(١) کیا یہ امر واقعہ ہے کہ امام اعظم یعنی امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ اجتہاد تھا کہ نماز عجمی زبان میں پڑھنا جائز ہے؟ اگر ایسا تھا تو کیا علماء دین امام صاحب کے اس اجتہاد پر از سر نو غور فرما کر نماز کے کسی عجمی زبان میں پڑھے جانے کی بابت جواز یا عدم جواز کا فتویٰ صادر فرمائیں گے؟
(۲) آیت کریمہ "لا تقربوا الصلوة وانتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون (النساء: ۴۳) میں بحالت شکر نماز پڑھنے کی نہی فرمائی گئی ہے اور اس کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ ایسی حالت میں انسان جو کچھ کہتا ہے اس کو سمجھتا نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ نماز کی صحت کے لیے ایک ضروری شرط یہ ہے کہ نماز میں جو کچھ پڑھا جائے اس کو پڑھنے والا سمجھے بھی ۔ اس لیے اگر کوئی شخص اپنی مادری زبان میں فریضہ نماز کو ادا کرتا ہے اور جو کچھ وہ اس نماز میں پڑھتا ہے اس کے ایک ایک لفظ کو سمجھتا ہے تو کون سی وجہ ہے کہ اس کی ایسی نماز جائز اور مقبول نہ ہو؟
١- یہ معلوم کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ یہ مستفتی وہی خان بہادر تھے جن سے ”حضرت یوسف اور غیر اسلامی حکومت کی رکنیت کے مسئلے پر ہماری بحث پچھلے صفحات میں گزر چکی ہے۔
(۳) آیا علماء کرام کے نزدیک عیدین اور جمعہ کا خطبہ مخاطبین کی مادری زبان میں دیا جانا جائز ہےیا نہیں؟ اگر نا جائز ہے تو کیوں؟ کہا جائے گا کہ عیدین اور جمعہ کا خطبہ عربی کے سوا کسی دوسری زبان میں دیا جانا سنت نبوی کے خلاف ہے اس لیے ناجائز ہے۔ لیکن سنت نبوی یہ تھی کہ ایسےخطبےکے دوران میں جو کچھ حضور پر نور کی زبان فیض ترجمان سے نکلے اس کو سامعین سنیں اور سمجھیں اور اس میں جو کچھ اوامر و نواہی ہوں ان پرکار بند ہونےکی کوشش کریں اور جو کچھ حکم اور نصائح ہوں ان سےسبق آموز ہوں۔وہ صورت جس میں سامعین میں سے ۹۹ فی صدی خطبہ کا ایک لفظ بھی نہ سمجھ سکتےہوں وہ ان اوامر و نواہی سے جو خطبہ میں بیان کیے جائیں کیونکر کسی قسم کا استفادہ حاصل کر سکتے ہیں ۔ اور ایسا خطبہ کیونکر سنت نبوی کے مطابق قرار دیا جا سکتا ہے؟
عیدین اور جمعہ کے خطبہ کو عربی زبان تک محدود رکھنے سے جو مواقع شارع اسلام نے اوامر و نواہی شرعیہ کی اشاعت کےکافتہ المسلمین کےلیےپیدا فرمائےہیں ان کا سد باب ہوتا ہےیا نہیں اور خطیب کا خطبہ ایسی صورت میں ایک فعل عبث ہو جاتا ہے یا نہیں جبکہ اس کےمفہوم کو سامعین میں سے کوئی یا اکثر نہیں سمجھتے۔
یہ میں جانتا ہوں کہ بعض لوگ جمعہ اور عیدین کے خطبوں میں علمی کی اُردو کی نظمیں پڑھتے ہیں۔ مگر میرا یہ خیال ہے کہ ان کا یہ عمل علماء کے مفتی بہ طریقے کے خلاف ہے۔ اس لیے اس کی ضرورت ہے کہ علماء اس مسئلہ کے متعلق خاص طور پر توجہ فرما کر اپنا فتویٰ عوام کےفائدے کے لیے صادر فرمائیں۔
یہ در حقیقت ایک استفتاء ہے جس کے اصل مخاطب علماء کرام ہیں ۔راقم سطور کو نہ منصب افتاد حاصل ہے نہ وہ اس کا اہل ہےکہ مسائلِ شرعیہ میں فتویٰ دینےکی ذمہ داری اُٹھا سکے۔مگر سائل محترم نے حسن ظن سے کام لےکر اس سےبھی خواہش کی ہےکہ اپنی تحقیق بیان کرےلهذا مختصر طور پر مندرجہ بالا سوالات کے متعلق احکام شریعت کی توضیح کی جاتی ہے۔اس توضیح کی حیثیت ہرگز کسی فتوے کی نہیں ہے۔ بلکہ یہ صرف اس غرض کےلیے ہے کہ حضرات علماء ان معروضات پر غور فرمائیں اور اگر مینی بر صواب پائیں تو قبول کرلیں۔
١- یہ امر مسلم ہےکہ شریعت حقہ کی بنیاد حکمت اور مصلحت پر قائم ہے۔شارع حکیم نےکوئی حکم بھی بے معنی اور بے مقصد نہیں دیا ہے۔ نہ کسی حکم کو بجا لانے کا طریقہ مقرر کرنے میں کہیں حکمت و مصلحت کو نظر انداز کیا ہے۔ جب یہ مسلم ہے تو لامحالہ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ شریعت کا صحیح اتباع تفقہ کے بغیر نہیں ہو سکتا۔جو شخص یہ نہیں جانتا کہ کسی کام کا حکم دینے یا کسی فعل سے منع کرنے میں شارع کے پیش نظر کون سا مقصد یا کون سی مصلحت ہے اور جو شخص یہ نہیں سمجھتا کہ کسی حکم کی بجا آوری کے لیے شارع نےجو عملی صورت مقرر کی ہے۔اس خاص صورت میں کیا حکمت مد نظر ہےاور اصل مقصد کی تحصیل میں کون کون سا جزئیہ کس کس طرح مددکار ہوتا ہےاس کےلیےزندگی کےمختلف احوال میں شریعت کا صحیح اتباع کرنا بہت مشکل بلکہ تقریباً محال ہو گا۔ اُس کے پاس شریعت کا صرف جسم ہو گا اس کی روح نہ ہوگی ۔ وہ محض استخواں کا مالک ہوگا، مغز کو نہ پاسکےگا۔ بعض حالات میں نہیں بلکہ اکثر حالات میں وہ اس طرح عمل کرےگا کہ بظاہر تو وہ شارع کےاحکام کی پیروی ہوگی،مگر در حقیقت شارع کےاصلی مقاصد فوت ہو جائیں گے کیونکہ اس کی نگاہ احکام کی مجرد عملی صورتوں اور ان کے جزئیات پر ہوگی۔ ان احکام میں جو مصالح اور مقاصد پوشیدہ ہیں وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہی رہیں گے پھر کس طرح وہ مقاصد و مصالح کےلحاظ سے جزئیات میں تغییر و تبدل کر سکے گا۔
یہ حقیقت یقیناً نا قابل انکار ہےکہ شارع نے غایت درجہ کی حکمت اور کمال درجہ کےعلم سےکام لےکر اپنے احکام کی بجا آوری کےلیےزیادہ تر ایسی ہی صورتیں تجویز کی ہیں جو تمام زمانوں اور تمام مقامات اور تمام حالات میں اس کے مقاصد کو پورا کرتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بکثرت جزئیات ایسے بھی ہیں جن میں تغیر حالات کے لحاظ سے احکام میں تغیر ہونا ضروری ہے ۔ جو حالات عہدِ رسالت اور عہد صحابہ میں عرب اور دنیائے اسلام کےتھےلازم نہیں کہ بعینہ وہی حالات ہر زمانے اور ہر ملک کے ہوں۔لہذا احکام اسلامی پر عمل کرنے کی جو صورتیں اُن حالات میں اختیار کی گئی تھیں، ان کو ہو بہو تمام زمانوں اور تمام حالات میں قائم رکھنا اور مصالح و حکم کےلحاظ سے ان کےجزئیات میں کسی قسم کا رد و بدل نہ کرنا ایک طرح کی رسم پرستی ہےجس کو روح اسلامی سے کوئی علاقہ نہیں۔ ایک موٹی سی مثال لے لیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے سورج کی حرکت کے لحاظ سے اوقات مقرر فرمائے ہیں۔ اس لیے کہ عرب اور ربع مسکوں کے بیشتر حصوں کےلیے تعین اوقات کی ہی صورت مناسب ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص قطب شمالی کے قریب رہنےوالوں کے لیے بھی نمازوں کے اوقات معین کرنےمیں وہی سورج کے طلوع و غروب اور سایہ کے اُتار چڑھاؤ کا لحاظ کرے تو بظاہر یہ شارع کے منصوص احکام کی حرف بحرف پیروی ہو گی مگر درحقیقت اس سےشارع کا اصل مقصد فوت ہو جائےگا اور اس کا شمار خلاف ورزی احکام میں ہوگا۔ کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ ترک صلوٰۃ احکام میں اور اسقاط فرض ہے۔ پس معلوم ہوا کہ جزئیات میں دلالتہ النص اور اشارۃ النص تو در کنار صراحتہ النص کی پیروی بھی تفقہ کے بغیر درست نہیں ہوتی ۔ اور تفقہ کا اقتضا یہ ہے کہ انسان ہر مسئلہ میں شارع کے مقاصد و مصالح پر نظر رکھے اور انھی کے لحاظ سے جزئیات میں تغیر احوال کے ساتھ ایسا تغیر کرتا رہے جو شارع کے اصول تشریح پر مبنی اور اس کے طرز عمل سے اقرب ہو۔
٢ - مگر تفقہ کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انسان محض اپنی عقل و فہم کی پیروی کرنے لگے اور اس کے پیچھے پیچھے جدھر چاہے نکل جائے خواہ وہ حدودِ شریعت سے متجاوز ہی کیوں نہ ہو۔ اس قسم کی عقل وہ چیز نہیں ہے جس کو اسلام کی اصطلاح میں ”حق“ کہتے ہیں بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کو قرآن میں اتباع ہوئی کہا گیا ہے۔ ہوئی پرستی کی لازمی خصوصیت افراط پسندی ہے اور اسلامی تفقہ کی سب سے بڑی خصوصیت اعتدال اور توازن ہے۔ ہوئی پرست ہر معاملہ میں کسی ایک مصلحت یا ایک فائدے کا ایسا شیدائی بن جاتا ہے کہ اس کی خاطر دوسرےمصالح اور فوائد سے آنکھیں بند کر لیتا ہےاور کسی مصلحت کو اگر نظر انداز کرتا بھی ہے تو صرف اس صورت میں جب کہ کوئی عظیم تر مصلحت اس چھوٹی مصلحت کی قربانی چاہتی ہو۔ پھر مصلحت اور مضرت کے معیار میں بھی اسلامی تفقہ اور ہوا پرستی کے درمیان اختلاف ہے۔ ہوا پرست اسلام کے معیار پر نہیں بلکہ اپنے رجحان طبع کےمعیار پر مصلحت و مضرات کا تعین کرتا اور مصالح میں سے بعض کو اہم اور بعض کو غیر اہم قرار دیتا ہے۔ بخلاف اس کے اسلامی تفقہ کا مقتضا یہ ہے کہ آپ کی نظر اسلام کی نظر ہو ۔ آپ اس چیز کو مصلحت سمجھیں جسےاسلام مصلحت سمجھتا ہے۔ اور اس چیز کو مضرت سمجھیں جسے اسلام مضرت سمجھتا ہے۔اور مختلف مصالح اور مضرات کےدرجے مقرر کرنے میں وہی معیار مد نظر رکھیں جو اسلام کے پیش نظر ہےپس کسی کو یہ عالم ہی نہ ہونی چاہیےکہ مجرد عقل پرستی کا نام تفقہ ہےاور ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی عقل کی پیروی میں شریعت کے جس حکم کو چاہے بدل دے۔ ہرگز نہیں اور یقینا نہیں ۔ اسلامی تفقہ یہ نہیں ہے کہ آپ اپنی نگاہ میں جس چیز کو مصلحت سمجھتے ہیں اس کی خاطر ان بہت سی مصلحتوں کو قربان کر دیں جنھیں شارع نے اپنے احکام میں ملحوظ رکھا ہے۔ یا آپ بزعم خود جس معنرت کو اہم سمجھتے ہیں اس سےبچنےکے لیے ایسی بہت سی مغفرتوں کو قبول کر لیں جن سےشارع آپ کو بچانا چاہتے ہیں، بلکہ اسلامی تلقہ یہ ہےکہ آپ شارع کی تمام مصلحتوں کو سمجھنےکی کوشش کریں اور ان میں سے ایک ایک کو وہی اہمیت دیں جو خود شارع نے دی ہے اور جزئیات میں تغیر و تبدل اس طور پر کریں کہ شارع کے قائم کیے ہوئے توازن میں فرق نہ آنے پائے۔ یاد رکھیے کہ شارع کے تجویز کردہ طرز عمل میں تغیر صرف اسی صورت میں جائز ہو سکتا ہے جب کہ تغییر احوال کی بنا پر اس کی پیروی سے کوئی ایسی مصلحت فوت ہوتی ہو جو آپ کے شخصی رجحان کے لحاظ سے نہیں بلکہ خود شارع کے نقطۂ نظر سے اہم ہو ۔ پھر ایسی صورت میں بھی صرف اس حد تک جزئی تغیر کیا جا سکتا ہے کہ اس اہم تر شرعی مصلحت کی حفاظت کے ساتھ دوسری شرعی مصلحتوں کو نقصان نہ پہنچے یا اگر پہنچے بھی تو وہ ایسی مصلحتیں ہوں جو شارع کی نگاہ میں نسبتا زیادہ اہمیت نہ رکھتی ہوں۔
۴- نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تربیت یافتہ بزرگوں کے عمل سے احکام کے استنباط میں ایک قاعدہ کو محوظ رکھنا نہایت ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ شرعی عمل اور طبیعی یا عادی عمل میں فرق کیا جائے ۔ شرعی عمل سے مراد ایسا عمل ہے جو اس بنا پر اختیار کیا گیا ہو کہ شریعت کا منشا وہی خاص طرز عمل اختیار کرنے سے پورا ہوتا ہے۔ اور طبیعی یا عادی عمل سے وہ طرز عمل مراد ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کےصحابہ نے اپنےشخصی و طبیعی رجحان یا اپنے خاص زمانے اور ملک کے اجتماعی حالات کے اقتضاء سے اختیار کیا تھا۔ یہ دوسری قسم کا طرز عمل متعدد حیثیات سے ہمارے لیےسبق آموز اور موجب رشد و ہدایت ہو سکتا ہے مگر اس سے شرعی احکام کا استنباط درست نہیں ۔ دلیل شرعی صرف پہلی قسم ہی کا طرز عمل ہے۔ بعض معاملات میں ان دونوں کا فرق بالکل نمایاں ہوتا ہے، حتیٰ کہ ہر شخصی سرسری نظر میں اس کو سمجھ سکتا ہے۔مگر بعض امور میں یہ دونوں طرز عمل اس درجہ مخلوط ہوتےہیں کہ ان کےدرمیان فرق کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک قسم کےطرز عمل کو دوسری قسم کے طرز عمل کی حیثیت سے لینے اور اس سے غیر مناسب نتائج اخذ کرنے کی غلطی اکثر پیش آئی ہے اور بڑے بڑوں کو پیش آئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی وقت میں رسول بھی تھے ۔ ایک انسان بھی تھے ایک عرب بھی تھے ۔ ایک خاص زمانے اور خاص اجتماعی ماحول کے رہنے والے بھی تھے۔ آپ کے ہر فعل میں خواہ وہ دینی ہو یا ڈ نیوی' یہ سب حیثیتیں ایک ساتھ موجود تھیں۔ ان مختلف حیثیات کے مخلوط ہونے کی وجہ سے بسا اوقات یہ تمیز کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ کسی فعل میں کون سا حصہ آپ کی حیثیت رسالت سے تعلق رکھتا ہے تا کہ اُسےحجت شرعی بنایا جائے اور کون سا حصہ آپ کی دوسری حیثیات سے متعلق ہے جو محبت شرعی نہیں ہے۔ اس سے زیادہ اختلاط حیثیات صحابہ کرام کے افعال میں ہے۔ہمارے لیے ان کے عمل میں شرعی رہنمائی صرف اس حیثیت سے ہےکہ انھوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سےبلا واسطہ تربیت پائی ہےاور آپ سے احکامِ شریعت کا براہِ راست استفادہ کیا ہے۔ اس حیثیت کے علاوہ ان کی دوسری حیثیات جس قدر بھی ہیں وہ خواہ کتنی ہی اہمیت رکھتی ہوں، بہر حال کسی شرعی ہدایت کی حامل نہیں ۔اب ان کے افعال میں، خصوصاً دینی افعال میں یہ تمیز کرنا بسا اوقات بہت مشکل ہو جاتا ہےکہ کون سی چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی ہدایت سے ماخوذ ہےکون کی ان کی اپنی رائےاور اجتهاد پر مبنی ہے اور کون کی ان کے خاص شخصی اور زمانی و مکانی حالات سے تعلق رکھتی ہے۔ یہاں امتیاز کا ذریعہ ہمارے پاس صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن اور سنت کے وسیع اور غائر مطالعہ سے آدمی کے اندر جو اسلامی بصیرت پیدا ہوتی ہے اس سے وہ شرعی عمل اور طبیعی و عادی عمل کے باریک فرق کو محسوس کر سکتا ہے اور اس کا ذوق اس کو بتا دیتا ہے کہ کون سی چیز طبیعت اسلام سےتعلق رکھتی ہے اور کون سی اس سے غیر متعلق ہے کون سی چیز مصالح شرعیہ کی حامل ہے اور کون سی نہیں، کون سی چیز اسلامی سسٹم کا ایک جز ہےاور کون سی نہیں ۔اس باب میں اختلاف کی بھی کافی گنجائش ہےکیونکہ ایک شخص کا ذوق اور اس کی بصیرت لازماً دوسرے شخص کے ذوق اور بصیرت کے بالکل مطابق نہیں ہو سکتی اگرچہ ماخذ دونوں کا ایک ہی ہو۔لہذا کسی شخص کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ صرف وہی چیز " شرعی" ہےجس کو میری بصیرت "شرعی" کہہ رہی ہےاور دوسرے شخص کی بصیرت جس کو شرعی کہتی ہے وہ قطعاً و یقیناً غلط ہے۔
ان مقدمات کو ذہن نشین کر لینے کے بعد نماز اور خطبہ جمعہ کی زبان کے مسائل پر الگ الگ غور کیجیے۔ اس لیے کہ ان دونوں مسئلوں کی نوعیتیں باہم مختلف ہیں، اگرچہ بظاہر ایک نظر آتی ہیں۔
نماز کی زبان کے متعلق آج کل عام طور پر اسی آیت سےاستدلال کیا جاتا ہےجس کا حوالہ سوال میں دیا گیا ہے، یعنی لا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ (النساء : ۴۳) (نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ تا وقتیکہ تم یہ نہ جانو کہ کیا کہہ رہے ہو )۔لیکن در حقیقت اس آیت سےاستدلال درست نہیں ہےاللہ تعالیٰ نےحتى تَعْلَمُوا فرمایا ہے حَتَّى تَفْقَهُوا يا حَتَّى تَفْهَمُوا نہیں فرمایا ۔ علم اور فقہ وفہم میں جو باریک فرق ہے اس کو محوظ نہ رکھنے کی وجہ سے لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ دورانِ نماز میں ایک ایک لفظ اور ایک ایک فقرے کےمعنی و مفہوم کوسمجھنا اور ہر لفظ کےمعنی کی طرف ملتفت ربنا ضروری ہےاور جب تک یہ فہم اور الفتات حاصل نہ ہو نماز صحیح نہیں ہوتی۔حالانکہ یہ راہتہ غلط ہے۔ اگر ایک عربی نہ جانے والے کی نماز محض اس وجہ سےصحیح نہیں ہو سکتی کہ وہ نماز میں جو کچھ پڑھتا ہےاسےنہیں سمجھتا تو ایک عربی دان کی نماز بھی ایسی حالت میں درست نہ ہونی چاہیے جبکہ وہ مجھ سمجھ کر نہ پڑھ رہا ہو اول سے لے کر آخر تک پوری نماز میں ایک ایک لفظ کے معنی کی طرف ملتفت نہ ہو ۔ ایسی کڑی شرط کے ساتھ تو شاید مشکل ہی سے کوئی شخص روزانہ پانچوں وقت کی نمازیں صحیح ادا کر سکتا ہے۔ زندگی میں انسان پر ہر طرح کے حالات گزرتے ہیں۔ کبھی رنجیدہ ہوتا ہے کبھی متفکر ہوتا ہے کبھی کسی کام میں اس کا ذہن مشغول ہوتا ہے کبھی غیر محسوس طور پر خیالات اور وسوسے اس کے ذہن میں داخل ہو جاتے ہیں اور کافی دیر تک اس کو یہ شعور بھی نہیں ہوتا کہ میرا ذ ہن کہیں بھٹک گیا ہے۔ اگر نماز کے لیے یہ شرط ہو کہ ان سب دماغی و قلبی کیفیات سے بالکل خالی ہو کر انسان پورے شعور اور التفات کے ساتھ کھڑا ہو تو نماز ادا کرنا ہی مشکل ہو جائے گا۔
یہ وہ سختیاں ہیں جو انسان خود اپنی عقل سے اپنے لیے پیدا کر لیتا ہے۔ شارع نےاس پر ایسی سختی نہیں کی کیونکہ وہ اس کی فطری کمزوریوں کو خوب جانتا ہے۔ اُس نےسمجھ اور التفات اور استغراق اور خشوع و خضوع کو نماز کا کمال اور اس کا حسن تو ضرور قرار دیا ہےاور اس کی خواہش یہی ہےکہ انسان کی نماز ایسی ہی کامل اور حسین ہو لیکن اس نے ان چیزوں کو شرط نماز قرار نہیں دیا کہ بغیر ان کے نماز دست ہی نہ ہو۔
اب ذرا آیت کے الفاظ پر پھر غور کیجیے۔ اگر سمجھنا اور معانی کی طرف ملتفت ہونا ہی صحت نماز کے لیے ضروری تھا اور اسی بنا پر حالت سکر میں نماز سے دُور رہنے کا حکم دیا گیا تھا تو پھر شکر ہی میں کون سی خصوصیت تھی؟ یہ بھی کہنا چاہیے کہ جب تم متفکر ہو تو نماز سے دور رہو۔ جب تمھیں رنج یا پریشانی یا کسی اور قسم کی ذہنی مشغولیت لاحق ہو تب بھی نماز کے پاس نہ آؤ۔ جب تمھیں محسوس ہو کہ دوران نماز میں تمھارے خیالات کسی اور طرف بھٹک گئے ہیں تب بھی نماز توڑ دو اور پھر سے شروع کرو ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں سےکوئی قید بھی نہیں لگائی بلکہ صرف حالت شکر میں نماز پڑھنےسےمنع فرمایا اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس حالت میں تم کو علم نہیں ہوتا کہ کیا کہہ رہے ہو ۔ اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ شکر میں کسی اور قسم کی بے خبری ہوتی ہے جو عدم فہم اور عدم التفات سے مختلف ہے۔ اس حالت میں انسان کو یہ بھی شعور نہیں ہوتا کہ وہ عبادت کے لیے کھڑا ہو رہا ہے یا کسی اور کام کے لیے قرآن پڑھ رہا ہے یا کچھ اور قبلہ رخ بھی ہے یا نہیں ۔ اس پر کچھ ایسی مدہوشی طاری ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپے میں نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ قرآن پڑھتےپڑھتے کوئی شعر گانے لگے ۔ یا خدا کا ذکر کرتے کرتے کچھ اول فول بک جائے ۔ یا قبلہ رخ کھڑے کھڑے کسی دوسری طرف ڈھلک پڑے۔ یا نماز پڑھتے پڑھتے بھول جائے کہ نماز پڑھ رہا ہوں اور ادھوری نماز چھوڑ کر کسی سے باتیں کرنے لگے۔ یا مصلے پر سے کہیں چل کھڑا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا مقصد حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ سے دراصل ایسی ہی بے شعوری کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ جب تم اپنی حماقت سے اپنے اوپر ایسی حالت طاری کر لو جس میں تم کو اپنی زبان اور اپنے دل و دماغ پر قابو نہ رہتا ہو تو ہمارے دربار میں حاضر ہونے کی جرات نہ کرو۔
اس تشریح سے یہ بات واضح ہو گئی کہ آیت مذکور و الصدر کا کوئی تعلق نماز کی زبان کے مسئلے سے نہیں ہے۔ اور اس سے یہ استدلال کرنا درست نہیں کہ نماز اُس زبان میں پڑھنا ضروری ہے جسے ملی اچھی طرح سمجھتا ہو۔
اب یہ سوال باقی رہ گیا کہ آیا نماز کا عربی زبان میں ہونا ضروری ہے؟ اور کیا غیر عربی میں نماز ناجائز ہے؟ اس سوال کا حل اپنے طریق پر عرض کرنے سے پہلے ہم اُن اختلافات کو بیان کیے دیتے ہیں جو اس باب میں آئمہ مجتہدین کے درمیان ہوئے ہیں تا کہ مسئلہ کی صحیح شرعی حیثیت کے سمجھنے میں آسانی ہو۔
امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی رائےیہ ہےکہ فارسی میں (اور فارسی کی کچھ خصوصیت نہیں ہےہر زبان میں۱) نماز پڑھنا یا خدا کا نام لے کر ذبح کرنا یا اذان دینا (بشرطیکہ وہ غیر عربی اذان معروف ہو اور اس کو سن کر لوگ جان لیں کہ یہ اذان ہے ) جائز ہے خواہ ایسا کرنے والا عربی پڑھنے پر قادر ہو یا نہ ہو۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا ہے وَإِنَّهُ لَفِی زُبُرِ الْأَوَّلِينَ (الشعر : ۱۹۶) یعنی وہ پچھلی کتابوں میں بھی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قرآن اپنے موجودہ نظم کے ساتھ پچھلی کتابوں میں نہ تھا۔ پس لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ وہ ان کتابوں میں اپنے معنی کے اعتبار سے تھا۔ اور جب وہ معنوی ہونے کےباوجود قرآن ہی تھا تو یہ ماننے میں کیا قباحت ہے کہ قرآن کا فارسی ترجمہ بھی معنی قرآن ہے اور نماز میں اس کا پڑھنا جائز ہے۔ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ولو جَعَلْتَهُ قُرَانًا أَعْجَمِيًّا ( حم سجدہ: ۴۴) (اگر ہم اس کو عجمی قرآن بناتے ) اس سے معلوم ہوا که اگر عجمی زبان میں بھی یہ معنی ادا کیے جاتے تب بھی وہ قرآن ہی ہوتا۔ مزید براں روایات میں آیا ہے کہ ایران کے نو مسلموں نے حضرت سلمان فارسی سے درخواست کی تھی کہ سورۃ فاتحہ ہم کو فارسی میں لکھ دیجیے۔ چنانچہ انھوں نے لکھ دی اور وہ اس کو نمازوں میں پڑھتے رہے یہاں تک کہ جب ان کی زبانیں نرم ہوگئیں اور وہ عربی پڑھنے پر قادر ہو گئےتو انھوں نے عربی میں پڑھنی شروع کر دی۔ ان دلائل کی بناء پر امام صاحب کی رائے یہ ہے کہ اگر غیر عربی میں نماز پڑھی جائے تو ادا ہو جائے گی۔ مگر وہ اس کو مکروہ قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ سنت متوارثہ کے خلاف ہے۔ بلکہ ابو بکر رازی نے تو لکھا ہے کہ امام صاحب نےآخر میں اپنی اس رائے سے بھی رجوع کر لیا تھا اور امام ابو یوسف اور امام محمد کی رائے قبول کر لی تھی۔
امام ابو یوسف اور امام محمد کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص عربی پڑھنے پر قدرت رکھتا ہو تو غیر عربی میں نماز پڑھنا درست نہیں ۔ ہاں اگر وہ عربی کا تلفظ کرنے پر قادر ہی نہ ہو تو غیر عربی میں پڑھ سکتا ہے۔ اُن کا استدلال یہ ہے کہ نماز میں قرآن پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فاقروا مَا تَيَسْرَ مِنَ القرآن (المول (۲۰) اور ظاہر ہے کہ قرآن کے ترجمہ پر "قرآن" کا اطلاق نہیں ہوتا۔ لہذا جس نماز میں قرآن کے بجائے اس کا ترجمہ پڑھا جائےوہ نماز ہی نہ ہوگی۔ مگر جو شخص عربی کے تلفظ پر قادر نہ ہو اس کے لیے مجبوری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی ہے۔ ایسے شخص کی نماز بالکل اُسی طرح ہو جائے گی جس طرح اُس شخص کی نماز جور کوع وتجود سے عاجز ہو اور اشارہ سےادا کرے۔
١- ابوسعید البروگی نے امام صاحب کا یہ مسلک نقل کیا ہے کہ فارسی کے سوا کسی دوسری زبان میں پڑھنا درست نہیں۔ لیکن کرخی نے لکھا ہے کہ امام اعظم کا صحیح مسلک یہ ہے کہ ہر زبان میں پڑھنا جائز ہے۔صاحب ہدایہ نےبھی اس کو صحیح قرار دیا ہے چنانچہ لکھتے ہیں: وَيَجُوزُ بَاتِ لِسَانٍ كَانَ سِوَى الْفَارِسِيِّةِ هُوَ الصَّحِيحُ -
امام شافعی کا ایک قول وہی ہے جو صاحبین کا اوپر مذکور ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جو شخص عربی تلفظ پر قادر نہ ہو وہ بغیر قرآت کے نماز ادا کرے۔ اگر اس نے دوسری زبان میں ترجمہ پڑھا تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ کیونکہ کلام اللہ کا ترجمہ کلام اللہ نہیں ۔ کلام الناس ہے۔ اللہ کا کلام صرف عربی قرآن ہے جیسا کہ اللہ تعالی خود فرماتا ہے: إِنَّا انزلناه قرآنا عربيا( ١) (يوسف:۲)
ان تحصیلات سے معلوم ہوا کہ سلف صالح کے پیش نظر سوال کی نوعیت صرف یہ تھی که اگر نماز غیر عربی میں پڑھی جائے تو آیا ہو بھی جائے گی یا نہیں؟ کسی نے کہا کہ ہوگی مگر کمر وہ ہوگی۔ کسی نے کہا سرے سے ہو گی ہی نہیں۔ کسی نے کہا کہ عاجز کی نماز ہو جائے گی بالکل اُسی طرح جیسے معذور کی نماز اشارہ سے ہو جاتی ہے۔ لیکن موجودہ زمانے کےمجتہدین کے سامنے سوال کی نوعیت اس سے بالکل مختلف ہوگئی ہے۔ وہ اس سوال پر اس حیثیت سے نگاہ ڈالتے ہیں کہ غیر عربی دان کی نماز عربی میں ادا ہوتی بھی ہے یا نہیں؟اور غیر عرب کے لیے عربی میں نماز اولیٰ ہے یا اپنی مادری زبان میں؟ اب چونکہ صورتِ مسئلہ بدل گئی ہے لہذا جواب مسئلہ کی صورت بھی بدل جانی چاہیے۔
١- اس بحث کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو کتاب المبسوط للسرخسی، جلد اول، صفحہ ۳۷ اور فتح القدير و شرح العنايه علی الھدایہ جز اول، صفحه ۱۹۹ تا ۲۰۱ -
نماز کے لیے کون سی زبان انسب اور اولیٰ ہے؟ اس سوال کے صحیح حل کا انحصار ایک دوسرے سوال کے صحیح حل پر ہے اور وہ ہے کہ اسلام میں نماز کی حیثیت کیا ہے؟ اور اس سے کون کون سے شرعی مصالح وابستہ ہیں؟
اس سے پہلے ہم اس حقیقت کی طرف بارہا اشارہ کر چکے ہیں کہ اسلام کا اصل مقصد محض فرد کی تہذیب نفس اور اس کا تزکیہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ افراد کو فردا فردا پاک اور متقی بنانے کے لیے انھیں باہم جوڑ کر ایک ایسی اعلیٰ درجے کی صالح جماعت بنانا چاہتا ہےجو زمین پر اللہ تعالی کی خلافت کے فرائض ادا کرے۔ اس غرض کے لیے اس نے تمام عبادات اس طریقہ پر فرض کی ہیں کہ افراد میں رُجوع الی اللہ کے ذریعہ سے تقویٰ کی روح پھونکنے کے ساتھ ساتھ ان کو صالحین کی ایک جماعت بھی بناتی چلی جائیں ۔ ان عبادات میں سب سے اہم عبادت نماز ہے جو تہذیب نفس بھی کرتی ہے، قرآنی ہدایات کی اشاعت بھی کرتی ہے قرآن کی حفاظت بھی کرتی ہے اور مسلمانوں کو ایک جماعت بھی بناتی ہے۔ نماز کی ان مختلف حیثیات اور اسلام کے ان متعدد مقاصد پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز محض ایک بندے کی اپنے خدا سے مناجات ہی نہیں ہے اور محض ایک ایک فرد میں الگ الگ رُوح تقویٰ پھونکنے کا ذریعہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ اسلام کا قوام بھی ہے اور انفرادی مصلحت سے عظیم تر مصالح بھی اس سے وابستہ ہیں۔
اب دیکھیےکہ جہاں تک انفرادی مصالح کا تعلق ہے ان کے لحاظ سے ضروری ہےکه انسان نماز میں جو کچھ پڑھے اس کو سمجھے بھی تا کہ تہذیب نفس اور تزکیۂ روح کا مقصد پوری طرح حاصل ہو سکے۔اس غرض کےلیے نماز کا اُس زبان میں ہونا مفید ہوگا جسےمصلی جانتا ہو اور سمجھتا ہو۔ لیکن انفرادی مصالح سے اہم تر جو مصالح شارع کے پیش نظر ہیں ان کو یہ چیز نقصان پہنچادے گی۔
اولاً قرآن کی حفاظت کا عظیم الشان مقصد اس سے بڑی حد تک فوت ہو جائے گا۔جب قرآن کے ترجمے کو بھی لوگ قرآن سکھنے لگیں گے اور یہ خیال عام ہو جائے گا کہ عبادت اور تلاوت کے مقاصد کے لیے ترجمه اصل کتاب کا قائم مقام ہے تو اصل کتاب سے اعتنا کم ہو جائے گا اس کو یاد کرنے کا ذوق بھی باقی نہ رہے گا اور ترجمہ ہی کو عملی بطور اصل لےلیا جائے گا۔
ثانیاً اصل کتاب اللہ سے بے اعتنائی اور تراجم کی طرف روز افزوں انتفات کا نتیجہ دین کی خرابی کے سوا کچھ نہ ہوگا کیونکہ ناقص اور باہم مختلف متعارض ترجموں کے الگ الگ جماعتوں اور الگ الگ قوموں میں معتبر بن جانے سے اسلام کا انجام بھی وہی ہوگا جو مسیحیت اور یہودیت کا ہوا۔
ثانیاً اس سےامت کی وحدت کا خاتمہ ہو جائےگا اور اسلام میں لسانی نوعیتوں کی بنیاد پڑ جائے گی۔ہر زبان کے بولنے والوں کی نمازیں اور جماعتیں الگ الگ ہوں گی۔نه ایرانی عرب کے پیچھے نماز پڑھے گا اور نہ ترک ہندیوں کی جماعت میں شریک ہوگا۔ایک ہی جگہ بنگالیوں اور مدراسیوں اور پنجابیوں کی جماعتیں لسانی قومیت کی بنیاد پر الگ الگ قائم ہوں گئی اور نماز کے ٹکڑے ہوتے ہی اُمت کے ٹکڑے ہو جائیں گے۔
ان عظیم تر اجتماعی نقصانات سےبچنےکےلیے ناگزیر ہے کہ نماز کے لیے ایک ہی بین الملی زبان ہو اور وہ وہی زبان ہو جس میں قرآن نازل ہوا ہے۔رہا انفرادی نقصان تو اس کو دور کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ نماز کا بیشتر حصہ وہ ہے جس کےلیے ایک ہی عبارت مقرر ہے۔تکبیر تسبیح، تسمیہ تعویذ سورہ فاتحہ تشہد ان سب کا ترجمہ زیادہ سے زیادہ ایک دو گھنٹہ میں بآسانی ذہن نشین ہو سکتا ہے۔ عام طور پر جو سورتیں نماز میں پڑھی جاتی ہیں وہ بھی دس بارہ سے زیادہ نہیں ہیں، اور بہت چھوٹی چھوٹی ہیں ۔ ان کے ترجمے یاد کر لینا بھی مشکل نہیں۔ اس کےبعد قرآن کریم کی لمبی لمبی سورتیں باقی رہ جاتی ہیں جو کبھی کبھار سورۃ فاتحہ کےساتھ ملالی جاتی ہیں۔ سو اگر بعض یا بیشتر مصلی ان کو نہ سمجھیں تو یہ ایسی کون سی قباحت ہے جس سے بچنے کے لیے تمام اجتماعی مصالح کی قربانی گوارا کر لی جائے۔
مصالح اور حکمتوں سے قطع نظر کر کے جب ہم منصوص احکام پر غور کرتے ہیں تو ہمیں امام ابو یوسف اور امام محمد کا مسلک سب سے زیادہ صحیح نظر آتا ہے اور قرین قیاس یہی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے بھی آخر کار اسی کی طرف رجوع فرمایا ہوگا۔
یہ تمام آیات نماز میں تلاوت قرآن کا حکم دیتی ہیں اور ان میں ”القرآن“ (الف لام تعریفی کے ساتھ ) پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے جس کا اطلاق ترجمہ قرآن پر نہ لغوی حیثیت سے ہو سکتا ہے
2- قرآن میں متعدد مقامات پر تصریح ہے کہ " قرآن صرف عربی قرآن کا نام ہے اور کلام اللہ وہی ہے جو عربی الفاظ کے ساتھ خدا نے نازل فرمایا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کے جو معنی بیان کیے جائیں گے، خواہ وہ عربی زبان ہی میں کیوں نہ بیان ہوں وہ نہ صرف یہ کہ قرآن نہ ہوں گے بلکہ اس کے مثل بھی نہ ہوں گے۔ لہذا وہ کبھی قرآن کے قائم مقام ہو ہی نہیں سکتے ۔
٣- یہ تصریح بھی قرآن ہی میں ہے کہ تحریف سے حفاظت کا وعدہ صرف اُس کتاب سےمتعلق ہے جو خدا کے پاس سے نازل ہوئی ہے۔ انسانوں کے کیے ہوئے تراجم سے متعلق نہیں ہے۔ ان میں ہر طرح سے تحریف کا دروازہ کھلا ہوا ہے، خواہ وہ ارادی تحریف ہو یا مترجمین کے مجمز اور ان کے عدم فہم اور اُن کی قلت علم کی بنا پر ہو ۔ وَانَّهُ لَكتُبُ عَزِيرٌ لا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حمید ( حم سجدہ: ۱۴۱ ۴۴) لہذا انماز میں قرآن کا ترجمہ پڑھنے والا یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ معنی قرآن کی صحیح تلاوت کر رہا ہے۔
۴- رجوع الی اللہ اور انابت اور خشیت جو نماز کی اصل جان ہے اس کو پیدا کرنے کی خاصیت جیسی قرآن منزل من اللہ میں ہے دیسی کسی اور کلام میں نہ ہو سکتی ہے نہ پائی جاسکتی ہے۔ اس پر بھی خود قرآن شاہد ہے: اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهَا فِي تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللهِ - (زمر :۲۳)
ایسے صریح اور محکم شرعی دلائل کو دیکھنے کے بعد یہ کہنا ہی مشکل ہے کہ جو نماز ترجمہ قرآن پڑھ کر ادا کی جائے وہ درست ہو جاتی ہے۔ کمر وہ ہونا کیسا ہم تو کہتے ہیں کہ وہ کسی درجے میں بھی ادائے فرض کےلیے کافی نہیں۔ البتہ جیسا کہ صاحبین نے فرمایا ہے اس شخض کا معاملہ بالکل جدا گانہ ہے جو عربی تلفظ پر قادر ہی نہ ہو۔اس کےحق میں یہی فتویٰ مناسب ہے کہ جب تک وہ عربی میں نماز پڑھنے کے قابل نہ ہو جائے اس کا فریضہ غیر عربی کے ساتھ ادا ہو جائے گا اس لیے کہ وہ رخصت اضطرار کے تحت آجاتا ہے۔
اب ہم سوال کےدوسرےحصہ کی طرف رجوع کرتےہیں جو خطبہ جمعہ کی زبان سےتعلق رکھتا ہےاس مسئلےمیں یہ ایک عام للطی ہےکہ خطبہ کی زبان کےسوال کو نماز کی زبان کےسوال سےمربوط کر دیا جاتا ہےاس سےبڑا خلط مبحث واقع ہوتا ہے۔ لہذا پہلےہم اسی امر کی توضیح کریں گے کہ نماز اور خطبہ کی حیثیتوں میں کیا فرق ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خطبہ نماز جمعہ کا جز ہے۔ اس کی دلیل وہ یہ بیان کرتےہیں کہ ظہر کی چار رکعتوں میں سے دور کعتیں خطبہ ہی کے لیے کم کی گئی ہیں، جیسا کہ احادیث میں حضرت عمرؓ اور حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ اِنَّمَا قُصِرَتِ الْجُمُعَةُ لَأَجْلِ الْخُطْبَةِ اس بنا پر وہ کہتے ہیں کہ خطبہ چونکہ نماز کی دورکعتوں کا قائم مقام ہے لہذا اس کی حیثیت بھی وہی ہے جو نماز کی ہے۔ اور جب نماز غیر عربی میں پڑھنا درست نہیں تو خطبہ بھی غیر عربی میں پڑھنا درست نہیں۔
لیکن یہ محض ایک سطحی رائے ہے۔ دونوں کے احکام کی تفصیل پر نظر ڈالنے سےصاف معلوم ہو جاتا ہے کہ جو اُمور نماز کے لیے شرط ہیں وہ خطبے کے لیے شرط نہیں ہیں۔
نماز کے لیے طہارت شرط ہے مگر خطبہ کے لیے شرط نہیں ہے، حتی کہ اگر سہوا حالت جنابت میں بھی خطبہ پڑھ دیا ہو تو اعادہ کی ضرورت نہیں۔
نماز کے لیے قبلہ رخ ہونا ضروری ہے۔ مگر خطبہ جمعہ کے لیے نہ صرف یہ کہ استقبال قبلہ ضروری نہیں ہے بلکہ قبلہ کی طرف پشت کر کے مقتدیوں کی طرف رُخ کرنے کا حکم ہے۔
نماز میں گفتگو کرنے سے فساد واقع ہو جاتا ہے۔ مگر خطبہ میں کلام کیا جا سکتا ہے اور خود نبی اکرم اور صحابہ کرام سے یہ فعل ثابت ہے۔ جیسا کہ آگے چل کر ہم بیان کریں ے۔ نماز کے لیے وقت بھی مشروط ہے، لیکن خطبہ اگر وقت سے پہلے شروع کر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
نماز جمعہ میں حنفیہ کے نزدیک کم از کم تین آدمیوں کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن خطبہ میں اگر امام کے سوا صرف ایک آدمی ہو تب بھی کافی ہے۔
نماز جمعہ اگر فاسد ہو جائے تو اس کا اعادہ کیا جائے گا۔ لیکن خطبہ کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ سب امور اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ خطبہ نماز جمعہ کا جزو نہیں ہے۔ چنانچہ علامہ سرخی لکھتے ہیں :۔
ہمارے بعض مشائخ کہتے ہیں کہ خطبہ چونکہ دو رکعت کا قائم مقام ہےاس لیے ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے خطبہ پڑھنا جائز نہیں۔ مگر صحیح یہ ہے کہ خطبہ کی حیثیت نماز کے ایک حصے کی نہیں ہے۔
خطبہ رکن نماز نہیں ہے۔ کیونکہ کسی چیز کا رکن تو وہ ہوتا ہے جس سے وہ چیز قائم ہوتی ہے اور نماز جمعہ خطبہ سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اپنے ارکان سے قائم ہوتی ہے لہذا خطبہ جمعہ کے لیے رکن نہیں بلکہ شرط ہے۔
اس میں شک نہیں کہ خطبہ بھی نماز کی طرح ایک عبادت ہے۔لیکن دونوں کےمقاصد مختلف ہیں۔ نماز سے جو کچھ مقصود ہےوہ بغیر اس کے بھی حاصل ہو سکتا ہےکہ انسان ان عبارات کو سمجھے جن کو وہ نماز میں پڑھتا ہے۔اس لیےکہ اس کا خدا کی فرض کی ہوئی. عبارت کو فرض سمجھنا اور نماز کا وقت آنے پر ادائے فرض کے لیے اٹھنا اور اس کا اہتمام کرنا پھر پوری شرائط اور تمام ارکان کےساتھ نماز کو اس طرح ادا کرنا کہ گویا اسے اس امر کا شعور ہے کہ خدا اس کی نفی سے خفی باتوں کو بھی سن رہا ہے اور یہ کہ اگر وہ نماز میں کوئی چیز بھی کم کر دے گا تو خدا کو اس کا علم ہو جائے گا، پھر اس کا یہ سمجھنا کہ یہ رکوع و سجود اور قیام و قعود جو کچھ بھی میں کر رہا ہوں صرف خدا کے لیے ہے اور خدا کے سوا میں کسی کا عبادت گزار نہیں ہوں یہ سب امور اس مقصد کی تحصیل کے لیے بالکل کافی ہیں جس کے لیے نماز فرض کی گئی ہے۔ لیکن خطبہ جس غرض کے لیے مقرر کیا گیا ہے وہ بغیر اس کے حاصل نہیں ہوسکتی کہ سامعین اس کو سمجھیں۔ اس لیے کہ خطبہ کا مقصد محض خدا کی یاد اور ذات حق کی طرف رجوع اور خشیت اور انابت ہی نہیں ہے بلکہ احکام دین کی تبلیغ و تعلیم اور وعظ و تذکیر بھی ہے۔ اور یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ لوگ اُن احکام اور مواعظ کو نہ سمجھیں۔جو خطبہ میں بیان کیے جاتے ہیں۔
بعض لوگ اس امر سے انکار کرتے ہیں کہ خطبہ کا مقصد تبلیغ احکام اور وعظ و تذکیر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالی نے خطبہ کو ذکر اللہ سے تعبیر کیا ہے۔ (فاسعوا إلى ذكر الله (الجمعة) لہذا خطبہ بھی ویسی ہی عبادت ہے جیسی کہ نماز ہے اور اس کے لیے بھی یه ضروری نہیں کہ لوگ اس کو سمجھیں، اس کی تائید میں وہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول پیش کرتے ہیں کہ خطبہ کی شرط پوری کرنے کے لیے صرف اللہ تعالی کی حمد وثنا کافی ہے اور عرف عام میں جس چیز کو خطبہ سے تعبیر کیا جاتا ہے وہ نماز جمعہ کے لیے شرط نہیں ہے۔ نیز وہ سید نا عثمان رضی اللہ عنہ کے اس واقعہ سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ جب آپ خلیفہ ہوئے اور خطبہ دینے کے لیے اٹھے تو آپ پر مجمع کا رُعب طاری ہو گیا اور صرف الحمد للہ کہہ کر بیٹھ گئے اور صحابہ کرام کی جماعت نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا۔
اولاً یہ یقینی نہیں کہ آیة فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللہ سے مراد خطبہ جمعہ ہے۔ ذکر سےمراد نماز بھی ہو سکتی ہے بلکہ قرآن میں اکثر اس لفظ سے نماز ہی مراد لی گئی ہے۔ معتمرین اور اہل فقہ میں یہ امر مختلف فیہ ہے کہ آیا ذکر سے مراد صرف خطبہ ہے یا صرف نماز یا نماز اور خطبہ دونوں (١) مگر آیت کے سیاق پر غور کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ذکر کو نماز کے معنی میں لینا زیادہ درست ہے کیونکہ پہلے اِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فرمایا پھر اس کی جزا یہ بیان کی کہ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللهِ - اس سے معلوم ہوا کہ اصل میں ذکر سے مراد نماز ہی ہے اور خطبہ محض ضمنا ذکر میں شامل ہو جاتا ہے۔ ورنہ اگر ذکر سے مراد صرف خطبہ ہوتا تو الى ذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلواۃ فرمایا جاتا ۔
ثانیاً ذِکر اللہ کو اگر نماز کے معنی میں نہ لیا جائے بلکہ یاد خدا کے معنی میں لیا جائےتو یہ کس دلیل سے ثابت ہوا کہ خدا کی یا د صرف عربی زبان ہی میں ہونی چاہیے؟ اللہ کےذکر کو عربی زبان تک محدود کرنا تو عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔ قرآن اور حدیث میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ خدا کو یاد کرنا ہو تو صرف عربی میں کرو ۔ چنانچہ اسی بنا پر امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللكر المفيد للتعْظِيمِ يَحْضُل خدائے بزرگ ہست كَمَا يَحْصُلُ بِقَوْلِهِ اللهُ اَكْبَرُ - یعنی اللہ کی بڑائی بیان کرنے کے لیے جس طرح اللہ اکبر کہنا مفید ہے اسی طرح فارسی میں ”خدا بزرگ است‘ کہنا بھی مفید ہے“۔ اور امام محمد ان کی تائید میں کہتے ہیں: الذِكرُ يَحْصل بكل "انسان " خدا کی یاد ہر زبان میں ہو سکتی ہے۔
١- ابن ہمام کہتے ہیں: فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ فَالظَّاهِرُ اَنَّ الْمُرَادَ بِالذِكْرِ الصَّلَوةُ وَيَجُوزُ كَوْنُ الْمُرَادِ بِهِ الخُطْبَةِ (فح القدير ) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں: وَالْمُرَادُ بِذِكْرِ اللَّهِ الْخُطْبَةِ وَالصَّلَوةُ وَسَتَظْهَرُانْ الْمُرَادَ بِهِ الصَّلوةُ وَيَجُوزُ كَوْنُ الْمُرَادِ بِهِ الْخُطْبَةِ - سعيد ابن المسیب کے نزدیک ذکر سے مراد موعظه الامام ہے۔ (احکام القرآن للجصاص، علامہ ابوبکر جصاص کی رائے یہ ہے کہ ذکر سے مراد صرف خطبہ ہے۔وَيَدُلُّ اَنَّ الْمُرَادُ بِالذِكرِ هَهُنَا الْخُطْبَةِ - لَاَنَّ الْخُطْبَةِ هِيَ الَّتِي تَلِي البَدَاءَ وَقَدْ أُمِرَ بِالسَّعُيِ إِلَيْهِ فَدَلَّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ الْخُطْبَةِ -
ثانیاً خطبہ کی شرط پوری کرنے کے لیے اگر حفیہ نے محض حمد و ثنا کو کافی سمجھا ہے تو اس کے معنی یہ کب ہیں کہ خطبہ کا جو مقصد ہے وہ بس حمد وثنا ہی سے حاصل ہو جاتا ہے اور اس کے سوا دوسری چیزیں محض زوائد ہیں جن کی کوئی اہمیت نہیں (١) حفیہ یہ بھی تو کہتے ہیں کہ نماز جمعہ کے لیے جماعت کی شرط صرف تین آدمیوں سے پوری ہو جاتی ہے۔ پھر کیا اس کا مطلب یہ لینا درست ہو گا کہ جمعہ کی اقامت سے جو مقصد ہےوہ بس اس مختصر سی جماعت سےحاصل ہو جاتا ہےاور جماعت کثیرہ کا فراہم ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
١- حضرت عثمان کے واقعہ سے اس معاملہ میں جو استدلال کیا جاتا ہے وہ درست نہیں ہے۔ اوّل تو اس واقعہ میں خود اس امر کی تصریح ہے کہ حضرت عثمان نے قصداً ایسا نہیں کیا تھا، بلکہ مجمع سےمرعوب ہو جانے کی وجہ سے ان کی قوت گویائی جواب دے گئی تھی۔ اس لیے انھوں نے خطبہ کو مختصر کر دیا۔دوسرے یہ بھی غلط ہےکہ انھوں نے صرف حمد و ثنا پر اکتفا کی تھی۔دراصل واقعہ یہ ہےکہ جب انھوں نے دیکھا کہ قوت گویائی جواب دے رہی ہے تو صرف اتنا کہہ کر بیٹھ گئے کہ اِنْ اَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانَ لَيُعِدَّانِ لِهَذَا الْمَقَامِ مَقَالَا وَأَنْتُمُ إلى إِمَامٍ فَعالِ أَحَوُجُ مِنْكُمُ إِلَى إِمَامٍ قَوَّالٍ وَسَتَأْتِيَكُمُ الْخُطَبُ بَعْدُ وَاسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِيْ وَلَكُمْ یعنی اس موقع کے لیے ابو بکر اور عمر تقریر تیار کر کے آتے تھے ۔ اور تم کو اصل حاجت تو کام کرنے والے امام کی ہےنہ کہ بولنے والے امام کی ۔ رہیں تقریریں تو وہ بھی آگے چل کر پیش کی جائیں گی اور میں اللہ سےاپنے لیےاور تم سب کے لیے مغفرت کی دُعا کرتا ہوں ۔
رابعاً خودا کا بر حنفیہ ہی نے یہ تصریح کی ہے کہ خطبہ سےمقصود ذکر اور موعظت ہے۔چنانچہ ہدایہ میں ہے: وَلَوْ خَطَبَ قَاعِدًا أَوْ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ جَازَ لِحُصُولِ الْمَقْصُودِ -"اگر امام بیٹھ کر خطبہ دےیا غیر طاہر ہونےکی حالت میں دےتب بھی جائز ہےکیونکہ مقصود اس طرح بھی حاصل ہو جاتا ہےاور علامہ ابن ہمام اس مقصود کی شرح یہ کرتےہیں کہ وھو الذکر والموصلة -یعنی اس سےمراد ذکر خدا اور نصیحت ہےایک حنفیہ پر ہی کیا موقوف ہے، متقدمین سب کےسب خطبہ کا مقصد یہی سمجھتےتھےاور اسی بناء پر ان کی زبان میں اکثر خطبہ کےلیے ” موعظة الامام کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ علامہ ابن حجر فتح الباری میں ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔
وَمِنْ حِكْمَةِ اسْتِقْبَالِهِمُ الْإِمَامَ التَّهَيقُ لِسِمَاعِ كَلَامِهِ وَسَلُوْكُ الْأَدْبِ مَعَهُ فِي اسْتَمِاعِ كَلَامِهِ فَإِذَا اسْتَقَبْلَهُ بِوَجِهِهِ وَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِجَسَدِهِ وَبِقَلْبِهِ وَحُضُورقَ ذِهْنِهِ كَانَ أَدْعَى لِتَفُهُم مَوْعِظَتِهِ وَمُوَافَقَتِهِ فِيْمَا شَرَعَ لَهُ الْقِيَامُ لَاجُلِهِ- (ج۲، ص۲۷۳)
حاضرین کو جو امام کی طرف رُخ کر کے بیٹھنے کی ہدایت کی گئی اس کی حکمت یہ ہے کہ وہ اس کے کلام کو سننے کے لیے تیار ہوں اور کلام کی سماعت میں اس کے ساتھ ادب کو ملحوظ رکھیں ۔ جب سننے والا اپنا چہرہ اس کی طرف رکھے گا اور اپنے جسم و قلب کے ساتھ اس کی جانب متوجہ ہوگا اور حضور ذہن کے ساتھ سنے گا تو امام کی موعظت اچھی طرح اس کی سمجھ میں آئے گی اور یہ اس مقصد کے لیے مددگار ہوگاجس کے لیے امام کو کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
خامساً یہ امر غور طلب ہے کہ اگر خطبہ کا طریقہ جاری کرنے سے شارع کا مقصد محض اللہ کا ذکر ہی کرنا ہوتا تو کیا اس کے لیے نماز کافی نہ تھی، حالانکہ وہ اس مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ نماز جیسی کامل اد اکمل عبادت کو مختصر کر کے اس کےوقت کا ایک حصہ خطبہ کو دیا گیا اور اُس کو جمعہ کی شرائط میں داخل کیا گیا ؟
سادساً نماز جمعہ کےلیےخطبہ کا شرط ہونا جس چیز سے فقہاء نے نکالا ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا متواتر عمل ہے۔چونکہ آنحضرت اور آپ کےخلفاء اور صحابہ کرام نےکبھی جمعہ بغیر خطبہ کے نہیں پڑھا اس لیے یہ حکم مستنبط کیا گیا کہ جمعہ کےلیےخطبہ شرط ہے۔بالکل اُسی طرح آپ کے اور صحابہ کرام کے متواتر عمل سے ہم کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خطبه محض حمد وثنا ہی پر مشتمل نہ ہوتا تھا بلکہ اس میں خوف خدا کی تلقین بھی ہوتی تھی شریعت کےاحکام بیان ہوتےتھےاخلاق و اعمال کی اصلاح کےلیےنصیحتیں ہوتی تھیں،قومی اورشخصی معاملات پر توجہ کی جاتی تھی،حتی کہ میں خطبہ کی ہی حالت میں امام کسی خاص شخص کی کوئی غلطی دیکھتا تو اس کی اصلاح کرتا کسی مصیبت زدہ کو دیکھتا تو اس کی مدد کے لیے لوگوں کو توجہ دلاتا عوام میں سےکسی کی کوئی شکایت ہوتی تو وہ امام کے سامنےاس کو پیش کرتا اور امام اس کی طرف متوجہ ہوتا ۔ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے کوئی جمعہ بغیر خطبہ کے نہیں پڑھا۔ اُسی طرح آپ نے اور آپ کے صحابہ نے کوئی خطبہ ایسا نہیں پڑھا جو مذکورہ بالا خصوصیات سے عاری ہو۔
اس مطلب کی توضیح کے لیے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چند خطبات یہاں نقل کرتے ہیں جن سے معلوم ہوگا کہ شارع کی نگاہ میں خطبہ جمعہ کی دراصل کیا حیثیت تھی ۔
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ مُرْسَلاً قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جُمُعَةٍ مِّنَ الْجُمُعِ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ جَعَلَهُ اللَّهُ عِيْدًا فَاغْتَسِلُوا وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طِيِّبٌ فَلَا يَضَرُّهُ أَنْ يُمَسَّ مِنْهُ عَلَيْكُمْ بِالسّوَاكِ -(موطا ابن ماجه )
عبید بن السباق سے مرسلاً مروی ہے کہ حضور نے ایک مرتبہ جمعہ کےخطبے میں فرمایا: ”اے مسلمانو ! اس دن کو اللہ نے عید مقرر کیا ہے۔لہذا تم آج کے دن غسل کیا کرو۔ اور جس کے پاس خوشبو موجود ہو وہ اگر استعمال کر لے تو کیا نقصان ہے۔ اور دیکھو مسواک ضرور کرو۔
ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ "مجھے تمھارے حق میں سب سےزیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ زمین کی برکات ہیں“۔کسی نے پوچھا یا رسول اللہ زمین کی برکات سےکیا مراد ہے؟ حضور نےجواب دیا: ”دنیا کی ز مینت و شوکت" اس پر ایک شخص نے عرض کیا: "یا رسول اللہ ! کیا بھلائی سےبھی برائی آتی ہے؟ حضور سن کر کچھ دیر خاموش رہے یہاں تک کہ لوگوں نے گمان کیا کہ کوئی چیز آپ پر اتر رہی ہے۔پھر آپ نےاپنی پیشانی سےپسینہ پونچھا اور فرمایا وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا میں حاضر ہوں ۔ آپ نے فرمایا:”بھلائی صرف بھلائی سےآتی ہےاس دنیا کا مال بہت خوش نما اور شیریں ہےفصل بہارمیں جب یہ پھلتی ہے تو اسے پیٹ بھر کر کھانے والا جانور بد ہضمی سےمرجاتا ہےیا مرنےکے قریب جا لگتا ہے۔ البته وہ جانور بیچ جاتا ہے جس نے دیکھا کہ کھاتے کھاتے کو بھیں پھول گئی ہیں تو کھانا چھوڑ دیا دھوپ میں چلا پھرا کچھ جگالی کی کچھ بول و براز کی راہ سے نکالا اور جب پیٹ خالی ہو گیا تب دوبارہ کھانےکی طرف متوجہ ہوا۔ اس مال کو جو شخص حق کی راہ سے لے گا اور حق کی راہ میں نکال دے گا اس کے لیے تو یہ بہترین مددگار ہے۔ اور جو حق کے بغیر لے گا اس کی مثال اُس شخص کی سی ہے جو کھاتا چلا جائے اور شکم سیر نہ ہو ۔ ( بخاری کتاب الرقاق وکتاب الزکوۃ)
عمرو بن تغلب کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور کے پاس کچھ مال آیا تھا جس کو آپ نے بعض لوگوں میں بانٹ دیا اور بعض کو چھوڑ دیا۔ بعد میں آپ کو معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ہے انھیں رنج ہے۔ اس کے متعلق آپ نے خطبہ میں فرمایا کہ " میں ایک شخص کو دیتا ہوں اور دوسرے کو نہیں دیتا۔ جس کو میں نہیں دیتا وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے جس کو میں دیتا ہوں۔ ایک جماعت کو دیتا ہوں جبکہ ان کے دلوں میں بےتابی اور بے چینی دیکھتا ہوں۔ اور ایک جماعت کو اس کی بے نیازی اور نیکی کے حوالے کر دیتا ہوں جو اللہ نے ان کے دلوں میں پیدا کی ہے ۔ ( بخاری )
مشہور حدیث ہے کہ ایک شخص نماز جمعہ میں حاضر ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ۔ آپ نے پکار کر اس سے پو چھا اے شخص! کیا تو نماز پڑھ چکا ہے؟اس نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے فرمایا تو اٹھ اور نماز پڑھ۔ دراصل یہ شخص پھٹے حالوں تھا۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اس کی بدحالی کو دیکھ لیں۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو آپ نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلائی۔ اس حدیث کے اطراف قریب قریب تمام صحاح اور سنن اور مسانید میں آئے ہیں۔ امام احمد نے جو حدیث نقل کی ہے اُس میں خود حضور کے یہ الفاظ منقول ہیں کہ یہ شخص جب مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ بہت شکستہ حال ہےاس لیے میں نے اسے حکم دیا کہ دو رکعت نماز پڑھ لے۔میں چاہتا تھا کہ کوئی شخص اس کی حالت دیکھ لےاور اس کو کچھ صدقہ دے دے“۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور خطبہ دے رہے تھے ۔ دیکھا کہ ایک شخص لوگوں کے اوپر سے پھاند تا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ آپ نے پکار کر فرمایا : " بیٹھ جاؤ تم نے لوگوں کو تکلیف دی“۔ (ابوداؤ د نسائی)
حضرت انس کی روایت ہے کہ ایک روز حضور خطبہ دے رہےتھےاور قحط سالی کا زمانہ تھا۔ایک شخص نے فریاد کی کہ یا رسول اللہ جانور مر گئے اور بال بچے فاقے کر رہےتھے اللہ سے دعا فرمائیے کہ بارش ہو جائے ۔ آپ نے اسی وقت دعا فرمائی۔خدا کےفضل سےبارش شروع ہو گئی اور دوسرےجمعہ تک لگاتار جاری رہی۔ پھر دوسرے جمعہ کو آپ خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو وہی شخص پھر اُٹھا اور بولا کہ یارسول اللہ مکان گر گئے اور مال و اسباب تباہ ہو رہے ہیں۔ خدا سے دعا فرمائیے ۔ آپ نے پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔
مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر خطبہ دے رہے تھے۔ اتنے میں حضرت عثمان تشریف لائے۔ حضرت عمر نے فرمایا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد نماز کے لیے آنے میں دیر کرتے ہیں۔ پھر حضرت عثمان کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: یہ کون سا وقت ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں کام میں لگا ہوا تھا۔ اذان کی آواز سنی تو گھر جانے کے بجائے وضو کر کے سیدھا یہاں چلا آ رہا ہوں۔ حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا:خوب! آنے میں دیر تو لگائی ہی تھی۔ اب معلوم ہوا کہ آپ صرف وضو ہی پر اکتفا کر کےآئے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے روز غسل کرنے کا حکم دیا ہے ۔ (بخاری موطا مسلم )
یہ اُن کثیر التعداد خطبوں میں سےچند ہیں جو معتبر روایات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے منقول ہیں۔ ان کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کا خطبہ جن کےمتواتر عمل کی بدولت مشروع سمجھا گیا ہے اُن کے ہاں خطبہ کے معنی محض ذکر اللہ کے نہ تھےبلکہ وہ اس سے تبلیغ ، تعلیم، اصلاح ہدایت اور بہت سے قومی و شخصی معاملات کی انجام دہی کا کام لیتے تھے۔ دراصل یہ چیز اس لیے مشروع نہیں کی گئی تھی کہ لوگ ہفتہ میں ایک بار نماز سے پہلے رسمی طور پر اسی قسم کی ایک چیز سن لیں جیسی مسیحی گر جاؤں میں درس (Sernion) کےنام سے سنائی جاتی ہے۔ بلکہ اس کو مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا ایک متحرک اور کار فرما پرزہ بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ ہفتہ میں ایک مرتبہ لازمی طور پر تمام مسلمانوں کو جمع کر کےاللہ کےاحکام سنائےجائیں دین کی تعلیمات ان کے ذہن نشین کی جائیں، اُن کی جماعت میں یا اُن کے افراد میں جو کچھ خرابیاں رُونما ہوں ان کی اصلاح کی جائے اور قومی فلاح و بہبود کے کاموں کی طرف انھیں توجہ دلائی جائے ۔ نیز مرکز حکومت میں امام براد راست خود اپنی حکومت کی پالیسی پبلک کے سامنے پیش کرتا رہے اور وہیں عوام الناس میں سے ہر ایک کو اُس سے سوال کرنے اور اس کے سامنے اپنی بات کہنے کا موقع حاصل ہو۔
نماز اور خطبہ جمعہ کے درمیان ایک فرق اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ نماز میں جتنی چیزیں پڑھی جاتی ہیں وہ سب لفظا لفظ معین کر دی گئی ہیں ۔ جو شخص عربی نہ جانتا ہو وہ تھوڑا سا وقت صرف کر کے بآسانی اُن کا ترجمہ یاد کر سکتا ہے یا اُن کے مفہومات ذہن نشین کر سکتا ہے۔ اس وجہ سے نماز کے عربی میں ہونے سے اس امر کا کوئی خوف نہیں ہے کہ عربی نہ جاننے والے ان عبارات کے معنوی فوائد سے بالکل ہی محروم رہ جائیں گے جنھیں نماز میں وہ پڑھتے ہیں۔ بخلاف اس کے خطبہ جمعہ کے لیے کوئی عبارت مقرر نہیں ہے ۔ ہر جمعہ کو ایک نیا خطبہ ہوتا ہے اور اس کا ترجمہ پہلے سے یاد کر لینا یا اس کا مفہوم ذہن نشین کر کے آنا لوگوں کے لیے کسی طرح ممکن نہیں ہوتا۔ لہذا خطبہ کے لیے عربی کو لازم کر دینے کا نتیجہ قطعاً یہی ہے کہ غیر عربی دان لوگوں کے حق میں وہ محض ایک بے معنی چیز اور ایک بے جان مذہبی رسم بن کر رہ جائے اور شارع کے وہ تمام مقاصد فوت ہو جائیں جن کے لیے اس نے جمعہ کا خطبہ مشروع کیا ہے۔ ایک معمولی عقل کا انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ ترکی بولنے والوں کے سامنے سنسکرت میں تقریر کرنا اور فارسی زبان والوں کو جرمن زبان میں مخاطب کرنا محض ایک مہمل حرکت ہے۔ پھر شارع حکیم کے متعلق یہ کیونکر ممان کیا جا سکتا ہے کہ وہ احکام دین کی تفہیم اور مکارم اخلاق کی تعلیم کے لیے کسی ایسی زبان میں وعظ کرنے کا حکم دے گا جس کو سامعین سمجھتے ہی نہ ہوں ۔
ایک یہ کہ خطبہ نماز کا جزو نہیں ہے لہذا نماز کے لیے عربی زبان کے لازم ہونےسے یہ لازم نہیں آتا کہ خطبہ کے لیے بھی عربی واجب ہو ۔
دوسرے یہ کہ خطبہ کا طریقہ مقرر کرنے سے شارع کے پیش نظر جس قدر مقاصد ہیں وہ سب کے سب ایسی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں جبکہ خطبہ کسی ایسی زبان میں پڑھ جائے جس کو سامعین نہ سمجھتے ہوں۔ بخلاف اس کے نماز جن مقاصد کے لیے شارع نےفرض کی ہے ان میں سے کوئی اہم مقصد مصلیوں کے عدم فہم سے فوت نہیں ہوتا۔ دوسرےالفاظ میں یوں سمجھئے کہ عدم فہم سے نماز میں تو محض ایک جزئی سا نقصان آتا ہے مگر خطبہ میں اس سے کلی نقصان واقع ہو جاتا ہے۔
تیسرےیہ کہ نماز میں عدم فہم سےجو ایک جزئی سا نقصان واقع ہوتا ہے وہ بھی نماز کا ترجمہ یاد کر کے بآسانی رفع کیا جا سکتا ہے لیکن خطبہ میں اس سے جو کلی نقصان واقع ہوتا ہے اسے رفع کرنے کی کوئی سبیل نہیں ۔
اب ہم کو یہ دیکھنا چاہیےکہ غیر عربی خطبےکےجواز میں کوئی امر شرعی تو مانع نہیں ہے؟اس سلسلے میں جب ہم قرآن اور سنت کاجائزہ لیتےہیں تو ہمکو کہیں صراحتہ کیا معنی کنایتا بھی کوئی حکم ایسانہیں ملتا جسسے خطبہ کے لیے عربی زبان ضروری کبھی جاسکے۔ جو لوگ عربی کے لزوم پر زور دیتے ہیں انھوں نے بھی کوئی آیت یا حدیث پیش نہیں کی ہےانکا استدلال صرف یہ ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کےصحابہ اور سلف صالح نےہمیشہ عربی زبان ہی میں خطبہ پڑھا ہے اور کبھی خطبہ کے لیے عربی کے سوا دوسری زبان استعمال نہیں کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں کبھی کبھی غیر عرب بھی موجود ہوتے تھے مگر کسی روایت میں نہیں آیا کہ آپ نے ان کی تفہیم کے لیے غیر عربی میں خطبہ دیا ہو یا مجھی زبانیں جاننے والے صحابہ میں سےکسی کو اُن کی تفہیم پر مامور کیا ہو۔حضور کے بعد صحابہ سب سے بڑھ کر تبلیغ دین اور تذکیر وارشاد کا جذبہ رکھتے تھے اور اُن کے عہد میں بکثرت عجمی ممالک بھی فتح ہو چکے تھے جن کے باشندے عربی نہ سمجھتے تھے۔ مگر ان بزرگوں نے بھی عربی کے سوا کسی دوسری زبان میں خطبہ جاری نہیں کیا۔ اسی بنا پر متقدمین اور متاخرین میں سے ایک گروہ کثیر نے یہ رائے قائم کی ہےکہ صحت خطبہ اور ادائے سنت کےلیے خطبہ کا عربی میں ہونا شرط ہے۔ صرف ایک امام ابوحنیفہ ہیں جو غیر عربی خطبہ کو مطلقاً جائز رکھتےہیں۔ان کے سوا سلف میں اور کوئی نہیں جو اس کے جواز کا قائل ہو (١)
١- امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہا اللہ کے متعلق بعض روایات میں آیا ہے کہ وہ خطبہ کےمسئلہ میں امام اعظم سےمتفق ہیں ۔ اور بعض روایات میں یہ ہےکہ وہ صرف اُس شخص کے لیے غیر عربی خطبہ کو جائز رکھتے ہیں جو عربی زبان میں خطبہ دینے پر قادر نہ ہو۔
ہمارے نزدیک اس استدلال میں متعدد اصولی غلطیاں ہیں۔ اولین غلطی یہ ہےکہ یہ حضرات شرعی عمل اور عادی و طبیعی عمل میں فرق نہیں کرتے جس کی طرف ہم ابتداء اپنے چوتھے مقدمے میں اشارہ کر آئے ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان عربی تھی ۔ آپ کے مخاطب بھی عرب تھے یا ایسے مجھی تھے جو عرب میں رہتے تھے اور عربی جان گئے تھے مثلاً سلمان فارسی ۔ اگر آپ ان کے سامنے عربی میں خطبہ نہ دیتے تو اور کس زبان میں دیتے؟ نبی عربی کا اہل عرب کے سامنے عربی میں تقریر کرنا ایک طبعی فعل ہے۔اس کو حجت شرعی بنانا کس طرح درست ہوسکتا ہے؟اگر آپ نےیہ فرمایا ہوتا کہ خطبہ عربی ہی میں دیا کرو اور کوئی دوسری زبان اس غرض کے لیے نہ استعمال کرو تو بلا شبہ یہ ارشاد حجت شرعی ہوتا۔ لیکن جب کہ آپ نے ایسا نہیں فرمایا تو خطبۂ عربیہ کو محض اس بناء پر "سنت"قرار نہیں دیا جا سکتا کہ حضور نے ہمیشہ عربی میں خطبہ دیا ہے ۔ اس طرح کے طبیعی اور عادی افعال کو شرعی اصطلاح میں سنت قرار دینے کے تو یہ معنی ہوں گے کہ عربی زبان میں گفتگو کرنے کو بھی مسنون ٹھیرایا جائے۔ کیونکہ حضور نے تمام عمر اسی زبان میں کلام فرمایا ہے اور غیر عربی میں گفتگو کرنا آپ سے ثابت نہیں ہے۔ اس کے جواب میں اگر کوئی یہ کہےکہ آپ کا عربی میں نماز پڑھنا بھی ایک طبیعی فعل تھا۔پھر تم اس کو کس بنا پر شرعی فعل قرار دیتےہو؟ تو اس کےجواب میں ہم کہیں گے کہ نماز کے لیے عربیت کا وجوب محض اس بنا پر نہیں ہے کہ حضور نے ہمیشہ عربی میں نماز پڑھی ہے بلکہ اس طبیعی عمل کے ساتھ شرعی حکم بھی موجود ہے اور متعدد مصالح شرعیہ بھی اس کے ساتھ وابستہ ہیں جن کو پہلے ہم بیان کر چکے ہیں اس لیے عربی زبان میں نماز ادا کرنا واجب قرار پایا ہے۔ بخلاف اس کے عربی نہ جاننے والےلوگوں کے سامنے عربی میں خطبہ دینا کسی مصلحت شرعی کا حامل نہیں۔ بلکہ اس سے شریعت کے مقاصد الئے فوت ہو جاتے ہیں۔ لہذا اس کو محض اس دلیل سےلازم قرار نہیں دیا جا سکتا کہ رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی جاننے والے لوگوں کے سامنے ہمیشہ عربی میں خطبہ دیا ہے۔
استدلال مذکور کی دوسری غلطی یہ ہے کہ اس میں زمانے اور حالات کے اختلاف سے قطع نظر کر لیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جو عجمی الاصل لوگ مجالس نبو یہ میں حاضر ہوتے تھے وہ زیادہ تر وہی تھے جو عربی زبان سےواقف تھےاور اگر بفرض محال ان میں کوئی اکا دکا ایسا ہو بھی جو عربی سےناواقف ہو توظاہر ہےکہ عربی بولنےوالوں کےكثير التعداد گروہ کو چھوڑ کر اُس ایک شخص یا دو چار شخصوں کی خاطر خطبہ کی زبان نہیں بدلی جاسکتی تھی(١)پھر عہد نبوی کےبعد جب صحابہ کرام فتح و ظفر کےجھنڈےلےکر عجمی ممالک میں پہنچےتو ان کی حیثیت ایک حاکم قوم کی تھی۔ان کےپاس سیاسی طاقت تھی۔وہ غالب تھےمغلوب نہ تھے وہ دوسروں کےسمجھانےکےحاجت مند نہ تھےبلکہ دوسرےخودان سےسمجھنےکےحاجت مند تھے۔ ان کے اندر اتنا بل ہوتا تھا کہ اپنی زبان کو دوسرےملکوں میں پھیلا دیں اور درحقیقت انھوں نےبخارا سےلےکر اسپین تک اسے پھیلا کر ہی چھوڑا۔حتی کہ ان کےفتح کردہ اکثر و بیشتر ممالک کی اصلی زبانیں عربی زبان کے مقابلےمیں قریب قریب فنا ہو گئیں۔پھر ان کو کیا ضرورت تھی کہ اپنی زبان کو چھوڑ کر مفتوح قوموں کی زبانوں میں خطبے دیتے ؟ لیکن آج وہ حالت نہیں ہے۔ مدتیں ہوئیں کہ عربیت کا غلبہ ختم ہو چکا ہے۔ دنیائے اسلام کے بیشتر ممالک میں اب صدیوں سےعربی زبان کا چرچا نہیں ہے اور سیاسی و علمی ضعف کی بناء پر روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے۔ عربی کےپاس اب وہ طاقت ہی نہیں ہےجس سےوہ پھیلےاور زبانوں پر چھائےاس کمزوری کی حالت میں اس طرز عمل پر اصرار کرنا کیونکر درست ہو سکتا ہےجو صحابہ کرام اور ان کے قریب العبد لوگوں نے غلبہ وطاقت کے عہد میں اختیار کیا تھا؟
تیسری غلطی یہ ہے کہ سلف صالح نے جو رائے مخصوص حالات میں قائم کی تھی اس کو شرعی معنوں میں اجماع کی حیثیت دی جارہی ہے۔ جیسا کہ ہم اُو پر عرض کر چکے ہیں ۔صدر اول کے تمام اکابر غالب اور فاتح قوم کےلوگ تھے۔اگر چہ اسلام نے ان کو وطنی اور نسلی اور لسانی عصبیتوں سے پاک ضرور کر دیا تھا، مگر یہ کیونکر ممکن تھا کہ ان کے اندر وہ کیفیات پیدا نہ ہوتیں جو طبعا ہر قوم میں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا مفتوح قوموں کی زبانوں سےپرہیز کرنا اور اپنےآپ کو اُن کی بولیوں سےبچانا اور ان کے اندر اپنی زبان پھیلانے کی کوشش کرنا اور اپنے آپ کو اُن کی بیویوں سے بچانا اور ان کے اندر اپنی زبان پھیلانے کی کوشش کرنا ایک طبعی امر تھا اور غلبہ وطاقت کی فطرت ہی اس کی مقتضی تھی کہ یہ بات اُن میں پیدا ہو۔ اس پر مزید یہ کہ اُن کی زبان قرآن اور سنت کی زبان تھی۔ اسلام کا سارا سرمایہ اسی زبان میں تھا۔ اسلام کی اصلی اسپرٹ کا تحفظ خالص عربیت کے تحفظ ہی پر موقوف تھا۔ اس چیز نے ان کے اندر زبان کی حد تک عربیت کا تعصب اور بھی زیادہ پیدا کر دیا تھا۔ یہی وجہ ہےکہ اکا بر سلف کسی حال میں بھی عجمی زبان بولنےکو پسند نہ کرتےتھے ۔ حتی کہ عجمی الفاظ کا استعمال بھی ان کو گوارا نہ تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھےکه لا تتعلموار طافة الاعاجم” عجمیوں کی بولی نہ سیکھو ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کےسامنے ایک مرتبہ نو روز کا ہدیہ پیش کیا گیا۔ آپ نے دریافت فرمایا کیا ہے؟ عرض کیا گیا آج نو روز ہے۔ آپ نو روز کا لفظ سن کر چین بچین ہو گئے ۔ محمد بن سعید بن ابی وقاص نےایک جماعت کو فارسی بولتے سنا تو کہنے لگے مابال المجوسية بعد ۔” یہ مجوسیت لوگوں میں کہاں سےگھس آئی؟‘ امام احمد ابن حنبل سے پوچھا گیا کہ عجمی زبان میں دُعا کرنا کیسا ہے؟ فرمانے لگے: لسان سوء ”بری زبان ہے ۔ امام مالک فرمایا کرتے تھے کہ عجمی زبان میں نہ دُعا مانگو اور نہ قسم کھاؤ“۔ امام شافعی عربی زبان کے سوا ہر دوسری زبان میں بات چیت کرنےکو مکروہ قرار دیتے تھےیہی حال اُس زمانے کے اکثر فقہا کا تھا۔ وہ عجمی زبان کے استعمال کو عموماً اور دعا و ذکر میں اس کے استعمال کو خصوصاً بُرا سمجھتے تھے۔ ان بزرگوں کےاس طرز عمل پر اگر آپ غور کریں گےتو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ دراصل کسی شرعی بنیاد پر نہ تھا بلکہ ایک بڑی حد تک اس طرز عمل کی بنا فطری اسباب پر تھی اور حالات کی طاقت نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ورنہ یہ بالکل ظاہر ہے کہ اسلام کو وطنی اور لسانی عصبیت سے کوئی علاقہ نہیں۔ وہ کسی خاص قوم کا مذہب نہیں ہے۔ نہ وہ اس لیے آیا ہے کہ کسی خاص زبان کی حمایت کرے اور بس ایک ہی زبان بولنے والوں کا دین بن کر رہ جاۓ۔
١- اس مقام پر یہ جاننا فائدے سے خالی نہ ہوگا کہ نبی صلی اللہ علہ وسلم نے غیر عرب لوگوں سےخط و کتابت کرنے کےلیےاپنے سیکرٹری حضرت زید بن ثابت کو سریانی زبان کی تعلیم دلوائی تھی۔(ملاحظہ ہو الاستیعاب لا بن عبد البر جلد اول، ص۱۸۹) ۔ اسی طرح بعض دوسرے صحابہ کے متعلق یہ ذکر ملتا ہے کہ انھوں نے غیر زبانیں سیکھی تھیں۔
بزرگان سلف نےعجمی زبانوں کی کراهت اور ان سےاجتناب اور دینی و دنیوی اغراض کے لیے ان کے استعمال کی ممانعت پر جو زور دیا تھا اس کا ایک سبب اور بھی تھا۔صدر اول کی تاریخ پر آپ نظر ڈالیں گےتو آپ کو معلوم ہوگا کہ اُس زمانے میں عرب کےسوا دوسری قومیں عموماً غیر مسلم تھیں اور اسلام زیادہ تر عربی قوم میں ہی تھا۔ اس صورت حال نےاس وقت عربیت کو اسلام کا اور عجمیت کو کفر کا ہم معنی بنا رکھا تھا۔ مجھی قوموں کے جو افراد اسلام لاتے تھے اُن کا رشتہ ملتِ کفر سے توڑنے کے لیے اور ملتِ اسلام میں اُن کو جذب کرنے کے لیے ناگزیر تھا کہ ان کو عربیت کے رنگ میں رنگنےکی کوشش کی جاتی اور ان کی معاشرت لباس، آداب و اطوار بول چال ہر چیز کو بدل ڈالا جاتا۔ کیونکہ باطنی تغییر کی تکمیل خارجی تغیر کےبغیر نہیں ہو سکتی۔اگر ان کو محض مسلمان بنا کر چھوڑ دیا جاتا اور تمدنی ولسانی اور ادبی حیثیت سے وہ بدستور کا فراقوام کا جز بنےرہتے تو کفر کے سمندر میں اسلام کے یہ چھوٹےچھوٹےجزیرے پیدا ہونے کے ساتھ ہی فنا بھی ہوتے چلےجاتےیہ حالت ایک طویل مدت تک رہی۔ اس کےبعد جب دوسرے ممالک کی بڑی بڑی قومیں مسلمان ہو گئیں تو عربیت اور اسلام کے ہم معنی ہونے کی وہ کیفیت جو ابتدائی صدیوں میں تھی باقی نہ رہی۔ اب ترکی فارسی، اردو اور دوسری مسلمان قوموں کی زبانیں کفار کی زبانیں نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کی زبانیں ہیں۔اب عربی لباس اور عربی طرزِ معاشرت بھی لازمی طور پر شعار اسلام نہیں ہےہندوستان میں مسلمانوں کا جو عام لباس ہے وہ بھی اسی طرح شعارِ اسلام ہےجس طرح عربی لباس۔ علیٰ ہذا القیاس دوسرے اسلامی ممالک میں بھی ہر وہ لباس اور ہر وہ طرز معاشرت، جس سے مسلمان غیر مسلموں کے مقابلے میں ممیز ہوتے ہیں یقیناً اسلامی شعار ہی ہےپس اب حالات کے بدل جانے کے باوجود فقہائے اسلام کا عربیت پر اُس طرح زور دینا درست نہیں جس طرح صدر اوّل کے فقہا بالکل مختلف حالات میں زور دیتےتھے۔ہمارے نزدیک متاخرین کی یہ ایک اُصولی غلطی ہے کہ وہ متقدمین کےزمانے اور ان کے حالات کو نہیں دیکھتے اور آنکھیں بند کر کے اُن کے اقوال سے استناد کرنے لگتے ہیں۔
خطبۂ عربیہ کے لزوم پر ایک دلیل یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ خدا کا کلام اور اسلام کے تمام احکام زبان عربی میں ہیں اور ہر مسلمان پر عربی سے واقف ہونا لازم ہے۔ اگر لوگ عربی کی تحصیل میں غفلت کرتے ہیں اور عربی نہیں سمجھتے تو یہ ان کا قصور ہے۔ ان کی خاطر خطبہ کی زبان بدلنا کیا ضرور؟
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے عربی سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر انھیں اپنے دین کی سمجھ حاصل نہیں ہو سکتی۔ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ مسلمانوں میں گمراہیوں کے پھیلنے کا ایک بڑا سبب یہی ہے کہ علم دین کے اصل ماخذ تک ان کی رسائی نہیں۔ اسی لیے ہم نے خود بارہا اس ضرورت کا اظہار کیا ہے اور ہماری قطعی رائے یہ ہے کہ مسلمانوں کی تعلیم میں عربی زبان کو لازمی طور پر شامل ہونا چاہیے۔ لیکن ہے اور ہونا چاہیئے میں بہت فرق ہے۔ جو کچھ ہونا چاہیے اس کے لیے کوشش کیجیے۔مگر جو کچھ فی الواقع ہے اس سے آنکھیں بند نہ کر لیجیے اور واقعات کی پروا نہ کیجیے۔ آپ کے حالات تو یہ ہیں کہ آپ کے ہاں مسلمانوں کے لیے عربی تو در کنار دین کی ابتدائی تعلیم تک لازم نہیں ہے اور اس پر آپ کے حکم کی کیفیت یہ ہے کہ مسلمان اگر عربی نہیں سمجھتے تو آپ فرماتے ہیں کہ ہمیں اس کی پروا نہیں، ہم تو عربی ہی میں خطبہ سنائیں گے۔ کیا عربی خطبہ پر آپ کے اصرار کا یہ نتیجہ نکلنے کی کوئی اُمید ہے کہ مسلمان محض اس کو سمجھنےکےلیےعربی زبان سیکھنے پر مجبور ہو جائیں؟
تیسری دلیل جو پیش کی جاتی ہے وہ نسبتا زیادہ وزنی ہے۔ یعنی یہ کہ عربی زبان کےسوا دوسری زبانوں میں خطبہ کےجاری ہونے سے اسلام میں لسانی قومیتوں کی بنا پڑنے کا خوف ہے۔ جمعہ تو تمام مسلمانوں کو بلالحاظ نسل اور زبان و وطن ایک جگہ جمع کرنا چاہتا ہےمگر غیر عربی خطبہ اُن کو چھانٹ دے گا اور مختلف زبانیں بولنے والوں کے جمعے الگ الگ کرا کے چھوڑے گا۔
یہ خطر و یقیناً اہمیت رکھتا ہے۔ مگر اس کا علاج کچھ زیادہ دشوار نہیں ۔ ہونا یہ چاہیےکہ خطبہ کا ایک حصہ تو لازماً عربی زبان میں ہو اور اسے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے آل و اصحاب پر صلوۃ و سلام اور آیات قرآنی کی تلاوت کے لیے مخصوص کر دیا جائے۔ اس کے بعد دوسرا حصہ جس میں احکام اور مواعظ اور ضروریاتِ زمانہ کے لحاظ سےاسلامی تعلیمات ہوں وہ ایسی زبان میں ہونا چاہیے جس کو حاضرین یا اُن کی اکثریت سمجھتی ہو اور اس غرض کے لیے بھی زیادہ تر آن زبانوں کو ترجیح دی جانی چاہیے جو مسلمانوں میں بین الاقوامی حیثیت رکھتی ہوں۔ مثلا ہندوستان میں صوبہ دار زبانوں اور مقامی بولیوں کے بجائے زیادہ تر اُردو زبان کا خطبہ ہونا چاہیے کیونکہ اسےقریب قریب ہر صوبہ کے مسلمان سمجھتے ہیں۔البته دُور دراز کے گوشوں میں جہاں اُردو سمجھنےوالے کم ہیں، مقامی زبانوں کو خطبہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جہاں مسلمانوں کا بین الاقوامی اجتماع ہو وہاں عربی کے سوا کسی دوسری زبان میں خطبہ نہ ہونا چاہیے۔
یہاں تک جو کچھ ہم نےعرض کیا ہےوہ صرف شرعی مسئلہ سےمتعلق تھا۔ یعنی قانون کی حد تک ہمارے نزدیک غیر عربی خطبے میں کوئی حکم شرعی مانع نہیں ہے اور جو لوگ اس کو نا جائز یا مکروہ تحریمی یا خلاف سنت قرار دیتے ہیں وہ ہماری رائے میں غلطی کرتےہیں۔ لیکن اس مسئلہ کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ احکام سے نہیں بلکہ عملی مشکلات اور قباحتوں سے تعلق رکھتا ہے۔
عام فہم زبان میں خطاب ہونےکی ضرورت جس بنا پر ظاہر کی جاتی ہےوہ تو یہی ہےکہ لوگ جب اسکو سمجھیں گےتو فائدہ اٹھا ئیں گےگویا اصل مقصود سمجھنا نہیں بلکہ فائدہ اُٹھانا ہےلیکن اگر صورت یہ ہو کہ بجائےفائدے کے الٹا نقصان ہونے لگئے تو ایسی صورت میں غالباً ہر صاحب عقل یہی کہے گا کہ ایسا سمجھنےسے نہ سمجھنا بہتر ہے۔ اب زرا اپنی قوم کی حالت کا جائزہ لیجیے۔
آپ کے ہاں امامت کا معیار حد سے زیادہ پست ہو چکا ہے۔ جو منصب مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں سب سے زیادہ اہم تھا، وہ اب سب سے زیادہ غیر اہم ہے۔ جس منصب کےلیے بہتر سے بہتر آدمی منتخب کرنے کا حکم تھا اب اس کےلیےبدتر سےبدتر آدمی چھانٹا جاتا ہےمسلمانوں کے ذہن میں اب امام کا تصور یہ ہے کہ جو شخص دُنیا کےکسی اور کام کا نہ ہو اس کو مسجد کا امام ہونا چاہیےدس پانچ روپیہ تنخواہ اور دونوں وقت کی روٹی مقرر کر دی اور کسی نیم خواندہ ملا کو رکھ لیا۔یہ گویا مسجد کی امامت کا انتظام ہو گیا۔امامت کو اس درجہ پست کر دینےکا نتیجہ یہ ہےکہ ہماری مسجدیں، وہی مسجد میں جنھوں نےکبھی ہماری قوم کے قصر فلک بوس کی تعمیر کی تھی، آج ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں جو بےعلم جنگ نظر پست حوصلہ اور دنی الاخلاق ہیں۔ کیا آپ ان لوگوں سے امید رکھتے ہیں کہ یہ اردو میں خطبے دے کر آپ کی دینی و دنیوی رہنمائی کرسکیں گے؟
اس گروہ کو چھوڑ کر اگر آپ نے جمعہ کی امامت کے لیے کسی دوسرے گروہ کا انتخاب کرنا چاہا تو لا محالہ اس کے لیے آپ کو علماء ہی کے طبقے کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور باستثناء چند اس طبقے کے سواد اعظم کا جو حال ہے اسے بیان کرنا گویا اپنی ٹانگ کھولنا اور آپ ہی لاجوں مرنا ہے۔ ان حضرات کو اگر آپ نے عام فہم زبان میں من مانے خطبےدینے کا موقع دیا تو یقین جانیے کہ آئے دن مسجدوں میں سر پھٹول ہوگی ۔ اس لیے کہ ان میں کا ہر شخص اپنا ایک الگ مشرب رکھتا ہے اور اپنے مشرب میں وہ اتنا سخت ہےکہ دوسرے مشرب والوں کےساتھ کسی قسم کی رعایت کرنا اس کےنزدیک گناہ سےکم نہیں۔پھر اللہ نےاس کی زبان میں ایک ڈنک رکھ دیا ہے جس سے دلوں کو زخمی کیے بغیر وہ کوئی بات نہیں کر سکتا۔ وہ جس ماحول سے تعلیم و تربیت پا کر آتا ہے اور جس ماحول میں زندگی بسر کرتا ہے وہاں دین کےمہمات اور قوم کے مصالح کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔ تمام دلچسپیاں سمٹ کر چند چھوٹی چھوٹی نزاعی باتوں میں جمع ہو گئی ہیں۔اس لیےلامحالہ جب وہ زبان کھولےگا انھی مسائل پر کھولےگا۔نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ کےگھر میں گالم گلوچ اور جوتی پیزار ہوگی اور آخر کار ہر مشرب کے مسلمان اپنے جمعے الگ الگ قائم کرنے لگیں گے۔ یہ تو مذہبی ذہنیت رکھنے والوں کا حال ہوا۔ رہے نئے تعلیم یافتہ حضرات جو ان مسائل سےدلچپسی نہیں رکھتے تو ان پر ایک دوسری مصیبت نازل ہوگی۔ وہ ہر جمعہ کو رسول اللہ کے منبر سے وہ موضوع اور ضعیف روایتیں اور لا طائل کہانیاں اور احکام اسلامی کی غلط تعبیریں سنیں گے جن کوسُن کر غیر مسلموں کا مسلمان ہونا تو در کنار ذی ہوش مسلمانوں کا مسلمان رہنا بھی مشکل ہے۔
مذہبی دھڑے بندیوں کے علاوہ اب مسلمانوں میں سیاسی دھڑے بندی کا بھی زور ہو رہا ہے۔ جہاں کہیں مولوی قسم کے مسٹروں یا مسٹر قسم کے مولویوں کو امامت و خطابت کا موقع مل گیا ہے وہاں وہ نہایت منہ پھٹ اور بے لگام طریقےسےاپنےسیاسی مسلک کی تائید اور مسلک مخالف کےلوگوں کی تذلیل و تضحیک و تفسیق کرنےلگےہیں۔یہ ایک اور فتنہ ہےجو اگر کچھ زیادہ بڑھ گیا تو مسلمانوں کےلیےمل کر نماز پڑھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔مسجدوں میں وہ کچھ ہونے لگا ہےجو پولنگ اسٹیشنوں پر ہوا کرتا ہےاور بالآخر ہر سیاسی مسلک کے لوگوں کی مسجد میں الگ ہو کر رہیں گی۔
خطبہ غیر عربیہ کے اجرا سے پہلے آپ کو ان خرابیوں کا کوئی علاج سوچنا چاہیے۔میری رائے میں ان کا علاج صرف یہی ہو سکتا ہے کہ اہل علم کی کوئی معتدل جماعت خطبات جمعہ کی تیاری کا کام اپنے ہاتھ میں لے اور ایسے خطبےلکھے جو نزاعی مسائل سے پاک ہوں اور مسلمانوں میں صحیح دینی رُوح پھو لنے والے ہوں ۔ پھر ہندوستان میں ہر جگہ صحیح الخیال اور بااثر لوگ کوشش کریں کہ اسی مرکزی جماعت کے تیار کیے ہوئے خطبےنماز جمعہ میں پڑھے جائیں۔اگر ایسی کوئی تعظیم ہو جائے(جس کی اُمید کم ہی نظر آتی ہے)تو خطبہ غیر عربیہ کے اجرا میں میری تحقیق کی حد تک کوئی امر شرعی مانع نہیں ہے۔ لیکن اگر یہ تنظیم نہ ہو سکے تو مصلحت کا اقتضا یہی ہے کہ عربی کے انھی پرانے خطبوں کو چلنے دیا جائےجن سے کوئی مفید نہیں تو مضر نتیجہ بھی برآمد نہیں ہوتا ۔ البته اگر خوش قسمتی سےکوئی موزوں خطیب میسر آجائےاور وہ اس خدمت کو باحسن وجوہ انجام دے سکے تو اس سے فائدہ اُٹھانے میں دریغ بھی نہ کرنا چاہیے۔
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |