خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ

باب ہشتم

باب ہشتم

حضرت حجر بن عدی کا قتل

حضرت حجر بن عدی کا قتل

(١)

اسلام کا قانون بغاوت

حضرت حجر بن عدی کےقتل کی جوڑ و داد مولانا مودودی نے"خلافت و ملوکیت"میں بیان کی ہےوہ کتاب کےدو صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا بیشتر حصہ محمد تقی صاحب نےاپنی کتاب میں نقل کر دیا ہے۔ ” خلافت و ملوکیت" میں یہ واقعہ آزادی اظہار رائے کا خاتمہ کے زیر عنوان تحریر کیا گیا ہے۔ عثمانی صاحب نے اس واقعہ قتل پر تیں صفحوں کا ایک جوابی تبصرہ سپر قلم کیا ہےجس کا لب لباب یہ ہےکہ حضرت حجر بن عدی اور کچھ دوسرےفتنہ پرداز امت مسلمہ میں انتشار برپا کرنا چاہتےتھےامیر معاویه کےگورنروں اور پولیس سپرنٹنڈٹ کو گالیاں دیتےاور ان پر پتھر پھینکتےتھےجنگ کرتے تھے ۔ غرض یہ کہ اسلامی حکومت کے خلاف جرم بغاوت کے مرتکب تھے اور ظاہر ہے کہ بغاوت کی سزا موت ہے۔ یہ واقعہ تاریخ میں جن تفصیلات کے ساتھ مروی ہے، ان کی موجودگی میں جناب محمدتقی صاحب عثمانی کے لیے واقعہ تل کا انکار تو ممکن نہ تھا۔ مگر میری معلومات کےمطابق عثمانی صاحب غالباً پہلےشخص ہیں جنہوں نے اپنے زعم میں حضرت حجر بن عدی کو ارتکاب بغاوت کی بنا پر مباح الدم اور واجب القتل ثابت کرنے میں اپنا پورا زور لگا دیا ہے۔اس لیے اب یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ پہلے میں اسلام کا قانون بغاوت اور اس کے بنیادی اصول پیش کروں اور پھر عثمانی صاحب سے سوال کروں کہ اگر یہ اصول صحیح ہیں تو ان کی روشنی میں حضرت حجر اوران کےساتھیوں کا خون بہانا کس حد تک روا اور حق بجانب تھا ؟

قرآنی آیات اور ان کی تفسیر

اس مسئلے میں ہم سب سے پہلے کتاب اللہ سے رجوع کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں دو آیتیں ایسی ہیں جو محاربہ و بغاوت کے جرائم سے براہ راست تعلق رکھتی ہیں۔ پہلی المائده، آیت ۳۳،دوسری الحجرات، آیت ۹، پہلی آیت کا ترجمہ درج ذیل ہے:

سزا ان لوگوں کی جولڑائی کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور دوڑ دھوپ کرتے ہیں زمین میں بغرض فساد، یہ ہےکہ وہ قتل کیےجائیں،یا سولی چڑھائےجائیں یا کاٹے جائیں ان کےہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سےیا زمین سے نکال دیئے جائیں۔ یہ ان کے لیے ہوائی ہے دنیا میں اور ان کے لیے ہے آخرت میں بڑا عذاب۔“

اس آیت میں جس جرم کو "اللہ اور اس کےرسول سےمحاربہ اور فساد فی الارض" سےتعبیر کیا گیا ہے، اس جرم کی جو تفسیر مفسرین اور ائمہ مجتہدین نےکی ہے،اس سےمعلوم ہوتا ہےکہ اس سےمراد لوٹ مار قبل و غارت ، رہزنی و ڈکیتی اور اس طرح کی دوسری مفسدانہ تخریبی کارروائیاں ہیں جن کا نتیجے میں کسی مقام یا علاقے کا امن وامان تہ و بالا اور نظم ونسق درہم برہم ہو جائے۔جمہور فقہاء ومحد ثین کا مسلک یہ ہے کہ اس جرم میں قتل کی سزا صرف اس حالت میں دی جاسکتی ہےجبکہ مجرم خود قتل کا مرتکب ہوا ہو۔اس سےکمتر درجے کے جرائم میں اسےقتل یا صلیب کی سزا نہیں دی جا سکتی۔اس ایت کی جو تشریح امام ابن جریر نے کی ہے اس کا خلاصه یہ ہےکہ محاربین سےمراد ایسےچور اور ڈاکو ہیں جو مسلح ہو کر مسلمان بستیوں میں دہشت پھیلائیں اور علانیه بزور شمشیر جان و مال پر دست درازی کریں۔ پھر لکھتے ہیں کہ :

فان قتلوا قتلواوان لم يقتلوا واخذوا المال قطعوا من خلاف.

"اگر یہ مجرم قتل کے مرتکب ہوئے ہوں تو انہیں قتل کیا جائے گا اور اگر یہ قتل کے مجرم نہ ہوں،صہ ہونا ہو تو ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں گے ۔“

مزید فرماتے ہیں:

إذا حارب فقتل فعليه القتل وإذا حارب وأخذ لم يقتل فعليه قطع اليد.

"اگر وہ محاربہ کرے اور قتل کرے تو اس کے لیے قتل کی سزا ہے اور اگر وہ محاربہ کرے اور ایسی حالت میں گرفتار ہو جائے کہ اس نے قتل نہ کیا ہو تو اس کی سزا قطع ید ہے۔“

اسی مفہوم کے متعدد اقوال نقل کیے گئے ہیں جن کا مدعا یہی ہے کہ جو مجرم قاتل نہ ہو، اسے قتل نہیں کیا جاسکتا۔ اس قول کے حق میں ابن جریر یہ حدیث بھی نقل فرماتے ہیں کہ

لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث خلال ......

"ایک مسلمان کا خون بہانا صرف تین حالتوں میں حلال ہو سکتا ہے، وہ قتل کرے تو اسے قتل کیا جائے شادی کے بعد زنا کرے تو رجم کیا جائے گا اور اسلام کے بعد مرتد ہو تو قتل ہوگا۔“

پھر لکھتے ہیں کہ ارتکاب قتل کے بعد محض بدامنی اور آمد ورفت کو پر خطر بنانے پر کسی کو قتل کر دینا یہ تقدم علی اللہ و رسول ہے اور ایسی بات ہے جس کا کوئی ذی علم قائل نہیں ہے۔

اس کے بعد ابن جریر نے چند ایسے اقوال بھی نقل کیے ہیں کہ بعض کی رائے کے مطابق امام وقت کو بہ اختیار ہے کہ وہ محاربین کو آیت مذکورہ میں بیان کردہ سزاؤں میں سے جو سزا بھی چاہےدے سکتا ہے، قطع نظر اس کے کہ انہوں نے قتل نفس کا ارتکاب کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ لیکن ابن جریر نےنہایت مدلل طریق پر اس رائے کا ابطال کیا ہے اور لکھا ہے کہ صحیح تاویل یہی ہے کہ عقوبت "استحاق جرم کے مطابق ہوگی اور قتل کی سزا صرف اس محارب کو دی جائے گی جس نے محاربہ کے ہیں قتل کا جرم کیا ہو۔

تقریباً یہی بات علامہ نظام الدین النیسا پوری نے اپنی تفسیر غرائب القرآن میں رج فرمائی ہے۔ ان کی تحقیق بھی یہی ہے کہ آیت میں بیان کی ہوئی ہر سزا ہر محارب کو نہیں دی جاسکتی۔ فرماتےہیں:

هذا المحارب اذا لم يقتل ولم يأخذ المال فقد هم بالمعصية ولم يفعل وهذا الا يوجب القتل.

"اس محارب نے جب قتل نہیں کیا اور نہ مال چھینا، تو اس نے صرف ارادہ معصیت کیا تھا،اس کا ارتکاب نہیں کیا تھا، اور اس سے اس کا قتل واجب نہیں ہوتا۔“

امام ابوبکر الجصاص نے "احکام القرآن" میں اس آیت کی جو تشریح کی ہے وہ بھی یہی ہے کہ جو شخص محاربہ میں قتل کا ارتکاب کرے قتل کی سزا اسی کو دی جاسکتی ہےان کےنزدیک بھی آیت میں بیان شدہ سزاؤں میں ایک ترتیب ملحوظ رکھی گئی ہے۔ یعنی جیسا جرم ہوگا، ویسی ہی سزا ہوگی قتل کی سزا قتل ہوگی ، سلپ مال کی سزا قطع ید اور قطع از جبل ہوگی۔الجصاص نےبھی اپنےاستدلال کےحق میں اس حدیث کو پیش کیا ہےجس میں صرف تین وجوہ کی بنا پر مسلمان کا خون حلال کیا گیا ہے۔فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین صورتوں کے ماسو اقتل مسلم کی نفی فرمادی ہے۔

فانتفى بذلك قتل من لم يقتل من قطاع الطريق.

"اس بنا پر جس رہزن نے کسی کو قتل نہ کیا ہو، اس کا قتل ممنوع ہو گیا۔“

جس حدیث کا حوالہ ابن جریر اور ابوبکر جصاص نے دیا ہے وہ بخاری، کتاب الدیات میں ان الفاظ کےساتھ مروی ہے: لا يحل دم امرئ مسلم يشهد ان لا اله الا الله وانى رسول الله إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس والثيب الزاني والمفارق لدينه التارك للجماعة . اس حدیث کی تشریح میں حافظ ابن حجر فرماتےہیں کہ تارک جماعت کےتحت باغی بھی آ سکتا ہےمگر اس کا قتل صرف اس صورت میں جائز ہوگا جب کہ اپنا دفاع کرتےہوئےہم اسےقتل کریں الا يحل قتله الامدافعة. آیت محاربہ کا مفہوم بھی ابن حجر کے نزدیک یہی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ محاربہ کی زیادہ سے زیادہ سزا یہ ہے کہ

ان قتل قُتِل وحكم الآية في الباغي ان يقاتل لا ان يقصد الى قتله.

"محارب اگر قتل کرے گا تو قتل کیا جائے گا اور سورہ حجرات والی آیت جو باغیوں کے بارےمیں ہے، اس میں فقط باغی سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، یہ نہیں کہ اس کے قتل کا قصد کیا جائے۔“

پھر لکھتے ہیں کہ عمل قوم لوط ولی بہائم میں قتل کی سزا جن روایات میں مذکور ہے، وہ صحیح السند نہیں ۔ اگر ہوں بھی تو یہ افعال زنا میں داخل ہیں اور اس لیے موجب قتل ہوں گے۔ جن احادیث میں جماعت مسلمین کے خلاف خروج پرقتل کی وعید ہے، ان کی تاویل بھی حافظ ابن حجر کے نزدیک وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی ، یا پھر ان کا مطلب یہ قرا یا ہے کہ مجرم کو محسوس کر کے خروج سے روک دیا جاۓ (المراد بقتله حبسه ومنعه من الخروج )۔ علامہ بدالدین میسں نے بھی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے تقریباً یہی بات بیان فرمائی ہے۔لکھتے ہیں کہ بعض حضرات نے اس حدیث میں مذکور تین اشخاص کےساتھ ایک چوتھےشخص باغی کے قتل کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ پھر فرماتےہیں:

اجيب عنه بانه انما يجوز دفعه اذا ادى الى القتل فلا يحل تعمد قتله اذا اندفع بدون ذالک فلا يقال يجوز قتله بل دفعه ..

”باغی کے معاملے میں اس بات کا جواب یہ ہے کہ اس کے خلاف صرف مدافعانہ کارروائی جائز ہے خواہ مدافعت کے دوران میں اس کا قتل واقع ہو جائے۔ لیکن اگر باغی کے مقابلے میں مدافعت قتل کے بغیر بھی ممکن ہو تو قصدا اسےقتل کرنا جائز نہیں بلکہ اس کے بالمقابل دفاع کیا جائے گا۔

قرآن مجید کی دوسری دو آیتیں جن میں جرم بغاوت کا ذکر ہے، وہ سورہ حجرات کی آیات ۹۔ ۱۰ ہیں۔ ان کا ترجمہ یہ ہے:

"اور اگر دو گروہ مومنوں میں سے آپس میں لڑ جائیں تو دونوں کے درمیان اصلاح کرو۔ پھر اگر ایک ان میں سے دوسرے پر چڑھائی کرے تو قتال کرو اس سے جو زیادتی کر رہا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف۔ پس اگر وہ باز آجائےتو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ مصالحت کرا دو اور انصاف سے کام لو۔ مومن تو بھائی بھائی ہیں، پس اپنے دونوں بھائیوں کے مابین صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو، جس سے توقع ہے کہ تم پر رحم ہو گا۔“

ان آیات میں صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ باغی فرد یا گروہ کے خلاف قتال (لڑائی ) کر کے انہیں اللہ کے حکم کی جانب لوٹنےپر مجبور کیا جائےاور پھر باہم مصالحت اور ملاپ کرا دیا جائے۔ان آیات میں خاتمہ قال کے بعد گرفتار شدہ باغی کو قتل کرنےیا کوئی دوسری سزا دینےکا سرے سےذکر ہی نہیں ہے،اس لیےان سےبغاوت کی سزائےقتل کا استنباط کسی طرح درست نہیں۔فقہاء و مفسرین نےجس طرح محاربه اور بغاوت سےمتعلق آیات کی تشریح اور ان سےاحکام کی تفریح کی ہےاس سےمعلوم ہوتا ہے کہ سورہ مائدہ کی آیات میں صرف ان مجرمین کا ذکر ہے جو عادی پیشہ ورانہ ذہنیت کےساتھ اور مجرد مادی فوائد و اغراض کےتحت لوٹ مار اور غارتگری کریں۔اس کے برعکس سورۃ حجرات میں جن باغیوں کا ذکر ہےان سےمراد وہ لوگ ہیں جن میں مادی اغراض سےزیادہ سیاسی داعیات اور اعتقادی جذبات کارفرما ہوں، خواہ ان کا عقیدہ اور سیاسی مسلک و نظر یہ بالکل فاسد ہو یا نہ ہو۔ اس طرح کے لوگ بالعموم اپنے موقف کے حق میں کسی شرعی تاویل کے بل پر اٹھتے ہیں اور ان کے ساتھ بالکل چوروں اور ڈاکوؤں کا سا معاملہ کرنا شرعا جائز نہیں ہ۔ پھر محارب کا اطلاق تو فرد واحد یا چند افراد پر بھی ہو سکتا ہے کیونکہ کسی مقام پر ماردھاڑ کے ذریعے سے چند مسلح آدمی بھی بدامنی اور دہشت پھیلا سکتے ہیں، لیکن خروج و بغاوت کے لیے بہر حال ایک معتد بہ جمعیت درکار ہے۔ خود قرآن میں طائفتان کا لفظ آیا ہے۔ امام نیشا پوری اپنی تفسیر غرائب القرآن میں اس مقام کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اعلم ان الباغية في اصطلاح الفقهاء فرقة خالفت الإمام بتأويل باطل بطلانا بحسب الظن لا القطع..... ولا بد أن يكون له شوكة وعدد بحتاج الامام في دفعهم الى كلفة ببذل مال او اعداد رجال فان كانوا افرادا يسهل ضبطهم فليسوا بأهل بغي.

"واضح رہے کہ فقہاء کی اصطلاح میں باغیوں سے مراد ایسا گروہ ہے جو امام کی مخالفت باطل تاویل کی بنا پر کرےمگر اس کا بطلان ظنی ہو قطعی نہ ہو۔ اس گروہ کے باغی قرار پانے کےلیےلازم ہےکہ اسکے پاس اتنی طاقت اور تعداد ہو کہ امام کو ان کے دفع کرنے کے لیے مال خرچ کرنے اور جمعیت فراہم کرنے کی زحمت میں مبتلا ہونا پڑے۔ اگر وہ چند افراد ہوں جن کا قابو کر لینا آ۔ ان ہو، تو ان پر اہل بغاوت کا اطلاق نہیں ہو گا ۔“

رد المحتار، باب البغاة میں باغیوں کی جامع تعریف یہ بیان کی گئی ہے:

اهل البغي كل فئة لهم منعة يتغلبون ويجتمعون ويقاتلون اهل العدل بتأويل يقولون الحق معنا ويداعون الولاية.

"اہل بغاوت ہر وہ گروہ ہے جو ز بر دست طاقت کا مالک ہو، غلبه و تسلط رکھتا ہو، اجتماعی بیت کا حامل اور اہل عدل کے مقابلے میں تاویل کے بل پر قتال کرے اور اس کے افراد یہ کہیں کہ حق ہمارے ساتھ ہے اور وہ حکمرانی کے مدعی ہوں ۔“ (رد المحتار ، جلد ، جلد ۳، ۴۲۷)۔

فقہاء کے اقوال

اس طرح کے سیاسی مجرمین بلاشبہ شرعاً قابل مواخذه ہیں۔ لیکن ان لوگوں کے کچھ سیاسی،شہری اور مدنی حقوق بھی ہیں جن کو ہمارےائمہ سلف نےنہایت تفصیل سےبیان کر دیا ہےاور چھوٹتےہی مدیر ” البلاغ" کی طرح بس یہ فتویٰ نہیں داغ دیا کہ جہاں ایک مجمع نے چند نعرے لگا دیئے، کسی افسر پر روڑے پھینک دیئے یا آوازے کس دیئے،فوراہی سب جرم بغاوت کے مرتکب ہو گئےاور بغاوت کی سزا اسلام میں موت ہے! اگر عثمانی صاحب کےلیےیہ بات ناگوار خاطر نہ ہو تو میں یہ بھی واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ فقہائےکرام نےاسلامی قانون بغاوت کےجملہ قواعد وضوابط امیر معاویہ کےبجائےحضرت علیؓ کےاسوہ اور اسطرز عمل کی روشنی میں مرتب کیےہیں جو آپ نےاپنےخلاف لڑنے والوں کےمعاملےمیں اختیار کیا آوران مخالفین ومقاتلین میں امیر معاویہ بھی شامل تھے۔ بغاوت کے قانون کا خلاصہ یہ ہے کہ خروج کرنے والے جب تک محض اپنےفاسد عقائد یا حکومت اور اس کےسربراہ کےخلاف باغیانہ و معاندانہ خیالات کا اظہار کرتےرہیں،ان کو قتل یا قید نہیں کیا جا سکتا جنگ یا تادیبی کارروائی ان کے خلاف اس وقت کی جائے گی جب وہ عملاً مسلح بغاوت کر دیں یا خونریزی کی ابتداء کر بیٹھیں۔ فقہاء نےاسلحہ کی تعریف بھی کر دی ہےچنانچه امام سری،المبسوط،جلد ۹، ص ۲۱۰ پر فرماتے ہیں۔


١- صاحب ہدایہ باب البغاة میں حضرت علی کے متعلق لکھتے ہیں:

هو قدوة هذا الباب (حضرت علی اس معاملے میں ہمارے لیے قابل تقلید نمونہ ہیں)۔

فأما الخشب والحجر لا يكون مثل السلاح.

"لکڑی ، لاٹھی اور پتھر ہتھیار کے مانند نہیں ہو سکتے ۔“

سلاح سے مراد فقہاء کے نزدیک وہ تیز ہتھیار ہیں جو بالعموم قتل کے لیے استعمال ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ لاٹھی یا پھر یا کسی دوسری وزنی شے سے اگر ایک شخص دوسرےکو قتل بھی کر دے، تب بھی بعض فقہاء کے نزدیک اس کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ دیت وصول کی جائے گی کیونکہ ان اشیاء سےقتل عمد ثابت نہیں ہوتا۔

فتح القدیر، شرح هدایه باب البغاۃ اور دیگر کتب فقہ میں حضرت علی کا یہ واقعہ بیان کیا گیا ہےکہ کوفه کی مسجد میں بعض خوارج حضرت علی پر سب و شتم کر رہےتھےاور کثیر الحضر می اسےسن رہےتھے۔ایک شخص ان میں یہ بھی کہ رہا تھا کہ میں خدا سےعہد کرتا ہوں کہ علی کو ضرور قتل کروں گا۔الحضرمی نےجب یہ دیکھا تو اس شخص کو پکڑ کر حضرت علی کےپاس لے آئے۔آپ نےکہا کہ اسےچھوڑ دو۔ کثیرالحضر می کہنے لگے کہ اسے کیسے چھوڑ دیا جائے جب کہ یہ آپ کے قتل کی قسم کھا چکا ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا:

فاقتله ولم يقتلني.

"کیا میں اسےقتل کروں حالانکہ اس نےمجھے قتل نہیں کیا ؟“

کثیر کہنے لگے کہ یہ آپ پر سب و شتم کر رہا تھا۔ حضرت علی کہنے لگے کہ تم چاہو تو اس پر جوابی سب وشتم کرلو، ورنہ چھوڑ ہی دو۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد حضرت عبداللہ بن عمر کے حوالے سے بیزار اور حاکم نےروایت کیا ہے اور اسے ابوبکر الجصاص نے بھی نقل کیا ہے کہ آنحضور نے فرمایا کہ میری امت میں باغیوں کے زخمیوں پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور جو گرفتار ہو جائیں ان کو قتل نہیں کیا جائے گا (لایرتست جريحهم ولا يقتل اسیر هم ) اسی طرح کی هدایت حضرت علی نےجنگ جمل اور دوسرے مواقع پر دی ہیں۔مبسوط ( جلد ۱ ص ۱۲۶) میں امام سرخسی فرماتے ہیں:

كان علي رضي الله عنه يحلف من يوزر منهم ان لا يخرج عليه قط ثم يخلي سبيله.

" حضرت علی باغیوں میں سے قید ہونے والوں سے قسم لیتے تھے کہ وہ ان پر کبھی خروج نہیں کریں گے، پھر ان کو رہا کر دیتے تھے۔“

ابن العربی مالکی سوره حجرات کی آیت بغی کی تشریح کرتے ہوئے احکام القرآن میں لکھتے ہیں:

لا يقتل أسيرهم ولا يتبع من هزمهم لان المقصود دفعهم لا قتلهم.

"باغیوں کے قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا اور شکست خوردہ کا تعاقب نہیں ہوگا، کیونکہ مقصود دفاع ہے، ان کا قتل مطلوب نہیں۔“

امام شافعی کتاب الام ( جلد ۴ ص ۱۳۸) میں فرماتے ہیں:

اهل البغي إنما يحلّ قتالهم دفعا لهم ما ارادوا من القتال او امتناع من الحكم فإذا فارقوا تلك الحال حرمت دماء هم.

" اہل بغنی سے قتال صرف اس لیے جائز ہے کہ انہیں لڑنے کے ارادے سے یا حکومت کی مخالفت سے روکا جائے۔ جب وہ اس روش سے باز آجائیں تو ان کا خون بہانا حرام ہو جاتا ہے۔“

یہ بات پہلےبیان ہو چکی کہ جولوگ کثیر التعداد اور جنگی سروسامان سے آراستہ ہوں،صرف ان پر قانون بغاوت کا اطلاق ہوگا۔یہ لوگ اگر امام عادل کےخلاف تاویل شرعی کےبغیر خروج کےمرتکب ہوں اور مارےجائیں تو مذہب حنفی کے مطابق ان کی نماز جنازہ جائز نہیں۔ المبسوط،باب صلوۃ الشہید میں باغی کے متعلق فرماتے ہیں: لا يغسل ولا يُصلّى عليه. دوسری طرف اسی باب میں یہ بیان کیا گیا ہےکہ مسلک حنفی کے مطابق شہید کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ، پھر شہدائے اح وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے آخر میں حضرت عمار بن یاسر اور حضرت حجر بن عدی کا ذکر بھی زمرہ شہداء میں کیا گیا ہے۔ چنانچہ امام سرخسی فرماتے ہیں:

ولما استشهد عمار بن ياسر بِصِفّين قال لا تغسلوا عنّى دما ولا تنزعوا عني ثوبا فانى التقى معاوية الجادة وهكذا نقل عن حجر بن عدي.

” جب حضرت عمار بن یاسر جنگ صفین میں شہید ہونے لگے تو فرمایا کہ میرا خون نہ دھونا اور میرے کپڑے نہ اتارنا۔ میں اسی حال میں امیر معاویہ سے قیامت کو ملاقات کروں گا اور حجر بن عدی سے بھی ایسا منقول ہے۔“

پھر آگے چل کر باب الخوارج ( جلد اص۱۳۱) میں تحریر کرتے ہیں:

ويصنع بقتلى أهل العدل ما يصنع بالشهيد فلا يغسلون ويصلى عليهم هكذا فعل على رضي الله عنه بمن قتل من اصحابه و به اوصى عمار بن یاسر و حجر بن عدی و زید بن صوحان رضی الله عنهم حين استشهدوا.. ولا يصلى على قتل أهل البغي.

