خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ

باب دوازدہم

باب دوازدہم

کیا صحابہ کرام معیار حق ہیں؟

کیا صحابہ کرام معیار حق ہیں؟

[ البلاغ کی تنقید کا جواب دینے کے علاوہ میں وقتا فوقتا بعض دوسرے اعتراضات کا جواب بھی دیتا رہا ہوں جو جماعت اسلامی اور مولانا مودودی پر عائد کیےجاتےہیں اور جن کا مدعا یہی ہوتا ہےکہ ہم صحابہ کرام پر تنقید کرتے ہیں اور ان کے افعال و اقوال کو حجت نہیں سمجھتے۔میری یہ جوابات ترجمان میں شائع ہوئے ہیں اور میں نے مناسب سمجھا ہےکہ ان کا ضروری حصہ اپنی اس کتاب میں بھی شامل کر دوں۔چنانچہ اس سلسلے کا ایک مضمون اور بعض سوالات و جوابات اس باب میں دیےجار ہےہیں۔سب سےآخر میں مولانا مودودی کا ایک جواب بھی میں نے ربیع الثانی ۱۳۸۸ھ ترجمان القرآن سے نقل کر دیا ہے کیونکہ یہ اس موضوع پر ایک مختصر مگر جامع جواب ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو افراط و تفریط سے بچائے اور حق کا طرفدار اور متبع بنائے ، آمین ! ]

(١)

جماعت اسلامی کےخلاف جو بےسروپا اور خلاف واقعہ الزامات عائد کیےجاتے ہیں،ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ جماعت صحابہ کرام کو معیار حق نہیں مانتی اور ان پر تنقید کو جائز رکھتی ہے۔حالانکہ مسلمانوں کو صحابہ کرام کی عیب چینی سےمنع فرمایا گیا ہےاور قرآن وحدیث صحابہ کےفضائل و مناقب سےلبریز ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں، جس کی بھی تم پیروی کرو گے راہ پاؤ گے۔“

جماعت اسلامی سے وابستگی رکھنے والا ہر شخص اگر چہ اللہ کےفضل و کرم سےایک بچےمسلمان کی طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس انسانی گروہ کےلیےسب سے زیادہ محبت تعظیم کے جذبات اپنے دل میں رکھتا ہے، وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کی جماعت ہے اور وہ اپنی حد تک اس غلط الزام سےاپنے آپ کو بری الزمہ سمجھتا ہے،تایم لمسلیمین کو بدگمانی سے بچانے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اصل حقیقت کو واضح کیا جائےاور بتایا جائےکہ جماعت اسلامی کا موقف اس مسئلےمیں کیا ہےاور آیا وہ کتاب و سنت اور ائمہ سلف کے مسلمہ مسلک کے مطابق ہےیا اس کے مخالف۔ اس وضاحت سے امید ہے کہ جماعت کے افراد کو بھی اطمینانِ قلب حاصل ہوگا اور معترضین کا بھی اگر منہ بند نہ ہو گا تو کم از کم عام مسلمانوں کے غلط فہمی میں مبتلا ہونے کا امکان باقی نہ رہے گا۔ اسی غرض کو سامنےرکھ کر یہاں چند ضروری تصریحات پیش کی جارہی ہیں۔

دستور جماعت کی اصل عبارت

جماعت اسلامی کےخلاف مندرجہ بالا الزام کی بنیاد جماعت کےدستور کی ایک عبادت پر رکھی جاتی ہےجس کے پورے الفاظ بھی معترضین نقل نہیں کرتےبلکہ ایک دو فقروں کو سیاق عبارت سےالگ کرکےپیش کرتےہیں۔اس لیےمناسب معلوم ہوتا ہےکہ مزید بحث سےقبل دستورِ جماعت اسلامی کی وہ پوری عبارت یہاں نقل کردی جائے جس کو بنیاد بنا کر یہ اعتراض بار بار اٹھایا جاتا ہے۔ دستور جماعت کی دفعہ نمبرس کی متعلقه شق نمبر ٦ درج ذیل ہے

" رسول خدا کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے، کسی کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھے کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو۔ ہر ایک کو خدا کے بنائے ہوئے اسی معیار کامل پر جانچے اور پر کھے اور جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجہ میں ہو اس کو اسی درجہ میں رکھے۔“

بس یہی وہ عبارت ہے جس سے وہ سارا الزام برآمد کیا گیا ہے حالانکہ اس میں یہ بات سرےسے مذکور ہی نہیں ہے کہ صحابہ کرام کی جماعت پر تنقید ہوسکتی ہےیا نہیں، بلکہ اس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ اصل معیار حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس کےاندر سےمعنی آفرینی اور حاشیه آرائی کرکےیہ بات معترضین نے خود نکالی ہے کہ نبی کے سوا کسی کو تنقید سےبالا تر نہ سمجھنےسے صحابہ پر تنقید کا جواز لازم آتا ہے لہذا جماعت اسلامی اس کی قائل ہےپھر تنقید کو تنقیص اور عیب چینی کا ہم معنی بھی خود معترضین ہی نے بنایا ہے تا کہ ہم پر یہ الزام چسپاں کیا جاسکے کہ ہم صحابہ کی عیب چینی کو جائز سمجھتے ہیں اور اس کا ارتکاب بھی کرتے ہیں۔ اس کے بعد معترضین کا مزید کر تب یہ ہے کہ وہ اس عبارت کا یہ فقرہ صاف نظر انداز کر جاتے ہیں کہ جو اس معیار کےلحاظ سےجس درجےمیں ہو اس کو اسی درجے میں رکھے۔ چونکہ یہ فقرہ ان کےاعتراضات کی پوری بنیاد ہی کو منہدم کر دیتا ہے۔ اس لیے وہ سرے سے اس کا کوئی ذکر ہی نہیں کرتے۔اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان حضرات پر الزام تراشی کا شوق کس قدر غالب ہے اور ان کے لیے دوسروں کے دین وایمان میں کیڑے ڈالنا کس طرح ایک محبوب مشغلہ بن گیا ہے۔

امیر جماعت کی تشریحات

اس پر مزید ستم یہ ہے کہ ان لوگوں کی اس الزام تراشی کےجواب میں مذکوره بالا عبارت کی جو تشریح بارہا کی گئی ہے،اس سےانہوں نےہمیشہ آنکھیں بند رکھی ہیں اور اپنےاصل اعتراض ہی کو بار بارڈ ہراتےاور پھیلاتےچلے گئے ہیں۔مثال کےطور پردیکھیےدستورکی اس شق اور بالخصوص اسکےالفاظ معیار حق اور تنقید کی تشریح جماعت اسلامی پاکستان کےموجود امیر مولانا ابوالاعلی مودودی نےبعض سوالات کا جواب دیتےہوئےیوں کی ہے۔

”ہمارے نزدیک معیار حق سےمراد وہ چیز ہے جس سے مطابقت رکھنا حق ہو اور جس کےخلاف ہونا باطل ہو۔ اس لحاظ سےمعیار حق صرف خدا کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ رستم کی سنت ہے۔ صحابہ کرام معیار حق نہیں ہیں بلکہ کتاب وسنت کے معیار پر پورے اترتےہیں ۔ کتاب وسنت کے معیار پر جانچ کر ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ برحق ہے۔ ان کے اجماع کو ہم اسی بنا پر حجت مانتے ہیں کہ ان کا کتاب وسنت کی ادنی سی خلاف ورزی پر بھی متفق ہو جانا ہمارے نزدیک ممکن نہیں ہے۔“

( ترجمان القرآن، رسائل و مسائل جلد ۵۶، عدد۵ )

پھر ایک دوسرے مقام پر وہ لکھتے ہیں :

"تنقید کےمعنی عیب چینی ایک جاہل آدمی تو سمجھ سکتا ہےمگر کسی صاحب علم آدمی سےیہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس لفظ کا یہ مفہوم سمجھےگا۔ تنقید کےمعنی جانچنے اور پر کھنے کےہیں اور خود دستور کی مذکورہ بالا عبارت میں اس معنی کی تصریح بھی کر دی گئی ہے۔ اس کے بعد عیب چینی مراد لینے کی گنجائش صرف ایک فتنہ پرداز آدمی ہی اس لفظ سے نکال سکتا ہے۔ مزید برآں اس فقرے میں یہ تصریح بھی کر دی گئی ہے کہ رسول خدا کو معیار قرار دینےکےبعد جس کا جو مرتبہ بھی اس لحاظ سے قرار پائے گا، اسے اسی درجہ میں رکھا جائے گا۔ اس سے یہ مطلب آخر کیسے نکل آیا کہ صحابہ کرام کے جو محامد و فضائل کتاب اللہ اور احادیث نبویہ میں مذکور ہیں ، وہ واجب التسلیم نہیں ہیں۔“

(رسالہ " کیا جماعت اسلامی حق پر ہے؟)

جماعت اسلامی کے دستور کی مندرجہ بالا عبارت اور اس کی پیش کردہ وضاحت سلیس اور عام فہم ہے اور ہر پڑھا لکھا آدمی اس کو پڑھ کر بآسانی یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ آیا اس سےصحابہ کرام کی تنقیص و توہین کا پہلو نکلتا ہے یا اس سے ان کی تعظیم و توقیر ثابت ہوتی ہے۔ اس عبارت میں اگر لفظ تنقید استعمال ہوا ہے تو اسے خواہ مخواہ ہو ابنا لینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔اس کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم فقط یہ ہے کہ کسی شے کی حقیقت و ماہیت کو جانچا جائے۔ اگر وہ شے فی الاصل زر خالص اور کامل المعیار ہے تو معیار پر کسے جانے کے بعد اس کی جو ہر حسن و کمال اور زیادہ نکھر جائے گا۔

قرآن کا فیصلہ

کتاب وسنت کےبموجب صحابہ کرام کےمن حیث الجماعت واجب الاحترام ہونےاور اجماع صحابه کےتجت شرعی تسلیم کیےجانےکےبعد اس ضمن میں ایک مسئلہ بحث طلب رہ جاتا ہے۔وہ مسئلہ یہ ہے کہ ایک ایک صحابی کے منفر د قول و فعل یا چند صحابہ کےمختلف اقوال کا شمار ادلہ شرعیہ میں ہو سکتا ہےیا نہیں اور کتاب وسنت کی کسوٹی پر جانچے بغیر بلا تنقید اور بے چون و چرا محض قول و فعل صحابی ہونے کی بنا پر انہیں واجب التقلید سمجھا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس معاملے میں جب ہم سب سے پہلے کتاب اللہ کی جانب رجوع کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کسی مقام پر بھی صحابہ کرام کے انفرادی افعال و اعمال کو ہمارے لیے مستقل اسوہ اوز مرجع قرار نہیں دیا گیا بلکہ تمام مسلمانوں کے ساتھ خود صحابہ کرام کو بھی یہ تعلیم فرمائی گئی ہے کہ جب کسی معاملےمیں تمہارےدرمیان تنازع اور اختلاف پیدا ہو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی جانب لوٹاؤ۔ فَإِنْ تَنَزَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدَّوْهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ-اس ارشادِر بانی کےاولین مخاطب خود صحابہ کرام ہی ہیں۔اور اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ ہی یہ فیصلہ فرما دیا ہےکہ ایک ایک صحابی بجائےخود معیار حق نہیں ہےبلکہ اختلاف کی صورت میں صحابہ کے لیے بھی مرجع کتاب وسنت ہی ہے۔

حدیث کا فیصلہ

قرآن مجید کےبعد جب ہم حدیث رسول سےرجوع کرتےہیں صحابہ کرام کےانفرادی اقوال و افعال کے واجب الاتباع ہونےپر کوئی دلیل نہیں ملتی۔اس میں شک نہیں کہ بعض احادیث میں وارد ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرےبعد ابوبکر اور عمر(رضی اللہ عنہا)کی اقتدا کرو لیکن اس سےمراد انکی ذاتی حیثیت میں مطلقاً پیروی نہیں ہےبلکہ اس سےمراد خلیفہ راشد ہونے کی حیثیت سے ان کی سنت کی پیروی ہے جسے اجماع صحابہ کی تائید و توثیق حاصل ہوتی ہےاگر یہ بات نہ ہوتی تو یہ دونوں بزرگ دوسرےصحابہ کو اپنی آراء پر بحث و کلام کی دعوت،اور اپنےخیالات سےاختلاف کی اجازت نہ دیتے،اور خود صحابہ بھی ان سےاختلاف کی جرات نہ کرتے۔

حدیث اصحابی کالنجوم کی تحقیق

اقتدائے شیخین سےمتعلق ان احادیث کے علاوہ صرف ایک روایت ایسی پائی جاتی ہےجس سےبظاہر صحابہ کرام کے منفرد اقوال کی حجیت کے حق میں استدلال ہوسکتا ہے۔ یہ روایت بالعموم اس طرح بیان کی جاتی ہے:

اصحابي كالنجوم بايهم اقتديتم اهتديتم.

”میرے اصحاب ستاروں کے مانند ہیں ۔ ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے راستہ پاؤ گے۔“

اگرچہ اصول فقہ کی کتابوں میں اس روایت کا جابجاذ کر کیا جاتا ہے لیکن میرے علم میں کوئی ایک اصولی یا فقیہ بھی ایسا نہیں ہے جس نے اس روایت سے صحابی کے قول و عمل کو مطلقا تجبت ثابت کرنے کی کوشش کی ہو۔ علمائے اصول اس روایت کی کچھ دوسری تاویلات کرتے ہیں جن کے ذکر کا یہاں موقع اور حل نہیں ہے۔

اس روایت اور اس سے ملتےجلتےالفاظ پر مشتمل بعض دیگر روایات جو صحابہ اور اہلِ بیت کےحق میں مروی ہیں۔ ان کے متعلق جو اولین اور ضروری بات قابلِ ذکر ہے وہ یہ ہے کہ محد ثین اور فن رجال کے ماہرین کے نزدیک ان سب کی سند نہایت کمزور ہے،اس لیےعقائد واحکام کی بحث میں ان سےاستدلال جائز نہیں ہے،بلکہ فضائل و مناقب کے سلسلے میں بھی ان کے ضعف کی صراحت کیے بغیر ان کا بیان کرنا صحیح نہیں ہے۔ صحاح ستہ یا حدیث کی کسی دوسری مستند کتاب میں ان کی تخریج نہیں کی گئی۔حافظ ابن عبدالبر نےجامع بیان اعلم میں روایت مذکورہ بالا کی سند کو نقل کر کے لکھا ہے:

هذا إسناد لا تقوم به حجة.

" یہ ایسی سند ہے جس کے بل پر کوئی محبت قائم نہیں ہوتی ۔“

ابن حزم نے الاحکام میں اس کے راویوں پر جرح کرنے کے بعد لکھا ہے:

هذا رواية ساقطة . خبر مكذوب موضوع باطل لم يصع قطه.

"یہ پایۂ اعتبار سے گری ہوئی روایت ہے۔ ایک جھوٹی اور موضوع اور باطل خبر ہے جو صحیح ثابت نہیں ہوتی ۔“

حافظ ابن حجر نے تخریج کشاف میں اس روایت اور دیگر متقارب الالفاظ روایات کی ساری سندوں کا ذکر کر کے انہیں ضعیف اور واہی قرار دیا ہے۔ امام شوکانی نے ارشاد الفحول ص ۸۳ میں اجماع پر بحث کرتے ہوئے یہ حدیث نقل کی ہے اور پھر لکھا ہے:

فيه مقال معروف.

" اس کی سند میں کلام ہے جو معروف ہے“

اور تصریح کی ہے کہ اس کا ایک راوی نہایت ضعیف اور دوسرا ابن معین کے نزدیک کذاب ہے اور امام بخاری کے نزدیک متروک ہے۔ ایک دوسرے طریقے کے راوی کو ابو حاتم نے ضعیف جدا اور بخاری نے منکر الحدیث کہا ہے ( امام بخاری کے جرح کے یہ الفاظ انتہائی سخت ہیں ) ۔ ابن معین نے اس کے متعلق کہا ہے

لا يساوي فلسا .

" یہ راوی ایک کوڑی کا بھی نہیں"-

ابن عدی نے اس راوی کی روایات کو موضوع قرار دیا ہے۔حافظ ابن قیم نے اعلام الموقعين ،جلد ثانی، القول فی الا تقلید میں اس روایات کو غیر صحیح ثابت کیا ہے۔

قولِ صحابی کے متعلق ائمہ سلف کا مسلک

بہر کیف قول صحابی کےحجت ہونےپر کتاب وسنت میں کوئی نص موجود نہیں ہےاور یہی وجہ ہےکہ امت کا اس مسئلے میں تقریباً اتفاق ہے کہ اگر کسی معاملے میں صرف ایک یا چند صحابہ کا عمل یا قول ہی ماثور ہو تو اس کا شمار اولہ شرعیہ میں نہیں ہو سکتا، چاہے اس کے خلاف کوئی دوسرا قول صحابی موجود نہ ہو۔ اسے کتاب وسنت کی کسوٹی پر جانچنا ناگزیر ہو گا ، اسی طرح جن مسائل میں صحابہ کرام کے مابین اختلاف رونما ہوا ہے،وہاں بھی لامحالہ چھالا،بین اور تحقیق و ترجیح کی ضرورت لاحق ہوگی اور جو قول کتاب وسنت کےاصل معیار کےجتنا زیادہ مطابق ہوگا،اتنا ہی زیادہ وہ قابل اخذ و ترجیح ہو گا اور اس کےبالمقابل دوسرا قول قابل ترک ہو گا۔اسی تحقیق و تفتیش اور جانچ پڑتال کا دوسرا نام تنقید ہے۔ اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرنے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ چند مستند ائمہ و فقہا کے اقوال و آرا کو یہاں نقل کر دیا جائے۔

حنفیہ کا مسلک

امام ابو حنیفہ کےدو اقوال مولانا مودودی نےخلافت و ملوکیت میں مستند حوالوں سےنقل کیےہیں۔ایک قول یہ ہےکہ ”جب مجھےکتاب و سنت میں کرزئی حکم نہیں ملتا تو میں اجماع صحابہ کی پیروی کرتا ہوں اور اختلاف کی صورت میں جس صحابی کا قول چاہتا ہوں قبول کرتا ہوں اور جس کا چاہتا ہوں چھوڑ دیتا ہوں دوسرا قول یہ ہے کہ " جب صحابہ میں اختلاف ہو تو قیاس کرتا ہوں۔“

مذہب حنفی کے نامور فقیہ شمس الائمہ امام سرخسی ، اپنی کتاب الاصول جلد اول میں اجماع صحابہ بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وإنما كان الإجماع حجة باعتبار ظهور وجه الصواب فيه بالاجتماع عليه وإنما يظهر هذا في قول الجماعة لافي قول الواحد الاترى ان قول لواحد لا يكون موجباً للعلم وان لم يكن بمقابلته جماعة يخالفونه.

" اور اجماع کا حجت ہونا اس وجہ سے ہے کہ ایک بات پر اتفاق ہو جانے کے باعث حق و صواب کا پہلو واضح ہو جاتا ہے۔ یہ بات قول واحد کے معاملے میں نہیں بلکہ قول جماعت ہی میں ظاہر ہوتی ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ قول واحد اس صورت میں بھی موجب علم نہیں ہوتا جب کہ کسی جماعت نے اس کی مخالفت نہ کی ہو۔“

اس سے معلوم ہوا کہ قول منفر د حجت نہیں ہے، خواہ اس سے مختلف یا اس کی مخالفت میں کوئی دوسرا قول موجود ہو یا نہ ہو۔ اسی جلد کے آخری دو صفحات میں امام مذکور نے یہ تصریح بھی کی ہے کہ صحابی اگر یوں کہے کہ

أمرنا بكذا او نهينا عن كذا اوالسنّة هكذا.

"ہمیں اس کا حکم دیا گیا یا اس سے منع کیا گیا ہے یا سنت یہی ہے ۔“

تب بھی صحابی کے ایسا فرمانے سے اس فعل کا امر رسول یا سنت رسول ہو نا لازم نہیں آتا، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس میں کسی خاص امیر کے حکم یا کسی خاص شہر یا علاقے کے عمل یا طریقے کا ذکر ہو۔

پھر امام سرخسی اسی کتاب کی جلد دوم ص ۵۰۱ پر ایک فصل کا عنوان قائم کرتے ہیں :

فصل في تقليد الصحابي اذا قال قولاً ولا يعرف له مخالف. اس باب میں بھی وہ صحابی کےایسےقول کی تقلید و عدم تقلید پربحث فرماتےہیں جس کے مخالف کوئی دوسرا قول صحابی معلوم و معروف نہیں ہے۔ اس عنوان کے تحت وہ لکھتے ہیں:

قد ظهر من الصحابة الفتوى بالرأي ظهور لايمكن انكاره والرائي قد يخطئ فكان فتوى الواحد منهم محتملاً متردداً بين الصواب والخطأ ولا يجوز ترك الرأى بمثله كما لا يترك بقول التابعي

" صحابہ سے رائے کی بنا پر بعض فتوے صادر ہوئے ہیں۔ یہ ایسی کھلی ہوئی بات ہے جس سےانکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور رائے کبھی غلط بھی ہوتی ہے۔ پس صحابہ کے انفرادی فتوی میں صواب و خطا دونوں کا احتمال ہے۔ اس طرح کے فتوے کے بالمقابل رائے کو ترک کرنا جائز نہیں۔“

آگے چل کر امام مرضی نے مسلک احناف کی جو تفصیل بیان کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قول صحابی کسی ایسے معاملےسےمتعلق ہو جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کا امکان ہو،وہاں صحابی کے فتوے کو اپنی رائے پر ترجیح دی جائے گی۔ مثال کے طور پر جس مسئلے میں قیاس کو دخل نہ ہو یا صحابی کا قول جس مسئلےمیں خلاف قیاس ہو،یعنی عام قیاس جس بات کا مقتضی ہو،صحابی کا قول اسکے مخالف ہو ، اس طرح کے مسئلے میں قول صحابی ہی کو مقدم سمجھا جائے گا اور قیاس کو ترک کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابی کے غیر قیاسی یا خلاف قیاس قول کے معاملےمیں زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ قول صاحب وحی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہو گا اور صحابی نے اپنے جی سے یہ بات نہیں کہی ہوگی۔ اس قول کا قبول کیا جانا مجتر دقول صحابی ہونے کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ اس بنا پر ہے کہ اس کے قول رسول ہونے کا قرینہ اور احتمال موجود ہے۔

اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ حنفیہ نے قول صحابی کے بارےمیں مدرک بالقیاس اور غیر مدرک بالقیاس، مطابق اور مخالف قیاس کی یہ جو تفریق قائم کی ہے، اور جس کی بنا پر ایک قسم کے قول صحابی کو اپنے اجتہاد پر ترجیح دی ہے اور دوسری قسم میں اجتہاد کو قول صحابی پر مقدم رکھا ہے، یہ تفریق و ترجیح بھی در حقیقت تنفید ہی کی ایک شکل ہے۔ پھر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ اوپر کی یہ ساری بحث صحابی کے اس قول و فعل سے متعلق ہے جس کے خلاف کسی دوسرے صحابی کا قول و فعل موجود نہ ہو۔ جہاں صحابہ کے قول ہی کو قول مختار قرار دینا پڑے گا، دوسرےلفظوں میں صاحب اجتہاد کو اس صورت میں بھی تقلید کے بجائے تنقید وترجیح کے مسلک ہی پر کار بند ہونا ہوگا۔

شافعیه کا مسلک

اس کے بعد اب مسلک شافعی کو لیجیے۔ امام غزالی المستصفی،جز ءاول ص ۱۳۵ میں باب الاصل الثانی بین الاصول الموہومہ۔ قول الصحابی کے تحت بحث کرتے ہوئے پہلے فرماتے ہیں کہ بعض کے نزدیک مذہب صحابی علی الاطلاق حجت ہے، بعض کے نزدیک غیر قیاسی مسائل میں حجت . ہے اور بعض کے نزدیک صرف حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کا قول حجت ہے۔ اس کے بعد کہتے ہیں:

والكل باطل عندنا. فان من يجوز عليه الغلط والسهو ولم تثبت عصمته فلا حجة في قوله. فكيف يحتج بقولهم مع جواز الخطأ وكيف تدعى عصمتهم من غير حجة متواترة وكيف يتصور عصمة قوم يجوز عليهم الاختلاف؟ وكيف يختلف المسمومان. كيف وقد اتفقت الصحابة على جواز مخالفة الصحابة فلم ينكر ابو بكر و عمر على من خالفهما بالاجتهاد على كل مجتهد ان يتبع اجتهاد نفسه ذا نفعاء الدليل على العصمة ووقوع الاختلاف بينهم و نفرحهم بجواز مخالفتهم فيه ثلاثة ادلة قاطعة.

" ہمارے نزدیک (مذہب صحابی کی حجیت کے حق میں ) یہ سارے اقوال باطل ہیں۔ جس انسان کو غلطی اور سہولا حق ہونا ممکن ہو اور جس کے لیے عصمت ثابت نہ ہو، اس کے قول میں کوئی حجت نہیں۔ پس صحابہ کےقول سےکیسےسند پکڑی جا سکتی ہےجبکہ ان سےخطا کا صدور جائز ہےکسی حجت متواترہ کےبغیر ان کی عصمت کا دعوی کیسے کیا جاسکتا ہے اور اس گروہ کو کیسے معصوم متصور کیا جا سکتا ہے جس میں اختلاف واقع ہو؟یہ سب کچھ کیسےممکن ہےجب کہ صحابہ نےخود صحابہ سےاختلاف کےجواز پر اتفاق کیا ہےاور حضرت ابوبکر و عمر نے اپنے خلاف اجتہاد کرنے والوں پر نکیر نہیں کی بلکہ مسائل اجتہاد میں ہر مجتہد پر اس کے اپنے اجتہاد کی پیروی لازم کی ہے۔ صحابہ کے معصوم ہونے پر کوئی دلیل نہ ہونا، اور ان کے درمیان اختلاف کا پایا جانا اور ان کا خود اس امر کی تصریح کرنا کہ ان سےاختلاف کیا جا سکتا ہے،یہ تین باتیں ایسی ہیں جو ہمارےمسلک کے حق میں دلیل قاطع ہیں۔

اس کے بعد امام غزالی نے امام شافعی کے دو قول نقل کیے ہیں۔ پہلے ان کا قول یہ تھا کہ اگر صحابی کا قول مشہور ہو جائے اور اس کے خلاف کوئی قول منقول نہ ہو تو صحابی کی تقلید جائز ہے ( واجب نہیں)۔ بعد میں اس قول سے رجوع کرتے ہوئے آخری اور جدید مسلک جس کےامام شافعی قائل ہوئے یہ ہے کہ:

لا يقلد العالم صحابياً ... لا يقلد عالماً آخر.

" عالم کسی صحابی کی تقلید نہ کرے، جس طرح وہ کسی دوسرے عالم کی تقلید نہ کرے"-

پھر مام غزالی فرماتے ہیں:

وهو الصحيح المختار عندنا أن كل مادل على تحريم التقليد العالم للعالم لا يفرق فيه بين الصحابي وغيره.

" یہی بات ہمارےنزدیک صحیح اور قابل اختیار وترجیح ہے کیونکہ ایک عالم کے لیے دوسرےعالم کی تقلید فی الجمله جن دلائل کی بنا پر حرام ہے، ان کے لحاظ سے صحابی اور غیر صحابی میں فرق نہیں کیا جاسکتا۔“

اس کے بعد امام غزالی ان اصحاب کے دلائل کا ذکر کرتے ہیں جو فضائل صحابہ پر مشتمل آیات واحادیث سے تقلید صحابہ کو جائز یا لازم سمجھتے ہیں اور اس کے جواب میں فرماتے ہیں:

قلنا هذا كله ثناء يوجب حسن الاعتقاد في عملهم و دينهم ومحلهم عند الله تعالى ولا يوجب تقليد هم لا جواز ولا وجوباً.

" ہم کہتے ہیں کہ یہ تمام ثنا ہے جس سے صحابہ کرام کے عمل ، دین اور اللہ کے ہاں ان کےمرتبے کے بارے میں حسن اعتقاد لازم آتا ہے۔ لیکن اس سے ان کی تقلید کا نہ جواز لازم آتا ہے نہ وجوب ۔"

پھر یہ جواب ان الفاظ پر ختم ہوتا ہے:

کل ذلك ثناء لا يجب الاقتداء اصلاً.

" یہ سب تعریف و منقبت ہے۔ اس سے اقتداء بالکل لازم نہیں ہوتی ۔“

علامہ سیف الدین آمدی کی رائے جسے انہوں نے الاحکام فی اصول الاحکام جزء ثالث مذہب الصحابی کے آغاز بحث میں بیان کیا ہے یہ ہے کہ غیر صحابی کے لیے قول صحابی کے حجت ہونےمیں اختلاف ہے۔ اشاعرہ معتزلہ، امام شافعی اور امام ابن حنبل کے ایک قول کے مطابق اور امام ابوالحسن حنفی کے نزدیک قول صحابی حجت نہیں ہے۔ بعض کے نزدیک مخالف قیاس قول حجت ہےاور بعض کے نزدیک قول ابی بکر و عمر حجت ہے۔ پھر فرماتے ہیں۔

والمختار أنه ليس بحجة مطلقاً.

" قول مختار یہ ہے کہ قول صحابی ہرگز حجت نہیں۔“

آگے چل کر المسئلۃ الثانیہ کے زیر عنوان علامہ موصوف یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ” جب یہ ثابت ہو گیا کہ مذہب صحابی حجت واجب لا اتباع نہیں تو کیا غیر صحابی کے لیے اس کی تقلید جائز بھی ہے؟ پھر اس کا جواب یہ دینے ہیں :

والمختار امتناع ذلك مطلقاً.

" قول مختار یہ ہے کہ قول صحابی ہرگز حجت نہیں۔“

" قابل ترجیح مسلک یہ ہے کہ تابعین و مجتہدین کے لیے صحابی کی تقلید مطلقا ممنوع ہے۔“

امام شوکانی

امام شوکانی إرشاد الحول، الفصل السابع في الاستدلال، البحث الخامس، فی قول الصحابی میں اپنی تحقیق ان الفاظ میں درج کرتے ہیں:

والحق أنه ليس بحجة فإن الله سبحانه لم يبعث الى هذه الأمة إلا نبينا محمدا صلى الله عليه وسلّم وليس لنا الا رسول واحد و کتاب واحد و جميع الامة مأمور باتباع كتابه وسنة نبيه ولا فرق بين الصحابة ومن بعدهم في ذلك فكلهم مكلفون بالتكاليف الشرعية واتباع الكتاب والسنة فمن قال انها تقوم الحجة في دين الله عز وجل بغير كتاب الله وسنة رسوله وما يرجع إليهما فقد قال في دين الله بما لا يثبت.

" حق یہ ہے کہ (قول صحابی ) حجت نہیں ہے۔ اللہ سبحانہ نے اس امت کی طرف صرف ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے۔ ہمارے لیے بس ایک ہی رسول اور ایک ہی کتاب ہے۔ تمام امت اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کے اتباع پر مامور ہے اور اس معاملے میں صحابہ اور غیر صحابہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ سب کے سب تکالیف شرعیہ اور اتباع کتاب وسنت کےمکلف ہیں۔ جس شخص نے یہ کہا ہے کہ اللہ کے دین میں کتاب وسنت یا جو کچھ ان دونوں کی طرف راجع ہوتا ہے، اس کے سوا کسی اور چیز سے بھی حجت قائم ہوسکتی ہے،اس نے دین کے معاملے میں ایک بے ثبوت بات کہی ۔“

شاہ ولی اللہ

حضرت شاہ ولی اللہ حجۃ اللہ البالغہ تم اول کے اواخر میں التنبیه علی مسائل کے عنوان سے ایک فصل کے تحت فرماتے ہیں:

قد سح إجماع الصحابة كلهم أولهم عن آخرهم و إجماع التابعين أولهم عن آخرهم و إجماع تابعى التابعين أولهم عن آخرهم على الامتناع والمنع من ان يقصد منهم أحد الى قول إنسان منهم او ممن قبلهم فياخذه كله.

" صحابہ کا از اوّل تا آخر اور تابعین کا از اوّل تا آخر اور تبع تابعین کا بھی از اوّل تا آخر اس بات پر کامل اتفاق ثابت ہے کہ یہ بات ممنوع اور ممتنع ہے کہ ان سب کے قول کا قصد کرے اور اسےکلی طور پر قبول کر لے ۔“

اس کے بعد شاہ صاحب نے الیواقیت والجواہر سے ائمہ مذاہب کے اقوال ذیل نقل کیسےہیں:

امام مالک : ما من أحد الا وهو مأخوذ من كلامه ومردود عليه إلا رسول الله صلى عليه وسلّم .

کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہے جس کے کلام کا کچھ حصہ قابل قبول اور کچھ حصہ قابل رڈ نہ ہو،سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

امام شافعی:

لا حجة في قول أحد دون رسول الله صلى الله عليه وسلّم.

" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماسواء کسی شخص کے قول میں کوئی حجت نہیں ہے۔“

امام ابن حنبل :

ليس لاحدمع الله ورسوله كلام.

" کسی کی بات اللہ اور اس کے رسول کی بات کے برابر اور ہم پلہ نہیں۔

یه مختصر بحث اور چند حوالہ جات اس حقیقت کو واضح کر دینےکےلیےکافی ہیں کہ دین میں واجب التسلیم جو سند کتاب وسنت ہےیا پھر اجماع صحابہ۔ایک صحابی یا چند صحابی کرام کےاقوال و افعال کو کتاب و سنت اور ان سےغیر مشروط تمسنک نہیں کیا جا سکتا جماعت اسلامی سےکےدستور ہیں جو اصولی بات بیان کی گئی ہے اس کے اندر سے نتیجہ بھی اگر کوئی مزید بات نکالی جاسکتی ہے تو - - بس اتنی ہی ہے اور بجائے خود یہ بات بالکل صحیح وصدا ئب ہے۔اس سےنہ تنقیص صحابہ لازم آنی ہے، نہ اس سے مسلک ملف کی خلاف ورزی ہوتی۔جماعت محض عقیدہ و نظریہ کی حد تک ارکان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ نبی اور غیر نبی کے مابین امتیازکریں اور غیر نبی کو تہ سے بالاتر نہ سمجھیں۔اس سے زبردستی یہ مطلب نکالنا صریح زیادتی ہے کہ جماعت کے قیام سےاب تک کوئی ایک مثال بھی ایسی موجود نہیں ہے کہ کسی رُکن جماعت نے اس عبارت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر کسی صحابی کےقول و فعل کے معاملے میں توہین آمیز طریقے پر لب کشائی کی ہو، یا صحابہ کرام کی جناب میں کوئی دوسری ادنی سی منافی احترام حرکت ہی کی ہو۔

سطور بالا میں جو کچھ پیش کیا گیا ہےاس سے یہ مدعا ہر گز نہیں ہے کہ صحابہ کرام کے آثار و اقوال کسی درجے میں بھی قابلِ اعتنا نہیں ہیں اور ان سے ہمیں سرے سے کوئی رہنمائی ہی نہیں مل سکتی۔ اوپر جن بزرگوں کے اقوال نقل کیے گئے ہیں، ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو آثارِ صحابہ کو بالکل اٹھا کر پھینک دینے کا قائل ہو،اور نہ یہ جماعت اسلامی کےکسی فرد کا مسلک یا نقطہ نظر ہے۔جماعت اسلامی کا لٹریچر جس شخص کی نظر میں ہو ، وہ خود بآسانی اندازہ کر سکتا ہے کہ اس میں مختلف مسائل حیات کے متعلق اسلام کا نظریہ پیش کرنے کے لیے کتاب وسنت کے ساتھ آثارِ صحابہ ہی سے نہیں بلکہ اقوال تابعین محمد ثین و ائمہ مجتہدین سے بھی استشہاد کیا گیا ہے۔ حق یہ ہے کہ یہ ساراذ خیرہ ہمارا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ اور ورثہ ہے جس سے ہم کبھی بھی بے نیاز نہیں ہو سکتےبحث جو کچھ ہے وہ فقط اس امر میں ہے کہ آیا صحابی کا ہر قول بجائے خود کتاب وسنت کی طرح واجب الاتباع ہے یا اسے اخذ کرنے سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کتاب وسنت سےکہاں تک مطابقت رکھتا ہے_١


١- اس سلسلہ بحث میں مولانا بدر عالم مدنی کا قول مندرجہ صفر ۱۳۳ بھی لائق ملاحظہ ہے۔

(٢)

( سوالات و جوابات)

تو ہین صحابہ کا بے سر و پا الزام

سوال یہ صورت حال بڑی افسوس ناک ہےکہ مولانا مودودی کی بعض تحرہرں کہ نیاد پر ان کےاور جماعت نا کے خلاف بعض لوگوں نےمدت سےایک مہم چلا ہےاور انہیں زمیں به کا مرتکب قرار دینےکی کوشش کی جارہی ہے اس سلسلےمیں مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔مولانا مودودی نےپہلےتجدید و احیائےدین میں لکھا تھا کہ حضرت عثمان ان خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیش روؤں کو عطا ہوئی تھیں۔ خلافت و ملوکیت میں بھی یہ بات دہرائی گئی ہے کہ حضرت عثمان نےشیخین کی پالیسی سےہٹ کر جو روش اختیار کی وہ بلحاظ تدبیر نامناسب بھی تھی اور عملاً سخت نقصان دہ بھی ثابت ہوئی۔ انہوں نے اپنے اقرباء کو بڑے بڑے عہدے اور عطیے دیئےجس سے خرابیاں پیدا ہوئیں۔ اس سلسلے میں مروان پر بھی تنقید کی گئی ہے۔

اسی طرح امیر معاویہ کے بارے میں مولانا نے لکھا ہے کہ وہ حضرت علی کے خلاف خروج اور بغاوت کے مرتکب ہوئے۔ان کےوالد حضرت ابو سفیان کے بارے میں بھی بعض تنقیدی ریمارک خلافت و ملوکیت میں موجود ہیں۔ ان سب باتوں کو صحابہ کرام کی بے ادبی اور گستاخی پر محمول کیا گیاہے۔ خلافت و ملوکیت میں جو واقعات درج ہیں،ان سب کا حوالہ تو دے دیا گیا ہےلیکن اس میں جس طرح کےتبصرہ کی مثال کسی دوسرےمصنف یا مورخ کےہاں بھی ملتی ہے، اور وہاں بھی یہ انداز تنقید پایا جاتا ہے یا نہیں؟ اگر اس کی کوئی نظیر پیش کر دی جائے تو شاید ان لوگوں کے لیے موجب اطمینان ہو جو ضد میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ محض ہنگامہ آرائی سے متاثر ہیں۔“

جواب: مولانا مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت ( طبع جدید) کے ضمیمے میں ایسا مواد موجود ہے جو ایک حق پسند انسان کی تشفی کےلیےکافی ہےتا ہم میں تو ضیحات اپنی طرف سےدرج کیےدیتا ہوں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یا دوسرے صحابہ کرام کےمتعلق مولانا مودودی کےقلم سےکوئی بات ایسی نہیں نکلی جسے معاذ اللہ سب و ستم یا مطاعن ومثالب کےزیر عنوان لایا جاسکے۔مولانا نےجو کچھ لکھا ہے ائمہ اہلِ سنت اور اصحاب تاریخ و سیر سلف سےخلف تک کم و پیش اسیطرح کی باتیں لکھتےچلےآئےہیں۔مگر میں چاہتا ہوں کہ سر دست سب سےپہلے امام ابن تیمیہ کی کتاب منہاج السنہ کے چند حوالے یہاں درج کر دوں۔ امام ممدوح اور ان کی اس تصنیف کو میں نےدو وجوہ کی بنا پر منتخب کیا ہے۔پہلی وجہ یہ ہے کہ مولانا مودودی کے خلاف جن حضرات نے اپنی زبان و قلم کی باگیں ڈھیلی کی ہیں۔ ان کی دستبرد اور تعدی سے ابن جریر، ابن عبدالبر اور ابن کثیر جیسے جلیل القدر ائمہ فن بھی محفوظ نہیں رہےلیکن علنیمت ہے کہ ان حضرات کے ہاں ابھی تک ابن تیمیہ اور بالخصوص ان کی کتاب منہاج السنہ کا اعتبار قائم ہےاور وہ جابجا انہیں شیخ الاسلام کےلقب سے یاد کر کے اس کتاب کی عبارتیں نقل کرتے ہیں۔ دوسری وجہ میرے انتخاب کی یہ ہے کہ فی الواقع ہزار سےزاید صفحات کی یہ کتاب ایک شیعہ مصنف کے رد میں لکھی گئی ہے اور اس میں خلفائے راشدین اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دفاع میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا گیا ہتی کہ مردان اور یزید کےحق میں جتنی صفائی پیش کی جا سکتی تھی،اس میں بھی کسر باقی نہیں رہنےدی گئی۔بعد میں آنےوالےاور اس موضوع پر لکھنےوالےسب امام ابن تیمیہ کے خوشہ چین ہیں۔

منہاج السنہ کی چوتھی اور آخری جلد کی ایک فصل میں اس امر پر بحث کی گئی ہے کہ تاریخی واقعات کے صدق و کذب کا معیار باعتبار سند کیا ہونا چاہیے۔اس فصل کا آغاز ان الفاظ سےہوتا ہے: وهنا طريق يمكن سلوكها لمن لم تكن له معرفة بالأخبار ..... اس میں پہلے ابن تیمیہ حضرت ابو بکر کی سیرت بیان فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے منصب خلافت کو اس حال میں چھوڑا کہ نہ کسی سے ترجیحی سلوک روا رکھا اور نہ اپنے قرابت داروں کو عہدے دار بنایا۔ اس کےبعد حضرت عمرؓ کے بارے میں لکھتے ہیں:

لم يتلوث لهم بمال ولا ولى أحدا من أقاربه ولاية فهذا أمر يعرفه، كل أحد وأما عثمان فإنه بنى على أمر قد استقر قبله بسكينة وحلم وهدى ورحمة وكرم ولم يكن فيه قوة عمر ولا فيه كمال عدله وزهده فطمع فيه بعض الطمع رتوسـعـوافـي الدنيا وضعف خوفهم من الله ومنه ومن ضعفه هو وما حصل من أقاربه في الولاية والمال ما أوجب الفتنة حتى قتل مظلوماً شهيدًا.

( ص نمبر ۱۲۱ منہاج السنہ، الجزء الرابع ، بالمطبیقہ الامیریه، بولاق مصر ۱۳۲۲)

"حضرت عمرؓ نےلوگوں کو مال سےآلودہ نہ کیا اور نہ اپنےکسی رشتہ دار کو کوئی عہدہ دیا۔یہ ایسی بات ہے جسے ہر ایک جانتا ہےرہے حضرت عثمان تو انہوں نےسکونِ قلب اور بردباری اور راست روی اور رحمت اور کرم کےساتھ اس نظام کو چلایا جو ان سے پہلے قائم ہو چکا تھا مگر ان میں نہ حضرت عمر جیسی قوت تھی ، نہ ان کی سی سیاست، نہ اس درجہ کا کمال عدل و زہد ۔ اس لیے بعض لوگوں نےاس سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور وہ دنیا کی طلب میں منہمک ہو گئے اور ان کے اقارب کو جو مناصب و مال حاصل ہوئے تھے ، انہوں نے فتنے کو جنم دیانتی کہ آپ مظلومی کی حالت میں شہید ہو گئے ۔“

پھر آگے اسی فصل میں ص نمبر ۱۷ پر پر مانے ہیں :

وكان ابو بكر وعمر افضل سيرة واشرف سريرة من عثمان و علی رضی الله عنهم اجمعين فلهذا كانا بعد من الملام واولى بالثناء العام حتى لم يقع في زمنهما شيء من الفتن.

" حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اپنی سیرت اور طینت میں حضرت عثمان وعلی (رضی اللہ عنہم اجمعین) سے افضل واشرف تھے، اسی وجہ سے حضرت ابو بکر و عمر ملامت سے محفوظ اور عام تعریف کے مستحق رہے۔ اور اسی بنا پر دونوں کے عہد میں کوئی فتنہ رونما نہ ہو سکا۔“

منہاج السنہ کی اسی چوتھی جلد میں ایک فصل قال الرافضی الخامس اخیارہ بالغائب کے الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ص ۷۹ اپر یہ عبارت موجود ہے:

ولم يتهم احد من الصحابة والتابعين معاوية بنفاق و اختلفوا في ابيه.

"صحابہ اور تابعین میں سے کسی نے معاویہ پر تو منافقت کا الزام نہیں لگایا ہے، مگر ان کےباپ کے معاملہ میں ان کے درمیان اختلاف رہا ہے۔“

میں اس عبارت کو دشنام طراز اور فتوی باز حضرات کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے حق میں کیا فتویٰ رسید کرتے ہیں؟

علامہ محب الدین طبری شافعی نےاپنی کتاب "الریاض النضرہ فی مناقب العشرة" میں حضرت سعید بن مسیب کا جو قول حضرت عثمان کے متعلق نقل کیا ہے وہ خلافت و ملوکیت کے ضمیمےمیں موجود ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام حضرت عثمان کے اس طریقے کو پسند نہیں کرتےتھے کہ انہوں نے غیر صحابی بنوامیہ کو بڑی تعداد میں عہدے دیئے،ان عہد ہداروں سے نا پسندیدہ افعال سرزد ہوئے اور توجہ دلانے پر بھی ان شکایات کا ازالہ نہ ہو سکا۔ الریاض النضرہ کے متعلق میں یہ امر مزید واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس کتاب کا اصل موضوع تاریخ نہیں بلکہ یہ خاص طور پر خارجی و شیعی عقاید سےابطال اور سنی عقائد اور انکی حقانیت کے اثبات کی غرض سے لکھی گئی ہے اور اس میں ان دس صحابہ کرام کی فضائل، ومناقب بیان کیے گئے ہیں جنہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی خصوصی بشارت دی تھی اور مورخیں اہلِ سنت عشرہ مبشرہ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔حافظ محب الدین البصری کے اسی قول کو بنیاد بنا ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ نے مرقاۃ شرح مشکوۃ ، ابواب المناقب میں حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان کی سیرتوں کا فرق یوں واضح فرمایا ہے

وان اتفق خلاف الك فى بادی النظر رجعوا اليه في ثانية مستصوبين راي ترفين ان الحق كان معه كمافي قتال اهل الردّه او نحو ذالك معنى فُقد في عثمان فانهم خالفوا ايه كثير من ابعه ولم . اليه بل اصروا على انكار هم عليه حتى قتل وكان مع ذال ، على الحق ما شهدت به الاحاديث وكان ر : صالحًا على مادل هذا الحديث فالنقص انما ود كان عما يثبت للشيخين قبله ما حققه الطبري في الرياض النضره.

" (حضرت ابو بکر ؟ ) سے اگر بادی النظر میں صحابہ کرام کو اختلاف ہوا تب بھی دوبارہ غور و فکر کے بعد انہوں نے حضرت ابو بکر کی راے صحیح سمجھ کر ان کی طرف رجوع کیا ۔ ان کے بر سر حق ہونے کا اعتراف کیا، جیسا کہ مرتدین و غیرہ کےمعاملےمیں ہوا۔ یہ بات حضرت عثمان کے معاملےمیں ہوا-یہ بات حضرت عثمان کےمعاملے میں مفقود ہوگئی۔ بہت سے واقعات میں صحابہ نےان کی رائےسےاختلاف کیا اور ان سے متفق نہ ہوئے بلکہ اپنے انکار و اختلاف پر مصرر ہے،یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے ۔ اس کے باوجود آپ حق پر تھے جیسا کہ احادیث شاہد ہیں ۔ اس حدیث کی رو سے بھی آپ مرد صالح تھے۔ آپ میں کمی یا نقص صرف اس معیار کےلحاظ سےتھا جو ان سے پہلے شیخین کے حق میں ثابت ہو چکا تھا۔ طبری نےالریاض النضرہ میں اپنی تحقیق یہی بیان کی ہے۔“

شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ”ازالۃ الخفا عن خلافة الخلفاء“ کا موضوع بحث بھی یہی ہے۔ اس میں بھی خوارج وشیعہ کے نظریات کا رد، خلافت راشدہ کی حجیت اور خلفائےراشدین کے اسوہ اور ان کے کارنامہ کا بیان ہے ۔۔ اب ازالۃ الخفا ، مقصد اوّل صفحہ ۱۵۰ کی درج ذیل عبارت ملاحظہ ہو :

سیرت حضرت ذی النورین به نسبت سیرت شیخین مغایر تے داشت، زیرا کہ گاہے از عزیمیت برخصت تنزل می نمود و امراء حضرت ذی النورین نه بر صفت امراء شیخین بودند -

حضرت بارانبارین کی سیرت حضور شیخی سیرت سے مغایر ومختل تھی کیونکہ نفرت عثمان بعض اوقات عزیمت کے بجائے رخصت پر اتر آتے تھے ا کے بام در شیخرج کے امراء ہال جیسی صفات نہ تھیں۔“

شاہ ولی اللہ صاحب کے تلف الرشید شاہ عبدالعزیز نہ دہلوی نے بھی اہل تشیع کی تردید میں ایک مستقل کتاب تحفہ اثنا عشریہ کے نام سےلکھی ہے۔ اس میں صاف طور پر حضرت امیر معاویه کو باغی قرار دیا گیا ہے ، اس طرح انہوں نے اپنے فتاوی اور دوسری تحریریں - - - پر لکھا کہ امیر معاویہ شاہ نے آیت سے خالی نہ تھے۔ میں ذیل میں ممتاز اہل حدیث عالم نواب صديق حسن خاں صاحب کی ایک عبارت نقل کرتا ہوا جس یہ شاہ - - - صاحب کا حوالا بھی مذکور ہےاس لیےیہ اہل حدیث و احناف سب کےلیے انت متناء ، نواب صاحب مرحوم اپنی کتاب "ہدایۃ السائل الی نہ المسائل کےصفحہ ٥١٠ پر پہلےتو لکھتےہیں کہ مروان حضرت طلحہ اور حضرت نعمان بن بشیر کا قاتل تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے امام ذہبی ، ابن حزم اور ابن حبان کی نہایت سخت رائے مروان کے خلاف نقل کی ہے۔ پھر فرماتے ہیں:

این اعتذار که قتل طلحہ تاویل ما کر وه عذری هست که باوجورش هیچ معصیت برائے هیچ ہی باقی نمی ماند بلکہ برائے وی دعوی تاویل میرسد و ایں ہیچ تا و بل کسی سر- - - که از طرف معاویه در فاقر دی تاویل کرده گفته که دی در بینی خود مجتهد بود و در عواصم و قد اعترف أهل الحديث بأجمعهم ان المحاربين لعلى رضى الله عنه معاوية وجميع من تبعة بغاة عليه وأنه صاحب الحق، انتهى. گویم مختار شاه عبدالعزیز دہلوی در بعض افادات خودش نیز همین است که حرب معاویه با علی کرم اللہ وجہہ خالی از شائبه نفسانیت نبود وقول بخطائے اجتهادی ضعیف است۔

"مروان کی طرف سےیہ عذر پیش کرنا کہ اس نےحضرت طلحہ کو کسی تاویل و توجیه کی بنا پر قتل کیا تھا، ایک ایسی معذرت ہےجس کو پیش کر کے ہر گنہ گار کو بے گناہ قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کے حق میں تاویل کا دعوی کیا جا سکتا ہے۔یہ تاویل اس شخص کی تاویل کی مانند ہےجس نےحضرت معاویہؓ کی غلط کارروائیوں کی تاویل کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے حضرت علی کے خلاف بغاوت بر بنائےاجتہاد کی تھی ۔ محمد بن ابراہیم الوزیر نے عواصم میں لکھا ہے کہ تمام اہل حدیث مانتے ہیں کہ معاویہ اور ان کے تمام ساتھی جنہوں نے حضرت علی سے جنگ کی وہ حضرت علیؓ کے باغی تھےاور حضرت علیؓ حق پر تھے ۔میں (نواب صدیق حسن خان ) کہتا ہوں کہ شاہ عبدالعزیز دہلوی کے ارشادات میں بھی قول مختار یہی ہے کہ حضرت معاویہ کی حضرت علی کے ساتھ لڑائی شائبہ نفانسیت سے خالی نہ تھی۔اور یہ قول ضعیف ہے کہ امیر معاویہ کی خطا اجتہادی تھی۔“

سوال یہ ہےکہ جو اصحاب اہل سنت کےامام اور اہل تشیع کےبالمقابل سنی مسلک کےبہترین حامی و ترجمان شمار کیےجاتےہیں،وہ اگر مندرجہ بالا اقوال کےصرف ناقل ہی نہیں بلکہ قائل بھی ہیں اور ان کےیہ اقوال ایسی کتابوں میں درج ہیں جو شیعوں کی تردید میں لکھی گئی ہیں،تو مولانا مودودی نےاگر خلافت و ملوکیت کی تاریخی بحث کےدوران میں یہی کچھ لکھ دیا ہےتو آخر کس جرم کا ارتکاب کیا ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین علی قدر مراتب واجب الاحترام ہیں مگر معصوم نہیں ہیں۔ ان کی بعض خطائیں خود قرآن میں مذکور ہیں، جس سےکسی مسلمان کو مجال انکار نہیں ہے۔مولانا مودودی نے صحابہ کرام کے متعلق جو بات بھی لکھی ہے وہ محتاط پیرائے میں ان کا شرف صحابیت ملحوظ رکھتے ہوئے لکھی ہے،جسے کوئی ذی علم اور انصاف پسند آدمی تو بین صحابہ پر محمول نہیں کر سکتا۔

حضرت عثمان اپنے عزیزوں سےجو فیاضانہ بر تاور وار کھتےتھے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کے طرزعمل سے اس کا موازنہ کرتے ہوئے مولانا مودودی نےاسےصرف خلاف احتیاط اور غیر اولی قرار دیا ہے، یہ نہیں کہا کہ یہ کی حکم شرعی کے خلاف اور ممنوع تھا۔ ان کے اپنے الفاظ میں درج ذیل ہیں:

" صلہ رحمی کے شرعی احکام کی تاویل کرتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بحیثیت خلیفہ اپنے اقرباء کے ساتھ جو سلوک کیا اس کے کسی جز کو بھی شرعاً نا جائز نہیں کہا جاسکتا۔ ظاہر ہے کہ شریعت میں ایسا کوئی حکم نہیں ہےکہ خلیفہ کسی ایسےشخص کو عہد نہ دےجو اسکےخاندان یا برادری سے تعلق رکھتا ہو۔ نہ شمس کی تقسیم یا بیت المال سے امداد دینے کے معاملے میں کوئی ایسا شرعی ضابطہ موجود تھا جس کی انہوں نے خلاف ورزی کی ہو ۔اس لیےان پر یہ الزام ہرگز نہیں لگایا جا سکتا کہ انہوں نے اس معاملےمیں حد جواز سے کوئی تجاوز کیا تھا۔ لیکن کیا اس کا بھی انکار کیا جاسکتا ہے کہ تدبیر کے لحاظ سے صحیح ترین پالیسی وہی تھی جو حضرت ابوبکر و عمر نے اپنے اقرباء کے معاملے میں اختیار فرمائی اور جس کی وصیت حضرت عمر نے اپنے تمام امکانی جانشینوں کو کی تھی؟“

( خلافت و ملوکیت صفحه ۳۲۲)

مولانا کے نزدیک حضرت عثمان کی سیرت کا بس یہی ایک پہلو اپنے پیشروؤں سے مختلف تھا، ورنہ وہ ہر لحاظ سے ایک مثالی حکمران اور خلیفہ راشد تھے۔ آپ کی شہادت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے مولانا نے لکھا ہے:

" حقیقت یہ ہے کہ اس انتہائی نازک موقع پر حضرت عثمان نے وہ طرز عمل اختیار کیا جو ایک خلیفہ اور ایک بادشاہ کے فرق کو صاف صاف نمایاں کر کے رکھ دیتا ہے۔ ان کی جگہ کوئی بادشاہ ہوتا تو اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے کوئی بازی کھیل جانے میں بھی اسے باک نہ ہوتا۔ اس کی طرف سے اگر مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بج جاتی ، انصار و مہاجرین کا قتل عام ہو جاتا ، ازواج مطہرات کی تو ہین ہوتی اور مسجد نبوی بھی مسمار ہو جاتی تو وہ کوئی پروانہ کرتا۔ مگر وہ خلیفہ راشد تھے۔ انہوں نے سخت سےسخت لمحوں میں بھی اس بات کو محوظ رکھا کہ ایک خدا ترس فرمانروا اپنے اقتدار کی حفاظت کے لیےکہاں تک جا سکتا ہے اور کس حد پر پہنچ کر اسے رک جانا چاہیے۔ وہ اپنی جان دے دینے کو اس سےہلکی چیز سمجھتے تھے کہ ان کی بدولت وہ حرمتیں پامال ہوں جو ایک مسلمان کو ہر چیز سے بڑھ کر عزیز ہونی چاہئیں۔“

(خلافت و ملوکیت صفحه ۱۲۰)

کیا یہ انداز تحریر کسی ایسےشخص کا ہو سکتا ہےجس کےدل میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی توہین و تذلیل کا ادنی شائبہ بھی موجود ہو؟ کیا تعظیم اور تو ہین کے جذبات ایک ساتھ کسی قلب میں جمع اور جاگزیں ہو سکتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ فعل تو ہین کا تعلق انسان کے الفاظ واقوال سے زیادہ اس کی نیت اور قلبی کیفیت سے ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کسی خاص واقعہ یا مسئلہ کے بیان میں ایک ایسا طرز تعبیر اختیار کرے جو اس کے نزدیک حدود ادب کے اندر ہو اور دوسرا شخص اس میں کوئی تجاوز محسوس کرے۔ لیکن کسی صاحب تقوی مسلمان کو اپنےایک دینی بھائی کےمتعلق یہ سوءظن تو نہیں کرنا چاہیےکہ وہ ان ہستیوں کی توہین و استخفاف دیدہ و دانستہ ملوث ہو گا جس کی محبت وعقیدہ سے ہر مسلمان سرشار ہے۔ کسی شخص کو ان کی تو ہین کا مرتکب قرار دینے کے معنی یہ ہیں کہ اس نے دانستہ ان کی اہانت کی ہے اور اس کا دل ان کےاحترام سےخالی ہے۔ مگر کیا اتنا بڑا الزام اس کے کسی ایک فقرے یا چند الفاظ کی بناپر لگادینا صحیح ہے جب کہ اسکی عمر بھر کی تحریر یں اور تقریریں اور کوششیں ان ہی بزرگوں کی تعریف و تحسین اور ان ہی کےاسوہ کی پیروی کی طرف دنیاکو دعوت دینےمیں صرف ہوئی ہوں؟لیکن آج یہ ہماری بڑی بد قسمتی ہےکہ مذہبی حلقوں میں ایک دوسرے کےخلاف،خدا کی تو ہین،انبیاء کی تو ہین،صحابہ کرام کی توہین کے الزمات اس سہولت اور اس کثرت سے عائد کر دیئے جاتے ہیں کہ یہ اب بچوں کا کھیل بن کر رہ گیا ہے۔ ہر دی ، دوسرے کے چند اقوال جھانٹ کر یا سیاق و سباق سے الگ کچھ اقتباسات نکال کر ان سے کفر وضلالت برآمد کر رہا ہے۔بریلوی، یو بندی اور اہل حدیث سب اس معاملے میں مہارت فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ہر فریق اس طرح کے ہتھکنڈوں کا مزہ خود چکھ چکا ہے اور ان کی شکایت بھی رات دن کرتا رہا۔مگر دوسروں کے خلاف ان کے استعمال سے باز نہیں رہتا۔ شاہ اسماعیل شہید اور بعض دوسرے حضرات کے اقوال پر جود دوطرفہ بخشیں ہوتی رہی ہیں، وہ آخر کس سے مخفی ہیں؟ '' طرز استدلال سے آج مولانا مودودی کو انبیاء و صحابہ کی تو ہین کا مجرم ٹھیرایا جارہا ہے، ٹھیک اسی طرز استدلال کی بنا پر دیو بندی حضرات کو فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی نہیں، خدا کی تو ہین تک کا مرتکب ٹھہرایا جا چکا ہے اور یہ کہا جا چکا ہے کہ ان کے نزدیک نعوذ باللہ خدا جھوٹ بول سکتا ہے اور شیطان کا علم نبی کے علم سےزیادہ ہے! مکان کذب باری علم غیب اور اس طرح کے مسائل پر دفتر کے دفتر سیاہ کیے جاچکے ہیں۔

ایک طرف یہ دین کے نام لیوا ہیں جو باہم دست وگر یہاں اور بلا ادنی جواز مسلمانوں کی تکفیر و تفسیق میں سرگرم ہیں اور دوسری طرف ملاحده وزنادقه اور اعدائے دین کو کھلی چھٹی مل گئی ہے کہ وہ اللہ، اس کے رسول اور رسول کے صحابہ سے منسوب ہونے والی اور ان کی یاد دلانے والی ہر شے کی علانیہ توہین و تضحیک کریں اور اس ملیا میٹ کرنے کے لیے در پے ہوں۔ کاش صاحب احساس حق پسند اور غیرت مند مسلمان اب بھی متنبہ ہوتے اور اس صورت حال کا تدارک کرتے۔

مشرقی پاکستان میں جو سانحہ عظیمہ رونما ہوا ہے، اگر چہ اس میں عوام و خواص کی بداعمالیوں اور اعدائے اسلام کی دسیسہ کاریوں کو بڑا دخل ہے لیکن علمائے کرام بھی بالکل بری الذمہ نہیں ہیں۔دیو بندی علماء کے جتنے وسیع اثرات وہاں تھے انہیں بالعموم مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کی مخالفت میں استعمال کیا گیا۔مسلمانوں کےدلوں میں طرح طرح کی وسوسہ انداز کی گئی۔ دیو بند سےجاری شدہ جماعت کےخلاف فتوے اردو اور بنگلہ میں ترجمہ کرا کےبکثرت پھیلائے گئے۔بہت سےعلماء نے مغربی پاکستان میں بیٹھ کر یہاں جماعت اسلامی کے بارے میں اگر کچھ موافقانہ رائےظاہر کی تو مشرقی پاکستان کے مسلمانوں کے سامنے بالکل دوسری ہی رائے کا اظہار کیا اور کہا کہ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے لوگوں کےعقائد صحیح نہیں، ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ بعض علمائے کرام نے وہاں سے الٹی میٹیم بھیجے کہ فلاں تاریخ تک خلافت و ملوکیت کی فلاں فلاں عبارتوں سے رجوع کرو، ورنہ- - - - - - - - - - -

اس طرح فتووں سےبے دین عناصر نے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور لوگوں کو ان کے ذریعے سےجماعت کے ساتھ تعاون کرنے سے روکا اور ہم سے برگشتہ کیا۔ آخری وقت میں کچھ اتحاد واتفاق کی فضا قائم ہوئی مگر اس وقت پانی سر سے گزر چکا تھا۔ افسوس کہ اتنی بڑی چوٹ کھانے کے باوجود جس طرح عوام کی آنکھیں نہیں کھلیں ، اُسی طرح علماء کو بھی اپنی غلطی کا احساس نہیں ہو سکا۔ ہم نے کسی دینی گروہ کے خلاف محاذ کھولنے میں بھی سبقت نہیں کی ، مگر جب ہم جھوٹے اتہامات کا نشانہ بنتےہیں تو مجبوراً ہمیں بھی مدافعت کرنی ہی پڑتی ہے۔ آخر ہمارے لیے ان سنگین اور غلط الزامات کو اپنےاوپر اوڑھ لینا کیسے ممکن ہے؟

مردان کی غاصبانه کارروائی

سوال: مولانا مودودی نےاپنی کتاب” خلافت و ملوکیت" صفحہ ۱۸۸ میں لکھا ہےکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے وہ تمام جائیدادیں واپس کر دیں جو انکےناجائز طریقےسےوراثت میں ملی تھیں اور یہ کہا تھا کہ جب فرمانروا کے اپنےعزیز و اقرباء ظلم کریں اور فرمانروا اس کا ازالہ نہ کرےتو وہ دوسروں کو کیا منہ لے کر ظلم سےروک سکتا ہے؟ ان واقعات کے ثبوت میں مولانا نے البدایہ اور ابن اخیر کی تاریخوں کا حوالہ دیا ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ان تاریخی کتابوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ بنو عباس اور بعض دوسرےعناصر نےمردان اور بن مروان کو بدنام کرنے کے لیے ایسے قصےکہانیاں تصنیف کر لیے تھے اور یہی مواد تاریخی کتابوں میں راہ پا گیا، ورنہ در حقیقت بنوامیہ کا دور ایک مثالی دور تھا۔

جواب آپ کے سوالات کے جواب میں پہلی گزارش یہ ہے کہ تاریخی بحثوں اور تاریخی واقعات میں کتب تاریخ پر انحصار ایک ناگزیر امر ہے۔ جو واقعات نزول قرآن اور عہد نبوی کے بعد رونما ہوئے ہیں، ان کے بارے میں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتاکہ انکا تفصیلی بیان قرآن یا حدیث میں ہوگا۔ان کےمتعلق پیشین گوئیوں کی شکل میں بعض اشارات تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےارشادات میں مل سکتےہیں اور ملتےہیں،مگر ان کی تفصیلات بہر حال ہمیں تاریخ ہی میں مل سکتی ہےاور انہیں معلوم کرنےکےلیےلامحالہ ہمیں تاریخ کی کتابوں ہی کی جانب رجوع کرنا ہوگا۔ یہ ایک فطری ضرورت ہے اور اسی کےپیش نظر ہمارے مؤرخین نے تاریخی کتابیں مرتب کی ہیں۔ ان مؤرخین میں سے بیشتر مفسرین و محدثین بھی ہیں۔ اور ان کے متعلق یہ باور کر لینا محال ہے کہ انہوں نے بے سروپا اور جھوٹے قصےکہانیاں جمع کر دی ہوں گی اور پھر پوری امت کے اہل علم انہیں آنکھیں بند کر کے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرتے چلے آئے ہوں گے۔

آپ نے جن تاریخی واقعات کا سوال میں ذکر کیا ہے،اگر چہ مولانا مودودی نے انہیں تاریخی مآخذ سےنقل کیا ہے، لیکن اس سے آپ یہ نہ سمجھیں کہ حدیث کی کتابیں ان سے بالکل خالی ہیں۔ آپ نے جن واقعات پر تعجب کا اظہار کیا ہے وہ حدیث کی کتابوں حتی کہ صحاح ستہ میں بھی مروی ہیں،جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

سنن اپنی داؤد، کتاب الخراج کی ایک روایت ملاحظہ ہو:

حدثنا عبد الله بن الجراح حدثنا جرير عن المغيرة قال جمع عمر بن عبدالعزیز بنی مروان حين استخلف فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كانت له فدک فكان ينفق منها على صغير بني هاشم ويزوج منها أيمهم وان فاطمة سألته ان يجعلها لها فابى فكانت كذلك في حيوة رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى مضى لسبيله فلما ان ولى أبوبكر عمل فيها بما عمل النبي صلى الله عليه وسلم في حياته حتى مضى لسبيله فلما ولى عمر عمل فيها بمثل ما عملا حتى مضى لسبيله ثم أقطعها مروان ثم صارت لعمر بن عبدالعزيز قال عمر یعنی ابن عبدالعزیز فرأيت امرًا منعه النبي صلى الله عليه وسلّم فاطمة ليس لي بحق و انى اشهدك انى قد رددتها على ما كانت يعني على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلّم.

" ہم سےعبداللہ ابن الجراح نےبیان کیا،ان سےجریر نےمغیرہ کےحوالےسےبیان کیا کہ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ ہوئے تو انہوں نےبنو مروان کو جمع کیا۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس فدک کے باغات تھے۔ آپ اس میں سےبنو ہاشم کےنابالغ افراد پر خرچ کرتےتھےاور بیوہ یا غیر شادی شدہ کا نکاح کرتے تھے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ سےمطالبہ کیا کہ یہ جائیداد انہیں دے دی جائے مگر آنحضور نے انکار فرما دیا۔ حیات نبوی میں یہی صورت رہی حتی کہ آپ کا وصال ہو گیا۔ پھر جب ابوبکر خلیفہ ہوئےتو آپ نےبھی عمل نبوی کے مطابق عمل کیا حتی کہ آپ بھی وفات پاگئے ۔ جب حضرت عمر خلیفہ بنے تو آپ نے بھی دونوں پیشروؤں کی کارروائی کے موافق عمل کیا یہاں تک کہ حضرت عمرؓ کا انتقال ہو گیا۔ پھر مروان نے فدک کو اپنی جاگیر بنالیا اور یہ عمر بن عبد العزیز کو ورثے میں ملی۔ انہوں نے فرمایا: میری یہ رائے ہے کہ جس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو منع فرمادیا، وہ میرے لے جائز نہیں اور میں تمہیں گواہ بنا تا ہوں کہ میں اس جائیداد کی وہی حیثیت بحال کرتا ہوں جو عہد نبوی میں تھی۔“

خط کشیدہ الفاظ کا جو ترجمہ میں نے کیا ہے وہ سیاق وسباق کے بالکل مطابق ہے اور شارحین نے اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے۔

چنانچہ صاحب بذل المجہو داس روایت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ثم اقطعها اى جعلها قطيعه لنفسه.

" یعنی مروان نے اسے اپنی ذاتی جاگیر بنائیا جو ان کے پوتے عبدالعزیز کوان سے ملی۔“

اہل سنت کے ہاں یہ بات بالکل مسلم ہے کہ یہ جائیداد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی جائیداد یا مالکیت سات بلکہ بحیث قوم ان کے منصب اور عہدے کا مالی معاوضہ اس سے فراہم ہوتا تھا۔لہذا آنحضور کے وصال کے بعد آپ کا جو بھی جانشین ہوگا، وہ اس سے مستفید ہوگا۔ابوداود کی اسی باب کی دیگر احادیث اور صحارح کی متعدد دوسری احادیث سے یہ امر قطعی طور پر واضح ہو جاتا ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں جو جائیداد خالصہ قرار دی گئی تھی اور شمس وغنائم کا جو مال آنحضور کے پاس آتا تھا،وہ آپ کے درہ کے طور پر ورثاء میں قابل تقسیم نہ تھا۔ یہ گویا اسلامی ٹیسٹ اور حکومت وقت کی تحویل میں رہے گا۔ اس سے ازواج مطہرات کا نفقہ ادا کیا جائے گا اور جوشخص بھی امت کا متولی امر ہو گا، اس کی اور اس کے اہل وعیال کی کفالت بھی اس سےہوگی۔مگر مروان نےان حکام صریحہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فدک کو ذاتی جاگیر بنالیا، حالانکہ خود حضرت علی کی روش اس معاملےمیں یہ تھی کہ عہد صدیقی و فاروقی میں اگرچہ حضرت فاطمہ کا وکیل یا وارث ہونےکی حیثیت سےانہوں نےاس جائیداد میں استحقاق کا مطالبہ کیا تھا لیکن جب خود امیر ہوئےتو اس جائیداد کی وہی پوزیشن برقرار رکھی جو پہلے طے ہو چکی تھی۔

مروان ہی کا یہ کارنامہ بھی ہےکہ اس نے قرآن مجید کا وہ نسخہ نذر آتش کر دیا جسکی کتابت حضرت ابوبکر نے حضرت زید بن ثابت سےکرائی تھی اور جس کی مزید نقول حضرت عثمان نےکرا کر بلاد اسلامیہ میں بھجوائی تھیں۔ اس کی تفصیل امام طحاوی نے یوں بیان کی ہے:

كانت تلك الكتب عند أبي بكر حتى توفي ثم كانت عمر حتى توفي ثم كانت عند حفصة زوج النبي صلى الله عليه وآله وسلم فأرسل إليها عثمان قالت ان تدفعها إليه حتى عاهدها ليردنها إليها فبعثت بها إليه في نسخها عثمان في هذه المصاحف ثم ردها ايهما فلم تزل عندها حتى أرسل مروان بن الحكم فأخذها فخرقها.

( مشکل الآثار - جزء ثالث ، صفحیم ، مطبعه دائرۃ المعارف، دکن ،۱۳۳۳)

" قرآن مجید کے یہ مکتوب اجزاء ابوبکر کے پاس ان کی وفات تک رہے۔ پھر یہ حضرت عمر کے پاس ان کی وفات تک رہے۔ پھر ام المومنین حضرت حفصہ کی تحویل میں یہ مصحف رہا۔حضرت عثمان نے اسے طلب فرمایا مگر حضرت حفصہ نےواپسی کی شرط کے بغیر اسےدینےسےانکار فرمایا اور اس شرط پر اسےحضرت عثمان کے حوالے کیا ۔ حضرت عثمان نے اس کی نقول تیار کر کےاسے واپس کر دیا اور یہ حضرت حفصہ نہی کےپاس رہا یہاں تک کہ مروان نے بعد میں اسے منگوایا اور جلا دیا۔

ایسی بیش قیمت تاریخی یادگار اور مقدس تبرک کو آگ میں جھونکنے کی جرات مردان کے سوا اور کون کر سکتا تھا؟

" خلافت معاویه و یزید "

سوال: مولانا مودودی کی کتاب ”خلافت و ملوکیت"پر تو خوب لےدےہو رہی ہےاور اس سلسلےکےبعض سوالات کا جواب آپ نےبھی دیا ہےمگر اس موضوع سےمتعلق جو کتاہیں محمود احمد عباسی اور ان کے بھتیجے علی احمد عباسی نےلکھی ہیں،تعجب ہےکہ ان میں اہل سنت کے مسلک و عقیدہ کو جس طرح مسخ کیا گیا ہے اور حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ کےبالمقابل امیر معاویہ اور یزید کی شخصیت کو جس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے،اس کی تردید کسی نےضروری نہیں سمجھی۔تردید کیا معنی ان کتابوں کےمواد کو کسی نہ کسی صورت میں دوسرےحضرات نےاپنی تصانیف اور تحریروں میں سمو دیا ہےحتی کہ ایک کتاب”سیدنا معاویہ،شخصیت و کردار کےبارے میں تو عباسی صاحب کو یہ شکایت کرنی پڑی ہے کہ اس کے مؤلف نے ان کے بھتیجے کی کتاب” حضرت معاویہ کی سیاسی زندگی کو سامنے رکھ کر اپنی کتاب مرتب کر ڈالی ہے، قدرے تغیر کے ساتھ مضمون بھی وہی،عنوانات بھی وہی ہیں۔

حضرت معاویہؓ کی سیاسی زندگی اور "خلافت معاویه ویزید تو غالبا ضبط ہو چکی ہیں مگران سے ملتی جلتی عباس صاحب کی ایک دوسری کتاب تحقیق مزید" کے نام سے چھپ گئی ہے۔ اگر یہ کتاب آپ کی نظر سے نہ گزری ہو، تو اسے بھی دیکھیں۔ اس میں دو سو بہتر صحابہ کرام اور پانچ ازواج مطہرات کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں سے کسی ایک کی مخالفت یا خروج یزید کےخلاف ثابت نہیں ، گویا یہ سب یزید کی ولی عہدی اور خلافت کی بیعت میں داخل تھے۔ صرف امام حسین اور حضرت ابن زبیر نے خروج کیا۔ کا یہ واقعات کی صحیح تصویر ہے اور کیا ان دو حضرات کو چھوڑ کر باقی سب نے یزید کی بیعت برضاء ورغبت قبول کر لی تھی؟

اس سلسلےمیں ایک اور واقعہ تحقیق طلب ہے"خلافت و ملوکیت"اور دوسری تاریخوں میں بالعموم یہ بیان کیا گیا ہےکہ حضرت عمار بن یاسر حضرت علی کےہمراہ جنگ صفین میں شریک تھےاور امیر معاویہ کےلشکریوں کے ہاتھوں شہید ہوئےاور اسی بنا پر حضرت عمار کےمتعلق ارشاد نبوی تقتلك فئة باغية میں باغی گروہ کا اطلاق امیر معاویہ اور ان کےساتھیوں پر کیا جاتا ہے لیکن محمود عباسی صاحب نے حضرت عمار کی جنگ صفین میں شرکت کی تردید کی ہے اور اپنی کتاب حقیقت خلافت و ملوکیت صفحه ۱۸۱ پر لکھا ہے کہ جو حقیقت ہے وہ خود طبری کی روایت سے منکشف ہے کہ حضرت عمر کو بلوائیوں نے مصر میں مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی قتل کر دیا (وقد اغتيل ) صحیح صورت واقعہ کی مزید وضاحت درکار ہے۔

جواب: خوارج اور بعض معتزلہ کےماسوا پوری امت مسلمہ اور علمائےاہل سنت میں سلف سےخلف تک اس امر پر ہمیشہ اجماع رہا ہے کہ حضرت علی مسلمانوں کے چوتھے اور آخری خلیفہ راشد تھےاور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشین گوئی کے بموجب ان پر خلافت راشدہ کا خاتمہ ہو گیا۔ حضرت امیر معاویہ کو بعض اہل علم نے صاف طور پر امام جائز اور حضرت علی کے بالمقابل باغی و خاطی کہا ہےحتی کہ نسبت فق تک کی ہےاور بعض نےحضرت علی کےخلاف ان کےنزاع وقتال کو خطائےاجتہادی سےتعبیرکیا ہےامیر معاویہ کی خلافت کا انعقاد خلافت علی کی موجودگی میں تو ہی نہیں سکتا تھاحضرت علی کی شہادت کےبعد بھی انکی خلافت اس وقت سےتسلیم کی گئی جب حضرت حسن نےان سےمصالحت کر لی اور خلافت سےدست بردار ہو گئےاس وقت امیر معاویہؓ کی خلافت منعقد تو ہوگئی مگر خلافت راشدہ کا درجہ اسےپھر بھی حاصل نہ ہوسکا۔ بہر حال کوئی وجہ تو تھی کہ ان کی صحابیت کے با وصف اور ان کو فقیه و مجتہد قرار دینےکے باوجود علمائے اہل سنت نے کبھی ان کا شمار خلفائے راشدین میں نہیں کیا اور انہیں ایک بادشاہ ہی کہا۔

پھر اپنے عہد خلافت میں حضرت معاویہؓ نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا۔ یہ محض ایک جانشینی کی تجویز یا مشورہ نہیں تھا بلکہ بیٹے کو تخت خلافت کا با قاعدہ وارث نامزدکر کے اس کی ولی عہدی کے حق میں پوری مملکت کے طول و عرض میں بیعت عام حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کےلیے حکومت کی طاقت وسطوت اور ذ رائع و وسائل کو کام میں لایا گیا۔

اس فعل کو حق بجانب ثابت کرنے کےلیےزیادہ سےزیادہ جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہےکہ اس کی وجہ محض باپ کی بیٹےسےمحبت نہ تھی،بلکہ اس میں مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ پنہاں تھا۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائےراشدین کی سنت میں اس بات کی کوئی دلیل یا نظیر نہیں ملتی کہ مسلمانوں کا امیر یا خلیفہ اپنےکسی قرابت دار کو اپنی زندگی ہی میں ولی عہد مقرر کرےاور اپنی بیعت کےساتھ ایک دوسری بیعت کا قلاوہ بھی ہر سلمان کے گلے میں ڈال دے اور امت کو ایک پیشگی عہد اطاعت کا پابند بنانے کی سعی کرے۔ نیز یہ بھی ایک نا قابل انکار تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت معاویہ کے اس فعل کے بعد یہ بات ایک سنت جاریہ اور عادت مستمرہ کی حیثیت اختیار کر گئی کہ خلیفہ اپنی زندگی ہی میں اپنے خاندان کے کسی فرد کو ولی عہد مقرر کر دے اور اس کی بیعت لےلے۔اس سے مسلمانوں میں انتخابی خلافت کا طریقہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا اور اس کی جگہ بادشاہت یا آمریت نے لے لی۔ جہاں تک یزید کا تعلق ہے، بعض علمائے اہل سنت نے اب تک اس کےدفاع میں جو کچھ کہا ہےوہ بس اس حد تک ہےکہ اسےکافر کہنا اور اس پر لعنت کرنا جائز نہیں۔وہ ایک مسلمان حکمران تھا۔ ولایت عہد کے وقت تک اس کا فسق و فجو را کثر کے علم میں نہ تھا اور امام حسین کا قتل اس کے ایماء پر نہیں ہوا، اگر چہ اس نے قاتلین حسین سے باز پرس بھی ضروری نہیں مجھی ۔ اس سے آگے بڑھ کر علمائے اہل سنت میں کسی نے بھی کوئی بات یزید کے حق میں نہیں کہی ہے۔

اب اہل سنت کے اس محتاط مسلک اور ان پیش کردہ تصریحات کے بالکل برعکس اور عین ضد میں ایک نیا موقف ہےجسےمحمود عباسی صاحب نے اختیار کیا ہے۔ انہوں نے حضرت علیؓ کی خلافت کے انعقاد ہی کو سرے سے مشتبہ بنانے کی سعی ناکام کی ہے تا کہ ان کا خلیفہ راشد ہونا اور اپنے مخالفین کے مقابل میں برسر حق یا کم از کم اولی بالحق ہونا ہی مشکوک ہو جائے۔ پھر جب نوبت یز ید تک پہنچی ہے تو یہاں آکر عباسی صاحب کی دیدہ دلیری اور خیزہ چشمی اپنی آخری حد کو پہنچ گئی ہے۔ان کے نزدیک امیر المومنین یزید کی خلافت پر جیسا اجماع امت ہوا ہے ایسا اجماع حضرت ابوبکر و عمر کو بھی نصیب نہیں ہوا تھا اور ان کے بقول:

" صحابہ وتابعین، ہاشمی اور اموی اکابرین سب نے ہر دلعزیز ولی عہد کی بیعت خلافت خوشدلی کے ساتھ کی۔ البته مسند نشینی کی خبر سنتے ہی دونوں طالبان خلافت،حضرت حسین وابن الزبیر کسی سوچی کبھی اسکیم کے مطابق گورنرمدینہ کو چکمہ دے کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کا یہ طرز عمل اس بات کی بنین دلیل ہے کہ موت معاویہ کا انتظار ہورہا تھا۔“

( تحقیق مزید صفحه ۲۳۱)

ہٹ دھرمی کا کمال یہ ہے کہ امام حسین کے سرفروشانہ اور مجاهدانه اقدام کو عباسی صاحب نےامیر یزید کی خلافت کےخلاف باغیانہ خروج قرار دیا ہےاور ابن خلدون نےیزید اور اسکی ولایت عہد کےمتعلق ہر ممکن صفائی پیش کرنے کے باوجود چونکہ یزید کے فسق و فجور کو صراحت کےساتھ بیان کیا گیا ہےاور ابن العربی کے اس قول کو غلط قرار دیا ہے کہ امام حسین کا قتل شرعاً جائز تھا کیونکہ وہ یزید کے بالمقابل مدعی خلافت تھے، اس لیے عباسی صاحب کہتے ہیں کہ :

" ابن خلدون نےحضرت حسین کےاقدام خروج پر جہاں گفتگو کی ہےوہاں ان کی پوزیشن کو صاف (یعنی داغدار؟) کرنے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ انہوں نے ولی عہدی کی بیعت کے سلسلہ میں تو بہت اچھی بحث کی ہے، جسے کتاب ” خلافت معاویہ و یزید میں نقل کرتےہوئے تحسین بھی کی گئی لیکن اقدام خروج کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے میں شاید عقیدت حسین ان کے مانع آئی۔ عقیدت کی بات اور ہے اور وقائع تاریخی کی بے لاگ ریسرچ شے دیگر است."

( تحقیق مزید صفحه ۲۳۲)

اس "ریسرچ ھئے دیگر است“ کے نادر نمو نے عباسی صاحب کی تحریروں میں جابجا بکھرےہوئے ہیں۔ صرف دو طالبانِ خلافت کے ماسوا پوری امت مسلمہ نے ہر دلعزیز ولی عہد کی بیعت جس بے قراری کے ساتھ کی، اس کا ثبوت فراہم کرنے کےلیے عباسی صاحب نے تحقیق مزید میں ایک باب صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یزید کی بیعت ولی عہدی و خلافت“کےنام سےرقم کیا ہے اور سو سے زاید صفحات میں ان تمام صحابہ کرام اور امہات المؤمنین کے اسماء و تراجم بیان کر دیئے ہیں جو یزید کی ولی عہدی کے وقت زندہ تھے اور جن کے حالات مولف کو مل سکے ہیں گویا ان اصحاب کا بقید حیات ہونا اور بیعت یزید کے وقت دنیا سےاٹھ نہ جانا بجائےخود اس امر کا زندہ ثبوت ہےکہ انہوں نےپوری خوشدلی اور آمادگی کےساتھ لپک کر یزید کےدست حق پرست پر بیعت کرلی تھی۔عباسی صاحب نےفقط ان حضرات کےنام گنوانےپر اکتفا نہیں کیا،بلکہ اسکےساتھ ساتھ احادیث صحیحہ کا مفہوم مسخ کرنے اور واقعات ثابتہ کا حلیہ بگاڑنے میں بھی کو تا ہی نہیں کی۔ اس کوشش کا ایک نمونہ میں یہاں پیش کیے دیتا ہوں، جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تاریخی واقعات بیان کرنے میں عباسی صاحب نے کیسی دیانت سے کام لیا ہے۔ ام المؤمنین حضرت حفصہ کے حالات میں لکھتے ہیں :

" یہ محترم خاتون امیر یزید کے زمانہ ولی عہدی میں حیات تھیں۔ صحیح بخاری میں بیان کیا گیا کہ اپنے بھائی حضرت عبداللہ بن عمر کو ہدایت کی کہ اس مجلس میں فورا شریک ہوں،جس کےلیےان کو بلایا جارہا تھا، ایسا نہ ہو کہ عدم شرکت کی بنا پر کوئی صورت اختلاف کی پیدا ہو- - - -یہ معامله تحکیم ( ثالثی) کا نہ تھا بلکہ امیر یزید کی ولی عہدی کا مسئلہ تھا۔حضرت ابن عمرؓ نےامیر یزید کی ولی عہدی اور خلافت کی بیعت بلا تذبذب کی تھی۔ ان کے اس عمل سے ان کی محترم بہن کے موقف پر بھی روشنی پڑتی ہے۔“

اس طرح بخاری کےحوالےسے یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہےکہ دونوں بہن بھائی امیر المؤمنین کی بیعت کے لیے سخت بے چین اور بے تاب تھے۔ دوسرے مقامات پر بالعموم عباسی صاحب کتابوں کے صفحات کا حوالہ دے دیتے ہیں لیکن یہاں انہوں نے بخاری کی کتاب، باب یا صفحے کا حوالہ نہیں دیا- - - - - - بہر کیف یہ حدیث بخاری کتاب المغازی، باب غزوہ خندق میں موجود ہے اور اس کا ترجمہ درج ذیل ہے:

" حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں حضرت حفصہ کے ہاں گیا۔وہ نہائی تھیں اور پانی ان کےبالوں سے ٹپک رہا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ لوگوں کا حال تو آپ دیکھ رہی ہیں مگر میرا تو امارت سے کوئی سروکار نہیں رہنے دیا گیا۔حفصہ بولیں: آپ جائیں، لوگ آپ کے منتظر ہیں اور میں ڈرتی ہوں کہ آپ کے وہاں نہ جانےسےپھوٹ پڑ جائے گی ۔ غرض حضرت حفصہ نےانہیں اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک وہ مجمع میں نہ چلےگئےجب لوگ الگ الگ ہو گئےتو میر معاویہؓ نےتقریر میں کہا کہ جو شخص اس امارت یا بیعت کے معاملے میں کچھ کہنے کا ارادہ رکھتا ہےوہ ذرا اپنا سینگ تو اونچا کرے۔ ہم اس سے اور اس کے باپ سے زیادہ امارت کے حقدار ہیں۔ حبیب بن مسلمہ نے پوچھا کہ آپ نےاس کا جواب نہ دیا؟ حضرت ابن عمرؓ نےفرمایا کہ میں نے اپنی چادر اتاری اور ارادہ کیا کہ امیر معاویہ سےکہوں کہ تم سےزیادہ حقدار امارت کا وہ ہےجس نےتم سےاور تمہارے باپ سے اسلام کی خاطر لڑائی کی۔ پھر مجھے خدشہ ہوا کہ میری بات سے تفرقہ پیدا ہوگا،خونریزی کی نوبت آئے گی اور میری بات سے کچھ اور ہی مفہوم لیا جائے گا۔ پس میں نے ان نعمتوں کی یاد دل میں تازہ کی جو اللہ نے جنت میں تیار کی ہیں (اور خاموش رہا ) ۔ حبیب کہنے لگے کہ آپ محفوظ رہے اور بچ گئے ۔“

اب اس روایت کےتیور اور انداز بیان کو دیکھیے اور عباسی صاحب اس سےجو مطلب نچوڑنا چاہتےہیں اسے بھی دیکھئے اگر یہ تسلیم کر لیا جائےکہ یہاں تحکیم کےبجائےیزید کی ولی عہدی زیر بحث ہےتب بھی مکالمہ کے الفاظ صاف طور پر بتارہے ہیں کہ بیعت ولی عہدی کا معاملہ جس طرح طےکیا جارہا تھا ،حضرت عبداللہ ابن عمر اس پر غیر مطمئن اور رنجیده تھے لیکن آپ چونکہ طبعا جھگڑوں اور فتنوں سے دامن بچا کر رکھنا چاہتے تھے اور آپ کےوالد ماجد نےبھی آپ کو امیدواری خلافت سے روک دیا تھا، اس لیےآپ اس مجمع میں حاضر ہونا پسند نہیں فرماتے تھےجس میں امیر معاویہ کی تقریر کا پروگرام تھا۔ لیکن حضرت حفصہ نےانہیں باصرار وہاں جانےپر آمادہ کیا کیونکہ وہاں انکی غیر حاضری کو محسوس کیا جارہا تھا اور حضرت حفصہ کا خیال یہ تھا کہ ان کےجانے سے کچھ تو فائدہ ہو گا اور فساد د بےگا۔بہر کیف حضرت عبداللہ بن مراس مجلس میں تشریف لے گئے۔ اس کے بعد امیر معاویہ نےتقریر فرمائی اور تہدید آمیز انداز میں کہا کہ"جو شخص میرے یا میرے بیٹے کے خلاف لب کشائی کی جرات رکھتاہےوہ یہاں ذرا سر اٹھا کر دیکھےتو سہی،ہم اس سےاور اس کےباپ سےزیادہ خلافت کےحقدار ہیں۔محدثین کےبیان کےمطابق یہاں حضرت عبداللہ ابن عمرؓ،حضرت حسین ابن علی اور حضرت عبداللہ ابن زبیر کے خلاف طعن و تعریض اور ان پر اپنی فوقیت جتانا مقصود تھا جسے حضرت ابن عمر جیسے متحمل اور مصالحت پسند بزرگ بھی مشکل ہی سےبرداشت کر سکتےتھےچنانچہ انکےجی میں آیا کہ وہ یہ کہیں کہ جناب آپ سےزیادہ خلافت کےمستحق وہ ہیں جنہوں نےآپ کے اور آپ کےوالد ابوسفیان کے خلاف قتال کیا جب کہ آپ دونوں کفر کی حالت میں ہمارے خلاف پرے جمارہے تھے ۔ مگر آپ یہ بات کہتے کہتے صرف اس خطرے کی بنا پر رک گئےکہ میری اس بات کو طلب خلافت کے معنی پہنائے جائیں گے اور جولوگ بزور شمشیر اس مسئلے کو طےکر رہے ہیں وہ برافروختہ ہو کر مزید خون خرابہ کریں گے۔

یہ واقعہ تو حضرت ابن عمر کا ہوا۔ اسی سے ملتا جلنا ایک دوسرا واقعہ بھی بخاری ( تفسیر الاحقاف) میں روایت کیا گیا ہے کہ حضرت معاویہ نے مروان کو مدینے کا گورنر بنایا۔ اس نے اپنے ایک خطبےمیں یزید کی ولی عہدی کا ذکر شروع کیا تو عبد الرحمن بن ابی بکر نے اس پر اعتراض کیا۔ مروان کہنے لگا "پکڑوا سے" عبدالرحمن بھاگ کر حضرت عائشہ کے گھر میں پناہ لی ۔ مروان نے وہاں تک پیچھا کیا اور حضرت عائشہ کے ساتھ بھی تلخ کلامی کی۔

یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ حضرت علی سے لے کر عبدالملک بن مروان کے عہد تک جتنی بھی لڑائیاں جھگڑے ہوئےان سےحضرت عبد اللہ بن عمر الگ تھلگ رہے اور حضرت علیؓ کےبعد جس نے بھی خلافت پر قبضہ کر لیا، اس کی حکومت کو جس طرح دوسرے مسلمانوں نے چار و ناچار تسلیم کر لیا ، اسی طرح آپ نے بھی کر لیا۔ لیکن یہ کہنا در اصل حقائق کا منہ چڑانا ہے کہ حضرت ابن عمرؓ یا دوسرے کبار صحابه و تابعین نے بطیب خاطر ان متقلبین کی اطاعت قبول کی تھی۔

حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں حدیث بالا کی شرح کرتے ہوئے صاف لکھا ہے کہ حضرت ابن عمر کی رائے یہ تھی:۔

انه لا يبايع المفضول الا اذا خشي الفتنة ولهذا بايع بعد ذلك معاوية ثم ابنه يزيد ونهى بنيه عن نقض بيعته وبايعوا بعد ذلك لعبد الملک بن مروان

" افضل کے مقابلے میں مفضول کی بیعت جائز نہیں، الا یہ کہ فتنے کا خدشہ ہو۔ اسی لیےحضرت ابن عمرؓ نے حضرت علیؓ کے بعد حضرت معاویہؓ کی اور پھر ان کے لڑکے یزید کی بیعت کی اور اپنے بیٹوں کو اس کی بیعت توڑنے سے روکا اور اس کے بعد عبدالملک بن مروان کی بھی بیعت کی۔“

محمود عباسی جیسے لوگ جو ہر امیر المؤمنین کے آگے دیدہ و دل فرش راہ کرنے پر آمادہ و مستعد رہتے ہیں، وہ بیچارےاپنےاوپر ان سلف صالحین کو بھی قیاس کرتے ہیں۔عباسی صاحب کی باطنی کیفیت کا عکس انکی اس تحریر میں دیکھا جا سکتا ہےجو میں نےدیباچےمیں نقل کی ہےجس میں انہوں نےایوب خان کی مدح سرائی کی ہے۔

ظاہر ہے کہ جس محقق کی چشم بینا کو پوری اسلامی تاریخ میں یہی ایک قابل تقلید مثال نظر آئی ہو، اس سے اگر مقام حسین مخفی رہے اور یزید سے ہر دلعزیز امیرالمؤمنین نظر آئے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔

گر نه بیند بروز شیره چشم

چشمه آفتاب را چه گناه؟

حضرت عمار بن یاسر کا جنگ صفین میں حضرت علیؓ کا ساتھ دینا اور امیر معاویہ کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہونا ایک قطعی الثبوت واقعہ ہے جو تاریخ کی کتابوں ہی میں نہیں بلکہ کتب حدیث میں بھی مذکور ہے۔ تمام مؤرخین ومحدثین نے اسے بالاتفاق تسلیم کیا ہے۔ بلکہ مسند احمد اور دیگر کتب میں یہ واقعہ بھی بہ سند بیان ہوا ہے کہ حضرت عمار کی شہادت کی خبر دے کر امیر معاویہ کو تقتلک فئة باغية والی حدیث بھی سنائی گئی اور بعض روایات میں حضرت معاویہ کا یہ عجیب جواب بھی مذکور ہے کہ ہم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ ان کے قتل کا اصل باعث علی ہیں جو انہیں ساتھ لائے ۔محمود عباس اولین شخص ہیں جنہوں نے اس واقعہ کا انکار کیا ہے اور یہ بات تصنیف کی ہے کہ عمار تو دو سال پہلے مصر میں ہلاک کر دیئے گئے تھے۔ اس دروغ بافی کا تانا بانا علامہ ابن جریر طبری کےصرف ایک فقرے سے تیار کیا گیا ہے جو انہوں نے اس سلسلہ بیان میں لکھا ہے کہ حضرت عثمان نےحضرت عمار کو اہل مصر کی شکایات کی تحقیق کے لیے مصر بھیجا تھا اور وہاں انہیں لوگوں نے اتنا عرصہ روکے رکھا کہ یہ گمان کیا جانے لگا کہ انہیں دھو کے سے مار ڈالا گیا ہے۔“

ویسےتو عباسی صاحب طبری کو ہر جگہ رافضی لکھتےہیں،لیکن مطلب برآری کے لیے ان کےہاں شیعہ، عیسائی، یہودی،دہر یہ ہر شخص ثقہ بن جاتا ہےاور اگر کسی شخص کے قول سے وہ مطلب نکلتا نظر نہ آتا ہو، جو عباسی صاحب کو پسند ہو،تو وہ اس قول کو چھیل بنا کر اور اپنی تحقیق انیق کےخراد پر چڑھا کر حسب منشا صورت میں ڈھال لینےمیں بڑےماہر ہیں۔طبری کا اصل فقرہ یہ ہے:واستبطاً الناس عمارا حتی ظنوا انه اغتيل بس لوگوں کے اس گمان کو بنیاد بنا کر جھور کا یحل تعمیر کیا گیا ہے کہ عمار تو مصر میں قتل کر دیئے گئے تھے۔

خلافت و ملوکیت اور بریلوی مسلک

سوال: میں نے"خلافت و ملوکیت" کا بھی مطالعہ کیا ہےاور اس سلسلےکےجو مضامین آپ نے ترجمان میں لکھے ہیں وہ بھی پڑھے ہیں۔مجھے ان سے کوئی خاص اختلاف نہیں۔ مگر میں نےان میں ایک کمی یا خلا ضرور محسوس کیا ہے وہ یہ کہ آپ نے دیوبندی علماء کے متعدد اقتباس اپنی تحریروں میں دیئے ہیں مگر کسی بریلوی عالم کا کوئی ایک قول بھی میری نظر سے نہیں گزرا، حالانکہ ملک کا سواد اعظم یہی گروہ ہے۔ کیا اس سے میں یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہوں کہ بریلوی علماء کی تحریروں پر آپ کی نگاہ نہیں رہتی یا ان میں کوئی چیز آپ کو اپنے حق میں نہیں مل سکی؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ محمود احمد عباسی صاحب جیسے لوگوں کی ئے میں ئے ملاتے ہوئےاب علمائے اہل سنت نے بھی حضرت علیؓ کےمقابلےمیں امیر معاویہ اور امام حسین کے مقابلے میں یزید کے موقف کو اس انداز سےپیش کرنا شروع کر دیا ہےجس سےحضرت علی اور امام حسین کا مقام و موقف بر حق و صواب ہونےکے بجائےشبہات و اشکالات کا مورد بن جاتا ہے۔اگر آپ کی نگاہ میں کوئی ایسی تحریر یا قول ہو جو اس مسئلےمیں بریلوی مسلک کے علماء کا موقف واضح کرتا ہو، تو اسے بھی منظر عام پر لانا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں اہل سنت کا جو مسلک ہمیشہ سے رہا ہے، اسے مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ عجیب گھپلا پیدا کیا جارہا ہےکہ خلیفہ راشد بھی برحق اور اس سےآخر دم تک لڑنے والے بھی برحق بلکہ اب تو رفتہ رفتہ یہ کہا جانےلگا ہےکہ خلافت راشدہ اور ملوکیت میں کوئی خاص فرق نہیں،خلفائے راشدین کی کوئی تعداد یا خلافت راشدہ کی کوئی مدت معین نہیں ہے۔“

جواب: یہ بات اپنی جگہ پر سیح ہے کہ خلافت و ملوکیت اور حضرت امیر معاویہ کے موضوع پر جو بحث میں نےترجمان القرآن کےصفحات میں کی ہے،اس میں بریلوی مسلک کےعلماء کی تحریروں میں سے کوئی حوالہ درج نہیں کیا گیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں کسی علمی تعصب میں مبتلا ہوں اور کسی خاص گروہ یا جماعت کی کتابیں پڑھنے سے گریز کرتا ہوں۔یہ بات بھی نہیں ہےکہ جدید دور کے علماء میں سےصرف دیوبندی یا اہل حدیث حضرات ہی کی تحریروں میں مجھےتائیدی حوالےمل سکتےہیں اور بریلوی مشرب کےعلماء کی نگار شات میں مجھےکوئی ایسی چیز نہیں مل سکی۔ فی الحقیقت بات یہ ہے کہ میں نے اپنے سلسلہ مضامین میں جو طریق بحث و استدلال اختیار کیا ہےوہ یہ ہےکہ میں نےزیر بحث مسائل میں سب سےپہلےنصوص کتاب و سنت کی روشنی میں ان اعتراضات و تنقیدات کا جائزہ لینےکی کوشش کی ہےجو مولانا مودودی کی عبارتوں پر وارد کیےگئےہیں۔اس کےبعد میں نےائمہ سلف،جن میں محدثین،مفسرین،مؤرخین اور فقہائےمجتہدین بھی شامل ہیں، ان سب کے ایسے اقوال پیش کیے ہیں جو ان مسائل و واقعات سےتعلق رکھتےہیں۔پھر میں نے سب سےآخر میں بعض جدید علماء کی تحریریں بھی نقل کر دی ہیں تا کہ کوئی شخص یہ نہ کہہ سکےکہ جو قول قدیم زمانے میں جائز و حلال تھا، اس کا دہرانا اس زمانے میں ممنوع و حرام ہے اور اس فعل کا ارتکاب اگر کیا ہے تو تنہا ایک ہی شخص نے کیا ہے۔ بس اس خیال کے پیش نظر میں نے علمائے حاضر کے بھی چند اقوال دے دیئے ہیں، ورنہ ان کی عدم موجودگی سے میرے استدلال میں کوئی خلا یا خلل واقع نہیں ہوتا۔

باقی رہا یہ سوال کہ میری نظر انتخاب بالعموم دیوبندی علماء کی تحریروں تک ہی کیوں محدود رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت تک خلافت و ملوکیت کےخلاف سب سے زیادہ زور اسی حلقےسےانتساب رکھنے والے بعض افراد نے صرف کیا ہے اور ناصبیت کے جدید علمبرداروں کو دانسته د نادانسته طور پر ان ہی نے پوری کمک پہنچائی ہے۔ پس قدرتی طور پر میرا روئے سخن چون که ان حضرات کی جانب تھا، اس لیے ان ہی کے بعض اکابر کے اقوال درج کر دینا میں نے مناسب اور کافی خیال کیا۔ لیکن جہاں تک حضرت علی کے بالمقابل امیر معاویہ کے موقف کا تعلق ہے،اسےجس طرح خلافت و ملوکیت میں بیان کیا گیا ہے اور جس کی مزید وضاحت میرے مضامین میں کر دی گئی ہے، علمائے بریلی کا موقف ومسلک اس سے مختلف نہیں ہے۔ مثال کے طور پر میں یہاں مولانا امجد علی صاحب موصوف مولانا احمد رضا خاں صاحب مرحوم کے شاگرد رشید ہیں۔ بہارِ شریعت ان کی ضخیم تالیف ہے جو سترہ جلدوں پر مشتمل ہے اور مؤلف کےاستاذ کی تقریظ و تصویب کےساتھ اشاعت پذیر ہوئی ہے۔ اس کتاب کی جلد اوّل صفحہ ۷۵ پر وہ فرماتے ہیں:

”عقیدہ: امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجتہد تھے۔ ان کا مجتہد ہونا حضرت سید نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حدیث صحیح بخاری میں بیان فرمایا ہے۔ مجتہد سے صواب، وخطارونوں صادر ہوتے ہیں۔ خطا دو قسم ہے، خطاء عنادی، یہ مجتہد کی شان نہیں اور خطاء اجتہادی، یہ مجتہد سےہوتی ہے اور اس میں اس پر اصلا عید اللہ مواخذہ نہیں۔ مگر احکام دنیا میں وہ

Page no 60-61 missing hai

صحابہ کرام کے متعلق عقیدہ اہل سنت

( از مولانا ابوالاعلیٰ مودودی)

سوال: میں آپ کی کتاب ” خلافت و ملوکیت کا بغور مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ آپ کی چند باتیں اہل سنت والجماعت کے اجماعی عقائد کے بالکل خلاف نظر آ رہی ہیں۔ صحابہ کرام میں سے کسی کا بھی عیب بیان کرنا اہل سنت والجماعت کے مسلک کے خلاف ہے۔ جو ایسا کرے گا وہ اہل سنت والجماعت سے خارج ہو جائے گا۔ آپ کی عبارتیں اس عقیدے کے خلاف ہیں۔

براہ کرم آپ بتائیں کہ صحابہ کرام کے بارے میں آپ اہل سنت والجماعت کے اجماعی عقیدے کو غلط سمجھتے ہیں یا صحیح ؟“

جواب: قبل اس کے کہ میں آپ کے سوالات کا جواب دوں براہ کرم آپ مجھے یہ بتائیں کہ:

١- آیا آپ کا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی صحابی غلطی نہیں کر سکتا ؟

٢- یا آپ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صحابی سے غلطی ہو تو سکتی ہے مگر کسی صحابی سے کبھی غلطی کا صدور ہوا نہیں ہے؟

٣- یا آپ اس بات کے قائل ہیں کہ افراد صحابہ سے غلطی کا صدور ممکن بھی تھا،اور صدور ہوا بھی ،مگر اس کو بیان کرنا جائز نہیں ہے، اور نہ صحابی کی کسی غلطی کو غلطی کہنا جائز ہے؟

ان میں سے جس بات کے بھی آپ قائل ہوں اس کی تصریح فرما دیں تا کہ مجھے یہ معلوم ہو سکے کہ آپ خود بھی اہل سنت و الجماعت میں سے ہیں یا نہیں۔ اگر آپ پہلی بات کے قائل ہیں تو وہ اہل سنت میں سے کسی کا عقیدہ بھی نہیں ہے۔ اور اگر دوسری بات کے قائل ہیں تو اس کا غلط ہونا ایسےنا قابل انکار واقعات سے ثابت ہے جو قرآن پاک اور بکثرت احادیث صحیحہ اور اکابر اہل سنت کی نقل کرده کثیر روایات میں بیان ہوئےہیں۔ اور اگر تیسری بات کےقائل ہیں تو وہ بھی قطعی بےبنیاد ہےکیونکہ متعدد مقامات پر خود قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نےصحابہ کرام کی بعض غلطیوں کا ذکر فرمایا ہے، اور محدثین نے ان کے مفصل واقعات نقل کیے ہیں، اور مفسرین میں سے شاید کسی کا بھی آپ نام نہیں لے سکتے جس نے اپنی تفسیر میں ان واقعات کو بیان نہ کیا ہو۔رہا اہل سنت کا عقیدہ جس کا آپ ذکر فرما رہےہیں تو وہ صرف یہ ہےکہ صحابہ پر طعن کرنا اور انکی مذمت کرنا جائز نہیں ہے،اور اس فعل کا ارتکاب خدا کے فضل سے میں نے کبھی اپنی کسی تحریر میں نہیں کیا ہے۔ مگر تاریخی واقعات کو کسی علمی بحث میں بیان کرنا علمائےاہل سنت کےنزدیک کبھی نا جائز نہیں رہا ہےنہ علمائے اہل سنت نے کبھی اس سے اجتناب کیا ہے، اور نہ کسی عالم نے کبھی یہ کہا ہے کہ صحابی سے اگر غلطی ہو تو اسے صحیح قرار دو، یا اس کو غلطی نہ کہو ۔ آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ میں نے جو واقعات بیان کیے ہیں وہ اکابر اہل سنت ہی کی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ ان کا ان واقعات کو اپنی کتابوں میں نقل کرنا دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ اگر انہوں نے صحیح سمجھتے ہوئے نقل کیا ہے تو آپ کی رائے کے مطابق وہ سب بھی اہل سنت سے خارج ہونے چاہئیں، اور اگر غلط یا مشتبہ سمجھتے ہوئے انہیں پھیلایا اور آئندہ نسلوں تک پہنچایا ہے تو پھر آپ کو کہنا چاہیے کہ وہ کفی بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّتَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ کے مصداق تھے۔

نوٹ:

آخری سطر میں مولانامحترم نے حدیث صحیح نقل کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ " آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ جو بات سنے اسے آگے بیان اور روایت کر دئے ۔ یہ بھی واضح رہے کہ جن بزرگ نے یہ سوال کیا تھا، ان کی جانب سے پھر کوئی سوال و جواب نہیں ہوا۔

(غلام علی )

کتاب خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Caliphate , monarchy