چونکہ اس سے مقصود کسی پرانی بحث کو تازہ کرنا نہیں ہے اس لیے نام حذف کر دیے گئے ہیں]۔
"ایک انسان کا دوسرے کو غلام بنانا فطرت کے خلاف ہے ۔ لیکن دنیا میں غلامی رائج ہو گئی تھی اور نزول قرآن کے زمانے میں عربوں کے پاس بھی مملوک تھے ۔ قرآن نے بعض مصالح کی وجہ سے اُن کے پاس بھی مملوک تھے ۔ قرآن نے بعض مصالح کی وجہ سے اُن رہنے دیا۔"
"قرآن میں جہاں بھی مملوکوں کا ذکر ہے صیغه ماضی یعنی مَا مَلَكَتْ ايمانكم (نساء:۲۴) ہے یعنی بصیغہ مستقبل کہیں نہیں ہے۔ جس سےظاہر ہوتا ہے کہ جن غلاموں کے وہ مالک ہو چکے تھے صرف اُٹھی کی ملکیت قائم رکھی گئی تھی۔"
یہ متن اور حاشیہ دونوں نظر ثانی کے محتاج ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن مجید میں انسانی کمزوریوں کا لحاظ رکھ کر اصلاح کا تدریجی طریقہ اختیار کیا گیا تھا،لیکن کوئی مثال ہم کو قرآن مجید میں ایسی نہیں ملتی کہ کسی مسئلے میں اُس نے اپنی تدریجی اصلاح کو نامکمل چھوڑ دیا ہو اور آخری اصلاح کا حکم نزول وحی کے زمانے ہی میں نہ دے دیا ہو ۔ یہ قاعدہ کلیہ اگر درست ہے تو کیا غلامی کے مسئلے میں قرآن مجید کا کوئی ایسا حکم دکھایا جا سکتا ہے جس نےغلامی کی ہر شکل کو قطعی طور پر ممنوع قرار دیا ہو؟ رہی یہ بات کہ عرب میں چونکہ غلامی رائج تھی اور لوگوں کے پاس پہلے سے غلام موجود تھے اس لیے غلامی کو مصلحنا باقی رکھا گیا، تو غور کرنے سے یہ امر واضح ہو جائے گا کہ ایسی مصلحت شناسی کو خدا کی طرف منسوب کرنا در اصل خدا کی طرف کمزوری کو منسوب کرتا ہے۔ جس خدا نے شراب کو حرام کر دیا اور اس معاملے میں بندوں کی خواہشات کی ذرا پروانہ کی جس نے زنا کو حرام کر دیا اور اس امر کی ذرا پروانہ کی کہ عرب اور دوسرے ممالک میں زنا کا کس قدر رواج تھا، اُس کو کون سا امر غلامی کی ہر صورت کو قطعاً حرام کر دینے سے روک سکتا تھا؟
ان دو شکلوں میں سے پہلی شکل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعاً ممنوع قرار دیا اور فرمایا کہ جو شخص کسی آزاد کو پکڑ کر نیچے گا اس کے غلاف میں خود قیامت کے روز مدعی بنوں گا ( بخاری، کتاب البیع (ع) اور دوسری شکل کے متعلق اسلام کا قانون یہ قرار پایا کہ جو لوگ جنگ میں گرفتار ہوں اُن کو یا تو احسان کے طور پر رہا کر دیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا دشمن کے مسلمان قیدیوں سے اُن کا مبادلہ کر لیا جائے لیکن اگر یونہی رہا کر دینا جنگی مصالح کےخلاف ہو اور فدیہ وصول نہ ہو سکےاور دشمن اسیرانِ جنگ کا مبادلہ کرنےپر بھی رضامند نہ ہو تو مسلمانوں کو حق ہےکہ انھیں غلام بنا کر رکھیں ۔البتہ اس قسم کے غلاموں کے ساتھ انتہائی حسن سلوک اور رحمت و رافت کےبرتاؤ کا حکم دیا گیا ہےاُن کی تعلیم و تربیت دینے اور انھیں سوسائٹی کے عمد و افراد بنانے کی ہدایت کی گئی ہے اور مختلف صورتیں اُن کی رہائی کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اس باب میں اسلام کا صحیح قانون معلوم کرنے کے لیے قرآنی احکام کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور آپ کے ارشادات اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مؤلف کی غلطی کا اصل سبب یہی ہے کہ انھوں نے صرف قرآن سے غلامی کا قانون اخذ کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔
مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمُ سے جو نکتہ مولف نے پیدا کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ نزول قرآن کے بعد بھی صحابہ کے عہد میں بہت سے اسیران جنگ کو ممالیک کی حیثیت سے رکھا گیا ہے۔ خود اہل بیت رسول کے گھروں میں جنگ سے پکڑے ہوئے غلام اور مفتوح ممالک سے آئی ہوئی لونڈیاں موجود تھیں۔ تو کیا ان سب لوگوں نے حکم قرآن کی دانستہ خلاف ورزی کی؟ یا یہ سب قرآن کے حکم سے ناواقف تھے؟
پھر اگر آپ کے نزدیک یہ کوئی قاعدہ ہے کہ جو کچھ قرآن میں بصیغۂ ماضی کہا گیا ہےاس سےمراد صرف ماضی ہی ہوگا،حال یا مستقبل نہ ہوگا تو حیرت ہےکہ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وانشق القمرُ (القمر: ١) کی تاویل آپ نےخود اپنی کتاب میں اس طرح کی ہےکہ " جب قیامت آئےگی تو چاند پھٹ جائے گا۔ اور نکانَ عَرْضُهُ عَلَى الْمَاءِ کا ترجمہ آپ نے۔ "اس کا عرش پانی پر ہے فرمایا ہے۔"
لیکن مصنف نے یہ خور نہ فرمایا کہ اگر کفار نہ مال کی صورت میں فدیہ دیں اور نہ اسیران جنگ کا مبادلہ کریں تو کیا ایسی صورت میں بھی مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے کہ وہ لازما اسیرانِ جنگ کو بطور احسان رہا کر دیں؟ اگر اسیران جنگ کو رہا کرنے سے دُشمن کو مزید قوت پہنچنے کا خطرہ ہو اور مسلمانوں کو اندیشہ ہو کہ یہ لوگ آزاد ہو کر پھر ہم سے لڑنےآئیں گے تو یا اس صورت میں بھی یہ حکم ہے کہ انھیں رہا کر دیا جائے ؟ کم از کم آیت کےالفاظ سےتو یہ قلعی اور لازمی حکم نہیں لگتا۔آیت میں منا کا لفظ ہےجس کےمعنی احسان رکھنے کےہیں اور قرآن میں احسان کا حکم کہیں نہیں دیا گیا ہےالبتہ اسےافضلیت کا درجہ دےکر اس کی طرف ترغیب دلائی گئی ہے۔چنانچہ اس آیت میں بھی قرآن کا منشاء صرف یہ ہےکہ احسان کےطور پر چھوڑ دینا زیادہ فضیلت کا کام ہے۔ لیکن اس سے یہ مقصود ہرگز نہیں ہےکہ اگر اسلامی مفاد کو نقصان پہنچتا ہو تب بھی احسان کیا جائے اور ضرور احسان ہی کیا جائے ۔
هر فرزند آدم زمین کا بادشاہ ہے ۔ آدم کے متعلق ہے : إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خليفة (البقره: ۳۰) اور فرزندان آدم کے بارے میں ہے وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الأرض (انعام: ۱۶۶) پھر ان کی شان میں ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ (بنی اسرائیل: ۷۰) کیا فرزند آدم کو جو زمین کی بادشاہت بلکہ آپ کی تفسیر کے مطابق ناب حق ہونےکے لیے پیدا کیا گیا ہے غلام بنا لینا فطرت کے خلاف نہیں ہے؟ پھر جو چیز فطرت کےخلاف ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن اس کو جاری رکھے؟ آپ اس قدر تو تسلیم کرتے ہیں کہ:
"غلامی کی دو صورتیں اس وقت تک دُنیا میں رائج تھیں۔ایک یہ کہ بعض ممالک کے باشندوں کو پکڑ کر اُن کی خرید و فروخت کی جاتی تھی۔دوسری یہ کہ جنگ میں جولوگ گرفتار ہوتےتھےان کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ان دونوں شکلوں میں سے پہلی شکل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعاً ممنوع قرار دیا اور فرمایا کہ جو شخص کسی آزاد کو پکڑ کر نیچےگا اس کےخلاف میں خود قیامت کےروز مدعی بنوں گا(بخاری کتاب البیوع ) اور دوسری شکل کےمتعلق اسلام کا قانون یہ قرار پایا کہ جو لوگ جنگ میں گرفتار ہوں ان کو یا تو احسان کےطور پر رہا کر دیا جائےیا فدیہ لےکر چھوڑ دیا جائےیا دشمن سےمسلمان قیدیوں کےساتھ ان کا مبادلہ کر لیا جائے ۔لیکن اگر رہا کر دینا جنگی مصالح کےخلاف ہو اور فدیہ وصول نہ ہو سکےاور دشمن اسیران جنگ کا مبادلہ کرنے پر بھی رضامند نہ ہو تو مسلمانوں کو حق ہے کہ انھیں غلام بنا کر رکھیں“۔
یہ تو مسلّم ہوا کہ کسی آزاد کو پکڑ کر غلام بنانا ایسا سنگین جرم ہے کہ اس کے مدعی قیامت کے دن خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے ۔ اب رہا اسیران جنگ کا معاملہ ان کےمتعلق قرآن میں قطعی حکم ہےکہ فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً (محمد :۴) پھر یا تو احسان رکھ کر انھیں چھوڑ دو یا فدیہ لے کر ۔ فدیہ خواہ زیر نقد یا سامان کی صورت میں ہو یا مبادلہ اسیران کی شکل میں، مگر یہ قطعی حکم ہے کہ ان کو چھوڑ دو۔ بے شک اُس وقت تک وہ اسیر رکھےجاسکتے ہیں جب تک کہ اسلامی مفاد کو ان کی رہائی سے خطرہ کا اندیشہ ہو۔لیکن ان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔قرآن نےخود حکومت کو یہ اختیار نہیں دیا کہ ان کو مملوک بنا کر بیچےیا سپاہیوں میں تقسیم کرے۔بلکہ وہ سرکاری قیدی رہیں گےاور عزت و آبرو کے ساتھ رکھےجائیں گے۔برخلاف اس کے آپ یہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو حق ہے کہ وہ اسیرانِ جنگ کو آپس میں بانٹ کر ملکیت بنالیں اور ان کو استعمال کرنا شروع کریں یا بھیڑ بکریوں کی طرح دست بدست بیچنے لگیں، اور قیامت تک جب تک ان کے مالک ان کو آزاد نہ کریں وہ نسلاً بعد نسل اور بطنا بعد بطن غلام اور ہر قسم کے انسانی حقوق سے محروم رکھےجائیں نہ ایک پیسے کے مالک ہو سکیں نہ ایک جبہ کے۔ اور خواہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو جائیں، اُن کو انسانیت کا کوئی حق کبھی نہ مل سکے۔
کیا یہ قرآن کی تعلیم ہے؟ کیا اس کو قرآن کی آیت یا کسی لفظ یا کسی حرف سے آپ ثابت کر سکتے ہیں؟ پھر میرے او پر اعتراض کیوں ہے؟ میں نے قرآن کی تعلیمات لکھی ہیں۔
" صحابہ کے عہد میں بہت سے اسیرانِ جنگ کو ممالیک کی حیثیت سےرکھا گیا ہے۔ خود اہل بیت رسول کے گھروں میں جنگ کے پکڑےہوئے غلام اور مفتوح ممالک سے آئی ہوئی لونڈیاں موجود تھیں“۔
آپ کےنزدیک صحابہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کا ہر فعل قرآنی تعلیم ہےمگر میرےنزدیک اُن کا وہی فعل دینی ہےجس کی سند قرآن سے مل سکے۔ ہاں اگر آپ تاریخی حدود میں آکر بحث کریں تو میں کافی اور شافی جواب دےسکتا ہوں کہ کن اسباب اور حالات کی وجہ سےصحابہ اور اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین مملوک بنانے پر مجبور ہوئےلیکن ان کے اس عمل کو جو ایک خاص ماحول میں تھا بلا کسی دلیل کےقرآنی تعلیم کہہ دینا جائز نہیں سمجھتا۔ قرآن ہر مسلمان کےگھر میں ہے۔ دیکھیے اور پھر دیکھیے ۔ اگر کوئی دلیل اس خلاف فطرت غلامی کی مل سکے تو پیش کیجیے۔
"میں نے لکھا تھا کہ عرب میں چونکہ غلامی رائج تھی اور لوگوں کے پاس مملوک موجود تھے ۔ قرآن نے انھی کو غلامی میں رہنے دیا اور ان کی آزادی کے لیے بھی بہت سی راہیں نکال دیں۔ اور آئیندہ کے لیے راستہ ہی بند کر دیا۔ اس پر آپ لکھتے ہیں :-
" ایسی مصلحت شناسی کو خدا کی طرف منسوب کرنا در اصل خدا کی طرف کمزوری کو منسوب کرنا ہے۔ جس خدا نے شراب کو حرام کر دیا تھا اور اس معاملے میں بندوں کی ذرا پروانہ کی، جس نے زنا کو حرام کر دیا اور اس کی ذرا پروا نہ کی کہ عرب اور دوسرے ممالک میں اس کا کس قدر رواج تھا،اس کو کون سا امر غلامی کی ہر صورت کو قطعاً حرام کر دینے سے روک سکتا تھا۔"
لیکن آپ نے یہ خیال نہ کیا کہ شراب خوری زنا، قمار بازی وغیره شخصی اخلاقی جرائم ہیں جن کو فور روک ہی دینا چاہیے تھا۔ بخلاف اس کے ممالیک اہل عرب کی معیشت میں داخل ہو چکے تھے۔ سینکڑوں گھرانے اور قبیلے اُن کی کمائی پر گزارہ کرتےتھے۔اُن کو فوراً آزادی کا حکم دینےسےبہت سےقبائل کی اقتصادی حالت خراب ہونےاور ابتری واقع ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ اس لیے اس کا انسداد بتدریج مناسب تھا اور یہی اُس علیم و حکیم نے کیا۔
غلامی کے مسئلے میں قرآن مجید نے یہ بات مسلمانوں کے اختیار پر موقوف رکھی ہےکہ خواہ احسان کے طور پر اسیران جنگ کو رہا کریں خواہ فدیہ(بصورت نقد یابصورت مبادله اسیران)لےکر چھوڑ دیں۔یہ کہیں حکم نہیں دیا ہےکہ اگردوسری صورت نہ ہو تو پہلی صورت پر عمل کرنا لازم ہےاس کی وجہ یہ ہےکہ حق تعالی فطرت انسانی سےواقف ہےاسکو معلوم ہےکہ اگر معاملہ دو چار یا دس پانچ قیدیوں کا ہو تو مسلمان ان کو بطیب خاطر بطور احسان رہا کر سکتےہیں،جیسا کہ انھوں نےعہدِ رسالت اور عہدِ صحابہ میں بارہا کیا ہے۔لیکن اگر سینکڑوں ہزاروں قیدیوں کا معاملہ ہو تو ایسی صورت میں جب کہ مسلمانوں کے بھی سینکڑوں ہزاروں آدمی کفار کے پاس قید ہوں اوران کو غلام بنا کر رکھا گیا ہو مسلمانوں کےلیےیہ بہت مشکل ہوگا کہ وہ کفار کےآدمیوں کو محض احسان کے طور پر رہا کر دیں۔ اس دُوسری صورت میں اسیرانِ جنگ کی رہائی کے لیے صرف یہی ایک راستہ کھلا ہوا ہے کہ یا تو وہ خود زیر نقد ادا کر کے رہا ہوں یا ان کی قومی حکومت سے اسیران جنگ کا مبادلہ ہو ۔ اب اگر اسیران جنگ زر نقد ادا نہ کر سکتےہوں اور حکومت سے مبادلہ کا معاملہ طےنہ ہو سکےاور دشمن کےملک میں مسلمان قیدیوں کی حیثیت مملوکوں کی سی ہو، جیسی کہ فی الواقع ہزار برس تک بلکہ اس سے بھی زیادہ زمانے تک رہی ہے تو کیا وجہ ہے کہ اُسی طرح مسلمانوں کو بھی حق نہ ہو کہ وہ کفار کے قیدیوں کو غلام بنا کر رکھیں؟ آپ اس مسئلہ پر آج کل کے حالات کی روشنی میں غور فرما رہے ہیں جب کہ غیر مسلم قوموں میں اسیران جنگ کو فلام بنانےکی رسم موقوف ہو چکی ہےمبادلۂ اسیران کا طریقہ عام طور پر دنیا میں رائج ہو چکا ہےاور وہ حالات باقی نہیں رہے جن میں اسیران جنگ کو غلام بنا کر رکھنےپر مسلمان مجبور ہوتےتھے۔ اس وجہ سے آپ کو غلامی کےاسلامی قانون کا جواز تسلیم کرنےمیں تامل ہو رہا ہےلیکن اگر آپ اُن حالات پر نظر رکھیں جواب سے ڈیڑھ سو برس پہلےتک دنیا میں رائج رہےہیں، تو آپ کو معلوم ہو جائےگا کہ اسلامی قانون میں غلامی کے لیے جو گنجائش رکھی گئی ہے وہ بے جانہیں ہے۔ یہ دراصل قرآن مجید کا کمال حکمت ہے کہ اُس نے غلامی کے مسئلہ میں ایسا حکم دیا جس میں وقت کے حالات کی رعایت بھی ملحوظ رکھی گئی تھی اور آیندہ کے لیے ایک اصلاحی قانون بھی بنا دیا گیا تھا تا کہ جب حالات بدل جائیں تو آپ سے آپ نیا قانون نافذ ہو جائے ۔
آپ نے غلامی کےمسئلہ پر جو اظہار خیال فرمایا ہے اس میں ایک طرف آپ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی رُو سے غلامی نا جائز ہے اور دوسری طرف آپ یہ بھی مانتےہیں کہ صحابہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم اسیران جنگ کو غلام بناتے رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ اور اہل بیت کا فعل قرآن کے خلاف اور نا جائز تھا۔ آپ تاریخی حدود میں جا کر اور اسباب و حالات کی مجبوریوں پر بحث فرما کر خواہ کیسا ہی کافی وشافی جواب عطا فرمائیں، مگر خود آپ کے اپنے مقدمات سے جو منطقی نتیجہ نکلتا ہے اس پر آپ کسی طرح پر وہ نہیں ڈال سکتے ۔ آپ کو نہ صرف یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ خلفائے راشدین اور اصحاب رسول اور اہل بیت رسول علیہ الرحمہ کا فعل قرآن مجید کے خلاف اور ناجائز تھا، بلکہ آپ کو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ معاذ اللہ قرآن مجید نے قبل از وقت ایک ایسا غیر حکیمانہ قانون بنا دیا تھا جس میں وقت کے حالات کی کوئی رعایت ملحوظ نہ رکھی گئی تھی، جس پر ۱۲ سو برس تک عمل کرنا دشوار رہا اور جس پر وہ لوگ بھی عمل درآمد نہ کر سکے جو خاص سرکار رسالت مآب کے تربیت یافتہ تھے اور جنھوں نے اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیم کے سانچے میں ڈھالنے کی وہ انتہائی کوشش کی تھی جو کسی انسان کے امکان میں ہے۔
یہ محض منطقی قیاس ہی نہیں ہے بلکہ اگر غور کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آیت فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَامَّا فِدَاءً کےجو معنی آپ بیان فرمارہےہیں اگروہی اسلام کا قانون قرار پائےتو بعض حالات میں وہ مسلمانوں کےلیےسخت نقصان دہ اور قطعاً نا قابل عمل ہو سکتا ہے۔ اس قانون پر عمل درآمد کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اگر کسی وقت کفار زرند یہ ادا نہ کریں اور اسیرانِ جنگ کا مبادلہ بھی قبول نہ کریں تو مسلمان بہر صورت اُن کے قیدیوں کو رہا کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر مسلمانوں کا قانون یہی ہوتا تو کوئی کا فرقوم اتنی احمق نہ تھی کہ زیر فدیہ ادا کرتی یا مسلمانوں کے قیدیوں کو رہا کر دیتی ۔ اس صورت میں لاکھوں مسلمان کفار کے ہاتھ قید ہوتے اور بھی رہا نہ ہو سکتے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غلامی کی مصیبت میں گرفتار رہتے اور اس کے مقابلےمیں کافروں کے آدمی ہر لڑائی کے بعد آزاد ہو جایا کرتے ۔ آپ ہی فرمائیے کیا ایسا قانون منصفانہ کہا جا سکتا ہے؟ اور کیا کسی زمانے میں اس پر انسان عمل کرسکتے ہیں؟
بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ اسیران جنگ کو یا تو احسا نا رہا کردیا جائے یا فدیه بشکل زرنقہ یا شکل مبادله اسیران جنگ) لےکر۔ لیکن اگر ایسی صورت پیدا ہو جائےکہ احسانا چھوڑ نا خلاف مصلحت ہو اور فدیہ ادا کرنے پر دشمن تیار نہ ہوں تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟صاحب تعلیمات نےلکھا ہےکہ ایسی صورت میں وہ شاہی قیدی ہوں گےاور ان سےایسا ہی سلوک کیا جائےگا لیکن آپ نےفرمایا ہےکہ ایسی شکل میں وہ غلام بنا۔لیں جائیں گے۔ صاحب تعلیمات نے آپ کے اس دعوے کی دلیل میں قرآن کریم سے ثبوت مانگا تھا، مگر آپ نے اپنے جواب میں اسطرف توجہ منعطف نہیں فرمائی اور قرآن کر سےاسیران جنگ کو غلام بنانےکا جواز پیش نہیں کیا۔ البته دو دلیلیں پیش کی ہیں: اول کہ جب دشمن مسلمان اسیران جنگ کوغلام بنا کر رکھیں تومسلمان اُنکے قیدیوں کو غلام کیوں نہ بنائیں۔ بات تو ہےیہ نبی لگتی ہوئی۔لیکن اس کا کیا علاج کہ قرآن کریم مسلمانوں کو اس سطح سے بہت بلند لے جانا چاہتا ہے کہ اگر دشمن تمھارے ساتھ نازیبا سلوک کریں تو تم بھی ایسا نا شائستہ سلوک ان سےکرو۔مسلمانوں کو تو یہ بھی اجازت نہیں دی گئی کہ مشرکین کی مٹی کی مورتیوں کو بھی گالی دیں۔آپ خود فرماتےہیں کہ ان غلاموں سےانتہائی رافت و رحمت کے سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ بات از خود آپ کے قائم کردہ اصول کے خلاف ہے۔کفار تو آپ کے قیدیوں سے انتہائی بد سلوکی کا برتاؤ کریں اور آپ انھیں اپنی سوسائٹی کےبہترین افراد میں جگہ دیں؟ پھر اگر آپ کا اصول مان لیا جائےتو کیا آپ اس کی بھی اجازت دیں گےکہ دشمن اگر مسلمان قیدی عورتوں سے کوئی گستاخی کریں تو کیا اس کے بدلے میں مسلمان بھی اُن کی قیدی عورتوں سے ایسا ہی سلوک کریں؟ اسلام کےاصول تو بالکل اپنے ہیں، اور یہ انھی کے ماتحت حکم دے گا دنیا خواہ کچھ کرے۔
دوسری دلیل پھر اصحاب رسول اور اہل بیت کےطرز عمل کی ہےمیرےلیےتو یہ کافی ہو سکتی ہے۔ لیکن معترض اگر کہیں کہ آپ تو وعدہ کر چکے ہیں کہ قرآن سے باہر نہیں جاؤں گا۔ پھر اسی سے ثبوت کیوں نہیں دیا جاتا تو کیا حق بجانب نہیں ہوگا۔
آپ نےفرمایا ہےکہ احساناً قیدیوں کو چھوڑ دینےمیں مسلمانوں کو بہت نقصان رہتا ہےکہ اس صورت میں کوئی قوم اتنی احمق نہ تھی کہ زرفدیہ ادا کرتی۔لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ بطور احسان چھوڑ دینے میں جو فائدے حاصل ہوئے زرفدیہ کے درہم و دیناران کا کم ہی مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس سے اسلام کے متعلق لوگوں کی ذہنیت بدل گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہزار ہا قیدی بلا فدیہ لیے رہا کر دیے اور ان احسانات کا جواثر ہوا اس کے شاہد زمین و آسمان ہیں۔ پھر سوال تو غلام بنانے اور انھیں فروخت کرنے کا ہے۔ اس کے متعلق فرمائیے کہ قرآن کا کیا حکم ہے؟ اور آج اگر کوئی قوم فدیہ نہ ادا کرے اور مسلمان ان کےاسیران جنگ کو احسانا نہ چھوڑنا چاہیں تو ان سے کیا سلوک کریں ؟ مَا مَلَكَتْ إِيْمَانِكُمْ اور اسیران جنگ کی بحث آج بڑے اہم مسائل میں سے ہے اسے ضرور حل کیجیے۔
(1) یہ مصنف کا اپنا ترجمہ ہے۔ اس میں چھوڑ دو" کا لفظ ان کا اپنا اضافہ ہے۔ آیت میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس کا یہ ترجمہ ہو۔
اس آیت سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسیرانِ جنگ کے حق میں دو ہی صورتیں قرآن نے تجویز کی ہیں۔ یا تو کسی معاوضہ کے بغیر ہی انھیں رہا کیا جائے یا معاوضہ لےکر ۔ لیکن رہا کرنے کا حکم قطعی ہے اور غلام بنا کر رکھنا کسی حال میں جائز نہیں ہے۔
آیت میں منا اور فِدَاء دونوں کے ساتھ لفظ اما ہے جو یا تو تخییر کے معنی میں ہےیا اباحت کے معنی میں ۔ یعنی اس کامطلب یا تو یہ ہےکہ تمھیں اختیار ہےچاہےاحسان کرو چاہے فدیہ لےلو یا یہ مطلب ہےکہ تمھارے لیے احسان کرنا بھی جائز ہے اور فدیہ لینا بھی۔ اس سے کسی طرح بھی یہ مطلب نہیں نکلتا کہ تم ان دونوں صورتوں میں سےکوئی ایک صورت اختیار کرنےپرمجبور ہو۔حکم قطعی تو صرف اس حد تک تھا فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرُبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا الْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاق۔یعنی جب کافروں سےتمھاری مڈبھیٹر ہو تو ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مار چکو اور ان میں مقابلے کی طاقت باقی نہ رہے تو بقیۃ السیف لوگوں کو باندھ لو اس حکم کے بعد اب مسلمانوں کو اختیار دیا جاتا ہے یا ان کو مجاز کیا جاتا ہے کہ چاہے قیدیوں کے ساتھ احسان کریں، چاہے فدیہ لے لیں۔
اس کے بعد لفظ منَّ قابل غور ہے ۔ مسن کے معنی صرف احسان کے ہیں ۔ ”احسان رکھ کر چھوڑ دو مترجم کا اپنا اضافہ ہے۔ اگر چہ احسان کی ایک صورت یہ بھی ہےکہ قیدیوں کو رہا کر دیا جائے،لیکن ایک صورت یہ بھی ہے کہ قید کی حالت میں اُن کےساتھ احسان کا برتاؤ کیا جائے۔اس صورت کی نفی اور صرف رہائی میں مفہوم احسان کا انحصار کہاں سےنکلتا ہے؟ اگر قرآن میں کوئی لفظ یا اشارہ ایسا ہے جس سے یہ مفہوم نکلتا ہو کہ احسان سے مراد صرف رہا کر دیتا ہے تو براہ کرم اس کو بیان کیا جائے۔
اب تلاش کیجیے کہ قرآن میں کون سی آیت ایسی ہے جس میں یہ حکم ہو کہ قیدیوں کو بلا معاوضہ رہا کرنا یا فدیہ لےکر چھوڑنےکےسوا کوئی تیسری صورت جائز نہیں ہے اور ان کو غلام بنا کر رکھنا حرام ہے؟ یقیناً ایسی کوئی آیت پیش نہیں کر سکتےبرعکس اس کے لونڈیوں اور غلاموں کے متعلق بکثرت احکام آپ کو قرآن میں ملتے ہیں جو مذکورہ بالا آیت کے بعد نازل ہوئے ہیں۔ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کے احکام کے متعلق تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت تک رہائی کا حکم قطعی نہیں آیا تھا اس لیے لونڈی غلاموں کو رکھنا جائز تھا اور ان کے متعلق احکام بھی آئے تھے ۔ لیکن بعد کی آیات کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟ اس آیت کا جو مفہوم آپ لے رہے ہیں اس کی رُو سے تو یہ آیت نازل ہوتے ہی تمام لونڈی غلام رہا ہو جانے چاہیے تھے ۔ مگر بعد کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ رہا نہیں ہوئے اور ان کے متعلق اُسی طرح احکام آتے رہے جس طرح پہلے آتے تھے۔
یہ آیت سورہ محمد کی ہے جس کا کچھ حصہ مکہ میں اُترا ہے اور کچھ حصہ مدینہ طیبہ کےابتدائی زمانے میں۔ ابن عباس نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا کا مطلب یہ ہے کہ جب جنگ بدر کے روز کفار سے تمھارا مقابلہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ آیت جنگ بدر سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس کی تائید قرآن مجید کی یہ آیت کرتی ہے: مَا كَانَ لِنَبِي أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُنخِنَ فِي الْأَرْضِ (الى آخر الآية - انفال: ۶۷) یہ آیت جنگ بدر کے قیدیوں کے حق میں نازل ہوئی ہے اور اس میں جو عتاب نازل ہوا ہے وہ صاف اشارہ کرتا ہے کہ سورۂ محمد والی آیت میں حمد وثاق سے پہلے الحانُ في الأرضِ کا جو حکم دیا گیا تھا اُس پر پورا پورا عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے عتاب فرمایا گیا۔ پس متحقق ہو گیا کہ سورہ محمد کی یہ آیت سے میں جنگ بدر سے پہلے نازل ہوئی تھی۔
اے نبی ہم نے تمھارے لیے حلال کی ہیں تمھاری وہ بیویاں جن کے تم نے مہر ادا کیے ہیں اور وہ لونڈیاں جو خدا نے تم کو جنگ میں بطور غنیمت دلوائی ہیں۔
اس آیت میں مَا مَلَكَتْ يَمِینُکَ سے مراد وہ لونڈیاں ہیں، اور لونڈیوں کی تعریف مِمَّا افَاءَ اللهُ عَلَيْكَ ( جو اللہ تعالیٰ نے تم کو لڑائی میں بطور غنیمت دلوائی ہوں) سے کی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ بدر سے پہلے اللہ تعالٰی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی کےعطا نہیں کیا تھا۔ لہذا بدر کے بعد لڑائیوں میں جو عورتیں مسلمانوں کے پاس قید ہو کر آئیں اتھی کو لونڈیاں بنا کر رکھنا قرآن مجید نے جائز قرار دیا تھا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے:۔
اس کے بعد تمھارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ یہ کہ اُن کو بدل کر دوسری بیبیاں کر لو اگر چہ تم کو ان کا حسن پسند آئے مگر لونڈیاں حلال ہیں۔
یہ آیت اس وقت نازل ہوئی ہے جب ازواج مطہرات کی تعداد گیارہ تک پہنچ چکی تھی۔ حضور کا آخری نکاح ٧ھ کے خاتمہ پر حضرت میمونہ سے ہوا ہے۔ لہذا اس آیت کے نزول کا زمانہ ٨ھ سمجھنا چاہیے۔ یہاں پھر لونڈیوں کو حلال کرنے کا حکم موجود ہے۔
٨ھ کے اواخر میں غزوہ اوطاس ہوا۔ بہت سی عورتیں پکڑی ہوئی آئیں۔ اُن میں جو شادی شدہ عورتیں تھیں ان کے معاملے میں مسلمان مترو د ہوئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :-
تمھارے لیے بیاہی ہوئی عورتیں حرام ہیں، مگر وہ عورتیں اس سےمستقلی ہیں جو جنگ میں گرفتار ہو کر تمھارے ہاتھ آئیں۔
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتْمَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمُ إِلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ (النساء:۳)
اور اگر تم کو خوف ہو کہ قتیموں کے ساتھ انصاف نہ کرسکو گے تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان سے نکاح کر لو دو دو تین تین چار چار۔ اور اگر تم کو خوف ہو کہ عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی نکاح کرو یا جو لونڈی تمھارے قبضہ میں ہو۔
یہ حکم بہر حال جنگ اُحد کے بعد کا ہے۔ ان مختلف احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً سے قرآن مجید کا مقصد وہ نہ تھا جو فاضل مصنف نے سمجھا ہے ورنہ اس آیت کے نزول کے بعد لونڈیوں کا رکھنا سرے سے ممنوع ہو جاتا نہ کہ اس کی اجازت دی جاتی اور ان کے متعلق احکام دیے جاتے۔
اس سلسلہ میں صاحب موصوف نے ایک لطیف نکتہ بھی بیان فرمایا ہے وہ یہ کہ قرآن میں جہاں جہاں مملوکوں کا ذکر ہے بصیغہ ماضی یعنی مَا مَلَكَتْ إِيْمَانُكُمُ ہے ۔ بصيغة مستقبل کہیں نہیں ہے۔ جس سےظاہر ہوتا ہےکہ جن غلاموں کے وہ مالک ہو چکےتھےصرف انھی کی ملکیت قائم رکھی گئی تھی۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن میں جو احکام بصیغہ ماضی ارشاد ہوئےہیں وہ مستقبل کے لیے نہیں ہیں۔مثلا سوتیلی بیٹیاں اپنے سوتیلے باپوں کے لیے جس آیت میں حرام کی گئی ہیں اُس کے الفاظ یہ ہیں: وَرَبَاتِكُمُ الَّتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِّسَاءِ كُمُ الَّتِي دَخَلْتُمُ بِهِنَّ - (النساء: ۲۳) یہاں دَخَلْتُمُ صیغہ ماضی ہےلہذا مصنف کے قاعدے کی رُو سے صرف اُن عورتوں کی بیٹیاں حرام ہوئیں جو نزول آیت سے پہلےمسلمانوں کےنکاح میں آچکی تھیں، آئندہ کےلیےیہ حکم نہ ہوگا۔ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَيتُم مِنْ عَيْنِي فَإِنَّ لِلَّهِ حُمْسَة- (انفال (۴۱) اس آیت میں بھی شمس کا حکم صرف ماضی کےلیے ہوگا، بعد کے غنائم میں شمس نہ ہوگا ۔ بايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِقِي لِلصَّلَوةِ مِنْ يُوْمَ الجمعة (سورہ جمعہ: ۹) میں جمعہ کی نماز کا حکم بھی صرف ان لوگوں کے لیے قرار پائے گا جو اُس وقت ایمان لا چکے تھے۔ بعد کے مسلمان اس حکم سے بچ گئے ۔ غرض جناب مولانا نے یہ ایسا نکتہ نکالا ہے جو آج تک کسی کو نہ سُوجھا تھا۔ ورنہ اب تک مسلمان ان بہت سےاحکام کی بندشوں سے آزاد ہو چکے ہوتے جو بصیغہ ماضی دیے گئے تھے اور جن میں اللہ میاں نے (نعوذ باللہ شاید بے احتیاطی کی بنا پر مستقبل کا صیغہ استعمال نہ کیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ اس طرح تو کافروں اور آیات الہی کو جھٹلانے والوں کے لیے بھی آتش دوزخ سےرہائی مل جاتی کیونکہ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِايْتِنَا أُولئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ - (بقره:٣٩) میں کفروا اور کذبوا دونوں ماضی کے صیغے ہیں ۔ لہذا بعد کے تمام کفار و مکذبین اس وعید سے بچ گئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی نکتہ آفرینی معنوی تحریف کی حد تک پہنچتی ہے۔۔قرآن مجید کے معنی میں ایسی تحریف کرتے ہوئے ایک مسلمان کا ایمان لرز جانا چاہیے۔
اب ہم کو دیکھنا چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فَإِما مَا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً اور مَا مَلَكَتْ إِیمَانُكُمْ کا کیا مفہوم سمجھا اور اس پر کس طرح عمل کیا۔
بنی قریظہ کے حق میں حضرت سعد بن معاذ نے فیصلہ کیا کہ ان کے بالغ مر وقتل کیےجائیں اور عورتوں اور بچوں کو لونڈی غلام بنا لیا جائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فیصلہ کو نافذ فرمایا۔
خیبر کی جنگ میں بہت سی عورتیں گرفتار ہوئیں اور وہ مسلمانوں میں تقسیم کی گئیں۔
غزوہ حنین میں ٦ ہزار عورتیں اور بچےقید ہوئے۔بعد میں ہوازن کا وفد حاضر ہوا اور اُس نےاُن کی رہائی کا مطالبہ کیا ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ جو میرے اور بنی عبدالمطلب کےقبضہ میں ہے ان کو میں احسان کے طور پر رہا کرتا ہوں ۔ مگر دوسروں کے معاملے میں حکم دینے کا مجھے حق نہیں۔ صرف سفارش کر سکتا ہوں ۔ چنانچہ حضور کی سفارش پر انصار اور مہاجرین نے اپنے اپنے حصے کے لونڈی غلاموں کو چھوڑ دیا۔ مگر بنوتمیم اور بنوفرازہ اور بنو سلیم کے نمائندوں نے انکار کیا۔ آخر کار حضور نے اُن سے وعدہ کیا کہ بعد کی لڑائیوں میں جولونڈی غلام ہاتھ آئیں گے ان میں ہم تم کو ایک کے بدلے چھ چھ دیں گے ۔ تب وہ ہوازن کے قیدیوں کو چھوڑنے پر راضی ہوئے۔
اس میں شک نہیں کہ حضور نےبعض مواقع پر قیدیوں کو احسان کےساتھ رہا بھی کیا ہےکبھی قیدیوں کا مبادلہ بھی کیا ہے اور کبھی زرفدیہ لےکر چھوڑ بھی دیا ہے۔ لیکن اس سےانکار نہیں کیا جا سکتا کہ آپ کےعہد میں بہت سے قیدی لونڈی غلام بنا کر رکھےگئےہیں اور ان کو مسلمانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کیا قرآن مجید کے احکام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سمجھنے والا اور ان کے مطابق عمل کرنے والا کوئی اور ہوسکتا ہے؟ اگر کوئی شخص اپنےآپ کو ایسا سمجھتا ہےتو سمجھنےدیجیئےاس کا معاملہ ہم خدا پر چھوڑتےہیں،لیک مسلمانوں کا عقیدہ یہ نہیں ہے اور وہ اسی قانون کو برحق رکھتے ہیں جو اللہ کے رسول نے اپنے قول و عمل سے بنا دیا ہے۔
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |