گذشته باب میں بحث کا خاتمہ سب علی کے مسئلے پر ہوا تھا۔ اس کے بعد اب استلحاق زیاد کا مسئلہ زیر بحث آتا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا مودودی کی جس تحریر پر اعتراض کیا گیا ہے، وہ درج ذیل ہے:۔
" زیاد بن سمیہ کا استلحاق بھی حضرت معاویہ کے ان افعال میں سےہے جن میں انہوں نے سیاسی اغراض کے لیے شریعت کے ایک مسلم قاعدے کی خلاف ورزی کی تھی۔ زیاد طائف کی ایک لونڈی سمیہ نامی کےپیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ لوگوں کا بیان یہ تھا کہ زمانہ جاہلیت میں حضرت معاویہ کے والد جناب ابوسفیان نے اس لونڈی سےزنا کا ارتکاب کیا تھا اور اس سے وہ حاملہ ہوئی۔حضرت ابوسفیان نے خود بھی ایک مرتبہ اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ زیادا نہی کے نطفہ سے ہے۔ حضرت علیؓ کےزمانہ خلافت میں وہ آپ کا زبردست حامی تھا اور اس نے بڑی اہم خدمات سرانجام دی تھیں۔ ان کے بعد حضرت امیر معاویہؓ نے اس کو اپنا حامی دمددگار بنانے کے لیے اپنے والد ماجد کی زنا کاری پر شہادتیں لیں اور اس کا ثبوت بہم پہنچایا کہ زیادا نہی کا ولد الحرام ہے۔ پھر اسی بنیاد پر اسے اپنا بھائی اور اپنے خاندان کا فرد قراردے دیا۔ یہ فعل اخلاقی حیثیت سے جیسا کچھ مکروہ ہے وہ تو ظاہر ہی ہے۔ مگر قانونی حیثیت سے بھی یہ ایک صریح ناجائز فعل تھا۔ کیونکہ شریعت میں کوئی نسب نونا سے ثابت نہیں ہوتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف حکم موجود ہے کہ بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر وہ پیدا ہو اور زانی کے لیے کنکر پتھر ہیں ۔ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ نے اسی وجہ سے اس کو اپنا بھائی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اس سے پردہ فرمایا۔“
مدیر ” البلاغ“ نے مولانا مودودی کے انداز تحریر کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ زیاد ابوسفیان کا صحیح النسب بیٹا تھا جو جاہلیت کے نکاح سےپیدا ہوا تھا۔ مدیر موصوف نے سب سےپہلے ابن خلدون کا حوالہ مع ترجمہ نقل کیا ہے۔ ترجمے کے الفاظ یہ ہیں: مسمیہ جو زیاد کی ماں ہے،حارث بن کندہ طبیب کی لونڈی تھی۔اسی کےپاس اس سےحضرت ابوبکرہ پیدا ہوئے۔پھر اس نےاس کی شادی ایک آزاد کردہ غلام سے کر دی تھی اور اس کےیہاں زیاد پیدا ہوا۔ اور ابوسفیان اپنےکسی کام سےطائف گئے ہوئے تھے۔وہاں انہوں نے سمیہ سے اس طرح کا نکاح کیا جس طرح کے نکاح جاہلیت میں رائج تھے اور اس سے مباشرت کی اور اسی مباشرت سے زیاد پیدا ہوا اور سمیہ نے زیاد کو ابوسفیان سے منسوب کیا۔ خود ابوسفیان نےبھی اس نسب کا اقرار کر لیا مگر خفیہ طور پر مولانا عثمانی صاحب نے یہ عبارت تو پوری بلا تامل نقل کردی مگر انہوں نے اس پر غور نہ کیا کہ اس میں ایک طرف تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ سمیہ کی شادی غلام سے ہوئی اور اسی غلام کے ہاں زیاد پیدا ہوا اور دوسری طرف یہ بھی بیان ہےکہ سمیہ کا نکاح ابوسفیان سےہوا جس سےزیاد پیدا ہوا۔ان دو باتوں میں سے آخر کون سی درست ہے؟ یا دونوں درست ہیں اور دو نکاحوں کےنتیجےمیں زیاد نے دو مرتبہ جنم لیا؟ یا ایک نکاح اور ولادت تو علانیہ تھی اور دوسری ولادت دوسرے نکاح کے مانند خفیہ تھی۔ اس معمہ کو عثمانی صاحب خود ہی حل کر سکتے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ جاہلیت میں نکاح کے بعض تشریح طریقے بھی رائج تھے اور ہمارے لیے یہ بحث بڑی نا گوار ہے کہ ہم ان کی تفصیل بیان کرنے کے بعد یہ دکھا ئیں کہ حضرت ابو سفیان کا جو تخلق ایام جاہلیت میں زیاد کی والدہ سے قائم ہوا، وہ جاہلیت کے کسی مزعومہ نکاح کی تعریف میں آسکتا تھایا نہیں۔ اور اس سے پیدا شدہ اولاد معیار جاہلیت کےتحت صحیح النسب تھی یا نہیں-لیکن مولانا محمد تقی صاحب اور بعض دوسرے حضرات کو چونکہ اصرار ہے کہ یہ تعلق جاہلیت کی اتسافیم نکاح میں سے ایک تھا،اس لیے میں مجبوراً تفصیل بیان کیے دیتا ہوں۔ بخاری، کتاب النکاح کی ایک روایت سےثابت ہے کہ جاہلیت میں نکاح چار قسم کے ہوا کرتے تھے۔ نکاح کی پہلی صورت تو یہی تھی کہ ایک شخض دوسرے سے لڑکی یا کسی عزیزہ کا رشتہ طلب کرے اور مہر دےکر نکاح کر لے۔اسی صورت کو اسلام نےجائز رکھا۔دوسری صورت یہ تھی کہ ایک مرد کی بیوی ایام گزارنے کے بعد پاک ہوتی تھی تو وہ خاوند کی جازت سے کسی دوسرے مرد کے پاس چلی جاتی تھی اور خاوند اس سے الگ رہتا تھا، جتی کہ عورت دوسرےمرد سےجاملہ ہو جاتی تھی۔ تیسری صورت یہ تھی کہ نو یا اس سے کم مرد بیک وقت ایک عورت سے تعلق قائم کر لیتے تھے۔ بعد میں اگر حمل کے نتیجے میں بچہ پیدا ہوتا تو وہ عورت ان سب مردوں کو بلا لیتی تھی اور وہ لازماً اس کے ہاں جمع ہوتے تھے۔ پھر عورت کسی ایک شخص سے کہہ دیتی تھی کہ یہ تیرا بچہ ہے۔ تب اس مرد کے لیے ناگزیر ہو جاتا تھا کہ وہ اس بچے کا الحاق اپنے خاندان سے کرے۔ انکار اس کے لیے ناممکن تھا۔ جاہلیت کے نکاح کی چوتھی شکل یہ تھی کہ غیر محدود تعداد میں بہت سے مردوں کا ایک ہی عورت سےصنفی تعلق ہوتا تھا اور ایسی عورتیں طوائف (بغایا) کہلاتی تھیں۔ ایسی کسی عورت کے ہاں اگر بچہ ہوتا تو اس کے ہاں آمد ورفت رکھنے والے سب مردوں کواکٹھا کیا جاتا تھا اور قیافہ شناس کو بلایا جاتا تھا۔ وہ بچے کا چہرہ مہرہ دیکھنے اور مردوں کی شکل وصورت سے تقابل کرنےکےبعد بچےکا الحاق کسی ایک مرد کے ساتھ کر دیتا تھا، بچے کا نسب اسی کی طرف منسوب ہو جا تا تھا اور وہ اس سے کسی طرح انکار نہیں کر سکتا تھا۔
جاہلیت کےیہ نام نہاد نکاح جیسےکچھ بھی تھے،ان سے ایک بات بہر حال واضح اور ثابت ہےاور وہ یہ کہ ان کے نتیجے میں جو بچہ بھی پیدا ہوتا تھا،اس کا نسب بہر حال ایک فرد متعین سے ولادت کے معا بعد ملحق ہو جاتا تھا اور اسکےالحاق کا بھی متعین ضابطہ اور طریقہ مقرر تھا۔اس میں فیصلہ کن چیز عورت کا یا قیافه شناس کا بیان تھا جس کےبعد بچےکا باپ اسےبا قاعدہ اپنا بچہ تسلیم کرتا تھا اور اس کا نسب ولادت ہی کےوقت معروف و مسلم ہو جاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ نسب وانتساب کی یہ صورتیں جو جاہلیت میں رائج تھیں وہ اس وقت تک محقق اورمسلم شمار نہیں ہوسکتی تھیں جب تک سوسائٹی میں انکا اعلان عام نہ ہو جائےاور مرد ضعلمی اولاد کی طرح بچے کو اپنے کنبے میں داخل نہ کر لے۔ عقل عام اور فطرت سلیم اس کی اجازت نہیں دے سکتی کہ ایک مرد ایک عورت سے خفیہ تمتع کرے، اس کے بعد جس بچے کی پیدائس ہو اسے اپنے خاندان میں داخل بھی نہ کرے، پھر جب لڑکا جوان ہو کر پر پرزے نکالے تو وہ شخص دو چار یا پانچ دس آدمیوں سے مخفی طور پر کہہ دے کہ یہ لڑکا دراصل میرےنطفے سے ہے، پھر وہ چند اشخاص اس راز سر بستہ کو اس شخص کی وفات کے برسوں بعد فاش کریں اور اس طرح "حق بحقدار رسید" ہو۔
مورخین کی تصریح کے مطابق زیاد ہجرت نبوی کے پہلے یا دوسرے سال پیدا ہوا ہے۔ اگر ابوسفیان نے اسلام لانے سے پہلے اسے اپنا بیٹا نہیں بنایا تھا تو ھ میں فتح مکہ کے موقع پر جب وہ ایمان لائے تھے ، ان کی بی نا گزری تری واخلاقی ذمہ داری تھی کہ اگر وہ اسے اپنا مولود سمجھتے تھے تو فوراً اپنے قول وفعل سے اس کا اعلان کر دیتے کیونکہ اسلام نے نسب کے ساتھ نان و نفقه، حجاب،مناصحت، میراث اور دیگر متعدد قانونی و معاشرتی حقوق و واجبات وابستہ کر دیئے ہیں۔نسب کا اعلان کوئی شاعرانہ تشبیب یا دل لگی کا سامان نہیں ہے کہ اسے اشاروں کنایوں میں یا غیر سنجیدہ پیرائےمیں بیان کیا جائے،نہ یہ کوئی مخفی وصیت یا ہدایت ہےجو چند آدمیوں کو ،وہ بھی بیشتر خاندان سےباہر کےآدمیوں کو چپکے سے بتادی جائے تاکہ سند رہے اور ضرورت کے وقت کام آئے۔پھر ابو سفیان کوئی معمولی آدمی نہ تھےسردار قریش تھے۔ وہ آسانی کے ساتھ زیاد اور اس کی والدہ کی کفالت اپنے خاندان کے ساتھ کر سکتےتھے۔مؤرخین کے بیان کے مطابق زیاد ایک مدت تک زیادبن عبید کے نام سے مشہور تھا، کیونکہ زیاد کی والدہ سمیہ عبید نامی ایک غلام کےنکاح میں تھی۔ اس شہرت نسب نے تو اس بات کو اور بھی ضروری بنا دیا تھا کہ اگر یہ انتساب غلط تھا، تو حضرت ابوسفیان اس کی تصحیح کے لیے ہر ممکن سعی کرتے اور اس حق تلفی کی تلافی اپنے صاحبزادوں (امیر معاویہ وزیاد) پر چھوڑنے کے بجائے خود ہی اس کا تدارک فرماتے۔ اگر اس معاملے میں کوئی نزاع و اشتباه پیدا ہوتا تو اسے رفع کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس موجود تھی۔ابوسفیان کی پوری زندگی بلکہ اس کے بہت بعد تک زیاد اپنےآپ کو غلام زادہ ہی سمجھتا رہا اور علامہ ابن عبدالبر اور دوسرے مؤرخین بیان کرتےہیں کہ زیاد نے اپنے باپ عید کو ایک ہزار درہم کے عوض میں خریا کر آزاد کرایا تھا جس پر لوگ رشک کرتے تھے۔ اب کیا حضرت ابوسفیان یا امیر معاویہ کے لیے یہ ممکن نہ تھاکہ وہ استلحاق زیاد کا مسئلہ آنحضور کےسامنےپیش فرما دیتےتا کہ اس قضیہ نامرضیہ کاقطعی فیصلہ ہو جاتا۔ جیسا کہ حضرت سعد اور عبد بن زمعہ کے مابین ایک بچے کے نسب میں جھگڑے کا فیصلہ آپ نےفرما دیا تھا؟لیکن یہ ایک عجیب و غریب بات ہےکہ زیاد کی پیدائش کےتقریباً پینتیس برس بعد تک ابوسفیان زندہ رہے،اواخر عہد خلافت عثمان میں فوت ہوئے،کفر میں ان کےساتھ آٹھ برس اور اسلام کے ستائیس برس زیاد کی ولادت پر گزر گئے، مگر زیاد کا نسب متحقق اور معروف بین الناس نہ ہو سکا۔ پھر عجیب تر چیز یہ ہے کہ حضرت ابو سفیان کی وفات پر بھی پورے نو سال گزر جانےکےبعد اس زیادتی کی تلافی امیر معاویہ نے جا کر کی تو ۴۴ھ میں کی اور دونوں ”بھائی جو ایک دوسرے کےدشمن تھے ، گلے مل گئے ۔ اس پر عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کی تفصیلات پڑھ کر ہم پر تو حضرت معاویہ کے جذبہ احترام شریعت کا غیر معمولی تاثر قائم ہوا ہے۔“ کیا احترام شریعت کا تقاضا یہی ہے کہ باپ اپنےبیٹے کو نہ زندگی میں بیٹا بنائے ، نہ مرنےپر اس کو وارث قرار دے،اور بھائی ساٹھ برس کی عمر میں جا کر دوسرےبھائی کا حق پہچانے جب کہ دوسرا بھائی ۴۳ ۴۴ سال کی عمر کو پہنچ چکا ہو؟ کتنےحیرت و تاسف کی بات ہے کہ جس شخص کا نسب چوالیس برس تک مشتبہ اور پردہ اخفاء میں رہا، وہ اس عمر میں آکر ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ کا بھائی ، دوسرے لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا برادر نسبتی بن گیا! جو لوگ مولانا مودودی کے انداز بیان کو افسوس ناک کہہ رہے ہیں، وہ ذرا اپنے انداز استدلال کے حسن و جمال پر بھی نگاہ ڈال لیں۔
محمد تقی صاحب اور ان کے ممدوح ابن خلدون حضرت ابوسفیان اور سمیه کے جس تعلق کو ایک نوعیت کا نکاح کہہ رہے ہیں، اسے بیشتر مورخین نے زناہی کے لفظ سے تعبیر کیا ہے، جیسا کہ آگےچل کر میں بیان کروں گا۔ لیکن بنیادی اور اصل زیر بحث مسئلہ زیاد کا انتساب و استلحاق اور اس کا جواز و عدم جواز ہے۔ اسلام سے پہلے آخر صحابہ کرام سے شرک، بت پرستی اور دیگر کبائر میں سے کیا کچھ سرزد نہیں ہوا لیکن ارشاد نبوی ہے کہ:
اگر ابوسفیان کی طرف سے زیاد کا با قاعدہ، بروقت اور علانیہ استلحاق عمل میں آجاتا اور عہدِ نبوی میں یا کم از کم خلافت راشدہ ہی میں اس مسئلےپر کوئی باقاعدہ عدالتی کارروائی ہو جاتی تب بھی معاملہ یکسو ہو جاتا۔ مگر افسوس کہ یہ مسئلہ عہدِ معاویہ میں جا کر اٹھایا گیا۔جبکہ زیاداور امیر معاویہؓ. دونوں کو اسکی ضرورت محسوس ہوئی۔ پھر یہ معاملہ کسی قاضی کے سامنے پیش نہ ہوا جو موافق و مخالفت شہادتیں حاصل کر کے غیر جانبدارانہ فیصلہ کرتا۔خلفائےراشدین کا عمل تو یہ تھا کہ جن معاملات کا تعلق ان کی ذات سےہوتا تھا، اس میں وہ فریق مقدمہ بن کر قاضی کےروبرو پیش ہوتے تھے۔مگر یہاں ایک فریق ہی تھا جو اس تنازع کا فیصلہ کر رہا تھا، اپنے یا زیاد کے حق میں گواہ بھی تلاش کر رہا تھا اور ایک شہر سے گواہ میسر نہیں ہوتے تھے تو دوسرے میں انہیں تلاش کیا جارہا تھا۔ آخر حضرت ام حبیبہ کی گواہی کیوں نہ لی گئی جو حضرت ابو سفیان کی صاحبزادی تھیں؟
حضرت ابوسفیان یا کسی گواہ کا یہ قول مان بھی لیا جائے کہ زیادان کے نطفے سے تھا، تب بھی وہ ان کی جائز اولا د کیسے ہوسکتا ہے؟ اس معاملے میں ابن اثیر نے جو کچھ لکھا ہے وہ بالکل صحیح ہےکہ اسلام میں اس طرح کا استلحاق کسی نے نہیں کیا کہ اسے حجت قرار دیا جائے ۔ عثمانی صاحب کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ حضرت ابوسفیان نےجاہلیت میں چونکہ خفیہ طور پر استلحاق کر لیا تھا، اس لیےیہ اسلام میں بھی جائز تھا۔ ابو سفیان کے استلحاق کا حال یہ ہے کہ بیٹوں تک کو خبر نہیں، حالانکہ حضرت سعد اور عبد بن زمعة کے مابین جس بچے کے بارے میں جھگڑا ہوا تھا اس میں حضرت سعد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صاف طور پر شہادت دی تھی کہ میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ زمعہ کی لونڈی کا بچہ میرے نطفے سے ہے، اس کی نگرانی کرنا۔ اس بچے کی بین مشابہت عتبہ سے آنحضور نے خود ملاحظہ فرمائی اور اسی لیے حضرت سودہ کو اس سےپردہ کرنےکا بھی حکم دیامگر بچےکو عبد بن زمعہ ہی کا بھائی قرار دیا گیا۔یہ واقعہ مسلم،ترمذی، ابوداؤد وغیرہ میں مروی ہےاور وہیں یہ بھی مذکور ہے کہ آنحضور کےاسی فیصلے کی بنا پر حضرت سعد،حضرت ابوبکرہ اور دوسرے بعض اصحاب کو امیر حاویہ کی کارروائی پر سخت اعتراض تھا۔ ظاہر ہے کہ جب خود آنحضرت نے ایک لونڈی کے بچے کو مالک کے بجائےدوسرے شخص کا جائزہ بٹ تسلیم نہ کیا حالانکہ بچے کا اس شخص کے نطفے سے ہونا قرائن سے ثابت ہورہا تھا اور اس بات کے حق میں شہادت اور وصیت بھی موجود تھی، تو زیاد کا استلحاق کیسے جائز ہوسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ تمہاری شہادت نا قابل قبول ہے اور تمہارےپاس چند گواہ مزید ہونے چاہئیں جو یہ بتائیں کہ یہ عقبہ کے نطفے سے ہے، بلکہ آنحضور نے یہی فرمایا کہ بچہ اسی کا ہے جس کی لونڈی ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ جاہلیت کا جو انتساب واستلحاق متنازع فیہ ہو،اس میں بچہ اسی مرد کی طرف منسوب ہوگا جس کی مملوکہ یا منکوحہ کےبطن سے وہ پیدا ہوا ہو۔ البتہ جو انتساب متعارف بین الناس ہو جائے اور جس میں کوئی جھگڑا نہ ہو، اس کا نسب اپنی شہرت و تعارف کے مطابق معتبر سمجھا جائے گا۔
١- بعض لوگ استیعاب کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام حبیبہ اس سے پہلے فوت ہو چکی تھیں لیکن استیعاب کے اس مقام پر ایک قول یہ بھی درج ہے کہ استلحاق کا واقعہ ام حبیبہ کی وفات سے پہلے پیش آیا تھا اور استیعاب میں زیاد کے ترجمے میں حضرت ابوبکر کے جو اقوال دیئے گئے ہیں ان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ام حبیبہ اس وقت زندہ تھیں ۔
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی نے اس موضوع پر جو کچھ تحفہ اثنا عشریہ میں لکھا ہے، وہ بھی نقل کر دیا جائے۔ یہ یادر ہے کہ یہ کتاب شیعوں کے مطاعن داعتراضات کا رد کرنے کے بعد اہل سنت کا مسلک واضح کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔ فرماتے ہیں:
"یہ عامل مردود و حرامی زیاد ہے جو ملک فارس و شیراز کا صوبہ دار تھا اور وہ بے حیا اپنے حرامی ہونے پر فخر کرتا تھا۔ پکار پکار کر کہتا تھا اور اپنی ماں سمیہ نامی چھوکری پر زنا کی گواہی دیتا تھا۔ اس کا قصہ یوں ہے کہ ابوسفیان، معاویہ کے باپ نےاسلام لانے سےپہلےسمیہ نامی ایک چھو کری سےجو حارث ثقفی طبیب مشهور کی کنیز تھی تعلق کر لیا ، دن رات اس کے پاس آیا جایا کرتے اور اس سےخواہش نفسانی پوری کرتے۔ اسی اثنا میں سمیہ نے بچہ جنا جس کا نام زیاد ہوا۔ لیکن چونکہ وہ چھوکری حارت کی ملک میں تھی اور اس کے غلام کے نکاح میں، اس لیے اس لڑکے کا لقب بچپن میں عبدالحارث مشہور ہوا، یہاں تک کہ وہ بڑا ہوا اور شرافت و بلاغت کے آثارا راس کی خوش تقریری اور خوش بیانی زبان زد خلائق ہوئی۔ ایک روز عمر و بن عاص نے کہا جو قریش کے سنجیدہ بزرگوں میں سےتھےکہ اگر یہ لڑ کا قریش سے ہوتا تو عرب کو اپنی لاٹھی سے ہانکتا۔ ابوسفیان نے یہ سن کر کہا قسم خدا کی،جس کا وہ نطفہ ہے اس کو میں خوب جانتا ہوں۔ حضرت امیر (علی) بھی اس وقت موجود تھے۔آپ نے پوچھا وہ کون ہے؟ ابوسفیان نے جواب دیا۔ ” میں ۔ آپ نے فرمایا۔ ”بس کراے ابوسفیان "
"زیاد نے بھی یہ قصہ سن رکھا تھا اور انتہائی بے حیائی سے لوگوں سےکہتا تھا کہ میں دراصل نطفہ ابوسفیان ہوں۔ جب حضرت امیر نے اس کو فارس کا والی بنایا اور شہروں کے نظم و نسق اور فساد کے فرو کرنے میں بہترین اور نمایاں تدبیر ہیں اس سے ظہور میں آئیں تو معاویہ نے پوشیدہ اس سےخط و کتابت شروع کی اور چاہا کہ اس کو اپنارفیق بنائے اور اپنے نسب میں اس کو شامل کر لینے کی اس کو لالچ دے اور یوں اس کو حضرت امیر کی رفاقت سے جدا کر لے، کیونکہ اس قسم کے خوش بیر جتھےوالے سردار کا حریف سے تو ڑ لینا بہت غنیمت ہے۔ اس سے پختہ وعدہ کیا کہ اگر تو میرے پاس آ گیا تو تجھ کو اپنا بھائی کہوں گا اور اولا دابو سفیان میں سے بتاؤں گا، کیونکہ آخر تو ابوسفیان کا نطفہ ہے اور اپنی شرافت و بزرگی سمجھ اور زیر کی کو اپنے دعوے کی صداقت میں سچا گواہ رکھتا ہے۔“
"جب حضرت امیر کی شہادت کے بعد سیدنا ومولانا حسن مجتبی نے ملک وسلطنت کا معاملہ معاویہ کےسپرد کر دیا اور معاویہ نے زیاد کو اپنی طرف مائل کرنے میں حد سے زائد کوشش کی،کیونکہ وہ بہت مدتر ، شجاع اور زیرک سردار تھا جس کےساتھ ایک جمعیت کثیر تھی اور بادشاہوں کو اس قسم کےآدمی کی ضرورت ہوا ہی کرتی ہے اس غرض سے کہ اس کی رفاقت میں حضرت امیر کی طرح بڑی بڑی مہمات طے کرائے ۔ تو اس وقت معاویہ نےابوسفیان کے اسی کلمےسےتمسک کیا جو ان کی زبان سےعمرو بن عاص اور حضرت امیر کے رو برونکلا تھا اور اس کو اپنا بھائی قرار دیا اور ۴ھ میں زیاداب ابی سفیان اس کا لقب تحریر کیا۔ تمام مملکت میں اعلان کر دیا کہ اس کو زیاد بن ابی سفیان کہا کریں۔ابن ابن زیاد نطفہ نا تحقیق کی شرارت دیکھیےکہ معاویہ کی رفاقت میں پہلا فعل جو اس سےسرزد ہوا، حضرت امیر کی اولاد کی عداوت تھی ۔“
اب مدیر ” البلاغ مولانا مودودی اور شاہ عبدالعزیز صاحب کی تحریر آمنے سامنے رکھ کر ذرا مجھے بتائیں کہ مولانا مودودی نے وہ کیا خاص بات لکھی ہے اور ان کے بقول اس معاملے میں عام معترضین سے زیادہ سخت، افسوسناک اور مکروہ اسلوب بیان اختیار کیا ہے جس پر ندامت کے اظہار“ کا مطالبہ فرمایا جارہا ہے؟
البدایہ والنہایہ کا جو حوالہ مولانا نے دیا تھا، اس کے متعلق عثمانی صاحب کہتے ہیں کہ اس میں تو کل سات ہی سطریں لکھی ہیں، مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ لکھا کیا ہے۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ امیر معاویہ نے زیاد کا استلحاق اس بنا پر کیا تھا کہ ایک شخص نے یہ گواہی دی تھی کہ ابوسفیان نےاس بات کا اقرار کیا تھا۔
آگے تحریر ہے کہ حضرت حسن بصری اس استلحاق کو برا سمجھتے تھے، کیونکہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ الولد للفراش وللعاهر الحجر. پھر ابن کثیر مسند احمد کی روایت نقل کرتےہیں کہ زیاد کےمتعلق دعوی کیا گیا تو حضرت ابوعثمان حضرت ابو بکرہ سے ملے اور کہا کہ تم نے یہ کیا کیا ( کہ زیاد کو ابوسفیان کا بیٹا بنا دیا _١)؟ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس نے اسلام میں اپنا باپ چھوڑ کر غیر کواپنا باپ بنایا اور اسےمعلوم ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں،اس پر جنت حرام ہے حضرت ابوبکرہ نے جواب دیا کہ یہ حدیث میں نےبھی آنحضور سے سنی ہے ( یہ حدیث مسلم اور بخاری میں موجود ہے)۔ الاستیعاب کا جو حوالہ مولانا مودودی نے دیا ہے اس میں مذکور ہےکہ حضرت ابو بکرہ نے قسم کھائی کہ وہ زیاد سے نہیں بولیں گےاور اس کے متعلق کہا کہ اس نے اپنی ماں پر تہمت زنالگائی (هذا زنی امعه ) اور اپنے باپ کے نسب کا انکار کیا۔ اب اگر یہ شخص حرم نبی ام حبیبہ کے پاس (بھائی بن کر ) جائے اور وہ اس سے پردہ کریں تو یہ ذلیل ہوگا اور اگر سامنا ہوگا تو یہ عظیم مصیبت ہوگی اور کتنی بڑی ہتک حرمت نبوی ہوگی!" اس کے بعد دو قول بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ زیاد نے ام المومنین کے پاس جانے کی کوشش کی اور انہوں نے پردہ کر لیا ، دوسرا یہ کہ اس نے جانے کی جرات ہی نہیں کی۔
ابن اثیر نے جو کچھ لکھا ہے اور اس میں استلحاق پر جو اعتراض کیا ہے، اس کا جواب دینے کی کوشش عثمانی صاحب نے کی ہے، مگر عثمانی صاحب کا جواب صحیح نہیں ہے، جیسا کہ واضح کیا جا چکا ہے۔ ابن اثیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ امیر معاویہ کی رائے یہ بنی کہ زیاد کو اپنی طرف مائل کریں اور استلحاق کے ذریعے سے اس کی دوستی حاصل کریں۔ چنانچہ دونوں کا اتفاق ہو گیا۔ ابن خلدون کی عبارت کا جو تر جمہ خود عثمانی صاحب نے دیا ہے، اس میں بھی یہ الفاظ ہیں کہ زیاد نے حضرت معاویہ سے صلح کرلی تو زیاد نے مصقلہ کو مامور کیا کہ وہ حضرت معاویہ کو ابوسفیان کےنسب کےبارے میں بتلائیں اور حضرت معاویہؓ کی رائےیہ ہوئی کہ اسے استلحاق کے ذریعے سے مائل کریں۔ چنانچہ انہوں نے ایسے گواہ طلب کیےجو اس سےواقف ہوں کہ زیاد کا نسب ابوسفیان سےلاحق ہو چکا ہے۔ اس استمالت کو اگر مولانا مودودی یا مولانا آزاد سیاسی غرض کہہ دیں، یا شاہ عبدالعزیز صاحب لالچ سے تعبیر کریں تو کیا یہ بات غلط ہوگی؟
"زیاد بن ابیہ جو سمیہ کا لڑکا تھا، بعد میں اُسے ابن ابی سفیان کہا جانے لگا۔ وہ ثقیف کے غلام عبید کے بستر پر پیدا ہوا، اس لیےاسےزیاد بن عبید کہا جاتا تھا۔ پھر معاویہ نے اس سے استلحاق کیا۔جب اموی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو پھر اسے زیاد بن ابیه یا زیاد ابن سمیہ کہا جانے لگا - - - - اس نےاپنے باپ کو ایک ہزار درہم میں خرید کر آزاد کرایا تھا۔"
١- معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر چونکہ زیاد کے اختیائی بھائی تھے، اس لیے ابو عثمان نے غلطی سےیہ سمجھا کہ شاید وہ بھی استلحاق کی کارروائی میں شریک تھے،حالانکہ وہ اس کے مخالف تھےاور آخر دم تک مخالف رہے، دوسری روایت میں ما هذا الذي صنعتم کےبجائے صرف ما هذا کے الفاظ ہیں۔ یعنی یہ کیا ہوا اور یہ الفاظ زیادہ قرین قیاس میں،کیونکہ حضرت ابو بکر کی مخالفت تو مشہور تھی
٢- مولانا آزاد کا قول آئے آئے گا۔
آخر میں ابن حجر پھر فرماتے ہیں: ”امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابو عثمان سےروایت کی ہے کہ جب زیاد کے الحاق کا دعوی پیش ہوا تو میں ابو بکرہ سے ملا اور میں نےکہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اسلام میں اپنے باپ کو چھوڑ کر غیر کو باپ بنانےکا دعویٰ کرے، اس پر جنت حرام ہے۔ اس پر ابوبکرہ نے فرمایا کہ میں نے بھی آنحضور سے اسی طرح سنا ہے۔“
اسی طرح مدیر البلاغ نے الاخبار الطوال کا صرف ایک نامکمل فقرہ نقل کر دیا ہے اور اس کا ترجمہ بھی غلط کیا ہے۔ ابو حنیفہ دینوری زیاد بن ابیه کے زیر عنوان ابتداء میں لکھتے ہیں کہ زیاد پہلے ابن عبید کے نام سے معروف تھا، پھر آگے چل کر فرماتے ہیں:۔
فسار الى معاوية وترقت به الامور الى ان ادّعاه معاوية وزعم للناس انه ابن ابی سفیان و شهدله ابو مريم السلولي، وكان فى الجاهلية خمار بالطائف ان اباسفيان وقع على سمية وشهد رجل من بني المصطلق، اسمه يزيد انه سمع اباسفيان يقول ان زيادًا من نطفة اقرها في رحم سمية فتم ادعاء ٥ اياه وكان في ذالک ماکان.
" زیاد معاویہ کے پاس گیا اور اس کے حالات سازگار تھے یہاں تک کہ معاویہ نے اس کےنسب کا دعویٰ کیا اور لوگوں سے بیان کیا کہ وہ ابو سفیان کا بیٹا ہے اور ابو مریم سلولی جو جاہلیت میں طائف کا مے فروش تھا، اس نے گواہی دی کہ ابوسفیان نے سمیہ سے مباشرت کی تھی اور بنو مصطلق کے ایک دوسرے شخص یزید نےگواہی دی کہ اس نے ابوسفیان کو کہتے سنا کہ زیاد اس کے نطفے سےہےجو اس نےسمیہ کے پیٹ میں ڈالا۔ پس معاویہ کا دعوی زیاد کے بارے میں مکمل ہو گیا اور پھر جو کچھ ہونا تھا ، ہوا۔“
عثمانی صاحب نے خط کشیدہ ٹکڑے کا ترجمہ کیا ہے لہذا یہ ثابت ہو گیا کہ ابوسفیان نے زیاد کے حق میں اپنا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے۔ مولانا عثمانی نے حضرت ابوبکر کےاس قول سے بھی غلط استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ خدا کی قسم! مجھے معلوم نہیں کہ سمیہ نے کبھی ابوسفیان کو دیکھا بھی ہے۔ عثمانی صاحب نے اس سے یہ نکتہ نکالا ہے کہ یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ ان کے نزدیک بھی اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ابوسفیان نے سمیہ سے مہینہ مباشرت کی تھی تو پھر ان کو بھی زیاد کے استلحاق میں کوئی اعتراض نہ تھا۔ سیدھی بات یہ ہے کہ حضرت ابو بکر کا مدعا یہ تھا کہ اگر ان کی والدہ اور ابوسفیان کے درمیان نکاح کا تعلق ہوتا، خواہ وہ جاہلیت کی اقسام نکاح میں سےہوتا، تو وہ ان سے ایسا مخفی نہ رہتا ، ان کی والدہ انہیں بتاتی ، ابوسفیان بتاتے یا وہ نکاح اس حد تک طائف میں معروف ہوتا کہ بالواسطہ طریق ہی پر اس کا علم انہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد اس ادعا کو اپنی والدہ پر بہتانِ زنا کے مترادف سمجھا اور اسی بنا پر اس کے خلاف احتجاج کیا۔ آخر کون شریف آدمی اپنی والدہ سے ایسی ”مبینہ مباشرت پر معترض نہ ہوگا ؟
مدير "البلاغ "نے اپنی بحث کے آخر میں لکھا ہے کہ استلحاق کےبعد جولوگ اس کےمخالف تھےانہوں نے آ آ کر امیر معاویہ سے معافی مانگنی شروع کر دی۔ حتی کہ حضرت عائشہ نے بھی اس کاروائی کو صحیح تسلیم کر لیا اور ایک خط میں زیاد کو ابن ابی سفیان کہہ کر خطاب کیا۔اس کا جواب یہ ہےکہ یہ فیصلہ خواہ صحیح تھا یا غلط بہر حال اسے مملکت میں نافذ کر دیا گیا جیسا که دیت و توریث وغیرہ کےفیصلے نافذ کیے گئے تھے۔ مگر اس وقت سےلےکر آج تک تاریخ وانساب کی کتابوں میں عموماً زیاد بن ابیه اور زیاد بن عبید ہی درج ہوتا چلا آرہا ہے، بلکہ نطفہ نا تحقیق ،حرامی اور ولد الزنات_٣ کے الفاظ بھی استعمال ہوتے رہے ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ معاملہ جیسا کچھ پہلےتھا، ویسا ہی اب بھی ہےحضرت عائشہ کے بارے میں دونوں طرح کی روایات ملتی ہیں ۔ بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ نے زیاد ابن ابی سفیان کہا اور بعض روایات بتاتی ہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا۔ جو روایت ابن خلدون اور عساکر کے حوالے سے نقل کی گئی ہے، اس کی تفصیل طبقات ابن سعد میں یہ ملتی ہے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر کے موالی کسی ضرورت کی بنا پر ان سے زیاد کے نام خط لکھوانا چاہتے تھے۔انہوں نے زیاد ابن ابی سفیان کے بجائے زیاد کوسی اور کا بیٹا لکھ دیا (نسبه الی غیر ابی سفیان ) وہ لوگ کہنےلگےکہ اس خط سےتو ہمارا کام بننےکے بجائے بگڑ جائے گا۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبدالرحمن پھر بھی اسےابن ابی سفیان لکھنے پر آمادہ نہ ہو سکےکیونکہ یہ لوگ پھر حضرت عائشہ کی خدمت میں پہنچے۔ ام المومنین نے سوچا ہوگا کہ بے چاروں کی حاجت روائی ہو،اس لیے ابن ابی سفیان لکھ دیا۔ زیاد کے لیے یہ چیز ایسی نعمت غیر مترقبہ تھی کہ اس نے کہا کہ یہ خط کل لے کر آؤ۔ ادھر دوسرے دن لوگوں کو جمع کیا اور ایک لڑکے سے کہا اسے پڑھ کر سناؤ۔ اس نے زیاد بن ابی سفیان کے الفاظ پڑھ کر سنائے اور زیاد نے ضرورت مند کی ضرورت پوری کر دی۔ معلوم ہوا کہ حضرت امیر معاویہ کے فیصلے کے بعد بھی مسئلہ مختلف فیہ ہی رہا اور زیا د اپنا نسب ثابت کرنے کےلیے مزید سہاروں کا محتاج رہا۔
١-اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ جس شخص کی ولادت نا جائز ہوتی تھی ،یا جس کا نسب غیر حق ہوتا تھا اسے فلاں ابن ابیہ یعنی اپنے باپ کا بیٹا کہتے تھے، یا ابن اللہ (یعنی اپنی ماں کا بیٹا )۔ زیاد کے لیے یہ دونوں طرح کے الفاظ مورخین نے استعمال کیے ہیں۔
٢- شاہ عبد العزیز صاحب کے تحفہ اثنا عشریہ کا جو حوالہ اوپر دیا گیا ہے اس جگہ آگے چل کر انہوں نےزیاد کے لیے والد الزنا کا لفظ ہی استعمال کیا ہے۔
٣- طبقات، جلد الطبع بیروت ۱۳۷۷ء۔
اب میں استلحاق زیاد کے اس قضیہ نامرضیہ کے متعلق چند جدید علماء کے اقوال نقل کرتا ہوں۔ مولانا قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی کی کتاب ” تاریخ ملت جلد سوم کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔یہ کتاب ندوۃ المصنفین جامع مسجد دہلی کی شائع کردہ ہے۔ یہ ادارہ اکابر علمائے دیوبند کےاہتمام اور نگرانی میں قائم ہوا ہے اور ماہنامہ ” برہان" اسی ادارے کا ترجمان ہے۔ "تاریخ ملت" کےص ١٧ پر مصنف فرماتے ہیں:۔
"ابوسفیان نے خود اپنی زندگی میں کھل کر زیاد کو اپنا بیٹا تسلیم نہیں کیا۔ حضرت معاویہ نے زیاد کو خوش کرنے کے لیے بعض شہادتوں کی بنا پر جو ان کے سامنے گزریں، زیاد کو اپنا سوتیلا بھائی تسلیم کر لیا۔ تاہم امیر معاویہ کے اس فعل کو عالمہ مسلمین کی تائید حاصل نہ ہوئی۔ دراصل حق استلحاق ابوسفیان کو تھا اور وہ بھی زمانہ جاہلیت میں۔ امیر معاویہ اس حق کو استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ زیاد نے ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں ایک خط بھیجا اور اس کےآغاز میں لکھا: ”زیاد بن ابی سفیان کی جانب سے اسے توقع تھی کہ حضرت عائشہ سے اسی نام سےخطاب کریں گی اور اس کےلیےثبوت ہو جائےگا۔ مگر حضرت عائشہ نے اس کا جواب بھیجا تو لکھا سب مسلمانوں کی ماں عائشہ کی طرف سے زیاد بیٹے کے نام ۔“
"امیر معاویہ زیاد کی قابلیتوں سےجو فائدہ اٹھانا چاہتےتھے،زیاد کی بدنامی اس راہ میں سنگِ گرں کا کام کرتی تھی،اس لیےانہوں نےحکم نبوی الولد للفراش وللعاهر الحجر،یعنی بچه کا نسب جائز نکاح سےثابت ہوتا ہے، زانی کےلیےتو سنگساری ہے۔“ کا خیال نہ کرتے ہوئےاعلان عام کر دیا کہ آئندہ زیاد کو ابن ابیہ کے بجائے ابن ابی سفیان کہہ کر پکارا جائے ۔“
مولانا ابوالکلام آزاد نے اس مسئلہ پر جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ یہ ہے: ”یہ ایک مشہور تفصیل طلب واقعہ ہے۔ عام ناظرین کے لیے اس قدر لکھ دیتا ہوں کہ سمیہ جاہلیت کی ایک زانیہ اور فاحشہ عورت تھی۔ ابوسفیان اس کے پاس رہا کرتا تھا اور اس سے زیاد پیدا ہوا۔ لیکن اغراض سیاسیہ سے اس کا پھر استلحاق پیدا کیا اور اس کو اپنا بھائی قرار دیا۔ اس کےلیے خاص مجلس شہادت منعقد ہوئی تھی جس میں گواہوں کے اظہار کےلیےاز انجملہ ایک گواہ ابو مریم الفجار بھی تھا جس نے ابوسفیان کےلیے سمیہ کو مہیا کیا تھا۔ بالآخر ایسی شہادت سے زیا بھی شرما گیا۔“
یہ ایک عجیب تماشا ہے کہ دوسروں کی زبان اور قلم سےنکلی ہوئی جس بات پر ادنی سی خلش بھی کسی کو محسوس نہیں ہوتی ، وہی بات جب مولانا مودودی کہہ دیتے ہیں تو وہ ایک تابناک فتنہ بن جاتی ہے۔ اس ظلم اور بے انصافی کی مثالوں کا احاطہ کر ناممکن نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ استلحاق زیاد سے جسے شرعا صحیح ثابت کرنے کے لیے محمد تقی صاحب اور بعض دوسرے حضرات ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ خود اس پر بعد میں نادم ہوئے۔ حافظ نورالدین، پیشمی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد میں مسند ابی یعلی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نصر بن حجاج اور خالد بن ولید کے لڑکے خالد کے درمیان ایک بچے کے بارے میں تنازعہ تھا۔ خالد کہتے تھے کہ یہ بچہ ان کے غلام عبد اللہ کا لڑکا ہے جس کے بستر پر یہ پیدا ہوا اور نصر کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کی وصیت کے مطابق یہ اس کے نطفے سے ہے۔ یہ جھگڑا امیر معاویہ کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ بچہ اسی کا ہے جس کے گھر میں اس کی ولادت ہوئی۔ اس پر نصر نے کہا: فـاتـن قـضـاء ک هذا يا معاوية فی زیاد (تو پھر آپ نے زیاد ہےاستلحاق کا فیصلہ کیسے کیا؟)۔ امیر معاویہ نے جواب دیا:
اس روایت کی سند گو متصل نہیں مگر اس کے رجال کو پیشمی نے اثبات قرار دیا ہے۔ بہر کیف یہ اس امر کا مزید ثبوت ہے کہ امیر معاویہ کے نزدیک بھی ان کا فیصلہ غلط تھا اور جولوگ اسے صحیح ثابت کرنے کی سعی لا طائل میں مصروف ہیں انہیں سنتِ رسول سے زیادہ فعلِ معاویہ کے دفاع کی فکر لاحق ہے۔
میں نے مسئلہ استلحاق کے بارے میں محتاط طریق پر مفصل بحث کر دی تھی اور میرا خیال یہ تھا کہ کم از کم اس موضوع پر محمدتقی عثمانی صاحب سکوت اختیار کریں گے کیونکہ یہ ایک ناگفتنی سامسئلہ ہے جو زیادہ ردو کر کے لیے موزوں نہیں ہے اور اس میں حضرت معاویہ نے جو کچھ کیا ہے، اس کےلیے دفاع فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن مجھے سخت حیرت و تأسف ہے کہ عثمانی صاحب نے اس کا جواز مہیا کرنے کی دوبارہ کوشش فرمائی اور مجھے دوبارہ مجبور کیا کہ اس پر کلام کروں۔ آپ پھر لکھتےہیں:
”میں نے ابن خلدون کے حوالے سے یہ ثابت کیا تھا کہ زمانہ جاہلیت میں سمیہ کے ساتھ حضرت ابوسفیان کے جس تعلق کو مولانا مودودی صاحب نے زنا کا عنوان دیا ہے، وہ در حقیقت جاہلی نوعیت کا ایک نکاح تھا اور اس نوعیت کا نکاح اگر چہ اسلام کے بعد منسوخ ہو گیا، لیکن اس قسم کے نکاح سے جو اولاد جاہلیت میں پیدا ہوئی اسے ثابت النسب کہا گیا۔ زیاد کا معاملہ بھی یہی تھا۔“
ابن خلدون کے ساتھ وغیرہ کا لفظ تو محض تکلف ہے، مولانامحمد تقی صاحب کا اصل انحصار پہلےاور اب بھی ابن خلدون کی ایک عبارت پر ہے۔ ابن خلدون نے جو کچھ لکها ہےاور مدیر البلاغ نےجو کچھ "ثابت" کیا تھا، وہ ایک بڑی عجیب وغریب یا پھر بڑی گہری اور عمیق شے ہے جو میری ناقص عقل و فہم کے لیے ایک معمہ ہے جس کی تفصیل اس بات کے آغاز میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
افسوس کہ اس دلچسپ مفتح کا حل ابھی تک البلاغ میں شائع نہ ہوا۔ اب قارئین سے میری درخواست ہے کہ ان میں سے کوئی صاحب اس پہیلی کو بوجھ سکتے ہوں تو مجھے آگاہ فرمائیں اور میری جانب سے ہدیہ تشکر وصول کریں۔ حضرت ابو سفیان اور زیاد کی والدہ کے تعلق کو نکاح ثابت کرنےمیں مدیر البلاغ کتنی ہی سعی کیوں نہ صرف کریں، فی الحقیقت اس پر جاہلیت کے نکاجوں میں سے کسی نکاح کا اطلاق بھی نہیں ہو سکتا۔ جناب محمد تقی صاحب نے بخاری کے حوالے سے نکاح کی جن اقسام کا ذکر کیا ہے۔ میں نے ان کی تفصیل بتا کر ثابت کر دیا تھا کہ ان کے ذریعے سے نسب کا تقرر وعین بچے کی ولادت کے فورا بعد ہو جاتا تھا۔ لیکن اس کے جواب میں عثمانی صاحب پھر لکھتے ہیں کہ غلام علی صاحب نے اس بات کی کوئی دلیل نہیں دی کہ جاہلیت کے انتساب میں اعلانِ عام ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس مطالبہ دلیل کی حقیقت اور وزن معلوم کرنے کے لیے ہر شخص میری اس بحث کو دوبارہ ملاحظہ کر سکتا ہے جو میں نے جاہلیت کے نکاح کے زیر عنوان کی ہے۔
میں نے پورےتین صفحات میں اپنےدلائل مفصل بیان کر دیئے تھے۔ اب میری سمجھ میں نہیں آتا کہ پھر دوبارہ مجھ سےکیسی دلیل مانگی گئی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جاہلیت کاس جائز یا ناجائز تعلق کی صورت خواہ خفیہ ہو یا علانیہ ہو،اس کےمولود کا نسب تو مخفی رہ ہی نہیں سکتا۔بچہ کوئی چھپنےچھپانےکی چیز تو نہیں ہےاسکے تو پیدا ہوتے ہی یہ سوال سامنے آکھڑا ہوتا ہے کہ یہ حلالی ہے یا حرامی؟ اور حلالی ہے تو اس کا باپ کون ہے؟ اگر اس کا کوئی باپ ثابت نہ ہو اور وہ اسےاپنا بچہ تسلیم نہ کرے،تو جاہلی معاشرے تک میں وہ حرامی قرار پاتا تھا۔ یہ بات صریح عقل کےخلاف ہے کہ بچےکی پیدائش کے سالہا سال بعد اس کا نسب کسی سے ثابت ہو اور وہ حلالی قرار پائے۔جاہلیت میں زنا کی جن صورتوں کو نکاح سمجھا جاتا تھا ان میں بھی بچے کی پیدائش کے بعد کوئی نہ کوئی اس کا باپ بنتا تھا پا بنایا جاتا تھا۔ عورت خواہ منکوحہ ہوتی یا مملو کہ یا متوعہ، وہ خود کسی کو بچے کا باپ نامزد کرتی یا قیافہ شناس بتا تایا پھر باپ خود اعلان کرتا کہ میں اس کا باپ ہوں۔صحیح بخاری کی جس حدیث کا حوالہ مولانامحمد تقی صاحب نے دیا تھا ، وہ باب لا نكاح الا بولی میں موجود ہے اور اس میں تصریح ہے کہ عورت اپنےسے تعلق رکھنے والے مرد کا نام بچہ پیدا ہوتے ہی لے لیتی تھی ، پھر بچے کے نسب کا الحاق اُسی مرد سے ہوجاتا تھا اور وہ شخص اس کا انکار نہیں کر سکتا تھا (لا يستطيع ان يمتنع به الرجلُ )۔اس کےبعد اسی حدیث میں اس بات کی بھی توضیح ہے کہ بغایا( طوائفوں ) کے ہاں اگر بچہ پیدا ہوتا تھا تو قیافہ شناس کو بلایا جاتا تھا اور بچے کی ماں کے ہاں آمد و رفت رکھنے والوں کو بھی جمع کیا جاتا تھا۔ پھر قیافہ شناس ایک متعین شخص کو بچےکا باپ قرار دیتا تھا اور اسی کے باپ ہونے کا دعویٰ کر دیا جاتا تھا جس سے انکار ممکن نہیں ہوتا تھا ( دُعِى ابنه لا يمتنع من ذالک). کیا اس کے بعد بھی نسب دانتساب کے خفیہ رہنے ،مشتبہ ہونے یا اعلانِ عام نہ ہونے کا کوئی موقع باقی رہ سکتا تھا ؟
اس روایت میں جو اقسام نکاح بیان ہوئی ہیں، مدیر البلاغ نے اب ان میں مزید کچھ قسموں کا اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے حق میں وہ داؤدی کا قول نقل کرتے ہیں کہ جاہلی نکاح کی کچھ قسمیں ایسی ہیں جو حضرت عائشہ نے بیان نہیں فرما ئیں۔ ان میں سے پہلی قسم خفیہ آشنائی کا نکاح ہے اور اس کا ذکر قرآن کریم کے ارشاد وَ لَا مُتَّخِذَاتِ اَخْدَان میں موجود ہے۔ جاہلیت کےلوگ کہا کرتے تھے کہ ایسا تعلق اگر خفیہ طور پر ہو تو اس میں کچھ حرج نہیں اور علی الاعلان ہوتو وہ قابلِ ملامت ہے۔ کاش کہ ایسی واہی بات نقل کرنے سے پہلے عثمانی صاحب کچھ تو غور و تامل کر لیتے!یہ بات اتنی بے بنیاد ہے اور اس خفیہ آشنائی کو نکاح قرار دینا اتنا افسوسناک ہے کہ خود مدیر البلاغ کو بھی فقرے کے آخر میں نکاح کے بجائے تعلق کالفظ لا نا پڑا ہے، ورنہ وہ خدا را بتائیں کہ نکاح کی کوئی قسم ایسی بھی ہو سکتی ہے جو خفیہ ہو تو اس میں حرج نہ ہو اور علی الاعلان ہو تو قابل ملامت ہو۔“ابن حجر نے انہیں بیان کر کے فوراً اس کی تردید بھی کر دی ہے کہ ان پر نکاح کی اصطلاح وارد نہیں ہوتی۔ نکاح کی یہ اقسام بیان کرنے کے بجائے پھر تو محمد تقی صاحب کو بس یہ کہہ دینا چاہیے کہ عربوں کےہاں نکاں اور زنا میں سرےسے کوئی فرق ہی نہ تھا اور زنا کی ہر قسم داخلِ نکاح تھی۔ لیکن ایسا گمان خلاف حقیقت ہے۔ قرآن میں ولا متخذات اخدان کی تفسیر میں امام ابن جریر لکھتے ہیں:
اس طرح امام ابن جوزی اپنی تفسیر زادالمسیر میں سورہ نساء کی آیت ولا متخذات اخدان کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
یہاں بھی ابن جوزی نکاح کے بجائے زنا کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ بہر کیف حضرت عائشہ تو جاہلیت کے حالات سے داودی کی بہ نسبت زیادہ واقف تھیں اور انہوں نے اس قسم نکاح کا ذکر نہیں فرمایا۔
یہ بات کتنی رنجدہ اور باعث افسوس ہے کہ مدیر البلاغ بغیر سوچےسمجھےبار بار اس بات کو دہرائےجارہےہیں کہ اگر خفیہ استلحاق جاہلیت میں قابلِ قبول نہیں تھا ، تب بھی حضرت ابوسفیان نے دس آدمیوں کی موجودگی میں نسب کااقرار کیا تھا۔سوال یہ ہےکہ یہ نسب کاکیسا اقرار ہےجس کی اطلاع نہ بچےکی ماں کو ہےنہ خود امیر معاویہ اور خاندان کےدوسرے افراد کو ہےنہ اس ماں شریک دوسرےبھائی(حضرت ابوبکر) کو ہے،نہ خود زیاد کو جوان ہونےتک ہےدس _١گواہوں کےماسوا کسی کو کانوں کان اس نسب کی خبر تک نہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے برعکس سمتیہ جس غلام عبید کے نکاح میں تھی، استلحاق کی کارروائی سے پہلے اس عبید سے زیاد کا نسب ثابت و مشہور ہے اور زیاد اپنے آپ کو غلام زادہ اور عبید ہی کا بیٹا سمجھتا ہےاس سارےپینتیس سال کے عرصہ دراز تک سب لوگ جامد و ساکت بیٹھے رہتے ہیں اور ۲۴ھ میں یکا یک یہ سر مکنون منکشف ہوتا ہے کہ زیا دتو ابوسفیان کا صاحبزادہ،ام المومنین حضرت ام حبیبہ کا علاقائی بھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا برادر نسبتی ہےزیاد پہلےہجری سال تولد ہو گیا تھا مگر افسوس کہ کسی شخص نےتیرہ برس تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ بتایا کہ آپ کا یہ برادر نسبتی ہےاور چوالیس برس تک حضرت ام حبیبہ کو آگاہ نہ کیا کہ یہ آپ کا بھائی ہے!حضرت معاویہ بلا ریب حضرت ام حبیبہ کےبرادر گرامی ہیں اور انہیں بجا طور پر خال المومنین (مسلمانوں کےماموں ) کہا جاتا ہے، کیونکہ حضرت ام حبیبہ ام المومنین ہیں۔لیکن اب مدیر البلاغ کو اگر زیاد بن ابیه کےبارےمیں بھی ایسا ہی اصرار ہےکہ وہ بھی خال المومنین ہیں تو وہ بسم اللہ کریں،آئندہ اپنےخطبوں میں، اپنی تحریروں اور تقریروں میں زیاد کےساتھ اس لقب کا اضافہ بالالتزام فرما دیا کریں تا کہ جوکو تا ہی یا حق تلفی اب تک ہو چکی ،اس کی کچھ تو تلافی ہو!
١- یہ دس آدمیوں کی گواہی کا ذکر عثمانی صاحب بار بار صرف مدائنی کے حوالے سے کر رہے ہیں لیکن عجیب بات ہے کہ آگے چل کر اپنی کتاب کے صفحہ ۱۸۸ پر جہاں مولانا مودودی کی نقل کردہ ایک روایت کی تردید مقصود ہے، وہاں عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ مدائنی " متکلم فیہ ہیں ۔ یہاں مدائنی کا نام بھی غلط طور پر علی ابن محمد کے بجائے محمد بن علی لکھ دیا ہے۔ اب قطع نظر اس سے کہ المدائنی ثقہ ہیں یا ان کی روایات میں کلام ہے، یہ آخر عدل وانصاف کی کونسی قسم ہے کہ جب آپ مدائنی کے حوالے سے بات کریں تو مدائنی اور ان کا قول مستند ہو جائے اور جب ہم اس کی روایت کہیں نقل کر دیں تو وہ نا قابل اعتماد قرار پائے۔
میرے بیان کردہ دلائل و شواهد اور تلخ حقائق کا براہِ راست سامنا کرنے کے بجائے مولانا عثمانی صاحب حسب سابق اپنے اُسی طرز استدلال کی آڑ لیتےہیں کہ زیاد کا استلحاق اگر ایسا ہی بےبنیاد ہے تو پھر ساتھ ہی یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ امت اپنے خیر القرون میں حق کے محافظوں سے یکسر خالی ہوگئی تھی ، ورنہ کیا یہ بات عقل میں آسکتی ہےکہ اتنی بڑی دھاندلی کا ارتکاب ایسےدور میں کیا جائےیہ وہی استدلال ہےجو توربیث،دیت سب و شتم و غیره کےجملہ مباحث میں وہ کرتے چلےآرہے ہیں۔ اگر ثابت شده تاریخی حقائق ووقائع کے بارے میں مجر دید عقلی استدلال ان واقعات کو کالعدم قرار دینے کے لیے کافی ہو، تو پھر فتنہ ارتداد قبل عثمان قبل حسین و ابن زبیر،واقعہ کره،هتک حرمین کے متعلق جو تفاصیل تاریخ ہی میں نہیں، مستند ترین کتب حدیث و آثار میں درج ہیں ان سب پر خط نسخ کھینچ دینا قطعی طور پر لازم ہو گا۔لیکن میں اس عقلی و غیر عقلی امکان استحاله کی بحث میں پڑے بغیر یہ کہتا ہوں کہ امت اسلامیہ اپنے خیر القرون ہی میں نہیں بلکہ کسی قرن اور کسی دور میں بھی حق کے محافظوں سےیکسر خالی نہیں ہوئی۔اگر خالی ہوتی تو یہ واقعات ان کا رد عمل جس دو گونہ آویزش کی تصویر کو پیش کرتے ہیں، وہ تصویر ہماری تاریخ سے غائب ہی ہوتی،خوب و نا خوب اور غلط و صحیح کی تمیز کلیۂ مٹ چکی ہوتی۔
خیر یہ تو محض اس منطق کا جواب تھا جس کا سہارا لےکر عثمانی صاحب یا بعض دوسرےلوگ هر واقعہ کا انکار کر دیتے ہیں۔جہاں تک زیر بحث مسئلہ استلحاق کا تعلق ہےاس میں بعض صحابہ کرام نےاسی وقت شدید احتجاج کیا تھا اور بعد میں علماء و مورخین اب تک تنقید کرتے چلےآرہےہیں۔ اس کی خاصی تفصیل میں پہلے بیان کر چکا لیکن محمد تقی صاحب اگر یہی چاہتے ہیں تو میں مزید کچھ تشریح کیےدیتا ہوں۔ صحیح مسلم کے آغاز ہی میں کتاب الایمان کا ایک باب ہے جس کا عنوان ہے:
عن ابی عثمان قال لما ادعي زياد لقيت ابابكرة فقلت له ما هذا الذي منعتم اني سمعت سعد بن ابي وقاص يقول سمع أذناى من رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقول من ادعى ابا في الاسلام غير ابيه وهو يعلم انه غير ابيه فالجنة عليه حرام فقال ابوبكرة وانا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلّم.
"حضرت ابو عثمان روایت کرتے ہیں کہ جب زیاد کا (ابوسفیان سے استلحاق کا ) دعوی کیا گیا تو میں حضرت ابو بکرہ سے ملا اور ان سے کہا کہ آپ لوگوں نے یہ کیا کارروائی کی ہے؟ میں نےحضرت سعد بن ابی وقاص سے سنا ہے ، وہ کہتے تھے کہ میں نے اپنے دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا ہے کہ جو شخص اسلام میں اپنے باپ کو چھوڑ کر کسی دوسرےکو باپ بنانےکا دعوی کرے اور اسے معلوم ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہےحضرت ابوبکر گانےجواب دیا کہ میں نےبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد خود آنحضور سے سنا ہے۔“
یہاں یہ امر قابل وضاحت ہےکہ حضرت ابو بکرہ چونکہ زیاد کے ماں جائے بھائی تھے۔اس لیےابو عثمان نےیہ خیال کیا کہ زیاد نے جو اپنا نسب جانتے بوجھتے بدلا ہے یا اس کی تبدیلی کا دعوئی تسلیم کیا، تو شاید حضرت ابوبکر کا بھی اس ادعا میں شریک ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابو بکر اس دعوے نے شدیدترین مخالف تھےاور آپ نےمرتے دم تک زیاد سےبات تک نہیں کی۔چنانچہ حضرت ابو عثمان کی غلط فہمی حضرت ابو بکر نے یہ کہہ کر رفع کر دی کہ میں تو خود اس استلحاق کو نا جائز سمجھتا ہوں اور میں نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وعید خودسنی ہے۔ پھر اس حدیث پر امام مسلم یا امام نووی نے جو عنوان باندھا ہےیہ بھی ثابت کر رہا ہےکہ زیاد نے دیدہ دانستہ اپنے حقیقی باپ کےبجائے دوسرے شخص کی جانب انتساب گوارا کیا اور اپنے آپ کو شدید وعید کا سزاوار بنایا۔ امام نووی اس حدث کی شرح میں زیاد کے متعلق فرماتے ہیں:
كان يعرف بزياد بن عبيد الثقفي ثم ادعاه معاوية بن ابي سفيان والحقه بنبيه ابي سفيان وصار من جملة أصحابه بعد ان كان من أصحاب علی بن ابی طالب رضی الله عنه.
"زیاد کا معروف نام زیاد بن عبید ثقفی تھا۔ پھر معاویہ بن ابی سفیان نے اس کے بارے میں دعوی کیا اور اس کا نسب اپنےوالد ابوسفیان کےساتھ ملحق کر دیا۔اسطرح زیاد امیر معاویہ کا ساتھی بن گیا حالانکہ پہلےوہ حضرت علی کا ساتھ دیتا تھا۔“
اس حدیث کی تشریح میں تقریباً یہی الفاظ مولانا شبیر احد عثمانی مرحوم نے فتح الملہم میں درج فرمائے ہیں۔ یہی حدیث دیگر کتب صحاح میں بھی وارد ہے۔مثال کےطور پر أبو داود، کتاب الأدب، باب في الرجل ينتمى الى غير موالیہ میں بھی یہ حدیث موجود ہےمولانا خلیل احمد صاحب مرحوم بذل المجهود میں اس حدیث کی شرح یوں بیان فرماتے ہیں:۔
انما ذكر أبو عثمان هذا الحديث لأبي بكرة لان زيادًا أخا ابي بكرة لأمه ينتمي نسبه الى ابی سفیان صحراء بن حرب وقصته ان ابا سفیان زنی بامه في الجاهلية فولدت زيادًا فكان زياد تقول له عائشة زياد بن ابيه وكان زياد من حماة على وكان شجاعاً مقدامًا فى الحرب واستماله معاوية فانتسب اليه وجعله اخاه فلهذا حدث ابو عثمان هذا الحديث أبي بكرة لأنه ظن ان ابا بكر لعله يرضى به فلما قال أبو بكرة اني سمعت هذا الحديث من رسول الله صلى الله عليه وسلم علم بهذا أنه ليس براض بما فعل زياد.
"ابوعثمان نے یہ حدیث حضرت ابو بکر سے اس لیے بیان کی کہ زیادان کا ماں شریک بھائی تھا اور اس نے اپنے نسب کا استلحاق ابوسفیان سے کر لیا۔ اس کا قصہ یوں ہے کہ ابوسفیان نے جاہلیت میں زیاد کی والدہ سے زنا کیا تھا۔ پھر زیاد پیدا ہوا تو زیاد کو حضرت عائشہ زیاد بن ابیه کہا کرتی تھیں اور زیاد پہلے حضرت علیؓ کا حامی اور بہادر جنگجو تھا تو معاویہ نے اسے اپنی طرف مائل کیا ، اپنے خاندان کی جانب اس کا انتساب کیا اور اسے اپنا بھائی بنا لیا۔ اس لیے ابو عثمان نے یہ حدیث ابوبکرہ سےبیان کی اور یہ سمجھ کر کی کہ شاید ابوبکرہ بھی اس استلحاق پر راضی ہیں۔ لیکن جب انہوں نے خود یہی حدیث سنائی تو ابو عثمان نے جان لیا کہ وہ اس کا رروائی پر خوش اور رضامند نہیں ہیں ۔“
اب محمد تقی صاحب اس بات پر بڑی برہمی کا اظہار کر رہےہیں کہ مولانا مودودی نےیہ کیوں لکھ دیا کہ حضرت ابوسفیان نےزیاد کی ماں سمیہ سےزنا کا ارتکاب کیا تھا اور پھر حضرت معاویہؓ نےزیاد کو اپنا حامی بنانے کے لیے اپنے خاندان کا فرد قرار دے دیا۔ مدیر البلاغ نے اس انداز بیان کو افسوسناک اور سخت مکروہ قرار دے کر مولانا مودودی سےتو بہ و ندامت کا مطالبہ کیاتھا۔میں نےپہلی بحث میں اس کا جواب دیتےہوئےمتعدد اصحاب سلف کےاقوال نقل کیسےتھےجن کا مفہوم مولانا مودودی کے مضمون سےمختلف نہ تھا۔ان میں شاہ عبد العزیز صاحب کی تحفہ اثنا عشریہ سے سےعبارت بھی شامل تھی جس میں انہوں نے زیاد کو حرامی ، نطفہ نا تحقیق ، مردود اور بے حیا“ لکھا تھا،جسے امیر معاویہ نے اپنے نسب میں شامل کر لینے کا لالچ دے کر حضرت علی کی رفاقت سے جدا کر لیا تھا۔ مگر افسوس کہ عثمانی صاحب کو اب بھی اصرار ہے کہ یہ زنا نہیں بلکہ نکاح تھا اور اس ”نکاح“ کےدس گواہ موجود تھے،حالانکہ ان گواہوں میں سےبعض نے ایسی گواہی دی تھی جسےسن کر بقول مولانا آزاد مرحوم زیاد بھی شرما گیا۔ مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری تو اہلِ دیوبند کے استاذ الاساتذہ اور شیخ الشیوخ ہیں، وہ بھی فرما رہے ہیں کہ سفیان نے زنا کیا تھا۔۔ اس کے باوجود مدیر البلاغ اسےنکاح ثابت کرنے پر ایڑی چوٹی کا زور لگارہےہیں۔ مولا ناسٹیل احمد تو یہ بات لکھ چکنےکےبعد اب رحلت فرما چکےاور اس سخت مکروہ انداز تحریر سے وہ بھی تو بہ دانا بت کا اظہار نہ فرما سکے۔ مولانا محمدتقی صاحب جو مجھے اس بات کا الزام دیتے ہیں کہ میں ان کے اکابر پر طعن کرتا ہوں، ذرا اپنے گریبان میں منڈال کر دیکھ لیں کہ جو تیر وہ ہم پر چلا رہے ہیں وہ بھی اس کا نشانہ اپنے اکابر کو تو نہیں بنار ہےہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ جو بات مولانا نے لکھی ہے، وہ بکثرت اہل علم لکھتے اور کہتے چلے آئےہیں ۔ مثال کے طور پر محدث ابن عساکر تاریخ دمشق میں لکھتے ہیں:
قال زياد لابي بكرة المتر ان امير المومنین ارادني على كذا و كذا وولدت على فراش عبيد وشبهته وقد علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من ادعى لغير أبيه فليتبوأ مقعده من النار.
"زیاد نے حضرت ابوبکر سے کہا: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ امیر المومنین میرےاستلحاق کا ارادہ رکھتے ہیں حالانکہ میں عبید کےبستر پر پیدا ہوا اور اُسی سےمشابہت رکھتا ہوں اور آپ جانتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے اپنےباپ کے سوا کسی دوسرےسےانتساب کیا ، وہ اپنا ٹھر کا نا دوزخ میں بنالے۔“
وكان عمر بن عبدالعزيز إذ كتب الى عماله فذكر زيادًا قال ان زيادا صاحب البصرة ولا ينسبه وقال ابن بعجة اول داء دخل العرب قتل الحسن يعنى سمة وادعاء زياد.
"حضرت عمر بن عبدالعزیز جب اپنےعمال کو خط لکھتے ہوئے زیاد کا ذکر کرتے تھے تو اسےزیاد والی بصرہ کہتے تھے اور اس کا نسب بیان نہیں کرتے تھے۔ ابن بعجہ کہتے ہیں کہ پہلی بیماری جو عربوں میں داخل ہوئی ، وہ حضرت حسنؓ کا زہر کے ذریعے سے قتل ہونا تھا اور زیاد کا استلحاق وادعاء تھا۔"
حافظ ابن عسا کرنے اپنی تاریخ میں زیاد کے حالات بیان کرتے ہوئے اس کا ترجمہ زیاد ابن عبید کے نام سے کیا ہے جس سے میری اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ بکثرت مؤرخین نے زیاد بن ابی سفیان لکھنے سے احتراز کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
پھر ابن عساکر محدث ابن بیٹی اور حضرت سعید بن المسیب کے اقوال نقل کرتے ہوئےفرماتے ہیں:
قال ابن يحيى اول حكم ردّ من أحكام رسول الله الحکم فی زیاد وقال سعيد بن المسيب اول قضية ردت من قضا يا رسول الله صلى الله عليه وسلّم علانية قضاء فلان يعني معاوية في زياد.
"ابن بیٹی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں میں سے پہلا فیصلہ جو رد کیا گیا وہ زیاد کے بارے میں ہےاور سعید بن مسیب نےفرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےفیصلوں میں سےاولین فیصلہ جسے علانیہ رد کیا گیا وہ معاویہ نے زیاد کے معاملے میں کیا۔“
كانت سمية جارية الحارث بن كلدة الثقفي فزوجها بعبدالله رومى يقال له عبيد فولدت سمية زيادًا على فراشه فهو ولد عبيد شرعًا و كان ابوسفیان سار
"سمیہ حارث بن کلدہ ثقفی کی کنیز تھی جسے اس نے اپنے ایک رومی غلام عبید نامی سے بیاہ دیااور زیاد اس عبید کے گھر پیدا ہوا ور شرعاً اس کی اولاد تھا اور ابوسفیان جاہلیت کے دور میں طائف گئے۔- - - - "
آگے وہی قصہ ہے جو دوسرے مؤرخین نے بیان کیا ہے۔
اس کے بعد ابوالغد اء بیان کرتے ہیں کہ ابو مریم نے استلحاق کے وقت اس طرح کی گواہی دی کہ زیاد نے خودا سے خاموش کرا دیا۔
استلحقه معاوية وهذه اوّل واقعة خولفت فيه الشريعة علانية لصريح قول النبي صلى الله على وسلّم الولد للفراش وللعاهر الحجر وأعظم الناس ڈلک و انکروه خصوصا بنو امية لكون زياد بن عبيد الرومي صار من بني أمية.
