خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ

باب دوم

باب دوم

مسئلہ دیت

دیت کے مسئلے میں ” خلافت و ملوکیت" میں جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ درج ذیل ہے:

"حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ دیت کے معاملے میں بھی حضرت معاویہ نے سُنت کو بدل دیا۔ سنت یہ تھی کہ معاہد کی دیت مسلمانوں کےبرابر ہوگی ، مگر حضرت معاویہؓ نے اس کو نصف کر دیا اور باقی نصف خود لینی شروع کر دی۔“

مدیر البلاغ اس پر ان الفاظ میں اعتراض کرتے ہیں:

اول تو خط کشیدہ جملہ نہ حافظ ابن کثیر کا ہے، نہ امام زہری کا،بلکہ یہ خود مولانا مودودی کا ہے۔ یہ نشان دہی ہم نے اس لیے کی ہے کہ مولانا کی عبارت سے صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جملہ حافظ ابن کثیر کا ہے۔ البدایہ والنہایہ کی اصل عبارت یہ ہے: و بــه قــال الـذهـرى ومضت السنة أن دية المعاهد كدية المسلم وكان معاوية أول من قصرها الى النصف وأخذ النصف لنفسه مذکوره مندہی سےامام زہری کا یہ قول ہم تک پہنچا ہے کہ: سنت یہ چلی آرہی تھی کہ معاہد کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہوگی اور حضرت معاویہ پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے اسے کم کر کے نصف کردیا اور نصف اپنے واسطے لے لی ۔“

یہ بحث بالکل غیر متعلق اور لاطائل ہے کہ بہ قال کا مفہوم یہاں کیا ہے اور جو قول مولانا مودودی نے نقل کیا ہے، وہ حافظ ابن کثیر کا اپنا قول ہے یا وہ اسے امام زہری سے نقل کر رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ امام زہری ابن کثیر سے فائق و متقدم ہیں، اس لیے اگر یہ امام زہری کا قول ہے تو اور بھی زیادہ محکم اور لائق اعتناء ہے۔ بہر کیف نفس مسئلہ پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ قائل خواہ ابن کثیر ہوں یا امام زہری، قول یہی بیان ہوا ہے کہ پہلے سے یہ سنت چلی آرہی تھی کہ معاہد کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہو لیکن امیر معاویہ نے اسے نصف کر دیا اور باقی نصف خود لینی شروع کر دی اور ابن کثیر بھی اس قول کے ناقل تو ضرور ہیں، اس لیے اگر مولانا نے یہ لکھ دیا کہ حافظ ابن کثیر کہتے ہیں تو غلط نہیں لکھ دیا۔

اپنے یا بیت المال کے لیے

تو ریث من الکافر والے معاملے کی طرح پھر موصوف یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ امیر معاویہؓ کا یہ فعل سنت میں تبدیلی نہیں، بلکہ سنت ہی کی ایک صورت ہے۔ انہوں نے اپنے حق میں استدلال کرتے ہوئے پہلی بات جو کہی ہےوہ یہ ہےکہ اخذ النصف لنفسہ کےبالمقابل سن بیہقی میں امام زہری کےیہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ القى النصف فی بیت المال۔ اس لیے لنفسم سے مراد بھی بیت المال کے لیے دیت لینا ہے، نہ کہ اپنے ذاتی استعمال کے لیے۔ لیکن یہ مسئلہ اتنا سادہ اور اس کی توجیه اتنی آسان نہیں جیسا کہ عثمانی صاحب یا بعض دوسرے حضرات نے سمجھا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مورخین نے دوسرے مقامات پر بھی امیر معاویہؓ اور دوسرے بنو امیہ کے عائد کردہ غنائم و حاصل کے لیے دونوں طرح کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ایک ہی واقعہ میں کہیں لبیت المال کا لفظ ۔ اب اگر بیت المال کی پوزیشن فی الواقع امیر معاویہ اور آپ کے جانشینوں کے زمانے میں وہی ہوتی جو عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں تھی ،تب تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ ہر جگہ لنفسہ سےمراد لبيت مال المسلمین ہے۔لیکن بیت المال اگر ذاتی اور سیاسی مقاصد و اغراض کےلیےبلا تامل اور بے دریغ استعمال ہونے لگے، فرمانروا کےصرف خاص اور قوم کےبیت المال میں عملاً کوئی فرق نہ رہے، اور مسلمانوں کا امیر بیت المال کےآمد وخرچ اور حساب کتاب کے معاملے میں مسلمانوں کے سامنے جواب دہ نہ رہے، تو پھر صورت حال الٹ جاتی ہے۔ اس صورت میں اخــذ لبيت المال بھی اخذ لنفسہ بن کر رہ جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس تو بہت بالا و برتر ہے کہ آپ لا اسئلکم علیه اجرا اور ولا نُورَت کے منصب پر فائز تھے۔لیکن آپ کے خلفائے راشدین کےبارے میں بھی تاریخ یہ بتاتی ہےکہ حضرت عثمان کے ماسوا جنہوں نے بیت المال سے کوئی معاوضہ ہی نہیں لیا ، دوسرے خلفاء کے معمولی مشاہرے مقرر تھےجن پر وہ بعسرت زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے ذاتی مصارف پر بیت المال کا ایک جبہ بھی خرچ نہ کر تے تھے۔ حضرت علی کےپاس وفات کےوقت صرف سات سو درہم تھے۔ اور شیخین نے تو اپنی تنخواہ بھی بیت المال میں لوٹا دینے کی وصیت فرمائی تھی۔ پھر ان کے زمانے میں ہر مسلمان کو بیت المال کے آمد و صرف پر محاسبہ کرنے کا حق تھا۔ امیر معاویہ کے متعلق جو تفصیلات ملتی ہیں، وہ ان سےبالکل مختلف ہیں۔ کیا اس بات سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ خلیفہ بنے سے پہلے ہی حضرت علی کےبالمقابل ، و و شامی بیت المال پر علی الاطلاق قابض و متصرف تھے؟ حالانکہ اس کی حیثیت مرکزی بیت المال کی ایشن کی تھی۔ پھر کیا کوئی شخص بتا سکتا ہے کہ ان کے عہد خلافت میں خلیفہ کےلیےایک مشاہرہ متعین کر دیا گیا ہو اور بیت المال کے مصارف ان کے ذاتی مصارف سے بالکل الگ رکھے گئے ہوں؟ اور کیا ان کے زمانے میں بھی کوئی مسلمان بیت المال کا حساب ان سے مانگ سکتا تھا؟ اس کے بعد جو حضرات لبیت المال کے الفاظ کو نفسم کے الفاظ سے مختلف معنی پر محمول کرتے ہیں ان کے استدلال میں کوئی اور زور باقی نہیں رہتا۔

اصل نوعیت اعتراض

مدیر ”البلاغ" کے استدلال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ معاہد کی دیت کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف روایتیں مروی ہیں، اس لیے یہ مسئلہ عہد صحابہ سے مختلف فیہ چلا آرہا ہےکہ معاہد کی دیت مسلم کی دیت کے برابر ہو یا کم ہو۔ امیر معاویہ نے اپنے فقہی اجتہاد کی بنا پر متعارض احادیث و آثار میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ آدھی دیت آپ نے ذمی کے وارثوں کو دلوائی اور آدھی بیت المال میں داخل کر دی۔

میں نے جہاں تک غور کیا ہے،امیر معاویہ کا یہ اجتہاد فی نفسہ نصوص کتاب وسنت کےخلاف ہے اور اس سے احادیث مختلفہ میں توفیق وتطبیق کی بھی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی۔سب سےپہلے قرآن مجید سےرجوع کیا جائے تو وہاں سورہ نساء، آیت ۹۲ میں مومن اور کافر معاہد، دونوں کےقتل خطا کے معاملہ میں دِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ کے الفاظ وارد ہوئے۔ قرآنی الفاظ کی مماثلت اور مساوات دیت کی روایات ( مثلا دية ذمى دية مسلم، تتكافاء دماؤهم وغیرہ) صحابہ و تابعین اور فقہاء مجتہدین کےاسی مسلک کی تائید کرتی ہیں کہ دونوں دیتیں برابر ہیں، اور امام سرخسی کے قول کےمطابق اس کے خلاف آثار پایہ صحت کو نہیں پہنچتے ۔ تاہم اس امر سے انکار نہیں کہ اس مسلک کےخلاف بھی روایات و آثار موجود ہیں، اس لیے بعض مذاہب فقیہہ نےکافر معاہد کی دیت کو مسلم کی دیت کا نصف یا ایک تہائی قرار دیا ہے اور ان مذاہب میں اسی کے مطابق عمل ہوتا رہا ہے۔ لیکن قرآن مجید میں مسلم اور معاہد دونوں کی دیت کےمتعلق مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ كے الفاظ استعمال ہوئےہیں،جس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کی دیت ہو یا کافر معاہد کی ، بہر حال وہ پوری کی پوری مقتول کے اہلِ خاندان کے حوالےکر دی جائےقرآن کا ارشاد اس معاملےمیں بالکل ناطق اور صریح ہےجس میں اس تاویل کی قطعاً گنجائش نہیں کہ دیت مقررہ کا کوئی حصہ مقتول کے وارثوں کےبجائے کسی دوسرے کے پاس جائے۔ مُسَلَّمَةٌ الی اھلہ کے الفاظ میں الی امیر المومنین یا الی بیت المال کا مفہوم آخر کس طرح داخل ہوسکتا ہے؟ اور اگر کسی تاویل یا کسی مصلحت کی رُو سے معاہد کی دیت کا کوئی حصہ مسلمانوں کے بیت المال میں جاسکتا ہے، تو پھر مسلمان کی دیت کا کوئی حصہ کیوں نہیں جاسکتا؟


١- ومانقلوا فيه من الآثار بخلاف هذا الايكاد يصح - فقد روى عن معمر رضی الله عنه قال سألت الزهري عن دية الذمي، فقال مثل دية المسلم - فقلت ان سعيدا يروى بخلاف ذالك۔ قال ارجع، الى قوله تعالى وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقَ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إلى أَهْلِه (المبسوط - جلد ۲۶ ص ۸۵)

"جو آثار مساوات دیت کے خلاف منقول ہیں، وہ صحیح نہیں۔ معتمر سے روایت ہے کہ انہوں نے امام زہری سے ذمی کی دیت پوچھی ، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ مسلم کی دیت کے برابر ہے۔ میں نے کہا کہ سعید اس کے خلاف روایت کرتےہیں۔ امام زہری فرمانے لگے کہ تم قرآن مجید کی اس آیت کی طرف رجوع کرو جس میں دِيَةٌ مُسلمہ کے الفاظ ہیں یعنی مسلم وذمی دونوں کے لیے یکساں الفاظ ہیں۔“

روایات و آثار میں دیتوں کے تناسب و مقادیر میں تو اختلاف ضرور مذکور ہے لیکن کوئی گری پڑی روایت بھی مجھے نہیں مل سکی جس میں یہ کہا گیا ہو کہ ذمی یا معاہدہ کی دیت ، خواہ وہ دیت مسلم کے مساوی ہو یا ۲/ ۱یا ۱/۳، اس کا کوئی حصہ بیت المال میں بھی جاسکتا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں اور ان کے بیت المال کا خیر خواہ اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ مسلم و غیر مسلم کے جو حقوق و واجبات جس شکل میں کتاب وسنت نےمتعین کر دیئے ہیں، ان میں کمی نہ جائز ہے نہ زیادتی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ جو ذمیوں کے حقوق پر دست درازی کرے میں اس کے خلاف قیامت کے روز خود مدعی ہونگا (انا خصمهم يوم القيامة ) ۔ یہی وجہ ہے کہ روایات کے اختلاف کی بنا پر بعض فقہی مذاہب میں معاہد کی دیت مسلمان کے مقابلے میں کم تو بیان کی گئی ہے لیکن سب کا منشا یہی ہے کہ جو دیت بھی ہو وہ پوری کی پوری مقتول کے وارثوں کے حوالے کی جائے، جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے ، نہ یہ کہ مسلمان کی دیت تو اس کےاہلِ خاندان کو پوری دی جائےاور کافر معاہد کی دیت کا آدھا یا دو تہائی بیت المال میں داخل کر دیا جائے۔ حضرت معاویہؓ نےدر حقیقت نہ اس مسلک پر عمل کیا کہ ذمی کی دیت مسلمان کے برابر ہے، اور نہ اس پر کہ اُس کی دیت مسلمان سے آدھی ہے۔ بلکہ انہوں نے کیا یہ کہ اس کی دیت تو رکھی مسلمان کے برابر ہی، مگر آدھی اس کے وارثوں کو دی اور آدھی خزانے میں داخل کر دی۔ یہی فعل بدعت تھا کیونکہ اس کے لیے کوئی برائے نام دلیل بھی قرآن وسنت میں نہیں ہے۔ امام زہری کی دوسری روایت جو "البلاغ“ نےابن کثیر والی روایت کے مقابلے میں سنن بیہقی سے نقل کی ہے، اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے دیت کا وہ حصہ جو امیر معاویہؓ نے بیت المال کے لیے مقرر کیا تھا،ساقط کر دیا۔

میرا خیال یہ ہے کہ توریت مسلم من الکافر کے معاملے میں تو خیر ایک صحابی اور چند تابعین کی جانب امیر معاویہ کی ہمنوائی منسوب کی گئی ہے، گو وہ غیر موثق ہی سہی لیکن اس دوسرے اجتہاد میں تو غالبا امیر معاویہ بالکل ہی تنہا ہیں کہ ذمی کی دیت مقرر ہو جانے کے بعد، اس کا کوئی حصہ بیت المال میں داخل کیا جائے۔ مجھے باوجود کوشش و تلاش کے کوئی روایت ، اثر یا فقہی جزئیہ ایسا نہیں مل سکا جس سے یہ ثابت ہو کہ معاہد مقتول کی دیت کی کوئی مقدار ایسی بھی ہے جو بیت المال میں داخل کی جانی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے لے کر خلفائے راشدین کے پورے دور تک اس امر کی کوئی مثال بھی نہ پائی گئی کہ کبھی کسی معاہد کی دیت کا کوئی حصہ بیت المال میں داخل کیا گیا ہو۔ دیتوں کا اختلاف وعدم مساوات اور چیز ہے اور ان میں سے کسی جز کا بیت المال میں جانا اور چیز ۔ اس دوسری چیز کا ثبوت اگر امیر معاویہ کے سوا کسی اور سے ملتا ہو تو اسے پیش کیا جانا چاہیے۔

انوکھا استدلال

عثمانی صاحب نے حضر معاویہ کے عمل کی مصلحت ان کی اپنی زبانی یہ پیش کی ہے کہ اگر زمی کے قتل سے اس کے رشتہ داروں کو نقصان پہنچا ہے تو مسلمانوں کے بیت المال کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس کی مزید تشریح عثمانی صاحب نے یہ کی ہے کہ جو جز یہ وہ ادا کرتا تھا وہ بند ہو گیا، اس لیےدیت کا آدھا حصہ ( پانچ سو دینار )مقتول کے رشتہ داروں کو دو اور اتنا ہی بیت المال میں لو۔ اس انوکھے استدلال سے اگر کوئی شخص مطمئن ہو جائے تو میں اسے مدیر البلاغ کی کرامت ہی شمار کروں گا۔ سوال یہ ہے کہ ذمی کے قتل سے اگر بیت المال کا نقصان ہوتا ہے تو مسلمان کے قتل سے بھی ہوتا ہے، کیونکو وہ بھی تو زکوۃ ، عشر ، صدقات دیتا ہے۔ تو پھر مسلمان کی دیت کا ایک حصہ بھی کیوں نہ اس کے وارثوں کےبجائےبیت المال کو جائے؟ بلکہ قتل کیا معنی ، جو ذمی یا مسلمان طبعی موت مرتا ہے یا کسی حادثے کا شکار ہوتا ہے، اس سے بھی تو بیت المال کا نقصان ہوتا ہے۔ پھر کیوں نہ ہر مرنےوالے کے ترکے پر، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، موت کا ایک محصول (Death Duty) عائد کر دیا جائے جو وراثت کی تقسیم سے پہلے بیت المال کے لیے وصول کر لیا جائے؟ مغربی ممالک میں تو اسکا عام چلن ہے۔

حیرت ہے کہ مدیر البلاغ پھر بھی فرماتے ہیں کہ ایسے حسین استدلال و اجتہاد کی تعریف نہ کرنا کتنا بڑا ظلم ہے۔ کیا میں ان سے دریافت کر سکتا ہوں کہ اگر اجتہاد و فقاہت میں حضرت معاویہؓ کا یہی مقام تھا، اور وہ خود ایک نئی سنت “ جاری کرنے تک کے مجاز تھے، اور سُنتِ نبویہ اور سُدّتِ خلفائے راشدین سے ہٹ کر ایک کام کر کے بھی وہ قابل تحسین ہی تھے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ علمائےاہلِ سنت ان کے خلاف کسی تعصب میں مبتلا رہے ہیں۔ اس ظلم کی تلافی اب آپ فرمائیں اور کھل کر ان کی خلافت راشدہ کا اعلان کر دیں۔

اولیات معاویہ پر بدعت کا اطلاق

اس بات کو پہلے اجمالاً بیان کیا جا چکا ہے کہ بدعت کا لفظ کوئی گالی نہیں ہے بلکہ اسے امر مسنون کے بالمقابل استعمال کیا جاتا ہےجیسےکہ سنتی و بدعی طلاق۔ اب میں ذرا کھول کر بتانا چاہتا ہوں کہ متعدد فقہاء و ائمہ نےامیر معاویہ کی بہت سی ایسی اولیات کو بھی بدعت قرار دیا ہےجن کےحق میں شرعی دلائل بھی موجود ہیں اور بعض فقہاء ومحد ثین بھی جن میں امیر معاویہ کےہمنوا ہیں۔مثال کےطور پر قضا بالیمین والشاهد کےمسئلےکو لیجئے ۔اس میں امیر معاویہ کےہمنوا ہیں ۔ مثال کےطور پر قضا بالیمین والشاہد کے مسئلے کو لیجئے۔ اس میں امیر معاویہ کا فیصلہ یہ ہے کہ مدعی اگر اثبات دعوی کے لیے دو گواہ پیش نہ کر سکےتو ایک گواہ اور ایک قسم کےساتھ دعویٰ پایہ ثبوت کو پہنچ سکتا ہے۔اس کی تائید بعض احادیث سے ہوتی ہے اور بعض فقہاء کا یہ مسلک بھی ہے۔ اب اس کے بعد "التوضیح“ کا یہ قول دیکھیے جو علامہ صدرالشریعہ نے شرائط راوی کے ضمن میں درج کیا ہے۔

ذكر في المبسوط ان القضاء بشاهد ويمين بدعة و اوّل من قضى به معاوية

"مبسوط میں مذکور ہے کہ ایک گواہ اور ایک قسم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا بدعت ہے اور جنہوں نےسب سے پہلے ایسا فیصلہ کیا ، وہ معاویہ نہیں۔“

التوضيح والتلویح، مطبوعہ نولکشور ص ۱۲۹۲۳۱۱ھ ) :

اس کے بعد موطا امام محمد ، باب الیمین میں امام محمد کا قول ملاحظہ ہو :

ذكـر ابـن ابـي ذئـب عـن ابـن الشـهـاب الـذهــرى قال سألته عن اليمين مع الشاهد فقال بدعة واوّل من قضى به معاوية.

"ابن ابی ذئب روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے امام زہری سے ایک قسم اور ایک گواہ (کےبل پر فیصلہ ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ بدعت ہے اور پہلے جنہوں نے ایسا فیصلہ کیا وہ حضرت معاویہ ہیں۔“

اس مقام کی شرح میں مولانا عبدالحی مرحوم "التعلیق امجد میں لکھتے ہیں:

قال ابن ابي شيبة حدثنا حماد بن خالد عن ابی ذئب عن الزهري قال هي بدعة وأول من قضى بها معاوية.

وفي مصنف عبد الرزاق أخبرنا معمر عن الزهري قال هذا شيء أحدثه الناس لا بد من شاهدين.

"ابن ابی شیبہ حماد بن خالد سے اور وہ ابن ابی ذئب سے اور وہ امام زہری سے راوی ہیں کہ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ) بدعت ہے اور پہلا ایسا فیصلہ امیر معاویہؓ نے کیا۔

اور مصنف عبدالرزاق میں ہے، ان سے معمر نے اور انہوں نے زہری سے روایت کی ہے کہ امام زہری نے کہا کہ یہ فیصلہ لوگوں نے نیا اور نرالا نکال لیا ہے۔ اثبات دعوی کے لیے دو گواہوں کا ہونالازم ہے۔“

(السو کالا مام محمد مع تعلیق المسجد مس ۳۶ مطبع مصطفائی ۱۳۹۷)

شرح الوقایہ، کتاب الدعویٰ میں اسی قضا بیمین و شاہد کے متعلق درج ذیل قول ملاحظه فرمائیے:

عندنا هذا بدعة وأول من قضى به معاوية.

”ہمارے نزدیک اس طرح کا فیصلہ بدعت ہے اور امیر معاویہؓ نے سب سے پہلے ایسا کیا۔“

( شرح الوقایة مع حاشیه چلی، مطبوعہ نولکشور ۱۳۲۷ ص ۲۵۹)

شاہ ولی اللہ صاحب کے المسؤى والمصفی شرح الموطأ کا ایک اقتباس بھی دیکھئے۔ موطا امام مالک، کتاب الزکوۃ میں امام زہری ہی کی ایک روایت یوں ہے:

عــن ابــن شـهـاب انـه قـال اوّل مـن اخــذ من الأعطية الزكوة معاوية ابن ابی سفيان

"ابن شہاب سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلے جنہوں نے سرکاری عطیات میں سے زکوٰۃ وصول کی ، وہ معاویہ نہیں۔“

اس کی تفصیل یہ ہے کہ امیر معاویہ لوگوں کو عطیےدیتے وقت ہی ان عطیات پر پیشگی زکوٰۃ لے لیتے تھے۔ یہاں یہ بات بھی قابل وضاحت ہےکہ بعض فقہاء کے ہاں پیشگی زکوۃ کی ادائیگی حد جواز میں آسکتی ہے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےعہد مبارک اور خلفائے راشدین میں یہ طریقہ متعارف نہ تھا کہ ہر شخص کو بیت المال سےرقم ادا کرتے وقت لازما پیشگی زکوۃ وصول کی جائے۔ اب یہاں امام زہری نے تو بدعت کا لفظ استعمال نہیں کیا لیکن شاہ ولی اللہ صاحب اس کی شرح فرماتےہیں:

یعنی گرفتن زکوۃ از سالیانه و ماهیانه در و قتیکه کسی را داده شود بدعت است.

"یعنی سالانہ و ماہانہ عطایا پرکسی کو دیتے وقت ہی زکاۃ وصول کرنا بدعت ہے۔“

(المصفى ص ۲۰۷)

کیا اس کا صاف مطلب نہیں ہےکہ شاہ ولی اللہ صاحب نے امام زہری کے الفاظ اول من اخذ کا بدعا یہی قرار دیا ہےکہ یہ بدعت ہے؟ تو پھر مولانا مودودی نے اگر امام زہری کے بعینہ اسی طرح کے الفاظ (اوّل من قصرها ) سے یہ مراد لےلیا ہےکہ امیر معاویہ نے سنت کو بدل دیا اور عمر بن عبدالعزیز نےبدعت کو ختم کیا،تو آخر مولانا نےکونسا نا قابل عفو جرم کر لیا ؟ سلف سےخلف تک سارےاصحاب جنہوں نےامیر معاویہؓ کی بدعات کا ذکر کیا ہے جناب مولانا محمد تقی عثمانی مدیر البلاغ کو چاہیےکہ کوئی فتویٰ ان حضرات کی پاکیزہ ارواح تک بھی رسید فرما ئیں اور ساری قوت مولانا مودودی اور میرے خلاف ہی نہ صرف کرتے رہیں۔ اگر اس فہرست میں اضافہ مطلوب ہو، تو ہم اس کے لیے بھی حاضر ہیں۔ مولانا عثمانی صاحب کو یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سارے اقتباسات مذکورہ بالا میں امیر معاویہ کے جن فیصلوں پر بدعت کا اطلاع کیا گیا ہےان کےحق میں دلائل شریعہ موجود ہیں۔ ایک قسم اور ایک گواہ کی موجودگی میں بعض حالات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مدعی کے حق میں فیصلہ حدیث میں مذکور ہے جسے موطا امام محد وغیرہ میں نقل بھی کیا ہے اور امام شافعی ، امام احمد اور امام مالک کا یہی مسلک ہے۔ اسی طرح پیشگی زکوۃ لینے کی گنجائش قواعد شرعیہ میں نکل سکتی ہے مگر احادیث مشہورہ و مستفاضہ اور تعامل خلافت راشدہ سے متعارض ہونے کی بنا پر ان سب احناف اور شاہ صاحب نے امیر معاویہ کےقضایا کو بدعت قرار دیا ہے۔ حضرات احناف کا استدلال یہ ہے کہ قرآن مجید میں دو گواہوں کا نصاب شہادت مقرر کیا گیا ہےاور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ارشاد ہے کہ شہادت مدعی کے ذمے ہے اور قسم انکار دعویٰ کرنے والے مدعا علیہ کےلیے ہے۔ اس لیے قرآنی نصاب شہادت اور سُنت مشہورہ کا ترک بدعت ہے۔

بعض علماء جنہوں نے قریب کے دور میں تاریخی موضوعات پر لکھا ہے، انہوں نے بھی حضرت معاویہ کے بعض افعال پر بدعت کا اطلاق کیا ہے۔ اور ان پر سخت تنقید کی ہے۔ مثال کے طور پر مولانا معین الدین صاحب ندوی سیر الصحابہ، جلد ششم ص ۹۳ پر امیر معاویہ کے متعلق لکھتے ہیں:

”جناب امیر (حضرت علیؓ) کے مقابلہ میں ان کا صف آراء ہوتا، اور اس میں کامیابی کےلیے ہر طرح کے جائز و نا جائز وسائل استعمال کرنا ، حضرت حسن سے لڑنا ، اسلامی خلافت کو موروثی حکومت میں بدل دینا وغیرہ، ان میں سے ہر ایک واقعہ ان کی ایسی کھلی غلطی ہے جسے کوئی حق پسند مستحسن قرار نہیں دے سکتا۔ خصوصاً یزید کی ولی عہدی سے اسلامی خلافت کی رُوح ختم اور اسلام میں موروثی بادشاہت کی رسم قائم ہوگئی۔ان واقعات نےعوام چھوڑ حق پسند خواص کو بھی امیر معاویہ سےبدظن کر دیا۔”امیر (معاویہ) کی بدعات میں اسلامی خلافت کو شخصی د موروثی حکومت بنا دینے کی بدعت تو بے شک نہایت مذموم بدعت تھی جس نے اسلامی خلافت کی روح مردہ کردی۔‘ ص ۱۲۷

"ابن عم رسول، خلیفہ راشد علی مرتضی اور امیر شام کا مقابلہ ہی کیا؟ چراغ مرده کجاشع آفتاب کجا!‘ ص ۹۴ ۔

یہ امر قابل وضاحت ہے کہ اس کتاب میں مولانا معین الدین صاحب نے حضرت معاویہ کا ہر ممکن دفاع کیا ہے۔ اس کے باوجود مذکورہ بالا کلمات بے اختیار ان کی نوک قلم پر آگئے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جو شخص بھی اشخاص و افراد کی بہ نسبت دین کی حقیقی قدروں کو عزیز تر رکھے گاوہ ہر اس فعل کو بدعت کہے گا جو ، خلاف کتاب وسنت ہو، خواہ اس کا صدور کسی سے بھی ہو۔ وہ حضرت“اور غیر حضرت“ کے لیے دو الگ الگ پیمانے لے کر نہیں بیٹھ جائے گا کہ کسی غیر حضرت سے ایسا کوئی فعل سرزد ہو تو اسے بلا تکلف بدعت یا اس سے بھی شدید تر شے قرار دے دے اور جب کسی حضرت سے ایسا ہی کوئی فعل صدور میں آئے تو اسے اجتہاد ثابت کرے تا کہ اس پر کم از کم ایک اجر کے تو وہ ضرور ہی مستحق قرار پائیں۔

بہر کیف میں نے یہ امر ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ حضرت معاویہ نے مسلمانوں کو کافر کی دیت دینے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ کتاب وسنت اور اجماع خلافتِ راشدہ کے خلاف تھا۔ اس کے حق میں کوئی دلیل شرعی موجود نہیں۔ اس پر صحیح معنوں میں نہ اجتہاد کا اطلاق ہوسکتا ہے، نہ اسے سُنت یا سنت ثانیہ قرار دیا جا سکتا ہے۔پوری سلطنت کےاندر اس کا نفاذ درواج بدعت کی تعریف میں آتا ہے اور صرف مولانا مودودی نے نہیں بلکہ دوسرے اصحاب سلف نے بھی ایسے فیصلوں کو بدعت اور باطل قرار دیا ہے۔

غلط اعتراضات کا اعاده

مدیر "البلاغ" نے مسئله دیت پر میری مندرجہ بالا بحث کی پھر تردید کرنے کی کوشش کی ہے۔آغاز میں انہوں نے خلافت و ملوکیت (ص۱۷۳) کی وہی تین سطریں نقل کی ہیں جو دیت سےمتعلق ہیں۔

پہلا اعتراض

پھر فرماتے ہیں کہ میں نے اس عبارت پر چار اعتراض کیے تھے۔ ان کا پہلا اعتراض یہ ہےکہ مولانا مودودی نے یہ جملہ اپنی طرف سے بڑھا دیا ہے کہ دیت کے معاملے میں حضرت معاویہؓ نے سنت کو بدل دیا۔ اس اعتراض کا جواب وہی ہے کہ جو پہلے تو ریث والے حوالے کے متعلق دیا جا چکا ہے۔ اس مقام پر بھی مولانا مودودی نے ابن کثیر کے قول کی بالمعنی روایت اپنے الفاظ میں کی ہے اور اپنی عبارت کا ایک جز بنا کر کی ہے۔اگر مولانا ابن کثیر کے قول کا بعینہ لفظی ترجمہ کرتے تو ترجمے کو الگ سطور میں یاواوین میں دیتے۔ مگر انہوں نے مفہوم کی اپنے الفاظ میں ترجمانی کی ہےاور حقیقت یہ ہےکہ یہ الفاظ ان الفاظ سےبھی زیادہ محتاط ہیں جو مسئلہ تو ریث میں مولانامحترم نےاستعمال کیےہیں۔وہاں بدعت کا لفظ لکھا تھا اور یہاں صرف یہ لکھا ہےکہ ”سنت کو بدل دیا اب اس جملے پر یہ اعتراض تو بالکل بے محل ہے کہ اسے مولانا اپنی طرف سے بڑھارہے ہیں کیونکہ یہ ان کی اپنی عبارت ہی کا ایک حصہ ہے،اور اگر یہ کہا جائے کہ حافظ ابن کثیر کے قول کی توضیح کے طور پر بھی یہ فقرہ میچ نہیں کہ امیر معاویہ نےسنت کو بدل دیا، تو اس اعتراض میں بھی کوئی وزن نہیں ہےآخر این کثیر جب فرما رہے ہیں کہ پہلےسنت یہ چلی آرہی تھی کہ معاہد کی دیت مسلمان کےمساوی ہو،اور حضرت معاویہ پہلےشخص ہیں جنہوں نےدیت کو نصفانصف کر کے آدھی اپنےلیےمختص کرلی،تو اس کا مطلب سوائےاس کےاور کیا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے سنت کو بدل دیا؟


١- یہاں یہ بات بھی قابل وضاحت ہے کہ تو ریٹ والے مسئلے میں بھی مولانا مودودی کے الفاظ یہ نہیں کہ امیر معاویہ نے بدعت کا ارتکاب کیا، بلکہ اصل الفاظ یہ ہیں کہ حضرت معاویہ نے اپنے زمانہ حکومت میں مسلمان کو کافر کا وارث قرار دیا۔ “ اور ” حضرت عمر بن عبدالعزیز نے آکر اس بدعت کو موقوف کیا مگر ہشام نے اپنے خاندان کی روایت کو پھر بحال کر دیا ۔

یہاں ایک اور بات جس کا ذکر کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ خلافت و ملوکیت میں مولانا نے جتنے مراجع و مآخذ کا حوالہ دیا ہے، ان کی اصل عربی عبارتیں شاذ و نادر ہی کہیں درج کی ہیں ، وجہ اس کی دیہ ہے کہ حوالے اتنے کثیر و متعدد تھے کہ سب کا اندراج کتاب کو کم از کم پانچ چھ گنا فخیم بنا دیتا اور پھر لا طائل تکرار اور تحصیل حاصل بالکل عبث ہوتی۔ لیکن عجیب حسن اتفاق ہے کہ دیت والی بحث کے اس خاص مقام پر مولانا مودودی نے اپنی کتاب ص۱۷۴ کے حاشیے پر ابن کثیر کا وہ اصل جملہ بھی نقل کر دیا ہے جس میں ترمیم وتحریف کا الزام مولانا کے خلاف عائد کیا گیا ہے۔مولانا حاشیہ ۲۶ میں لکھتے ہیں:

"ابن کثیر کے الفاظ یہ ہیں: وكان معاوية اول مـن قـصـر هـا الـى النصف واخذ النصف لنفسه."

اگر مولانا کا ارادہ واقعی یہی ہوتا کہ وہ ابن کثیر کی طرف کوئی غلط بات منسوب کریں یا ان کےمفہوم میں کوئی ناروا اور غیر جائز اضافہ کریں تو انہیں اصل عربی عبارت نقل کر دینے میں ضرور تامل ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اصل الفاظ دے دینے کے بعد تو یہ حقیقت بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ یہاں لفظی ترجمہ مقصود نہ تھا کہ اس میں تبدیلی یا اپنی طرف سے کچھ بڑھا دینے کا سوال پیدا ہو سکے۔اس کے بعد بھی اس الزام کو برابر گھسے چلےجانا کہ اصل کتاب میں یہ جملہ بالکل موجود نہیں ہے، نہ ابن کثیر نےیہ جملہ کہا، نہ امام زہری نے اسے خواہ مخواہ کی خوردہ گیری کے ماسواء اور کس پر محمول کیا جاسکتا ہے؟ اس طرح اگر ہندی کی چندی نکالنی شروع کی جائے تو کونسا مصنف ہے جو اعتراضات سے بچ سکے؟

دوسرا اعتراض

عثانی صاحب کا دوسرا اعتراض جس کا پہلے جواب دیا جا چکا ہے، یہ ہے کہ ومضت السنة ان دية المعاهد كدية المسلم ....یہ ابن کثیر کا نہیں بلکہ امام زہری کا قول ہے۔ یہ اعتراض بڑی اہمیت کےساتھ خصوصی نمبر میں دہرایا گیا ہے،حالانکہ یہ سرے سےکسی اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ عثمانی صاحب کا خیال یہ ہے کہ اس کے قائل اگر امام زہری ہوں تو اس کا مطلب ہوگا کہ امام زہری نے حضرت معاویہ کے فیصلے کو صیح سمجھا اور جس چیز کو امام زہری بدعت سمجھتے ہیں، اس کو اپنا مذہب و مسلک بھی بنالیا۔ مگر مولانا عثمانی صاحب کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ بہ قال الزھری کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ حضرت معاویہ کے فیصلے کو صحیح قرار دے کر اسی کو اپنا مذ ہب فقہی بنار ہے ہیں۔ امام زہری تو ریث کے باب میں جو اصل بات بیان کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ سنت جو پہلے سےچلی آرہی ہے وہ یہ ہےکہ نہ کا فرمسلم کا وارث ہو اور نہ مسلم کا فرکا اور یہی امام زہری کا فقہی مسلک بھی ہے۔ اس طرح کی تصریح کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ محدثین کی دیانت وامانت کا یہ ثمرہ ہے کہ وہ اپنے مسلک کے خلاف روایات بھی بلا تامل نقل کر دیتے ہیں۔ امیر معاویہ اور دوسرے بنوامیہ نےتو اس کے خلاف کیا،سوائے عمر بن عبد العزیز کے جنہوں نے اس سنت کو بحال کیا۔ بھلا امام زہری اس فیصلے کو کیسےصحیح قراردیں گےجو سنت ماضیہ کےموافق نہ ہو جب کہ وہ آغاز ہی میں یہ بتا رہےہیں کہ انکے نزدیک سنت یہ تھی کہ کافر ومسلم کے مابین توارث نہ ہو؟یہ فی الواقع عجیب صورت ہے کہ مدیر ” البلاغ “ میرے اخذ کردہ مطلب کو طرفہ تماشا فرمارہےہیں اور جو طرفگی ان کےاپنےاستنباط میں ہےاُسےملاحظہ نہیں فرماتے ! امام زہری کی ایک روایت موطا امام محمد،باب لا یرث المسلم الکافر میں ایسی بھی موجود ہےجس میں امام مالک ان سے نقل کرتے ہیں کہ عقیل اور طالب چونکہ ابو طالب کی وفات کے وقت کافر تھے ، اس لیے وہ ابو طالب کے وارث ہوئے اور حضرت علیؓ وراثت سے محروم رہے، کیونکہ وہ اسلام لا چکے تھے ۔ اس بات کو ثابت یا تسلیم کر لینے سےعثمانی صاحب یا میرے استدلال میں کوئی خوبی یا خامی پیدا نہیں ہو جاتی کہ دیت کے بارے میں زیر بحث مقوله حافظ ابن کثیر کا نہیں بلکہ امام زہری کا ہے، حافظ ابن کثیر نے صرف اسے نقل کیا ہے۔میں نے تو پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ نفس مسئلہ پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ قائل خواہ ابن کثیر ہوں یا اماز ہری ، قول یہی بیان ہوا ہے کہ سنت یہ چلی آرہی تھی کہ معاہدہ کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہو۔ مدیر البلاغ پھر میرے جواب میں فرماتے ہیں کہ امام زہری کا قول ہونے کی صورت میں اس قول کی تشریح شدن بیہقی میں مروی امام زہری کےدوسرے قول کی مدد سےآسان ہو جاتی ہےحالانکہ اس طرح کوئی آسانی پیدا نہیں ہوتی کیونکہ دوسرا قول بھی یہی ہےکہ ”یہودی و نصرانی کی دیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےعہد میں مسلمان کی دیت کے برابر تھی اور حضرت ابوبکر عمر، اور عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد میں بھی ایسا ہی رہا۔ باقی رہی سنن بیہقی کی یہ تشریح کہ امیر معاویہ آدھی دیت ورثاء کو دیتےتھے اور باقی نصف بیت المال میں داخل کرتے تھے ( اس لیے آدمی دیت کو اپنےذاتی استعمال میں لانے کا سوال نہیں ) تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں نے سابق بحث میں واضح دلائل کے ساتھ ثابت کر دیا تھا کہ دیت کے کسی حصے کو بیت المال میں لینے کا جواز بھی نہ قرآن سے نکلتا ہے، نہ سنت میں اس کا ثبوت ملتا ہے، ندامت کے کسی فقیہ نے اسے جائز دیا ہے۔

تیسرا اعتراض

مدير "البلاغ“ نے میرے استدلال کے اس اصل پہلو کا تو کوئی جواب نہیں دیا مگر دونوں روایتوں میں لنفسه اور لبیت المال کےلفظی اختلاف پر جو کچھ میں نے لکھا ہےتیسرے اعتراض میں صرف اس کی تردید میں سارا زور صرف کر دیا۔ لکھتے ہیں کہ افسوس ہے کہ ملک غلام علی صاحب کو اب بھی اس بات پر اصرار ہے کہ حضرت معاویہؓ آدھی دیت ذاتی استعمال ہی کے واسطے لیتےتھے اور بیہقی کی روایت میں جو بیت المال کا لفظ آیا ہے اس سے مراد بھی حضرت معاویہ کی ذات ہی ہے۔ افسوس جس طرح مدیر البلاغ کو ہے، اسی طرح مجھے بھی ہے کیونکہ وہ میری بات کو غلط مفہوم پہنا رہے ہیں۔ میں نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ حضرت معاویہ دیت اپنی ذات پر استعمال کرتے تھے۔میں نے جو کچھ کہا ہے اور جسے خود انہوں نے نقل بھی کیا ہے، وہ یہ ہے کہ امیر معاویہ اور دوسرے بنو امیہ کےعائد کردہ غنائم ومحاصل کےلیے ایک ہی واقعہ میں مورخین نے کہیں لِنَفْسِہ اور کہیں کبیت المال کا لفظ استعمال کیا ہےاس کی وجہ یہ ہےکہ بیت المال ذاتی اور سیاسی مقاصد و اغراض کےلیےاستعمال ہونے لگا تھا اور امراء بیت المال کے آمد و خرچ کے معاملے میں مسلمانوں کے سامنےجواب دہ نہ رہے تھے۔یہ ایک بدیہی حقیقت ہےجسےتمام مؤرخین نےبیان اور تسلیم کیا ہےمیں نےاس بات کو زیادہ کھول کر بیان کرنا مناسب اور ضروری نہیں سمجھا تھا، لیکن بڑا افسوس ہے کہ مدیر البلاغ نے یہ پھر مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئی دلیل ایسی پیش کی جائے جس سے یہ دعویٰ ثابت ہو۔

اب مدیر” البلاغ" اور دوسرےمطالبہ کرنے والے اصحاب کو میں خلافت و ملوکیت کے ص ص ۱۵۰،۱۴۹ کا حوالہ دیتا ہوں جہاں ایسی متعدد مثالیں درج نہیں،بالخصوص الکامل اور البدایه کےحوالےسےیہ درج ہےکہ امیر معاویہ نےحضرت ابن عمرؓ کو بیت یزید پر آمادہ کرنے کےلیےایک لاکھ درہم بھیجے تھے مگر انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ پھر تو میرا دین بڑا ستا ہو گیا۔یه واقعہ بکثرت مورخین و محدثین نےنقل کیا ہےمثلاً طبقات ابن سعد جلد ۴، ص۱۸۲، ترجمہ عبداللہ ابن عمر مطبوعہ دار بیروت، دار صادری ۱۳۷ پر یہی قول موجود ہے۔ پھر میں امام محی الدین النووی کی ایک عبارت پیش کرتا ہوں جو کہ صحابہ کرام کے محلِ نظر افعال و اختلافات پر کلام کرنے میں حد درجہ محتاط ہیں۔انہوں نے تہذیب الاسماء واللغات میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق کے مختصر حالات درج کر کے آخر میں لکھا ہے:

ولما ابى البيعة ليزيد بن معاوية بعثوا إليه بمائة ألف درهم ليستعطفوه فردّها وقال لا ابيع دینی بدنیای رضی الله عنه.

"جب انہوں نے یزید کی بیعت سے انکار کیا تو ان کی طرف ایک لاکھ درہم بھیجے گئے تا کہ انہیں بیعت پر مائل کیا جائے، انہوں نے انہیں رو کر دیا اور فرمایا کہ دنیا کے عوض میں دین نہیں بیچ سکتا۔اللہ ان سے راضی ہو ۔“

یہاں کسی صاحب کو یہ شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہاں بیعت سے مراد امیر معاویہؓ کی وفات کے بعد یزید کے لیے خلافت کی بیعت ہے۔ امام نووی نے اس ترجمے میں خود لکھا ہے کہ حضرت عبدالرحمن کی وفات مختلف اقوال کےمطابق ۵۳ یا ۵۵ ھ یا ۵ھ میں ہوئی اور معلوم ہے کہ امیر معاویہ کا انتقال وسط ۶۰ ھ میں ہوا۔ اس لیے یہاں بیعت سے مراد یزید کی ولی عہدی کی بیعت ہے جس کے لیے ۵۰ ہی سے کوشش شروع ہو گئی تھی۔ لیکن جیسا کہ امام نووی کا انداز ہے،انہوں نے امیر معاویہ یا ولی عہد کا نام لیےبغیر پوری بات بیان کردی،اور اس کتاب میں کر دی جو ایک چھوٹی سی انسائیکلو پیڈیا ہے جس میں چھانٹ کر مواد جمع کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ زیادہ تصریح کے ساتھ دوسرے مورخین نے بھی نقل کیا ہے۔ مثال کے طور پر حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:

بعث معاوية الى عبد الرحمن بن ابى بكر بمائة ألف درهم بعد ان ابى بيعة ليزيد ابن معاوية فردّها عبد الرحمن وأبى ان يأخذها وقال: ابیع دینی به دنیای؟

(البدایه و النهایه جلد ۸، ۸۹)

"معاویہؓ نے عبدالرحمن ابی بکر کی طرف ایک لاکھ درہم اس وقت بھیجے جب انہوں نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا۔ حضرت عبدالرحمن نے انہیں رد کر دیا اور انہیں لینے سے انکار کرتے ہوئےفرمایا ” کیا میں اپنے دین کو دنیا کے عوض میں فروخت کر دوں؟“

آب کیا مدیر” البلاغ" مجھےبتا سکتےہیں کہ حضرت امیر معاویہ کےپاس اتنا فراواں مال کہاں سےآگیا تھا اور کیا ان اغراض کےلیے اسے خرچ کر ناصحیح تھا، خواہ یہ رقوم ذاتی ہوں یا بیت المال کی ہوں؟ صحیحین میں روایت موجود ہے کہ جب فاطمہ بنت قیس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ لیا کہ میں معاویہ سےنکاح کرلوں؟ تو آنحضور نے فرمایا انہ صعلوک (وہ تو بالکل نادار ہیں)۔

اگر مدیر "البلاغ" ان نظائر اور میری بحث سابق میں بیان کردہ دلائل و شواہد کےباوجود مجھ سے ایسی دلیل کے مطالبہ کرتے رہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ حضرت معاویہ نے بیت المال کی رقوم اپنے ذاتی استعمال میں لانی شروع کر دی تھیں تو میرے پاس اس کا کیا علاج ہے؟ مثالیں مزید بھی پیش کی جاسکتی ہیں مگر ان کا جواب بھی غالبا مدیر "البلاغ" تبر عا‘ ویسا ہی دیں گےجیسا کہ پہلےدے چکےہیں، مثلاً وہ بیان کریں گے کہ تین جمعے کے خطبوں میں امیر معاویہؓ فرماتے رہے کہ ساری دولت ہماری دولت ہے، تو آخری جمعے میں ایک شخص نے کہا کہ مال تو سارا ہمارا ہے، جو شخص درمیان میں حائل ہوگا ، ہم اس کا فیصلہ تلوار سےکرائیں گےاس پر امیر معاویہ نےاس کو انعام دیا۔نیز امیر معاویہ نے ایک خطبےمیں بیت المال کے بقایا تقسیم کرنےکا اعلان فرمایا۔ یہ تو بالکل ایسی ہی بات ہے کہ فلاں صاحب نے یہ اور یہ اچھے کام کیےتھےتو اب ان سے کوئی غلط فعل صادر نہیں ہوسکتا یا وہ ایسی ایسی فضیلت و منقبت کے مالک ہیں، اس لیے معصوم عن الخطاء ہیں۔ اس طرز استدلال سےتو ہر ثابت وواقع غلطی کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ پھر دو ہفتے تک ہر شخص کی خاموشی کے بعد تیسرے ہفتے ایک شخص کا لب کشا ہو سکتا جس سنگین صورت پر دلالت کرتا ہے، وہ محتاج بیان نہیں۔

چولھا اعتراض

پھر مولانا عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ چوتھا اعتراض میں نے یہ کیا تھا کہ یہ مسئلہ عہد صحابہ ہی سے مختلف فیہ چلا آتا ہے کہ ذمی کی دیت مسلمان کے برابر ہوگی یا اس سے آدھی یا تہائی اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملے میں مختلف احادیث مروی ہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے درمیانی راہ اختیار کرتےہوئے متعارض احادیث میں تطبیق دی،آدھی دیت مقتول کے ورثاء کو دلوائی اور آدھی بیت المال کو ملک صاحب نےاس کےمقابلےمیں اپنےدلائل پیش کیےہیں،لیکن ہمارےخیال میں یہ پوری بحث بالکل غیرمتعلق ہے۔اب یہ ایک عجیب و غریب صورت حال ہے کہ مولانا عثمانی صاحب نے یہاں میری بحث کے مرکزی پہلو کا نہ ذکر کیا ہے، نہ اس کا کوئی جواب ہی دینے کی کوشش کی ہےبس اسےغیر متعلق کہہ کر بیچ میں سےصاف اڑادیا ہےمیں اس سےپہلے اپنا اشکال اصل نوعیت اعتراض کے زیر عنوان واضح طور پر بیان کر چکا ہوں جس کی تردید میں ایک لفظ تک عثمانی صاحب نے نہیں کہا۔ میرے لیےاور قارئین کےلیے یہ چیز اکتاہٹ کی موجب ہوگی کہ میں ساری بحث کو دہراؤں ناظرین چاہیں تو چند صفحات الٹ کر سابق بحث پر نظر ڈال لیں۔

بنیادی سوال

مدیر البلاغ نے اپنی پرانی یا تازہ بحث میں اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ کس دلیل شرعی کی بنا پر می مقتول کے اولیاء کو دیت مقررہ کے کسی حصے سے محروم رکھا جاسکتا ہے؟ انہوں نے سارا زور لنفسه کو لبیت المال ثابت کرنے پر لگایا ہے۔ میں کہتا ہوں، چلیے تسلیم کر لیا کہ لنفسہ کا لفظ جو مورخین نے لکھا ہے ، ان کی مراد لیبیت المال تھی ، تب بھی دیت کے کسی حصے کا بیت المال میں لینا کس رو سے جائز ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح مسلمان کو کافر کا وارث بنا نا صحیح نہیں ، اسی طرح کسی مسلمان فرد یا بیت المال کو غیر مسلم کی دیت میں حصہ دار بنانا بھی درست نہیں۔ دیت ایک طرح کا ترکہ ورثہ ہے جس کا مقتول کے اہل واولیاء میں تقسیم ہونا واجب ہے۔ جس طرح مسلم و غیر مسلم کے مابین تو ارث ممنوع ہے اور کافر کا ورثہ کا فر ہی کوملتا ہے، اسی طرح کافر کی دیت، جو کچھ بھی ہو، وہ اس کے کا فروارثوں ہی کو ملتی ہے۔ ان دونوں معاملوں میں حضرت معاویہ سے یکساں غلطی ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے مسلمان کو کافر سے تو ریث منقطع کر دی اور ذمی کی دیت تو آدھی ہی رہنے دی مگر اتنی آدھی جو امیر معاویہ نے بیت المال کے لیے مقرر کی تھی اسے موقوف کر دیا۔

علماء مفسرین کی تشریحات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلم و غیر مسلم مقتول دونوں کی پوری دیت ان کے اولیاء کو ملے گی۔ اس کا کوئی حصہ کسی دوسری جانب نہیں جاسکتا۔ سورۂ نساء کی آیت دیت کے جس جز کا اطلاق معاہد یا می پر بھی ہوتا ہے، اس کی تفسیر میں امام ابن جریر کافر مقتول کےمتعلق لکھتے ہیں:

لزمت قاتله ديته لان له ولقومه عهدًا فواجب اداء ديته الى قومه للعهد الذي بينهم وبين المؤمنين وأنها مال من أموالهم ولا يحل للمؤمنين شيء من أموالهم.

"اس کافر مقتول کے قاتل پر اس کی دیت لازم ہے کیونکہ اس کا فر اور اس کی قوم سے عہد کیا جاچکا ہے۔ پس اس کی دیت کا اس کی قوم کو ادا کیا جانا واجب ہےکیونکہ اس قوم اور مومنین کےمابین معاہدہ ہے اور یہ دیت کافر کے اہل قوم کے اموال میں سے ہے اور مومنین کے لیے ان کے مال میں سے کوئی شے بھی حلال نہیں ۔“

امام ابن جریر کے اس ارشاد سے واضح ہو جاتا ہے کہ ذمی کی دیت کے حقدار اس کے کافراعزہ ہیں، مسلمانوں کے لیےیہ مال حلال ہی نہیں ہے،خواہ وہ مسلمان افراد ہوں یا مسلمانوں کا بیت المال ہو۔ ابن جریر نے اپنے اس قول کے حق میں متعدد دیگر اقوال بھی نقل کیے ہیں۔ بعض فقہاء نے ذمی کی دیت بیت المال میں داخل کرنے کی صرف ایک شاذ صورت کا ذکر کیا ہےاور وہ یہ ہےکہ کسی ذمی کے اولیاء میں سےکوئی بھی اگر موجود نہ ہو، تب اس کی دیت بیت المال میں لی جائےگی، ورنہ دوسری کسی حالت میں بھی اُسے بیت المال میں داخل نہیں کیا جاسکتا۔ خود مدیر ” البلاغ“ محرم ۱۳۹۱ھ کے البلاغ میں اپنے مضمون بعنوان ”اسلامی دستور کا مفہوم کے ص پر لکھتے ہیں:

"غیر مسلم باشندگانِ مملکت کو (بشرطیکہ وہ مرتد نہ ہوں ) بنیادی طور پر وہی انسانی حقوق حاصل ہوں گے، جو مسلمان باشندوں کو حاصل ہیں:

وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيْثَاقَ فَدِيَةٌ مُّسْلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ (۹۲:۴)

"اور اگر (خطاء قتل ہو جانے والا ) ایسی قوم میں سے ہو جن کے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہے ( یعنی ذمّی ہو ) تو اس کے رشتہ داروں کو دیت سپر د کرنی ہوگی ۔“

اسی آیت کی روشنی میں میری یہ گزارش ہے کہ جب قرآن مجید صاف طور پر بیان کر رہا ہے کہ ذتی کی دیت اس کے رشتہ داروں کو سپرد کرنی ہوگی تو پھر اس کا کوئی حصہ بیت المال میں لینا کیسےجائز ہوگا اور اگر ذمی کے معاملے میں یہ جائز ہو گا تو مسلمان کی دیت کیوں پوری کی پوری اس کےرشتہ داروں کو دی جائے گی اور اس کا کوئی جزء بیت المال میں کیوں نہ لیا جائے گا؟ کیا مولانا عثمانی صاحب کے پاس میرے اس سوال کا کوئی جواب ہے؟

کتاب خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Caliphate , monarchy