" اور جو لوگ اہل عدل میں سےقتل ہوں، تو ان کےساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو شہداء کےساتھ ہوتا ہے۔ یعنی غسل دیئے بغیر ان کا جنازہ پڑھا جائے گا۔ حضرت علیؓ نے اپنے مقتول ساتھیوں کے ساتھ یہی کیا تھا اور عمار بن یاسر، حجر بن عدی اور زید بن صوحان رضی اللہ عنہم نے شہید ہوتےوقت یہی وصیت کی تھی - - - - اور جو لوگ باغیوں میں سے قتل ہوں ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔"

اب ایک طرف شمس الائمه سرخسی ہیں جو واضح الفاظ میں حضرت حجر بن عدی کو اہل بغی کےبجائے اہل عدل کی صف میں شمار کر رہے ہیں۔ انہیں شہید کا لقب دے رہے ہیں اور ان پر جنازہ پڑھنے کو مشروع قرار دے رہے ہیں (حالانکہ ان کے ہاں باغی مقتولوں کا جنازہ جائز نہیں ) اور دوسری طرف مفتی زادہ محمد تقی عثمانی صاحب ہیں جو حضرت حجر بن عدی کو باغی اور واجب القتل ثابت کرنے کی سعی نا کام میں ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں ! بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوا حجمی ست -

امام ابوالحس الماوردی نے بھی الاحکام السلطانیه میں جہاں باغیوں سے جنگ پر بحث کی ہےوہاں صاف لکھا ہے کہ باغیوں میں سےکوئی شخص زیادہ فتنہ میں حصہ لیتا ہو تو اسکو امام تنبیہا سزادےسکتا ہےمگر قتل نہیں کرسکتا۔کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ مسلمان کاخون تین صورتوں کےسوا حلال نہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ باغیوں کی جنگ اور مشرکین و مریدین کی جنگ میں آٹھ چیز میں مابہ الامتیاز ہیں۔ پہلی یہ کہ باغیوں کو سرکشی سے روکنا مقصود ہوتا ہے قبل وہلاک کرنا مقصود نہیں ہوتا اور مشرک و مرتد کا قتل بھی مقصود بالذات قرار دینا جائز ہے۔ دوسری یہ کہ باغی سامنا کریں تو قتل کیےجائیں، ورنہ نہیں اور مشرک و مرتد ہر طرح قتل کیے جاسکتے ہیں۔ تیسری یہ کہ باغیوں کے زخمی قتل نہ کیے جائیں اور مشرکین و مرتدین کے زخمی قتل کرنے جائز ہیں۔ جنگ جمل میں حضرت علیؓ نے اپنےنقیب کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا تھا کہ خبردار بھاگنے والے کا تعاقب نہ کیا جائے ، زخمی کو قتل نہ کیا جائے۔ چوتھی یہ کہ باغیوں کے قیدی محض بند کیے جائیں، مشرک و مرتد قیدی قتل کیے جاسکتے ہیں۔باغی قیدیوں کے متعلق یہ ہے کہ جس کے بارے میں یہ اطمینان ہو کہ پھر با غیوں میں شریک نہ ہوگا،تو چھوڑ دیا جائے،ورنہ جنگ کا مطلع صاف ہونےتک قید رکھا جائے اور اس کے بعد چھوڑ دیا جائےپھر محبوس رکھنا بھی جائز نہیں (بقیہ امور لونڈی غلام بنائےجانےاور غصب اموال وغیرہ سےمتعلق ہیں ) ۔ الاحکام السلطانیہ مترجم نفیس اکیڈیمی ص ۱۰۱-۱۰۲۔

(عربى المطبعة المحمودية مصرص ۵۶)


١- یہ امر واضح رہے کہ فقہاء کرام کے ہاں اہلِ العدل اور اہل البغی کی اصطلاحیں ایک دوسرے کےبالمقابل استعمال ہوتی ہیں۔امام عادل اور ان کےساتھیوں کو اہل عدل اور ان کےخلاف لڑنے والوں کو اہل بنی کہا جاتا ہے۔

قاضی ابو یعلی محمد بن الحسین الفراء نے اپنی تالیف الاحکام السلطانی" باب قال اہل البغی،میں یہی بات بیان فرمائی ہے۔ وہ ص ۳۹ پر لکھتے ہیں:

وجاز للامام ان يعزر من تظاهر بالعناد ادبا وتعزيرا، ولم يتجاوزه الى قتل . ولا حــلـقـول الـنبـي صلى الله على وسلّم "لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث کفر بعد ایمان وزنی بعد احصان وقتل نفس بغير نفس“ (رواه البخاري ومسلم وأبو داود والترمذي والنسائي عن عبدالله بن مسعود رضي الله عنه.

"اور امام کے لیے جائز ہے کہ وہ عناد کا مظاہرہ کرنے والےکی تادیب و تعزیر کرے مگر اسےقتل یا حد کی سزا نہ دے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسلمان کا خون حلال نہیں ہےسوائے تین صورتوں کے، پہلی یہ ہےکہ وہ ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے،دوسری یہ کہ شادی کےبعد زنا کرے،تیسری یہ کہ وہ ایسےشخص کو قتل کرے جس نے کسی متنفس کو قتل نہ کیا ہو ۔ “

پھر فرماتے ہیں:

لا يقتل أسراهم ويجوز قتل اسرى اهل الحرب والمرتدين.

"باغیوں میں سے جو مسلمان اسیر کیے جائیں، وہ قتل نہیں کیے جائیں گے اور حربی کافروں اور مرتدوں کے قیدی قتل کیے جائیں گے۔“

پھر باغیوں ہی کے متعلق لکھتے ہیں:

ويعتبر احوال من في الأسر منهم فمن امنت رجعة الى القتال اطلق ومن لم تومن منه الرجعة حبس حتى ينجلى الحرب ثم يطلق ولا يحبس بعدها.

"باغیوں میں سے جو قید کیے جائیں ان کے حالات کو جانچا جائے گا۔ جن کے بارےمیں اطمینان ہو کہ دوبارہ قتال نہیں کریں گے، انہیں رہا کر دیا جائے گا اور جن کے متعلق ایسا اطمینان نہ ہو انہیں اس وقت تک قید رکھا جائے گا جب تک کہ لڑائی کا خاتمہ نہ ہو جائے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور اس کے بعد قید نہیں رکھا جائے گا۔“

امام ماوردی اور ابو یعلیٰ کےان ارشادات سے یہ بات قطعی طور پر واضح ہے کہ مسلمان باغی کے لیے سزائے قتل تو در کنار، اس کےلیے جس دوام کی سزا بھی جائز نہیں ہے۔ اسے یا تو گرفتاری کے بعد ہی رہا کر دیا جائے گا یا پھر خاتمہ جنگ تک اسے قید رکھا جائےگا اور بعد میں رہا کر دیا جائےگا۔ امام نووی نے شرح مسلم، کتاب الزکوۃ، باب مؤلفة القلوب میں اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ خوارج و بغاۃ کے قیدیوں کا قتل جائز نہیں۔ (لا يقتل اسیرھم)

مسلمان کا قتل کن صورتوں میں جائز ہوتا ہے

بہر کیف سابق بحث سےیہ بات واضح ہو گئی کہ کتاب و سنت قتل مسلم کی اجازت صرف ان صورتوں میں دیتی ہےجب کہ اس نےقاتل یا سارق یا قطع طریق کی حیثیت سےقتل نفس کا ارتکاب کیا ہو، یا شادی کے بعد زنا کیا ہو،یا اسلام لانے کے بعد ارتداد کی راہ اختیار کی ہو۔جہاں تک بغاوت یا بغی کی اسلامی و شرعی اصطلاح کا تعلق ہےاس کا اطلاق ہر فتنه و فساد اور ہر شورش اور ہر ایجی ٹیشن پر نہیں ہو سکتا۔اہل یعنی سےمراد ایک ایسی طاقت ور جمعیت اور بھاری گروہ ہےجو اسلحہ یعنی آلات جارحہ سےلیس ہو کر اور کسی سیاسی و اعتقادی تاویل کو سامنےرکھ کر اہل عدل کےخلاف با قاعدہ قتال کرےاس طرح کے باغیوں کے گروہ کے خلاف لڑنے کا حکم اسلامی حکومت کو دیا گیا ہے۔ لڑائی کےدوران میں ان باغیوں کا قتل جائز ہےلیکن لڑائی کے بعد زخمیوں، قیدیوں اور بھاگنے والوں کا قتل جائز نہیں۔ ان میں سے صرف وہی باغی گرفتار ہونے کے بعد قتل کیا جاسکتا ہے جس نے اس قبال سےقبل یا بعد میں کسی ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہو جس کی سزا قتل ہو۔ یا پھر جس باغی کے سارے ساتھی قابو میں نہ آسکتے ہوں اور اس کے زندہ رہنے کی صورت میں ان پر قابو پانا اور بغاوت کو فرو کر ناممکن نہ ہو، اس باغی کا قتل بھی بعض فقہاء کے نزدیک جائز ہے۔

یہاں ایک اعتراض یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر اسلام میں سزائے قتل صرف انہی جرائم پر دی جا سکتی ہے جو او پر مذکور ہوئے تو پھر ان احادیث کا مفہوم و مدعا کیا ہے جن میں فرمایا گیا کہ ایک خلیفہ برحق کی موجودگی میں دوسرے مدعی کو ماردو، اس کی گردن تلوار سے اڑا دو۔ شارحین حدیث نے ان ارشادات نبوی کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ایسے شخص کے خلاف دفاع وقتال کرو۔ امام نووی نےمسلم، کتاب الامارہ میں فاضربوا عنق الآخر کے بعد لکھا ہے:

معنا ادفعوا الثاني فإنه خارج على الإمام فان لم يندفع إلا بحرب وقتال فقالتوه

"ایک خلیفہ کے مقابلے میں جب دوسرا مدعی کھڑا ہو جائےتو دوسرےکی گردن مارنے کےمعنی یہ ہیں کہ دوسرے کو دفع کرو کہ وہ امام کے خلاف خروج کر رہا ہے۔ اگر جنگ کے بغیر اس کا دفعیہ ممکن نہ ہو تو اس سے لڑو ۔“

ملا علی قاری شرح فقہ اکبر میں ، نصب الامام کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

والأمر بقتله محمول كما صرح به العلماء على ما إذا لم يندفع الا باقتل.

"حدیث میں دوسرے خلیفہ کو قتل کرنے کا جو حکم ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر قتل کیے بغیر دفاع ممکن نہ ہو، تب اسے قتل کر وجیسا کہ علماء نے صراحت کی ہے۔“

اگر یہ مفہوم نہ ہو تو حضرت حجر بن عدی تو در کنار، انہیں قتل کی سزا دینے والے حضرت معاویہؓ خود حضرت علی کے مقابلے میں (معاذ اللہ ) اس سزا کے مستوجب قرار پاتے ہیں۔ اللہ کا قانون بےلاگ ہے، وہ اشخاص و افراد کو نہیں بلکہ افعال کو دیکھتا ہے۔

اسی سلسلے کا ایک اشکال اور بھی ہے جس کی طرف اشارہ ہو چکا ہے۔ وہ یہ کہ بعض روایات میں ان تین یا چار صورتوں کے علاوہ بعض دوسرے افعال کے مرتکب کو قتل کرنے کا حکم بھی آیا ہے جس کے مطابق عمل کا فتویٰ بعض فقہاء نے دیا ہے۔اسی طرح بعض فقہاء اس بات کے بھی قائل ہوئےہیں کہ بعض حالات میں پھانسی یاقتل کی سزا بطور تعزیر بھی دی جاسکتی ہے جسے وہ سیاسیہ قتل کا عنوان دیتے ہیں۔اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ بعض احادیث میں جن جرائم پر قتل کی وعید ہے وہ بالعموم ان تین صورتوں کے مشابه ہیں جن پر سزائے قتل بلا اختلاف داشتباہ قرآن اور سنت نبوی سےثابت ہےمگر یہ جرائم ایسےغیر فطری، گھناؤنے یا نادر الوقع ہیں کہ غالباً اسی بناء پر شارع نے ان کا ذکر ثلاث خلال کے ساتھ مناسب یا ضروری خیال نہیں فرمایا۔ مثال کے طور پر محرمات یا جانوروں یا مردوں سے بدعملی، ساحری، جاسوسی کے جرائم پر بعض فقہاء نے قتل کی سزا تجویز کی ہےکیونکہ یہ کسی نہ کسی اعتبار سےان افعال کیسا تھ ملحق ہو سکتےہیں جن پر قتل کی حد مقرر ہے۔ اسی طرح جو مجرم بار بار ایسےجرائم کا ارتکاب کرے جو موجب حد ہوں اور قتل سے کم درجے کی سزا اسے باز نہ رکھ سکے، مثلاً وہ بار بار چوری یار ہرنی کا مرتکب ہو تو ایسے عادی مجرم کا قتل بھی بعض فقہاء کے نزدیک جائز ہے اور بعض ارشادات نبوی سے بھی ایسے مجرمین کے قتل کا جواز نکل سکتا ہے۔

تعزیری قتل کی ان شکلوں اور ان کے جواز و عدم جواز کا کوئی تعلق قانونِ بغاوت سے نہیں ہے،اور حضرت حجر بن عدی کے قتل کا جواز عثمانی صاحب جرم بغاوت کے تحت ثابت کرنا چاہتے ہیں،اس لیے میرے لیے سیاستہ اور تعزیراقتل کا مسئلہ چھیڑنا غیر ضروری تھا۔ تاہم میں نےرفع اشکالات اور قارئین کےذہنوں کو صاف رکھنے کے لیےاس پہلو کا ذکر بھی بالاختصار کر دیا ہے۔ اسکے ساتھ میں یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ فقہاء ومحدثین کی اکثر تعداد بہر حال ایسی ہے جو قتل مسلم کا جواز فقط انہی تین صورتوں تک محدود رکھتی ہے جو مذکورہ بالا مشہور اور صحیح ارشاد نبوی میں بیان ہوئی ہیں اور جسےحضرت عثمان نے اپنے محاصرے کے دوران میں باغیوں کےسامنےپیش فرمایا تھا۔ چوتھی جائز صورت دفاعی قتل کی ہے، یعنی ایک مسلمان اگر جارحانہ، باغیانہ یا محاربانہ حیثیت میں سامنے آکھڑا ہو تو اس کے حملے کو دفع کرتے ہوئے اگر وہ قتل ہو جائےتو یہ فعل قتل جائز ہوگا۔جمهور فقہاء کےنزدیک ان حالتوں کےماسواء ایک مسلمان پر کوئی ایسی حد یا تعزیر نافذ نہیں کی جاسکتی جس کا مقصد اس کی جان کو ہلاک کرنا ہو۔البتہ اس کی زندگی کو باقی رکھتےہوئے شدت جرم کے لحاظ سے اسے بڑی سے بڑی سزا دی جاسکتی ہے۔ قاضی ابو یعلی کا قول پہلے نقل کیا جا چکا ہے جس سے تعزیری قتل کا عدم جواز ثابت ہوتا ہے۔ امام ماوردی نے بھی الاحکام السلطانیہ میں یہی بات لکھی ہے۔ اس کتاب کی فصل التعزیر میں وہ فرماتے ہیں۔

لا يجوزان يبلغ بتعزير انهار الدم.

" تعزیر کے ذریعے سے خون بہانا جائز نہیں ہے۔“

گزشتہ بحث سے یہ حقیت واضح ہو کر سامنے آچکی ہے کہ حکومت وقت پر تنقید اور اس کےخلاف مزاحمت و تحریک کی ہر شکل وصورت حتی که شورش و بدامنی کا ہر اقدام بھی قانون شریعت کی نگاہ میں بغاوت (Sedition or Revolt) کی تعریف میں نہیں آ سکتا۔اسلام میں جرم بغاوت کےمتحقق ہونےکےلیےچند شرائط لازم ہیں،جن میں اہم ترین شرطیں دو ہیں۔پہلی یہ ہےکه مجرمین جبر و تشدد کےذریعےسےحکومت کا تختہ الٹنا چاہیں،عدم اطاعت کی روش سےتنظیم حکومت کو درهم برهم کر دینا انکا مقصود ہو اور امام عادل کےخلاف وہ کھلملکھلا اورمسلح خروج کا ارتکاب کریں۔دوسری شرط یہ ہےکہ وہ اپنی تعداد تنظیم اور جنگی ساز و سامان کے لحاظ سےاتنی سیاسی و مادی طاقت و شوکت کےمالک ہوں کہ انہیں حربی کارروائی کےبغیر آسانی سےقابو میں نہ لایاجاسکتا ہو۔اگر یہ بنیادی شرائط موجود نہ ہوں تو مجرمین پر قانون بغاوت کااطلاق نہ ہوگا،بلکہ وہ محاربہ، فساد،سرقہ،رهزنی_١و غیره سےمتعلق دوسرےقوانین شرعیہ کےتحت ماخوذ ہوں گےاس کےساتھ دوسری حقیت جو میری بحث سےثابت ہوتی ہےوہ یہ ہےکہ اسلام میں فعل بغاوت فی نفسه موجب قتل نہیں ہے اسلام نے ہر باغی کو پکڑ کر قتل کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ حکم یہ دیا ہے کہ باغی گروہ کےخلاف قتال کرو، ان سے لڑو، یہاں تک کہ وہ پسپا اور مطیع ہو جائیں۔ قتال کے دوران میں جو باغی قتل ہو جائے ، ہو جائے۔ لیکن جو زخمی یا اسیر یا مفرور ہو جائےاسےگرفتاری کےبعد قتل کرنا جائز نہیں۔اس بحث میں ضمنا یہ امر بھی واضح ہو گیا کہ مسلمان کا قتل صرف تین حالتوں میں جائز ہے،ایک یہ کہ وہ نکاح کے بعد زنا کرے، دوسری یہ کہ وہ کفر وارتداد اختیار کرے، تیسری یہ کہ وہ ناحق قتل عمد کا مرتکب ہو ۔ محمد تقی صاحب نےحضرت حجر بن عدی کو باغی اور واجب القتل ثابت کرنے میں جو تیں سے زائد صفحات سیاہ کیےہیں، اپنی اب تک کی بحث کی روشنی میں میرےلیےان کےجواب میں فقط یہ کہ دینا کافی ہو سکتا ہےکہ حضرت حجر بن عدی یا ان کےکسی رفیق کےکسی فعل پر بھی بغاوت کا اطلاق نہیں ہوسکتا تھا اور بالفرض اگر انکا کوئی فعل بغاوت کی تعریف میں آتا تھا، تب بھی گرفتار ہو جانےکےبعد ان کا قتل از روئے اسلام ہرگز جائز نہیں تھا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عثمانی صاحب نےاس طویل خامہ فرسائی میں استدلال کے جو جو ہر دکھائے ہیں اور حضرت حجر کو مباح الدم ثابت کرنے میں جس طرح ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے، اس سے بالکل صرف نظر کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔اس لیے اب میں اس پر بھی اپنا جائزہ پیش کرتا ہوں۔

حضرت حجر" کا مرتبہ گھٹانے کی کوششیں

عثمانی صاحب کا ایک شکوہ یہ بھی ہےکہ ”مولانا مودودی نےحضرت حجر بن عدی کو علی" الاطلاق"زاہد و عابد صحابی کہ دیا ہے، حالانکہ ان کا صحابی ہونا مختلف فیہ ہے۔ ابن سعد اور مصعب زبیری کا کہنا تو یہی ہے کہ یہ صحابی تھے لیکن امام بخاری، ابن ابی حاتم اور ابن حبان نے انہیں تابعین میں شمار کیا ہے اور ابواحمد عسکری کے نزدیک اکثر محدثین ان کا صحابی ہونا صحیح قرار نہیں دیتے۔"لیکن حضرت حجر بن عدی کے متعلق جو کچھ محدثین و مؤرخین نے لکھا ہے اگر اسے بحیثیت مجموعی سامنے رکھا جائے تو عثمانی صاحب ہی کے الفاظ میں یہ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے محدثین کی تحریروں کے"ضروری اجزاء حذف کر کے بڑا ہی خلاف واقعہ تاثر قائم کیا ہے۔"البدایه اور الاصابه سےانہوں نےوہ اقوال تو نقل کر دیئےجو حضرت حجر کی صحابیت کےمتعلق اشتباه پیدا کرتے ہیں لیکن ان اقوال کو چھوڑ دیا ہے جو ان کا صحابی ہونا ثابت کرتے ہیں۔ مثلاً البدایہ کے جس صفحے کا حوالہ انہوں نے دیا ہے، اس کے شروع ہی میں درج ہے۔


١- علمائے سلف نےاپنی تحریروں میں کہیں کہیں بھی ہمار بہ، اور فساد فی الارض وغیرہ الفاظ کو مترادف و ہم معنی بھی استعمال کیا ہےلیکن خالص قانونی و فقهی مباحث میں جہاں انہوں نےان اصطلاحات کی تعریف بیان کی ہے وہاں ایک کو دوسری سے بالکل ممیز کر دیا ہے۔

قال ابن عساكر وفدالى النبي صلى الله عليه وسلم.

" ابن عساکر نے فرمایا کہ حضرت حجر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔“

اسی طرح مرز بائی کا یہ قول بھی منقول ہے کہ حجر بن عدی

وفد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم مع أخيه هانئ بن عدي.

" حجر بن عدی اپنے بھائی ہانی بن عدی کے ساتھ وفد کی صورت میں خدمت نبوی میں حاضر ہوتے تھے ۔“

حافظ ابن عبدالبر الاستیعاب میں فرماتے ہیں۔

كان حجر من فضلاء الصحابة.

" حجر صاحب فضیلت صحابہ میں شامل تھے۔“

پھر وہ امام احمد کے حوالے سے بیٹی بن سلیمان کا قول نقل کرتے ہیں کہ حجر بن عدی مستجاب الدعوۃ اور افاضل اصحاب النبی میں سے تھے۔ اس کے بعد استیعاب میں ابن نافع سے منقول ہے کہ وہ حضرت حجر کو رجل من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم قرار دیتے ہوئے ان سےایک حدیث روایت کرتے ہیں کہ قال النبی صلی الله عليه وسلم "ان قوماً يشربون الخمر يسمونها بغير اسمها.

حافظ ابن حجر نے الاصابه میں امام حاکم کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت حجر اور ان کے بھائی حضرت ہانی بن عدی وفد کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لائےتھے ۔ پھر ابن حجر نے ابو بکر بن حفص کا قول نقل کیا ہےکہ انہوں نے حضرت حجر کو صحابی قرار دیتےہوئےان سے ایک حدیث روایت کی ہے کہ ان قوما يشــربـون الخمر يسمونها بغير اسمها .

صحابہ کرام کے سوانح پر مشتمل تیسری مشہور کتاب اُسد الغابه میں ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ حضرت حجر" کا لقب حجر الخیر ( نیکوکار فجر )مشہور تھا اور آپ اپنےبھائی کےساتھ آنحضور کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے تھے اور افاضل صحابہ اور اعیان صحابہ میں شمار کیے جاتے تھے۔

امام حاکم نے اپنی کتاب المستدرک، جلد میں صحابہ کے حالات بیان کرتے ہوئے صفحہ ۴۶۸ پر ایک باب کا عنوان قائم کیا ہے:

مناقب حجر بن عدى رضى الله عنه وهو راهب أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم.

" حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے مناقب جو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سےدرویش صفت اور زاہد منش انسان تھے ۔“

امام ذہبی کی تلخیص مستدرک میں بھی یہی عنوانِ باب موجود ہے اور انہوں نے حاکم کے اس بیان سے اختلاف نہیں کیا ہے۔ اب ان سارے محدثین و مؤرخین کی تصریحات کے بعد آخر یہ بات کیسےہو سکتی ہےکه "اکثر محدثین" حضرت حجر کا صحابی ہونا صحیح تسلیم نہیں کرتےاور عثمانی صاحب کا یہ شکوہ کیسےبجا ہو سکتا ہےکہ مولانا مودودی نےانہیں علی الاطلاق زاہد و عابد صحابی کہہ دیا ہے۔اگر عثمانی صاحب برا نہ مانیں تو میں عرض کروں کہ انہوں نےحضرت حجر کی صحابیت کو مشکوک بنانے کےلیےیہ سارا زور اس لیےصرف فرمایا ہےکہ ایک صحابی کو واجب القتل مجرم ثابت کرنےسےان کی یہ پوزیشن مجروح ہوئی جا رہی تھی کہ ان کے اس مضمون کا محرک واقعی حمایت صحابہ کا جذبہ ہے۔ ظاہر بات ہےکہ ایک صحابی کی خاطر دوسرے صحابی کو مجرم اور سزا وار تقتل ثابت کرنے والا آدمی حمایت صحابہ کا علمبر دار تو نہیں بن سکتا۔

حضرت حجر کی فرد جرم

اب ہم اس فرد جرم کی ایک ایک شق کو لیتےہیں جسےعثمانی صاحب نےحضرت حجر"کو باغی ثابت کرنےکے لیے بڑی جزرسی کےساتھ مرتب کیا ہےانکا پہلا الزام اس سلسلےمیں یہ ہےکہ حضرت حجر امیر معاویہ کی حکومت کےخلاف تھےاور وہ حضرات حسنین کو بھی بار بار بغاوت پراکساتےرہےلیکن یہ دونوں بزرگ کسی قیمت پر بھی امیر معاویہ کے خلاف اٹھنے پر آمادہ نہ ہوئے۔حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ خلافت کا آل ابی طالب کے سوا کوئی مستحق نہیں۔


١-صحابیت کا مطلق یا غیر مطلق یا مشروط و غیر مشروط ہونا یہ ایک نرالی اصطلاح ہے جو پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے۔

اس کا جواب یہ ہےکہ کسی خلیفہ کی حکومت کو خوش دلی سےتسلیم نہ کرنا اور کسی دوسرےکو اسکےخلاف اکسانا، یا کسی کونسی کے مقابلہ میں خلافت کا مستحق سمجھنا شرعا جرمِ بغاوت کی تعریف میں نہیں آتا، بالخصوص جب کہ اس اکساہٹ کی حوصلہ شکنی دوسرے کی جانب سے ہو جائے اور عملاً کوئی بغاوت برپا نہ ہو۔حضرت سعد بن عبادہ نےآخر دم تک حضرت ابوبکر کی بیعت نہ کی اور وہ انصار کو مستحق خلافت سمجھتے تھےیہ مشهور تاریخی واقعہ ہےبعض مؤرخین کا بیان ہےکہ وہ حضرت ابوبکر و عمر کےپیچھے نماز پنجگانہ اور جمعہ نہیں پڑھتے تھے ، نہ ان کی قیادت میں حج کرتے تھے ۔ اگر انہیں ساتھی مل جاتے تو وہ ان سے جنگ آزما ہونےمیں بھی تامل نہ کرتےلیکن کسی نے انہیں باغی قرار دے کر نہ قید کیا، نہ قتل کیا۔ دوسرا مشہور تاریخی واقعہ حضرت امیر معاویہ کے والد ماجد حضرت ابوسفیان کا ہےجسےاستیعاب اور دوسری کتابوں میں بیان کیا گیا ہے۔جب حضرت ابو بکر کی بیعت ہوئی تو ابوسفیان حضرت علی کے پاس آکر کہنے لگے کہ یہ کیا ہوا کہ قریش کےسب سےچھوٹے قبیلے نےخلافت پر قبضہ کر لیا ؟ اے علی ، اگر تم پسند کرو تو خدا کی قسم میں اس وادی کو پیادوں اور سواروں سے بھر سکتا ہوں ۔ حضرت علی نے جواب میں فرمایا کہ تم ہمیشہ اسلام اور اہل اسلام کے دشمن بنے رہے،مگر اس سے اسلام اور مسلمانوں کو کوئی ضرر نہ پہنچ سکا۔ ہماری رائے یہ ہے کہ ابو بکر منصب خلافت کے اہل ہیں۔ یہ واقعہ متعدد کتابوں میں نقل ہوتا چلا آ رہا ہے، امام ابن تیمیہ نے بھی اسے منہاج السنہ میں کئی بار نقل کیا ہے، بلکہ یہاں تک لکھ دیا ہے:

فقد أراد ابوسفیان وغيره ان تكون الإمارة فى بنى عبد مناف على عادة الجاهلية فلم يجبه الى ذالک علي ولا عثمان ولا غيرهما بعلمهم ودينهم.

" ابوسفیان اور کچھ دوسروں نےچاہا تھا کہ جاہلیت کےطریقےکےمطابق امامت بنو عبدمناف میں ہو مگر حضرت علی، حضرت عثمان اور دوسرے صحابہ کرام نے اپنے علم و تدین کی بنا پر ان کی اس خواہش کی حوصلہ افزائی نہ کی_١ اب میں عثمانی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر حضرت حجر حضرت حسن یا حسین کو امیر معاویہ کےخلاف اکسانے کی بنا پر جرم بغاوت کے مرتکب تھے، تو کیا حضرت ابو سفیان اس جرم کے بدرجہ اولیٰ مرتکب نہ تھے ؟ پھر کیا وجہ ہے کہ خلفائے راشدین میں سے کسی نے بھی انہیں اس جرم میں ماخوذ نہ کیا ؟


١- ملاحظہ ہو منہاج السنہ جلد اول ص ۱۶۱۔ المطبعة الامیر نیہ، بولاق مصر، ۱۳۲۱ء ، جلد ثانی ص ۱۶۹ جلد رابع ص ۱۲۳۔

دوسرا جرم حضرت حج کا عثمانی صاحب نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ حضرت عثمان اور حضرت معاویہ پرکھلم کھلا طعن کرتے تھے، حالانکہ حضرت معاویہ کےکسی گورنر نے کبھی حضرت علی کی شان میں ایسی کوئی بات نہیں کہی ۔ لیکن امرائے معاویہ کی بات بات پر ان کے خلاف شورش کرنا حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کی عادت بن گئی تھی۔

سب و شتم علی واهل بیت کے مسئلے پر جو مفصل بحث میں کر چکا ہوں، اس کے بعد نہیں معلوم که عثمانی صاحب اب بھی اس دعوے سے رجوع فرما ئیں گے یا نہیں کہ حضرت معاویہ کے کسی گورنر نے حضرت علی کی شان میں کبھی کوئی بری بات نہیں کہی۔ میں نےناقابل انکار حوالوں سے یہ ثابت کر دیا ہےکہ طعن و تشنیع اور سب وشتم کا آغاز امیر معاویہ اوران کے گورنروں کیجانب سے ہوا تھا اور حضرت حجر یا کسی دوسرے صاحب نے اس کے خلاف احتجاج کی جو صورت بھی اختیار کی ہےوہ ایک جوابی رد عمل تھا۔ اور اگر اس طعن و تعریض کا نام بغاوت ہے،تو خلیفہ راشد کی موجودگی اور ان کے عہد خلافت میں جنہوں نے اس فعل کو انجام دیا، سب سےپہلےبغاوت کے مرتکب وہ ہوں گےاور ان کا جرم جوابی احتجاج کرنےوالوں کےبالمقابل سنگین تر ہوگا۔ میں کہتا ہوں کہ سب وشتم کا آغاز اور اسکےجواب میں سب و شتم جس نے بھی کیا ہے، بہت برا کیا ہے۔آج بھی جو ایسا کرتا ہے،بہت برا کرتا ہے۔لیکن یہ جرم بغاوت کےمترادف نہیں، نہ اس کی سزا قتل ہے۔بعض علمائےسلف اس بات کےقائل تو ہوئےہیں کہ شاتم رسول واجب القتل ہے۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے سوا کسی دوسرےکی بدگوئی کرنایا اسےگالی بھی دےدینا اسلام میں ہرگز موجب قتل نہیں_١ حضرت حجر بن عدی کےخلاف بغاوت اور سزائے قتل کا مقدمہ تیار کرتےوقت عثمانی صاحب کا یہ کہنا کہ فلاں گورنر کےسامنے انہوں نے لعن طعن کیا ، ایک خواہ مخواہ کا خلط مبحث ہے۔ اگر ایک گورنر علانیہ ایک صحابی کو، اور وہ بھی معمولی صحابی نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین عزیز اور خلیفہ راشد کو، ان کی وفات کےبعد گالیاں دے رہا ہو، جسے حضرت ام سلمہ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سب و شتم قرار دیا ہے، اس پر کوئی مسلمان مشتعل ہو کر اس کا ترکی بہ ترکی جواب دے تو اسے بغاوت ، اور وہ بھی مستوجب قتل بغاوت قرار دینے کی جرات صرف عثمانی صاحب جیسے لوگ ہی کر سکتے ہیں۔


١- بعض کے نزدیک موجب قتل تو در کنار موجب تعزیر بھی نہیں ۔ حضرت علی کی حدود سلطنت میں رہ کر خوارج انہیں گالیاں دیتےتھےمگر اس پر حضرت علی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرتےتھے۔اس پر امام سرخسی مبسوط ،جلد، صفحہ ۱۲۵ میں فرماتے ہیں:

وفيه دليل على ان التعريض بالشتم لا يوجب التعزير .

" اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ فرمانروا کو گالی دینا موجب تعزیر نہیں ہے۔“

حضرت حجر" کی سرگرمیاں

یہ چیز فی الواقع میرے سخت موجب حیرت ہے کہ حضرت حجر بن عدی کی قیام کوفه کے دوران میں انتشار پسندانہ اور باغیانہ سرگرمیوں کی داستان تو محمد تقی صاحب نےلمبی چوڑی بیان کر دی ہے،لیکن امیر معاویہ کےگورنروں کے اس طرز عمل کو بالکل ہی گول کر دیا گیا ہے جس کے رد عمل میں وہ ساری سرگرمیاں ظہور میں آئیں جن پر بغاوت کا ٹھپہ لگایا جارہا ہےمؤرخ ابن خلدون جنہوں نےمولانا محمد تقی صاحب کے بقول اس دریائے خون میں بڑی سلامت روی سےشناوری کی ہےاپنی تاریخ( جلد ۳، ص ۱۱) میں جہاں ان واقعات کا آغاز کرتےہیں جو حضرت جڑ کے قتل پر منتج ہوئے ، وہاں وہ بھی یہ کہے بغیر نہیں رہ سکے ہیں کہ:

كان المغيرة بن شعبة أيام إمارته على الكوفة كثيرا ما يتعرض لعلّى في مجالسه وخطبه.

"مغیرہ بن شعبہ کوفہ کی امارت کے زمانہ میں اکثر اپنی مجالس اور خطبوں میں حضرت علی پر طعن و تعریض کرتے تھے۔“

اس کے بعد زیاد نے جو طوفانِ بدتمیزی وہاں بپا کیا اور جن مظالم کا ارتکاب کیا، وہ تو رسوائےروزگار ہیں۔ جگہ جگہ عثمانی صاحب خود تسلیم کر رہے ہیں کہ وہ حضرت حجر کو بار بارقتل کی دھمکیاں دیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں کوفہ کی زمین کو جڑ سے پاک نہ کر دوں اور اسے آنے والوں کے لیے سامانِ عبرت نہ بنادوں تو میں بھی کوئی چیز نہیں۔ اس کے باوجود صاحب موصوف کے تجاہل عارفانہ کا یہ عالم ہے کہ فرماتے ہیں کہ واقعے کی تمام تفصیلات دیکھنے کے بعد ہمیں تو زیاد کے بارے میں کہیں یہ نظر نہ آسکا کہ اس نے اصولِ شرع کے خلاف کوئی کام کیا ہو۔ زیاد کے سفاکانہ جرائم کا حال میں ابن خلدون وغیرہ کی زبانی پہلے نقل کر چکا ہوں۔ استیعاب میں حافظ ابن عبدالبر نےبھی یہی لکها ہےکہ حضرت معاویہؓ نےجب زیاد کو عراق کا والی بنایا تو اس نے درشتی اور بدخلقی کا مظاہرہ کیا۔ (اظهر من الغلظة وسوء السيرة استيعاب، جلد ۱، ص ۳۵۵)۔

حضرت حجر کے خلاف بغاوت کے الزام کو آخری حد تک پہنچانے کے لیے انتشار پسندی اور سب وشتم کے علاوہ مزید الزام جو عثمانی صاحب نے لگایا ہےوہ یہ ہےکہ حضرت حجر اور ان کےساتھیوں نے گورنر کوفه پر پتھر برسائے اور باقاعدہ لاٹھیوں اور پتھروں سےلڑائی کی۔واقعہ یہ ہےکہ اس تیسرے الزام کو ثابت کرنے کے لیے جو بھینچ تان کی گئی ہےاور جسطرح پر کا کو اور سوئی کا بھالا بنانےکی کوشش کی گئی ہےاس کی داد نہ دینا بڑی بے انصافی ہوگی۔مثال کےطور پر مؤرخین کےبیان کےمطابق زیاد کو بصرےمیں اطلاع دی گئی کہ حضرت حجر کےپاس شیعان علی جمع ہوتے ہیں۔وانهم حصبوا عمرو بن حریث، اور انہوں نےحضرت عمرو بن حریث کو (جو کوفے میں زیاد کے نائب تھے ) کنکریاں ماری ہیں۔ اس کا ترجمہ عثمانی صاحب نے اپنی کتاب صفحہ ۴۲ میں یہ کیا ہےکہ انہوں نے پتھر برسائے ہیں۔ آخر میں جہاں جرم بغاوت کے اجزائے ترکیبی کو دہرایا گیا ہےوہاں پھر عثمانی صاحب لکھتےہیں کہ گورنر کوفه حضرت عمرو بن حریث پر پتھر برسائے۔عثمانی صاحب کو چاہیےتھا کہ ساتھ ہی یہ بھی اضافہ فرما دیتےکہ ان پتھروں کی بارش سےکچھ لوگ زخمی یا ہلاک بھی ضرور ہوئے ہوں گے اور مؤرخین نے اگر اس کا ذکر نہیں کیا تو یہ عدم ذکر ہی تو ہے، ذکرِ عدم تو نہیں_١

اس کےبعد جو واقعات عثمانی صاحب نےنقل کیےہیں، وہ مختصر یہ ہیں : ” زیاد اس کے بعد خود کوفے میں آیا، ایک طویل خطبہ دیا،جب نماز فوت ہو جانےکا اندیشہ ہوا تو حجر نےاس پر بھی کنکریاں دےماریں۔زیاد نے سارے حالات حضرت معاویہ کو لکھ بھیجےانہوں نےحکم دیا کہ حجر کو گرفتار کر کےمیرےپاس بھیج دو۔ زیاد نے پولیس افسر کےذریعے سےانہیں بلوایا مگر انہوں نےانکار کیا۔ زیاد نے زیادہ آدمی دے کر بھیجا کہ انہیں لے آؤ، ورنہ ان سے لڑائی کرو۔اس پر فریقین میں لاٹھیوں اور پتھروں سےلڑائی ہوئی_٢ مگر حجر گرفتار نہ ہو سکےاور فرار ہو کر کندہ کے محلےمیں پہنچے۔یہاں بھی جنگ ہوئی اور ایک شخص نے رزمیہ اشعار پڑھے کہ اے حجر کی قوم، دفاع کرو اور حملہ کرو اور اپنے بھائی کی طرف سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ ۔“ یہاں سے حجر پھر فرار ہو کر روپوش ہو گئے۔آخر کا رامان کی شرط منوا کر وہ خود ہی زیاد کے سامنے پیش ہو گئے۔“


١- اس سلسلہ مضامین میں خطیبوں کے دوران میں کنکریاں پھینکنے کا ذکر بار بار آرہا ہے، اس سےقارئین کو یہ غلط نہی نہیں ہونی چاہیے کہ کچھ نمازی طے شدہ پروگرام کے مطابق شاید با ہر سےکنکر لے کر مسجد میں داخل ہوتےہوں گے۔دراصل اس زمانے میں مسجد کے فرش کچےہوتےتھےاور ان پر چھوٹےچھوٹے سنگریزے بچھا دیئے جاتے تھےبعض لوگ انہی کو اٹھا کر بحالت طیش پھینک دیتےتھےجسےعثمانی صاحب نے "سنگباری" بنا دیا ہے۔

٢- اس "لڑائی" کی تفصیل ابن اثیر نےالکامل میں یہ دی ہےکہ جب زیاد کی پولیس لاٹھیاں برسانےلگی تو اس شخص نے ایک لاٹھی چھین لی،اس سےلڑ کر اس نے فجر اور اُن کے ساتھیوں کی جان بچائی یہاں تک کہ وہ کندہ کےدروازوں سےنکل بھاگے(اخــذ عمودا من بعض الشرط فقاتل به وحمى حجرًا وأصحابه حتى خرجوا من أبواب الكنده الكامل،جلد ۳ صفحه ۲۳۵) مورخین نےاس پورےہنگامےکی جو تفصیلات بیان کی ہیں،ان میں صرف ایک مرتبہ تلوار کے استعمال کا ذکر میری نظر سے گزرا ہے جس کی ضرب سےایک شخص منہ کے بل گر پڑا ۔

اس کے بعد عثمانی صاحب نے لکھا ہے کہ حجر کے دوسرے ساتھی بدستور روپوش رہے۔ نہ معلوم کس مصلحت کی بنا پر یہ نہیں بتایا کہ بعد میں وہ بھی گرفتار ہو گئےحالانکہ ان کےمضمون کےآخر میں جا کر ان چودہ آدمیوں کا امیر معاویہ کےپاس بحالت گرفتاری جانا مذکور ہےجن میں سےچھ کو چھوڑ دیا گیا اور آٹھ کو قتل کر دیا گیا۔

حضرات حسنین کو خروج پر اکسانےاور حضرت علی پر سب و شتم کےجواب میں امیر معاویہ اور انکے گورنروں پر سب و شتم کرنے کے بعد حضرت حجر نے زیاد اور اس کی پولیس کے خلاف مزاحمت کی جو روش اختیار کی، یہ گویا عثمانی صاحب کی دانست میں وہ آخری اور اہم ترین کڑی ہے جو جرم بغاوت کو پایہ تکمیل واثبات تک پہنچادیتی ہےمیں اسلام کےقانونِ بغاوت کی ضروری تفصیل پہلےبیان کرچکاہوں اور یہ بتاچکاہوں کہ جرم بغاوت کےثابت و متحقق ہونے کے لیے ضروری ہےکہ مجرمین کا ارادہ یہ ہو کہ وہ نظام حکومت کو انقلابی اور متجددانه ذرایع سےتہ و بالا کر دیں اور امام عادل کےخلاف مسلح خروج کےمرتکب ہوں۔اسکےساتھ یہ بھی لابدی ہےکہ مجرم ایسی مادی طاقت وسطوت (منعة )کےمالک ہوں اور اتنی جمعیت اور آلات حرب رکھتےہوں کہ قتال بالسیف کے بغیر ان کا قلع قمع نہ ہو سکتا ہو۔میں پوچھتا ہوں کہ حضرت مجر منجن کےبارے میں حضرت عدی کا یہ قول عثمانی صاحب نےخود نقل کیا ہےکہ مجھےگمان نہ تھا کہ یہ بیچارہ (نجر ) ضعف کےاس درجےکو پہنچ گیا ہو گا جو میں دیکھ رہا ہوں۔ اور جن کے بارے میں مؤرخین کا بیان ہے کہ زیاد کی پولیس سے فرار کے وقت وہ بغیر سہارے کے سواری پ جم کر بیٹھ بھی نہ سکتے تھے، ایسے شیخ فانی اور ان کے چند ساتھی جو ان کے پاس مسجد یا گھر میں جمع ہو جاتے تھے، کیا ان پر بغاۃ کی شرعی اصطلاح کا اطلاق کسی لحاظ سے بھی درست نہ ہو گا ؟ کیا یہ کوئی ایسی زبر دست اور نا قابل تسخیر جمعیت تھی جس کےخلاف فوج کشی کی گئی تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ پولیس ایکشن کے ذریعے سے ان کی سرکوبی اور گرفتاری اسی لیےتو ممکن ہوئی کہ وہ تعداد یا اسلحہ کے لحاظ سے کوئی طاقتور اور ساحب منعت گروہ تھے ہی نہیں۔

حضرت حجر کے حالات کے تحت استیعاب میں مسروق کی روایت حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ کو یہ کہتے ہوئے سنا:

لو علم معاوية ان عند اهل الكوفة مَنَعَة ما اجترأ على ان يأخذ حجرًا وأصحابه من بينهم حتى يقتلهم بالشام.

"اگر معاویہ کو یہ معلوم ہوتا کہ اہل کوفہ کوئی طاقت رکھتے ہیں تو وہ اس بات کی جرات نہ کرتےکہ حجر اور ان کے رفقاء کو ان کوفے والوں کے درمیان سے پکڑ لیتے اور شام میں لے جا کر انہیں قتل کر دیتے۔“

گویا کہ حضرت حجر اور ان کے ساتھی تو در کنار حضرت عائشہ کے نزدیک سارے کوفے والےمل کر بھی اہل منعہ نہیں تھےجن پر باغیوں کا اطلاق ہو سکتا۔مگر ہمارےمفتی صاحب ان کےباغی اور لائق قتل ہونےکا فتویٰ دے رہے ہیں! پھر ان باغیوں کا حال یہ تھا کہ ان چودہ آدمیوں کو پابند سلاسل کرنےکےبعد صرف دو آدمی انہیں بھیڑوں کیطرح ہانک کردمشق تک اور پھر وہاں سےمرج عذراء _١کےجنگل تک لےگئےاور وہاں آدھوں کو ذبح کردیا گیا لیکن ان کےبینه مغرور اور روپوش ساتھیوں یا دوسرے ہوا خواہوں میں سےکوئی ان کی مد کو نہ پہنچا،قتل کے بعد ہی کسی نےحرکت کی۔یہ وہ باغی ہیں جن کےبارےمیں یہ فرمایا گیا کہ اگر یہ قتل نہ ہوتےتو ان کےساتھ ایک لاکھ آدمیوں کو قتل کرنا پڑتا !

ان "باغیوں" کی جو جھڑپ کندہ میں زیاد کی پولیس سے ہوئی ہے اور اس میں جو ز دو خورد ہوئی ہے اسے محمد تقی صاحب نےایک با قاعدہ جنگ سےتعبیر کیا ہےجس میں لاٹھیاں اور پھر استعمال ہور ہےاور رزمیہ اشعار پڑھے جا رہے تھے ۔ یہ بھی یادر ہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہےجب کہ ہر گھر میں تیر، تلوار، برچھے، نیزے تیار رہتے تھے۔ مگر فریقین نےلڑائی بھی لڑی تو پتھریا لاٹھی سےجو اسلحه یا آله جارحہ کی تعریف ہی میں نہیں آسکتے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ جہاں تک حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کا تعلق ہے، وہ آلات حرب سے اس لیے مسلح نہ تھے کہ وہ با قاعدہ جنگ کی طاقت اور نیت نہیں رکھتےتھےاور زیاد کےآدمی اسلحہ سےاس لیےلیس نہیں ہوئے کہ انہوں نے اس کا استعمال غیر ضروری سمجھا اور اس کے بغیر ہی شورش کو فرو کر لیا۔اس مٹھ بھیڑ اور پکڑ دھکڑ کی جو تفصیل تاریخوں میں بیان ہوئی ہے، اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس میں کوئی شخص قتل ہوا ہو یا بری طرح مجروح ہی ہوا ہو۔ واقعہ یہ ہےکہ اس سےشدید تر بلوےاور فسادات ہر دور،ہر زمانےمیں ہوتےرہےہیں لیکن ان پر کبھی بھی ” بغاوت" کا اطلاق نہیں کیا گیا۔ خود ہماری مملکت پاکستان میں عوام نے متعدد مواقع پر پولیس کےلاٹھی چارج کا جواب اینٹ پتھر سےدیا اور سیاسی نعرے بھی لگائے،کیا مفتی زاده جناب عثمانی صاحب ان کے متعلق یہ فتویٰ دیں گے کہ وہ سب شرعی اصطلاح میں باغی اور واجب القتل تھے ؟ عقل دنگ ہے کہ شرعی قوانین کی یہ نئی اور انوکھی تعبیرات کس علمی زعم کی بنا پر فرمائی جارہی ہیں؟ پہلے یہ کہا گیا کہ حکام اور گورنروں پر قصاص،تعزیر یا تاوان نہیں،خواہ وہ جو رصریح کےمرتکب ہوں،دیت اور تاوان بھی دیا جائےگا تو حاکم کی ذات سے نہیں بلکہ عامتہ المسلمین کی جیب سے، یعنی بیت المال سے دیا جائے گا۔ اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ جو شخص حکومت کےخلاف ہو،انتشار برپا کرنا چاہتا ہوں،سب و شتم کا جواب سب و شتم سےدے گرفتاری کےلیےاپنےآپ کو پیش کرنے کے بجائے مزاحمت کرے یا رُوپوش ہو جائے ،اس کا جرم بغاوت سے کم تر نہیں ہے اور اسکی سزا قتل ہے۔میں کہتا ہوں کہ یہ جرائم جن کو بغاوت کا نام دیا جارہا ہےاور جن پر مسلمان کا خون ہدر قرار دیا جا رہا ہے، ان جرائم پر تو ایک ذمی کا خون بہانا بھی اسلام نے جائز نہیں سمجھا ہے اور اسےاپنے ذمے سےخارج نہیں کیا ہےاگر اس طرح کےمفتیوں کو حکومت یا عدالت کی کرسی پر بٹھا دیا جائےتو قانون اسلامی بازیچہ اطفال بن کر رہ جائے گا اور مسلمانوں کو یہاں وہ حقوق و تحفظات بھی حاصل نہ رہ سکیں گے جو ایک اسلامی حکومت میں کفار اور اہل ذمہ کو حاصل ہو سکتےہیں۔ عثمانی صاحب سے میری گزارش ہے کہ وہ براہ کرم اپنے والد ماجد مفتی محمد شفیع صاحب سے یہ استفتا فرمائیں کہ اگر آج کوئی گورنر مسلمانوں کےمجمع عام میں اٹھ کر تقریر کرے اور اس میں حضرت علی کو برا بھلا کہے، اور اس پر کچھ مسلمان صبر نہ کر سکیں اور گورنر پر جوتوں کی بارش کریں، اور گورنر جب ان کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس بھیجے تو وہ پولیس کا مقابلہ لاٹھیوں اور پتھروں سے کریں، تو کیا وہ سب باغی اور واجب القتل ہوں گے؟ مفتی صاحب اس کے جواب میں جو فتویٰ دیں وہ براہ کرم شائع کر دیا جائے۔


١- مرج عذراء کا علاقہ وہ ہے جو سب سے پہلے حضرت حجر بن عدی ہی کے ہاتھ پر فتح ہو کر اسلامی سلطنت میں شامل ہوا تھا۔ تاریخوں میں منقول ہے کہ اس دیار میں سب سے پہلے تکبیر بلند کرنے والے وہی تھے اور تقدیر میں یہ لکھا تھا کہ اسی مقام پر وہ قتل بھی کیے جائیں ۔

میں عثمانی صاحب کو مشورہ دوں گا کہ وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ نمبر ۱۲۴ اور نمبر ۱۲۴ الف کا ذرا مطالعہ فرمائیں۔یہ قوانین ایک کافر،اجنبی اور فاتح قوم نے ایک مغلوب و مفتوح قوم پر نافذ کرنےکےلیےبنائےتھے۔ ان میں سامراجی اقتدار و تسلط کو مستحکم کرنے اور قائم رکھنے کا پورا پورا اہتمام کیا گیا تھا اور محکوم اقوام کےشہری حقوق کم سےکم تجویز کیےگئےتھےدفعہ نمبر ۱۲۴ کےتحت صدر یا گورنر کو بزور اپنےفرائض و اختیارات کےاستعمال سےروکنا،ان میں مخل ہونا اوران پر حملہ آور ہونا فوجداری جرم ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ سزا سات سال قید ہےاس کےبعد دفعہ ۱۲۴ الف ہےجس میں حکومت کےخلاف نفرت ، حقارت اور عدمِ وفاداری کے جذبات ظاہر کرنے اور پھیلانے کو بغاوت قرار دیا گیا ہےمگر اس کی سزا بھی موت نہیں،بلکہ زیادہ سےزیادہ جبس دوام کی سزا تجویز کی گئی ہے۔اور اس دفعہ کی توضیح میں یہ بات بھی درج ہے کہ جائز قانونی ذرائع سےکام لے کر حکومت کے اقدامات پر تنقید کرنا اور ان میں تبدیلی کا مطالبہ کرنا جرم نہیں ہے۔ اب قوانین شرعیہ کی جو تفسیر و تشریح عثمانی صاحب پیش فرما رہے ہیں، اس کی رُو سے ان دونوں دفعات میں ترمیم کر کے ان میں زیادہ سےزیادہ سزال از ماموت مقرر کرنی ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کےحال پر رحم فرمائے،انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ.

گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا کار طفلان تمام خواهد شد

حضرت حجر" کا مقدمہ اور اس کی روداد

حضرت حجر اور آپ کے ساتھیوں کے جرائم کی حقیقت واضح ہو جانے کے بعد اب یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ان کےخلاف بغاوت کا جو مقدمہ بنایا گیا اور جسطرح شہادتیں فراہم کی گئیں،ان میں کہاں تک اسلام کے قانون قضا اور عدل و انصاف کےتقاضوں کو ملحوظ رکھا گیا۔ تاریخ طبری جلد میں صفحہ ۱۹۰ سے لے کر صفحہ ۲۰۸ تک اس واقعہ کی پوری تفصیلات موجود ہیں۔ ان صفحات کا حوالہ عثمانی صاحب نے بار بار دیا ہے اور مولانا مودودی پر ضروری باتیں حذف کرنے کا الزام لگا کر "کہا ہے کہ ہم ان باتوں پر تنبیہ کریں گے"۔اب جن اجزاء کو انہوں نے خود حذف کیا ہے اور بحث و تنقیح کے جن ضروری پہلوؤں کو نظر انداز کیا ہے، میں بھی ان کی نشان دہی کیے دیتا ہوں۔طبری میں صفحہ ۱۹۹ پر یہ بات درج ہے کہ زیاد نے حضرت حجر" کے بارہ ساتھیوں کو جیل میں ڈال دیا اور پھر محلوں کےسرداروں کو بلا کر کہا کہ حج کےبارے میں تم نےجو کچھ دیکھا ہےاس کی شہادت دو “لیکن اس پوری بحث میں یہ بات کسی جگہ مذکور نہیں ہے کہ شہادت کے وقت حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کو بھی اپنا بیان یا صفائی پیش کرنے یا کسی گواہ پر جرح کرنے کا موقع دیا گیا ہو۔

اسلام کا قانون عدالت

ابوداؤد میں حضرت عبداللہ ابن زبیر سے روایت ہے:

قضى رسول الله صلى الله عليه وسلّم ان الخصمين يقعدان بين يدى الحاكم.

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ ( یعنی عدالتی ضابطہ بیان فرمایا ہے کہ مقدمے کےفریقین دونوں حاکم کے رُوبرو بیٹھیں ۔“

فاذا جلس بین یدیک الخصمان فلا تقض حتى تسمع كلام الآخر كما سمعت كلام الاول.

"جب دونوں فریق تمہارے سامنے بیٹھ جائیں تو فیصلہ نہ کرو جب تک کہ دوسرے کی بات بھی نہ سن لو جس طرح تم نے پہلے کی بات سنی ۔“

حضرت عمر نے جو ہدایت نامہ آداب قضا سے متعلق حضرت ابوموسیٰ اشعری کو بھیجا تھا، وہ متعدد کتب فقہہ میں منقول ہے، اس میں حضرت عمرؓ فرماتے ہیں:

سوبين الناس فی و جهک و مجلسك حتى لا ييأس الضعيف من عدلك ولا يطمع الشريف في حيفك.

"تم لوگوں کی جانب متوجہ ہونے اور اپنا اجلاس منعقد کرنے میں مساوات قائم کرو تا کہ کمزور تمہارے عدل سے مایوس نہ ہو اور بڑے خاندان والا تم سے بے انصافی کی طمع نہ کرے۔“

ملزمین کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں گواہیاں لینا ارشادات نبوی اور اسلامی اصول قضاء کے بالکل خلاف ہے۔اس پر اس شہادت کا اطلاق ہی نہیں ہو سکتا جو اثبات جرم کے لیے بنیاد بن سکےپھر اسلامی قانونِ شہادت کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ ہر گواہ کی گواہی الگ الگ لی جائےتا کہ پہلے کی گواہی سےدوسرا متاثر نہ ہو اور ان کی شہادت میں اگر اختلاف ہو جو ملزم کےحق میں مفید ہو، تو وہ اس فائدے سے محروم نہ ہو_١ لیکن زیاد کےسامنے چار اصحاب کی گواہی جس طرح تاریخ میں درج ہے، جسے عثمانی صاحب نے بھی نقل کیا ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب گواہوں نےبیک زبان اور بیک وقت ایک ہی گواہی دی ہے۔ تاہم اگر عثمانی صاحب کے وضع کردہ اصول عدم ذکر و ذکر عدم کےتحت یہ فرض کر لیا جائے کہ سب شہادتیں باری باری سے ملزمین کے سامنے پیش ہوئی تھیں اور انہیں بھی صفائی یا جرح کا موقع دیا گیا تھا مگر تاریخ میں ساری تفصیلات کو حذف کر کےصرف شہادت کا وہ مضمون بیان کردیا گیا ہےجو تمام گواہوں کےمابین قدر مشترک تھا،تب بھی اس شہادت سے جرم بغاوت ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ چاروں حضرات کی گواہی یوں نقل کی گئی ہے:


١- معین الحکام صفحہ ، اپر ادب القاضی للخصاف کے حوالے سے درج ہے: لو شهد شاهد وفسر الشهادة ثم شهد الآخر فقال اشهد على مثل شهادة صاحبي لا يقبل (اگر ایک گواہ شہادت دے اور اس کی تفصیل بیان کرے، پھر دوسرا گواہ کہے کہ میں اپنےساتھ کی گواہی کے مثل گواہی دیتا ہوں تو دوسرے کی گواہی قبول نہ ہو گی )۔

"ججر نے اپنے گرد جھتے جمع کر لیے ہیں اور خلیفہ کو کھلم کھلا گالیاں دی ہیں اور امیر المومنین کےخلاف جنگ کرنے کی دعوت دی ہے اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ آل ابی طالب کے سوا خلافت کا کوئی مستحق نہیں_١ انہوں نے ہنگامہ برپا کر کے گورنر کو نکال باہر کیا اور یہ ابوتراب( حضرت علیؓ )کو معذور سمجھتےاور ان پر رحمت بھیجتے ہیں اور ان کےدشمن اور ان سےجنگ کرنے والوں سےبرأت کا اظہار کرتے ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ ان کے ساتھیوں کے سرگروہ ہیں اور انہی جیسی رائے رکھتے ہیں۔“

اس شہادت میں حضرت حجر بن عدی اور آپ کے ساتھیوں کےجو جرائم بیان ہوئےہیں،میں ان پر تفصیلی بحث کر چکا ہوں۔ان میں سےکوئی جرم بلکہ ان کا مجموعہ ملکر بھی بغاوت کی شرعی واصطلاحی تعریف میں نہیں آسکتا۔ پھر ہر فعل کو اپنے پس منظر سے کاٹ کر مبالغے اور رنگ آمیزی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ گورنر کو نکال باہر کرنے والی بات تو بالکل خلاف واقعہ ہے جو کسی تاریخ میں میری نظر سے نہیں گزری۔ گورنر کو نکال دینا تو در کنار خود حضرت حجر اور ان کے ساتھی گرتےپڑتےبڑی مشکل سےجان بچا کر بھاگےاور روپوش ہوئے تھے اور پھر زیاد سے امان لے کر خود ہی حاضر ہو گئے تھے۔ بہر کیف ان چار اصحاب کی شہادت نقل کرنے کے بعد عثمانی صاحب لکھتے ہیں:

"پھر زیاد نے چاہا کہ ان چار حضرات کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس گواہی میں شریک ہوں، چنانچہ اس نے ان حضرات کی گواہی لکھ کر لوگوں کو جمع کیا ، ان کو یہ گواہی پڑھ کر سنائی اور لوگوں کو دعوت دی کہ جو لوگ اس گواہی میں شریک ہونا چاہیں، وہ اپنا نام لکھوا دیں۔ چنانچہ لوگوں کے نام لکھوانے شروع کیے، یہاں تک کہ ستر افراد نے اپنے نام لکھوا دیئے ۔“

شہادت فراہم کرنے کے اس طریق کار کو اگر کھینچ تان کر کسی طرح حد جواز میں لایا جا سکتا ہو،تب بھی میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ گواہیاں لینے کا یہ طریقہ اسلامی عدل وانصاف کے بنیادی اور معیاری تصورات سے بالکل فروتر ہے۔آخر سیاسی اجتماعات اور پبلک جلسوں میں قرار دادوں کی منظوری لینےمحضر ناموں پر لوگوں کےانگوٹھےلگوانےیا دستخط لینےاور مسلمانوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرتےوقت گواہوں کی شہادت ریکارڈ کرنے میں کچھ تو فرق و امتیاز ہونا چاہیے۔ ہمارے فقہاء نے تو یہاں تک لکھا ہےکہ کسی گواہ کو کوئی خاص قسم کی تلقین نہ کی جائے جو اس کی آزادانہ رائےپر اثر انداز ہو سکتی ہو۔ چنانچہ امام سرخسی مبسوط جلد 9 صفحہ ۰۲ اپر فرماتے ہیں:


١- واضح رہے کہ یہ بات علی الاطلاق صحیح نہیں ہے۔کیونکہ وہ لوگ حضرت ابوبکر و عمر کی خلافت کو صحیح مانتے تھے اور حضرت عثمان کی بھی خلافت پر نہیں بلکہ ان کے بعض اعمال پر معترض تھے۔ اس لیے ان کی صحیح پوزیشن یہ تھی کہ وہ حضرت معاویہ کے مقابلہ میں حضرت علی اور ان کے صاحبزادوں کو خلافت کا مستحق سمجھتے تھے۔

ولا ينبغي للقاضي ان يلقن الشهود ماتتم به شهادتهم في الحدود لانه مأمور بالاحتيال لدرء الحد لا لاقامته

"قاضی کو چاہیے کہ وہ گواہوں کو ایسی بات نہ بجھائے جس سے ان کی شہادت حدود میں پائیہ تکمیل و ثبوت تک پہنچے۔ کیونکہ قاضی اس بات پر مامور ہے کہ کسی بہانے سے حد کو ٹالے، نہ کہ اسےقائم کرے۔“

اس کی روشنی میں ہم یہ بآسانی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ایک پیشگی لکھی لکھائی گواہی تیار کر لینا اور صوبے کےگورنر کا لوگوں کو بلا کر یہ کہنا کہ اس گواہی میں کون کون شریک ہوتا ہےشہادت فراہم کرنےکا یہ طریقہ اسلامی انصاف کےتقاضےکہاں تک پورے کر سکتا ہے۔ یہ حرکت تو آج اس ظلم و ستم کے دور میں بھی اگر کوئی گورنر کرے تو دنیا چیخ اٹھے۔

یہاں یہ بات بھی لائق وضاحت ہےکہ عثمانی صاحب نے یوں تو بہت سی غیر ضروری تفصیلات اور مکالمات وغیرہ کو تاریخ طبری سے نقل کر دیا ہے،لیکن جس مقام پر مندرجہ بالا گواہی لیے جانے کا ذکر ہے، وہاں سے بعض نہایت ضروری اجزاء کو حذف کر دیا ہے، امام ابن جریر نے اسی جگہ ( جلدم ،صفحه ۲۰۰) پر لکھا ہے کہ پہلے ایک گواہ (ابو بردہ) سے گواہی لی گئی۔ پھر جو کچھ ہوا، وہ درج ذیل ہے:

فقال زياد على مثل هذه الشهادة فاشهدوا أما والله لأجهدن على قطع خيط عنق الخائن الأحمق فشهد رؤس الأرباع على مثل شهادته وكانوا اربعة ثم ان زيادًا دعا الناس فقال اشهدوا على مثل شهادة رؤوس الأرباع فقراء عليهم الكتاب.

"پھر زیاد نے کہا کہ اس شہادت کے مانند شہادت دو۔ خدا کی قسم میں اس خائن و احمق کی رگ گردن کاٹنے کی پوری جدو جہد کروں گا۔ پس محلوں کے سرداروں نے اس شہادت کے مطابق گواہی دی اور وہ چار تھے۔ پھر زیاد نے لوگوں کو بلایا اور کہا کہ جس طرح محلوں کے سرداروں نے شہادت دی ہے، اسی طرح کی شہادت دو اور انہیں وہ تحریری شہادت پڑھ کر سنائی۔“

دوسرے لفظوں میں اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ زیاد نہ صرف گرفتاری سے پہلے ہی قاتلانہ دھمکیاں دیتا رہا ( جسے عثمانی صاحب بھی نقل کر چکے ہیں) بلکہ وہ حضرت حجر کے خلاف جس وقت شہادتیں لے رہا تھا ، اس وقت بھی ایک قصاب کی طرح اپنی نیت اور ارادےکا برملا اظہار کر رہا تھا کہ میں اس احمق اور غدار کوتہ تیغ کرنےمیں پورا زور لگاؤں گااور لوگوں سےکہ رہا تھا بلکہ ایک گواہی پڑھ کر سنا رہا تھا کہ تم لوگ اسطرح کی گواہی دو۔ ابن جریر کی تصریح کے مطابق اس کےبعد ستر گواہوں نےویسی ہی گواہی دی۔اس ساری رُوداد کو پڑھتے ہوئے آدمی یہ کہنے پر مجبور ہوتا ہےکہ اس زمانے کےسنگدل اور سفاک حاکم بھی شاید اتنی دور تک نہ جاسکیں جہاں تک عثمانی صاحب کا یہ ممدوح گورنر پہنچ گیا۔

اسلامی قانونِ شہادت کی مزید خلاف ورزی

پھر مزید ایک واقعہ جو تاریخ طبری اور دوسری تاریخوں میں مذکور ہے اور جسے عثمانی صاحب نے نظر انداز کر دیا ہے،وہ یہ ہے کہ ان گواہوں میں مشہور قاضی شریح بن حارث اور شریح بن ہانی دونوں کا نام بھی زیاد نے درج کر دیا تھا۔ قاضی شریح کا اپنا بیان تاریخ طبری اور البدایہ والنہایہ میں یہ درج ہے کہ میں نے گواہی صرف یہ دی تھی کہ حجر ایک عبادت گزار اور روزےدار شخص ہیں اور شریح بن ہانی کا یہ قول منقول ہےکہ ”مجھےمعلوم ہوا ہے کہ میرا نام گواہوں میں درج کر دیا گیا ہے اور میں نے اس کی تردید کرتے ہوئے زیاد کو ملامت کی ہےصرف یہی نہیں بلکہ ابن جریر نے آگےصفحہ ۲۰۲ پر بیان کیا ہے کہ جب زیاد نے حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کو حضرت وائل اور کثیر بن شهاب کی حراست میں امیر معاویہ کی طرف روانہ کیا اور ساتھ وہ "شہادت" نامہ بھی بھیجا تو شریح بن ہانی راستے میں انہیں جاملے اور کثیر کے حوالے ایک بند مکتوب کیا جو امیر معاویہ کے نام تھا۔ کثیر نےاس کا مضمون پوچھا تو شریح نے بتانے سے انکار کر دیا۔ اس پر کثیر گھبرائے کہ نہ معلوم اس میں کوئی ایسی بات ہو جو امیر معاویہ کو نا پسند ہو اور وہ خط لینے پر آمادہ نہ ہوئے۔ پھر شریح نے وہ خط حضرت وائل کے سپر د کر دیا اور انہوں نےامیر معاویہ تک پہنچا دیا۔ امیر معاویہؓ نے اسے کھولا تو اس میں شریح کی جانب سے تحریر تھا ” مجھے معلوم ہوا ہے کہ زیاد نے حجر کے خلاف میری شہادت بھی درج کر کے بھیجی ہے۔ میری شہادت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، ہمیشہ حج وعمرہ کرتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں۔ ان کے خون اور مال پر دست درازی حرام ہے۔"

اس سےصاف ظاهر ہےکہ زیاد نےجعل سازی اور شہادت زور کےکبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا تھااور گواہوں کو سکھانے پڑھانےکی ہر کوشش کےباوجود اس نےجب دیکھا کہ بعض گواہ اس کےمطلب کی گواہی نہیں دیتےتو اسنےان کی طرف سےخود جھوٹی گواہی گھڑ کر درج کردی۔زیاد کی به مجرمانه حرکت گواہیوں کےاس پورےدفتر کو مشتبه اور نا قابل وثوق بنادیتی ہے۔کیونکہ جو شخص ایک گواہ پر بہتان باندھ سکتا ہے، وہ ایک سے زاید پر بھی باندھ سکتا ہےمولانا عثمانی صاحب نےابن غیلان کوشک کا فائدہ دےکر بری الذمه ثابت کرنے میں تو بڑا زور صرف کیا تھا، مگر یہاں حضرت حجر کے معاملے میں معلوم نہیں ملزم کو شک کا فائدہ ملنے کا اصول کہاں غائب ہو گیا ؟ پھر عجیب تر بات یہ ہے کہ امیر معاویہؓ نے اس صورتِ حال کے سامنے آجانے پر بھی یہ ضروری خیال نہ فرمایا کہ شریح یا دوسرے گواہوں کو یا زیاد کو بلاکر ملزمین کےسامنے بیان لیےجائیں اور ملزمین کو بھی بیان اور جرح کا موقع دیا جائے_١بلکہ دو گواه جوقیدیوں کو ساتھ لائےتھےان کے اور قیدیوں کےبیان بھی آمنےسامنے نہیں لیے گئے اور بس زیاد کی بھیجی ہوئی گواہی اور رپورٹ پر قتل کا فیصلہ کر ڈالا گیا،حالانکہ زیاد کی تحریر کی حیثیت ایک تفتیشی افسر کی ڈائری سےزیادہ کی نہیں تھی اور جب تک باقاعده عدالتی کارروائی کےمطابق اسےفریقین کےسامنے ثابت نہ کیا جاتا، اس پر شہادت کا اطلاق نہیں ہو سکتا تھا یہ ایک حقیقت ہے کہ اس پوری کا رروائی کےدوران میں ایک مرتبہ بھی زیاد یا امیر معاویہ نےملزموں کو یہ موقع نہیں دیا کہ وہ اپنا بیان دے سکیں یا اپنے خلاف گواہی سن سکیں یا کسی گواہ پر جرح کر سکیں۔بلکہ انہیں آخر وقت تک یہ بھی نہ معلوم ہو سکا کہ وہ کس انجام سےدو چار ہونےوالےہیں۔تاریخ طبری ( جلد۲، صفحہ ۳۰۳)میں تصریح ہےکہ جب سارےملزم مرج عذراء کےمقام پر محبوس کر دیئےگئے تو وہاں انہیں یزید بن جیہ کےذریعے سےمعلوم ہوا کہ انہیں قتل کی سزا ملنےوالی ہےاس پر حضرت حج نےیزید سےکہا کہ وہ امیر معاویہ سےجا کر کہیں کہ ”ہم اپنی بیعت پر قائم ہیں۔ہمارےخلاف گواہی عداوت و اشتہام پر مبنی ہے۔ یزید نے یہ پیغام پہنچا دیا مگر امیر معاویہ نے اس کےجواب میں فرمایا :

زیاد اصدق عندنا من حجر.

"زیاد ہمارے نزدیک حجر سے زیادہ سچا ہے۔“

عثمانی صاحب فرماتےہیں کہ زیاد نےگواہیوں کا صحیفه شرعی اصول کےمطابق حضرت وائل اور حضرت کثیر کو دیا کہ وہ حضرت معاویہ کو پہنچائیں۔معلوم نہیں شرعی اصول کےمطابق صحیفہ پہنچانےسےمراد کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ عثمانی صاحب غالبا اسے"کتاب القاضی الی القاضی یا ”شہادۃ علی الشہادۃ "کےفقہی قاعدے کے تحت لاکر اس کارروائی کو شرعی اصول کے مطابق قرار دینا چاہتے ہیں۔ یہ شہادت جیسی کچھ بھی تھی اور جیسے کچھ آداب قضا کوملحوظ رکھتے ہوئے حاصل کی گئی تھی ، اس پر تو میں اوپر روشنی ڈال ہی چکا ہوں ۔ مگر میں عثمانی صاحب پر یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اول تو انتظامی حاکم یعنی گورنر کو قاضی قرار دینا ایک انوکھی ایج ہے۔ پھر فقہائے حنفیہ کا اس پر اتفاق ہے کہ کتاب القاضی الی القاضی یا شہادۃ علی الشہادۃ غیر فوجداری یعنی دیوانی و مالی(Civil)معاملات ہی میں معتبر ہےحدود و قصاص یعنی فوجداری (Criminal)معاملات میں هرگز معتبر نہیں ہے۔ وہ فقہ کی کوئی کتاب اٹھا کر خود ہی دیکھ لیں، میں حوالےکہاں تک نقل کرتا رہوں۔فقہاء حنفیہ نے اس کی وجہ بھی بیان کر دی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک قاضی کے مکتوب کا دوسرے کےلیے قابل قبول ہونا اور اسی طرح ایک شاہد کا دوسرے شاہد کی شہادت کو پیش کرنا خلاف قیاس ہےاور اسےصرف استحسانا جائز سمجھا گیا ہے۔ورنہ یہ دونوں شبہ سے خالی نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ تحریر اصل قاضی کےبجائےکسی غیر کی ہو یا شہادت نقل کرنےمیں سہو ہو جائے،اور فوجداری جرائم میں بیانات و شہادات کا ہر قسم کے شک وشبہ سےبالاتر ہونا ضروری ہےاسلیےزیاد کا جو مکتوب اور گواہیوں کا جو صحیفہ امیر معاویہ کےپاس پہنچا تھا، وہ اس اصول کےمطابق بھی ہرگز کسی قانونی قدر و قیمت کا حامل یا عتماد کے لائق نہ تھا۔ لیکن حیرت بالائے حیرت ہے کہ محمد تقی صاحب پھر بھی فرماتےہیں کہ حضرت معاویہ کو جڑ کی شورشوں کا پہلے ہی علم تھا، اب ان کے پاس چوالیس قابلِ اعتمادگواہیاں انکی باغیانہ سرگرمیوں پر پہنچ گئیں۔ جرم بغاوت کو ثابت کرنے کےلیےاس سےبڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے۔ جرم روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا اور بغاوت کی سزا موت ہے! اس ارشاد سے انہوں نے اصول فقہ میں ایک اور نا در اضافہ فرما دیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ حاکم کے فیصلے میں کسی شخص کے متعلق اس کے مجرم ہونے کا پیشگی علم بھی جائز طور پر دخیل ہوسکتا ہے۔ یہ وہ بات ہےجو اسلامی فقہ تو در کنار ، دنیا کے کافرانہ قوانیں تک میں غلط کبھی جاتی ہے۔

این کار از تو آید و مردان چنین کنند


١-گواہوں کی گواہی کےوقت ملزموں کی موجودگی جسطرح دوسرےعدالتی نظاموں میں لازم ہےاسی طرح اسلام میں بھی ہےشہادت علی الغائب اور قضاعلی الغائب بعض خاص صورتوں کےماسوا جائز نہیں۔موجودگی کے ساتھ گواہوں کےلیےجرح کا حق بھی مسلم ہے، جس کے بغیر شہادت نا قابلِ اعتماد ہے۔ حضرت مغیرہ پر خلافت فاروقی میں زنا کا جو مقدمہ قائم ہوا تھا ، وہ حضرت مغیرہ کی گواہوں پر جرح ہی کےباعث ثابت نہ ہو سکتا تھا اور الٹا گواہوں پر حد قذف جاری کی گئی تھی،حالانکہ گواہوں میں صحابی بھی تھے۔ گواہ تو در کنار امیر معاویہ کوملزمین کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہ تھی۔امام ذہبی نےاعلام النبلا میں انکا قول نقل کیا ہے۔ لا احب ان اراهم.

پھر عثمانی صاحب لکھتے ہیں اس کے باوجود حضرت معاویہؓ نے بعض صحابہ کے کہنے پر چھ افراد کو چھوڑ دیا اور آٹھ کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ سوال یہ ہےکہ اس دو گونہ اور امتیازی سلوک کی وجہ کیا ہےعثمانی صاحب نے اس سوال کا نیا جواب یہ دیا ہے کہ باغی کا قتل واجب نہیں ،صرف جائز ہے، اس لیے امیر معاویہ نے جسے چاہا تل کر دیا، جسے چاہا معاف کر دیا۔

نه ناطقه سربگریباں کہ اسے کیا کہیے!

اس کے معنی تو یہ ہیں کہ عثمانی صاحب حضرت معاویہ کو ما شاء الله يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاءُ کے مقام عالی پر فائز کرنا چاہتے ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ معاملہ عدالت کا نہیں مشیت کا تھا!

میں یہ حقیقت کھول کر بیان کر چکا کہ اول تو یہ اصحاب ہرگز باغی نہ تھے، اور بالفرض اگر تھے بھیتو گرفتار ہو جانے کےبعد مجرد جرم بغاوت کی سزا ہر گز قتل نہیں ہےاب میں عثمانی صاحب سےمطالبہ کرتا ہوں کہ وہ گھما کر بات کرنے کے بجائے صاف صاف بتائیں کہ باغی اسیر کا قتل ان کی تحقیق میں حد کے تحت آتا ہے یا تعزیر کے تحت؟مجرموں کا جرم اوران کےخلاف شہادت یکساں ہو تو بعض کو چھوڑنا اور بعض کی گردن ماردینا کیا معنی رکھتا ہے؟ اگر یہ کہا جائے کہ حجران کےسرغنہ تھے تو فقط ان کا جرم شدید تر تھا، باقی تو جرم میں برابر تھے، پھر ان میں سے بھی صرف چند کا انتخاب برائےقتل کس بنا پر ہوا؟ واقعہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو رہا کیا گیا ، اس بنا پر کیا گیا کہ ان کے کسی دوست یا عزیز نےسفارش کردی۔حالانکہ قصاص و حدود میں شفاعت کرنا اور اسےمان لینا اسلامی نقطۂ نظر سےہرگز جائز نہیں ہےپھر عجیب تر چیز یہ ہےکہ جن لوگوں کےنام زیاد کی رپورٹ میں بطور گواہ درج تھے، انہی میں سے بعض حضرات ایسے ہیں جنہوں نے بعض ملزموں کی سفارش کر کے انہیں رہا بھی کرایا ہے۔ پھر جو سفارش بھی کی گئی ، اس بنا پر نہیں کہ فلاں شخص بے گناہ بے ضرر ہے،بلکہ محض اس بنا پر کہ یہ ہمارا آدمی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دور ملوکیت کے خصائص میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک طرف ملزم کےخلاف شہادت دی جائے،دوسری طرف اسےچھڑانےکےلیےسفارش کی جائےاور اسےقبول بھی کر لیا جائےاور جس کا کوئی سفارشی نہ ہو اسے قتل کر دیا جائے۔ اسلام کے تصور عدل وانصاف کے ساتھ اس سے بڑا اور سنگین تر استہزاء اور کیا ہوسکتا ہے؟

صاحب التوضیح والتلویح کا موقف

اگر مولانا محمد تقی صاحب اس بات سےبےخبر ہیں تو میں ان کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ حضرت حجر بن عدی کو باغی اور مباح الدم قرار دینا تو در کنار بعض علمائے سلف نے صاف طور پر امیر معاویہ کے خلاف قتل صحابہ کا الزام عائد کیا ہے۔یہاں میں ایک مثال پیش کیےدیتا ہوں۔ التوضیح اور اس کی شرح التلویح درس نظامی کی ایک مشہور متداول کتاب ہے۔ میرے سامنے اس وقت مطبع نولکشور ۱۲۹۲ھ کا مطبوعہ نسخہ ہے۔ اس میں شرائط راوی، انقطاع، ارسال اور حدیث القضاء بشاهد و یمین پربحث کرتےہوئے صفحہ ۳۱۱ پر صاحب توضیح فرماتے ہیں:

وذكر في المبسوط ان القضاء بشاهد ويمين بدعة واوّل من قضى به معاوية.

"مبسوط میں مذکور ہے کہ مدعی کے حق میں ایک گواہ اور قسم کی بنا پر فیصلہ دینا بدعت ہے اور پہلے شخص نہوں نے ایسا فیصلہ دیا وہ معاویہ ہیں۔“

اس عبارت کی تشریح میں صاحب تلویح لکھتے ہیں:

ليس المرادان ذالک امر ابتدعه معاویة فی الدین بناء على خطائه كالبغى في الاسلام ومحاربة الامام وقتل الصحابة لانه قدورد فيه الحديث الصحيح ..

"اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی ایسی بدعت تھی جو امیر معاویہؓ نے دین کے معاملے میں اختیار کی ہو اور جس کی بنیاد ان کی ایسی خطا پر ہو جس طرح کہ بغاوت، امام وقت کےخلاف محاربہ اور قتل صحابہ ہے۔ قضا بشاہد دیمین کے معاملے میں حدیث صحیح موجود ہے۔“

اب یہاں علامہ سعد الدین تفتازانی نے صاف طور پر امیر معاویہ کو بغاوت، امام وقت کے خلاف جنگ اور قتل صحابہ کا مرتکب ٹھہرایا ہے۔ صحابہ جمع کا صیغہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک امیر معاویہ متعدد صحابہ کرام کے قتل کے موجب ہوئے ہیں۔ حضرت حکم بن عمرو کا امیر معاویہ کی قید میں وفات پانا میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ دوسرے صحابی حضرت حجر ہیں جو ناحق امیر معاویہ کے ہاتھ قتل ہوئے ہیں۔ اب اگر حضرت حجر صحابی نہیں ہیں یا بر بنائے بغاوت ان کا قتل روا تھا تو پھر عثمانی صاحب براہِ کرم مجھے بتائیں کہ وہ اور کون کون سے صحابہ کرام ہیں جنہیں امیر معاویہ نے قتل کرایا ہے؟ علامہ تفتازانی بغاوت محاربہ اور قتل صحابہ کا ذکر بہر حال امیر معاویہؓ کی خطا کے طور پر کر رہے ہیں۔ اگر حضرت حجر کا قتل بالحق تھا تو پھر قتل صحابہ کا ذکر بطور بدعت وخطا جو تلویح میں درج ہے اور امیر معاویہ کو جس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، اس کے آخر کیا معنی ہیں؟ اس کتاب کو وجود میں آئے چھ سو سال سے زاید کا عرصہ گزر چکا ہے اور ہمارے مدارس میں اس کی تدریس برابر جاری ہے۔

بعض حضرات علامه سعدالدین تفتازانی کے اس طرح کےاقوال کی بنا پر ان کے خلاف شیعہ ہونے کا بے بنیاد الزام عائد کر دیتے ہیں۔ بلکہ علامہ موصوف پر کیا موقوف ہے، بعض دوسرے ائمہ اہل سنت ، جنہوں نے حضرت علی یا حضرات حسنین کےفضائل و مناقب بیان کر دیئےہیں یا سیئاتِ بنو امیہ کو واشگاف انداز میں بیان کر دیا ہے، ان کےخلاف بھی تشیع کا الزام بلا تکلف لگا دیا جاتا ہےمثلا امام ابن جریر، ائمہ فقہاء اربعہ،امام نسائی،امام حاکم جیسے ائمہ سلف بھی اس بے جا الزام سے نہیں بچ سکے۔ میرے لیے یہاں بیچ میں اس مسئلے پر مفصل بحث کرنا تو ممکن نہیں، البته علامہ تفتازانی کےمتعلق جو کچھ ملاعلی قاری کی تالیف شرح فقہ اکبر میں لکھا ہے، اسے میں یہاں نقل کیے دیتا ہوں، ملا علی قاری خلفائے راشدین کی ترتیب افضلیت کےمسئلے پر بحث کرئے ہوئے پہلےنقل فرماتےہیں کہ اکثر علماء کےنزدیک حضرت عثمان،حضرت علی سےافضل ہیں،مگر بعض بعض متاخرین نے اس معاملے میں تو قف اختیار کیا ہے اور شرح العقائد کے ایک محشی (اشارہ تفتازانی کی طرف ہے) نے کہا ہے کہ

فلا جهة للتوقف بل يجب ان يجزم بأفضلية على.

" توقف کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے بلکہ واجب ہے کہ حضرت علی کو قطعی طور پر افضل مانا جائے۔“

اس کے بعد فرماتے ہیں:

ولذا قيل فيه رائحة من الرفض لكنه فرية بلا مرية اذا كثرت فضائل على كمالاته العلية وتواتر النقل فيه معنى بحيث لا يمكن انكاره ولو كان هذا رفضا وتركا للسنة لم يوجد من أهل الرواية والدراية سنّی اصلا فاياك والتعصب في الدين والتجنب عن الحق اليقين.

"اسی لیےکہا جاتا ہےکہ ان میں (یعنی تفتازانی میں ) بوئےرفض پائی جاتی ہےلیکن یہ بلاشبہ ایک افتراء ہےکیونکہ حضرت علی کے فضائل و کمالات عالیہ بہت ہیں جو اس طرح تواتر معنوی کے ساتھ منقول ہیں کہ ان کا انکار ممکن نہیں۔اگر اس چیز کا نام رفض اور ترک سنت ہےتو اہل روایت و درایت میں کوئی سنتی اصلا نہ پایا جا سکے گا۔ پس خبردار! دین میں تعصب سے بچو اور حق الیقین سےاجتناب نہ کرو۔“

(شرح فقہ اکبر ، ملاعلی قاری صے سے مطبع مجتبائی ۱۳۴۸ھ )

حضرت عائشہؓ کے تاثرات

مولا نا مودودی نے لکھا تھا کہ حضرت حجر جو ایک زاہد و عابد صحابی اور صلحائے امت میں ایک اونچے مرتبے کے شخص تھے، ان کے قتل نے امت کے صلحاء کا دل دہلا دیا اور حضرت عبداللہ بن عمر حضرت عائشہ اور ربیع گورنر خراسان کو یہ خبر سن کر سخت رنج ہوا۔ اس پر مولانا عثمانی صاحب فرماتےہیں کہ جہاں تک عبادت و زہد کا تعلق ہے، حجر بن عدی شاید خارجیوں سے زیادہ عابد زاہد نہ ہوں،لیکن کیا امت کا کوئی فرد یہ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ خارجی بہت زیادہ عابد و زاہد تھے، اس لیے ان کی بغاوتوں پر انہیں قتل کرنا حضرت علیؓ کا ناجائز فعل تھا؟ یہ پھر ایک بے بنیاد دعوئی ہے جسے عثمانی صاحب نےپیش کر دیا ہے۔ کیا عثمانی صاحب تاریخی طور پر یہ بات ثابت کر سکتے ہیں کہ حضرت علیؓی جس خارجی یا باغی کو قید کر لیتے تھے، اسے قتل کر دیتے تھے؟ یا کوئی سفارشی جس کی جان بخشی کرالیتا تھا، اسےچھوڑ دیتے تھے اور دوسرے قیدیوں کو تہ تیغ کر دیتے تھے ؟ حضرت علیؓ کا اسوہ تو میں پہلےبیان کر چکا ہوں کہ اول تو وہ خوارج سے تعرض ہی نہیں فرماتے تھے اور جب خوارج خود قتال کی ابتداء کرتے تھے تب حضرت علی دفاعی قتال کرتے تھے۔ خاتمہ قتال کے بعد آپ کا حکم اور عمل یہ تھا کہ اسیروں کو قتل نہ کیا جائےبلکہ رہا کر دیا جائےیہ طریقہ آپکا سب مقاتلین و محاربین کے بالمقابل تھا۔جنگ صفین کے متعلق مؤرخین کا بیان ہےکہ امیر معاویہ کا ارادہ تھاکہ قیدیوں کو قتل کر دیا جائےمگر انہیں معلوم ہوا کہ حضرت علی نےاپنےجنگی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے تو امیر معاویہ نےفرمایا کہ اچھا ہوا کہ ہم نے قیدی قتل نہ کر دیے۔ چنانچہ انہوں نے بھی اپنے قیدی چھوڑ دیئے۔

جہاں تک حضرت عائشہؓ کے اس قول کا تعلق ہے کہ اے معاویہ تمہیں حجر کو قتل کرتےہوئے خدا کا ذرا خوف نہ ہوا ؟ مولانامحمد تقی صاحب نے تسلیم کر لیا ہے کہ یہ تاریخ طبری میں موجود ہےحالانکہ پہلےانہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ مولانا مودودی نےجتنی کتابوں کا حوالہ دیا ہےان میں یا دوسری کسی کتاب میں بھی یہ الفاظ موجود نہیں ہیں۔ اس کے برعکس واقعہ یہ ہے کہ نہ صرف تاریخ طبری بلکہ دوسری کتابوں میں بھی مضرت عائشہ کا یہ قول منقول ہے۔ مثلاً الاصابہ میں حضرت حجرہ کے حالات بیان کرتے ہوئے حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ کو معلوم ہوا کہ زیاد ان کے قتل کےدرپےہے تو آپ نے عبدالرحمن بن حارث کو امیر معاویہ کے پاس پیغام دے کر بھیجا کہ

الله الله في حجر وأصحابه.

" حجر اور ان کے ساتھیوں کے معاملے میں خدا سے ڈریں۔“

مگر ان کے پہنچنے سےپہلےحضرت حجر اور آپ کےپانچ ساتھی قتل ہو چکےتھے۔حضرت عائشہ کا یہ قول الاصابہ صفحہ ۳۵۵ پر موجود ہے۔ اسی مقام کے آگے پیچھے سے مولانا عثمانی صاحب نےمتعدد دیگر اقوال نقل کیے ہیں مگر سخت تعجب ہے کہ یہ قول انہیں اس کتاب میں نظر نہ آسکا۔ بہر کیف حضرت عائشہ کی شدید ناراضی اور اضطراب ظاہر کرنے والے ان الفاظ کو نظر انداز کرتے ہوئےعثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ اب یہ بھی سن لیجئے کہ خود حضرت عائشہ کی ذاتی رائے حجر اور ان کےاصحاب کے بارے میں کیا تھی۔ امام ابن عبدالبر نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے یہ فرمایا تھا کہ حجر اور ان کے اصحاب کے معاملے میں تم سے ابو سفیان کی بردباری کہاں چلی گئی تھی ؟ تم نے ایسا کیوں نہ کیا کہ انہیں قید خانوں میں بند رکھتے اور انہیں طاعون کا نشانہ بنے دیتے؟ یہ تھا حضرت عائشہ کے نزدیک بردباری کا زیادہ سے زیادہ تقاضا جو حجر اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ روا رکھی جا سکتی تھی۔اگر حجر بن عدی اور ان کےساتھی بقول مولانا مودودی "حق گوئی" ہی کے مجرم تھے تو اس "حق گوئی" کی کم سے کم سزا حضرت عائشہ کے نزدیک بھی قید خانہ ہی تھی ۔“

عثمانی صاحب کا یہ ارشا دستم ظریفی اورسخن فہمی کا ایک نادر نمونہ ہے۔ ابن حجر نے حضرت عائشہ کا قول صرف یہ بیان کیا ہے۔

فبعثت الى معاوية عبد الرحمن بن الحرث الله الله في حجر وأصحابه..

" پھر حضرت عائشہؓ نے عبدالرحمن بن الحارث کو معاویہ کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ حجر اور ان کے ساتھیوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔“

آگے کی ساری عبارت ایک مکالمہ ہے جو عبد الرحمن اور امیر معاویہ کے درمیان ہوا۔ اس میں سے کوئی بات بھی ایسی نہیں جو حضرت عائشہ نے فرمائی ہو یا ان کی جانب سے عبدالرحمن نے نقل کی ہو، کیونکہ وہ تو سوال و جواب ہے جو عبدالرحمن اور امیر معاویہ کے درمیان ہوا تھا۔ عبارت یہ ہے:

فوجده عبدالرحمن قد قتل هو وخمسة من أصحابه فقال لمعاوية اين عزب عنك حلم ابي سفيان في حجر واصحابه الا حبستهم في السجون وعرضتم الطاعون. قال حین غاب عنی مثلک من قومی. قال والله لا تعدلك العرب حلما بعد هذا أبدا ولا رأيا . قتلت قوما بعث بهم الیک اساری من المسلمين؟

" عبدالرحمن ( جب حضرت عائشہ کا پیغام لے کر پہنچے ) تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت حجر اور ان کے پانچ ساتھی قتل ہو چکے ہیں۔ عبدالرحمن امیر معاویہ سے کہنے لگے کہ ”حجر اور ان کےساتھیوں کے معاملے میں ابو سفیان کا علم آپ سے کہاں غائب ہو گیا ؟ آپ نے انہیں قید خانوں میں کیوں نہ بند رکھا اور طاعون کا شکار کیوں نہ ہو جانےدیا ؟ "امیر معاویہ نے جواب دیا کہ آپ جیسےمیری قوم کے افراد مجھ سے دور ہوں ( تو نتیجہ ظاہر ہے )۔عبدالرحمن بولے ”خدا کی قسم اہل عرب آپ کو اس کے بعد کبھی بھی برد بار اہل الرائے شمار نہیں کریں گے۔ آپ نے ایسے مسلمانوں کو قتل کر دیا جو آپ کے پاس قیدی بنا کر بھیجے گئے تھے؟“

اب یہ بات فی الواقع بڑی تعجب خیز ہے کہ مولانا محد تقی صاحب نے حضرت عائشہ کا اصل پیغام تو بالکل حذف کر دیا ہے، جو انہوں نے عبدالرحمن کے ذریعے سے امیر معاویہ کو بھیجا تھا (اور وہ صرف اتنا ہی تھا کہ آپ حجر" کے معاملے میں اللہ سے ڈریں) مگر آگے جو بات خود عبدالرحمن نےامیر معاویہ سےکہی تھی اسے حضرت عائشہؓ کا قول قرار دے دیا۔

پھر قطع نظر اس بات کے یہ قول ( الا حبستهم في السجون ) حضرت عائشہ کا ہے یا کسی دوسرے شخص کا ، اس سے یہ استنباط عجیب چیز ہے کہ اس قول کے قائل کا منشاء ومدعا یہ ہے کہ حضرت حجر کو قتل کرنا تو ذرا سخت سزا تھی،البتہ یہ بات بالکل منصفانہ اور مناسب تھی کہ انہیں جبس دوام کی سزا دے کر جیل خانہ میں سڑنے یا طاعون میں مبتلا ہونے کے لیے چھوڑ دیا جاتا۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم بعض اوقات اپنے کسی مخاطب کو فہمائش کرنے کے لیے یا اس کے اعلیٰ اخلاقی جذبات سے اپیل کرنے کی غرض سے کہتے ہیں کہ فلاں کام کرنے کی بہ نسبت تو بہتر یہ تھا کہ آپ فلاں کے یا میرے گلے پر چھری پھیر دیتے۔ خود قرآن میں آیا ہے کہ جب برادران یوسف انہیں قتل کرنے پر تل گئے تو ایک بھائی نے کہا کہ قتل نہ کرو، کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو۔ اب کیا اس انداز بیان سے کوئی سلیم الطبع آدمی یہ استدلال کر سکتا ہے کہ انصاف کا تقاضا بھی یہی تھا کہ حضرت یوسف کو قتل کرنے کے بجائے انہیں کنوئیں میں پھینک دیا جاتا؟ اور کیافی الواقع جب انہیں اندھے کنوئیں میں ڈال دیا گیا، تو یہ کوئی جائز ومباح فعل تھا؟ میرے لیے زیادہ تفصیلات نقل کرنا مشکل ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت عائشہ نے قتل جڑ سے قبل اور اس کے بعد بھی جس طرح اس پر نکیر و احتجاج کیا ہے، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک یہ فعل سخت نا پسندیدہ اور قطعاً غیر جائز تھا۔ میں ان کا ایک قول پہلے نقل کر چکا ہوں کہ حضرت حجر کا جرم دراصل جرم ضعیفی تھا جس کی سزا مرگِ مفاجات کی صورت میں ظاہر ہوئی۔

امیر معاویہ نے مصر پر قبضہ کرنےکےبعد حضرت عائشہ کےبھائی محمد ابن ابی بکر کو وہاں نہایت بے دردی سے قتل کر دیا تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ وہ حضرت عثمان پر حملہ کرنے والوں میں شریک تھے اس لیے انکی موت کے طبعی صدمےکےبا وجود حضرت عائشہ نے ان کے قتل پر ایسا شدید احتجاج امیر معاویہ سے نہیں کیا اور ایسےسخت الفاظ میں ملامت و توبیخ نہیں کی جس طرح حضرت حجر کےمعاملےمیں کی ہےخود اصابه کے مقام مذکور پر یہ الفاظ ہیں:

ثم قدم معاوية المدينة فدخل على عائشة فكان اول ما بدأته به قتل حجر في كلام طويل جرى بينهما .

" پھر جب معاویہ مدینے میں حضرت عائشہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے سب سے پہلے قتل حجر کے مسئلے پر ان سے طویل گفتگو کی _١

اب یہ مولانا عثمانی کی نری زبردستی ہےکہ انہوں نے ایک قول میں معنوی تحریف کر کےاس کا حضرت عائشہ کی جانب انتساب کرتے ہوئے یہ لکھ دیا کہ ' تاہم اصل مسئلے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔حجرہ کے تمام حالات سے واقف ہونے کے بعد حضرت عائشہ کی رائے ان کے بارے میں یہی تھی کہ وہ بغاوت کے مجرم تھے اور ان کے ساتھ خوف خدا اور بردباری کا زاید سے زاید تقاضا یہ تھا کہ انہیں قید خانہ میں بند کر کے طاعون کا نشانہ بننے دیا جاتا ۔ مولانا عثمانی صاحب کی اس طرح کی معنی آفرینیوں پر میں سوائے اس کے اور کیا کہوں کہ

سخن شناس نه ای دلبرا خطا اینجاست

واقعہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ کا کوئی ایک ہی قول نہیں، بلکہ متعدد اقوال ایسے ہیں جن سےآپ کے شدت تاثر کا پورا اندازہ ہو جاتا ہے۔ مثلاً البدایہ جلد ۸ صفحہ ۵۵ پر ایک روایت ہے۔

لولا يغلبنا سفهاؤنا لكان لى ومعاوية في قتل حجر شان.

" اگر ہمارے سفہاء ہم پر غالب نہ ہو جاتے تو قتل حجر کے معاملے میں میرا معاویہ کے ساتھ طرز عمل اور ہی ہوتا۔‘ "طبری نے ایک دوسرا قول حضرت عائشہ کا یوں نقل کیا ہے:

لولا انا لم نغير شيئًا الا الت بنا الامور الى اشد مما كنا فيه لغير ناقتل حجر

" اگر ایسا نہ ہوتا کہ حالات کے بدلنے میں ہماری سعی کا نتیجہ موجودہ صورت سے خراب تر نکلتا، تو ہم حج کو قتل نہ ہونے دیتے۔“


١- أسد الغابہ کے الفاظ میں ولما قدم معاوية المدينة دخل على عائشة فكان اول ماقالت له في قتل حجر في كلام طويل.

دیگر اصحاب کا رد عمل

حضرت عائشہؓ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے جس شدید صدمہ وقلق کا اظہار کیا تھا، اس کی اہمیت کم کرنے کے لیے عثمانی صاحب فرماتےہیں کہ ”مولانا مودودی نےخراسان کے گورنر ربیع کےمجمل قول کا حوالہ دیا ہےجو کوفہ اور شام سےسینکڑوں میل دور بیٹھے ہوئے تھے۔حالانکہ سینکڑوں میل دور اگر حضرت حجر کے قتل کی خبر پہنچ سکتی تھی تو اس "زبر دست جنگ اور بغاوت کی خبر کیوں نہیں پہنچ سکتی تھی جسےحضرت حجر کے سر منڈھنےکی کوشش کی گئی ہے۔اگر فی الواقع کوئی بغاوت یا لڑائی حضرت حجر اوران کےساتھیوں نےبرپا کی ہوتی تو لڑائی کی خبریں بھی اسی طرح دُور دُور تک پھیلتیں جس طرح قتل کی خبر پھیلی اور ربیع حارثی افسوس کے بجائےاطمینان ظاہر کرتے کہ بغاوت فرو ہو گئی اور باغی کیفر کردار تک پہنچ گئے۔ اس معاملے میں مولانا عثمانی صاحب نےجس طرح حضرت عائشہ کے موقف کو غلط رنگ میں پیش کرنے اور گورنر خراسان کے قول کو مجمل کہہ کر اسے نا قابل اعتناء ثابت کرنےکی کوشش کی ہے،ایک طرف اس کو دیکھئےاور دوسری طرف انکے محبوب مؤرخ ابنِ خلدون کا یہ بیان ملاحظہ کیجئے کہ:

ارسلت عبدالرحمن الى معاوية يشفع فيهم...... واسفت عائشة لقتل حجر و كانت تثنى عليه

" حضرت عائشہ نے امیر معاویہ کے پاس عبد الرحمن کو حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کے حق میں سفارشی بنا کر بھیجا اور حضرت حجر کے قتل پر غمگین ہوئیں اور ان کی تعریف کیا کرتی تھیں ۔“

اب یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر یہ لوگ فی الواقع جرم بغاوت کے مرتکب تھےتو حضرت عائشہ نے ان کے لیےشفاعت اور اظہار افسوس کو کیسےجائز سمجھا اور ان کےحق میں قتل کے بعد ثنائیہ کلمات کیسےکہا کرتی تھیں جبکہ ان باغیوں نےنہ اقرار جرم کیانہ اظہار تو به و ندامت کیا؟ آخران کےجرم کی حقیقت کبھی تو ام المومنین پر منکشف ہونی چاہیےتھی۔ قتل کے کچھ عرصہ بعد جب امیر معاویہ کی اپنی ملاقات حضرت عائشہؓ سےہوئی ہےاسوقت بھی حضرت عائشہ نےباز پرس اور فہمائش ہی کا انداز اختیار کیا ہےاور امیر معاویہ نے جواب میں معذرت خواہانہ الفاظ میں کہا ہے کہ میں کیا کرتا، زیاد ان کے قتل پر مصر تھا۔ یہ نہیں کہا کہ یہ لوگ باغی تھے،اس لیےان کا قتل روا تھا اور آپ محض ناواقفیت کی بنا پر ان کی حمایت کر رہی ہیں۔بیان کیا ہے:

فلما بلغ الربيع بن زیاد بخراسان قتل حجر سخط ذالک وقال لا تزال العرب تقتل بعده صبرًا ولو أنكر واقتله منعوا أنفسهم من ذلك لكنهم أقروا فذلوا . ثم دعا بعد صلوة جمعة لأيام من خبره وقال للناس اني قد مللت الحيوة وانى داع فأمنوا ثم رفع يديه وقال اللهم ان كان لي عندك خير فاقبضني الیک عاجلا وامن النّاسُ ثم خرج فما تواترت ثيابه حتى سقط فحمل الى بيته ومات من يومه. ( تاریخ ابن خلدون ، جلد ۳ ص ۱۴)

” جب ربیع بن زیاد کو خراسان میں جڑ کے قتل کی خبر پہنچی تو وہ اس پر سخت ناراض ہوئے اور کہنےلگے آج کے بعد عرب اسی طرح بے گناہ باندھ باندھ کر قتل کیے جاتے رہیں گے۔ اگر وہ اس قتل پر احتجاج کرتے تو وہ اس انجام سے اپنے آپ کو بچا لیتے لیکن انہوں نے اس قتل کو انگیز کر لیا اس لیےوہ ذلیل ہو گئے۔پھر اس خبر کے چند روز بعد انہوں نےجمعہ کےبعد دعا شروع کی اور لوگوں سےکہا کہ میں اب زندگی سےاکتا گیا ہوں اور میں دعا مانگنےلگا ہوں، پس اس پر آمین کہو۔ پھر انہوں نےہاتھ اٹھائے اور کہنےلگے "اے اللہ اگر میرے لیے تیرے پاس خیر ہےتو مجھےاپنےہاں جلدی بلا لے ۔ لوگوں نے آمین کہی، پھر وہ مسجد سے نکلے اور اپنے کپڑے بھی سنھالنے نہیں پائے تھے کہ گر پڑے۔ پھر انہیں اٹھا کر گھر تک لے گئے اور اسی دن ان کی وفات ہوگئی ۔“

مولانا مودودی نےجس بات کو اجمالاً بیان کیا تھا،یہ ہےکہ اسکی تفصیل بلکہ منہ بولتی ہوئی تصویر_١ با اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر کے متعلق بھی مولانا نے لکھا تھا کہ انہیں بھی یہ خبر سن کر سخت رنج ہوا۔ اس پر مولا نا عثمانی نے کوئی تبصرہ نہیں فرمایا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ حوالہ بھی مجمل ہونے کی بنا پران کے نزدیک لائق توجہ نہ ہو۔لیکن واقعہ یہ ہےکہ حضرت ابن عمرؓ کا شدید الم انگیز رد عمل متعدد کتابوں میں منقول ہے۔صاحب استیعاب فرماتے ہیں:

كان ابن عمر في السوق فنعى اليه حجر فأطلق حدته وقام وقد غلبه الخطيب ._١


١- تھوڑے بہت لفظی اختلاف کے ساتھ یہی تفصیل اس واقعہ کی تاریخ طبری جلد ۴ صفحہ ۲۱۷ پر مذکور ہے۔

"حضرت ابن عمر بازار میں تھے کہ انہیں حجر کی موت کی خبر دی گئی۔ پس آپ نے اپنی چادر ڈھیلی کی ، اٹھ کھڑے ہوئے اور بے اختیار روتے ہوئے آپ کی چیخ نکل گئی۔“

حافظ ابن حجر الاصابہ میں فرماتے ہیں:

كان ابن عمر يخبر عنه فأخبر بقتله وهو بالسوق فاطلو حبوته وولى وهو يبكي.

"حضرت ابن عمر حضرت حجر کی خیر خبر معلوم کرتے رہتے تھے۔ پھر انہیں ان کے قتل کی اطلاع ملی جب کہ وہ بازار میں تھے۔ پس انہوں نے اپنی چادر کھولی اور روتے ہوئے بازار سے لوٹ آئے ۔“

مولانا مودودی نےاس ضمن میں حضرت حسن بصری کا ایک قول بھی نقل کیا ہےجس میں انہوں نے قتل حجر کی مذمت کی ہے۔مولانا عثمانی صاحب فرماتےہیں کہ اس مقولےکے آخری جملے کو مولانا مودودی نے نقل نہیں کیا،ورنہ اس سےاس کا سارا بھرم کھل جاتا ہےاور وہ جمله یه ہےويلا له من حجر و اصحاب حجر.........اسکا ترجمہ عثمانی صاحب نےکیا ہے” حجر اور ان کےساتھیوں کی وجہ سےمعاویہ پر درد ناک عذاب ہو۔یہ غلط ترجمه کرنے کے بعد فرماتےہیں۔یہ الفاظ لکھتےوقت ہمارا قلم بھی لرز رہا تھا،مگر ہم نےیہ اسلیےنقل کر دیئےہیں کہ ان ہی جملوں سےاس روایت کی حقیت بھی واضح ہو جاتی ہےکیا حضرت حسن بصری سےکسی درجہ میں بھی توقع کی جا سکتی ہےکہ انہوں نےاس بے دردی اور بے باکی کے ساتھ حضرت معاویہ کی شان میں یہ الفاظ استعمال کیے ہوں گے؟میں عثمانی صاحب کو اطمینان دلاتا ہوں کہ حضرت حسن بصری جنہوں نےیہ الفاظ استعمال کیےیا طبری اور ابن اثیر وغیرہ جنہوں نےانہیں نقل کیا ہےوہ لغت عرب اور امیر معاویہ کی شان عثمانی صاحب سےزیادہ جانتےتھے۔ویل کےمعنی اصلا دردناک عذاب کےنہیں بلکہ برائی خرابی اور افسوس کےہیں، اگرچہ یہ لفظ عذاب کے لیے بھی مستعمل ہے۔فویل لِلْمُصَلِّينَ .... يَوَيُلَتى أَعَجَزْتُ يَوَيُلَتى وَالِدُ کے قرآنی کلمات میں ویل سےمراد عذاب نہیں بلکہ خرابی ہے۔قرآن مجید کےدوسرےمقامات پر بھی شاہ عبدالقادر صاحب اور دوسرےمترجمین نے ویل کا ترجمہ بالعموم خرابی یا اسی مفہوم کے دوسرے الفاظ میں کیا ہے۔ امام راغب فرماتے ہیں:


١- یہی الفاظ اُسد الغابہ میں حجرہ کے حالات بیان کرتے ہوئے نقل کیے گئے ہیں۔

ويل، قبح وقد يُستعمل على التحسر ومن قال ويل واد في جهنم فإنه لم يردان ويلاً في اللغة هو موضوع لهذا.

" ویل کےمعنی برائی اور قباحت کے ہیں اور بعض اوقات یہ کلمہ حسرت کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور جس نے ویل کا مطلب جہنم کی وادی بیان کیا ہے، اس کی مراد یہ نہیں ہے کہ لغت میں یہ لفظ ان معنوں کا حامل ہے۔“

قاموس میں ہے:

الويل حلول الشر وبهاء الفضيحة اوهو تفجيع.

"ویل کے معنی برائی پیش آنے کے ہیں اور ہ ساتھ آئے تو فضیحت مراد ہے یا پھر اس کا مطلب مصیبت ہے۔“

متعدد احادیث میں بھی ودیل کا لفظ خرابی کے معنوں میں آیا ہے، مثلاً

ويل للذي يحدث فيكذب، ويل لأمتي من علماء السوء.

" حیف ہے اس شخص پر جو بات کرے تو غلط بیان کرے۔ خرابی ہے میری امت کی علمائےسوء کی وجہ سے۔“

اب یہ مدیر البلاغ کی انصاف پسندی کا کمال سمجھا جائے یا ان کی زبان دانی کا کرشمہ خیال کیا جائے کہ وہ لفظ ویل کے بنیادی لغوی مفہوم کو چھوڑ کر حضرت حسن کے قول کو خواہ مخواہ وحشتناک معانی پہنا رہے ہیں، پھر اس پر استدلال کی عمارت اٹھا رہے ہیں اور اپنے قلم کو بلا وجہ لرزش میں مبتلا کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی مدیر البلاغ نےپھر وہی اعتراض دہرا دیا ہےکہ یہ روایت بھی ابو مخنف کی ہے اور یہ حسن بصری پر بہتان وافترا ہے۔ ابو مخنف شیعہ، حجر بن عدی کا حامی اور حضرت معاویہؓ کا دشمن ہے مجھے ابومخنف کی وکالت کرنے کی حاجت نہیں ہے۔ میں پہلے واضح کر چکا ہوں کہ جن روایات کی بنا پر ابو مخنف کی یہ تواضع ہو رہی ہے، ان سےشدید تر روایات ثقہ راویوں کی صحاح میں موجود ہیں۔خوداسی ویلا له من حجر .....والی روایت ہی کو لے لیجئےاستیعاب صفحہ ۳۵۷ ہی پر مسند احمد کی ایک روایت موجود ہے جس کی سند میں ابو مخنف کا نام نہیں۔ اس میں حضرت حسنؓ سےمروی ہے کہ انہوں نےامیر معاویہ کا ذکر کیا کہ انہوں نے حضرت حجر کو قتل کیا اور پھر فرمایا:

ويل لمن قتل حجرًا واصحاب حجر.

"افسوس ہے یا خرابی ہے اس کے لیے جس نے حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا۔صاحب اُسدالغابہ نے حضرت حجر کے حالات بیان کرتے ہوئے حضرت حسن کے متعلق لکھا ہے:

كان الحسن البصري يعظم قتل حجر .

" حسن بصری قتل حجر" کو سانحہ عظیمہ خیال کرتے تھے۔“

اور محمد بن سیرین کا یہ قول بھی اسد الغابه میں درج ہےکہ جب ان سےان دو نفل رکعتوں کےبارے میں پوچھا جاتا تھا جو قتل کے وقت مقتول پڑھتا ہےتو فرماتے تھے کہ حضرت خبیب اور حجر نےانہیں پڑھا تھا ارو وہ دونوں صاحب فضل تھے (وهمــا فـاضـلان ) امام حسین کے متعلق البدایه جلد ۸، صفحہ ۵۳ پر ایک روایت درج ہے کہ انہیں جب حضرت حجڑ کےقتل کی اطلاع ملی تو آپ نےپوچھا کہ کیا ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی ہے اور کیا انہیں بیڑیوں اور بندشوں ہی میں دفن کر دیا گیا ہے؟جواب ملا کہ ہاں۔“ حضرت حسین نے فرمایا کہ خدا کی قسم، ان کی حجت قاتلین پر قائم ہوگئی (حجهم والله )۔حضرت حسین کا مد عالیہ تھا کہ ان کا جنازہ پڑھنا ہی ثابت کر رہا ہے کہ یہ باغی یا مرتد نہیں تھے، مسلمان تھے اور معصوم الدم تھے۔ ایک طرف اکابر امت کے یہ اقوال دیکھیے اور دوسری طرف عثمانی صاحب کی یہ جسارت ملاحظہ کیجئے کہ وہ حضرت حجر کے فضل اور زہد و تقویٰ کو خوارج کی عبادت گزاری سےتشبیہ دےرہےہیں جسکی مذمت حدیث میں وارد ہےاس پر ادعا یہ ہےکہ یہ حضرات خود تو بزرگوں کی تعظیم کرنے والے ہیں اور دوسرے ان کی توہین کرتے ہیں۔

ابومخنف کا ذکر آ گیا ہے تو اس دلچسپ حقیقت کا ذکر بھی مناسب ہے کہ حضرت حجر بن عدی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ مرتب کرتے ہوئے عثمانی صاحب نے ابو مخنف ہی کی روایات پر انحصار کیا ہے۔ اگر چہ اس راوی کا نام شاذ و نادر ہی لیا گیا ہے، البتہ آخر میں جا کر مولا نا عثمانی صاحب نے بطور پیش بندی یہ لکھ دیا ہے کہ ہم پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ ہم نے بیشتر روایات ابو مخنف ہی کی لی ہیں، لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ ابو مخنف شیعہ اور حجر کا حامی ہے، لہذا اصول کا تقاضا ہے کہ ان روایات کو قبول کیا جائے جو حج کے خلاف جاتی ہیں کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حجر کی بغاوت کے واقعات اس قدر نا قابل انکار تھے کہ ابو مخنف ان کا پر زور حامی ہونے کے باوجود ان کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوا۔ اپنی اپنی پسند اور اپنا خیال ہے۔ میرا خیال تو یہ ہے کہ ابو مخنف کی روایات کا جوانبار مولانا عثمانی صاحب نے ہیں صفحات میں لگایا ہے، اس سے تو جرم بغاوت کے اثبات میں ذرہ برابر مددنہیں مل سکتی اور اس نقطۂ نظر سے ان پر لا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِی مِنْ جُوعٍ کا اطلاق ہوتا ہے۔آخر آپ ابو مخنف کی روایات کو قبول کرنے میں اتنا تکلف کیوں برت رہے ہیں اور اصول اور ان کے تقاضوں کی آڑ کیوں لے رہے ہیں؟ آپ سیدھی طرح اس بات کو کیوں تسلیم نہیں فرمالیتے کہ تاریخی مباحث میں مجروح راویوں کی روایات پر انحصار کیے بغیر چارہ نہیں۔ ” خلافت و ملوکیت" یا کسی دوسری تاریخی روایات کی حامل کتاب کے راویوں پر کتب رجال کی مدد سے تنقید کر لینا تو بہت آسان ہے لیکن مثبت انداز میں کسی تاریخی موضوع پر کلام کرتے ہوئے یا تاریخی واقعات کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اس امر کا اہتمام قطعاً محال ہے کہ بیچ میں کسی ضعیف یا متکلم فیہ راوی کی روایت نہ آئے پائے۔

آپ کہتےہیں کہ ابو مخنف حضرت حجر" کا حامی ہےمیں آپ سےپوچھتا ہوں کہ آپ براہ کرم اصحاب سلف میں سےچند ایسےحضرات کےنام گنوادیں جو حضرت حجر کےحامی نہیں بلکہ ان کےدشمن ہیں۔میرے علم میں کوئی مؤرخ، محدث یا فقیہ ایسا نہیں ہے جس نےحضرت حجر کو آپ کی طرح باغی اور گردن زدنی اور مثل خوارج قرار دیا ہو۔سب نےمجرد واقعہ قتل کو جوں کا توں بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے،حضرت حجرہ کو صاحب فضیلت مستجاب الدوۃ لکھا ہے، اور ان کے حق میں رحمت ورضوان کی دعا کی ہے۔ اس سے زاید کسی نے کچھ لکھا ہے تو وہ امیر معاویہ اور زیا دہی کےخلاف جاتا ہے، حج کے خلاف نہیں جاتا۔ اگر میرا خیال غلط ہے اور حضرت حجر کی برات اور اسلام کے قانونِ بغاوت کی تشریح کرتے ہوئے جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ صحیح نہیں ہے تو آپ براہ کرم میری تصحیح فرمادیں۔ نیز ذرا یہ بھی فرما دیں کہ آپ کے والد ماجد نےاپنی کتاب ”شہید کربلا میں شہادت حسین کےسلسلےمیں ابو مخنف کی جو روایات نقل کی ہیں،وہ حضرت حسین کےحامی کی حیثیت سےلی گئی ہیں یا مخالف کی حیثیت سے؟ اور ابومخنف یزید کا حامی تھا یا دشمن؟ اصول کا تقاضا تو یہ بھی ہے کہ واقعہ کربلا میں اس کی روایات نہ لی جائیں۔

مؤرخین متأخرین کی آراء

حضرت حجر بن عدی کی صحابیت و فضیلت کےمتعلق اگر چہ متعدد اقوال میں پہلےنقل کر چکا ہوں،مگر خاتمہ بحث کے طور پر میں چند مزید اقتباسات بھی نقل کر دینا چاہتا ہوں تا کہ عثمانی صاحب کے اس الزام کی حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے کہ مولانا مودودی نے ایک باغی ، گردن زدنی اور شورش پسند تابعی کو ایک حق پرست اور عظیم المرتبت صحابی کے طور پر پیش کر دیا ہے۔

امام ذہبی اپنی تصنیف العمر في خبر من عمر ، الجزء الاول ، مطبعه حکومتۃ الکویت ص ۵۷ پر را۵ کے حوادث کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وفيها قتل بعذراء حجر بن عدي الكندي وأصحابه بأمر معاوية ولحجر صحبة ووفادة وجهاد وعبادة

"اسی سال حجر بن عدی اور ان کے رفقاء معاویہ کےحکم سےعذراء کےمقام پر قتل ہوئے۔حجر صحابی ہیں جو ایک وفد میں آنحضور کے پاس حاضر ہوئے۔آپ ایک عبادت گزار بزرگ تھےجنہوں نےجہاد میں بھی شرکت کی ۔“

استاد عبدالوهاب النجار جنہوں نے تاریخ الکامل لابن اثیر، ادارة المنیر یہ ۱۳۵۶ھ کے مطبوعہ نسخہ کی تصیح و تہذیب کی ہے، وہ اس کتاب کی جلد ثالث ص ۲۴۱ پرحاشیه میں فرماتے ہیں:

ان هؤلاء الناس الذين قتلتهم الاهواء السياسية كانوا اقوى على الحق واقوم قيلا من معاوية الذي يريق دماء هم على سراحهم وعدم أذهانهم في دينهم.

”حضرت حجر اور ان کے ساتھی جو سیاسی اغراض کے باعث قتل ہوئے ، وہ اپنے قول وعمل میں امیر معاویہ کی بہ نسبت زیادہ بر سر حق تھے۔ وہ اپنے دین کے معاملے میں مداہنت کے بجائےصراحت سے کام لیتے تھے جس پر انکا خون بهایا گیا۔“

مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی، سیر الصحابہ جلد هفتم طبع دوم (ص ۴۴ تا ص ۴۸) میں لکھتے ہیں :

"حضرت حجر بن عدی، اغلب یہ ہے کہ ٩ھ میں اسلام سےمشرف ہوئے کیونکہ اسی سنہ میں کندہ کا وفد مدینہ آیا تھا۔اس میں حجر بھی تھے - - - امیر معاویہ نےجب زیاد کو عراق کا والی بنایا تو اسکی تندخوئی اور بداخلاقی کی وجہ سے اس میں اور حجر میں مخالفت شروع ہو گئی۔ ایک دن زیاد جامع کوفہ میں تقریر کر رہا تھا۔ نماز کا وقت آخر ہو رہا تھا۔ حجر اور ان کے ساتھیوں نے زیاد کو متنبہ کرنے کے لیے اس پر کنکریاں پھینکیں۔ زیاد نے بڑی حاشیہ آرائی کے ساتھ بڑھا چڑھا کر ان کی شکایت لکھ بھیجی_١ کہ یہ لوگ عنقریب ایسا رخنہ ڈالیں گے کہ اس میں پیوند نہ لگ سکےگا... امیر معاویہؓ نےچھ آدمیوں کو رہا کر دیا اور چھ کو جن میں ایک حجر تھے قتل کا حکم دیا۔ وصیت :غیرہ کے بعد جلاد نے وار کیا اور ایک کشتۂ رستم خاک و خون میں تڑپنے لگا۔ حجر کا قتل معمولی واقعہ نہ تھا۔ اپنے خاندانی اعزاز اور حضرت علی کی حمایت کی وجہ سے وہ کوفہ میں بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ معززین کوفہ حضرت حسنؓ کے پاس فریاد لےکر پہنچے۔آپ بے حد متاثر ہوئےلیکن امیر معاویہ کی بیعت کر چکے تھے اس لیے مجبور تھے ۔“


١- زیاد کی رہی سہی کسر مولا نا محمد تقی عثمانی صاحب نے پوری کر دی ہے۔

اہل بیت نبوی میں بھی جڑ کی بڑی وقعت تھی۔چنانچہ حضرت عائشہ نےجس وقت انکی گرفتاری کی خبر سنی ، اسی وقت انہوں نے عبدالرحمن بن حارث کو امیر معاویہ کے پاس دوڑایا کہ وہ حجر اور ان کے رفقاء کے معاملے میں خدا کا خوف کریں۔ لیکن یہ اس وقت پہنچےجب حجر قتل ہو چکےتھے۔پھر بھی انہوں نےامیر معاویہ کو بڑی ملامت کی۔ حضرت عبداللہ بن عمر کو خبر ملی تو زار زار رونے لگے۔ خود امیر معاویہ کے آدمیوں نے اس قتل کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا۔ چنانچہ ربیع بن زیاد حارثی گورنر خراسان نے سنا تو اس درجہ متاثر ہوئے کہ دعا کی کہ خدایا! اگر تیرےیہاں ربیع کے لیے بھلائی ہو تو اسےجلد بلا لے۔معلوم نہیں یہ دعا کس دل سےنکلی تھی کہ سیدھی باب اجابت پر پہنچی۔ حضرت عائشہ کو بڑا صدمہ تھا۔ چنانچہ اسی سال جب امیر معاویہ حج کو گئے اور زیارت کےلیے مدینہ حاضر ہوئے اور حضرت عائشہ کی خدمت میں گئے تو انہوں نے فرمایا ” تم کو حجر اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے بارے میں خدا کا خوف نہیں معلوم ہوا؟ جہڑا اپنے خاندانی اعزاز ومرتبہ کے علاوہ صحابہ کرام کی جماعت میں بھی ممتاز اور بلند پایہ شخصیت رکھتے تھے۔علامہ ابن عبدالبر لکھتے ہیں کہ حجر" فضلائے صحابہ میں تھے اور اپنی صغرسنی کے باوجود بڑوں میں شمار ہوتے تھے۔ مشہور تابعی محمد بن سیرین سےجب قتل سے پہلے کی نفل پڑھنے کے بارے میں پوچھا جاتا تھا تو کہتے یہ دو رکعتیں خبیب اور حجر نے پڑھی ہیں اور یہ دونوں فاضل تھے۔“

یہی مؤرخ اپنی دوسری کتاب تاریخ اسلام حصہ دوم طبع پنجم ص ۱۳۰ میں لکھتے ہیں:

"امیر معاویہؓ نے اپنے زمانہ میں برسر منبر حضرت علی پر سب و شتم کی مذموم رسم جاری کی تھی،اور ان کے تمام عمال اس رسم کو ادا کرتے تھے۔ مغیرہ بن شعبہ بڑی خوبیوں کے بزرگ تھے لیکن امیر معاویہ کی تقلید میں یہ بھی اس مذموم بدعت سے بچ نہ سکے۔حجر بن عدی اور ان کی جماعت کو قدرةً اس سے تکلیف پہنچی تھی۔ اس کےجواب میں وہ بھی مغیرہ اور امیر معاویہ کو برا بھلا کہہ کر اپنےدل کی بھڑاس نکال لیتےتھے۔زیاد کے زمانے میں بھی یہ رسم جاری رہی اور اسی کے ساتھ حجر کا جوابی طرز عمل بھی قائم رہا- - - - حضرت حجر بن عدی بڑے رتبےکےصحابی تھے،اس لیے ان کے قتل کا اثر بہت برا پڑا۔“

مولانا مناظر احسن صاحب گیلانی جو فضلائےدیوبند میں سے ہیں،” تدوین حدیث"‘ص ۴۲۳ پر حضرت حجر بن عدی کا بحیثیت صحابی ذکر کرتے ہوئے ان کی شہادت کا واقعہ بیان کرتے ہیں جس کے آخر میں فرماتے ہیں:

"حضرت حجر بن عدی کی جلالت شان کا اندازہ اسی سے کیجئے کہ کوفہ سے شام گرفتار کر کےبھیجے گئے اور یہ خبر مدینہ پہنچی تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما نے اسی وقت امیر معاویہ کے پاس قاصد دوڑایا کہ حجر کو ہر گز قتل نہ کرنا لیکن قاصد اس وقت پہنچا جب وہ شہید ہو چکے تھے۔“

مولانا قاضی زین العابدین میرٹھی نے بھی تاریخ ملت، جلد سوم (ص۲۲ تا ۲۶) پر حضرت حجر بن عدی کے قتل کو افسوسناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کم و بیش وہی تفصیلات بیان کی ہیں جو پہلے گزر چکی ہیں۔

مولانا سید سلیمان ندوی اپنی تصنیف ”سیرت عائشہ ص ۱۵۰ ۱۵۱، طبع چہارم میں تحریر فرماتے ہیں:

"حجر بن عدی ایک صحابی علی کےبڑے طرفدار اور کوفہ میں علوی فرقہ کےسرگروہ تھے۔کوفہ کے والی نے کچھ لوگوں کی شہادت پر ان تمام اشخاص کو گرفتار کر کے دمشق بھیج دیا۔حجر یمن کےخاندان کندہ سےتھے۔کوفه عرب کےبڑےبڑےقبائل کا مرکز تھا۔خود کندہ کا قبیلہ یہاں موجود تھا۔لیکن کسی نےحج کی حفاظت کےلیے انگلی تک نہ ہلائی۔تاہم حجر کا صحابہ میں اس وقت نہایت اقتدار تھا۔اس لیےاس واقعہ کو تمام ملک نےناگواری کے ساتھ سنا۔قبائل کےرئیسوں نے ان کےحق میں سفارشیں کیں لیکن قبول نہ ہوئیں۔مدینہ خبر پہنچی تو حضرت حضرت عائشہ نے اپنی طرف سے ایک قاصد ان کی سفارش کے لیے روانہ فرمایا۔ لیکن افسوس کہ قاصد پہنچنے سے پہلے حجر کا کام تمام ہو چکا تھا۔ اس وقت جب امیر معاویہ ملنے آئے ، تو حضرت عائشہ نے سب سے پہلے جو گفتگو ان سےکی وہ تھی۔ اس وقت جب امیر معاویہ ملنے آئے ، تو حضرت عائشہ نے سب سےپہلےجو گفتگو ان سے کی وہ معاویہ نے جواب دیا اس میں میرا قصور نہیں، قصور ان کا ہے جنہوں نے گواہی دی۔‘“ دوسری روایت میں ہےکہ امیر معاویہ نےکہا، یا ام المؤمنین! کوئی صاحب الرائےمیرے پاس موجود نہ تھا۔ مسروق تابعی راوی ہیں کہ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں کہ خدا کی قسم ، اگر معاویہ کو معلوم ہوتا کہ اہل کوفہ میں کچھ بھی جرات اور خود داری باقی ہےتو کبھی وہ فجر کو ان کےسامنے پکڑوا کر شام میں قتل نہ کرتے۔لیکن اس جگہ خوارہ ہند کے بیٹے نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ اب لوگ اٹھ گئے ، خدا کی قسم کو فہ شجاعت و خود داری والے عرب رئیسوں کا مسکن تھا۔ لبید نے سچ کہا ہے:

ذهب الذين يُعاش في أكنافهم وبقيت في خلف كحد الاجرب

لا ينفعون ولا يُرجى خيرهم ويُعاب قائلهم وان لم يُبعت

"وہ لوگ چلےگئےجن کےسایہ میں زندگی بسر کی جاتی ہے۔اب ایسےاخلاف کےدرمیان رہ گیا ہوں جو خارشی اونٹ کی طرح ہیں۔نہ وہ نفع پہنچاتےہیں،نہ ان سے بھلائی کی امید ہے۔ان سےباتیں کرنےوالوں کی عیب گیری کی جاتی ہے۔"

متقدمین و متاخرین علماء کی ان سب تحریروں کی موجودگی میں تو مولانا مودودی کے معترضین کو صحابہ کرام کی مدافعت و عدالت کےلیےقلم اٹھانےکی ضرورت محسوس نہیں ہوئی لیکن ”خلافت و ملوکیت" کےخلاف جب دوسرے حضرات اپنا اپنا زور دکھا چکے،تو مولانا محمد تقی صاحب عثمانی پوری متقیانہ شان کے ساتھ میدان میں آگئے اور ان کے مضامین ہندو پاکستان کے متعدد جرائد میں تقریظات کے ساتھ نقل ہونے لگے۔ جب بعض لوگوں نے توجہ دلائی کہ یہ باتیں تو قریب کے دور میں اسی دیار کے علماء اپنی اردو تصانیف میں زیادہ سخت و درشت انداز میں لکھ چکے ہیں تو جواب میں کبھی فرمایا گیا کہ ہاں لکھی ہوں گی اگر ہم نے انہیں نہیں پڑھاتھا بھی کہا کہ ان سے فتنہ نہیں پھیلا،لیکن مولانا مودودی کی تحریر سے فتنہ پھیلا، بھی ارشاد ہوا کہ دوسروں کی غلط بات سے ان کا جرم ہلکا نہیں ہو جاتا۔ میں پوچھتا ہوں کہ دارالمصنفین اور خود آپ کے بھائی کے دارالاشاعت کی مطبوعات جو مدت دراز سے ہندو پاکستان میں ہزارہا کی تعداد میں چھپ کر پھیل رہی ، ہیں اور جن کے کئی کئی ایڈیشن نکل چکے ہیں، انہیں چھ ؛ کر آخر مولانا مودودی ہی کی کتاب کے مطالعہ کی زحمت آپ نےکیوں گوارا کی؟ آخر کس قاعدے اور منطق کی رو سے وہی بات ایک شخص کہے تو فتنہ ہے اور دوسرےکہیں تو فتنہ نہیں، نہ محتاج تنقید و تردید ہے؟ کیا یہ انوکھا واقعہ ایک سے زاید مر: بہ رونما نہیں ہو چکا کہ دیوبند کے فضلاء اور ارباب افتاء کے سامنے اپنے اکابر ہی کی بعض تحریرات پیش کی گئیں اور انہوں نے ان عبارتوں کو مولانا مودودی کے قلم سےنکلا ہوا سمجھا اور بلا تامل فتوائےتکفیر رسید کر دیا۔ بعد میں حقیقت حال منکشف ہونے پر مضحکہ خیز طریقوں سےاپنی حرکت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔علمائے ندوہ اگر حضرت حجر کو کشتہ ستم قرار دیں،نیز یہ کھیں کہ امیر معاویہ نے اپنےزمانےمیں برسر منبر حضرت علی پر سب و شتم کی مذموم رسم جاری کی تھی اور ان کے تمام عمال اس رسم کو ادا کرتے تھے اور مولانا تھانوی یہ نقل فرمائیں کہ حضرت معاویہ کے یہاں حضرت کی پر تبرا ہوتا تھا اور روافض حضرت معاویہ کے مقلد ہیں تو ان حضرات کی طرف رخ کر کے تو کچھ بھی نہ کہا جائےاور ان سے اغماض برتتےہوئےصرف مولانا مودودی ہی کو اللہ سے پناہ مانگنے کی تلقین اور توبہ استغفار کی نصیحت کی جائے، تو پھر اس صورتِ حال میں مولانا مودودی کے بارے میں سوائے اس کے اور کیا کہوں کہ

وجودك ذنب لا يُقاط بذنب.

" تیرا زندہ ہونا ہی گناہ ہے، اس جیسا کوئی گناہ نہیں۔“

مولانا مودودی نے چند سطروں میں یا ایک آدھ صفحے میں جو کچھ حضرت امیر معاویہ کے متعلق ایک ضمنی تاریخی بحث کے دوران میں لکھ دیا ہے، اس پر مولانا عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ امیر معاویہ کی قبر کو نور سےبھر دےان کےلیےبلندی درجات کے کیسے کیسے سامان ہورہے ہیں۔میں عرض کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت معاویہ اور حضرت حجر بن عدی دونوں کی قبروں کو نور سے لبریز کر دے۔ حضرت حجرا اپنے فضائل و مناقب اور خدمات اسلام کے لحاظ سے حضرت معاویہ سے فروتر نہ تھے۔ انہوں نے عہد صدیقی و فاروقی میں کفار کے خلاف جہاد بالسیف کیا اور حضرت علی کےدست و باز و بنے رہے۔ کیا ان کو مباح الدم اور لائق قتل قرار دینے والے توبہ وندامت کے سزاوار وحاجت مند نہیں ہیں؟

توبہ فرما یاں چرا خود توبه کمتر می کنند

(۲)

عثمانی صاحب کے مزید "دلائل“

میں نےحضرت حجر بن عدی کےقتل پر نہایت تفصیل سےبحث کر دی تھی اور میرا گمان یہ تھا کہ جناب محمد تقی صاحب عثمانی اس مسئلےکو مزید نہیں چھیڑیں گےمگر میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا ہوں کہ انہوں نےپھر زور و شور کے ساتھ حضرت حجر کو باغی اور واجب القتل ثابت کرنے کی سعی کی ہے۔لکھتے ہیں کہ ان کی ایک بھاری اور طاقتور جمعیت تھی جسے قابو میں لانے کے لیے زیاد جیسےگورنر کو بڑی مشقت و محنت اٹھانی پڑی۔ اس دعوے کی تائید میں کچھ دلائل پیش کیے ہیں۔ اگر میں پہلےہی سیر حاصل بحث نہ کر چکا ہوتا تو میں ان کےتائیدی دلائل میں سےایک ایک کا مُسکت جواب دوبارہ دیتا۔تا ہم اختصار کے ساتھ میں ان میں سے چند ایک کا جائزہ لیتا ہوں۔ عثمانی صاحب کا کہنا ہے کہ حضرت حجر کے ساتھ کوفے کے تین ہزار افراد تھے جن کے بل پر انہوں نے حضرت حسینؓ کو حضرت معاویہ کےخلاف اٹھنےپر آمادہ کیا تھا اور زیاد نے حج کےمقابلے کےلیےمختلف قبائل کی ایک پوری فوج تیار کی تھی۔ میں عثمانی صاحب سے صرف یہ پوچھتا ہوں کہ ہزاروں باغیوں اور گردن زدینوں کی اس جمعیت میں سےکتنےآدمی تھے جو حج کے ساتھ زیاد اور اس کی فوج کےبالمقابل لڑے،کتنے قتل ہوئے ، کتنے زخمی ہوئے اور بارہ چودہ کے سوا کتنے تھے جو قید ہوئے اور قید ہونے کے بعد مارے گئے؟ اس طرح کے کوفےمیں ہزاروں ساتھی تو حضرت حسین کے بھی تھےجنہوں نے کئی تھیلے بھرے خطوط لکھ کر آپ کو بلایا تھا۔ طبری اور دوسرے سب مؤرخین بتاتے ہیں کہ ان خطوط لکھنے والوں میں سے بارہ ہزار مسلح افراد تو ایسے تھے جنہوں نےحضرت مسلم بن عقیل کےہاتھ پر باقاعدہ حضرت حسینؓ کےحق میں بیعت بھی کی تھی۔اگر اس طرح کی زبانی جمع خرچ سےبغاوت کا الزام پایہ ثبوت کو پہنچ سکتا ہےتو یہ سارےکوفےوالےباغی اور سزاوار قتل ٹھہرے۔ پھر تو یزید نے بڑا کرم کیا کہ صرف مسلم بن عقیل اور خانوادہ حسین کو قتل کرایا،بقیۃ السیف کی جاں بخشی کر دی اور عثمانی صاحب کے اسی اصول پر عمل کیا کہ ہر باغی اگر چہ لائق قتل ہے مگر بعض کو زندہ قید میں رکھ کر طاعون کا شکار بنایا جاسکتا ہے یا بدرجہ آخر چھوڑا بھی جاسکتا ہے۔

"لڑائی اور گورنر کے اخراج "کا فسانہ

عثمانی صاحب یہ بھی فرماتےہیں کہ زیاد کو خط لکھا گیا تھا کہ اگر تم کوفہ کو بچانےکی ضرورت سمجھتےہو تو جلد آ جاؤ ۔عثمانی صاحب کو معلوم ہونا چاہیےکہ ایسےخطوط حضرت مسلم ابن عقیل کےکونےپہنچنےپر عبداللہ بن زیاد کو بھی لکھے گئے تھے مگر کیا ان سے حضرت مسلم یا دوسرے کسی شخص کی بغاوت ثابت ہو سکتی ہے؟ اس کے برعکس حال تو یہ تھا کہ جب ابن زیاد نے مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروه کے سر قلم کیے اور یزید کو روانہ کیے، تو کوفے والوں نے چوں تک نہ کی۔یہی جال حضرت حجر کی گرفتاری کا تھا۔ یہ کوفے کو بچانے والی بات جو زیاد کو کھی گئی تھی، اس کے لیے عثمانی صاحب نےاپنی کتاب کے ص ۶۶ اور ص ۱۹۵ پر طبقات ابن سعد جلد ۸، جز ۲۲ ، دار صادر، بیروت کا حوالہ دیا ہےحالانکہ یہ واقعہ طبقات کےاس ایڈیشن کی جلد ۶ ، جزء۲۱ کے ص ۲۱۷۔۲۱۸ پر درج ہے۔ یہاں یہ ذکر کر دینا مناسب ہے کہ ابن سعد نے حضرت حجر کے حالات بیان کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ لکھا ہے کہ انہوں نے جاہلیت کے بعد اسلام کا دور پایا اور وہ اپنے بھائی حضرت ہانی بن عدی کےساتھ بصورت و فد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لائے تھے۔ یہ حضرت بجڑ کے صحابی ہونے کا مزید ثبوت ہے جس سے عثمانی صاحب کو انکار ہے۔ اس کے بعد ابن سعد نے تقریباً وہی واقعات بیان کیے ہیں جوطبری میں مذکور ہیں اور جن پر مفصل تبصرہ میں پہلے کر چکا ہوں۔ حضرت حجر کے جن ہزاروں ساتھیوں سے کوفہ کو خطرہ لاحق تھا ان کے سلسلہ میں محد تقی صاحب نے البدایه جلد ۸، ص ۵۳ کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں ان ساتھیوں کی یہ باغیانہ سرگرمی مذکور ہے کہ وہ حجر کے پاس آتے جاتے تھے اور ان کے ساتھ جا کر مسجد میں نماز پڑھتے تھے۔ ممکن ہے زیاد نے دفعہ ۱۴۴ لگا کر ایسی جمعیت کو بھی ناجائز اور غیر قانونی مجمع قرار دے دیا ہو اور جو شخص اس میں شامل ہوا اسے بغاوت کا مجرم ٹھہرا دیا ہو۔ ایک حوالہ عثمانی صاحب نے تاریخ طبری جلدم ، صفحه ۱۹۴ تا ۱۹٫۹ کا دیا ہے۔ اس کی تفصیل کچھ پہلے دی جا چکی ہے۔ مزید یہ ہے کہ ص ۱۹۴ پر یہ درج ہے کہ زیاد نے ہمدان ، تمیم،ہوازن وغیرہ قبائل کے لوگوں سے کہا کہ وہ حجر کو پکڑ لائیں۔ حضرت مجر نے جب اپنے ساتھیوں کی قلت کو دیکھا(فنظر الى قلة من معه من قومه ) تو اپنے رفقاء سے کہا کہ ”تم لوگ یہاں سےچلے جاؤ، خدا کی قسم تمہارے خلاف جو لوگ جمع ہو کر آئے ہیں، ان کا مقابلہ کرنے کی تم میں طاقت نہیں ۔ میں نہیں چاہتا کہ تمہیں ہلاکت میں ڈالوں تو وہ منتشر ہو گئے ۔ تقریباً ایساہی خطاب حضرت حسین نے اپنے ساتھیوں سے کیا تھا۔

میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ زیاد کے عامل کو شہر سےنکال دینے کا واقعہ جو زیاد نے اپنی رپورٹ میں درج کیا تھا، وہ کسی تاریخ میں مجھے نہیں ملا اور حقیقت اس کے برعکس تھی کیونکہ حضرت حجر خود جان بچا کر وہاں سےبھاگ رہے تھے۔عثمانی صاحب اس پر فرماتےہیں کہ ستر صحابہ و تابعین اس پر گواہی دے رہے ہیں اور طبری اسے ذکر کرتے ہیں،تو معلوم نہیں تاریخ کی کتاب میں واقعہ ملنےکا اور مطلب کیا ہے۔ عثمانی صاحب نے میری پوری بات کو سمجھنے کی یا تو کوشش نہیں کی یا جان بوجھ کر پھر مغالطہ دے رہے ہیں۔ محض زیاد کے ایک کاغذ پر لکھ دینے سے یہ واقعہ ثابت نہیں ہوتا کہ فلاں فلاں شخص نے یہ گواہی دی ہے کہ حجر نے عامل کو نکال باہر کیا ہے۔ زیاد تو ایسا دروغ باف تھا کہ اس کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھنے کے باوجود مال غنیمت والی بحث میں عثمانی صاحب بھی کہہ بیٹھےکہ شاید اس نے امیر معاویہ کی طرف سے خود خط گھڑ لیا ہو۔ اس نے حضرت شریح کی طرف سےبالکل جھوٹی گواہی اپنی طرف سےاسی شہادت نامہ درج کر کےامیر معاویہ کو روانہ کر دی جس کی تردید خود شریح نے کی اور لکھا کہ حجر کا خون اور مال حرام ہے پھر لکھ کر اسے امیر معاویہ کے نام ان ہی لوگوں کے ہاتھ روانہ کیا جو زیاد کا تصنیف کردہ جھوٹ کا پلندہ لےجارہے تھے۔آخر کسی دوسرےتاریخی ریکارڈ سے بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ عامل کون تھا جسے شہر سے نکالا گیا، پھر وہ کہاں گیا اور اس کے جبری اخراج کے بعد واپسی ہوئی یا نہیں؟ یہ عامل جس کے نکالے جانے کا ذکر ہو رہا ہے، یہ کوفے کا عامل ہی ہو سکتا تھا۔ کوفے کے عامل اس وقت حضرت عمرو بن حریث تھے اور عثمانی صاحب نے جو گواہی اپنی کتاب کے ص اے پرنقل کی ہےاس میں درج ہے کہ حجر نے امیر المومنین کےگورنر کو نکال باہر کیا ۔ یہ گواہی زیاد نے جن گواہوں کے سر منڈھنے کی کوشش کی ہے، ان میں حضرت عمرو بن حریث کا اپنا نام بھی موجود ہے جو کوفے کے گورنر ہیں۔اب یہ عجیب بات ہےکہ یہی گورنر نکال باہر بھی کیےگئےہیں، پھر وہی کوفےمیں یہ گواہی بھی زیاد کے سامنے دے رہے ہیں کہ گورنر کو حجر نے شہر بدر کر دیا ہے۔ عثمانی صاحب براہِ کرم اس چیستاں کو حل کریں کہ وہ یہی گورنر تھے یا پھر کسی اور شہر کے کوئی دوسرے گورنر تھے اور کیا وجہ ہے کہ یہ گواہی ایسی گول مول ہے کہ اس میں شہر بھی گمنام ہےاور گورنر بھی نامعلوم الاسم ہے، بس اتنا بیان ہے کہ امیر المومنین کے گورنر کو شہر سے نکال باہر کیا ہے۔ زیاد نے گواہی گھڑی بھی تو کیسی گھڑی!

ملزمین سے امتیازی سلوک

میں نے اپنی سابق و موجودہ بحث سے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ حضرت حجر" پر کسی طرح ”باغی“ کا اطلاق نہیں ہوسکتا میں نےاحادیث نبوی ،آثار صحابہ اور اقوال ائمه نقل کر کےیہ بھی واضح کر دیا ہےکہ کسی مسلمان نےاگر بغاوت کی ہو، تب بھی اگر وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ قتل کا مجرم نہ ہو تو اسے قید کرنے کے بعد قتل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن عثمانی صاحب کو اب بھی اصرار ہے کہ حضرت حجر باغی تھے اور کسی باغی کےبارے میں یہ اندیشہ ہو کہ اگر اسےآزاد کر دیا گیا تو وہ پھر اسلامی حکومت کےخلاف جمعیت بنا کر دوبارہ بغاوت کا مرتکب ہو گا تو اسے قتل کرنے کی اجازت تمام فقہاء نے دی ہے۔ اب میں سلسلہ بحث قطع کرنے کے لیے کہتا ہوں کہ اگر اسی بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ ہر باغی اسیر کو محض ارتکاب بغاوت کے اندیشے کی بنا پر قتل کیا جا سکتا ہےتو پھر حضرت حجر کےساتھ ان کےسارے گرفتار ساتھیوں کو کیوں نہیں قتل کیا گیا؟ حضرت معاویہ نے صرف حضرت حج کے متعلق تو یہ فرمایا کہ یہ پوری قوم کے سردار ہیں، اور انہیں چھوڑ دیا تو خطرہ ہے کہ فساد کریں گےلیکن باقی میں سےنصف تعداد کو قتل کرتےوقت نہ یہ فرمایا کہ ان سے خطرہ ہے، نہ نصف تعداد کو رہا کرتے وقت یہ فرمایا کہ ان سےخطرہ نہیں ہے۔بلکہ انہیں بعض امراء کی سفارش پر چھوڑ دیا گیا۔واقعہ یہ ہےکہ یہ بقیہ قیدی بھی یا تو یکساں طور پر مجرم اور خطرناک تھےیا یکساں بےگناہ اور بےضرر تھے۔ اللہ کی مشیت ہی تھی کہ آدھےاپنےعزیزوں کی سفارش سےرہا ہو گئے اور رہا ہوکر چپکے جا کر بیٹھ رہے۔ نہ وہ کسی باغی جماعت و جمعیت سے جا کر ملے، نہ انہوں نے کوئی فساد برپا کیا۔ باغی جمعیت سرے سےتھی ہی نہیں ، وہ تو عثمانی صاحب کے قلم کی ایجاد ہے،پھر وہ کسی جمعیت سےکیا جا ملتےاور بغاوت کیا کرتے۔ان چند لوگوں کے زندہ رہ جانے اور کوئی شورش نہ بپا کرنے ہی سے اس امر کا ثبوت مزید فراہم ہوگیا کہ ان پر الزام بغاوت صحیح نہ تھا۔

میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ عثمانی صاحب کےنزدیک اگر باغی کا قتل واجب نہیں،صرف جائز ہےتو پھر یہ عدالت کا نہیں بلکہ مشیت کا معاملہ بن کر رہ جاتا ہے۔میرامد عا اس سے یہ تھا، جیسا کہ میں نے ابھی اوپر بیان کیا کہ ایک ہی نوعیت جرم میں ماخوذ مجرمین کے ساتھ دو قسم کا امتیازی سلوک روا نہیں ہو سکتا کہ جسےچاہا قتل کر دیا، جسے چاہا چھوڑ دیا۔ میری بات سمجھے بغیر عثمانی صاحب نے چند حوالے اپنی کتاب کے صفحہ ۲۰۱ پر نقل کیےہیں جن سےوہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ امام کو اختیار ہےکہ جس باغی کو چاہےقتل کرے،جس کو چاہے نہ کرے۔ اول تو مجھے امام کے اس اختیار تمیزی کو تسلیم کرنےمیں شدید تأمل ہے، تاہم میں پھر عرض کرتا ہوں کہ اس لحاظ سےبھی حضرت حجر کے ساتھی سارے کےسارے یا تو لائق قتل تھے یا لائق نجات تھے۔ یہ بات آخر کیسے معلوم و ثابت ہوئی کہ جنہیں قتل کیا گیا، انہی کے قتل سےکسر شوکت، ممکن تھی،انہی سے”خوف شر“ تھا اور وہ کسی جماعت سے جاملتے اور بغاوت کرتے، اور جنہیں معاف کر دیا گیا صرف ان کے بارے میں مذکورہ امور میں سے کوئی امر متوقع نہ تھا۔

حدیث میں قتل حجر کی مذمت

میں یہ بات بھی لکھ چکا ہوں کہ کسی محدث،مورخ یا فقیہ کا ایسا قول میری نگاہ سےنہیں گزرا که حضرت حجر باغی اور واجب القتل تھےیہ صراحت نہ مجھےان تاریخی اوراق میں ملی جہاں یہ قصہ بیان ہوا ہےنہ بغاوت،قتال،سیر وغیرہ کی فقہی بحثوں میں کہیں نظر آئی۔ بکثرت علماء نے ابواب البغاۃ وغیرہ میں ، خوارج پر باغی ہونے کا اطلاق کیا ہے، حضرت عثمان کےقاتلین اور حضرت علیؓ کےمحار مین کو بھی بغاۃ میں شمار کیا گیا ہے،لیکن میرےعلم میں محمد تقی صاحب ہی کو پہلی بار جرات ہوئی ہےکہ وہ حضرت حجر کےجواز قتل کافتویٰ دیں۔دوسرے حضرات نےایسی جرات کیوں نہیں کی ، واللہ اعلم ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض ارشادات نبوی ایسے وارد ہیں جن میں تصریح کے ساتھ مرج عذراء میں قتل کے حادثہ پر اظہار نا پسندیدگی کیا گیا ہے۔ یہ ارشادات میرےسامنے شروع بحث ہی سے تھے مگر میں گمان رکھتا تھا کہ شاید ان کی ضرورت پیش نہ آئےاور عثمانی صاحب اپنےموقف پر نظر ثانی کر لیں۔مگر اب میں بادل نخواستہ ان میں سے بعض نقل کر رہا ہوں۔شاید اس سےان لوگوں کو کچھ عبرت حاصل ہو جو خواہ خواہ اس بات پر اڑےہوئے ہیں کہ اگر حضرت حجر کو صحابی مان لیا جائےاور ان کا قتل بھی جائز نہ ہو، تو امیر معاویہ پر حرف آتا ہےاور توہین صحابہ ہوتی ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا بسر بھی وسیع تعریف صحابہ میں شامل نہ تھا، جس کے مظالم تمام علماء نے بیان کیے ہیں؟ کیا عمرو بن الحمق بھی صحابی نہ تھا جس کے متعلق آپ کو بھی تسلیم ہے کہ اس نے خلیفہ راشد حضرت عثمان "پر نیزے کے نووار کیے اور جس سے قصاص لینے کےلیے اس پر بھی ایسے نو وار کرنے کا حکم امیر معاویہ نے دیا تھا۔ اگر ان سارے واقعات کے بیان سے توہین صحابہ نہیں ہوتی،دین کے ستون نہیں ہلتے ، ایمان کامل منہدم نہیں ہوتا، عدالت صحابہ کا عقیدہ مجروح نہیں ہوتا، تو حضرت معاویہ کے معاملےمیں کیا کوئی الگ عقیدہ آپ نےبنارکھا ہے؟ خلیفہ راشد پر قاتلانہ حملہ اور ان کے مظلومانہ قتل سے بڑھ کر بھی کوئی گناہ کبیرہ ہو سکتا ہے، مگر آپ مان رہے ہیں کہ ایک صحابی ہی سے اس کا صدور ہوا۔ یہ واقعہ نہ قرآن میں ہے، نہ حدیث وارشادات نبوی میں ہے۔ پھر آپ محض تاریخی روایات کے بل پر یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ ایک صحابی نے اپنے امیر اور خلیفہ راشد کےمعصوم خون سے اپنے ہاتھ رنگے ؟ اگر آپ اس واقعہ کو مان رہے ہیں تو اس حق بات کو بھی مان لیجئےکہ صحابہ کرام اگرچہ انبیاء کےبعد اشرف الخلائق تھے مگر ان سےبڑے سےبڑا گناہ ہو سکتا ہے اور اسے بیان بھی کیا جا سکتا ہے۔ سارے صحابہ کرام مرتبہ و منزلت اور تقویٰ وصلاح میں باہم مساوی بھی نہ تھے، اگر چہ بحیثیت مجموعی کوئی انسانی گروہ ان سے افضل واصلح نہ تھا۔

اب میں وہ روایات نقل کرتا ہوں جن میں حضرت حجر اور آپ کے رفقاء کے قتل کی مذمت وارد ہے۔ حافظ ابن کثیر نے البدایہ و النهایه کی چھٹی جلد میں ان واقعات، معجزات اور پیش گوئیوں پر مشتمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےارشادات کو جمع کردیا ہےجن کو دلائل نبوت میں شمار کیا جاتا ہےاس جلد کےصفحہ ۲۲۵ پر ایک باب کا عنوان ہے: ما روی فی اخباره عن مقتل حجر بن عدی و اصحابه. اس میں حضرت علیؓ کا ایک قول مروی ہےکہ اے اہل عراق تم میں سے سات آدمی عذراء کے مقام پر قتل ہوں گےجن کے قتل ناحق کی مثال اصحاب الاخدود کی کی ہے۔یہاں ابونعیم کےحوالے سےدرج ہے کہ زیاد بن سمیعہ نےحضرت علیؓ کا ذکر منبر پر کیا تو حجر نےاس پر کنکریاں پھینکیں۔پھر ان کےمرج عذراء میں قتل ہونےکا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔اس کےبعد ابن کثیر نےامام بیہقی کا یہ قول نقل کیا ہے۔

لا يـقـول عـلـى مثل هذا الا انه يكون سمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلّم.

" حضرت علی ایسی بات نہیں کہہ سکتے تھے ، یعنی حج کے بے گناہ قتل کی خبر نہیں دے سکتے تھےسوائے اس کے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو۔“

ابن کثیر مزید لکھتے ہیں کہ جب امیر معاویہؓ حضرت عائشہ کے پاس گئے تو انہوں نے کہا کہ آپ کو اہل عذراء یعنی حجر اور ان کے ساتھیوں کے قتل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ حضرت معاویہؓ نےجواب دیا کہ میری رائے میں ان کے قتل میں امت کی اصلاح تھی اور انہیں چھوڑ دینا موجب فساد تھا۔ حضرت عائشہ کہنے لگیں:

سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سيقتل بعذراء ناس يغضب الله لهم واهل السماء.

” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ عذراء کے مقام میں کچھ لوگ فقتل ہوں گے جس پر اللہ اور آسمان کے فرشتے ناراض ہوں گے۔“

امام سیوطی نے الخصائص الکبری جلد ثانی صفحہ ۵۰۰ پر ایک باب باندھا ہے:

إخباره صلى الله عليه وسلّم بالمقتولين ظلما بعذراء.

" آنحضور کا ان مقتولین کی خبر دینا جو عذراء میں مظلومانہ قتل ہوئے ۔“

اس میں وہ یعقوب بن سفیان ، بیہقی اور ابن عسا کر کے حوالے سے حضرت عائشہ اور حضرت معاویہ کی وہی گفتگو نقل کرتےہوئےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد انہی الفاظ میں روایت کرتےہیں جو اد پر درج ہو چکے ہیں۔ اس کےحاشیےمیں کتاب المعارف کے حوالے سے یہ درج ہے کہ حجر رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبدالرحمن ہے اور وفد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ انہوں نے جنگ قادسیہ میں شرکت کی اور حضرت علی کے ساتھ جنگ جمل و صفین میں شامل ہوئے۔ پھر ۵۳ھ میں انہیں حضرت معاویہ نے مرج عذراء کے مقام پر قتل کر دیا ۔

امام ابن حزم کی چند تصانیف کا مجموعہ ” جوامع السیر ہ“ کے نام سےاحمدمحمد شاکر، احسان عباس اور ڈاکٹر ناصر الدین الاسد نے تحقیق و نظر ثانی کے بعد شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک رسالہ "اسماء الخلفاء والولاۃ وذکر مددہم " کےنام سے شامل ہے۔ اس کے صفحہ ۳۵۶ پر امیر معاویہ کےحالات صرف پانچ سطور میں بیان کیے گئے ہیں جن میں ابن حزم لکھتے ہیں۔

وفي ايامه حوصرت القسطنطينيه وقتل حجر بن عدى وأصحابه صبرًا بظاهر دمشق ..... من وهن الإسلام ان يُقتل من رأى النبي صلى الله عليه وسلم من غير ردّة ولا زنى بعد إحصان...... ولعائشة في قتلهم كلام محفوظ .

"حضرت معاویہ کے عہد میں قسطنطنیہ کا محاصرہ ہوا اور حجر بن عدی اور ان کے اصحاب کو باندھ کر دمشق کے مضافات میں قتل کیا گیا۔ اور اسلام میں یہ امر رخنے اور کمزوری کا باعث ہے جس صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو دیکھا ہوا سے ارتداد یا شادی کے بعد زنا کے جرم کے بغیر قتل کیا جائے اور حضرت عائشہ نے ان حضرات کے قتل پر جو کچھ فرمایا تھا وہ تاریخ میں محفوظ ہے۔“

اس کےحاشیےپر حضرت عائشہ کا وہی قول نقل ہےکہ انہوں نےحضرت معاویه سےحضرت حجر اور انکےساتھیوں کےقتل پر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا ہےکہ: يُقتل بعدی اناس يغضب الله لهم واهل السماء.

ابن عساکر کی تصریحات

محدث علی بن حسین ابن عسا کرنےاپنی دمشق کی تاریخ الکبیر میں حضرت حجر" کےحالات بیان کرتےہوئےلکھا ہےکہ وہ صحابی تھےاور خطیب بغدادی سےیہی واقعہ نقل کیا ہےکہ حضرت حجر کےقتل کےبعد جب امیر معاویہ حضرت عائشہ کےپاس گئےتو انہوں نے فرمایا کہ آپ نے حجر آوران کےاصحاب کو قتل کردیا حالانکہ لقد بلغنی انه سيقتل بعذراء سبعة رجال يغضب الله واهل السماء لهم. ظاہر ہےکہ یہ پیشگوئی حضرت عائشہ تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سےپہنچی ہوگی۔یہاں امیر معاویہ کا یہ قول بھی منقول ہےکہ مجھےخود یہ معلوم نہیں کہ میں نےحجر کو کس گناہ پر قتل کیا ہے اني لا اعرف بای ذنب قتلته )۔ یہ قول جہاں حضرت فجر کی بے گنا ہی پر دلالت کرتا ہےوہیں یہ بھی ظاہر کرتا ہےکہ امیر معاویہ آخر وقت اس قتل پر نادم تھےبعض تاریخوں میں ایسے دیگر اقوال بھی مذکور ہیں، مثلاً طبری وغیرہ میں ابن سیرین کےحوالےسے درج ہے کہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ جب امیر معاویہ کے انتقال کا وقت قریب تھا تو حالت غرغرہ میں فرمارہےتھے کہ اے حجر ، تیری ملاقات کا دن بہت طویل ہو گا۔امید ہےکہ اللہ تعالیٰ حضرت معاویہ سے ضرور درگزر فرمائے گا۔ کاش کہ حضرت حجر" کے قتل کو حق بجانب ثابت کرنے کے بجائے محمد تقی صاحب بھی یہی کہہ دیتے کہ یہ فعل غلط تھا اور اللہ غفور رحیم ہےوہ اسےمعاف کر دے گا۔این عسا کرنےابن ما کولا کےحوالےسےیہ بھی لکھا ہےکہ اکثر محدیثین کےنزدیک حضرت حجڑ سےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی روایت ثابت نہیں (لا يصححون لحجر رواية) محمد تقی صاحب نے جو قول البدایہ سےنقل کیا ہے کہ اکثر المحدثين لا يصححون له صحبة، اس کے بجائے صحیح قول ابن ماکولا کا ہے۔ورنہ بے شمار محدثین نےحضرت حجر کی صحابیت جس طرح بیان کی ہےاس کے بعد ان کےصحابی ہونے میں شک نہیں، البتہ ان سے مرفوع روایت کا نہ ہونا اور بات ہے۔ روایت حدیث تو بمشکل ایک ہزار صحابہ سےثابت ہےحالانکہ صحابہ کرام کی تعداد ایک لاکھ سے زاید ہے۔ ابن ماکولا جن کا قول ابن عساکر نے نقل کیا ہے، بڑےبلند پایہ محدث ہیں،ان کی متعدد تصانیف میں سےکتاب المؤتلف والمختلف من الاسماء والكنى والانساب بہت مشہور ہے۔خیر الدین زر کلی نے بھی اپنی کتاب الاعلام میں حضرت حجر کو صحابی شجاع ( ایک بہادر صحابی ) لکھا ہے-

حضرت حجر کے ساتھیوں میں سے جولوگ قتل سے بچ گئے ان میں سے ایک ارقم بن عبداللہ الکندی ہیں۔ ان کا حال بیان کرتے ہوئے ابن عسا کر اپنی تاریخ میں ابو اسحاق کے حوالے سےلکھتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو عام طور پر یہ کہتے پایا ہے کہ حضرت حجر بن عدی کا قتل اور استلحاق زیاد بڑی ذلت ہے جو کوفے پر نازل ہوئی۔ اس کے بعد حسین بصری کا وہ قول نقل کیا گیا ہے جس میں امیر معاویہ کی چار سخت غلطیوں کا ذکر ہے جن میں ایک قتل حجر ہے۔یہ قول ” خلافت و ملوکیت" میں درج ہے۔ اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ان سارے جلیل القدر ائمہ و محدثین کےاقوال کےباوجود اگر محد تقی صاحب یه کہتےہیں که حضرت حجر کا قتل جایز اور مجتہد فیہ مسلہ تھا،ہر صحابی مجتہد اور اس کا ہر فعل اجتہاد ہےتو وہ بتا ئیں کہ عمرو بن احمق صحابی نے جو نیزے مار مار کر حضرت عثمان کے جسم کو چھلنی کیا تھا کیا یہ بھی اجتہاد تھا؟ کیا ہوسکتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی یہ فعل اصلاح امت اور رفع فساد کے لیے جائز ہو؟ ہر خطاء کو اجتہاد کا نام تو نہیں دیا جاسکتا۔

مبسوط کا قول

اپنی سابق بحث میں مبسوط کے حوالے سے میں نے امام سرخی کا قول نقل کیا تھا جس میں انہوں نے حضرت حجر کو باغی کےبجائے اہل عدل میں شمار کیا ہےاور ان کی موت کو شہید کی موت قرار دیا ہے۔ لیکن محمد تقی صاحب کی روش قابل حیرت ہے کہ وہ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ حضرت حجر کی سرگرمیاں نفس الامر میں بغاوت تھیں مگر گمان ہےکہ انہوں نےکسی تاویل سےخروج کا ارتکاب کیا ہوگا جیسا کہ امیر معاویہ نےمجعد خطی کی حیثیت میں حضرت علی کے خلاف کیا۔ اس لیے حضرت حجرا اپنے آپ کو اہل عدل میں سے سمجھتے ہوں گے اور امام سرخسی نے اسی لیے ان کےلیے شہادت کا لفظ استعمال کیا اور ان کا ذکر ادب و احترام سے ہونا چاہیے۔ محمد تقی صاحب نےحضرت حجر کا ذکر برابر جس ادب و احترام سے کیا ہے، اس کا صحیح اندازہ اسی شخص کو ہوسکتا ہے جس کیانے ان کی کتاب میں پوری بحث پڑھی ہو۔ تاہم یہاں آخر میں آکر انہوں نے حضرت حجر سے فقط اتنی رعایت برتی کہ ان پر اہل تاویل و اجتہاد ہونے کا گمان کیا مگر ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ فی لا اصل تو وہ باغی تھےمگر اپنے آپ کو اہل عدل میں سےسمجھتےتھےاور یہ بھی ان کا گمان ہی تھا۔عثمانی صاحب کی اس مہربانی اور حسن ظن کے کیا کہنے۔

لیکن عثمانی صاحب کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ حضرت حجر فی الواقع اہل عدل میں سےنہیں تھے اور نہ امام سرخسی انہیں ایسا سمجھتے تھے بلکہ امام سرخسی نے حضرت حجر کی موت کو شہادت کی موت صرف اس لیےقرار دیا ہےکہ انہوں نے یہ وصیت کی تھی کہ انہیں غسل کے بغیر دفن کیا جائےحقیقت یہ ہےکہ امام سرخسی نےاس مقام پر یہ مسئلہ بیان کیا ہےکہ اہل عدل کےمقتولین کو غسل کےبغیر دفن کیا جاتا ہےاور اہل بنی کے مقتولین کی تدفین غسل کے بعد ہوتی ہے کیونکہ ان کو شہید نہیں کہا جا سکتا اگرچه عام مرنےوالےمسلمان کی طرح ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ اس کے بعد اگر امام سرخسی حضرت حجر کو باغی سمجھتےتو ان کے لیے حضرت عمار بن یاسر اور حضرت زید بن صوحان کی وصیت کا ذکر بالکل کافی تھا جو اہل عدل میں سے تھے۔ ان کےساتھ حضرت حجر کا ذکر بالکل غیر ضروری اور موجب التباس تھا کیونکہ فی الحقیقت اگر وہ باغی تھےتو ان کی وصیت نہ قابل ذکر تھی نہ تھے تو لاز ماماننا پڑے گا کہ ان کے مقابلے میں حضرت معاویہ اہل بھی میں سےتھے۔ مگر یہ بھی بالکل ایک غلط استنتاج ہے۔ اگر حضرت حجر واقعی امیر معاویہ کےخلاف ناحق خروج وقتال کرتےتو باغی ہوتےلیکن خلیفہ اگر زبردستی کسی کو جرم بغاوت کا مجرم قرار دے کر اسےقتل کر دے تو وہ محض اس وجہ سے باغی نہیں بن جاتا کہ وہ اہل عدل کےہاتھوں قتل ہوا ہے۔خلفائےبنی امیہ و بنی عباس نے جن خوارج کو قتل کیا ، وہ بلاشبہ اہل بنی میں تھےلیکن لاکھوں بےگناہ مسلمان جو انہی خلفاء نے تہ تیغ کیےوہ سب محمد تقی صاحب کی محض اس نرالی دلیل کی بنا پر باغی نہیں بن جاتےکہ اگر انہیں باغی کےبجائےاہل عدل ماناجائے تو پھر خلفاء اہل عدل کی تعریف سے خارج ہو جاتے ہیں۔

زیاد کی صفائی

جناب محمد تقی صاحب زیاد کی برات وصفائی پیش کرنے میں اتنے فکرمند ہیں کہ بحث کے آخر میں وہ پھر یہ لکھتے ہیں کہ ”مولانا مودودی صاحب نے زیاد کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ خطبے میں حضرت علیؓ کو گالیاں دیتا تھا لیکن جتنےحوالے انہوں نےدیئےہیں ان میں حضرت علیؓ کو گالیاں دیناند کو نہیں بلکہ قاتلین عثمان پر لعنت کرنا مذکور ہے۔ میں اس بات کو پہلے بیان کر چکا ہوں کہ زیاد اور امیر معاویہؓ کے دوسرے عمال، بلکہ خود امیر معاویہؓ کا کہنا یہ تھاکہ حضرت علی قاتلین عثمان میں شامل ہیں کیونکہ انہوں نےحضرت عثمان کی مدد نہیں کی اور قاتلین کو نہیں روکا۔ یہ اگرچہ غلط الزام تھا جس کی تردید حضرت علی اور سارےمؤرخین نےکی ہے لیکن یہ بات بہر حال واضح ہے کہ بنو امیہ جب قاتلین عثمان پر لعنت بھیجتے تھے تو ان کا اولین ہدف حضرت علی ہوئے تھے اور ہر شخص یہ جانتا تھا کہ اشارہ انہی کی طرف ہے۔ پھر یہ لوگ حضرت علیؓ کا نام لے کر بھی ان کی بدگوئی کرتے تھےمیں ابھی البدایہ جلد 4 کی عبارت نقل کر چکا ہوں جس میں کہا گیا ہے کہ زیاد نے حضرت علی کا ذکر اس انداز سے کیا کہ حضرت حجر نے اسے کنکریاں دے ماریں۔ یہاں ذکر زیاد بن سمية على بن ابی طالب علی المنبر سے مراد اگر حضرت علی کی مدح و منقبت ہوتی جیسا کہ آج کل کےخطبوں میں ہوتی ہے تو حضرت حجر کو کنکریاں اٹھا پھینکنےکی آخر کیا ضرورت تھی؟ مولانا مودودی نے اپنی بحث میں البدایہ کے جن صفحات ( جلد ۸، صفحہ ۵۰) کا حوالہ دیا ہے، وہاں بھی یہ الفاظ موجود ہیں کہ زیاد نے کوفے میں جو پہلا خطبہ دیا اس میں حضرت عثمان کی فضیلت بیان کی اور آپ کےقاتلین اور ان کے معاونین (من قتله او اعان على قتله ) کی مذمت کی۔ یہ مذمت صاف طور پر حضرت علی کی ہے گو نام کسی کا نہیں لیا گیا۔ عثمانی صاحب کو شاید یاد نہیں رہا کہ انہوں نے اپنی کتاب کے صفحہ ۶۴ پر جہاں پہلی مرتبہ زیاد کے خلاف اس الزام کو بے بنیاد ٹھہرانا چاہا ہے، وہاں انہوں نے حضرت حجر کا ایک خطاب نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت مغیرہ سے کہا تھا:

قد اصبحت مولعًا بذم امير المؤمنين وتقريظ المجرمين.

اس کا ترجمہ عثمانی صاحب نے کیا ہے:

" تم امیرالمومنین (حضرت علیؓ) کی مذمت اور مجرموں (حضرت عثمان ) کی مدح کرنے کےبڑے شوقین ہو۔“

کیا عثمانی صاحب بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے یہاں امیر المؤمنین کے ساتھ حضرت علی کا لفظ اور مجرموں کے ساتھ حضرت عثمان کا لفظ کیوں اور کیسے بڑھا دیا ہے؟ غالباً وہ جواب یہی دیں گےکہ حضرت حجر کی تلمیح و تعریض صاف طور پر حضرت علیؓ اور حضرت عثمان ہی کی طرف تھی،اس لیےانہوں نےیہ الفاظ اضافہ کر دیئے ہیں۔فما جوابكم هو جوابنا.ہمارا بھی یہی جواب ہےکہ زیاد اور دوسرےحکام بنو امیہ جب حضرت عثمان کے قاتلین اور ان کی اعانت کرنے والوں پر لعنت کرتے تھے تو بھی وہ حضرت علی ہی کو اپنا نشانہ بناتے تھے، اگر چہ انہیں اس امر سے بھی گریز نہ تھا کہ حضرت علی کا نام لے کر ان پر سب و شتم کریں۔

کتاب خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Caliphate , monarchy