مولانا محمد تقی صاحب نےاپنےمضامین میں، نیز دوسرےبعض حضرات نےبڑےزور شور سے یہ دعوی کیا ہے کہ خلافت و ملوکیت میں جو واقعات درج کیے گئےہیں ان سےصحابہ کرام کی عدالت مجروح ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں عدالت صحابہ کا ایک ایسا تصور و نظریہ پیش کیا گیا ہےجو انبیاء علیہم السلام کےمتعلق اہل سنت کے عقیدہ عصمت سےفی الحقیقت کچھ بھی مختلف نہیں ہےبلکہ صحیح تر بات یہ ہےکہ یہ شیعہ حضرات کےاس عقیدہ عصمت کے مشابہ ہے جو وہ اپنے ائمہ معصومین کے بارے میں رکھتے ہیں۔
ان معترضین کا اسکےساتھ ایک مزید اعتراض یہ بھی ہےکہ ہم تک علم دین،یعنی کتاب و سنت پہنچنےکا ذریعه وواسطہ صحابہ کرام ہی تو ہیں،کبیرہ گناہوں اور جرائم کا الزام ان کےسر تھوپ دینےکےبعد آخر روایت قرآن وحدیث کےمعاملےمیں انہیں فرشته تسلیم کر لینےکی کیا وجہ ہے؟اس عجیب و غریب استدلال میں جو مغالطے مضمر ہیں ان پر مفصل بحث کرنےسےپہلے میں ان حضرات سےصرف ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں ۔وہ سوال یہ ہے کہ کیا ان میں سے کسی صاحب نے کتاب اللہ کی آیات اور اس کے رسول کے ارشادات کو براہ راست کسی صحابی رسول سے سنایا پڑھا ہے؟ ظاہر ہےکہ یہ سارے معترضین بشمول مدیر البلاغ تابعین کی صف میں داخل نہیں ہیں بلکہ بیچ میں راویوں کا ایک نہایت طویل سلسلہ ہےاب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ روایت حدیث اور تبلیغ دین کےلیےعدالت کا جو معیار آپ صحابہ کرام کے لیے وضع فرمارہے ہیں کیا اس کو آپ پورے سلسلہ رواۃ پر نافذ اور چسپاں کریں گےیا نہیں؟ اگر نہیں تو آخر کیوں نہیں؟ ہم میں سے کسی شخص پر بھی نصوص کتاب وسنت نہ جبریل نے اتاری ہیں، نہ بذریعہ وحی نازل ہوئی ہیں،نہ نبی اکریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ کرام کا شرف مصاحبت و ملاقات ہمیں حاصل ہے۔ بہر حال کچھ غیر صحابی اور غیر تا بعی لوگ ہی تھے جنہوں نے یکے بعد دیگرے اس دین کی امانت کو ہم تک پہنچایا ہے۔ اس لیے میری یہ درخواست ہے کہ براہ کرم ہوا میں بلند پروازی اور فلک پیمائی کرنے کی سعی نہ فرما ئیں اور روایت دین کےلیے عدالت و ثقاہت کا ایک ایسا پیمانہ اور معیار اختیار فرما ئیں جس پر بیچ کے لوگ بھی پورےاتر سکیں۔ صرف قرآن کو ماخذ و حجت دین سمجھنے والے تو تواتر امت کی آڑ ایک حد تک لےسکیں گے،لیکن ہم جو احادیث کو بھی ماخذ دین جانتےہیں اور غیر متواتر و آحاد سےبھی دین اخذ کرتےہیں ہمیں بہر حال عقل سلیم سےکام لینا چاہیےاور راویان حدیث کی تعدیل و توثیق کے لیےایسے اوصاف پر اصرار نہ کرنا چاہیے جن سے معاشر انبیاء کے سوا کوئی دوسرا گروہ متصف نہیں ہوسکتا۔ اور یہ حقیقت میں عنقریب ہی واضح کروں گا کہ عدالت صحابہ اور الصحابہ کلہم عدول کی بحث کی ضرورت بھی روایت حدیث ہی کے ضمن میں پیش آئی ہے، ورنہ عقلید ضرور یہ اور ایمانیات سے یہ مسئلہ براہ راست متعلق نہ تھا۔
اس ضروری تمہیدی گزارش کےبعد اب میں مسئلہ عدالت کےدوسرے پہلوؤں پر بحث کروں گا۔ عدل اور عدالت کےالفاظ عربی زبان میں انصاف بےلوٹی اور راستبازی کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں ، اور بعض اوقات ”عدل“ کا لفظ اسم فاعل کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے جس کا اطلاق ایسےشخص پر ہوتا ہےجو عادل، راست باز اور قابل اعتماد ہو۔ قرآن مجید سورہ مائدہ، آیت ۹۵ اور آیت ۶ ۱۰ میں ذَوَا عَدْلٍ سےمراد صاحب عدل ثالث یا گواہ ہیں اوران آیات کا اصل تعلق روایت کےبجائےشہادت یا حکم سےہےروایت اور شہادت میں بعض لحاظ سے فرق ہے، مثلاً نابالغ یا ایک عورت کی شہادت اکثر حالات میں قابل قبول نہیں، حالانکہ اس کے برعکس صاحب تمیز لڑکےاور تنہا عورت کی روایت حدیث معتبر ہےتاہم محدثین کےہاں یہ امر مسلم ہےکہ راوی حدیث کو صفت عدالت سےمتصف ہونا چاہیے۔ اس کے بعد یہ معلوم کرنا ضروری ہوگا کہ محدثین نے عدالت کا کیا مفہوم متعین فرمایا ہے۔عدالت کی کوئی قطعی اور اصطلاحی تعریف چونکہ کتاب وسنت میں مذکور نہیں ہےاس لیے اصولین نےعدالت کی جو تشریحات بیان کی ہیں ان میں تھوڑا بہت اختلاف ہے۔لیکن ان میں قدر مشترک بآسانی معتین ہو سکتی ہےمیں سب سے پہلے حافظ ابوبکر احمد الخطیب بغدادی کی کتاب الکفایہ فی علم الروایہ، باب الکلام فی العدالة واحکامہا سے چند اقتباسات پیش کرتا ہوں۔ واضح رہے کہ خطیب بغداری کے متعلق یہ مقولہ مشہور ہےکہ ان کےبعد آنےوالےجملہ محدثین ان کےخوشہ چین و دوست نگر ہیں ( الـمـحـدثـون بـعـده عـيـال على کتبه ) ۔ اس کتاب (مطبوعہ دائرۃ المعارف العثمانیہ ص ۷۹ طبع ۱۳۵۷ھ ) میں حضرت سعید بن مسیب کا قول امام زہری ، امام مالک اور نیچے کی پوری سند کے ساتھ یوں منقول ہے:
ليس من شريف ولا عـالـم ولا ذي سلطان الا وفيه عيب لابد ولكن من الناس من لا تذكر عيوبه من كان فضله اكثر من نقصه ذهب نقصه من فضله.
"کوئی بزرگ، عالم اور حاکم ایسا نہیں ہے جس میں لازماً کوئی نہ کوئی عیب نہ ہو، لیکن لوگوں میں ہے جس کے عیوب کا چرچا نہ ہو اور جس کے فضائل اس کے نقائص سے زیادہ ہوں، اس کا نقص اس کےفضل کی بنا پر زائل ہو جائے گا۔“
پھر امام شافعی کا قول مع سلسلہ اسناد درج ہے:
لا اعـلـم احـدا اعطى طاعة الله حتى لم بحطها بمعصية الله الا يحيى بن زكريا عليه السلام، ولا حصى الله فلم يخلط بطاعة، فإذا كان الأغلب الطاعة فهو المعدل وإذا كان الأغلب المعصية فهو المجروح
”میرے علم میں کوئی ایسا نہیں ہے جس نے اللہ کی اطاعت کی ہو اور پھر اس میں اللہ کی نافرمانی کی آمیزش نہ کی ہو سوائے حضرت یحیی بن زکریا علیہ السلام کے۔ اور کوئی ایسا بھی نہیں ہےجس نے اللہ کی نافرمانی کی ہومگر اس کے ساتھ اطاعت بھی نہ کی ہو۔ پس جس کی اطاعت اغلب ہو تو اسے عادل قرار دیا جائے گا اور جس کی معصیت غالب ہوا سے مجروح ٹھہرایا جائے گا۔“
اسی طرح ابراہیم ائمر وزی عبداللہ بن مبارک کا قول نقل کرتے ہیں کہ ان سے راوی عدل کی صفات دریافت کی گئیں تو انہوں نے فرمایا:
من كان فيه خمس خصال: يشهد الجماعة ولا يشرب هذا الشراب ولاتكون في دينه خربة ولا يكذب ولا يكون في عقله شي.
" جس شخص میں پانچ خصائل ہوں نماز باجماعت پڑھے اور شراب نہ پیے اور اس کے دین میں خرابی نہ ہو اور جھوٹ نہ بولے اور ناقص العقل نہ ہو۔“
اس قول پر الکفایہ کے حاشیہ نگار لکھتے ہیں کہ اس قول کی تائید قرآن کی اس آیت سے ہوتی ہے: إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۔ پھر حاشیہ میں شعر لکھتے ہیں:
سب سے آخر میں خطیب بغدادی اپنا محاکمہ پیش فرماتے ہیں:
والواجب عندنا ان لا يرد الخبر والشهادة الا بعصيان قد اتفق على رد الخبر والشهادة به وما يغلب به ظن الحاكم والعالم ان مقترفه غير عادل ولا مأمون عليه الكذب فى الشهادة والخبر . ولو عمل العلماء والحكام على ان لا يقبلوا خبرا ولا شهادة الأمن مسلم برئ من كل ذنب قل او كثر لم يمكن قبول شهادة أحد ولا خبره لان الله تعالى قد أخبر بوقوع الذنوب من كثير من أنبيائه ورسله.
’ اور ہمارے نزدیک واجب ہے کہ روایت و شہادت صرف ایسے عصیان کی بنا پر رڈ کی جائےجس کے بارے میں سب کا اتفاق ہو کہ اس کی بنا پر حدیث اور شہادت رد کی جانی چاہیے اور جس سےحاکم اور عالم کو ظن غالب حاصل ہو جائےکہ اس عصیان کا مرتکب غیر عادل ہے اور خطرہ ہے کہ وہ گواہی یا روایت میں جھوٹ بولے گا۔ اگر علماء و حکام ایسا کرنے لگیں کہ وہ مسلمان کی روایت یا شہادت اس وقت تک قبول نہ کریں جب تک کہ وہ ہر قلیل یا کثیر گناہ سےپاک نہ ہو،تو پھر تو کسی کی شہادت در وایت قبول کرنا ممکن نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے ابنیاء ورسل سے بھی وقوع ذنب کی خبر دی ہے۔“
عدالت اور اس کےاحکام کےبارےمیں حافظ الخطیب کی جو توضیحات او پر درج ہوئی ہیں،ان میں ہمیں عدالت رواۃ کا ایک ایسا تصور ملتا ہےجو باعتبار عقل و نقل بالکل صحیح اور افراط و تفریط سےبری ہے۔اس سے کوئی مختلف موقف اختیارکرنےکی صورت میں نہ صرف عدالت صحابہ کےمتعلق اشکالات پیدا ہوتےہیں،بلکہ صحابہ کرام سے نیچے کےطبقات رجال اور ان کے واسطے سےہم تک آنےوالا ذخیرۂ حدیث بھی محفوظ و مامون نہیں رہتا۔ پھر اگر کوئی شخص انصاف کی نظر سےدیکھےتو عدالت کی ان تعریفات کی روشنی میں عثمانی صاحب کے ان ایرادات میں بھی کوئی وزن باقی نہیں رہتا جو انہوں نےاس ضمن میں” خلافت و ملوکیت“ کی عبارتوں پر پیش فرمائے ہیں تاہم ان کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ سطور میں ان کی حقیقت بھی واضح کی جارہی ہے۔
”یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی شخص سے کوئی کام عدالت کے منافی سرزد ہونے کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ صفت عدالت اس سے بالکلیہ منتفی ہو جائے اور ہم سرے سے اس کے عادل ہونے ہی کی نفی کر دیں اور وہ روایت حدیث کے معاملے میں نا قابلِ اعتماد ٹھہرے؟ میرا جواب یہ ہے کہ کسی شخص سے ایک دو یا چند معاملات میں عدالت کے منافی کام کر گزرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کی عدالت کی کلی نفی ہو جائے اور وہ عادل کے بجائے فاسق قرار پائے ، در آنحالیکہ اس کی زندگی میں مجموعی طور پر عدالت پائی جاتی ہو۔“
اب مدیر "البلاغ" کا کارنامہ ملاحظہ ہو کہ توجیہ القول بمالا رضی قائلہ،سے کام لیتےہوئےفرماتے ہیں کہ اگر مولانا مودودی کا یہ مفہوم ہےکہ صحابہ کرام صرف روایت حدیث کی حد تک عادل ہیں،ورنہ اپنی عملی زندگی میں وہ (معاذ اللہ )فاسق و فاجر بھی ہو سکتےہیں تو یہ بات نا قابل بیان حد تک غلط اور خطرناک ہےایک طرف مولانا مودودی کےمحتاط الفاظ رکھیےکہ وہ صرف اتنی بات کہہ رہےہیں کہ کسی شخص کے چند معاملات میں عدالت کےمنافی کام کرنےسےیہ لازم نہیں آتا کہ وہ عادل کے بجائےفاسق قرار پائےاور دوسرےطرف مدیر موصوف کا عدل وانصاف دیکھیےکہ وہ اس مفہوم کو ان الفاظ کا خود ساختہ جامہ پہنا رہےہیں کہ صحابہ کرام اپنی عملی زندگی میں فاسق و فاجر بھی ہو سکتے ہیں۔ میں اس طرز استدلال پر اس سے پہلےبھی تنبیہ کر چکا ہوں جب کہ ذاتی مفاد کے الفاظ میں سےامیر معاویہ پر "مفاد پرستی کا وحشت ناک الزام برآمد کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور میں نےچند مثالیں اور پھر مولانا مفتی شفیع کی عبارتیں نقل کر کے اس طریق حجت و بحث کی غلطی واضح کر دی تھی۔مگر صد حیف و صد افسوس کہ عدالت صحابہ والی بحث میں پھر بالکل وہی صورت در پیش ہے۔ اب میں بقول شاعر صرف یہ دعا ہی کر سکتا ہوں کہ:
یارب وہ نہ سمجھے ہیں، نہ سمجھیں گے مری بات
دل دے ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
پھر مزید غضب یہ ہے کہ مولانا عثمانی صاحب بناء الفاسد علی الفاسد کے اصول پر پہلے تو مولانا مودودی کے منہ میں زبردستی یہ الفاظ ٹھونستے ہیں کہ صحابہ کرام اپنی عملی زندگی میں فاسق و فاجر ہو سکتےہیں اور پھر اس فاسد اور فرضی بنیاد پر دوسرا روا یہ جماتے ہیں کہ اگر کسی صحابی کو فاسق وفاجر مان لیا جائے تو آخر روایت حدیث کےمعاملے میں مولانا مودودی اس کے اعتماد کو یہ کہہ کر کیسے بحال کر سکتے ہیں کہ کبھی کسی فریق نے کوئی حدیث اپنے مطلب کے لیے اپنی طرف سے گھڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کی،نہ کسی صحیح حدیث کو اس بنا پر جھٹلایا کہ وہ اس کےمفاد کےخلاف پڑتی ہےحالانکہ فاسق و فاجر تو در کنار مولانا مودودی نےاس مقام پر”فستق" یا فجور کا لفظ بھی استعمال نہیں کیا،صرف عدالت کے منافی کام کا لفظ لکھا ہے، بلکہ فاسق ہونے کی تو الٹا یہ کہہ کر تردید کی ہے کہ عدالت کے منافی کام سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی شخص عادل کے بجائےفاسق قرار پائے۔
مولانا نے اس بحث کے آغاز میں عدالت صحابہ کا صحیح مطلب جو بیان کیا ہے، وہ ان کےاپنے الفاظ میں یہ ہے:
"میں الصحابة كلهم عدول ( صحابہ سب راستباز ہیں ) کا مطلب یہ نہیں لیتا کہ تمام صحابہ بےخطا تھے، اور ان میں کا ہر ایک فرد ہر قسم کی بشری کمزوریوں سے پاک تھا اور ان میں سے کسی نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ بلکہ میں اس کا مطلب یہ لیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کرنے یا آپ کی طرف کوئی بات منسوب کرنے میں کسی صحابی نے کبھی راستی سے ہرگز تجاوز نہیں کیا ہے۔“
میں سمجھتا ہوں کہ عدالت صحابہ کی اس سےبہتر اور محکم تر تعریف اور نہیں ہوسکتی۔ہمارےبہت سےنامور علماء و محدثین نے عدالت صحابہ کی یہی تعریف بیان کی ہےجن میں سےچند نمونےمیں پہلےیہاں نقل کرتاہوں۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سےایک مرتبہ سوال کیا گیا کہ مخون کلامیہ میں یہ جو لکھا ہے کہ صحابی پر طعن نہ کرنا چاہیے، تو اس کا مطلب کیا ہے؟ حالانکہ حدیث کی رو سے امیر معاویہ کو ملک عضوض اور باغی وغیرہ کہا جاتا ہے۔ جواب میں شاہ صاحب فرماتے ہیں:
" آنچه در متون عقائد مرقوم است که صحابی را طعن نباید کرد درست است. اما روایت حدیثه تضمن وجہے از وجوه طعن در بعضےصحابہ باشد با کے ندارد۔بالجمله غرض اصحاب متون بایں ادب صحابیت است نه آنکه صحابه کلهم معصوم اند دو جہے از وجود طعن داشتند .... و آنچه در کتب اصولیه مرقوم است که الصحابة كلهم عدول، پس مراد آنست که صحابه کلهم در روایت حدیث از آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مأمون و معتبر اندر۔ هرگز از پیشاں کذب در روایت حدیث نشد - چنانچه بتجر به تحقیق نرسیده که در مقدمات دیگر از اینہا در حضور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بارتکاب کبیرہ محدود گشته- - - - - - -"
(فتاوی عزیز یہ جلد اول صفحہ ۹۹ - ۱۰۱- کتب خانہ رحیمیہ، دیوبند )
اس عبارت کا ترجمہ فتاوی عزیزی مترجم ، سعید اینڈ کمپنی کراچی صفحہ ۲۱۶۔ ۲۱۷ پر یوں درج ہے:
علم عقاید کےمتون میں جو مذکور ہے کہ صحابی کی شان میں طعن نہ کرنا چاہیے تو متون میں جو کچھ لکھا ہے صحیح ہےلیکن کسی حدیث کی روایت جو متضمن ہو کسی وجہ کو جو وطعن سے، خواہ بعض صحابہ کے بارے میں ہو،تو اس روایت سےعقاید کےاس مسئلےمیں کچھ حرج لازم نہیں آتا ہے اور اصحاب متون کی یہ مراد نہیں کہ سب صحابہ معصوم ہیں اور کوئی وجہ وجوہ طعن میں سے کسی صحابی میں نہیں ... اور کتب اصول میں جو مرقوم ہےکہ سب صحابہ عادل ہیں، تو اس سےمراد یہ ہےکہ سب صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے میں معتبر ہیں، ہرگز صحابہ سےکذب روایات حدیث میں نہیں ہوا چنانچہ تجربہ تحقیق سےثابت نہ ہوا کہ کسی بارہ میں کسی صحابی نے کچھ دروغ کہا ہے،نہ یہ کہ ان میں سے کسی سے کچھ گناہ کسی نہ ہوا ہو ۔ چنانچہ عنقریب بیان ہوا کہ ان لوگوں میں سے بعض حضور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بسبب ارتکاب بعض کبائر کے محدود ہوئے۔“
اسی فتاوی عزیزی مترجم صفحہ ۳۲۹ سے ایک اور جواب بھی قابل ملاحظہ ہے:
"اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ الصحابة كلهم عدول یعنی صحابہ شب عادل ہیں۔اس عقیدے کے بارے میں بارہا حضرت ولی نعمت اللہ مرحوم (شاہ ولی اللہ والد ماجد شاہ عبد العزیز صاحب) قدس الله سرہ کے حضور میں بحث اور تنقیش واقع ہوئی تھی۔ آخر میں یہی متح ہوا کہ اس جگہ عدالت کےمتعارف معنے مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ حدیث کی روایت میں یہ ثابت ہے کہ صحابہ سب عادل ہیں اور کسی دوسرے امر میں قطعی طور پر عادل ہو نا مراد نہیں۔ حدیث کی روایت میں جس عدالت کا اعتبار ہے، اس سے مراد ہے پر ہیز کرنا روایت میں قصد اوروغ کہنےسےاور پرہیز کرنا اس بات سےکہ اس سےروایت میں انحراف ہونےکا خوف ہو ۔ہم نے سب صحابہ کی سیرت کی تحقیق کی،یہاں تک کہ ان صحابہ کی جو کہ فتنہ اور با ہمی مخالفت میں مبتلا ہوئے تھے، ان کی سیرت کی بھی تحقیق کی تو میں نے سب صحابہ کو ایسا پایا کہ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ جو بات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ فرمائی ہو،اس بات کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی جائے،یہ سخت گناہ ہے۔اور ایسی بات کہنا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےنہ فرمائی ہو اور جو حقیقت نہ ہو، اس بات سے صحابہ نہایت پر ہیز کرتے تھے۔
چنانچہ یہ امر اہل سیئر پر ظاہر ہے۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ اس عقیدے کا کچھ نشان سابق کی کتب عقاید میں نہیں اور نہ سابق کی کتب کلام میں ہے۔ یعنی یہ امر متقدمین علماء کےنزدیک مسلم تھا۔اس وجہ سے اس میں کچھ بحث کی نوبت نہ آئی اور اسی وجہ سے سابق کی کتابوں میں اس کا تذکرہ نہیں۔ صرف متاخرین محققین نے اس کا ذکر اصول حدیث میں کیا ہے، وہاں جہاں رواۃ کےطبقات کی تعدیل بیان کی ہے۔ پھر علماء نے یہ عقیدہ ان کتابوں سےعقائد کی کتابوں میں نقل کیا۔اور یہ ان لوگوں نےنقل کیا ہےکہ جن لوگوں نےبلا غور و تعمق حدیث اور کلام میں خلط کیا ہےاس میں شبہ نہیں کہ عدالت جس سےعلماء اصول کی غرض متعلق ہےوہ عدالت مراد ہےکہ جس کا اعتبار روایت میں ہےاور اس کےمعنی یہ ہیں کہ پر ہیز کیا جائے روایت میں قصدا دروغ کہنے سےاور پرهیز کیا جائےاس امر سےکہ جس سے نقل میں انحراف ہونے کا خوف ہو ۔دوسرے اور معنی نہیں تو اس صورت میں اس کلیہ میں مطلقاً اشکال نہیں، واللہ اعلم ۔“
امام ابن تیمیہ منہاج السنہ جلد اول، صفحه ۲۲۹ (مطبعة الامیر یہ مصر ۱۳۲۱) پر فرماتے ہیں ۔
"الصحابة ثقاة صادقون فيما يخبرون به عن النبي صلى الله عليه وسلّم وأصحاب النبي صلى الله تعالى عليه وسلّم ولله الحمد من أصدق الناس حديثا عنه لا يعرف منهم من تعمّد عليه كذبًا مع انه كان يقع من أحدهم من الهنات ما يقع ولهم ذنوب وليسوا معصومين ومع هذا فقد جرب أصحاب النقر والامتحان أحاديثهم واعتبروها بما يعتبر الأحاديث فلم يوجد عن أحد منهم تعمد كذبة.
"صحابہ کرام سب ثقہ راوی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےجو کچھ روایت کرتےہیں،اس میں وہ بچے ہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےاصحاب الحمدلله نبی کریم سےحدیث بیان کرنےمیں سب لوگوں سےزیادہ صادق ہیں۔ان میں کوئی بھی ایسا نہیں معلوم ہو سکا جس نے آنحضور پر عمدا جھوٹ بولا ہو حالانکہ انہی صحابہ کرام میں سےبعض سےکمزوریاں صادر ہوئیں جیسا کہ واقعہ ہےاور ان سے گناہ بھی سرزد ہوئے اور وہ معصوم نہ تھے۔ اس کے باوجود نقد و جرح کرنے والے محدثین نے صحابہ کرام کی احادیث کو چھان پھٹک کر دیکھا اور جس طرح احادیث کی جانچ اور موازنہ کیا جاتا ہے، اس طرح پر کچھ کر دیکھا،لیکن کوئی ایک صحابی بھی ایسےنہ پائے گئے جنہوں نے عمدا کذب بیانی کی ہو۔“
اس کے بعد ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ "امیر معاویہؓ " منبر مدینہ پر جو حدیث بیان فرماتے تھے،اس کی بھی جانچ پڑتال کی جاتی تھی اور یہی کہا جاتا تھا کہ حدیث کےمعاملے میں انہیں متہم نہیں سمجھا جاسکتا۔ اور بُسر بن ارطاۃ کی سیرت کے بارے میں جو کچھ مشہور و معروف (مع ما عرف منہ ) ہے،اس کےباوجود ان سےدور روایات ابو داؤد میں موجود ہیں، کیونکہ جملہ صحابہ کرام کا صدق علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مسلم امر ہے۔“
أستاذ عبدالوہاب (کلیۃ الشریعه الازهر)نے "تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی" پر جو حواشی تحریر کیے ہیں، ان میں وہ الصحابة كلهم عدول کے معانی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اس کے بعد محدث ابن الانباری و دیگر علماء کے اقوال کے ساتھ شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا قول بھی نقل کرتے ہیں، لکھتے ہیں:
(تدريب الراوي، المكتبة العلمية بالمدينة المنورة ص ۴۰۲ طبع ۱۳۷۹)
مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی فاضل دیو بند اپنی کتاب فہم قرآن ( صفحه ۱۳۴، مطبوعہ ۱۳۵۹ھ ) پر عدالت سے مراد کے زیر عنوان فرماتے ہیں:
"یہاں اس امر کی تصریح کردینی ضروری ہے کہ صحابہ کی عدالت سے مراد کیا ہے؟ اصل یہ ہے کہ اصول حدیث کی اصطلاح میں عدالت کے معنی جھوٹ نہ بولنا ہیں۔ پس ہم صحابہ کو جو عادل کہتے ہیں تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ وہ بےگناہ اور معصوم ہیں،بلکہ مقصد صرف یه ہوتا ہےکہ ان میں کسی کی طرف کذب کا انتساب نہیں کیا جا سکتا، یعنی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کسی صحابی نے عمد او قصدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کی ہےجو آپ نےنہیں فرمائی۔اسکا دعوی کسی محدث نےنہیں کیا کہ صحابہ انبیاء کی طرح معصوم ہیں اور ان سے احتیاط و تقویٰ کے خلاف کوئی فعل صادر نہیں ہوسکتا۔چنانچہ علامہ ابن الانباری کا قول ہے:
ليس المراد بعد التهم ثبوت العصمة لهم واستحالة المعصية منهم وإنما المراد قبول رواياتهم من غير تكلف البحث عن أسباب العدالة وطلب التزكية إلا ان يثبت ارتكاب قادح ولم يثبت ذلك ._١
"تہمتوں کے بعد سے یہ مراد نہیں کہ صحابہ بالکل معصوم ہیں اور ان سے معصیتوں کا صد در ہونا محال ہے، بلکہ مراد صرف یہ ہے کہ اسباب عدالت اور تزکیہ کی طلب سے متعلق بحث کے بغیر ان کی روایتیں قبول کی جائیں گی ۔ مگر ہاں اس صورت میں جب کہ کسی امر قادح کے ارتکاب کا ثبوت بہم پہنچ جائے اور یہ ثابت نہیں ہے ۔“
محدث ابن النباری_٢ کا یہ قول نواب سید محمد صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب منہج الوصول الی اصطلاح احادیث الرسول صفحہ پر بھی عدالت صحابہ کی بحث میں ان الفاظ میں نقل فرمایا ہے-
"وابن الانباری گفته مراد بعد الت ایشاں ثبوت عصمت برائے ایشاں و استحاله معصیت برایشان نیست بلکه مراد قبول روایات ایشان است بغیر تکلف بحث از اسباب عدالت و طلب تزکیه مگر آنکه ارتکاب قادمی ثابت شود حال آنکه این ارتکاب ثابت نشده -"
"مولانا ابوالحسنات عبدالحی لکھنوئی کے مجموعہ فتاوی حصہ سوم ص ۱۲( مطبوعه ۱۳۰۹ھ مطبع شوکت سلام لکھنو ) پر عدالت صحابہ سے متعلق ایک سوال و جواب یوں درج ہے:
١- بحوالہ ارشاد النحول للشوکانی۔
٢- محمد بن بشار المعروف ابوبکر بن الانباری (متونی (۳۲۸) کا شمار نامور حفاظ الحدیث میں ہوتا ہےآپ تصانیف کثیرہ کے مالک ہیں۔
جواب: این عقیده نه در کتب قدیمه عقائد است،نه در کتب علم کلام بلکه این فقره را محدثین در اصول حدیث بمقام بیان تعدیل طبقات رواة می آرند و کسیکه این را در عقائد درج کرده است، از همانجا آورده باشد دمراد از عدالت پرهیز کردن از قصد کذب در روایت است و فی الحقیقت تمام صحابه متصف بعد الت کذائی بودند و کذب علی النبی راشد گناه می پنداشتند "
ترجمہ: یہ عقیدہ نہ تو عقائد کی کسی قدیم کتاب میں ہےاور نہ علم کلام کی کتابوں میں مذکور ہے۔البتہ محدثین یہ بات اصول حدیث میں راویوں کی تحقیق و تعدیل کی بحث میں بیان کرتے ہیں۔جس کسی نےاسےعقائد میں درج کیا،اسی جگہ سےلیا ہوگا۔اور عدالت کےمعنی ہیں روایت کےاندر کذب کےارادے سےپرهیز کرنا اور در حقیقت تمام صحابہ اس عدالت کے ساتھ متصف تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرنے کو بڑا گناہ سمجھتے تھے۔
( یہ جواب فتاوی مولا نا عبد الحی مترجم ص ۸۳ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے)
الصحابة كلهم عدول کا صحیح مطلب ان سارے اقتباسات سے واضح ہو جاتا ہے اور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ اصول محمد ثین نے نقد و جرح کے بعد وضع کیا ہے۔ اس سلسلے میں مزید یہ امر بھی قابل وضاحت ہے کہ خلفائے راشدین اور بہت سے صحابہ کرام کا اپنا معمول یہ تھا کہ وہ صحابی کی روایت قبول کرنے سے پہلے اس بھی مزید شہادت یا حلف کا مطالبہ کرتے تھے۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دور میں الصحابة كلهم عدوں کے اصول نے اجماعی کلیہ و مسلمہ کی حیثیت اختیار نہ کی تھی ۔۔
بہر کیف اہل سنت کے علماء ومحدثین کے ہاں یہ دو باتیں نہایت واضح اور مسلم ہیں۔ ایک یہ کہ صحابہ کرام سے صدور کبائر و معاصی ممکن ہے اور وا قع ہوا ہے۔ دوسری یہ کہ عدالت صحابہ کا اصول روایت حدیث سے متعلق ہے اور اس سے مراد و مفہوم یہ ہے کہ کوئی صحابی اراد تا عمدا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے کوئی غلط بات منسوب نہیں کر سکتا۔ ان دونوں باتوں کے مابین عقلی اور واقعاتی اعتبار سے قطعا کوئی منافات یا تناقض نہیں ہے۔ اس کے بعد بھی جو شخص یہ کہتا ہے کہ خلافت و ملوکیت میں امیر معاویہ یا کسی دوسرےصحابی رسول کی طرف فلاں اور فلاں گناہ منسوب کر دینےسےصحابہ کرام کی عدالت مجروح ہوتی ہے یا اس سے عقیدہ وایمان خراب ہوتا ہے، اس شخص کے غلط قول کی زد میں صرف ” خلافت و ملوکیت یا کتب تواریخ ہی نہیں آتیں، بلکہ اس کی زد نصوص کتاب وسنت اور حدیث ،تفسیر، فقہ، عقائد ، اصول اور کلام کی بے شمار کتابوں اور ان یہ جلیل القدر در مصنفین پر بھی لازماً پڑتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں میں وہی باتیں ، بلکہ دوسری شدید تر باتیں درج ہیں، جن کے بہت سے نمونے میں اب تک نقل کر چکا ہوں، اور آئندہ بھی مجھے کرنے پڑیں گے۔
مدیر البلاغ نے ایک سراسر غلط اور بے دلیل موقف پر اصرار کرتے ہوئے پہلے تو خلافت و ملوکیت سے گیارہ افعال کی ایک با قاعدہ ترتیب وار فہرست مرتب کی ہے اور ہر فعل کو اپنےالفاظ سےنمک مرچ لگا کر خوب ہولناک بنایا ہے اور پھر وہ پوچھتےہیں کہ ان جرائم کو ایک دو یا چند گناہ کر گزرنے سےتعبیر کرنا کیا اسی لیپ پوت کی تعریف میں نہیں آتا جس سےمولانا مودودی بچنا چاہتے ہیں۔میں مولانا محمد تقی صاحب عثمانی سےکہتا ہوں کہ آپ کے پاس جو خلافت و ملوکیت کا نسخہ ہے، آپ چاہیں تو اس میں ایک دو یا چنڈ کے بجائے گیارہ یا اس سے اوپر کا کوئی عدد درج کر لیں،فقرہ اپنی جگہ پر پھر بھی صحیح اور بے غبار رہےگا۔البتہ اس بات کا بڑا دکھ اور ملال ہے کہ مولانا نےجو باتیں مجمل اور محتاط طریق پر چند سطروں میں بیان کی تھیں، مدیر البلاغ نے ان پر بحث کر کے مجھےمجبور کر دیا کہ ان میں ایک ایک کو کھول کھول کر بیان کروں اور اس کا ثبوت بھی پیش کر دوں۔
مدیر البلاغ نے اس استدلال کو بھی بار بار دہرایا ہے کہ ایک صحابی اگر اپنےذاتی مفاد کےلیےایسے اور ایسےگناہ کے کام کر سکتا ہےتو وہ اپنے مفاد کے لیے جھوٹی حدیث کیوں نہیں گھڑ سکتا؟ مجھے تو دینی مدارس میں منطق و معقول پڑھنےکا شرف حاصل نہیں ہو سکا لیکن جن لوگوں نےان مدرسوں سےسند فراغ حاصل کی ہےانہیں اتنی بات تو سمجھ لینی چاہیے کہ ایک گناہ خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ، اس سے دوسرے گناہ کا صدور لازم نہیں آتا،بلکہ اس کا صرف اشتباہ یا امکان پیدا ہوتا ہے۔مثال کےطور پر ایک شخص اگر شرب خمر کا مرتکب ہو، تو یہ لازم نہیں آتا کہ وہ جھوٹی حدیث بھی بیان کرے گا،البتہ ایک گمان یا شبه پیدا ہو سکتا ہےاب چونکہ دوسرے مجروح راویوں کے متعلق اس ظن یا امکان کو دفع کرنے والی کوئی یقینی شے نہیں، اس لیے ان کی روایت قابل قبول نہ ہوگی ۔ لیکن صحابہ کرام کےبارے میں جب محدثین نے باقاعدہ استقصاء واستقراء کے بعد یہ معلوم کر لیا کہ وہ زندگی کےدوسرے معاملات میں خواہ کوئی گناہ کر بیٹھیں، حتی کہ وہ کسی دوسرے پر جھوٹی تہمت (قذف) ہی کے مرتکب کیوں نہ ہوں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی غلط بات کا انتساب ہرگز ہرگز نہیں کریں گے، تو پھر عثمانی صاحب آخر محض عقلی تیر تکے لڑا کر یہ استدلال کس بل بوتے پر کر ز ہےہیں کہ جس صحابی سےدس یا میں گناہ سرزد ہو سکتےہیں،وہ کذب فی الحدیث کیوں نہیں کر سکتا ؟ صحابی سے کبائر تک کے صدور سے انکار تو کسی کو ہے نہیں، تو کیا اب انکار حدیث کے لیے آپ ایک نیا نکتہ اور دلیل فراہم کر رہے ہیں اور منکرین حدیث کے ہاتھ میں ایک نیا ہتھیار دینا چاہتے ہیں؟
اب تک کی بحث سےالحمداللہ یه حقیقت نکھر کر سامنےآگئی کہ صحابہ کرام سےخواہ کیسی اور کتنی ہی خطاؤں کا صدور ہو، ان سے کذب علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتکاب قطعاً محال ہے۔ اس کےبعد البتہ یہ سوال اور یہ اشکال ذہن میں پیدا ہو سکتا ہےکہ جب بڑےسےبڑےکبائز صحابہ کرام سےصادر ہو سکتےہیں اورہوئے ہیں تو کیا وجہ ہےکہ کسی ایک صحابی سےجھوٹی حدیث بیان کرنےکی غلطی سرزد نہیں ہوئی؟عثمانی صاحب اور ان جیسےدوسرےحضرات کےطرز بحث سے میں نےمحسوس کیا ہےکہ یہ وسوسہ بعض ایسے لوگوں کےدلوں میں پیدا ہو گیا ہے جو ویسےصحابہ کرام کی عدالت في الروایت اور ان کی عدم عصمت دونوں کےقائل ہیں، اس لیےمیں مختصر مسئلےکےاس پہلو پر بھی محض اطمینان قلب کےحصول کی خاطر روشنی ڈالےدیتا ہوں۔
یہ بات بالکل ظاہر و باہر ہے کہ صحابہ کرام انبیاء علیہم السلام کے بعد افضل الخلائق تھے مگر بشری خصائص سے پاک نہ تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثالی تربیت و تعلیم کے باوجود صحابہ کرام سے غلطیاں ہو جاتی تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کی مشیت و حکمت اس امر کی مقتضی تھی اور آنحضور کی بھی زبر دست خواہش و تمنا تھی کہ کم از کم ایک غلطی ایسی ہے جو صحابہ کرام کی سیرتوں میں سے کلی طور پر معدوم ہو جانی چاہیے اور وہ یہی ہے کہ کوئی صحابی خدانخواستہ کوئی غلط بات اللہ کے رسول کی طرف منسوب نہ کرنے پائے۔ دوسری غلطیوں کے اثرات تو ایک ذات یا چند افراد تک محدود ہو سکتے ہیں،مگر صحابہ کرام کی حدیث میں غلط بیانی سے تو پورا دین مشتبہ ہو جائے گا۔اس خدشےکےسد باب کی جتنی فکر آنحضرت کو تھی اور اس کے سد باب کا جتنا اہتمام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میرےخیال میں آپ نے تردید شرک کے ماسواء کسی اور معاملے میں نہیں فرمایا۔ آپ نے بار بار صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا:
١- بخاری ، ابواب العلم اور دوسرے بےشمار مقامات پر یہ حدیث وارد ہے۔
تقریباً دوسو سے زاید صحابہ کرام ہیں جنہوں نے اس ارشاد مبارک کو روایت کیا ہے، حتی کہ محدثین کا بیان ہے کہ جس حد تواتر تک یہ حدیث پہنچی ہے، کوئی دوسری حدیث نہیں پہنچی۔ اکثر صحابہ کرام نبی کریم کا کوئی ارشاد نقل کرتے وقت پہلے یہ حدیث سناتے تھے اور ان کا حال یہ ہوتا تھا کہ چہرہ متغیر ہو جاتا تھا اور بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ بہت سے صحابہؓ اس ڈر کے مارے کہ کہیں کوئی غلط بات منہ سے نہ نکل جائے زیادہ احادیث بیان نہیں کرتے تھے۔ محدثین کا بھی یہی حال تھا کہ وہ اس حدیث کو کثرت سے بیان کرتے تھے اور کئی ایک نے مجموعہ ہائے احادیث کا آغاز اسی حدیث سے کیا ہے۔ پھر پوری طرح چوکنا ہو کر حدیث بیان کر لینے کے بعد کہتے تھے۔
تا که نادانستہ آگ کی وعید کا مصداق نہ بن جائیں۔
پھر اس مضمون کی یہ ایک ہی حدیث نہیں ہے، بلکہ متعدد دیگر احادیث اس طرح کی وارد ہیں۔ مثلاً بخاری، کتاب الجنائز اور دوسری کتابوں میں حضرت مغیرہ بن شعبہ وغیرہ سے روایت ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بخاری، کتاب العلم میں حضرت علیؓ سے ایک روایت ہے کہ آنحضور نے فرمایا:
اسی طرح بخاری، مناقب قریش میں حضرت وائلہ سے مروی ہےکہ آنحضور سے نقل کرتےہوئے انہوں نے بیان کیا:
حضرت ابو موسی سے ایک روایت ہے کہ:
اسی مفہوم کی بہت سی دوسری احادیث ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، مسند احمد اور تقریباً ہر دوسری حدیث کی کتاب میں موجود ہیں۔ ان شدید ترین تنبیهات و وعیدات کا نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ کرام کے اندر سے کذب علی النبی کا جذبہ اس طرح سے محو ہو گیا کہ کوئی ایک صحابی بھی ایسے کبھی نہ پائے گے جو اس فعل کا ارتکاب کریں۔حضرت علی اور دوسرےبعض صحابہ سےبخاری اور دوسری کتابوں میں اسطرح کا قول منقول ہے کہ ہمارا آسمان پر سے چھلانگ لگا دینا اس سے بعید تر ہےکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب جھوٹ منسوب کریں۔
حضرت علیؓ کا قول جو بخاری میں مروی ہے اور اسے الکفایه صفحہ۰۲ ا پر بھی نقل کیا گیا ہے وہ یہ ہے:
اس کتاب کے صفحہ ۱۷۸ پر حضرت وکیع نے حضرت اعمش کا ایک قول صحابہ کرام کے متعلق روایت کیا ہے:
صحابہ کرام سے بتقاضائے بشریت بڑے بڑے گناہ واقع ہوئے اور صحابہ کرام کے بعد بعض روایوں سے کذب فی الحدیث بھی رونما ہوا،مگر میں تو اس بات کو اللہ اور اس کےرسول کا ایک عظیم الشان معجزہ اور صحابہ کرام کی سب سے بڑی کرامت سمجھتا ہوں اور اس میں حضرت معاویہ اور ہر دوسرے صحابی کو برابر کا شریک و سہیم سمجھتا ہوں کہ اگرچہ ان کےاندر سےصلاحیت کذب جبلی طور پر سلب تو نہ ہوئی ،ان کےاندر سےدوسرے ذنوب بھی معدوم نہ ہوئے مگر آنحضور پر جھوٹ بولنا بالکل معدوم اور قطعی طور پر ملیا میٹ ہو گیا۔میں کہتا ہوں کہ بحثا بحثی کےبجائےآئیےہم سب ملکر اس نعمت عظیمیه کا شکر بجالائیں اوراس مغالطه آمیز اورخطرناک استدلال سے خدا کی پناہ طلب کریں کہ جب ایک صحابی سے اور ہر گناہ کا صدور ہو سکتا ہے تو وہ ایک جھوٹی حدیث کیوں نہیں گھڑ سکتا؟
گزشتہ بحث میں عدالت صحابہ کا صحیح اور حقیقی مطلب و مفہوم بڑی حد تک واضح کیا جا چکا ہےاور یہ بھی ثابت کیا جا چکا ہےکہ الصحابة كلهم عدول محدثین کا ایک خاص اصطلاحی مقولہ ہےجس سےمراد یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام حدیث نبوی روایت کرنےمیں راست باز اورصادق القول ہیں اوران سےکبھی کذب فی الحدیث کا صدور نہیں ہوا۔ اب عدالت صحابہ کا یہ اصول کوئی اسےعقیدہ کہنا چاہےتو کہہ لےاس وقت تک مجروح نہیں ہوسکتا جب تک کوئی شخص اس بات کا قائل نہ ہو کہ صحابہ کرام (معاذ اللہ ) غلط یا جھوٹی بات بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سےمنسوب کر دیتے تھےیا یہ نہ کہےکہ ان سے چونکہ گناہ یا خطا کا صدور ہوسکتا تھا اور ہوا ہےاس لیےان کے بارے میں یہ شبہ کیا جاسکتا ہے کہ شاید وہ جھوٹی حدیث بھی بیان کرتےہوں اور اس بنا پر صحابہ کرام یا کسی خاص صحابی کی عدالت اور انکی بیان کردہ روایت کے صدق و کذب کی بھی اسی طرح چھان بین ہونی چاہیےجس طرح دوسرے راویوں کےبارے میں کی جاتی ہے_١ مولانا مودودی ان میں سےکسی بات کےقائل نہیں ہیں،بلکہ ہر صحابی رسول کو بلا استثناء عادل فی روایة الحدیث مانتےہیں۔حضرت معاویہ،حضرت مغیرہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کی روایت کردہ احادیث کو انہوں نے اپنی کتابوں میں درج کر کے ان سے استدلال و استنباط کیا ہے۔ اس کے بعد آخر کس قاعدے کی بنا پر یہ اتہام جائز ہو سکتا ہے کہ خلافت و ملوکیت میں بیان کردہ واقعات سےعدالت صحابہ مجروح ہوتی ہے۔؟
١- جن لوگوں نےاصول حدیث و اصول فقہ کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے وہ اس حقیقت سےبےخبر نہیں رہ سکتے کہ ان کتابوں میں جہاں کہیں الصحابة كلهم عدول کا کلیہ زیر بحث آیا ہے، وہاں یہ بات بھی بیان کر دی گئی ہے کہ معتزلہ وغیرہ اس بات کےقائل تھے کہ جس طرح دوسرے رواۃ حدیث کی عدالت کا معاملہ تحقیق و تفتیش طلب ہے اسی طرح صحابہ کرام کا بھی ہے، بالخصوص جن صحابہ نے دور فتن اور اختلاف با ہمی کازمانہ پایا اور ان میں ایک فریق بن کر حصہ لیا ، ان کی عدالت تحقیق طلب ہے۔ مگر اہل سنت نے اس قول کو رد کر دیا اور اب اس کے مردود ہونے پر اجماع ہے۔
مدیر "البلاغ" نےمن مانےطریق پر عدالت صحابہ کی اقسام بناتے ہوئےلکھا ہےکہ عقلی طور پر عدالت صحابہ کے تین مفہوم ہو سکتے ہیں۔ تیسری قسم جسے انہوں نے بزعم خویش اہل سنت کا مسلک قرار دیا ہے، وہ ان کے الفاظ میں یہ ہے کہ صحابہ کرام نہ تو معصوم تھے اور نہ فاسق ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کسی سے بعض مرتبہ بنتقائے بشریت دو ایک یا چند غلطیاں سرزد ہو گئی ہوں لیکن تنبہ کے بعد انہوں نے توبہ کر لی اور اللہ نے انہیں معاف فرما دیا۔ اس لیےوہ ان غلطیوں کی بنا پر فاسق نہیں ہوئے۔چنانچہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی صحابی نے گناہوں کو اپنی پالیسی بنالیا ہو جس کی وجہ سے اسے فاسق قرار دیا جا سکے۔“
مولانا مودودی نےیا میں نےعدالت صحابہ کا جو مفہوم بیان کیا ہےاس کی تائید میں علماء و محدثین اہل سنت کےمتعدد اقوال درج کیےجاچکےہیں اور مزید کیےجاسکتےہیں لیکن مولانا عثمانی صاحب نےاپنی وضع کردہ تعریف کے حق میں ایک حوالہ بھی نقل نہیں فرمایا۔تا ہم مولانا مودودی کی کوئی تحریر عدالت کی اس تعریف سے بھی متصادم نہیں ہے۔ عثمانی صاحب اولا فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نہ معصوم تھےنہ فاسق ۔ میں پوچھتا ہوں کہ مولانا مودودی نےکس مقام پر کسی صحابی کو فاسق لکھا ہے؟ کیا ان کےصحابہ کو فقط غیر معصوم که دینےیا ان کی کسی غلطی کو بیان کر دینےسےآپ یہ الزام ان پر جڑ دینا چاہتے ہیں؟ اگر اس طرح کے صغرے کبرے ملا کر الزامات برآمد ہو سکتے ہیں تو جولوگ پاک دامن خواتین پر جھوٹی تهمت لگاتے ہیں، ان کے متعلق سورہ نورآیت ہم میں فرمایا گیا ہےکہ اولئک هم الفاسقون پھر کہ دیجیے کہ حضرت حسان بن ثابت ، حضرت مسطح، حمنہ بنت جحش (جو ام المومنین حضرت زینب کی بہن ہیں ) یہ سب سزا پانےاور تو بہ کرنےکےبعد بھی فاسق ہیں بلکہ یہی وہ لوگ ہیں جو فاسق ہیں! یہ آخر کیا طرز استدلال ہے؟مولانا مودودی نےتو فسق یا فاسق کے طرز الفاظ امیر معاویہ کےحق میں استعمال نہیں کیےلیکن آپ چاہیں تو میں اہل سنت کےچوٹی کےعلماء کی نشان دہی کر سکتا ہوں جنہوں نےیہ الفاظ بھی کہےہیں۔فسق یا بدعت کےالفاظ گائی اور سب و شتم کےالفاظ ہرگز نہیں ہیں۔میں شاہ عبد العزیز کا قول پہلےنقل کر چکا ہوں جس میں انہوں نےامیر معاویہ ہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
اب ایک دوسرا قول لیجئے۔کتاب المواقف قاضی عضد الدین کی تصنیف ہے جس کا موضوع کلام اور عقائد اہل سنت کا اثبات ہے۔ اس کی ایک ضخیم شرح علامہ سید شریف علی بن محمد الجرجانی (ف۸۱۶) نے سپرد قلم کی ہے جو شرح المواقف کے نام سے مشہور ہے۔اس کے اواخر میں ایک باب الموقف السادس فی السمعیات کے نام سے موسوم ہے۔ اس بات میں وجوب نصب الامام کے زیر عنوان تعظیم صحابہ کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے جو کچھ علامہ جرجانی نے فرمایا ہے، اس کی پوری عربی عبارت اور پھر اس کا ترجمہ دینا تو موجب طوالت ہے، اس لیے میں شروع کے حصے کا ترجمہ دوں گا اور آخری حصہ میں عربی مع ترجمہ درج کروں گا۔ پہلے وہ فرماتے ہیں:
" تمام صحابہ کی تعظیم اور ان کی قدح نہ کرنا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عظمت و ثناء بیان فرمائی ہے اور بہت سی احادیث میں بھی ان کی تعریف بیان ہوئی ہے پھر جو شخص ان کی سیرتوں پر غور کرتا ہے اور ان کے کارنامے ، دینی جدو جہد اور اللہ و رسول کے لیے ان کی مالی اور جانی قربانیوں سے واقف ہوتا ہے تو اس شخص کےدل میں ان کی عظمت شان کےبارے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ باطل پرست صحابہ کرام سے جو مطاعن منسوب کرتے ہیں، ان سےوہ بری ہیں اور وہ ان پر طعن کرنے سے رک جاتا ہے کیونکہ یہ منافی ایمان ہے۔ ہم اس قسم کےمطاعن سے اپنی کتاب کو آلودہ نہیں کرنا چاہتے اور بڑی کتابوں میں باتیں پوری طرح مذکور ہیں۔اگر تم چاہو تو آگاہی حاصل کرنے کے لیے ان کا مطالعہ کر سکتے ہو۔ جہاں تک صحابہ کرام کے مابین واقع شده فتن و حروب کا تعلق ہے تو معتزلہ میں سے بعض نے تو ان کے وقوع ہی کا انکار کر دیا ہےمگر بلا شک و شبہ یہ انکار مکابرہ ہے اور جن لوگوں نےان فتنوں اور لڑائیوں کا اعتراف کیا ہےان میں سے بعض نے فریقین کی تغلیط و تصویب کے معاملے میں سکوت اختیار کیا ہے اور یہ اہل سنت کا ایک گروہ ہے۔“
اس کے بعد فرماتے ہیں:
والذي عليه الجمهور من الأمة هو ان المخطئ قتلة عثمان ومحاربو على لانهما إمامان فير حرم القتل والمخالفة قطعاً الا ان بعضهم كا القاضی ابی بکر ذهب ان هذه التخطئة لا تبلغ إلى حد التفسيق ومنهم من ذهب الى التفسيق كا الشيعة وكثير من أصحابنا.
"جمہور امت یعنی امت کی غالب اکثریت جس مسلک پر ہےوہ یہ ہےکہ صرف عثمان کےقاتلین اور حضرت علی سے جنگ کرنے والے خطار کار تھےکیونکہ یہ دونوں خلفاء امام وقت تھے اور ان کا قتل اور ان کی مخالفت قطعیه حرام تھی،البتہ امت کے بعض علماء مثلاً قاضی ابوبکر باقلانی کا موقف یہ ہے کہ خطا کار ٹھہرانا تفسیق کی حد تک نہیں پہنچتا۔اور ان میں ایسےبھی ہیں جو محار بین علی کی تفسیق کےقائل ہیں،مثلاً شیعہ اور ہمارے علمائے سنت کی کثیر تعداد- “
(شرح المواقف، جزء ثامن، صفحہ ۳۷۴۳۷۳۔ الطبعة الأولى، مطبعة السعادة مصر)
۱۳۲۵ء
اب شرح المواقف کی اس بحث میں چند امور نہایت واضح ہیں۔ اس میں کتاب و سنت سےصحابہ کرام کے فضائل ومحامد بیان کرتے ہوئے جمل صحابہ کرام کی تعظیم و تکریم کو واجب قرار دیا گیا ہے اور ان کی توہین وتنقیص سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے،لیکن اس کےساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا ہےکہ ہمارے اہل علم اصحاب کی بڑی تعداد نے حضرت علی سے لڑنے والوں کی تفسیق بھی کی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ تفسیق اس طعن اور قدح کی تعریف میں نہیں آتی جس سے ہمیں روکا گیا ہےاور نہ یہ اس تعظیم صحابہ کے منافی ہے جس کے ہم مامور ہیں اور جس کے وجوب کا ذکر شروع میں کیا گیا ہے۔اس بحث سے مزید یہ بھی معلوم ہو گیا کہ بلاشبہ اہل سنت کے ایک گروہ نے ان مقاتلات و محاربات کےمعاملےمیں خاموش رہنےکو ترجیح دی ہےلیکن جمہور امت کے نزدیک حضرت علیؓ کےخلاف تلوار اٹھانے والےخاطی تھےاور یہ خطا کثیر من اصحابنا کےنزدیک حد تفسیق تک جا پہنچی تھی لیکن بعض کے نزدیک اس حد تک نہیں پہنچی تھی۔
مجھےاس بات کو تسلیم کرنے میں ہرگز تامل نہیں ہے کہ بہت سےعلماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ صحابہ کرام سب کے سب مجتہد تھے،اس لیےجن صحابہ نےخطا کی ہےان کی خطا بھی اجتہادی خطا ہے جس پر وہ دہرے نہیں تو ایک اجر کے مستحق ہیں۔لیکن اس کےجواب میں میری مودبانه گزارش ہےکہ الصحابة كلهم مجتهدون بھی کتاب وسنت کی کوئی نص نہیں ہے بلکہ علماء ہی کا بیان کردہ قول ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سب صحابی اجتہاد کے یکساں درجے پر فائز نہیں تھے۔امیر معاویہؓ کے متعلق شاہ عبدالعزیز صاحب فرماتے ہیں:
" پس ہر کہ اجتہاد ایشان را نفی کند درست است زیرا که در حضور آنحضرت صلی الله علیه وسلم ایشاں رآں مرتبہ حاصل نبود ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم در هیچ مسئله بر صحت اجتهاد حکم نفرموده اند تا اجتهاد ایشان معتبر و مفتی به تواند شد و هر که ایشان را مجتهد گفت نیز درست گفت زیر که در اخیر عمر بسبب سماع احادیث کثیره از صحابه دیگر بعض مسائل فقه دخل می کردند، ہمیں است معنی قول ابن عباس که انه فقیہ-
(فتاوی عزیزی جلد اول ص ۱۰۱ کتب خانہ رحیمیہ دیوبند )
(جن صحابہ کرام کو مرتبہ اجتہاد کا حضور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےحاصل نہ ہوا تھا،ایسے صحابہ کرام کےاجتہاد کی نفی کرنا درست ہےاس واسطےکہ ایسےصحابہ کرام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےحضور میں مرتبہ اجتہاد کا حاصل نہ ہوا تھا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ کے کسی مسئلہ اجتہادیہ کی تصدیق نہیں فرمائی ہے تا کہ اجتہاد ان کا معتبر اور مفتی بہ ہو سکے۔ اور جس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو مجتہد کہا تو اس نے بھی درست کہا،اس واسطے کہ حضرت معاویہؓ نے اخیر عمر میں احادیث کثیرہ دیگر صحابہ کبار سے سنیں اور اس وجہ سے بعض مسائل فقہ میں دخل دیتےتھےاور یہی مراد ہے حضرت ابن عباس کی اس قول سے کہ انہ فقیہ ( وہ فقیہ ہیں)۔
(فتاوی عزیزی مترجم سعید اینڈ کمپنی کراچی ص ۲۱۸، ۱۳۸۷ھ )
تاہم اگر اس اصول کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ صحابہ کرام کہم مجتہد تھے تب بھی ان کے ہر قول و فعل پر اجتہاد کا اطلاق نہیں ہوسکتا،نہ ہر خطا پر اجتہادی خطا کا حکم لگایا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ بعض افعال پر ماخوذ و محدود کیوں ہوتے اور ان پر تو بہ وانابت کی نوبت کیوں آتی؟ بلکہ تو بہ کا سوال ہی کیسے پیدا ہوتا؟ آخر جو فعل مبنی بر اجتہاد اور موجب اجر ہے، وہ اس کے ساتھ ہی قابل مواخذہ و تعزیر کیسےہو سکتا ہےاور اس سے تو بہ کی ضرورت کیسے پیش آسکتی ہے؟
پھر یہ بات میں پہلے واضح کر چکا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس اجتہاد کو باعث اجر فرمایاہے، اس کا اصل تعلق حکم حاکم سے ہے جو کسی حکم شرعی کو کسی جزئی مسئلے پر منطبق کرتے ہوئے صدور میں آیا ہو اور معارض نص یا قطعی البطان نہ ہو، ورنہ تو ایک صحابی قرآن مجید کی ایک آیت سے استنباط کرتے ہوئے شراب کو حلال کر بیٹھے تھے جس پر حد جاری کی گئی تھی ۔ اوپر جو شاہ عبدالعزیز صاحب کا قول امیر معاویہ کےاجتہاد کے بارے میں نقل ہوا ، اس کے بعد ذرا آگے شاہ صاحب امیر معاویہؓ کےمتعلق فرماتے ہیں کہ اس وقت آپ کا اجتہاد اس درجہ کا نہ تھا کہ آپ اہل حل و عقد میں شمار ہو سکتےاور علاوہ اس کے خلافت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی محققین کے نزدیک نص سے ثابت ہے۔کون سے امور مجتہد فیہ ہیں اور کس اجتہاد میں غلطی کے باوجوداجر ہے، اسے واضح کرنے کےلیے امام بخاری نے صحیح البخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب و السنه میں دو مستقل باب باند ھے ہیں ایک کا عنوان ہے:
” جب عامل یا حاکم اجتہاد کرے اور اس میں بغیر علم کےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف غلطی کرے، اس کا فیصلہ قابل رڈ ہے کیونکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو ہمارے حکم کےخلاف عمل کرے وہ عمل مردود ہے۔“
اس کے بعد امام بخاری کے دوسرے باب کا عنوان ہے:
بہر کیف یہ بات نہایت واضح ہے کہ ایک صحابی کے ہر قول و فعل پر نہ اجتہاد کا اطلاق ہوسکتا ہے اور نہ ہر غلطی وہ اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے جواز روئے حدیث موجب اجر و ثواب ہے۔
حضرت علیؓ کےبالمقابل حضرت معاویہ نے جو موقف اختیار کیا،اسےحق بجانب ثابت کرنے کےلیےبعض اصحاب ان احادیت کا سہارا لیتےہیں جن میں حضرت علی کو ولی الطائفتین من الحق کہا گیا ہےیا جن میں فاتین قیمتین من المسلمین کا ذکر ہے۔ استدلال یہ ہےکہ جب حضرت علی کو حق سے قریب تر قرار دیا گیا،تو مطلب یہ ہوا کہ حضرت معاویہ کا گروہ بھی محاربت میں حق پر ہی ہوا، گو کہ اقرب الی الحق والصواب نہ ہوا۔ لیکن یہ کوئی قطعی اور مضبوط استدلال نہ ہے۔ ایک فرد یا جماعت کی تعریف و توصیف اگر بصیغۂ افعل التفضیل کی جائے تو اس سے بالمقابل فریق یا متقابل طرز عمل کی توصیف کا پہلولا زما نہیں نکلتا۔ مثال کے طور پر سورہ بقره، آیت ۲۳۲ میں فرمایا کہ جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ عدت پوری کر لیں تو انہیں نکاح ثانی سے نہ روکو، پھر فرمایا کہ
١- شاہ صاحب کا اشارہ الخلافة بعدى ثلثون سنة..... تقتلك فنة باغية.... وغيره ارشادات نبویہ کی جانب ہے، جیسا کہ ان کی اور ان کے والد ماجد کی دوسری تحریرات سے واضح ہے۔ اس لیے شاہ صاحب کے قول کا مدعا یہ ہے کہ جب حضرت علی کی خلافت نص سے ثابت ہے، تو اس خلافت سے انحراف و بغاوت کو اجتہاد کس طرح کہا جا سکتا ہے؟
اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر تم ان کے نکاح میں مزاحم ہو گے تو یہ بات بھی پاکیزہ و پسندیدہ ہو گی۔ اسی سورہ ہود ( آیت (۷۸) میں حضرت لوط اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اگر تم عورتوں سےازدواجی تعلق قائم کرو تو یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ (أَطْهَرُ لَكُمْ) ہے۔ کیا اس قول کا منشاء یہ ہوسکتا ہے کہ دوسری غیر فطری عادت بد بھی کسی درجےمیں طہارت کی حامل قرار دی جائے؟ اسی طرح سورہ زخرف (۲۴) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرمایا گیا:
اب یہاں انبیاء کرام پر نازل شدہ تعلیم کو اہدی ( زیادہ موجب ہدایت ) قرار دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ مشرکین اور ان کے باپ دادا جس روش پر تھے وہ بھی کسی درجے میں ہدایت پر مبنی تھی۔ باقی رہی حضرت حسنؓ کے مناقب والی حدیث جس میں آپ کے ذریعے سے مسلمانوں کےدو بڑے گروہوں میں صلح کی بشارت ہے تو اس میں شک ہی کیا ہے کہ آنجناب کے مصالحانہ رویےسے ایک جھگڑا ختم ہوا جس کے دونوں فریق بلاشبہ مسلم و مومن تھے ، لیکن اس حدیث میں کسی گروه کے بر سرحق یا ناحق ہونے کا ذکر نہیں ہے۔
بہر کیف ایک قول یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ اور آپ کے ساتھیوں کی غلطی اجتہادی غلطی تھی ، ایک قول یہ ہے کہ یہ خط تھی مگر حد تفسیق کو نہیں پہنچتی ، ایک قول یہ ہے کہ اس حد تک پہنچتی ہے۔مولانا مودودی نے اس کے بین بین موقف اختیار کیا ہے کہ یہ اجتہادی غلطی نہیں ، نیت کی غلطی بھی نہیں محض غلطی ہے۔ یہ موقف قطعی طور پر اخو ط واسلم ہے کیونکہ اس میں امیر معاویہ کے بارے میں اشارۃ وکنایہ بھی فسق کا کوئی حکم نہیں لگایا گیا ہے۔ان سارے اقوال کےقائلین اہل سنت ہی کےافراد،بلکہ ائمہ اہل سنت میں شمار ہوتے ہیں۔ پھر میری سمجھ نہیں آرہا کہ آج کل اہل سنت کی یہ کونسی قسم وجود میں آگئی ہے جو ان اقوال میں سے کسی قول کو عدالت صحابہ کے منافی یا مسلک اہل سنت کےمخالف سمجھ رہی ہے۔ اَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّکَ. کیا مدیر البلاغ اس بات سے بےخبر ہیں کہ احناف کی فقه و اصول فقہ کی کتابوں میں یہ اصول بھی درج ہے کہ غیر فقیہ راوی کی حدیث خلافقیاس ہو گی تو وہ قابل قبول نہ ہوگی۔پھر اس وضع کردہ اصول کی روشنی میں حضرت انس اور حضرت ابو ہریرہ جیسے جلیل القدر ر اور کثیر الروایہ صحابہ کرام کو غیر فقیہ قرار دے کر انکی بعض نهایت صحیح و مرفوع احادیث کو ترک کر دیا گیا ہےمیں پوچھتا ہوں کہ ان صحابہ کرام کو غیر فقیہ اور ان کی مرویات کو قابلِ قبول قراردينا، الصحابة كلهم عدول وكلهم مجتهدون کےاس مفہوم سےکیا نہیں ٹکراتا جس کا دعوتی آپ کر رہے ہیں؟ کیا کوئی صحابی بیک وقت غیر فقیہ اور پھر مجہتد بھی ہو سکتے ہیں؟
مدیر”البلاغ“نےیہ جو لکھا ہےکہ ہو سکتا ہےکہ صحابہ کرام سےبعض مرتبه بتقاضائےبشریت دو ایک یا چند غلطیاں سرزد ہو گئی ہوں لیکن تنبہ کےبعد انہوں نےتو به کر لی اور اللہ نےانہیں معاف فرما دیا،معلوم نہیں یہ بات لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس سےکیا ثابت کرنا مقصود ہے؟کیا مولانا مودودی نے یہ بات کہیں بیان کی ہے کہ فلاں صحابی نےکسی غلطی پر تو بہ نہیں کی،اللہ نے انہیں معاف نہیں فرمایا اور وہ اس غلطی اور عدم تو بہ کی بنا پر(معاذ اللہ )عادل نہیں رہے؟مولانا نےصرف غلطیاں اور انکےتاریخی نتائج و عواقب بیان کر دیئےہیں۔ یہاں تو بہ و معافی کاسوال ہی خارج از بحث ہےبعض افعال ایسی اجتماعی اہمیت کےحامل ہوتےہیں کہ تنبہ اور تو بہ کےباوجود ان کےاثرات مترتب ہو کر رہتےہیں اور خلافت و ملوکیت میں جو کچھ بحث ہےاسی نقطہ نظر سےورنہ تو بہ کاامکان تو ہر مسلمان کےلیےآخر وقت تک یقینا موجود ہےبلکہ شرک کےماسوا ہر مسلمان کاہر گناہ بلا تو بہ بھی معاف ہو سکتا ہےجیساکہ اللہ نےاپنی کتاب میں صراحت فرمادی ہےپھر عفود مغفرت کےاس اصولی امکان کےعلاوہ متعدد صحابہ کرام کی کچی تو بہ کا بیان بھی قرآن وحدیث میں موجود ہےاور ساتھ ہی ان غلطیوں کا بیان اور ان پر تبصرہ بھی موجود ہےجن پر تو بہ کی گئی تھی۔تو بہ کےبعد بھی ان واقعات کی نشان دہی اور ان پر تنقید کتاب وسنت میں اس وجہ سےضروری سمجھی گئی کہ دوسرےعبرت و نصیحت حاصل کریں اور بعد کےلوگوں نےبھی اسی غرض کےلیےانہیں بیان کیا۔ مثلاً پہلےدرج ہو چکا کہ ابن حجر نےجو کتاب خاص طور پر امیر معاویہ کےدفاع میں لکھی اس میں بھی الصحابة كلهم عدول سے آغاز کلام کرتےہوئےیزید کی ولی عہدی پر سخت تنقید کی اور یہاں تک لکھا کہ اگر چہ حضرت معاویہ کو اللہ اس پر معاف فرمادےگا مگر انہوں نےامت کو تباہی سےدو چار کردیا اور جو شخص اس معاملےمیں انکی پیروی کرےگا آگ میں جائےگا!حضرت معاویہ نےجو محاربہ ومقاتلہ حضرت علیؓ کےخلاف کیا ہےاس پر عفو و توبہ کاامکان،یا بر بنائےحُسنِ ظن اسکا وقوع تسلیم کر لینے کے باوجود یہ ایک تاریخی حقیقت ہےکہ حضرت علی کےمخالفین ومنازعین میں سےدوسرےافراد صحابہ کااپنے فعل پرندامت در جوع جس قطعیت کےساتھ ثابت ہےویساحضرت امیر معاویہ سےثابت ومذکور نہیں ہےحضرت عائشہ توجنگ جمل کو یاد کرکرکےاتنا رویا کرتی تھیں کہ آپکی اوڑھنی تر ہو جایا کرتی تھی۔یہی وجہ ہےکہ علمائے اہل سنت نےاس فرق کو واضح طور پربیان کیا ہےمثال کےطورپر علامه عبدالکریم شہرستانی”الملل و النحل" میں امام ابوالحسن اشعری کا قول یوں نقل فرماتے ہیں:
اب یہاں امام ابوالحسن جس طرح ایک فریق کے رجوع کا ذکر کر رہےہیں اور دوسرےکا نہیں کر رہےاس کا مطلب بجز اسکےاور کیا ہو سکتا ہےکہ امیر معاویہؓ اور حضرت عمرو بن العاص کا رجوع عن الخطا اس طرح ثابت نہیں ہے جس طرح عائشہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کا ثابت ہے۔
”حضرت عبداللہ بن عمر فرماتےہیں کہ میں حضرت حفصہ کےپاس گیا۔انہوں نےغسل کیا تھا اور پانی کے قطرے ان کے بالوں سے گر رہے تھے۔ میں نے حفصہ سے کہا کہ لوگوں کا حال آپ دیکھ رہی ہیں۔ میرا امارت وخلافت کے معاملہ میں کوئی دخل نہیں رہنےدیا گیا۔وہ بولیں،آپ جائیں تو سہی،لوگ آپ کےانتظار میں ہیں اور مجھےخطرہ ہے کہ آپ اگر وہاں نہ گئے تو تفرقہ پیدا ہو گا۔ حضرت حفصہ نے حضرت ابن عمرؓ کو اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ وہ بھی اجتماع میں چلےنہ گئے ۔ جب لوگ جدا جدا لکڑیوں میں بیٹھ گئےتو امیر معاویہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جوشخص بھی امارت یا ولی عہدی کے معاملے میں زبان کھولنا چاہتا ہے، وہ ذرا اپنا سینگ تو اونچا کر کے دکھائے ۔ ہم اس سے اور اس کے باپ سے بھی زیادہ امارت کے مستحق ہیں۔ حبیب بن محمہ نے جو ( جو حضرت ابن عمر سےیہ روداد سن رہےتھے ) پوچھا کہ آپ نےکوئی جواب امیر معاویہ کو نہ دیا ؟حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ میں نےاپنی چادر ڈھیلی کی تھی اور ارادہ کیا تھا کہ میں ان سےلہوں" تم سےزیادہ حقدار امارت کا وہ ہےجس نے تم سے اور تمہارے باپ ابوسفیان :: اسلام کی خاطر قتال کیا۔ پھر میں ڈر گیا کہ میری بات سے تو اور زیادہ تفریق پیدا ہوگی حتی کہ خونریزی تک نوبت جا پہنچےگی اور میری بات سے کوئی دوسرا ہی مطلب اخذ کیا جائے گا۔ پس میں نے جنت میں اپنے اجر کو یاد کیا ( اور خاموشی برتی )حبیب کہنےلگے کہ آپ نے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا، بچالیا۔“
اس روایت کو بعض محدثین نے واقعہ تحکیم اور بعض نےبیعت یزید سےمتعلق قرار دیا ہے۔بہر کیف دونوں میں سےجو صورت بھی ہو، اس حقیقت سےانکار نہیں ہےکہ امیر معاویہ ایک مجمع کو خطاب کر رہے تھے اور تہدید و تخویف کے انداز میں فرما رہے تھے کہ ہم خلافت کے زیادہ حقدار ہیں،ہمارے سامنے کون ہےجو سر اٹھائے ؟ اس پر حضرت ابن عمرؓ جواب دینے سےرک گئے اور یہ جانتےہوئے رک گئےکہ میرے جواب کو غلط معنی پر محمول کر کے مجھے بھی مدعی خلافت سمجھ لیا جائےگا اور.تلوار کشور اور خون خرابےتک معاملہ جا پہنچےگا۔ پھر اس کےبعد حبیب جو امیر معاویہ کےخاص رفقاء میں سےتھے اور سارے حالات سے پوری طرح باخبر تھے، ان کا حضرت ابن عمر سے کہنا کہ آپ تو بچ گئے اور محفوظ ہو گئے، ورنہ بات کرتے تو شامت بلاتے یہ پورا سلسلہ گفتگو آخر کسی سنگین صورتِ حالات پر دلالت کر رہا ہے۔
اس کےبعد بھی شاید مولانا عثمانی صاحب تو یہی کہیں گےکہ ”خوف وطمع کے ذرائع" استعمال کے دوران میں ایک واقعہ سے امیر معاویہ اور حضرت سعید بن عثمان کی گفتگو کا وہ حصہ تو نقل کر دیا تھا جس میں یزید کو ولی عہد بنانے کی شکایت تھی لیکن وہ حصہ حذف کر دیا تھا جس میں یہ مذکور تھا کہ اس شکایت کے جواب میں حضرت سعید کو خراسان کی گورنری دے دی گئی تھی۔
تخویف و تہدید کے علاوہ مولانا محمد تقی عثمانی کے خیال میں جو جرائم مولانا مودودی نے امیر معادیہ کے سر چیک دیئے ہیں وہ یہ ہیں کہ امیر معاویہ نے حجر بن عدی جیسے زاہد و عابد صحابی کو محض حق گوئی کی وجہ سے قتل کیا، مسلمان کو کافر کا وارث قرار دینے کی بدعت جاری کی، اور دیت کے احکام میں تبدیلی کر کےآدھی دیت خود لینی شروع کر دی۔ میری گزارش ہے حضرت حجر بن عدی کے قتل سے انکار تو عثمانی صاحب کو بھی نہیں ہے۔ باقی ہی یہ بات کہ قتل کی وجہ کیا نمی او قتل جائز تھا یا نہیں،تو اس پر جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کا کوئی اطمینان بخش جواب اب تک عثمانی صاحب یا کسی دوسرےصاحب نےنہیں دیا۔ اسی طرح کوئی اس سے بھی انکار نہیں کر سکتا کہ امیر معاویہ نے تو ریٹ مسلم من الکافر کا نیا قاعدہ جاری کیا اور غیر مسلم کی دیت کا آدھا حصہ وارثوں کو دینے کے بجائے خود لیا (یا بیت المال میں لیا)۔ اس چیز کو امت کے کسی مسلک میں قبول نہیں کیا گیا حتی کہ ان کے اپنے خاندان کے ایک فرد حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بھی اسے تبدیل کرنا ضروری سمجھا۔اس طریقےکا خلاف کتاب وسنت ہونا میں پوری طرح واضح کر چکا ہوں۔اس پر بدعت کا اطلاق بھی علمائے امت کر چکے ہیں۔
اسی طرح میں احادیث صحیحہ اور محدثین و مؤرخین کےمستند اقوال سے یہ ثابت کر چکا ہوں کہ امیر معاویہ اور ان کے گورنر حضرت علی اور اہل بیت پر سب وشتم کرتے تھے۔ لیکن میری کسی بات کو غلظ ثابت کیے بغیر پھر وہی بات دہرا دی گئی کہ مولانا مودودی نے جو الزامات امیر معاویہ کے سر تھوپے ہیں، ان میں یہ بھی ہے کہ انہوں نےحضرت علی پر خود سر منبر سب و شتم کرنےکی بدعت جاری کی۔ اس بحث میں عثمانی صاحب نے ابن حجر علی یہ قول بھی تطہیر الجحان سے نقل کیا ہے:
صحابہ کرام کےدرمیان جو واقعات ہوئےکسی کےلیےجائز نہیں ہےکہ انہیں ذکر کر کےان کے نقص پر استدلال کرے۔ یہ کام صرف اہل بدعت کا ہے اور بعض ان جاہل ناقلوں کا جو ہر اس چیز کو نقل کر دیتے ہیں جو انہوں نے کہیں دیکھ لی ہو اور اس سے اس کا ظاہر مفہوم ہی مراد لیتے ہیں ، نہاس روایت کی سند پر طعن کرتے ہیں، نہ اس کی تاویل کی طرف اشارہ کرتے ہیں، یہ بات سخت حرام دنا جائز ہے، کیونکہ اس سےفساد عظیم رونما ہوتا ہے اور یہ عام لوگوں کو صحابہ کے خلاف اکسانے کےمیترادف ہے،حالانکہ هم تک دین کےپہنچنے کا واسطہ یہی صحابہ نہیں جنہوں نے قرآن وسنت کو ہم تک نقل کیا ہے۔“
اب ملاحظه ہو یہی ابن حجر اپنی اسی کتاب" تطہیر الجنان واللسان عن الخطور والتفوه بثلب سيدنا معاویہ بن ابی سفیان میں صفحہ ٧٤ پر اسی سب و شتم کےمسئلےمیں کیا فرماتےہیں۔حضرت علی کےمتعلق وہ لکھتے ہیں :
لما وقع من الاختلاف والخروج عليه نشر من سمع من الصحابة تلك الفضائل وبثها نصحًا للأمة ايضاً ثم لما اشتد الخطب واشتغلت طائفة من بنى أمية بتنقيصه وسبّه على المنابر ووافقهم الخوارج لعنهم الله بل قالوا بكفره اشتغلت جهابذة الحفاظ من أهل السنة ببث فضائله حتى كثرت الأمة ونصرة للحق._١
” جب اختلاف رونما ہوا اور حضرت علی کےخلاف خروج کیا گیا تو حضرت علی کےفضائل جن صحابہ کرام نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سےسنےتھےانہوں نےامت کی خیر خواہی کےلیے ان فضائل کی نشر و اشاعت شروع کی۔ پھر جب حضرت علی کی مخالفت میں مہم زور پکڑ گئی اور بنوامیہ کےایک گروه نےمنبروں پران کی تنقیص اورسب و شتم کو اپنا مشغله بنالیا اور خوارج نےبھی ( اللہ ان پر لعنت کرے ) ان مخالفین کا ساتھ دیا بلکہ حضرت علیؓ کی تکفیر تک کر ڈالی،تو اہل سنت کےبڑے بڑےناقدینِ حدیث،جنہیں احادیث نبوی حفظ تھیں،انہوں نےحضرت علیؓ کے فضائل و مناقب میں مروی حدیثوں کو پھیلایا یہاں تک کہ امت میں ان کی کثیر تعداد کا چرچا ہو گیا اور نصرت حق کا تقاضا پورا ہو گیا۔“
اب مولانا تقی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ الزام زبر دستی گھڑ کر امیر معاویہ اور آپ کے گورنروں کے خلاف عائد کر دیا گیا ہےکہ وہ منبروں پر چڑھ کر حضرت علی پر سب و شتم کرتےتھےحالانکہ ابن حجر مکی جن کا قول عثمانی صاحب نے نقل کیا ہے، وہ خود اپنی اسی کتاب میں یہ بات ایک مسلمہ مصدقہ واقعہ کے طور پر بیان فرما رہے ہیں کہ حضرت علی کے عہد خلافت میں بنوامیہ اور خوارج ایک دوسرےکی همنوایی میں حضرت علیؓ کی تنقیص اور ان پر سب و شتم میں مشغول رہتے تھے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ انک پلیٹ فارم اور منبر امیر معاویہ اور آپ کے گورنروں ہی کے زیر تصرف تھے اور جس اختلاف،خروج اور حضرت علی کے خلاف شور وشغب اور ہنگامے کا یہاں ذکر ہے یہ حضرت علیؓ کے حینِ حیات اور آپ کی خلافت کے دوران ہی میں برپا کیا گیا تھا۔
خلافت و ملوکیت میں سب وشتم کے ثبوت میں جو روایات درج ہیں، ان میں سے ایک مروان کے متعلق ہے کہ وہ ہر جمعےکو حضرت علی پر لعن طعن کرتا تھا”البلاغ"میں اسکی تردید پر بھی بڑا از ورصرف کیا گیا ہےاور ایک ایک راوی کی خوب کھال ادھیڑی گئی ہے۔اگرچہ میں اس کا مفصل جواب پہلےدے چکا ہوں، تاہم میں انہی ابن حجر کی اسی کتاب تطهیر الجنان کی ایک روایت مزید نقل کرتا ہوں جو مروان ہی کے متعلق ہے۔ فرماتے ہیں:
١- تقریباً یہی بات حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری، کتاب المناقب میں فرمائی ہے جو میں سب علی کی بجھے سابق میں نقل کر چکا ہوں۔"
في رواية للبزار لقد لعن الله الحكم وما ولد على لسان نبيه صلى الـ عليه وسلم و بسند رجاله ثقاة ان مروان لما ولى المدينة كان يسب عليا على المنبر كل جمعة، ثم ولى بعده سعيد بن العاص فكان لا يسبه، ثم أعيد مروان فعاد للسب و كان الحسين يعلم ذلك فسكت ولا يدخل إلا بعد الاقامة. فلم يرض بذالک مروان حتى أرسل للحسن فى بيته بالسب البليغ لأبيه وله ومنه ما وجدت مثلك إلا مثل البغلة يقال لها من ابوک فتقول اُمّی الفرس، فقال للرسول ارجع إليه فقل له والله لا امحر عنک شیئاً مما قلت بانی اسبک،ولكن موعدى وموعدك الله. فان كنت كاذبًا فالله أشد نقمة. قد أكرم جدا ان يكون مثلي مثل البغلة. فخرج الرسول فلقی الحسین فاخبره بذلک السب. بعد مزيد تمنع وتهديد من الحسين ان لم يخبره، فقال بل ويتامل بابیک وقومک وایة ما بینی و بنک آن تمسک منک بیک من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلّم... وبسند حسن ان مروان قال لعبد الرحمن بن ابی بکر رضى الله عنهما انت الذى نزل فيك وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُقَ لَكُمَا .... فقال له عبدالرحمن كذبت ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلّم لعن اباک.
بزار کی روایت میں ہے کہ اللہ نے حکم ( والد مروان ) اور اس کے بیٹے پر لعنت کی لسان نبوی کے ذریعے سے۔ اور ثقہ راویوں کی سند کےساتھ مروی ہےکہ جب مروان کو مدینےکا گورنر بنایا گیا تو وہ منبر پر ہر جمعےمیں حضرت علی پرسب و شتم کرتا تھا۔پھر اس کےبعد حضرت سعید بن عاص گورنر بنےتو وہ سب علیؓ کاارتکاب نہیں کرتے تھےپھر مروان کو دوبارہ گورنر بنایا گیاتو اس نےپھر سب و شتم شروع کردی۔حضرت حسنؓ کو اسکا علم تھا مگر آپ خاموش رہتےاور مسجد نبوی میں مین اقامت کےوقت داخل ہوتے( تا کہ اپنے والد ماجد کی بدگوئی نہ سن سکیں)مگر مروان اس پر بھی راضی نہ ہوا یہاں تک کہ اس نےحضرت حسنؓ کےگھر میں اینچی کےذریعے انکو اور حضرت علیؓ کو گالیاں دلوا بھیجیں۔ان ہفوات میں سےایک یہ بات بھی تھی کہ" تیری مثال میرےنزدیک خچر کی کی ہے کہ جب اس سے پوچھا جائے کہ تیرا باپ کون ہے، تو وہ کہے کہ میری ماں گھوڑی ہے۔“حضرت حسن نے سن کر قاصد سےکہا کہ تو اس کے پاس جا اور اس سےکہہ دے کہ خدا کی قسم میں تجھے گالی دے کر تیرا گناہ ہلکا نہیں کرنا چاہتا۔ میری اور تیری ملاقات اللہ کے ہاں ہوگی۔ اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔ اللہ نے میرے نانا جان ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو جو شرف بخشا ہے وہ اس سے بلند و برتر ہے کہ میری مثال خچر کی سی ہو ۔ ایچی نکلا تو حسین سے اس کی ملاقات ہو گئی اور انہیں بھی اس نے گالیوں کے متعلق بتایا۔ حضرت حسین نے اسے پہلے تو دھمکی دی کہ خبر دار، جو تم نے میری بات بھی مروان تک نہ پہنچائی اور پھر فرمایا کہ اے مروان تو ذرا اپنے باپ اور اس کی قوم کی حیثیت پر بھی غور کر ۔ تیرا مجھ سے کیا سروکار، تو اپنے کندھوں پر اپنے اس لڑکے کو اٹھاتا ہےجس پر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور عمدہ سند کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ مروان نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ تو وہ ہے جس کے بارے میں، قرآن کی یہ آیت اتری ”جس نےکہا اپنے والدین سے کہ تم پر اف ہے"- - - - عبد الرحمن کہنے لگے تو نےجھوٹ کہا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے والد پر لعنت کی تھی ۔“
مروان کی بدزبانی کا یہ پورا واقعہ علاوہ دیگر مورخین کے امام جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں بھی نقل کیا ہے اور متعدد دوسرے علماء نے اس کو بیان کیا ہے۔
امیر معاویہ کےعہد میں حضرت علی واہل بیت نبی پر سب وشتم کا آغاز ایک مانی ہوئی تاریخی حقیقت ہے اور یہ امر بھی مسلم ہےکہ مروان نےاس کام میں نہایت نمایاں حصہ لیا ہےابن حجر کےعلاوہ متعدد دوسرےمؤرخین نےبھی اس بات کی صراحت کی ہےکہ حضرت سعید بن العاص جو مدینےکےگورنر تھے،انہیں معزول کر کے مروان کو یہ عہدہ اس لیے دیا گیا تھا کہ حضرت سعید سب وشتم میں حصہ لینے پر رضامند نہ تھے۔ ابن کثیر، البدایه جلد ۸ صفحه ۸۴ پر حضرت سعید کے متعلق لکھتےہیں:
یہ قول جہاں مردان کی بدگوئی واضح کرتا ہے،وہیں اس بات کو بھی ثابت کرتا ہے کہ جو گورنر سب و شتم نہیں کرتا تھا اس کی گورنری چھن کر ایسے شخص کے سپر د کر دی جاتی تھی جو اس فعل کو سر انجام دیتا تھا۔ پھر حضرت سعید کےبارے میں منفی طور پر یہ کہنا کہ کان لا يسب علیا،صاف طور پر یہ بھی نا رہا ہےکہ سب علی کا طریقہ عام تھا،ورنہ حضرت سعید بجن کا علم، تقومی،مدین اور جن کےمجاہدانہ کارنامےمعروف و مشہور ہیں اور جنہوں نےبنوامیہ کے ممتاز فرد اور حضرت عثمان کےربیب ہونےکےباوجود جنگِ جمل و صفین سےبالکل کنارہ کشی کی، ان کے بارے میں آخر یہ صراحت کیوں ضروری کبھی گئی کہ وہ حضرت علی پر سب وشتم نہیں کرتے تھے؟
مدیر "البلاغ" نےعلامہ ابن تیمیہ کا یہ قول بھی نقل کیا ہےکہ ”جن روایات سے صحابہ کرام کی برائیاں معلوم ہوتی ہیں، ان میں سےکچھ تو جھوٹ ہی جھوٹ ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ ان میں کمی بیشی کر دی گئی ہےاور ان کا اصلی مفہوم بدل دیا گیا ہےاسکےبعد عثمانی صائب پوچھتےہیں کہ جن تاریخی روایات کی بنیاد پر مولانا مودودی آج حضرت معاویہ کو حقیقی غلطی کا مجرم قرار دےرہےہیں کیا ابن تیمیہ اور دوسرے علماء ان تاریخی روایتوں سے بے خبر تھےیا اتنے کم فہم تھے کہ وہ اجتہادی غلطی اور حقیقی غلطی میں تمیز نہیں کر سکتے تھے؟ میں اس کے جواب میں امام ابن تیمیہ ہی کےچند اقوال پیش کرتا ہوں۔ منہاج السنہ، جلد ثانی صفر ی۲۱۴ پر آپ حضرت معاویہ کے متعلق فرماتے ہیں:
" امیر معاویہ اپنی حکومت میں اپنے طرز عمل کے اعتبار سے بہترین لوگوں میں سے تھےاور مخلص مسلمان تھے اور اگر آپ حضرت علیؓ سے محاربت نہ کرتے اور اپنے اقتدار میں ملوکیت کا طریقہ اختیار نہ کرتے تو کوئی شخص بھی ان کا ذکر اچھائی کے بغیر نہ کرتا جس طرح کہ آپ جیسےدوسرے صحابہ کرام کا ذکر خیر کیا جاتا ہے۔“
پھر اسی کتاب کے جزء ثالث صفحہ ۱۶۹ پر مصنف فرماتے ہیں:
آگے چوتھی جلد کے صفحہ ۷۹ اپر ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
" صحابہ کرام و تابعین میں سے کسی نے بھی امیر معاویہ پر تو نفاق کی تہمت نہیں لگائی لیکن ابوسفیان کے معاملے میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔“
اب ظاہر ہے کہ امام ابن تیمیہ نے جو رائے امیر معاویہ یا ان کے والد ماجد کے متعلق ظاہر کی ہے، وہ ایسی روایات پر تو مبنی نہ ہوگی جو جھوٹ ہی جھوٹ ہوں اور نہ ابن تیمیہ بقول عثمانی صاحب اتنے کم فہم ہو سکتےتھے کہ وہ اجتہادی غلطی کے لیے ذکر خیر کے فقدان، جاہلیت اور ملوکیت وغیرہ کےالفاظ استعمال کرنے ۔
ہمارے معترضین چونکہ بعض راویوں کو شیعہ یا مبتدع کہہ کر ان کی روایات کو فور ارڈ کر دیتےہیں،اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس مسئلے پر بھی مختصر بحث کر دوں کہ راوی حدیث کے کسی قول و فعل پر فسق و بدعت کا اطلاق اسکی مرویات میں کس حد تک قادح ہو سکتا ہےیہ ظاہر ہےکہ بالعموم سنت کے بالمقابل بدعت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہےاور جن فرقوں یا گروہوں کا مسلک بنیادی طور پر اہل سنت سے مختلف ہے،ان کو اہل بدعت و ہوئی کے نام سےموسوم کیا جاتا ہےصحابہ کرام کے دور سعادت کے بعد تابعین، تبع تابعین اور ائمہ محدثین کےہاں اس پر اکثر بخشیں ہوتی رہی ہیں کہ اہل سنت کےماسواء دوسرےگروہوں کےافراد سے اخذ حدیث جائز ہے یا نہیں۔ ان بحثوں کے مطالعے سے جو حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جمہور محدثین اس امر کےقائل نہیں ہیں کہ اہل بدعت کی روایت کردہ احادیث کو مطلقا رد کر دیا جائےاور ان کے کسی شخص کی کسی حدیث کو نہ لیا جائے۔امام ذہبی نےرجالِ حدیث کی جرح و تعدیل پر اپنی کتاب” میزان الاعتدال میں جابجا مولی بحث کی ہے۔ابان بن تغلب جو اہل تشیع میں سےنتیجےاور جنکی روایات صحیح مسلم میں موجود ہیں، ان کے حالات بیان کرتے ہوئے امام ذہبی فرماتے ہیں:
فان قيل كيف ساغ توثيق مبتدع وحد الثقة العدالة والاتقان، فكيف يكون عدلاً وهو صاحب بدعة؟ فجوابه ان البدعة على ضربين فبدعة صغرى لغلوا التشيع او التشيع بلا غلو ولا تحرق فهذا كثير فى التابعين وتابعيهم مع الدين ولورع والصدق فلو ذهب حديث هولاء لذهب جملة من الآثار النبوية وهذه مفسدة بينه ثم بدعة كبرى كالرفض الكامل والغلو فيه والحط على ابي بكر و عمر رضى الله عنهما والدعاء الى ذالك فهذا انوع لا يحتج بهم.
" اگر یہ کہا جائے کہ ایک مبتدع کی توثیق کیسےجائز ہو گی حالانکہ عدالت و اتقان کی شرط ثقاہت کےلیےلازم ہے، پھر ایک راوی جو صاحب بدعت ہے، وہ عادل کیسے ہو گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بدعت دو قسم کی ہے۔ ایک تو بدعت صغریٰ ہےمثلا تشیع میں غلو کرنا یا شیعہ ہونا گر غالی اور کٹر شیعی نہ ہونا تو یہ چیز تابعین اور تبع تابعین کی کثیر تعداد میں تھی باوجود اسکےکہ ان میں دین،تقویٰ اور سچائی بھی موجود تھی۔ پس اگر ان کی روایت کرده احادیث ترک کر دی جائیں تو احادیث نبویہ کا بہت بڑا حصہ ضائع ہو جائے گا اور یہ ایک واضح مفسدہ ہوگا۔ دوسری بدعت کبری ہے جس کی مثال کام رفض اور اس میں غلو ہے جس کے حامل حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہا کی تنقیص کرتےہیں اور دوسروں کو اس کی دعوت دیتےہیں،اس قسم کےلوگوں کی روایات قابل حجت نہیں۔“
اس سے معلوم ہوا کہ تابعین اور تبع تابعین میں بکثرت حضرات ایسے تھے جن میں اس حد تک تشریح موجود تھا جس پر بدعت صغریٰ کا اطلاق کیا گیا ہے، اس کے باوجود چونکہ وہ صادق القول تھے اور شیخین کی توہین نہیں کرتےتھے،اس لیےان کی حدیث کو ترک نہیں کیا گیا،نہ ان کی عدالت و ثقاہت میں شک کیا گیا۔بلکہ محدثین کا ارشاد یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کی روایت کردہ احادیث قبول نہ کی جائیں تو حدیث کا بڑا ذخیرہ ایسا ہو گا جس سے ہاتھ دھونے پڑیں گے اور یہ بہت بڑی قباحت ہوگی۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی تصنیف زنبته النظر شرح نخبۃ الفکر میں جہاں راوی کے اسباب طعن پر بحث کی ہے ، وہاں بدعت پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
البدعة اما ان تـكـون بـمكفّر كان يعتقد ما يستلزم الكفر او بمفسق .. والتحقيق انه لا يردّ كل مكفّر ببدعة لان كل طائفة تدعي ان مخالفيها مبتدعة وقد تبالغ فتكفر مخالفيها فلو أخذ ذلك على الإطلاق لا يستلزم تكفير جميع الطوائف. فالمعتمد ان الذى ترد روايته من أنكر متواترا من الشرع معلومًا من الدين بالضرورة.
"بدعت کی ایک قسم کا اطلاق ایسے قول و فعل پر ہوتا ہے جس کا مرتکب یا معتقد کفر کی حد تک جاپہنچتا ہے یا پھر فسق میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں تحقیقی موقف یہ ہے کہ ہر صاحب بدعت کی روایت کو رد نہیں کیا جائے گا گو کہ اس کی تکفیر ہی کی جارہی ہو، کیونکہ ہر گروہ کا دعویٰ یہ ہے کہ اس کےمخالفین مبتدع ہیں اور ہر گروہ مبالغے سے کام لے کر اپنے مخالفین کی تکفیر کو ڈالتا ہے، تو اگر ہر ایک کا قول على الاطلاق مانا جائے تو ہر گروہ کی تکفیر لازم آئے گی ۔ پس جو قول قابل اعتماد ہے وہ یہ ہےکہ روایت صرف اس کی رڈ کی جائے گی جو کسی ایسے امر شرعی کا منکر ہو، جو تواتر سے ثابت ہو یا ضروریات دین میں اس کا ہونا معلوم ہو۔“
حافظ ابن حجر کی تحقیق سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی راوی کو اس کے ناقدین خواہ بدعت فسق،حتی کہ کفر کا مرتکب کیوں نہ قرار دے دیں جب تک وہ متواترات وضروریات دین میں سے کسی امر کا انکار نہ کرے، اس کی حدیث کو علی الاطلاق رو نہیں کیا جاسکتا۔
اہل بدعت کا اطلاق شیعوں کے علاوہ نواصب وخوارج اور قدریہ وغیرہ پر بھی کیا جاتا ہے۔اب ناصبیوں کا حال یہ ہے کہ وہ حضرتعلی اور اہل بیت کے خلاف ایک میل اور عناد اپنے دل میں رکھتے ہیں اور خوارج کا مسلک یہ تھا کہ وہ ہر مرتکب کبیرہ کو کافر و مرتد قرار دےکر اس کی جان و مال کو بالکل حلال سمجھتےتھے۔یہ لوگ حضرت ابوبکر و عمر کو چھوڑ کر حضرت معاویہ حضرت علی اور بہت سےصحابہ کرام تک کی تکفیر کرتےتھے،بلکہ بعض صحابہ ان ظالموں کےہاتھوں محض اس بنا پر شہید ہوئےکہ وہ ان کے گمراہا نہ عقائد و اعمال میں انکی ہمنوائی پر تیار نہ تھےاسکےباوجود ان گروہوں سےحدیث اخذ کی گئی ہےبلکہ خوارج کی مرویات کو تو اس لیےقابل اعتماد سمجھا گیا کہ جب وہ جھوٹ بولنےکو موجب تکفیر سمجھتے ہیں اور جھوٹے کو واجب القتل سمجھتےہیں تو وہ جھوٹی حدیث گھڑنے یا بیان کرنے کی جرات کیسے کریں گے؟ امام ابو داؤد کا یہ قول بہت مشہور ہے کہ:
الکفایہ میں اس موضوع پر ایک مستقل باب موجود ہے، جس کا عنوان ہے:
اس باب میں امام شافعی کا قول منقول ہے:
ابن ابی لیلی ، سفیان ثوری اور قاضی ابو یوسف کا مسلک بھی یہی بیان کیا گیا ہے۔ اس مسئلےپر مفصل بحث کے بعد الخطیب نے آخر میں اپنی رائے درج کی ہے جو درج ذیل ہے:
والذي يعتمد عليه في تجويز الاحتجاج بأخبارهم اشتهر من قبول الصحابة اخبار الخوارج وشهاداتهم ومن جرى مجراهم من الفساق بالتأويل.ثم استمرار عمل التابعين و الخالفين بعدهم على ذلك لما راؤا من تحريهم الصدق وتـعـظـيـمهـم والكذب واحفظهم أنفسهم عن المحظورات من الأفعال وإنكارهم على أهل الريب والطرائق المذمومة وروايتهم الأحاديث التي تخالف آراءهم ويتعلق بها مخالفيهم في الاحتجاج عليهم. واحتجوا برواية عمران بن حطان وهو من الخوارج، وعمرو بن دينار وكان ممن يذهب الى القدر والتشيع وكان عكرمة اباضيًا و ابن ابی نجیع وكان معتزليا وعبد الوارث بن سعيد و شبل بن عباد وسيف بن سليمان وهشام الدستوائي وسعيد بن ابی عروبة وسلا من مسكين وكانوا قدرية وعلقمة بن مرثد وعمرو بن مرة ومسعر بن كدام و كانوا مرجئة وعبيد الله بن موسى و خالد بن مخلد وعبدالرزاق ابن همام و كانوا يذهبون الى التشيع في خلق كثير يتسع ذكرهم . دوّن اهل العلم قديمًا وحديثًا رواياتهم واحتجوا باخبارهم فصار ذلك كالجمان منهم وهو أكبر الحجج فى هذا الباب وبه يقوى الظن في مقاربة الصواب.
١- امام شافعی کا یہ قول امام نووی نے شرح مسلم کے دیباچے میں بھی نقل کیا ہے۔
" اہل بدعت و ہوئی کی مرویات کے قابل حجت ہونے کے معاملے میں قابل اعتماد مسلک یہی ہے کہ خود صحابہ کرام نے خوارج کی روایات و شهادات کو قبول کیا ہےاور ان جیسےلوگوں کی احادیث کو بھی لیا ہےجنہوں نےکسی تاویل کی بنا پر ارتکاب فسبق کیا ہے۔ اس کے بعد تابعین اور تبع تابیین کا استمراری عمل بھی یہی رہا ہےاس کی وجہ یہ ہےکہ صحابہ کرام و تابعین نےدیکھا کہ یہ خوارج اور اہل فسق روایت حدیث میں اتباع صدق کرتے تھے، کذب بیانی کو بڑا گناہ سمجھتے تھے ،ممنوعات سے بچتے تھے ، عادات مذمومہ اور اہل ریب کو برا سمجھتے تھے اور ایسی احادیث بھی بیان کر دیتے تھے جو ان کی آراء کے خلاف پڑتی تھیں اور جن کی بنا پر ان کے مخالفین ان پر حجت قائم کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے عمران بن حطان سےحدیث کی ہےحالانکہ وہ خارجی تھا، عمرو بن دینار سےبھی بی ہے حالانکہ وہ قدریہ اور اہل تشیع کی طرف مائل تھا۔اسی طرح عکرمہ اباضیہ_١ میں سے تھا اور ابن بیج معتز لی تھا۔ عبدالوارث بن سعید، شبل بن عباد، سیف بن سلمان، هشام دستوانی ، سعید بن ابی عروبه سلام بن مسکین سب قدریہ میں سے تھے اور ان کی احادیث قبول کی گئی ہیں۔ علقمہ بن مرثد اور عمرو بن مرہ مسعر بن کدام مرجیہ تھے، عبید اللہ بن موسیٰ، خالد بن مخلد ،عبدالرزاق بن ہمام اہل تشیع میں سے تھے۔ اسی طرح کے اور بہت سے لوگ تھے جن کا ذکر باعث طوالت ہے۔اہل علم نے ہر زمانےمیں ان لوگوں کی روایات کو مدون کیا ہے اور ان سے حجت و استدلال کیا ہے اور اس پر ایک طرح کا اجماع ہو گیا ہے جو اس مسئلے میں سب سے بڑی دلیل ہے اور اس مسلک کے اقرب الی الصواب ہونے کی تقویت پہنچائی ہے۔“ (الکفایہ صفحہ ۱۲۵)
جن حضرات نےکتب رجال سےمراجعت محض ” خلافت و ملوکیت" کےشوق مخالفت میں نہیں کی اور جن کی نگاہ محض واقدی و ابو مخنف کےتراجم ہی تلاش نہیں کرتی رہی، بلکہ جنہوں نےفن حدیث ورواۃ حدیث کا کچھ مزید مطالعہ بھی کیا ہےوہ اس سےبےخبری نہیں ہو سکتے کہ عمران بن حطان جن کا ذکر او پر ہوا، یہ وہ صاحب ہیں جنہوں نے ابن نجم قاتل علی کی شان میں ایک با قاعدہ قصیدہ لکھا تھا۔ ہشام الدستوائی قدریہ فرقے سے تعلق رکھتا تھا اور صحاح ستہ کی ہر کتاب میں اس کی احادث مروی ہیں۔ قدریہ کا عقیدہ ہے کہ ہر انسان اپنے ارادہ و عمل میں غیر محدود آزادی و قدرت رکھتا ہے۔ اگر کوئی شخص فقط امام سیوطی کی تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی“ پڑھ لے تو اسےمعلوم ہو جائے گا کہ صحیحین کے راویوں میں خارجی شیعی،ناصبی، مرجنی ، قدری خاصی تعداد میں موجود ہیں۔
١- یہ خوارج کے ایک اعتدال پسند گروہ کا نام ہے۔
٢- عمران بن حطان (ف۸۹ ھ ) کا شمار خوارج کے شیوخ دائمتہ میں کیا جاتا ہے۔ اس نے حضرت عائشہ اور حضرت ابو موسیٰ " وغیرہ سےاحادیث روایت کی ہیں جو بخاری، ابوداؤد اور نسائی میں مروی ہیں۔ عمران نے عبد الرحمن بن ملجم قاتل علی کی مدح میں جو قصیدہ لکھا ہے،
(اس کے تین اشعار یہ ہیں: (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں)
اس میں شک نہیں کہ محدثین نے بالعموم یہ پابندی لگائی ہے کہ اہل بدعت میں سے جو اپنےنظریات کا دائی نہ ہو، اس سےروایت لی جائےلیکن یہ ایک حقیقت ہےکہ داعیہ اور غیر داعیه کی تفریق ایک اضافی شےہے اور ایسے شخص کا تصور عقلاً محال ہےجو اپنےعقیدہ و مسلک کی کسی درجےمیں تبلیغ نہ کرتا ہو ۔ اگر ایسا ہوتا تو ان راویوں کے بارے میں سرے سےیہ بات مذکور و معلوم ہی کیسےہوتی کہ وہ مبتدعانہ عقائد کے حامل تھے۔ چنانچہ ان میں سےمتعدد، مثلاً یہی عمران اپنی خارجیت کا داعی تھا اور اس کاقصیدہ بھی اس کی دعوت ہی کا مظہر تھا۔ مدیر ” البلاغ “ جو عدالت اور بدعت وفستق کے مابین کلی منافات ثابت کرنا چاہتے ہیں، معلوم نہیں اس سوال کا کیا جواب دیں گے کہ ایسےرادیوں کی روایات کتب صحاح میں کیسے راہ پائیں؟ مگر میرے نزدیک اس کا جواب بالکل سیدھا اور واضح ہے جسے پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔ جواب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے غلط رجحانات ومیلانات کےباوجود صادق الحدیث تھے، ان کی عام روش تقوی تدین اور ثقاہت و دیانت پر مبنی تھی۔ اس لیے انکی روایات کو بلا تامل قبول کیا گیا۔محدثین رحمہم اللہ نےجتنی محنت،جزری و دیدہ ریزی کےساتھ ان لوگوں کے حالات کی چھان بین کی ہے صفحہ ہستی پر کسی ایک انسانی گروہ نے کسی دوسرے گروہ کےحالات کو اس تشخص و تفتیش کےساتھ نہیں جانچا۔ جہاں انہیں ذرہ برابر بھی شبہ ہوا کہ راوی کےنظریات و عملیات اس کی روایت فی الحدیث کو متاثر کر سکتےہیں،اس کو ترک کر دیا گیا۔ لیکن اس کےساتھ ہی دوسری طرف جب یقین یا ظن غالب حاصل ہو گیا کہ راوی کا ذب یا متساہل نہیں تو بغیر کسی دغدغے کے اس کی روایت کو قبول کیا گیا۔ چنانچہ رجال کی کتابوں میں بے شمار راوی ہیں جن کےساتھ درج ہے- ثقة_١ وكان مرجيا. صدوق الا انه يرى الارجاء. لم يتهمه احدو كان ينسب الى الخوارج والقول بالقدر احتج به الجماعة وكان يجالس قوما ينالون من على ثقة الا انه يتشيع. امام مالك اسماعیل بن ابان کے بارے میں فرماتے ہیں:
(بقیه حواشی گذشته صفحه )
متقی ( ابن ملجم ) کی قاتلانه ضرب کے کیا کہنے ؟ اس حملے کا مقصود صرف عرش کے مالک کی رضا مندی حاصل کرتا تھا ۔
میں جس دن بھی قاتل علی کو یاد کرتا ہوں تو میں اسے عبداللہ ساری دنیات بھر پورا جر کا حقدار کجھتا ہوں۔“
یہ میری خوارج کی قوم کتنی معزز ہےکہ پرندوں کےپیٹ ان کی قبریں بنتی ہیں (یعنی لڑائیوں میں کام آتےہیں اور جنگلی پرندے ان کی بوٹیاں نوچتے ہیں ) اور ان لوگوں نے اپنے دین میں بھی وعدوان کی آمیزش نہیں ہونے دی۔“
یہ اشعار البدایہ مقتل علی ، الکامل للمبرد و غیر میں منقول ہیں۔
امام بخاری نے مروان کی حدیث نقل کی ہے اور ساتھ عروہ بن زبیر کا قول درج کیا ہے:
ان مروان كان لا يتهم في الحديث.
" مروان روایت حدیث کے معاملے میں مور د تهمت نہیں ہے۔“
میں نے اپنی بحث میں پوری طرح واضح کر دیا تھا کہ امیر معاویہ یا کسی دوسرے صحابی کی کوئی خطا خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہو اگر وہ صحت نقل کے ساتھ ثابت ہو،تو اس کے بیان سے عدالت صحابہ کا اصول ہرگز مجروح نہیں ہوتا، کیونکہ عدالت صحابہ کا صحیح مفہوم جیسا کہ مولانا مودودی نےبھی بیان کر دیا ہے، یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے یا آنحضور کی طرف کوئی قول وفعل منسوب کرنے میں کسی صحابی نےکبھی راستی سے ہر گز تجاوز نہیں کیا ہے۔صحابہ کرام کے عدول ہونےکا مطلب یہ نہیں ہےکہ تمام صحابہ بےخطا تھےاور ان میں کا ہر فرد ہر قسم کی بشری کمزوریوں سےبالا تر تھا اور کس نےبھی کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ میں نے اس کے ساتھ اس امر کی بھی وضاحت کر دی تھی کہ صحابہ کرام کی عدالت کا تعلق روایت حدیث سے ہے اور راوی حدیث کے ثقہ و عادل ہونے کا مفہوم بھی محدثین کے نزدیک یہ ہے کہ اس کی زندگی بحیثیت مجموعی اور غالب احوال کےلحاظ سےخیر وصلاح پر بنی ہو اور اس سےکذب فی الحدیث کا خدشہ نہ ہو،گو اس کے عقیدہ و عمل میں فسق یا بدعت کا کوئی پہلو ہی کیوں نہ موجود ہو۔ میں نے اپنی ہر بات کی تائید میں متعدد اقوال بھی نقل کر دیئے تھے۔لیکن عثمانی صاحب نے حسب عادت میری گزارشات کو پس پشت ڈالتےہوئےپھر اپنی ہی باتوں کو دہرا دیا ہے۔ انہوں نے عدالت صحابہ کے پھر وہی تین من گھڑت مفہوم بیان کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ مولانا مودودی ان میں سےکون سا مفہوم درست سمجھتےہیں؟یہ ایک طالب علم اور طالب حق کا نہیں بلکہ تفتیش جرائم کے کسی انسپکٹر یا داروغہ کا سا طریقہ ہے کہ وہ تین الزامات یا مزعومات اپنی طرف سے وضع کرے اور پھر ملزم سےپوچھے کہ تم ان میں کس کے قائل یا فاعل ہو ۔ مولانا مودودی نےجب عدالت صحابہ کے متعلق اپنا موقف صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے اور میں نے دلائل وشواہد سے اس کی تائید و تشریح بھی کر دی ہے تو ہم پر صرف اپنے قول کی ذمہ داری ہے نہ کہ دوسروں کےان اقوال کی جو ہماری طرف منسوب کر دیے جائیں۔ مولانا مودودی نے صرف مثبت طور عدالت صحابہ کی صحیح تعریف ہی بیان نہیں کی بلکہ جو تعریف ان کے نزدیک صحیح نہیں ، اسے بھی واضح کر دیا ہے۔ ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں:
١- ثقہ تھا حالانکہ مرجبی تھا، راستباز تھا مگر ارجاء کا قاتل تھا (ارجاء کی ایک قسم یہ ہے کہ اقرار ایمان کے بعد کافرانہ اعمال و کبائر ضرررساں نہیں ہوتے ) ۔ اُسے کسی نے متهم نہیں کیا حالانکہ وہ خارجیت و قدریت سے نسبت رکھتا تھا۔محدثین کے ایک گروہ نے اس کی احادیث سےاستناد کیا ہے حالانکہ وہ ناصبیوں سے مصاحبت رکھتا تھا۔ ثقہ تھا مگر شیعہ تھا۔
"صحابہ کی عدالت کو اگر اس معنی میں لیا جائےکہ تمام صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےپورے وفادار تھے اور ان سب کو یہ احساس تھا کہ حضور کی سنت و هدایت امت تک پہنچانے کی بھاری ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے، اس لیے ان میں سے کسی نے کبھی کوئی بات حضور کی طرف غلط طور پر منسوب نہیں کی ہے تو الصحابة كلهم عدول کی یہ تعبیر بلا استثناء تمام صحابہ پر راست آئے گی۔ لیکن اگر اس کی یہ تعبیر کی جائے کہ بلا استثناء تمام صحابہ اپنی زندگی کے تمام معاملات میں صفت عدالت سےکلی طور پر متصف تھے، اور ان میں سے کسی سے کبھی کوئی کام عدالت کے منافی صادر نہیں ہوا، تو یہ ان سب پر راست نہیں آسکتی۔ بلاشبہ ان کی بہت بڑی اکثریت عدالت کےاونچے مقام پر فائز تھی مگر اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان میں ایک بہت قلیل تعداد ایسی بھی تھی جن سے بعض کام عدالت کے منافی صادر ہوئے ہیں۔ اس لیے الصحابة كلهم عدول کی دوسری تعبیر بطور کلیہ بیان نہیں کی جاسکتی۔ مگر اس کے کلیہ نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حدیث کے روایت کے معاملے میں ان میں سے کوئی بھی نا قابل اعتماد ہو، کیونکہ اس قول کی پہلی تعبیر بلاشبہ کلیہ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے خلاف کبھی کوئی چیز نہیں پائی گئی" ۔(خلافت ملوکیت صحی۳۰۳-۳۰۴۰)
اب جو شخص سیدھی بات میں سےٹیڑھ نکالنےکا شوق فضول نہ رکھتا ہو، اسکےلیےاس تصریح کےبعد اعتراض کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے؟جو کچھ مولانا مودودی نے کہا ہےاس کی تائید مزید کی خاطر میں مولانا مناظر احسن صاحب کی ایک عبارت پیش کرتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں:
"صحابہ کرام کی یہی جماعت جس میں ہر قسم کے لوگ تھے یعنی اعلیٰ ، اوسط ، ادنی مدارج میں ان کو بھی تقسیم کیا جا سکتا ہےجیسےہر جماعت کےافراد میں یہ تقسیم جاری ہوتی ہےتاہم یہ مسلم تھا کہ پیغمبر کے سوا کوئی بشر چونکہ معصوم پیدا نہیں کیا جاتا ،اس لیےنہ اس زمانے میں، نہ اس کے بعد اس وقت تک کسی طبقہ کےصحابیوں کو معصوم قرار دینےکا عقیدہ کبھی مسلمانوں میں پیدا ہوا،اور غیر معصوم ہونےکی وجہ سے جس قسم کی بھی کمزوریاں اس جماعت کےبعض افراد سےسرزد ہوئی ہیں بغیر کسی جھجک کےمسلمان ہمیشہ ان کا تذکرہ زبانی بھی اور کتابوں میں بھی کرتےچلےآئےہیں۔آخر خود سوچیےحضرت ماعزاسلمی یا نعمان_١ بن عمر و انصاری یا مغیره بن شعبه یا وحشی_٢ یا عمرو بن عاص یا خود امیر معاویہ وغیر ہم حضرات(رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کی طرف حدیث و سیر، تاریخ وغیرہ کی کتابوں میں کون کون سی باتیں نہیں منسوب کی گئی ہیں اور یہ تسلیم کر کے منسوب کی گئی ہیں کہ واقعی ان لغزشوں میں وہ مبتلا ہوئے تھے۔ جرائم جنہیں ہم کبائر کہہ سکتے ہیں، یہ واقعہ ہے، ان کی شاید ہی کوئی قسم ہوگی جو اس فہرست میں نظر نہ آتی ہو۔ مگر حیرت ہوتی ہے کہ ان ہی صحابیوں کی طرف جہاں تک میرے معلومات ہیں۔ اس جرم کے انتساب کی جرات کسی زمانہ میں نہیں کی گئی کہ جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف کسی صحابی نےکوئی غلط بات منسوب کر دی ہو ۔“
( تدوین حدیث مولانا سید مناظر احسن گیلانی ، صفحه ۴۳۵ تل ۴۳۷، ۱۳۷۵ه )
یہ امر بھی قابل وضاحت ہے کہ مولانا گیلانی مرحوم ایک نامورد یو بندی عالم ہیں اور ان کی یہ کتاب ادارہ مجلس علمی کراچی نے شائع کی ہے۔ یہ مجلس دیو بند کے چیدہ علماء و فضلاء پر مشتمل ہےجو ڈابھیل ،مصر اور کراچی سے بڑی اہم تالیفات کی اشاعت کا اہتمام کر چکی ہے۔ اب ایک طرف یہ حضرات خود ایسی کتابیں چھاپتے ہیں اور پھیلاتے ہیں جن میں یہ سب باتیں درج ہیں اور جولوگ چھاپنے میں شریک نہیں وہ کم از کم ان سےغض بصر سے کام لیتےہیں اور دوسری طرف وہ ہماری بات پر نکتہ آفرینیاں اور گمراہ فیلسوفیاں سامنے لاتے ہیں اور کہتےہیں کہ تمہاری تعریف عدالت سےفلاں اور فلاں بات صاف نہیں ہوتی اورتم اگر ہماری تین تعریفات عدالت کو درست نہیں سمجھتےتو کوئی چوتھی تعریف پیش کرو جو ہمارے لیے قابل قبول ہو ورنہ تمہاری بات نا قابل بیان حد تک خطرناک ہےاس سازی صورت حال کو دیکھتےہوئےیہ مشکل سےباور کیا جا سکتا ہےکہ ہمارے خلاف یہ مجادلہ خالص خدا ترسی اور بے لوثی کے جذبے سےہو رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عدالت صحابہ اور عدالت رواۃ حدیث کی جو تعریف مولانا مودودی اور میں نےپیش کی ہےوہ نہایت جامع و مانع تعریف ہےاس میں کوئی الجھن نہیں اور اس سے ہر بات صاف ہو جاتی ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ ایک مانی ہوئی تعریف سے جس کےحق میں بکثرت اقوال پیش کیے جاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا عبدالسلام ندوی اپنی کتاب اسوہ صحابہ کے صفحہ ۲۰ پر فرماتے ہیں:
١- صحابی تھے جن پر کئی مرتبہ شراب نوشی کی حد جاری ہوئی۔
٢- اس پر بھی شرب امر کی سد جاری کی گئی ۔
"یہ کسی محدث کا دعوی نہیں کہ صحابہ کوئی کام انصاف کے خلاف نہیں کر سکتے ، ان سے کوئی فعل تقویٰ وطہارت کے خلاف صادر نہیں ہوسکتا ، وہ انبیاء کی طرح معصوم ہیں یا وہ تمام گناہوں سے محفوظ ہیں۔ بلکہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ کوئی صحابی روایت کرنے میں دروغ بیانی سے کام نہیں لیتا۔“
محدثین متقدمین کی متعدد آراء راویان حدیث کی عدالت کے متعلق میں پہلے نقل کر چکا ہوں۔ اس پر ایک کا اضافہ اور کیےدیتا ہوں۔امام ابو حاتم محمد بن حبان اپنی صحیح (ابن حبان ) میں عدالت کی تعریف یوں فرماتے ہیں:
العدالة فى الإنسان هو ان يكون أكثر أحواله طاعة الله. لانا متى لم نجعل العدل الا من لم يوجد فيه معصية بحال ادانا ذلك الى ان ليس في الدنيا عدل، اذا الناس لا تخلو أحوالهم من ورود خلل الشيطان فيها. بل العدل من كان ظاهر أحواله طاعة الله والذى يخالف العدل من كان أكثر أحواله معصية الله.
”انسان میں صفت عدالت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اکثر احوال اطاعت الہی پر مبنی ہوں ۔ یہ اس لیے کہ اگر ہم عادل ودر استباز صرف اس کو قرار دیں جس سے کسی حالت میں صدور معصیت نہ ہو تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا میں کوئی عادل ہی نہیں کیونکہ انسانوں کے حالات شیطان کے دراندازی سے خالی نہیں ہوتے ۔ بلکہ عادل وہ شخص ہے جس کے ظاہر حالات میں بندگی رب موجود ہو اور غیر عادل وہ ہے جس کے اکثر احوال زندگی اللہ کی نافرمانی میں بسر ہوں۔“
(صحیح ابن جنان تحقیق احمد محمد شاکر، دارالمعارف مصر ص ۱۳۷۲۱۱۲ )
یہ عدالت کی ایک اصولی تعریف ہےجو ہر راوی حدیث پر حاوی ہےخواہ وہ صحابی ہو یا غیر صحابی ۔میں پوچھتا ہوں کہ امیر معاویہ، کسی دوسرےصحابی،یا کسی دوسرےراوی کی دس یا پندرہ خطاؤں یا گناہوں کی بنا پر کیا یہ لازم آ سکتا ہے کہ ان کے اکثر احوال میں معصیت پائی جائے یا ہم نے کیا ایسی کوئی بات کہی ہے کہ ہماری یا دوسروں کی بیان کردہ خطاؤں کی بنا پر فلاں صحابی رسول (معاذ اللہ )غیر عادل ہو گئےہیں اور ان کی زندگی پر معصیت کا غلبہ وگیا ہے۔اگر ان میں سےکوئی بات بھی واقعی اور صحیح نہیں اور یقینا نہیں ہےتو پھر یہ ہنگامہ آرائی خامہ فرسائی آخر کس بات پر ہے؟
جناب عثمانی صاحب نےاپنی دونوں مرتبہ کی بحث میں پالیسی کےلفظ کو بھی بار بار گھنےگھسانے کی کوشش کی ہےدراصل مولانا مودودی نےدور بنی امیہ پر بحث کرتےہوئےلکھا تھا کہ اس دور میں فلاں فلاں پالیسی اختیار کی گئی اور ان میں سے بعض کا آغاز امیر معاویہ کے عہد سےہوا۔ یہ لفظ چونکہ انگریزی کا ہے اس لیے ہمارا ند ہی طبقہ جو انگریزی الفاظ سے زیادہ مانوس نہیں ہے،ان کے لیے یہ لفظ خواہ مخواہ بدنما اور وحشتناک دکھائی دے گا۔ لیکن یہ لفظ اس طرز عمل یا طریقہ وضابطہ کے مترادف ہےجو کسی خاص معاملے میں اختیار کیا جائے۔ اگر مولانا مودودی نے یہ لفظ استعمال کیا ہے کہ بنوامیہ یا امیر معاویہ اور ان کے عتمال نے یہ پالیسی اختیار کی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ساری زندگی دن رات بس یہی کام کرتے رہتے تھے بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ فلاں مسئلےمیں انہوں نےیہ قاعدہ یا ضابطہ اختیار کیا،مثلاً منبروں پر لعن طعن کیا یا مسلمان کو کافر کا وارث بنایا یا زیاد کو ابوسفیان کا بیٹا قرار دیا۔لیکن عثمانی صاحب کی دہاند لی ملاحظہ ہو کہ وہ اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ امیر معاویہ نے گناہوں کو اپنی پالیسی بنالیا تھا جس سے امیر معاویہؓ کا فاسق ہونا لازم آتا ہے، اس لیےتم یا تو یہ کہو کہ حضرت معاویہ فاسق تھےیا یہ مانو کہ جو الزام مولانا مودودی نےان پر لگائےہیں وہ درست نہیں۔یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ الٹی میٹم صرف ہمارےحصےمیں آتا ہےیا ان تمام بزرگوں کو بھی اس کا کچھ حصہ رسدی پہنچتا ہے جو سلف سے خلف تک وہی باتیں کہتے اور پھیلاتےچلےآئےہیں اور ان میں عثمانی صاحب کے اکا بر واقارب بھی شامل ہیں؟
پھر یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بعض اوقات ایک آدھ واقعہ سےایک اصولی نتیجه اخذ کر کے اس دور کے متعلق ایک عموی بات کہہ دی جاتی ہے اور یہ کوئی نرالا جرم نہیں ہے جس کا ارتکاب تنها مولانا مودودی ہی نے کیا ہو۔میں پہلےبیان کر چکا کہ صرف یزید کو ولی عہد بنا دینے پر ابن حجر مکی نے امیر معاویہ کے متعلق یہ لکھ دیا کہ طریق ہدی ان کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اسی ولی عہدی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ خلافت کا سلسلہ جب امیر معاویہ پر پہنچتا ہے تو خلافت راشدہ کا رنگ نہیں رہتا، ملوکیت کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اب اعتراض کرنے کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ بیٹے کو اپنا جانشین نامزد کرنا بس ایک انفرادی واقعہ ہے جو زندگی بھر میں ایک ہی مرتبہ پیش آیا۔ یہ کوئی مستقل پالیسی تو نہ تھی۔ پھر امیر معاویہ پر محض اس ایک واقعہ کو بنیاد بنا کر ایسا سنگین الزام کیسے عائد ہو سکتا ہے کہ وہ طریق ہدایت کھو بیٹھے اور ان کی حکومت، ملوکیت کے رنگ سے رنگین ہو گئی۔ مولا نا محمد انور شاہ صاحب کشمیری کے تلمیذ رشید مولانا سید احمد رضا صاحب بجنوری اپنے فاضل مرحوم استاذ کے افادات صحیح البخاری کے ایک مقام پر جنگ صفین کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے تمام دورِ خلافت میں منہاج نبوت پر قائم رہے۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دوسرے طریقےاستعمال کیے،زمانہ اور زمانے کےلوگوں کےحالات تیزی کے ساتھ خرابی کی طرف بڑھ رہے تھے، اس لیے خلافت علی منہاج النبوت سے زیادہ کامیابی دنیوی سیاست کے لیے مقدر ہو چکی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آخر عمر تک دین اور دینی سیاست کو کامیاب بنانے کی جان توڑ مساعی میں مشغول رہے۔ ان پر ہر اگلا دور پچھلے دور سے زیادہ سخت اور صبر آزما آیا مگر وہ کو ہ استقامت بنے ہوئے مصائب و آلام کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے۔“
(انوار الباری شرح صحیح البخاری، جلد دوم صفحه ۳۹، مکتبہ ناشر العلوم، بجنور، مطبوعہ دیوبند، بار دوم )
یہاں حال صرف جنگ صفین کا بیان ہو رہا ہے اور اس میں امیر معاویہ کی خطاء محمد تقی صاحب کے نزدیک اجتہادی خطا ہوگی لیکن مولانا سید احمد رضا صاحب کہہ رہے ہیں کہ امیر معاویہؓ نے منہاج نبوت پر قائم رہنے کے بجائے دوسرے طریقے اختیار کیے، ان کی سیاست دنیوی سیاست تھی جب کہ حضرت علی کی سیاست دینی سیاست تھی۔اب مولانا مودودی نےچند ثابت شدہ تاریخی واقعات و حقائق بیان کر کے اگر بنوامیہ کے دور ملوکیت کے متعلق یہ لکھ دیا کہ اس میں سیاست دین کے تابع نہیں رہی تھی، اس کے تقاضے ہر جائز و ناجائز طریقے سے پورے کیے جاتے تھے اور کتاب وسنت کے احکام کی خلافت ورزی ہوتی تھی تو اس سے آخر کون سا کفر لازم آ جاتا ہے؟
"خلافت و ملوکیت میں عہدِ معاویه کےجو واقعات بیان ہوئےہیں،محمد تقی صاحب نےفقط انکی تاویل و تردید ہی پر اکتفا نہیں کیا،بلکہ ایک قدم آگےبڑھ کر یہ سوال بھی پیدا کیا ہے کہ ان گناہوں کا مرتکب فاسق کیوں نہیں ہوتا اور مولانا مودودی نے جو کچھ امیر معاویہ کے بارے میں لکھا ہے اگر اسے صحیح مان لیا جائے تولا زمانیہ مانا پڑے گا کہ وہ فاسق تھے اور اس سے الصحابہ کلہم عدول کا عقیدہ سلامت نہیں رہ سکتا اور اس عقیدے پر کیا موقوف ہے،اسلام کےسارے عقائد اور سارےاحکام ہی خطرےمیں پڑ جاتےہیں۔اپنی بات کی بیچ اور کج بحثی کرنے کی یہ ایک عبرتناک مثال ہے۔ عثمانی صاحب کی یہ ایک عجیب عادت ہے کہ وہ دوسرے کی بات کو نہایت بھیا نک بنا کر اس سے بدترین نتائج و مطالب اخذ کرنےکی کوشش کرتے ہیں اور پھر محتسب بن کر کہتے ہیں کہ اب ان سب کو مانو یا سب کا انکار کرو پھر ان کی دوسری عادت یہ ہے کہ بعض الفاظ کو خواہ مخواہ ہو ابناتے ہیں، بے بنیاد دعوے کرتے ہیں، غلط قسم کی تحدی اور چیلنج دیتے ہیں اور اس طرح اپنے دعاوی کے جال میں خود ہی پھنستے ہیں اور اپنے استدلال کے تانے بانے میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
مولانا مودودی نے امیر معاویہ کے بعض افعال کے لیے بدعت کا لفظ استعمال کر دیا تو عثمان صاحب بس اسے پکڑ کر بیٹھ گئے اور اپنے قلم کی سیاہی سے اسے ہولناک بنانے اور اس کو طرح طرح کے معانی پہنانےلگےپھر فرمایا کہ کسی فرد بشر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ امیر معاویہ کے کسی فعل کو بدعت کہے اور چودہ سو سال میں یہ گناہ کس سے سرزد نہیں ہوا۔ پہلی مرتبہ مولانا مودودی نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔اس پر میں نے مجبور ہو کر کچھ حوالےبڑےبڑے ائمہ سلف کےپیش کیےجنہوں.نےامیر معاویہ بعض اعمال پر بدعت کا اطلاق کیا اور ایسے حوالےمزید بھی پیش کیےجاسکتے ہیں۔فستق یا فاسق کا لفظ مولانا مودودی نےحضرت معاویہ یا دوسرے کسی صحابی کےمتعلق هرگز استعمال نہیں کیابلکہ یہاں تک لکھا کہ چند معاملات میں عدالت کےمنافی کام کرنےسے یہ لازم نہیں آتا کہ کرنےوالے کی عدالت کی نفی ہو جائےاور وہ عادل کےبجائے فاسق قرار پائےدراں حالیکہ اس کی زندگی میں مجموعی طور پر عدالت پائی جاتی ہو۔مگر افسوس صد افسوس کہ امیر معاویہ کےنادان دوست یا پھر ہمارےعقلمند کرم فرما کسی طرح ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتےاور برابر یہ رٹ لگائےچلےہمارہے ہیں کہ جوالزامات تم نےامیر معاویہ پر عائد کیےہیں وہ فستق ہیں اور انہیں درست مان لینےکےبعد امیر معاویہ کو فاسق ضرور کہا جائےگا۔پھر طرفہ تماشا یہ بھی ہےکہ حضرت معاویہ اور فسق و بغاوت والی بحث میں اپنی کتاب کےصفحہ ۱۳ پر محمد تقی صاحب خود یہ بھی فرما رہےہیں کہ یہ بات اہل علم سےمخفی نہیں ہےکہ کسی فعل کا فسق ہونا، اس کے فاعل کے فاسق ہونے کو ستلزم نہیں ہے۔ اجتہادی اختلاف میں ایک شخص کا عمل دوسرے کے نظریے کے مطابق فسق ہوتا ہے لیکن اسے فاسق نہیں کہا جاتا ۔‘ محمد تقی صاحب بھی بفضل خدا اہل علم میں سے ہیں اور جونکتہ وہ بیان فرمارہے ہیں،وہ ان سے بھی مخفی نہ ہو گا۔اگر اسی کی روشنی میں وہ دوبارہ اپنی اور ہماری بات پر غور کریں تو سارا در دسرختم ہوسکتا ہےجب وہ خود فرمارہے ہیں کہ ایک کا عمل دوسرے کےنزدیک فسق ہوتا ہے مگر اس کا عامل فاسق نہیں ہوتا تو پھر امیر معاویہ کی جانب گوفستق ہی منسوب کیوں نہ ہو جائے ، وہ غیر عادل کیسے ہو جائیں گے؟
بہر کیف مولانامودودی نے چونکہ اپنی کتاب کےکسی مقام پر کسی صحابی کی طرف فسق کی نسبت نہیں کی ، اس لیے یہ کہنا نہایت بے جا تحکم ہے کہ وہ یا ان کی طرف سے کوئی دوسرا جواب یا صفائی پیش کرے کہ آیا مولانا مودودی کے نزدیک امیر معاویہ عادل ہیں یا فاسق ہیں؟ البتہ میں نے اپنی بحث میں یہ بات بھی کہہ دی تھی کہ بدعت یا فسق کے الفاظ کوئی گالی یا سب وشتم کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ علمی مباحث میں سنت کے مقابلے میں بدعت اور طاعت کے مقابلے میں فسق کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور امیر معاویہ کے لیے لفظ فسق کےاستعمال ہونے کی دو مثالیں اس مقام پر پیش کی تھیں۔اس پر پھر عثمانی صاحب نےحسب دستور اعتراض کیا ہے اور لکھا ہے کہ کوئی شخص اہل سنت میں سے کسی ایک عالم کا قول کہیں دکھلائے جس نے امیر معاویہ کو فاسق قرار دیا ہو۔ کسی نے بھی یہ جرات آج تک نہیں کی اور بفرض محال شاہ عبد العزیز یا میر سید شریف جرجانی اس کے خلاف کوئی رائےظاہر کرتےہیں تو جمہور امت کے مقابلے میں ان کا قول ہرگز مقبول نہ ہوگا۔‘ شاہ عبدالعزیز صاحب نے امیر معاویہ سے متعلق کہا تھا کہ ان کے بارے میں انتہائی بات یہ ہے کہ وہ مرتکب کبیرہ اور باغی ہوں اور فاسق لعنت کےلائق نہیں ہوتا۔عثمانی صاحب کا فرمانا یہ ہےکہ شاہ صاحب یہاں اپنا مسلک بیان نہیں کر رہے،بلکہ علی سبیل تسلیم یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر انہیں فاسق بھی مان لیا جائے،تب بھی ان پر لعن طعن جائز نہیں۔یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ اگر فستق یا فاسق کا لفظ ہی خطر ناک ہےتو پھر ایک مفروضے کےطورپر بھی اسکی نسبت امیر معاویہ کی جانب نہیں ہونی چاہیےاور یہ کہنا بھی تو ہین صحابہ کےمترادف ہونا چاہیےکہ اگر فق کا صدور حضرت معاویہ سےمان لیا جائےتب بھی یہ موجب لعن طعن نہیں ہےدوسرا سوال یہ ہےکہ اگریہ شاہ صاحب کا اپنا مسلک نہیں ہےتو انہوں نےخود تحفه اثناعشریه میں بار بارحضرت علیؓ کےمقاتلین کےمتعلق بطلان اعتقادی اور فسق اعتقادی کےالفاظ کیوں استعمال کیےہیں۔محمد تقی صاحب نےاسی بحث میں اپنی کتاب کےصفحه ۲۱۱ پر خودیہ عبارت نقل کی ہےجس میں یہ الفاظ موجودہیں کہ فسق اعتقادی طعن و تحقیر کو جائز نہیں کرتا۔مفسق اعتقادی تو بظاهر فسق عملی سے بھی اشد شے معلوم ہوتی ہے۔پھر عثمانی صاحب اگلےصفحےپر فرماتےہیں کہ شاہ صاحب کی عبارتیں بنظر غائر پڑھنے کے بعد میں ان کا موقف یہ سمجھا ہوں کہ حضرت علی کی خلافت چونکہ مضبوط دلائل سےمنقعد ہو چکی تھی،اسلیے حضرت عائشہ یا حضرت معاویہؓ کا ان کے خلاف قتال کرنا بلا شبہ غلط تھا اور دنیوی احکام کے اختیار سے بغاوت کےذیل میں آتا تھا جو نفس الامر کے لحاظ سے گناہ کبیرہ یعنی فسق ہے۔ آگے عثمانی صاحب مزید لکھتے ہیںکہ امام برحق کے خلاف بغاوت کرنا گناہ کبیرہ اور فسق ہے۔ پھر فرماتے ہیں:
” میں نے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کی تحریروں پر جتنا غور کیا ہے، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انہوں نے حضرت معاویہ اور حضرت عائشہ کے خروج کے لیے جو فسق اعتقادی کا لفظ استعمال کیا ہے، اس سے مراد یہی ہے کہ بغاوت فی نفسہ فستق ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ اس کی بنا پر (معاذ اللہ ) یہ حضرات فاسق ہو گئے ۔“
میں پوچھتا ہوں کہ یہ نتیجہ کس نے نکالا ہے؟ یہ تو جناب محمد تفی صاحب خود ہی نکال رہے ہیں،ورنه مولانا مودودی نےتو فسق یا فاسق کانام تک نہیں لیا اور ان پر جب یہ الزام لگایا گیا تو میں نےصرف اتنی بات کہہ دی کہ مولانا نے تو نہیں البتہ بعض دوسرے اہل علم نے اس بحث میں ایسے الفاظ امیر معاویہ کے متعلق استعمال کیےہیں اب اس تردید میں عثمانی صاحب نےآغا ز تو اس دعوے سےکیا تھا کہ شاہ صاحب یا کسی اور دوسرے شخص نےایسا نہیں کہا لیکن تردید کرتےکرتےآخر خود ہی یہ ہی تسلیم کر بیٹھے کہ شاہ صاحب نےفسق اعتقادی کا لفظ صرف امیر معاویہ ہی کے لیے نہیں بلکہ حضرت علی کے مخالف سارے مقاتلین کے حق میں تحریر کیا ہے جن میں حضرت عائشہ بھی شامل اور عثمانی صاحب نے خود بھی مان لیا کہ امام حق کے خلاف بغاوت گناہ کبیرہ اور فسق ہے اگر چہ اس کا مرتکب فاسق نہیں ہوتا۔ اس کے بعد سمجھ میں نہیں آتا کہ عثمانی صاحب کی ہمارے خلاف ناراضی اور غصے کا اصل باعث کیا ہے؟
یہاں اس بات کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ عثمانی صاحب اب ماشاء اللہ فن تنقید و تردید میں اتنے ماہر اور چابکدست ہو چکے ہیں کہ انہیں شاہ عبدالعزیز صاحب کی عبارات میں بھی تضاد نظر آنے لگا ہے۔ چنانچہ اس بحث میں فرماتے ہیں کہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت شاہ عبد العزیز صاحب نے اپنی تصانیف میں اس مسئلے سے متعلق اپنی جو آراء ظاہر کی ہیں ، وہ بڑی حد تک پیچدہ مجمل اور بظاہر متضاد معلوم ہوتی ہیں۔ عثمانی صاحب نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ شاہ صاحب کے کون کون سے بیان باہم متضاد ہیں۔ البتہ شاہ صاحب کی عبارت کے ایک ٹکڑے کو عثمانی صاحب نے اپنے حق میں استعمال کرنے کی سعی کی ہے۔ وہ عبارت یہ ہے:
"اگر جماعت اہل شام میں سے ہم بالیقین کسی کے متعلق جان لیں کہ وہ حضرت امیر (علی)کے ساتھ عداوت و بغض رکھتا تھا،تا آنکہ آپ کو کافر ھہراتا یا آنجناب علی قباب پرست و طعن کرتا تو اس کو ہم یقینا کافر جائیں گےجب یہ بات معتبر روایات سے پائیہ ثبوت کو نہیں پہنچی اور ان کا اصل ایمان بالیقین ثابت ہے تو ہم تمسک اصل ایمان سے کریں گے ۔“
(تحفہ اثنا عشیره مترجم صفحه ۶۱۳)
اس پر عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ اس عبارت سے یہ واضح ہوتا ہےکہ حضرت شاہ صاحب کےنزد یک حضرت معاویہ کا حضرت علی پر سب و طعن معتبر روایات سےثابت نہیں"۔بلاشبہ اگر شاہ صاحب کی عبارت کا یہ ترجمہ صحیح ہو تو اس سےیہی نکلتا ہےکہ ان کے نزدیک اہل شام میں سےکوئی فرد حضرت علی پر سب و شتم نہیں کرتا تھا اور جو کرتا تھا وہ شاہ صاحب کے نزدیک کافر ہوگا۔ یہ دونوں باتیں شاہ صاحب کی دوسری متعدد تصریحات کے قطعی خلاف ہیں اور فی نفسه علمی و تاریخی اعتبار سےبھی بالکل غلط ہیں۔مثلا سب و شتم کی بحث میں صحیح مسلم و ترمذی کی ایک حدیث نقل کی جاچکی ہےجس میں امیر معاویہ نے حضرت سعد سے پوچھا تھاکہ آپ حضرت علی پرسب و شتم کیوں نہیں کرتےاس کی تشریح میں شاہ عبدالعزیز صاحب نے فتاوی عزیزیہ میں جو کچھ فرمایا ہے اس سےصاف ظاہر ہے کہ وہ امیر معاویہ سے سب و شتم کا صدور صحیح و ثابت مانتے ہیں۔ ان کے فتوے کا ترجمہ وہاں میں نے دے دیا تھا۔ یہاں اصل الفاظ بھی نقل کیےدیتا ہوں اور وہ یہ ہیں:
"بہتر ہمیں است که این لفظ (سب) رابر ظاهرش جاری باید داشت۔نہایت کار آنکه ارتکاب این فعل شنیع یعنی سب یا امر سب از معاویه بن ابی سفیان لازم خواهد آمر پولیس هذا باول قارورة کسرت فی الاسلام، چه مرتبه سب کمتر از قتل و قتال است لما روسی فی الحدیث اصیح سباب المسلم فسوق وقتاله کفر و هرگاه قتال و امر بالقتال یقینی الصدور است،ازاں گریز نیست بالجمله اصلح همین است که دےرامر تکب کبیره باید دانست و زبان از طعن و لعن بند باید نمود"-
(فتاوی عزیزی۔ کتب خانہ رحیمیہ ، دیو بند ، جلد اول صفحه ۱۲۳)
اس میں شاہ صاحب نہ صرف امیر معاویہ کے سب کو تسلیم کر رہےہیں بلکہ ان لوگوں کی تردید کر رہے ہیں جو اسے تسلیم نہیں کرتے یا حدیث میں جن سب وشتم کا ذکر ہےاسے ظاہر معنوں میں نہیں لیتے۔ شاہ صاحب یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جب امیر معاویہ سے قتل و قتال اور اس کا حکم دینا ثابت ہے جو سب وشتم سے شدید تر ہے تو سب و شتم سے انکار بے فائدہ ہے اور اسے تسلیم کیےبغیر چارہ نہیں۔ پس صحیح بات یہ ہے کہ امیر معاویہ کو مرتکب کبیرہ مان لینا چاہیےمگر ان پر لعن طعن سےزبان بند رکھنی چاہیے۔ اس سےیہ بھی معلوم ہوا کہ سب وشتم کےوقوع کےباوجود شاہ صاحب اس فعل کو گناہ کبیرہ تو قرار دیتےہیں مگر اس کےفاعل کو کافر ہر گز نہیں سمجھتے-اگر وہ خدانخواستہ ایسا سمجھتےتو پھر ان میں اور رافضیوں میں فرق کیا رہ جاتا جو خود حضرت علی کےمخالفین کی تکفیر اور ان پر تبر ابازی کرتےہیں اور جن کےردمیں شاہ صاحب نےیہ کتاب لکھی تھی محمد تقی صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ ایسی غلط اور پادر ہوا بات کہنے سے پہلے تھوڑی سی زحمت کر کے اصل فارسی عبارت تحفہ اثنا عشریہ میں دیکھ لیتے۔اگر وہ ایسا کرتےتو انہیں معلوم ہو جاتا کہ جس ترجمےکی بنیاد پر وہ اپنے استدلال کو تعمیر کر رہے ہیں ، وہ ترجمہ غلط ہے۔ شاہ صاحب کی اصل عبارت یوں ہے:
”آرے، اگر از جماعت شام بالیقین کسےرامعلوم کنیم که عداوت و بغض حضرت امیر داشت بحدیکه تکفیر آنجناب بالعن وسب آن عالی قباب میکر داورا با یقین کافر خواهیم دانست و چوں ایں معنی تاحال از روی روایت معتبره ثابت نشده واصلِ ایمان آنها بالیقین ثابت است تمسک با اصل در ایم"-
( تحفہ اثنا عشیرہ صفحہ ۶۲۶ مطبع ثم بند ، ١٢٩٦ لکھنو ۔ )
’ہاں، اگر جماعت اہل شام میں سے ہم بالیقین کسی کے متعلق جان لیں کہ وہ حضرت امیر (علی) کے ساتھ اس حد تک عداوت اور بغض رکھتا تھا کہ آنجناب عالی مقام پر سب وطعن کے ساتھ ہی آپ کی تکفیر بھی کرتا تھا، تو اسکو ہم یقینا کافر جانیں گےاور جب یہ بات معتبر روایات سے پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی اور انکا اصل ایمان بالیقین ثابت ہے، تو ہم تمسک اصل ایمان سے کریں گے۔“
اس عبارت میں شاہ صاحب نہ سب وشتم کا انکار کر رہے ہیں نہ اس کےمرتکب کو کافر کہہ رہےہیں، بلکہ سب و شتم کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کہ رہے ہیں کہ اگر کوئی حضرت علی پر سب و شتم سے بڑھ کر اں کی تکفیر بھی کر ڈالے تو وہ ہمارے نزدیک یقینا کافر ہے مگر اہل شام میں سے کسی نے تکفیر علی نہیں کی ، اس لیے وہ بھی حضرت علیؓ کی طرح صاحب ایمان ہیں۔
دوسرا قول میں نےمیرسید شریف جرجانی کا پیش کیا تھا کہ وہ شرح المواقف میں لکھتےہیں کہ قاتلین عثمان اور محاربین علی خطا کار ہیں کیونکہ دونوں اصحاب امام وقت اور خلفائےراشدین میں سےتھےاور ان کا قتل اور ان کی مخالفت حرام تھی۔ پھر علامہ سید شریف فرماتے ہیں کہ یہ خطا بعض کےنزدیک تفسیق کی حد کو نہیں پہنچتی لیکن ہمارے اصحاب کی کثیر تعداد نے حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کے مقاتلین کی تفسیق بھی کی ہےاس پر عثمانی صاحب کہتےہیں کہ انہوں نےتفسیق کی نسبت خطا کی طرف کی ہے،حضرت معاویہؓ کی طرف نہیں۔ خدا جانے ان الفاظ کا مطلب کیا ہے کہ تفسیق کی نسبت خطا کی طرف ہے مگر حضرت معاویہ کی طرف نہیں۔ خطا اگر ہے تو امیر معاویہ ہی کی ہے،پھر ان کی طرف نسبت نہ ہونے اور خطا کی طرف ہونے کے معنی آخر کیا ہیں؟ پھر سید جرجانی تخطئه اور تفسیق کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں جس سے مراد لا ز ما کسی شخص یا اشخاص ہی کو خطاوار یا فسق کا مرتکب ٹھہرانا ہے۔یہ بات البتہ صحیح ہے کہ ایک یا چند افعال فسق سے یہ لازم نہیں آتا کہ انکا فاعل اپنی پوری زندگی یا اس کےاکثر و غالب احوال میں فاسق قرار پائےاور صفت عدالت اس سےبالکل منتقی ہو جائے ۔ اس کے قائل اگر عثمانی صاحب ہیں تو ہم بھی اس کے منکر نہیں ہیں۔
میں نے اشارہ فقط دو حوالوں پر اس لیے اکتفا کیا تھا کہ مولانا مودودی فستق یا فاسق کا لفظ اپنی تحریر میں کہیں لائے ہی نہ تھے اور میں خواہ مخواہ اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا تھا کہ ان الفاظ کا اطلاق دوسروں نے امیر معاویہ کی ذات پر کیا ہےلیکن عثمانی صاحب چونکہ مصر ہیں کہ دو آدمیوں کا قول جمہور امت کےمقابلے میں ہرگز قابل قبول نہ ہو گا، اس لیے میں مزید دو اقوال کا حوالہ دیتا ہوں جن میں سے ایک مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی کا ہے اور جسے میں پہلے بھی نقل کر چکا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں:
"معاویہ کا محاربہ حضرت امیر کے ساتھ جو ہوا تو اہل سنت اس کو کب بھلا اور جائز کہتےہیں ۔ ذرا کوئی کتاب اہل سنت کی دیکھی ہوتی۔اہل سنت ان کو اس فعل میں خاطی کہتے ہیں۔مگر معاویہ اس خطا کے سبب ایمان سے نہیں نکل گئے کیونکہ حق تعالیٰ خود قرآن شریف میں فرماتا ہے:وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا تو دیکھو کہ حق تعالی با وصی مقاتلہ با ہمی ان کو مومنین تعبیر فرماتا ہےاور سوا اسکےصدہا آیات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فستق و گناہ کبیرہ سے مسلمان کا فرنہیں ہوتا ۔ ( ہدایت الشیعہ ص۳۰)
دوسرا حوالہ امام ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی کی سنن کبری کا ہے۔ آپ قتال اہل البغی کے باب میں ایک روایت بیان کرتے ہیں اور حضرت عمار تک اس کی سند پہنچاتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
(السنن الکبری، الجزء الثامن، المطبعة الاولی ، حیدرآباد، دکن ۱۳۵۴ صفحه ۱۷۴)
حضرت عمار کے اس قول کا واضح رُخ امیر معاویہ اوران کے ساتھیوں کی طرف ہے جو حضرت علی کی خلافت کو نہیں مانتے تھے۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب امیر معاویہ اور آپ کے رفقاء پر بغاوت کا الزام تسلیم ہے اور بے شمار علمائے اہل سنت نے انہیں بغاۃ قرار دیا ہے۔ کیا فسق یا بدعت کا لفظ بغاوت و محاربت کے لفظ سے سخت تر ہے کہ عثمانی صاحب اسے دیکھ کر یا سن کر لرزه بر اندام ہو رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے قلم سے بھی یہ الفاظ آخر ٹپک ہی پڑے کہ حضرت معاویہ کافعل في نفس فسق و گناہ کبیرہ ہے اگر چہ اخروی احکام کے اعتبار سے یہ اجتہادی غلطی کے ذیل میں آتا ہے۔
میں نے عدالت صحابہ کی بحث میں یہ سوال بھی عثمانی صاحب سے کیا تھا کہ عدالت کا جو بلند معیار آپ صحابہ کرام کے لیے وضع کر رہے ہیں، کیا آپ اس کو پورے سلسلہ رواۃ پر نافذ اور چسپاں کریں گے؟ میرا امد عا یہ تھا کہ صحابہ کرام اور راویان حدیث کی عدالت کا مسئلہ روایت حدیث ہی کےسلسلہ میں زیر بحث آتا ہے اور ہم تک حدیث صحابہ کرام سے براہِ راست نہیں پہنچی بلکہ بہت سےدوسرے غیر صحابی راویوں کے ذریعے سے پہنچی ہے۔ اب صحابہ کرام کی خطائیں خواہ وہ اجتہادی ہوں یا وہ صغیرہ یا کبیرہ گناہ ہوں، وہ سب انگلیوں پر گنےجاسکتےہیں۔مثال کےطور پر امیر معاویہؓ کےایسے افعال دس یا پندرہ یا میں ہی ہوں گے جن کےمقابلے میں ان کی روزانہ پانچ وقت کی نمازیں ہیں،روزے ہیں، حج وزکوٰۃ ہے،جہاد ہے اور دوسرے بے شمار اعمال حسنہ ہیں جن کا کوئی شمار نہیں۔ اس ساری نیکیوں اور بھلائیوں کے باوجود اگر امیر معاویہ گنتی کے چند گناہوں کی وجہ سے غیر عادل ہو جاتے ہیں تو پھر دوسرے راویوں کا کیا حال ہوگا جو امیر معاویہ سےزیادہ خاطی اور گناہ گار ہوں گے، اس لیے عدالت کی وہی تعریف صحیح اور قابل قبول ہے جس پر ہر وہ راوی پورا اتر سکے جس کی نیکیوں کا پلہ بحیثیت مجموعی برائیوں پر بھاری ہو اور جس کے متعلق ظن غالب یہ ہو کہ وہ حدیث میں غلط بیانی سے کام نہ لے گا۔ صحابہ کرام کی خطاؤں کے متعلق تو آپ کہہ دیں گے کہ یہ سب اجتہاد ہے لیکن ہر راوی کی ہر خطا کو کون اجتہاد کہے گا ؟ میرے اس سوال کا سیدھا جواب دینےکے بجائے پھر عثمانی صاحب اس بات کو دہراتے ہیں کہ عدالت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان فاسق نہ ہو، یہ شرط آج میں نے اپنی جانب سے نہیں گھڑ دی ہے، اصول حدیث کی جو کتاب چاہیں، کھول کر دیکھ لیجئے ، اس میں یہ شرط لکھی ہوئی ملے گی۔“
پہلے عثمانی صاحب نے اپنے جی سے گھڑ کر عدالت صحابہ کی تین تعریفات بیان کی تھیں جن میں سے کسی ایک کے حق میں کوئی ایک سند یا قول میرے مطالبے کے باوجود وہ پیش نہ کر سکے۔اب انہوں نے عدالت راوی کی پھر ایک منفی تعریف لکھ دی ہے جسکی تائید میں کوئی حوالہ نہیں دیا، نہ یہ ہی بتایا ہےکہ فاسق کا اطلاق ان کےنزدیک آیا اس شخص پر ہوتا ہے جس پر فسق یعنی عدم طاعت کی روش غالب آ جائے یا جس سے محض چند مرتبہ فسق کا صدور ہو۔اس میں شک نہیں کہ بعض محدثین نےفسق کو موجب جرح سمجھا ہےلیکن اس سے مراد غلبہ فسق ہے ورنہ کس انسان کے متعلق یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ اس کی زندگی فستق یا نا فرمانی سے یکسر خالی ہے۔ حافظ ابن حجر نے نزہتہ النظر میں جہاں راوی پر اسباب طعن گنوائے ہیں، ان میں پانچواں، سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:فمن فحش غلطه او كثرت غفلتة او ظهر فسقه فحديثه منکر . اس کا مطلب یہ ہےکہ جس راوی کی غلطیاں فاحش ہوں،جس کی غفلت حد سے زیادہ ہو اور جس کا فسق ظاہر وباہر اس کی حدیث منکر ہے۔ اس کا صاف مفہوم دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ جس میں غلطی غفلت اور فسق غالب نہ ہو اس کی حدیث قابل اخذ ہے۔ اس سے پہلے حافظ ابن حجر نے فحش غلطه کی تشریح ای کثرتہ سے کر دی ہے۔ اس کی مزید وضاحت شرح الشرح میں یوں بیان ہے:
"راوی کی اغلاط فاحش سے مراد یہ ہے کہ غلطیاں صواب سے زیادہ ہوں یا دونوں برابر ہوں کیونکہ غلطی سے خالی تو کوئی انسان نہیں۔“
یہ تو قولی یا فعلی فسق کی تشریح ہےآگےچل کر فسق اعتقادی کی بحث حافظ موصوف نےطعن کےنویں سبب البدعة “کےتحت کی ہےگویا کہ فسق بالمعتقد بھی بدعت کی ایک قسم ہےیہاں کی پوری عبارت اور اس کاترجمہ میں پہلے دے چکا ہوں جس میں وہ فرماتےہیں کہ بعض بدعت کا مرتکب یا معتقد کفر یا فتق کو جا پہنچتا ہے، مر تکفیر تفسیق میں چونکه ہر گروہ مبالغہ سےکام لیتا ہے،اس لیے روایت صرف اس راوی کی رڈ ہوگی جو کسی ایسےشرعی امر کا منکر ہو جو بالتواتر ثابت ہو یا اس کا ضروریات دین میں ہونا معلوم ومعروف ہو اس کا صاف مدعا یہ ہےکہ ہر فسق و بدعت موجب طعن یا منافی عدالت نہیں۔پھر میں نےخطیب البغدادی کی الکفایه سے پوری عبارت نقل کی تھی کہ خود صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین نے خوارج اور دوسرے ان فساق سے حدیث قبول کی ہےجو روایت حدیث میں صادق تھے اور اپنی زندگی میں بالعموم ممنوعات و مذمومات سےبچتے تھے۔ جو اہل بدعت اپنی بدعت کے داعی و مبلغ نہ تھے ، ان کی روایات سے کتب حدیث لبریز ہیں۔ حافظ ابوعمرو بن صالح اپنی کتاب علوم الحدیث (المعروف بمقدمہ بن صلاح) میں ایسےراویوں کےمتعلق لکھتےہیں کہ ائمہ حدیث کی کتابیں ان سے بھری پڑی ہیں (ان كتبهم طافحة بالرواية عن المبتدعة غير الدعاة و في الصحيحين كثير من احاديثهم ) پھر میں یہ بھی بیان کر چکا ہوں کہ اہل بدعت میں داعی و غیر داعی کی تفریق غیر حقیقی اور محض اعتباری ہے۔ امام ابن حزم نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر یہ تقسیم صحیح ہو تو پھر جو راوی اپنے مبتدعانہ نظریات کے داعی تھے اگر وہ حدیث میں کذب بیانی نہ کریں تو ان کی حدیث دوسروں کی بہ نسبت زیادہ قابل قبول ہےکہ ان کے عقیدہ و عمل میں تضاد تو نہیں اور وہ جس بات کو صحیح سمجھتےہیں،اسکی علانیہ دعوت بھی دیتے ہیں جب کہ غیر داعی مبتدع اپنی دعوت کو چھپاتے ہیں۔ پھر میری اس بحث پر عثمانی صاحب کا یہ معارضہ بھی عجیب و غریب ہے کہ البلاغ کی ساری بحث تو فسق کے بارے میں تھی ، بدعت کے بارے میں نہ تھی۔ فستق اور بدعت کوئی الگ الگ ممیز اشیاء نہیں بلکہ اعتقاد عمل ہی کے دو گونہ پہلو ہیں جیسا کہ بحث سابق سےواضح ہے۔اسی لیےمحدثین نے تعدیل و تجریح کے ضمن میں دونوں کا ذکر ایک ساتھ کیا ہے۔اگر عثمانی صاحب کے خیال میں فسق بدعت کے سوا کوئی اور چیز ہے اور دونوں میں کسی طرح کا کوئی علاقہ نہیں ہے تو ابن حجر کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ البدعة تكون بمفسق. "بدعت فسق سے بھی وجود میں آتی ہے۔“
جناب محمد تقی صاحب نےاس مقام پر جنگ صفین کے فریقین کی صحیح حیثیت کےزیر عنوان بھی ایک بحث کی ہےجس میں وہ فرماتےہیں کہ اگر امیر معاویہ صراحة برسر بغاوت تھے تو قرآن کریم کا یہ حکم کھلا ہوا تھا کہ ان سےقتال کیا جائےپھر صحابہ کی اکثریت نےاس قرآنی حکم کو کیوں پس پشت ڈال دیا حتی کہ صفین کی جنگ میں بدری صحابہ میں سےسوائےحضرت خزیمہ بن ثابت کےکوئی شریک نہیں ہوا۔محمد تقی عثمانی صاحب کی تحقیق حضرت عمار بن یاسر کےمتعلق کیا ہےکیا وہ بدری صحابی نہیں ہیں یا انہوں نےحضرت علی کےساتھ جنگ صفین میں شرکت نہیں کی؟ان میں سے جو بات درست ہے اسے وہ دلائل کے ساتھ بیان فرمائیں اور ہماری معلومات میں اضافہ کریں۔باقی رہا یہ سوال کہ کتنےصحابہ کرام نےاس جنگ میں شرکت کی یا نہ کی تو اسکا جواب بڑی طوالت کا خواہاں ہےکیونکہ یہ سوال محاصره عثمان، واقعہ حرہ اور ہر اس جنگ کے بارے میں پیدا ہوتا ہے جو عہد نبوی کے بعد کفار مرتدین کے خلاف لڑی گئی یا مسلمانوں میں باہمی طور پر پیش آئی۔ ہزاروں،لاکھوں صحابہ کرام میں سے کتنے اصحاب کی فہرشت عثمانی صاحب یا کوئی دوسرا شخص فراہم کر سکتا ہےکہ یہ یہ صحابہ فلاں اور فلاں جنگ میں شریک تھے اور فلاں میں نہ تھے۔ ہر جنگ خواہ وہ کتنی اہم ہو اس کےمتعلق یہ ثابت کرنا محال ہےکہ اس میں ہر صحابی یا ہر مسلمان کی شمولیت فرض عین ہے اور جو اس میں شامل نہ ہوا،اس نےکھلے ہوئےقرآنی حکم کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا۔خلافت راشدہ اور دو رفتن کی لڑائیوں میں بعض صحابہ کرام کے شریک نہ ہونے یا نہ ہو سکنےکےمتعدد وجوہ واسباب ہیں جن پر یہاں بحث ممکن نہیں ہے۔ اگر عثمانی صاحب کا موقف یہی ہے کہ امیر معاویہ کا خیال یہ تھا کہ حضرت علی نےان کے خلاف بغاوت کی ہے اور حضرت علیؓ کا خیال یہ تھا کہ امیر معاویہ نےانکےخلاف بغاوت کی ہے اور عثمانی صاحب کےنزدیک یہ دونوں خیال درست ہیں تو وہ اس موقف پر قائم رہ سکتے ہیں۔ لیکن ہر خیال کا حقیقت نفس الامری کے مطابق ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہ بات تاریخ سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ شام کے ماسواء پورے عالم اسلام نے حضرت علیؓ کے حق میں بیعت کر لی تھی بلکہ شام کے بہت سے مسلمان بھی حضرت علیؓ کے زیر بیعت تھے۔ انوار الباری کی جس جلد کا حوالہ اوپر دیا جا چکا ہے اس جلد کے اگلے صفحہ ۳۰ پر مصنف مولانا انور شاہ صاحب کا قول نقل کرتےہوئے جنگ صفین ہی کی بحث میں فرماتے ہیں کہ اکثر صحابہ کرام حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ تھے اور میرے علم میں انصار تو سب ہی اور مہارجرین میں سے زیادہ حضرت علی کے ساتھ تھے۔“
لاریب قرآن مجید کی تصریح کے مطابق اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام سے راضی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے راضی ہیں لیکن اس کےساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض صحابہ کرام سے کہائر وصفائر کا صدور ہوا ہے جن پر انہوں نے تو بہ بھی کی ہے اور وہ تو یہ اللہ تعالیٰ نے قبول بھی فرمالی ہےاس کے باوجود ان خطاؤں کا ذکر قرآن مجید اور صحیح ترین احادیث میں متعدد مقامات پر موجود ہے۔پھر ان پر امت کے بڑے بڑے علماء وفقہاء نرم یا گرم انداز میں ہمیشہ تبصرہ کرتے چلے آئے ہیں۔ان بز ردگانِ سلف کےقلوب اللہ، اس کےرسول اور صحابہ رسول کی محبت سے معمور تھے۔ اللہ کےبرگزیدہ نبی اور آپ کے اصحاب کی تعظیم کےجس مقام بلند پر ہمارے اسلاف فائز تھے ہم اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ لیکن ان اسلاف نے صحابہ کرام کی غلطیوں پر بر ملا تنقید کی ہے۔ مثال کےطور پر میں قاضی محمد بن علی الشور کانی کو لیتا ہوں جن کی تفسیر فتح القدیر اور فقہ الحدیث کی کتاب نیل الاوطار نہایت مشہور و متداول ہے۔ ان کی بے شمار دیگر تصانیف میں سے ایک وبل الغمام علی شفاء الاوام“ ہے۔ اس کا ایک اقتباس علامہ سید صدیق حسن صاحب اپنی کتاب اکلیل الکرام میں نقل فرماتے ہیں اور وہ یہ ہے:
قال الشوكاني في وبل الغمام لاشک ولا شبهة ان الحق بيد على في جميع مواطنه اما طلحة والزبير ومن معهم فلا نهم كانوا بايعره ونكثوا بيعته بغيًا عليه فوجب عليه قتالهم وأما قتاله للخوارج فلا ريب في ذلك وأما أهل الصفين ببغيهم ظاهر ولو لم يكن فى ذلك لقوله صلى الله عليه وسلم لعمار تقتلك الفئة الباغية لكان ذلك مفيد للمطلوب. ثم ليس معاوية من يصلح لمعارضته ولكنه أراد طلب الرياسة والدنيا بين أقوام اغتنام لا يعرفون معروفًا ولا ينكرون منكرا اف خادعهم بأنه طالب بدم عثمان فنفق ذلك عليهم وبذلوا بين يديه وماء هم وأموالهم ونصحوا له حتى كان يقول على لاهل العراق انه يود ان يصرف العشرة منهم بواحد من اهل الشام صرف الدراهم والدينار وليس العجب من مثل العوام الشام إنما العجب ممن له بصيرة ودين كبعض الصحابة المائلين اليه وبعض فضلاء التابعين فليت شعري اى امر اشتبه عليهم في ذلك الامر حتى نصر و المبطلين وخذلوا المحقين وقد سمعوا الأحاديث المتواترة الله في تحريم عصيان الأئمة ما لم يروا كفرا بواحا وسمعوا قول النبي صلى عليه وسلّم لعمار انها تقتله الفئة الباغية ولو لا عظيم قدر الصحبة ورفيع فضل خير القرون لقلت حب المال والشرف قد فتن سلف هذه الامة كما فتن خلفها اللهم اغفر انتهى كلامه.
١- مولانا محمد زکریا صاحب اور جزء المسالک شرح موطا مالک جلد ۵ صفحه ۴۳۴ پر فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے ساتھ نوے بدری صحابی،سات سوال بیعت رضوان، تمام مهاجرین اور انصار چارسو کی تعداد میں جنگ صفین میں شریک تھے۔
"امام شوکانی وبل الغمام میں لکھتے ہیں کہ بلا شک و شبہ تمام لڑائیوں میں حق علی کے ساتھ تھا۔اس لیے کہ طلحہ وزبیر اور ان کےساتھیوں نےپہلےعلی کی بیعت کی تھی،پھر اسےتوڑ دیا،پس مٹی پر ان سےلڑنا واجب تھا جہاں تک خوارج کا تعلق ہےان سےقتال میں تو کوئی شبہ ہی نہیں۔ رہےاہل صفین تو ان کی بغاوت بھی ظاہر ہے اور اگر اسکےبارے میں صرف یہ ایک ارشاد نبوی ہی ہوتا جو آنحضور نے عمار سے فرمایا کہ تجھے باغی گروہ قتل کرےگا تو یہی اثبات مدعا کےلیےکافی تھا۔ پھر معاویہ علی کی مخالفت کےحقدار نہ تھےلیکن انہوں نےسرداری اور دنیا کو طلب کرنےکا اراده ایسےلوگوں کےبل پر کیا جوانان تھےاور معروف و منکر کونہیں پہچانتے تھے، پس انہیں دھوکا دیا گیا کہ وہ حضرت عثمان کا قصاص چاہتے ہیں۔ یہ تدبیر ان پر کارگر ہوگئی اور انہوں نے حضرت معاویہ کےلیے جان اور مال کی قربانیاں دیں اور ان کے خیر خواہ بن گئے یہاں تک کہ علی اہل عراق سے کہتےتھے کہ میں چاہتا ہوں کہ تمہارے دس کے بدلے میں اہل شام کا ایک آدمی لے لوں جس طرح درہم دینار سے بدلا جاتا ہے۔ شامی عوام پر تو تعجب نہیں۔ تعجب ان حضرات پر ہے جو اہل دین و بصیرت تھے،مثلاً بعض صحابہ کرام و تابعین عظام جو معاویہ کی جانب مائل تھےمیری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس معاملےمیں کیا چیز ان پر مشتبہ رہ گئی کہ انہوں نےاہل باطل کی مدد کی اور اہل حق کا ساتھ چھوڑ دیا حالانکہ انہوں نے ارشاد الہی سن رکھا تھا کہ اگر ایک گروہ دوسرے کے خلاف بغاوت کرے تو باغی گروہ سےلڑو یہاں تک کہ وہ امر اللہ کی طرف لوٹے انہوں نے وہ احادیث متواترہ بھی سنی تھیں کہ جب تک صریح کفر کا ارتکاب امراء سے نہ دیکھو، ان کی نافرمانی حرام ہے اور انہوں نے آنحضور کا یہ قول بھی سنا تھا جو آپ نے عمار سے فرمایا تھا۔اگر صحابیت کا مرتبہ عظیم نہ ہوتا اور خیر القرون کا فضل بلند نہ ہوتا تو میں کہتا کہ حب مال و جاہ نےاس امت کےسلف کو بھی اسی طرح آزمائش میں ڈالا جس طرح سے اس نے خلف کو ڈالا ۔ اے اللہ تو مغفرت فرما۔ امام شوکائی کا کلام ختم ہوا۔“
(اکلیل الكوامہ فی تبیان مقاصد الا مامتہ مطبع صدیقی، بھوپال ۱۳۹۳، صفحه ۱۲)
اب میں فاضل اجل جناب محمد اعلیٰ بن علی تھانوی کی مشہور تالیف کشاف اصطلاحات الفنون“ سے ایک اقتباس پر عدالت صحابہ کی بحث ختم کرتا ہوں۔ فاضل موصوف لفظ ”صحابی کےتحت آخر میں شرح النخبه ، اس کی شروح، جامع الرموز، بر جندی وغیرہ کے حوالے سے حسب ذیل خلاصه درج فرماتے ہیں:
"جان لو کہ صحابہ کرام روایت حدیث کے معاملے میں سب کے سب عدول ہیں اگرچہ ان میں سے بعض کسی دوسرے معاملے میں غیر عدل ہوں۔“
( کتاب اصطلاحات الفنون، جلد ا ص ۸۰۹ طبع کلکته ۱۸۲۲ء)۔
واضح رہےکہ یہ کتاب ایک مستند دائرۃ المعارف(انسائیکلو پیڈیا) ہےجو اورنگ زیب عالمگیر کےعہد،۱۱۵۸ھ میں مرتب کی گئی تھی۔محمد تقی صاحب کی ساری بحث کی جڑ کاٹ دینےکےلیےصرف یہی ایک قول کافی ہے۔
| کتاب | خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |