بسم اللہ الرحمن الرحیم مقدمه مملکت خداداد پاکستان - - - اللہ اسے قائم و دائم رکھے - - - اس وقت روئے زمین پر مسلمانوں کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ یہ اس لیے وجود میں آئی تھی کہ اس میں کتاب الله وسنت رسول اللہ پر مبنی نظام و معاشرہ برپا ہو۔ لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہماری تمناؤں اور آرزوؤں کا یہ خواب تاہنوز شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ بلکہ اس کے برعکس اس سرزمین کی آغوش میں ایسے فتنے پروان چڑھتے رہے جو اسلامی نظریات اور قرآن وحدیث کی تعلیمات کے یکسر منافی و مخالف ہیں۔ ان میں سے بعض فتنے تو ایسے ہیں جن کے خطرات کو ہمارے دینی طبقوں نے پوری طرح محسوس کر لیا ہے، ان کی ضلالت کو بڑی حد تک واضح کر دیا ہے اور ان کے خلاف اپنی طرف سے حجت کا اتمام کر دیا ہے۔مثال کے طور پر انکار ختم نبوت و اجرائے نبوت اور انکارِ حدیث و سنت ایسے فتنے ہیں جن کے خلاف علمائے کرام نے یک زبان ہو کر مسلمانوں کو متنبہ کر دیا ہے۔ لیکن دوسری طرف بعض سیاسی اور مذہبی فتنے ایسے بھی ہیں جن کی تردید و ابطال کے معاملے میں نہ صرف یہ کہ تساہل و مداہنت کو روا رکھا گیا ہے، بلکہ بہت سے مذہبی گروہوں اور افراد نے ان فتنوں اور ان کےعلمبرداروں کو پوری پوری کمک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر اشتراکیت اور ناصبیت دو ایسے فتنے ہیں جو بعض مذہبی حلقوں کے دوش پر سوار ہو کر ہمارے ہاں متعارف ہوئے ہیں اور اب تک ہو رہے ہیں۔ اشتراکیت کے مفہوم سے تو ہر مسلمان بالعموم آشنا ہے لیکن ناصبیت کےمفہوم، بلکہ اس کے نام تک سے بہت کم مسلمان واقف ہیں۔
ناصبیت کے تاریخی پس منظر اور اس کے تفصیلی تضمنات کا بیان یہاں ممکن نہیں ۔ مختصر الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ ناصبیت رافضیت کی ضد ہے۔ رافضی اس شخص کو کہتے ہیں جو حضرت علی اور بنو فاطمہ کی عقیدت میں حد سے گزر گیا ہو اور ناصبی اس کو کہتے ہیں جو حضرت علی اور ان کے اہل بیت سے بغض و عناد اپنا جزو ایمان سمجھتا ہو ۔ نصب عربی زبان میں دائمی حسد اور مستقل بغض و عداوت کا دوسرا نام ہے۔ جو شخص اس مرض میں مبتلا ہو، وہ بلاشبہ نفاق کی زد میں ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی حضرت علی سے صحیح مسلم شریف ، کتاب الایمان میں مروی ہے کہ:
"حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے دانہ اگایا اور جان کو پیدا کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی کہ نہیں محبت رکھے گا مجھ سے مگر مومن اور نہیں بغض رکھے گا مجھ سے مگر منافق ۔“
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جو ہمارے دیار کے جملہ مقلدین وغیر مقلدین اہل سنت کے مقتداء ہیں، جنہوں نے رفض و تشیع کے رد میں مشہور کتاب تحفہ اثنا عشریہ لکھی ہے،ان کی اسی کتاب میں مندرج تصریح کے مطابق ناصبیوں کا بانی مبانی مروان بن حکم تھا۔ آپ کےالفاظ درج ذیل ہیں :
در بخاری روایت از مروان آمده است با وجود یکه او نیز از جمله نواصب بلکه رئیس آن گروه شقاوت پژوه بود - لیکن مدار روایت بخاری برا امام زین العابدین است و سند او منتهی بایشاں۔ ( تحفہ اثناعشریہ ص ۹۹، کید ہفتاد و دوم طبع ۱۲۹۶ھ لکھنو )
’ہاں بخاری میں مردان سے البتہ روایت آئی ہے باوجود یکہ وہ نواصب میں تھا، بلکہ اس بد بخت گروہ کا سرانه اور سرگروه۔ لیکن اس روایت کا مدار زین العابدین پر رکھا ہے اور ان ہی پر روایت کو ختم کیا ہے۔“
"تاریخ سے قطعی ثابت ہے کہ اہل سنت ہمیشہ نواصب سے مقابلہ کرتے تھے اور ان بد بختوں کی بکواس کا جواب دے کر ان سے پر خاش رکھتے تھے۔“
معروف اور جید اہل حدیث عالم نواب صدیق حسن خان صاحب ایک سوال کے جواب میں اقسام بدعت پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
پاکستان میں اس فتنہ ناصیت کے بانی اور سرخیل محمود احمد عباس میں اور یہ ایک افسوسناک اور تکلیف دو حقیقت ہے کہ ہمارے بعض سنی حلقوں نے اس فتنے کی خوب پذیرائی وحوصلہ افزائی کی ہے اور چند ایک علمائے اہلِ سنت کو چھوڑ کر کسی کو اس کی تردید میں ایک لفظ تک کہنے یا لکھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ان مستثنیات میں سے ایک مولانا محمد عبدالرشید نعمانی، استاذ جامعہ اسلامیہ، بہاولپور ہیں جن کے ایک نا تمام سلسلہ مضمون کی چند قسطیں نبینات“ میں شائع ہوسکیں اور پھر اسے بند کر دیا گیا۔ اس مضمون کا عنوان تھا ” ناصبیت تحقیق کے بھیس میں ۔ “ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ماہنامہ بینات، رمضان ۱۹۸۲ء سے مولانا موصوف کی ایک عبارت نقل کر دوں،فرماتے ہیں:
"یہ محمود احمد صاحب عباسی کی بدنام کتاب ” خلافت معاویه و یزید" پر تنقید ہے۔ اس ملک میں رفض کا فتنہ قدیم سے تھا۔ باطنیہ و امامیہ سب پہلے سے موجود تھے۔ البته خوارج و نواصب کا ڈھونڈے سے بھی پتہ نہ تھا۔ لیکن عباس صاحب نے یہ کتاب لکھ کر اہل سنت میں ناصبیت کا تازہ فتنہ کھڑا کر دیا ہے۔ اب بہت سے لوگ ہیں جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اور یزید کے مقابلے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خاطی وغلط کار سمجھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب سے سوائے ضرر کے فائدہ کوئی مرتب نہ ہوا۔ روافض تو اپنی جگہ اور سخت ہو گئے لیکن اہل سنت کے اعتدال میں فرق آ گیا۔ بہت سے لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت راشدہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت میں شک کرنے لگے۔ آج تک کسی ایک رافضی کے متعلق بھی یہ نہیں بتلایا جا سکتا کہ وہ عباسی صاحب کی کتاب پڑھ کر تائب ہو گیا ہو،لیکن اس کےبرخلاف اس کتاب کےمطالعہ کرنےوالوں میں ایک اچھی خاصی تعداد ایسے لوگوں کی نکلے گی جو اس جھوٹ کے پلندہ کو صحیح سمجھ کر حضرت علی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے اپنے دلوں کو صاف نہ رکھ سکے۔ اس کتاب نے سادہ لوح عوام نہیں ، اچھے خاصے پڑھے لکھے طبقے کو متاثر کیا ہے جن میں عربی مدارس کے بھی بہت سے فارغ التحصیل شامل ہیں۔ جن لوگوں کو دسترس موضوع کتاب کے اصل ماخذ تک نہیں وہ اس کو تحقیق اور ریسرچ کا ایک نادر شاہکار سمجھتے ہیں اور یہ سب کچھ نتیجہ ہے اس بات کا کہ اب مسلمان من حیث القوم علوم اسلامیہ سے نابلد ہو گئے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ روافض کے سب وشتم سے لوگ تنگ آئے ہوئے تھے۔ ایسے میں یہ کتاب شائع ہوئی جس میں حضرت علی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے موقف پر اس سےکہیں زیادہ سلجھے ہوئے اور بسنجیده انداز میں جرح کی گئی تھی جور وافض کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے موقف کو مجروح کرنے میں عام روش ہے، اس لیے ردعمل کے طور پر بہت سے لوگ عباسی صاحب کے اس طرز عمل سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ حالانکہ تمام اہل سنت اس پر متفق ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد تھے اور جو لوگ ان سے برسر جنگ رہے وہ خطا پر تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیعت نہ کر کے غلطی کی اور وہ خلیفہ راشد نہ تھے۔ ان کا بیٹا یزید ظالم و جابر حکمران تھا اور حضرت حسینؓ ، حضرت عبد اللہ بن زبیر اور وہ تمام صحابہ کرام جو جنگ حرہ میں شہید ہوئے اور جنہوں نے یزید کے تسلط واقتدار کو برہم کرنے کی کوشش کی وہ سب حق کے داعی اور خیر کے علمبردار تھے۔ مگر اس کتاب ( خلافت معاویہ و یزید ) کی تصنیف صرف ان ہی امور کی تردید کے لیے عمل میں آئی ہے اور اس کے مطالعہ سے اہل سنت کا یہ نقطۂ نظر صریح طور پر غلط معلوم ہوتا ہے اور یہی ناصبیت کا عین منشاء ہے ۔“
حقیقت یہ ہے کہ ناصبیت جدیدہ جسے ہمارے بعض علماء واہل مدرسہ تقویت بهم پہنچار ہےہیں، یہ ناصبیت قدیمہ سے بھی بازی لے گئی ہے۔ پرانی ناصبیت کے علمبرداروں کی یہ جرات نہیں تھی کہ وہ حضرت علیؓ کی خلافت کے انعقاد کا علی الاعلان انکار کرتے یا ان کی سیرت کو داغدار کر کے پیش کرتے۔ اس لیے وہ بس امیر معاویہ کے فضائل و مناقب میں مبالغہ آمیزی کرنے پر اکتفا کرتے تھے۔ چنانچہ شیخ محمد بن احمد سفارینی اپنی تصنیف لوامع الانوار البهیه و سواطع الاسرار لاثر یہ میں امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے عبداللہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
” میں نے اپنے والد امام احمد بن حنبل سے حضرت علی اور حضرت معاویہ کے متعلق سوال کیا تو کہنے لگے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت علی کے دشمن بہت تھے۔ انہوں نے حضرت علی میں کوئی نقص تلاش کیا مگر نہ پا سکے تو یہ لوگ ایک ایسے شخص (یعنی امیر معاویہ) کی طرف متوجہ ہوئےجس نے حضرت علی سے جنگ و جدال کیا تھا اور ان اعدائے علی نے امیر معاویہ کی تعریف بڑھا چڑھا کر کی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف ایک چال تھی ۔“
لیکن عہد جدید کے ناصبیوں کا اور ان کے ہمنواؤں کا حال یہ ہے کہ وہ علانیہ حضرت علیؓ کی خلافت کو مشتبه و، غیر منعقد اور ناکام ثابت کرنےاور انہیں طالب اقتدار اور شورش پسندوں کا آلہ کار بنا کر دکھانےکی مذموم جسارت کر رہےہیں اور اس کےبالمقابل نہ صرف حضرت معاویہؓ کو صلواۃ اللہ علیہ خلیفہ راشد اور امام معصوم بنا کر پیش کر رہے ہیں بلکہ یزید، مروان ، اور حکم کو بھی رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کے زمرہ مبشرہ میں داخل کر رہے ہیں۔
اب بعض سنی حضرات ( خواہ وہ شفی و دیوبندی ہوں یا اہل حدیث ہوں ) ، جومولا ناسید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ” خلافت و ملوکیت کے خلاف اتنی ہنگامہ آرائی دخامہ فرسائی کر چکےہیں اور کر رہے ہیں اور جو کہتے ہیں کہ سارا جھگڑا اسی کتاب سے پیدا ہوا، ان سے بجاطور پر یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ فرض کیا اس بے بنیاد الزام کو تسلیم کر لیا جائے کہ اس کتاب سے صحابہ کرام کی توہین اور رافضیوں کی تقویت کا سامان ہو گیا، لیکن اس سے پہلے یہ جو رافضیت سے بدتر ناصبیت کا پورا آپ کے زیر سایہ برگ و بار لا رہا ہے اور پھل پھول رہا ہے، یہ بھی آپ کے نزدیک، فتنہ کی تعریف میں آسکتا ہے یا نہیں؟ اگر آ سکتا ہے تو اس کے خلاف آپ نے کتنا زور لگایا ہے؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ عباسی صاحب کی کتاب مذکور کا مواد ۵۷-۱۹۵۶ء میں دو سال تک کراچی کے ماہنامہ تذکرہ میں شائع ہوتا رہا جس کے مدیر مضمون نگار وغیرہ بیشتر دیوبندی علماء تھے ۔ مولانا مودودی کی کتاب اس سے کہیں دس سال بعد جا کر چھپی ہے۔ اس پورے عرصے میں صرف چند اصحاب ( مثلاً مولانا محمد طیب صاحب، مولانا عبد الرشید نعمانی صاحب) کو چھوڑ کر ا کثر علماء بالکل خاموش رہے ہیں۔ لیکن خلافت و ملوکیت کا سلسلہ مضامین جو نبی شائع ہونا شروع ہوا، تو فضا میں اچانک حرکت پیدا ہوگئی۔ سنتی و ناصبی سب گلے مل گئے اور مولانا مودودی کی مخالفت میں یک زبان ہو گئے۔۔
"خلافت و ملوکیت" کا مواد تر جمان، ۶۵ء میں شائع ہونا شروع ہی ہوا تھا کہ اس کےخلاف عباسی صاحب نے ایک کتاب ” فوات“ لکھکر چھاپ دی جسےتین سال بعد "حقیقت خلافت و ملوکیت کےنام سےاضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا اس کے علاوہ عباسی صاحب،ان کےبہتی ہےاور ان کے بعض اعوان و انصار نےاپنےافکار و نظریات کی اشاعت کےلیے متعدد دیگر کتب و رسائل لکھنےاور طبع کرائے ہیں۔ اس فتنے کی ئے یہاں تک بڑھی ہے کہ ان میں سے ایک شخص محمد دین بٹ نے اپنی کنیت ابو یز ید رکھ کر رشید ابن رشید امیرالمومنین سید نا یزید رضی اللہ عنہ کےنام سےایک کتاب شائع کر دی ہےاس تحریک کا ایک مقصد تو وہی ناصبیت تھا، جس کی .تقویت کے لیے کتاب و سنت کےنصوص صریحه سےتو اعراض و انکار کیا گیا مگر اپنےمطلب کےلیےجو رطب و یا بس،حتی کہ شیعوں، قادیانیوں، اسماعیلیوں، یہود و ہنود اور نصاریٰ تک کے جو اقوال مل سکے انہیں اپنی تحریروں میں جمع کر دیا گیا مگر ان لوگوں کا ایک دوسرا مقصد بھی تھا اور وہ یہ تھا کہ پاکستان کے ہر ظالم و جابر حکمران کی چاپلوسی کی جائے اور یہاں استبداد و آمریت کی جڑیں مضبوط کی جائیں، چنانچہ میں بطور ثبوت عباسی صاحب کی ایک کتاب سے ایک نمونہ پیش کرتا ہوں تحقیق مزید به سلسلۂ خلافت معاویہ و یزید ص ۲۳۸ پر وہ لکھتے ہیں:
"اسلامی تاریخ میں شاید یہی ایک قابل تقلید مثال مفادات امت کےپیش نظر بغیر خونریزی کے سیاسی انقلاب پیدا کرنے کی ہے جو فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں میں عمل میں آیا۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ان حضرات کو کہ اس طرح اسوہ عثمانی پر عمل تو ہو سکا۔“
محمود عباسی وغیرہ کی خرافات و ہفوات سے ہمارے علماء اور حفظ لماء او تعظیم صحابہ کے علمبرداروں نے صرف اغماض ہی نہیں برتا، بلکہ اسے ریسرچ اور تحقیق انیق قرار دے کر اپنے رسالوا ، میں ان کو خراج تحسین پیش کیا، ان کی کتابوں کے اشتہار دیئے ، فروخت کیا اور ان کی تصانیف پر تقریظات لکھیں ۔ مثال کے طور پر علی احمد عباسی کی کتاب ”حضرت معاویہ کی سیاسی زندگی کےشروع میں مولانا احتشام الحق صاحب تهانوی نے تعارف رقم فرمایا ہے۔ یہ کتاب جب شیعوں کے شور مچانے پر منبط ہوئی تو حکیم محمود احمد ظفر صاحب سیالکوٹی نے اس کتاب کا ہو بہو چہ بہ بلکہ سرقہ کر کےایک کتاب ”سیدنا معاویہ شخصیت اور کردار تیار کر لی اور چھاپ ڈالی جس کا تعارف مولانا امین احسن صاحب اصلاحی نے تحریر کیا ہے۔ اس کتاب کا ذکر عباسی صاحب نے شکریہ وشکوہ کے جن ملے جلے جذبات کے ساتھ کیا ہے ، ان کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ ہوں :
’ حضرت معاویہ کی سیاسی زندگی مولفہ پروفیسر مولوی علی احمد عباسی سلّم، معرکۃ الآرا کتاب پہلے چھپی تھی۔ اس مضمون پر ایک اور کتاب حکیم محمود احمد ظفر کی مولفہ شائع ہوئی ہے، سیدنا معاویہ شخصیت و کردار،جس کےسری مطالعہ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ظفر صاحب نےحضرت معاویہ کی سیاسی زندگی کی کتاب سےاستفادہ ہی نہیں، بلکہ اسےسامنےرکھ کر اپنی کتاب مرتب کر ڈالی، قدرے لفظی تغیر کے ساتھ عنوانات بھی اسی طرح کے اور مضمون بھی اکثر د بیشتر وہی ۔ یہ صاحب کراچی آکر راقم الحروف سےکئی بار ملے، اپنا عندیہ ظاہر کر دیتے۔اپنی اور اپنےبھتیجےکی کتاب سےمواد لینے کی اجازت بڑے شوق سے دے دی جاتی ،کیونکہ مقصد تو تحریک کی اشاعت ہے، یوں بلا اجازت مضامین نقل کر کے کتاب مرتب کر لینا کہاں تک مناسب ہے؟اسی بحث پرابو یزید محمد دین بٹ کی کتاب رشید ابن رشید اچھی تالیف ہے، نیز کتابچہ "معارف کی کتاب رشید یزید" بھی۔
ان حکیم محمود احمد صاحب کےبارے میں اتنی مزید وضاحت مناسب ہے کہ ان کا تعلق باری باری سے ہزاروی جمعیت علماء اور مرکز جمعیت علماء اسلام سے ہو رہا ہے اور ان کے مضامین ان کے رسائل میں شائع ہوتے رہے ہیں۔
مولانا مودودی کی کتاب آنے سے پہلے بھی خیریه حضرات فتنہ ناصبیت کےسرغنوں کی پیٹھ ٹھونک ہی رہے تھے لیکن ” خلافت و ملوکیت چھپنے کےبعد تو یہ حیرت خیز اور عبرت انگیز صورت حال سامنےآئی کہ یہ سنی حضرات عباسی کےاسلحہ خانہ سےسارے ہتھیار مستعار لے کر یا چرا کر مولانا مودودی پر پل پڑے۔ کوئی شخص اگر ان ناصبیوں اور نام نہادسیوں کی ان ساری تحریروں کو بغور پڑھے جو انہوں نے بزعم خویش صحابہ کرام کی مدافعت اور مولانا مودودی کی مخالفت میں لکھی ہیں تو ان میں کم و بیش یکساں مشترک مواد پھیلا ہوا اور ایک ہی زبان بولتی ہوئی نظر آئےگی۔ان میں سے بعض نے اپنے استدلال کی تائید میں عباسی صاحب کی کتابوں کا نام بھی درج کیا ہے اور بعض نے اس کے دلائل کو اپنے لفظوں میں ایک نئی تحقیق بنا کر پیش کیا ہے۔ بعض ان میں سےعباسی صاحب کے ایسے تابع مہمل بھی ہیں کہ عباسی نے اگر کوئی غلط عبارت مولانا مودودی کے سر منڈھ دی ہے، تو نقل میں عقل سے کام لیے بغیر وہی عبارت اسی طرح دوسرے صاحب نے مولانا کی طرف منسوب کر دی اور اصل سے مراجعت و تحقیق کی توفیق نہیں ہو سکی ۔(١)
مولانا مودودی کی کتاب ” خلافت و ملوکیت کا اصل اور مرکزی موضوع اگر چہ کتاب وسنت کا نظریہ سیاست اور خلافت راشدہ کی حکومت ہےتاہم اس کےچند صفحات اس بحث پر بھی مشتمل ہیں کہ خلافت کےملوکیت میں تبدیل ہو جانے کے تاریخی وجوہ کیا تھے۔ اس طرح ظاہر ہے کہ اس کتاب کی زد عباسی صاحب کے ملحدانہ و مبتدعانہ نظریات پر بھی پڑتی تھی۔ وہ آخر اس کتاب کی چوٹ اپنے اوپر کس طرح محسوس نہ کرتے جب کہ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں اگر کوئی شخص ہے جس کا انتخاب بالکل پہلی بار امت کے عام استصواب سےہوا تو وہ امیر المومنین یزید ہیں۔(٢) لیکن ان علمائےاہل سنت کی روش بڑی تعجب خیز ہےجو عباسی صاحب کی ہاں میں ہاں ملا رہےہیں۔بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہےکہ یه علماء بیک کرشمه دو کار انجام دینا چاہتے ہیں اور ایک ہی حربے سے ایسا وار کرنا چاہتے ہیں جس سے خلافت و ملوکیت کا مصنف بھی مجروح و مطعون ہوا اور ناصبیت و یزیدیت کی تحریک بھی مقبول و محبوب ہو۔ حضرت علی، حضرت حسین ، اور حضرت ابن زبیر نا کام و نا اہل نظر آئیں، امیر معاویہؓ ، ویزید اور مروان کامیاب و کامران قرار پائیں اور تصویر کا یہ رخ پیش کرنے والے نہ صرف سنی کے سنی ہی رہیں، بلکہ تحقیق و تدقیق اور صحابہ کی تعظیم کرنے والے کہلا ئیں۔
(١) مثال کے طور پر عادلانہ دفاع طبع اول ، جلد دوم کا ص ۳۹۱ ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے: " مودودی صاحب لکھتے ہیں اور بغض معاویہ میں جل بھن کر لکھتے ہیں اس کے بعد ترجمان القرآن، منصب رسالت نمبر ۲۴۵ سےایک عبارت نقل کر کےخوب جلی کئی سنائی گئی ہیں۔ اب حقیقت یہ ہے کہ یہ منقولہ عبارت مولانا مودودی کی نہیں ہے، بلکہ یہ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا ٹکڑا ہے جو جسٹس محمد شفیع کا تحریر کردہ ہے اور جس کا ترجمہ راقم نے کیا ہے۔ اس پر نہایت جلی عنوان ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے : ”عدالت عالیہ مغربی پاکستان کا ایک فیصلہ ( ترجمه از غلام علی) اس کے باوجود عباسی صاحت نےاسے مولانا مودودی کی عبارت بنا کر درج کیا اور اس پر مولانا مودودی کو جی بھر کر کو سا۔ پھر "عادلانہ دفاع" کے مؤلف نے لکھی پر مکھی مارتے ہوئے وہی کچھ کیا جو عباسی نے کیا تھا مگر یہ نہ بتایا کہ ان کا ماخذ بھی عباسی صاحب ہی کی کتاب ہے اور منصب رسالت نمبر انہوں نے نہیں دیکھا۔
۲۰ ملاحظہ ہو "خلافت معاویه و یزید" طبع دوم ص ۳۸۔ مزید واضح رہے کہ شیعوں نے بھی ایک کتاب امامت و ملوکیت بجواب خلافت و ملوکیت چھاپی ہے جس میں خلافت و ملوکیت کو شیعیت کے لیے زہر قاتل قرار دیا گیا ہے۔
بہر کیف یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ یہ حضرات اس ضلالت کی روک تھام کرنے کےبجائےاپنا پورا زور اس کتاب کی تردید و تغلیط پر لگا رہے ہیں جسے ناصبیت کے پرچارک اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ ساری ہنگامہ آرائی اور غوغہ سرائی جو سالها سال سے جاری ہے، ہم اب تک اس کے بالمقابل خاموش رہے ہیں، خیال یہ تھا کہ شاید یہ طوفان و عدوان کسی آخری حد تک جا کر رک جائے لیکن بظاہر اس حد کا کوئی جز رنظر نہیں آرہا اور معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ کہیں رک نہیں سکے گا۔ اس لیے میں نے مجبور ہو کر بادلِ ناخواستہ اللہ کا نام لےکر قلم اٹھایا اور تبصرہ و تجزیہ کےلیےاس سلسلہ مضامین کو منتخب کیا جو مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کےصاحبزادے محمد تقی صاحب عثمانی نے اپنےرسالے”البلاغ میں محرم ۱۳۸۹ہ سےشروع کیا تھا۔ مفتی صاحب موصوف کا ہمارے دینی حلقوں میں ایک خاص مقام ہے، اس لیے جو آواز غیر متوقع طور پر ان کے گھر سے اٹھی اور بظاہر استدلالی رنگ لیے ہوئی تھی ، وہ حقیقت حال سے ناواقف مسلمانوں کی رائے کو مولانا مودودی کے خلاف متاثر کر سکتی تھی۔ جن لوگوں کی تقریری وتحریری مہم نری دشنام طرازی پر مشتمل تھی، ان کی باتوں میں تاثیر کی صلاحیت ناپید تھی ، اس لیے ہم نے انہیں قابل اعتناء نہیں سمجھا اور ان کے مقابلے میں کبھی باقاعدہ حریف مناظرہ بنے کی کوشش نہیں کی لیکن ۱۹۶۸ء کے اواخر میں مجھے کراچی، سرحد اور کچھ دوسرے مقامات کے بعض دوستوں کے ذریعے سے معلوم ہوا کہ جو علمائے کرام مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کےخلاف سرگرم رہتے ہیں،وہ ان دنوں بہت مسرور ہیں ۔ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ عنقریب مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کے ہاں سےایک ایسی چیز منظر عام پر آنے والی ہے جو مولانا مودودی کا سارا بھرم کھول کر رکھ دے گی۔ ان کےبعض دوسرے مخالفین کے اعتراضات اپنے سوقیانہ پن اور مخش کلامی کے باعث مؤثر نہیں ہو سکے،لیکن جو تنقید اب آ رہی ہے، وہ بڑی سنجیدہ و مدلل ہے۔
بہر کیف یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ یہ حضرات اس ضلالت کی روک تھام کرنے کےبجائےاپنا پورا زور اس کتاب کی تردید و تغلیط پر لگا رہے ہیں جسے ناصبیت کے پرچارک اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ ساری ہنگامہ آرائی اور غوغہ سرائی جو سالها سال سے جاری ہے، ہم اب تک اس کے بالمقابل خاموش رہے ہیں، خیال یہ تھا کہ شاید یہ طوفان و عدوان کسی آخری حد تک جا کر رک جائے لیکن بظاہر اس حد کا کوئی جز رنظر نہیں آرہا اور معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ کہیں رک نہیں سکے گا۔ اس لیے میں نے مجبور ہو کر بادلِ ناخواستہ اللہ کا نام لےکر قلم اٹھایا اور تبصرہ و تجزیہ کےلیےاس سلسلہ مضامین کو منتخب کیا جو مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کےصاحبزادے محمد تقی صاحب عثمانی نے اپنےرسالے”البلاغ میں محرم ۱۳۸۹ہ سےشروع کیا تھا۔ مفتی صاحب موصوف کا ہمارے دینی حلقوں میں ایک خاص مقام ہے، اس لیے جو آواز غیر متوقع طور پر ان کے گھر سے اٹھی اور بظاہر استدلالی رنگ لیے ہوئی تھی ، وہ حقیقت حال سے ناواقف مسلمانوں کی رائے کو مولانا مودودی کے خلاف متاثر کر سکتی تھی۔ جن لوگوں کی تقریری وتحریری مہم نری دشنام طرازی پر مشتمل تھی، ان کی باتوں میں تاثیر کی صلاحیت ناپید تھی ، اس لیے ہم نے انہیں قابل اعتناء نہیں سمجھا اور ان کے مقابلے میں کبھی باقاعدہ حریف مناظرہ بنے کی کوشش نہیں کی لیکن ۱۹۶۸ء کے اواخر میں مجھے کراچی، سرحد اور کچھ دوسرے مقامات کے بعض دوستوں کے ذریعے سے معلوم ہوا کہ جو علمائے کرام مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کےخلاف سرگرم رہتے ہیں،وہ ان دنوں بہت مسرور ہیں ۔ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ عنقریب مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کے ہاں سےایک ایسی چیز منظر عام پر آنے والی ہے جو مولانا مودودی کا سارا بھرم کھول کر رکھ دے گی۔ ان کےبعض دوسرے مخالفین کے اعتراضات اپنے سوقیانہ پن اور مخش کلامی کے باعث مؤثر نہیں ہو سکے،لیکن جو تنقید اب آ رہی ہے، وہ بڑی سنجیدہ و مدلل ہے۔
اس کے چند ماہ پہلے ماہنامہ البلاغ میں اشتہار آیا، پھر وہ موعودہ سلسلۂ مضامین ”حضرت معاویہ اور خلافت و ملوکیت" کے زیر عنوان جاری ہو گیا جس کی آمدسنی جا رہی تھی۔ساتھ ہی یہ بینات اور دوسرے پر چوں میں جلی عنوانات کے تحت نقل ہونا شروع ہو گیا، حتی کہ ہندوستان میں جمعیت علمائے ہند کے ترجمان ”الجمعیت میں بھی اس کی قسطیں چھپنا شروع ہو گئیں۔ نیچے پرانی مہم کونئی زندگی مل گئی اور ملک بھر بلکہ بیرون ملک سے بھی ہم سےیہ مطالبہ کیا جانےلگا کہ اس تنقید و تردید کی حقیقت واضح کی جائے۔ خلافت و ملوکیت کی جن عبارتوں کو البلاغ میں ہدف بنایا گیا، وہ ساڑھےتین سو سےزیاد صفحات کی کتاب میں صرف تیرہ چودہ صفحے۔ لیکن ”البلاغ‘ میں اسے مسلسل آٹھ ماہ تک موضوع بحث بنایا گیا۔ آغاز میں طرز بحث مقابلہ گوارا اور معقول تھا لیکن بتدریج اس میں جارحیت کا رنگ نمایاں ہوتا چلا گیا حتی کہ صریح مغالطہ انگیزی سےبھی اجتناب نہ کیا گیا۔ دو ڈھائی ماہ توقف کےبعد مجبوراً میں نے بھی ترجمان القرآن میں اسی عنوان کے تحت ایک سلسلہ مضامین لکھنا شروع کیا جس میں ہر الزام واعتراض کا شافی جواب دے دیا۔اُسی وقت اکثر احباب و قارئین کا تقاضا ہوا کہ میں جوابی بحث کو کتابی شکل میں شائع کر دوں۔ لیکن میں نےاسے مناسب نہ سمجھا اور اپنے آپ کو اس سے فارغ اور خالی الذہن کر کے بالکل خاموش ہو گیا مگر افسوس کہ دوسری طرف خاموشی کے بجائے جوابی تیاری ہوتی رہی اور آٹھ ماہ گزر چکنے کے بعد مارچ اے میں پھر ایک اٹھاسی (۸۸) صفحات کا البلاغ کا ایک خصوصی نمبر آ گیا جو میری تردید کےلیےوقف تھا۔ اس میں طنز و تعریض اور اکثر و بیشتر سابقہ مزعومات کی تکرار کے ماسوا کچھ نہ تھا۔میرے بیان کردہ شواہد و دلائل اور میرے اٹھائے ہوئے سوالات سے شاذ ونادر ہی تعرض کیا گیا تھا۔ تاہم میں نے ضرورت محسوس کی کہ اس تعاقب کا بھی نوٹس لوں۔ چنانچہ میں نے پھر اس خصوصی نمبر پر ایک تبصرہ لکھنا شروع کیا جس کی پانچ اقساط جولائی اے تک ترجمان میں چھپتی رہیں۔
میری یہ بحث تشنہ تکمیل ہی تھی کہ ماہنامہ بینات میں بھی میرے خلاف خامہ فرسائی شروع ہوگئی۔ میں نے اپنے مضامین میں کہیں ضمنا مروان کے ملعون ہونے کا ذکر کر دیا تھا۔ مروان چونکہ تمام ناصبیوں کا روحانی پیشواء اور مورث اعلیٰ ہے اس لیے کہنا چاہیے کہ بھولے سے میرا ہاتھ ناصبیت کی دکھتی رگ پر جالگا۔ سب سے پہلے مروان کے دفاع میں بولنا تو عباسی صاحب کو چاہیےتھا لیکن ان کا جادو جب ہمارے علمائے اہل سنت کے سر پر چڑھ کر بول رہا ہو، تو عباسی صاحب کو زیادہ فکر کیوں لاحق ہو ۔ چنانچہ بینات کو اس معاملے میں سبقت کا شرف حاصل ہوا اور اس کے ربیع الثانی اوساھ کے شمارے میں مروان کی وکالت کی گئی۔ اس لیے میں نے البلاغ پر تبصرے کو ملتوی کرتے ہوئے اگست ٧١ کے ترجمان القرآن میں ” مروان اور اس کے باپ کا مقام حدیث اور اقوال سلف کی روشنی میں واضح کیا۔ یہ بحث در بحث چونکہ کافی طویل ہو چکی تھی ، اس لیے میں نے ترجمان میں اسے ختم کر دیا۔ اس کے دو ماہ بعد اکتو برائے میں البلاغ کا پورا مواد ایک کتاب کی صورت میں حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق کے نام سے منظر عام پر آ گیا، اس لیے میرےمضامین سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے شدید اصرار پر اب میں بھی اپنی بحث کتابی صورت میں مرتب کر کے پیش کر رہا ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ البلاغ اور دوسرے معترضین کا محض جوابی تعاقب نہیں ہے، بلکہ اس میں اسلامی نظام حکومت، اسلامی نظام عدل و شہادت، اسلامی قانونِ بغاوت، عدالت صحابہ، رجال حدیث کی جرح و تعدیل، ولایت عہد اور اس طرح کےدوسرےمتعدد علمی و قانونی مسائل پر نہایت مفید اور مثبت مواد بحث جمع ہو گیا ہےخلافت و ملوکیت پر اس سلسلہ بحث سے پہلے بھی میرے بعض مضامین اور سوال وجواب ترجمان میں ایسے شائع ہوئےتھے جن کا ربط و تعلق اس موضوع سے تھا، اس لیے انہیں بھی شامل کتاب کر دیا گیا ہے۔
مجھے امید ہے کہ جو شخص بھی سوئےظن اور تعصب و تحب سےبچتےہوئےمولانا مودودی کی تصنیف خلافت و ملوکیت کےساتھ میری کتاب ملا کر پڑھےگا،اسلامی نظریۂ سلطنت پوری طرح اس کی سمجھ میں آجائےگا اور خلافت علی منہاج النبوت اور ملوکیت کا فرق اس پر بخوبی واضح ہو جائےگااس مطالعہ کےبعد ہر انصاف پسند مسلمان خود فیصلہ کرسکتا ہےکہ فتنہ ہم نےپھیلایا ہےیا اس تحریک کےعلمبرداروں نےپھیلایا ہےجو علی الاعلان یہ کہہ رہےہیں کہ اسلام ہمیں سرےسےکوئی نظریۂ خلافت و سیاست دیتا ہی نہیں خلافت و ملوکیت میں کوئی فرق و امتیاز ہےہی نہیں،جو شخص جس طرح چاہےحکومت حاصل کرلےاور جس طرح چاہےاسےچلائےاسلام سب کوسندجواز عطاکرتا ہےابوبکر کوایک غیر نمائندہ اجتماع میں خلیفہ بنا دیا گیاتھا علی کی خلافت سرےسےمنعقد ہی نہیں ہوئی تھی، وہ خلیفہ نہ تھےبلکہ طلب خلافت کےلیےلڑتےرہےحسین نے"امیر المومنین یزید کےخلاف خروج کیا اور اپنے نانا کے فرمان کے مطابق انہیں قتل ہونا ہی چاہیےتھا۔ان باتوں سےاسلام کے تصور خلافت کی جو مٹی پلید کی جارہی تھی ، اور نئی نسل کےذہن کو اسلام کے سیاسی نظام کے متعلق جن الجھنوں میں مبتلا کیا جارہا تھا،اس کی اصلاح کی ضرورت کسی بزرگ نےمحسوس نہ کی لیکن ہماری خبر لینےمیں اوران یزیدیوں، خارجیوں اور ناصبیوں کو بلا واسطہ یا بالواسطہ تقویت پہنچانے میں بہت سے سنی سرگرم ومستعد ہو گئے ۔
جناب محمد تقی صاحب عثمانی مدیر البلاغ ، جن کے اعتراضات کا جواب میرا اصل موضوع ہے، انہوں نے بھی دوسروں کی طرح اس کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے کہ مولانا مودودی کی کتاب کا اصل موضوع بحث کیا ہے اور اس کو نظر انداز کر کے کتاب کی ایک ضمنی بحث کو ہدف تنقید بنا لیا ہے، حالانکہ اگر اس ضمنی بحث میں کوئی چیز غلط بھی ہو تو اس کا کوئی اثر اس اصل مسئلے پر نہیں پڑتا جس پر خلافت و ملوکیت میں کلام کیا گیا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام میں خلافت کس چیز کا نام ہے؟ خلافت اور ملوکیت میں فرق کیا ہے؟ اسلام کا اصل نظامِ سیاست ان دونوں میں سے کون سا تھا؟ اصل نظام میں تغیر اور خلافت سے ملوکیت کی طرف انتقال کب اور کیسے ہوا اور اس انتقال س جو دوسر انظام (یعنی نظام بادشاہی ) قائم ہوا اس میں اور نظام خلافت میں وجوہ امتیاز کیا تھے؟ پھر اہل سنت نے اس دوسرے نظام کو اگر قبول کیا تو کس معنی میں کیا؟ آیا یہ قبولیت کسی مصلحت کی بنا پر تھی یا اس بنا پر کہ یہ دونوں نظام اہلِ سنت کے نزدیک یکساں صحیح اور مقبول اسلامی نظام تھے؟ یہ وہ مسئلہ ہے جس سے ہر اس شخص کو سابقہ پیش آتا ہے جو اسلامی تاریخ اور اسلامی نظامِ سیاست کا مطالعہ کرتا ہے۔ عربی مدارس کے ماحول میں اس سے صرف نظر کیا جاسکتا ہے، لیکن اس ماحول سےباہر کی دنیا میں ، جہاں اس وقت مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے متعلق علمی اور عملی حیثیت سے نہایت دور رس نتائج رکھنے والے فیصلے ہو رہے ہیں، اس مسئلے کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ خلافت وملوکیت میں ساری بحث اس مسئلے پر کی گئی ہے۔
اب اگر کسی شخص کو اُن نتائج اور دلائل و شواهد سے اختلاف ہے جواب کتاب کے مصنف نے پیش کیے ہیں، اور وہ فی الواقع اس مسئلے میں اسلام کی کوئی علمی خدمت انجام دینا چاہتا ہے، تو اسے چاہیے کہ صرف نفی پر اکتفا نہ کرے بلکہ خود یہ بتائے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تصریح اور علمائے اہل سنت کی متفقہ رائے کے مطابق خلافتِ راشدہ کا دور حضرت علی کے عہد خلافت پر کیوں ختم ہو گیا ؟ اُس دور کے بعد آنے والے نظام کو خلافت کے بجائے ملوکیت کا نظام کیوں کہا گیا؟ حضرت معاویہؓ کو صحابی وفقیہ اور مجتہد ہونے کے باوجود خلفائے راشدین میں کیوں شمار نہیں کیا گیا اور علمائے اہلِ سنت خطبوں میں ان کا نام خلیفہ راشد کی حیثیت سے کیوں نہیں لیتے؟خلافت راشدہ اور ملوکیت کے نظام میں کیا فرق تھا جس کی بنا پر ایک کو خلافت راشدہ اور دوسرےکو ملوکیت کہا گیا ؟ خلافت سے ملوکیت کی طرف یہ انتقال کیا حضرت معاویہ کے زمانے میں نہیں ہوا تھا؟ اگر ہوا تھا تو آخر کیسے ہوا تھا؟ اور اس معاملے میں اہل سنت کا رد عمل کیا تھا؟ کیا وہ خلافت و ملوکیت دونوں کو یکساں اسلام کا نظامِ مطلوب سمجھتے تھے ، یا ان کے نزدیک اصل مطلوب خلافت تھی اور ملوکیت کو انہوں نے امت کی مصلحت کی خاطر ایک ناگزیر برائی کے طور پر قبول کیا تھا؟ یہ ہیں وہ اصل سوالات جن سےتعرض کرنے کی ضرورت ہے، تا کہ موجودہ دور کے فعال عناصر کےذہنوں کی الجھن کو دُور کیا جائے،اور انہیں واضح طور پر اسلام کا تصور خلافت سمجھایا جائے، اور وہ غلط فہمیاں رفع کی جائیں جن کی بنا پر وہ یہ مجھے لگے ہیں کہ خلافت کا نظام اشخاص و افراد کی کسی غلطی کی بنا پر نہیں بلکہ خود اپنی کسی نظریاتی داخلی کمزوری کی بنا پر نہیں چل سکا، اس لیے اس کے احیاء کا خیال ہی فضول ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ علمائے کرام میں سے کوئی صاحب بھی ان سوالات سےتعرض نہیں فرماتے اور جو صاحب بھی اٹھتے ہیں خلافت و ملوکیت کی ایک ضمنی بحث پر لے دےشروع کر دیتے ہیں ۔
مولانا عثمانی صاحب نے اس بات کو بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہے کہ مناقب صحابہ یا مشاجرات صحابہ سرے سے اس کتاب کا اصل موضوع بحث ہی نہیں ہے، بلکہ جن مسائل پر اس کتاب میں کلام کیا گیا ہے ان کے سلسلے میں یہ بحث ایک ناگزیرعلمی ضرورت کے طور پر آئی ہے،اور جو شخص بھی ان مسائل سے تعرض کرے گا اُسے لازماً اس بحث سے سابقہ پیش آئے گا۔ عثمانی صاحب بڑے ناصحانہ انداز میں اس پر اس طرح اعتراض فرماتےہیں کہ گویا خلافت و ملوکیت کا مصنف پہلا شخص ہےجس سے مشاجرات صحابہ کوزبان قلم پر لانے کا قصور سرزد ہوا ہے۔ حالانکہ پہلی صدی ہجری سے لے کر اس دور تک کسی نہ کسی علمی ضرورت کی بنا پر بکثرت محدثین ، شارحین حدیث، فقہاء، متکلمین، اور تاریخ اسلام کے مصنفین، جو سب کے سب اکابر اہل سنت میں شمار کیےجاتے ہیں، ان واقعات کو بیان کرتے رہے ہیں۔ اگر یہ فعل قابل اعتراض ہے تو پہلی مرتبہ یہ گناہ خلافت و ملوکیت کے مصنف ہی سے نہیں ہوا ہے۔ پھر آخر اس گناہ کے پچھلے مرتکبین کو مواخذہ سے کیوں بری کر دیا گیا؟ عثمانی صاحب چاہتے ہیں کہ اس معاملہ میں ابن خلدون کو حجت مان کربس اُس رائے پر اکتفا کیا جائے جو انہوں نے اپنے مقدمہ میں بیان کی ہے لیکن اول تو ابن خلدون نے خود اپنی تاریخ میں مشاجرات صحابہ کے واقعات بیان کرنے کا گناہ کیا ہے ۔معلوم نہیں عثمانی صاحب نے ان کی تاریخ بھی پڑھی ہے یا فقط مقدمہ ہی پڑھ کر فریفتہ ہو گئے ہیں۔ دوسرےاسلام کے تنہا ایک ہی فقیہ و محقق ابن خلدون نہ تھے ، دوسرے محققین بھی ہمارے سلف میں پائےجاتے ہیں جن کی رائے ابن خلدون سے مختلف ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہےکہ خلافت و ملوکیت کےمسئلےمیں ابن خلدون کی پوری بحث کو شاید عثمانی صاحب نےپڑھا اور سمجھا نہیں ہے،ورنہ وہ اسے سند قرار دینے کی جرات نہ کرتے کیونکہ اسےمان لینےسےاسلامی نظام سیاست میں بڑا گھپلا واقع ہوتا ہے۔ اس کی کچھ تفصیل یزید کی ولی عہد کی بحث میں آگے ملے گی۔
مدیر البلاغ نے اپنے سلسلہ مضامین میں اپنی تنقید کا نشانہ خاص طور پر ” خلافت و ملوکیت“کے اس حصے کو بنایا ہے جو حضرت امیر معاویہ سےمتعلق ہے، کیونکہ ان کے الفاظ میں مولانا مودودی ” حضرت معاویہ کےبارے میں انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئے ہیں جس سے لوٹنے کی اللہ تو فیق عطا فرمائے ۔انہوں نے پہلی مرتبہ اپنے مضامین میں اور دوبارہ اپنے خصوصی نمبر میں جو کچھ لکھا ہے، ظاہر ہے کہ میں اپنے جواب اور جواب الجواب میں ان کے تمام اعتراضات کی پوری عبارت کو من و عن اور لفظ بلفظ تو فل نہیں کرسکتا تھا، نہ اس کی ضرورت ہی تھی،تاہم میں نے اپنی حد تک پوری کوشش کی ہے کہ ان کےاستدلال و اعتراضات کا خلاصہ یا تو ان کے اپنے لفظوں میں دوں یا پھر ان کا صحیح مفہوم اپنے الفاظ میں ادا کر کے ان کا جواب دوں ۔ اس قسم کی بحث میں کسی نہ کسی حد تک نوک جھوک کا انداز لا زما پیدا ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے سارے مقامات کو از سر نو ادھیڑ کر دوبارہ لکھنا میرے لیے ممکن نہ تھا، تاہم میں نے بہت سی عبارتیں حذف کر دی ہیں یا بدل دی ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی بات غلط یا موجب خلش ہو تو میں اس کے لیے اللہ سے، عثمانی صاحب سے اور قارئین سے عفو و درگزر کا خواہاں ہوں۔
خدا جانتا ہےکہ اگر مولانا مودودی ایک نرےمصنف یا مفکر ہوتےیا ان پر غلط اعتراضات کا نقصان یا فائدہ انتک اور ان کےمعترضین کی ذات تک محدود رهتا تو میں اعتراضات صاف کرنےمیں اتنا وقت اور اتنی قوت صرف نہ کرتا۔ لیکن میں پوری دیانتداری سے یہ سمجھتا ہوں خواہ معترضین مانیں یا نہ مانیں، مولانا محترم نےہزاروں نہیں لاکھوں مسلمانوں کےدل و دماغ میں کتاب وسنت کی عظمت اور صحابہ کرام موسلف صالحین کی سچی محبت کا نقش ثبت کیا ہےاور انہیں کتاب و سنت اور خلافت علی منهاج النبوت پر مبنی نظام کے احیاء کےجذبےسےسرشار اور اس مقصد کےلیےسرگرم کارکیا ہے۔اس سےبڑھ کر کوئی جرم نہیں ہو سکتا کہ ایسے شخص پر تو ہین صحابہ،مسلک اہل سنت سے انحراف،اور رافضیت کی حمایت جیسےبھیا نک الزامات عائد کیے جائیں اور خلق خدا کو برگشتہ و گمراہ کرنے کی کوشش کی جائے۔اس لیے میں نے احقاق حق اور ابطال باطل ضروری سمجھا ہےمعترضین خواہ فتنہ معاصرت میں مبتلا ہوں یا غلو فی العقیدت کا شکار ہوں،دونوں صورتیں خیر سے خالی ہیں۔ شرک جس کی تردید یہ حضرات زبان سے بہت کرتے ہیں، وہ بھی غلط عقیدت ہی کی پیداوار ہے۔ پھر یہ کہنا کہ صحابہ کرام معصوم تو نہیں محفوظ ہیں اور ان سےخطا و گناہ کا صدور محال ہے، کیا یہ وہی عقیدہ نہیں جو شیعہ حضرات اپنے ائمہ معصومین کے بارےمیں رکھتے ہیں؟ قرآن وحدیث یا مسلک اہل سنت کا اقتضا یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہم امیر معاویہؓ کی ہر غلطی کو صحیح ثابت کریں اور ان کے ساتھ بنو امیہ کے ہر کس و ناکس کے ہر قول وفعل کی تحسین و تصویب کریں۔
"خلافت و ملوکیت" میں حضرت معاویہ کےبعض فیصلوں اور کارروائیوں سےجو اظہار اختلاف کیا گیا ہے، اس کی چونکہ مدیر البلاغ نے دو مرتبہ تردید و تغلیط کی سعی کی ہے، اس لیے میں نے بھی دو مرتبہ ان کا جواب دیا ہے۔ اسی وجہ سےجس طرح ان کی بحث میں تکرار تھی، میری جوابی بحث میں بھی بعض جگہ یہ صورت پیدا ہوگئی ہے، مگر بالعموم ایسا اُن مقامات پر ہوا ہے جہاں میں نےیہ دکھایا ہے کہ میں فلاں اعتراض کا جواب پہلے ان الفاظ میں دے چکا ہوں یا میں نے فلاں سوال کیا تھا جس کا جواب نہیں دیا گیا، اس لیے مجھے اپنا سوال دہرانا پڑ رہا ہے۔ اب میں نے اس طرح کے غیر ضروری اعادوں کو حتی الوسع حذف کرنے کی کوشش کی ہے۔ تا ہم اگر کہیں تکرار محسوس ہو، تو اس کی وجہ یہی ہے جو بیان کر دی گئی۔
مزید بر آن بیشتر مسائل پر چونکہ دو دومرتبہ بحث ہوئی ہے اس لیے میں نے ایک ایک مسئلےپر اپنی دو ہری بحث کے دونوں حصوں کو یکے بعد دیگرے ایک ہی جگہ جمع کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر مسئلہ تو ریث مسلم من الکا فریا مسئله سب وشتم پر جو کچھ پہلی اور پھر دوسری مرتبہ لکھا تھا اسے یکجا کر دیا گیا ہے۔ ان دو گونہ جوابات میں سے ہر ایک کو دوسرے میں ضم کر کے بالکل ایک مربوط بحث بنا دینا مشکل تھا، اس لیے انہیں بھی بڑی حد تک اصل حالت میں رہنے دیا گیا ہے، البتہ کچھ ناگزیر رد و بدل کر دیا گیا ہے۔
"خلافت و ملوکیت" کے فاضل مصنف نے اپنے استدلال کو محکم و موکد کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ ایک ایک بات کے حق میں متعدد کتابوں کے حوالے حاشیے میں درج کر دیئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کتابوں میں سے ہر ایک کی عبارت یا اس کا لفظی ترجمہ الگ الگ دینا ممکن نہ تھا۔اس لیےانہوں نےسب کا ایک مشترک مفہوم و خلاصه اپنی کتاب کےمتن میں بیان کر دیا ہےمخالفین نےاسطرز تلخیص پر بھی اس غلط اعتراض کی گنجائش پیدا کر لی ہے کہ خلافت و ملوکیت میں منقولہ مواد اصل مراجع کے مطابق نہیں ہے۔ میں نے اپنی حد تک ایسے اعتراضات کا سد باب کرنے کے لیے حتی الوسع یہ کوشش کی ہے کہ ایک مقام پر ایک سے زاید حوالے نہ دوں اور حوالہ عربی یا فارسی کتاب سے ہو تو متن مع ترجمہ درج کروں ۔ ہر کتاب کے مطبع ، مقام اشاعت اور سن طباعت کا بھی حوالہ دے دیا ہے تا کہ ہر شخص ہر بات کی بآسانی تحقیق کر سکے۔ البته کتب حدیث و شروح حدیث کے حوالے دیتے ہوئے میں نے کتب وابواب کا عنوان دیا ہے تا کہ ہر صاحب علم مطلوبہ حدیث ہر ایڈیشن میں خود نکال کر دیکھ سکے اور وہ خاص ایڈیشن نہ تلاش کرتا پھرے جو میرے سامنے تھا۔
میں اگر چہ علم و تقویٰ سے تہی دامن ہوں ، تاہم میں نے جو کچھ لکھا ہے، اللہ سے ڈرتےہوئے لکھا ہے، پچاسوں کتابوں اور ہزاروں صفحات کا مطالعہ کر کے لکھا ہےمطالعہ کے دوران میں امیر معاویہ اور بعض دوسرے صحابہ کرام کے متعلق بعض ایسے اقوال میری نظر سےگزرےجو ان باتوں سےشدید تر اور تلخ تر تھے جو مولانا مودودی یا میرے قلم سے نکلے ہیں اور یہ اقوال ایسےایسے جلیل القدر ائمہ اہل سنت کے ہیں جن کے علم وفضل اور زہد دورع سے ہمیں اور ہمارےمعترضین کو دُور کی نسبت بھی نہیں ہو سکتی ، لیکن میں نے ان میں سے اکثر سے صرف نظر کرتےہوئے صرف چند اقوال وضاحت مدعا کے لیے پیش کیے ہیں۔پھر بھی اگر کسی کے حُسنِ عقیدت یا علمیت کو میری کسی بات سے ٹھیس پہنچے یا کوئی صاحب انہیں اپنے صحیح محل پر محمول کرنے کے بجائے بدستور انہیں نزاع وخلاف کا ذریعہ بنائیں تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم سب کو فتنہ وشر سےبچائے اور ہماری فکر ونظر کی خامیوں کی خود ہی اصلاح فرمائے ۔ آمین !
آخر میں راقم عاجزان تمام دوستوں،بزرگوں اوراس بحث سےدلچپسی رکھنےوالے ناظرین کا شکر گزار ہے،جنہوں نےمیری ہمت افزائی کی،مفید مشوروں سےنوازا،بعض مسائل میں تائید مواد کی نشان دہی کی اور بعض کتابیں بھی عاریہ مرحمت فرما ئیں ۔ بالخصوص میں محبت مکرم جناب ریاض الحسن صاحب نوری ، ایم اے کا بہت ممنون ہوں جنہوں نے مجھے بے شمار کتب مهیا کرنےکی زحمت اٹھائی۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی و امت معالیه نے اگر چہ اس بحث میں دلچسپی نہیں لی اور نہ ان کی مصروفیت ، علالت اور ان کی افتاد طبیعت کے پیش نظر ان سےایسی توقع کی جاسکتی تھی مگر میں اس لحاظ سےان کا بھی احسان مند ہوں کہ انہوں نے کم از کم اپنے کتب خانےسےاستفادےکی اجازت مجھےدی اور اپنے ماہنامے میں اتنی طویل خامہ فرمائی کو گوارا کیا، حالانکہ ادارہ ترجمان سےنہ میر اضابطےکا تعلق ہےاور نہ وہ ایسےفکرمند ہیں کہ خود اپنی مدافعت کریں یا دوسروں سے اس کے لیے کہیں۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ میرے دل کی لگن اور میرے قلم کی تراوش ہے اور میں ہیعند الله وعند الناس اس کے لیے مسئول ہوں۔
| کتاب | خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |