خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ

باب اوّل

باب اوّل

توریت مسلم من الكافر

توریت مسلم من الكافر

(١) خلافت و ملوکیت کا فرق

جناب مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کےخلف رشید مولانا محمد تقی عثمانی نےاپنےماہنامہ "البلاغ" میں جو تنقیدی سلسلۂ مضامین تحریر کیا تھا اور جو کتابی صورت میں چھپ چکا ہے اس میں خاص طور پر ” خلافت و ملوکیت کے اس حصے کو اپنا ہدف بنایا تھا جو حضرت امیر معاویہ سے متعلق ہے۔ انہوں نے تبصرے کے آغاز میں لکھا تھا کہ ”مولانا مودودی حضرت معاویہ کے بارے میں انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئے ہیں اور ہماری پُر خلوص دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس سے واپس لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے “ ” خلافت و ملوکیت کے باب پنجم کا عنوان ہے: ” خلافت اور ملوکیت کا فرق اس میں حضرت معاویہ کا ذکر آیا ہے۔ اس باب کی آخری ذیلی فصل کی سُرخی ” قانون کی بالاتری کا خاتمہ ہے۔ اس کے تحت مولانا مودودی نے لکھا ہے:

"اسلام جس بنیاد پر اپنی ریاست قائم کرتا ہےوہ یہ ہے کہ شریعت سب پر بالا ہے۔دوست ہو یا دشمن، حربی کافر ہو یا معاہدہ مسلم رعیت ہو یا ذمی ، مسلمان وفاداره و یا باغی یا برسر جنگ ، غرض جو بھی ہو شریعت میں اس سےبرتاؤ کا ایک طریقہ مقرر ہےجس سےکسی حال میں تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔خلافت راشدہ اپنےپورےدور میں اس قاعدے کی سختی کے ساتھ پابند رہی حتی کہ حضرت عثمان اور حضرت علی نے انتہائی اور سخت اشتعال انگیز حالات میں بھی حدود شرع سےباہر قدم نہ رکھا۔ان راست رو خلفاء کی حکومت کا امتیازی وصف یہ تھا کہ وہ ایک حدود آشنا حکومت تھی نہ کہ مطلق العنان حکومت “

اس کےبعد مولانا موصوف بنوامیہ کے متعلق لکھتےہیں کہ اگر چہ ان کے عہد میں بھی مملکت کا قانون اسلامی قانون ہی رہا لیکن ان بادشاہوں کی سیاست دین کی تابع نہ تھی۔مختلف خلفائے بنی امیہ کےعہد میں قانون کی بالاتری کےخاتمے کی مثالیں دیتےہوئےمولانا مودودی نے حضرت معاویہ کے عہد کے بھی چند واقعات نقل کیے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتےہیں: ”امام زہری کی روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور چاروں خلفائے راشدین کےعہد میں سنت یہ تھی کہ نہ کا فر مسلمان کا وارث ہو سکتا تھا، نہ مسلمان کا فر کا۔ حضرت معاویہؓ نے اپنے زمانہ حکومت میں مسلمان کو کافر کا وارث قرار دیا اور کافر کو مسلمان کا وارث قرار نہ دیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے آکر اس بدعت کو موقوف کیا۔ مگر ہشام بن عبدالملک نے اپنے خاندان کی روایت کو پھر بحال کر دیا۔“ اس عبارت کو اگر اس کےپورےسیاق و سباق میں رکھ کر پڑھا جائےتو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے امیر معاویہ کی تنقیص و تو ہین مقصود نہیں ہے بلکہ اس امر کی توضیح مطلوب ہے کہ خلافت راشدہ کے تمھیں سال گزر جانے کے بعد جب ارشاد نبوی کے مطابق دور ملوکیت آیا تو اس میں کیا تغییرات رونما ہوئے۔ یہ ایک ناگزیر بحث ہےجس سے ہر اس شخص کو سابقہ پیش آتا ہے جو اس موضوع پر کلام کرتا ہے۔ لیکن مولانا عثمانی صاحب نے"بدعت کا الزام"کا عنوان لگا کر مولانا مودودی کی اس عبارت کو نشانہ تنقید بنایا ہےمحمدتقی عثمانی صاحب کا اعتراض یہ ہےکہ حضرت معاویہ پر بدعت کا الزام بالکل غلط ہے کیونکہ یہ بھی دوسری سنت تھی جو حضرت معاویہؓ نے جاری کی تھی ، بدعت نہ تھی ۔ آپ فقیہ و مجتہد تھے اور محض حضرت علی سے اختلاف کی وجہ سے وہ شرعی مسائل میں حق اجتہاد سے محروم نہیں ہو سکتے ۔ پھر اس مسئلے میں حضرت معاذ بن جبل اور متعدد تابعین حضرت معاویہ کے ہم نوا ہیں ۔ اور ان کے حق میں ایک حدیث مرفوع موجود ہے کہ الاسلام یزید ولا ينقص.

نصوص کتاب و سنت

جناب محمد تقی صاحب نے امیر معاویہ کے اس فعل یعنی تو ریٹ مسلم من الکافر کو جس طرح اجتہاد اور سنت ثانیہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، یہ متعدد پہلوؤں سے محلِ نظر ہے۔ اس میں سوال کسی صحابی یا تابعی کی ذات کا نہیں ہے بلکہ یہ ایک اصولی مسئلہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک طرف اگر قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ موجود ہوں ، سنت نبویہ اور سنت خلفائے راشدین اربعہ موجود ہو، اور دوسری طرف کسی صحابی یا تابعی کا قول یا فعل ہو جو صریحاً ان سب سے متعارض ہو تو کیا اسے بھی دوسری سنت یا اجتہاد کا نام دیا جا سکتا ہے؟یہ امر مسلم ہےکہ قرآن مجید کی آیات وراثت د ولایت کےمخاطب یا مکلف کفار نہیں بلکہ مسلمان ہیں۔قانونِ وراثت کا بیان ہی يُوصِيكُمُ الله کےالفاظ سےشروع کیا گیا ہےجس کاخطاب صریحاً مسلمانوں سے ہےاس طرح ان آیات کےنزول کےبعد کا فرو مسلم کےمابین تو ریث کو منقطع کر دیا گیا ہےجہاں تک مناکحت کا تعلق ہے اس کےبارے میں قرآن مجید میں صرف اہل کتاب کے معاملے میں اس حد تک استثنا کر دیا گیا ہے کہ محصنات اہلِ کتاب سے مسلمان مرد نکاح کر سکتا ہےاور کتابی مسلمان عورت سےنکاح نہیں کر سکتا۔لیکن قرآن مجید میں کہیں یہ مذکور نہیں کہ کافر تو مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا مگر مسلمان کا فر کا وارث ہوسکتا ہے۔

قرآن مجید کےبعد احادیث صحیحہ کو لیجےاگرکوئی حدیث صحیح اور سنت ثانیہ نبویہ ایسی موجود ہوتی جواد کام قرآنیہ میں تخصیص یا تشریح کے ذریعےسے مسلمان کو کافر کا وارث بنا دیتی تو بلاشبہ وہ لائق اتباع ہوئی۔ لیکن صحاح ستہ میں نهایت صحیح مرفوع متصل احادیث میں ارشاد نبوی وارد ہے کہ:

لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم.

"نہ مسلمان کا فر کا وارث ہے اور نہ کا فرمسلمان کا وارث ۔“

لا يتوارث أهل الملتين.

"دو مختلف ملتوں یعنی ملت اسلام اور ملت کفر کے پیرو باہم ایک دوسرے کے وارث نہیں ہیں۔"

ان صاف اور صریح احادیث کے مقابلے میں یہ روایت پیش کی جاتی ہے کہ:

الإسلام يعلو ولا يعلى.

"اسلام غالب رہتا ہے، مغلوب نہیں ہوتا۔“

اور

الإسلام يزيد ولا ينقص.

”اسلام بڑھتا ہے گھٹتا نہیں۔“

یہ دونوں حدیثیں سرے سے وارث کے مسئلے سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتیں اور ان کےبالمقابل خاص وراثت ہی کے مسئلے میں نصوص کتاب و سنت قطعاً صریح الدلالت ہیں۔ اگر اسلام کے غلبه واضافه کے عمومی اور اصولی بیان کو دلیل بنا کر مسلمان کو کا فرکا وارث بنانا درست ہو سکتا ہے تو پھر ایک مشرکہ سے نکاح بھی درست ہوسکتا ہے اور ایک غیر مسلم کی جان و مال سے ہر طرح کا تعرض درست ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ ان دو روایتوں کی سند میں بھی انقطاع ہے۔ محمد تقی صاحب نے ابن حجر کےحوالے سے یہ تو لکھ دیا ہےکہ الاسلام یزید ولا ينقص حدیث مرفوع ہےجسےابوداؤد نےروایت کیا ہےلیکن انہوں نےابوداؤ د باب الفرائض کھول کر اس روایت کو نہ دیکھا۔ اُس کے راوی ابوالاسود کہتے ہیں کہ: ان رجلا حدثه ان معاذا قال سمعت .... اس کا مطلب یہ ہےکہ حضرت معاذ بن جبل سے یہ روایت ایک غیر معلوم الاسم اور مجهول الحال راوی نے نقل کی ہے، اس لیے حافظ ابن حجر کی مراد مرفوع سے مرفوع منقطع ہے نہ کہ متصل ۔ اس کے بعد حضرت معاذ بن جبل سے اس روایت اور اس پر مبنی مسلک کی نسبت بہت مشتبہ ہو جاتی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خود امام ابوداؤد نے اس روایت سے پہلےلا یرث المسلم الكافر .... اور لا یتوارث اهل ملتین شتی والی احادیث صحیح سند کے ساتھ درج کر دی ہیں۔ پھر ان قولی احادیث کے سوا کوئی ایک فعلی حدیث بھی ایسی نہیں ہے جس میں یہ مذکور ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کافر کے مرنے پر کسی مسلمان کو اس کا وارث قرار دیا ہو یا کسی مسلمان کے اس طرح وارث بن جانے کو جائز قرار دیا ہو۔

سنت و بدعت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چاروں خلفائے راشدین کے بارے میں یہ بات قطعیت کے ساتھ ثابت ہے کہ انہوں نے اسی سنت ثابتہ کو جاری رکھا اور اس سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ظاہر بات ہےکہ قانونِ وراثت کا تعلق بنیادی ملکی قوانین سےہےاور عہد نبوی وعہد خلافت راشدہ میں سینکڑوں ایسے کفار کی موت واقع ہوئی ہوگی جن کےاعزا و اقربا مسلمان بھی ہوں گےمگر کیا خلافت راشدہ کےاختتام تک کوئی ایک واقعہ بھی حدیث، سیرت یا تاریخ کی کسی ایک کتاب میں ایسا مل سکتا ہے کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کا وارث قرار دیا گیا ہو؟ یا حضرت معاذ بن جبل یا امیر معاویہ یا کسی دوسرے صحابی نے وراثت کے کسی مقدمہ میں آکر یہ شہادت دی ہو کہ آنحضور کا ایسا بھی کوئی ارشاد موجود ہے جس کی بنا پر مسلمان کو کافر کا وارث قرار دیا جاسکتا ہے؟ یا کم از کم کسی مسلمان نے یہ دعوی ہی کیا ہو کہ اسلام چونکہ نقصان کےبجائے زیادتی کا باعث ہے اس لیے مجھے کافرمورث سےورثہ دلایا جائے؟ خلفائے راشدین کا طریقہ تو یہ رہا ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے خلافت سنبھالتے ہی یہ اعلان کیا کہ :

آنا متبع و لست بمبتدع ” میں کتاب و سنت کا متبع ہوں، مبتدع یعنی نئی راہ نکالنے والا نہیں ہوں۔“

ان حضرات کا عام قاعده یہ تھا کہ اہم امور میں اگر کوئی اختلاف داشتباہ ہوتا تھا تو صحابہ کرام کو جمع کیا جاتا تھا، اعلان کیا جاتا تھا کہ فلاب معاملے میں اگر کسی کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد ہو تو اسے آکر پیش کیا جائے۔ ایسے عامتہ الورود مسئلے میں اگر آنحضور کے ایک سے زائد اقوال ہوتے تو وہ ضرور سامنے آجاتے۔

اس سنت رسول اور سنت خلفائے راشدین کے بالمقابل امیر معاویہ کا ایک فیصلہ اور طریقہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دوسری سنت ہے، یا یہ ایک فقیر یا ایک مجتہد کا قیاس واجتہاد ہے۔ یہ بالکل ایسی بات ہےجیسےآج کل پرویز صاحب جیسے لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا ہر امیر یا مرکز ملت جو کچھ طے کر دے وہی سنت ہے،اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو "کچھ طے کیا تھا صرف وہی سنت نہیں ہے بلکہ بعد کے تمام ادوار کا تعامل بھی سنت ہےمحمد تقی صاحب نےاس ضمن میں امام زہری کےالفاظ السنتہ الا ولی سےیہ عجیب نکتہ پیدا کیا ہے کہ یہ لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت معاویہ نے جو طریقہ جاری کیا وہ السنتہ الا خری تھا۔حالانکہ امام زہری نےجو کچھ کہا ہےاس کا مطلب یہ ہےکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نےآکر اس طریقے کو موقوف کیا اور پہلے طریقے کو جاری کر دیا۔ ان کا مطلب یہ ہرگز نہ تھا کہ پہلے طریقہ کو چھوڑ کر جو دوسرا طریقہ حضرت معاویہ نے جاری کیا وہ بھی سنت ہی تھا۔(١) سوال یہ ہے کہ اگر ایک طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے خلفائے راشدین کے دور تک مسلسل جاری رہا ہو، اور اس کے بعد کوئی شخص اسے بدل کر دوسرا طریقہ جاری کر دے تو کیا اصطلاح شرع میں وہ بھی سنت ہی ہے؟ وہ اگر سنت ہو تو پھر آخر بدعت کس چیز کا نام ہے؟اس طرح کی سنتیں تو پھر اور بھی ہیں جو امیر معاویہؓ،مروان، یا بنومروان نے جاری کی تھیں۔ مثلاً بیٹھ کر خطبہ دینا، خطبہ عید کے لیے منبر لے جانا، اور نماز عیدین سے سے پہلے خطبہ پڑھنا۔(٢) کیا یہ سب اجتہادات ایک سنت ہی بنارہے ہیں؟ اگر یہ ساری کارروائیاں سنت یا دیر البلاغ کے خیال کے مطابق دوسری سنت کی تعریف میں آتی ہیں، تو پھر آخر کیا وجہ ہے کہ خلفائے بنوامیہ ہی کے ایک فرد حضرت عمر بن عبد العزیز نے انکا خاتمہ ضروری سمجھا؟ اور اہل سنت کےکسی مسلک و مذہب نے آج تک ان کےمطابق عمل نہ کیا?-


(١)- یہ امر قابل ذکر ہے کہ مولانا مودودی نے البدایہ کے جو دو حوالے دیئے ہیں ان میں ایک جگہ السنتہ الاولی کے الفاظ ہیں اور دوسری جگہ جلد ۸ ص ۱۳۹ پر فقط السنتہ کا لفظ ہے، یعنی حضرت عمر بن عبد العزیز نے سنت کو قائم کر دیا۔

(٢) شاہ ولی اللہ صاحب فرماتےہیں عن طاؤس قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم قائماً وابوبكر وعثمان وان اول من جلس على المنبر معاوية بن ابي سفيان (از لته الخفا جلد دوم ص ۲۹۹، ناشرنور محمد کراچی ) ۔ ( طاؤس سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر عثمان نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور سب سے پہلےمعاویہ نے ممبر پر بیٹھ کر خطبہ دیا)۔ اسی طرح مروان کا نماز عید سے پہلے خطبہ پڑھنا صحاح ستہ کی متعدد احادیث میں مروی ہے اور بیٹھ کر خطبہ دینا بھی روایات میں مذکور ہے۔

اقوال سلف

علامہ بدرالدین عینی اور حافظ ابن حجر" کے حوالے سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسروق، محمد بن حنفیه محمد بن علی بن حسین سعید بن مسیب ، ابراہیم تھی ، اطلق بن راہویہ رحمہ اللہ کا مذہب یہی ہے کہ ہم کفار کے یا اہل کتاب کے وارث ہوں کیونکہ یہ قیاس کا تقاضا ہے۔ لیکن امر واقعی اور صحیح بات یہ ہے کہ ان بزرگوں کی طرف اس قول کی نسبت کسی قابل اعتماد ذریعہ سے ثابت نہیں ہے، اور ثابت ہو بھی تو نصوص کتاب وسنت کے مقابلے میں سرے سے کسی قیاس یا اجتہاد کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ تعجب ہے کہ مولانا محمد تقی صاحب نے ابن حجر کی بحث سے اپنےمطلب کا ایک ٹکڑا کاٹ لیا اور بقیہ کو حذف کر دیا۔ ابن حجر فرماتے ہیں:

وحجة الجمهور انه قياس في معارضة النص وهو صريح في المراد ولا قياس مع وجوده. امـا الـحديث فليس نص فى المرادبل هو محمول انه يفضل غيره من الايان ولا تعلق له بالإرث وقدعا رضه قياس آخر وهو ان التوارث يتعلق بالولاية ولا ولاية بين المسلم ولكافر لقوله تعالى لا تتخذوا اليهود والنصارى اولياء بعضهم أولياء بعض.

"اور جمہور کی دلیل یہ ہے کہ مسلمان کو کافر کا وارث بنانا ایک ایسا قیاس ہے جونص کے خلاف پڑتا ہے اور جب کسی مسئلےمیں ایک نص موجود ہو جو اسی خاص مسئلےکےمتعلق صریح حکم دےرہی ہو تو اسکی موجودگی میں قیاس کا کوئی موقع نہیں۔ رہی وہ حدیث جو اس قیاس کے حق میں پیش کی گئی ہے ۔ (یعنی الاسلام یزید ولا ينقص ) تو اس کا وراثت کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ اس کا مطلب بس یہ ہے کہ اسلام دوسرے ادیان پر فضیلت رکھتا ہے اور یہ وراثت کے مسئلے میں کوئی نص نہیں ہے۔ پھر یہ قیاس ایک دوسرے قیاس سے بھی ٹکراتا ہے اور وہ اس طرح کے توارث کا تعلق ولایت سے ہے اور مسلم اور کافر کے درمیان کوئی ولایت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے مت بنادُ یہود و نصاری کو اپنا ولی۔ وہ ایک دوسرے کے دلی ( دوست اور خیرخواه ) ہیں۔“

ابن حجر کی عبارت کا ایک حصہ عثمانی صاحب نےنقل کر کے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ حضرت معاویہ کے اس فیصلے سےبہتر نہیں دیکھا کہ ہم اہل کتاب کےوارث ہوں اور وہ نہ ہوں، جیسےہمارے لیےان کی عورتوں سے نکاح حلال ہے لیکن ان کے لیے ہماری عورتوں سے نکاح حلال نہیں۔ یہ عبداللہ بن معقل کا قول ہے جس کا رد آگے خود ابن حجر نے کر دیا ہے۔ مگر عثمانی صاحب نےاسے نقل نہیں کیا۔ ابن حجر فرماتے ہیں:

فان الدليل ينقلب فيما لو قال الذمي إرث المسلم لأنه يتزوج الينا.

" یہ دلیل تو الٹ کر ہمارے خلاف بھی پڑ سکتی ہے۔ ایک ذمی یہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی مسلمان کا وارث ہو سکتا ہوں کیونکہ مسلمان ہماری عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے۔“

اس مسئلے میں مولانا مودودی کے بعض ناقدین المغنی لابن قدامہ کے بھی نامکمل حوالے دیتےہیں اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کتاب کا وہ اقتباس بھی دے دیا جائے جو بحث کےآخر میں حاصل کلام کے طور پر درج ہے۔ المغنی، جلدے ص ۲۶ اپر ابن قدامہ پہلے یہ بیان کرتے ہیں کہ محمد بن الحنفیه علی بن حسین ، سعید بن المسیب، مسروق، عبداللہ بن معقل شعمی ،ابراہیم نخعی، یحیی بن عمر اور الحق کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے مسلم کو کافر کا وارث قرار دیا ہے۔ اس کےبعد فرماتے ہیں:

وليس بموثق به عنهم.

"اور اس کی نسبت ان کی جانب قابل اعتماد نہیں ہے۔“

تقریباً یہی وہ نام ہیں جنہیں مولانا عثمانی صاحب نے بار بار دہرایا ہے۔ پھر ابن قدامہ فرماتے ہیں:

لا يرث الكافر المسلم ولا المسلم الكافر متفق عليه.

وروی ابوداؤد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يتوارث أهل الملتين شتى. ولأن الولاية منقطعة بين المسلم والكافر فلم يرثه كما لا يرث الكافر (المسلم)

"کافرمسلم کا وارث نہیں، نہ مسلم کافر کا۔" یہ متفق علیہ حدیث ہے۔ اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو مختلف ملتوں کے پیرو ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے ۔ مزید یہ کہ مسلم اور کافر کے مابین ولایت کا تعلق منقطع ہے، اس لیے جس طرح کافر مسلم کا وارث نہیں ہو سکتا اسی طرح مسلمان کا فر کا وارث بھی نہیں ہو سکتا۔“

(۲) بدعت کا الزام

مسلم و غیرمسلم کےمابین عدم توریث کا کتاب و سنت اور اقوال سلف کی روشنی میں قطعی ثبوت پیش کرتےہوئےمیں نے عثمانی صاحب کےہر اعتراض کا جواب دے دیا تھا جیسا کہ مندرجہ بالا بحث سے واضح ہے۔ لیکن تو ریث کےمسئلےپر جو پانچ سطریں مولانا مودودی نے لکھی تھیں، انہیں نقل کرنے کے بعد عثمانی صاحب نےدوبارہ میری تردید کی کوشش کی۔ فرماتے ہیں کہ میں نےاس عبارت پر دو اعتراضات کیےتھے،پہلا یہ کہ مولانا مودودی نےآخری جملے( حضرت عمر بن عبد العزیز نےآکر اس بدعت کو ختم کیا)میں امام زہری کی طرف یہ بات منسوب کی ہے کہ انہوں نے حضرت معاویہ کےاس مسلک کو بدعت قرار دیا ہے،حالانکہ البدایہ والنہایہ میں امام زہری کا اصل عربی جملہ یہ ہےکہ راجع السنة الاولى.حضرت عمر بن عبد العزیز نےپہلی سنت کو لوٹا دیا۔میرا اعتراض یه تھا کہ مولانا نے سنتِ اولی کےلفظ کو بدعت سے کیوں بدلا۔اگر مولانا خود حضرت معاویہ کے اس مسلک کو بدعت سمجھتےہیں تو وہ اسےبدعت فرمائیں لیکن امام زہری کی طرف وہ بات کیوں منسوب کی گئی؟ملک غلام علی صاحب نے میرے اس اعتراض کا کوئی جواب نہیں دیا۔ جواب اس کا یہ ہے کہ میرے نزدیک یہ سرےسے کوئی اعتراض ہی نہ تھا جسے اٹھانےاور رفع کرنے میں وقت ضائع کیا جاتا۔لیکن اب چونکہ مولانا محمد تقی صاحب نے اسےدہرایا ہےاور یہ بات بھی میرے علم میں آئی ہے کہ بعض دوسرے حضرات بھی ایک طرف خلافت و ملوکیت کی کوئی عبارت رکھتےہیں، دوسری طرف جائیے کے حوالہ جات میں مندرج کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب اٹھا کر کہتےہیں کہ اس میں وہ عبارت بالفاظہا موجود نہیں ہے بلکہ دونوں میں لفظی و معنوی تفاوت ہے،پھر اس کے بعد زور سے کہا جاتا ہے کہ نہ صرف یہ حوالہ بلکہ دوسرےسارے حوالے نقل کرنے میں بھی غلطی کی گئی ہے،اس لیے میں اس نوعیت کے سارےاعتراضات کی حقیقت واضح کیے دیتا ہوں۔-

بات فی الاصل یہ ہے کہ ایک مصنف جب کسی دوسرے کی کتاب کا حوالہ دیتا ہے تو اس کےبالعموم دو طریقے ہوتےہیں ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ناقل اصل کتاب کا پورا حوالہ اس کےاپنے الفاظ میں من وعن دیتا ہےاس صورت میں وہ ایک ہی مصنف کی ایک ہی کتاب کے ایک ہی مقام کا متعین حوالہ دیتا ہے اور ساتھ کوئی دوسرا حوالہ شامل نہیں کرتا۔ ایسی حالت میں عام طور پر نقل کرده عبارت یا اس کا ترجمہ بالکل الگ ممیز کر کے دیا جاتا ہےاور اس کے لیے منقول عبارت حوض میں خفی قلم سےوادین کےساتھ درج کی جاتی ہےاس طرح کا جو اقتباس دیا جاتا ہےاس میں نقل کا بالکل مطابق اصل ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے اور کوئی کمی بیشی یا حذف واضافہ ہو تو اسےنا قابل جواز خیال کیا جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ اخذ و اقتباس کا یہ ہے کہ ایک مصنف ایک سے زاید مآخذ کا حوالہ دے کر ماخوذ مواد کو اپنی عبارت کا ایک جزء بنا کر پیش کرتا ہے۔ ایسی صورت میں ماخذ کا مکمل حوالہ بجنسہ اصل الفاظ میں نقل کرنانہ ضروری ہوتا ہے، نہ ممکن ۔ اسی لیے اخذ کردہ حوالے کو قطعی طور پر علیحدہ و ممیز کرنے کے لیے حوض یا وا دین وغیرہ کی مذکورہ بالا علامات دانستہ طور پر استعمال نہیں ہوتیں۔ اس شکل میں مقتبس اور اخذ کرنے والے کے لیے یہ تو ضروری ہوتا ہے کہ وہ اصل مرجع کےباب، صفحہ وغیرہ کی نشان دہی کرے، لیکن یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ اصل عبارت کا لفظ بلفظ اعادہ کرنے اوران میں اونی تغیر بھی نہ ہونے پائے۔ بلکہ یہ کافی ہوتا ہے کہ اصل مفہوم ومضمون کوفی الجملہ ادا کر دیا جائے۔ یہ بامعنی ترجمانی اس حالت میں اور بھی ناگزیر ہو جاتی ہے جب کہ ایک سےزاید کتابوں کا حوالہ دینا مقصود ہو۔ وہاں اگر ہر کتاب کا ایک ایک ٹکڑا یا اس کا ترجمہ الگ الگ درج کیا جانے لگے تو یہ ایک ایسی لا طائل تکرار ہوگی جو لکھنے والے کو تھکا دے گی اور پڑھنے والے اکتا جائیں گے۔ اس لیے جہاں ایک سے زیادہ مراجع کا حوالہ دے کر بات کی جاتی ہے وہاں لکھنے والا متقارب المعنی عبارتوں میں سے ایک مشترک روایت و حکایت (Version) اپنے الفاظ میں بیان کر دیتا ہے۔ یہ تالیف و تصنیف کا ایک جانا پہچانا اور معروف اسلوب ہے جس سے ہر لکھا پڑھا کتاب بین آشنا ہے۔ ہر حوالے کا بلا کم و کاست لفظی اعادہ تو اسی حال میں ممکن ہے جب کہ ہر سابق مصنف نےبعینہ ایک ہی بات لکھی ہو۔ لیکن ایسا مکمل لفظی و معنوی تو اردتو محالات میں سے ہے حتی کہ ایک ہی مصنف ایک ہی کتاب میں اگر ایک خیال و مضمون کو دوبار بیان کرتا ہے، تب بھی الفاظ مختلف ہو جاتے ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال یہی حافظ ابن کثیر اور ان کی کتاب ”البدایہ ہے جس کے دو حوالے مولانا مودودی نے مسئلہ زیر بحث میں دیئے ہیں اور جنہیں خلط ملط کر کے مدیر البلاغ نے بدعت وسنت اور پھر سنتہ اولی اور سنہ اخریٰ کی بحث پیدا کی ہے۔

مولانا محترم نےالبدایہ و النهایه جلد ۸، ص۱۳۹ اور جلد ۹ص ۲۳۲ کےدو حوالےدیئےہیں۔عثمانی صاحب کے الفاظ میں البدایه جلد ٩ صفہ ۲۳۲ کا ترجمہ درج ذیل ہے:

' امام زہری فرماتےہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائےاربعہ کےعہد میں نہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا تھا،نہ کافر مسلمان کا۔پھر جب معاویہ خلیفہ بنےتو انہوں نے مسلمان کو کافر کا وارث قرار دیا اور کافر کو مسلمان کا وارث نہ بنایا۔ ان کے بعد خلفاء نے بھی یہی معمول رکھا۔ پھر جب عمر بن عبد العزیز خلیفہ ہوئے تو انہوں نے پہلی سنت کو لوٹا دیا اور یزید بن عبد الملک نے بھی ان کی اتباع کی۔ پھر جب ہشام آیا تو اس نے خلفاء کی سنت پر عمل کیا، یعنی مسلمان کو کافر کا وارث قرار دے دیا۔“

دوسرا مقام جس کا حوالہ خلافت و ملوکیت میں دیا گیا وہ البدایہ جلد ۸، ص ۱۳۹ کا ہے۔ اس کی پوری عبارت اور اس کا ترجمہ عثمانی صاحب کی کتاب حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق کےص ۱۵۸-۱۵۹ پر درج ہے۔ ترجمہ انہوں نے یہ کیا ہے:

"ابوالیمان شعیب سےاور وہ زہری سے روایت کرتے ہیں کہ سنت پہ چلی آتی ہے کہ نہ کافر مسلمان کا وارث ہوگا نہ مسلمان کا فر کا۔ یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیز آئےتو انہوں نےپہلی سنت کو لوٹا دیا۔ پھر ہشام نےاس فیصلے کو لوٹا دیا جو حضرت معاویہ اور ان کے بعد کے بنوامیہ نے کیا تھا۔“

پہلی اور دوسری سنت

اس ترجمے کے متعلق پہلی بات جو مجھے کہنی ہے وہ یہ ہےکہ یہ ترجمہ بالکل غلط ہے اور اس میں مدیر البلاغ نے اسی گناہ کا ارتکاب کیا ہے جس کا الزام وہ دوسروں کو دیتے ہیں حالانکہ یہاں انہوں نے ایک ہی متعین حوالہ دیا ہے اور اس کا متن بھی ساتھ موجود ہے۔ اصل عربی عبارت یہ ہے:

وقال ابو اليمان عن شعيب عن الزهري مضت السنة ان لا يرث الكافر المسلم ولا المسلم الكافر وأول من ورث المسلم من الكافر معاوية وقضى بذلك بنو امية بعده حتى كان عمر بن العزيز فراجع السنة وأعاد هشام ما قضى به معاوية وبنو أمية من بعده.

اب اس عربی متن کا ان کے اوپر والے ترجمہ سےمقابلہ کیا جاتا تو معلوم ہوتا ہےکہ انہوں نےپہلےخط کشیدہ حصے کا ترجمہ چھوڑ دیا ہےجو یہ ہونا چاہتے تھا کہ ”پہلےپہل جنہوں نےمسلمان کو کافر کا وارث بنایا،وہ معاویہ ہیں پھر دوسرے خط کشیده جملے فراجع السنة کا ترجمہ انہوں نےیہ کیا ہے کہ انہوں نے (یعنی حضرت ابن عبد العزیز نے) پہلی سنت کو لوٹا دیا۔حالانکہ اس میں صرف سنت کا لفظ ہے، پہلی سنت کا لفظ نہیں ہے۔ اب مولانا مودودی اگر متعدد حودا ں کا ایک مشترک خلاصہ یا مفہوم بیان کرتے ہیں تو ان سےتو یہ مطالبہ ہے کہ ان کا ہر ہر لفظ ہر حوالےکا تحت اللفظ ترجمہ ہو،لیکن آپ ایک ہی حوالےکا لفظی ترجمہ کریں تو اس میں حذف و تصرف درست ہے!یہ رد و بدل پہلے ”البلاغ“ کے خصوصی نمبر میں کیا گیا تو اسی وقت میں نے اس کی نشان دہی ”ترجمان القرآن" میں کر دی تھی مگر افسوس کہ اس کا کوئی اثر نہ لیا گیا۔

ممکن ہے کہ یہاں مولانا عثمانی صاحب اپنے سہو قلم کا عذر پیش کریں یا کاتب کے سرا سےمنڈھ دیں لیکن راجع السنہ کا ترجمہ ” پہلی سنت کرنا یالکھنا بڑا معنی خیز ہے، کیونکہ اسی سے تو آپ نے وہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ پہلی سنت کے ساتھ یا اس کے بعد دوسری سنت“ بھی ہوتی ہے۔حالانکہ صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ السنہ سےمراد ایک ہی سنت ثابتہ ہےجو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائےراشدین کی سنت ہے، اس کے مقابلے میں کوئی دوسری چیز جسے آپ دوسری سنت“ کہتے ہیں، وہ سنت نہیں جو کتاب اللہ کے ساتھ حجتہ ثانیہ ہو۔ وہ سنت ہے تو بنوامیہ ہی کی سنت ہے(باستثنائے حضرت عثمان وعمر ثانی)۔ کیا آپ یہ نہیں دیکھتے کہ اس مقام پر البدایہ میں لام تعریف کے ساتھ السنة کا لفظ آیا ہے،اس لیےیہاں پہلی کے بعد دوسری دوسری سنت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور دوسرا مقام جہاں البدایہ میں السنة الاولیٰ کا لفظ آیا ہے، وہاں بھی السنة الأخرى كا لفظ موجود نہیں، بلکہ وہاں آگے یہ الفاظ ہیں: فـلـمــا تــام ہشام اخذ بسنة الخلفاء جس کا ترجمہ آپ نے بھی یہی کیا ہے کہ ”جب ہشام آیا تو اس نے خلفاء کی سنت پر عمل کیا۔ ان خلفاء سے مراد ہرگز خلفائے راشدین نہیں کیونکہ ان کی سنت کو تو امیر معاویہ نے بدل دیا۔کیا اس کےبعد بھی کوئی شک باقی رہتا ہےکہ جس شےکو آپ دوسری سنت کہہ رہے ہیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائے اربعہ کی سنت نہیں، بلکہ خلفائے بنی امیہ کی ہے اور جیسا کہ میں پہلے مضمون میں بتا چکا اور مثالیں دے چکا، ان خلفاء کی سنتیں تو بے شمار ہیں: اگر حمایت کرنی ہے تو پھر ان ساری سنت ہائے ثانیہ کی کیجئے اور دفاع سنت کا پورا پورا اثواب لیجیے۔

پھر مدیر "البلاغ "کے یہ الفاظ بھی عجیب ہیں کہ ”مولانا نے سُنتِ اولی“ کے لفظ کو "بدعت" سے کیوں بدلا ؟ مولانا نے سُنت یا سنت اولیٰ کے الفاظ کو بدعت کے لفظ سے نہیں بدلا ، بلکہ سُنت کو لوٹا دینے کا مفہوم اور ان الفاظ میں ادا کیا ہے کہ بدعت کو ختم کیا۔ مولانا عثمانی کے نزدیک ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے، حالانکہ دونوں میں کوئی فرق ہی نہیں۔ سُقت کا بحال کرنا اور بدعت کو ختم کرنا بالکل ہم معنی ہے اور بدعت کا خاتمہ کیے بغیر سُنت لوٹ ہی نہیں سکتی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا ارشاد مبارک ہے کہ سنت ملتی ہے تو بدعت اس کی جگہ لیتی ہے، اس لیے احیائے سنت کا مطلب بدعت کو ختم کرنے کے سوا اور کیا ہے؟

مدیر "البلاغ "کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ خود مولانا مودودی صاحب نےجو حضرت معاویہؓ کےاس فعل کو بدعت قرار دیا ہے،وہ درست نہیں اس لیےکہ یہ فقہی اجتہاد تھا جس کی بنیاد ایک مرفوع حدیث پر ہےمیں اس اعتراض کا نہایت مفصل و مدلل جواب پہلے سلسلہ مضمون میں دے چکا کہ یہ فعل نصوص کتاب و سنت اور تعامل خلافت راشدہ سے عین معارض و متصادم ہے، اس لیے یہ اجتہاد نہیں ہے اور جس حدیث کو اس کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے اس کا سرے سے وراثت سے کوئی تعلق ہی نہیں اور وہ دوسری احادیث صحیحہ کے مخالف ہے۔ اب میری ساری بحث سے صرف نظر کرتےہوئے ”البلاغ "نے پھر اپنی بات کو دہرا دیا ہے کہ یہ دوسرا مسلک بھی بے بنیاد نہیں ہے اور یہ قیاس غلط ہے کہ حضرت معاویہ نے سیاسی اغراض کے لیے حلال و حرام کی تمیز روا نہیں رکھی ۔ میں پھر کہتا ہوں کہ یہ بات مولانا مودودی نے حضرت معاویہ کے متعلق نہیں کہی بلکہ دو ملوکیت کے متعلق ایک عام بات کہی ہے اور عام وخاص میں بہر حال فرق ہے۔باقی رہی یہ بات کہ یہ حضرت معاویہؓ کا اجتہاد ہے، تو چلیے اسے اجتہاد ہی مان لیجیے۔ اگر امیر معاویہ اس اجتہاد پر ذاتی طور پر عمل فرما لیتے یا بطور اپنے انفرادی مسلک کےاسے دوسروں کے سامنے بیان کر دیتے تو اس میں کوئی مضایقہ نہ تھا۔لیکن جملہ بحث واشکال تو اس امر میں ہےکہ کیا ایسےانفرادی اجتہاد کا مکلف و پابند دوسروں کو بھی بنایا جا سکتا ہے اور سُنتِ ماضیہ کو ہٹا کر ایسےاجتہاد کو قانونِ ملکی کےطور پر پوری اسلامی سلطنت میں نافذ کیا جا سکتا ہےجب کہ یہ نص صریح سے ٹکرا رہا ہو؟ یہ تو اصول فقہ کا ایک عام مسئلہ ہےکہ جائز و مباح بلکہ مندوب تک کا لزوم وو جوب اسے بدعت کے دائرے میں داخل کر دیتا ہے۔


١- گویا یہاں عثمانی صاحب نے تسلیم کر لیا کہ مولانا مودودی نے امام زہری کی طرف یہ بات منسوب نہیں کی بلکہ خواہ اعادہ سُنت کو خاتمہ بدعت سے تعبیر کیا ، حالانکہ پہلا اعتراض یہ تھا کہ امام زہری کی طرف وہ بات کیوں منسوب کی جو انہوں نے نہیں کہی تھی۔

صحابہ کرام اور فقہاء کے نظر دات

اس جگہ مدیر " البلاغ نے بعض صحابہ کرام کے تفرداب گنوائے ہیں اور ان کو امیر معاویہ کےجواز مسلک کے طور پر پیش کیا ہے۔ مثلاً فرماتے ہیں کہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ مسلک مشہور و معروف ہے کہ وہ ایک دن کی روزی سے زیادہ رقم اپنے پاس رکھنا حرام سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ مسلک قرآن و سنت کے واضح دلائل کے خلاف ہے۔ اسی وجہ سے صحابہ کرام میں سے کوئی ایک بھی اس میں ان کا ہمنوا نہ تھا۔ سب کے نزدیک ان سے اس مسئلے میں اجتہادی غلطی ہوئی تھی ۔“اچھا،اب فرض کیجیے کہ حضرت ابوذر مسند اقتدار پر فائز ہو جاتے اور وہ اپنے اسی مبینہ مسلک کو پوری مملکت اسلامیہ میں قانون نافذ کر دیتے کہ کوئی شخص ایک دن کی روزی سے زاید اپنے پاس نہ رکھےکیونکہ یہ ان کے نزدیک حرام ہے۔ اب مجھے مولانا عثمانی صاحب بتائیں کہ وہ اس مسلک کےرواج و نفاذ کی اسی زور کے ساتھ تائید کریں گے یا نہیں جس طرح وہ امیر معاویہ کے مسلک کی کر رہے ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ امیر معاویہ کے متعلق وہ فرماتے ہیں کہ ” جب وہ امیر بن گئے،تب بھی ان کی اہمیت اجتہاد ختم نہیں ہو گئی۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی فقیہ مجتہد امیر بن جائے تو اسے محض امیر ہونے کے جرم میں اجتہاد سےمحروم تو نہیں کیا جا سکتا۔ اگر امیر معاویہ کے بارے میں یہ امر ظاہر ہے تو پھر حضرت ابوذر ( اور دوسرے سب صحابہ کرام) کے معاملے میں بھی ظاہر ہے۔ حضرت امیر معاویہ کے جو فضائل و مناقب ہیں اور جنہیں البلاغ میں بیان کیا گیا ہے، حضرت ابوذر کےفضائل اس سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ۔ پھر وہ بھی اپنے مسلک کے حق میں آیات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے ارشادات پیش کرتے تھے جو ان روایات سےزیادہ صحت کےساتھ مروی ہیں جو امیر معاویہ کےحق میں پیش کی جاتی ہیں اور حضرت ابوذر کےاستنباط واجتہاد میں تکلف یا خطا اس سے زیادہ نہیں ہے جتنا کہ حضرت معاویہ کے حق میں پیش کیےجانے والے اجتہاد میں ہے۔

مدیر "البلاغ" نے اپنے مضمون میں یہ شکایت بھی کی ہے کہ "بعض جو شیلے حضرات نے ہمیں سوشلسٹ تک قرار دیا "۔ معلوم نہیں یہ حضرات کون تھے اور اس بحث کی اشاعت سے پہلے انہوں نے کس بنا پر ایسا بے بنیاد الزام تراشا ہیکن کچھ جو شیلےیا پھر ہوشیار قسم کےحضرات اگر امیر معاویہؓ کےحق میں ان دیئےجانےوالے سارے دلائل کو حضرت ابوذر کے فقہی مسلک اور اس کے بعد پھر سوشلزم کے حق میں استعمال کرنے لگیں تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مدیر ”البلاغ“ کیوں اس پر شاکی ہوں_١؟ پھر یہ بات بھی عجیب ہےکہ آپ کو تو یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ حضرت ابوذر کا مسلک قرآن و سنت کے واضح دلائل کے خلاف ہے، مگر دوسرا شخص یہی بات حضرت امیر معاویہؓ کے حق میں کہہ دے تو یہ سب و شتم ہے۔

اس کے بعد عثمانی صاحب امام شافعی کا یہ مسلک بیان کرتے ہیں کہ "وہ اس کے قائل ہیں کہ اگر کوئی ذبیحہ پر بسم اللہ پڑھنا جان بوجھ کر چھوڑ دے، تب بھی ذبیحہ حلال ہوتا ہے" اور پھر پوچھتےہیں کہ کیا کسی نے اس مسلک کی وجہ سےامام شافعی پر بدعت کا الزام عائد کیا ہے؟“یہاں پھر میں بھی پوچھتا ہوں کہ اگر امام شافعی امیر المومنین ہوتے اور وہ اسی مسلک کو پوری امت میں قانو نا نافذ کر دیتے تو کیا یہ مدعت کی تعریف میں نہ آتا؟ یہ سوال میں صرف عثمانی صاحب کے استدلال کی غلطی اور خامی واضح کرنے کے لیے کر رہا ہوں، ورنہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہےکہ کسی فقیہ یا مجتہد نےیہ کبھی نہیں چاہا کہ اس کا کوئی انفرادی مسلک دوسروں پر بجبر یا بذریعہ اقتدار نافذ العمل ہو۔ امام مالک کا یہ واقعہ مشہور ہےکہ ہارون الرشید نے ان کے موطا کو قانون ملکی کی اساس بنانے کا ارادہ کیا تھا مگر امام مالک نے اس تجویز کو ختی سے رو کر دیا تھا۔ سلاطین متاخرین میں سے بھی بہت سے شافعی المسلک تھے لیکن انہوں نےاپنی سلطنت میں یہ قانون یا قاعدہ کبھی رائج نہیں کیا کہ جو شخص دانستہ ذبیحہ پر ہم اللہ نہ پڑھے، اس کا ذبیحہ ہر دوسرے شخص کے لیے حلال ہے۔اسی طرح اگر حضرت امیر معاویہ خلیفہ بنےپرتوریث مسلم من الکافر کو قانون نہ بناتے اور اپنے انفرادی اجتہاد کی حیثیت سےاس کے قائل رہتے تو اس کا شمار بدعت میں نہ ہوتا۔ حضرت عمر خلیفہ ہونے سے قبل اور بعد بھی بھی اس مسلک پر تھے کہ جبھی جب تک پانی سے طہارت غسل نہ کرلے، وہ تیم سے نماز کسی عذر کی بنا پر نہیں پڑھ سکتا۔ خلافت پر فائز ہونے کےبعد ان کا حضرت عمار بن یاسر سے اس مسئلے میں مذاکرہ و مباحثہ بھی ہوا، اس کے باوجود وہ اپنے ذاتی مسلک پر قائم رہے، مگر انہوں نے حضرت عمار یا کسی دوسرے مسلمان پر اپنے مسلک کی پیروی لازم نہ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ خلافت راشدہ کے عہد میں شوری کا نظام پوری طرح قائم وکار فرما تھا اور بالعموم اہم ملکی واجتماعی مسائل با ہمی مشاورت کے بعد طے ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت راشدہ کے اجتماع کو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت خلفاء راشدین کا نام دے کر یا دوسرے لفظوں میں اسے اپنی سنت کا ضمیمہ وتتمہ قرار دے کر اس کی پیروی کا بھی حکم دیا ہے۔ حضرات بوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کا عام طریقہ ہی یہ تھا کہ پیش آمدہ مسائل میں نہ صرف شوری سے مشورہ لیتے تھے، بلکہ یہ اعلان عام کرتے تھے کہ فلاں مسئلے میں اگر کسی کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی قولی و علی حدیث ہو تو آکر ہمیں بتائے،اس لیے کہ اس عہد سعادت میں اس امر کا امکان بہت کم تھا کہ خلفاء کسی اپنے انفرادی مسلک کا نفاذ عام کرتے۔بعد کےادوار میں یہ صورت باقی نہ رہی اور ایسےفیصلے نافذ العمل ہوئے جنہیں اب خواہ مخواہ سنت کادرجہ دینےکی کوشش کی جارہی ہےاور کہا جارہا ہےکہ یہ پہلی سنت نہ سہی دوسری سنت تو ہےحالانکہ جس حدیث میں ارشاد نبوی عليكم بسنتي وسُنّة الخلفاء الراشدین وارد ہے،اس میں آگےوایاکم ومحدثات الامور مروی ہےجس کے صاف معنی یہ ہیں کہ جو فیصلہ سنت نبوی اور سُنت خلفاء راشدین کےخلاف ہوگا،وہ محدثات کے زمرے میں آئے گا اور جس طرح سُدّت سے تمسک کی تاکید فرمائی گئی ، اسی طرح محدثات سے بچنے کی بھی تاکید فرمائی۔


١- یہ میرا مفروضہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔عبدالحمید بھان کا ایک بیان روزنامہ مشرق لاہور ۵ فروری ۱۹۷۱ء میں چھپا ہےکہ عوام کو سرور کائنات کے صحابی ابوذر کےنظریات کی پیروی کرنی چاہیے۔ وہ مساوات کے اصولوں کےعلمبردار تھے۔استحصال کرنےوالوں اور بد عنوان افراد کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔اسلام میں اس کی اجازت ہے۔“

امام شافعی کےذکر کےبعد مدیر "البلاغ “ نے”الاعتصام"( للشاطبي) کی عبارت نقل کی ہےجس نے یہ ثابت کرنا مقصود ہےکہ بدعت کااطلاق اس فعل پر ہوتا ہےجس میں خواهش نفسانی کی اتباع میں تحریف،دین کاارتکاب کیا جائے۔حالانکہ امام شاطبی نے بدعت کی اصل تعریف میں ہر اس رائے کو داخل کیا ہے جو کسی اصل شرعی پر مبنی نہ ہو، البتہ اگر جہل و اتباع ہوئی بھی اس کے ساتھ شامل ہو، تو وہ بدعت مذمومہ قرار پاتی ہے۔ میں نے امیر معاویہ کے فیصلے کو دوسری سُنت قرار دیئےجانے پر جو لکھا تھا کہ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے آج کل پرویز صاحب جیسے لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا ہر امیر یا مرکز ملت جو کچھ طے کر دے، وہی سکت ہے، اس کے جواب میں مولانامحمد تقی صاحب فرماتےہیں کہ بات تو یہ کہی جارہی ہےکہ امیر معاویہ کو اجتہاد کا حق حاصل ہےاور امیر ہو جانےکےبعد بھی یہ حق سلب نہیں ہو سکتا۔میں اوپر اس معارضےکو صاف کر چکا کہ سوال مطلق حق اجتہاد کا نہیں بلکہ ایسے اجتہاد کو پوری امت اسلامیہ پر قانو نا نافذ کر دینے کا ہے جو کسی شرعی اصل پر مبنی نہیں۔اگر پرویز صاحب کےمرکز ملت کا ذکر الجھن کا باعث ہےتو میں محمود احمد عباسی صاحب کی مثال پیش کرتا ہوں۔وہ بھی یہی کہتےہیں کہ یہ توریت کا قاعدہ جب مدت مدید تک خلفائےبنی امیہ نےپوری مملکت میں قانون ملکی کی حیثیت سےنافذ و جار رکھا تو پھر یہ بلا شک وشبہ سنت ہےاس کےسنت ہونے سے کون انکار کر سکتا ہے؟ کیا مولانا عثمانی صاحب اس استدلال سے متفق ہیں؟

امیر معاویہ کے فیصلے پر قضیہ محدثہ کا اطلاق

عثمانی صاحب نے پھر مجھ سےمطالبہ کیا ہے کہ میں اس کی کوئی مثال پیش کروں کہ کسی نےامیر معاویہ کے اس فعل کو بدعت قرار دیا ہو اور مدیر البلاغ فرماتے ہیں کہ چودہ سو سال کے عرصےمیں کوئی ایک فقیہ ہماری نظر سے نہیں گزرا جس نےاسےبدعت قرار دیا ہو۔ میں اپنی آیندہ بحث میں متعدد قدیم وجدید اہل علم کےاقوال نقل کروں گا جنہوں نےامیر معاویه کےمختلف اعمال کےلیےبدعت کا لفظ استعمال کیا ہےیہاں سر دست میں احناف کےمشہور محدث و فقیه ابوبکر الجصاص کی کتاب احکام القرآن کےایک مفصل قول کا حوالہ دیتا ہوں جس میں حضرت مسروق تابعی نےحضرت معاویہ کے اس فیصلہ تو ریٹ پر بڑے سخت انداز میں تنقید کی ہے اور قاضی شریح نے اور خود الجصاص نے بھی اس تنقید کی تائید کی ہے۔ اگر میں ان کی پوری عبارت کو تر جمعے کے ساتھ نقل کروں تب تو یہ بہت موجب طوالت ہو گا، اس لیے میں یہاں اس کا صرف اردو ترجمہ دیتا ہوں، یہ بحث باب من تحرم المیراث مع وجود النسب میں ہے:

" ابن شہاب زہری، داؤد سے اور وہ مسروق سے راوی ہیں کہ مسروق نے فرمایا کہ اسلام میں اس سے زیادہ عجیب اور نرالا فیصلہ نہیں کیا گیا جیسا کہ امیر معاویہ نے کیا ( ما احدث في الاسلام قضية قصاها معاوية ) که آپ مسلمان کو یہودی اور نصرانی کا وارث قرار دیتے تھے اور یہودی و نصرانی کو مسلمان کا وارث نہیں بناتے تھے۔ اہل شام نے اس کے مطابق فیصلے کیے۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفه ہوئےتو آپ نے پہلے طریقے کو دوبارہ لوٹا دیا۔ اور شعمی سے روایت ہے کہ امیر معاویہ نے زیاد کو تحریر کیا کہ وہ مسلمان کو کافر کا وارث بنائے۔ زیاد نےقاضی شریح کو بلا کر ایسا کرنے کا حکم دیا۔ شریح اس سے پہلے مسلمان کو کافر کا وارث نہیں بناتے تھے۔ جب زیادہ نے ایسا حکم دے دیا تو انہوں نےاس کے مطابق فیصلہ کیا مگر جب وہ ایسا فیصلہ کرتے تو فرماتے تھے کہ یہ امیر المومنین کا فیصلہ ہے حالانکہ زہری علی بن حسین سے،وہ عمر بن عثمان سے اور وہ حضرت اسامہ بن زید سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو مختلف ملتوں کےافراد ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے اور دوسری روایت میں ہے کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ کا فرمسلمان کا۔اور عمرو بن شعیب، اپنےوالد سے اور وہ دادا سےروایت کرتےہیں کہ دو مذاہب کے پیرووں میں باہمی توارث نہیں ہوسکتا۔ یہ روایات مسلمان کو کافر یا کافر کو مسلمان کا وارث قرار دینے سے منع کرتی ہیں۔ اس کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں ہے۔ پس اس طرح دو اہل مذہب کے مابین توارث ساقط ہونے کا حکم ثابت ہو گیا۔جہاں تک حضرت معاد والی روایت کا تعلق ہے وہ امیر معاویہ کے اس قول کی تائید نہیں کرتی۔ انہوں نے الايــمـان يزيد ولا ينقص کی صرف ایک تاویل کی ہے اور تاویل نص اور توقیف وحی پر قاضی نہیں سکتی۔ تاویل کو امر منصوص کی طرف لوٹایا جائے گا اور نص کی مخالفت پر نہیں بلکہ اس کی موافقت پر محمول کیا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ایمان بڑھتا ہے، گھٹتا نہیں، اس مراد پر مشتمل ہوگاکہ جو اسلام لےآیا اسےاسلام پر رہنےدیا جائےگا اور جو اسلام سےخارج ہو گا اسےواپس لانےکی کوشش کی جائےگی۔اگر حضرت معاذ کی تاویل اور اس احتمال کو لیا جائےتو اسےحضرت اسامہ کی اس حدیث کے موافق کرنا واجب ہو جاتا ہے جس میں کافر و مسلم کے مابین توارث ممنوع ہے کیونکہ تاویل واحتمال کے بل پر نص کو رد کرنا جائز نہیں ، اور احتمال کے ذریعے سے کوئی حجت قائم نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ ایک مشکوک چیز ہے اور اثبات حکم کے معاملے میں خود دلالت کی محتاج ہے۔ پس اس سے احتجاج واستدلال ساقط ہو گیا۔

اور مسروق کا جو یہ قول ہے کہ اسلام میں اس سے زیادہ انوکھا فیصلہ نہیں ہوا جو امیر معاویہ نےتوریت مسلم من الکافر کے مسئلے میں کیا ہے، یہ قول اس فیصلے کے باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ انہوں نےیہ بیان کیا ہےکہ یہ فیصلہ احداث فی الاسلام ہے اور ان کےاس قول سے یہ لازم آتا ہے کہ حضرت معاویہ کے اس فیصلے سے پہلےمسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا تھا اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ امیر معاویہ کے فیصلے سے پہلےمسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا تھا تو ان کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ وہ اپنےپیش روؤں کی مخالفت کریں۔ بلکہ ان کے سامنے حضرت معاویہؓ کا قول ساقط ہے اور اس کی تائید داؤد بن ابی ہند کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ عمر بن عبد العزیز نے لوگوں میں امیر اول کو لوٹا دیا ۔"

(احکام القرآن، ابو بکر احمد بن علی الجصاص، جلد ۲ ص ۱۲۳ المطبعة المبيه ، مصر ، ۱۳۴۷ھ)

ممکن ہے کہ یہاں مدیر البلاغ پھر یہی فرمائیں کہ یہاں بدعت کا لفظ نہیں آیا، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ

كُلّ مُحدثة بدعة.

"ہر امر محدث بدعت ہے۔“

نیز آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

شر الأمور محدثاتها .

” سب سے برے امور محدثات ہیں۔"

حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من أحدث فی أمرنا ما ليس منه فهو رد.

"جس نے امر دین میں نئی بات نکالی جو اس میں نہیں، وہ بات مردود ہے۔“

ابن قدامہ کا قول

آخر میں میرے"ایک اور مغالطےاور بوالجھی“ کی نشان دہی کی گئی ہے۔وہ یہ ہے کہ میں نےالمغنی جلد ۷ ص ١٦٦ کےحوالےسےلکھا تھا کہ ابن قدامه پہلےیہ بیان کرتےہیں کہ محمد بن حنفیه علی بن حسین سعید بن المسیب مسروق، عبد اللہ بن معقل شعی، ابراہیم تھی، بیٹی بن یعمر اور اسحاق کےمتعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نےمسلم کو کافر کا وارث قرار دیااس کےبعد ابن قدامه فرماتےہیں کہ اس کی نسبت ان کی جانب قابل اعتماد نہیں ہےمولا نا عثمانی صاحب فرماتےہیں اسسےپہلےابن قدامه نےیہ بھی لکھا ہےکہ حضرت عمر، حضرت معاذ اور حضرت معاویہ سےیہ قول مروی ہےکہ انہوں نےمسلمان کو کافر کا وارث بنایا۔ اب اگر دوسرے حضرات کی جانب اس قول کی نسبت مشکوک ہے تو ان تینوں اصحاب کی جانب بھی غیر موثوق ہونی چاہیے کیونکہ ابن قدامه نے سب کےبارے میں یہ کہا ہے کہ لیس بموثوق به منهم عثمانی صاحب کے نزدیک میں نے یہ مغالطہ اس لیے پیدا کیا ہے کہ مولانا مودودی نے جو امیر معاویہ کو بدعت کا مرتکب بتایا ہے، اس کی تصدیق کی راہ ہموار ہو سکے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ مولانا مودودی نے یہاں بدعت کا لفظ ”غیر مسنون و غیر مشروع “ کے معنوں میں استعمال کیا ہے اور ان معنوں میں اس فعل کے بدعت ہونے ، نہ ہونے یا اس کی نسبت کے موثق و غیر موفق ہونے کا انحصار صرف المغنی کی اس عبارت پر نہ تھا کہ میں یہاں مغالطہ انگیزی ضروری سمجھتا۔اصل حقیقت یہ ہے کہ پہلے ابن قدامہ نے ایک جملہ الگ رُو سےشروع کیا ہے، پھر انہوں نے حُکسی سے دوسرا جملہ شروع کیا ہے جس کے ساتھ متصلاً وليس بموثوق به عنہم لکھا ہے ۔ اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ولیس کا عطف حُکی پر ہے کیونکہ یہی جملہ قریب تر ہے، اس طرح عنہم کا مرجع بھی اسی قریب کے جملے میں ہے اور وليس بموثوق به عنهم کا تعلق دوسرے ہی جملے سے ہے۔ تاہم مجھے اپنی بات پر اصرار نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس جملے کا ربط دونوں پہلے جملوں سے ہو اور ابن قدامہ کی مراد یہی ہو کہ ان سارے حضرات کی جانب اس مسلک کی نسبت مشکوک ہے۔ اگر فی الواقع اس معنی میں یہ بات صحیح ہوتی تو میرے لیے اس سے زیادہ خوشی کی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن افسوس ہے کہ حضرت معاویہ کےمتعلق یہ قول اس کثرت سے حدیث، آثار تاریخ اور فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ محض ابن قدامہ کے ایک ذومعنی فقرے کے بل پر ان ساری کتابوں میں مروی اقوال کی تکذیب نہیں ہو سکتی۔ جہاں تک حضرت معاذ کا تعلق ہے میں پھر یہی کہوں گا کہ یہ ان کا ذاتی نظریه ہوگا اور ممکن ہے انہوں نےکسی موقعہ پر اس کے مطابق عمل کیا ہو، لیکن امیر معاویہ نے امیر المومنین کی حیثیت سے جس طرح اس کا نفاذ واجرا کیا اور بنو امیہ کے دور میں جس طرح یہ رائج رہا، وہ اس واقعہ کی صحت کو شک و شبه سےبالا تر بنا دیتا ہےاور اس میں اعتراض کا پہلو بھی پیدا کر دیتا ہےمدیر "البلاغ “ نے یہ بھی کہا ہےکه این قدامہ نےدلیل میں امام احمد کا قول نقل کیا ہےکہ لوگوں کےدرمیان اس معاملےمیں کوئی اختلاف نہیں جس سےواضح ہےکہ توریث والے اس قول کی نسبت کسی کی طرف بھی درست نہیں"۔مگر یہاں خود مدیر موصوف کو غلط فہمی ہوئی ہے۔صاحب المغنی نےامام احمد کا جو قول نقل کیا ہے اس کا مدعا یہ ہے کہ مسلمان کو کافر کا وارث بنانے والا نظریه و عمل اب امت میں متروک و مطرود ہو چکا ہےاور کوئی عالم وفقیہ اب اس کا قائل و عامل نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اس بحث کا عنوان یہ ہے: ولا يرث مسلم كافرا ولا كافر مسلماً۔


١- ان دونوں جملوں کو مطبوعه کتاب میں وقف تامن کے ذریعے سے ایک دوسرے سےبالکل علیحدہ بھی کر دیا گیا ہے۔

چند مزید اقوال

جہاں تک امیر معاویہؓ کے اس فیصلے اور فرمان کا تعلق ہے کہ ”مسلمان کو کافر کا وارث بنایا جائے سب نے امیر معاویہ سےاس کا صادر ہو نا تسلیم کیا ہے۔مثال کے طور پر امام ابن حزم نےبھی بھلی ، جلد ۹، ص۳۰۴ پر مسئلہ نمبر ۱۷۴۴ کے تحت پہلے عنوان یہی قائم کیا ہے کہ: لایرت المسلم الكافر ولا الكافر المسلم المرتد، پھر معاذ بن جبل اور بعض دوسرے حضرات کی طرف یہ مسلک منسوب کیا ہے کہ ان کے نزدیک مسلمان کافر کا وارث ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد خاص طور پر امیر معاویہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ:

هو عن معاوية ثابت.

" یہ مسلک امیر معاویہ سے ثابت ہے۔“

ابن حزم کی فقہی آراء سے کسی کو اختلاف ہوتو ہو مگر حدیث و آثار میں ان کی تحقیق مسلّم ہےان کا دوبارہ خاص طور پر یہ کہنا کہ ھو ثابت عن معاویۃ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس فیصلےکی نسبت امیر معاویہ کی طرف قطعی طور پر غیر مشتبہ ہے۔داؤد ابن ابی ہند اور مسروق کےاس مضمون کےاقوال جو او پر امام ابوبکر جصاص کی بحث میں بھی گزر چکے ہیں، وہ ابن حزم نے بھی نقل کیےہیں۔ اس کے بعد وہ امام احمد کا وہی قول نقل کرتے ہیں جو ابن قدامہ نے درج کیا ہے اور آخر میں ابن حزم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مزید حدیث حضرت جابر سے نقل کی ہے کہ:

لا يرث المسلم النصراني.

" مسلمان کسی عیسائی کا وارث نہیں ہو سکتا۔“

الجصاص اور ابن حزم کے بعد اب میں بلاعلی قاری کی مرقاۃ شرح مشکوۃ کا ایک حوالہ پیش کرتا ہوں۔ ابواب الفرائض میں حدیث وعن أسامة بن زيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم (متفق علیہ) کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جو حضرات مسلمان کی کافر سے تو ریث کے قائل ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے استدلال کرتے ہیں کہ الاسلام يعلو ولا يُعلیٰ۔ اس کے بعد فرماتے ہیں:

وحجة الجمهور هذا الحديث الصحيح والمراد من حديث الاسلام فضل الاسلام على غيره وليس فيه تعرض للميراث فلا يترك النص الصريح.

" مسلک جمہور کےحق میں وہی حدیث صحیح حجت ہے( کہ نہ مسلمان کافر کا وارث ہے، نہ کا فر مسلمان کا ) اور حدیث الاسلام يعلو ولا يُعلی سے مراد اسلام کی غیر اسلام پر فضیلت ہے۔ اس دوسری حدیث کا میراث سے کوئی تعلق نہیں۔ پس نص صریح کا ترک جائز نہیں۔“

میں پہلے فتح الباری سے ابن حجر کا قول نقل کر چکا ہوں جواسی مفہوم کا حامل ہے اور جس میں مسلمان کو کافر کا وارث بنانےکو معارضتہ النص سےتعبیر کیا گیا ہے،اور اس کے حق میں پیش کی جانےوالی روایت کےبارے میں فرمایا ہے : بل هو محمول انه يفضل غيره من الاديان ولا تعلق له بالارث ( اس حدیث کا وراثت کے مسئلے سے کوئی علاقہ نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہےکہ اسلام دوسرے ادیان پر فضیلت رکھتا ہے )۔ یہ بات بھی میں پہلے لکھ چکا کہ یہاں سوال حضرت امیر معاویہ یا کسی دوسرے صحابی یا تابعی کی ذات کا نہیں اور اس امر کا بھی نہیں کہ توریت مسلم من الکافر کے قائل یا فاعل کون بزرگ ہیں اور ان کی تعداد کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ نص صریح کا ترک اور اس کی مخالفت و معارضت ہےجیسا کہ حافظ ابن حجر اور محدث علی القاری نے فرمایا۔ نص صریح سے مراد نص قرآنی بھی ہے اور نص حدیث وسنت بھی ہے۔اس کے بعد جس کا جی چاہے اسے اجتہاد یا دوسری سنت کہہ کر اس کی تائید میں زور لگا تار ہے۔ جیسا کہ مدیر البلاغ‘ نے فرمایا ہے، ظاہر ہےکہ نظریات کے معاملے میں جبر نہیں کیا جاسکتا۔

دلچسپ اعتراض

سنن ابی داؤد میں حضرت معادؓ سے جو روایت الاسلام یزید ولا ینقص مروی ہے، اس کےمتعلق میں نے لکھا تھا کہ وراثت سے غیر متعلق ہونے کےعلاوہ اس کی سند میں بھی انقطاع ہے اور اس کا ایک راوی مجہول ہے،اس لیے یہ صریح نصوص کتاب وسنت کے بالمقابل نا قابل قبول ہے۔اس کے جواب میں عثمانی صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ اول تو خود ابوداؤ دہی میں اس کے متصل روایت بغیر مجہول راوی کے آئی ہے، دوسرے ملک صاحب کی توجہ اس طرف نہیں گئی کہ یہ سند کی تحقیق و تفتیش ہم لوگوں کے لیے تو دلیل ہے لیکن جن صحابہ نے کوئی ارشاد براہ راست آنحضور سے سنا ہوان کے لیے یہ بات حدیث کو رد کرنے کی وجہ کیسے ہو سکتی ہے کہ بعد کے راویوں میں کوئی مجہول شخص آ گیا ہے۔ تعجب ہے کہ مولانا عثمانی نے یہ دونوں غلط اور واہی باتیں ادنیٰ غور وتامل کے بغیر کیسے لکھ دیں۔ سنن ابوداؤد کی ایک حدیث مذکور کی سند کو میں پہلے نقل کر چکا جس میں حضرت معاد سے پہلے راوی کا ذکر رجلا کے لفظ سے کیا گیا ہے، یعنی ایک نامعلوم الاسم شخص سے حضرت معادؓ کی روایت منقول ہے۔اس کےبالکل ساتھ جس دوسری حدیث کا حوالہ عثمانی صاحب نے دیا ہےاس حدیث میں ابوالاسود اور حضرت معاذ کے درمیان رجلا (ایک شخص ) کے ذکر کو حذف کردیا گیا ہے اور دونوں کے بیچ میں کسی دوسرے راوی کا نام بھی نہیں لیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح منقطع سند متصل نہیں ہو جاتی بلکہ اس کا انقطاع علی حالہ باقی رہتا ہے اور کوئی صاحب عقل اس روایت کو متصل السند نہیں کہ سکتا۔ دوسری بات جو کہی گئی ہے کہ صحابہ نے جوارشاد براہ راست آپ سے سنا ہو،اسےوہ بعد کے راویوں کی جہالت کی بنا پر کیسےرد کر سکتے ہیں، یہ اور بھی لا جواب ہے! سوال یہ ہے کہ کیا یہاں حضرت معاذ یا کوئی دوسرے صحابی تشریف فرما ہیں اور وہ قول رسول رڈ کر رہے ہیں جسے انہوں نے آنحضور سے سنا ہے؟ یہاں تو ساری بحث اس امر میں ہے کہ آپ کی جو روایت ہم تک محدثین اور رادیانِ حدیث کے ذریعے سے پہنچی ہے، اس کی سند متصل ہے یا بیچ میں کوئی راوی گمنام ہے اور ایسی روایت دوسری مرفوع و متصل اور قطعی الدلالت احادیث کے مقابلے میں قابل اخذ ہے یا نہیں؟

کتاب خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Caliphate , monarchy