میری کتاب کے گزشتہ ابواب سے یہ حقیقت پوری طرح منکشف ہو چکی کہ مولانا مودودی نے اپنی تصنیف ” خلافت و ملوکیت میں جو کچھ ضمنا اور اجمالاً حضرت معاویہ کے متعلق لکھا ہے اس میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو غیر ثابت اور نقل صحیح کے خلاف ہو یا جس سے توهین وتحقیر مقصود یا لازم آتی ہو۔ یہ ایک ناگزیرعلمی و تاریخی بحث ہے جو اس وقت پیش آتی ہے جب خلافت اور ملوکیت کےمابین فرق و امتیاز بیان کیا جاتا ہے اور خلافت کے ملوکیت میں انتقال کے اسباب واضح کیے جاتےہیں۔ مولا نا محترم نے اپنی ساڑے تین سو صفحات کی کتاب میں صرف بارہ تیرہ صفحے اس بحث کی نذر کیے ہیں جس کے رد میں کتابوں پر کتابیں لکھی جارہی ہیں اور یہ ساہی پھیلتی ہی چلی جارہی ہے۔ اس لیےاس ردو کر کا جواب دینےکےلیے مجھے بھی کسی حد تک تفصیل واطناب سے کام لینا پڑا ہےاور امیر معاویہ کےمتعلق جو کچھ سلف نےلکھا ہے مجبوراً اس کے چند اجزاء نقل کرنےپڑےہیں۔آج کل افراط و تفریط کا دور دورہ ہے۔ایک طرف اگر صحابہ کرام کےمعصوم و محفوظ ہونے کا اختراعی عقیدہ وضع کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف اس کا بھی خدشہ ہے کہ بعض لوگ جائز حدود سے تجاوز کر کے امیر معاویہؓ کے شرف صحابیت اور آپ کی دینی خدمات کو نظر انداز نہ کر دیں اور آپ کو بالکل دنیا کے عام بادشاہوں اور فرمانرواؤں پر قیاس نہ کر لیں۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ حضرت معاویہ کے چند محامد و مناقب کے بیان پر اپنی بحث کا خاتمہ کروں۔
یہاں پہلے یہ واضح کر دینا بھی مناسب ہے کہ مولانا مودودی نے اگر اپنی کتاب میں حضرت معاویہ کے فضائل کی تفصیل درج نہیں کی تو اسکی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں ان فضائل کو تسلیم یا بیان کرنے سے انکار ہے۔ اسی طرح اگر انہوں نے حضرت معاویہ کے کسی فعل پر اظہار نقد و اختلاف کیا ہے، تو اس کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ کسی صحابی رسول کی ذات کو خدا نخواسته مطعون کیا جائے۔اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ خلافت و ملوکیت کوئی سیرت و سواخ یا تاریخ کی ایسی کتاب نہیں ہےجس میں اُس دور کے سارے واقعات بیان کرنے مقصود ہوتے ، بلکہ اس کا اصل موضوع چونکہ صرف وہ واقعاتی و تاریخی پس منظر بیان کرنا ہےجس کے تحت خلافت راشدہ کا دور ختم ہوا اور ملوکیت نے اس کی جگہ لی، اس لیے بحث میں ناگزیر طور پر بعض ان محلِ نظر افعال ہی کا ذکر آیا ہے جو اس تبدیلی کا باعث بنے،خواہ ان کا صدور کسی صحابی سے ہوا ہے یا غیر صحابی سے۔ جس موضوع میں صحابہ کرام کے مناقب کا بیان موقع محل کے لحاظ سے ضروری نہ ہو، وہاں ان کے عدم ذکر کا مطلب عدم اعتراف نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر میں متعد دائمہ احناف کے اقوال نقل کر چکا ہوں جنہوں نےقضاء بالیمین والشاہد کی بحث میں امیر معاویہ کے فیصلے کو بدعت کہا ہے اور وہاں ان کے مناقب کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ کیا کوئی عظمند اس سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ یہ حضرات امیر معاویہ کے فضائل کے منکر تھے۔ صرف ان کا تخطیہ ہی کرنا چاہتے تھے۔ تاہم میری اس وضاحت سے کسی صاحب کو یہ غلط فہمی بھی نہ ہو کہ مولانا مودودی کی کتاب فضائل معاویہ کےذکر سےبالکل ہی خالی ہےوہ صفحہ ۱۵۳ کےآخر میں لکھتے ہیں:
" حضرت معاویہ کے محامد ومناقب اپنی جگہ پر ہیں، ان کا شرف صحابیت بھی واجب الاحترام ہے۔ ان کی یہ خدمت بھی نا قابل انکار ہے کہ انہوں نے پھر سے دنیائے اسلام کو ایک جھنڈے تلےجمع کیا اور دنیا میں اسلام کے غلبے کا دائرہ زیادہ وسیع کر دیا۔ ان پر جو شخص لعن طعن کرتا ہے، وہ بلاشبہ زیادتی کرتا ہے۔“
مناقب معاویہ کے معاملے میں بعض محدثین نے تو تشدد برتتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا ہےکہ کوئی حدیث صحیح آپ کےفضائل و مناقب میں وارد نہیں لیکن اسکا مطلب در اصل یہ ہےکہ ایسی کوئی حدیث سند کےاعلیٰ ترین معیار تک نہیں پہنچتی اور نہ سنن ترمذی،کتاب المناقب میں دوائیسی احادیث موجود ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امیر معاویہ کے حق میں دعا منقول ہے۔ ایک کےالفاظ یہ ہیں:
دوسری حدیث میں صرف آخری حصہ دعا کا آیا ہے۔ ان میں سے پہلی حدیث کو امام ترمذی نے حسن غریب اور دوسری کو غریب کہا ہے۔ اگر چہ ان کی سند میں ضعف ہے مگر یہ احادیث موضوع و مکذوب بہر حال نہیں اور ان سے امیر معاویہ کی منقبت کا استدلال بالکل درست ہے۔ان احادیث سے یہ الجھن بھی پیش نہیں آنی چاہیے کہ حضرت معاویہ کے حق میں اس دعائے نبوی کےبعد ان سے غلطیوں کا صدور کیسے ہو سکتا ہے؟ اس دعا کا ثمرہ یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی امیر معاویہ ا پنی زندگی میں ہدایت یافتہ تھے اور آپ جس نظام حکومت کے سربراہ تھے غالب احوال کے لحاظ مسلم و غیرمسلم سب کے لیے وسیله هدایت بنا۔ بعض دوسرے صحابہ کرام کےحق میں بھی ایسی دعائیں منقول ہیں اور ان سے بعض خطائیں بھی سرزد ہوئیں لیکن ان کا پورا کارنامہ حیات خیر و صلاح سےبھر پور تھا۔
یہ بات بھی تاریخ وسیرت کی کتابوں سے ثابت ہے کہ امیر معاویہؓ کاتب وحی تھے۔ بعض مورخین کا بیان ہے کہ امیر معاویہ کا تب مصحف بھی تھےاور بعض کے نزدیک امراء و ملوک سےجو خط و کتابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوتی تھی وہ ان کے سپر د تھی ۔ دونوں میں سے جو بات بھی صحیح ہو،اس سے بہر حال یہ واضح ہے کہ امیر معاویہ پر آنحضور کا کلی اعتماد و اطمینان تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ارشاد گرامی بھی مبنی بر وحی ہوتا تھا یا وحی کے مطابق ہوتا تھا لا یہ کہ کسی دوسری وحی کے ذریعےسے اس میں تبدیلی واقع ہو۔ پھر ایسی مراسلت تو اتنی نازک اور راز دارانہ ہوتی ہے کہ جس شخص کےبارے میں ذرہ برابر بھی خلش ہو، اس کی تحویل میں ایسا کام نہیں دیا جا سکتا۔ حضرت معاویہ کےمتعلق ہرگز کوئی ایسی بات ان کا شدید ترین مخالف و ناقد بھی نہیں کہہ سکتا کہ آپ نےآنحضور کےاس اعتماد کو خدا نخواستہ کوئی ادنی ٹھیس پہنچائی ہو، اس ذمہ داری میں تساہل برتا ہو یا کوئی راز کی بات کبھی افشا کی ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ اتنی بڑی سنگین ذمہ داری کا آپ پر ڈالا جاتا اور پھر اس بار کا باحسن طریق متحمل ہونا،صرف یہی ایک بات امیر معاویہ کے حق میں عظیم فضیلت ومنقبت کا ثبوت بہم پہنچاتی ہے۔
پھر جہاد فی سبیل اللہ اللہ کی راہ میں کفار سے لڑنا حدیث صحیح کی رو سے افضل ترین اور چوٹی کی عبادت ہےاور یہ ثابت ہےکہ امیر معاویہ نےغزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں شرکت کی ہے اور بعد میں بھی رومی عیسائیوں کےخلاف بحر و بر میں لشکر کشی کی ہے۔بلاشبہ آپ نےحضرت علی کے خلاف معرکہ آرائی کی ہے لیکن آپ نے ہمسایہ کفار کو اس کا موقع نہیں دیا کہ وہ مسلمانوں کے باہمی قتال سے فائدہ اٹھا کر حملہ آور ہو جائیں۔بلکہ آپ نےقیصر روم کو صاف طور پر کہلا بھیجا تھا کہ اگر تم نےہماری خانہ جنگی سےفائدہ اٹھانا چاہا تو تمہارےلیےروئےزمین پر کوئی ٹھکانہ نہ رہے گا اور ہم سب مل کر تمہارا دماغ درست کر دیں گے_١ افسوس کہ یہ صورت بھی بعد کی حکومتوں میں باقی نہ رہی اور ان میں آج تک ایسے غدار اور قوم فروش نمودار ہورہے ہیں جو اپنوں کے خلاف غیروں کو دعوت دیتے ہیں اور غیروں سے مل کر اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے گلے کاٹتے ہیں اور ان کی عزت و آبرو پامال کرتے ہیں۔ مورخین نے امیر معاویہ کے متعلق بالکل سچ کہا ہے کہ
اسی چیز کی طرف مولانا مودودی نے اپنی کتاب (صفحہ ۳۰۱) میں اشارہ کیا ہے کہ ۲۲ یعنی شہادت عثمان تک تو اسلامی حکومت اپنی بہترین خصوصیات کے ساتھ چلتی رہی ہے مگر ان ساری خصوصیات کا خاتمہ ۶ھ میں جا کر ہوا ہے، جب امیر معاویہ کا انتقال ہوا ہے۔
١- ملاحظہ ہوالبدایہ والنہایہ جلد ۲ صفحہ ۱۱۹۔ یہاں حافظ ابن کثیر نے امیر معاویہ کے جو الفاظ نقل (بقہ حواشی گزشتہ صفحه ملاحظه فرما سکسی) - - - - - - - کیے ہیں وہ یہ ہیں کہ انہوں نے قیصر کو لکھا: والله ان لم تنته وترجع اني بلادك لأصطلحن انا وابن عمی علیک و لا خرجنک من جميع بلادك ولا ضيقن عليك الأرض بما رحبت (اگر تو باز نہیں آئے گا اور ہماری سرحد سے اپنے علاقے کی طرف نہیں لوٹ جائےگا تو میں اور میرا پیچازاد بھائی علی باہم مل کر کےتیرے خلاف نکلیں گے۔تجھےاپنےعلاقوں سے بھی نکال باہر کریں گے اور زمین اپنی فراخی کے باوجود تم پر تنگ کر دی جائے گی۔)
حضرت امیر معاویہ کےجن محل نظر افعال کا ذکر ” خلافت و ملوکیت" میں ہےانہیں بلاشبہ بعض حضرات نے ایسے اجتهادات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جن پر امیر معاویہ عنداللہ ماجور ہوں گے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ بعض دوسرے اصحاب نے اس رائے سے اختلاف کیا ہےاور ان کاموں کو خطائے اجتہادی کے بجائے محض خطا قرار دیا ہےبلکہ ان پربحث کرتےہوئےتنقیدی انداز بھی اختیار کیا ہے۔ یہ دونوں گروہ اہل سنت کے ہیں اور اگر پہلا فریق اپنے حق میں دلائل لاتا ہے تو دوسرے گروہ کا موقف بھی وزن و دلیل سے تہی نہیں ہے۔ مثال کےطور پر اگر حضرت علی اور حضرت معاویہ با ہمی قتال میں دونوں مجتہد ہیں تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مجتہد فیہ مسائل تو باہمی مذاکرات اور لسانی مجادلات سےطےہونے چاہئیں،ان میں تلوار کا استعمال طرفین میں سے کسی ایک یا دوسرے دونوں کے لیے کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ کیا کتاب وسنت میں سےاس کے حق میں کوئی محکم دلیل پیش کی جاتی ہےکہ جن اجتہادی امور میں مجتہد تخطی اور مجتہد مصیب دونوں ماجور ہیں ان میں اجتہادی اختلاف کو ہر فریق بزور شمشیر حل کرنے میں حق بجانب ہے؟ امام ابو عبد الله محمد بن مرتضی ایمانی جنہیں آٹھویں صدی کےمجہتدین میں شمار کیا جاتا ہےوہ اپنی کتاب ایثار الحق على الحق (مطبعہ الآداب، القاہرہ ۱۳۱۸) کے صفحہ ۴۵۸ پر حضرت علی اور حضرت معاویہؓ ہی کے معاملے میں لکھتے ہیں کہ امام عادل سے لڑنے والا عاصی و آئم ہے کیونکہ یہ بغاوت و تعادی مسائل فروع سے متعلق نہیں ہے۔پھر فرماتے ہیں:
اسی مقام پر انہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ اس مسئلے پر اپنی دوسری کتاب الروض الباسم في الذب عن سنّۃ ابی القاسم “ میں تفصیلی بحث کر چکے ہیں۔
بہر کیف میری گزارش کا مقصود یہ ہے کہ امیر معاویہ کے بعض اعمال، مثلاً آپ کا حضرت علیؓ کے خلاف جنگ کرنا، یزید کو ولی عہد بنانا یا حضرت حجر کو قتل کرنا ، یہ ایسے کام ہیں کہ جن کے بارے
| کتاب | خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |