خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ

باب سوم

باب سوم

تقسیم غنائم کا مسئلہ

تقسیم غنائم کا مسئلہ

(۱) عجیب و غریب تاویلات

توریت مسلم من الکافراور دیت معاہد کا مسئلہ ضروری حد تک پچھلے دو ابواب میں صاف کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد اب مالِ غنیمت کا مسئلہ زیر بحث آتا ہے۔ اس میں مولانا مودودی کی جس عبارت کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے، وہ درج ذیل ہے:۔

"مال غنیمت کی تقسیم کے معاملے میں بھی حضرت معاویہؓ نے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے صریح احکام کی خلاف ورزی کی۔کتاب وسنت کی رُو سےپورےمال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال میں داخل ہونا چاہیے اور باقی چار حصےاس فوج میں تقسیم ہونے چاہئیں جو لڑائی میں شریک ہو لیکن حضرت معاویہ نے حکم دیا کہ مال غنیمت میں سے چاندی، سونا ان کےلیےالگ نکال دیا جائے ، پھر باقی مال شرعی قاعدے کے مطابق تقسیم کیا جائے ۔“

مولانا مودودی نے اس بات کی سند میں پانچ کتابوں کے حوالے دیئے تھے جن میں سےپانچواں اور سب سے آخری حوالہ البدایہ والنہایہ کا تھا۔ اب جناب محمد تقی صاحب نے کیا یہ ہے کہ باقی کتابوں کو چھوڑ کر صرف البدایہ کا حوالہ نقل کر دیا ہے کہ زیاد نے حضرت حکم بن عمرو کو یہ لکھا کہ امیر المومنین (حضرت معاویہ) کا خط آیا ہے کہ سونا، چاندی ان کے لیے الگ کر لیا جائے اور اس مال غنیمت کا سارا سونا، چاندی بیت المال کے لیے جمع کیا جائے۔ اس حوالے کی بنیاد پر عثمانی صاحب نے استدلال و قیاسات کی عجیب عمارت کھڑی کی ہے، فرماتے ہیں:

ا۔ اس حکم کی رُو سے حضرت معاویہؓ کی ذات کے لیے سونا چاندی الگ کیا جانا مقصود نہیں تھا، بلکہ بیت المال کے لیے نکالنا پیش نظر تھا، جیسا کہ الفاظ لبیت المال بتارہے ہیں۔

۲۔ البدایہ یاکسی دوسری کتاب میں حضرت معاویہ کا حکم براہ راست منقول نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ زیادہ نے خواہ مخواہ ان کی طرف یہ بات منسوب کر دی ہو۔

٣ ۔ مولانا مودودی نے اس حکم کا ذکر تو کر دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس حکم کی تعمیل نہیں کی گئی،حالانکہ کتابوں میں تصریح ہے کہ تعمیل نہیں ہوئی۔

۴۔ اگر زیاد کو سچا مان لیا جائے ،تب بھی یہ حکم ایک خاص جہاد سے متعلق تھا۔ مستقل طور پر جاری نہیں ہوا تھا۔

۵۔ عین ممکن ہے کہ اس وقت بیت المال میں سونے چاندی کی کمی ہو اور حضرت معاویہ اندازے سے یا اطلاع کی بنا پر سمجھےہوں کہ وہ کل مال غنیمت کے پانچویں حصےسےزاید نہیں،اسلیےانہوں نے یہ حکم جاری فرمایا ہو کہ مال غنیمت میں صرف سونا،چاندی ہی بھیجا جائےلیکن حضرت حکم بن عمر و نےاس لیے اظہار ناراضگی فرمایا ہو کہ فی الواقع سونا، چاندی ۱/۵ سے زائد تھا،اس لیے وہ سارا سونا چاندی بیت المال میں داخل کرنے کو کتاب اللہ کے خلاف تصور کرتے تھے۔

آتنی ممکن یا غیر ممکن تاویلات کے بعد مدیر البلاغ لکھتےہیں کہ اس مجمل واقعےکی بہت سی تو جیہات ممکن ہیں،اور یہ بات عقل و دیانت کےقطعی خلاف ہوگی که ہم ان قومی احتمالات کو قطعی طور پر رد کر دیں اور ضعیف احتمالات کی بنا پر حضرت معاویہ کے خلاف کتاب وسنت کے احکام کی خلاف ورزی کا حکم لگا دیں۔“

ان تاویلات کی حقیقت

اس سلسلہ میں پہلی گزارش یہ ہے کہ بلا شبہ البدایہ میں یہی بات مذکور ہے کہ یہ سونا چاندی بیت المال کے لیے الگ کیےجانےکا حکم دیا گیا تھا۔لیکن بقیہ چار کتابوں میں سے کسی ایک میں بھی بیت المال کا ذکر موجود نہیں ہے بلکہ زیاد کا صرف یہ قول نقل ہوا ہے کہ امیر المومنین نے یہ لکھا ہے کہ ان کے لیے سونا، چاندی الگ کر لیا جائے (اصطفى له الصفراء والبيضاء ) ابن جرير ( متوفى ۳۱۰ھ) کی تاریخ میں بھی بیت المال کے الفاظ نہیں ہیں۔ابن سعد ( متوفی ۲۳۰ھ)، ابن عبدالبر ( متوفی ۳۶۳ھ) ،ابن الاثیر (متوفی ۱۳۰ھ ) کسی نےبھی بیت المال کا ذکر اپنی ان کتابوں میں نہیں کیا جن کا حوالہ مولانا مودودی نے دیا ہے۔ حافظ ابن کثیر ( متوفی ہے کے ھ ) جو سب سےبعد میں آئے ہیں، صرف انہوں نےیہ لکھا ہےکہ امیر معاویہ نے یہ سونا، چاندی بیت مال کے لیےطلب کیا تھا۔اب سوال یہ ہےکہ آٹھویں ہجری تک ابن کثیر سےپہلےجن لوگوں نےاس واقعہ کو نقل وروایت کیا ہےاور جنہوں نے ان پہلی تاریخوں کا مطالعہ کیا ہے، کیا ان کا یہ بیان کرنا یا یہ سمجھنا بالکل غلط ہو گا کہ امیر معاویہ نے یہ مال اپنی ذات کے لیے طلب کیا تھا، بالخصوص جبکہ بیت المال کی پوزیشن بھی ان کے زمانہ میں وہ ہو جسے دیت کی بحث میں ہم پہلے بیان کر چکے ہیں؟ اگر صرف ابن کثیر" کے الفاظ ”لبیت المال کی روشنی میں دوسرےتمام مؤرخین کی عبارت کا منشاء بھی یہی سمجھا جائےکہ سونا، چاندی بیت المال کےلیےالگ کیے جانے کا حکم دیا گیا تھا،تو پھر بیت المال کی عدمِ تصریح کا مطلب یہی ہو سکتا ہےکہ ان مؤرخین کےنزدیک دور ملوکیت میں بیت المال اور امیر المومنین کےذاتی خزانے کے درمیان کوئی فرق نہیں رہا تھا۔ ورنہ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ چاروں اصطفى له یا تصطفی لۂ کے الفاظ کیوں استعمال کرتے جن کا متبادر مفہوم یہی ہے کہ امیر معاویہؓ نے اپنے لیے سونا، چاندی خاص کر لینے کا حکم دیا تھا ؟

تاہم اگر یہی مان لیا جائےکہ یہ حکم بیت المال کےلیے تھا، پھر بھی یہ قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ قرآن مجید میں کل مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے لینے کا حکم دیا گیا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سےلے کر خلفائے راشدین کے آخری زمانے تک اس پر عمل ہوتا رہا ہے۔ اس امر کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ سونا اور چاندی مال غنیمت سے الگ نکال کر بیت المال میں داخل کر دیا گیا ہو، اور قرآن مجید کے الفاظ میں بھی اس تخصیص کےلیےکوئی گنجائش نہیں پائی جاتی۔اس فعل کی تائید میں یہ استدلال بھی مہمل ہےکہ اس وقت بیت المال میں سونے چاندی کی کمی تھی جسےامیر معاویہ پورا کرنا چاہتےتھے۔اس زمانے میں مبادلۂ زر اور تبادلہ اشیاء کا نظام زیادہ پیچیدہ نہ تھا اور سونے چاندی کے ذخائر بیت المال کے استحکام کے لیے محفوظ رکھنےکی خاص ضرورت نہ تھی۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائےراشدین بسا اوقات اسے ترجیح دیتے تھے کہ بیت المال میں سونے چاندی کے بجائے ضروریات زندگی کا سامان آئے اور مسلمانوں میں تقسیم ہو ۔

دوسری بات عثمانی صاحب نے یہ کہی ہے کہ امیر معاویہؓ کا حکم براہ راست منقول نہیں ہوا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ زیاد نے خود ہی اسے گھڑ لیا ہو۔ یہ بڑی نرالی منطق ہے۔ اس طرح کے مجبر عقلی احتمالات کی بنا پر تو ہر شے کا انکار کیا جاسکتا ہے، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ غزوہ اور غنیمت کا قصہ سرےسے پیش ہی نہیں آیا تھا۔ زیاد یا مؤرخین اگر مکاتیب و قصص گھڑنے میں ایسے ہی ماہر تھے تو وہ ایک پورا مکتوب امیر معاویہ کی طرف سے بصیغہ متکلم بھی وضع کر سکتےتھے اور اسے کتابوں میں نقل کر سکتےتھےلیکن عثمانی صاحب کو خود سوچنا چاہیے کہ امیر معاویہ جن کے نظم وضبط اور ڈسپلن کا تذکرہ مؤرخین نے بہ بجا بیان کیا ہے، کیا ان کے ایک گورنر کی یہ جرات ہو سکتی تھی کہ وہ ایک جعلی حکمنامہ زبانی یا تحریری طور پر امیر معاویہ کی طرف منسوب کرے، اسے مسلمانوں کے پورے لشکر اور سپہ سالار کے سامنے پیش کرے اور پھر یہ بات امیر معاویہ تک نہ پہنچے اور اس کی کوئی تحقیق و تفتیش ہی نہ ہو،اور زیاد سے کوئی باز پرس بھی نہ ہو ؟ جبل اشل (یا اسل) کا یہ غزوہ ۴۵ھ میں پیش آیا،اور اور حضرت معاویہ اس وقعہ کےبعد پندرہ برس تک زندہ رہےکیا یہ باور کیاجاسکتا ہے کہ زیاد کے اس حکم،اور سپه سالار لشکر کے اس پر اعتراض اور اس حکم کی تعمیل سے اس کے انکار کا سارا قصہ ۱۵ برس تک حضرت معاویہ کےعلم میں نہ آیا ہو؟ مزید براں کیا یہ بھی باور کیا جا سکتا ہےکہ اگر اس حکم کا امیر معاویہ کی طرف سےہونا مشتبہ ہوتا تو عثمانی صاحب سےپہلےکوئی مورخ اس کے مشتبہ ہونے کی طرف اشارہ تک نہ کرتا اور سب اسےان کے حکم ہی کی حیثیت سے روایت کرتے چلے جاتے ؟ آخر مروان کا ایک خط بھی فسادیوں نےیہ کہہ کر پیش کیا تھا کہ یہ حضرت عثمان کی طرف سےہےاور اس پر حضرت عثمان کی مہر ہے- لیکن اس وقت بھی اسے مشکوک سمجھا گیا اور اس کے بعد بھی بعض حضرات نے اس خط کو جعلی قرار دیا۔ خود حضرت عثمان تک بھی اس کی شکایت پہنچائی گئی اور آپ نےخط کی صحت سے انکار کیا۔

پھر مدیر ابلاغ کا اعتراض یہ بھی ہےکہ مولانا مودودی نے یہ نہیں بتایا کہ اس حکم کی تعمیل نہیں کی گئی تھی۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آسکی کہ اگر امیر معاویہ کےاس علم کی تعمیل نہیں کی گئی اور مولانا مودودی نے اسے بیان نہیں کیا تو اسے اصل حکم کے حسن وضیح میں کیا کمی بیشی ہو سکتی ہے؟ امیر معاویہ اگر خود اس حکم کو منسوخ کر دیتے یا کم از کم اس کےتعمیل نہ ہونےپر اظہار ناراضی ہی نہ فرماتے تو سارے معاملے کی نوعیت بدل جاتی لیکن اس حکم کے نہ مانے جانے کی جو تفصیلات مؤرخین نے بیان کی ہیں، وہ تو ایسی ہیں کہ شاید مولانا نےانہیں قصد انظر انداز کیا ہےکیونکہ ان سےامیر معاویہ کی پوزیشن صاف ہونےمیں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔اتنی بات تو "البلاغ" میں بھی نقل کر دی گئی ہےکہ حضرت حکم نےجواب میں لکھا تھا کہ اللہ کی کتاب امیر المومنین کے خط پر مقدم ہے اور خدا کی قسم اگر آسمان وزمین کسی کے دشمن ہو جائیں اور وہ اللہ سےڈرے،تو اللہ اس کے لیےکوئی نہ کوئی راہ نکال لیتا ہے- - - - یہ بات پانچوں کتابوں میں مذکور ہے اور اس کے بعد یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت حکم نے دعا کی کہ اے اللہ اگر میرے لیے تیرے پاس خیر ہے تو مجھے دنیا سےاٹھا لے۔“ چنانچہ ان کا بعد میں انتقال ہو گیا۔ امام حاکم نے بھی المنتند رک جلد ۳ ص ۴۴۲ پر ایک روایت میں بیان کیا ہےکہ زیادہ نےلکھا تھا فان امیر الـمـومـنـيـن كـتـب ان يصطفى الصفراء والبيضاء. - - - آگے لکھ ہیں

وان معاوية لما فعل الحكم في قسمة الفئى ما فعل وجه اليه من قيده وحبسه فمات في قيوده.

” جب حضرت حکم نے تقسیم کے میں یہ طرز عمل اختیار کیا تو امیر معاویہ نے اپنا فرستادہ بھیجا جس نے حضرت حکم کو مقید و محبوس کر لیا اور اسی حال میں ان کا انتقال ہوا۔“

بعینہ یہی پوری روایت امام ذہبی نے مستدرک کی تلخیص میں بھی درج کی ہے۔

عثمانی صاحب نے ایک نکتہ یہ بھی نکالا ہے کہ یہ حکم ایک خاص جہاد سے متعلق تھا، مستقل طور پر جاری نہیں ہوا۔ جواباً عرض ہے کہ یہ تو مولانا مودودی نے بھی نہیں کہا کہ یہ کوئی مستقل حکم تھا بلکہ یہی لکھا ہے کہ حضرت معاویہؓ نے ایسا حکم دیا لیکن کیا ایک مرتبہ کوئی خلاف کتاب وسنت حکم دینا قابلِ اعتراض نہیں ہے؟ اور اعتراض کی گنجائش صرف اسی صورت میں پیدا ہوتی ہے جب مستقل طور پر کتاب وسنت کے خلاف کوئی عمل کرتے رہنے کا حکم دیا جائے؟

آخر میں دلچسپ ترین احتمال آفرینی جو عثمانی صاحب نے کی ہے وہ یہ ہے کہ ممکن ہے بیت المال میں سونے چاندی کی کمی ہو اور حضرت معاویہؓ کو معلوم ہوا ہو کہ غنیمت میں سونے چاندی کی قیمت کل مال غنیمت کا پانچواں حصہ ہے لیکن فی الواقع وہ ۵/ اسے زاید ہو، اس لیے حضرت حکم سارا سونا چاندی الگ کرنےکو کتاب اللہ کے خلاف سمجھتے ہوں۔یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ آخر حضرت معاویہ کا ذریعہ معلومات اس کے سوا اور کیا ہوسکتا تھا کہ فوج کا سپہ سالار یا کوئی ماتحت افسر انہیں غنیمت کی مقدار سےآگاہ کرتا،اور یہ بھی اسی صورت میں ممکن تھا جب پورا مال غنیمت یکجا ہو چکا ہو اور اس کی قیمت بھی لگ گئی ہے۔اگر فی الواقع ایسی ہی صورت تھی تو پھر امیر معاویہؓ اور حضرت حکم کے تخمینے میں کوئی تفاوت نہیں ہونا چاہیے تھا کہ ایک کے اندازے میں سونا چاندی پورے مال کا ۵/ ۱ ہو اور دوسرے میں اس سےزائد۔ نیز اس صورت میں امیر معاویہ کا حکم یہ ہوتا کہ سونا چاندی چونکہ شمس کے مساوی ہے، اس لیے دوسرے مال کو چھوڑ کر وہی بطور تمس لے لیا جائے۔ایسی صورت میں سرے سے کوئی اختلاف ہی رونما نہ ہوتا اور نہ حضرت حکم پر اس واقعےکا ایسا شدید رد عمل ہوتا جو بالآخر ان کی موت پر منتج ہوا۔اگر فی الواقع بات اتنی ہی ہوتی کہ سونے چاندی کامحض خمس سےکچھ زاید ہو نا حل نزاع تھا تو حضرت حکم یہ کہ سکتےتھےکہ اتنا سونا چاندی ۵/ اسے زاید بنتا ہےاس لیےاس زاید مقدار کو فوج میں تقسیم ہونا چاہیےوہ ہرگز یہ جواب نہ دیتےکہ کتاب اللہ کتاب امیر پر مقدم ہے اور غازیوں سے ہرگز نہ کہتے کہ چلو تم اس حکم کے علی الرغم مالِ غنیمت کو تقسیم کرلو۔

طبری کی مزید تصریح

پھر میں مولانا محمدتقی صاحب اور دوسرےقارئین کےعلم میں یہ بات بھی لانا چاہتا ہوں کہ تاریخ طبری جو تواریخ مابعد کا ماخذ ہے، اس میں امیر معاویہ کا جو حکم زیاد کےحوالےسےنقل کیا ہے،اس کےالفاظ ہیں: اصطفي له صفراء وبيضاء والروائع فلاتحركن شيئًا حتى تخرج ذلك...پھر حضرت حکم کا جو جواب زیاد کے نام منقول ہے اس میں بھی بعینہ یہی الفاظ وارد ہیں کہ تمہارا خط مجھےملا جس میں یہ ذکر ہےان اصـطـفـى لـه صـفـــراء وبيضاء والروائع. اس سے معلوم ہوا کہ امیر معاویہؓ نے فقط سونے چاندی ہی کا مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ اموال غنیمت میں سے دوسری نفیس اور عمدہ اشیاء بھی مانگی تھیں اور فرمایا تھا کہ جب تک ان سب کو الگ نہ چھانٹ لیا جائے،کوئی چیز اپنی جگہ سے نہ ہلائی جائے۔ اس کے بعد اگر حضرت حکم بن عمرو بھی کوئی معمولی پائے کے صحابی نہیں ہیں۔ ان سے امام بخاری اور دوسرے اصحاب صحاح نےحدیث اخذ کی ہیں۔ مستدرک اور دوسری کتابوں میں ان کے جو حالات بیان ہوئے ہیں، ان سےمعلوم ہوتا ہے کہ دو رفتن کے محاربات میں انہوں نے کوئی حصہ نہیں لیا اور سب سے الگ تھلک رہے۔ آخر کار امیر معاویہ کےعہد میں انہوں نےاس غزوے کی قیادت کی جس کا یہ دردناک انجام ہوا۔

(۲) مال غنیمت کے مسئلے پر میری اوپر کی بحث کے جواب میں جو کچھ عثمانی صاحب نے لکھا ہے اس پر کچھ کہنے سے پہلے یہ وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ دونوں مرتبہ اس بحث پر مالِ غنیمت میں خیانت کا جو ذیلی عنوان لگایا گیا ہے یہ عنوان اور اس کے الفاظ مدیر البلاغ کے اپنےتجویز کردہ ہیں۔ مولانا مودودی نے اپنی عبارت پر کوئی عنوان درج نہیں کیا تھا، نہ اپنی عبارت میں کہیں خیانت کا لفظ استعمال کیا تھا۔ میں نے اپنی بحث میں تقسیم غنائم“ کا عنوان دیا تھا۔ مدیر البلاغ نے خود یہ لفظ استعمال کر کے اگر لوگوں کو مشتعل کرنا چاہا ہے تو یہ ان کے کرنے کا کام نہ تھا۔دوسرے لوگ یہ خدمت ان سے زیادہ اچھی طرح انجام دے رہے تھے۔

فرسودہ اعتراض کا اعادہ

عجیب بات ہےکہ دوبارہ بھی جناب محمد تقی صاحب نےمیرے اصل اعتراضات و دلائل کا جواب دینے کے بجائے پھر وہی لنفسه اور لبیت المال کی بحث چھیڑ دی ہےمولانا مودودی نےپانچ کتابوں کےحوالےسےیہ بات لکھی تھی کہ حضرت معاویہ نےحکم دیا کہ مال غنیمت میں سےچاندی سونا ان کےلیےالگ نکال لیاجائےاورباقی مال شرعی قاعدےکےمطابق تقسیم کیاجائےاب جیساکہ پہلےبیان ہوچکا خلافت و ملوکیت میں بالعموم ایک سےزاید کتابوں کا حوالہ دیتےہوئے ہر جگہ مختلف عبارتوں کا ایک مشترک مفہوم درج کر دیا گیا ہے۔ یہاں بھی یہی صورت تھی کہ پانچ کتابوں میں سے چار میں وہی بات لکھی گئی تھی جو خلافت و ملوکیت میں ہے اور چاروں میں کہ کے الفاظ تھےاس لیے اکثریت کے قول کو دیکھا جائے تو مولانا مودودی نے جو کچھ لکھ اتھاوہ غلط نہ تھا۔ تا ہم مدیر البلاغ اگر اس کی تردید ضروری سمجھتےتھےتو انہیں چاہیےتھا کہ وہ کم از کم یہ تصریح تو کر دیتےکہ چار کتابوں میں بات وہی درج ہے جو مولانا مودودی نے نقل کی ہے، البتہ پانچویں کتاب میں بیت المال کےالفاظ ہیں۔ لیکن مدیر البلاغ نےچار کتابوں کو چھوڑ کرصرف ایک البدایہ کاحوالہ نقل کر دیاجس سےیہ معلوم ہوتا تھاکہ امیرمعاویہ نے سونا چاندی بیت المال کے لیے جمع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سے ان کی کتاب پڑھنے والا یہی تاثر لے سکتا ہے کہ مولانا مودودی نے امیر معاویہؓ اور ان مؤرخین کی طرف ایک بالکل غلط اور بے بنیاد بات منسوب کر دی ہے۔ میں نےاس کےجواب میں یہ ثابت کر دیا کہ باقی چاروں مؤرخ جو ابن کثیر (صاحب البدایہ ) سے متقدم تھے ، ان سب نے لہ کے الفاظ لکھےہیں جس کی وجہ یہ ہےکہ خلافت راشدہ کے بعد خلفاء کے ذاتی خزانےاور بیت المال میں کوئی خط امتیاز باقی نہ رہا تھا۔ اس صورتِ حال کی کچھ تشریح میں نے گزشتہ بحث میں کر دی ہے۔

مولانا عثمانی صاحب صرف ایک حوالے کے بل پر فرماتے ہیں مولانا مودودی کے لیے جائز نہیں تھا کہ وہ البدایہ کے حوالے سے تحیریر فرمائیں کہ حضرت معاویہؓ نے حکم دیا کہ مالِ غنیمت میں سے چاندی سونا ان کے لیے الگ نکال لیا جائے۔ میرا جواب پھر وہی ہے کہ اگر فقط اسی ایک کتاب کا حوالہ ہوتا تو ایسا تحریر کر نا بلا شبہ جائز نہ تھا لیکن دوسری چاروں کتابوں میں اگر وہی بات درج ہےجو مولانا نے لکھی ہےتو اعتبار و لحاظ غالب مورخین کے قول کا ہوگا، اور مولانا نے جو کچھ لکھا ہے وہ.بالکل جائز و صیح ہے۔ پہلے تو عثمانی صاحب نے چاروں حوالوں کو بالکل ساقط اور نظر انداز کر دیا تھا لیکن میری نشان دہی پر پھر مجبور یہ تسلیم کرنا پڑا کہ یہ درست ہے کہ باقی چار حوالوں میں بیت المال کا لفظ نہیں ہے۔لیکن پھر بھی وہ فرماتے ہیں کہ کیا میں نےالبدایہ کا حوالہ نقل کر کے کسی جرم عظیم کا ارتکاب کیا ہے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ آپ نے ہر گز کسی جرم کا ارتکاب نہیں فرمایا اور نہ کسی نےایسا کہا ہے۔ میں نے صرف یہ لکھا تھا کہ ” جناب محمدتقی صاحب نے کیا یہ ہے کہ باقی کتابوں کو چھوڑ کر صرف البدایه کا حوالہ نقل کردیا۔اب جناب موصوف مجھےصرف یہ سمجھا دیں کہ جب آپ ایک کتاب کا حوالہ دےکر اور بقیہ کو چھوڑ کر ایک بات لکھنے میں مجرم نہیں ہیں تو مولانا مودودی چار کتابوں پر انحصار کرتے ہوئے ایک بات لکھ دینے سے کیسے مجرم بن گئے؟ یہ جرم عظیم والا الزام آپ خواہ مخواہ بیچ میں لا رہے ہیں ورنہ میں جو کچھ کہ رہا ہوں وہ یہ ہےکہ صرف خاص اور بیت المال کےحدو د امتیاز اس زمانے میں واضیح میں رہے تھے، اس لیے مؤرخین کہیں لنفسہ اور کہیں لبیت اس میں المال لکھ دیتے ہیں۔ جہاں تک اس خاص واقعہ مذکورہ کا تعلق ہےاس میں اکثر و بیشتر مصنفین نےبیت المال کا لفظ استعمال نہیں کیا۔تاریخ الکامل کے علاوہ ابن الاثیر نے اُسد الغابہ میں جہاں حضرت حکم بن عمرو کے حالات بیان کیے ہیں ، انہوں نے وہاں بھی یہی لکھا ہے۔ فرماتے ہیں:

كتب اليه زياد ان امير المومنين يعنى معاوية كتب ان يصطفى له الصفراء والبيضاء فلا تقسم في الناس ذهب ولا فضة.

"زیاد نے حضرت حکم کو لکھا کہ امیر المومنین معاویہ نے تحریرفرمایا ہے کہ ان کے لیے سونا اور چاندی الگ کر لیا جائے اور لوگوں میں اسے تقسیم نہ کیا جائے۔“

امام حاکم نے المستدرک جلد ۳ ص ۴۴۲ میں اس واقعہ کے متعلق جو روایت دی ہے، اس میں بھی لبیت المال کا لفظ نہیں، بلکہ صرف لہ کا لفظ ہے۔ امام ذہبی کی تلخیص میں بھی روایت اسی طرح درج ہے۔

میں اب اس ناگوار بحث کو پھیلانا نہیں چاہتا ور نہ میں یہ چیز بھی وضاحت کے ساتھ بیان کرتا که خلافت راشدہ کے بعد دوسرے خلفاء نے اپنے ذاتی بیت المال بھی قائم کر رکھے تھے جن میں خمس، فے وغیرہ کے اموال داخل کر دیئے جاتے تھے۔یہ نجی بیت المال سرکاری بیت المال کےعلاوہ تھے، گویا کہ ایک مسلمانوں کا عام بیت المال ہوتا تھا اور دوسرا امیر المومنین کا نجی اور خاص بیت المال ہوتا تھا۔ چنانچہ اسی البدایہ جلد ۸ ص ۲۹ پر تو لبیت المال کے الفاظ میں (جن کی مدد سےعثمانی صاحب مولانا مودودی کی تغلیط کر رے ہیں) لیکن اسی کتاب کی اسی جلد میں ذرا آگے ص ۴۷ پر ابن کثیر اسی واقعہ کو دوبارہ بیان کرتے ہوئے لبیت المال کے بجائے لبیت مالہ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ چنانچه لکھتے ہیں:۔

جاء كتاب زياد اليه على لسان معاوية ان يصطفى من الغنيمة لمعاوية ما فيها من الذهب والفضة لبيت ماله فرد عليه ان كتاب الله قبل کتاب امیر المومنين اولم يسمع لقوله عليه السلام: لاطاعة لمخلوق في معصية الله وقسم في الناس غنائمهم فيقال انه حبس الى ان مات.

"حضرت حکم کےپاس حضرت معاویہ کا خط زیاد کی طرف سےآیا کہ وہ غنیمت میں سےامیر معاویہ کےلیےسونا چاندی الگ کرلیں جو حضرت معاویہ کےبیت المال کے لیے ہو گا۔حضرت حکم نے جواب دیا کہ اللہ کی کتاب امیر المومنین کےمکتوب پر مقدم ہے۔کیا انہوں نےنہیں سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔پھر حضرت حکم نے سارا مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں قید کر دیا گیا حتی کہ ان کی وفات ہو گئی۔

اب میں پوچھتا ہوں کہ دوسرے سارے مؤرخین اگر بیت المال کا لفظ سرے سے استعمال ہی نہیں کرتے اور ابن کثیر ایک جگہ اگر کرتےہیں تو چند صفحوں کے بعد ہی وہ لبیست مسالہ کےساتھ اس کی توضیح کر دیتےہیں اور یہ بھی معلوم ہےکہ بنوامیہ کےصرف خاص کےلیےبھی "امیر المومنین کا بیت المال" کی اصطلاح مستعمل تھی اور یہ مسلمانوں کے بیت المال سے زاید ایک شے تھی تو پھر مولانا مودودی کے تحریر کردہ الفاظ کس قاعدے اور کس اعتبار سے قابل اعتراض ہو سکتے ہیں؟ افسوس که معترض حضرات بار بار ان مسائل کو چھیڑ کر ہر بار مجھے وہ باتیں کھول کر کہنے پر مجبور کر رہے ہیں جو میں نہیں کہنا چاہتا تھا۔

اخبارات کی غلط مثال

” خلافت و ملوکیت" میں جو بات چار کتابوں کے حوالے سے درج کی گئی تھی اور جس کےلیے میں دو تین مزید حوالے پیش کر چکا ہوں، اسے دو اور دو چار کی طرح غلط ثابت کرنے کےلیے مولانا محمد تقی صاحب نے ایک اور مثال وضع کی ہے۔ فرماتے ہیں اگر چار اخباروں میں یہ خبر شائع ہو کہ مولانا مودودی نے اپنے لیے ایک لاکھ روپیہ چندہ وصول کیا اور ایک پانچویں اخبار میں یہ ہو کہ مولانا مودودی صاحب نےجماعت اسلامی کے لیے ایک لاکھ روپیہ چندہ وصول کیا۔ پھر کوئی شخص ان پانچوں اخباروں کے حوالے سے مولانا پر یہ الزام عائد کرے کہ وہ اپنی ذات کے لیےچندہ وصول کرتے ہیں تو کیا ملک صاحب اس الزام تراش شخص کو پانچواں اخبار محض اس لیے نہیں دکھائیں گےکہ اس کا حوالہ پانچویں نمبر پر سب سےآخر میں دیا گیا تھا۔اب مولانا مودودی پر الزام تراشی کا الزام جڑنے کےلیےجو یہ مثال گھڑی گئی ہےاس کے متعدد پہلو قابل غور ہیں۔پہلی بات تو یہ ہےکہ اخبارات اور تاریخ اور حدیث و آثار کی کتابوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ ایک اخبار کسی ایک شخص کی تصنیف نہیں ہوتا، اس کی مختلف خبروں کی آئے دن تردید ہوتی رہتی ہے بلکہ اس میں ایسا مواد بھی چھپتا رہتا ہے جس کی پیشانی پر یہ درج ہوتا ہے کہ اس سےادارہ تحریر کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔ اس کے بر عکس تاریخ وروایات پر مشتمل تصنیف ایک ہی شخص کی کاوش قلم کا نتیجہ ہوتی ہے اور مصنف اس کے مواد میں ہر روز ترمیم و صحیح نہیں کرتا رہتا۔

پھر اگر اس مثال کو مولانا مودودی پر چسپاں کرنا ہی ہےتو صحیح مثال یوں ہوگی کہ ایک اخبار ابن سعد کی ادارت میں ۲۳۰ ھ میں شائع ہوا جس میں یہ خبر چھپی کہ مولانا مودودی نےایک لاکھ چندےکا اپنےلیے مطالبہ کیا۔ پھر دوسرےاخبار میں یہی خبر انہی الفاظ کےساتھ ۳۱۰ھ میں چھپی اور اس اخبار کے مدیر امام ابن جریر تھے۔ پھر امام حاکم نے ۴۰۵ھ میں یہی خبر اپنے اخبار میں شائع کی۔اس کے بعد ابن اثیر نے ایک اخبار ۱۳۰ھ میں نکالا اور اس میں یہ خبر بعینہ انہی الفاظ میں چھاپی۔پھر امام ذہبی کے زیر ادارت ایک اخبار ہ آئے ھ میں اشاعت پذیر ہوا اور اس میں بھی یہی خبر چھپی کہ مولانا مودودی نے ایک لاکھ روپیہ اپنے لیے طلب کیا۔ اس کے بعد سب سے آخر میں ابنِ کثیر نےاپنا اخبار آئے کے در میں جاری کیا اور اس میں یہ خبر شائع کی کہ مولانا مودودی نے ایک لاکھ روپیہ چندہ بیت المال کے لیے طلب کیا اور چند روز بعد ابنِ کثیر نے اسی اخبار میں یہی خبر اس طرح چھاپی کہ مولانا نے یہ چندہ اپنے بیت المال کے لیے مانگا۔ اب یہ سارے اخبارات اگر ایک ہی زمانے میں نکلے ہوتے ،تب تو بات دوسری تھی لیکن ان میں سے ہر ایک کے درمیان اگر ایک ایک صدی یا اس سے زاید کا فصل حائل ہو تو قدیم اخبارات کی رپورٹ ہی قابل اعتماد ہوگی اور اس رپورٹ کو ایک شخص قدیم اخبار کے اصل الفاظ میں دہرادے تو وہ الزام تراشی کا مجرم ہرگز نہ ہوگا اور نہ ہو سارےاخبارنویس کا ذریعہ معلومات بھی پرانے اخبار ہی ہوں اور دونوں کی خبر میں حقیقی نہیں، بلکہ محض لفظی تفاوت ہو۔

اپنی تردید آپ

پھر یہ بھی ایک پُر لطف حقیقت ہے کہ الزام تراشی کا جو الزام مدیر البلاغ نے اس زور و شور سےمولانا مودودی پر عائد کیا ہے اور جسے ثابت کرنے کے لیے اتنی جدوجہد کی ہے، آگے چل کر خود ہی اس کا ابطال بھی فراہم کر دیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

"یوں ملک صاحب کے مزید اطمینان کے لیے ہم یہ وثوق کے ساتھ عرض کر سکتے ہیں کہ ساتویں صدی تک کے لوگوں نے بھی ان الفاظ (لَه بالنفسه) کا یہی مطلب لیا ہوگا کہ حضرت معاویہ نے یہ مال اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ بیت المال کے لیے منگایا تھا، اس لیے کہ وہ لوگ زبان و بیان کے محاورات سےاتنےبے خبر نہیں تھے کہ الفاظ کے ظاہر کو تھام کر بیٹھ جائیں اور اس بات سے قطع نظر کر لیں کہ اگر ایک امیر سلطنت اپنے کسی ماتحت کو یہ حکم لکھ کر بھیجے کہ خراج کا روپیہ مجھے بھیج دو تو محاورة “ مجھے سے مراد اپنی ذات نہیں ہوتی ، بلکہ سرکاری خزانہ ہوتا ہے“

چلیے ، قصه کوتاه گشت در نه در دسر بسیار بود - مولانا عثمانی صاحب نے آخر کار خود ہی یہ نکتہ ارشاد فرما دیا کہ ساتویں صدی تک کے لوگوں نے بھی یہی سمجھا ہوگا کہ حضرت معاویہ نے یہ مال اپنی ذات کے لیے نہیں منگایا تھا اور ساتویں صدی میں آکر ابن کثیر نےاس حقیقت کو مزید واشگاف کر دیا کہ لۂ کا مطلب لبیت المال ہی ہے۔تو پھر مولانا مودودی نےجو یہ لکھ دیا کہ حضرت معاویہ نےحکم دیا کہ مال غنیمت میں سےچاندی سونا ان کے لیے الگ نکال دیا جائے“ آپ اس سے یہی مطلب اخذ و متعین فرما لیجئے کہ ان کےلیے" سےمراد بیت المال کے لیے“ ہے۔ پھر آپ کی اس لمبی چوڑی الزامی بحث کی تو کوئی اصلیت باقی نہ رہی کہ مولانا مندودی نےابن کثیر کا حوالہ دینےکےباوجود ان کی طرف غلط بات منسوب کی ہےاور امیر معاویہ پر ”خیانت اور اپنی ذات کے لیے مالِ غنیمت حاصل کرنے کی تہمت عائد کی ہے۔ آپکے بقول ”لوگ زبان کے محاورات سے اتنے بے خبر نہیں کہ انہیں یہ تک معلوم نہ ہو کہ ”مجھے" سےمراد اپنی ذات نہیں ہوتی،بلکہ سرکاری خزانہ ہوتا ہےاور وہ لوگ مجھے" کے لفظ کو پکڑ کر بیٹھ جائیں۔ پھر آخر آپ ہی اس محاورے سے کیوں اتنے بے خبر ہیں کہ مولانا مودودی کے لفظ ” ان کے لیے کو پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں اور اس رائی کو برابر گھس گھس کر اس میں سے پر بہت برآمد کرنے کی کوشش کیے چلے جا رہے ہیں؟ اگر آپ کے نزدیک محاورة مجھے“ سے مراد اپنی ذات نہیں ہوتی، بلکہ سرکاری خزانہ ہی ہوتا ہے تو پھر آپ کے اس اعتراض کی تو پوری بنیاد ہی منہدم ہو گئی کہ ابن کثیر صاف لکھ رہے ہیں کہ سارا سونا چاندی بیت المال کے لیےجمع کیا جائے ، مگر مولانا مودودی اس عبارت کے حوالے سے یہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ نے حکم دیا کہ سونا چاندی ان کے لیے الگ نکال لیا جائے ۔ مدیر البلاغ نے یہ اعتراض وارد کرنےکے بعد لکھا تھا کہ ہمارا ناطق قطعی طور پر سر بگر یہاں ہے کہ اس تفاوت کی کیا تاویل، کیا تو جیہ کریں؟ جواباً عرض ہے کہ آپ سر ناطقہ کو گر یہاں سے نکالیں اور بیت المال کےلیے اور ان کے لیے میں جو لفظی تفاوت ہے اس کی وہی تاویل و توجیہ کریں جو آپ نے خود ہی اختیار فرمائی ہے اور جسے میں ابھی نقل کر چکا ہوں کہ محاورة ” ان کے لیے" سے مراد اپنی ذات نہیں بلکہ سرکاری خزانہ ہوتا ہے۔“

اصل اعتراض

اب اس کے بعد البته یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مال غنیمت کا سونا چاندی بیت المال کےلیے مقصود تھا، تو پھر اس فعل پر اعتراض کس حیثیت سے ہے۔ اس سوال کا جواب بھی میری طرف سے گزشتہ بحث میں دیا جا چکا ہے۔ میں نے لکھا تھا کہ:

"اگر یہی مان لیا جائے کہ یہ حکم بیت المال کے لیے تھا، پھر بھی یہ قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ قرآن مجید میں کل مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے لینے کا حکم دیا گیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے لے کر خلفائے راشدین کے آخری زمانے تک اسی پر عمل ہوتا رہا ہے۔ اس امر کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ سونا اور چاندی مال غنیمت سے الگ نکال کر بیت المال میں داخل کر دیا گیا ہو اور قرآن مجید کے الفاظ میں بھی اس تخصیص کے لیے کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی ۔"

میری اس بات کا رد جتنی بھی احتمال آفرینیوں سے ممکن ہے، وہ مدیر البلاغ اپنی سابق بحث ہی میں پیش کر چکے ہیں، اور میں نے ان میں سے ہر ایک کا ابطال بھی کر دیا تھا۔ ہر بات کو دہرانا تو ممکن نہیں ہے، تاہم مثال کے طور پر میں ان کا یہ تازہ قول نقل کرتا ہوں کہ اگر سونا چاندی پورے مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ ہو تو یہ حکم شریعت کے مطابق ہو جاتا ہے۔ بیت المال میں سونے چاندی کی کمی ہوگی اس لیے حضرت معاویہ نے یہ حکم دیا ۔ میری گزارش یہ ہے کہ اس مفروضےکی آخر کوئی بنیاد تو ہونی چاہیےکہ یہ سونا چاندی بلا کم و کاست کل غنیمت کا ۱/۵ تھا اور بیت المال میں سونےچاندی کی کمی تھی۔ اگر فی الواقع ایسا تھا تو حضرت معاویہ نے اس کی تصریح فرمادی ہوتی کہ یہ سونا چاندی جملہ غنائم کی قیمت کا عین ۱/۵ ہے۔ ایسا اندازہ کر لینا گو کہ محال ہے، تاہم اگر ایسا صحیح اندازہ زیاد اور امیر معاویہ کے لیے ممکن تھا تو مجتہدین اور ان کے سپہ سالار حضرت حکم بن عمرو کے لیے کیوں ناممکن تھا؟ کیوں حضرت حکم نے اس پر شدید انکار واحتجاج کیا جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا؟ اور کیوں اس پر سارے لشکری خاموش رہے؟ آخر دونوں طرف دو صحابی رسول ہیں اور ہو سکتا ہے کہ فوج میں مزید صحابہ کرام بھی ہوں؟ ایک صحابی ( حضرت معاویہ ) جو میدانِ جنگ سے دور بیٹھے ہیں ان کا اندازہ تو آپ کے نزدیک بالکل صحیح ہے لیکن دوسرے صحابی جو شریک جہاد ہیں اور جو اس حکم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کتاب اللہ، کتاب امیر المومنین سے زیادہ واجب التعمیل ہے، آپ انہیں گویا کہ دُہرا خطاوار ٹھہراتے ہیں کہ انہوں نے احکامِ شرعی کے بھی خلاف کیا اور امیر المومنین کی بھی نافرمانی کی!

کیا احترام صحابہ کرام کا مطلب آپ کے نزدیک فقط یہ ہے کہ امیر معاویہ کی تو ہر بات کی تائید و تصویب کی جائے خواہ کتاب وسنت میں اس کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو اور جو صحابی امیر معاویہ سے اختلاف کریں ان کے موقف کی تغلیط ہی کی جائے خواہ وہ کتاب وسنت کے موافق ہی ہو؟ اگر آپ نے حضرت معاویہ کے ہر قول و فعل کو جائز ثابت کرنےکی قسم کھا رکھی ہےتو آپ کو صرف”خلافت و ملوکیت اور تاریخی کتابوں ہی کی تردید و تنقید پر اکتفا نہیں کرنا ہوگا بلکہ حدیث کی صحیح ترین کتب کے بعض اجزاء پر خط تنسیخ کھینچنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر صحاح ستہ کی تقریبا سب کتابوں میں اور موطا امام مالک اور مسند احمد میں ایسی روایات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امیر معاویہ نے بیع وشراء کے ایسے معاملات کیسے تھے، جن پر حضرت عبادہ بن صامت نے حضرت معاویہ کے سامنے ارشادات نبوی پیش کر کے انہیں ٹوکا، تب بھی آپ نے غلطی کو تسلیم نہ کیا۔ اسی طرح کا واقعہ حضرت ابوالدرداء کا مروی ہے جس کی بنا پر انہیں شام کی سرزمین چھوڑنی پڑی۔محدثین و شارحین نے ان احادیث کی تشریح کرتے ہوئے امیر معاویہ پر نہایت سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔ مثلا علامہ ابوالحسن سندھی نے اپنے حواشی سنن ابن ماجہ کتاب البیوع اور امام سیوطی نے تنویر الحوالك، کتاب البیوع میں شدید نکیر کی ہے۔کیا یہ سارے محدثین و مفسرین حضرت معاویہ اور صحابہ کرام کی منقبت و منزلت سے بالکل بے بہرہ اور جاہل تھے اور اب مدیر البلاغ ہی ایک ایسے فرد فرید کہیں سے ہویدا ہو گئے ہیں جو ہمیں تعظیم وتکریم صحابہ کاسبق سکھانے لگتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ دعوئی اور یہ تاویل بالکل بے بنیاد ہے کہ امیر معاویہ نے جو سارا سونا چاندی طلب فرمایا تھا، وہ مال غنیمت کا ۱/۵ تھا۔ ہر جنس اور ہر مال کا پانچواں حصہ اگر الگ کر لیا جاتا اور سونےچاندی کا بھی صرف پانچواں حصہ بطور شمس الگ کر لیا جا تا تب تو اسکا مطالبہ معروف قاعدے کےمطابق جائز ہوتا لیکن یہ دعویٰ کہ کل سونا چاندی کل غنائم کا ۵/ ۱تھا، یہ اس وقت تک ثابت نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ پورے اموال غنیمت کی مالیت ایک طرف اور سونے چاندی کی مالیت دوسری طرف مشخص کی جاتی، اور پھر یہ معلوم ہوتا کہ سونے چاندی کی قیمت جملہ اموال کی قیمت کا پانچواں حصہ بنتی ہے۔ مدیر البلاغ اس احتمال کو بھی بار بار دہرا رہے ہیں کہ اس وقت بیت المال میں سونے چاندی کی کمی تھی جسے امیر معاویہ پورا کرنا چاہتے تھے اور میں جب اس احتمال کو نہیں تسلیم کرتا تو فرماتے ہیں کہ یہ مقام تو ہمارے محترم نقاد ہی کو حاصل ہےکہ وہ چودہ سو سال پہلے کی حکومت کے بارے میں اس وقت کے حکمران سے بھی زیادہ صحیح اندازہ لگا لیتے ہیں کہ اس وقت بیت المال میں سونے چاندی کی ضرورت تھی یا نہیں۔ ہمیں کشف والہام کا یہ کمال تو حاصل نہیں لیکن جو تھوڑی سی عقل اللہ نے دی ہے،اس سے اتنا خیال ضروری ہوتا ہے کہ اس زمانے میں دو دھاتی معیار پر بنی نظام زر رائج تھا جس میں سونے چاندی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ مجھے کشف والہام اور عقل وخرد میں کامل تو کیا ناقص ہونے کا دعوی بھی نہیں ہے، لیکن اتنی بات تو میں بھی جانتا ہوں کہ یہ دو دھاتی نظامِ زرصرف حضرت معاویہ ہی کے عہد میں نہیں بلکہ عہد نبوت اور عہدِ خلافت راشدہ میں بھی موجود تھا اور اس زمانے میں بھی درہم و دینار اور مثقال ہی رائج تھے۔ اس لیے اس عہد سعادت میں بھی سونے چاندی کی ضرورت عہد مابعد سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ ہوتی ہوگی۔ پھر کیا اس بات کا کوئی ثبوت مل سکتا ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائےراشدین نے بھی کبھی مال غنیمت کا سونا چاندی الگ چھانٹ لیا ہو اور مجاہدین کو اس سے کلیہ محروم کر دیا ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو بعض اوقات مجاہدین کو درہم و دینار کا اتنا ڈھیر عطا فرماتے تھے کہ ان کے لیے اٹھانا محال ہو جاتا تھا۔

بیت المال میں ناروا تصرف

عہد نبوی وخلفائے راشدین اور اس کے عین بعد کے نظام محاصل و مالیات کا جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے، مجھےمولانا مودودی کی یہ بات بالکل بجا اور برحق دکھائی دیتی ہےکہ دور ملوکیت میں بیت المال کی حیثیت و تصور میں بڑی دُور رس تبدیلیاں رونما ہوئیں۔اس حقیقت سےکسی طرح انکار ممکن ہی نہیں ہےحضرت معاویہ کے متعلق ابن کثیر (البدایه جلد ۷، ص۱۲۴) اور دوسرےمؤرخین کی یہ تصریح ملتی ہے کہ جب وہ عہد فاروقی میں عامل تھے تو آپ کا ماہانہ معاوضہ ۸۰ دینار تھا جو زیادہ سے زیادہ ایک ہزار درہم بنتے ہوں گے۔ پھر آپ کے پاس وہ لاکھوں درہم کہاں سے آئےجو آپ نے اپنے صاحب زادے کی ولی عہدی کے لیے دوسروں کے سامنے پیش کیے؟ حضرت علیؓ نے جب آپ کو شام کی گورنری سے معزول کیا تو آپ نے اس کی تعمیل سےانکار کیا۔ حضرت علی یہ حکم اگر نامناسب تھا یا وہ قصاص عثمان کے معاملے میں مذبذب تھے اور امیر معاویہ کے لیے قصاص کا مطالبہ لے کر اٹھنا ضروری یا جائز تھا تو معزول نہ سہی، انہیں از خود احتجاجا گورنری سے مستعفی ہو جاتا چاہیے تھا۔اس عہدےپر فائز رہنا اور پورےشام کے بیت المال پر متصرف ہو کر اسے خلیفہ راشد کے مقابلے میں استعمال کرنا کس اصول سے صحیح ہو سکتا ہے؟ استعفاء کے بعد البتہ ایک اسلامی ریاست کے شہری یا حضرت عثمان کے ولی کے طور پر اگر حضرت معاویہ مطالبہ قصاص کرتے ، تب بھی یہ مطالبہ کسی حد تک درست ہو سکتا تھا۔

امیر معاویہ کے خلیفہ بننے کے بعد بھی آپ نے اور آپ کے عہدے داروں نے بیت المال کے معاملے میں وہ احتیاط ملحوظ نہیں رکھی ، جو آپ کے پیشرووں نے رکھی تھی۔ چنانچہ امیر معاویہ کےگورنر مروان کے متعلق سنن ابی داؤد، کتاب الخراج اور کتب تاریخ میں تصریح موجود ہے کہ اس نےفدک کو اپنی ذاتی جاگیر بنا لیا تھا حتی کہ یہ عمر بن عبد العزیز کو وراثت میں ملی تو انہوں نےاسےسرکاری اراضی میں واپس داخل کیا۔اس مروان کےمتعلق امام ابو عبید اپنی کتاب الاموال غنیمت وئےکےابواب کےایک مقام پر حضرت عروہ کی رویات پوری سند کےساتھ بیان کرتےہیں کہ ایک روز مروان نےمنبر پر کھڑےہو کر کہا کہ امیر المومنین معاویہ نےتمہیں بھر پور عطیات دینے کا حکم فرمایا ہےاور پوری کوشش کی ہے مگر مال میں سےایک لاکھ درہم کم ہےاور انہوں نےمجھےلکھا ہےکہ یمن کی زکوۃ جب یہاں سے گزرے تو میں اس میں سے یہ مال (تمہارے لیے) لے لوں۔“حضرت عروہ کہتے ہیں کہ لوگ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور میں نے انہیں یہ پکارتے ہوئے سنا:"ہرگز نہیں ، ہم ان میں سے ایک درہم بھی نہیں لیں گے۔کیا ہم دوسروں کا حق وصول کر لیں؟ یمن والا مال تو تامی و مساکین کے لیے صدقہ ہے۔ ہمارے عطیات تو جزیے میں سے ملنے چاہئیں۔ تم معاویہ کو لکھو کہ وہ ہمیں بقیہ عطایا بھیج دیں حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مروان نے یہ بات لکھی،تب امیر معاویہ نے بقایا ارسال فرمایا۔“

( کتاب الاموال ،ص ۲۵۹، روایت نمبر ۱۳۵، مکتبہ ظاہر یہ دمشق ، ۱۳۴۸ھ)

حافظ ابوعبید القاسم بن سلام جن کی وفات ۲۲۴ ھ میں ہوئی ہے، ایک نہایت صاحب تحقیق محدث ہیں اور ان کی کتاب الاموال اسلامی مخارج ومحاصل پر ایک مستند دستاویز شمار ہوتی ہے۔ ان کا بیان کردہ واقعہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ لوگوں نے بروقت انکار واحتجاج نہ کیا ہوتا تو مساکین کی حق تلفی ہو جاتی اور زکوۃ کا مال غلط مصرف میں صرف ہو جاتا۔

کتاب خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Caliphate , monarchy