حضرت حجر بن عدی کے قتل کو جائز ثابت کرنےمیں اپنا زور استدلال صرف کرنےکےبعد مولانا محمدتقی عثمانی صاحب نے یزید کی ولی عہدی کو جائز قرار دینے میں بھی بڑی دیدہ ریزی سےکام لیا ہے۔یہ صورت حال فی الواقع بڑی عبرت انگیز ہےکہ مولانا مودودی کی تردید و تغلیط کے جوش میں مولانا عثمانی صاحب کو اس امر کا احساس نہیں رہا کہ وہ اسلامی قوانین کا حلیہ کس طرح بگاڑ کر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ پہلے انہوں نے اسلامی حکومت کی انتظامیہ وعدلیہ کی یہ تصوری ہمارےسامنےرکھی کہ اسکے ارکان جو ظلم و عدوان چاہیں، کرتے رہیں،وہ مواخذے سے بالاتر ہیں۔پھر انہوں نے اسلامی قانونِ بغاوت اور اسلامی حقوق شہریت کی یہ تعبیر پیش کی کہ حکومت جس "انتشار پسند" کو چاہے باغی قرار دے دے اور اسے بیان یا صفائی کا موقع دیئے بغیر اس کا سرتن سےجدا کر دےاب یزید کی ولی عہدی کو صحیح ثابت کرنےکےلیےعثمانی صاحب فرماتےہیں کہ اس بات پر امت کا اجماع منعقد ہو چکا ہےکہ خلیفہ وقت اگر اپنےبیٹےیا دوسرےرشتہ دار میں نیک نیتی کے ساتھ شرائط خلافت پاتا ہےتو اسے ولی عہد بنا سکتا ہے اور خلیفہ کی نیت پر حملہ کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ اس کا صاف مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہوا کہ خلافت علی منہاج النبوۃ اور خاندانی بادشاہت دونوں اسلام میں یکساں طور پر جائز و مباح ہیں اور مسلمان ان دونوں میں سے جس طرزِ حکومت کو چاہیں اپنا سکتے ہیں ۔
اسلام کا نظریہ حکمرانی ایک ایسا اہم اور وسیع موضوع ہےکہ اس پر سیر حاصل بحث کےلیےایک مضمون کے بجائے ایک کتاب درکار ہےجب تک قرآن مجید، اسوۂ رسالت اور اسوہ خلافت راشدہ کی روشنی میں اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ نہ لیا جائے ، اسلام کا نظریہ حکومت واضح نہیں ہوسکتا اور مولانا عثمانی صاحب کے موقف کی غلطی پوری طرح سمجھ میں نہیں آسکتی۔ لیکن یہاں اس محدود مضمون کی تنگ دامنی میری راہ میں حائل ہے۔ تاہم میں قارئین سے درخواست کروں گا کہ اس موضوع پر جو مفصل تحریر میں مولانا مودودی کے قلم سےنکال چکی ہیں،انہیں ضرور پڑھ لیں۔خود انکی اسی کتاب ” خلافت و ملوکیت" کے ابتدائی ابواب اسی بحث سے متعلق ہیں۔ مولانا عثمانی صاحب بھی آغاز تنقید میں ان پر اظہار پسندیدگی فرما چکے ہیں۔ اگر وہ بھی یادداشت تازہ کرنے کی غرض سے ان پر دوبارہ نگاہ ڈال لیں مضائقہ نہ ہوگا۔ اس کے بعد اس موضوع پر اب چند مزید ضروری گزارشاتمیں بھی پیش کروں گا۔
یہ حقیت تو ظاہر وباہر ہے کہ اسلامی ریاست کے اولین امیر سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کےمنتخب کرده یا مقرہ کردہ امیر نہ تھے،نہ آپ نے اپنی سعی یا زور سےمنصب امارت حاصل کیاتھا۔ بلکہ آنحضور کو احکم الحاکمین اور رب العالمین : خود خلعت نبوت سےسرفراز فرمایا تھا اور آپ کی امارت و امامت آپ کےمنصب نبوت ورسالت ہی کا ایک جزو ک تھی۔آنحضور کےوصال پر البتہ یہ اہم سوال پیدا ہوتا تھا کہ آپ کاخلیفہ اور مسلمانوں کاامیر کون ہو اور اسکی امارت کا انفظ کےہو؟اسلام میں اگر سب سےبڑھ کر کسی امیر و یہ حق پہنچتا تھا کہ وہ اپنےخاندان کےکسی شخص کو اپنا جانشین نامزد کر کےاس کی بیعت اپنی زندگی میں لےلےتو وہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہو سکتےتھےآپ کےخاندان میں خلافت کی اہلیت رکھنےوالے مفقود بھی نہ تھےیہ کام اگر اسلام میں پسندیدہ کام ہوتا تو اس کی ابتداء کرنےکےسب سےزیادہ حق دار خود حضور تھےلیکن سب کو 'دم ہےاور اہل سنت کااس پر اتفاق ہےکہ آپ نےیہ کام نہیں کیا۔یہی نہیں بلکہ آپ نےاپنےخاندان سے باہر بھی کسی کو خلیفہ نامزد کر کےاس کی بیعت نہ لی۔ اس مسئلے میں جو مستند ترین احادیث وارد ہیں وہ اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ خود آنحضور اپنی جانشینی کےمعاملےمیں ایک گونہ فکرمند تھے اور چاہتے تھے کہ اس ضمن میں امت کی مناسب رہنمائی فرما دیں۔آپ کےارشادات سےیہ حقیقت بھی صاف طور پر مترشح ہوتی ہےکہ اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق " آنحضور کی نظر مبارک میں منصب خلافت کے لیےاہل ترین تھےاور آپ کی خواہش بھی یہی تھی کہ وہی خلیفہ اوّل بنیں،لیکن ان جملہ امور کےباوجود آپ نےاپنےجانشین کےلیے نامزدگی (Namination) کا طریقہ اختیار نہیں فرمایا۔اس بات سےکون انکار کر سکتا ہےکہ آنحضور کا وصال ایک عظیم سانحہ تھا اور اس کےبعد خلیفہ کا تقرر امت کےلیےایک سنگین ذمہ داری اور آزمائش تھی۔ اس مسئلے پر میں اختلاف رائے کا پیدا ہونا بھی ناگزیر تھا جس کے اثرات اب تک امت میں چلے آرہے ہیں۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذاتی رائے قائم کر لینے کے باوجود صحابہ کرام کےسامنے اسے ایک باقاعدہ عہد، وصیت یا تجویز کے طور پر پیش نہیں فرمایا تا کہ قدیم زمانہ سے دنیا بھر میں ولی عہد مقرر کرنے کا جو طریقہ رائج و متوارث چلا آ رہا تھا، اس پر کاری ضرب لگے اور امت مسلمہ اپنی ذمہ داری پر انتخاب امیر کے جمہوری و معیاری طریق کو اختیار کرے۔ صحاح ستہ میں اس مسئلے سے متعلق متعدد احادیث مروی ہیں جن میں سے ایک کا ضروری حصہ میں بخاری، کتاب الطب والمرضی سے یہاں پیش کرتا ہوں۔ اس حدیث میں مذکور ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر شدت مرض طاری ہوئی تو آپ نے حضرت عائشہ سے فرمایا:
لقد هممت أو أردت ان ارسل الى ابى بكر وابنه واعهد ان يقول القائلون أو يتمنى المتمنون ثم قلت يأبى الله ويدفع المؤمنون او يدفع الله ويأبى المؤمنون.
"میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں ابو بکر اور ان کے بیٹے کو بلواؤں اور (ان کے حق میں ولایت عہد کردوں ، مبادا کہ (بعد میں ) معترضین اعتراض کریں یا تمنا کرنےوالےتمنا کریں۔ پھر میں نےجی میں کہا کہ اللہ ان چیزوں کو روک دے گا اور مومنین ان کا دفعیہ کر لیں گے، نیا دوسرے الفاظ میں اللہ دفعیہ کر دے گا اور مومنین ابا کریں گے۔“
یہ حدیث مختلف سندوں کے ساتھ بخاری اور دیگر کتب صحاح کے متعدد مقامات پر وارد ہے۔اس کا لفظ المومنون قطعی طور پر ثابت کر رہا ہے کہ خلیفہ کا انتخاب جمہور مسلمین کی آزاد مرضی سےہونا چاہیے اور اسلام میں انتخاب امیر کے لیے مثالی و معیاری اور افضل اولی طریقہ یہی ہے۔ چنانچہ حضور کے اس منشاء کو امت نے ٹھیک ٹھیک پورا کیا اور انہی حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنایا جنہیں حضور پسند فرماتے تھے۔
حضرت ابوبکر کےبعد مسلمانوں کےدوسرے خلیفه حضرت عمر فاروق تھےجن کاتقرر واستخلاف بلاشبہ حضرت ابو بکر کی تجویز کےمطابق عمل میں لایا گیاتھا اوراسی سےبعض حضرات یزید کی ولی عہدی اور بعد کی نسلی و خاندانی حکمرانی کو جائز ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہےکہ ان میں سے ایک پر دوسری صورت کو قیاس کرنا بالکل غلط ہے،کیونکہ دونوں میں فرق و امتیاز کےمتعدد پہلو بالکل بین اور نمایاں ہیں۔ مثلاً پہلا فرق یہ ہے کہ حضرت ابو بکر نے اپنی زندگی میں کوئی ولی عہد مقرر کر کے اس کی بیعت نہیں لے لی بلکہ ان کو اپنا جانشین تجویز کرنے کا خیال اس وقت آیا جب کہ وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھے۔ اپنے آخری ایام مرض میں کئی روز تک آپ مسجد میں نماز کےلیےبھی تشریف نہ لےجاسکےاور جس وقت آپ نےحضرت عثمان کو وصیت لکھوانی شروعی کی تھی اس وقت آپ اتنے ضعیف و نحیف ہو چکےتھےکہ املاء کراتے کراتے آپ کچھ دیر کےلیے بے ہوش ہو گئے۔ اس کے برعکس یزید کی ولی عہدی کی تحریر اور مہم کا آغاز حضرت امیر معاویہؓ کی وفات سے چار سال بلکہ اس سے بھی قبل (۵۱ھ) میں ہو چکا تھا۔ یہ تحریک صرف شام تک محدود نہ تھی بلکہ مروان اور زیاد وغیرہ نےاسے حرمین ، بصرے، کوفے میں پوری سرگرمی سے شروع کر رکھا تھا اور تمام لوگوں سے با قاعدہ بیعت لی جارہی تھی ۔ اسی صورت حال کو دیکھ کر حضرت عبداللہ بن عمر جیسے محتاط اور مرنجان مرنج انسان نے بھی صاف کہ دیا تھا کہ میں ایک وقت میں دو بیعتوں کا قلاوہ اپنی گردن میں نہیں ڈال سکتا، البتہ امیر معاویہ کے بعد جو بھی خلیفہ تسلیم کر لیا جائے گا، میں اس کی بیعت کرلوں گا۔
دوسرا امتیازی پہلو یہ ہےکہ حضرت ابو بکڑ نےتحریرلکھوانےسے چند روز پہلے ارباب حل و عقد اور اصحاب شوری سے پوری طرح مشورہ کر لیا تھا۔ چنانچہ ابن سعد صاحب طبقات نے آپ کےحالات بیان کرتے ہوئے آخر میں ذکر وصية ابی بکر کےزیر عنوان لکھا ہےکہ آپ نےحضرات عبدالرحمن بن عوف،عثمان،سعید بن زید ابوالا غور ، اسید بن حضیر اور متعدد دیگر مہاجرین و انصار سےمشورہ لیا اور سب نےحضرت عمرؓ کےحق میں اچھی رائےکا اظہار کیا۔ پھر بعض لوگوں نےجب حضرت عمر کی سختی کا ذکر کیا تو حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ میں اپنے اللہ سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے بہترین آدمی کو تجویز کیا ہے ( بعض دوسری روایات میں ہے کہ عمر میری نرمی کے بل پر سخت ہو۔جاتےتھےاب جب میری جگہ خود بوجھ اٹھا ئیں گےتو نرم ہو جائیں گے۔)پھر مجمع عام میں تحریر پڑھ کر سنائی گئی اور لوگوں نےکسی دباؤ اور جبر کےبغیر برضاور غبت اس پر اپنی منظوری کااظہار کردیا حضرت معاویہ کےعہد میں شوریٰ کاوجود اوراہل حل و عقد کا ادارہ عملاً ختم ہو چکا تھااور یزید کی دلی عہدی کامعاملہ جس طرح طے کیا گیا وہ حضرت ابو بکر کی وصیت سے قطعی طور پر مختلف تھا جیسا کہ آگے چل کر بیان کیا جائے گا۔
تیسری بات جو خاص طور پر قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابو بکر و عمر کے مابین خاندانی قرابت کا کوئی تعلق نہیں تھا اور حضرت ابو بکر نے اپنی وصیت کے ساتھ اس پہلو کی طرف خصوصی اشارہ فرمادیا تھا کہ اعتراض و تہمت کا کوئی موقع باقی نہ رہے۔ امام ابن جریر اپنی تاریخ ( جلد۲، ۶۱۸ )میں فرماتے ہیں:
اشرف ابوبكر على الناس من كنيفه وأسماء ابنة عميس ممسكته وهو يقول أترضون بمن استخلف عليكم؟ فانى والله ما ألوت من جهد الرأئي ولا وليت ذا قرابة واني قد استخلفت عمر بن الخطاب فاسمعوا له وأطيعوا فقالوا سمعنا وأطعنا.
"حضرت ابو بکر نےدریچےمیں سے لوگوں کی طرف جھانکا جبکہ ( آپ کی اہلیہ ) حضرت اسماء بنت عمیں نے آپ کو تھام رکھا تھا۔ آپ فرمارہے تھے کہ کیا تم لوگ میرے جانشین پر راضی ہو؟ خدا کی قسم میں نے غور و خوض میں کمی نہیں کی اور میں نے اپنے کسی رشتہ دار کو ولایت نہیں سونپی۔ میں نے عمر بن خطاب کو خلیفه تجویز کیا ہے، پس سنو اور مانو۔ لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا۔“
اس کے برخلاف امیر معاویہ نے اپنے قریب ترین عزیز یعنی خود ا پنےبیٹےکو ولی عہد بنا کر ایک ایسی مثال قائم کی جو پہلےموجود نہ تھی، لیکن جو بعد والوں کےلیےدائمی طور پر ایک نظیر اور دلیل بن کر رہی۔ ابن اثیر فرماتے ہیں:
اس کے بعد مسلمانوں میں بیعت کا انتخابی اور شورائی طریقہ بالکل معدوم ہو گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ایک حکمران نے اپنے بعد علی الترتیب دو دو، تین تین ولی عہد مقرر کرنے شروع کر دیئے جن میں سے بعض نابالغ بلکہ ماں کے پیٹ میں ہوتے تھے اور ان کے حق میں زبردستی بیعت لی جاتی تھی۔ پھر بیعت کے فارمولوں میں بیعت کرنے والے سے یہ الفاظ کہلوائے جاتےتھے کہ اگر میں بیعت فسخ کروں گا تو میری بیوی پر طلاق مغلظ وارد ہوگی۔ یہی بیعت مگرہ اور طلاق مگر تھی جس کے خلاف امام مالک نے اپنی جان پر کھیلتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کی تھی اور فرمایا تھا کہ یہ کوئی شے نہیں ہے۔
حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر کی باری آتی ہے۔ حضرت عمرؓ کے متعلق بعض اوقات یہ بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نےاستخلاف کےمعاملےمیں اپنے دونوں پیش روؤں کےبین بین ایک تیسرا مختلف طریقہ اختیار کیا اور وہ یہ کہ آپ نےکسی فرد واحد و متعین کو جانشین تجویز کرنے کےبجائےایک شوری یا انتخابی کونسل تشکیل کر دی تا کہ وہ خلیفہ کا نام تجویز کر کےمسلمانوں کےسامنےپیش کرےلیکن اگر غورسےدیکھا جائےتو حضرت عمرؓ کا طریق استخلاف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے زیادہ مشابہ ہے۔ صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب الاستخلاف میں حضرت ابن عمرؓ سےروایت ہےکہ جب حضرت عمر پر قاتلانہ حملہ ہوا تو لوگوں نےآپکو جانشین مقرر کر نے کا مشورہ بہتر تھا ( یعنی حضرت ابو بکر ) اور اگر میں تمہیں اسی طرح چھوڑ دوں تو ایسا عمل بھی انہوں نے فرمایا تھا، جو مجھ سے بہتر تھے (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) حضرت عبد اللہ بن عمر جو خود اپنے والد ماجد کا انداز بیان دیکھ رہے تھے فرماتے ہیں:
اس کے معابعد مسلم کی دوسری روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابن عمر اپنی ہمشیرہ حضرت حفصہ کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے والد کسی کو جانشین نہیں بنار ہے؟“حضرت ابن عمرؓ نے قسم اٹھائی کہ وہ اس معاملے میں حضر عمر سے بات کریں گے۔ ایک دن تو حضرت ابن عمر بات کی ہمت نہ کر سکے مگر دوسرے روز آپ نے عرض کیا کہ ”لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ کسی کو جانشین نہیں تجویز کر رہے۔ اگر آپ کا کوئی چرواہا ہو اور وہ اپنے گلے کو اس کے حال پر چھوڑ کر آ جائے تو آپ دیکھ لیں گے کہ اس نے گلہ ضائع کر دیا۔ مسلمانوں کی نگہبانی کا معاملہ تو شدید تر ہے۔ حضرت عمرؓ نے اتفاق کیا، کچھ دیر اپنا سر ٹیکے رہے، پھر حضرت ابن عمر کی طرف متوجہ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کا ذکر کرتے ہوئے وہی کچھ فرمایا جواو پر کی روایت میں مذکور ہے۔ اس پر حضرت ابن عمر فر ماتے ہیں:
" پس مجھے معلوم ہو گیا کہ حضرت عمر کسی کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر جاننےوالے نہیں ہیں اور آپ کسی کو خلیفہ نہیں بنائیں گے۔“
ان روایات اور بالخصوص حضرت ابن عمر کی تشریحات سےیہ بات واضح ہو جاتی ہےکہ اس معاملےمیں حضرت عمرؓ نےحضرت ابو بکر سےزیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو اپنے سامنےرکھا ہے اور شخص متعین کےاستخلاف سے اسی بنا پر اجتناب کیا ہے۔البته آپ نےخلافت کےلیےنام تجویز کرنےکا کام ایسےاصحاب کے سپرد کردیاجو عشرہ مبشرہ میں شامل تھےاور اسلامی معاشرےکےگلہائےسر سبک اور سر برآورده ترین اشخاص شمار ہوتےتھے۔عشرہ مبشرہ میں سےدو (حضرت ابوبکر اور حضرت ابوعبیده) جنت کےمکین ہو چکے تھے تیسرے خود (حضرت عمر) جنت جانے کےلیے پا برکاب تھے۔ باقی سات اصحاب بقید حیات تھے جن میں سے چھ کو آپ نے انتخابی بورڈ کا رکن بنا دیا مگر ساتویں (حضرت سعید بن زید ) کو آپ نے مستثنیٰ کر دیا،صرف اس بنا پر کہ وہ آپ کے چچا زاد بھائی اور بہنوئی تھے، ورنہ وہ حضرت عمرؓ سے بھی زیادہ قدیم الاسلام اور سابق الایمان تھے۔ یہ فقط میرا ہی قیاس نہیں ہے، بلکہ متعدد علمائے سلف نے یہی لکھا ہے کہ حضرت عمر نے انہیں بر بنائے توڑع وتقویٰ الگ رکھا کیونکہ وہ ان کے قرابت دار تھےصحیح مسلم کی جن روایات کو او پر نقل کیا گیا ہےان سے ملتی جلتی ایک روایت مسلم، کتاب الصلوۃ ، باب نہی میں اکل الثوم میں بھی موجود ہے جس میں حضرت عمر کے ایک خواب کا ذکر ہے جس کی تعبیر یہ بھی گئی تھی کہ آپ کی موت کا وقت قریب ہے۔ آپ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض لوگ مجھے جانشین بنانے کے لیے کہتےہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور خلافت کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اس حدیث کی شرح میں امام نووی فرماتے ہیں:
الستة عثمان وعلي وطلحة والزبير وسعد بن ابی وقاص وعبد الرحمن بن عوف ولم يدخل سعيد بن زيد معهم وان كان من العشرة لأنه من أقاربه تتورع عن ادخاله كما تورّع عن ادخال ابنه عبدالله رضی الله عنهم.
" جن چھ اصحاب کے نام حضرت عمرؓ نے تجویز کیےتھے،وہ عثمان علی ، طلحه زبیر ، سعد بن ابی وقاص اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم تھےاور انہوں نےان میں حضرت سعید بن زید کو شامل نہیں کیا حالانکہ وہ بھی عشرہ مبشرہ میں سے تھے، کیونکہ وہ ان کے اقارب میں سے تھے۔ پس آپ نے انہیں شوریٰ میں داخل نہیں فرمایا جیسا کہ آپ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ کو بھی نہیں شریک کیا۔“
اسی طرح بخاری، کتاب الحدود والحار بین،باب رجم الخیلی من الزنا میں ایک مفصل حدیث وارد ہے کہ حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا کہ ایک شخص کہ رہا ہے کہ میں عمر کے بعد فلاں شخص کے ہاتھ پر بیعت کروں گا۔ حضرت عمرؓ یہ سن کر غضبناک ہو گئے اور فرمایا کہ میں ایسے لوگوں کو سخت تنبیہ کروں گا۔پھر فرمایا
هؤلاء الذين يريدون أن يغصبوهم أمورهم.... ليس منكم من تقطع الأعناق إليه مثل أبي بكر من بايع رجلا غير مشورة من المسلمين فلا يبايع هو ولا الذي بايعه تغرّة ان يُقتلا.
" یہ وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ عامتہ الناس کے حقوق غصب کریں . تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جو ابو بکر کی طرح مربع عوام ہو۔ جس نے بھی مسلمانوں سے مشورے کیے بغیر بیعت کی،اس بیعت کرنے کرانے والے کا فعل قابل قبول نہیں ہے، بلکہ وہ دونوں اپنے آپ کو قتل کے لیےپیش کر رہے ہیں۔“
بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت ابن عمر کو بھی انتخابی کونسل میاں شامل کرنے کا مطالبہ کیا،تو حضرت عمرؓ نےفرمایا کہ وہ مبصر کی حیثیت سےموجود رہیں مگر خلافت میں انکا کوئی حصہ نہ ہو گا۔میرے خاندان میں اگر عمر برابر سرابر چھوٹ جائےتو غنیمت ہےبخاری، فضائل اصحاب میں حضرت عمرؓ کا ارشاد یوں نقل ہوا ہے:
اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
" سعید بن زید حضرت عمر کے چا زاد بھائی تھے ، پس عمرؓ نے ان کا نام نہ لیا۔ یہ امارت کی ذمہ داری سے برأت میں مبالغه وشدّت کی بنا پر تھا۔“
اس مقام پر المداینی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے:
" حضرت عمر نے حضرت سعید بن زید کو ان اصحاب میں شمار کیا، جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بوق، وصال راضی تھے مگر حضرت عمرؓ نے انہیں اہل شوری سے مستثنیٰ کر دیا۔ کیونکہ وہ آپ کے رشتہ دار تھے۔“
امام ابن تیمیہ منہاج السنہ ، جلد ۳ صفحہ ۱۶۸ پر فرماتے ہیں:
" اور حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ اور اپنے عم زاد سعید بن زید کو امیدواری امارت سے خارج کر دیا حالانکہ سعید عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ وہ قبیلہ بنی عدی کے افراد تھےیعنی حضرت عمرؓ کے ہم قبیلہ تھے۔“
اس کے متصلاً بعد ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے اپنے قبیلے میں سے کسی کے سپر د کوئی عہدہ نہیں کیا۔ صرف ایک مرتبہ ایسا کیا مگر بعد میں اس والی کو بھی معزول کر دیا۔یہی بات اس کتاب کے صفحہ ۱۳۰، جلد ۴ پر بیان کی گئی ہےکہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر دونوں نے اپنی زندگی میں اپنےکسی عزیز کو منصب نہیں سونیا، نہ اسے اپنے بعد جانشین بنایا،حالانکہ ان کی اولاد و اقارب میں فضلائے صحابہ موجود تھے۔
حضرت عمر نے جو انتخابی شوری مقرر کی تھی اس کے ارکان نے باہمی گفت و شنید کے بعد خلیفہ تجویز کرنے کا کام حضرت عبد الرحمن بن عوف کو تفویض کردیا تھا۔تاریخ طبری اور دوسری کتابوں میں جو تفصیلات درج ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبدالرحمن نے اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ رائے عام کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔ آپ نے گھروں میں جا کر پردہ نشین خواتین تک سے مشورہ لیا۔ مدینے کے باشندوں، طالب علموں اور باہر سے آئے ہوئے حاجیوں کی رائے معلوم کی۔ آخر کار انہیں اندازہ ہوا کہ لوگ حضرت عثمان کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتے ہیں۔چنانچہ حضرت عثمان ہی کے ہاتھ پر بیعت عام ہوئی۔
حضرت عثمان اپنے خاندان بنو امیہ کے حق میں فیاض تھے۔ آپ کا یہ قول مسند احمد اور دوسری کتابوں میں منقول ہے کہ اگر میرے پاس جنت کی کنجی ہو تو میں اپنے خاندان کےآخری فرد تک کو دےدیتا کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے ۔ آپ کے خاندان کے بعض افراد نے محاصرےمیں آخر دم تک آپ کا ساتھ دیا۔ مگر اس کے باوجود حضرت عثمان نے بھی اپنے خاندان کے کسی فرد کے حق میں استخلاف کی وصیت نہیں فرمائی۔
حضرت عثمان کی شہادت کے بعد بعض صحابہ کرام حضرت علی کےہاں جمع ہوئے اور ان سے بیعت کرنی چاہی مگر حضرت علی نے انکار کر دیا۔ جب آپ سے بار بار تقاضا کیا گیا تو آپ نےفرمایا کہ جب تک اہل شوریٰ اور اہل بدر میری خلافت پر اتفاق کا اظہار نہ کریں ، اس وقت تک میری خلافت منعقد نہیں ہو سکتی۔ تاریخ طبری جلد ۳، صفحہ۴۵۰ میں آپ کا یہ قول بھی منقول ہے:
پھر آپ نے سب لوگوں کو مسجد نبوی میں جمع ہونے کا مشورہ دیا اور مہاجرین وانصار صحابہ کی اکثریت نے آپ سے بیعت خلافت کی۔
حضرت علی کی شہادت کے موقع پر جب آپ کی وفات کا وقت آپہنچا تو آپ سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت حسن کے ہاتھ پر بیعت کی جائے؟ آپ نے جو جواب دیا وہ طبری ( جلد ۲ صفحہ ۱۱۲) میں درج ذیل الفاظ میں نقل کیا گیا ہے:
چنانچہ حضرت علی کے بعد جن لوگوں نے حضرت حسنؓ سے بیعت کی تھی اور جو حضرت معاویہؓ کے خلاف جنگ کے لیے نکلے تھے، ان سب نے حضرت حسن کو بطیب خاطر اپنی آزاد مرضی سےخلیفہ منتخب کیا تھا، اس میں حضرت علیؓ کی کسی خواہش یا ہدایت کو کوئی دخل نہ تھا۔
١- مسند احمد، مردیات عثمان میں ہے:
یہ ہےرئیس مملکت اسلامی کےتقرر کےمعاملےمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت راشدہ کا تعامل اور صحابہ کرام کا اجماعی طرز عمل۔اس مستند دستوری رواج سے جو بات قطعی طور پر ثابت ہے وہ یه که خلیفته المسلمین کا انتخاب عوام الناس کی مرضی پر موقوف و منحصر ہےاور کسی شخص کا بزور خلیفه بننےکی کوشش کرنا اور پھر اپنے کسی قریبی عزیز کے حق میں جانشینی کا فیصلہ کر کے اپنی زندگی میں اس کی بیعت لےلینا کوئی مستحسن اور پسندیدہ فعل نہیں ہے۔علماء کا اجماع اگر ہوا ہےتو اس بات پر ہوا ہے کہ اگر کوئی ایسا کر بیٹھے اور اس کو بدلنے کی کوشش موجب فتنہ ہوتی نظر آئے تو اسے برداشت کر لینا چاہیے،اور اس طرح بھی خلافت منعقد ہو جاتی ہے۔ مگر اس بات پر اجماع ہرگز نہیں ہوا ہے کہ اسلام میں یہ بالکل جائز و مباح طریقہ ہے اور خلافت خواہ شوری اور انتخاب سے ہو، یا اس دوسرے طریقہ پر،دونوں اسلام کی نگاہ میں یکساں ہیں ۔ اس مسئلے پر مفصل بحث آگے چل کر ہوگی۔
اس اصولی و تمهیدی کلام کےبعد اب میں مولانا مودودی کی وہ عبارت نقل کرتاہوں جسےمولانا عثمانی صاحب نےسب سےپہلےہدف تنقید بنایا ہے۔ وہ عبارت” خلافت و ملوکیت"صفحہ ۱۰۵ پر ان الفاظ میں درج ہے:
"یزید کی ولی عہدی کےلیےابتدائی تحریک کسی صحیح جذبےکی بنیاد پر نہیں ہوئی تھی،بلکہ ایک بزرگ (حضرت مغیره بن شعبه) نےاپنےذاتی مفاد کےلیےدوسرے بزرگ (حضرت معاویہؓ) کےذاتی مفاد سےاپیل کرکےاس تجویز کو جنم دیااور دونوں صاحبوں نےاس بات سےقطع نظر کرلیا کہ وہ اسطرح امت محمدیہ کوکس راہ پرڈال رہےہیں ۔“
اس پر مولانا محمد تقی صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ ”جمہور امت کےمحقق علماء ہمیشہ یہ تو کہتےآئے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ عمل رائے اور تدبیر کے درجے میں نفس الامری طور پر درست ثابت نہیں ہوا اور اس کی وجہ سے امت کےاجتماعی مصالح کو نقصان پہنچا مگر حضرت معاویہؓ کی نیت پر حملہ کرنے اور ان پر مفاد پرستی کا الزام عائد کرنےکا حق کسی کو نہیں ہے۔وہ اپنےاس اقدام میں نیک نیت تھےاور انہوں نےجوکچھ کیا شرعی جواز کی حدود میں رہ کر کیا۔اس کےجواب میں میری پہلی گزارش یہ ہےکہ مولانا عثمانی نے مولانا مودودی کے موقف کی ترجمانی کرتےہوئےان کےمحتاط الفاظ اور ملایم انداز بیان کو خواہ مخواہ سخت اور ناگوار الفاظ میں بدل دیا ہے۔کسی کام کا صحیح جذبے کی بنیاد پر نہ ہوتا اور کام کرنےوالےکا نیک نیت نہ ہونا یا اس کی نیت کا متہم ہونا دونوں صورتیں یکساں نہیں ہیں۔ اسی طرح کسی فرد کا ذاتی مفاد سےاپیل کرنا اور کسی فرد کا مفاد پرست ہو جانا دونوں میں بڑا فرق ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ میں کہوں کہ بعض صحابہ کرام سے سرقہ ، شرب خمریا زنا کا صدور بھی ہوا ہے اور عثمانی صاحب میرا قول یوں نقل کر دیں کہ صحابہ کرام چور، شرابی، زانی اور عیش پرست تھے یا عثمانی صاحب یہ فرمائیں کہ مسلمانوں سے شرک و بدعت کا صدور ہورہا ہے اور میں ان کی بات کو یوں نقل کروں کہ مسلمان عام طور پر مشرک اور مبتدع بن چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس طرح بات کچھ سے کچھ بن جاتی ہے۔
تاہم اگر جذبے اور نیت کے فرق کو نظر انداز کر دیا جائے اور کسی کام کے صحیح جذبے پر مبنی نہ ہونے کا مطلب صحیح نیت کا فقدان ہی لے لیا جائےتب بھی ایک بنیادی سوال جو اس ضمن میں پیدا ہوتا ہے،وہ یہ ہے کہ نیت کےصحیح یا غیر صحیح ہونےکی بحث ہر انسانی فعل میں پیدا ہوتی ہےیا کچھ خاص قسم کےافعال ہیں جن میں نیت کی صحت وعدم صحت معتبر ہےاور جن میں نیت کے فساد و صلاح کےمختلف عواقب واثرات مرتب ہوتے ہیں۔ میں نےاپنی حد تک اس مسئلےپر غور کیا ہےاور محدثین نے انما الاعمال بالنیات اور لكل امرء مانوی و غیره احادیث کی تشریح میں جو کچھ فرمایا ہےاس کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ اس معاملے میں جو کچھ میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہےکہ نیت کےوجود و عدم یا صحت و سقم کاسوال صرف ان اعمال کےبارےمیں پیدا ہوتا ہےجوعبادات و تقر بات سےمتعلق ہوں یا کم از کم شریعت کےاوامر و نواہی کی تعمیل کرتے ہوئے انجام پذیر ہوں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص اگر نماز پڑھے یاز کو ۃ دے یا حج کرے یا جہاد فی سبیل اللہ میں جانی و مالی قربانی دے تو ان میں نیت کا موجود یا مفقود ہونا اور اس کا صحیح یا غلط ہونا بنیادی اہمیت رکھتا ہےاور ہر پہلو سے قابل اعتبار ہے، کیونکہ ایسے افعال میں نیت کی اچھائی یا برائی سے آسمان وزمین کا فرق واقع ہو جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دو فعل جو نظر بظاہر یکساں ہوں، ان میں سےایک پر جنت واجب ہو اور دوسرا بالکل اکارت جائے، بلکہ الٹا موجب مواخذہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ ان افعال کے انجام دینے والے کے معاملے میں ہمیں حسن ظن کی تلقین کی گئی ہے اور زیادہ قیاس آرائی سے روکا گیا ہے، اگر چہ صریح شواہد و قرائن کی بنا پر نیت کو زیر بحث لانا قطعا ممنوع بھی نہیں ہے۔
وہ امور جو عبادات کی قبیل سے نہیں ہیں اور جن کا مشروع اور مامور بہ ہونا کتاب و سنت سےثابت نہیں ہے، بلکہ جو شریعت کی رو سے غلط یا غیر مستحسن قرار پاتے ہیں، ان میں نیت یا جذبے کےصحیح یا غیر صحیح ہونے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا ۔ پھر اس طرح کے افعال جب زیر بحث آتے ہیں تو ناگزیر طور پر وہ ارادہ اور جذبہ بھی زیر بحث آجاتا ہے جس کے تحت وہ افعال سرانجام پاتے ہیں۔ یہ امر بالکل ظاہر اور بد یہی ہے کہ اس طرح کے محل نظر اعمال جب موضوع سخن بنتے ہیں تو ان کے حسن و فتح پر بحث کے دوران میں وہ جذبہ محرک بھی لامحالہ کسی نہ کسی حد تک بیان میں آہی جاتا ہے جو ان میں کار فرما ہوتا ہے اور جو عملی رویے سے صاف طور پر مترشح ہورہا ہوتا ہے۔ اس طرح کے اعمال میں اگر جذبات و محرکات کا ذکر آ جائے تو ذکر کرنے والے کا منہ یہ کہہ کر بند نہیں کیا جاسکتا کہ تم نیت پر حملہ کر رہے ہو جس کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے۔ اگر غلط فعل کو غلط جذ بے پر بنی قرار دینے کا نام ” نیت پر حملہ ہے اور گناہ ہے تو پھر کسی دینی علمی یا تاریخی موضوع پر کلام کرنے والا شاید ہی کوئی مسلمان ہو گا جو اس سے بچ سکا ہو۔ مولا نا محد تقی صاحب عثمانی اب تک جو کچھ سپر د قلم کرتے رہے ہیں اگر اس پر ایک نگاہ بازگشت ڈال لیں تو انہیں اس میں بھی اس چیز کے متعدد نمونے مل جائیں گے جسے وہ نیتوں پر حملہ قرار دے کر ممنوع ٹھیرا رہے ہیں۔ انسانی فعل اور مشینی حرکت میں آخر کچھ تو فرق ہوتا ہے اور پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فعل نامحمود بالعموم جذ بہ نامور ہی کا ثمرہ ہوتا ہے۔
اس سے پہلے میں شاہ عبد العزیز صاحب کے اقوال نقل کر چکا ہوں جن میں انہوں نے فرمایا ہے کہ امیر معاویہ کی بعض کا رروائیاں خاندانی عصبیت سے مبرا نہ تھیں ۔ حضرت سعد بن عبادہ اور ابو سفیان کے متعلق بھی میں ابن تیمیہ کے اقوال درج کر چکا ہوں، اور بہت سے دیگر اقوال بزرگانِ سلف کے پیش کیے جاسکتے ہیں جن میں انہوں نے بعض صحابہ کرام کے رویے پر ایسے الفاظ میں تنقید کی ہے جن کی جذبات و محرکات پر بھی لازما پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر حافظ ابن عساکر، حضرت فضيل بن عیاض کا ایک قول روایت کرتے ہیں جسے ابن کثیر نے البدایہ جلد ۲ صفحہ ۱۴۰ پر بھی نقل کیا ہے۔ قول یہ ہے:
اب مولانا عثمانی اگر چاہیں تو فرما سکتےہیں کہ یہ امیر معاویہ پر دنیا پرستی کا الزام ہےاور ان کی نیت پر حملہ ہےجس کا حق کسی کو نہیں پہنچتا۔لیکن عثمانی صاحب کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیےکہ حضرت فضیل ایک طرف ایسے صاحب تقوی و توزع تھےکہ وہ صوفیائےکرام کے امام شمار کیےجاتےہیں اور دوسری طرف وہ اتنے ثقہ اور صادق القول ہیں کہ صحیحین ،سنن اور مسندِ شافعی سب میں ان کی روایات موجود ہیں۔
مولانا وحید الزمان صاحب حیدر آبادی نےتیسیر الباری (ترجمہ و تشریح البخاری)کےمتعدد مقامات پرامیر معاویہ کے متعلق لکھا ہے کہ ان کا دل اہل بیت سےصاف نہ تھاجس طرح شاہ عبد العزیز نےلکھا ہے کہ: "حرکات او خالی از شائبه نفسانی نبود‘“ یه الفاظ بظاہر بہت سخت ہیں اور ممکن ہے کہ مولانا محمد تقی اب ان کو بھی نیت پر حملہ قرار دیں۔ لیکن ان الفاظ کو نیت پر حملہ کہہ کر ان کا زبان و قلم سے صدور ممنوع سمجھنا اس وجہ سے درست نہیں کہ تاریخ وحدیث کی کتابوں میں متعدد واقعات ایسےمذکور ہیں جو اسی صورت حال پر صاف صاف دلالت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت علی و آل علی پر سب و شتم ہی کےمسئلےکو لیجئے ۔ یہ مذموم طریقہ جس طرح حضرت علیؓ کی زندگی اور ان کی وفات کے بعد تک جاری رہا اور حضرت حسن اور حسین کے مدینہ منتقل ہو جانے پر جس طرح امیر معاویہ کا گورنر مروان ان کے رُو در رو خطبوں میں ان پر لعن طعن کرتا تھا، اس کےبعد آخر دلوں کی صفائی کیسےباقی رہ سکتی تھی ؟ پھر یہ بھی ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ امام حسن کی خلافت سے دست برداری کےبعد بھی ان کی طرف سےامیر معاویہؓ اپنی طبیعت میں خلش محسوس کرتے تھے جو امام احسن کی وفات ہی پر رفع ہوئی۔ ابوحنیفہ دینوری الاخبار الطوال صفحہ ۲۲۲ پر لکھتےہیں:
وانتهى خبر وفاة الحسن الى معاوية كتب به اليه عامله على المدينة مروان فأرسل الى ابن عباس وكان عنده بالشام فعزاه وأظهر الشماتة بموته فقال له ابن عباس لاتشتمن بموته فو الله لا تلبث بعده إلا قليلا.
" حضرت حسنؓ کی وفات کی خبر امیر معاویہ کے عاملِ مدینہ مروان نے ان تک پہنچائی۔انہوں نے حضرت ابن عباس کو بلایا جو ان کے پاس شام میں آئے ہوئے تھے۔ پس امیر معاویہؓ نے ان سے اظہار ہمدردی کیا اور امام حسنؓ کی وفات پر خوشی ظاہر کی۔ اس پر ابن عباس نے ان سے کہا کہ آپ ان کی موت پر خوش نہ ہوں۔ خدا کی قسم آپ بھی ان کے بعد زیادہ دیر زندہ نہ رہیں گے۔“
اس کے بعد سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب فی جلود النمور کی درج حدیث ملاحظہ ہو :
وفد المقدام بن معد يكرب الى معاوية بن ابي سفيان فقال معاوية للمقدام أعلمت ان الحسن بن على توفّى فرجع المقدام فقال له فلان اتعدّها مصيبة. فقال له وَلِمَ لا أراها مصيبة وقد وضعه رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجره فقال هذا مني وحسين من على. فقال الأسدي جمرة أطفأها الله.
" مقدام بن معدیکرب حضرت معاویہ کے پاس آئے تو حضرت معاویہؓ نے ان سے کہا کہ آپ کو معلوم ہوا ہے کہ حسنؓ فوت ہو گئےہیں؟ مقدام نے کہا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ. ایک شخص ( مراد امیر معاویہ نہیں ) نے کہا کہ کیا آپ اسےایک مصیبت قرار دےرہےہیں؟ مقدام کہنےلگےکہ میں ان کی وفات کو کیوں مصیبت نہ سمجھوں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےانہیں اپنی گود میں بٹھایا اور فرمایا کہ یہ میرا ہےاور حسین علی کاہے۔ قبیلہ بنو اسد کے فرد نے (جو حضرت مقدام کے ہمراہ تھا) کہا کہ حسن ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا۔“
اس روایت میں جہاں فلاں کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں مسند احمد میں معاویہ کا لفظ مروی ہے،جیسا کہ مولانا شمس الحق صاحب عون المعبود نے تصریح کر دی ہے۔ اس روایت کی تشریح میں مولانا موصوف فرماتے ہیں:
ولعجب كل العجب من معاوية فإنه ماعرف قدر اهل البيت حتى قال ما قال. فان موت مثل الحسن بن علی رضی الله عنه في أعظم المصائب وجزى الله المقدام ورضى عنه فإنه ماسكت عن تكلم الحق حتى اظهره وهكذا شأن المؤمن الكامل المخلص...... فقال الاسدى طلبا لرضاء معاوية وتقربا اليه. إنما قال الاسدی ذلك القول الشديد السخيف لان معاوية رضي الله عنه كان يخاف على نفسه من زوال الخلافة.
" امیر معاویہ کے اس قول پر انتہائی تعجب ہے۔ انہوں نے اہل بیت کی قدر نہ پہچانی حتی کہ ایسی بات کہہ دی ۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی وفات یقیناً بہت بڑی مصیبت تھی اور اللہ حضرت مقدام کو جزائے خیر دے اور ان سے راضی ہو کہ انہوں نے کلمہ حق ادا کرنےمیں خاموشی اختیار نہ کی اور اسےعلانیہ کہہ دیا۔ مومن کامل مخلص کی یہی شان ہے۔ بنواسد کے شخص نے جو کچھ کہا وہ معاویہ کی رضا اور تقرب حاصل کرنے کے لیے تھا۔ اس نے یہ سخت گھٹیا بات اس وجہ سےامیر معاویہ کےسامنےکہی تھی کہ (امام حسن کی موجودگی میں ) امیر معاویہ کو اپنی خلافت کے زوال کا خوف تھا۔“
یہی الفاظ مولا ناخلیل احمد صاحب نے بذل المجمو دہ شرح سنن ابی داؤد میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے درج فرمائے ہیں۔ وہ بھی لکھتے ہیں:
فقال الأسدي طلبًا لرضاء معاوية وتقربًا اليه فقال المقدام حسين سمع ما قال في ابن بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم لمراعاة معاوية أما انا فلا أبرح اليوم حتى اغیظک و اسمعک فیه ما تکره كما آسماني ما اكره.
" اسدی نے یہ بات معاویہ کی رضا اور تقرب حاصل کرنے کے لیے کہی تھی جب حضرت مقدام نے اس شخص کی بات سنی جو اس نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے امیر معاویہ کی خاطر دار کےلیےکہی تھی،تو حضرت مقدام امیر معاویہ سے کہنےلگےکہ میں یہاں سے آج ہر گز نہ ہلوں گا جب تک آپ کو غصہ نہ دلاؤں اور آپ کو ایسی بات نہ سناؤں جو آپ کو نا پسند ہو جس طرح کہ آپ نےمجھے ایسی بات سنائی جو مجھے پسند نہیں۔“
حدیث میں آگے بیان ہے کہ حضرت مقدام نے حضرت معاویہ کو قتم دلا کر پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونے اور زیور اور ریشم پہننے سے منع نہیں فرمایا اور خدا کی قسم یہ چیزیں آپ کے گھر کے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ اس کی شرح میں صاحب عون المعبود فرماتے ہیں:
" آپ کے لڑکے اور گھر کے مرد (یزید وغیرہ) ان اشیاء کے استعمال سے پر ہیز نہیں کرتےاور آپ ان پر نکیر نہیں کرتے ۔ اور ادھر حضرت حسن پر طعن کرتے ہیں۔“
تاریخ و حدیث کی یہ روایات اوران کی تشریح میں جو کچھ کہا گیا ہےشاید مدیر "البلاغ“ کےنزدیک سب نیتوں پر حملےکےمترداف ہو،لیکن واقعہ یہ ہےکہ اسےنیت پر حملے کا نام دےکر شرعاً ممنوع قرار دینا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ در حقیقت ان میں نیت نہیں بلکہ ایک طرز عمل زیر بحث لایا گیا ہے جو غیر مستحسن اور نامناسب تھا۔ ظاہر ہے کہ جب عمل پسندیدہ نہیں تھا تو جس جذبے یا جس نیت پر یہ عمل بنی ہو گا، وہ جذ بہ اگر ضمناً بحث میں آ جائےاور اس جذ بے کو غلط یا نا پسندیدہ بھی کہہ دیا جائے تو اس سےکیا قباحت لازم آتی ہے؟ اگر یہ پابندی لگادی جائےکہ کسی غلط یا قابل اعتراض قول و فعل کی غلطی واضح کرتےہوئےاس حد یه اراده کی جانب مطلقا کوئی اشارہ ہی نہ ہو جو اس قول و فعل کےپیچھے کارفرما ہےتو اس کےدوسرے معنی تو یہ ہیں کہ کچھ غلطی کو غلطی ہی نہ کہا جائے۔غلط کام کی عدم صحت کو جب بھی بیان کیا جائےگا، اس میں کسی نہ کسی حد تک اس کا محرک بھی آپ سے آپ بیان ہوگا۔ اس سے مفر ممکن ہی نہیں ہے۔
تا ہم میں سمجھتا ہوں کہ مولانا مودودی نےحضرت معاویه یا دوسرےصحابہ کرام کےجس قول وفعل سے بھی کتاب و سنت کی روشنی میں اظہار اختلاف کیا ہےمؤذب الفاظ اور محتاط انداز میں کیا ہے براہ راست ان حضرات کی نیت کو زد میں لاتےہوئےانہیں "بدنیت یا مفاد پرست“ جیسےگستاخانہ القاب سے مرکز ملقب نہیں کہا۔ یہ محمد تقی صاحب کی صریح دھاندلی ہےکہ وہ عامتہ المسلمین کو متوحش کرنے کےلیےاسطرح کے الفاظ گھڑ کر مولانا مودودی کی طرف منسوب کر رہےہیں۔مثال کےطور پر میں مولانا مودودی کی درج ذیل عبارت پیش کرتا ہوں جو انہوں نے خلافت و ملوکیت صفحہ ۳۴۳ پر درج کی ہے :
"جن حضرات نےبھی قاتلین عثمان سےبدلہ لینےکےلیےخلیفہ وقت کےخلاف تلوار اٹھائی ان کا یہ فعل شرعی حیثیت سے بھی درست نہ تھا اور تدبیر کےاعتبار سےبھی غلط تھا۔مجھے یہ تسلیم کرنےمیں ذرہ برابر تامل نہیں ہےکہ انہوں نے یہ غلطی نیک نیتی کے ساتھ اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہوئے کی تھی۔ مگر میں اسے محض "غلطی" سمجھتا ہو۔ اس کو "اجتهادی غلطی" ماننے میں مجھے سخت تامل ہے۔“
کیا کوئی انصاف پسند اہل عمل جو خواہ مخواہ سوئےظن میں مبتلا نہ ہو، یہ کہہ سکتا ہےکہ مولانا مودودی کا یہ موقف حذ ادب سے متجاوز ہے اور اس قول کا قائل قصد کسی صحابی رسول کو ( معاذ اللہ ) بد نیت ثابت کرنا چاہتا ہے یا ان کی عدالت کو مجروح کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؟ کیا علمائے اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرام معصوم عن الخطاء ہیں، ان سے کسی غلطی کا صدور سرے سے ممکن ہی نہیں ہے اور ان کے ہر قول و فعل پر اجتہاد کا اطلاق ہوتا ہے؟
بحث سابق سے یہ بات واضح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائے راشدین میں سےکسی بزرگ نے بھی اپنے کسی عزیز یا قرابت دار کے حق میں جانشینی کی تجویز امت کے لیے پیش نہیں فرمائی۔ یہ بات بھی صاف کی جاچکی ہےکہ عبادات و تقربات، یا پھر وہ معاملات جو مشروع طریق پر سرانجام پائیں،ان میں تو نیت کے وجود و فقدان اور نیت کی صحت وعدم صحت کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہےلیکن جو امور تعبدی نہیں ہیں اور جن کا مشروع مسنون ہونا ثابت نہیں ، ان میں نیت کےغلط یا صحیح ہونے سے کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوتا۔ ان میں خواہ صحیح جذ بہ یا نیت کارفرما ہو یا نہ ہو اور خواہ وہ ذاتی مفاد کےلیے ہوں یا قومی مفاد کےلیے، ان سےاختلاف کرنےیا انہیں غلط قرار دینےکا حق کسی طرح سلب نہیں کیا جا سکتا۔اسطرح کےافعال پر امت کے علماء وصلحاء ہمیشہ گرفت کرتےچلےآئےہیں اور ضمناً ان کےجذبات و محرکات بھی زیر بحث آتےرہےہیں۔ اس چیز کو نیت پر حملہ یا سوئے ظن کا نام دے کر مذموم یا ممنوع قرار دینا درسہ نہیں۔ نیت پر حملہ اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی عبادت یا نیکی کے کام کو بھی بلا وجہ بری نیست، پر منی سمجھ لیا جائے ، ورنہ غلط کام بہر حال غلط ہے قطع نظر اس سے کہ وہ اچھے جذبے یا اچھی نیت سے کیا جائے یا نہ کیا جائے۔
اب یزید کی ولی عہدی کے متعلق مدیر البلاغ فرماتے ہیں کہ جہاں تک اس مسئلے کا تعلق ہےکہ حضرت معاویہ کا یزید کو ولی عہد بنانا رائے ، تدبیر اور نتائج کے اعتبار سے صحیح تھا یا غلط ، اس میں ہمیں مولانا مودودی صاحب سے اختلاف نہیں ہے۔ جمہور امت کے محقق علماء ہمیشہ یہ کہتے آئےہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فعل رائے اور تدبیر کے درجے میں نفس الامری طور پر درست ثابت نہیں ہوا اور اس کی وجہ سے امت کے اجتماعی مصالح کو نقصان پہنچا۔ بہر حال اتنی بات تو ان کے نزدیک بھی مسلم ہے کہ حضرت معاویہ کا یہ فعل رائے، تدبیر اور نتائج کے اعتبار سے صحیح نہ تھا اور امت کے اجتماعی مفادات کے منافی تھا۔
اس کے بعد وہ فرماتے ہیں کہ ”مولانا سے ہمارا اختلاف اس مسئلے میں ہے کہ مولانا نے اس اقدام کو شخض رائے اور تدبیر کے اعتبار سے غلط قرار دینے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ براہ راست حضرت معاویہ کی نیت پر تہمت لگا کر اس بات پر اصرار فرمایا ہے کہ ان کے پیش نظر بس اپنا ذاتی مفاد تھا اور اس پر انہوں نےپوری امت کو قربان کر دیا ۔ مدیر موصوف کےاس دوسرےمعارضے کا جواب میں اب تک کی بحث میں دے چکا ہوں۔ میرے لیے دوبارہ بس اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ اگرچہ مولانا نے نیت پر تہمت نہیں لگائی لیکن یہ امر جب تسلیم شدہ ہے کہ امیر معاویہ کا فعل رائے،تدبیر اور نتائج تینوں لحاظ سے غلط تھا اور مصالح اجتماعیہ کے حق میں نقصان رساں ثابت ہوا تو جذبے یا نیت کے صحیح ہونے نہ ہونے یا ذاتی مفاد پر مبنی ہونےنہ ہونے سے عملاً کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔پھر مولانا مودودی نےجو بات کہی تھی وہ دراصل یہ تھی کہ انہوں نےاس بات سےقطع نظر کر لیا کہ وہ اس طرح امت محمدیہ کو کس راہ پر ڈال رہے ہیں۔ان الفاظ کا مطلب بھی یہ نہیں ہےکہ انہوں نےجانتے بوجھتے امت کو اپنےذاتی مفاد پر قربان کر دیا، بلکہ مراد صرف یہ ہےکہ اس فعل کےنتیجےمیں امت خلافت کےبجائے ملوکیت و آمریت اور نسلی بادشاہت کی راہ پر پڑ گئی اور یہ ایک حقیقت ہےجس سےانکار ممکن ہی نہیں ہےکیا آپ خود جمہور محققین کا قول یہی بیان نہیں فرمار ہے کہ یہ فعل درست نہ تھا بلکہ نقصان دہ ثابت ہوا؟
اس کے بعد عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ ہماری آئندہ گفتگو کا حاصل یہ نہیں ہےکہ حضرت معاویہ کا یہ اقدام واقعےکےاعتبار سےسو فیصد درست اور نفس الامر میں بالکل صحیح تھا یا انہوں نےجو کچھ کیا وہ بالکل ٹھیک کیا۔ان الفاظ سےبظاہر ایسا محسوس ہوتا ہےکہ مولانا عثمانی نےاپنےسابق موقف میں ترمیم کر کےاب یہ موقف اختیار کیا ہےکہ اس اقدام کا چند فیصد درست ہےاور یہ بالکل صحیح ہونے کے بجائے کسی حد تک غیر صحیح ہے، حالانکہ وہ پہلےاسےبلا تخصیص اور علی الاطلاق نادرست قرار دے چکے ہیں، بلکہ جمہور ملت کا مسلم یہی بتا چکے ہیں کہ یہ فعل امت کےاجتماعی مصالح کے لیے موجب ضر ہوا اور نفس الامر میں درست نہ تھا۔
پھر آگے چل کر انہوں نے جو بحث کی ہے، اس میں وہ اس فی صد والے موقف سے بھی بتدریج دور ہٹتے چلے گئے ہیں حتی کہ آخر میں فرماتےہیں کہ اگرحضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ دیانت داری سےیزید کو خلافت کااہل سمجھتےتھےتو اسےولی عہد بنا دینا شرعی اعتبار سےبالکل جائز تھا۔مزید فرماتےہیں کہ یزید کی جو مکروہ تصویر ذہنوں میں بسی ہوئی ہے،اس کی بنیادی وجہ کر بلا کا حادثہ ہےلیکن جس وقت اسے ولی عہد بنایا جارہا تھا،اس وقت یزید کی شہرت جھوٹوں کو بھی اس حیثیت سےنہیں تھی جیسی آج ہےاسوقت تو وہ ایک صحابی اور ایک خلیفہ وقت کا صاحبزادہ تھا۔اس کےظاہری حالات،صوم وصلوۃ کا پابندی ،اس کی دنیوی نجابت اور اسکی انتظامی صلاحیت کی بنا پر یہ رائے قائم کرنے کی پوری گنجائش تھی کہ وہ خلافت کا اہل تھا۔“
یزید کے فضائل و مناقب بالتفصیل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مدیر البلاغ نے ولی عہد بنانے کی شرعی حیثیت پر بھی بحث کی ہےجس کےضروری اجزاء اهمیت کےپیش نظر اب میں نقل کرتا ہوں اور انکےمتعلق اپنےمعروضات بھی پیش کرتا ہوں۔مولانا عثمانی صاحب فرماتےہیں کہ اس بات پر امت کا اجماع منعقد ہو چکا ہےکہ خلیفہ وقت اگر کسی شخص میں نیک نیتی کے ساتھ شرائط خلافت پا تا ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کو ولی عہد بنا دے، خواہ وہ اس کا باپ، بیٹا یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ تفصیل کے لیے دیکھئے ازالۃ الخفا ، جلد اول ص ۵-
عثمانی صاحب کے اس حوالے کے بعد از لایه الخفاء سے میں شاہ ولی اللہ صاحب کی متعالیہ بحث درج کرتا ہوں۔ شاہ صاحب نے پہلے تو دس " شروط خلافت بیان کی ہیں جو انعقاد و خلافت کے لیے ضروری ہیں، مثلاً خلیفہ کا مسلمان، عاقل، بالغ ہونا وغیرہ۔ انہی میں آٹھویں شرط انہوں نےعدالت بیان فرمائی ہے اور اس کی تعریف یوں کرتے ہیں:
مجتنب از کبائر، غیر مصر بر صغائر و صاحب مروت باشند ، نہ ہرزہ گردو خليع العذار۔
"کبیرہ گناہوں سےبچنےوالا اور صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنےنہ ہو۔ ذی مروّت ہونہ که هرزه گرداور وارسته مزاج "
پھر فرماتے ہیں کہ ” جب یہ سب شرطیں کسی شخص میں پائی جائیں تو وہ مستحق خلافت سمجھا جائے گا اور اگر لوگ اسے خلیفہ بنائیں اور اس کے ہاتھ پر بیعت کریں، تو وہ خلیفہ راشد ہو گا۔ مزید لکھتے ہیں:
و غیر مجتمع ایں شروط را اگر خلیفه سازند،ساعیان خلافت او عاصی گردند لیکن اگر تسلط یابد حکم او فيما يوافق الشرع نافذ باشد برائےضرورت که برداشتن او از مسند خلافت اختلاف امت پیدا کند و هرج مرج پدید آرد
"اور اگر لوگ کسی ایسےشخص کو خلیفہ بنا ئیں جس میں یہ تمام شرائط جمع نہ ہوں تو اسکی خلافت کے بانی گنه گار ہوں گےلیکن اگر وہ تسلط پالےتو اس کا حکم جو موافق شرع ہو،نافذ ہو گا ضرورت کی بنا پر۔ کیونکہ ( تسلط کے بعد ) اُسے مسند خلافت سے اتارنا اختلاف امت کا باعث ہوتا ہےاور انتشار اور بدنظمی پیدا ہوتی ہے۔“
اس کے بعد شاہ صاحب انعقاد خلافت کے چار طریقے بیان فرماتے ہیں۔ پہلا طریقہ ان کے نزدیک اہل حل و عقد کا انتخاب ہے، یعنی مملکت کے عالم ، قاضی اور نامور لوگ بیعت کر لیں۔اس سلسلے میں وہ حضرت عمرؓ کا قول نقل فرماتے ہیں کہ جس نے مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر بیعت کی اور جس نے لی ، ان کی کوئی بیعت نہیں بلکہ وہ دونوں سزا وار فیل ہیں۔ حضرت ابو بکر کی خلافت اس پہلے طریق پر منعقد ہوئی۔ دوسرا طریقہ یہ ہےکہ خلیفہ کسی شخص کو مسلمانوں کی خیر خواہی کو سامنےرکھ کر بطور جانشین تجویز کر دےجو شروط خلافت کا جامع ہو اور لوگوں کو جمع کرنےکےبعد انکےسامنے اس کا اعلان کر دے۔حضرت عمر فاروق کی خلافت اسی طرح منعقد ہوئی ۔ تیسرا طریقہ مجلس شوری کا قیام ہے اور وہ یوں ہے کہ خلیفہ ایک ایسی جماعت میں امر خلافت دائر کر دے جس جماعت کے سب ارکان شروط خلافت پر پورے اترتے ہوں۔ یہ مجلس شوری خلیفہ کی وفات کے بعد مشورہ کرے اور ایک شخص کو خلیفہ معین کر لے۔ حضرت عثمان ذوالنورین کا انتخاب اسی طریق پر ہوا۔حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد اس مجلس کا اجلاس ہوا اور خلیفہ ثالث نامزد ہوئے۔
انتخاب خلیفہ کے یہ تین طریقے جو خلفائے راشدین کے عہد میں اختیار کیے گئے ، انہیں بیان کرنے کے بعد شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ایک چوتھا طریقہ حصول خلافت کا استیلاء“ (یعنی زبردستی غلبہ و تسلط حاصل کر لینا) ہے۔ اس کی تفصیل یوں بیان فرماتے ہیں:
چوں خلیفہ بمیرد،شخص متصدی خلافت گرد و بغیر بیعت واستخلاف ہمہ را بر خود جمع سازد با تیلاف قلوب یا بقهر و نصب قتال خلیفه شود ولازم گرد و بر مردماں اتباع فرمان او در آنچه موافق شرع باشد ۔ و این دو نوع است،یکےآنکه مستولی مجتمع شروط باشد و صرف منازعین کند مسلح و تدبیر از غیر ارتکاب محترمےوایں قسم جایز است درخصت و انعقاد خلافت معاویه ابن ابی سفیان بعد حضرت مرتضی و بعد صلح امام حسن ہمیں نوع بود - دیگر آنکه مجتمع شروط نباشد وصرف منازعین کند بقتال وار تکاب محترم و آں جائز نیست و فاعل آن عاصی است لیکن واجب است قبول احکام اوچوں موافق شرع باشد ... و ایس انعقاد بنا بر ضرورت است.
"جب خلیفہ فوت ہو جائے تو کوئی شخص خلافت پر قابو یافتہ ہو جائے اور بیعت واستخلاف کےبغیر عوام کو تالیف قلب سے یا بزور شمشیر لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لے۔ یہ شخص خلیفہ بن جائے گا اور اس کے موافق شرع احکام کی پیروی لوگوں پر لازم ہو جائے گی ۔ اس استیلائی خلافت کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم یہ ہے کہ قوت سے غلبہ پالینے والے کے اندر خلافت کی تمام شرطیں پائیں جائیں اور وہ صلح وتدبیر کے ذریعے سے کسی ناجائز امر شرعی کا ارتکاب کیے بغیر مدعیان خلافت کو راستےسےہٹا دے۔یہ صورت بھی بطور رخصت وضرورت جائز ہے۔اور حضرت علی مرتضیٰ کی وفات اور امام حسن کی صلح کےبعد معاویہ کی خلافت کا انعقاد اس قسم کا تھا۔ دوسری قسم یہ ہے کہ شخص متغلب کے اندر شرائط خلافت جمع نہ ہوں اور وہ قتال اور ارتکاب حرام کے ذریعے سے مخالفین کا دفعیہ کرے اور یہ صورت جائز نہیں ہے اور اس کا فاعل گنہ گار ہے۔ لیکن اس کے موافق شرع احکام کی تعمیل بھی واجب ہے اور انعقاد خلافت کی اس شکل کا جواز بھی بر بنائے ضرورت ہے۔“
استیلائی یا متغلبانہ خلافت کی دوسری قسم جو شاہ صاحب نے آخر میں بیان کی ہے،اس کےمتعلق وہ بعد میں فرماتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان اور اول خلفاء بنی عباس کا انعقاد خلافت اسی قسم کا تھا۔ حضرت علی کی خلافت کے متعلق شاہ صاحب نے دو قول نقل کیے ہیں۔ اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ مہاجرین و انصار مدینہ کے بیعت کر لینے سے حضرت علی کی خلافت منعقد ہوئی تھی اور حضرت علی نے جو خطوط اہل شام کو طلب بیعت کےسلسلےمیں لکھے تھے، وہ اس پر شاہد ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ خلافت علی کا انعقاد بذریعہ شوری اسی وقت ہو گیا تھا، جب کہ حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد ان کا نام حضرت عثمان کے ساتھ تجویز ہوا تھا لیکن یہ قول ضعیف ہے۔
اب شاہ ولی اللہ صاحب کی اس بحث میں جو امر قابل ملاحظہ ہے، وہ یہ کہ انہوں نےحضرت ابوبکر سے لے کر، امیر معاویہ،عبد الملک بنو عباس وغیرہ سب کا ذکر ان چار طریقہ ہائےانعقاد خلافت کےتحت کر دیا ہے،مگر یزید کی ولایت عہد یا خلافت کا ذکر انہوں نے بالکل نہیں فرمایا۔ اس کا ایک مطلب تو یہ لیا جا سکتا ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ نے اپنے انتقال یا ایام مرض سے بہت پہلےجس طرح اپنے بیٹے کو ولی عہد بنایا اور اس کے لیے بیعت لی،یہ کارروائی بالکل ناجائز تھی اور خلافت یزید کےانعقاد کے لیے کوئی صحیح اور جائز بنیاد نہیں بن سکتی تھی یہی وجہ ہےکہ حضرت حسینؓ ، حضرت عبداللہ ابن زبیر اور حضرت عبدالرحمن ابی بکر نے ولی عہدی کی بیعت سے انکار فرمایا اور حضرت عبداللہ ابن عمر جیسے محتاط متقی اور مصالحین پسند بزرگ نے بھی یہ کہہ دیا کہ میں بیک وقت دو بیعتوں کا قلاوہ اپنی گردن میں نہیں ڈال سکتا۔ بلکہ امیر معاویہ کی وفات کےبعد جب ولید (گورنر مدینہ ) نے اصرار کیا تو آپ برابر ٹالتے رہے اور کہتے رہے کہ جب دوسرے سب لوگ یزید کی بیعت کر لیں گےتو میں بھی کرلوں گا۔ تاہم اگر مدیر ” البلاغ یا کوئی دوسرےان کےہم خیال یہ کہیں کہ ولایت عہد کےلیے بیعت عام حاصل کر کےلوگوں کو اس عہد کا پابند بنا نا صیح ہےاور یہ انعقاد خلافت کےحق میں ایک جائز دلیل و بنیاد بن سکتی ہے، تب بھی یزید کے حق میں ولایت عہد کی کارروائی شاہ صاحب کے بیان کردہ چوتھے طریقے، یعنی خلافت بذریعہ تغلب واستیلاء ہی کےتحت آسکتی ہےکیونکہ خود حضرت معاویہ کی خلافت کو بھی شاہ صاحب اسی چوتھےطریق کا حاصل قرار دےرہےہیں اور اسےمحض ضرورت ورخصت کی بنا پر جائز کہہ رہےہیں۔ پھر انعقاد خلافت کے اس آخری طریق کی بھی انہوں نے دوقسمیں بیان کی ہیں جن میں دوسری یہ ہے کہ جو شخص زبر دتی خلافت پر قابض ہو رہا ہےاس میں جملہ شرائط خلافت موجود نہ ہوں اور وہ بذریعہ قتال منازعین کا صفایا کر دے۔ یہ صورت شاہ صاحب کے نزدیک ناجائز اور اس کا فائل عاصی ہے۔ اس کے بعد قارئین خود فیصلہ کر سکتےہیں کہ شاہ صاحب کی یہ بحث کس حد تک یزید کی ولایت عہد کی تائید و تصویب کرتی ہےاور اسے انعقاد خلافت کا جائز ومستحسن طریقہ قرار دیتی ہے۔ کیا شاہ صاحب کی مراد یہ ہوسکتی ہے کہ خلفائے راشدین جس طرح منتخب ہوئے اور بنو امیہ و بنو عباس جس طرح سریر خلافت پر مستولی و متسلط ہوئے ، یہ سب طریقے یکساں طور پر معیاری یا پسندیدہ تھے ؟ میں نہیں سمجھ سکا کہ مولانا عثمانی صاحب نے ازالۃ الخفا کے اس مقام کا حوالہ کس مناسبت سے دیا ہے۔
دوسرا حواله مولانا عثمانی صاحب نے الاحکام السلطانیه للماوردی ص ۸ کا دیا ہے۔ اس مقام پر امام ماوردی نے شروع میں بلاشبہ یہ رائے ظاہر کی ہے ایک خلیفہ کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنا جانشین تجویز کر دے جیسا کہ حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ کو کر دیا تھا اور مسلمانوں نے اسے تسلیم کر لیا تھا،لیکن یہ ایک اصولی اور تمہیدی بات ہے جو انہوں نے کہی ہے۔ اس سے آگے جو کچھ وہ فرماتے ہیں وہ درج ذیل ہے:
فاذا اراد الامام ان يعهد بها فعليه ان يجهد رأيه في الاحق بها و الاقوم بشروطها فاذا تعين له الاجتهاد في واحد نظر فيه فان لم يكن ولدًا ولا والدا جازان ينفرد بعقد البيعة له وبتفويض العهد اليه وان لم يستشر فيه احدًا من اهل الاختيار.
"جب امام کا ارادہ یہ ہو کہ وہ ولی عہد مقرر کرےتو : ہ پوری طرح غور وفکر کرےکہ کون شخص امامت کا سب سے زیادہ مستحق اور شرائط خلافت پر سب سے زیادہ پورا اترنے والا ہے۔ اپنے ذہن و نہم کی پوری جدو جہد کے بعد جب اس کی رائے ایک شخص پر جم جائے تو دیکھے کہ وہ کون ہے۔ اگر وہ اس کا بیٹا یا والد نہ ہو، تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ تنہا اپنی مرضی سے اسے ولی عہد بنائے خواہ اس نے انتخاب کنندگان سے مشورہ نہ لیا ہو۔“
یہاں اولین امر جو قابل ملاحظه ہےوہ یہ ہےکہ امام ماوردی کےنزدیک ولایت عہد کی تجویز صرف اس شخص کے حق میں ہو سکتی ہے جو خلافت کے لیے موزوں ترین فرد ہو اور جو شروط امامت کو سب سےزیادہ پورا کرنے والا ہو۔ یہ بات عثمانی صاحب نے بالکل غلط لکھی ہےاور شاہ ولی اللہ صاحب اور امام ماوردی کی جانب قطعا غلط منسوب کی ہےکہ اس پر اجماع امت منعقد ہو چکا ہے کہ خلیفہ وقت اگر کسی میں نیک نیتی کے ساتھ شرائط خلافت پاتا ہے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کو ولی عہد بنادے، خوادہ اس کا باپ یا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ ولی عہد میں محض شرائط خلافت کا پایا جانا کافی نہیں ہے (اگر چہ یزید ان کا بھی جامع نہ تھا)، بلکہ جانشینی کا حقداد بنے کے لیے امام ماوردی کےنزدیک یہ بھی لازم ہے کہ وہ شروط خلافت میں اَحَق وَ اقوم ہو ۔ امام ماوردی نے یہ شرائط (عدالت،علم اور اجتہاد وغیرہ) شروع ہی میں بیان کر دی ہیں،نیز یہ بھی بتا دیا ہےکہ انعقاد خلافت کا اولین طریقہ اختیار یعنی انتخاب ہے۔"
بہر کیف اس بات پر اجماع کا دعوی صحیح نہیں کہ خلیفہ وقت اگر بیٹے یا کسی رشتہ دار میں شرائط خلافت پاتا ہے تو اسے ولی عہد بنا دے۔ خود امام ماوردی نے اس جگہ تین مسلک بیان کیے ہیں۔ایک یہ ہے کہ جب تک خلیفہ اہل الاختیار (Electors) سے مشورہ نہ کر لے اور وہ ولی عہد کو اہل نہ قرار دیں، اس وقت تک خلیفہ اپنے طور پر ولی عہد نہیں بنا سکتا۔اس کی وجہ یہ ہےکہ خلیفہ کا کسی کو ولی عہد بنانا در حقیقت ولی عہد کے حق میں تزکیہ (Testimony) یا دوسرے لفظوں میں شہادت (Evidence) ہے اور یہ امت کے لیے ایک طرح حکم ( فیصلہ ) کا درجہ رکھتی ہے اور کسی کے لیےیہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے والد یا بیٹے کے حق میں شہادت دے یا ان دونوں کےحق میں کوئی فیصلہ دے۔ حقیقت یہ ہےکہ باپ بیٹا دونوں ایک دوسرے کےحق میں ایک جبلی میلان رکھتے ہیں اور ان کی باہمی ولایت عہد تہمت کا باعث ہے۔ دوسرا مسلک انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ بیٹے اور باپ کے لیے بھی ایک دوسرے کو ولی عہد بنانا جائز ہے، کیونکہ امیر کا امر امت پر نافذ ہے اور حکم منصب حکم نسب پر غالب ہے (لیکن اس مسلک کی کمزوری بالکل واضح ہے۔ بیٹے کے لیے منصب تجویز کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو منصب کے لیے پیش کرنا اور دونوں میں موجب تہمت ہونے کے لحاظ سے فرق نہیں ۔ ) تیسرا مسلک امام ماوردی کے نزدیک یہ ہے کہ خلیفہ اپنی مرضی سےوالد کوتو ولی عہد بنا سکتا ہے مگر بیٹے کو نہیں بنا سکتا۔ کیونکہ انسان کا طبعی میلان والد کے بجائے اولاد کی طرف زیادہ ہوتا ہے اور وہ بالعموم یہی چاہتا ہے کہ اپنا مال و منال بیٹے ہی کے لیے محفوظ کر لے۔
امام ماوردی کی پوری بحث کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی تحقیق جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ انعقاد خلافت کا اولین طریقہ انتخاب اور بیعت عام ہےولایت عہد کےلیےدوشرطیں لازم ہیں۔پہلی یہ کہ خلیفہ وقت پوری امت پر نظر ڈالے اور جو شخص شروط خلافت کے اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز ہو اور اس کا سب سے زیادہ حقدار ہو، اس کو ولی عہد بنائےدوسری شرط جو صرف بعض علماء نےنہیں بلکہ اکثریت نے لگائی ہےوہ یہ کہ بیٹے کےحق میں ولایت عہد اسوقت تک جائز نہیں جبتک اہلِ اختیار یا اہل شوری سےمشورہ نہ لےلیا جائےاوروہ بھی یہ امرتسلیم نہ کر لیں کہ بیٹا شروط و صفات امامت میں پوری امت پر فائق اور خلافت کےلیے سب سے زیادہ مستحق ہے۔
اس کے بعد عثمانی صاحب نے قاضی ابویعلی کی الاحکام السلطانیه یس 9 کی عبارت نقل کی ہےمیں باپ اور بیٹے کی ولی عہدی کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ خلیفہ کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو ولی عہد بنائے جو اس کے ساتھ باپ یا بیٹے کا رشتہ رکھتا ہو، بشرطیکہ وہ خلافت کی شرائط کا حامل ہو ۔ “ مگر خلافت کی شرائط(صفاة الائمہ )جسےابویعلی نےصہ پر بیان کیا ہے،انہیں مدیر ” البلاغ" نے پھر نقل نہیں کیا۔ان میں قرشیت ، عدالت وغیرہ کے ساتھ چوتھی صفت افـضـلهـم فـي العلم والدین ہے، یعنی ولی عہد کو علم و دین میں امت کا افضل ترین شخص ہونا چاہیے۔ یہ وہی بات ہے جو الماوردی نے دوسرے الفاظ میں بیان کی ہے۔ معلوم نہیں دونوں مرتبہ یہ بات عثمانی صاحب سےنقل کرتے وقت کیسے چھوٹ گئی؟ اگر وہ اسے نیت پر حملہ نہ سمجھ بیٹھیں تو میں یہ عرض کروں گاکہ غالباً یہ اس وجہ سےہوا کہ یزید جیسےبیٹےکو لاحق بالا كلمه لا اقوم بشروطها اور أفضل في العلم والدین تسلیم کر لینے میں شاید انہیں بھی کچھ شامل ہو۔ یزید علیہ ما علیہ کو اس اعلیٰ وارفع مقام پر فائز کر دینا بڑے دل گردے کا کام ہے اور یہ حمود عباسی جیسے لوگوں ہی کو زیب دیتا ہے۔ تاہم یہی بات کیا کم ہے کہ یزید کی ولی عہدی اور خلافت کے انعقاد کو بالکل جائز اور صحیح ثابت کرنےکےلیے عثمانی صاحب نےیزید کی شہرت وسیرت، جو واقعہ کربلا کی وجہ سے داغدار ہو گئی تھی، اور جھوٹ سچ جود ھے اس پر لگ گئےتھے انہیں صاف کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ اللہ بھر پور جزا دے۔
یزید کی ولی عہدی کو جائز ثابت کرنے کےلیےازالۃ الخفاء اور الاحکام السلطانیه کےعلاوہ مولانا محمد تقی صاحب نےمقدمه ابن خلدون صفحہ ۳۷۶-۳۷۷ ، دارالکتب لبنانی،بیروت کا حوالہ بھی دیا ہے۔ میں اس سلسلہ بحث کے آغاز ہی میں بیان کر چکا ہوں کہ علامہ ابن خلدون نےامامت و خلافت، انقلاب الخلافۃ الی الملک ( خلافت کی ملوکیت میں تبدیلی ) اور بیعت وولایت عہد وغیرہ موضوعات پر جو کچھ لکھا ہے، اس کے متعدد پہلوئل نظر ہیں۔تاہم ولی عہدی کے مسئلے پر جو کچھ انہوں نے لکھا ہے وہ مذکورہ بالا اقوال سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے اور اس سے بھی یہ دعویٰ صحیح ثابت نہیں ہوتا کہ اس بات پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ خلیفہ وقت اگر بیٹے یا کسی رشتہ دار میں اپنےخیال کے مطابق شرائط خلافت پاتا ہےتو اسے ولی عہد بنا سکتا ہے۔ ابن خلدون فرماتے ہیں: ولايتهم الامام في هذا الأمر وإن عَهِدَ الى ابيه او ابنه لأنه مأمون على النظر لهم في حياته فـ اولـى ان لا يحتمل فيها تبعة بعد مماته خلافًا لمن قال باتهامه في الولد والوالد ولمن خصص التهمة بالولددون الوالد اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ ابن خلدون اس کو تسلیم کر رہے ہیں کہ ایک قول کے مطابق بیٹے اور باپ دونوں کے حق میں ولایت عہد موجب تہمت ہے اور دوسرے قول کے مطابق صرف بیٹے کو ولی عہد بنانا باعث اتہام ہے۔ البتہ ابن خلدون ان اقوال سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی رائے یہ بیان کر رہے کہ ایسا کرنے میں امام متہم نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر مام کا زندگی میں ان سے حسن سلوک قابل اعتراض نہیں تو زندگی کے بعد کیوں ہو؟ لیکن یہ ایک ایسا استدلال ہے جس کا ضعف ظاہر ہے۔ زندگی میں خلیفہ اگر اپنے عزیزوں کا لحاظ رکھے ، تو اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد انہیں ولی عہد بھی بنا جائے؟ ولی عہدی ایک منصب ہے اور اعزہ کو مناصب دینا تو زندگی میں بھی مامون عن الہتہمت نہیں، چہ جائیکہ مرنےکے بعد ہو، جب کہ ولی عہدی کا مجوز خلیفہ ہی نہیں رہتا۔اس مقام پر یزید کی ولی عہدی کےمتعلق ابن خلدون نے جو کچھ مزید لکھا ہے اسے عثمانی صاحب نے آگے چل کر خود ہی نقل کر دیا ہے، اور وہ یہ ہے:
"حضرت معاویہ کے دل میں دوسروں کو چھوڑ کر اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنانے کا جو داعیہ پیدا ہوا، اس کی وجہ امت کے اتحاد و اتفاق کی مصلحت تھی۔ بنوامیہ کے اہل حل و عقد اس پر متفق ہو گئےتھے، کیونکہ وہ اس وقت اپنےعلاوہ کسی اور پر راضی نہ ہوتےاور اس وقت قریش کی سر برآورده جماعت وہی تھی اور اہل ملت کی اکثریت انہی میں سےتھی۔اس لیےحضرت معاویہ نے اس کو ترجیح دی اور افضل سے غیر افضل کی طرف رجوع کیا۔ حضرت معاویہ کی عدالت اور صحابیت اس کےکچھ گمان کرنے سے مانع ہے۔“
ابن خلدون اسی سے ملتےجلتےالفاظ میں یزید کی ولی عہدی کی توجیه اس سےذرا پہلےاٹھائیسویں فصل ) میں بھی کر چکے اس کی ، جہاں انہوں نے خلافت کے ملوکیت میں تبدیل ہونےپر بحث کی ہے۔ وہاں لکھتے ہیں:
وکذالک عهد معاوية الى يزيد خوفاً من افتراق الكلمة بما كانت بنو امية لم يرضوا تسليم الأمر الى من سواهم فلو قد عهد الى غيره اختلفوا مع ان ظنهم كان به صالحًا.
" اسی طرح معاویہ نے یزید کو ولی عہد بنایا کیونکہ انہیں افتراق پیدا ہونے کا خوف تھا۔ وجہ یہ تھی کہ بنو امیہ اپنے سوا کسی دوسرے کو حکومت سپرد کرنے پر راضی نہ تھے۔ پس اگر امیر معاویہ کسی دوسرے کو ولی عہد بناتے تو بنو امیہ اس سے اختلاف کرتے اگر چہ وہ ان کے بارے میں نیک گمان رکھتے تھے"-
حقیقت یہ ہےکہ بادشاہت و ملوکیت،خلافت کی ملوکیت میں تبدیلی اورامامت و ولایت وغیرہ کی بحثوں میں ابن خلدون نےجو نقطہ نظر پیش کیا ہے،وہ یہ ہے کہ ملوکیت بشری اجتماع اور انسانی معاشرت کےلیےایک ناگزیر ادارہ ہےاور قہر و تغلب اس کی لازمی خصوصیت ہے۔انبیاء علیہ السلام کی آمد پر یہی ملوکیت - - - قالب میں ڈھل جاتی ہےاور دینی مقاصد کےلیےاستعمال ہوتی ہےمگر ایک کارفرما طاقت یعنی عصبیت خلافت کی پشت پر موجود رہتی ہے۔ چنانچہ بعثت نبوی اور خلافت راشدہ کے بعد جب نوبت حضرت معاویہ تک پہنچی تو یہی ملوکیت و عصبیت بنوامیہ میں منتقل اور مرتکز ہو گئی جوان کےعصبہ اور زور اور ہونےکا ایک ناگزیر بلکہ فطری تقاضا تھا۔باقی جو کچھ ہو وہ اس صورتِ حال کےقدرتی نتائج تھےاور یزید کی ولی عہدی اور بیعت منجمله ان نتائج کےایک ہےمیں اس وقت اس موضوع پر بحث نہیں کرنا چاہتا کہ شرعی،تاریخی اور عقلی لحاظ سےواقعات کی یہ تعبیر و توجیہ کس حد تک درست ہےمیں صرف یہ پوچھناچاہتاہوں کہ جب بنو امیہ اول و آخر اتنی جمعیت و عصبیت کےمالک تھے" قریش کی سربر آوردہ جماعت بھی وہی تھےاور اہل ملت کی اکثریت بھی انہی میں سےتھی تو پھر اس افتراق اور عدم اتحاد و اتفاق کےخوف کی کیا معقول وجہ ہو سکتی تھی جو یزید کو ولی عہد بنانےکا باعث بنا؟ ظاہر ہےکہ جب ایک قبیلہ قابو یافتہ مستولی ہے،خلیفہ بھی اسی میں سے ہے،خلیفہ وقت کاصاحبزادہ بھی پابند صوم وصلوٰۃ ہےاور دنیوی نجابت اور انتظامی صلاحیت کی بنا پر خلافت کا اہل ہےتو پوری ملت اسےوالد کےبعد آپ سے آپ خلیفہ بنا لے گی اور دو چار آدمی اگر مخالف ہوئے بھی تو وہ کیا تیر مارلیں گے؟ ایسی مخالفت شادہ نہ موجب تشقت وافتراق ہو سکتی ہے، نہ انعقاد خلافت میں قادح بن سکتی ہے۔
پھر عثمانی صاحب اسی مقام پر حافظ ابن کثیر کےحوالےسےیہ بھی لکھ رہےہیں کہ ”جب حضرت معاویہ نے حضرت حسنؓ سے صلح کی تھی تو انہی کو ولی عہد بھی بنایا تھا۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو اس وقت بنوامیہ اس پر کیسےراضی ہو گئےتھے؟ یا پھر وہ بات بھی صحیح ہےکہ یزید ہی نے حضرت حسن کو زہر دلا کر اس واقعی یا موہوم افتراق کو رفع کیا تھا؟_١ واقعہ یہ ہےکہ یزید کی ولی عہدی نےاس کی خلافت کی راہ ہموار کر کےافتراق کو گھٹانےکےبجائے اور زیادہ بڑھا دیا۔ بالفرض اگر عثمانی صاحب یا علامہ ابن خلدون کی یہ بات صحیح بھی ہو کہ بنو امیہ اپنے سوا کسی دوسرے کو حکومت سپرد کرنے پر راضی نہ تھے ، تب بھی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ سارے قبیلہ بنی امیہ میں بس یزید ہی سب کی نگاہوں میں گھبا ہوا تھا۔ حضرت عثمان جن کے قصاص کا مطالبہ لے کر امیر معاویہ اٹھے تھے،خودان کے صاحبزادے کا واقعہ جو متعدد تاریخوں میں منقول ہے اور جسے عثمانی صاحب نے بھی اس بحث میں نقل کیا ہے، یہ ہے کہ یزید کو ولی عہد بنانے پر حضرت سعید بن عثمان نے امیر معاویہؓ سےشکایت کی کہ آپ نے اپنے بیٹے کو ولی عہد بنادیا حالانکہ میرے والدین اس کے والدین سے اور میں اس سے افضل ہوں۔ انہی مؤرخین کا بیان یہ بھی ہے کہ امیر معاویہ نے انہیں راضی کرنے کے لیےخراسان کا والی بنا دیا۔ اس ایک واقعہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ دعویٰ اور یزید کی ولی عہدی کی یہ تو جیہ کہاں تک صحیح ہے کہ بنوامیہ میں صرف یزید ہی سب کی آنکھوں کا تارا تھا اور اگرا سے ولی عہد نہ بنایا جاتا تو اہل ملت انتشار کا شکار ہو کر رہ جاتے ۔ ابن خلدون تو دنیا سے اٹھ گئے ، کاش کہ عثمانی صاحب ہی ہمیں بتا دیں کہ بنو امیہ کے وہ کون کون سے ممتاز افراد تھے جو یزید ہی کو ولی عہد بنادینےپر مصر تھے؟
١- متعدد علماء نےبصراحت یہ الزام یزید کےخلاف عائد کیا ہے جس کی اہلیت خلافت کا بلند بانگ دعوی عثمانی صاحب کر رہے ہیں۔مولانا عبدالحق حقانی فرماتے ہیں:” حضرت حسنؓ کےبعد امیر معاویہ حکومت کرتے رہے۔ بعد انکےان کا بیٹا یزید بدبخت جانشین ہوا۔ اس نالایق دنیا دار نےاس خوف سےمبادا حضرت حسن خلافت کادعوی نہ کر بیٹھیں کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر ہیں،ان کے رو برو مجھے کون پوچھے گا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دلوا کر شہید کر دیا اور چند سال بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کر بلا میں شہید کرا دیا۔ اس کم بخت کے بے دین ہونے میں کیا شک ہے؟'' حاشیے میں فرماتے ہیں :" معاویہ حضرت علی کی خلافت کو تسلیم نہ کر کےآپ خلیفہ ہونا چاہتے تھے (عقائد الاسلام طبع نم ص ۲۳۲، مطبوعہ ۱۳۵۰ھ دیلی، دتی پرنٹنگ ورکس)۔ یہ بھی واضح رہے کہ " عقائد الاسلام" کے آغاز میں مولانا محمد قاسم نانوتوی،مولانا حبیب الرحمن ہم دار العلوم دیوبند،مولانا محمد انور شاہ صاحب،مولانا عزیزالرحمن صاحب مفتی دیوبند مفتی کفایت اللہ صاحب کی تقاریظ موجود ہیں۔سنن ابی داؤد،کتاب الآداب، ابواب اللباس کی جو حدیث اس سےپہلے بحث میں نقل کی گئی ہےجس میں حضرت حسنؓ کی موت پر امیر معاویہ کے رد عمل کا ذکر ہےاس حدیث کی شرح میں مولانائس الحق صاحب عظیم نےبھی عون المعبود میں یہ لکھا ہےوكان وفاة الحسن رضي الله عنه مسموما سمته زوجته جعدة باشارة يزيد بن معاوية سنة تسع وأربعين او بعدها (حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات زہر خورانی کے ذریعے سے ہوئی ۔ آپ کی بیوی جعدہ نے یزید کے اشارے سے آپ کو زہر دے دیا۔ یہ ۲۹ ھ یا اس کے بعد کا واقعہ ہے)۔ ابن حجر، الصواعق الحمر قر ص ۸۶ (مطبعه میمنه مصری ۱۳ء) پر فرماتے ہیں کہ یزید نے جعدہ کو ایک لاکھ درہم دے کر حضرت حسنؓ کو زہر دلوایا۔ زہر خورانی کا واقعہ شاہ عبدالعزیز صاحب نےبھی ستر الشهادتین میں اسی طرح بیان کیا ہے۔
پھر ابن خلدون کی یہ بات بھی عجیب ہے کہ بنو امیہ کے "اہل الحل والعقد" یزید کی ولی عہدی پر متفق تھے۔ خاندان بنی امیہ کے افراد پر آیا ان اہل حل و عقد یا اهل شوری کا اطلاق کسی طرح بھی درست ہے جنہیں انتخاب خلیفہ میں دخل ہو سکتا ہے اور جو پوری امت کی نمائندگی کر سکتے تھے؟دوسرے افراد تو در کنار خود امیر معاویہ کا شمار خلیفہ بننے سے پہلے اہل حل و عقد میں نہیں ہوتا تھا۔ شاہ ولی اللہ صاحب از الته الخاص اا ( مطبع بریلی ۱۳۸۶ء) میں عبد الرحمن اشعری فقیہ شام کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علیؓ کے متعلق حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابوالدرداء سے فرمایا جب کہ وہ حضرت علی کے پاس گئے کہ وہ خلافت کو چھوڑ کر از سر نو شوری بلائیں اور امیر معاویہؓ کو بھی شریک کریں):
مـن بـايـعـه خـيــر ممن لم يبايعه واتى مدخل لمعاوية في الشورى وهو من الطلقاء الذين لا يجوز لهم الخلافة هو وابوه رؤس الاحزاب فندما على مسيرهما وتابابين يديه ._١
جن لوگوں نے حضرت علیؓ سے بیعت کی ہے وہ ان سے بہتر ہیں جنہوں نے نہیں کی۔اور معاویہ کا شوری میں کیا دخل ہے؟ وہ تو طلقاء میں سےہیں جن کے لیے خلافت جائز نہیں اور وہ اور ان کے والد جنگ احزاب کے سپہ سالار تھے ۔ پس وہ دونوں اصحاب اپنی روش پر نادم ہوئے اور (امیر معاویہؓ کی حمایت سے ) وہیں تائب ہوئے ۔“
١- یہی قول آگے ازالۃ الخفا ص ا اپر بھی موجود ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ابن خلدون کا یہ نظر یہ تاریخی حقائق کے بالکل خلاف ہے کہ بنوامیہ کسی ایسی زبر دست جمعیت کے مالک تھےکہ اگر یزید کے بجائے کسی اور کو ولی عہد یا خلیفہ بنایا جاتا تو وہ اس کی خلافت کو چلنے نہ دیتے۔یہ تو بالکل وہی بات ہےجو بعض اہل تشیع نےمعترضانہ رنگ میں خلافت عثمانی کے بارے میں کہی ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ حضرت علی کےبجائےحضرت عثمان کو محض اس لیےخلیفہ بنایا گیا کہ ان کا قبیلہ طاقتور تھا۔ امام ابن تیمیہ نے منہاج السنہ ( جلد ۳ ص۱۶۶) میں اس نظریے پر ان الفاظ میں تنقید کی ہے:
"عبد الرحمن بن عوف ( جن کے سپر د خلیفہ کا نام تجویز کرنا تھا ) لوگوں میں سب سے زیادہ بےغرض تھے، پھر انہوں نےتمام مسلمانوں سےمشورہ لیا،بنوامیہ کو کوئی طاقت حاصل نہ تھی اور حضرت عثمان کےسوا ان میں سے کوئی شوری میں نہ تھا۔“
میری اب تک کی بحث سےیہ بات واضح ہو جاتی ہےکہ شاہ ولی اللہ صاحب،امام ماوردی اورقاضی ابویعلی اس بات کےہرگز قائل نہیں ہیں کہ باپ اگر بیٹے کو نیک نیتی سےخلافت کا اہل سمجھے تو اسے ولی عہد بنا سکتا ہے اور اسکا یہ فعل بالکل جائز و معتبر ہےنیک نیتی کےلفظ کی گردان تو عثمانی صاحب بلا وجہ کر رہے ہیں۔ علمائے مذکور میں سےکسی نےنیت فاعل سےبحث نہیں کی،نہ اس کا موقع محل تھا۔ شاہ صاحب نے ولایت عہد کے مسئلے سے براہ راست تعرض نہیں کیا، البته انہوں نے انتخابی خلافت اور استیلائی خلافت کا فرق واضح کر دیا ہےاگر ولایت عہد کا کوئی تعلق انعقاد خلافت سےنہیں ہےجیساکہ عثمانی صاحب نےتسلیم کیا ہےتو شاہ صاحب نےجو طریقہ ہائےانعقاد خلافت بیان کیےہیں،ان میں سےکسی کا انطباق ولی عہد بنانےپر نہیں ہو سکتا۔ الماوردی اور ابو یعلی کی بحث سےیہ ثابت ہوتا ہےکہ انعقاد خلافت کا معیاری طریقہ بیعت اہل اختیار ہےاورولی عہدی کے لیےدو شرطیں ضروری ہیں۔ایک جو متفق علیہ ہےوہ یہ ہےکہ ولی عہد شرائط خلافت کو بہترین حیثیت میں پورا کرتا ہو۔دوسری شرط جو جمہور امت کےنزدیک لازم ہےوہ یہ کہ ولی عہد اگر بیٹا ہو تو اہل شوریٰ سےمشورہ لیا جائے اور وہ بھی تسلیم کریں کہ بیٹا پوری امت میں خلافت کےلیےسب سے زیادہ اہل ومستحق ہے_١خلافت کی شرائط کا محض کسی درجےمیں پایا جانا اور والد کا بیٹےکو اہل سمجھ لینا کافی نہیں ہےابن خلدون نےبلاشبہ یزید کی ولی عہدی کو جائز کہا ہےاور اس کےناگزیر وحق بجانب ہونےکا فلفہ بھی بیان کیا ہےمگر انہوں نےبھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہےکہ مسلےمیں تین مذاہب ہیں جن میں دو کےنزدیک یہ فعل موجب تہمت ہے۔
اس سلسلہ بحث میں یہ بات بھی قابل وضاحت ہےکہ مولانا عثمانی صاحب نے مولانا مودودی کےوہ دو فقرے تو نقل کر دیئےہیں که یزید کی ولی عہدی کےلیےابتدائی تحریک کسی صحیح جذبےکی بنیاد پر نہیں ہوئی تھی __" لیکن اپنا موقف ومد ع واضح کرنےکےلیے” خلافت و ملوکیت"میں بعض دوسری عبارتیں جو انہوں نے لکھی تھیں، انہیں نقل نہیں کیا۔ مثال کے طور پر اس کتاب کےصفحہ ۴۸ ا پر یہ عبارت موجود ہے:
خلافت علی منہاج النبوۃ کے بحال ہونے کی آخری صورت صرف یہ باقی رہ گئی تھی کہ حضرت معاویہ یا تو اپنے بعد اس منصب پر کسی شخص کےتقریر کا معاملہ مسلمانوں کےباہمی مشورےپر چھوڑ دیتےیا اگر قطع نزاع کے لیےاپنی زندگی ہی میں جانشینی کا معاملہ طےکر جانا ضروری سمجھتےتو مسلمانوں کےاہل علم و اهل خیر کو جمع کر کےانہیں آزادی کےساتھ یہ فیصلہ کرنےدیتےکہ ولی عہدی کےلیےامت میں موزوں تر آدمی کون ہے؟ لیکن اپنےبیٹےیزید کی ولی عہدی کےلیےخوف و طمع کےذرائع سےبیعت لےکر انہوں نےاس امکان کا بھی خاتمہ کر دیا ۔“
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۳۴۶ پر یزید کی ولی عہدی کا معاملہ کے زیر عنوان یہ عبارت درج ہے:
”سب سے زیادہ حیرت مجھے اس استدلال پر ہے جس سے یزید کی ولی عہدی کو جائز ثابت کرنےکی کوشش کی جاتی ہےبعض حضرات یہ تو مانتےہیں کہ اس کارروائی سےبرےنتائج برآمد ہوئےمگر وہ کہتےہیں کہ حضرت معاویہ اگر یزید کو جانشین نامزد کر کے اپنی زندگی ہی میں اس کےلیے بیعت نہ لے لیتے تو ان کے بعد مسلمانوں میں خانہ جنگی ہوتی اور قیصر روم چڑھ آتا اور اسلامی ریاست ہی کا خاتمہ ہو جاتا۔ اس لیے ان بدترین نتائج کی بہ نسبت وہ نتائج کمتر ہی برے ہیں جو یزید کو ولی عہد بنانے سے رونما ہوئے تھے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر فی الواقع حضرت معاویہ کا خیال یہ تھا کہ ان کےبعد کہیں جانشینی کےلیےامت میں خانہ جنگی بر پا نہ ہو، اور اس بنا پر وہ یہ ضرورت محسوس فرماتےتھےکہ اپنی زندگی ہی میں اس کا فیصلہ کر کے اپنے ولی عہد کے لیے بیعت لے لیں،تو کیا وہ اس نہایت مبارک خیال کو عمل میں لانے کے لیے یہ صورت اختیار نہ فرما سکتے تھے کہ بقایائے صحابہ اورا کا برتابعین کو جمع کرتے اور ان سے کہتے کہ میری جانشینی کے لیے ایک موزوں آدمی کو میری زندگی ہی میں منتخب کر لو اور جس کو وہ لوگ منتخب کرتے ، اس کے حق میں سب سے بیعت لے لیتے ؟اس طریق کار میں آخر کیا امر مانع تھا ؟ اگر حضرت معاویہ یہ راہ اختیار کرتے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ خانہ جنگی پھر بھی بر پا ہوتی اور قیصر روم پھر بھی چڑھ آتا اور اسلامی ریاست کا خاتمہ کر ڈالتا؟“
١- یزید کی ولی عہدی کے لیے بیعت اس وقت لی گئی جب کہ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت سعید بن زید زندہ تھےاور دونوں اصحاب عشرہ مبشرہ میں سےتھےپھر چاروں خلفائےراشدین کےصاحبزادگان ( حضرت عبد الرحمن، حضرت عبداللہ بن عمر،حضرت سعید،حضرات حسنین) بقید حیات تھےحضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت سعید بن العاص جیسےبزرگ موجود تھے۔ان سب کو چھوڑ کر کیا یزید محض اس وجہ سےخلافت کے لیے اہل یا اہل تر تھا کہ وہ خلیفہ وقت کا لڑکا تھا اور باپ کی نگاہ میں ولایت عہد کے لیے موزوں تھا ؟
مولانا مودودی نے جب یہ عبارتیں تحریر کی تھیں، اس وقت تک "البلاغ" کی تنقید منظر عام پر نہیں آئی تھی لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان میں ”البلاغ کے اعتراضات کا اصولی اور جامع جواب موجود ہے۔ مدیر البلاغ نے جب لکھنا شروع کیا تو ان کے سامنے یہ عبارتیں موجود تھیں اور انہیں سامنے رکھتےہوئے ہی انہوں نے ردو کہ شروع کی مگر افسوس کہ انہوں نے انصاف و رواداری سےکام نہ لیا اور ولی عہدی یزید کے مسئلے میں نیک نیتی و بد نیتی اور جواز و عدم جواز پر غیر ضروری اور غیر متعلق بحث سےاصل موضوع کو اُلجھانے کی کوشش کی۔ کوئی غلط کام اگر پوری نیک نیتی سے کیا جائےتو کیا اس کی غلطی صحت میں بدل جائے گی یا اس کےنتائج واقع اور رونما نہ ہوں گے؟ کوئی عالم یا فقیہ اگر دو تین اشکال فعل کےبارےمیں لکھ دےکہ یہ بھی جائز ہےاور وہ بھی جائز و واقع یا قابل نفاذ ہے تو کیا دونوں یکساں طور پر مبارح یا موجب ثواب ہوں گی؟ مثال کے طور پر طلاق دینا جائز تو ہے مگر اس کی بعض صورتیں مباح ، بعض مستحب اور بعض ممنوع ہیں۔ طلاق کا مشروع ومسنون موقع محل اور احسن طریقہ یہ ہے کہ کسی معقول وجہ شرعی کی بنا پر عورت کو حالت طہر میں وطی کیےبغیر ایک طلاق رجعی دی جائےحتی کہ عدت گزر جائےاب فرض کیا ایک شخص بالوجہ حیض میں بیوی کو تین طلاق دفعتہ دے دے تو یہ مذاہب اربعہ بلکہ ظاہر یہ کے نزدیک بھی مغلظہ ہو کر واقع اور نافذ تو ہو جائے گی مگر کیا اس کا مجر وجواز ونفاذ اسے مستحسن یا اعتراض سے بالاتر بنادے گا؟ طلاق سے بھی واضح تر مثال نماز کی ہے۔ نماز با جماعت ہر مسلمان کی امامت میں ادا کرنا جائز ہے۔ اس پر پوری امت کا اتفاق واجماع ہے۔ ہر بر وفاجر کی اقتداء میں نماز کا جواز خود حدیث نبوی سے ثابت ہے،اس لیے اسے جائز ثابت کرنے کے لیے کسی فقیہ کا قول پیش کرنے کی حاجت نہیں ہے۔ حضرت عثمان نے اپنا گھیراؤ کرنے والوں کے پیچھے بھی نماز پڑھنے کی اجازت اہل مدینہ کو دے دی تھی۔مروان، حجاج اور یزید جیسے لوگوں کے پیچھے جلیل القدر صحابہ کرام نماز ادا کرتے تھے۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب امامتیں یکساں طور پر جائز ہیں؟ پھر تو ہمارےمفتی صاحبان کو چاہیے کہ صاف فتویٰ صادر فرمائیں کہ امامت صغری و امامت کبری کے لیے ہر کس و ناکس کو خلیفہ بنادینا یا ولی عہد تجویز کردینا بالکل جائز اور صحیح ہے۔
مدیر "البلاغ“ نے یزید کی ولی عہدی پر بحث کے دوران میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ محقق علماء کے نزدیک خلیفہ وقت تنہا اپنی مرضی سےکسی کو ولی عہد بنا دےتو یہ محض ایک تجویز ہےجسےامت کےاہل حل و عقد اسکی وفات کےبعد قبول بھی کر سکتےہیں اور رد بھی۔اس سےغالبا یہ تاثر دلانا مقصود ہےکہ جب یہ چیزمحض ایک ایسی تجویز وہدایت کی حیثیت رکھتی ہےجسےرڈ بھی کیا جا سکتا ہےتو پھر اسے محل اعتراض بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بہت سےمعاملات ایسےہوتےہیں جو اپنی نظری حیثیت میں تو بالکل سادہ و سہل دکھائی دیتےہیں لیکن ان کےعملی پہلو کے ساتھ بڑی مشکلات وابستہ ہوتی ہیں۔یہ بات مجھے بھی تسلیم ہے کہ ولی عہدی ایک تجویز ہے بلکہ اصول وقواعد شرعیہ کا تقاضا ہی یہی ہے کہ یہ تجویز ہی رہے اور اس کےرد و قبول کا اختیار امت مسلمہ کو حاصل رہے۔ لیکن جس شخصیت کو خلیفہ ایک مرتبہ آب و تاب کے ساتھ اپنے عروج اقتدار کے زمانے میں سب کے سامنے پیش کر دیتا ہے اور اس کے حق میں ولی عہدی کی بیعت لے لیتا ہے، اس کو پیچھے ہٹا کر کسی دوسرے اور موزوں تر شخص کو منصب خلافت پر فائز کرنا امت کے لیے عملاً نہایت دشوار ہو جاتا ہےاور پوری اسلامی تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی مشکل ہی سے ملےگی کہ کسی شخص کو ولی عہد بنائےجانے کےبعد پر امن اور شورائی و جمهوری طریق کےمطابق اسےتبدیل کر کےکسی دوسرےاہل تر شخص کو خلیفہ بنایا گیا ہو۔ نظر اعتبار سے ولی عہد تو در کنار با قاعدہ منتخب شدہ خلیفہ بھی قابل عزل ہے،لیکن اگر ایک نااہل فرد ایک مرتبہ امارت پر متمکن ہو جاتا ہے تواسے بھی معزول کرنا اور اس کی جگہ موزوں تر فرد کولا ناسخت مشکل بلکہ عملی طور پر محال ہو جاتا ہےیہی وجہ ہےکہ امت کےمحدثین اور ائمہ مجتہدین کی اکثریت نے ایسے فرد کی خلافت کو بر بنائے ضرورت اور انسداد فتنه و فساد کی غرض سےتسلیم کر لیا ہے اور افضل کی موجودگی میں بھی مفضول کی خلافت کوجائز سمجھا ہےبہر کیف ولی عہدی کی تجویز خواہ امت کےلیےواجب التعمیل ہو یا نہ ہو، یہ محض مقدس تمنا یالا طائل ، ہوا میں اڑ جانےوالی قرار داد نہیں ہے یہ دراصل وہ خشت اول ہے جو آنے والی خلافت کےلیے بنیاد کا کام دیتی ہے۔ اگر اس میں کنجی ہے تو آئندہ تعمیر کا صحیح بنیادوں پر اٹھایا جانا جوئے شیر کالا نا بلکہ موج خون کا سر پر سے گزارنا ہے، جیسا کہ حضرت حسین اور حضرت ابن زبیر کی شہادت ہمیں بتا رہی ہے۔
حضرت ابوبکر نےبلاشبہ حضرت عمرؓ کو بطور جانشین تجویز کیا اور حضرت عمر نےبھی مجلس مشاورت نامزد فرمائی۔مگر جیسا کہ میں واضح کرچکا ہوں،انہوں دمِ واپسیں اور حالت نزع کےوقت ایسا کیا اور اپنےکسی رشتہ دار کو تجویز نہیں کیاحضرت ابوبکر" کےالفاظ یہ تھےکہ یہ میرا آخری وقت ہےجب کہ ایک فاجر بھی تائب ہو جاتا ہے_١اور حضرت عمر کو جب آخر وقت میں امیر المومنین کہہ کر خطاب کیا گیا تو آپنےفرمایا کہ آج مجھے امیر المومنین مت کہو، آج میں امیر نہیں رہا۔ ظاہر ہےکہ اسوقت کی وصیت کو آخر اس ولی عہدی کے تقرر سے کیا مماثلت ہوسکتی ہے جبکہ انسان بموجب ارشاد نبوی صحیحا تیجا ہو، ہر کس و ناکس سے ولی عهدی کی بیعت لی جارہی ہو اور اسکےلینےایک شہر سےدوسرےشہر تک شد رحال کیا جارہا ہو؟ ان دونوں میں ظاهری و معنوی دونوں لحاظ سے بڑا فرق ہےحضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کے معاملےمیں اگرچه عہد یا استخلاف کا لفظ حدیث کی کتابوں میں آیا ہےلیکن ولایت عہد اور ولی العہد کی اصطلاح بعد میں مروج ہوئی اور "ولی عہدی“ ایک با قاعده استحقاقی و تربیچی منصب بن گئی۔
١-الصواعق المحرقه صفحه ۵۵ اور کنزل العمال و غیره میں حضرت ابوبکر"کےآخری الفاظ یوں منقول ہیں :هذا عهد أبي بكر في آخر عهده من الدنيا خارجا عنها وعند اول عهده بالآخرة داخلا فيها حيث يو من الكافر ويوقن الفاجر ويصدق الكاذب - - - - (یہ ابوبکر کی اس گھڑی کی وصیت ہے جبکہ اس کےدنیا سےجانےکا آخری وقت اور آخرت میں داخل ہونےکا اولین وقت ہے، جبکہ کافر بھی ایمان لےآتا ہے،فاجر کو بھی یقین ہو جاتا ہےاور جھوٹا بھی سچ بولنےلگتا ہے)شرح فقہ اکبر ملا علی قاری صفحہ پر بھی معمولی تغیر لفظی کےساتھ یہی وسیت منقول ہے۔
یزید کی ولی عہدی پربحث کرتے ہوئے مدیر "البلاغ" نےجو تنقیحات قائم کی تھیں،ان میں سےپہلی یہ تھی کہ ولی عہد بنانےکی شرعی حیثیت کیا ہے؟دوسری یہ تھی کہ یزید خلافت کا اہل تھایا نہیں؟لیکن دوسری تنقیح کوبحث میں لاتےوقت انہوں نےاسےاس عنوان میں بدل دیا ہےکہ کیاحضرت معاویہ یزید کو خلافت کا اہل سمجھتےتھے؟ حقیقت یہ ہے کہ یزید کا خلافت کےلیےاہل ہونا اور حضرت معاویہؓ کا اسےاپنی رائےمیں اہل سمجھ لینا،ان دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ حضرت معاویہؓ نےاہل حل و عقد کی رائےمعلوم کیےبغیر اپنے بیٹے کو اہل یا اہل ترین فرد سمجھ لیا ہوار فی الواقع وہ ناہل بلکہ نا اہل ترین شخص ہو؟ یہ بات پہلے واضح کی جا چکی ہےکہ جمہور امت کا مسلک یہ ہے کہ اگر ایک پیش رو خلیفہ کسی دوسرے کو اپنا جانشین یا ولی عہد تجویز کرنا چاہےتو اسےامت کےاہل ترین فرد کا انتخاب کرنا چاہیےجس میں جملہ شرائط خلافت بدرجہ اتم موجود ہوں اور یہ تجویز وانتخاب ارکان شوری کےمشورے سے ہونا چاہیے۔اس کے بعد ہی یہ امر متحقق ہو سکتا ہے کہ خلیفہ جس شخص کو نا مزد کرنا چاہتا ہے اور جسے وہ جانشینی کا اہل سمجھ رہا ہے، وہ امت اور اس کے مجاز نمائندوں کے نزدیک بھی اہل ہے یا نہیں۔ اگر خلیفہ کا تجویز کردہ شخص اس کا بیٹا ہو،تب تو ارباب حل و عقد کی منظوری اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ اور وہ اہل حل و عقد بھی شاہ ولی اللہ صاحب کےبقول جمعین شروط خلافت، یعنی ایسے افراد ہونے چاہئیں جو اپنے اندر پوری طرح شرائط خلافت کو جمع کیے ہوئے ہوں۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس بات کا قوی خدشہ ہےکہ بیٹےکی محبت باپ پر غالب آجائےاور اسکی قوت فیصلہ اورصوابدید کو متاثر کر دےاس میں کسی کی ذات پر یا نیت پر حملےکا کوئی سوال نہیں۔ کیا خدا کی کتاب اور اس کے نبی کے ارشادات اس پر بار بار شہادت نہیں دیتے کہ اولاد ہمارے لیےآزمائش ہےوہ ہمارے لیے مزین کر دی گئی ہے اور وہ ہمارے لیےخطرناک دشمن ثابت ہو سکتی ہے؟ کیا حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ایک مخلص مومن اور بدری صحابی ہونے کے باوجو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتہائی نازک اور اہم جنگی راز مشرکین پر محض اس لیےنہیں فاش کر بیٹھے تھے کہ ان کے اہل وعیال کو کوئی گزند نہ پہنچے۔
حق بات یہ ہےکہ یزید کا خلافت یا ولی عہدی کےلیےاہل یا اہل تر ہونا تو درکنار،اس کی نا اہلیت اور اس کا فسق و فجور ایک ایسی کھلی ہوئی تاریخی حقیقت ہےجس کا انکار محض مکابره ہے۔اگر وہ خلیفہ کا بیٹا نہ ہوتا تو وہ آخری شخص ہو سکتا تھا جسکی جانب کسی کی نگہ انتخاب اٹھ سکتی تھی۔لیکن خوش قسمتی یا بد قسمتی سے چونکہ وہ خلیفہ کا بیٹا تھا اور خلیفہ نے اسے اپنی نظر میں اہل سمجھ کر چن لیا تو اب اس خلف رشید کا فجور و تقویٰ گونا گوں بحث کا موضوع بن گیا۔بعض نےکہا وہ بڑا عابد و زاہد اور لائق وفائق تھا، اس کی عیاشی و بد اعمالی کی داستانیں محض افسانے ہیں ۔ بعض نے فرمایا کہ اس کے فق وفجور میں تو شک نہیں مگر وہ امیر معاویہ سے آخر دم تک مخفی رہ گیا یارکھا گیا۔ بعض نے کہا کہ ولی عہیدی کے وقت اسے والد محترم نے یا دوسرے بہی خواہوں نے سرزنش کی اور وہ مسُدھر گیا۔ اب مولا نا عثمانی صاحب نے فسق و فجور اور اصلاح و تقویٰ دونوں کے مابین یوں تطبیق و توفیق فرمادی کہ یزید ویسے تو بہت اچھا تھا مگر سانحہ کر بلانے اس کی شہرت کو داغدار کر دیا۔ گویا کہ حضرت حسین اور آپ کےبہتر (۷۲) ساتھیوں کا سنگدلانہ قتل شاید کسی گاڑی کا حادثہ تھا جو کسی بڑے ہی نیک دل اور بھلے مانس ڈرائیور کے ساتھ محض سوء اتفاق سے پیش آگیا اور اس کے آگے پیچھے اور گردو پیش کی فضا میں کوئی ایسے سلسلہ اسباب و واقعات کا وجود تک نہ تھا جس کا یزید ذمہ دار یا بانی ہو، اور یزید کے خصائل وسوابق سے جس کا کوئی واسطہ ہو۔ اگر یہی بات ہے تو پھر آپ بھی کھل کر کیوں نہیں کہ دیتےکہ حضرت حسین اور حضرت ابن زبیر کی روش اسےخروج کہیے،عدم بیعت کہیےنہ بیعت کہیے یا بغاوت وانتشار پسندی کیئے بالکل بے جواز اور قابل مواخذہ تھی؟ جب یزید صالح،طالب خیر اور نیکو کار تھا اور واقعہ کر بلاتک اس میں یہ سارے اوصاف اور نجابت وصلاحیت پائی جاتی تھی تو پھر مجر دواقعہ کربلا سےاس کی تصویر آخر کیوں مکروہ اور اس کی شہرت کیوں مجروح ہونے گی۔پھر تو سارا قصور حسین ہی کا تھا کہ انہوں نےیزید کے دست حق پرست پر فوراً بیعت نہ کر لی اور وہ راستہ اختیار کیا جس نےانہیں صحرائے کرب و بلا جا پہنچایا۔ اہلیت یزید کے حق میں اس استدلال کے بعد محمود عباسی صاحب اور اپنے موقف کے مابین جو باریک فرق آپ پیدا کر رہے ہیں، اس کی کوئی حقیقت واہمیت باقی نہیں رہتی۔
یزید کی صلاحیت و صلاحیت کےصالحیتجو دلائل وشواہد ”البلاغ میں دیئےگئے ہیں وہ بھی قابل دید و قابل داد ہیں۔ سب سے پہلے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت سعید بن عثمان نے یزید کی ولی عہدی پر اعتراض کیا تو حضرت معاویہؓ نےفرمایا کہ اگر فلاں میدان تم جیسےآدمیوں سےبھر جائےتو بھی یزید تم سےبہتر اور زیادہ محبوب ہوگا۔اب قطع نظر اس سےکہ یہ باپ کا بیٹےکےحق میں بیان ہےاس میں حضرت معاویہ نے بالکل واضح نہیں فرمایا کہ وہ کیا وجوہ و خصائص ہیں جن کی بنا پر یزید حضرت سعید سے زیادہ محبوب اور بہتر تھا۔اس کےبغیر آخر کیسےآپ کا یہ ارشاد اس معاملےمیں فیصلہ کن ہو سکتا ہےکہ آیا یزید فی الواقع اہل خلافت تھا۔ بیٹا باپ کو محبوب تو ہوتا ہی ہے۔
اس کے بعد عثمانی صاحب نے امیر معاویہؓ کی ایک دعا نقل کی ہے، اس میں بلاشبہ آپ کی یہ خواہش مذکور ہے کہ اگر یزید اس منصب کا اہل ہے تو اللہ اس کی ولایت کو پورا فرمادے، ورنہ اس کی روح قبض کرلے ۔ لیکن ان دعائیہ کلمات سے بھی یزید کی فضیلت واہمیت ثابت نہیں ہوتی بلکہ صرف،یہ ثابت ہوتا ہے کہ امیر معاویہ ا پنی رائےمیں نیک نیتی کےساتھ اسےایسا سمجھتےتھے لیکن یہ رائےجیسا کہ عرض کیا جا چکا غلطی اور مبالغے کے احتمال سے خالی نہیں ہوسکتی۔ بلاذری کا جو حوالہ نقل کیا گیا ہے،اس میں حضرت ابن عباس کا محض یہ قول منقول ہے کہ امیر معاویہ کا بیٹا ان کے صالح اہل خانہ میں سے ہے۔ میری سمجھ میں نہ آسکا کہ اس میں سے یزید کے فضائل و مناقب کہاں سےنکل آئے؟ کسی شخص کے من صالحی اهله ہونے سے یہ کیسے لازم آتا ہے کہ وہ پوری امت کی امامت وقیادت کےلیےبھی موزوں ہے؟ پھر یہاں اصلح کا صیغہ تفصیل بھی نہیں استعمال ہوا، گویا کہ مطلب یہ ہے کہ اس گھر میں جو اچھے لوگ ہیں، ان میں سے ایک یزید بھی ہے۔ اس کے بعد حضرت محمد بن حنفیہ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ میں نے یزید کونماز کا پابند اور خیر کا طالب پایا۔وہ فقہ کےمسائل پوچھتا ہےاور سنت کا پابند ہےحقیقت یہ ہےکہ محمد بن حنفیہ تھوڑا عرصہ جا کر شام میں یزید کے پاس ٹھہرے تھےاور جو کچھ آپ نےدیکھا وہ بیان کر دیا_١ لیکن بعض دوسرے حضرات،جن میں صحابہ کرام بھی شامل ہیں اور جو یزید کےحالات سےزیادہ واقف تھے، انہوں نے جو کچھ یزید کےبارے میں فرمایا ہےوہ اس سےبالکل مختلف ہے۔ مثلاً حضرت مقدام بن معدیکرب نے جوکچھ حضرت معاویہ کے سامنے فرمایا تھا، اسے میں مسند احمد اور سنن ابی داؤد کے حوالے سے پہلے نقل کر چکا ہوں۔ یہاں میں صرف اتنی بات پر اکتفا کرتا ہوں کہ نماز پڑھنا اور فقہ کے مسائل پوچھنا آج کل کے زمانے میں تو بلاشبہ بڑی نیکی کی علامت ہے، لیکن اس زمانے کا برے سے برا شخص بھی ان اعمال سےخالی نہ تھا۔ آخر عبد الملک بن مروان اور اس کا گورنر حجاج بھی تو دونوں نماز روزے کے پابند تھے اور فقہ کے مسائل پوچھتے بلکہ بتاتے تھے، حالانکہ اسی حجاج کے متعلق امام ترمذی، سنن،کتاب الفتن میں صحیح سند کے ساتھ ہشام بن حسان سے روایت کرتے ہیں کہ حجاج نے ایک لاکھ انسانوں کو مشکیں کس کے قتل کیا تھا۔
١- یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ محمد بن حنفیہ کا رویہ حضرات حسنین اور حضرت زین العابدین کے بارے میں بالعموم غیر ہمدردانہ اور سرد مہری کا رہا ہے۔ شاہ عبد العزیز صاحب نے تحفہ اثنا عشریه میں اس کی کچھ وضاحت کی ہے۔
مولانا عثمانی صاحب نے حضرت محمد بن حنفیہ کا قول تو ابن کثیر سے نقل کر دیا ہے لیکن اور متعدد اقوال جو یزید کے فاسق ہونے پر دلالت کرتے ہیں، ان سے صرف نظر کر لیا ہے اور اسی البدایہ میں ابن کثیر نے (جلد ۸ صفحہ ۲۳۲) پر خود اپنی جو رائے بیان کی ہے اسے بھی قابل اعتناء نہیں سمجھا۔ وہ فرماتے ہیں:
قلت يزيد بن معاوية اكثر مانقم عليه في عمله شرب الخمر وايتان بعض الفواحش فـامـا قتل الحسين فـانـه كما قال جده ابو سفيان يوم احدلم يامر بذالك ولم يسوه.
"میں کہتا ہوں کہ یزید بن معاویہ کےاعمال میں اکثرجو چیز نا پسند کی گئی ہےوہ اسکی شراب نوشی اورارتکاب فواحش تھی ۔ جہاں تک حضرت حسین کے قتل کا تعلق ہے تو یہ معاملہ بالکل ایسا ہی ہےجیسا کہ اس کے دادا ابوسفیان نےاحد کے دن کہا تھا کہ (مسلمانوں کے قتل اور مثلہ ) کا حکم اس نےنہیں دیا، مگر جو کچھ ہو وہ اس کے لیے باعث افسوس بھی نہیں ہے۔“
پھر عثمانی صاحب نے یزید کی شہرت کو خراب کرنے والا واقعہ صرف قتلِ حسین ہی بیان کیا ہے۔ معلوم نہیں اس کے بعد واقعۂ حرہ میں جو کچھ ہوا، اس کا بھی فستق یزید سے کچھ تعلق مولانا عثمانی صاحب کے خیال میں ہے یا نہیں یا اس میں بھی وہ یزید کو معذور اور حق بجانب ہی سمجھتے ہیں۔ اس واقعہ پر ابن کثیر نے اسی جلد کے صفحہ ۲۲۲ پر ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے:
وقد اخطأيزيد خطأ فاحشا في قوله لمسلم بن عبقة ان يبيح المدينة ثلاثة ايام وهذا خطأ كبير فاحش مع ما انضم الى ذالك من قتل خلق من الصحابة وابنائهم وقد تقدم انه قتل احسین و اصحابه على يدى بن زياد وقد وقع في هذه الثلاثة ايام من المفاسد العظيمه فى المدينة النبوية مالا يحد ولا يوصف ممالا يعلمه الا الله عز وجل وقد اراد بارسال مسلم بن عقبة توطيد سلطانه ملکه و دوام ايامه من غير منازع فعاقبه الله بنقيض قصده و حال بينه وبين مايشتهيه فقصمه الله قاسم الجبابره واخذه اخذ عزيز مقتدر وَكَذَالِكَ أَخُذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلَيْمٌ شَدِيد. (الآيه)
" یزید نے مسلم بن عقبہ کو یہ حکم دے کر خطائے عظیم کا ارتکاب کیا کہ وہ مدینہ کو تین دن کےلیے مباح قرار دے دے۔ یہ بہت بڑی فاحش غلطی تھی بالخصوص جبکہ اس طرح صحابہ کرام اور ان کی اولاد کی بڑی تعداد قتل کی گئی۔ پہلے بیان ہو چکا کہ اسی یزید نے حضرت حسین اور آپ کے رفقاء کو ابن زیاد کے ہاتھوں قتل کرایا۔ واقعہ حرہ کے ان تین دنوں میں مدینہ نبویہ میں ایسے مفاسد عظیمہ رونما ہوئے جو بے حد و حساب اور نا قابل بیان ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی انہیں جانتا ہےیزید نےچاہا تھاکہ مسلم بن عقبہ کو اس حرکت پرمامور کر کےاپنی بادشاہی کو مضبوط کرے، حکومت کو دوام عطا کرے اور کوئی اس کا مد مقابل نہ رہے۔ پس اللہ نےاس کے عزائم کو ناکام بنا دیا، اسے سزا دی اور اس کی خواہشات کے راستے میں حائل ہو گیا۔ پھر اللہ نے اسے ایسا چکنا چور کیا جیسا کہ وہ جابروں اور ظالموں کو کرتا ہے اور اسے ایسا پکڑا جیسا کہ زبردست اور طاقتور پکڑتا ہے۔ اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ آبادیوں کو گرفت میں لیتا ہے جب کہ وہ ظلم ڈھاتی ہیں۔ یقینا اس کی گرفت الم ناک اور سخت ہوتی ہے۔“
مولانا محمد تقی صاحب بار بار یہ کہتے ہیں کہ یزید کا فسق و فجور کسی قابل اعتماد روایت سے ثابت نہیں اور حضرت معاویہ نے اسے محبت پدری کی بنا پر ولی عہد نہیں بنایا تھا۔ حالانکہ ابن خلدون جنہوں نے اس ولی عہدی کو جائز و صحیح ثابت کرنے کی پوری کوشش کی ہے، انہوں نے بھی اس بحث کے دوران میں جابجا فسق یزید کو برملا سلیم کیا ہے، بلکہ ابن عربی جیسےلوگوں پر سخت نکیر کی ہے جو اسےفاسق کے بجائے عادل مان کر امام حسین کےموقف کو مجروح ومشکوک بناتے ہیں۔باقی جہاں تک جذبہ محبت کےکارفرما ہونےکا تعلق ہے، اس کا ثبوت ابن کثیر کی اس عبارت سےمل رہا ہے جو خود مدیر البلاغ “ نےاس بحث میں البدایہ، جلد ۸، صفحہ ۸۰ سے نقل کی ہے کہ امیر معاویہ کی رائے یہ تھی کہ "یزید خلافت کا اہل ہے اور یہ رائےباپ کی بیٹےسےشدید محبت کی وجہ سےتھی، نیز اس لیےتھی کہ وہ یزید میں دنیوی نجابت اور شہزادوں کی سی خصوصیات فنونِ جنگ سےواقفیت اور انتظام سلطنت کی صلاحیت دیکھتےتھے۔ لیکن اس بات کا آخر کون دعوی کر سکتا ہے کہ خلیفہ وقت کا بیٹا ہونے کے سوا دیگر صفات مذکورہ رکھنے والا کوئی دوسرا شخص موجود نہ تھا۔ اس لیے یزید پر نظر انتخاب مرکوز ہونے کی اصل وجہ حد اعتدال سے تجاوز محبت پدری تھی۔
یزید اور ولی عہدی یزید کےمسئلے پر جو کچھ علمائے سلف نے لکھا ہے، میں ان میں سے اب امام ابن حجر ہیتمی مکی کےچند اقتباسات پیش کرنا چاہتا ہوں جو ائمہ شافعیہ میں بلند مقام رکھتےہیں۔انکی دو کتابیں "الصواعق المحرقة فی الرد على اہل البدعة والزندقہ" اور "تطہیر الجنان واللسان عن الخطور و تفو و بنلب سیدنا معاویہ بن ابی سفیان"بہت مشہور ہیں۔ مدیر ” البلاغ" نےاپنےسلسلہ بحث میں ان کے حوالے جابجا دیے ہیں۔ عدالت صحابہ کی بحث میں ابن حجر کی جو عبارتیں انہوں نے نقل کی ہیں، ان کے متعلق تو انشاء اللہ آگے چل کر میں عرض کروں گا، یہاں میں اتنی بات واضح کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ مذکورہ بالا دونوں کتابیں اہل سنت کا عقیدہ و مسلک خوارج اہل تشیع کےبالمقابل پیش کرتی ہیں۔پہلی کتاب میں خلفائےراشدین کےمناقب و متاثر درج کیے گئےہیں اور ان کےخلاف اعتراضات کا رد کیا گیا ہےاور دوسری کتاب،جیسا کہ اسکا نام ہی بتا رہا ہےجو حضرت معاویہ کے فضائل پر مشتمل ہے اور مختصرات میں یہ ایک اہم تالیف ہے جو امیر معاویہ کے دفاع میں لکھی گئی ہے۔ اب اسی کتاب تظہیر الجنان کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
مزید محبته ليزيد اعمت عليه طريق الهدى وأوقعت الناس بعد مع ذلك الفاسق المارق في الردى، لكنه قضاء حتم وقدر انبرم. فسلب عقله الكامل وعمله الشامل ودهاء الذى كان يُضرب به المثل وزين له من يزيد حسن العمل وعدم الانحراف والخلل كل ذلك لما اشار اليه الصادق المصدوق صلى الله عليه وسلّم انه اذا اراد الله انفاذ أمره في سلب ذوى العقول عقولهم حتى ينفذ ما أراده تعالى. معاوية معذور فيما وقع فيه ليزيد لانه لم يثبت عنده نقص فيه بل كان يزيد يدس على ابيه من يحسن له حاله حتى اعتقد أنه اولى من ابناء بقية الصحابة كلهم فقدمة عليهم مصرحا بتلك الأولوية التي تخيلها ممن سلط عليه ليخسـنـهـا لـه واختياره للناس عن ذلك إنما هو لظن أنهم إنما كرهوا توليته لغير فسقه من حسد او نحوه. ( تطهير الجنان ص ۵۴ - مطبعه میمنه ، مصر ، ۱۳۰۷ھ)
" امیر معاویہ پر یزید کے غلبہ محبت نے طریق هدایت گم کر دیا اور اس فاسق و بے دین کےساتھ دوسرے لوگوں کو بھی ہلاکت میں ڈال دیا۔ لیکن قضا وقدر کی جو بات قطعی تھی وہ پوری ہو کر رہی۔پس آپ کی وہ ذہنی و عملی صلاحیت اور ضرب المثل مد برانہ قابلیت سلب کر لی گئی اور ان کےلیے یہ بات مزین کر دی گئی کہ یزید نیکو کار اور انحراف وخلل سے پاک ہے۔ یہ سب کچھ اس ارشاد نبوی کےمطابق ہوا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمادیا تھا کہ جب اللہ کی امر کو نافذ کرنا چاہتا ہےتو عقل والوں کی عقل چھن جاتی ہے حتی کہ اللہ اپنے ارادے کا نفاذ فرمادیتا ہے۔ پس معاویہ نے جو کچھ یزید کے لیے کیا وہ اس میں معذور تھے کیونکہ ان کے نزدیک اس میں کوئی نقص ثابت نہ تھا۔بلکہ یزید اپنےوالد کے پاس ایسےلوگوں کو گھسا دیتا تھا جو انکے سامنے اس کے کوائف کو اچھا بنا کر پیش کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ یقین کرنے لگے کہ یز ید صحابہ کرام کی موجود اولاد سےافضل ہےپس انہوں نےاس فضیلت کی تصریح کرتےہوئےیزید کو ان سب پر ترجیح دی اور یہ فضیلت کاتخیل ان لوگوں کا پیدا کردہ تھا جو امیر معاویہ پر مسلط کیےگئےتھےتا کہ وہ یزید کی اس افضلیت کو انکےلیے خوشنما بنا ئیں۔ امیر معاویہ کا یزید کو ولی عہد منتخب کرنا اس بنا پر تھا کہ ان کے گمان میں لوگ یزید کی ولی عہدی کو فسق کی وجہ سے نہیں بلکہ حسد وغیرہ کے باعث نا پسند کرتے تھے۔“
اب ایک طرف یزید کی وہ تصویر رکھیے جو عثمانی صاحب پیش کر رہے ہیں کہ اس کی سیرت واقعہ کربلا سے پہلےبالکل بےداغ تھی اور وہ ہر طرح خلافت کا اہل تھا،اوردوسری طرف ابن حجر کو دیکھیےکہ وہ یزید کی بےدینی اور مکاری و پر کاری اور امیر معاویہ کی مغلوبیت اور سادگی کو کس رنگ میں پیش کر رہےہیں؟ پھر عثمانی صاحب کہتے ہیں کہ سب لوگ یزید پر سو جان سے فدا تھے اور اس کے سوا کسی دوسرے کی خلافت کو چلنے نہ دیتے مگر ابن حجر فرماتے ہیں کہ لوگ حسد یا دوسرے اسباب کی بنا پر یزید کی ولی عہدی کو کسی طرح گوارا نہیں کرتے تھے جس کا توڑ کرنے کے لیے یزید نے اپنےمدح خوان امیر معاویہ پر سوار کر رکھے تھے!
اسی سلسلے میں اسی کتاب کے ص ۱۲۰ کا ایک اقتباس بھی دیکھئے:
الصحابة رضي الله عنهم كلهم عدول مجتهدون على الصواب الذي لا يجوز لأحد ان يعتقد غيره. لكنهم مع ذلك قد يقع من أحدهم مما لا يليق بمقامه فيعذر له بالنسبة اليه استخلاف معاوية يزيد فان مزيد محبة الولد زين له روية كما له واعمي عينه روية عيوبه التي هى أوضح من الشمس في رابعة النهار. فهذا بحسب كمال معاوية زلة يغفر الله له ولا يجوز التأسي به فيها فمن تأسى به فيها كب على منخريه في النار.
"صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب ایسے عادل، مجتہد اور راستی پر ہیں کہ کسی کےلیے جائز نہیں کہ وہ اس کے سوا کوئی اور عقیدہ رکھے۔لیکن اس کے باوجود ان سے ایسے عمل کا صدور ہو سکتا ہےجو ان کے مقام کے لائق نہ ہو کہ اس مقام کی نسبت سے اس پر عذر پیش کیا جا سکے، مثلاً معاویہ کا یزید کو جانشین بنانا۔ یقینا بیٹےکی محبت کی زیادتی نے اس کےکمال کو ان کےلیے مزین بنادیا اور اس کے وہ عیوب ان کی نگاہوں سےاوجھل ہو گئے جو دن چڑھے سوج سےبھی زیادہ تر واضح تھے۔ امیر معاویہ کےکمال کی نسبت سےیہ ایک لغزش ہے جسے اللہ بخش دے گا لیکن اس معاملہ میں ان کی تقلید جائز نہیں۔ پس جو ان کی اس میں پیروی کرے گاوہ اندھے منہ دوزخ میں جائے گا۔“
اننا فرقنا بينه وبن ولده واعطينا كلاما يسحقه لانا متعبدون بالأدلة من غير عصبية ولا علة لوكان الامر بالتعصب والمحاباة لما خالفنا معاوية في ولده الذي قال فيه لو لا هواى فيه لرأيت قصدى اى لهديت الى اوسط الأمور وأعدلها في استخلاف غيره
”ہم نے امیر معاویہ اور ان کےبیٹےکےدرمیان فرق ملحوظ رکھا ہےاور دونوں کے متعلق وہی بات کہی ہے جس کے وہ حقدار تھےکیونکہ ہم کسی تعصب و ناخوشی کےبغیر فقط دلائل کےپیرو ہیں۔اگر ہمارا معاملہ تعصب اور جانب داری پر مبنی ہوتا تو ہم معاویہ کے لڑکے کے بارے میں ان سےاختلاف نہ کرتے جس کے متعلق انہوں نے فرمایا تھا اگر مجھے اس سے محبت نہ ہوتی تو میں راہِ اعتدال پالیتا یعنی میں یزید کے بجائے کسی دوسرے کو جانشین بنا کر زیادہ بہتر اورمنصفانہ طریقہ اختیار کرتا"- انہی امام ابن حجر کی بعض تحریروں کے بل پر مدیر "البلاغ“ نے عدالت صحابہ کے متعلق جو اختراعی نظریہ و عقیدہ پیش کرنےکی کوشش کی ہے،اس پر آگےچل کر بحث ہوگی لیکن یزید کی ولی عہدی کےجواز پر اجماع امت کا جو فتولی مدیر موصوف دے رہے ہیں، اسے سامنے رکھتے ہوئےمیں فقط یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ ابن حجر کے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ امیر معاویہ نے فاسق و مارق بیٹے کی محبت میں آکر امت کر تباہی سے دوچار کیا اور جو شخص بعد میں ایسا کرے گا وہ منہ کے بل آگ میں گرے گا؟ پھر اس کے ساتھ یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ ابن حجر کوئی مجرد تاریخی بحث نہیں کر رہےہیں بلکہ ان کی کتاب کا موضوع ہی یہ ہےکہ حضرت معاویہ کےمناقب کا اثبات اور آپ کےمثالب کا ابطال کیا جائے اور معترضین کے شبہات واعتراضات سے گوں کےدلوں اور ان کی زبانوں کو پاک کیا جائے۔اس کے باوجود مولانا مودودی نے جو کچھ لکھا ہے اور جس پیرائے میں لکھا ہے، اس سے شدید تر اور واضح تر انداز میں ابن حجر نے لکھا ہے۔ اس کے صرف چند نمونے میں نے نقل کیے ہیں۔ اس کے بعد بھی مولانا عثمانی صاحب، مولانا مودودی کی جانب روئے سخن کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ امیر معاویہ نے یزید کو بیٹا ہونے کی وجہ سےمحبت میں آکر خلافت کےوہے نامزد کیا تھا وہ محکم وظلم کا ارتکاب کرتا ہے!
بعض حضرات اس حدیث سے بھی یزید کےمناقب امحامد ثابت کرنے کی کوشش کرتےہیں جو صحیح بخاری اور دیگر کتب میں غزوہ روم کےسلسلے میں وارد ہوئی ہے اور جس میں شرکائےغزوہ کو مغفرت کی بشارت دی گئی ہے۔بعض حضرات نے مجھ سےتقاضا کیا ہے کہ اس خوشخبری کے مفہوم پر بھی روشنی ڈالی جائےمیرے لیےاس، موضوع پر یہاں تفصیلی بحث ممکن نہیں ہے۔اگر اللہ نے کبھی مہلت عطا فرمائی تو پوری شرح وبسط کے ساتھ میں بعض متعلقہ مباحث پر گفتگو کروں گا۔ یہاں میں سیر دست شاہ ولی اللہ صائب کی شرح تراجم بخاری کا ایک اقتباس نقل کرتا ہوں جو مختصر ہونے کےباوجود جامع اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ کتاب الجہاد، باب ما قیل فی قتال الروم کے زیر عنوان فرماتے ہیں:
قوله مغفور لهم تمسك بعض الناس بهذا الحديث في نجاة يزيد لأنه كان من جملة هذا الجيش الثانى بل كان رأسهم رئيسهم على ما يشهد به التاريخ والصحيح أنه لا يثبت بهذا الحديث إلا كونه مغفورا له ما تقدم من ذبنه على هذه الغزوة لان الجهاد من الكفارات وشان الكفارات إزالة اثار الذنوب السابقة عليها لا الواقعة بعدها. نعم لو كان مع هذا الكلام أنه مغفور له إلى يوم القيامة دل على نجاته وليس ،فليس بل أمره مفوض الى الله تعالى فيما ارتكبه من القبائح بعد هذه الغزوة من قتل الحسين عليه السلام وتخريب المدينة والإصرار على شرب الخمر ان شاء عفا عنه وان شاء عذبه كما هو مطرد في حق سائر العصاة على ان الاحاديث الواردة فى شأن من استخف بالعترة الطاهرة والملحد في الحرم والمبدل للسنة تبقى مخصصات لهذا العموم لو فرض شموله لجميع الذنوب.
"مغفور لهم" کے ارشاد نبوی کو دلیل بنا کر بعض لوگوں نے یزید کی نجات پر استدلال کیا ہے کیونکہ وہ بھی اس دوسرےلشکر میں شامل بلکہ انکا سالار تھا جیسا کہ تاریخ گواہی دیتی ہے۔لیکن صحیح بات یہ ہےکہ اس حدیث سےصرف اتنی بات ثابت ہوتی ہےکہ اس غزوے سےپہلےکے گناہ جو یزید نے کیے تھے ، وہ بخشے گئے ۔ کیونکہ جہاد کفارات میں سےہےاور کفارات کا معاملہ یہ ہےکہ ان سےپہلےکے گناہ زائل ہوتے ہیں، نہ کہ بعد کے۔ہاں، اگر آنحضور کے کلام کےساتھ یہ الفاظ بھی ہوتے کہ اس کی مغفرت قیامت کےدن تک ہےتب وہ اس کی نجات پر دلالت کرتے اور اگر یہ الفاظ نہیں ہیں تو نجات پر دلالت بھی نہیں ہےبلکہ اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اس غزوے کے بعد جن قبائح کا ارتکاب اس نےکیا،یعنی حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا،مدینہ منورہ کو تباہ کیا اور شراب نوشی پر اصرار کیا ان پر اگر اللہ چاہے تو معاف کر دے اور چاہے تو عذاب دے جیسا کہ تمام عاصیوں کے بارے میں طے شدہ ہے۔ اور اگر اس کی شمولیت تمام گناہوں میں مان لی جائے تو تمام گنہگاروں کے متعلق جو عمومی اصول طے ہے ( کہ ان کی معافی اور سزا دونوں کا امکان ہے) یزید کے معاملے میں وہ عموم بھی باقی نہ رہے گا بلکہ اس میں وہ احادیث تهدید و تخصیص پیدا کر دیں گی جن میں اہل بیت کا استخفاف کرنے والوں، حرم میں الحاد کر نے والوں اور سنت میں رد و بدل کرنے والوں کو وعید ہے۔“
مزید ایک بات جس کی طرف اشارہ کر دینا مناسب ہے، وہ یہ ہے کہ جولوگ تاریخی روایات کا شدت سے انکار کرتے ہیں وہ بھی اس غزوے والی حدیث کو یزید پر منطبق کرتے ہوئے تاریخ کا سہارا لینے پر مجبور ہیں کیونکہ حدیث میں تو یزید کا ذکر خیر نہیں ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام لے کر بشارت نہیں فرمائی، مزید تفصیلات تاریخ ہی بتاتی ہے اور جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے اس میں کچھ اختلاف بھی منقول ہے کہ یزید لشکر میں تھا یا نہیں، تھا تو پہلے لشکر میں تھا یا دوسرے میں، اور کس حیثیت سے گیا تھایا بھیجا گیا تھا؟ خیر، یہ بحث تو اپنی جگہ پر ہے، مجھے جو کچھ کہنا تھا وہ یہ کہ جو حامیان یزید تاریخ کو دریا برد کرنا چاہتے ہیں، انہیں خسارے کا یہ پہلو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ کتب تاریخ کو کالے پانی میں غرق کر دینے کے بعد مجرد قرآن وحدیث سے یزید کے فضائل و مناقب کا استخراج بڑا دشوار ہو جائے گا ! کتاب وسنت ذکر یزید سے پاک ہے۔
اب میں آخر میں چاہتا ہوں کہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کی کتاب ”شہید کربلا" کےچند اقتباس بھی نقل کر دوں۔ مولانا موصوف کے فاضل فرزند کی نظر سے یہ کتاب ضرور گزر چکی ہوگی مگر دوسرے قارئین نے ممکن ہے کہ اس کا مطالعہ نہ کیا ہو۔ جناب مفتی صاحب کی عبارات مع عنوانات درج ذیل ہیں:
خلافت کا سلسلہ جب امیر معاویہ پر پہنچتا ہے تو خلافت راشدہ کا رنگ نہیں رہتا، ملوکیت کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ معاویہ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ زمانہ سخت فتنہ کا ہے، آپ اپنے بعد کےلیےکوئی ایسا انتظام کریں کہ مسلمانوں میں پھر تلوار نہ نکلے اور خلافت اسلامیہ پارہ پارہ ہونے سے بچ جائے۔باقتضاء حالات یہاں تک کوئی نا معقول یا غیر شرعی بات بھی نہ تھی۔ لیکن اس کےساتھ ہی آپ کےبیٹےیزید کا نام مابعد کی خلافت کےلیے پیش کیا جاتا ہے۔ کوفہ سے چالیس خوشامد پسند آتے ہیں یا بھیجے جاتے ہیں کہ معاویہ سے اس کی درخواست کریں کہ آپکے بعد آپ کےبیٹےیزید سےزیادہ کوئی قابل اور ملکی سیاست کاماہر نظر نہیں آتا،اس کےلیےبیعت خلافت لی جائےحضرت معاویہؓ کو شروع میں کچھ تامل بھی ہوتا ہےاپنےمخصوصین سےمشورہ کرتےہیں۔ان میں اختلاف ہوتا ہے، کوئی موافقت میں رائے دیتا ہے، کوئی مخالفت میں ۔یزید کا فسق و فجور بھی اس قوت تک نہیں کھلا تھا۔ بالآخر بیعت یزید کا قصد کر لیا جاتا ہے اور اسلام پر یہ پہلا حادثہ عظیم ہے کہ خلافتِ نبوت ملوکیت میں منتقل ہو جاتی ہے۔“
شام و عراق میں معلوم نہیں کس کس طرح خوشامد پسند لوگوں نے یزید کےلیےبیعت کا چر چا کیا اور یہ شہرت دی گئی کہ شام و عراق،کوفہ و بصرہ یزید کی بیعت پر متفق ہو گئےاب حجاز کی طرف رخ کیاگیاحضرت معاویہ کی طرف سے امیر مکہ ومدینہ کو اس کام کےلیےمامور کیا گیا۔مدینہ کا عامل مروان تھا۔اس نے خطبہ دیا اور لوگوں سےکہا کہ امیر المومنین معاویه،ابوبکر و عمر کی سنت کےمطابق یه چاہتےہیں کہ اپنےبعد کےلیے یزید کی خلافت پر بیعت لی جائے۔ عبدالرحمن ابن ابی بکر کھڑےہوئےاور کہا کہ یہ غلط ہے، یہ ابو بکر و عمر کی سنت نہیں، بلکہ کسری و قیصر کی سنت ہے۔ ابوبکر و عمر نے خلافت اپنی اولاد میں منتقل نہیں کی اور نہ اپنے کنبہ ورشتہ میں۔ حجاز کے عام مسلمانوں کی نظریں اہل بیت اطہار پر لگی ہوئی تھیں ، خصوصاً حضرت حسین بن علی پر،جن کو وہ بجاطور پر حضرت معاویہ کےبعد مستحق خلافت سمجھتے تھے۔ وہ اس میں حضرت حسینؓ ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ،عبد الرحمن بن ابی بکر ، عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عباس کی رائے کے منتظر تھے کہ وہ کیا کرتےہیں۔ان حضرات کےسامنےاول تو کتاب وسنت کا یہ اصول تھا کہ خلافت اسلامیہ خلافت نبوت ہے اس میں وراثت کا کچھ کام نہیں کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ ہو، بلکہ ضروری ہے کہ آزادانہ انتخاب سے خلیفہ کا تقرر کیا جائے۔ دوسرے یزید کے ذاتی حالات بھی اس کی اجازت نہ دیتے تھے کہ اس کو تمام ممالک اسلامیہ کا خلیفہ مان لیا جائے۔ان حضرات نے اس سازش کی مخالفت کی اور ان میں سے اکثر آخر دم تک مخالفت پر جمے رہے۔ اس حق گوئی اور حمایت حق کے نتیجہ میں مکہ ومدینہ میں دار درسن اور کوفه و کربلا میں قتل عام کے واقعات پیش آئے ۔“
١- جملہ عنوانات مفتی صاحب ہی کے تجویز فرمودہ ہیں۔
حضرت معاویہ حج کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ یہاں اوّل حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو بلایا اور فرمایا: ” اے ابن عم ! تم مجھ سے کہا کرتے تھے کہ مجھے ایک رات ایسی گزارنا پسند نہیں جس میں میرا کوئی امیر نہ ہو۔ میں نے اس امر کے پیش نظر اپنے بعد کے لیے یزید کی خلافت پر بیعت لے لی ہے کہ میرے بعد مسلمانوں میں افراتفری نہ پھیلے۔ سب مسلمان اس پر متفق ہو گئے ، تعجب ہے کہ آپ اختلاف کرتے ہیں، ہمیں آپ کو متنبہ کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے جمع شدہ نظم کو قتل نہ کریں اور فسادنہ پھیلائیں۔“
حضرت ابن عمرؓ نے حمد و ثناء کے بعد فرمایا:
آپ سے پہلے بھی خلفاء تھے اور ان کے بھی اولاد تھی۔ آپ کا بیٹا کچھ ان کے بیٹوں سےبہتر نہیں ہے۔ مگر انہوں نے اپنےبیٹوں کےلیےوہ رائے قائم نہیں کی جو آپ اپنےبیٹے کےلیے کر رہے ہیں، بلکہ انہوں نے مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو سامنےرکھا۔آپ مجھے تفریق ملت سےڈراتےہیں ،سو آپ یاد رکھیں کہ میں تفرقہ بین المسلین کا سبب ہرگز نہ بنوں گا۔میں مسلمانوں کا ایک فرد ہوں۔اگر سب مسلمان کسی راہ پر پڑ گئےتو میں بھی ان میں شامل رہوں گا۔“
"اس کے بعد عبد الرحمن بن ابی بکر سے اس معاملے میں گفتگو فرمائی۔ انہوں نے شدت سےانکار کیا کہ میں اس کو کبھی قبول نہیں کروں گا۔ پھر عبداللہ بن زبیر" کو بلا کر خطاب کیا، انہوں نے بھی ایسا ہی جواب دیا۔“
"اس کے بعد حضرت حسین بن علی اور عبداللہ بن زبیر وغیرہ جا کر معاویہ سے ملے اور ان سےکہا کہ آپ کے لیے یہ کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ آپ اپنے بیٹے یزید کے لیے بیعت پر اصرار کریں۔ ہم آپ کے سامنے تین صورتیں رکھتے ہیں جو آپ کے پیشروؤں کی سنت ہے:
ا۔ آپ وہ کام کریں جو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نےکیا کہ اپنےبعد کسی کو متعین نہیں فرمایا بلکہ مسلمانوں کی رائے عام پر چھوڑ دیا۔
۲۔ یا وہ کام کریں جو ابو بکر نے کیا کہ ایک ایسے شخص کا نام پیش کیا جو نہ ان کے خاندان کا ہے، نہ ان کا کوئی قریبی رشتہ دار ہے اور اس کی اہلیت پر بھی سب مسلمان متفق ہیں۔
٣۔ یا وہ صورت اختیار کریں جو حضرت عمرؓ نے کی کہ اپنے بعد کا معاملہ چھ آدمیوں پر دائر کر دیا۔
اس کے سوا ہم کوئی چوتھی صورت نہیں سمجھتے، نہ قبول کرنے کے لیے تیار ہیں مگر معاویہ کو اس پر اصرار رہا کہ اب تو یزید کے ہاتھ پر بیعت مکمل ہو چکی ہے۔ اس کی مخالفت آپ لوگوں کو جائز نہیں ہے۔
"شہید کربلا" دارالاشاعت ، مولوی مسافر خانہ، کراچی صفحه ۱۱ تا ۱۶
اب مولانا مودودی کی عبارتوں پر جس طرح کی حاشیه آرایی اور ان سے جس طرح کے نتائج کا اخراج مدیر البلاغ نے کیا ہے، اگر دوسرا شخص بھی وہی طریقہ اختیار کرے تو کہہ سکتا ہے کہ یزید کی بیعت ولایت عہد کےمعاملہ کو سازش اور امیر معاویہؓ کو خوشامد پسند قرار دینا نیت پر حملہ ہےجسکا حق کسی شخص کو نہیں دیا جا سکتا اور حضرت معاویہ کے متعلق یہ کہنا کہ وہ اپنے صاحبزادے اور اس کی/ولی عہدی کے حق میں پرو پیگنڈا کرتے تھے اور صحابہ کرام کو ڈراتے دھمکاتے تھے، ان پر بد عنوانیوں کا الزام ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ مولانا موصوف کی تحریر کو یہ معانی پہنانا اور ان سےیہ نتائج برآمد کرنا بالکل غلط ہےاور جو کچھ انہوں نے فی الاصل فرمایا ہے، وہ بالکل درست اور تاریخی تواتر سے ثابت ہے۔ البتہ میں مولانا محمد تقی صاحب سے ایک سوال ضرور کروں گا اور وہ یہ کہ جب مولانا مفتی محمد شفیع صاحب بھی حضرت حسینؓ،حضرت عبداللہ ابن عمر، حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہم کی یہ رائے بلا تنقید نقل کر رہے ہیں کہ کتاب وسنت کا اصول یہ ہے کہ خلافت اسلامیہ، خلافت نبوت ہے اور اس میں وراثت کا کچھ کام نہیں کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ ہو ارومفتی صاحب کے بقول یزید کو ولی عہد بنانا ایک سازش، خلافت اسلامیہ پر ایک حادثہ عظیمہ اور اسلام پر ایک حادثہ تھی تو پھر اس کے جواز پر اجماع امت کیسے ہو گیا جسے ثابت کرنے کی سعی "البلاغ "میں کی گئی ہے؟میں حیران ہوں کہ بیٹےاور یزید جیسےبیٹےکی ولی عہدی کےجواز پر اجماع کے بعد پھر آخر شیعہ حضرات کے نظریہ پر کیا اعتراض باقی رہ جاتا ہے۔ وہ بھی تو یہی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عم زاد اور داماد کو اپنا جانشین نامزد کر دیا اور پھر آگے اسی طرح باپ کے بعد بیٹے تک امامت منتقل ہوتی رہی-
شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا صاحب نےاوجز المسالک،شرح موطا امام مالک میں ترہ کےمظالم کی جو ہولناک تفصیل کتاب المیراث،واقعہ حرہ کی شرح میں بیان فرمائی ہے، ان کا پورا متن اور ترجمہ دینا موجب طوالت ہے، اس لیے میں یہاں اس کا مترجم خلاصہ پیش کرتا ہوں۔ فرماتے ہیں:
"یزید کا لشکر جو مدینے پر حملہ آور ہوا تھا، اس میں ستائیس ہزار سوار اور پندرہ ہزار پیادہ تھےتین دن تک قتل و غارت کا بازار گرم رہا۔ دو ہزار خواتین کی آبروریزی ہوئی۔ قریش وانصار کےساتھ سونمایاں افراد شہید ہوئے اور موالی عورتوں بچوں کے مقتولین کی تعداد دس ہزار تھی ۔ پھر ابن عقبہ نے لوگوں کو اس طرح بیعت پر مجبور کیا کہ وہ اس کے غلام ہیں، وہ چاہے تو ان کی جان بخش دے، چاہے تو قتل کر دے۔ حضرت سعید بن مسیب کا بخاری میں بیان ہے کہ اصحاب حدیبیہ میں سے کوئی نہ بچا۔ اہل مدینہ اول روز سےامارت یزید سے نفرت رکھتے تھےانہیں اس کےفسق و فجور،شراب نوشی،ارتکاب کہائر اور ہتک حرمات کی معلومات ملیں تو انہوں نےامارت ماننےسےانکار کر دیا۔ عبداللہ بن حنظلہ السیل فرماتے تھے کہ خدا کی قسم ہم یزید کے خلاف اس وقت اٹھے جب ہم ڈرنے لگے کہ ہم پر پتھروں کی بارش نہ ہو۔ یہ شخص امہات اولاد سے نکاح کرتا تھا،شراب پیتا تھا اور نماز کو ترک کر دیتا تھا۔ابن قتیبہ کا بیان ہے کہ حادثہ ترہ کے بعد کوئی بدری صحابی زندہ نہ رہا۔ ابن عقبہ نے یزید کولکھا کہ ہم نے دشمنوں کو تہ تیغ کر دیا ہے۔ جو سامنے آیا اسے قتل کیا، جو بھا گا اس کو جالیا اور جو زخمی ہوا اس کا کام بھی تمام کیا۔“
(اوجز المسالک، جلد ۵ طبع ۱۳۷۶، مکتبہ کو یہ سہارنپور )
یزید کی ولی عہدی کے مسئلےپر جناب محمد تقی صاحب عثمانی نے جو بحث کی تھی، میں نے اپنی تنقید میں اس کی کمزوریاں واضح کر دی تھیں، مگر وہ میری تردید میں دوبارہ لکھتے ہیں کہ ”مولانا مودودی صاحب سے ہمارا اختلاف یہ ہےکہ ان کےنزدیک یہ صرف رائےکی دیانتدارانہ غلطی نہیں تھی بلکہ اسکا محرک حضرت معاویہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کا ذاتی مفاد تھا۔افسوس کہ عثمانی صاحب ابھی تک لفظی نزاع اور مغالطےکےچکر سے نہ نکل سکے۔ میں پوچھتا ہوں کہ مولانا مودودی نے یہ بات کہاں لکھی ہے کہ یہ غلطی دیانت دارانہ نہیں تھی یہ دیانت دارانہ اور غیر دیانت دارانہ کی بحث آپ خواہ مخواہ پیدا کر رہے ہیں۔ کیا عالم واقعات میں ایسا ہونا غیر ممکن ہے کہ ایک انسان پر محبت پدری ایسی غالب و بالا دست ہو جائے کہ وہ نہایت دیانت داری سے اپنےبیٹےکو امت کا اہل ترین فرد شمار کرے حالانکہ فی الواقع وہ ناہل ترین ہو؟ اسی طرح محبت کے علاوہ بعض اوقات انسان کا مفاد اس کی رائے اور قوت فیصلہ کو اس طرح متاثر کر دیتا ہے کہ وہ ایک صریح غلط اقدام کر بیٹھتا ہےحالانکہ اپنے خیال اور نیت کےمطابق وہ ایک اچھا اور مفید کام کر رہا ہوتا ہےمولانا مودودی کا مدعا بس یہی ہےجس کی مزید وضاحت انہوں نےاسی مقام پر ان الفاظ میں کر دی ہےکہ یزید بجائےخود اس مرتبےکا آدمی نہ تھا کہ حضرت معاویہؓ کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے قطع نظر کرتےہوئےکوئی شخص یہ رائے قائم کرتا کہ حضرت معاویہ کےبعد امت کی سر براہی کےلیےوہ موزوں ترین آدمی ہےسمجھ میں نہیں آتا کہ سیدھی بات کو سمجھنے اور سیدھی طرح قبول کر لینےمیں کیا دشواری مانع ہے؟ یزید کے عیوب اور فسق و فجور جو بقول ابن حجر مکی کا شمس فی النہار واضح تھےوہ اگر اسکےوالد ماجد پر نہ کھل سکےتو اس کی وجہ سوائےاس کےاور کیا ہوسکتی ہےکہ بیٹےکی محبت اور اس کےمفاد کی فکر میں غلو حجاب بن کر درمیان میں حائل ہو گیا تھا۔ عثمانی صاحب نے یزید کی صالحیت و نجابت کی جو بلند بانگ شہادت دی ہے اس کی صحت وصداقت کا اندازہ کرنے کے لیے میں چند علماء کے اقوال مزید نقل کیے دیتا ہوں۔
مولانا عبدالحی فرنگی محلی لکھنوی سے ایک سوال یزید کے متعلق پوچھا گیا تھا کہ اس کے حق میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے۔ جواب میں وہ فرماتے ہیں:
"بعض لوگوں نے افراط سے کام لیا اور کہا کہ جب یزید با تفاق تمام مسلمانوں کا امیر بن گیا تو اس کی اطاعت امام حسین پر واجب تھی۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ مسلمانوں کا اتفاق اس کی امارت پر کب ہوا۔ صحابہ اور اولاد صحابہ کی ایک جماعت اس کی اطاعت سے خارج تھی اور جنہوں نے اس کی اطاعت قبول کی تھی جب انکو یزید کی شراب خوری ، ترک صلوۃ ، زنا اور محارم کے ساتھ حرام کاری کی حالت معلوم ہوئی تو مدینہ منورہ واپس آکر انہوں نےبیعت کو فسخ کر دیا۔ بعض کہتےہیں کہ یزید نےامام حسین کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، نہ اس امر پر وہ راضی تھا اور نہ قتل امام حسین واهل بیت کے بعد وہ خوش ہوا، حالانکہ یہ قول بھی باطل ہے۔ علامہ تفتازانی شرح عقائد نسفیہ میں لکھتےہیں:(ترجمه) حق بات یہ ہےکہ یزید امام حسین کی شہادت پرراضی تھا اور اس امرپر اسکا مسرور ہونا اور اہل بیت کی توہین کرنا معنا متواتر ہے اگر چہ اس کی تفصیلات درجہ آحاد میں ہیں۔بعض کہتےہیں کر قتل امام حسین گناہ کبیرہ ہےنہ کہ کفر، اور لعنت کفار کےلیےمخصوص ہے۔ان لوگوں کی فطانت و ذہانت کےکیا کہنے!ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ کفر تو ایک طرف، فقط ایذائے رسول الثقلین کے کیا نتائج ہوں گے؟
بعض نے کہا کہ یزید کے خاتمے کا حال معلوم نہیں۔ شاید کہ کفر و معصیت کےارتکاب کے بعد اس نے توبہ کر لی ہو اور اس پر اس کا خاتمہ ہوا ہو۔ امام غزائی کا میلان احیاء العلوم میں اسی طرف ہے۔گار مخفی نہ رہے کہ یہ تو بہ اور معاصی سے رجوع ایک احتمال ہے، ورنہ اس بد بخت نے اس امت میں جو کچھ کیا کسی نے نہ کیا۔ امام حسین واهل بیت کی اهانت اور قتل کےبعد اس نے اپنےلشکر کو مدینہ مطہرہ کی تخریب اور اہل مدینہ کے قتل کےلیےبھیجا۔واقعہ حرہ میں تین روز تک مسجد نبوی بے اذان و نماز رہی۔اس کے بعد مکہ معظمہ کی طرف لشکر روانہ ہوا جس کے نتیجے میں آخر کار حضرت عبداللہ بن زبیر عین حرم مکہ میں شہید ہوئے۔ یزید انہی مشاغل میں منہمک تھا کہ مر گیا اور جہاں کو اپنے وجود سے پاک کر گیا۔“
فتاوی مولا نا عبدالحی ، جلد سوم صفحه ۸ مطبع شوکت اسلام لکھنو ۱۳۰۹ھ۔
فتادی مولانا عبدالحی منوب ، صفحه ۷۹، فرآن محل ، مقابل مولوی مسافر خانہ، کراچی۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی اپنی تصنیف ” تکمیل الایمان میں جو کچھ فرماتے ہیں اس کا ترجمہ درج ذیل ہے:
"بعض علمائےسنت یزید کے معاملےمیں توقف سےکام لیتے ہیں۔مگر بعض غلو و افراط کی وجہ سے اسکی شان و منزلت کرنےبیٹھ جاتے ہیں اور کہتےہیں چونکہ وہ مسلمانوں کی اکثریت پر امیر مقرر ہوا تھا، امام حسین رضی اللہ عنہ پر ضروری تھا کہ ان کی اطاعت کرتے ۔ نعوذ بالله من هذا القول ومن هذا الاعتقاد یزید امام حسین کے ہوتے ہوئے امیر ہو کیسےسکتا ہےاور مسلمانوں کا اجماع اس پر کس طرح واجب آتا ہے، جب کہ اس وقت صحابہ کرام اور صحابہ کرام کی اولاد جو بھی موجود تھی،اس کی اطاعت سے بیزاری کا اعلان کر چکے تھے۔ مدینہ منورہ سےچند لوگ اس کےپاس شام میں جبر و اکراه سےپہنچائےگئےتھےمگر یزید کےناپسندیدہ اعمال کو دیکھ کر واپس مدینے چلےآئے اور عارضی بیعت کو فسخ کر دیا۔ ان لوگوں نے برملا کہا کہ وہ خدا کا دشمن ہے۔ شراب نوش ہے۔ تارک صلوۃ ہے، زانی ہے۔ فاسق ہے۔ محارم سے صحبت کرنے سے بھی باز نہیں آتا... ہماری رائے میں یزید مبغوض ترین انسان تھا۔ اس بدبخت نے جو کارہائے بد سر انجام دیئے ہیں، امت رسول میں سے کسی سے نہ ہو سکے... اللہ تعالیٰ ہمارے اور دوسرے اہل ایمان کے دلوں کو یزید کی محبت والفت ، اس کے مددگاروں اور معاونین کی موانست، اور ان تمام لوگوں کی دوستی .....جو اہل بیت نبوی کے بدخواہ رہے ہیں، ان کے حقوق کو پامال کرتے آئے ہیں اور ان کی محبت وصدق عقیدت سے محروم رہے ہیں ، ان کی الفت سے محفوظ و مامون رکھے ۔“
(تکمیل الایمان، مع حواشی مولانا احمد رضا خاں بریلوی، ترجمہ پیرزادہ اقبال احمد فاروقی صاحب صفحہ ۷۸ مکتبہ نبویہ، گنج بخش روڈ ، لاہور ۱۹۷ء)
"آپ نے اپنی جانشینی کےلیےجس شخصیت کو انتخاب کیا، وہ واقعی اس کے لیے موزوں نہ تھی اور یہ واقعہ ہے کہ خود امیر معاویہ بھی اسےموزوں نہ سمجھتےتھے۔امیر تو علیحدہ رہے خود یزید بھی اپنےحالات کو دیکھتے ہوئے اسےناممکن سمجھتا تھا۔چنانچہ سب سےپہلے یہ تجویز یزید کےسامنےپیش کی گئی تو اس نے تعجب سےپوچھا، کیا یمکن العمل ہے؟“
( تاریخ ملت، حصہ سوم صفحه ۵۵ ، ندوۃ المصنفین ، دہلی مطبع سوم ۱۹۵۰ء)
اب ایک طرف ان اکابر علماء اور دیگر ائمہ سلف کے اقوال ہیں جو یزید کی یہ تصویر کھینچ رہےہیں اور دوسری طرف ہمارے مولانا عثمانی صاحب ہیں جن کے نزدیک یزید کا فسق و فجور صحیح و ثابت نہیں اور امیر معاویہؓ نے اسے نیک نیتی کے ساتھ ولی عہدی کے لیے منتخب کر لیا تھا، اس لیے یہ انتخاب جائز تھا۔ پھر وہ مجھ سے یہ بھی پوچھتےہیں کہ حضرت معاویہؓ نے یہ فیصلہ نیک نیتی سےکیا تھا تو پھر مولانا مودودی کا یہ جملہ اس نیک نیتی میں کس طرح فٹ بیٹھتا ہے کہ یزید کی ولی عہدی کےلیےتحریک کسی صحیح جذبے کی بنیاد پر نہیں ہوئی تھی ۔ میں جوابا عثمانی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ ایک غلط کام اگر محض ” نیک نیتی کے ساتھ بالکل صحیح بنیاد پر اور ہر اعتراض سے بالا تر ہو جاتا ہے، اور مولانا مودودی کا جملہ کسی طرح آپ کے ذہنی فریم میں فٹ نہیں بیٹھتا،تو پھر مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کا یہ ارشاد کس طرح فٹ بیٹھتا ہے کہ " کو فہ سے چالیس خوشامد پسند بھیجےجاتے ہیں کہ معاویہ سےدرخواست کریں کہ آپ کے بعد آپ کےبیٹے یزید سےزیادہ کوئی قابل اور ملکی سیاست کا ماہر نظر نہیں آتا۔ بالآخر بیعت یزید کا قصد کر لیا جاتا ہے اور اسلام پر یہ پہلا حادثہ عظیم ہے کہ خلافت نبوت ملوکیت میں منتقل ہو جاتی ہے۔“
عثمانی صاحب اپنی جوابی بحث میں اپنےوالد ماجد کےاس ارشاد اور دوسرے بہت سےاقوال کو صاف نگل گئے ہیں مگر میں ان کی راہ فرار کو اپنی حد تک مسدود کرنے کےلیے کچھ مزید مواد سامنے رکھتا ہوں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی جن کی ایک کتاب کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے، ان کی ایک دوسری تصنیف ”ما ثبت بالسنة “ ہے جس کے عربی متن مع ترجمہ کی طباعت و اشاعت کا شرف ٦٦ه میں عثمانی صاحب کے برادر گرامی مولانا محمد رضی صاحب کو حاصل ہوا ہےاس مترجم کتاب کا نام "مومن کےماہ وسال“ ہےاس پر مقدمہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نےرقم فرمایا ہے جس میں فرماتے ہیں:
"اس اہم کتاب کے مصنف حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا نام نان ہی اس کے مستند و معتبر ہونے کی ضمانت ہے۔ اس میں روایات و حدیث کو جمع بھی کیا گیا ہےاور ان کے مستند یا غیر مستند ہونے کی تحقیق بھی کی گئی ہے۔ الحمد للہ برخوردار عزیز مولوی محمد رضی سلمہ نےاسے اپنےمکتبہ دارالاشاعت سے شائع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرما ئیں اور دین و دنیا میں سب کے لیے نافع بنائیں۔“
جناب محمد تقی عثمانی صاحب، البلاغ محرم ١٣٩١ه میں اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ہماری نظر میں یہ کتاب ہر مسلمان کے مطالعہ میں آنی چاہیے اور کوئی گھرانہ اس سے خالی نہ ہونا چاہیے۔ یہ کتاب بیک وقت اہل علم کے کام کی بھی ہے اور عام مسلمانوں کے لیے مفید بھی۔“
اب اس کتاب کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
اسی سال یعنی ۲۳ھ میں امیر معاویہ نے زیاد بن ابیہ کو اپنا نائب بنایا اور یہی وہ پہلا عمل ہےجس کے ذریعے سے احکامات رسالتمآب کی خلاف ورزی کی گئی ۔“ (صفحہ ۳۰)
"پھر امیر معاویہؓ نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو بلوا کر پہلے کی طرح ان سے بھی ( بیعت یزید کےلیے ) کہا۔ دوران حکم میں حضرت عبدالرحمن نے کہا کہ آپ کو گمان ہو گیا ہے کہ آپ کے بیٹے یزید کی ولی عہدی کے متعلق ہم لوگوں نےآپ کو اپنا وکیل و مختار بنا دیا ہےبخدا آپ کا یہ گمان بالکل باطل ہےہمارا مقصد یہ ہےکہ تمام مسلمان مجلس شوری میں کسی بات پر متفق ہو جائیں، ورنہ میں بتائےدیتا ہوں کہ تفرقہ اندازی کا بار آپ کے کندھوں پر ہوگا۔“ (صفحہ ۳۱) حضرت حسن بصری کا بیان ہے کہ لوگوں میں فتنہ و فساد کی آگ سلگانے والے صرف دو آدمی ہیں جن میں سے ایک عمرو بن عاص ہیں جنہوں نےامیر معاویہ کو نیزوں پر قرآن کریم اٹھانے کا مشورہ دیا اور قرآن کریم نیزوں پر اٹھائے گئے اور ابن الفراء کا قول ہے کہ خارجیوں کو انہوں نے ثالث بنایا تھا اور یہ وہ ثالث تھے جن کا چرچہ قیامت تک رہے گا۔
فسادیوں میں سےدوسرے شخص مغیرہ بن شعبہ ہیں جو کوفہ میں امیر معاویہ کےگورنر تھے،جن کےنام پر امیر معاویہ کایہ فرمان پہنچا تھا کہ اس حکمنامہ کی وصول یابی اور خواندگی کےبعد تم خود کو معزول سمجھو اور کوفہ سے فوراً ہمارے دربار میں حاضری دو۔ لیکن مغیرہ نےتعمیل حکم میں تعویق کی۔دربار میں پہنچنےپر امیر معاویہ نے تعویق کا سبب پوچھا تو جواب دیا کہ ایک معاملہ پیش تھا جسےسلجھانے اور مفید مطلب بنانے کی وجہ سے دیر ہوگئی۔ امیر معاویہ نے پوچھا کیا معاملہ تھا؟ مغیرہ نےجواب دیا: آپ کے بعد یزید کی بیعت کے لیے زمین ہموار کر رہا تھا۔دریافت کیا: آیا تم نےیہ پورا کر لیا ؟ جواب دیا جی ، ہاں۔ یہ سن کر امیر معاویہ نےکہا: اچھا اپنی گوارنری پر واپس جاؤ اور حسب سابق اپنےفرائض انجام دو۔ یہاں سےلوٹ کر مغیرہ جب اپنےاحباب کےپاس پہنچا تو انہوں نےپوچھا، بتاؤ کیسی رہی؟ مغیرہ نے کہا: ”میں نے معاویہ کےپاؤں اس ناواقفیت کے رکاب میں رکھ دیئے لے جس میں قیامت تک، وہ گرفتار رہیں گے ۔“ (صفحہ ۳۲ ۳۳)
"حقیقت حال یہ ہےکہ بد بخت و سرکش یزید ۲۵ یا ۲۶ھ میں پیدا ہواجسےاس کےوالد نےلوگوں کی ناپسندیدگی کےباوجود ولی عہد خلافت مقرر کیا۔ علامہ ذہبی کا بیان ہےکہ یزید نےباشندگان مدینہ کے ساتھ جو سختیاں کیں، وہ کیں۔لیکن اس کے ساتھ وہ شراب خور اور ممنوعہ اعمال کا مرتکب تھا۔ اسی سبب سے لوگ اس سےناراض تھے اور اس پر سب نے متفقہ طور پر چڑھائی کا ارادہ کیا۔ اللہ یزید کو غارت کرے۔ اس نے فوج حرہ مکہ معظمہ میں حضرت ابن زبیر سےجنگ کےلیےروانہ کی۔اس پر مقررہ سردار فوج مر گیا تو یزید نے دوسرا سر دار فوج مقرر کیا جس نےمکہ میں گھس کر حضرت ابن زبیر کا محاصرہ کیا۔ ان کے قتل کےلیےمنجنیق اور کرین کے ذریعےخوب سنگباری کی اور اس طرح ماہ صفر ۶ھ میں آگ کے شعلوں سےخانہ کعبہ کا غلاف خاکستر کیا اور خانہ کعبہ کی چھت جلا ڈالی" (صفحہ ۳۷)
اب میں دیانت و انصاف کا واسطہ دےکر سوال کرتا ہوں کہ شیخ عبدالحق محدث جود یارپاک دھند میں قدیم ترین محدثین و متقین کےگروہ میں سےہیں وہ اگر یہ سب باتیں برملا لکھ سکتےہیں اور عثمانی صاحب اور ان کا فاضل و معزز خانوادہ انہیں چھاپ کر پھیلا سکتا ہے؟ اس پر تقریظ و توثیق کا اضافہ فرما سکتا ہےاور ہر عالم و عامی کو یہ مشورہ دےسکتا ہےکہ کوئی مسلمان گھر اس کتاب سےخالی نہ رہنا چاہیے جس میں یہ لکھا ہے کہ فلاں وفلاں صحابی فتنے کی آگ بھڑ کانے والےتھےتو پھر مولانا مودودی نے اگر کچھ زیاد یا یزید یا امیر معاویہ حضرت مغیرہ آور حضرت عمرو بن العاص کےمتعلق نرم تر لہجےمیں کہہ دیا ہےاس پر یہ لوگ کیوں ہم سے دست وگریباں اورکف درد ہاں ہیں اور نت نئےگھناؤنےاور اشتعال انگیز الزامات گھڑ کر ہم پر لگا رہےہیں؟دوسروں کا تنکا بھی کھٹک رہا ہےمگر اپنا شہتیر بھی نظر نہیں آتا۔میں عثمانی صاحب کو اس بات کا بھی اطمینان دلاتا ہوں کہ آپ لوگوں کی شائع کردہ کتاب میں بھی ایسی باتیں موجود ہیں تو آپ کی جبین کو ہرگز عرق آلود نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہر مؤرخ جس نے ان واقعات پر کلام کیا ہے، اس نے تقریباً ایسا ہی لکھا ہے۔
١- یہ وضعت رجل معاوية في غرزعى كا ترجمہ ہے۔ اس فقرے میں ایک محاورہ استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ مولانا اقبال الدین احمد صاحب نے یوں کیا ہےکہ میں معاویہ کا ماڈل دلدل میں پھنسا آیا ہوں۔ ملاحظہ ہو تاریخ الخلفاء امام سیوطی مترجم بنفیس اکیڈمی کراچی صفحه ۲۳۶
مثال کےطور پر آپ مولانا اکبر شاہ خاں صاحب اور انکی تاریخ اسلام کو لیجئےاس ضخیم کتاب کے چھ ایڈیشن صرف پاکستان میں اب تک چھپ چکے ہیں۔ آخری مرتبہ نفیس اکیڈیمی،کراچی نے اسے ۱۹۶۶ء میں شائع کیا ہے۔اس کی چند عبارتیں ملاحظه ہوں جو جلد دوم طبع چہارم ۱۹۲۰ء سےماخوذ ہیں۔اس کے صفحہ ۳۵ تا۳۹ میں یزید کی ولی عہدی کے زیر عنوان مصنف نےمفصل رو داد بیان کی ہے کہ کن تدابیر سےیہ ولی عہدی تکمیل پذیر ہوئی۔ ایک مقام پر حضرت مغیرہ کا انہوں نے وہی واقعہ نقل کیا ہے جو شیخ عبدالحق دہلوی نے لکھا ہے اور جو خلافت و ملوکیت میں بھی درج ہے۔ آگے چل کرا کبرشاہ خاں صاحب لکھتے ہیں:
"حضرت معاویہ کا اپنی زندگی میں یزید کے لیے بیعت لینا ایک سخت غلطی تھی۔ یہ غلطی غالباً محبت پدری کے سبب ان سے سرزد ہوئی۔ لیکن مغیره بن شعبه کی غلطی ان سے بھی بڑی ہے کیونکہ اس غلطی کا خیال اور اس پر مائل ہونےکی جرات مغیرہ بن شعبہ ہی کی تحریک کا نتیجہ تھا۔اسی لیےحسن بصری نےفرمایا ہےکہ "مغیرہ بن شعبہ نے مسلمانوں میں ایک ایسی رسم جاری ہونے کا موقع پیدا کر دیا جس سے مشورہ جاتا رہا اور باپ کے بعد بیٹا بادشاہ ہونے لگا۔“
( تاریخ اسلام، جلد دوم صفحه ۵۶)
آگے "یزیدی سلطنت پر ایک نظر“ کے زیر عنوان لکھتے ہیں:
اس دور کے عوام کے جذبات اور یزید کے کیرکٹر کا اندازہ اس سے کیجئے کہ حضرت امیر معاویہ نے اپنے عمال کے نام ایک عام حکم جاری کیا کہ لوگوں سے یزید کی خوبیاں بیان کرو اور اپنےاپنے علاقوں کے بااثر لوگوں کا ایک وفد میرے پاس بھیجو کہ میں بیعت یزید کے متعلق لوگوں سے خود بھی گفتگو کروں۔ چنانچہ ہر صوبے سے جو وفد آیا امیر معاویہ نے ان سے الگ الگ گفتگو کی جس میں خلفاء کے فرائض و حقوق، حکام کی اطاعت اور عوام کے فرائض بیان کر کے اور یزید کی شجاعت، سخاوت، عقل وتدبیر اور انتظامی قابلیت کا تذکرہ کر کے خواہش ظاہر کی کہ اس کی ولی عہدی پر بیعت کر لینی چاہیے لیکن اس کے جواب میں مدینہ کے وفد کے ایک رکن محمد بن عمرو بن حزم نےکھڑے ہو کر کہا: "امیر المومنین ، آپ یزید کو خلیفہ تو بناتے ہیں لیکن ذرا اس بات پر بھی خیال فرما لیں کہ قیامت کے دن آپ کو اپنے اس فعل کا خدا تعالیٰ کی جناب میں جواب دہ ہونا پڑے گا۔‘محمد بن عمرو بن حزم کے ان الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام بھی یزید کی خلافت سے خوش نہ تھے اور اس کی خلافت کے جوئے کو اپنی گردن پر رکھنے کے لیے تیار نہ تھے۔ خود آخر وقت میں امیر معاویہ کےسامنے یزید نے جس قسم کی سرکشی کا اظہار کیا تھا، اس سے بھی اس پر روشنی پڑتی ہے کہ وہ کہاں تک خلافت کا اہل تھا۔" (کتاب مذکور ، صفحہ ۹۳-۹۴)
اس بحث کا خاتمہ مولانا نجیب آبادی نے ان الفاظ کے ساتھ کیا ہے:
"یزید نےاپنی عملی زندگی کا جو نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کیا، اس میں چونکہ فسق و فجور اور خلاف احکام شرع اعمال بھی تھےلہذا عام طور پر مسلمانوں کی مذہبی خصوصیات اور عملی زندگی کو نقصان پہنچا اور ضعیف الایمان لوگ گناہوں کےارتکاب میں شاہی نمونہ دیکھ کر دلیر ہو گئے۔یزید ہی کےبدنمانمونہ نے مسلمانوں کو گانے بجانےاور شراب پینےکی بھی ترغیب دی، ورنہ اس سےپہلےعالم اسلام ان خرابیوں سے بالکل پاک تھا۔“
مولانا زین العابدین میرٹھی اپنی تاریخ ملت حصہ سوم مطبوع ندوہ المصنفین،دلی طبع سوم ۱۹۵۰ء کے صفحہ ۳۸ تا ۴۶ میں بھی یزید کی ولی عہدی پر مفصل تنقید کی ہے۔ اس میں محمد بن حزم کےعلاوہ متعدد دوسرے اصحاب کا احتجاج مذکور ہے۔ بصرہ کے وفد احنف بن قیس کا قول یوں درج ہے:
”اے امیر المؤمنین معاملہ پر بیچ ہے۔ اگر سچ بولتے ہیں تو آپ کا ڈر ہے اور اگر جھوٹ بولتے ہیں تو خدا کا خوف ہے۔ آپ خود یزید کے دن اور رات کے مشاغل اور اس کے خفیہ و علانیہ افعال سے زیادہ واقف ہیں۔“
اسی کتاب میں حسن بصری کا وہی مقولہ اسی مقام پر منقول ہےکہ دواشخاص نےفسادریزی کی۔ ایک عمرو بن عاص ہیں اور دوسرے فتنه انگیز مغیرہ بن شعبه ہیں ۔“
بہر حال اس غلط خیال کی تردید ضروری ہے کہ ساری خرابیاں یزید میں حضرت معاویہؓ کی وفات کے بعد پیدا ہوئیں یا بعض پہلے تھیں مگر مخفی تھیں۔ میں سنن ابی داؤد سے وہ روایت پہلے نقل کر چکا ہوں جس میں بیان ہے کہ حضرت مقدام نے جب امیر معاویہ کوٹو کا کہ آپ کا لڑکا خلاف شرع حرکات کرتا ہے تو آپ اس کی تردید نہ کر سکے اگر یزید ایسا منہ زور تھا اور امیر معاویہ اس کی اصلاح سے معذور تھےتو ایسے شخص کو ولی عہد بنادینا کسی لحاظ سے صحیح اور مناسب نہ تھا۔ بعض روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ امیر معاویہ نے اسے بری عادات پر سرزنش کی۔ اس سے بھی یہ تو ثابت ہو گیا کہ اس میں برائیاں موجود تھیں جو امیر معاویہ کے علم میں آئیں۔ اب اس ساری صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے اگر یزید کی ولی عہدی پر اعتراض ہو تو ہر معترض کا منہ محض اس فقرے سے کیسےبند کیا جا سکتا ہے کہ امیر معاویہ نے جو کچھ کیا نیک نیتی سے کیا۔ اور ان کی نیت پر حملہ روا نہیں۔
یہ عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کو فقط یہ فقرہ بہت چھ رہا ہے کہ ولی عہدی یزید کی تحریک صحیح جذبے پر مبنی نہ تھی بلکہ ذاتی مفاد سے پیدا ہوئی ، انہیں حیلہ مگر مخادعہ اور اس طرح کے دوسرے متعدد الفاظ کبھی نہیں کھنکے جو اکثر ائمہ مورخین نے تحکیم وغیرہ کے مباحث میں بار بار استعمال کیے ہیں۔ کیا پہ سب لوگ صحابہ کرام کے حفظ مراتب سے بے بہرہ و نا آشنا تھے اور آج پہلی مرتبہ کچھ حضرات نےتعظیم صحابہ کا عقیدہ اختراع کر کےاس کی اجارہ داری لے لی ہے۔میں پہلےبیان کر چکا ہوں کہ امام ابن حجر المکی اہیتمی نے اپنی کتاب تطهیر الجنان ولسان خاص طور پر امیر معاویہ کےبیان مناقب اور ردّ مطاعن پر لکھی ہےاور ہمارےمعترض امام موصوف کے حوالے بہت دیتے ہیں۔ اس کتاب کے دو مزید حوالے میں نقل کرتا ہوں۔ الفصل الثالث کے شروع میں وہ امیر معاویہ کے متعلق تحریر کرتےہیں:
حارب الخليفة الحقَّ الذى معه اكثر الصحابة وقاتله، بل واحتال عليه حتى خلع نفســه بــخــلــع نائبه له عند تحکیم ابى موسى الاشعرى وعمر وبن العاص.
"امیر معاویہ نےاس خلیفہ برحق سے جنگ کی جس کےساتھ اکثر صحابہ کرام تھےبلکہ اس خلیفه برحق ( حضرت علیؓ) کےخلاف حیلہ بازی کی یہاں تک کہ حضرت ابو موسی اشعری اور عمرو بن العاص کی ثالثی کے وقت جب حضرت علیؓ کے نائب حضرت موسیٰ نےحضرت علی کی معزولی کا اعلان کیا تو امیر معاویہؓ نےخود بھی حضرت علی کو معزول ٹھہرا دیا "۔
آگے چل کر پھر ابن حجر واقعہ تحکیم بیان کرتے ہوئے احتیال (حیلہ بازی) کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص کےمقابلےمیں حضرت ابو موسیٰ سادہ لوح (غرا بالأمور ) تھے، اس لیے حضرت عمر کی سیاست ان پر غالب آئی۔ مزید لکھتے ہیں :
ولاجل هذا الخداع لم يعتد على واصحابه بذالک الخلع ولابتلک التولية واجروا الامور على ما كانت عليه قبل التحكيم.
"اس فریب کاری کی وجہ سے علی اور ان کے ساتھیوں نے اس معزولی کی کوئی پروانہ کی اور نہ حضرت عمرہ کےاس فیصلے کو خاطر میں لائےجس کا مقصد امیر معاویہ کو خلیفہ بنانا تھا۔ بلکہ حضرت علی اور ان کے رفقاء اپنے معاملات اور امور خلافت کو اسی طرح سرانجام دیتے رہے جیسے کہ تحکیم سےپہلے دے رہے تھے۔“
( تطہیر الجنان صفحه ۵۴، متبه القاهره، ۱۳۸۵)
اگر ان الفاظ اور اس انداز بیان سے صحابہ کرام کی نیت پر حملہ نہیں ہوتا اور ان کی شان میں گستاخی نہیں ہوتی تو مولانا مودودی کے الفاظ سے ان جرائم کا ارتکاب کیسے ہو جاتا ہے؟ یا پھر یہ بھی تسلیم کر لیجئے کہ ابن حجر بھی ایسے بے ادب، اور تکریم صحابہ کے تصور سے عاری و نابلد تھے کہ دوسروں کو قلب و لسان کی تطہیر کا سبق دیتے دیتے خود وہ صحابہ کرام کی توہین کے مرتکب ہو بیٹھے!
| کتاب | خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |