خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ

باب ہفتم

باب ہفتم

گورنروں کی زیادتیاں

(١)

زیاد کے مظالم

ابن غیلان کے واقعہ پر بحث کرنے کے بعد محمدتقی صاحب فرماتے ہیں:

"دوسرا واقعہ مولانا نےطبری اور ابن اثیر کےحوالےسے یہ بیان فرمایا ہے کہ زیاد نے ایک مرتبہ بہت سے آدمیوں کے ہاتھ صرف اس جرم میں کاٹ دیئےتھے کہ انہوں نے خطبہ کے دوران اس پر پر سنگباری کی تھی۔ یہ واقعہ بلاشبہ اسی طرح طبری اور ابن اثیر میں موجود ہے لیکن اسےدرست مان لیا جائےتو یہ زیاد کا ذاتی فعل تھا۔کسی تاریخ میں یہ موجود نہیں ہےکہ حضرت معاویہ کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی اورانہوں نےاس پر کوئی تنبیہ نہیں کی ہو سکتا ہےکہ انہیں اطلاع نہ ہوئی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اسی طرح اطلاع پہنچی ہو جس طرح ابن غیلان کے واقعے میں پہنچی تھی۔ یہ بھی مستبعد نہیں کہ حضرت معاویہ نے زیاد کو اس حرکت پر مناسب سرزنش کی ہو۔“

میں اس عجیب و غریب منطق کا جواب بار بار دےچکا ہوں۔اب میں سوائےاس کےاور کیا کہوں کہ دو چار نہیں بلکہ یوں آدمیوں کو محض کنکریاں پھینکنےپر قطع ید کی سزا دینا ایسا واقعہ نہیں ہےجسکی اطلاع امیر معاویہ کو نہ ہوسکی ہو۔ اگر غزوہ جبل اشل کے مال غنیمت میں سونے چاندی کا وزن حضرت معاویہ کو معلوم ہو سکتا ہے تو بصرے کی مسجد کے دروازے پر ہاتھوں کے کاٹے جانےکا علم آخر کیوں نہیں ہو سکتا؟ پھر اگر اس واقعہ کی روداد اس صورت میں تیار ہو کر پہنچی ہو جسطرح ابن غیلان کی پہنچی تھی تو جس طرح اس کےمعاملے میں کم از کم دیت ادا کیے جانے کا ذکر تاریخوں میں ملتا ہے، زیاد والے واقعے میں کیوں نہیں ملتا ؟ پھر ابن غیا ان کو کم از کم معزول کیا گیا جس کا ذکر مدیر البلاغ بار بار کر رہے ہیں مگر زیاد کو ایک نہیں بلکہ تمیں سے لے کر اسی افراد تک کے ہاتھ کاٹنے پر معزول کیوں نہ کیا گیا ؟ کیا صرف اس لیے کہ آئندہ کی مہمات میں اس نو دریافت بھائی کی ضرورت تھی؟ اس ظلم صریح کے باوجود زیاد کا گورنری پر براجمان رہنا چونکہ مسلم ہے، اس لیے یہاں عثمانی صاحب اس سے زائد کوئی بات نہ بنا سکے کہ شاید حضرت معاویہ نے زیاد کو اس حرکت پر مناسب سرزنش کی ہو۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ تاریخوں میں زیاد کے ظلم وتشد د ا نتہا یہی ایک واقعہ بیان نہیں ہوا، بلکہ اس کی ستم رانیوں کا سلسلہ بہت دراز ہے۔ ابن خلدون جنہوں نے بالعموم بنوامیہ اور ان کے عمال کی زیادتیوں پر پردہ ڈالنے اور انہیں ہلکا کر کے دکھانے کی کوشش کی ہے، انہوں نے بھی اپنی تاریخ ( جلد ۳، ص۸) پر لکھا ہے کہ زیاد عشاء کی نماز کے کچھ دیر بعد تک لوگوں کو چلنے پھرنے کی مہلت دیتا تھا،اس کے بعد اس کی پولیس جسےپاتی تھی قتل کر دیتی تھی (لا يجد أحدا إلا قتله ) ۔ پھر لکھتے ہیں کہ زیاد پہلا شخص ہے جس نے

جرد السيف وأخذ بالظنة وعاقب على الشبه.

"تلوار برہنہ کر لی لوگوں کو محض گمان کی بنا پر پکڑا اور مواخذه کیا اور شبہات پر سزائیں دیں ۔“

اب یہ بات کس طرح قرین قیاس اور قابلِ فہم ہو سکتی ہے کہ ظنون و شبہات پر عوام الناس کی پکڑ دھکڑ کرنا اور کرفیو لگا کر اسکی خلاف ورزی کرنےوالوں کو تہ تیغ کرتے رہنا،ایک ایسی معمولی بات ہےجسکی امیر معاویہؓ کو خبر تک نہ ہوئی ہو؟

ابن ابی ارطاۃ کے مظالم

امیر معاویہ کےگورنر بسر بن ابی ارطاۃ کی جن ظالمانہ کارروائیوں کا ذکر مولانا مودودی نےکیا ہےانکےمتعلق مدیر البلاغ کا کہنا یہ ہےکہ اسیطرح کی کارروائیوں کا ذکر جار یہ ابن قدامه کےبارے میں بھی ملتا ہےجنہیں حضرت علیؓ نے بسر بن ابی ارطاۃ کے مقابلے میں بھیجا تھا۔ مدیر موصوف لکھتے ہیں کہ اگر یہ روایت درست ہو تو یہ حضرت معاویہ کےعہد خلافت کا نہیں،بلکہ مشاجرات کےزمانےکا قصہ ہے جب کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ کے لشکر برسر پیکار تھے۔ ہم ان زیادتیوں سے دونوں اصحاب کو بری سمجھتے ہیں، کیونکہ ان روایات کی صحت کا کچھ پتہ نہیں۔ حافظ ابن حبان کا بسر کے متعلق الاصابہ میں یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ فتنے کے دور میں ان کے بہت سےواقعات مشہور ہیں جن میں مشغول نہیں ہونا چاہیے۔“

اس استدلال کے جواب میں پہلی بات جسے میں واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں، وہ یہ ہے کہ حضرت علی کے خلاف حضرت معاویہ کےجارحانہ اقدامات اور حضرت علی کےجوابی اقدامات کو ایک ہی سطح پر لانے کی سعی بالکل غلط اور غیر معقول ہےصاف بات یہ ہےکہ اگر حضرت علی خلیفه راشد تھےتو آپ کےخلاف حضرت معاویہؓ کا جدال و قتال محض” مشاجرت" یا "اختلاف"_١ کی تعریف میں نہیں آسکتا اور نہ اس پراس اجتہاد کا اطلاق ہو سکتا ہے کہ جس کے متعلق ارشاد نبوی ہے کہ

اذا اجتهد الحاكم فاصاب فله اجران وان اخطأ فله اجر.

"جب حاکم اجتهاد کرے اور صحیح فیصلہ کرے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے اور اگر غلطی کمرے تو ایک اجر ہے۔“

بلکہ یہ ان احادیث کی زد میں آتا ہے جن میں ارشاد ہوا ہے کہ من ارادان يفرق امر هذه الأمة وهي جميع فاضربوه بالسيف ...... اور اذا بويع لخليفتين فاقتلو الآخر منهما (مسلم، کتاب الامارہ)۔ اہل سنت میں سے کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہےکہ واقعہ تحکیم میں حضرت ابو موسی کےاعلان سےحضرت علی معزول ہو گئےتھےاور حضرت عمرو بن عاص کےاعلان سےامیر معاویہ خلیفہ ہو چکےتھے۔اس لیے در حقیقت حضرت علی کی حیثیت آخر وقت تک خلیفہ راشد کی تھی۔ پس امیر معاویہؓ خلیفہ راشد کے بالمقابل منازع اور مدعی خلافت تھے اور ان کا رویہ في الواقع بغاوت ومحاربة کی تعریف میں آتا ہے۔ اور حضرت علی یا ان کے کسی فرستادہ کی کارروائی، بالخصوص جبکہ وہ مدافعانہ اور جوابی نوعیت کی ہو،درحقیقت بغاوت اور سرکشی کا استیصال ہے،وشتان بينهما. دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پھر حضرت علی کے عہد خلافت میں امیر معاویہ نے یا ان کے کسی گورنر نےجو حربی یا نیم حربی اقدامات ان علاقوں میں کیے ہیں جو حضرت علیؓ کے زیر بیعت تھے، وہ تو اور بھی زیادہ بے جواز اور قابلِ اعتراض تھے۔ محمد تقی صاحب اگر چاہیں تو حضرت علی کے گورنر عبداللہ بن عباس کے معصوم بچوں کے قتل کا انکار کر دیں (اگرچه قدیم و جدید مورخین نے تفصیل و صراحت کے ساتھ اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔) مگر کیا وہ اس امر سےبھی انکار کر سکتےہیں کہ حضرت معاویہؓ نے ایک طےشدہ منصوبے کے مطابق مصر،حجاز، یمن،ہمدان وغیرہ علاقہ جات کو حضرت علیؓ کےحدود خلافت سےنکالنےکےلیےباقاعدہ جنگی مهمات کا آغاز اپنی طرف سے کر دیا تھا اور حضرت علی یا ان کے عاملین نے جو کچھ کیا وہ جوابی کارروائی کے طور پر تھا۔ شرعی لحاظ سے حضرت معاویہ کی یہ مہمات بغی و فساد کی تعریف میں آتی ہیں اور حضرت علیؓ کے مدافعانه اقدامات رفع فساد قرار پاتے ہیں۔


١-یہاں مدیر البلاغ نےامیر معاویہ کی حضرت علی کےخلاف بغاوت و جارحیت کےلیے"مشاجرت"کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس سے پہلے محرم کے البلاغ میں فرما چکے ہیں" کیا حضرت علی سے اختلاف کر کے حضرت معاویہ کو حق اجتہاد بھی نہیں رہا۔خلیفہ برحق کےخلاف مسلسل پانچ برس کی صف آرائی کو بھی محض اختلاف کا نام دے دیا عجیب چیز ہے۔

عثمانی صاحب نے اصابہ سے ابن حبان کا یہ قول تو نقل کر دیا کہ بسر کے بہت سے واقعاتمشہور ہیں، جن میں مشغول ہونا نہیں چاہئے لیکن اس قول سے معاقبل حافظ ابن حجر کا یہ قول کیا عثمانی صاحب کو نظر نہیں آیا کہ

كان معاوية وجهه الى اليمن والحجاز في اول سنة أربعين وأمره ان ينظر من كان في طاعة على فيوقع بهم ففعل ذلك.

"معاویہ نے بسر کو یمن اور حجاز کی طرف ۴۰ ء کے اوائل میں روانہ کیا اور حکم دیا کہ وہ جن لوگوں کو حضرت علیؓ کا مطیع دیکھے انہیں تاخت و تاراج کرے۔ پس بُسر نے ایسا ہی کیا۔“

تقریباً اسی طرح کی بات عثمانی صاحب کے پسندیدہ مورخ ابن خلدون نے بھی لکھی ہے:

فأراد معاوية صرف عمله الى مصر لما كان يرجو من الاستعانة على حروبه بخراجها.... فقال معاوية بل الرأى ان نكاتِبَ العثمانية بالوعد ونُكاتِبَ العدو بالصلح والتخويف ونأتي الحرب بعد ذلك.

( تاریخ ابن خلدون، جلد ۲ ص ۱۸۱)

"پھر امیر معاویہؓ نے مصر کی جانب کارروائی کا ارادہ کیا کیونکہ مصر کی آمدنی و محاصل سے وہ اپنی جنگوں میں مالی امداد کی توقع رکھتے تھے۔ پس امیر معاویہ نے کہا کہ صحیح رائے یہ ہوگی کہ ہم حضرت عثمان کے طرفداروں کو تو تحریری وعدے دیتے رہیں اور دشمن (علی) سے بھی صلح کی بات چیت پر خط و کتابت کریں اور کبھی انہیں ڈرائیں۔ اس کے بعد جنگ کا آغاز کریں۔“

اس کے بعد آخر عثمانی صاحب یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت معاویہ ان زیادتیوں سے بری ہیں۔ بہر حال یہ تو ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ بسر اور دوسرے لوگوں کو امیر معاویہؓ نےمار دھاڑ کی مہم پر روانہ کیا تھا۔ باقی رہیں تفصیلات تو ان کے بیان کرنے میں مولانا مودودی تنہا نہیں۔ مثال کےطور پر مولانا شاہ معین الدین احمد صاحب ندوی سیر الصحابہ، جلد ۸، صفحہ ۵۹ پر لکھتےہیں:۔

"٤٠ھ میں امیر معاویہ نےمشہور جفا کار بسر بن ابی ارطاۃ کو مجازیوں سےاپنی بیعت لینے پر معمور کیا۔ بہر نے اہل مدینہ کے دلوں میں خوف پیدا کرنے کےلیےبعض گھروں کو ڈھا دیا۔یہاں سےفارغ ہونے کے بعد مکہ پہنچا۔ مکہ کےمعاملات درست کرنے کے بعد یہاں سےیمن کی طرف بڑھا۔یہاں کے عامل عبید اللہ بن عباس کو خبر ہوئی تو وہ عبداللہ کو قائم مقام بنا کر کوفہ چلے گئے۔ بُسر نے یمن پہنچ کر پہلے عبداللہ کا کام تمام کیا۔ پھر تمام شیعیان علی کے قتل عام کا حکم دیا۔ عبید اللہ کے دو صغير السن معصوم بچے بھی بسر کے ظلم وجور سے زندہ نہ بچے۔ یمن میں سکہ بٹھانے کے بعد یہ ستم شعار سنگ دل شام لوٹ گیا۔“

ان ظالمانہ کاروائیوں کےجواب ہی میں حضرت علیؓ نےجاریہ بن قدامہ کو بھیجا تھا۔اب رہا یہ سوال کہ اگر جاریہ نےبھی نجران اور بصرہ میں جاکر ویسی ہی زیادتی کی تو اس پر حضرت علی بھی مورد الزام کیوں نہیں بنتے؟ تو اس کےتین جواب ہیں۔ پہلا تو یہ کہ یہ کارروائی جارحانہ نہیں بلکہ جوابی اور مدافعانه تھی۔دوسرا یہ کہ حضرت علی نے اپنے مخالفین و محاربین سےلڑتےہوئے بار بار تا کید فرمائی تھی کہ ان کی جان اور مال پر کوئی ایسا تجاوز نہ کیا جائے جو اسلام میں ممنوع ہو ۔ اس بات کو عثمانی صاحب نے بھی تسلیم کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اہلِ سنت کےعلماء وفقہاء نےمسلمان باغیوں،ان کےقیدیوں،عورتوں،بچوں وغیرہ کے متعلق جملہ احکامی تفصیلات حضرت علیؓ کےاس نمونےاور کے قیدیوں ، عورتوں، بچوں وغیرہ کے متعلق جملہ احکامی تفصیلات حضرت علیؓ کےاس نمونےاور ہےکہ اگر جار یہ ابن قدامه نےحضرت علیؓ کی ان ہدایات کےعلی الرغم کوئی فعل اسلام کے جنگی قوانین کے خلاف انجام دیا تھا تو حضرت علیؓ کو اتنی مہلت ہی نہ مل سکی کہ آپ اس پر مطلع ہو کر باز پرس کرتے ۔ یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ جاہر یہ ابھی اپنی مہمات میں نسر کا نجران، مکہ اور مدینہ میں تعاقب ہی کر رہے تھے کہ آ ہی میں ابن نجم خارجی نے حضرت علیؓ کو شہید کر دیا۔

عثمانی صاحب نے ابنِ کثیر کےحوالےسےیہ ثابت کرنےکی کوشش کی ہےکہ مولانا مودودی کانسر کو ظالم شخص کہنا صحیح نہیں، کیونکہ حضرت علیؓ نے اپنے ساتھیوں سے خود فرمایا تھا کہ ”نسر کا لشکر تم پر غالب آئے گا، کیونکہ وہ اپنے امام کی اطاعت کرتے ہیں اور تم نافرمانی کرتے ہو، تم اپنی زمین میں فساد مچاتے ہو اور یہ اصلاح کرتے ہیں۔ حقیت یہ ہے کہ یہ حضرت علی کے آخری خطبوں کے الفاظ ہیں جب کہ آپ اپنے رفقاء کی بدنظمی اور دوں ہمتی سے سخت مایوس اور دل برداشتہ تھے۔اس میں فساد و اصلاح وغیرہ الفاظ اضافی نوعیت کے ہیں جو اپنے ساتھیوں کو غیرت دلانے کے لیےایک خاص محدود مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں، جیسے میں نے ابھی اوپر سیٹز الصحابہ سے یہ الفاظ انقل کیے ہیں کہ بسر مکہ کے معاملات درست کرنے کے بعد یمن کی طرف بڑھا۔ "ظاہر ہے کہ معاملات کی یہ درستی یا "اصلاح" جیسی کچھ بھی تھی امیر معاویہ کے استحکام سلطنت کے نقطہ نظر ہی سے تھی ۔

اس سلسلے میں یہ امر بھی حیرت انگیز ہے کہ عثمانی صاحب اور بعض دوسرے لوگوں نے نہر کا یہ قول بڑے اہتمام سے پیش کیا ہے جس کا اعلان اس نے مدینے میں منبر رسول پر کھڑے ہو کر کیا تھا کہ :”اے اہل مدینہ ! اگر مجھ سے معاویہ نے عہد نہ لیا ہوتا تو میں اس شہر میں کسی بالغ انسان کو قتل کیے بغیر نہ چھوڑتا۔ مجھے سخت تعجب ہے کہ محمدتقی صاحب نے بسر کے قول کو امیر معاویہ کی برأت اور نسر کی صفائی کا ثبوت بنا کر پیش کیا ہے، اور اس سے یہ استدلال فراہم کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت معاویہؓ نے اپنے ماتحتوں کو یہ تاکید فرمادی تھی کہ وہ قتل وقتال میں حد ضرورت سے آگے نہ بڑھیں۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ نہر کے اس مقولے سے جو استنباط بجاطور پر کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہےکہ حضرت معاویہ کے گورنروں اور ماتحتوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےعہد وفرمان سےزیادہ امیر معاویہ کی ہدایات کا پاس تھا۔ورنہ جس شخص کےدل میں اللہ کا خوف اور ارشاد نبوی کا احترام امیر کےخوف و احترام سےزیادہ اور اشد ہو، وہ ایسا انداز بیان اختیار نہیں کر سکتا اور مسجد نبوی کے منبر پر کھڑے ہو کر اہل مدینہ کو ان الفاظ میں دھمکی نہیں دے سکتا کہ اگر معاویہ نے مجھ پر پابندی نہ لگائی ہوتی تو میں اس شہر میں کسی بالغ کو قتل کیے بغیر دم نہ لیتا۔ کیا مدینۃ الرسول میں قتل عام سے باز رکھنے کے لیے خدا اور اس کے رسول کے احکام ایک مسلمان کے لیے کافی نہیں ہیں اور کیا اس کے لیے کسی دوسرے کے امتناعی حکم کی بھی ضرورت ہے؟ اللہ کا فرمان ہے:

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَا.... وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاهُ جَهَنَّمَ خَلِدًا فِيْهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا. (النساء:۹۲-۹۳)

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

لا يريد احد المدينة بسوء الا اذابَهُ الله في النار، ذوب الرصاص.

"مدینہ کے متعلق جو بھی برا ارادہ کرے گا، اللہ اسے سیسے کے مانند آگ میں پگھلائے گا۔"

و من أخاف اهل المدينة ظلما أخافه الله وَعَليه لعنة الله والملائكة والناس اجمعين.

"جو اہل مدینہ کو ناروا طور پر خوف زدہ کرے، اسے اللہ خوف زدہ کرے گا اور اس پر اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔“

کیا ان ارشادات کے بعد کسی کے لیے ایسی بات کہنا جائز ہے کہ اگر امیر معاویہؓ نے مجھے نہ روک دیا ہوتا تو میں مدینے کے ہر شخص کہ تہ تیغ کر دیتا؟ دوسرے لفظوں میں جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امیر مجھے حکم دیں تو میں ایسا کر گزروں گا_١طرفہ تماشا یہ ہےکہ امیر معاویہ اوران کے عمال کو بری الذمہ ثابت کرنے کے لیے جو لوگ اس طرح کے اقوال اور استدلال پیش کرتے ہیں، ان کےسامنےجب اس طرح کی وکالت کی بنیادی کمزوری کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ بڑے ناراض ہوتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ایسی صفائی پیش کرنے سے نہ کرنا ہی بہتر ہے۔

مولانا محمد تقی صاحب عثمانی نےیہ بھی لکھا ہے کہ فتنہ کا وقت گزر جانے کے بعد حضرت معاویہؓ کو یہ اطلاع ملی کہ بسر بن ابی ارطاۃ نےکچھ زیادتیاں کی ہیں تو ابن خلدون کےبیان کےمطابق حضرت معاویہ نےان زیادتیوں کی تلافی کر کے بُسر کو گورنری سےمعزول کر دیا۔ عثمانی صاحب نےتلافی کی کچھ تفصیل نہیں بتائی اور نہ ہی واضح کیاکہ فتنہ کب تک رہا اور کب اسکا وقت ختم ہوا۔تاریخ طبری اور بعض دوسری تاریخوں سےتو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کی شہادت بلکہ امام حسن سےمصالحت کے بعد بھی بسر جنگی خدمات سرانجام دیتا رہا ہے۔٤١ھ میں جب عمران بن ابان نےبصرے پر قبضہ کر لیا تھا،اور زیاد اس وقت فارس میں گردوں کی سر کوبی میں مصروف تھا تو اس وقت امیر معاویہؓ نے حمران اور زیاد دونوں کو اپنا مطیع بنانے کے لیے بسر ہی کو روانہ کیا تھا۔بُسر نےجا کر بصرےمیں پہلا کام تو یہ کیا کہ منبر پر حضرت علی کےخلاف سب و شتم کا ارتکاب کیا_٢پھر زیاد کےلڑکوں کو گرفتار کر کےامیر معاویہ کی جانب سےزیاد کو وعید نامہ تحریر کیا کہ اپنا خزانہ لےکر امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہو جائےورنہ اس کےلڑکوں کو قتل کر دیا جائےگا۔زیاد اس وقت تک حضرت علی کا حامی تھا اور امیر معاویہؓ نےاسےبھائی بنا کر اپنا ساتھ نہیں ملایا تھا۔حضرت ابوبکر نےبڑی مشکل سےبیچ میں پڑ کر لڑکوں کی جان بچائی۔اس کے بعد بھی تین سال تک بُسر مختلف مہمات میں سرگرم رہا ہے۔اس لیےیہ بلت صحیح نہیں کہ امیر معاویہ نےاسےاس کی زیادتیوں کی وجہ سےمعزول کر دیا تھا۔ صحیح تر بات یہ ہے کہ اس سے مواخذہ کیے بغیر یکے بعد دیگرے مختلف خدمات پر اسے مامور کیا جاتا رہا۔


١- واضح رہے کہ نمبر نے مدینے والوں کو قتل عام کی دھمکی ایسی حالت میں دی تھی جب کہ مدینے میں کس تنفس نے مقابلے میں ہاتھ نہیں اٹھایا تھا۔ ابن جریر طبری اپنی تاریخ جلد ۴ صفحہ ۰۶ اپر فرماتے ہیں ۔ دخل بسر المدينة فصعد منبرها ولم يقاتله بها احد،فنادی... یہی الفاظ الکامل لابن اثیر جلد ۳ صفحہ ۱۹۲ پر موجود ہیں۔

٢- خطب بسر على منبر البصرة فشتم عليا ) تاریخ طبری ، جلد ۳ صفحه ۱۲۸، الکامل، جلد ۳ صفحه ۲۰۷) ۔

کیا صحابہ کے متعلق تاریخی واقعات بیان کرنا قابلِ اعتراض ہے؟

مولانا مودودی نےاس بحث میں کچھ امیر معاویہ کےمتعلق لکھا ہےاس پر مدیر” البلاغ “اور دوسرےمعترضین بار بار یہ کہتےہیں کہ محض تاریخ کےبل پر صحابہ کرام کو مطعون کرنا جائز نہیں۔یہی اعتراض خلافت و ملوکیت کی دوسری تاریخی روایات کے خلاف عاید کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ اعتراض متعدد وجوہ سے غلط ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی صحابی کی غلطی بیان کرنا یا اسےکتاب وسنت کےمعیار حق پر جانچنا موجب طعن نہیں ہے۔ہمارے اس قریب کے زمانےمیں شاہ عبد العزیز صاحب محدث سےبڑھ کر صحابہ کرام کےخلاف مطاعن کار د کرنےوالا شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔ ان پر اس سلسلے میں مصیبت کے جو پہاڑ توڑے گئے ، جس طرح انہیں شدید جانی و مالی مصائب کا شکار ہونا پڑا اور جسطرح ان کی املاک ضبط کی گئیں،اسکےتصور سےہی رونگٹےکھڑے ہو جائے ہیں۔ لیکن انہوں نے ، جیسا کہ میں پچھلی بحث میں نقل کر چکا، ایک طرف یہ فرمایا کہ زبان طعن بند رکھنی چاہیے اور دوسری طرف وہیں حضرت معاویہ کو سباب وقتال جیسے کبائر کا مرتکب بھی قرار دیا۔ اس کا مطلب بجز اس کے اور کیا ہے کہ ان امور کا ذکر طعن کے مترادف نہیں ہے۔ اس سے واضح تر شاہ صاحب کا ایک جواب ان کےفتاوی عزیزی میں موجود ہے۔ان سے سوال کیا گیا کہ "حضرت معاویہ اور مروان کو برا کہنے کےبارے میں اہل سنت کےنزدیک کیا ثابت ہے؟“جواب میں مروان کو ملعون اور شیطان قرار دینےاور اس سے دلی بیزاری کو لوازم سنت شمار کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

علمائے ماوراء النہر و مفسر مینو فقہاء این ہمہ حرکات و جنگ و جدل اورا کہ جناب مرتضی علی نمود، حمل بر خطائے دارند و متقین اہل حدیث بعد تتبع روایات صحیح در یافته اند که این حرکات خالی از شائبه نفسانی نبود و خالی از تهمت تعصب امویه و قریشیه که بجناب ذی النورین داشت نبوده است.پس نهایت کارش این است که مرتکب کبیره و باغی باشد و الفاسق ليس باھل العن ۔اگر مراد از سب ہمیں قدر است این فعل اور ابد گفتن و بد دانستن،بلاشبه بر محققین این معنی واضح است-و اگر مراد از سب لعن و شتم است پس معاذ اللہ کہ کسےاز اہل سنت پیرامون آن گرد و چه نز داینها برائےفاسق و مرتکب کبیره استغفار مامور به است فیکون اللعن حراما خاصه که او مرد صحابی است- “

علماء ماوراء النہر، مفسرین اور فقہاء کہتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ کے حرکات جنگ و جدل جو حضرت مرتضی علی کے ساتھ ہوئیں وہ صرف خطاء اجتہادی کی بنا پر تھیں۔ محققین اہل حدیث نے بعد تنتبع روایات دریافت کیا ہے کہ یہ حرکات شائبہ نفسانی سے خالی نہ تھے اور اس تہمت سے خالی نہیں کہ جناب ذی النورین حضرت عثمان کے معاملہ میں جو تعصب امویہ وقریشیہ میں تھا، اس کی وجہ سےیہ حرکات معاویہ سے وقوع میں آئے جس کا غایت نتیجہ یہی ہےکہ وہ مرتکب کبیرہ و بغاوت قرار دیئےجائیں والفاسق ليس باهل اللعن،يعنى فاسق قابل لعن نہیں۔ تو اگر مراد برا کہنے سے اسی قدر ہے کہ ان کے اس فعل کو برا کہنا چاہیے اور برا سمجھنا چاہیے تو بلا شبہ اس امر کا ثبوت محققین پر واضح ہے۔ اگر برا کہنے سے مراد لعن وشتم ہے تو معاذ اللہ کہ اہل سنت سے کوئی شخص اس کے گرد جائے۔

اس واسطے کہ اہل سنت کے نزدیک یہ حکم ثابت ہے کہ فاسق اور مرتکب کبیرہ کے حق میں استغفار کرنا چاہیے۔ لعن کرنا حرام ہے علی الخصوص حضرت معاویہ جو کہ صحابی ہیں۔“

( فارسی عبارت فتاوی عزیزیه، کتابخانه رحیمیه ، دیوبند ، جلد اول صفحہ ۷۷ اسے منقول ہے۔اور ترجمہ فتاوی عزیزی مترجم، شائع کردہ سعید اینڈ کمپنی، کراچی ص ۲۲۵ سے نقل کیا گیا ہے )۔

شاہ صاحب کی کتاب ” تحفہ اثنا عشریہ" شیعوں کےرد میں ایک مستقل تصنیف ہے۔اس میں درج ذیل عبارت موجود ہے۔

"اہل سنت سب کےسب اس پر متفق الرائےہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان،حضرت امیر (علی)کی ابتدائی امامت سےاس وقت تک کہ حضرت امام حسن نےمعاملہ امامت معاویه کےسپرد کیا،باغیوں میں سےتھے کیونکہ امام وقت کی اطاعت چھوڑ دی اور جب امام حسن نے امامت ان کے سپرد کی تو وہ بادشاہ ہوئے۔ اب رہا یہ شک کہ جب معاویہ باغی ٹھہر ہے اور ناحق غلبہ حاصل کرنے والے، تو ان پر لعن طعن کیوں نہیں کرتے ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیک گناہ کبیرہ کے مرتکب پر لعن جائز نہیں، اور باغی چونکہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے، اس پر بھی لعن منع ونا جائز ہوئی ۔“

( تحفہ اثنا عشریه مترجم ص ۲۸۵، ناشر نور محمد ، کراچی)

اب کوئی شخص اگر شاہ صاحب کے ان اقوال کو کھلے دل اور کھلی آنکھوں سے پڑھے تو یہ بات اس سے مخفی نہ رہے گی کہ انہوں نے امیر معاویہ کے تعصب ، شائبہ نفسانیت اور فسق کا صاف ذکر کیا ہے، البتہ امیر معاویہ پرلعن طعن اور سب و شتم سے اجتناب کیا ہےاور اسی کو اہلِ سنت کا مسلک بتایا خلافت و ملوکیت میں آخر یہی کچھ تو کیا گیا ہے۔ واقعات بیان کر دیئے گئے ، غلط کام کو غلط کہا گیا مگر عن وطعن اور سب و شتم سے قطعی پر ہیز کیا گیا۔

کتب حدیث سے تاریخی واقعات کی توثیق

دوسری بات جو اس سلسلے میں قابل وضاحت ہے، وہ یہ ہےکہ تاریخی روایات کی وساطت سے ہمارے مؤرخین نے جو مواد صحابہ کرام کے حالات پر مشتمل جمع کیا ہے،اس میں سے اکثر د بیشتر ایسا ہے جس کا ماخذ مبنی صحیح احادیث و آثار میں بھی موجود ہے جو نہایت ثقہ قوی راویوں نے،روایت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے ضعیف یا مجروح راویوں سے بھی اس طرح کا تاریخی موا: اخذ کرنےمیں مضایقہ نہیں سمجھا گیا۔مثلاً یہی امیر معاویہ کا حضرت علیؓ کے مقابلے میں اٹھ کر جنگ کرنا اور اس میں ہر ممکن تدبیر کو کام میں لانا ایک بدیہی حقیقت ہے جس کا انحصار مجرد تاریخی روایات پر نہیں ہے، بلکہ صحاح ستہ کی نہایت صحیح الاسناد روایات میں بھی اس کےدلائل وشواہد موجود ہیں۔اس کی ایک مثال میں یہاں پیش کرتا ہوں۔مسلم، کتاب الامارہ، باب وجوب الوفاء بسعة الخليفة الاول فالاول میں ایک حدیث ہے جس کے راوی عبدالرحمن بن عبد رب الکعب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص بیت اللہ میں بیٹھے تھے جب کہ انہوں نے بہان کیا کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےہمیں جمع کر کےایک خطاب فرمایا۔اس خطاب میں آنحضور نے آئندہ آنے والے متعدد فتنوں کی پیشین گوئی کرتے ہوئے آخر میں فرمایا :

ومن بايع إماما فأعطاه صفقة يده وثمرة قلبه فليطعه ان استطاع فان جاء آخرينـا زعه فاضربوا عنق الآخر فدنوت منه فقلت أنشدك الله آنت سمعت سمعته هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلّم؟ فأهوى الى أذنيه وقلبه بيديه وقال عنه أذناي ووعاه قلبي فقلت له هذا ابن عمك معاوية يأمرنا ان نأكل اموالنا بيننا بالباطل ونقتل انفسنا، والله يقول : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُو لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمُ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضِ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا. فسكت ساعةً ثُمَّ قال اطعه في طاعة الله واعصه في معصية الله.

"جس شخص نے ایک امام کی بیعت کی اور دل و جان سے اس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا، اسےچاہیے کہ وہ اس امام کی حتی الامکان اطاعت کرے۔ پھر اگر دوسرا امامت کا دے دار بنے تو دوسرے کو مارو ( عبدالرحمن راوی کہتے ہیں کہ ) میں نے حضرت عبداللہ سے قریب ہو کر پوچھا کہ میں آپ کو خدا کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟پس انہوں نے اپنے کانوں کی طرف اور اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے دونوں کانوں نے یہ بات سنی اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے۔ پھر میں نے ( راوی نے ) حضرت عبداللہ سے کہا کہ آپ کے یہ عم زاد معاویہ تو ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم آپس میں اپنے مال باطل طریقے سے کھائیں اور اپنے (مسلمان بھائیوں ) کو قتل کریں حالانکہ اللہ فرماتا ہے کہ اےایمان والو ! مت کھاؤ اپنے مال آپس میں باطل طریق پر الا یہ کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارتی لین دین ہو اور اپنی جانوں کو قل نہ کرو۔ یقینا اللہ تم پر مہربان ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ میری بات پر کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: اللہ کی اطاعت کے تحت معاویہ کی اطاعت کرو اور جب ان کی اطاعت کا مطلب اللہ کی نافرمانی ہو تو امیر معاویہ کا حکم نہ مانو “

یہ حدیث معمولی لفظی اختلاف کےساتھ سنن ابی داؤد،کتاب الفتن میں بھی موجود ہےاس روایت کا مضمون صاف طور پر بتا رہا ہے کہ اس میں پہلے امام اور دوسرے مدعی و منازع کا ذکر جس انداز میں ہے اس کا اطلاق حضرت علی اور امیر معاویہ پر ہوسکتا ہے اور امیر معاویہ نےحضرت علی کےخلاف جو منزعت و محاربت کی روش اختیار کی لوگوں کی جان و مال پر خود یا اپنےلشکریوں اور عاملوں کےذریعےسےتعدی کی اور اس کےلیےجو ذرائع ووسائل استعمال کیسے یہ سب کارروائیاں نا جائز تھیں جن کی ذمہ داری امیر معاویہ پر عائد ہوتی تھی۔ امام نودی نے اس حدیث کی شرح کرتےہوئے فرمایا ہے کہ:

"راوی کے کلام کا نقصور یہ ہےکہ جب اس نے حضرت عبداللہ بن عمرو کی بات اور یہ حدیث سنی کہ خلیفہ اول کی موجہ گی میں دوسرے کی اس سے منازعت حرام ہے اور دوسرا لائق قتل ہے تو راوی اس بات کا قائل ہو گیا کہ یہ وصف معاویہ میں موجود ہے کیونکہ وہ حضرت علی سے نزاع کر رہےہیں، حالانکہ حضرت علی کی بیعت پہلے منعقد ہو چکی ہے۔ پس راوی عبد الرحمن کی رائے یہ ہوئی کہ امیر معاویہ حضرت علی کے خلاف جنگ اور منازعت و مقاتلت میں اپنے فوجیوں اور پیروکاروں پر جو کچھ خرچ کر رہے ہیں وہ اکل المال بالباطل ( اور قتل نفس ) ہے۔ اسی بنا پر حضرت ابن عمرو نے فرمایا کہ تو اللہ کی اطاعت میں معاویہ کی اطاعت کر اور جہاں اللہ کی نافرمانی لازم آئے ، وہاں اطاعت نہ کر -"

اس روایت سے یہ باہ بھی ظاہر ہوتی ہے کہ عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ نے جو رائے قائم کی تھی ، حضرت عبد اللہ بن عمرو کو اس سےاختلاف نہیں تھا،ورنہ وہ راوی سےضرور کہتےکہ تمہارا خیال غلط ہے،یہ تو ایک اجتہادی اختلاف ہے، اس لیے اس پر قتل نفس اور اکل بالباطل کی تعریف صادق نہیں آتی ، نیز حضرت عبداللہ بن عمر و اپنے والد کے ہمراہ امیر معاویہ کے کیمپ میں چلے تو گئے تھےلیکن آپ نےلڑائی میں حصہ نہیں لیا اور جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ آئے ہی کیوں تو آپ نےجواب دیا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہدایت فرمائی تھی کہ اپنے والد کی نافرمانی نہ کرنا، تو میں اپنے والد کا حکم اس حد تک تو بجا لے آیا کہ ان کے ساتھ آ گیا مگر میں حضرت علیؓ سے لڑ کر خدا کی نافرمانی نہیں کر سکتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر صحیح مسلم اور سنن ابی داؤد میں ایسی روایات کی موجودگی موجب طعن نہیں ہے جو حضرت علیؓ کے بالمقابل حضرت معاویہ کے موقف کو کئی اور مجموعی حیثیت سے باطل بتا رہی ہیں، تو کسی ایسی تاریخی روایت کے نقل کر دینے سے کیا قیامت برپا ہو جائے گی جو امیر معاویہ یا ان کے کسی گورنر کی کوئی غلط کا روائی بیان کر رہی ہو؟

مسلمان عورتوں کو لونڈیاں بنانے کا معاملہ

مولانا مودودی نے بسر بن ابی ارطاۃ کے متعلق یہ بھی لکھا ہے کہ اس کو حضرت معاویہؓ نےہمدان پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا جو اس وقت حضرت علی کے قبضے میں تھا۔ وہاں اس نے ایک ظلم عظیم یہ کیا کہ جنگ میں جو مسلمان عورتیں پکڑی گئی تھیں،انہیں لونڈیاں بنایا۔اس پر مولانا عثمانی لکھتےہیں کہ یہ بات استیعاب کےسوا کسی بھی تاریخ میں موجود نہیں اور کسی دوسرے مورخ نےاسےاپنی تاریخ میں درج کرنا مناسب نہیں سمجھا، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہیں جو ضعیف ہیں اور جن سے روایت حلال نہیں۔ لیکن عثمانی صاحب اور بعض دوسرے لوگوں کا یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے کہ یہ بات استیعاب کےسوا کسی کتاب میں درج نہیں ہےسر دست اسد الغابه فی معرفۃالصحابه جلدا،ص ۱۸۱ کا ایک اقتباس حاضر ہےبسر کےحالات میں مصنف ابن اثیر فرماتے ہیں کہ بیٹی بن معین کے قول کے مطابق بسر ایک برا آدمی تھا کیونکہ اس نے کبائر کا ارتکاب کیا جنہیں مورخین و محدثین نے نقل کیا ہےعبید اللہ بن عباس کےدو معصوم بچوں عبدالرحمن اور قسم کو ان کی ماں کےسامنے ذبح کیا ۔ اس صدمے سے وہ دیوانی ہو گئی۔ معاویہ نے اس شخص کو حجاز و یمن کی طرف حضرت علی کے حامیوں کو قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ پھر لکھتے ہیں:

وأغار على همدان باليمن وسبى نساءهم فكن اوّل مسلمات سُبين في الاسلام وهدم بـالـمـديـنـة دوراً وقد ذكرت الحادثة في التاريخ فلا حاجة الى الإطالة بذكرها.


١- ایک مزید حوالہ مضمون کے آخر میں درج ہے۔

"اس شخص نے یمن میں ہمدان کو تاخت و تاراج کیا اور وہاں کی عورتوں کو لونڈیاں بنا لیا۔اسلام میں یہ پہلی عورتیں تھیں جنہیں لونڈی بنایا گیا۔ اور اس نے مدینہ میں گھروں کو منہدم کیا۔ یہ حادث تاریخوں میں مذکور ہے، اس لیے اس کے ذکر کو طول دینے کی ضرورت نہیں۔“

میں سمجھتا ہوں کہ حافظ ابن عبدالبر اور حافظ ابن اثیر الجزری (صاحب الکامل_١) دونوں اتنےبلند پایه حدث و مؤرخ ہیں کہ ان دونوں میں سےکسی ایک کا اس واقعہ کو نقل کر دینا اثبات مدعا کےلیےکافی ہے_٢ اس کے بعد اگر مدیر البلاغ یا کچھ دوسرے لوگ اس واقعہ کا انکار کرنا چاہتےہیں تو پھر انہیں چاہیےکہ دو رفتن کی پوری تاریخ کا ہی انکار کر دیں۔ مگر اس انکار سے کیا ہوگا ، ان ما تحذرین قد وقعت. باقی رہا کسی راوی کا ضعیف یا متکلم فیہ ہونا تو میں پہلےتفصیلاً عرض کر چکا ہوں کہ تاریخی بحث میں ہر قدم پر راوی کی خیریت معلوم کرنے کی کوشش کرنا نہ ممکن ہے، نہ آج تک کسی سے یہ ہو سکا ہے۔

حضرت عمار کا سر کاٹنے کا معاملہ

حضرت عمار بن یاسر کا سرکاٹ کر امیر معاویہ کے پاس لائے جانے کی جو روایت مولانا مودودی نے درج کی ہے، اس پر مولانا محمد تقی صاحب فرماتےہیں کہ یہ روایت تو مولانا نے صحیح نقل کی ہےلیکن اس واقعہ سے حضرت معاویہ پر الزام کسی طرح درست نہیں ہے،اس لیے کہ اس میں یہ نہیں بتلایا کہ حضرت معاویہ نے اس فعل پر کیا اثر لیا؟ اسی طرح حضرت علی کا ایک لشکری عمیربن جرموز ، حضرت زبیر کا سر تن سے جدا کر کے حضرت علیؓ کے پاس لے گیا۔ حضرت علی یا حضرت معاویہ دونوں میں سے کسی نے سرکاٹنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ حضرت علیؓ کےبارے میں ایسی روایت موجود ہےکہ انہوں نے حضرت زبیر کی شہادت پر افسوس ظاہر کیا۔ حضرت معاویہ کے قصے میں ایسی کوئی بات مذکور نہیں مگر یہ "عدم ذکر ہی تو ہے" ذکر عدم تو نہیں۔


١- یہ بھی واضح رہے کہ ابن اثیر نے اُسد الغابه کو اپنی تاریخ الکامل کے بعد مرتب کیا ہے، اور اس میں زیادہ مشہور اور اہم واقعات کو درج کیا ہے، جن کے اندراج کے بعد وہ بالعموم لکھ دیتے ہیں کہ بقیہ واقعات میری تاریخ میں موجود ہیں۔یہ واقعہ امام ذہبی نے بھی بیان کیا ہے۔ ملاحظہ ہو صفحہ ۲۴۹۔

٢- ابن حجر نے بھی تہذیب التہذیب میں بسر کے حالات میں لکھا ہے : فـعـل بـمـكــه والمدينة واليمن أفعالا قبيحة، ولاه معاوية اليمن وكانت بها آثار غير محمودة. یہی افعال قبیحه اور آثار غیر محمودہ تھےجن کی تفصیل استیعاب اور اُسد الغابه میں بیان ہوئی ہے۔

جناب عثمانی صاحب نےقطع راس کےان دو واقعات میں جسطرح مشابهت دکھانےاور حضرت علی اور حضرت معاویہ کے طرز عمل میں جو مماثلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، اسے دیکھ کر بڑا تعجب ہوتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں حادثوں کی جو تفصیلات،تاریخوں میں بیان ہوئی ہیں ان میں بالکل نمایاں اور بین فرق ہے۔ ابنِ جرموز کے متعلق ابن عبد البر ابن سعد اور ابن کثیر وغیرہ نےجو کچھ تحریر فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بد بخت حضرت زبیر کاسر جدا کر کےاور آپ کا سرور آپکی تلوار لےکر حضرت علی تک پہنچا کہ شاید آپ خوش ہو کر انعام و اکرام سےنوازیں گےمگر حضرت علی نےمحض رھی افسوس کا اظہار نہیں کیا بلکہ آپ کو شدید قلق ہوا اور آپ نے اس شخص کو اپنے سامنے پیش ہونے کی اجازت نہ دی اور فرمایا۔

بشره بالنار.

"اس کو جہنم کی آگ کی بشارت سناؤ ۔“

پھر آپ نےحضرت زبیر کی تلوار لےکر کہا کہ اس تلوار نےکتنی ہی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدافعت کی تھی ! اس کے بالمقابل حضرت معاویہ کے سامنے جب وہ شخص حضرت عمار کا سرلے کر پہنچے، جن میں سے ہر ایک قاتل عمار ہونے کا مدعی تھا، تو جتنی کتابوں میں یہ واقعہ مذکور ہے، ان میں کسی ایک مقام پر بھی یہ بات نظر سے نہیں گزری کہ امیر معاویہ نے قاتلوں کو تنبیہ کی ہو یا اظہار تاسف کیا ہو۔ اب عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ عدم ذکر ہی تو ہے ، ذکر عدم تو نہیں۔“حالانکہ فعل تنبیہ و افسوس اگر معدوم ہونے کے بجائے موجود ہوتا تو مذکور بھی ہوتا ، اس کے غیر مذکور ہونے کی کوئی معقول وجہ ہی نہیں تھی۔ مسند احمد کی مرویات اور دوسری تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ ان دونوں قاتلوں کو جھگڑتے دیکھ کر حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے فرمایا تھا کہ کاش تم دونوں میں سے ہر ایک یہ پسند کرتا کہ قتل عمار ما فعل قبیح اور اس کا دعوئی وہ نہ کرے بلکہ اس کا دوسرا ساتھی کرے،کیونکہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے عمار سے فرمایا:

تَقْتُلُكَ فِئَةٌ باغِيَةٌ

" تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔“

امیر معاویہ نے یہ سن کر حضرت ابن عمرو سے کہا کہ پھر تم ہمارے ساتھ کیوں آئے ۔ اس پر انہوں نے وہ جواب دیا جو اوپر بیان ہو چکا_١ بعض روایات میں حضرت معاویہ کا یہ قول بھی بیان ہوا ہےکہ ہم نےعمار کوقتل نہیں کیا ،بلکہ علی نے کیا ہے جو اسےساتھ لائےاب فی الواقع یہ چیز بڑی عجیب و غریب ہوگی کہ یہ ساری باتیں تو روایات میں منقول ہونےسے نہ رہیں، مگر فقط امیر معاویہؓ کی تنبیہ ونکیر اور اظہار افسوس ہی معدوم الذکر رہ گیا جس کی فی الواقع سخت ضرورت تھی، کیونکہ سارےمورخین و محدثین یہ جانتےتھےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلین کو باغی گروہ قرار دیا تھا۔ اگر حضرت معاویہ نے اظہار رنج و افسوس کیا ہوتا تو اس کا ذکر ضرور کیا جاتا۔ روایات کا مضمون اور مجموعی انداز تو بتا رہا ہےکہ سر کاٹنےوالوں کو تنبیہ کرنےکےبجائے امیر معاویہ الٹی حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص کو تنبیہ فرما رہےہیں جو قاتلین عمار کی مذمت کر رہےتھے پھر ایک طرف حضرت ابن عمرو، امیر معاویہ کے سامنے ارشاد نبوی پیش کر رہے ہیں اور دوسری طرف امیر معاویہ فرما رہے ہیں کہ اے عمرو، اپنے مجنون بیٹے سے ہمارا پیچھا کیوں نہیں چھڑواتے۔ عثمانی صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ امیر معاویہ کے اس قول پر بھی تو کچھ ارشاد فرماتےیہ قول تو مذکور ہے،معدوم نہیں اور حدیث بھی صحیح الاسناد ہے، جیسا کہ وہ خود تسلیم کر چکے ہیں۔ اس کی سند میں کوئی رادی رافضی یا کذاب نہیں ہے۔

عمر و بن احمق کا سرکاٹ کر گشت کرانے کا معاملہ

عمرو بن الحمق کا سرکاٹ کر گشت کرانے کا جو واقعہ مولانا مودودی نےلکھا ہے، اس کا عثمانی صاحب نے انکار کیا ہےاور لکھا ہےکہ ابن جریر نےجو روایت درج کی ہےاس کی رو سے عمرو بن العمق کو موصل کے گورنر نے گرفتار کر لیا تھا اور امیر معاویہ نے اسےلکھا تھا کہ ان پر نیزے کےنووار کرو جسطرح انہوں نے حضرت عثمان پر کیےتھے۔ عثمانی صاحب کا دعویٰ یہ ہے کہ البدایہ کے سوا کسی کتاب میں سر کاٹنےیا حضرت معاویہ کے پاس لے جانے کا ذکر نہیں۔عثمانی صاحب کےنزدیک ابن جریر کی روایت بہت پر لطف ہےکیونکہ اسکا راوی ابو مخنف ہےاورشیعہ ہونے کےباوجود وہ حضرت معاویہ پر سرگشت کرانے کا الزام عائد نہیں کرتا۔ مگر مولانا عثمانی صاحب کا دعویٰ صحیح نہیں ہے اور نہ اس سےمولانا مودودی کا اعتراض رفع ہوتا ہےمولانا مودودی کا اصل اعتراض یہ ہےکہ اس دور میں لوگوں کےسرکاٹ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کا طریقہ مسلمانوں کےاندر شرہ بہرا جو جاہلیت میں رائج تھا اور جسے اسلام نے مٹادیا تھا۔ اب عمرو بن الحمق کا سر قطع ہونے اور امیر معاویہ کے پاس بھیجے جانےکا ذکر صرف البدایہ ہی میں نہیں، جیسا کہ عثمانی صاحب کا خیال ہے،بلکہ یہ واقعہ تہذیب التہذیب میں بھی مذکور ہے جس کا حوالہ مولانا مودودی نےدیا ہے۔ ابن حجر یہاں جلد ۱۸ صفحہ ۳۴ پر ابن حبان کےحوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت علی کے قتل کے بعد عمرو بن الحمق موصل پہنچا اور ایک غار میں چھپ گیا جہاں ایک سانپ نے اسے ڈس لیا۔ پھر لکھتے ہیں:


١- مسند احمد ، مرویات عبداللہ بن عمر و ، جلد اا ، حدیث ۱۹۲۹ ) مکتبہ دار المعارف مصر) میں الفاظ ہیں : فقال معاوية ألا تغني عنا مجنونک یا عَمرو،فما بالك معنا.قال ان ابى شکانی الی رسول الله صلى الله عليه وسلّم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلّم اطع اباک مادام حاولا ،تعصه، فانا معكم ولستُ اقاتل " ضرت معاویہ نے حضرت عمرو بن عاص سے کہا کہ اپنے اس دیوانے لڑکے سے ہمارا پیچھا کیوں نہیں چھڑاتے ۔ پھر عبد اللہ بن عمرو سے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر تم ہمارے ساتھ کیوں ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے والد نے ایک مرتبہ میری شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھی ، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اپنے باپ کی اطاعت کرو جب تک وہ زندہ رہیں،اور ان کی نافرمانی نہ کرو۔اس وجہ سے میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں،مگر میں لڑوں گا نہیں ۔ تطہیر الجنان ( طبع جدید،مکتبه القاهره صفحہ۳۳) میں ابن حجر نےاور امام نسائی نے ختہ الک علی کے اواخر میں یہی واقعہ نقل کیا ہے۔ مگر امیر معاویہ نے جو الفاظ حضرت عمرو سےکہے وہ یوں منقول ہیں:

رحضت من قولک ( تم اپنی بات سے ہٹ گئے )۔حافظ نورالدین اہیمی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد میں یہ واقعہ بیان کرتےہوئے امیر معاویہ کے یہ الفاظ نقل کرتے ہیں لاتزال داحضًا فی بولک. ( تم اپنے پیشاب میں لڑھک گئے )۔

فاخذ عامل الموصل رأسه وحمله الى زياد فبعث زياد رأسه الى معاوية.

"موصل کے عامل نے اس کا سر کاٹ لیا اور زیاد کے پاس لے گیا۔ پھر زیاد نے اس کا سرامیر معاویہ کے پاس بھیج دیا۔“

اب فرض کیا کہ امیر معاویہ نے اسے گشت نہ کرایا ہو، لیکن اتنی بات تو البدایه اور تهذیب التهذیب دونوں میں منقول ہے کہ یہ سر موصل سے بصره و کوفه اور وہاں سے دمشق امیر معاویہ تک پہنچا اور جو سفر اس نے طے کیا تھاوہ ان سے بھی مخفی نہ رہا ہو گا۔ اس کے بعد ابن حجر آخر میں لکھتےہیں:

وذكر ابن جرير عن ابی مخنف ان عمر و الحمق کان میں اصحاب حجر بن عدى یعنی فلذالک اريد قتله وحمل رأسه لما مات.

"اور ابن جریر نے ابو مخنف سے روایت کیا ہے کہ عمرو بن احمق حجر بن عدی کے ساتھیوں میں سے تھے، مطلب یہ ہے کہ حجر کی رفاقت ہی کے باعث اس کے قتل کا ارادہ کیا گیا اور مرنے کے بعد اس کا سر لے جایا گیا۔“

بہر کیف موت کا باعث خواہ قصاص ہو یا سانپ کا کاٹا جانا ہو، لاش کا مثلہ اسلام میں جائز نہیں۔ صحابہ کرام کفار کے ہاتھوں شہید ہوئے،ان کا مثلہ کیا گیا، کلیجے چبائے گئے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔نہ کغار کی لاشوں کو رسوا کر نے سے ہمیشہ منع فرمایا۔

مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کے طرزفکر و استدلال کی یہ دورنگی بھی میرےلیےتعجب خیز ہےکہ ایک طرف حضرت امیر معاویہؓ نےبنی و محاربه کی جو روش خلیفہ راشد حضرت علی کےبالمقابل اختیار کی اسےتو مشاجرت، اختلاف یا اجتہاد کا عنوان دے کر پوری صفائی اور برات پیش کی جارہی ہےاور دوسری طرف حضرت حجر بن عدی نے جو رویہ امیر معاویہ کےمقابلےمیں اختیار کیا اسےپوری شد و مد کےساتھ بغاوت اور سزاوار قتل ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ( یہ بحث آگے آ رہی ہے)۔ آخر ایک ہی نوعیت کے افعال کو دو مختلف پیمانوں سے ناپنے کے حق میں دلیل جواز کیا ہے؟اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل سنت کے مسلک میں کسی صحابی پر لعن طعن بہت بڑا گناہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہےکہ صحابی کےکسی قول و فعل کے متعلق یہ کہنا بھی گناہ ہےکہ وہ مطابق کتاب و سنت نہیں ہےامیر معاویہ کےہر فعل کی تصویب جسطرح مولانا عثمانی صاحب کر رہے ہیں،علمائے سنت نے اس کا اہتمام کبھی نہیں کیا۔ شاہ عبدالعزیز محدث کے اقوال میں پہلے نقل کر چکا۔ اب آخر میں مولانا رشید احمد گنگوں کے کتابچہ ہدایت الشیعہ صفحہ ۳۰ کے ایک اقتباس پر اس بحث کو ختم کیا جارہا ہے۔ شیعہ حضرات کے ایک سوال کے جواب میں وہ فرماتے ہیں:

"معاویہؓ کا محاربہ حضرت امیر کے ساتھ جو ہوا تو اہلِ سنت اس کو کب بھلا اور جائز کہتےہیں۔ ذرا کوئی کتاب اہل سنت کی دیکھی ہوتی۔ اہل سنت ان کو اس فعل میں خاطی کہتے ہیں۔ مگر معاویہ اس خطا کے سبب ایمان سےنہیں نکل گئےجیسا تمہارا اور تمہارے اسلاف کا زعم ہے،کیونکہ حق تعالی خود قرآن شریف میں فرماتا ہے: وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا.... تو دیکھو کہ حق تعالی با وصف مقاتلہ باہمی ان کو مومنین کہہ کر تعبیر فرماتا ہےاور سوا اس کےصدہا آیات ہیں جن سےیہ ثابت ہوتا ہےکرن و گناہ کبیرہ سےمسلمان کافرنہیں ہوتا۔“

زیاد کا ظلم اور اس کے راوی

زیاد بن ابیه کے متعلق جو واقعہ ارشاداں بیان کیا گیا ہےکہ اس نےمحض چند کنکریاں پھینک دینےپر متعدد افراد کو مسجد میں محصور کر کےاس کےہاتھ کا۔اسکےبارے میں عثمانی صاحب نےلکھا ہےکہ یہ زیاد کا ذاتی فعل تھا جس سےامیر معاویہ کا با خبر ہونا ضروری نہیں۔میں نےاسکےجواب میں تحریر کیا تھاکہ یہ ایک نہایت سنگدلانہ اورشرعا ممنوع جرم ہےجو حضرت معاویہ سےمخفی نہیں رہ سکتا تھا۔زیاد ایک ایساسفاک اور خونخوار گورنر تھا جو آئے دن بے گناہ لوگوں کو تہہ تیغ کرتا رہتا تھا اور یہ امر بعید از امکان ہے کہ ایسے مظالم و جرائم کا علم خلیفہ وقت کو نہ ہو سکا ہو یا ہوا ہو اور اس پر معمولی سرزنش کافی ہو۔میں نےاس بات پر بھی تنبیہ کی تھی کہ عثمانی صاحب نےکنکر چھینکنے کوسنگباری بنا کر زیاد کے جرم کو ہلکا کرنے اور مظلومین کے فعل کو بھیا نک بنا کردکھانےکی ناروا کوشش کی ہےمگر عثمانی صاحب نےمیری کسی بات کا کوئی اثر قبول نہیں کیا اور اپنی روش پر اصرار کرتے ہوئے پھر فرماتےہیں کہ ان لوگوں نے خطبہ کےدوران ”سنگباری کی تھی۔ اس کے بعد وہی راویوں کی بحث لے بیٹھے ہیں۔ لکھتے ہیں:

"علی بن عاصم کی روایات ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک قابل استدلال نہیں ہیں۔ اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ وہ روایات میں بکثرت غلطیاں کرتے ہیں اور اس کا اعتراف نہیں کرتے ... یزید بن ہارون فرماتے ہیں:

ما زلنا نعرفه بالكذب:

"ہمیں اس کے جھوٹ کی اطلاعات مسلسل ملتی رہی ہیں ۔“

اب دیکھیے کہ حقیقت حال کی صحیح تصویر کیا ہے؟ حافظ ابن حجر نے تقریب التهذیب اور تهذیب التهذیب دونوں میں تصریح فرمائی ہے کہ امام ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ تینوں نے اپنےسمن میں علی بن عاصم سے روایت لی ہے۔ تہذیب کے جس مقام کا حوالہ محمد تقی صاحب نے دیا ہے،و ہیں یہ صراحت موجود ہے۔ وہاں ابن حجر مزید فرماتے ہیں کہ علی بن عاصم کے شاگردوں میں امام احمد بن حنبل علی المدینی ، ابن سعد، ذہلی جیسے ائمہ حدیث شامل ہیں ۔ ابن ہارون کا قول نقل کرنے میں عثمانی صاحب کی دیانت قابل ملاحظہ ہے کہ انہوں نے صرف اتنی بات تو نقل کر دی ہے کہ ہمیں اس راوی کیے جھوٹ کی اطلاعات ملتی رہی ہیں لیکن اس کے متصل آگے ابن حجر فرماتے ہیں:

وحكى عن يزيد بن هارون فيه خلاف هذا.

"اور یزید بن ہارون سے اس قول کے خلاف قول بھی علی بن عاصم کے متعلق منقول ہے۔“

اس آخری ٹکڑے کو عثمانی صاحب چھوڑ گئے کیونکہ انہیں بہر حال ہماری تردید مقصود تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس سے پہلے آغاز بحث ہی میں ابن حجر نے محدث یعقوب بن شیبہ کا قول درج کیا ہے کہ

كان رحمه الله من اهل الدين والصلاح والخير البارع و شديد التوقي.

"علی بن عاصم رحمہ اللہ اہل ترین ، صاحب خیر و صلاح اور نهایت محتاط روای تھے ۔“

اس کے بعد محدث وکیع کا قول دو مرتبہ منقول ہے کہ

ما زلنا نعرفه بالخير .

"ہمیں علی بن عاصم کے متعلق بھلائی ہی کا علم اور تجربہ ہوا ہے۔“

امام ذہلی کا قول بھی یہیں موجود ہے کہ میں نے امام احمد سے علی بن عاصم کے بارے میں گفتگو اور روایت میں ان کی غلطی کا بھی ذکر کیا تو امام احمد نے فرمایا کہ غلطیاں تو حماد بن سلمه سےبھی بہت سی روایات میں ہوئی ہیں مگر ان سےروایت کرنےمیں حرج نہیں۔صالح بن محمد فرماتےہیں کہ علی جھوٹ نہیں بولتے لیکن سوء حفظ کی وجہ سےمغالطےمیں پڑ کر الفاظ حدیث میں الٹ پھیر کر جاتےہیں لیکن ان کی ساری احادیث ٹھیک اور کچی ہیں ۔ (سائر حدیث صحیح مستقیم).

علی بن عاصم کے متعلق یہ جو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتے ،اس پر حافظ ابن حجر محدث العجلی کا قول نقل کرتے ہیں:

كان ثقة معروفا بالحديث والناس يظلمونه في احاديث يسألون ان يدعها فلم يفعل.

"علی حدیث میں ثقہ اور معروف و مشہور تھے۔ لوگ چند احادیث کے معاملے میں ان پر ظلم کرتے ہیں۔ ان سے ان احادیث کے روایت نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر انہوں نے ایسا نہ کیا۔"

خطیب بغدادی نے تصریح کی ہے کہ وہ احادیث صرف چار ہیں جو کسی دوسرے سے مروی نہیں۔

تہذیب کے علاوہ عثمانی صاحب نے دوسرا حوالہ کتاب الجرح و التعدیل، ابن ابی حاتم، مجلد ثالث ( قسم اول) کا دیا ہے۔ اس میں امام ابن حنبل کا قول موجود ہے کہ علی بن عاصم بھی دوسروں کے مانند انسان ہیں اور ان سے غلطی ہو جاتی ہے۔ مگر کیا حرج ہے، ان سے حدیث لکھی جائے اور جہاں غلطی ہوا سے چھوڑ دیا جائے۔

قد أخطأ غيره.

"ان کے علاوہ دوسرے بھی تو غلطی کرتے ہیں ۔“

اب میں چاہتا ہوں کہ امام ذہبی کی کتاب میزان الاعتدال سے چند حوالے درج کر دوں۔انہوں نے بھی یہ صراحت فرمائی ہے کہ ترمذی، ابن ماجہ، اور ابوداؤد نے اس راوی سے حدیث اخذ کی ہے۔ پھر فرماتے ہیں:

كتب منه من لا يصف كثرة.

"ان سے اتنے لوگوں نے حدیث لکھی ہے کہ انہیں بیان نہیں کیا جاسکتا۔“

اں کی مجلس میں تمہیں ہزار طالب علم حاضر رہتے تھے۔ پھر امام ذہبی نے لکھا ہے کہ ابن عدی علی بن عاصم سے دو روایات نقل کر کے کہتے ہیں کہ یہ دونوں باطل ہیں۔ اس پر امام ذہبی فرماتے ہیں حاشا و کلا ، علی بن عاصم رحمہ اللہ ان روایات کے راوی نہیں ہیں۔ میر اقطعی فیصلہ ہے کہ انہوں نے یہ روایات بیان نہیں کیں۔ ابن عدی پر تعجب ہے کہ ان پر یہ بات کیسے مخفی رہ گئی کہ ان روایات کو ایک جھوٹے راوی (عبد القدوس) نے گھڑ کر علی بن عاصم کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ آخر میں امام ذہبی فرماتے ہیں کہ ابن عاصم ضعف کے باوجود

في نفسه صدوق

"روایت حدیث میں نہایت سچے"

تھے اور اپنے عہد میں بڑی صولت اور دبدبه رکھتے تھے۔

یہ کچھ تفصیل جو میں نے علی بن عاصم کے متعلق پر کتب رجال سے نقل کی ہے کیا اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک متروک ونا قابل استدلال“ ہیں اور ان کےجھوٹ کی اطلاعات مسلسل وصول ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ محمد تقی صاحب باور کرانا چاہتےہیں؟ بلاشبہ اس راوی پر جرح بھی کی گئی ہے جسے انہوں نے نقل کر دیا ہے۔ لیکن جن لوگوں کے تعریفی خطوط کا تانتا عثمانی صاحب کے ہاں بندھا رہتا ہے، ان میں سےجولوگ عربی جانتے ہیں اور کتب مذکورہ تک دسترس رکھتے ہیں، انہیں خود یہ کتابیں کھول کر دیکھنا چاہیے کہ جن راویوں کو مجروح قرار دیا جا رہا ہے، ان کی توثیق و تعدیل میں کتنے اقوال موجود ہیں۔ رجال حدیث میں کتنے راوی ایسے ہیں جو ہر طرح کی جرح سے محفوظ ہیں؟ مثال کے طور پر قاضی شریک بن عبداللہ الکوفی کو فن رجال کے اکثر ماہرین نے کثیر الغلط اور ان کی احادیث کو غیر محفوظ قرار دیا ہے لیکن ان کی روایات کتب صحاح جتی کہ صحیح بخاری میں موجود ہیں۔ میزان الاعتدال رجال کی کتابوں میں سے ایک بنیادی کتاب ہے۔ جس شخص نے بھی اس کتاب ، بالخصوص اس کے مقدمے کو بغور پڑھا ہے، وہ جانتا ہے کہ دراصل اس کتاب میں صرف ان راویوں کا حال بیان کرنا مقصود ہے جو ضعفاء ومجروحین ہیں لیکن صحاح ستہ کا بھی شاید ہی کوئی راوی بچا ہو جو اس کتاب میں مذکور نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سب راویوں پر کسی نہ کسی نے ضرور جرح کی ہے، اور بیشتر ایسے ہیں جن کو رجال کے ماہرین میں سے کسی نہ کسی نےضعیف کہہ دیا ہے۔ امام ذہبی صاحب میزان کی اپنی تصریح کےمطابق جن راویوں کی تجریح وتضعیف کی گئی ہے،ان میں خلق کثیر ثقہ راوی ہیں اور ان پر جرح صرف اس لیے نقل کی گئی ہے کہ اس کےجواب میں تو شیق نقل کر کے ان راویوں کا دفاع کیا جائے اور ان پر تنقید کو غیر موثر ثابت کیا جائے۔اب محمد تقی صاحب اور ہمارے دوسرے ناقدین اگر چن چن کر بعض راویوں پر جرح ہی نقل کرنے پر اکتفا کر دیں تو اس سے بڑا کتمان حق کیا ہو سکتا ہے؟

بہر کیف علی بن عاصم اگر چہ معصوم ابن معصوم تو نہیں مگر وہ یقیناً نا قابل استناد و کذاب بھی نہیں۔ روایت بیان کرنے میں اگر وہ غلطی کرتے ہیں تو اس کا اصل تعلق روایت حدیث سے ہےجہاں کبھی وہ الفاظ میں تقدیم و تاخیر کر دیتے ہوں گے۔ وہ کوئی حدیث یا تاریخی واقعہ گھڑ کر بیان نہیں کریں گے ۔ زیادہ سے زیادہ جزئی تفصیل میں کوئی کمی بیشی ان سےہو سکتی ہےمثلاً وہ ان لوگوں کی تعداد بیان کرنےمیں غلطی کر سکتےہیں جن کے ہاتھ زیاد نےکٹوائے تھے (اور فی الواقع تعداد کی روایات بھی مختلف ہیں)۔ لیکن وہ یہ پورا قصہ خود تصنیف نہیں کر سکتے کہ چند افراد نے زیاد پر روڑےپھینکے اور اس نے مسجد کے دروازے بند کر کے جس شخص کو مجرم سمجھا، اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ میں کہتا ہوں کہ مان لیا علی بن عاصم یا علی بن محمد مدائنی ( جنہیں عثمانی صاحب نےالبلاغ اور اپنی کتاب میں بار بار محمد بن علی لکھا ہےیہ سب راوی جھوٹےاور مجروح ہیں، مگر زیاد کے ظلم و جور کو جن دوسرےمؤرخین ومحدثین نے ایک ثابت شدہ حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہے کیا وہ سب بھی دروغ گو اور کذاب ہیں؟ کیا زیاد کی عصمت ان سب سے عزیز تر ہے؟ اس کے جواب میں ہم سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ امیر معاویہ کا گورنر تھا، اس لیے اسے کچھ نہ کہو۔ مگر جن لوگوں نے زیاد کے مظالم کا کچا چٹھا بیان کی ہے، کیا انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ امیر معاویہ کا گورنر تھا اور ان کی گورنری ہی کے دوران میں اس نے یہ سارے کام کیے؟ بہت سے مؤرخین نے یہ لکھا ہے کہ اس شخص نے بصرہ کا گورنر بنتے ہی خطبہ جمعہ بغیر ثناء ودرود کے پڑھا جسے خطبہ براء (دُم کٹا خطبہ ) کا نام دیا گیا۔ اس خطبے میں لوگوں کی جان، مال اور آبرو پر دست درازی کی دھمکیاں دیں اور پھر انہیں عملی جامہ پہنایا۔

شاہ عبدالعزیز صاحب کا قول میں پہلے استلحاق کی بحث میں نقل کر چکا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں:

"اس زیاد نطفہ نا تحقیق کی شرارت دیکھئے کہ معاویہ کی رفاقت میں پہلا فعل جو اس سے سرزد ہوا،حضرت امیر کی اولاد کی عداوت تھی۔ اس کے بعد تحفه اثناعشریه (مترجم ص ۴۸۳ تا ص ۴۸۶) میں اس کی ظالمانہ حرکات کی داستاں بیان کر کے آخر میں فرماتےہیں:حاصل کلام یه کہ زیاد اور اس کی اولا د نا پاک خصوصاً عبید اللہ کی شرارت اور بدذاتی جو حضرت امام حسن کا قاتل ہے، تمام مسلمانوں کےحق میں عموماً اور خاندان حضرت امیر کی شان میں خصوصاً اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ زبانِ قلم بیان سے عاجز ہے اور تھکی ہوئی ۔“

امام نسائی ، اپنے سنن، کتاب الصلوۃ میں ایک باب کا عنوان تجویز فرماتے ہیں:

الصلوة مع أئمة الجور.

"ظالم و غلط کا رائمہ کے ساتھ نماز ادا کرنا۔“

اس بات کے تحت روایت کرتے ہیں کہ زیاد نے نماز پڑھانے میں تاخیر کر دی۔ اس پر لوگوں میں زیاد کی حرکت پرچہ میگوئیاں ہوئیں اور وہاں یہ حدیث بیان کی گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا ہے کہ ایسےحالات میں نماز اپنے وقت پر پڑھ لینی چاہیے۔پھر ان حکمرانوں کے ساتھ مل کر دوبارہ بھی نماز ادا کر لینی چاہیےاور اس سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ امام ابوالحسن السندی نے اس مقام کی شرح کرتے ہوئے انکار نہ کرنے کی توجیہ خوفًا من الفتنہ بیان فرمائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم کہو گے کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں، اس لیے اب نہیں پڑھوں گا، تو بجائے اس کے کہ ظالم حکام اپنی غلطی کا احساس و اعتراف کریں، الٹا تمہیں انتشار و بغاوت کا مجرم قرار دیں گے۔ محدث ابن عساکر نےاپنی تاریخ دمشق میں زیاد کےحالات میں لکھا ہےکہ زیاد کی ہوائےنفس کا جو مسلمان بھی مخالف ہوتا تھا وہ اسےقتل کر دیتا تھا اور اس معاملےمیں وہ حجاج سےبھی بڑھ کر قاتل تھا۔اس نےحضرت ابو برزہ اسلمی صحابی کو بُھوسی (نخالہ) کہہ کر خطاب کیا تھا۔ امیر معاویہ نے زیاد کو حجاز کا بھی گورنر بنانا چاہا تو حضرت عبد اللہ بن عمر نے اس کے لیے بددعا کی اور ایک پھوڑے نے اس کی جان لے لی۔ اس پر حضرت ابن عمرؓ نے کہا اے سمیہ کے بیٹے ، نہ دنیا تجھے ملی ، نہ آخرت۔“

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ اگر زیاد کےرویے میں کوئی چیز قابل اعتراض نہ تھی اور اس کےظلم و ستم کے سارے تاریخی واقعات محض افسانےہیں،تو پھر شاہ عبدالعزیز صاحب، ابن عساکر،امام نسائی اور دوسرے علماء ومحدثین آخر کس بنا پر اس کا شمار ائمہ جور میں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی شرارتوں کے بیان سے قلم عاجز و درمانده ہے؟ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ ان حضرات نے بغیر کسی ثبوت و بنیاد کے زیاد کو مجرم و سہم گردانا ہے۔

بسر بن ابی ارطاۃ کے مظالم

بسر بن ابی ارطاۃ کےمظالم کےمتعلق جو کچھ مولانا مودودی یا میں نے لکھا ہے،اس پر محمد تقی صاحب لکھتے ہیں کہ یہ حضرت معاویہ کےعہد خلافت کا نہیں،بلکہ مشاجرت کےزمانےکا قصہ ہےجبکه حضرت علیؓ اورحضرت معاویہ کے لشکر باہم بر سر پیکار تھےیہ عجیب وغریب منطق ہے جس کا مختصر جواب میں پہلے دے چکا ہوں۔ امیر معاویہؓ جب خلیفہ نہ تھےتو انہوں نےخلیفہ راشد کےمقابلے میں جو کچھ کیا اور جسطرح اپنے اعوان و انصار کےذریعے سےان علاقوں پر جو حضرت علی کےزیر خلافت تھےپیہم یلغار کی مہم جاری رکھی،ان ساری کارروائیوں کوآخر”مشاجرت“ کےلفظ میں لپیٹ دینےسےان میں کون سا حسن و جواز پیدا ہو جاتا ہےحقیقت یہ ہےاس زمانے میں تو مقاتلہ ومحاربہ کی یہ روشن جو امیر معاویہ کی جانب سےعمل میں آئی،یہ اور بھی زیادہ غیرمستحسن وبےجواز قرار پاتی ہے۔حضرت علیؓ کے یمن میں گورنر عبید اللہ بن عباس کےدو چھوٹےبچوں کے سنگدلانہ قتل کا واقعہ تقریباً تمام مورخین نےبیان کیا ہے۔عجیب بات ہےکہ محمد تقی صاحب ابن کثیر کی طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ انہیں اس قصے کی صحت پر اعتراض ہے۔ حالانکہ ان بچوں (عبد الرحمن اور قسم ) کے قتل کا پورا واقعہ ابن کثیر نے الگ یوں بیان کیا ہے کہ بسر جب یمن پہنچا تو وہاں عبید اللہ بن عباس حضرت علیؓ کا گورنر تھا جو خائف ہو کر بھاگ نکلا اور کوفے حضرت علی کےپاس پہنچ گیا اور اپنی جگہ عبداللہ الحاوی کو جانشین بنا گیا۔ بسر نے یمن میں داخل ہو کر اس قائم مقام گورنر اور اس کے بیٹے کو قتل کر دیا اور پھر عبید اللہ بن عباس کے دو چھوٹے معصوم بچوں کو بھی قتل کر دیا۔اس کے بعد ابن کثیر لکھتے ہیں:

ويقال ان بسرًا قتل خلقا من شيعة علي في مسيرة هذا وهذا الخبر مشهور عند أصحاب المغازي والسير في محله عندي نظر .

"اور کہا جاتا ہے کہ بسر جب یمن جارہا تھا تو اس سفر کے دوران میں بھی اس نے حضرت علی کے ساتھیوں میں سے خلق کثیر کو قتل کیا۔ یہ خبر اصحاب مغازی وسیر کے نزدیک مشہور ہے اور اس کی صحت میرے نزدیک محل نظر ہے۔“

عبارت سےیہ بات واضح ہے کہ ابن کثیر کو جو بات محل نظر معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہےکہ یمن میں داخلےسے پہلے راستےہی میں بسر حضرت علی کےہمنواؤں کو قتل کرتے چلے گئے ہیں۔لیکن ابن کثیر جب خود کہ رہے ہیں کہ اہل سیر و مغازی کے ہاں یہ بات بھی مسلم ہے اور ساری تاریخیں یہ بیان کرتی ہیں کہ جس شخص پر بھی حضرت علیؓ کا ساتھ دینے اور حامی ہونے کا شبہ ہوتا تھا سر اسےبے دریغ تہ تیغ کر دیتا تھا، تو محض ابن کثیر کے اظہار شک سے ان سارے واقعات کی صحت کیسےمشکوک ہو سکتی ہے؟ یہ واقعات البدایہ کی جلد میں مذکور نہیں جیسا کہ عثمانی صاحب کی کتاب کے ص ۱۸۹ پر درج ہے، بلکہ یہ تفصیل البدایہ کی جلد ے صفحہ ۳۲ ۳۲۳ پر مذکور ہے۔ جو شخص چاہے خود پڑھ کر دیکھ سکتا ہے۔

عثمانی صاحب نے ابن خلدون کے حوالے سے یہ بھی لکھا ہے کہ جب امیر معاویہ کو بُسر کی زیادتیوں کا علم ہوا تو آپ نے اسے معزول کر دیا۔ یہ ایک دلچسپ تضاد ہے کہ ایک طرف تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بسر کا دامن ان زیادتیوں سےپاک ہے جو مورخ بیان کرتےہیں اور دوسری طرف یه بنایا جاتا ہےکہ انہی زیادتیوں کی وجہ سےاسےمعزول کر دیا گیا۔ حقیقت یہ ہےکہ ان مظالم کی تلافی کی صحیح صورت تو یہ تھی کہ ظالم کو سزادی جاتی یا کم از کم اس کے سپر د آئندہ کوئی ایسا ذمہ داری کا کام نہ کیا جاتا۔ لیکن ایک شخص کو ایک جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ تعینات کرنے کا نام معزولی نہیں ہے۔جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں نہ صرف حضرت علی کےعہد خلافت بلکہ حضرتن حسن سےمصالحت اور امیر معاویہ کی خلافت کےوقت بھی اہم عہدے بسر کے سپرد تھے۔بصرے میں، اس نے خطبوں میں حضرت علی پر سب و شتم کیا اور تقریباً آدھے تک وہ امیر معاویہ کی سلطنت کا ایک ستون بنا رہا۔

یہاں پھر محمد تقی صاحب لکھتے ہیں کہ یمن میں بسر کے مظالم کا راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے جس کے بارے میں کتاب الجرح والتعدیل میں ابوحاتم رازی امام احمد کےحوالےسےلکھتےہیں کہ میرےنزدیک موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کرنا حلال نہیں۔ اب جس مقام سے یہ قول نقل کیا گیا ہے،و ہیں یہ بھی تصریح ہے کہ اسی راوی سے امام سفیان ثوری، شعبہ اور وکیچ نے روایت کی ہے اور یہ تینوں بلند پایہ محدث ہیں۔ پھر امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں اور ابن حجر نے تقریب اور تہذیب میں تصریح کی ہے کہ اس راوی سے امام ترمذی و ابن ماجہ نے حدیث اخذ کی ہےتہذیب میں سفیان ثوری وغیرہ کے علاوہ ابن مبارک کا نام بھی ان محدثین میں درج ہے جنہوں نے اس راوی سےروایت کی ہےاس لیےعلی الاطلاق یہ بات صحیح نہیں ہے کہ اس راوی سے روایت کسی محدث کےنزدیک حلال نہیں، ورنہ یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ سب مذکوره بالا محدثین جنہوں نےاس راوی سےحدیث لی ہے انہوں نےارتکاب حرام کیا ہےامام احمد کی رائےبلاشبہ اس راوی کےمتلعق سخت تھی لیکن اس کی تفصیل تهذیب التهذیب میں موجود ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں:

اما موسى فلم یکن به بأس ولكنه حدث بأحاديث منكرة وأما إذا جاء الحلال والحرام أردنا قوما هكذا وضم على يديه.

"جہاں تک موسیٰ بن عبیدہ کا تعلق ہے اس میں کو ئی خرابی نہیں لیکن اس نے بعض منکر احادیث بیان کی ہیں اور جب حلال و حرام کا معاملہ آتا ہے تو ہم محدثین کے ایسے گروہ سے رجوع کرتے ہیں اور انہوں نے مٹھیاں بھینچ کر دکھا ئیں۔“

اس سے معلوم ہوا کہ امام احمد کو اس راوی سے صرف حدیث اور وہ بھی احکامی احادیث لینےمیں تامل ہے کیونکہ اس کے لیے نہایت قوی حافظے کی ضرورت ہے۔ امام احمد کے قول کا تعلق تاریخی روایات سے نہیں جو یہاں زیر بحث ہیں۔ باقی رہے دوسرے ائمہ حدیث تو انہوں نے اس راوی سے حدیث بھی لی ہے۔

حضرت عمار کا قطع رأس

حضرت عمار کا سر جنگ صفین میں جس طرح کاٹ کر حضرت معاویہ کے سامنے لایا گیا تھا،اسے محمد تقی صاحب نےبالکل اسی قسم کا ایک واقعہ ثابت کرنےکی کوشش کی تھی جسطرح حضرت علی کےسامنے حضرت زبیر کا سر لایا گیا تھا۔ میں نے اس کے جواب میں دونوں واقعات کےمتعدد پہلوؤں میں بین فرق کی نشان دہی کی تھی اور ثابت کیا تھا کہ حضرت علی نے تو قاتل زبیر کو جہنم کی وعید سنائی تھی مگر حضرت معاویہ نے قاتل عمار کوکوئی سرزنش کرنے کے بجائے الٹا حضرت عبد اللہ بن عمر و کوٹو کا تھا جو قاتلین عمار کو تنبیہ کر رہے تھےمولانا عثمانی صاحب کی جرات کا یہ عالم ہےکہ وہ پھر یہ کہہ رہےہیں کہ سرکاٹ کر ایک جگہ سےدوسری جگہ لے جانے کی شرعی حیثیت یہ ہےکہ یہ ایک مجتہد فیہ مسئلہ ہےاس کے ثبوت میں وہ المبسوط للسرخسی کی ایک عبارت کے فقط اتنے ٹکڑے پر انحصار کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ابوجهل کا سرکاٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تھے تو آپ نے اس پر اعتراض نہیں فرمایا ، اس لیے حنفیہ میں سے بعض متاخرین نےسر کاٹنے کو جائز قرار دیا ہے۔

قتل ابی جہل کے متعلق صحیح ترین روایات جو بخاری، کتاب المغازی اور دوسری صحاح میں دارد ہیں، ان سے یہ معلوم ہوتا ہے حضرت معاذ و معوذ دو بھائیوں نے اسےقتل کیا تھا اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے جان کنی کے عالم میں ابو جہل کی ڈاڑھی پکڑ کر کہا تھا کہ کیا تو ہی ابوجہل ہے؟“بعض روایات میں مزید اتنا ذکر ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ نے ابو جہل کا سر بھی جدا کر دیا مگر سر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لائے جانے کا ذکر بھی روایات میں ملتا ہےتا ہم اگر یہ بیج ہو تو ایک کافر اور بدترین غذ و اسلام کےسرکا آنحضور کی خدمت میں پیش کیا جانا اور ایک ایسے سابق الاسلام صحابی کا سر کاٹنا جس نے اور جس کے والدین نے اسی دشمنِ اسلام کےہاتھوں انتہائی دردناک اذیتیں برداشت کیں اور جنہیں آنحضور نےبشارت دی تھی کہ وہ ایک باغی گروہ کے ہاتھوں شہید ہوں گے.ایسےصحابی کا سرکاٹ کر اسی گروہ کےسپہ سالار کےسامنےایک ٹرافی کے طور پر پیش کرنا .... کیا ان دونوں واقعات کو ایک دوسرے پر قیاس کیا جا سکتا ہے اور ایک سے دوسرے کا جواز پیدا کیا جا سکتا ہے؟پھر امام سرخسی خود فرمارہےہیں کہ میں اس بات کو کر وہ سمجھتا ہوں کہ باغیوں کےسر اتار کر انہیں گشت کرایا جائےکیونکہ یہ مثلہ ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیکھنےکتےکا بھی مسئلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یہ بھی یا در ہے کہ متقدمین فقہاء جب مکروہ کالفظ مطلقاً استعمال کرتےہیں تو اس سے مراد حرمت یا کراہت تحریمی ہوتی ہے اور وہ قولی حدیث کو علی حدیث پر مقدم سمجھتےہیں۔

اس کے بعد امام سرخسی فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے اپنی جنگوں میں ایسی کارروائی نہیں کی اور حضرت علی ہی اس معاملےمیں لائق اتباع ہیں۔امام سرخسی اسی مقام ( مبسوط جلد ۱۰ صفحه ۱۳۱) پر یہ بھی لکھتے ہیں کہ ایک عیسائی پادری کا سر حضرت ابو بکر کےپاس بھیجا گیا تو آپ نےاس کی مذمت کی اور فرمایا کہ یہ کفار فارس وروم کا طریقہ ہے۔ ہمارے لیے اس کے قتل کی خبر کافی تھی۔ مبسوط کی ان ساری تصریحات کو چھوڑ کر عثمانی صاحب کسی نامعلوم الاسم متاخر فقیہ کےقول کا سہارا لیتےہیں کہ یہ عمل جائز ہے اگر اس سےباغیوں کی شوکت ٹوٹتی ہو یا اہل عدل کو دلی طمانیت حاصل ہوتی ہو۔قطع نظر اس سےکہ یہ قول مرجوح و مردود ہے،میں سمجھتا ہوں کہ اسےنقل کرنےسےپہلےمولانا محمد تقی صاحب ایم، اے،ایل ایل بی نےغالباً کچھ غور وفکر سے کام نہیں لیا۔ وہ ذرا اس عبارت کو دوبارہ پڑھیں کہ اس قول کی رو سےبھی صرف اہل عدل کے لیے یہ گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر اہل بھی میں سےکسی کا سر کاٹے بغیر اہل عدل کو طمانیت قلب حاصل نہ ہو،تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔عثمانی صاحب سےشاید یہ بات مخفی نہ ہو کہ محدثین وفقہاء کی اصطلاح کے مطابق مسلمانوں کے خلیفہ برحق اور اس کے ساتھیوں کو اہل عدل اور ان سےلڑنے والوں کو اہل ینی کہا جاتا ہےاس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت عمار حضرت علی کےساتھی تھےاور جولوگ سرکاٹ کر امیر معاویہ سےتحسین و آفرین کےطالب تھے وہ باغی اور امیر معاویہ کے ساتھی تھے۔ اب کیا عثمانی صاحب یہ کہنا چاہتےہیں کہ حضرت علی اور ان کے حامی حضرت عمار اور دوسرے لوگ تو سب ”باغی“ تھے اور امیر معاویہ اور ان کےساتھی سب اہل عدل تھےجن کےدل کی تسکین اسیطرح ممکن تھی کہ حضرت علی اور ان کے طرفداروں کے سرکاٹ کاٹ کر امیر معاویہ کی خدمت میں پیش کیے جائیں، اور امیر معاویہ کی تسکین قلب فراہم کرنے کا یہ طریقہ حنفیہ کے بعض المتأخرین کےنزدیک جائز تھا! فافهم وتدبر !

جو آدمی حضرت عمار کا سر امیر معاویہ کےپاس لائے تھے،ان کےمتعلق اگرچه عثمانی صاحب نےبالآخر یہ تسلیم کر لیا ہےکہ ان لوگوں کو حضرت معاویہ کا تنبیہ کرنا روایات سےثابت نہیں ہےلیکن اس کےباوجود انکا کہنا یہ ہے کہ اس پر یہ عمارت کھڑی نہیں کی جاسکتی کہ حضرت معاویہ کےعہد میں قانون کی بالاتری کا خاتمہ ہو گیا تھا اسکےجواب میں میری گزارش ہےکہ ایک فرمانروا کےعہد میں یا اسکی قیادت میں ماتحت افراد جو کارروائی کرتے ہیں، اگر چہ وہ افراد خود بھی اپنے اعمال کے ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن خلیفہ وقائد اگر ان کی راہ میں حائل نہ ہو، تو وہ ان کےافعال کی ذمہ داری سے یکسر بے تعلق قرار نہیں دیا جاتا۔اس طرح کے واقعات پر بحث کے دوران میں فرمانروا کا نام ناگزیر طور پر بیچ میں آجاتا ہے۔ یہاں میں اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ مولانا عبدالسلام ندوی نے ایک کتاب سیرۃ عمر بن عبدالعزیز کے نام سےلکھی ہےاس کتاب کےایک باب کا عنوان ”اقامت عدل“ ہے۔ عہد بنی امیہ میں رعایا کےحقوق جس طرح غصب ہوئےانکا حال بیان کرتےہوئےاس باب میں مصنف لکھتے ہیں:

"خاندانِ نبوت کے حقوق کی پامالی کا آغاز حضرت معاویہؓ ہی کے زمانے میں ہو چکا تھا۔چنانچہ فدک جو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا خالصہ تھا، اور جس سے آپ بنو ہاشم کی اعانت کرتے تھے،اس کو انہوں نے مردان کی جاگیر میں دے دیا تھا۔“

سفن ابی داود،کتاب الخراج اور بعض دوسری کتابوں میں یہی واقعہ یوں بیان ہوا ہے کہ مروان نے فدک کو اپنی جاگیر بنالیا تھا۔ لیکن مولانا عبد السلام صاحب اسے یوں بیان کرتے ہیں کہ امیر معاویہؓ نے اسے مروان کی جاگیر میں دےدیا تھا۔حقیقت میں ان دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مروان مدینے میں امیر معاویہ کا گورنر تھا اور اس نے فدک کو ذاتی جاگیر بنانےکی جو کارروائی کی ہے، اس کا اختفاء امیر معاویہؓ سے ممکن نہ تھا۔ اس لیے یہ کہنا بھی غلط نہیں ہے کہ ایسا ان کی رضا و ایماء سےہوا۔یہاں ایک خاص بات جس کا اظہار میں ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ جس کتاب کے صفحہ ۲۰۳ سے میں نے یہ اقتباس دیا ہے وہ دارالاشاعت،مولوی مسافرخانه، کراچی نے چھاپی ہے۔ یہ دارالاشاعت جناب محمد تقی صاحب کے بھائی جناب محمد رضی صاحب کا ہے اب اس کے کتاب کے دو اور اقتباس ملاحظہ ہوں:

"خلفائے بنوامیہ نےمذہب کے متعلق سب سےبڑی بدعت جو ایجاد کی وہ یہ تھی کہ حضرت علی پر علانیہ خطبے میں لعن طعن کرتےتھےاور چونکہ لوگ اس کا سننا گوارا نہیں کرتے تھے اور خطبہ سننےسے پہلے ہی اٹھ جایا کرتے تھے، اس لیےامیر معاویہ نے نماز عیدین سے پہلے ہی خطبہ پڑھنا شروع کیا جو دوسری بدعت تھی۔ لیکن حضرت عمر بن عبد العزیز نےتمام گورنروں کےنام فرمان جاری کیا اور خطبےمیں حضرت علی کے متعلق جو نا ملائم الفاظ شامل کر دیئےگئےتھے ان کو نکلوا دیا اور ان کی جگہ قرآن مجید کی یہ آیت ( إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ .... ) داخل کر دی جو آج تک برابر پڑھی جاتی ہے۔“ (ص۱۴۰)

"یہ انقلاب حضرت عمر بن عبد العزیز کے دور خلافت میں سب سےنمایاں نظر آتا ہے کہ انہوں نے تخت حکومت پر متمکن ہوتےہی ان تمام مفاسد کی اصلاح کرنی چاہی جن کا مادہ حضرت امیر معاویہ کے زمانہ ہی سےروز بروز پختہ ہوتا جاتا تھا۔ (ص۱۸۵)

یہ کتاب جو ایک مستند ندوی عالم نے لکھی ہےاور جس محمد تقی صاحب کےاپنےبھائی نےشائع کیا ہے اس میں واضح طور پر یہ درج ہےکہ امیر معاویہ ہی کےزمانےمیں خاندان نبوت کےحقوق کی پامالی کا آغاز ہو چکا تھا، امیر معاویہ ہی نے سب سے بڑی یہ بدعت ایجاد کی کہ حضرت علی پر خطبوں میں لعن طعن کرتے تھے اور حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حکومت پر متمکن ہوتے ہی ان تمام مفاسد کی اصلاح کی جو حضرت معاویہ کے زمانہ ہی سے پختہ ہورہے تھے ۔ کیا مولانا مودودی نے یا میں نے ان باتوں سے مختلف یا سخت تر کوئی بات کہی ہے؟ پھر کیا وجہ ہےکہ محمد تقی صاحب اپنے گھر کی خبر نہیں لیتے اور مولانا مودودی کے خلاف یہ ہولناک الزام بیا کی سے عائد کر رہے ہیں کہ ان کا قلم حجاج کی تلوار کی طرح اسلام کے ستونوں کو بھی اپنا ہدف بنا لیتا ہے۔ انا مُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ.

عمرو بن الحمق کا قطع رأس

عمرو بن الحمق کے سر کاٹنے کا جو واقعہ خلافت و ملوکیت میں بیان کیا گیا ہے،اس کی تائید میں البدایہ اور تہذیب التہذیب کا حوالہ میں نے دے دیا ہے۔ اس کے جواب میں عثمانی صاحب فقط امیر معاویہ کے اس قول پر انحصار کرتے ہیں جو طبری نے نقل کیا ہےکہ ہم عمرو بن احمق پر زیادتی کرنا نہیں چاہتے لیکن یہ ایک مجمل قول ہے اور لازماً اس کا متضمن نہیں ہے کہ جس نے حضرت معاویہؓ کا یہ قول سن لیا ہوگا،وہ سر کاٹنےسے باز رہا ہو گا۔ قطع راُس کا یہ واقعہ متعدد دوسرے محدثین و مؤرخین نے بیان کیا ہے۔مثال کے طور پر حافظ جلال الدین سیوطی اپنےکتاب الخصائص الکبری (الجزء الثانی ص ۵۰۱، دارالکتب الحديث،مطبعة المدنی با انباء صلی اللہ علیه وسلم بقتل عمرو بن احمق کےتحت یہ روایت ابن عساکر کےحوالے سے نقل کرتےہیں کہ رفاعه بن شداد انجیلی راوی ہیں کہ جب امیر معاویہ نے عمرو بن العمق کو طلب کیا تو میں اس کے ساتھ نکلا۔ وہ کہنے لگا، کہ یہ لوگ مجھے قتل کر دیں گے۔ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ جن دانس میرے خون میں شریک ہوں گے۔رفاعہ کہتے ہیں کہ ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ میں نے سواروں کو آتےہوئے دیکھا، تو میں نےالوداع کہی۔ اسی وقت ایک سانپ نکلا جس نے عمرو کو ڈس لیا۔ ادھر وہ سوار بھی آگئے اور انہوں نےاس کا سر قطع کر دیا اور یہ پہلا سر ہے جو اسلام میں ہدیہ ارسال کیا گیا۔ ڈاکٹرمحمد خلیل ہر اس جو جامع از ہر میں اصول الدین کے مدرس ہیں اور جنہوں نے اس کتاب کو تحقیق وتحشیہ کے ساتھ شائع کرایا ہے،وہ حاشیے پر ابن قتیبہ کی کتاب المعارف سے یہ عبارت نقل کرتے ہیں:

"عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ قبیلہ خزاعہ میں سے تھے۔حجتہ الوداع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےبیعت کی ، آنحضور کی صحبت اختیار کی اور حدیث روایت کی ۔ وہ حضرت عثمان پر حملہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ وہ حضرت علیؓ کے ساتھ لڑائیوں میں مددگار ہوئے اور حجر بن عدی کے بھی معاون تھے۔پھر موصل بھاگ گئے اور ایک غار میں انہیں ایک سانپ نے ڈس لیا۔موصل کےگورنر نےجب طلب میں آدمی بھیجےتو اسے مردہ پایا۔ گورنر نےاس کا سرکاٹ کر زیاد کےپاس بھیجا،زیاد نےاسے امیر معاویہ کے پاس بھیج دیا اور یہ پہلا سر ہے جو اسلام میں ایک شہر سے دوسرے شہر تک گشت کرایا گیا۔ (وهو اوّل رأس في الإسلام حمل من بلد إلى بلد)۔

بہر حال یہ ایک حقیقت ہےکہ یہ سر شہر بشہر گھمایا گیا حتی کہ بالآخر اسےامیر معاویہ تک پہنچایا گیا اور امیر معاویہ نےاس پر کوئی نکیر نہ فرمائی۔ عمرو بن احمق نےصحابی ہو نےکے باوجود بلا شبہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کیا کہ خلیفہ راشد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ظالمانہ وقاتلانہ حملہ کیا لیکن اسکا سر کاٹ کر گشت کرانا اور پھر اس سر کو مقتول و مقطوع کی بیوہ کی گود میں لا ڈالنا یہ بھی کوئی پسندیدہ فعل نہ تھا جسے اسلام نے روا رکھا ہو۔

زیاد اور بسر کے مظالم کا مزید ثبوت

سخت تعجب اور حیرت ہےکہ زیاد اور بسر کی جفا کاریاں بعض لوگوں کو محض اس وجہ سےنظر نہیں آتیں کہ یہ امیر معاویہ کےگورنر تھے۔ زیاد کو مورخین نےحجاز سےبھی زیادہ سفاک قرار دیا ہےجیسا کہ بیان ہو چکا حالانکہ حجاج نے لاکھوں کو قتل کیا تھا۔ امام ذہبی سیرالنبلاء میں زیاد بن ابیہ کے حالات میں لکھتے ہیں:

كان زياد افتك من الحجاج لمن يخالف هواه.

"زیاد اس شخص کے لیے حجاج سے بھی زیادہ خونخوار تھا جو اس کی ہوائے نفس کا مخالف ہوتا ۔“

(اعلام النبلاء، جلد ۳، صفحه ۳۲۶)

بسر کے متعلق اسی کتاب کے صفحہ ۲۷۴ پر امام ذہبی فرماتے ہیں:

ولى الحجاز واليمن لمعاوية وفعل قبائح. قال احمد وبن معين لم يسمع النبي صلى الله عليه وسلم وقد سبّى مسلمات باليمن فاقمن بالبيع.

"بسر معاویہؓ کی طرف سے حجاز و یمن کاوالی بنا اور افعال قبیحہ کا مرتکب ہوا۔“

احمد بن حنبل اور ابن معین فرماتے ہیں کہ بسر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں سنا۔ اس نے یمن میں مسلمان عورتوں کو لونڈیاں بنایا جنہیں بر سر عام فروخت کیا گیا۔“

مسلم خواتین کو لونڈی بنانے کے متعلق یہ دوسرے کے بعد تیسرا حوالہ ہے جو پیش کر دیا گیا۔اب کیا محمدتقی صاحب پھر ھل من مزید کہہ کر اور حوالوں کا مطالبہ کریں گے۔؟

کتاب خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Caliphate , monarchy