خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ

باب یازدهم

باب یازدهم

مروان اور اسکے باپ کا مقام

(١)

[ "خلافت و ملوکیت" پر تنقید کا جو سلسلہ ”البلاغ‘ میں شروع ہوا تھا،اس کی چند قسطیں ”بینات (کراچی) میں بھی نقل کی گئی تھیں۔ اس سےپہلے اور بعد میں بھی اس ماہنامےمیں مولانا مودودی اور جماعت اسلامی پر کھلی اور چھپی چوٹیں رہتی ہیں۔میں اپنی بحث میں ایک مقام پر مروان کاذکر احیاناجس انداز میں کر بیٹھا، وہ بھی ادارہ ”بینات کو بہت ناگوار گزرا اور انہوں نے نهایت ناملایم اور غیر سنجیده طریق پر میرے خلاف خامه فرسائی فرمائی۔ اس وقت میں نے ضرورت محسوس کی کہ حدیث اور مسلک سلف کی روشنی میں مروان اور اس کے والد حکم کا اصلی مقام متعین کیا جائے۔ چنانچہ البلاغ کے جواب میں اپنی بحث کو چھوڑ کر میں نے ترجمان القرآن میں ”بینات“ کا جواب دیا جو اس باب میں نقل کیا جارہا ہے۔ آخر میں چند ضروری اضافے کر دیئے گئے ہیں۔ غلام علی ۔]

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی تصنیف ” خلافت و ملوکیت "کے خلاف پہلے کئی سال تک دیوبندی حضرات کا ایک خاص گروہ پورے ملک میں گلی گلی اور کوچےکوچےسب و شتم اور اشتعال و منافرت کا ایک طوفان برپا کرتا رہا۔ اس کے بعد اب ایک دوسرا گروه ایک دوسرے انداز میں پیش قدمی کر رہا ہے اور طرح طرح کےاعتراضات کو بزعم خویش مدلل و مزخرف بنا بنا کرسامنےلا رہا ہےاس سلسلےمیں مولانا مفتی شفیع صاحب کے صاحبزادے محمد تقی عثمانی صاحب نےالبلاغ میں جو کچھ لکھا، اس کی علمی حیثیت میں واضح کر چکا ہوں جسے دیکھ کر اہل علم خود رائے قائم کر سکتے ہیں کہ اس مخالفت کی تہ میں علم و استدلال کا کتنا وزن ہے۔اب مولانا محمد یوسف بنوری صاحب کےرسالہ بینات نے اس میدان میں قدم رکھا ہے اور اس کی ربیع الثانی ۱۳۹۱ھ کی اشاعت میں محمد الحق سندیلوی صاحب مولاناولی حسن ٹونکی صاحب اور مولانا محمد ادریس صاحب کی نگارشات شائع ہوئی ہیں۔ سندیلوی صاحب کی بحث پر اس وقت کچھ لکھنا میرے پیش نظر نہیں ہے۔لیکن دوسرے دو اصحاب نے جو خصوصی توجہ وعنایت میرے حال پر فرمائی ہے، اس کے متعلق کچھ عرض کرنےکا ارادہ ہے۔حقیقت یہ ہےکہ اس بحث کو طول دینے سےہماری طبیعت ابا کرتی ہے اور عام ناظرین کےلیے بھی یہ ایک تھکا دینےوالی بحث ہوگی لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ بغض مودودی بعض حضرات کو کسی طرح چین نہیں لینے دیتا اور وہ پے در پےاپنے بودے اور بے جان دلائل لا لا کر محض مولانا مودودی کی ضد میں بنوامیہ کے ہر فرد کی وکالت کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو اکابر امت میں سے کسی نے آج تک نہیں کی۔ ” خلافت و ملوکیت کے سلسلےمیں میری اب تک کی بحث میں ضمنا بعض مقامات پر مروان کا ذکر آ گیا ہےبینات (کراچی) کےمذکورہ شمارے میں مردان سے متعلق ان مندرجات کا تعاقب کیا گیا ہے۔ اس کا تفصیلی جائزہ لینا تو سر دست ممکن نہیں ہے، تا ہم اس تعاقب کے بعض اجزاء ایسےہیں جن پر تبصرہ و استدراک ضروری محسوس ہوتا ہے۔

مستدرک کی حدیث

مولانا مودودی نےخلافت و ملوکیت میں صفحہ ہےاپر مروان کےمتعلق البدایہ کی ایک روایت کاحوالہ دیا تھا۔ مدیر البلاغ نے اس روایت کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے ایک وجہ یہ بیان کی تھی کہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو ألفاظ لعن الله الحكم وما ولد منسوب کیےگئےہیں وہ مشکوک معلوم ہوتے ہیں۔ میں نے اسکےجواب میں تحریر کیا تھا کہ ایسی متعدد روایات حدیث و تاریخ میں موجود ہیں۔مثلاً مستدرک امام حاکم جلدہ صفحہ ۴۸ پر حضرت عبد اللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےحکم اور اس کے بیٹے(مروان )پر لعنت کی ہےاور اس روایت کے متعلق امام ذہبی نےبھی فرمایا ہےکہ صحیح ہے۔محمد تقی صاحب نے اس پر لکھا تھا کہ توجہ دلانے پر میں نے مستدرک سے رجوع کیا اور مجھے یہ حدیث سند صحیح کے ساتھ مل گئی_١"

اس پر تنقید کرتےہوئےبینات میں مولانا مفتی ولی حسن صاحب ٹونکی نےجو کچھ فرمایا ہےاس کا حاصل یہ ہے کہ تلخیص ذہبی میں صحیح نظر آنےکا مطلب یہ نہیں ہے کہ حافظ ذہبی نےصحت تسلیم کرلی۔ہاں اگر صحیح کہیں اور پھر کوئی کلام نہ کریں تب مطلب یہی ہوگا کہ اس کی صحت تسلیم کرلی گئی۔ یہ روایت جسے مولانا عثمانی نے فراخدلی سےقبول فرمالیا ہےبیچ نہیں۔ نہ حافظ ذہبی نےاسکی تصحیح پر صاد کیا ہے،نہ اصول حدیث کے معیار ہی پر پوری اترتی ہے، اس روایت کا مدار ابن رشدین پر ہے جو خود اور اس کا گھرانہ کذاب تھا۔ مروان اور بنوامیہ کے بارے میں بیشتر روایات و حکایات کا یہی حال ہے کہ وہ کارخانہ رفض کی پیداوار ہیں اور یہ ایک الگ مقالے کا موضوع ہے۔“اب مولانا ٹونکی صاحب کی ایک ایک بات پر علیحدہ اور مفصل کلام کیا جائے تو یہ بھی شاید کئی مقالوں کا موضوع بن جائے گا۔ اس لیے میں موجودہ جائزے میں ضروری باتیں عرض کرنے پر اکتفا کروں گا۔


١- بعد میں محمدتقی صاحب نے پھر اپنے اس موقف سے رجوع کرتے ہوئے لکھ دیا کہ انکا اعتراف صحیح نہ تھا اور بینات والوں کی بات درست ہے۔ تفصیل مضمون کے آخر میں ملاحظہ ہو ۔

پہلی بات یہ ہےکہ امام حاکم کی تصحیح سے امام ذہبی جب کبھی اظہار اختلاف کرتےہیں یا "صحیح" لکھنے کے بعد زاید کلام کرتےہیں،تو اس سےہر حال میں یہ لازم نہیں آتا کہ وہ حدیث کو موضوع و مردود قرار دے رہے ہیں۔ اسی لیے امام ذہبی کا انداز اور الفاظ ہر جگہ یکساں نہیں ہوتے۔کسی جگہ وہ بختی اور قطعیت کے ساتھ لا، واللہ وغیرہ الفاظ کے ساتھ تنقید کرتے ہیں، اور بعض دفعه نرم الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ صورت واقعی یہ ہے کہ امام حاکم نےجو احادیث مستدرک میں جمع کی ہیں،ان کے نزدیک یہ احادیث اکثر و بیشتر بخاری و مسلم کی شرائط پر پوری اترتی ہیں اور ہر علت سےخالی ہیں۔اس کےبرعکس امام ذہبی کے بیان اختلاف کا مقصود بالعموم یہ ہوتا ہے کہ فلاں حدیث شیخین یا ان میں سے کسی ایک کی شرط پر نہیں ہے یا اس میں کوئی مخفی علت ایسی ہے جس کی بنا پر اسےامام بخاری یا امام مسلم نےنہیں لیا۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ مستدرک کی کوئی حدیث علی شرط "الشیخین نہیں تو اب وہ کارخانہ رفض ہی کی پیداوار ہے۔"اس طرح تو مستدرک ہی نہیں بلکہ صحاح کی بہت سی احادیث سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔

مثال کے طور پر مستدرک جلد اوّل صفحہ ۲۳ کی دوسری حدیث پر امام حاکم لکھتے ہیں کہ یہ حدیث صحیحین کی شرط پر ہے۔ مجھے اس میں کسی علت کا علم نہیں، لیکن بخاری و مسلم نے اسے نہیں لیا۔ اس پر امام ذہبی فرماتےہیں کہ اس میں ایک راوی ایسا ہےجس سے فقط بخاری نے تخریج کی ہے، مسلم نے نہیں کی۔ اب ذہبی کے اس ریمارک سے کیا یہ حدیث بالکل معلول اور ساقط الاعتبار ہو جائے گی ؟ آگے صفحہ ۳۲ پر ایک حدیث پر امام ذہبی فرماتے ہیں کہ اس کا ایک راوی عزیز الحدیث ہے اور اس سےصحیحین میں روایت نہیں لی گئی۔اسی طرح صفحہ ۵۳ پر ایک حدیث کےایک راوی کےمتعلق فرماتے ہیں کہ وہ کثیر الوہم ہے۔ اب کیا یہ سب احادیث موضوع قرار پائیں گی؟ یہی حال اس حدیث کا ہےجس کےمتعلق مفتی صاحب فتویٰ دےرہےہیں کہ وہ اصول حدیث کے معیار ہی پر پوری نہیں اترتی۔ امام ذہبی نےاس حدیث کے ایک راوی احمد بن محمد بن حجاج رشدینی کے متعلق صرف یہ کہا ہے کہ اسےابن عدی نےضعیف کہا ہے۔اب یہ تو ایسی جرح ہے کہ صحاح ستہ کے بھی بے شمار روادی ایسےہیں جو اس سےمحفوظ نہیں رہ سکےصحاح کےرجال اور شروح حدیث کا جس نے بھی مطالعہ کیا ہےوہ اس سے بےخبر نہیں ہو سکتا۔ابن عدی کی تضعیف سےابن رشدین کا رافضی یا جھوٹا ہونا لازم نہیں آتا۔

یہ بات فی الواقع بڑی عجیب و غریب ہےکہ جس راوی کی روایت مولانا مودودی یا ان کی تائید میں راقم کی طرف سےنقل کردی جاتی ہےاس میں فوراً کیڑےپڑ جاتے ہیں اور وہ راوی جھٹ سے رافضی اور کذاب بن جاتا ہے۔ میں نےاسکی متعدد مثالیں محمد تقی صاحب کے مضامین میں بھی دیکھی ہیں۔مثلاً: ابن جریر کی ایک روایت جسکا خلافت و ملوکیت میں حوالہ دیا گیا تھا،اس کا ایک راوی مجالد بن سعید ہےاسکےمتعلق اصحاب رجال کےاقوال میں کتر بیونت کرتے ہوئےاپنی کتاب کے صفحہ ۳۰ پر عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ اس راوی کے تو ضعیف ہونے پر تمام ائمہ حدیث کا اتفاق ہے، یہ جھوٹا ہے،شیعہ ہے،مجہول ہے،متروک ہے" - - - - حالانکہ حافظ ابن حجر اور حافظ محمد بن طاہر المقدسی کی تصریح کے مطابق اس مجالد بن سعید سے امام مسلم نے اپنی صحیح میں حدیث لی ہے اور ابوداؤد، نسائی،ترمذی، ابن ماجہ چاروں نے اس سے روایت کی ہے۔ائمہ احناف نے اس راوی کی روایات اپنی کتابوں میں درج کی ہیں۔ مثال کے طور پر امام ابو یوسف نے الرد علی سیر الاوزاعی (لجنۃ احیاء المعارف النعمانیہ، حیدرآباد، صفحہ ۵) میں اس سے روایت لی ہے اور مولانا ابو الوفاء الافغانی_١ حاشیےمیں اس روای کےمتعلق فرماتےہیں: احد الاعیان، یعنی یہ نمایاں اور سربر آورده رواۃ حدیث میں سے ہیں اور ان سےانکے بیٹےاسماعیل_٢ امام سفیان ثوری، اصحاب سنن اربعہ، ابن المبارک اور خلق کثیر نے روایت کی ہے۔ اب ایک طرف ان ائمہ حدیث وفقہ کور کیے اوردوسری طرف علم وفن کے ان اجارہ داروں کو دیکھیے جو بلا تکلف ہر روادی کے بارے میں لکھ دیتےہیں کہ اس کے پیچھے تو تالیاں پیٹی جاتی تھیں اور اس کے پاس جو بھی جا تا تھا وہ بہت جھوٹ لکھ کر لاتا جو جاتا تھاوہ تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان مدعیانِ علم نے اپنے سوا ہر دوسرے شخص کو جاہل مطلق سمجھ رکھا ہے۔


١- مولانا ابوالوفاء افغانی ایک بلند پایہ فی عالم میں جنہوں نے احناف کی متعدد امہات کتب تحقیق و تنقیح کےساتھ مصر اور حیدر آباد دکن میں شائع کرائی ہیں اور اس غرض کےلیےلجنة احیاء المعارف النعمانیه کےنام سےمستقل ادارہ قائم کیا ہے۔ یہ مدرسہ نظامیہ میں استاذ بھی تھے۔ان کےسامنےمحمد تقی عثمانی صاحب جیسوں کی حیثیت طفل مکتب کی بھی نہیں ہے۔مجالد کےبیٹے اسماعمل اور خود مجالد سے ایک مرفوع روایت میزان اور دوسری کتب میں مروی ہےکہ اہل جنت آسماں کے درخشاں ستاروں کو الیقین میں دیکھیں گے اور ان ستاروں میں ابوبکر وعمر بھی ہوں گے۔ اب ایسے راویوں کو شیعہ کہنا کتنی بو الجھی ہے؟

٢- ان اسماعیل سےامام بخاری نے بیج میں حدیث کی ہےاور مکی بن معین و احمد بن سلیمان جیسے محدثین ان کےشاگرد ہیں جوحضرت ابو بکر کے اسلام لانےکی روایت ان سے بیان کرتےہیں(کتاب الجمع بین رجال الحسین ، امام بن طاہر المقدسی صفحه ۲۷) ۔

اب اس راوی ابن رشدین کا بھی یہی حال ہےکہ اسے محض اس لیےرگیدا جارہا ہےکہ اسکی روایت میں نے مولانا مودودی کی ضمنی تائید میں پیش کردی ہےاور رگیدنےوالےیہ بھول جاتےہیں کہ اسطرح کےاقوال جرح تو چھانٹ کر امام ابو حنیفہ کے خلاف بھی بہت سے پیش کیے جاسکتےہیں اور کیےجاتے ہیں۔ مفتی صاحبان کو چاہیے کہ وہ ہر بات کو پہلے اچھی طرح تو لیں، پھر بولیں۔امام بخاری تاریخ کبیر میں امام ابو حنیفہ کے متعلق کہتے ہیں،

كان مرجئًا سكتوا عن رأيه وعن حديثه.

" ابو حنیفہ مرجئی تھے۔ ان کی فقہ اور حدیث کے متعلق سکوت کیا گیا ہے۔“

تاریخ صغیر میں اس سے بھی سخت تر الفاظ ہیں جو میں نقل نہیں کرتا چاہتا۔مسند احمد صحاح ستہ حتی کہ سنن دارمی میں امام ابوحنیفہ سےکوئی حدیث روایت نہیں کی گئی۔مگر کیااس بنا پروہ متروک و مجہول شمار کیےجائیں گے؟رجال کی کتابوں میں سےکسی راوی کےمتعلق جرح نکال کر دیکھ لیا اور بس فقط اس کی بنا پر کسی روایت کورڈ کر دینا علم حدیث کا محض سطحی مطالعہ کرنےوالوں کا کام ہےجرح و تعدیل کی کتابوں میں کم ہی راوی ایسے ملیں گے جن کی سب نے تعدیل کی ہو، ورنہ بیشتر پر کسی نہ کسی نےجرح کی ہے،مگر اس کے باوجود کبار محدثین نے ان مجروحین کی احادیث نہ صرف یہ کہ اپنی کتابوں میں لی ہیں، بلکہ محدثین وفقہاء اپنے مسلک کی تائید میں جن احادیث سے استدلال کرتے ہیں، ان میں سے بکثرت ایسی ہیں جن کے راوی کسی نہ کسی کے نزدیک مجروح ہیں۔ یہ اصول محدثین کےہاں مسلم ہے جسے تدریب الراوی وغیرہ میں بیان کیا گیا ہے کہ ائمہ جرح و تعدیل میں سےکسی ایک نےبھی اگر ایک راوی کی توثیق و تعدیل کردی ہو تو اس راوی پر مجمل جرح اثر انداز نہیں ہوگی۔ امام نسائی کا یہ مشہور مسلک ہےاور اسے دوسروں نے بھی اختیار کیا ہے کہ جس رادی کے ترک پر محدثین کا اجماع نہ ہو ، وہ متروک و مجروح شمار نہ ہوگا اور اس سے حدیث لی جائےگی۔

میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر کی جس حدیث کا حوالہ مستدرک سے دیا ہے، اس کےساتھ مفتی ولی حسن صاحب نےمستدرک کی اسی مضمون کی بعض دوسری روایات میں بھی انقطاع اور ایک مجہول راوی کی نشان دہی فرمائی ہے۔میری سمجھ میں نہیں آسکا کہ جن روایات کو میں نےخود ہی قابل نقل نہیں سمجھا، ان پر خامہ فرسائی کی کیا حاجت تھی۔تاہم مفتی صاحب موصوف سےیہ امر تو مخفی نہ ہو گا کہ کسی روایت کی کسی ایک سند میں کلام ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا متن ضرور غیر صحیح یا موضوع ہو۔ عین ممکن ہے کہ یہ متن یا اسکےتوابع و شواهد دوسری اسناد صحیح سےمروی ہوں۔امام ابن جوزئی نےاس طرح بعض احادیث پر جن میں صحاح بلکہ صحیحین کی احادیث بھی ہیں ) موضوع ہونےکا حکم لگا دیا اور محض اس بنا پر لگا دیا کہ جو سند ان کےسامنےتھی اس کےراوی مجروح تھے۔اب یہی صورت یہاں در پیش ہے کہ یہ لعنت والا مضمون متعدد احادیث میں مذکور ہے جن میں سےسر دست میں مسند احمد کی ایک حدیث نقل کرتا ہوں جو مسند عبداللہ بن زبیر" میں مروی ہے۔

امام احمد اور دیگر ائمه کی احادیث

مسند احمد کی روایت یہ ہے:

حدثنا عبد الرزاق انا ابن عيينة عن اسماعيل بن ابي خالد عن الشعبي قال سمعت عبد الله بن الزبير وهو مستند الى الكعبة وهو يقول ورب هذه الكعبة لقد لعن رسول الله صلى الله عليه وسلّم فلانا وما ولد من صلبه.

" ہم سے عبدالرزاق نے ، ان سے ابن عیینہ نے ، ان سےاسماعیل نے اور ان سےشعمی نےحدیث بیان کی کہ میں نے عبداللہ ابن زبیر کو خانہ کعبہ سے ٹیک لگائے یہ فرماتےہوئے سنا کہ اس کعبےکی رب کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلان اور اس کے صلبی بیٹے پر لعنت کی ہے۔“

یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ حضرت ابن زبیر نے جب یہ حدیث بیان کی ہوگی تو اس میں اس شخص اور اس کے لڑکے کی ضرور تصریح فرمائی ہوگی جس پر آنحضور نے لعنت فرمائی تھی ، ورنہ ارشادِ نبوی بالکل مبہم اور غیر واضح رہتا لیکن راویان حدیث کا یہ طریقہ ہے کہ کسی فرد متعین کا ذکر جب بار بار ایک ہی مفہوم پر مشتمل احادیث میں آتا ہو تو بعض اوقات وہ نام کو حذف کر کے فقط فلاں کا لفظ کہہ دیتے ہیں کیونکہ کہنے والے اور سننے والے خوب جانتے ہوتے ہیں کہ یہاں کون شخص مراد ہے۔ اس حدیث میں بھی جس باپ بیٹے کا ذکر ہے وہ حکم اور مروان کے سوا کوئی ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ کوئی اور باپ بیٹا ایسا احادیث میں مذکور ہی نہیں جو مور د لعنت نبوی ہوا ہو ۔ اب اگر مولانا ولی حسن صاحب پسند کریں اس حدیث اور اس کے رواۃ پر بھی طبع آزمائی فرما ئیں مگر اس وادی میں قدم رکھتے ہوئےیہ بھی با درکھیں کہ امام احمد بن مقبل بالإجماع اعرف بالحدیث ہیں اور ان کے مسند کی جن مرویات پر تنقید کی بھی گئی ہے، ان میں سے ایک ایک کا دفاع حافظ ابن حجر اور دوسرے محدثین نے کر دیا ہے۔اس لیے محض کتب رجال کے چند اقوال کے بل پر کچھ کہہ دینے سے کام نہیں چلے گا۔ اس معاملےمیں بھی آپ کو تنگ دلی نہیں بلکہ چار و ناچار فراخدلی ہی دکھائی پڑے گی جس کا طعنہ آپ محمد تقی صاحب عثمانی کو دے رہے ہیں۔

صحیح بخاری، کتاب التفسیر سورہ احقاف کے تحت ایک حدیث ہے جس میں بیان ہے کہ امیر معاویہ نے جب مروان کو مدینےکاعامل بنایا تو اسنےبیعت یزید پر لوگوں کو آمادہ کرنےکےلیےخطبہ دیا۔اس پر حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر نے ٹوکا تو مروان نےکہا پکڑوا سے۔حضرت عبد الرحمن نے بھاگ کر حضرت عائشہ کے گھر میں پناہ لی۔ مروان نے وہاں جا کر کہا کہ یہ وہ شخص ہے جس کےمتعلق قرآن میں ہے وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ اُفَ لَكُمَا .... حضرت عائشہ نے پردے کےپیچھےسےفرمایا کہ حضرت ابو بکر کےگھر والوں کےمتعلق قرآن میں کچھ نہیں اتر اسوائے اس کےکہ اللہ نےمیری برات نازل فرمائی۔بخاری میں تو اتنا ہی واقعہ بیان کیا گیا ہے،لیکن سورہ احقاف کے اس مقام کی تفسیر میں اور اس حدیث کی تشریح میں اکثر مفسرین و محدثین نے لکھا ہے مردان کی اس غلط بیانی کے جواب میں حضرت عبدالرحمن اور حضرت عائشہ نے مروان کو یہ بھی یاد دلایا تھا کہ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے۔ مثال کے طور پر تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئےامام ابن ابی حاتم کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ مروان سے حضرت عبدالرحمن نے کہا تھا:

الست ابن اللعين الذي لعن رسول الله صلی الله علیه وسلم ایاک؟

" کیا تو لعین کا بیٹا نہیں ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے؟“

پھر حافظ ابن کثیر امام نسائی کی ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے مروان کی الزام تراشی کے جواب میں فرمایا: ” مروان جھوٹ کہتا ہے۔ مزید فرمایا:

ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلّم لعن ابامروان ومروان في صلبه فمروان فضض من لعنة الله.

" بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروان کے باپ پر اس حالت میں لعنت فرمائی جب کہ مروان باپ کے صلب میں تھا، پس مروان اللہ کی لعنت میں حصہ دار ہے۔“

بخاری کی مذکورہ بالا حدیث کی شرح میں علامہ بدرالدین عینی نے محدث الاسماعیلی سے ایک روایت بیان کی ہے جس میں حضرت عائشہؓ کا یہی قول نقل کیا ہے کہ لکن رسول اللہ صلی الله علیه وسلّم لعن ابامروان في صلبه فمروان فضض اى قطعه من لعنة الله عزوجل پھر حافظ ابن حجر فتح الباری میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے محدث ابو یعلی کی روایت نقل کرتے ہیں کہ جب سروان اور حضرت ابن ابی بکر کے مابین تکرار ہوئی اور مروان نےحضرت عبدالرحمن پر جھوٹا انتہام عاید کیا تو انہوں نے فرمایا:

الستَ ابن اللعين الذي لعنه رسول الله صلى الله عليه وسلّم.

پھر حافظ ابن حجر نے بھی اسماعیلی کے حوالے سے حضرت عائشہ کا قول نقل کیا ہے کہ:

ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن ابامروان ومروان في صلبه.

امام سیوطی کی تاریخ الخلفاء ایک مشهور و متداول کتاب ہے جو مدتہائے دراز سے درس نظامی کا جزور ہی ہے۔ یہ دراصل امام ذہبی کی تاریخ کا ایک جامع خلاصہ ہے۔ اس میں بھی حضرت معاویہؓ کے حالات کے آخر میں امام نسائی اور ابن ابی حاتم کے حوالے سے حضرت عائشہؓ کی حدیث نقل کی گئی ہے:

ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن أبا مروان ومروان في صلبه فمروان فضض من لعنة الله.

ان جمله مفسرین، محدثین ، اور مورخین نے مردان کے لعنت زدہ ہونے پر دلالت کرنے والی یہ ساری احادیث اپنی کتابوں میں بلا تنقید نقل کی ہیں اور ان پر درلینڈ یا روایہ کوئی اعتراض وارد نہیں کیا ہے۔ اس طرح کے متعدد دیگر اقوال سلف بھی پیش کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے بعد میں بینات کےمقالہ نویسوں سے پوچھتا ہوں کہ آیا یہ سارےحضرات رافضی اور کذاب ہیں جو ام المومنین حضرت عائشہ اور ان کےبرادر بزرگوار سےیہ نقل کر رہے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےمروان اور اس کےباپ حکم پر لعنت بھیجی ہے؟یا معاذ اللہ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ابن ابی بکر محض مروان کو مطعون کرنے کےلیےآنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے غلط بات منسوب کر رہے ہیں؟ کیا سنی کہلانے اور صحابہ کرام کا احترام کرنے کا مطلب آپ کے نزدیک یہ ہے کہ مردان کی ہر حال میں وکالت و مدافعت کی جائے ، اپنے سوا ساری دنیا کو رافضی ٹھہرایا جائے اور مروان پر کسی حدیث صحیح کی زد پڑتی ہو تو اس کا بھی انکار کر دیا جائے؟

مولانا شبلی کا قول

مفتی ولی حسن صاحب فرماتےہیں کہ بنوامیہ کےبارے میں بیشتر روایات و حکایات کارخانه رفض کی پیداوار ہیں مگر میں مفتی صاحب کو یقین دلاتا ہوں کہ مسند احمد اور صحاح کےمصنفین کا اس کارخانےسےکوئی تعلق نہیں تھا۔ہاں البته روایات کی بہت سی فیکٹریاں خود بنو امیہ اور بنو عباس کےہاں بھی چالو تھیں۔ چنانچہ مولانا شبلی نعمانی سیرۃ النبی کے دیباچے میں فرماتے ہیں:

"فن تاریخ و روایت پر جو خارجی اسباب اثر کرتے ہیں، ان میں سب سے بڑا قوی اثر حکومت کا ہوتا ہے لیکن مسلمانوں کو ہمیشہ اس پر فخر کا موقع حاصل رہےگا کہ ان کا قلم تلوار سےنہیں دیا۔حدیثوں کی تدوین بنو امیہ کےزمانےمیں ہوئی ہےجنہوں نےپورے نوے_١ برس تک سندھ سے ایشیائےکو چک اور اندلس تک مساجد میں آل فاطمہ کی توہین کی اور جمعہ میں برسر منبر حضرت علی پر ان کہلوایا سینکڑوں حدیثیں امیر معاویہ وغیرہ کےفضائل میں بنوائیں۔ عباسیوں کےزمانےمیں ایک ایک خلیفہ کےنام بنام پیشین گوئیاں حدیثوں میں داخل ہوئیں۔ لیکن نتیجہ کیا ہوا، عین اسی زمانے میں محدثین نےعلانیہ منادی کردی کہ یہ سب جھوٹی روایتیں ہیں۔ آج حدیث کا فن اس خس وخاشاک سے پاک ہے اور بنو امیہ اور عباسیہ جوظل اللہ اور جانشین پیغمبر تھے ، اسی مقام پر نظر آتےہیں جہاں انہیں ہونا چاہیے تھا۔“

(سیرة النبی حصہ اول طبع ہفتم ، اعظم گڑھ ، ۱۹۲۵ء صفحه ۲۶)

بہر کیف محدثین رحمہم اللہ کی قبور اللہ نور سےمعمور فرمائےانہوں نےنہ صرف روافض و نواصب اور بنو امیہ و بنو عباس کےان کارخانوں کی مصنوعات کا تارو پود بکھیر کر رکھ دیا،بلکہ انہوں نےایسی صحیح احادیث کو بھی علانیہ بیان فرمایا جن میں سیئات بنی امیہ کی پیشین گوئی کی گئی تھی اور بنوامیہ ہی کےزمانے میں اپنی جان پر کھیل کر حضرت علی اور اہل بیت کے ان مناقب کی بھی نشر واشاعت کی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرماتے تھے، اور جنہیں لوگوں کے دلوں سے محو کرنے کے لیےحضرت علی اور ان کے گھرانے پر لعنت بھیجی جاتی تھی۔

سر دست مولانا مفتی ولی حسن صاحب کےتعقبات کےجواب میں گزارشات بالا پر اکتفا کرتےہوئے اب میں چند باتیں اس” تزییل کےبارے میں عرض کروں گا جو محترم مولانا محمد ادریس صاحب مدیر بینات“ نے رقم فرمائی ہیں۔ سب سے پہلے مجھے مروان کے متعلق ان کےدرج ذیل ارشاد پر اپنی گزارش پیش کرتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:


١- نوے سال یوں بنتے ہیں کہ اس میں امیر معاویہ خلیفہ بنے اور ۱۳۲ھ میں جا کر ابو العباس سفاح نے اموی خلافت کا خاتمہ کر کے عباسی سلطنت کی بنا ڈالی۔ اس پورے دور میں (حضرت عمر بن عبد العزیز اور یزید بن ولید کے مختصر عہد کو چھوڑ کر ) حضرت علی دبنو فاطمہ پر بر سر منبر لعنت کی جاتی رہی۔

" اگر مروان کا باپ اور اس کی ماری نسل .... بقول ملک صاحب ..... ملعون على لسان نبوت تھی تو ملک صاحب اس کی کیا توجیہ کریں گے کہ معاذ اللہ اس خاندان کے صلیبی لڑکے عبدالعزیز کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے خاندان نے حضرت عمرؓ کی پوتی بیاہ دی اور اس کے بطن سے عمر بن عبد العزیز بن مروان بن حکم پیدا ہوئے جنہیں مولانا مودودی خلیفہ راشد تسلیم کرتے ہوں گے۔کیا فاروقی گھرانے کو اس ملعونیت عامہ کا انکشاف نہیں ہوا تھا؟“

بے بنیاد اتهام

مولانا موصوف نے میری عبارت پر یہ اعتراض و اشکال وار کرتے ہوئے ترجمان القرآن،مئی ٧١ء کا حوالہ دیا ہے۔ لیکن میں نے اس ماہ کے ترجمان میں کہیں بھی یہ بات نہیں لکھی کہ "مردان کا باپ اور اس کی ساری نسل" معلون علی لسان نبوت تھی۔میں نے اس پرچےمیں ایک جگہ صرف مروان کا "ملعون علی لسانِ نبوت ہونا" بیان کیا ہے (صفحہ ۱۹) اور اگلے صفحے پر بھی صرف مروان کو لعنت زدہ لکھا ہے۔ اس سے اگلے صفحے پر بھی ایک جگہ مروان اور دوسری جگہ”مردانیوں کی معنونی ذریت"کےالفاظ میرےقلم سےنکلےہیں۔یہاں مروانیوں سےمیری مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے گفتار و کردار میں مروان اور اس کے باپ سے ملتے جلتے ہیں۔ اس سے مراد ہرگز ساری نسل مروان نہیں ہے۔ میرے الفاظ معنوی ذریت میرے مدعا پر شہادت ودلالت کےلیےکافی ہیں۔ترجمان کے مئی کےاس شمارے کےعلاوہ بھی ، جہاں تک مجھے یاد ہے اور جہاں تک میں اپنی پوری بحث کی ورق گردانی کر سکا ہوں،میں نے یہ بات کہیں بھی نہیں لکھی کہ مروان یا اس کےباپ کی”ساری نسل"ملعون علی لسان نبوت تھی۔ تاہم میں مولانا محمد ادریس صاحب اور جملہ حضراتِ قارئین کےسامنے یہ بات نہایت صفائی اور وضاحت کے ساتھ بیان کیےدیتا ہوں کہ اگر بھی میں نےایسی بات کہی ہو یا میری کسی بات سےیہ مفہوم اخذ ہوتا ہو کہ میں خدانخواستہ مروان کی تاقیامت پوری نیچےتک کی نسل کو اللہ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت کا مستحق سمجھتا ہوں تو میں اس سے عند اللہ قطعی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ میں ہزار بار اللہ کی پناہ طلب کرتاہوں اس خیال باطل سےکہ عمر ثانی،پانچویں خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبد العزیز کو معاذ اللہ)اس لعنت کا مصداق سمجھوں جو احادیث مذکورہ میں وارد ہےمیں تو ترجمان جلد ۷ عدد ۶ میں خلافت و ملوکیت پر بحث کرتےہوئے حضرت نعمان بن بشیر کی ایک حدیث نقل کر چکا ہوں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خونخوار ملوکیت اور جبر و استبداد کی حکومت کے بعد دوبارہ خلافت علی منہاج نبوت کے قیام کی خوشخبری دی ہے اور یہ بھی لکھ چکا ہوں کہ اس حدیث کے ایک راوی حبیب بن سالم جو حضرت عمر بن عبد العزیز کے ہم عصر تھے، انہوں نے بطور تبشیر و تذکیر یہ حدیث حضرت ابن عبدالعزیز کو لکھ بھیجی تھی اور ساتھ تحریر کیا تھا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ ہی وہ امیر المومنین ہوں گےجو از سر نو خلافت علی منہاج النبوۃ کا احیاء کریں گے اور حضرت عمرؓ اس پر بڑے مسرور و شادماں ہوئے یہ بات بھی میں اپنےسلسلہ مضامین میں واضح کر چکا ہوں کہ حضرت عمر ثانی ہی نے بنو امیہ اور مروان کی متعدد بدعات وستیات کا خاتمہ کیا، مثلاً فدک کو مروان نےاپنی ذاتی جاگیر بنالیا تھا اور اس کا ورثہ حضرت عمر تک بھی پہنچا مگر آپ نےاسےدوبارہ ریاستی املاک میں شامل کیا، منبروں پر لعن طعن کا خاتمہ آپ ہی نےکیا۔ اس کے بعد مجھ پر یہ بہتان کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ میں حکم اور مروان کے ساتھ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو بھی خدا نخواسته ملعون سمجھتا ہوں؟

حقیقت یہ ہےکہ ان احادیث میں حکم کےساتھ جو ماولد کےالفاظ ہیں،ان سےمراد میرےنزدیک کلم کا بیٹا مروان یا پھر حکم اور مردانکی وہ اولاد ہے جو اپنے اوصاف واخلاق میں اس باپ بیٹےسےملتی جلتی ہے۔ اس میں حکم یا مردان کی ساری اولا د شامل نہیں ہےحکم اپنے ان افعال کی وجہ سے لعنت کا مستحق ہوا جو اس سے حضور نبوت میں سرزد ہوئےاور جن کی وجہ سےاسےاور اس کےساتھ مروان کو مدینہ بدر ہونا پڑا اور مروان اپنےان افعال شنیعہ کی وجہ سےاس لعنت کا مستحق بنا جو افعال عہد نبوی کے بعد اس سے صادر ہوئے اور جن کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی دی گئی تھی۔ظاہر ہےکہ جب مروان اور اسکا والد اپنےافعال ہی کی بنا پرمور دلعنت بنا،تو پھر مروان اور حکم کی ساری اولا د کس طرح ملعون قرار پاسکتی ہے۔ حکم کے بیس بیٹے تھے جن میں سے ایک مردان تھا اور مروان کے بھی آگے بارہ بیٹے تھے۔ یہ سب عادات و خصائل میں اپنے باپ کے مشابہ نہ تھے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان سب پر وعید نبوی کو چسپاں کیا جائے۔ حکم کا ایک بیٹا اور مروان کا بھائی عبد الرحمن بن حکم بھی تو تھا جس کے متعلق علامہ ابن عبدالبر استیعاب میں لکھتے ہیں-

كان لا يرى رأى مروان.

" اس کے خیالات و نظریات مروان سے مختلف تھے۔“

اب آخر کیا وجہ ہے کہ میں عبدالرحمن کو بھی ملعون سمجھوں۔ میرے خلاف اور میری پیش کردہ ااحادیث کے خلاف بینات“ کا یہ اعتراض اسی طرح کا ہےجس طرح کا اعتراض بنوامیہ کےبعض دوسرے حامی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کے خلاف کرتے ہیں جو بنو امیہ اور بنو مروان کی مذمت میں دیگر احادیث میں وار ہیں اور دلیل یہی دی جاتی ہے کہ ان کی زد حضرت عثمان اور عمر بن عبدالعزیز پر پڑتی ہے، حالانکہ ان میں سے متعدد احادیث کی سند بالکل صحیح ہےاور محدثین و شارحین نےان سےحضرت عثمان اور حضرت ابن عبدالعزیز کو خارج ومستثنی قرار دیا ہے۔ بہر کیف جس پر اللہ اور اس کے رسول نے اس کے کرتوتوں کی بنا پر لعنت کی ہو، مجھے اسے ملعون على لسان نبوت سمجھنے یا کہنے میں کوئی تردد نہیں ہے۔ یہ چیز کسی پر شاق گزرتی ہے تو گزرتی رہے۔

مولانا محمد ادریس صاحب مجھ سےاس بات پر خفا ہیں کہ میں نے”غریب مروان کو خوب پیٹ بھر کر صلواتیں سنائی ہیں اور میری تحریر منہ بول کر کہہ رہی ہے کہ یہ نی کے قلم کی تراوش نہیں بلکہ کسی جلے کے رافضی کی تخلیق ہے ۔ پھر فرماتے ہیں انہیں ذوق مودودیت کی وکالت کے بنیادی حق سے کون روک سکتا ہے، تاہم وہ یہ نہ بھولیں کہ مردان کو اکثر محدثین صغار صحابہ میں شمار کرتےہیں۔ ان سے روایت کرنے والوں میں اجلہ تابعین کےعلاوہ جلیل القدر صحابی حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔امام بخاری مروان کی احادیث روایت کرتے ہیں، امام مالک نے موطا میں ان کے فتاویٰ اور فیصلوں کو بطور حجت نقل کیا ہے۔ اگر مردان اسی قماش کا آدمی تھا جیسا کہ رافضی افسانوں کے سہارے محترم ملک صاحب باور کرانا چاہتے ہیں، تو وہ بتا ئیں کہ اس صورت میں ان کے عطا کردہ خطابات کا مستحق کیا صرف مروان رہ جاتا ہے اور کیا صحابہ وتابعین وغیرہ اس کی لپیٹ میں نہیں آجاتے ؟“

مالک و بخاری کی روایت مروان

جناب مولانا محمد اور لیس صاحب نے اپنے قلم سے جولولوئے لالا یہاں (اور آگے چل کر )بکھیرے ہیں ان پر پورے واشگاف انداز میں کچھ عرض کرنا تو شاید سوء ادب ہو لیکن میں کیا یہ دریافت کر سکتا ہوں کہ جب مروان کو اکثر محدثین صغار صحابہ میں شمار کرتے ہیں اور امام بخاری کے اس سے روایت بیان کرنے کی بنا پر مروان کی جلالت قدر میں اور اضافہ ہو جاتا ہےتو پھر آپ "غریب مروان" اور "اس قماش کا آدمی“ کہہ کر کیوں تو ہین صحابہ کا ارتکاب فرمارہے ہیں۔یہ الفاظ بھی تو کسی سنی کے قلم سے نہیں پکنے چاہئیں، آپ کی زبان قلم کو تو رافضی افسانوں سے کوئی اثر قبول نہیں کرنا چاہیے اور بعض دوسرے مستیوں کی طرح جب بھی مروان کا ذکر خیر ہو، تو آپ کو بھی حضرت مروان رضی اللہ عنہ رقم فرمانا چاہیے۔ یہ نیچے دروں نیچے بروں کی پالیسی آپ کےشایانِ شان نہیں ہے۔ مروان کے صحابی یا غیر صحابی ہونے کےمسئلےپر میں انشاء اللہ بھی تفصیل سےلکھوں گا،البتہ روایت حدیث کے معاملے میں حقیقت حال اور صحیح موقف وہی ہے جو میں پہلے عدالت صحابہ و عدالت رواۃ کی بحث میں بیان کر چکا ہوں۔ جو راوی بھی صادق القول فی روایت الحدیث ہےوہ خواه مبتدع ہو، مرتکب کبیرہ ہو، اس کی روایت بلا تامل کی جاسکتی ہےاور لی گئی ہے،صحیح بخاری میں بھی مروان سےروایت اسی بنا پر اخذ کی گئی ہےاس سے مروان کی صحابیت و جلالت کا ثبوت فراہم نہیں ہوتا، امام بخاری نے بالعموم مروان کی روایت حضرت مسور بن محزمہ کو ساتھ مقرون والحق کر کےلی ہےتاہم اس سےتنہا کوئی روایت مروی ہو تو وہ بھی قابل قبول ہے کیونکہ امام بخاری کے نزدیک حضرت عروہ بن زبیر کے قول کے مطابق مردان متہم فی الحدیث نہیں تھا، اس کے متعلق حافظ ابن حجر کی تصریح درج ذیل ہے، جسے انہوں نے ہدی الشاری، الفصل التاسع میں مجروح راویوں پر بحث کرتے ہوئے مروان کے زیر عنوان دیا ہے:

فإنما حمل عنه سهل بن سعد وعروة وعلى بن الحسين وأبو بكر بن عبدالرحمن بن الحارث وهؤلاء أخرج البخاري أحاديثهم عنه في صحيحه لما كان أميرا عندهم بالمدينة قبل ان يبدو منه فى الخلاف على بن الزبير مابدا .

" مروان سےحضرت سہل بن سعد، عروہ علی بن حسین اور ابوبکر بن عبد الرحمن نےجو حدیث لی ہےاور ان کی تخریج امام بخاری نے صحیح میں کی ہے، یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ ان اصحاب کی موجودگی میں امیر مدینہ تھا اور جب تک اس سے حضرت ابن زبیر کی مخالفت کا صدور نہیں ہوا تھا۔"

ابن حجر کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ان مذکورہ بالا حضرات نے مروان سے اس وقت تک روایت اخذ کی ہے۔ جب تک اس نے حضرت عبداللہ بن زبیر کے مقابلے میں اپنی سلطنت قائم کرنے کے لیے اپنی تلوار نیام سے نہیں نکالی تھی اور اسی زمانے کے مرویات مروان کو امام بخاری نے صحیح میں لیا ہے۔ مگر میرے خیال میں یہ تحدید تخصیص کچھ زیادہ مفید نہیں ہے کیونکہ مروان کےکارنامے پہلے بھی کچھ کم نہ تھے۔ صحیح تر بات یہی ہے کہ مردان کی ساری زیادتیوں کے باوجود جب اس سے کذب فی الحدیث کا ثبوت نہیں ملتا تو اس کی روایت بلا تامل لی گئی ہے اور لی جانی چاہیے مگر اس سے اس کے معائب ومثالب کالعدم نہیں ہو جاتے ۔ باقی رہی یہ بات کہ امام مالک نےمروان کے فقہی فتاویٰ اور فیصلوں کو بطور حجت پیش کیا ہےتو اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلے دراصل مـديـنـة النبی کے مکین اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اجماعی عمل پر بنی تھی جس کی خلاف ورزی مدینہ میں رہتے ہوئے آسان نہ تھی۔ اس کے باوجود مروان نے متعدد بدعات ومحدثات کو رائج کرنےکی کوشش کی جن کی تصویب نہ امام مالک یا کسی دوسرےمحدث وفقیہ نےکی اور نہ جن پر عمل کرنے کی جرات آج مدیر بینات یا کسی دوسرے شخص کو ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر عیدین کےلیے خطبہ نماز سے پہلے دینا اور اس کے لیے منبر کا اہتمام کرنا، آخران ” مروانی فیصلوں کو امت مسلمہ میں کس نےاس وقت سے لے کر آج تک ”حجت مانا ہے۔ امام مالک نے موطا میں آنحضور اور خلفائے راشدین کی سنت بیان کی ہے کہ وہ خطبہ عیدین نماز کے بعد پڑھتے تھے مگر مروان کی سنت کا ذکر نہیں کیا۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے مستویٰ میں تقریباً ساٹھ اجلہ شیوخ مالک کو نام بنام بیان کیا ہےمگر مروان کا نام مجھےان میں کہیں نظر نہیں آیا، بلکہ امام ابن حزم نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ مالکیہ کا عمل اہل مدینہ کو بطور حجت پیش کرنا بےکار ہے، کیونکہ وہاں مروان ہی کےزمانے سے تغیر سُٹن کا آغاز ہو گیا تھا_١

صحیح بخاری،ابواب العیدین،باب الخروج بغیر منبر اور دوسری کتب حدیث میں تصریح ہےکہ مروان نے جو منبر نماز عید کےلیےخاص طور پر بنوایا تھا جب وہ اس پر نماز عید سے پہلےہی چڑھنےلگا تو حضرت ابو سعید خدری نےاس کا دامن پکڑ کر کھینچ لیا مگر مروان دامن چھڑا کر منبر پر براجمان ہو گیا۔اس کےبعد حضرت ابوسعید فرماتے ہیں:

فقلت له غيّرتم والله فقال اباسعيد قد ذهب ما تعلم فقلت ما أعلم والله خير مما لا أعلم.

"میں نے مروان سے کہا خدا کی قسم تم نے(امر شریعت میں ) تغیر و تبدیل کر دیا۔ تو مروان کہنے لگا، ابوسعید جو کچھ تم جانتے ہو ، اس کا دور گزر چکا۔ میں نے (حضرت ابوسعید نے ) جواب دیا: خدا کی قسم جو کچھ میں جانتا ہوں وہ اس سے بہتر ہے جو میں نہیں جانتا۔“


١- الاحکام لابن جزم صفحه ۸۵۴ مطبعة العاصمه، قاہرہ ۔

اب ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ حضرت ابوسعید خدری تو مروان کو اس پر ٹوک رہے ہیں کہ تو نےاحکام شریعت میں تبدیلی کر کےخطبےکو نماز عید پر مقدم کر دیا اور مروان اس خلاف ورزی سنت پر نادم ہونے کے بجائے کہ رہا ہے کہ ابوسعید جس علم کا مظاہرہ تم کر رہے ہو، وہ تو قصہ ماضی اور داستانِ پارینہ ہے۔ کیا الٹا چور کوتوال کو ڈانٹےکی مثال اس سےموزوں تر کوئی اور ہو سکتی ہے؟ کوئی صاحب اگر ہم سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہم محض طعنہ رفض اور الزام تو ہمین صحابہ “ سے بچنےکے لیذ ترک سنت، مخالف شریعت کی بھی داد دے سکیں گے تو یہ بہت مشکل ہے۔"تعظیم صحابہ" کی آخر یہ کون سی قسم ہے کہ جس شخص کےسامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پیش کی جاتی ہے اور وہ جواب میں کہتا ہے کہ اس کا دوراب لد گیا ہم ایسے شخص کی تعظیم و تکریم کریں۔ اگر ایسے شخص کےخلاف لب کشائی جائز نہیں تو فضل الرحمن اور پرویز صاحب کے خلاف زبان کھولنا کیسے جائز ہے؟

دیوبندی اکابر کا مسلک

پھر مولانا محمد اور لیس صاحب فرماتے ہیں ” جہاں تک ہمارے اور ہمارے اکابر کے مسلک کا تعلق ہے، وہ یہ ہے کہ ہم مروان کے بارےمیں افراط و تفریط دونوں کو مناسب نہیں سمجھتے،جس شخصیت کے مناقب و مثالت دونوں تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہوں،اگر اس کی مدح و ثنا کو آپ کا جی نہیں چاہتا تو نہ کیجئےمگر اس کے حق میں لعن طعن کی زبان بھی مت کھو لیے۔ اس کے ماحول کےالجھے ہوئے حالات سے بھی آنکھیں بند نہ کیجئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنےمردوں کو برا بھلامت کہو، انہوں نے جو کچھ آگے بھیجا تھا، وہ اسے پاچکے ہیں ۔ اس کے جواب میں میری گزارش یہ ہے کہ مجھے تو مروان یا کسی دوسرے فرد متعین کے حق میں لعن طعن کی زبان کھولنےسےخاص شغف نہیں ہےلیکن کیا مجھےاس بات کا بھی حق نہیں پہنچتا کہ میں بی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا وہ ارشاد بھی بیان کروں جس میں کسی شخص پر لعنت کا ذکر ہو۔ بلاشبہ آنحضور نے مردوں بلکہ زندوں کو بھی بلا وجہ برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے، لیکن دوسری طرف قرآن وحدیث ہی میں ایسی مستثنی مثالیں موجود ہیں جن میں بعض افراد پر اللہ اور اس کےرسول کی لعنت مذکور ہے۔ پھر مولانا موصوف نےاپنےجن اکبار کےمسلک کی ترجمانی فرمائی ہے،معلوم نہیں اس فہرست میں کون کون بزرگ شامل ہیں اور ان کا افراط و تفریط سے میرا مسلک کس مقام پر بیان ہوا ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی یقیناً ان اکابر میں شامل ہوں گے جنہوں نے رفض و تشیع کے رد میں ایک مبسوط کتاب تحفہ اثنا عشر دیکھی ہے، ان سے درج ذیل سوال و جواب فتاوی عزیزی میں منقول ہے:

سوال: مروان کو برا کہنے کے بارے میں اہل سنت کے نزدیک کیا ثابت ہے؟

جواب اہل بیت کی محبت فرائض ایمان سےہےنہ لوازمِ سنت۔اور محبت اہل بیت سے ہے کہ مروان علیہ الملعنہ کو برا کہنا چاہیےاور اس سےدل سےبیزار رہنا چاہیے۔علی الخصوص اس نےنہایت بدسلوکی کی حضرت امام حسین اور اہل بیت کے ساتھ اور کامل عداوت ان حضرات سے رکھتا تھا اس خیال سے اس شیطان سے نہایت ہی بیزار رہنا چاہیے۔

(فتاوی عزیزی صفحه ۲۲۵، باہتمام حاجی محمد ذکی، ناشر سعید کمپنی، ادب منزل، پاکستان چوک، کراچی، ۱۳۸۷ھ)

علمائے دیوبند کےاستاد الاساتذة مولانا احمد علی صاحب سہانپوری، بخاری، کتاب الفتن،حديث : هلكة امتى على يدي غلمة من قریش کی شرح میں فرماتے ہیں:

قد وردت أحاديث في لعن الحكم والد مروان وما ولد آخرهما الطبراني وغيره.

"احادیث میں حکم اور اس کے بیٹے پر لعنت وارد ہے۔ طبرانی اور دوسرے محدثین نے ان کی تخریج کی ہے۔“

اس کے بعد دیوبند کے شیخ المشائخ مولانا محمود الحسن صاحب کا درج ذیل قول ملاحظہ ہو جو سنن ترندی، صلوٰۃ عیدین کی تقریر میں منقول ہے:

يقال ان اول من خطب قبل الصلوة فى العيدين مروان بن الحكم. كان مروان بن الحكم ظالما فحاشا مستدبرا عن سنة عليه السلام وكان يسب الناس في المجامع مثال الجمعة والأعياد والناس كانوا لا ينتظرون بعد الصلوة الى الخطبة لسبه فى أثناء الخطبة فقدم الخطبة على الصلوة لئلا ينتشر الناس وكانوا ينتظرون للصلواة لا محالة.

"کہا جاتا ہے کہ جس نے سب سے پہلے نماز عیدین سے قبل خطبہ دیا وہ مروان بن حکم تھا۔ مروان بے حد پرلے درجے کا ظالم اور سنت نبوی کو پیٹھ دکھانے والا اور اس سے منہ موڑنے والا تھا اور لوگوں پر جمعےاور عیدین کےمجمع ہائےعام میں سب وشتم کرتا تھا اور لوگ اس سب و شتم کی وجہ سےنماز عید کےبعد اس کےخطبے کا انتظار کیے بغیر چلے جاتے تھے۔ اسی لیے اس نے نماز پر خطبے کو مقدم کیا تا کہ لوگ منتشر نہ ہوسکیں کیونکہ ان کے لیے نماز کا انتظار تو ناگزیر تھا۔“

( التقرير الترمذی، مولانا محمود الحسن مکتبہ رحیمیہ دیوبندی ۱۳۷ه ص ۱۹)

مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب کے افادات ترندی جو مولا نا محمد بیٹی صاحب کاندھلوی نے الکواکب الدری کے زیر عنوان جمع کر کے چھپوائے ہیں ، ان میں اسی حدیث کی شرح میں فرماتےہیں:

اول من خطب قبل الصلوة مروان بنيّة فاسدة، فكان يعرض في خطبته بأهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم ويستى الأدب بهم فلما رأى الناس ذلك وان ليس لهم صبر على استماع أذاهم رضى الله عنهم جعلوا يذهبون إذا فرغوا من الصلوة فقدم مروان الخطبة ليلجئهم الى سماعها فكان فعله ذالک خبنا ظاهرًا فأنكروا عليه.

"مروان نےسب سےپہلےبری نیت کےساتھ عید کا خطبہ نماز پر مقدم کیا۔وہ اپنےخطبےمیں اہل بیت النبی پر طعن و تعریض کرتا تھا اور ان کےحق میں بےادبی کرتا تھا۔جب لوگوں نےیہ دیکھا اور وہ اہل بیت کی اس ایذارسانی پر صبر نہ کر سکے تو وہ نماز کے بعد چلے جاتے تھے۔ تب مروان نے خطبہ مقدم کیا تا کہ لوگوں کو مجبور کر کے ایسا خطبہ سنائے ، پس اس کا یہ فعل خبث کا مظاہرہ تھا جس پر لوگوں نے اظہار نفرت کیا)۔

یہ بات بخاری ، صلوٰۃ العیدین کی اس حدیث میں بھی مذکور ہے جس کا کچھ حصہ میں پہلےنقل کر آیا ہوں کہ مروان نے خود حضرت ابو سعید سے کہا کہ لوگ نماز عید کےبعد ہمارےلیےبیٹھتےہی نہیں،اس لیےخطبہ کو مقدم کرنا پڑا_١اب جو لوگ مردان کو صغار صحابہ میں شمار کرکےاسکےمناقب بیان کرتےہیں،انہیں خدارا کچھ تو سوچنا چاہیےاور سوچ کر اس سوال کا جواب دینا چاہیےکہ آخر سب مسلمان بشمول صحابہ کرام اس صغیر صحابی کا خطبہ عید سننےسے کیوں اتنا دُور بھاگتےتھےحالانکہ خطبہ سننا مسنون اور ایک طرح سےنماز کاحصہ ہے؟مولانا محمد ادریس صاحب اپنےاکابر کا جو مسلک بیان فرما رہےہیں،اس بیان کردہ مسلک کی روشنی میں وہ ان اکابر کےبارےمیں کیا ارشاد فرماتےہیں جن کےاقوال میں نےابھی درج کیےہیں؟دیوبندی مسلک کےاصل ترجمان یہ حضرات ہیں یا آپ ہیں؟ آپ فرماتےہیں کہ تم مردان کم کارناموں اور اسکےماحول کےالجھےہوئےحالات سےبھی آنکھیں بند نہ کرو۔اس نصیحت کےہم شکر گزار ہیں مگر آپ بھی مروان کےان کارناموں سے چشم پوشی نہ فرمائیں جنہوں نے اس ماحول کےحالات کو الجھانےمیں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔آپ کہتے ہیں اور امام ذہبی کا حوالہ دیتےہیں کہ خدا سے بغض رکھنے والوں نے،جن کا اوڑھنا بچھونا کذب و نفاق تھا، انہوں نے طوفانِ بدتمیزی سے طومار تیار کیے اور آپ کو شاید معلوم نہیں کہ خود امام ذہبی نے مروان کے بارے میں اپنی متعدد تصانیف میں کیا کچھ لکھا ہے؟ مگر محدثین نے جو کچھ مروان کے متعلق فرمایا ہےسر دست میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ تا ہم آپ نےجو باصرار اس امر کا اعلان کیا کہ ہمارے بزرگوں کا ذوق یہی ہے کہ وہ مروان پر زبان طعن دراز نہیں کرتے ، اس کے جواب میں آپ کے بزرگوں کے چند اقوال نمونہ پیش کر دیئے گئےجنہوں نے "مروان پر زبان طعن دراز" کی ہے۔۔١


١- مردان اور حضرت ابو سعید کا یہ واقعہ معمولی لفظی اختلاف کے ساتھ صحیح مسلم ، دیگر کتب حدیث میں بھی وارد ہے۔

عجیب و غریب مغالطه

مولانا محمد ادریس صاحب نےآخر میں ایک حیرت انگیز بات ارشاد فرمائی ہےفرماتے ہیں "ملک صاحب کو غالباً کسی دار الحدیث میں کتب حدیث کی سماعت کا اتفاق ہوا ہو گا اور طلبہ حدیث کی اس عادت کا بھی علم ہوگا کہ وہ ہر حدیث کی سند پڑھنےکےبعد متن حدیث شروع کرنے سےپہلےصحابی کے نام پر رضی اللہ عنہ و عنہم کہنےکا التزام کرتے ہیں۔اب بخاری شریف کی قرآت کرتےہوئےجہاں مروان بن الحکم کےنام پر سند ختم ہو جاتی ہے، وہاں ملک صاحب رضی اللہ عنہا کہنے کا فتویٰ دیں گے یا معاذ الله لعنة الله عليهم کا؟ بینوا توجروا۔‘اس صریح اشتعال آمیز اور مغالطه خیز عبارت کو بغور پڑھنےکےباوجود میں یہ سمجھنےسےقاصر ہوں کہ اس کا منشاء ومدعا کیا ہے اور اسکی بنا کیا ہے؟ اگر مولانامحمد اور لیس صاحب یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ امام بخاری نے مروان یا حکم کو صحابی قرار دیتے ہوئے ان سے کوئی مرفوع و متصل حدیث براہ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح بخاری شریف میں تخریج کی ہے، تو یہ بات بالکل غلط ہے۔ امام بخاری نے صحیح میں ایسی کوئی حدیث نہیں لی ہےنہ وہ ان کو صحابہ میں شمار کرتے ہیں۔اپنی تاریخ میں ان کا قاعدہ ہےکہ وہ بالعموم صحابی کے ساتھ له صحبة وغیرہ سے الفاظ درج کرتے ہیں یا کوئی ایسی حدیث نقل کرتے ہیں جوان صحابی نے بلاواسطہ آنحضور سے روایت کی ہو لیکن تاریخ کبیر جلد ۴ صفحہ ۳۶۸ ( دائرۃ المعارف) میں مروان کے ترجمے میں ایسی کوئی تصریح نہیں، بلکہ صرف یہ ہے کہ


١- محمد تقی صاحب نے اس حقیقت سےانکار کرنے پر بڑاز دور لگایا تھا کہ حضرت معاویہ اور ان کےگورنر مردان و غیره حضرت علی اور اہلِ بیت پر جمعہ کےخطبوں میں سب و شتم لعن طعن کرتےتھے۔اب وہ مزید میری اس بحث کو بھی دیکھ لیں جس میں مولانا شبلی نعمانی اور دیو بند کے اکابر اس سب و شتم کو بطور ایک والد مسلّمہ کے ہی کر رہے ہیں اور اس کے لیے کسی حوالے کی ضرورت نہیں محسوس کرتے بےشمار دیگر ائمہ سلف طرح بیان ہے۔ اس کے بویا و شخص کا نہ مانوں کی رٹ لگانا چاہے، اسے کون روک سکتا ہے؟

سمع عثمان بن عفان وبشره.

" یعنی مروان نے حضرت عثمان و بسرہ سے روایت سنی_١ ہے۔“

امام ذہبی میزان الاعتدال میں مروان کے ترجمے میں صاف فرماتے ہیں:

قال البخارى: لم ير النبي صلى الله عليه وسلّم. قلت روى عن بسره وعن عثمان وله أعمال موبقة نسأل الله السلامة رمى طلحة بسهم وفعل وفعل.

” بخاری کہتے ہیں: مروان نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ میں (ذہبی ) کہتا ہوں کہ اس نے بسر ہ ( بنت صفوان ) اور عثمان سے روایت کی ہے اور اس کے اعمال ہلاکت خیز ہیں، ہم اللہ سے سلامتی طلب کرتے ہیں۔ مروان نے حضرت طلحہ کو تیر مارا اور بہت سے نا گفتنی افعال کا ارتکاب کیا۔“

طبقات ابن سعد میں حضرت طلحہ کے ترجمہ میں پانچ مختلف اسناد سے مروی ہے کہ مروان ہی نے حضرت طلحہ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ ان میں ایک روایت عبدالملک بن مروان کی ہےجو مروان کا اپنا بیٹا ہے۔ امام بخاری کا یہ قول تہذیب التہذیب اور دوسری کتابوں میں بھی منقول ہے کہ مروان صحابی نہیں۔ مردان کی مذمت میں امام ذہبی کے اس سے شدید تر اقوال بھی موجود ہیں۔ امام نووی تہذیب الاسماء میں فرماتے ہیں:

لم يسمع النبي ولا راه.

" مروان نے حضور سے نہ حدیث سنی نہ آپ کو دیکھا۔“

صحیح بخاری کے جو نسخےمتداول ہیں اور جن کی سندامام بخاری تک پہنچتی ہے، ان میں جہاں کسی صحابی تک سلسلہ اسناد پہنچتا ہے وہاں اکثر و بیشتر صحابی کے ساتھ رضی اللہ عنہ کے الفاظ موجود ہیں ۔ کسی ایک جگہ اگر یہ رہ گئے ہیں تو دوسرے مقام پر ان صحابی کےساتھ ان الفاظ کا اضافہ کر دیا گیا ہےلیکن مروان یا حکم کا نام جہاں بھی آیا ہےوہاں رضی اللہ عنہ نہیں لکھا گیا ہےمثلاً بخاری،کتاب الشروط کی پہلی ہی حدیث حضرت عروہ بن زبیر سے مروی ہے انه سمع مروان والمسور بن مخرمہ رضی الله عنهما .... اب اس سند میں رضی اللہ عنہما کے متعلق کسی کو یہ شبہ نہیں ہونا چاہیےکہ اس میں ھما اشارہ مروان اور حضرت مسور کی جانب ہے۔ نہیں، بلکہ اشارہ حضرت مسور آوران کے والد حضرت مکرمہ کی جانب ہے جو دونوں صحابی ہیں اور انہی کو امام بخاری نے رضی اللہ عنہما کہا ہے۔ اگر مروان کو بھی امام بخاری شامل کرتےتو رضی اللہ عنہم کہتے۔اب یہاں سرےسےرضی اللہ - - - -کے الفاظ نہ ہوتےتب بھی ایک بات تھی لیکن امام بخاری صاف طور پر دو صحابیوں کے ساتھ یہ الفاظ لائےہیں اور مرواج کو خارج کر دیا ہےکوئی صاحب اگر مزید اطمینان کرنا چاہیں تو وہ عمدة القاری میں اس حدیث کی شرح دیکھ لیں۔وہاں علامه امینی حضرت مسور اور حضرت مخرمه کے متعلق لکھتے ہیں:


١- حافظ ابن حجر نے بھی تقریب میں مردان کے متعلق لکھا ہے، لا تُثبت له صحبة " اس کی صحابیت ثابت نہیں ۔ امام عبد الرحمن بن محمد اپنی کتاب المراسیل میں فرماتے ہیں: مروان بن الحكم لم يسمع عن النبي صلى الله عليه وسلّم شيئًا. كان مروان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم ابن خمس سنین او نحوه "مروان بن حکم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ بھی نہیں سنا۔ وہ عہد نبوی میں تقریبا پانچ سال کا تھا۔" (کتاب المراسیل - مکتبہ اپنی پانچ سال کا تھا۔ )

له ولابيه صحبة.

" باپ بیٹے دونوں صحابی ہیں۔“

پھر فرماتے ہیں:

امـامــوان فانه لا يصح له سماع من النبي صلى الله عليه وسلّم ولا صحبة لانة خرج الى الطائف طفلا لا يعقل لما نفى النبي صلى الله عليه وسلم أباه الحكم وكان مع أبيه بالطائف حتى استخلف عثمان فردّهما.

” جہاں تک مروان کا تعلق ہے، اس کی سماعت حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح وثابت نہیں ہے اور نہ وہ صحابی ہےکیونکہ وہ ایک طفل نادان تھا جبکہ اسے اپنے باپ کےساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے سے طائف کی طرف جلا وطن کر دیا تھاوہ اپنے باپ کے ساتھ طائف ہی میں رہا حتی کہ حضرت عثمان خلیفہ ہوئے اور انہوں نے دونوں کو واپس بلا لیا۔“

صحیح بخاری میں مروان کی دوسری روایات کا بھی یہی معاملہ ہےکہ جہاں مردان کےنام پر انکی سند کا خاتمہ ہوا ہےوہ سب مرسل روایتیں ہیں،یعنی مردوان کےبعد کسی صحابی کا نام غیر مذکور ہےجن سے مروان نے روایت کی ہے۔ یہ احادیث مروان نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر گز نہیں سنی ہیں۔ اب اس کےبعد ہر صاحب علم یہ دیکھ سکتا ہےکہ مولانامحمد ادریس صاحب کا یہ سوال کتنا عجیب و غریب ہےکہ ”بخاری شریف میں جہاں مروان بن حکم کےنام پر سند ختم ہوتی ہےوہاں ملک صاحب رضی اللہ عنہما کہیں گےیا لعنتہ اللہ کا فتویٰ دیں گے؟میں نہ مفتی ہوں،نہ مجھےلعنت بھیجنےکا ذوق و شوق ہےمگر بخاری شریف پڑھتےہوئےمیں اس کے مصنف امام بخاری ہی کےطریقےپر عمل کروں گا اور مروان اور حکم کو رضی اللہ عنہا ہر گز نہیں کہوں گا،جب کہ میرے نزدیک وہ صحابی نہیں اور ان پر حدیث میں لعنت بھی وارد ہےمجھےمعلوم نہیں کہ وہ کونسا ”دارالحدیث ہےیا تھا جس میں بخاری کا درس دیتےہوئےجب اس باپ بیٹےکا نام آتا ہے، وہاں طلبہ واساتذہ مروان بن الحکم رضی اللہ عنہما کہنےکا اہتمام فرماتےہیں؟ مولانا موصوف سےدرخواست ہےکہ میری اوردوسرےطالبان علم کی معلومات میں اضافہ فرمائیں اور ذرا چند ایسےدارالحدیث اور ان کےمعلمین و فارغین کےنام شائع فرمادیں جو قرآت بخاری کے دوران میں مروان بن حکم رضی اللہ عنہما کا ورد کرتے رہتے ہیں۔ پھر یہ بھی واضح فرمادیں کہ یہ فعل اس مزعومہ ”مسلک اکا بڑ“ سے کہاں تک موافق ہے جس کی رو سے اب باپ بیٹے کے لیے نہ رضی اللہ عنہا کہنا روا ہے نہ لعنہما اللہ کہنا۔

مروان کا باپ

پھر غضب بالائے منصب یہ ہے کہ فاضل مدیر ہونات مروان کے ساتھ محکم کو بھی شریک کر کےدونوں کے حق میں رضی اللہ عنہا کی قرآت کا التزام چاہتے ہیں اور غالب مدیر موصوف پہلے شخص ہیں جنہوں نے حکم کو بھی رضی اللہ عنہ بنانے کی سعی فرمائی ہے۔ حکم وہ شخص ہے جو منافقین مدینہ سےساز باز رکھ کر انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کےراز اور خفیہ امور سےآگاہ کرتا تھا۔محدثین و مؤرخین کا بیان ہے کہ وہ بھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےنطق مبارک کی نقل اتارتےہوئے ایک مصنوعی انداز میں بولتا تھا، کبھی چلتے ہوئے آنحضور کی خصوصی رفتار مبارک کی نقلیں اتارتا تھا،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےمعجزات میں اسکو شمار کیا گیا ہے کہ اس شخص کی گفتار و رفتار میں ایک طرح کا تصنع اور فساد پیدا ہو گیا کیونکہ آنحضور نے فرمایا تھا کن کذلک. بعض اقوال کے مطابق یہ شخص گھروں میں جھانکتا تھا۔ غرض یہ کہ ان حرکات کی بنا پر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ بدر کر کے طائف میں قید کر دیا تھا اور کوشش کے باوجود حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں واپس آنے کی اجازت اسے نہ مل سکی۔ مروان اور اس کےباپ کے متعلق حافظ ابن کثیر البدایه ( جلد ۸ صفحہ ۲۵۹) میں لکھتے ہیں:

وقد كان ابوه الحكم من اكبر اعداء النبي صلى الله عليه وسلم وانما اسلم يوم الفتح وقدم الحكم مدينة ثم طرده النبي صلى الله عليه وسلم إلى الطائف ومات بها ومروان كان اكبر الاسباب في حصار عثمان.

اور مروان کا باپ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین دشمنوں میں سے تھا، فتح مکہ کے روز ایمان لایا اور مدینے پہنچا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طائف کی طرف جلا وطن کر دیا اور وہیں وہ فوت ہوا اور مروان حضرت عثمان کے محصور ہونے کا سب سے بڑا سبب تھا_١"

اب اگر ایسا باپ اور بیٹا بھی رضی اللہ عنہما ہیں تو پھر کہہ دیجیےکہ عبداللہ بن ابی بھی رضی اللہ عنہ ہے ۔ وہ مرتے دم تک مدینے میں مسلمانوں کےمعاشرے میں رہا ہے اور مسلمانوں کےقبرستان میں دفن ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ بھی پڑھایا اور اس کے کفن کےلیےاپنا پیر ہین مبارک بھی عطا فر مایا۔جو لوگ اپنا ذوق یہ بتا رہے ہیں کہ حکم اور اس کے بیٹے پر زبان طعن دراز نہ کی جائےان کی نگاہ سےسورہ احزاب کی وہ آیت تو گزری ہوگی جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

إِنَّ الَّذِينَ يَؤُذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا.

اپنے مضمون میں محض ضمنا میں نے یہ لکھ دیا تھا کہ حدیث میں حکم اور اس کےبیٹےپر لعنت وارد ہے اور یہ ان چند مقامات میں سےایک ہےجہاں محمد تقی صاحب عثمانی نےمجھ سےاظہار اتفاق کر لیا تھا۔لیکن عجیب بات ہےکہ "بینات“ نےاس پر فوراً ” البلاغ "کو لقمہ دینا ضروری سمجھا اور مولانا ٹونکی صاحب اور مولانا محمد اور لیس صاحب نےمل کر عثمانی صاحب کو کمک پہنچانےاور مروان اور حکم کےمناقب بیان فرمانےکی کوشش کی۔یہ کوشش کس حد تک کامیاب ہےاس کا اندازہ قارئین خود ہی کر سکتےہیں۔دوسری طرف جناب محمد تقی صاحب نےجو الٹی زقند لگائی ہے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ البلاغ کےجمادی الا ولی ۱۳۹۱ھ کےشمارے میں لکھتے ہیں:

"احقر نے ذی الحجہ کے البلاغ میں لکھ دیا تھا کہ ملک صاحب کے دیئےہوئےحوالےکےمطابق مستدرک صفحہ ۴۸۱ جلد پر مجھے یہ حدیث سند صحیح کے ساتھ مل گئی جس کی حافظ محمد ذہبی نے بھی توثیق کی ہے۔ اب ربیع الثانی کےبینات میں حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب ٹونکی کا ایک مضمون شائع ہوا ہےجس میں انہوں نے میری اس عبارت پر گرفت کر کے حدیث کی مفصل تحقیق درج فرمائی ہے۔ اب میں مولانا مفتی ولی حسن صاحب مدظلہم کی تحقیق پر مطمئن ہوں اور اس تنبیہ پر ان کا شکر گزار ہوں۔ مجھے مدیر بینات کے ان الفاظ سے پورا اتفاق ہے کہ ہمارے بزرگوں کا ذوق یہی ہے کہ مروانکو نہ صحابہ کرام کے مخصوص لقب رضی اللہ عنہ سے جابجا یاد کرتے ہیں، نہ اس پر زبانِ طعن دراز کرتے ہیں۔“


١- شاہ عبد العزیز محدث کا قول پہلے نقل ہو چکا ہے کہ مردان کامل عداوات حضرات اہل بیت سےرکھتا تھا۔“

اب البلاغ کی یہ مراجعت کیا اس امر کا واضح ثبوت نہیں ہےکہ یہ لوگ اپنےگروہ کی حد تک "من خرا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو"کی روش پر کار بند ہیں۔صحیح بات سےہٹنا اور غلط بات پر ڈٹنا اسکےلیےبالکل سہل ہے جسےیہ اپنےحلقےکا آدمی سمجھتے ہیں، وہ اگر نہایت کمزور اور واہی بات کہہ دے، تب بھی اسے لپک کر لیں گے اور جو ان کی یونین کا ممبر نہ ہو،اس کےمعاملےمیں انکی "فراخدلی" فوراً ان کا ساتھ چھوڑ دےگی۔ ان حضرات سے میری یہ گزارش ہے کہ ”جمہور اہل سنت کے مسلک“ اور ” آپ کے اکابر کے ذوق کی تحقیق کے تقاضے محض ستائش باہمی سے پورے نہیں ہو سکتے، نہ علمی بحثوں میں بودا اور غیر محکم استدلال محض اس طرح کی پھبتیوں سے موثر اور جاندار ہو سکتا ہے کہ آپ دوسروں کے لیے- - - - "جلا کٹا رافضی ، ذوق مودودیت کا وکیل، رافضیت کا جدید ایڈیشن،کارخانه رفض کی پیداوار"- - - - اور اس طرح کےدوسرے عامیانہ اور معیار شرافت و ثقاہت سے فروتر الفاظ استعمال کریں۔ اگر آپ انبیاء علیہم السلام کے وارث اور ان کے خلق کےحامل ہیں، تو آپ کو یہ تنابز بالالقاب اور فقرےبازیاں زیب نہیں دیتیں، نہ ان کی مدد سے ہوائی اور غیر علمی باتوں کو وزن و قرار نصیب ہو سکتا ہے۔ دلیل سے بات مانیے اور منوائے محض طعن و تشنیع اور ہمز ولمز سے کام نکالنے کی سعی نا کام نہ فرمائیے۔

اند کے پیش تو گفتز و بدل تر سیدم که تو آزرده شوی ور نه سخن بسیار است

ایک اور فتویٰ

آخر میں ایک اور مفتی صاحب کا بصیرت افروز فتوی بھی ہدیہ قارئین ہے۔ یہ "تعلیم القرآن"(راولپنڈی) جمادی الاولی ۱۳۹۱ھ میں شائع ہوا ہےمفتی صاحب سےپوچھا گیا کہ "کیا مروان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابی تھےاور کیا انکو خبیث کہنا جائز ہےاور جو امام ایسا کہےاسکےپیچھےاقتداء کرنی جائز ہے؟“مفتی صاحب فرماتے ہیں:

"مروان کو اسماء الرجال کی کتابوں میں صحابہ کےسلسلہ میں لکھتےہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان کی پیدائش ہوئی ہے بعد از ہجرت ان کے باپ کو پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام نےطائف کی جانب نکال دیا تھا اور یہ بوجہ چھوٹا ہونے کے باپ کے ساتھ ہی رہے اور پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کو انہوں نے دیکھا نہیں۔ان کی روایت صحاح ستہ میں ہےحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کےمعتمد خاص تھےان کو نا شائستہ الفاظ میں ذکر کرنا مسلک اہل سنت والجماعت کےخلاف ہےاور خیر القرون مشہود لہا بالخیر کےمتعلق بے با کی۔ فلہذا جو اس جسارت کا مرتکب ہےایسےشخص کو سمجھانا چاہیے.اگر امام مذکور اصلاح قبول کرے تو اس کی اقتداء درست ہے، ورنہ مکروہ ہے کیونکہ وہ مبتدع ہے اور مبتدع کی اقتداء فقہاء کرام نے مکروہ لکھی ہے۔“

عبدالرشید مفتی دارالعلوم تعلیم القرآن

اب ان مفتی صاحب نے جو فتوی داغا ہے اور حضرت مروان کی شان میں ناشایسته الفاظ کہنےوالوں کو جس طرح مسلک اہل سنت کا مخالف، بےباک،جسارت کا مرتکب،مبتدع اور امامت صلوٰۃ کےلیےنا اہل قرار دیا ہے،ذرا اس فتوےکی روشنی میں ان سارےاکابر_١کےاقوال مندرجہ بالاکو دوباره دیکھیےاور پھر غور کیجئےکہ یہ لوگ کس ضد اور شقاق میں مبتلا ہیں۔ اس فتوے کی زبان یہ بتا رہی ہے کہ اس کا روئےسخن ایسےشخص کی طرف ہے جسے مودودی کا ہم خیال فرض کر لیا گیا ہے، اور اسی مفروضے کا یہ نتیجہ ہے کہ:

الجھا ہے پاؤں یار کا زُلف دراز میں لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ ..


١- ان اکابر میں سےایک کا ذکر اسی رسالےکےصفحہ ایر ان الفاظ میں کیا گیا ہے" شیخ محدث وقت حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ"۔ یہ بھی یادر ہے کہ مولانا گنگوہی نے مروان کے لیے وہی لفظ حبٹ استعمال کیا ہے جو سائل کے سوال میں مذکور ہے۔

(٢)

امام ذہبی اور نواب صدیق حسن خاں کی تصریحات

بحث گزشتہ میں مروان اور اس کےباپ کا ملعون على لسان النبوۃ ہونا ثابت اور واضح کیا جا چکا ہے۔اپنی کتاب کےدیباچےہی میں شاہ عبدالعزیز صاحب محدث کا قول بھی نقل کر چکا ہوں کہ ناصبیوں اور اہل بیت نبوی سے بغض رکھنےوالوں کےٹولے کا سردار اور بانی مبانی مروان ہی تھا۔تا ہم آج کل چونکہ اہل حدیث اور دیوبندی حنفی سب مردان اور حکم کی مدح وثنا میں رطب اللسان ہیں،اس لیےمیں اس ضمن میں چند احادیث اور اقوال سلف مزید پیش کر دینا مناسب سمجھتا ہوں تا کہ جو لوگ تعظیم صحابہ کے پردے میں اس باپ بیٹے کی تو قیر و تکریم کے علمبر دار بن گئےہیں،ان کےفریب کا پردہ اچھی طرح چاک ہو جائے۔مسند احمد اور دوسری کتابوں کی روایات نقل کر دینےکےبعد مستدرک کی اس روایت کی توثیق و تائید پوری طرح ہو جاتی ہےجسےکارخانہ رفض کی پیداوار قرار دیا گیا ہے۔لیکن اس روایت کی تضعیف چونکہ امام ذہبی کےایک قول کےبل پر کی گئی ہے، اس لیے میں سب سے پہلے یہاں امام ذہبی کی کتاب البیر کا ایک حوالہ دیتا ہوں۔ یہ بھی واضح رہے کہ یہ کتاب رطب و یابس اور حشووز واید سے پاک ہے۔ امام ذہبی اس کے شروع میں لکھتے ہیں کہ میں نے اس میں تاریخ اسلامی کے مشہور ترین حوادث کا ذکر کیا ہے جن کا حفظ وضبط کرنا ہر ذہین عالم کےلیے ضروری ہے۔ کتاب کے آخر میں پھر لکھتے ہیں کہ اس میں صرف بڑے بڑے اہم واقعات وحوادث درج کیے گئے ہیں۔ اس میں اس کے واقعات میں فرماتے ہیں:

فيها توفى الحكم بن ابی العاص ولد مروان أسلم يوم الفتح كان يُشى سر النبي صلى الله عليه وسلم وقيل كان يحاكيه في مشيته فطرده الى الطائف وسبه فلم يزل طريدًا الى ان استخلف عثمان فأدخله المدينة وأعطاه مئة ألف .

"اس سال مروان کا والد حکم بن ابی العاص فوت ہوا۔وہ فتح مکہ کےروز مسلمان ہوا تھا مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےراز فاش کر دیا کرتا تھا اور یہ بھی کہا جاتا ہےکہ آنحضور کی رفتار مبارک کی نقلیں اتارتا تھا۔پس آپ نے اسےطائف میں جلا وطن کر دیا اور اس پر لعنت بھیجی۔ وہ جلا وطن ہی رہا حتی کہ حضرت عثمان خلیفہ ہوئے تو اسے مدینے میں داخل کیا اور ایک لاکھ کا عطیہ اسے دیا۔“

(العمر في خبر من غیر ، جز ، اول صفحہ ۳۲)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکم کا ملعون ہونا بالکل جھوٹ ہے اور امام ذہبی کے نزدیک بھی اس پر دلالت کرنےوالی روایات سب مکذوب و موضوع ہیں تو امام ذہبی اس پر سب اور لعنت کا ذکر کیسےکر رہے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ امام ذہبی نے اپنے متعدد اقوال میں مروان کی شدید مذمت کی ہے جن میں سے ایک میزان الاعتدال کا قول پہلے نقل کیا جا چکا ہے۔ نواب سید محمد صدیق حسن خاں صاحب نے اپنی کتاب ہدایۃ السائل میں ایسے بہت سے اقوال جمع کر دیئے ہیں۔ مثلاً امام ذہبی کی اعلام سِیرِ النبلاء کے حوالے سے لکھتے ہیں:

قتل طلحة ونجا فليته مانجى.

"مروان نے حضرت طلحہ کو قتل کیا اور پھر بچ گیا۔ کاش کہ وہ زندہ نہ بچتا۔“

میزان کے حوالے سےلکھتےہیں کہ "مروان کےاعمال تباہ کن اور ہلاکت خیز ہیں جن سےہم اللہ کے حضور میں سلامتی چاہتے ہیں ۔ اس پر نواب صاحب فرماتے ہیں:

اس تصریح است بفسق ولے۔

"یہ مروان کے فسق کی تصریح ہے۔“

سیر النبلاء میں حضرت طلحہ کے ترجمے میں امام ذہبی مروان قاتل طلحہ کے متعلق لکھتے ہیں:

قاتل طلحة في الوزر كقاتل على

" طلحہ کے قاتل مروان کا گناہ اتنا ہی بڑا ہے جتنا علی کے قاتل کا۔“

پھر امام ابن حزم کا قول نقل کرتے ہیں:

ان مروان اول من شق عصا المسلمين بلا شبهة ولا تأويل - - - - - -

"مروان نے سب سے پہلے مسلمانوں کی وحدت کو بغیر کسی شبہ و تاویل کے پارہ پارہ کیا،حضرت نعمان بن بشیر انصاری کو قتل کیا جو صحابی رسول اور انصار کے اسلام میں اولین مولود تھے اور حضرت عبد اللہ بن زبیر سے بیعت کرنے کے بعد ان کے خلاف خروج کیا۔“

اس پر نواب موصوف اپنے رائے کا اظہار فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

"مروان کی طرف سے یہ عذر پیش کرنا کہ اس نے حضرت طلحہ کو تاویل کی بنا پر قتل کیا تھا، یہ ایک ایسا عذر ہے جس کے بعد کسی عاصی کی معصیت کا سوال باقی نہیں رہتا اور ہر ایک کی طرف سےتاویل کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔“

(هداية السائل إلى أدلة المسائل صفحة ۵۱۰)

محدث الهیثمی کی احادیث

اب میں حافظ نورالدین ابیٹی کی کتاب حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد‘ میں سے چند احادث نقل کرتا ہوں۔ اس میں باب المنافقین میں امام احمد کے حوالے سے درج ذیل روایت درج ہے:

عن عبد الله بن عمر وقال كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم وقد ذهب عمرو بن العاص يلبس ثيابه ليلحقني فقال ونحن عنده ليدخلن عليكم رجل لعين فوالله مازلت وجلاً اتشوف خارجًا و ذاخلا حتى دخل فلان یعنی الحكم.

"حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھےاور ( میرے والد ) حضرت عمرو بن عاص ( گھر میں ) کپڑے پہن رہے تھے تا کہ وہ بھی اسی مجلس میں آجائیں۔ ہم حضور نبوی میں بیٹھے تھے کہ آنحضور نے فرمایا کہ ابھی تمہارے پاس ایک ملعون شخص آنے والا ہے۔ خدا کی قسم میں خوف زدہ ہو کر برابر باہر اندر دیکھتا رہا ( کہ کہیں میرے والد ہی نہ ہوں ) ، یہاں تک کہ مروان کا باپ حکم داخل مجلس ہو گیا ۔“

مسند احمد کی جو حدیث میں پہلے مسند احمد سے نقل کر چکا، اس میں نام کی تصریح نہ تھی اگرچہ قرینہ واضح تھا مگر اس حدیث میں صراحت کے ساتھ نام موجود ہے۔ اوپر والی حدیث کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر وہی سے دوسری روایت ہے:

وعنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليطلعن عليكم رجل يُبعث يوم القيامة على غير سُنّتی او علی غیر ملتی و کنت ترکت ابی فی المنزل فخفت ان يكون هو فاطلع رجل غيره.

"حضرت عبد اللہ بن عمر ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی تمہارے پاس آنے والا ہے جو قیامت کے روز میری سنت یا میری ملت پر نہیں اٹھایا جائے گا۔“

حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کو گھر چھوڑ آیا تھا اور میں ڈر رہا تھا کہ کہیں وہی مراد نہ ہوں۔ لیکن اسی اثنا میں ایک دوسرا شخص (یعنی حکم ) سامنے آ گیا۔“

اس کے بعد ان ہی حضرت عبداللہ سے تیسری روایت ہے:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يطلع عليكم رجل من هذا الفج من اهل النار وكنت تركت ابي يتوضأ فخشيت ان يكون هو فاطلع غيره فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو هذا.

"رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےایک مرتبہ فرمایا کہ اس گھائی سے ایک شخص تمہارے سامنےنمودار ہوگا اور وہ اہل دوزخ میں سے ہوگا۔حضرت عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے پیچھے اپنے والد کو وضو کرتے چھوڑا تھا اور میں ڈر رہا تھا کہ وہی نہ آنے والے ہوں۔ لیکن ایک دوسرا شخص آ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ شخص ہے۔“

( مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، دارا کتاب بیروت، طبعه ثانیه، ۱۹۶۷، جلد اول، صفحه ۱۱۲)

میں سمجھتا ہوں کہ مروان اور اس کے باپ کے متعلق جو تصریحات میں پیش کر چکا ہوں، ان پر اضافے کی مزید حاجت نہیں ہے۔ فيها الكفاية لمن له درايه.

مسلک دیوبند

مدیر البلاغ اور مدیر بینات نے یہ جو دعویٰ کیا تھا کہ ہمارا اور ہمارے بزرگوں اور اکابر کا مسلک اور ذوق یہ ہے کہ مردان کو نہ صحابہ کرام کےمخصوص لقب رضی اللہ عنہ سے یاد کیا جائے،نہ اس کےخلاف طعن کی زبان کھولی جائے،اس کے متعلق میں پہلے عرض کر چکا کہ اس انوکھے مسلک کی خلاف ورزی شاه عبدالعزیز صاحب، مولانا محمود الحسن صاحب اور مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب نے تو اس طرح کی کہ مردان کے خلاف بر ملا زبان طعن دراز کی اور خود مدیر بینات نےاسطرح اس مسلک متوازن کی خلاف ورزی کی کہ مروان اور حکم کو رضی اللہ عنہما کہنے کی مجھے نصیحت فرمائی۔اب میں ایک مثال آخر میں ایسی پیش کرنا چاہتا ہوں جو جو بتائے گی کہ بعض دیوبندی بزرگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس رکھ رکھاؤ اور کفت لسان کو بالکل بالائے طاق رکھ دیا ہے جس کا ادعاء البلاغ و بینات والے کر رہے ہیں اور جو علانیہ مروان کے لیے رضی اللہ عنہ اور حضرت کی گردان کر رہےہیں۔ میں نے اس کا ذکر پہلے اشارہ کر دیا تھا کہ بھارت میں بھی علمائے دیو بند ” خلافت و ملوکیت“ کے خلاف سرگرمی سے مہم چلا رہے ہیں۔ چنانچہ مولانا سید محمد میاں صاحب، جو جمعیت علمائے ہندکے ممتاز ترین عمائد میں سےہیں، انہوں نے ایک کتاب ” شواہد تقدس“ کے نام سےتصنیف فرمائی ہےجس میں ” مودودی صاحب کی شیعیت کو آئینے میں پیش کیا گیا ہے اور اس کے سو نسخے بطورِ انعام طلبہ میں تقسیم ہوئے ہیں۔ اس کتاب میں ایک بحث کا عنوان ” حضرت مروان کی تقریر اور فتنہ انگیزی کا افسانہ ہے اس میں پندرہ میں مقامات پر جہاں بھی مروان کا نام آیا ہے اسے حضرت مروان لکھا گیا ہے۔ حضرت عثمانؓ کی تقریر جس کا حوالہ مولانا مودودی نے دیا تھا، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مولا نا محمد میاں صاحب فرماتے ہیں:

"اگر یہ تقریر صحیح ہےتو اس کا حاصل یہ ہےکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راضی ہو گئےتھےکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنےنظریات قربان کر دیں اور جام شہادت کےمقابلہ میں نظریات کی قربانی منظور کر لیں۔ مگر حضرت مروان کا قدم استقامت نہیں ڈگمگایا۔ انہوں نےحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی قربانی کی تلقین کی اور اگر چہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ممانعت کے سبب سے وہ اپنا حوصلہ پورا نہیں کر سکے مگر جیسے ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نےاپنی قربانی دی،حضرت مروان بھی قربان ہونے کےلیےمیدان میں آگئے۔بلوائیوں کا مقابلہ کیا اور ایسے زخمی ہو گئے کہ بلوائی ان کو مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے ۔ حضرت مودودی صاحب تو شاید یہ ہمت نہ کرسکیں، البتہ حضرات ناظرین فیصلہ فرمائیں کہ اگر واقدی کی یہ ڈرامائی روایت تسلیم کی جاتی ہے تو مستحق مبارکباد کون ہوتا ہے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ یا حضرت مروان رضی اللہ عنہ “

( شواهد تقدس ، شائع کرده کتابستان، قاسم جان اسٹریٹ ، دہلی مطبع اوّل صفحہ ۲۱۴۔۲۱۵)

اب ایک طرف دیو بند کے وہ اکابر ہیں جو مروان کو شیطان، ملعون، خبیث، ظالم ، فحاش،سنت نبوی کو پس پشت ڈالنے والا اور بے ادب کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف ان اکابر کے یہ اخلاف ہیں جو حضرت مروان رضی اللہ عنہ کے یہ مناقب و فضائل بیان فرمارہے ہیں!

ببین تفاوت راه از کجاست تا بکجا!!

مروان کی مزید کارستانیاں

مروان کی فتنہ پرداز یاں کہاں تک بیان کی جائیں۔اسکی بدزبانی اور ایذارسانی سےانتہات المؤمنین تک محفوظ نہ رہ سکیں۔یہ واقعہ پہلےبیان ہو چکا کہ جب وہ یزید کی ولی عہدی کا پرچار اور اس کےلیےزمین ہموار کر رہا تھا اور حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر نےاس پر اعتراض کیا تواس شخص نےحضرت عبدالرحمن کا تعاقب حضرت عائشہ کےگھر تک کیا اور ان کےدروازے پر کھڑے ہو کر الزام تراشی کی جس کا جواب خود حضرت عائشہ کو دینا پڑا۔ صحیح بخاری، کتاب النکاح، فاطمہ بنت قیس کے قصے میں مذکور ہے کہ مروان نے حضرت عائشہ سے کہا: ان کان بک شر فحسبک مابین هذين بن الشر.مان لیا کہ جس مطلقہ کے سکنی و نفقہ کا مسئلہ یہاں زیر بحث تھا ، وہ مختلف فیہ تھا مگر ازواج مطہرات اور ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا مروان اس سے زیادہ شریفانہ اور مہذب تر انداز اختیار نہیں کر سکتا تھا؟

حضرت حسنؓ کی میت تدفین کے موقعہ پر جس بد تمیزی کا مروان نے مظاہرہ کیا، اس کی تفصیل تواریخ میں منقول ہےنبی صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کی آرامگاہوں کےقریب جگہ موجود تھی جہاں دفن کیےجانےکی خواہش اور وصیت حضرت حسنؓ نےفرمائی تھی۔مروان ڈٹ کر کھڑا ہو گیا کہ حسن کو یہاں دفن نہیں ہونےدیا جائےگا۔مولاناسید سلیمان ندوی نے"سیرت عائشہ" میں استیعاب،اسد الغابه اور امام سیوطی کی تاریخ الخلفاء متینوں کے حوالے سے لکھا ہے:

"جب حضرت حسنؓ کا انتقال ہوا تو حضرت حسینؓ نے جا کر حضرت عائشہ سے اجازت ( تدفین ) طلب کی ۔ انہوں نےکہا بخوشی۔مروان کو معلوم ہوا تو اس نےکہا حسین اور عائشہ دونوں جھوٹ کہتےہیں( کذب و کذب)۔ حسن یہاں کبھی دفن نہیں کیے جاسکتے ۔“

(سیرت عائشہ صفحہ ۱۴۴ طبع چہارم ، ۱۳۷۲، اعظم گڑھ)

مروان کی اس روش پر حضرت ابو ہریرہ جیسے مرنجاں مرنج بزرگ نے بیچ بچاؤ کرایا ورنہ خونریزی کا خطرہ تھا۔ مگر حضرت ابو ہریرہ نےمروان کو جو کھری کھری سنائیں ان کی ساری تفصیل_١ البدایه و النهایه اور دوسری تاریخوں میں موجود ہے۔ مروان کے مداح نکال کر خود پڑھ سکتے ہیں۔ واقعہ 7 ہ اور حرم نبوی کی المناک اور دلدوز تو ہین کا باعث و محرک بھی یہی مروان ہے جیسا کہ مورخین نے تصریح کی ہے۔ امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں مروان کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

كان يوم الحرة مسرف بن عقبة يحرّضه على قتال أهل المدينة.

" مروان حرہ کے روز مسرف بن عقبہ کے ساتھ تھا اور اسے اہل مدینہ کے قتال پر ابھارتا رہا۔“


١- ملاحظہ ہو البدایہ جلد ۸ صفحہ ۱۰۸

واضح رہے کہ ابن عقبہ یزید کا سپہ سالار تھا جس نے مدینہ منورہ میں ایسی غارتگری کی جس کےبیان سے زبان قلم عاجز ہے۔ اس شخص کا نام مسلم بن عقبہ تھا لیکن مؤرخین نے اس کے حد سےگزرے ہوئے ظلم وستم کی بنا پر اسکا نام مسرف بن عقبہ رکھ چھوڑا ہے اور مروان اس کے مظالم میں برابر کا شریک و ستم ہےبلکہ فتنه حره کا بانی مبانی اور سرانه ہے۔ اس کےباوجود کچھ لوگ ہیں جو اسےحضرت مردان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں! ناطقہ سر بگر یہاں ہے اسے کیا کہیے؟؟؟

کتاب خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Caliphate , monarchy