"پھر معاویہ نے زیاد کا استلحاق کر لیا اور یہ پہلا واقعہ ہے جس میں علانیہ شریعت کی مخالفت کی گئی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صریح ارشاد ہے کہ بچہ اسی کا ہےجس کے بستر پر وہ پیدا ہو اور زانی کےلیے پتھر ہے۔ لوگوں نے اس فیصلے کو بڑا حادثہ سمجھا اور اس پر احتجاج کیا، بالخصوص بنوامیہ نے،کیونکہ اس طرح رومی غلام عبید کا بیٹا زیاد بنوامیہ کا ایک فرد بن گیا۔"
افسوس کہ یہ سب حضرات تو به کیے بغیر وفات فرما چکے اور اللہ کے ہاں پہنچ چکے ہیں۔ عثمانی صاحب ہی بہتر جانتے ہوں گے کہ ان کا انجام کیا ہوگا ؟ اگر عثمانی صاحب قاضی ہوتے اور یہ اصحاب بقید حیات ہوتے تو غالبا ان سب پر حد قذف جاری کرتے اور ان کی پشت پر کوڑے برساتے۔
مدیر البلاغ نے دوران بحث میں یہ بھی لکھا ہے کہ ملک صاحب کا یہ خیال درست نہیں ہےکہ بعد میں تاریخ وانساب کی کتابیں زیاد کو زیاد بن ابیه اور زیاد بن عبید ہی لکھتی چلی آتی ہیں۔ مشہور عالم و مؤرخ بلاذری نے اپنی معروف کتاب انساب الاشراف میں زیاد کا ترجمہ زیاد بن بن ابی سفیان ہی کےعنوان سےکیا ہے۔میرے اصل الفاظ یہ تھے کہ تاریخ وانساب کی کتابوں میں عموماً زیاد بن ابیه اور زیاد بن عبید ہی درج ہوتا چلا آیا ہےاور میں اب بھی اپنی بات کو درست سمجھتا ہوں اور مؤرخ بلاذری کی طرف عثمانی صاحب کی منسوب کردہ بات کو مغالطہ انگیز اور خلاف واقعہ قرار دیتا ہوں۔بلاذری کی پوری تاریخ بھی ابھی تک مخطوطات کی شکل میں ہےاور اس کا مطبوعہ متداول حصہ وہ ہے جو جز اول کی صورت میں ڈاکٹر محم حمید اللہ صاحب کی تحقیق سے دار المعارف مصر ۱۹۵۹ء میں چھپا ہے۔غالبا مدیر البلاغ کا اشارہ اسی کی طرف ہےمگر انہوں نے اس کےکسی متعین مقام کا حوالہ نہیں دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جلد میں زیاد کا علیحدہ ترجمہ کسی مستقل عنوان کے تحت درج نہیں ہےکیونکہ یہ حصہ سیرت نبوی پر مشتمل ہےالبتہ ضمناً اس میں زیاد کا ذکر کئی مقامات پر آ گیا ہے پوری کتاب میں شاید تمیں بار زیاد کا نام آیا ہو گا مگر ان میں پوری تلاش کےباوجودمجھے صرف صفحہ ۳۶۷ کے ایک مقام پر یہ الفاظ ملے ہیں کہ حضرت ابوبکرہ زیاد بن ابی سفیان کےاخیافی بھائی ہیں۔ اس ایک جگہ کے سوا زیاد کی ولدیت کہیں ابو سفیان نہیں بلکہ اکثر جگہ زیاد ابن عبید ہے۔ص ۴۸۹ پروہی بات درج ہےکہ سمیہ کی شادی رومی غلام سے ہوئی تھی:
آگے صفحہ ۴۹۱ پر ہے۔ زیاد بن عبید مولی ثقیف. پھر صفحه ۴۹۳ پر حضرت ابوبکر کا قول درج ہے کہ زیاد کے فسق و فجور میں علاوہ دیگر باتوں کے یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے باپ عبید کےنسب سے انکار کیا اور ابوسفیان کا بیٹا ہونےکا دعویٰ کیا۔(انتفـائـه مـن عبيد وادعاء ه الى ابي سفیان). اس کےبعد ہر شخص خود فیصلہ کر سکتا ہےکہ مدیر البلاغ کا یہ مزعومة کس حد تک درست ہےکہ بلاذری نےزیاد کا ترجمہ ”زیاد بن ابی سفیان ہی کےعنوان سےکیا ہے؟ فی الحقیقت بات یہ ہےکہ زیاد جس کا بھی نطفہ ہو وہ عبیدہ ہی کے گھر پیدا ہوا اور اس کا نسب یقینی طور پر عبید سے ملحق تھا۔ اب زیاداور امیر معاویہ نے مل جل کر استلحاق کی جو کارروائی کی ، اس سے کسی نا جائز حق تلفی کی تلافی نہیں ہوئی جیسا کہ مدیر البلاغ کا خیال ہےبلکہ یہ زیاد کے ساتھ شاید زیادتی ہی ہوئی کہ اس کا نسب مستقل طور پر دوغلا اور خلط ملط ہو گیا۔ایک کےبجائے اس کے لیے چار چار ولدیتیں لکھنے کی گنجائش پیدا ہوگئی۔ کسی نے زیاد بن عبید کہا، کسی نے ابن ابی سفیان کہاں اور کسی نے ان دونوں سےبیچ کر یوں کہہ دیا کہ زیاد بن ابیہ یا ابن ائمہ (اپنی ماں یا اپنے باپ کا بیٹا ، جو بھی اس کا باپ ہو )۔ستلحاق سے شاید دنیوی فائدہ زیادہ نے حاصل کر لیا ہومگر اس کا نسب دائماً مشتبہ ہو کر رہ گیا۔
بلاذری نے جیسا کہ میں نے بیان کیا زیاد کا مستقل ترجمہ یا نسب درج نہیں کیا اور یہ کتاب اس موضوع کے لیے مختص بھی نہیں مگر امام ابن حزم کی کتاب ”جمهرة انساب العرب"خاص انساب کےموضوع پر ہے۔یہ بھی دارالمعارف،مصر میں ۱۳۸۲ھ میں چھپی ہے۔اس کے صفحہ پر ولـــد حرب بن امیه بن عبد شمس کےزیر عنوان حضرت ابوسفیان کی جملہ اولاد کی پوری تفصیل درج ہے۔ نام یہ ہیں: یزید،حنظلہ، عمرو، معاویہ، محمد، عنبہ، عتبہ، ام حبیبہ۔ اس فہرست میں زیاد کا نام مفقود ہے۔ ابوحنیفه دینوری اپنی تاریخ الاخبار الطوال صفحہ ۱۱۸ پرلکھتے ہیں: زیاد بن عبيـد كـان عبدا مملوكًا لثقیف پھر صفحہ ۲۱۹ پر انہوں نے زیاد کے لیے الگ ترجمہ درج کیا ہے اور عنوان زیاد بن ابیه قائم کیا ہے۔ اس کے آغاز میں لکھتےہیں: کان زياد بن أبيه انما يعرف بزياد بن عبيد. پھر لکھتے ہیں کہ عبید غلام تھا۔ مالک نے آزاد کر دیا تو اس نے سمیہ سے نکاح کیا جس سےزیاد پیدا ہوا۔ حافظ ابن حجر الاصابه میں زیاد کا ترجمہ یوں لکھتے ہیں:
زياد بن أبيه وهو ابن سمية الذى صار يقال له ابن ابي سفيان، ولد على فراش عُبيد مولى ثقيف فكان يقال له زياد بن عبيد، ثم استلحقه معاوية ثم لما انقضت الدولة الاموية صار يقال له زياد بن أبيه وزياد بن سمية...... اشترى أباه بألف درهم فأعتقه.
"زیاد بن ابیہ جو سمیہ کا بیٹا تھا۔ بعد میں اسے ابن سفیان کہا جانے لگا۔ وہ بنو ثقیف کے غلام عبید کے بستر پر پیدا ہوا۔ اس لیے اسے زیاد بن عبید کہا جاتا تھا۔ پھر معاویہؓ نے اس کا استلحاق کیا۔جب بنو امیہ کی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا تو پھر اسےزیاد بن ابیه اور زیاد بن سمیه کہا جانےلگا۔ اس نےسےاپنے باپ عبید کو ایک ہزار درہم دے کر آزاد کرایا تھا۔“
ابن حجر کے اس بیان سے یہ بات واضح ہوگئی کہ زیاد کا باپ عبید ہی تھا اور وہ استلحاق ۔پہلے اس کا بیٹا کہلاتا تھا۔ امیر معاویہ کے استلحاق سے اسے ابن ابی سفیان کہا جانے لگا مگر اموی سلطنت کے خاتمے پر اسے دوبارہ عبید کا بیٹا کہا جاتا تھا۔ آگے ابن سیرین کے متعلق بھی صحیح سند کےساتھ فل ہے کہ زیاد کو ابن ابیہ ہی کہا جاتا تھا۔ عثمانی صاحب کو شاید یہ بھی یاد نہ رہا ہو کہ اپنی کتاب کےصفحه ۵۶ پر انہوں نے اپنی بحث کے آخر میں خود امیر معاویہ کا ایک خط زیاد کے نام نقل کیا ہے جس میں وہ زیاد کو لکھتے ہیں:
کیا اس کا صاف مطلب یہ نہیں ہے کہ امیر معاویہ خود بھی اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ استلحاق سے پہلے زیاد اپنےباپ عبید ہی سے انتساب رکھتا تھا۔ اس کے بعد آخر استلحاق کی کارروائی کا کیا جواز اور کیا موقع ومحل باقی رہ جاتا ہے؟ مشہور مؤرخ اسلام امام ذہبی اپنی تصنیف "العبر في خبر من غیر جلد اول صفحہ ۵۸ پر ۵۳ھ کے واقعات بیان کرتے ہوئے جہاں زیاد کی وفات کا ذکر کرتے ہیں وہاں اسے زیاد بن ابیہ ہی لکھتے ہیں۔اگرچه ساتھ فرماتے ہیں۔
آگے چل کر صفحہ ٧٠ پر٦٤ھ کے واقعات درج کرتے ہوئے عبید اللہ بن زیاد کے ذکر میں پھر زیاد کا نام آ گیا ہے، تو پھر بھی امام ذہبی نے زیاد بن ابیہ ہی لکھا ہے۔
محمد تقی عثمانی صاحب نےاس اشکال کو بھی بڑے شد و مد کےساتھ پیش کیا ہےکہ اگر یہ استلحاق ناجائز تھا تو حضرت عائشہ نے زیاد کو ابن ابی سفیان لکھ کر کیسے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی؟میں اس کا جواب پہلےدے چکا کہ یہ فیصلہ گوغلط ہی تھا مگر جب امیر معاویہ نےتمام مملکت میں اعلان کرا دیا کہ زیاد کو سب لوگ زیاد بن ابی سفیان کہا کریں_١تو دنیوی اعتبار سےیہ واقع و نافذ ہو گیا اور اسکےمطابق زیاد بن ابی سفیان کہنا بھی حد جواز میں آ گیا۔عثمانی صاحب کو شاید معلوم ہوگا کہ فقہائےاحناف کا اس پر اتفاق ہےکہ حاکم وقاضی کا فیصلہ خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو ظاہر و باطناً نافذ ہوجاتا ہےاور اس کےمطابق عمل کرنا جائز ہو جاتا ہے، اگر چہ عنداللہ جو فیصلہ غیر صحیح ہے وہ غیر صحیح ہی رہے گا۔ پھر میں یہ بات بھی پہلے بیان کر چکا ہوں کہ بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ نے زیاد ابن ابی سفیان کہنے سے گریز فرمایا ہے۔ چنانچہ زیاد نے ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں ایک خط بھیجا اور اس کے آغاز میں لکھا: ”زیاد بن ابی سفیان کی جانب سے۔ اسے توقع تھی کہ حضرت عائشہ اسے اس نام سے خطاب کریں گی اور اس کے لیے ثبوت ہو,جائے گا۔مگر حضرت عائشہ نے اس کا جواب بھیجاتو لکھا سب مسلمانوں کی ماں عائشہ کی طرف سے زیاد بیٹے کے نام۔“
عثمانی صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب گواہوں نے نکاح کی گواہی دے دی تو جولوگ استلحاق زیاد پر معترض تھے انہوں نے اعتراض سے رجوع کر لیا۔ اور اپنے سابق اعتراض پر شرمندگی کا اظہار کیا۔ مگر عثمانی صاحب کی یہ بات صحیح نہیں ہے۔ میری بحث سے یہ واضح ہے کہ جن حضرات نے استلحاق کی کارروائی کو نا جائز سمجھ کر اس پر اعتراض و احتجاج کیا،وہ آخر دم تک اپنےموقف پر قائم رہے حضرت ام حبیبہ جو ام المومنین اور ابوسفیان کی صاحبزادی ہیں انہوں نےہمیشہ زیاد سےپردہ فرمایا اور اسے اپنا بھائی تسلیم نہ کیا۔ پھر اعتراض تو پیدا ہی اس کارروائی کےبعد ہوا، اس لیے مدیر البلاغ کا یہ قول کتنا عجیب ہے کہ جب معاملہ دس گواہوں سے ثابت ہو گیا ،تو معترضین نے اعتراض سے رجوع کر لیا۔ جولوگ نکاح ہی کے منکر تھے، مثلاً حضرت ابو بکر ان کے نزدیک تو یہ گواہی تہمت زنا کے مترادف تھی ۔ اسی طرح صاحب بذل المجہو جب یہ کہتے ہیں کہ ابوسفیان نے زنا کیا تھا تو ان کے نزدیک بھی یہ شہادت زنا ہی کی ہوگی نہ کہ نکاح کی۔ جس رجوع و تدامت کا ذکر مروان کے بھائی عبدالرحمن اور ابن مفرغ کے سلسلےمیں محمد تقی عثمانی صاحب کر رہےہیں، اس کی حقیقت بس اتنی ہے کہ بنو امیہ نے اس استلحاق کو پسند نہیں کیا تھا، کیونکہ اس طرح ایک غیر قبیلےکا فردان میں داخل کر دیا گیا تھا، تو انہوں نے ایک نظم پڑھنی شروع کر دی جس میں اس کارروائی کی مذمت تھی۔ اس کے اشعار بعض دفعہ عبد الرحمن بن حکم اور بعض دفعہ ایک حمیری شاعر زیاد بن مفرغ کی طرف منسوب کیےجاتےتھے۔ عبدالرحمن نےان اشعار کے انتساب سےکبھی انکار نہیں کیا بلکہ وہ یہی کہتا رہا کہ اے معاویہ، اگر آپ کو حبشی بھی مل جائیں تو آپ انہیں بھی ہمارے خاندان میں ملا کر ہماری تذلیل کرتے رہیں گے ۔ “ جہاں تک ابن مفرغ کا تعلق ہے،اس کے الفاظ بھی استیعاب میں یہ منقول ہیں کہ اس نے امیر معاویہ کے سامنے صرف یہ کہا کہ میں نے یہ اشعار نہیں کہے بلکہ عبد الرحمن نے کہے ہیں اور میری طرف منسوب کر دیئے ہیں۔ اس صفائی و برات کو عثمانی صاحب نےشرمندگی کا نام دے دیا ہےبہر کیف ایک بات اگر قابلِ اعتراض ہےتو وہ محض اس بنا پر قابل تحسین و تائید نہیں ہو جاتی کہ اس کے معترضین میں سے کوئی اپنےاعتراض سے دست بردار ہو گیا ہے۔
میں نے اپنی سابق بحث میں حضرت سعد اور حضرت عبد بن زمعہ کا واقعہ بھی بیان کیا تھا کہ ان دونوں کے مابین ایک بچے کی ولدیت کا جھگڑا تھا۔ بخاری، کتاب المیراث اور دوسری احادیث میں مذکور ہے کہ حضرت سعد یہ کہتے تھے کہ بچہ ان کے بھائی عقبہ کا ہے (اگر چہ وہ زمعہ کی لونڈی کےبطن سے ہے )۔ دوسری طرف عبد بن زمعہ کہتے تھے کہ وہ میرا بھائی ہے کیونکہ میرے والد کے گھر (بستر) پر پیدا ہوا ہے اور لونڈی میرے والد کی مملوکہ تھی۔اگرچه اس بچے کی شکل عقبہ سے ملتی جلتی تھی،مگر اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ حضرت عبد بن زمعہ ہی کےسپرد فرمایا۔اس حدیث سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اس ارشاد نبوی کے بعد نسب کے معاملے میں جو قضیہ بھی در پیش ہو گا اس میں نسب اُسی شخص سے ملحق ہو گا، مولود کی والدہ جس کی مملوکہ یا منکوحہ ہے۔ مگر مجھےحیرت و افسوس ہے کہ عثمانی صاحب اس پر بھی فرماتے ہیں کہ زیاد کے معاملے میں ابوسفیان کے سوا کسی اور کا اقرار نسب ثابت نہیں۔ جب عبید، جس کے فراش پر زیاد پیدا ہوا تھا، وہ خود خاموش ہے، تو اب دعوی صرف ابوسفیان کا ہے اور وہ اسلام سے قبل ہو چکا تھا، اس لیے وہ قابل قبول ہے۔‘میں پوچھتا ہوں کہ جب زیاد عبید ہی کے ہاں پیدا ہوا، وہی اس کا باپ تھا، اسی کے ہاں زیاد پروان چڑھا، اسی باپ کو اس نے غلامی سے آزاد کرایا اور پورے چوالیس برس تک وہ زیاد بن عبید کہلا تارہا، اگر یہ اقرار نسب نہیں تو پھر ابوسفیان کا چند آدمیوں کے کان میں یہ کہ دینا کہ زیاد میرے نطفے سےہے، یہ کس طرح کا اقرار نسب ہے؟ پھر یہ بات بھی کیا لا جواب ہے کہ عبید خود خاموش ہے۔“استلحاق وادعا کی کارروائی سے پہلے عبید کیا عام منادی کرا تا یا کسی عدالت میں دعویٰ کرتا کہ زیاد میرا بیٹا ہے؟ کیا ہر باپ اپنے بیٹے کا نسب اسی طرح ثابت کرتا ہے؟ اور اگر عثمانی صاحب کا مطلب یہ ہےکہ قضیہ استلحاق کے وقت عبید خاموش ہے“ تو اس کی خاموشی سےپہلےاس وقت اس کی زندگی کا ثبوت بھی عثمانی صاحب کو فراہم کرنا ہو گا۔ جس وقت زیاد کی عمر چالیس سے متجاوز ہو چکی اس وقت تو شاید ابوسفیان کی طرح عبید اور سمیہ دونوں شہر خموشاں کے مکین بن چکے ہوں گے اور ان کی خاموشی کو گویائی میں تبدیل کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا۔
میں اس سے پہلے شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی، قاضی زین العابدین صاحب،مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی،مولانا ابوالکلام آزاد صاحب کےاقوال اس مسئلےمیں پیش کرچکا ہوں۔اب میں آخر میں مولانا عبدالرشید صاحب نعمانی کی ایک عبارت نقل کر کےاس بحث کا خاتمہ کر رہا ہوں۔ مولانا موصوف نے محمود احمد عباسی کے رد میں ایک مفصل مضمون"بیات" میں بالاقساط سپردِ قلم کرنا شروع کیا تھا جس کا عنوان تھا: ”ناصبیت تحقیق کے بھیس میں۔"یہ بڑےمفید مباحث پر مشتمل تھا مگر بیچ ہی میں منقطع ہو گیا۔ عباسی صاحب نے ابن قتیبه کی کتاب المعارف کے حوالےسے لکھا تھا کہ "سمیہ" کا جاہلیت کے مروجہ نکاحوں میں سے ایک قسم کا نکاح ابوسفیان سے ہوا جس سے زیاد پیدا ہوئے ۔ اس پر مولانا محمد عبد الرشید صاحب نعمانی نے شعبان ۱۳۸۲ھ کے "بینات" میں جو تبصرہ فرمایا تھا اس کا ضروری حصہ درج ذیل ہے:
یہ بات معارف ابن قتیبہ میں مذکور نہیں ۔جناب مؤلف (عباسی صاحب) نے اپنی طرف سے اس عبارت کو بڑھا کر خواہ مخواہ یزید کی تکذیب کی۔ یزید کا دعویٰ تو یہ ہے کہ ہم نے زیاد کو ثقیف کی ولا ء سے قریش کی طرف اور زیاد بن عبید کے انتساب سے حرب بن امیہ کی طرف منتقل کیا۔زیاد کی ماں سمیه حارث بن کلدہ ثقفی کی کنیز تھی۔اس کا باپ عبید قبیلہ ثقیف کا غلام تھا۔ زیاد کا ایک شاندار کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اپنے باپ عبید کو ایک ہزار درہم میں آزاد کرایا۔ چونکہ یہ اپنے باپ عبید کے یہاں پیدا ہوا تھا، اس لیے اس کو زیاد بن عبید کہا جاتا تھا۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یزید کا مطلب ان طعنوں سے کیا تھا اور وہ زیاد پر کیا چوٹ کر رہا تھا۔ بات واضح ہے،وہ برملا کہہ رہا ہےکه زیاد یہ حض ہماری بندہ پروری ہے کہ ہم نے تجھ کو ابوسفیان کی اولاد بتا کر حرب بن امیہ کی نسل میں شامل کر لیا اور ہماری اس کارروائی کی بنا پر تیرا شمار قریش میں ہونے لگا۔ورنہ تو قبیلہ ثقیف کے عبید نامی ایک غلام کا لڑکا تھا۔ مؤلف یہاں حضرت ابو سفیان کی داستان نکاح سنانے بیٹھ گئے ۔ ظاہر ہے کہ اگر ان سے اس کی ماں کا نکاح ہوا تھا تو وہ اپنے لخت جگر کو مرتے دم تک اس طرح ایک غلام کی فرزندی میں کس طرح دیکھ سکتے تھے۔ ان کو چاہیے تھا کہ عہد نبوی ہی میں اس مسئلے کو اٹھاتےاور اپنےنور دیدہ کو اپنی فرزندی میں لے لیتے۔ یا پھر شیخین رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اس کا اظہار کرتےتا کہ شرع کے مطابق اس غریب کا نسب ثابت ہو جاتا۔ یہ عجیب نکاح ہے جس کا نہ ناک کو پتہ ہےنہ منکوحہ کو ، نہ خود اس لڑکے کو جو اس نکاح سے پیدا ہو ۔ بس ایک مؤلف کو معلوم ہے۔“
میں مولانا نعمانی صاحب کے تبصرے پر صرف اتنا اضافه کروں گا کہ اس ” عجیب نکاح “ اور اس مخفی بھید کے رازداں اب اکیلے مؤلف مذکور ہی نہیں ہیں بلکہ مدیر البلاغ بھی ہیں۔ ان کو محمود احمد عباسی کی ہم زبانی مبارک ہو۔
سب سے آخر میں "الکوکب الدری" شرح ترمذی کا ایک قول بھی لائق ملاحظہ ہے۔ ترمذی،مناقب حسنین میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت حسین کا سر مبارک ابن زیاد کےپاس لایا گیا تو اس شقی و خبیث نے آپ کے چہرے اور ناک پر چھڑی سے کچو کا دیا۔ اس پر الکوکب الدری کا حاشیہ یہ ہے:
( الكوكب الدرى ، افادات مولانا رشید احمد گنگوہی ، مرتب مولانامحمد یحییٰ کاندھلوی طبع دوم ۱۳۸۴، جلد۲ صفحہ ۴۳۷، مکتبہ سکویہ ، مظاہر علوم سہارنپور )
اب کیا فتویٰ صادر فرماتے ہیں مولانا مفتی محمد تقی صاحب اور ان کے والد ماجد اس قول اور اس کے قاتل کے بارے میں۔ بینوا توجروا۔
| کتاب | خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |