"علماء احناف جمعہ کے لیے شہر کی شرط ابھی تک لگائے جاتےہیں ۔ حالانکہ شہروں کی حالت اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہاں دیہاتی مسلمانوں کو ( جو تمدن جدید کے مکروہات سے ابھی بہت کچھ محفوظ ہیں) جانے سے جس قدر روکا جائےاتنا ہی بہتر ہےمیں ایک موضع کا مالک ہوں جس میں مسجد تعمیر کی ہے اور ایک مکتب دینیات جاری کیا ہے ۔ اردگرد کے دیہات میں تھوڑی تھوڑی اسلامی آبادی ہے۔ وہ جمعہ کے جمعہ یہاں نماز کو آ جاتے ہیں اور قرآن شریف کا درس جمعہ کا خطبہ اور کچھ وعظ سن جاتے ہیں۔ مدرس مکتب نماز یاد کراتا ہے اور جن کو صحیح یاد نہیں اُن کی نماز صحیح کراتا ہے۔ رمضان شریف میں مجمع بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔مگر علماء اس جگہ کے جمعہ کو جائز نہیں بتاتے ۔ میں جمعہ کی نماز بند کر دوں تو یہ لوگ ہرگز شہر کو نہ جائیں گے۔ اگر ان کو کہا جائے کہ یہاں جمعہ نہیں ہو سکتا،جمعہ کےروز یہاں آکر ظہر کی نماز پڑھ جایا کرو تو اسےکوئی نہیں مانتا۔ جمعہ کی عظمت اور ثواب ہی کا اثر ہےجس کے باعث یہ لوگ آٹھویں روز نماز پڑھنےآجاتےہیں۔مجھے فکر ہے کہ اگر یہاں جمعہ کی نماز نہ ہوئی تو دیہات کے لوگ اس تعلیم اور وعظ سے بھی محروم ہو جائیں گے ۔ یہاں سے قریب چند میل کےفاصلےپر ایک شہر ہے جہاں کئی مسجدوں میں جمعہ ہوتا ہےمگر وہاں کوئی عالم صحیح خیالات کا نہیں جس سےکسی مفید تحریک کی اُمید ہو۔ اور شہر کےبازاروں میں سب کچھ وہی ہے جو آج سب جگہ ہے۔ اور کچھ نہیں تو جو دیہاتی وہاں جائے گا وہ کچھ نہ کچھ فضول خرچی تو کر ہی آئے گا۔ میری خواہش ہے کہ جناب اس کے متعلق ضرور کچھ نہ کچھ تحریر فرمائیں۔
دیہات میں نماز جمعہ قائم کرنے کا مسئلہ ایک سخت اختلافی مسئلہ ہے اور اس پر قدیم زمانے سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔ ایسے مسائل میں کوئی ایسی بحث تو نہیں کی جاسکتی جو اختلافات کو بالکل رفع کر دے۔ البتہ میں کوشش کروں گا کہ اس مسئلے میں میرےنزدیک جو مسلک درست ہے اُسے واضح طور پر بیان کر دوں ۔
سب سے پہلے ضروری ہے کہ جمعہ کی شرعی حیثیت اور اقامت جمعہ سے شارع کےمقصود کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے ۔ پھر یہ دیکھا جائے کہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ میں اقامت جمعہ کے متعلق کیا ہدایات دی گئی ہیں اور ان ہدایات میں کیا مصالح پوشیدہ ہیں۔نیز اس امر کی تحقیق بھی کی جائے کہ ان ہدایات کی بنا پر اقامت جمعہ فی القریٰ کے جواز اور عدم جواز میں آئمہ مجتہدین کے درمیان جو اختلافات ہوئے ہیں، ان میں سے ہر ایک گروہ نے شارع کے پیش نظر مقاصد و مصالح کو کس حد تک ملحوظ رکھا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ بات بخوبی سمجھ میں آسکے گی کہ اب انھی مقاصد و مصالح کا لحاظ کرتے ہوئے جواز و عدم جواز میں سے کون سا پہلو اختیار کرنا زیادہ صحیح اور مناسب ہوگا۔
شریعت اسلامی کےاحکام میں تدبر کرنےسے یہ بات ہم کو واضح طور پر معلوم ہوتی ہےکہ شریعت صرف انفرادی اصلاح و تزکیہ ہی کو اپنا آخری اور انتہائی مقصود نہیں بناتی ہے بلکہ اصلاح یافتہ اور تزکیہ شدہ افراد کو باہم جوڑ کر محققین و صالحین کی ایک ایسی جماعت بھی بنانا چاہتی ہےجو زمین میں خلافتِ النبی کےفرائض کو ادا کرےاور ایک ایسا تمدن وجود میں لائےجس میں انسانی فطرت کی بھلائیوں کو نشو و نما دینےاور برائیوں کو دبا دینےکی قوت ہو۔ یہ چیز شریعت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے تمام احکام کا رجحان خالص انفرادیت کے بجائے اجتماعیت کی طرف ہے۔ وہ اگر چہ اپنی پوری قوت افراد کے تزکیہ و تصفیہ پر صرف کرتی ہے مگر اس کام میں اُس کے پیش نظر محض فرد کو کیفیت فرد ہی کے پاک کر دینا نہیں ہوتا بلکہ اسے پاک کر کے ایک بہترین سوسائٹی کی رکنیت اور کارکنی کے لیے تیار کرنا بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے افراد کے لیے جتنی تدبیریں اختیار کی ہیں وہ کم و بیش سب کی سب ایسی ہیں جو فردا فردا ان کا تزکیہ بھی کرتی ہیں اور اس کے ساتھ اُن کو باہم جوڑ کر ایک اعلیٰ درجہ کی جماعت بھی بناتی ہیں۔
مثال کے طور پر روزے کو لیجیے۔ یہ بجائے خود صرف فرد کے تزکیہ نفس کا ذریعہ ہے۔لیکن شارع نے ایک ہی زمانے میں ۳۰ دن کے روزے تمام مسلمانوں پر فرض کیےتا کہ وہ اسی مزکی و مطہر حالت میں اس اجتماعی عبادت کے ذریعہ سے صالحین و متفقین کی ایک جماعت بن جائیں۔ زکوۃ کو دیکھیے ۔ اس کی تو بنیادی اجتماعیت پر ہے۔ یہ ایک نفس کا تزکیہ ہی اس طرح کرتی ہے کہ وہ دوسرے نفس یا نفوس کی امداد و اعانت کرے ۔ حج کو دیکھیےاس میں اجتماع کا پہلو اس قدر نمایاں ہےکہ اس کو نمایاں کرنےکی حاجت ہی نہیں۔ان سب کے بعد نماز کو لیجیے جو ان سب سےزیادہ اہم ہے اور افراد کو صلاح و تقویٰ کی تربیت دینے کےلیے سب سے زیادہ کارگر تدبیر ہے۔ وہ ہر روز پانچ مرتبہ وہی کام کرتی ہے جو سال میں تیس مرتبہ روزہ اور سال میں ایک مرتبہ قربانی اور عمر بھر میں ایک مرتبہ حج کرتا ہےاس عبادت میں بھی شارع نےتربیت افراد کےساتھ مدنیت صالحہ کی تاسیس اور جماعتِ علقین کی تنظیم کا مقصد پیش نظر رکھا ہے۔ وہ روزانہ پانچ مرتبہ نماز کو باجماعت ادا کرنے کا حکم دیتا ہے تا کہ کم یا زیادہ جتنےبھی مسلمان کہیں جمع ہوں یا جمع ہو سکتے ہیں، وہ سب مل کر فریضہ ادا کریں۔ پھر وہ ہفتہ میں ایک مرتبہ ایک خاص وقت اس غرض کے لیے مقرر کرتا ہےکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان یک جا مجتمع ہوں اور مل کر با قاعدگی کے ساتھ خدا کا ذکر سنیں اور اس کی عبادت بجالائیں۔ اس ہفتہ وار اجتماع کے بعد وہ ہر سال انتقام ماہ صیام اور یادگار اسوۂ ابراہیمی جیسے اہم نفسیاتی مواقع پر ان کو اجتماع عام کی دعوت دیتا ہے تا کہ اسی عمارت کی تکمیل ہو جس کی نماز پنج گانہ تاسیس کرتی ہے اور نماز جمعہ توسیع وتر صیص -
اس بیان سےیہ بات واضح ہو گئی کہ تمام فرض عبادات میں شارع کا رجحان اجتماعیت کی جانب ہے اور وہ ان میں سے ہر ایک میں موقع محل کی مناسبت کے لحاظ سےانفرادیت اور انتشار کو زیادہ سے زیادہ گھٹانے اور اجتماعیت کو زیادہ سےزیادہ بڑھانےکی کوشش کرتا ہےنماز پنجگانہ میں اس کا موقع نہ تھا کہ جماعت کو فرض کر دیا جاتا، کیونکہ ہر روز ہر شخص کےلیےپانچ مرتبہ جماعت کےالتزام کو فرض کر دینے میں بہت زیادہ حرج تھا۔ اس لیے صرف جماعت کی تاکید کر کے چھوڑ دیا گیا اور اجازت دے دی گئی کہ اگر کوئی شخص کسی وقت کی نماز با جماعت ادا نہ کر سکے تو تنہا پڑھ لے۔ یہ ڈھیل جو شخصی حالات و ضروریات کےلحاظ سے دی گئی تھی اس کی تلافی کے لیے ہفتہ میں ایک مرتبہ ایک ایسی نماز فرض کر دی گئی جو بغیر فرض کے ادا ہی نہیں ہوتی۔ یہی نماز جمعہ ہے ۔ اور یہ فرض چونکہ اس رعایت کے نقصان کو پورا کرنے کےلیےعائد کیا گیا ہے جو نماز پنج گانہ میں انفرادیت اور انتشار کو ایک حد تک راہ دیتی ہے اس لیے شارع کا منشا یہ ہے کہ اس فرض کو ادا کرنےمیں زیادہ سے زیادہ اجتماع ہو اور جہاں تک ہو سکے تفریق و انتشار کو دُور کیا جائے ۔
اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جمعہ کی فرضیت پر کتاب وسنت میں اس قدر زور کیوں دیا گیا ہے اور اس کی اقامت کو اتنی اہمیت کس لیے دی گئی ہے۔
اے ایمان لانے والو! جب جمعہ کے روز نماز کے لیے پکارا جائے تو دوڑ و خدا کی یاد کی طرف اور خرید و فروخت چھوڑ دو ۔ یہ تمھارےلیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
میرا جی چاہتا ہے کہ اپنی جگہ کسی کو نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کر جاؤں اور ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دوں جو جمعہ کی نماز کےلیے نہیں آتے ۔
جو شخص بلاضرورت جمعہ چھوڑ دے اس کا نام منافق کی حیثیت سےاس کتاب میں لکھا جائے گا جس کا لکھا نہ مٹایا جا سکتا ہے نہ بدلا جا سکتا ہے۔
جو کوئی اللہ اور روزہ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس پر جمعہ کے دن نمازی جمعہ لازم ہے. پھر جو کسی کھیل تماشے یا کاروبار کی خاطر اس سےلا پروائی ہر تے اللہ اس سے بے نیازی برتے گا اور وہ پاک بےنیاز ہے۔
جس نے جمعہ کی اذان سنی اور نماز کےلیے نہ آیا، پھر دوسرے جمعہ اذان کی آواز سنی اور پھر نہ آیا۔ اسی طرح مسلسل تین جمعہ تک کرتا رہا۔اس کےدل پر مہر لگا دی جاتی ہےاور اس کا دل ایک منافق کا دل بنا دیا جاتا ہے۔
غور کیجئے یہ جمعہ کے لیے دوڑنے اور کاروبار چھوڑنے کی تاکید کیوں ہے؟ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے رؤف و رحیم انسان کے دل میں تارکین جمعہ کے گھروں کو آگ لگا دینے کا جذبہ کس لیے پیدا ہوتا ہے؟ آخر جمعہ میں کیا ہے جس کی وجہ سے ترک جمعہ اور نفاق کو ہم معنی قرار دیا گیا اور اس پر اتنی سخت وعید میں بیان فرمائی گئیں؟ اس کی علت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ جمعہ کی اقامت سے دراصل اُمت مسلمہ کا قوام ہے۔ اس سے نماز پنج گانہ کے مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے۔یہ اسلام کے اُس مقصد عظیم کی تحصیل کا ایک اہم ذریعہ ہےجو حیات دُنیا کی حد تک اس کا منتہائے مطلوب ہے یعنی مدنیت فاضلہ کی تاسیس اور جمعیت صالحہ کی تشکیل۔ اس کا ضائع ہو نا گویا اسلام کے مقصد کا ضائع ہوتا ہے اور اس کی بنا کو صدمہ پہنچنا گویا اسلام کی عمارت کو صدمہ پہنچتا ہے۔
ایک یہ کہ جمعہ کی فرضیت عام نمازوں کی فرضیت سے زیادہ مؤکد ہے اور اس کی اقامت اسلام کے مقاصد اصلیہ کی تکمیل کے لیے غایت درجہ اہمیت رکھتی ہے لہذا فروعی و اجتہادی مسائل میں ان پہلوؤں سے بچنا اولیٰ ہے جن سے جمعہ ضائع ہوتا ہے اور ان پہلوؤں کو اختیار کرنا انسب ہے جن سے جمعہ قائم ہوتا ہو۔
دوسرے یہ کہ اقامت جمعہ میں شارع کے پیش نظر مدنیت و اجتماعیت ہے اور وہ اس ذریعہ سے انتشار دُور کر کے اہل ایمان کو اجتماع کی طرف لانا چاہتا ہے۔ لہذا جمعہ کو قائم کرنے میں اس امر کو خاص طور پر ملحوظ رکھنا چاہیے کہ جماعتیں منتشر نہ ہوں بلکہ زیادہ سےزیادہ اجتماع ہو۔
اب آگے بڑھیے ۔ کتاب اللہ میں جمعہ کی فرضیت اور اس کی تاکید تو اس قوت کےساتھ بیان کی گئی ہے کہ اس کی طرف دوڑنے اور اس کے لیےسب کا روبار چھوڑ دینے کا حکم ہے۔ مگر ان سوالات پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی کہ نماز کب پڑھی جائے ؟ کہاں پڑھی جائے؟ کون پڑھے اور کون نہ پڑھے؟ کن حالات میں پڑھی جائے اور کن میں نہ پڑھی جائے؟ ان سب سوالات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر چھوڑ دیا گیا اور اہل ایمان سے صرف اس قدر کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُو الْبَيْعَ - ” جب پکارا جائے جمعہ کی نماز کے لیے تو خدا کی یاد کی طرف دوڑو اور کاروبار چھوڑ دو۔"
مذکورہ بالا سوالات کے متعلق تفصیلی ہدایات ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےارشادات اور آپ کے متواتر عمل سے ملتی ہیں۔ اور مزید روشنی ان بزرگوں کے اقوال و اعمال سے حاصل ہوتی ہے جنھوں نے براہ راست حضور سے تعلیم پائی تھی ۔ ان ذرائع سےہم کو قطعی طور پر جو باتیں معلوم ہوتی ہیں وہ یہ ہیں :-
یہ وہ امور ہیں جن پر تمام امت کا اتفاق ہے کیونکہ یہ قلعی طور پر ثابت ہے۔ ان کے علاوہ جتنے جزئی امور ہیں ان میں سے کوئی بھی قطعی طور پر ثابت نہیں ہے۔ اسی لیے ان میں فقہاء کے درمیان بکثرت اختلافات ہوئے ہیں۔ مثلا یہ کہ نصاب جماعت کیا ہو؟ جمعہ کون قائم کرے؟ خطبے دو ہونے چاہئیں یا ایک ہی کافی ہے؟ وغیرہ۔
اسی قبیل سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ جمعہ کے لیے کس قسم کی بستی ہونی چاہیے اور اس بستی سے کتنے فاصلے تک کے لوگوں کو نماز کے لیے آنا چاہیے۔
امام شافعی کی رائے یہ ہے کہ ایسے قریوں میں جمعہ ناجائز ہےجن کے باشندےگرمی جاڑے میں کہیں اور منتقل ہو جاتے ہوں ۔ان کےسوا ایسےتمام قریوں میں جمعہ کی نماز ہو سکتی ہے جن میں چالیس یا اس سے زیادہ عاقل و بالغ آزاد مرد موجود ہوں۔ اس کی تائید میں وہ اُس ہدایت سے استدلال کرتے ہیں جو ابن عباس سے مروی ہے کہ مدینہ کےبعد پہلا جمعہ جو پڑھا گیا وہ بحرین کےایک قریہ جوائی میں تھا۔ نیز یہ روایت بھی ان کے دلائل میں سے ہے کہ حضرت عمرؓ نے اہل بحرین کے استفسار کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ جمعہ ادا کرو جہاں کہیں بھی ہو ۔ مگر ان میں سے پہلی روایت میں محض قریہ کا لفظ ہے جس کا کوئی مفہوم متعین نہیں ۔ کم از کم اس سے چالیس مردوں کی قید تو کسی طرح نہیں نکلتی ۔ اور ہم کچھ نہیں جانتے کہ امام صاحب کے نزدیک اس قید کا ماخذ کیا ہے ۔ رہی دوسری روایت تو وہ جس قدر امام صاحب کی تائید میں ہے اسی قدر ان کے خلاف بھی ہے۔ اس سے تو جنگل اور ویرانے میں بھی اقامت جمعہ کا جواز نکالا جا سکتا ہے حالانکہ امام صاحب اس کے ناجائز ہونے کو تسلیم کرتے ہیں ۔
حنفیہ نے جمعہ کے لیے جو مصر جامع کی شرط لگائی ہے اس کے حق میں اُن کا استدلال اس روایت سے ہے جو حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ لاجُمُعَةَ وَلَا تَشْرِيقَ وَلَا فطر ولا أَضْحَى إِلا في مصر جامع-(١) نیز وہ اس بات سے بھی دلیل لاتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جب ممالک فتح کیے تو دیہات میں کہیں بھی منبر نصب نہیں کیے۔گویا جمعہ کے لیے مصر کے شرط ہونے پر صحابہ کا اجماع ہے۔
١- اس روایت کو ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں اور عبدالرزاق نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔لیکن دونوں کے ہاں یہ حضرت علی کے اپنے قول ہی کی حیثیت سے ہے۔ نبی کریم کی طرف اس کو منسوب نہیں کیا گیا۔
لیکن مصر کی تعریف میں خود حنفیہ کے درمیان اختلافات ہیں، حتی کہ خود امام ابو حنیفہ کے بھی دو مختلف قول ہیں۔ مثال کے طور پر چند اقوال ملاحظہ ہوں :-
اب یہ امر غور طلب ہے کہ اوّل تو ”مصر“ کےشرط ہونے پر اُمت کا اجماع نہیں ہے بلکہ محدثین اور فقہاء کی ایک کثیر جماعت اس سےاختلاف رکھتی ہے دوسرے یہ شرط اگر ثابت بھی ہو تو واضح طور پر یہ معلوم نہیں کہ مصر کہتے کس کو ہیں۔ ایسی حالت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کی مختلف فیہ اور مہم شرط کے فقدان پر کیا نماز جمعہ جیسےمؤکد اور اہم فریضہ کو مسلمانوں کی آبادی کے ایک کثیر حصےپر سےساقط قرار دینا مناسب ہے؟میں سمجھتا ہوں ایک طرف تقویٰ اور دوسری طرف تلقہ اس کا مقتضی ہےکہ اسقاط فرض کا فتوی دینےسے پہلے ہم یہ تحقیق کرنے کی کوشش کریں کہ آئمہ مجتہدین رحمہم اللہ کے اختلافات کا منشا کیا ہے وہ جمعہ کے معاملہ میں شارع کا مقصد کیا سمجھے ہیں اور اسے پورا کرنے کے لیے جو عملی شکلیں انھوں نے اختیار کی ہیں ان کی اندرونی حکمت کیا ہے۔ شاید کہ اس طرح ہمیں ایک ایسا معتدل مسلک ہاتھ آ جائے جس سے ہماری آبادیوں کا ایک بڑا حصہ جمعہ کی برکات سے متمتع ہو سکے۔
آئمہ مجتہدین میں سے ہر ایک نے ان دونوں پہلوؤں پر نظر رکھی ہے اور دونوں کو مرگی رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس معاملہ میں اشکال یہ واقع ہوتا ہے کہ بعض حالات میں یہ دونوں پہلو جمع نہیں ہو سکتے ۔ اگر فرضیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے تو اجتماعیت کا پہلو چھوٹ جاتا ہے۔ کیونکہ فرضیت کا تقاضا یہ ہے کہ دو چار آدمی بھی جہاں موجود ہوں وہیں فرض ادا کر دیا جائے۔ اگر اجتماعیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے تو فرضیت کا پہلو کمزور ہو جاتا ہے،کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہےکہ جہاں کافی اجتماع نہ ہو وہاں افراد پر سے فرض ساقط کر دیا جائے ۔ آئمہ مجتہدین نے اس اشکال کو دُور کرنے کے لیے دونوں پہلوؤں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
امام شافعی اور امام احمد نے چالیس آدمیوں کے اجتماع کو جمعہ کے لیے کافی سمجھا اور ہر ایسے قریہ میں اقامت جمعہ کا حکم دے دیا جہاں اجتماع کا یہ نصاب پورا ہوتا ہو ۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی فتویٰ دیا کہ اس قریہ سے جہاں جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہو وہاں کے ہر بالغ اور آزاد مرد پر نامزد کے لیے آنا فرض ہے۔
امام مالک نے اجتماع کے لیے کم سے کم ۱۲ آدمیوں کی موجودگی کو کافی قرار دیا۔لہذا ان کے مسلک کی بنیاد پر نسبتا زیادہ چھوٹے قریوں میں بھی اقامت جمعہ کا حکم دیا گیا اور ان سب لوگوں پر جمعہ کی حاضری لازمی قرار دے دی گئی جو مقام جمعہ سے چھ میل کی حد میں ہوں ۔
امام ابو حنیفہ نےمحسوس کیا کہ اسطرح قریہ قریہ میں اقامت جمعہ کی اجازت دینےسےانتشار پیدا ہوتا ہے اور اجتماع سےشارع کا جو مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوتا ۔انھوں نےیہ بھی دیکھا کہ عراق و شام وغیرہ ممالک میں جہاں عہد صحابہ کےآثار اس وقت بالکل تازہ تھےکہیں دیہات میں نہ منبر پائےجاتےہیں اور نہ جامع مسجدوں کا پتہ چلتا ہےاُن تک حضرت علیؓ کا وہ اثر بھی پہنچا جس میں تصریح ہےکہ جمعہ صرف امصار ( شہروں ) میں قائم کیا جائے۔ انھوں نے یہ بھی سنا کہ جب حجاج بن یوسف نے اہواز میں جمعہ قائم کیا تو امام حسن بصری نے فرمایا لَعَنَ اللهُ الْحَجَّاجُ يَتْرُكُ الْجُمُعَةَ فِي الْآمُصَارِ وَيُقِيمُهَا فِي حَلاقِيمِ الْبِلادِ " خدا کی لعنت ہو حجاج پر یہ کم بخت شہروں کو چھوڑ کر ملک کےگوشوں میں جمعہ قائم کرتا ہے۔ ان سب باتوں پر نظر کر کے انھوں نے فتویٰ دیا کہ ہر علاقہ کے صدر مقام میں جمعہ قائم کیا جائے اور جن جن لوگوں پر جمعہ کا فرض عائد ہوتا ہو وہ تین تین میل کے مضافات سے صدر مقام پر اکٹھے ہو جایا کریں۔
اب ہمیں ایک نظر اس زمانے کے حالات پر بھی ڈالنی چاہیے۔ وہ اسلامی حکومت کا زمانہ تھا ۔ جگہ جگہ پر گنوں اور قصبوں میں قاضی اور اصحاب شرطه (تھانہ دار ) مقرر تھے جو خصومات کے فیصلے کرتے اور مظالم کی داد رسی کرتے تھے۔ ایک کثیر جماعت کے مجتمع ہونے میں چونکہ فتنہ و فساد پیدا ہونے کا بھی احتمال ہوتا ہے۔ اس لیے اجتماع کی غرض سےایسی ہی جگہ زیادہ مناسب تھی جہاں امن قائم کرنے والے موجود ہوں۔ پھرا کا براحناف کا زمانہ وہ تھا جب عراق اور الجزیرہ اور فارس وغیرہ ممالک کی آبادی بہت زیادہ اور گھنی تھی ۔قصبات اور دیہات کثرت آبادی کےسبب سےباہم پیوسته ہو گئےتھےتمدن بھی انتہائی عروج پر تھا۔صنعت و حرفت اور تجارت کےفروغ نےقصبوں کو بھی شہر بنا دیا تھا۔انھی وجوہ سے شہر" کی وہ تعریفیں کی گئیں جو آپ نےاُوپر دیکھی ہیں۔ورنہ فی نفسہ قاضی اور کوتوال کو یا بازار اور سڑکوں کو یا دس ہزار اور تین ہزار کی آبادی کو فرضیت جمعہ کے اشتراط میں کوئی بھی دخل نہیں ہے۔ اصل شرط ”مصر“ ہے اور اس کے مدلول کو متعین کرنے کے لیے ہر فقیہ مجتہد نے وہ خصوصیات بیان کی ہیں جو اس کے پیش نظر امصار میں پائی جاتی تھیں۔
ان خصوصیات سے قطع نظر کر کے اگر دیکھا جائے کہ وہ چیز کیا ہے جس کی بنا پر مصر" کو شرط جمعہ قرار دیا گیا ہے تو معلوم ہوگا کہ وہ مرکزیت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ جو مقام کسی علاقہ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہو یا جمعہ کی غرض کےلیےمرکزی مقام ٹھیر الیا جائےوہ ”مصر“ ہےاور اس کے سوا گر دو پیش کےمقامات پر اقامت جمعہ کا نا جائز ہونا اس معنی میں نہیں ہے کہ ان مقامات کےلوگوں سےجمعہ کا فرض ساقط ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کو جمعہ کے لیے اس مرکزی مقام پر آنا چاہیے۔ اگر بغیر عذر شرعی کے وہ نہ آئیں گے تو گنہگار ہوں گے۔
اس باب میں فقہاء حنفیہ کے اقوال کی چھان بین کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر کی شرط عائد کرنے اور دیہات میں اقامت جمعہ کو نا جائز قرار دینے سے ان کا منشا بھی وہی تھا جو ہم نے سمجھا ہے۔
یہاں ”مصر قرار دینے" کا مجاز امام کوٹھیرایا گیا ہے اس لیے کہ صحیح معنوں میں اسلامی زندگی بغیر امام اور امیر کےنہیں ہو سکتی۔لیکن جہاں بد قسمتی سےمسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں امامت و امارت کامنصب باقی نہ رہا ہو کیا نا جائز ہوگا، اگر وہاں امام مالک رحمہ اللہ کے اصول پر مسلمانوں کی جماعت باہمی اتفاق سے اپنے علاقے کے کسی بڑے گاؤں یا قصبہ کو جہاں مسلمانوں کی آبادی نسبتا زیادہ ہو اور جہاں کوئی بڑی مسجد بھی موجود ہوا جمعہ کی اغراض کے لیے ”مصر“ قرار دے لے؟
وَمَنْ كَانَ مِنْ مَّكَانٍ مِنْ تَوَابِعِ الْمِصْرِ فَحُكْمُهُ حُكُمْ أَهْلِ الْمِصْرِ فِي وُجُوبِ الْجُمُعَةِ عَلَيْهِ بِأَنْ يَأْتِيَ الْمِصْرَ فَلْيُصَلَّيْهَا فِيْهِ وَاخْتَلَفُوْا فِيْهِ فَعَنْ أَبِى يُوسُفَ أَنَّهَا تَجِبُ فِي ثَلَثَةِ فَرَاسِخَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْرَمِيْلٍ وَقِيْلَ قَدْرَ مِبْلَيْنِ وَقِيلَ سِتَّةَ أَمْيَالٍ وَعَنْ مَالِكِ سِتَّةَ وَقِيلَ أَنْ أَمْكَنَهُ أَنْ يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ وَيَبِيْتُ بِأَهْلِهِ مِنْ غَيْرِ تَكَلُّفٍ تَجِبُ عَلَيْهِ الْجُمُعَةُ وَإِلَّا فَلَا قَالَ فِي الْبَدَائِعِ وَهَذَ أحْسَنُ (فتح القدير ج ا ص ۴۱۱)
اور جو شخص مصر کے مضافات کا رہنے والا ہو اس پر بھی اہل مصر کی طرح جمعہ فرض ہے اور لازم ہے کہ وہ وہاں جا کر نماز پڑھےمضافات شہر کی تعریف میں فقہاء کےدرمیان اختلاف.ابو یوسف کہتےہیں کہ وہ تین کوس کی حد میں واجب ہے۔ بعض نےایک میل، بعض نےدو میل،بعض نےچھ میل کی حد قرار دی ہے۔امام مالک نےبھی چھ میل کہا ہے اور قول یہ ہےکہ اگر کوئی شخص جمعہ میں شریک ہونے کے بعد رات آنے سے پہلے بلاکسی زحمت و تکلیف کے اپنے گھر پہنچ سکتا ہو اس پر جمعہ کی حاضری واجب ہےاپنے سکتا ہو ور نہ نہیں ۔ صاحب بدائع نے اس قول کو پسند کیا ہے۔
بعض احادیث سے بھی اس مؤخر الذکر قول کی تائید نکلتی ہے۔ چنانچہ ترندی نےابو ہریرہ سے روایت کیا ہے:۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُوْنَ الْجُمُعَةَ مِنْ مَّنَازِلِهِمْ وَالْعَوَا فَيَأْتُونَ فِي الْعُبَارِ فَيُصِيبُهُمُ الْغُبَارُ وَالْعَرَقِ فَيُخْرُجُ مِنْهُمُ الْعَرَقْ فَاتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانٌ مِّنْهُمْ وَهُوَ عِنَدِي فَقَالَ لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا -
حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ لوگ اپنی فروگا ہوں اور حوالی سےنماز جمعه کےلیےآیا کرتے تھے اور ان پر گرد اور پسینہ کی تہیں چڑھ جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف رکھتے تھے کہ ان لوگوں میں سےایک شخص آپ کےپاس حاضر ہوا۔ آپ نےفرمایا بہتر ہوتا اگر تم لوگ آج کےدن غسل کر لیا کرتے۔
پہلی حدیث تو صاف ہے۔ رہی دوسری حدیث تو اس میں یہ ذکر ہے کہ لوگ شرکت جمعہ کے لیے حوالی سے آیا کرتے تھے۔ حوالی ان دیہات کا نام ہے جو مدینہ طیبہ کے مضافات میں واقع تھے اور علامہ ابن حجر نے لکھا ہے کہ یہ دیہات مدینہ سے چار میل اور اس سے زیادہ مختلف فاصلوں پر تھے ۔ ظاہر ہے کہ جولوگ حوالی ہے اونٹ پر یا پیدل جمعہ کےلیےآتےہوں گے وہ اس ریگ زار میں شام کےلگ بھگ ہی اپنےگھروں کو واپس پہنچتےہوں گے۔ یہ اُس زمانےکی کیفیت ہےجب بسیں اور لا ریاں نہ چلتی تھیں۔اُس زمانےمیں جب لوگوں کو چھ چھ میل کے فاصلوں سے آنے کے لیے کہا گیا تو آج جب که حمل و نقل کی آسانیاں بہت بڑھ گئی ہیں، لوگوں کے لیے ہیں میں میل سے بھی جمعہ کے لیے آنا کچھ مشکل نہیں۔ تاہم اختلاف احوال کو پیش نظر رکھ کر یہ مناسب نہیں کہ فاصلہ کی مقدار میلوں کے حساب سے متعین کی جائے بلکہ وہی قید بہتر ہے جو شارع نے بیان فرمائی ہے یعنی جو شخص نماز کے بعد مغرب تک اپنے گھر بآسانی پہنچ سکتا ہو وہ اپنے علاقےکے صدر مقام میں جا کر جمعہ پڑھئے اور جو نہ پہنچ سکتا ہو وہ اپنے ہی گاؤں میں ظہر کی نماز پڑھ لیا کرے۔
اس سلسلے میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ فقہائے کرام نے مصر کی جو خصوصیات بیان کی ہیں وہ بالکل نا قابل لحاظ نہیں ہیں۔کسی دیہاتی علاقہ کے مسلمان جب اپنے علاقے کےکسی قصبہ کو جمعہ کی اغراض کے لیے "مصر" قرار دینا چاہیں تو انھیں انتخاب میں حسب ذیل خصوصیات کو ترجیح دینی چاہیے:۔
یہ امورا قامت جمعہ کے شرائط میں سے نہیں ہیں بلکہ مقام جمعہ کے انتخاب میں ان کو ملحوظ رکھنا انسب اور اولی ہے۔
| کتاب | تفہیمات، دوم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |