو واپس بلا لائیں۔ جب حضور تشریف لائے تو حضرت فاطمہ نے کھانا پیش کیا۔ آپ نے پوچھا کہ بیٹی یہ کہاں سےآیا؟ حضرت فاطمہؓ نے عرض کیا يَا أَبَتِ هُوَ مِنْ عِندِ اللهِ (ابا جان یہ اللہ کے ہاں سے آیا ہے) اس پر حضور نے فرمایا بیٹی خدا کا شکر ہے جس نے تجھے سیدۃ النساء بنی اسرائیل ( مریم علیہا السلام) کے مشابہ بنایا۔ ان کے پاس بھی جب خدا کی طرف سے رزق آتا اور ان سے پوچھا جاتا کہ یہ کہاں سے آیا ہے تو وہ کہتی تھیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے"۔ اس حدیث کو حجت بنا کر اگر کوئی کہے کہ حضرت مریم کے پاس پردہ غیب سے رزق نہیں اترتا تھا، بلکہ اللہ نے ان کےلیےایسا سامان کر دیا تھا کہ وہ بے سہارے اور بے وسیلہ ایک محراب میں بیٹھی ہوتی تھیں اور وقت پر کوئی نہ کوئی شخص ان کو کھانا پہنچا دیا کرتا تھا تو کیا ایسی تاویل کرنےوالے کو کافر ٹھیرایا جائے گا؟ پھر یہ امر بھی غور طلب ہےکہ گرمی کا میوہ جاڑے میں اور جاڑے کا گرمی میں ملنا بجز خرق عادت کے اور کون سی خوبی اپنے اندر رکھتا ہے؟ اللہ نے جو میوہ جس موسم میں پیدا کیا ہے وہ اسی موسم کےلیے نعمت ہے کیونکہ وہ اس موسم کی طبیعت کے لحاظ سے پیدا کیا گیا ہے۔ دوسرے موسم میں اس میوے کا ملنا بجو بہ تو ہوسکتا ہے مگر نعمت نہیں ۔


١- حضرت ابو موسیٰ بڑے خوش آواز مشخص تھے۔ ابو عثمان نہدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمر بھر کوئی آواز موسیٰ کی آواز سے اچھی نہیں سنی۔

(۵) اس آیت کی تاویل میں امام رازی فرماتے ہیں:

وَاعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ فِي لَفْظِ الْآيَةِ مَا يَدُلُّ عَلَى كَيْفِيَّةِ تِلْكَ الْأَلْوَاحِ وَعَلَى كَيْفِيَّةِ تِلْكَ الْكِتَابَةِ فَإِنَّ ثَبَتَ ذَالِكَ الْتُفْصِيلُ بِدَلِيْلٍ مُنْفَصِلٍ قَوِي وَجَبَ الْقَوْلَ بِهِ وَالَّا وَجَبَ السَّكُوتُ عَنْهُ -

معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت کے الفاظ سے واضح طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ لوحیں کیسی تھیں اور اس کتابت کی کیفیت کیا تھی اب اگر کسی دوسری قوی دلیل سے یہ تفصیل ثابت ہو تب تو اس کا قائل ہو جانا چاہیے ورنہ اس باب میں سکوت ہی مناسب ہے۔

کیا امام رازی کی بھی تکفیر کی جائےگی کہ انھوں نے بخاری کی حدیث مذکور ہوتےہوئےکیلیت کتابت کی تفصیل کو غیر ثابت سمجھا ہے؟کیا اس سےبڑھ کر بھی کوئی ظلم ہو سکتا ہےکہ اگر کسی شخص کےنزدیک کسی حدیث کےالفاظ یا اسناد مشتبہ ہوں اور اس بنا پر وہ اس کا قائل نہ ہو تو اسے قول رسول کا منکر مخبرا دیا جائے ؟ اس نوعیت کے کفر سے علماء سلف میں سے کون سا عالم اور امام بیچ سکتا ہے؟ چھوٹے لوگوں کو چھوڑیے بڑے بڑے ائمه سےجن کی امامت صدیوں سے دنیائے اسلام میں مسلم ہےایسےاقوال منقول ہیں جو بعض روایات کے خلاف پڑتے ہیں ۔ کیا ان سب کو منکر فرمان رسول قرار دیا جائے گا ؟

وہ حدیث جس سے معترنین نے استدلال کیا ہے بخاری میں چار جگہ آتی ہے اور چاروں جگہ اس کے الفاظ مختلف ہیں:

"کتاب القدر میں طاؤس ابو ہریرہ سے روایت کرتےاصْطَفَكَ اللهُ بكَلامِهِ وَخَط لک بیدہ خدا کا اپنے ہاتھ سےتورات لکھنا صرف اسی روایت میں بیان ہوا ہے

کتاب التوحید اور احادیث الانبیاء میں حمید بن عبد الرحمن ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں اصطفاك اللهُ بِرِسَالَیهِ وَبِكَلامِهِ (يَابِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلامِهِ) اس روایت میں ہاتھ سے تو رات لکھنے کا مضمون نہیں ہے۔

کتاب التفسیر میں محمد بن سیرین ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَاصْطَفَاكَ لِنَفْسِهِ وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ- یہاں بھی ہاتھ سے تو رات لکھنے کا مضمون نہیں ہے۔

امام مسلم نے کتاب القدر میں چار حدیثیں نقل کی ہیں جو سب حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہیں اور ان میں سے تین اس مضمون سے خالی ہیں۔ دوسری معتبر کتب حدیث میں بھی یہی حال ہے کہ اکثر روایات میں ایسی کوئی عبارت نہیں جو ہاتھ سے تو رات لکھنے کی تصریح کرتی ہو۔ اس تقابل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اول تو یہ حدیث باللفظ نہیں بلکہ بالمعنی روایت ہوئی ہے۔ دوسرے یہ امر مشکوک ہے کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےخط لک بیدم (یعنی اللہ نے تو رات اپنے ہاتھ سے آپ کو لکھ کر دی تھی) کے الفاظ فرمائےتھے یا نہیں۔ پس یہ انتہا درجے کی بے احتیاطی بلکہ جرم ہے کہ ایسے ایک مشتبه امر کی بنیاد پر کسی مسلمان کی تکفیر کی جائے۔

(٦) اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس کے قول کو حجت بنا کر مصنف کی تکفیر کی گئی ہے۔ حالانکہ خود حضرت ابن عباس سےتین مختلف قول منقول ہیں۔ایک قول یہ ہے کہ وہ شاہد جس نے حضرت یوسف اور امراۃ العزیز کےمعاملےمیں فیصلہ دیا تھا ذُولِحَيَّة ( ڈاڑھی والا تھا) ۔ دوسرا قول یہ ہےکہ شاہ مصر کے مصاحبوں میں سے تھا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ایک بچہ تھا گہوارے میں اب کیوں نہ معترضین جرات کر کے خود حضرت ابن عباس ہی کی تکفیر کر دیں؟ اور کیوں نہ ساتھ ہی مجاہد مکرمہ حسن عمارہ محمد ابن اسحاق سدی اور زید بن اسلم کو بھی لپیٹ لیں کیونکہ یہ سب بالاتفاق کہتے ہیں کہ وہ بچہ نہ تھا بلکہ مرد تھا ؟

کس قدر افسوس کا مقام ہےکہ اللہ تعالی نےجس بات کو قطعاً اہمیت نہیں دی حتی کہ جس کا ذکر تک ضروری نہ سمجھا اس کو اتنی اہمیت دی جائےکہ اگر کوئی شخص اسےنظر انداز کر دےتو اسے کا فرٹھہرایا جائے قرآن واقعات کی غیر ضروری تفصیلات کو عموماً چھوڑ دیتا ہےاور نہ صرف اُن اہم اجزاء کو بیان کرتا ہےجو نفس مقصود سےتعلق رکھتےہیں مگر بعض مفسرین کا ذوق اس طرح کا ہے کہ وہ اُن غیر ضروری تفصیلات کا کھوج لگاتے ہیں جنھیں قرآن نے نظر انداز کر دیا ہے۔ مثلاً قرآن کہتا ہے کہ حضرت ابراہیم کو چار پرندے لینے کا حکم دیا گیا۔ یہ واقعہ جس غرض کے لیے بیان کیا گیا ہے اس میں یہ تفصیل غیر ضروری تھی کہ وہ پرندے کون کون سے تھے مگر بعض مفسرین نے معلوم نہیں کس جگہ سے پتہ چلایا کہ وہ پرندے مور اور کو آ اور کبوتر تھےاسی طرح قرآن حضرت یوسف کے واقعہ میں صرف اتنا بیان کرتا ہےکہ ایک شاہد نےقرائن کی شہادت سے حضرت یوسف کی برکت ثابت کی۔اس میں یہ سوال کہ شاہد کی عمر کیا تھی بالکل غیر اہم تھا اس لیےقرآن نےاسکا کوئی ذکر نہیں کیا۔مگر بعض مفسرین نےشاہد کی عمر کا کھوج لگانا بھی ضروری سمجھا۔ایسی باتوں سےجس شخص کو دلچسپی ہو وہ مفسرین کے اقوال کو قبول کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ لیکن یہ کیا ظلم کہ جو لوگ ان اقوال کو نظر انداز کر دیں اور صرف انھی امور تک تفسیر کو محدود رکھیں جنھیں قرآن نے بیان کیا ہے تو ان کی تکفیر کی جائےاور پھر تکفیر بھی اس بنیاد پر کہ تم نےسلف کےقول سے انحراف کیا ہے؟ آخر معلوم تو ہو کہ یہ "سلف" کون سے انبیاء تھے جن پر ایمان لانے کی مسلمانوں کو تکلیف دی گئی ہے؟

(۷) ساتویں آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے:

" کیا یہ لوگ اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس ملائکہ آئیں یا تیرا رب (خود) آجائے یا تیرے رب کی بعض کھلی نشانیاں آجائیں؟ جس روز تیرے رب کی کھلی نشانیاں آجائیں گی اس روز تو کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ اکتساب نہ کیا ہو۔

خط کشیدہ فقرے میں جس دن کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد وہ دن بھی ہو سکتا ہےجب خدا کا عذاب سر پر آجائے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمُ إِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوُا بَأْسَنَا (المومن : ۸۵) اور اس سے مراد موت کا وقت بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدقِ مَالَمُ يُغَرُ غِرُ یعنی جب جان کنی شروع ہو جائے اور حلق میں گھونگر و بولنے لگے اس وقت اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول نہیں کرتا۔ اور اس سے مراد وہ وقت بھی ہو سکتا ہے جب قیامت کی کھلی ہوئی علامات ظاہر ہونے لگیں، جیسا کہ اُس حدیث میں مذکور ہوا ہے جس کا حوالہ معترضین نے دیا ہے۔اب اگر کوئی شخص ان معانی میں سے ایک معنی بیان کرتا ہے اور دوسرے معنی کی تکذیب نہیں کرتا تو آخر اس کی تکفیر کس بناء پر کی جاتی ہے۔ جبکہ قرآن کے الفاظ متینوں معنوں کے متحمل ہیں اور ہر معنی کی تائید قرآن یا حدیث سے ہوتی ہے تو ان تینوں میں سے ایک معنی بیان کرنے والا آخر کس جرم کی پاداش میں کافر ہو جائے گا؟

(۸) آٹھویں آیت کے جو معنی مصنف نے بیان کیے ہیں وہ الفاظ قرآنی کےبالکل مطابق ہیں، اور اس حدیث کے بھی خلاف نہیں ہیں جس کا حوالہ معترضین نے دیا ہے۔ وہ اس آیت کے صرف ایک پہلو پر روشنی ڈالتی ہے یعنی یہ کہ حیات اُخروی کےدروازے میں قدم رکھتے ہی اللہ تعالیٰ مومن کو کلمہ توحید سے کس طرح ثبات بخشے گا۔ سو مصنف اس کا منکر نہیں ہے۔ وہ بھی آخرت میں ثبات بخشے جانے کا قائل ہے۔ البته اگر معترضین اس حدیث کو حجت بنا کر دنیا کی زندگی میں کلمہ توحید سے ثبات حاصل ہونے کا انکار کرتے ہیں تو وہ خود قرآن کی تکذیب کے مجرم ہیں کیونکہ قرآن فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الأخرة کہہ رہا ہے اور حدیث میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جو فی الحیوۃ الدنیا کی تردید کرتا ہو۔

یہ سخت جہالت کی بات ہے کہ بعض آیات کی تفسیر میں جو احادیث یا آثار منقول ہیں ان کو حصر کے معنی میں لے لیا جائے اور یہ گمان کر لیا جائےکہ ان آیات کا کوئی مفہوم اُس مفہوم کےسوا یا اس مفہوم سےزائد نہیں ہے جو ان احاء کی شام آئے جو لوگ تفسیر کی کتابوں میں کوئی حدیث یا اثر دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ آیت کا مفہوم صرف اسی قدر ہے اور اس سے زائد یا اس سے مختلف مفہوم بیان کرنے والے کو حدیث یا اثر کا منکر قرار دیتے ہیں وہ دراصل سلف کے طریقے سے ناواقف ہیں اور اپنے جہل کی کند چھری سے بندگان خدا کے ایمان کو ذبح کرتے ہیں۔ انھیں علامہ ابن القیم کے ان الفاظ کو غور سے پڑھنا چاہیے۔

"ابن عباس اور دوسرے بندگانِ سلف کا طریقہ یہ ہے کہ بسا اوقات وہ آیت کے معنی اور دلالات میں سے کسی ایک چیز کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں ۔مگر نا واقف لوگ اس غلط نہی میں پڑ جاتے ہیں کہ آیت کا کوئی اور مفہوم اس معنی کے سوا نہیں ہے“۔

(اعلام الموقعین، جلد نمبر ا ص ۵۸)

(۹) البیت المعمور کی تفسیر پر جو اعتراض کیا گیا ہے وہ بھی اسی نوعیت کا ہے جیسا نمبر ۸ میں مذکور ہوا۔ حدیث میں جو ارشاد ہوا ہے کہ بیت المعمور آسمان میں ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بیت المعمور زمین میں نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آسمان میں بھی ہے۔ حصر کا پہلو اختیار کرنا محض ناواقفیت کی دلیل ہے۔ آیت کے الفاظ عام ہیں اور دوسرے معانی کا بھی احتمال رکھتے ہیں۔ ایک شخص بیت المعمور سے مراد بیت اللہ بھی لےسکتا ہے۔ پوری زمین کو بھی بیت المعمور قرار دے سکتا ہے۔ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ البیت کا الف لام تعریف جنس کے لیے ہے اور اس سے مراد ہر آباد جگہ ہے۔ یہ سب معانی اس مقصود سے مطابقت رکھتے ہیں جس کے لیے اللہ تعالی نے البیت المعمور کی قسم کھائی ہے۔پھر آخر کس دلیل سے انسان کے فہم پر دوسرے تمام معانی کا دروازہ بند کیا جا سکتا ہے؟

مزید برآں یہ کتنی زیادتی ہے کہ جو شخص کسی حدیث کے بارے میں ساکت ہو اسے حدیث کا منکر یا مکذب ٹھیرا دیا جائے۔کیا سکوت کے معنی صرف انکار اور تکذیب ہی کے ہیں؟ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ اسے اس حدیث کا علم نہ ہو؟ اگر بالفرض وہ اس لیے سکوت اختیار کرتا ہے کہ وہ اس حدیث کا قائل نہیں ہے تب بھی اس کی تکفیر کیسے کی جاسکتی ہے؟تکفیر صرف اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ ایک شخص حدیث کو صحیح مانے اور پھر یہ کہے کہ جو بات رسول اللہ مسلم سے ثابت ہے اس کو میں تسلیم نہیں کرتا۔ لیکن اگر وہ اس امر میں شک رکھتا ہو کہ یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے یا نہیں، اور اس بناء پر حدیث کو رد کرتا ہو تو اسے کفر یا الحاد کا الزام کیسے دیا جا سکتا ہے؟

اس بحث سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ کفر الحاد اور دہریت جن چیزوں کا نام ہے ان میں سے کوئی بھی چیز ان عبارات میں نہیں پائی جاتی جو زیر بحث تفسیر سے سائل نےنقل کی ہیں۔ اس کے مصنف کی بعض باتوں کو غلط کہا جا سکتا ہے مگر کسی چیز کا غلط ہونا اور چیز ہے اور اس کا کفریا د ہر یت یا الحاد ہونا اور چیز ۔ جو شخص قواعد شرعیہ سے واقف ہو اور یہ جانتا ہو کہ ثبوت کفر کے لیے کن چیزوں کا متحقق ہونا ضروری ہے وہ ہرگز یہ جسارت نہیں کر سکتا کہ جہاں اپنےنزدیک کوئی بات غلط پائےوہاں کفر کا حکم لگا دےمگر یہ مسلمانوں کی سخت بد قسمتی ہے کہ جو لوگ ان کے مقتدا بنے ہوئے ہیں ان میں سے بعض تو حقیقت قواعد شرعیہ سے ناواقف ہیں اور صرف حمل اسفار کی حد تک علم رکھتے ہیں، اور بعض ذی علم تو ہیں مگر خدا کے سامنے اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں رکھتے، اس لیے انھوں نے اپنا یہ شیوہ بنالیا ہے کہ جہاں کسی سے ناراض ہوئے بلا تامل اس کے خلاف کفر کا حکم صادر کر دیا۔ یہ لوگ بے تکلف کفر و الحاد کے الفاظ کو غلط“ کے معنی میں بولتے ہیں۔ ہر وہ چیز جو ان کی رائےمیں غلط ہے وہ یا تو کفر ہے یا الحاد یا دہریت ۔ بہت رعایت کریں گے تو فسق اور گمراہی کا حکم لگا دیں گے ۔ اس سے کم وزن کا لفظ ان کی لغت میں ہے ہی نہیں۔

جو لوگ میری روش سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں اس قسم کے جھگڑوں سےہمیشہ الگ رہتا ہوں، حتی کہ اگر کوئی مناظرے کے شوقین جھگڑے پر اتر آئیں تو باؤل قبلہ ہی ان سے ہار مان کر پیچھا چھڑا لیتا ہوں۔ اب اگر آج اپنے طریقےسےہٹ کر اس بحث میں چند صفحےسیاہ کر رہا ہوں تو اس سےمیرا مقصد اُس خاص مقدمہ میں دخل دینا ہرگز نہیں ہے جسے سائل نے اپنے سوال میں پیش کیا ہے۔ ایسے مقدمات تو ہماری قوم میں اس کثرت سے چھڑے ہوئے ہیں کہ ان کا تصفیہ کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے۔ میرا مقصد اس بحث سے صرف یہ ہے کہ اول تو میں اُن علماء کے ضمیر سے اپیل کرنا چاہتا ہوں جو اس قسم کے جھگڑے مسلمانوں میں برپا کر کے اسلام کی طاقت کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دُنیا کی نگاہوں میں اپنے ساتھ اپنے دین کو بھی مضحکہ بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ میں عام مسلمانوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ان کے مذہبی پیشوا عام طور پر جن مسائل کو چھیڑ کر انھیں آپس میں لڑا رہے ہیں وہ کس قدر بے حقیقت ہیں اور ان میں الجھ کر اپنا وقت اور روپیہ یر باد کرنا اور اپنی قومی طاقت کو ضائع کرنا کیسی حماقت ہےکہ دنیا میں بھی اس سے رُسوائی ہو اور خدا بھی خوش نہ ہو۔

ترجمان القرآن

( ربیع الثانی ۱۳۵۸ھ مطابق جون ۱۹۳۹ء)

کتاب تفہیمات، دوم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Understandings