خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ

باب چهارم

باب چهارم

حضرت علی

واهل بیت پر سب و شتم

حضرت علی واہل بیت پر سب و شتم

(١)

ست علی کا ثبوت

مال غنیمت کے مسئلے کے بعد حضرت علی پر سب و شتم کا مسئلہ آتا ہے۔ اس موضوع پر مولانا مودودی نے خلافت و ملوکیت ص۱۷۴ پر دس سطروں میں جو کچھ لکھا ہے اس کا اقتباس دے کر عثمانی صاحب لکھتے ہیں:۔

"مولانا نے اس عبارت میں تین دعوے کیے ہیں،ایک یہ کہ حضرت معاویہؓ حضرت علی پر خود سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے،دوسرے یہ کہ ان کے تمام گورنر یہ حرکت کرتے تھے، تیسرے یہ کہ یہ گورنر حضرت معاویہ کے حکم سے ایسا کرتے تھے ۔ جہاں تک پہلے دعوے کا تعلق ہے، سو حضرت معاویہ کی طرف اس مکروہ بدعت کو منسوب کرنے کےلیےتین کتابوں کے پانچ حوالےپیش کیےگئےہیں۔ہم نے ان میں سےایک ایک حوالہ کو صرف مذکورہ صفحات ہی پر نہیں، بلکہ آس پاس بھی بنظر غائر دیکھا۔ چونکہ مولانا نے تصریح کے ساتھ لکھا ہے کہ وہ خود ( معاذ اللہ ) اس”انسانی اخلاق کےخلاف فعل کا ارتکاب کرتے تھے اس لیےہم نےسوچا کہ شاید مولانا نےایسی کوئی روایت کسی اور مقام پر دیکھ لی ہو اور اس کا حوالہ دینا بھول گئےہوں۔چنانچہ ہم نےمذکورہ تمام کتابوں کے متوقع مقامات پر دیر تک جستجو کی کہ شاید کوئی گری پڑی روایت ایسی مل جائےلیکن یقین فرمائیےکہ ایسی کوئی بات ہمیں کسی کتاب میں نہیں ملی ۔ پھر بعض ان تواریخ کی طرف بھی رجوع کیا جن کے مصنف شیعہ تھے ، مثلاً مروج الذہب، لیکن اس میں بھی ایسی کوئی بات نہیں ملی ۔

عثمانی صاحب نے یہاں اور آگے چل کر جس طرح سبت علی کےمعاملے میں حضرت معاویہؓ کی برات ثابت کرنے کی سعی کی ہےمیں اس کےجواب میں پوری ذمہ داری کےساتھ عرض کرتا ہوں کہ امیر معاویہ نےخلیفہ بننے سے پہلےبھی اور اس کے بعد بھی حضرت علی و اهل بیت النبی پر سب و شتم کی مہم خود اپنی سرپرستی میں با قاعدہ جاری کی تھی اور یہ بنو امیہ کےدور میں منبروں پر مسلسل جاری رہی،تا آنکه حضرت عمر بن عبدالعزیز نے آکر اسے مٹایا۔ یہ بات جس طرح تاریخ وحدیث کی کتابوں میں مذکور ہے وہ اسے قطعیت و تواتر کا درجہ دے رہی ہے۔ مولانا مودودی کے حوالوں میں کوئی خلا یا تشنہ پہلو تلاش کر کےاسے زور آزمائی کے لیے منتخب کر لینے سےحقیقی مسئلہ کالعدم نہیں ہو سکتا۔مجھےعثمانی صاحب کی شکایت اس حد تک تسلیم ہےکہ جن مقامات کے حوالے مولانا مودودی نے دیئےہیں، وہاں یہ بات صراحة مذکور نہیں کہ امیر معاویہ خود سب و شتم کرتے تھے بلکہ اتنی بات بیان کی گئی ہے کہ گورنروں کو اس کی ہدایت کی گئی تھی۔ لیکن انہی کتابوں کے بعض دوسرے مقامات پر امیر معاویہ کا اپنا یہی فعل منقول ہے، اس لیے مدیر موصوف اپنے الفاظ کی منظر کشی سے یہ جو تاثر دینا چاہتے ہیں کہ امیر معاویہ نے خود نہ بھی ایسا کیا، نہ کسی سے کرنے کو کہا، یہ تاثر بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے۔ موصوف کا بیان یہ ہےکہ انہوں نے مولانا کی ذکر کردہ کتابوں، بلکہ دوسری تاریخوں کےسارے مقامات پر جستجو کی لیکن ایسی کوئی بات کسی کتاب میں نہ ملی۔ میں سردست دوسری کتابوں سےنہیں، البدایہ والنہایہ ہی سے دو حوالے پیش کرتا ہوں جسے کھنگالنے کا انہوں نے دعویٰ کیا ہے:

قال أبو زرعة..... عن عبدالله بن ابي نجيح عن ابيه قال: لما حج معاوية اخذ بید سعد بن ابی وقاص و أدخله دار الندوة فأجلسه معه على سريره ثم ذكر على بن ابي طالب فوقع فيه. فقال:ادخلتنی دارک و اجلستنی علی سريرك ثم وقعت في على تشتمه والله لان يكون فى إحدى خلاله ثلاث أحب إلي من ان يكون لي ما طلعت عليه الشمس، ولان يكون لى ما قال له حين غزاتبوكاً "الا ترضى ان تكون منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى احب الي مما بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى احب الي مما طلعت عليه الشمس. ولان يكون لي ما قال له يوم خيبر : لاعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله. يفتح الله على يديه ليس بفرار احب الي مما طلعت عليه الشمس.ولان اکون صهره على ابنته ولى منها من الولد ماله احب الي من ان يكون لي ماطلعت عليه الشمس لا ادخل عليك دارًا بعد هذا اليوم، ثم نفض ردا ء ه ثم خرج (البدایہ والنہایہ جلدے ، ص ۳۴۱)


١- ہو سکتا ہےکہ مولانا مودوی کی سےکوئی حوالہ رہ گیا ہو اور یہ بھی ممکن ہےکہ مطالعہ کتب سے ایک مجموعی اور مشترک مضمون انہوں نےاخذ کر کےاپنےالفاظ میں بیان کر دیا ہو اور کچھ حوالےدےکر بقیہ کو قصد انظر انداز کر دیا ہو۔ بہر کیف البدایہ والنہایہ جس کے دو مقامات کا حوالہ مولانا نے درج کیا ہے، اس کتاب کے دیگر مقامات پر وہ بات مذکور ہے جسے میں نقل کر رہا ہوں اور جس سے محمد تقی صاحب نے انکار کیا ہے۔

ابوزر عددمشقی عبداللہ بن ابی بیج کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب معاویہؓ نے حج کیا تو انہوں نے سعد بن ابی وقاص کو ہاتھ سے پکڑا اور دارالندوه میں لے جا کر اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا۔پھر علی بن ابی طالب کا ذکر کرتے ہوئے ان کی عیب جوئی کی۔ حضرت سعد نے جواب دیا: ” آپ نے مجھے اپنے گھر میں داخل کیا، اپنے تخت پر بٹھایا، پھر آپ نے علی کے حق میں بدگوئی اور سب و شتم شروع کر دی۔ خدا کی قسم اگر مجھ میں علی کے تین خصائص وفضائل میں سے ایک بھی ہو تو وہ مجھے اس کائنات سے زیادہ عزیز ہو جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ کاش کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں یہ فرمایا ہوتا، جب کہ آنحضور غزوہ تبوک پر تشریف لے گئے ، تو آپ نے علی کے حق میں فرمایا:"یا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ میرے لیے تم ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کےلیےتھے،الا یہ کہ میرے بعد نبی نہیں۔ یہ ارشاد میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے محبوب تر ہے۔ پھر کاش میرے حق میں وہ بات ہوتی جو آنحضور نے خیبر کے روز علی کے حق میں فرمائی کہ میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت رکھتے ہیں۔اللہ اس کےہاتھ پر فتح دے گا،وہ بھاگنےوالا نہیں ہے۔یہ ارشاد بھی مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہے۔ اور کاش کہ مجھےبھی آنحضور کی دامادی کا شرف نصیب ہوتا اور آنحضور کی صاحبزادی سےمیرےہاں وہ اولاد ہوتی جو علی کو حاصل ہے۔ تو یہ بھی میرے لیے دنیا و فرا عزیز تر ہوتا۔ آج کےبعد میں آپ کے گھر میں کبھی داخل نہیں ہونگا۔ پھر حضرت سعد نے اپنی چادر بسکی اور وہاں سے نکل گئے"-

آگے البدایه جلد ۸، ص۵۰ پر ابن کثیر لکھتے ہیں:۔

كان مغيرة بن شعبة على الكوفة اذا ذكر عليّا في خطبته ينقصه بعد مدح عثمان و شیعته فيغضب حار مندا ويظهر الانكار عليه.

” جب مغیرہ بن شعبہ کو فہ کے والی تھے تو وہ خطبے میں حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں کی مدح کے بعد حضرت علی کی تنقیص کرتے تھے۔ اس پر حضرت حجر" غضبناک ہو کر احتجاج کرتے تھے۔“

ممکن ہے کہ مدیر" البلاغ "ان روایات کو بھی گری پڑی“ کہنے کی جرات کریں اور کتب رجال کی ورق گردانی شروع کر دیں،مگر میں انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان کےشواہد ومتابعات مسلم اور ترمذی،مقدمہ ابن ماجہ،فضل علی اور دیگر کتب حدیث میں بھی موجود ہیں۔ مسلم کی ایک حدیث یہ ہے:-

عن عامر بن سعد بن ابی وقاص عن ابيه قال امر معاوية بن ابي سفيان سعدًا فقال ما منعک ان تسب اباتراب فقال اماما ذكرت ثلاثاً لهنّ له رسول الله صلى الله عليه وسلّم فلن اسبه لان تكون لى واحدة منهن احب الي من حمر النعم......

(مسلم، کتاب فضائل الصحابہ ، باب فضائل علی)

"حضرت سعد بن ابی وقاص کے صاحبز دے عامر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ نے حضرت سعد کو حکم دیا اور پھر کہا کہ آپ کو کس چیز نے روکا ہے کہ آپ ابوتراب ( حضرت علیؓ) پر سب و شتم کریں؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب میں ان تین ارشادات کو یاد کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کےمتعلق فرمائےتھےتو میں هرگز ان پر سب و شتم نہیں کر سکتا۔ ان تین مناقب میں سے اگر ایک منقبت بھی میرے حق میں ہوتی تو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی ۔“

اس کے بعد حضرت سعد نے وہ تینوں مناقب بیان کیے جواد پر البدایہ کی روایت میں مذکور ہو چکے ہیں۔ بس اتنا فرق ہے کہ تیسرا ارشاد مسلم ( اور ترندی) میں یوں نقل ہے کہ جب یہ آیت مباہلہ اتری که فَقُلْ تَعَالَوْ نَدْعُ أَبْنَاءَ ا... تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ، فاطمہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلا یا اورفرمایا:

اللهم هؤلاء اهلى.

”اے میرے اللہ ، یہ میرے اہل وعیال ہیں۔"

معنوی لحاظ سے دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نہیں ۔ بعض شارحین نے مسلم اور ترندی کی حدیث کے لفظ سب کی توجیہ یہ کی ہے کہ اس سے مراد بد گوئی نہیں، بلکہ امیر معاویہ کی مراد یہ تھی کہ آپ حضرت علیؓ کےاجتہادات و آراء کو غلط اور میرےاجتہاد کو صحیح کیوں نہیں کہتے۔لیکن یہ توجیہ بالکل بے محل ہے اور لغت یا سیاق کلام میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ اگر سوال محض اجتہاد کےصواب و خطا کا تھا، تو اس کے جواب میں حضرت علی کے فضائل و مناقب کے بیان کا کیا موقع تھا؟غلطی یا اجتہادی غلطی تو حضرت علیؓ سے ان فضائل کے باوجود صادر ہو سکتی تھی۔ پھر ابن کثیر کی روایت میں جو نقشہ بیان ہوا ہے کہ امیر معاویہ کی بات سن کر حضرت سعد ایسے برافروخته ہو گئےکہ دامن جھاڑ کر یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ میں آئندہ آپ کےگھر میں کبھی قدم نہیں رکھوں گا،یہ فعل صاف طور پر صورت حال کی سنگینی کو واضح کر رہا ہے۔ فتح الباری باب مناقب علی کی شرح میں مسند ابی یعلی کے حوالے سے حضرت سعد کے یہ الفاظ منقول ہیں:۔

لو وضع المنشار على مفرقى على ان اسب عليا ما سببته ابدا.

"اگر آری میرےسر پر رکھ کر مجھےعلی کی بدگوئی کا حکم دیا جائےتو بھی میں ہرگز ان کی بدگوئی نہ کروں گا ۔“

ان روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ امیر معاویہ نے سب علی کا ایک عام طریقہ رائج کر رکھا تھا جتی کہ انہوں نے حضرت سعد جیسے جلیل القدر صحابی کو بھی اس کا حکم دیا،حلانکہ وہ عشرہ مبشرہ میں سےتھےاور دور فتن میں بالکل گوشہ نشین ہو گئےتھے۔جب انہوں نے اس فرمایش کی تعمیل نہ کی تو امیر معاویہ نے اس پر گرفت کرتےہوئےجواب طلبی کی اور حضرت سعد کو صاف بیانی سےکام لیتا پڑا۔ ممکن ہے کہ عثمانی صاحب یہاں نکتہ اٹھائیں کہ اس میں منبر کا ذکر نہیں ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ ایسا فعل جس کا دوسروں کو امر کیا جائےاور جس پر عمل نہ کرنےکی صورت میں باز پرس کی جائے کوئی معقول وجہ نہیں کہ اس کا ارتکاب علانیہ نہ ہو۔ پھر بالفرض اگر یہ فعل منبر پر کھڑےہو کر نہیں بلکہ سر پر بیٹھ کر کیا جائےتو کیا قباحت میں کوئی کمی واقع ہو جاتی ہے؟ بلکہ ایک طرح سےپرائیویٹ مجلس میں سب و شتم اپنےساتھ انتیاب کو بھی جمع کر لیتا ہے۔۔

١- اس حدیث اور لفظ سب کےمتعلق شاہ عبدالعزیز صاحب کا ایک نواب فتوای عزیزیہ مترجم (شائع کردہ سعید کمپنے ص۴۱۳) میں موجود ہے جس میں فرماتے ہیں: "بہتر یہی ہے کہ اس لفظ سے اس کا ظاہر معنی سمجھا جائے ۔غایۃ الامر اس کا یہی ہوگا کہ ارتکاب ، اس فعل قبیح کا یعنی سب یا حکم بہت حضرت معاویت بہادر ہونا لازم آئے گا۔ تو یہ کوئی اول امر قبیح نہیں ہے جو اسلام میں ہوا ہے ، اس واسطے کہ درجہ سب کا قتل و قتال سے بہت کم ہے، چنانچہ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ سباب المومن فسوق وتناله کفر یعنی برا کہنا مومن کو فرق ہے اور اس کے ساتھ قبال کرنا کفر ہے ۔ اور جب قتال اور حکم تال کا صادر ہونا یقینی ہے، اس سے چارہ نہیں تو بہتر یہی ہے کہ ان کو مرتکب کبیرہ کا جاننا چاہیے۔ لیکن زبان طعن دلعن بند رکھنا چاہیے۔ اس طور سے کہنا چاہیے جیسا صحابہ سےان کی شان میں کہا جاتا ہے جس سےزنا اور شرب خمر سرزد ہوا رضی اللہ عنہم اجمعین۔ اور ہر جگہ خطاء اجتهادی کو دل دنیا بیبا کی سے خالی نہیں ۔ انھی ( ترجمہ باقی تو صحیح ہے،البتہ بیبا کی سماعت کا ترجمہ کیا ہے۔ بیباکی کے بجائے فیاضی یا دریادلی مناسب تھا۔ غ)

لا طائل کی تردید

سب علی کو بالکل ایک غیر واقعی مفروضہ ثابت کرنے کے لیے عثمانی صاحب نے جو دور از کار دلائل دیے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہےکہ حضرت علی کےقتل پر حضرت معاویہ رونے لگے اور ان کی اہلیہ نےکہا کہ آپ روتے کیوں ہیں جب کہ زندگی میں آپ ان سےلڑتےرہےاس سے عثمانی صاحب نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ دیکھو، آپ کی اہلیہ نےیہ کہا کہ آپ لڑتے رہے،یہ نہیں کہا کہ سب و شتم کی بوچھاڑ کرتےرہے،اس سے ثابت ہوا کہ آپ سب علی نہیں کرتےتھے۔سبحان اللہ، کیا نرالا استدلال ہے! اس کا جواب تو وہی ہے جو شاہ عبد العزیز صاحب نے دیا ہے کہ خلیفہ راشد و برحق کے خلاف بغی وقتال تو سباب سے بڑھ کر اور شدید تر ہے۔ ایسی صورت میں امیر معاویہ کی اہلیہ بحتر مہ قتال کو چھوڑ کر سب و شتم کا ذکر کیا کرتیں۔باقی مجھےاس رونےپر بھی ایک شعر یاد آ گیا جو حضرت أبو الطفيل عامر بن واثله نے حضرت معاویہؓ اور حضرت علی ہی کے معاملے کی مثال دیتے ہوئے پڑھا تھا اور وہ یہ ہے:۔

لا الفينك بعد الموت تندبنی وفی حیاتی مازودتني زادی ._١

"میں تمہیں اس حال میں نہ پاؤں کہ تم میرے مرنے پر تو میرا ماتم کرو۔ مگر میری زندگی میں میرے لیے کوئی سروسامان فراہم نہ کرو ۔“

واقعہ یہ ہے کہ حضرت معاویہ کے رونے سے تو دراصل یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کا ضمیر خود جانتا تھا کہ خلیفہ وقت سے لڑ کر انہوں نے کسی خطائے عظیم کا ارتکاب کیا تھا، اور ان کا دل خوب جانتا تھا کہ بغاوت کے جرم سے قطع نظر، علی جیسے شخص کے مقابلہ میں بجائے خود ان کا دعوائےخلافت کس قدر بے جا تھا۔ اس رونے سے یہ دلیل نہیں لائی جاسکتی کہ وہ ان کی مخالفت میں سرگرم نہ تھے، بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس انسان سے وہ لڑتے رہے، اس کے فضل و کمال کا انہیں خود اعتراف تھا۔

پھر عثمانی صاحب نےایک واقعہ نقل کیا ہےکہ بسر بن ارطاۃ نےحضرت معاویه اور حضرت زید بن عمر بن خطاب کی موجودگی میں، حضرت علی پر سب و شتم کیا تو حضرت معاویہ نے فرمایا: ” تم علی کو گالی دیتے ہو حالانکہ وہ ان (حضرت زید) کےدادا ہیں؟ عجیب بات ہے اس واقعہ سے بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہےکہ امیر معاویہ اور آپ کےگورنر سب علی کےالزام سے بری الذمه ہیں،حالانکہ اس واقعہ سے تو یہ ثبوت مل رہا ہےکہ گورنروں میں اتنی جرات اور بیا کی پیدا ہوگئی تھی کہ وہ امیر معاویہ کےسامنےاور علی کےعزیزوں کی موجودگی میں بھی حضرت علیؓ کو گالیاں دینے سےنہیں چوکتے تھے۔ بُسر بن ارطا قا مدینے میں امیر معاویہ کا گورنر تھا۔ اس نے جب یہ حرکت کی تو بلاشبہ پہلے آپ نے اسے ٹوکا۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ اسے البلاغ میں نقل نہیں کیا گیا۔ امام طبری فرماتےہیں:


١- یہ واقعہ اور شعر أسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلدہ میں حضرت ابوالطفیل کے حالات میں درج ہے۔

ثم ارضاهما جميعاً.

"پھر امیر معاویہؓ نے دونوں کو راضی کر دیا۔“

حالانکہ حضرت زید کا راضی ہونا کیا ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گئےہوں گے۔ ایک شخص آپ کے سامنے ایک وفات یافتہ صحابی کی شان میں گستاخی کرے اور آپ اس کے فعل پر تو ناراض نہ ہوں محض اس بات پر گرفت کریں کہ اس شخص نے وفات یافته بزرگ کی اولاد کی موجودگی میں یہ حرکت کی تھی۔ پھر اس دوہری بیہودگی پر سزا کوئی نہیں، بلکہ دونوں میں راضی نامہ کرا دیا! یہ ہے صفائی کا وہ بیان جسے عثمانی صاحب بڑے اطمینان کے ساتھ حضرت معاویہؓ کی طرف سے پیش فرما رہے ہیں۔ شاید آج بھی اگر کوئی شخص کسی سیڈ کے سامنے حضرت علی کو گالی دے تو عثمانی صاحب صرف دونوں کے درمیان راضی نامہ کرا دینےکو کافی سمجھیں گےبُسر کا مختلف مواقع پر حضرت علی پر سب و شتم کرنا ایک مسلمہ حقیقت ہےجسے متعدد تاریخوں میں بیان کیا گیا ہے۔مثلاً تاریخ طبری جلد سه ص ۱۲۸، تاریخ الکامل جلد ۳ ص ۳۰۷ پر مذکور ہے کہ بسر نے بصرے میں منبر پر خطبے کے دوران میں حضرت علی پر سب و شتم کیا۔

عجیب منطق

پھر مولانا محمد تقی صاحب لکھتےہیں کہ مولانا مودودی کا دعوی اس وقت ثابت ہو سکتا ہے جب وہ حضرت معاویہ کے تمام گورنروں کی ایک فہرست جمع کر کے ہر ایک کے بارے میں ثابت فرمائیں کہ اس نے انفرادی یا اجتماعی طور پر حضرت علیؓ کو گالیاں دی تھیں اور امیر معاویہ نےایسا کرنےکا حکم دیا تھا۔میری طرف سے اس منطق کا جواب یہ ہےکہ جب مختلف و متنوع روایات یہ بات بیان کر رہی ہوں کہ امیر معاویہ خود بھی ایسا کرتے تھے،ان کے بعض گورنر بھی ایسا کرتے تھے اور بعض گورنروں کو ایسا کرنے کا حکم امیر معاویہ نے دیا تھا، تو یہ ساری تاریخی روایتیں مل جل کر اس امر کا کافی دوافر ثبوت بہم پہنچا دیتی ہیں کہ یہ سلسلہ واقعات ایک طےشدہ پالیسی کی مختلف کڑیاں تھیں۔کسی ایک یا دو عاملوں کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اپنی اپیج سے اس امر عظیم کا ارتکاب کرتے اور عامتہ المسلمین یا خود امیر معاویہ اس سے اغماض برتتے۔

پھر امیر معاویہ کا حضرت سعد سےان الفاظ میں باز پرس کرنا کہ ” آپ کو کس بات نےست علی سے روک رکھا ہےصاف بتا رہا ہے کہ خلوت و جلوت میں اس رسم کا چلن عام ہو چکا تھا اور حضرت سعد کا اس ڈگر پر نہ چلنا معمول کے خلاف ہونے کی وجہ سے کھٹک رہا تھا۔ مولانا مودودی نے جو روایات نقل کی ہیں ان کے متعلق مدیر البلاغ لکھتے ہیں کہ ان کو تھوڑی دیر کےلیےدرست مان لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ دو گورنروں پر یہ الزام لگایا جاسکتا ہے کہ وہ حضرت علیؓ کو بُرا بھلا کہا کرتےتھے،اس سے یہ کیسےلازم آگیا کہ حضرت معاویہ کے تمام گورنر خود آپ کے حکم سے ایسا کرتے تھے۔ حالانکہ ایک آدھ گورنز تک اگر یہ فعل محدود ہوتا تو دوصورتوں سے خالی نہ ہوتا۔ اگر خود امیر معاویہ یا دوسرے گورنراس فعل کو نہ کرتے اور صرف ایک یا دو گورنروں کوحکم ہوتا تو وہ جواب میں ضرور کہتے کہ آخر آپ خود جب یہ کام نہیں کرتے اور کسی دوسرے سے بھی اس کا مطالبہ نہیں ہے تو ہم سےاس کی توقع کیوں کی جاتی ہے؟ اور اگر امیر معاویہ کی مرضی کےخلاف کوئی گورنر ذاتی کریا پرخاش کی بنا پر ایسا کرتا تو اس کو ضرور سرزنش کی جاتی۔ لیکن جن گورنروں کا واقعہ مذکور ہے، ان کےبارے میں ایسی کوئی تصریح منقول نہیں کہ انہوں نے کوئی ایسی معذرت پیش کی ہو یا کسی بد گوئی کرنے والے گورنر سے کوئی احتساب کیا گیا ہو۔

کتب حدیث سے ثبوت

امیر معاویہ کے عہد میں سب علی کو رواج دینے کا ثبوت تاریخ کے علاوہ مزید حدیث کی کتابوں سے بھی ملتا ہے۔مثال کےطور پر مُسند احمد میں ام المومنین حضرت ام سلمہ کی متعدد روایات موجود ہیں کہ آپ نے بعض اصحاب سے کہا:

ايسب رسول الله فيكم على المنابر.

" کیا تم لوگوں کے ہاں منبروں پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب و شتم کا ارتکاب کیا جاتا ہے؟“

لوگوں نے پوچھا:

انی ذالک.

"وہ کیسے۔“

حضرت ام سلمہ نے فرمایا:

اليس يُسب على ومن احبه؟ اشهد ان رسول الله صلى الله عليه وسلّم كـان يحبه.

"کیا علی پر سب و شتم نہیں کیا جا تا اور کیا اس طرح ان پر (یعنی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ) جو علی سے محبت رکھتے تھے سب وشتم نہیں ہوتا؟ میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی سے محبت رکھتےتھے۔“

ان احادیث میں منبروں پر جس سب و شتم کا ذکر ہے وہ بالیقین عہدِ معاویہ ہی سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ حضرت ام سلمہ کی وفات امیر معاویہ کی وفات سے ایک سال پہلے ۵۹ھ میں ہو چکی تھی۔ ابوداؤد، کتاب السنتہ ، باب الخلفاء میں ایک حدیث حضرت سعید بن زید سے مروی ہے کہ وہ کوفہ کی مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے آکر حضرت علی پر لگا تار سب و شتم شروع کر دیا (سب و ست ) ۔ مسند احمد ، مرویات سعید بن زید میں تصریح ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کوفہ کےگورنر وہاں.موجود تھےاور ان کے سامنے یہ سب ہو رہا تھا۔ حضرت سعید نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں کیا دیکھ نہیں رہا کہ اصحاب رسول پر آپ کے روبرو یہ سب وشتم ہورہا ہے اور آپ اس پر کوئی نکیر وانسداد نہیں کرتے ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے (اور آنحضور کی جانب ایسا قول منسوب نہیں کر سکتا جس پر آپ کل مجھے سے باز پرس کریں) کہ آپ فرماتے تھے کہ ابو بکر عمر عثمان علی جنت میں ہوں گے ۔ پھر حضرت سعید نے عشرہ مبشرہ کے اسماء گرامی گنوائے جن میں سے ایک آپ خود بھی تھے۔ یہ حدیث مسند احمد کے علاوہ تاریخ بخاری، اور ابن ماجہ کے ابواب،فضائل اصحاب میں بھی موجود ہے جیسا کہ علامہ احمدمحمد شاکر نے اپنے بخشی نسخے کی جلد ۳ ص ۱۰۸ پر واضح کیا ہے۔ پھر مسند احمد کے اس نسخے کے ص ۱۱۰ اور ۱۲ پر مزید تین احادیث درج ہیں جن میں ہے کہ:

خطب المغيرة بن شعبة فنال من على.

"مغیرہ بن شعبہ نے خطبے میں حضرت علی کی بدگوئی کی۔“

تو حضرت سعید بن زید نے انہیں وہیں ٹو کا اور فرمایا کہ دس اصحاب عشرہ مبشرہ میں سے ایک علی ہیں اور حیرت ہے کہ ان پر سب و شتم ہو رہا ہے استاذ شاکر جو محدثانہ طریقہ کے مطابق ہر حدیث کی سند پر بحث و تنقید کرتے ہیں ، انہوں نے ان سب احادیث کو صحیح الاسناد قرار دیا ہے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت سعید ابن زید تو خیر نهایت جلیل القدر صحابی تھے اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے،اس لیےان کے منصب و مرتبہ کا یہ ناگزیر تقاضا تھا کہ وہ اس مکروه رسم کےخلاف صدائے احتجاج بلند فرماتے۔ لیکن یہ خیال کرنا بالکل غلط اور تاریخی تصریحات کے قطعی خلاف ہے کہ دوسرے سب لوگوں نے اس چیز کوٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا تھا۔ مگر میں بوجوہ مزید تفصیلات ترک کر رہا ہوں۔ اہل عقل و درایت کے لیے اتنی بحث بھی کفایت کرتی ہے۔

وفات علی کے بعد

حضرت علی پر سب و شتم کا یہ سلسلہ اگر حضرت علیؓ کی زندگی تک محدود رہتا اور آپ کی شہادت کے بعد ختم ہو جاتا تب بھی یہ کہا جا سکتا تھا کہ چلئے ، جب آپ اپنے رب کے حضور میں پہنچ گئے تو ساری تلخیاں بھلا دی گئیں ۔ مگر افسوس کہ یہ بری رسم امیر معاویہ کے عہد خلافت اور اس کے بعد تک جاری رہی۔ چنانچہ حضرت سعد کا جو واقعہ حدیث و تاریخ سےاوپر نقل ہوا ہےوہ بھی حضرت علیؓ کی وفات کے بعد کا ہے،کیونکہ جنگ و جدال کےزمانےمیں حضرت سعد سب سے الگ تھلگ تحقیق میں انزوا پذیر ہو گئےتھےاور اس زمانے میں حضرت معاویہؓ کو بھی حرمین میں آنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ البتہ حضرت حسنؓ سے صلح ہو جانے کے بعد امیر معاویہ حج کےلیےآئےاور مدینہ بھی تشریف لے گئے۔ اس وقت حضرت سعد سے بھی ملاقات ہوئی اور باہم سوال و جواب کی نوبت آئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب علی دنیا سےاٹھ گئےاور تلوار میں نیام میں آگئیں،اس وقت بھی جراحات اللسان کا انسداد نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہےکہ جب امیر معاویہ اور حضرت حسنؓ کےمابین مصالحت ہوئی ہے اور صلح نامه لکھا جا رہا تھا تو حضرت حسنؓ نے ایک شرط یہ بھی لکھوائی کہ ہمارےسامنے برسر عام ہمارے والد محترم پر سب و شتم نہ ہو۔ چنانچہ امام ابن جریر اپنی تاریخ (جلد۴،ص ۱۲۲) میں فرماتے ہیں:


١-عشرہ مبشرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےوہ دس صحابہ کبار ہیں جنہیں آپ نےجنت کی خصوصی بشارت دی تھی ۔ان میں سےحضرت سعد ان سات صحابہ کرام میں شامل ہیں جو سب سے پہلےاسلام لائےاور آنحضور کےہمراہ ہر غزوے میں شامل رہے۔ اسی طرح حضرت سعید بن زید بھی نہایت قدیم الاسلام صحابی اور مہاجرین اولین میں سےہیں ۔ آپ حضرت عمر کےچازاد بھائی اور بہنوئی بھی تھےاور انہی کی تبلیغی مساعی سے حضرت عمر داخل اسلام ہوئے۔

صالح الحسن معاوية..... على ان لا يشتم على وهو يسمع.

"حسن نے معاویہ سے (علاوہ دیگر شرائط کے ) اس شرط پر مصالحت کی کہ علی پر سب و شتم نہ کیا جائے در آں حالیکہ میں اسے سن رہا ہوں۔“

امام ذہبی العمر ، جلد اول ص ۴۸ پر درج کرتے ہیں کہ حضرت حسنؓ نے امیر معاویہؓ کو ان لا يُسب عليا بحضرته.

"وہ حضرت علی پر حسن کی موجودگی میں سب وشتم نہ کریں۔“

ابن کثیر نے البدایہ ، جلد ۸ ص ۱۴ پر شرائط صلح میں سے ایک شرط یہ بیان کی ہے:

وان لايُسَبّ على وهو يسمع فإذا فعل ذلك نزل عن الأمر.

"اور یہ کہ حضرت علی پر سب وشتم نہ کیا جائے جب کہ وہ (حضرت حسنؓ) اسے سن رہےہوں۔ جب امیر معاویہ نے یہ شرط مان لی تو حضرت حسنؓ امارت سے دست بردار ہو گئے۔“

ابن اثیر نے الکامل میں جلد ۳، ص ۲۰۳ پر جو مزید تفصیل درج کی ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت حسن نے امیر معاویہ سے مطالبہ کیا کہ:

ان لا يشتم عليا فلم يجبه الى الكف عن شتم على فطلب ان لا يشتم وهو يسمع فأجابه الى ذالك ثم لم يف به ايضًا.

"امیر معاویہ، حضرت علی پر سب وشتم نہ کریں۔ لیکن امیر معاویہ نے شتم علی سے رُکنے کا مطالبہ تسلیم نہ کیا۔ پھر حضرت حسن نے یہ مطالبہ کیا کہ م از کم امیر معاویہ ایسی حالت ہی میں سب و شتم نہ کریں جبکہ وہ (حسن) سن رہے ہوں، امیر معاویہ نے یہ بات مان لی لیکن انہوں نے یہ شرط بھی پوری نہ کی۔“

ابن اثیر کی روایت زیادہ جامع اور مفصل بھی ہے اور اس سے ابن کثیر اورطبری کی روایت سمجھنے میں مدد بھی ملتی ہے۔ طبری اور ابن کثیر مجملاً یہ بیان کرتے ہیں کہ صلحنامہ کی شرط یہ تھی کہ امام حسن کو سنا کر حضرت علی پر سب و شتم نہ ہو۔ اور ابن اثیر نے پوری تفصیل یہ بیان کی ہے کہ پہلے تو امام حسن نے اتنی بات منوانے پر اکتفا کیا کہ ان کے سامنے ہی کم سے کم ان کے والد ماجد کی برائی نہ ہو۔ امیر معاویہ نے اس شرط کو صلحانا مےمیں شامل کر لیا مگر اس کی پابندی نہ کی ۔محمدتقی صاحب جس طرح سب علی کو ایک غیر واقعی مفروضه بنا کر پیش کر رہے ہیں، اگر فی الحقیقت اسی طرح یہ ایک خیالی داستان تھی یا ایک آدھ فرد سے احیانا انفرادی طور پر سب وشتم کا صدور ہوا تھا تو صلحنامے کی دستاویز لکھتے وقت حضرت حسن کی طرف سے اس مطالبہ کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ اور اگر یہ بات خلاف واقعہ تھی تو کیوں نہ امیر معاویہ نے پلٹ کر فر مایا کہ ہم میں سے کون ہے جو اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ اکثر مورخین ومحدثین نے سب علی کا ذکر اسی انداز سے کیا ہے گویا کہ یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے جس میں اختلاف نہیں ۔ مثال کے طور پر ابن حجر فتح الباری، کتاب المناقب میں حضرت علی کے مناقب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ثم كان من امر على ما كان فنجمت طائفة أخرى حاربوه ثم اشتد الخطب فتنقصوه واتخذ ولعنه على المنابر سنّة ووافقهم الخوارج على بغضب .......

"پھر حضرت علیؓ کے معاملہ میں پیش آیا جو کچھ کہ پیش آیا۔ پھر ایک دوسرا گروہ اٹھا جس نےآپ سے لڑائی کی۔ پھر ہنگامہ شدت اختیار کر گیا اور ان محاربین نے حضرت علی کی عیب جوئی کی اور منبروں پر آپ کو لعن طعن کرنا اپنا طریقہ اور قاعدہ بنا لیا اور خوارج نے بغض علی کے باعث ان کی همنوایی کی۔“

محاربین کے اس گروہ سے مراد صاف طور پر امیر معاویہ اور آپ کے ساتھی اور عاملین ہیں جو اس مہم میں سرگرم تھے۔ اب ان تمام حقایق و شواهد سے آنکھیں بند کر کے ست علی کا سرے سےانکار کر دینا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ ایک مرتبہ مرزا حیرت دہلوی نے حادثہ کربلا کا انکار اس دلیل کی بنا پر کر دیا تھا کہ امت محمدیہ کا کوئی فرد اپنے نبی کے نواسے کو قتل نہیں کر سکتا۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس مسئلےپر ضروری بحث ہو چکی اور ست علی کےخلاف واقعہ اور غیر ممکن الوقوع ہونے کےحق میں جو نقلی و عقلی استدلال عثمانی صاحب نےکیا ہے،اس کا جواب دیا جا چکا ہے۔ تاہم یہ مناسب ہے کہ مولانا مودودی کی پیش کردہ روایات پر جو تنقید کی گئی ہے، اس پر بھی کچھ کلام کیا جائے۔ ابن جریر اور ابن اثیر کی جو روایات مولانا نےنقل کی ہیں،ان میں صراحت کےساتھ یہ بات مذکور ہےکہ امیر معاویہ نےحضرت مغیرہ کو کوفےکا گورنر بناتے وقت ہدایت کی کہ علی کی مذمت کرنےاور انہیں گالی دینےسےپرہیز نہ کرنا، عثمانی صاحب جواب میں فرماتےہیں کہ اس روایت سے آگے یہ الفاظ بھی ہیں کہ حضرت مغیرہ صرف حضرت عثمان کےقاتلوں کےلیےبددعا کرتے تھے ۔ لیکن غور کیا جائے تو یہ بات صاف ہے کہ امیر معاویہ نے واضح الفاظ میں شتم علی کا حکم دیا۔اب اگر مغیره بن شعبہ نے اس کی تعمیل نہیں کی تو قابل ستائش ان کا فعل ہےنہ کہ امیر معاویہ کا۔ میں سمجھتا ہوں کہ سنن ابی داؤد اور مسند احمد وغیرہ کی روایات کے بعد اس امر میں کوئی شک نہیں رہتا کہ حضرت مغیرہ خطبوں میں سب و شتم کرتے تھے۔حضرت مغیرہ نے اگر کبھی نام لے کر حضرت علی پر لعن طعن نہیں کی تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ آپ ایک مدبر انسان تھے۔آپ ہر مرتبہ نام لے کر برائی نہیں کرتے ہوں گےبلکہ بعض اوقات گول مول انداز میں امیر معاویہؓ کے حکم کی تعمیل کرتےہوں گےتاکہ وہ بھی راضی رہیں اور کونہ،جو شیعان علی کا گڑھ تھا، وہاں کی گورنری میں ان کی عزت و آبرو بھی خطرے میں نہ پڑے۔ امیر معاویہ اور آپ کے طرفدار بر ملا حضرت علی کو قاتل عثمان کہتےتھےاس لیےاس پس منظر میں جب قاتلین عثمان پر بددعا کی جائےگی تو آپ سےآپ حضرت علی پر بھی چوٹ مقصود ہوگی اور بسا اوقات تعریض و تصریح سے زیادہ کارگر اور مفید مطلب ہوتی ہے۔

رواۃ تاریخ کی بحث:

اس کے بعد محد تقی صاحب نے دوسری اہم ترین بات کے نام سے روایوں کا ذکر چھیڑ دیا ہےکہ اس روایت کے راوی شیعہ، کذاب اور مجہول ہیں۔ عجیب بات ہے کہ جب سے خلافت و ملوکیت لکھی گئی ہے ہر شخص آپ رجال کے دفتر لے کر بیٹھ گیا ہے اور ایک ایک روایت کے راویوں کے حالات سنا رہا ہے کہ وہ ایسا تھا اور ایسا تھا۔ حتی کہ یہ لئے اتنی بڑھ گئی ہے کہ جن واقعات وروایات کو بعض حضرات خود اپنی کتابوں میں بلا تنقید نقل کر چکے ہیں، اب خلافت و ملوکیت میں انہی روایات کو دیکھ کر وہی حضرات ان میں کیڑے نکال رہے ہیں۔ یہ مسئلہ اور یہ صورتِ حال متعدد پہلوؤں سےمحتاج غور و فکر ہے۔ اس پر مفصل بحث تو مستقل مضمون ہی میں کی جاسکتی ہے، تاہم یہاں چند اشارات پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ اولین سوال جو اس سلسلے میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ رادی اگر ایسے ہی جھوٹے، لپائیے اور جلے بھنے شیعہ تھے کہ ان کی تاریخی روایات بھی غلط اور ناقبل اعتماد تھیں تو ان جھوٹی روایات کو ہمارےان مؤرخین نےکیوں اخذ کیا جو اہلِ سنت کےائمہ مؤرخین شمار ہوتے ہیں؟اس کےجواب میں مدیر البلاغ “اور دوسرے حضرات کہتےہیں که ان مؤرخین نےہر روایت کی سند بیان کر کے یہ ذمہ داری ہم پر ڈال دی ہے کہ ہم جھوٹ سچ کا فیصلہ خود کرتےرہیں۔ یہ جواب متعدد وجوہ سےغلط اور نا قابل قبول ہے۔

پہلی وجہ یہ کہ یہ مؤرخین خود اعلیٰ پائے کے محدث اور فن رجال کے ماہر تھے۔ وہ ان راویوں کے حالات ہم سے ہزار درجہ بہتر جانتے تھے، بلکہ انہی سے بعض کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ فلاں رادی شیعہ تھا یاسی تھا، ثقہ تھا یا ضعیف تھا۔ ان مؤرخین سے یہ ارشاد نبوی بھی مخفی نہ تھا کہ :

كفى بالمرء كذبًا ان يحدث بكل ما سمع.

"ایک آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ جو بات بھی سنے اسے آگے بیان کر دے۔'

اب اگر ان راویوں کے بیان کرده تاریخی واقعات سب کے سب جھوٹ کے پلندے تھے تو محض سند بیان کر کے یہ محدثین و مؤرخین جھوٹ کی اشاعت کےگناہ سےبری الذمہ کیسےہو جائیں گے؟ انہوں نے تو ان جھوٹی خبروں کے سلسلہ اسناد میں خود اپنے آپ کو بھی شامل کر لیا۔ اگر معاملہ پانچ ، دس یا سو پچاس روایات کا ہوتا تو بات دوسری تھی، لیکن ان رایوں کے بیانات سے تو ہماری تاریخیں لبریز ہیں۔ ان روایات کو جھوٹا قرار دینے کے بعد آخر ہم اپنےمؤرخین کی ثقاہت و دیانت کو کیسے بچا سکتے ہیں؟ ان مؤرخین کو چاہیے تھا کہ اول تو وہ تاریخ لکھنےہی نہ بیٹھتے اور اس کار بے خیر میں اپنی عمریں نہ کھپاتے۔ اور بالفرض اگر انہیں یہ کام کرنا ہی تھا، تو پھر چاہیے تھا کہ جس طرح حدیث کے صحاح اور موضعات کے مجموعے الگ الگ تیار کیے گئے تھے اسی طرح صحیح اور مکذوب تاریخی روایات کے مجموعےبھی وہ الگ الگ مرتب کر دیئے۔ ایسا ممکن نہیں تھا تو ہر روایت کے آخر میں اس کے صحیح یا سقیم ہونے کی وضاحت کر دی جاتی یا کم از کم کتاب کے شروع یا آخر ہی میں یہ تصریح کردی جاتی کہ اس میں فلاں فلاں راویوں کی روائیشیں ساقط الاعتبار ہیں۔ اگر ابتدائی مؤرخین نے یہ کام نہیں کیا تھا تو اس کے بعد جب یہ تاریخیں پوری امت میں شائع و ذائع ہوئیں اور دوسرے اہل علم تک پہنچیں ، تو ان سے یہ توقع ہو سکتی تھی کہ اگر ان کے نزدیک ہی یہ سب جھوٹ کے طومار تھے تو وہی ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے اور مسلمانوں کی ایک نسل سےدوسری نسل تک انہیں منتقل نہ ہونےدیتے۔ ابن جریر کے خلاف تشیع کا الزام عاید کیا جاتا ہے،اگر چہ بالکل بےجاہی ہے۔تاہم اگر وہ شیعہ تھےتو کیا ابوحنیفہ دینوری، ابن اثیر، ابن کثیر، ذہبی، ابن عبدالبر، ابن حجر سبھی شیعہ تھے کہ وہ سب کم و بیش وہی روایات نقل کرتے چلے آئے جن کے خلافت و ملوکیت میں درج ہونے پر اتنی ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے؟ یہ بات بالکل مضحکہ خیز ہے کہ ایک طرف انہوں نے جھوٹی روایات سے اپنی کتابوں کا پیٹ بھر دیا اور دوسری طرف سند ساتھ لگا کر یہ کام دوسروں کے سپر د کر دیا کہ وہ جھوٹ اور سچ کے درمیان خود ہی امتیاز کرتے رہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہےکہ جو شخص کتب تواریخ کا مطالعہ کرنا چاہے، وہ پہلے اپنے پاس لسان المیزان، تہذیب التہذیب،کتاب الجرح والتعدیل وغیرہ کی تنخیم مجلدات رکھےاور پھر ہر روایت کےرجال کی چھان بین ان کتابوں میں کرتا رہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتب رجال تحقیق حدیث کے لیے مدون کی گئی ہیں اور ان کی تجریحات کو تاریخی روایات اور ان کے راویوں پر چسپاں کرنا اصولاً صحیح نہیں۔

پھر یہ دعوی بھی خلاف واقعہ ہے کہ ان میں سے ہر مؤرخ نے اپنی تاریخ میں سند بیان کرنےکا التزام و اهتمام کیا ہے۔ ایک طرف ابن جریر ہیں جو ہر روایت کی سند دیتے ہیں اور دوسری طرف ابوحنیفه دنیوری ہیں جو ابن جریر کے ہم عصر بلکہ ان سے متقدم ہیں ،وہ اپنی تاریخ "الاخبـــــار الطوال “ میں سند کا شاذ و نادر ہی ذکر کرتے ہیں بلکہ قال یا قالوا کہہ کر واقعہ بیان کرتے ہیں اور ان کی تاریخ نهایت مستند اور اہم ترین ماخذ تاریخ شمار کی جاتی ہےپھر مؤرخین متاخرین میں سےبہت سےایسےہیں ( مثلاً ابن اثیر الجزری، ابن خلدون ) جو سند کو بالعموم حذف کر دیتےہیں۔اب ان کی روایات کی سندکس طرح جانچی جائےگی ؟ یا ان کتابوں کو دریا برد کر دیا جائے گا؟ میں یہاں ایک مثال پیش کر کےوضاحت مدعا کرتا ہوں۔مولانا مودودی کی نقل کردہ زیر بحث روایت کا ایک راوی ابو مخنف ہے جسے ابن عدی کے حوالے سے محمد تقی صاحب نے جلا بھنا شیعہ قرار دیا ہے۔مولانا مودودی کے دوسرے بہت سے ناقدین نےبھی اس راوی کو بے تحاشا گالیاں دی ہیں۔اب حال یہ ہےکہ ابن جریر کی دو رفتن کی تاریخ کا تقریباً اسی نوے فی صد حصہ اسی راوی کی روایات پر مشتمل ہے اور اگر یہ سب کذب و افترا ہے تو پھر تاریخ طبری کو ہاتھ لگانا بھی گناہ عظیم ہونا چاہیے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ابن حجر، ابن اثیر، ابن خلدون سب نے اپنی تواریخ کا ماخذ تاریخ طبری ہی کو قرار دیا ہے۔ ابن کثیر جو شیعوں کے جانی دشمن تھے ، وہ بھی کہتےہیں کہ میں نےشیعی روایات سےبچتے ہوئےابن جریر سےروایات لی ہیں۔وہ اپنی تاریخ البدایه جلد ۷، ص۳۱۰ پر فرماتے ہیں: ذکر ابن جرير عن ابی مخنف لوط بن يحي. وهو احد ائمة هذا الشأن. آگےچل کراسی کتاب کی جلد ۸ جس ۷۲ اپر جہاں وہ حضرت حسین کی شہادت کے حالات بیان کرتے ہیں تو پہلےیہ عنوان قائم کرتے ہیں:

وهذه صفة مقتله ماخوذة من كلام ائمة هذا الشأن. لا كما يزعمه اهل التشيع من الكذب.


١- ابن جریر کا سن ولادت ۲۲۴ھ اور سن وفات ۳۱۰ھ ہے جب کہ ابوحنیفه دینوری ٣١٠ھ یا چند سال قبل پیدا ہوئے اور ۲۸۲ھ میں فوت ہوئے ۔

" یہ شہادت حسین کے حالات ہیں جو ائمہ تاریخ کے کلام سے ماخوذ ہیں، یہ وہ اکاذیب نہیں میں جو اہل تشیع بیان کیا کرتے ہیں ۔“

اس عنوان کے فورا بعد ابن کثیر لکھتے ہیں . قال ابو مخنف. بعض مقامات پر ابومخنف رحمه اللہ بھی لکھا ہے۔ کیا اس کا صاف مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ابو مخنف کو جھوٹا اور محترق شیعی سمجھنےکےبجائے اسے فن تاریخ کا ایک امام قرار دے رہے ہیں؟ اسی طرح واقدی کی بعض روایات کے"خلافت و ملوکیت" میں آجانے پر واقدی کو سلواتیں سنائی جارہی ہیں ، حالانکہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی ، مدارج النبوۃ ، جلد دوم ص ۵۶ پر فرماتے ہیں موسیٰ بن عقبة،ابن اسحاق، الواقدی از اکابر علمائےسیر اند مولانا انور شاہ صاحب کی رائے مولانا مودودی نقل کر ہی چکے ہیں ، ابن ماجہ میں بھی واقدی سے روایت موجود ہے۔ امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں واقدی کی توثیق و تضعیف میں متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ایک مقام پر وہ مجاہد بن موسیٰ کا قول نقل کرتے ہیں کہ میں نے کسی سے روایت نہیں لکھی جو واقدی سے زیادہ حافظ ہو ۔ “ اس پر امام ذہبی اپنی رائے کا اضافہ کرتےہوئے فرماتے ہیں:

صدق، كان الى حفظه المنتهى فى الاخبار والسير والمغازي والحوادث و ايام الناس والفقه وغير ذلك.

" امام مجاہد نے سچ کہا۔ تاریخ، سیر، مغازی، حوادث وسوانح، فقہ وغیرہ کے معاملے میں واقدی کا حافظہ ہمارے لیے مرجع منتہی ہے۔“

میں محمد تقی صاحب اور دوسرے ناقدین کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ مولا نا مودودی کی ضد میں تاریخ اور اس کے راویوں کے معاملے میں وہ انداز اختیار نہ کریں جو پرویز صاحب نے حدیث اور رواۃ حدیث کے بارے میں اختیار کیا ہے اور منکرین حدیث کی طرح منکرینِ تاریخ اسلام کےگروہ کی داغ بیل نہ ڈالیں۔ محمد تقی صاحب ذرا اپنے والد ماجد کی کتاب ”شہید کربلا‘ کا مطالعہ کر کے دیکھیں کہ اس میں ابو مخنف اور دوسرے مجروح راویوں کی روایات درج ہیں یا نہیں جن کےمتعلق محمود عباسی نے اپنی کتاب تحقیق مزید ص ۲۳۸ پر لکھا ہے کہ مفتی صاحب نے اس میں دیو مالائی طرز کی باتیں لکھ دیں ہیں۔ وہی چلتی ہوئی باتیں جو ابو مخنف جیسے گذابین نےامت کی گمراہی کے لیےوضع کی ہیں کتاب میں درج فرمادی ہیں۔‘“ کیا مفتی صاحب کے فرزند ارجمند اس سے کچھ عبرت و نصیحت حاصل کریں گے؟ ۔

ترے نشتر کی زد شریان قیس ناتواں تک ہے-

تنقید کا جواب

آخر میں کیا قسمة ضیزی ہے کہ ایک ہی راوی کی روایت اگر مولانا مفت محمد شفیع صاحب بیاں فرمائیں تو سر آنکھوں پر اور اگر مولانا مودودی بیان کریں تو انہیں رجوع اور توبه کےمشورےدیئےجائیں؟ اس کےجواب میں محمد تقی صاحب شاید یہی کہیں گےکہ مولانا مودودی کی روایت سےامیر معاویہ پر سب وشتم کا الزام آتا ہے۔ مگر یہ عجیب لطیفہ ہے کہ اسی روایت کے آخری حصے سےآپ خود حضرت معاویہؓ کی اسی الزام برات ثابت کر نےکی کوشش فرمارہےہیں اور کہہ رہےہیں کہ امیر معاویہ نےصرف قاتلین عثمان پر لعنت کی ہدایت کی تھی۔ سوال پیدا ہوتا ہےکہ اگر اس روایت کےراوی بغض معاویہ میں جل بھن کر خاکستر ہو چکےتھےتو انہوں نے روایت کے آخری حصہ میں وہ بات کیسے بیان کردی جو آپ کے خیال میں پہلے حصے کی تردید کر رہی ہے اور الزام تم کو کمزور بنارہی ہے؟ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ راوی از اول تا آخر ایسی روایت گھڑتے جس سے آپ براتِ معاویہ کا کوئی پہلو نہ نکال سکتے_١ ان راویوں نےتو بڑا کرم کیا کہ حضرت مغیرہ کے فعل سب کو اس واشگاف انداز میں بیان نہ کیا جس طرح ابوداؤد اور مسند احمد کے ثقہ اور سنی راویوں نے بیان کیا ہے۔

اب میں مولانا مودودی کی نقل کرده دوسری روایت کو لیتا ہوں جس میں مذکور ہے کہ مروان جب امیر معاویہ کی طرف سے مدینے کا گورنر تھا تو وہ ہر جمعہ کو حضرت حسنؓ کے سامنے منبر پر سب علی کا ارتکاب کرتا تھا۔ محمد تقی صاحب لکھتے ہیں کہ "یہ روایت البدایہ والنہایہ کے اصل مصری نسخےمیں موجود نہیں ہے۔ مزید یہ کہ اس میں لکھا ہےکہ مروان کا انتقال طائف میں ہوا _٢،حالانکہ اس کی وفات مدینہ یا دمشق میں ہوئی اور اس روایت کے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو الفاظ منسوب ہیں وہ بہت مشکوک ہیں ۔ البدایہ کا مطبوعہ ایڈیشن جو ۱۹۶۶ء میں مکتبۃ المعارف، بیروت اور مکتبہ النصر، الریاض نے باہمی اشتراک سے چھاپا ہے، اس وقت میرے سامنے ہے۔ اس کے آغاز میں تصریح ہے کہ یہ مدرسہ احمدیہ، حلب، میں موجود قلمی نسخےکےمطابق طبع ہوا ہےاور بہت سےمحققین نےاس کا مقابلہ دوسرے نسخوں سےکر لیا ہے۔ اس نسخے میں مولانا مودودی کی نقل کردہ روایت موجود ہے۔مطبعہ السعادہ،مصر میں جو نسخہ چھپا تھا، اس میں بھی یہ روایت مطبوعہ موجود ہے،البتہ حاشیےمیں درج ہےکہ ایک مصری مخطوطےمیں یہ روایت چھوٹ گئی ہےلیکن کسی ایک قلمی نسخےمیں کسی عبارت کا ساقط ہو جانا اُسے مشکوک نہیں بنا دیتا جب کہ دوسرے مخطوطہ و مطبوعہ نسخوں میں وہ موجود ہو۔پھر ان دونوں نسخوں میں یہ روایت بھی درج ہےکہ مــات مــروان بدمشق ویسےیہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ مردان دمشق یا طائف یا مدینےمیں مرا ہو تو اس کا اثر حضرت علیؓ کو گالیاں دینے کے الزام پر کیا پڑ سکتا ہے۔


١- مولانا مودودی کے تمام ناقدین کا یہی حال ہے کہ وہ تردید میں جو روایات پیش کرتے ہیں وہ بھی بالعموم انہی مجروح رادیوں کی ہوتی ہیں ۔ اس وقت یہ حضرات یا تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں مؤرخ یا راوی شیعہ ہے مگر یہ معتبر ہےاس لیے اس کی روایت قابل قبول ہے۔ یا رادی کے ذکر کو حذف کر دیتے ہیں ۔ اگر یہ راوی جھوٹے ہیں تو ان کی ہر روایت مکذوب اور نا قابل استناد ہونی چاہیے۔

٢- روایت میں مروان کا نہیں بلکہ اس کے باپ حکم کا طائف میں مرناند کور ہے۔ عبارت یہ ہے وقد كان ابوه الحكم من اكبر اعداء النبي وانما اسلم يوم الفتح وقدم المدينة ثم طرده النبي صلى الله عليه وسلم إلى الطائف ومات بها .

مروان کا باپ حکم نبی صلی الہ عالیہ وسلم کے سب سے بڑے دشمنوں میں سے تھا۔ وہ فتح مکہ کے روز اسلام لایا اور مدینے پہنچا۔ پھر نبی صلی اللہ مایہ وسلم نے ان طائف کی طرف جا روشن کر دیا اور وہ وہیں مرا "

تیسری وجہ جو مدیر ”البلاغ کے بقول مولانا مودودی کی منقولہ روایت کو مشکوک بناتی ہےوہ یہ ہے کہ اس میں مروان اور مروان کےوالد حکم کا ملعون علی لسان النبوی ہونا درج ہےجی ہاں،آج کل چونکہ بعض لوگوں نےمروان کو حضرت مروان رضی اللہ عنہ بنا دیا ہے، اس وجہ سے شاید ایسی روایت مشتبہ معلوم ہوتی ہوگی جس میں مروان پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت کا ذکر ہو۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ ایسی متعدد روایات حدیث و تاریخ میں موجود ہیں ۔ مثال کے طور پر مستدرک حاکم جلد ۴، ص ۲۸۱ پر حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت مروی ہے کہ ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم لعن الحكم وولده. امام حاکم نے اس مضمون کی اور بھی روایات بیان کی ہیں مگر یہ روایت جو حضرت ابن زبیر کی ہے اس کے متعلق امام ذہبی نے بھی فرمایا ہے کہ یہ مسیح حدیث ہے۔

"ابوتراب“ کا مفہوم

عثمانی صاحب نے بخاری کی ایک روایت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ "مروان کے سب و شتم کی حقیقت بس اتنی تھی کہ وہ حضرت علیؓ کو ابوتراب کہتا تھا جس کے معنی ہیں مٹی کا باپ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محبت میں اس نام سےپکارتے تھے،مروان زیادہ سےزیادہ اسےاس کےحقیقی معنوں میں استعمال کرتا ہوگا۔ لیکن عثمانی صاحب کا یہ خیال غلط ہے کہ مروان ابوتر اب سے بس مٹی کا باپ، مراد لیتا تھا۔عربی میں ابو کا لفظ بطور مضاف صرف باپ کےمعنی میں نہیں آتا ’والے“کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ابو ہریرہ کے معنی بھی بلی کے باپ نہیں بلکہ بلی والےکے ہیں۔ مروان طنز اس لفظ کو خاک آلود کے معنی میں استعمال کرتا تھا۔ بعض دوسری روایات سےمعلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کے حامیوں کو بھی امیر معاویہ کے گورنر اور ساتھی ترابیہ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت حجر بن عدی کے خلاف جب کوفے کا گورنر زیاد بغاوت کا مقدمہ بنا رہا تھا تو اس نے جو خط امیر معاویہ کو اس سلسلے میں لکھا اسے تاریخ طبری ، جلد ۴، ص ۲۰۲ پر نقل کیا گیا ہے، اس میں یہ الفاظ موجود ہیں:

ان الطواغيت في هذه الترابية السبئية رأسهم حجر بن عدي، خالفوا أمير المؤمنين.

"اس ترابیہ سبائیہ کے گروہ کے طاغوتوں نے ، جن کا سردار حجر بن عدی ہے۔ امیرالمومنین کی مخالفت شروع کر رکھی ہے۔“

ظاہر ہے کہ زیاد کا یہ خط جو بالآخر حجر بن عدی کے قتل کا محضر نامہ ثابت ہوا، اس میں ان کےلیے ترابیہ کا لفظ ( اور وہ بھی سبائیہ کے ساتھ ) نہ تعریفی جملہ ہوسکتا ہے، نہ اس سے فقط لغوی معنی مراد ہو سکتے ہیں بلکہ اسےیقینا تحقیر آمیز مفہوم میں استعمال کیا گیا ہےجس کا مطلب خاک آلودہ اور خائب و خاسر ہونا ہے۔١۔


١-یہاں یہ واقعہ بھی قابل ذکر ہےکہ حضرت مُجر بن عدی اور ان کےساتھیوں کو جب موت کی سزاسنائی گئی تو ان کےسامنےامیر معاویه کےاینچی نےیہ پیش کش کی کہ اگر وہ علی پر لعنت و تبر آگریں تو ان کی جان بخشی ہو سکتی ہے۔مگر ان سب نےانکار کر دیا اور سزائےموت نافذ کر دی گئی۔اس سےمعلوم ہوا کہ امیر معاویہ کے خلاف بغاوت کے جرم سے زیادہ سنگین جرم ان کا ست علی سے انکار تھا۔مولانا مودودی نےآگے چل کر "آزادی رائے کے خیال کےخاتمہ "کےزیر عنوان اس واقعہ کو بیان کیا ہےاور تاریخی کتابوں کےحوالےدیئےہیں مگر اس واقعہ کا حوالہ سب وشتم کے ضمن میں نہیں دیا، اگر چہ اس واقعہ سے بھی سب علی پر لوگوں کو مجبور کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔

مردان اور بنو مروان کا یہ توہین آمیز رویہ اہلِ بیت ہی تک محدود نہ تھا۔وہ حضرت اسماء کو بھی ( دو کمر بندوں والی ) ذات النطاقین کے نام سے اس لیے پکارتے تھے کہ اس سے ان کی تذلیل و تخفیف ہو۔ اس کے جواب میں حضرت اسماء یہی فرماتی تھیں کہ ان لوگوں کو کیا معلوم کہ یہ لفظ (ذات النطاقین ) تو وہ لقب ہے جو مجھے اس لیے عطا کیا گیا تھا کہ میں نے اپنا کمر بند پھاڑ کر دوحصوں میں تقسیم کر دیا تھا کہ میں ایک ٹکڑے سےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا توشہ دان ڈھانپ دوں اور یہ اس وقت کی بات ہےجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے والد حضرت ابوبکر ہجرت کر کے مکہ چھوڑ رہےتھے۔ یہ قصہ صحاح کی متعدد احادیث میں مروی ہے۔

مدیر "البلاغ" نے چونکہ سب علی والے الزام کی بڑے زور شور سے تردید کی ہے اور لکھا ہےکہ "خدا ہی جانتا ہے کہ مولانا مودودی نےحضرت معاویہ پر یہ الزام کس بنیاد پر کس دل سےعائد کیا ہے۔"اس لیےمیں چاہتا ہوں کہ سب سےآخر میں مولانا اشرف علی صاحب تهانوی کا ایک ارشاد بھی آپ کی تصنیف ”حکایات الاولیاء سےنقل کر دوں۔ اس کتاب کے ص۱۲۴ پرلکھنو کے ایک وعظ کے دوران میں شاہ اسمعیل شہید اور ایک شیعہ سبحان علی خاں کا ایک سوال و جواب یوں منقول ہے:

"اثنائے وعظ میں ایک موقع پر حضرت علیؓ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کا ذکر آیا تو سبحان علی خاں پھر بولا اور اس نے حضرت علی کی شان میں زبانِ مدح اور امیر معاویہ نیز دوسرےصحابہ کی شان میں زبانِ تنقیص کھولی تو مولانا شہید پھر کھڑے ہو گئے اور مولانا عبدالحی صاحب کو ( وعظ سے) روک کر سبحان علی خاں سے کہا کہ بتاؤ حضرت علی کے دربار میں امیر معاویہ پر تبر اہوتا تھا؟ اس نے کہا نہیں ، حضرت علی کا دربار ہجو گوئی سے پاک تھا۔ پھر پوچھا کہ حضرت معاویہ کےیہاں حضرت علی پر تبر ہوتا تھا؟ کہا بے شک ہوتا تھا۔اس پر مولانا شہید نےفرمایا اہل سنت الحمد للہ حضرت علی کےمقلد ہیں اور روافض حضرت معاویہ کے۔“

اب اگر میں عثمانی صاحب کے الفاظ مستعار لے لوں تو مجھے بھی یہی کہنا چاہیے کہ خدا ہی جانتا ہے کہ شاہ اسماعیل شہید نےحضرت معاویہ پر یہ الزام کس بنیاد پر کس دل سےعاید کیا،اور پھر مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کے لیے یہ کیونکر مکن ہوا کہ اس الزام کو اپنے قلم سے نقل فرما کر اس کی تائید و توثیق کردیں؟

حقیقت یہ ہےکہ حضرت امیر معاویہ کےجن اقدامات کے حق میں کتاب الله ، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت خلافت راشدہ سےکوئی دلیل یا سند پیش نہیں کی جاسکتی،ان افعال کو خلاف کتاب و سنت کہنےیا ان پر بدعت کا اطلاق کرنےمیں اہل سنت کےہاں کوئی امر مانع نہیں ہےکیونکہ اہل سنت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کوان معنوں میںمعصوم نہیں سجھتےہیں جس طرح اہل تشیع اپنےاماموں کو معصوم عن الصغائر والکبائر سمجھتے ہیں۔مولانا بدر عالم صاحب مدنی رفیق ندوۃ المصنفین علمائے دیوبند ہیں اہم مقام رکھتےہیں۔ وہ اپنی کتاب ترجمان السنه جلد سوم ص ۴۲۶ پر الرسول العظیم ،عصمته رایه صلی اللہ عا وسلم کے زیر عنوان لکھتے ہیں:

"رسول کے فیصلے کے سوا کسی کےفیصلےکو الہی فیصلہ اور قضاء الہی نہیں کہا جاسکتا اور نہ رسول کےفیصلہ کے علاوہ کسی اور بشر کا فیصلہ نکتہ چینی سےبالا تر ہو سکتا ہے اور اس لیےرسول کےعلاوہ ہر انسان کے فیصلہ پر دل و جان سے راضی ہونا لازم قرار نہیں دیا جا سکتا۔“

یہ وہی بات ہے جو جماعت اسلامی کے دستور میں درج ہے کہ انسان رسول خدا کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے، کسی کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھے اور اس پر ناحق ناروا ہنگامہ آرائی ہوتی رہتی ہے۔

(۲) مسئله سب و شتم

میں نےضروری آثار شواهد کےساتھ اس امر کا پورا ثبوت فراہم کردیا تھا کہ سب علی کی مہم کاآغاز امیر معاویہؓ نےکیا تھا اور حضرت عمر بن عبد العزیز کےعہد تک یہ پورےزور شور سےجاری رہی تھی۔مگر مجھے سخت حیرت ہے کہ مدیر البلاغ نے پھر میری باتوں کو غلط قرار دینے کی کوشش کی ہےاور میں بڑے دکھ اور افسوس کے ساتھ دوبارہ مجبوراً اس تکلیف دہ موضوع پر کلام کر رہا ہوں۔ انہوں نے میری تردید کرتے ہوئے پہلے اس روایت کا حوالہ دیا ہےجو میں نےالبدایہ سےنقل کی تھی اور جس میں یہ مذکور ہےکہ امیر معاویہ نےحضرت سعد ابن ابی وقاص کےسامنےحضرت علی کےحق میں بدگویی اور سب و شتم کا آغاز کر دیا۔ اس کے بعد مسلم کی جو روایت میں نے درج کی ہے، اسے دوبارہ نقل کیا ہے جو یوں ہے:

امر معاوية بن ابي سفيان سعدًا فقال ما منعك ان تسب أبا تراب. فقال أما ما ذكرت ثلاثا قالهن رسول الله صلى الله على وسلّم فلن اسبه.

اس روایت کا ترجمہ بھی میرے الفاظ میں مولانا محمدتقی صاحب نے دے دیا ہے اور وہ یہ ہے:

"حضرت معاویہؓ نے حضرت سعدؓ کو حکم دیا، پھر کہا کہ آپ کو کس چیز نے روکا ہے کہ آپ ابوتراب ( حضرت علیؓ ) پر سب و شتم کریں۔ انہوں نے جواب دیا کہ جب میں ان تین ارشادات کو یاد کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت علیؓ کے متعلق فرمائےتھےتو میں هرگز ان پر سب و شتم نہیں کر سکتا ۔“

اس پر مولانا عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ سب سے پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس ترجمہ کو درست مان لیا جائے ، تب بھی اس کی روشنی میں اس قول کی دلیل کیسے مل گئی کہ " حضرت معاویہ خطبوں میں برسر منبر حضرت علی پر سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے۔“ بہتر ہوتا کہ عثمانی صاحب میرے غلط ترجمہ کے ساتھ اپنا درست ترجمہ بھی درج فرما دیتےاس کےبغیر آخر میری غلطی کی اصلاح کیسےہو سکتی ہے؟ پھر میری اس ایک پیش کردہ روایت پر یہ سوال کتنا عجیب وغریب ہے کہ اس میں خطبوں میں بر سر منبر سب و شتم کا ثبوت کیسے ملتا ہے؟ کیا میں نے سب وشتم کے ثبوت میں بس یہی ایک یا دو روایتیں نقل کی تھیں؟ میں نے تو فتح الباری، مسند احمد ، ابوداؤد، ابن ماجہ، تاریخ طبری، البدایہ، الکامل، اور دیگر کتب کے متعدد حوالوں سےیہ بات نہایت صراحت و وضاحت سےثابت کر دی تھی کہ حضرت معاویہ اور آپ کے گورنر برسیر منبر سب و شتم کرتے تھے۔ اس کے بعد بھی شتماگر دلائل و شواہد کا مطالبہ بدستور قائم ہے تو میں اس موضوع پر ایک پوری کتاب لکھ سکتا ہوں ۔ مگر میں یہاں دوبارہ عرض کرتا ہوں کہ اس سب و شتم کے نقوش اوراق تاریخ پر اتنے جلی اور نمایاں عنوان کےساتھ ثبت ہیں کہ ان کے لیے کسی حوالے کا اندراج تکلف سے کم نہیں ہے۔ مؤرخین اسے ایک مسلّمہ واقعہ کے طور پر بیان کرتے ہیں اور مولانا مودودی یا میرے لیے یہ ضروری ہی نہ تھا کہ اس " کے لیے کوئی حوالہ دیتے۔ جو پہلے دیئے گئے یا اب دیئے جائیں گے وہ منتر عا دیئے جائیں گے۔متعد داہل علم نے اس سب و شتم کی رسم کو بطور ایک بدیہی واقعہ کےبیان کیا ہے اور بعض نے اس کےلیے کسی حوالے کی سرے سے ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ میں یہاں اس کی چند مثالیں پیش کیے دیتا ہوں۔ مولانا شاہ معین الدین احمد صاحب ندوی اپنی کتاب ” تاریخ اسلام جلد دوم طبع پنجم ص ۱۳ پر لکھتے ہیں:

"امیر معاویہ نے اپنے زمانے میں برسر منبر حضرت علی پر سب و شتم کی مذموم رسم جاری کی تھی اور ان کے تمام عتمال اس رسم کو ادا کرتے تھے۔مغیرہ بن شعبہ بڑی خوبیوں کے بزرگ تھے لیکن امیر معاویہ کی تقلید میں یہ بھی اس مذموم بدعت سےنہ بیچ سکے۔حجر بن عدی اور ان کی جماعت کو قدرةً اس سےتکلیف پہنچتی تھی مغیرہ بن شعبہ کے بعد زیاد کے زمانہ میں بھی یہ رسم جاری رہی ۔“

مشہور مصری عالم و مؤرخ استاذ محمد ابوزہرہ، اپنی تصنیف ” تاریخ المذاهب الاسلامية الجزء ،الاول ص ۳۸ مطبعه دار الفکر العربی میں لکھتے ہیں:

وقد كان العصر الأموي محرّضا على المغالاة فی تقدیر علی رضی الله عنه لان معاوية سنّ سنة سيئة في عهده وفى من خلفه من الأمويين حتى عهد عمر بن عبدالعزيز وتلك السنة هي لعن إمام الهدى علی ابن ابی طالب رضی الله عنه عقب تمام خطبة ولقد استنكر بقية الصحابة ونهوا معاوية وولاته عن ذلك حتى لقد كتبت أم سلمة زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم اليه كتابا تنهاه وتقول فيه انكم تلعنون الله ورسوله على منابرهم و ذالک انهم تلفنون علی ابن ابی طالب ومن احبه واشهدان رسول الله صلى الله عليه وسلم احبه.

"اور بنوامیہ کا عہد حضرت علیؓ کی قدرو منزلت اور تعظیم و تکریم میں مزید اضافےکا موجب ثابت ہوا، کیونکہ امیر معاویہ نےاپنےزمانےمیں ایک بری سنت قائم کی جو ان کےبعد کےجانشینوں نےبھی حضرت عمر بن عبدالعزیز کےعہد تک جاری رکھی۔یہ سنت_١ یہ تھی کہ امام مہدی علی رضی اللہ عنہ پر خطبہ جمعہ کےآخر میں لعنت کی جاتی تھی۔دوسرے صحابہ کرام نےاس پر نکیر کی اور امیر معاویہ اور آپ کےگورنروں کو اس سے منع کیا حتی کہ ام المومنین حضرت ام سلمہ نے امیر معاویہؓ کی طرف خط لکھا جس میں اس فعل سے باز رہنے کو کہا اور اس میں لکھا کہ تم لوگ اللہ اور اس کےرسول پر بر سر منبر لعن طعن کرتے ہو اور یہ اس طرح کہ علی ابن ابی طالب پر اور جنہوں نے ان سےمحبت کی ان پر لعنت بھیجتے ہو اور میں اس کی گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی محبوب تھے۔“

مشہور مؤرخ ابوالفداء عمادالدین اسماعیل شافعی (وفات:۷۳۲ھ ) جو حماہ (شام) کے والی تھے اور الملک الموید کے لقب سے معروف تھے، وہ اپنی تاریخ المختصر فی اخبار البشر میں امیر معاویہ کےحالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

كان معاوية وعما له يدعون لعثمان في الخطبة يوم الجمعة ويسبون عليا ويقعون فيه.

( المختصر فی اخبار البشر ، جلد ۲ ص ۹۸ - ۹۹ ، دار البجار، بیروت، ۱۳۷۵)۔


١- یہاں محمد ابوزهره نےبھی سنت کا لفظ استعمال کیا ہےاور سب علی کے ضمن میں جو اقوال میں نے حافظ ابن حجر عسقلانی اور ابن حجر مکی کے نقل کیے ہیں انہوں نے بھی اس طریقے کو سنت لکھا ہے ۔ اب یہ کیسی اور کس کی سنت ہے،اس کو ہر شخص بآسانی خود سمجھ سکتا ہے۔

" معاویہ ا ۔ ان کے گورنر جمعہ کے خطبے میں حضرت عثمان کے حق میں دعا کرتے تھے اور علی پر سب و شتم اور ان کی بد گوئی کرتے تھے۔“

آگے چل کر ابوالفداء عمر بن عبدالعزیز کے سوانخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔

كان خلفاء بني امية يسبون عليا رضى الله عنه من سنة إحدى وأربعين وهي السنة التي خلع الحسن فيها نفسه من الخلافة الى اول ست تمن وتسعين فلما ولی عمر ابطل دلک. (المختصر، الجزء الثاني ص ۱۲۰)

خلفائےبنی امیه نے ٤١ ھ سے حضرت علی پر سب و شتم، آغاز کیا اور یہ وہ سال ہے جب حضرت حسن خلافت سے دست بردار ہوئے۔یہ سلسلہ 99 ھ کے اوائل تک جاری رہا۔ جب حضرت نمر بن عبد العزیز خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس کا خاتمہ کیا۔“

امام ابن حزم اندلس اپنی تصنیف ” جوامع السیرۃ“ کےساتھ ملحقہ رسالہ "اسماء الخلفاء والولاة" میں بنو عباس کا ذکر کرتے ہوئے پہلے تو ان کی مذمت کرتے ہیں ، پھر فرماتے ہیں:

الا انهم لم يعلنوا بسب أحد من الصحابة رضوان الله عليهم بخلاف ما كان بنو أمية يستعملون من لعن على بن ابى طالب رضوان الله عليه ولعن بنيه الطاهرين بني الزهراء وكلّهم كان على هذا حاشا عمر بن عبدالعزيز ويزيد بن الوليد رحمهما الله تعالى، فإنهما لم يستجيز ذلك.

" مگر بنو عباس نےصحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سےکسی پر علانیه سب و شتم نہیں کیا۔ اس کےبرعکس بنوامیہ نے ایسے گورنر مقرر کیے جو علی بن ابی طالب اور آپ کے صاحب زادگان بنی فاطمته الزهراء پر لعنت کرتے تھے۔ان سب کا یہی حال تھا سوائےحضرت عمر بن عبدالعزیز اور یزید بن ولید کے کہ ان دونوں نے اس لعن طعن کی اجازت نہیں دی۔“

( جوامع المسير قلا بن حزم تحقیق و رابعه احمد شاکر دار المعارف مصر ص ۳۷۶)

ڈاکٹر عمر فروخ ایک مشہور اور کثیر التصنیف عالم ہیں مجمع اللغۃ العربیہ قاہرہ، الجمع العلمی العربی دمشق، جمعیت بحوث الاسلامیه ہند وغیرہ کےرکن ہیں۔انہوں نےحضرت عمر بن عبدالعزیز کی سیرت "الخلیفۃ" الزاہد کے نام سے لکھی ہے۔ اس میں ایک مستقل فصل "بدعت معاویہ" کے زیر عنوان ہے۔ اس بدعت کو وہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

و کاست سرت فى البلدان بدعة وتحت فكشفت عن وجهها ثم سارت تطأ كل المنابر وتصرخ فى كل الآذان ولم تستح فصعدت في مسجد رسول الله وبين أهله و على منبره كان ابتدعها معاوية بن ابي سفيان واصدر امره الى الولاة ان يجعلوها تقليدا في خطب الجمعة.

" عہد بنی امیہ میں ایک بدعت دیار وامصار میں رائج ہوئی ، یہ ایک شرمناک بدعت تھی جس نےسراٹھایا اور چارسو پھیل گئی جتی کہ اس نے ہرمبر کو پامال کیا اور ہر شخص کی سمع خراشی کی۔ یہ بدعت مسجد نبوی منبر رسول اور اہل بیت پر حملہ آور ہونے سے بھی باز نہ رہ سکی۔ اس کا آغاز امیر معاویہ نے کیا تھا اور اپنے گورنروں کے نام فرمان جاری کیا تھا کہ وہ اسے جمعہ کے خطبوں میں مستقل طور پر اختیار کریں۔“

مصنف موصوف نے تین صفحات میں سب و شتم کی اس مہم کو تفصیلاً بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ حضرت معاویہؓ کا گمان یہ تھا کہ اس طرح ان کی سلطنت مستحکم ہو گی اور اہل بیت کی عظمت وعقیدت ختم ہوگی۔ پھر لکھتے ہیں:

واخطأ معاوية الرأى وجاوز الحلم الذى قالوا انه وسم به وعادت البدعة بغير ماظن ورأى.

"امیر معاویہ کا یہ خیال غلط ثابت ہوا اور انہوں نے اس بردباری سے تجاوز کیا جس کی وہ شہرت رکھتے تھے۔ اس بدعت کا نتیجہ ان کے گمان اور رائے کے خلاف برآمد ہوا۔“

شیخ محمد بن احمد سفارینی حنبلی اپنی کتاب لوامع الانوار البهیه و سواطع الاسرار الاثریه کے ص ۳۳۹ پر فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے مناقب و فضائل احادیث میں اس وجہ سے بکثرت مروی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کواس عظیم اختلاف و ابتلاء پر مطلع فرما دیا تھا جس سےحضرت علیؓ آگے چل کر دو چار ہونے والے تھے، اس لیے آنحضور نے امت کی نصح و خیر خواہی کے پیش نظر فضائل علی کو بیان فرما دیا کہ امت ان سے تمسک کر کے نجات حاصل کرے، چنانچہ جب بنوامیہ نے منابر پر حضرت علی کی سب و تنقیص کی مہم جلائی اور خوارج نےبھی ان کی همنوایی کی،اس وقت محدثین کرام نےآنحضور کے ارشاد فرمودہ مناقب علی کو کھول کھول کر بیان کیا اور حمایت حق کا سامان فراهم کیا_١

میں نے البدایہ کی روایت نقل کی تھی جس میں یہ ذکر تھا کہ امیر معاویہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کے سامنے نجی مجلس میں حضرت علیؓ کو برا بھلا کہا تھا اور لکھا تھا کہ ایک طرح سے پرائیویٹ مجلس میں سب و شتم اپنے ساتھ انتیاب کو بھی جمع کر لیتا ہے۔ اس سے بھی مدیر البلاغ نے دو نکتےپیدا کر لیے ہیں۔ ایک یہ کہ منبر پر سب و شتم انتیاب کیوں نہیں، دوسرا نکتہ یہ ہے کہ تم نے گویا پرائیوٹ مجلس میں برائی کرنے کو زیادہ مذموم سمجھا ، حالانکہ مولانا مودودی تو یہ کہتے ہیں کہ جمعہ کےخطبے میں یہ فعل زیادہ گھناؤنا ہے۔اگر اس طرح کےلاطائل معارضات کا جواب بھی ضروری ہے،تو میرا جواب یہ ہے کہ حضرت علی جب کوفے میں تھے تو شام کےمنبروں پر انہیں کو سنا اور حضرت علی کی وفات کے بعد ان پر سب و شتم کرنا یہ بلا شبہ غیبت تھا اور اس حد تک مجھے عثمانی صاحب کےنکتہ اولی سےپورا اتفاق ہے۔لیکن جیسا کہ میں ابن حجر مکی کے حوالے سےآیندہ نقل کروں گا اور مولانا مودودی البدایہ وغیرہ کےحوالےسےلکھ چکےہیں، جب امیر معاویہ کا گورنر مردان حضرات حسنین کےرو در روانہیں اور ان کےوالد ماجد کو خطبہ جمعہ میں گالیاں دیتا تھا،اسےغیبت کہنا تو مشکل ہے،البتہ اس میں غیبت کا قبیح پہلو اگر مفقود ہے، تو اس کے بجائے یہ مذموم پہلو موجود ہے کہ خطبہ جمعہ کوائی آلودگی سے ملوث کیا جائے۔ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ان دونوں میں سے زیادہ برا کام کونسا ہے۔ میرے نزدیک دونوں ہی اپنی شناعت میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں۔ اگر آپ کے خیال میں میری بات اور مولانا مودودی کی بات میں تفاوت و اختلاف ہے تو چلیے یوں ہی سہی۔ میں نے یہ کب کہا ہے کہ مجھے مولانا کی ہر بات سے کلی اتفاق ہے۔


١- یہ تقریبا وہی مضمون ہے جو حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں درج کیا ہے اور جسے پہلے نقل کیا جا چکا ہے۔ حضرت علی پر سب و شتم کےثبوت میں متعدد دیگر اقوال آگئے عدالت صحابہ " اور "مروان اور اس کا باپ کے زیر عنوان مضامین میں بھی ملیں گے ۔ بعض حوالے آگےباب ہفتم میں درج ہیں جن میں سے ایک خود محمد تقی صاحب کے بھائی کی مطبوعہ کتاب کا ہے۔

اردو اور عربی والا سب و شتم

میں نے کتب حدیث میں سےسب علی کا جو قطعی ثبوت پیش کیا تھا،اس سےصریح انکار کی گنجائش چونکہ نہیں ہے، اس لیے مدیر البلاغ“ نے اس کے بالواسطه انکار کے لیے استدلال کا ایک دوسرا پہلو اختیار کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اردو میں لفظ سب و شتم جس مفہوم میں استعمال ہوتا ہے ، عربی میں نہیں ہوتا۔ عربی میں معمولی سے اعتراض یا تغلیط کو بھی لفظ ” سب سے تعبیر کر دیتے ہیں۔ اپنےاس دعوے کی دلیل میں انہوں نے صحیح مسلم کی ایک حدیث پیش کی ہےجس میں دو صاحبان کےمتعلق ذکر ہےکہ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سب فرمایا۔ مدیر البلاغ کا کہنا ہے کہ یہاں مطلب معاذ اللہ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آپ نے گالیاں دیں۔ یہاں سب کا لفظ غلطی پر ٹوکنے کےمعنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس لیے امیر معاویہ کے متعلق جو سب کا لفظ آیا ہے، اس کا حاصل حضرت علی کے طرز عمل پر اعتراض کرنا، اسے غلط ٹھہرانا ہے۔ اس سے زاید کچھ نہیں۔

لیکن مدیر البلاغ کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ اردو میں لفظ سب و شتم جن معنوں میں آتا ہے،عربی میں نہیں آتا۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں الفاظ عربی ، فارسی اور اردو میں ایک ہی مفہوم کے حامل ہیں۔ البتہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ان الفاظ کا مطلب ہر حال میں گالی دینا ہی ہو،لیکن یہ بات بھی بالکل غلط ہے کہ عربی میں معمولی سے اعتراض یا غلطی کی نشان دہی کو بھی ”سب“کے لفظ سے تعبیر کر دیا جاتا ہے۔ عربی میں بھی یہ لفظ یا تو بدگوئی اور گالم گلوچ کے لیے آتا ہے، یا پھر طعن و تشنیع ، زجر و توبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ کے لیے آتا ہے۔نہا یہ ابن اثیر، قاموس، الصحاح وغیرہ میں اس کے یہی معانی بیان کیے گئے ہیں۔ لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ سب وشتم کا انداز اور اس کے اسلوب والفاظ ہر حال میں ایک نہیں ہو سکتے۔ اس میں فریقین کی ذات اور حیثیت جس مرتبه و منزلت کی حاصل ہوں گی،سب وشتم کے الفاظ بھی اسی کے موافق ہوں گے اور بسا اوقات ایک ہی قسم کے الفاظ ایک موقع ومحل میں سب و شتم پر محمول ہوں گے اور دوسرے مقام پر نہ ہوں گےاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس تو بہت اعلیٰ وارفع ہےہم تو حضرت امیر معاویہ اورحضرت مغیرہ بن شع کےبارےمیں بھی یہ گمان نہیں کر سکتےکہ وہ خدا نخواستہ کسی کو ماں بہن کی گالیاں دیتے ہوں گےجیسی کہ اجاد قسم کے لوگ دیتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ فسبهـمـا النبي صلى الله علی وسلم سےمراد یہ ہےکہ آنحضور نے بس غلطی پر ٹوک دیا۔یہ غزوہ تبوک کا واقعہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح حکم دے دیا تھا کہ کل تم لوگ انشاء اللہ ایک چشمے پر اتر و گے تو جو شخص ہم سے پہلے وہاں جا پہنچےوہ پانی کو بالکل نہ چھوئےاس کے باوجود ایسا ہوا کہ دو صاحبوں نےجا کر پانی استعمال کر لیا۔ ظاہر ہےکہ اس صریح حکم کی خلاف ورزی آنحضور کےلیےسخت موجب کوفت ہوئی ہوگی اور آپ نےخلاف معمول ہی سخت الفاظ میں ڈانٹا ہو گا جنہیں حضرت معاذ نےاس طرح روایت کیا کہ:۔

فسبهما وقال لهما ما شاء الله ان يقول.

" آنحضور نے برا بھلا کہا اور جو کچھ اللہ کو منظور تھا وہ کچھ فرمایا"

یہاں اس بات کو واضح کر دینا بھی مناسب ہے کہ دوسرے لوگوں کے سب و شتم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سب میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اس فعل کا صد دراگر آنحضرت کی ذات مبارک سے بقائے بشریت ہو تو اسے اس شخص کے حق میں اللہ نے موجب رحمت و برکت بنادیا ہے جو خطاء اس کا مورد بن گیا ہو، یہ خاصیت کسی دوسرے شخص کو حاصل نہیں ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم ہی کا ایک باب ہے جس کا عنوان ہے:

من لعنه النبي صلى الله عليه وسلّم اوسبه او دعا عليه وليس هو اهلا لذلك من لعنه النبي صلى الله عليه وسلّم اوسبه او دعا عليه وليس هو اهلا لذلك

"نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس پر لعنت یا سب یا بددعا کریں اور وہ اس کا سزاوار نہ ہوتو یہ چیز اس کے حق میں اجر و برکت اور رحمت بن جائےگی۔"

اس کے بعد حدیث ہے کہ دو آدمیوں نے آنحضور سے کوئی ایسی بات کہی کہ آپ سخت ناراض ہوئے اور آپ نے ان پر لعنت اور سب کا اظہار فرمایا،( فلعـنـهـمـا و ستها ) اور باہر نکال دیا۔حضرت عائشہ نےاس پر کہا یا رسول اللہ کسی اور کو خیر سےحصہ ملےتو ملےمگر یہ دونوں تو بالکل اس سے محروم ہو گئے۔ آنحضور نے فرمایا: کس طرح؟“ وہ بولیں ” آپ نے ان پر سب اور لعنت بھیجی ۔ آنحضور نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اپنے رب سے یہ بات ٹھہرالی ہے کہ اے اللہ، میں ایک بشر ہوں، میں جس مسلمان پر بھی سب یا لعنت کروں ، بددعا کروں، وہ اس کے لیے باعث اجر وتزکیہ ہو)۔ دوسری حدیث میں ہے کہ آنحضور نے فرمایا اے اللہ، میں بشر ہوں،اگر کسی مومن کو ایذ ادوں ، اس پر شتم کروں لعنت کروں یا کوڑے ماروں ، تو اس کے لیے قیامت کےروز اس فعل کو رحمت و تقرب کا ذریعہ بنا ۔ معلوم ہوا کہ جو شخص سب و شتم یا لعنت کا مستحق ہو، اس پر لعنت و نفرین کرنے میں مضایقہ نہیں، لیکن لعنت یا سب و شتم کے عربی یا اردو مفہوم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عائشہ جو روایت کر رہی ہیں کہ آنحضور نے دو اشخاص پر لعنت کی اور انہیں نکال دیا (اخرجهما ) تو اس پر لعنت کا مفہوم وہی ہےجو ایک اردو دان سمجھتا ہے،بلکہ اس کےلیےلفظ بھی لعنت ہی کا استعمال فرمایا ہوگا۔ جہاں تک سب یا برا بھلا کہنے کا تعلق ہے،اس کی تشریح ہمیں بہت سی احادیث میں مل جاتی ہے،مثال کے طور پر آنحضور جب کسی پر ناراض ہوتےتھے تو فرماتےتھے :" تیری ماں تجھے روئے،تجھے رونے والیاں روئیں، تجھ میں جاہلیت ہے، تیری تباہی ہو، تیری ناک یا چہرہ خاک آلود ہو ۔ بعض اوقات اس سے زیادہ سخت الفاظ فرماتے ، مگر اللہ تعالیٰ نے آنحضور کی لعنت اور بددعا کو (اگر وہ ایسے مسلمان کے خلاف صادر ہو جو اس کا مستحق نہ ہو ) اس شخص کے حق میں رحمت بنا دیا۔ اس سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ لعنت اور بددعا،بالخصوص اسے عام طریقہ دو تیرہ بنالینا جائز ہے یا عربی زبان میں سب ولعنت کے معنی اردو کے معانی سے مختلف ہیں۔ قرآن مجید میں ہے:۔

وَلَا تَسُبُّو الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ. (الانعام ۔ ۱۰۸)

مولانا اشرف علی صاحب تهانوی اس کا ترجمہ فرماتے ہیں:۔

"اور دشنام مت دو ان کو جن کی یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ وہ براہِ جہل حد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے۔“

شاہ ولی اللہ صاحب نے اس آیت کا ترجمہ یوں فرمایا ہے:۔

"دشنام مدہید کسانے را کہ مشرکان مے پرستند بجز خدا، زیرا که ایشاں دشنام خواهند داد خدارا از روئے ظلم بغیر دانش۔“

اب اس آیت میں بھی سب کا مطلب بتوں یا معبودوں کو غلط روش پر محض ٹوک دینایا ان پر معمولی سا اعتراض کرنا نہیں ہو سکتا اور مترجمین حضرات نے سب کا جو ترجمہ دشنام یا گالی سے کیا ہےاس کا مطلب بھی سوقیانہ مغلظات نہیں ہو سکتا، بلکہ مراد لعن طعن اور بدگوئی ہے جس سےمقصود محض دل آزاری ہو۔ پھر جیسا کہ پہلے اشارۃ ذکر ہو چکا بسا اوقات ایک ہی قسم کے الفاظ اگر کوئی بڑا چھوٹے کےلیےیا آقا اپنےماتحت کے لیے کہہ دے تو سب وشتم تصور نہیں ہوں گے لیکن وہی الفاظ اگر کم مرتبے کا انسان بڑے مرتبے والے کے حق میں استعمال کرے تو وہ سب اور گالی کی تعریف میں آسکیں گے۔ مثال کے طور پر باپ بیٹے کو یا بڑا بھائی چھوٹے بھائی کوکو دن یا پاجی یا گاؤدی کہہ دے تو مضایقہ نہیں، لیکن چھوٹا اگر یہی الفاظ پلٹ کر بڑے کو کہہ دے تو یہ بلاشبہ سب وشتم کے زمرے میں داخل ہوں گے ، اب مدیر البلاغ خود تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ اپنے ذاتی خصائل و اوصاف میں حضرت علیؓ کے ہم پلہ نہ تھے تو پھر حضرت معاویہ کے لیے یہ کیسے مناسب تھا کہ آپ خفیہ یا اعلانیہ نہ صرف حضرت علی کو مطعون و مجروح کرتے ، بلکہ دوسروں کو بھی اس پر آمادہ کرتے ، جو ایسا نہ کرتا اس سے باز پرس فرماتے اور وہ بھی ان کی وفات کے بعد؟ اپنی کتاب کے ص ۲۶ پر عثمانی صاحب نے خود یہ لکھا ہے کہ بسر بن ارطاۃ نے حضرت علی کو کچھ برا بھلا کہا تو حضرت معاویہ نے کہا: ” تم علی کو گالی دیتے ہو ۔ گویا کہ یہاں عثمانی صاحب نے تسلیم کر لیا کہ یہ بدگوئی گالی کےمترادف تھی۔


١-یہی معاملہ ان روایات کا ہے جن میں حضرت علی پرسب و شتم کا ذکر ہے۔ بعض میں سب کےعلاوہ لعنت ہشتم اور اس طرح کے دوسرےالفاظ آئے ہیں جن کی وہ تو جیہہ بالکل نہیں کی جاسکتی اور نہ وہ معانی مراد لیے جاسکتے ہیں جو عثمانی صاحب لینے کی سعی کر رہے ہیں۔

پھر یہ بات بھی عجیب ہے کہ ایک طرف مولانا محمدتقی صاحب یہ فرماتے ہیں کہ یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ حضرت معاویہ نے حضرت سعد کے سامنے حضرت علی پر جو سب کیا یا کرنے کی ہدایت کی تو وہ اردو والاست و شتم نہیں تھا، بلکہ اس سےمراد حضرت علی پر اعتراض کرنا اور ان کی غلطی سے اپنی برات کا اظہار تھا، اس سےزاید کچھ نہیں اور دوسری طرف صاحب موصوف اس بات کو ثابت کرنےپر بڑا زور لگا چکے ہیں کہ جن راویوں نےحضرت علی پر سب و شتم والی روایات بیان کی ہیں وہ سب امیر معاویہ کےجانی دشمن، کئے اور جلے بھنے رافضی اور دروغ باف ہیں۔ اگر سارے سب و شتم کا حاصل اور مفاد تال بس یہ ہے کہ امیر معاویہؓ حضرت علی پر اعتراض فرما دیتے تھے اس کے لیے راویوں کو لتاڑنے اور ان کےلتےلینے کی کیا ضرورت ہے؟ بالخصوص جب کہ ان واقعات کو اکثر اور بالتصریح بیان کرنے والے نہایت عادل، ثقہ اور سنی راوی ہیں پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضرت علی پر جس سب و شتم کا ذکر بار بار حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں آیا ہے، اگر اس کا مفہوم صرف یہ ہے کہ کوئی ایک آدھ غیر محتاط لفظ امیر معاویہ کی زبان سے نکل گیا ہو، جیسا کہ عثمانی صاحب ہمیں باور کرانا چاہتے ہیں، تو اس شدید نکیر و احتجاج کی کیا توجیہ کی جاسکتی ہےاور اسے کس طرح حق بجانب کہا جا سکتا ہے جو بعض جلیل القدر اصحاب کی طرف سے اس کے خلاف صادر ہوا؟ مثال کے طور پر حضرت سعد ہی کے واقعہ کو لیجئے ۔ میں نے البدایہ سے جو روایت نقل کی تھی اس میں یہ الفاظ ہیں کہ حضرت امیر معاویہ نے حضرت سعد کو اپنےپاس بٹھایا، پھر حضرت علی کی برائی اور عیب چینی شروع کردی (فوقع فيه )۔ اس پر حضرت سعد نے فرمایا کہ آپ نے مجھے گھر پر بلایا اور پھر علی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا ( وقعت فی علی تشتمه )۔ پھر حضرت سعد نےحضرت علی کے فضائل و مناقب بیان کیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی تھے ۔ اس کے بعد حضرت سعد وہاں سے دامن جھاڑتے ہوئے اور یہ کہتےہوئے اٹھ کر چل دیئےکہ میں آئندہ کبھی بھی آپ کےہاں نہیں آؤں گا۔ اب کیا کوئی شخص اس بات پر یقین کر سکتا ہےکہ حضرت سعد امیر معاویہ کے محض ایک آدھ غیر محتاط لفظ یا معمولی اعتراض پر اس حد تک غضبناک ہوئے ہوں گے؟ پھر فتح الباری، مناقب علی کی شرح میں حضرت سعد کا قول مسند ابی یعلی سے یوں مروی ہے کہ اگر میرےسر پر آرہ رکھ کر مجھے بت علی کے لیے کہا جائے تو میں ابد تک یہ کام نہیں کروں گا۔ کیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی پر سب و شتم بس ذرا سا اظہار اختلاف و اعتراض ہے؟

سب علی کا مفہوم اور اس کی مثالیں

ام المومنین حضرت ام سلمہ نے اس بری رسم پر متعدد مرته نفرت و ملامت کا اظہار فرمایا۔ایک حواله ابوزہرہ صاحب کی کتاب سے اوپر نقل ہو چکا ہے۔ ایک دوسر ا حوالہ میں پہلی بحث میں مسند احمد کا دے چکا ہوں کہ حضرت ام سلمہ نےفرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بر سر منبر سبت و شتم کیوں ہو رہا ہے؟ سنے والوں نے حیرت سے پوچھا کہ کہاں اور کیسے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ کیا حضرت علی پر سب و شتم نہیں ہو رہا جو آنحضور پر سب و شتم کے مترادف ہے کیونکہ آنحضور علی سے محبت کرتے تھے اور میں اس کی گواہ ہوں؟ پھر میں نے سنن ابی داؤ داور مسند احمد کی روایات نقل کی تھیں جن میں مذکور ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ جب وہ کوفہ میں امیر معاویہ کےعامل تھےتو ان کی موجودگی میں مسجد کےاندرست علی کا ارتکاب ہوتا تھا اور حضرت مغیرہ بھی اس میں شریک تھےجس پر حضرت سعید بن زید نے سخت صدائے احتجاج بلند کی کہ یہ کیا ہو رہا ہےاور اس رسم بد کو بند کیوں نہیں کیا جاتا ؟اب ان ساری تصریحات سے مدیر البلاغ اگر آنکھیں میچ کر بس یہ کہتے رہیں که عربی والا سب اور ہے، اردو والا اور ہے اور یہ محض ذرا سا اظہار اختلاف تھا، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ام المومنین اور عشرہ مبشرہ میں شامل ان دونوں اصحاب رسول نےخواہ مخواہ اور بیجا بات کا بتنگڑ بنایا،ورنہ امیر معاویہ اور ان کے گورنروں کا تو سرے سےکوئی قصور ہی نہ تھا۔ وہ بس اتنی بات کہتے تھے کہ حضرت علی قاتلین عثمان سے قصاص لینے میں مداہنت برت رہے ہیں اور اتنی سی بات تھی جسےافسانہ کردیا۔اب اگر عثمانی صاحب سےہم یہ پوچھیں کہ حضرت، کیا آپ کی نگاہ میں صحابیت کا شرف صرف حضرت معاویہ ہی کو حاصل تھا، اور ام المومنین اورا کا بر صحابہ کی ان کےمقابل میں کوئی حیثیت نہ تھی تو وہ اس کا کیا جواب دیں گے؟ دوسروں پر توہین صحابہ کی کا الزام رکھنے والے کبھی خود بھی سوچ لیں کہ وہ صحابہ کا کیا احترام فرماتے ہیں:۔


١- صحیح احادیث میں وارد ہے: سباب المسلم فسوق من اکبر الکبائر ان يسب الرجل والد یہ . ان احادیثے میں وہ مفہوم کی طرح کھب نہیں سکتا جو عثمانی صاحب لینا چاہتےہیں اور نہ معمولی اظہار اختلاف کو اکبر الکبائر کہا جا سکتا۔

جہاں تک امیر معاویہ کے گورنروں کےفعل سب کا تعلق ہےاسےمدیر البلاغ نےیہ کہہ کر صاف کر دینے کی کوشش کی ہے کہ مولانا نے صرف دو روایتوں کا حوالہ دیا تھا جن میں سے ایک میں گورنر کوفہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کا ذکر ہےلیکن اس کےراوی اول تا آخر شیعہ ہیں اور دوسری روایت جو مروان ( عامل مدینہ) کےمتعلق تھی، اس کو یوں اڑا دیا ہےکہ بخاری میں تو صرف یہ ذکر ہےکہ مردان حضرت علیؓ کو ابوتراب کہتا تھا۔یہ احمقانہ تعریض ہو سکتی ہےمگر اسےگالی نہیں کہا جا سکتا۔میں کہتا ہوں کہ طبری والی روایت کےراوی اگر شیعہ ہیں تو کیا ابنِ ماجہ۔ سنن ابی داؤد اور مسند احمد والی روایات کےراوی بھی شیعہ ہیں یا جھوٹےہیں جو شیعوں کی بہ نسبت زیادہ صراحت کےساتھ فعل سب و شتم اور اس کے خلاف شدید رد عمل کو بیان کر رہے ہیں؟ باقی رہا مروان کا قصہ تو اس کےمتعلق البدایہ کی جس روایت کا حوالہ” خلافت و ملوکیت" میں دیا گیا تھا،اس میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ ”جب مروان مدینےمیں حضرت معاویہ کا گورنر تھا تو وہ ہر جمعہ کو منبر پر کھڑے ہو کر حضرت علی پر سب و شتم کیاکرتا تھا۔اس پر البلاغ میں لکھا گیاتھا کہ مروان حضرت علیؓ کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کرتا تھامگر تاریخی روایتوں میں سےکسی میں ان کاذکر نہیں۔یہ دعویٰ غلط ہےتاریخ الخلفاء امام سیوطی اور تطہیر الجنان ( لابن حجر مکی) ص۱۵۳ پر یہ روایت مذکور ہےکہ مردان جمعہ میں حضرت علی اور اہلِ بیت کو جس طرح گالیاں دیتا تھا، اس سے تنگ آکر حضرت حسنؓ عین اقامت جمعہ کے وقت مسجد میں آتے تھےپہلے تشریف نہ لاتےتھے۔آخر مروان نے ایک قاصد بھیج کر گالی دی جس میں دیگر سب و شتم کے علاوہ حضرت حسنؓ کو بھی کہا گیا کہ ” تیری مثال نچر کی سی ہے جس سے پوچھا جائے کہ تیرا باپ کون ہے تو وہ کہے کہ میری ماں گھوڑی ہے - - - - _١ "ظاہر ہے کہ اس بد زبان نے (جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ملعون اور وزغ ابن وزغ کہا اور جسےشاہ عبدالعزیز صاحب نےطرید ابن طرید لکھا،اسنےحضرت حسنؓ کو فیچر سےسیدۃ النساء حضرت فاطمہ کو گھوڑی سےاور حضرت علیؓ کو گدھےسے تشبیہ دی۔(نعوذ باللہ من ذالک) اس روایت کے رجال کو ابن حجر نےثقات قرار دیا ہے۔ اس کےبعد بھی اگر کوئی شخص کہتا ہےکہ معلوم نہیں مروان نے کیا نازیبا الفاظ استعمال کیے،تو اس پر حیف صد ہزار حیف ہے۔ میں پھر بھی یہ مانتا ہوں کہ امیر معاویہ تو ایسی غلیظ گالیاں ہرگز نہ دیتے ہوں گے لیکن مروان جیسے لعنت زدہ اور زیاد جیسےمجہول النسب گورنر بھی کیا کسی حد پر جا کر رکتےہوں گے؟زیاد ہی کی گندی گالیوں کےخلاف حضرت حجر بن عدی نےاحتجاج کیا تھا جس پر انکےخلاف بغاوت کا بناوٹی مقدمہ بنا کر انہیں سزائے موت دی گئی۔


١- تطہیر الجنان کی پوری عبارت آگئے عدالت صحابہ" کی بحث منقول ہے۔

"ابوتراب“ کے لفظ کا تحقیر آمیز استعمال

بہر کیف جو روایات مروان کےسب و شتم کی تفصیل بتاتی ہیں انہیں نظر انداز کرتےہوئےمدیر البلاغ بس یہ بات دہراتے چلے جارہے ہیں کہ صحیح بخاری کی ایک حدیث سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ مروان حضرت علیؓ کو ابو تراب کہلاتا تھا اور وہ زیادہ سےزیادہ اس لفظ کو حقیقی معنی یعنی "مٹی کا باپ" یا "مٹی والا" کےمعنی میں استعمال کرتا ہوگا۔لیکن انصاف کےکسی بھی قاعدےسےاسےسب و شتم نہیں کہا جا سکتا۔یہ انصاف کےقاعدے جو مروان کے حق میں وضع کیےجار ہےہیں ان کا جواب تو میں بڑی اچھی طرح دے سکتا ہوں مگر اس طرح بات بڑھ جائے گی ، اس لیےسیر دست میں کلام کو اسی لفظ ”ابو تراب ہی تک محدود رکھتا ہوں۔ میں سب علی پر گزشتہ بحث میں یہ امر واضح کر چکا کہ مروان اور دیگر حامیان بنی امیہ طنز و طعن کےانداز میں حضرت علی اور ان کے رفقاء کو ترابی کےنام سے پکارتےتھے۔چنانچه حضرت حجرہ کےمتعلق زیاد نے امیر معاویہ کولکھا تھا کہ اس ترابیہ سبائیہ گروہ کےطاغوتوں نےامیر المؤمنین کی مخالفت کی ہے۔اس سےظاہر ہوتا ہےکہ مردان اور زیاد وغیرہ ابو تراب اور ترابیہ کے الفاظ کو اس طریق پر استعمال کرتے تھے جو تنابز بالالقاب کی تعریف میں آتا ہے۔ پھر جس لفظ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور محبت و منقبت کےادا فرمایا ہو، اس میں سےطنز و تمسخر کا پہلو پیدا کرنا تو سب وشتم بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اور شدید تر جرم ہے کیونکہ یہ اس ذات اقدس کے نطق مبارک پر بالواسطہ طعن ہےجس سےعشق و محبت ہر مسلمان کا دین و ایمان ہے۔حافظ ابن کثیر البدایہ، جلدے ،ص۳۶۶ پر لکھتے ہیں:

كان بعض بني أمية يعيب عليا بتسميته ابا تراب وهذا الاسم إنما سماه به رسول الله صلى الله عليه وسلم كما ثبت في الصحيحين.

"بنو امیہ کے بعض افراد حضرت علی کی کنیت ابوتراب کی وجہ سے آپ کی عیب چینی کرتےتھے حالانکہ یہ کنیت تو انہیں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمائی تھی جیسا کہ صحیحین سے ثابت ہے۔"

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےعطا فرموده اس محبت آمیز لقب میں مروان اور دوسرےبنو امیہ جسطرح معنوی تحریف کرتےتھےاسےمدیر البلاغ ایک معمولی بات قرار دے رہےہیں۔لیکن ان مروانیوں کی معنوی ذریت آج بھی ہمارے ہاں موجود ہے اور وہ اس لقب ” ابوتراب“ کو اب تک نشانہ تضحیک بنا کر حضرت علی اور آپ کےپاکیزه خانوادہ پر سب و شتم کی مشق کر رہی ہے۔ لنڈا بازار لاہور میں ایک شخص ابو یزید_١بٹ نے" محسین صحابہ" کے نام سے ایک جمعیت بنا رکھی ہے۔ اس نےایک کتابچه بنو ہاشم اور بنوامیہ کی قرابت داریاں“ کے نام سے چھاپا ہے۔اس کے ص ۱۵۔۱۶ کی درج ذیل عبارت پڑھیے:

"ذرا نگاه تقدس سے پردہ ہٹا کر نگاہ تدبر سے غور فرمائیں کہ حضور کی صاحبزادی کو تکالیف کس نے پہنچائیں۔ آخر سیدنا علی سارا دن کیا کرتے تھے۔ جو خاوند گھر میں کچھ کما کر نہ لائے ، اپنی بیوی کے کام کاج میں ہاتھ نہ بٹائے ، بیوی اور اولاد کی کفالت نہ کر سکے اور بقول حضرت امام محمد باقر رسول اللہ سے کیے ہوئے وعدے کے خلاف لکڑیاں لانا، پانی بھرنا اور بیرون خانہ کا کام بھی جناب سیدہ فاطمہ بنت محمد رسول اللہ کےذمےڈال دے تو اندازہ لگائیں جناب سیدہ اور خود رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان ہاشمی داماد سے کیا سکھ ملا ہوگا - - - - جب رسول خدا نے فاطمہ کو اس حال میں دیکھا،آنسو چشم ہائےمبارک سے رواں ہوئے اور فرمایا اے دختر گرامی تلخی ہائے دنیا کی حلاوت چکھو ( یعنی سید نا علی تمہیں جو دکھ دے رہے ہیں، انہیں برداشت کرو سبائی مفسرین کی روایات سےمعلوم ہوتا ہےچونکہ سیدنا علی کوئی کام کاج نہیں کرتےتھے اس لیے حضور انہیں ابوتراب ( یعنی مٹی کا؟ ) بار بار کہہ کر خطاب کرتے تھے ۔۔۔ ر بار بار ابوتراب اس لیے فرماتے تھے کہ یہ کوئی کام کاج نہ کرتے تھے اور گھر میں پڑے رہتے تھے۔“

یہ پورا رسالہ اس طرح کے ہفوات سے لبریز ہے اور اس میں جگہ جگہ مروان کو رضی اللہ عنہ اور یزید کو سید نا یزید رضی اللہ عنہ کھا گیا ہے۔ اس ابویزید نےاس طرح کی خرافات پر مشتمل متعدد کتابیں شایع کی ہیں۔ مدیر البلاغ صرف اسی ایک اقتباس کو پڑھ کر مجھے بتائیں کہ کیا اب بھی انہیں اس پر اصرار ہے کہ ابوتراب کے لفظ کوئی شخص سب وشتم کا کام نہیں لے سکتا اور اسے کسی بھی قاعدےسے سب و شتم کی بوچھاڑ یا گالی نہیں کہا جاسکتا؟


غالباً اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے محمود احمد عباس نے فخریہ کہا ہے کہ میری تبلیغ تحریک۔ یہ لوگ اتنے متاثر ہوئے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کا نام یزید در اپنی کنیت ابویزید رکھنی شروع کردی ہے۔

کیا حضرت علی بھی سب و شتم کرتے تھے؟

حضرت علی پر سب و شتم کےثبوت میں جو روایات اور جو دلائل میں نےپیش کیےتھےان کےجواب میں عثمانی صاحب نےبیض ایسےاقتباسات نقل کیے ہیں جن میں یہ بیان ہے کہ حضرت علی کے ساتھی بھی حضرت عثمان اور امیر معاویہ کی بد گوئی کرتےتھےاور حضرت علی نےحضرت معاویہ اور حضرت عمرو بن عاص کو بدترین مرد بلکه ان کے ایمان تک کو مشکوک بتایا۔ آخر میں سب کچھ نقل کر دینے کے بعد "البلاغ میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ ہم تو ایسی بیشتر روایتوں کو انکی سند کےضعف کی بنا پر صحیح نہیں سمجھتےلیکن مولانا مودودی اور غلام علی صاحب جو تاریخی روایات کو بے چون و چرامان لینےکے قائل ہیں وہ بتائیں کہ ان روایات کی بنا پر کوئی شخص اگر حضرت علی پر بھی سب و شتم کا الزام قطعیت کے ساتھ لگا دے تو اس کا کیا جواب ہوگا۔

اس کا جواب دینے کو تو بڑا مفصل و مدلل دیا جا سکتا ہے۔ مگر میں اب قطع بحث کے لیے صرف یہ کہوں گا کہ ہم ہر قسم کی تاریخی، روایات کو بے چون و چرامان لینے کے ہرگز قائل نہیں ہیں۔ لیکن ہم اس بات کے قائل بھی نہیں ہیں کہ کسی صحابی کی کوئی غلطی اگر صحت نقل کے ساتھ احادیث و آثار یا تاریخ میں مروی ہو تو اسے بھی محض اس دلیل کی بنا پر رد کرانا جائےکہ اس سےصحابہ کرام اور ان کےاحترام پر حرف آتا ہےیا پھر ان روایات صحیحہ کے انکار کی راہ اس طرح ہموار کی جائےکہ ایک صحابی کی خطا کو کالعدم قرار دینےکےلیے بعض ضعیف و مکذوب روایات کےذریعےسے دوسرے صحابی کو بھی اسی طرح کی خطا کا مورد ٹھہراتے ہوئے آخر میں یہ کہ دیا جائے کہ صحیح اور غلط روایات سب پھینک دینے کے قابل ہیں ۔ میری پوری بحث کو سامنے رکھ کر ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ سب علی کو ثابت کرنے میں میرا اصل انحصار صحیح مسلم سنن ابی داؤد، ابن ماجہ اور مسند احمد پر ہے جو بالا جماع حدیث کی صحیح ترین کتابیں ہیں۔ علماء مؤرخین جن کے اقوال میں نے نقل کیے ہیں وہ بھی بالا تفاق ائمہ اہل سنت ہیں جو یہ کہہ رہےہیں کہ امیر معاویہ کے عہد میں حضرت علی اور اہل بیت پرسب وشتم کا آغاز ہوا جو حضرت عمر بن عبدالعزیز کےدور تک منبروں پر جاری رہا۔اس کےبالمقابل جناب محمد تقی صاحب پلڑا برابر کرنے کےلیے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ حضرت علی بھی اسی طرح سب و شتم کرتےتھے مگر اس کے ثبوت میں پیش کر رہے ہیں ابن حبیب کی امحجر کی ایک عبارت کو جس میں یہ ذکر ہےکہ حضرت علیؓ کےساتھی حضرت عثمان کی بدگوئی کرتےتھےتاہم میں اس روایت کی تردید ضروری نہیں سمجھتا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض حضرات صحابہ نے حضرت علیؓ سے عدم تعاون یا مزاحمت کا رویہ اختیار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت علی قاتلین عثمان یا حضرت عثمان کو برا بھلا کہنے والوں کی سرکوبی نہ کر سکے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ حضرت علی اس مذموم روش کی حوصلہ افزائی یا اسے گوارا کرتے تھے۔ ویسے تو کوفہ کی مسجد میں خارجی خود انہیں گالیاں اور قتل کی دھمکیاں دیتے رہتے تے، اور آپ سے نظر انداز کرتے تھے مگر جس کسی نے آپ کے سامنے حضرت عثمان یا حضرت معاویہ کی بدگوئی کی ، آپ نے خفی سے اس پر ٹوکی-

دوسری روایات عثمانی صاحب نے ابن جریر طبری کی نقل کی ہیں۔ان میں بلاشبہ حضرت علی کے نامناسب الفاظ مذکور ہیں جو انہوں نے حضرت معاویہ یا بعض دوسرے اصحاب ۔ ایسےاستعمال کیے ہیں۔ میں معصوم عن الخطا نہ حضرت علیؓ کو سمجھتا ہوں نہ امیر معاویہ کو، حضرت علی بھی بہر حال انسان تھے۔ان کےمقابلے میں مخالفت و محاربت کی جو روش اختیار کی گئی اس کے نتیجےمیں حضرت علی کے دل کا ملول و مکدر ہو جانا قدرتی بات ہےاور ان کا یہ کہہ دینا کہ معاویہ کا کوئی اسلامی کارنامہ نہیں اور وہ اسلام میں بادل ناخواستہ داخل ہونے سے پہلے اللہ اور اس کے رسول کےدشمن تھے اور طلقاء میں سےتھےیہ ایک ناخوشگوار جوابی رد عمل ہے۔ اگر اسے سب و شتم سمجھا جائے تو اس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاوہ ارشاد گرامی بھی سامنے رکھا جائے جو صحیح مسلم اور دوسری کتب حدیث میں مروی ہے کہ:

المتسابان ما قالا فعلى البادي منهما ما لم يعتد المظلوم.

"دو آدمی ایک دوسرے کی بدگوئی کرتے ہوئے جو کچھ بھی کہیں، اس کا بوجھ ابتداء کرنےوالے پر ہے جب تک کہ مظلوم حد سے نہ بڑھے۔“

اب بر بنائے انصاف ہر شخص خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس قضیے میں ابتداء کن کی طرف سے ہوئی اور فریق ثانی نےجواباً جو کچھ کیا وہ فریق اول سےزاید تھا یا اس سےکمتر تھا؟اس سلسلےمیں مدیر البلاغ نےالبدایہ کے حوالےسےیہ بھی لکھا ہے کہ حضرت حجر بن عدی اور ان کےساتھی حضرت عثمان کی بدگوئی کرتےتھے۔ حضرت حجر کا موقف جو کچھ بھی تھا، اس پر تو تفصیلاً آگےچل کر بحث ہو گی۔یہاں میں صرف یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ حضرت حجر نے جو کچھ حضرت علی کی شہادت کے لو، آیا اور جو کچھ حضرت حجر کے ساتھ کیا گیا اس کی ذمہ داری سےتو حضرت علی بری ہیں۔تاہم حضرت علی کی زندگی میں اگر ان کے علم میں کوئی ایسی بات آئی ہے تو آپ نےفورا اس پر ٹو کا ہے۔چنانچہ ابو حنیفہ دینوری اپنی تاریے الاخبار الطوال کےصفحہ ۱۶۵ پر بیان کرتےہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی کو معلوم ہوا کہ حضرت حجر اہل شام کی بدگوئی کر رہےہیں۔حضرت علی نے انہیں پیغام بھیج کر اس فعل سے منع کیا اور باز رہنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ: امیر المؤمنین، کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟آپ نےفرمایا: ہاں مگر میں تمہارےلیےنا پسند کرتا ہوں کہ تم لعن طعن کرو۔

اس کے بعد مولانا محمد تقی صاحب نے البدایہ جلد ۷، صفحہ ۲۵۸ کے ایسے اقوال کا ذکر بھی ضروری سمجھا ہے کہ حضرت علی نے امیر معاویہ کے ایمان تک کو مشکوک بتایا،حالانکہ ابن کثیر نے خود ان اقوال کی تردید کی ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جن اقوال کی ناقل نے خود تکذیب کر دی ہےان کے بیان کی کیا حاجت تھی؟ ابن کثیر نے تو انہیں نقل کرنے کے بعد یہ لکھ دیا کہ:

وهذا عندي لا يصح عن عليّ.

" میرے نزدیک ان کی نسبت حضرت علی سے صحیح نہیں۔“

لیکن محمد تقی صاحب نے ان روایات کے ساتھ دوسری بہت سی روایات کو بھی لپیٹ میں لیتےہوئے یہ فرما دیا کہ ہم تو ان جیسی بیشتر روایتوں کو صیح نہیں سمجھتے۔ گویا کہ یہ تاثر دلانا مقصود ہے کہ جو روایتیں ہم نے دی ہیں اور جن کی ابن کثیر نے تکذیب کی ہے، سب ایک درجے میں ہیں ۔ ہم گویا سب کو بے چون و چرامان لینے کے قائل ہیں اور آپ سب کو یا اکثر کو نا قابلِ اعتبار قطعی جھوٹ اور افترا سمجھتے ہیں۔ یہ خلط مبحث کا جو انداز مدیر البلاغ اختیار کر رہےہیں بهینه یہی انداز منکرین حدیث اور ناصبیت کےعلمبر دار اختیار کرتے ہیں۔ وہ چند جھوٹی روایتوں کو لیتے ہیں اور ان کی آڑ میں جس صحیح واضح حدیث کا چاہتے ہیں انکار کر دیتے ہیں۔

مدیر البلاغ چونکه بڑے شد و مد کے ساتھ اس بات کے مدعی ہیں کہ جن احادیث وروایات میں ست علی کا ذکر ہےاس سےمراد بس حضرت علی کی شان میں کچھ غیر محتاط الفاظ کا استعمال ہے،اس لیےمیں یہاں سنن ابن ماجہ کی وہ حدیث پیش کیے دیتا ہوں جو اس کے ابواب فضائل اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ان الفاظ میں مروی ہے اور جس کی طرف پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے۔

عن سعد ابن ابی وقاص قال قدم معاوية في بعض حجاته فدخل عليه سعد فذكروا عليا فنال منه فغضب سعد.

"حضرت سعد ابن ابی وقاص سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ امیر معاویہ ایک حج کے موقع پر آئے تو حضرت سعد ان کے پاس گئے۔ وہاں حضرت علی کا ذکر آیا تو امیر معاویہ نے ان کی بدگوئی کی۔ اس پر حضرت سعد تغضبناک ہو گئے ... اس کے بعد حضرت سعد نے حضرت علیؓ کے وہی فضائل بیان کیے جو دوسری روایات میں مذکور ہیں)۔“

میں نے یہاں نسال منہ کا ترجمہ بدگوئی کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مولانا عثمانی صاحب فرمائیں کہ بدگوئی کا لفظ سخت ہےلیکن وہ خود ملاحظہ فرمالیں کہ اپنی کتاب میں ص۶۳ پر انہوں نےبھی حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کےمتعلق "بدگوئی“ کا لفظ لکھا ہےجو ينالون منہ کا ترجمہ ہےاب ناپ تول کےپیمانے دو دو تو نہیں ہونے چاہئیں کہ ایک حضرت معاویہ کے لیے ہو اور ایک حضرت حجر" کے لیے ہو۔

مشہور مؤرخ احمد بن یحی البلاذری اپنی کتاب انساب الاشراف میں لکھتے ہیں:۔

لما قَدِمُ بُسر بن أبي ارطاة البصرة وكان معاوية بعثه لقتل من خالفه واستحياء من بايعه، صعد المنبر فذكر عليا بالقبيح وشتمه وتنقصه، ثم قال ايها الناس أنشدكم بالله ماصدقت؟ فقال ابوبکر انک تنشد عظیما والله ما صدقت و ما بررت فأمر بابي بكرة فضُرِبَ حتى غشى عليه.

"جب بُسر بن ابی ارطاۃ بصرہ میں پہنچا اور معاویہؓ نے بسر کو اس لیے بھیجا تھا کہ وہ ان کےمخالفین کو قتل کرے اور ان کی بیعت کرنے والوں کو زندہ رہنے دے تو کسر نے منبر پر چڑھ کر علی کا ذکر برے الفاظ میں کیا، ان کی بدگوئی اور تنقیص کی ۔ پھر کہنے لگا "اے لوگو تمہیں خدا کی قسم کیا میں نے سچ کہا؟ حضرت ابوبکر نے جواب دیا ” تم بہت بڑی ذات کی قسم دلا ر ہے ہو ، خدا کی قسم تم نے نہ سچ کہا، نہ نیکی کا کام کیا۔ نسر نے حضرت ابوبکر کو مارنے کا حکم دیاحتی کہ وہ مار سے بیہوش ہو گئے ۔“

( انساب الاشراف ص ۴۹۲، جلد اول، دار المعارف مصر )

بسر بھی امیر معاویہؓ کا عامل تھا اور اس کے ظلم و ستم کے واقعات سارے مورخین نے بیان کیے ہیں ۔ اب یہاں بلاذری صاف بیان کر رہے ہیں کہ اس نےمنبر پر چڑھ کر حضرت علیؓ کا ذکر فتیح طریق پر کیا،آپ پر سب و شتم کیا اور آپ کی توہین وتحقیر کی اور ٹوکنے والے صحابی کو مار مار کر بےہوش کر دیا۔ اتنی تصریحات کے بعد اس بات کی گنجائش کیسے نکل سکتی ہے کہ ساری سب و شتم والی روایات کو کالعدم یا بالکل معمولی اظہار اختلاف پر محمول کر دیا جائے۔

سلسلہ سب و شتم کی طوالت

پھر یہ بات میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ حضرت علی پر سب وشتم (اور اس کے جواب میں اگر کچھ ہوا ہے تو وہ بھی ) حضرت علی کی زندگی تک محدود رہتا،تب بھی اس فعل کے صد رور کو لائقِ اغماض سمجھا جاسکتا تھا۔ کیونکہ جب تلواریں نیام سے باہر آ چکی ہوں اور معرکہ خونچکاں گرم ہو چکا ہو، اس وقت زبانوں کا بالکل خاموش رہنا محالات میں سے تھا۔ لیکن حضرت علیؓ کی شہادت،بالخصوص حضرت حسنؓ کی امیر معاویہ کے مقابلے میں خلافت سےدست برداری کے بعد اس مہم کو یک طرفہ جاری رکھنےکا آخر کیا جواز ہو سکتا تھا؟ میں متعدد حوالوں کےذریعے سے یہ بات ثابت کر چکا کہ حضرت حسنؓ نے شرائط صلح میں سے ایک شرط یہ لکھائی تھی کہ ہمارے والد ماجد اور ہمارے گھرانے پر سب و شتم کا سلسلہ بند ہو یا کم از کم ہمارے سامنے ایسا نہ ہو۔ یہ شرط طے ہو گئی مگر افسوس کہ اس کی پابندی نہ ہوسکی اور جیسا کہ مؤرخ ابوالغد اء اور دوسرے سب مؤرخین نے بیان کیا ہے، سب و شتم کی مہم با قاعدہ سرگرمی کے ساتھ دوبارہ اس وقت شروع ہوئی جب، امیر معاویہؓ کا کامل تسلط ہو چکا تھا اور بظاہر کوئی اختلاف فضا میں موجود نہ رہا۔ سارے مورخ اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت حسنؓ اور ان کے بھائیوں کی روش امیر معاویہ کے ساتھ ہمیشہ بڑی مصالحانہ رہی۔ مدیر البلاغ کو بھی اس کا اعتراف ہے اور انہوں نے جا بجا یہ لکھا ہے کہ حضرت حجر نے جب حضرات حسنین کو امیر معاویہ کے خلاف اٹھنےپر اکسایا تو انہوں نے ہرگز حوصلہ افزائی نہ کی اور اسی طرح محمد بن حنفیہ نے یزید کی عدم اطاعت پر لوگوں کوٹو کا اور کہا کہ وہ بھلے آدمی ہیں۔اس ساری صورت حال کے بعد اس سب و شتم کی مہم کا جاری رہنا اتنا افسوسناک بلکہ دردناک ہےکہ بیان میں نہیں آ سکتا۔ مدیر البلاغ اگر چاہیں تو اس سارے سلسلے کا انکار کر سکتے ہیں لیکن یہ محض تاریخی روایات ہی کا نہیں احادیث صحیحہ کا بھی انکار ہو گا ۔ اردو والے سب وشتم اور عربی والےسب و شتم کی اقسام بیان کرنے سے بھی کام نہیں چلے گا۔ مثلاسنن ابی داؤد، کتاب اللباس میں ایک حدیث ہے کہ حضرت حسنؓ کی وفات پر حضرت مقدام بن معدی کرب نے جب انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کر اظہار افسوس کیا تو اس پر حضرت امیر معاویہ نے تعجب کا اظہار فرمایا اور ان کے ایک خوشامدی نے کہا کہ حسن تو ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا۔ اس پر حضرت مقدام نے جو کچھ فرمایا اور شارحین حدیث نے جو کچھ لکھا ، وہ بھی میں آگے نقل کر دوں گا۔ایسی مثالیں صحیح احادیث سےمزید بھی پیش کی جاسکتی ہیں مگر در از نفسی و تلخ نوائی کا حال معلوم!

شاہ اسماعیل شہید کی تصریح

میں نےحکایات الاولیاء کےحوالے سےجو واقعہ نقل کیا تھا،اس کے متعلق مدیر البلاغ کہتےہیں کہ اس میں حضرت شاہ شہید نے شیعہ حضرات کو الزامی جواب دیا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت شاہ شہید کا نظریہ یہی تھا۔ سبحان اللہ کیا عجیب تو جیہ ہے حکایات الاولیاء میں مولانا تھانوی نے جو کچھ فرمایا ہے وہ یہ ہےکہ مولانا شہید نے سبحان علی خاں (شیعہ ) سے کہا کہ بتاؤ حضرت امیر معاویہ پر حضرت علی کے دربار میں تبر ا ہوتا تھا۔ اس نے کہا نہیں، حضرت علیؓ کا دربار ہجو گوئی سے پاک تھا۔ شاہ شہید نے پھر پوچھا کہ حضرت معاویہ کے یہاں حضرت علی پر تیر اہوتا تھا ؟ اس نے کہا ” بے شک ہوتا تھا ۔ اس پر مولانا شہید نے فرمایا کہ اہل سنت الحمد للہ حضرت علیؓی کے مقلد ہیں اور روافض حضرت معاویہ کے۔ اگر چہ پہلے دوسوالات کے جوابات پر شاہ شہید کا خاموش رہنا ہی ظاہر کر رہا ہے کہ وہ خود سے تسلیم کرتےہیں کہ امیر معاویہ پر حضرت علی تبرا نہیں کرتے تھے مگر حضرت علی پر امیر معاویہ کے ہاں تر ہوتا تھا لیکن بعد میں دوبارہ جب انہوں نے فرما دیا ہم اہل سنت حضرت علی کےمقلد ہیں جو تبراً نہیں کرتے تھے اور روافض حضرت معاویہ کے مقلد ہیں جن کے یہاں تر ہوتا تھا تو پھر شاہ شہید کے نظریہ میں کیا شبہ رہا۔ کیا عثمانی صاحب کےنزدیک شاہ شہید اہل سنت میں شامل نہ تھے؟ اسی طرح شاہ شہید کے جواب کو الزامی جواب کیسےکہا جا سکتا ہے؟ الزامی جواب تو یہ ہوتا کہ وہ عثمانی صاحب کی طرح کہتےکہ چلیے،اگر امیر معاویہ شب وشتم کرتےتھےتو حضرت علی بھی کرتے تھے، اس لیے معاملہ برابر سرابر ہو گیا۔

آخر میں مولا نا محد تقی صاحب فرماتے ہیں کہ ملک صاحب نے ماضی قریب کے بعض مصنفین کی عبارتیں بھی پیش کی ہیں کہ انہوں نے بھی وہی باتیں لکھی ہیں جو مولانا مودودی صاحب نے لکھی ہیں لیکن یہ بات کسی غلطی کےلیےوجہ جواز نہیں بن سکتی کہ وہ ماضی قریب کے بعض دوسرے مصنفین سے بھی سرزد ہوئی ہے۔سوال یہ ہے کہ ان مصنفین کی ان باتوں کو پہلےبھی آپ نے یا کسی اور نےغلط کہا ہے،یا وہ آج مولانا مودودی کی تائید میں پیش ہونے کی وجہ سے غلط ہوگئی ہیں؟ پھر اگر ان سب حضرات کی یہ باتیں غلط ہیں تو کیا ان کےخلاف بھی آپ نےاس طرح کی محاذ آرائی اور مورچہ بندی کی ہے جس طرح آپ ہمارے خلاف کر رہے ہیں؟ آخر غلط اور صحیح کا معیار صرف آپ کی ذات ہے، کیا یہ مکن نہیں ہے کہ مولانا مودودی اور ان جملہ مصنفین کی بات صحیح ہو اور آپ ہی کی بات غلط ہو؟پھر میں نےماضی قریب ہی نہیں ماضی بعید کےایسےبےشماراصحاب کی عبارتیں نقل کر دی ہیں جن کے علم و فضل اور تقوی و تدین سے عثمانی صاحب اور میرے علم و ہم کو وہ نسبت بھی نہیں ہو سکتی جو ذرے کو آفتاب سے ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے نہایت تعلی و تحدی سے یہ کہا کہ امیر معاویہ کے فیصلوں سے اختلاف تو ہو سکتا ہے، لیکن آج تک مولانا مودودی کے سوا کسی نے انہیں بدعت کہنے کی جرات نہیں کی۔ میں نے اس کے جواب میں متعدد مثالیں ائمہ امت کی پیش کر دیں جنہوں نے امیر معاویہ کے ایسے فیصلوں کو بھی بدعت قرار دے دیا جن کے حق میں شرعی دلیل و تاویل موجود ہے۔ اس کے بعد بھی کیا آپ اپنے موقف پر جمے رہیں گے اور یہی کہتے رہیں گے کہ امیر معاویہ کے کسی فعل کو بدعت کہنے کی جرات صرف مولانا مودودی ہی نے کی ہے؟

کتاب خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Caliphate , monarchy