خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ

باب ششم :

باب ششم :

ابن غیلان سے عدم مواخذه

(۱) مدیر البلاغ کا اعتراض

استلحاق زیاد کے بعد مولانا مودودی کی جس عبارت کو مور داعتراض بنایا گیا ہے، وہ یہ ہے:

"حضرت معاویہؓ نےاپنےگورنروں کو قانون سےبالاتر قرار دیا اور ان کی زیادتیوں پر شرعی احکام کےمطابق کارروائی کرنےسےصاف انکار کردیا۔ان کا گورنر عبد اللہ بن عمر و بن غیلان ایک مرتبہ بھرے میں منبر پر خطبہ دے رہا تھا۔ ایک شخص نےدوران خطبہ میں اس کو کنکر مار دیا۔اس پر عبد اللہ نے اس شخص کو گرفتار کر وایا اور اس کا ہاتھ کٹوا دیا۔ حالانکہ شرعی قانون کی رو سے یہ ایسا جرم نہ تھا جس پر ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ حضرت معاویہ کے پاس استغاثہ گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں ہاتھ کی دیت تو بیت المال سے ادا کر دوں گا مگر میرے عمال سے قصاص لینے کی کوئی سبیل نہیں۔“

مولا نا عثمانی صاحب کا اعتراض یہ ہے کہ یہاں واقعے کے انتہائی اہم جزو کو حذف کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ابن کثیر کی عبارت نقل کی ہے جس میں مزید یہ بتایا گیا ہےکہ جس شخص کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس کی قوم کے لوگ ابن غیلان کے پاس آئے اور کہا کہ اگر امیر المومنین کو معلوم ہو گیا کہ تم نے اس کا ہاتھ اس وجہ سے کاٹا تھا تو وہ اس شخص اور اس کی قوم کےساتھ وہی سلوک کریں گے جو انہوں نے حجر بن عدی کے ساتھ کیا تھا۔ اس لیے تم ہمیں ایک تحریر لکھ دو کہ تم نےہمارے آدمی کا ہاتھ شبہ کی بناپر کا ٹا تھا۔ ابن غیلان نےیہ تحریرلکھ دی۔ پھر یہ لوگ حضرت معاویہ کے پاس پہنچے اور شکایت کی کہ آپ کے گورنر نے ہمارے آدمی کا ہاتھ شبہ کی وجہ سے کاٹ دیا ہے، لہذا اس سے ہمیں قصاص دلوائیے ۔ حضرت معاویہؓ نے فرمایا کہ میرے گورنروں سے قصاص کی تو کوئی سبیل نہیں لیکن دیت لے لو۔ چنانچہ آپ نے دیت دلوائی اور ابن غیلان کو معزول کر دیا۔

عثمانی صاحب مزید تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ جو شخص قصاص اور دیت کے شرعی قوانین سے واقف ہو، وہ حضرت معاویہ کےفیصلے پر کوئی ادنی اعتراض کس طرح کر سکتا ہے؟ ان کے سامنے ابن غیلان کےتحریری اقرار کے ساتھ مقدمے کی جو صورت پیش ہوئی وہ یہ کہ ابن غیلان نےایک شخص کا ہاتھ شبہ میں کاٹ دیا ہےقاعدہ یہ ہےکہ اگر کسی شخص پر سرقہ کا الزام ہو اور اسکےثبوت میں کوئی ادنی سا شبہ بھی پیش آجائےتو ہاتھ کاٹنےکی سزا موقوف ہو جاتی ہے اور شبہ کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے، لیکن حاکم غلطی سے ملزم کا ہاتھ کاٹ دے تو اس غلطی کی بنا پر حکم یہ نہیں ہے کہ اس حاکم سے قصاص لینےکے لیے اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جائے، کیونکہ شبہ کا فائدہ اس کو بھی ملتا ہے۔ اس کی ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ اگر حاکموں کے ایسے فیصلوں کی وجہ سے ان پر حد جاری کی جایا کرے تو اس اہم منصب کو کوئی قبول نہیں کرے گا۔ اس بات کو حضرت معاویہ نے یوں تعبیر فرمایا ہے کہ میرے گورنروں سےقصاص لینے کی کوئی سبیل نہیں۔“

آنحضور اور خلفائے راشدین کی سنت

میں اس مسئلے کے مجر وفقہی وقانونی پہلو پر تو بعد میں بحث کروں گا لیکن میں مدیر موصوف اور جملہ قارئین کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ سب سے پہلے اس بات پر سنجیدگی اور ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ کیا عہد نبوی و عہد خلافت راشدہ میں اس بات کا امکان یا تصور ہو سکتا تھا کہ ایک حاکم یا عامل کنکر مارے جانےپر کنکر مارنے والےکا ہاتھ کاٹ دے اور پھر وہ معزولی سے زائد کسی قسم کے مواخذےسے محض اس بنا پر پیچ جائے کہ اس نے یہ جھوٹی تحریر لکھ دی ہو کہ میں نے ہاتھ شبہ میں کاٹ دیا ہے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ تو یہ تھا کہ ایک مرتبہ خطبےہی کےدوران میں ایک شخص نےآپ سےسوال کر دیا کہ میرے ہمسائے کس جرم میں محبوس کیے گئے ہیں؟ آپ نے توقف فرمایا کہ شای مدینےکے کو تو ال اس کا جواب دیں۔ سائل ن سے اپنا سوال دو تین مرتبہ دہرایا، لیکن اسے آنحضور یا کسی دوسرے صحابی نے سرزنش نہ کی بلکہ آپ نے فرمایا:

خلوا جيرانه.

"اس کے پڑوسیوں کو رہا کر دو۔“

حضرت عمر جیسے زبر دست خلیفہ سے بھی لوگ خطبے میں پوچھتے تھے کہ تم نے یہ قمیص کیسے بنوالیا ہے اور اسی طرح کے بعض دوسرے بے ہنگم سوالات کرتے تھے، مگر آپ پیشانی پر بل لائے بغیر ہر سوال کا جواب تحمل سےدیتے تھے اور اگر کوئی شخص معترض کے آڑے آتا تھا تو آپ فرماتےتھےکہ چھوڑو،اگر یہ ہمیں نہ ٹوکیں تو ان میں کوئی خیر نہیں اور اگر ٹو کےجانے پر ہم براما نیں تو ہم میں کوئی خیر نہیں۔سیرت فاروقی کا یہ واقعہ بھی مشہور و معروف ہےکہ حضرت عمر و بن عاص فاتح مصر و عامل مصر کےبیٹےمحمد نےایک مصری پر تازیانے برسائے۔ اس نےمدینے پہنچ کر شکایت کی۔ حضرت عمرؓ نےمحمد اور ان کے والد دونوں کو مصر سے بلوالیا اور مصری کے ہاتھ میں کوڑا دے کر کہا ”لے اس بڑےباپ کے بیٹے کی مرمت کر ۔“ جب مصری مار چکا تو آپ نے کہا کہ چند کوڑے اس کےوالد کےسر پر بھی رسید کر ۔مصری نے کہا کہ میں اپنا بدلہ لے چکا ۔ حضرت عمر نے کہا کہ تیری مرضی ، ورنہ تو باپ کی بھی خبر لیتا تو میں حائل نہ ہوتا۔ اس کے بعد حضرت عمر بیٹے کے بجائے باپ کو مخاطب کر کےغضبناک ہوکر بولے:

متى تعبدتم الناس وقد ولدتهم امهاتهم احرارا؟

" تم نےکب سےلوگوں کو غلام بنالیا حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟“

حضرت عمرؓ اور حضرت عمرو بن عاص کا ایک دوسرا واقعہ طبقات ابن سعد ( جلد اص۳۷۴، ذکر اعطائه القود من نفسه صلى الله عليه وسلّم) میں موجود ہے۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت عمر شام پہنچے تو آپ کے پاس ایک شخص آیا جس کو ایک امیر نے پیٹا تھا۔ حضرت عمرؓ نےاس امیر سے قصاص لینے کا ارادہ کیا تو حضرت عمرو بن العاص نے کہا، کیا آپ قصاص لینے لگےہیں؟ حضرت عمر نے جواب دیا کہ ”ہاں“۔ حضرت عمرو کہنےلگے” پھر تو ہم آپ کےلیےعامل نہیں بنیں گے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ” مجھے اس کی پروا نہیں۔ کیا میں اس امیر سےقصاص نہ لوں حالانکہ میں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہےکہ آپ نےخود اپنےآپ کو قصاص کے لیے پیش فرمایا (يعطي القود من نفسه ) آگے حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ اسی طرح حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نے بھی اپنے تئیں پیش کیا کہ ان سے قصاص لیا جائے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ذات اقدس کو قصاص کے لیے پیش کرنا ایک معروف حقیقت ہےجس کا ثبوت ابو داوود، کتاب الادب اور دوسری کتب حدیث میں موجود ہے۔ مثلاً ایک موقعہ پر آنحضور نے حضرت اسید بن حضیر کےپہلو میں چھڑی سے ضرب لگائی۔پھر آپ نے قمیص مبارک اٹھا کر حضرت اسید سے فرمایا کہ ”لو مجھ سے قصاص لے لو ۔“ اسی طرح نسائی اور ابوداود، کتاب الدیات میں بھی اس مضمون کی روایات موجود ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ خطبے میں کہا کہ میں نے اپنے عمال کو اس لیے مقرر نہیں کیا کہ وہ تمہیں پیٹیں یا تمہارے اموال چھینیں ۔ اگر کسی شخص پر ظلم ہو تو وہ مجھ سے مرافعہ کرے، میں اپنے عامل سے قصاص لوں گا۔ حضرت عمرو بن العاص کہنے لگے-

"کیا کوئی عامل اپنی رعایا کو تادیبی سزادے،تب بھی آپ اس سے قصاص لیں گے؟“حضرت عمرؓ نے جواب دیا:

اى والذي نفسي بيده لا أقصه منه وقد رأيت رسول الله صلى الله عليه . وسلّم أقص من نفسه.

"ہاں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں اس سے قصاص لوں گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے اپنی ذات مبارک کو قصاص کے لیے پیش فرمایا۔

ملوکیت کا تغیر احوال

میں سمجھتا ہوں کہ فقیہانہ استدلال کو تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ کر دونوں زمانوں کے تغیر احوال پر غور کیا جائے تو خلافت اور ملوکیت کے درمیان جو آسمان اور زمین کا فرق ہے، اسے سمجھ لینے میں کوئی دشواری نہیں پیش آسکتی اور یہی وہ اصل حقیقت ہے جو ” خلافت و ملوکیت“ کے مصنف ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں۔ عہد نبوت اور عہد خلافت علی منہاج النبوۃ میں کسی حاکم کی یہ جرات نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ ایک کنکر کے جواب میں قطع ید کی سزا دیتا۔ بالفرض اگر ایسا ہوتا بھی تو اس کے بعد وہ سلسلہ واقعات رونما نہ ہوتا جسے مولانا مودودی نے تو کھول کر بیان نہیں کیا، لیکن جناب محمد تقی صاحب نے خود ہی تاریخی حوالے کے ساتھ نقل کر دیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب اس شخص کا ہاتھ کاٹا گیا تو اس کے اہلِ قبیلہ نے گورنر سے آکر کہا کہ امیر معاویہ کو یہ معلوم ہوا کہ یہ سزا ایسے شخص کو دی گئی ہے جس نے آپ کے عامل کو کنکر مارا ہے تو وہ اس کے ساتھ اور اس کے قبیلے کے ساتھ وہ برتاؤں کریں گے جو انہوں نے حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا ہے۔ کیا اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ نہیں ہے کہ حضرت حجر اور ان کے رفقاء کا جو حشر ہوا اس کے بعد لوگوں کے دل سہم کر رہ گئے تھے اور انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ جو شخص امیر معاویہ کے عمال کے خلاف انگلی بھی اٹھائے گا اس کی خیر نہیں ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ مقطوع الید سیدھا امیر معاویہؓ کی خدمت میں نہ پہنچتا اور اس تعدی کے خلاف داد خواہی نہ کرتا۔ لیکن اس کے برعکس ہوا یہ کہ جب اس غریب کا ہاتھ کٹ گیا تو وہ اور اس کا قبیلہ ہاتھ کو تو بھول گیا اور پورے قبیلے کو الٹے جان کےلالے پڑ گئے ، کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ گورنز سے قصاص لینا تو در کنار اگر امیر معاویہ کو معلوم ہوا کہ ان کے گورنر پر کنکری پھینکی گئی ہے تو انہیں بغاوت و محاربہ کا مجرم قرار دے کر قتل تک کی سزادی جا سکتی ہے۔اس لیےانہوں نےگورنر سےایک ایسی جھوٹی تحریر لکھوائی جس سےظاہر ہو کہ قطع ید کی سزا گورنر کی شان میں گستاخی کی بناپر نہیں دی گئی بلکہ کسی دوسرے جرم پر دی گئی، مگر وہ بھی شبہ سے خالی نہ تھا۔ اس تحریر سے ایک طرف ملزم اور اس کے اقارب کی جان تو بچ گئی ،مگر دوسری طرف گورنر کےاپنےتحریری اقرار سے اس کےخلاف اتنا ثبوت تو فراہم ہو گیا کہ اس نےشبہ میں حد جاری کر کےاحکام شریعت کی خلاف ورزی کی ہے۔

آداب قضاء

اگر امیر معاویہ کےبجائےیہ کسی خلیفہ راشد کےعامل کا واقعہ ہوتا تو ایسی تحریری حیلہ سازی کی اول تو نوبت اورضرورت ہی پیش نہ آتی،اور بالفرض اگرایسی کوئی تحریر خلیفہ وقت کےرو برو پیش ہوتی تو وہ یقیناًتفصیل معلوم کرتےاور واقعات کی تہہ تک پہنچتےکہ آیا فی الواقع یہ کوئی جرم سرقہ تھا؟اور اگر اس میں اشتباہ تھا تو کس نوعیت کا تھا؟ اس شک وشبہ کے لیے کوئی معقول وجوہ تھے یا نہیں؟اور اس کا فائدہ حاکم و مجرم دونوں کو یا کسی ایک کو ملنا چاہیے یا نہیں؟ اگر فریقین اپنی اپنی کھال بچانےکےلیےایک گول مول اور بناوٹی تحریر ا کر خلیفه کےسامنےپیش کر دیں تو خلیفہ کےہاتھ اس طرح نہیں بندھ جاتےکہ وہ اس پر کارروائی کرنے سے قبل مزید تحقیق و تبیین نہ کرے۔س معاملےمیں ذراسی چھان بین کےبعد جو بات سب سےپہلےکھلتی وہ یہ تھی کہ جس شخص نےقطع ید کی سزادی ہےوہ خود اس قضیےکا ایک فریق ہےجسےشرعا فیصلہ کرنےاور سزا نافذ کرنےکا حق قطعاً نہیں تھا۔اسےچاہیےتھا کہ وہ کنکری مارنےوالےملزم کو کسی قاضی یا دوسرے حاکم کے سامنے پیش کرتا۔ حضرت عمرؓ کو حضرت ابی بن کعب کے خلاف ایک شکایت تھی تو آپ مستغیث بن کر خود حضرت زید بن ثابت کے پاس گئے ۔ اس پر امام سرخسی ( مبسوط آداب القاضی) میں فرماتے ہیں:

فيه دليل على ان الإمام لا يكون قاضيا في حق نفسه.

"اس میں دلیل ہے کہ امام اپنی ذات کے معاملے میں حج نہیں بن سکتا۔“

حضرت زید نے کہا کہ آپ مجھے بلا لیتے تو حضرت عمر نے جواب دیا کہ عدالت کسی کے ہاں چل کر نہیں جاتی۔ ایک گڈا پیش کیا گیا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ:

هذا اوّل جورک

"یہ تمہارا پہلا ظلم ہے۔“

کہ تم نے میرے ساتھ امتیازی برتاؤ کیا۔ حضرت عمرؓ کے لیے جب حلف اٹھا نا ضروری ہوا تو حضرت زید نے کہا کہ کاش حضرت ابی معاف کر دیں۔ مگر حضرت عمرؓ نے حلف اٹھانے میں ہرگز تامل نہ کیا۔ اسی طرح حضرت عمر متعدد مواقع پر قاضی شریح اور دوسرےقاضیوں کی عدالتوں میں پیش ہوتے رہے۔ حضرت عثمان، حضرت طلحہ کےبالمقابل حضرت جبیر بن مطعم کےسامنےپیش ہوئے۔حضرت علیؓ نےایک زرہ کا مقدمہ یہودی کے خلاف قاضی شریح کی عدالت میں دائر کیا،اپنے غلام قنبر اور صاحبزادے حسن کی شہادت پیش کی جورڈ کر دی گئی اور دعوی خارج ہو گیا۔

ابن قدامه المغنی جلد صفہ ۱۳۸۳ پر فرماتے ہیں کہ:

ليس للحاكم ان يحكم لنفسه كما لا يجوز ان يشهد لنفسه.

"حاکم اپنی ذات کے متعلق کوئی عدائی فیصلہ نہیں کر سکتا، جس طرح وہ اپنے حق میں اپنی عدالت میں گواہ نہیں بن سکتا۔“

فتاوی عالمگیری، آداب القاضی میں بھی یہی اصول بیان کیا گیا ہے کہ انسان اپنے نفس کے حق میں قاضی نہیں بن سکتا۔ اگر وہ بنے گا تو

لا يحكم الحاكم وهو غضبان.

"کوئی حاکم غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔“

اور اس گورنر کا مغلوب الغضب ہوتا اس کے اس فعل سے صریح طور پر ظاہر ہے کہ اس نے کنکر مارنے پر خود ہی ہاتھ کاٹ دینے کی سزا نا فذ کر ڈالی۔

اجرائے حدود میں شبہ کا اطلاق

بہر کیف اگر اس معاملے میں ذراسی تفتیش بھی عمل میں لائی جاتی تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی کہ یہ بالکل ظالمانہ اور سنگدلانہ کاروائی تھی اور اس کا بعید ترین تعلق بھی اس صورت سے نہ تھا جسے فقہی اصطلاح میں شبہ میں حد یا تعزیر جاری کرنے کے الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چوری پر قطع ید کےمعاملے میں شبہ کی جو صورتیں ممکن ہیں انہیں فقہاء نے خود بیان کر دیا ہے، مثلاً یہ کوئی شخص غیر محفوظ شے کی چوری کرے یا کوئی ایسا مال چرائے جس کی ملکیت میں وہ خود شریک ہو یا مسروقہ شے کی قیمت اتنی کم ہو کہ اس کا بقدر نصاب ہونا مشتبہ اور مختلف فیہ ہو۔کنکر مارنےپر ہاتھ کاٹ دینا کسی طرح بھی "شبہ" کی اصطلاح فقہی کی تعریف میں نہیں آسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ابن جریر نے اپنی تاریخ ( جلد ۴ ص ۲۲۳ ) میں جہاں یہ واقعہ بیان کیا ہے، وہاں لکھا ہے کہ تحریر میں درج تھا:

انه قطع على شبهة وامر لم يضح.

"ہاتھ شبہے کی بنا پر ایسی صورت میں کاٹا گیا ہے جو اس نے واضح نہیں کی تھی ۔“

پھر جب بنوختہ کے قبیلے کے افراد اس تحریر کو لے کر امیر معاویہ کے پاس پہنچے ہیں تو ان کا بیان ان لفظوں میں منقول ہے:

انه قطع صاحبنا ظلمًا.

"اس عامل نے ہمارے آدمی کا ہاتھ ظالمانہ طریق پر کاٹا ہے۔“

ابن خلدون نےاپنی تاریخ (جلد ۳ ص ۱۵) میں جہاں یہ واقعہ نقل کیا ہےوہاں بھی سرےسےشبہ کا لفظ استعمال ہی نہیں کیا بلکہ خط کے الفاظ یہ ہیں: انـہ قـطـع عـلـى امر لم يصح،اور اہل قبیلہ کا زبانی بیان جو انہوں نے امیر معاویہ کے سامنے دیا ہے،وہ یوں درج ہے:ان ابن غیلان قطع صاحبهم ظلما ۔اس کے بعد تو یہ باور کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہےکہ حقیقی صورت حال امیر معاویہ پرمخفی رہ گئی ہوگی اور اس کا انکشاف کسی لمبی چوڑی تحقیق کامحتاج ہوگا۔ یہ بات فی الواقع بڑی عجیب ہوگی کہ آپ کے سامنے یہ تحریر پیش ہو کر بہ یا غلطی یاظلم کی بنا پر ہاتھ کاٹا گیا ہے اور آپ سرےو سے یہ معلوم کرنے کی کوشش ہی نہ کریں کہ وہ غلطی یا ظلم کیا تھا؟

مولانا محمد تقی صاحب عثمانی فرماتے ہیں کہ شبہ میں ہاتھ کاٹ دینا بلا شبہ سنگین غلطی ہے، لیکن اس پر کسی کے نزدیک بھی حکم یہ نہیں ہےکہ حاکم سےقصاص لینے کےلیے حاکم کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جائے کیونکہ شبہ کا فائدہ جس طرح ملزم کو ملتا ہےاسی طرح حاکم کو بھی ملتا ہےعثمانی صاحب کےنزدیک اسکی ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ اگر حاکموں کے ایسے فیصلوں کی وجہ سےان پر حد جاری کی جایا کرےتو اس اہم منصب کو کوئی قبول نہیں کرے گا۔ عثمانی صاحب نے یہاں شرعی احکام اور فقہائے کرام کی بالکل غلط ترجمانی کی ہے اور ان کا استدلال مغالطه آمیزی اور سوئے تعبیر پر بنی ہےواقعہ زیر بحث میں ملزم قطع ید کی سزا کا ہرگز مستوجب نہ تھا اور نہ اس کے فعل میں شبہ کا کوئی حل تھا۔قطع ید کی سزا یا سارق کے لیے ہے یا اس باغی کے لیے جو راہ زنی یا فساد فی الارض کرتےہوئے خود۔قطع ید کا مرتکب ہوا ہو ۔ یہاں جس شخص کا ہاتھ کاٹا گیا وہ معصوم الدم تھا اور اس کا ہاتھ ارادہ اور عمدا قطع کیا گیا۔اس لیےملزم کےفعل یا گورنر کےفعل دونوں میں شبہ کے عصر کو کوئی دخل ہی نہ تھا، اور گورنر کسی طرح قواعد شرعیہ کے مطابق قصاص سے بچ نہیں سکتا تھا۔

"شبہ کا فائدہ "

اس مسئلےمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ارشاد سنن ترمذی، ابواب الحد و داور دوسرےمقامات پر مروی ہے وہ یہ ہے کہ

إدارة الحدود عن المسلمين ما استطعتم.

"جس حد تک بھی ممکن ہو مسلمانوں سے حدود کو ٹالو، اگر بچ نکلنے کی کوئی صورت ہو تو ملزم کو چھوڑ دو۔ امام اگر غلطی سے معاف کر دے تو بہتر ہے یہ نسبت اس کے کہ وہ غلطی سے سزا دےبیٹھے-"

ابو داؤد، کتاب الادب میں ارشاد نبوی ہے:

ان الأمير اذا ابتغى الريبة في الناس أفسدهم.

"امیر جب لوگوں میں شبہات تلاش کرنے لگا، تو اس نے لوگوں میں فساد پھیلایا۔“

ان ارشادات کی رُو سے شک کے فائدے اور رعایت کا اصل مستحق ملزم قرار پاتا ہے، نہ کہ حاکم ۔ البته یہ اصول اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ ہر انسان کی طرح ایک حاکم یا قاضی بھی اپنےفیصلےمیں غلطی کر سکتا ہےاور وہ جائز تحفظ کا حقدار ہے۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ یہ تحفظ اور رعایت اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ حاکم یا قاضی نے اپنے انتظامی یا عدالتی اختیارات کو (Bonafide) معقول و معروف اور مشروع طریقے پر استعمال کیا ہو، اور اس کے باوجود ان اختیارات کے دورانِ استعمال میں اس سے خطا سرزد ہو۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ وہ اپنی ذاتی حیثیت میں کوئی جرم یا ظالمانہ انتقامی کارروائی کرے یا حدود اختیار سے تجاوز کرے، تب بھی اس سے باز پرس نہ ہو۔فقہاء نے بلاشبہ یہ بات لکھی ہے کہ امام یا قاضی غلطی سے حد یا قصاص جاری کر دے تو اس پر جوابی حد جاری نہیں ہوگی۔ لیکن انہوں نے اس کی وجہ بھی ساتھ بیان کر دی ہے اور وہ یہ کہ قاضی اپنے کسی ذاتی معاملے میں تو فیصلہ دے ہی نہیں سکتا، اس لیے لا محالہ اس نے جو فیصلہ بھی دیا ہوگا، عام حالات میں فریقین اور عامتہ المسلمین کا مفاد سامنےرکھ کر دیا ہو گا_١اور حق و انصاف کو پوری طرح مد نظر رکھا ہو کا کر دیا ہوگا اور گا۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص ذاتی رنجش کی بنا پر کسی کا ہاتھ کاٹ دیتا ہے، اس کا فعل تو سرے سےحاکمانہ یا عدالتی فیصلے کی تعریف ہی میں نہیں آسکتا۔ چہ جائیکہ وہ کسی رعایت کا اہل سمجھا جائےفقہاء نے تو یہاں تک لکھا ہےکہ اگر عدالتی کارروائی میں بھی قاضی ظلم و جور کرےتو اسےنہ صرف معزول کیاجائےگا بلکہ تعزیر و تاوان بھی اس پر عائد ہو گا۔ردالمحتار، جلد ۴ ص ۴۷۴ پر علامہ ابن عابدین شامی عالمگیری کے حوالے سے فرماتے ہیں: وان كان القضاء بالجور عن عمدو اقربه فالضمان في ماله في الوجوه كلها الجناية ولاتلاف ويُعزَّر القاضى ويُعزّل عن القضاء. معلوم نہیں یہ عجیب و غریب اصول کتاب و سنت یا کسی فقہی کتاب کے کون سے مقام پر مذکور ہے کہ شبہ کا فائدہ جس طرح ملزم کو ملتا ہے ، اسی طرح حاکم کو بھی ملتا ہے؟


١- البدائع جلدے صفر ۱۶، بین حکم خطاء القاضی میں امام کا سانی فرماتے ہیں: الانسه بإلقاء لم يعمل لنفسه بل لغيره ( قاضی فیصلےمیں خطا پر اس لیے مانو نہیں کہ قضا میں وہ اپنی ذات کے لیے عمل نہیں کر سکتا بلکہ دوسروں کے لیے کرتا ہے )۔ اب ایک انصاف پسند اور طالب حق انسان خود غور کر کے صحیح رائے قائم کر سکتا ہے کہ ابن غیلان کو محض _١معزول کر دینا کس حد تک اسلامی عدل و انصاف کے تقاضےپورےکر سکتا ہےاور امیر معاویہ کا یہ قول کس حد تک حق بجانب ہے کہ ”میرے گورنروں سے قصاص لینےکی کوئی سبیل نہیں ۔ پھر اس مسئلے پر مدیر البلاغ“ نےجو حاشیه آرائی کی ہےاس کےبعد تو ہر گورنر یا انتظامی افسر کےلیےجائز ہو جاتا ہےکہ وہ جو لوٹ مار اور دھاند لی چاہیں کرتے رہیں اور اس کےبعد یہ لکھوا کر پیش کر دیں کہ یہ سب کچھ شبہ میں کیا گیا، اور اس کےبعد ان سے کوئی باز پرس نہ ہوگی ،سوائے اس کے کہ انہیں جبری طور پر ریٹائر کر دیا جائے۔

دور صدیقی کا واقعہ اور ابن قدامہ کی رائے

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خاتمہ بحث کے طور پر حضرت ابو بکڑ کے عہد کا ایک واقعہ بھی بیان کر دیا جائے جو ابن غیلان کے واقعہ سے مشابہ ہے اور جسے مشہور حنبلی فقیہ عبداللہ بن قدامہ نے المغنی میں درج کر کے اس سے استنباط کیا ہے کہ کوئی شخص بھی قصاص سے بالا تر نہیں فرماتے ہیں:

ويجري القصاص بين الولاة والعمال وبين رعيتم لعموم الآيات والأخبار وإن المؤمنين تتكا فاء وماء هم ولا نعلم في هذا خلافًا وثبت عن ابي بكر انه قال لرجل شكى إليه أنه قطع يده ظلمًا لئن كنت صادقا لا قيد بك منه.

"قانون قصاص امراه احتمال اور رعیت کے مابین برابر جاری ہوتا ہےکیونکہ اس بارے میں آیات واحادیث کا حکم عام ہے اور مومنین کے خون کی قدرو قیمت مساوی ہے ۔ ہم کو اس میں کسی قسم کے اختلاف کا علم نہیں اور ابوبکر سےثابت ہےکہ ان سےایک شخص نے شکایت کی کہ اس کا ہاتھ ظالمانہ طور پر کاٹا گیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ اگر تو سچا ہے تو میں اس عامل سے قصاص لوں گا ۔“


١-معزول تو امیر معاویہ نےمردان کوبھی کیا تھا اور بعض مورخین کا خیال ہےکہ یہ معزولی اسکی غلط کاریوںکی بنا پرتھی۔ مگر آٹھ سال سےزائدعر سے تک حرم نبوی میں جو کارستانیاں وہ کرتا رہا،کیا نجتر دمعزولی سےان کی تلافی ہو سکتی تھی ؟

تقریباً انہی الفاظ میں یہ واقعہ اور اس سے یہی استدلال الشرح الکبر ص ۳۸۲ پر بھی موجود ہے۔ یہ کتاب المغنی کے حاشیے پر چھپی ہے اور اس کے مصنف عبد الرحمن بن قدامہ ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ یہاں جو الفاظ انه قطع یدہ ظلمًا منقول ہیں یہی الفاظ بنوختہ کے افراد نے امیر معاویہؓ کے سامنے کہے تھے جو طبری وغیرہ میں درج ہیں۔ اس کے بعد ہر شخص خود اندازہ کرسکتا ہے کہ اسلامی حکومت میں گورنر قصاص سے بالا تر ہیں یا نہیں؟

(۲)

گورنروں سے عدم مواخذہ

واقعہ ابن غیلان کے سلسلے میں مدیر انبلاغ کے ہر اعتراض واستدلال کا جواب میں نے مفصل دے دیا تھا لیکن اسے بالکل نظر انداز کرتے ہوئے انہوں نے پھر لکھا کہ ”میں نے اس واقعہ کےاصل ماخذ البدایہ کے حوالے سے ثابت کیا تھا کہ جس شخص کا ہاتھ کاٹا گیا تھا، خود اس کے رشتہ داروں نے ابن غیلان سے یہ تحریر لکھوالی تھی کہ حاکم نے اس کا ہاتھ شبہ میں کاٹا ہے۔ چنانچہ حضرت معاویہؓ کے سامنے مقدمہ کی جو صورت خود استغاثہ کرنے والوں نے پیش کی اور جس کا اقرار خود مدعا علیه حاکم نے بھی تحریری طور پر کیاوہ یھی کہ ابن غیلان نے ایک شخص کا ہاتھ محبہ میں کاٹ دیا ہے۔“

قارئین محمد تقی صاحب کی اس عبارت کو پڑھ کر یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ اس واقعہ میں ابن مغیلان اور حاکم دو مختلف شخصیتیں ہیں۔ فی الحقیقت ابن غیلان ہی وہ حاکم ( گورنر ) تھا جس نے محض کنکر مارنے پر ایک شخص کا ہاتھ ظالمانہ طور پر کاٹ دیا تھا اور پھر یہی وہ بے رحم حاکم ہے جس نے یہ جھوٹی تحریر لکھ دی تھی کہ میں نے ہاتھ شبہ کی بنا پر کاٹتا ہے۔ مولانا محد تقی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ محبہ میں ہاتھ کاٹ دینا بلاشبہ حاکم کی سنگین غلطی ہے لیکن کسی کے نزدیک بھی حکم یہ نہیں ہےکہ اس حاکم سےقصاص لینےکے لیے اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جائے۔میں اس کے جواب میں پہلے یہ تفصیلاً بیان کر چکا ہوں کہ جس شخص نے یہاں قطع ید کی سزا دی ہے وہ خود اس قضیے کا ایک فریق ہے جسےشرعا ذاتی معاملےمیں فیصلہ کرنے اور سزا نا فذ کرنے کا حق قطعا نہیں تھا۔ پھر اس شخص نے غیظ و غضب سےمغلوب ہو کر محض روڑا پھینک دینے پر ہاتھ کو اڈالا حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صریح حکم موجود ہےکہ کوئی حاکم غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے ۔ نیز میں نے ثابت کیا تھا کہ یہ فعل کسی طرح بھی "شبہ" کی فقہی اصطلاح کے تحت نہیں آسکتا۔ میں نے اپنے مدعا کو واضح کرنے کے لیے سنتِ نبوی اور سنت خلفاء راشدین سے متعد د نظائر بھی پیش کیے تھے۔

عثمانی صاحب اس پر لکھتے ہیں:

”میرے استدلال کے جواب میں ملک صاحب نے جو بحث کی ہے، وہ خلط مبحث کا افسوسناک نمونہ ہے۔ انہوں نےتین چار صفحات میں خلفائےراشدین کےعدل وانصاف کےمتفرق واقعات ذکر کیے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان فیصلوں کے بلند معیار سے کون انکار کر سکتا ہے۔ گفتگو تو یہ ہو رہی ہے کہ حضرت معاویہ کے جس فیصلے کو قانون کی بالاتری کا خاتمہ اور خلاف شریعت قرار دیا گیا ہے، وہ شرعی قانون کی رُو سے غلط کیونکر کہا جاسکتا ہے؟“

"خلط مبحث کا نمونہ ؟"

یہ تحریر پڑھنے سے پہلے میرے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ مسئلہ قضا اور نظامِ عدالت کےمتعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےجوارشادات اور خلفائے راشدین کا قولی وعملی نمونہ جو میں بیان کر چکا ہوں کوئی شخص اسےخلط مبحث کا افسوسناک نمونہ قرار دینے کی جرات کر سکےگا۔لیکن اب معلوم ہوا کہ بعض لوگ جنہیں صحابہ کرام کی تعظیم و تکریم کا ادعاء ہےوہ کتاب وسنت اور خلافتِ راشدہ کےفیصلوں کے معیار کی بلندی کا زبانی اقرار تو کرتے رہیں گےتاہم دوسری طرف اگر کسی صحابی کا فیصلہ اس معیار کے بالکل برعکس ہو، تب بھی وہ اسے صحیح ہی کہتے رہیں گےاس پوری طویل بحث کے دوران میں میرا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ ہر مسئلے میں پہلے قرآن و حدیث سے رجوع کیا جائے اور تعامل خلافت راشدہ کو سامنے رکھا جائےاب بھی ان مدعیوں کے علی الرغم مجھے اپنےاسی طریق بحث کی صحت پر یقین ہے اور میں اب بھی کہتا ہوں کہ حضرت معاویہ کا فیصلہ وفرمان شرعی قانون کی رُو سے صحیح نہیں بلکہ غلط ہی ہے کہ "میرے گورنروں سے قصاص کی کوئی سبیل نہیں۔“غیر اسلامی نظام ہائےقوانین میں اس طرح کا استثناء وامتیاز ہو تو ہو، مگر اسلام میں اگر کسی گورنر ، حاکم،قاضی حتی کہ امیر المومنین نے بھی ایسا جرم کیا ہو، جو موجب قصاص ہو تو ولی قصاص کی رضامندی و معافی کے بغیر مجرم کےقصاص سےبچ نکلنے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔ میں اس مسئلے پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور ذرا آگے چل کر پھر لکھوں گا۔

عثمانی صاحب نے مجھے جواب دیتے ہوئے پہلے بھی یہ بات لکھی تھی اور دوبارہ اسے دہرایا ہے کہ مذکورہ واقعہ میں حضرت معاویہ کے سامنےکنکر مارنے کا ذکر واستغاثہ کرنے والوں نےکیا،نہ مدعا علیہ حاکم نےجب وہ دونوں ایک صورت واقعہ پر متفق ہیں تو حضرت معاویہ کو یہ علم غیب آخر کہاں سے حاصل ہو سکتا ہے کہ مظلوم نےخود اصل واقعہ کو چھپا کر مدعا علیہ کےجرم کو ہلکا کر دیا ہےسوال یہ ہے کہ کنکری مار دینے پر ہاتھ کٹوا دینے کا یہ واقعہ اگر اہل دنیا کے لیے ایک علم غیب کا مسئلہ بن گیا تھا، جیسا کہ محمد تقی صاحب باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو پھر آخر سارے مؤرخین اس کی پوری تفصیل اس طرح کیوں بیان کرتے چلے آئے ہیں کہ ” بنو بہ کے اس شخص نے ابن غیلان پر مسجد میں کنکر پھینک دیا۔ اس نے اس شخص کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ پھر اس مقطوع الید کےقبیلے والے ابن غیلان کے پاس آئے اور کہا کہ ہم ڈرتے ہیں کہ امیر معاویہ ہمارے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو انہوں نے حجر بن عدی کے ساتھ کیا، اس لیے تم ہمیں لکھ دو کہ تم نے ہمارے آدمی کا ہاتھ شبہ میں کاٹا ہے۔ ابن غیلان کی اس جھوٹی تحریر لکھ دینے کے بعد اس ظالمانہ کارروائی کی حقیقی تفصیلات پردہ غیب میں اس طرح پنہاں نہیں ہو گئی تھیں کہ اس کاغذ کے پرزے کے ماسواء کسی کےلیے مزید تحقیق کا کوئی موقعہ یا معلومات کا کوئی دوسرا ذریعہ ہی سرے سے باقی نہ رہا تھا۔ اگر فی الواقع ایسا ہوتا تو آخران مؤرخین تک یہ پوری تفاصیل کیسے پہنچتیں جنہوں نے ابن غیلان کی اس خلاف واقعہ اور مبہم تحریر کے ساتھ ساتھ اصل صورت واقعہ بھی بیان کر دی ہے؟ عجیب بات ہے کہ کسی صاحب کوحتی کہ محد تقی صاحب کو بھی یہ نکتہ آج تک کیوں نہ سوجھا کہ جب امیر معاویہ کے سامنے واقعہ بس اس شکل میں پیش ہوا کہ کسی نا معلوم اور غیر موجود شخص کا ہاتھ شبہ میں کٹ گیا ہے اور امیر معاویہ عالم الغیب نہ تھے کہ آپ کو مزید اور صحیح صورت حال کا علم ہوتا تو دوسرے لوگ جو اس واقعہ کےراوی و ناقل ہیں،انہیں آخر کہاں سے کشف والہام ہو گیا کہ وہ پورا قصہ اب تک بیان کرتے رہے ہیں؟

کتمان حقیقت کے وجوہ

حقیقت یہ ہے کہ حضرت معاویہ کے پاس خبر رسانی کا نہایت عمدہ انتظام تھا۔ ان کےگورنروں کی زیادتیوں کے جو واقعات زبان زدعوام تھے اور جو بعد میں تاریخی اوراق کی زینت بنے ابن غیلان کے نوشتے جیسی ملمع سازی ان واقعات کو ان کی نگاہ سے مخفی رکھ سکتی ہے تو اس کے دو ہی وجوہ ممکن ہیں۔ یا تو جیسا کہ مؤرخین نے لکھا ہےحضرت حجر اور اُن کے ساتھیوں کے قتل نے لوگوں کو دہشت زدہ کر دیا تھا اور وہ حکام کے مظالم کو اس لیےبر ملا بیان نہیں کر سکتےتھے کہ مبادا گورنروں کے بجائےالٹی مظلومین ہی کی شامت آجائےیا پھر امیر معاویہ تک جو بات جس شکل میں پہنچتی تھی یا پہنچائی جاتی تھی وہ اس میں زیادہ تحقیق و تفتیش کی تکلیف ہی نہیں فرماتے تھےکلی غیب تو دنیا میں کسی کو بھی بلاواسطه حاصل نہیں ہوتا،لیکن حقیقت تک رسائی کے لیےجو ذرائع معلومات انسان کےبس میں ہیں،ان کےاستعمال کا وہ بہر حال مکلف ہےفرض کیا کہ امیر معاویہؓ کا واحد وسیلۂ معلومات وہی تحریر تھی جو ان کے سامنے آئی۔ اب اس میں جس مقطوع الید کا ذکر تھا،اس بیچارے نے ان کے سامنے آنے کی جرات نہیں کی، بلکہ اس کے قبیلے کے افراد ہی اس کی طرف سے پیش ہوئے۔ اسلامی نظام قضا کا متفق علیہ اصول جو ارشاد نبوی پر مبنی ہے، یہ ہے کہ فریقین کو اصالتا سامنے بلا کر اور ان کا بیان لے کر فیصلہ کیا جائے۔ قضا علی الغائب صرف اُسی صورت میں جائز ہے جب کہ کسی فریق کی غیر حاضری کے معقول وجوہ موجود ہوں، مثلاً مر گیا ہو، شدید مریض ہو، مفقود ہو یا دُور دراز کے سفر پر ہو یا طلبی کے باوجود حاضر نہ ہو۔

عثمانی صاحب ابن غیلان کے ان تحریری الفاظ کو بار بار کھس رہے ہیں کہ ہاتھ شبہ میں کاٹا گیا ، حالانکہ میں پہلے اس بات کو تفصیلاً بیان کر چکا کہ اس فعل پر شبہ کا اطلاق ہرگز نہیں ہوسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ خود امیر معاویہ نے عثمانی صاحب کی طرح یہ فقیہانہ نکتہ پیش نہیں فرمایا کہ شبہ کا فائدہ گورنر کو ملنا چاہیے بلکہ صاف فرمایا کہ " میرے گورنروں سے قصاص لینےکی کوئی سبیل ہی نہیں ۔“ یہ دونوں باتیں بالکل مختلف اور ایک دوسرے سے الگ ہیں اور خلط مبحث کی کوئی صحیح مثال ہوسکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ ان دو باتوں کو آپس میں گڈمڈ کیا جائے۔ پھر ابن جریر نے جس طرح ۵۵ء کے حوادث میں یہ واقعہ بیان کیا ہے، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کا ہاتھ کاٹا گیا تھا، اس کےاہلِ قبیلہ نےجو بات زبانی امیر معاویہ سےبیان کی اس میں شبہ" کا لفظ بالکل نہیں تھا بلکہ انہوں نے اسے ظلم کہہ کر داد خواہی کی۔ تاریخ طبری ، جلد ۲ صفحہ ۲۲۳ میں اصل عبارت یوں ہے:

فقالوا يا أمير المؤمنين أنه قطع صاحبنا ظلمًا وهذا كتابه اليك وقرأ الكتاب فقال أما القود من عُمّالي فلا يصح ولا سبيل اليه.

"انہوں نے کہا کہ امیر المومنین، گورنر نے ہمارے آدمی کا ہاتھ ظالمانہ طور پر کاٹ دیا ہے اور یہ اس کی تحریر آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ امیر معاویہ نے فرمایا کہ میرے گورنروں سے قصاص لینے کی کوئی صورت اور سبیل نہیں ہے۔“

اسی طرح الکامل میں بھی انہ قطع ظلما کے الفاظ ہیں، یعنی ان لوگوں نے زبانی بیان میں یہی کہا کہ اس نے ظالمانہ طریق پر ہاتھ کاٹا ہے۔

اسلام کا قانونِ قصاص

اب جہاں تک گورنر کی تحریر کا تعلق ہے، اس میں گوشہ کا لفظ لکھا گیا ہو لیکن بالمشافہ بیان میں نہ بنوفیہ نے یہ لفظ استعمال کیا، نہ امیر معاویہ نے اس کا ذکر فرمایا، مگر آپ نے ایک قائدہ کلیہ صرف اس گورنر ہی کے لیےنہیں،بلکہ اپنےتمام عتمال کےحق میں بیان کیا کہ ان سےقصاص نہیں لیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ یہ قاعده وضابطہ کتاب وسنت کی کن نصوص پر مبنی ہے؟ محمد تقی صاحب کو ” خلط مبحث جیسے الفاظ کی آڑ لینے کےبجائےمجھےیہ بتانا چاہیے کہ کیا اسلامی حکومت کےگورنر فرمانِ الہی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِى الْقَتْلَى اور وَالْجُرُوْحُ قِصَاصٌ کےمخاطب نہیں ہیں بلکہ اس سے بالاتر ہیں؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائےراشدین نےاپنےآپ کو اور اپنےگورنروں کو کبھی بھی قصاص سےمستنی سمجھا ہے؟کسی شخص کو میری بات خواہ کتنی ہی نا گوار یا غیر متعلق محسوس ہو، میں یہاں آنحضور کے الوداعی خطبے کا کچھ حصہ ضرور نقل کروں گا جو آپ نےآخری ایام مرض و وصال میں ارشاد فرمایا تھا اور کتب حدیث و تاریخ سب میں درج ہے۔ یہاں میں اسے الکامل ابن اثیر جلد ۲ صفحہ ۲۱۶ سےلے رہا ہوں۔ حضرت فضل بن عباس بیان کرتے ہیں کہ میں اور حضرت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیتے ہوئے مسجد تک لائے تا آنکہ آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور لوگوں کو منادی کرا کے جمع کیا اور فرمایا:

ايها الناس ان قـد ونا مني حقوق من بين اظهر كم فمن كُنت جلدت له ظهرا فهذا ظهري فليستقد منه ومن كنت شتمت له عرضًا، فهذا عرضى فليستقد منه ومن أخذت له مالا فهذا مالي فليأخذ منه ولا يخش الشحناء من قبلي فإنها ليست من شأني الاوان احبكم الى من أخذ مني حقا ان كان له او حللني فلقيت ربي وانا طيب النفس ثم نزل فصلى الظهر ثم رجع الى المنبر فعاد لمقالته الأولى.

"اے لوگو، مجھ پر تمہارے درمیان بعض حقوق عائد ہوتےتھے۔ پس میں نے جس کی پیٹھ پر کوڑے لگائے ہوں، تو یہ میری پشت ہے، وہ شخص مجھ سےقصاص لےلے۔میں نے جس کی عزت پر حملہ کیا تو وہ میری آبرو سےبدلہ لےلےاور میں نےجس کا مال لیا ہو،تو یہ میرا مال ہے،اس میں سےوصول کر لےاور میری طرف سےبغض و عداوت کا خدشہ نہ رکھے،کیونا۔یہ چیز میرے شایانِ شان نہیں ہےجان لو کہ مجھے سب سےزیادہ محبوب وہ ہے جو مجھ سے اپنا حق لے لے، اگر وہ اس کا حقدار ہے یا پھر مجھے اس سے بری الذمہ کر دے تا کہ میں اپنے رب سے خوش دلی کے ساتھ ملاقات کرسکوں۔پھر آنحضور" منبر پر سےاترے اور ظہر کی نماز پڑھائی۔ پھر آپ دوبارہ زینت آرائے منبر ہوئے اور اپنےخطاب کو دہرایا۔“

ابن اثیر لکھتے ہیں کہ اس کے بعد ایک شخص نے آنحضور سے اپنے تین درہم کا مطالبہ کیا اور آپ نے اسے ادا فرمایا۔

قصاص کےمعاملےمیں یہی موقف اور طریقہ شیخین رضی اللہ عنہا کا تھاان دونوں اصحاب نےاپنےآپکو قصاص کےلیےپیش فرمایا اور اپنےگورنروں سےقصاص لینے کا حق رعایا کو دیا۔حضرت عمر اور حضرت عمرو بن عاص کا واقعہ میں پہلےنقل کر چکا ہوں۔حضرت عمر کا یہ واقعہ بھی بہت مشہور ہےکہ ایک بدو کا پاؤں دورانِ طواف غسانی شہزادے جبله بن اہم کےتہبند پر آ گیا تو اس نو مسلم شہزادےنےبدو کو چھپڑ مار دیا۔حضرت عمر نےاسے ڈانٹا اور بد و سے کہا کہ تم بھی بطور قصاص ایک تھپڑ ا سے رسید کرو۔ اسلام میں بڑے چھوٹے قانون کے سامنے برابر ہیں۔ جبلہ اگر چہ مرتد ہو کر بھاگ گیا مگر بعد میں پچھتا کر حسرت آمیز اشعار پڑھا کرتا تھا جو تواریخ میں منقول ہیں۔ امام شافعی کتاب الام جلد ۶ صفحه ۴۴ پر القصاص دون النفس کے زیر عنوان فرماتے ہیں:

روى في حديث عن عمر أنه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلّم يعطي القود من نفسه وأبا بكر يعطي القود من نفسه وانا يعطي القود من نفسي.

"حدیث میں حضرت عمرؓ سےمروی ہےکہ آپ نےفرمایا: میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہےکہ آپ نےاپنی ذات سےقصاص دلوایا اور ابو بکڑ نےبھی اپنی ذات سےقصاص دلوایا اور میں بھی اپنےآپ سے قصاص دلواتا ہوں۔“

ولم أعلم مخالفاً فى ان القصاص في هذه الامة كما حكم الله عز وجل أنه حكم بين أهل التوراة ولم أعلم مخالفًا فى ان القصاص بين الحرين المسلمين في النفس وما دونها من الجراح.

”میرے علم کے مطابق اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ اس امت پر قصاص اللہ کے حکم کےتحت اسی طرح واجب ہے جس طرح اہل تو راہ کے لیے تھا اور میرے علم میں کوئی بھی اس کا مخالف نہیں کہ دو آزاد مسلمانوں کے مابین قتل اور اس سے کم تر درجے کے زخموں میں قصاص لازم ہے۔“

قوانین قضا سے تجاوز

بہر کیف حکومت کے عمال وحکام کو مواخذه قصاص سے بالاتر قرار دینے کی کوئی گنجائش اسلامی قانون میں نہیں ہےاور جیسا کہ میں نےپہلی بحث میں عرض کیا تھا،اگر ابن غیلان کےمعاملےمیں ذراسی تفتیش بھی عمل میں لائی جاتی تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی کہ قطع ید بالکل ظالمانہ وسنگدلانہ فعل تھا اور اس کا بعید ترین تعلق بھی اس صورت سے نہ تھا جیسے فقہی اصطلاح میں شبہ میں حد جاری کرنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہاں جس کا ہاتھ کاٹا گیاوہ قطعاً معصوم الدم تھا اور اس سزا کا ہرگز مستحق نہ تھا۔اس نےکوئی سرقہ یا دوسرا جرم ایسا نہیں کیا تھا جس میں شبہ یا غلہ انہی کی بنا پر بھی قطع ید کی حد یا تعزیر کا امکان پیدا ہوتا، اس لیے یہ گورنر قواعد شرعیہ کے مطابق قصاص سے کسی طرح بچ نہیں سکتا تھا۔ اس پر عثمانی صاحب کہتے ہیں کہ تحقیق وتفتیش کا سوال وہاں پیش آتا ہے جہاں مدعی اور مدعا علیہ میں کوئی اختلاف ہو، جہاں مقدمہ کے دونوں فریق کسی بات پر متفق ہوں وہاں اگر فیصلہ ان کی بیان کردہ متفقہ صورت پر کر دیا جائے تو حاکم کو موردالزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ فرض کیجئے کہ زید عمر پر دعوی کرتا ہے کہ اس نے میرے بھائی کو قتل کر دیا ہے۔ حاکم جب عمر سے پوچھتا ہے تو وہ اقبال جرم کر لیتا ہے، اگر اس صورت میں حاکم عمر پرقتل کی سزا عائد کر دے تو کیا وہ گنہگار کہلائے گا؟ یہ بغیرسوچے سمجھے خطاب جھاڑنے کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ سوال یہ ہے کہ مدعی اور مدعا علیہ کون ہیں،ان کا متفقہ بیان کیا ہے اور کس کے سامنے لیا گیا ہے؟ مدعی تو بنوختبہ کا ایک شخص ہےجس کا نام جبیر بن ضحاک تھا، اس کا کوئی بیان نہ قاضی بصرہ کےسامنے، نہ امیر معاویہ کے سامنے لیا گیا۔ اس غریب نے نہ کسی کےسامنے پیش ہونے کی جرات کی، نہ اسے بلوایا گیا۔ دوسرا فریق عبداللہ بن عمرو بن غیلان ہے۔اس کا بھی کوئی بیان بطور مد عاعلیہ نہ بصرےکی کسی عدالت میں ہوا، نہ امیر معاویہ کےسامنے ہوا۔ اس کی بس ایک مشتبہ اور گول مول تحریر ہے کہ میں نے اس آدمی کا ہاتھ شبہ میں کاٹ دیا ہے اور اسی تحریر پر سارے مقدمے کا فیصلہ ہو رہا ہے حالانکہ تحریر، خواہ وہ بیان واقرار ہو، خواہ بعنوان مکتوب ہو جو ایک کی جانب سے دوسرےکو بھیجا گیا ہو، یا تحریری شہادت ہو، یہ متقدمین فقہاء کےہاں مطلقا حجت نہیں اور عدالتی کارروائی میں اس پر عمل جائز نہیں۔ بالخصوص حدود و قصاص وغیرہ کےفوجداری مقدمات میں تو کوئی تحریر بطور شہادت وثبوت قابل قبول ہی نہیں ہے اور ایک شخص کسی دوسرے کی جانب سے بیان یا اقرار کا مجاز نہیں ہوسکتا۔

ابن غیلان کے پاس اگر گوارنری کے ساتھ قضا کےعدالتی اختیارات ہوتے،تب بھی وہ ذاتی سنجش کے معاملے میں کوئی فیصلہ کرنےاور سزا دینےکا مجاز ہر گز نہیں تھالیکن یہاں تو یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہےکہ اس گورنر کے وقت بھرےمیں زراره بن اوفی قاضی مقرر تھےتاریخی طبری اور دوسری تاریخی کتابوں میں ان کا ذکر موجود ہے۔یہ حضرت عمران بن حصین کےبعد عہدہ قضا پر مامور ہوئےاور انکےمتعدد عدالتی فیصلے کتابوں میں منقول ہیں ۔ محمد بن خلف بن حیان وکیع نے اپنی تالیف اخبار القضاة،جزء اول_١ میں ان کے مستقل حالات بیان کیے ہیں اور لکھا ہے کہ وہ زیاد کی وفات اور حجاج کی ولایت کے آخری ایام تک قاضی رہے ہیں ۔ وہاں یہ بھی تصریح ہے کہ

استعمل عبد الله بن عمرو بن عيلان الثقفى فائر زرارة على القضاء فلم يزل زرارة حتى عزل عبدالله بن عمرو.

”جب عبداللہ بن عمرو بن غیلان کو گورنر بنایا گیا تو زرارہ قضا پر برقرار ہے حتی کہ ابن غیلان کو معزول کیا گیا۔“

اب اگر خلفائے راشدین ذاتی معاملات میں اپنے مقرر کردہ،قاضیوں کےسامنےمدعی و مستغیث کی حیثیت سے پیش ہوتےرہےہیں تو ابن غیلان کی شان میں جو گستاخی ہوئی تھی،اس پر خود ہی ہاتھ کاٹنےکی سزا دینےکے بجائے کیا وہ شرعاً اس امر کا مکلف و پابند نہ تھا کہ وہ ملزم کو قاضی بصرہ کے سامنے پیش کرتا؟ حضرت عمرؓ کا مشہور واقعہ ہےکہ آپ نے کسی شخص کا گھوڑا بار برداری کے لیے استعمال کیا تو گھوڑے والے نے شکایت کی کہ اس پر بوجھ زیادہ ڈالا گیا ہے اور یہ کمزور ہو گیا ہے۔ آپ نے فرمایا اچھا کوئی ثالث مقرر کر لو تو اس نے کہا کہ ان شریح کے فیصلے پر رضامند ہوں ۔شریح نے دونوں کے بیان لیے اور حضرت عمرؓ سے کہا:

اخذت صحيحًا سليما فأنت له ضامن حتى نرده صحيحًا سليمًا.

" آپ نے جانور صحیح و سالم لیا تھا اور آپ اس کے ذمہ دار ہیں کہ اسے صحیح و سالم لوٹا ئیں ۔“

حضرت عمر کو یہ بےلاگ فیصلہ اس قدر پسند آیا کہ آپ نےشریح کو قاضی بنا دیا اور متعدد مرتبہ انکی عدالت میں حضرت عمر فریق مقدمه بن کر پیش ہوئے۔ اس طرح کا ایک واقعہ امام قاضی ابو یوسف نے کتاب الخراج، اختیار الولاۃ میں بیان کیا ہےکہ حضرت عمر نےکسی بات پر ایک شخص کو پیٹ دیا۔ وہ کہنے لگا کہ میری مثال دو آدمیوں میں سے ایک کی سی ہے، یا تو میں جاہل تھا جسے واقف کیا جا سکتا تھایا میری خطا تھی جس سے درگزر کیا جا سکتا تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا:

صدقت دونک فامتثل.

" تم نے بیچ کہا، یہ لے مجھ سے قصاص لے لے۔“

اس شخص نےمتاثر ہو کر کہا کہ میں نےمعاف کر دیا۔اب یہ بات کتنی باعث تحیر و تاسف ہےکہ ان واقعات کو ” خلط مبحث قرار دیا جائےاور یہ کہا جائےکہ ان کا معیار اتنا بلند و بالا ہےکہ اسےامیر معاویہ کےگورنروں پر چسپاں نہیں کیا جاسکتا؟


١- اخبار القضاة - مطبعة الاستقامة القاهرة - ۱۳۶۱، الجزء الاول صفحه ۲۹۲ - ۳۹ ترجمہ زراره بن اونی الجرشی ۔

پھر یہ بات بھی عجیب ہے کہ میری ایک طویل عبارت میں سےصرف ایک پہلا فقرہ سارےسیاق وسباق سے اکھیڑ کر الگ کر لیا گیا ہے اور اسے اپنے اس خود ساختہ نظریے کے حق میں استعمال کیا جارہا ہے کہ شبہ کا فائدہ جس طرح ملزم کو ملتا ہے،اسی طرح حاکم کو بھی ملتا ہے،حالانکہ میں قاضی یا حاکم کےلیے جس جائز تحفظ کا ذکر کر رہا ہوں اس کا تعلق فقط اس عدالتی یا نیم عدالتی فیصلے سےجس میں فیصلہ کرنے والے کی اپنی ذات ملوث نہ ہو اور جس میں نیک نیتی کے ساتھ فریقین کےمابین صحیح فیصلے کی کوشش کے باوجود کوئی سقم رہ گیا ہو۔لیکن فرض کیا کہ ایک حاکم یا قاضی اپنی شخصی و انفرادی حیثیت میں کسی دوسرےکا سر پھوڑ دیتا ہے، ٹانگ توڑ دیتا ہے یا قتل کر دیتا ہے، یا فرض کیا کہ وہ عدالت کی کرسی یا حکومت کے تخت ہی پر بیٹھا ہے اور کوئی شخص آکر اُسے تھپڑ مار دیتا ہے یا اس پر جوتا پھینک دیتا ہے اور یہ حا کم یا قاضی اس شخص کا ہاتھ کٹوا دیتا ہے یا اس کا سر ہی قلم کر دیتا ہے تو کیا یہ حاتم و قاضی محض اپنے عہدے کے بل پر قصاص کے عام اور ہمہ گیر قانونی اطلاق سےبچ جائے گایا کسی خصوصی تحفظ و امتیاز کی بنا پر اس سے قصاص تو نہیں لیا جائے گا، اسے محض تعزیر دی جائے گی یا تعزیر کے بجائے بس اسےسبکدوش کر دیا جائے گا؟ میرے اس سوال کا کوئی جواب دینے کےبجائے محمد تقی صاحب میری شامی کی پیش کردہ عبارت کےمتعلق کہ رہےہیں کہ اس میں کہیں قصاص کا ذکر نہیں،اس میں صرف آتنا لکها ہےکہ قاضی کو تعزیر کی جائےگی اور معزول کر دیا جائے گا۔شامی کی عبارت سےیہ استدلال بالکل غلط ہے کہ ابن عابدین شامی کے نزدیک قاضی سے کسی صورت میں قصاص لینا جائز ہی نہیں۔معلوم ہوتا ہےکہ عثمانی صاحب عبارت کا مطلب سمجھےہی نہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اس عبارت کا تعلق اس صورت سےہےجب کہ قاضی اپنےعدالتی اختیارات کو ا متعمال کر رہا ہو اور عدالتی فیصلے میں ظلم کرے۔البلاغ میں جو تر جمہ آپ نے کیا ہے وہ بھی یہی ہے کہ اگر فیصلہ جان بوجھ کر ظلم پر بنی ہو ۔ کیا کوئی معقول انسان اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ ابن غیلان کا ذاتی انتقام میں ہاتھ کاٹ دینا کوئی عدالتی فیصلہ تھا؟ دوسری بات یہ ہے کہ کتاب میں یہاں وہ افعال بالخصوص زیر بحث ہی نہیں جو موجب قصاص ہیں بلکہ عدالت کے ظالمانہ وخطا کارانہ استعمال پر ایک عمومی بحث ہے،اس لیےیہاں اس بات کےذکر کاکوئی موقع یا ضرورت نی تھی کہ قاضی سےقصاص لیا جائےگا۔بلکہ اتنا بیان کر دنیا کافی تھا کہ اس پر تعزیرو تاوان کا نفاذ ہوگا۔

یہ سوال البتہ مجھ سے ہو سکتا ہے کہ جب شامی کی عبارت کا تعلق عدالتی کارروائی سے تھا، تو میں نے اس بحث میں اسے نقل ہی کیوں کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میں اس عبارت سے فقط یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ جب قضاء بالجور اور عدالتی اختیارات کے غلط استعمال پر بھی قاضی ماخوذ ہو سکتا ہےاور اسے تعزیر، جرمانہ اور معزولی کی سزادی جاسکتی ہے، تو قاضی یا حاکم اپنےشخصی جرائم میں کیوں اس طرح قابل مواخذہ نہیں جس طرح کہ ایک عام مسلمان شہری ہوسکتا ہے؟ اسی لیے میں نے لکھا تھا کہ ذاتی رنجش پر ہاتھ کاٹ دینا تو سرے سے عدالتی فیصلے کی تعریف ہی میں نہیں آتا، فقہاء نےیہاں تک لکھا ہے کہ عدالتی کارروائی میں بھی ظلم و جور پر گرفت ہوگی۔

بے جاونا روا استدلال

عثمانی صاحب نے ردالمختار شامی کی عبارت میں قصاص کے عدم ذکر“ کو ذکر عدم کا ہم معنی سمجھتے ہوئے اس سے جو مزید استدلال جن الفاظ میں کیا ہے، وہ بھی اپنی مثال آپ ہےفرماتے ہیں:” اس عبارت سے تو صاف یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر حضرت معاویہ کو معلوم بھی ہو جاتا کہ قضاء قاضی بالجور ہوئی ہے، تب بھی اس پر قصاص نہ آتا، بلکہ ضمان، تعزیر اور معزولی کی سزائیں دی جاتیں۔ اب یہ انتہا درجے کی دلاوری ہی کی بات ہےکہ ملک صاحب شامی کی اس عبارت کو جو صراحت ان کےموقف کی تردید کر رہی ہے، اپنی تائید میں پیش کر کے مجھ سے دلیل کا بھی مطالبہ فرماتے ہیں ، إِنَّ هذا الشيء عُجَاب اب میری جس” دلاوری“ کی شکایت کی جارہی ہے، اس کی کچھ حقیقت تو بحث گزشتہ سے واضح ہو چکی ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں، مان لیا کہ یہ گورنر ( جسے قاضی کا جبہ پہنا دیا گیا ہے ) قصاص سےبالا تر تھا مگر اتنی بات تو آپ نےبھی تسلیم کر لی کہ ا سے ضمان، تعزیر اور معزولی کی سزائیں دی جائیں۔اچھا،پہلےعمان کو لیجئے۔کیا اس ظالم گورنر پر ایک جبہ ، ایک درہم بھی بطور تاوان عائد کیا گیا، یا اس سے وصول کیا گیا؟ صرف یہی نہیں کہ نہ کیا گی بلکہ الٹا اس ظلم کی سزا عام بے گناہ مسلمانوں کو دی گئی کیونکہ دیت بیت المال سے ادا کی گئی۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ کرے مونچھوں والا اور بھرے ڈاڑھی والا ۔ مسلمانوں کے بیت المال کو تو مال یتیم سےتشبیہ دی گئی ہے، کیا وہ اس غرض کے لیے ہے کہ عمال و حکام کے مظالم کی چٹی اس سے ادا ہو۔ یہ بھی یادر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے بموجب ہاتھ کاٹنے کی دیت پچاس اونٹ ہیں۔ اور نہیں تو کم از کم یہی دیت اس گورنر سے بطور تاوان وضمان وصول کی جاتی تو شاید اسے کچھ نصیحت حاصل ہوتی ۔

اب اس کے بعد تعزیر کو لیجئے ۔ کیا ابن غیلان کو ایک چھڑی بھی لگائی گئی یا ز جر و ملامت ہی کا ایک کلمہ استعمال کیا گیا؟ آپ بار باررٹ رہےہیں کہ قصاص نہیں لیا جاسکتا، چلیےقصاص نہ سہی،تعزیر کا فتویٰ تو آپ کی فقاهت بھی دےرہی ہےپھر اس جرم پر کیا تعزیر دی گئی؟باقی رہی معزولی تو اسکی تفصیل بھی سن لیجئے ابن جریر اور دوسرےمورخین بتاتےہیں که امیر معاویہؓ نےابن غیلان کو معزول تو کر دیا مگر اس کےبعد اهل بصرہ سےکہا که تمہیں اب کونسا گورنر پسند ہے؟وہ لوگ حضرت عبداللہ ابن عامر سےتقویٰ و طہارتِ اخلاق کے باعث محبت رکھتےتھے لیکن وہ اتنی بات کہہ سکے کہ امیر المومنین ہی بہتر جانتے ہیں۔ امیر معاویہ جانتے تھے کہ اہل بصرہ کا رجحان ابن عامر کی طرف ہے۔وہ بار بار دریافت کرتےرہےاور ابن عامر" کا نام بھی لیا مگر بصرے والےکھل کر کچھ نہ کہہ سکے۔اس پر امیر معاویہ نے فرمایا، اچھا، میں اپنے"بھتیجے" عبیدالله بن زیاد کو تمہارا گونر مقرر کرتا ہوں۔ کاش کہ ابن غیلان کی جگہ ابن زیاد نہ لیتا۔ یہ وہی ابن زیاد ہے جس نےریحانه رسول و جگر گوشہ بتول کے طاہر محترم خون سے صحرائے کربلا کی زمین کو رنگین کیا۔ بہر کیف میری ان چند گزارشات کی روشنی میں ہر شخص یہ دیکھ سکتا ہے کہ انتہا درجے کا دلاور میں ہوں یا وہ صاحب ہیں جنہوں نے فن تعریض میں بڑی محنت اور ریاض کے بعد مجھے دلاور‘ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

مولانا گیلانی کا اقتباس

پھر یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آ رہی کہ امیر معاویہ کےسفاک گورنروں کے متعلق جب ہم کوئی بات کہتے ہیں تو اس پر تو اتنی برہمی کا اظہار کیا جاتا ہےلیکن دوسرے اہل علم اگران گورنروں کےکارنامےبیان کرتےہیں تو کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔مثال کےطور پر مولانا سید مناظر احسن صاحب گیلانی مرحوم صدر شعبہ دینیات جامعہ عثمانیہ (دکن) ایک نامور دیو بندی عالم ہیں۔ان کی ساڑھےپانسو سےزائد صفحات کی کتاب ” حضرت امام ابوحنیفه" کی سیاسی زندگی بہت مشہور ہے۔ اس کی ایک فصل کا عنوان ہے۔اموی دور میں قضاۃ پر والیوں کا اثر “ اس فصل کو مولانا ممدوح ان الفاظ سے شروع کرتے ہیں:

"جو نہی خلافت مدینہ سے منتقل ہو کر دمشق پہنچی ، قضا اور فصلِ خصومات کی اہمیت اس درجہ گھٹادی گئی کہ ہر صوبہ کےوالی کو اس کا اختیار دےدیا گیاکہ اپنی صوابدید سےجسکو وہ چاہیں اپنےعلاقوں میں قاضی مقرر کر لیں ۔انما كان ولاة بلدهم هم الذين يولون القضاء (حسن المحاضرة ص ۸۸ امام سیوطی) ۔ زیادہ دن بعد نہیں ، مروان ہی کےزمانےمیں اس کا نتیجہ یہ دیکھا گیا کہ جب وہ مصر کےدورےپر پہنچا تو قاضی کو بلایا جس کا نام قاضی عابس تھا۔عابس کےعلم و فضل کا کیا حال تھا۔تاریخ والےبیان کرتےہیں،حسن المحاضرہ میں بھی ہےکہ قاضی عابس ان پڑھ تھا،لکھنا بھی نہیں جانتا تھا،مروان نےاس غیر خواندہ قاضی کو مخاطب کرکے پوچھنا شروع کیا:کیا تم نےقرآن یاد کر لیا ہے؟ جواب ملا نہیں،مجھےقرآن یاد نہیں ہےپھر پوچھا کیا تم نےمیراث کےمسائل کو پختہ کر لیا ہے، جواب ملا: ان سے بھی واقف نہیں۔ مردان کو اس جواب پر حیرت ہوئی اور بولا : آخر تم کس چیز سے فیصلہ کرتے ہو؟“

بیچارے عابس اس کا کیا جواب دے سکتے تھے۔ الغرض بجائے خلیفہ کے قاضیوں کا تقرر والیوں کےسپرد کر دینے ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ ان کےذاتی اغراض کے مطابق جو آدمی ہوتا تھا،اس کا وہ تقرر کر دیا کرتے تھےان ہی قاضی عابس صاحب کے تقرر کی وجہ یہ کھی ہے کہ حضرت معاویہ نےمصر کے والی مسلمہ کولکھا کہ یزید ( کر بلائی) کےلیےلوگوں سےبیعت لی جائے۔حسب الحکم مسلمہ نےبیعت لینی شروع کر دی۔ اور تو کسی کی طرف سے انکار نہیں ہوالیکن مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ جو فاتح مصر عمرو بن عاص کے مشہور صاحبزادے ہیں اور علم و فضل اور علّو سیرت میں لوگوں نے باپ پر بھی ترجیح دی ہے، انہوں نے بیعت سےانکار کیا۔ مسلمہ نےان کے انکار پر اعلان کیا: عبد اللہ کو درست کرنے کےلیےکون آمادہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہی عابس بن سعید کھڑےہوئےاور بولےمیں اس کام کو انجام دیتا ہوں۔عبداللہ بن عمر و اس زمانےمیں اپنےوالد کے مشہور قصر واقع فسطاط میں قیام فرما تھے۔ عابس پولیس کے نو جوانوں کو لے کر پہنچا اور ان کے مکان کو گھیر لیا اور کہلا بھیجا کہ بیعت یزید کے متعلق اب کیا ارادہ ہے؟ انہیں پھر بھی انکار ہی پر اصرار رہا۔ عابس نے اس کے بعد کیا کیا۔ مؤرخین لکھتے ہیں:

"اس نے آگ اور لکڑی جمع کی تاکہ ان کے قصر میں آگ لگادے (حسن المحاضرہ ) ۔ عبداللہ بن عمرو نے اس کے بعد اپنے آپ کو مجبور اور معذور پایا۔ بیچارے گھر سے نکلے اور جو کچھ اس جاہل نے کہنےکےلیے کہا، دہرا دیا۔ ان پڑھ عابس کا یہی سب سے بڑا کارنامہ تھا کہ صحابی کو آگ میں جلا دینے کی دھمکی دے کر حکومت میں سرخروئی حاصل ہوئی تھی ۔ اسی سرخروئی کا یہ صلہ ملا تھا کہ غریب مسلمانوں کی منڈیاں، ان کی جانیں، ان کےمال و جایداد حکومت نےسب قرآن و حدیث اور فرائض سےبالکل جاهل اس شخص کےسپرد کر دیئے۔

میں نےتمثیل کے لیے یہ ایک جزئی واقعہ پیش کیا ہے، ورنہ قاضیوں کے تقررات میں جو بےاعتنائیاں مختلف اثرات کے تحت برتی جاتی تھیں، ان کی داستان طویل ہے۔

ہم لوگ جب بیعت یزید کی بے ضابطگیوں یا عمال معاویہ کی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہیں،نو اس کی تردید میں تو بڑی منطق چھانٹی جاتی ہےکہ بھلا اس دور میں یہ کیسے ہوسکتا تھا اور وہ کیسےہو سکتا تھا،اس سےتو صحابہ کرام کی توہین و تحقیر ہوتی ہے جو دین کی عمارت کی بنیاد ہیں اور اس کی ایک اینٹ بھی اپنی جگہ سے ہلائی جائے تو قصر ایمان متزلزل ہو جاتا ہے۔“ مگر جب مکتب دیوبند کےاساطین امام سیوطی جیسے مؤرخ و محدث ( بلکه بہت سوں کےنزدیک مجدد) کےحوالےسے ایسےایسے واقعات بیان فرماتے ہیں تو محمد تقی صاحب کے قصر ایمان میں کوئی بھونچال نہیں آتا اور نہ وہ ان بزرگوں کی طرف رخ کر کے کوئی فتویٰ صادر فرماتے ہیں۔کیا میں بھی اس پر اِنَّ هَذَا لَشَيْى عُجَابٌ کی آیت پڑھ سکتا ہوں؟

انتظامیہ و عدلیہ کی مضحکه انگیز تصویر

میں اس مسئلے کو بڑی حد تک واضح کر چکا ہوں کہ اسلامی ریاست میں کوئی فرد، حتی کہ صدر ریاست اور امیر المومنین بھی قانون سے بالا تر نہیں ہیں اور حاکم ومحکوم سب کے سب یکساں طور پر احکام شریعت کے پابند اور ان کی زد میں ہیں۔اپنی ذاتی و شخصی حیثیت میں جسطرح ایک عام شہری دیوانی و فوجداری جرائم میں ماخوذ ہو سکتا ہے، اسی طرح بڑے سے بڑا صاحب منصب،حتی کہ خلیفہ وقت بھی قانونی گرفت میں آکر سزا کامستحق ہو سکتا ہےآخر میں اب میں یہ بتا دینا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ انگریز کاجو چھوڑا ہوا قانون اب تک ہم پر رائج ومسلط ہے، اس میں بھی حکومت کےعہدے داروں اور ملازمین کو اپنی شخصی حیثیت میں ایسا تحفظ حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی بے گناہ کا مال لوٹ لیں یا کسی کی جان یا عزت و آبرو پر حملہ آور ہوں، تو ان سےباز پرس نہ ہو سکےالبتہ جوں اور پبلک ملازمین کوصرف اتنی حفاظت و صیانت حاصل ہےکہ اگر ان پر کسی ایسےجرم کا الزام ہو جو انہوں نےمبینہ طور پر اپنےسرکاری فرائض کی انجام دہی میں کیا ہو تو ان کے خلاف حکومت کی پیشگی اجازت کےبغیر کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا۔ مقدمہ دائر ہو جانے کے بعد عدلیہ جو سزا چاہےان کو دےسکتی ہے۔ حکومت نہ مقدمہ واپس لے سکتی ہے،نہ عدالتی کاروائی میں کوئی مداخلت کر سکتی ہے۔یہ تو اس قانون کی بات ہے جس میں سرکاری ملازمین کے مفاد کو خاص طور پر پیش نظر رکھا گیا ہے،ورنہ دنیا بھر کے متعدد نظامہائے قانون میں ملازمین حکومت کے سرکاری اختیارات کے غلط اور متجاوز استعمال پر فوری اور عاجلانہ مواخذے کے لیے نہایت مستحکم و آزاد عدالتیں اور تریبیونل موجود ہیں جو غلط کار افسران کو عبرتناک اور سنگین سزائیں دیتے ہیں۔ اس کے بالمقابل ہمارے بعض نوخیز فقیہ اور مدیر اسلامی انتظامیہ وعدلیہ کی یہ تصویر اپنے قلم و قرطاس کے ذریعے سے پیش کر رہے ہیں کہ کوئی گورنر یا ڈ پٹی کمشنر اپنی ذات کے خلاف کسی شخص کی گستاخی پر ناراض ہو کر اگر کسی کا ہاتھ یا سر قلم کر دے اور پھر یہ بات سپرد قلم کر دے کہ میں نے یہ کام ”شبہ میں کر ڈالا ہے تو اس پر نہ قصاص ہوگا، نہ تاوان ہو گا، بس اسے ملازمت سے ریٹائر کر دیا جائےگا، اور تاوان بھی دلوایا جائے گا تو سرکاری خزانے سے نہ کہ مجرم کی ذات سے۔اسلامی حکومت کا یہ نقشہ پیش کر کے آج آپ دنیا میں کس کو اس کا معتقد بنا سکتے ہیں؟ امیر معاویہ کی حمایت کے جوش میں آپ اسلامی حکومت د ریاست ہی کو خلقِ خدا کے سامنے رسوا کیسے دے رہے ہیں۔


١- حضرت امام ابوحنیفہ کیسیای زندگی از علامه سید مناظر احس گیلان مردوما مطبوع نفیس اکیڈی،ملاس اسنمر بست، کراچی سمجھ ۵۰ - ۵۱ ۔ اس کتاب پر مصنف مرحوم کے فاضل شاکر دیا کہ محمد عبید اللہ صاحب ایم اے پی ایچ ڈی نے مقدمہ لکھا ہے۔

کتاب خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Caliphate , monarchy