بسم اللہ الرحمن الرحیم مقدمه مملکت خداداد پاکستان - - - اللہ اسے قائم و دائم رکھے - - - اس وقت روئے زمین پر مسلمانوں کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ یہ اس لیے وجود میں آئی تھی کہ اس میں کتاب الله وسنت رسول اللہ پر مبنی نظام و معاشرہ برپا ہو۔ لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہماری تمناؤں اور آرزوؤں کا یہ خواب تاہنوز شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ بلکہ اس کے برعکس اس سرزمین کی آغوش میں ایسے فتنے پروان چڑھتے رہے جو اسلامی نظریات اور قرآن وحدیث کی تعلیمات کے یکسر منافی و مخالف ہیں۔ ان میں سے بعض فتنے تو ایسے ہیں جن کے خطرات کو ہمارے دینی طبقوں نے پوری طرح محسوس کر لیا ہے، ان کی ضلالت کو بڑی حد تک واضح کر دیا ہے اور ان کے خلاف اپنی طرف سے حجت کا اتمام کر دیا ہے۔مثال کے طور پر انکار ختم نبوت و اجرائے نبوت اور انکارِ حدیث و سنت ایسے فتنے ہیں جن کے خلاف علمائے کرام نے یک زبان ہو کر مسلمانوں کو متنبہ کر دیا ہے۔ لیکن دوسری طرف بعض سیاسی اور مذہبی فتنے ایسے بھی ہیں جن کی تردید و ابطال کے معاملے میں نہ صرف یہ کہ تساہل و مداہنت کو روا رکھا گیا ہے، بلکہ بہت سے مذہبی گروہوں اور افراد نے ان فتنوں اور ان کےعلمبرداروں کو پوری پوری کمک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر اشتراکیت اور ناصبیت دو ایسے فتنے ہیں جو بعض مذہبی حلقوں کے دوش پر سوار ہو کر ہمارے ہاں متعارف ہوئے ہیں اور اب تک ہو رہے ہیں۔ اشتراکیت کے مفہوم سے تو ہر مسلمان بالعموم آشنا ہے لیکن ناصبیت کےمفہوم، بلکہ اس کے نام تک سے بہت کم مسلمان واقف ہیں۔
ناصبیت کے تاریخی پس منظر اور اس کے تفصیلی تضمنات کا بیان یہاں ممکن نہیں ۔ مختصر الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ ناصبیت رافضیت کی ضد ہے۔ رافضی اس شخص کو کہتے ہیں جو حضرت علی اور بنو فاطمہ کی عقیدت میں حد سے گزر گیا ہو اور ناصبی اس کو کہتے ہیں جو حضرت علی اور ان کے اہل بیت سے بغض و عناد اپنا جزو ایمان سمجھتا ہو ۔ نصب عربی زبان میں دائمی حسد اور مستقل بغض و عداوت کا دوسرا نام ہے۔ جو شخص اس مرض میں مبتلا ہو، وہ بلاشبہ نفاق کی زد میں ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی حضرت علی سے صحیح مسلم شریف ، کتاب الایمان میں مروی ہے کہ:
"حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے دانہ اگایا اور جان کو پیدا کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی کہ نہیں محبت رکھے گا مجھ سے مگر مومن اور نہیں بغض رکھے گا مجھ سے مگر منافق ۔“
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جو ہمارے دیار کے جملہ مقلدین وغیر مقلدین اہل سنت کے مقتداء ہیں، جنہوں نے رفض و تشیع کے رد میں مشہور کتاب تحفہ اثنا عشریہ لکھی ہے،ان کی اسی کتاب میں مندرج تصریح کے مطابق ناصبیوں کا بانی مبانی مروان بن حکم تھا۔ آپ کےالفاظ درج ذیل ہیں :
در بخاری روایت از مروان آمده است با وجود یکه او نیز از جمله نواصب بلکه رئیس آن گروه شقاوت پژوه بود - لیکن مدار روایت بخاری برا امام زین العابدین است و سند او منتهی بایشاں۔ ( تحفہ اثناعشریہ ص ۹۹، کید ہفتاد و دوم طبع ۱۲۹۶ھ لکھنو )
’ہاں بخاری میں مردان سے البتہ روایت آئی ہے باوجود یکہ وہ نواصب میں تھا، بلکہ اس بد بخت گروہ کا سرانه اور سرگروه۔ لیکن اس روایت کا مدار زین العابدین پر رکھا ہے اور ان ہی پر روایت کو ختم کیا ہے۔“
"تاریخ سے قطعی ثابت ہے کہ اہل سنت ہمیشہ نواصب سے مقابلہ کرتے تھے اور ان بد بختوں کی بکواس کا جواب دے کر ان سے پر خاش رکھتے تھے۔“
معروف اور جید اہل حدیث عالم نواب صدیق حسن خان صاحب ایک سوال کے جواب میں اقسام بدعت پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
پاکستان میں اس فتنہ ناصیت کے بانی اور سرخیل محمود احمد عباس میں اور یہ ایک افسوسناک اور تکلیف دو حقیقت ہے کہ ہمارے بعض سنی حلقوں نے اس فتنے کی خوب پذیرائی وحوصلہ افزائی کی ہے اور چند ایک علمائے اہلِ سنت کو چھوڑ کر کسی کو اس کی تردید میں ایک لفظ تک کہنے یا لکھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ان مستثنیات میں سے ایک مولانا محمد عبدالرشید نعمانی، استاذ جامعہ اسلامیہ، بہاولپور ہیں جن کے ایک نا تمام سلسلہ مضمون کی چند قسطیں نبینات“ میں شائع ہوسکیں اور پھر اسے بند کر دیا گیا۔ اس مضمون کا عنوان تھا ” ناصبیت تحقیق کے بھیس میں ۔ “ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ماہنامہ بینات، رمضان ۱۹۸۲ء سے مولانا موصوف کی ایک عبارت نقل کر دوں،فرماتے ہیں:
"یہ محمود احمد صاحب عباسی کی بدنام کتاب ” خلافت معاویه و یزید" پر تنقید ہے۔ اس ملک میں رفض کا فتنہ قدیم سے تھا۔ باطنیہ و امامیہ سب پہلے سے موجود تھے۔ البته خوارج و نواصب کا ڈھونڈے سے بھی پتہ نہ تھا۔ لیکن عباس صاحب نے یہ کتاب لکھ کر اہل سنت میں ناصبیت کا تازہ فتنہ کھڑا کر دیا ہے۔ اب بہت سے لوگ ہیں جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اور یزید کے مقابلے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خاطی وغلط کار سمجھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب سے سوائے ضرر کے فائدہ کوئی مرتب نہ ہوا۔ روافض تو اپنی جگہ اور سخت ہو گئے لیکن اہل سنت کے اعتدال میں فرق آ گیا۔ بہت سے لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت راشدہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت میں شک کرنے لگے۔ آج تک کسی ایک رافضی کے متعلق بھی یہ نہیں بتلایا جا سکتا کہ وہ عباسی صاحب کی کتاب پڑھ کر تائب ہو گیا ہو،لیکن اس کےبرخلاف اس کتاب کےمطالعہ کرنےوالوں میں ایک اچھی خاصی تعداد ایسے لوگوں کی نکلے گی جو اس جھوٹ کے پلندہ کو صحیح سمجھ کر حضرت علی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے اپنے دلوں کو صاف نہ رکھ سکے۔ اس کتاب نے سادہ لوح عوام نہیں ، اچھے خاصے پڑھے لکھے طبقے کو متاثر کیا ہے جن میں عربی مدارس کے بھی بہت سے فارغ التحصیل شامل ہیں۔ جن لوگوں کو دسترس موضوع کتاب کے اصل ماخذ تک نہیں وہ اس کو تحقیق اور ریسرچ کا ایک نادر شاہکار سمجھتے ہیں اور یہ سب کچھ نتیجہ ہے اس بات کا کہ اب مسلمان من حیث القوم علوم اسلامیہ سے نابلد ہو گئے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ روافض کے سب وشتم سے لوگ تنگ آئے ہوئے تھے۔ ایسے میں یہ کتاب شائع ہوئی جس میں حضرت علی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے موقف پر اس سےکہیں زیادہ سلجھے ہوئے اور بسنجیده انداز میں جرح کی گئی تھی جور وافض کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے موقف کو مجروح کرنے میں عام روش ہے، اس لیے ردعمل کے طور پر بہت سے لوگ عباسی صاحب کے اس طرز عمل سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ حالانکہ تمام اہل سنت اس پر متفق ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد تھے اور جو لوگ ان سے برسر جنگ رہے وہ خطا پر تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیعت نہ کر کے غلطی کی اور وہ خلیفہ راشد نہ تھے۔ ان کا بیٹا یزید ظالم و جابر حکمران تھا اور حضرت حسینؓ ، حضرت عبد اللہ بن زبیر اور وہ تمام صحابہ کرام جو جنگ حرہ میں شہید ہوئے اور جنہوں نے یزید کے تسلط واقتدار کو برہم کرنے کی کوشش کی وہ سب حق کے داعی اور خیر کے علمبردار تھے۔ مگر اس کتاب ( خلافت معاویہ و یزید ) کی تصنیف صرف ان ہی امور کی تردید کے لیے عمل میں آئی ہے اور اس کے مطالعہ سے اہل سنت کا یہ نقطۂ نظر صریح طور پر غلط معلوم ہوتا ہے اور یہی ناصبیت کا عین منشاء ہے ۔“
حقیقت یہ ہے کہ ناصبیت جدیدہ جسے ہمارے بعض علماء واہل مدرسہ تقویت بهم پہنچار ہےہیں، یہ ناصبیت قدیمہ سے بھی بازی لے گئی ہے۔ پرانی ناصبیت کے علمبرداروں کی یہ جرات نہیں تھی کہ وہ حضرت علیؓ کی خلافت کے انعقاد کا علی الاعلان انکار کرتے یا ان کی سیرت کو داغدار کر کے پیش کرتے۔ اس لیے وہ بس امیر معاویہ کے فضائل و مناقب میں مبالغہ آمیزی کرنے پر اکتفا کرتے تھے۔ چنانچہ شیخ محمد بن احمد سفارینی اپنی تصنیف لوامع الانوار البهیه و سواطع الاسرار لاثر یہ میں امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے عبداللہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
” میں نے اپنے والد امام احمد بن حنبل سے حضرت علی اور حضرت معاویہ کے متعلق سوال کیا تو کہنے لگے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت علی کے دشمن بہت تھے۔ انہوں نے حضرت علی میں کوئی نقص تلاش کیا مگر نہ پا سکے تو یہ لوگ ایک ایسے شخص (یعنی امیر معاویہ) کی طرف متوجہ ہوئےجس نے حضرت علی سے جنگ و جدال کیا تھا اور ان اعدائے علی نے امیر معاویہ کی تعریف بڑھا چڑھا کر کی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف ایک چال تھی ۔“
لیکن عہد جدید کے ناصبیوں کا اور ان کے ہمنواؤں کا حال یہ ہے کہ وہ علانیہ حضرت علیؓ کی خلافت کو مشتبه و، غیر منعقد اور ناکام ثابت کرنےاور انہیں طالب اقتدار اور شورش پسندوں کا آلہ کار بنا کر دکھانےکی مذموم جسارت کر رہےہیں اور اس کےبالمقابل نہ صرف حضرت معاویہؓ کو صلواۃ اللہ علیہ خلیفہ راشد اور امام معصوم بنا کر پیش کر رہے ہیں بلکہ یزید، مروان ، اور حکم کو بھی رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کے زمرہ مبشرہ میں داخل کر رہے ہیں۔
اب بعض سنی حضرات ( خواہ وہ شفی و دیوبندی ہوں یا اہل حدیث ہوں ) ، جومولا ناسید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ” خلافت و ملوکیت کے خلاف اتنی ہنگامہ آرائی دخامہ فرسائی کر چکےہیں اور کر رہے ہیں اور جو کہتے ہیں کہ سارا جھگڑا اسی کتاب سے پیدا ہوا، ان سے بجاطور پر یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ فرض کیا اس بے بنیاد الزام کو تسلیم کر لیا جائے کہ اس کتاب سے صحابہ کرام کی توہین اور رافضیوں کی تقویت کا سامان ہو گیا، لیکن اس سے پہلے یہ جو رافضیت سے بدتر ناصبیت کا پورا آپ کے زیر سایہ برگ و بار لا رہا ہے اور پھل پھول رہا ہے، یہ بھی آپ کے نزدیک، فتنہ کی تعریف میں آسکتا ہے یا نہیں؟ اگر آ سکتا ہے تو اس کے خلاف آپ نے کتنا زور لگایا ہے؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ عباسی صاحب کی کتاب مذکور کا مواد ۵۷-۱۹۵۶ء میں دو سال تک کراچی کے ماہنامہ تذکرہ میں شائع ہوتا رہا جس کے مدیر مضمون نگار وغیرہ بیشتر دیوبندی علماء تھے ۔ مولانا مودودی کی کتاب اس سے کہیں دس سال بعد جا کر چھپی ہے۔ اس پورے عرصے میں صرف چند اصحاب ( مثلاً مولانا محمد طیب صاحب، مولانا عبد الرشید نعمانی صاحب) کو چھوڑ کر ا کثر علماء بالکل خاموش رہے ہیں۔ لیکن خلافت و ملوکیت کا سلسلہ مضامین جو نبی شائع ہونا شروع ہوا، تو فضا میں اچانک حرکت پیدا ہوگئی۔ سنتی و ناصبی سب گلے مل گئے اور مولانا مودودی کی مخالفت میں یک زبان ہو گئے۔۔
"خلافت و ملوکیت" کا مواد تر جمان، ۶۵ء میں شائع ہونا شروع ہی ہوا تھا کہ اس کےخلاف عباسی صاحب نے ایک کتاب ” فوات“ لکھکر چھاپ دی جسےتین سال بعد "حقیقت خلافت و ملوکیت کےنام سےاضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا اس کے علاوہ عباسی صاحب،ان کےبہتی ہےاور ان کے بعض اعوان و انصار نےاپنےافکار و نظریات کی اشاعت کےلیے متعدد دیگر کتب و رسائل لکھنےاور طبع کرائے ہیں۔ اس فتنے کی ئے یہاں تک بڑھی ہے کہ ان میں سے ایک شخص محمد دین بٹ نے اپنی کنیت ابو یز ید رکھ کر رشید ابن رشید امیرالمومنین سید نا یزید رضی اللہ عنہ کےنام سےایک کتاب شائع کر دی ہےاس تحریک کا ایک مقصد تو وہی ناصبیت تھا، جس کی .تقویت کے لیے کتاب و سنت کےنصوص صریحه سےتو اعراض و انکار کیا گیا مگر اپنےمطلب کےلیےجو رطب و یا بس،حتی کہ شیعوں، قادیانیوں، اسماعیلیوں، یہود و ہنود اور نصاریٰ تک کے جو اقوال مل سکے انہیں اپنی تحریروں میں جمع کر دیا گیا مگر ان لوگوں کا ایک دوسرا مقصد بھی تھا اور وہ یہ تھا کہ پاکستان کے ہر ظالم و جابر حکمران کی چاپلوسی کی جائے اور یہاں استبداد و آمریت کی جڑیں مضبوط کی جائیں، چنانچہ میں بطور ثبوت عباسی صاحب کی ایک کتاب سے ایک نمونہ پیش کرتا ہوں تحقیق مزید به سلسلۂ خلافت معاویہ و یزید ص ۲۳۸ پر وہ لکھتے ہیں:
"اسلامی تاریخ میں شاید یہی ایک قابل تقلید مثال مفادات امت کےپیش نظر بغیر خونریزی کے سیاسی انقلاب پیدا کرنے کی ہے جو فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں میں عمل میں آیا۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ان حضرات کو کہ اس طرح اسوہ عثمانی پر عمل تو ہو سکا۔“
محمود عباسی وغیرہ کی خرافات و ہفوات سے ہمارے علماء اور حفظ لماء او تعظیم صحابہ کے علمبرداروں نے صرف اغماض ہی نہیں برتا، بلکہ اسے ریسرچ اور تحقیق انیق قرار دے کر اپنے رسالوا ، میں ان کو خراج تحسین پیش کیا، ان کی کتابوں کے اشتہار دیئے ، فروخت کیا اور ان کی تصانیف پر تقریظات لکھیں ۔ مثال کے طور پر علی احمد عباسی کی کتاب ”حضرت معاویہ کی سیاسی زندگی کےشروع میں مولانا احتشام الحق صاحب تهانوی نے تعارف رقم فرمایا ہے۔ یہ کتاب جب شیعوں کے شور مچانے پر منبط ہوئی تو حکیم محمود احمد ظفر صاحب سیالکوٹی نے اس کتاب کا ہو بہو چہ بہ بلکہ سرقہ کر کےایک کتاب ”سیدنا معاویہ شخصیت اور کردار تیار کر لی اور چھاپ ڈالی جس کا تعارف مولانا امین احسن صاحب اصلاحی نے تحریر کیا ہے۔ اس کتاب کا ذکر عباسی صاحب نے شکریہ وشکوہ کے جن ملے جلے جذبات کے ساتھ کیا ہے ، ان کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ ہوں :
’ حضرت معاویہ کی سیاسی زندگی مولفہ پروفیسر مولوی علی احمد عباسی سلّم، معرکۃ الآرا کتاب پہلے چھپی تھی۔ اس مضمون پر ایک اور کتاب حکیم محمود احمد ظفر کی مولفہ شائع ہوئی ہے، سیدنا معاویہ شخصیت و کردار،جس کےسری مطالعہ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ظفر صاحب نےحضرت معاویہ کی سیاسی زندگی کی کتاب سےاستفادہ ہی نہیں، بلکہ اسےسامنےرکھ کر اپنی کتاب مرتب کر ڈالی، قدرے لفظی تغیر کے ساتھ عنوانات بھی اسی طرح کے اور مضمون بھی اکثر د بیشتر وہی ۔ یہ صاحب کراچی آکر راقم الحروف سےکئی بار ملے، اپنا عندیہ ظاہر کر دیتے۔اپنی اور اپنےبھتیجےکی کتاب سےمواد لینے کی اجازت بڑے شوق سے دے دی جاتی ،کیونکہ مقصد تو تحریک کی اشاعت ہے، یوں بلا اجازت مضامین نقل کر کے کتاب مرتب کر لینا کہاں تک مناسب ہے؟اسی بحث پرابو یزید محمد دین بٹ کی کتاب رشید ابن رشید اچھی تالیف ہے، نیز کتابچہ "معارف کی کتاب رشید یزید" بھی۔
ان حکیم محمود احمد صاحب کےبارے میں اتنی مزید وضاحت مناسب ہے کہ ان کا تعلق باری باری سے ہزاروی جمعیت علماء اور مرکز جمعیت علماء اسلام سے ہو رہا ہے اور ان کے مضامین ان کے رسائل میں شائع ہوتے رہے ہیں۔
مولانا مودودی کی کتاب آنے سے پہلے بھی خیریه حضرات فتنہ ناصبیت کےسرغنوں کی پیٹھ ٹھونک ہی رہے تھے لیکن ” خلافت و ملوکیت چھپنے کےبعد تو یہ حیرت خیز اور عبرت انگیز صورت حال سامنےآئی کہ یہ سنی حضرات عباسی کےاسلحہ خانہ سےسارے ہتھیار مستعار لے کر یا چرا کر مولانا مودودی پر پل پڑے۔ کوئی شخص اگر ان ناصبیوں اور نام نہادسیوں کی ان ساری تحریروں کو بغور پڑھے جو انہوں نے بزعم خویش صحابہ کرام کی مدافعت اور مولانا مودودی کی مخالفت میں لکھی ہیں تو ان میں کم و بیش یکساں مشترک مواد پھیلا ہوا اور ایک ہی زبان بولتی ہوئی نظر آئےگی۔ان میں سے بعض نے اپنے استدلال کی تائید میں عباسی صاحب کی کتابوں کا نام بھی درج کیا ہے اور بعض نے اس کے دلائل کو اپنے لفظوں میں ایک نئی تحقیق بنا کر پیش کیا ہے۔ بعض ان میں سےعباسی صاحب کے ایسے تابع مہمل بھی ہیں کہ عباسی نے اگر کوئی غلط عبارت مولانا مودودی کے سر منڈھ دی ہے، تو نقل میں عقل سے کام لیے بغیر وہی عبارت اسی طرح دوسرے صاحب نے مولانا کی طرف منسوب کر دی اور اصل سے مراجعت و تحقیق کی توفیق نہیں ہو سکی ۔(١)
مولانا مودودی کی کتاب ” خلافت و ملوکیت کا اصل اور مرکزی موضوع اگر چہ کتاب وسنت کا نظریہ سیاست اور خلافت راشدہ کی حکومت ہےتاہم اس کےچند صفحات اس بحث پر بھی مشتمل ہیں کہ خلافت کےملوکیت میں تبدیل ہو جانے کے تاریخی وجوہ کیا تھے۔ اس طرح ظاہر ہے کہ اس کتاب کی زد عباسی صاحب کے ملحدانہ و مبتدعانہ نظریات پر بھی پڑتی تھی۔ وہ آخر اس کتاب کی چوٹ اپنے اوپر کس طرح محسوس نہ کرتے جب کہ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں اگر کوئی شخص ہے جس کا انتخاب بالکل پہلی بار امت کے عام استصواب سےہوا تو وہ امیر المومنین یزید ہیں۔(٢) لیکن ان علمائےاہل سنت کی روش بڑی تعجب خیز ہےجو عباسی صاحب کی ہاں میں ہاں ملا رہےہیں۔بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہےکہ یه علماء بیک کرشمه دو کار انجام دینا چاہتے ہیں اور ایک ہی حربے سے ایسا وار کرنا چاہتے ہیں جس سے خلافت و ملوکیت کا مصنف بھی مجروح و مطعون ہوا اور ناصبیت و یزیدیت کی تحریک بھی مقبول و محبوب ہو۔ حضرت علی، حضرت حسین ، اور حضرت ابن زبیر نا کام و نا اہل نظر آئیں، امیر معاویہؓ ، ویزید اور مروان کامیاب و کامران قرار پائیں اور تصویر کا یہ رخ پیش کرنے والے نہ صرف سنی کے سنی ہی رہیں، بلکہ تحقیق و تدقیق اور صحابہ کی تعظیم کرنے والے کہلا ئیں۔
(١) مثال کے طور پر عادلانہ دفاع طبع اول ، جلد دوم کا ص ۳۹۱ ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے: " مودودی صاحب لکھتے ہیں اور بغض معاویہ میں جل بھن کر لکھتے ہیں اس کے بعد ترجمان القرآن، منصب رسالت نمبر ۲۴۵ سےایک عبارت نقل کر کےخوب جلی کئی سنائی گئی ہیں۔ اب حقیقت یہ ہے کہ یہ منقولہ عبارت مولانا مودودی کی نہیں ہے، بلکہ یہ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا ٹکڑا ہے جو جسٹس محمد شفیع کا تحریر کردہ ہے اور جس کا ترجمہ راقم نے کیا ہے۔ اس پر نہایت جلی عنوان ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے : ”عدالت عالیہ مغربی پاکستان کا ایک فیصلہ ( ترجمه از غلام علی) اس کے باوجود عباسی صاحت نےاسے مولانا مودودی کی عبارت بنا کر درج کیا اور اس پر مولانا مودودی کو جی بھر کر کو سا۔ پھر "عادلانہ دفاع" کے مؤلف نے لکھی پر مکھی مارتے ہوئے وہی کچھ کیا جو عباسی نے کیا تھا مگر یہ نہ بتایا کہ ان کا ماخذ بھی عباسی صاحب ہی کی کتاب ہے اور منصب رسالت نمبر انہوں نے نہیں دیکھا۔
۲۰ ملاحظہ ہو "خلافت معاویه و یزید" طبع دوم ص ۳۸۔ مزید واضح رہے کہ شیعوں نے بھی ایک کتاب امامت و ملوکیت بجواب خلافت و ملوکیت چھاپی ہے جس میں خلافت و ملوکیت کو شیعیت کے لیے زہر قاتل قرار دیا گیا ہے۔
بہر کیف یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ یہ حضرات اس ضلالت کی روک تھام کرنے کےبجائےاپنا پورا زور اس کتاب کی تردید و تغلیط پر لگا رہے ہیں جسے ناصبیت کے پرچارک اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ ساری ہنگامہ آرائی اور غوغہ سرائی جو سالها سال سے جاری ہے، ہم اب تک اس کے بالمقابل خاموش رہے ہیں، خیال یہ تھا کہ شاید یہ طوفان و عدوان کسی آخری حد تک جا کر رک جائے لیکن بظاہر اس حد کا کوئی جز رنظر نہیں آرہا اور معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ کہیں رک نہیں سکے گا۔ اس لیے میں نے مجبور ہو کر بادلِ ناخواستہ اللہ کا نام لےکر قلم اٹھایا اور تبصرہ و تجزیہ کےلیےاس سلسلہ مضامین کو منتخب کیا جو مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کےصاحبزادے محمد تقی صاحب عثمانی نے اپنےرسالے”البلاغ میں محرم ۱۳۸۹ہ سےشروع کیا تھا۔ مفتی صاحب موصوف کا ہمارے دینی حلقوں میں ایک خاص مقام ہے، اس لیے جو آواز غیر متوقع طور پر ان کے گھر سے اٹھی اور بظاہر استدلالی رنگ لیے ہوئی تھی ، وہ حقیقت حال سے ناواقف مسلمانوں کی رائے کو مولانا مودودی کے خلاف متاثر کر سکتی تھی۔ جن لوگوں کی تقریری وتحریری مہم نری دشنام طرازی پر مشتمل تھی، ان کی باتوں میں تاثیر کی صلاحیت ناپید تھی ، اس لیے ہم نے انہیں قابل اعتناء نہیں سمجھا اور ان کے مقابلے میں کبھی باقاعدہ حریف مناظرہ بنے کی کوشش نہیں کی لیکن ۱۹۶۸ء کے اواخر میں مجھے کراچی، سرحد اور کچھ دوسرے مقامات کے بعض دوستوں کے ذریعے سے معلوم ہوا کہ جو علمائے کرام مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کےخلاف سرگرم رہتے ہیں،وہ ان دنوں بہت مسرور ہیں ۔ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ عنقریب مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کے ہاں سےایک ایسی چیز منظر عام پر آنے والی ہے جو مولانا مودودی کا سارا بھرم کھول کر رکھ دے گی۔ ان کےبعض دوسرے مخالفین کے اعتراضات اپنے سوقیانہ پن اور مخش کلامی کے باعث مؤثر نہیں ہو سکے،لیکن جو تنقید اب آ رہی ہے، وہ بڑی سنجیدہ و مدلل ہے۔
بہر کیف یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ یہ حضرات اس ضلالت کی روک تھام کرنے کےبجائےاپنا پورا زور اس کتاب کی تردید و تغلیط پر لگا رہے ہیں جسے ناصبیت کے پرچارک اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ ساری ہنگامہ آرائی اور غوغہ سرائی جو سالها سال سے جاری ہے، ہم اب تک اس کے بالمقابل خاموش رہے ہیں، خیال یہ تھا کہ شاید یہ طوفان و عدوان کسی آخری حد تک جا کر رک جائے لیکن بظاہر اس حد کا کوئی جز رنظر نہیں آرہا اور معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ کہیں رک نہیں سکے گا۔ اس لیے میں نے مجبور ہو کر بادلِ ناخواستہ اللہ کا نام لےکر قلم اٹھایا اور تبصرہ و تجزیہ کےلیےاس سلسلہ مضامین کو منتخب کیا جو مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کےصاحبزادے محمد تقی صاحب عثمانی نے اپنےرسالے”البلاغ میں محرم ۱۳۸۹ہ سےشروع کیا تھا۔ مفتی صاحب موصوف کا ہمارے دینی حلقوں میں ایک خاص مقام ہے، اس لیے جو آواز غیر متوقع طور پر ان کے گھر سے اٹھی اور بظاہر استدلالی رنگ لیے ہوئی تھی ، وہ حقیقت حال سے ناواقف مسلمانوں کی رائے کو مولانا مودودی کے خلاف متاثر کر سکتی تھی۔ جن لوگوں کی تقریری وتحریری مہم نری دشنام طرازی پر مشتمل تھی، ان کی باتوں میں تاثیر کی صلاحیت ناپید تھی ، اس لیے ہم نے انہیں قابل اعتناء نہیں سمجھا اور ان کے مقابلے میں کبھی باقاعدہ حریف مناظرہ بنے کی کوشش نہیں کی لیکن ۱۹۶۸ء کے اواخر میں مجھے کراچی، سرحد اور کچھ دوسرے مقامات کے بعض دوستوں کے ذریعے سے معلوم ہوا کہ جو علمائے کرام مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کےخلاف سرگرم رہتے ہیں،وہ ان دنوں بہت مسرور ہیں ۔ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ عنقریب مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کے ہاں سےایک ایسی چیز منظر عام پر آنے والی ہے جو مولانا مودودی کا سارا بھرم کھول کر رکھ دے گی۔ ان کےبعض دوسرے مخالفین کے اعتراضات اپنے سوقیانہ پن اور مخش کلامی کے باعث مؤثر نہیں ہو سکے،لیکن جو تنقید اب آ رہی ہے، وہ بڑی سنجیدہ و مدلل ہے۔
اس کے چند ماہ پہلے ماہنامہ البلاغ میں اشتہار آیا، پھر وہ موعودہ سلسلۂ مضامین ”حضرت معاویہ اور خلافت و ملوکیت" کے زیر عنوان جاری ہو گیا جس کی آمدسنی جا رہی تھی۔ساتھ ہی یہ بینات اور دوسرے پر چوں میں جلی عنوانات کے تحت نقل ہونا شروع ہو گیا، حتی کہ ہندوستان میں جمعیت علمائے ہند کے ترجمان ”الجمعیت میں بھی اس کی قسطیں چھپنا شروع ہو گئیں۔ نیچے پرانی مہم کونئی زندگی مل گئی اور ملک بھر بلکہ بیرون ملک سے بھی ہم سےیہ مطالبہ کیا جانےلگا کہ اس تنقید و تردید کی حقیقت واضح کی جائے۔ خلافت و ملوکیت کی جن عبارتوں کو البلاغ میں ہدف بنایا گیا، وہ ساڑھےتین سو سےزیاد صفحات کی کتاب میں صرف تیرہ چودہ صفحے۔ لیکن ”البلاغ‘ میں اسے مسلسل آٹھ ماہ تک موضوع بحث بنایا گیا۔ آغاز میں طرز بحث مقابلہ گوارا اور معقول تھا لیکن بتدریج اس میں جارحیت کا رنگ نمایاں ہوتا چلا گیا حتی کہ صریح مغالطہ انگیزی سےبھی اجتناب نہ کیا گیا۔ دو ڈھائی ماہ توقف کےبعد مجبوراً میں نے بھی ترجمان القرآن میں اسی عنوان کے تحت ایک سلسلہ مضامین لکھنا شروع کیا جس میں ہر الزام واعتراض کا شافی جواب دے دیا۔اُسی وقت اکثر احباب و قارئین کا تقاضا ہوا کہ میں جوابی بحث کو کتابی شکل میں شائع کر دوں۔ لیکن میں نےاسے مناسب نہ سمجھا اور اپنے آپ کو اس سے فارغ اور خالی الذہن کر کے بالکل خاموش ہو گیا مگر افسوس کہ دوسری طرف خاموشی کے بجائے جوابی تیاری ہوتی رہی اور آٹھ ماہ گزر چکنے کے بعد مارچ اے میں پھر ایک اٹھاسی (۸۸) صفحات کا البلاغ کا ایک خصوصی نمبر آ گیا جو میری تردید کےلیےوقف تھا۔ اس میں طنز و تعریض اور اکثر و بیشتر سابقہ مزعومات کی تکرار کے ماسوا کچھ نہ تھا۔میرے بیان کردہ شواہد و دلائل اور میرے اٹھائے ہوئے سوالات سے شاذ ونادر ہی تعرض کیا گیا تھا۔ تاہم میں نے ضرورت محسوس کی کہ اس تعاقب کا بھی نوٹس لوں۔ چنانچہ میں نے پھر اس خصوصی نمبر پر ایک تبصرہ لکھنا شروع کیا جس کی پانچ اقساط جولائی اے تک ترجمان میں چھپتی رہیں۔
میری یہ بحث تشنہ تکمیل ہی تھی کہ ماہنامہ بینات میں بھی میرے خلاف خامہ فرسائی شروع ہوگئی۔ میں نے اپنے مضامین میں کہیں ضمنا مروان کے ملعون ہونے کا ذکر کر دیا تھا۔ مروان چونکہ تمام ناصبیوں کا روحانی پیشواء اور مورث اعلیٰ ہے اس لیے کہنا چاہیے کہ بھولے سے میرا ہاتھ ناصبیت کی دکھتی رگ پر جالگا۔ سب سے پہلے مروان کے دفاع میں بولنا تو عباسی صاحب کو چاہیےتھا لیکن ان کا جادو جب ہمارے علمائے اہل سنت کے سر پر چڑھ کر بول رہا ہو، تو عباسی صاحب کو زیادہ فکر کیوں لاحق ہو ۔ چنانچہ بینات کو اس معاملے میں سبقت کا شرف حاصل ہوا اور اس کے ربیع الثانی اوساھ کے شمارے میں مروان کی وکالت کی گئی۔ اس لیے میں نے البلاغ پر تبصرے کو ملتوی کرتے ہوئے اگست ٧١ کے ترجمان القرآن میں ” مروان اور اس کے باپ کا مقام حدیث اور اقوال سلف کی روشنی میں واضح کیا۔ یہ بحث در بحث چونکہ کافی طویل ہو چکی تھی ، اس لیے میں نے ترجمان میں اسے ختم کر دیا۔ اس کے دو ماہ بعد اکتو برائے میں البلاغ کا پورا مواد ایک کتاب کی صورت میں حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق کے نام سے منظر عام پر آ گیا، اس لیے میرےمضامین سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے شدید اصرار پر اب میں بھی اپنی بحث کتابی صورت میں مرتب کر کے پیش کر رہا ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ البلاغ اور دوسرے معترضین کا محض جوابی تعاقب نہیں ہے، بلکہ اس میں اسلامی نظام حکومت، اسلامی نظام عدل و شہادت، اسلامی قانونِ بغاوت، عدالت صحابہ، رجال حدیث کی جرح و تعدیل، ولایت عہد اور اس طرح کےدوسرےمتعدد علمی و قانونی مسائل پر نہایت مفید اور مثبت مواد بحث جمع ہو گیا ہےخلافت و ملوکیت پر اس سلسلہ بحث سے پہلے بھی میرے بعض مضامین اور سوال وجواب ترجمان میں ایسے شائع ہوئےتھے جن کا ربط و تعلق اس موضوع سے تھا، اس لیے انہیں بھی شامل کتاب کر دیا گیا ہے۔
مجھے امید ہے کہ جو شخص بھی سوئےظن اور تعصب و تحب سےبچتےہوئےمولانا مودودی کی تصنیف خلافت و ملوکیت کےساتھ میری کتاب ملا کر پڑھےگا،اسلامی نظریۂ سلطنت پوری طرح اس کی سمجھ میں آجائےگا اور خلافت علی منہاج النبوت اور ملوکیت کا فرق اس پر بخوبی واضح ہو جائےگااس مطالعہ کےبعد ہر انصاف پسند مسلمان خود فیصلہ کرسکتا ہےکہ فتنہ ہم نےپھیلایا ہےیا اس تحریک کےعلمبرداروں نےپھیلایا ہےجو علی الاعلان یہ کہہ رہےہیں کہ اسلام ہمیں سرےسےکوئی نظریۂ خلافت و سیاست دیتا ہی نہیں خلافت و ملوکیت میں کوئی فرق و امتیاز ہےہی نہیں،جو شخص جس طرح چاہےحکومت حاصل کرلےاور جس طرح چاہےاسےچلائےاسلام سب کوسندجواز عطاکرتا ہےابوبکر کوایک غیر نمائندہ اجتماع میں خلیفہ بنا دیا گیاتھا علی کی خلافت سرےسےمنعقد ہی نہیں ہوئی تھی، وہ خلیفہ نہ تھےبلکہ طلب خلافت کےلیےلڑتےرہےحسین نے"امیر المومنین یزید کےخلاف خروج کیا اور اپنے نانا کے فرمان کے مطابق انہیں قتل ہونا ہی چاہیےتھا۔ان باتوں سےاسلام کے تصور خلافت کی جو مٹی پلید کی جارہی تھی ، اور نئی نسل کےذہن کو اسلام کے سیاسی نظام کے متعلق جن الجھنوں میں مبتلا کیا جارہا تھا،اس کی اصلاح کی ضرورت کسی بزرگ نےمحسوس نہ کی لیکن ہماری خبر لینےمیں اوران یزیدیوں، خارجیوں اور ناصبیوں کو بلا واسطہ یا بالواسطہ تقویت پہنچانے میں بہت سے سنی سرگرم ومستعد ہو گئے ۔
جناب محمد تقی صاحب عثمانی مدیر البلاغ ، جن کے اعتراضات کا جواب میرا اصل موضوع ہے، انہوں نے بھی دوسروں کی طرح اس کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے کہ مولانا مودودی کی کتاب کا اصل موضوع بحث کیا ہے اور اس کو نظر انداز کر کے کتاب کی ایک ضمنی بحث کو ہدف تنقید بنا لیا ہے، حالانکہ اگر اس ضمنی بحث میں کوئی چیز غلط بھی ہو تو اس کا کوئی اثر اس اصل مسئلے پر نہیں پڑتا جس پر خلافت و ملوکیت میں کلام کیا گیا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام میں خلافت کس چیز کا نام ہے؟ خلافت اور ملوکیت میں فرق کیا ہے؟ اسلام کا اصل نظامِ سیاست ان دونوں میں سے کون سا تھا؟ اصل نظام میں تغیر اور خلافت سے ملوکیت کی طرف انتقال کب اور کیسے ہوا اور اس انتقال س جو دوسر انظام (یعنی نظام بادشاہی ) قائم ہوا اس میں اور نظام خلافت میں وجوہ امتیاز کیا تھے؟ پھر اہل سنت نے اس دوسرے نظام کو اگر قبول کیا تو کس معنی میں کیا؟ آیا یہ قبولیت کسی مصلحت کی بنا پر تھی یا اس بنا پر کہ یہ دونوں نظام اہلِ سنت کے نزدیک یکساں صحیح اور مقبول اسلامی نظام تھے؟ یہ وہ مسئلہ ہے جس سے ہر اس شخص کو سابقہ پیش آتا ہے جو اسلامی تاریخ اور اسلامی نظامِ سیاست کا مطالعہ کرتا ہے۔ عربی مدارس کے ماحول میں اس سے صرف نظر کیا جاسکتا ہے، لیکن اس ماحول سےباہر کی دنیا میں ، جہاں اس وقت مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے متعلق علمی اور عملی حیثیت سے نہایت دور رس نتائج رکھنے والے فیصلے ہو رہے ہیں، اس مسئلے کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ خلافت وملوکیت میں ساری بحث اس مسئلے پر کی گئی ہے۔
اب اگر کسی شخص کو اُن نتائج اور دلائل و شواهد سے اختلاف ہے جواب کتاب کے مصنف نے پیش کیے ہیں، اور وہ فی الواقع اس مسئلے میں اسلام کی کوئی علمی خدمت انجام دینا چاہتا ہے، تو اسے چاہیے کہ صرف نفی پر اکتفا نہ کرے بلکہ خود یہ بتائے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تصریح اور علمائے اہل سنت کی متفقہ رائے کے مطابق خلافتِ راشدہ کا دور حضرت علی کے عہد خلافت پر کیوں ختم ہو گیا ؟ اُس دور کے بعد آنے والے نظام کو خلافت کے بجائے ملوکیت کا نظام کیوں کہا گیا؟ حضرت معاویہؓ کو صحابی وفقیہ اور مجتہد ہونے کے باوجود خلفائے راشدین میں کیوں شمار نہیں کیا گیا اور علمائے اہلِ سنت خطبوں میں ان کا نام خلیفہ راشد کی حیثیت سے کیوں نہیں لیتے؟خلافت راشدہ اور ملوکیت کے نظام میں کیا فرق تھا جس کی بنا پر ایک کو خلافت راشدہ اور دوسرےکو ملوکیت کہا گیا ؟ خلافت سے ملوکیت کی طرف یہ انتقال کیا حضرت معاویہ کے زمانے میں نہیں ہوا تھا؟ اگر ہوا تھا تو آخر کیسے ہوا تھا؟ اور اس معاملے میں اہل سنت کا رد عمل کیا تھا؟ کیا وہ خلافت و ملوکیت دونوں کو یکساں اسلام کا نظامِ مطلوب سمجھتے تھے ، یا ان کے نزدیک اصل مطلوب خلافت تھی اور ملوکیت کو انہوں نے امت کی مصلحت کی خاطر ایک ناگزیر برائی کے طور پر قبول کیا تھا؟ یہ ہیں وہ اصل سوالات جن سےتعرض کرنے کی ضرورت ہے، تا کہ موجودہ دور کے فعال عناصر کےذہنوں کی الجھن کو دُور کیا جائے،اور انہیں واضح طور پر اسلام کا تصور خلافت سمجھایا جائے، اور وہ غلط فہمیاں رفع کی جائیں جن کی بنا پر وہ یہ مجھے لگے ہیں کہ خلافت کا نظام اشخاص و افراد کی کسی غلطی کی بنا پر نہیں بلکہ خود اپنی کسی نظریاتی داخلی کمزوری کی بنا پر نہیں چل سکا، اس لیے اس کے احیاء کا خیال ہی فضول ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ علمائے کرام میں سے کوئی صاحب بھی ان سوالات سےتعرض نہیں فرماتے اور جو صاحب بھی اٹھتے ہیں خلافت و ملوکیت کی ایک ضمنی بحث پر لے دےشروع کر دیتے ہیں ۔
مولانا عثمانی صاحب نے اس بات کو بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہے کہ مناقب صحابہ یا مشاجرات صحابہ سرے سے اس کتاب کا اصل موضوع بحث ہی نہیں ہے، بلکہ جن مسائل پر اس کتاب میں کلام کیا گیا ہے ان کے سلسلے میں یہ بحث ایک ناگزیرعلمی ضرورت کے طور پر آئی ہے،اور جو شخص بھی ان مسائل سے تعرض کرے گا اُسے لازماً اس بحث سے سابقہ پیش آئے گا۔ عثمانی صاحب بڑے ناصحانہ انداز میں اس پر اس طرح اعتراض فرماتےہیں کہ گویا خلافت و ملوکیت کا مصنف پہلا شخص ہےجس سے مشاجرات صحابہ کوزبان قلم پر لانے کا قصور سرزد ہوا ہے۔ حالانکہ پہلی صدی ہجری سے لے کر اس دور تک کسی نہ کسی علمی ضرورت کی بنا پر بکثرت محدثین ، شارحین حدیث، فقہاء، متکلمین، اور تاریخ اسلام کے مصنفین، جو سب کے سب اکابر اہل سنت میں شمار کیےجاتے ہیں، ان واقعات کو بیان کرتے رہے ہیں۔ اگر یہ فعل قابل اعتراض ہے تو پہلی مرتبہ یہ گناہ خلافت و ملوکیت کے مصنف ہی سے نہیں ہوا ہے۔ پھر آخر اس گناہ کے پچھلے مرتکبین کو مواخذہ سے کیوں بری کر دیا گیا؟ عثمانی صاحب چاہتے ہیں کہ اس معاملہ میں ابن خلدون کو حجت مان کربس اُس رائے پر اکتفا کیا جائے جو انہوں نے اپنے مقدمہ میں بیان کی ہے لیکن اول تو ابن خلدون نے خود اپنی تاریخ میں مشاجرات صحابہ کے واقعات بیان کرنے کا گناہ کیا ہے ۔معلوم نہیں عثمانی صاحب نے ان کی تاریخ بھی پڑھی ہے یا فقط مقدمہ ہی پڑھ کر فریفتہ ہو گئے ہیں۔ دوسرےاسلام کے تنہا ایک ہی فقیہ و محقق ابن خلدون نہ تھے ، دوسرے محققین بھی ہمارے سلف میں پائےجاتے ہیں جن کی رائے ابن خلدون سے مختلف ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہےکہ خلافت و ملوکیت کےمسئلےمیں ابن خلدون کی پوری بحث کو شاید عثمانی صاحب نےپڑھا اور سمجھا نہیں ہے،ورنہ وہ اسے سند قرار دینے کی جرات نہ کرتے کیونکہ اسےمان لینےسےاسلامی نظام سیاست میں بڑا گھپلا واقع ہوتا ہے۔ اس کی کچھ تفصیل یزید کی ولی عہد کی بحث میں آگے ملے گی۔
مدیر البلاغ نے اپنے سلسلہ مضامین میں اپنی تنقید کا نشانہ خاص طور پر ” خلافت و ملوکیت“کے اس حصے کو بنایا ہے جو حضرت امیر معاویہ سےمتعلق ہے، کیونکہ ان کے الفاظ میں مولانا مودودی ” حضرت معاویہ کےبارے میں انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئے ہیں جس سے لوٹنے کی اللہ تو فیق عطا فرمائے ۔انہوں نے پہلی مرتبہ اپنے مضامین میں اور دوبارہ اپنے خصوصی نمبر میں جو کچھ لکھا ہے، ظاہر ہے کہ میں اپنے جواب اور جواب الجواب میں ان کے تمام اعتراضات کی پوری عبارت کو من و عن اور لفظ بلفظ تو فل نہیں کرسکتا تھا، نہ اس کی ضرورت ہی تھی،تاہم میں نے اپنی حد تک پوری کوشش کی ہے کہ ان کےاستدلال و اعتراضات کا خلاصہ یا تو ان کے اپنے لفظوں میں دوں یا پھر ان کا صحیح مفہوم اپنے الفاظ میں ادا کر کے ان کا جواب دوں ۔ اس قسم کی بحث میں کسی نہ کسی حد تک نوک جھوک کا انداز لا زما پیدا ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے سارے مقامات کو از سر نو ادھیڑ کر دوبارہ لکھنا میرے لیے ممکن نہ تھا، تاہم میں نے بہت سی عبارتیں حذف کر دی ہیں یا بدل دی ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی بات غلط یا موجب خلش ہو تو میں اس کے لیے اللہ سے، عثمانی صاحب سے اور قارئین سے عفو و درگزر کا خواہاں ہوں۔
خدا جانتا ہےکہ اگر مولانا مودودی ایک نرےمصنف یا مفکر ہوتےیا ان پر غلط اعتراضات کا نقصان یا فائدہ انتک اور ان کےمعترضین کی ذات تک محدود رهتا تو میں اعتراضات صاف کرنےمیں اتنا وقت اور اتنی قوت صرف نہ کرتا۔ لیکن میں پوری دیانتداری سے یہ سمجھتا ہوں خواہ معترضین مانیں یا نہ مانیں، مولانا محترم نےہزاروں نہیں لاکھوں مسلمانوں کےدل و دماغ میں کتاب وسنت کی عظمت اور صحابہ کرام موسلف صالحین کی سچی محبت کا نقش ثبت کیا ہےاور انہیں کتاب و سنت اور خلافت علی منهاج النبوت پر مبنی نظام کے احیاء کےجذبےسےسرشار اور اس مقصد کےلیےسرگرم کارکیا ہے۔اس سےبڑھ کر کوئی جرم نہیں ہو سکتا کہ ایسے شخص پر تو ہین صحابہ،مسلک اہل سنت سے انحراف،اور رافضیت کی حمایت جیسےبھیا نک الزامات عائد کیے جائیں اور خلق خدا کو برگشتہ و گمراہ کرنے کی کوشش کی جائے۔اس لیے میں نے احقاق حق اور ابطال باطل ضروری سمجھا ہےمعترضین خواہ فتنہ معاصرت میں مبتلا ہوں یا غلو فی العقیدت کا شکار ہوں،دونوں صورتیں خیر سے خالی ہیں۔ شرک جس کی تردید یہ حضرات زبان سے بہت کرتے ہیں، وہ بھی غلط عقیدت ہی کی پیداوار ہے۔ پھر یہ کہنا کہ صحابہ کرام معصوم تو نہیں محفوظ ہیں اور ان سےخطا و گناہ کا صدور محال ہے، کیا یہ وہی عقیدہ نہیں جو شیعہ حضرات اپنے ائمہ معصومین کے بارےمیں رکھتے ہیں؟ قرآن وحدیث یا مسلک اہل سنت کا اقتضا یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہم امیر معاویہؓ کی ہر غلطی کو صحیح ثابت کریں اور ان کے ساتھ بنو امیہ کے ہر کس و ناکس کے ہر قول وفعل کی تحسین و تصویب کریں۔
"خلافت و ملوکیت" میں حضرت معاویہ کےبعض فیصلوں اور کارروائیوں سےجو اظہار اختلاف کیا گیا ہے، اس کی چونکہ مدیر البلاغ نے دو مرتبہ تردید و تغلیط کی سعی کی ہے، اس لیے میں نے بھی دو مرتبہ ان کا جواب دیا ہے۔ اسی وجہ سےجس طرح ان کی بحث میں تکرار تھی، میری جوابی بحث میں بھی بعض جگہ یہ صورت پیدا ہوگئی ہے، مگر بالعموم ایسا اُن مقامات پر ہوا ہے جہاں میں نےیہ دکھایا ہے کہ میں فلاں اعتراض کا جواب پہلے ان الفاظ میں دے چکا ہوں یا میں نے فلاں سوال کیا تھا جس کا جواب نہیں دیا گیا، اس لیے مجھے اپنا سوال دہرانا پڑ رہا ہے۔ اب میں نے اس طرح کے غیر ضروری اعادوں کو حتی الوسع حذف کرنے کی کوشش کی ہے۔ تا ہم اگر کہیں تکرار محسوس ہو، تو اس کی وجہ یہی ہے جو بیان کر دی گئی۔
مزید بر آن بیشتر مسائل پر چونکہ دو دومرتبہ بحث ہوئی ہے اس لیے میں نے ایک ایک مسئلےپر اپنی دو ہری بحث کے دونوں حصوں کو یکے بعد دیگرے ایک ہی جگہ جمع کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر مسئلہ تو ریث مسلم من الکا فریا مسئله سب وشتم پر جو کچھ پہلی اور پھر دوسری مرتبہ لکھا تھا اسے یکجا کر دیا گیا ہے۔ ان دو گونہ جوابات میں سے ہر ایک کو دوسرے میں ضم کر کے بالکل ایک مربوط بحث بنا دینا مشکل تھا، اس لیے انہیں بھی بڑی حد تک اصل حالت میں رہنے دیا گیا ہے، البتہ کچھ ناگزیر رد و بدل کر دیا گیا ہے۔
"خلافت و ملوکیت" کے فاضل مصنف نے اپنے استدلال کو محکم و موکد کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ ایک ایک بات کے حق میں متعدد کتابوں کے حوالے حاشیے میں درج کر دیئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کتابوں میں سے ہر ایک کی عبارت یا اس کا لفظی ترجمہ الگ الگ دینا ممکن نہ تھا۔اس لیےانہوں نےسب کا ایک مشترک مفہوم و خلاصه اپنی کتاب کےمتن میں بیان کر دیا ہےمخالفین نےاسطرز تلخیص پر بھی اس غلط اعتراض کی گنجائش پیدا کر لی ہے کہ خلافت و ملوکیت میں منقولہ مواد اصل مراجع کے مطابق نہیں ہے۔ میں نے اپنی حد تک ایسے اعتراضات کا سد باب کرنے کے لیے حتی الوسع یہ کوشش کی ہے کہ ایک مقام پر ایک سے زاید حوالے نہ دوں اور حوالہ عربی یا فارسی کتاب سے ہو تو متن مع ترجمہ درج کروں ۔ ہر کتاب کے مطبع ، مقام اشاعت اور سن طباعت کا بھی حوالہ دے دیا ہے تا کہ ہر شخص ہر بات کی بآسانی تحقیق کر سکے۔ البته کتب حدیث و شروح حدیث کے حوالے دیتے ہوئے میں نے کتب وابواب کا عنوان دیا ہے تا کہ ہر صاحب علم مطلوبہ حدیث ہر ایڈیشن میں خود نکال کر دیکھ سکے اور وہ خاص ایڈیشن نہ تلاش کرتا پھرے جو میرے سامنے تھا۔
میں اگر چہ علم و تقویٰ سے تہی دامن ہوں ، تاہم میں نے جو کچھ لکھا ہے، اللہ سے ڈرتےہوئے لکھا ہے، پچاسوں کتابوں اور ہزاروں صفحات کا مطالعہ کر کے لکھا ہےمطالعہ کے دوران میں امیر معاویہ اور بعض دوسرے صحابہ کرام کے متعلق بعض ایسے اقوال میری نظر سےگزرےجو ان باتوں سےشدید تر اور تلخ تر تھے جو مولانا مودودی یا میرے قلم سے نکلے ہیں اور یہ اقوال ایسےایسے جلیل القدر ائمہ اہل سنت کے ہیں جن کے علم وفضل اور زہد دورع سے ہمیں اور ہمارےمعترضین کو دُور کی نسبت بھی نہیں ہو سکتی ، لیکن میں نے ان میں سے اکثر سے صرف نظر کرتےہوئے صرف چند اقوال وضاحت مدعا کے لیے پیش کیے ہیں۔پھر بھی اگر کسی کے حُسنِ عقیدت یا علمیت کو میری کسی بات سے ٹھیس پہنچے یا کوئی صاحب انہیں اپنے صحیح محل پر محمول کرنے کے بجائے بدستور انہیں نزاع وخلاف کا ذریعہ بنائیں تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم سب کو فتنہ وشر سےبچائے اور ہماری فکر ونظر کی خامیوں کی خود ہی اصلاح فرمائے ۔ آمین !
آخر میں راقم عاجزان تمام دوستوں،بزرگوں اوراس بحث سےدلچپسی رکھنےوالے ناظرین کا شکر گزار ہے،جنہوں نےمیری ہمت افزائی کی،مفید مشوروں سےنوازا،بعض مسائل میں تائید مواد کی نشان دہی کی اور بعض کتابیں بھی عاریہ مرحمت فرما ئیں ۔ بالخصوص میں محبت مکرم جناب ریاض الحسن صاحب نوری ، ایم اے کا بہت ممنون ہوں جنہوں نے مجھے بے شمار کتب مهیا کرنےکی زحمت اٹھائی۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی و امت معالیه نے اگر چہ اس بحث میں دلچسپی نہیں لی اور نہ ان کی مصروفیت ، علالت اور ان کی افتاد طبیعت کے پیش نظر ان سےایسی توقع کی جاسکتی تھی مگر میں اس لحاظ سےان کا بھی احسان مند ہوں کہ انہوں نے کم از کم اپنے کتب خانےسےاستفادےکی اجازت مجھےدی اور اپنے ماہنامے میں اتنی طویل خامہ فرمائی کو گوارا کیا، حالانکہ ادارہ ترجمان سےنہ میر اضابطےکا تعلق ہےاور نہ وہ ایسےفکرمند ہیں کہ خود اپنی مدافعت کریں یا دوسروں سے اس کے لیے کہیں۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ میرے دل کی لگن اور میرے قلم کی تراوش ہے اور میں ہیعند الله وعند الناس اس کے لیے مسئول ہوں۔
باب اوّل
جناب مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کےخلف رشید مولانا محمد تقی عثمانی نےاپنےماہنامہ "البلاغ" میں جو تنقیدی سلسلۂ مضامین تحریر کیا تھا اور جو کتابی صورت میں چھپ چکا ہے اس میں خاص طور پر ” خلافت و ملوکیت کے اس حصے کو اپنا ہدف بنایا تھا جو حضرت امیر معاویہ سے متعلق ہے۔ انہوں نے تبصرے کے آغاز میں لکھا تھا کہ ”مولانا مودودی حضرت معاویہ کے بارے میں انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئے ہیں اور ہماری پُر خلوص دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس سے واپس لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے “ ” خلافت و ملوکیت کے باب پنجم کا عنوان ہے: ” خلافت اور ملوکیت کا فرق اس میں حضرت معاویہ کا ذکر آیا ہے۔ اس باب کی آخری ذیلی فصل کی سُرخی ” قانون کی بالاتری کا خاتمہ ہے۔ اس کے تحت مولانا مودودی نے لکھا ہے:
"اسلام جس بنیاد پر اپنی ریاست قائم کرتا ہےوہ یہ ہے کہ شریعت سب پر بالا ہے۔دوست ہو یا دشمن، حربی کافر ہو یا معاہدہ مسلم رعیت ہو یا ذمی ، مسلمان وفاداره و یا باغی یا برسر جنگ ، غرض جو بھی ہو شریعت میں اس سےبرتاؤ کا ایک طریقہ مقرر ہےجس سےکسی حال میں تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔خلافت راشدہ اپنےپورےدور میں اس قاعدے کی سختی کے ساتھ پابند رہی حتی کہ حضرت عثمان اور حضرت علی نے انتہائی اور سخت اشتعال انگیز حالات میں بھی حدود شرع سےباہر قدم نہ رکھا۔ان راست رو خلفاء کی حکومت کا امتیازی وصف یہ تھا کہ وہ ایک حدود آشنا حکومت تھی نہ کہ مطلق العنان حکومت “
اس کےبعد مولانا موصوف بنوامیہ کے متعلق لکھتےہیں کہ اگر چہ ان کے عہد میں بھی مملکت کا قانون اسلامی قانون ہی رہا لیکن ان بادشاہوں کی سیاست دین کی تابع نہ تھی۔مختلف خلفائے بنی امیہ کےعہد میں قانون کی بالاتری کےخاتمے کی مثالیں دیتےہوئےمولانا مودودی نے حضرت معاویہ کے عہد کے بھی چند واقعات نقل کیے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتےہیں: ”امام زہری کی روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور چاروں خلفائے راشدین کےعہد میں سنت یہ تھی کہ نہ کا فر مسلمان کا وارث ہو سکتا تھا، نہ مسلمان کا فر کا۔ حضرت معاویہؓ نے اپنے زمانہ حکومت میں مسلمان کو کافر کا وارث قرار دیا اور کافر کو مسلمان کا وارث قرار نہ دیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے آکر اس بدعت کو موقوف کیا۔ مگر ہشام بن عبدالملک نے اپنے خاندان کی روایت کو پھر بحال کر دیا۔“ اس عبارت کو اگر اس کےپورےسیاق و سباق میں رکھ کر پڑھا جائےتو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے امیر معاویہ کی تنقیص و تو ہین مقصود نہیں ہے بلکہ اس امر کی توضیح مطلوب ہے کہ خلافت راشدہ کے تمھیں سال گزر جانے کے بعد جب ارشاد نبوی کے مطابق دور ملوکیت آیا تو اس میں کیا تغییرات رونما ہوئے۔ یہ ایک ناگزیر بحث ہےجس سے ہر اس شخص کو سابقہ پیش آتا ہے جو اس موضوع پر کلام کرتا ہے۔ لیکن مولانا عثمانی صاحب نے"بدعت کا الزام"کا عنوان لگا کر مولانا مودودی کی اس عبارت کو نشانہ تنقید بنایا ہےمحمدتقی عثمانی صاحب کا اعتراض یہ ہےکہ حضرت معاویہ پر بدعت کا الزام بالکل غلط ہے کیونکہ یہ بھی دوسری سنت تھی جو حضرت معاویہؓ نے جاری کی تھی ، بدعت نہ تھی ۔ آپ فقیہ و مجتہد تھے اور محض حضرت علی سے اختلاف کی وجہ سے وہ شرعی مسائل میں حق اجتہاد سے محروم نہیں ہو سکتے ۔ پھر اس مسئلے میں حضرت معاذ بن جبل اور متعدد تابعین حضرت معاویہ کے ہم نوا ہیں ۔ اور ان کے حق میں ایک حدیث مرفوع موجود ہے کہ الاسلام یزید ولا ينقص.
جناب محمد تقی صاحب نے امیر معاویہ کے اس فعل یعنی تو ریٹ مسلم من الکافر کو جس طرح اجتہاد اور سنت ثانیہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، یہ متعدد پہلوؤں سے محلِ نظر ہے۔ اس میں سوال کسی صحابی یا تابعی کی ذات کا نہیں ہے بلکہ یہ ایک اصولی مسئلہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک طرف اگر قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ موجود ہوں ، سنت نبویہ اور سنت خلفائے راشدین اربعہ موجود ہو، اور دوسری طرف کسی صحابی یا تابعی کا قول یا فعل ہو جو صریحاً ان سب سے متعارض ہو تو کیا اسے بھی دوسری سنت یا اجتہاد کا نام دیا جا سکتا ہے؟یہ امر مسلم ہےکہ قرآن مجید کی آیات وراثت د ولایت کےمخاطب یا مکلف کفار نہیں بلکہ مسلمان ہیں۔قانونِ وراثت کا بیان ہی يُوصِيكُمُ الله کےالفاظ سےشروع کیا گیا ہےجس کاخطاب صریحاً مسلمانوں سے ہےاس طرح ان آیات کےنزول کےبعد کا فرو مسلم کےمابین تو ریث کو منقطع کر دیا گیا ہےجہاں تک مناکحت کا تعلق ہے اس کےبارے میں قرآن مجید میں صرف اہل کتاب کے معاملے میں اس حد تک استثنا کر دیا گیا ہے کہ محصنات اہلِ کتاب سے مسلمان مرد نکاح کر سکتا ہےاور کتابی مسلمان عورت سےنکاح نہیں کر سکتا۔لیکن قرآن مجید میں کہیں یہ مذکور نہیں کہ کافر تو مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا مگر مسلمان کا فر کا وارث ہوسکتا ہے۔
قرآن مجید کےبعد احادیث صحیحہ کو لیجےاگرکوئی حدیث صحیح اور سنت ثانیہ نبویہ ایسی موجود ہوتی جواد کام قرآنیہ میں تخصیص یا تشریح کے ذریعےسے مسلمان کو کافر کا وارث بنا دیتی تو بلاشبہ وہ لائق اتباع ہوئی۔ لیکن صحاح ستہ میں نهایت صحیح مرفوع متصل احادیث میں ارشاد نبوی وارد ہے کہ:
ان صاف اور صریح احادیث کے مقابلے میں یہ روایت پیش کی جاتی ہے کہ:
یہ دونوں حدیثیں سرے سے وارث کے مسئلے سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتیں اور ان کےبالمقابل خاص وراثت ہی کے مسئلے میں نصوص کتاب و سنت قطعاً صریح الدلالت ہیں۔ اگر اسلام کے غلبه واضافه کے عمومی اور اصولی بیان کو دلیل بنا کر مسلمان کو کا فرکا وارث بنانا درست ہو سکتا ہے تو پھر ایک مشرکہ سے نکاح بھی درست ہوسکتا ہے اور ایک غیر مسلم کی جان و مال سے ہر طرح کا تعرض درست ہوسکتا ہے۔
اس کے علاوہ ان دو روایتوں کی سند میں بھی انقطاع ہے۔ محمد تقی صاحب نے ابن حجر کےحوالے سے یہ تو لکھ دیا ہےکہ الاسلام یزید ولا ينقص حدیث مرفوع ہےجسےابوداؤد نےروایت کیا ہےلیکن انہوں نےابوداؤ د باب الفرائض کھول کر اس روایت کو نہ دیکھا۔ اُس کے راوی ابوالاسود کہتے ہیں کہ: ان رجلا حدثه ان معاذا قال سمعت .... اس کا مطلب یہ ہےکہ حضرت معاذ بن جبل سے یہ روایت ایک غیر معلوم الاسم اور مجهول الحال راوی نے نقل کی ہے، اس لیے حافظ ابن حجر کی مراد مرفوع سے مرفوع منقطع ہے نہ کہ متصل ۔ اس کے بعد حضرت معاذ بن جبل سے اس روایت اور اس پر مبنی مسلک کی نسبت بہت مشتبہ ہو جاتی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خود امام ابوداؤد نے اس روایت سے پہلےلا یرث المسلم الكافر .... اور لا یتوارث اهل ملتین شتی والی احادیث صحیح سند کے ساتھ درج کر دی ہیں۔ پھر ان قولی احادیث کے سوا کوئی ایک فعلی حدیث بھی ایسی نہیں ہے جس میں یہ مذکور ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کافر کے مرنے پر کسی مسلمان کو اس کا وارث قرار دیا ہو یا کسی مسلمان کے اس طرح وارث بن جانے کو جائز قرار دیا ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چاروں خلفائے راشدین کے بارے میں یہ بات قطعیت کے ساتھ ثابت ہے کہ انہوں نے اسی سنت ثابتہ کو جاری رکھا اور اس سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ظاہر بات ہےکہ قانونِ وراثت کا تعلق بنیادی ملکی قوانین سےہےاور عہد نبوی وعہد خلافت راشدہ میں سینکڑوں ایسے کفار کی موت واقع ہوئی ہوگی جن کےاعزا و اقربا مسلمان بھی ہوں گےمگر کیا خلافت راشدہ کےاختتام تک کوئی ایک واقعہ بھی حدیث، سیرت یا تاریخ کی کسی ایک کتاب میں ایسا مل سکتا ہے کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کا وارث قرار دیا گیا ہو؟ یا حضرت معاذ بن جبل یا امیر معاویہ یا کسی دوسرے صحابی نے وراثت کے کسی مقدمہ میں آکر یہ شہادت دی ہو کہ آنحضور کا ایسا بھی کوئی ارشاد موجود ہے جس کی بنا پر مسلمان کو کافر کا وارث قرار دیا جاسکتا ہے؟ یا کم از کم کسی مسلمان نے یہ دعوی ہی کیا ہو کہ اسلام چونکہ نقصان کےبجائے زیادتی کا باعث ہے اس لیے مجھے کافرمورث سےورثہ دلایا جائے؟ خلفائے راشدین کا طریقہ تو یہ رہا ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے خلافت سنبھالتے ہی یہ اعلان کیا کہ :
ان حضرات کا عام قاعده یہ تھا کہ اہم امور میں اگر کوئی اختلاف داشتباہ ہوتا تھا تو صحابہ کرام کو جمع کیا جاتا تھا، اعلان کیا جاتا تھا کہ فلاب معاملے میں اگر کسی کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد ہو تو اسے آکر پیش کیا جائے۔ ایسے عامتہ الورود مسئلے میں اگر آنحضور کے ایک سے زائد اقوال ہوتے تو وہ ضرور سامنے آجاتے۔
اس سنت رسول اور سنت خلفائے راشدین کے بالمقابل امیر معاویہ کا ایک فیصلہ اور طریقہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دوسری سنت ہے، یا یہ ایک فقیر یا ایک مجتہد کا قیاس واجتہاد ہے۔ یہ بالکل ایسی بات ہےجیسےآج کل پرویز صاحب جیسے لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا ہر امیر یا مرکز ملت جو کچھ طے کر دے وہی سنت ہے،اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو "کچھ طے کیا تھا صرف وہی سنت نہیں ہے بلکہ بعد کے تمام ادوار کا تعامل بھی سنت ہےمحمد تقی صاحب نےاس ضمن میں امام زہری کےالفاظ السنتہ الا ولی سےیہ عجیب نکتہ پیدا کیا ہے کہ یہ لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت معاویہ نے جو طریقہ جاری کیا وہ السنتہ الا خری تھا۔حالانکہ امام زہری نےجو کچھ کہا ہےاس کا مطلب یہ ہےکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نےآکر اس طریقے کو موقوف کیا اور پہلے طریقے کو جاری کر دیا۔ ان کا مطلب یہ ہرگز نہ تھا کہ پہلے طریقہ کو چھوڑ کر جو دوسرا طریقہ حضرت معاویہ نے جاری کیا وہ بھی سنت ہی تھا۔(١) سوال یہ ہے کہ اگر ایک طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے خلفائے راشدین کے دور تک مسلسل جاری رہا ہو، اور اس کے بعد کوئی شخص اسے بدل کر دوسرا طریقہ جاری کر دے تو کیا اصطلاح شرع میں وہ بھی سنت ہی ہے؟ وہ اگر سنت ہو تو پھر آخر بدعت کس چیز کا نام ہے؟اس طرح کی سنتیں تو پھر اور بھی ہیں جو امیر معاویہؓ،مروان، یا بنومروان نے جاری کی تھیں۔ مثلاً بیٹھ کر خطبہ دینا، خطبہ عید کے لیے منبر لے جانا، اور نماز عیدین سے سے پہلے خطبہ پڑھنا۔(٢) کیا یہ سب اجتہادات ایک سنت ہی بنارہے ہیں؟ اگر یہ ساری کارروائیاں سنت یا دیر البلاغ کے خیال کے مطابق دوسری سنت کی تعریف میں آتی ہیں، تو پھر آخر کیا وجہ ہے کہ خلفائے بنوامیہ ہی کے ایک فرد حضرت عمر بن عبد العزیز نے انکا خاتمہ ضروری سمجھا؟ اور اہل سنت کےکسی مسلک و مذہب نے آج تک ان کےمطابق عمل نہ کیا?-
(١)- یہ امر قابل ذکر ہے کہ مولانا مودودی نے البدایہ کے جو دو حوالے دیئے ہیں ان میں ایک جگہ السنتہ الاولی کے الفاظ ہیں اور دوسری جگہ جلد ۸ ص ۱۳۹ پر فقط السنتہ کا لفظ ہے، یعنی حضرت عمر بن عبد العزیز نے سنت کو قائم کر دیا۔
(٢) شاہ ولی اللہ صاحب فرماتےہیں عن طاؤس قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم قائماً وابوبكر وعثمان وان اول من جلس على المنبر معاوية بن ابي سفيان (از لته الخفا جلد دوم ص ۲۹۹، ناشرنور محمد کراچی ) ۔ ( طاؤس سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر عثمان نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور سب سے پہلےمعاویہ نے ممبر پر بیٹھ کر خطبہ دیا)۔ اسی طرح مروان کا نماز عید سے پہلے خطبہ پڑھنا صحاح ستہ کی متعدد احادیث میں مروی ہے اور بیٹھ کر خطبہ دینا بھی روایات میں مذکور ہے۔
علامہ بدرالدین عینی اور حافظ ابن حجر" کے حوالے سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسروق، محمد بن حنفیه محمد بن علی بن حسین سعید بن مسیب ، ابراہیم تھی ، اطلق بن راہویہ رحمہ اللہ کا مذہب یہی ہے کہ ہم کفار کے یا اہل کتاب کے وارث ہوں کیونکہ یہ قیاس کا تقاضا ہے۔ لیکن امر واقعی اور صحیح بات یہ ہے کہ ان بزرگوں کی طرف اس قول کی نسبت کسی قابل اعتماد ذریعہ سے ثابت نہیں ہے، اور ثابت ہو بھی تو نصوص کتاب وسنت کے مقابلے میں سرے سے کسی قیاس یا اجتہاد کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ تعجب ہے کہ مولانا محمد تقی صاحب نے ابن حجر کی بحث سے اپنےمطلب کا ایک ٹکڑا کاٹ لیا اور بقیہ کو حذف کر دیا۔ ابن حجر فرماتے ہیں:
وحجة الجمهور انه قياس في معارضة النص وهو صريح في المراد ولا قياس مع وجوده. امـا الـحديث فليس نص فى المرادبل هو محمول انه يفضل غيره من الايان ولا تعلق له بالإرث وقدعا رضه قياس آخر وهو ان التوارث يتعلق بالولاية ولا ولاية بين المسلم ولكافر لقوله تعالى لا تتخذوا اليهود والنصارى اولياء بعضهم أولياء بعض.
"اور جمہور کی دلیل یہ ہے کہ مسلمان کو کافر کا وارث بنانا ایک ایسا قیاس ہے جونص کے خلاف پڑتا ہے اور جب کسی مسئلےمیں ایک نص موجود ہو جو اسی خاص مسئلےکےمتعلق صریح حکم دےرہی ہو تو اسکی موجودگی میں قیاس کا کوئی موقع نہیں۔ رہی وہ حدیث جو اس قیاس کے حق میں پیش کی گئی ہے ۔ (یعنی الاسلام یزید ولا ينقص ) تو اس کا وراثت کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ اس کا مطلب بس یہ ہے کہ اسلام دوسرے ادیان پر فضیلت رکھتا ہے اور یہ وراثت کے مسئلے میں کوئی نص نہیں ہے۔ پھر یہ قیاس ایک دوسرے قیاس سے بھی ٹکراتا ہے اور وہ اس طرح کے توارث کا تعلق ولایت سے ہے اور مسلم اور کافر کے درمیان کوئی ولایت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے مت بنادُ یہود و نصاری کو اپنا ولی۔ وہ ایک دوسرے کے دلی ( دوست اور خیرخواه ) ہیں۔“
ابن حجر کی عبارت کا ایک حصہ عثمانی صاحب نےنقل کر کے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ حضرت معاویہ کے اس فیصلے سےبہتر نہیں دیکھا کہ ہم اہل کتاب کےوارث ہوں اور وہ نہ ہوں، جیسےہمارے لیےان کی عورتوں سے نکاح حلال ہے لیکن ان کے لیے ہماری عورتوں سے نکاح حلال نہیں۔ یہ عبداللہ بن معقل کا قول ہے جس کا رد آگے خود ابن حجر نے کر دیا ہے۔ مگر عثمانی صاحب نےاسے نقل نہیں کیا۔ ابن حجر فرماتے ہیں:
" یہ دلیل تو الٹ کر ہمارے خلاف بھی پڑ سکتی ہے۔ ایک ذمی یہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی مسلمان کا وارث ہو سکتا ہوں کیونکہ مسلمان ہماری عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے۔“
اس مسئلے میں مولانا مودودی کے بعض ناقدین المغنی لابن قدامہ کے بھی نامکمل حوالے دیتےہیں اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کتاب کا وہ اقتباس بھی دے دیا جائے جو بحث کےآخر میں حاصل کلام کے طور پر درج ہے۔ المغنی، جلدے ص ۲۶ اپر ابن قدامہ پہلے یہ بیان کرتے ہیں کہ محمد بن الحنفیه علی بن حسین ، سعید بن المسیب، مسروق، عبداللہ بن معقل شعمی ،ابراہیم نخعی، یحیی بن عمر اور الحق کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے مسلم کو کافر کا وارث قرار دیا ہے۔ اس کےبعد فرماتے ہیں:
تقریباً یہی وہ نام ہیں جنہیں مولانا عثمانی صاحب نے بار بار دہرایا ہے۔ پھر ابن قدامہ فرماتے ہیں:
وروی ابوداؤد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يتوارث أهل الملتين شتى. ولأن الولاية منقطعة بين المسلم والكافر فلم يرثه كما لا يرث الكافر (المسلم)
"کافرمسلم کا وارث نہیں، نہ مسلم کافر کا۔" یہ متفق علیہ حدیث ہے۔ اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو مختلف ملتوں کے پیرو ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے ۔ مزید یہ کہ مسلم اور کافر کے مابین ولایت کا تعلق منقطع ہے، اس لیے جس طرح کافر مسلم کا وارث نہیں ہو سکتا اسی طرح مسلمان کا فر کا وارث بھی نہیں ہو سکتا۔“
مسلم و غیرمسلم کےمابین عدم توریث کا کتاب و سنت اور اقوال سلف کی روشنی میں قطعی ثبوت پیش کرتےہوئےمیں نے عثمانی صاحب کےہر اعتراض کا جواب دے دیا تھا جیسا کہ مندرجہ بالا بحث سے واضح ہے۔ لیکن تو ریث کےمسئلےپر جو پانچ سطریں مولانا مودودی نے لکھی تھیں، انہیں نقل کرنے کے بعد عثمانی صاحب نےدوبارہ میری تردید کی کوشش کی۔ فرماتے ہیں کہ میں نےاس عبارت پر دو اعتراضات کیےتھے،پہلا یہ کہ مولانا مودودی نےآخری جملے( حضرت عمر بن عبد العزیز نےآکر اس بدعت کو ختم کیا)میں امام زہری کی طرف یہ بات منسوب کی ہے کہ انہوں نے حضرت معاویہ کےاس مسلک کو بدعت قرار دیا ہے،حالانکہ البدایہ والنہایہ میں امام زہری کا اصل عربی جملہ یہ ہےکہ راجع السنة الاولى.حضرت عمر بن عبد العزیز نےپہلی سنت کو لوٹا دیا۔میرا اعتراض یه تھا کہ مولانا نے سنتِ اولی کےلفظ کو بدعت سے کیوں بدلا۔اگر مولانا خود حضرت معاویہ کے اس مسلک کو بدعت سمجھتےہیں تو وہ اسےبدعت فرمائیں لیکن امام زہری کی طرف وہ بات کیوں منسوب کی گئی؟ملک غلام علی صاحب نے میرے اس اعتراض کا کوئی جواب نہیں دیا۔ جواب اس کا یہ ہے کہ میرے نزدیک یہ سرےسے کوئی اعتراض ہی نہ تھا جسے اٹھانےاور رفع کرنے میں وقت ضائع کیا جاتا۔لیکن اب چونکہ مولانا محمد تقی صاحب نے اسےدہرایا ہےاور یہ بات بھی میرے علم میں آئی ہے کہ بعض دوسرے حضرات بھی ایک طرف خلافت و ملوکیت کی کوئی عبارت رکھتےہیں، دوسری طرف جائیے کے حوالہ جات میں مندرج کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب اٹھا کر کہتےہیں کہ اس میں وہ عبارت بالفاظہا موجود نہیں ہے بلکہ دونوں میں لفظی و معنوی تفاوت ہے،پھر اس کے بعد زور سے کہا جاتا ہے کہ نہ صرف یہ حوالہ بلکہ دوسرےسارے حوالے نقل کرنے میں بھی غلطی کی گئی ہے،اس لیے میں اس نوعیت کے سارےاعتراضات کی حقیقت واضح کیے دیتا ہوں۔-
بات فی الاصل یہ ہے کہ ایک مصنف جب کسی دوسرے کی کتاب کا حوالہ دیتا ہے تو اس کےبالعموم دو طریقے ہوتےہیں ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ناقل اصل کتاب کا پورا حوالہ اس کےاپنے الفاظ میں من وعن دیتا ہےاس صورت میں وہ ایک ہی مصنف کی ایک ہی کتاب کے ایک ہی مقام کا متعین حوالہ دیتا ہے اور ساتھ کوئی دوسرا حوالہ شامل نہیں کرتا۔ ایسی حالت میں عام طور پر نقل کرده عبارت یا اس کا ترجمہ بالکل الگ ممیز کر کے دیا جاتا ہےاور اس کے لیے منقول عبارت حوض میں خفی قلم سےوادین کےساتھ درج کی جاتی ہےاس طرح کا جو اقتباس دیا جاتا ہےاس میں نقل کا بالکل مطابق اصل ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے اور کوئی کمی بیشی یا حذف واضافہ ہو تو اسےنا قابل جواز خیال کیا جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ اخذ و اقتباس کا یہ ہے کہ ایک مصنف ایک سے زاید مآخذ کا حوالہ دے کر ماخوذ مواد کو اپنی عبارت کا ایک جزء بنا کر پیش کرتا ہے۔ ایسی صورت میں ماخذ کا مکمل حوالہ بجنسہ اصل الفاظ میں نقل کرنانہ ضروری ہوتا ہے، نہ ممکن ۔ اسی لیے اخذ کردہ حوالے کو قطعی طور پر علیحدہ و ممیز کرنے کے لیے حوض یا وا دین وغیرہ کی مذکورہ بالا علامات دانستہ طور پر استعمال نہیں ہوتیں۔ اس شکل میں مقتبس اور اخذ کرنے والے کے لیے یہ تو ضروری ہوتا ہے کہ وہ اصل مرجع کےباب، صفحہ وغیرہ کی نشان دہی کرے، لیکن یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ اصل عبارت کا لفظ بلفظ اعادہ کرنے اوران میں اونی تغیر بھی نہ ہونے پائے۔ بلکہ یہ کافی ہوتا ہے کہ اصل مفہوم ومضمون کوفی الجملہ ادا کر دیا جائے۔ یہ بامعنی ترجمانی اس حالت میں اور بھی ناگزیر ہو جاتی ہے جب کہ ایک سےزاید کتابوں کا حوالہ دینا مقصود ہو۔ وہاں اگر ہر کتاب کا ایک ایک ٹکڑا یا اس کا ترجمہ الگ الگ درج کیا جانے لگے تو یہ ایک ایسی لا طائل تکرار ہوگی جو لکھنے والے کو تھکا دے گی اور پڑھنے والے اکتا جائیں گے۔ اس لیے جہاں ایک سے زیادہ مراجع کا حوالہ دے کر بات کی جاتی ہے وہاں لکھنے والا متقارب المعنی عبارتوں میں سے ایک مشترک روایت و حکایت (Version) اپنے الفاظ میں بیان کر دیتا ہے۔ یہ تالیف و تصنیف کا ایک جانا پہچانا اور معروف اسلوب ہے جس سے ہر لکھا پڑھا کتاب بین آشنا ہے۔ ہر حوالے کا بلا کم و کاست لفظی اعادہ تو اسی حال میں ممکن ہے جب کہ ہر سابق مصنف نےبعینہ ایک ہی بات لکھی ہو۔ لیکن ایسا مکمل لفظی و معنوی تو اردتو محالات میں سے ہے حتی کہ ایک ہی مصنف ایک ہی کتاب میں اگر ایک خیال و مضمون کو دوبار بیان کرتا ہے، تب بھی الفاظ مختلف ہو جاتے ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال یہی حافظ ابن کثیر اور ان کی کتاب ”البدایہ ہے جس کے دو حوالے مولانا مودودی نے مسئلہ زیر بحث میں دیئے ہیں اور جنہیں خلط ملط کر کے مدیر البلاغ نے بدعت وسنت اور پھر سنتہ اولی اور سنہ اخریٰ کی بحث پیدا کی ہے۔
مولانا محترم نےالبدایہ و النهایه جلد ۸، ص۱۳۹ اور جلد ۹ص ۲۳۲ کےدو حوالےدیئےہیں۔عثمانی صاحب کے الفاظ میں البدایه جلد ٩ صفہ ۲۳۲ کا ترجمہ درج ذیل ہے:
' امام زہری فرماتےہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائےاربعہ کےعہد میں نہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا تھا،نہ کافر مسلمان کا۔پھر جب معاویہ خلیفہ بنےتو انہوں نے مسلمان کو کافر کا وارث قرار دیا اور کافر کو مسلمان کا وارث نہ بنایا۔ ان کے بعد خلفاء نے بھی یہی معمول رکھا۔ پھر جب عمر بن عبد العزیز خلیفہ ہوئے تو انہوں نے پہلی سنت کو لوٹا دیا اور یزید بن عبد الملک نے بھی ان کی اتباع کی۔ پھر جب ہشام آیا تو اس نے خلفاء کی سنت پر عمل کیا، یعنی مسلمان کو کافر کا وارث قرار دے دیا۔“
دوسرا مقام جس کا حوالہ خلافت و ملوکیت میں دیا گیا وہ البدایہ جلد ۸، ص ۱۳۹ کا ہے۔ اس کی پوری عبارت اور اس کا ترجمہ عثمانی صاحب کی کتاب حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق کےص ۱۵۸-۱۵۹ پر درج ہے۔ ترجمہ انہوں نے یہ کیا ہے:
"ابوالیمان شعیب سےاور وہ زہری سے روایت کرتے ہیں کہ سنت پہ چلی آتی ہے کہ نہ کافر مسلمان کا وارث ہوگا نہ مسلمان کا فر کا۔ یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیز آئےتو انہوں نےپہلی سنت کو لوٹا دیا۔ پھر ہشام نےاس فیصلے کو لوٹا دیا جو حضرت معاویہ اور ان کے بعد کے بنوامیہ نے کیا تھا۔“
اس ترجمے کے متعلق پہلی بات جو مجھے کہنی ہے وہ یہ ہےکہ یہ ترجمہ بالکل غلط ہے اور اس میں مدیر البلاغ نے اسی گناہ کا ارتکاب کیا ہے جس کا الزام وہ دوسروں کو دیتے ہیں حالانکہ یہاں انہوں نے ایک ہی متعین حوالہ دیا ہے اور اس کا متن بھی ساتھ موجود ہے۔ اصل عربی عبارت یہ ہے:
اب اس عربی متن کا ان کے اوپر والے ترجمہ سےمقابلہ کیا جاتا تو معلوم ہوتا ہےکہ انہوں نےپہلےخط کشیدہ حصے کا ترجمہ چھوڑ دیا ہےجو یہ ہونا چاہتے تھا کہ ”پہلےپہل جنہوں نےمسلمان کو کافر کا وارث بنایا،وہ معاویہ ہیں پھر دوسرے خط کشیده جملے فراجع السنة کا ترجمہ انہوں نےیہ کیا ہے کہ انہوں نے (یعنی حضرت ابن عبد العزیز نے) پہلی سنت کو لوٹا دیا۔حالانکہ اس میں صرف سنت کا لفظ ہے، پہلی سنت کا لفظ نہیں ہے۔ اب مولانا مودودی اگر متعدد حودا ں کا ایک مشترک خلاصہ یا مفہوم بیان کرتے ہیں تو ان سےتو یہ مطالبہ ہے کہ ان کا ہر ہر لفظ ہر حوالےکا تحت اللفظ ترجمہ ہو،لیکن آپ ایک ہی حوالےکا لفظی ترجمہ کریں تو اس میں حذف و تصرف درست ہے!یہ رد و بدل پہلے ”البلاغ“ کے خصوصی نمبر میں کیا گیا تو اسی وقت میں نے اس کی نشان دہی ”ترجمان القرآن" میں کر دی تھی مگر افسوس کہ اس کا کوئی اثر نہ لیا گیا۔
ممکن ہے کہ یہاں مولانا عثمانی صاحب اپنے سہو قلم کا عذر پیش کریں یا کاتب کے سرا سےمنڈھ دیں لیکن راجع السنہ کا ترجمہ ” پہلی سنت کرنا یالکھنا بڑا معنی خیز ہے، کیونکہ اسی سے تو آپ نے وہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ پہلی سنت کے ساتھ یا اس کے بعد دوسری سنت“ بھی ہوتی ہے۔حالانکہ صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ السنہ سےمراد ایک ہی سنت ثابتہ ہےجو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائےراشدین کی سنت ہے، اس کے مقابلے میں کوئی دوسری چیز جسے آپ دوسری سنت“ کہتے ہیں، وہ سنت نہیں جو کتاب اللہ کے ساتھ حجتہ ثانیہ ہو۔ وہ سنت ہے تو بنوامیہ ہی کی سنت ہے(باستثنائے حضرت عثمان وعمر ثانی)۔ کیا آپ یہ نہیں دیکھتے کہ اس مقام پر البدایہ میں لام تعریف کے ساتھ السنة کا لفظ آیا ہے،اس لیےیہاں پہلی کے بعد دوسری دوسری سنت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور دوسرا مقام جہاں البدایہ میں السنة الاولیٰ کا لفظ آیا ہے، وہاں بھی السنة الأخرى كا لفظ موجود نہیں، بلکہ وہاں آگے یہ الفاظ ہیں: فـلـمــا تــام ہشام اخذ بسنة الخلفاء جس کا ترجمہ آپ نے بھی یہی کیا ہے کہ ”جب ہشام آیا تو اس نے خلفاء کی سنت پر عمل کیا۔ ان خلفاء سے مراد ہرگز خلفائے راشدین نہیں کیونکہ ان کی سنت کو تو امیر معاویہ نے بدل دیا۔کیا اس کےبعد بھی کوئی شک باقی رہتا ہےکہ جس شےکو آپ دوسری سنت کہہ رہے ہیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائے اربعہ کی سنت نہیں، بلکہ خلفائے بنی امیہ کی ہے اور جیسا کہ میں پہلے مضمون میں بتا چکا اور مثالیں دے چکا، ان خلفاء کی سنتیں تو بے شمار ہیں: اگر حمایت کرنی ہے تو پھر ان ساری سنت ہائے ثانیہ کی کیجئے اور دفاع سنت کا پورا پورا اثواب لیجیے۔
پھر مدیر "البلاغ "کے یہ الفاظ بھی عجیب ہیں کہ ”مولانا نے سُنتِ اولی“ کے لفظ کو "بدعت" سے کیوں بدلا ؟ مولانا نے سُنت یا سنت اولیٰ کے الفاظ کو بدعت کے لفظ سے نہیں بدلا ، بلکہ سُنت کو لوٹا دینے کا مفہوم اور ان الفاظ میں ادا کیا ہے کہ بدعت کو ختم کیا۔ مولانا عثمانی کے نزدیک ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے، حالانکہ دونوں میں کوئی فرق ہی نہیں۔ سُقت کا بحال کرنا اور بدعت کو ختم کرنا بالکل ہم معنی ہے اور بدعت کا خاتمہ کیے بغیر سُنت لوٹ ہی نہیں سکتی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا ارشاد مبارک ہے کہ سنت ملتی ہے تو بدعت اس کی جگہ لیتی ہے، اس لیے احیائے سنت کا مطلب بدعت کو ختم کرنے کے سوا اور کیا ہے؟
مدیر "البلاغ "کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ خود مولانا مودودی صاحب نےجو حضرت معاویہؓ کےاس فعل کو بدعت قرار دیا ہے،وہ درست نہیں اس لیےکہ یہ فقہی اجتہاد تھا جس کی بنیاد ایک مرفوع حدیث پر ہےمیں اس اعتراض کا نہایت مفصل و مدلل جواب پہلے سلسلہ مضمون میں دے چکا کہ یہ فعل نصوص کتاب و سنت اور تعامل خلافت راشدہ سے عین معارض و متصادم ہے، اس لیے یہ اجتہاد نہیں ہے اور جس حدیث کو اس کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے اس کا سرے سے وراثت سے کوئی تعلق ہی نہیں اور وہ دوسری احادیث صحیحہ کے مخالف ہے۔ اب میری ساری بحث سے صرف نظر کرتےہوئے ”البلاغ "نے پھر اپنی بات کو دہرا دیا ہے کہ یہ دوسرا مسلک بھی بے بنیاد نہیں ہے اور یہ قیاس غلط ہے کہ حضرت معاویہ نے سیاسی اغراض کے لیے حلال و حرام کی تمیز روا نہیں رکھی ۔ میں پھر کہتا ہوں کہ یہ بات مولانا مودودی نے حضرت معاویہ کے متعلق نہیں کہی بلکہ دو ملوکیت کے متعلق ایک عام بات کہی ہے اور عام وخاص میں بہر حال فرق ہے۔باقی رہی یہ بات کہ یہ حضرت معاویہؓ کا اجتہاد ہے، تو چلیے اسے اجتہاد ہی مان لیجیے۔ اگر امیر معاویہ اس اجتہاد پر ذاتی طور پر عمل فرما لیتے یا بطور اپنے انفرادی مسلک کےاسے دوسروں کے سامنے بیان کر دیتے تو اس میں کوئی مضایقہ نہ تھا۔لیکن جملہ بحث واشکال تو اس امر میں ہےکہ کیا ایسےانفرادی اجتہاد کا مکلف و پابند دوسروں کو بھی بنایا جا سکتا ہے اور سُنتِ ماضیہ کو ہٹا کر ایسےاجتہاد کو قانونِ ملکی کےطور پر پوری اسلامی سلطنت میں نافذ کیا جا سکتا ہےجب کہ یہ نص صریح سے ٹکرا رہا ہو؟ یہ تو اصول فقہ کا ایک عام مسئلہ ہےکہ جائز و مباح بلکہ مندوب تک کا لزوم وو جوب اسے بدعت کے دائرے میں داخل کر دیتا ہے۔
١- گویا یہاں عثمانی صاحب نے تسلیم کر لیا کہ مولانا مودودی نے امام زہری کی طرف یہ بات منسوب نہیں کی بلکہ خواہ اعادہ سُنت کو خاتمہ بدعت سے تعبیر کیا ، حالانکہ پہلا اعتراض یہ تھا کہ امام زہری کی طرف وہ بات کیوں منسوب کی جو انہوں نے نہیں کہی تھی۔
اس جگہ مدیر " البلاغ نے بعض صحابہ کرام کے تفرداب گنوائے ہیں اور ان کو امیر معاویہ کےجواز مسلک کے طور پر پیش کیا ہے۔ مثلاً فرماتے ہیں کہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ مسلک مشہور و معروف ہے کہ وہ ایک دن کی روزی سے زیادہ رقم اپنے پاس رکھنا حرام سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ مسلک قرآن و سنت کے واضح دلائل کے خلاف ہے۔ اسی وجہ سے صحابہ کرام میں سے کوئی ایک بھی اس میں ان کا ہمنوا نہ تھا۔ سب کے نزدیک ان سے اس مسئلے میں اجتہادی غلطی ہوئی تھی ۔“اچھا،اب فرض کیجیے کہ حضرت ابوذر مسند اقتدار پر فائز ہو جاتے اور وہ اپنے اسی مبینہ مسلک کو پوری مملکت اسلامیہ میں قانون نافذ کر دیتے کہ کوئی شخص ایک دن کی روزی سے زاید اپنے پاس نہ رکھےکیونکہ یہ ان کے نزدیک حرام ہے۔ اب مجھے مولانا عثمانی صاحب بتائیں کہ وہ اس مسلک کےرواج و نفاذ کی اسی زور کے ساتھ تائید کریں گے یا نہیں جس طرح وہ امیر معاویہ کے مسلک کی کر رہے ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ امیر معاویہ کے متعلق وہ فرماتے ہیں کہ ” جب وہ امیر بن گئے،تب بھی ان کی اہمیت اجتہاد ختم نہیں ہو گئی۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی فقیہ مجتہد امیر بن جائے تو اسے محض امیر ہونے کے جرم میں اجتہاد سےمحروم تو نہیں کیا جا سکتا۔ اگر امیر معاویہ کے بارے میں یہ امر ظاہر ہے تو پھر حضرت ابوذر ( اور دوسرے سب صحابہ کرام) کے معاملے میں بھی ظاہر ہے۔ حضرت امیر معاویہ کے جو فضائل و مناقب ہیں اور جنہیں البلاغ میں بیان کیا گیا ہے، حضرت ابوذر کےفضائل اس سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ۔ پھر وہ بھی اپنے مسلک کے حق میں آیات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے ارشادات پیش کرتے تھے جو ان روایات سےزیادہ صحت کےساتھ مروی ہیں جو امیر معاویہ کےحق میں پیش کی جاتی ہیں اور حضرت ابوذر کےاستنباط واجتہاد میں تکلف یا خطا اس سے زیادہ نہیں ہے جتنا کہ حضرت معاویہ کے حق میں پیش کیےجانے والے اجتہاد میں ہے۔
مدیر "البلاغ" نے اپنے مضمون میں یہ شکایت بھی کی ہے کہ "بعض جو شیلے حضرات نے ہمیں سوشلسٹ تک قرار دیا "۔ معلوم نہیں یہ حضرات کون تھے اور اس بحث کی اشاعت سے پہلے انہوں نے کس بنا پر ایسا بے بنیاد الزام تراشا ہیکن کچھ جو شیلےیا پھر ہوشیار قسم کےحضرات اگر امیر معاویہؓ کےحق میں ان دیئےجانےوالے سارے دلائل کو حضرت ابوذر کے فقہی مسلک اور اس کے بعد پھر سوشلزم کے حق میں استعمال کرنے لگیں تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مدیر ”البلاغ“ کیوں اس پر شاکی ہوں_١؟ پھر یہ بات بھی عجیب ہےکہ آپ کو تو یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ حضرت ابوذر کا مسلک قرآن و سنت کے واضح دلائل کے خلاف ہے، مگر دوسرا شخص یہی بات حضرت امیر معاویہؓ کے حق میں کہہ دے تو یہ سب و شتم ہے۔
اس کے بعد عثمانی صاحب امام شافعی کا یہ مسلک بیان کرتے ہیں کہ "وہ اس کے قائل ہیں کہ اگر کوئی ذبیحہ پر بسم اللہ پڑھنا جان بوجھ کر چھوڑ دے، تب بھی ذبیحہ حلال ہوتا ہے" اور پھر پوچھتےہیں کہ کیا کسی نے اس مسلک کی وجہ سےامام شافعی پر بدعت کا الزام عائد کیا ہے؟“یہاں پھر میں بھی پوچھتا ہوں کہ اگر امام شافعی امیر المومنین ہوتے اور وہ اسی مسلک کو پوری امت میں قانو نا نافذ کر دیتے تو کیا یہ مدعت کی تعریف میں نہ آتا؟ یہ سوال میں صرف عثمانی صاحب کے استدلال کی غلطی اور خامی واضح کرنے کے لیے کر رہا ہوں، ورنہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہےکہ کسی فقیہ یا مجتہد نےیہ کبھی نہیں چاہا کہ اس کا کوئی انفرادی مسلک دوسروں پر بجبر یا بذریعہ اقتدار نافذ العمل ہو۔ امام مالک کا یہ واقعہ مشہور ہےکہ ہارون الرشید نے ان کے موطا کو قانون ملکی کی اساس بنانے کا ارادہ کیا تھا مگر امام مالک نے اس تجویز کو ختی سے رو کر دیا تھا۔ سلاطین متاخرین میں سے بھی بہت سے شافعی المسلک تھے لیکن انہوں نےاپنی سلطنت میں یہ قانون یا قاعدہ کبھی رائج نہیں کیا کہ جو شخص دانستہ ذبیحہ پر ہم اللہ نہ پڑھے، اس کا ذبیحہ ہر دوسرے شخص کے لیے حلال ہے۔اسی طرح اگر حضرت امیر معاویہ خلیفہ بنےپرتوریث مسلم من الکافر کو قانون نہ بناتے اور اپنے انفرادی اجتہاد کی حیثیت سےاس کے قائل رہتے تو اس کا شمار بدعت میں نہ ہوتا۔ حضرت عمر خلیفہ ہونے سے قبل اور بعد بھی بھی اس مسلک پر تھے کہ جبھی جب تک پانی سے طہارت غسل نہ کرلے، وہ تیم سے نماز کسی عذر کی بنا پر نہیں پڑھ سکتا۔ خلافت پر فائز ہونے کےبعد ان کا حضرت عمار بن یاسر سے اس مسئلے میں مذاکرہ و مباحثہ بھی ہوا، اس کے باوجود وہ اپنے ذاتی مسلک پر قائم رہے، مگر انہوں نے حضرت عمار یا کسی دوسرے مسلمان پر اپنے مسلک کی پیروی لازم نہ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ خلافت راشدہ کے عہد میں شوری کا نظام پوری طرح قائم وکار فرما تھا اور بالعموم اہم ملکی واجتماعی مسائل با ہمی مشاورت کے بعد طے ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت راشدہ کے اجتماع کو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت خلفاء راشدین کا نام دے کر یا دوسرے لفظوں میں اسے اپنی سنت کا ضمیمہ وتتمہ قرار دے کر اس کی پیروی کا بھی حکم دیا ہے۔ حضرات بوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کا عام طریقہ ہی یہ تھا کہ پیش آمدہ مسائل میں نہ صرف شوری سے مشورہ لیتے تھے، بلکہ یہ اعلان عام کرتے تھے کہ فلاں مسئلے میں اگر کسی کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی قولی و علی حدیث ہو تو آکر ہمیں بتائے،اس لیے کہ اس عہد سعادت میں اس امر کا امکان بہت کم تھا کہ خلفاء کسی اپنے انفرادی مسلک کا نفاذ عام کرتے۔بعد کےادوار میں یہ صورت باقی نہ رہی اور ایسےفیصلے نافذ العمل ہوئے جنہیں اب خواہ مخواہ سنت کادرجہ دینےکی کوشش کی جارہی ہےاور کہا جارہا ہےکہ یہ پہلی سنت نہ سہی دوسری سنت تو ہےحالانکہ جس حدیث میں ارشاد نبوی عليكم بسنتي وسُنّة الخلفاء الراشدین وارد ہے،اس میں آگےوایاکم ومحدثات الامور مروی ہےجس کے صاف معنی یہ ہیں کہ جو فیصلہ سنت نبوی اور سُنت خلفاء راشدین کےخلاف ہوگا،وہ محدثات کے زمرے میں آئے گا اور جس طرح سُدّت سے تمسک کی تاکید فرمائی گئی ، اسی طرح محدثات سے بچنے کی بھی تاکید فرمائی۔
١- یہ میرا مفروضہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔عبدالحمید بھان کا ایک بیان روزنامہ مشرق لاہور ۵ فروری ۱۹۷۱ء میں چھپا ہےکہ عوام کو سرور کائنات کے صحابی ابوذر کےنظریات کی پیروی کرنی چاہیے۔ وہ مساوات کے اصولوں کےعلمبردار تھے۔استحصال کرنےوالوں اور بد عنوان افراد کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔اسلام میں اس کی اجازت ہے۔“
امام شافعی کےذکر کےبعد مدیر "البلاغ “ نے”الاعتصام"( للشاطبي) کی عبارت نقل کی ہےجس نے یہ ثابت کرنا مقصود ہےکہ بدعت کااطلاق اس فعل پر ہوتا ہےجس میں خواهش نفسانی کی اتباع میں تحریف،دین کاارتکاب کیا جائے۔حالانکہ امام شاطبی نے بدعت کی اصل تعریف میں ہر اس رائے کو داخل کیا ہے جو کسی اصل شرعی پر مبنی نہ ہو، البتہ اگر جہل و اتباع ہوئی بھی اس کے ساتھ شامل ہو، تو وہ بدعت مذمومہ قرار پاتی ہے۔ میں نے امیر معاویہ کے فیصلے کو دوسری سُنت قرار دیئےجانے پر جو لکھا تھا کہ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے آج کل پرویز صاحب جیسے لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا ہر امیر یا مرکز ملت جو کچھ طے کر دے، وہی سکت ہے، اس کے جواب میں مولانامحمد تقی صاحب فرماتےہیں کہ بات تو یہ کہی جارہی ہےکہ امیر معاویہ کو اجتہاد کا حق حاصل ہےاور امیر ہو جانےکےبعد بھی یہ حق سلب نہیں ہو سکتا۔میں اوپر اس معارضےکو صاف کر چکا کہ سوال مطلق حق اجتہاد کا نہیں بلکہ ایسے اجتہاد کو پوری امت اسلامیہ پر قانو نا نافذ کر دینے کا ہے جو کسی شرعی اصل پر مبنی نہیں۔اگر پرویز صاحب کےمرکز ملت کا ذکر الجھن کا باعث ہےتو میں محمود احمد عباسی صاحب کی مثال پیش کرتا ہوں۔وہ بھی یہی کہتےہیں کہ یہ توریت کا قاعدہ جب مدت مدید تک خلفائےبنی امیہ نےپوری مملکت میں قانون ملکی کی حیثیت سےنافذ و جار رکھا تو پھر یہ بلا شک وشبہ سنت ہےاس کےسنت ہونے سے کون انکار کر سکتا ہے؟ کیا مولانا عثمانی صاحب اس استدلال سے متفق ہیں؟
عثمانی صاحب نے پھر مجھ سےمطالبہ کیا ہے کہ میں اس کی کوئی مثال پیش کروں کہ کسی نےامیر معاویہ کے اس فعل کو بدعت قرار دیا ہو اور مدیر البلاغ فرماتے ہیں کہ چودہ سو سال کے عرصےمیں کوئی ایک فقیہ ہماری نظر سے نہیں گزرا جس نےاسےبدعت قرار دیا ہو۔ میں اپنی آیندہ بحث میں متعدد قدیم وجدید اہل علم کےاقوال نقل کروں گا جنہوں نےامیر معاویه کےمختلف اعمال کےلیےبدعت کا لفظ استعمال کیا ہےیہاں سر دست میں احناف کےمشہور محدث و فقیه ابوبکر الجصاص کی کتاب احکام القرآن کےایک مفصل قول کا حوالہ دیتا ہوں جس میں حضرت مسروق تابعی نےحضرت معاویہ کے اس فیصلہ تو ریٹ پر بڑے سخت انداز میں تنقید کی ہے اور قاضی شریح نے اور خود الجصاص نے بھی اس تنقید کی تائید کی ہے۔ اگر میں ان کی پوری عبارت کو تر جمعے کے ساتھ نقل کروں تب تو یہ بہت موجب طوالت ہو گا، اس لیے میں یہاں اس کا صرف اردو ترجمہ دیتا ہوں، یہ بحث باب من تحرم المیراث مع وجود النسب میں ہے:
" ابن شہاب زہری، داؤد سے اور وہ مسروق سے راوی ہیں کہ مسروق نے فرمایا کہ اسلام میں اس سے زیادہ عجیب اور نرالا فیصلہ نہیں کیا گیا جیسا کہ امیر معاویہ نے کیا ( ما احدث في الاسلام قضية قصاها معاوية ) که آپ مسلمان کو یہودی اور نصرانی کا وارث قرار دیتے تھے اور یہودی و نصرانی کو مسلمان کا وارث نہیں بناتے تھے۔ اہل شام نے اس کے مطابق فیصلے کیے۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفه ہوئےتو آپ نے پہلے طریقے کو دوبارہ لوٹا دیا۔ اور شعمی سے روایت ہے کہ امیر معاویہ نے زیاد کو تحریر کیا کہ وہ مسلمان کو کافر کا وارث بنائے۔ زیاد نےقاضی شریح کو بلا کر ایسا کرنے کا حکم دیا۔ شریح اس سے پہلے مسلمان کو کافر کا وارث نہیں بناتے تھے۔ جب زیادہ نے ایسا حکم دے دیا تو انہوں نےاس کے مطابق فیصلہ کیا مگر جب وہ ایسا فیصلہ کرتے تو فرماتے تھے کہ یہ امیر المومنین کا فیصلہ ہے حالانکہ زہری علی بن حسین سے،وہ عمر بن عثمان سے اور وہ حضرت اسامہ بن زید سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو مختلف ملتوں کےافراد ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے اور دوسری روایت میں ہے کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ کا فرمسلمان کا۔اور عمرو بن شعیب، اپنےوالد سے اور وہ دادا سےروایت کرتےہیں کہ دو مذاہب کے پیرووں میں باہمی توارث نہیں ہوسکتا۔ یہ روایات مسلمان کو کافر یا کافر کو مسلمان کا وارث قرار دینے سے منع کرتی ہیں۔ اس کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں ہے۔ پس اس طرح دو اہل مذہب کے مابین توارث ساقط ہونے کا حکم ثابت ہو گیا۔جہاں تک حضرت معاد والی روایت کا تعلق ہے وہ امیر معاویہ کے اس قول کی تائید نہیں کرتی۔ انہوں نے الايــمـان يزيد ولا ينقص کی صرف ایک تاویل کی ہے اور تاویل نص اور توقیف وحی پر قاضی نہیں سکتی۔ تاویل کو امر منصوص کی طرف لوٹایا جائے گا اور نص کی مخالفت پر نہیں بلکہ اس کی موافقت پر محمول کیا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ایمان بڑھتا ہے، گھٹتا نہیں، اس مراد پر مشتمل ہوگاکہ جو اسلام لےآیا اسےاسلام پر رہنےدیا جائےگا اور جو اسلام سےخارج ہو گا اسےواپس لانےکی کوشش کی جائےگی۔اگر حضرت معاذ کی تاویل اور اس احتمال کو لیا جائےتو اسےحضرت اسامہ کی اس حدیث کے موافق کرنا واجب ہو جاتا ہے جس میں کافر و مسلم کے مابین توارث ممنوع ہے کیونکہ تاویل واحتمال کے بل پر نص کو رد کرنا جائز نہیں ، اور احتمال کے ذریعے سے کوئی حجت قائم نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ ایک مشکوک چیز ہے اور اثبات حکم کے معاملے میں خود دلالت کی محتاج ہے۔ پس اس سے احتجاج واستدلال ساقط ہو گیا۔
اور مسروق کا جو یہ قول ہے کہ اسلام میں اس سے زیادہ انوکھا فیصلہ نہیں ہوا جو امیر معاویہ نےتوریت مسلم من الکافر کے مسئلے میں کیا ہے، یہ قول اس فیصلے کے باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ انہوں نےیہ بیان کیا ہےکہ یہ فیصلہ احداث فی الاسلام ہے اور ان کےاس قول سے یہ لازم آتا ہے کہ حضرت معاویہ کے اس فیصلے سے پہلےمسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا تھا اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ امیر معاویہ کے فیصلے سے پہلےمسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا تھا تو ان کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ وہ اپنےپیش روؤں کی مخالفت کریں۔ بلکہ ان کے سامنے حضرت معاویہؓ کا قول ساقط ہے اور اس کی تائید داؤد بن ابی ہند کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ عمر بن عبد العزیز نے لوگوں میں امیر اول کو لوٹا دیا ۔"
آخر میں میرے"ایک اور مغالطےاور بوالجھی“ کی نشان دہی کی گئی ہے۔وہ یہ ہے کہ میں نےالمغنی جلد ۷ ص ١٦٦ کےحوالےسےلکھا تھا کہ ابن قدامه پہلےیہ بیان کرتےہیں کہ محمد بن حنفیه علی بن حسین سعید بن المسیب مسروق، عبد اللہ بن معقل شعی، ابراہیم تھی، بیٹی بن یعمر اور اسحاق کےمتعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نےمسلم کو کافر کا وارث قرار دیااس کےبعد ابن قدامه فرماتےہیں کہ اس کی نسبت ان کی جانب قابل اعتماد نہیں ہےمولا نا عثمانی صاحب فرماتےہیں اسسےپہلےابن قدامه نےیہ بھی لکھا ہےکہ حضرت عمر، حضرت معاذ اور حضرت معاویہ سےیہ قول مروی ہےکہ انہوں نےمسلمان کو کافر کا وارث بنایا۔ اب اگر دوسرے حضرات کی جانب اس قول کی نسبت مشکوک ہے تو ان تینوں اصحاب کی جانب بھی غیر موثوق ہونی چاہیے کیونکہ ابن قدامه نے سب کےبارے میں یہ کہا ہے کہ لیس بموثوق به منهم عثمانی صاحب کے نزدیک میں نے یہ مغالطہ اس لیے پیدا کیا ہے کہ مولانا مودودی نے جو امیر معاویہ کو بدعت کا مرتکب بتایا ہے، اس کی تصدیق کی راہ ہموار ہو سکے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ مولانا مودودی نے یہاں بدعت کا لفظ ”غیر مسنون و غیر مشروع “ کے معنوں میں استعمال کیا ہے اور ان معنوں میں اس فعل کے بدعت ہونے ، نہ ہونے یا اس کی نسبت کے موثق و غیر موفق ہونے کا انحصار صرف المغنی کی اس عبارت پر نہ تھا کہ میں یہاں مغالطہ انگیزی ضروری سمجھتا۔اصل حقیقت یہ ہے کہ پہلے ابن قدامہ نے ایک جملہ الگ رُو سےشروع کیا ہے، پھر انہوں نے حُکسی سے دوسرا جملہ شروع کیا ہے جس کے ساتھ متصلاً وليس بموثوق به عنہم لکھا ہے ۔ اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ولیس کا عطف حُکی پر ہے کیونکہ یہی جملہ قریب تر ہے، اس طرح عنہم کا مرجع بھی اسی قریب کے جملے میں ہے اور وليس بموثوق به عنهم کا تعلق دوسرے ہی جملے سے ہے۔ تاہم مجھے اپنی بات پر اصرار نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس جملے کا ربط دونوں پہلے جملوں سے ہو اور ابن قدامہ کی مراد یہی ہو کہ ان سارے حضرات کی جانب اس مسلک کی نسبت مشکوک ہے۔ اگر فی الواقع اس معنی میں یہ بات صحیح ہوتی تو میرے لیے اس سے زیادہ خوشی کی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن افسوس ہے کہ حضرت معاویہ کےمتعلق یہ قول اس کثرت سے حدیث، آثار تاریخ اور فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ محض ابن قدامہ کے ایک ذومعنی فقرے کے بل پر ان ساری کتابوں میں مروی اقوال کی تکذیب نہیں ہو سکتی۔ جہاں تک حضرت معاذ کا تعلق ہے میں پھر یہی کہوں گا کہ یہ ان کا ذاتی نظریه ہوگا اور ممکن ہے انہوں نےکسی موقعہ پر اس کے مطابق عمل کیا ہو، لیکن امیر معاویہ نے امیر المومنین کی حیثیت سے جس طرح اس کا نفاذ واجرا کیا اور بنو امیہ کے دور میں جس طرح یہ رائج رہا، وہ اس واقعہ کی صحت کو شک و شبه سےبالا تر بنا دیتا ہےاور اس میں اعتراض کا پہلو بھی پیدا کر دیتا ہےمدیر "البلاغ “ نے یہ بھی کہا ہےکه این قدامہ نےدلیل میں امام احمد کا قول نقل کیا ہےکہ لوگوں کےدرمیان اس معاملےمیں کوئی اختلاف نہیں جس سےواضح ہےکہ توریث والے اس قول کی نسبت کسی کی طرف بھی درست نہیں"۔مگر یہاں خود مدیر موصوف کو غلط فہمی ہوئی ہے۔صاحب المغنی نےامام احمد کا جو قول نقل کیا ہے اس کا مدعا یہ ہے کہ مسلمان کو کافر کا وارث بنانے والا نظریه و عمل اب امت میں متروک و مطرود ہو چکا ہےاور کوئی عالم وفقیہ اب اس کا قائل و عامل نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اس بحث کا عنوان یہ ہے: ولا يرث مسلم كافرا ولا كافر مسلماً۔
١- ان دونوں جملوں کو مطبوعه کتاب میں وقف تامن کے ذریعے سے ایک دوسرے سےبالکل علیحدہ بھی کر دیا گیا ہے۔
جہاں تک امیر معاویہؓ کے اس فیصلے اور فرمان کا تعلق ہے کہ ”مسلمان کو کافر کا وارث بنایا جائے سب نے امیر معاویہ سےاس کا صادر ہو نا تسلیم کیا ہے۔مثال کے طور پر امام ابن حزم نےبھی بھلی ، جلد ۹، ص۳۰۴ پر مسئلہ نمبر ۱۷۴۴ کے تحت پہلے عنوان یہی قائم کیا ہے کہ: لایرت المسلم الكافر ولا الكافر المسلم المرتد، پھر معاذ بن جبل اور بعض دوسرے حضرات کی طرف یہ مسلک منسوب کیا ہے کہ ان کے نزدیک مسلمان کافر کا وارث ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد خاص طور پر امیر معاویہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
ابن حزم کی فقہی آراء سے کسی کو اختلاف ہوتو ہو مگر حدیث و آثار میں ان کی تحقیق مسلّم ہےان کا دوبارہ خاص طور پر یہ کہنا کہ ھو ثابت عن معاویۃ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس فیصلےکی نسبت امیر معاویہ کی طرف قطعی طور پر غیر مشتبہ ہے۔داؤد ابن ابی ہند اور مسروق کےاس مضمون کےاقوال جو او پر امام ابوبکر جصاص کی بحث میں بھی گزر چکے ہیں، وہ ابن حزم نے بھی نقل کیےہیں۔ اس کے بعد وہ امام احمد کا وہی قول نقل کرتے ہیں جو ابن قدامہ نے درج کیا ہے اور آخر میں ابن حزم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مزید حدیث حضرت جابر سے نقل کی ہے کہ:
الجصاص اور ابن حزم کے بعد اب میں بلاعلی قاری کی مرقاۃ شرح مشکوۃ کا ایک حوالہ پیش کرتا ہوں۔ ابواب الفرائض میں حدیث وعن أسامة بن زيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم (متفق علیہ) کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جو حضرات مسلمان کی کافر سے تو ریث کے قائل ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے استدلال کرتے ہیں کہ الاسلام يعلو ولا يُعلیٰ۔ اس کے بعد فرماتے ہیں:
" مسلک جمہور کےحق میں وہی حدیث صحیح حجت ہے( کہ نہ مسلمان کافر کا وارث ہے، نہ کا فر مسلمان کا ) اور حدیث الاسلام يعلو ولا يُعلی سے مراد اسلام کی غیر اسلام پر فضیلت ہے۔ اس دوسری حدیث کا میراث سے کوئی تعلق نہیں۔ پس نص صریح کا ترک جائز نہیں۔“
میں پہلے فتح الباری سے ابن حجر کا قول نقل کر چکا ہوں جواسی مفہوم کا حامل ہے اور جس میں مسلمان کو کافر کا وارث بنانےکو معارضتہ النص سےتعبیر کیا گیا ہے،اور اس کے حق میں پیش کی جانےوالی روایت کےبارے میں فرمایا ہے : بل هو محمول انه يفضل غيره من الاديان ولا تعلق له بالارث ( اس حدیث کا وراثت کے مسئلے سے کوئی علاقہ نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہےکہ اسلام دوسرے ادیان پر فضیلت رکھتا ہے )۔ یہ بات بھی میں پہلے لکھ چکا کہ یہاں سوال حضرت امیر معاویہ یا کسی دوسرے صحابی یا تابعی کی ذات کا نہیں اور اس امر کا بھی نہیں کہ توریت مسلم من الکافر کے قائل یا فاعل کون بزرگ ہیں اور ان کی تعداد کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ نص صریح کا ترک اور اس کی مخالفت و معارضت ہےجیسا کہ حافظ ابن حجر اور محدث علی القاری نے فرمایا۔ نص صریح سے مراد نص قرآنی بھی ہے اور نص حدیث وسنت بھی ہے۔اس کے بعد جس کا جی چاہے اسے اجتہاد یا دوسری سنت کہہ کر اس کی تائید میں زور لگا تار ہے۔ جیسا کہ مدیر البلاغ‘ نے فرمایا ہے، ظاہر ہےکہ نظریات کے معاملے میں جبر نہیں کیا جاسکتا۔
سنن ابی داؤد میں حضرت معادؓ سے جو روایت الاسلام یزید ولا ینقص مروی ہے، اس کےمتعلق میں نے لکھا تھا کہ وراثت سے غیر متعلق ہونے کےعلاوہ اس کی سند میں بھی انقطاع ہے اور اس کا ایک راوی مجہول ہے،اس لیے یہ صریح نصوص کتاب وسنت کے بالمقابل نا قابل قبول ہے۔اس کے جواب میں عثمانی صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ اول تو خود ابوداؤ دہی میں اس کے متصل روایت بغیر مجہول راوی کے آئی ہے، دوسرے ملک صاحب کی توجہ اس طرف نہیں گئی کہ یہ سند کی تحقیق و تفتیش ہم لوگوں کے لیے تو دلیل ہے لیکن جن صحابہ نے کوئی ارشاد براہ راست آنحضور سے سنا ہوان کے لیے یہ بات حدیث کو رد کرنے کی وجہ کیسے ہو سکتی ہے کہ بعد کے راویوں میں کوئی مجہول شخص آ گیا ہے۔ تعجب ہے کہ مولانا عثمانی نے یہ دونوں غلط اور واہی باتیں ادنیٰ غور وتامل کے بغیر کیسے لکھ دیں۔ سنن ابوداؤد کی ایک حدیث مذکور کی سند کو میں پہلے نقل کر چکا جس میں حضرت معاد سے پہلے راوی کا ذکر رجلا کے لفظ سے کیا گیا ہے، یعنی ایک نامعلوم الاسم شخص سے حضرت معادؓ کی روایت منقول ہے۔اس کےبالکل ساتھ جس دوسری حدیث کا حوالہ عثمانی صاحب نے دیا ہےاس حدیث میں ابوالاسود اور حضرت معاذ کے درمیان رجلا (ایک شخص ) کے ذکر کو حذف کردیا گیا ہے اور دونوں کے بیچ میں کسی دوسرے راوی کا نام بھی نہیں لیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح منقطع سند متصل نہیں ہو جاتی بلکہ اس کا انقطاع علی حالہ باقی رہتا ہے اور کوئی صاحب عقل اس روایت کو متصل السند نہیں کہ سکتا۔ دوسری بات جو کہی گئی ہے کہ صحابہ نے جوارشاد براہ راست آپ سے سنا ہو،اسےوہ بعد کے راویوں کی جہالت کی بنا پر کیسےرد کر سکتے ہیں، یہ اور بھی لا جواب ہے! سوال یہ ہے کہ کیا یہاں حضرت معاذ یا کوئی دوسرے صحابی تشریف فرما ہیں اور وہ قول رسول رڈ کر رہے ہیں جسے انہوں نے آنحضور سے سنا ہے؟ یہاں تو ساری بحث اس امر میں ہے کہ آپ کی جو روایت ہم تک محدثین اور رادیانِ حدیث کے ذریعے سے پہنچی ہے، اس کی سند متصل ہے یا بیچ میں کوئی راوی گمنام ہے اور ایسی روایت دوسری مرفوع و متصل اور قطعی الدلالت احادیث کے مقابلے میں قابل اخذ ہے یا نہیں؟
اول تو خط کشیدہ جملہ نہ حافظ ابن کثیر کا ہے، نہ امام زہری کا،بلکہ یہ خود مولانا مودودی کا ہے۔ یہ نشان دہی ہم نے اس لیے کی ہے کہ مولانا کی عبارت سے صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جملہ حافظ ابن کثیر کا ہے۔ البدایہ والنہایہ کی اصل عبارت یہ ہے: و بــه قــال الـذهـرى ومضت السنة أن دية المعاهد كدية المسلم وكان معاوية أول من قصرها الى النصف وأخذ النصف لنفسه مذکوره مندہی سےامام زہری کا یہ قول ہم تک پہنچا ہے کہ: سنت یہ چلی آرہی تھی کہ معاہد کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہوگی اور حضرت معاویہ پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے اسے کم کر کے نصف کردیا اور نصف اپنے واسطے لے لی ۔“
یہ بحث بالکل غیر متعلق اور لاطائل ہے کہ بہ قال کا مفہوم یہاں کیا ہے اور جو قول مولانا مودودی نے نقل کیا ہے، وہ حافظ ابن کثیر کا اپنا قول ہے یا وہ اسے امام زہری سے نقل کر رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ امام زہری ابن کثیر سے فائق و متقدم ہیں، اس لیے اگر یہ امام زہری کا قول ہے تو اور بھی زیادہ محکم اور لائق اعتناء ہے۔ بہر کیف نفس مسئلہ پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ قائل خواہ ابن کثیر ہوں یا امام زہری، قول یہی بیان ہوا ہے کہ پہلے سے یہ سنت چلی آرہی تھی کہ معاہد کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہو لیکن امیر معاویہ نے اسے نصف کر دیا اور باقی نصف خود لینی شروع کر دی اور ابن کثیر بھی اس قول کے ناقل تو ضرور ہیں، اس لیے اگر مولانا نے یہ لکھ دیا کہ حافظ ابن کثیر کہتے ہیں تو غلط نہیں لکھ دیا۔
تو ریث من الکافر والے معاملے کی طرح پھر موصوف یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ امیر معاویہؓ کا یہ فعل سنت میں تبدیلی نہیں، بلکہ سنت ہی کی ایک صورت ہے۔ انہوں نے اپنے حق میں استدلال کرتے ہوئے پہلی بات جو کہی ہےوہ یہ ہےکہ اخذ النصف لنفسہ کےبالمقابل سن بیہقی میں امام زہری کےیہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ القى النصف فی بیت المال۔ اس لیے لنفسم سے مراد بھی بیت المال کے لیے دیت لینا ہے، نہ کہ اپنے ذاتی استعمال کے لیے۔ لیکن یہ مسئلہ اتنا سادہ اور اس کی توجیه اتنی آسان نہیں جیسا کہ عثمانی صاحب یا بعض دوسرے حضرات نے سمجھا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مورخین نے دوسرے مقامات پر بھی امیر معاویہؓ اور دوسرے بنو امیہ کے عائد کردہ غنائم و حاصل کے لیے دونوں طرح کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ایک ہی واقعہ میں کہیں لبیت المال کا لفظ ۔ اب اگر بیت المال کی پوزیشن فی الواقع امیر معاویہ اور آپ کے جانشینوں کے زمانے میں وہی ہوتی جو عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں تھی ،تب تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ ہر جگہ لنفسہ سےمراد لبيت مال المسلمین ہے۔لیکن بیت المال اگر ذاتی اور سیاسی مقاصد و اغراض کےلیےبلا تامل اور بے دریغ استعمال ہونے لگے، فرمانروا کےصرف خاص اور قوم کےبیت المال میں عملاً کوئی فرق نہ رہے، اور مسلمانوں کا امیر بیت المال کےآمد وخرچ اور حساب کتاب کے معاملے میں مسلمانوں کے سامنے جواب دہ نہ رہے، تو پھر صورت حال الٹ جاتی ہے۔ اس صورت میں اخــذ لبيت المال بھی اخذ لنفسہ بن کر رہ جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس تو بہت بالا و برتر ہے کہ آپ لا اسئلکم علیه اجرا اور ولا نُورَت کے منصب پر فائز تھے۔لیکن آپ کے خلفائے راشدین کےبارے میں بھی تاریخ یہ بتاتی ہےکہ حضرت عثمان کے ماسوا جنہوں نے بیت المال سے کوئی معاوضہ ہی نہیں لیا ، دوسرے خلفاء کے معمولی مشاہرے مقرر تھےجن پر وہ بعسرت زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے ذاتی مصارف پر بیت المال کا ایک جبہ بھی خرچ نہ کر تے تھے۔ حضرت علی کےپاس وفات کےوقت صرف سات سو درہم تھے۔ اور شیخین نے تو اپنی تنخواہ بھی بیت المال میں لوٹا دینے کی وصیت فرمائی تھی۔ پھر ان کے زمانے میں ہر مسلمان کو بیت المال کے آمد و صرف پر محاسبہ کرنے کا حق تھا۔ امیر معاویہ کے متعلق جو تفصیلات ملتی ہیں، وہ ان سےبالکل مختلف ہیں۔ کیا اس بات سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ خلیفہ بنے سے پہلے ہی حضرت علی کےبالمقابل ، و و شامی بیت المال پر علی الاطلاق قابض و متصرف تھے؟ حالانکہ اس کی حیثیت مرکزی بیت المال کی ایشن کی تھی۔ پھر کیا کوئی شخص بتا سکتا ہے کہ ان کے عہد خلافت میں خلیفہ کےلیےایک مشاہرہ متعین کر دیا گیا ہو اور بیت المال کے مصارف ان کے ذاتی مصارف سے بالکل الگ رکھے گئے ہوں؟ اور کیا ان کے زمانے میں بھی کوئی مسلمان بیت المال کا حساب ان سے مانگ سکتا تھا؟ اس کے بعد جو حضرات لبیت المال کے الفاظ کو نفسم کے الفاظ سے مختلف معنی پر محمول کرتے ہیں ان کے استدلال میں کوئی اور زور باقی نہیں رہتا۔
مدیر ”البلاغ" کے استدلال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ معاہد کی دیت کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف روایتیں مروی ہیں، اس لیے یہ مسئلہ عہد صحابہ سے مختلف فیہ چلا آرہا ہےکہ معاہد کی دیت مسلم کی دیت کے برابر ہو یا کم ہو۔ امیر معاویہ نے اپنے فقہی اجتہاد کی بنا پر متعارض احادیث و آثار میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ آدھی دیت آپ نے ذمی کے وارثوں کو دلوائی اور آدھی بیت المال میں داخل کر دی۔
میں نے جہاں تک غور کیا ہے،امیر معاویہ کا یہ اجتہاد فی نفسہ نصوص کتاب وسنت کےخلاف ہے اور اس سے احادیث مختلفہ میں توفیق وتطبیق کی بھی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی۔سب سےپہلے قرآن مجید سےرجوع کیا جائے تو وہاں سورہ نساء، آیت ۹۲ میں مومن اور کافر معاہد، دونوں کےقتل خطا کے معاملہ میں دِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ کے الفاظ وارد ہوئے۔ قرآنی الفاظ کی مماثلت اور مساوات دیت کی روایات ( مثلا دية ذمى دية مسلم، تتكافاء دماؤهم وغیرہ) صحابہ و تابعین اور فقہاء مجتہدین کےاسی مسلک کی تائید کرتی ہیں کہ دونوں دیتیں برابر ہیں، اور امام سرخسی کے قول کےمطابق اس کے خلاف آثار پایہ صحت کو نہیں پہنچتے ۔ تاہم اس امر سے انکار نہیں کہ اس مسلک کےخلاف بھی روایات و آثار موجود ہیں، اس لیے بعض مذاہب فقیہہ نےکافر معاہد کی دیت کو مسلم کی دیت کا نصف یا ایک تہائی قرار دیا ہے اور ان مذاہب میں اسی کے مطابق عمل ہوتا رہا ہے۔ لیکن قرآن مجید میں مسلم اور معاہد دونوں کی دیت کےمتعلق مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ كے الفاظ استعمال ہوئےہیں،جس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کی دیت ہو یا کافر معاہد کی ، بہر حال وہ پوری کی پوری مقتول کے اہلِ خاندان کے حوالےکر دی جائےقرآن کا ارشاد اس معاملےمیں بالکل ناطق اور صریح ہےجس میں اس تاویل کی قطعاً گنجائش نہیں کہ دیت مقررہ کا کوئی حصہ مقتول کے وارثوں کےبجائے کسی دوسرے کے پاس جائے۔ مُسَلَّمَةٌ الی اھلہ کے الفاظ میں الی امیر المومنین یا الی بیت المال کا مفہوم آخر کس طرح داخل ہوسکتا ہے؟ اور اگر کسی تاویل یا کسی مصلحت کی رُو سے معاہد کی دیت کا کوئی حصہ مسلمانوں کے بیت المال میں جاسکتا ہے، تو پھر مسلمان کی دیت کا کوئی حصہ کیوں نہیں جاسکتا؟
١- ومانقلوا فيه من الآثار بخلاف هذا الايكاد يصح - فقد روى عن معمر رضی الله عنه قال سألت الزهري عن دية الذمي، فقال مثل دية المسلم - فقلت ان سعيدا يروى بخلاف ذالك۔ قال ارجع، الى قوله تعالى وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقَ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إلى أَهْلِه (المبسوط - جلد ۲۶ ص ۸۵)
"جو آثار مساوات دیت کے خلاف منقول ہیں، وہ صحیح نہیں۔ معتمر سے روایت ہے کہ انہوں نے امام زہری سے ذمی کی دیت پوچھی ، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ مسلم کی دیت کے برابر ہے۔ میں نے کہا کہ سعید اس کے خلاف روایت کرتےہیں۔ امام زہری فرمانے لگے کہ تم قرآن مجید کی اس آیت کی طرف رجوع کرو جس میں دِيَةٌ مُسلمہ کے الفاظ ہیں یعنی مسلم وذمی دونوں کے لیے یکساں الفاظ ہیں۔“
روایات و آثار میں دیتوں کے تناسب و مقادیر میں تو اختلاف ضرور مذکور ہے لیکن کوئی گری پڑی روایت بھی مجھے نہیں مل سکی جس میں یہ کہا گیا ہو کہ ذمی یا معاہدہ کی دیت ، خواہ وہ دیت مسلم کے مساوی ہو یا ۲/ ۱یا ۱/۳، اس کا کوئی حصہ بیت المال میں بھی جاسکتا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں اور ان کے بیت المال کا خیر خواہ اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ مسلم و غیر مسلم کے جو حقوق و واجبات جس شکل میں کتاب وسنت نےمتعین کر دیئے ہیں، ان میں کمی نہ جائز ہے نہ زیادتی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ جو ذمیوں کے حقوق پر دست درازی کرے میں اس کے خلاف قیامت کے روز خود مدعی ہونگا (انا خصمهم يوم القيامة ) ۔ یہی وجہ ہے کہ روایات کے اختلاف کی بنا پر بعض فقہی مذاہب میں معاہد کی دیت مسلمان کے مقابلے میں کم تو بیان کی گئی ہے لیکن سب کا منشا یہی ہے کہ جو دیت بھی ہو وہ پوری کی پوری مقتول کے وارثوں کے حوالے کی جائے، جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے ، نہ یہ کہ مسلمان کی دیت تو اس کےاہلِ خاندان کو پوری دی جائےاور کافر معاہد کی دیت کا آدھا یا دو تہائی بیت المال میں داخل کر دیا جائے۔ حضرت معاویہؓ نےدر حقیقت نہ اس مسلک پر عمل کیا کہ ذمی کی دیت مسلمان کے برابر ہے، اور نہ اس پر کہ اُس کی دیت مسلمان سے آدھی ہے۔ بلکہ انہوں نے کیا یہ کہ اس کی دیت تو رکھی مسلمان کے برابر ہی، مگر آدھی اس کے وارثوں کو دی اور آدھی خزانے میں داخل کر دی۔ یہی فعل بدعت تھا کیونکہ اس کے لیے کوئی برائے نام دلیل بھی قرآن وسنت میں نہیں ہے۔ امام زہری کی دوسری روایت جو "البلاغ“ نےابن کثیر والی روایت کے مقابلے میں سنن بیہقی سے نقل کی ہے، اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے دیت کا وہ حصہ جو امیر معاویہؓ نے بیت المال کے لیے مقرر کیا تھا،ساقط کر دیا۔
میرا خیال یہ ہے کہ توریت مسلم من الکافر کے معاملے میں تو خیر ایک صحابی اور چند تابعین کی جانب امیر معاویہ کی ہمنوائی منسوب کی گئی ہے، گو وہ غیر موثق ہی سہی لیکن اس دوسرے اجتہاد میں تو غالبا امیر معاویہ بالکل ہی تنہا ہیں کہ ذمی کی دیت مقرر ہو جانے کے بعد، اس کا کوئی حصہ بیت المال میں داخل کیا جائے۔ مجھے باوجود کوشش و تلاش کے کوئی روایت ، اثر یا فقہی جزئیہ ایسا نہیں مل سکا جس سے یہ ثابت ہو کہ معاہد مقتول کی دیت کی کوئی مقدار ایسی بھی ہے جو بیت المال میں داخل کی جانی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے لے کر خلفائے راشدین کے پورے دور تک اس امر کی کوئی مثال بھی نہ پائی گئی کہ کبھی کسی معاہد کی دیت کا کوئی حصہ بیت المال میں داخل کیا گیا ہو۔ دیتوں کا اختلاف وعدم مساوات اور چیز ہے اور ان میں سے کسی جز کا بیت المال میں جانا اور چیز ۔ اس دوسری چیز کا ثبوت اگر امیر معاویہ کے سوا کسی اور سے ملتا ہو تو اسے پیش کیا جانا چاہیے۔
عثمانی صاحب نے حضر معاویہ کے عمل کی مصلحت ان کی اپنی زبانی یہ پیش کی ہے کہ اگر زمی کے قتل سے اس کے رشتہ داروں کو نقصان پہنچا ہے تو مسلمانوں کے بیت المال کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس کی مزید تشریح عثمانی صاحب نے یہ کی ہے کہ جو جز یہ وہ ادا کرتا تھا وہ بند ہو گیا، اس لیےدیت کا آدھا حصہ ( پانچ سو دینار )مقتول کے رشتہ داروں کو دو اور اتنا ہی بیت المال میں لو۔ اس انوکھے استدلال سے اگر کوئی شخص مطمئن ہو جائے تو میں اسے مدیر البلاغ کی کرامت ہی شمار کروں گا۔ سوال یہ ہے کہ ذمی کے قتل سے اگر بیت المال کا نقصان ہوتا ہے تو مسلمان کے قتل سے بھی ہوتا ہے، کیونکو وہ بھی تو زکوۃ ، عشر ، صدقات دیتا ہے۔ تو پھر مسلمان کی دیت کا ایک حصہ بھی کیوں نہ اس کے وارثوں کےبجائےبیت المال کو جائے؟ بلکہ قتل کیا معنی ، جو ذمی یا مسلمان طبعی موت مرتا ہے یا کسی حادثے کا شکار ہوتا ہے، اس سے بھی تو بیت المال کا نقصان ہوتا ہے۔ پھر کیوں نہ ہر مرنےوالے کے ترکے پر، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، موت کا ایک محصول (Death Duty) عائد کر دیا جائے جو وراثت کی تقسیم سے پہلے بیت المال کے لیے وصول کر لیا جائے؟ مغربی ممالک میں تو اسکا عام چلن ہے۔
حیرت ہے کہ مدیر البلاغ پھر بھی فرماتے ہیں کہ ایسے حسین استدلال و اجتہاد کی تعریف نہ کرنا کتنا بڑا ظلم ہے۔ کیا میں ان سے دریافت کر سکتا ہوں کہ اگر اجتہاد و فقاہت میں حضرت معاویہؓ کا یہی مقام تھا، اور وہ خود ایک نئی سنت “ جاری کرنے تک کے مجاز تھے، اور سُنتِ نبویہ اور سُدّتِ خلفائے راشدین سے ہٹ کر ایک کام کر کے بھی وہ قابل تحسین ہی تھے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ علمائےاہلِ سنت ان کے خلاف کسی تعصب میں مبتلا رہے ہیں۔ اس ظلم کی تلافی اب آپ فرمائیں اور کھل کر ان کی خلافت راشدہ کا اعلان کر دیں۔
اس بات کو پہلے اجمالاً بیان کیا جا چکا ہے کہ بدعت کا لفظ کوئی گالی نہیں ہے بلکہ اسے امر مسنون کے بالمقابل استعمال کیا جاتا ہےجیسےکہ سنتی و بدعی طلاق۔ اب میں ذرا کھول کر بتانا چاہتا ہوں کہ متعدد فقہاء و ائمہ نےامیر معاویہ کی بہت سی ایسی اولیات کو بھی بدعت قرار دیا ہےجن کےحق میں شرعی دلائل بھی موجود ہیں اور بعض فقہاء ومحد ثین بھی جن میں امیر معاویہ کےہمنوا ہیں۔مثال کےطور پر قضا بالیمین والشاهد کےمسئلےکو لیجئے ۔اس میں امیر معاویہ کےہمنوا ہیں ۔ مثال کےطور پر قضا بالیمین والشاہد کے مسئلے کو لیجئے۔ اس میں امیر معاویہ کا فیصلہ یہ ہے کہ مدعی اگر اثبات دعوی کے لیے دو گواہ پیش نہ کر سکےتو ایک گواہ اور ایک قسم کےساتھ دعویٰ پایہ ثبوت کو پہنچ سکتا ہے۔اس کی تائید بعض احادیث سے ہوتی ہے اور بعض فقہاء کا یہ مسلک بھی ہے۔ اب اس کے بعد "التوضیح“ کا یہ قول دیکھیے جو علامہ صدرالشریعہ نے شرائط راوی کے ضمن میں درج کیا ہے۔
ذكر في المبسوط ان القضاء بشاهد ويمين بدعة و اوّل من قضى به معاوية
"مبسوط میں مذکور ہے کہ ایک گواہ اور ایک قسم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا بدعت ہے اور جنہوں نےسب سے پہلے ایسا فیصلہ کیا ، وہ معاویہ نہیں۔“
"ابن ابی شیبہ حماد بن خالد سے اور وہ ابن ابی ذئب سے اور وہ امام زہری سے راوی ہیں کہ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ) بدعت ہے اور پہلا ایسا فیصلہ امیر معاویہؓ نے کیا۔
اور مصنف عبدالرزاق میں ہے، ان سے معمر نے اور انہوں نے زہری سے روایت کی ہے کہ امام زہری نے کہا کہ یہ فیصلہ لوگوں نے نیا اور نرالا نکال لیا ہے۔ اثبات دعوی کے لیے دو گواہوں کا ہونالازم ہے۔“
(السو کالا مام محمد مع تعلیق المسجد مس ۳۶ مطبع مصطفائی ۱۳۹۷)
شرح الوقایہ، کتاب الدعویٰ میں اسی قضا بیمین و شاہد کے متعلق درج ذیل قول ملاحظه فرمائیے:
اس کی تفصیل یہ ہے کہ امیر معاویہ لوگوں کو عطیےدیتے وقت ہی ان عطیات پر پیشگی زکوٰۃ لے لیتے تھے۔ یہاں یہ بات بھی قابل وضاحت ہےکہ بعض فقہاء کے ہاں پیشگی زکوۃ کی ادائیگی حد جواز میں آسکتی ہے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےعہد مبارک اور خلفائے راشدین میں یہ طریقہ متعارف نہ تھا کہ ہر شخص کو بیت المال سےرقم ادا کرتے وقت لازما پیشگی زکوۃ وصول کی جائے۔ اب یہاں امام زہری نے تو بدعت کا لفظ استعمال نہیں کیا لیکن شاہ ولی اللہ صاحب اس کی شرح فرماتےہیں:
(المصفى ص ۲۰۷)
کیا اس کا صاف مطلب نہیں ہےکہ شاہ ولی اللہ صاحب نے امام زہری کے الفاظ اول من اخذ کا بدعا یہی قرار دیا ہےکہ یہ بدعت ہے؟ تو پھر مولانا مودودی نے اگر امام زہری کے بعینہ اسی طرح کے الفاظ (اوّل من قصرها ) سے یہ مراد لےلیا ہےکہ امیر معاویہ نے سنت کو بدل دیا اور عمر بن عبدالعزیز نےبدعت کو ختم کیا،تو آخر مولانا نےکونسا نا قابل عفو جرم کر لیا ؟ سلف سےخلف تک سارےاصحاب جنہوں نےامیر معاویہؓ کی بدعات کا ذکر کیا ہے جناب مولانا محمد تقی عثمانی مدیر البلاغ کو چاہیےکہ کوئی فتویٰ ان حضرات کی پاکیزہ ارواح تک بھی رسید فرما ئیں اور ساری قوت مولانا مودودی اور میرے خلاف ہی نہ صرف کرتے رہیں۔ اگر اس فہرست میں اضافہ مطلوب ہو، تو ہم اس کے لیے بھی حاضر ہیں۔ مولانا عثمانی صاحب کو یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سارے اقتباسات مذکورہ بالا میں امیر معاویہ کے جن فیصلوں پر بدعت کا اطلاع کیا گیا ہےان کےحق میں دلائل شریعہ موجود ہیں۔ ایک قسم اور ایک گواہ کی موجودگی میں بعض حالات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مدعی کے حق میں فیصلہ حدیث میں مذکور ہے جسے موطا امام محد وغیرہ میں نقل بھی کیا ہے اور امام شافعی ، امام احمد اور امام مالک کا یہی مسلک ہے۔ اسی طرح پیشگی زکوۃ لینے کی گنجائش قواعد شرعیہ میں نکل سکتی ہے مگر احادیث مشہورہ و مستفاضہ اور تعامل خلافت راشدہ سے متعارض ہونے کی بنا پر ان سب احناف اور شاہ صاحب نے امیر معاویہ کےقضایا کو بدعت قرار دیا ہے۔ حضرات احناف کا استدلال یہ ہے کہ قرآن مجید میں دو گواہوں کا نصاب شہادت مقرر کیا گیا ہےاور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ارشاد ہے کہ شہادت مدعی کے ذمے ہے اور قسم انکار دعویٰ کرنے والے مدعا علیہ کےلیے ہے۔ اس لیے قرآنی نصاب شہادت اور سُنت مشہورہ کا ترک بدعت ہے۔
بعض علماء جنہوں نے قریب کے دور میں تاریخی موضوعات پر لکھا ہے، انہوں نے بھی حضرت معاویہ کے بعض افعال پر بدعت کا اطلاق کیا ہے۔ اور ان پر سخت تنقید کی ہے۔ مثال کے طور پر مولانا معین الدین صاحب ندوی سیر الصحابہ، جلد ششم ص ۹۳ پر امیر معاویہ کے متعلق لکھتے ہیں:
”جناب امیر (حضرت علیؓ) کے مقابلہ میں ان کا صف آراء ہوتا، اور اس میں کامیابی کےلیے ہر طرح کے جائز و نا جائز وسائل استعمال کرنا ، حضرت حسن سے لڑنا ، اسلامی خلافت کو موروثی حکومت میں بدل دینا وغیرہ، ان میں سے ہر ایک واقعہ ان کی ایسی کھلی غلطی ہے جسے کوئی حق پسند مستحسن قرار نہیں دے سکتا۔ خصوصاً یزید کی ولی عہدی سے اسلامی خلافت کی رُوح ختم اور اسلام میں موروثی بادشاہت کی رسم قائم ہوگئی۔ان واقعات نےعوام چھوڑ حق پسند خواص کو بھی امیر معاویہ سےبدظن کر دیا۔”امیر (معاویہ) کی بدعات میں اسلامی خلافت کو شخصی د موروثی حکومت بنا دینے کی بدعت تو بے شک نہایت مذموم بدعت تھی جس نے اسلامی خلافت کی روح مردہ کردی۔‘ ص ۱۲۷
یہ امر قابل وضاحت ہے کہ اس کتاب میں مولانا معین الدین صاحب نے حضرت معاویہ کا ہر ممکن دفاع کیا ہے۔ اس کے باوجود مذکورہ بالا کلمات بے اختیار ان کی نوک قلم پر آگئے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جو شخص بھی اشخاص و افراد کی بہ نسبت دین کی حقیقی قدروں کو عزیز تر رکھے گاوہ ہر اس فعل کو بدعت کہے گا جو ، خلاف کتاب وسنت ہو، خواہ اس کا صدور کسی سے بھی ہو۔ وہ حضرت“اور غیر حضرت“ کے لیے دو الگ الگ پیمانے لے کر نہیں بیٹھ جائے گا کہ کسی غیر حضرت سے ایسا کوئی فعل سرزد ہو تو اسے بلا تکلف بدعت یا اس سے بھی شدید تر شے قرار دے دے اور جب کسی حضرت سے ایسا ہی کوئی فعل صدور میں آئے تو اسے اجتہاد ثابت کرے تا کہ اس پر کم از کم ایک اجر کے تو وہ ضرور ہی مستحق قرار پائیں۔
بہر کیف میں نے یہ امر ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ حضرت معاویہ نے مسلمانوں کو کافر کی دیت دینے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ کتاب وسنت اور اجماع خلافتِ راشدہ کے خلاف تھا۔ اس کے حق میں کوئی دلیل شرعی موجود نہیں۔ اس پر صحیح معنوں میں نہ اجتہاد کا اطلاق ہوسکتا ہے، نہ اسے سُنت یا سنت ثانیہ قرار دیا جا سکتا ہے۔پوری سلطنت کےاندر اس کا نفاذ درواج بدعت کی تعریف میں آتا ہے اور صرف مولانا مودودی نے نہیں بلکہ دوسرے اصحاب سلف نے بھی ایسے فیصلوں کو بدعت اور باطل قرار دیا ہے۔
پھر فرماتے ہیں کہ میں نے اس عبارت پر چار اعتراض کیے تھے۔ ان کا پہلا اعتراض یہ ہےکہ مولانا مودودی نے یہ جملہ اپنی طرف سے بڑھا دیا ہے کہ دیت کے معاملے میں حضرت معاویہؓ نے سنت کو بدل دیا۔ اس اعتراض کا جواب وہی ہے کہ جو پہلے تو ریث والے حوالے کے متعلق دیا جا چکا ہے۔ اس مقام پر بھی مولانا مودودی نے ابن کثیر کے قول کی بالمعنی روایت اپنے الفاظ میں کی ہے اور اپنی عبارت کا ایک جز بنا کر کی ہے۔اگر مولانا ابن کثیر کے قول کا بعینہ لفظی ترجمہ کرتے تو ترجمے کو الگ سطور میں یاواوین میں دیتے۔ مگر انہوں نے مفہوم کی اپنے الفاظ میں ترجمانی کی ہےاور حقیقت یہ ہےکہ یہ الفاظ ان الفاظ سےبھی زیادہ محتاط ہیں جو مسئلہ تو ریث میں مولانامحترم نےاستعمال کیےہیں۔وہاں بدعت کا لفظ لکھا تھا اور یہاں صرف یہ لکھا ہےکہ ”سنت کو بدل دیا اب اس جملے پر یہ اعتراض تو بالکل بے محل ہے کہ اسے مولانا اپنی طرف سے بڑھارہے ہیں کیونکہ یہ ان کی اپنی عبارت ہی کا ایک حصہ ہے،اور اگر یہ کہا جائے کہ حافظ ابن کثیر کے قول کی توضیح کے طور پر بھی یہ فقرہ میچ نہیں کہ امیر معاویہ نےسنت کو بدل دیا، تو اس اعتراض میں بھی کوئی وزن نہیں ہےآخر این کثیر جب فرما رہے ہیں کہ پہلےسنت یہ چلی آرہی تھی کہ معاہد کی دیت مسلمان کےمساوی ہو،اور حضرت معاویہ پہلےشخص ہیں جنہوں نےدیت کو نصفانصف کر کے آدھی اپنےلیےمختص کرلی،تو اس کا مطلب سوائےاس کےاور کیا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے سنت کو بدل دیا؟
١- یہاں یہ بات بھی قابل وضاحت ہے کہ تو ریٹ والے مسئلے میں بھی مولانا مودودی کے الفاظ یہ نہیں کہ امیر معاویہ نے بدعت کا ارتکاب کیا، بلکہ اصل الفاظ یہ ہیں کہ حضرت معاویہ نے اپنے زمانہ حکومت میں مسلمان کو کافر کا وارث قرار دیا۔ “ اور ” حضرت عمر بن عبدالعزیز نے آکر اس بدعت کو موقوف کیا مگر ہشام نے اپنے خاندان کی روایت کو پھر بحال کر دیا ۔
یہاں ایک اور بات جس کا ذکر کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ خلافت و ملوکیت میں مولانا نے جتنے مراجع و مآخذ کا حوالہ دیا ہے، ان کی اصل عربی عبارتیں شاذ و نادر ہی کہیں درج کی ہیں ، وجہ اس کی دیہ ہے کہ حوالے اتنے کثیر و متعدد تھے کہ سب کا اندراج کتاب کو کم از کم پانچ چھ گنا فخیم بنا دیتا اور پھر لا طائل تکرار اور تحصیل حاصل بالکل عبث ہوتی۔ لیکن عجیب حسن اتفاق ہے کہ دیت والی بحث کے اس خاص مقام پر مولانا مودودی نے اپنی کتاب ص۱۷۴ کے حاشیے پر ابن کثیر کا وہ اصل جملہ بھی نقل کر دیا ہے جس میں ترمیم وتحریف کا الزام مولانا کے خلاف عائد کیا گیا ہے۔مولانا حاشیہ ۲۶ میں لکھتے ہیں:
اگر مولانا کا ارادہ واقعی یہی ہوتا کہ وہ ابن کثیر کی طرف کوئی غلط بات منسوب کریں یا ان کےمفہوم میں کوئی ناروا اور غیر جائز اضافہ کریں تو انہیں اصل عربی عبارت نقل کر دینے میں ضرور تامل ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اصل الفاظ دے دینے کے بعد تو یہ حقیقت بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ یہاں لفظی ترجمہ مقصود نہ تھا کہ اس میں تبدیلی یا اپنی طرف سے کچھ بڑھا دینے کا سوال پیدا ہو سکے۔اس کے بعد بھی اس الزام کو برابر گھسے چلےجانا کہ اصل کتاب میں یہ جملہ بالکل موجود نہیں ہے، نہ ابن کثیر نےیہ جملہ کہا، نہ امام زہری نے اسے خواہ مخواہ کی خوردہ گیری کے ماسواء اور کس پر محمول کیا جاسکتا ہے؟ اس طرح اگر ہندی کی چندی نکالنی شروع کی جائے تو کونسا مصنف ہے جو اعتراضات سے بچ سکے؟
عثانی صاحب کا دوسرا اعتراض جس کا پہلے جواب دیا جا چکا ہے، یہ ہے کہ ومضت السنة ان دية المعاهد كدية المسلم ....یہ ابن کثیر کا نہیں بلکہ امام زہری کا قول ہے۔ یہ اعتراض بڑی اہمیت کےساتھ خصوصی نمبر میں دہرایا گیا ہے،حالانکہ یہ سرے سےکسی اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ عثمانی صاحب کا خیال یہ ہے کہ اس کے قائل اگر امام زہری ہوں تو اس کا مطلب ہوگا کہ امام زہری نے حضرت معاویہ کے فیصلے کو صیح سمجھا اور جس چیز کو امام زہری بدعت سمجھتے ہیں، اس کو اپنا مذہب و مسلک بھی بنالیا۔ مگر مولانا عثمانی صاحب کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ بہ قال الزھری کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ حضرت معاویہ کے فیصلے کو صحیح قرار دے کر اسی کو اپنا مذ ہب فقہی بنار ہے ہیں۔ امام زہری تو ریث کے باب میں جو اصل بات بیان کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ سنت جو پہلے سےچلی آرہی ہے وہ یہ ہےکہ نہ کا فرمسلم کا وارث ہو اور نہ مسلم کا فرکا اور یہی امام زہری کا فقہی مسلک بھی ہے۔ اس طرح کی تصریح کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ محدثین کی دیانت وامانت کا یہ ثمرہ ہے کہ وہ اپنے مسلک کے خلاف روایات بھی بلا تامل نقل کر دیتے ہیں۔ امیر معاویہ اور دوسرے بنوامیہ نےتو اس کے خلاف کیا،سوائے عمر بن عبد العزیز کے جنہوں نے اس سنت کو بحال کیا۔ بھلا امام زہری اس فیصلے کو کیسےصحیح قراردیں گےجو سنت ماضیہ کےموافق نہ ہو جب کہ وہ آغاز ہی میں یہ بتا رہےہیں کہ انکے نزدیک سنت یہ تھی کہ کافر ومسلم کے مابین توارث نہ ہو؟یہ فی الواقع عجیب صورت ہے کہ مدیر ” البلاغ “ میرے اخذ کردہ مطلب کو طرفہ تماشا فرمارہےہیں اور جو طرفگی ان کےاپنےاستنباط میں ہےاُسےملاحظہ نہیں فرماتے ! امام زہری کی ایک روایت موطا امام محمد،باب لا یرث المسلم الکافر میں ایسی بھی موجود ہےجس میں امام مالک ان سے نقل کرتے ہیں کہ عقیل اور طالب چونکہ ابو طالب کی وفات کے وقت کافر تھے ، اس لیے وہ ابو طالب کے وارث ہوئے اور حضرت علیؓ وراثت سے محروم رہے، کیونکہ وہ اسلام لا چکے تھے ۔ اس بات کو ثابت یا تسلیم کر لینے سےعثمانی صاحب یا میرے استدلال میں کوئی خوبی یا خامی پیدا نہیں ہو جاتی کہ دیت کے بارے میں زیر بحث مقوله حافظ ابن کثیر کا نہیں بلکہ امام زہری کا ہے، حافظ ابن کثیر نے صرف اسے نقل کیا ہے۔میں نے تو پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ نفس مسئلہ پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ قائل خواہ ابن کثیر ہوں یا اماز ہری ، قول یہی بیان ہوا ہے کہ سنت یہ چلی آرہی تھی کہ معاہدہ کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہو۔ مدیر البلاغ پھر میرے جواب میں فرماتے ہیں کہ امام زہری کا قول ہونے کی صورت میں اس قول کی تشریح شدن بیہقی میں مروی امام زہری کےدوسرے قول کی مدد سےآسان ہو جاتی ہےحالانکہ اس طرح کوئی آسانی پیدا نہیں ہوتی کیونکہ دوسرا قول بھی یہی ہےکہ ”یہودی و نصرانی کی دیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےعہد میں مسلمان کی دیت کے برابر تھی اور حضرت ابوبکر عمر، اور عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد میں بھی ایسا ہی رہا۔ باقی رہی سنن بیہقی کی یہ تشریح کہ امیر معاویہ آدھی دیت ورثاء کو دیتےتھے اور باقی نصف بیت المال میں داخل کرتے تھے ( اس لیے آدمی دیت کو اپنےذاتی استعمال میں لانے کا سوال نہیں ) تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں نے سابق بحث میں واضح دلائل کے ساتھ ثابت کر دیا تھا کہ دیت کے کسی حصے کو بیت المال میں لینے کا جواز بھی نہ قرآن سے نکلتا ہے، نہ سنت میں اس کا ثبوت ملتا ہے، ندامت کے کسی فقیہ نے اسے جائز دیا ہے۔
مدير "البلاغ“ نے میرے استدلال کے اس اصل پہلو کا تو کوئی جواب نہیں دیا مگر دونوں روایتوں میں لنفسه اور لبیت المال کےلفظی اختلاف پر جو کچھ میں نے لکھا ہےتیسرے اعتراض میں صرف اس کی تردید میں سارا زور صرف کر دیا۔ لکھتے ہیں کہ افسوس ہے کہ ملک غلام علی صاحب کو اب بھی اس بات پر اصرار ہے کہ حضرت معاویہؓ آدھی دیت ذاتی استعمال ہی کے واسطے لیتےتھے اور بیہقی کی روایت میں جو بیت المال کا لفظ آیا ہے اس سے مراد بھی حضرت معاویہ کی ذات ہی ہے۔ افسوس جس طرح مدیر البلاغ کو ہے، اسی طرح مجھے بھی ہے کیونکہ وہ میری بات کو غلط مفہوم پہنا رہے ہیں۔ میں نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ حضرت معاویہ دیت اپنی ذات پر استعمال کرتے تھے۔میں نے جو کچھ کہا ہے اور جسے خود انہوں نے نقل بھی کیا ہے، وہ یہ ہے کہ امیر معاویہ اور دوسرے بنو امیہ کےعائد کردہ غنائم ومحاصل کےلیے ایک ہی واقعہ میں مورخین نے کہیں لِنَفْسِہ اور کہیں کبیت المال کا لفظ استعمال کیا ہےاس کی وجہ یہ ہےکہ بیت المال ذاتی اور سیاسی مقاصد و اغراض کےلیےاستعمال ہونے لگا تھا اور امراء بیت المال کے آمد و خرچ کے معاملے میں مسلمانوں کے سامنےجواب دہ نہ رہے تھے۔یہ ایک بدیہی حقیقت ہےجسےتمام مؤرخین نےبیان اور تسلیم کیا ہےمیں نےاس بات کو زیادہ کھول کر بیان کرنا مناسب اور ضروری نہیں سمجھا تھا، لیکن بڑا افسوس ہے کہ مدیر البلاغ نے یہ پھر مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئی دلیل ایسی پیش کی جائے جس سے یہ دعویٰ ثابت ہو۔
اب مدیر” البلاغ" اور دوسرےمطالبہ کرنے والے اصحاب کو میں خلافت و ملوکیت کے ص ص ۱۵۰،۱۴۹ کا حوالہ دیتا ہوں جہاں ایسی متعدد مثالیں درج نہیں،بالخصوص الکامل اور البدایه کےحوالےسےیہ درج ہےکہ امیر معاویہ نےحضرت ابن عمرؓ کو بیت یزید پر آمادہ کرنے کےلیےایک لاکھ درہم بھیجے تھے مگر انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ پھر تو میرا دین بڑا ستا ہو گیا۔یه واقعہ بکثرت مورخین و محدثین نےنقل کیا ہےمثلاً طبقات ابن سعد جلد ۴، ص۱۸۲، ترجمہ عبداللہ ابن عمر مطبوعہ دار بیروت، دار صادری ۱۳۷ پر یہی قول موجود ہے۔ پھر میں امام محی الدین النووی کی ایک عبارت پیش کرتا ہوں جو کہ صحابہ کرام کے محلِ نظر افعال و اختلافات پر کلام کرنے میں حد درجہ محتاط ہیں۔انہوں نے تہذیب الاسماء واللغات میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق کے مختصر حالات درج کر کے آخر میں لکھا ہے:
"جب انہوں نے یزید کی بیعت سے انکار کیا تو ان کی طرف ایک لاکھ درہم بھیجے گئے تا کہ انہیں بیعت پر مائل کیا جائے، انہوں نے انہیں رو کر دیا اور فرمایا کہ دنیا کے عوض میں دین نہیں بیچ سکتا۔اللہ ان سے راضی ہو ۔“
یہاں کسی صاحب کو یہ شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہاں بیعت سے مراد امیر معاویہؓ کی وفات کے بعد یزید کے لیے خلافت کی بیعت ہے۔ امام نووی نے اس ترجمے میں خود لکھا ہے کہ حضرت عبدالرحمن کی وفات مختلف اقوال کےمطابق ۵۳ یا ۵۵ ھ یا ۵ھ میں ہوئی اور معلوم ہے کہ امیر معاویہ کا انتقال وسط ۶۰ ھ میں ہوا۔ اس لیے یہاں بیعت سے مراد یزید کی ولی عہدی کی بیعت ہے جس کے لیے ۵۰ ہی سے کوشش شروع ہو گئی تھی۔ لیکن جیسا کہ امام نووی کا انداز ہے،انہوں نے امیر معاویہ یا ولی عہد کا نام لیےبغیر پوری بات بیان کردی،اور اس کتاب میں کر دی جو ایک چھوٹی سی انسائیکلو پیڈیا ہے جس میں چھانٹ کر مواد جمع کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ زیادہ تصریح کے ساتھ دوسرے مورخین نے بھی نقل کیا ہے۔ مثال کے طور پر حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:
"معاویہؓ نے عبدالرحمن ابی بکر کی طرف ایک لاکھ درہم اس وقت بھیجے جب انہوں نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا۔ حضرت عبدالرحمن نے انہیں رد کر دیا اور انہیں لینے سے انکار کرتے ہوئےفرمایا ” کیا میں اپنے دین کو دنیا کے عوض میں فروخت کر دوں؟“
آب کیا مدیر” البلاغ" مجھےبتا سکتےہیں کہ حضرت امیر معاویہ کےپاس اتنا فراواں مال کہاں سےآگیا تھا اور کیا ان اغراض کےلیے اسے خرچ کر ناصحیح تھا، خواہ یہ رقوم ذاتی ہوں یا بیت المال کی ہوں؟ صحیحین میں روایت موجود ہے کہ جب فاطمہ بنت قیس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ لیا کہ میں معاویہ سےنکاح کرلوں؟ تو آنحضور نے فرمایا انہ صعلوک (وہ تو بالکل نادار ہیں)۔
اگر مدیر "البلاغ" ان نظائر اور میری بحث سابق میں بیان کردہ دلائل و شواہد کےباوجود مجھ سے ایسی دلیل کے مطالبہ کرتے رہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ حضرت معاویہ نے بیت المال کی رقوم اپنے ذاتی استعمال میں لانی شروع کر دی تھیں تو میرے پاس اس کا کیا علاج ہے؟ مثالیں مزید بھی پیش کی جاسکتی ہیں مگر ان کا جواب بھی غالبا مدیر "البلاغ" تبر عا‘ ویسا ہی دیں گےجیسا کہ پہلےدے چکےہیں، مثلاً وہ بیان کریں گے کہ تین جمعے کے خطبوں میں امیر معاویہؓ فرماتے رہے کہ ساری دولت ہماری دولت ہے، تو آخری جمعے میں ایک شخص نے کہا کہ مال تو سارا ہمارا ہے، جو شخص درمیان میں حائل ہوگا ، ہم اس کا فیصلہ تلوار سےکرائیں گےاس پر امیر معاویہ نےاس کو انعام دیا۔نیز امیر معاویہ نے ایک خطبےمیں بیت المال کے بقایا تقسیم کرنےکا اعلان فرمایا۔ یہ تو بالکل ایسی ہی بات ہے کہ فلاں صاحب نے یہ اور یہ اچھے کام کیےتھےتو اب ان سے کوئی غلط فعل صادر نہیں ہوسکتا یا وہ ایسی ایسی فضیلت و منقبت کے مالک ہیں، اس لیے معصوم عن الخطاء ہیں۔ اس طرز استدلال سےتو ہر ثابت وواقع غلطی کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ پھر دو ہفتے تک ہر شخص کی خاموشی کے بعد تیسرے ہفتے ایک شخص کا لب کشا ہو سکتا جس سنگین صورت پر دلالت کرتا ہے، وہ محتاج بیان نہیں۔
پھر مولانا عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ چوتھا اعتراض میں نے یہ کیا تھا کہ یہ مسئلہ عہد صحابہ ہی سے مختلف فیہ چلا آتا ہے کہ ذمی کی دیت مسلمان کے برابر ہوگی یا اس سے آدھی یا تہائی اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملے میں مختلف احادیث مروی ہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے درمیانی راہ اختیار کرتےہوئے متعارض احادیث میں تطبیق دی،آدھی دیت مقتول کے ورثاء کو دلوائی اور آدھی بیت المال کو ملک صاحب نےاس کےمقابلےمیں اپنےدلائل پیش کیےہیں،لیکن ہمارےخیال میں یہ پوری بحث بالکل غیرمتعلق ہے۔اب یہ ایک عجیب و غریب صورت حال ہے کہ مولانا عثمانی صاحب نے یہاں میری بحث کے مرکزی پہلو کا نہ ذکر کیا ہے، نہ اس کا کوئی جواب ہی دینے کی کوشش کی ہےبس اسےغیر متعلق کہہ کر بیچ میں سےصاف اڑادیا ہےمیں اس سےپہلے اپنا اشکال اصل نوعیت اعتراض کے زیر عنوان واضح طور پر بیان کر چکا ہوں جس کی تردید میں ایک لفظ تک عثمانی صاحب نے نہیں کہا۔ میرے لیےاور قارئین کےلیے یہ چیز اکتاہٹ کی موجب ہوگی کہ میں ساری بحث کو دہراؤں ناظرین چاہیں تو چند صفحات الٹ کر سابق بحث پر نظر ڈال لیں۔
مدیر البلاغ نے اپنی پرانی یا تازہ بحث میں اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ کس دلیل شرعی کی بنا پر می مقتول کے اولیاء کو دیت مقررہ کے کسی حصے سے محروم رکھا جاسکتا ہے؟ انہوں نے سارا زور لنفسه کو لبیت المال ثابت کرنے پر لگایا ہے۔ میں کہتا ہوں، چلیے تسلیم کر لیا کہ لنفسہ کا لفظ جو مورخین نے لکھا ہے ، ان کی مراد لیبیت المال تھی ، تب بھی دیت کے کسی حصے کا بیت المال میں لینا کس رو سے جائز ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح مسلمان کو کافر کا وارث بنا نا صحیح نہیں ، اسی طرح کسی مسلمان فرد یا بیت المال کو غیر مسلم کی دیت میں حصہ دار بنانا بھی درست نہیں۔ دیت ایک طرح کا ترکہ ورثہ ہے جس کا مقتول کے اہل واولیاء میں تقسیم ہونا واجب ہے۔ جس طرح مسلم و غیر مسلم کے مابین تو ارث ممنوع ہے اور کافر کا ورثہ کا فر ہی کوملتا ہے، اسی طرح کافر کی دیت، جو کچھ بھی ہو، وہ اس کے کا فروارثوں ہی کو ملتی ہے۔ ان دونوں معاملوں میں حضرت معاویہ سے یکساں غلطی ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے مسلمان کو کافر سے تو ریث منقطع کر دی اور ذمی کی دیت تو آدھی ہی رہنے دی مگر اتنی آدھی جو امیر معاویہ نے بیت المال کے لیے مقرر کی تھی اسے موقوف کر دیا۔
علماء مفسرین کی تشریحات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلم و غیر مسلم مقتول دونوں کی پوری دیت ان کے اولیاء کو ملے گی۔ اس کا کوئی حصہ کسی دوسری جانب نہیں جاسکتا۔ سورۂ نساء کی آیت دیت کے جس جز کا اطلاق معاہد یا می پر بھی ہوتا ہے، اس کی تفسیر میں امام ابن جریر کافر مقتول کےمتعلق لکھتے ہیں:
"اس کافر مقتول کے قاتل پر اس کی دیت لازم ہے کیونکہ اس کا فر اور اس کی قوم سے عہد کیا جاچکا ہے۔ پس اس کی دیت کا اس کی قوم کو ادا کیا جانا واجب ہےکیونکہ اس قوم اور مومنین کےمابین معاہدہ ہے اور یہ دیت کافر کے اہل قوم کے اموال میں سے ہے اور مومنین کے لیے ان کے مال میں سے کوئی شے بھی حلال نہیں ۔“
امام ابن جریر کے اس ارشاد سے واضح ہو جاتا ہے کہ ذمی کی دیت کے حقدار اس کے کافراعزہ ہیں، مسلمانوں کے لیےیہ مال حلال ہی نہیں ہے،خواہ وہ مسلمان افراد ہوں یا مسلمانوں کا بیت المال ہو۔ ابن جریر نے اپنے اس قول کے حق میں متعدد دیگر اقوال بھی نقل کیے ہیں۔ بعض فقہاء نے ذمی کی دیت بیت المال میں داخل کرنے کی صرف ایک شاذ صورت کا ذکر کیا ہےاور وہ یہ ہےکہ کسی ذمی کے اولیاء میں سےکوئی بھی اگر موجود نہ ہو، تب اس کی دیت بیت المال میں لی جائےگی، ورنہ دوسری کسی حالت میں بھی اُسے بیت المال میں داخل نہیں کیا جاسکتا۔ خود مدیر ” البلاغ“ محرم ۱۳۹۱ھ کے البلاغ میں اپنے مضمون بعنوان ”اسلامی دستور کا مفہوم کے ص پر لکھتے ہیں:
اسی آیت کی روشنی میں میری یہ گزارش ہے کہ جب قرآن مجید صاف طور پر بیان کر رہا ہے کہ ذتی کی دیت اس کے رشتہ داروں کو سپرد کرنی ہوگی تو پھر اس کا کوئی حصہ بیت المال میں لینا کیسےجائز ہوگا اور اگر ذمی کے معاملے میں یہ جائز ہو گا تو مسلمان کی دیت کیوں پوری کی پوری اس کےرشتہ داروں کو دی جائے گی اور اس کا کوئی جزء بیت المال میں کیوں نہ لیا جائے گا؟ کیا مولانا عثمانی صاحب کے پاس میرے اس سوال کا کوئی جواب ہے؟
توریت مسلم من الکافراور دیت معاہد کا مسئلہ ضروری حد تک پچھلے دو ابواب میں صاف کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد اب مالِ غنیمت کا مسئلہ زیر بحث آتا ہے۔ اس میں مولانا مودودی کی جس عبارت کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے، وہ درج ذیل ہے:۔
"مال غنیمت کی تقسیم کے معاملے میں بھی حضرت معاویہؓ نے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے صریح احکام کی خلاف ورزی کی۔کتاب وسنت کی رُو سےپورےمال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال میں داخل ہونا چاہیے اور باقی چار حصےاس فوج میں تقسیم ہونے چاہئیں جو لڑائی میں شریک ہو لیکن حضرت معاویہ نے حکم دیا کہ مال غنیمت میں سے چاندی، سونا ان کےلیےالگ نکال دیا جائے ، پھر باقی مال شرعی قاعدے کے مطابق تقسیم کیا جائے ۔“
مولانا مودودی نے اس بات کی سند میں پانچ کتابوں کے حوالے دیئے تھے جن میں سےپانچواں اور سب سے آخری حوالہ البدایہ والنہایہ کا تھا۔ اب جناب محمد تقی صاحب نے کیا یہ ہے کہ باقی کتابوں کو چھوڑ کر صرف البدایہ کا حوالہ نقل کر دیا ہے کہ زیاد نے حضرت حکم بن عمرو کو یہ لکھا کہ امیر المومنین (حضرت معاویہ) کا خط آیا ہے کہ سونا، چاندی ان کے لیے الگ کر لیا جائے اور اس مال غنیمت کا سارا سونا، چاندی بیت المال کے لیے جمع کیا جائے۔ اس حوالے کی بنیاد پر عثمانی صاحب نے استدلال و قیاسات کی عجیب عمارت کھڑی کی ہے، فرماتے ہیں:
۵۔ عین ممکن ہے کہ اس وقت بیت المال میں سونے چاندی کی کمی ہو اور حضرت معاویہ اندازے سے یا اطلاع کی بنا پر سمجھےہوں کہ وہ کل مال غنیمت کے پانچویں حصےسےزاید نہیں،اسلیےانہوں نے یہ حکم جاری فرمایا ہو کہ مال غنیمت میں صرف سونا،چاندی ہی بھیجا جائےلیکن حضرت حکم بن عمر و نےاس لیے اظہار ناراضگی فرمایا ہو کہ فی الواقع سونا، چاندی ۱/۵ سے زائد تھا،اس لیے وہ سارا سونا چاندی بیت المال میں داخل کرنے کو کتاب اللہ کے خلاف تصور کرتے تھے۔
آتنی ممکن یا غیر ممکن تاویلات کے بعد مدیر البلاغ لکھتےہیں کہ اس مجمل واقعےکی بہت سی تو جیہات ممکن ہیں،اور یہ بات عقل و دیانت کےقطعی خلاف ہوگی که ہم ان قومی احتمالات کو قطعی طور پر رد کر دیں اور ضعیف احتمالات کی بنا پر حضرت معاویہ کے خلاف کتاب وسنت کے احکام کی خلاف ورزی کا حکم لگا دیں۔“
اس سلسلہ میں پہلی گزارش یہ ہے کہ بلا شبہ البدایہ میں یہی بات مذکور ہے کہ یہ سونا چاندی بیت المال کے لیے الگ کیےجانےکا حکم دیا گیا تھا۔لیکن بقیہ چار کتابوں میں سے کسی ایک میں بھی بیت المال کا ذکر موجود نہیں ہے بلکہ زیاد کا صرف یہ قول نقل ہوا ہے کہ امیر المومنین نے یہ لکھا ہے کہ ان کے لیے سونا، چاندی الگ کر لیا جائے (اصطفى له الصفراء والبيضاء ) ابن جرير ( متوفى ۳۱۰ھ) کی تاریخ میں بھی بیت المال کے الفاظ نہیں ہیں۔ابن سعد ( متوفی ۲۳۰ھ)، ابن عبدالبر ( متوفی ۳۶۳ھ) ،ابن الاثیر (متوفی ۱۳۰ھ ) کسی نےبھی بیت المال کا ذکر اپنی ان کتابوں میں نہیں کیا جن کا حوالہ مولانا مودودی نے دیا ہے۔ حافظ ابن کثیر ( متوفی ہے کے ھ ) جو سب سےبعد میں آئے ہیں، صرف انہوں نےیہ لکھا ہےکہ امیر معاویہ نے یہ سونا، چاندی بیت مال کے لیےطلب کیا تھا۔اب سوال یہ ہےکہ آٹھویں ہجری تک ابن کثیر سےپہلےجن لوگوں نےاس واقعہ کو نقل وروایت کیا ہےاور جنہوں نے ان پہلی تاریخوں کا مطالعہ کیا ہے، کیا ان کا یہ بیان کرنا یا یہ سمجھنا بالکل غلط ہو گا کہ امیر معاویہ نے یہ مال اپنی ذات کے لیے طلب کیا تھا، بالخصوص جبکہ بیت المال کی پوزیشن بھی ان کے زمانہ میں وہ ہو جسے دیت کی بحث میں ہم پہلے بیان کر چکے ہیں؟ اگر صرف ابن کثیر" کے الفاظ ”لبیت المال کی روشنی میں دوسرےتمام مؤرخین کی عبارت کا منشاء بھی یہی سمجھا جائےکہ سونا، چاندی بیت المال کےلیےالگ کیے جانے کا حکم دیا گیا تھا،تو پھر بیت المال کی عدمِ تصریح کا مطلب یہی ہو سکتا ہےکہ ان مؤرخین کےنزدیک دور ملوکیت میں بیت المال اور امیر المومنین کےذاتی خزانے کے درمیان کوئی فرق نہیں رہا تھا۔ ورنہ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ چاروں اصطفى له یا تصطفی لۂ کے الفاظ کیوں استعمال کرتے جن کا متبادر مفہوم یہی ہے کہ امیر معاویہؓ نے اپنے لیے سونا، چاندی خاص کر لینے کا حکم دیا تھا ؟
تاہم اگر یہی مان لیا جائےکہ یہ حکم بیت المال کےلیے تھا، پھر بھی یہ قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ قرآن مجید میں کل مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے لینے کا حکم دیا گیا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سےلے کر خلفائے راشدین کے آخری زمانے تک اس پر عمل ہوتا رہا ہے۔ اس امر کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ سونا اور چاندی مال غنیمت سے الگ نکال کر بیت المال میں داخل کر دیا گیا ہو، اور قرآن مجید کے الفاظ میں بھی اس تخصیص کےلیےکوئی گنجائش نہیں پائی جاتی۔اس فعل کی تائید میں یہ استدلال بھی مہمل ہےکہ اس وقت بیت المال میں سونے چاندی کی کمی تھی جسےامیر معاویہ پورا کرنا چاہتےتھے۔اس زمانے میں مبادلۂ زر اور تبادلہ اشیاء کا نظام زیادہ پیچیدہ نہ تھا اور سونے چاندی کے ذخائر بیت المال کے استحکام کے لیے محفوظ رکھنےکی خاص ضرورت نہ تھی۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائےراشدین بسا اوقات اسے ترجیح دیتے تھے کہ بیت المال میں سونے چاندی کے بجائے ضروریات زندگی کا سامان آئے اور مسلمانوں میں تقسیم ہو ۔
دوسری بات عثمانی صاحب نے یہ کہی ہے کہ امیر معاویہؓ کا حکم براہ راست منقول نہیں ہوا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ زیاد نے خود ہی اسے گھڑ لیا ہو۔ یہ بڑی نرالی منطق ہے۔ اس طرح کے مجبر عقلی احتمالات کی بنا پر تو ہر شے کا انکار کیا جاسکتا ہے، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ غزوہ اور غنیمت کا قصہ سرےسے پیش ہی نہیں آیا تھا۔ زیاد یا مؤرخین اگر مکاتیب و قصص گھڑنے میں ایسے ہی ماہر تھے تو وہ ایک پورا مکتوب امیر معاویہ کی طرف سے بصیغہ متکلم بھی وضع کر سکتےتھے اور اسے کتابوں میں نقل کر سکتےتھےلیکن عثمانی صاحب کو خود سوچنا چاہیے کہ امیر معاویہ جن کے نظم وضبط اور ڈسپلن کا تذکرہ مؤرخین نے بہ بجا بیان کیا ہے، کیا ان کے ایک گورنر کی یہ جرات ہو سکتی تھی کہ وہ ایک جعلی حکمنامہ زبانی یا تحریری طور پر امیر معاویہ کی طرف منسوب کرے، اسے مسلمانوں کے پورے لشکر اور سپہ سالار کے سامنے پیش کرے اور پھر یہ بات امیر معاویہ تک نہ پہنچے اور اس کی کوئی تحقیق و تفتیش ہی نہ ہو،اور زیاد سے کوئی باز پرس بھی نہ ہو ؟ جبل اشل (یا اسل) کا یہ غزوہ ۴۵ھ میں پیش آیا،اور اور حضرت معاویہ اس وقعہ کےبعد پندرہ برس تک زندہ رہےکیا یہ باور کیاجاسکتا ہے کہ زیاد کے اس حکم،اور سپه سالار لشکر کے اس پر اعتراض اور اس حکم کی تعمیل سے اس کے انکار کا سارا قصہ ۱۵ برس تک حضرت معاویہ کےعلم میں نہ آیا ہو؟ مزید براں کیا یہ بھی باور کیا جا سکتا ہےکہ اگر اس حکم کا امیر معاویہ کی طرف سےہونا مشتبہ ہوتا تو عثمانی صاحب سےپہلےکوئی مورخ اس کے مشتبہ ہونے کی طرف اشارہ تک نہ کرتا اور سب اسےان کے حکم ہی کی حیثیت سے روایت کرتے چلے جاتے ؟ آخر مروان کا ایک خط بھی فسادیوں نےیہ کہہ کر پیش کیا تھا کہ یہ حضرت عثمان کی طرف سےہےاور اس پر حضرت عثمان کی مہر ہے- لیکن اس وقت بھی اسے مشکوک سمجھا گیا اور اس کے بعد بھی بعض حضرات نے اس خط کو جعلی قرار دیا۔ خود حضرت عثمان تک بھی اس کی شکایت پہنچائی گئی اور آپ نےخط کی صحت سے انکار کیا۔
پھر مدیر ابلاغ کا اعتراض یہ بھی ہےکہ مولانا مودودی نے یہ نہیں بتایا کہ اس حکم کی تعمیل نہیں کی گئی تھی۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آسکی کہ اگر امیر معاویہ کےاس علم کی تعمیل نہیں کی گئی اور مولانا مودودی نے اسے بیان نہیں کیا تو اسے اصل حکم کے حسن وضیح میں کیا کمی بیشی ہو سکتی ہے؟ امیر معاویہ اگر خود اس حکم کو منسوخ کر دیتے یا کم از کم اس کےتعمیل نہ ہونےپر اظہار ناراضی ہی نہ فرماتے تو سارے معاملے کی نوعیت بدل جاتی لیکن اس حکم کے نہ مانے جانے کی جو تفصیلات مؤرخین نے بیان کی ہیں، وہ تو ایسی ہیں کہ شاید مولانا نےانہیں قصد انظر انداز کیا ہےکیونکہ ان سےامیر معاویہ کی پوزیشن صاف ہونےمیں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔اتنی بات تو "البلاغ" میں بھی نقل کر دی گئی ہےکہ حضرت حکم نےجواب میں لکھا تھا کہ اللہ کی کتاب امیر المومنین کے خط پر مقدم ہے اور خدا کی قسم اگر آسمان وزمین کسی کے دشمن ہو جائیں اور وہ اللہ سےڈرے،تو اللہ اس کے لیےکوئی نہ کوئی راہ نکال لیتا ہے- - - - یہ بات پانچوں کتابوں میں مذکور ہے اور اس کے بعد یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت حکم نے دعا کی کہ اے اللہ اگر میرے لیے تیرے پاس خیر ہے تو مجھے دنیا سےاٹھا لے۔“ چنانچہ ان کا بعد میں انتقال ہو گیا۔ امام حاکم نے بھی المنتند رک جلد ۳ ص ۴۴۲ پر ایک روایت میں بیان کیا ہےکہ زیادہ نےلکھا تھا فان امیر الـمـومـنـيـن كـتـب ان يصطفى الصفراء والبيضاء. - - - آگے لکھ ہیں
” جب حضرت حکم نے تقسیم کے میں یہ طرز عمل اختیار کیا تو امیر معاویہ نے اپنا فرستادہ بھیجا جس نے حضرت حکم کو مقید و محبوس کر لیا اور اسی حال میں ان کا انتقال ہوا۔“
بعینہ یہی پوری روایت امام ذہبی نے مستدرک کی تلخیص میں بھی درج کی ہے۔
عثمانی صاحب نے ایک نکتہ یہ بھی نکالا ہے کہ یہ حکم ایک خاص جہاد سے متعلق تھا، مستقل طور پر جاری نہیں ہوا۔ جواباً عرض ہے کہ یہ تو مولانا مودودی نے بھی نہیں کہا کہ یہ کوئی مستقل حکم تھا بلکہ یہی لکھا ہے کہ حضرت معاویہؓ نے ایسا حکم دیا لیکن کیا ایک مرتبہ کوئی خلاف کتاب وسنت حکم دینا قابلِ اعتراض نہیں ہے؟ اور اعتراض کی گنجائش صرف اسی صورت میں پیدا ہوتی ہے جب مستقل طور پر کتاب وسنت کے خلاف کوئی عمل کرتے رہنے کا حکم دیا جائے؟
آخر میں دلچسپ ترین احتمال آفرینی جو عثمانی صاحب نے کی ہے وہ یہ ہے کہ ممکن ہے بیت المال میں سونے چاندی کی کمی ہو اور حضرت معاویہؓ کو معلوم ہوا ہو کہ غنیمت میں سونے چاندی کی قیمت کل مال غنیمت کا پانچواں حصہ ہے لیکن فی الواقع وہ ۵/ اسے زاید ہو، اس لیے حضرت حکم سارا سونا چاندی الگ کرنےکو کتاب اللہ کے خلاف سمجھتے ہوں۔یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ آخر حضرت معاویہ کا ذریعہ معلومات اس کے سوا اور کیا ہوسکتا تھا کہ فوج کا سپہ سالار یا کوئی ماتحت افسر انہیں غنیمت کی مقدار سےآگاہ کرتا،اور یہ بھی اسی صورت میں ممکن تھا جب پورا مال غنیمت یکجا ہو چکا ہو اور اس کی قیمت بھی لگ گئی ہے۔اگر فی الواقع ایسی ہی صورت تھی تو پھر امیر معاویہؓ اور حضرت حکم کے تخمینے میں کوئی تفاوت نہیں ہونا چاہیے تھا کہ ایک کے اندازے میں سونا چاندی پورے مال کا ۵/ ۱ ہو اور دوسرے میں اس سےزائد۔ نیز اس صورت میں امیر معاویہ کا حکم یہ ہوتا کہ سونا چاندی چونکہ شمس کے مساوی ہے، اس لیے دوسرے مال کو چھوڑ کر وہی بطور تمس لے لیا جائے۔ایسی صورت میں سرے سے کوئی اختلاف ہی رونما نہ ہوتا اور نہ حضرت حکم پر اس واقعےکا ایسا شدید رد عمل ہوتا جو بالآخر ان کی موت پر منتج ہوا۔اگر فی الواقع بات اتنی ہی ہوتی کہ سونے چاندی کامحض خمس سےکچھ زاید ہو نا حل نزاع تھا تو حضرت حکم یہ کہ سکتےتھےکہ اتنا سونا چاندی ۵/ اسے زاید بنتا ہےاس لیےاس زاید مقدار کو فوج میں تقسیم ہونا چاہیےوہ ہرگز یہ جواب نہ دیتےکہ کتاب اللہ کتاب امیر پر مقدم ہے اور غازیوں سے ہرگز نہ کہتے کہ چلو تم اس حکم کے علی الرغم مالِ غنیمت کو تقسیم کرلو۔
پھر میں مولانا محمدتقی صاحب اور دوسرےقارئین کےعلم میں یہ بات بھی لانا چاہتا ہوں کہ تاریخ طبری جو تواریخ مابعد کا ماخذ ہے، اس میں امیر معاویہ کا جو حکم زیاد کےحوالےسےنقل کیا ہے،اس کےالفاظ ہیں: اصطفي له صفراء وبيضاء والروائع فلاتحركن شيئًا حتى تخرج ذلك...پھر حضرت حکم کا جو جواب زیاد کے نام منقول ہے اس میں بھی بعینہ یہی الفاظ وارد ہیں کہ تمہارا خط مجھےملا جس میں یہ ذکر ہےان اصـطـفـى لـه صـفـــراء وبيضاء والروائع. اس سے معلوم ہوا کہ امیر معاویہؓ نے فقط سونے چاندی ہی کا مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ اموال غنیمت میں سے دوسری نفیس اور عمدہ اشیاء بھی مانگی تھیں اور فرمایا تھا کہ جب تک ان سب کو الگ نہ چھانٹ لیا جائے،کوئی چیز اپنی جگہ سے نہ ہلائی جائے۔ اس کے بعد اگر حضرت حکم بن عمرو بھی کوئی معمولی پائے کے صحابی نہیں ہیں۔ ان سے امام بخاری اور دوسرے اصحاب صحاح نےحدیث اخذ کی ہیں۔ مستدرک اور دوسری کتابوں میں ان کے جو حالات بیان ہوئے ہیں، ان سےمعلوم ہوتا ہے کہ دو رفتن کے محاربات میں انہوں نے کوئی حصہ نہیں لیا اور سب سے الگ تھلک رہے۔ آخر کار امیر معاویہ کےعہد میں انہوں نےاس غزوے کی قیادت کی جس کا یہ دردناک انجام ہوا۔
(۲) مال غنیمت کے مسئلے پر میری اوپر کی بحث کے جواب میں جو کچھ عثمانی صاحب نے لکھا ہے اس پر کچھ کہنے سے پہلے یہ وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ دونوں مرتبہ اس بحث پر مالِ غنیمت میں خیانت کا جو ذیلی عنوان لگایا گیا ہے یہ عنوان اور اس کے الفاظ مدیر البلاغ کے اپنےتجویز کردہ ہیں۔ مولانا مودودی نے اپنی عبارت پر کوئی عنوان درج نہیں کیا تھا، نہ اپنی عبارت میں کہیں خیانت کا لفظ استعمال کیا تھا۔ میں نے اپنی بحث میں تقسیم غنائم“ کا عنوان دیا تھا۔ مدیر البلاغ نے خود یہ لفظ استعمال کر کے اگر لوگوں کو مشتعل کرنا چاہا ہے تو یہ ان کے کرنے کا کام نہ تھا۔دوسرے لوگ یہ خدمت ان سے زیادہ اچھی طرح انجام دے رہے تھے۔
عجیب بات ہےکہ دوبارہ بھی جناب محمد تقی صاحب نےمیرے اصل اعتراضات و دلائل کا جواب دینے کے بجائے پھر وہی لنفسه اور لبیت المال کی بحث چھیڑ دی ہےمولانا مودودی نےپانچ کتابوں کےحوالےسےیہ بات لکھی تھی کہ حضرت معاویہ نےحکم دیا کہ مال غنیمت میں سےچاندی سونا ان کےلیےالگ نکال لیاجائےاورباقی مال شرعی قاعدےکےمطابق تقسیم کیاجائےاب جیساکہ پہلےبیان ہوچکا خلافت و ملوکیت میں بالعموم ایک سےزاید کتابوں کا حوالہ دیتےہوئے ہر جگہ مختلف عبارتوں کا ایک مشترک مفہوم درج کر دیا گیا ہے۔ یہاں بھی یہی صورت تھی کہ پانچ کتابوں میں سے چار میں وہی بات لکھی گئی تھی جو خلافت و ملوکیت میں ہے اور چاروں میں کہ کے الفاظ تھےاس لیے اکثریت کے قول کو دیکھا جائے تو مولانا مودودی نے جو کچھ لکھ اتھاوہ غلط نہ تھا۔ تا ہم مدیر البلاغ اگر اس کی تردید ضروری سمجھتےتھےتو انہیں چاہیےتھا کہ وہ کم از کم یہ تصریح تو کر دیتےکہ چار کتابوں میں بات وہی درج ہے جو مولانا مودودی نے نقل کی ہے، البتہ پانچویں کتاب میں بیت المال کےالفاظ ہیں۔ لیکن مدیر البلاغ نےچار کتابوں کو چھوڑ کرصرف ایک البدایہ کاحوالہ نقل کر دیاجس سےیہ معلوم ہوتا تھاکہ امیرمعاویہ نے سونا چاندی بیت المال کے لیے جمع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سے ان کی کتاب پڑھنے والا یہی تاثر لے سکتا ہے کہ مولانا مودودی نے امیر معاویہؓ اور ان مؤرخین کی طرف ایک بالکل غلط اور بے بنیاد بات منسوب کر دی ہے۔ میں نےاس کےجواب میں یہ ثابت کر دیا کہ باقی چاروں مؤرخ جو ابن کثیر (صاحب البدایہ ) سے متقدم تھے ، ان سب نے لہ کے الفاظ لکھےہیں جس کی وجہ یہ ہےکہ خلافت راشدہ کے بعد خلفاء کے ذاتی خزانےاور بیت المال میں کوئی خط امتیاز باقی نہ رہا تھا۔ اس صورتِ حال کی کچھ تشریح میں نے گزشتہ بحث میں کر دی ہے۔
مولانا عثمانی صاحب صرف ایک حوالے کے بل پر فرماتے ہیں مولانا مودودی کے لیے جائز نہیں تھا کہ وہ البدایہ کے حوالے سے تحیریر فرمائیں کہ حضرت معاویہؓ نے حکم دیا کہ مالِ غنیمت میں سے چاندی سونا ان کے لیے الگ نکال لیا جائے۔ میرا جواب پھر وہی ہے کہ اگر فقط اسی ایک کتاب کا حوالہ ہوتا تو ایسا تحریر کر نا بلا شبہ جائز نہ تھا لیکن دوسری چاروں کتابوں میں اگر وہی بات درج ہےجو مولانا نے لکھی ہےتو اعتبار و لحاظ غالب مورخین کے قول کا ہوگا، اور مولانا نے جو کچھ لکھا ہے وہ.بالکل جائز و صیح ہے۔ پہلے تو عثمانی صاحب نے چاروں حوالوں کو بالکل ساقط اور نظر انداز کر دیا تھا لیکن میری نشان دہی پر پھر مجبور یہ تسلیم کرنا پڑا کہ یہ درست ہے کہ باقی چار حوالوں میں بیت المال کا لفظ نہیں ہے۔لیکن پھر بھی وہ فرماتے ہیں کہ کیا میں نےالبدایہ کا حوالہ نقل کر کے کسی جرم عظیم کا ارتکاب کیا ہے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ آپ نے ہر گز کسی جرم کا ارتکاب نہیں فرمایا اور نہ کسی نےایسا کہا ہے۔ میں نے صرف یہ لکھا تھا کہ ” جناب محمدتقی صاحب نے کیا یہ ہے کہ باقی کتابوں کو چھوڑ کر صرف البدایه کا حوالہ نقل کردیا۔اب جناب موصوف مجھےصرف یہ سمجھا دیں کہ جب آپ ایک کتاب کا حوالہ دےکر اور بقیہ کو چھوڑ کر ایک بات لکھنے میں مجرم نہیں ہیں تو مولانا مودودی چار کتابوں پر انحصار کرتے ہوئے ایک بات لکھ دینے سے کیسے مجرم بن گئے؟ یہ جرم عظیم والا الزام آپ خواہ مخواہ بیچ میں لا رہے ہیں ورنہ میں جو کچھ کہ رہا ہوں وہ یہ ہےکہ صرف خاص اور بیت المال کےحدو د امتیاز اس زمانے میں واضیح میں رہے تھے، اس لیے مؤرخین کہیں لنفسہ اور کہیں لبیت اس میں المال لکھ دیتے ہیں۔ جہاں تک اس خاص واقعہ مذکورہ کا تعلق ہےاس میں اکثر و بیشتر مصنفین نےبیت المال کا لفظ استعمال نہیں کیا۔تاریخ الکامل کے علاوہ ابن الاثیر نے اُسد الغابہ میں جہاں حضرت حکم بن عمرو کے حالات بیان کیے ہیں ، انہوں نے وہاں بھی یہی لکھا ہے۔ فرماتے ہیں:
امام حاکم نے المستدرک جلد ۳ ص ۴۴۲ میں اس واقعہ کے متعلق جو روایت دی ہے، اس میں بھی لبیت المال کا لفظ نہیں، بلکہ صرف لہ کا لفظ ہے۔ امام ذہبی کی تلخیص میں بھی روایت اسی طرح درج ہے۔
میں اب اس ناگوار بحث کو پھیلانا نہیں چاہتا ور نہ میں یہ چیز بھی وضاحت کے ساتھ بیان کرتا که خلافت راشدہ کے بعد دوسرے خلفاء نے اپنے ذاتی بیت المال بھی قائم کر رکھے تھے جن میں خمس، فے وغیرہ کے اموال داخل کر دیئے جاتے تھے۔یہ نجی بیت المال سرکاری بیت المال کےعلاوہ تھے، گویا کہ ایک مسلمانوں کا عام بیت المال ہوتا تھا اور دوسرا امیر المومنین کا نجی اور خاص بیت المال ہوتا تھا۔ چنانچہ اسی البدایہ جلد ۸ ص ۲۹ پر تو لبیت المال کے الفاظ میں (جن کی مدد سےعثمانی صاحب مولانا مودودی کی تغلیط کر رے ہیں) لیکن اسی کتاب کی اسی جلد میں ذرا آگے ص ۴۷ پر ابن کثیر اسی واقعہ کو دوبارہ بیان کرتے ہوئے لبیت المال کے بجائے لبیت مالہ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ چنانچه لکھتے ہیں:۔
"حضرت حکم کےپاس حضرت معاویہ کا خط زیاد کی طرف سےآیا کہ وہ غنیمت میں سےامیر معاویہ کےلیےسونا چاندی الگ کرلیں جو حضرت معاویہ کےبیت المال کے لیے ہو گا۔حضرت حکم نے جواب دیا کہ اللہ کی کتاب امیر المومنین کےمکتوب پر مقدم ہے۔کیا انہوں نےنہیں سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔پھر حضرت حکم نے سارا مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں قید کر دیا گیا حتی کہ ان کی وفات ہو گئی۔
اب میں پوچھتا ہوں کہ دوسرے سارے مؤرخین اگر بیت المال کا لفظ سرے سے استعمال ہی نہیں کرتے اور ابن کثیر ایک جگہ اگر کرتےہیں تو چند صفحوں کے بعد ہی وہ لبیست مسالہ کےساتھ اس کی توضیح کر دیتےہیں اور یہ بھی معلوم ہےکہ بنوامیہ کےصرف خاص کےلیےبھی "امیر المومنین کا بیت المال" کی اصطلاح مستعمل تھی اور یہ مسلمانوں کے بیت المال سے زاید ایک شے تھی تو پھر مولانا مودودی کے تحریر کردہ الفاظ کس قاعدے اور کس اعتبار سے قابل اعتراض ہو سکتے ہیں؟ افسوس که معترض حضرات بار بار ان مسائل کو چھیڑ کر ہر بار مجھے وہ باتیں کھول کر کہنے پر مجبور کر رہے ہیں جو میں نہیں کہنا چاہتا تھا۔
” خلافت و ملوکیت" میں جو بات چار کتابوں کے حوالے سے درج کی گئی تھی اور جس کےلیے میں دو تین مزید حوالے پیش کر چکا ہوں، اسے دو اور دو چار کی طرح غلط ثابت کرنے کےلیے مولانا محمد تقی صاحب نے ایک اور مثال وضع کی ہے۔ فرماتے ہیں اگر چار اخباروں میں یہ خبر شائع ہو کہ مولانا مودودی نے اپنے لیے ایک لاکھ روپیہ چندہ وصول کیا اور ایک پانچویں اخبار میں یہ ہو کہ مولانا مودودی صاحب نےجماعت اسلامی کے لیے ایک لاکھ روپیہ چندہ وصول کیا۔ پھر کوئی شخص ان پانچوں اخباروں کے حوالے سے مولانا پر یہ الزام عائد کرے کہ وہ اپنی ذات کے لیےچندہ وصول کرتے ہیں تو کیا ملک صاحب اس الزام تراش شخص کو پانچواں اخبار محض اس لیے نہیں دکھائیں گےکہ اس کا حوالہ پانچویں نمبر پر سب سےآخر میں دیا گیا تھا۔اب مولانا مودودی پر الزام تراشی کا الزام جڑنے کےلیےجو یہ مثال گھڑی گئی ہےاس کے متعدد پہلو قابل غور ہیں۔پہلی بات تو یہ ہےکہ اخبارات اور تاریخ اور حدیث و آثار کی کتابوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ ایک اخبار کسی ایک شخص کی تصنیف نہیں ہوتا، اس کی مختلف خبروں کی آئے دن تردید ہوتی رہتی ہے بلکہ اس میں ایسا مواد بھی چھپتا رہتا ہے جس کی پیشانی پر یہ درج ہوتا ہے کہ اس سےادارہ تحریر کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔ اس کے بر عکس تاریخ وروایات پر مشتمل تصنیف ایک ہی شخص کی کاوش قلم کا نتیجہ ہوتی ہے اور مصنف اس کے مواد میں ہر روز ترمیم و صحیح نہیں کرتا رہتا۔
پھر اگر اس مثال کو مولانا مودودی پر چسپاں کرنا ہی ہےتو صحیح مثال یوں ہوگی کہ ایک اخبار ابن سعد کی ادارت میں ۲۳۰ ھ میں شائع ہوا جس میں یہ خبر چھپی کہ مولانا مودودی نےایک لاکھ چندےکا اپنےلیے مطالبہ کیا۔ پھر دوسرےاخبار میں یہی خبر انہی الفاظ کےساتھ ۳۱۰ھ میں چھپی اور اس اخبار کے مدیر امام ابن جریر تھے۔ پھر امام حاکم نے ۴۰۵ھ میں یہی خبر اپنے اخبار میں شائع کی۔اس کے بعد ابن اثیر نے ایک اخبار ۱۳۰ھ میں نکالا اور اس میں یہ خبر بعینہ انہی الفاظ میں چھاپی۔پھر امام ذہبی کے زیر ادارت ایک اخبار ہ آئے ھ میں اشاعت پذیر ہوا اور اس میں بھی یہی خبر چھپی کہ مولانا مودودی نے ایک لاکھ روپیہ اپنے لیے طلب کیا۔ اس کے بعد سب سے آخر میں ابنِ کثیر نےاپنا اخبار آئے کے در میں جاری کیا اور اس میں یہ خبر شائع کی کہ مولانا مودودی نے ایک لاکھ روپیہ چندہ بیت المال کے لیے طلب کیا اور چند روز بعد ابنِ کثیر نے اسی اخبار میں یہی خبر اس طرح چھاپی کہ مولانا نے یہ چندہ اپنے بیت المال کے لیے مانگا۔ اب یہ سارے اخبارات اگر ایک ہی زمانے میں نکلے ہوتے ،تب تو بات دوسری تھی لیکن ان میں سے ہر ایک کے درمیان اگر ایک ایک صدی یا اس سے زاید کا فصل حائل ہو تو قدیم اخبارات کی رپورٹ ہی قابل اعتماد ہوگی اور اس رپورٹ کو ایک شخص قدیم اخبار کے اصل الفاظ میں دہرادے تو وہ الزام تراشی کا مجرم ہرگز نہ ہوگا اور نہ ہو سارےاخبارنویس کا ذریعہ معلومات بھی پرانے اخبار ہی ہوں اور دونوں کی خبر میں حقیقی نہیں، بلکہ محض لفظی تفاوت ہو۔
پھر یہ بھی ایک پُر لطف حقیقت ہے کہ الزام تراشی کا جو الزام مدیر البلاغ نے اس زور و شور سےمولانا مودودی پر عائد کیا ہے اور جسے ثابت کرنے کے لیے اتنی جدوجہد کی ہے، آگے چل کر خود ہی اس کا ابطال بھی فراہم کر دیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
"یوں ملک صاحب کے مزید اطمینان کے لیے ہم یہ وثوق کے ساتھ عرض کر سکتے ہیں کہ ساتویں صدی تک کے لوگوں نے بھی ان الفاظ (لَه بالنفسه) کا یہی مطلب لیا ہوگا کہ حضرت معاویہ نے یہ مال اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ بیت المال کے لیے منگایا تھا، اس لیے کہ وہ لوگ زبان و بیان کے محاورات سےاتنےبے خبر نہیں تھے کہ الفاظ کے ظاہر کو تھام کر بیٹھ جائیں اور اس بات سے قطع نظر کر لیں کہ اگر ایک امیر سلطنت اپنے کسی ماتحت کو یہ حکم لکھ کر بھیجے کہ خراج کا روپیہ مجھے بھیج دو تو محاورة “ مجھے سے مراد اپنی ذات نہیں ہوتی ، بلکہ سرکاری خزانہ ہوتا ہے“
چلیے ، قصه کوتاه گشت در نه در دسر بسیار بود - مولانا عثمانی صاحب نے آخر کار خود ہی یہ نکتہ ارشاد فرما دیا کہ ساتویں صدی تک کے لوگوں نے بھی یہی سمجھا ہوگا کہ حضرت معاویہ نے یہ مال اپنی ذات کے لیے نہیں منگایا تھا اور ساتویں صدی میں آکر ابن کثیر نےاس حقیقت کو مزید واشگاف کر دیا کہ لۂ کا مطلب لبیت المال ہی ہے۔تو پھر مولانا مودودی نےجو یہ لکھ دیا کہ حضرت معاویہ نےحکم دیا کہ مال غنیمت میں سےچاندی سونا ان کے لیے الگ نکال دیا جائے“ آپ اس سے یہی مطلب اخذ و متعین فرما لیجئے کہ ان کےلیے" سےمراد بیت المال کے لیے“ ہے۔ پھر آپ کی اس لمبی چوڑی الزامی بحث کی تو کوئی اصلیت باقی نہ رہی کہ مولانا مندودی نےابن کثیر کا حوالہ دینےکےباوجود ان کی طرف غلط بات منسوب کی ہےاور امیر معاویہ پر ”خیانت اور اپنی ذات کے لیے مالِ غنیمت حاصل کرنے کی تہمت عائد کی ہے۔ آپکے بقول ”لوگ زبان کے محاورات سے اتنے بے خبر نہیں کہ انہیں یہ تک معلوم نہ ہو کہ ”مجھے" سےمراد اپنی ذات نہیں ہوتی،بلکہ سرکاری خزانہ ہوتا ہےاور وہ لوگ مجھے" کے لفظ کو پکڑ کر بیٹھ جائیں۔ پھر آخر آپ ہی اس محاورے سے کیوں اتنے بے خبر ہیں کہ مولانا مودودی کے لفظ ” ان کے لیے کو پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں اور اس رائی کو برابر گھس گھس کر اس میں سے پر بہت برآمد کرنے کی کوشش کیے چلے جا رہے ہیں؟ اگر آپ کے نزدیک محاورة مجھے“ سے مراد اپنی ذات نہیں ہوتی، بلکہ سرکاری خزانہ ہی ہوتا ہے تو پھر آپ کے اس اعتراض کی تو پوری بنیاد ہی منہدم ہو گئی کہ ابن کثیر صاف لکھ رہے ہیں کہ سارا سونا چاندی بیت المال کے لیےجمع کیا جائے ، مگر مولانا مودودی اس عبارت کے حوالے سے یہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ نے حکم دیا کہ سونا چاندی ان کے لیے الگ نکال لیا جائے ۔ مدیر البلاغ نے یہ اعتراض وارد کرنےکے بعد لکھا تھا کہ ہمارا ناطق قطعی طور پر سر بگر یہاں ہے کہ اس تفاوت کی کیا تاویل، کیا تو جیہ کریں؟ جواباً عرض ہے کہ آپ سر ناطقہ کو گر یہاں سے نکالیں اور بیت المال کےلیے اور ان کے لیے میں جو لفظی تفاوت ہے اس کی وہی تاویل و توجیہ کریں جو آپ نے خود ہی اختیار فرمائی ہے اور جسے میں ابھی نقل کر چکا ہوں کہ محاورة ” ان کے لیے" سے مراد اپنی ذات نہیں بلکہ سرکاری خزانہ ہوتا ہے۔“
اب اس کے بعد البته یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مال غنیمت کا سونا چاندی بیت المال کےلیے مقصود تھا، تو پھر اس فعل پر اعتراض کس حیثیت سے ہے۔ اس سوال کا جواب بھی میری طرف سے گزشتہ بحث میں دیا جا چکا ہے۔ میں نے لکھا تھا کہ:
"اگر یہی مان لیا جائے کہ یہ حکم بیت المال کے لیے تھا، پھر بھی یہ قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ قرآن مجید میں کل مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے لینے کا حکم دیا گیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے لے کر خلفائے راشدین کے آخری زمانے تک اسی پر عمل ہوتا رہا ہے۔ اس امر کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ سونا اور چاندی مال غنیمت سے الگ نکال کر بیت المال میں داخل کر دیا گیا ہو اور قرآن مجید کے الفاظ میں بھی اس تخصیص کے لیے کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی ۔"
میری اس بات کا رد جتنی بھی احتمال آفرینیوں سے ممکن ہے، وہ مدیر البلاغ اپنی سابق بحث ہی میں پیش کر چکے ہیں، اور میں نے ان میں سے ہر ایک کا ابطال بھی کر دیا تھا۔ ہر بات کو دہرانا تو ممکن نہیں ہے، تاہم مثال کے طور پر میں ان کا یہ تازہ قول نقل کرتا ہوں کہ اگر سونا چاندی پورے مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ ہو تو یہ حکم شریعت کے مطابق ہو جاتا ہے۔ بیت المال میں سونے چاندی کی کمی ہوگی اس لیے حضرت معاویہ نے یہ حکم دیا ۔ میری گزارش یہ ہے کہ اس مفروضےکی آخر کوئی بنیاد تو ہونی چاہیےکہ یہ سونا چاندی بلا کم و کاست کل غنیمت کا ۱/۵ تھا اور بیت المال میں سونےچاندی کی کمی تھی۔ اگر فی الواقع ایسا تھا تو حضرت معاویہ نے اس کی تصریح فرمادی ہوتی کہ یہ سونا چاندی جملہ غنائم کی قیمت کا عین ۱/۵ ہے۔ ایسا اندازہ کر لینا گو کہ محال ہے، تاہم اگر ایسا صحیح اندازہ زیاد اور امیر معاویہ کے لیے ممکن تھا تو مجتہدین اور ان کے سپہ سالار حضرت حکم بن عمرو کے لیے کیوں ناممکن تھا؟ کیوں حضرت حکم نے اس پر شدید انکار واحتجاج کیا جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا؟ اور کیوں اس پر سارے لشکری خاموش رہے؟ آخر دونوں طرف دو صحابی رسول ہیں اور ہو سکتا ہے کہ فوج میں مزید صحابہ کرام بھی ہوں؟ ایک صحابی ( حضرت معاویہ ) جو میدانِ جنگ سے دور بیٹھے ہیں ان کا اندازہ تو آپ کے نزدیک بالکل صحیح ہے لیکن دوسرے صحابی جو شریک جہاد ہیں اور جو اس حکم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کتاب اللہ، کتاب امیر المومنین سے زیادہ واجب التعمیل ہے، آپ انہیں گویا کہ دُہرا خطاوار ٹھہراتے ہیں کہ انہوں نے احکامِ شرعی کے بھی خلاف کیا اور امیر المومنین کی بھی نافرمانی کی!
کیا احترام صحابہ کرام کا مطلب آپ کے نزدیک فقط یہ ہے کہ امیر معاویہ کی تو ہر بات کی تائید و تصویب کی جائے خواہ کتاب وسنت میں اس کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو اور جو صحابی امیر معاویہ سے اختلاف کریں ان کے موقف کی تغلیط ہی کی جائے خواہ وہ کتاب وسنت کے موافق ہی ہو؟ اگر آپ نے حضرت معاویہ کے ہر قول و فعل کو جائز ثابت کرنےکی قسم کھا رکھی ہےتو آپ کو صرف”خلافت و ملوکیت اور تاریخی کتابوں ہی کی تردید و تنقید پر اکتفا نہیں کرنا ہوگا بلکہ حدیث کی صحیح ترین کتب کے بعض اجزاء پر خط تنسیخ کھینچنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر صحاح ستہ کی تقریبا سب کتابوں میں اور موطا امام مالک اور مسند احمد میں ایسی روایات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امیر معاویہ نے بیع وشراء کے ایسے معاملات کیسے تھے، جن پر حضرت عبادہ بن صامت نے حضرت معاویہ کے سامنے ارشادات نبوی پیش کر کے انہیں ٹوکا، تب بھی آپ نے غلطی کو تسلیم نہ کیا۔ اسی طرح کا واقعہ حضرت ابوالدرداء کا مروی ہے جس کی بنا پر انہیں شام کی سرزمین چھوڑنی پڑی۔محدثین و شارحین نے ان احادیث کی تشریح کرتے ہوئے امیر معاویہ پر نہایت سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔ مثلا علامہ ابوالحسن سندھی نے اپنے حواشی سنن ابن ماجہ کتاب البیوع اور امام سیوطی نے تنویر الحوالك، کتاب البیوع میں شدید نکیر کی ہے۔کیا یہ سارے محدثین و مفسرین حضرت معاویہ اور صحابہ کرام کی منقبت و منزلت سے بالکل بے بہرہ اور جاہل تھے اور اب مدیر البلاغ ہی ایک ایسے فرد فرید کہیں سے ہویدا ہو گئے ہیں جو ہمیں تعظیم وتکریم صحابہ کاسبق سکھانے لگتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ دعوئی اور یہ تاویل بالکل بے بنیاد ہے کہ امیر معاویہ نے جو سارا سونا چاندی طلب فرمایا تھا، وہ مال غنیمت کا ۱/۵ تھا۔ ہر جنس اور ہر مال کا پانچواں حصہ اگر الگ کر لیا جاتا اور سونےچاندی کا بھی صرف پانچواں حصہ بطور شمس الگ کر لیا جا تا تب تو اسکا مطالبہ معروف قاعدے کےمطابق جائز ہوتا لیکن یہ دعویٰ کہ کل سونا چاندی کل غنائم کا ۵/ ۱تھا، یہ اس وقت تک ثابت نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ پورے اموال غنیمت کی مالیت ایک طرف اور سونے چاندی کی مالیت دوسری طرف مشخص کی جاتی، اور پھر یہ معلوم ہوتا کہ سونے چاندی کی قیمت جملہ اموال کی قیمت کا پانچواں حصہ بنتی ہے۔ مدیر البلاغ اس احتمال کو بھی بار بار دہرا رہے ہیں کہ اس وقت بیت المال میں سونے چاندی کی کمی تھی جسے امیر معاویہ پورا کرنا چاہتے تھے اور میں جب اس احتمال کو نہیں تسلیم کرتا تو فرماتے ہیں کہ یہ مقام تو ہمارے محترم نقاد ہی کو حاصل ہےکہ وہ چودہ سو سال پہلے کی حکومت کے بارے میں اس وقت کے حکمران سے بھی زیادہ صحیح اندازہ لگا لیتے ہیں کہ اس وقت بیت المال میں سونے چاندی کی ضرورت تھی یا نہیں۔ ہمیں کشف والہام کا یہ کمال تو حاصل نہیں لیکن جو تھوڑی سی عقل اللہ نے دی ہے،اس سے اتنا خیال ضروری ہوتا ہے کہ اس زمانے میں دو دھاتی معیار پر بنی نظام زر رائج تھا جس میں سونے چاندی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ مجھے کشف والہام اور عقل وخرد میں کامل تو کیا ناقص ہونے کا دعوی بھی نہیں ہے، لیکن اتنی بات تو میں بھی جانتا ہوں کہ یہ دو دھاتی نظامِ زرصرف حضرت معاویہ ہی کے عہد میں نہیں بلکہ عہد نبوت اور عہدِ خلافت راشدہ میں بھی موجود تھا اور اس زمانے میں بھی درہم و دینار اور مثقال ہی رائج تھے۔ اس لیے اس عہد سعادت میں بھی سونے چاندی کی ضرورت عہد مابعد سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ ہوتی ہوگی۔ پھر کیا اس بات کا کوئی ثبوت مل سکتا ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائےراشدین نے بھی کبھی مال غنیمت کا سونا چاندی الگ چھانٹ لیا ہو اور مجاہدین کو اس سے کلیہ محروم کر دیا ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو بعض اوقات مجاہدین کو درہم و دینار کا اتنا ڈھیر عطا فرماتے تھے کہ ان کے لیے اٹھانا محال ہو جاتا تھا۔
عہد نبوی وخلفائے راشدین اور اس کے عین بعد کے نظام محاصل و مالیات کا جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے، مجھےمولانا مودودی کی یہ بات بالکل بجا اور برحق دکھائی دیتی ہےکہ دور ملوکیت میں بیت المال کی حیثیت و تصور میں بڑی دُور رس تبدیلیاں رونما ہوئیں۔اس حقیقت سےکسی طرح انکار ممکن ہی نہیں ہےحضرت معاویہ کے متعلق ابن کثیر (البدایه جلد ۷، ص۱۲۴) اور دوسرےمؤرخین کی یہ تصریح ملتی ہے کہ جب وہ عہد فاروقی میں عامل تھے تو آپ کا ماہانہ معاوضہ ۸۰ دینار تھا جو زیادہ سے زیادہ ایک ہزار درہم بنتے ہوں گے۔ پھر آپ کے پاس وہ لاکھوں درہم کہاں سے آئےجو آپ نے اپنے صاحب زادے کی ولی عہدی کے لیے دوسروں کے سامنے پیش کیے؟ حضرت علیؓ نے جب آپ کو شام کی گورنری سے معزول کیا تو آپ نے اس کی تعمیل سےانکار کیا۔ حضرت علی یہ حکم اگر نامناسب تھا یا وہ قصاص عثمان کے معاملے میں مذبذب تھے اور امیر معاویہ کے لیے قصاص کا مطالبہ لے کر اٹھنا ضروری یا جائز تھا تو معزول نہ سہی، انہیں از خود احتجاجا گورنری سے مستعفی ہو جاتا چاہیے تھا۔اس عہدےپر فائز رہنا اور پورےشام کے بیت المال پر متصرف ہو کر اسے خلیفہ راشد کے مقابلے میں استعمال کرنا کس اصول سے صحیح ہو سکتا ہے؟ استعفاء کے بعد البتہ ایک اسلامی ریاست کے شہری یا حضرت عثمان کے ولی کے طور پر اگر حضرت معاویہ مطالبہ قصاص کرتے ، تب بھی یہ مطالبہ کسی حد تک درست ہو سکتا تھا۔
امیر معاویہ کے خلیفہ بننے کے بعد بھی آپ نے اور آپ کے عہدے داروں نے بیت المال کے معاملے میں وہ احتیاط ملحوظ نہیں رکھی ، جو آپ کے پیشرووں نے رکھی تھی۔ چنانچہ امیر معاویہ کےگورنر مروان کے متعلق سنن ابی داؤد، کتاب الخراج اور کتب تاریخ میں تصریح موجود ہے کہ اس نےفدک کو اپنی ذاتی جاگیر بنا لیا تھا حتی کہ یہ عمر بن عبد العزیز کو وراثت میں ملی تو انہوں نےاسےسرکاری اراضی میں واپس داخل کیا۔اس مروان کےمتعلق امام ابو عبید اپنی کتاب الاموال غنیمت وئےکےابواب کےایک مقام پر حضرت عروہ کی رویات پوری سند کےساتھ بیان کرتےہیں کہ ایک روز مروان نےمنبر پر کھڑےہو کر کہا کہ امیر المومنین معاویہ نےتمہیں بھر پور عطیات دینے کا حکم فرمایا ہےاور پوری کوشش کی ہے مگر مال میں سےایک لاکھ درہم کم ہےاور انہوں نےمجھےلکھا ہےکہ یمن کی زکوۃ جب یہاں سے گزرے تو میں اس میں سے یہ مال (تمہارے لیے) لے لوں۔“حضرت عروہ کہتے ہیں کہ لوگ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور میں نے انہیں یہ پکارتے ہوئے سنا:"ہرگز نہیں ، ہم ان میں سے ایک درہم بھی نہیں لیں گے۔کیا ہم دوسروں کا حق وصول کر لیں؟ یمن والا مال تو تامی و مساکین کے لیے صدقہ ہے۔ ہمارے عطیات تو جزیے میں سے ملنے چاہئیں۔ تم معاویہ کو لکھو کہ وہ ہمیں بقیہ عطایا بھیج دیں حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مروان نے یہ بات لکھی،تب امیر معاویہ نے بقایا ارسال فرمایا۔“
حافظ ابوعبید القاسم بن سلام جن کی وفات ۲۲۴ ھ میں ہوئی ہے، ایک نہایت صاحب تحقیق محدث ہیں اور ان کی کتاب الاموال اسلامی مخارج ومحاصل پر ایک مستند دستاویز شمار ہوتی ہے۔ ان کا بیان کردہ واقعہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ لوگوں نے بروقت انکار واحتجاج نہ کیا ہوتا تو مساکین کی حق تلفی ہو جاتی اور زکوۃ کا مال غلط مصرف میں صرف ہو جاتا۔
مال غنیمت کے مسئلے کے بعد حضرت علی پر سب و شتم کا مسئلہ آتا ہے۔ اس موضوع پر مولانا مودودی نے خلافت و ملوکیت ص۱۷۴ پر دس سطروں میں جو کچھ لکھا ہے اس کا اقتباس دے کر عثمانی صاحب لکھتے ہیں:۔
"مولانا نے اس عبارت میں تین دعوے کیے ہیں،ایک یہ کہ حضرت معاویہؓ حضرت علی پر خود سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے،دوسرے یہ کہ ان کے تمام گورنر یہ حرکت کرتے تھے، تیسرے یہ کہ یہ گورنر حضرت معاویہ کے حکم سے ایسا کرتے تھے ۔ جہاں تک پہلے دعوے کا تعلق ہے، سو حضرت معاویہ کی طرف اس مکروہ بدعت کو منسوب کرنے کےلیےتین کتابوں کے پانچ حوالےپیش کیےگئےہیں۔ہم نے ان میں سےایک ایک حوالہ کو صرف مذکورہ صفحات ہی پر نہیں، بلکہ آس پاس بھی بنظر غائر دیکھا۔ چونکہ مولانا نے تصریح کے ساتھ لکھا ہے کہ وہ خود ( معاذ اللہ ) اس”انسانی اخلاق کےخلاف فعل کا ارتکاب کرتے تھے اس لیےہم نےسوچا کہ شاید مولانا نےایسی کوئی روایت کسی اور مقام پر دیکھ لی ہو اور اس کا حوالہ دینا بھول گئےہوں۔چنانچہ ہم نےمذکورہ تمام کتابوں کے متوقع مقامات پر دیر تک جستجو کی کہ شاید کوئی گری پڑی روایت ایسی مل جائےلیکن یقین فرمائیےکہ ایسی کوئی بات ہمیں کسی کتاب میں نہیں ملی ۔ پھر بعض ان تواریخ کی طرف بھی رجوع کیا جن کے مصنف شیعہ تھے ، مثلاً مروج الذہب، لیکن اس میں بھی ایسی کوئی بات نہیں ملی ۔
عثمانی صاحب نے یہاں اور آگے چل کر جس طرح سبت علی کےمعاملے میں حضرت معاویہؓ کی برات ثابت کرنے کی سعی کی ہےمیں اس کےجواب میں پوری ذمہ داری کےساتھ عرض کرتا ہوں کہ امیر معاویہ نےخلیفہ بننے سے پہلےبھی اور اس کے بعد بھی حضرت علی و اهل بیت النبی پر سب و شتم کی مہم خود اپنی سرپرستی میں با قاعدہ جاری کی تھی اور یہ بنو امیہ کےدور میں منبروں پر مسلسل جاری رہی،تا آنکه حضرت عمر بن عبدالعزیز نے آکر اسے مٹایا۔ یہ بات جس طرح تاریخ وحدیث کی کتابوں میں مذکور ہے وہ اسے قطعیت و تواتر کا درجہ دے رہی ہے۔ مولانا مودودی کے حوالوں میں کوئی خلا یا تشنہ پہلو تلاش کر کےاسے زور آزمائی کے لیے منتخب کر لینے سےحقیقی مسئلہ کالعدم نہیں ہو سکتا۔مجھےعثمانی صاحب کی شکایت اس حد تک تسلیم ہےکہ جن مقامات کے حوالے مولانا مودودی نے دیئےہیں، وہاں یہ بات صراحة مذکور نہیں کہ امیر معاویہ خود سب و شتم کرتے تھے بلکہ اتنی بات بیان کی گئی ہے کہ گورنروں کو اس کی ہدایت کی گئی تھی۔ لیکن انہی کتابوں کے بعض دوسرے مقامات پر امیر معاویہ کا اپنا یہی فعل منقول ہے، اس لیے مدیر موصوف اپنے الفاظ کی منظر کشی سے یہ جو تاثر دینا چاہتے ہیں کہ امیر معاویہ نے خود نہ بھی ایسا کیا، نہ کسی سے کرنے کو کہا، یہ تاثر بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے۔ موصوف کا بیان یہ ہےکہ انہوں نے مولانا کی ذکر کردہ کتابوں، بلکہ دوسری تاریخوں کےسارے مقامات پر جستجو کی لیکن ایسی کوئی بات کسی کتاب میں نہ ملی۔ میں سردست دوسری کتابوں سےنہیں، البدایہ والنہایہ ہی سے دو حوالے پیش کرتا ہوں جسے کھنگالنے کا انہوں نے دعویٰ کیا ہے:
قال أبو زرعة..... عن عبدالله بن ابي نجيح عن ابيه قال: لما حج معاوية اخذ بید سعد بن ابی وقاص و أدخله دار الندوة فأجلسه معه على سريره ثم ذكر على بن ابي طالب فوقع فيه. فقال:ادخلتنی دارک و اجلستنی علی سريرك ثم وقعت في على تشتمه والله لان يكون فى إحدى خلاله ثلاث أحب إلي من ان يكون لي ما طلعت عليه الشمس، ولان يكون لى ما قال له حين غزاتبوكاً "الا ترضى ان تكون منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى احب الي مما بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى احب الي مما طلعت عليه الشمس. ولان يكون لي ما قال له يوم خيبر : لاعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله. يفتح الله على يديه ليس بفرار احب الي مما طلعت عليه الشمس.ولان اکون صهره على ابنته ولى منها من الولد ماله احب الي من ان يكون لي ماطلعت عليه الشمس لا ادخل عليك دارًا بعد هذا اليوم، ثم نفض ردا ء ه ثم خرج (البدایہ والنہایہ جلدے ، ص ۳۴۱)
١- ہو سکتا ہےکہ مولانا مودوی کی سےکوئی حوالہ رہ گیا ہو اور یہ بھی ممکن ہےکہ مطالعہ کتب سے ایک مجموعی اور مشترک مضمون انہوں نےاخذ کر کےاپنےالفاظ میں بیان کر دیا ہو اور کچھ حوالےدےکر بقیہ کو قصد انظر انداز کر دیا ہو۔ بہر کیف البدایہ والنہایہ جس کے دو مقامات کا حوالہ مولانا نے درج کیا ہے، اس کتاب کے دیگر مقامات پر وہ بات مذکور ہے جسے میں نقل کر رہا ہوں اور جس سے محمد تقی صاحب نے انکار کیا ہے۔
ابوزر عددمشقی عبداللہ بن ابی بیج کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب معاویہؓ نے حج کیا تو انہوں نے سعد بن ابی وقاص کو ہاتھ سے پکڑا اور دارالندوه میں لے جا کر اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا۔پھر علی بن ابی طالب کا ذکر کرتے ہوئے ان کی عیب جوئی کی۔ حضرت سعد نے جواب دیا: ” آپ نے مجھے اپنے گھر میں داخل کیا، اپنے تخت پر بٹھایا، پھر آپ نے علی کے حق میں بدگوئی اور سب و شتم شروع کر دی۔ خدا کی قسم اگر مجھ میں علی کے تین خصائص وفضائل میں سے ایک بھی ہو تو وہ مجھے اس کائنات سے زیادہ عزیز ہو جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ کاش کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں یہ فرمایا ہوتا، جب کہ آنحضور غزوہ تبوک پر تشریف لے گئے ، تو آپ نے علی کے حق میں فرمایا:"یا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ میرے لیے تم ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کےلیےتھے،الا یہ کہ میرے بعد نبی نہیں۔ یہ ارشاد میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے محبوب تر ہے۔ پھر کاش میرے حق میں وہ بات ہوتی جو آنحضور نے خیبر کے روز علی کے حق میں فرمائی کہ میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت رکھتے ہیں۔اللہ اس کےہاتھ پر فتح دے گا،وہ بھاگنےوالا نہیں ہے۔یہ ارشاد بھی مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہے۔ اور کاش کہ مجھےبھی آنحضور کی دامادی کا شرف نصیب ہوتا اور آنحضور کی صاحبزادی سےمیرےہاں وہ اولاد ہوتی جو علی کو حاصل ہے۔ تو یہ بھی میرے لیے دنیا و فرا عزیز تر ہوتا۔ آج کےبعد میں آپ کے گھر میں کبھی داخل نہیں ہونگا۔ پھر حضرت سعد نے اپنی چادر بسکی اور وہاں سے نکل گئے"-
” جب مغیرہ بن شعبہ کو فہ کے والی تھے تو وہ خطبے میں حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں کی مدح کے بعد حضرت علی کی تنقیص کرتے تھے۔ اس پر حضرت حجر" غضبناک ہو کر احتجاج کرتے تھے۔“
ممکن ہے کہ مدیر" البلاغ "ان روایات کو بھی گری پڑی“ کہنے کی جرات کریں اور کتب رجال کی ورق گردانی شروع کر دیں،مگر میں انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان کےشواہد ومتابعات مسلم اور ترمذی،مقدمہ ابن ماجہ،فضل علی اور دیگر کتب حدیث میں بھی موجود ہیں۔ مسلم کی ایک حدیث یہ ہے:-
عن عامر بن سعد بن ابی وقاص عن ابيه قال امر معاوية بن ابي سفيان سعدًا فقال ما منعک ان تسب اباتراب فقال اماما ذكرت ثلاثاً لهنّ له رسول الله صلى الله عليه وسلّم فلن اسبه لان تكون لى واحدة منهن احب الي من حمر النعم......
"حضرت سعد بن ابی وقاص کے صاحبز دے عامر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ نے حضرت سعد کو حکم دیا اور پھر کہا کہ آپ کو کس چیز نے روکا ہے کہ آپ ابوتراب ( حضرت علیؓ) پر سب و شتم کریں؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب میں ان تین ارشادات کو یاد کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کےمتعلق فرمائےتھےتو میں هرگز ان پر سب و شتم نہیں کر سکتا۔ ان تین مناقب میں سے اگر ایک منقبت بھی میرے حق میں ہوتی تو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی ۔“
اس کے بعد حضرت سعد نے وہ تینوں مناقب بیان کیے جواد پر البدایہ کی روایت میں مذکور ہو چکے ہیں۔ بس اتنا فرق ہے کہ تیسرا ارشاد مسلم ( اور ترندی) میں یوں نقل ہے کہ جب یہ آیت مباہلہ اتری که فَقُلْ تَعَالَوْ نَدْعُ أَبْنَاءَ ا... تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ، فاطمہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلا یا اورفرمایا:
معنوی لحاظ سے دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نہیں ۔ بعض شارحین نے مسلم اور ترندی کی حدیث کے لفظ سب کی توجیہ یہ کی ہے کہ اس سے مراد بد گوئی نہیں، بلکہ امیر معاویہ کی مراد یہ تھی کہ آپ حضرت علیؓ کےاجتہادات و آراء کو غلط اور میرےاجتہاد کو صحیح کیوں نہیں کہتے۔لیکن یہ توجیہ بالکل بے محل ہے اور لغت یا سیاق کلام میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ اگر سوال محض اجتہاد کےصواب و خطا کا تھا، تو اس کے جواب میں حضرت علی کے فضائل و مناقب کے بیان کا کیا موقع تھا؟غلطی یا اجتہادی غلطی تو حضرت علیؓ سے ان فضائل کے باوجود صادر ہو سکتی تھی۔ پھر ابن کثیر کی روایت میں جو نقشہ بیان ہوا ہے کہ امیر معاویہ کی بات سن کر حضرت سعد ایسے برافروخته ہو گئےکہ دامن جھاڑ کر یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ میں آئندہ آپ کےگھر میں کبھی قدم نہیں رکھوں گا،یہ فعل صاف طور پر صورت حال کی سنگینی کو واضح کر رہا ہے۔ فتح الباری باب مناقب علی کی شرح میں مسند ابی یعلی کے حوالے سے حضرت سعد کے یہ الفاظ منقول ہیں:۔
ان روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ امیر معاویہ نے سب علی کا ایک عام طریقہ رائج کر رکھا تھا جتی کہ انہوں نے حضرت سعد جیسے جلیل القدر صحابی کو بھی اس کا حکم دیا،حلانکہ وہ عشرہ مبشرہ میں سےتھےاور دور فتن میں بالکل گوشہ نشین ہو گئےتھے۔جب انہوں نے اس فرمایش کی تعمیل نہ کی تو امیر معاویہ نے اس پر گرفت کرتےہوئےجواب طلبی کی اور حضرت سعد کو صاف بیانی سےکام لیتا پڑا۔ ممکن ہے کہ عثمانی صاحب یہاں نکتہ اٹھائیں کہ اس میں منبر کا ذکر نہیں ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ ایسا فعل جس کا دوسروں کو امر کیا جائےاور جس پر عمل نہ کرنےکی صورت میں باز پرس کی جائے کوئی معقول وجہ نہیں کہ اس کا ارتکاب علانیہ نہ ہو۔ پھر بالفرض اگر یہ فعل منبر پر کھڑےہو کر نہیں بلکہ سر پر بیٹھ کر کیا جائےتو کیا قباحت میں کوئی کمی واقع ہو جاتی ہے؟ بلکہ ایک طرح سےپرائیویٹ مجلس میں سب و شتم اپنےساتھ انتیاب کو بھی جمع کر لیتا ہے۔۔
١- اس حدیث اور لفظ سب کےمتعلق شاہ عبدالعزیز صاحب کا ایک نواب فتوای عزیزیہ مترجم (شائع کردہ سعید کمپنے ص۴۱۳) میں موجود ہے جس میں فرماتے ہیں: "بہتر یہی ہے کہ اس لفظ سے اس کا ظاہر معنی سمجھا جائے ۔غایۃ الامر اس کا یہی ہوگا کہ ارتکاب ، اس فعل قبیح کا یعنی سب یا حکم بہت حضرت معاویت بہادر ہونا لازم آئے گا۔ تو یہ کوئی اول امر قبیح نہیں ہے جو اسلام میں ہوا ہے ، اس واسطے کہ درجہ سب کا قتل و قتال سے بہت کم ہے، چنانچہ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ سباب المومن فسوق وتناله کفر یعنی برا کہنا مومن کو فرق ہے اور اس کے ساتھ قبال کرنا کفر ہے ۔ اور جب قتال اور حکم تال کا صادر ہونا یقینی ہے، اس سے چارہ نہیں تو بہتر یہی ہے کہ ان کو مرتکب کبیرہ کا جاننا چاہیے۔ لیکن زبان طعن دلعن بند رکھنا چاہیے۔ اس طور سے کہنا چاہیے جیسا صحابہ سےان کی شان میں کہا جاتا ہے جس سےزنا اور شرب خمر سرزد ہوا رضی اللہ عنہم اجمعین۔ اور ہر جگہ خطاء اجتهادی کو دل دنیا بیبا کی سے خالی نہیں ۔ انھی ( ترجمہ باقی تو صحیح ہے،البتہ بیبا کی سماعت کا ترجمہ کیا ہے۔ بیباکی کے بجائے فیاضی یا دریادلی مناسب تھا۔ غ)
سب علی کو بالکل ایک غیر واقعی مفروضہ ثابت کرنے کے لیے عثمانی صاحب نے جو دور از کار دلائل دیے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہےکہ حضرت علی کےقتل پر حضرت معاویہ رونے لگے اور ان کی اہلیہ نےکہا کہ آپ روتے کیوں ہیں جب کہ زندگی میں آپ ان سےلڑتےرہےاس سے عثمانی صاحب نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ دیکھو، آپ کی اہلیہ نےیہ کہا کہ آپ لڑتے رہے،یہ نہیں کہا کہ سب و شتم کی بوچھاڑ کرتےرہے،اس سے ثابت ہوا کہ آپ سب علی نہیں کرتےتھے۔سبحان اللہ، کیا نرالا استدلال ہے! اس کا جواب تو وہی ہے جو شاہ عبد العزیز صاحب نے دیا ہے کہ خلیفہ راشد و برحق کے خلاف بغی وقتال تو سباب سے بڑھ کر اور شدید تر ہے۔ ایسی صورت میں امیر معاویہ کی اہلیہ بحتر مہ قتال کو چھوڑ کر سب و شتم کا ذکر کیا کرتیں۔باقی مجھےاس رونےپر بھی ایک شعر یاد آ گیا جو حضرت أبو الطفيل عامر بن واثله نے حضرت معاویہؓ اور حضرت علی ہی کے معاملے کی مثال دیتے ہوئے پڑھا تھا اور وہ یہ ہے:۔
واقعہ یہ ہے کہ حضرت معاویہ کے رونے سے تو دراصل یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کا ضمیر خود جانتا تھا کہ خلیفہ وقت سے لڑ کر انہوں نے کسی خطائے عظیم کا ارتکاب کیا تھا، اور ان کا دل خوب جانتا تھا کہ بغاوت کے جرم سے قطع نظر، علی جیسے شخص کے مقابلہ میں بجائے خود ان کا دعوائےخلافت کس قدر بے جا تھا۔ اس رونے سے یہ دلیل نہیں لائی جاسکتی کہ وہ ان کی مخالفت میں سرگرم نہ تھے، بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس انسان سے وہ لڑتے رہے، اس کے فضل و کمال کا انہیں خود اعتراف تھا۔
پھر عثمانی صاحب نےایک واقعہ نقل کیا ہےکہ بسر بن ارطاۃ نےحضرت معاویه اور حضرت زید بن عمر بن خطاب کی موجودگی میں، حضرت علی پر سب و شتم کیا تو حضرت معاویہ نے فرمایا: ” تم علی کو گالی دیتے ہو حالانکہ وہ ان (حضرت زید) کےدادا ہیں؟ عجیب بات ہے اس واقعہ سے بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہےکہ امیر معاویہ اور آپ کےگورنر سب علی کےالزام سے بری الذمه ہیں،حالانکہ اس واقعہ سے تو یہ ثبوت مل رہا ہےکہ گورنروں میں اتنی جرات اور بیا کی پیدا ہوگئی تھی کہ وہ امیر معاویہ کےسامنےاور علی کےعزیزوں کی موجودگی میں بھی حضرت علیؓ کو گالیاں دینے سےنہیں چوکتے تھے۔ بُسر بن ارطا قا مدینے میں امیر معاویہ کا گورنر تھا۔ اس نے جب یہ حرکت کی تو بلاشبہ پہلے آپ نے اسے ٹوکا۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ اسے البلاغ میں نقل نہیں کیا گیا۔ امام طبری فرماتےہیں:
١- یہ واقعہ اور شعر أسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلدہ میں حضرت ابوالطفیل کے حالات میں درج ہے۔
حالانکہ حضرت زید کا راضی ہونا کیا ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گئےہوں گے۔ ایک شخص آپ کے سامنے ایک وفات یافتہ صحابی کی شان میں گستاخی کرے اور آپ اس کے فعل پر تو ناراض نہ ہوں محض اس بات پر گرفت کریں کہ اس شخص نے وفات یافته بزرگ کی اولاد کی موجودگی میں یہ حرکت کی تھی۔ پھر اس دوہری بیہودگی پر سزا کوئی نہیں، بلکہ دونوں میں راضی نامہ کرا دیا! یہ ہے صفائی کا وہ بیان جسے عثمانی صاحب بڑے اطمینان کے ساتھ حضرت معاویہؓ کی طرف سے پیش فرما رہے ہیں۔ شاید آج بھی اگر کوئی شخص کسی سیڈ کے سامنے حضرت علی کو گالی دے تو عثمانی صاحب صرف دونوں کے درمیان راضی نامہ کرا دینےکو کافی سمجھیں گےبُسر کا مختلف مواقع پر حضرت علی پر سب و شتم کرنا ایک مسلمہ حقیقت ہےجسے متعدد تاریخوں میں بیان کیا گیا ہے۔مثلاً تاریخ طبری جلد سه ص ۱۲۸، تاریخ الکامل جلد ۳ ص ۳۰۷ پر مذکور ہے کہ بسر نے بصرے میں منبر پر خطبے کے دوران میں حضرت علی پر سب و شتم کیا۔
پھر مولانا محمد تقی صاحب لکھتےہیں کہ مولانا مودودی کا دعوی اس وقت ثابت ہو سکتا ہے جب وہ حضرت معاویہ کے تمام گورنروں کی ایک فہرست جمع کر کے ہر ایک کے بارے میں ثابت فرمائیں کہ اس نے انفرادی یا اجتماعی طور پر حضرت علیؓ کو گالیاں دی تھیں اور امیر معاویہ نےایسا کرنےکا حکم دیا تھا۔میری طرف سے اس منطق کا جواب یہ ہےکہ جب مختلف و متنوع روایات یہ بات بیان کر رہی ہوں کہ امیر معاویہ خود بھی ایسا کرتے تھے،ان کے بعض گورنر بھی ایسا کرتے تھے اور بعض گورنروں کو ایسا کرنے کا حکم امیر معاویہ نے دیا تھا، تو یہ ساری تاریخی روایتیں مل جل کر اس امر کا کافی دوافر ثبوت بہم پہنچا دیتی ہیں کہ یہ سلسلہ واقعات ایک طےشدہ پالیسی کی مختلف کڑیاں تھیں۔کسی ایک یا دو عاملوں کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اپنی اپیج سے اس امر عظیم کا ارتکاب کرتے اور عامتہ المسلمین یا خود امیر معاویہ اس سے اغماض برتتے۔
پھر امیر معاویہ کا حضرت سعد سےان الفاظ میں باز پرس کرنا کہ ” آپ کو کس بات نےست علی سے روک رکھا ہےصاف بتا رہا ہے کہ خلوت و جلوت میں اس رسم کا چلن عام ہو چکا تھا اور حضرت سعد کا اس ڈگر پر نہ چلنا معمول کے خلاف ہونے کی وجہ سے کھٹک رہا تھا۔ مولانا مودودی نے جو روایات نقل کی ہیں ان کے متعلق مدیر البلاغ لکھتے ہیں کہ ان کو تھوڑی دیر کےلیےدرست مان لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ دو گورنروں پر یہ الزام لگایا جاسکتا ہے کہ وہ حضرت علیؓ کو بُرا بھلا کہا کرتےتھے،اس سے یہ کیسےلازم آگیا کہ حضرت معاویہ کے تمام گورنر خود آپ کے حکم سے ایسا کرتے تھے۔ حالانکہ ایک آدھ گورنز تک اگر یہ فعل محدود ہوتا تو دوصورتوں سے خالی نہ ہوتا۔ اگر خود امیر معاویہ یا دوسرے گورنراس فعل کو نہ کرتے اور صرف ایک یا دو گورنروں کوحکم ہوتا تو وہ جواب میں ضرور کہتے کہ آخر آپ خود جب یہ کام نہیں کرتے اور کسی دوسرے سے بھی اس کا مطالبہ نہیں ہے تو ہم سےاس کی توقع کیوں کی جاتی ہے؟ اور اگر امیر معاویہ کی مرضی کےخلاف کوئی گورنر ذاتی کریا پرخاش کی بنا پر ایسا کرتا تو اس کو ضرور سرزنش کی جاتی۔ لیکن جن گورنروں کا واقعہ مذکور ہے، ان کےبارے میں ایسی کوئی تصریح منقول نہیں کہ انہوں نے کوئی ایسی معذرت پیش کی ہو یا کسی بد گوئی کرنے والے گورنر سے کوئی احتساب کیا گیا ہو۔
امیر معاویہ کے عہد میں سب علی کو رواج دینے کا ثبوت تاریخ کے علاوہ مزید حدیث کی کتابوں سے بھی ملتا ہے۔مثال کےطور پر مُسند احمد میں ام المومنین حضرت ام سلمہ کی متعدد روایات موجود ہیں کہ آپ نے بعض اصحاب سے کہا:
"کیا علی پر سب و شتم نہیں کیا جا تا اور کیا اس طرح ان پر (یعنی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ) جو علی سے محبت رکھتے تھے سب وشتم نہیں ہوتا؟ میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی سے محبت رکھتےتھے۔“
ان احادیث میں منبروں پر جس سب و شتم کا ذکر ہے وہ بالیقین عہدِ معاویہ ہی سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ حضرت ام سلمہ کی وفات امیر معاویہ کی وفات سے ایک سال پہلے ۵۹ھ میں ہو چکی تھی۔ ابوداؤد، کتاب السنتہ ، باب الخلفاء میں ایک حدیث حضرت سعید بن زید سے مروی ہے کہ وہ کوفہ کی مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے آکر حضرت علی پر لگا تار سب و شتم شروع کر دیا (سب و ست ) ۔ مسند احمد ، مرویات سعید بن زید میں تصریح ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کوفہ کےگورنر وہاں.موجود تھےاور ان کے سامنے یہ سب ہو رہا تھا۔ حضرت سعید نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں کیا دیکھ نہیں رہا کہ اصحاب رسول پر آپ کے روبرو یہ سب وشتم ہورہا ہے اور آپ اس پر کوئی نکیر وانسداد نہیں کرتے ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے (اور آنحضور کی جانب ایسا قول منسوب نہیں کر سکتا جس پر آپ کل مجھے سے باز پرس کریں) کہ آپ فرماتے تھے کہ ابو بکر عمر عثمان علی جنت میں ہوں گے ۔ پھر حضرت سعید نے عشرہ مبشرہ کے اسماء گرامی گنوائے جن میں سے ایک آپ خود بھی تھے۔ یہ حدیث مسند احمد کے علاوہ تاریخ بخاری، اور ابن ماجہ کے ابواب،فضائل اصحاب میں بھی موجود ہے جیسا کہ علامہ احمدمحمد شاکر نے اپنے بخشی نسخے کی جلد ۳ ص ۱۰۸ پر واضح کیا ہے۔ پھر مسند احمد کے اس نسخے کے ص ۱۱۰ اور ۱۲ پر مزید تین احادیث درج ہیں جن میں ہے کہ:
تو حضرت سعید بن زید نے انہیں وہیں ٹو کا اور فرمایا کہ دس اصحاب عشرہ مبشرہ میں سے ایک علی ہیں اور حیرت ہے کہ ان پر سب و شتم ہو رہا ہے استاذ شاکر جو محدثانہ طریقہ کے مطابق ہر حدیث کی سند پر بحث و تنقید کرتے ہیں ، انہوں نے ان سب احادیث کو صحیح الاسناد قرار دیا ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت سعید ابن زید تو خیر نهایت جلیل القدر صحابی تھے اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے،اس لیےان کے منصب و مرتبہ کا یہ ناگزیر تقاضا تھا کہ وہ اس مکروه رسم کےخلاف صدائے احتجاج بلند فرماتے۔ لیکن یہ خیال کرنا بالکل غلط اور تاریخی تصریحات کے قطعی خلاف ہے کہ دوسرے سب لوگوں نے اس چیز کوٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا تھا۔ مگر میں بوجوہ مزید تفصیلات ترک کر رہا ہوں۔ اہل عقل و درایت کے لیے اتنی بحث بھی کفایت کرتی ہے۔
حضرت علی پر سب و شتم کا یہ سلسلہ اگر حضرت علیؓ کی زندگی تک محدود رہتا اور آپ کی شہادت کے بعد ختم ہو جاتا تب بھی یہ کہا جا سکتا تھا کہ چلئے ، جب آپ اپنے رب کے حضور میں پہنچ گئے تو ساری تلخیاں بھلا دی گئیں ۔ مگر افسوس کہ یہ بری رسم امیر معاویہ کے عہد خلافت اور اس کے بعد تک جاری رہی۔ چنانچہ حضرت سعد کا جو واقعہ حدیث و تاریخ سےاوپر نقل ہوا ہےوہ بھی حضرت علیؓ کی وفات کے بعد کا ہے،کیونکہ جنگ و جدال کےزمانےمیں حضرت سعد سب سے الگ تھلگ تحقیق میں انزوا پذیر ہو گئےتھےاور اس زمانے میں حضرت معاویہؓ کو بھی حرمین میں آنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ البتہ حضرت حسنؓ سے صلح ہو جانے کے بعد امیر معاویہ حج کےلیےآئےاور مدینہ بھی تشریف لے گئے۔ اس وقت حضرت سعد سے بھی ملاقات ہوئی اور باہم سوال و جواب کی نوبت آئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب علی دنیا سےاٹھ گئےاور تلوار میں نیام میں آگئیں،اس وقت بھی جراحات اللسان کا انسداد نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہےکہ جب امیر معاویہ اور حضرت حسنؓ کےمابین مصالحت ہوئی ہے اور صلح نامه لکھا جا رہا تھا تو حضرت حسنؓ نے ایک شرط یہ بھی لکھوائی کہ ہمارےسامنے برسر عام ہمارے والد محترم پر سب و شتم نہ ہو۔ چنانچہ امام ابن جریر اپنی تاریخ (جلد۴،ص ۱۲۲) میں فرماتے ہیں:
١-عشرہ مبشرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےوہ دس صحابہ کبار ہیں جنہیں آپ نےجنت کی خصوصی بشارت دی تھی ۔ان میں سےحضرت سعد ان سات صحابہ کرام میں شامل ہیں جو سب سے پہلےاسلام لائےاور آنحضور کےہمراہ ہر غزوے میں شامل رہے۔ اسی طرح حضرت سعید بن زید بھی نہایت قدیم الاسلام صحابی اور مہاجرین اولین میں سےہیں ۔ آپ حضرت عمر کےچازاد بھائی اور بہنوئی بھی تھےاور انہی کی تبلیغی مساعی سے حضرت عمر داخل اسلام ہوئے۔
امام ذہبی العمر ، جلد اول ص ۴۸ پر درج کرتے ہیں کہ حضرت حسنؓ نے امیر معاویہؓ کو ان لا يُسب عليا بحضرته.
"اور یہ کہ حضرت علی پر سب وشتم نہ کیا جائے جب کہ وہ (حضرت حسنؓ) اسے سن رہےہوں۔ جب امیر معاویہ نے یہ شرط مان لی تو حضرت حسنؓ امارت سے دست بردار ہو گئے۔“
ابن اثیر نے الکامل میں جلد ۳، ص ۲۰۳ پر جو مزید تفصیل درج کی ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت حسن نے امیر معاویہ سے مطالبہ کیا کہ:
"امیر معاویہ، حضرت علی پر سب وشتم نہ کریں۔ لیکن امیر معاویہ نے شتم علی سے رُکنے کا مطالبہ تسلیم نہ کیا۔ پھر حضرت حسن نے یہ مطالبہ کیا کہ م از کم امیر معاویہ ایسی حالت ہی میں سب و شتم نہ کریں جبکہ وہ (حسن) سن رہے ہوں، امیر معاویہ نے یہ بات مان لی لیکن انہوں نے یہ شرط بھی پوری نہ کی۔“
ابن اثیر کی روایت زیادہ جامع اور مفصل بھی ہے اور اس سے ابن کثیر اورطبری کی روایت سمجھنے میں مدد بھی ملتی ہے۔ طبری اور ابن کثیر مجملاً یہ بیان کرتے ہیں کہ صلحنامہ کی شرط یہ تھی کہ امام حسن کو سنا کر حضرت علی پر سب و شتم نہ ہو۔ اور ابن اثیر نے پوری تفصیل یہ بیان کی ہے کہ پہلے تو امام حسن نے اتنی بات منوانے پر اکتفا کیا کہ ان کے سامنے ہی کم سے کم ان کے والد ماجد کی برائی نہ ہو۔ امیر معاویہ نے اس شرط کو صلحانا مےمیں شامل کر لیا مگر اس کی پابندی نہ کی ۔محمدتقی صاحب جس طرح سب علی کو ایک غیر واقعی مفروضه بنا کر پیش کر رہے ہیں، اگر فی الحقیقت اسی طرح یہ ایک خیالی داستان تھی یا ایک آدھ فرد سے احیانا انفرادی طور پر سب وشتم کا صدور ہوا تھا تو صلحنامے کی دستاویز لکھتے وقت حضرت حسن کی طرف سے اس مطالبہ کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ اور اگر یہ بات خلاف واقعہ تھی تو کیوں نہ امیر معاویہ نے پلٹ کر فر مایا کہ ہم میں سے کون ہے جو اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ اکثر مورخین ومحدثین نے سب علی کا ذکر اسی انداز سے کیا ہے گویا کہ یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے جس میں اختلاف نہیں ۔ مثال کے طور پر ابن حجر فتح الباری، کتاب المناقب میں حضرت علی کے مناقب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ثم كان من امر على ما كان فنجمت طائفة أخرى حاربوه ثم اشتد الخطب فتنقصوه واتخذ ولعنه على المنابر سنّة ووافقهم الخوارج على بغضب .......
"پھر حضرت علیؓ کے معاملہ میں پیش آیا جو کچھ کہ پیش آیا۔ پھر ایک دوسرا گروہ اٹھا جس نےآپ سے لڑائی کی۔ پھر ہنگامہ شدت اختیار کر گیا اور ان محاربین نے حضرت علی کی عیب جوئی کی اور منبروں پر آپ کو لعن طعن کرنا اپنا طریقہ اور قاعدہ بنا لیا اور خوارج نے بغض علی کے باعث ان کی همنوایی کی۔“
محاربین کے اس گروہ سے مراد صاف طور پر امیر معاویہ اور آپ کے ساتھی اور عاملین ہیں جو اس مہم میں سرگرم تھے۔ اب ان تمام حقایق و شواهد سے آنکھیں بند کر کے ست علی کا سرے سےانکار کر دینا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ ایک مرتبہ مرزا حیرت دہلوی نے حادثہ کربلا کا انکار اس دلیل کی بنا پر کر دیا تھا کہ امت محمدیہ کا کوئی فرد اپنے نبی کے نواسے کو قتل نہیں کر سکتا۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس مسئلےپر ضروری بحث ہو چکی اور ست علی کےخلاف واقعہ اور غیر ممکن الوقوع ہونے کےحق میں جو نقلی و عقلی استدلال عثمانی صاحب نےکیا ہے،اس کا جواب دیا جا چکا ہے۔ تاہم یہ مناسب ہے کہ مولانا مودودی کی پیش کردہ روایات پر جو تنقید کی گئی ہے، اس پر بھی کچھ کلام کیا جائے۔ ابن جریر اور ابن اثیر کی جو روایات مولانا نےنقل کی ہیں،ان میں صراحت کےساتھ یہ بات مذکور ہےکہ امیر معاویہ نےحضرت مغیرہ کو کوفےکا گورنر بناتے وقت ہدایت کی کہ علی کی مذمت کرنےاور انہیں گالی دینےسےپرہیز نہ کرنا، عثمانی صاحب جواب میں فرماتےہیں کہ اس روایت سے آگے یہ الفاظ بھی ہیں کہ حضرت مغیرہ صرف حضرت عثمان کےقاتلوں کےلیےبددعا کرتے تھے ۔ لیکن غور کیا جائے تو یہ بات صاف ہے کہ امیر معاویہ نے واضح الفاظ میں شتم علی کا حکم دیا۔اب اگر مغیره بن شعبہ نے اس کی تعمیل نہیں کی تو قابل ستائش ان کا فعل ہےنہ کہ امیر معاویہ کا۔ میں سمجھتا ہوں کہ سنن ابی داؤد اور مسند احمد وغیرہ کی روایات کے بعد اس امر میں کوئی شک نہیں رہتا کہ حضرت مغیرہ خطبوں میں سب و شتم کرتے تھے۔حضرت مغیرہ نے اگر کبھی نام لے کر حضرت علی پر لعن طعن نہیں کی تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ آپ ایک مدبر انسان تھے۔آپ ہر مرتبہ نام لے کر برائی نہیں کرتے ہوں گےبلکہ بعض اوقات گول مول انداز میں امیر معاویہؓ کے حکم کی تعمیل کرتےہوں گےتاکہ وہ بھی راضی رہیں اور کونہ،جو شیعان علی کا گڑھ تھا، وہاں کی گورنری میں ان کی عزت و آبرو بھی خطرے میں نہ پڑے۔ امیر معاویہ اور آپ کے طرفدار بر ملا حضرت علی کو قاتل عثمان کہتےتھےاس لیےاس پس منظر میں جب قاتلین عثمان پر بددعا کی جائےگی تو آپ سےآپ حضرت علی پر بھی چوٹ مقصود ہوگی اور بسا اوقات تعریض و تصریح سے زیادہ کارگر اور مفید مطلب ہوتی ہے۔
اس کے بعد محد تقی صاحب نے دوسری اہم ترین بات کے نام سے روایوں کا ذکر چھیڑ دیا ہےکہ اس روایت کے راوی شیعہ، کذاب اور مجہول ہیں۔ عجیب بات ہے کہ جب سے خلافت و ملوکیت لکھی گئی ہے ہر شخص آپ رجال کے دفتر لے کر بیٹھ گیا ہے اور ایک ایک روایت کے راویوں کے حالات سنا رہا ہے کہ وہ ایسا تھا اور ایسا تھا۔ حتی کہ یہ لئے اتنی بڑھ گئی ہے کہ جن واقعات وروایات کو بعض حضرات خود اپنی کتابوں میں بلا تنقید نقل کر چکے ہیں، اب خلافت و ملوکیت میں انہی روایات کو دیکھ کر وہی حضرات ان میں کیڑے نکال رہے ہیں۔ یہ مسئلہ اور یہ صورتِ حال متعدد پہلوؤں سےمحتاج غور و فکر ہے۔ اس پر مفصل بحث تو مستقل مضمون ہی میں کی جاسکتی ہے، تاہم یہاں چند اشارات پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ اولین سوال جو اس سلسلے میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ رادی اگر ایسے ہی جھوٹے، لپائیے اور جلے بھنے شیعہ تھے کہ ان کی تاریخی روایات بھی غلط اور ناقبل اعتماد تھیں تو ان جھوٹی روایات کو ہمارےان مؤرخین نےکیوں اخذ کیا جو اہلِ سنت کےائمہ مؤرخین شمار ہوتے ہیں؟اس کےجواب میں مدیر البلاغ “اور دوسرے حضرات کہتےہیں که ان مؤرخین نےہر روایت کی سند بیان کر کے یہ ذمہ داری ہم پر ڈال دی ہے کہ ہم جھوٹ سچ کا فیصلہ خود کرتےرہیں۔ یہ جواب متعدد وجوہ سےغلط اور نا قابل قبول ہے۔
پہلی وجہ یہ کہ یہ مؤرخین خود اعلیٰ پائے کے محدث اور فن رجال کے ماہر تھے۔ وہ ان راویوں کے حالات ہم سے ہزار درجہ بہتر جانتے تھے، بلکہ انہی سے بعض کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ فلاں رادی شیعہ تھا یاسی تھا، ثقہ تھا یا ضعیف تھا۔ ان مؤرخین سے یہ ارشاد نبوی بھی مخفی نہ تھا کہ :
اب اگر ان راویوں کے بیان کرده تاریخی واقعات سب کے سب جھوٹ کے پلندے تھے تو محض سند بیان کر کے یہ محدثین و مؤرخین جھوٹ کی اشاعت کےگناہ سےبری الذمہ کیسےہو جائیں گے؟ انہوں نے تو ان جھوٹی خبروں کے سلسلہ اسناد میں خود اپنے آپ کو بھی شامل کر لیا۔ اگر معاملہ پانچ ، دس یا سو پچاس روایات کا ہوتا تو بات دوسری تھی، لیکن ان رایوں کے بیانات سے تو ہماری تاریخیں لبریز ہیں۔ ان روایات کو جھوٹا قرار دینے کے بعد آخر ہم اپنےمؤرخین کی ثقاہت و دیانت کو کیسے بچا سکتے ہیں؟ ان مؤرخین کو چاہیے تھا کہ اول تو وہ تاریخ لکھنےہی نہ بیٹھتے اور اس کار بے خیر میں اپنی عمریں نہ کھپاتے۔ اور بالفرض اگر انہیں یہ کام کرنا ہی تھا، تو پھر چاہیے تھا کہ جس طرح حدیث کے صحاح اور موضعات کے مجموعے الگ الگ تیار کیے گئے تھے اسی طرح صحیح اور مکذوب تاریخی روایات کے مجموعےبھی وہ الگ الگ مرتب کر دیئے۔ ایسا ممکن نہیں تھا تو ہر روایت کے آخر میں اس کے صحیح یا سقیم ہونے کی وضاحت کر دی جاتی یا کم از کم کتاب کے شروع یا آخر ہی میں یہ تصریح کردی جاتی کہ اس میں فلاں فلاں راویوں کی روائیشیں ساقط الاعتبار ہیں۔ اگر ابتدائی مؤرخین نے یہ کام نہیں کیا تھا تو اس کے بعد جب یہ تاریخیں پوری امت میں شائع و ذائع ہوئیں اور دوسرے اہل علم تک پہنچیں ، تو ان سے یہ توقع ہو سکتی تھی کہ اگر ان کے نزدیک ہی یہ سب جھوٹ کے طومار تھے تو وہی ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے اور مسلمانوں کی ایک نسل سےدوسری نسل تک انہیں منتقل نہ ہونےدیتے۔ ابن جریر کے خلاف تشیع کا الزام عاید کیا جاتا ہے،اگر چہ بالکل بےجاہی ہے۔تاہم اگر وہ شیعہ تھےتو کیا ابوحنیفہ دینوری، ابن اثیر، ابن کثیر، ذہبی، ابن عبدالبر، ابن حجر سبھی شیعہ تھے کہ وہ سب کم و بیش وہی روایات نقل کرتے چلے آئے جن کے خلافت و ملوکیت میں درج ہونے پر اتنی ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے؟ یہ بات بالکل مضحکہ خیز ہے کہ ایک طرف انہوں نے جھوٹی روایات سے اپنی کتابوں کا پیٹ بھر دیا اور دوسری طرف سند ساتھ لگا کر یہ کام دوسروں کے سپر د کر دیا کہ وہ جھوٹ اور سچ کے درمیان خود ہی امتیاز کرتے رہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہےکہ جو شخص کتب تواریخ کا مطالعہ کرنا چاہے، وہ پہلے اپنے پاس لسان المیزان، تہذیب التہذیب،کتاب الجرح والتعدیل وغیرہ کی تنخیم مجلدات رکھےاور پھر ہر روایت کےرجال کی چھان بین ان کتابوں میں کرتا رہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتب رجال تحقیق حدیث کے لیے مدون کی گئی ہیں اور ان کی تجریحات کو تاریخی روایات اور ان کے راویوں پر چسپاں کرنا اصولاً صحیح نہیں۔
پھر یہ دعوی بھی خلاف واقعہ ہے کہ ان میں سے ہر مؤرخ نے اپنی تاریخ میں سند بیان کرنےکا التزام و اهتمام کیا ہے۔ ایک طرف ابن جریر ہیں جو ہر روایت کی سند دیتے ہیں اور دوسری طرف ابوحنیفه دنیوری ہیں جو ابن جریر کے ہم عصر بلکہ ان سے متقدم ہیں ،وہ اپنی تاریخ "الاخبـــــار الطوال “ میں سند کا شاذ و نادر ہی ذکر کرتے ہیں بلکہ قال یا قالوا کہہ کر واقعہ بیان کرتے ہیں اور ان کی تاریخ نهایت مستند اور اہم ترین ماخذ تاریخ شمار کی جاتی ہےپھر مؤرخین متاخرین میں سےبہت سےایسےہیں ( مثلاً ابن اثیر الجزری، ابن خلدون ) جو سند کو بالعموم حذف کر دیتےہیں۔اب ان کی روایات کی سندکس طرح جانچی جائےگی ؟ یا ان کتابوں کو دریا برد کر دیا جائے گا؟ میں یہاں ایک مثال پیش کر کےوضاحت مدعا کرتا ہوں۔مولانا مودودی کی نقل کردہ زیر بحث روایت کا ایک راوی ابو مخنف ہے جسے ابن عدی کے حوالے سے محمد تقی صاحب نے جلا بھنا شیعہ قرار دیا ہے۔مولانا مودودی کے دوسرے بہت سے ناقدین نےبھی اس راوی کو بے تحاشا گالیاں دی ہیں۔اب حال یہ ہےکہ ابن جریر کی دو رفتن کی تاریخ کا تقریباً اسی نوے فی صد حصہ اسی راوی کی روایات پر مشتمل ہے اور اگر یہ سب کذب و افترا ہے تو پھر تاریخ طبری کو ہاتھ لگانا بھی گناہ عظیم ہونا چاہیے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ابن حجر، ابن اثیر، ابن خلدون سب نے اپنی تواریخ کا ماخذ تاریخ طبری ہی کو قرار دیا ہے۔ ابن کثیر جو شیعوں کے جانی دشمن تھے ، وہ بھی کہتےہیں کہ میں نےشیعی روایات سےبچتے ہوئےابن جریر سےروایات لی ہیں۔وہ اپنی تاریخ البدایه جلد ۷، ص۳۱۰ پر فرماتے ہیں: ذکر ابن جرير عن ابی مخنف لوط بن يحي. وهو احد ائمة هذا الشأن. آگےچل کراسی کتاب کی جلد ۸ جس ۷۲ اپر جہاں وہ حضرت حسین کی شہادت کے حالات بیان کرتے ہیں تو پہلےیہ عنوان قائم کرتے ہیں:
١- ابن جریر کا سن ولادت ۲۲۴ھ اور سن وفات ۳۱۰ھ ہے جب کہ ابوحنیفه دینوری ٣١٠ھ یا چند سال قبل پیدا ہوئے اور ۲۸۲ھ میں فوت ہوئے ۔
اس عنوان کے فورا بعد ابن کثیر لکھتے ہیں . قال ابو مخنف. بعض مقامات پر ابومخنف رحمه اللہ بھی لکھا ہے۔ کیا اس کا صاف مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ابو مخنف کو جھوٹا اور محترق شیعی سمجھنےکےبجائے اسے فن تاریخ کا ایک امام قرار دے رہے ہیں؟ اسی طرح واقدی کی بعض روایات کے"خلافت و ملوکیت" میں آجانے پر واقدی کو سلواتیں سنائی جارہی ہیں ، حالانکہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی ، مدارج النبوۃ ، جلد دوم ص ۵۶ پر فرماتے ہیں موسیٰ بن عقبة،ابن اسحاق، الواقدی از اکابر علمائےسیر اند مولانا انور شاہ صاحب کی رائے مولانا مودودی نقل کر ہی چکے ہیں ، ابن ماجہ میں بھی واقدی سے روایت موجود ہے۔ امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں واقدی کی توثیق و تضعیف میں متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ایک مقام پر وہ مجاہد بن موسیٰ کا قول نقل کرتے ہیں کہ میں نے کسی سے روایت نہیں لکھی جو واقدی سے زیادہ حافظ ہو ۔ “ اس پر امام ذہبی اپنی رائے کا اضافہ کرتےہوئے فرماتے ہیں:
میں محمد تقی صاحب اور دوسرے ناقدین کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ مولا نا مودودی کی ضد میں تاریخ اور اس کے راویوں کے معاملے میں وہ انداز اختیار نہ کریں جو پرویز صاحب نے حدیث اور رواۃ حدیث کے بارے میں اختیار کیا ہے اور منکرین حدیث کی طرح منکرینِ تاریخ اسلام کےگروہ کی داغ بیل نہ ڈالیں۔ محمد تقی صاحب ذرا اپنے والد ماجد کی کتاب ”شہید کربلا‘ کا مطالعہ کر کے دیکھیں کہ اس میں ابو مخنف اور دوسرے مجروح راویوں کی روایات درج ہیں یا نہیں جن کےمتعلق محمود عباسی نے اپنی کتاب تحقیق مزید ص ۲۳۸ پر لکھا ہے کہ مفتی صاحب نے اس میں دیو مالائی طرز کی باتیں لکھ دیں ہیں۔ وہی چلتی ہوئی باتیں جو ابو مخنف جیسے گذابین نےامت کی گمراہی کے لیےوضع کی ہیں کتاب میں درج فرمادی ہیں۔‘“ کیا مفتی صاحب کے فرزند ارجمند اس سے کچھ عبرت و نصیحت حاصل کریں گے؟ ۔
آخر میں کیا قسمة ضیزی ہے کہ ایک ہی راوی کی روایت اگر مولانا مفت محمد شفیع صاحب بیاں فرمائیں تو سر آنکھوں پر اور اگر مولانا مودودی بیان کریں تو انہیں رجوع اور توبه کےمشورےدیئےجائیں؟ اس کےجواب میں محمد تقی صاحب شاید یہی کہیں گےکہ مولانا مودودی کی روایت سےامیر معاویہ پر سب وشتم کا الزام آتا ہے۔ مگر یہ عجیب لطیفہ ہے کہ اسی روایت کے آخری حصے سےآپ خود حضرت معاویہؓ کی اسی الزام برات ثابت کر نےکی کوشش فرمارہےہیں اور کہہ رہےہیں کہ امیر معاویہ نےصرف قاتلین عثمان پر لعنت کی ہدایت کی تھی۔ سوال پیدا ہوتا ہےکہ اگر اس روایت کےراوی بغض معاویہ میں جل بھن کر خاکستر ہو چکےتھےتو انہوں نے روایت کے آخری حصہ میں وہ بات کیسے بیان کردی جو آپ کے خیال میں پہلے حصے کی تردید کر رہی ہے اور الزام تم کو کمزور بنارہی ہے؟ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ راوی از اول تا آخر ایسی روایت گھڑتے جس سے آپ براتِ معاویہ کا کوئی پہلو نہ نکال سکتے_١ ان راویوں نےتو بڑا کرم کیا کہ حضرت مغیرہ کے فعل سب کو اس واشگاف انداز میں بیان نہ کیا جس طرح ابوداؤد اور مسند احمد کے ثقہ اور سنی راویوں نے بیان کیا ہے۔
اب میں مولانا مودودی کی نقل کرده دوسری روایت کو لیتا ہوں جس میں مذکور ہے کہ مروان جب امیر معاویہ کی طرف سے مدینے کا گورنر تھا تو وہ ہر جمعہ کو حضرت حسنؓ کے سامنے منبر پر سب علی کا ارتکاب کرتا تھا۔ محمد تقی صاحب لکھتے ہیں کہ "یہ روایت البدایہ والنہایہ کے اصل مصری نسخےمیں موجود نہیں ہے۔ مزید یہ کہ اس میں لکھا ہےکہ مروان کا انتقال طائف میں ہوا _٢،حالانکہ اس کی وفات مدینہ یا دمشق میں ہوئی اور اس روایت کے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو الفاظ منسوب ہیں وہ بہت مشکوک ہیں ۔ البدایہ کا مطبوعہ ایڈیشن جو ۱۹۶۶ء میں مکتبۃ المعارف، بیروت اور مکتبہ النصر، الریاض نے باہمی اشتراک سے چھاپا ہے، اس وقت میرے سامنے ہے۔ اس کے آغاز میں تصریح ہے کہ یہ مدرسہ احمدیہ، حلب، میں موجود قلمی نسخےکےمطابق طبع ہوا ہےاور بہت سےمحققین نےاس کا مقابلہ دوسرے نسخوں سےکر لیا ہے۔ اس نسخے میں مولانا مودودی کی نقل کردہ روایت موجود ہے۔مطبعہ السعادہ،مصر میں جو نسخہ چھپا تھا، اس میں بھی یہ روایت مطبوعہ موجود ہے،البتہ حاشیےمیں درج ہےکہ ایک مصری مخطوطےمیں یہ روایت چھوٹ گئی ہےلیکن کسی ایک قلمی نسخےمیں کسی عبارت کا ساقط ہو جانا اُسے مشکوک نہیں بنا دیتا جب کہ دوسرے مخطوطہ و مطبوعہ نسخوں میں وہ موجود ہو۔پھر ان دونوں نسخوں میں یہ روایت بھی درج ہےکہ مــات مــروان بدمشق ویسےیہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ مردان دمشق یا طائف یا مدینےمیں مرا ہو تو اس کا اثر حضرت علیؓ کو گالیاں دینے کے الزام پر کیا پڑ سکتا ہے۔
١- مولانا مودودی کے تمام ناقدین کا یہی حال ہے کہ وہ تردید میں جو روایات پیش کرتے ہیں وہ بھی بالعموم انہی مجروح رادیوں کی ہوتی ہیں ۔ اس وقت یہ حضرات یا تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں مؤرخ یا راوی شیعہ ہے مگر یہ معتبر ہےاس لیے اس کی روایت قابل قبول ہے۔ یا رادی کے ذکر کو حذف کر دیتے ہیں ۔ اگر یہ راوی جھوٹے ہیں تو ان کی ہر روایت مکذوب اور نا قابل استناد ہونی چاہیے۔
٢- روایت میں مروان کا نہیں بلکہ اس کے باپ حکم کا طائف میں مرناند کور ہے۔ عبارت یہ ہے وقد كان ابوه الحكم من اكبر اعداء النبي وانما اسلم يوم الفتح وقدم المدينة ثم طرده النبي صلى الله عليه وسلم إلى الطائف ومات بها .
مروان کا باپ حکم نبی صلی الہ عالیہ وسلم کے سب سے بڑے دشمنوں میں سے تھا۔ وہ فتح مکہ کے روز اسلام لایا اور مدینے پہنچا۔ پھر نبی صلی اللہ مایہ وسلم نے ان طائف کی طرف جا روشن کر دیا اور وہ وہیں مرا "
تیسری وجہ جو مدیر ”البلاغ کے بقول مولانا مودودی کی منقولہ روایت کو مشکوک بناتی ہےوہ یہ ہے کہ اس میں مروان اور مروان کےوالد حکم کا ملعون علی لسان النبوی ہونا درج ہےجی ہاں،آج کل چونکہ بعض لوگوں نےمروان کو حضرت مروان رضی اللہ عنہ بنا دیا ہے، اس وجہ سے شاید ایسی روایت مشتبہ معلوم ہوتی ہوگی جس میں مروان پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت کا ذکر ہو۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ ایسی متعدد روایات حدیث و تاریخ میں موجود ہیں ۔ مثال کے طور پر مستدرک حاکم جلد ۴، ص ۲۸۱ پر حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت مروی ہے کہ ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم لعن الحكم وولده. امام حاکم نے اس مضمون کی اور بھی روایات بیان کی ہیں مگر یہ روایت جو حضرت ابن زبیر کی ہے اس کے متعلق امام ذہبی نے بھی فرمایا ہے کہ یہ مسیح حدیث ہے۔
عثمانی صاحب نے بخاری کی ایک روایت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ "مروان کے سب و شتم کی حقیقت بس اتنی تھی کہ وہ حضرت علیؓ کو ابوتراب کہتا تھا جس کے معنی ہیں مٹی کا باپ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محبت میں اس نام سےپکارتے تھے،مروان زیادہ سےزیادہ اسےاس کےحقیقی معنوں میں استعمال کرتا ہوگا۔ لیکن عثمانی صاحب کا یہ خیال غلط ہے کہ مروان ابوتر اب سے بس مٹی کا باپ، مراد لیتا تھا۔عربی میں ابو کا لفظ بطور مضاف صرف باپ کےمعنی میں نہیں آتا ’والے“کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ابو ہریرہ کے معنی بھی بلی کے باپ نہیں بلکہ بلی والےکے ہیں۔ مروان طنز اس لفظ کو خاک آلود کے معنی میں استعمال کرتا تھا۔ بعض دوسری روایات سےمعلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کے حامیوں کو بھی امیر معاویہ کے گورنر اور ساتھی ترابیہ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت حجر بن عدی کے خلاف جب کوفے کا گورنر زیاد بغاوت کا مقدمہ بنا رہا تھا تو اس نے جو خط امیر معاویہ کو اس سلسلے میں لکھا اسے تاریخ طبری ، جلد ۴، ص ۲۰۲ پر نقل کیا گیا ہے، اس میں یہ الفاظ موجود ہیں:
ظاہر ہے کہ زیاد کا یہ خط جو بالآخر حجر بن عدی کے قتل کا محضر نامہ ثابت ہوا، اس میں ان کےلیے ترابیہ کا لفظ ( اور وہ بھی سبائیہ کے ساتھ ) نہ تعریفی جملہ ہوسکتا ہے، نہ اس سے فقط لغوی معنی مراد ہو سکتے ہیں بلکہ اسےیقینا تحقیر آمیز مفہوم میں استعمال کیا گیا ہےجس کا مطلب خاک آلودہ اور خائب و خاسر ہونا ہے۔١۔
١-یہاں یہ واقعہ بھی قابل ذکر ہےکہ حضرت مُجر بن عدی اور ان کےساتھیوں کو جب موت کی سزاسنائی گئی تو ان کےسامنےامیر معاویه کےاینچی نےیہ پیش کش کی کہ اگر وہ علی پر لعنت و تبر آگریں تو ان کی جان بخشی ہو سکتی ہے۔مگر ان سب نےانکار کر دیا اور سزائےموت نافذ کر دی گئی۔اس سےمعلوم ہوا کہ امیر معاویہ کے خلاف بغاوت کے جرم سے زیادہ سنگین جرم ان کا ست علی سے انکار تھا۔مولانا مودودی نےآگے چل کر "آزادی رائے کے خیال کےخاتمہ "کےزیر عنوان اس واقعہ کو بیان کیا ہےاور تاریخی کتابوں کےحوالےدیئےہیں مگر اس واقعہ کا حوالہ سب وشتم کے ضمن میں نہیں دیا، اگر چہ اس واقعہ سے بھی سب علی پر لوگوں کو مجبور کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔
مردان اور بنو مروان کا یہ توہین آمیز رویہ اہلِ بیت ہی تک محدود نہ تھا۔وہ حضرت اسماء کو بھی ( دو کمر بندوں والی ) ذات النطاقین کے نام سے اس لیے پکارتے تھے کہ اس سے ان کی تذلیل و تخفیف ہو۔ اس کے جواب میں حضرت اسماء یہی فرماتی تھیں کہ ان لوگوں کو کیا معلوم کہ یہ لفظ (ذات النطاقین ) تو وہ لقب ہے جو مجھے اس لیے عطا کیا گیا تھا کہ میں نے اپنا کمر بند پھاڑ کر دوحصوں میں تقسیم کر دیا تھا کہ میں ایک ٹکڑے سےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا توشہ دان ڈھانپ دوں اور یہ اس وقت کی بات ہےجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے والد حضرت ابوبکر ہجرت کر کے مکہ چھوڑ رہےتھے۔ یہ قصہ صحاح کی متعدد احادیث میں مروی ہے۔
مدیر "البلاغ" نے چونکہ سب علی والے الزام کی بڑے زور شور سے تردید کی ہے اور لکھا ہےکہ "خدا ہی جانتا ہے کہ مولانا مودودی نےحضرت معاویہ پر یہ الزام کس بنیاد پر کس دل سےعائد کیا ہے۔"اس لیےمیں چاہتا ہوں کہ سب سےآخر میں مولانا اشرف علی صاحب تهانوی کا ایک ارشاد بھی آپ کی تصنیف ”حکایات الاولیاء سےنقل کر دوں۔ اس کتاب کے ص۱۲۴ پرلکھنو کے ایک وعظ کے دوران میں شاہ اسمعیل شہید اور ایک شیعہ سبحان علی خاں کا ایک سوال و جواب یوں منقول ہے:
"اثنائے وعظ میں ایک موقع پر حضرت علیؓ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کا ذکر آیا تو سبحان علی خاں پھر بولا اور اس نے حضرت علی کی شان میں زبانِ مدح اور امیر معاویہ نیز دوسرےصحابہ کی شان میں زبانِ تنقیص کھولی تو مولانا شہید پھر کھڑے ہو گئے اور مولانا عبدالحی صاحب کو ( وعظ سے) روک کر سبحان علی خاں سے کہا کہ بتاؤ حضرت علی کے دربار میں امیر معاویہ پر تبر اہوتا تھا؟ اس نے کہا نہیں ، حضرت علی کا دربار ہجو گوئی سے پاک تھا۔ پھر پوچھا کہ حضرت معاویہ کےیہاں حضرت علی پر تبر ہوتا تھا؟ کہا بے شک ہوتا تھا۔اس پر مولانا شہید نےفرمایا اہل سنت الحمد للہ حضرت علی کےمقلد ہیں اور روافض حضرت معاویہ کے۔“
اب اگر میں عثمانی صاحب کے الفاظ مستعار لے لوں تو مجھے بھی یہی کہنا چاہیے کہ خدا ہی جانتا ہے کہ شاہ اسماعیل شہید نےحضرت معاویہ پر یہ الزام کس بنیاد پر کس دل سےعاید کیا،اور پھر مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کے لیے یہ کیونکر مکن ہوا کہ اس الزام کو اپنے قلم سے نقل فرما کر اس کی تائید و توثیق کردیں؟
حقیقت یہ ہےکہ حضرت امیر معاویہ کےجن اقدامات کے حق میں کتاب الله ، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت خلافت راشدہ سےکوئی دلیل یا سند پیش نہیں کی جاسکتی،ان افعال کو خلاف کتاب و سنت کہنےیا ان پر بدعت کا اطلاق کرنےمیں اہل سنت کےہاں کوئی امر مانع نہیں ہےکیونکہ اہل سنت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کوان معنوں میںمعصوم نہیں سجھتےہیں جس طرح اہل تشیع اپنےاماموں کو معصوم عن الصغائر والکبائر سمجھتے ہیں۔مولانا بدر عالم صاحب مدنی رفیق ندوۃ المصنفین علمائے دیوبند ہیں اہم مقام رکھتےہیں۔ وہ اپنی کتاب ترجمان السنه جلد سوم ص ۴۲۶ پر الرسول العظیم ،عصمته رایه صلی اللہ عا وسلم کے زیر عنوان لکھتے ہیں:
"رسول کے فیصلے کے سوا کسی کےفیصلےکو الہی فیصلہ اور قضاء الہی نہیں کہا جاسکتا اور نہ رسول کےفیصلہ کے علاوہ کسی اور بشر کا فیصلہ نکتہ چینی سےبالا تر ہو سکتا ہے اور اس لیےرسول کےعلاوہ ہر انسان کے فیصلہ پر دل و جان سے راضی ہونا لازم قرار نہیں دیا جا سکتا۔“
یہ وہی بات ہے جو جماعت اسلامی کے دستور میں درج ہے کہ انسان رسول خدا کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے، کسی کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھے اور اس پر ناحق ناروا ہنگامہ آرائی ہوتی رہتی ہے۔
میں نےضروری آثار شواهد کےساتھ اس امر کا پورا ثبوت فراہم کردیا تھا کہ سب علی کی مہم کاآغاز امیر معاویہؓ نےکیا تھا اور حضرت عمر بن عبد العزیز کےعہد تک یہ پورےزور شور سےجاری رہی تھی۔مگر مجھے سخت حیرت ہے کہ مدیر البلاغ نے پھر میری باتوں کو غلط قرار دینے کی کوشش کی ہےاور میں بڑے دکھ اور افسوس کے ساتھ دوبارہ مجبوراً اس تکلیف دہ موضوع پر کلام کر رہا ہوں۔ انہوں نے میری تردید کرتے ہوئے پہلے اس روایت کا حوالہ دیا ہےجو میں نےالبدایہ سےنقل کی تھی اور جس میں یہ مذکور ہےکہ امیر معاویہ نےحضرت سعد ابن ابی وقاص کےسامنےحضرت علی کےحق میں بدگویی اور سب و شتم کا آغاز کر دیا۔ اس کے بعد مسلم کی جو روایت میں نے درج کی ہے، اسے دوبارہ نقل کیا ہے جو یوں ہے:
"حضرت معاویہؓ نے حضرت سعدؓ کو حکم دیا، پھر کہا کہ آپ کو کس چیز نے روکا ہے کہ آپ ابوتراب ( حضرت علیؓ ) پر سب و شتم کریں۔ انہوں نے جواب دیا کہ جب میں ان تین ارشادات کو یاد کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت علیؓ کے متعلق فرمائےتھےتو میں هرگز ان پر سب و شتم نہیں کر سکتا ۔“
اس پر مولانا عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ سب سے پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس ترجمہ کو درست مان لیا جائے ، تب بھی اس کی روشنی میں اس قول کی دلیل کیسے مل گئی کہ " حضرت معاویہ خطبوں میں برسر منبر حضرت علی پر سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے۔“ بہتر ہوتا کہ عثمانی صاحب میرے غلط ترجمہ کے ساتھ اپنا درست ترجمہ بھی درج فرما دیتےاس کےبغیر آخر میری غلطی کی اصلاح کیسےہو سکتی ہے؟ پھر میری اس ایک پیش کردہ روایت پر یہ سوال کتنا عجیب وغریب ہے کہ اس میں خطبوں میں بر سر منبر سب و شتم کا ثبوت کیسے ملتا ہے؟ کیا میں نے سب وشتم کے ثبوت میں بس یہی ایک یا دو روایتیں نقل کی تھیں؟ میں نے تو فتح الباری، مسند احمد ، ابوداؤد، ابن ماجہ، تاریخ طبری، البدایہ، الکامل، اور دیگر کتب کے متعدد حوالوں سےیہ بات نہایت صراحت و وضاحت سےثابت کر دی تھی کہ حضرت معاویہ اور آپ کے گورنر برسیر منبر سب و شتم کرتے تھے۔ اس کے بعد بھی شتماگر دلائل و شواہد کا مطالبہ بدستور قائم ہے تو میں اس موضوع پر ایک پوری کتاب لکھ سکتا ہوں ۔ مگر میں یہاں دوبارہ عرض کرتا ہوں کہ اس سب و شتم کے نقوش اوراق تاریخ پر اتنے جلی اور نمایاں عنوان کےساتھ ثبت ہیں کہ ان کے لیے کسی حوالے کا اندراج تکلف سے کم نہیں ہے۔ مؤرخین اسے ایک مسلّمہ واقعہ کے طور پر بیان کرتے ہیں اور مولانا مودودی یا میرے لیے یہ ضروری ہی نہ تھا کہ اس " کے لیے کوئی حوالہ دیتے۔ جو پہلے دیئے گئے یا اب دیئے جائیں گے وہ منتر عا دیئے جائیں گے۔متعد داہل علم نے اس سب و شتم کی رسم کو بطور ایک بدیہی واقعہ کےبیان کیا ہے اور بعض نے اس کےلیے کسی حوالے کی سرے سے ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ میں یہاں اس کی چند مثالیں پیش کیے دیتا ہوں۔ مولانا شاہ معین الدین احمد صاحب ندوی اپنی کتاب ” تاریخ اسلام جلد دوم طبع پنجم ص ۱۳ پر لکھتے ہیں:
"امیر معاویہ نے اپنے زمانے میں برسر منبر حضرت علی پر سب و شتم کی مذموم رسم جاری کی تھی اور ان کے تمام عتمال اس رسم کو ادا کرتے تھے۔مغیرہ بن شعبہ بڑی خوبیوں کے بزرگ تھے لیکن امیر معاویہ کی تقلید میں یہ بھی اس مذموم بدعت سےنہ بیچ سکے۔حجر بن عدی اور ان کی جماعت کو قدرةً اس سےتکلیف پہنچتی تھی مغیرہ بن شعبہ کے بعد زیاد کے زمانہ میں بھی یہ رسم جاری رہی ۔“
مشہور مصری عالم و مؤرخ استاذ محمد ابوزہرہ، اپنی تصنیف ” تاریخ المذاهب الاسلامية الجزء ،الاول ص ۳۸ مطبعه دار الفکر العربی میں لکھتے ہیں:
وقد كان العصر الأموي محرّضا على المغالاة فی تقدیر علی رضی الله عنه لان معاوية سنّ سنة سيئة في عهده وفى من خلفه من الأمويين حتى عهد عمر بن عبدالعزيز وتلك السنة هي لعن إمام الهدى علی ابن ابی طالب رضی الله عنه عقب تمام خطبة ولقد استنكر بقية الصحابة ونهوا معاوية وولاته عن ذلك حتى لقد كتبت أم سلمة زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم اليه كتابا تنهاه وتقول فيه انكم تلعنون الله ورسوله على منابرهم و ذالک انهم تلفنون علی ابن ابی طالب ومن احبه واشهدان رسول الله صلى الله عليه وسلم احبه.
"اور بنوامیہ کا عہد حضرت علیؓ کی قدرو منزلت اور تعظیم و تکریم میں مزید اضافےکا موجب ثابت ہوا، کیونکہ امیر معاویہ نےاپنےزمانےمیں ایک بری سنت قائم کی جو ان کےبعد کےجانشینوں نےبھی حضرت عمر بن عبدالعزیز کےعہد تک جاری رکھی۔یہ سنت_١ یہ تھی کہ امام مہدی علی رضی اللہ عنہ پر خطبہ جمعہ کےآخر میں لعنت کی جاتی تھی۔دوسرے صحابہ کرام نےاس پر نکیر کی اور امیر معاویہ اور آپ کےگورنروں کو اس سے منع کیا حتی کہ ام المومنین حضرت ام سلمہ نے امیر معاویہؓ کی طرف خط لکھا جس میں اس فعل سے باز رہنے کو کہا اور اس میں لکھا کہ تم لوگ اللہ اور اس کےرسول پر بر سر منبر لعن طعن کرتے ہو اور یہ اس طرح کہ علی ابن ابی طالب پر اور جنہوں نے ان سےمحبت کی ان پر لعنت بھیجتے ہو اور میں اس کی گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی محبوب تھے۔“
مشہور مؤرخ ابوالفداء عمادالدین اسماعیل شافعی (وفات:۷۳۲ھ ) جو حماہ (شام) کے والی تھے اور الملک الموید کے لقب سے معروف تھے، وہ اپنی تاریخ المختصر فی اخبار البشر میں امیر معاویہ کےحالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
١- یہاں محمد ابوزهره نےبھی سنت کا لفظ استعمال کیا ہےاور سب علی کے ضمن میں جو اقوال میں نے حافظ ابن حجر عسقلانی اور ابن حجر مکی کے نقل کیے ہیں انہوں نے بھی اس طریقے کو سنت لکھا ہے ۔ اب یہ کیسی اور کس کی سنت ہے،اس کو ہر شخص بآسانی خود سمجھ سکتا ہے۔
آگے چل کر ابوالفداء عمر بن عبدالعزیز کے سوانخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔
كان خلفاء بني امية يسبون عليا رضى الله عنه من سنة إحدى وأربعين وهي السنة التي خلع الحسن فيها نفسه من الخلافة الى اول ست تمن وتسعين فلما ولی عمر ابطل دلک. (المختصر، الجزء الثاني ص ۱۲۰)
خلفائےبنی امیه نے ٤١ ھ سے حضرت علی پر سب و شتم، آغاز کیا اور یہ وہ سال ہے جب حضرت حسن خلافت سے دست بردار ہوئے۔یہ سلسلہ 99 ھ کے اوائل تک جاری رہا۔ جب حضرت نمر بن عبد العزیز خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس کا خاتمہ کیا۔“
امام ابن حزم اندلس اپنی تصنیف ” جوامع السیرۃ“ کےساتھ ملحقہ رسالہ "اسماء الخلفاء والولاة" میں بنو عباس کا ذکر کرتے ہوئے پہلے تو ان کی مذمت کرتے ہیں ، پھر فرماتے ہیں:
الا انهم لم يعلنوا بسب أحد من الصحابة رضوان الله عليهم بخلاف ما كان بنو أمية يستعملون من لعن على بن ابى طالب رضوان الله عليه ولعن بنيه الطاهرين بني الزهراء وكلّهم كان على هذا حاشا عمر بن عبدالعزيز ويزيد بن الوليد رحمهما الله تعالى، فإنهما لم يستجيز ذلك.
" مگر بنو عباس نےصحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سےکسی پر علانیه سب و شتم نہیں کیا۔ اس کےبرعکس بنوامیہ نے ایسے گورنر مقرر کیے جو علی بن ابی طالب اور آپ کے صاحب زادگان بنی فاطمته الزهراء پر لعنت کرتے تھے۔ان سب کا یہی حال تھا سوائےحضرت عمر بن عبدالعزیز اور یزید بن ولید کے کہ ان دونوں نے اس لعن طعن کی اجازت نہیں دی۔“
( جوامع المسير قلا بن حزم تحقیق و رابعه احمد شاکر دار المعارف مصر ص ۳۷۶)
ڈاکٹر عمر فروخ ایک مشہور اور کثیر التصنیف عالم ہیں مجمع اللغۃ العربیہ قاہرہ، الجمع العلمی العربی دمشق، جمعیت بحوث الاسلامیه ہند وغیرہ کےرکن ہیں۔انہوں نےحضرت عمر بن عبدالعزیز کی سیرت "الخلیفۃ" الزاہد کے نام سے لکھی ہے۔ اس میں ایک مستقل فصل "بدعت معاویہ" کے زیر عنوان ہے۔ اس بدعت کو وہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
و کاست سرت فى البلدان بدعة وتحت فكشفت عن وجهها ثم سارت تطأ كل المنابر وتصرخ فى كل الآذان ولم تستح فصعدت في مسجد رسول الله وبين أهله و على منبره كان ابتدعها معاوية بن ابي سفيان واصدر امره الى الولاة ان يجعلوها تقليدا في خطب الجمعة.
" عہد بنی امیہ میں ایک بدعت دیار وامصار میں رائج ہوئی ، یہ ایک شرمناک بدعت تھی جس نےسراٹھایا اور چارسو پھیل گئی جتی کہ اس نے ہرمبر کو پامال کیا اور ہر شخص کی سمع خراشی کی۔ یہ بدعت مسجد نبوی منبر رسول اور اہل بیت پر حملہ آور ہونے سے بھی باز نہ رہ سکی۔ اس کا آغاز امیر معاویہ نے کیا تھا اور اپنے گورنروں کے نام فرمان جاری کیا تھا کہ وہ اسے جمعہ کے خطبوں میں مستقل طور پر اختیار کریں۔“
مصنف موصوف نے تین صفحات میں سب و شتم کی اس مہم کو تفصیلاً بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ حضرت معاویہؓ کا گمان یہ تھا کہ اس طرح ان کی سلطنت مستحکم ہو گی اور اہل بیت کی عظمت وعقیدت ختم ہوگی۔ پھر لکھتے ہیں:
"امیر معاویہ کا یہ خیال غلط ثابت ہوا اور انہوں نے اس بردباری سے تجاوز کیا جس کی وہ شہرت رکھتے تھے۔ اس بدعت کا نتیجہ ان کے گمان اور رائے کے خلاف برآمد ہوا۔“
شیخ محمد بن احمد سفارینی حنبلی اپنی کتاب لوامع الانوار البهیه و سواطع الاسرار الاثریه کے ص ۳۳۹ پر فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے مناقب و فضائل احادیث میں اس وجہ سے بکثرت مروی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کواس عظیم اختلاف و ابتلاء پر مطلع فرما دیا تھا جس سےحضرت علیؓ آگے چل کر دو چار ہونے والے تھے، اس لیے آنحضور نے امت کی نصح و خیر خواہی کے پیش نظر فضائل علی کو بیان فرما دیا کہ امت ان سے تمسک کر کے نجات حاصل کرے، چنانچہ جب بنوامیہ نے منابر پر حضرت علی کی سب و تنقیص کی مہم جلائی اور خوارج نےبھی ان کی همنوایی کی،اس وقت محدثین کرام نےآنحضور کے ارشاد فرمودہ مناقب علی کو کھول کھول کر بیان کیا اور حمایت حق کا سامان فراهم کیا_١
میں نے البدایہ کی روایت نقل کی تھی جس میں یہ ذکر تھا کہ امیر معاویہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کے سامنے نجی مجلس میں حضرت علیؓ کو برا بھلا کہا تھا اور لکھا تھا کہ ایک طرح سے پرائیویٹ مجلس میں سب و شتم اپنے ساتھ انتیاب کو بھی جمع کر لیتا ہے۔ اس سے بھی مدیر البلاغ نے دو نکتےپیدا کر لیے ہیں۔ ایک یہ کہ منبر پر سب و شتم انتیاب کیوں نہیں، دوسرا نکتہ یہ ہے کہ تم نے گویا پرائیوٹ مجلس میں برائی کرنے کو زیادہ مذموم سمجھا ، حالانکہ مولانا مودودی تو یہ کہتے ہیں کہ جمعہ کےخطبے میں یہ فعل زیادہ گھناؤنا ہے۔اگر اس طرح کےلاطائل معارضات کا جواب بھی ضروری ہے،تو میرا جواب یہ ہے کہ حضرت علی جب کوفے میں تھے تو شام کےمنبروں پر انہیں کو سنا اور حضرت علی کی وفات کے بعد ان پر سب و شتم کرنا یہ بلا شبہ غیبت تھا اور اس حد تک مجھے عثمانی صاحب کےنکتہ اولی سےپورا اتفاق ہے۔لیکن جیسا کہ میں ابن حجر مکی کے حوالے سےآیندہ نقل کروں گا اور مولانا مودودی البدایہ وغیرہ کےحوالےسےلکھ چکےہیں، جب امیر معاویہ کا گورنر مردان حضرات حسنین کےرو در روانہیں اور ان کےوالد ماجد کو خطبہ جمعہ میں گالیاں دیتا تھا،اسےغیبت کہنا تو مشکل ہے،البتہ اس میں غیبت کا قبیح پہلو اگر مفقود ہے، تو اس کے بجائے یہ مذموم پہلو موجود ہے کہ خطبہ جمعہ کوائی آلودگی سے ملوث کیا جائے۔ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ان دونوں میں سے زیادہ برا کام کونسا ہے۔ میرے نزدیک دونوں ہی اپنی شناعت میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں۔ اگر آپ کے خیال میں میری بات اور مولانا مودودی کی بات میں تفاوت و اختلاف ہے تو چلیے یوں ہی سہی۔ میں نے یہ کب کہا ہے کہ مجھے مولانا کی ہر بات سے کلی اتفاق ہے۔
١- یہ تقریبا وہی مضمون ہے جو حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں درج کیا ہے اور جسے پہلے نقل کیا جا چکا ہے۔ حضرت علی پر سب و شتم کےثبوت میں متعدد دیگر اقوال آگئے عدالت صحابہ " اور "مروان اور اس کا باپ کے زیر عنوان مضامین میں بھی ملیں گے ۔ بعض حوالے آگےباب ہفتم میں درج ہیں جن میں سے ایک خود محمد تقی صاحب کے بھائی کی مطبوعہ کتاب کا ہے۔
میں نے کتب حدیث میں سےسب علی کا جو قطعی ثبوت پیش کیا تھا،اس سےصریح انکار کی گنجائش چونکہ نہیں ہے، اس لیے مدیر البلاغ“ نے اس کے بالواسطه انکار کے لیے استدلال کا ایک دوسرا پہلو اختیار کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اردو میں لفظ سب و شتم جس مفہوم میں استعمال ہوتا ہے ، عربی میں نہیں ہوتا۔ عربی میں معمولی سے اعتراض یا تغلیط کو بھی لفظ ” سب سے تعبیر کر دیتے ہیں۔ اپنےاس دعوے کی دلیل میں انہوں نے صحیح مسلم کی ایک حدیث پیش کی ہےجس میں دو صاحبان کےمتعلق ذکر ہےکہ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سب فرمایا۔ مدیر البلاغ کا کہنا ہے کہ یہاں مطلب معاذ اللہ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آپ نے گالیاں دیں۔ یہاں سب کا لفظ غلطی پر ٹوکنے کےمعنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس لیے امیر معاویہ کے متعلق جو سب کا لفظ آیا ہے، اس کا حاصل حضرت علی کے طرز عمل پر اعتراض کرنا، اسے غلط ٹھہرانا ہے۔ اس سے زاید کچھ نہیں۔
لیکن مدیر البلاغ کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ اردو میں لفظ سب و شتم جن معنوں میں آتا ہے،عربی میں نہیں آتا۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں الفاظ عربی ، فارسی اور اردو میں ایک ہی مفہوم کے حامل ہیں۔ البتہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ان الفاظ کا مطلب ہر حال میں گالی دینا ہی ہو،لیکن یہ بات بھی بالکل غلط ہے کہ عربی میں معمولی سے اعتراض یا غلطی کی نشان دہی کو بھی ”سب“کے لفظ سے تعبیر کر دیا جاتا ہے۔ عربی میں بھی یہ لفظ یا تو بدگوئی اور گالم گلوچ کے لیے آتا ہے، یا پھر طعن و تشنیع ، زجر و توبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ کے لیے آتا ہے۔نہا یہ ابن اثیر، قاموس، الصحاح وغیرہ میں اس کے یہی معانی بیان کیے گئے ہیں۔ لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ سب وشتم کا انداز اور اس کے اسلوب والفاظ ہر حال میں ایک نہیں ہو سکتے۔ اس میں فریقین کی ذات اور حیثیت جس مرتبه و منزلت کی حاصل ہوں گی،سب وشتم کے الفاظ بھی اسی کے موافق ہوں گے اور بسا اوقات ایک ہی قسم کے الفاظ ایک موقع ومحل میں سب و شتم پر محمول ہوں گے اور دوسرے مقام پر نہ ہوں گےاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس تو بہت اعلیٰ وارفع ہےہم تو حضرت امیر معاویہ اورحضرت مغیرہ بن شع کےبارےمیں بھی یہ گمان نہیں کر سکتےکہ وہ خدا نخواستہ کسی کو ماں بہن کی گالیاں دیتے ہوں گےجیسی کہ اجاد قسم کے لوگ دیتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ فسبهـمـا النبي صلى الله علی وسلم سےمراد یہ ہےکہ آنحضور نے بس غلطی پر ٹوک دیا۔یہ غزوہ تبوک کا واقعہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح حکم دے دیا تھا کہ کل تم لوگ انشاء اللہ ایک چشمے پر اتر و گے تو جو شخص ہم سے پہلے وہاں جا پہنچےوہ پانی کو بالکل نہ چھوئےاس کے باوجود ایسا ہوا کہ دو صاحبوں نےجا کر پانی استعمال کر لیا۔ ظاہر ہےکہ اس صریح حکم کی خلاف ورزی آنحضور کےلیےسخت موجب کوفت ہوئی ہوگی اور آپ نےخلاف معمول ہی سخت الفاظ میں ڈانٹا ہو گا جنہیں حضرت معاذ نےاس طرح روایت کیا کہ:۔
یہاں اس بات کو واضح کر دینا بھی مناسب ہے کہ دوسرے لوگوں کے سب و شتم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سب میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اس فعل کا صد دراگر آنحضرت کی ذات مبارک سے بقائے بشریت ہو تو اسے اس شخص کے حق میں اللہ نے موجب رحمت و برکت بنادیا ہے جو خطاء اس کا مورد بن گیا ہو، یہ خاصیت کسی دوسرے شخص کو حاصل نہیں ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم ہی کا ایک باب ہے جس کا عنوان ہے:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس پر لعنت یا سب یا بددعا کریں اور وہ اس کا سزاوار نہ ہوتو یہ چیز اس کے حق میں اجر و برکت اور رحمت بن جائےگی۔"
اس کے بعد حدیث ہے کہ دو آدمیوں نے آنحضور سے کوئی ایسی بات کہی کہ آپ سخت ناراض ہوئے اور آپ نے ان پر لعنت اور سب کا اظہار فرمایا،( فلعـنـهـمـا و ستها ) اور باہر نکال دیا۔حضرت عائشہ نےاس پر کہا یا رسول اللہ کسی اور کو خیر سےحصہ ملےتو ملےمگر یہ دونوں تو بالکل اس سے محروم ہو گئے۔ آنحضور نے فرمایا: کس طرح؟“ وہ بولیں ” آپ نے ان پر سب اور لعنت بھیجی ۔ آنحضور نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اپنے رب سے یہ بات ٹھہرالی ہے کہ اے اللہ، میں ایک بشر ہوں، میں جس مسلمان پر بھی سب یا لعنت کروں ، بددعا کروں، وہ اس کے لیے باعث اجر وتزکیہ ہو)۔ دوسری حدیث میں ہے کہ آنحضور نے فرمایا اے اللہ، میں بشر ہوں،اگر کسی مومن کو ایذ ادوں ، اس پر شتم کروں لعنت کروں یا کوڑے ماروں ، تو اس کے لیے قیامت کےروز اس فعل کو رحمت و تقرب کا ذریعہ بنا ۔ معلوم ہوا کہ جو شخص سب و شتم یا لعنت کا مستحق ہو، اس پر لعنت و نفرین کرنے میں مضایقہ نہیں، لیکن لعنت یا سب و شتم کے عربی یا اردو مفہوم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عائشہ جو روایت کر رہی ہیں کہ آنحضور نے دو اشخاص پر لعنت کی اور انہیں نکال دیا (اخرجهما ) تو اس پر لعنت کا مفہوم وہی ہےجو ایک اردو دان سمجھتا ہے،بلکہ اس کےلیےلفظ بھی لعنت ہی کا استعمال فرمایا ہوگا۔ جہاں تک سب یا برا بھلا کہنے کا تعلق ہے،اس کی تشریح ہمیں بہت سی احادیث میں مل جاتی ہے،مثال کے طور پر آنحضور جب کسی پر ناراض ہوتےتھے تو فرماتےتھے :" تیری ماں تجھے روئے،تجھے رونے والیاں روئیں، تجھ میں جاہلیت ہے، تیری تباہی ہو، تیری ناک یا چہرہ خاک آلود ہو ۔ بعض اوقات اس سے زیادہ سخت الفاظ فرماتے ، مگر اللہ تعالیٰ نے آنحضور کی لعنت اور بددعا کو (اگر وہ ایسے مسلمان کے خلاف صادر ہو جو اس کا مستحق نہ ہو ) اس شخص کے حق میں رحمت بنا دیا۔ اس سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ لعنت اور بددعا،بالخصوص اسے عام طریقہ دو تیرہ بنالینا جائز ہے یا عربی زبان میں سب ولعنت کے معنی اردو کے معانی سے مختلف ہیں۔ قرآن مجید میں ہے:۔
"اور دشنام مت دو ان کو جن کی یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ وہ براہِ جہل حد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے۔“
اب اس آیت میں بھی سب کا مطلب بتوں یا معبودوں کو غلط روش پر محض ٹوک دینایا ان پر معمولی سا اعتراض کرنا نہیں ہو سکتا اور مترجمین حضرات نے سب کا جو ترجمہ دشنام یا گالی سے کیا ہےاس کا مطلب بھی سوقیانہ مغلظات نہیں ہو سکتا، بلکہ مراد لعن طعن اور بدگوئی ہے جس سےمقصود محض دل آزاری ہو۔ پھر جیسا کہ پہلے اشارۃ ذکر ہو چکا بسا اوقات ایک ہی قسم کے الفاظ اگر کوئی بڑا چھوٹے کےلیےیا آقا اپنےماتحت کے لیے کہہ دے تو سب وشتم تصور نہیں ہوں گے لیکن وہی الفاظ اگر کم مرتبے کا انسان بڑے مرتبے والے کے حق میں استعمال کرے تو وہ سب اور گالی کی تعریف میں آسکیں گے۔ مثال کے طور پر باپ بیٹے کو یا بڑا بھائی چھوٹے بھائی کوکو دن یا پاجی یا گاؤدی کہہ دے تو مضایقہ نہیں، لیکن چھوٹا اگر یہی الفاظ پلٹ کر بڑے کو کہہ دے تو یہ بلاشبہ سب وشتم کے زمرے میں داخل ہوں گے ، اب مدیر البلاغ خود تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ اپنے ذاتی خصائل و اوصاف میں حضرت علیؓ کے ہم پلہ نہ تھے تو پھر حضرت معاویہ کے لیے یہ کیسے مناسب تھا کہ آپ خفیہ یا اعلانیہ نہ صرف حضرت علی کو مطعون و مجروح کرتے ، بلکہ دوسروں کو بھی اس پر آمادہ کرتے ، جو ایسا نہ کرتا اس سے باز پرس فرماتے اور وہ بھی ان کی وفات کے بعد؟ اپنی کتاب کے ص ۲۶ پر عثمانی صاحب نے خود یہ لکھا ہے کہ بسر بن ارطاۃ نے حضرت علی کو کچھ برا بھلا کہا تو حضرت معاویہ نے کہا: ” تم علی کو گالی دیتے ہو ۔ گویا کہ یہاں عثمانی صاحب نے تسلیم کر لیا کہ یہ بدگوئی گالی کےمترادف تھی۔
١-یہی معاملہ ان روایات کا ہے جن میں حضرت علی پرسب و شتم کا ذکر ہے۔ بعض میں سب کےعلاوہ لعنت ہشتم اور اس طرح کے دوسرےالفاظ آئے ہیں جن کی وہ تو جیہہ بالکل نہیں کی جاسکتی اور نہ وہ معانی مراد لیے جاسکتے ہیں جو عثمانی صاحب لینے کی سعی کر رہے ہیں۔
پھر یہ بات بھی عجیب ہے کہ ایک طرف مولانا محمدتقی صاحب یہ فرماتے ہیں کہ یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ حضرت معاویہ نے حضرت سعد کے سامنے حضرت علی پر جو سب کیا یا کرنے کی ہدایت کی تو وہ اردو والاست و شتم نہیں تھا، بلکہ اس سےمراد حضرت علی پر اعتراض کرنا اور ان کی غلطی سے اپنی برات کا اظہار تھا، اس سےزاید کچھ نہیں اور دوسری طرف صاحب موصوف اس بات کو ثابت کرنےپر بڑا زور لگا چکے ہیں کہ جن راویوں نےحضرت علی پر سب و شتم والی روایات بیان کی ہیں وہ سب امیر معاویہ کےجانی دشمن، کئے اور جلے بھنے رافضی اور دروغ باف ہیں۔ اگر سارے سب و شتم کا حاصل اور مفاد تال بس یہ ہے کہ امیر معاویہؓ حضرت علی پر اعتراض فرما دیتے تھے اس کے لیے راویوں کو لتاڑنے اور ان کےلتےلینے کی کیا ضرورت ہے؟ بالخصوص جب کہ ان واقعات کو اکثر اور بالتصریح بیان کرنے والے نہایت عادل، ثقہ اور سنی راوی ہیں پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضرت علی پر جس سب و شتم کا ذکر بار بار حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں آیا ہے، اگر اس کا مفہوم صرف یہ ہے کہ کوئی ایک آدھ غیر محتاط لفظ امیر معاویہ کی زبان سے نکل گیا ہو، جیسا کہ عثمانی صاحب ہمیں باور کرانا چاہتے ہیں، تو اس شدید نکیر و احتجاج کی کیا توجیہ کی جاسکتی ہےاور اسے کس طرح حق بجانب کہا جا سکتا ہے جو بعض جلیل القدر اصحاب کی طرف سے اس کے خلاف صادر ہوا؟ مثال کے طور پر حضرت سعد ہی کے واقعہ کو لیجئے ۔ میں نے البدایہ سے جو روایت نقل کی تھی اس میں یہ الفاظ ہیں کہ حضرت امیر معاویہ نے حضرت سعد کو اپنےپاس بٹھایا، پھر حضرت علی کی برائی اور عیب چینی شروع کردی (فوقع فيه )۔ اس پر حضرت سعد نے فرمایا کہ آپ نے مجھے گھر پر بلایا اور پھر علی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا ( وقعت فی علی تشتمه )۔ پھر حضرت سعد نےحضرت علی کے فضائل و مناقب بیان کیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی تھے ۔ اس کے بعد حضرت سعد وہاں سے دامن جھاڑتے ہوئے اور یہ کہتےہوئے اٹھ کر چل دیئےکہ میں آئندہ کبھی بھی آپ کےہاں نہیں آؤں گا۔ اب کیا کوئی شخص اس بات پر یقین کر سکتا ہےکہ حضرت سعد امیر معاویہ کے محض ایک آدھ غیر محتاط لفظ یا معمولی اعتراض پر اس حد تک غضبناک ہوئے ہوں گے؟ پھر فتح الباری، مناقب علی کی شرح میں حضرت سعد کا قول مسند ابی یعلی سے یوں مروی ہے کہ اگر میرےسر پر آرہ رکھ کر مجھے بت علی کے لیے کہا جائے تو میں ابد تک یہ کام نہیں کروں گا۔ کیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی پر سب و شتم بس ذرا سا اظہار اختلاف و اعتراض ہے؟
ام المومنین حضرت ام سلمہ نے اس بری رسم پر متعدد مرته نفرت و ملامت کا اظہار فرمایا۔ایک حواله ابوزہرہ صاحب کی کتاب سے اوپر نقل ہو چکا ہے۔ ایک دوسر ا حوالہ میں پہلی بحث میں مسند احمد کا دے چکا ہوں کہ حضرت ام سلمہ نےفرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بر سر منبر سبت و شتم کیوں ہو رہا ہے؟ سنے والوں نے حیرت سے پوچھا کہ کہاں اور کیسے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ کیا حضرت علی پر سب و شتم نہیں ہو رہا جو آنحضور پر سب و شتم کے مترادف ہے کیونکہ آنحضور علی سے محبت کرتے تھے اور میں اس کی گواہ ہوں؟ پھر میں نے سنن ابی داؤ داور مسند احمد کی روایات نقل کی تھیں جن میں مذکور ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ جب وہ کوفہ میں امیر معاویہ کےعامل تھےتو ان کی موجودگی میں مسجد کےاندرست علی کا ارتکاب ہوتا تھا اور حضرت مغیرہ بھی اس میں شریک تھےجس پر حضرت سعید بن زید نے سخت صدائے احتجاج بلند کی کہ یہ کیا ہو رہا ہےاور اس رسم بد کو بند کیوں نہیں کیا جاتا ؟اب ان ساری تصریحات سے مدیر البلاغ اگر آنکھیں میچ کر بس یہ کہتے رہیں که عربی والا سب اور ہے، اردو والا اور ہے اور یہ محض ذرا سا اظہار اختلاف تھا، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ام المومنین اور عشرہ مبشرہ میں شامل ان دونوں اصحاب رسول نےخواہ مخواہ اور بیجا بات کا بتنگڑ بنایا،ورنہ امیر معاویہ اور ان کے گورنروں کا تو سرے سےکوئی قصور ہی نہ تھا۔ وہ بس اتنی بات کہتے تھے کہ حضرت علی قاتلین عثمان سے قصاص لینے میں مداہنت برت رہے ہیں اور اتنی سی بات تھی جسےافسانہ کردیا۔اب اگر عثمانی صاحب سےہم یہ پوچھیں کہ حضرت، کیا آپ کی نگاہ میں صحابیت کا شرف صرف حضرت معاویہ ہی کو حاصل تھا، اور ام المومنین اورا کا بر صحابہ کی ان کےمقابل میں کوئی حیثیت نہ تھی تو وہ اس کا کیا جواب دیں گے؟ دوسروں پر توہین صحابہ کی کا الزام رکھنے والے کبھی خود بھی سوچ لیں کہ وہ صحابہ کا کیا احترام فرماتے ہیں:۔
١- صحیح احادیث میں وارد ہے: سباب المسلم فسوق من اکبر الکبائر ان يسب الرجل والد یہ . ان احادیثے میں وہ مفہوم کی طرح کھب نہیں سکتا جو عثمانی صاحب لینا چاہتےہیں اور نہ معمولی اظہار اختلاف کو اکبر الکبائر کہا جا سکتا۔
جہاں تک امیر معاویہ کے گورنروں کےفعل سب کا تعلق ہےاسےمدیر البلاغ نےیہ کہہ کر صاف کر دینے کی کوشش کی ہے کہ مولانا نے صرف دو روایتوں کا حوالہ دیا تھا جن میں سے ایک میں گورنر کوفہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کا ذکر ہےلیکن اس کےراوی اول تا آخر شیعہ ہیں اور دوسری روایت جو مروان ( عامل مدینہ) کےمتعلق تھی، اس کو یوں اڑا دیا ہےکہ بخاری میں تو صرف یہ ذکر ہےکہ مردان حضرت علیؓ کو ابوتراب کہتا تھا۔یہ احمقانہ تعریض ہو سکتی ہےمگر اسےگالی نہیں کہا جا سکتا۔میں کہتا ہوں کہ طبری والی روایت کےراوی اگر شیعہ ہیں تو کیا ابنِ ماجہ۔ سنن ابی داؤد اور مسند احمد والی روایات کےراوی بھی شیعہ ہیں یا جھوٹےہیں جو شیعوں کی بہ نسبت زیادہ صراحت کےساتھ فعل سب و شتم اور اس کے خلاف شدید رد عمل کو بیان کر رہے ہیں؟ باقی رہا مروان کا قصہ تو اس کےمتعلق البدایہ کی جس روایت کا حوالہ” خلافت و ملوکیت" میں دیا گیا تھا،اس میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ ”جب مروان مدینےمیں حضرت معاویہ کا گورنر تھا تو وہ ہر جمعہ کو منبر پر کھڑے ہو کر حضرت علی پر سب و شتم کیاکرتا تھا۔اس پر البلاغ میں لکھا گیاتھا کہ مروان حضرت علیؓ کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کرتا تھامگر تاریخی روایتوں میں سےکسی میں ان کاذکر نہیں۔یہ دعویٰ غلط ہےتاریخ الخلفاء امام سیوطی اور تطہیر الجنان ( لابن حجر مکی) ص۱۵۳ پر یہ روایت مذکور ہےکہ مردان جمعہ میں حضرت علی اور اہلِ بیت کو جس طرح گالیاں دیتا تھا، اس سے تنگ آکر حضرت حسنؓ عین اقامت جمعہ کے وقت مسجد میں آتے تھےپہلے تشریف نہ لاتےتھے۔آخر مروان نے ایک قاصد بھیج کر گالی دی جس میں دیگر سب و شتم کے علاوہ حضرت حسنؓ کو بھی کہا گیا کہ ” تیری مثال نچر کی سی ہے جس سے پوچھا جائے کہ تیرا باپ کون ہے تو وہ کہے کہ میری ماں گھوڑی ہے - - - - _١ "ظاہر ہے کہ اس بد زبان نے (جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ملعون اور وزغ ابن وزغ کہا اور جسےشاہ عبدالعزیز صاحب نےطرید ابن طرید لکھا،اسنےحضرت حسنؓ کو فیچر سےسیدۃ النساء حضرت فاطمہ کو گھوڑی سےاور حضرت علیؓ کو گدھےسے تشبیہ دی۔(نعوذ باللہ من ذالک) اس روایت کے رجال کو ابن حجر نےثقات قرار دیا ہے۔ اس کےبعد بھی اگر کوئی شخص کہتا ہےکہ معلوم نہیں مروان نے کیا نازیبا الفاظ استعمال کیے،تو اس پر حیف صد ہزار حیف ہے۔ میں پھر بھی یہ مانتا ہوں کہ امیر معاویہ تو ایسی غلیظ گالیاں ہرگز نہ دیتے ہوں گے لیکن مروان جیسے لعنت زدہ اور زیاد جیسےمجہول النسب گورنر بھی کیا کسی حد پر جا کر رکتےہوں گے؟زیاد ہی کی گندی گالیوں کےخلاف حضرت حجر بن عدی نےاحتجاج کیا تھا جس پر انکےخلاف بغاوت کا بناوٹی مقدمہ بنا کر انہیں سزائے موت دی گئی۔
١- تطہیر الجنان کی پوری عبارت آگئے عدالت صحابہ" کی بحث منقول ہے۔
بہر کیف جو روایات مروان کےسب و شتم کی تفصیل بتاتی ہیں انہیں نظر انداز کرتےہوئےمدیر البلاغ بس یہ بات دہراتے چلے جارہے ہیں کہ صحیح بخاری کی ایک حدیث سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ مروان حضرت علیؓ کو ابو تراب کہلاتا تھا اور وہ زیادہ سےزیادہ اس لفظ کو حقیقی معنی یعنی "مٹی کا باپ" یا "مٹی والا" کےمعنی میں استعمال کرتا ہوگا۔لیکن انصاف کےکسی بھی قاعدےسےاسےسب و شتم نہیں کہا جا سکتا۔یہ انصاف کےقاعدے جو مروان کے حق میں وضع کیےجار ہےہیں ان کا جواب تو میں بڑی اچھی طرح دے سکتا ہوں مگر اس طرح بات بڑھ جائے گی ، اس لیےسیر دست میں کلام کو اسی لفظ ”ابو تراب ہی تک محدود رکھتا ہوں۔ میں سب علی پر گزشتہ بحث میں یہ امر واضح کر چکا کہ مروان اور دیگر حامیان بنی امیہ طنز و طعن کےانداز میں حضرت علی اور ان کے رفقاء کو ترابی کےنام سے پکارتےتھے۔چنانچه حضرت حجرہ کےمتعلق زیاد نے امیر معاویہ کولکھا تھا کہ اس ترابیہ سبائیہ گروہ کےطاغوتوں نےامیر المؤمنین کی مخالفت کی ہے۔اس سےظاہر ہوتا ہےکہ مردان اور زیاد وغیرہ ابو تراب اور ترابیہ کے الفاظ کو اس طریق پر استعمال کرتے تھے جو تنابز بالالقاب کی تعریف میں آتا ہے۔ پھر جس لفظ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور محبت و منقبت کےادا فرمایا ہو، اس میں سےطنز و تمسخر کا پہلو پیدا کرنا تو سب وشتم بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اور شدید تر جرم ہے کیونکہ یہ اس ذات اقدس کے نطق مبارک پر بالواسطہ طعن ہےجس سےعشق و محبت ہر مسلمان کا دین و ایمان ہے۔حافظ ابن کثیر البدایہ، جلدے ،ص۳۶۶ پر لکھتے ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےعطا فرموده اس محبت آمیز لقب میں مروان اور دوسرےبنو امیہ جسطرح معنوی تحریف کرتےتھےاسےمدیر البلاغ ایک معمولی بات قرار دے رہےہیں۔لیکن ان مروانیوں کی معنوی ذریت آج بھی ہمارے ہاں موجود ہے اور وہ اس لقب ” ابوتراب“ کو اب تک نشانہ تضحیک بنا کر حضرت علی اور آپ کےپاکیزه خانوادہ پر سب و شتم کی مشق کر رہی ہے۔ لنڈا بازار لاہور میں ایک شخص ابو یزید_١بٹ نے" محسین صحابہ" کے نام سے ایک جمعیت بنا رکھی ہے۔ اس نےایک کتابچه بنو ہاشم اور بنوامیہ کی قرابت داریاں“ کے نام سے چھاپا ہے۔اس کے ص ۱۵۔۱۶ کی درج ذیل عبارت پڑھیے:
"ذرا نگاه تقدس سے پردہ ہٹا کر نگاہ تدبر سے غور فرمائیں کہ حضور کی صاحبزادی کو تکالیف کس نے پہنچائیں۔ آخر سیدنا علی سارا دن کیا کرتے تھے۔ جو خاوند گھر میں کچھ کما کر نہ لائے ، اپنی بیوی کے کام کاج میں ہاتھ نہ بٹائے ، بیوی اور اولاد کی کفالت نہ کر سکے اور بقول حضرت امام محمد باقر رسول اللہ سے کیے ہوئے وعدے کے خلاف لکڑیاں لانا، پانی بھرنا اور بیرون خانہ کا کام بھی جناب سیدہ فاطمہ بنت محمد رسول اللہ کےذمےڈال دے تو اندازہ لگائیں جناب سیدہ اور خود رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان ہاشمی داماد سے کیا سکھ ملا ہوگا - - - - جب رسول خدا نے فاطمہ کو اس حال میں دیکھا،آنسو چشم ہائےمبارک سے رواں ہوئے اور فرمایا اے دختر گرامی تلخی ہائے دنیا کی حلاوت چکھو ( یعنی سید نا علی تمہیں جو دکھ دے رہے ہیں، انہیں برداشت کرو سبائی مفسرین کی روایات سےمعلوم ہوتا ہےچونکہ سیدنا علی کوئی کام کاج نہیں کرتےتھے اس لیے حضور انہیں ابوتراب ( یعنی مٹی کا؟ ) بار بار کہہ کر خطاب کرتے تھے ۔۔۔ ر بار بار ابوتراب اس لیے فرماتے تھے کہ یہ کوئی کام کاج نہ کرتے تھے اور گھر میں پڑے رہتے تھے۔“
یہ پورا رسالہ اس طرح کے ہفوات سے لبریز ہے اور اس میں جگہ جگہ مروان کو رضی اللہ عنہ اور یزید کو سید نا یزید رضی اللہ عنہ کھا گیا ہے۔ اس ابویزید نےاس طرح کی خرافات پر مشتمل متعدد کتابیں شایع کی ہیں۔ مدیر البلاغ صرف اسی ایک اقتباس کو پڑھ کر مجھے بتائیں کہ کیا اب بھی انہیں اس پر اصرار ہے کہ ابوتراب کے لفظ کوئی شخص سب وشتم کا کام نہیں لے سکتا اور اسے کسی بھی قاعدےسے سب و شتم کی بوچھاڑ یا گالی نہیں کہا جاسکتا؟
غالباً اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے محمود احمد عباس نے فخریہ کہا ہے کہ میری تبلیغ تحریک۔ یہ لوگ اتنے متاثر ہوئے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کا نام یزید در اپنی کنیت ابویزید رکھنی شروع کردی ہے۔
حضرت علی پر سب و شتم کےثبوت میں جو روایات اور جو دلائل میں نےپیش کیےتھےان کےجواب میں عثمانی صاحب نےبیض ایسےاقتباسات نقل کیے ہیں جن میں یہ بیان ہے کہ حضرت علی کے ساتھی بھی حضرت عثمان اور امیر معاویہ کی بد گوئی کرتےتھےاور حضرت علی نےحضرت معاویہ اور حضرت عمرو بن عاص کو بدترین مرد بلکه ان کے ایمان تک کو مشکوک بتایا۔ آخر میں سب کچھ نقل کر دینے کے بعد "البلاغ میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ ہم تو ایسی بیشتر روایتوں کو انکی سند کےضعف کی بنا پر صحیح نہیں سمجھتےلیکن مولانا مودودی اور غلام علی صاحب جو تاریخی روایات کو بے چون و چرامان لینےکے قائل ہیں وہ بتائیں کہ ان روایات کی بنا پر کوئی شخص اگر حضرت علی پر بھی سب و شتم کا الزام قطعیت کے ساتھ لگا دے تو اس کا کیا جواب ہوگا۔
اس کا جواب دینے کو تو بڑا مفصل و مدلل دیا جا سکتا ہے۔ مگر میں اب قطع بحث کے لیے صرف یہ کہوں گا کہ ہم ہر قسم کی تاریخی، روایات کو بے چون و چرامان لینے کے ہرگز قائل نہیں ہیں۔ لیکن ہم اس بات کے قائل بھی نہیں ہیں کہ کسی صحابی کی کوئی غلطی اگر صحت نقل کے ساتھ احادیث و آثار یا تاریخ میں مروی ہو تو اسے بھی محض اس دلیل کی بنا پر رد کرانا جائےکہ اس سےصحابہ کرام اور ان کےاحترام پر حرف آتا ہےیا پھر ان روایات صحیحہ کے انکار کی راہ اس طرح ہموار کی جائےکہ ایک صحابی کی خطا کو کالعدم قرار دینےکےلیے بعض ضعیف و مکذوب روایات کےذریعےسے دوسرے صحابی کو بھی اسی طرح کی خطا کا مورد ٹھہراتے ہوئے آخر میں یہ کہ دیا جائے کہ صحیح اور غلط روایات سب پھینک دینے کے قابل ہیں ۔ میری پوری بحث کو سامنے رکھ کر ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ سب علی کو ثابت کرنے میں میرا اصل انحصار صحیح مسلم سنن ابی داؤد، ابن ماجہ اور مسند احمد پر ہے جو بالا جماع حدیث کی صحیح ترین کتابیں ہیں۔ علماء مؤرخین جن کے اقوال میں نے نقل کیے ہیں وہ بھی بالا تفاق ائمہ اہل سنت ہیں جو یہ کہہ رہےہیں کہ امیر معاویہ کے عہد میں حضرت علی اور اہل بیت پرسب وشتم کا آغاز ہوا جو حضرت عمر بن عبدالعزیز کےدور تک منبروں پر جاری رہا۔اس کےبالمقابل جناب محمد تقی صاحب پلڑا برابر کرنے کےلیے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ حضرت علی بھی اسی طرح سب و شتم کرتےتھے مگر اس کے ثبوت میں پیش کر رہے ہیں ابن حبیب کی امحجر کی ایک عبارت کو جس میں یہ ذکر ہےکہ حضرت علیؓ کےساتھی حضرت عثمان کی بدگوئی کرتےتھےتاہم میں اس روایت کی تردید ضروری نہیں سمجھتا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض حضرات صحابہ نے حضرت علیؓ سے عدم تعاون یا مزاحمت کا رویہ اختیار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت علی قاتلین عثمان یا حضرت عثمان کو برا بھلا کہنے والوں کی سرکوبی نہ کر سکے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ حضرت علی اس مذموم روش کی حوصلہ افزائی یا اسے گوارا کرتے تھے۔ ویسے تو کوفہ کی مسجد میں خارجی خود انہیں گالیاں اور قتل کی دھمکیاں دیتے رہتے تے، اور آپ سے نظر انداز کرتے تھے مگر جس کسی نے آپ کے سامنے حضرت عثمان یا حضرت معاویہ کی بدگوئی کی ، آپ نے خفی سے اس پر ٹوکی-
دوسری روایات عثمانی صاحب نے ابن جریر طبری کی نقل کی ہیں۔ان میں بلاشبہ حضرت علی کے نامناسب الفاظ مذکور ہیں جو انہوں نے حضرت معاویہ یا بعض دوسرے اصحاب ۔ ایسےاستعمال کیے ہیں۔ میں معصوم عن الخطا نہ حضرت علیؓ کو سمجھتا ہوں نہ امیر معاویہ کو، حضرت علی بھی بہر حال انسان تھے۔ان کےمقابلے میں مخالفت و محاربت کی جو روش اختیار کی گئی اس کے نتیجےمیں حضرت علی کے دل کا ملول و مکدر ہو جانا قدرتی بات ہےاور ان کا یہ کہہ دینا کہ معاویہ کا کوئی اسلامی کارنامہ نہیں اور وہ اسلام میں بادل ناخواستہ داخل ہونے سے پہلے اللہ اور اس کے رسول کےدشمن تھے اور طلقاء میں سےتھےیہ ایک ناخوشگوار جوابی رد عمل ہے۔ اگر اسے سب و شتم سمجھا جائے تو اس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاوہ ارشاد گرامی بھی سامنے رکھا جائے جو صحیح مسلم اور دوسری کتب حدیث میں مروی ہے کہ:
اب بر بنائے انصاف ہر شخص خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس قضیے میں ابتداء کن کی طرف سے ہوئی اور فریق ثانی نےجواباً جو کچھ کیا وہ فریق اول سےزاید تھا یا اس سےکمتر تھا؟اس سلسلےمیں مدیر البلاغ نےالبدایہ کے حوالےسےیہ بھی لکھا ہے کہ حضرت حجر بن عدی اور ان کےساتھی حضرت عثمان کی بدگوئی کرتےتھے۔ حضرت حجر کا موقف جو کچھ بھی تھا، اس پر تو تفصیلاً آگےچل کر بحث ہو گی۔یہاں میں صرف یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ حضرت حجر نے جو کچھ حضرت علی کی شہادت کے لو، آیا اور جو کچھ حضرت حجر کے ساتھ کیا گیا اس کی ذمہ داری سےتو حضرت علی بری ہیں۔تاہم حضرت علی کی زندگی میں اگر ان کے علم میں کوئی ایسی بات آئی ہے تو آپ نےفورا اس پر ٹو کا ہے۔چنانچہ ابو حنیفہ دینوری اپنی تاریے الاخبار الطوال کےصفحہ ۱۶۵ پر بیان کرتےہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی کو معلوم ہوا کہ حضرت حجر اہل شام کی بدگوئی کر رہےہیں۔حضرت علی نے انہیں پیغام بھیج کر اس فعل سے منع کیا اور باز رہنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ: امیر المؤمنین، کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟آپ نےفرمایا: ہاں مگر میں تمہارےلیےنا پسند کرتا ہوں کہ تم لعن طعن کرو۔
اس کے بعد مولانا محمد تقی صاحب نے البدایہ جلد ۷، صفحہ ۲۵۸ کے ایسے اقوال کا ذکر بھی ضروری سمجھا ہے کہ حضرت علی نے امیر معاویہ کے ایمان تک کو مشکوک بتایا،حالانکہ ابن کثیر نے خود ان اقوال کی تردید کی ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جن اقوال کی ناقل نے خود تکذیب کر دی ہےان کے بیان کی کیا حاجت تھی؟ ابن کثیر نے تو انہیں نقل کرنے کے بعد یہ لکھ دیا کہ:
لیکن محمد تقی صاحب نے ان روایات کے ساتھ دوسری بہت سی روایات کو بھی لپیٹ میں لیتےہوئے یہ فرما دیا کہ ہم تو ان جیسی بیشتر روایتوں کو صیح نہیں سمجھتے۔ گویا کہ یہ تاثر دلانا مقصود ہے کہ جو روایتیں ہم نے دی ہیں اور جن کی ابن کثیر نے تکذیب کی ہے، سب ایک درجے میں ہیں ۔ ہم گویا سب کو بے چون و چرامان لینے کے قائل ہیں اور آپ سب کو یا اکثر کو نا قابلِ اعتبار قطعی جھوٹ اور افترا سمجھتے ہیں۔ یہ خلط مبحث کا جو انداز مدیر البلاغ اختیار کر رہےہیں بهینه یہی انداز منکرین حدیث اور ناصبیت کےعلمبر دار اختیار کرتے ہیں۔ وہ چند جھوٹی روایتوں کو لیتے ہیں اور ان کی آڑ میں جس صحیح واضح حدیث کا چاہتے ہیں انکار کر دیتے ہیں۔
مدیر البلاغ چونکه بڑے شد و مد کے ساتھ اس بات کے مدعی ہیں کہ جن احادیث وروایات میں ست علی کا ذکر ہےاس سےمراد بس حضرت علی کی شان میں کچھ غیر محتاط الفاظ کا استعمال ہے،اس لیےمیں یہاں سنن ابن ماجہ کی وہ حدیث پیش کیے دیتا ہوں جو اس کے ابواب فضائل اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ان الفاظ میں مروی ہے اور جس کی طرف پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے۔
"حضرت سعد ابن ابی وقاص سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ امیر معاویہ ایک حج کے موقع پر آئے تو حضرت سعد ان کے پاس گئے۔ وہاں حضرت علی کا ذکر آیا تو امیر معاویہ نے ان کی بدگوئی کی۔ اس پر حضرت سعد تغضبناک ہو گئے ... اس کے بعد حضرت سعد نے حضرت علیؓ کے وہی فضائل بیان کیے جو دوسری روایات میں مذکور ہیں)۔“
میں نے یہاں نسال منہ کا ترجمہ بدگوئی کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مولانا عثمانی صاحب فرمائیں کہ بدگوئی کا لفظ سخت ہےلیکن وہ خود ملاحظہ فرمالیں کہ اپنی کتاب میں ص۶۳ پر انہوں نےبھی حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کےمتعلق "بدگوئی“ کا لفظ لکھا ہےجو ينالون منہ کا ترجمہ ہےاب ناپ تول کےپیمانے دو دو تو نہیں ہونے چاہئیں کہ ایک حضرت معاویہ کے لیے ہو اور ایک حضرت حجر" کے لیے ہو۔
لما قَدِمُ بُسر بن أبي ارطاة البصرة وكان معاوية بعثه لقتل من خالفه واستحياء من بايعه، صعد المنبر فذكر عليا بالقبيح وشتمه وتنقصه، ثم قال ايها الناس أنشدكم بالله ماصدقت؟ فقال ابوبکر انک تنشد عظیما والله ما صدقت و ما بررت فأمر بابي بكرة فضُرِبَ حتى غشى عليه.
"جب بُسر بن ابی ارطاۃ بصرہ میں پہنچا اور معاویہؓ نے بسر کو اس لیے بھیجا تھا کہ وہ ان کےمخالفین کو قتل کرے اور ان کی بیعت کرنے والوں کو زندہ رہنے دے تو کسر نے منبر پر چڑھ کر علی کا ذکر برے الفاظ میں کیا، ان کی بدگوئی اور تنقیص کی ۔ پھر کہنے لگا "اے لوگو تمہیں خدا کی قسم کیا میں نے سچ کہا؟ حضرت ابوبکر نے جواب دیا ” تم بہت بڑی ذات کی قسم دلا ر ہے ہو ، خدا کی قسم تم نے نہ سچ کہا، نہ نیکی کا کام کیا۔ نسر نے حضرت ابوبکر کو مارنے کا حکم دیاحتی کہ وہ مار سے بیہوش ہو گئے ۔“
بسر بھی امیر معاویہؓ کا عامل تھا اور اس کے ظلم و ستم کے واقعات سارے مورخین نے بیان کیے ہیں ۔ اب یہاں بلاذری صاف بیان کر رہے ہیں کہ اس نےمنبر پر چڑھ کر حضرت علیؓ کا ذکر فتیح طریق پر کیا،آپ پر سب و شتم کیا اور آپ کی توہین وتحقیر کی اور ٹوکنے والے صحابی کو مار مار کر بےہوش کر دیا۔ اتنی تصریحات کے بعد اس بات کی گنجائش کیسے نکل سکتی ہے کہ ساری سب و شتم والی روایات کو کالعدم یا بالکل معمولی اظہار اختلاف پر محمول کر دیا جائے۔
پھر یہ بات میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ حضرت علی پر سب وشتم (اور اس کے جواب میں اگر کچھ ہوا ہے تو وہ بھی ) حضرت علی کی زندگی تک محدود رہتا،تب بھی اس فعل کے صد رور کو لائقِ اغماض سمجھا جاسکتا تھا۔ کیونکہ جب تلواریں نیام سے باہر آ چکی ہوں اور معرکہ خونچکاں گرم ہو چکا ہو، اس وقت زبانوں کا بالکل خاموش رہنا محالات میں سے تھا۔ لیکن حضرت علیؓ کی شہادت،بالخصوص حضرت حسنؓ کی امیر معاویہ کے مقابلے میں خلافت سےدست برداری کے بعد اس مہم کو یک طرفہ جاری رکھنےکا آخر کیا جواز ہو سکتا تھا؟ میں متعدد حوالوں کےذریعے سے یہ بات ثابت کر چکا کہ حضرت حسنؓ نے شرائط صلح میں سے ایک شرط یہ لکھائی تھی کہ ہمارے والد ماجد اور ہمارے گھرانے پر سب و شتم کا سلسلہ بند ہو یا کم از کم ہمارے سامنے ایسا نہ ہو۔ یہ شرط طے ہو گئی مگر افسوس کہ اس کی پابندی نہ ہوسکی اور جیسا کہ مؤرخ ابوالغد اء اور دوسرے سب مؤرخین نے بیان کیا ہے، سب و شتم کی مہم با قاعدہ سرگرمی کے ساتھ دوبارہ اس وقت شروع ہوئی جب، امیر معاویہؓ کا کامل تسلط ہو چکا تھا اور بظاہر کوئی اختلاف فضا میں موجود نہ رہا۔ سارے مورخ اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت حسنؓ اور ان کے بھائیوں کی روش امیر معاویہ کے ساتھ ہمیشہ بڑی مصالحانہ رہی۔ مدیر البلاغ کو بھی اس کا اعتراف ہے اور انہوں نے جا بجا یہ لکھا ہے کہ حضرت حجر نے جب حضرات حسنین کو امیر معاویہ کے خلاف اٹھنےپر اکسایا تو انہوں نے ہرگز حوصلہ افزائی نہ کی اور اسی طرح محمد بن حنفیہ نے یزید کی عدم اطاعت پر لوگوں کوٹو کا اور کہا کہ وہ بھلے آدمی ہیں۔اس ساری صورت حال کے بعد اس سب و شتم کی مہم کا جاری رہنا اتنا افسوسناک بلکہ دردناک ہےکہ بیان میں نہیں آ سکتا۔ مدیر البلاغ اگر چاہیں تو اس سارے سلسلے کا انکار کر سکتے ہیں لیکن یہ محض تاریخی روایات ہی کا نہیں احادیث صحیحہ کا بھی انکار ہو گا ۔ اردو والے سب وشتم اور عربی والےسب و شتم کی اقسام بیان کرنے سے بھی کام نہیں چلے گا۔ مثلاسنن ابی داؤد، کتاب اللباس میں ایک حدیث ہے کہ حضرت حسنؓ کی وفات پر حضرت مقدام بن معدی کرب نے جب انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کر اظہار افسوس کیا تو اس پر حضرت امیر معاویہ نے تعجب کا اظہار فرمایا اور ان کے ایک خوشامدی نے کہا کہ حسن تو ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا۔ اس پر حضرت مقدام نے جو کچھ فرمایا اور شارحین حدیث نے جو کچھ لکھا ، وہ بھی میں آگے نقل کر دوں گا۔ایسی مثالیں صحیح احادیث سےمزید بھی پیش کی جاسکتی ہیں مگر در از نفسی و تلخ نوائی کا حال معلوم!
میں نےحکایات الاولیاء کےحوالے سےجو واقعہ نقل کیا تھا،اس کے متعلق مدیر البلاغ کہتےہیں کہ اس میں حضرت شاہ شہید نے شیعہ حضرات کو الزامی جواب دیا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت شاہ شہید کا نظریہ یہی تھا۔ سبحان اللہ کیا عجیب تو جیہ ہے حکایات الاولیاء میں مولانا تھانوی نے جو کچھ فرمایا ہے وہ یہ ہےکہ مولانا شہید نے سبحان علی خاں (شیعہ ) سے کہا کہ بتاؤ حضرت امیر معاویہ پر حضرت علی کے دربار میں تبر ا ہوتا تھا۔ اس نے کہا نہیں، حضرت علیؓ کا دربار ہجو گوئی سے پاک تھا۔ شاہ شہید نے پھر پوچھا کہ حضرت معاویہ کے یہاں حضرت علی پر تیر اہوتا تھا ؟ اس نے کہا ” بے شک ہوتا تھا ۔ اس پر مولانا شہید نے فرمایا کہ اہل سنت الحمد للہ حضرت علیؓی کے مقلد ہیں اور روافض حضرت معاویہ کے۔ اگر چہ پہلے دوسوالات کے جوابات پر شاہ شہید کا خاموش رہنا ہی ظاہر کر رہا ہے کہ وہ خود سے تسلیم کرتےہیں کہ امیر معاویہ پر حضرت علی تبرا نہیں کرتے تھے مگر حضرت علی پر امیر معاویہ کے ہاں تر ہوتا تھا لیکن بعد میں دوبارہ جب انہوں نے فرما دیا ہم اہل سنت حضرت علی کےمقلد ہیں جو تبراً نہیں کرتے تھے اور روافض حضرت معاویہ کے مقلد ہیں جن کے یہاں تر ہوتا تھا تو پھر شاہ شہید کے نظریہ میں کیا شبہ رہا۔ کیا عثمانی صاحب کےنزدیک شاہ شہید اہل سنت میں شامل نہ تھے؟ اسی طرح شاہ شہید کے جواب کو الزامی جواب کیسےکہا جا سکتا ہے؟ الزامی جواب تو یہ ہوتا کہ وہ عثمانی صاحب کی طرح کہتےکہ چلیے،اگر امیر معاویہ شب وشتم کرتےتھےتو حضرت علی بھی کرتے تھے، اس لیے معاملہ برابر سرابر ہو گیا۔
آخر میں مولا نا محد تقی صاحب فرماتے ہیں کہ ملک صاحب نے ماضی قریب کے بعض مصنفین کی عبارتیں بھی پیش کی ہیں کہ انہوں نے بھی وہی باتیں لکھی ہیں جو مولانا مودودی صاحب نے لکھی ہیں لیکن یہ بات کسی غلطی کےلیےوجہ جواز نہیں بن سکتی کہ وہ ماضی قریب کے بعض دوسرے مصنفین سے بھی سرزد ہوئی ہے۔سوال یہ ہے کہ ان مصنفین کی ان باتوں کو پہلےبھی آپ نے یا کسی اور نےغلط کہا ہے،یا وہ آج مولانا مودودی کی تائید میں پیش ہونے کی وجہ سے غلط ہوگئی ہیں؟ پھر اگر ان سب حضرات کی یہ باتیں غلط ہیں تو کیا ان کےخلاف بھی آپ نےاس طرح کی محاذ آرائی اور مورچہ بندی کی ہے جس طرح آپ ہمارے خلاف کر رہے ہیں؟ آخر غلط اور صحیح کا معیار صرف آپ کی ذات ہے، کیا یہ مکن نہیں ہے کہ مولانا مودودی اور ان جملہ مصنفین کی بات صحیح ہو اور آپ ہی کی بات غلط ہو؟پھر میں نےماضی قریب ہی نہیں ماضی بعید کےایسےبےشماراصحاب کی عبارتیں نقل کر دی ہیں جن کے علم و فضل اور تقوی و تدین سے عثمانی صاحب اور میرے علم و ہم کو وہ نسبت بھی نہیں ہو سکتی جو ذرے کو آفتاب سے ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے نہایت تعلی و تحدی سے یہ کہا کہ امیر معاویہ کے فیصلوں سے اختلاف تو ہو سکتا ہے، لیکن آج تک مولانا مودودی کے سوا کسی نے انہیں بدعت کہنے کی جرات نہیں کی۔ میں نے اس کے جواب میں متعدد مثالیں ائمہ امت کی پیش کر دیں جنہوں نے امیر معاویہ کے ایسے فیصلوں کو بھی بدعت قرار دے دیا جن کے حق میں شرعی دلیل و تاویل موجود ہے۔ اس کے بعد بھی کیا آپ اپنے موقف پر جمے رہیں گے اور یہی کہتے رہیں گے کہ امیر معاویہ کے کسی فعل کو بدعت کہنے کی جرات صرف مولانا مودودی ہی نے کی ہے؟
گذشته باب میں بحث کا خاتمہ سب علی کے مسئلے پر ہوا تھا۔ اس کے بعد اب استلحاق زیاد کا مسئلہ زیر بحث آتا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا مودودی کی جس تحریر پر اعتراض کیا گیا ہے، وہ درج ذیل ہے:۔
" زیاد بن سمیہ کا استلحاق بھی حضرت معاویہ کے ان افعال میں سےہے جن میں انہوں نے سیاسی اغراض کے لیے شریعت کے ایک مسلم قاعدے کی خلاف ورزی کی تھی۔ زیاد طائف کی ایک لونڈی سمیہ نامی کےپیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ لوگوں کا بیان یہ تھا کہ زمانہ جاہلیت میں حضرت معاویہ کے والد جناب ابوسفیان نے اس لونڈی سےزنا کا ارتکاب کیا تھا اور اس سے وہ حاملہ ہوئی۔حضرت ابوسفیان نے خود بھی ایک مرتبہ اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ زیادا نہی کے نطفہ سے ہے۔ حضرت علیؓ کےزمانہ خلافت میں وہ آپ کا زبردست حامی تھا اور اس نے بڑی اہم خدمات سرانجام دی تھیں۔ ان کے بعد حضرت امیر معاویہؓ نے اس کو اپنا حامی دمددگار بنانے کے لیے اپنے والد ماجد کی زنا کاری پر شہادتیں لیں اور اس کا ثبوت بہم پہنچایا کہ زیادا نہی کا ولد الحرام ہے۔ پھر اسی بنیاد پر اسے اپنا بھائی اور اپنے خاندان کا فرد قراردے دیا۔ یہ فعل اخلاقی حیثیت سے جیسا کچھ مکروہ ہے وہ تو ظاہر ہی ہے۔ مگر قانونی حیثیت سے بھی یہ ایک صریح ناجائز فعل تھا۔ کیونکہ شریعت میں کوئی نسب نونا سے ثابت نہیں ہوتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف حکم موجود ہے کہ بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر وہ پیدا ہو اور زانی کے لیے کنکر پتھر ہیں ۔ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ نے اسی وجہ سے اس کو اپنا بھائی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اس سے پردہ فرمایا۔“
مدیر ” البلاغ“ نے مولانا مودودی کے انداز تحریر کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ زیاد ابوسفیان کا صحیح النسب بیٹا تھا جو جاہلیت کے نکاح سےپیدا ہوا تھا۔ مدیر موصوف نے سب سےپہلے ابن خلدون کا حوالہ مع ترجمہ نقل کیا ہے۔ ترجمے کے الفاظ یہ ہیں: مسمیہ جو زیاد کی ماں ہے،حارث بن کندہ طبیب کی لونڈی تھی۔اسی کےپاس اس سےحضرت ابوبکرہ پیدا ہوئے۔پھر اس نےاس کی شادی ایک آزاد کردہ غلام سے کر دی تھی اور اس کےیہاں زیاد پیدا ہوا۔ اور ابوسفیان اپنےکسی کام سےطائف گئے ہوئے تھے۔وہاں انہوں نے سمیہ سے اس طرح کا نکاح کیا جس طرح کے نکاح جاہلیت میں رائج تھے اور اس سے مباشرت کی اور اسی مباشرت سے زیاد پیدا ہوا اور سمیہ نے زیاد کو ابوسفیان سے منسوب کیا۔ خود ابوسفیان نےبھی اس نسب کا اقرار کر لیا مگر خفیہ طور پر مولانا عثمانی صاحب نے یہ عبارت تو پوری بلا تامل نقل کردی مگر انہوں نے اس پر غور نہ کیا کہ اس میں ایک طرف تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ سمیہ کی شادی غلام سے ہوئی اور اسی غلام کے ہاں زیاد پیدا ہوا اور دوسری طرف یہ بھی بیان ہےکہ سمیہ کا نکاح ابوسفیان سےہوا جس سےزیاد پیدا ہوا۔ان دو باتوں میں سے آخر کون سی درست ہے؟ یا دونوں درست ہیں اور دو نکاحوں کےنتیجےمیں زیاد نے دو مرتبہ جنم لیا؟ یا ایک نکاح اور ولادت تو علانیہ تھی اور دوسری ولادت دوسرے نکاح کے مانند خفیہ تھی۔ اس معمہ کو عثمانی صاحب خود ہی حل کر سکتے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ جاہلیت میں نکاح کے بعض تشریح طریقے بھی رائج تھے اور ہمارے لیے یہ بحث بڑی نا گوار ہے کہ ہم ان کی تفصیل بیان کرنے کے بعد یہ دکھا ئیں کہ حضرت ابو سفیان کا جو تخلق ایام جاہلیت میں زیاد کی والدہ سے قائم ہوا، وہ جاہلیت کے کسی مزعومہ نکاح کی تعریف میں آسکتا تھایا نہیں۔ اور اس سے پیدا شدہ اولاد معیار جاہلیت کےتحت صحیح النسب تھی یا نہیں-لیکن مولانا محمد تقی صاحب اور بعض دوسرے حضرات کو چونکہ اصرار ہے کہ یہ تعلق جاہلیت کی اتسافیم نکاح میں سے ایک تھا،اس لیے میں مجبوراً تفصیل بیان کیے دیتا ہوں۔ بخاری، کتاب النکاح کی ایک روایت سےثابت ہے کہ جاہلیت میں نکاح چار قسم کے ہوا کرتے تھے۔ نکاح کی پہلی صورت تو یہی تھی کہ ایک شخض دوسرے سے لڑکی یا کسی عزیزہ کا رشتہ طلب کرے اور مہر دےکر نکاح کر لے۔اسی صورت کو اسلام نےجائز رکھا۔دوسری صورت یہ تھی کہ ایک مرد کی بیوی ایام گزارنے کے بعد پاک ہوتی تھی تو وہ خاوند کی جازت سے کسی دوسرے مرد کے پاس چلی جاتی تھی اور خاوند اس سے الگ رہتا تھا، جتی کہ عورت دوسرےمرد سےجاملہ ہو جاتی تھی۔ تیسری صورت یہ تھی کہ نو یا اس سے کم مرد بیک وقت ایک عورت سے تعلق قائم کر لیتے تھے۔ بعد میں اگر حمل کے نتیجے میں بچہ پیدا ہوتا تو وہ عورت ان سب مردوں کو بلا لیتی تھی اور وہ لازماً اس کے ہاں جمع ہوتے تھے۔ پھر عورت کسی ایک شخص سے کہہ دیتی تھی کہ یہ تیرا بچہ ہے۔ تب اس مرد کے لیے ناگزیر ہو جاتا تھا کہ وہ اس بچے کا الحاق اپنے خاندان سے کرے۔ انکار اس کے لیے ناممکن تھا۔ جاہلیت کے نکاح کی چوتھی شکل یہ تھی کہ غیر محدود تعداد میں بہت سے مردوں کا ایک ہی عورت سےصنفی تعلق ہوتا تھا اور ایسی عورتیں طوائف (بغایا) کہلاتی تھیں۔ ایسی کسی عورت کے ہاں اگر بچہ ہوتا تو اس کے ہاں آمد ورفت رکھنے والے سب مردوں کواکٹھا کیا جاتا تھا اور قیافہ شناس کو بلایا جاتا تھا۔ وہ بچے کا چہرہ مہرہ دیکھنے اور مردوں کی شکل وصورت سے تقابل کرنےکےبعد بچےکا الحاق کسی ایک مرد کے ساتھ کر دیتا تھا، بچے کا نسب اسی کی طرف منسوب ہو جا تا تھا اور وہ اس سے کسی طرح انکار نہیں کر سکتا تھا۔
جاہلیت کےیہ نام نہاد نکاح جیسےکچھ بھی تھے،ان سے ایک بات بہر حال واضح اور ثابت ہےاور وہ یہ کہ ان کے نتیجے میں جو بچہ بھی پیدا ہوتا تھا،اس کا نسب بہر حال ایک فرد متعین سے ولادت کے معا بعد ملحق ہو جاتا تھا اور اسکےالحاق کا بھی متعین ضابطہ اور طریقہ مقرر تھا۔اس میں فیصلہ کن چیز عورت کا یا قیافه شناس کا بیان تھا جس کےبعد بچےکا باپ اسےبا قاعدہ اپنا بچہ تسلیم کرتا تھا اور اس کا نسب ولادت ہی کےوقت معروف و مسلم ہو جاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ نسب وانتساب کی یہ صورتیں جو جاہلیت میں رائج تھیں وہ اس وقت تک محقق اورمسلم شمار نہیں ہوسکتی تھیں جب تک سوسائٹی میں انکا اعلان عام نہ ہو جائےاور مرد ضعلمی اولاد کی طرح بچے کو اپنے کنبے میں داخل نہ کر لے۔ عقل عام اور فطرت سلیم اس کی اجازت نہیں دے سکتی کہ ایک مرد ایک عورت سے خفیہ تمتع کرے، اس کے بعد جس بچے کی پیدائس ہو اسے اپنے خاندان میں داخل بھی نہ کرے، پھر جب لڑکا جوان ہو کر پر پرزے نکالے تو وہ شخص دو چار یا پانچ دس آدمیوں سے مخفی طور پر کہہ دے کہ یہ لڑکا دراصل میرےنطفے سے ہے، پھر وہ چند اشخاص اس راز سر بستہ کو اس شخص کی وفات کے برسوں بعد فاش کریں اور اس طرح "حق بحقدار رسید" ہو۔
مورخین کی تصریح کے مطابق زیاد ہجرت نبوی کے پہلے یا دوسرے سال پیدا ہوا ہے۔ اگر ابوسفیان نے اسلام لانے سے پہلے اسے اپنا بیٹا نہیں بنایا تھا تو ھ میں فتح مکہ کے موقع پر جب وہ ایمان لائے تھے ، ان کی بی نا گزری تری واخلاقی ذمہ داری تھی کہ اگر وہ اسے اپنا مولود سمجھتے تھے تو فوراً اپنے قول وفعل سے اس کا اعلان کر دیتے کیونکہ اسلام نے نسب کے ساتھ نان و نفقه، حجاب،مناصحت، میراث اور دیگر متعدد قانونی و معاشرتی حقوق و واجبات وابستہ کر دیئے ہیں۔نسب کا اعلان کوئی شاعرانہ تشبیب یا دل لگی کا سامان نہیں ہے کہ اسے اشاروں کنایوں میں یا غیر سنجیدہ پیرائےمیں بیان کیا جائے،نہ یہ کوئی مخفی وصیت یا ہدایت ہےجو چند آدمیوں کو ،وہ بھی بیشتر خاندان سےباہر کےآدمیوں کو چپکے سے بتادی جائے تاکہ سند رہے اور ضرورت کے وقت کام آئے۔پھر ابو سفیان کوئی معمولی آدمی نہ تھےسردار قریش تھے۔ وہ آسانی کے ساتھ زیاد اور اس کی والدہ کی کفالت اپنے خاندان کے ساتھ کر سکتےتھے۔مؤرخین کے بیان کے مطابق زیاد ایک مدت تک زیادبن عبید کے نام سے مشہور تھا، کیونکہ زیاد کی والدہ سمیہ عبید نامی ایک غلام کےنکاح میں تھی۔ اس شہرت نسب نے تو اس بات کو اور بھی ضروری بنا دیا تھا کہ اگر یہ انتساب غلط تھا، تو حضرت ابوسفیان اس کی تصحیح کے لیے ہر ممکن سعی کرتے اور اس حق تلفی کی تلافی اپنے صاحبزادوں (امیر معاویہ وزیاد) پر چھوڑنے کے بجائے خود ہی اس کا تدارک فرماتے۔ اگر اس معاملے میں کوئی نزاع و اشتباه پیدا ہوتا تو اسے رفع کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس موجود تھی۔ابوسفیان کی پوری زندگی بلکہ اس کے بہت بعد تک زیاد اپنےآپ کو غلام زادہ ہی سمجھتا رہا اور علامہ ابن عبدالبر اور دوسرے مؤرخین بیان کرتےہیں کہ زیاد نے اپنے باپ عید کو ایک ہزار درہم کے عوض میں خریا کر آزاد کرایا تھا جس پر لوگ رشک کرتے تھے۔ اب کیا حضرت ابوسفیان یا امیر معاویہ کے لیے یہ ممکن نہ تھاکہ وہ استلحاق زیاد کا مسئلہ آنحضور کےسامنےپیش فرما دیتےتا کہ اس قضیہ نامرضیہ کاقطعی فیصلہ ہو جاتا۔ جیسا کہ حضرت سعد اور عبد بن زمعہ کے مابین ایک بچے کے نسب میں جھگڑے کا فیصلہ آپ نےفرما دیا تھا؟لیکن یہ ایک عجیب و غریب بات ہےکہ زیاد کی پیدائش کےتقریباً پینتیس برس بعد تک ابوسفیان زندہ رہے،اواخر عہد خلافت عثمان میں فوت ہوئے،کفر میں ان کےساتھ آٹھ برس اور اسلام کے ستائیس برس زیاد کی ولادت پر گزر گئے، مگر زیاد کا نسب متحقق اور معروف بین الناس نہ ہو سکا۔ پھر عجیب تر چیز یہ ہے کہ حضرت ابو سفیان کی وفات پر بھی پورے نو سال گزر جانےکےبعد اس زیادتی کی تلافی امیر معاویہ نے جا کر کی تو ۴۴ھ میں کی اور دونوں ”بھائی جو ایک دوسرے کےدشمن تھے ، گلے مل گئے ۔ اس پر عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کی تفصیلات پڑھ کر ہم پر تو حضرت معاویہ کے جذبہ احترام شریعت کا غیر معمولی تاثر قائم ہوا ہے۔“ کیا احترام شریعت کا تقاضا یہی ہے کہ باپ اپنےبیٹے کو نہ زندگی میں بیٹا بنائے ، نہ مرنےپر اس کو وارث قرار دے،اور بھائی ساٹھ برس کی عمر میں جا کر دوسرےبھائی کا حق پہچانے جب کہ دوسرا بھائی ۴۳ ۴۴ سال کی عمر کو پہنچ چکا ہو؟ کتنےحیرت و تاسف کی بات ہے کہ جس شخص کا نسب چوالیس برس تک مشتبہ اور پردہ اخفاء میں رہا، وہ اس عمر میں آکر ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ کا بھائی ، دوسرے لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا برادر نسبتی بن گیا! جو لوگ مولانا مودودی کے انداز بیان کو افسوس ناک کہہ رہے ہیں، وہ ذرا اپنے انداز استدلال کے حسن و جمال پر بھی نگاہ ڈال لیں۔
محمد تقی صاحب اور ان کے ممدوح ابن خلدون حضرت ابوسفیان اور سمیه کے جس تعلق کو ایک نوعیت کا نکاح کہہ رہے ہیں، اسے بیشتر مورخین نے زناہی کے لفظ سے تعبیر کیا ہے، جیسا کہ آگےچل کر میں بیان کروں گا۔ لیکن بنیادی اور اصل زیر بحث مسئلہ زیاد کا انتساب و استلحاق اور اس کا جواز و عدم جواز ہے۔ اسلام سے پہلے آخر صحابہ کرام سے شرک، بت پرستی اور دیگر کبائر میں سے کیا کچھ سرزد نہیں ہوا لیکن ارشاد نبوی ہے کہ:
اگر ابوسفیان کی طرف سے زیاد کا با قاعدہ، بروقت اور علانیہ استلحاق عمل میں آجاتا اور عہدِ نبوی میں یا کم از کم خلافت راشدہ ہی میں اس مسئلےپر کوئی باقاعدہ عدالتی کارروائی ہو جاتی تب بھی معاملہ یکسو ہو جاتا۔ مگر افسوس کہ یہ مسئلہ عہدِ معاویہ میں جا کر اٹھایا گیا۔جبکہ زیاداور امیر معاویہؓ. دونوں کو اسکی ضرورت محسوس ہوئی۔ پھر یہ معاملہ کسی قاضی کے سامنے پیش نہ ہوا جو موافق و مخالفت شہادتیں حاصل کر کے غیر جانبدارانہ فیصلہ کرتا۔خلفائےراشدین کا عمل تو یہ تھا کہ جن معاملات کا تعلق ان کی ذات سےہوتا تھا، اس میں وہ فریق مقدمہ بن کر قاضی کےروبرو پیش ہوتے تھے۔مگر یہاں ایک فریق ہی تھا جو اس تنازع کا فیصلہ کر رہا تھا، اپنے یا زیاد کے حق میں گواہ بھی تلاش کر رہا تھا اور ایک شہر سے گواہ میسر نہیں ہوتے تھے تو دوسرے میں انہیں تلاش کیا جارہا تھا۔ آخر حضرت ام حبیبہ کی گواہی کیوں نہ لی گئی جو حضرت ابو سفیان کی صاحبزادی تھیں؟
حضرت ابوسفیان یا کسی گواہ کا یہ قول مان بھی لیا جائے کہ زیادان کے نطفے سے تھا، تب بھی وہ ان کی جائز اولا د کیسے ہوسکتا ہے؟ اس معاملے میں ابن اثیر نے جو کچھ لکھا ہے وہ بالکل صحیح ہےکہ اسلام میں اس طرح کا استلحاق کسی نے نہیں کیا کہ اسے حجت قرار دیا جائے ۔ عثمانی صاحب کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ حضرت ابوسفیان نےجاہلیت میں چونکہ خفیہ طور پر استلحاق کر لیا تھا، اس لیےیہ اسلام میں بھی جائز تھا۔ ابو سفیان کے استلحاق کا حال یہ ہے کہ بیٹوں تک کو خبر نہیں، حالانکہ حضرت سعد اور عبد بن زمعة کے مابین جس بچے کے بارے میں جھگڑا ہوا تھا اس میں حضرت سعد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صاف طور پر شہادت دی تھی کہ میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ زمعہ کی لونڈی کا بچہ میرے نطفے سے ہے، اس کی نگرانی کرنا۔ اس بچے کی بین مشابہت عتبہ سے آنحضور نے خود ملاحظہ فرمائی اور اسی لیے حضرت سودہ کو اس سےپردہ کرنےکا بھی حکم دیامگر بچےکو عبد بن زمعہ ہی کا بھائی قرار دیا گیا۔یہ واقعہ مسلم،ترمذی، ابوداؤد وغیرہ میں مروی ہےاور وہیں یہ بھی مذکور ہے کہ آنحضور کےاسی فیصلے کی بنا پر حضرت سعد،حضرت ابوبکرہ اور دوسرے بعض اصحاب کو امیر حاویہ کی کارروائی پر سخت اعتراض تھا۔ ظاہر ہے کہ جب خود آنحضرت نے ایک لونڈی کے بچے کو مالک کے بجائےدوسرے شخص کا جائزہ بٹ تسلیم نہ کیا حالانکہ بچے کا اس شخص کے نطفے سے ہونا قرائن سے ثابت ہورہا تھا اور اس بات کے حق میں شہادت اور وصیت بھی موجود تھی، تو زیاد کا استلحاق کیسے جائز ہوسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ تمہاری شہادت نا قابل قبول ہے اور تمہارےپاس چند گواہ مزید ہونے چاہئیں جو یہ بتائیں کہ یہ عقبہ کے نطفے سے ہے، بلکہ آنحضور نے یہی فرمایا کہ بچہ اسی کا ہے جس کی لونڈی ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ جاہلیت کا جو انتساب واستلحاق متنازع فیہ ہو،اس میں بچہ اسی مرد کی طرف منسوب ہوگا جس کی مملوکہ یا منکوحہ کےبطن سے وہ پیدا ہوا ہو۔ البتہ جو انتساب متعارف بین الناس ہو جائے اور جس میں کوئی جھگڑا نہ ہو، اس کا نسب اپنی شہرت و تعارف کے مطابق معتبر سمجھا جائے گا۔
١- بعض لوگ استیعاب کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام حبیبہ اس سے پہلے فوت ہو چکی تھیں لیکن استیعاب کے اس مقام پر ایک قول یہ بھی درج ہے کہ استلحاق کا واقعہ ام حبیبہ کی وفات سے پہلے پیش آیا تھا اور استیعاب میں زیاد کے ترجمے میں حضرت ابوبکر کے جو اقوال دیئے گئے ہیں ان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ام حبیبہ اس وقت زندہ تھیں ۔
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی نے اس موضوع پر جو کچھ تحفہ اثنا عشریہ میں لکھا ہے، وہ بھی نقل کر دیا جائے۔ یہ یادر ہے کہ یہ کتاب شیعوں کے مطاعن داعتراضات کا رد کرنے کے بعد اہل سنت کا مسلک واضح کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔ فرماتے ہیں:
"یہ عامل مردود و حرامی زیاد ہے جو ملک فارس و شیراز کا صوبہ دار تھا اور وہ بے حیا اپنے حرامی ہونے پر فخر کرتا تھا۔ پکار پکار کر کہتا تھا اور اپنی ماں سمیہ نامی چھوکری پر زنا کی گواہی دیتا تھا۔ اس کا قصہ یوں ہے کہ ابوسفیان، معاویہ کے باپ نےاسلام لانے سےپہلےسمیہ نامی ایک چھو کری سےجو حارث ثقفی طبیب مشهور کی کنیز تھی تعلق کر لیا ، دن رات اس کے پاس آیا جایا کرتے اور اس سےخواہش نفسانی پوری کرتے۔ اسی اثنا میں سمیہ نے بچہ جنا جس کا نام زیاد ہوا۔ لیکن چونکہ وہ چھوکری حارت کی ملک میں تھی اور اس کے غلام کے نکاح میں، اس لیے اس لڑکے کا لقب بچپن میں عبدالحارث مشہور ہوا، یہاں تک کہ وہ بڑا ہوا اور شرافت و بلاغت کے آثارا راس کی خوش تقریری اور خوش بیانی زبان زد خلائق ہوئی۔ ایک روز عمر و بن عاص نے کہا جو قریش کے سنجیدہ بزرگوں میں سےتھےکہ اگر یہ لڑ کا قریش سے ہوتا تو عرب کو اپنی لاٹھی سے ہانکتا۔ ابوسفیان نے یہ سن کر کہا قسم خدا کی،جس کا وہ نطفہ ہے اس کو میں خوب جانتا ہوں۔ حضرت امیر (علی) بھی اس وقت موجود تھے۔آپ نے پوچھا وہ کون ہے؟ ابوسفیان نے جواب دیا۔ ” میں ۔ آپ نے فرمایا۔ ”بس کراے ابوسفیان "
"زیاد نے بھی یہ قصہ سن رکھا تھا اور انتہائی بے حیائی سے لوگوں سےکہتا تھا کہ میں دراصل نطفہ ابوسفیان ہوں۔ جب حضرت امیر نے اس کو فارس کا والی بنایا اور شہروں کے نظم و نسق اور فساد کے فرو کرنے میں بہترین اور نمایاں تدبیر ہیں اس سے ظہور میں آئیں تو معاویہ نے پوشیدہ اس سےخط و کتابت شروع کی اور چاہا کہ اس کو اپنارفیق بنائے اور اپنے نسب میں اس کو شامل کر لینے کی اس کو لالچ دے اور یوں اس کو حضرت امیر کی رفاقت سے جدا کر لے، کیونکہ اس قسم کے خوش بیر جتھےوالے سردار کا حریف سے تو ڑ لینا بہت غنیمت ہے۔ اس سے پختہ وعدہ کیا کہ اگر تو میرے پاس آ گیا تو تجھ کو اپنا بھائی کہوں گا اور اولا دابو سفیان میں سے بتاؤں گا، کیونکہ آخر تو ابوسفیان کا نطفہ ہے اور اپنی شرافت و بزرگی سمجھ اور زیر کی کو اپنے دعوے کی صداقت میں سچا گواہ رکھتا ہے۔“
"جب حضرت امیر کی شہادت کے بعد سیدنا ومولانا حسن مجتبی نے ملک وسلطنت کا معاملہ معاویہ کےسپرد کر دیا اور معاویہ نے زیاد کو اپنی طرف مائل کرنے میں حد سے زائد کوشش کی،کیونکہ وہ بہت مدتر ، شجاع اور زیرک سردار تھا جس کےساتھ ایک جمعیت کثیر تھی اور بادشاہوں کو اس قسم کےآدمی کی ضرورت ہوا ہی کرتی ہے اس غرض سے کہ اس کی رفاقت میں حضرت امیر کی طرح بڑی بڑی مہمات طے کرائے ۔ تو اس وقت معاویہ نےابوسفیان کے اسی کلمےسےتمسک کیا جو ان کی زبان سےعمرو بن عاص اور حضرت امیر کے رو برونکلا تھا اور اس کو اپنا بھائی قرار دیا اور ۴ھ میں زیاداب ابی سفیان اس کا لقب تحریر کیا۔ تمام مملکت میں اعلان کر دیا کہ اس کو زیاد بن ابی سفیان کہا کریں۔ابن ابن زیاد نطفہ نا تحقیق کی شرارت دیکھیےکہ معاویہ کی رفاقت میں پہلا فعل جو اس سےسرزد ہوا، حضرت امیر کی اولاد کی عداوت تھی ۔“
اب مدیر ” البلاغ مولانا مودودی اور شاہ عبدالعزیز صاحب کی تحریر آمنے سامنے رکھ کر ذرا مجھے بتائیں کہ مولانا مودودی نے وہ کیا خاص بات لکھی ہے اور ان کے بقول اس معاملے میں عام معترضین سے زیادہ سخت، افسوسناک اور مکروہ اسلوب بیان اختیار کیا ہے جس پر ندامت کے اظہار“ کا مطالبہ فرمایا جارہا ہے؟
البدایہ والنہایہ کا جو حوالہ مولانا نے دیا تھا، اس کے متعلق عثمانی صاحب کہتے ہیں کہ اس میں تو کل سات ہی سطریں لکھی ہیں، مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ لکھا کیا ہے۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ امیر معاویہ نے زیاد کا استلحاق اس بنا پر کیا تھا کہ ایک شخص نے یہ گواہی دی تھی کہ ابوسفیان نےاس بات کا اقرار کیا تھا۔
آگے تحریر ہے کہ حضرت حسن بصری اس استلحاق کو برا سمجھتے تھے، کیونکہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ الولد للفراش وللعاهر الحجر. پھر ابن کثیر مسند احمد کی روایت نقل کرتےہیں کہ زیاد کےمتعلق دعوی کیا گیا تو حضرت ابوعثمان حضرت ابو بکرہ سے ملے اور کہا کہ تم نے یہ کیا کیا ( کہ زیاد کو ابوسفیان کا بیٹا بنا دیا _١)؟ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس نے اسلام میں اپنا باپ چھوڑ کر غیر کواپنا باپ بنایا اور اسےمعلوم ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں،اس پر جنت حرام ہے حضرت ابوبکرہ نے جواب دیا کہ یہ حدیث میں نےبھی آنحضور سے سنی ہے ( یہ حدیث مسلم اور بخاری میں موجود ہے)۔ الاستیعاب کا جو حوالہ مولانا مودودی نے دیا ہے اس میں مذکور ہےکہ حضرت ابو بکرہ نے قسم کھائی کہ وہ زیاد سے نہیں بولیں گےاور اس کے متعلق کہا کہ اس نے اپنی ماں پر تہمت زنالگائی (هذا زنی امعه ) اور اپنے باپ کے نسب کا انکار کیا۔ اب اگر یہ شخص حرم نبی ام حبیبہ کے پاس (بھائی بن کر ) جائے اور وہ اس سے پردہ کریں تو یہ ذلیل ہوگا اور اگر سامنا ہوگا تو یہ عظیم مصیبت ہوگی اور کتنی بڑی ہتک حرمت نبوی ہوگی!" اس کے بعد دو قول بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ زیاد نے ام المومنین کے پاس جانے کی کوشش کی اور انہوں نے پردہ کر لیا ، دوسرا یہ کہ اس نے جانے کی جرات ہی نہیں کی۔
ابن اثیر نے جو کچھ لکھا ہے اور اس میں استلحاق پر جو اعتراض کیا ہے، اس کا جواب دینے کی کوشش عثمانی صاحب نے کی ہے، مگر عثمانی صاحب کا جواب صحیح نہیں ہے، جیسا کہ واضح کیا جا چکا ہے۔ ابن اثیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ امیر معاویہ کی رائے یہ بنی کہ زیاد کو اپنی طرف مائل کریں اور استلحاق کے ذریعے سے اس کی دوستی حاصل کریں۔ چنانچہ دونوں کا اتفاق ہو گیا۔ ابن خلدون کی عبارت کا جو تر جمہ خود عثمانی صاحب نے دیا ہے، اس میں بھی یہ الفاظ ہیں کہ زیاد نے حضرت معاویہ سے صلح کرلی تو زیاد نے مصقلہ کو مامور کیا کہ وہ حضرت معاویہ کو ابوسفیان کےنسب کےبارے میں بتلائیں اور حضرت معاویہؓ کی رائےیہ ہوئی کہ اسے استلحاق کے ذریعے سے مائل کریں۔ چنانچہ انہوں نے ایسے گواہ طلب کیےجو اس سےواقف ہوں کہ زیاد کا نسب ابوسفیان سےلاحق ہو چکا ہے۔ اس استمالت کو اگر مولانا مودودی یا مولانا آزاد سیاسی غرض کہہ دیں، یا شاہ عبدالعزیز صاحب لالچ سے تعبیر کریں تو کیا یہ بات غلط ہوگی؟
"زیاد بن ابیہ جو سمیہ کا لڑکا تھا، بعد میں اُسے ابن ابی سفیان کہا جانے لگا۔ وہ ثقیف کے غلام عبید کے بستر پر پیدا ہوا، اس لیےاسےزیاد بن عبید کہا جاتا تھا۔ پھر معاویہ نے اس سے استلحاق کیا۔جب اموی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو پھر اسے زیاد بن ابیه یا زیاد ابن سمیہ کہا جانے لگا - - - - اس نےاپنے باپ کو ایک ہزار درہم میں خرید کر آزاد کرایا تھا۔"
١- معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر چونکہ زیاد کے اختیائی بھائی تھے، اس لیے ابو عثمان نے غلطی سےیہ سمجھا کہ شاید وہ بھی استلحاق کی کارروائی میں شریک تھے،حالانکہ وہ اس کے مخالف تھےاور آخر دم تک مخالف رہے، دوسری روایت میں ما هذا الذي صنعتم کےبجائے صرف ما هذا کے الفاظ ہیں۔ یعنی یہ کیا ہوا اور یہ الفاظ زیادہ قرین قیاس میں،کیونکہ حضرت ابو بکر کی مخالفت تو مشہور تھی
٢- مولانا آزاد کا قول آئے آئے گا۔
آخر میں ابن حجر پھر فرماتے ہیں: ”امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابو عثمان سےروایت کی ہے کہ جب زیاد کے الحاق کا دعوی پیش ہوا تو میں ابو بکرہ سے ملا اور میں نےکہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اسلام میں اپنے باپ کو چھوڑ کر غیر کو باپ بنانےکا دعویٰ کرے، اس پر جنت حرام ہے۔ اس پر ابوبکرہ نے فرمایا کہ میں نے بھی آنحضور سے اسی طرح سنا ہے۔“
اسی طرح مدیر البلاغ نے الاخبار الطوال کا صرف ایک نامکمل فقرہ نقل کر دیا ہے اور اس کا ترجمہ بھی غلط کیا ہے۔ ابو حنیفہ دینوری زیاد بن ابیه کے زیر عنوان ابتداء میں لکھتے ہیں کہ زیاد پہلے ابن عبید کے نام سے معروف تھا، پھر آگے چل کر فرماتے ہیں:۔
فسار الى معاوية وترقت به الامور الى ان ادّعاه معاوية وزعم للناس انه ابن ابی سفیان و شهدله ابو مريم السلولي، وكان فى الجاهلية خمار بالطائف ان اباسفيان وقع على سمية وشهد رجل من بني المصطلق، اسمه يزيد انه سمع اباسفيان يقول ان زيادًا من نطفة اقرها في رحم سمية فتم ادعاء ٥ اياه وكان في ذالک ماکان.
" زیاد معاویہ کے پاس گیا اور اس کے حالات سازگار تھے یہاں تک کہ معاویہ نے اس کےنسب کا دعویٰ کیا اور لوگوں سے بیان کیا کہ وہ ابو سفیان کا بیٹا ہے اور ابو مریم سلولی جو جاہلیت میں طائف کا مے فروش تھا، اس نے گواہی دی کہ ابوسفیان نے سمیہ سے مباشرت کی تھی اور بنو مصطلق کے ایک دوسرے شخص یزید نےگواہی دی کہ اس نے ابوسفیان کو کہتے سنا کہ زیاد اس کے نطفے سےہےجو اس نےسمیہ کے پیٹ میں ڈالا۔ پس معاویہ کا دعوی زیاد کے بارے میں مکمل ہو گیا اور پھر جو کچھ ہونا تھا ، ہوا۔“
عثمانی صاحب نے خط کشیدہ ٹکڑے کا ترجمہ کیا ہے لہذا یہ ثابت ہو گیا کہ ابوسفیان نے زیاد کے حق میں اپنا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے۔ مولانا عثمانی نے حضرت ابوبکر کےاس قول سے بھی غلط استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ خدا کی قسم! مجھے معلوم نہیں کہ سمیہ نے کبھی ابوسفیان کو دیکھا بھی ہے۔ عثمانی صاحب نے اس سے یہ نکتہ نکالا ہے کہ یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ ان کے نزدیک بھی اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ابوسفیان نے سمیہ سے مہینہ مباشرت کی تھی تو پھر ان کو بھی زیاد کے استلحاق میں کوئی اعتراض نہ تھا۔ سیدھی بات یہ ہے کہ حضرت ابو بکر کا مدعا یہ تھا کہ اگر ان کی والدہ اور ابوسفیان کے درمیان نکاح کا تعلق ہوتا، خواہ وہ جاہلیت کی اقسام نکاح میں سےہوتا، تو وہ ان سے ایسا مخفی نہ رہتا ، ان کی والدہ انہیں بتاتی ، ابوسفیان بتاتے یا وہ نکاح اس حد تک طائف میں معروف ہوتا کہ بالواسطہ طریق ہی پر اس کا علم انہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد اس ادعا کو اپنی والدہ پر بہتانِ زنا کے مترادف سمجھا اور اسی بنا پر اس کے خلاف احتجاج کیا۔ آخر کون شریف آدمی اپنی والدہ سے ایسی ”مبینہ مباشرت پر معترض نہ ہوگا ؟
مدير "البلاغ "نے اپنی بحث کے آخر میں لکھا ہے کہ استلحاق کےبعد جولوگ اس کےمخالف تھےانہوں نے آ آ کر امیر معاویہ سے معافی مانگنی شروع کر دی۔ حتی کہ حضرت عائشہ نے بھی اس کاروائی کو صحیح تسلیم کر لیا اور ایک خط میں زیاد کو ابن ابی سفیان کہہ کر خطاب کیا۔اس کا جواب یہ ہےکہ یہ فیصلہ خواہ صحیح تھا یا غلط بہر حال اسے مملکت میں نافذ کر دیا گیا جیسا که دیت و توریث وغیرہ کےفیصلے نافذ کیے گئے تھے۔ مگر اس وقت سےلےکر آج تک تاریخ وانساب کی کتابوں میں عموماً زیاد بن ابیه اور زیاد بن عبید ہی درج ہوتا چلا آرہا ہے، بلکہ نطفہ نا تحقیق ،حرامی اور ولد الزنات_٣ کے الفاظ بھی استعمال ہوتے رہے ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ معاملہ جیسا کچھ پہلےتھا، ویسا ہی اب بھی ہےحضرت عائشہ کے بارے میں دونوں طرح کی روایات ملتی ہیں ۔ بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ نے زیاد ابن ابی سفیان کہا اور بعض روایات بتاتی ہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا۔ جو روایت ابن خلدون اور عساکر کے حوالے سے نقل کی گئی ہے، اس کی تفصیل طبقات ابن سعد میں یہ ملتی ہے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر کے موالی کسی ضرورت کی بنا پر ان سے زیاد کے نام خط لکھوانا چاہتے تھے۔انہوں نے زیاد ابن ابی سفیان کے بجائے زیاد کوسی اور کا بیٹا لکھ دیا (نسبه الی غیر ابی سفیان ) وہ لوگ کہنےلگےکہ اس خط سےتو ہمارا کام بننےکے بجائے بگڑ جائے گا۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبدالرحمن پھر بھی اسےابن ابی سفیان لکھنے پر آمادہ نہ ہو سکےکیونکہ یہ لوگ پھر حضرت عائشہ کی خدمت میں پہنچے۔ ام المومنین نے سوچا ہوگا کہ بے چاروں کی حاجت روائی ہو،اس لیے ابن ابی سفیان لکھ دیا۔ زیاد کے لیے یہ چیز ایسی نعمت غیر مترقبہ تھی کہ اس نے کہا کہ یہ خط کل لے کر آؤ۔ ادھر دوسرے دن لوگوں کو جمع کیا اور ایک لڑکے سے کہا اسے پڑھ کر سناؤ۔ اس نے زیاد بن ابی سفیان کے الفاظ پڑھ کر سنائے اور زیاد نے ضرورت مند کی ضرورت پوری کر دی۔ معلوم ہوا کہ حضرت امیر معاویہ کے فیصلے کے بعد بھی مسئلہ مختلف فیہ ہی رہا اور زیا د اپنا نسب ثابت کرنے کےلیے مزید سہاروں کا محتاج رہا۔
١-اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ جس شخص کی ولادت نا جائز ہوتی تھی ،یا جس کا نسب غیر حق ہوتا تھا اسے فلاں ابن ابیہ یعنی اپنے باپ کا بیٹا کہتے تھے، یا ابن اللہ (یعنی اپنی ماں کا بیٹا )۔ زیاد کے لیے یہ دونوں طرح کے الفاظ مورخین نے استعمال کیے ہیں۔
٢- شاہ عبد العزیز صاحب کے تحفہ اثنا عشریہ کا جو حوالہ اوپر دیا گیا ہے اس جگہ آگے چل کر انہوں نےزیاد کے لیے والد الزنا کا لفظ ہی استعمال کیا ہے۔
٣- طبقات، جلد الطبع بیروت ۱۳۷۷ء۔
اب میں استلحاق زیاد کے اس قضیہ نامرضیہ کے متعلق چند جدید علماء کے اقوال نقل کرتا ہوں۔ مولانا قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی کی کتاب ” تاریخ ملت جلد سوم کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔یہ کتاب ندوۃ المصنفین جامع مسجد دہلی کی شائع کردہ ہے۔ یہ ادارہ اکابر علمائے دیوبند کےاہتمام اور نگرانی میں قائم ہوا ہے اور ماہنامہ ” برہان" اسی ادارے کا ترجمان ہے۔ "تاریخ ملت" کےص ١٧ پر مصنف فرماتے ہیں:۔
"ابوسفیان نے خود اپنی زندگی میں کھل کر زیاد کو اپنا بیٹا تسلیم نہیں کیا۔ حضرت معاویہ نے زیاد کو خوش کرنے کے لیے بعض شہادتوں کی بنا پر جو ان کے سامنے گزریں، زیاد کو اپنا سوتیلا بھائی تسلیم کر لیا۔ تاہم امیر معاویہ کے اس فعل کو عالمہ مسلمین کی تائید حاصل نہ ہوئی۔ دراصل حق استلحاق ابوسفیان کو تھا اور وہ بھی زمانہ جاہلیت میں۔ امیر معاویہ اس حق کو استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ زیاد نے ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں ایک خط بھیجا اور اس کےآغاز میں لکھا: ”زیاد بن ابی سفیان کی جانب سے اسے توقع تھی کہ حضرت عائشہ سے اسی نام سےخطاب کریں گی اور اس کےلیےثبوت ہو جائےگا۔ مگر حضرت عائشہ نے اس کا جواب بھیجا تو لکھا سب مسلمانوں کی ماں عائشہ کی طرف سے زیاد بیٹے کے نام ۔“
"امیر معاویہ زیاد کی قابلیتوں سےجو فائدہ اٹھانا چاہتےتھے،زیاد کی بدنامی اس راہ میں سنگِ گرں کا کام کرتی تھی،اس لیےانہوں نےحکم نبوی الولد للفراش وللعاهر الحجر،یعنی بچه کا نسب جائز نکاح سےثابت ہوتا ہے، زانی کےلیےتو سنگساری ہے۔“ کا خیال نہ کرتے ہوئےاعلان عام کر دیا کہ آئندہ زیاد کو ابن ابیہ کے بجائے ابن ابی سفیان کہہ کر پکارا جائے ۔“
مولانا ابوالکلام آزاد نے اس مسئلہ پر جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ یہ ہے: ”یہ ایک مشہور تفصیل طلب واقعہ ہے۔ عام ناظرین کے لیے اس قدر لکھ دیتا ہوں کہ سمیہ جاہلیت کی ایک زانیہ اور فاحشہ عورت تھی۔ ابوسفیان اس کے پاس رہا کرتا تھا اور اس سے زیاد پیدا ہوا۔ لیکن اغراض سیاسیہ سے اس کا پھر استلحاق پیدا کیا اور اس کو اپنا بھائی قرار دیا۔ اس کےلیے خاص مجلس شہادت منعقد ہوئی تھی جس میں گواہوں کے اظہار کےلیےاز انجملہ ایک گواہ ابو مریم الفجار بھی تھا جس نے ابوسفیان کےلیے سمیہ کو مہیا کیا تھا۔ بالآخر ایسی شہادت سے زیا بھی شرما گیا۔“
یہ ایک عجیب تماشا ہے کہ دوسروں کی زبان اور قلم سےنکلی ہوئی جس بات پر ادنی سی خلش بھی کسی کو محسوس نہیں ہوتی ، وہی بات جب مولانا مودودی کہہ دیتے ہیں تو وہ ایک تابناک فتنہ بن جاتی ہے۔ اس ظلم اور بے انصافی کی مثالوں کا احاطہ کر ناممکن نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ استلحاق زیاد سے جسے شرعا صحیح ثابت کرنے کے لیے محمد تقی صاحب اور بعض دوسرے حضرات ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ خود اس پر بعد میں نادم ہوئے۔ حافظ نورالدین، پیشمی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد میں مسند ابی یعلی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نصر بن حجاج اور خالد بن ولید کے لڑکے خالد کے درمیان ایک بچے کے بارے میں تنازعہ تھا۔ خالد کہتے تھے کہ یہ بچہ ان کے غلام عبد اللہ کا لڑکا ہے جس کے بستر پر یہ پیدا ہوا اور نصر کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کی وصیت کے مطابق یہ اس کے نطفے سے ہے۔ یہ جھگڑا امیر معاویہ کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ بچہ اسی کا ہے جس کے گھر میں اس کی ولادت ہوئی۔ اس پر نصر نے کہا: فـاتـن قـضـاء ک هذا يا معاوية فی زیاد (تو پھر آپ نے زیاد ہےاستلحاق کا فیصلہ کیسے کیا؟)۔ امیر معاویہ نے جواب دیا:
اس روایت کی سند گو متصل نہیں مگر اس کے رجال کو پیشمی نے اثبات قرار دیا ہے۔ بہر کیف یہ اس امر کا مزید ثبوت ہے کہ امیر معاویہ کے نزدیک بھی ان کا فیصلہ غلط تھا اور جولوگ اسے صحیح ثابت کرنے کی سعی لا طائل میں مصروف ہیں انہیں سنتِ رسول سے زیادہ فعلِ معاویہ کے دفاع کی فکر لاحق ہے۔
میں نے مسئلہ استلحاق کے بارے میں محتاط طریق پر مفصل بحث کر دی تھی اور میرا خیال یہ تھا کہ کم از کم اس موضوع پر محمدتقی عثمانی صاحب سکوت اختیار کریں گے کیونکہ یہ ایک ناگفتنی سامسئلہ ہے جو زیادہ ردو کر کے لیے موزوں نہیں ہے اور اس میں حضرت معاویہ نے جو کچھ کیا ہے، اس کےلیے دفاع فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن مجھے سخت حیرت و تأسف ہے کہ عثمانی صاحب نے اس کا جواز مہیا کرنے کی دوبارہ کوشش فرمائی اور مجھے دوبارہ مجبور کیا کہ اس پر کلام کروں۔ آپ پھر لکھتےہیں:
”میں نے ابن خلدون کے حوالے سے یہ ثابت کیا تھا کہ زمانہ جاہلیت میں سمیہ کے ساتھ حضرت ابوسفیان کے جس تعلق کو مولانا مودودی صاحب نے زنا کا عنوان دیا ہے، وہ در حقیقت جاہلی نوعیت کا ایک نکاح تھا اور اس نوعیت کا نکاح اگر چہ اسلام کے بعد منسوخ ہو گیا، لیکن اس قسم کے نکاح سے جو اولاد جاہلیت میں پیدا ہوئی اسے ثابت النسب کہا گیا۔ زیاد کا معاملہ بھی یہی تھا۔“
ابن خلدون کے ساتھ وغیرہ کا لفظ تو محض تکلف ہے، مولانامحمد تقی صاحب کا اصل انحصار پہلےاور اب بھی ابن خلدون کی ایک عبارت پر ہے۔ ابن خلدون نے جو کچھ لکها ہےاور مدیر البلاغ نےجو کچھ "ثابت" کیا تھا، وہ ایک بڑی عجیب وغریب یا پھر بڑی گہری اور عمیق شے ہے جو میری ناقص عقل و فہم کے لیے ایک معمہ ہے جس کی تفصیل اس بات کے آغاز میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
افسوس کہ اس دلچسپ مفتح کا حل ابھی تک البلاغ میں شائع نہ ہوا۔ اب قارئین سے میری درخواست ہے کہ ان میں سے کوئی صاحب اس پہیلی کو بوجھ سکتے ہوں تو مجھے آگاہ فرمائیں اور میری جانب سے ہدیہ تشکر وصول کریں۔ حضرت ابو سفیان اور زیاد کی والدہ کے تعلق کو نکاح ثابت کرنےمیں مدیر البلاغ کتنی ہی سعی کیوں نہ صرف کریں، فی الحقیقت اس پر جاہلیت کے نکاجوں میں سے کسی نکاح کا اطلاق بھی نہیں ہو سکتا۔ جناب محمد تقی صاحب نے بخاری کے حوالے سے نکاح کی جن اقسام کا ذکر کیا ہے۔ میں نے ان کی تفصیل بتا کر ثابت کر دیا تھا کہ ان کے ذریعے سے نسب کا تقرر وعین بچے کی ولادت کے فورا بعد ہو جاتا تھا۔ لیکن اس کے جواب میں عثمانی صاحب پھر لکھتے ہیں کہ غلام علی صاحب نے اس بات کی کوئی دلیل نہیں دی کہ جاہلیت کے انتساب میں اعلانِ عام ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس مطالبہ دلیل کی حقیقت اور وزن معلوم کرنے کے لیے ہر شخص میری اس بحث کو دوبارہ ملاحظہ کر سکتا ہے جو میں نے جاہلیت کے نکاح کے زیر عنوان کی ہے۔
میں نے پورےتین صفحات میں اپنےدلائل مفصل بیان کر دیئے تھے۔ اب میری سمجھ میں نہیں آتا کہ پھر دوبارہ مجھ سےکیسی دلیل مانگی گئی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جاہلیت کاس جائز یا ناجائز تعلق کی صورت خواہ خفیہ ہو یا علانیہ ہو،اس کےمولود کا نسب تو مخفی رہ ہی نہیں سکتا۔بچہ کوئی چھپنےچھپانےکی چیز تو نہیں ہےاسکے تو پیدا ہوتے ہی یہ سوال سامنے آکھڑا ہوتا ہے کہ یہ حلالی ہے یا حرامی؟ اور حلالی ہے تو اس کا باپ کون ہے؟ اگر اس کا کوئی باپ ثابت نہ ہو اور وہ اسےاپنا بچہ تسلیم نہ کرے،تو جاہلی معاشرے تک میں وہ حرامی قرار پاتا تھا۔ یہ بات صریح عقل کےخلاف ہے کہ بچےکی پیدائش کے سالہا سال بعد اس کا نسب کسی سے ثابت ہو اور وہ حلالی قرار پائے۔جاہلیت میں زنا کی جن صورتوں کو نکاح سمجھا جاتا تھا ان میں بھی بچے کی پیدائش کے بعد کوئی نہ کوئی اس کا باپ بنتا تھا پا بنایا جاتا تھا۔ عورت خواہ منکوحہ ہوتی یا مملو کہ یا متوعہ، وہ خود کسی کو بچے کا باپ نامزد کرتی یا قیافہ شناس بتا تایا پھر باپ خود اعلان کرتا کہ میں اس کا باپ ہوں۔صحیح بخاری کی جس حدیث کا حوالہ مولانامحمد تقی صاحب نے دیا تھا ، وہ باب لا نكاح الا بولی میں موجود ہے اور اس میں تصریح ہے کہ عورت اپنےسے تعلق رکھنے والے مرد کا نام بچہ پیدا ہوتے ہی لے لیتی تھی ، پھر بچے کے نسب کا الحاق اُسی مرد سے ہوجاتا تھا اور وہ شخص اس کا انکار نہیں کر سکتا تھا (لا يستطيع ان يمتنع به الرجلُ )۔اس کےبعد اسی حدیث میں اس بات کی بھی توضیح ہے کہ بغایا( طوائفوں ) کے ہاں اگر بچہ پیدا ہوتا تھا تو قیافہ شناس کو بلایا جاتا تھا اور بچے کی ماں کے ہاں آمد و رفت رکھنے والوں کو بھی جمع کیا جاتا تھا۔ پھر قیافہ شناس ایک متعین شخص کو بچےکا باپ قرار دیتا تھا اور اسی کے باپ ہونے کا دعویٰ کر دیا جاتا تھا جس سے انکار ممکن نہیں ہوتا تھا ( دُعِى ابنه لا يمتنع من ذالک). کیا اس کے بعد بھی نسب دانتساب کے خفیہ رہنے ،مشتبہ ہونے یا اعلانِ عام نہ ہونے کا کوئی موقع باقی رہ سکتا تھا ؟
اس روایت میں جو اقسام نکاح بیان ہوئی ہیں، مدیر البلاغ نے اب ان میں مزید کچھ قسموں کا اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے حق میں وہ داؤدی کا قول نقل کرتے ہیں کہ جاہلی نکاح کی کچھ قسمیں ایسی ہیں جو حضرت عائشہ نے بیان نہیں فرما ئیں۔ ان میں سے پہلی قسم خفیہ آشنائی کا نکاح ہے اور اس کا ذکر قرآن کریم کے ارشاد وَ لَا مُتَّخِذَاتِ اَخْدَان میں موجود ہے۔ جاہلیت کےلوگ کہا کرتے تھے کہ ایسا تعلق اگر خفیہ طور پر ہو تو اس میں کچھ حرج نہیں اور علی الاعلان ہوتو وہ قابلِ ملامت ہے۔ کاش کہ ایسی واہی بات نقل کرنے سے پہلے عثمانی صاحب کچھ تو غور و تامل کر لیتے!یہ بات اتنی بے بنیاد ہے اور اس خفیہ آشنائی کو نکاح قرار دینا اتنا افسوسناک ہے کہ خود مدیر البلاغ کو بھی فقرے کے آخر میں نکاح کے بجائے تعلق کالفظ لا نا پڑا ہے، ورنہ وہ خدا را بتائیں کہ نکاح کی کوئی قسم ایسی بھی ہو سکتی ہے جو خفیہ ہو تو اس میں حرج نہ ہو اور علی الاعلان ہو تو قابل ملامت ہو۔“ابن حجر نے انہیں بیان کر کے فوراً اس کی تردید بھی کر دی ہے کہ ان پر نکاح کی اصطلاح وارد نہیں ہوتی۔ نکاح کی یہ اقسام بیان کرنے کے بجائے پھر تو محمد تقی صاحب کو بس یہ کہہ دینا چاہیے کہ عربوں کےہاں نکاں اور زنا میں سرےسے کوئی فرق ہی نہ تھا اور زنا کی ہر قسم داخلِ نکاح تھی۔ لیکن ایسا گمان خلاف حقیقت ہے۔ قرآن میں ولا متخذات اخدان کی تفسیر میں امام ابن جریر لکھتے ہیں:
اس طرح امام ابن جوزی اپنی تفسیر زادالمسیر میں سورہ نساء کی آیت ولا متخذات اخدان کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
یہاں بھی ابن جوزی نکاح کے بجائے زنا کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ بہر کیف حضرت عائشہ تو جاہلیت کے حالات سے داودی کی بہ نسبت زیادہ واقف تھیں اور انہوں نے اس قسم نکاح کا ذکر نہیں فرمایا۔
یہ بات کتنی رنجدہ اور باعث افسوس ہے کہ مدیر البلاغ بغیر سوچےسمجھےبار بار اس بات کو دہرائےجارہےہیں کہ اگر خفیہ استلحاق جاہلیت میں قابلِ قبول نہیں تھا ، تب بھی حضرت ابوسفیان نے دس آدمیوں کی موجودگی میں نسب کااقرار کیا تھا۔سوال یہ ہےکہ یہ نسب کاکیسا اقرار ہےجس کی اطلاع نہ بچےکی ماں کو ہےنہ خود امیر معاویہ اور خاندان کےدوسرے افراد کو ہےنہ اس ماں شریک دوسرےبھائی(حضرت ابوبکر) کو ہے،نہ خود زیاد کو جوان ہونےتک ہےدس _١گواہوں کےماسوا کسی کو کانوں کان اس نسب کی خبر تک نہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے برعکس سمتیہ جس غلام عبید کے نکاح میں تھی، استلحاق کی کارروائی سے پہلے اس عبید سے زیاد کا نسب ثابت و مشہور ہے اور زیاد اپنے آپ کو غلام زادہ اور عبید ہی کا بیٹا سمجھتا ہےاس سارےپینتیس سال کے عرصہ دراز تک سب لوگ جامد و ساکت بیٹھے رہتے ہیں اور ۲۴ھ میں یکا یک یہ سر مکنون منکشف ہوتا ہے کہ زیا دتو ابوسفیان کا صاحبزادہ،ام المومنین حضرت ام حبیبہ کا علاقائی بھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا برادر نسبتی ہےزیاد پہلےہجری سال تولد ہو گیا تھا مگر افسوس کہ کسی شخص نےتیرہ برس تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ بتایا کہ آپ کا یہ برادر نسبتی ہےاور چوالیس برس تک حضرت ام حبیبہ کو آگاہ نہ کیا کہ یہ آپ کا بھائی ہے!حضرت معاویہ بلا ریب حضرت ام حبیبہ کےبرادر گرامی ہیں اور انہیں بجا طور پر خال المومنین (مسلمانوں کےماموں ) کہا جاتا ہے، کیونکہ حضرت ام حبیبہ ام المومنین ہیں۔لیکن اب مدیر البلاغ کو اگر زیاد بن ابیه کےبارےمیں بھی ایسا ہی اصرار ہےکہ وہ بھی خال المومنین ہیں تو وہ بسم اللہ کریں،آئندہ اپنےخطبوں میں، اپنی تحریروں اور تقریروں میں زیاد کےساتھ اس لقب کا اضافہ بالالتزام فرما دیا کریں تا کہ جوکو تا ہی یا حق تلفی اب تک ہو چکی ،اس کی کچھ تو تلافی ہو!
١- یہ دس آدمیوں کی گواہی کا ذکر عثمانی صاحب بار بار صرف مدائنی کے حوالے سے کر رہے ہیں لیکن عجیب بات ہے کہ آگے چل کر اپنی کتاب کے صفحہ ۱۸۸ پر جہاں مولانا مودودی کی نقل کردہ ایک روایت کی تردید مقصود ہے، وہاں عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ مدائنی " متکلم فیہ ہیں ۔ یہاں مدائنی کا نام بھی غلط طور پر علی ابن محمد کے بجائے محمد بن علی لکھ دیا ہے۔ اب قطع نظر اس سے کہ المدائنی ثقہ ہیں یا ان کی روایات میں کلام ہے، یہ آخر عدل وانصاف کی کونسی قسم ہے کہ جب آپ مدائنی کے حوالے سے بات کریں تو مدائنی اور ان کا قول مستند ہو جائے اور جب ہم اس کی روایت کہیں نقل کر دیں تو وہ نا قابل اعتماد قرار پائے۔
میرے بیان کردہ دلائل و شواهد اور تلخ حقائق کا براہِ راست سامنا کرنے کے بجائے مولانا عثمانی صاحب حسب سابق اپنے اُسی طرز استدلال کی آڑ لیتےہیں کہ زیاد کا استلحاق اگر ایسا ہی بےبنیاد ہے تو پھر ساتھ ہی یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ امت اپنے خیر القرون میں حق کے محافظوں سے یکسر خالی ہوگئی تھی ، ورنہ کیا یہ بات عقل میں آسکتی ہےکہ اتنی بڑی دھاندلی کا ارتکاب ایسےدور میں کیا جائےیہ وہی استدلال ہےجو توربیث،دیت سب و شتم و غیره کےجملہ مباحث میں وہ کرتے چلےآرہے ہیں۔ اگر ثابت شده تاریخی حقائق ووقائع کے بارے میں مجر دید عقلی استدلال ان واقعات کو کالعدم قرار دینے کے لیے کافی ہو، تو پھر فتنہ ارتداد قبل عثمان قبل حسین و ابن زبیر،واقعہ کره،هتک حرمین کے متعلق جو تفاصیل تاریخ ہی میں نہیں، مستند ترین کتب حدیث و آثار میں درج ہیں ان سب پر خط نسخ کھینچ دینا قطعی طور پر لازم ہو گا۔لیکن میں اس عقلی و غیر عقلی امکان استحاله کی بحث میں پڑے بغیر یہ کہتا ہوں کہ امت اسلامیہ اپنے خیر القرون ہی میں نہیں بلکہ کسی قرن اور کسی دور میں بھی حق کے محافظوں سےیکسر خالی نہیں ہوئی۔اگر خالی ہوتی تو یہ واقعات ان کا رد عمل جس دو گونہ آویزش کی تصویر کو پیش کرتے ہیں، وہ تصویر ہماری تاریخ سے غائب ہی ہوتی،خوب و نا خوب اور غلط و صحیح کی تمیز کلیۂ مٹ چکی ہوتی۔
خیر یہ تو محض اس منطق کا جواب تھا جس کا سہارا لےکر عثمانی صاحب یا بعض دوسرےلوگ هر واقعہ کا انکار کر دیتے ہیں۔جہاں تک زیر بحث مسئلہ استلحاق کا تعلق ہےاس میں بعض صحابہ کرام نےاسی وقت شدید احتجاج کیا تھا اور بعد میں علماء و مورخین اب تک تنقید کرتے چلےآرہےہیں۔ اس کی خاصی تفصیل میں پہلے بیان کر چکا لیکن محمد تقی صاحب اگر یہی چاہتے ہیں تو میں مزید کچھ تشریح کیےدیتا ہوں۔ صحیح مسلم کے آغاز ہی میں کتاب الایمان کا ایک باب ہے جس کا عنوان ہے:
عن ابی عثمان قال لما ادعي زياد لقيت ابابكرة فقلت له ما هذا الذي منعتم اني سمعت سعد بن ابي وقاص يقول سمع أذناى من رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقول من ادعى ابا في الاسلام غير ابيه وهو يعلم انه غير ابيه فالجنة عليه حرام فقال ابوبكرة وانا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلّم.
"حضرت ابو عثمان روایت کرتے ہیں کہ جب زیاد کا (ابوسفیان سے استلحاق کا ) دعوی کیا گیا تو میں حضرت ابو بکرہ سے ملا اور ان سے کہا کہ آپ لوگوں نے یہ کیا کارروائی کی ہے؟ میں نےحضرت سعد بن ابی وقاص سے سنا ہے ، وہ کہتے تھے کہ میں نے اپنے دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا ہے کہ جو شخص اسلام میں اپنے باپ کو چھوڑ کر کسی دوسرےکو باپ بنانےکا دعوی کرے اور اسے معلوم ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہےحضرت ابوبکر گانےجواب دیا کہ میں نےبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد خود آنحضور سے سنا ہے۔“
یہاں یہ امر قابل وضاحت ہےکہ حضرت ابو بکرہ چونکہ زیاد کے ماں جائے بھائی تھے۔اس لیےابو عثمان نےیہ خیال کیا کہ زیاد نے جو اپنا نسب جانتے بوجھتے بدلا ہے یا اس کی تبدیلی کا دعوئی تسلیم کیا، تو شاید حضرت ابوبکر کا بھی اس ادعا میں شریک ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابو بکر اس دعوے نے شدیدترین مخالف تھےاور آپ نےمرتے دم تک زیاد سےبات تک نہیں کی۔چنانچہ حضرت ابو عثمان کی غلط فہمی حضرت ابو بکر نے یہ کہہ کر رفع کر دی کہ میں تو خود اس استلحاق کو نا جائز سمجھتا ہوں اور میں نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وعید خودسنی ہے۔ پھر اس حدیث پر امام مسلم یا امام نووی نے جو عنوان باندھا ہےیہ بھی ثابت کر رہا ہےکہ زیاد نے دیدہ دانستہ اپنے حقیقی باپ کےبجائے دوسرے شخص کی جانب انتساب گوارا کیا اور اپنے آپ کو شدید وعید کا سزاوار بنایا۔ امام نووی اس حدث کی شرح میں زیاد کے متعلق فرماتے ہیں:
كان يعرف بزياد بن عبيد الثقفي ثم ادعاه معاوية بن ابي سفيان والحقه بنبيه ابي سفيان وصار من جملة أصحابه بعد ان كان من أصحاب علی بن ابی طالب رضی الله عنه.
"زیاد کا معروف نام زیاد بن عبید ثقفی تھا۔ پھر معاویہ بن ابی سفیان نے اس کے بارے میں دعوی کیا اور اس کا نسب اپنےوالد ابوسفیان کےساتھ ملحق کر دیا۔اسطرح زیاد امیر معاویہ کا ساتھی بن گیا حالانکہ پہلےوہ حضرت علی کا ساتھ دیتا تھا۔“
اس حدیث کی تشریح میں تقریباً یہی الفاظ مولانا شبیر احد عثمانی مرحوم نے فتح الملہم میں درج فرمائے ہیں۔ یہی حدیث دیگر کتب صحاح میں بھی وارد ہے۔مثال کےطور پر أبو داود، کتاب الأدب، باب في الرجل ينتمى الى غير موالیہ میں بھی یہ حدیث موجود ہےمولانا خلیل احمد صاحب مرحوم بذل المجهود میں اس حدیث کی شرح یوں بیان فرماتے ہیں:۔
انما ذكر أبو عثمان هذا الحديث لأبي بكرة لان زيادًا أخا ابي بكرة لأمه ينتمي نسبه الى ابی سفیان صحراء بن حرب وقصته ان ابا سفیان زنی بامه في الجاهلية فولدت زيادًا فكان زياد تقول له عائشة زياد بن ابيه وكان زياد من حماة على وكان شجاعاً مقدامًا فى الحرب واستماله معاوية فانتسب اليه وجعله اخاه فلهذا حدث ابو عثمان هذا الحديث أبي بكرة لأنه ظن ان ابا بكر لعله يرضى به فلما قال أبو بكرة اني سمعت هذا الحديث من رسول الله صلى الله عليه وسلم علم بهذا أنه ليس براض بما فعل زياد.
"ابوعثمان نے یہ حدیث حضرت ابو بکر سے اس لیے بیان کی کہ زیادان کا ماں شریک بھائی تھا اور اس نے اپنے نسب کا استلحاق ابوسفیان سے کر لیا۔ اس کا قصہ یوں ہے کہ ابوسفیان نے جاہلیت میں زیاد کی والدہ سے زنا کیا تھا۔ پھر زیاد پیدا ہوا تو زیاد کو حضرت عائشہ زیاد بن ابیه کہا کرتی تھیں اور زیاد پہلے حضرت علیؓ کا حامی اور بہادر جنگجو تھا تو معاویہ نے اسے اپنی طرف مائل کیا ، اپنے خاندان کی جانب اس کا انتساب کیا اور اسے اپنا بھائی بنا لیا۔ اس لیے ابو عثمان نے یہ حدیث ابوبکرہ سےبیان کی اور یہ سمجھ کر کی کہ شاید ابوبکرہ بھی اس استلحاق پر راضی ہیں۔ لیکن جب انہوں نے خود یہی حدیث سنائی تو ابو عثمان نے جان لیا کہ وہ اس کا رروائی پر خوش اور رضامند نہیں ہیں ۔“
اب محمد تقی صاحب اس بات پر بڑی برہمی کا اظہار کر رہےہیں کہ مولانا مودودی نےیہ کیوں لکھ دیا کہ حضرت ابوسفیان نےزیاد کی ماں سمیہ سےزنا کا ارتکاب کیا تھا اور پھر حضرت معاویہؓ نےزیاد کو اپنا حامی بنانے کے لیے اپنے خاندان کا فرد قرار دے دیا۔ مدیر البلاغ نے اس انداز بیان کو افسوسناک اور سخت مکروہ قرار دے کر مولانا مودودی سےتو بہ و ندامت کا مطالبہ کیاتھا۔میں نےپہلی بحث میں اس کا جواب دیتےہوئےمتعدد اصحاب سلف کےاقوال نقل کیسےتھےجن کا مفہوم مولانا مودودی کے مضمون سےمختلف نہ تھا۔ان میں شاہ عبد العزیز صاحب کی تحفہ اثنا عشریہ سے سےعبارت بھی شامل تھی جس میں انہوں نے زیاد کو حرامی ، نطفہ نا تحقیق ، مردود اور بے حیا“ لکھا تھا،جسے امیر معاویہ نے اپنے نسب میں شامل کر لینے کا لالچ دے کر حضرت علی کی رفاقت سے جدا کر لیا تھا۔ مگر افسوس کہ عثمانی صاحب کو اب بھی اصرار ہے کہ یہ زنا نہیں بلکہ نکاح تھا اور اس ”نکاح“ کےدس گواہ موجود تھے،حالانکہ ان گواہوں میں سےبعض نے ایسی گواہی دی تھی جسےسن کر بقول مولانا آزاد مرحوم زیاد بھی شرما گیا۔ مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری تو اہلِ دیوبند کے استاذ الاساتذہ اور شیخ الشیوخ ہیں، وہ بھی فرما رہے ہیں کہ سفیان نے زنا کیا تھا۔۔ اس کے باوجود مدیر البلاغ اسےنکاح ثابت کرنے پر ایڑی چوٹی کا زور لگارہےہیں۔ مولا ناسٹیل احمد تو یہ بات لکھ چکنےکےبعد اب رحلت فرما چکےاور اس سخت مکروہ انداز تحریر سے وہ بھی تو بہ دانا بت کا اظہار نہ فرما سکے۔ مولانا محمدتقی صاحب جو مجھے اس بات کا الزام دیتے ہیں کہ میں ان کے اکابر پر طعن کرتا ہوں، ذرا اپنے گریبان میں منڈال کر دیکھ لیں کہ جو تیر وہ ہم پر چلا رہے ہیں وہ بھی اس کا نشانہ اپنے اکابر کو تو نہیں بنار ہےہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ جو بات مولانا نے لکھی ہے، وہ بکثرت اہل علم لکھتے اور کہتے چلے آئےہیں ۔ مثال کے طور پر محدث ابن عساکر تاریخ دمشق میں لکھتے ہیں:
قال زياد لابي بكرة المتر ان امير المومنین ارادني على كذا و كذا وولدت على فراش عبيد وشبهته وقد علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من ادعى لغير أبيه فليتبوأ مقعده من النار.
"زیاد نے حضرت ابوبکر سے کہا: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ امیر المومنین میرےاستلحاق کا ارادہ رکھتے ہیں حالانکہ میں عبید کےبستر پر پیدا ہوا اور اُسی سےمشابہت رکھتا ہوں اور آپ جانتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے اپنےباپ کے سوا کسی دوسرےسےانتساب کیا ، وہ اپنا ٹھر کا نا دوزخ میں بنالے۔“
وكان عمر بن عبدالعزيز إذ كتب الى عماله فذكر زيادًا قال ان زيادا صاحب البصرة ولا ينسبه وقال ابن بعجة اول داء دخل العرب قتل الحسن يعنى سمة وادعاء زياد.
"حضرت عمر بن عبدالعزیز جب اپنےعمال کو خط لکھتے ہوئے زیاد کا ذکر کرتے تھے تو اسےزیاد والی بصرہ کہتے تھے اور اس کا نسب بیان نہیں کرتے تھے۔ ابن بعجہ کہتے ہیں کہ پہلی بیماری جو عربوں میں داخل ہوئی ، وہ حضرت حسنؓ کا زہر کے ذریعے سے قتل ہونا تھا اور زیاد کا استلحاق وادعاء تھا۔"
حافظ ابن عسا کرنے اپنی تاریخ میں زیاد کے حالات بیان کرتے ہوئے اس کا ترجمہ زیاد ابن عبید کے نام سے کیا ہے جس سے میری اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ بکثرت مؤرخین نے زیاد بن ابی سفیان لکھنے سے احتراز کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
پھر ابن عساکر محدث ابن بیٹی اور حضرت سعید بن المسیب کے اقوال نقل کرتے ہوئےفرماتے ہیں:
قال ابن يحيى اول حكم ردّ من أحكام رسول الله الحکم فی زیاد وقال سعيد بن المسيب اول قضية ردت من قضا يا رسول الله صلى الله عليه وسلّم علانية قضاء فلان يعني معاوية في زياد.
"ابن بیٹی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں میں سے پہلا فیصلہ جو رد کیا گیا وہ زیاد کے بارے میں ہےاور سعید بن مسیب نےفرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےفیصلوں میں سےاولین فیصلہ جسے علانیہ رد کیا گیا وہ معاویہ نے زیاد کے معاملے میں کیا۔“
كانت سمية جارية الحارث بن كلدة الثقفي فزوجها بعبدالله رومى يقال له عبيد فولدت سمية زيادًا على فراشه فهو ولد عبيد شرعًا و كان ابوسفیان سار
"سمیہ حارث بن کلدہ ثقفی کی کنیز تھی جسے اس نے اپنے ایک رومی غلام عبید نامی سے بیاہ دیااور زیاد اس عبید کے گھر پیدا ہوا ور شرعاً اس کی اولاد تھا اور ابوسفیان جاہلیت کے دور میں طائف گئے۔- - - - "
آگے وہی قصہ ہے جو دوسرے مؤرخین نے بیان کیا ہے۔
اس کے بعد ابوالغد اء بیان کرتے ہیں کہ ابو مریم نے استلحاق کے وقت اس طرح کی گواہی دی کہ زیاد نے خودا سے خاموش کرا دیا۔
استلحقه معاوية وهذه اوّل واقعة خولفت فيه الشريعة علانية لصريح قول النبي صلى الله على وسلّم الولد للفراش وللعاهر الحجر وأعظم الناس ڈلک و انکروه خصوصا بنو امية لكون زياد بن عبيد الرومي صار من بني أمية.
"پھر معاویہ نے زیاد کا استلحاق کر لیا اور یہ پہلا واقعہ ہے جس میں علانیہ شریعت کی مخالفت کی گئی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صریح ارشاد ہے کہ بچہ اسی کا ہےجس کے بستر پر وہ پیدا ہو اور زانی کےلیے پتھر ہے۔ لوگوں نے اس فیصلے کو بڑا حادثہ سمجھا اور اس پر احتجاج کیا، بالخصوص بنوامیہ نے،کیونکہ اس طرح رومی غلام عبید کا بیٹا زیاد بنوامیہ کا ایک فرد بن گیا۔"
افسوس کہ یہ سب حضرات تو به کیے بغیر وفات فرما چکے اور اللہ کے ہاں پہنچ چکے ہیں۔ عثمانی صاحب ہی بہتر جانتے ہوں گے کہ ان کا انجام کیا ہوگا ؟ اگر عثمانی صاحب قاضی ہوتے اور یہ اصحاب بقید حیات ہوتے تو غالبا ان سب پر حد قذف جاری کرتے اور ان کی پشت پر کوڑے برساتے۔
مدیر البلاغ نے دوران بحث میں یہ بھی لکھا ہے کہ ملک صاحب کا یہ خیال درست نہیں ہےکہ بعد میں تاریخ وانساب کی کتابیں زیاد کو زیاد بن ابیه اور زیاد بن عبید ہی لکھتی چلی آتی ہیں۔ مشہور عالم و مؤرخ بلاذری نے اپنی معروف کتاب انساب الاشراف میں زیاد کا ترجمہ زیاد بن بن ابی سفیان ہی کےعنوان سےکیا ہے۔میرے اصل الفاظ یہ تھے کہ تاریخ وانساب کی کتابوں میں عموماً زیاد بن ابیه اور زیاد بن عبید ہی درج ہوتا چلا آیا ہےاور میں اب بھی اپنی بات کو درست سمجھتا ہوں اور مؤرخ بلاذری کی طرف عثمانی صاحب کی منسوب کردہ بات کو مغالطہ انگیز اور خلاف واقعہ قرار دیتا ہوں۔بلاذری کی پوری تاریخ بھی ابھی تک مخطوطات کی شکل میں ہےاور اس کا مطبوعہ متداول حصہ وہ ہے جو جز اول کی صورت میں ڈاکٹر محم حمید اللہ صاحب کی تحقیق سے دار المعارف مصر ۱۹۵۹ء میں چھپا ہے۔غالبا مدیر البلاغ کا اشارہ اسی کی طرف ہےمگر انہوں نے اس کےکسی متعین مقام کا حوالہ نہیں دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جلد میں زیاد کا علیحدہ ترجمہ کسی مستقل عنوان کے تحت درج نہیں ہےکیونکہ یہ حصہ سیرت نبوی پر مشتمل ہےالبتہ ضمناً اس میں زیاد کا ذکر کئی مقامات پر آ گیا ہے پوری کتاب میں شاید تمیں بار زیاد کا نام آیا ہو گا مگر ان میں پوری تلاش کےباوجودمجھے صرف صفحہ ۳۶۷ کے ایک مقام پر یہ الفاظ ملے ہیں کہ حضرت ابوبکرہ زیاد بن ابی سفیان کےاخیافی بھائی ہیں۔ اس ایک جگہ کے سوا زیاد کی ولدیت کہیں ابو سفیان نہیں بلکہ اکثر جگہ زیاد ابن عبید ہے۔ص ۴۸۹ پروہی بات درج ہےکہ سمیہ کی شادی رومی غلام سے ہوئی تھی:
آگے صفحہ ۴۹۱ پر ہے۔ زیاد بن عبید مولی ثقیف. پھر صفحه ۴۹۳ پر حضرت ابوبکر کا قول درج ہے کہ زیاد کے فسق و فجور میں علاوہ دیگر باتوں کے یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے باپ عبید کےنسب سے انکار کیا اور ابوسفیان کا بیٹا ہونےکا دعویٰ کیا۔(انتفـائـه مـن عبيد وادعاء ه الى ابي سفیان). اس کےبعد ہر شخص خود فیصلہ کر سکتا ہےکہ مدیر البلاغ کا یہ مزعومة کس حد تک درست ہےکہ بلاذری نےزیاد کا ترجمہ ”زیاد بن ابی سفیان ہی کےعنوان سےکیا ہے؟ فی الحقیقت بات یہ ہےکہ زیاد جس کا بھی نطفہ ہو وہ عبیدہ ہی کے گھر پیدا ہوا اور اس کا نسب یقینی طور پر عبید سے ملحق تھا۔ اب زیاداور امیر معاویہ نے مل جل کر استلحاق کی جو کارروائی کی ، اس سے کسی نا جائز حق تلفی کی تلافی نہیں ہوئی جیسا کہ مدیر البلاغ کا خیال ہےبلکہ یہ زیاد کے ساتھ شاید زیادتی ہی ہوئی کہ اس کا نسب مستقل طور پر دوغلا اور خلط ملط ہو گیا۔ایک کےبجائے اس کے لیے چار چار ولدیتیں لکھنے کی گنجائش پیدا ہوگئی۔ کسی نے زیاد بن عبید کہا، کسی نے ابن ابی سفیان کہاں اور کسی نے ان دونوں سےبیچ کر یوں کہہ دیا کہ زیاد بن ابیہ یا ابن ائمہ (اپنی ماں یا اپنے باپ کا بیٹا ، جو بھی اس کا باپ ہو )۔ستلحاق سے شاید دنیوی فائدہ زیادہ نے حاصل کر لیا ہومگر اس کا نسب دائماً مشتبہ ہو کر رہ گیا۔
بلاذری نے جیسا کہ میں نے بیان کیا زیاد کا مستقل ترجمہ یا نسب درج نہیں کیا اور یہ کتاب اس موضوع کے لیے مختص بھی نہیں مگر امام ابن حزم کی کتاب ”جمهرة انساب العرب"خاص انساب کےموضوع پر ہے۔یہ بھی دارالمعارف،مصر میں ۱۳۸۲ھ میں چھپی ہے۔اس کے صفحہ پر ولـــد حرب بن امیه بن عبد شمس کےزیر عنوان حضرت ابوسفیان کی جملہ اولاد کی پوری تفصیل درج ہے۔ نام یہ ہیں: یزید،حنظلہ، عمرو، معاویہ، محمد، عنبہ، عتبہ، ام حبیبہ۔ اس فہرست میں زیاد کا نام مفقود ہے۔ ابوحنیفه دینوری اپنی تاریخ الاخبار الطوال صفحہ ۱۱۸ پرلکھتے ہیں: زیاد بن عبيـد كـان عبدا مملوكًا لثقیف پھر صفحہ ۲۱۹ پر انہوں نے زیاد کے لیے الگ ترجمہ درج کیا ہے اور عنوان زیاد بن ابیه قائم کیا ہے۔ اس کے آغاز میں لکھتےہیں: کان زياد بن أبيه انما يعرف بزياد بن عبيد. پھر لکھتے ہیں کہ عبید غلام تھا۔ مالک نے آزاد کر دیا تو اس نے سمیہ سے نکاح کیا جس سےزیاد پیدا ہوا۔ حافظ ابن حجر الاصابه میں زیاد کا ترجمہ یوں لکھتے ہیں:
زياد بن أبيه وهو ابن سمية الذى صار يقال له ابن ابي سفيان، ولد على فراش عُبيد مولى ثقيف فكان يقال له زياد بن عبيد، ثم استلحقه معاوية ثم لما انقضت الدولة الاموية صار يقال له زياد بن أبيه وزياد بن سمية...... اشترى أباه بألف درهم فأعتقه.
"زیاد بن ابیہ جو سمیہ کا بیٹا تھا۔ بعد میں اسے ابن سفیان کہا جانے لگا۔ وہ بنو ثقیف کے غلام عبید کے بستر پر پیدا ہوا۔ اس لیے اسے زیاد بن عبید کہا جاتا تھا۔ پھر معاویہؓ نے اس کا استلحاق کیا۔جب بنو امیہ کی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا تو پھر اسےزیاد بن ابیه اور زیاد بن سمیه کہا جانےلگا۔ اس نےسےاپنے باپ عبید کو ایک ہزار درہم دے کر آزاد کرایا تھا۔“
ابن حجر کے اس بیان سے یہ بات واضح ہوگئی کہ زیاد کا باپ عبید ہی تھا اور وہ استلحاق ۔پہلے اس کا بیٹا کہلاتا تھا۔ امیر معاویہ کے استلحاق سے اسے ابن ابی سفیان کہا جانے لگا مگر اموی سلطنت کے خاتمے پر اسے دوبارہ عبید کا بیٹا کہا جاتا تھا۔ آگے ابن سیرین کے متعلق بھی صحیح سند کےساتھ فل ہے کہ زیاد کو ابن ابیہ ہی کہا جاتا تھا۔ عثمانی صاحب کو شاید یہ بھی یاد نہ رہا ہو کہ اپنی کتاب کےصفحه ۵۶ پر انہوں نے اپنی بحث کے آخر میں خود امیر معاویہ کا ایک خط زیاد کے نام نقل کیا ہے جس میں وہ زیاد کو لکھتے ہیں:
کیا اس کا صاف مطلب یہ نہیں ہے کہ امیر معاویہ خود بھی اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ استلحاق سے پہلے زیاد اپنےباپ عبید ہی سے انتساب رکھتا تھا۔ اس کے بعد آخر استلحاق کی کارروائی کا کیا جواز اور کیا موقع ومحل باقی رہ جاتا ہے؟ مشہور مؤرخ اسلام امام ذہبی اپنی تصنیف "العبر في خبر من غیر جلد اول صفحہ ۵۸ پر ۵۳ھ کے واقعات بیان کرتے ہوئے جہاں زیاد کی وفات کا ذکر کرتے ہیں وہاں اسے زیاد بن ابیہ ہی لکھتے ہیں۔اگرچه ساتھ فرماتے ہیں۔
آگے چل کر صفحہ ٧٠ پر٦٤ھ کے واقعات درج کرتے ہوئے عبید اللہ بن زیاد کے ذکر میں پھر زیاد کا نام آ گیا ہے، تو پھر بھی امام ذہبی نے زیاد بن ابیہ ہی لکھا ہے۔
محمد تقی عثمانی صاحب نےاس اشکال کو بھی بڑے شد و مد کےساتھ پیش کیا ہےکہ اگر یہ استلحاق ناجائز تھا تو حضرت عائشہ نے زیاد کو ابن ابی سفیان لکھ کر کیسے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی؟میں اس کا جواب پہلےدے چکا کہ یہ فیصلہ گوغلط ہی تھا مگر جب امیر معاویہ نےتمام مملکت میں اعلان کرا دیا کہ زیاد کو سب لوگ زیاد بن ابی سفیان کہا کریں_١تو دنیوی اعتبار سےیہ واقع و نافذ ہو گیا اور اسکےمطابق زیاد بن ابی سفیان کہنا بھی حد جواز میں آ گیا۔عثمانی صاحب کو شاید معلوم ہوگا کہ فقہائےاحناف کا اس پر اتفاق ہےکہ حاکم وقاضی کا فیصلہ خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو ظاہر و باطناً نافذ ہوجاتا ہےاور اس کےمطابق عمل کرنا جائز ہو جاتا ہے، اگر چہ عنداللہ جو فیصلہ غیر صحیح ہے وہ غیر صحیح ہی رہے گا۔ پھر میں یہ بات بھی پہلے بیان کر چکا ہوں کہ بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ نے زیاد ابن ابی سفیان کہنے سے گریز فرمایا ہے۔ چنانچہ زیاد نے ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں ایک خط بھیجا اور اس کے آغاز میں لکھا: ”زیاد بن ابی سفیان کی جانب سے۔ اسے توقع تھی کہ حضرت عائشہ اسے اس نام سے خطاب کریں گی اور اس کے لیے ثبوت ہو,جائے گا۔مگر حضرت عائشہ نے اس کا جواب بھیجاتو لکھا سب مسلمانوں کی ماں عائشہ کی طرف سے زیاد بیٹے کے نام۔“
عثمانی صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب گواہوں نے نکاح کی گواہی دے دی تو جولوگ استلحاق زیاد پر معترض تھے انہوں نے اعتراض سے رجوع کر لیا۔ اور اپنے سابق اعتراض پر شرمندگی کا اظہار کیا۔ مگر عثمانی صاحب کی یہ بات صحیح نہیں ہے۔ میری بحث سے یہ واضح ہے کہ جن حضرات نے استلحاق کی کارروائی کو نا جائز سمجھ کر اس پر اعتراض و احتجاج کیا،وہ آخر دم تک اپنےموقف پر قائم رہے حضرت ام حبیبہ جو ام المومنین اور ابوسفیان کی صاحبزادی ہیں انہوں نےہمیشہ زیاد سےپردہ فرمایا اور اسے اپنا بھائی تسلیم نہ کیا۔ پھر اعتراض تو پیدا ہی اس کارروائی کےبعد ہوا، اس لیے مدیر البلاغ کا یہ قول کتنا عجیب ہے کہ جب معاملہ دس گواہوں سے ثابت ہو گیا ،تو معترضین نے اعتراض سے رجوع کر لیا۔ جولوگ نکاح ہی کے منکر تھے، مثلاً حضرت ابو بکر ان کے نزدیک تو یہ گواہی تہمت زنا کے مترادف تھی ۔ اسی طرح صاحب بذل المجہو جب یہ کہتے ہیں کہ ابوسفیان نے زنا کیا تھا تو ان کے نزدیک بھی یہ شہادت زنا ہی کی ہوگی نہ کہ نکاح کی۔ جس رجوع و تدامت کا ذکر مروان کے بھائی عبدالرحمن اور ابن مفرغ کے سلسلےمیں محمد تقی عثمانی صاحب کر رہےہیں، اس کی حقیقت بس اتنی ہے کہ بنو امیہ نے اس استلحاق کو پسند نہیں کیا تھا، کیونکہ اس طرح ایک غیر قبیلےکا فردان میں داخل کر دیا گیا تھا، تو انہوں نے ایک نظم پڑھنی شروع کر دی جس میں اس کارروائی کی مذمت تھی۔ اس کے اشعار بعض دفعہ عبد الرحمن بن حکم اور بعض دفعہ ایک حمیری شاعر زیاد بن مفرغ کی طرف منسوب کیےجاتےتھے۔ عبدالرحمن نےان اشعار کے انتساب سےکبھی انکار نہیں کیا بلکہ وہ یہی کہتا رہا کہ اے معاویہ، اگر آپ کو حبشی بھی مل جائیں تو آپ انہیں بھی ہمارے خاندان میں ملا کر ہماری تذلیل کرتے رہیں گے ۔ “ جہاں تک ابن مفرغ کا تعلق ہے،اس کے الفاظ بھی استیعاب میں یہ منقول ہیں کہ اس نے امیر معاویہ کے سامنے صرف یہ کہا کہ میں نے یہ اشعار نہیں کہے بلکہ عبد الرحمن نے کہے ہیں اور میری طرف منسوب کر دیئے ہیں۔ اس صفائی و برات کو عثمانی صاحب نےشرمندگی کا نام دے دیا ہےبہر کیف ایک بات اگر قابلِ اعتراض ہےتو وہ محض اس بنا پر قابل تحسین و تائید نہیں ہو جاتی کہ اس کے معترضین میں سے کوئی اپنےاعتراض سے دست بردار ہو گیا ہے۔
میں نے اپنی سابق بحث میں حضرت سعد اور حضرت عبد بن زمعہ کا واقعہ بھی بیان کیا تھا کہ ان دونوں کے مابین ایک بچے کی ولدیت کا جھگڑا تھا۔ بخاری، کتاب المیراث اور دوسری احادیث میں مذکور ہے کہ حضرت سعد یہ کہتے تھے کہ بچہ ان کے بھائی عقبہ کا ہے (اگر چہ وہ زمعہ کی لونڈی کےبطن سے ہے )۔ دوسری طرف عبد بن زمعہ کہتے تھے کہ وہ میرا بھائی ہے کیونکہ میرے والد کے گھر (بستر) پر پیدا ہوا ہے اور لونڈی میرے والد کی مملوکہ تھی۔اگرچه اس بچے کی شکل عقبہ سے ملتی جلتی تھی،مگر اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ حضرت عبد بن زمعہ ہی کےسپرد فرمایا۔اس حدیث سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اس ارشاد نبوی کے بعد نسب کے معاملے میں جو قضیہ بھی در پیش ہو گا اس میں نسب اُسی شخص سے ملحق ہو گا، مولود کی والدہ جس کی مملوکہ یا منکوحہ ہے۔ مگر مجھےحیرت و افسوس ہے کہ عثمانی صاحب اس پر بھی فرماتے ہیں کہ زیاد کے معاملے میں ابوسفیان کے سوا کسی اور کا اقرار نسب ثابت نہیں۔ جب عبید، جس کے فراش پر زیاد پیدا ہوا تھا، وہ خود خاموش ہے، تو اب دعوی صرف ابوسفیان کا ہے اور وہ اسلام سے قبل ہو چکا تھا، اس لیے وہ قابل قبول ہے۔‘میں پوچھتا ہوں کہ جب زیاد عبید ہی کے ہاں پیدا ہوا، وہی اس کا باپ تھا، اسی کے ہاں زیاد پروان چڑھا، اسی باپ کو اس نے غلامی سے آزاد کرایا اور پورے چوالیس برس تک وہ زیاد بن عبید کہلا تارہا، اگر یہ اقرار نسب نہیں تو پھر ابوسفیان کا چند آدمیوں کے کان میں یہ کہ دینا کہ زیاد میرے نطفے سےہے، یہ کس طرح کا اقرار نسب ہے؟ پھر یہ بات بھی کیا لا جواب ہے کہ عبید خود خاموش ہے۔“استلحاق وادعا کی کارروائی سے پہلے عبید کیا عام منادی کرا تا یا کسی عدالت میں دعویٰ کرتا کہ زیاد میرا بیٹا ہے؟ کیا ہر باپ اپنے بیٹے کا نسب اسی طرح ثابت کرتا ہے؟ اور اگر عثمانی صاحب کا مطلب یہ ہےکہ قضیہ استلحاق کے وقت عبید خاموش ہے“ تو اس کی خاموشی سےپہلےاس وقت اس کی زندگی کا ثبوت بھی عثمانی صاحب کو فراہم کرنا ہو گا۔ جس وقت زیاد کی عمر چالیس سے متجاوز ہو چکی اس وقت تو شاید ابوسفیان کی طرح عبید اور سمیہ دونوں شہر خموشاں کے مکین بن چکے ہوں گے اور ان کی خاموشی کو گویائی میں تبدیل کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا۔
میں اس سے پہلے شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی، قاضی زین العابدین صاحب،مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی،مولانا ابوالکلام آزاد صاحب کےاقوال اس مسئلےمیں پیش کرچکا ہوں۔اب میں آخر میں مولانا عبدالرشید صاحب نعمانی کی ایک عبارت نقل کر کےاس بحث کا خاتمہ کر رہا ہوں۔ مولانا موصوف نے محمود احمد عباسی کے رد میں ایک مفصل مضمون"بیات" میں بالاقساط سپردِ قلم کرنا شروع کیا تھا جس کا عنوان تھا: ”ناصبیت تحقیق کے بھیس میں۔"یہ بڑےمفید مباحث پر مشتمل تھا مگر بیچ ہی میں منقطع ہو گیا۔ عباسی صاحب نے ابن قتیبه کی کتاب المعارف کے حوالےسے لکھا تھا کہ "سمیہ" کا جاہلیت کے مروجہ نکاحوں میں سے ایک قسم کا نکاح ابوسفیان سے ہوا جس سے زیاد پیدا ہوئے ۔ اس پر مولانا محمد عبد الرشید صاحب نعمانی نے شعبان ۱۳۸۲ھ کے "بینات" میں جو تبصرہ فرمایا تھا اس کا ضروری حصہ درج ذیل ہے:
یہ بات معارف ابن قتیبہ میں مذکور نہیں ۔جناب مؤلف (عباسی صاحب) نے اپنی طرف سے اس عبارت کو بڑھا کر خواہ مخواہ یزید کی تکذیب کی۔ یزید کا دعویٰ تو یہ ہے کہ ہم نے زیاد کو ثقیف کی ولا ء سے قریش کی طرف اور زیاد بن عبید کے انتساب سے حرب بن امیہ کی طرف منتقل کیا۔زیاد کی ماں سمیه حارث بن کلدہ ثقفی کی کنیز تھی۔اس کا باپ عبید قبیلہ ثقیف کا غلام تھا۔ زیاد کا ایک شاندار کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اپنے باپ عبید کو ایک ہزار درہم میں آزاد کرایا۔ چونکہ یہ اپنے باپ عبید کے یہاں پیدا ہوا تھا، اس لیے اس کو زیاد بن عبید کہا جاتا تھا۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یزید کا مطلب ان طعنوں سے کیا تھا اور وہ زیاد پر کیا چوٹ کر رہا تھا۔ بات واضح ہے،وہ برملا کہہ رہا ہےکه زیاد یہ حض ہماری بندہ پروری ہے کہ ہم نے تجھ کو ابوسفیان کی اولاد بتا کر حرب بن امیہ کی نسل میں شامل کر لیا اور ہماری اس کارروائی کی بنا پر تیرا شمار قریش میں ہونے لگا۔ورنہ تو قبیلہ ثقیف کے عبید نامی ایک غلام کا لڑکا تھا۔ مؤلف یہاں حضرت ابو سفیان کی داستان نکاح سنانے بیٹھ گئے ۔ ظاہر ہے کہ اگر ان سے اس کی ماں کا نکاح ہوا تھا تو وہ اپنے لخت جگر کو مرتے دم تک اس طرح ایک غلام کی فرزندی میں کس طرح دیکھ سکتے تھے۔ ان کو چاہیے تھا کہ عہد نبوی ہی میں اس مسئلے کو اٹھاتےاور اپنےنور دیدہ کو اپنی فرزندی میں لے لیتے۔ یا پھر شیخین رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اس کا اظہار کرتےتا کہ شرع کے مطابق اس غریب کا نسب ثابت ہو جاتا۔ یہ عجیب نکاح ہے جس کا نہ ناک کو پتہ ہےنہ منکوحہ کو ، نہ خود اس لڑکے کو جو اس نکاح سے پیدا ہو ۔ بس ایک مؤلف کو معلوم ہے۔“
میں مولانا نعمانی صاحب کے تبصرے پر صرف اتنا اضافه کروں گا کہ اس ” عجیب نکاح “ اور اس مخفی بھید کے رازداں اب اکیلے مؤلف مذکور ہی نہیں ہیں بلکہ مدیر البلاغ بھی ہیں۔ ان کو محمود احمد عباسی کی ہم زبانی مبارک ہو۔
سب سے آخر میں "الکوکب الدری" شرح ترمذی کا ایک قول بھی لائق ملاحظہ ہے۔ ترمذی،مناقب حسنین میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت حسین کا سر مبارک ابن زیاد کےپاس لایا گیا تو اس شقی و خبیث نے آپ کے چہرے اور ناک پر چھڑی سے کچو کا دیا۔ اس پر الکوکب الدری کا حاشیہ یہ ہے:
( الكوكب الدرى ، افادات مولانا رشید احمد گنگوہی ، مرتب مولانامحمد یحییٰ کاندھلوی طبع دوم ۱۳۸۴، جلد۲ صفحہ ۴۳۷، مکتبہ سکویہ ، مظاہر علوم سہارنپور )
اب کیا فتویٰ صادر فرماتے ہیں مولانا مفتی محمد تقی صاحب اور ان کے والد ماجد اس قول اور اس کے قاتل کے بارے میں۔ بینوا توجروا۔
"حضرت معاویہؓ نےاپنےگورنروں کو قانون سےبالاتر قرار دیا اور ان کی زیادتیوں پر شرعی احکام کےمطابق کارروائی کرنےسےصاف انکار کردیا۔ان کا گورنر عبد اللہ بن عمر و بن غیلان ایک مرتبہ بھرے میں منبر پر خطبہ دے رہا تھا۔ ایک شخص نےدوران خطبہ میں اس کو کنکر مار دیا۔اس پر عبد اللہ نے اس شخص کو گرفتار کر وایا اور اس کا ہاتھ کٹوا دیا۔ حالانکہ شرعی قانون کی رو سے یہ ایسا جرم نہ تھا جس پر ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ حضرت معاویہ کے پاس استغاثہ گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں ہاتھ کی دیت تو بیت المال سے ادا کر دوں گا مگر میرے عمال سے قصاص لینے کی کوئی سبیل نہیں۔“
مولا نا عثمانی صاحب کا اعتراض یہ ہے کہ یہاں واقعے کے انتہائی اہم جزو کو حذف کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ابن کثیر کی عبارت نقل کی ہے جس میں مزید یہ بتایا گیا ہےکہ جس شخص کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس کی قوم کے لوگ ابن غیلان کے پاس آئے اور کہا کہ اگر امیر المومنین کو معلوم ہو گیا کہ تم نے اس کا ہاتھ اس وجہ سے کاٹا تھا تو وہ اس شخص اور اس کی قوم کےساتھ وہی سلوک کریں گے جو انہوں نے حجر بن عدی کے ساتھ کیا تھا۔ اس لیے تم ہمیں ایک تحریر لکھ دو کہ تم نےہمارے آدمی کا ہاتھ شبہ کی بناپر کا ٹا تھا۔ ابن غیلان نےیہ تحریرلکھ دی۔ پھر یہ لوگ حضرت معاویہ کے پاس پہنچے اور شکایت کی کہ آپ کے گورنر نے ہمارے آدمی کا ہاتھ شبہ کی وجہ سے کاٹ دیا ہے، لہذا اس سے ہمیں قصاص دلوائیے ۔ حضرت معاویہؓ نے فرمایا کہ میرے گورنروں سے قصاص کی تو کوئی سبیل نہیں لیکن دیت لے لو۔ چنانچہ آپ نے دیت دلوائی اور ابن غیلان کو معزول کر دیا۔
”ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ جو شخص قصاص اور دیت کے شرعی قوانین سے واقف ہو، وہ حضرت معاویہ کےفیصلے پر کوئی ادنی اعتراض کس طرح کر سکتا ہے؟ ان کے سامنے ابن غیلان کےتحریری اقرار کے ساتھ مقدمے کی جو صورت پیش ہوئی وہ یہ کہ ابن غیلان نےایک شخص کا ہاتھ شبہ میں کاٹ دیا ہےقاعدہ یہ ہےکہ اگر کسی شخص پر سرقہ کا الزام ہو اور اسکےثبوت میں کوئی ادنی سا شبہ بھی پیش آجائےتو ہاتھ کاٹنےکی سزا موقوف ہو جاتی ہے اور شبہ کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے، لیکن حاکم غلطی سے ملزم کا ہاتھ کاٹ دے تو اس غلطی کی بنا پر حکم یہ نہیں ہے کہ اس حاکم سے قصاص لینےکے لیے اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جائے، کیونکہ شبہ کا فائدہ اس کو بھی ملتا ہے۔ اس کی ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ اگر حاکموں کے ایسے فیصلوں کی وجہ سے ان پر حد جاری کی جایا کرے تو اس اہم منصب کو کوئی قبول نہیں کرے گا۔ اس بات کو حضرت معاویہ نے یوں تعبیر فرمایا ہے کہ میرے گورنروں سےقصاص لینے کی کوئی سبیل نہیں۔“
میں اس مسئلے کے مجر وفقہی وقانونی پہلو پر تو بعد میں بحث کروں گا لیکن میں مدیر موصوف اور جملہ قارئین کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ سب سے پہلے اس بات پر سنجیدگی اور ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ کیا عہد نبوی و عہد خلافت راشدہ میں اس بات کا امکان یا تصور ہو سکتا تھا کہ ایک حاکم یا عامل کنکر مارے جانےپر کنکر مارنے والےکا ہاتھ کاٹ دے اور پھر وہ معزولی سے زائد کسی قسم کے مواخذےسے محض اس بنا پر پیچ جائے کہ اس نے یہ جھوٹی تحریر لکھ دی ہو کہ میں نے ہاتھ شبہ میں کاٹ دیا ہے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ تو یہ تھا کہ ایک مرتبہ خطبےہی کےدوران میں ایک شخص نےآپ سےسوال کر دیا کہ میرے ہمسائے کس جرم میں محبوس کیے گئے ہیں؟ آپ نے توقف فرمایا کہ شای مدینےکے کو تو ال اس کا جواب دیں۔ سائل ن سے اپنا سوال دو تین مرتبہ دہرایا، لیکن اسے آنحضور یا کسی دوسرے صحابی نے سرزنش نہ کی بلکہ آپ نے فرمایا:
حضرت عمر جیسے زبر دست خلیفہ سے بھی لوگ خطبے میں پوچھتے تھے کہ تم نے یہ قمیص کیسے بنوالیا ہے اور اسی طرح کے بعض دوسرے بے ہنگم سوالات کرتے تھے، مگر آپ پیشانی پر بل لائے بغیر ہر سوال کا جواب تحمل سےدیتے تھے اور اگر کوئی شخص معترض کے آڑے آتا تھا تو آپ فرماتےتھےکہ چھوڑو،اگر یہ ہمیں نہ ٹوکیں تو ان میں کوئی خیر نہیں اور اگر ٹو کےجانے پر ہم براما نیں تو ہم میں کوئی خیر نہیں۔سیرت فاروقی کا یہ واقعہ بھی مشہور و معروف ہےکہ حضرت عمر و بن عاص فاتح مصر و عامل مصر کےبیٹےمحمد نےایک مصری پر تازیانے برسائے۔ اس نےمدینے پہنچ کر شکایت کی۔ حضرت عمرؓ نےمحمد اور ان کے والد دونوں کو مصر سے بلوالیا اور مصری کے ہاتھ میں کوڑا دے کر کہا ”لے اس بڑےباپ کے بیٹے کی مرمت کر ۔“ جب مصری مار چکا تو آپ نے کہا کہ چند کوڑے اس کےوالد کےسر پر بھی رسید کر ۔مصری نے کہا کہ میں اپنا بدلہ لے چکا ۔ حضرت عمر نے کہا کہ تیری مرضی ، ورنہ تو باپ کی بھی خبر لیتا تو میں حائل نہ ہوتا۔ اس کے بعد حضرت عمر بیٹے کے بجائے باپ کو مخاطب کر کےغضبناک ہوکر بولے:
حضرت عمرؓ اور حضرت عمرو بن عاص کا ایک دوسرا واقعہ طبقات ابن سعد ( جلد اص۳۷۴، ذکر اعطائه القود من نفسه صلى الله عليه وسلّم) میں موجود ہے۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت عمر شام پہنچے تو آپ کے پاس ایک شخص آیا جس کو ایک امیر نے پیٹا تھا۔ حضرت عمرؓ نےاس امیر سے قصاص لینے کا ارادہ کیا تو حضرت عمرو بن العاص نے کہا، کیا آپ قصاص لینے لگےہیں؟ حضرت عمر نے جواب دیا کہ ”ہاں“۔ حضرت عمرو کہنےلگے” پھر تو ہم آپ کےلیےعامل نہیں بنیں گے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ” مجھے اس کی پروا نہیں۔ کیا میں اس امیر سےقصاص نہ لوں حالانکہ میں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہےکہ آپ نےخود اپنےآپ کو قصاص کے لیے پیش فرمایا (يعطي القود من نفسه ) آگے حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ اسی طرح حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نے بھی اپنے تئیں پیش کیا کہ ان سے قصاص لیا جائے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ذات اقدس کو قصاص کے لیے پیش کرنا ایک معروف حقیقت ہےجس کا ثبوت ابو داوود، کتاب الادب اور دوسری کتب حدیث میں موجود ہے۔ مثلاً ایک موقعہ پر آنحضور نے حضرت اسید بن حضیر کےپہلو میں چھڑی سے ضرب لگائی۔پھر آپ نے قمیص مبارک اٹھا کر حضرت اسید سے فرمایا کہ ”لو مجھ سے قصاص لے لو ۔“ اسی طرح نسائی اور ابوداود، کتاب الدیات میں بھی اس مضمون کی روایات موجود ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ خطبے میں کہا کہ میں نے اپنے عمال کو اس لیے مقرر نہیں کیا کہ وہ تمہیں پیٹیں یا تمہارے اموال چھینیں ۔ اگر کسی شخص پر ظلم ہو تو وہ مجھ سے مرافعہ کرے، میں اپنے عامل سے قصاص لوں گا۔ حضرت عمرو بن العاص کہنے لگے-
"کیا کوئی عامل اپنی رعایا کو تادیبی سزادے،تب بھی آپ اس سے قصاص لیں گے؟“حضرت عمرؓ نے جواب دیا:
"ہاں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں اس سے قصاص لوں گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے اپنی ذات مبارک کو قصاص کے لیے پیش فرمایا۔
میں سمجھتا ہوں کہ فقیہانہ استدلال کو تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ کر دونوں زمانوں کے تغیر احوال پر غور کیا جائے تو خلافت اور ملوکیت کے درمیان جو آسمان اور زمین کا فرق ہے، اسے سمجھ لینے میں کوئی دشواری نہیں پیش آسکتی اور یہی وہ اصل حقیقت ہے جو ” خلافت و ملوکیت“ کے مصنف ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں۔ عہد نبوت اور عہد خلافت علی منہاج النبوۃ میں کسی حاکم کی یہ جرات نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ ایک کنکر کے جواب میں قطع ید کی سزا دیتا۔ بالفرض اگر ایسا ہوتا بھی تو اس کے بعد وہ سلسلہ واقعات رونما نہ ہوتا جسے مولانا مودودی نے تو کھول کر بیان نہیں کیا، لیکن جناب محمد تقی صاحب نے خود ہی تاریخی حوالے کے ساتھ نقل کر دیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب اس شخص کا ہاتھ کاٹا گیا تو اس کے اہلِ قبیلہ نے گورنر سے آکر کہا کہ امیر معاویہ کو یہ معلوم ہوا کہ یہ سزا ایسے شخص کو دی گئی ہے جس نے آپ کے عامل کو کنکر مارا ہے تو وہ اس کے ساتھ اور اس کے قبیلے کے ساتھ وہ برتاؤں کریں گے جو انہوں نے حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا ہے۔ کیا اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ نہیں ہے کہ حضرت حجر اور ان کے رفقاء کا جو حشر ہوا اس کے بعد لوگوں کے دل سہم کر رہ گئے تھے اور انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ جو شخص امیر معاویہ کے عمال کے خلاف انگلی بھی اٹھائے گا اس کی خیر نہیں ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ مقطوع الید سیدھا امیر معاویہؓ کی خدمت میں نہ پہنچتا اور اس تعدی کے خلاف داد خواہی نہ کرتا۔ لیکن اس کے برعکس ہوا یہ کہ جب اس غریب کا ہاتھ کٹ گیا تو وہ اور اس کا قبیلہ ہاتھ کو تو بھول گیا اور پورے قبیلے کو الٹے جان کےلالے پڑ گئے ، کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ گورنز سے قصاص لینا تو در کنار اگر امیر معاویہ کو معلوم ہوا کہ ان کے گورنر پر کنکری پھینکی گئی ہے تو انہیں بغاوت و محاربہ کا مجرم قرار دے کر قتل تک کی سزادی جا سکتی ہے۔اس لیےانہوں نےگورنر سےایک ایسی جھوٹی تحریر لکھوائی جس سےظاہر ہو کہ قطع ید کی سزا گورنر کی شان میں گستاخی کی بناپر نہیں دی گئی بلکہ کسی دوسرے جرم پر دی گئی، مگر وہ بھی شبہ سے خالی نہ تھا۔ اس تحریر سے ایک طرف ملزم اور اس کے اقارب کی جان تو بچ گئی ،مگر دوسری طرف گورنر کےاپنےتحریری اقرار سے اس کےخلاف اتنا ثبوت تو فراہم ہو گیا کہ اس نےشبہ میں حد جاری کر کےاحکام شریعت کی خلاف ورزی کی ہے۔
اگر امیر معاویہ کےبجائےیہ کسی خلیفہ راشد کےعامل کا واقعہ ہوتا تو ایسی تحریری حیلہ سازی کی اول تو نوبت اورضرورت ہی پیش نہ آتی،اور بالفرض اگرایسی کوئی تحریر خلیفہ وقت کےرو برو پیش ہوتی تو وہ یقیناًتفصیل معلوم کرتےاور واقعات کی تہہ تک پہنچتےکہ آیا فی الواقع یہ کوئی جرم سرقہ تھا؟اور اگر اس میں اشتباہ تھا تو کس نوعیت کا تھا؟ اس شک وشبہ کے لیے کوئی معقول وجوہ تھے یا نہیں؟اور اس کا فائدہ حاکم و مجرم دونوں کو یا کسی ایک کو ملنا چاہیے یا نہیں؟ اگر فریقین اپنی اپنی کھال بچانےکےلیےایک گول مول اور بناوٹی تحریر ا کر خلیفه کےسامنےپیش کر دیں تو خلیفہ کےہاتھ اس طرح نہیں بندھ جاتےکہ وہ اس پر کارروائی کرنے سے قبل مزید تحقیق و تبیین نہ کرے۔س معاملےمیں ذراسی چھان بین کےبعد جو بات سب سےپہلےکھلتی وہ یہ تھی کہ جس شخص نےقطع ید کی سزادی ہےوہ خود اس قضیےکا ایک فریق ہےجسےشرعا فیصلہ کرنےاور سزا نافذ کرنےکا حق قطعاً نہیں تھا۔اسےچاہیےتھا کہ وہ کنکری مارنےوالےملزم کو کسی قاضی یا دوسرے حاکم کے سامنے پیش کرتا۔ حضرت عمرؓ کو حضرت ابی بن کعب کے خلاف ایک شکایت تھی تو آپ مستغیث بن کر خود حضرت زید بن ثابت کے پاس گئے ۔ اس پر امام سرخسی ( مبسوط آداب القاضی) میں فرماتے ہیں:
حضرت زید نے کہا کہ آپ مجھے بلا لیتے تو حضرت عمر نے جواب دیا کہ عدالت کسی کے ہاں چل کر نہیں جاتی۔ ایک گڈا پیش کیا گیا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ:
کہ تم نے میرے ساتھ امتیازی برتاؤ کیا۔ حضرت عمرؓ کے لیے جب حلف اٹھا نا ضروری ہوا تو حضرت زید نے کہا کہ کاش حضرت ابی معاف کر دیں۔ مگر حضرت عمرؓ نے حلف اٹھانے میں ہرگز تامل نہ کیا۔ اسی طرح حضرت عمر متعدد مواقع پر قاضی شریح اور دوسرےقاضیوں کی عدالتوں میں پیش ہوتے رہے۔ حضرت عثمان، حضرت طلحہ کےبالمقابل حضرت جبیر بن مطعم کےسامنےپیش ہوئے۔حضرت علیؓ نےایک زرہ کا مقدمہ یہودی کے خلاف قاضی شریح کی عدالت میں دائر کیا،اپنے غلام قنبر اور صاحبزادے حسن کی شہادت پیش کی جورڈ کر دی گئی اور دعوی خارج ہو گیا۔
بہر کیف اگر اس معاملے میں ذراسی تفتیش بھی عمل میں لائی جاتی تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی کہ یہ بالکل ظالمانہ اور سنگدلانہ کاروائی تھی اور اس کا بعید ترین تعلق بھی اس صورت سے نہ تھا جسے فقہی اصطلاح میں شبہ میں حد یا تعزیر جاری کرنے کے الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چوری پر قطع ید کےمعاملے میں شبہ کی جو صورتیں ممکن ہیں انہیں فقہاء نے خود بیان کر دیا ہے، مثلاً یہ کوئی شخص غیر محفوظ شے کی چوری کرے یا کوئی ایسا مال چرائے جس کی ملکیت میں وہ خود شریک ہو یا مسروقہ شے کی قیمت اتنی کم ہو کہ اس کا بقدر نصاب ہونا مشتبہ اور مختلف فیہ ہو۔کنکر مارنےپر ہاتھ کاٹ دینا کسی طرح بھی "شبہ" کی اصطلاح فقہی کی تعریف میں نہیں آسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ابن جریر نے اپنی تاریخ ( جلد ۴ ص ۲۲۳ ) میں جہاں یہ واقعہ بیان کیا ہے، وہاں لکھا ہے کہ تحریر میں درج تھا:
ابن خلدون نےاپنی تاریخ (جلد ۳ ص ۱۵) میں جہاں یہ واقعہ نقل کیا ہےوہاں بھی سرےسےشبہ کا لفظ استعمال ہی نہیں کیا بلکہ خط کے الفاظ یہ ہیں: انـہ قـطـع عـلـى امر لم يصح،اور اہل قبیلہ کا زبانی بیان جو انہوں نے امیر معاویہ کے سامنے دیا ہے،وہ یوں درج ہے:ان ابن غیلان قطع صاحبهم ظلما ۔اس کے بعد تو یہ باور کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہےکہ حقیقی صورت حال امیر معاویہ پرمخفی رہ گئی ہوگی اور اس کا انکشاف کسی لمبی چوڑی تحقیق کامحتاج ہوگا۔ یہ بات فی الواقع بڑی عجیب ہوگی کہ آپ کے سامنے یہ تحریر پیش ہو کر بہ یا غلطی یاظلم کی بنا پر ہاتھ کاٹا گیا ہے اور آپ سرےو سے یہ معلوم کرنے کی کوشش ہی نہ کریں کہ وہ غلطی یا ظلم کیا تھا؟
مولانا محمد تقی صاحب عثمانی فرماتے ہیں کہ شبہ میں ہاتھ کاٹ دینا بلا شبہ سنگین غلطی ہے، لیکن اس پر کسی کے نزدیک بھی حکم یہ نہیں ہےکہ حاکم سےقصاص لینے کےلیے حاکم کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جائے کیونکہ شبہ کا فائدہ جس طرح ملزم کو ملتا ہےاسی طرح حاکم کو بھی ملتا ہےعثمانی صاحب کےنزدیک اسکی ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ اگر حاکموں کے ایسے فیصلوں کی وجہ سےان پر حد جاری کی جایا کرےتو اس اہم منصب کو کوئی قبول نہیں کرے گا۔ عثمانی صاحب نے یہاں شرعی احکام اور فقہائے کرام کی بالکل غلط ترجمانی کی ہے اور ان کا استدلال مغالطه آمیزی اور سوئے تعبیر پر بنی ہےواقعہ زیر بحث میں ملزم قطع ید کی سزا کا ہرگز مستوجب نہ تھا اور نہ اس کے فعل میں شبہ کا کوئی حل تھا۔قطع ید کی سزا یا سارق کے لیے ہے یا اس باغی کے لیے جو راہ زنی یا فساد فی الارض کرتےہوئے خود۔قطع ید کا مرتکب ہوا ہو ۔ یہاں جس شخص کا ہاتھ کاٹا گیا وہ معصوم الدم تھا اور اس کا ہاتھ ارادہ اور عمدا قطع کیا گیا۔اس لیےملزم کےفعل یا گورنر کےفعل دونوں میں شبہ کے عصر کو کوئی دخل ہی نہ تھا، اور گورنر کسی طرح قواعد شرعیہ کے مطابق قصاص سے بچ نہیں سکتا تھا۔
"جس حد تک بھی ممکن ہو مسلمانوں سے حدود کو ٹالو، اگر بچ نکلنے کی کوئی صورت ہو تو ملزم کو چھوڑ دو۔ امام اگر غلطی سے معاف کر دے تو بہتر ہے یہ نسبت اس کے کہ وہ غلطی سے سزا دےبیٹھے-"
ان ارشادات کی رُو سے شک کے فائدے اور رعایت کا اصل مستحق ملزم قرار پاتا ہے، نہ کہ حاکم ۔ البته یہ اصول اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ ہر انسان کی طرح ایک حاکم یا قاضی بھی اپنےفیصلےمیں غلطی کر سکتا ہےاور وہ جائز تحفظ کا حقدار ہے۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ یہ تحفظ اور رعایت اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ حاکم یا قاضی نے اپنے انتظامی یا عدالتی اختیارات کو (Bonafide) معقول و معروف اور مشروع طریقے پر استعمال کیا ہو، اور اس کے باوجود ان اختیارات کے دورانِ استعمال میں اس سے خطا سرزد ہو۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ وہ اپنی ذاتی حیثیت میں کوئی جرم یا ظالمانہ انتقامی کارروائی کرے یا حدود اختیار سے تجاوز کرے، تب بھی اس سے باز پرس نہ ہو۔فقہاء نے بلاشبہ یہ بات لکھی ہے کہ امام یا قاضی غلطی سے حد یا قصاص جاری کر دے تو اس پر جوابی حد جاری نہیں ہوگی۔ لیکن انہوں نے اس کی وجہ بھی ساتھ بیان کر دی ہے اور وہ یہ کہ قاضی اپنے کسی ذاتی معاملے میں تو فیصلہ دے ہی نہیں سکتا، اس لیے لا محالہ اس نے جو فیصلہ بھی دیا ہوگا، عام حالات میں فریقین اور عامتہ المسلمین کا مفاد سامنےرکھ کر دیا ہو گا_١اور حق و انصاف کو پوری طرح مد نظر رکھا ہو کا کر دیا ہوگا اور گا۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص ذاتی رنجش کی بنا پر کسی کا ہاتھ کاٹ دیتا ہے، اس کا فعل تو سرے سےحاکمانہ یا عدالتی فیصلے کی تعریف ہی میں نہیں آسکتا۔ چہ جائیکہ وہ کسی رعایت کا اہل سمجھا جائےفقہاء نے تو یہاں تک لکھا ہےکہ اگر عدالتی کارروائی میں بھی قاضی ظلم و جور کرےتو اسےنہ صرف معزول کیاجائےگا بلکہ تعزیر و تاوان بھی اس پر عائد ہو گا۔ردالمحتار، جلد ۴ ص ۴۷۴ پر علامہ ابن عابدین شامی عالمگیری کے حوالے سے فرماتے ہیں: وان كان القضاء بالجور عن عمدو اقربه فالضمان في ماله في الوجوه كلها الجناية ولاتلاف ويُعزَّر القاضى ويُعزّل عن القضاء. معلوم نہیں یہ عجیب و غریب اصول کتاب و سنت یا کسی فقہی کتاب کے کون سے مقام پر مذکور ہے کہ شبہ کا فائدہ جس طرح ملزم کو ملتا ہے ، اسی طرح حاکم کو بھی ملتا ہے؟
١- البدائع جلدے صفر ۱۶، بین حکم خطاء القاضی میں امام کا سانی فرماتے ہیں: الانسه بإلقاء لم يعمل لنفسه بل لغيره ( قاضی فیصلےمیں خطا پر اس لیے مانو نہیں کہ قضا میں وہ اپنی ذات کے لیے عمل نہیں کر سکتا بلکہ دوسروں کے لیے کرتا ہے )۔ اب ایک انصاف پسند اور طالب حق انسان خود غور کر کے صحیح رائے قائم کر سکتا ہے کہ ابن غیلان کو محض _١معزول کر دینا کس حد تک اسلامی عدل و انصاف کے تقاضےپورےکر سکتا ہےاور امیر معاویہ کا یہ قول کس حد تک حق بجانب ہے کہ ”میرے گورنروں سے قصاص لینےکی کوئی سبیل نہیں ۔ پھر اس مسئلے پر مدیر البلاغ“ نےجو حاشیه آرائی کی ہےاس کےبعد تو ہر گورنر یا انتظامی افسر کےلیےجائز ہو جاتا ہےکہ وہ جو لوٹ مار اور دھاند لی چاہیں کرتے رہیں اور اس کےبعد یہ لکھوا کر پیش کر دیں کہ یہ سب کچھ شبہ میں کیا گیا، اور اس کےبعد ان سے کوئی باز پرس نہ ہوگی ،سوائے اس کے کہ انہیں جبری طور پر ریٹائر کر دیا جائے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خاتمہ بحث کے طور پر حضرت ابو بکڑ کے عہد کا ایک واقعہ بھی بیان کر دیا جائے جو ابن غیلان کے واقعہ سے مشابہ ہے اور جسے مشہور حنبلی فقیہ عبداللہ بن قدامہ نے المغنی میں درج کر کے اس سے استنباط کیا ہے کہ کوئی شخص بھی قصاص سے بالا تر نہیں فرماتے ہیں:
ويجري القصاص بين الولاة والعمال وبين رعيتم لعموم الآيات والأخبار وإن المؤمنين تتكا فاء وماء هم ولا نعلم في هذا خلافًا وثبت عن ابي بكر انه قال لرجل شكى إليه أنه قطع يده ظلمًا لئن كنت صادقا لا قيد بك منه.
"قانون قصاص امراه احتمال اور رعیت کے مابین برابر جاری ہوتا ہےکیونکہ اس بارے میں آیات واحادیث کا حکم عام ہے اور مومنین کے خون کی قدرو قیمت مساوی ہے ۔ ہم کو اس میں کسی قسم کے اختلاف کا علم نہیں اور ابوبکر سےثابت ہےکہ ان سےایک شخص نے شکایت کی کہ اس کا ہاتھ ظالمانہ طور پر کاٹا گیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ اگر تو سچا ہے تو میں اس عامل سے قصاص لوں گا ۔“
١-معزول تو امیر معاویہ نےمردان کوبھی کیا تھا اور بعض مورخین کا خیال ہےکہ یہ معزولی اسکی غلط کاریوںکی بنا پرتھی۔ مگر آٹھ سال سےزائدعر سے تک حرم نبوی میں جو کارستانیاں وہ کرتا رہا،کیا نجتر دمعزولی سےان کی تلافی ہو سکتی تھی ؟
تقریباً انہی الفاظ میں یہ واقعہ اور اس سے یہی استدلال الشرح الکبر ص ۳۸۲ پر بھی موجود ہے۔ یہ کتاب المغنی کے حاشیے پر چھپی ہے اور اس کے مصنف عبد الرحمن بن قدامہ ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ یہاں جو الفاظ انه قطع یدہ ظلمًا منقول ہیں یہی الفاظ بنوختہ کے افراد نے امیر معاویہؓ کے سامنے کہے تھے جو طبری وغیرہ میں درج ہیں۔ اس کے بعد ہر شخص خود اندازہ کرسکتا ہے کہ اسلامی حکومت میں گورنر قصاص سے بالا تر ہیں یا نہیں؟
واقعہ ابن غیلان کے سلسلے میں مدیر انبلاغ کے ہر اعتراض واستدلال کا جواب میں نے مفصل دے دیا تھا لیکن اسے بالکل نظر انداز کرتے ہوئے انہوں نے پھر لکھا کہ ”میں نے اس واقعہ کےاصل ماخذ البدایہ کے حوالے سے ثابت کیا تھا کہ جس شخص کا ہاتھ کاٹا گیا تھا، خود اس کے رشتہ داروں نے ابن غیلان سے یہ تحریر لکھوالی تھی کہ حاکم نے اس کا ہاتھ شبہ میں کاٹا ہے۔ چنانچہ حضرت معاویہؓ کے سامنے مقدمہ کی جو صورت خود استغاثہ کرنے والوں نے پیش کی اور جس کا اقرار خود مدعا علیه حاکم نے بھی تحریری طور پر کیاوہ یھی کہ ابن غیلان نے ایک شخص کا ہاتھ محبہ میں کاٹ دیا ہے۔“
قارئین محمد تقی صاحب کی اس عبارت کو پڑھ کر یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ اس واقعہ میں ابن مغیلان اور حاکم دو مختلف شخصیتیں ہیں۔ فی الحقیقت ابن غیلان ہی وہ حاکم ( گورنر ) تھا جس نے محض کنکر مارنے پر ایک شخص کا ہاتھ ظالمانہ طور پر کاٹ دیا تھا اور پھر یہی وہ بے رحم حاکم ہے جس نے یہ جھوٹی تحریر لکھ دی تھی کہ میں نے ہاتھ شبہ کی بنا پر کاٹتا ہے۔ مولانا محد تقی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ محبہ میں ہاتھ کاٹ دینا بلاشبہ حاکم کی سنگین غلطی ہے لیکن کسی کے نزدیک بھی حکم یہ نہیں ہےکہ اس حاکم سےقصاص لینےکے لیے اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جائے۔میں اس کے جواب میں پہلے یہ تفصیلاً بیان کر چکا ہوں کہ جس شخص نے یہاں قطع ید کی سزا دی ہے وہ خود اس قضیے کا ایک فریق ہے جسےشرعا ذاتی معاملےمیں فیصلہ کرنے اور سزا نا فذ کرنے کا حق قطعا نہیں تھا۔ پھر اس شخص نے غیظ و غضب سےمغلوب ہو کر محض روڑا پھینک دینے پر ہاتھ کو اڈالا حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صریح حکم موجود ہےکہ کوئی حاکم غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے ۔ نیز میں نے ثابت کیا تھا کہ یہ فعل کسی طرح بھی "شبہ" کی فقہی اصطلاح کے تحت نہیں آسکتا۔ میں نے اپنے مدعا کو واضح کرنے کے لیے سنتِ نبوی اور سنت خلفاء راشدین سے متعد د نظائر بھی پیش کیے تھے۔
”میرے استدلال کے جواب میں ملک صاحب نے جو بحث کی ہے، وہ خلط مبحث کا افسوسناک نمونہ ہے۔ انہوں نےتین چار صفحات میں خلفائےراشدین کےعدل وانصاف کےمتفرق واقعات ذکر کیے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان فیصلوں کے بلند معیار سے کون انکار کر سکتا ہے۔ گفتگو تو یہ ہو رہی ہے کہ حضرت معاویہ کے جس فیصلے کو قانون کی بالاتری کا خاتمہ اور خلاف شریعت قرار دیا گیا ہے، وہ شرعی قانون کی رُو سے غلط کیونکر کہا جاسکتا ہے؟“
یہ تحریر پڑھنے سے پہلے میرے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ مسئلہ قضا اور نظامِ عدالت کےمتعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےجوارشادات اور خلفائے راشدین کا قولی وعملی نمونہ جو میں بیان کر چکا ہوں کوئی شخص اسےخلط مبحث کا افسوسناک نمونہ قرار دینے کی جرات کر سکےگا۔لیکن اب معلوم ہوا کہ بعض لوگ جنہیں صحابہ کرام کی تعظیم و تکریم کا ادعاء ہےوہ کتاب وسنت اور خلافتِ راشدہ کےفیصلوں کے معیار کی بلندی کا زبانی اقرار تو کرتے رہیں گےتاہم دوسری طرف اگر کسی صحابی کا فیصلہ اس معیار کے بالکل برعکس ہو، تب بھی وہ اسے صحیح ہی کہتے رہیں گےاس پوری طویل بحث کے دوران میں میرا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ ہر مسئلے میں پہلے قرآن و حدیث سے رجوع کیا جائے اور تعامل خلافت راشدہ کو سامنے رکھا جائےاب بھی ان مدعیوں کے علی الرغم مجھے اپنےاسی طریق بحث کی صحت پر یقین ہے اور میں اب بھی کہتا ہوں کہ حضرت معاویہ کا فیصلہ وفرمان شرعی قانون کی رُو سے صحیح نہیں بلکہ غلط ہی ہے کہ "میرے گورنروں سے قصاص کی کوئی سبیل نہیں۔“غیر اسلامی نظام ہائےقوانین میں اس طرح کا استثناء وامتیاز ہو تو ہو، مگر اسلام میں اگر کسی گورنر ، حاکم،قاضی حتی کہ امیر المومنین نے بھی ایسا جرم کیا ہو، جو موجب قصاص ہو تو ولی قصاص کی رضامندی و معافی کے بغیر مجرم کےقصاص سےبچ نکلنے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔ میں اس مسئلے پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور ذرا آگے چل کر پھر لکھوں گا۔
عثمانی صاحب نے مجھے جواب دیتے ہوئے پہلے بھی یہ بات لکھی تھی اور دوبارہ اسے دہرایا ہے کہ مذکورہ واقعہ میں حضرت معاویہ کے سامنےکنکر مارنے کا ذکر واستغاثہ کرنے والوں نےکیا،نہ مدعا علیہ حاکم نےجب وہ دونوں ایک صورت واقعہ پر متفق ہیں تو حضرت معاویہ کو یہ علم غیب آخر کہاں سے حاصل ہو سکتا ہے کہ مظلوم نےخود اصل واقعہ کو چھپا کر مدعا علیہ کےجرم کو ہلکا کر دیا ہےسوال یہ ہے کہ کنکری مار دینے پر ہاتھ کٹوا دینے کا یہ واقعہ اگر اہل دنیا کے لیے ایک علم غیب کا مسئلہ بن گیا تھا، جیسا کہ محمد تقی صاحب باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو پھر آخر سارے مؤرخین اس کی پوری تفصیل اس طرح کیوں بیان کرتے چلے آئے ہیں کہ ” بنو بہ کے اس شخص نے ابن غیلان پر مسجد میں کنکر پھینک دیا۔ اس نے اس شخص کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ پھر اس مقطوع الید کےقبیلے والے ابن غیلان کے پاس آئے اور کہا کہ ہم ڈرتے ہیں کہ امیر معاویہ ہمارے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو انہوں نے حجر بن عدی کے ساتھ کیا، اس لیے تم ہمیں لکھ دو کہ تم نے ہمارے آدمی کا ہاتھ شبہ میں کاٹا ہے۔ ابن غیلان کی اس جھوٹی تحریر لکھ دینے کے بعد اس ظالمانہ کارروائی کی حقیقی تفصیلات پردہ غیب میں اس طرح پنہاں نہیں ہو گئی تھیں کہ اس کاغذ کے پرزے کے ماسواء کسی کےلیے مزید تحقیق کا کوئی موقعہ یا معلومات کا کوئی دوسرا ذریعہ ہی سرے سے باقی نہ رہا تھا۔ اگر فی الواقع ایسا ہوتا تو آخران مؤرخین تک یہ پوری تفاصیل کیسے پہنچتیں جنہوں نے ابن غیلان کی اس خلاف واقعہ اور مبہم تحریر کے ساتھ ساتھ اصل صورت واقعہ بھی بیان کر دی ہے؟ عجیب بات ہے کہ کسی صاحب کوحتی کہ محد تقی صاحب کو بھی یہ نکتہ آج تک کیوں نہ سوجھا کہ جب امیر معاویہ کے سامنے واقعہ بس اس شکل میں پیش ہوا کہ کسی نا معلوم اور غیر موجود شخص کا ہاتھ شبہ میں کٹ گیا ہے اور امیر معاویہ عالم الغیب نہ تھے کہ آپ کو مزید اور صحیح صورت حال کا علم ہوتا تو دوسرے لوگ جو اس واقعہ کےراوی و ناقل ہیں،انہیں آخر کہاں سے کشف والہام ہو گیا کہ وہ پورا قصہ اب تک بیان کرتے رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ حضرت معاویہ کے پاس خبر رسانی کا نہایت عمدہ انتظام تھا۔ ان کےگورنروں کی زیادتیوں کے جو واقعات زبان زدعوام تھے اور جو بعد میں تاریخی اوراق کی زینت بنے ابن غیلان کے نوشتے جیسی ملمع سازی ان واقعات کو ان کی نگاہ سے مخفی رکھ سکتی ہے تو اس کے دو ہی وجوہ ممکن ہیں۔ یا تو جیسا کہ مؤرخین نے لکھا ہےحضرت حجر اور اُن کے ساتھیوں کے قتل نے لوگوں کو دہشت زدہ کر دیا تھا اور وہ حکام کے مظالم کو اس لیےبر ملا بیان نہیں کر سکتےتھے کہ مبادا گورنروں کے بجائےالٹی مظلومین ہی کی شامت آجائےیا پھر امیر معاویہ تک جو بات جس شکل میں پہنچتی تھی یا پہنچائی جاتی تھی وہ اس میں زیادہ تحقیق و تفتیش کی تکلیف ہی نہیں فرماتے تھےکلی غیب تو دنیا میں کسی کو بھی بلاواسطه حاصل نہیں ہوتا،لیکن حقیقت تک رسائی کے لیےجو ذرائع معلومات انسان کےبس میں ہیں،ان کےاستعمال کا وہ بہر حال مکلف ہےفرض کیا کہ امیر معاویہؓ کا واحد وسیلۂ معلومات وہی تحریر تھی جو ان کے سامنے آئی۔ اب اس میں جس مقطوع الید کا ذکر تھا،اس بیچارے نے ان کے سامنے آنے کی جرات نہیں کی، بلکہ اس کے قبیلے کے افراد ہی اس کی طرف سے پیش ہوئے۔ اسلامی نظام قضا کا متفق علیہ اصول جو ارشاد نبوی پر مبنی ہے، یہ ہے کہ فریقین کو اصالتا سامنے بلا کر اور ان کا بیان لے کر فیصلہ کیا جائے۔ قضا علی الغائب صرف اُسی صورت میں جائز ہے جب کہ کسی فریق کی غیر حاضری کے معقول وجوہ موجود ہوں، مثلاً مر گیا ہو، شدید مریض ہو، مفقود ہو یا دُور دراز کے سفر پر ہو یا طلبی کے باوجود حاضر نہ ہو۔
عثمانی صاحب ابن غیلان کے ان تحریری الفاظ کو بار بار کھس رہے ہیں کہ ہاتھ شبہ میں کاٹا گیا ، حالانکہ میں پہلے اس بات کو تفصیلاً بیان کر چکا کہ اس فعل پر شبہ کا اطلاق ہرگز نہیں ہوسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ خود امیر معاویہ نے عثمانی صاحب کی طرح یہ فقیہانہ نکتہ پیش نہیں فرمایا کہ شبہ کا فائدہ گورنر کو ملنا چاہیے بلکہ صاف فرمایا کہ " میرے گورنروں سے قصاص لینےکی کوئی سبیل ہی نہیں ۔“ یہ دونوں باتیں بالکل مختلف اور ایک دوسرے سے الگ ہیں اور خلط مبحث کی کوئی صحیح مثال ہوسکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ ان دو باتوں کو آپس میں گڈمڈ کیا جائے۔ پھر ابن جریر نے جس طرح ۵۵ء کے حوادث میں یہ واقعہ بیان کیا ہے، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کا ہاتھ کاٹا گیا تھا، اس کےاہلِ قبیلہ نےجو بات زبانی امیر معاویہ سےبیان کی اس میں شبہ" کا لفظ بالکل نہیں تھا بلکہ انہوں نے اسے ظلم کہہ کر داد خواہی کی۔ تاریخ طبری ، جلد ۲ صفحہ ۲۲۳ میں اصل عبارت یوں ہے:
"انہوں نے کہا کہ امیر المومنین، گورنر نے ہمارے آدمی کا ہاتھ ظالمانہ طور پر کاٹ دیا ہے اور یہ اس کی تحریر آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ امیر معاویہ نے فرمایا کہ میرے گورنروں سے قصاص لینے کی کوئی صورت اور سبیل نہیں ہے۔“
اسی طرح الکامل میں بھی انہ قطع ظلما کے الفاظ ہیں، یعنی ان لوگوں نے زبانی بیان میں یہی کہا کہ اس نے ظالمانہ طریق پر ہاتھ کاٹا ہے۔
اب جہاں تک گورنر کی تحریر کا تعلق ہے، اس میں گوشہ کا لفظ لکھا گیا ہو لیکن بالمشافہ بیان میں نہ بنوفیہ نے یہ لفظ استعمال کیا، نہ امیر معاویہ نے اس کا ذکر فرمایا، مگر آپ نے ایک قائدہ کلیہ صرف اس گورنر ہی کے لیےنہیں،بلکہ اپنےتمام عتمال کےحق میں بیان کیا کہ ان سےقصاص نہیں لیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ یہ قاعده وضابطہ کتاب وسنت کی کن نصوص پر مبنی ہے؟ محمد تقی صاحب کو ” خلط مبحث جیسے الفاظ کی آڑ لینے کےبجائےمجھےیہ بتانا چاہیے کہ کیا اسلامی حکومت کےگورنر فرمانِ الہی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِى الْقَتْلَى اور وَالْجُرُوْحُ قِصَاصٌ کےمخاطب نہیں ہیں بلکہ اس سے بالاتر ہیں؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائےراشدین نےاپنےآپ کو اور اپنےگورنروں کو کبھی بھی قصاص سےمستنی سمجھا ہے؟کسی شخص کو میری بات خواہ کتنی ہی نا گوار یا غیر متعلق محسوس ہو، میں یہاں آنحضور کے الوداعی خطبے کا کچھ حصہ ضرور نقل کروں گا جو آپ نےآخری ایام مرض و وصال میں ارشاد فرمایا تھا اور کتب حدیث و تاریخ سب میں درج ہے۔ یہاں میں اسے الکامل ابن اثیر جلد ۲ صفحہ ۲۱۶ سےلے رہا ہوں۔ حضرت فضل بن عباس بیان کرتے ہیں کہ میں اور حضرت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیتے ہوئے مسجد تک لائے تا آنکہ آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور لوگوں کو منادی کرا کے جمع کیا اور فرمایا:
ايها الناس ان قـد ونا مني حقوق من بين اظهر كم فمن كُنت جلدت له ظهرا فهذا ظهري فليستقد منه ومن كنت شتمت له عرضًا، فهذا عرضى فليستقد منه ومن أخذت له مالا فهذا مالي فليأخذ منه ولا يخش الشحناء من قبلي فإنها ليست من شأني الاوان احبكم الى من أخذ مني حقا ان كان له او حللني فلقيت ربي وانا طيب النفس ثم نزل فصلى الظهر ثم رجع الى المنبر فعاد لمقالته الأولى.
"اے لوگو، مجھ پر تمہارے درمیان بعض حقوق عائد ہوتےتھے۔ پس میں نے جس کی پیٹھ پر کوڑے لگائے ہوں، تو یہ میری پشت ہے، وہ شخص مجھ سےقصاص لےلے۔میں نے جس کی عزت پر حملہ کیا تو وہ میری آبرو سےبدلہ لےلےاور میں نےجس کا مال لیا ہو،تو یہ میرا مال ہے،اس میں سےوصول کر لےاور میری طرف سےبغض و عداوت کا خدشہ نہ رکھے،کیونا۔یہ چیز میرے شایانِ شان نہیں ہےجان لو کہ مجھے سب سےزیادہ محبوب وہ ہے جو مجھ سے اپنا حق لے لے، اگر وہ اس کا حقدار ہے یا پھر مجھے اس سے بری الذمہ کر دے تا کہ میں اپنے رب سے خوش دلی کے ساتھ ملاقات کرسکوں۔پھر آنحضور" منبر پر سےاترے اور ظہر کی نماز پڑھائی۔ پھر آپ دوبارہ زینت آرائے منبر ہوئے اور اپنےخطاب کو دہرایا۔“
ابن اثیر لکھتے ہیں کہ اس کے بعد ایک شخص نے آنحضور سے اپنے تین درہم کا مطالبہ کیا اور آپ نے اسے ادا فرمایا۔
قصاص کےمعاملےمیں یہی موقف اور طریقہ شیخین رضی اللہ عنہا کا تھاان دونوں اصحاب نےاپنےآپکو قصاص کےلیےپیش فرمایا اور اپنےگورنروں سےقصاص لینے کا حق رعایا کو دیا۔حضرت عمر اور حضرت عمرو بن عاص کا واقعہ میں پہلےنقل کر چکا ہوں۔حضرت عمر کا یہ واقعہ بھی بہت مشہور ہےکہ ایک بدو کا پاؤں دورانِ طواف غسانی شہزادے جبله بن اہم کےتہبند پر آ گیا تو اس نو مسلم شہزادےنےبدو کو چھپڑ مار دیا۔حضرت عمر نےاسے ڈانٹا اور بد و سے کہا کہ تم بھی بطور قصاص ایک تھپڑ ا سے رسید کرو۔ اسلام میں بڑے چھوٹے قانون کے سامنے برابر ہیں۔ جبلہ اگر چہ مرتد ہو کر بھاگ گیا مگر بعد میں پچھتا کر حسرت آمیز اشعار پڑھا کرتا تھا جو تواریخ میں منقول ہیں۔ امام شافعی کتاب الام جلد ۶ صفحه ۴۴ پر القصاص دون النفس کے زیر عنوان فرماتے ہیں:
روى في حديث عن عمر أنه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلّم يعطي القود من نفسه وأبا بكر يعطي القود من نفسه وانا يعطي القود من نفسي.
"حدیث میں حضرت عمرؓ سےمروی ہےکہ آپ نےفرمایا: میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہےکہ آپ نےاپنی ذات سےقصاص دلوایا اور ابو بکڑ نےبھی اپنی ذات سےقصاص دلوایا اور میں بھی اپنےآپ سے قصاص دلواتا ہوں۔“
ولم أعلم مخالفاً فى ان القصاص في هذه الامة كما حكم الله عز وجل أنه حكم بين أهل التوراة ولم أعلم مخالفًا فى ان القصاص بين الحرين المسلمين في النفس وما دونها من الجراح.
”میرے علم کے مطابق اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ اس امت پر قصاص اللہ کے حکم کےتحت اسی طرح واجب ہے جس طرح اہل تو راہ کے لیے تھا اور میرے علم میں کوئی بھی اس کا مخالف نہیں کہ دو آزاد مسلمانوں کے مابین قتل اور اس سے کم تر درجے کے زخموں میں قصاص لازم ہے۔“
بہر کیف حکومت کے عمال وحکام کو مواخذه قصاص سے بالاتر قرار دینے کی کوئی گنجائش اسلامی قانون میں نہیں ہےاور جیسا کہ میں نےپہلی بحث میں عرض کیا تھا،اگر ابن غیلان کےمعاملےمیں ذراسی تفتیش بھی عمل میں لائی جاتی تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی کہ قطع ید بالکل ظالمانہ وسنگدلانہ فعل تھا اور اس کا بعید ترین تعلق بھی اس صورت سے نہ تھا جیسے فقہی اصطلاح میں شبہ میں حد جاری کرنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہاں جس کا ہاتھ کاٹا گیاوہ قطعاً معصوم الدم تھا اور اس سزا کا ہرگز مستحق نہ تھا۔اس نےکوئی سرقہ یا دوسرا جرم ایسا نہیں کیا تھا جس میں شبہ یا غلہ انہی کی بنا پر بھی قطع ید کی حد یا تعزیر کا امکان پیدا ہوتا، اس لیے یہ گورنر قواعد شرعیہ کے مطابق قصاص سے کسی طرح بچ نہیں سکتا تھا۔ اس پر عثمانی صاحب کہتے ہیں کہ تحقیق وتفتیش کا سوال وہاں پیش آتا ہے جہاں مدعی اور مدعا علیہ میں کوئی اختلاف ہو، جہاں مقدمہ کے دونوں فریق کسی بات پر متفق ہوں وہاں اگر فیصلہ ان کی بیان کردہ متفقہ صورت پر کر دیا جائے تو حاکم کو موردالزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ فرض کیجئے کہ زید عمر پر دعوی کرتا ہے کہ اس نے میرے بھائی کو قتل کر دیا ہے۔ حاکم جب عمر سے پوچھتا ہے تو وہ اقبال جرم کر لیتا ہے، اگر اس صورت میں حاکم عمر پرقتل کی سزا عائد کر دے تو کیا وہ گنہگار کہلائے گا؟ یہ بغیرسوچے سمجھے خطاب جھاڑنے کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ سوال یہ ہے کہ مدعی اور مدعا علیہ کون ہیں،ان کا متفقہ بیان کیا ہے اور کس کے سامنے لیا گیا ہے؟ مدعی تو بنوختبہ کا ایک شخص ہےجس کا نام جبیر بن ضحاک تھا، اس کا کوئی بیان نہ قاضی بصرہ کےسامنے، نہ امیر معاویہ کے سامنے لیا گیا۔ اس غریب نے نہ کسی کےسامنے پیش ہونے کی جرات کی، نہ اسے بلوایا گیا۔ دوسرا فریق عبداللہ بن عمرو بن غیلان ہے۔اس کا بھی کوئی بیان بطور مد عاعلیہ نہ بصرےکی کسی عدالت میں ہوا، نہ امیر معاویہ کےسامنے ہوا۔ اس کی بس ایک مشتبہ اور گول مول تحریر ہے کہ میں نے اس آدمی کا ہاتھ شبہ میں کاٹ دیا ہے اور اسی تحریر پر سارے مقدمے کا فیصلہ ہو رہا ہے حالانکہ تحریر، خواہ وہ بیان واقرار ہو، خواہ بعنوان مکتوب ہو جو ایک کی جانب سے دوسرےکو بھیجا گیا ہو، یا تحریری شہادت ہو، یہ متقدمین فقہاء کےہاں مطلقا حجت نہیں اور عدالتی کارروائی میں اس پر عمل جائز نہیں۔ بالخصوص حدود و قصاص وغیرہ کےفوجداری مقدمات میں تو کوئی تحریر بطور شہادت وثبوت قابل قبول ہی نہیں ہے اور ایک شخص کسی دوسرے کی جانب سے بیان یا اقرار کا مجاز نہیں ہوسکتا۔
ابن غیلان کے پاس اگر گوارنری کے ساتھ قضا کےعدالتی اختیارات ہوتے،تب بھی وہ ذاتی سنجش کے معاملے میں کوئی فیصلہ کرنےاور سزا دینےکا مجاز ہر گز نہیں تھالیکن یہاں تو یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہےکہ اس گورنر کے وقت بھرےمیں زراره بن اوفی قاضی مقرر تھےتاریخی طبری اور دوسری تاریخی کتابوں میں ان کا ذکر موجود ہے۔یہ حضرت عمران بن حصین کےبعد عہدہ قضا پر مامور ہوئےاور انکےمتعدد عدالتی فیصلے کتابوں میں منقول ہیں ۔ محمد بن خلف بن حیان وکیع نے اپنی تالیف اخبار القضاة،جزء اول_١ میں ان کے مستقل حالات بیان کیے ہیں اور لکھا ہے کہ وہ زیاد کی وفات اور حجاج کی ولایت کے آخری ایام تک قاضی رہے ہیں ۔ وہاں یہ بھی تصریح ہے کہ
اب اگر خلفائے راشدین ذاتی معاملات میں اپنے مقرر کردہ،قاضیوں کےسامنےمدعی و مستغیث کی حیثیت سے پیش ہوتےرہےہیں تو ابن غیلان کی شان میں جو گستاخی ہوئی تھی،اس پر خود ہی ہاتھ کاٹنےکی سزا دینےکے بجائے کیا وہ شرعاً اس امر کا مکلف و پابند نہ تھا کہ وہ ملزم کو قاضی بصرہ کے سامنے پیش کرتا؟ حضرت عمرؓ کا مشہور واقعہ ہےکہ آپ نے کسی شخص کا گھوڑا بار برداری کے لیے استعمال کیا تو گھوڑے والے نے شکایت کی کہ اس پر بوجھ زیادہ ڈالا گیا ہے اور یہ کمزور ہو گیا ہے۔ آپ نے فرمایا اچھا کوئی ثالث مقرر کر لو تو اس نے کہا کہ ان شریح کے فیصلے پر رضامند ہوں ۔شریح نے دونوں کے بیان لیے اور حضرت عمرؓ سے کہا:
حضرت عمر کو یہ بےلاگ فیصلہ اس قدر پسند آیا کہ آپ نےشریح کو قاضی بنا دیا اور متعدد مرتبہ انکی عدالت میں حضرت عمر فریق مقدمه بن کر پیش ہوئے۔ اس طرح کا ایک واقعہ امام قاضی ابو یوسف نے کتاب الخراج، اختیار الولاۃ میں بیان کیا ہےکہ حضرت عمر نےکسی بات پر ایک شخص کو پیٹ دیا۔ وہ کہنے لگا کہ میری مثال دو آدمیوں میں سے ایک کی سی ہے، یا تو میں جاہل تھا جسے واقف کیا جا سکتا تھایا میری خطا تھی جس سے درگزر کیا جا سکتا تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا:
اس شخص نےمتاثر ہو کر کہا کہ میں نےمعاف کر دیا۔اب یہ بات کتنی باعث تحیر و تاسف ہےکہ ان واقعات کو ” خلط مبحث قرار دیا جائےاور یہ کہا جائےکہ ان کا معیار اتنا بلند و بالا ہےکہ اسےامیر معاویہ کےگورنروں پر چسپاں نہیں کیا جاسکتا؟
١- اخبار القضاة - مطبعة الاستقامة القاهرة - ۱۳۶۱، الجزء الاول صفحه ۲۹۲ - ۳۹ ترجمہ زراره بن اونی الجرشی ۔
پھر یہ بات بھی عجیب ہے کہ میری ایک طویل عبارت میں سےصرف ایک پہلا فقرہ سارےسیاق وسباق سے اکھیڑ کر الگ کر لیا گیا ہے اور اسے اپنے اس خود ساختہ نظریے کے حق میں استعمال کیا جارہا ہے کہ شبہ کا فائدہ جس طرح ملزم کو ملتا ہے،اسی طرح حاکم کو بھی ملتا ہے،حالانکہ میں قاضی یا حاکم کےلیے جس جائز تحفظ کا ذکر کر رہا ہوں اس کا تعلق فقط اس عدالتی یا نیم عدالتی فیصلے سےجس میں فیصلہ کرنے والے کی اپنی ذات ملوث نہ ہو اور جس میں نیک نیتی کے ساتھ فریقین کےمابین صحیح فیصلے کی کوشش کے باوجود کوئی سقم رہ گیا ہو۔لیکن فرض کیا کہ ایک حاکم یا قاضی اپنی شخصی و انفرادی حیثیت میں کسی دوسرےکا سر پھوڑ دیتا ہے، ٹانگ توڑ دیتا ہے یا قتل کر دیتا ہے، یا فرض کیا کہ وہ عدالت کی کرسی یا حکومت کے تخت ہی پر بیٹھا ہے اور کوئی شخص آکر اُسے تھپڑ مار دیتا ہے یا اس پر جوتا پھینک دیتا ہے اور یہ حا کم یا قاضی اس شخص کا ہاتھ کٹوا دیتا ہے یا اس کا سر ہی قلم کر دیتا ہے تو کیا یہ حاتم و قاضی محض اپنے عہدے کے بل پر قصاص کے عام اور ہمہ گیر قانونی اطلاق سےبچ جائے گایا کسی خصوصی تحفظ و امتیاز کی بنا پر اس سے قصاص تو نہیں لیا جائے گا، اسے محض تعزیر دی جائے گی یا تعزیر کے بجائے بس اسےسبکدوش کر دیا جائے گا؟ میرے اس سوال کا کوئی جواب دینے کےبجائے محمد تقی صاحب میری شامی کی پیش کردہ عبارت کےمتعلق کہ رہےہیں کہ اس میں کہیں قصاص کا ذکر نہیں،اس میں صرف آتنا لکها ہےکہ قاضی کو تعزیر کی جائےگی اور معزول کر دیا جائے گا۔شامی کی عبارت سےیہ استدلال بالکل غلط ہے کہ ابن عابدین شامی کے نزدیک قاضی سے کسی صورت میں قصاص لینا جائز ہی نہیں۔معلوم ہوتا ہےکہ عثمانی صاحب عبارت کا مطلب سمجھےہی نہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اس عبارت کا تعلق اس صورت سےہےجب کہ قاضی اپنےعدالتی اختیارات کو ا متعمال کر رہا ہو اور عدالتی فیصلے میں ظلم کرے۔البلاغ میں جو تر جمہ آپ نے کیا ہے وہ بھی یہی ہے کہ اگر فیصلہ جان بوجھ کر ظلم پر بنی ہو ۔ کیا کوئی معقول انسان اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ ابن غیلان کا ذاتی انتقام میں ہاتھ کاٹ دینا کوئی عدالتی فیصلہ تھا؟ دوسری بات یہ ہے کہ کتاب میں یہاں وہ افعال بالخصوص زیر بحث ہی نہیں جو موجب قصاص ہیں بلکہ عدالت کے ظالمانہ وخطا کارانہ استعمال پر ایک عمومی بحث ہے،اس لیےیہاں اس بات کےذکر کاکوئی موقع یا ضرورت نی تھی کہ قاضی سےقصاص لیا جائےگا۔بلکہ اتنا بیان کر دنیا کافی تھا کہ اس پر تعزیرو تاوان کا نفاذ ہوگا۔
یہ سوال البتہ مجھ سے ہو سکتا ہے کہ جب شامی کی عبارت کا تعلق عدالتی کارروائی سے تھا، تو میں نے اس بحث میں اسے نقل ہی کیوں کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میں اس عبارت سے فقط یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ جب قضاء بالجور اور عدالتی اختیارات کے غلط استعمال پر بھی قاضی ماخوذ ہو سکتا ہےاور اسے تعزیر، جرمانہ اور معزولی کی سزادی جاسکتی ہے، تو قاضی یا حاکم اپنےشخصی جرائم میں کیوں اس طرح قابل مواخذہ نہیں جس طرح کہ ایک عام مسلمان شہری ہوسکتا ہے؟ اسی لیے میں نے لکھا تھا کہ ذاتی رنجش پر ہاتھ کاٹ دینا تو سرے سے عدالتی فیصلے کی تعریف ہی میں نہیں آتا، فقہاء نےیہاں تک لکھا ہے کہ عدالتی کارروائی میں بھی ظلم و جور پر گرفت ہوگی۔
عثمانی صاحب نے ردالمختار شامی کی عبارت میں قصاص کے عدم ذکر“ کو ذکر عدم کا ہم معنی سمجھتے ہوئے اس سے جو مزید استدلال جن الفاظ میں کیا ہے، وہ بھی اپنی مثال آپ ہےفرماتے ہیں:” اس عبارت سے تو صاف یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر حضرت معاویہ کو معلوم بھی ہو جاتا کہ قضاء قاضی بالجور ہوئی ہے، تب بھی اس پر قصاص نہ آتا، بلکہ ضمان، تعزیر اور معزولی کی سزائیں دی جاتیں۔ اب یہ انتہا درجے کی دلاوری ہی کی بات ہےکہ ملک صاحب شامی کی اس عبارت کو جو صراحت ان کےموقف کی تردید کر رہی ہے، اپنی تائید میں پیش کر کے مجھ سے دلیل کا بھی مطالبہ فرماتے ہیں ، إِنَّ هذا الشيء عُجَاب اب میری جس” دلاوری“ کی شکایت کی جارہی ہے، اس کی کچھ حقیقت تو بحث گزشتہ سے واضح ہو چکی ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں، مان لیا کہ یہ گورنر ( جسے قاضی کا جبہ پہنا دیا گیا ہے ) قصاص سےبالا تر تھا مگر اتنی بات تو آپ نےبھی تسلیم کر لی کہ ا سے ضمان، تعزیر اور معزولی کی سزائیں دی جائیں۔اچھا،پہلےعمان کو لیجئے۔کیا اس ظالم گورنر پر ایک جبہ ، ایک درہم بھی بطور تاوان عائد کیا گیا، یا اس سے وصول کیا گیا؟ صرف یہی نہیں کہ نہ کیا گی بلکہ الٹا اس ظلم کی سزا عام بے گناہ مسلمانوں کو دی گئی کیونکہ دیت بیت المال سے ادا کی گئی۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ کرے مونچھوں والا اور بھرے ڈاڑھی والا ۔ مسلمانوں کے بیت المال کو تو مال یتیم سےتشبیہ دی گئی ہے، کیا وہ اس غرض کے لیے ہے کہ عمال و حکام کے مظالم کی چٹی اس سے ادا ہو۔ یہ بھی یادر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے بموجب ہاتھ کاٹنے کی دیت پچاس اونٹ ہیں۔ اور نہیں تو کم از کم یہی دیت اس گورنر سے بطور تاوان وضمان وصول کی جاتی تو شاید اسے کچھ نصیحت حاصل ہوتی ۔
اب اس کے بعد تعزیر کو لیجئے ۔ کیا ابن غیلان کو ایک چھڑی بھی لگائی گئی یا ز جر و ملامت ہی کا ایک کلمہ استعمال کیا گیا؟ آپ بار باررٹ رہےہیں کہ قصاص نہیں لیا جاسکتا، چلیےقصاص نہ سہی،تعزیر کا فتویٰ تو آپ کی فقاهت بھی دےرہی ہےپھر اس جرم پر کیا تعزیر دی گئی؟باقی رہی معزولی تو اسکی تفصیل بھی سن لیجئے ابن جریر اور دوسرےمورخین بتاتےہیں که امیر معاویہؓ نےابن غیلان کو معزول تو کر دیا مگر اس کےبعد اهل بصرہ سےکہا که تمہیں اب کونسا گورنر پسند ہے؟وہ لوگ حضرت عبداللہ ابن عامر سےتقویٰ و طہارتِ اخلاق کے باعث محبت رکھتےتھے لیکن وہ اتنی بات کہہ سکے کہ امیر المومنین ہی بہتر جانتے ہیں۔ امیر معاویہ جانتے تھے کہ اہل بصرہ کا رجحان ابن عامر کی طرف ہے۔وہ بار بار دریافت کرتےرہےاور ابن عامر" کا نام بھی لیا مگر بصرے والےکھل کر کچھ نہ کہہ سکے۔اس پر امیر معاویہ نے فرمایا، اچھا، میں اپنے"بھتیجے" عبیدالله بن زیاد کو تمہارا گونر مقرر کرتا ہوں۔ کاش کہ ابن غیلان کی جگہ ابن زیاد نہ لیتا۔ یہ وہی ابن زیاد ہے جس نےریحانه رسول و جگر گوشہ بتول کے طاہر محترم خون سے صحرائے کربلا کی زمین کو رنگین کیا۔ بہر کیف میری ان چند گزارشات کی روشنی میں ہر شخص یہ دیکھ سکتا ہے کہ انتہا درجے کا دلاور میں ہوں یا وہ صاحب ہیں جنہوں نے فن تعریض میں بڑی محنت اور ریاض کے بعد مجھے دلاور‘ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
پھر یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آ رہی کہ امیر معاویہ کےسفاک گورنروں کے متعلق جب ہم کوئی بات کہتے ہیں تو اس پر تو اتنی برہمی کا اظہار کیا جاتا ہےلیکن دوسرے اہل علم اگران گورنروں کےکارنامےبیان کرتےہیں تو کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔مثال کےطور پر مولانا سید مناظر احسن صاحب گیلانی مرحوم صدر شعبہ دینیات جامعہ عثمانیہ (دکن) ایک نامور دیو بندی عالم ہیں۔ان کی ساڑھےپانسو سےزائد صفحات کی کتاب ” حضرت امام ابوحنیفه" کی سیاسی زندگی بہت مشہور ہے۔ اس کی ایک فصل کا عنوان ہے۔اموی دور میں قضاۃ پر والیوں کا اثر “ اس فصل کو مولانا ممدوح ان الفاظ سے شروع کرتے ہیں:
"جو نہی خلافت مدینہ سے منتقل ہو کر دمشق پہنچی ، قضا اور فصلِ خصومات کی اہمیت اس درجہ گھٹادی گئی کہ ہر صوبہ کےوالی کو اس کا اختیار دےدیا گیاکہ اپنی صوابدید سےجسکو وہ چاہیں اپنےعلاقوں میں قاضی مقرر کر لیں ۔انما كان ولاة بلدهم هم الذين يولون القضاء (حسن المحاضرة ص ۸۸ امام سیوطی) ۔ زیادہ دن بعد نہیں ، مروان ہی کےزمانےمیں اس کا نتیجہ یہ دیکھا گیا کہ جب وہ مصر کےدورےپر پہنچا تو قاضی کو بلایا جس کا نام قاضی عابس تھا۔عابس کےعلم و فضل کا کیا حال تھا۔تاریخ والےبیان کرتےہیں،حسن المحاضرہ میں بھی ہےکہ قاضی عابس ان پڑھ تھا،لکھنا بھی نہیں جانتا تھا،مروان نےاس غیر خواندہ قاضی کو مخاطب کرکے پوچھنا شروع کیا:کیا تم نےقرآن یاد کر لیا ہے؟ جواب ملا نہیں،مجھےقرآن یاد نہیں ہےپھر پوچھا کیا تم نےمیراث کےمسائل کو پختہ کر لیا ہے، جواب ملا: ان سے بھی واقف نہیں۔ مردان کو اس جواب پر حیرت ہوئی اور بولا : آخر تم کس چیز سے فیصلہ کرتے ہو؟“
بیچارے عابس اس کا کیا جواب دے سکتے تھے۔ الغرض بجائے خلیفہ کے قاضیوں کا تقرر والیوں کےسپرد کر دینے ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ ان کےذاتی اغراض کے مطابق جو آدمی ہوتا تھا،اس کا وہ تقرر کر دیا کرتے تھےان ہی قاضی عابس صاحب کے تقرر کی وجہ یہ کھی ہے کہ حضرت معاویہ نےمصر کے والی مسلمہ کولکھا کہ یزید ( کر بلائی) کےلیےلوگوں سےبیعت لی جائے۔حسب الحکم مسلمہ نےبیعت لینی شروع کر دی۔ اور تو کسی کی طرف سے انکار نہیں ہوالیکن مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ جو فاتح مصر عمرو بن عاص کے مشہور صاحبزادے ہیں اور علم و فضل اور علّو سیرت میں لوگوں نے باپ پر بھی ترجیح دی ہے، انہوں نے بیعت سےانکار کیا۔ مسلمہ نےان کے انکار پر اعلان کیا: عبد اللہ کو درست کرنے کےلیےکون آمادہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہی عابس بن سعید کھڑےہوئےاور بولےمیں اس کام کو انجام دیتا ہوں۔عبداللہ بن عمر و اس زمانےمیں اپنےوالد کے مشہور قصر واقع فسطاط میں قیام فرما تھے۔ عابس پولیس کے نو جوانوں کو لے کر پہنچا اور ان کے مکان کو گھیر لیا اور کہلا بھیجا کہ بیعت یزید کے متعلق اب کیا ارادہ ہے؟ انہیں پھر بھی انکار ہی پر اصرار رہا۔ عابس نے اس کے بعد کیا کیا۔ مؤرخین لکھتے ہیں:
"اس نے آگ اور لکڑی جمع کی تاکہ ان کے قصر میں آگ لگادے (حسن المحاضرہ ) ۔ عبداللہ بن عمرو نے اس کے بعد اپنے آپ کو مجبور اور معذور پایا۔ بیچارے گھر سے نکلے اور جو کچھ اس جاہل نے کہنےکےلیے کہا، دہرا دیا۔ ان پڑھ عابس کا یہی سب سے بڑا کارنامہ تھا کہ صحابی کو آگ میں جلا دینے کی دھمکی دے کر حکومت میں سرخروئی حاصل ہوئی تھی ۔ اسی سرخروئی کا یہ صلہ ملا تھا کہ غریب مسلمانوں کی منڈیاں، ان کی جانیں، ان کےمال و جایداد حکومت نےسب قرآن و حدیث اور فرائض سےبالکل جاهل اس شخص کےسپرد کر دیئے۔
میں نےتمثیل کے لیے یہ ایک جزئی واقعہ پیش کیا ہے، ورنہ قاضیوں کے تقررات میں جو بےاعتنائیاں مختلف اثرات کے تحت برتی جاتی تھیں، ان کی داستان طویل ہے۔
ہم لوگ جب بیعت یزید کی بے ضابطگیوں یا عمال معاویہ کی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہیں،نو اس کی تردید میں تو بڑی منطق چھانٹی جاتی ہےکہ بھلا اس دور میں یہ کیسے ہوسکتا تھا اور وہ کیسےہو سکتا تھا،اس سےتو صحابہ کرام کی توہین و تحقیر ہوتی ہے جو دین کی عمارت کی بنیاد ہیں اور اس کی ایک اینٹ بھی اپنی جگہ سے ہلائی جائے تو قصر ایمان متزلزل ہو جاتا ہے۔“ مگر جب مکتب دیوبند کےاساطین امام سیوطی جیسے مؤرخ و محدث ( بلکه بہت سوں کےنزدیک مجدد) کےحوالےسے ایسےایسے واقعات بیان فرماتے ہیں تو محمد تقی صاحب کے قصر ایمان میں کوئی بھونچال نہیں آتا اور نہ وہ ان بزرگوں کی طرف رخ کر کے کوئی فتویٰ صادر فرماتے ہیں۔کیا میں بھی اس پر اِنَّ هَذَا لَشَيْى عُجَابٌ کی آیت پڑھ سکتا ہوں؟
میں اس مسئلے کو بڑی حد تک واضح کر چکا ہوں کہ اسلامی ریاست میں کوئی فرد، حتی کہ صدر ریاست اور امیر المومنین بھی قانون سے بالا تر نہیں ہیں اور حاکم ومحکوم سب کے سب یکساں طور پر احکام شریعت کے پابند اور ان کی زد میں ہیں۔اپنی ذاتی و شخصی حیثیت میں جسطرح ایک عام شہری دیوانی و فوجداری جرائم میں ماخوذ ہو سکتا ہے، اسی طرح بڑے سے بڑا صاحب منصب،حتی کہ خلیفہ وقت بھی قانونی گرفت میں آکر سزا کامستحق ہو سکتا ہےآخر میں اب میں یہ بتا دینا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ انگریز کاجو چھوڑا ہوا قانون اب تک ہم پر رائج ومسلط ہے، اس میں بھی حکومت کےعہدے داروں اور ملازمین کو اپنی شخصی حیثیت میں ایسا تحفظ حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی بے گناہ کا مال لوٹ لیں یا کسی کی جان یا عزت و آبرو پر حملہ آور ہوں، تو ان سےباز پرس نہ ہو سکےالبتہ جوں اور پبلک ملازمین کوصرف اتنی حفاظت و صیانت حاصل ہےکہ اگر ان پر کسی ایسےجرم کا الزام ہو جو انہوں نےمبینہ طور پر اپنےسرکاری فرائض کی انجام دہی میں کیا ہو تو ان کے خلاف حکومت کی پیشگی اجازت کےبغیر کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا۔ مقدمہ دائر ہو جانے کے بعد عدلیہ جو سزا چاہےان کو دےسکتی ہے۔ حکومت نہ مقدمہ واپس لے سکتی ہے،نہ عدالتی کاروائی میں کوئی مداخلت کر سکتی ہے۔یہ تو اس قانون کی بات ہے جس میں سرکاری ملازمین کے مفاد کو خاص طور پر پیش نظر رکھا گیا ہے،ورنہ دنیا بھر کے متعدد نظامہائے قانون میں ملازمین حکومت کے سرکاری اختیارات کے غلط اور متجاوز استعمال پر فوری اور عاجلانہ مواخذے کے لیے نہایت مستحکم و آزاد عدالتیں اور تریبیونل موجود ہیں جو غلط کار افسران کو عبرتناک اور سنگین سزائیں دیتے ہیں۔ اس کے بالمقابل ہمارے بعض نوخیز فقیہ اور مدیر اسلامی انتظامیہ وعدلیہ کی یہ تصویر اپنے قلم و قرطاس کے ذریعے سے پیش کر رہے ہیں کہ کوئی گورنر یا ڈ پٹی کمشنر اپنی ذات کے خلاف کسی شخص کی گستاخی پر ناراض ہو کر اگر کسی کا ہاتھ یا سر قلم کر دے اور پھر یہ بات سپرد قلم کر دے کہ میں نے یہ کام ”شبہ میں کر ڈالا ہے تو اس پر نہ قصاص ہوگا، نہ تاوان ہو گا، بس اسے ملازمت سے ریٹائر کر دیا جائےگا، اور تاوان بھی دلوایا جائے گا تو سرکاری خزانے سے نہ کہ مجرم کی ذات سے۔اسلامی حکومت کا یہ نقشہ پیش کر کے آج آپ دنیا میں کس کو اس کا معتقد بنا سکتے ہیں؟ امیر معاویہ کی حمایت کے جوش میں آپ اسلامی حکومت د ریاست ہی کو خلقِ خدا کے سامنے رسوا کیسے دے رہے ہیں۔
١- حضرت امام ابوحنیفہ کیسیای زندگی از علامه سید مناظر احس گیلان مردوما مطبوع نفیس اکیڈی،ملاس اسنمر بست، کراچی سمجھ ۵۰ - ۵۱ ۔ اس کتاب پر مصنف مرحوم کے فاضل شاکر دیا کہ محمد عبید اللہ صاحب ایم اے پی ایچ ڈی نے مقدمہ لکھا ہے۔
"دوسرا واقعہ مولانا نےطبری اور ابن اثیر کےحوالےسے یہ بیان فرمایا ہے کہ زیاد نے ایک مرتبہ بہت سے آدمیوں کے ہاتھ صرف اس جرم میں کاٹ دیئےتھے کہ انہوں نے خطبہ کے دوران اس پر پر سنگباری کی تھی۔ یہ واقعہ بلاشبہ اسی طرح طبری اور ابن اثیر میں موجود ہے لیکن اسےدرست مان لیا جائےتو یہ زیاد کا ذاتی فعل تھا۔کسی تاریخ میں یہ موجود نہیں ہےکہ حضرت معاویہ کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی اورانہوں نےاس پر کوئی تنبیہ نہیں کی ہو سکتا ہےکہ انہیں اطلاع نہ ہوئی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اسی طرح اطلاع پہنچی ہو جس طرح ابن غیلان کے واقعے میں پہنچی تھی۔ یہ بھی مستبعد نہیں کہ حضرت معاویہ نے زیاد کو اس حرکت پر مناسب سرزنش کی ہو۔“
میں اس عجیب و غریب منطق کا جواب بار بار دےچکا ہوں۔اب میں سوائےاس کےاور کیا کہوں کہ دو چار نہیں بلکہ یوں آدمیوں کو محض کنکریاں پھینکنےپر قطع ید کی سزا دینا ایسا واقعہ نہیں ہےجسکی اطلاع امیر معاویہ کو نہ ہوسکی ہو۔ اگر غزوہ جبل اشل کے مال غنیمت میں سونے چاندی کا وزن حضرت معاویہ کو معلوم ہو سکتا ہے تو بصرے کی مسجد کے دروازے پر ہاتھوں کے کاٹے جانےکا علم آخر کیوں نہیں ہو سکتا؟ پھر اگر اس واقعہ کی روداد اس صورت میں تیار ہو کر پہنچی ہو جسطرح ابن غیلان کی پہنچی تھی تو جس طرح اس کےمعاملے میں کم از کم دیت ادا کیے جانے کا ذکر تاریخوں میں ملتا ہے، زیاد والے واقعے میں کیوں نہیں ملتا ؟ پھر ابن غیا ان کو کم از کم معزول کیا گیا جس کا ذکر مدیر البلاغ بار بار کر رہے ہیں مگر زیاد کو ایک نہیں بلکہ تمیں سے لے کر اسی افراد تک کے ہاتھ کاٹنے پر معزول کیوں نہ کیا گیا ؟ کیا صرف اس لیے کہ آئندہ کی مہمات میں اس نو دریافت بھائی کی ضرورت تھی؟ اس ظلم صریح کے باوجود زیاد کا گورنری پر براجمان رہنا چونکہ مسلم ہے، اس لیے یہاں عثمانی صاحب اس سے زائد کوئی بات نہ بنا سکے کہ شاید حضرت معاویہ نے زیاد کو اس حرکت پر مناسب سرزنش کی ہو۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ تاریخوں میں زیاد کے ظلم وتشد د ا نتہا یہی ایک واقعہ بیان نہیں ہوا، بلکہ اس کی ستم رانیوں کا سلسلہ بہت دراز ہے۔ ابن خلدون جنہوں نے بالعموم بنوامیہ اور ان کے عمال کی زیادتیوں پر پردہ ڈالنے اور انہیں ہلکا کر کے دکھانے کی کوشش کی ہے، انہوں نے بھی اپنی تاریخ ( جلد ۳، ص۸) پر لکھا ہے کہ زیاد عشاء کی نماز کے کچھ دیر بعد تک لوگوں کو چلنے پھرنے کی مہلت دیتا تھا،اس کے بعد اس کی پولیس جسےپاتی تھی قتل کر دیتی تھی (لا يجد أحدا إلا قتله ) ۔ پھر لکھتے ہیں کہ زیاد پہلا شخص ہے جس نے
اب یہ بات کس طرح قرین قیاس اور قابلِ فہم ہو سکتی ہے کہ ظنون و شبہات پر عوام الناس کی پکڑ دھکڑ کرنا اور کرفیو لگا کر اسکی خلاف ورزی کرنےوالوں کو تہ تیغ کرتے رہنا،ایک ایسی معمولی بات ہےجسکی امیر معاویہؓ کو خبر تک نہ ہوئی ہو؟
امیر معاویہ کےگورنر بسر بن ابی ارطاۃ کی جن ظالمانہ کارروائیوں کا ذکر مولانا مودودی نےکیا ہےانکےمتعلق مدیر البلاغ کا کہنا یہ ہےکہ اسیطرح کی کارروائیوں کا ذکر جار یہ ابن قدامه کےبارے میں بھی ملتا ہےجنہیں حضرت علیؓ نے بسر بن ابی ارطاۃ کے مقابلے میں بھیجا تھا۔ مدیر موصوف لکھتے ہیں کہ اگر یہ روایت درست ہو تو یہ حضرت معاویہ کےعہد خلافت کا نہیں،بلکہ مشاجرات کےزمانےکا قصہ ہے جب کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ کے لشکر برسر پیکار تھے۔ ہم ان زیادتیوں سے دونوں اصحاب کو بری سمجھتے ہیں، کیونکہ ان روایات کی صحت کا کچھ پتہ نہیں۔ حافظ ابن حبان کا بسر کے متعلق الاصابہ میں یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ فتنے کے دور میں ان کے بہت سےواقعات مشہور ہیں جن میں مشغول نہیں ہونا چاہیے۔“
اس استدلال کے جواب میں پہلی بات جسے میں واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں، وہ یہ ہے کہ حضرت علی کے خلاف حضرت معاویہ کےجارحانہ اقدامات اور حضرت علی کےجوابی اقدامات کو ایک ہی سطح پر لانے کی سعی بالکل غلط اور غیر معقول ہےصاف بات یہ ہےکہ اگر حضرت علی خلیفه راشد تھےتو آپ کےخلاف حضرت معاویہؓ کا جدال و قتال محض” مشاجرت" یا "اختلاف"_١ کی تعریف میں نہیں آسکتا اور نہ اس پراس اجتہاد کا اطلاق ہو سکتا ہے کہ جس کے متعلق ارشاد نبوی ہے کہ
بلکہ یہ ان احادیث کی زد میں آتا ہے جن میں ارشاد ہوا ہے کہ من ارادان يفرق امر هذه الأمة وهي جميع فاضربوه بالسيف ...... اور اذا بويع لخليفتين فاقتلو الآخر منهما (مسلم، کتاب الامارہ)۔ اہل سنت میں سے کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہےکہ واقعہ تحکیم میں حضرت ابو موسی کےاعلان سےحضرت علی معزول ہو گئےتھےاور حضرت عمرو بن عاص کےاعلان سےامیر معاویہ خلیفہ ہو چکےتھے۔اس لیے در حقیقت حضرت علی کی حیثیت آخر وقت تک خلیفہ راشد کی تھی۔ پس امیر معاویہؓ خلیفہ راشد کے بالمقابل منازع اور مدعی خلافت تھے اور ان کا رویہ في الواقع بغاوت ومحاربة کی تعریف میں آتا ہے۔ اور حضرت علی یا ان کے کسی فرستادہ کی کارروائی، بالخصوص جبکہ وہ مدافعانہ اور جوابی نوعیت کی ہو،درحقیقت بغاوت اور سرکشی کا استیصال ہے،وشتان بينهما. دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پھر حضرت علی کے عہد خلافت میں امیر معاویہ نے یا ان کے کسی گورنر نےجو حربی یا نیم حربی اقدامات ان علاقوں میں کیے ہیں جو حضرت علیؓ کے زیر بیعت تھے، وہ تو اور بھی زیادہ بے جواز اور قابلِ اعتراض تھے۔ محمد تقی صاحب اگر چاہیں تو حضرت علی کے گورنر عبداللہ بن عباس کے معصوم بچوں کے قتل کا انکار کر دیں (اگرچه قدیم و جدید مورخین نے تفصیل و صراحت کے ساتھ اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔) مگر کیا وہ اس امر سےبھی انکار کر سکتےہیں کہ حضرت معاویہؓ نے ایک طےشدہ منصوبے کے مطابق مصر،حجاز، یمن،ہمدان وغیرہ علاقہ جات کو حضرت علیؓ کےحدود خلافت سےنکالنےکےلیےباقاعدہ جنگی مهمات کا آغاز اپنی طرف سے کر دیا تھا اور حضرت علی یا ان کے عاملین نے جو کچھ کیا وہ جوابی کارروائی کے طور پر تھا۔ شرعی لحاظ سے حضرت معاویہ کی یہ مہمات بغی و فساد کی تعریف میں آتی ہیں اور حضرت علیؓ کے مدافعانه اقدامات رفع فساد قرار پاتے ہیں۔
١-یہاں مدیر البلاغ نےامیر معاویہ کی حضرت علی کےخلاف بغاوت و جارحیت کےلیے"مشاجرت"کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس سے پہلے محرم کے البلاغ میں فرما چکے ہیں" کیا حضرت علی سے اختلاف کر کے حضرت معاویہ کو حق اجتہاد بھی نہیں رہا۔خلیفہ برحق کےخلاف مسلسل پانچ برس کی صف آرائی کو بھی محض اختلاف کا نام دے دیا عجیب چیز ہے۔
عثمانی صاحب نے اصابہ سے ابن حبان کا یہ قول تو نقل کر دیا کہ بسر کے بہت سے واقعاتمشہور ہیں، جن میں مشغول ہونا نہیں چاہئے لیکن اس قول سے معاقبل حافظ ابن حجر کا یہ قول کیا عثمانی صاحب کو نظر نہیں آیا کہ
"معاویہ نے بسر کو یمن اور حجاز کی طرف ۴۰ ء کے اوائل میں روانہ کیا اور حکم دیا کہ وہ جن لوگوں کو حضرت علیؓ کا مطیع دیکھے انہیں تاخت و تاراج کرے۔ پس بُسر نے ایسا ہی کیا۔“
تقریباً اسی طرح کی بات عثمانی صاحب کے پسندیدہ مورخ ابن خلدون نے بھی لکھی ہے:
فأراد معاوية صرف عمله الى مصر لما كان يرجو من الاستعانة على حروبه بخراجها.... فقال معاوية بل الرأى ان نكاتِبَ العثمانية بالوعد ونُكاتِبَ العدو بالصلح والتخويف ونأتي الحرب بعد ذلك.
"پھر امیر معاویہؓ نے مصر کی جانب کارروائی کا ارادہ کیا کیونکہ مصر کی آمدنی و محاصل سے وہ اپنی جنگوں میں مالی امداد کی توقع رکھتے تھے۔ پس امیر معاویہ نے کہا کہ صحیح رائے یہ ہوگی کہ ہم حضرت عثمان کے طرفداروں کو تو تحریری وعدے دیتے رہیں اور دشمن (علی) سے بھی صلح کی بات چیت پر خط و کتابت کریں اور کبھی انہیں ڈرائیں۔ اس کے بعد جنگ کا آغاز کریں۔“
اس کے بعد آخر عثمانی صاحب یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت معاویہ ان زیادتیوں سے بری ہیں۔ بہر حال یہ تو ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ بسر اور دوسرے لوگوں کو امیر معاویہؓ نےمار دھاڑ کی مہم پر روانہ کیا تھا۔ باقی رہیں تفصیلات تو ان کے بیان کرنے میں مولانا مودودی تنہا نہیں۔ مثال کےطور پر مولانا شاہ معین الدین احمد صاحب ندوی سیر الصحابہ، جلد ۸، صفحہ ۵۹ پر لکھتےہیں:۔
"٤٠ھ میں امیر معاویہ نےمشہور جفا کار بسر بن ابی ارطاۃ کو مجازیوں سےاپنی بیعت لینے پر معمور کیا۔ بہر نے اہل مدینہ کے دلوں میں خوف پیدا کرنے کےلیےبعض گھروں کو ڈھا دیا۔یہاں سےفارغ ہونے کے بعد مکہ پہنچا۔ مکہ کےمعاملات درست کرنے کے بعد یہاں سےیمن کی طرف بڑھا۔یہاں کے عامل عبید اللہ بن عباس کو خبر ہوئی تو وہ عبداللہ کو قائم مقام بنا کر کوفہ چلے گئے۔ بُسر نے یمن پہنچ کر پہلے عبداللہ کا کام تمام کیا۔ پھر تمام شیعیان علی کے قتل عام کا حکم دیا۔ عبید اللہ کے دو صغير السن معصوم بچے بھی بسر کے ظلم وجور سے زندہ نہ بچے۔ یمن میں سکہ بٹھانے کے بعد یہ ستم شعار سنگ دل شام لوٹ گیا۔“
ان ظالمانہ کاروائیوں کےجواب ہی میں حضرت علیؓ نےجاریہ بن قدامہ کو بھیجا تھا۔اب رہا یہ سوال کہ اگر جاریہ نےبھی نجران اور بصرہ میں جاکر ویسی ہی زیادتی کی تو اس پر حضرت علی بھی مورد الزام کیوں نہیں بنتے؟ تو اس کےتین جواب ہیں۔ پہلا تو یہ کہ یہ کارروائی جارحانہ نہیں بلکہ جوابی اور مدافعانه تھی۔دوسرا یہ کہ حضرت علی نے اپنے مخالفین و محاربین سےلڑتےہوئے بار بار تا کید فرمائی تھی کہ ان کی جان اور مال پر کوئی ایسا تجاوز نہ کیا جائے جو اسلام میں ممنوع ہو ۔ اس بات کو عثمانی صاحب نے بھی تسلیم کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اہلِ سنت کےعلماء وفقہاء نےمسلمان باغیوں،ان کےقیدیوں،عورتوں،بچوں وغیرہ کے متعلق جملہ احکامی تفصیلات حضرت علیؓ کےاس نمونےاور کے قیدیوں ، عورتوں، بچوں وغیرہ کے متعلق جملہ احکامی تفصیلات حضرت علیؓ کےاس نمونےاور ہےکہ اگر جار یہ ابن قدامه نےحضرت علیؓ کی ان ہدایات کےعلی الرغم کوئی فعل اسلام کے جنگی قوانین کے خلاف انجام دیا تھا تو حضرت علیؓ کو اتنی مہلت ہی نہ مل سکی کہ آپ اس پر مطلع ہو کر باز پرس کرتے ۔ یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ جاہر یہ ابھی اپنی مہمات میں نسر کا نجران، مکہ اور مدینہ میں تعاقب ہی کر رہے تھے کہ آ ہی میں ابن نجم خارجی نے حضرت علیؓ کو شہید کر دیا۔
عثمانی صاحب نے ابنِ کثیر کےحوالےسےیہ ثابت کرنےکی کوشش کی ہےکہ مولانا مودودی کانسر کو ظالم شخص کہنا صحیح نہیں، کیونکہ حضرت علیؓ نے اپنے ساتھیوں سے خود فرمایا تھا کہ ”نسر کا لشکر تم پر غالب آئے گا، کیونکہ وہ اپنے امام کی اطاعت کرتے ہیں اور تم نافرمانی کرتے ہو، تم اپنی زمین میں فساد مچاتے ہو اور یہ اصلاح کرتے ہیں۔ حقیت یہ ہے کہ یہ حضرت علی کے آخری خطبوں کے الفاظ ہیں جب کہ آپ اپنے رفقاء کی بدنظمی اور دوں ہمتی سے سخت مایوس اور دل برداشتہ تھے۔اس میں فساد و اصلاح وغیرہ الفاظ اضافی نوعیت کے ہیں جو اپنے ساتھیوں کو غیرت دلانے کے لیےایک خاص محدود مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں، جیسے میں نے ابھی اوپر سیٹز الصحابہ سے یہ الفاظ انقل کیے ہیں کہ بسر مکہ کے معاملات درست کرنے کے بعد یمن کی طرف بڑھا۔ "ظاہر ہے کہ معاملات کی یہ درستی یا "اصلاح" جیسی کچھ بھی تھی امیر معاویہ کے استحکام سلطنت کے نقطہ نظر ہی سے تھی ۔
اس سلسلے میں یہ امر بھی حیرت انگیز ہے کہ عثمانی صاحب اور بعض دوسرے لوگوں نے نہر کا یہ قول بڑے اہتمام سے پیش کیا ہے جس کا اعلان اس نے مدینے میں منبر رسول پر کھڑے ہو کر کیا تھا کہ :”اے اہل مدینہ ! اگر مجھ سے معاویہ نے عہد نہ لیا ہوتا تو میں اس شہر میں کسی بالغ انسان کو قتل کیے بغیر نہ چھوڑتا۔ مجھے سخت تعجب ہے کہ محمدتقی صاحب نے بسر کے قول کو امیر معاویہ کی برأت اور نسر کی صفائی کا ثبوت بنا کر پیش کیا ہے، اور اس سے یہ استدلال فراہم کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت معاویہؓ نے اپنے ماتحتوں کو یہ تاکید فرمادی تھی کہ وہ قتل وقتال میں حد ضرورت سے آگے نہ بڑھیں۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ نہر کے اس مقولے سے جو استنباط بجاطور پر کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہےکہ حضرت معاویہ کے گورنروں اور ماتحتوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےعہد وفرمان سےزیادہ امیر معاویہ کی ہدایات کا پاس تھا۔ورنہ جس شخص کےدل میں اللہ کا خوف اور ارشاد نبوی کا احترام امیر کےخوف و احترام سےزیادہ اور اشد ہو، وہ ایسا انداز بیان اختیار نہیں کر سکتا اور مسجد نبوی کے منبر پر کھڑے ہو کر اہل مدینہ کو ان الفاظ میں دھمکی نہیں دے سکتا کہ اگر معاویہ نے مجھ پر پابندی نہ لگائی ہوتی تو میں اس شہر میں کسی بالغ کو قتل کیے بغیر دم نہ لیتا۔ کیا مدینۃ الرسول میں قتل عام سے باز رکھنے کے لیے خدا اور اس کے رسول کے احکام ایک مسلمان کے لیے کافی نہیں ہیں اور کیا اس کے لیے کسی دوسرے کے امتناعی حکم کی بھی ضرورت ہے؟ اللہ کا فرمان ہے:
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَا.... وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاهُ جَهَنَّمَ خَلِدًا فِيْهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا. (النساء:۹۲-۹۳)
کیا ان ارشادات کے بعد کسی کے لیے ایسی بات کہنا جائز ہے کہ اگر امیر معاویہؓ نے مجھے نہ روک دیا ہوتا تو میں مدینے کے ہر شخص کہ تہ تیغ کر دیتا؟ دوسرے لفظوں میں جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امیر مجھے حکم دیں تو میں ایسا کر گزروں گا_١طرفہ تماشا یہ ہےکہ امیر معاویہ اوران کے عمال کو بری الذمہ ثابت کرنے کے لیے جو لوگ اس طرح کے اقوال اور استدلال پیش کرتے ہیں، ان کےسامنےجب اس طرح کی وکالت کی بنیادی کمزوری کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ بڑے ناراض ہوتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ایسی صفائی پیش کرنے سے نہ کرنا ہی بہتر ہے۔
مولانا محمد تقی صاحب عثمانی نےیہ بھی لکھا ہے کہ فتنہ کا وقت گزر جانے کے بعد حضرت معاویہؓ کو یہ اطلاع ملی کہ بسر بن ابی ارطاۃ نےکچھ زیادتیاں کی ہیں تو ابن خلدون کےبیان کےمطابق حضرت معاویہ نےان زیادتیوں کی تلافی کر کے بُسر کو گورنری سےمعزول کر دیا۔ عثمانی صاحب نےتلافی کی کچھ تفصیل نہیں بتائی اور نہ ہی واضح کیاکہ فتنہ کب تک رہا اور کب اسکا وقت ختم ہوا۔تاریخ طبری اور بعض دوسری تاریخوں سےتو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کی شہادت بلکہ امام حسن سےمصالحت کے بعد بھی بسر جنگی خدمات سرانجام دیتا رہا ہے۔٤١ھ میں جب عمران بن ابان نےبصرے پر قبضہ کر لیا تھا،اور زیاد اس وقت فارس میں گردوں کی سر کوبی میں مصروف تھا تو اس وقت امیر معاویہؓ نے حمران اور زیاد دونوں کو اپنا مطیع بنانے کے لیے بسر ہی کو روانہ کیا تھا۔بُسر نےجا کر بصرےمیں پہلا کام تو یہ کیا کہ منبر پر حضرت علی کےخلاف سب و شتم کا ارتکاب کیا_٢پھر زیاد کےلڑکوں کو گرفتار کر کےامیر معاویہ کی جانب سےزیاد کو وعید نامہ تحریر کیا کہ اپنا خزانہ لےکر امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہو جائےورنہ اس کےلڑکوں کو قتل کر دیا جائےگا۔زیاد اس وقت تک حضرت علی کا حامی تھا اور امیر معاویہؓ نےاسےبھائی بنا کر اپنا ساتھ نہیں ملایا تھا۔حضرت ابوبکر نےبڑی مشکل سےبیچ میں پڑ کر لڑکوں کی جان بچائی۔اس کے بعد بھی تین سال تک بُسر مختلف مہمات میں سرگرم رہا ہے۔اس لیےیہ بلت صحیح نہیں کہ امیر معاویہ نےاسےاس کی زیادتیوں کی وجہ سےمعزول کر دیا تھا۔ صحیح تر بات یہ ہے کہ اس سے مواخذہ کیے بغیر یکے بعد دیگرے مختلف خدمات پر اسے مامور کیا جاتا رہا۔
١- واضح رہے کہ نمبر نے مدینے والوں کو قتل عام کی دھمکی ایسی حالت میں دی تھی جب کہ مدینے میں کس تنفس نے مقابلے میں ہاتھ نہیں اٹھایا تھا۔ ابن جریر طبری اپنی تاریخ جلد ۴ صفحہ ۰۶ اپر فرماتے ہیں ۔ دخل بسر المدينة فصعد منبرها ولم يقاتله بها احد،فنادی... یہی الفاظ الکامل لابن اثیر جلد ۳ صفحہ ۱۹۲ پر موجود ہیں۔
٢- خطب بسر على منبر البصرة فشتم عليا ) تاریخ طبری ، جلد ۳ صفحه ۱۲۸، الکامل، جلد ۳ صفحه ۲۰۷) ۔
مولانا مودودی نےاس بحث میں کچھ امیر معاویہ کےمتعلق لکھا ہےاس پر مدیر” البلاغ “اور دوسرےمعترضین بار بار یہ کہتےہیں کہ محض تاریخ کےبل پر صحابہ کرام کو مطعون کرنا جائز نہیں۔یہی اعتراض خلافت و ملوکیت کی دوسری تاریخی روایات کے خلاف عاید کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ اعتراض متعدد وجوہ سے غلط ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی صحابی کی غلطی بیان کرنا یا اسےکتاب وسنت کےمعیار حق پر جانچنا موجب طعن نہیں ہے۔ہمارے اس قریب کے زمانےمیں شاہ عبد العزیز صاحب محدث سےبڑھ کر صحابہ کرام کےخلاف مطاعن کار د کرنےوالا شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔ ان پر اس سلسلے میں مصیبت کے جو پہاڑ توڑے گئے ، جس طرح انہیں شدید جانی و مالی مصائب کا شکار ہونا پڑا اور جسطرح ان کی املاک ضبط کی گئیں،اسکےتصور سےہی رونگٹےکھڑے ہو جائے ہیں۔ لیکن انہوں نے ، جیسا کہ میں پچھلی بحث میں نقل کر چکا، ایک طرف یہ فرمایا کہ زبان طعن بند رکھنی چاہیے اور دوسری طرف وہیں حضرت معاویہ کو سباب وقتال جیسے کبائر کا مرتکب بھی قرار دیا۔ اس کا مطلب بجز اس کے اور کیا ہے کہ ان امور کا ذکر طعن کے مترادف نہیں ہے۔ اس سے واضح تر شاہ صاحب کا ایک جواب ان کےفتاوی عزیزی میں موجود ہے۔ان سے سوال کیا گیا کہ "حضرت معاویہ اور مروان کو برا کہنے کےبارے میں اہل سنت کےنزدیک کیا ثابت ہے؟“جواب میں مروان کو ملعون اور شیطان قرار دینےاور اس سے دلی بیزاری کو لوازم سنت شمار کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
علمائے ماوراء النہر و مفسر مینو فقہاء این ہمہ حرکات و جنگ و جدل اورا کہ جناب مرتضی علی نمود، حمل بر خطائے دارند و متقین اہل حدیث بعد تتبع روایات صحیح در یافته اند که این حرکات خالی از شائبه نفسانی نبود و خالی از تهمت تعصب امویه و قریشیه که بجناب ذی النورین داشت نبوده است.پس نهایت کارش این است که مرتکب کبیره و باغی باشد و الفاسق ليس باھل العن ۔اگر مراد از سب ہمیں قدر است این فعل اور ابد گفتن و بد دانستن،بلاشبه بر محققین این معنی واضح است-و اگر مراد از سب لعن و شتم است پس معاذ اللہ کہ کسےاز اہل سنت پیرامون آن گرد و چه نز داینها برائےفاسق و مرتکب کبیره استغفار مامور به است فیکون اللعن حراما خاصه که او مرد صحابی است- “
علماء ماوراء النہر، مفسرین اور فقہاء کہتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ کے حرکات جنگ و جدل جو حضرت مرتضی علی کے ساتھ ہوئیں وہ صرف خطاء اجتہادی کی بنا پر تھیں۔ محققین اہل حدیث نے بعد تنتبع روایات دریافت کیا ہے کہ یہ حرکات شائبہ نفسانی سے خالی نہ تھے اور اس تہمت سے خالی نہیں کہ جناب ذی النورین حضرت عثمان کے معاملہ میں جو تعصب امویہ وقریشیہ میں تھا، اس کی وجہ سےیہ حرکات معاویہ سے وقوع میں آئے جس کا غایت نتیجہ یہی ہےکہ وہ مرتکب کبیرہ و بغاوت قرار دیئےجائیں والفاسق ليس باهل اللعن،يعنى فاسق قابل لعن نہیں۔ تو اگر مراد برا کہنے سے اسی قدر ہے کہ ان کے اس فعل کو برا کہنا چاہیے اور برا سمجھنا چاہیے تو بلا شبہ اس امر کا ثبوت محققین پر واضح ہے۔ اگر برا کہنے سے مراد لعن وشتم ہے تو معاذ اللہ کہ اہل سنت سے کوئی شخص اس کے گرد جائے۔
اس واسطے کہ اہل سنت کے نزدیک یہ حکم ثابت ہے کہ فاسق اور مرتکب کبیرہ کے حق میں استغفار کرنا چاہیے۔ لعن کرنا حرام ہے علی الخصوص حضرت معاویہ جو کہ صحابی ہیں۔“
( فارسی عبارت فتاوی عزیزیه، کتابخانه رحیمیه ، دیوبند ، جلد اول صفحہ ۷۷ اسے منقول ہے۔اور ترجمہ فتاوی عزیزی مترجم، شائع کردہ سعید اینڈ کمپنی، کراچی ص ۲۲۵ سے نقل کیا گیا ہے )۔
شاہ صاحب کی کتاب ” تحفہ اثنا عشریہ" شیعوں کےرد میں ایک مستقل تصنیف ہے۔اس میں درج ذیل عبارت موجود ہے۔
"اہل سنت سب کےسب اس پر متفق الرائےہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان،حضرت امیر (علی)کی ابتدائی امامت سےاس وقت تک کہ حضرت امام حسن نےمعاملہ امامت معاویه کےسپرد کیا،باغیوں میں سےتھے کیونکہ امام وقت کی اطاعت چھوڑ دی اور جب امام حسن نے امامت ان کے سپرد کی تو وہ بادشاہ ہوئے۔ اب رہا یہ شک کہ جب معاویہ باغی ٹھہر ہے اور ناحق غلبہ حاصل کرنے والے، تو ان پر لعن طعن کیوں نہیں کرتے ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیک گناہ کبیرہ کے مرتکب پر لعن جائز نہیں، اور باغی چونکہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے، اس پر بھی لعن منع ونا جائز ہوئی ۔“
اب کوئی شخص اگر شاہ صاحب کے ان اقوال کو کھلے دل اور کھلی آنکھوں سے پڑھے تو یہ بات اس سے مخفی نہ رہے گی کہ انہوں نے امیر معاویہ کے تعصب ، شائبہ نفسانیت اور فسق کا صاف ذکر کیا ہے، البتہ امیر معاویہ پرلعن طعن اور سب و شتم سے اجتناب کیا ہےاور اسی کو اہلِ سنت کا مسلک بتایا خلافت و ملوکیت میں آخر یہی کچھ تو کیا گیا ہے۔ واقعات بیان کر دیئے گئے ، غلط کام کو غلط کہا گیا مگر عن وطعن اور سب و شتم سے قطعی پر ہیز کیا گیا۔
دوسری بات جو اس سلسلے میں قابل وضاحت ہے، وہ یہ ہےکہ تاریخی روایات کی وساطت سے ہمارے مؤرخین نے جو مواد صحابہ کرام کے حالات پر مشتمل جمع کیا ہے،اس میں سے اکثر د بیشتر ایسا ہے جس کا ماخذ مبنی صحیح احادیث و آثار میں بھی موجود ہے جو نہایت ثقہ قوی راویوں نے،روایت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے ضعیف یا مجروح راویوں سے بھی اس طرح کا تاریخی موا: اخذ کرنےمیں مضایقہ نہیں سمجھا گیا۔مثلاً یہی امیر معاویہ کا حضرت علیؓ کے مقابلے میں اٹھ کر جنگ کرنا اور اس میں ہر ممکن تدبیر کو کام میں لانا ایک بدیہی حقیقت ہے جس کا انحصار مجرد تاریخی روایات پر نہیں ہے، بلکہ صحاح ستہ کی نہایت صحیح الاسناد روایات میں بھی اس کےدلائل وشواہد موجود ہیں۔اس کی ایک مثال میں یہاں پیش کرتا ہوں۔مسلم، کتاب الامارہ، باب وجوب الوفاء بسعة الخليفة الاول فالاول میں ایک حدیث ہے جس کے راوی عبدالرحمن بن عبد رب الکعب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص بیت اللہ میں بیٹھے تھے جب کہ انہوں نے بہان کیا کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےہمیں جمع کر کےایک خطاب فرمایا۔اس خطاب میں آنحضور نے آئندہ آنے والے متعدد فتنوں کی پیشین گوئی کرتے ہوئے آخر میں فرمایا :
ومن بايع إماما فأعطاه صفقة يده وثمرة قلبه فليطعه ان استطاع فان جاء آخرينـا زعه فاضربوا عنق الآخر فدنوت منه فقلت أنشدك الله آنت سمعت سمعته هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلّم؟ فأهوى الى أذنيه وقلبه بيديه وقال عنه أذناي ووعاه قلبي فقلت له هذا ابن عمك معاوية يأمرنا ان نأكل اموالنا بيننا بالباطل ونقتل انفسنا، والله يقول : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُو لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمُ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضِ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا. فسكت ساعةً ثُمَّ قال اطعه في طاعة الله واعصه في معصية الله.
"جس شخص نے ایک امام کی بیعت کی اور دل و جان سے اس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا، اسےچاہیے کہ وہ اس امام کی حتی الامکان اطاعت کرے۔ پھر اگر دوسرا امامت کا دے دار بنے تو دوسرے کو مارو ( عبدالرحمن راوی کہتے ہیں کہ ) میں نے حضرت عبداللہ سے قریب ہو کر پوچھا کہ میں آپ کو خدا کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟پس انہوں نے اپنے کانوں کی طرف اور اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے دونوں کانوں نے یہ بات سنی اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے۔ پھر میں نے ( راوی نے ) حضرت عبداللہ سے کہا کہ آپ کے یہ عم زاد معاویہ تو ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم آپس میں اپنے مال باطل طریقے سے کھائیں اور اپنے (مسلمان بھائیوں ) کو قتل کریں حالانکہ اللہ فرماتا ہے کہ اےایمان والو ! مت کھاؤ اپنے مال آپس میں باطل طریق پر الا یہ کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارتی لین دین ہو اور اپنی جانوں کو قل نہ کرو۔ یقینا اللہ تم پر مہربان ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ میری بات پر کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: اللہ کی اطاعت کے تحت معاویہ کی اطاعت کرو اور جب ان کی اطاعت کا مطلب اللہ کی نافرمانی ہو تو امیر معاویہ کا حکم نہ مانو “
یہ حدیث معمولی لفظی اختلاف کےساتھ سنن ابی داؤد،کتاب الفتن میں بھی موجود ہےاس روایت کا مضمون صاف طور پر بتا رہا ہے کہ اس میں پہلے امام اور دوسرے مدعی و منازع کا ذکر جس انداز میں ہے اس کا اطلاق حضرت علی اور امیر معاویہ پر ہوسکتا ہے اور امیر معاویہ نےحضرت علی کےخلاف جو منزعت و محاربت کی روش اختیار کی لوگوں کی جان و مال پر خود یا اپنےلشکریوں اور عاملوں کےذریعےسےتعدی کی اور اس کےلیےجو ذرائع ووسائل استعمال کیسے یہ سب کارروائیاں نا جائز تھیں جن کی ذمہ داری امیر معاویہ پر عائد ہوتی تھی۔ امام نودی نے اس حدیث کی شرح کرتےہوئے فرمایا ہے کہ:
"راوی کے کلام کا نقصور یہ ہےکہ جب اس نے حضرت عبداللہ بن عمرو کی بات اور یہ حدیث سنی کہ خلیفہ اول کی موجہ گی میں دوسرے کی اس سے منازعت حرام ہے اور دوسرا لائق قتل ہے تو راوی اس بات کا قائل ہو گیا کہ یہ وصف معاویہ میں موجود ہے کیونکہ وہ حضرت علی سے نزاع کر رہےہیں، حالانکہ حضرت علی کی بیعت پہلے منعقد ہو چکی ہے۔ پس راوی عبد الرحمن کی رائے یہ ہوئی کہ امیر معاویہ حضرت علی کے خلاف جنگ اور منازعت و مقاتلت میں اپنے فوجیوں اور پیروکاروں پر جو کچھ خرچ کر رہے ہیں وہ اکل المال بالباطل ( اور قتل نفس ) ہے۔ اسی بنا پر حضرت ابن عمرو نے فرمایا کہ تو اللہ کی اطاعت میں معاویہ کی اطاعت کر اور جہاں اللہ کی نافرمانی لازم آئے ، وہاں اطاعت نہ کر -"
اس روایت سے یہ باہ بھی ظاہر ہوتی ہے کہ عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ نے جو رائے قائم کی تھی ، حضرت عبد اللہ بن عمرو کو اس سےاختلاف نہیں تھا،ورنہ وہ راوی سےضرور کہتےکہ تمہارا خیال غلط ہے،یہ تو ایک اجتہادی اختلاف ہے، اس لیے اس پر قتل نفس اور اکل بالباطل کی تعریف صادق نہیں آتی ، نیز حضرت عبداللہ بن عمر و اپنے والد کے ہمراہ امیر معاویہ کے کیمپ میں چلے تو گئے تھےلیکن آپ نےلڑائی میں حصہ نہیں لیا اور جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ آئے ہی کیوں تو آپ نےجواب دیا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہدایت فرمائی تھی کہ اپنے والد کی نافرمانی نہ کرنا، تو میں اپنے والد کا حکم اس حد تک تو بجا لے آیا کہ ان کے ساتھ آ گیا مگر میں حضرت علیؓ سے لڑ کر خدا کی نافرمانی نہیں کر سکتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر صحیح مسلم اور سنن ابی داؤد میں ایسی روایات کی موجودگی موجب طعن نہیں ہے جو حضرت علیؓ کے بالمقابل حضرت معاویہ کے موقف کو کئی اور مجموعی حیثیت سے باطل بتا رہی ہیں، تو کسی ایسی تاریخی روایت کے نقل کر دینے سے کیا قیامت برپا ہو جائے گی جو امیر معاویہ یا ان کے کسی گورنر کی کوئی غلط کا روائی بیان کر رہی ہو؟
مولانا مودودی نے بسر بن ابی ارطاۃ کے متعلق یہ بھی لکھا ہے کہ اس کو حضرت معاویہؓ نےہمدان پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا جو اس وقت حضرت علی کے قبضے میں تھا۔ وہاں اس نے ایک ظلم عظیم یہ کیا کہ جنگ میں جو مسلمان عورتیں پکڑی گئی تھیں،انہیں لونڈیاں بنایا۔اس پر مولانا عثمانی لکھتےہیں کہ یہ بات استیعاب کےسوا کسی بھی تاریخ میں موجود نہیں اور کسی دوسرے مورخ نےاسےاپنی تاریخ میں درج کرنا مناسب نہیں سمجھا، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہیں جو ضعیف ہیں اور جن سے روایت حلال نہیں۔ لیکن عثمانی صاحب اور بعض دوسرے لوگوں کا یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے کہ یہ بات استیعاب کےسوا کسی کتاب میں درج نہیں ہےسر دست اسد الغابه فی معرفۃالصحابه جلدا،ص ۱۸۱ کا ایک اقتباس حاضر ہےبسر کےحالات میں مصنف ابن اثیر فرماتے ہیں کہ بیٹی بن معین کے قول کے مطابق بسر ایک برا آدمی تھا کیونکہ اس نے کبائر کا ارتکاب کیا جنہیں مورخین و محدثین نے نقل کیا ہےعبید اللہ بن عباس کےدو معصوم بچوں عبدالرحمن اور قسم کو ان کی ماں کےسامنے ذبح کیا ۔ اس صدمے سے وہ دیوانی ہو گئی۔ معاویہ نے اس شخص کو حجاز و یمن کی طرف حضرت علی کے حامیوں کو قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ پھر لکھتے ہیں:
وأغار على همدان باليمن وسبى نساءهم فكن اوّل مسلمات سُبين في الاسلام وهدم بـالـمـديـنـة دوراً وقد ذكرت الحادثة في التاريخ فلا حاجة الى الإطالة بذكرها.
"اس شخص نے یمن میں ہمدان کو تاخت و تاراج کیا اور وہاں کی عورتوں کو لونڈیاں بنا لیا۔اسلام میں یہ پہلی عورتیں تھیں جنہیں لونڈی بنایا گیا۔ اور اس نے مدینہ میں گھروں کو منہدم کیا۔ یہ حادث تاریخوں میں مذکور ہے، اس لیے اس کے ذکر کو طول دینے کی ضرورت نہیں۔“
میں سمجھتا ہوں کہ حافظ ابن عبدالبر اور حافظ ابن اثیر الجزری (صاحب الکامل_١) دونوں اتنےبلند پایه حدث و مؤرخ ہیں کہ ان دونوں میں سےکسی ایک کا اس واقعہ کو نقل کر دینا اثبات مدعا کےلیےکافی ہے_٢ اس کے بعد اگر مدیر البلاغ یا کچھ دوسرے لوگ اس واقعہ کا انکار کرنا چاہتےہیں تو پھر انہیں چاہیےکہ دو رفتن کی پوری تاریخ کا ہی انکار کر دیں۔ مگر اس انکار سے کیا ہوگا ، ان ما تحذرین قد وقعت. باقی رہا کسی راوی کا ضعیف یا متکلم فیہ ہونا تو میں پہلےتفصیلاً عرض کر چکا ہوں کہ تاریخی بحث میں ہر قدم پر راوی کی خیریت معلوم کرنے کی کوشش کرنا نہ ممکن ہے، نہ آج تک کسی سے یہ ہو سکا ہے۔
حضرت عمار بن یاسر کا سرکاٹ کر امیر معاویہ کے پاس لائے جانے کی جو روایت مولانا مودودی نے درج کی ہے، اس پر مولانا محمد تقی صاحب فرماتےہیں کہ یہ روایت تو مولانا نے صحیح نقل کی ہےلیکن اس واقعہ سے حضرت معاویہ پر الزام کسی طرح درست نہیں ہے،اس لیے کہ اس میں یہ نہیں بتلایا کہ حضرت معاویہ نے اس فعل پر کیا اثر لیا؟ اسی طرح حضرت علی کا ایک لشکری عمیربن جرموز ، حضرت زبیر کا سر تن سے جدا کر کے حضرت علیؓ کے پاس لے گیا۔ حضرت علی یا حضرت معاویہ دونوں میں سے کسی نے سرکاٹنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ حضرت علیؓ کےبارے میں ایسی روایت موجود ہےکہ انہوں نے حضرت زبیر کی شہادت پر افسوس ظاہر کیا۔ حضرت معاویہ کے قصے میں ایسی کوئی بات مذکور نہیں مگر یہ "عدم ذکر ہی تو ہے" ذکر عدم تو نہیں۔
١- یہ بھی واضح رہے کہ ابن اثیر نے اُسد الغابه کو اپنی تاریخ الکامل کے بعد مرتب کیا ہے، اور اس میں زیادہ مشہور اور اہم واقعات کو درج کیا ہے، جن کے اندراج کے بعد وہ بالعموم لکھ دیتے ہیں کہ بقیہ واقعات میری تاریخ میں موجود ہیں۔یہ واقعہ امام ذہبی نے بھی بیان کیا ہے۔ ملاحظہ ہو صفحہ ۲۴۹۔
٢- ابن حجر نے بھی تہذیب التہذیب میں بسر کے حالات میں لکھا ہے : فـعـل بـمـكــه والمدينة واليمن أفعالا قبيحة، ولاه معاوية اليمن وكانت بها آثار غير محمودة. یہی افعال قبیحه اور آثار غیر محمودہ تھےجن کی تفصیل استیعاب اور اُسد الغابه میں بیان ہوئی ہے۔
جناب عثمانی صاحب نےقطع راس کےان دو واقعات میں جسطرح مشابهت دکھانےاور حضرت علی اور حضرت معاویہ کے طرز عمل میں جو مماثلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، اسے دیکھ کر بڑا تعجب ہوتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں حادثوں کی جو تفصیلات،تاریخوں میں بیان ہوئی ہیں ان میں بالکل نمایاں اور بین فرق ہے۔ ابنِ جرموز کے متعلق ابن عبد البر ابن سعد اور ابن کثیر وغیرہ نےجو کچھ تحریر فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بد بخت حضرت زبیر کاسر جدا کر کےاور آپ کا سرور آپکی تلوار لےکر حضرت علی تک پہنچا کہ شاید آپ خوش ہو کر انعام و اکرام سےنوازیں گےمگر حضرت علی نےمحض رھی افسوس کا اظہار نہیں کیا بلکہ آپ کو شدید قلق ہوا اور آپ نے اس شخص کو اپنے سامنے پیش ہونے کی اجازت نہ دی اور فرمایا۔
پھر آپ نےحضرت زبیر کی تلوار لےکر کہا کہ اس تلوار نےکتنی ہی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدافعت کی تھی ! اس کے بالمقابل حضرت معاویہ کے سامنے جب وہ شخص حضرت عمار کا سرلے کر پہنچے، جن میں سے ہر ایک قاتل عمار ہونے کا مدعی تھا، تو جتنی کتابوں میں یہ واقعہ مذکور ہے، ان میں کسی ایک مقام پر بھی یہ بات نظر سے نہیں گزری کہ امیر معاویہ نے قاتلوں کو تنبیہ کی ہو یا اظہار تاسف کیا ہو۔ اب عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ عدم ذکر ہی تو ہے ، ذکر عدم تو نہیں۔“حالانکہ فعل تنبیہ و افسوس اگر معدوم ہونے کے بجائے موجود ہوتا تو مذکور بھی ہوتا ، اس کے غیر مذکور ہونے کی کوئی معقول وجہ ہی نہیں تھی۔ مسند احمد کی مرویات اور دوسری تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ ان دونوں قاتلوں کو جھگڑتے دیکھ کر حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے فرمایا تھا کہ کاش تم دونوں میں سے ہر ایک یہ پسند کرتا کہ قتل عمار ما فعل قبیح اور اس کا دعوئی وہ نہ کرے بلکہ اس کا دوسرا ساتھی کرے،کیونکہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے عمار سے فرمایا:
امیر معاویہ نے یہ سن کر حضرت ابن عمرو سے کہا کہ پھر تم ہمارے ساتھ کیوں آئے ۔ اس پر انہوں نے وہ جواب دیا جو اوپر بیان ہو چکا_١ بعض روایات میں حضرت معاویہ کا یہ قول بھی بیان ہوا ہےکہ ہم نےعمار کوقتل نہیں کیا ،بلکہ علی نے کیا ہے جو اسےساتھ لائےاب فی الواقع یہ چیز بڑی عجیب و غریب ہوگی کہ یہ ساری باتیں تو روایات میں منقول ہونےسے نہ رہیں، مگر فقط امیر معاویہؓ کی تنبیہ ونکیر اور اظہار افسوس ہی معدوم الذکر رہ گیا جس کی فی الواقع سخت ضرورت تھی، کیونکہ سارےمورخین و محدثین یہ جانتےتھےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلین کو باغی گروہ قرار دیا تھا۔ اگر حضرت معاویہ نے اظہار رنج و افسوس کیا ہوتا تو اس کا ذکر ضرور کیا جاتا۔ روایات کا مضمون اور مجموعی انداز تو بتا رہا ہےکہ سر کاٹنےوالوں کو تنبیہ کرنےکےبجائے امیر معاویہ الٹی حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص کو تنبیہ فرما رہےہیں جو قاتلین عمار کی مذمت کر رہےتھے پھر ایک طرف حضرت ابن عمرو، امیر معاویہ کے سامنے ارشاد نبوی پیش کر رہے ہیں اور دوسری طرف امیر معاویہ فرما رہے ہیں کہ اے عمرو، اپنے مجنون بیٹے سے ہمارا پیچھا کیوں نہیں چھڑواتے۔ عثمانی صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ امیر معاویہ کے اس قول پر بھی تو کچھ ارشاد فرماتےیہ قول تو مذکور ہے،معدوم نہیں اور حدیث بھی صحیح الاسناد ہے، جیسا کہ وہ خود تسلیم کر چکے ہیں۔ اس کی سند میں کوئی رادی رافضی یا کذاب نہیں ہے۔
عمرو بن الحمق کا سرکاٹ کر گشت کرانے کا جو واقعہ مولانا مودودی نےلکھا ہے، اس کا عثمانی صاحب نے انکار کیا ہےاور لکھا ہےکہ ابن جریر نےجو روایت درج کی ہےاس کی رو سے عمرو بن العمق کو موصل کے گورنر نے گرفتار کر لیا تھا اور امیر معاویہ نے اسےلکھا تھا کہ ان پر نیزے کےنووار کرو جسطرح انہوں نے حضرت عثمان پر کیےتھے۔ عثمانی صاحب کا دعویٰ یہ ہے کہ البدایہ کے سوا کسی کتاب میں سر کاٹنےیا حضرت معاویہ کے پاس لے جانے کا ذکر نہیں۔عثمانی صاحب کےنزدیک ابن جریر کی روایت بہت پر لطف ہےکیونکہ اسکا راوی ابو مخنف ہےاورشیعہ ہونے کےباوجود وہ حضرت معاویہ پر سرگشت کرانے کا الزام عائد نہیں کرتا۔ مگر مولانا عثمانی صاحب کا دعویٰ صحیح نہیں ہے اور نہ اس سےمولانا مودودی کا اعتراض رفع ہوتا ہےمولانا مودودی کا اصل اعتراض یہ ہےکہ اس دور میں لوگوں کےسرکاٹ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کا طریقہ مسلمانوں کےاندر شرہ بہرا جو جاہلیت میں رائج تھا اور جسے اسلام نے مٹادیا تھا۔ اب عمرو بن الحمق کا سر قطع ہونے اور امیر معاویہ کے پاس بھیجے جانےکا ذکر صرف البدایہ ہی میں نہیں، جیسا کہ عثمانی صاحب کا خیال ہے،بلکہ یہ واقعہ تہذیب التہذیب میں بھی مذکور ہے جس کا حوالہ مولانا مودودی نےدیا ہے۔ ابن حجر یہاں جلد ۱۸ صفحہ ۳۴ پر ابن حبان کےحوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت علی کے قتل کے بعد عمرو بن الحمق موصل پہنچا اور ایک غار میں چھپ گیا جہاں ایک سانپ نے اسے ڈس لیا۔ پھر لکھتے ہیں:
١- مسند احمد ، مرویات عبداللہ بن عمر و ، جلد اا ، حدیث ۱۹۲۹ ) مکتبہ دار المعارف مصر) میں الفاظ ہیں : فقال معاوية ألا تغني عنا مجنونک یا عَمرو،فما بالك معنا.قال ان ابى شکانی الی رسول الله صلى الله عليه وسلّم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلّم اطع اباک مادام حاولا ،تعصه، فانا معكم ولستُ اقاتل " ضرت معاویہ نے حضرت عمرو بن عاص سے کہا کہ اپنے اس دیوانے لڑکے سے ہمارا پیچھا کیوں نہیں چھڑاتے ۔ پھر عبد اللہ بن عمرو سے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر تم ہمارے ساتھ کیوں ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے والد نے ایک مرتبہ میری شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھی ، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اپنے باپ کی اطاعت کرو جب تک وہ زندہ رہیں،اور ان کی نافرمانی نہ کرو۔اس وجہ سے میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں،مگر میں لڑوں گا نہیں ۔ تطہیر الجنان ( طبع جدید،مکتبه القاهره صفحہ۳۳) میں ابن حجر نےاور امام نسائی نے ختہ الک علی کے اواخر میں یہی واقعہ نقل کیا ہے۔ مگر امیر معاویہ نے جو الفاظ حضرت عمرو سےکہے وہ یوں منقول ہیں:
رحضت من قولک ( تم اپنی بات سے ہٹ گئے )۔حافظ نورالدین اہیمی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد میں یہ واقعہ بیان کرتےہوئے امیر معاویہ کے یہ الفاظ نقل کرتے ہیں لاتزال داحضًا فی بولک. ( تم اپنے پیشاب میں لڑھک گئے )۔
اب فرض کیا کہ امیر معاویہ نے اسے گشت نہ کرایا ہو، لیکن اتنی بات تو البدایه اور تهذیب التهذیب دونوں میں منقول ہے کہ یہ سر موصل سے بصره و کوفه اور وہاں سے دمشق امیر معاویہ تک پہنچا اور جو سفر اس نے طے کیا تھاوہ ان سے بھی مخفی نہ رہا ہو گا۔ اس کے بعد ابن حجر آخر میں لکھتےہیں:
"اور ابن جریر نے ابو مخنف سے روایت کیا ہے کہ عمرو بن احمق حجر بن عدی کے ساتھیوں میں سے تھے، مطلب یہ ہے کہ حجر کی رفاقت ہی کے باعث اس کے قتل کا ارادہ کیا گیا اور مرنے کے بعد اس کا سر لے جایا گیا۔“
بہر کیف موت کا باعث خواہ قصاص ہو یا سانپ کا کاٹا جانا ہو، لاش کا مثلہ اسلام میں جائز نہیں۔ صحابہ کرام کفار کے ہاتھوں شہید ہوئے،ان کا مثلہ کیا گیا، کلیجے چبائے گئے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔نہ کغار کی لاشوں کو رسوا کر نے سے ہمیشہ منع فرمایا۔
مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کے طرزفکر و استدلال کی یہ دورنگی بھی میرےلیےتعجب خیز ہےکہ ایک طرف حضرت امیر معاویہؓ نےبنی و محاربه کی جو روش خلیفہ راشد حضرت علی کےبالمقابل اختیار کی اسےتو مشاجرت، اختلاف یا اجتہاد کا عنوان دے کر پوری صفائی اور برات پیش کی جارہی ہےاور دوسری طرف حضرت حجر بن عدی نے جو رویہ امیر معاویہ کےمقابلےمیں اختیار کیا اسےپوری شد و مد کےساتھ بغاوت اور سزاوار قتل ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ( یہ بحث آگے آ رہی ہے)۔ آخر ایک ہی نوعیت کے افعال کو دو مختلف پیمانوں سے ناپنے کے حق میں دلیل جواز کیا ہے؟اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل سنت کے مسلک میں کسی صحابی پر لعن طعن بہت بڑا گناہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہےکہ صحابی کےکسی قول و فعل کے متعلق یہ کہنا بھی گناہ ہےکہ وہ مطابق کتاب و سنت نہیں ہےامیر معاویہ کےہر فعل کی تصویب جسطرح مولانا عثمانی صاحب کر رہے ہیں،علمائے سنت نے اس کا اہتمام کبھی نہیں کیا۔ شاہ عبدالعزیز محدث کے اقوال میں پہلے نقل کر چکا۔ اب آخر میں مولانا رشید احمد گنگوں کے کتابچہ ہدایت الشیعہ صفحہ ۳۰ کے ایک اقتباس پر اس بحث کو ختم کیا جارہا ہے۔ شیعہ حضرات کے ایک سوال کے جواب میں وہ فرماتے ہیں:
"معاویہؓ کا محاربہ حضرت امیر کے ساتھ جو ہوا تو اہلِ سنت اس کو کب بھلا اور جائز کہتےہیں۔ ذرا کوئی کتاب اہل سنت کی دیکھی ہوتی۔ اہل سنت ان کو اس فعل میں خاطی کہتے ہیں۔ مگر معاویہ اس خطا کے سبب ایمان سےنہیں نکل گئےجیسا تمہارا اور تمہارے اسلاف کا زعم ہے،کیونکہ حق تعالی خود قرآن شریف میں فرماتا ہے: وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا.... تو دیکھو کہ حق تعالی با وصف مقاتلہ باہمی ان کو مومنین کہہ کر تعبیر فرماتا ہےاور سوا اس کےصدہا آیات ہیں جن سےیہ ثابت ہوتا ہےکرن و گناہ کبیرہ سےمسلمان کافرنہیں ہوتا۔“
زیاد بن ابیه کے متعلق جو واقعہ ارشاداں بیان کیا گیا ہےکہ اس نےمحض چند کنکریاں پھینک دینےپر متعدد افراد کو مسجد میں محصور کر کےاس کےہاتھ کا۔اسکےبارے میں عثمانی صاحب نےلکھا ہےکہ یہ زیاد کا ذاتی فعل تھا جس سےامیر معاویہ کا با خبر ہونا ضروری نہیں۔میں نےاسکےجواب میں تحریر کیا تھاکہ یہ ایک نہایت سنگدلانہ اورشرعا ممنوع جرم ہےجو حضرت معاویہ سےمخفی نہیں رہ سکتا تھا۔زیاد ایک ایساسفاک اور خونخوار گورنر تھا جو آئے دن بے گناہ لوگوں کو تہہ تیغ کرتا رہتا تھا اور یہ امر بعید از امکان ہے کہ ایسے مظالم و جرائم کا علم خلیفہ وقت کو نہ ہو سکا ہو یا ہوا ہو اور اس پر معمولی سرزنش کافی ہو۔میں نےاس بات پر بھی تنبیہ کی تھی کہ عثمانی صاحب نےکنکر چھینکنے کوسنگباری بنا کر زیاد کے جرم کو ہلکا کرنے اور مظلومین کے فعل کو بھیا نک بنا کردکھانےکی ناروا کوشش کی ہےمگر عثمانی صاحب نےمیری کسی بات کا کوئی اثر قبول نہیں کیا اور اپنی روش پر اصرار کرتے ہوئے پھر فرماتےہیں کہ ان لوگوں نے خطبہ کےدوران ”سنگباری کی تھی۔ اس کے بعد وہی راویوں کی بحث لے بیٹھے ہیں۔ لکھتے ہیں:
"علی بن عاصم کی روایات ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک قابل استدلال نہیں ہیں۔ اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ وہ روایات میں بکثرت غلطیاں کرتے ہیں اور اس کا اعتراف نہیں کرتے ... یزید بن ہارون فرماتے ہیں:
اب دیکھیے کہ حقیقت حال کی صحیح تصویر کیا ہے؟ حافظ ابن حجر نے تقریب التهذیب اور تهذیب التهذیب دونوں میں تصریح فرمائی ہے کہ امام ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ تینوں نے اپنےسمن میں علی بن عاصم سے روایت لی ہے۔ تہذیب کے جس مقام کا حوالہ محمد تقی صاحب نے دیا ہے،و ہیں یہ صراحت موجود ہے۔ وہاں ابن حجر مزید فرماتے ہیں کہ علی بن عاصم کے شاگردوں میں امام احمد بن حنبل علی المدینی ، ابن سعد، ذہلی جیسے ائمہ حدیث شامل ہیں ۔ ابن ہارون کا قول نقل کرنے میں عثمانی صاحب کی دیانت قابل ملاحظہ ہے کہ انہوں نے صرف اتنی بات تو نقل کر دی ہے کہ ہمیں اس راوی کیے جھوٹ کی اطلاعات ملتی رہی ہیں لیکن اس کے متصل آگے ابن حجر فرماتے ہیں:
اس آخری ٹکڑے کو عثمانی صاحب چھوڑ گئے کیونکہ انہیں بہر حال ہماری تردید مقصود تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس سے پہلے آغاز بحث ہی میں ابن حجر نے محدث یعقوب بن شیبہ کا قول درج کیا ہے کہ
اس کے بعد محدث وکیع کا قول دو مرتبہ منقول ہے کہ
امام ذہلی کا قول بھی یہیں موجود ہے کہ میں نے امام احمد سے علی بن عاصم کے بارے میں گفتگو اور روایت میں ان کی غلطی کا بھی ذکر کیا تو امام احمد نے فرمایا کہ غلطیاں تو حماد بن سلمه سےبھی بہت سی روایات میں ہوئی ہیں مگر ان سےروایت کرنےمیں حرج نہیں۔صالح بن محمد فرماتےہیں کہ علی جھوٹ نہیں بولتے لیکن سوء حفظ کی وجہ سےمغالطےمیں پڑ کر الفاظ حدیث میں الٹ پھیر کر جاتےہیں لیکن ان کی ساری احادیث ٹھیک اور کچی ہیں ۔ (سائر حدیث صحیح مستقیم).
علی بن عاصم کے متعلق یہ جو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتے ،اس پر حافظ ابن حجر محدث العجلی کا قول نقل کرتے ہیں:
"علی حدیث میں ثقہ اور معروف و مشہور تھے۔ لوگ چند احادیث کے معاملے میں ان پر ظلم کرتے ہیں۔ ان سے ان احادیث کے روایت نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر انہوں نے ایسا نہ کیا۔"
خطیب بغدادی نے تصریح کی ہے کہ وہ احادیث صرف چار ہیں جو کسی دوسرے سے مروی نہیں۔
تہذیب کے علاوہ عثمانی صاحب نے دوسرا حوالہ کتاب الجرح و التعدیل، ابن ابی حاتم، مجلد ثالث ( قسم اول) کا دیا ہے۔ اس میں امام ابن حنبل کا قول موجود ہے کہ علی بن عاصم بھی دوسروں کے مانند انسان ہیں اور ان سے غلطی ہو جاتی ہے۔ مگر کیا حرج ہے، ان سے حدیث لکھی جائے اور جہاں غلطی ہوا سے چھوڑ دیا جائے۔
اب میں چاہتا ہوں کہ امام ذہبی کی کتاب میزان الاعتدال سے چند حوالے درج کر دوں۔انہوں نے بھی یہ صراحت فرمائی ہے کہ ترمذی، ابن ماجہ، اور ابوداؤد نے اس راوی سے حدیث اخذ کی ہے۔ پھر فرماتے ہیں:
اں کی مجلس میں تمہیں ہزار طالب علم حاضر رہتے تھے۔ پھر امام ذہبی نے لکھا ہے کہ ابن عدی علی بن عاصم سے دو روایات نقل کر کے کہتے ہیں کہ یہ دونوں باطل ہیں۔ اس پر امام ذہبی فرماتے ہیں حاشا و کلا ، علی بن عاصم رحمہ اللہ ان روایات کے راوی نہیں ہیں۔ میر اقطعی فیصلہ ہے کہ انہوں نے یہ روایات بیان نہیں کیں۔ ابن عدی پر تعجب ہے کہ ان پر یہ بات کیسے مخفی رہ گئی کہ ان روایات کو ایک جھوٹے راوی (عبد القدوس) نے گھڑ کر علی بن عاصم کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ آخر میں امام ذہبی فرماتے ہیں کہ ابن عاصم ضعف کے باوجود
تھے اور اپنے عہد میں بڑی صولت اور دبدبه رکھتے تھے۔
یہ کچھ تفصیل جو میں نے علی بن عاصم کے متعلق پر کتب رجال سے نقل کی ہے کیا اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک متروک ونا قابل استدلال“ ہیں اور ان کےجھوٹ کی اطلاعات مسلسل وصول ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ محمد تقی صاحب باور کرانا چاہتےہیں؟ بلاشبہ اس راوی پر جرح بھی کی گئی ہے جسے انہوں نے نقل کر دیا ہے۔ لیکن جن لوگوں کے تعریفی خطوط کا تانتا عثمانی صاحب کے ہاں بندھا رہتا ہے، ان میں سےجولوگ عربی جانتے ہیں اور کتب مذکورہ تک دسترس رکھتے ہیں، انہیں خود یہ کتابیں کھول کر دیکھنا چاہیے کہ جن راویوں کو مجروح قرار دیا جا رہا ہے، ان کی توثیق و تعدیل میں کتنے اقوال موجود ہیں۔ رجال حدیث میں کتنے راوی ایسے ہیں جو ہر طرح کی جرح سے محفوظ ہیں؟ مثال کے طور پر قاضی شریک بن عبداللہ الکوفی کو فن رجال کے اکثر ماہرین نے کثیر الغلط اور ان کی احادیث کو غیر محفوظ قرار دیا ہے لیکن ان کی روایات کتب صحاح جتی کہ صحیح بخاری میں موجود ہیں۔ میزان الاعتدال رجال کی کتابوں میں سے ایک بنیادی کتاب ہے۔ جس شخص نے بھی اس کتاب ، بالخصوص اس کے مقدمے کو بغور پڑھا ہے، وہ جانتا ہے کہ دراصل اس کتاب میں صرف ان راویوں کا حال بیان کرنا مقصود ہے جو ضعفاء ومجروحین ہیں لیکن صحاح ستہ کا بھی شاید ہی کوئی راوی بچا ہو جو اس کتاب میں مذکور نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سب راویوں پر کسی نہ کسی نے ضرور جرح کی ہے، اور بیشتر ایسے ہیں جن کو رجال کے ماہرین میں سے کسی نہ کسی نےضعیف کہہ دیا ہے۔ امام ذہبی صاحب میزان کی اپنی تصریح کےمطابق جن راویوں کی تجریح وتضعیف کی گئی ہے،ان میں خلق کثیر ثقہ راوی ہیں اور ان پر جرح صرف اس لیے نقل کی گئی ہے کہ اس کےجواب میں تو شیق نقل کر کے ان راویوں کا دفاع کیا جائے اور ان پر تنقید کو غیر موثر ثابت کیا جائے۔اب محمد تقی صاحب اور ہمارے دوسرے ناقدین اگر چن چن کر بعض راویوں پر جرح ہی نقل کرنے پر اکتفا کر دیں تو اس سے بڑا کتمان حق کیا ہو سکتا ہے؟
بہر کیف علی بن عاصم اگر چہ معصوم ابن معصوم تو نہیں مگر وہ یقیناً نا قابل استناد و کذاب بھی نہیں۔ روایت بیان کرنے میں اگر وہ غلطی کرتے ہیں تو اس کا اصل تعلق روایت حدیث سے ہےجہاں کبھی وہ الفاظ میں تقدیم و تاخیر کر دیتے ہوں گے۔ وہ کوئی حدیث یا تاریخی واقعہ گھڑ کر بیان نہیں کریں گے ۔ زیادہ سے زیادہ جزئی تفصیل میں کوئی کمی بیشی ان سےہو سکتی ہےمثلاً وہ ان لوگوں کی تعداد بیان کرنےمیں غلطی کر سکتےہیں جن کے ہاتھ زیاد نےکٹوائے تھے (اور فی الواقع تعداد کی روایات بھی مختلف ہیں)۔ لیکن وہ یہ پورا قصہ خود تصنیف نہیں کر سکتے کہ چند افراد نے زیاد پر روڑےپھینکے اور اس نے مسجد کے دروازے بند کر کے جس شخص کو مجرم سمجھا، اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ میں کہتا ہوں کہ مان لیا علی بن عاصم یا علی بن محمد مدائنی ( جنہیں عثمانی صاحب نےالبلاغ اور اپنی کتاب میں بار بار محمد بن علی لکھا ہےیہ سب راوی جھوٹےاور مجروح ہیں، مگر زیاد کے ظلم و جور کو جن دوسرےمؤرخین ومحدثین نے ایک ثابت شدہ حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہے کیا وہ سب بھی دروغ گو اور کذاب ہیں؟ کیا زیاد کی عصمت ان سب سے عزیز تر ہے؟ اس کے جواب میں ہم سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ امیر معاویہ کا گورنر تھا، اس لیے اسے کچھ نہ کہو۔ مگر جن لوگوں نے زیاد کے مظالم کا کچا چٹھا بیان کی ہے، کیا انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ امیر معاویہ کا گورنر تھا اور ان کی گورنری ہی کے دوران میں اس نے یہ سارے کام کیے؟ بہت سے مؤرخین نے یہ لکھا ہے کہ اس شخص نے بصرہ کا گورنر بنتے ہی خطبہ جمعہ بغیر ثناء ودرود کے پڑھا جسے خطبہ براء (دُم کٹا خطبہ ) کا نام دیا گیا۔ اس خطبے میں لوگوں کی جان، مال اور آبرو پر دست درازی کی دھمکیاں دیں اور پھر انہیں عملی جامہ پہنایا۔
شاہ عبدالعزیز صاحب کا قول میں پہلے استلحاق کی بحث میں نقل کر چکا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں:
"اس زیاد نطفہ نا تحقیق کی شرارت دیکھئے کہ معاویہ کی رفاقت میں پہلا فعل جو اس سے سرزد ہوا،حضرت امیر کی اولاد کی عداوت تھی۔ اس کے بعد تحفه اثناعشریه (مترجم ص ۴۸۳ تا ص ۴۸۶) میں اس کی ظالمانہ حرکات کی داستاں بیان کر کے آخر میں فرماتےہیں:حاصل کلام یه کہ زیاد اور اس کی اولا د نا پاک خصوصاً عبید اللہ کی شرارت اور بدذاتی جو حضرت امام حسن کا قاتل ہے، تمام مسلمانوں کےحق میں عموماً اور خاندان حضرت امیر کی شان میں خصوصاً اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ زبانِ قلم بیان سے عاجز ہے اور تھکی ہوئی ۔“
امام نسائی ، اپنے سنن، کتاب الصلوۃ میں ایک باب کا عنوان تجویز فرماتے ہیں:
اس بات کے تحت روایت کرتے ہیں کہ زیاد نے نماز پڑھانے میں تاخیر کر دی۔ اس پر لوگوں میں زیاد کی حرکت پرچہ میگوئیاں ہوئیں اور وہاں یہ حدیث بیان کی گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا ہے کہ ایسےحالات میں نماز اپنے وقت پر پڑھ لینی چاہیے۔پھر ان حکمرانوں کے ساتھ مل کر دوبارہ بھی نماز ادا کر لینی چاہیےاور اس سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ امام ابوالحسن السندی نے اس مقام کی شرح کرتے ہوئے انکار نہ کرنے کی توجیہ خوفًا من الفتنہ بیان فرمائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم کہو گے کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں، اس لیے اب نہیں پڑھوں گا، تو بجائے اس کے کہ ظالم حکام اپنی غلطی کا احساس و اعتراف کریں، الٹا تمہیں انتشار و بغاوت کا مجرم قرار دیں گے۔ محدث ابن عساکر نےاپنی تاریخ دمشق میں زیاد کےحالات میں لکھا ہےکہ زیاد کی ہوائےنفس کا جو مسلمان بھی مخالف ہوتا تھا وہ اسےقتل کر دیتا تھا اور اس معاملےمیں وہ حجاج سےبھی بڑھ کر قاتل تھا۔اس نےحضرت ابو برزہ اسلمی صحابی کو بُھوسی (نخالہ) کہہ کر خطاب کیا تھا۔ امیر معاویہ نے زیاد کو حجاز کا بھی گورنر بنانا چاہا تو حضرت عبد اللہ بن عمر نے اس کے لیے بددعا کی اور ایک پھوڑے نے اس کی جان لے لی۔ اس پر حضرت ابن عمرؓ نے کہا اے سمیہ کے بیٹے ، نہ دنیا تجھے ملی ، نہ آخرت۔“
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ اگر زیاد کےرویے میں کوئی چیز قابل اعتراض نہ تھی اور اس کےظلم و ستم کے سارے تاریخی واقعات محض افسانےہیں،تو پھر شاہ عبدالعزیز صاحب، ابن عساکر،امام نسائی اور دوسرے علماء ومحدثین آخر کس بنا پر اس کا شمار ائمہ جور میں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی شرارتوں کے بیان سے قلم عاجز و درمانده ہے؟ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ ان حضرات نے بغیر کسی ثبوت و بنیاد کے زیاد کو مجرم و سہم گردانا ہے۔
بسر بن ابی ارطاۃ کےمظالم کےمتعلق جو کچھ مولانا مودودی یا میں نے لکھا ہے،اس پر محمد تقی صاحب لکھتے ہیں کہ یہ حضرت معاویہ کےعہد خلافت کا نہیں،بلکہ مشاجرت کےزمانےکا قصہ ہےجبکه حضرت علیؓ اورحضرت معاویہ کے لشکر باہم بر سر پیکار تھےیہ عجیب وغریب منطق ہے جس کا مختصر جواب میں پہلے دے چکا ہوں۔ امیر معاویہؓ جب خلیفہ نہ تھےتو انہوں نےخلیفہ راشد کےمقابلے میں جو کچھ کیا اور جسطرح اپنے اعوان و انصار کےذریعے سےان علاقوں پر جو حضرت علی کےزیر خلافت تھےپیہم یلغار کی مہم جاری رکھی،ان ساری کارروائیوں کوآخر”مشاجرت“ کےلفظ میں لپیٹ دینےسےان میں کون سا حسن و جواز پیدا ہو جاتا ہےحقیقت یہ ہےاس زمانے میں تو مقاتلہ ومحاربہ کی یہ روشن جو امیر معاویہ کی جانب سےعمل میں آئی،یہ اور بھی زیادہ غیرمستحسن وبےجواز قرار پاتی ہے۔حضرت علیؓ کے یمن میں گورنر عبید اللہ بن عباس کےدو چھوٹےبچوں کے سنگدلانہ قتل کا واقعہ تقریباً تمام مورخین نےبیان کیا ہے۔عجیب بات ہےکہ محمد تقی صاحب ابن کثیر کی طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ انہیں اس قصے کی صحت پر اعتراض ہے۔ حالانکہ ان بچوں (عبد الرحمن اور قسم ) کے قتل کا پورا واقعہ ابن کثیر نے الگ یوں بیان کیا ہے کہ بسر جب یمن پہنچا تو وہاں عبید اللہ بن عباس حضرت علیؓ کا گورنر تھا جو خائف ہو کر بھاگ نکلا اور کوفے حضرت علی کےپاس پہنچ گیا اور اپنی جگہ عبداللہ الحاوی کو جانشین بنا گیا۔ بسر نے یمن میں داخل ہو کر اس قائم مقام گورنر اور اس کے بیٹے کو قتل کر دیا اور پھر عبید اللہ بن عباس کے دو چھوٹے معصوم بچوں کو بھی قتل کر دیا۔اس کے بعد ابن کثیر لکھتے ہیں:
"اور کہا جاتا ہے کہ بسر جب یمن جارہا تھا تو اس سفر کے دوران میں بھی اس نے حضرت علی کے ساتھیوں میں سے خلق کثیر کو قتل کیا۔ یہ خبر اصحاب مغازی وسیر کے نزدیک مشہور ہے اور اس کی صحت میرے نزدیک محل نظر ہے۔“
عبارت سےیہ بات واضح ہے کہ ابن کثیر کو جو بات محل نظر معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہےکہ یمن میں داخلےسے پہلے راستےہی میں بسر حضرت علی کےہمنواؤں کو قتل کرتے چلے گئے ہیں۔لیکن ابن کثیر جب خود کہ رہے ہیں کہ اہل سیر و مغازی کے ہاں یہ بات بھی مسلم ہے اور ساری تاریخیں یہ بیان کرتی ہیں کہ جس شخص پر بھی حضرت علیؓ کا ساتھ دینے اور حامی ہونے کا شبہ ہوتا تھا سر اسےبے دریغ تہ تیغ کر دیتا تھا، تو محض ابن کثیر کے اظہار شک سے ان سارے واقعات کی صحت کیسےمشکوک ہو سکتی ہے؟ یہ واقعات البدایہ کی جلد میں مذکور نہیں جیسا کہ عثمانی صاحب کی کتاب کے ص ۱۸۹ پر درج ہے، بلکہ یہ تفصیل البدایہ کی جلد ے صفحہ ۳۲ ۳۲۳ پر مذکور ہے۔ جو شخص چاہے خود پڑھ کر دیکھ سکتا ہے۔
عثمانی صاحب نے ابن خلدون کے حوالے سے یہ بھی لکھا ہے کہ جب امیر معاویہ کو بُسر کی زیادتیوں کا علم ہوا تو آپ نے اسے معزول کر دیا۔ یہ ایک دلچسپ تضاد ہے کہ ایک طرف تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بسر کا دامن ان زیادتیوں سےپاک ہے جو مورخ بیان کرتےہیں اور دوسری طرف یه بنایا جاتا ہےکہ انہی زیادتیوں کی وجہ سےاسےمعزول کر دیا گیا۔ حقیقت یہ ہےکہ ان مظالم کی تلافی کی صحیح صورت تو یہ تھی کہ ظالم کو سزادی جاتی یا کم از کم اس کے سپر د آئندہ کوئی ایسا ذمہ داری کا کام نہ کیا جاتا۔ لیکن ایک شخص کو ایک جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ تعینات کرنے کا نام معزولی نہیں ہے۔جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں نہ صرف حضرت علی کےعہد خلافت بلکہ حضرتن حسن سےمصالحت اور امیر معاویہ کی خلافت کےوقت بھی اہم عہدے بسر کے سپرد تھے۔بصرے میں، اس نے خطبوں میں حضرت علی پر سب و شتم کیا اور تقریباً آدھے تک وہ امیر معاویہ کی سلطنت کا ایک ستون بنا رہا۔
یہاں پھر محمد تقی صاحب لکھتے ہیں کہ یمن میں بسر کے مظالم کا راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے جس کے بارے میں کتاب الجرح والتعدیل میں ابوحاتم رازی امام احمد کےحوالےسےلکھتےہیں کہ میرےنزدیک موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کرنا حلال نہیں۔ اب جس مقام سے یہ قول نقل کیا گیا ہے،و ہیں یہ بھی تصریح ہے کہ اسی راوی سے امام سفیان ثوری، شعبہ اور وکیچ نے روایت کی ہے اور یہ تینوں بلند پایہ محدث ہیں۔ پھر امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں اور ابن حجر نے تقریب اور تہذیب میں تصریح کی ہے کہ اس راوی سے امام ترمذی و ابن ماجہ نے حدیث اخذ کی ہےتہذیب میں سفیان ثوری وغیرہ کے علاوہ ابن مبارک کا نام بھی ان محدثین میں درج ہے جنہوں نے اس راوی سےروایت کی ہےاس لیےعلی الاطلاق یہ بات صحیح نہیں ہے کہ اس راوی سے روایت کسی محدث کےنزدیک حلال نہیں، ورنہ یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ سب مذکوره بالا محدثین جنہوں نےاس راوی سےحدیث لی ہے انہوں نےارتکاب حرام کیا ہےامام احمد کی رائےبلاشبہ اس راوی کےمتلعق سخت تھی لیکن اس کی تفصیل تهذیب التهذیب میں موجود ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں:
"جہاں تک موسیٰ بن عبیدہ کا تعلق ہے اس میں کو ئی خرابی نہیں لیکن اس نے بعض منکر احادیث بیان کی ہیں اور جب حلال و حرام کا معاملہ آتا ہے تو ہم محدثین کے ایسے گروہ سے رجوع کرتے ہیں اور انہوں نے مٹھیاں بھینچ کر دکھا ئیں۔“
اس سے معلوم ہوا کہ امام احمد کو اس راوی سے صرف حدیث اور وہ بھی احکامی احادیث لینےمیں تامل ہے کیونکہ اس کے لیے نہایت قوی حافظے کی ضرورت ہے۔ امام احمد کے قول کا تعلق تاریخی روایات سے نہیں جو یہاں زیر بحث ہیں۔ باقی رہے دوسرے ائمہ حدیث تو انہوں نے اس راوی سے حدیث بھی لی ہے۔
حضرت عمار کا سر جنگ صفین میں جس طرح کاٹ کر حضرت معاویہ کے سامنے لایا گیا تھا،اسے محمد تقی صاحب نےبالکل اسی قسم کا ایک واقعہ ثابت کرنےکی کوشش کی تھی جسطرح حضرت علی کےسامنے حضرت زبیر کا سر لایا گیا تھا۔ میں نے اس کے جواب میں دونوں واقعات کےمتعدد پہلوؤں میں بین فرق کی نشان دہی کی تھی اور ثابت کیا تھا کہ حضرت علی نے تو قاتل زبیر کو جہنم کی وعید سنائی تھی مگر حضرت معاویہ نے قاتل عمار کوکوئی سرزنش کرنے کے بجائے الٹا حضرت عبد اللہ بن عمر و کوٹو کا تھا جو قاتلین عمار کو تنبیہ کر رہے تھےمولانا عثمانی صاحب کی جرات کا یہ عالم ہےکہ وہ پھر یہ کہہ رہےہیں کہ سرکاٹ کر ایک جگہ سےدوسری جگہ لے جانے کی شرعی حیثیت یہ ہےکہ یہ ایک مجتہد فیہ مسئلہ ہےاس کے ثبوت میں وہ المبسوط للسرخسی کی ایک عبارت کے فقط اتنے ٹکڑے پر انحصار کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ابوجهل کا سرکاٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تھے تو آپ نے اس پر اعتراض نہیں فرمایا ، اس لیے حنفیہ میں سے بعض متاخرین نےسر کاٹنے کو جائز قرار دیا ہے۔
قتل ابی جہل کے متعلق صحیح ترین روایات جو بخاری، کتاب المغازی اور دوسری صحاح میں دارد ہیں، ان سے یہ معلوم ہوتا ہے حضرت معاذ و معوذ دو بھائیوں نے اسےقتل کیا تھا اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے جان کنی کے عالم میں ابو جہل کی ڈاڑھی پکڑ کر کہا تھا کہ کیا تو ہی ابوجہل ہے؟“بعض روایات میں مزید اتنا ذکر ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ نے ابو جہل کا سر بھی جدا کر دیا مگر سر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لائے جانے کا ذکر بھی روایات میں ملتا ہےتا ہم اگر یہ بیج ہو تو ایک کافر اور بدترین غذ و اسلام کےسرکا آنحضور کی خدمت میں پیش کیا جانا اور ایک ایسے سابق الاسلام صحابی کا سر کاٹنا جس نے اور جس کے والدین نے اسی دشمنِ اسلام کےہاتھوں انتہائی دردناک اذیتیں برداشت کیں اور جنہیں آنحضور نےبشارت دی تھی کہ وہ ایک باغی گروہ کے ہاتھوں شہید ہوں گے.ایسےصحابی کا سرکاٹ کر اسی گروہ کےسپہ سالار کےسامنےایک ٹرافی کے طور پر پیش کرنا .... کیا ان دونوں واقعات کو ایک دوسرے پر قیاس کیا جا سکتا ہے اور ایک سے دوسرے کا جواز پیدا کیا جا سکتا ہے؟پھر امام سرخسی خود فرمارہےہیں کہ میں اس بات کو کر وہ سمجھتا ہوں کہ باغیوں کےسر اتار کر انہیں گشت کرایا جائےکیونکہ یہ مثلہ ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیکھنےکتےکا بھی مسئلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یہ بھی یا در ہے کہ متقدمین فقہاء جب مکروہ کالفظ مطلقاً استعمال کرتےہیں تو اس سے مراد حرمت یا کراہت تحریمی ہوتی ہے اور وہ قولی حدیث کو علی حدیث پر مقدم سمجھتےہیں۔
اس کے بعد امام سرخسی فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے اپنی جنگوں میں ایسی کارروائی نہیں کی اور حضرت علی ہی اس معاملےمیں لائق اتباع ہیں۔امام سرخسی اسی مقام ( مبسوط جلد ۱۰ صفحه ۱۳۱) پر یہ بھی لکھتے ہیں کہ ایک عیسائی پادری کا سر حضرت ابو بکر کےپاس بھیجا گیا تو آپ نےاس کی مذمت کی اور فرمایا کہ یہ کفار فارس وروم کا طریقہ ہے۔ ہمارے لیے اس کے قتل کی خبر کافی تھی۔ مبسوط کی ان ساری تصریحات کو چھوڑ کر عثمانی صاحب کسی نامعلوم الاسم متاخر فقیہ کےقول کا سہارا لیتےہیں کہ یہ عمل جائز ہے اگر اس سےباغیوں کی شوکت ٹوٹتی ہو یا اہل عدل کو دلی طمانیت حاصل ہوتی ہو۔قطع نظر اس سےکہ یہ قول مرجوح و مردود ہے،میں سمجھتا ہوں کہ اسےنقل کرنےسےپہلےمولانا محمد تقی صاحب ایم، اے،ایل ایل بی نےغالباً کچھ غور وفکر سے کام نہیں لیا۔ وہ ذرا اس عبارت کو دوبارہ پڑھیں کہ اس قول کی رو سےبھی صرف اہل عدل کے لیے یہ گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر اہل بھی میں سےکسی کا سر کاٹے بغیر اہل عدل کو طمانیت قلب حاصل نہ ہو،تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔عثمانی صاحب سےشاید یہ بات مخفی نہ ہو کہ محدثین وفقہاء کی اصطلاح کے مطابق مسلمانوں کے خلیفہ برحق اور اس کے ساتھیوں کو اہل عدل اور ان سےلڑنے والوں کو اہل ینی کہا جاتا ہےاس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت عمار حضرت علی کےساتھی تھےاور جولوگ سرکاٹ کر امیر معاویہ سےتحسین و آفرین کےطالب تھے وہ باغی اور امیر معاویہ کے ساتھی تھے۔ اب کیا عثمانی صاحب یہ کہنا چاہتےہیں کہ حضرت علی اور ان کے حامی حضرت عمار اور دوسرے لوگ تو سب ”باغی“ تھے اور امیر معاویہ اور ان کےساتھی سب اہل عدل تھےجن کےدل کی تسکین اسیطرح ممکن تھی کہ حضرت علی اور ان کے طرفداروں کے سرکاٹ کاٹ کر امیر معاویہ کی خدمت میں پیش کیے جائیں، اور امیر معاویہ کی تسکین قلب فراہم کرنے کا یہ طریقہ حنفیہ کے بعض المتأخرین کےنزدیک جائز تھا! فافهم وتدبر !
جو آدمی حضرت عمار کا سر امیر معاویہ کےپاس لائے تھے،ان کےمتعلق اگرچه عثمانی صاحب نےبالآخر یہ تسلیم کر لیا ہےکہ ان لوگوں کو حضرت معاویہ کا تنبیہ کرنا روایات سےثابت نہیں ہےلیکن اس کےباوجود انکا کہنا یہ ہے کہ اس پر یہ عمارت کھڑی نہیں کی جاسکتی کہ حضرت معاویہ کےعہد میں قانون کی بالاتری کا خاتمہ ہو گیا تھا اسکےجواب میں میری گزارش ہےکہ ایک فرمانروا کےعہد میں یا اسکی قیادت میں ماتحت افراد جو کارروائی کرتے ہیں، اگر چہ وہ افراد خود بھی اپنے اعمال کے ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن خلیفہ وقائد اگر ان کی راہ میں حائل نہ ہو، تو وہ ان کےافعال کی ذمہ داری سے یکسر بے تعلق قرار نہیں دیا جاتا۔اس طرح کے واقعات پر بحث کے دوران میں فرمانروا کا نام ناگزیر طور پر بیچ میں آجاتا ہے۔ یہاں میں اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ مولانا عبدالسلام ندوی نے ایک کتاب سیرۃ عمر بن عبدالعزیز کے نام سےلکھی ہےاس کتاب کےایک باب کا عنوان ”اقامت عدل“ ہے۔ عہد بنی امیہ میں رعایا کےحقوق جس طرح غصب ہوئےانکا حال بیان کرتےہوئےاس باب میں مصنف لکھتے ہیں:
"خاندانِ نبوت کے حقوق کی پامالی کا آغاز حضرت معاویہؓ ہی کے زمانے میں ہو چکا تھا۔چنانچہ فدک جو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا خالصہ تھا، اور جس سے آپ بنو ہاشم کی اعانت کرتے تھے،اس کو انہوں نے مردان کی جاگیر میں دے دیا تھا۔“
سفن ابی داود،کتاب الخراج اور بعض دوسری کتابوں میں یہی واقعہ یوں بیان ہوا ہے کہ مروان نے فدک کو اپنی جاگیر بنالیا تھا۔ لیکن مولانا عبد السلام صاحب اسے یوں بیان کرتے ہیں کہ امیر معاویہؓ نے اسے مروان کی جاگیر میں دےدیا تھا۔حقیقت میں ان دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مروان مدینے میں امیر معاویہ کا گورنر تھا اور اس نے فدک کو ذاتی جاگیر بنانےکی جو کارروائی کی ہے، اس کا اختفاء امیر معاویہؓ سے ممکن نہ تھا۔ اس لیے یہ کہنا بھی غلط نہیں ہے کہ ایسا ان کی رضا و ایماء سےہوا۔یہاں ایک خاص بات جس کا اظہار میں ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ جس کتاب کے صفحہ ۲۰۳ سے میں نے یہ اقتباس دیا ہے وہ دارالاشاعت،مولوی مسافرخانه، کراچی نے چھاپی ہے۔ یہ دارالاشاعت جناب محمد تقی صاحب کے بھائی جناب محمد رضی صاحب کا ہے اب اس کے کتاب کے دو اور اقتباس ملاحظہ ہوں:
"خلفائے بنوامیہ نےمذہب کے متعلق سب سےبڑی بدعت جو ایجاد کی وہ یہ تھی کہ حضرت علی پر علانیہ خطبے میں لعن طعن کرتےتھےاور چونکہ لوگ اس کا سننا گوارا نہیں کرتے تھے اور خطبہ سننےسے پہلے ہی اٹھ جایا کرتے تھے، اس لیےامیر معاویہ نے نماز عیدین سے پہلے ہی خطبہ پڑھنا شروع کیا جو دوسری بدعت تھی۔ لیکن حضرت عمر بن عبد العزیز نےتمام گورنروں کےنام فرمان جاری کیا اور خطبےمیں حضرت علی کے متعلق جو نا ملائم الفاظ شامل کر دیئےگئےتھے ان کو نکلوا دیا اور ان کی جگہ قرآن مجید کی یہ آیت ( إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ .... ) داخل کر دی جو آج تک برابر پڑھی جاتی ہے۔“ (ص۱۴۰)
"یہ انقلاب حضرت عمر بن عبد العزیز کے دور خلافت میں سب سےنمایاں نظر آتا ہے کہ انہوں نے تخت حکومت پر متمکن ہوتےہی ان تمام مفاسد کی اصلاح کرنی چاہی جن کا مادہ حضرت امیر معاویہ کے زمانہ ہی سےروز بروز پختہ ہوتا جاتا تھا۔ (ص۱۸۵)
یہ کتاب جو ایک مستند ندوی عالم نے لکھی ہےاور جس محمد تقی صاحب کےاپنےبھائی نےشائع کیا ہے اس میں واضح طور پر یہ درج ہےکہ امیر معاویہ ہی کےزمانےمیں خاندان نبوت کےحقوق کی پامالی کا آغاز ہو چکا تھا، امیر معاویہ ہی نے سب سے بڑی یہ بدعت ایجاد کی کہ حضرت علی پر خطبوں میں لعن طعن کرتے تھے اور حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حکومت پر متمکن ہوتے ہی ان تمام مفاسد کی اصلاح کی جو حضرت معاویہ کے زمانہ ہی سے پختہ ہورہے تھے ۔ کیا مولانا مودودی نے یا میں نے ان باتوں سے مختلف یا سخت تر کوئی بات کہی ہے؟ پھر کیا وجہ ہےکہ محمد تقی صاحب اپنے گھر کی خبر نہیں لیتے اور مولانا مودودی کے خلاف یہ ہولناک الزام بیا کی سے عائد کر رہے ہیں کہ ان کا قلم حجاج کی تلوار کی طرح اسلام کے ستونوں کو بھی اپنا ہدف بنا لیتا ہے۔ انا مُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ.
عمرو بن الحمق کے سر کاٹنے کا جو واقعہ خلافت و ملوکیت میں بیان کیا گیا ہے،اس کی تائید میں البدایہ اور تہذیب التہذیب کا حوالہ میں نے دے دیا ہے۔ اس کے جواب میں عثمانی صاحب فقط امیر معاویہ کے اس قول پر انحصار کرتے ہیں جو طبری نے نقل کیا ہےکہ ہم عمرو بن احمق پر زیادتی کرنا نہیں چاہتے لیکن یہ ایک مجمل قول ہے اور لازماً اس کا متضمن نہیں ہے کہ جس نے حضرت معاویہؓ کا یہ قول سن لیا ہوگا،وہ سر کاٹنےسے باز رہا ہو گا۔ قطع راُس کا یہ واقعہ متعدد دوسرے محدثین و مؤرخین نے بیان کیا ہے۔مثال کے طور پر حافظ جلال الدین سیوطی اپنےکتاب الخصائص الکبری (الجزء الثانی ص ۵۰۱، دارالکتب الحديث،مطبعة المدنی با انباء صلی اللہ علیه وسلم بقتل عمرو بن احمق کےتحت یہ روایت ابن عساکر کےحوالے سے نقل کرتےہیں کہ رفاعه بن شداد انجیلی راوی ہیں کہ جب امیر معاویہ نے عمرو بن العمق کو طلب کیا تو میں اس کے ساتھ نکلا۔ وہ کہنے لگا، کہ یہ لوگ مجھے قتل کر دیں گے۔ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ جن دانس میرے خون میں شریک ہوں گے۔رفاعہ کہتے ہیں کہ ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ میں نے سواروں کو آتےہوئے دیکھا، تو میں نےالوداع کہی۔ اسی وقت ایک سانپ نکلا جس نے عمرو کو ڈس لیا۔ ادھر وہ سوار بھی آگئے اور انہوں نےاس کا سر قطع کر دیا اور یہ پہلا سر ہے جو اسلام میں ہدیہ ارسال کیا گیا۔ ڈاکٹرمحمد خلیل ہر اس جو جامع از ہر میں اصول الدین کے مدرس ہیں اور جنہوں نے اس کتاب کو تحقیق وتحشیہ کے ساتھ شائع کرایا ہے،وہ حاشیے پر ابن قتیبہ کی کتاب المعارف سے یہ عبارت نقل کرتے ہیں:
"عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ قبیلہ خزاعہ میں سے تھے۔حجتہ الوداع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےبیعت کی ، آنحضور کی صحبت اختیار کی اور حدیث روایت کی ۔ وہ حضرت عثمان پر حملہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ وہ حضرت علیؓ کے ساتھ لڑائیوں میں مددگار ہوئے اور حجر بن عدی کے بھی معاون تھے۔پھر موصل بھاگ گئے اور ایک غار میں انہیں ایک سانپ نے ڈس لیا۔موصل کےگورنر نےجب طلب میں آدمی بھیجےتو اسے مردہ پایا۔ گورنر نےاس کا سرکاٹ کر زیاد کےپاس بھیجا،زیاد نےاسے امیر معاویہ کے پاس بھیج دیا اور یہ پہلا سر ہے جو اسلام میں ایک شہر سے دوسرے شہر تک گشت کرایا گیا۔ (وهو اوّل رأس في الإسلام حمل من بلد إلى بلد)۔
بہر حال یہ ایک حقیقت ہےکہ یہ سر شہر بشہر گھمایا گیا حتی کہ بالآخر اسےامیر معاویہ تک پہنچایا گیا اور امیر معاویہ نےاس پر کوئی نکیر نہ فرمائی۔ عمرو بن احمق نےصحابی ہو نےکے باوجود بلا شبہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کیا کہ خلیفہ راشد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ظالمانہ وقاتلانہ حملہ کیا لیکن اسکا سر کاٹ کر گشت کرانا اور پھر اس سر کو مقتول و مقطوع کی بیوہ کی گود میں لا ڈالنا یہ بھی کوئی پسندیدہ فعل نہ تھا جسے اسلام نے روا رکھا ہو۔
سخت تعجب اور حیرت ہےکہ زیاد اور بسر کی جفا کاریاں بعض لوگوں کو محض اس وجہ سےنظر نہیں آتیں کہ یہ امیر معاویہ کےگورنر تھے۔ زیاد کو مورخین نےحجاز سےبھی زیادہ سفاک قرار دیا ہےجیسا کہ بیان ہو چکا حالانکہ حجاج نے لاکھوں کو قتل کیا تھا۔ امام ذہبی سیرالنبلاء میں زیاد بن ابیہ کے حالات میں لکھتے ہیں:
كان زياد افتك من الحجاج لمن يخالف هواه.
"زیاد اس شخص کے لیے حجاج سے بھی زیادہ خونخوار تھا جو اس کی ہوائے نفس کا مخالف ہوتا ۔“
(اعلام النبلاء، جلد ۳، صفحه ۳۲۶)
بسر کے متعلق اسی کتاب کے صفحہ ۲۷۴ پر امام ذہبی فرماتے ہیں:
احمد بن حنبل اور ابن معین فرماتے ہیں کہ بسر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں سنا۔ اس نے یمن میں مسلمان عورتوں کو لونڈیاں بنایا جنہیں بر سر عام فروخت کیا گیا۔“
مسلم خواتین کو لونڈی بنانے کے متعلق یہ دوسرے کے بعد تیسرا حوالہ ہے جو پیش کر دیا گیا۔اب کیا محمدتقی صاحب پھر ھل من مزید کہہ کر اور حوالوں کا مطالبہ کریں گے۔؟
حضرت حجر بن عدی کےقتل کی جوڑ و داد مولانا مودودی نے"خلافت و ملوکیت"میں بیان کی ہےوہ کتاب کےدو صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا بیشتر حصہ محمد تقی صاحب نےاپنی کتاب میں نقل کر دیا ہے۔ ” خلافت و ملوکیت" میں یہ واقعہ آزادی اظہار رائے کا خاتمہ کے زیر عنوان تحریر کیا گیا ہے۔ عثمانی صاحب نے اس واقعہ قتل پر تیں صفحوں کا ایک جوابی تبصرہ سپر قلم کیا ہےجس کا لب لباب یہ ہےکہ حضرت حجر بن عدی اور کچھ دوسرےفتنہ پرداز امت مسلمہ میں انتشار برپا کرنا چاہتےتھےامیر معاویه کےگورنروں اور پولیس سپرنٹنڈٹ کو گالیاں دیتےاور ان پر پتھر پھینکتےتھےجنگ کرتے تھے ۔ غرض یہ کہ اسلامی حکومت کے خلاف جرم بغاوت کے مرتکب تھے اور ظاہر ہے کہ بغاوت کی سزا موت ہے۔ یہ واقعہ تاریخ میں جن تفصیلات کے ساتھ مروی ہے، ان کی موجودگی میں جناب محمدتقی صاحب عثمانی کے لیے واقعہ تل کا انکار تو ممکن نہ تھا۔ مگر میری معلومات کےمطابق عثمانی صاحب غالباً پہلےشخص ہیں جنہوں نے اپنے زعم میں حضرت حجر بن عدی کو ارتکاب بغاوت کی بنا پر مباح الدم اور واجب القتل ثابت کرنے میں اپنا پورا زور لگا دیا ہے۔اس لیے اب یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ پہلے میں اسلام کا قانون بغاوت اور اس کے بنیادی اصول پیش کروں اور پھر عثمانی صاحب سے سوال کروں کہ اگر یہ اصول صحیح ہیں تو ان کی روشنی میں حضرت حجر اوران کےساتھیوں کا خون بہانا کس حد تک روا اور حق بجانب تھا ؟
اس مسئلے میں ہم سب سے پہلے کتاب اللہ سے رجوع کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں دو آیتیں ایسی ہیں جو محاربہ و بغاوت کے جرائم سے براہ راست تعلق رکھتی ہیں۔ پہلی المائده، آیت ۳۳،دوسری الحجرات، آیت ۹، پہلی آیت کا ترجمہ درج ذیل ہے:
سزا ان لوگوں کی جولڑائی کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور دوڑ دھوپ کرتے ہیں زمین میں بغرض فساد، یہ ہےکہ وہ قتل کیےجائیں،یا سولی چڑھائےجائیں یا کاٹے جائیں ان کےہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سےیا زمین سے نکال دیئے جائیں۔ یہ ان کے لیے ہوائی ہے دنیا میں اور ان کے لیے ہے آخرت میں بڑا عذاب۔“
اس آیت میں جس جرم کو "اللہ اور اس کےرسول سےمحاربہ اور فساد فی الارض" سےتعبیر کیا گیا ہے، اس جرم کی جو تفسیر مفسرین اور ائمہ مجتہدین نےکی ہے،اس سےمعلوم ہوتا ہےکہ اس سےمراد لوٹ مار قبل و غارت ، رہزنی و ڈکیتی اور اس طرح کی دوسری مفسدانہ تخریبی کارروائیاں ہیں جن کا نتیجے میں کسی مقام یا علاقے کا امن وامان تہ و بالا اور نظم ونسق درہم برہم ہو جائے۔جمہور فقہاء ومحد ثین کا مسلک یہ ہے کہ اس جرم میں قتل کی سزا صرف اس حالت میں دی جاسکتی ہےجبکہ مجرم خود قتل کا مرتکب ہوا ہو۔اس سےکمتر درجے کے جرائم میں اسےقتل یا صلیب کی سزا نہیں دی جا سکتی۔اس ایت کی جو تشریح امام ابن جریر نے کی ہے اس کا خلاصه یہ ہےکہ محاربین سےمراد ایسےچور اور ڈاکو ہیں جو مسلح ہو کر مسلمان بستیوں میں دہشت پھیلائیں اور علانیه بزور شمشیر جان و مال پر دست درازی کریں۔ پھر لکھتے ہیں کہ :
"اگر یہ مجرم قتل کے مرتکب ہوئے ہوں تو انہیں قتل کیا جائے گا اور اگر یہ قتل کے مجرم نہ ہوں،صہ ہونا ہو تو ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں گے ۔“
مزید فرماتے ہیں:
"اگر وہ محاربہ کرے اور قتل کرے تو اس کے لیے قتل کی سزا ہے اور اگر وہ محاربہ کرے اور ایسی حالت میں گرفتار ہو جائے کہ اس نے قتل نہ کیا ہو تو اس کی سزا قطع ید ہے۔“
اسی مفہوم کے متعدد اقوال نقل کیے گئے ہیں جن کا مدعا یہی ہے کہ جو مجرم قاتل نہ ہو، اسے قتل نہیں کیا جاسکتا۔ اس قول کے حق میں ابن جریر یہ حدیث بھی نقل فرماتے ہیں کہ
"ایک مسلمان کا خون بہانا صرف تین حالتوں میں حلال ہو سکتا ہے، وہ قتل کرے تو اسے قتل کیا جائے شادی کے بعد زنا کرے تو رجم کیا جائے گا اور اسلام کے بعد مرتد ہو تو قتل ہوگا۔“
پھر لکھتے ہیں کہ ارتکاب قتل کے بعد محض بدامنی اور آمد ورفت کو پر خطر بنانے پر کسی کو قتل کر دینا یہ تقدم علی اللہ و رسول ہے اور ایسی بات ہے جس کا کوئی ذی علم قائل نہیں ہے۔
اس کے بعد ابن جریر نے چند ایسے اقوال بھی نقل کیے ہیں کہ بعض کی رائے کے مطابق امام وقت کو بہ اختیار ہے کہ وہ محاربین کو آیت مذکورہ میں بیان کردہ سزاؤں میں سے جو سزا بھی چاہےدے سکتا ہے، قطع نظر اس کے کہ انہوں نے قتل نفس کا ارتکاب کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ لیکن ابن جریر نےنہایت مدلل طریق پر اس رائے کا ابطال کیا ہے اور لکھا ہے کہ صحیح تاویل یہی ہے کہ عقوبت "استحاق جرم کے مطابق ہوگی اور قتل کی سزا صرف اس محارب کو دی جائے گی جس نے محاربہ کے ہیں قتل کا جرم کیا ہو۔
تقریباً یہی بات علامہ نظام الدین النیسا پوری نے اپنی تفسیر غرائب القرآن میں رج فرمائی ہے۔ ان کی تحقیق بھی یہی ہے کہ آیت میں بیان کی ہوئی ہر سزا ہر محارب کو نہیں دی جاسکتی۔ فرماتےہیں:
"اس محارب نے جب قتل نہیں کیا اور نہ مال چھینا، تو اس نے صرف ارادہ معصیت کیا تھا،اس کا ارتکاب نہیں کیا تھا، اور اس سے اس کا قتل واجب نہیں ہوتا۔“
امام ابوبکر الجصاص نے "احکام القرآن" میں اس آیت کی جو تشریح کی ہے وہ بھی یہی ہے کہ جو شخص محاربہ میں قتل کا ارتکاب کرے قتل کی سزا اسی کو دی جاسکتی ہےان کےنزدیک بھی آیت میں بیان شدہ سزاؤں میں ایک ترتیب ملحوظ رکھی گئی ہے۔ یعنی جیسا جرم ہوگا، ویسی ہی سزا ہوگی قتل کی سزا قتل ہوگی ، سلپ مال کی سزا قطع ید اور قطع از جبل ہوگی۔الجصاص نےبھی اپنےاستدلال کےحق میں اس حدیث کو پیش کیا ہےجس میں صرف تین وجوہ کی بنا پر مسلمان کا خون حلال کیا گیا ہے۔فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین صورتوں کے ماسو اقتل مسلم کی نفی فرمادی ہے۔
جس حدیث کا حوالہ ابن جریر اور ابوبکر جصاص نے دیا ہے وہ بخاری، کتاب الدیات میں ان الفاظ کےساتھ مروی ہے: لا يحل دم امرئ مسلم يشهد ان لا اله الا الله وانى رسول الله إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس والثيب الزاني والمفارق لدينه التارك للجماعة . اس حدیث کی تشریح میں حافظ ابن حجر فرماتےہیں کہ تارک جماعت کےتحت باغی بھی آ سکتا ہےمگر اس کا قتل صرف اس صورت میں جائز ہوگا جب کہ اپنا دفاع کرتےہوئےہم اسےقتل کریں الا يحل قتله الامدافعة. آیت محاربہ کا مفہوم بھی ابن حجر کے نزدیک یہی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ محاربہ کی زیادہ سے زیادہ سزا یہ ہے کہ
"محارب اگر قتل کرے گا تو قتل کیا جائے گا اور سورہ حجرات والی آیت جو باغیوں کے بارےمیں ہے، اس میں فقط باغی سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، یہ نہیں کہ اس کے قتل کا قصد کیا جائے۔“
پھر لکھتے ہیں کہ عمل قوم لوط ولی بہائم میں قتل کی سزا جن روایات میں مذکور ہے، وہ صحیح السند نہیں ۔ اگر ہوں بھی تو یہ افعال زنا میں داخل ہیں اور اس لیے موجب قتل ہوں گے۔ جن احادیث میں جماعت مسلمین کے خلاف خروج پرقتل کی وعید ہے، ان کی تاویل بھی حافظ ابن حجر کے نزدیک وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی ، یا پھر ان کا مطلب یہ قرا یا ہے کہ مجرم کو محسوس کر کے خروج سے روک دیا جاۓ (المراد بقتله حبسه ومنعه من الخروج )۔ علامہ بدالدین میسں نے بھی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے تقریباً یہی بات بیان فرمائی ہے۔لکھتے ہیں کہ بعض حضرات نے اس حدیث میں مذکور تین اشخاص کےساتھ ایک چوتھےشخص باغی کے قتل کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ پھر فرماتےہیں:
”باغی کے معاملے میں اس بات کا جواب یہ ہے کہ اس کے خلاف صرف مدافعانہ کارروائی جائز ہے خواہ مدافعت کے دوران میں اس کا قتل واقع ہو جائے۔ لیکن اگر باغی کے مقابلے میں مدافعت قتل کے بغیر بھی ممکن ہو تو قصدا اسےقتل کرنا جائز نہیں بلکہ اس کے بالمقابل دفاع کیا جائے گا۔
قرآن مجید کی دوسری دو آیتیں جن میں جرم بغاوت کا ذکر ہے، وہ سورہ حجرات کی آیات ۹۔ ۱۰ ہیں۔ ان کا ترجمہ یہ ہے:
"اور اگر دو گروہ مومنوں میں سے آپس میں لڑ جائیں تو دونوں کے درمیان اصلاح کرو۔ پھر اگر ایک ان میں سے دوسرے پر چڑھائی کرے تو قتال کرو اس سے جو زیادتی کر رہا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف۔ پس اگر وہ باز آجائےتو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ مصالحت کرا دو اور انصاف سے کام لو۔ مومن تو بھائی بھائی ہیں، پس اپنے دونوں بھائیوں کے مابین صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو، جس سے توقع ہے کہ تم پر رحم ہو گا۔“
ان آیات میں صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ باغی فرد یا گروہ کے خلاف قتال (لڑائی ) کر کے انہیں اللہ کے حکم کی جانب لوٹنےپر مجبور کیا جائےاور پھر باہم مصالحت اور ملاپ کرا دیا جائے۔ان آیات میں خاتمہ قال کے بعد گرفتار شدہ باغی کو قتل کرنےیا کوئی دوسری سزا دینےکا سرے سےذکر ہی نہیں ہے،اس لیےان سےبغاوت کی سزائےقتل کا استنباط کسی طرح درست نہیں۔فقہاء و مفسرین نےجس طرح محاربه اور بغاوت سےمتعلق آیات کی تشریح اور ان سےاحکام کی تفریح کی ہےاس سےمعلوم ہوتا ہے کہ سورہ مائدہ کی آیات میں صرف ان مجرمین کا ذکر ہے جو عادی پیشہ ورانہ ذہنیت کےساتھ اور مجرد مادی فوائد و اغراض کےتحت لوٹ مار اور غارتگری کریں۔اس کے برعکس سورۃ حجرات میں جن باغیوں کا ذکر ہےان سےمراد وہ لوگ ہیں جن میں مادی اغراض سےزیادہ سیاسی داعیات اور اعتقادی جذبات کارفرما ہوں، خواہ ان کا عقیدہ اور سیاسی مسلک و نظر یہ بالکل فاسد ہو یا نہ ہو۔ اس طرح کے لوگ بالعموم اپنے موقف کے حق میں کسی شرعی تاویل کے بل پر اٹھتے ہیں اور ان کے ساتھ بالکل چوروں اور ڈاکوؤں کا سا معاملہ کرنا شرعا جائز نہیں ہ۔ پھر محارب کا اطلاق تو فرد واحد یا چند افراد پر بھی ہو سکتا ہے کیونکہ کسی مقام پر ماردھاڑ کے ذریعے سے چند مسلح آدمی بھی بدامنی اور دہشت پھیلا سکتے ہیں، لیکن خروج و بغاوت کے لیے بہر حال ایک معتد بہ جمعیت درکار ہے۔ خود قرآن میں طائفتان کا لفظ آیا ہے۔ امام نیشا پوری اپنی تفسیر غرائب القرآن میں اس مقام کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اعلم ان الباغية في اصطلاح الفقهاء فرقة خالفت الإمام بتأويل باطل بطلانا بحسب الظن لا القطع..... ولا بد أن يكون له شوكة وعدد بحتاج الامام في دفعهم الى كلفة ببذل مال او اعداد رجال فان كانوا افرادا يسهل ضبطهم فليسوا بأهل بغي.
"واضح رہے کہ فقہاء کی اصطلاح میں باغیوں سے مراد ایسا گروہ ہے جو امام کی مخالفت باطل تاویل کی بنا پر کرےمگر اس کا بطلان ظنی ہو قطعی نہ ہو۔ اس گروہ کے باغی قرار پانے کےلیےلازم ہےکہ اسکے پاس اتنی طاقت اور تعداد ہو کہ امام کو ان کے دفع کرنے کے لیے مال خرچ کرنے اور جمعیت فراہم کرنے کی زحمت میں مبتلا ہونا پڑے۔ اگر وہ چند افراد ہوں جن کا قابو کر لینا آ۔ ان ہو، تو ان پر اہل بغاوت کا اطلاق نہیں ہو گا ۔“
رد المحتار، باب البغاة میں باغیوں کی جامع تعریف یہ بیان کی گئی ہے:
"اہل بغاوت ہر وہ گروہ ہے جو ز بر دست طاقت کا مالک ہو، غلبه و تسلط رکھتا ہو، اجتماعی بیت کا حامل اور اہل عدل کے مقابلے میں تاویل کے بل پر قتال کرے اور اس کے افراد یہ کہیں کہ حق ہمارے ساتھ ہے اور وہ حکمرانی کے مدعی ہوں ۔“ (رد المحتار ، جلد ، جلد ۳، ۴۲۷)۔
اس طرح کے سیاسی مجرمین بلاشبہ شرعاً قابل مواخذه ہیں۔ لیکن ان لوگوں کے کچھ سیاسی،شہری اور مدنی حقوق بھی ہیں جن کو ہمارےائمہ سلف نےنہایت تفصیل سےبیان کر دیا ہےاور چھوٹتےہی مدیر ” البلاغ" کی طرح بس یہ فتویٰ نہیں داغ دیا کہ جہاں ایک مجمع نے چند نعرے لگا دیئے، کسی افسر پر روڑے پھینک دیئے یا آوازے کس دیئے،فوراہی سب جرم بغاوت کے مرتکب ہو گئےاور بغاوت کی سزا اسلام میں موت ہے! اگر عثمانی صاحب کےلیےیہ بات ناگوار خاطر نہ ہو تو میں یہ بھی واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ فقہائےکرام نےاسلامی قانون بغاوت کےجملہ قواعد وضوابط امیر معاویہ کےبجائےحضرت علیؓ کےاسوہ اور اسطرز عمل کی روشنی میں مرتب کیےہیں جو آپ نےاپنےخلاف لڑنے والوں کےمعاملےمیں اختیار کیا آوران مخالفین ومقاتلین میں امیر معاویہ بھی شامل تھے۔ بغاوت کے قانون کا خلاصہ یہ ہے کہ خروج کرنے والے جب تک محض اپنےفاسد عقائد یا حکومت اور اس کےسربراہ کےخلاف باغیانہ و معاندانہ خیالات کا اظہار کرتےرہیں،ان کو قتل یا قید نہیں کیا جا سکتا جنگ یا تادیبی کارروائی ان کے خلاف اس وقت کی جائے گی جب وہ عملاً مسلح بغاوت کر دیں یا خونریزی کی ابتداء کر بیٹھیں۔ فقہاء نےاسلحہ کی تعریف بھی کر دی ہےچنانچه امام سری،المبسوط،جلد ۹، ص ۲۱۰ پر فرماتے ہیں۔
١- صاحب ہدایہ باب البغاة میں حضرت علی کے متعلق لکھتے ہیں:
هو قدوة هذا الباب (حضرت علی اس معاملے میں ہمارے لیے قابل تقلید نمونہ ہیں)۔
سلاح سے مراد فقہاء کے نزدیک وہ تیز ہتھیار ہیں جو بالعموم قتل کے لیے استعمال ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ لاٹھی یا پھر یا کسی دوسری وزنی شے سے اگر ایک شخص دوسرےکو قتل بھی کر دے، تب بھی بعض فقہاء کے نزدیک اس کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ دیت وصول کی جائے گی کیونکہ ان اشیاء سےقتل عمد ثابت نہیں ہوتا۔
فتح القدیر، شرح هدایه باب البغاۃ اور دیگر کتب فقہ میں حضرت علی کا یہ واقعہ بیان کیا گیا ہےکہ کوفه کی مسجد میں بعض خوارج حضرت علی پر سب و شتم کر رہےتھےاور کثیر الحضر می اسےسن رہےتھے۔ایک شخص ان میں یہ بھی کہ رہا تھا کہ میں خدا سےعہد کرتا ہوں کہ علی کو ضرور قتل کروں گا۔الحضرمی نےجب یہ دیکھا تو اس شخص کو پکڑ کر حضرت علی کےپاس لے آئے۔آپ نےکہا کہ اسےچھوڑ دو۔ کثیرالحضر می کہنے لگے کہ اسے کیسے چھوڑ دیا جائے جب کہ یہ آپ کے قتل کی قسم کھا چکا ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا:
کثیر کہنے لگے کہ یہ آپ پر سب و شتم کر رہا تھا۔ حضرت علی کہنے لگے کہ تم چاہو تو اس پر جوابی سب وشتم کرلو، ورنہ چھوڑ ہی دو۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد حضرت عبداللہ بن عمر کے حوالے سے بیزار اور حاکم نےروایت کیا ہے اور اسے ابوبکر الجصاص نے بھی نقل کیا ہے کہ آنحضور نے فرمایا کہ میری امت میں باغیوں کے زخمیوں پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور جو گرفتار ہو جائیں ان کو قتل نہیں کیا جائے گا (لایرتست جريحهم ولا يقتل اسیر هم ) اسی طرح کی هدایت حضرت علی نےجنگ جمل اور دوسرے مواقع پر دی ہیں۔مبسوط ( جلد ۱ ص ۱۲۶) میں امام سرخسی فرماتے ہیں:
" حضرت علی باغیوں میں سے قید ہونے والوں سے قسم لیتے تھے کہ وہ ان پر کبھی خروج نہیں کریں گے، پھر ان کو رہا کر دیتے تھے۔“
ابن العربی مالکی سوره حجرات کی آیت بغی کی تشریح کرتے ہوئے احکام القرآن میں لکھتے ہیں:
امام شافعی کتاب الام ( جلد ۴ ص ۱۳۸) میں فرماتے ہیں:
" اہل بغنی سے قتال صرف اس لیے جائز ہے کہ انہیں لڑنے کے ارادے سے یا حکومت کی مخالفت سے روکا جائے۔ جب وہ اس روش سے باز آجائیں تو ان کا خون بہانا حرام ہو جاتا ہے۔“
یہ بات پہلےبیان ہو چکی کہ جولوگ کثیر التعداد اور جنگی سروسامان سے آراستہ ہوں،صرف ان پر قانون بغاوت کا اطلاق ہوگا۔یہ لوگ اگر امام عادل کےخلاف تاویل شرعی کےبغیر خروج کےمرتکب ہوں اور مارےجائیں تو مذہب حنفی کے مطابق ان کی نماز جنازہ جائز نہیں۔ المبسوط،باب صلوۃ الشہید میں باغی کے متعلق فرماتے ہیں: لا يغسل ولا يُصلّى عليه. دوسری طرف اسی باب میں یہ بیان کیا گیا ہےکہ مسلک حنفی کے مطابق شہید کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ، پھر شہدائے اح وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے آخر میں حضرت عمار بن یاسر اور حضرت حجر بن عدی کا ذکر بھی زمرہ شہداء میں کیا گیا ہے۔ چنانچہ امام سرخسی فرماتے ہیں:
” جب حضرت عمار بن یاسر جنگ صفین میں شہید ہونے لگے تو فرمایا کہ میرا خون نہ دھونا اور میرے کپڑے نہ اتارنا۔ میں اسی حال میں امیر معاویہ سے قیامت کو ملاقات کروں گا اور حجر بن عدی سے بھی ایسا منقول ہے۔“
پھر آگے چل کر باب الخوارج ( جلد اص۱۳۱) میں تحریر کرتے ہیں:
ويصنع بقتلى أهل العدل ما يصنع بالشهيد فلا يغسلون ويصلى عليهم هكذا فعل على رضي الله عنه بمن قتل من اصحابه و به اوصى عمار بن یاسر و حجر بن عدی و زید بن صوحان رضی الله عنهم حين استشهدوا.. ولا يصلى على قتل أهل البغي.
" اور جو لوگ اہل عدل میں سےقتل ہوں، تو ان کےساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو شہداء کےساتھ ہوتا ہے۔ یعنی غسل دیئے بغیر ان کا جنازہ پڑھا جائے گا۔ حضرت علیؓ نے اپنے مقتول ساتھیوں کے ساتھ یہی کیا تھا اور عمار بن یاسر، حجر بن عدی اور زید بن صوحان رضی اللہ عنہم نے شہید ہوتےوقت یہی وصیت کی تھی - - - - اور جو لوگ باغیوں میں سے قتل ہوں ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔"
اب ایک طرف شمس الائمه سرخسی ہیں جو واضح الفاظ میں حضرت حجر بن عدی کو اہل بغی کےبجائے اہل عدل کی صف میں شمار کر رہے ہیں۔ انہیں شہید کا لقب دے رہے ہیں اور ان پر جنازہ پڑھنے کو مشروع قرار دے رہے ہیں (حالانکہ ان کے ہاں باغی مقتولوں کا جنازہ جائز نہیں ) اور دوسری طرف مفتی زادہ محمد تقی عثمانی صاحب ہیں جو حضرت حجر بن عدی کو باغی اور واجب القتل ثابت کرنے کی سعی نا کام میں ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں ! بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوا حجمی ست -
امام ابوالحس الماوردی نے بھی الاحکام السلطانیه میں جہاں باغیوں سے جنگ پر بحث کی ہےوہاں صاف لکھا ہے کہ باغیوں میں سےکوئی شخص زیادہ فتنہ میں حصہ لیتا ہو تو اسکو امام تنبیہا سزادےسکتا ہےمگر قتل نہیں کرسکتا۔کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ مسلمان کاخون تین صورتوں کےسوا حلال نہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ باغیوں کی جنگ اور مشرکین و مریدین کی جنگ میں آٹھ چیز میں مابہ الامتیاز ہیں۔ پہلی یہ کہ باغیوں کو سرکشی سے روکنا مقصود ہوتا ہے قبل وہلاک کرنا مقصود نہیں ہوتا اور مشرک و مرتد کا قتل بھی مقصود بالذات قرار دینا جائز ہے۔ دوسری یہ کہ باغی سامنا کریں تو قتل کیےجائیں، ورنہ نہیں اور مشرک و مرتد ہر طرح قتل کیے جاسکتے ہیں۔ تیسری یہ کہ باغیوں کے زخمی قتل نہ کیے جائیں اور مشرکین و مرتدین کے زخمی قتل کرنے جائز ہیں۔ جنگ جمل میں حضرت علیؓ نے اپنےنقیب کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا تھا کہ خبردار بھاگنے والے کا تعاقب نہ کیا جائے ، زخمی کو قتل نہ کیا جائے۔ چوتھی یہ کہ باغیوں کے قیدی محض بند کیے جائیں، مشرک و مرتد قیدی قتل کیے جاسکتے ہیں۔باغی قیدیوں کے متعلق یہ ہے کہ جس کے بارے میں یہ اطمینان ہو کہ پھر با غیوں میں شریک نہ ہوگا،تو چھوڑ دیا جائے،ورنہ جنگ کا مطلع صاف ہونےتک قید رکھا جائے اور اس کے بعد چھوڑ دیا جائےپھر محبوس رکھنا بھی جائز نہیں (بقیہ امور لونڈی غلام بنائےجانےاور غصب اموال وغیرہ سےمتعلق ہیں ) ۔ الاحکام السلطانیہ مترجم نفیس اکیڈیمی ص ۱۰۱-۱۰۲۔
(عربى المطبعة المحمودية مصرص ۵۶)
١- یہ امر واضح رہے کہ فقہاء کرام کے ہاں اہلِ العدل اور اہل البغی کی اصطلاحیں ایک دوسرے کےبالمقابل استعمال ہوتی ہیں۔امام عادل اور ان کےساتھیوں کو اہل عدل اور ان کےخلاف لڑنے والوں کو اہل بنی کہا جاتا ہے۔
قاضی ابو یعلی محمد بن الحسین الفراء نے اپنی تالیف الاحکام السلطانی" باب قال اہل البغی،میں یہی بات بیان فرمائی ہے۔ وہ ص ۳۹ پر لکھتے ہیں:
"اور امام کے لیے جائز ہے کہ وہ عناد کا مظاہرہ کرنے والےکی تادیب و تعزیر کرے مگر اسےقتل یا حد کی سزا نہ دے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسلمان کا خون حلال نہیں ہےسوائے تین صورتوں کے، پہلی یہ ہےکہ وہ ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے،دوسری یہ کہ شادی کےبعد زنا کرے،تیسری یہ کہ وہ ایسےشخص کو قتل کرے جس نے کسی متنفس کو قتل نہ کیا ہو ۔ “
پھر فرماتے ہیں:
لا يقتل أسراهم ويجوز قتل اسرى اهل الحرب والمرتدين.
"باغیوں میں سے جو مسلمان اسیر کیے جائیں، وہ قتل نہیں کیے جائیں گے اور حربی کافروں اور مرتدوں کے قیدی قتل کیے جائیں گے۔“
پھر باغیوں ہی کے متعلق لکھتے ہیں:
"باغیوں میں سے جو قید کیے جائیں ان کے حالات کو جانچا جائے گا۔ جن کے بارےمیں اطمینان ہو کہ دوبارہ قتال نہیں کریں گے، انہیں رہا کر دیا جائے گا اور جن کے متعلق ایسا اطمینان نہ ہو انہیں اس وقت تک قید رکھا جائے گا جب تک کہ لڑائی کا خاتمہ نہ ہو جائے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور اس کے بعد قید نہیں رکھا جائے گا۔“
امام ماوردی اور ابو یعلیٰ کےان ارشادات سے یہ بات قطعی طور پر واضح ہے کہ مسلمان باغی کے لیے سزائے قتل تو در کنار، اس کےلیے جس دوام کی سزا بھی جائز نہیں ہے۔ اسے یا تو گرفتاری کے بعد ہی رہا کر دیا جائے گا یا پھر خاتمہ جنگ تک اسے قید رکھا جائےگا اور بعد میں رہا کر دیا جائےگا۔ امام نووی نے شرح مسلم، کتاب الزکوۃ، باب مؤلفة القلوب میں اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ خوارج و بغاۃ کے قیدیوں کا قتل جائز نہیں۔ (لا يقتل اسیرھم)
بہر کیف سابق بحث سےیہ بات واضح ہو گئی کہ کتاب و سنت قتل مسلم کی اجازت صرف ان صورتوں میں دیتی ہےجب کہ اس نےقاتل یا سارق یا قطع طریق کی حیثیت سےقتل نفس کا ارتکاب کیا ہو، یا شادی کے بعد زنا کیا ہو،یا اسلام لانے کے بعد ارتداد کی راہ اختیار کی ہو۔جہاں تک بغاوت یا بغی کی اسلامی و شرعی اصطلاح کا تعلق ہےاس کا اطلاق ہر فتنه و فساد اور ہر شورش اور ہر ایجی ٹیشن پر نہیں ہو سکتا۔اہل یعنی سےمراد ایک ایسی طاقت ور جمعیت اور بھاری گروہ ہےجو اسلحہ یعنی آلات جارحہ سےلیس ہو کر اور کسی سیاسی و اعتقادی تاویل کو سامنےرکھ کر اہل عدل کےخلاف با قاعدہ قتال کرےاس طرح کے باغیوں کے گروہ کے خلاف لڑنے کا حکم اسلامی حکومت کو دیا گیا ہے۔ لڑائی کےدوران میں ان باغیوں کا قتل جائز ہےلیکن لڑائی کے بعد زخمیوں، قیدیوں اور بھاگنے والوں کا قتل جائز نہیں۔ ان میں سے صرف وہی باغی گرفتار ہونے کے بعد قتل کیا جاسکتا ہے جس نے اس قبال سےقبل یا بعد میں کسی ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہو جس کی سزا قتل ہو۔ یا پھر جس باغی کے سارے ساتھی قابو میں نہ آسکتے ہوں اور اس کے زندہ رہنے کی صورت میں ان پر قابو پانا اور بغاوت کو فرو کر ناممکن نہ ہو، اس باغی کا قتل بھی بعض فقہاء کے نزدیک جائز ہے۔
یہاں ایک اعتراض یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر اسلام میں سزائے قتل صرف انہی جرائم پر دی جا سکتی ہے جو او پر مذکور ہوئے تو پھر ان احادیث کا مفہوم و مدعا کیا ہے جن میں فرمایا گیا کہ ایک خلیفہ برحق کی موجودگی میں دوسرے مدعی کو ماردو، اس کی گردن تلوار سے اڑا دو۔ شارحین حدیث نے ان ارشادات نبوی کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ایسے شخص کے خلاف دفاع وقتال کرو۔ امام نووی نےمسلم، کتاب الامارہ میں فاضربوا عنق الآخر کے بعد لکھا ہے:
ملا علی قاری شرح فقہ اکبر میں ، نصب الامام کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"حدیث میں دوسرے خلیفہ کو قتل کرنے کا جو حکم ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر قتل کیے بغیر دفاع ممکن نہ ہو، تب اسے قتل کر وجیسا کہ علماء نے صراحت کی ہے۔“
اگر یہ مفہوم نہ ہو تو حضرت حجر بن عدی تو در کنار، انہیں قتل کی سزا دینے والے حضرت معاویہؓ خود حضرت علی کے مقابلے میں (معاذ اللہ ) اس سزا کے مستوجب قرار پاتے ہیں۔ اللہ کا قانون بےلاگ ہے، وہ اشخاص و افراد کو نہیں بلکہ افعال کو دیکھتا ہے۔
اسی سلسلے کا ایک اشکال اور بھی ہے جس کی طرف اشارہ ہو چکا ہے۔ وہ یہ کہ بعض روایات میں ان تین یا چار صورتوں کے علاوہ بعض دوسرے افعال کے مرتکب کو قتل کرنے کا حکم بھی آیا ہے جس کے مطابق عمل کا فتویٰ بعض فقہاء نے دیا ہے۔اسی طرح بعض فقہاء اس بات کے بھی قائل ہوئےہیں کہ بعض حالات میں پھانسی یاقتل کی سزا بطور تعزیر بھی دی جاسکتی ہے جسے وہ سیاسیہ قتل کا عنوان دیتے ہیں۔اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ بعض احادیث میں جن جرائم پر قتل کی وعید ہے وہ بالعموم ان تین صورتوں کے مشابه ہیں جن پر سزائے قتل بلا اختلاف داشتباہ قرآن اور سنت نبوی سےثابت ہےمگر یہ جرائم ایسےغیر فطری، گھناؤنے یا نادر الوقع ہیں کہ غالباً اسی بناء پر شارع نے ان کا ذکر ثلاث خلال کے ساتھ مناسب یا ضروری خیال نہیں فرمایا۔ مثال کے طور پر محرمات یا جانوروں یا مردوں سے بدعملی، ساحری، جاسوسی کے جرائم پر بعض فقہاء نے قتل کی سزا تجویز کی ہےکیونکہ یہ کسی نہ کسی اعتبار سےان افعال کیسا تھ ملحق ہو سکتےہیں جن پر قتل کی حد مقرر ہے۔ اسی طرح جو مجرم بار بار ایسےجرائم کا ارتکاب کرے جو موجب حد ہوں اور قتل سے کم درجے کی سزا اسے باز نہ رکھ سکے، مثلاً وہ بار بار چوری یار ہرنی کا مرتکب ہو تو ایسے عادی مجرم کا قتل بھی بعض فقہاء کے نزدیک جائز ہے اور بعض ارشادات نبوی سے بھی ایسے مجرمین کے قتل کا جواز نکل سکتا ہے۔
تعزیری قتل کی ان شکلوں اور ان کے جواز و عدم جواز کا کوئی تعلق قانونِ بغاوت سے نہیں ہے،اور حضرت حجر بن عدی کے قتل کا جواز عثمانی صاحب جرم بغاوت کے تحت ثابت کرنا چاہتے ہیں،اس لیے میرے لیے سیاستہ اور تعزیراقتل کا مسئلہ چھیڑنا غیر ضروری تھا۔ تاہم میں نےرفع اشکالات اور قارئین کےذہنوں کو صاف رکھنے کے لیےاس پہلو کا ذکر بھی بالاختصار کر دیا ہے۔ اسکے ساتھ میں یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ فقہاء ومحدثین کی اکثر تعداد بہر حال ایسی ہے جو قتل مسلم کا جواز فقط انہی تین صورتوں تک محدود رکھتی ہے جو مذکورہ بالا مشہور اور صحیح ارشاد نبوی میں بیان ہوئی ہیں اور جسےحضرت عثمان نے اپنے محاصرے کے دوران میں باغیوں کےسامنےپیش فرمایا تھا۔ چوتھی جائز صورت دفاعی قتل کی ہے، یعنی ایک مسلمان اگر جارحانہ، باغیانہ یا محاربانہ حیثیت میں سامنے آکھڑا ہو تو اس کے حملے کو دفع کرتے ہوئے اگر وہ قتل ہو جائےتو یہ فعل قتل جائز ہوگا۔جمهور فقہاء کےنزدیک ان حالتوں کےماسواء ایک مسلمان پر کوئی ایسی حد یا تعزیر نافذ نہیں کی جاسکتی جس کا مقصد اس کی جان کو ہلاک کرنا ہو۔البتہ اس کی زندگی کو باقی رکھتےہوئے شدت جرم کے لحاظ سے اسے بڑی سے بڑی سزا دی جاسکتی ہے۔ قاضی ابو یعلی کا قول پہلے نقل کیا جا چکا ہے جس سے تعزیری قتل کا عدم جواز ثابت ہوتا ہے۔ امام ماوردی نے بھی الاحکام السلطانیہ میں یہی بات لکھی ہے۔ اس کتاب کی فصل التعزیر میں وہ فرماتے ہیں۔
گزشتہ بحث سے یہ حقیت واضح ہو کر سامنے آچکی ہے کہ حکومت وقت پر تنقید اور اس کےخلاف مزاحمت و تحریک کی ہر شکل وصورت حتی که شورش و بدامنی کا ہر اقدام بھی قانون شریعت کی نگاہ میں بغاوت (Sedition or Revolt) کی تعریف میں نہیں آ سکتا۔اسلام میں جرم بغاوت کےمتحقق ہونےکےلیےچند شرائط لازم ہیں،جن میں اہم ترین شرطیں دو ہیں۔پہلی یہ ہےکه مجرمین جبر و تشدد کےذریعےسےحکومت کا تختہ الٹنا چاہیں،عدم اطاعت کی روش سےتنظیم حکومت کو درهم برهم کر دینا انکا مقصود ہو اور امام عادل کےخلاف وہ کھلملکھلا اورمسلح خروج کا ارتکاب کریں۔دوسری شرط یہ ہےکہ وہ اپنی تعداد تنظیم اور جنگی ساز و سامان کے لحاظ سےاتنی سیاسی و مادی طاقت و شوکت کےمالک ہوں کہ انہیں حربی کارروائی کےبغیر آسانی سےقابو میں نہ لایاجاسکتا ہو۔اگر یہ بنیادی شرائط موجود نہ ہوں تو مجرمین پر قانون بغاوت کااطلاق نہ ہوگا،بلکہ وہ محاربہ، فساد،سرقہ،رهزنی_١و غیره سےمتعلق دوسرےقوانین شرعیہ کےتحت ماخوذ ہوں گےاس کےساتھ دوسری حقیت جو میری بحث سےثابت ہوتی ہےوہ یہ ہےکہ اسلام میں فعل بغاوت فی نفسه موجب قتل نہیں ہے اسلام نے ہر باغی کو پکڑ کر قتل کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ حکم یہ دیا ہے کہ باغی گروہ کےخلاف قتال کرو، ان سے لڑو، یہاں تک کہ وہ پسپا اور مطیع ہو جائیں۔ قتال کے دوران میں جو باغی قتل ہو جائے ، ہو جائے۔ لیکن جو زخمی یا اسیر یا مفرور ہو جائےاسےگرفتاری کےبعد قتل کرنا جائز نہیں۔اس بحث میں ضمنا یہ امر بھی واضح ہو گیا کہ مسلمان کا قتل صرف تین حالتوں میں جائز ہے،ایک یہ کہ وہ نکاح کے بعد زنا کرے، دوسری یہ کہ وہ کفر وارتداد اختیار کرے، تیسری یہ کہ وہ ناحق قتل عمد کا مرتکب ہو ۔ محمد تقی صاحب نےحضرت حجر بن عدی کو باغی اور واجب القتل ثابت کرنے میں جو تیں سے زائد صفحات سیاہ کیےہیں، اپنی اب تک کی بحث کی روشنی میں میرےلیےان کےجواب میں فقط یہ کہ دینا کافی ہو سکتا ہےکہ حضرت حجر بن عدی یا ان کےکسی رفیق کےکسی فعل پر بھی بغاوت کا اطلاق نہیں ہوسکتا تھا اور بالفرض اگر انکا کوئی فعل بغاوت کی تعریف میں آتا تھا، تب بھی گرفتار ہو جانےکےبعد ان کا قتل از روئے اسلام ہرگز جائز نہیں تھا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عثمانی صاحب نےاس طویل خامہ فرسائی میں استدلال کے جو جو ہر دکھائے ہیں اور حضرت حجر کو مباح الدم ثابت کرنے میں جس طرح ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے، اس سے بالکل صرف نظر کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔اس لیے اب میں اس پر بھی اپنا جائزہ پیش کرتا ہوں۔
عثمانی صاحب کا ایک شکوہ یہ بھی ہےکہ ”مولانا مودودی نےحضرت حجر بن عدی کو علی" الاطلاق"زاہد و عابد صحابی کہ دیا ہے، حالانکہ ان کا صحابی ہونا مختلف فیہ ہے۔ ابن سعد اور مصعب زبیری کا کہنا تو یہی ہے کہ یہ صحابی تھے لیکن امام بخاری، ابن ابی حاتم اور ابن حبان نے انہیں تابعین میں شمار کیا ہے اور ابواحمد عسکری کے نزدیک اکثر محدثین ان کا صحابی ہونا صحیح قرار نہیں دیتے۔"لیکن حضرت حجر بن عدی کے متعلق جو کچھ محدثین و مؤرخین نے لکھا ہے اگر اسے بحیثیت مجموعی سامنے رکھا جائے تو عثمانی صاحب ہی کے الفاظ میں یہ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے محدثین کی تحریروں کے"ضروری اجزاء حذف کر کے بڑا ہی خلاف واقعہ تاثر قائم کیا ہے۔"البدایه اور الاصابه سےانہوں نےوہ اقوال تو نقل کر دیئےجو حضرت حجر کی صحابیت کےمتعلق اشتباه پیدا کرتے ہیں لیکن ان اقوال کو چھوڑ دیا ہے جو ان کا صحابی ہونا ثابت کرتے ہیں۔ مثلاً البدایہ کے جس صفحے کا حوالہ انہوں نے دیا ہے، اس کے شروع ہی میں درج ہے۔
١- علمائے سلف نےاپنی تحریروں میں کہیں کہیں بھی ہمار بہ، اور فساد فی الارض وغیرہ الفاظ کو مترادف و ہم معنی بھی استعمال کیا ہےلیکن خالص قانونی و فقهی مباحث میں جہاں انہوں نےان اصطلاحات کی تعریف بیان کی ہے وہاں ایک کو دوسری سے بالکل ممیز کر دیا ہے۔
پھر وہ امام احمد کے حوالے سے بیٹی بن سلیمان کا قول نقل کرتے ہیں کہ حجر بن عدی مستجاب الدعوۃ اور افاضل اصحاب النبی میں سے تھے۔ اس کے بعد استیعاب میں ابن نافع سے منقول ہے کہ وہ حضرت حجر کو رجل من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم قرار دیتے ہوئے ان سےایک حدیث روایت کرتے ہیں کہ قال النبی صلی الله عليه وسلم "ان قوماً يشربون الخمر يسمونها بغير اسمها.
حافظ ابن حجر نے الاصابه میں امام حاکم کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت حجر اور ان کے بھائی حضرت ہانی بن عدی وفد کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لائےتھے ۔ پھر ابن حجر نے ابو بکر بن حفص کا قول نقل کیا ہےکہ انہوں نے حضرت حجر کو صحابی قرار دیتےہوئےان سے ایک حدیث روایت کی ہے کہ ان قوما يشــربـون الخمر يسمونها بغير اسمها .
صحابہ کرام کے سوانح پر مشتمل تیسری مشہور کتاب اُسد الغابه میں ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ حضرت حجر" کا لقب حجر الخیر ( نیکوکار فجر )مشہور تھا اور آپ اپنےبھائی کےساتھ آنحضور کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے تھے اور افاضل صحابہ اور اعیان صحابہ میں شمار کیے جاتے تھے۔
امام حاکم نے اپنی کتاب المستدرک، جلد میں صحابہ کے حالات بیان کرتے ہوئے صفحہ ۴۶۸ پر ایک باب کا عنوان قائم کیا ہے:
امام ذہبی کی تلخیص مستدرک میں بھی یہی عنوانِ باب موجود ہے اور انہوں نے حاکم کے اس بیان سے اختلاف نہیں کیا ہے۔ اب ان سارے محدثین و مؤرخین کی تصریحات کے بعد آخر یہ بات کیسےہو سکتی ہےکه "اکثر محدثین" حضرت حجر کا صحابی ہونا صحیح تسلیم نہیں کرتےاور عثمانی صاحب کا یہ شکوہ کیسےبجا ہو سکتا ہےکہ مولانا مودودی نےانہیں علی الاطلاق زاہد و عابد صحابی کہہ دیا ہے۔اگر عثمانی صاحب برا نہ مانیں تو میں عرض کروں کہ انہوں نےحضرت حجر کی صحابیت کو مشکوک بنانے کےلیےیہ سارا زور اس لیےصرف فرمایا ہےکہ ایک صحابی کو واجب القتل مجرم ثابت کرنےسےان کی یہ پوزیشن مجروح ہوئی جا رہی تھی کہ ان کے اس مضمون کا محرک واقعی حمایت صحابہ کا جذبہ ہے۔ ظاہر بات ہےکہ ایک صحابی کی خاطر دوسرے صحابی کو مجرم اور سزا وار تقتل ثابت کرنے والا آدمی حمایت صحابہ کا علمبر دار تو نہیں بن سکتا۔
اب ہم اس فرد جرم کی ایک ایک شق کو لیتےہیں جسےعثمانی صاحب نےحضرت حجر"کو باغی ثابت کرنےکے لیے بڑی جزرسی کےساتھ مرتب کیا ہےانکا پہلا الزام اس سلسلےمیں یہ ہےکہ حضرت حجر امیر معاویہ کی حکومت کےخلاف تھےاور وہ حضرات حسنین کو بھی بار بار بغاوت پراکساتےرہےلیکن یہ دونوں بزرگ کسی قیمت پر بھی امیر معاویہ کے خلاف اٹھنے پر آمادہ نہ ہوئے۔حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ خلافت کا آل ابی طالب کے سوا کوئی مستحق نہیں۔
١-صحابیت کا مطلق یا غیر مطلق یا مشروط و غیر مشروط ہونا یہ ایک نرالی اصطلاح ہے جو پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے۔
اس کا جواب یہ ہےکہ کسی خلیفہ کی حکومت کو خوش دلی سےتسلیم نہ کرنا اور کسی دوسرےکو اسکےخلاف اکسانا، یا کسی کونسی کے مقابلہ میں خلافت کا مستحق سمجھنا شرعا جرمِ بغاوت کی تعریف میں نہیں آتا، بالخصوص جب کہ اس اکساہٹ کی حوصلہ شکنی دوسرے کی جانب سے ہو جائے اور عملاً کوئی بغاوت برپا نہ ہو۔حضرت سعد بن عبادہ نےآخر دم تک حضرت ابوبکر کی بیعت نہ کی اور وہ انصار کو مستحق خلافت سمجھتے تھےیہ مشهور تاریخی واقعہ ہےبعض مؤرخین کا بیان ہےکہ وہ حضرت ابوبکر و عمر کےپیچھے نماز پنجگانہ اور جمعہ نہیں پڑھتے تھے ، نہ ان کی قیادت میں حج کرتے تھے ۔ اگر انہیں ساتھی مل جاتے تو وہ ان سے جنگ آزما ہونےمیں بھی تامل نہ کرتےلیکن کسی نے انہیں باغی قرار دے کر نہ قید کیا، نہ قتل کیا۔ دوسرا مشہور تاریخی واقعہ حضرت امیر معاویہ کے والد ماجد حضرت ابوسفیان کا ہےجسےاستیعاب اور دوسری کتابوں میں بیان کیا گیا ہے۔جب حضرت ابو بکر کی بیعت ہوئی تو ابوسفیان حضرت علی کے پاس آکر کہنے لگے کہ یہ کیا ہوا کہ قریش کےسب سےچھوٹے قبیلے نےخلافت پر قبضہ کر لیا ؟ اے علی ، اگر تم پسند کرو تو خدا کی قسم میں اس وادی کو پیادوں اور سواروں سے بھر سکتا ہوں ۔ حضرت علی نے جواب میں فرمایا کہ تم ہمیشہ اسلام اور اہل اسلام کے دشمن بنے رہے،مگر اس سے اسلام اور مسلمانوں کو کوئی ضرر نہ پہنچ سکا۔ ہماری رائے یہ ہے کہ ابو بکر منصب خلافت کے اہل ہیں۔ یہ واقعہ متعدد کتابوں میں نقل ہوتا چلا آ رہا ہے، امام ابن تیمیہ نے بھی اسے منہاج السنہ میں کئی بار نقل کیا ہے، بلکہ یہاں تک لکھ دیا ہے:
فقد أراد ابوسفیان وغيره ان تكون الإمارة فى بنى عبد مناف على عادة الجاهلية فلم يجبه الى ذالک علي ولا عثمان ولا غيرهما بعلمهم ودينهم.
" ابوسفیان اور کچھ دوسروں نےچاہا تھا کہ جاہلیت کےطریقےکےمطابق امامت بنو عبدمناف میں ہو مگر حضرت علی، حضرت عثمان اور دوسرے صحابہ کرام نے اپنے علم و تدین کی بنا پر ان کی اس خواہش کی حوصلہ افزائی نہ کی_١ اب میں عثمانی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر حضرت حجر حضرت حسن یا حسین کو امیر معاویہ کےخلاف اکسانے کی بنا پر جرم بغاوت کے مرتکب تھے، تو کیا حضرت ابو سفیان اس جرم کے بدرجہ اولیٰ مرتکب نہ تھے ؟ پھر کیا وجہ ہے کہ خلفائے راشدین میں سے کسی نے بھی انہیں اس جرم میں ماخوذ نہ کیا ؟
١- ملاحظہ ہو منہاج السنہ جلد اول ص ۱۶۱۔ المطبعة الامیر نیہ، بولاق مصر، ۱۳۲۱ء ، جلد ثانی ص ۱۶۹ جلد رابع ص ۱۲۳۔
دوسرا جرم حضرت حج کا عثمانی صاحب نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ حضرت عثمان اور حضرت معاویہ پرکھلم کھلا طعن کرتے تھے، حالانکہ حضرت معاویہ کےکسی گورنر نے کبھی حضرت علی کی شان میں ایسی کوئی بات نہیں کہی ۔ لیکن امرائے معاویہ کی بات بات پر ان کے خلاف شورش کرنا حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کی عادت بن گئی تھی۔
سب و شتم علی واهل بیت کے مسئلے پر جو مفصل بحث میں کر چکا ہوں، اس کے بعد نہیں معلوم که عثمانی صاحب اب بھی اس دعوے سے رجوع فرما ئیں گے یا نہیں کہ حضرت معاویہ کے کسی گورنر نے حضرت علی کی شان میں کبھی کوئی بری بات نہیں کہی۔ میں نےناقابل انکار حوالوں سے یہ ثابت کر دیا ہےکہ طعن و تشنیع اور سب وشتم کا آغاز امیر معاویہ اوران کے گورنروں کیجانب سے ہوا تھا اور حضرت حجر یا کسی دوسرے صاحب نے اس کے خلاف احتجاج کی جو صورت بھی اختیار کی ہےوہ ایک جوابی رد عمل تھا۔ اور اگر اس طعن و تعریض کا نام بغاوت ہے،تو خلیفہ راشد کی موجودگی اور ان کے عہد خلافت میں جنہوں نے اس فعل کو انجام دیا، سب سےپہلےبغاوت کے مرتکب وہ ہوں گےاور ان کا جرم جوابی احتجاج کرنےوالوں کےبالمقابل سنگین تر ہوگا۔ میں کہتا ہوں کہ سب وشتم کا آغاز اور اسکےجواب میں سب و شتم جس نے بھی کیا ہے، بہت برا کیا ہے۔آج بھی جو ایسا کرتا ہے،بہت برا کرتا ہے۔لیکن یہ جرم بغاوت کےمترادف نہیں، نہ اس کی سزا قتل ہے۔بعض علمائےسلف اس بات کےقائل تو ہوئےہیں کہ شاتم رسول واجب القتل ہے۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے سوا کسی دوسرےکی بدگوئی کرنایا اسےگالی بھی دےدینا اسلام میں ہرگز موجب قتل نہیں_١ حضرت حجر بن عدی کےخلاف بغاوت اور سزائے قتل کا مقدمہ تیار کرتےوقت عثمانی صاحب کا یہ کہنا کہ فلاں گورنر کےسامنے انہوں نے لعن طعن کیا ، ایک خواہ مخواہ کا خلط مبحث ہے۔ اگر ایک گورنر علانیہ ایک صحابی کو، اور وہ بھی معمولی صحابی نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین عزیز اور خلیفہ راشد کو، ان کی وفات کےبعد گالیاں دے رہا ہو، جسے حضرت ام سلمہ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سب و شتم قرار دیا ہے، اس پر کوئی مسلمان مشتعل ہو کر اس کا ترکی بہ ترکی جواب دے تو اسے بغاوت ، اور وہ بھی مستوجب قتل بغاوت قرار دینے کی جرات صرف عثمانی صاحب جیسے لوگ ہی کر سکتے ہیں۔
١- بعض کے نزدیک موجب قتل تو در کنار موجب تعزیر بھی نہیں ۔ حضرت علی کی حدود سلطنت میں رہ کر خوارج انہیں گالیاں دیتےتھےمگر اس پر حضرت علی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرتےتھے۔اس پر امام سرخسی مبسوط ،جلد، صفحہ ۱۲۵ میں فرماتے ہیں:
یہ چیز فی الواقع میرے سخت موجب حیرت ہے کہ حضرت حجر بن عدی کی قیام کوفه کے دوران میں انتشار پسندانہ اور باغیانہ سرگرمیوں کی داستان تو محمد تقی صاحب نےلمبی چوڑی بیان کر دی ہے،لیکن امیر معاویہ کےگورنروں کے اس طرز عمل کو بالکل ہی گول کر دیا گیا ہے جس کے رد عمل میں وہ ساری سرگرمیاں ظہور میں آئیں جن پر بغاوت کا ٹھپہ لگایا جارہا ہےمؤرخ ابن خلدون جنہوں نےمولانا محمد تقی صاحب کے بقول اس دریائے خون میں بڑی سلامت روی سےشناوری کی ہےاپنی تاریخ( جلد ۳، ص ۱۱) میں جہاں ان واقعات کا آغاز کرتےہیں جو حضرت جڑ کے قتل پر منتج ہوئے ، وہاں وہ بھی یہ کہے بغیر نہیں رہ سکے ہیں کہ:
"مغیرہ بن شعبہ کوفہ کی امارت کے زمانہ میں اکثر اپنی مجالس اور خطبوں میں حضرت علی پر طعن و تعریض کرتے تھے۔“
اس کے بعد زیاد نے جو طوفانِ بدتمیزی وہاں بپا کیا اور جن مظالم کا ارتکاب کیا، وہ تو رسوائےروزگار ہیں۔ جگہ جگہ عثمانی صاحب خود تسلیم کر رہے ہیں کہ وہ حضرت حجر کو بار بارقتل کی دھمکیاں دیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں کوفہ کی زمین کو جڑ سے پاک نہ کر دوں اور اسے آنے والوں کے لیے سامانِ عبرت نہ بنادوں تو میں بھی کوئی چیز نہیں۔ اس کے باوجود صاحب موصوف کے تجاہل عارفانہ کا یہ عالم ہے کہ فرماتے ہیں کہ واقعے کی تمام تفصیلات دیکھنے کے بعد ہمیں تو زیاد کے بارے میں کہیں یہ نظر نہ آسکا کہ اس نے اصولِ شرع کے خلاف کوئی کام کیا ہو۔ زیاد کے سفاکانہ جرائم کا حال میں ابن خلدون وغیرہ کی زبانی پہلے نقل کر چکا ہوں۔ استیعاب میں حافظ ابن عبدالبر نےبھی یہی لکها ہےکہ حضرت معاویہؓ نےجب زیاد کو عراق کا والی بنایا تو اس نے درشتی اور بدخلقی کا مظاہرہ کیا۔ (اظهر من الغلظة وسوء السيرة استيعاب، جلد ۱، ص ۳۵۵)۔
حضرت حجر کے خلاف بغاوت کے الزام کو آخری حد تک پہنچانے کے لیے انتشار پسندی اور سب وشتم کے علاوہ مزید الزام جو عثمانی صاحب نے لگایا ہےوہ یہ ہےکہ حضرت حجر اور ان کےساتھیوں نے گورنر کوفه پر پتھر برسائے اور باقاعدہ لاٹھیوں اور پتھروں سےلڑائی کی۔واقعہ یہ ہےکہ اس تیسرے الزام کو ثابت کرنے کے لیے جو بھینچ تان کی گئی ہےاور جسطرح پر کا کو اور سوئی کا بھالا بنانےکی کوشش کی گئی ہےاس کی داد نہ دینا بڑی بے انصافی ہوگی۔مثال کےطور پر مؤرخین کےبیان کےمطابق زیاد کو بصرےمیں اطلاع دی گئی کہ حضرت حجر کےپاس شیعان علی جمع ہوتے ہیں۔وانهم حصبوا عمرو بن حریث، اور انہوں نےحضرت عمرو بن حریث کو (جو کوفے میں زیاد کے نائب تھے ) کنکریاں ماری ہیں۔ اس کا ترجمہ عثمانی صاحب نے اپنی کتاب صفحہ ۴۲ میں یہ کیا ہےکہ انہوں نے پتھر برسائے ہیں۔ آخر میں جہاں جرم بغاوت کے اجزائے ترکیبی کو دہرایا گیا ہےوہاں پھر عثمانی صاحب لکھتےہیں کہ گورنر کوفه حضرت عمرو بن حریث پر پتھر برسائے۔عثمانی صاحب کو چاہیےتھا کہ ساتھ ہی یہ بھی اضافہ فرما دیتےکہ ان پتھروں کی بارش سےکچھ لوگ زخمی یا ہلاک بھی ضرور ہوئے ہوں گے اور مؤرخین نے اگر اس کا ذکر نہیں کیا تو یہ عدم ذکر ہی تو ہے، ذکرِ عدم تو نہیں_١
اس کےبعد جو واقعات عثمانی صاحب نےنقل کیےہیں، وہ مختصر یہ ہیں : ” زیاد اس کے بعد خود کوفے میں آیا، ایک طویل خطبہ دیا،جب نماز فوت ہو جانےکا اندیشہ ہوا تو حجر نےاس پر بھی کنکریاں دےماریں۔زیاد نے سارے حالات حضرت معاویہ کو لکھ بھیجےانہوں نےحکم دیا کہ حجر کو گرفتار کر کےمیرےپاس بھیج دو۔ زیاد نے پولیس افسر کےذریعے سےانہیں بلوایا مگر انہوں نےانکار کیا۔ زیاد نے زیادہ آدمی دے کر بھیجا کہ انہیں لے آؤ، ورنہ ان سے لڑائی کرو۔اس پر فریقین میں لاٹھیوں اور پتھروں سےلڑائی ہوئی_٢ مگر حجر گرفتار نہ ہو سکےاور فرار ہو کر کندہ کے محلےمیں پہنچے۔یہاں بھی جنگ ہوئی اور ایک شخص نے رزمیہ اشعار پڑھے کہ اے حجر کی قوم، دفاع کرو اور حملہ کرو اور اپنے بھائی کی طرف سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ ۔“ یہاں سے حجر پھر فرار ہو کر روپوش ہو گئے۔آخر کا رامان کی شرط منوا کر وہ خود ہی زیاد کے سامنے پیش ہو گئے۔“
١- اس سلسلہ مضامین میں خطیبوں کے دوران میں کنکریاں پھینکنے کا ذکر بار بار آرہا ہے، اس سےقارئین کو یہ غلط نہی نہیں ہونی چاہیے کہ کچھ نمازی طے شدہ پروگرام کے مطابق شاید با ہر سےکنکر لے کر مسجد میں داخل ہوتےہوں گے۔دراصل اس زمانے میں مسجد کے فرش کچےہوتےتھےاور ان پر چھوٹےچھوٹے سنگریزے بچھا دیئے جاتے تھےبعض لوگ انہی کو اٹھا کر بحالت طیش پھینک دیتےتھےجسےعثمانی صاحب نے "سنگباری" بنا دیا ہے۔
٢- اس "لڑائی" کی تفصیل ابن اثیر نےالکامل میں یہ دی ہےکہ جب زیاد کی پولیس لاٹھیاں برسانےلگی تو اس شخص نے ایک لاٹھی چھین لی،اس سےلڑ کر اس نے فجر اور اُن کے ساتھیوں کی جان بچائی یہاں تک کہ وہ کندہ کےدروازوں سےنکل بھاگے(اخــذ عمودا من بعض الشرط فقاتل به وحمى حجرًا وأصحابه حتى خرجوا من أبواب الكنده الكامل،جلد ۳ صفحه ۲۳۵) مورخین نےاس پورےہنگامےکی جو تفصیلات بیان کی ہیں،ان میں صرف ایک مرتبہ تلوار کے استعمال کا ذکر میری نظر سے گزرا ہے جس کی ضرب سےایک شخص منہ کے بل گر پڑا ۔
اس کے بعد عثمانی صاحب نے لکھا ہے کہ حجر کے دوسرے ساتھی بدستور روپوش رہے۔ نہ معلوم کس مصلحت کی بنا پر یہ نہیں بتایا کہ بعد میں وہ بھی گرفتار ہو گئےحالانکہ ان کےمضمون کےآخر میں جا کر ان چودہ آدمیوں کا امیر معاویہ کےپاس بحالت گرفتاری جانا مذکور ہےجن میں سےچھ کو چھوڑ دیا گیا اور آٹھ کو قتل کر دیا گیا۔
حضرات حسنین کو خروج پر اکسانےاور حضرت علی پر سب و شتم کےجواب میں امیر معاویہ اور انکے گورنروں پر سب و شتم کرنے کے بعد حضرت حجر نے زیاد اور اس کی پولیس کے خلاف مزاحمت کی جو روش اختیار کی، یہ گویا عثمانی صاحب کی دانست میں وہ آخری اور اہم ترین کڑی ہے جو جرم بغاوت کو پایہ تکمیل واثبات تک پہنچادیتی ہےمیں اسلام کےقانونِ بغاوت کی ضروری تفصیل پہلےبیان کرچکاہوں اور یہ بتاچکاہوں کہ جرم بغاوت کےثابت و متحقق ہونے کے لیے ضروری ہےکہ مجرمین کا ارادہ یہ ہو کہ وہ نظام حکومت کو انقلابی اور متجددانه ذرایع سےتہ و بالا کر دیں اور امام عادل کےخلاف مسلح خروج کےمرتکب ہوں۔اسکےساتھ یہ بھی لابدی ہےکہ مجرم ایسی مادی طاقت وسطوت (منعة )کےمالک ہوں اور اتنی جمعیت اور آلات حرب رکھتےہوں کہ قتال بالسیف کے بغیر ان کا قلع قمع نہ ہو سکتا ہو۔میں پوچھتا ہوں کہ حضرت مجر منجن کےبارے میں حضرت عدی کا یہ قول عثمانی صاحب نےخود نقل کیا ہےکہ مجھےگمان نہ تھا کہ یہ بیچارہ (نجر ) ضعف کےاس درجےکو پہنچ گیا ہو گا جو میں دیکھ رہا ہوں۔ اور جن کے بارے میں مؤرخین کا بیان ہے کہ زیاد کی پولیس سے فرار کے وقت وہ بغیر سہارے کے سواری پ جم کر بیٹھ بھی نہ سکتے تھے، ایسے شیخ فانی اور ان کے چند ساتھی جو ان کے پاس مسجد یا گھر میں جمع ہو جاتے تھے، کیا ان پر بغاۃ کی شرعی اصطلاح کا اطلاق کسی لحاظ سے بھی درست نہ ہو گا ؟ کیا یہ کوئی ایسی زبر دست اور نا قابل تسخیر جمعیت تھی جس کےخلاف فوج کشی کی گئی تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ پولیس ایکشن کے ذریعے سے ان کی سرکوبی اور گرفتاری اسی لیےتو ممکن ہوئی کہ وہ تعداد یا اسلحہ کے لحاظ سے کوئی طاقتور اور ساحب منعت گروہ تھے ہی نہیں۔
حضرت حجر کے حالات کے تحت استیعاب میں مسروق کی روایت حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ کو یہ کہتے ہوئے سنا:
"اگر معاویہ کو یہ معلوم ہوتا کہ اہل کوفہ کوئی طاقت رکھتے ہیں تو وہ اس بات کی جرات نہ کرتےکہ حجر اور ان کے رفقاء کو ان کوفے والوں کے درمیان سے پکڑ لیتے اور شام میں لے جا کر انہیں قتل کر دیتے۔“
گویا کہ حضرت حجر اور ان کے ساتھی تو در کنار حضرت عائشہ کے نزدیک سارے کوفے والےمل کر بھی اہل منعہ نہیں تھےجن پر باغیوں کا اطلاق ہو سکتا۔مگر ہمارےمفتی صاحب ان کےباغی اور لائق قتل ہونےکا فتویٰ دے رہے ہیں! پھر ان باغیوں کا حال یہ تھا کہ ان چودہ آدمیوں کو پابند سلاسل کرنےکےبعد صرف دو آدمی انہیں بھیڑوں کیطرح ہانک کردمشق تک اور پھر وہاں سےمرج عذراء _١کےجنگل تک لےگئےاور وہاں آدھوں کو ذبح کردیا گیا لیکن ان کےبینه مغرور اور روپوش ساتھیوں یا دوسرے ہوا خواہوں میں سےکوئی ان کی مد کو نہ پہنچا،قتل کے بعد ہی کسی نےحرکت کی۔یہ وہ باغی ہیں جن کےبارےمیں یہ فرمایا گیا کہ اگر یہ قتل نہ ہوتےتو ان کےساتھ ایک لاکھ آدمیوں کو قتل کرنا پڑتا !
ان "باغیوں" کی جو جھڑپ کندہ میں زیاد کی پولیس سے ہوئی ہے اور اس میں جو ز دو خورد ہوئی ہے اسے محمد تقی صاحب نےایک با قاعدہ جنگ سےتعبیر کیا ہےجس میں لاٹھیاں اور پھر استعمال ہور ہےاور رزمیہ اشعار پڑھے جا رہے تھے ۔ یہ بھی یادر ہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہےجب کہ ہر گھر میں تیر، تلوار، برچھے، نیزے تیار رہتے تھے۔ مگر فریقین نےلڑائی بھی لڑی تو پتھریا لاٹھی سےجو اسلحه یا آله جارحہ کی تعریف ہی میں نہیں آسکتے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ جہاں تک حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کا تعلق ہے، وہ آلات حرب سے اس لیے مسلح نہ تھے کہ وہ با قاعدہ جنگ کی طاقت اور نیت نہیں رکھتےتھےاور زیاد کےآدمی اسلحہ سےاس لیےلیس نہیں ہوئے کہ انہوں نے اس کا استعمال غیر ضروری سمجھا اور اس کے بغیر ہی شورش کو فرو کر لیا۔اس مٹھ بھیڑ اور پکڑ دھکڑ کی جو تفصیل تاریخوں میں بیان ہوئی ہے، اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس میں کوئی شخص قتل ہوا ہو یا بری طرح مجروح ہی ہوا ہو۔ واقعہ یہ ہےکہ اس سےشدید تر بلوےاور فسادات ہر دور،ہر زمانےمیں ہوتےرہےہیں لیکن ان پر کبھی بھی ” بغاوت" کا اطلاق نہیں کیا گیا۔ خود ہماری مملکت پاکستان میں عوام نے متعدد مواقع پر پولیس کےلاٹھی چارج کا جواب اینٹ پتھر سےدیا اور سیاسی نعرے بھی لگائے،کیا مفتی زاده جناب عثمانی صاحب ان کے متعلق یہ فتویٰ دیں گے کہ وہ سب شرعی اصطلاح میں باغی اور واجب القتل تھے ؟ عقل دنگ ہے کہ شرعی قوانین کی یہ نئی اور انوکھی تعبیرات کس علمی زعم کی بنا پر فرمائی جارہی ہیں؟ پہلے یہ کہا گیا کہ حکام اور گورنروں پر قصاص،تعزیر یا تاوان نہیں،خواہ وہ جو رصریح کےمرتکب ہوں،دیت اور تاوان بھی دیا جائےگا تو حاکم کی ذات سے نہیں بلکہ عامتہ المسلمین کی جیب سے، یعنی بیت المال سے دیا جائے گا۔ اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ جو شخص حکومت کےخلاف ہو،انتشار برپا کرنا چاہتا ہوں،سب و شتم کا جواب سب و شتم سےدے گرفتاری کےلیےاپنےآپ کو پیش کرنے کے بجائے مزاحمت کرے یا رُوپوش ہو جائے ،اس کا جرم بغاوت سے کم تر نہیں ہے اور اسکی سزا قتل ہے۔میں کہتا ہوں کہ یہ جرائم جن کو بغاوت کا نام دیا جارہا ہےاور جن پر مسلمان کا خون ہدر قرار دیا جا رہا ہے، ان جرائم پر تو ایک ذمی کا خون بہانا بھی اسلام نے جائز نہیں سمجھا ہے اور اسےاپنے ذمے سےخارج نہیں کیا ہےاگر اس طرح کےمفتیوں کو حکومت یا عدالت کی کرسی پر بٹھا دیا جائےتو قانون اسلامی بازیچہ اطفال بن کر رہ جائے گا اور مسلمانوں کو یہاں وہ حقوق و تحفظات بھی حاصل نہ رہ سکیں گے جو ایک اسلامی حکومت میں کفار اور اہل ذمہ کو حاصل ہو سکتےہیں۔ عثمانی صاحب سے میری گزارش ہے کہ وہ براہ کرم اپنے والد ماجد مفتی محمد شفیع صاحب سے یہ استفتا فرمائیں کہ اگر آج کوئی گورنر مسلمانوں کےمجمع عام میں اٹھ کر تقریر کرے اور اس میں حضرت علی کو برا بھلا کہے، اور اس پر کچھ مسلمان صبر نہ کر سکیں اور گورنر پر جوتوں کی بارش کریں، اور گورنر جب ان کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس بھیجے تو وہ پولیس کا مقابلہ لاٹھیوں اور پتھروں سے کریں، تو کیا وہ سب باغی اور واجب القتل ہوں گے؟ مفتی صاحب اس کے جواب میں جو فتویٰ دیں وہ براہ کرم شائع کر دیا جائے۔
١- مرج عذراء کا علاقہ وہ ہے جو سب سے پہلے حضرت حجر بن عدی ہی کے ہاتھ پر فتح ہو کر اسلامی سلطنت میں شامل ہوا تھا۔ تاریخوں میں منقول ہے کہ اس دیار میں سب سے پہلے تکبیر بلند کرنے والے وہی تھے اور تقدیر میں یہ لکھا تھا کہ اسی مقام پر وہ قتل بھی کیے جائیں ۔
میں عثمانی صاحب کو مشورہ دوں گا کہ وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ نمبر ۱۲۴ اور نمبر ۱۲۴ الف کا ذرا مطالعہ فرمائیں۔یہ قوانین ایک کافر،اجنبی اور فاتح قوم نے ایک مغلوب و مفتوح قوم پر نافذ کرنےکےلیےبنائےتھے۔ ان میں سامراجی اقتدار و تسلط کو مستحکم کرنے اور قائم رکھنے کا پورا پورا اہتمام کیا گیا تھا اور محکوم اقوام کےشہری حقوق کم سےکم تجویز کیےگئےتھےدفعہ نمبر ۱۲۴ کےتحت صدر یا گورنر کو بزور اپنےفرائض و اختیارات کےاستعمال سےروکنا،ان میں مخل ہونا اوران پر حملہ آور ہونا فوجداری جرم ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ سزا سات سال قید ہےاس کےبعد دفعہ ۱۲۴ الف ہےجس میں حکومت کےخلاف نفرت ، حقارت اور عدمِ وفاداری کے جذبات ظاہر کرنے اور پھیلانے کو بغاوت قرار دیا گیا ہےمگر اس کی سزا بھی موت نہیں،بلکہ زیادہ سےزیادہ جبس دوام کی سزا تجویز کی گئی ہے۔اور اس دفعہ کی توضیح میں یہ بات بھی درج ہے کہ جائز قانونی ذرائع سےکام لے کر حکومت کے اقدامات پر تنقید کرنا اور ان میں تبدیلی کا مطالبہ کرنا جرم نہیں ہے۔ اب قوانین شرعیہ کی جو تفسیر و تشریح عثمانی صاحب پیش فرما رہے ہیں، اس کی رُو سے ان دونوں دفعات میں ترمیم کر کے ان میں زیادہ سےزیادہ سزال از ماموت مقرر کرنی ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کےحال پر رحم فرمائے،انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ.
حضرت حجر اور آپ کے ساتھیوں کے جرائم کی حقیقت واضح ہو جانے کے بعد اب یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ان کےخلاف بغاوت کا جو مقدمہ بنایا گیا اور جسطرح شہادتیں فراہم کی گئیں،ان میں کہاں تک اسلام کے قانون قضا اور عدل و انصاف کےتقاضوں کو ملحوظ رکھا گیا۔ تاریخ طبری جلد میں صفحہ ۱۹۰ سے لے کر صفحہ ۲۰۸ تک اس واقعہ کی پوری تفصیلات موجود ہیں۔ ان صفحات کا حوالہ عثمانی صاحب نے بار بار دیا ہے اور مولانا مودودی پر ضروری باتیں حذف کرنے کا الزام لگا کر "کہا ہے کہ ہم ان باتوں پر تنبیہ کریں گے"۔اب جن اجزاء کو انہوں نے خود حذف کیا ہے اور بحث و تنقیح کے جن ضروری پہلوؤں کو نظر انداز کیا ہے، میں بھی ان کی نشان دہی کیے دیتا ہوں۔طبری میں صفحہ ۱۹۹ پر یہ بات درج ہے کہ زیاد نے حضرت حجر" کے بارہ ساتھیوں کو جیل میں ڈال دیا اور پھر محلوں کےسرداروں کو بلا کر کہا کہ حج کےبارے میں تم نےجو کچھ دیکھا ہےاس کی شہادت دو “لیکن اس پوری بحث میں یہ بات کسی جگہ مذکور نہیں ہے کہ شہادت کے وقت حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کو بھی اپنا بیان یا صفائی پیش کرنے یا کسی گواہ پر جرح کرنے کا موقع دیا گیا ہو۔
ابوداؤد میں حضرت عبداللہ ابن زبیر سے روایت ہے:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ ( یعنی عدالتی ضابطہ بیان فرمایا ہے کہ مقدمے کےفریقین دونوں حاکم کے رُوبرو بیٹھیں ۔“
"جب دونوں فریق تمہارے سامنے بیٹھ جائیں تو فیصلہ نہ کرو جب تک کہ دوسرے کی بات بھی نہ سن لو جس طرح تم نے پہلے کی بات سنی ۔“
حضرت عمر نے جو ہدایت نامہ آداب قضا سے متعلق حضرت ابوموسیٰ اشعری کو بھیجا تھا، وہ متعدد کتب فقہہ میں منقول ہے، اس میں حضرت عمرؓ فرماتے ہیں:
"تم لوگوں کی جانب متوجہ ہونے اور اپنا اجلاس منعقد کرنے میں مساوات قائم کرو تا کہ کمزور تمہارے عدل سے مایوس نہ ہو اور بڑے خاندان والا تم سے بے انصافی کی طمع نہ کرے۔“
ملزمین کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں گواہیاں لینا ارشادات نبوی اور اسلامی اصول قضاء کے بالکل خلاف ہے۔اس پر اس شہادت کا اطلاق ہی نہیں ہو سکتا جو اثبات جرم کے لیے بنیاد بن سکےپھر اسلامی قانونِ شہادت کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ ہر گواہ کی گواہی الگ الگ لی جائےتا کہ پہلے کی گواہی سےدوسرا متاثر نہ ہو اور ان کی شہادت میں اگر اختلاف ہو جو ملزم کےحق میں مفید ہو، تو وہ اس فائدے سے محروم نہ ہو_١ لیکن زیاد کےسامنے چار اصحاب کی گواہی جس طرح تاریخ میں درج ہے، جسے عثمانی صاحب نے بھی نقل کیا ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب گواہوں نےبیک زبان اور بیک وقت ایک ہی گواہی دی ہے۔ تاہم اگر عثمانی صاحب کے وضع کردہ اصول عدم ذکر و ذکر عدم کےتحت یہ فرض کر لیا جائے کہ سب شہادتیں باری باری سے ملزمین کے سامنے پیش ہوئی تھیں اور انہیں بھی صفائی یا جرح کا موقع دیا گیا تھا مگر تاریخ میں ساری تفصیلات کو حذف کر کےصرف شہادت کا وہ مضمون بیان کردیا گیا ہےجو تمام گواہوں کےمابین قدر مشترک تھا،تب بھی اس شہادت سے جرم بغاوت ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ چاروں حضرات کی گواہی یوں نقل کی گئی ہے:
١- معین الحکام صفحہ ، اپر ادب القاضی للخصاف کے حوالے سے درج ہے: لو شهد شاهد وفسر الشهادة ثم شهد الآخر فقال اشهد على مثل شهادة صاحبي لا يقبل (اگر ایک گواہ شہادت دے اور اس کی تفصیل بیان کرے، پھر دوسرا گواہ کہے کہ میں اپنےساتھ کی گواہی کے مثل گواہی دیتا ہوں تو دوسرے کی گواہی قبول نہ ہو گی )۔
"ججر نے اپنے گرد جھتے جمع کر لیے ہیں اور خلیفہ کو کھلم کھلا گالیاں دی ہیں اور امیر المومنین کےخلاف جنگ کرنے کی دعوت دی ہے اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ آل ابی طالب کے سوا خلافت کا کوئی مستحق نہیں_١ انہوں نے ہنگامہ برپا کر کے گورنر کو نکال باہر کیا اور یہ ابوتراب( حضرت علیؓ )کو معذور سمجھتےاور ان پر رحمت بھیجتے ہیں اور ان کےدشمن اور ان سےجنگ کرنے والوں سےبرأت کا اظہار کرتے ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ ان کے ساتھیوں کے سرگروہ ہیں اور انہی جیسی رائے رکھتے ہیں۔“
اس شہادت میں حضرت حجر بن عدی اور آپ کے ساتھیوں کےجو جرائم بیان ہوئےہیں،میں ان پر تفصیلی بحث کر چکا ہوں۔ان میں سےکوئی جرم بلکہ ان کا مجموعہ ملکر بھی بغاوت کی شرعی واصطلاحی تعریف میں نہیں آسکتا۔ پھر ہر فعل کو اپنے پس منظر سے کاٹ کر مبالغے اور رنگ آمیزی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ گورنر کو نکال باہر کرنے والی بات تو بالکل خلاف واقعہ ہے جو کسی تاریخ میں میری نظر سے نہیں گزری۔ گورنر کو نکال دینا تو در کنار خود حضرت حجر اور ان کے ساتھی گرتےپڑتےبڑی مشکل سےجان بچا کر بھاگےاور روپوش ہوئے تھے اور پھر زیاد سے امان لے کر خود ہی حاضر ہو گئے تھے۔ بہر کیف ان چار اصحاب کی شہادت نقل کرنے کے بعد عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
"پھر زیاد نے چاہا کہ ان چار حضرات کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس گواہی میں شریک ہوں، چنانچہ اس نے ان حضرات کی گواہی لکھ کر لوگوں کو جمع کیا ، ان کو یہ گواہی پڑھ کر سنائی اور لوگوں کو دعوت دی کہ جو لوگ اس گواہی میں شریک ہونا چاہیں، وہ اپنا نام لکھوا دیں۔ چنانچہ لوگوں کے نام لکھوانے شروع کیے، یہاں تک کہ ستر افراد نے اپنے نام لکھوا دیئے ۔“
شہادت فراہم کرنے کے اس طریق کار کو اگر کھینچ تان کر کسی طرح حد جواز میں لایا جا سکتا ہو،تب بھی میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ گواہیاں لینے کا یہ طریقہ اسلامی عدل وانصاف کے بنیادی اور معیاری تصورات سے بالکل فروتر ہے۔آخر سیاسی اجتماعات اور پبلک جلسوں میں قرار دادوں کی منظوری لینےمحضر ناموں پر لوگوں کےانگوٹھےلگوانےیا دستخط لینےاور مسلمانوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرتےوقت گواہوں کی شہادت ریکارڈ کرنے میں کچھ تو فرق و امتیاز ہونا چاہیے۔ ہمارے فقہاء نے تو یہاں تک لکھا ہےکہ کسی گواہ کو کوئی خاص قسم کی تلقین نہ کی جائے جو اس کی آزادانہ رائےپر اثر انداز ہو سکتی ہو۔ چنانچہ امام سرخسی مبسوط جلد 9 صفحہ ۰۲ اپر فرماتے ہیں:
١- واضح رہے کہ یہ بات علی الاطلاق صحیح نہیں ہے۔کیونکہ وہ لوگ حضرت ابوبکر و عمر کی خلافت کو صحیح مانتے تھے اور حضرت عثمان کی بھی خلافت پر نہیں بلکہ ان کے بعض اعمال پر معترض تھے۔ اس لیے ان کی صحیح پوزیشن یہ تھی کہ وہ حضرت معاویہ کے مقابلہ میں حضرت علی اور ان کے صاحبزادوں کو خلافت کا مستحق سمجھتے تھے۔
"قاضی کو چاہیے کہ وہ گواہوں کو ایسی بات نہ بجھائے جس سے ان کی شہادت حدود میں پائیہ تکمیل و ثبوت تک پہنچے۔ کیونکہ قاضی اس بات پر مامور ہے کہ کسی بہانے سے حد کو ٹالے، نہ کہ اسےقائم کرے۔“
اس کی روشنی میں ہم یہ بآسانی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ایک پیشگی لکھی لکھائی گواہی تیار کر لینا اور صوبے کےگورنر کا لوگوں کو بلا کر یہ کہنا کہ اس گواہی میں کون کون شریک ہوتا ہےشہادت فراہم کرنےکا یہ طریقہ اسلامی انصاف کےتقاضےکہاں تک پورے کر سکتا ہے۔ یہ حرکت تو آج اس ظلم و ستم کے دور میں بھی اگر کوئی گورنر کرے تو دنیا چیخ اٹھے۔
یہاں یہ بات بھی لائق وضاحت ہےکہ عثمانی صاحب نے یوں تو بہت سی غیر ضروری تفصیلات اور مکالمات وغیرہ کو تاریخ طبری سے نقل کر دیا ہے،لیکن جس مقام پر مندرجہ بالا گواہی لیے جانے کا ذکر ہے، وہاں سے بعض نہایت ضروری اجزاء کو حذف کر دیا ہے، امام ابن جریر نے اسی جگہ ( جلدم ،صفحه ۲۰۰) پر لکھا ہے کہ پہلے ایک گواہ (ابو بردہ) سے گواہی لی گئی۔ پھر جو کچھ ہوا، وہ درج ذیل ہے:
"پھر زیاد نے کہا کہ اس شہادت کے مانند شہادت دو۔ خدا کی قسم میں اس خائن و احمق کی رگ گردن کاٹنے کی پوری جدو جہد کروں گا۔ پس محلوں کے سرداروں نے اس شہادت کے مطابق گواہی دی اور وہ چار تھے۔ پھر زیاد نے لوگوں کو بلایا اور کہا کہ جس طرح محلوں کے سرداروں نے شہادت دی ہے، اسی طرح کی شہادت دو اور انہیں وہ تحریری شہادت پڑھ کر سنائی۔“
دوسرے لفظوں میں اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ زیاد نہ صرف گرفتاری سے پہلے ہی قاتلانہ دھمکیاں دیتا رہا ( جسے عثمانی صاحب بھی نقل کر چکے ہیں) بلکہ وہ حضرت حجر کے خلاف جس وقت شہادتیں لے رہا تھا ، اس وقت بھی ایک قصاب کی طرح اپنی نیت اور ارادےکا برملا اظہار کر رہا تھا کہ میں اس احمق اور غدار کوتہ تیغ کرنےمیں پورا زور لگاؤں گااور لوگوں سےکہ رہا تھا بلکہ ایک گواہی پڑھ کر سنا رہا تھا کہ تم لوگ اسطرح کی گواہی دو۔ ابن جریر کی تصریح کے مطابق اس کےبعد ستر گواہوں نےویسی ہی گواہی دی۔اس ساری رُوداد کو پڑھتے ہوئے آدمی یہ کہنے پر مجبور ہوتا ہےکہ اس زمانے کےسنگدل اور سفاک حاکم بھی شاید اتنی دور تک نہ جاسکیں جہاں تک عثمانی صاحب کا یہ ممدوح گورنر پہنچ گیا۔
پھر مزید ایک واقعہ جو تاریخ طبری اور دوسری تاریخوں میں مذکور ہے اور جسے عثمانی صاحب نے نظر انداز کر دیا ہے،وہ یہ ہے کہ ان گواہوں میں مشہور قاضی شریح بن حارث اور شریح بن ہانی دونوں کا نام بھی زیاد نے درج کر دیا تھا۔ قاضی شریح کا اپنا بیان تاریخ طبری اور البدایہ والنہایہ میں یہ درج ہے کہ میں نے گواہی صرف یہ دی تھی کہ حجر ایک عبادت گزار اور روزےدار شخص ہیں اور شریح بن ہانی کا یہ قول منقول ہےکہ ”مجھےمعلوم ہوا ہے کہ میرا نام گواہوں میں درج کر دیا گیا ہے اور میں نے اس کی تردید کرتے ہوئے زیاد کو ملامت کی ہےصرف یہی نہیں بلکہ ابن جریر نے آگےصفحہ ۲۰۲ پر بیان کیا ہے کہ جب زیاد نے حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کو حضرت وائل اور کثیر بن شهاب کی حراست میں امیر معاویہ کی طرف روانہ کیا اور ساتھ وہ "شہادت" نامہ بھی بھیجا تو شریح بن ہانی راستے میں انہیں جاملے اور کثیر کے حوالے ایک بند مکتوب کیا جو امیر معاویہ کے نام تھا۔ کثیر نےاس کا مضمون پوچھا تو شریح نے بتانے سے انکار کر دیا۔ اس پر کثیر گھبرائے کہ نہ معلوم اس میں کوئی ایسی بات ہو جو امیر معاویہ کو نا پسند ہو اور وہ خط لینے پر آمادہ نہ ہوئے۔ پھر شریح نے وہ خط حضرت وائل کے سپر د کر دیا اور انہوں نےامیر معاویہ تک پہنچا دیا۔ امیر معاویہؓ نے اسے کھولا تو اس میں شریح کی جانب سے تحریر تھا ” مجھے معلوم ہوا ہے کہ زیاد نے حجر کے خلاف میری شہادت بھی درج کر کے بھیجی ہے۔ میری شہادت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، ہمیشہ حج وعمرہ کرتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں۔ ان کے خون اور مال پر دست درازی حرام ہے۔"
اس سےصاف ظاهر ہےکہ زیاد نےجعل سازی اور شہادت زور کےکبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا تھااور گواہوں کو سکھانے پڑھانےکی ہر کوشش کےباوجود اس نےجب دیکھا کہ بعض گواہ اس کےمطلب کی گواہی نہیں دیتےتو اسنےان کی طرف سےخود جھوٹی گواہی گھڑ کر درج کردی۔زیاد کی به مجرمانه حرکت گواہیوں کےاس پورےدفتر کو مشتبه اور نا قابل وثوق بنادیتی ہے۔کیونکہ جو شخص ایک گواہ پر بہتان باندھ سکتا ہے، وہ ایک سے زاید پر بھی باندھ سکتا ہےمولانا عثمانی صاحب نےابن غیلان کوشک کا فائدہ دےکر بری الذمه ثابت کرنے میں تو بڑا زور صرف کیا تھا، مگر یہاں حضرت حجر کے معاملے میں معلوم نہیں ملزم کو شک کا فائدہ ملنے کا اصول کہاں غائب ہو گیا ؟ پھر عجیب تر بات یہ ہے کہ امیر معاویہؓ نے اس صورتِ حال کے سامنے آجانے پر بھی یہ ضروری خیال نہ فرمایا کہ شریح یا دوسرے گواہوں کو یا زیاد کو بلاکر ملزمین کےسامنے بیان لیےجائیں اور ملزمین کو بھی بیان اور جرح کا موقع دیا جائے_١بلکہ دو گواه جوقیدیوں کو ساتھ لائےتھےان کے اور قیدیوں کےبیان بھی آمنےسامنے نہیں لیے گئے اور بس زیاد کی بھیجی ہوئی گواہی اور رپورٹ پر قتل کا فیصلہ کر ڈالا گیا،حالانکہ زیاد کی تحریر کی حیثیت ایک تفتیشی افسر کی ڈائری سےزیادہ کی نہیں تھی اور جب تک باقاعده عدالتی کارروائی کےمطابق اسےفریقین کےسامنے ثابت نہ کیا جاتا، اس پر شہادت کا اطلاق نہیں ہو سکتا تھا یہ ایک حقیقت ہے کہ اس پوری کا رروائی کےدوران میں ایک مرتبہ بھی زیاد یا امیر معاویہ نےملزموں کو یہ موقع نہیں دیا کہ وہ اپنا بیان دے سکیں یا اپنے خلاف گواہی سن سکیں یا کسی گواہ پر جرح کر سکیں۔بلکہ انہیں آخر وقت تک یہ بھی نہ معلوم ہو سکا کہ وہ کس انجام سےدو چار ہونےوالےہیں۔تاریخ طبری ( جلد۲، صفحہ ۳۰۳)میں تصریح ہےکہ جب سارےملزم مرج عذراء کےمقام پر محبوس کر دیئےگئے تو وہاں انہیں یزید بن جیہ کےذریعے سےمعلوم ہوا کہ انہیں قتل کی سزا ملنےوالی ہےاس پر حضرت حج نےیزید سےکہا کہ وہ امیر معاویہ سےجا کر کہیں کہ ”ہم اپنی بیعت پر قائم ہیں۔ہمارےخلاف گواہی عداوت و اشتہام پر مبنی ہے۔ یزید نے یہ پیغام پہنچا دیا مگر امیر معاویہ نے اس کےجواب میں فرمایا :
عثمانی صاحب فرماتےہیں کہ زیاد نےگواہیوں کا صحیفه شرعی اصول کےمطابق حضرت وائل اور حضرت کثیر کو دیا کہ وہ حضرت معاویہ کو پہنچائیں۔معلوم نہیں شرعی اصول کےمطابق صحیفہ پہنچانےسےمراد کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ عثمانی صاحب غالبا اسے"کتاب القاضی الی القاضی یا ”شہادۃ علی الشہادۃ "کےفقہی قاعدے کے تحت لاکر اس کارروائی کو شرعی اصول کے مطابق قرار دینا چاہتے ہیں۔ یہ شہادت جیسی کچھ بھی تھی اور جیسے کچھ آداب قضا کوملحوظ رکھتے ہوئے حاصل کی گئی تھی ، اس پر تو میں اوپر روشنی ڈال ہی چکا ہوں ۔ مگر میں عثمانی صاحب پر یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اول تو انتظامی حاکم یعنی گورنر کو قاضی قرار دینا ایک انوکھی ایج ہے۔ پھر فقہائے حنفیہ کا اس پر اتفاق ہے کہ کتاب القاضی الی القاضی یا شہادۃ علی الشہادۃ غیر فوجداری یعنی دیوانی و مالی(Civil)معاملات ہی میں معتبر ہےحدود و قصاص یعنی فوجداری (Criminal)معاملات میں هرگز معتبر نہیں ہے۔ وہ فقہ کی کوئی کتاب اٹھا کر خود ہی دیکھ لیں، میں حوالےکہاں تک نقل کرتا رہوں۔فقہاء حنفیہ نے اس کی وجہ بھی بیان کر دی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک قاضی کے مکتوب کا دوسرے کےلیے قابل قبول ہونا اور اسی طرح ایک شاہد کا دوسرے شاہد کی شہادت کو پیش کرنا خلاف قیاس ہےاور اسےصرف استحسانا جائز سمجھا گیا ہے۔ورنہ یہ دونوں شبہ سے خالی نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ تحریر اصل قاضی کےبجائےکسی غیر کی ہو یا شہادت نقل کرنےمیں سہو ہو جائے،اور فوجداری جرائم میں بیانات و شہادات کا ہر قسم کے شک وشبہ سےبالاتر ہونا ضروری ہےاسلیےزیاد کا جو مکتوب اور گواہیوں کا جو صحیفہ امیر معاویہ کےپاس پہنچا تھا، وہ اس اصول کےمطابق بھی ہرگز کسی قانونی قدر و قیمت کا حامل یا عتماد کے لائق نہ تھا۔ لیکن حیرت بالائے حیرت ہے کہ محمد تقی صاحب پھر بھی فرماتےہیں کہ حضرت معاویہ کو جڑ کی شورشوں کا پہلے ہی علم تھا، اب ان کے پاس چوالیس قابلِ اعتمادگواہیاں انکی باغیانہ سرگرمیوں پر پہنچ گئیں۔ جرم بغاوت کو ثابت کرنے کےلیےاس سےبڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے۔ جرم روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا اور بغاوت کی سزا موت ہے! اس ارشاد سے انہوں نے اصول فقہ میں ایک اور نا در اضافہ فرما دیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ حاکم کے فیصلے میں کسی شخص کے متعلق اس کے مجرم ہونے کا پیشگی علم بھی جائز طور پر دخیل ہوسکتا ہے۔ یہ وہ بات ہےجو اسلامی فقہ تو در کنار ، دنیا کے کافرانہ قوانیں تک میں غلط کبھی جاتی ہے۔
١-گواہوں کی گواہی کےوقت ملزموں کی موجودگی جسطرح دوسرےعدالتی نظاموں میں لازم ہےاسی طرح اسلام میں بھی ہےشہادت علی الغائب اور قضاعلی الغائب بعض خاص صورتوں کےماسوا جائز نہیں۔موجودگی کے ساتھ گواہوں کےلیےجرح کا حق بھی مسلم ہے، جس کے بغیر شہادت نا قابلِ اعتماد ہے۔ حضرت مغیرہ پر خلافت فاروقی میں زنا کا جو مقدمہ قائم ہوا تھا ، وہ حضرت مغیرہ کی گواہوں پر جرح ہی کےباعث ثابت نہ ہو سکتا تھا اور الٹا گواہوں پر حد قذف جاری کی گئی تھی،حالانکہ گواہوں میں صحابی بھی تھے۔ گواہ تو در کنار امیر معاویہ کوملزمین کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہ تھی۔امام ذہبی نےاعلام النبلا میں انکا قول نقل کیا ہے۔ لا احب ان اراهم.
پھر عثمانی صاحب لکھتے ہیں اس کے باوجود حضرت معاویہؓ نے بعض صحابہ کے کہنے پر چھ افراد کو چھوڑ دیا اور آٹھ کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ سوال یہ ہےکہ اس دو گونہ اور امتیازی سلوک کی وجہ کیا ہےعثمانی صاحب نے اس سوال کا نیا جواب یہ دیا ہے کہ باغی کا قتل واجب نہیں ،صرف جائز ہے، اس لیے امیر معاویہ نے جسے چاہا تل کر دیا، جسے چاہا معاف کر دیا۔
اس کے معنی تو یہ ہیں کہ عثمانی صاحب حضرت معاویہ کو ما شاء الله يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاءُ کے مقام عالی پر فائز کرنا چاہتے ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ معاملہ عدالت کا نہیں مشیت کا تھا!
میں یہ حقیقت کھول کر بیان کر چکا کہ اول تو یہ اصحاب ہرگز باغی نہ تھے، اور بالفرض اگر تھے بھیتو گرفتار ہو جانے کےبعد مجرد جرم بغاوت کی سزا ہر گز قتل نہیں ہےاب میں عثمانی صاحب سےمطالبہ کرتا ہوں کہ وہ گھما کر بات کرنے کے بجائے صاف صاف بتائیں کہ باغی اسیر کا قتل ان کی تحقیق میں حد کے تحت آتا ہے یا تعزیر کے تحت؟مجرموں کا جرم اوران کےخلاف شہادت یکساں ہو تو بعض کو چھوڑنا اور بعض کی گردن ماردینا کیا معنی رکھتا ہے؟ اگر یہ کہا جائے کہ حجران کےسرغنہ تھے تو فقط ان کا جرم شدید تر تھا، باقی تو جرم میں برابر تھے، پھر ان میں سے بھی صرف چند کا انتخاب برائےقتل کس بنا پر ہوا؟ واقعہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو رہا کیا گیا ، اس بنا پر کیا گیا کہ ان کے کسی دوست یا عزیز نےسفارش کردی۔حالانکہ قصاص و حدود میں شفاعت کرنا اور اسےمان لینا اسلامی نقطۂ نظر سےہرگز جائز نہیں ہےپھر عجیب تر چیز یہ ہےکہ جن لوگوں کےنام زیاد کی رپورٹ میں بطور گواہ درج تھے، انہی میں سے بعض حضرات ایسے ہیں جنہوں نے بعض ملزموں کی سفارش کر کے انہیں رہا بھی کرایا ہے۔ پھر جو سفارش بھی کی گئی ، اس بنا پر نہیں کہ فلاں شخص بے گناہ بے ضرر ہے،بلکہ محض اس بنا پر کہ یہ ہمارا آدمی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دور ملوکیت کے خصائص میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک طرف ملزم کےخلاف شہادت دی جائے،دوسری طرف اسےچھڑانےکےلیےسفارش کی جائےاور اسےقبول بھی کر لیا جائےاور جس کا کوئی سفارشی نہ ہو اسے قتل کر دیا جائے۔ اسلام کے تصور عدل وانصاف کے ساتھ اس سے بڑا اور سنگین تر استہزاء اور کیا ہوسکتا ہے؟
اگر مولانا محمد تقی صاحب اس بات سےبےخبر ہیں تو میں ان کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ حضرت حجر بن عدی کو باغی اور مباح الدم قرار دینا تو در کنار بعض علمائے سلف نے صاف طور پر امیر معاویہ کے خلاف قتل صحابہ کا الزام عائد کیا ہے۔یہاں میں ایک مثال پیش کیےدیتا ہوں۔ التوضیح اور اس کی شرح التلویح درس نظامی کی ایک مشہور متداول کتاب ہے۔ میرے سامنے اس وقت مطبع نولکشور ۱۲۹۲ھ کا مطبوعہ نسخہ ہے۔ اس میں شرائط راوی، انقطاع، ارسال اور حدیث القضاء بشاهد و یمین پربحث کرتےہوئے صفحہ ۳۱۱ پر صاحب توضیح فرماتے ہیں:
"مبسوط میں مذکور ہے کہ مدعی کے حق میں ایک گواہ اور قسم کی بنا پر فیصلہ دینا بدعت ہے اور پہلے شخص نہوں نے ایسا فیصلہ دیا وہ معاویہ ہیں۔“
اس عبارت کی تشریح میں صاحب تلویح لکھتے ہیں:
"اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی ایسی بدعت تھی جو امیر معاویہؓ نے دین کے معاملے میں اختیار کی ہو اور جس کی بنیاد ان کی ایسی خطا پر ہو جس طرح کہ بغاوت، امام وقت کےخلاف محاربہ اور قتل صحابہ ہے۔ قضا بشاہد دیمین کے معاملے میں حدیث صحیح موجود ہے۔“
اب یہاں علامہ سعد الدین تفتازانی نے صاف طور پر امیر معاویہ کو بغاوت، امام وقت کے خلاف جنگ اور قتل صحابہ کا مرتکب ٹھہرایا ہے۔ صحابہ جمع کا صیغہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک امیر معاویہ متعدد صحابہ کرام کے قتل کے موجب ہوئے ہیں۔ حضرت حکم بن عمرو کا امیر معاویہ کی قید میں وفات پانا میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ دوسرے صحابی حضرت حجر ہیں جو ناحق امیر معاویہ کے ہاتھ قتل ہوئے ہیں۔ اب اگر حضرت حجر صحابی نہیں ہیں یا بر بنائے بغاوت ان کا قتل روا تھا تو پھر عثمانی صاحب براہِ کرم مجھے بتائیں کہ وہ اور کون کون سے صحابہ کرام ہیں جنہیں امیر معاویہ نے قتل کرایا ہے؟ علامہ تفتازانی بغاوت محاربہ اور قتل صحابہ کا ذکر بہر حال امیر معاویہؓ کی خطا کے طور پر کر رہے ہیں۔ اگر حضرت حجر کا قتل بالحق تھا تو پھر قتل صحابہ کا ذکر بطور بدعت وخطا جو تلویح میں درج ہے اور امیر معاویہ کو جس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، اس کے آخر کیا معنی ہیں؟ اس کتاب کو وجود میں آئے چھ سو سال سے زاید کا عرصہ گزر چکا ہے اور ہمارے مدارس میں اس کی تدریس برابر جاری ہے۔
بعض حضرات علامه سعدالدین تفتازانی کے اس طرح کےاقوال کی بنا پر ان کے خلاف شیعہ ہونے کا بے بنیاد الزام عائد کر دیتے ہیں۔ بلکہ علامہ موصوف پر کیا موقوف ہے، بعض دوسرے ائمہ اہل سنت ، جنہوں نے حضرت علی یا حضرات حسنین کےفضائل و مناقب بیان کر دیئےہیں یا سیئاتِ بنو امیہ کو واشگاف انداز میں بیان کر دیا ہے، ان کےخلاف بھی تشیع کا الزام بلا تکلف لگا دیا جاتا ہےمثلا امام ابن جریر، ائمہ فقہاء اربعہ،امام نسائی،امام حاکم جیسے ائمہ سلف بھی اس بے جا الزام سے نہیں بچ سکے۔ میرے لیے یہاں بیچ میں اس مسئلے پر مفصل بحث کرنا تو ممکن نہیں، البته علامہ تفتازانی کےمتعلق جو کچھ ملاعلی قاری کی تالیف شرح فقہ اکبر میں لکھا ہے، اسے میں یہاں نقل کیے دیتا ہوں، ملا علی قاری خلفائے راشدین کی ترتیب افضلیت کےمسئلے پر بحث کرئے ہوئے پہلےنقل فرماتےہیں کہ اکثر علماء کےنزدیک حضرت عثمان،حضرت علی سےافضل ہیں،مگر بعض بعض متاخرین نے اس معاملے میں تو قف اختیار کیا ہے اور شرح العقائد کے ایک محشی (اشارہ تفتازانی کی طرف ہے) نے کہا ہے کہ
ولذا قيل فيه رائحة من الرفض لكنه فرية بلا مرية اذا كثرت فضائل على كمالاته العلية وتواتر النقل فيه معنى بحيث لا يمكن انكاره ولو كان هذا رفضا وتركا للسنة لم يوجد من أهل الرواية والدراية سنّی اصلا فاياك والتعصب في الدين والتجنب عن الحق اليقين.
"اسی لیےکہا جاتا ہےکہ ان میں (یعنی تفتازانی میں ) بوئےرفض پائی جاتی ہےلیکن یہ بلاشبہ ایک افتراء ہےکیونکہ حضرت علی کے فضائل و کمالات عالیہ بہت ہیں جو اس طرح تواتر معنوی کے ساتھ منقول ہیں کہ ان کا انکار ممکن نہیں۔اگر اس چیز کا نام رفض اور ترک سنت ہےتو اہل روایت و درایت میں کوئی سنتی اصلا نہ پایا جا سکے گا۔ پس خبردار! دین میں تعصب سے بچو اور حق الیقین سےاجتناب نہ کرو۔“
(شرح فقہ اکبر ، ملاعلی قاری صے سے مطبع مجتبائی ۱۳۴۸ھ )
مولا نا مودودی نے لکھا تھا کہ حضرت حجر جو ایک زاہد و عابد صحابی اور صلحائے امت میں ایک اونچے مرتبے کے شخص تھے، ان کے قتل نے امت کے صلحاء کا دل دہلا دیا اور حضرت عبداللہ بن عمر حضرت عائشہ اور ربیع گورنر خراسان کو یہ خبر سن کر سخت رنج ہوا۔ اس پر مولانا عثمانی صاحب فرماتےہیں کہ جہاں تک عبادت و زہد کا تعلق ہے، حجر بن عدی شاید خارجیوں سے زیادہ عابد زاہد نہ ہوں،لیکن کیا امت کا کوئی فرد یہ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ خارجی بہت زیادہ عابد و زاہد تھے، اس لیے ان کی بغاوتوں پر انہیں قتل کرنا حضرت علیؓ کا ناجائز فعل تھا؟ یہ پھر ایک بے بنیاد دعوئی ہے جسے عثمانی صاحب نےپیش کر دیا ہے۔ کیا عثمانی صاحب تاریخی طور پر یہ بات ثابت کر سکتے ہیں کہ حضرت علیؓی جس خارجی یا باغی کو قید کر لیتے تھے، اسے قتل کر دیتے تھے؟ یا کوئی سفارشی جس کی جان بخشی کرالیتا تھا، اسےچھوڑ دیتے تھے اور دوسرے قیدیوں کو تہ تیغ کر دیتے تھے ؟ حضرت علیؓ کا اسوہ تو میں پہلےبیان کر چکا ہوں کہ اول تو وہ خوارج سے تعرض ہی نہیں فرماتے تھے اور جب خوارج خود قتال کی ابتداء کرتے تھے تب حضرت علی دفاعی قتال کرتے تھے۔ خاتمہ قتال کے بعد آپ کا حکم اور عمل یہ تھا کہ اسیروں کو قتل نہ کیا جائےبلکہ رہا کر دیا جائےیہ طریقہ آپکا سب مقاتلین و محاربین کے بالمقابل تھا۔جنگ صفین کے متعلق مؤرخین کا بیان ہےکہ امیر معاویہ کا ارادہ تھاکہ قیدیوں کو قتل کر دیا جائےمگر انہیں معلوم ہوا کہ حضرت علی نےاپنےجنگی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے تو امیر معاویہ نےفرمایا کہ اچھا ہوا کہ ہم نے قیدی قتل نہ کر دیے۔ چنانچہ انہوں نے بھی اپنے قیدی چھوڑ دیئے۔
جہاں تک حضرت عائشہؓ کے اس قول کا تعلق ہے کہ اے معاویہ تمہیں حجر کو قتل کرتےہوئے خدا کا ذرا خوف نہ ہوا ؟ مولانامحمد تقی صاحب نے تسلیم کر لیا ہے کہ یہ تاریخ طبری میں موجود ہےحالانکہ پہلےانہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ مولانا مودودی نےجتنی کتابوں کا حوالہ دیا ہےان میں یا دوسری کسی کتاب میں بھی یہ الفاظ موجود نہیں ہیں۔ اس کے برعکس واقعہ یہ ہے کہ نہ صرف تاریخ طبری بلکہ دوسری کتابوں میں بھی مضرت عائشہ کا یہ قول منقول ہے۔ مثلاً الاصابہ میں حضرت حجرہ کے حالات بیان کرتے ہوئے حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ کو معلوم ہوا کہ زیاد ان کے قتل کےدرپےہے تو آپ نے عبدالرحمن بن حارث کو امیر معاویہ کے پاس پیغام دے کر بھیجا کہ
مگر ان کے پہنچنے سےپہلےحضرت حجر اور آپ کےپانچ ساتھی قتل ہو چکےتھے۔حضرت عائشہ کا یہ قول الاصابہ صفحہ ۳۵۵ پر موجود ہے۔ اسی مقام کے آگے پیچھے سے مولانا عثمانی صاحب نےمتعدد دیگر اقوال نقل کیے ہیں مگر سخت تعجب ہے کہ یہ قول انہیں اس کتاب میں نظر نہ آسکا۔ بہر کیف حضرت عائشہ کی شدید ناراضی اور اضطراب ظاہر کرنے والے ان الفاظ کو نظر انداز کرتے ہوئےعثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ اب یہ بھی سن لیجئے کہ خود حضرت عائشہ کی ذاتی رائے حجر اور ان کےاصحاب کے بارے میں کیا تھی۔ امام ابن عبدالبر نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے یہ فرمایا تھا کہ حجر اور ان کے اصحاب کے معاملے میں تم سے ابو سفیان کی بردباری کہاں چلی گئی تھی ؟ تم نے ایسا کیوں نہ کیا کہ انہیں قید خانوں میں بند رکھتے اور انہیں طاعون کا نشانہ بنے دیتے؟ یہ تھا حضرت عائشہ کے نزدیک بردباری کا زیادہ سے زیادہ تقاضا جو حجر اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ روا رکھی جا سکتی تھی۔اگر حجر بن عدی اور ان کےساتھی بقول مولانا مودودی "حق گوئی" ہی کے مجرم تھے تو اس "حق گوئی" کی کم سے کم سزا حضرت عائشہ کے نزدیک بھی قید خانہ ہی تھی ۔“
عثمانی صاحب کا یہ ارشا دستم ظریفی اورسخن فہمی کا ایک نادر نمونہ ہے۔ ابن حجر نے حضرت عائشہ کا قول صرف یہ بیان کیا ہے۔
" پھر حضرت عائشہؓ نے عبدالرحمن بن الحارث کو معاویہ کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ حجر اور ان کے ساتھیوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔“
آگے کی ساری عبارت ایک مکالمہ ہے جو عبد الرحمن اور امیر معاویہ کے درمیان ہوا۔ اس میں سے کوئی بات بھی ایسی نہیں جو حضرت عائشہ نے فرمائی ہو یا ان کی جانب سے عبدالرحمن نے نقل کی ہو، کیونکہ وہ تو سوال و جواب ہے جو عبدالرحمن اور امیر معاویہ کے درمیان ہوا تھا۔ عبارت یہ ہے:
فوجده عبدالرحمن قد قتل هو وخمسة من أصحابه فقال لمعاوية اين عزب عنك حلم ابي سفيان في حجر واصحابه الا حبستهم في السجون وعرضتم الطاعون. قال حین غاب عنی مثلک من قومی. قال والله لا تعدلك العرب حلما بعد هذا أبدا ولا رأيا . قتلت قوما بعث بهم الیک اساری من المسلمين؟
" عبدالرحمن ( جب حضرت عائشہ کا پیغام لے کر پہنچے ) تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت حجر اور ان کے پانچ ساتھی قتل ہو چکے ہیں۔ عبدالرحمن امیر معاویہ سے کہنے لگے کہ ”حجر اور ان کےساتھیوں کے معاملے میں ابو سفیان کا علم آپ سے کہاں غائب ہو گیا ؟ آپ نے انہیں قید خانوں میں کیوں نہ بند رکھا اور طاعون کا شکار کیوں نہ ہو جانےدیا ؟ "امیر معاویہ نے جواب دیا کہ آپ جیسےمیری قوم کے افراد مجھ سے دور ہوں ( تو نتیجہ ظاہر ہے )۔عبدالرحمن بولے ”خدا کی قسم اہل عرب آپ کو اس کے بعد کبھی بھی برد بار اہل الرائے شمار نہیں کریں گے۔ آپ نے ایسے مسلمانوں کو قتل کر دیا جو آپ کے پاس قیدی بنا کر بھیجے گئے تھے؟“
اب یہ بات فی الواقع بڑی تعجب خیز ہے کہ مولانا محد تقی صاحب نے حضرت عائشہ کا اصل پیغام تو بالکل حذف کر دیا ہے، جو انہوں نے عبدالرحمن کے ذریعے سے امیر معاویہ کو بھیجا تھا (اور وہ صرف اتنا ہی تھا کہ آپ حجر" کے معاملے میں اللہ سے ڈریں) مگر آگے جو بات خود عبدالرحمن نےامیر معاویہ سےکہی تھی اسے حضرت عائشہؓ کا قول قرار دے دیا۔
پھر قطع نظر اس بات کے یہ قول ( الا حبستهم في السجون ) حضرت عائشہ کا ہے یا کسی دوسرے شخص کا ، اس سے یہ استنباط عجیب چیز ہے کہ اس قول کے قائل کا منشاء ومدعا یہ ہے کہ حضرت حجر کو قتل کرنا تو ذرا سخت سزا تھی،البتہ یہ بات بالکل منصفانہ اور مناسب تھی کہ انہیں جبس دوام کی سزا دے کر جیل خانہ میں سڑنے یا طاعون میں مبتلا ہونے کے لیے چھوڑ دیا جاتا۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم بعض اوقات اپنے کسی مخاطب کو فہمائش کرنے کے لیے یا اس کے اعلیٰ اخلاقی جذبات سے اپیل کرنے کی غرض سے کہتے ہیں کہ فلاں کام کرنے کی بہ نسبت تو بہتر یہ تھا کہ آپ فلاں کے یا میرے گلے پر چھری پھیر دیتے۔ خود قرآن میں آیا ہے کہ جب برادران یوسف انہیں قتل کرنے پر تل گئے تو ایک بھائی نے کہا کہ قتل نہ کرو، کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو۔ اب کیا اس انداز بیان سے کوئی سلیم الطبع آدمی یہ استدلال کر سکتا ہے کہ انصاف کا تقاضا بھی یہی تھا کہ حضرت یوسف کو قتل کرنے کے بجائے انہیں کنوئیں میں پھینک دیا جاتا؟ اور کیافی الواقع جب انہیں اندھے کنوئیں میں ڈال دیا گیا، تو یہ کوئی جائز ومباح فعل تھا؟ میرے لیے زیادہ تفصیلات نقل کرنا مشکل ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت عائشہ نے قتل جڑ سے قبل اور اس کے بعد بھی جس طرح اس پر نکیر و احتجاج کیا ہے، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک یہ فعل سخت نا پسندیدہ اور قطعاً غیر جائز تھا۔ میں ان کا ایک قول پہلے نقل کر چکا ہوں کہ حضرت حجر کا جرم دراصل جرم ضعیفی تھا جس کی سزا مرگِ مفاجات کی صورت میں ظاہر ہوئی۔
امیر معاویہ نے مصر پر قبضہ کرنےکےبعد حضرت عائشہ کےبھائی محمد ابن ابی بکر کو وہاں نہایت بے دردی سے قتل کر دیا تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ وہ حضرت عثمان پر حملہ کرنے والوں میں شریک تھے اس لیے انکی موت کے طبعی صدمےکےبا وجود حضرت عائشہ نے ان کے قتل پر ایسا شدید احتجاج امیر معاویہ سے نہیں کیا اور ایسےسخت الفاظ میں ملامت و توبیخ نہیں کی جس طرح حضرت حجر کےمعاملےمیں کی ہےخود اصابه کے مقام مذکور پر یہ الفاظ ہیں:
اب یہ مولانا عثمانی کی نری زبردستی ہےکہ انہوں نے ایک قول میں معنوی تحریف کر کےاس کا حضرت عائشہ کی جانب انتساب کرتے ہوئے یہ لکھ دیا کہ ' تاہم اصل مسئلے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔حجرہ کے تمام حالات سے واقف ہونے کے بعد حضرت عائشہ کی رائے ان کے بارے میں یہی تھی کہ وہ بغاوت کے مجرم تھے اور ان کے ساتھ خوف خدا اور بردباری کا زاید سے زاید تقاضا یہ تھا کہ انہیں قید خانہ میں بند کر کے طاعون کا نشانہ بننے دیا جاتا ۔ مولانا عثمانی صاحب کی اس طرح کی معنی آفرینیوں پر میں سوائے اس کے اور کیا کہوں کہ
واقعہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ کا کوئی ایک ہی قول نہیں، بلکہ متعدد اقوال ایسے ہیں جن سےآپ کے شدت تاثر کا پورا اندازہ ہو جاتا ہے۔ مثلاً البدایہ جلد ۸ صفحہ ۵۵ پر ایک روایت ہے۔
" اگر ہمارے سفہاء ہم پر غالب نہ ہو جاتے تو قتل حجر کے معاملے میں میرا معاویہ کے ساتھ طرز عمل اور ہی ہوتا۔‘ "طبری نے ایک دوسرا قول حضرت عائشہ کا یوں نقل کیا ہے:
" اگر ایسا نہ ہوتا کہ حالات کے بدلنے میں ہماری سعی کا نتیجہ موجودہ صورت سے خراب تر نکلتا، تو ہم حج کو قتل نہ ہونے دیتے۔“
١- أسد الغابہ کے الفاظ میں ولما قدم معاوية المدينة دخل على عائشة فكان اول ماقالت له في قتل حجر في كلام طويل.
حضرت عائشہؓ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے جس شدید صدمہ وقلق کا اظہار کیا تھا، اس کی اہمیت کم کرنے کے لیے عثمانی صاحب فرماتےہیں کہ ”مولانا مودودی نےخراسان کے گورنر ربیع کےمجمل قول کا حوالہ دیا ہےجو کوفہ اور شام سےسینکڑوں میل دور بیٹھے ہوئے تھے۔حالانکہ سینکڑوں میل دور اگر حضرت حجر کے قتل کی خبر پہنچ سکتی تھی تو اس "زبر دست جنگ اور بغاوت کی خبر کیوں نہیں پہنچ سکتی تھی جسےحضرت حجر کے سر منڈھنےکی کوشش کی گئی ہے۔اگر فی الواقع کوئی بغاوت یا لڑائی حضرت حجر اوران کےساتھیوں نےبرپا کی ہوتی تو لڑائی کی خبریں بھی اسی طرح دُور دُور تک پھیلتیں جس طرح قتل کی خبر پھیلی اور ربیع حارثی افسوس کے بجائےاطمینان ظاہر کرتے کہ بغاوت فرو ہو گئی اور باغی کیفر کردار تک پہنچ گئے۔ اس معاملے میں مولانا عثمانی صاحب نےجس طرح حضرت عائشہ کے موقف کو غلط رنگ میں پیش کرنے اور گورنر خراسان کے قول کو مجمل کہہ کر اسے نا قابل اعتناء ثابت کرنےکی کوشش کی ہے،ایک طرف اس کو دیکھئےاور دوسری طرف انکے محبوب مؤرخ ابنِ خلدون کا یہ بیان ملاحظہ کیجئے کہ:
" حضرت عائشہ نے امیر معاویہ کے پاس عبد الرحمن کو حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کے حق میں سفارشی بنا کر بھیجا اور حضرت حجر کے قتل پر غمگین ہوئیں اور ان کی تعریف کیا کرتی تھیں ۔“
اب یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر یہ لوگ فی الواقع جرم بغاوت کے مرتکب تھےتو حضرت عائشہ نے ان کے لیےشفاعت اور اظہار افسوس کو کیسےجائز سمجھا اور ان کےحق میں قتل کے بعد ثنائیہ کلمات کیسےکہا کرتی تھیں جبکہ ان باغیوں نےنہ اقرار جرم کیانہ اظہار تو به و ندامت کیا؟ آخران کےجرم کی حقیقت کبھی تو ام المومنین پر منکشف ہونی چاہیےتھی۔ قتل کے کچھ عرصہ بعد جب امیر معاویہ کی اپنی ملاقات حضرت عائشہؓ سےہوئی ہےاسوقت بھی حضرت عائشہ نےباز پرس اور فہمائش ہی کا انداز اختیار کیا ہےاور امیر معاویہ نے جواب میں معذرت خواہانہ الفاظ میں کہا ہے کہ میں کیا کرتا، زیاد ان کے قتل پر مصر تھا۔ یہ نہیں کہا کہ یہ لوگ باغی تھے،اس لیےان کا قتل روا تھا اور آپ محض ناواقفیت کی بنا پر ان کی حمایت کر رہی ہیں۔بیان کیا ہے:
فلما بلغ الربيع بن زیاد بخراسان قتل حجر سخط ذالک وقال لا تزال العرب تقتل بعده صبرًا ولو أنكر واقتله منعوا أنفسهم من ذلك لكنهم أقروا فذلوا . ثم دعا بعد صلوة جمعة لأيام من خبره وقال للناس اني قد مللت الحيوة وانى داع فأمنوا ثم رفع يديه وقال اللهم ان كان لي عندك خير فاقبضني الیک عاجلا وامن النّاسُ ثم خرج فما تواترت ثيابه حتى سقط فحمل الى بيته ومات من يومه. ( تاریخ ابن خلدون ، جلد ۳ ص ۱۴)
” جب ربیع بن زیاد کو خراسان میں جڑ کے قتل کی خبر پہنچی تو وہ اس پر سخت ناراض ہوئے اور کہنےلگے آج کے بعد عرب اسی طرح بے گناہ باندھ باندھ کر قتل کیے جاتے رہیں گے۔ اگر وہ اس قتل پر احتجاج کرتے تو وہ اس انجام سے اپنے آپ کو بچا لیتے لیکن انہوں نے اس قتل کو انگیز کر لیا اس لیےوہ ذلیل ہو گئے۔پھر اس خبر کے چند روز بعد انہوں نےجمعہ کےبعد دعا شروع کی اور لوگوں سےکہا کہ میں اب زندگی سےاکتا گیا ہوں اور میں دعا مانگنےلگا ہوں، پس اس پر آمین کہو۔ پھر انہوں نےہاتھ اٹھائے اور کہنےلگے "اے اللہ اگر میرے لیے تیرے پاس خیر ہےتو مجھےاپنےہاں جلدی بلا لے ۔ لوگوں نے آمین کہی، پھر وہ مسجد سے نکلے اور اپنے کپڑے بھی سنھالنے نہیں پائے تھے کہ گر پڑے۔ پھر انہیں اٹھا کر گھر تک لے گئے اور اسی دن ان کی وفات ہوگئی ۔“
مولانا مودودی نےجس بات کو اجمالاً بیان کیا تھا،یہ ہےکہ اسکی تفصیل بلکہ منہ بولتی ہوئی تصویر_١ با اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر کے متعلق بھی مولانا نے لکھا تھا کہ انہیں بھی یہ خبر سن کر سخت رنج ہوا۔ اس پر مولا نا عثمانی نے کوئی تبصرہ نہیں فرمایا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ حوالہ بھی مجمل ہونے کی بنا پران کے نزدیک لائق توجہ نہ ہو۔لیکن واقعہ یہ ہےکہ حضرت ابن عمرؓ کا شدید الم انگیز رد عمل متعدد کتابوں میں منقول ہے۔صاحب استیعاب فرماتے ہیں:
١- تھوڑے بہت لفظی اختلاف کے ساتھ یہی تفصیل اس واقعہ کی تاریخ طبری جلد ۴ صفحہ ۲۱۷ پر مذکور ہے۔
"حضرت ابن عمر بازار میں تھے کہ انہیں حجر کی موت کی خبر دی گئی۔ پس آپ نے اپنی چادر ڈھیلی کی ، اٹھ کھڑے ہوئے اور بے اختیار روتے ہوئے آپ کی چیخ نکل گئی۔“
"حضرت ابن عمر حضرت حجر کی خیر خبر معلوم کرتے رہتے تھے۔ پھر انہیں ان کے قتل کی اطلاع ملی جب کہ وہ بازار میں تھے۔ پس انہوں نے اپنی چادر کھولی اور روتے ہوئے بازار سے لوٹ آئے ۔“
مولانا مودودی نےاس ضمن میں حضرت حسن بصری کا ایک قول بھی نقل کیا ہےجس میں انہوں نے قتل حجر کی مذمت کی ہے۔مولانا عثمانی صاحب فرماتےہیں کہ اس مقولےکے آخری جملے کو مولانا مودودی نے نقل نہیں کیا،ورنہ اس سےاس کا سارا بھرم کھل جاتا ہےاور وہ جمله یه ہےويلا له من حجر و اصحاب حجر.........اسکا ترجمہ عثمانی صاحب نےکیا ہے” حجر اور ان کےساتھیوں کی وجہ سےمعاویہ پر درد ناک عذاب ہو۔یہ غلط ترجمه کرنے کے بعد فرماتےہیں۔یہ الفاظ لکھتےوقت ہمارا قلم بھی لرز رہا تھا،مگر ہم نےیہ اسلیےنقل کر دیئےہیں کہ ان ہی جملوں سےاس روایت کی حقیت بھی واضح ہو جاتی ہےکیا حضرت حسن بصری سےکسی درجہ میں بھی توقع کی جا سکتی ہےکہ انہوں نےاس بے دردی اور بے باکی کے ساتھ حضرت معاویہ کی شان میں یہ الفاظ استعمال کیے ہوں گے؟میں عثمانی صاحب کو اطمینان دلاتا ہوں کہ حضرت حسن بصری جنہوں نےیہ الفاظ استعمال کیےیا طبری اور ابن اثیر وغیرہ جنہوں نےانہیں نقل کیا ہےوہ لغت عرب اور امیر معاویہ کی شان عثمانی صاحب سےزیادہ جانتےتھے۔ویل کےمعنی اصلا دردناک عذاب کےنہیں بلکہ برائی خرابی اور افسوس کےہیں، اگرچہ یہ لفظ عذاب کے لیے بھی مستعمل ہے۔فویل لِلْمُصَلِّينَ .... يَوَيُلَتى أَعَجَزْتُ يَوَيُلَتى وَالِدُ کے قرآنی کلمات میں ویل سےمراد عذاب نہیں بلکہ خرابی ہے۔قرآن مجید کےدوسرےمقامات پر بھی شاہ عبدالقادر صاحب اور دوسرےمترجمین نے ویل کا ترجمہ بالعموم خرابی یا اسی مفہوم کے دوسرے الفاظ میں کیا ہے۔ امام راغب فرماتے ہیں:
١- یہی الفاظ اُسد الغابہ میں حجرہ کے حالات بیان کرتے ہوئے نقل کیے گئے ہیں۔
" ویل کےمعنی برائی اور قباحت کے ہیں اور بعض اوقات یہ کلمہ حسرت کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور جس نے ویل کا مطلب جہنم کی وادی بیان کیا ہے، اس کی مراد یہ نہیں ہے کہ لغت میں یہ لفظ ان معنوں کا حامل ہے۔“
"ویل کے معنی برائی پیش آنے کے ہیں اور ہ ساتھ آئے تو فضیحت مراد ہے یا پھر اس کا مطلب مصیبت ہے۔“
متعدد احادیث میں بھی ودیل کا لفظ خرابی کے معنوں میں آیا ہے، مثلاً
اب یہ مدیر البلاغ کی انصاف پسندی کا کمال سمجھا جائے یا ان کی زبان دانی کا کرشمہ خیال کیا جائے کہ وہ لفظ ویل کے بنیادی لغوی مفہوم کو چھوڑ کر حضرت حسن کے قول کو خواہ مخواہ وحشتناک معانی پہنا رہے ہیں، پھر اس پر استدلال کی عمارت اٹھا رہے ہیں اور اپنے قلم کو بلا وجہ لرزش میں مبتلا کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی مدیر البلاغ نےپھر وہی اعتراض دہرا دیا ہےکہ یہ روایت بھی ابو مخنف کی ہے اور یہ حسن بصری پر بہتان وافترا ہے۔ ابو مخنف شیعہ، حجر بن عدی کا حامی اور حضرت معاویہؓ کا دشمن ہے مجھے ابومخنف کی وکالت کرنے کی حاجت نہیں ہے۔ میں پہلے واضح کر چکا ہوں کہ جن روایات کی بنا پر ابو مخنف کی یہ تواضع ہو رہی ہے، ان سےشدید تر روایات ثقہ راویوں کی صحاح میں موجود ہیں۔خوداسی ویلا له من حجر .....والی روایت ہی کو لے لیجئےاستیعاب صفحہ ۳۵۷ ہی پر مسند احمد کی ایک روایت موجود ہے جس کی سند میں ابو مخنف کا نام نہیں۔ اس میں حضرت حسنؓ سےمروی ہے کہ انہوں نےامیر معاویہ کا ذکر کیا کہ انہوں نے حضرت حجر کو قتل کیا اور پھر فرمایا:
"افسوس ہے یا خرابی ہے اس کے لیے جس نے حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا۔صاحب اُسدالغابہ نے حضرت حجر کے حالات بیان کرتے ہوئے حضرت حسن کے متعلق لکھا ہے:
اور محمد بن سیرین کا یہ قول بھی اسد الغابه میں درج ہےکہ جب ان سےان دو نفل رکعتوں کےبارے میں پوچھا جاتا تھا جو قتل کے وقت مقتول پڑھتا ہےتو فرماتے تھے کہ حضرت خبیب اور حجر نےانہیں پڑھا تھا ارو وہ دونوں صاحب فضل تھے (وهمــا فـاضـلان ) امام حسین کے متعلق البدایه جلد ۸، صفحہ ۵۳ پر ایک روایت درج ہے کہ انہیں جب حضرت حجڑ کےقتل کی اطلاع ملی تو آپ نےپوچھا کہ کیا ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی ہے اور کیا انہیں بیڑیوں اور بندشوں ہی میں دفن کر دیا گیا ہے؟جواب ملا کہ ہاں۔“ حضرت حسین نے فرمایا کہ خدا کی قسم، ان کی حجت قاتلین پر قائم ہوگئی (حجهم والله )۔حضرت حسین کا مد عالیہ تھا کہ ان کا جنازہ پڑھنا ہی ثابت کر رہا ہے کہ یہ باغی یا مرتد نہیں تھے، مسلمان تھے اور معصوم الدم تھے۔ ایک طرف اکابر امت کے یہ اقوال دیکھیے اور دوسری طرف عثمانی صاحب کی یہ جسارت ملاحظہ کیجئے کہ وہ حضرت حجر کے فضل اور زہد و تقویٰ کو خوارج کی عبادت گزاری سےتشبیہ دےرہےہیں جسکی مذمت حدیث میں وارد ہےاس پر ادعا یہ ہےکہ یہ حضرات خود تو بزرگوں کی تعظیم کرنے والے ہیں اور دوسرے ان کی توہین کرتے ہیں۔
ابومخنف کا ذکر آ گیا ہے تو اس دلچسپ حقیقت کا ذکر بھی مناسب ہے کہ حضرت حجر بن عدی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ مرتب کرتے ہوئے عثمانی صاحب نے ابو مخنف ہی کی روایات پر انحصار کیا ہے۔ اگر چہ اس راوی کا نام شاذ و نادر ہی لیا گیا ہے، البتہ آخر میں جا کر مولا نا عثمانی صاحب نے بطور پیش بندی یہ لکھ دیا ہے کہ ہم پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ ہم نے بیشتر روایات ابو مخنف ہی کی لی ہیں، لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ ابو مخنف شیعہ اور حجر کا حامی ہے، لہذا اصول کا تقاضا ہے کہ ان روایات کو قبول کیا جائے جو حج کے خلاف جاتی ہیں کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حجر کی بغاوت کے واقعات اس قدر نا قابل انکار تھے کہ ابو مخنف ان کا پر زور حامی ہونے کے باوجود ان کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوا۔ اپنی اپنی پسند اور اپنا خیال ہے۔ میرا خیال تو یہ ہے کہ ابو مخنف کی روایات کا جوانبار مولانا عثمانی صاحب نے ہیں صفحات میں لگایا ہے، اس سے تو جرم بغاوت کے اثبات میں ذرہ برابر مددنہیں مل سکتی اور اس نقطۂ نظر سے ان پر لا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِی مِنْ جُوعٍ کا اطلاق ہوتا ہے۔آخر آپ ابو مخنف کی روایات کو قبول کرنے میں اتنا تکلف کیوں برت رہے ہیں اور اصول اور ان کے تقاضوں کی آڑ کیوں لے رہے ہیں؟ آپ سیدھی طرح اس بات کو کیوں تسلیم نہیں فرمالیتے کہ تاریخی مباحث میں مجروح راویوں کی روایات پر انحصار کیے بغیر چارہ نہیں۔ ” خلافت و ملوکیت" یا کسی دوسری تاریخی روایات کی حامل کتاب کے راویوں پر کتب رجال کی مدد سے تنقید کر لینا تو بہت آسان ہے لیکن مثبت انداز میں کسی تاریخی موضوع پر کلام کرتے ہوئے یا تاریخی واقعات کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اس امر کا اہتمام قطعاً محال ہے کہ بیچ میں کسی ضعیف یا متکلم فیہ راوی کی روایت نہ آئے پائے۔
آپ کہتےہیں کہ ابو مخنف حضرت حجر" کا حامی ہےمیں آپ سےپوچھتا ہوں کہ آپ براہ کرم اصحاب سلف میں سےچند ایسےحضرات کےنام گنوادیں جو حضرت حجر کےحامی نہیں بلکہ ان کےدشمن ہیں۔میرے علم میں کوئی مؤرخ، محدث یا فقیہ ایسا نہیں ہے جس نےحضرت حجر کو آپ کی طرح باغی اور گردن زدنی اور مثل خوارج قرار دیا ہو۔سب نےمجرد واقعہ قتل کو جوں کا توں بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے،حضرت حجرہ کو صاحب فضیلت مستجاب الدوۃ لکھا ہے، اور ان کے حق میں رحمت ورضوان کی دعا کی ہے۔ اس سے زاید کسی نے کچھ لکھا ہے تو وہ امیر معاویہ اور زیا دہی کےخلاف جاتا ہے، حج کے خلاف نہیں جاتا۔ اگر میرا خیال غلط ہے اور حضرت حجر کی برات اور اسلام کے قانونِ بغاوت کی تشریح کرتے ہوئے جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ صحیح نہیں ہے تو آپ براہ کرم میری تصحیح فرمادیں۔ نیز ذرا یہ بھی فرما دیں کہ آپ کے والد ماجد نےاپنی کتاب ”شہید کربلا میں شہادت حسین کےسلسلےمیں ابو مخنف کی جو روایات نقل کی ہیں،وہ حضرت حسین کےحامی کی حیثیت سےلی گئی ہیں یا مخالف کی حیثیت سے؟ اور ابومخنف یزید کا حامی تھا یا دشمن؟ اصول کا تقاضا تو یہ بھی ہے کہ واقعہ کربلا میں اس کی روایات نہ لی جائیں۔
حضرت حجر بن عدی کی صحابیت و فضیلت کےمتعلق اگر چہ متعدد اقوال میں پہلےنقل کر چکا ہوں،مگر خاتمہ بحث کے طور پر میں چند مزید اقتباسات بھی نقل کر دینا چاہتا ہوں تا کہ عثمانی صاحب کے اس الزام کی حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے کہ مولانا مودودی نے ایک باغی ، گردن زدنی اور شورش پسند تابعی کو ایک حق پرست اور عظیم المرتبت صحابی کے طور پر پیش کر دیا ہے۔
امام ذہبی اپنی تصنیف العمر في خبر من عمر ، الجزء الاول ، مطبعه حکومتۃ الکویت ص ۵۷ پر را۵ کے حوادث کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اسی سال حجر بن عدی اور ان کے رفقاء معاویہ کےحکم سےعذراء کےمقام پر قتل ہوئے۔حجر صحابی ہیں جو ایک وفد میں آنحضور کے پاس حاضر ہوئے۔آپ ایک عبادت گزار بزرگ تھےجنہوں نےجہاد میں بھی شرکت کی ۔“
استاد عبدالوهاب النجار جنہوں نے تاریخ الکامل لابن اثیر، ادارة المنیر یہ ۱۳۵۶ھ کے مطبوعہ نسخہ کی تصیح و تہذیب کی ہے، وہ اس کتاب کی جلد ثالث ص ۲۴۱ پرحاشیه میں فرماتے ہیں:
”حضرت حجر اور ان کے ساتھی جو سیاسی اغراض کے باعث قتل ہوئے ، وہ اپنے قول وعمل میں امیر معاویہ کی بہ نسبت زیادہ بر سر حق تھے۔ وہ اپنے دین کے معاملے میں مداہنت کے بجائےصراحت سے کام لیتے تھے جس پر انکا خون بهایا گیا۔“
مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی، سیر الصحابہ جلد هفتم طبع دوم (ص ۴۴ تا ص ۴۸) میں لکھتے ہیں :
"حضرت حجر بن عدی، اغلب یہ ہے کہ ٩ھ میں اسلام سےمشرف ہوئے کیونکہ اسی سنہ میں کندہ کا وفد مدینہ آیا تھا۔اس میں حجر بھی تھے - - - امیر معاویہ نےجب زیاد کو عراق کا والی بنایا تو اسکی تندخوئی اور بداخلاقی کی وجہ سے اس میں اور حجر میں مخالفت شروع ہو گئی۔ ایک دن زیاد جامع کوفہ میں تقریر کر رہا تھا۔ نماز کا وقت آخر ہو رہا تھا۔ حجر اور ان کے ساتھیوں نے زیاد کو متنبہ کرنے کے لیے اس پر کنکریاں پھینکیں۔ زیاد نے بڑی حاشیہ آرائی کے ساتھ بڑھا چڑھا کر ان کی شکایت لکھ بھیجی_١ کہ یہ لوگ عنقریب ایسا رخنہ ڈالیں گے کہ اس میں پیوند نہ لگ سکےگا... امیر معاویہؓ نےچھ آدمیوں کو رہا کر دیا اور چھ کو جن میں ایک حجر تھے قتل کا حکم دیا۔ وصیت :غیرہ کے بعد جلاد نے وار کیا اور ایک کشتۂ رستم خاک و خون میں تڑپنے لگا۔ حجر کا قتل معمولی واقعہ نہ تھا۔ اپنے خاندانی اعزاز اور حضرت علی کی حمایت کی وجہ سے وہ کوفہ میں بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ معززین کوفہ حضرت حسنؓ کے پاس فریاد لےکر پہنچے۔آپ بے حد متاثر ہوئےلیکن امیر معاویہ کی بیعت کر چکے تھے اس لیے مجبور تھے ۔“
١- زیاد کی رہی سہی کسر مولا نا محمد تقی عثمانی صاحب نے پوری کر دی ہے۔
اہل بیت نبوی میں بھی جڑ کی بڑی وقعت تھی۔چنانچہ حضرت عائشہ نےجس وقت انکی گرفتاری کی خبر سنی ، اسی وقت انہوں نے عبدالرحمن بن حارث کو امیر معاویہ کے پاس دوڑایا کہ وہ حجر اور ان کے رفقاء کے معاملے میں خدا کا خوف کریں۔ لیکن یہ اس وقت پہنچےجب حجر قتل ہو چکےتھے۔پھر بھی انہوں نےامیر معاویہ کو بڑی ملامت کی۔ حضرت عبداللہ بن عمر کو خبر ملی تو زار زار رونے لگے۔ خود امیر معاویہ کے آدمیوں نے اس قتل کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا۔ چنانچہ ربیع بن زیاد حارثی گورنر خراسان نے سنا تو اس درجہ متاثر ہوئے کہ دعا کی کہ خدایا! اگر تیرےیہاں ربیع کے لیے بھلائی ہو تو اسےجلد بلا لے۔معلوم نہیں یہ دعا کس دل سےنکلی تھی کہ سیدھی باب اجابت پر پہنچی۔ حضرت عائشہ کو بڑا صدمہ تھا۔ چنانچہ اسی سال جب امیر معاویہ حج کو گئے اور زیارت کےلیے مدینہ حاضر ہوئے اور حضرت عائشہ کی خدمت میں گئے تو انہوں نے فرمایا ” تم کو حجر اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے بارے میں خدا کا خوف نہیں معلوم ہوا؟ جہڑا اپنے خاندانی اعزاز ومرتبہ کے علاوہ صحابہ کرام کی جماعت میں بھی ممتاز اور بلند پایہ شخصیت رکھتے تھے۔علامہ ابن عبدالبر لکھتے ہیں کہ حجر" فضلائے صحابہ میں تھے اور اپنی صغرسنی کے باوجود بڑوں میں شمار ہوتے تھے۔ مشہور تابعی محمد بن سیرین سےجب قتل سے پہلے کی نفل پڑھنے کے بارے میں پوچھا جاتا تھا تو کہتے یہ دو رکعتیں خبیب اور حجر نے پڑھی ہیں اور یہ دونوں فاضل تھے۔“
یہی مؤرخ اپنی دوسری کتاب تاریخ اسلام حصہ دوم طبع پنجم ص ۱۳۰ میں لکھتے ہیں:
"امیر معاویہؓ نے اپنے زمانہ میں برسر منبر حضرت علی پر سب و شتم کی مذموم رسم جاری کی تھی،اور ان کے تمام عمال اس رسم کو ادا کرتے تھے۔ مغیرہ بن شعبہ بڑی خوبیوں کے بزرگ تھے لیکن امیر معاویہ کی تقلید میں یہ بھی اس مذموم بدعت سے بچ نہ سکے۔حجر بن عدی اور ان کی جماعت کو قدرةً اس سے تکلیف پہنچی تھی۔ اس کےجواب میں وہ بھی مغیرہ اور امیر معاویہ کو برا بھلا کہہ کر اپنےدل کی بھڑاس نکال لیتےتھے۔زیاد کے زمانے میں بھی یہ رسم جاری رہی اور اسی کے ساتھ حجر کا جوابی طرز عمل بھی قائم رہا- - - - حضرت حجر بن عدی بڑے رتبےکےصحابی تھے،اس لیے ان کے قتل کا اثر بہت برا پڑا۔“
مولانا مناظر احسن صاحب گیلانی جو فضلائےدیوبند میں سے ہیں،” تدوین حدیث"‘ص ۴۲۳ پر حضرت حجر بن عدی کا بحیثیت صحابی ذکر کرتے ہوئے ان کی شہادت کا واقعہ بیان کرتے ہیں جس کے آخر میں فرماتے ہیں:
"حضرت حجر بن عدی کی جلالت شان کا اندازہ اسی سے کیجئے کہ کوفہ سے شام گرفتار کر کےبھیجے گئے اور یہ خبر مدینہ پہنچی تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما نے اسی وقت امیر معاویہ کے پاس قاصد دوڑایا کہ حجر کو ہر گز قتل نہ کرنا لیکن قاصد اس وقت پہنچا جب وہ شہید ہو چکے تھے۔“
مولانا قاضی زین العابدین میرٹھی نے بھی تاریخ ملت، جلد سوم (ص۲۲ تا ۲۶) پر حضرت حجر بن عدی کے قتل کو افسوسناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کم و بیش وہی تفصیلات بیان کی ہیں جو پہلے گزر چکی ہیں۔
مولانا سید سلیمان ندوی اپنی تصنیف ”سیرت عائشہ ص ۱۵۰ ۱۵۱، طبع چہارم میں تحریر فرماتے ہیں:
"حجر بن عدی ایک صحابی علی کےبڑے طرفدار اور کوفہ میں علوی فرقہ کےسرگروہ تھے۔کوفہ کے والی نے کچھ لوگوں کی شہادت پر ان تمام اشخاص کو گرفتار کر کے دمشق بھیج دیا۔حجر یمن کےخاندان کندہ سےتھے۔کوفه عرب کےبڑےبڑےقبائل کا مرکز تھا۔خود کندہ کا قبیلہ یہاں موجود تھا۔لیکن کسی نےحج کی حفاظت کےلیے انگلی تک نہ ہلائی۔تاہم حجر کا صحابہ میں اس وقت نہایت اقتدار تھا۔اس لیےاس واقعہ کو تمام ملک نےناگواری کے ساتھ سنا۔قبائل کےرئیسوں نے ان کےحق میں سفارشیں کیں لیکن قبول نہ ہوئیں۔مدینہ خبر پہنچی تو حضرت حضرت عائشہ نے اپنی طرف سے ایک قاصد ان کی سفارش کے لیے روانہ فرمایا۔ لیکن افسوس کہ قاصد پہنچنے سے پہلے حجر کا کام تمام ہو چکا تھا۔ اس وقت جب امیر معاویہ ملنے آئے ، تو حضرت عائشہ نے سب سے پہلے جو گفتگو ان سےکی وہ تھی۔ اس وقت جب امیر معاویہ ملنے آئے ، تو حضرت عائشہ نے سب سےپہلےجو گفتگو ان سے کی وہ معاویہ نے جواب دیا اس میں میرا قصور نہیں، قصور ان کا ہے جنہوں نے گواہی دی۔‘“ دوسری روایت میں ہےکہ امیر معاویہ نےکہا، یا ام المؤمنین! کوئی صاحب الرائےمیرے پاس موجود نہ تھا۔ مسروق تابعی راوی ہیں کہ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں کہ خدا کی قسم ، اگر معاویہ کو معلوم ہوتا کہ اہل کوفہ میں کچھ بھی جرات اور خود داری باقی ہےتو کبھی وہ فجر کو ان کےسامنے پکڑوا کر شام میں قتل نہ کرتے۔لیکن اس جگہ خوارہ ہند کے بیٹے نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ اب لوگ اٹھ گئے ، خدا کی قسم کو فہ شجاعت و خود داری والے عرب رئیسوں کا مسکن تھا۔ لبید نے سچ کہا ہے:
"وہ لوگ چلےگئےجن کےسایہ میں زندگی بسر کی جاتی ہے۔اب ایسےاخلاف کےدرمیان رہ گیا ہوں جو خارشی اونٹ کی طرح ہیں۔نہ وہ نفع پہنچاتےہیں،نہ ان سے بھلائی کی امید ہے۔ان سےباتیں کرنےوالوں کی عیب گیری کی جاتی ہے۔"
متقدمین و متاخرین علماء کی ان سب تحریروں کی موجودگی میں تو مولانا مودودی کے معترضین کو صحابہ کرام کی مدافعت و عدالت کےلیےقلم اٹھانےکی ضرورت محسوس نہیں ہوئی لیکن ”خلافت و ملوکیت" کےخلاف جب دوسرے حضرات اپنا اپنا زور دکھا چکے،تو مولانا محمد تقی صاحب عثمانی پوری متقیانہ شان کے ساتھ میدان میں آگئے اور ان کے مضامین ہندو پاکستان کے متعدد جرائد میں تقریظات کے ساتھ نقل ہونے لگے۔ جب بعض لوگوں نے توجہ دلائی کہ یہ باتیں تو قریب کے دور میں اسی دیار کے علماء اپنی اردو تصانیف میں زیادہ سخت و درشت انداز میں لکھ چکے ہیں تو جواب میں کبھی فرمایا گیا کہ ہاں لکھی ہوں گی اگر ہم نے انہیں نہیں پڑھاتھا بھی کہا کہ ان سے فتنہ نہیں پھیلا،لیکن مولانا مودودی کی تحریر سے فتنہ پھیلا، بھی ارشاد ہوا کہ دوسروں کی غلط بات سے ان کا جرم ہلکا نہیں ہو جاتا۔ میں پوچھتا ہوں کہ دارالمصنفین اور خود آپ کے بھائی کے دارالاشاعت کی مطبوعات جو مدت دراز سے ہندو پاکستان میں ہزارہا کی تعداد میں چھپ کر پھیل رہی ، ہیں اور جن کے کئی کئی ایڈیشن نکل چکے ہیں، انہیں چھ ؛ کر آخر مولانا مودودی ہی کی کتاب کے مطالعہ کی زحمت آپ نےکیوں گوارا کی؟ آخر کس قاعدے اور منطق کی رو سے وہی بات ایک شخص کہے تو فتنہ ہے اور دوسرےکہیں تو فتنہ نہیں، نہ محتاج تنقید و تردید ہے؟ کیا یہ انوکھا واقعہ ایک سے زاید مر: بہ رونما نہیں ہو چکا کہ دیوبند کے فضلاء اور ارباب افتاء کے سامنے اپنے اکابر ہی کی بعض تحریرات پیش کی گئیں اور انہوں نے ان عبارتوں کو مولانا مودودی کے قلم سےنکلا ہوا سمجھا اور بلا تامل فتوائےتکفیر رسید کر دیا۔ بعد میں حقیقت حال منکشف ہونے پر مضحکہ خیز طریقوں سےاپنی حرکت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔علمائے ندوہ اگر حضرت حجر کو کشتہ ستم قرار دیں،نیز یہ کھیں کہ امیر معاویہ نے اپنےزمانےمیں برسر منبر حضرت علی پر سب و شتم کی مذموم رسم جاری کی تھی اور ان کے تمام عمال اس رسم کو ادا کرتے تھے اور مولانا تھانوی یہ نقل فرمائیں کہ حضرت معاویہ کے یہاں حضرت کی پر تبرا ہوتا تھا اور روافض حضرت معاویہ کے مقلد ہیں تو ان حضرات کی طرف رخ کر کے تو کچھ بھی نہ کہا جائےاور ان سے اغماض برتتےہوئےصرف مولانا مودودی ہی کو اللہ سے پناہ مانگنے کی تلقین اور توبہ استغفار کی نصیحت کی جائے، تو پھر اس صورتِ حال میں مولانا مودودی کے بارے میں سوائے اس کے اور کیا کہوں کہ
مولانا مودودی نے چند سطروں میں یا ایک آدھ صفحے میں جو کچھ حضرت امیر معاویہ کے متعلق ایک ضمنی تاریخی بحث کے دوران میں لکھ دیا ہے، اس پر مولانا عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ امیر معاویہ کی قبر کو نور سےبھر دےان کےلیےبلندی درجات کے کیسے کیسے سامان ہورہے ہیں۔میں عرض کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت معاویہ اور حضرت حجر بن عدی دونوں کی قبروں کو نور سے لبریز کر دے۔ حضرت حجرا اپنے فضائل و مناقب اور خدمات اسلام کے لحاظ سے حضرت معاویہ سے فروتر نہ تھے۔ انہوں نے عہد صدیقی و فاروقی میں کفار کے خلاف جہاد بالسیف کیا اور حضرت علی کےدست و باز و بنے رہے۔ کیا ان کو مباح الدم اور لائق قتل قرار دینے والے توبہ وندامت کے سزاوار وحاجت مند نہیں ہیں؟
توبہ فرما یاں چرا خود توبه کمتر می کنند
میں نےحضرت حجر بن عدی کےقتل پر نہایت تفصیل سےبحث کر دی تھی اور میرا گمان یہ تھا کہ جناب محمد تقی صاحب عثمانی اس مسئلےکو مزید نہیں چھیڑیں گےمگر میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا ہوں کہ انہوں نےپھر زور و شور کے ساتھ حضرت حجر کو باغی اور واجب القتل ثابت کرنے کی سعی کی ہے۔لکھتے ہیں کہ ان کی ایک بھاری اور طاقتور جمعیت تھی جسے قابو میں لانے کے لیے زیاد جیسےگورنر کو بڑی مشقت و محنت اٹھانی پڑی۔ اس دعوے کی تائید میں کچھ دلائل پیش کیے ہیں۔ اگر میں پہلےہی سیر حاصل بحث نہ کر چکا ہوتا تو میں ان کےتائیدی دلائل میں سےایک ایک کا مُسکت جواب دوبارہ دیتا۔تا ہم اختصار کے ساتھ میں ان میں سے چند ایک کا جائزہ لیتا ہوں۔ عثمانی صاحب کا کہنا ہے کہ حضرت حجر کے ساتھ کوفے کے تین ہزار افراد تھے جن کے بل پر انہوں نے حضرت حسینؓ کو حضرت معاویہ کےخلاف اٹھنےپر آمادہ کیا تھا اور زیاد نے حج کےمقابلے کےلیےمختلف قبائل کی ایک پوری فوج تیار کی تھی۔ میں عثمانی صاحب سے صرف یہ پوچھتا ہوں کہ ہزاروں باغیوں اور گردن زدینوں کی اس جمعیت میں سےکتنےآدمی تھے جو حج کے ساتھ زیاد اور اس کی فوج کےبالمقابل لڑے،کتنے قتل ہوئے ، کتنے زخمی ہوئے اور بارہ چودہ کے سوا کتنے تھے جو قید ہوئے اور قید ہونے کے بعد مارے گئے؟ اس طرح کے کوفےمیں ہزاروں ساتھی تو حضرت حسین کے بھی تھےجنہوں نے کئی تھیلے بھرے خطوط لکھ کر آپ کو بلایا تھا۔ طبری اور دوسرے سب مؤرخین بتاتے ہیں کہ ان خطوط لکھنے والوں میں سے بارہ ہزار مسلح افراد تو ایسے تھے جنہوں نےحضرت مسلم بن عقیل کےہاتھ پر باقاعدہ حضرت حسینؓ کےحق میں بیعت بھی کی تھی۔اگر اس طرح کی زبانی جمع خرچ سےبغاوت کا الزام پایہ ثبوت کو پہنچ سکتا ہےتو یہ سارےکوفےوالےباغی اور سزاوار قتل ٹھہرے۔ پھر تو یزید نے بڑا کرم کیا کہ صرف مسلم بن عقیل اور خانوادہ حسین کو قتل کرایا،بقیۃ السیف کی جاں بخشی کر دی اور عثمانی صاحب کے اسی اصول پر عمل کیا کہ ہر باغی اگر چہ لائق قتل ہے مگر بعض کو زندہ قید میں رکھ کر طاعون کا شکار بنایا جاسکتا ہے یا بدرجہ آخر چھوڑا بھی جاسکتا ہے۔
عثمانی صاحب یہ بھی فرماتےہیں کہ زیاد کو خط لکھا گیا تھا کہ اگر تم کوفہ کو بچانےکی ضرورت سمجھتےہو تو جلد آ جاؤ ۔عثمانی صاحب کو معلوم ہونا چاہیےکہ ایسےخطوط حضرت مسلم ابن عقیل کےکونےپہنچنےپر عبداللہ بن زیاد کو بھی لکھے گئے تھے مگر کیا ان سے حضرت مسلم یا دوسرے کسی شخص کی بغاوت ثابت ہو سکتی ہے؟ اس کے برعکس حال تو یہ تھا کہ جب ابن زیاد نے مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروه کے سر قلم کیے اور یزید کو روانہ کیے، تو کوفے والوں نے چوں تک نہ کی۔یہی جال حضرت حجر کی گرفتاری کا تھا۔ یہ کوفے کو بچانے والی بات جو زیاد کو کھی گئی تھی، اس کے لیے عثمانی صاحب نےاپنی کتاب کے ص ۶۶ اور ص ۱۹۵ پر طبقات ابن سعد جلد ۸، جز ۲۲ ، دار صادر، بیروت کا حوالہ دیا ہےحالانکہ یہ واقعہ طبقات کےاس ایڈیشن کی جلد ۶ ، جزء۲۱ کے ص ۲۱۷۔۲۱۸ پر درج ہے۔ یہاں یہ ذکر کر دینا مناسب ہے کہ ابن سعد نے حضرت حجر کے حالات بیان کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ لکھا ہے کہ انہوں نے جاہلیت کے بعد اسلام کا دور پایا اور وہ اپنے بھائی حضرت ہانی بن عدی کےساتھ بصورت و فد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لائے تھے۔ یہ حضرت بجڑ کے صحابی ہونے کا مزید ثبوت ہے جس سے عثمانی صاحب کو انکار ہے۔ اس کے بعد ابن سعد نے تقریباً وہی واقعات بیان کیے ہیں جوطبری میں مذکور ہیں اور جن پر مفصل تبصرہ میں پہلے کر چکا ہوں۔ حضرت حجر کے جن ہزاروں ساتھیوں سے کوفہ کو خطرہ لاحق تھا ان کے سلسلہ میں محد تقی صاحب نے البدایه جلد ۸، ص ۵۳ کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں ان ساتھیوں کی یہ باغیانہ سرگرمی مذکور ہے کہ وہ حجر کے پاس آتے جاتے تھے اور ان کے ساتھ جا کر مسجد میں نماز پڑھتے تھے۔ ممکن ہے زیاد نے دفعہ ۱۴۴ لگا کر ایسی جمعیت کو بھی ناجائز اور غیر قانونی مجمع قرار دے دیا ہو اور جو شخص اس میں شامل ہوا اسے بغاوت کا مجرم ٹھہرا دیا ہو۔ ایک حوالہ عثمانی صاحب نے تاریخ طبری جلدم ، صفحه ۱۹۴ تا ۱۹٫۹ کا دیا ہے۔ اس کی تفصیل کچھ پہلے دی جا چکی ہے۔ مزید یہ ہے کہ ص ۱۹۴ پر یہ درج ہے کہ زیاد نے ہمدان ، تمیم،ہوازن وغیرہ قبائل کے لوگوں سے کہا کہ وہ حجر کو پکڑ لائیں۔ حضرت مجر نے جب اپنے ساتھیوں کی قلت کو دیکھا(فنظر الى قلة من معه من قومه ) تو اپنے رفقاء سے کہا کہ ”تم لوگ یہاں سےچلے جاؤ، خدا کی قسم تمہارے خلاف جو لوگ جمع ہو کر آئے ہیں، ان کا مقابلہ کرنے کی تم میں طاقت نہیں ۔ میں نہیں چاہتا کہ تمہیں ہلاکت میں ڈالوں تو وہ منتشر ہو گئے ۔ تقریباً ایساہی خطاب حضرت حسین نے اپنے ساتھیوں سے کیا تھا۔
میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ زیاد کے عامل کو شہر سےنکال دینے کا واقعہ جو زیاد نے اپنی رپورٹ میں درج کیا تھا، وہ کسی تاریخ میں مجھے نہیں ملا اور حقیقت اس کے برعکس تھی کیونکہ حضرت حجر خود جان بچا کر وہاں سےبھاگ رہے تھے۔عثمانی صاحب اس پر فرماتےہیں کہ ستر صحابہ و تابعین اس پر گواہی دے رہے ہیں اور طبری اسے ذکر کرتے ہیں،تو معلوم نہیں تاریخ کی کتاب میں واقعہ ملنےکا اور مطلب کیا ہے۔ عثمانی صاحب نے میری پوری بات کو سمجھنے کی یا تو کوشش نہیں کی یا جان بوجھ کر پھر مغالطہ دے رہے ہیں۔ محض زیاد کے ایک کاغذ پر لکھ دینے سے یہ واقعہ ثابت نہیں ہوتا کہ فلاں فلاں شخص نے یہ گواہی دی ہے کہ حجر نے عامل کو نکال باہر کیا ہے۔ زیاد تو ایسا دروغ باف تھا کہ اس کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھنے کے باوجود مال غنیمت والی بحث میں عثمانی صاحب بھی کہہ بیٹھےکہ شاید اس نے امیر معاویہ کی طرف سے خود خط گھڑ لیا ہو۔ اس نے حضرت شریح کی طرف سےبالکل جھوٹی گواہی اپنی طرف سےاسی شہادت نامہ درج کر کےامیر معاویہ کو روانہ کر دی جس کی تردید خود شریح نے کی اور لکھا کہ حجر کا خون اور مال حرام ہے پھر لکھ کر اسے امیر معاویہ کے نام ان ہی لوگوں کے ہاتھ روانہ کیا جو زیاد کا تصنیف کردہ جھوٹ کا پلندہ لےجارہے تھے۔آخر کسی دوسرےتاریخی ریکارڈ سے بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ عامل کون تھا جسے شہر سے نکالا گیا، پھر وہ کہاں گیا اور اس کے جبری اخراج کے بعد واپسی ہوئی یا نہیں؟ یہ عامل جس کے نکالے جانے کا ذکر ہو رہا ہے، یہ کوفے کا عامل ہی ہو سکتا تھا۔ کوفے کے عامل اس وقت حضرت عمرو بن حریث تھے اور عثمانی صاحب نے جو گواہی اپنی کتاب کے ص اے پرنقل کی ہےاس میں درج ہے کہ حجر نے امیر المومنین کےگورنر کو نکال باہر کیا ۔ یہ گواہی زیاد نے جن گواہوں کے سر منڈھنے کی کوشش کی ہے، ان میں حضرت عمرو بن حریث کا اپنا نام بھی موجود ہے جو کوفے کے گورنر ہیں۔اب یہ عجیب بات ہےکہ یہی گورنر نکال باہر بھی کیےگئےہیں، پھر وہی کوفےمیں یہ گواہی بھی زیاد کے سامنے دے رہے ہیں کہ گورنر کو حجر نے شہر بدر کر دیا ہے۔ عثمانی صاحب براہِ کرم اس چیستاں کو حل کریں کہ وہ یہی گورنر تھے یا پھر کسی اور شہر کے کوئی دوسرے گورنر تھے اور کیا وجہ ہے کہ یہ گواہی ایسی گول مول ہے کہ اس میں شہر بھی گمنام ہےاور گورنر بھی نامعلوم الاسم ہے، بس اتنا بیان ہے کہ امیر المومنین کے گورنر کو شہر سے نکال باہر کیا ہے۔ زیاد نے گواہی گھڑی بھی تو کیسی گھڑی!
میں نے اپنی سابق و موجودہ بحث سے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ حضرت حجر" پر کسی طرح ”باغی“ کا اطلاق نہیں ہوسکتا میں نےاحادیث نبوی ،آثار صحابہ اور اقوال ائمه نقل کر کےیہ بھی واضح کر دیا ہےکہ کسی مسلمان نےاگر بغاوت کی ہو، تب بھی اگر وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ قتل کا مجرم نہ ہو تو اسے قید کرنے کے بعد قتل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن عثمانی صاحب کو اب بھی اصرار ہے کہ حضرت حجر باغی تھے اور کسی باغی کےبارے میں یہ اندیشہ ہو کہ اگر اسےآزاد کر دیا گیا تو وہ پھر اسلامی حکومت کےخلاف جمعیت بنا کر دوبارہ بغاوت کا مرتکب ہو گا تو اسے قتل کرنے کی اجازت تمام فقہاء نے دی ہے۔ اب میں سلسلہ بحث قطع کرنے کے لیے کہتا ہوں کہ اگر اسی بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ ہر باغی اسیر کو محض ارتکاب بغاوت کے اندیشے کی بنا پر قتل کیا جا سکتا ہےتو پھر حضرت حجر کےساتھ ان کےسارے گرفتار ساتھیوں کو کیوں نہیں قتل کیا گیا؟ حضرت معاویہ نے صرف حضرت حج کے متعلق تو یہ فرمایا کہ یہ پوری قوم کے سردار ہیں، اور انہیں چھوڑ دیا تو خطرہ ہے کہ فساد کریں گےلیکن باقی میں سےنصف تعداد کو قتل کرتےوقت نہ یہ فرمایا کہ ان سے خطرہ ہے، نہ نصف تعداد کو رہا کرتے وقت یہ فرمایا کہ ان سےخطرہ نہیں ہے۔بلکہ انہیں بعض امراء کی سفارش پر چھوڑ دیا گیا۔واقعہ یہ ہےکہ یہ بقیہ قیدی بھی یا تو یکساں طور پر مجرم اور خطرناک تھےیا یکساں بےگناہ اور بےضرر تھے۔ اللہ کی مشیت ہی تھی کہ آدھےاپنےعزیزوں کی سفارش سےرہا ہو گئے اور رہا ہوکر چپکے جا کر بیٹھ رہے۔ نہ وہ کسی باغی جماعت و جمعیت سے جا کر ملے، نہ انہوں نے کوئی فساد برپا کیا۔ باغی جمعیت سرے سےتھی ہی نہیں ، وہ تو عثمانی صاحب کے قلم کی ایجاد ہے،پھر وہ کسی جمعیت سےکیا جا ملتےاور بغاوت کیا کرتے۔ان چند لوگوں کے زندہ رہ جانے اور کوئی شورش نہ بپا کرنے ہی سے اس امر کا ثبوت مزید فراہم ہوگیا کہ ان پر الزام بغاوت صحیح نہ تھا۔
میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ عثمانی صاحب کےنزدیک اگر باغی کا قتل واجب نہیں،صرف جائز ہےتو پھر یہ عدالت کا نہیں بلکہ مشیت کا معاملہ بن کر رہ جاتا ہے۔میرامد عا اس سے یہ تھا، جیسا کہ میں نے ابھی اوپر بیان کیا کہ ایک ہی نوعیت جرم میں ماخوذ مجرمین کے ساتھ دو قسم کا امتیازی سلوک روا نہیں ہو سکتا کہ جسےچاہا قتل کر دیا، جسے چاہا چھوڑ دیا۔ میری بات سمجھے بغیر عثمانی صاحب نے چند حوالے اپنی کتاب کے صفحہ ۲۰۱ پر نقل کیےہیں جن سےوہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ امام کو اختیار ہےکہ جس باغی کو چاہےقتل کرے،جس کو چاہے نہ کرے۔ اول تو مجھے امام کے اس اختیار تمیزی کو تسلیم کرنےمیں شدید تأمل ہے، تاہم میں پھر عرض کرتا ہوں کہ اس لحاظ سےبھی حضرت حجر کے ساتھی سارے کےسارے یا تو لائق قتل تھے یا لائق نجات تھے۔ یہ بات آخر کیسے معلوم و ثابت ہوئی کہ جنہیں قتل کیا گیا، انہی کے قتل سےکسر شوکت، ممکن تھی،انہی سے”خوف شر“ تھا اور وہ کسی جماعت سے جاملتے اور بغاوت کرتے، اور جنہیں معاف کر دیا گیا صرف ان کے بارے میں مذکورہ امور میں سے کوئی امر متوقع نہ تھا۔
میں یہ بات بھی لکھ چکا ہوں کہ کسی محدث،مورخ یا فقیہ کا ایسا قول میری نگاہ سےنہیں گزرا که حضرت حجر باغی اور واجب القتل تھےیہ صراحت نہ مجھےان تاریخی اوراق میں ملی جہاں یہ قصہ بیان ہوا ہےنہ بغاوت،قتال،سیر وغیرہ کی فقہی بحثوں میں کہیں نظر آئی۔ بکثرت علماء نے ابواب البغاۃ وغیرہ میں ، خوارج پر باغی ہونے کا اطلاق کیا ہے، حضرت عثمان کےقاتلین اور حضرت علیؓ کےمحار مین کو بھی بغاۃ میں شمار کیا گیا ہے،لیکن میرےعلم میں محمد تقی صاحب ہی کو پہلی بار جرات ہوئی ہےکہ وہ حضرت حجر کےجواز قتل کافتویٰ دیں۔دوسرے حضرات نےایسی جرات کیوں نہیں کی ، واللہ اعلم ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض ارشادات نبوی ایسے وارد ہیں جن میں تصریح کے ساتھ مرج عذراء میں قتل کے حادثہ پر اظہار نا پسندیدگی کیا گیا ہے۔ یہ ارشادات میرےسامنے شروع بحث ہی سے تھے مگر میں گمان رکھتا تھا کہ شاید ان کی ضرورت پیش نہ آئےاور عثمانی صاحب اپنےموقف پر نظر ثانی کر لیں۔مگر اب میں بادل نخواستہ ان میں سے بعض نقل کر رہا ہوں۔شاید اس سےان لوگوں کو کچھ عبرت حاصل ہو جو خواہ خواہ اس بات پر اڑےہوئے ہیں کہ اگر حضرت حجر کو صحابی مان لیا جائےاور ان کا قتل بھی جائز نہ ہو، تو امیر معاویہ پر حرف آتا ہےاور توہین صحابہ ہوتی ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا بسر بھی وسیع تعریف صحابہ میں شامل نہ تھا، جس کے مظالم تمام علماء نے بیان کیے ہیں؟ کیا عمرو بن الحمق بھی صحابی نہ تھا جس کے متعلق آپ کو بھی تسلیم ہے کہ اس نے خلیفہ راشد حضرت عثمان "پر نیزے کے نووار کیے اور جس سے قصاص لینے کےلیے اس پر بھی ایسے نو وار کرنے کا حکم امیر معاویہ نے دیا تھا۔ اگر ان سارے واقعات کے بیان سے توہین صحابہ نہیں ہوتی،دین کے ستون نہیں ہلتے ، ایمان کامل منہدم نہیں ہوتا، عدالت صحابہ کا عقیدہ مجروح نہیں ہوتا، تو حضرت معاویہ کے معاملےمیں کیا کوئی الگ عقیدہ آپ نےبنارکھا ہے؟ خلیفہ راشد پر قاتلانہ حملہ اور ان کے مظلومانہ قتل سے بڑھ کر بھی کوئی گناہ کبیرہ ہو سکتا ہے، مگر آپ مان رہے ہیں کہ ایک صحابی ہی سے اس کا صدور ہوا۔ یہ واقعہ نہ قرآن میں ہے، نہ حدیث وارشادات نبوی میں ہے۔ پھر آپ محض تاریخی روایات کے بل پر یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ ایک صحابی نے اپنے امیر اور خلیفہ راشد کےمعصوم خون سے اپنے ہاتھ رنگے ؟ اگر آپ اس واقعہ کو مان رہے ہیں تو اس حق بات کو بھی مان لیجئےکہ صحابہ کرام اگرچہ انبیاء کےبعد اشرف الخلائق تھے مگر ان سےبڑے سےبڑا گناہ ہو سکتا ہے اور اسے بیان بھی کیا جا سکتا ہے۔ سارے صحابہ کرام مرتبہ و منزلت اور تقویٰ وصلاح میں باہم مساوی بھی نہ تھے، اگر چہ بحیثیت مجموعی کوئی انسانی گروہ ان سے افضل واصلح نہ تھا۔
اب میں وہ روایات نقل کرتا ہوں جن میں حضرت حجر اور آپ کے رفقاء کے قتل کی مذمت وارد ہے۔ حافظ ابن کثیر نے البدایہ و النهایه کی چھٹی جلد میں ان واقعات، معجزات اور پیش گوئیوں پر مشتمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےارشادات کو جمع کردیا ہےجن کو دلائل نبوت میں شمار کیا جاتا ہےاس جلد کےصفحہ ۲۲۵ پر ایک باب کا عنوان ہے: ما روی فی اخباره عن مقتل حجر بن عدی و اصحابه. اس میں حضرت علیؓ کا ایک قول مروی ہےکہ اے اہل عراق تم میں سے سات آدمی عذراء کے مقام پر قتل ہوں گےجن کے قتل ناحق کی مثال اصحاب الاخدود کی کی ہے۔یہاں ابونعیم کےحوالے سےدرج ہے کہ زیاد بن سمیعہ نےحضرت علیؓ کا ذکر منبر پر کیا تو حجر نےاس پر کنکریاں پھینکیں۔پھر ان کےمرج عذراء میں قتل ہونےکا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔اس کےبعد ابن کثیر نےامام بیہقی کا یہ قول نقل کیا ہے۔
" حضرت علی ایسی بات نہیں کہہ سکتے تھے ، یعنی حج کے بے گناہ قتل کی خبر نہیں دے سکتے تھےسوائے اس کے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو۔“
ابن کثیر مزید لکھتے ہیں کہ جب امیر معاویہؓ حضرت عائشہ کے پاس گئے تو انہوں نے کہا کہ آپ کو اہل عذراء یعنی حجر اور ان کے ساتھیوں کے قتل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ حضرت معاویہؓ نےجواب دیا کہ میری رائے میں ان کے قتل میں امت کی اصلاح تھی اور انہیں چھوڑ دینا موجب فساد تھا۔ حضرت عائشہ کہنے لگیں:
” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ عذراء کے مقام میں کچھ لوگ فقتل ہوں گے جس پر اللہ اور آسمان کے فرشتے ناراض ہوں گے۔“
امام سیوطی نے الخصائص الکبری جلد ثانی صفحہ ۵۰۰ پر ایک باب باندھا ہے:
اس میں وہ یعقوب بن سفیان ، بیہقی اور ابن عسا کر کے حوالے سے حضرت عائشہ اور حضرت معاویہ کی وہی گفتگو نقل کرتےہوئےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد انہی الفاظ میں روایت کرتےہیں جو اد پر درج ہو چکے ہیں۔ اس کےحاشیےمیں کتاب المعارف کے حوالے سے یہ درج ہے کہ حجر رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبدالرحمن ہے اور وفد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ انہوں نے جنگ قادسیہ میں شرکت کی اور حضرت علی کے ساتھ جنگ جمل و صفین میں شامل ہوئے۔ پھر ۵۳ھ میں انہیں حضرت معاویہ نے مرج عذراء کے مقام پر قتل کر دیا ۔
امام ابن حزم کی چند تصانیف کا مجموعہ ” جوامع السیر ہ“ کے نام سےاحمدمحمد شاکر، احسان عباس اور ڈاکٹر ناصر الدین الاسد نے تحقیق و نظر ثانی کے بعد شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک رسالہ "اسماء الخلفاء والولاۃ وذکر مددہم " کےنام سے شامل ہے۔ اس کے صفحہ ۳۵۶ پر امیر معاویہ کےحالات صرف پانچ سطور میں بیان کیے گئے ہیں جن میں ابن حزم لکھتے ہیں۔
وفي ايامه حوصرت القسطنطينيه وقتل حجر بن عدى وأصحابه صبرًا بظاهر دمشق ..... من وهن الإسلام ان يُقتل من رأى النبي صلى الله عليه وسلم من غير ردّة ولا زنى بعد إحصان...... ولعائشة في قتلهم كلام محفوظ .
"حضرت معاویہ کے عہد میں قسطنطنیہ کا محاصرہ ہوا اور حجر بن عدی اور ان کے اصحاب کو باندھ کر دمشق کے مضافات میں قتل کیا گیا۔ اور اسلام میں یہ امر رخنے اور کمزوری کا باعث ہے جس صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو دیکھا ہوا سے ارتداد یا شادی کے بعد زنا کے جرم کے بغیر قتل کیا جائے اور حضرت عائشہ نے ان حضرات کے قتل پر جو کچھ فرمایا تھا وہ تاریخ میں محفوظ ہے۔“
اس کےحاشیےپر حضرت عائشہ کا وہی قول نقل ہےکہ انہوں نےحضرت معاویه سےحضرت حجر اور انکےساتھیوں کےقتل پر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا ہےکہ: يُقتل بعدی اناس يغضب الله لهم واهل السماء.
محدث علی بن حسین ابن عسا کرنےاپنی دمشق کی تاریخ الکبیر میں حضرت حجر" کےحالات بیان کرتےہوئےلکھا ہےکہ وہ صحابی تھےاور خطیب بغدادی سےیہی واقعہ نقل کیا ہےکہ حضرت حجر کےقتل کےبعد جب امیر معاویہ حضرت عائشہ کےپاس گئےتو انہوں نے فرمایا کہ آپ نے حجر آوران کےاصحاب کو قتل کردیا حالانکہ لقد بلغنی انه سيقتل بعذراء سبعة رجال يغضب الله واهل السماء لهم. ظاہر ہےکہ یہ پیشگوئی حضرت عائشہ تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سےپہنچی ہوگی۔یہاں امیر معاویہ کا یہ قول بھی منقول ہےکہ مجھےخود یہ معلوم نہیں کہ میں نےحجر کو کس گناہ پر قتل کیا ہے اني لا اعرف بای ذنب قتلته )۔ یہ قول جہاں حضرت فجر کی بے گنا ہی پر دلالت کرتا ہےوہیں یہ بھی ظاہر کرتا ہےکہ امیر معاویہ آخر وقت اس قتل پر نادم تھےبعض تاریخوں میں ایسے دیگر اقوال بھی مذکور ہیں، مثلاً طبری وغیرہ میں ابن سیرین کےحوالےسے درج ہے کہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ جب امیر معاویہ کے انتقال کا وقت قریب تھا تو حالت غرغرہ میں فرمارہےتھے کہ اے حجر ، تیری ملاقات کا دن بہت طویل ہو گا۔امید ہےکہ اللہ تعالیٰ حضرت معاویہ سے ضرور درگزر فرمائے گا۔ کاش کہ حضرت حجر" کے قتل کو حق بجانب ثابت کرنے کے بجائے محمد تقی صاحب بھی یہی کہہ دیتے کہ یہ فعل غلط تھا اور اللہ غفور رحیم ہےوہ اسےمعاف کر دے گا۔این عسا کرنےابن ما کولا کےحوالےسےیہ بھی لکھا ہےکہ اکثر محدیثین کےنزدیک حضرت حجڑ سےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی روایت ثابت نہیں (لا يصححون لحجر رواية) محمد تقی صاحب نے جو قول البدایہ سےنقل کیا ہے کہ اکثر المحدثين لا يصححون له صحبة، اس کے بجائے صحیح قول ابن ماکولا کا ہے۔ورنہ بے شمار محدثین نےحضرت حجر کی صحابیت جس طرح بیان کی ہےاس کے بعد ان کےصحابی ہونے میں شک نہیں، البتہ ان سے مرفوع روایت کا نہ ہونا اور بات ہے۔ روایت حدیث تو بمشکل ایک ہزار صحابہ سےثابت ہےحالانکہ صحابہ کرام کی تعداد ایک لاکھ سے زاید ہے۔ ابن ماکولا جن کا قول ابن عساکر نے نقل کیا ہے، بڑےبلند پایہ محدث ہیں،ان کی متعدد تصانیف میں سےکتاب المؤتلف والمختلف من الاسماء والكنى والانساب بہت مشہور ہے۔خیر الدین زر کلی نے بھی اپنی کتاب الاعلام میں حضرت حجر کو صحابی شجاع ( ایک بہادر صحابی ) لکھا ہے-
حضرت حجر کے ساتھیوں میں سے جولوگ قتل سے بچ گئے ان میں سے ایک ارقم بن عبداللہ الکندی ہیں۔ ان کا حال بیان کرتے ہوئے ابن عسا کر اپنی تاریخ میں ابو اسحاق کے حوالے سےلکھتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو عام طور پر یہ کہتے پایا ہے کہ حضرت حجر بن عدی کا قتل اور استلحاق زیاد بڑی ذلت ہے جو کوفے پر نازل ہوئی۔ اس کے بعد حسین بصری کا وہ قول نقل کیا گیا ہے جس میں امیر معاویہ کی چار سخت غلطیوں کا ذکر ہے جن میں ایک قتل حجر ہے۔یہ قول ” خلافت و ملوکیت" میں درج ہے۔ اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ان سارے جلیل القدر ائمہ و محدثین کےاقوال کےباوجود اگر محد تقی صاحب یه کہتےہیں که حضرت حجر کا قتل جایز اور مجتہد فیہ مسلہ تھا،ہر صحابی مجتہد اور اس کا ہر فعل اجتہاد ہےتو وہ بتا ئیں کہ عمرو بن احمق صحابی نے جو نیزے مار مار کر حضرت عثمان کے جسم کو چھلنی کیا تھا کیا یہ بھی اجتہاد تھا؟ کیا ہوسکتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی یہ فعل اصلاح امت اور رفع فساد کے لیے جائز ہو؟ ہر خطاء کو اجتہاد کا نام تو نہیں دیا جاسکتا۔
اپنی سابق بحث میں مبسوط کے حوالے سے میں نے امام سرخی کا قول نقل کیا تھا جس میں انہوں نے حضرت حجر کو باغی کےبجائے اہل عدل میں شمار کیا ہےاور ان کی موت کو شہید کی موت قرار دیا ہے۔ لیکن محمد تقی صاحب کی روش قابل حیرت ہے کہ وہ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ حضرت حجر کی سرگرمیاں نفس الامر میں بغاوت تھیں مگر گمان ہےکہ انہوں نےکسی تاویل سےخروج کا ارتکاب کیا ہوگا جیسا کہ امیر معاویہ نےمجعد خطی کی حیثیت میں حضرت علی کے خلاف کیا۔ اس لیے حضرت حجرا اپنے آپ کو اہل عدل میں سے سمجھتے ہوں گے اور امام سرخسی نے اسی لیے ان کےلیے شہادت کا لفظ استعمال کیا اور ان کا ذکر ادب و احترام سے ہونا چاہیے۔ محمد تقی صاحب نےحضرت حجر کا ذکر برابر جس ادب و احترام سے کیا ہے، اس کا صحیح اندازہ اسی شخص کو ہوسکتا ہے جس کیانے ان کی کتاب میں پوری بحث پڑھی ہو۔ تاہم یہاں آخر میں آکر انہوں نے حضرت حجر سے فقط اتنی رعایت برتی کہ ان پر اہل تاویل و اجتہاد ہونے کا گمان کیا مگر ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ فی لا اصل تو وہ باغی تھےمگر اپنے آپ کو اہل عدل میں سےسمجھتےتھےاور یہ بھی ان کا گمان ہی تھا۔عثمانی صاحب کی اس مہربانی اور حسن ظن کے کیا کہنے۔
لیکن عثمانی صاحب کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ حضرت حجر فی الواقع اہل عدل میں سےنہیں تھے اور نہ امام سرخسی انہیں ایسا سمجھتے تھے بلکہ امام سرخسی نے حضرت حجر کی موت کو شہادت کی موت صرف اس لیےقرار دیا ہےکہ انہوں نے یہ وصیت کی تھی کہ انہیں غسل کے بغیر دفن کیا جائےحقیقت یہ ہےکہ امام سرخسی نےاس مقام پر یہ مسئلہ بیان کیا ہےکہ اہل عدل کےمقتولین کو غسل کےبغیر دفن کیا جاتا ہےاور اہل بنی کے مقتولین کی تدفین غسل کے بعد ہوتی ہے کیونکہ ان کو شہید نہیں کہا جا سکتا اگرچه عام مرنےوالےمسلمان کی طرح ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ اس کے بعد اگر امام سرخسی حضرت حجر کو باغی سمجھتےتو ان کے لیے حضرت عمار بن یاسر اور حضرت زید بن صوحان کی وصیت کا ذکر بالکل کافی تھا جو اہل عدل میں سے تھے۔ ان کےساتھ حضرت حجر کا ذکر بالکل غیر ضروری اور موجب التباس تھا کیونکہ فی الحقیقت اگر وہ باغی تھےتو ان کی وصیت نہ قابل ذکر تھی نہ تھے تو لاز ماماننا پڑے گا کہ ان کے مقابلے میں حضرت معاویہ اہل بھی میں سےتھے۔ مگر یہ بھی بالکل ایک غلط استنتاج ہے۔ اگر حضرت حجر واقعی امیر معاویہ کےخلاف ناحق خروج وقتال کرتےتو باغی ہوتےلیکن خلیفہ اگر زبردستی کسی کو جرم بغاوت کا مجرم قرار دے کر اسےقتل کر دے تو وہ محض اس وجہ سے باغی نہیں بن جاتا کہ وہ اہل عدل کےہاتھوں قتل ہوا ہے۔خلفائےبنی امیہ و بنی عباس نے جن خوارج کو قتل کیا ، وہ بلاشبہ اہل بنی میں تھےلیکن لاکھوں بےگناہ مسلمان جو انہی خلفاء نے تہ تیغ کیےوہ سب محمد تقی صاحب کی محض اس نرالی دلیل کی بنا پر باغی نہیں بن جاتےکہ اگر انہیں باغی کےبجائےاہل عدل ماناجائے تو پھر خلفاء اہل عدل کی تعریف سے خارج ہو جاتے ہیں۔
جناب محمد تقی صاحب زیاد کی برات وصفائی پیش کرنے میں اتنے فکرمند ہیں کہ بحث کے آخر میں وہ پھر یہ لکھتے ہیں کہ ”مولانا مودودی صاحب نے زیاد کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ خطبے میں حضرت علیؓ کو گالیاں دیتا تھا لیکن جتنےحوالے انہوں نےدیئےہیں ان میں حضرت علیؓ کو گالیاں دیناند کو نہیں بلکہ قاتلین عثمان پر لعنت کرنا مذکور ہے۔ میں اس بات کو پہلے بیان کر چکا ہوں کہ زیاد اور امیر معاویہؓ کے دوسرے عمال، بلکہ خود امیر معاویہؓ کا کہنا یہ تھاکہ حضرت علی قاتلین عثمان میں شامل ہیں کیونکہ انہوں نےحضرت عثمان کی مدد نہیں کی اور قاتلین کو نہیں روکا۔ یہ اگرچہ غلط الزام تھا جس کی تردید حضرت علی اور سارےمؤرخین نےکی ہے لیکن یہ بات بہر حال واضح ہے کہ بنو امیہ جب قاتلین عثمان پر لعنت بھیجتے تھے تو ان کا اولین ہدف حضرت علی ہوئے تھے اور ہر شخص یہ جانتا تھا کہ اشارہ انہی کی طرف ہے۔ پھر یہ لوگ حضرت علیؓ کا نام لے کر بھی ان کی بدگوئی کرتے تھےمیں ابھی البدایہ جلد 4 کی عبارت نقل کر چکا ہوں جس میں کہا گیا ہے کہ زیاد نے حضرت علی کا ذکر اس انداز سے کیا کہ حضرت حجر نے اسے کنکریاں دے ماریں۔ یہاں ذکر زیاد بن سمية على بن ابی طالب علی المنبر سے مراد اگر حضرت علی کی مدح و منقبت ہوتی جیسا کہ آج کل کےخطبوں میں ہوتی ہے تو حضرت حجر کو کنکریاں اٹھا پھینکنےکی آخر کیا ضرورت تھی؟ مولانا مودودی نے اپنی بحث میں البدایہ کے جن صفحات ( جلد ۸، صفحہ ۵۰) کا حوالہ دیا ہے، وہاں بھی یہ الفاظ موجود ہیں کہ زیاد نے کوفے میں جو پہلا خطبہ دیا اس میں حضرت عثمان کی فضیلت بیان کی اور آپ کےقاتلین اور ان کے معاونین (من قتله او اعان على قتله ) کی مذمت کی۔ یہ مذمت صاف طور پر حضرت علی کی ہے گو نام کسی کا نہیں لیا گیا۔ عثمانی صاحب کو شاید یاد نہیں رہا کہ انہوں نے اپنی کتاب کے صفحہ ۶۴ پر جہاں پہلی مرتبہ زیاد کے خلاف اس الزام کو بے بنیاد ٹھہرانا چاہا ہے، وہاں انہوں نے حضرت حجر کا ایک خطاب نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت مغیرہ سے کہا تھا:
کیا عثمانی صاحب بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے یہاں امیر المؤمنین کے ساتھ حضرت علی کا لفظ اور مجرموں کے ساتھ حضرت عثمان کا لفظ کیوں اور کیسے بڑھا دیا ہے؟ غالباً وہ جواب یہی دیں گےکہ حضرت حجر کی تلمیح و تعریض صاف طور پر حضرت علیؓ اور حضرت عثمان ہی کی طرف تھی،اس لیےانہوں نےیہ الفاظ اضافہ کر دیئے ہیں۔فما جوابكم هو جوابنا.ہمارا بھی یہی جواب ہےکہ زیاد اور دوسرےحکام بنو امیہ جب حضرت عثمان کے قاتلین اور ان کی اعانت کرنے والوں پر لعنت کرتے تھے تو بھی وہ حضرت علی ہی کو اپنا نشانہ بناتے تھے، اگر چہ انہیں اس امر سے بھی گریز نہ تھا کہ حضرت علی کا نام لے کر ان پر سب و شتم کریں۔
حضرت حجر بن عدی کے قتل کو جائز ثابت کرنےمیں اپنا زور استدلال صرف کرنےکےبعد مولانا محمدتقی عثمانی صاحب نے یزید کی ولی عہدی کو جائز قرار دینے میں بھی بڑی دیدہ ریزی سےکام لیا ہے۔یہ صورت حال فی الواقع بڑی عبرت انگیز ہےکہ مولانا مودودی کی تردید و تغلیط کے جوش میں مولانا عثمانی صاحب کو اس امر کا احساس نہیں رہا کہ وہ اسلامی قوانین کا حلیہ کس طرح بگاڑ کر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ پہلے انہوں نے اسلامی حکومت کی انتظامیہ وعدلیہ کی یہ تصوری ہمارےسامنےرکھی کہ اسکے ارکان جو ظلم و عدوان چاہیں، کرتے رہیں،وہ مواخذے سے بالاتر ہیں۔پھر انہوں نے اسلامی قانونِ بغاوت اور اسلامی حقوق شہریت کی یہ تعبیر پیش کی کہ حکومت جس "انتشار پسند" کو چاہے باغی قرار دے دے اور اسے بیان یا صفائی کا موقع دیئے بغیر اس کا سرتن سےجدا کر دےاب یزید کی ولی عہدی کو صحیح ثابت کرنےکےلیےعثمانی صاحب فرماتےہیں کہ اس بات پر امت کا اجماع منعقد ہو چکا ہےکہ خلیفہ وقت اگر اپنےبیٹےیا دوسرےرشتہ دار میں نیک نیتی کے ساتھ شرائط خلافت پاتا ہےتو اسے ولی عہد بنا سکتا ہے اور خلیفہ کی نیت پر حملہ کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ اس کا صاف مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہوا کہ خلافت علی منہاج النبوۃ اور خاندانی بادشاہت دونوں اسلام میں یکساں طور پر جائز و مباح ہیں اور مسلمان ان دونوں میں سے جس طرزِ حکومت کو چاہیں اپنا سکتے ہیں ۔
اسلام کا نظریہ حکمرانی ایک ایسا اہم اور وسیع موضوع ہےکہ اس پر سیر حاصل بحث کےلیےایک مضمون کے بجائے ایک کتاب درکار ہےجب تک قرآن مجید، اسوۂ رسالت اور اسوہ خلافت راشدہ کی روشنی میں اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ نہ لیا جائے ، اسلام کا نظریہ حکومت واضح نہیں ہوسکتا اور مولانا عثمانی صاحب کے موقف کی غلطی پوری طرح سمجھ میں نہیں آسکتی۔ لیکن یہاں اس محدود مضمون کی تنگ دامنی میری راہ میں حائل ہے۔ تاہم میں قارئین سے درخواست کروں گا کہ اس موضوع پر جو مفصل تحریر میں مولانا مودودی کے قلم سےنکال چکی ہیں،انہیں ضرور پڑھ لیں۔خود انکی اسی کتاب ” خلافت و ملوکیت" کے ابتدائی ابواب اسی بحث سے متعلق ہیں۔ مولانا عثمانی صاحب بھی آغاز تنقید میں ان پر اظہار پسندیدگی فرما چکے ہیں۔ اگر وہ بھی یادداشت تازہ کرنے کی غرض سے ان پر دوبارہ نگاہ ڈال لیں مضائقہ نہ ہوگا۔ اس کے بعد اس موضوع پر اب چند مزید ضروری گزارشاتمیں بھی پیش کروں گا۔
یہ حقیت تو ظاہر وباہر ہے کہ اسلامی ریاست کے اولین امیر سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کےمنتخب کرده یا مقرہ کردہ امیر نہ تھے،نہ آپ نے اپنی سعی یا زور سےمنصب امارت حاصل کیاتھا۔ بلکہ آنحضور کو احکم الحاکمین اور رب العالمین : خود خلعت نبوت سےسرفراز فرمایا تھا اور آپ کی امارت و امامت آپ کےمنصب نبوت ورسالت ہی کا ایک جزو ک تھی۔آنحضور کےوصال پر البتہ یہ اہم سوال پیدا ہوتا تھا کہ آپ کاخلیفہ اور مسلمانوں کاامیر کون ہو اور اسکی امارت کا انفظ کےہو؟اسلام میں اگر سب سےبڑھ کر کسی امیر و یہ حق پہنچتا تھا کہ وہ اپنےخاندان کےکسی شخص کو اپنا جانشین نامزد کر کےاس کی بیعت اپنی زندگی میں لےلےتو وہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہو سکتےتھےآپ کےخاندان میں خلافت کی اہلیت رکھنےوالے مفقود بھی نہ تھےیہ کام اگر اسلام میں پسندیدہ کام ہوتا تو اس کی ابتداء کرنےکےسب سےزیادہ حق دار خود حضور تھےلیکن سب کو 'دم ہےاور اہل سنت کااس پر اتفاق ہےکہ آپ نےیہ کام نہیں کیا۔یہی نہیں بلکہ آپ نےاپنےخاندان سے باہر بھی کسی کو خلیفہ نامزد کر کےاس کی بیعت نہ لی۔ اس مسئلے میں جو مستند ترین احادیث وارد ہیں وہ اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ خود آنحضور اپنی جانشینی کےمعاملےمیں ایک گونہ فکرمند تھے اور چاہتے تھے کہ اس ضمن میں امت کی مناسب رہنمائی فرما دیں۔آپ کےارشادات سےیہ حقیقت بھی صاف طور پر مترشح ہوتی ہےکہ اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق " آنحضور کی نظر مبارک میں منصب خلافت کے لیےاہل ترین تھےاور آپ کی خواہش بھی یہی تھی کہ وہی خلیفہ اوّل بنیں،لیکن ان جملہ امور کےباوجود آپ نےاپنےجانشین کےلیے نامزدگی (Namination) کا طریقہ اختیار نہیں فرمایا۔اس بات سےکون انکار کر سکتا ہےکہ آنحضور کا وصال ایک عظیم سانحہ تھا اور اس کےبعد خلیفہ کا تقرر امت کےلیےایک سنگین ذمہ داری اور آزمائش تھی۔ اس مسئلے پر میں اختلاف رائے کا پیدا ہونا بھی ناگزیر تھا جس کے اثرات اب تک امت میں چلے آرہے ہیں۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذاتی رائے قائم کر لینے کے باوجود صحابہ کرام کےسامنے اسے ایک باقاعدہ عہد، وصیت یا تجویز کے طور پر پیش نہیں فرمایا تا کہ قدیم زمانہ سے دنیا بھر میں ولی عہد مقرر کرنے کا جو طریقہ رائج و متوارث چلا آ رہا تھا، اس پر کاری ضرب لگے اور امت مسلمہ اپنی ذمہ داری پر انتخاب امیر کے جمہوری و معیاری طریق کو اختیار کرے۔ صحاح ستہ میں اس مسئلے سے متعلق متعدد احادیث مروی ہیں جن میں سے ایک کا ضروری حصہ میں بخاری، کتاب الطب والمرضی سے یہاں پیش کرتا ہوں۔ اس حدیث میں مذکور ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر شدت مرض طاری ہوئی تو آپ نے حضرت عائشہ سے فرمایا:
لقد هممت أو أردت ان ارسل الى ابى بكر وابنه واعهد ان يقول القائلون أو يتمنى المتمنون ثم قلت يأبى الله ويدفع المؤمنون او يدفع الله ويأبى المؤمنون.
"میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں ابو بکر اور ان کے بیٹے کو بلواؤں اور (ان کے حق میں ولایت عہد کردوں ، مبادا کہ (بعد میں ) معترضین اعتراض کریں یا تمنا کرنےوالےتمنا کریں۔ پھر میں نےجی میں کہا کہ اللہ ان چیزوں کو روک دے گا اور مومنین ان کا دفعیہ کر لیں گے، نیا دوسرے الفاظ میں اللہ دفعیہ کر دے گا اور مومنین ابا کریں گے۔“
یہ حدیث مختلف سندوں کے ساتھ بخاری اور دیگر کتب صحاح کے متعدد مقامات پر وارد ہے۔اس کا لفظ المومنون قطعی طور پر ثابت کر رہا ہے کہ خلیفہ کا انتخاب جمہور مسلمین کی آزاد مرضی سےہونا چاہیے اور اسلام میں انتخاب امیر کے لیے مثالی و معیاری اور افضل اولی طریقہ یہی ہے۔ چنانچہ حضور کے اس منشاء کو امت نے ٹھیک ٹھیک پورا کیا اور انہی حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنایا جنہیں حضور پسند فرماتے تھے۔
حضرت ابوبکر کےبعد مسلمانوں کےدوسرے خلیفه حضرت عمر فاروق تھےجن کاتقرر واستخلاف بلاشبہ حضرت ابو بکر کی تجویز کےمطابق عمل میں لایا گیاتھا اوراسی سےبعض حضرات یزید کی ولی عہدی اور بعد کی نسلی و خاندانی حکمرانی کو جائز ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہےکہ ان میں سے ایک پر دوسری صورت کو قیاس کرنا بالکل غلط ہے،کیونکہ دونوں میں فرق و امتیاز کےمتعدد پہلو بالکل بین اور نمایاں ہیں۔ مثلاً پہلا فرق یہ ہے کہ حضرت ابو بکر نے اپنی زندگی میں کوئی ولی عہد مقرر کر کے اس کی بیعت نہیں لے لی بلکہ ان کو اپنا جانشین تجویز کرنے کا خیال اس وقت آیا جب کہ وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھے۔ اپنے آخری ایام مرض میں کئی روز تک آپ مسجد میں نماز کےلیےبھی تشریف نہ لےجاسکےاور جس وقت آپ نےحضرت عثمان کو وصیت لکھوانی شروعی کی تھی اس وقت آپ اتنے ضعیف و نحیف ہو چکےتھےکہ املاء کراتے کراتے آپ کچھ دیر کےلیے بے ہوش ہو گئے۔ اس کے برعکس یزید کی ولی عہدی کی تحریر اور مہم کا آغاز حضرت امیر معاویہؓ کی وفات سے چار سال بلکہ اس سے بھی قبل (۵۱ھ) میں ہو چکا تھا۔ یہ تحریک صرف شام تک محدود نہ تھی بلکہ مروان اور زیاد وغیرہ نےاسے حرمین ، بصرے، کوفے میں پوری سرگرمی سے شروع کر رکھا تھا اور تمام لوگوں سے با قاعدہ بیعت لی جارہی تھی ۔ اسی صورت حال کو دیکھ کر حضرت عبداللہ بن عمر جیسے محتاط اور مرنجان مرنج انسان نے بھی صاف کہ دیا تھا کہ میں ایک وقت میں دو بیعتوں کا قلاوہ اپنی گردن میں نہیں ڈال سکتا، البتہ امیر معاویہ کے بعد جو بھی خلیفہ تسلیم کر لیا جائے گا، میں اس کی بیعت کرلوں گا۔
دوسرا امتیازی پہلو یہ ہےکہ حضرت ابو بکڑ نےتحریرلکھوانےسے چند روز پہلے ارباب حل و عقد اور اصحاب شوری سے پوری طرح مشورہ کر لیا تھا۔ چنانچہ ابن سعد صاحب طبقات نے آپ کےحالات بیان کرتے ہوئے آخر میں ذکر وصية ابی بکر کےزیر عنوان لکھا ہےکہ آپ نےحضرات عبدالرحمن بن عوف،عثمان،سعید بن زید ابوالا غور ، اسید بن حضیر اور متعدد دیگر مہاجرین و انصار سےمشورہ لیا اور سب نےحضرت عمرؓ کےحق میں اچھی رائےکا اظہار کیا۔ پھر بعض لوگوں نےجب حضرت عمر کی سختی کا ذکر کیا تو حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ میں اپنے اللہ سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے بہترین آدمی کو تجویز کیا ہے ( بعض دوسری روایات میں ہے کہ عمر میری نرمی کے بل پر سخت ہو۔جاتےتھےاب جب میری جگہ خود بوجھ اٹھا ئیں گےتو نرم ہو جائیں گے۔)پھر مجمع عام میں تحریر پڑھ کر سنائی گئی اور لوگوں نےکسی دباؤ اور جبر کےبغیر برضاور غبت اس پر اپنی منظوری کااظہار کردیا حضرت معاویہ کےعہد میں شوریٰ کاوجود اوراہل حل و عقد کا ادارہ عملاً ختم ہو چکا تھااور یزید کی دلی عہدی کامعاملہ جس طرح طے کیا گیا وہ حضرت ابو بکر کی وصیت سے قطعی طور پر مختلف تھا جیسا کہ آگے چل کر بیان کیا جائے گا۔
تیسری بات جو خاص طور پر قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابو بکر و عمر کے مابین خاندانی قرابت کا کوئی تعلق نہیں تھا اور حضرت ابو بکر نے اپنی وصیت کے ساتھ اس پہلو کی طرف خصوصی اشارہ فرمادیا تھا کہ اعتراض و تہمت کا کوئی موقع باقی نہ رہے۔ امام ابن جریر اپنی تاریخ ( جلد۲، ۶۱۸ )میں فرماتے ہیں:
اشرف ابوبكر على الناس من كنيفه وأسماء ابنة عميس ممسكته وهو يقول أترضون بمن استخلف عليكم؟ فانى والله ما ألوت من جهد الرأئي ولا وليت ذا قرابة واني قد استخلفت عمر بن الخطاب فاسمعوا له وأطيعوا فقالوا سمعنا وأطعنا.
"حضرت ابو بکر نےدریچےمیں سے لوگوں کی طرف جھانکا جبکہ ( آپ کی اہلیہ ) حضرت اسماء بنت عمیں نے آپ کو تھام رکھا تھا۔ آپ فرمارہے تھے کہ کیا تم لوگ میرے جانشین پر راضی ہو؟ خدا کی قسم میں نے غور و خوض میں کمی نہیں کی اور میں نے اپنے کسی رشتہ دار کو ولایت نہیں سونپی۔ میں نے عمر بن خطاب کو خلیفه تجویز کیا ہے، پس سنو اور مانو۔ لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا۔“
اس کے برخلاف امیر معاویہ نے اپنے قریب ترین عزیز یعنی خود ا پنےبیٹےکو ولی عہد بنا کر ایک ایسی مثال قائم کی جو پہلےموجود نہ تھی، لیکن جو بعد والوں کےلیےدائمی طور پر ایک نظیر اور دلیل بن کر رہی۔ ابن اثیر فرماتے ہیں:
اس کے بعد مسلمانوں میں بیعت کا انتخابی اور شورائی طریقہ بالکل معدوم ہو گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ایک حکمران نے اپنے بعد علی الترتیب دو دو، تین تین ولی عہد مقرر کرنے شروع کر دیئے جن میں سے بعض نابالغ بلکہ ماں کے پیٹ میں ہوتے تھے اور ان کے حق میں زبردستی بیعت لی جاتی تھی۔ پھر بیعت کے فارمولوں میں بیعت کرنے والے سے یہ الفاظ کہلوائے جاتےتھے کہ اگر میں بیعت فسخ کروں گا تو میری بیوی پر طلاق مغلظ وارد ہوگی۔ یہی بیعت مگرہ اور طلاق مگر تھی جس کے خلاف امام مالک نے اپنی جان پر کھیلتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کی تھی اور فرمایا تھا کہ یہ کوئی شے نہیں ہے۔
حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر کی باری آتی ہے۔ حضرت عمرؓ کے متعلق بعض اوقات یہ بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نےاستخلاف کےمعاملےمیں اپنے دونوں پیش روؤں کےبین بین ایک تیسرا مختلف طریقہ اختیار کیا اور وہ یہ کہ آپ نےکسی فرد واحد و متعین کو جانشین تجویز کرنے کےبجائےایک شوری یا انتخابی کونسل تشکیل کر دی تا کہ وہ خلیفہ کا نام تجویز کر کےمسلمانوں کےسامنےپیش کرےلیکن اگر غورسےدیکھا جائےتو حضرت عمرؓ کا طریق استخلاف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے زیادہ مشابہ ہے۔ صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب الاستخلاف میں حضرت ابن عمرؓ سےروایت ہےکہ جب حضرت عمر پر قاتلانہ حملہ ہوا تو لوگوں نےآپکو جانشین مقرر کر نے کا مشورہ بہتر تھا ( یعنی حضرت ابو بکر ) اور اگر میں تمہیں اسی طرح چھوڑ دوں تو ایسا عمل بھی انہوں نے فرمایا تھا، جو مجھ سے بہتر تھے (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) حضرت عبد اللہ بن عمر جو خود اپنے والد ماجد کا انداز بیان دیکھ رہے تھے فرماتے ہیں:
اس کے معابعد مسلم کی دوسری روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابن عمر اپنی ہمشیرہ حضرت حفصہ کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے والد کسی کو جانشین نہیں بنار ہے؟“حضرت ابن عمرؓ نے قسم اٹھائی کہ وہ اس معاملے میں حضر عمر سے بات کریں گے۔ ایک دن تو حضرت ابن عمر بات کی ہمت نہ کر سکے مگر دوسرے روز آپ نے عرض کیا کہ ”لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ کسی کو جانشین نہیں تجویز کر رہے۔ اگر آپ کا کوئی چرواہا ہو اور وہ اپنے گلے کو اس کے حال پر چھوڑ کر آ جائے تو آپ دیکھ لیں گے کہ اس نے گلہ ضائع کر دیا۔ مسلمانوں کی نگہبانی کا معاملہ تو شدید تر ہے۔ حضرت عمرؓ نے اتفاق کیا، کچھ دیر اپنا سر ٹیکے رہے، پھر حضرت ابن عمر کی طرف متوجہ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کا ذکر کرتے ہوئے وہی کچھ فرمایا جواو پر کی روایت میں مذکور ہے۔ اس پر حضرت ابن عمر فر ماتے ہیں:
" پس مجھے معلوم ہو گیا کہ حضرت عمر کسی کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر جاننےوالے نہیں ہیں اور آپ کسی کو خلیفہ نہیں بنائیں گے۔“
ان روایات اور بالخصوص حضرت ابن عمر کی تشریحات سےیہ بات واضح ہو جاتی ہےکہ اس معاملےمیں حضرت عمرؓ نےحضرت ابو بکر سےزیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو اپنے سامنےرکھا ہے اور شخص متعین کےاستخلاف سے اسی بنا پر اجتناب کیا ہے۔البته آپ نےخلافت کےلیےنام تجویز کرنےکا کام ایسےاصحاب کے سپرد کردیاجو عشرہ مبشرہ میں شامل تھےاور اسلامی معاشرےکےگلہائےسر سبک اور سر برآورده ترین اشخاص شمار ہوتےتھے۔عشرہ مبشرہ میں سےدو (حضرت ابوبکر اور حضرت ابوعبیده) جنت کےمکین ہو چکے تھے تیسرے خود (حضرت عمر) جنت جانے کےلیے پا برکاب تھے۔ باقی سات اصحاب بقید حیات تھے جن میں سے چھ کو آپ نے انتخابی بورڈ کا رکن بنا دیا مگر ساتویں (حضرت سعید بن زید ) کو آپ نے مستثنیٰ کر دیا،صرف اس بنا پر کہ وہ آپ کے چچا زاد بھائی اور بہنوئی تھے، ورنہ وہ حضرت عمرؓ سے بھی زیادہ قدیم الاسلام اور سابق الایمان تھے۔ یہ فقط میرا ہی قیاس نہیں ہے، بلکہ متعدد علمائے سلف نے یہی لکھا ہے کہ حضرت عمر نے انہیں بر بنائے توڑع وتقویٰ الگ رکھا کیونکہ وہ ان کے قرابت دار تھےصحیح مسلم کی جن روایات کو او پر نقل کیا گیا ہےان سے ملتی جلتی ایک روایت مسلم، کتاب الصلوۃ ، باب نہی میں اکل الثوم میں بھی موجود ہے جس میں حضرت عمر کے ایک خواب کا ذکر ہے جس کی تعبیر یہ بھی گئی تھی کہ آپ کی موت کا وقت قریب ہے۔ آپ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض لوگ مجھے جانشین بنانے کے لیے کہتےہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور خلافت کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اس حدیث کی شرح میں امام نووی فرماتے ہیں:
الستة عثمان وعلي وطلحة والزبير وسعد بن ابی وقاص وعبد الرحمن بن عوف ولم يدخل سعيد بن زيد معهم وان كان من العشرة لأنه من أقاربه تتورع عن ادخاله كما تورّع عن ادخال ابنه عبدالله رضی الله عنهم.
" جن چھ اصحاب کے نام حضرت عمرؓ نے تجویز کیےتھے،وہ عثمان علی ، طلحه زبیر ، سعد بن ابی وقاص اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم تھےاور انہوں نےان میں حضرت سعید بن زید کو شامل نہیں کیا حالانکہ وہ بھی عشرہ مبشرہ میں سے تھے، کیونکہ وہ ان کے اقارب میں سے تھے۔ پس آپ نے انہیں شوریٰ میں داخل نہیں فرمایا جیسا کہ آپ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ کو بھی نہیں شریک کیا۔“
اسی طرح بخاری، کتاب الحدود والحار بین،باب رجم الخیلی من الزنا میں ایک مفصل حدیث وارد ہے کہ حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا کہ ایک شخص کہ رہا ہے کہ میں عمر کے بعد فلاں شخص کے ہاتھ پر بیعت کروں گا۔ حضرت عمرؓ یہ سن کر غضبناک ہو گئے اور فرمایا کہ میں ایسے لوگوں کو سخت تنبیہ کروں گا۔پھر فرمایا
هؤلاء الذين يريدون أن يغصبوهم أمورهم.... ليس منكم من تقطع الأعناق إليه مثل أبي بكر من بايع رجلا غير مشورة من المسلمين فلا يبايع هو ولا الذي بايعه تغرّة ان يُقتلا.
" یہ وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ عامتہ الناس کے حقوق غصب کریں . تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جو ابو بکر کی طرح مربع عوام ہو۔ جس نے بھی مسلمانوں سے مشورے کیے بغیر بیعت کی،اس بیعت کرنے کرانے والے کا فعل قابل قبول نہیں ہے، بلکہ وہ دونوں اپنے آپ کو قتل کے لیےپیش کر رہے ہیں۔“
بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت ابن عمر کو بھی انتخابی کونسل میاں شامل کرنے کا مطالبہ کیا،تو حضرت عمرؓ نےفرمایا کہ وہ مبصر کی حیثیت سےموجود رہیں مگر خلافت میں انکا کوئی حصہ نہ ہو گا۔میرے خاندان میں اگر عمر برابر سرابر چھوٹ جائےتو غنیمت ہےبخاری، فضائل اصحاب میں حضرت عمرؓ کا ارشاد یوں نقل ہوا ہے:
اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
" سعید بن زید حضرت عمر کے چا زاد بھائی تھے ، پس عمرؓ نے ان کا نام نہ لیا۔ یہ امارت کی ذمہ داری سے برأت میں مبالغه وشدّت کی بنا پر تھا۔“
اس مقام پر المداینی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے:
" حضرت عمر نے حضرت سعید بن زید کو ان اصحاب میں شمار کیا، جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بوق، وصال راضی تھے مگر حضرت عمرؓ نے انہیں اہل شوری سے مستثنیٰ کر دیا۔ کیونکہ وہ آپ کے رشتہ دار تھے۔“
امام ابن تیمیہ منہاج السنہ ، جلد ۳ صفحہ ۱۶۸ پر فرماتے ہیں:
" اور حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ اور اپنے عم زاد سعید بن زید کو امیدواری امارت سے خارج کر دیا حالانکہ سعید عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ وہ قبیلہ بنی عدی کے افراد تھےیعنی حضرت عمرؓ کے ہم قبیلہ تھے۔“
اس کے متصلاً بعد ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے اپنے قبیلے میں سے کسی کے سپر د کوئی عہدہ نہیں کیا۔ صرف ایک مرتبہ ایسا کیا مگر بعد میں اس والی کو بھی معزول کر دیا۔یہی بات اس کتاب کے صفحہ ۱۳۰، جلد ۴ پر بیان کی گئی ہےکہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر دونوں نے اپنی زندگی میں اپنےکسی عزیز کو منصب نہیں سونیا، نہ اسے اپنے بعد جانشین بنایا،حالانکہ ان کی اولاد و اقارب میں فضلائے صحابہ موجود تھے۔
حضرت عمر نے جو انتخابی شوری مقرر کی تھی اس کے ارکان نے باہمی گفت و شنید کے بعد خلیفہ تجویز کرنے کا کام حضرت عبد الرحمن بن عوف کو تفویض کردیا تھا۔تاریخ طبری اور دوسری کتابوں میں جو تفصیلات درج ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبدالرحمن نے اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ رائے عام کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔ آپ نے گھروں میں جا کر پردہ نشین خواتین تک سے مشورہ لیا۔ مدینے کے باشندوں، طالب علموں اور باہر سے آئے ہوئے حاجیوں کی رائے معلوم کی۔ آخر کار انہیں اندازہ ہوا کہ لوگ حضرت عثمان کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتے ہیں۔چنانچہ حضرت عثمان ہی کے ہاتھ پر بیعت عام ہوئی۔
حضرت عثمان اپنے خاندان بنو امیہ کے حق میں فیاض تھے۔ آپ کا یہ قول مسند احمد اور دوسری کتابوں میں منقول ہے کہ اگر میرے پاس جنت کی کنجی ہو تو میں اپنے خاندان کےآخری فرد تک کو دےدیتا کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے ۔ آپ کے خاندان کے بعض افراد نے محاصرےمیں آخر دم تک آپ کا ساتھ دیا۔ مگر اس کے باوجود حضرت عثمان نے بھی اپنے خاندان کے کسی فرد کے حق میں استخلاف کی وصیت نہیں فرمائی۔
حضرت عثمان کی شہادت کے بعد بعض صحابہ کرام حضرت علی کےہاں جمع ہوئے اور ان سے بیعت کرنی چاہی مگر حضرت علی نے انکار کر دیا۔ جب آپ سے بار بار تقاضا کیا گیا تو آپ نےفرمایا کہ جب تک اہل شوریٰ اور اہل بدر میری خلافت پر اتفاق کا اظہار نہ کریں ، اس وقت تک میری خلافت منعقد نہیں ہو سکتی۔ تاریخ طبری جلد ۳، صفحہ۴۵۰ میں آپ کا یہ قول بھی منقول ہے:
پھر آپ نے سب لوگوں کو مسجد نبوی میں جمع ہونے کا مشورہ دیا اور مہاجرین وانصار صحابہ کی اکثریت نے آپ سے بیعت خلافت کی۔
حضرت علی کی شہادت کے موقع پر جب آپ کی وفات کا وقت آپہنچا تو آپ سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت حسن کے ہاتھ پر بیعت کی جائے؟ آپ نے جو جواب دیا وہ طبری ( جلد ۲ صفحہ ۱۱۲) میں درج ذیل الفاظ میں نقل کیا گیا ہے:
چنانچہ حضرت علی کے بعد جن لوگوں نے حضرت حسنؓ سے بیعت کی تھی اور جو حضرت معاویہؓ کے خلاف جنگ کے لیے نکلے تھے، ان سب نے حضرت حسن کو بطیب خاطر اپنی آزاد مرضی سےخلیفہ منتخب کیا تھا، اس میں حضرت علیؓ کی کسی خواہش یا ہدایت کو کوئی دخل نہ تھا۔
١- مسند احمد، مردیات عثمان میں ہے:
یہ ہےرئیس مملکت اسلامی کےتقرر کےمعاملےمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت راشدہ کا تعامل اور صحابہ کرام کا اجماعی طرز عمل۔اس مستند دستوری رواج سے جو بات قطعی طور پر ثابت ہے وہ یه که خلیفته المسلمین کا انتخاب عوام الناس کی مرضی پر موقوف و منحصر ہےاور کسی شخص کا بزور خلیفه بننےکی کوشش کرنا اور پھر اپنے کسی قریبی عزیز کے حق میں جانشینی کا فیصلہ کر کے اپنی زندگی میں اس کی بیعت لےلینا کوئی مستحسن اور پسندیدہ فعل نہیں ہے۔علماء کا اجماع اگر ہوا ہےتو اس بات پر ہوا ہے کہ اگر کوئی ایسا کر بیٹھے اور اس کو بدلنے کی کوشش موجب فتنہ ہوتی نظر آئے تو اسے برداشت کر لینا چاہیے،اور اس طرح بھی خلافت منعقد ہو جاتی ہے۔ مگر اس بات پر اجماع ہرگز نہیں ہوا ہے کہ اسلام میں یہ بالکل جائز و مباح طریقہ ہے اور خلافت خواہ شوری اور انتخاب سے ہو، یا اس دوسرے طریقہ پر،دونوں اسلام کی نگاہ میں یکساں ہیں ۔ اس مسئلے پر مفصل بحث آگے چل کر ہوگی۔
اس اصولی و تمهیدی کلام کےبعد اب میں مولانا مودودی کی وہ عبارت نقل کرتاہوں جسےمولانا عثمانی صاحب نےسب سےپہلےہدف تنقید بنایا ہے۔ وہ عبارت” خلافت و ملوکیت"صفحہ ۱۰۵ پر ان الفاظ میں درج ہے:
"یزید کی ولی عہدی کےلیےابتدائی تحریک کسی صحیح جذبےکی بنیاد پر نہیں ہوئی تھی،بلکہ ایک بزرگ (حضرت مغیره بن شعبه) نےاپنےذاتی مفاد کےلیےدوسرے بزرگ (حضرت معاویہؓ) کےذاتی مفاد سےاپیل کرکےاس تجویز کو جنم دیااور دونوں صاحبوں نےاس بات سےقطع نظر کرلیا کہ وہ اسطرح امت محمدیہ کوکس راہ پرڈال رہےہیں ۔“
اس پر مولانا محمد تقی صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ ”جمہور امت کےمحقق علماء ہمیشہ یہ تو کہتےآئے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ عمل رائے اور تدبیر کے درجے میں نفس الامری طور پر درست ثابت نہیں ہوا اور اس کی وجہ سے امت کےاجتماعی مصالح کو نقصان پہنچا مگر حضرت معاویہؓ کی نیت پر حملہ کرنے اور ان پر مفاد پرستی کا الزام عائد کرنےکا حق کسی کو نہیں ہے۔وہ اپنےاس اقدام میں نیک نیت تھےاور انہوں نےجوکچھ کیا شرعی جواز کی حدود میں رہ کر کیا۔اس کےجواب میں میری پہلی گزارش یہ ہےکہ مولانا عثمانی نے مولانا مودودی کے موقف کی ترجمانی کرتےہوئےان کےمحتاط الفاظ اور ملایم انداز بیان کو خواہ مخواہ سخت اور ناگوار الفاظ میں بدل دیا ہے۔کسی کام کا صحیح جذبے کی بنیاد پر نہ ہوتا اور کام کرنےوالےکا نیک نیت نہ ہونا یا اس کی نیت کا متہم ہونا دونوں صورتیں یکساں نہیں ہیں۔ اسی طرح کسی فرد کا ذاتی مفاد سےاپیل کرنا اور کسی فرد کا مفاد پرست ہو جانا دونوں میں بڑا فرق ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ میں کہوں کہ بعض صحابہ کرام سے سرقہ ، شرب خمریا زنا کا صدور بھی ہوا ہے اور عثمانی صاحب میرا قول یوں نقل کر دیں کہ صحابہ کرام چور، شرابی، زانی اور عیش پرست تھے یا عثمانی صاحب یہ فرمائیں کہ مسلمانوں سے شرک و بدعت کا صدور ہورہا ہے اور میں ان کی بات کو یوں نقل کروں کہ مسلمان عام طور پر مشرک اور مبتدع بن چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس طرح بات کچھ سے کچھ بن جاتی ہے۔
تاہم اگر جذبے اور نیت کے فرق کو نظر انداز کر دیا جائے اور کسی کام کے صحیح جذبے پر مبنی نہ ہونے کا مطلب صحیح نیت کا فقدان ہی لے لیا جائےتب بھی ایک بنیادی سوال جو اس ضمن میں پیدا ہوتا ہے،وہ یہ ہے کہ نیت کےصحیح یا غیر صحیح ہونےکی بحث ہر انسانی فعل میں پیدا ہوتی ہےیا کچھ خاص قسم کےافعال ہیں جن میں نیت کی صحت وعدم صحت معتبر ہےاور جن میں نیت کے فساد و صلاح کےمختلف عواقب واثرات مرتب ہوتے ہیں۔ میں نےاپنی حد تک اس مسئلےپر غور کیا ہےاور محدثین نے انما الاعمال بالنیات اور لكل امرء مانوی و غیره احادیث کی تشریح میں جو کچھ فرمایا ہےاس کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ اس معاملے میں جو کچھ میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہےکہ نیت کےوجود و عدم یا صحت و سقم کاسوال صرف ان اعمال کےبارےمیں پیدا ہوتا ہےجوعبادات و تقر بات سےمتعلق ہوں یا کم از کم شریعت کےاوامر و نواہی کی تعمیل کرتے ہوئے انجام پذیر ہوں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص اگر نماز پڑھے یاز کو ۃ دے یا حج کرے یا جہاد فی سبیل اللہ میں جانی و مالی قربانی دے تو ان میں نیت کا موجود یا مفقود ہونا اور اس کا صحیح یا غلط ہونا بنیادی اہمیت رکھتا ہےاور ہر پہلو سے قابل اعتبار ہے، کیونکہ ایسے افعال میں نیت کی اچھائی یا برائی سے آسمان وزمین کا فرق واقع ہو جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دو فعل جو نظر بظاہر یکساں ہوں، ان میں سےایک پر جنت واجب ہو اور دوسرا بالکل اکارت جائے، بلکہ الٹا موجب مواخذہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ ان افعال کے انجام دینے والے کے معاملے میں ہمیں حسن ظن کی تلقین کی گئی ہے اور زیادہ قیاس آرائی سے روکا گیا ہے، اگر چہ صریح شواہد و قرائن کی بنا پر نیت کو زیر بحث لانا قطعا ممنوع بھی نہیں ہے۔
وہ امور جو عبادات کی قبیل سے نہیں ہیں اور جن کا مشروع اور مامور بہ ہونا کتاب و سنت سےثابت نہیں ہے، بلکہ جو شریعت کی رو سے غلط یا غیر مستحسن قرار پاتے ہیں، ان میں نیت یا جذبے کےصحیح یا غیر صحیح ہونے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا ۔ پھر اس طرح کے افعال جب زیر بحث آتے ہیں تو ناگزیر طور پر وہ ارادہ اور جذبہ بھی زیر بحث آجاتا ہے جس کے تحت وہ افعال سرانجام پاتے ہیں۔ یہ امر بالکل ظاہر اور بد یہی ہے کہ اس طرح کے محل نظر اعمال جب موضوع سخن بنتے ہیں تو ان کے حسن و فتح پر بحث کے دوران میں وہ جذبہ محرک بھی لامحالہ کسی نہ کسی حد تک بیان میں آہی جاتا ہے جو ان میں کار فرما ہوتا ہے اور جو عملی رویے سے صاف طور پر مترشح ہورہا ہوتا ہے۔ اس طرح کے اعمال میں اگر جذبات و محرکات کا ذکر آ جائے تو ذکر کرنے والے کا منہ یہ کہہ کر بند نہیں کیا جاسکتا کہ تم نیت پر حملہ کر رہے ہو جس کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے۔ اگر غلط فعل کو غلط جذ بے پر بنی قرار دینے کا نام ” نیت پر حملہ ہے اور گناہ ہے تو پھر کسی دینی علمی یا تاریخی موضوع پر کلام کرنے والا شاید ہی کوئی مسلمان ہو گا جو اس سے بچ سکا ہو۔ مولا نا محد تقی صاحب عثمانی اب تک جو کچھ سپر د قلم کرتے رہے ہیں اگر اس پر ایک نگاہ بازگشت ڈال لیں تو انہیں اس میں بھی اس چیز کے متعدد نمونے مل جائیں گے جسے وہ نیتوں پر حملہ قرار دے کر ممنوع ٹھیرا رہے ہیں۔ انسانی فعل اور مشینی حرکت میں آخر کچھ تو فرق ہوتا ہے اور پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فعل نامحمود بالعموم جذ بہ نامور ہی کا ثمرہ ہوتا ہے۔
اس سے پہلے میں شاہ عبد العزیز صاحب کے اقوال نقل کر چکا ہوں جن میں انہوں نے فرمایا ہے کہ امیر معاویہ کی بعض کا رروائیاں خاندانی عصبیت سے مبرا نہ تھیں ۔ حضرت سعد بن عبادہ اور ابو سفیان کے متعلق بھی میں ابن تیمیہ کے اقوال درج کر چکا ہوں، اور بہت سے دیگر اقوال بزرگانِ سلف کے پیش کیے جاسکتے ہیں جن میں انہوں نے بعض صحابہ کرام کے رویے پر ایسے الفاظ میں تنقید کی ہے جن کی جذبات و محرکات پر بھی لازما پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر حافظ ابن عساکر، حضرت فضيل بن عیاض کا ایک قول روایت کرتے ہیں جسے ابن کثیر نے البدایہ جلد ۲ صفحہ ۱۴۰ پر بھی نقل کیا ہے۔ قول یہ ہے:
اب مولانا عثمانی اگر چاہیں تو فرما سکتےہیں کہ یہ امیر معاویہ پر دنیا پرستی کا الزام ہےاور ان کی نیت پر حملہ ہےجس کا حق کسی کو نہیں پہنچتا۔لیکن عثمانی صاحب کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیےکہ حضرت فضیل ایک طرف ایسے صاحب تقوی و توزع تھےکہ وہ صوفیائےکرام کے امام شمار کیےجاتےہیں اور دوسری طرف وہ اتنے ثقہ اور صادق القول ہیں کہ صحیحین ،سنن اور مسندِ شافعی سب میں ان کی روایات موجود ہیں۔
مولانا وحید الزمان صاحب حیدر آبادی نےتیسیر الباری (ترجمہ و تشریح البخاری)کےمتعدد مقامات پرامیر معاویہ کے متعلق لکھا ہے کہ ان کا دل اہل بیت سےصاف نہ تھاجس طرح شاہ عبد العزیز نےلکھا ہے کہ: "حرکات او خالی از شائبه نفسانی نبود‘“ یه الفاظ بظاہر بہت سخت ہیں اور ممکن ہے کہ مولانا محمد تقی اب ان کو بھی نیت پر حملہ قرار دیں۔ لیکن ان الفاظ کو نیت پر حملہ کہہ کر ان کا زبان و قلم سے صدور ممنوع سمجھنا اس وجہ سے درست نہیں کہ تاریخ وحدیث کی کتابوں میں متعدد واقعات ایسےمذکور ہیں جو اسی صورت حال پر صاف صاف دلالت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت علی و آل علی پر سب و شتم ہی کےمسئلےکو لیجئے ۔ یہ مذموم طریقہ جس طرح حضرت علیؓ کی زندگی اور ان کی وفات کے بعد تک جاری رہا اور حضرت حسن اور حسین کے مدینہ منتقل ہو جانے پر جس طرح امیر معاویہ کا گورنر مروان ان کے رُو در رو خطبوں میں ان پر لعن طعن کرتا تھا، اس کےبعد آخر دلوں کی صفائی کیسےباقی رہ سکتی تھی ؟ پھر یہ بھی ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ امام حسن کی خلافت سے دست برداری کےبعد بھی ان کی طرف سےامیر معاویہؓ اپنی طبیعت میں خلش محسوس کرتے تھے جو امام احسن کی وفات ہی پر رفع ہوئی۔ ابوحنیفہ دینوری الاخبار الطوال صفحہ ۲۲۲ پر لکھتےہیں:
وانتهى خبر وفاة الحسن الى معاوية كتب به اليه عامله على المدينة مروان فأرسل الى ابن عباس وكان عنده بالشام فعزاه وأظهر الشماتة بموته فقال له ابن عباس لاتشتمن بموته فو الله لا تلبث بعده إلا قليلا.
" حضرت حسنؓ کی وفات کی خبر امیر معاویہ کے عاملِ مدینہ مروان نے ان تک پہنچائی۔انہوں نے حضرت ابن عباس کو بلایا جو ان کے پاس شام میں آئے ہوئے تھے۔ پس امیر معاویہؓ نے ان سے اظہار ہمدردی کیا اور امام حسنؓ کی وفات پر خوشی ظاہر کی۔ اس پر ابن عباس نے ان سے کہا کہ آپ ان کی موت پر خوش نہ ہوں۔ خدا کی قسم آپ بھی ان کے بعد زیادہ دیر زندہ نہ رہیں گے۔“
اس کے بعد سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب فی جلود النمور کی درج حدیث ملاحظہ ہو :
وفد المقدام بن معد يكرب الى معاوية بن ابي سفيان فقال معاوية للمقدام أعلمت ان الحسن بن على توفّى فرجع المقدام فقال له فلان اتعدّها مصيبة. فقال له وَلِمَ لا أراها مصيبة وقد وضعه رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجره فقال هذا مني وحسين من على. فقال الأسدي جمرة أطفأها الله.
" مقدام بن معدیکرب حضرت معاویہ کے پاس آئے تو حضرت معاویہؓ نے ان سے کہا کہ آپ کو معلوم ہوا ہے کہ حسنؓ فوت ہو گئےہیں؟ مقدام نے کہا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ. ایک شخص ( مراد امیر معاویہ نہیں ) نے کہا کہ کیا آپ اسےایک مصیبت قرار دےرہےہیں؟ مقدام کہنےلگےکہ میں ان کی وفات کو کیوں مصیبت نہ سمجھوں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےانہیں اپنی گود میں بٹھایا اور فرمایا کہ یہ میرا ہےاور حسین علی کاہے۔ قبیلہ بنو اسد کے فرد نے (جو حضرت مقدام کے ہمراہ تھا) کہا کہ حسن ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا۔“
اس روایت میں جہاں فلاں کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں مسند احمد میں معاویہ کا لفظ مروی ہے،جیسا کہ مولانا شمس الحق صاحب عون المعبود نے تصریح کر دی ہے۔ اس روایت کی تشریح میں مولانا موصوف فرماتے ہیں:
ولعجب كل العجب من معاوية فإنه ماعرف قدر اهل البيت حتى قال ما قال. فان موت مثل الحسن بن علی رضی الله عنه في أعظم المصائب وجزى الله المقدام ورضى عنه فإنه ماسكت عن تكلم الحق حتى اظهره وهكذا شأن المؤمن الكامل المخلص...... فقال الاسدى طلبا لرضاء معاوية وتقربا اليه. إنما قال الاسدی ذلك القول الشديد السخيف لان معاوية رضي الله عنه كان يخاف على نفسه من زوال الخلافة.
" امیر معاویہ کے اس قول پر انتہائی تعجب ہے۔ انہوں نے اہل بیت کی قدر نہ پہچانی حتی کہ ایسی بات کہہ دی ۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی وفات یقیناً بہت بڑی مصیبت تھی اور اللہ حضرت مقدام کو جزائے خیر دے اور ان سے راضی ہو کہ انہوں نے کلمہ حق ادا کرنےمیں خاموشی اختیار نہ کی اور اسےعلانیہ کہہ دیا۔ مومن کامل مخلص کی یہی شان ہے۔ بنواسد کے شخص نے جو کچھ کہا وہ معاویہ کی رضا اور تقرب حاصل کرنے کے لیے تھا۔ اس نے یہ سخت گھٹیا بات اس وجہ سےامیر معاویہ کےسامنےکہی تھی کہ (امام حسن کی موجودگی میں ) امیر معاویہ کو اپنی خلافت کے زوال کا خوف تھا۔“
یہی الفاظ مولا ناخلیل احمد صاحب نے بذل المجمو دہ شرح سنن ابی داؤد میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے درج فرمائے ہیں۔ وہ بھی لکھتے ہیں:
فقال الأسدي طلبًا لرضاء معاوية وتقربًا اليه فقال المقدام حسين سمع ما قال في ابن بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم لمراعاة معاوية أما انا فلا أبرح اليوم حتى اغیظک و اسمعک فیه ما تکره كما آسماني ما اكره.
" اسدی نے یہ بات معاویہ کی رضا اور تقرب حاصل کرنے کے لیے کہی تھی جب حضرت مقدام نے اس شخص کی بات سنی جو اس نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے امیر معاویہ کی خاطر دار کےلیےکہی تھی،تو حضرت مقدام امیر معاویہ سے کہنےلگےکہ میں یہاں سے آج ہر گز نہ ہلوں گا جب تک آپ کو غصہ نہ دلاؤں اور آپ کو ایسی بات نہ سناؤں جو آپ کو نا پسند ہو جس طرح کہ آپ نےمجھے ایسی بات سنائی جو مجھے پسند نہیں۔“
حدیث میں آگے بیان ہے کہ حضرت مقدام نے حضرت معاویہ کو قتم دلا کر پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونے اور زیور اور ریشم پہننے سے منع نہیں فرمایا اور خدا کی قسم یہ چیزیں آپ کے گھر کے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ اس کی شرح میں صاحب عون المعبود فرماتے ہیں:
" آپ کے لڑکے اور گھر کے مرد (یزید وغیرہ) ان اشیاء کے استعمال سے پر ہیز نہیں کرتےاور آپ ان پر نکیر نہیں کرتے ۔ اور ادھر حضرت حسن پر طعن کرتے ہیں۔“
تاریخ و حدیث کی یہ روایات اوران کی تشریح میں جو کچھ کہا گیا ہےشاید مدیر "البلاغ“ کےنزدیک سب نیتوں پر حملےکےمترداف ہو،لیکن واقعہ یہ ہےکہ اسےنیت پر حملے کا نام دےکر شرعاً ممنوع قرار دینا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ در حقیقت ان میں نیت نہیں بلکہ ایک طرز عمل زیر بحث لایا گیا ہے جو غیر مستحسن اور نامناسب تھا۔ ظاہر ہے کہ جب عمل پسندیدہ نہیں تھا تو جس جذبے یا جس نیت پر یہ عمل بنی ہو گا، وہ جذ بہ اگر ضمناً بحث میں آ جائےاور اس جذ بے کو غلط یا نا پسندیدہ بھی کہہ دیا جائے تو اس سےکیا قباحت لازم آتی ہے؟ اگر یہ پابندی لگادی جائےکہ کسی غلط یا قابل اعتراض قول و فعل کی غلطی واضح کرتےہوئےاس حد یه اراده کی جانب مطلقا کوئی اشارہ ہی نہ ہو جو اس قول و فعل کےپیچھے کارفرما ہےتو اس کےدوسرے معنی تو یہ ہیں کہ کچھ غلطی کو غلطی ہی نہ کہا جائے۔غلط کام کی عدم صحت کو جب بھی بیان کیا جائےگا، اس میں کسی نہ کسی حد تک اس کا محرک بھی آپ سے آپ بیان ہوگا۔ اس سے مفر ممکن ہی نہیں ہے۔
تا ہم میں سمجھتا ہوں کہ مولانا مودودی نےحضرت معاویه یا دوسرےصحابہ کرام کےجس قول وفعل سے بھی کتاب و سنت کی روشنی میں اظہار اختلاف کیا ہےمؤذب الفاظ اور محتاط انداز میں کیا ہے براہ راست ان حضرات کی نیت کو زد میں لاتےہوئےانہیں "بدنیت یا مفاد پرست“ جیسےگستاخانہ القاب سے مرکز ملقب نہیں کہا۔ یہ محمد تقی صاحب کی صریح دھاندلی ہےکہ وہ عامتہ المسلمین کو متوحش کرنے کےلیےاسطرح کے الفاظ گھڑ کر مولانا مودودی کی طرف منسوب کر رہےہیں۔مثال کےطور پر میں مولانا مودودی کی درج ذیل عبارت پیش کرتا ہوں جو انہوں نے خلافت و ملوکیت صفحہ ۳۴۳ پر درج کی ہے :
"جن حضرات نےبھی قاتلین عثمان سےبدلہ لینےکےلیےخلیفہ وقت کےخلاف تلوار اٹھائی ان کا یہ فعل شرعی حیثیت سے بھی درست نہ تھا اور تدبیر کےاعتبار سےبھی غلط تھا۔مجھے یہ تسلیم کرنےمیں ذرہ برابر تامل نہیں ہےکہ انہوں نے یہ غلطی نیک نیتی کے ساتھ اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہوئے کی تھی۔ مگر میں اسے محض "غلطی" سمجھتا ہو۔ اس کو "اجتهادی غلطی" ماننے میں مجھے سخت تامل ہے۔“
کیا کوئی انصاف پسند اہل عمل جو خواہ مخواہ سوئےظن میں مبتلا نہ ہو، یہ کہہ سکتا ہےکہ مولانا مودودی کا یہ موقف حذ ادب سے متجاوز ہے اور اس قول کا قائل قصد کسی صحابی رسول کو ( معاذ اللہ ) بد نیت ثابت کرنا چاہتا ہے یا ان کی عدالت کو مجروح کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؟ کیا علمائے اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرام معصوم عن الخطاء ہیں، ان سے کسی غلطی کا صدور سرے سے ممکن ہی نہیں ہے اور ان کے ہر قول و فعل پر اجتہاد کا اطلاق ہوتا ہے؟
بحث سابق سے یہ بات واضح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائے راشدین میں سےکسی بزرگ نے بھی اپنے کسی عزیز یا قرابت دار کے حق میں جانشینی کی تجویز امت کے لیے پیش نہیں فرمائی۔ یہ بات بھی صاف کی جاچکی ہےکہ عبادات و تقربات، یا پھر وہ معاملات جو مشروع طریق پر سرانجام پائیں،ان میں تو نیت کے وجود و فقدان اور نیت کی صحت وعدم صحت کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہےلیکن جو امور تعبدی نہیں ہیں اور جن کا مشروع مسنون ہونا ثابت نہیں ، ان میں نیت کےغلط یا صحیح ہونے سے کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوتا۔ ان میں خواہ صحیح جذ بہ یا نیت کارفرما ہو یا نہ ہو اور خواہ وہ ذاتی مفاد کےلیے ہوں یا قومی مفاد کےلیے، ان سےاختلاف کرنےیا انہیں غلط قرار دینےکا حق کسی طرح سلب نہیں کیا جا سکتا۔اسطرح کےافعال پر امت کے علماء وصلحاء ہمیشہ گرفت کرتےچلےآئےہیں اور ضمناً ان کےجذبات و محرکات بھی زیر بحث آتےرہےہیں۔ اس چیز کو نیت پر حملہ یا سوئے ظن کا نام دے کر مذموم یا ممنوع قرار دینا درسہ نہیں۔ نیت پر حملہ اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی عبادت یا نیکی کے کام کو بھی بلا وجہ بری نیست، پر منی سمجھ لیا جائے ، ورنہ غلط کام بہر حال غلط ہے قطع نظر اس سے کہ وہ اچھے جذبے یا اچھی نیت سے کیا جائے یا نہ کیا جائے۔
اب یزید کی ولی عہدی کے متعلق مدیر البلاغ فرماتے ہیں کہ جہاں تک اس مسئلے کا تعلق ہےکہ حضرت معاویہ کا یزید کو ولی عہد بنانا رائے ، تدبیر اور نتائج کے اعتبار سے صحیح تھا یا غلط ، اس میں ہمیں مولانا مودودی صاحب سے اختلاف نہیں ہے۔ جمہور امت کے محقق علماء ہمیشہ یہ کہتے آئےہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فعل رائے اور تدبیر کے درجے میں نفس الامری طور پر درست ثابت نہیں ہوا اور اس کی وجہ سے امت کے اجتماعی مصالح کو نقصان پہنچا۔ بہر حال اتنی بات تو ان کے نزدیک بھی مسلم ہے کہ حضرت معاویہ کا یہ فعل رائے، تدبیر اور نتائج کے اعتبار سے صحیح نہ تھا اور امت کے اجتماعی مفادات کے منافی تھا۔
اس کے بعد وہ فرماتے ہیں کہ ”مولانا سے ہمارا اختلاف اس مسئلے میں ہے کہ مولانا نے اس اقدام کو شخض رائے اور تدبیر کے اعتبار سے غلط قرار دینے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ براہ راست حضرت معاویہ کی نیت پر تہمت لگا کر اس بات پر اصرار فرمایا ہے کہ ان کے پیش نظر بس اپنا ذاتی مفاد تھا اور اس پر انہوں نےپوری امت کو قربان کر دیا ۔ مدیر موصوف کےاس دوسرےمعارضے کا جواب میں اب تک کی بحث میں دے چکا ہوں۔ میرے لیے دوبارہ بس اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ اگرچہ مولانا نے نیت پر تہمت نہیں لگائی لیکن یہ امر جب تسلیم شدہ ہے کہ امیر معاویہ کا فعل رائے،تدبیر اور نتائج تینوں لحاظ سے غلط تھا اور مصالح اجتماعیہ کے حق میں نقصان رساں ثابت ہوا تو جذبے یا نیت کے صحیح ہونے نہ ہونے یا ذاتی مفاد پر مبنی ہونےنہ ہونے سے عملاً کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔پھر مولانا مودودی نےجو بات کہی تھی وہ دراصل یہ تھی کہ انہوں نےاس بات سےقطع نظر کر لیا کہ وہ اس طرح امت محمدیہ کو کس راہ پر ڈال رہے ہیں۔ان الفاظ کا مطلب بھی یہ نہیں ہےکہ انہوں نےجانتے بوجھتے امت کو اپنےذاتی مفاد پر قربان کر دیا، بلکہ مراد صرف یہ ہےکہ اس فعل کےنتیجےمیں امت خلافت کےبجائے ملوکیت و آمریت اور نسلی بادشاہت کی راہ پر پڑ گئی اور یہ ایک حقیقت ہےجس سےانکار ممکن ہی نہیں ہےکیا آپ خود جمہور محققین کا قول یہی بیان نہیں فرمار ہے کہ یہ فعل درست نہ تھا بلکہ نقصان دہ ثابت ہوا؟
اس کے بعد عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ ہماری آئندہ گفتگو کا حاصل یہ نہیں ہےکہ حضرت معاویہ کا یہ اقدام واقعےکےاعتبار سےسو فیصد درست اور نفس الامر میں بالکل صحیح تھا یا انہوں نےجو کچھ کیا وہ بالکل ٹھیک کیا۔ان الفاظ سےبظاہر ایسا محسوس ہوتا ہےکہ مولانا عثمانی نےاپنےسابق موقف میں ترمیم کر کےاب یہ موقف اختیار کیا ہےکہ اس اقدام کا چند فیصد درست ہےاور یہ بالکل صحیح ہونے کے بجائے کسی حد تک غیر صحیح ہے، حالانکہ وہ پہلےاسےبلا تخصیص اور علی الاطلاق نادرست قرار دے چکے ہیں، بلکہ جمہور ملت کا مسلم یہی بتا چکے ہیں کہ یہ فعل امت کےاجتماعی مصالح کے لیے موجب ضر ہوا اور نفس الامر میں درست نہ تھا۔
پھر آگے چل کر انہوں نے جو بحث کی ہے، اس میں وہ اس فی صد والے موقف سے بھی بتدریج دور ہٹتے چلے گئے ہیں حتی کہ آخر میں فرماتےہیں کہ اگرحضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ دیانت داری سےیزید کو خلافت کااہل سمجھتےتھےتو اسےولی عہد بنا دینا شرعی اعتبار سےبالکل جائز تھا۔مزید فرماتےہیں کہ یزید کی جو مکروہ تصویر ذہنوں میں بسی ہوئی ہے،اس کی بنیادی وجہ کر بلا کا حادثہ ہےلیکن جس وقت اسے ولی عہد بنایا جارہا تھا،اس وقت یزید کی شہرت جھوٹوں کو بھی اس حیثیت سےنہیں تھی جیسی آج ہےاسوقت تو وہ ایک صحابی اور ایک خلیفہ وقت کا صاحبزادہ تھا۔اس کےظاہری حالات،صوم وصلوۃ کا پابندی ،اس کی دنیوی نجابت اور اسکی انتظامی صلاحیت کی بنا پر یہ رائے قائم کرنے کی پوری گنجائش تھی کہ وہ خلافت کا اہل تھا۔“
یزید کے فضائل و مناقب بالتفصیل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مدیر البلاغ نے ولی عہد بنانے کی شرعی حیثیت پر بھی بحث کی ہےجس کےضروری اجزاء اهمیت کےپیش نظر اب میں نقل کرتا ہوں اور انکےمتعلق اپنےمعروضات بھی پیش کرتا ہوں۔مولانا عثمانی صاحب فرماتےہیں کہ اس بات پر امت کا اجماع منعقد ہو چکا ہےکہ خلیفہ وقت اگر کسی شخص میں نیک نیتی کے ساتھ شرائط خلافت پا تا ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کو ولی عہد بنا دے، خواہ وہ اس کا باپ، بیٹا یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ تفصیل کے لیے دیکھئے ازالۃ الخفا ، جلد اول ص ۵-
عثمانی صاحب کے اس حوالے کے بعد از لایه الخفاء سے میں شاہ ولی اللہ صاحب کی متعالیہ بحث درج کرتا ہوں۔ شاہ صاحب نے پہلے تو دس " شروط خلافت بیان کی ہیں جو انعقاد و خلافت کے لیے ضروری ہیں، مثلاً خلیفہ کا مسلمان، عاقل، بالغ ہونا وغیرہ۔ انہی میں آٹھویں شرط انہوں نےعدالت بیان فرمائی ہے اور اس کی تعریف یوں کرتے ہیں:
مجتنب از کبائر، غیر مصر بر صغائر و صاحب مروت باشند ، نہ ہرزہ گردو خليع العذار۔
"کبیرہ گناہوں سےبچنےوالا اور صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنےنہ ہو۔ ذی مروّت ہونہ که هرزه گرداور وارسته مزاج "
پھر فرماتے ہیں کہ ” جب یہ سب شرطیں کسی شخص میں پائی جائیں تو وہ مستحق خلافت سمجھا جائے گا اور اگر لوگ اسے خلیفہ بنائیں اور اس کے ہاتھ پر بیعت کریں، تو وہ خلیفہ راشد ہو گا۔ مزید لکھتے ہیں:
و غیر مجتمع ایں شروط را اگر خلیفه سازند،ساعیان خلافت او عاصی گردند لیکن اگر تسلط یابد حکم او فيما يوافق الشرع نافذ باشد برائےضرورت که برداشتن او از مسند خلافت اختلاف امت پیدا کند و هرج مرج پدید آرد
"اور اگر لوگ کسی ایسےشخص کو خلیفہ بنا ئیں جس میں یہ تمام شرائط جمع نہ ہوں تو اسکی خلافت کے بانی گنه گار ہوں گےلیکن اگر وہ تسلط پالےتو اس کا حکم جو موافق شرع ہو،نافذ ہو گا ضرورت کی بنا پر۔ کیونکہ ( تسلط کے بعد ) اُسے مسند خلافت سے اتارنا اختلاف امت کا باعث ہوتا ہےاور انتشار اور بدنظمی پیدا ہوتی ہے۔“
اس کے بعد شاہ صاحب انعقاد خلافت کے چار طریقے بیان فرماتے ہیں۔ پہلا طریقہ ان کے نزدیک اہل حل و عقد کا انتخاب ہے، یعنی مملکت کے عالم ، قاضی اور نامور لوگ بیعت کر لیں۔اس سلسلے میں وہ حضرت عمرؓ کا قول نقل فرماتے ہیں کہ جس نے مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر بیعت کی اور جس نے لی ، ان کی کوئی بیعت نہیں بلکہ وہ دونوں سزا وار فیل ہیں۔ حضرت ابو بکر کی خلافت اس پہلے طریق پر منعقد ہوئی۔ دوسرا طریقہ یہ ہےکہ خلیفہ کسی شخص کو مسلمانوں کی خیر خواہی کو سامنےرکھ کر بطور جانشین تجویز کر دےجو شروط خلافت کا جامع ہو اور لوگوں کو جمع کرنےکےبعد انکےسامنے اس کا اعلان کر دے۔حضرت عمر فاروق کی خلافت اسی طرح منعقد ہوئی ۔ تیسرا طریقہ مجلس شوری کا قیام ہے اور وہ یوں ہے کہ خلیفہ ایک ایسی جماعت میں امر خلافت دائر کر دے جس جماعت کے سب ارکان شروط خلافت پر پورے اترتے ہوں۔ یہ مجلس شوری خلیفہ کی وفات کے بعد مشورہ کرے اور ایک شخص کو خلیفہ معین کر لے۔ حضرت عثمان ذوالنورین کا انتخاب اسی طریق پر ہوا۔حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد اس مجلس کا اجلاس ہوا اور خلیفہ ثالث نامزد ہوئے۔
انتخاب خلیفہ کے یہ تین طریقے جو خلفائے راشدین کے عہد میں اختیار کیے گئے ، انہیں بیان کرنے کے بعد شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ایک چوتھا طریقہ حصول خلافت کا استیلاء“ (یعنی زبردستی غلبہ و تسلط حاصل کر لینا) ہے۔ اس کی تفصیل یوں بیان فرماتے ہیں:
چوں خلیفہ بمیرد،شخص متصدی خلافت گرد و بغیر بیعت واستخلاف ہمہ را بر خود جمع سازد با تیلاف قلوب یا بقهر و نصب قتال خلیفه شود ولازم گرد و بر مردماں اتباع فرمان او در آنچه موافق شرع باشد ۔ و این دو نوع است،یکےآنکه مستولی مجتمع شروط باشد و صرف منازعین کند مسلح و تدبیر از غیر ارتکاب محترمےوایں قسم جایز است درخصت و انعقاد خلافت معاویه ابن ابی سفیان بعد حضرت مرتضی و بعد صلح امام حسن ہمیں نوع بود - دیگر آنکه مجتمع شروط نباشد وصرف منازعین کند بقتال وار تکاب محترم و آں جائز نیست و فاعل آن عاصی است لیکن واجب است قبول احکام اوچوں موافق شرع باشد ... و ایس انعقاد بنا بر ضرورت است.
"جب خلیفہ فوت ہو جائے تو کوئی شخص خلافت پر قابو یافتہ ہو جائے اور بیعت واستخلاف کےبغیر عوام کو تالیف قلب سے یا بزور شمشیر لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لے۔ یہ شخص خلیفہ بن جائے گا اور اس کے موافق شرع احکام کی پیروی لوگوں پر لازم ہو جائے گی ۔ اس استیلائی خلافت کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم یہ ہے کہ قوت سے غلبہ پالینے والے کے اندر خلافت کی تمام شرطیں پائیں جائیں اور وہ صلح وتدبیر کے ذریعے سے کسی ناجائز امر شرعی کا ارتکاب کیے بغیر مدعیان خلافت کو راستےسےہٹا دے۔یہ صورت بھی بطور رخصت وضرورت جائز ہے۔اور حضرت علی مرتضیٰ کی وفات اور امام حسن کی صلح کےبعد معاویہ کی خلافت کا انعقاد اس قسم کا تھا۔ دوسری قسم یہ ہے کہ شخص متغلب کے اندر شرائط خلافت جمع نہ ہوں اور وہ قتال اور ارتکاب حرام کے ذریعے سے مخالفین کا دفعیہ کرے اور یہ صورت جائز نہیں ہے اور اس کا فاعل گنہ گار ہے۔ لیکن اس کے موافق شرع احکام کی تعمیل بھی واجب ہے اور انعقاد خلافت کی اس شکل کا جواز بھی بر بنائے ضرورت ہے۔“
استیلائی یا متغلبانہ خلافت کی دوسری قسم جو شاہ صاحب نے آخر میں بیان کی ہے،اس کےمتعلق وہ بعد میں فرماتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان اور اول خلفاء بنی عباس کا انعقاد خلافت اسی قسم کا تھا۔ حضرت علی کی خلافت کے متعلق شاہ صاحب نے دو قول نقل کیے ہیں۔ اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ مہاجرین و انصار مدینہ کے بیعت کر لینے سے حضرت علی کی خلافت منعقد ہوئی تھی اور حضرت علی نے جو خطوط اہل شام کو طلب بیعت کےسلسلےمیں لکھے تھے، وہ اس پر شاہد ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ خلافت علی کا انعقاد بذریعہ شوری اسی وقت ہو گیا تھا، جب کہ حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد ان کا نام حضرت عثمان کے ساتھ تجویز ہوا تھا لیکن یہ قول ضعیف ہے۔
اب شاہ ولی اللہ صاحب کی اس بحث میں جو امر قابل ملاحظہ ہے، وہ یہ کہ انہوں نےحضرت ابوبکر سے لے کر، امیر معاویہ،عبد الملک بنو عباس وغیرہ سب کا ذکر ان چار طریقہ ہائےانعقاد خلافت کےتحت کر دیا ہے،مگر یزید کی ولایت عہد یا خلافت کا ذکر انہوں نے بالکل نہیں فرمایا۔ اس کا ایک مطلب تو یہ لیا جا سکتا ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ نے اپنے انتقال یا ایام مرض سے بہت پہلےجس طرح اپنے بیٹے کو ولی عہد بنایا اور اس کے لیے بیعت لی،یہ کارروائی بالکل ناجائز تھی اور خلافت یزید کےانعقاد کے لیے کوئی صحیح اور جائز بنیاد نہیں بن سکتی تھی یہی وجہ ہےکہ حضرت حسینؓ ، حضرت عبداللہ ابن زبیر اور حضرت عبدالرحمن ابی بکر نے ولی عہدی کی بیعت سے انکار فرمایا اور حضرت عبداللہ ابن عمر جیسے محتاط متقی اور مصالحین پسند بزرگ نے بھی یہ کہہ دیا کہ میں بیک وقت دو بیعتوں کا قلاوہ اپنی گردن میں نہیں ڈال سکتا۔ بلکہ امیر معاویہ کی وفات کےبعد جب ولید (گورنر مدینہ ) نے اصرار کیا تو آپ برابر ٹالتے رہے اور کہتے رہے کہ جب دوسرے سب لوگ یزید کی بیعت کر لیں گےتو میں بھی کرلوں گا۔ تاہم اگر مدیر ” البلاغ یا کوئی دوسرےان کےہم خیال یہ کہیں کہ ولایت عہد کےلیے بیعت عام حاصل کر کےلوگوں کو اس عہد کا پابند بنا نا صیح ہےاور یہ انعقاد خلافت کےحق میں ایک جائز دلیل و بنیاد بن سکتی ہے، تب بھی یزید کے حق میں ولایت عہد کی کارروائی شاہ صاحب کے بیان کردہ چوتھے طریقے، یعنی خلافت بذریعہ تغلب واستیلاء ہی کےتحت آسکتی ہےکیونکہ خود حضرت معاویہ کی خلافت کو بھی شاہ صاحب اسی چوتھےطریق کا حاصل قرار دےرہےہیں اور اسےمحض ضرورت ورخصت کی بنا پر جائز کہہ رہےہیں۔ پھر انعقاد خلافت کے اس آخری طریق کی بھی انہوں نے دوقسمیں بیان کی ہیں جن میں دوسری یہ ہے کہ جو شخص زبر دتی خلافت پر قابض ہو رہا ہےاس میں جملہ شرائط خلافت موجود نہ ہوں اور وہ بذریعہ قتال منازعین کا صفایا کر دے۔ یہ صورت شاہ صاحب کے نزدیک ناجائز اور اس کا فائل عاصی ہے۔ اس کے بعد قارئین خود فیصلہ کر سکتےہیں کہ شاہ صاحب کی یہ بحث کس حد تک یزید کی ولایت عہد کی تائید و تصویب کرتی ہےاور اسے انعقاد خلافت کا جائز ومستحسن طریقہ قرار دیتی ہے۔ کیا شاہ صاحب کی مراد یہ ہوسکتی ہے کہ خلفائے راشدین جس طرح منتخب ہوئے اور بنو امیہ و بنو عباس جس طرح سریر خلافت پر مستولی و متسلط ہوئے ، یہ سب طریقے یکساں طور پر معیاری یا پسندیدہ تھے ؟ میں نہیں سمجھ سکا کہ مولانا عثمانی صاحب نے ازالۃ الخفا کے اس مقام کا حوالہ کس مناسبت سے دیا ہے۔
دوسرا حواله مولانا عثمانی صاحب نے الاحکام السلطانیه للماوردی ص ۸ کا دیا ہے۔ اس مقام پر امام ماوردی نے شروع میں بلاشبہ یہ رائے ظاہر کی ہے ایک خلیفہ کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنا جانشین تجویز کر دے جیسا کہ حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ کو کر دیا تھا اور مسلمانوں نے اسے تسلیم کر لیا تھا،لیکن یہ ایک اصولی اور تمہیدی بات ہے جو انہوں نے کہی ہے۔ اس سے آگے جو کچھ وہ فرماتے ہیں وہ درج ذیل ہے:
فاذا اراد الامام ان يعهد بها فعليه ان يجهد رأيه في الاحق بها و الاقوم بشروطها فاذا تعين له الاجتهاد في واحد نظر فيه فان لم يكن ولدًا ولا والدا جازان ينفرد بعقد البيعة له وبتفويض العهد اليه وان لم يستشر فيه احدًا من اهل الاختيار.
"جب امام کا ارادہ یہ ہو کہ وہ ولی عہد مقرر کرےتو : ہ پوری طرح غور وفکر کرےکہ کون شخص امامت کا سب سے زیادہ مستحق اور شرائط خلافت پر سب سے زیادہ پورا اترنے والا ہے۔ اپنے ذہن و نہم کی پوری جدو جہد کے بعد جب اس کی رائے ایک شخص پر جم جائے تو دیکھے کہ وہ کون ہے۔ اگر وہ اس کا بیٹا یا والد نہ ہو، تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ تنہا اپنی مرضی سے اسے ولی عہد بنائے خواہ اس نے انتخاب کنندگان سے مشورہ نہ لیا ہو۔“
یہاں اولین امر جو قابل ملاحظه ہےوہ یہ ہےکہ امام ماوردی کےنزدیک ولایت عہد کی تجویز صرف اس شخص کے حق میں ہو سکتی ہے جو خلافت کے لیے موزوں ترین فرد ہو اور جو شروط امامت کو سب سےزیادہ پورا کرنے والا ہو۔ یہ بات عثمانی صاحب نے بالکل غلط لکھی ہےاور شاہ ولی اللہ صاحب اور امام ماوردی کی جانب قطعا غلط منسوب کی ہےکہ اس پر اجماع امت منعقد ہو چکا ہے کہ خلیفہ وقت اگر کسی میں نیک نیتی کے ساتھ شرائط خلافت پاتا ہے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کو ولی عہد بنادے، خوادہ اس کا باپ یا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ ولی عہد میں محض شرائط خلافت کا پایا جانا کافی نہیں ہے (اگر چہ یزید ان کا بھی جامع نہ تھا)، بلکہ جانشینی کا حقداد بنے کے لیے امام ماوردی کےنزدیک یہ بھی لازم ہے کہ وہ شروط خلافت میں اَحَق وَ اقوم ہو ۔ امام ماوردی نے یہ شرائط (عدالت،علم اور اجتہاد وغیرہ) شروع ہی میں بیان کر دی ہیں،نیز یہ بھی بتا دیا ہےکہ انعقاد خلافت کا اولین طریقہ اختیار یعنی انتخاب ہے۔"
بہر کیف اس بات پر اجماع کا دعوی صحیح نہیں کہ خلیفہ وقت اگر بیٹے یا کسی رشتہ دار میں شرائط خلافت پاتا ہے تو اسے ولی عہد بنا دے۔ خود امام ماوردی نے اس جگہ تین مسلک بیان کیے ہیں۔ایک یہ ہے کہ جب تک خلیفہ اہل الاختیار (Electors) سے مشورہ نہ کر لے اور وہ ولی عہد کو اہل نہ قرار دیں، اس وقت تک خلیفہ اپنے طور پر ولی عہد نہیں بنا سکتا۔اس کی وجہ یہ ہےکہ خلیفہ کا کسی کو ولی عہد بنانا در حقیقت ولی عہد کے حق میں تزکیہ (Testimony) یا دوسرے لفظوں میں شہادت (Evidence) ہے اور یہ امت کے لیے ایک طرح حکم ( فیصلہ ) کا درجہ رکھتی ہے اور کسی کے لیےیہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے والد یا بیٹے کے حق میں شہادت دے یا ان دونوں کےحق میں کوئی فیصلہ دے۔ حقیقت یہ ہےکہ باپ بیٹا دونوں ایک دوسرے کےحق میں ایک جبلی میلان رکھتے ہیں اور ان کی باہمی ولایت عہد تہمت کا باعث ہے۔ دوسرا مسلک انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ بیٹے اور باپ کے لیے بھی ایک دوسرے کو ولی عہد بنانا جائز ہے، کیونکہ امیر کا امر امت پر نافذ ہے اور حکم منصب حکم نسب پر غالب ہے (لیکن اس مسلک کی کمزوری بالکل واضح ہے۔ بیٹے کے لیے منصب تجویز کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو منصب کے لیے پیش کرنا اور دونوں میں موجب تہمت ہونے کے لحاظ سے فرق نہیں ۔ ) تیسرا مسلک امام ماوردی کے نزدیک یہ ہے کہ خلیفہ اپنی مرضی سےوالد کوتو ولی عہد بنا سکتا ہے مگر بیٹے کو نہیں بنا سکتا۔ کیونکہ انسان کا طبعی میلان والد کے بجائے اولاد کی طرف زیادہ ہوتا ہے اور وہ بالعموم یہی چاہتا ہے کہ اپنا مال و منال بیٹے ہی کے لیے محفوظ کر لے۔
امام ماوردی کی پوری بحث کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی تحقیق جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ انعقاد خلافت کا اولین طریقہ انتخاب اور بیعت عام ہےولایت عہد کےلیےدوشرطیں لازم ہیں۔پہلی یہ کہ خلیفہ وقت پوری امت پر نظر ڈالے اور جو شخص شروط خلافت کے اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز ہو اور اس کا سب سے زیادہ حقدار ہو، اس کو ولی عہد بنائےدوسری شرط جو صرف بعض علماء نےنہیں بلکہ اکثریت نے لگائی ہےوہ یہ کہ بیٹے کےحق میں ولایت عہد اسوقت تک جائز نہیں جبتک اہلِ اختیار یا اہل شوری سےمشورہ نہ لےلیا جائےاوروہ بھی یہ امرتسلیم نہ کر لیں کہ بیٹا شروط و صفات امامت میں پوری امت پر فائق اور خلافت کےلیے سب سے زیادہ مستحق ہے۔
اس کے بعد عثمانی صاحب نے قاضی ابویعلی کی الاحکام السلطانیه یس 9 کی عبارت نقل کی ہےمیں باپ اور بیٹے کی ولی عہدی کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ خلیفہ کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو ولی عہد بنائے جو اس کے ساتھ باپ یا بیٹے کا رشتہ رکھتا ہو، بشرطیکہ وہ خلافت کی شرائط کا حامل ہو ۔ “ مگر خلافت کی شرائط(صفاة الائمہ )جسےابویعلی نےصہ پر بیان کیا ہے،انہیں مدیر ” البلاغ" نے پھر نقل نہیں کیا۔ان میں قرشیت ، عدالت وغیرہ کے ساتھ چوتھی صفت افـضـلهـم فـي العلم والدین ہے، یعنی ولی عہد کو علم و دین میں امت کا افضل ترین شخص ہونا چاہیے۔ یہ وہی بات ہے جو الماوردی نے دوسرے الفاظ میں بیان کی ہے۔ معلوم نہیں دونوں مرتبہ یہ بات عثمانی صاحب سےنقل کرتے وقت کیسے چھوٹ گئی؟ اگر وہ اسے نیت پر حملہ نہ سمجھ بیٹھیں تو میں یہ عرض کروں گاکہ غالباً یہ اس وجہ سےہوا کہ یزید جیسےبیٹےکو لاحق بالا كلمه لا اقوم بشروطها اور أفضل في العلم والدین تسلیم کر لینے میں شاید انہیں بھی کچھ شامل ہو۔ یزید علیہ ما علیہ کو اس اعلیٰ وارفع مقام پر فائز کر دینا بڑے دل گردے کا کام ہے اور یہ حمود عباسی جیسے لوگوں ہی کو زیب دیتا ہے۔ تاہم یہی بات کیا کم ہے کہ یزید کی ولی عہدی اور خلافت کے انعقاد کو بالکل جائز اور صحیح ثابت کرنےکےلیے عثمانی صاحب نےیزید کی شہرت وسیرت، جو واقعہ کربلا کی وجہ سے داغدار ہو گئی تھی، اور جھوٹ سچ جود ھے اس پر لگ گئےتھے انہیں صاف کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ اللہ بھر پور جزا دے۔
یزید کی ولی عہدی کو جائز ثابت کرنے کےلیےازالۃ الخفاء اور الاحکام السلطانیه کےعلاوہ مولانا محمد تقی صاحب نےمقدمه ابن خلدون صفحہ ۳۷۶-۳۷۷ ، دارالکتب لبنانی،بیروت کا حوالہ بھی دیا ہے۔ میں اس سلسلہ بحث کے آغاز ہی میں بیان کر چکا ہوں کہ علامہ ابن خلدون نےامامت و خلافت، انقلاب الخلافۃ الی الملک ( خلافت کی ملوکیت میں تبدیلی ) اور بیعت وولایت عہد وغیرہ موضوعات پر جو کچھ لکھا ہے، اس کے متعدد پہلوئل نظر ہیں۔تاہم ولی عہدی کے مسئلے پر جو کچھ انہوں نے لکھا ہے وہ مذکورہ بالا اقوال سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے اور اس سے بھی یہ دعویٰ صحیح ثابت نہیں ہوتا کہ اس بات پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ خلیفہ وقت اگر بیٹے یا کسی رشتہ دار میں اپنےخیال کے مطابق شرائط خلافت پاتا ہےتو اسے ولی عہد بنا سکتا ہے۔ ابن خلدون فرماتے ہیں: ولايتهم الامام في هذا الأمر وإن عَهِدَ الى ابيه او ابنه لأنه مأمون على النظر لهم في حياته فـ اولـى ان لا يحتمل فيها تبعة بعد مماته خلافًا لمن قال باتهامه في الولد والوالد ولمن خصص التهمة بالولددون الوالد اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ ابن خلدون اس کو تسلیم کر رہے ہیں کہ ایک قول کے مطابق بیٹے اور باپ دونوں کے حق میں ولایت عہد موجب تہمت ہے اور دوسرے قول کے مطابق صرف بیٹے کو ولی عہد بنانا باعث اتہام ہے۔ البتہ ابن خلدون ان اقوال سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی رائے یہ بیان کر رہے کہ ایسا کرنے میں امام متہم نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر مام کا زندگی میں ان سے حسن سلوک قابل اعتراض نہیں تو زندگی کے بعد کیوں ہو؟ لیکن یہ ایک ایسا استدلال ہے جس کا ضعف ظاہر ہے۔ زندگی میں خلیفہ اگر اپنے عزیزوں کا لحاظ رکھے ، تو اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد انہیں ولی عہد بھی بنا جائے؟ ولی عہدی ایک منصب ہے اور اعزہ کو مناصب دینا تو زندگی میں بھی مامون عن الہتہمت نہیں، چہ جائیکہ مرنےکے بعد ہو، جب کہ ولی عہدی کا مجوز خلیفہ ہی نہیں رہتا۔اس مقام پر یزید کی ولی عہدی کےمتعلق ابن خلدون نے جو کچھ مزید لکھا ہے اسے عثمانی صاحب نے آگے چل کر خود ہی نقل کر دیا ہے، اور وہ یہ ہے:
"حضرت معاویہ کے دل میں دوسروں کو چھوڑ کر اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنانے کا جو داعیہ پیدا ہوا، اس کی وجہ امت کے اتحاد و اتفاق کی مصلحت تھی۔ بنوامیہ کے اہل حل و عقد اس پر متفق ہو گئےتھے، کیونکہ وہ اس وقت اپنےعلاوہ کسی اور پر راضی نہ ہوتےاور اس وقت قریش کی سر برآورده جماعت وہی تھی اور اہل ملت کی اکثریت انہی میں سےتھی۔اس لیےحضرت معاویہ نے اس کو ترجیح دی اور افضل سے غیر افضل کی طرف رجوع کیا۔ حضرت معاویہ کی عدالت اور صحابیت اس کےکچھ گمان کرنے سے مانع ہے۔“
ابن خلدون اسی سے ملتےجلتےالفاظ میں یزید کی ولی عہدی کی توجیه اس سےذرا پہلےاٹھائیسویں فصل ) میں بھی کر چکے اس کی ، جہاں انہوں نے خلافت کے ملوکیت میں تبدیل ہونےپر بحث کی ہے۔ وہاں لکھتے ہیں:
وکذالک عهد معاوية الى يزيد خوفاً من افتراق الكلمة بما كانت بنو امية لم يرضوا تسليم الأمر الى من سواهم فلو قد عهد الى غيره اختلفوا مع ان ظنهم كان به صالحًا.
" اسی طرح معاویہ نے یزید کو ولی عہد بنایا کیونکہ انہیں افتراق پیدا ہونے کا خوف تھا۔ وجہ یہ تھی کہ بنو امیہ اپنے سوا کسی دوسرے کو حکومت سپرد کرنے پر راضی نہ تھے۔ پس اگر امیر معاویہ کسی دوسرے کو ولی عہد بناتے تو بنو امیہ اس سے اختلاف کرتے اگر چہ وہ ان کے بارے میں نیک گمان رکھتے تھے"-
حقیقت یہ ہےکہ بادشاہت و ملوکیت،خلافت کی ملوکیت میں تبدیلی اورامامت و ولایت وغیرہ کی بحثوں میں ابن خلدون نےجو نقطہ نظر پیش کیا ہے،وہ یہ ہے کہ ملوکیت بشری اجتماع اور انسانی معاشرت کےلیےایک ناگزیر ادارہ ہےاور قہر و تغلب اس کی لازمی خصوصیت ہے۔انبیاء علیہ السلام کی آمد پر یہی ملوکیت - - - قالب میں ڈھل جاتی ہےاور دینی مقاصد کےلیےاستعمال ہوتی ہےمگر ایک کارفرما طاقت یعنی عصبیت خلافت کی پشت پر موجود رہتی ہے۔ چنانچہ بعثت نبوی اور خلافت راشدہ کے بعد جب نوبت حضرت معاویہ تک پہنچی تو یہی ملوکیت و عصبیت بنوامیہ میں منتقل اور مرتکز ہو گئی جوان کےعصبہ اور زور اور ہونےکا ایک ناگزیر بلکہ فطری تقاضا تھا۔باقی جو کچھ ہو وہ اس صورتِ حال کےقدرتی نتائج تھےاور یزید کی ولی عہدی اور بیعت منجمله ان نتائج کےایک ہےمیں اس وقت اس موضوع پر بحث نہیں کرنا چاہتا کہ شرعی،تاریخی اور عقلی لحاظ سےواقعات کی یہ تعبیر و توجیہ کس حد تک درست ہےمیں صرف یہ پوچھناچاہتاہوں کہ جب بنو امیہ اول و آخر اتنی جمعیت و عصبیت کےمالک تھے" قریش کی سربر آوردہ جماعت بھی وہی تھےاور اہل ملت کی اکثریت بھی انہی میں سےتھی تو پھر اس افتراق اور عدم اتحاد و اتفاق کےخوف کی کیا معقول وجہ ہو سکتی تھی جو یزید کو ولی عہد بنانےکا باعث بنا؟ ظاہر ہےکہ جب ایک قبیلہ قابو یافتہ مستولی ہے،خلیفہ بھی اسی میں سے ہے،خلیفہ وقت کاصاحبزادہ بھی پابند صوم وصلوٰۃ ہےاور دنیوی نجابت اور انتظامی صلاحیت کی بنا پر خلافت کا اہل ہےتو پوری ملت اسےوالد کےبعد آپ سے آپ خلیفہ بنا لے گی اور دو چار آدمی اگر مخالف ہوئے بھی تو وہ کیا تیر مارلیں گے؟ ایسی مخالفت شادہ نہ موجب تشقت وافتراق ہو سکتی ہے، نہ انعقاد خلافت میں قادح بن سکتی ہے۔
پھر عثمانی صاحب اسی مقام پر حافظ ابن کثیر کےحوالےسےیہ بھی لکھ رہےہیں کہ ”جب حضرت معاویہ نے حضرت حسنؓ سے صلح کی تھی تو انہی کو ولی عہد بھی بنایا تھا۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو اس وقت بنوامیہ اس پر کیسےراضی ہو گئےتھے؟ یا پھر وہ بات بھی صحیح ہےکہ یزید ہی نے حضرت حسن کو زہر دلا کر اس واقعی یا موہوم افتراق کو رفع کیا تھا؟_١ واقعہ یہ ہےکہ یزید کی ولی عہدی نےاس کی خلافت کی راہ ہموار کر کےافتراق کو گھٹانےکےبجائے اور زیادہ بڑھا دیا۔ بالفرض اگر عثمانی صاحب یا علامہ ابن خلدون کی یہ بات صحیح بھی ہو کہ بنو امیہ اپنے سوا کسی دوسرے کو حکومت سپرد کرنے پر راضی نہ تھے ، تب بھی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ سارے قبیلہ بنی امیہ میں بس یزید ہی سب کی نگاہوں میں گھبا ہوا تھا۔ حضرت عثمان جن کے قصاص کا مطالبہ لے کر امیر معاویہ اٹھے تھے،خودان کے صاحبزادے کا واقعہ جو متعدد تاریخوں میں منقول ہے اور جسے عثمانی صاحب نے بھی اس بحث میں نقل کیا ہے، یہ ہے کہ یزید کو ولی عہد بنانے پر حضرت سعید بن عثمان نے امیر معاویہؓ سےشکایت کی کہ آپ نے اپنے بیٹے کو ولی عہد بنادیا حالانکہ میرے والدین اس کے والدین سے اور میں اس سے افضل ہوں۔ انہی مؤرخین کا بیان یہ بھی ہے کہ امیر معاویہ نے انہیں راضی کرنے کے لیےخراسان کا والی بنا دیا۔ اس ایک واقعہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ دعویٰ اور یزید کی ولی عہدی کی یہ تو جیہ کہاں تک صحیح ہے کہ بنوامیہ میں صرف یزید ہی سب کی آنکھوں کا تارا تھا اور اگرا سے ولی عہد نہ بنایا جاتا تو اہل ملت انتشار کا شکار ہو کر رہ جاتے ۔ ابن خلدون تو دنیا سے اٹھ گئے ، کاش کہ عثمانی صاحب ہی ہمیں بتا دیں کہ بنو امیہ کے وہ کون کون سے ممتاز افراد تھے جو یزید ہی کو ولی عہد بنادینےپر مصر تھے؟
١- متعدد علماء نےبصراحت یہ الزام یزید کےخلاف عائد کیا ہے جس کی اہلیت خلافت کا بلند بانگ دعوی عثمانی صاحب کر رہے ہیں۔مولانا عبدالحق حقانی فرماتے ہیں:” حضرت حسنؓ کےبعد امیر معاویہ حکومت کرتے رہے۔ بعد انکےان کا بیٹا یزید بدبخت جانشین ہوا۔ اس نالایق دنیا دار نےاس خوف سےمبادا حضرت حسن خلافت کادعوی نہ کر بیٹھیں کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر ہیں،ان کے رو برو مجھے کون پوچھے گا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دلوا کر شہید کر دیا اور چند سال بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کر بلا میں شہید کرا دیا۔ اس کم بخت کے بے دین ہونے میں کیا شک ہے؟'' حاشیے میں فرماتے ہیں :" معاویہ حضرت علی کی خلافت کو تسلیم نہ کر کےآپ خلیفہ ہونا چاہتے تھے (عقائد الاسلام طبع نم ص ۲۳۲، مطبوعہ ۱۳۵۰ھ دیلی، دتی پرنٹنگ ورکس)۔ یہ بھی واضح رہے کہ " عقائد الاسلام" کے آغاز میں مولانا محمد قاسم نانوتوی،مولانا حبیب الرحمن ہم دار العلوم دیوبند،مولانا محمد انور شاہ صاحب،مولانا عزیزالرحمن صاحب مفتی دیوبند مفتی کفایت اللہ صاحب کی تقاریظ موجود ہیں۔سنن ابی داؤد،کتاب الآداب، ابواب اللباس کی جو حدیث اس سےپہلے بحث میں نقل کی گئی ہےجس میں حضرت حسنؓ کی موت پر امیر معاویہ کے رد عمل کا ذکر ہےاس حدیث کی شرح میں مولانائس الحق صاحب عظیم نےبھی عون المعبود میں یہ لکھا ہےوكان وفاة الحسن رضي الله عنه مسموما سمته زوجته جعدة باشارة يزيد بن معاوية سنة تسع وأربعين او بعدها (حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات زہر خورانی کے ذریعے سے ہوئی ۔ آپ کی بیوی جعدہ نے یزید کے اشارے سے آپ کو زہر دے دیا۔ یہ ۲۹ ھ یا اس کے بعد کا واقعہ ہے)۔ ابن حجر، الصواعق الحمر قر ص ۸۶ (مطبعه میمنه مصری ۱۳ء) پر فرماتے ہیں کہ یزید نے جعدہ کو ایک لاکھ درہم دے کر حضرت حسنؓ کو زہر دلوایا۔ زہر خورانی کا واقعہ شاہ عبدالعزیز صاحب نےبھی ستر الشهادتین میں اسی طرح بیان کیا ہے۔
پھر ابن خلدون کی یہ بات بھی عجیب ہے کہ بنو امیہ کے "اہل الحل والعقد" یزید کی ولی عہدی پر متفق تھے۔ خاندان بنی امیہ کے افراد پر آیا ان اہل حل و عقد یا اهل شوری کا اطلاق کسی طرح بھی درست ہے جنہیں انتخاب خلیفہ میں دخل ہو سکتا ہے اور جو پوری امت کی نمائندگی کر سکتے تھے؟دوسرے افراد تو در کنار خود امیر معاویہ کا شمار خلیفہ بننے سے پہلے اہل حل و عقد میں نہیں ہوتا تھا۔ شاہ ولی اللہ صاحب از الته الخاص اا ( مطبع بریلی ۱۳۸۶ء) میں عبد الرحمن اشعری فقیہ شام کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علیؓ کے متعلق حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابوالدرداء سے فرمایا جب کہ وہ حضرت علی کے پاس گئے کہ وہ خلافت کو چھوڑ کر از سر نو شوری بلائیں اور امیر معاویہؓ کو بھی شریک کریں):
مـن بـايـعـه خـيــر ممن لم يبايعه واتى مدخل لمعاوية في الشورى وهو من الطلقاء الذين لا يجوز لهم الخلافة هو وابوه رؤس الاحزاب فندما على مسيرهما وتابابين يديه ._١
جن لوگوں نے حضرت علیؓ سے بیعت کی ہے وہ ان سے بہتر ہیں جنہوں نے نہیں کی۔اور معاویہ کا شوری میں کیا دخل ہے؟ وہ تو طلقاء میں سےہیں جن کے لیے خلافت جائز نہیں اور وہ اور ان کے والد جنگ احزاب کے سپہ سالار تھے ۔ پس وہ دونوں اصحاب اپنی روش پر نادم ہوئے اور (امیر معاویہؓ کی حمایت سے ) وہیں تائب ہوئے ۔“
١- یہی قول آگے ازالۃ الخفا ص ا اپر بھی موجود ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ابن خلدون کا یہ نظر یہ تاریخی حقائق کے بالکل خلاف ہے کہ بنوامیہ کسی ایسی زبر دست جمعیت کے مالک تھےکہ اگر یزید کے بجائے کسی اور کو ولی عہد یا خلیفہ بنایا جاتا تو وہ اس کی خلافت کو چلنے نہ دیتے۔یہ تو بالکل وہی بات ہےجو بعض اہل تشیع نےمعترضانہ رنگ میں خلافت عثمانی کے بارے میں کہی ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ حضرت علی کےبجائےحضرت عثمان کو محض اس لیےخلیفہ بنایا گیا کہ ان کا قبیلہ طاقتور تھا۔ امام ابن تیمیہ نے منہاج السنہ ( جلد ۳ ص۱۶۶) میں اس نظریے پر ان الفاظ میں تنقید کی ہے:
"عبد الرحمن بن عوف ( جن کے سپر د خلیفہ کا نام تجویز کرنا تھا ) لوگوں میں سب سے زیادہ بےغرض تھے، پھر انہوں نےتمام مسلمانوں سےمشورہ لیا،بنوامیہ کو کوئی طاقت حاصل نہ تھی اور حضرت عثمان کےسوا ان میں سے کوئی شوری میں نہ تھا۔“
میری اب تک کی بحث سےیہ بات واضح ہو جاتی ہےکہ شاہ ولی اللہ صاحب،امام ماوردی اورقاضی ابویعلی اس بات کےہرگز قائل نہیں ہیں کہ باپ اگر بیٹے کو نیک نیتی سےخلافت کا اہل سمجھے تو اسے ولی عہد بنا سکتا ہے اور اسکا یہ فعل بالکل جائز و معتبر ہےنیک نیتی کےلفظ کی گردان تو عثمانی صاحب بلا وجہ کر رہے ہیں۔ علمائے مذکور میں سےکسی نےنیت فاعل سےبحث نہیں کی،نہ اس کا موقع محل تھا۔ شاہ صاحب نے ولایت عہد کے مسئلے سے براہ راست تعرض نہیں کیا، البته انہوں نے انتخابی خلافت اور استیلائی خلافت کا فرق واضح کر دیا ہےاگر ولایت عہد کا کوئی تعلق انعقاد خلافت سےنہیں ہےجیساکہ عثمانی صاحب نےتسلیم کیا ہےتو شاہ صاحب نےجو طریقہ ہائےانعقاد خلافت بیان کیےہیں،ان میں سےکسی کا انطباق ولی عہد بنانےپر نہیں ہو سکتا۔ الماوردی اور ابو یعلی کی بحث سےیہ ثابت ہوتا ہےکہ انعقاد خلافت کا معیاری طریقہ بیعت اہل اختیار ہےاورولی عہدی کے لیےدو شرطیں ضروری ہیں۔ایک جو متفق علیہ ہےوہ یہ ہےکہ ولی عہد شرائط خلافت کو بہترین حیثیت میں پورا کرتا ہو۔دوسری شرط جو جمہور امت کےنزدیک لازم ہےوہ یہ کہ ولی عہد اگر بیٹا ہو تو اہل شوریٰ سےمشورہ لیا جائے اور وہ بھی تسلیم کریں کہ بیٹا پوری امت میں خلافت کےلیےسب سے زیادہ اہل ومستحق ہے_١خلافت کی شرائط کا محض کسی درجےمیں پایا جانا اور والد کا بیٹےکو اہل سمجھ لینا کافی نہیں ہےابن خلدون نےبلاشبہ یزید کی ولی عہدی کو جائز کہا ہےاور اس کےناگزیر وحق بجانب ہونےکا فلفہ بھی بیان کیا ہےمگر انہوں نےبھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہےکہ مسلےمیں تین مذاہب ہیں جن میں دو کےنزدیک یہ فعل موجب تہمت ہے۔
اس سلسلہ بحث میں یہ بات بھی قابل وضاحت ہےکہ مولانا عثمانی صاحب نے مولانا مودودی کےوہ دو فقرے تو نقل کر دیئےہیں که یزید کی ولی عہدی کےلیےابتدائی تحریک کسی صحیح جذبےکی بنیاد پر نہیں ہوئی تھی __" لیکن اپنا موقف ومد ع واضح کرنےکےلیے” خلافت و ملوکیت"میں بعض دوسری عبارتیں جو انہوں نے لکھی تھیں، انہیں نقل نہیں کیا۔ مثال کے طور پر اس کتاب کےصفحہ ۴۸ ا پر یہ عبارت موجود ہے:
خلافت علی منہاج النبوۃ کے بحال ہونے کی آخری صورت صرف یہ باقی رہ گئی تھی کہ حضرت معاویہ یا تو اپنے بعد اس منصب پر کسی شخص کےتقریر کا معاملہ مسلمانوں کےباہمی مشورےپر چھوڑ دیتےیا اگر قطع نزاع کے لیےاپنی زندگی ہی میں جانشینی کا معاملہ طےکر جانا ضروری سمجھتےتو مسلمانوں کےاہل علم و اهل خیر کو جمع کر کےانہیں آزادی کےساتھ یہ فیصلہ کرنےدیتےکہ ولی عہدی کےلیےامت میں موزوں تر آدمی کون ہے؟ لیکن اپنےبیٹےیزید کی ولی عہدی کےلیےخوف و طمع کےذرائع سےبیعت لےکر انہوں نےاس امکان کا بھی خاتمہ کر دیا ۔“
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۳۴۶ پر یزید کی ولی عہدی کا معاملہ کے زیر عنوان یہ عبارت درج ہے:
”سب سے زیادہ حیرت مجھے اس استدلال پر ہے جس سے یزید کی ولی عہدی کو جائز ثابت کرنےکی کوشش کی جاتی ہےبعض حضرات یہ تو مانتےہیں کہ اس کارروائی سےبرےنتائج برآمد ہوئےمگر وہ کہتےہیں کہ حضرت معاویہ اگر یزید کو جانشین نامزد کر کے اپنی زندگی ہی میں اس کےلیے بیعت نہ لے لیتے تو ان کے بعد مسلمانوں میں خانہ جنگی ہوتی اور قیصر روم چڑھ آتا اور اسلامی ریاست ہی کا خاتمہ ہو جاتا۔ اس لیے ان بدترین نتائج کی بہ نسبت وہ نتائج کمتر ہی برے ہیں جو یزید کو ولی عہد بنانے سے رونما ہوئے تھے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر فی الواقع حضرت معاویہ کا خیال یہ تھا کہ ان کےبعد کہیں جانشینی کےلیےامت میں خانہ جنگی بر پا نہ ہو، اور اس بنا پر وہ یہ ضرورت محسوس فرماتےتھےکہ اپنی زندگی ہی میں اس کا فیصلہ کر کے اپنے ولی عہد کے لیے بیعت لے لیں،تو کیا وہ اس نہایت مبارک خیال کو عمل میں لانے کے لیے یہ صورت اختیار نہ فرما سکتے تھے کہ بقایائے صحابہ اورا کا برتابعین کو جمع کرتے اور ان سے کہتے کہ میری جانشینی کے لیے ایک موزوں آدمی کو میری زندگی ہی میں منتخب کر لو اور جس کو وہ لوگ منتخب کرتے ، اس کے حق میں سب سے بیعت لے لیتے ؟اس طریق کار میں آخر کیا امر مانع تھا ؟ اگر حضرت معاویہ یہ راہ اختیار کرتے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ خانہ جنگی پھر بھی بر پا ہوتی اور قیصر روم پھر بھی چڑھ آتا اور اسلامی ریاست کا خاتمہ کر ڈالتا؟“
١- یزید کی ولی عہدی کے لیے بیعت اس وقت لی گئی جب کہ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت سعید بن زید زندہ تھےاور دونوں اصحاب عشرہ مبشرہ میں سےتھےپھر چاروں خلفائےراشدین کےصاحبزادگان ( حضرت عبد الرحمن، حضرت عبداللہ بن عمر،حضرت سعید،حضرات حسنین) بقید حیات تھےحضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت سعید بن العاص جیسےبزرگ موجود تھے۔ان سب کو چھوڑ کر کیا یزید محض اس وجہ سےخلافت کے لیے اہل یا اہل تر تھا کہ وہ خلیفہ وقت کا لڑکا تھا اور باپ کی نگاہ میں ولایت عہد کے لیے موزوں تھا ؟
مولانا مودودی نے جب یہ عبارتیں تحریر کی تھیں، اس وقت تک "البلاغ" کی تنقید منظر عام پر نہیں آئی تھی لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان میں ”البلاغ کے اعتراضات کا اصولی اور جامع جواب موجود ہے۔ مدیر البلاغ نے جب لکھنا شروع کیا تو ان کے سامنے یہ عبارتیں موجود تھیں اور انہیں سامنے رکھتےہوئے ہی انہوں نے ردو کہ شروع کی مگر افسوس کہ انہوں نے انصاف و رواداری سےکام نہ لیا اور ولی عہدی یزید کے مسئلے میں نیک نیتی و بد نیتی اور جواز و عدم جواز پر غیر ضروری اور غیر متعلق بحث سےاصل موضوع کو اُلجھانے کی کوشش کی۔ کوئی غلط کام اگر پوری نیک نیتی سے کیا جائےتو کیا اس کی غلطی صحت میں بدل جائے گی یا اس کےنتائج واقع اور رونما نہ ہوں گے؟ کوئی عالم یا فقیہ اگر دو تین اشکال فعل کےبارےمیں لکھ دےکہ یہ بھی جائز ہےاور وہ بھی جائز و واقع یا قابل نفاذ ہے تو کیا دونوں یکساں طور پر مبارح یا موجب ثواب ہوں گی؟ مثال کے طور پر طلاق دینا جائز تو ہے مگر اس کی بعض صورتیں مباح ، بعض مستحب اور بعض ممنوع ہیں۔ طلاق کا مشروع ومسنون موقع محل اور احسن طریقہ یہ ہے کہ کسی معقول وجہ شرعی کی بنا پر عورت کو حالت طہر میں وطی کیےبغیر ایک طلاق رجعی دی جائےحتی کہ عدت گزر جائےاب فرض کیا ایک شخص بالوجہ حیض میں بیوی کو تین طلاق دفعتہ دے دے تو یہ مذاہب اربعہ بلکہ ظاہر یہ کے نزدیک بھی مغلظہ ہو کر واقع اور نافذ تو ہو جائے گی مگر کیا اس کا مجر وجواز ونفاذ اسے مستحسن یا اعتراض سے بالاتر بنادے گا؟ طلاق سے بھی واضح تر مثال نماز کی ہے۔ نماز با جماعت ہر مسلمان کی امامت میں ادا کرنا جائز ہے۔ اس پر پوری امت کا اتفاق واجماع ہے۔ ہر بر وفاجر کی اقتداء میں نماز کا جواز خود حدیث نبوی سے ثابت ہے،اس لیے اسے جائز ثابت کرنے کے لیے کسی فقیہ کا قول پیش کرنے کی حاجت نہیں ہے۔ حضرت عثمان نے اپنا گھیراؤ کرنے والوں کے پیچھے بھی نماز پڑھنے کی اجازت اہل مدینہ کو دے دی تھی۔مروان، حجاج اور یزید جیسے لوگوں کے پیچھے جلیل القدر صحابہ کرام نماز ادا کرتے تھے۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب امامتیں یکساں طور پر جائز ہیں؟ پھر تو ہمارےمفتی صاحبان کو چاہیے کہ صاف فتویٰ صادر فرمائیں کہ امامت صغری و امامت کبری کے لیے ہر کس و ناکس کو خلیفہ بنادینا یا ولی عہد تجویز کردینا بالکل جائز اور صحیح ہے۔
مدیر "البلاغ“ نے یزید کی ولی عہدی پر بحث کے دوران میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ محقق علماء کے نزدیک خلیفہ وقت تنہا اپنی مرضی سےکسی کو ولی عہد بنا دےتو یہ محض ایک تجویز ہےجسےامت کےاہل حل و عقد اسکی وفات کےبعد قبول بھی کر سکتےہیں اور رد بھی۔اس سےغالبا یہ تاثر دلانا مقصود ہےکہ جب یہ چیزمحض ایک ایسی تجویز وہدایت کی حیثیت رکھتی ہےجسےرڈ بھی کیا جا سکتا ہےتو پھر اسے محل اعتراض بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بہت سےمعاملات ایسےہوتےہیں جو اپنی نظری حیثیت میں تو بالکل سادہ و سہل دکھائی دیتےہیں لیکن ان کےعملی پہلو کے ساتھ بڑی مشکلات وابستہ ہوتی ہیں۔یہ بات مجھے بھی تسلیم ہے کہ ولی عہدی ایک تجویز ہے بلکہ اصول وقواعد شرعیہ کا تقاضا ہی یہی ہے کہ یہ تجویز ہی رہے اور اس کےرد و قبول کا اختیار امت مسلمہ کو حاصل رہے۔ لیکن جس شخصیت کو خلیفہ ایک مرتبہ آب و تاب کے ساتھ اپنے عروج اقتدار کے زمانے میں سب کے سامنے پیش کر دیتا ہے اور اس کے حق میں ولی عہدی کی بیعت لے لیتا ہے، اس کو پیچھے ہٹا کر کسی دوسرے اور موزوں تر شخص کو منصب خلافت پر فائز کرنا امت کے لیے عملاً نہایت دشوار ہو جاتا ہےاور پوری اسلامی تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی مشکل ہی سے ملےگی کہ کسی شخص کو ولی عہد بنائےجانے کےبعد پر امن اور شورائی و جمهوری طریق کےمطابق اسےتبدیل کر کےکسی دوسرےاہل تر شخص کو خلیفہ بنایا گیا ہو۔ نظر اعتبار سے ولی عہد تو در کنار با قاعدہ منتخب شدہ خلیفہ بھی قابل عزل ہے،لیکن اگر ایک نااہل فرد ایک مرتبہ امارت پر متمکن ہو جاتا ہے تواسے بھی معزول کرنا اور اس کی جگہ موزوں تر فرد کولا ناسخت مشکل بلکہ عملی طور پر محال ہو جاتا ہےیہی وجہ ہےکہ امت کےمحدثین اور ائمہ مجتہدین کی اکثریت نے ایسے فرد کی خلافت کو بر بنائے ضرورت اور انسداد فتنه و فساد کی غرض سےتسلیم کر لیا ہے اور افضل کی موجودگی میں بھی مفضول کی خلافت کوجائز سمجھا ہےبہر کیف ولی عہدی کی تجویز خواہ امت کےلیےواجب التعمیل ہو یا نہ ہو، یہ محض مقدس تمنا یالا طائل ، ہوا میں اڑ جانےوالی قرار داد نہیں ہے یہ دراصل وہ خشت اول ہے جو آنے والی خلافت کےلیے بنیاد کا کام دیتی ہے۔ اگر اس میں کنجی ہے تو آئندہ تعمیر کا صحیح بنیادوں پر اٹھایا جانا جوئے شیر کالا نا بلکہ موج خون کا سر پر سے گزارنا ہے، جیسا کہ حضرت حسین اور حضرت ابن زبیر کی شہادت ہمیں بتا رہی ہے۔
حضرت ابوبکر نےبلاشبہ حضرت عمرؓ کو بطور جانشین تجویز کیا اور حضرت عمر نےبھی مجلس مشاورت نامزد فرمائی۔مگر جیسا کہ میں واضح کرچکا ہوں،انہوں دمِ واپسیں اور حالت نزع کےوقت ایسا کیا اور اپنےکسی رشتہ دار کو تجویز نہیں کیاحضرت ابوبکر" کےالفاظ یہ تھےکہ یہ میرا آخری وقت ہےجب کہ ایک فاجر بھی تائب ہو جاتا ہے_١اور حضرت عمر کو جب آخر وقت میں امیر المومنین کہہ کر خطاب کیا گیا تو آپنےفرمایا کہ آج مجھے امیر المومنین مت کہو، آج میں امیر نہیں رہا۔ ظاہر ہےکہ اسوقت کی وصیت کو آخر اس ولی عہدی کے تقرر سے کیا مماثلت ہوسکتی ہے جبکہ انسان بموجب ارشاد نبوی صحیحا تیجا ہو، ہر کس و ناکس سے ولی عهدی کی بیعت لی جارہی ہو اور اسکےلینےایک شہر سےدوسرےشہر تک شد رحال کیا جارہا ہو؟ ان دونوں میں ظاهری و معنوی دونوں لحاظ سے بڑا فرق ہےحضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کے معاملےمیں اگرچه عہد یا استخلاف کا لفظ حدیث کی کتابوں میں آیا ہےلیکن ولایت عہد اور ولی العہد کی اصطلاح بعد میں مروج ہوئی اور "ولی عہدی“ ایک با قاعده استحقاقی و تربیچی منصب بن گئی۔
١-الصواعق المحرقه صفحه ۵۵ اور کنزل العمال و غیره میں حضرت ابوبکر"کےآخری الفاظ یوں منقول ہیں :هذا عهد أبي بكر في آخر عهده من الدنيا خارجا عنها وعند اول عهده بالآخرة داخلا فيها حيث يو من الكافر ويوقن الفاجر ويصدق الكاذب - - - - (یہ ابوبکر کی اس گھڑی کی وصیت ہے جبکہ اس کےدنیا سےجانےکا آخری وقت اور آخرت میں داخل ہونےکا اولین وقت ہے، جبکہ کافر بھی ایمان لےآتا ہے،فاجر کو بھی یقین ہو جاتا ہےاور جھوٹا بھی سچ بولنےلگتا ہے)شرح فقہ اکبر ملا علی قاری صفحہ پر بھی معمولی تغیر لفظی کےساتھ یہی وسیت منقول ہے۔
یزید کی ولی عہدی پربحث کرتے ہوئے مدیر "البلاغ" نےجو تنقیحات قائم کی تھیں،ان میں سےپہلی یہ تھی کہ ولی عہد بنانےکی شرعی حیثیت کیا ہے؟دوسری یہ تھی کہ یزید خلافت کا اہل تھایا نہیں؟لیکن دوسری تنقیح کوبحث میں لاتےوقت انہوں نےاسےاس عنوان میں بدل دیا ہےکہ کیاحضرت معاویہ یزید کو خلافت کا اہل سمجھتےتھے؟ حقیقت یہ ہے کہ یزید کا خلافت کےلیےاہل ہونا اور حضرت معاویہؓ کا اسےاپنی رائےمیں اہل سمجھ لینا،ان دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ حضرت معاویہؓ نےاہل حل و عقد کی رائےمعلوم کیےبغیر اپنے بیٹے کو اہل یا اہل ترین فرد سمجھ لیا ہوار فی الواقع وہ ناہل بلکہ نا اہل ترین شخص ہو؟ یہ بات پہلے واضح کی جا چکی ہےکہ جمہور امت کا مسلک یہ ہے کہ اگر ایک پیش رو خلیفہ کسی دوسرے کو اپنا جانشین یا ولی عہد تجویز کرنا چاہےتو اسےامت کےاہل ترین فرد کا انتخاب کرنا چاہیےجس میں جملہ شرائط خلافت بدرجہ اتم موجود ہوں اور یہ تجویز وانتخاب ارکان شوری کےمشورے سے ہونا چاہیے۔اس کے بعد ہی یہ امر متحقق ہو سکتا ہے کہ خلیفہ جس شخص کو نا مزد کرنا چاہتا ہے اور جسے وہ جانشینی کا اہل سمجھ رہا ہے، وہ امت اور اس کے مجاز نمائندوں کے نزدیک بھی اہل ہے یا نہیں۔ اگر خلیفہ کا تجویز کردہ شخص اس کا بیٹا ہو،تب تو ارباب حل و عقد کی منظوری اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ اور وہ اہل حل و عقد بھی شاہ ولی اللہ صاحب کےبقول جمعین شروط خلافت، یعنی ایسے افراد ہونے چاہئیں جو اپنے اندر پوری طرح شرائط خلافت کو جمع کیے ہوئے ہوں۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس بات کا قوی خدشہ ہےکہ بیٹےکی محبت باپ پر غالب آجائےاور اسکی قوت فیصلہ اورصوابدید کو متاثر کر دےاس میں کسی کی ذات پر یا نیت پر حملےکا کوئی سوال نہیں۔ کیا خدا کی کتاب اور اس کے نبی کے ارشادات اس پر بار بار شہادت نہیں دیتے کہ اولاد ہمارے لیےآزمائش ہےوہ ہمارے لیے مزین کر دی گئی ہے اور وہ ہمارے لیےخطرناک دشمن ثابت ہو سکتی ہے؟ کیا حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ایک مخلص مومن اور بدری صحابی ہونے کے باوجو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتہائی نازک اور اہم جنگی راز مشرکین پر محض اس لیےنہیں فاش کر بیٹھے تھے کہ ان کے اہل وعیال کو کوئی گزند نہ پہنچے۔
حق بات یہ ہےکہ یزید کا خلافت یا ولی عہدی کےلیےاہل یا اہل تر ہونا تو درکنار،اس کی نا اہلیت اور اس کا فسق و فجور ایک ایسی کھلی ہوئی تاریخی حقیقت ہےجس کا انکار محض مکابره ہے۔اگر وہ خلیفہ کا بیٹا نہ ہوتا تو وہ آخری شخص ہو سکتا تھا جسکی جانب کسی کی نگہ انتخاب اٹھ سکتی تھی۔لیکن خوش قسمتی یا بد قسمتی سے چونکہ وہ خلیفہ کا بیٹا تھا اور خلیفہ نے اسے اپنی نظر میں اہل سمجھ کر چن لیا تو اب اس خلف رشید کا فجور و تقویٰ گونا گوں بحث کا موضوع بن گیا۔بعض نےکہا وہ بڑا عابد و زاہد اور لائق وفائق تھا، اس کی عیاشی و بد اعمالی کی داستانیں محض افسانے ہیں ۔ بعض نے فرمایا کہ اس کے فق وفجور میں تو شک نہیں مگر وہ امیر معاویہ سے آخر دم تک مخفی رہ گیا یارکھا گیا۔ بعض نے کہا کہ ولی عہیدی کے وقت اسے والد محترم نے یا دوسرے بہی خواہوں نے سرزنش کی اور وہ مسُدھر گیا۔ اب مولا نا عثمانی صاحب نے فسق و فجور اور اصلاح و تقویٰ دونوں کے مابین یوں تطبیق و توفیق فرمادی کہ یزید ویسے تو بہت اچھا تھا مگر سانحہ کر بلانے اس کی شہرت کو داغدار کر دیا۔ گویا کہ حضرت حسین اور آپ کےبہتر (۷۲) ساتھیوں کا سنگدلانہ قتل شاید کسی گاڑی کا حادثہ تھا جو کسی بڑے ہی نیک دل اور بھلے مانس ڈرائیور کے ساتھ محض سوء اتفاق سے پیش آگیا اور اس کے آگے پیچھے اور گردو پیش کی فضا میں کوئی ایسے سلسلہ اسباب و واقعات کا وجود تک نہ تھا جس کا یزید ذمہ دار یا بانی ہو، اور یزید کے خصائل وسوابق سے جس کا کوئی واسطہ ہو۔ اگر یہی بات ہے تو پھر آپ بھی کھل کر کیوں نہیں کہ دیتےکہ حضرت حسین اور حضرت ابن زبیر کی روش اسےخروج کہیے،عدم بیعت کہیےنہ بیعت کہیے یا بغاوت وانتشار پسندی کیئے بالکل بے جواز اور قابل مواخذہ تھی؟ جب یزید صالح،طالب خیر اور نیکو کار تھا اور واقعہ کر بلاتک اس میں یہ سارے اوصاف اور نجابت وصلاحیت پائی جاتی تھی تو پھر مجر دواقعہ کربلا سےاس کی تصویر آخر کیوں مکروہ اور اس کی شہرت کیوں مجروح ہونے گی۔پھر تو سارا قصور حسین ہی کا تھا کہ انہوں نےیزید کے دست حق پرست پر فوراً بیعت نہ کر لی اور وہ راستہ اختیار کیا جس نےانہیں صحرائے کرب و بلا جا پہنچایا۔ اہلیت یزید کے حق میں اس استدلال کے بعد محمود عباسی صاحب اور اپنے موقف کے مابین جو باریک فرق آپ پیدا کر رہے ہیں، اس کی کوئی حقیقت واہمیت باقی نہیں رہتی۔
یزید کی صلاحیت و صلاحیت کےصالحیتجو دلائل وشواہد ”البلاغ میں دیئےگئے ہیں وہ بھی قابل دید و قابل داد ہیں۔ سب سے پہلے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت سعید بن عثمان نے یزید کی ولی عہدی پر اعتراض کیا تو حضرت معاویہؓ نےفرمایا کہ اگر فلاں میدان تم جیسےآدمیوں سےبھر جائےتو بھی یزید تم سےبہتر اور زیادہ محبوب ہوگا۔اب قطع نظر اس سےکہ یہ باپ کا بیٹےکےحق میں بیان ہےاس میں حضرت معاویہ نے بالکل واضح نہیں فرمایا کہ وہ کیا وجوہ و خصائص ہیں جن کی بنا پر یزید حضرت سعید سے زیادہ محبوب اور بہتر تھا۔اس کےبغیر آخر کیسےآپ کا یہ ارشاد اس معاملےمیں فیصلہ کن ہو سکتا ہےکہ آیا یزید فی الواقع اہل خلافت تھا۔ بیٹا باپ کو محبوب تو ہوتا ہی ہے۔
اس کے بعد عثمانی صاحب نے امیر معاویہؓ کی ایک دعا نقل کی ہے، اس میں بلاشبہ آپ کی یہ خواہش مذکور ہے کہ اگر یزید اس منصب کا اہل ہے تو اللہ اس کی ولایت کو پورا فرمادے، ورنہ اس کی روح قبض کرلے ۔ لیکن ان دعائیہ کلمات سے بھی یزید کی فضیلت واہمیت ثابت نہیں ہوتی بلکہ صرف،یہ ثابت ہوتا ہے کہ امیر معاویہ ا پنی رائےمیں نیک نیتی کےساتھ اسےایسا سمجھتےتھے لیکن یہ رائےجیسا کہ عرض کیا جا چکا غلطی اور مبالغے کے احتمال سے خالی نہیں ہوسکتی۔ بلاذری کا جو حوالہ نقل کیا گیا ہے،اس میں حضرت ابن عباس کا محض یہ قول منقول ہے کہ امیر معاویہ کا بیٹا ان کے صالح اہل خانہ میں سے ہے۔ میری سمجھ میں نہ آسکا کہ اس میں سے یزید کے فضائل و مناقب کہاں سےنکل آئے؟ کسی شخص کے من صالحی اهله ہونے سے یہ کیسے لازم آتا ہے کہ وہ پوری امت کی امامت وقیادت کےلیےبھی موزوں ہے؟ پھر یہاں اصلح کا صیغہ تفصیل بھی نہیں استعمال ہوا، گویا کہ مطلب یہ ہے کہ اس گھر میں جو اچھے لوگ ہیں، ان میں سے ایک یزید بھی ہے۔ اس کے بعد حضرت محمد بن حنفیہ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ میں نے یزید کونماز کا پابند اور خیر کا طالب پایا۔وہ فقہ کےمسائل پوچھتا ہےاور سنت کا پابند ہےحقیقت یہ ہےکہ محمد بن حنفیہ تھوڑا عرصہ جا کر شام میں یزید کے پاس ٹھہرے تھےاور جو کچھ آپ نےدیکھا وہ بیان کر دیا_١ لیکن بعض دوسرے حضرات،جن میں صحابہ کرام بھی شامل ہیں اور جو یزید کےحالات سےزیادہ واقف تھے، انہوں نے جو کچھ یزید کےبارے میں فرمایا ہےوہ اس سےبالکل مختلف ہے۔ مثلاً حضرت مقدام بن معدیکرب نے جوکچھ حضرت معاویہ کے سامنے فرمایا تھا، اسے میں مسند احمد اور سنن ابی داؤد کے حوالے سے پہلے نقل کر چکا ہوں۔ یہاں میں صرف اتنی بات پر اکتفا کرتا ہوں کہ نماز پڑھنا اور فقہ کے مسائل پوچھنا آج کل کے زمانے میں تو بلاشبہ بڑی نیکی کی علامت ہے، لیکن اس زمانے کا برے سے برا شخص بھی ان اعمال سےخالی نہ تھا۔ آخر عبد الملک بن مروان اور اس کا گورنر حجاج بھی تو دونوں نماز روزے کے پابند تھے اور فقہ کے مسائل پوچھتے بلکہ بتاتے تھے، حالانکہ اسی حجاج کے متعلق امام ترمذی، سنن،کتاب الفتن میں صحیح سند کے ساتھ ہشام بن حسان سے روایت کرتے ہیں کہ حجاج نے ایک لاکھ انسانوں کو مشکیں کس کے قتل کیا تھا۔
١- یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ محمد بن حنفیہ کا رویہ حضرات حسنین اور حضرت زین العابدین کے بارے میں بالعموم غیر ہمدردانہ اور سرد مہری کا رہا ہے۔ شاہ عبد العزیز صاحب نے تحفہ اثنا عشریه میں اس کی کچھ وضاحت کی ہے۔
مولانا عثمانی صاحب نے حضرت محمد بن حنفیہ کا قول تو ابن کثیر سے نقل کر دیا ہے لیکن اور متعدد اقوال جو یزید کے فاسق ہونے پر دلالت کرتے ہیں، ان سے صرف نظر کر لیا ہے اور اسی البدایہ میں ابن کثیر نے (جلد ۸ صفحہ ۲۳۲) پر خود اپنی جو رائے بیان کی ہے اسے بھی قابل اعتناء نہیں سمجھا۔ وہ فرماتے ہیں:
قلت يزيد بن معاوية اكثر مانقم عليه في عمله شرب الخمر وايتان بعض الفواحش فـامـا قتل الحسين فـانـه كما قال جده ابو سفيان يوم احدلم يامر بذالك ولم يسوه.
"میں کہتا ہوں کہ یزید بن معاویہ کےاعمال میں اکثرجو چیز نا پسند کی گئی ہےوہ اسکی شراب نوشی اورارتکاب فواحش تھی ۔ جہاں تک حضرت حسین کے قتل کا تعلق ہے تو یہ معاملہ بالکل ایسا ہی ہےجیسا کہ اس کے دادا ابوسفیان نےاحد کے دن کہا تھا کہ (مسلمانوں کے قتل اور مثلہ ) کا حکم اس نےنہیں دیا، مگر جو کچھ ہو وہ اس کے لیے باعث افسوس بھی نہیں ہے۔“
پھر عثمانی صاحب نے یزید کی شہرت کو خراب کرنے والا واقعہ صرف قتلِ حسین ہی بیان کیا ہے۔ معلوم نہیں اس کے بعد واقعۂ حرہ میں جو کچھ ہوا، اس کا بھی فستق یزید سے کچھ تعلق مولانا عثمانی صاحب کے خیال میں ہے یا نہیں یا اس میں بھی وہ یزید کو معذور اور حق بجانب ہی سمجھتے ہیں۔ اس واقعہ پر ابن کثیر نے اسی جلد کے صفحہ ۲۲۲ پر ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے:
وقد اخطأيزيد خطأ فاحشا في قوله لمسلم بن عبقة ان يبيح المدينة ثلاثة ايام وهذا خطأ كبير فاحش مع ما انضم الى ذالك من قتل خلق من الصحابة وابنائهم وقد تقدم انه قتل احسین و اصحابه على يدى بن زياد وقد وقع في هذه الثلاثة ايام من المفاسد العظيمه فى المدينة النبوية مالا يحد ولا يوصف ممالا يعلمه الا الله عز وجل وقد اراد بارسال مسلم بن عقبة توطيد سلطانه ملکه و دوام ايامه من غير منازع فعاقبه الله بنقيض قصده و حال بينه وبين مايشتهيه فقصمه الله قاسم الجبابره واخذه اخذ عزيز مقتدر وَكَذَالِكَ أَخُذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلَيْمٌ شَدِيد. (الآيه)
" یزید نے مسلم بن عقبہ کو یہ حکم دے کر خطائے عظیم کا ارتکاب کیا کہ وہ مدینہ کو تین دن کےلیے مباح قرار دے دے۔ یہ بہت بڑی فاحش غلطی تھی بالخصوص جبکہ اس طرح صحابہ کرام اور ان کی اولاد کی بڑی تعداد قتل کی گئی۔ پہلے بیان ہو چکا کہ اسی یزید نے حضرت حسین اور آپ کے رفقاء کو ابن زیاد کے ہاتھوں قتل کرایا۔ واقعہ حرہ کے ان تین دنوں میں مدینہ نبویہ میں ایسے مفاسد عظیمہ رونما ہوئے جو بے حد و حساب اور نا قابل بیان ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی انہیں جانتا ہےیزید نےچاہا تھاکہ مسلم بن عقبہ کو اس حرکت پرمامور کر کےاپنی بادشاہی کو مضبوط کرے، حکومت کو دوام عطا کرے اور کوئی اس کا مد مقابل نہ رہے۔ پس اللہ نےاس کے عزائم کو ناکام بنا دیا، اسے سزا دی اور اس کی خواہشات کے راستے میں حائل ہو گیا۔ پھر اللہ نے اسے ایسا چکنا چور کیا جیسا کہ وہ جابروں اور ظالموں کو کرتا ہے اور اسے ایسا پکڑا جیسا کہ زبردست اور طاقتور پکڑتا ہے۔ اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ آبادیوں کو گرفت میں لیتا ہے جب کہ وہ ظلم ڈھاتی ہیں۔ یقینا اس کی گرفت الم ناک اور سخت ہوتی ہے۔“
مولانا محمد تقی صاحب بار بار یہ کہتے ہیں کہ یزید کا فسق و فجور کسی قابل اعتماد روایت سے ثابت نہیں اور حضرت معاویہ نے اسے محبت پدری کی بنا پر ولی عہد نہیں بنایا تھا۔ حالانکہ ابن خلدون جنہوں نے اس ولی عہدی کو جائز و صحیح ثابت کرنے کی پوری کوشش کی ہے، انہوں نے بھی اس بحث کے دوران میں جابجا فسق یزید کو برملا سلیم کیا ہے، بلکہ ابن عربی جیسےلوگوں پر سخت نکیر کی ہے جو اسےفاسق کے بجائے عادل مان کر امام حسین کےموقف کو مجروح ومشکوک بناتے ہیں۔باقی جہاں تک جذبہ محبت کےکارفرما ہونےکا تعلق ہے، اس کا ثبوت ابن کثیر کی اس عبارت سےمل رہا ہے جو خود مدیر البلاغ “ نےاس بحث میں البدایہ، جلد ۸، صفحہ ۸۰ سے نقل کی ہے کہ امیر معاویہ کی رائے یہ تھی کہ "یزید خلافت کا اہل ہے اور یہ رائےباپ کی بیٹےسےشدید محبت کی وجہ سےتھی، نیز اس لیےتھی کہ وہ یزید میں دنیوی نجابت اور شہزادوں کی سی خصوصیات فنونِ جنگ سےواقفیت اور انتظام سلطنت کی صلاحیت دیکھتےتھے۔ لیکن اس بات کا آخر کون دعوی کر سکتا ہے کہ خلیفہ وقت کا بیٹا ہونے کے سوا دیگر صفات مذکورہ رکھنے والا کوئی دوسرا شخص موجود نہ تھا۔ اس لیے یزید پر نظر انتخاب مرکوز ہونے کی اصل وجہ حد اعتدال سے تجاوز محبت پدری تھی۔
یزید اور ولی عہدی یزید کےمسئلے پر جو کچھ علمائے سلف نے لکھا ہے، میں ان میں سے اب امام ابن حجر ہیتمی مکی کےچند اقتباسات پیش کرنا چاہتا ہوں جو ائمہ شافعیہ میں بلند مقام رکھتےہیں۔انکی دو کتابیں "الصواعق المحرقة فی الرد على اہل البدعة والزندقہ" اور "تطہیر الجنان واللسان عن الخطور و تفو و بنلب سیدنا معاویہ بن ابی سفیان"بہت مشہور ہیں۔ مدیر ” البلاغ" نےاپنےسلسلہ بحث میں ان کے حوالے جابجا دیے ہیں۔ عدالت صحابہ کی بحث میں ابن حجر کی جو عبارتیں انہوں نے نقل کی ہیں، ان کے متعلق تو انشاء اللہ آگے چل کر میں عرض کروں گا، یہاں میں اتنی بات واضح کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ مذکورہ بالا دونوں کتابیں اہل سنت کا عقیدہ و مسلک خوارج اہل تشیع کےبالمقابل پیش کرتی ہیں۔پہلی کتاب میں خلفائےراشدین کےمناقب و متاثر درج کیے گئےہیں اور ان کےخلاف اعتراضات کا رد کیا گیا ہےاور دوسری کتاب،جیسا کہ اسکا نام ہی بتا رہا ہےجو حضرت معاویہ کے فضائل پر مشتمل ہے اور مختصرات میں یہ ایک اہم تالیف ہے جو امیر معاویہ کے دفاع میں لکھی گئی ہے۔ اب اسی کتاب تظہیر الجنان کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
مزید محبته ليزيد اعمت عليه طريق الهدى وأوقعت الناس بعد مع ذلك الفاسق المارق في الردى، لكنه قضاء حتم وقدر انبرم. فسلب عقله الكامل وعمله الشامل ودهاء الذى كان يُضرب به المثل وزين له من يزيد حسن العمل وعدم الانحراف والخلل كل ذلك لما اشار اليه الصادق المصدوق صلى الله عليه وسلّم انه اذا اراد الله انفاذ أمره في سلب ذوى العقول عقولهم حتى ينفذ ما أراده تعالى. معاوية معذور فيما وقع فيه ليزيد لانه لم يثبت عنده نقص فيه بل كان يزيد يدس على ابيه من يحسن له حاله حتى اعتقد أنه اولى من ابناء بقية الصحابة كلهم فقدمة عليهم مصرحا بتلك الأولوية التي تخيلها ممن سلط عليه ليخسـنـهـا لـه واختياره للناس عن ذلك إنما هو لظن أنهم إنما كرهوا توليته لغير فسقه من حسد او نحوه. ( تطهير الجنان ص ۵۴ - مطبعه میمنه ، مصر ، ۱۳۰۷ھ)
" امیر معاویہ پر یزید کے غلبہ محبت نے طریق هدایت گم کر دیا اور اس فاسق و بے دین کےساتھ دوسرے لوگوں کو بھی ہلاکت میں ڈال دیا۔ لیکن قضا وقدر کی جو بات قطعی تھی وہ پوری ہو کر رہی۔پس آپ کی وہ ذہنی و عملی صلاحیت اور ضرب المثل مد برانہ قابلیت سلب کر لی گئی اور ان کےلیے یہ بات مزین کر دی گئی کہ یزید نیکو کار اور انحراف وخلل سے پاک ہے۔ یہ سب کچھ اس ارشاد نبوی کےمطابق ہوا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمادیا تھا کہ جب اللہ کی امر کو نافذ کرنا چاہتا ہےتو عقل والوں کی عقل چھن جاتی ہے حتی کہ اللہ اپنے ارادے کا نفاذ فرمادیتا ہے۔ پس معاویہ نے جو کچھ یزید کے لیے کیا وہ اس میں معذور تھے کیونکہ ان کے نزدیک اس میں کوئی نقص ثابت نہ تھا۔بلکہ یزید اپنےوالد کے پاس ایسےلوگوں کو گھسا دیتا تھا جو انکے سامنے اس کے کوائف کو اچھا بنا کر پیش کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ یقین کرنے لگے کہ یز ید صحابہ کرام کی موجود اولاد سےافضل ہےپس انہوں نےاس فضیلت کی تصریح کرتےہوئےیزید کو ان سب پر ترجیح دی اور یہ فضیلت کاتخیل ان لوگوں کا پیدا کردہ تھا جو امیر معاویہ پر مسلط کیےگئےتھےتا کہ وہ یزید کی اس افضلیت کو انکےلیے خوشنما بنا ئیں۔ امیر معاویہ کا یزید کو ولی عہد منتخب کرنا اس بنا پر تھا کہ ان کے گمان میں لوگ یزید کی ولی عہدی کو فسق کی وجہ سے نہیں بلکہ حسد وغیرہ کے باعث نا پسند کرتے تھے۔“
اب ایک طرف یزید کی وہ تصویر رکھیے جو عثمانی صاحب پیش کر رہے ہیں کہ اس کی سیرت واقعہ کربلا سے پہلےبالکل بےداغ تھی اور وہ ہر طرح خلافت کا اہل تھا،اوردوسری طرف ابن حجر کو دیکھیےکہ وہ یزید کی بےدینی اور مکاری و پر کاری اور امیر معاویہ کی مغلوبیت اور سادگی کو کس رنگ میں پیش کر رہےہیں؟ پھر عثمانی صاحب کہتے ہیں کہ سب لوگ یزید پر سو جان سے فدا تھے اور اس کے سوا کسی دوسرے کی خلافت کو چلنے نہ دیتے مگر ابن حجر فرماتے ہیں کہ لوگ حسد یا دوسرے اسباب کی بنا پر یزید کی ولی عہدی کو کسی طرح گوارا نہیں کرتے تھے جس کا توڑ کرنے کے لیے یزید نے اپنےمدح خوان امیر معاویہ پر سوار کر رکھے تھے!
اسی سلسلے میں اسی کتاب کے ص ۱۲۰ کا ایک اقتباس بھی دیکھئے:
الصحابة رضي الله عنهم كلهم عدول مجتهدون على الصواب الذي لا يجوز لأحد ان يعتقد غيره. لكنهم مع ذلك قد يقع من أحدهم مما لا يليق بمقامه فيعذر له بالنسبة اليه استخلاف معاوية يزيد فان مزيد محبة الولد زين له روية كما له واعمي عينه روية عيوبه التي هى أوضح من الشمس في رابعة النهار. فهذا بحسب كمال معاوية زلة يغفر الله له ولا يجوز التأسي به فيها فمن تأسى به فيها كب على منخريه في النار.
"صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب ایسے عادل، مجتہد اور راستی پر ہیں کہ کسی کےلیے جائز نہیں کہ وہ اس کے سوا کوئی اور عقیدہ رکھے۔لیکن اس کے باوجود ان سے ایسے عمل کا صدور ہو سکتا ہےجو ان کے مقام کے لائق نہ ہو کہ اس مقام کی نسبت سے اس پر عذر پیش کیا جا سکے، مثلاً معاویہ کا یزید کو جانشین بنانا۔ یقینا بیٹےکی محبت کی زیادتی نے اس کےکمال کو ان کےلیے مزین بنادیا اور اس کے وہ عیوب ان کی نگاہوں سےاوجھل ہو گئے جو دن چڑھے سوج سےبھی زیادہ تر واضح تھے۔ امیر معاویہ کےکمال کی نسبت سےیہ ایک لغزش ہے جسے اللہ بخش دے گا لیکن اس معاملہ میں ان کی تقلید جائز نہیں۔ پس جو ان کی اس میں پیروی کرے گاوہ اندھے منہ دوزخ میں جائے گا۔“
اننا فرقنا بينه وبن ولده واعطينا كلاما يسحقه لانا متعبدون بالأدلة من غير عصبية ولا علة لوكان الامر بالتعصب والمحاباة لما خالفنا معاوية في ولده الذي قال فيه لو لا هواى فيه لرأيت قصدى اى لهديت الى اوسط الأمور وأعدلها في استخلاف غيره
”ہم نے امیر معاویہ اور ان کےبیٹےکےدرمیان فرق ملحوظ رکھا ہےاور دونوں کے متعلق وہی بات کہی ہے جس کے وہ حقدار تھےکیونکہ ہم کسی تعصب و ناخوشی کےبغیر فقط دلائل کےپیرو ہیں۔اگر ہمارا معاملہ تعصب اور جانب داری پر مبنی ہوتا تو ہم معاویہ کے لڑکے کے بارے میں ان سےاختلاف نہ کرتے جس کے متعلق انہوں نے فرمایا تھا اگر مجھے اس سے محبت نہ ہوتی تو میں راہِ اعتدال پالیتا یعنی میں یزید کے بجائے کسی دوسرے کو جانشین بنا کر زیادہ بہتر اورمنصفانہ طریقہ اختیار کرتا"- انہی امام ابن حجر کی بعض تحریروں کے بل پر مدیر "البلاغ“ نے عدالت صحابہ کے متعلق جو اختراعی نظریہ و عقیدہ پیش کرنےکی کوشش کی ہے،اس پر آگےچل کر بحث ہوگی لیکن یزید کی ولی عہدی کےجواز پر اجماع امت کا جو فتولی مدیر موصوف دے رہے ہیں، اسے سامنے رکھتے ہوئےمیں فقط یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ ابن حجر کے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ امیر معاویہ نے فاسق و مارق بیٹے کی محبت میں آکر امت کر تباہی سے دوچار کیا اور جو شخص بعد میں ایسا کرے گا وہ منہ کے بل آگ میں گرے گا؟ پھر اس کے ساتھ یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ ابن حجر کوئی مجرد تاریخی بحث نہیں کر رہےہیں بلکہ ان کی کتاب کا موضوع ہی یہ ہےکہ حضرت معاویہ کےمناقب کا اثبات اور آپ کےمثالب کا ابطال کیا جائے اور معترضین کے شبہات واعتراضات سے گوں کےدلوں اور ان کی زبانوں کو پاک کیا جائے۔اس کے باوجود مولانا مودودی نے جو کچھ لکھا ہے اور جس پیرائے میں لکھا ہے، اس سے شدید تر اور واضح تر انداز میں ابن حجر نے لکھا ہے۔ اس کے صرف چند نمونے میں نے نقل کیے ہیں۔ اس کے بعد بھی مولانا عثمانی صاحب، مولانا مودودی کی جانب روئے سخن کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ امیر معاویہ نے یزید کو بیٹا ہونے کی وجہ سےمحبت میں آکر خلافت کےوہے نامزد کیا تھا وہ محکم وظلم کا ارتکاب کرتا ہے!
بعض حضرات اس حدیث سے بھی یزید کےمناقب امحامد ثابت کرنے کی کوشش کرتےہیں جو صحیح بخاری اور دیگر کتب میں غزوہ روم کےسلسلے میں وارد ہوئی ہے اور جس میں شرکائےغزوہ کو مغفرت کی بشارت دی گئی ہے۔بعض حضرات نے مجھ سےتقاضا کیا ہے کہ اس خوشخبری کے مفہوم پر بھی روشنی ڈالی جائےمیرے لیےاس، موضوع پر یہاں تفصیلی بحث ممکن نہیں ہے۔اگر اللہ نے کبھی مہلت عطا فرمائی تو پوری شرح وبسط کے ساتھ میں بعض متعلقہ مباحث پر گفتگو کروں گا۔ یہاں میں سیر دست شاہ ولی اللہ صائب کی شرح تراجم بخاری کا ایک اقتباس نقل کرتا ہوں جو مختصر ہونے کےباوجود جامع اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ کتاب الجہاد، باب ما قیل فی قتال الروم کے زیر عنوان فرماتے ہیں:
قوله مغفور لهم تمسك بعض الناس بهذا الحديث في نجاة يزيد لأنه كان من جملة هذا الجيش الثانى بل كان رأسهم رئيسهم على ما يشهد به التاريخ والصحيح أنه لا يثبت بهذا الحديث إلا كونه مغفورا له ما تقدم من ذبنه على هذه الغزوة لان الجهاد من الكفارات وشان الكفارات إزالة اثار الذنوب السابقة عليها لا الواقعة بعدها. نعم لو كان مع هذا الكلام أنه مغفور له إلى يوم القيامة دل على نجاته وليس ،فليس بل أمره مفوض الى الله تعالى فيما ارتكبه من القبائح بعد هذه الغزوة من قتل الحسين عليه السلام وتخريب المدينة والإصرار على شرب الخمر ان شاء عفا عنه وان شاء عذبه كما هو مطرد في حق سائر العصاة على ان الاحاديث الواردة فى شأن من استخف بالعترة الطاهرة والملحد في الحرم والمبدل للسنة تبقى مخصصات لهذا العموم لو فرض شموله لجميع الذنوب.
"مغفور لهم" کے ارشاد نبوی کو دلیل بنا کر بعض لوگوں نے یزید کی نجات پر استدلال کیا ہے کیونکہ وہ بھی اس دوسرےلشکر میں شامل بلکہ انکا سالار تھا جیسا کہ تاریخ گواہی دیتی ہے۔لیکن صحیح بات یہ ہےکہ اس حدیث سےصرف اتنی بات ثابت ہوتی ہےکہ اس غزوے سےپہلےکے گناہ جو یزید نے کیے تھے ، وہ بخشے گئے ۔ کیونکہ جہاد کفارات میں سےہےاور کفارات کا معاملہ یہ ہےکہ ان سےپہلےکے گناہ زائل ہوتے ہیں، نہ کہ بعد کے۔ہاں، اگر آنحضور کے کلام کےساتھ یہ الفاظ بھی ہوتے کہ اس کی مغفرت قیامت کےدن تک ہےتب وہ اس کی نجات پر دلالت کرتے اور اگر یہ الفاظ نہیں ہیں تو نجات پر دلالت بھی نہیں ہےبلکہ اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اس غزوے کے بعد جن قبائح کا ارتکاب اس نےکیا،یعنی حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا،مدینہ منورہ کو تباہ کیا اور شراب نوشی پر اصرار کیا ان پر اگر اللہ چاہے تو معاف کر دے اور چاہے تو عذاب دے جیسا کہ تمام عاصیوں کے بارے میں طے شدہ ہے۔ اور اگر اس کی شمولیت تمام گناہوں میں مان لی جائے تو تمام گنہگاروں کے متعلق جو عمومی اصول طے ہے ( کہ ان کی معافی اور سزا دونوں کا امکان ہے) یزید کے معاملے میں وہ عموم بھی باقی نہ رہے گا بلکہ اس میں وہ احادیث تهدید و تخصیص پیدا کر دیں گی جن میں اہل بیت کا استخفاف کرنے والوں، حرم میں الحاد کر نے والوں اور سنت میں رد و بدل کرنے والوں کو وعید ہے۔“
مزید ایک بات جس کی طرف اشارہ کر دینا مناسب ہے، وہ یہ ہے کہ جولوگ تاریخی روایات کا شدت سے انکار کرتے ہیں وہ بھی اس غزوے والی حدیث کو یزید پر منطبق کرتے ہوئے تاریخ کا سہارا لینے پر مجبور ہیں کیونکہ حدیث میں تو یزید کا ذکر خیر نہیں ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام لے کر بشارت نہیں فرمائی، مزید تفصیلات تاریخ ہی بتاتی ہے اور جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے اس میں کچھ اختلاف بھی منقول ہے کہ یزید لشکر میں تھا یا نہیں، تھا تو پہلے لشکر میں تھا یا دوسرے میں، اور کس حیثیت سے گیا تھایا بھیجا گیا تھا؟ خیر، یہ بحث تو اپنی جگہ پر ہے، مجھے جو کچھ کہنا تھا وہ یہ کہ جو حامیان یزید تاریخ کو دریا برد کرنا چاہتے ہیں، انہیں خسارے کا یہ پہلو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ کتب تاریخ کو کالے پانی میں غرق کر دینے کے بعد مجرد قرآن وحدیث سے یزید کے فضائل و مناقب کا استخراج بڑا دشوار ہو جائے گا ! کتاب وسنت ذکر یزید سے پاک ہے۔
اب میں آخر میں چاہتا ہوں کہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کی کتاب ”شہید کربلا" کےچند اقتباس بھی نقل کر دوں۔ مولانا موصوف کے فاضل فرزند کی نظر سے یہ کتاب ضرور گزر چکی ہوگی مگر دوسرے قارئین نے ممکن ہے کہ اس کا مطالعہ نہ کیا ہو۔ جناب مفتی صاحب کی عبارات مع عنوانات درج ذیل ہیں:
خلافت کا سلسلہ جب امیر معاویہ پر پہنچتا ہے تو خلافت راشدہ کا رنگ نہیں رہتا، ملوکیت کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ معاویہ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ زمانہ سخت فتنہ کا ہے، آپ اپنے بعد کےلیےکوئی ایسا انتظام کریں کہ مسلمانوں میں پھر تلوار نہ نکلے اور خلافت اسلامیہ پارہ پارہ ہونے سے بچ جائے۔باقتضاء حالات یہاں تک کوئی نا معقول یا غیر شرعی بات بھی نہ تھی۔ لیکن اس کےساتھ ہی آپ کےبیٹےیزید کا نام مابعد کی خلافت کےلیے پیش کیا جاتا ہے۔ کوفہ سے چالیس خوشامد پسند آتے ہیں یا بھیجے جاتے ہیں کہ معاویہ سے اس کی درخواست کریں کہ آپکے بعد آپ کےبیٹےیزید سےزیادہ کوئی قابل اور ملکی سیاست کاماہر نظر نہیں آتا،اس کےلیےبیعت خلافت لی جائےحضرت معاویہؓ کو شروع میں کچھ تامل بھی ہوتا ہےاپنےمخصوصین سےمشورہ کرتےہیں۔ان میں اختلاف ہوتا ہے، کوئی موافقت میں رائے دیتا ہے، کوئی مخالفت میں ۔یزید کا فسق و فجور بھی اس قوت تک نہیں کھلا تھا۔ بالآخر بیعت یزید کا قصد کر لیا جاتا ہے اور اسلام پر یہ پہلا حادثہ عظیم ہے کہ خلافتِ نبوت ملوکیت میں منتقل ہو جاتی ہے۔“
شام و عراق میں معلوم نہیں کس کس طرح خوشامد پسند لوگوں نے یزید کےلیےبیعت کا چر چا کیا اور یہ شہرت دی گئی کہ شام و عراق،کوفہ و بصرہ یزید کی بیعت پر متفق ہو گئےاب حجاز کی طرف رخ کیاگیاحضرت معاویہ کی طرف سے امیر مکہ ومدینہ کو اس کام کےلیےمامور کیا گیا۔مدینہ کا عامل مروان تھا۔اس نے خطبہ دیا اور لوگوں سےکہا کہ امیر المومنین معاویه،ابوبکر و عمر کی سنت کےمطابق یه چاہتےہیں کہ اپنےبعد کےلیے یزید کی خلافت پر بیعت لی جائے۔ عبدالرحمن ابن ابی بکر کھڑےہوئےاور کہا کہ یہ غلط ہے، یہ ابو بکر و عمر کی سنت نہیں، بلکہ کسری و قیصر کی سنت ہے۔ ابوبکر و عمر نے خلافت اپنی اولاد میں منتقل نہیں کی اور نہ اپنے کنبہ ورشتہ میں۔ حجاز کے عام مسلمانوں کی نظریں اہل بیت اطہار پر لگی ہوئی تھیں ، خصوصاً حضرت حسین بن علی پر،جن کو وہ بجاطور پر حضرت معاویہ کےبعد مستحق خلافت سمجھتے تھے۔ وہ اس میں حضرت حسینؓ ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ،عبد الرحمن بن ابی بکر ، عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عباس کی رائے کے منتظر تھے کہ وہ کیا کرتےہیں۔ان حضرات کےسامنےاول تو کتاب وسنت کا یہ اصول تھا کہ خلافت اسلامیہ خلافت نبوت ہے اس میں وراثت کا کچھ کام نہیں کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ ہو، بلکہ ضروری ہے کہ آزادانہ انتخاب سے خلیفہ کا تقرر کیا جائے۔ دوسرے یزید کے ذاتی حالات بھی اس کی اجازت نہ دیتے تھے کہ اس کو تمام ممالک اسلامیہ کا خلیفہ مان لیا جائے۔ان حضرات نے اس سازش کی مخالفت کی اور ان میں سے اکثر آخر دم تک مخالفت پر جمے رہے۔ اس حق گوئی اور حمایت حق کے نتیجہ میں مکہ ومدینہ میں دار درسن اور کوفه و کربلا میں قتل عام کے واقعات پیش آئے ۔“
١- جملہ عنوانات مفتی صاحب ہی کے تجویز فرمودہ ہیں۔
حضرت معاویہ حج کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ یہاں اوّل حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو بلایا اور فرمایا: ” اے ابن عم ! تم مجھ سے کہا کرتے تھے کہ مجھے ایک رات ایسی گزارنا پسند نہیں جس میں میرا کوئی امیر نہ ہو۔ میں نے اس امر کے پیش نظر اپنے بعد کے لیے یزید کی خلافت پر بیعت لے لی ہے کہ میرے بعد مسلمانوں میں افراتفری نہ پھیلے۔ سب مسلمان اس پر متفق ہو گئے ، تعجب ہے کہ آپ اختلاف کرتے ہیں، ہمیں آپ کو متنبہ کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے جمع شدہ نظم کو قتل نہ کریں اور فسادنہ پھیلائیں۔“
حضرت ابن عمرؓ نے حمد و ثناء کے بعد فرمایا:
آپ سے پہلے بھی خلفاء تھے اور ان کے بھی اولاد تھی۔ آپ کا بیٹا کچھ ان کے بیٹوں سےبہتر نہیں ہے۔ مگر انہوں نے اپنےبیٹوں کےلیےوہ رائے قائم نہیں کی جو آپ اپنےبیٹے کےلیے کر رہے ہیں، بلکہ انہوں نے مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو سامنےرکھا۔آپ مجھے تفریق ملت سےڈراتےہیں ،سو آپ یاد رکھیں کہ میں تفرقہ بین المسلین کا سبب ہرگز نہ بنوں گا۔میں مسلمانوں کا ایک فرد ہوں۔اگر سب مسلمان کسی راہ پر پڑ گئےتو میں بھی ان میں شامل رہوں گا۔“
"اس کے بعد عبد الرحمن بن ابی بکر سے اس معاملے میں گفتگو فرمائی۔ انہوں نے شدت سےانکار کیا کہ میں اس کو کبھی قبول نہیں کروں گا۔ پھر عبداللہ بن زبیر" کو بلا کر خطاب کیا، انہوں نے بھی ایسا ہی جواب دیا۔“
"اس کے بعد حضرت حسین بن علی اور عبداللہ بن زبیر وغیرہ جا کر معاویہ سے ملے اور ان سےکہا کہ آپ کے لیے یہ کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ آپ اپنے بیٹے یزید کے لیے بیعت پر اصرار کریں۔ ہم آپ کے سامنے تین صورتیں رکھتے ہیں جو آپ کے پیشروؤں کی سنت ہے:
ا۔ آپ وہ کام کریں جو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نےکیا کہ اپنےبعد کسی کو متعین نہیں فرمایا بلکہ مسلمانوں کی رائے عام پر چھوڑ دیا۔
۲۔ یا وہ کام کریں جو ابو بکر نے کیا کہ ایک ایسے شخص کا نام پیش کیا جو نہ ان کے خاندان کا ہے، نہ ان کا کوئی قریبی رشتہ دار ہے اور اس کی اہلیت پر بھی سب مسلمان متفق ہیں۔
٣۔ یا وہ صورت اختیار کریں جو حضرت عمرؓ نے کی کہ اپنے بعد کا معاملہ چھ آدمیوں پر دائر کر دیا۔
اس کے سوا ہم کوئی چوتھی صورت نہیں سمجھتے، نہ قبول کرنے کے لیے تیار ہیں مگر معاویہ کو اس پر اصرار رہا کہ اب تو یزید کے ہاتھ پر بیعت مکمل ہو چکی ہے۔ اس کی مخالفت آپ لوگوں کو جائز نہیں ہے۔
"شہید کربلا" دارالاشاعت ، مولوی مسافر خانہ، کراچی صفحه ۱۱ تا ۱۶
اب مولانا مودودی کی عبارتوں پر جس طرح کی حاشیه آرایی اور ان سے جس طرح کے نتائج کا اخراج مدیر البلاغ نے کیا ہے، اگر دوسرا شخص بھی وہی طریقہ اختیار کرے تو کہہ سکتا ہے کہ یزید کی بیعت ولایت عہد کےمعاملہ کو سازش اور امیر معاویہؓ کو خوشامد پسند قرار دینا نیت پر حملہ ہےجسکا حق کسی شخص کو نہیں دیا جا سکتا اور حضرت معاویہ کے متعلق یہ کہنا کہ وہ اپنے صاحبزادے اور اس کی/ولی عہدی کے حق میں پرو پیگنڈا کرتے تھے اور صحابہ کرام کو ڈراتے دھمکاتے تھے، ان پر بد عنوانیوں کا الزام ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ مولانا موصوف کی تحریر کو یہ معانی پہنانا اور ان سےیہ نتائج برآمد کرنا بالکل غلط ہےاور جو کچھ انہوں نے فی الاصل فرمایا ہے، وہ بالکل درست اور تاریخی تواتر سے ثابت ہے۔ البتہ میں مولانا محمد تقی صاحب سے ایک سوال ضرور کروں گا اور وہ یہ کہ جب مولانا مفتی محمد شفیع صاحب بھی حضرت حسینؓ،حضرت عبداللہ ابن عمر، حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہم کی یہ رائے بلا تنقید نقل کر رہے ہیں کہ کتاب وسنت کا اصول یہ ہے کہ خلافت اسلامیہ، خلافت نبوت ہے اور اس میں وراثت کا کچھ کام نہیں کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ ہو ارومفتی صاحب کے بقول یزید کو ولی عہد بنانا ایک سازش، خلافت اسلامیہ پر ایک حادثہ عظیمہ اور اسلام پر ایک حادثہ تھی تو پھر اس کے جواز پر اجماع امت کیسے ہو گیا جسے ثابت کرنے کی سعی "البلاغ "میں کی گئی ہے؟میں حیران ہوں کہ بیٹےاور یزید جیسےبیٹےکی ولی عہدی کےجواز پر اجماع کے بعد پھر آخر شیعہ حضرات کے نظریہ پر کیا اعتراض باقی رہ جاتا ہے۔ وہ بھی تو یہی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عم زاد اور داماد کو اپنا جانشین نامزد کر دیا اور پھر آگے اسی طرح باپ کے بعد بیٹے تک امامت منتقل ہوتی رہی-
شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا صاحب نےاوجز المسالک،شرح موطا امام مالک میں ترہ کےمظالم کی جو ہولناک تفصیل کتاب المیراث،واقعہ حرہ کی شرح میں بیان فرمائی ہے، ان کا پورا متن اور ترجمہ دینا موجب طوالت ہے، اس لیے میں یہاں اس کا مترجم خلاصہ پیش کرتا ہوں۔ فرماتے ہیں:
"یزید کا لشکر جو مدینے پر حملہ آور ہوا تھا، اس میں ستائیس ہزار سوار اور پندرہ ہزار پیادہ تھےتین دن تک قتل و غارت کا بازار گرم رہا۔ دو ہزار خواتین کی آبروریزی ہوئی۔ قریش وانصار کےساتھ سونمایاں افراد شہید ہوئے اور موالی عورتوں بچوں کے مقتولین کی تعداد دس ہزار تھی ۔ پھر ابن عقبہ نے لوگوں کو اس طرح بیعت پر مجبور کیا کہ وہ اس کے غلام ہیں، وہ چاہے تو ان کی جان بخش دے، چاہے تو قتل کر دے۔ حضرت سعید بن مسیب کا بخاری میں بیان ہے کہ اصحاب حدیبیہ میں سے کوئی نہ بچا۔ اہل مدینہ اول روز سےامارت یزید سے نفرت رکھتے تھےانہیں اس کےفسق و فجور،شراب نوشی،ارتکاب کہائر اور ہتک حرمات کی معلومات ملیں تو انہوں نےامارت ماننےسےانکار کر دیا۔ عبداللہ بن حنظلہ السیل فرماتے تھے کہ خدا کی قسم ہم یزید کے خلاف اس وقت اٹھے جب ہم ڈرنے لگے کہ ہم پر پتھروں کی بارش نہ ہو۔ یہ شخص امہات اولاد سے نکاح کرتا تھا،شراب پیتا تھا اور نماز کو ترک کر دیتا تھا۔ابن قتیبہ کا بیان ہے کہ حادثہ ترہ کے بعد کوئی بدری صحابی زندہ نہ رہا۔ ابن عقبہ نے یزید کولکھا کہ ہم نے دشمنوں کو تہ تیغ کر دیا ہے۔ جو سامنے آیا اسے قتل کیا، جو بھا گا اس کو جالیا اور جو زخمی ہوا اس کا کام بھی تمام کیا۔“
(اوجز المسالک، جلد ۵ طبع ۱۳۷۶، مکتبہ کو یہ سہارنپور )
یزید کی ولی عہدی کے مسئلےپر جناب محمد تقی صاحب عثمانی نے جو بحث کی تھی، میں نے اپنی تنقید میں اس کی کمزوریاں واضح کر دی تھیں، مگر وہ میری تردید میں دوبارہ لکھتے ہیں کہ ”مولانا مودودی صاحب سے ہمارا اختلاف یہ ہےکہ ان کےنزدیک یہ صرف رائےکی دیانتدارانہ غلطی نہیں تھی بلکہ اسکا محرک حضرت معاویہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کا ذاتی مفاد تھا۔افسوس کہ عثمانی صاحب ابھی تک لفظی نزاع اور مغالطےکےچکر سے نہ نکل سکے۔ میں پوچھتا ہوں کہ مولانا مودودی نے یہ بات کہاں لکھی ہے کہ یہ غلطی دیانت دارانہ نہیں تھی یہ دیانت دارانہ اور غیر دیانت دارانہ کی بحث آپ خواہ مخواہ پیدا کر رہے ہیں۔ کیا عالم واقعات میں ایسا ہونا غیر ممکن ہے کہ ایک انسان پر محبت پدری ایسی غالب و بالا دست ہو جائے کہ وہ نہایت دیانت داری سے اپنےبیٹےکو امت کا اہل ترین فرد شمار کرے حالانکہ فی الواقع وہ ناہل ترین ہو؟ اسی طرح محبت کے علاوہ بعض اوقات انسان کا مفاد اس کی رائے اور قوت فیصلہ کو اس طرح متاثر کر دیتا ہے کہ وہ ایک صریح غلط اقدام کر بیٹھتا ہےحالانکہ اپنے خیال اور نیت کےمطابق وہ ایک اچھا اور مفید کام کر رہا ہوتا ہےمولانا مودودی کا مدعا بس یہی ہےجس کی مزید وضاحت انہوں نےاسی مقام پر ان الفاظ میں کر دی ہےکہ یزید بجائےخود اس مرتبےکا آدمی نہ تھا کہ حضرت معاویہؓ کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے قطع نظر کرتےہوئےکوئی شخص یہ رائے قائم کرتا کہ حضرت معاویہ کےبعد امت کی سر براہی کےلیےوہ موزوں ترین آدمی ہےسمجھ میں نہیں آتا کہ سیدھی بات کو سمجھنے اور سیدھی طرح قبول کر لینےمیں کیا دشواری مانع ہے؟ یزید کے عیوب اور فسق و فجور جو بقول ابن حجر مکی کا شمس فی النہار واضح تھےوہ اگر اسکےوالد ماجد پر نہ کھل سکےتو اس کی وجہ سوائےاس کےاور کیا ہوسکتی ہےکہ بیٹےکی محبت اور اس کےمفاد کی فکر میں غلو حجاب بن کر درمیان میں حائل ہو گیا تھا۔ عثمانی صاحب نے یزید کی صالحیت و نجابت کی جو بلند بانگ شہادت دی ہے اس کی صحت وصداقت کا اندازہ کرنے کے لیے میں چند علماء کے اقوال مزید نقل کیے دیتا ہوں۔
مولانا عبدالحی فرنگی محلی لکھنوی سے ایک سوال یزید کے متعلق پوچھا گیا تھا کہ اس کے حق میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے۔ جواب میں وہ فرماتے ہیں:
"بعض لوگوں نے افراط سے کام لیا اور کہا کہ جب یزید با تفاق تمام مسلمانوں کا امیر بن گیا تو اس کی اطاعت امام حسین پر واجب تھی۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ مسلمانوں کا اتفاق اس کی امارت پر کب ہوا۔ صحابہ اور اولاد صحابہ کی ایک جماعت اس کی اطاعت سے خارج تھی اور جنہوں نے اس کی اطاعت قبول کی تھی جب انکو یزید کی شراب خوری ، ترک صلوۃ ، زنا اور محارم کے ساتھ حرام کاری کی حالت معلوم ہوئی تو مدینہ منورہ واپس آکر انہوں نےبیعت کو فسخ کر دیا۔ بعض کہتےہیں کہ یزید نےامام حسین کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، نہ اس امر پر وہ راضی تھا اور نہ قتل امام حسین واهل بیت کے بعد وہ خوش ہوا، حالانکہ یہ قول بھی باطل ہے۔ علامہ تفتازانی شرح عقائد نسفیہ میں لکھتےہیں:(ترجمه) حق بات یہ ہےکہ یزید امام حسین کی شہادت پرراضی تھا اور اس امرپر اسکا مسرور ہونا اور اہل بیت کی توہین کرنا معنا متواتر ہے اگر چہ اس کی تفصیلات درجہ آحاد میں ہیں۔بعض کہتےہیں کر قتل امام حسین گناہ کبیرہ ہےنہ کہ کفر، اور لعنت کفار کےلیےمخصوص ہے۔ان لوگوں کی فطانت و ذہانت کےکیا کہنے!ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ کفر تو ایک طرف، فقط ایذائے رسول الثقلین کے کیا نتائج ہوں گے؟
بعض نے کہا کہ یزید کے خاتمے کا حال معلوم نہیں۔ شاید کہ کفر و معصیت کےارتکاب کے بعد اس نے توبہ کر لی ہو اور اس پر اس کا خاتمہ ہوا ہو۔ امام غزائی کا میلان احیاء العلوم میں اسی طرف ہے۔گار مخفی نہ رہے کہ یہ تو بہ اور معاصی سے رجوع ایک احتمال ہے، ورنہ اس بد بخت نے اس امت میں جو کچھ کیا کسی نے نہ کیا۔ امام حسین واهل بیت کی اهانت اور قتل کےبعد اس نے اپنےلشکر کو مدینہ مطہرہ کی تخریب اور اہل مدینہ کے قتل کےلیےبھیجا۔واقعہ حرہ میں تین روز تک مسجد نبوی بے اذان و نماز رہی۔اس کے بعد مکہ معظمہ کی طرف لشکر روانہ ہوا جس کے نتیجے میں آخر کار حضرت عبداللہ بن زبیر عین حرم مکہ میں شہید ہوئے۔ یزید انہی مشاغل میں منہمک تھا کہ مر گیا اور جہاں کو اپنے وجود سے پاک کر گیا۔“
فتاوی مولا نا عبدالحی ، جلد سوم صفحه ۸ مطبع شوکت اسلام لکھنو ۱۳۰۹ھ۔
فتادی مولانا عبدالحی منوب ، صفحه ۷۹، فرآن محل ، مقابل مولوی مسافر خانہ، کراچی۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی اپنی تصنیف ” تکمیل الایمان میں جو کچھ فرماتے ہیں اس کا ترجمہ درج ذیل ہے:
"بعض علمائےسنت یزید کے معاملےمیں توقف سےکام لیتے ہیں۔مگر بعض غلو و افراط کی وجہ سے اسکی شان و منزلت کرنےبیٹھ جاتے ہیں اور کہتےہیں چونکہ وہ مسلمانوں کی اکثریت پر امیر مقرر ہوا تھا، امام حسین رضی اللہ عنہ پر ضروری تھا کہ ان کی اطاعت کرتے ۔ نعوذ بالله من هذا القول ومن هذا الاعتقاد یزید امام حسین کے ہوتے ہوئے امیر ہو کیسےسکتا ہےاور مسلمانوں کا اجماع اس پر کس طرح واجب آتا ہے، جب کہ اس وقت صحابہ کرام اور صحابہ کرام کی اولاد جو بھی موجود تھی،اس کی اطاعت سے بیزاری کا اعلان کر چکے تھے۔ مدینہ منورہ سےچند لوگ اس کےپاس شام میں جبر و اکراه سےپہنچائےگئےتھےمگر یزید کےناپسندیدہ اعمال کو دیکھ کر واپس مدینے چلےآئے اور عارضی بیعت کو فسخ کر دیا۔ ان لوگوں نے برملا کہا کہ وہ خدا کا دشمن ہے۔ شراب نوش ہے۔ تارک صلوۃ ہے، زانی ہے۔ فاسق ہے۔ محارم سے صحبت کرنے سے بھی باز نہیں آتا... ہماری رائے میں یزید مبغوض ترین انسان تھا۔ اس بدبخت نے جو کارہائے بد سر انجام دیئے ہیں، امت رسول میں سے کسی سے نہ ہو سکے... اللہ تعالیٰ ہمارے اور دوسرے اہل ایمان کے دلوں کو یزید کی محبت والفت ، اس کے مددگاروں اور معاونین کی موانست، اور ان تمام لوگوں کی دوستی .....جو اہل بیت نبوی کے بدخواہ رہے ہیں، ان کے حقوق کو پامال کرتے آئے ہیں اور ان کی محبت وصدق عقیدت سے محروم رہے ہیں ، ان کی الفت سے محفوظ و مامون رکھے ۔“
(تکمیل الایمان، مع حواشی مولانا احمد رضا خاں بریلوی، ترجمہ پیرزادہ اقبال احمد فاروقی صاحب صفحہ ۷۸ مکتبہ نبویہ، گنج بخش روڈ ، لاہور ۱۹۷ء)
"آپ نے اپنی جانشینی کےلیےجس شخصیت کو انتخاب کیا، وہ واقعی اس کے لیے موزوں نہ تھی اور یہ واقعہ ہے کہ خود امیر معاویہ بھی اسےموزوں نہ سمجھتےتھے۔امیر تو علیحدہ رہے خود یزید بھی اپنےحالات کو دیکھتے ہوئے اسےناممکن سمجھتا تھا۔چنانچہ سب سےپہلے یہ تجویز یزید کےسامنےپیش کی گئی تو اس نے تعجب سےپوچھا، کیا یمکن العمل ہے؟“
( تاریخ ملت، حصہ سوم صفحه ۵۵ ، ندوۃ المصنفین ، دہلی مطبع سوم ۱۹۵۰ء)
اب ایک طرف ان اکابر علماء اور دیگر ائمہ سلف کے اقوال ہیں جو یزید کی یہ تصویر کھینچ رہےہیں اور دوسری طرف ہمارے مولانا عثمانی صاحب ہیں جن کے نزدیک یزید کا فسق و فجور صحیح و ثابت نہیں اور امیر معاویہؓ نے اسے نیک نیتی کے ساتھ ولی عہدی کے لیے منتخب کر لیا تھا، اس لیے یہ انتخاب جائز تھا۔ پھر وہ مجھ سے یہ بھی پوچھتےہیں کہ حضرت معاویہؓ نے یہ فیصلہ نیک نیتی سےکیا تھا تو پھر مولانا مودودی کا یہ جملہ اس نیک نیتی میں کس طرح فٹ بیٹھتا ہے کہ یزید کی ولی عہدی کےلیےتحریک کسی صحیح جذبے کی بنیاد پر نہیں ہوئی تھی ۔ میں جوابا عثمانی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ ایک غلط کام اگر محض ” نیک نیتی کے ساتھ بالکل صحیح بنیاد پر اور ہر اعتراض سے بالا تر ہو جاتا ہے، اور مولانا مودودی کا جملہ کسی طرح آپ کے ذہنی فریم میں فٹ نہیں بیٹھتا،تو پھر مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کا یہ ارشاد کس طرح فٹ بیٹھتا ہے کہ " کو فہ سے چالیس خوشامد پسند بھیجےجاتے ہیں کہ معاویہ سےدرخواست کریں کہ آپ کے بعد آپ کےبیٹے یزید سےزیادہ کوئی قابل اور ملکی سیاست کا ماہر نظر نہیں آتا۔ بالآخر بیعت یزید کا قصد کر لیا جاتا ہے اور اسلام پر یہ پہلا حادثہ عظیم ہے کہ خلافت نبوت ملوکیت میں منتقل ہو جاتی ہے۔“
عثمانی صاحب اپنی جوابی بحث میں اپنےوالد ماجد کےاس ارشاد اور دوسرے بہت سےاقوال کو صاف نگل گئے ہیں مگر میں ان کی راہ فرار کو اپنی حد تک مسدود کرنے کےلیے کچھ مزید مواد سامنے رکھتا ہوں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی جن کی ایک کتاب کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے، ان کی ایک دوسری تصنیف ”ما ثبت بالسنة “ ہے جس کے عربی متن مع ترجمہ کی طباعت و اشاعت کا شرف ٦٦ه میں عثمانی صاحب کے برادر گرامی مولانا محمد رضی صاحب کو حاصل ہوا ہےاس مترجم کتاب کا نام "مومن کےماہ وسال“ ہےاس پر مقدمہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نےرقم فرمایا ہے جس میں فرماتے ہیں:
"اس اہم کتاب کے مصنف حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا نام نان ہی اس کے مستند و معتبر ہونے کی ضمانت ہے۔ اس میں روایات و حدیث کو جمع بھی کیا گیا ہےاور ان کے مستند یا غیر مستند ہونے کی تحقیق بھی کی گئی ہے۔ الحمد للہ برخوردار عزیز مولوی محمد رضی سلمہ نےاسے اپنےمکتبہ دارالاشاعت سے شائع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرما ئیں اور دین و دنیا میں سب کے لیے نافع بنائیں۔“
جناب محمد تقی عثمانی صاحب، البلاغ محرم ١٣٩١ه میں اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ہماری نظر میں یہ کتاب ہر مسلمان کے مطالعہ میں آنی چاہیے اور کوئی گھرانہ اس سے خالی نہ ہونا چاہیے۔ یہ کتاب بیک وقت اہل علم کے کام کی بھی ہے اور عام مسلمانوں کے لیے مفید بھی۔“
اب اس کتاب کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
اسی سال یعنی ۲۳ھ میں امیر معاویہ نے زیاد بن ابیہ کو اپنا نائب بنایا اور یہی وہ پہلا عمل ہےجس کے ذریعے سے احکامات رسالتمآب کی خلاف ورزی کی گئی ۔“ (صفحہ ۳۰)
"پھر امیر معاویہؓ نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو بلوا کر پہلے کی طرح ان سے بھی ( بیعت یزید کےلیے ) کہا۔ دوران حکم میں حضرت عبدالرحمن نے کہا کہ آپ کو گمان ہو گیا ہے کہ آپ کے بیٹے یزید کی ولی عہدی کے متعلق ہم لوگوں نےآپ کو اپنا وکیل و مختار بنا دیا ہےبخدا آپ کا یہ گمان بالکل باطل ہےہمارا مقصد یہ ہےکہ تمام مسلمان مجلس شوری میں کسی بات پر متفق ہو جائیں، ورنہ میں بتائےدیتا ہوں کہ تفرقہ اندازی کا بار آپ کے کندھوں پر ہوگا۔“ (صفحہ ۳۱) حضرت حسن بصری کا بیان ہے کہ لوگوں میں فتنہ و فساد کی آگ سلگانے والے صرف دو آدمی ہیں جن میں سے ایک عمرو بن عاص ہیں جنہوں نےامیر معاویہ کو نیزوں پر قرآن کریم اٹھانے کا مشورہ دیا اور قرآن کریم نیزوں پر اٹھائے گئے اور ابن الفراء کا قول ہے کہ خارجیوں کو انہوں نے ثالث بنایا تھا اور یہ وہ ثالث تھے جن کا چرچہ قیامت تک رہے گا۔
فسادیوں میں سےدوسرے شخص مغیرہ بن شعبہ ہیں جو کوفہ میں امیر معاویہ کےگورنر تھے،جن کےنام پر امیر معاویہ کایہ فرمان پہنچا تھا کہ اس حکمنامہ کی وصول یابی اور خواندگی کےبعد تم خود کو معزول سمجھو اور کوفہ سے فوراً ہمارے دربار میں حاضری دو۔ لیکن مغیرہ نےتعمیل حکم میں تعویق کی۔دربار میں پہنچنےپر امیر معاویہ نے تعویق کا سبب پوچھا تو جواب دیا کہ ایک معاملہ پیش تھا جسےسلجھانے اور مفید مطلب بنانے کی وجہ سے دیر ہوگئی۔ امیر معاویہ نے پوچھا کیا معاملہ تھا؟ مغیرہ نےجواب دیا: آپ کے بعد یزید کی بیعت کے لیے زمین ہموار کر رہا تھا۔دریافت کیا: آیا تم نےیہ پورا کر لیا ؟ جواب دیا جی ، ہاں۔ یہ سن کر امیر معاویہ نےکہا: اچھا اپنی گوارنری پر واپس جاؤ اور حسب سابق اپنےفرائض انجام دو۔ یہاں سےلوٹ کر مغیرہ جب اپنےاحباب کےپاس پہنچا تو انہوں نےپوچھا، بتاؤ کیسی رہی؟ مغیرہ نے کہا: ”میں نے معاویہ کےپاؤں اس ناواقفیت کے رکاب میں رکھ دیئے لے جس میں قیامت تک، وہ گرفتار رہیں گے ۔“ (صفحہ ۳۲ ۳۳)
"حقیقت حال یہ ہےکہ بد بخت و سرکش یزید ۲۵ یا ۲۶ھ میں پیدا ہواجسےاس کےوالد نےلوگوں کی ناپسندیدگی کےباوجود ولی عہد خلافت مقرر کیا۔ علامہ ذہبی کا بیان ہےکہ یزید نےباشندگان مدینہ کے ساتھ جو سختیاں کیں، وہ کیں۔لیکن اس کے ساتھ وہ شراب خور اور ممنوعہ اعمال کا مرتکب تھا۔ اسی سبب سے لوگ اس سےناراض تھے اور اس پر سب نے متفقہ طور پر چڑھائی کا ارادہ کیا۔ اللہ یزید کو غارت کرے۔ اس نے فوج حرہ مکہ معظمہ میں حضرت ابن زبیر سےجنگ کےلیےروانہ کی۔اس پر مقررہ سردار فوج مر گیا تو یزید نے دوسرا سر دار فوج مقرر کیا جس نےمکہ میں گھس کر حضرت ابن زبیر کا محاصرہ کیا۔ ان کے قتل کےلیےمنجنیق اور کرین کے ذریعےخوب سنگباری کی اور اس طرح ماہ صفر ۶ھ میں آگ کے شعلوں سےخانہ کعبہ کا غلاف خاکستر کیا اور خانہ کعبہ کی چھت جلا ڈالی" (صفحہ ۳۷)
اب میں دیانت و انصاف کا واسطہ دےکر سوال کرتا ہوں کہ شیخ عبدالحق محدث جود یارپاک دھند میں قدیم ترین محدثین و متقین کےگروہ میں سےہیں وہ اگر یہ سب باتیں برملا لکھ سکتےہیں اور عثمانی صاحب اور ان کا فاضل و معزز خانوادہ انہیں چھاپ کر پھیلا سکتا ہے؟ اس پر تقریظ و توثیق کا اضافہ فرما سکتا ہےاور ہر عالم و عامی کو یہ مشورہ دےسکتا ہےکہ کوئی مسلمان گھر اس کتاب سےخالی نہ رہنا چاہیے جس میں یہ لکھا ہے کہ فلاں وفلاں صحابی فتنے کی آگ بھڑ کانے والےتھےتو پھر مولانا مودودی نے اگر کچھ زیاد یا یزید یا امیر معاویہ حضرت مغیرہ آور حضرت عمرو بن العاص کےمتعلق نرم تر لہجےمیں کہہ دیا ہےاس پر یہ لوگ کیوں ہم سے دست وگریباں اورکف درد ہاں ہیں اور نت نئےگھناؤنےاور اشتعال انگیز الزامات گھڑ کر ہم پر لگا رہےہیں؟دوسروں کا تنکا بھی کھٹک رہا ہےمگر اپنا شہتیر بھی نظر نہیں آتا۔میں عثمانی صاحب کو اس بات کا بھی اطمینان دلاتا ہوں کہ آپ لوگوں کی شائع کردہ کتاب میں بھی ایسی باتیں موجود ہیں تو آپ کی جبین کو ہرگز عرق آلود نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہر مؤرخ جس نے ان واقعات پر کلام کیا ہے، اس نے تقریباً ایسا ہی لکھا ہے۔
١- یہ وضعت رجل معاوية في غرزعى كا ترجمہ ہے۔ اس فقرے میں ایک محاورہ استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ مولانا اقبال الدین احمد صاحب نے یوں کیا ہےکہ میں معاویہ کا ماڈل دلدل میں پھنسا آیا ہوں۔ ملاحظہ ہو تاریخ الخلفاء امام سیوطی مترجم بنفیس اکیڈمی کراچی صفحه ۲۳۶
مثال کےطور پر آپ مولانا اکبر شاہ خاں صاحب اور انکی تاریخ اسلام کو لیجئےاس ضخیم کتاب کے چھ ایڈیشن صرف پاکستان میں اب تک چھپ چکے ہیں۔ آخری مرتبہ نفیس اکیڈیمی،کراچی نے اسے ۱۹۶۶ء میں شائع کیا ہے۔اس کی چند عبارتیں ملاحظه ہوں جو جلد دوم طبع چہارم ۱۹۲۰ء سےماخوذ ہیں۔اس کے صفحہ ۳۵ تا۳۹ میں یزید کی ولی عہدی کے زیر عنوان مصنف نےمفصل رو داد بیان کی ہے کہ کن تدابیر سےیہ ولی عہدی تکمیل پذیر ہوئی۔ ایک مقام پر حضرت مغیرہ کا انہوں نے وہی واقعہ نقل کیا ہے جو شیخ عبدالحق دہلوی نے لکھا ہے اور جو خلافت و ملوکیت میں بھی درج ہے۔ آگے چل کرا کبرشاہ خاں صاحب لکھتے ہیں:
"حضرت معاویہ کا اپنی زندگی میں یزید کے لیے بیعت لینا ایک سخت غلطی تھی۔ یہ غلطی غالباً محبت پدری کے سبب ان سے سرزد ہوئی۔ لیکن مغیره بن شعبه کی غلطی ان سے بھی بڑی ہے کیونکہ اس غلطی کا خیال اور اس پر مائل ہونےکی جرات مغیرہ بن شعبہ ہی کی تحریک کا نتیجہ تھا۔اسی لیےحسن بصری نےفرمایا ہےکہ "مغیرہ بن شعبہ نے مسلمانوں میں ایک ایسی رسم جاری ہونے کا موقع پیدا کر دیا جس سے مشورہ جاتا رہا اور باپ کے بعد بیٹا بادشاہ ہونے لگا۔“
( تاریخ اسلام، جلد دوم صفحه ۵۶)
آگے "یزیدی سلطنت پر ایک نظر“ کے زیر عنوان لکھتے ہیں:
اس دور کے عوام کے جذبات اور یزید کے کیرکٹر کا اندازہ اس سے کیجئے کہ حضرت امیر معاویہ نے اپنے عمال کے نام ایک عام حکم جاری کیا کہ لوگوں سے یزید کی خوبیاں بیان کرو اور اپنےاپنے علاقوں کے بااثر لوگوں کا ایک وفد میرے پاس بھیجو کہ میں بیعت یزید کے متعلق لوگوں سے خود بھی گفتگو کروں۔ چنانچہ ہر صوبے سے جو وفد آیا امیر معاویہ نے ان سے الگ الگ گفتگو کی جس میں خلفاء کے فرائض و حقوق، حکام کی اطاعت اور عوام کے فرائض بیان کر کے اور یزید کی شجاعت، سخاوت، عقل وتدبیر اور انتظامی قابلیت کا تذکرہ کر کے خواہش ظاہر کی کہ اس کی ولی عہدی پر بیعت کر لینی چاہیے لیکن اس کے جواب میں مدینہ کے وفد کے ایک رکن محمد بن عمرو بن حزم نےکھڑے ہو کر کہا: "امیر المومنین ، آپ یزید کو خلیفہ تو بناتے ہیں لیکن ذرا اس بات پر بھی خیال فرما لیں کہ قیامت کے دن آپ کو اپنے اس فعل کا خدا تعالیٰ کی جناب میں جواب دہ ہونا پڑے گا۔‘محمد بن عمرو بن حزم کے ان الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام بھی یزید کی خلافت سے خوش نہ تھے اور اس کی خلافت کے جوئے کو اپنی گردن پر رکھنے کے لیے تیار نہ تھے۔ خود آخر وقت میں امیر معاویہ کےسامنے یزید نے جس قسم کی سرکشی کا اظہار کیا تھا، اس سے بھی اس پر روشنی پڑتی ہے کہ وہ کہاں تک خلافت کا اہل تھا۔" (کتاب مذکور ، صفحہ ۹۳-۹۴)
اس بحث کا خاتمہ مولانا نجیب آبادی نے ان الفاظ کے ساتھ کیا ہے:
"یزید نےاپنی عملی زندگی کا جو نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کیا، اس میں چونکہ فسق و فجور اور خلاف احکام شرع اعمال بھی تھےلہذا عام طور پر مسلمانوں کی مذہبی خصوصیات اور عملی زندگی کو نقصان پہنچا اور ضعیف الایمان لوگ گناہوں کےارتکاب میں شاہی نمونہ دیکھ کر دلیر ہو گئے۔یزید ہی کےبدنمانمونہ نے مسلمانوں کو گانے بجانےاور شراب پینےکی بھی ترغیب دی، ورنہ اس سےپہلےعالم اسلام ان خرابیوں سے بالکل پاک تھا۔“
مولانا زین العابدین میرٹھی اپنی تاریخ ملت حصہ سوم مطبوع ندوہ المصنفین،دلی طبع سوم ۱۹۵۰ء کے صفحہ ۳۸ تا ۴۶ میں بھی یزید کی ولی عہدی پر مفصل تنقید کی ہے۔ اس میں محمد بن حزم کےعلاوہ متعدد دوسرے اصحاب کا احتجاج مذکور ہے۔ بصرہ کے وفد احنف بن قیس کا قول یوں درج ہے:
”اے امیر المؤمنین معاملہ پر بیچ ہے۔ اگر سچ بولتے ہیں تو آپ کا ڈر ہے اور اگر جھوٹ بولتے ہیں تو خدا کا خوف ہے۔ آپ خود یزید کے دن اور رات کے مشاغل اور اس کے خفیہ و علانیہ افعال سے زیادہ واقف ہیں۔“
اسی کتاب میں حسن بصری کا وہی مقولہ اسی مقام پر منقول ہےکہ دواشخاص نےفسادریزی کی۔ ایک عمرو بن عاص ہیں اور دوسرے فتنه انگیز مغیرہ بن شعبه ہیں ۔“
بہر حال اس غلط خیال کی تردید ضروری ہے کہ ساری خرابیاں یزید میں حضرت معاویہؓ کی وفات کے بعد پیدا ہوئیں یا بعض پہلے تھیں مگر مخفی تھیں۔ میں سنن ابی داؤد سے وہ روایت پہلے نقل کر چکا ہوں جس میں بیان ہے کہ حضرت مقدام نے جب امیر معاویہ کوٹو کا کہ آپ کا لڑکا خلاف شرع حرکات کرتا ہے تو آپ اس کی تردید نہ کر سکے اگر یزید ایسا منہ زور تھا اور امیر معاویہ اس کی اصلاح سے معذور تھےتو ایسے شخص کو ولی عہد بنادینا کسی لحاظ سے صحیح اور مناسب نہ تھا۔ بعض روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ امیر معاویہ نے اسے بری عادات پر سرزنش کی۔ اس سے بھی یہ تو ثابت ہو گیا کہ اس میں برائیاں موجود تھیں جو امیر معاویہ کے علم میں آئیں۔ اب اس ساری صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے اگر یزید کی ولی عہدی پر اعتراض ہو تو ہر معترض کا منہ محض اس فقرے سے کیسےبند کیا جا سکتا ہے کہ امیر معاویہ نے جو کچھ کیا نیک نیتی سے کیا۔ اور ان کی نیت پر حملہ روا نہیں۔
یہ عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کو فقط یہ فقرہ بہت چھ رہا ہے کہ ولی عہدی یزید کی تحریک صحیح جذبے پر مبنی نہ تھی بلکہ ذاتی مفاد سے پیدا ہوئی ، انہیں حیلہ مگر مخادعہ اور اس طرح کے دوسرے متعدد الفاظ کبھی نہیں کھنکے جو اکثر ائمہ مورخین نے تحکیم وغیرہ کے مباحث میں بار بار استعمال کیے ہیں۔ کیا پہ سب لوگ صحابہ کرام کے حفظ مراتب سے بے بہرہ و نا آشنا تھے اور آج پہلی مرتبہ کچھ حضرات نےتعظیم صحابہ کا عقیدہ اختراع کر کےاس کی اجارہ داری لے لی ہے۔میں پہلےبیان کر چکا ہوں کہ امام ابن حجر المکی اہیتمی نے اپنی کتاب تطهیر الجنان ولسان خاص طور پر امیر معاویہ کےبیان مناقب اور ردّ مطاعن پر لکھی ہےاور ہمارےمعترض امام موصوف کے حوالے بہت دیتے ہیں۔ اس کتاب کے دو مزید حوالے میں نقل کرتا ہوں۔ الفصل الثالث کے شروع میں وہ امیر معاویہ کے متعلق تحریر کرتےہیں:
حارب الخليفة الحقَّ الذى معه اكثر الصحابة وقاتله، بل واحتال عليه حتى خلع نفســه بــخــلــع نائبه له عند تحکیم ابى موسى الاشعرى وعمر وبن العاص.
"امیر معاویہ نےاس خلیفہ برحق سے جنگ کی جس کےساتھ اکثر صحابہ کرام تھےبلکہ اس خلیفه برحق ( حضرت علیؓ) کےخلاف حیلہ بازی کی یہاں تک کہ حضرت ابو موسی اشعری اور عمرو بن العاص کی ثالثی کے وقت جب حضرت علیؓ کے نائب حضرت موسیٰ نےحضرت علی کی معزولی کا اعلان کیا تو امیر معاویہؓ نےخود بھی حضرت علی کو معزول ٹھہرا دیا "۔
آگے چل کر پھر ابن حجر واقعہ تحکیم بیان کرتے ہوئے احتیال (حیلہ بازی) کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص کےمقابلےمیں حضرت ابو موسیٰ سادہ لوح (غرا بالأمور ) تھے، اس لیے حضرت عمر کی سیاست ان پر غالب آئی۔ مزید لکھتے ہیں :
ولاجل هذا الخداع لم يعتد على واصحابه بذالک الخلع ولابتلک التولية واجروا الامور على ما كانت عليه قبل التحكيم.
"اس فریب کاری کی وجہ سے علی اور ان کے ساتھیوں نے اس معزولی کی کوئی پروانہ کی اور نہ حضرت عمرہ کےاس فیصلے کو خاطر میں لائےجس کا مقصد امیر معاویہ کو خلیفہ بنانا تھا۔ بلکہ حضرت علی اور ان کے رفقاء اپنے معاملات اور امور خلافت کو اسی طرح سرانجام دیتے رہے جیسے کہ تحکیم سےپہلے دے رہے تھے۔“
( تطہیر الجنان صفحه ۵۴، متبه القاهره، ۱۳۸۵)
اگر ان الفاظ اور اس انداز بیان سے صحابہ کرام کی نیت پر حملہ نہیں ہوتا اور ان کی شان میں گستاخی نہیں ہوتی تو مولانا مودودی کے الفاظ سے ان جرائم کا ارتکاب کیسے ہو جاتا ہے؟ یا پھر یہ بھی تسلیم کر لیجئے کہ ابن حجر بھی ایسے بے ادب، اور تکریم صحابہ کے تصور سے عاری و نابلد تھے کہ دوسروں کو قلب و لسان کی تطہیر کا سبق دیتے دیتے خود وہ صحابہ کرام کی توہین کے مرتکب ہو بیٹھے!
مولانا محمد تقی صاحب نےاپنےمضامین میں، نیز دوسرےبعض حضرات نےبڑےزور شور سے یہ دعوی کیا ہے کہ خلافت و ملوکیت میں جو واقعات درج کیے گئےہیں ان سےصحابہ کرام کی عدالت مجروح ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں عدالت صحابہ کا ایک ایسا تصور و نظریہ پیش کیا گیا ہےجو انبیاء علیہم السلام کےمتعلق اہل سنت کے عقیدہ عصمت سےفی الحقیقت کچھ بھی مختلف نہیں ہےبلکہ صحیح تر بات یہ ہےکہ یہ شیعہ حضرات کےاس عقیدہ عصمت کے مشابہ ہے جو وہ اپنے ائمہ معصومین کے بارے میں رکھتے ہیں۔
ان معترضین کا اسکےساتھ ایک مزید اعتراض یہ بھی ہےکہ ہم تک علم دین،یعنی کتاب و سنت پہنچنےکا ذریعه وواسطہ صحابہ کرام ہی تو ہیں،کبیرہ گناہوں اور جرائم کا الزام ان کےسر تھوپ دینےکےبعد آخر روایت قرآن وحدیث کےمعاملےمیں انہیں فرشته تسلیم کر لینےکی کیا وجہ ہے؟اس عجیب و غریب استدلال میں جو مغالطے مضمر ہیں ان پر مفصل بحث کرنےسےپہلے میں ان حضرات سےصرف ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں ۔وہ سوال یہ ہے کہ کیا ان میں سے کسی صاحب نے کتاب اللہ کی آیات اور اس کے رسول کے ارشادات کو براہ راست کسی صحابی رسول سے سنایا پڑھا ہے؟ ظاہر ہےکہ یہ سارے معترضین بشمول مدیر البلاغ تابعین کی صف میں داخل نہیں ہیں بلکہ بیچ میں راویوں کا ایک نہایت طویل سلسلہ ہےاب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ روایت حدیث اور تبلیغ دین کےلیےعدالت کا جو معیار آپ صحابہ کرام کے لیے وضع فرمارہے ہیں کیا اس کو آپ پورے سلسلہ رواۃ پر نافذ اور چسپاں کریں گےیا نہیں؟ اگر نہیں تو آخر کیوں نہیں؟ ہم میں سے کسی شخص پر بھی نصوص کتاب وسنت نہ جبریل نے اتاری ہیں، نہ بذریعہ وحی نازل ہوئی ہیں،نہ نبی اکریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ کرام کا شرف مصاحبت و ملاقات ہمیں حاصل ہے۔ بہر حال کچھ غیر صحابی اور غیر تا بعی لوگ ہی تھے جنہوں نے یکے بعد دیگرے اس دین کی امانت کو ہم تک پہنچایا ہے۔ اس لیے میری یہ درخواست ہے کہ براہ کرم ہوا میں بلند پروازی اور فلک پیمائی کرنے کی سعی نہ فرما ئیں اور روایت دین کےلیے عدالت و ثقاہت کا ایک ایسا پیمانہ اور معیار اختیار فرما ئیں جس پر بیچ کے لوگ بھی پورےاتر سکیں۔ صرف قرآن کو ماخذ و حجت دین سمجھنے والے تو تواتر امت کی آڑ ایک حد تک لےسکیں گے،لیکن ہم جو احادیث کو بھی ماخذ دین جانتےہیں اور غیر متواتر و آحاد سےبھی دین اخذ کرتےہیں ہمیں بہر حال عقل سلیم سےکام لینا چاہیےاور راویان حدیث کی تعدیل و توثیق کے لیےایسے اوصاف پر اصرار نہ کرنا چاہیے جن سے معاشر انبیاء کے سوا کوئی دوسرا گروہ متصف نہیں ہوسکتا۔ اور یہ حقیقت میں عنقریب ہی واضح کروں گا کہ عدالت صحابہ اور الصحابہ کلہم عدول کی بحث کی ضرورت بھی روایت حدیث ہی کے ضمن میں پیش آئی ہے، ورنہ عقلید ضرور یہ اور ایمانیات سے یہ مسئلہ براہ راست متعلق نہ تھا۔
اس ضروری تمہیدی گزارش کےبعد اب میں مسئلہ عدالت کےدوسرے پہلوؤں پر بحث کروں گا۔ عدل اور عدالت کےالفاظ عربی زبان میں انصاف بےلوٹی اور راستبازی کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں ، اور بعض اوقات ”عدل“ کا لفظ اسم فاعل کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے جس کا اطلاق ایسےشخص پر ہوتا ہےجو عادل، راست باز اور قابل اعتماد ہو۔ قرآن مجید سورہ مائدہ، آیت ۹۵ اور آیت ۶ ۱۰ میں ذَوَا عَدْلٍ سےمراد صاحب عدل ثالث یا گواہ ہیں اوران آیات کا اصل تعلق روایت کےبجائےشہادت یا حکم سےہےروایت اور شہادت میں بعض لحاظ سے فرق ہے، مثلاً نابالغ یا ایک عورت کی شہادت اکثر حالات میں قابل قبول نہیں، حالانکہ اس کے برعکس صاحب تمیز لڑکےاور تنہا عورت کی روایت حدیث معتبر ہےتاہم محدثین کےہاں یہ امر مسلم ہےکہ راوی حدیث کو صفت عدالت سےمتصف ہونا چاہیے۔ اس کے بعد یہ معلوم کرنا ضروری ہوگا کہ محدثین نے عدالت کا کیا مفہوم متعین فرمایا ہے۔عدالت کی کوئی قطعی اور اصطلاحی تعریف چونکہ کتاب وسنت میں مذکور نہیں ہےاس لیے اصولین نےعدالت کی جو تشریحات بیان کی ہیں ان میں تھوڑا بہت اختلاف ہے۔لیکن ان میں قدر مشترک بآسانی معتین ہو سکتی ہےمیں سب سے پہلے حافظ ابوبکر احمد الخطیب بغدادی کی کتاب الکفایہ فی علم الروایہ، باب الکلام فی العدالة واحکامہا سے چند اقتباسات پیش کرتا ہوں۔ واضح رہے کہ خطیب بغداری کے متعلق یہ مقولہ مشہور ہےکہ ان کےبعد آنےوالےجملہ محدثین ان کےخوشہ چین و دوست نگر ہیں ( الـمـحـدثـون بـعـده عـيـال على کتبه ) ۔ اس کتاب (مطبوعہ دائرۃ المعارف العثمانیہ ص ۷۹ طبع ۱۳۵۷ھ ) میں حضرت سعید بن مسیب کا قول امام زہری ، امام مالک اور نیچے کی پوری سند کے ساتھ یوں منقول ہے:
ليس من شريف ولا عـالـم ولا ذي سلطان الا وفيه عيب لابد ولكن من الناس من لا تذكر عيوبه من كان فضله اكثر من نقصه ذهب نقصه من فضله.
"کوئی بزرگ، عالم اور حاکم ایسا نہیں ہے جس میں لازماً کوئی نہ کوئی عیب نہ ہو، لیکن لوگوں میں ہے جس کے عیوب کا چرچا نہ ہو اور جس کے فضائل اس کے نقائص سے زیادہ ہوں، اس کا نقص اس کےفضل کی بنا پر زائل ہو جائے گا۔“
پھر امام شافعی کا قول مع سلسلہ اسناد درج ہے:
لا اعـلـم احـدا اعطى طاعة الله حتى لم بحطها بمعصية الله الا يحيى بن زكريا عليه السلام، ولا حصى الله فلم يخلط بطاعة، فإذا كان الأغلب الطاعة فهو المعدل وإذا كان الأغلب المعصية فهو المجروح
”میرے علم میں کوئی ایسا نہیں ہے جس نے اللہ کی اطاعت کی ہو اور پھر اس میں اللہ کی نافرمانی کی آمیزش نہ کی ہو سوائے حضرت یحیی بن زکریا علیہ السلام کے۔ اور کوئی ایسا بھی نہیں ہےجس نے اللہ کی نافرمانی کی ہومگر اس کے ساتھ اطاعت بھی نہ کی ہو۔ پس جس کی اطاعت اغلب ہو تو اسے عادل قرار دیا جائے گا اور جس کی معصیت غالب ہوا سے مجروح ٹھہرایا جائے گا۔“
اسی طرح ابراہیم ائمر وزی عبداللہ بن مبارک کا قول نقل کرتے ہیں کہ ان سے راوی عدل کی صفات دریافت کی گئیں تو انہوں نے فرمایا:
من كان فيه خمس خصال: يشهد الجماعة ولا يشرب هذا الشراب ولاتكون في دينه خربة ولا يكذب ولا يكون في عقله شي.
" جس شخص میں پانچ خصائل ہوں نماز باجماعت پڑھے اور شراب نہ پیے اور اس کے دین میں خرابی نہ ہو اور جھوٹ نہ بولے اور ناقص العقل نہ ہو۔“
اس قول پر الکفایہ کے حاشیہ نگار لکھتے ہیں کہ اس قول کی تائید قرآن کی اس آیت سے ہوتی ہے: إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۔ پھر حاشیہ میں شعر لکھتے ہیں:
سب سے آخر میں خطیب بغدادی اپنا محاکمہ پیش فرماتے ہیں:
والواجب عندنا ان لا يرد الخبر والشهادة الا بعصيان قد اتفق على رد الخبر والشهادة به وما يغلب به ظن الحاكم والعالم ان مقترفه غير عادل ولا مأمون عليه الكذب فى الشهادة والخبر . ولو عمل العلماء والحكام على ان لا يقبلوا خبرا ولا شهادة الأمن مسلم برئ من كل ذنب قل او كثر لم يمكن قبول شهادة أحد ولا خبره لان الله تعالى قد أخبر بوقوع الذنوب من كثير من أنبيائه ورسله.
’ اور ہمارے نزدیک واجب ہے کہ روایت و شہادت صرف ایسے عصیان کی بنا پر رڈ کی جائےجس کے بارے میں سب کا اتفاق ہو کہ اس کی بنا پر حدیث اور شہادت رد کی جانی چاہیے اور جس سےحاکم اور عالم کو ظن غالب حاصل ہو جائےکہ اس عصیان کا مرتکب غیر عادل ہے اور خطرہ ہے کہ وہ گواہی یا روایت میں جھوٹ بولے گا۔ اگر علماء و حکام ایسا کرنے لگیں کہ وہ مسلمان کی روایت یا شہادت اس وقت تک قبول نہ کریں جب تک کہ وہ ہر قلیل یا کثیر گناہ سےپاک نہ ہو،تو پھر تو کسی کی شہادت در وایت قبول کرنا ممکن نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے ابنیاء ورسل سے بھی وقوع ذنب کی خبر دی ہے۔“
عدالت اور اس کےاحکام کےبارےمیں حافظ الخطیب کی جو توضیحات او پر درج ہوئی ہیں،ان میں ہمیں عدالت رواۃ کا ایک ایسا تصور ملتا ہےجو باعتبار عقل و نقل بالکل صحیح اور افراط و تفریط سےبری ہے۔اس سے کوئی مختلف موقف اختیارکرنےکی صورت میں نہ صرف عدالت صحابہ کےمتعلق اشکالات پیدا ہوتےہیں،بلکہ صحابہ کرام سے نیچے کےطبقات رجال اور ان کے واسطے سےہم تک آنےوالا ذخیرۂ حدیث بھی محفوظ و مامون نہیں رہتا۔ پھر اگر کوئی شخص انصاف کی نظر سےدیکھےتو عدالت کی ان تعریفات کی روشنی میں عثمانی صاحب کے ان ایرادات میں بھی کوئی وزن باقی نہیں رہتا جو انہوں نےاس ضمن میں” خلافت و ملوکیت“ کی عبارتوں پر پیش فرمائے ہیں تاہم ان کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ سطور میں ان کی حقیقت بھی واضح کی جارہی ہے۔
”یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی شخص سے کوئی کام عدالت کے منافی سرزد ہونے کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ صفت عدالت اس سے بالکلیہ منتفی ہو جائے اور ہم سرے سے اس کے عادل ہونے ہی کی نفی کر دیں اور وہ روایت حدیث کے معاملے میں نا قابلِ اعتماد ٹھہرے؟ میرا جواب یہ ہے کہ کسی شخص سے ایک دو یا چند معاملات میں عدالت کے منافی کام کر گزرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کی عدالت کی کلی نفی ہو جائے اور وہ عادل کے بجائے فاسق قرار پائے ، در آنحالیکہ اس کی زندگی میں مجموعی طور پر عدالت پائی جاتی ہو۔“
اب مدیر "البلاغ" کا کارنامہ ملاحظہ ہو کہ توجیہ القول بمالا رضی قائلہ،سے کام لیتےہوئےفرماتے ہیں کہ اگر مولانا مودودی کا یہ مفہوم ہےکہ صحابہ کرام صرف روایت حدیث کی حد تک عادل ہیں،ورنہ اپنی عملی زندگی میں وہ (معاذ اللہ )فاسق و فاجر بھی ہو سکتےہیں تو یہ بات نا قابل بیان حد تک غلط اور خطرناک ہےایک طرف مولانا مودودی کےمحتاط الفاظ رکھیےکہ وہ صرف اتنی بات کہہ رہےہیں کہ کسی شخص کے چند معاملات میں عدالت کےمنافی کام کرنےسےیہ لازم نہیں آتا کہ وہ عادل کے بجائےفاسق قرار پائےاور دوسرےطرف مدیر موصوف کا عدل وانصاف دیکھیےکہ وہ اس مفہوم کو ان الفاظ کا خود ساختہ جامہ پہنا رہےہیں کہ صحابہ کرام اپنی عملی زندگی میں فاسق و فاجر بھی ہو سکتے ہیں۔ میں اس طرز استدلال پر اس سے پہلےبھی تنبیہ کر چکا ہوں جب کہ ذاتی مفاد کے الفاظ میں سےامیر معاویہ پر "مفاد پرستی کا وحشت ناک الزام برآمد کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور میں نےچند مثالیں اور پھر مولانا مفتی شفیع کی عبارتیں نقل کر کے اس طریق حجت و بحث کی غلطی واضح کر دی تھی۔مگر صد حیف و صد افسوس کہ عدالت صحابہ والی بحث میں پھر بالکل وہی صورت در پیش ہے۔ اب میں بقول شاعر صرف یہ دعا ہی کر سکتا ہوں کہ:
یارب وہ نہ سمجھے ہیں، نہ سمجھیں گے مری بات
دل دے ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
پھر مزید غضب یہ ہے کہ مولانا عثمانی صاحب بناء الفاسد علی الفاسد کے اصول پر پہلے تو مولانا مودودی کے منہ میں زبردستی یہ الفاظ ٹھونستے ہیں کہ صحابہ کرام اپنی عملی زندگی میں فاسق و فاجر ہو سکتےہیں اور پھر اس فاسد اور فرضی بنیاد پر دوسرا روا یہ جماتے ہیں کہ اگر کسی صحابی کو فاسق وفاجر مان لیا جائے تو آخر روایت حدیث کےمعاملے میں مولانا مودودی اس کے اعتماد کو یہ کہہ کر کیسے بحال کر سکتے ہیں کہ کبھی کسی فریق نے کوئی حدیث اپنے مطلب کے لیے اپنی طرف سے گھڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کی،نہ کسی صحیح حدیث کو اس بنا پر جھٹلایا کہ وہ اس کےمفاد کےخلاف پڑتی ہےحالانکہ فاسق و فاجر تو در کنار مولانا مودودی نےاس مقام پر”فستق" یا فجور کا لفظ بھی استعمال نہیں کیا،صرف عدالت کے منافی کام کا لفظ لکھا ہے، بلکہ فاسق ہونے کی تو الٹا یہ کہہ کر تردید کی ہے کہ عدالت کے منافی کام سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی شخص عادل کے بجائےفاسق قرار پائے۔
مولانا نے اس بحث کے آغاز میں عدالت صحابہ کا صحیح مطلب جو بیان کیا ہے، وہ ان کےاپنے الفاظ میں یہ ہے:
"میں الصحابة كلهم عدول ( صحابہ سب راستباز ہیں ) کا مطلب یہ نہیں لیتا کہ تمام صحابہ بےخطا تھے، اور ان میں کا ہر ایک فرد ہر قسم کی بشری کمزوریوں سے پاک تھا اور ان میں سے کسی نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ بلکہ میں اس کا مطلب یہ لیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کرنے یا آپ کی طرف کوئی بات منسوب کرنے میں کسی صحابی نے کبھی راستی سے ہرگز تجاوز نہیں کیا ہے۔“
میں سمجھتا ہوں کہ عدالت صحابہ کی اس سےبہتر اور محکم تر تعریف اور نہیں ہوسکتی۔ہمارےبہت سےنامور علماء و محدثین نے عدالت صحابہ کی یہی تعریف بیان کی ہےجن میں سےچند نمونےمیں پہلےیہاں نقل کرتاہوں۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سےایک مرتبہ سوال کیا گیا کہ مخون کلامیہ میں یہ جو لکھا ہے کہ صحابی پر طعن نہ کرنا چاہیے، تو اس کا مطلب کیا ہے؟ حالانکہ حدیث کی رو سے امیر معاویہ کو ملک عضوض اور باغی وغیرہ کہا جاتا ہے۔ جواب میں شاہ صاحب فرماتے ہیں:
" آنچه در متون عقائد مرقوم است که صحابی را طعن نباید کرد درست است. اما روایت حدیثه تضمن وجہے از وجوه طعن در بعضےصحابہ باشد با کے ندارد۔بالجمله غرض اصحاب متون بایں ادب صحابیت است نه آنکه صحابه کلهم معصوم اند دو جہے از وجود طعن داشتند .... و آنچه در کتب اصولیه مرقوم است که الصحابة كلهم عدول، پس مراد آنست که صحابه کلهم در روایت حدیث از آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مأمون و معتبر اندر۔ هرگز از پیشاں کذب در روایت حدیث نشد - چنانچه بتجر به تحقیق نرسیده که در مقدمات دیگر از اینہا در حضور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بارتکاب کبیرہ محدود گشته- - - - - - -"
(فتاوی عزیز یہ جلد اول صفحہ ۹۹ - ۱۰۱- کتب خانہ رحیمیہ، دیوبند )
اس عبارت کا ترجمہ فتاوی عزیزی مترجم ، سعید اینڈ کمپنی کراچی صفحہ ۲۱۶۔ ۲۱۷ پر یوں درج ہے:
علم عقاید کےمتون میں جو مذکور ہے کہ صحابی کی شان میں طعن نہ کرنا چاہیے تو متون میں جو کچھ لکھا ہے صحیح ہےلیکن کسی حدیث کی روایت جو متضمن ہو کسی وجہ کو جو وطعن سے، خواہ بعض صحابہ کے بارے میں ہو،تو اس روایت سےعقاید کےاس مسئلےمیں کچھ حرج لازم نہیں آتا ہے اور اصحاب متون کی یہ مراد نہیں کہ سب صحابہ معصوم ہیں اور کوئی وجہ وجوہ طعن میں سے کسی صحابی میں نہیں ... اور کتب اصول میں جو مرقوم ہےکہ سب صحابہ عادل ہیں، تو اس سےمراد یہ ہےکہ سب صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے میں معتبر ہیں، ہرگز صحابہ سےکذب روایات حدیث میں نہیں ہوا چنانچہ تجربہ تحقیق سےثابت نہ ہوا کہ کسی بارہ میں کسی صحابی نے کچھ دروغ کہا ہے،نہ یہ کہ ان میں سے کسی سے کچھ گناہ کسی نہ ہوا ہو ۔ چنانچہ عنقریب بیان ہوا کہ ان لوگوں میں سے بعض حضور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بسبب ارتکاب بعض کبائر کے محدود ہوئے۔“
اسی فتاوی عزیزی مترجم صفحہ ۳۲۹ سے ایک اور جواب بھی قابل ملاحظہ ہے:
"اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ الصحابة كلهم عدول یعنی صحابہ شب عادل ہیں۔اس عقیدے کے بارے میں بارہا حضرت ولی نعمت اللہ مرحوم (شاہ ولی اللہ والد ماجد شاہ عبد العزیز صاحب) قدس الله سرہ کے حضور میں بحث اور تنقیش واقع ہوئی تھی۔ آخر میں یہی متح ہوا کہ اس جگہ عدالت کےمتعارف معنے مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ حدیث کی روایت میں یہ ثابت ہے کہ صحابہ سب عادل ہیں اور کسی دوسرے امر میں قطعی طور پر عادل ہو نا مراد نہیں۔ حدیث کی روایت میں جس عدالت کا اعتبار ہے، اس سے مراد ہے پر ہیز کرنا روایت میں قصد اوروغ کہنےسےاور پرہیز کرنا اس بات سےکہ اس سےروایت میں انحراف ہونےکا خوف ہو ۔ہم نے سب صحابہ کی سیرت کی تحقیق کی،یہاں تک کہ ان صحابہ کی جو کہ فتنہ اور با ہمی مخالفت میں مبتلا ہوئے تھے، ان کی سیرت کی بھی تحقیق کی تو میں نے سب صحابہ کو ایسا پایا کہ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ جو بات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ فرمائی ہو،اس بات کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی جائے،یہ سخت گناہ ہے۔اور ایسی بات کہنا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےنہ فرمائی ہو اور جو حقیقت نہ ہو، اس بات سے صحابہ نہایت پر ہیز کرتے تھے۔
چنانچہ یہ امر اہل سیئر پر ظاہر ہے۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ اس عقیدے کا کچھ نشان سابق کی کتب عقاید میں نہیں اور نہ سابق کی کتب کلام میں ہے۔ یعنی یہ امر متقدمین علماء کےنزدیک مسلم تھا۔اس وجہ سے اس میں کچھ بحث کی نوبت نہ آئی اور اسی وجہ سے سابق کی کتابوں میں اس کا تذکرہ نہیں۔ صرف متاخرین محققین نے اس کا ذکر اصول حدیث میں کیا ہے، وہاں جہاں رواۃ کےطبقات کی تعدیل بیان کی ہے۔ پھر علماء نے یہ عقیدہ ان کتابوں سےعقائد کی کتابوں میں نقل کیا۔اور یہ ان لوگوں نےنقل کیا ہےکہ جن لوگوں نےبلا غور و تعمق حدیث اور کلام میں خلط کیا ہےاس میں شبہ نہیں کہ عدالت جس سےعلماء اصول کی غرض متعلق ہےوہ عدالت مراد ہےکہ جس کا اعتبار روایت میں ہےاور اس کےمعنی یہ ہیں کہ پر ہیز کیا جائے روایت میں قصدا دروغ کہنے سےاور پرهیز کیا جائےاس امر سےکہ جس سے نقل میں انحراف ہونے کا خوف ہو ۔دوسرے اور معنی نہیں تو اس صورت میں اس کلیہ میں مطلقاً اشکال نہیں، واللہ اعلم ۔“
امام ابن تیمیہ منہاج السنہ جلد اول، صفحه ۲۲۹ (مطبعة الامیر یہ مصر ۱۳۲۱) پر فرماتے ہیں ۔
"الصحابة ثقاة صادقون فيما يخبرون به عن النبي صلى الله عليه وسلّم وأصحاب النبي صلى الله تعالى عليه وسلّم ولله الحمد من أصدق الناس حديثا عنه لا يعرف منهم من تعمّد عليه كذبًا مع انه كان يقع من أحدهم من الهنات ما يقع ولهم ذنوب وليسوا معصومين ومع هذا فقد جرب أصحاب النقر والامتحان أحاديثهم واعتبروها بما يعتبر الأحاديث فلم يوجد عن أحد منهم تعمد كذبة.
"صحابہ کرام سب ثقہ راوی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےجو کچھ روایت کرتےہیں،اس میں وہ بچے ہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےاصحاب الحمدلله نبی کریم سےحدیث بیان کرنےمیں سب لوگوں سےزیادہ صادق ہیں۔ان میں کوئی بھی ایسا نہیں معلوم ہو سکا جس نے آنحضور پر عمدا جھوٹ بولا ہو حالانکہ انہی صحابہ کرام میں سےبعض سےکمزوریاں صادر ہوئیں جیسا کہ واقعہ ہےاور ان سے گناہ بھی سرزد ہوئے اور وہ معصوم نہ تھے۔ اس کے باوجود نقد و جرح کرنے والے محدثین نے صحابہ کرام کی احادیث کو چھان پھٹک کر دیکھا اور جس طرح احادیث کی جانچ اور موازنہ کیا جاتا ہے، اس طرح پر کچھ کر دیکھا،لیکن کوئی ایک صحابی بھی ایسےنہ پائے گئے جنہوں نے عمدا کذب بیانی کی ہو۔“
اس کے بعد ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ "امیر معاویہؓ " منبر مدینہ پر جو حدیث بیان فرماتے تھے،اس کی بھی جانچ پڑتال کی جاتی تھی اور یہی کہا جاتا تھا کہ حدیث کےمعاملے میں انہیں متہم نہیں سمجھا جاسکتا۔ اور بُسر بن ارطاۃ کی سیرت کے بارے میں جو کچھ مشہور و معروف (مع ما عرف منہ ) ہے،اس کےباوجود ان سےدور روایات ابو داؤد میں موجود ہیں، کیونکہ جملہ صحابہ کرام کا صدق علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مسلم امر ہے۔“
أستاذ عبدالوہاب (کلیۃ الشریعه الازهر)نے "تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی" پر جو حواشی تحریر کیے ہیں، ان میں وہ الصحابة كلهم عدول کے معانی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اس کے بعد محدث ابن الانباری و دیگر علماء کے اقوال کے ساتھ شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا قول بھی نقل کرتے ہیں، لکھتے ہیں:
(تدريب الراوي، المكتبة العلمية بالمدينة المنورة ص ۴۰۲ طبع ۱۳۷۹)
مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی فاضل دیو بند اپنی کتاب فہم قرآن ( صفحه ۱۳۴، مطبوعہ ۱۳۵۹ھ ) پر عدالت سے مراد کے زیر عنوان فرماتے ہیں:
"یہاں اس امر کی تصریح کردینی ضروری ہے کہ صحابہ کی عدالت سے مراد کیا ہے؟ اصل یہ ہے کہ اصول حدیث کی اصطلاح میں عدالت کے معنی جھوٹ نہ بولنا ہیں۔ پس ہم صحابہ کو جو عادل کہتے ہیں تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ وہ بےگناہ اور معصوم ہیں،بلکہ مقصد صرف یه ہوتا ہےکہ ان میں کسی کی طرف کذب کا انتساب نہیں کیا جا سکتا، یعنی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کسی صحابی نے عمد او قصدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کی ہےجو آپ نےنہیں فرمائی۔اسکا دعوی کسی محدث نےنہیں کیا کہ صحابہ انبیاء کی طرح معصوم ہیں اور ان سے احتیاط و تقویٰ کے خلاف کوئی فعل صادر نہیں ہوسکتا۔چنانچہ علامہ ابن الانباری کا قول ہے:
ليس المراد بعد التهم ثبوت العصمة لهم واستحالة المعصية منهم وإنما المراد قبول رواياتهم من غير تكلف البحث عن أسباب العدالة وطلب التزكية إلا ان يثبت ارتكاب قادح ولم يثبت ذلك ._١
"تہمتوں کے بعد سے یہ مراد نہیں کہ صحابہ بالکل معصوم ہیں اور ان سے معصیتوں کا صد در ہونا محال ہے، بلکہ مراد صرف یہ ہے کہ اسباب عدالت اور تزکیہ کی طلب سے متعلق بحث کے بغیر ان کی روایتیں قبول کی جائیں گی ۔ مگر ہاں اس صورت میں جب کہ کسی امر قادح کے ارتکاب کا ثبوت بہم پہنچ جائے اور یہ ثابت نہیں ہے ۔“
محدث ابن النباری_٢ کا یہ قول نواب سید محمد صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب منہج الوصول الی اصطلاح احادیث الرسول صفحہ پر بھی عدالت صحابہ کی بحث میں ان الفاظ میں نقل فرمایا ہے-
"وابن الانباری گفته مراد بعد الت ایشاں ثبوت عصمت برائے ایشاں و استحاله معصیت برایشان نیست بلکه مراد قبول روایات ایشان است بغیر تکلف بحث از اسباب عدالت و طلب تزکیه مگر آنکه ارتکاب قادمی ثابت شود حال آنکه این ارتکاب ثابت نشده -"
"مولانا ابوالحسنات عبدالحی لکھنوئی کے مجموعہ فتاوی حصہ سوم ص ۱۲( مطبوعه ۱۳۰۹ھ مطبع شوکت سلام لکھنو ) پر عدالت صحابہ سے متعلق ایک سوال و جواب یوں درج ہے:
١- بحوالہ ارشاد النحول للشوکانی۔
٢- محمد بن بشار المعروف ابوبکر بن الانباری (متونی (۳۲۸) کا شمار نامور حفاظ الحدیث میں ہوتا ہےآپ تصانیف کثیرہ کے مالک ہیں۔
جواب: این عقیده نه در کتب قدیمه عقائد است،نه در کتب علم کلام بلکه این فقره را محدثین در اصول حدیث بمقام بیان تعدیل طبقات رواة می آرند و کسیکه این را در عقائد درج کرده است، از همانجا آورده باشد دمراد از عدالت پرهیز کردن از قصد کذب در روایت است و فی الحقیقت تمام صحابه متصف بعد الت کذائی بودند و کذب علی النبی راشد گناه می پنداشتند "
ترجمہ: یہ عقیدہ نہ تو عقائد کی کسی قدیم کتاب میں ہےاور نہ علم کلام کی کتابوں میں مذکور ہے۔البتہ محدثین یہ بات اصول حدیث میں راویوں کی تحقیق و تعدیل کی بحث میں بیان کرتے ہیں۔جس کسی نےاسےعقائد میں درج کیا،اسی جگہ سےلیا ہوگا۔اور عدالت کےمعنی ہیں روایت کےاندر کذب کےارادے سےپرهیز کرنا اور در حقیقت تمام صحابہ اس عدالت کے ساتھ متصف تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرنے کو بڑا گناہ سمجھتے تھے۔
( یہ جواب فتاوی مولا نا عبد الحی مترجم ص ۸۳ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے)
الصحابة كلهم عدول کا صحیح مطلب ان سارے اقتباسات سے واضح ہو جاتا ہے اور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ اصول محمد ثین نے نقد و جرح کے بعد وضع کیا ہے۔ اس سلسلے میں مزید یہ امر بھی قابل وضاحت ہے کہ خلفائے راشدین اور بہت سے صحابہ کرام کا اپنا معمول یہ تھا کہ وہ صحابی کی روایت قبول کرنے سے پہلے اس بھی مزید شہادت یا حلف کا مطالبہ کرتے تھے۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دور میں الصحابة كلهم عدوں کے اصول نے اجماعی کلیہ و مسلمہ کی حیثیت اختیار نہ کی تھی ۔۔
بہر کیف اہل سنت کے علماء ومحدثین کے ہاں یہ دو باتیں نہایت واضح اور مسلم ہیں۔ ایک یہ کہ صحابہ کرام سے صدور کبائر و معاصی ممکن ہے اور وا قع ہوا ہے۔ دوسری یہ کہ عدالت صحابہ کا اصول روایت حدیث سے متعلق ہے اور اس سے مراد و مفہوم یہ ہے کہ کوئی صحابی اراد تا عمدا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے کوئی غلط بات منسوب نہیں کر سکتا۔ ان دونوں باتوں کے مابین عقلی اور واقعاتی اعتبار سے قطعا کوئی منافات یا تناقض نہیں ہے۔ اس کے بعد بھی جو شخص یہ کہتا ہے کہ خلافت و ملوکیت میں امیر معاویہ یا کسی دوسرےصحابی رسول کی طرف فلاں اور فلاں گناہ منسوب کر دینےسےصحابہ کرام کی عدالت مجروح ہوتی ہے یا اس سے عقیدہ وایمان خراب ہوتا ہے، اس شخص کے غلط قول کی زد میں صرف ” خلافت و ملوکیت یا کتب تواریخ ہی نہیں آتیں، بلکہ اس کی زد نصوص کتاب وسنت اور حدیث ،تفسیر، فقہ، عقائد ، اصول اور کلام کی بے شمار کتابوں اور ان یہ جلیل القدر در مصنفین پر بھی لازماً پڑتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں میں وہی باتیں ، بلکہ دوسری شدید تر باتیں درج ہیں، جن کے بہت سے نمونے میں اب تک نقل کر چکا ہوں، اور آئندہ بھی مجھے کرنے پڑیں گے۔
مدیر البلاغ نے ایک سراسر غلط اور بے دلیل موقف پر اصرار کرتے ہوئے پہلے تو خلافت و ملوکیت سے گیارہ افعال کی ایک با قاعدہ ترتیب وار فہرست مرتب کی ہے اور ہر فعل کو اپنےالفاظ سےنمک مرچ لگا کر خوب ہولناک بنایا ہے اور پھر وہ پوچھتےہیں کہ ان جرائم کو ایک دو یا چند گناہ کر گزرنے سےتعبیر کرنا کیا اسی لیپ پوت کی تعریف میں نہیں آتا جس سےمولانا مودودی بچنا چاہتے ہیں۔میں مولانا محمد تقی صاحب عثمانی سےکہتا ہوں کہ آپ کے پاس جو خلافت و ملوکیت کا نسخہ ہے، آپ چاہیں تو اس میں ایک دو یا چنڈ کے بجائے گیارہ یا اس سے اوپر کا کوئی عدد درج کر لیں،فقرہ اپنی جگہ پر پھر بھی صحیح اور بے غبار رہےگا۔البتہ اس بات کا بڑا دکھ اور ملال ہے کہ مولانا نےجو باتیں مجمل اور محتاط طریق پر چند سطروں میں بیان کی تھیں، مدیر البلاغ نے ان پر بحث کر کے مجھےمجبور کر دیا کہ ان میں ایک ایک کو کھول کھول کر بیان کروں اور اس کا ثبوت بھی پیش کر دوں۔
مدیر البلاغ نے اس استدلال کو بھی بار بار دہرایا ہے کہ ایک صحابی اگر اپنےذاتی مفاد کےلیےایسے اور ایسےگناہ کے کام کر سکتا ہےتو وہ اپنے مفاد کے لیے جھوٹی حدیث کیوں نہیں گھڑ سکتا؟ مجھے تو دینی مدارس میں منطق و معقول پڑھنےکا شرف حاصل نہیں ہو سکا لیکن جن لوگوں نےان مدرسوں سےسند فراغ حاصل کی ہےانہیں اتنی بات تو سمجھ لینی چاہیے کہ ایک گناہ خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ، اس سے دوسرے گناہ کا صدور لازم نہیں آتا،بلکہ اس کا صرف اشتباہ یا امکان پیدا ہوتا ہے۔مثال کےطور پر ایک شخص اگر شرب خمر کا مرتکب ہو، تو یہ لازم نہیں آتا کہ وہ جھوٹی حدیث بھی بیان کرے گا،البتہ ایک گمان یا شبه پیدا ہو سکتا ہےاب چونکہ دوسرے مجروح راویوں کے متعلق اس ظن یا امکان کو دفع کرنے والی کوئی یقینی شے نہیں، اس لیے ان کی روایت قابل قبول نہ ہوگی ۔ لیکن صحابہ کرام کےبارے میں جب محدثین نے باقاعدہ استقصاء واستقراء کے بعد یہ معلوم کر لیا کہ وہ زندگی کےدوسرے معاملات میں خواہ کوئی گناہ کر بیٹھیں، حتی کہ وہ کسی دوسرے پر جھوٹی تہمت (قذف) ہی کے مرتکب کیوں نہ ہوں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی غلط بات کا انتساب ہرگز ہرگز نہیں کریں گے، تو پھر عثمانی صاحب آخر محض عقلی تیر تکے لڑا کر یہ استدلال کس بل بوتے پر کر ز ہےہیں کہ جس صحابی سےدس یا میں گناہ سرزد ہو سکتےہیں،وہ کذب فی الحدیث کیوں نہیں کر سکتا ؟ صحابی سے کبائر تک کے صدور سے انکار تو کسی کو ہے نہیں، تو کیا اب انکار حدیث کے لیے آپ ایک نیا نکتہ اور دلیل فراہم کر رہے ہیں اور منکرین حدیث کے ہاتھ میں ایک نیا ہتھیار دینا چاہتے ہیں؟
اب تک کی بحث سےالحمداللہ یه حقیقت نکھر کر سامنےآگئی کہ صحابہ کرام سےخواہ کیسی اور کتنی ہی خطاؤں کا صدور ہو، ان سے کذب علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتکاب قطعاً محال ہے۔ اس کےبعد البتہ یہ سوال اور یہ اشکال ذہن میں پیدا ہو سکتا ہےکہ جب بڑےسےبڑےکبائز صحابہ کرام سےصادر ہو سکتےہیں اورہوئے ہیں تو کیا وجہ ہےکہ کسی ایک صحابی سےجھوٹی حدیث بیان کرنےکی غلطی سرزد نہیں ہوئی؟عثمانی صاحب اور ان جیسےدوسرےحضرات کےطرز بحث سے میں نےمحسوس کیا ہےکہ یہ وسوسہ بعض ایسے لوگوں کےدلوں میں پیدا ہو گیا ہے جو ویسےصحابہ کرام کی عدالت في الروایت اور ان کی عدم عصمت دونوں کےقائل ہیں، اس لیےمیں مختصر مسئلےکےاس پہلو پر بھی محض اطمینان قلب کےحصول کی خاطر روشنی ڈالےدیتا ہوں۔
یہ بات بالکل ظاہر و باہر ہے کہ صحابہ کرام انبیاء علیہم السلام کے بعد افضل الخلائق تھے مگر بشری خصائص سے پاک نہ تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثالی تربیت و تعلیم کے باوجود صحابہ کرام سے غلطیاں ہو جاتی تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کی مشیت و حکمت اس امر کی مقتضی تھی اور آنحضور کی بھی زبر دست خواہش و تمنا تھی کہ کم از کم ایک غلطی ایسی ہے جو صحابہ کرام کی سیرتوں میں سے کلی طور پر معدوم ہو جانی چاہیے اور وہ یہی ہے کہ کوئی صحابی خدانخواستہ کوئی غلط بات اللہ کے رسول کی طرف منسوب نہ کرنے پائے۔ دوسری غلطیوں کے اثرات تو ایک ذات یا چند افراد تک محدود ہو سکتے ہیں،مگر صحابہ کرام کی حدیث میں غلط بیانی سے تو پورا دین مشتبہ ہو جائے گا۔اس خدشےکےسد باب کی جتنی فکر آنحضرت کو تھی اور اس کے سد باب کا جتنا اہتمام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میرےخیال میں آپ نے تردید شرک کے ماسواء کسی اور معاملے میں نہیں فرمایا۔ آپ نے بار بار صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا:
١- بخاری ، ابواب العلم اور دوسرے بےشمار مقامات پر یہ حدیث وارد ہے۔
تقریباً دوسو سے زاید صحابہ کرام ہیں جنہوں نے اس ارشاد مبارک کو روایت کیا ہے، حتی کہ محدثین کا بیان ہے کہ جس حد تواتر تک یہ حدیث پہنچی ہے، کوئی دوسری حدیث نہیں پہنچی۔ اکثر صحابہ کرام نبی کریم کا کوئی ارشاد نقل کرتے وقت پہلے یہ حدیث سناتے تھے اور ان کا حال یہ ہوتا تھا کہ چہرہ متغیر ہو جاتا تھا اور بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ بہت سے صحابہؓ اس ڈر کے مارے کہ کہیں کوئی غلط بات منہ سے نہ نکل جائے زیادہ احادیث بیان نہیں کرتے تھے۔ محدثین کا بھی یہی حال تھا کہ وہ اس حدیث کو کثرت سے بیان کرتے تھے اور کئی ایک نے مجموعہ ہائے احادیث کا آغاز اسی حدیث سے کیا ہے۔ پھر پوری طرح چوکنا ہو کر حدیث بیان کر لینے کے بعد کہتے تھے۔
تا که نادانستہ آگ کی وعید کا مصداق نہ بن جائیں۔
پھر اس مضمون کی یہ ایک ہی حدیث نہیں ہے، بلکہ متعدد دیگر احادیث اس طرح کی وارد ہیں۔ مثلاً بخاری، کتاب الجنائز اور دوسری کتابوں میں حضرت مغیرہ بن شعبہ وغیرہ سے روایت ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بخاری، کتاب العلم میں حضرت علیؓ سے ایک روایت ہے کہ آنحضور نے فرمایا:
اسی طرح بخاری، مناقب قریش میں حضرت وائلہ سے مروی ہےکہ آنحضور سے نقل کرتےہوئے انہوں نے بیان کیا:
حضرت ابو موسی سے ایک روایت ہے کہ:
اسی مفہوم کی بہت سی دوسری احادیث ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، مسند احمد اور تقریباً ہر دوسری حدیث کی کتاب میں موجود ہیں۔ ان شدید ترین تنبیهات و وعیدات کا نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ کرام کے اندر سے کذب علی النبی کا جذبہ اس طرح سے محو ہو گیا کہ کوئی ایک صحابی بھی ایسے کبھی نہ پائے گے جو اس فعل کا ارتکاب کریں۔حضرت علی اور دوسرےبعض صحابہ سےبخاری اور دوسری کتابوں میں اسطرح کا قول منقول ہے کہ ہمارا آسمان پر سے چھلانگ لگا دینا اس سے بعید تر ہےکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب جھوٹ منسوب کریں۔
حضرت علیؓ کا قول جو بخاری میں مروی ہے اور اسے الکفایه صفحہ۰۲ ا پر بھی نقل کیا گیا ہے وہ یہ ہے:
اس کتاب کے صفحہ ۱۷۸ پر حضرت وکیع نے حضرت اعمش کا ایک قول صحابہ کرام کے متعلق روایت کیا ہے:
صحابہ کرام سے بتقاضائے بشریت بڑے بڑے گناہ واقع ہوئے اور صحابہ کرام کے بعد بعض روایوں سے کذب فی الحدیث بھی رونما ہوا،مگر میں تو اس بات کو اللہ اور اس کےرسول کا ایک عظیم الشان معجزہ اور صحابہ کرام کی سب سے بڑی کرامت سمجھتا ہوں اور اس میں حضرت معاویہ اور ہر دوسرے صحابی کو برابر کا شریک و سہیم سمجھتا ہوں کہ اگرچہ ان کےاندر سےصلاحیت کذب جبلی طور پر سلب تو نہ ہوئی ،ان کےاندر سےدوسرے ذنوب بھی معدوم نہ ہوئے مگر آنحضور پر جھوٹ بولنا بالکل معدوم اور قطعی طور پر ملیا میٹ ہو گیا۔میں کہتا ہوں کہ بحثا بحثی کےبجائےآئیےہم سب ملکر اس نعمت عظیمیه کا شکر بجالائیں اوراس مغالطه آمیز اورخطرناک استدلال سے خدا کی پناہ طلب کریں کہ جب ایک صحابی سے اور ہر گناہ کا صدور ہو سکتا ہے تو وہ ایک جھوٹی حدیث کیوں نہیں گھڑ سکتا؟
گزشتہ بحث میں عدالت صحابہ کا صحیح اور حقیقی مطلب و مفہوم بڑی حد تک واضح کیا جا چکا ہےاور یہ بھی ثابت کیا جا چکا ہےکہ الصحابة كلهم عدول محدثین کا ایک خاص اصطلاحی مقولہ ہےجس سےمراد یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام حدیث نبوی روایت کرنےمیں راست باز اورصادق القول ہیں اوران سےکبھی کذب فی الحدیث کا صدور نہیں ہوا۔ اب عدالت صحابہ کا یہ اصول کوئی اسےعقیدہ کہنا چاہےتو کہہ لےاس وقت تک مجروح نہیں ہوسکتا جب تک کوئی شخص اس بات کا قائل نہ ہو کہ صحابہ کرام (معاذ اللہ ) غلط یا جھوٹی بات بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سےمنسوب کر دیتے تھےیا یہ نہ کہےکہ ان سے چونکہ گناہ یا خطا کا صدور ہوسکتا تھا اور ہوا ہےاس لیےان کے بارے میں یہ شبہ کیا جاسکتا ہے کہ شاید وہ جھوٹی حدیث بھی بیان کرتےہوں اور اس بنا پر صحابہ کرام یا کسی خاص صحابی کی عدالت اور انکی بیان کردہ روایت کے صدق و کذب کی بھی اسی طرح چھان بین ہونی چاہیےجس طرح دوسرے راویوں کےبارے میں کی جاتی ہے_١ مولانا مودودی ان میں سےکسی بات کےقائل نہیں ہیں،بلکہ ہر صحابی رسول کو بلا استثناء عادل فی روایة الحدیث مانتےہیں۔حضرت معاویہ،حضرت مغیرہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کی روایت کردہ احادیث کو انہوں نے اپنی کتابوں میں درج کر کے ان سے استدلال و استنباط کیا ہے۔ اس کے بعد آخر کس قاعدے کی بنا پر یہ اتہام جائز ہو سکتا ہے کہ خلافت و ملوکیت میں بیان کردہ واقعات سےعدالت صحابہ مجروح ہوتی ہے۔؟
١- جن لوگوں نےاصول حدیث و اصول فقہ کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے وہ اس حقیقت سےبےخبر نہیں رہ سکتے کہ ان کتابوں میں جہاں کہیں الصحابة كلهم عدول کا کلیہ زیر بحث آیا ہے، وہاں یہ بات بھی بیان کر دی گئی ہے کہ معتزلہ وغیرہ اس بات کےقائل تھے کہ جس طرح دوسرے رواۃ حدیث کی عدالت کا معاملہ تحقیق و تفتیش طلب ہے اسی طرح صحابہ کرام کا بھی ہے، بالخصوص جن صحابہ نے دور فتن اور اختلاف با ہمی کازمانہ پایا اور ان میں ایک فریق بن کر حصہ لیا ، ان کی عدالت تحقیق طلب ہے۔ مگر اہل سنت نے اس قول کو رد کر دیا اور اب اس کے مردود ہونے پر اجماع ہے۔
مدیر "البلاغ" نےمن مانےطریق پر عدالت صحابہ کی اقسام بناتے ہوئےلکھا ہےکہ عقلی طور پر عدالت صحابہ کے تین مفہوم ہو سکتے ہیں۔ تیسری قسم جسے انہوں نے بزعم خویش اہل سنت کا مسلک قرار دیا ہے، وہ ان کے الفاظ میں یہ ہے کہ صحابہ کرام نہ تو معصوم تھے اور نہ فاسق ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کسی سے بعض مرتبہ بنتقائے بشریت دو ایک یا چند غلطیاں سرزد ہو گئی ہوں لیکن تنبہ کے بعد انہوں نے توبہ کر لی اور اللہ نے انہیں معاف فرما دیا۔ اس لیےوہ ان غلطیوں کی بنا پر فاسق نہیں ہوئے۔چنانچہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی صحابی نے گناہوں کو اپنی پالیسی بنالیا ہو جس کی وجہ سے اسے فاسق قرار دیا جا سکے۔“
مولانا مودودی نےیا میں نےعدالت صحابہ کا جو مفہوم بیان کیا ہےاس کی تائید میں علماء و محدثین اہل سنت کےمتعدد اقوال درج کیےجاچکےہیں اور مزید کیےجاسکتےہیں لیکن مولانا عثمانی صاحب نےاپنی وضع کردہ تعریف کے حق میں ایک حوالہ بھی نقل نہیں فرمایا۔تا ہم مولانا مودودی کی کوئی تحریر عدالت کی اس تعریف سے بھی متصادم نہیں ہے۔ عثمانی صاحب اولا فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نہ معصوم تھےنہ فاسق ۔ میں پوچھتا ہوں کہ مولانا مودودی نےکس مقام پر کسی صحابی کو فاسق لکھا ہے؟ کیا ان کےصحابہ کو فقط غیر معصوم که دینےیا ان کی کسی غلطی کو بیان کر دینےسےآپ یہ الزام ان پر جڑ دینا چاہتے ہیں؟ اگر اس طرح کے صغرے کبرے ملا کر الزامات برآمد ہو سکتے ہیں تو جولوگ پاک دامن خواتین پر جھوٹی تهمت لگاتے ہیں، ان کے متعلق سورہ نورآیت ہم میں فرمایا گیا ہےکہ اولئک هم الفاسقون پھر کہ دیجیے کہ حضرت حسان بن ثابت ، حضرت مسطح، حمنہ بنت جحش (جو ام المومنین حضرت زینب کی بہن ہیں ) یہ سب سزا پانےاور تو بہ کرنےکےبعد بھی فاسق ہیں بلکہ یہی وہ لوگ ہیں جو فاسق ہیں! یہ آخر کیا طرز استدلال ہے؟مولانا مودودی نےتو فسق یا فاسق کے طرز الفاظ امیر معاویہ کےحق میں استعمال نہیں کیےلیکن آپ چاہیں تو میں اہل سنت کےچوٹی کےعلماء کی نشان دہی کر سکتا ہوں جنہوں نےیہ الفاظ بھی کہےہیں۔فسق یا بدعت کےالفاظ گائی اور سب و شتم کےالفاظ ہرگز نہیں ہیں۔میں شاہ عبد العزیز کا قول پہلےنقل کر چکا ہوں جس میں انہوں نےامیر معاویہ ہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
اب ایک دوسرا قول لیجئے۔کتاب المواقف قاضی عضد الدین کی تصنیف ہے جس کا موضوع کلام اور عقائد اہل سنت کا اثبات ہے۔ اس کی ایک ضخیم شرح علامہ سید شریف علی بن محمد الجرجانی (ف۸۱۶) نے سپرد قلم کی ہے جو شرح المواقف کے نام سے مشہور ہے۔اس کے اواخر میں ایک باب الموقف السادس فی السمعیات کے نام سے موسوم ہے۔ اس بات میں وجوب نصب الامام کے زیر عنوان تعظیم صحابہ کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے جو کچھ علامہ جرجانی نے فرمایا ہے، اس کی پوری عربی عبارت اور پھر اس کا ترجمہ دینا تو موجب طوالت ہے، اس لیے میں شروع کے حصے کا ترجمہ دوں گا اور آخری حصہ میں عربی مع ترجمہ درج کروں گا۔ پہلے وہ فرماتے ہیں:
" تمام صحابہ کی تعظیم اور ان کی قدح نہ کرنا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عظمت و ثناء بیان فرمائی ہے اور بہت سی احادیث میں بھی ان کی تعریف بیان ہوئی ہے پھر جو شخص ان کی سیرتوں پر غور کرتا ہے اور ان کے کارنامے ، دینی جدو جہد اور اللہ و رسول کے لیے ان کی مالی اور جانی قربانیوں سے واقف ہوتا ہے تو اس شخص کےدل میں ان کی عظمت شان کےبارے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ باطل پرست صحابہ کرام سے جو مطاعن منسوب کرتے ہیں، ان سےوہ بری ہیں اور وہ ان پر طعن کرنے سے رک جاتا ہے کیونکہ یہ منافی ایمان ہے۔ ہم اس قسم کےمطاعن سے اپنی کتاب کو آلودہ نہیں کرنا چاہتے اور بڑی کتابوں میں باتیں پوری طرح مذکور ہیں۔اگر تم چاہو تو آگاہی حاصل کرنے کے لیے ان کا مطالعہ کر سکتے ہو۔ جہاں تک صحابہ کرام کے مابین واقع شده فتن و حروب کا تعلق ہے تو معتزلہ میں سے بعض نے تو ان کے وقوع ہی کا انکار کر دیا ہےمگر بلا شک و شبہ یہ انکار مکابرہ ہے اور جن لوگوں نےان فتنوں اور لڑائیوں کا اعتراف کیا ہےان میں سے بعض نے فریقین کی تغلیط و تصویب کے معاملے میں سکوت اختیار کیا ہے اور یہ اہل سنت کا ایک گروہ ہے۔“
اس کے بعد فرماتے ہیں:
والذي عليه الجمهور من الأمة هو ان المخطئ قتلة عثمان ومحاربو على لانهما إمامان فير حرم القتل والمخالفة قطعاً الا ان بعضهم كا القاضی ابی بکر ذهب ان هذه التخطئة لا تبلغ إلى حد التفسيق ومنهم من ذهب الى التفسيق كا الشيعة وكثير من أصحابنا.
"جمہور امت یعنی امت کی غالب اکثریت جس مسلک پر ہےوہ یہ ہےکہ صرف عثمان کےقاتلین اور حضرت علی سے جنگ کرنے والے خطار کار تھےکیونکہ یہ دونوں خلفاء امام وقت تھے اور ان کا قتل اور ان کی مخالفت قطعیه حرام تھی،البتہ امت کے بعض علماء مثلاً قاضی ابوبکر باقلانی کا موقف یہ ہے کہ خطا کار ٹھہرانا تفسیق کی حد تک نہیں پہنچتا۔اور ان میں ایسےبھی ہیں جو محار بین علی کی تفسیق کےقائل ہیں،مثلاً شیعہ اور ہمارے علمائے سنت کی کثیر تعداد- “
(شرح المواقف، جزء ثامن، صفحہ ۳۷۴۳۷۳۔ الطبعة الأولى، مطبعة السعادة مصر)
۱۳۲۵ء
اب شرح المواقف کی اس بحث میں چند امور نہایت واضح ہیں۔ اس میں کتاب و سنت سےصحابہ کرام کے فضائل ومحامد بیان کرتے ہوئے جمل صحابہ کرام کی تعظیم و تکریم کو واجب قرار دیا گیا ہے اور ان کی توہین وتنقیص سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے،لیکن اس کےساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا ہےکہ ہمارے اہل علم اصحاب کی بڑی تعداد نے حضرت علی سے لڑنے والوں کی تفسیق بھی کی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ تفسیق اس طعن اور قدح کی تعریف میں نہیں آتی جس سے ہمیں روکا گیا ہےاور نہ یہ اس تعظیم صحابہ کے منافی ہے جس کے ہم مامور ہیں اور جس کے وجوب کا ذکر شروع میں کیا گیا ہے۔اس بحث سے مزید یہ بھی معلوم ہو گیا کہ بلاشبہ اہل سنت کے ایک گروہ نے ان مقاتلات و محاربات کےمعاملےمیں خاموش رہنےکو ترجیح دی ہےلیکن جمہور امت کے نزدیک حضرت علیؓ کےخلاف تلوار اٹھانے والےخاطی تھےاور یہ خطا کثیر من اصحابنا کےنزدیک حد تفسیق تک جا پہنچی تھی لیکن بعض کے نزدیک اس حد تک نہیں پہنچی تھی۔
مجھےاس بات کو تسلیم کرنے میں ہرگز تامل نہیں ہے کہ بہت سےعلماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ صحابہ کرام سب کے سب مجتہد تھے،اس لیےجن صحابہ نےخطا کی ہےان کی خطا بھی اجتہادی خطا ہے جس پر وہ دہرے نہیں تو ایک اجر کے مستحق ہیں۔لیکن اس کےجواب میں میری مودبانه گزارش ہےکہ الصحابة كلهم مجتهدون بھی کتاب وسنت کی کوئی نص نہیں ہے بلکہ علماء ہی کا بیان کردہ قول ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سب صحابی اجتہاد کے یکساں درجے پر فائز نہیں تھے۔امیر معاویہؓ کے متعلق شاہ عبدالعزیز صاحب فرماتے ہیں:
" پس ہر کہ اجتہاد ایشان را نفی کند درست است زیرا که در حضور آنحضرت صلی الله علیه وسلم ایشاں رآں مرتبہ حاصل نبود ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم در هیچ مسئله بر صحت اجتهاد حکم نفرموده اند تا اجتهاد ایشان معتبر و مفتی به تواند شد و هر که ایشان را مجتهد گفت نیز درست گفت زیر که در اخیر عمر بسبب سماع احادیث کثیره از صحابه دیگر بعض مسائل فقه دخل می کردند، ہمیں است معنی قول ابن عباس که انه فقیہ-
(فتاوی عزیزی جلد اول ص ۱۰۱ کتب خانہ رحیمیہ دیوبند )
(جن صحابہ کرام کو مرتبہ اجتہاد کا حضور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےحاصل نہ ہوا تھا،ایسے صحابہ کرام کےاجتہاد کی نفی کرنا درست ہےاس واسطےکہ ایسےصحابہ کرام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےحضور میں مرتبہ اجتہاد کا حاصل نہ ہوا تھا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ کے کسی مسئلہ اجتہادیہ کی تصدیق نہیں فرمائی ہے تا کہ اجتہاد ان کا معتبر اور مفتی بہ ہو سکے۔ اور جس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو مجتہد کہا تو اس نے بھی درست کہا،اس واسطے کہ حضرت معاویہؓ نے اخیر عمر میں احادیث کثیرہ دیگر صحابہ کبار سے سنیں اور اس وجہ سے بعض مسائل فقہ میں دخل دیتےتھےاور یہی مراد ہے حضرت ابن عباس کی اس قول سے کہ انہ فقیہ ( وہ فقیہ ہیں)۔
(فتاوی عزیزی مترجم سعید اینڈ کمپنی کراچی ص ۲۱۸، ۱۳۸۷ھ )
تاہم اگر اس اصول کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ صحابہ کرام کہم مجتہد تھے تب بھی ان کے ہر قول و فعل پر اجتہاد کا اطلاق نہیں ہوسکتا،نہ ہر خطا پر اجتہادی خطا کا حکم لگایا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ بعض افعال پر ماخوذ و محدود کیوں ہوتے اور ان پر تو بہ وانابت کی نوبت کیوں آتی؟ بلکہ تو بہ کا سوال ہی کیسے پیدا ہوتا؟ آخر جو فعل مبنی بر اجتہاد اور موجب اجر ہے، وہ اس کے ساتھ ہی قابل مواخذہ و تعزیر کیسےہو سکتا ہےاور اس سے تو بہ کی ضرورت کیسے پیش آسکتی ہے؟
پھر یہ بات میں پہلے واضح کر چکا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس اجتہاد کو باعث اجر فرمایاہے، اس کا اصل تعلق حکم حاکم سے ہے جو کسی حکم شرعی کو کسی جزئی مسئلے پر منطبق کرتے ہوئے صدور میں آیا ہو اور معارض نص یا قطعی البطان نہ ہو، ورنہ تو ایک صحابی قرآن مجید کی ایک آیت سے استنباط کرتے ہوئے شراب کو حلال کر بیٹھے تھے جس پر حد جاری کی گئی تھی ۔ اوپر جو شاہ عبدالعزیز صاحب کا قول امیر معاویہ کےاجتہاد کے بارے میں نقل ہوا ، اس کے بعد ذرا آگے شاہ صاحب امیر معاویہؓ کےمتعلق فرماتے ہیں کہ اس وقت آپ کا اجتہاد اس درجہ کا نہ تھا کہ آپ اہل حل و عقد میں شمار ہو سکتےاور علاوہ اس کے خلافت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی محققین کے نزدیک نص سے ثابت ہے۔کون سے امور مجتہد فیہ ہیں اور کس اجتہاد میں غلطی کے باوجوداجر ہے، اسے واضح کرنے کےلیے امام بخاری نے صحیح البخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب و السنه میں دو مستقل باب باند ھے ہیں ایک کا عنوان ہے:
” جب عامل یا حاکم اجتہاد کرے اور اس میں بغیر علم کےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف غلطی کرے، اس کا فیصلہ قابل رڈ ہے کیونکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو ہمارے حکم کےخلاف عمل کرے وہ عمل مردود ہے۔“
اس کے بعد امام بخاری کے دوسرے باب کا عنوان ہے:
بہر کیف یہ بات نہایت واضح ہے کہ ایک صحابی کے ہر قول و فعل پر نہ اجتہاد کا اطلاق ہوسکتا ہے اور نہ ہر غلطی وہ اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے جواز روئے حدیث موجب اجر و ثواب ہے۔
حضرت علیؓ کےبالمقابل حضرت معاویہ نے جو موقف اختیار کیا،اسےحق بجانب ثابت کرنے کےلیےبعض اصحاب ان احادیت کا سہارا لیتےہیں جن میں حضرت علی کو ولی الطائفتین من الحق کہا گیا ہےیا جن میں فاتین قیمتین من المسلمین کا ذکر ہے۔ استدلال یہ ہےکہ جب حضرت علی کو حق سے قریب تر قرار دیا گیا،تو مطلب یہ ہوا کہ حضرت معاویہ کا گروہ بھی محاربت میں حق پر ہی ہوا، گو کہ اقرب الی الحق والصواب نہ ہوا۔ لیکن یہ کوئی قطعی اور مضبوط استدلال نہ ہے۔ ایک فرد یا جماعت کی تعریف و توصیف اگر بصیغۂ افعل التفضیل کی جائے تو اس سے بالمقابل فریق یا متقابل طرز عمل کی توصیف کا پہلولا زما نہیں نکلتا۔ مثال کے طور پر سورہ بقره، آیت ۲۳۲ میں فرمایا کہ جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ عدت پوری کر لیں تو انہیں نکاح ثانی سے نہ روکو، پھر فرمایا کہ
١- شاہ صاحب کا اشارہ الخلافة بعدى ثلثون سنة..... تقتلك فنة باغية.... وغيره ارشادات نبویہ کی جانب ہے، جیسا کہ ان کی اور ان کے والد ماجد کی دوسری تحریرات سے واضح ہے۔ اس لیے شاہ صاحب کے قول کا مدعا یہ ہے کہ جب حضرت علی کی خلافت نص سے ثابت ہے، تو اس خلافت سے انحراف و بغاوت کو اجتہاد کس طرح کہا جا سکتا ہے؟
اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر تم ان کے نکاح میں مزاحم ہو گے تو یہ بات بھی پاکیزہ و پسندیدہ ہو گی۔ اسی سورہ ہود ( آیت (۷۸) میں حضرت لوط اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اگر تم عورتوں سےازدواجی تعلق قائم کرو تو یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ (أَطْهَرُ لَكُمْ) ہے۔ کیا اس قول کا منشاء یہ ہوسکتا ہے کہ دوسری غیر فطری عادت بد بھی کسی درجےمیں طہارت کی حامل قرار دی جائے؟ اسی طرح سورہ زخرف (۲۴) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرمایا گیا:
اب یہاں انبیاء کرام پر نازل شدہ تعلیم کو اہدی ( زیادہ موجب ہدایت ) قرار دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ مشرکین اور ان کے باپ دادا جس روش پر تھے وہ بھی کسی درجے میں ہدایت پر مبنی تھی۔ باقی رہی حضرت حسنؓ کے مناقب والی حدیث جس میں آپ کے ذریعے سے مسلمانوں کےدو بڑے گروہوں میں صلح کی بشارت ہے تو اس میں شک ہی کیا ہے کہ آنجناب کے مصالحانہ رویےسے ایک جھگڑا ختم ہوا جس کے دونوں فریق بلاشبہ مسلم و مومن تھے ، لیکن اس حدیث میں کسی گروه کے بر سرحق یا ناحق ہونے کا ذکر نہیں ہے۔
بہر کیف ایک قول یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ اور آپ کے ساتھیوں کی غلطی اجتہادی غلطی تھی ، ایک قول یہ ہے کہ یہ خط تھی مگر حد تفسیق کو نہیں پہنچتی ، ایک قول یہ ہے کہ اس حد تک پہنچتی ہے۔مولانا مودودی نے اس کے بین بین موقف اختیار کیا ہے کہ یہ اجتہادی غلطی نہیں ، نیت کی غلطی بھی نہیں محض غلطی ہے۔ یہ موقف قطعی طور پر اخو ط واسلم ہے کیونکہ اس میں امیر معاویہ کے بارے میں اشارۃ وکنایہ بھی فسق کا کوئی حکم نہیں لگایا گیا ہے۔ان سارے اقوال کےقائلین اہل سنت ہی کےافراد،بلکہ ائمہ اہل سنت میں شمار ہوتے ہیں۔ پھر میری سمجھ نہیں آرہا کہ آج کل اہل سنت کی یہ کونسی قسم وجود میں آگئی ہے جو ان اقوال میں سے کسی قول کو عدالت صحابہ کے منافی یا مسلک اہل سنت کےمخالف سمجھ رہی ہے۔ اَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّکَ. کیا مدیر البلاغ اس بات سے بےخبر ہیں کہ احناف کی فقه و اصول فقہ کی کتابوں میں یہ اصول بھی درج ہے کہ غیر فقیہ راوی کی حدیث خلافقیاس ہو گی تو وہ قابل قبول نہ ہوگی۔پھر اس وضع کردہ اصول کی روشنی میں حضرت انس اور حضرت ابو ہریرہ جیسے جلیل القدر ر اور کثیر الروایہ صحابہ کرام کو غیر فقیہ قرار دے کر انکی بعض نهایت صحیح و مرفوع احادیث کو ترک کر دیا گیا ہےمیں پوچھتا ہوں کہ ان صحابہ کرام کو غیر فقیہ اور ان کی مرویات کو قابلِ قبول قراردينا، الصحابة كلهم عدول وكلهم مجتهدون کےاس مفہوم سےکیا نہیں ٹکراتا جس کا دعوتی آپ کر رہے ہیں؟ کیا کوئی صحابی بیک وقت غیر فقیہ اور پھر مجہتد بھی ہو سکتے ہیں؟
مدیر”البلاغ“نےیہ جو لکھا ہےکہ ہو سکتا ہےکہ صحابہ کرام سےبعض مرتبه بتقاضائےبشریت دو ایک یا چند غلطیاں سرزد ہو گئی ہوں لیکن تنبہ کےبعد انہوں نےتو به کر لی اور اللہ نےانہیں معاف فرما دیا،معلوم نہیں یہ بات لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس سےکیا ثابت کرنا مقصود ہے؟کیا مولانا مودودی نے یہ بات کہیں بیان کی ہے کہ فلاں صحابی نےکسی غلطی پر تو بہ نہیں کی،اللہ نے انہیں معاف نہیں فرمایا اور وہ اس غلطی اور عدم تو بہ کی بنا پر(معاذ اللہ )عادل نہیں رہے؟مولانا نےصرف غلطیاں اور انکےتاریخی نتائج و عواقب بیان کر دیئےہیں۔ یہاں تو بہ و معافی کاسوال ہی خارج از بحث ہےبعض افعال ایسی اجتماعی اہمیت کےحامل ہوتےہیں کہ تنبہ اور تو بہ کےباوجود ان کےاثرات مترتب ہو کر رہتےہیں اور خلافت و ملوکیت میں جو کچھ بحث ہےاسی نقطہ نظر سےورنہ تو بہ کاامکان تو ہر مسلمان کےلیےآخر وقت تک یقینا موجود ہےبلکہ شرک کےماسوا ہر مسلمان کاہر گناہ بلا تو بہ بھی معاف ہو سکتا ہےجیساکہ اللہ نےاپنی کتاب میں صراحت فرمادی ہےپھر عفود مغفرت کےاس اصولی امکان کےعلاوہ متعدد صحابہ کرام کی کچی تو بہ کا بیان بھی قرآن وحدیث میں موجود ہےاور ساتھ ہی ان غلطیوں کا بیان اور ان پر تبصرہ بھی موجود ہےجن پر تو بہ کی گئی تھی۔تو بہ کےبعد بھی ان واقعات کی نشان دہی اور ان پر تنقید کتاب وسنت میں اس وجہ سےضروری سمجھی گئی کہ دوسرےعبرت و نصیحت حاصل کریں اور بعد کےلوگوں نےبھی اسی غرض کےلیےانہیں بیان کیا۔ مثلاً پہلےدرج ہو چکا کہ ابن حجر نےجو کتاب خاص طور پر امیر معاویہ کےدفاع میں لکھی اس میں بھی الصحابة كلهم عدول سے آغاز کلام کرتےہوئےیزید کی ولی عہدی پر سخت تنقید کی اور یہاں تک لکھا کہ اگر چہ حضرت معاویہ کو اللہ اس پر معاف فرمادےگا مگر انہوں نےامت کو تباہی سےدو چار کردیا اور جو شخص اس معاملےمیں انکی پیروی کرےگا آگ میں جائےگا!حضرت معاویہ نےجو محاربہ ومقاتلہ حضرت علیؓ کےخلاف کیا ہےاس پر عفو و توبہ کاامکان،یا بر بنائےحُسنِ ظن اسکا وقوع تسلیم کر لینے کے باوجود یہ ایک تاریخی حقیقت ہےکہ حضرت علی کےمخالفین ومنازعین میں سےدوسرےافراد صحابہ کااپنے فعل پرندامت در جوع جس قطعیت کےساتھ ثابت ہےویساحضرت امیر معاویہ سےثابت ومذکور نہیں ہےحضرت عائشہ توجنگ جمل کو یاد کرکرکےاتنا رویا کرتی تھیں کہ آپکی اوڑھنی تر ہو جایا کرتی تھی۔یہی وجہ ہےکہ علمائے اہل سنت نےاس فرق کو واضح طور پربیان کیا ہےمثال کےطورپر علامه عبدالکریم شہرستانی”الملل و النحل" میں امام ابوالحسن اشعری کا قول یوں نقل فرماتے ہیں:
اب یہاں امام ابوالحسن جس طرح ایک فریق کے رجوع کا ذکر کر رہےہیں اور دوسرےکا نہیں کر رہےاس کا مطلب بجز اسکےاور کیا ہو سکتا ہےکہ امیر معاویہؓ اور حضرت عمرو بن العاص کا رجوع عن الخطا اس طرح ثابت نہیں ہے جس طرح عائشہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کا ثابت ہے۔
”حضرت عبداللہ بن عمر فرماتےہیں کہ میں حضرت حفصہ کےپاس گیا۔انہوں نےغسل کیا تھا اور پانی کے قطرے ان کے بالوں سے گر رہے تھے۔ میں نے حفصہ سے کہا کہ لوگوں کا حال آپ دیکھ رہی ہیں۔ میرا امارت وخلافت کے معاملہ میں کوئی دخل نہیں رہنےدیا گیا۔وہ بولیں،آپ جائیں تو سہی،لوگ آپ کےانتظار میں ہیں اور مجھےخطرہ ہے کہ آپ اگر وہاں نہ گئے تو تفرقہ پیدا ہو گا۔ حضرت حفصہ نے حضرت ابن عمرؓ کو اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ وہ بھی اجتماع میں چلےنہ گئے ۔ جب لوگ جدا جدا لکڑیوں میں بیٹھ گئےتو امیر معاویہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جوشخص بھی امارت یا ولی عہدی کے معاملے میں زبان کھولنا چاہتا ہے، وہ ذرا اپنا سینگ تو اونچا کر کے دکھائے ۔ ہم اس سے اور اس کے باپ سے بھی زیادہ امارت کے مستحق ہیں۔ حبیب بن محمہ نے جو ( جو حضرت ابن عمر سےیہ روداد سن رہےتھے ) پوچھا کہ آپ نےکوئی جواب امیر معاویہ کو نہ دیا ؟حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ میں نےاپنی چادر ڈھیلی کی تھی اور ارادہ کیا تھا کہ میں ان سےلہوں" تم سےزیادہ حقدار امارت کا وہ ہےجس نے تم سے اور تمہارے باپ ابوسفیان :: اسلام کی خاطر قتال کیا۔ پھر میں ڈر گیا کہ میری بات سے تو اور زیادہ تفریق پیدا ہوگی حتی کہ خونریزی تک نوبت جا پہنچےگی اور میری بات سے کوئی دوسرا ہی مطلب اخذ کیا جائے گا۔ پس میں نے جنت میں اپنے اجر کو یاد کیا ( اور خاموشی برتی )حبیب کہنےلگے کہ آپ نے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا، بچالیا۔“
اس روایت کو بعض محدثین نے واقعہ تحکیم اور بعض نےبیعت یزید سےمتعلق قرار دیا ہے۔بہر کیف دونوں میں سےجو صورت بھی ہو، اس حقیقت سےانکار نہیں ہےکہ امیر معاویہ ایک مجمع کو خطاب کر رہے تھے اور تہدید و تخویف کے انداز میں فرما رہے تھے کہ ہم خلافت کے زیادہ حقدار ہیں،ہمارے سامنے کون ہےجو سر اٹھائے ؟ اس پر حضرت ابن عمرؓ جواب دینے سےرک گئے اور یہ جانتےہوئے رک گئےکہ میرے جواب کو غلط معنی پر محمول کر کے مجھے بھی مدعی خلافت سمجھ لیا جائےگا اور.تلوار کشور اور خون خرابےتک معاملہ جا پہنچےگا۔ پھر اس کےبعد حبیب جو امیر معاویہ کےخاص رفقاء میں سےتھے اور سارے حالات سے پوری طرح باخبر تھے، ان کا حضرت ابن عمر سے کہنا کہ آپ تو بچ گئے اور محفوظ ہو گئے، ورنہ بات کرتے تو شامت بلاتے یہ پورا سلسلہ گفتگو آخر کسی سنگین صورتِ حالات پر دلالت کر رہا ہے۔
اس کےبعد بھی شاید مولانا عثمانی صاحب تو یہی کہیں گےکہ ”خوف وطمع کے ذرائع" استعمال کے دوران میں ایک واقعہ سے امیر معاویہ اور حضرت سعید بن عثمان کی گفتگو کا وہ حصہ تو نقل کر دیا تھا جس میں یزید کو ولی عہد بنانے کی شکایت تھی لیکن وہ حصہ حذف کر دیا تھا جس میں یہ مذکور تھا کہ اس شکایت کے جواب میں حضرت سعید کو خراسان کی گورنری دے دی گئی تھی۔
تخویف و تہدید کے علاوہ مولانا محمد تقی عثمانی کے خیال میں جو جرائم مولانا مودودی نے امیر معادیہ کے سر چیک دیئے ہیں وہ یہ ہیں کہ امیر معاویہ نے حجر بن عدی جیسے زاہد و عابد صحابی کو محض حق گوئی کی وجہ سے قتل کیا، مسلمان کو کافر کا وارث قرار دینے کی بدعت جاری کی، اور دیت کے احکام میں تبدیلی کر کےآدھی دیت خود لینی شروع کر دی۔ میری گزارش ہے حضرت حجر بن عدی کے قتل سے انکار تو عثمانی صاحب کو بھی نہیں ہے۔ باقی ہی یہ بات کہ قتل کی وجہ کیا نمی او قتل جائز تھا یا نہیں،تو اس پر جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کا کوئی اطمینان بخش جواب اب تک عثمانی صاحب یا کسی دوسرےصاحب نےنہیں دیا۔ اسی طرح کوئی اس سے بھی انکار نہیں کر سکتا کہ امیر معاویہ نے تو ریٹ مسلم من الکافر کا نیا قاعدہ جاری کیا اور غیر مسلم کی دیت کا آدھا حصہ وارثوں کو دینے کے بجائے خود لیا (یا بیت المال میں لیا)۔ اس چیز کو امت کے کسی مسلک میں قبول نہیں کیا گیا حتی کہ ان کے اپنے خاندان کے ایک فرد حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بھی اسے تبدیل کرنا ضروری سمجھا۔اس طریقےکا خلاف کتاب وسنت ہونا میں پوری طرح واضح کر چکا ہوں۔اس پر بدعت کا اطلاق بھی علمائے امت کر چکے ہیں۔
اسی طرح میں احادیث صحیحہ اور محدثین و مؤرخین کےمستند اقوال سے یہ ثابت کر چکا ہوں کہ امیر معاویہ اور ان کے گورنر حضرت علی اور اہل بیت پر سب وشتم کرتے تھے۔ لیکن میری کسی بات کو غلظ ثابت کیے بغیر پھر وہی بات دہرا دی گئی کہ مولانا مودودی نے جو الزامات امیر معاویہ کے سر تھوپے ہیں، ان میں یہ بھی ہے کہ انہوں نےحضرت علی پر خود سر منبر سب و شتم کرنےکی بدعت جاری کی۔ اس بحث میں عثمانی صاحب نے ابن حجر علی یہ قول بھی تطہیر الجحان سے نقل کیا ہے:
صحابہ کرام کےدرمیان جو واقعات ہوئےکسی کےلیےجائز نہیں ہےکہ انہیں ذکر کر کےان کے نقص پر استدلال کرے۔ یہ کام صرف اہل بدعت کا ہے اور بعض ان جاہل ناقلوں کا جو ہر اس چیز کو نقل کر دیتے ہیں جو انہوں نے کہیں دیکھ لی ہو اور اس سے اس کا ظاہر مفہوم ہی مراد لیتے ہیں ، نہاس روایت کی سند پر طعن کرتے ہیں، نہ اس کی تاویل کی طرف اشارہ کرتے ہیں، یہ بات سخت حرام دنا جائز ہے، کیونکہ اس سےفساد عظیم رونما ہوتا ہے اور یہ عام لوگوں کو صحابہ کے خلاف اکسانے کےمیترادف ہے،حالانکہ هم تک دین کےپہنچنے کا واسطہ یہی صحابہ نہیں جنہوں نے قرآن وسنت کو ہم تک نقل کیا ہے۔“
اب ملاحظه ہو یہی ابن حجر اپنی اسی کتاب" تطہیر الجنان واللسان عن الخطور والتفوه بثلب سيدنا معاویہ بن ابی سفیان میں صفحہ ٧٤ پر اسی سب و شتم کےمسئلےمیں کیا فرماتےہیں۔حضرت علی کےمتعلق وہ لکھتے ہیں :
لما وقع من الاختلاف والخروج عليه نشر من سمع من الصحابة تلك الفضائل وبثها نصحًا للأمة ايضاً ثم لما اشتد الخطب واشتغلت طائفة من بنى أمية بتنقيصه وسبّه على المنابر ووافقهم الخوارج لعنهم الله بل قالوا بكفره اشتغلت جهابذة الحفاظ من أهل السنة ببث فضائله حتى كثرت الأمة ونصرة للحق._١
” جب اختلاف رونما ہوا اور حضرت علی کےخلاف خروج کیا گیا تو حضرت علی کےفضائل جن صحابہ کرام نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سےسنےتھےانہوں نےامت کی خیر خواہی کےلیے ان فضائل کی نشر و اشاعت شروع کی۔ پھر جب حضرت علی کی مخالفت میں مہم زور پکڑ گئی اور بنوامیہ کےایک گروه نےمنبروں پران کی تنقیص اورسب و شتم کو اپنا مشغله بنالیا اور خوارج نےبھی ( اللہ ان پر لعنت کرے ) ان مخالفین کا ساتھ دیا بلکہ حضرت علیؓ کی تکفیر تک کر ڈالی،تو اہل سنت کےبڑے بڑےناقدینِ حدیث،جنہیں احادیث نبوی حفظ تھیں،انہوں نےحضرت علیؓ کے فضائل و مناقب میں مروی حدیثوں کو پھیلایا یہاں تک کہ امت میں ان کی کثیر تعداد کا چرچا ہو گیا اور نصرت حق کا تقاضا پورا ہو گیا۔“
اب مولانا تقی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ الزام زبر دستی گھڑ کر امیر معاویہ اور آپ کے گورنروں کے خلاف عائد کر دیا گیا ہےکہ وہ منبروں پر چڑھ کر حضرت علی پر سب و شتم کرتےتھےحالانکہ ابن حجر مکی جن کا قول عثمانی صاحب نے نقل کیا ہے، وہ خود اپنی اسی کتاب میں یہ بات ایک مسلمہ مصدقہ واقعہ کے طور پر بیان فرما رہے ہیں کہ حضرت علی کے عہد خلافت میں بنوامیہ اور خوارج ایک دوسرےکی همنوایی میں حضرت علیؓ کی تنقیص اور ان پر سب و شتم میں مشغول رہتے تھے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ انک پلیٹ فارم اور منبر امیر معاویہ اور آپ کے گورنروں ہی کے زیر تصرف تھے اور جس اختلاف،خروج اور حضرت علی کے خلاف شور وشغب اور ہنگامے کا یہاں ذکر ہے یہ حضرت علیؓ کے حینِ حیات اور آپ کی خلافت کے دوران ہی میں برپا کیا گیا تھا۔
خلافت و ملوکیت میں سب وشتم کے ثبوت میں جو روایات درج ہیں، ان میں سے ایک مروان کے متعلق ہے کہ وہ ہر جمعےکو حضرت علی پر لعن طعن کرتا تھا”البلاغ"میں اسکی تردید پر بھی بڑا از ورصرف کیا گیا ہےاور ایک ایک راوی کی خوب کھال ادھیڑی گئی ہے۔اگرچہ میں اس کا مفصل جواب پہلےدے چکا ہوں، تاہم میں انہی ابن حجر کی اسی کتاب تطهیر الجنان کی ایک روایت مزید نقل کرتا ہوں جو مروان ہی کے متعلق ہے۔ فرماتے ہیں:
١- تقریباً یہی بات حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری، کتاب المناقب میں فرمائی ہے جو میں سب علی کی بجھے سابق میں نقل کر چکا ہوں۔"
في رواية للبزار لقد لعن الله الحكم وما ولد على لسان نبيه صلى الـ عليه وسلم و بسند رجاله ثقاة ان مروان لما ولى المدينة كان يسب عليا على المنبر كل جمعة، ثم ولى بعده سعيد بن العاص فكان لا يسبه، ثم أعيد مروان فعاد للسب و كان الحسين يعلم ذلك فسكت ولا يدخل إلا بعد الاقامة. فلم يرض بذالک مروان حتى أرسل للحسن فى بيته بالسب البليغ لأبيه وله ومنه ما وجدت مثلك إلا مثل البغلة يقال لها من ابوک فتقول اُمّی الفرس، فقال للرسول ارجع إليه فقل له والله لا امحر عنک شیئاً مما قلت بانی اسبک،ولكن موعدى وموعدك الله. فان كنت كاذبًا فالله أشد نقمة. قد أكرم جدا ان يكون مثلي مثل البغلة. فخرج الرسول فلقی الحسین فاخبره بذلک السب. بعد مزيد تمنع وتهديد من الحسين ان لم يخبره، فقال بل ويتامل بابیک وقومک وایة ما بینی و بنک آن تمسک منک بیک من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلّم... وبسند حسن ان مروان قال لعبد الرحمن بن ابی بکر رضى الله عنهما انت الذى نزل فيك وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُقَ لَكُمَا .... فقال له عبدالرحمن كذبت ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلّم لعن اباک.
بزار کی روایت میں ہے کہ اللہ نے حکم ( والد مروان ) اور اس کے بیٹے پر لعنت کی لسان نبوی کے ذریعے سے۔ اور ثقہ راویوں کی سند کےساتھ مروی ہےکہ جب مروان کو مدینےکا گورنر بنایا گیا تو وہ منبر پر ہر جمعےمیں حضرت علی پرسب و شتم کرتا تھا۔پھر اس کےبعد حضرت سعید بن عاص گورنر بنےتو وہ سب علیؓ کاارتکاب نہیں کرتے تھےپھر مروان کو دوبارہ گورنر بنایا گیاتو اس نےپھر سب و شتم شروع کردی۔حضرت حسنؓ کو اسکا علم تھا مگر آپ خاموش رہتےاور مسجد نبوی میں مین اقامت کےوقت داخل ہوتے( تا کہ اپنے والد ماجد کی بدگوئی نہ سن سکیں)مگر مروان اس پر بھی راضی نہ ہوا یہاں تک کہ اس نےحضرت حسنؓ کےگھر میں اینچی کےذریعے انکو اور حضرت علیؓ کو گالیاں دلوا بھیجیں۔ان ہفوات میں سےایک یہ بات بھی تھی کہ" تیری مثال میرےنزدیک خچر کی کی ہے کہ جب اس سے پوچھا جائے کہ تیرا باپ کون ہے، تو وہ کہے کہ میری ماں گھوڑی ہے۔“حضرت حسن نے سن کر قاصد سےکہا کہ تو اس کے پاس جا اور اس سےکہہ دے کہ خدا کی قسم میں تجھے گالی دے کر تیرا گناہ ہلکا نہیں کرنا چاہتا۔ میری اور تیری ملاقات اللہ کے ہاں ہوگی۔ اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔ اللہ نے میرے نانا جان ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو جو شرف بخشا ہے وہ اس سے بلند و برتر ہے کہ میری مثال خچر کی سی ہو ۔ ایچی نکلا تو حسین سے اس کی ملاقات ہو گئی اور انہیں بھی اس نے گالیوں کے متعلق بتایا۔ حضرت حسین نے اسے پہلے تو دھمکی دی کہ خبر دار، جو تم نے میری بات بھی مروان تک نہ پہنچائی اور پھر فرمایا کہ اے مروان تو ذرا اپنے باپ اور اس کی قوم کی حیثیت پر بھی غور کر ۔ تیرا مجھ سے کیا سروکار، تو اپنے کندھوں پر اپنے اس لڑکے کو اٹھاتا ہےجس پر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور عمدہ سند کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ مروان نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ تو وہ ہے جس کے بارے میں، قرآن کی یہ آیت اتری ”جس نےکہا اپنے والدین سے کہ تم پر اف ہے"- - - - عبد الرحمن کہنے لگے تو نےجھوٹ کہا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے والد پر لعنت کی تھی ۔“
مروان کی بدزبانی کا یہ پورا واقعہ علاوہ دیگر مورخین کے امام جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں بھی نقل کیا ہے اور متعدد دوسرے علماء نے اس کو بیان کیا ہے۔
امیر معاویہ کےعہد میں حضرت علی واہل بیت نبی پر سب وشتم کا آغاز ایک مانی ہوئی تاریخی حقیقت ہے اور یہ امر بھی مسلم ہےکہ مروان نےاس کام میں نہایت نمایاں حصہ لیا ہےابن حجر کےعلاوہ متعدد دوسرےمؤرخین نےبھی اس بات کی صراحت کی ہےکہ حضرت سعید بن العاص جو مدینےکےگورنر تھے،انہیں معزول کر کے مروان کو یہ عہدہ اس لیے دیا گیا تھا کہ حضرت سعید سب وشتم میں حصہ لینے پر رضامند نہ تھے۔ ابن کثیر، البدایه جلد ۸ صفحه ۸۴ پر حضرت سعید کے متعلق لکھتےہیں:
یہ قول جہاں مردان کی بدگوئی واضح کرتا ہے،وہیں اس بات کو بھی ثابت کرتا ہے کہ جو گورنر سب و شتم نہیں کرتا تھا اس کی گورنری چھن کر ایسے شخص کے سپر د کر دی جاتی تھی جو اس فعل کو سر انجام دیتا تھا۔ پھر حضرت سعید کےبارے میں منفی طور پر یہ کہنا کہ کان لا يسب علیا،صاف طور پر یہ بھی نا رہا ہےکہ سب علی کا طریقہ عام تھا،ورنہ حضرت سعید بجن کا علم، تقومی،مدین اور جن کےمجاہدانہ کارنامےمعروف و مشہور ہیں اور جنہوں نےبنوامیہ کے ممتاز فرد اور حضرت عثمان کےربیب ہونےکےباوجود جنگِ جمل و صفین سےبالکل کنارہ کشی کی، ان کے بارے میں آخر یہ صراحت کیوں ضروری کبھی گئی کہ وہ حضرت علی پر سب وشتم نہیں کرتے تھے؟
مدیر "البلاغ" نےعلامہ ابن تیمیہ کا یہ قول بھی نقل کیا ہےکہ ”جن روایات سے صحابہ کرام کی برائیاں معلوم ہوتی ہیں، ان میں سےکچھ تو جھوٹ ہی جھوٹ ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ ان میں کمی بیشی کر دی گئی ہےاور ان کا اصلی مفہوم بدل دیا گیا ہےاسکےبعد عثمانی صائب پوچھتےہیں کہ جن تاریخی روایات کی بنیاد پر مولانا مودودی آج حضرت معاویہ کو حقیقی غلطی کا مجرم قرار دےرہےہیں کیا ابن تیمیہ اور دوسرے علماء ان تاریخی روایتوں سے بے خبر تھےیا اتنے کم فہم تھے کہ وہ اجتہادی غلطی اور حقیقی غلطی میں تمیز نہیں کر سکتے تھے؟ میں اس کے جواب میں امام ابن تیمیہ ہی کےچند اقوال پیش کرتا ہوں۔ منہاج السنہ، جلد ثانی صفر ی۲۱۴ پر آپ حضرت معاویہ کے متعلق فرماتے ہیں:
" امیر معاویہ اپنی حکومت میں اپنے طرز عمل کے اعتبار سے بہترین لوگوں میں سے تھےاور مخلص مسلمان تھے اور اگر آپ حضرت علیؓ سے محاربت نہ کرتے اور اپنے اقتدار میں ملوکیت کا طریقہ اختیار نہ کرتے تو کوئی شخص بھی ان کا ذکر اچھائی کے بغیر نہ کرتا جس طرح کہ آپ جیسےدوسرے صحابہ کرام کا ذکر خیر کیا جاتا ہے۔“
پھر اسی کتاب کے جزء ثالث صفحہ ۱۶۹ پر مصنف فرماتے ہیں:
آگے چوتھی جلد کے صفحہ ۷۹ اپر ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
" صحابہ کرام و تابعین میں سے کسی نے بھی امیر معاویہ پر تو نفاق کی تہمت نہیں لگائی لیکن ابوسفیان کے معاملے میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔“
اب ظاہر ہے کہ امام ابن تیمیہ نے جو رائے امیر معاویہ یا ان کے والد ماجد کے متعلق ظاہر کی ہے، وہ ایسی روایات پر تو مبنی نہ ہوگی جو جھوٹ ہی جھوٹ ہوں اور نہ ابن تیمیہ بقول عثمانی صاحب اتنے کم فہم ہو سکتےتھے کہ وہ اجتہادی غلطی کے لیے ذکر خیر کے فقدان، جاہلیت اور ملوکیت وغیرہ کےالفاظ استعمال کرنے ۔
ہمارے معترضین چونکہ بعض راویوں کو شیعہ یا مبتدع کہہ کر ان کی روایات کو فور ارڈ کر دیتےہیں،اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس مسئلے پر بھی مختصر بحث کر دوں کہ راوی حدیث کے کسی قول و فعل پر فسق و بدعت کا اطلاق اسکی مرویات میں کس حد تک قادح ہو سکتا ہےیہ ظاہر ہےکہ بالعموم سنت کے بالمقابل بدعت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہےاور جن فرقوں یا گروہوں کا مسلک بنیادی طور پر اہل سنت سے مختلف ہے،ان کو اہل بدعت و ہوئی کے نام سےموسوم کیا جاتا ہےصحابہ کرام کے دور سعادت کے بعد تابعین، تبع تابعین اور ائمہ محدثین کےہاں اس پر اکثر بخشیں ہوتی رہی ہیں کہ اہل سنت کےماسواء دوسرےگروہوں کےافراد سے اخذ حدیث جائز ہے یا نہیں۔ ان بحثوں کے مطالعے سے جو حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جمہور محدثین اس امر کےقائل نہیں ہیں کہ اہل بدعت کی روایت کردہ احادیث کو مطلقا رد کر دیا جائےاور ان کے کسی شخص کی کسی حدیث کو نہ لیا جائے۔امام ذہبی نےرجالِ حدیث کی جرح و تعدیل پر اپنی کتاب” میزان الاعتدال میں جابجا مولی بحث کی ہے۔ابان بن تغلب جو اہل تشیع میں سےنتیجےاور جنکی روایات صحیح مسلم میں موجود ہیں، ان کے حالات بیان کرتے ہوئے امام ذہبی فرماتے ہیں:
فان قيل كيف ساغ توثيق مبتدع وحد الثقة العدالة والاتقان، فكيف يكون عدلاً وهو صاحب بدعة؟ فجوابه ان البدعة على ضربين فبدعة صغرى لغلوا التشيع او التشيع بلا غلو ولا تحرق فهذا كثير فى التابعين وتابعيهم مع الدين ولورع والصدق فلو ذهب حديث هولاء لذهب جملة من الآثار النبوية وهذه مفسدة بينه ثم بدعة كبرى كالرفض الكامل والغلو فيه والحط على ابي بكر و عمر رضى الله عنهما والدعاء الى ذالك فهذا انوع لا يحتج بهم.
" اگر یہ کہا جائے کہ ایک مبتدع کی توثیق کیسےجائز ہو گی حالانکہ عدالت و اتقان کی شرط ثقاہت کےلیےلازم ہے، پھر ایک راوی جو صاحب بدعت ہے، وہ عادل کیسے ہو گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بدعت دو قسم کی ہے۔ ایک تو بدعت صغریٰ ہےمثلا تشیع میں غلو کرنا یا شیعہ ہونا گر غالی اور کٹر شیعی نہ ہونا تو یہ چیز تابعین اور تبع تابعین کی کثیر تعداد میں تھی باوجود اسکےکہ ان میں دین،تقویٰ اور سچائی بھی موجود تھی۔ پس اگر ان کی روایت کرده احادیث ترک کر دی جائیں تو احادیث نبویہ کا بہت بڑا حصہ ضائع ہو جائے گا اور یہ ایک واضح مفسدہ ہوگا۔ دوسری بدعت کبری ہے جس کی مثال کام رفض اور اس میں غلو ہے جس کے حامل حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہا کی تنقیص کرتےہیں اور دوسروں کو اس کی دعوت دیتےہیں،اس قسم کےلوگوں کی روایات قابل حجت نہیں۔“
اس سے معلوم ہوا کہ تابعین اور تبع تابعین میں بکثرت حضرات ایسے تھے جن میں اس حد تک تشریح موجود تھا جس پر بدعت صغریٰ کا اطلاق کیا گیا ہے، اس کے باوجود چونکہ وہ صادق القول تھے اور شیخین کی توہین نہیں کرتےتھے،اس لیےان کی حدیث کو ترک نہیں کیا گیا،نہ ان کی عدالت و ثقاہت میں شک کیا گیا۔بلکہ محدثین کا ارشاد یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کی روایت کردہ احادیث قبول نہ کی جائیں تو حدیث کا بڑا ذخیرہ ایسا ہو گا جس سے ہاتھ دھونے پڑیں گے اور یہ بہت بڑی قباحت ہوگی۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی تصنیف زنبته النظر شرح نخبۃ الفکر میں جہاں راوی کے اسباب طعن پر بحث کی ہے ، وہاں بدعت پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
البدعة اما ان تـكـون بـمكفّر كان يعتقد ما يستلزم الكفر او بمفسق .. والتحقيق انه لا يردّ كل مكفّر ببدعة لان كل طائفة تدعي ان مخالفيها مبتدعة وقد تبالغ فتكفر مخالفيها فلو أخذ ذلك على الإطلاق لا يستلزم تكفير جميع الطوائف. فالمعتمد ان الذى ترد روايته من أنكر متواترا من الشرع معلومًا من الدين بالضرورة.
"بدعت کی ایک قسم کا اطلاق ایسے قول و فعل پر ہوتا ہے جس کا مرتکب یا معتقد کفر کی حد تک جاپہنچتا ہے یا پھر فسق میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں تحقیقی موقف یہ ہے کہ ہر صاحب بدعت کی روایت کو رد نہیں کیا جائے گا گو کہ اس کی تکفیر ہی کی جارہی ہو، کیونکہ ہر گروہ کا دعویٰ یہ ہے کہ اس کےمخالفین مبتدع ہیں اور ہر گروہ مبالغے سے کام لے کر اپنے مخالفین کی تکفیر کو ڈالتا ہے، تو اگر ہر ایک کا قول على الاطلاق مانا جائے تو ہر گروہ کی تکفیر لازم آئے گی ۔ پس جو قول قابل اعتماد ہے وہ یہ ہےکہ روایت صرف اس کی رڈ کی جائے گی جو کسی ایسے امر شرعی کا منکر ہو، جو تواتر سے ثابت ہو یا ضروریات دین میں اس کا ہونا معلوم ہو۔“
حافظ ابن حجر کی تحقیق سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی راوی کو اس کے ناقدین خواہ بدعت فسق،حتی کہ کفر کا مرتکب کیوں نہ قرار دے دیں جب تک وہ متواترات وضروریات دین میں سے کسی امر کا انکار نہ کرے، اس کی حدیث کو علی الاطلاق رو نہیں کیا جاسکتا۔
اہل بدعت کا اطلاق شیعوں کے علاوہ نواصب وخوارج اور قدریہ وغیرہ پر بھی کیا جاتا ہے۔اب ناصبیوں کا حال یہ ہے کہ وہ حضرتعلی اور اہل بیت کے خلاف ایک میل اور عناد اپنے دل میں رکھتے ہیں اور خوارج کا مسلک یہ تھا کہ وہ ہر مرتکب کبیرہ کو کافر و مرتد قرار دےکر اس کی جان و مال کو بالکل حلال سمجھتےتھے۔یہ لوگ حضرت ابوبکر و عمر کو چھوڑ کر حضرت معاویہ حضرت علی اور بہت سےصحابہ کرام تک کی تکفیر کرتےتھے،بلکہ بعض صحابہ ان ظالموں کےہاتھوں محض اس بنا پر شہید ہوئےکہ وہ ان کے گمراہا نہ عقائد و اعمال میں انکی ہمنوائی پر تیار نہ تھےاسکےباوجود ان گروہوں سےحدیث اخذ کی گئی ہےبلکہ خوارج کی مرویات کو تو اس لیےقابل اعتماد سمجھا گیا کہ جب وہ جھوٹ بولنےکو موجب تکفیر سمجھتے ہیں اور جھوٹے کو واجب القتل سمجھتےہیں تو وہ جھوٹی حدیث گھڑنے یا بیان کرنے کی جرات کیسے کریں گے؟ امام ابو داؤد کا یہ قول بہت مشہور ہے کہ:
الکفایہ میں اس موضوع پر ایک مستقل باب موجود ہے، جس کا عنوان ہے:
اس باب میں امام شافعی کا قول منقول ہے:
ابن ابی لیلی ، سفیان ثوری اور قاضی ابو یوسف کا مسلک بھی یہی بیان کیا گیا ہے۔ اس مسئلےپر مفصل بحث کے بعد الخطیب نے آخر میں اپنی رائے درج کی ہے جو درج ذیل ہے:
والذي يعتمد عليه في تجويز الاحتجاج بأخبارهم اشتهر من قبول الصحابة اخبار الخوارج وشهاداتهم ومن جرى مجراهم من الفساق بالتأويل.ثم استمرار عمل التابعين و الخالفين بعدهم على ذلك لما راؤا من تحريهم الصدق وتـعـظـيـمهـم والكذب واحفظهم أنفسهم عن المحظورات من الأفعال وإنكارهم على أهل الريب والطرائق المذمومة وروايتهم الأحاديث التي تخالف آراءهم ويتعلق بها مخالفيهم في الاحتجاج عليهم. واحتجوا برواية عمران بن حطان وهو من الخوارج، وعمرو بن دينار وكان ممن يذهب الى القدر والتشيع وكان عكرمة اباضيًا و ابن ابی نجیع وكان معتزليا وعبد الوارث بن سعيد و شبل بن عباد وسيف بن سليمان وهشام الدستوائي وسعيد بن ابی عروبة وسلا من مسكين وكانوا قدرية وعلقمة بن مرثد وعمرو بن مرة ومسعر بن كدام و كانوا مرجئة وعبيد الله بن موسى و خالد بن مخلد وعبدالرزاق ابن همام و كانوا يذهبون الى التشيع في خلق كثير يتسع ذكرهم . دوّن اهل العلم قديمًا وحديثًا رواياتهم واحتجوا باخبارهم فصار ذلك كالجمان منهم وهو أكبر الحجج فى هذا الباب وبه يقوى الظن في مقاربة الصواب.
١- امام شافعی کا یہ قول امام نووی نے شرح مسلم کے دیباچے میں بھی نقل کیا ہے۔
" اہل بدعت و ہوئی کی مرویات کے قابل حجت ہونے کے معاملے میں قابل اعتماد مسلک یہی ہے کہ خود صحابہ کرام نے خوارج کی روایات و شهادات کو قبول کیا ہےاور ان جیسےلوگوں کی احادیث کو بھی لیا ہےجنہوں نےکسی تاویل کی بنا پر ارتکاب فسبق کیا ہے۔ اس کے بعد تابعین اور تبع تابیین کا استمراری عمل بھی یہی رہا ہےاس کی وجہ یہ ہےکہ صحابہ کرام و تابعین نےدیکھا کہ یہ خوارج اور اہل فسق روایت حدیث میں اتباع صدق کرتے تھے، کذب بیانی کو بڑا گناہ سمجھتے تھے ،ممنوعات سے بچتے تھے ، عادات مذمومہ اور اہل ریب کو برا سمجھتے تھے اور ایسی احادیث بھی بیان کر دیتے تھے جو ان کی آراء کے خلاف پڑتی تھیں اور جن کی بنا پر ان کے مخالفین ان پر حجت قائم کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے عمران بن حطان سےحدیث کی ہےحالانکہ وہ خارجی تھا، عمرو بن دینار سےبھی بی ہے حالانکہ وہ قدریہ اور اہل تشیع کی طرف مائل تھا۔اسی طرح عکرمہ اباضیہ_١ میں سے تھا اور ابن بیج معتز لی تھا۔ عبدالوارث بن سعید، شبل بن عباد، سیف بن سلمان، هشام دستوانی ، سعید بن ابی عروبه سلام بن مسکین سب قدریہ میں سے تھے اور ان کی احادیث قبول کی گئی ہیں۔ علقمہ بن مرثد اور عمرو بن مرہ مسعر بن کدام مرجیہ تھے، عبید اللہ بن موسیٰ، خالد بن مخلد ،عبدالرزاق بن ہمام اہل تشیع میں سے تھے۔ اسی طرح کے اور بہت سے لوگ تھے جن کا ذکر باعث طوالت ہے۔اہل علم نے ہر زمانےمیں ان لوگوں کی روایات کو مدون کیا ہے اور ان سے حجت و استدلال کیا ہے اور اس پر ایک طرح کا اجماع ہو گیا ہے جو اس مسئلے میں سب سے بڑی دلیل ہے اور اس مسلک کے اقرب الی الصواب ہونے کی تقویت پہنچائی ہے۔“ (الکفایہ صفحہ ۱۲۵)
جن حضرات نےکتب رجال سےمراجعت محض ” خلافت و ملوکیت" کےشوق مخالفت میں نہیں کی اور جن کی نگاہ محض واقدی و ابو مخنف کےتراجم ہی تلاش نہیں کرتی رہی، بلکہ جنہوں نےفن حدیث ورواۃ حدیث کا کچھ مزید مطالعہ بھی کیا ہےوہ اس سےبےخبری نہیں ہو سکتے کہ عمران بن حطان جن کا ذکر او پر ہوا، یہ وہ صاحب ہیں جنہوں نے ابن نجم قاتل علی کی شان میں ایک با قاعدہ قصیدہ لکھا تھا۔ ہشام الدستوائی قدریہ فرقے سے تعلق رکھتا تھا اور صحاح ستہ کی ہر کتاب میں اس کی احادث مروی ہیں۔ قدریہ کا عقیدہ ہے کہ ہر انسان اپنے ارادہ و عمل میں غیر محدود آزادی و قدرت رکھتا ہے۔ اگر کوئی شخص فقط امام سیوطی کی تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی“ پڑھ لے تو اسےمعلوم ہو جائے گا کہ صحیحین کے راویوں میں خارجی شیعی،ناصبی، مرجنی ، قدری خاصی تعداد میں موجود ہیں۔
١- یہ خوارج کے ایک اعتدال پسند گروہ کا نام ہے۔
٢- عمران بن حطان (ف۸۹ ھ ) کا شمار خوارج کے شیوخ دائمتہ میں کیا جاتا ہے۔ اس نے حضرت عائشہ اور حضرت ابو موسیٰ " وغیرہ سےاحادیث روایت کی ہیں جو بخاری، ابوداؤد اور نسائی میں مروی ہیں۔ عمران نے عبد الرحمن بن ملجم قاتل علی کی مدح میں جو قصیدہ لکھا ہے،
(اس کے تین اشعار یہ ہیں: (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں)
اس میں شک نہیں کہ محدثین نے بالعموم یہ پابندی لگائی ہے کہ اہل بدعت میں سے جو اپنےنظریات کا دائی نہ ہو، اس سےروایت لی جائےلیکن یہ ایک حقیقت ہےکہ داعیہ اور غیر داعیه کی تفریق ایک اضافی شےہے اور ایسے شخص کا تصور عقلاً محال ہےجو اپنےعقیدہ و مسلک کی کسی درجےمیں تبلیغ نہ کرتا ہو ۔ اگر ایسا ہوتا تو ان راویوں کے بارے میں سرے سےیہ بات مذکور و معلوم ہی کیسےہوتی کہ وہ مبتدعانہ عقائد کے حامل تھے۔ چنانچہ ان میں سےمتعدد، مثلاً یہی عمران اپنی خارجیت کا داعی تھا اور اس کاقصیدہ بھی اس کی دعوت ہی کا مظہر تھا۔ مدیر ” البلاغ “ جو عدالت اور بدعت وفستق کے مابین کلی منافات ثابت کرنا چاہتے ہیں، معلوم نہیں اس سوال کا کیا جواب دیں گے کہ ایسےرادیوں کی روایات کتب صحاح میں کیسے راہ پائیں؟ مگر میرے نزدیک اس کا جواب بالکل سیدھا اور واضح ہے جسے پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔ جواب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے غلط رجحانات ومیلانات کےباوجود صادق الحدیث تھے، ان کی عام روش تقوی تدین اور ثقاہت و دیانت پر مبنی تھی۔ اس لیے انکی روایات کو بلا تامل قبول کیا گیا۔محدثین رحمہم اللہ نےجتنی محنت،جزری و دیدہ ریزی کےساتھ ان لوگوں کے حالات کی چھان بین کی ہے صفحہ ہستی پر کسی ایک انسانی گروہ نے کسی دوسرے گروہ کےحالات کو اس تشخص و تفتیش کےساتھ نہیں جانچا۔ جہاں انہیں ذرہ برابر بھی شبہ ہوا کہ راوی کےنظریات و عملیات اس کی روایت فی الحدیث کو متاثر کر سکتےہیں،اس کو ترک کر دیا گیا۔ لیکن اس کےساتھ ہی دوسری طرف جب یقین یا ظن غالب حاصل ہو گیا کہ راوی کا ذب یا متساہل نہیں تو بغیر کسی دغدغے کے اس کی روایت کو قبول کیا گیا۔ چنانچہ رجال کی کتابوں میں بے شمار راوی ہیں جن کےساتھ درج ہے- ثقة_١ وكان مرجيا. صدوق الا انه يرى الارجاء. لم يتهمه احدو كان ينسب الى الخوارج والقول بالقدر احتج به الجماعة وكان يجالس قوما ينالون من على ثقة الا انه يتشيع. امام مالك اسماعیل بن ابان کے بارے میں فرماتے ہیں:
(بقیه حواشی گذشته صفحه )
متقی ( ابن ملجم ) کی قاتلانه ضرب کے کیا کہنے ؟ اس حملے کا مقصود صرف عرش کے مالک کی رضا مندی حاصل کرتا تھا ۔
میں جس دن بھی قاتل علی کو یاد کرتا ہوں تو میں اسے عبداللہ ساری دنیات بھر پورا جر کا حقدار کجھتا ہوں۔“
یہ میری خوارج کی قوم کتنی معزز ہےکہ پرندوں کےپیٹ ان کی قبریں بنتی ہیں (یعنی لڑائیوں میں کام آتےہیں اور جنگلی پرندے ان کی بوٹیاں نوچتے ہیں ) اور ان لوگوں نے اپنے دین میں بھی وعدوان کی آمیزش نہیں ہونے دی۔“
یہ اشعار البدایہ مقتل علی ، الکامل للمبرد و غیر میں منقول ہیں۔
امام بخاری نے مروان کی حدیث نقل کی ہے اور ساتھ عروہ بن زبیر کا قول درج کیا ہے:
ان مروان كان لا يتهم في الحديث.
" مروان روایت حدیث کے معاملے میں مور د تهمت نہیں ہے۔“
میں نے اپنی بحث میں پوری طرح واضح کر دیا تھا کہ امیر معاویہ یا کسی دوسرے صحابی کی کوئی خطا خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہو اگر وہ صحت نقل کے ساتھ ثابت ہو،تو اس کے بیان سے عدالت صحابہ کا اصول ہرگز مجروح نہیں ہوتا، کیونکہ عدالت صحابہ کا صحیح مفہوم جیسا کہ مولانا مودودی نےبھی بیان کر دیا ہے، یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے یا آنحضور کی طرف کوئی قول وفعل منسوب کرنے میں کسی صحابی نےکبھی راستی سے ہر گز تجاوز نہیں کیا ہے۔صحابہ کرام کے عدول ہونےکا مطلب یہ نہیں ہےکہ تمام صحابہ بےخطا تھےاور ان میں کا ہر فرد ہر قسم کی بشری کمزوریوں سےبالا تر تھا اور کس نےبھی کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ میں نے اس کے ساتھ اس امر کی بھی وضاحت کر دی تھی کہ صحابہ کرام کی عدالت کا تعلق روایت حدیث سے ہے اور راوی حدیث کے ثقہ و عادل ہونے کا مفہوم بھی محدثین کے نزدیک یہ ہے کہ اس کی زندگی بحیثیت مجموعی اور غالب احوال کےلحاظ سےخیر وصلاح پر بنی ہو اور اس سےکذب فی الحدیث کا خدشہ نہ ہو،گو اس کے عقیدہ و عمل میں فسق یا بدعت کا کوئی پہلو ہی کیوں نہ موجود ہو۔ میں نے اپنی ہر بات کی تائید میں متعدد اقوال بھی نقل کر دیئے تھے۔لیکن عثمانی صاحب نے حسب عادت میری گزارشات کو پس پشت ڈالتےہوئےپھر اپنی ہی باتوں کو دہرا دیا ہے۔ انہوں نے عدالت صحابہ کے پھر وہی تین من گھڑت مفہوم بیان کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ مولانا مودودی ان میں سےکون سا مفہوم درست سمجھتےہیں؟یہ ایک طالب علم اور طالب حق کا نہیں بلکہ تفتیش جرائم کے کسی انسپکٹر یا داروغہ کا سا طریقہ ہے کہ وہ تین الزامات یا مزعومات اپنی طرف سے وضع کرے اور پھر ملزم سےپوچھے کہ تم ان میں کس کے قائل یا فاعل ہو ۔ مولانا مودودی نےجب عدالت صحابہ کے متعلق اپنا موقف صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے اور میں نے دلائل وشواہد سے اس کی تائید و تشریح بھی کر دی ہے تو ہم پر صرف اپنے قول کی ذمہ داری ہے نہ کہ دوسروں کےان اقوال کی جو ہماری طرف منسوب کر دیے جائیں۔ مولانا مودودی نے صرف مثبت طور عدالت صحابہ کی صحیح تعریف ہی بیان نہیں کی بلکہ جو تعریف ان کے نزدیک صحیح نہیں ، اسے بھی واضح کر دیا ہے۔ ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں:
١- ثقہ تھا حالانکہ مرجبی تھا، راستباز تھا مگر ارجاء کا قاتل تھا (ارجاء کی ایک قسم یہ ہے کہ اقرار ایمان کے بعد کافرانہ اعمال و کبائر ضرررساں نہیں ہوتے ) ۔ اُسے کسی نے متهم نہیں کیا حالانکہ وہ خارجیت و قدریت سے نسبت رکھتا تھا۔محدثین کے ایک گروہ نے اس کی احادیث سےاستناد کیا ہے حالانکہ وہ ناصبیوں سے مصاحبت رکھتا تھا۔ ثقہ تھا مگر شیعہ تھا۔
"صحابہ کی عدالت کو اگر اس معنی میں لیا جائےکہ تمام صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےپورے وفادار تھے اور ان سب کو یہ احساس تھا کہ حضور کی سنت و هدایت امت تک پہنچانے کی بھاری ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے، اس لیے ان میں سے کسی نے کبھی کوئی بات حضور کی طرف غلط طور پر منسوب نہیں کی ہے تو الصحابة كلهم عدول کی یہ تعبیر بلا استثناء تمام صحابہ پر راست آئے گی۔ لیکن اگر اس کی یہ تعبیر کی جائے کہ بلا استثناء تمام صحابہ اپنی زندگی کے تمام معاملات میں صفت عدالت سےکلی طور پر متصف تھے، اور ان میں سے کسی سے کبھی کوئی کام عدالت کے منافی صادر نہیں ہوا، تو یہ ان سب پر راست نہیں آسکتی۔ بلاشبہ ان کی بہت بڑی اکثریت عدالت کےاونچے مقام پر فائز تھی مگر اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان میں ایک بہت قلیل تعداد ایسی بھی تھی جن سے بعض کام عدالت کے منافی صادر ہوئے ہیں۔ اس لیے الصحابة كلهم عدول کی دوسری تعبیر بطور کلیہ بیان نہیں کی جاسکتی۔ مگر اس کے کلیہ نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حدیث کے روایت کے معاملے میں ان میں سے کوئی بھی نا قابل اعتماد ہو، کیونکہ اس قول کی پہلی تعبیر بلاشبہ کلیہ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے خلاف کبھی کوئی چیز نہیں پائی گئی" ۔(خلافت ملوکیت صحی۳۰۳-۳۰۴۰)
اب جو شخص سیدھی بات میں سےٹیڑھ نکالنےکا شوق فضول نہ رکھتا ہو، اسکےلیےاس تصریح کےبعد اعتراض کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے؟جو کچھ مولانا مودودی نے کہا ہےاس کی تائید مزید کی خاطر میں مولانا مناظر احسن صاحب کی ایک عبارت پیش کرتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں:
"صحابہ کرام کی یہی جماعت جس میں ہر قسم کے لوگ تھے یعنی اعلیٰ ، اوسط ، ادنی مدارج میں ان کو بھی تقسیم کیا جا سکتا ہےجیسےہر جماعت کےافراد میں یہ تقسیم جاری ہوتی ہےتاہم یہ مسلم تھا کہ پیغمبر کے سوا کوئی بشر چونکہ معصوم پیدا نہیں کیا جاتا ،اس لیےنہ اس زمانے میں، نہ اس کے بعد اس وقت تک کسی طبقہ کےصحابیوں کو معصوم قرار دینےکا عقیدہ کبھی مسلمانوں میں پیدا ہوا،اور غیر معصوم ہونےکی وجہ سے جس قسم کی بھی کمزوریاں اس جماعت کےبعض افراد سےسرزد ہوئی ہیں بغیر کسی جھجک کےمسلمان ہمیشہ ان کا تذکرہ زبانی بھی اور کتابوں میں بھی کرتےچلےآئےہیں۔آخر خود سوچیےحضرت ماعزاسلمی یا نعمان_١ بن عمر و انصاری یا مغیره بن شعبه یا وحشی_٢ یا عمرو بن عاص یا خود امیر معاویہ وغیر ہم حضرات(رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کی طرف حدیث و سیر، تاریخ وغیرہ کی کتابوں میں کون کون سی باتیں نہیں منسوب کی گئی ہیں اور یہ تسلیم کر کے منسوب کی گئی ہیں کہ واقعی ان لغزشوں میں وہ مبتلا ہوئے تھے۔ جرائم جنہیں ہم کبائر کہہ سکتے ہیں، یہ واقعہ ہے، ان کی شاید ہی کوئی قسم ہوگی جو اس فہرست میں نظر نہ آتی ہو۔ مگر حیرت ہوتی ہے کہ ان ہی صحابیوں کی طرف جہاں تک میرے معلومات ہیں۔ اس جرم کے انتساب کی جرات کسی زمانہ میں نہیں کی گئی کہ جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف کسی صحابی نےکوئی غلط بات منسوب کر دی ہو ۔“
( تدوین حدیث مولانا سید مناظر احسن گیلانی ، صفحه ۴۳۵ تل ۴۳۷، ۱۳۷۵ه )
یہ امر بھی قابل وضاحت ہے کہ مولانا گیلانی مرحوم ایک نامورد یو بندی عالم ہیں اور ان کی یہ کتاب ادارہ مجلس علمی کراچی نے شائع کی ہے۔ یہ مجلس دیو بند کے چیدہ علماء و فضلاء پر مشتمل ہےجو ڈابھیل ،مصر اور کراچی سے بڑی اہم تالیفات کی اشاعت کا اہتمام کر چکی ہے۔ اب ایک طرف یہ حضرات خود ایسی کتابیں چھاپتے ہیں اور پھیلاتے ہیں جن میں یہ سب باتیں درج ہیں اور جولوگ چھاپنے میں شریک نہیں وہ کم از کم ان سےغض بصر سے کام لیتےہیں اور دوسری طرف وہ ہماری بات پر نکتہ آفرینیاں اور گمراہ فیلسوفیاں سامنے لاتے ہیں اور کہتےہیں کہ تمہاری تعریف عدالت سےفلاں اور فلاں بات صاف نہیں ہوتی اورتم اگر ہماری تین تعریفات عدالت کو درست نہیں سمجھتےتو کوئی چوتھی تعریف پیش کرو جو ہمارے لیے قابل قبول ہو ورنہ تمہاری بات نا قابل بیان حد تک خطرناک ہےاس سازی صورت حال کو دیکھتےہوئےیہ مشکل سےباور کیا جا سکتا ہےکہ ہمارے خلاف یہ مجادلہ خالص خدا ترسی اور بے لوثی کے جذبے سےہو رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عدالت صحابہ اور عدالت رواۃ حدیث کی جو تعریف مولانا مودودی اور میں نےپیش کی ہےوہ نہایت جامع و مانع تعریف ہےاس میں کوئی الجھن نہیں اور اس سے ہر بات صاف ہو جاتی ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ ایک مانی ہوئی تعریف سے جس کےحق میں بکثرت اقوال پیش کیے جاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا عبدالسلام ندوی اپنی کتاب اسوہ صحابہ کے صفحہ ۲۰ پر فرماتے ہیں:
١- صحابی تھے جن پر کئی مرتبہ شراب نوشی کی حد جاری ہوئی۔
٢- اس پر بھی شرب امر کی سد جاری کی گئی ۔
"یہ کسی محدث کا دعوی نہیں کہ صحابہ کوئی کام انصاف کے خلاف نہیں کر سکتے ، ان سے کوئی فعل تقویٰ وطہارت کے خلاف صادر نہیں ہوسکتا ، وہ انبیاء کی طرح معصوم ہیں یا وہ تمام گناہوں سے محفوظ ہیں۔ بلکہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ کوئی صحابی روایت کرنے میں دروغ بیانی سے کام نہیں لیتا۔“
محدثین متقدمین کی متعدد آراء راویان حدیث کی عدالت کے متعلق میں پہلے نقل کر چکا ہوں۔ اس پر ایک کا اضافہ اور کیےدیتا ہوں۔امام ابو حاتم محمد بن حبان اپنی صحیح (ابن حبان ) میں عدالت کی تعریف یوں فرماتے ہیں:
العدالة فى الإنسان هو ان يكون أكثر أحواله طاعة الله. لانا متى لم نجعل العدل الا من لم يوجد فيه معصية بحال ادانا ذلك الى ان ليس في الدنيا عدل، اذا الناس لا تخلو أحوالهم من ورود خلل الشيطان فيها. بل العدل من كان ظاهر أحواله طاعة الله والذى يخالف العدل من كان أكثر أحواله معصية الله.
”انسان میں صفت عدالت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اکثر احوال اطاعت الہی پر مبنی ہوں ۔ یہ اس لیے کہ اگر ہم عادل ودر استباز صرف اس کو قرار دیں جس سے کسی حالت میں صدور معصیت نہ ہو تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا میں کوئی عادل ہی نہیں کیونکہ انسانوں کے حالات شیطان کے دراندازی سے خالی نہیں ہوتے ۔ بلکہ عادل وہ شخص ہے جس کے ظاہر حالات میں بندگی رب موجود ہو اور غیر عادل وہ ہے جس کے اکثر احوال زندگی اللہ کی نافرمانی میں بسر ہوں۔“
(صحیح ابن جنان تحقیق احمد محمد شاکر، دارالمعارف مصر ص ۱۳۷۲۱۱۲ )
یہ عدالت کی ایک اصولی تعریف ہےجو ہر راوی حدیث پر حاوی ہےخواہ وہ صحابی ہو یا غیر صحابی ۔میں پوچھتا ہوں کہ امیر معاویہ، کسی دوسرےصحابی،یا کسی دوسرےراوی کی دس یا پندرہ خطاؤں یا گناہوں کی بنا پر کیا یہ لازم آ سکتا ہے کہ ان کے اکثر احوال میں معصیت پائی جائے یا ہم نے کیا ایسی کوئی بات کہی ہے کہ ہماری یا دوسروں کی بیان کردہ خطاؤں کی بنا پر فلاں صحابی رسول (معاذ اللہ )غیر عادل ہو گئےہیں اور ان کی زندگی پر معصیت کا غلبہ وگیا ہے۔اگر ان میں سےکوئی بات بھی واقعی اور صحیح نہیں اور یقینا نہیں ہےتو پھر یہ ہنگامہ آرائی خامہ فرسائی آخر کس بات پر ہے؟
جناب عثمانی صاحب نےاپنی دونوں مرتبہ کی بحث میں پالیسی کےلفظ کو بھی بار بار گھنےگھسانے کی کوشش کی ہےدراصل مولانا مودودی نےدور بنی امیہ پر بحث کرتےہوئےلکھا تھا کہ اس دور میں فلاں فلاں پالیسی اختیار کی گئی اور ان میں سے بعض کا آغاز امیر معاویہ کے عہد سےہوا۔ یہ لفظ چونکہ انگریزی کا ہے اس لیے ہمارا ند ہی طبقہ جو انگریزی الفاظ سے زیادہ مانوس نہیں ہے،ان کے لیے یہ لفظ خواہ مخواہ بدنما اور وحشتناک دکھائی دے گا۔ لیکن یہ لفظ اس طرز عمل یا طریقہ وضابطہ کے مترادف ہےجو کسی خاص معاملے میں اختیار کیا جائے۔ اگر مولانا مودودی نے یہ لفظ استعمال کیا ہے کہ بنوامیہ یا امیر معاویہ اور ان کے عتمال نے یہ پالیسی اختیار کی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ساری زندگی دن رات بس یہی کام کرتے رہتے تھے بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ فلاں مسئلےمیں انہوں نےیہ قاعدہ یا ضابطہ اختیار کیا،مثلاً منبروں پر لعن طعن کیا یا مسلمان کو کافر کا وارث بنایا یا زیاد کو ابوسفیان کا بیٹا قرار دیا۔لیکن عثمانی صاحب کی دہاند لی ملاحظہ ہو کہ وہ اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ امیر معاویہ نے گناہوں کو اپنی پالیسی بنالیا تھا جس سے امیر معاویہؓ کا فاسق ہونا لازم آتا ہے، اس لیےتم یا تو یہ کہو کہ حضرت معاویہ فاسق تھےیا یہ مانو کہ جو الزام مولانا مودودی نےان پر لگائےہیں وہ درست نہیں۔یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ الٹی میٹم صرف ہمارےحصےمیں آتا ہےیا ان تمام بزرگوں کو بھی اس کا کچھ حصہ رسدی پہنچتا ہے جو سلف سے خلف تک وہی باتیں کہتے اور پھیلاتےچلےآئےہیں اور ان میں عثمانی صاحب کے اکا بر واقارب بھی شامل ہیں؟
پھر یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بعض اوقات ایک آدھ واقعہ سےایک اصولی نتیجه اخذ کر کے اس دور کے متعلق ایک عموی بات کہہ دی جاتی ہے اور یہ کوئی نرالا جرم نہیں ہے جس کا ارتکاب تنها مولانا مودودی ہی نے کیا ہو۔میں پہلےبیان کر چکا کہ صرف یزید کو ولی عہد بنا دینے پر ابن حجر مکی نے امیر معاویہ کے متعلق یہ لکھ دیا کہ طریق ہدی ان کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اسی ولی عہدی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ خلافت کا سلسلہ جب امیر معاویہ پر پہنچتا ہے تو خلافت راشدہ کا رنگ نہیں رہتا، ملوکیت کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اب اعتراض کرنے کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ بیٹے کو اپنا جانشین نامزد کرنا بس ایک انفرادی واقعہ ہے جو زندگی بھر میں ایک ہی مرتبہ پیش آیا۔ یہ کوئی مستقل پالیسی تو نہ تھی۔ پھر امیر معاویہ پر محض اس ایک واقعہ کو بنیاد بنا کر ایسا سنگین الزام کیسے عائد ہو سکتا ہے کہ وہ طریق ہدایت کھو بیٹھے اور ان کی حکومت، ملوکیت کے رنگ سے رنگین ہو گئی۔ مولا نا محمد انور شاہ صاحب کشمیری کے تلمیذ رشید مولانا سید احمد رضا صاحب بجنوری اپنے فاضل مرحوم استاذ کے افادات صحیح البخاری کے ایک مقام پر جنگ صفین کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے تمام دورِ خلافت میں منہاج نبوت پر قائم رہے۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دوسرے طریقےاستعمال کیے،زمانہ اور زمانے کےلوگوں کےحالات تیزی کے ساتھ خرابی کی طرف بڑھ رہے تھے، اس لیے خلافت علی منہاج النبوت سے زیادہ کامیابی دنیوی سیاست کے لیے مقدر ہو چکی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آخر عمر تک دین اور دینی سیاست کو کامیاب بنانے کی جان توڑ مساعی میں مشغول رہے۔ ان پر ہر اگلا دور پچھلے دور سے زیادہ سخت اور صبر آزما آیا مگر وہ کو ہ استقامت بنے ہوئے مصائب و آلام کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے۔“
(انوار الباری شرح صحیح البخاری، جلد دوم صفحه ۳۹، مکتبہ ناشر العلوم، بجنور، مطبوعہ دیوبند، بار دوم )
یہاں حال صرف جنگ صفین کا بیان ہو رہا ہے اور اس میں امیر معاویہ کی خطاء محمد تقی صاحب کے نزدیک اجتہادی خطا ہوگی لیکن مولانا سید احمد رضا صاحب کہہ رہے ہیں کہ امیر معاویہؓ نے منہاج نبوت پر قائم رہنے کے بجائے دوسرے طریقے اختیار کیے، ان کی سیاست دنیوی سیاست تھی جب کہ حضرت علی کی سیاست دینی سیاست تھی۔اب مولانا مودودی نےچند ثابت شدہ تاریخی واقعات و حقائق بیان کر کے اگر بنوامیہ کے دور ملوکیت کے متعلق یہ لکھ دیا کہ اس میں سیاست دین کے تابع نہیں رہی تھی، اس کے تقاضے ہر جائز و ناجائز طریقے سے پورے کیے جاتے تھے اور کتاب وسنت کے احکام کی خلافت ورزی ہوتی تھی تو اس سے آخر کون سا کفر لازم آ جاتا ہے؟
"خلافت و ملوکیت میں عہدِ معاویه کےجو واقعات بیان ہوئےہیں،محمد تقی صاحب نےفقط انکی تاویل و تردید ہی پر اکتفا نہیں کیا،بلکہ ایک قدم آگےبڑھ کر یہ سوال بھی پیدا کیا ہے کہ ان گناہوں کا مرتکب فاسق کیوں نہیں ہوتا اور مولانا مودودی نے جو کچھ امیر معاویہ کے بارے میں لکھا ہے اگر اسے صحیح مان لیا جائے تولا زمانیہ مانا پڑے گا کہ وہ فاسق تھے اور اس سے الصحابہ کلہم عدول کا عقیدہ سلامت نہیں رہ سکتا اور اس عقیدے پر کیا موقوف ہے،اسلام کےسارے عقائد اور سارےاحکام ہی خطرےمیں پڑ جاتےہیں۔اپنی بات کی بیچ اور کج بحثی کرنے کی یہ ایک عبرتناک مثال ہے۔ عثمانی صاحب کی یہ ایک عجیب عادت ہے کہ وہ دوسرے کی بات کو نہایت بھیا نک بنا کر اس سے بدترین نتائج و مطالب اخذ کرنےکی کوشش کرتے ہیں اور پھر محتسب بن کر کہتے ہیں کہ اب ان سب کو مانو یا سب کا انکار کرو پھر ان کی دوسری عادت یہ ہے کہ بعض الفاظ کو خواہ مخواہ ہو ابناتے ہیں، بے بنیاد دعوے کرتے ہیں، غلط قسم کی تحدی اور چیلنج دیتے ہیں اور اس طرح اپنے دعاوی کے جال میں خود ہی پھنستے ہیں اور اپنے استدلال کے تانے بانے میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
مولانا مودودی نے امیر معاویہ کے بعض افعال کے لیے بدعت کا لفظ استعمال کر دیا تو عثمان صاحب بس اسے پکڑ کر بیٹھ گئے اور اپنے قلم کی سیاہی سے اسے ہولناک بنانے اور اس کو طرح طرح کے معانی پہنانےلگےپھر فرمایا کہ کسی فرد بشر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ امیر معاویہ کے کسی فعل کو بدعت کہے اور چودہ سو سال میں یہ گناہ کس سے سرزد نہیں ہوا۔ پہلی مرتبہ مولانا مودودی نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔اس پر میں نے مجبور ہو کر کچھ حوالےبڑےبڑے ائمہ سلف کےپیش کیےجنہوں.نےامیر معاویہ بعض اعمال پر بدعت کا اطلاق کیا اور ایسے حوالےمزید بھی پیش کیےجاسکتے ہیں۔فستق یا فاسق کا لفظ مولانا مودودی نےحضرت معاویہ یا دوسرے کسی صحابی کےمتعلق هرگز استعمال نہیں کیابلکہ یہاں تک لکھا کہ چند معاملات میں عدالت کےمنافی کام کرنےسے یہ لازم نہیں آتا کہ کرنےوالے کی عدالت کی نفی ہو جائےاور وہ عادل کےبجائے فاسق قرار پائےدراں حالیکہ اس کی زندگی میں مجموعی طور پر عدالت پائی جاتی ہو۔مگر افسوس صد افسوس کہ امیر معاویہ کےنادان دوست یا پھر ہمارےعقلمند کرم فرما کسی طرح ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتےاور برابر یہ رٹ لگائےچلےہمارہے ہیں کہ جوالزامات تم نےامیر معاویہ پر عائد کیےہیں وہ فستق ہیں اور انہیں درست مان لینےکےبعد امیر معاویہ کو فاسق ضرور کہا جائےگا۔پھر طرفہ تماشا یہ بھی ہےکہ حضرت معاویہ اور فسق و بغاوت والی بحث میں اپنی کتاب کےصفحہ ۱۳ پر محمد تقی صاحب خود یہ بھی فرما رہےہیں کہ یہ بات اہل علم سےمخفی نہیں ہےکہ کسی فعل کا فسق ہونا، اس کے فاعل کے فاسق ہونے کو ستلزم نہیں ہے۔ اجتہادی اختلاف میں ایک شخص کا عمل دوسرے کے نظریے کے مطابق فسق ہوتا ہے لیکن اسے فاسق نہیں کہا جاتا ۔‘ محمد تقی صاحب بھی بفضل خدا اہل علم میں سے ہیں اور جونکتہ وہ بیان فرمارہے ہیں،وہ ان سے بھی مخفی نہ ہو گا۔اگر اسی کی روشنی میں وہ دوبارہ اپنی اور ہماری بات پر غور کریں تو سارا در دسرختم ہوسکتا ہےجب وہ خود فرمارہے ہیں کہ ایک کا عمل دوسرے کےنزدیک فسق ہوتا ہے مگر اس کا عامل فاسق نہیں ہوتا تو پھر امیر معاویہ کی جانب گوفستق ہی منسوب کیوں نہ ہو جائے ، وہ غیر عادل کیسے ہو جائیں گے؟
بہر کیف مولانامودودی نے چونکہ اپنی کتاب کےکسی مقام پر کسی صحابی کی طرف فسق کی نسبت نہیں کی ، اس لیے یہ کہنا نہایت بے جا تحکم ہے کہ وہ یا ان کی طرف سے کوئی دوسرا جواب یا صفائی پیش کرے کہ آیا مولانا مودودی کے نزدیک امیر معاویہ عادل ہیں یا فاسق ہیں؟ البتہ میں نے اپنی بحث میں یہ بات بھی کہہ دی تھی کہ بدعت یا فسق کے الفاظ کوئی گالی یا سب وشتم کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ علمی مباحث میں سنت کے مقابلے میں بدعت اور طاعت کے مقابلے میں فسق کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور امیر معاویہ کے لیے لفظ فسق کےاستعمال ہونے کی دو مثالیں اس مقام پر پیش کی تھیں۔اس پر پھر عثمانی صاحب نےحسب دستور اعتراض کیا ہے اور لکھا ہے کہ کوئی شخص اہل سنت میں سے کسی ایک عالم کا قول کہیں دکھلائے جس نے امیر معاویہ کو فاسق قرار دیا ہو۔ کسی نے بھی یہ جرات آج تک نہیں کی اور بفرض محال شاہ عبد العزیز یا میر سید شریف جرجانی اس کے خلاف کوئی رائےظاہر کرتےہیں تو جمہور امت کے مقابلے میں ان کا قول ہرگز مقبول نہ ہوگا۔‘ شاہ عبدالعزیز صاحب نے امیر معاویہ سے متعلق کہا تھا کہ ان کے بارے میں انتہائی بات یہ ہے کہ وہ مرتکب کبیرہ اور باغی ہوں اور فاسق لعنت کےلائق نہیں ہوتا۔عثمانی صاحب کا فرمانا یہ ہےکہ شاہ صاحب یہاں اپنا مسلک بیان نہیں کر رہے،بلکہ علی سبیل تسلیم یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر انہیں فاسق بھی مان لیا جائے،تب بھی ان پر لعن طعن جائز نہیں۔یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ اگر فستق یا فاسق کا لفظ ہی خطر ناک ہےتو پھر ایک مفروضے کےطورپر بھی اسکی نسبت امیر معاویہ کی جانب نہیں ہونی چاہیےاور یہ کہنا بھی تو ہین صحابہ کےمترادف ہونا چاہیےکہ اگر فق کا صدور حضرت معاویہ سےمان لیا جائےتب بھی یہ موجب لعن طعن نہیں ہےدوسرا سوال یہ ہےکہ اگریہ شاہ صاحب کا اپنا مسلک نہیں ہےتو انہوں نےخود تحفه اثناعشریه میں بار بارحضرت علیؓ کےمقاتلین کےمتعلق بطلان اعتقادی اور فسق اعتقادی کےالفاظ کیوں استعمال کیےہیں۔محمد تقی صاحب نےاسی بحث میں اپنی کتاب کےصفحه ۲۱۱ پر خودیہ عبارت نقل کی ہےجس میں یہ الفاظ موجودہیں کہ فسق اعتقادی طعن و تحقیر کو جائز نہیں کرتا۔مفسق اعتقادی تو بظاهر فسق عملی سے بھی اشد شے معلوم ہوتی ہے۔پھر عثمانی صاحب اگلےصفحےپر فرماتےہیں کہ شاہ صاحب کی عبارتیں بنظر غائر پڑھنے کے بعد میں ان کا موقف یہ سمجھا ہوں کہ حضرت علی کی خلافت چونکہ مضبوط دلائل سےمنقعد ہو چکی تھی،اسلیے حضرت عائشہ یا حضرت معاویہؓ کا ان کے خلاف قتال کرنا بلا شبہ غلط تھا اور دنیوی احکام کے اختیار سے بغاوت کےذیل میں آتا تھا جو نفس الامر کے لحاظ سے گناہ کبیرہ یعنی فسق ہے۔ آگے عثمانی صاحب مزید لکھتے ہیںکہ امام برحق کے خلاف بغاوت کرنا گناہ کبیرہ اور فسق ہے۔ پھر فرماتے ہیں:
” میں نے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کی تحریروں پر جتنا غور کیا ہے، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انہوں نے حضرت معاویہ اور حضرت عائشہ کے خروج کے لیے جو فسق اعتقادی کا لفظ استعمال کیا ہے، اس سے مراد یہی ہے کہ بغاوت فی نفسہ فستق ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ اس کی بنا پر (معاذ اللہ ) یہ حضرات فاسق ہو گئے ۔“
میں پوچھتا ہوں کہ یہ نتیجہ کس نے نکالا ہے؟ یہ تو جناب محمد تفی صاحب خود ہی نکال رہے ہیں،ورنه مولانا مودودی نےتو فسق یا فاسق کانام تک نہیں لیا اور ان پر جب یہ الزام لگایا گیا تو میں نےصرف اتنی بات کہہ دی کہ مولانا نے تو نہیں البتہ بعض دوسرے اہل علم نے اس بحث میں ایسے الفاظ امیر معاویہ کے متعلق استعمال کیےہیں اب اس تردید میں عثمانی صاحب نےآغا ز تو اس دعوے سےکیا تھا کہ شاہ صاحب یا کسی اور دوسرے شخص نےایسا نہیں کہا لیکن تردید کرتےکرتےآخر خود ہی یہ ہی تسلیم کر بیٹھے کہ شاہ صاحب نےفسق اعتقادی کا لفظ صرف امیر معاویہ ہی کے لیے نہیں بلکہ حضرت علی کے مخالف سارے مقاتلین کے حق میں تحریر کیا ہے جن میں حضرت عائشہ بھی شامل اور عثمانی صاحب نے خود بھی مان لیا کہ امام حق کے خلاف بغاوت گناہ کبیرہ اور فسق ہے اگر چہ اس کا مرتکب فاسق نہیں ہوتا۔ اس کے بعد سمجھ میں نہیں آتا کہ عثمانی صاحب کی ہمارے خلاف ناراضی اور غصے کا اصل باعث کیا ہے؟
یہاں اس بات کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ عثمانی صاحب اب ماشاء اللہ فن تنقید و تردید میں اتنے ماہر اور چابکدست ہو چکے ہیں کہ انہیں شاہ عبدالعزیز صاحب کی عبارات میں بھی تضاد نظر آنے لگا ہے۔ چنانچہ اس بحث میں فرماتے ہیں کہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت شاہ عبد العزیز صاحب نے اپنی تصانیف میں اس مسئلے سے متعلق اپنی جو آراء ظاہر کی ہیں ، وہ بڑی حد تک پیچدہ مجمل اور بظاہر متضاد معلوم ہوتی ہیں۔ عثمانی صاحب نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ شاہ صاحب کے کون کون سے بیان باہم متضاد ہیں۔ البتہ شاہ صاحب کی عبارت کے ایک ٹکڑے کو عثمانی صاحب نے اپنے حق میں استعمال کرنے کی سعی کی ہے۔ وہ عبارت یہ ہے:
"اگر جماعت اہل شام میں سے ہم بالیقین کسی کے متعلق جان لیں کہ وہ حضرت امیر (علی)کے ساتھ عداوت و بغض رکھتا تھا،تا آنکہ آپ کو کافر ھہراتا یا آنجناب علی قباب پرست و طعن کرتا تو اس کو ہم یقینا کافر جائیں گےجب یہ بات معتبر روایات سے پائیہ ثبوت کو نہیں پہنچی اور ان کا اصل ایمان بالیقین ثابت ہے تو ہم تمسک اصل ایمان سے کریں گے ۔“
(تحفہ اثنا عشیره مترجم صفحه ۶۱۳)
اس پر عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ اس عبارت سے یہ واضح ہوتا ہےکہ حضرت شاہ صاحب کےنزد یک حضرت معاویہ کا حضرت علی پر سب و طعن معتبر روایات سےثابت نہیں"۔بلاشبہ اگر شاہ صاحب کی عبارت کا یہ ترجمہ صحیح ہو تو اس سےیہی نکلتا ہےکہ ان کے نزدیک اہل شام میں سےکوئی فرد حضرت علی پر سب و شتم نہیں کرتا تھا اور جو کرتا تھا وہ شاہ صاحب کے نزدیک کافر ہوگا۔ یہ دونوں باتیں شاہ صاحب کی دوسری متعدد تصریحات کے قطعی خلاف ہیں اور فی نفسه علمی و تاریخی اعتبار سےبھی بالکل غلط ہیں۔مثلا سب و شتم کی بحث میں صحیح مسلم و ترمذی کی ایک حدیث نقل کی جاچکی ہےجس میں امیر معاویہ نے حضرت سعد سے پوچھا تھاکہ آپ حضرت علی پرسب و شتم کیوں نہیں کرتےاس کی تشریح میں شاہ عبدالعزیز صاحب نے فتاوی عزیزیہ میں جو کچھ فرمایا ہے اس سےصاف ظاہر ہے کہ وہ امیر معاویہ سے سب و شتم کا صدور صحیح و ثابت مانتے ہیں۔ ان کے فتوے کا ترجمہ وہاں میں نے دے دیا تھا۔ یہاں اصل الفاظ بھی نقل کیےدیتا ہوں اور وہ یہ ہیں:
"بہتر ہمیں است که این لفظ (سب) رابر ظاهرش جاری باید داشت۔نہایت کار آنکه ارتکاب این فعل شنیع یعنی سب یا امر سب از معاویه بن ابی سفیان لازم خواهد آمر پولیس هذا باول قارورة کسرت فی الاسلام، چه مرتبه سب کمتر از قتل و قتال است لما روسی فی الحدیث اصیح سباب المسلم فسوق وقتاله کفر و هرگاه قتال و امر بالقتال یقینی الصدور است،ازاں گریز نیست بالجمله اصلح همین است که دےرامر تکب کبیره باید دانست و زبان از طعن و لعن بند باید نمود"-
(فتاوی عزیزی۔ کتب خانہ رحیمیہ ، دیو بند ، جلد اول صفحه ۱۲۳)
اس میں شاہ صاحب نہ صرف امیر معاویہ کے سب کو تسلیم کر رہےہیں بلکہ ان لوگوں کی تردید کر رہے ہیں جو اسے تسلیم نہیں کرتے یا حدیث میں جن سب وشتم کا ذکر ہےاسے ظاہر معنوں میں نہیں لیتے۔ شاہ صاحب یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جب امیر معاویہ سے قتل و قتال اور اس کا حکم دینا ثابت ہے جو سب وشتم سے شدید تر ہے تو سب و شتم سے انکار بے فائدہ ہے اور اسے تسلیم کیےبغیر چارہ نہیں۔ پس صحیح بات یہ ہے کہ امیر معاویہ کو مرتکب کبیرہ مان لینا چاہیےمگر ان پر لعن طعن سےزبان بند رکھنی چاہیے۔ اس سےیہ بھی معلوم ہوا کہ سب وشتم کےوقوع کےباوجود شاہ صاحب اس فعل کو گناہ کبیرہ تو قرار دیتےہیں مگر اس کےفاعل کو کافر ہر گز نہیں سمجھتے-اگر وہ خدانخواستہ ایسا سمجھتےتو پھر ان میں اور رافضیوں میں فرق کیا رہ جاتا جو خود حضرت علی کےمخالفین کی تکفیر اور ان پر تبر ابازی کرتےہیں اور جن کےردمیں شاہ صاحب نےیہ کتاب لکھی تھی محمد تقی صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ ایسی غلط اور پادر ہوا بات کہنے سے پہلے تھوڑی سی زحمت کر کے اصل فارسی عبارت تحفہ اثنا عشریہ میں دیکھ لیتے۔اگر وہ ایسا کرتےتو انہیں معلوم ہو جاتا کہ جس ترجمےکی بنیاد پر وہ اپنے استدلال کو تعمیر کر رہے ہیں ، وہ ترجمہ غلط ہے۔ شاہ صاحب کی اصل عبارت یوں ہے:
”آرے، اگر از جماعت شام بالیقین کسےرامعلوم کنیم که عداوت و بغض حضرت امیر داشت بحدیکه تکفیر آنجناب بالعن وسب آن عالی قباب میکر داورا با یقین کافر خواهیم دانست و چوں ایں معنی تاحال از روی روایت معتبره ثابت نشده واصلِ ایمان آنها بالیقین ثابت است تمسک با اصل در ایم"-
( تحفہ اثنا عشیرہ صفحہ ۶۲۶ مطبع ثم بند ، ١٢٩٦ لکھنو ۔ )
’ہاں، اگر جماعت اہل شام میں سے ہم بالیقین کسی کے متعلق جان لیں کہ وہ حضرت امیر (علی) کے ساتھ اس حد تک عداوت اور بغض رکھتا تھا کہ آنجناب عالی مقام پر سب وطعن کے ساتھ ہی آپ کی تکفیر بھی کرتا تھا، تو اسکو ہم یقینا کافر جانیں گےاور جب یہ بات معتبر روایات سے پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی اور انکا اصل ایمان بالیقین ثابت ہے، تو ہم تمسک اصل ایمان سے کریں گے۔“
اس عبارت میں شاہ صاحب نہ سب وشتم کا انکار کر رہے ہیں نہ اس کےمرتکب کو کافر کہہ رہےہیں، بلکہ سب و شتم کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کہ رہے ہیں کہ اگر کوئی حضرت علی پر سب و شتم سے بڑھ کر اں کی تکفیر بھی کر ڈالے تو وہ ہمارے نزدیک یقینا کافر ہے مگر اہل شام میں سے کسی نے تکفیر علی نہیں کی ، اس لیے وہ بھی حضرت علیؓ کی طرح صاحب ایمان ہیں۔
دوسرا قول میں نےمیرسید شریف جرجانی کا پیش کیا تھا کہ وہ شرح المواقف میں لکھتےہیں کہ قاتلین عثمان اور محاربین علی خطا کار ہیں کیونکہ دونوں اصحاب امام وقت اور خلفائےراشدین میں سےتھےاور ان کا قتل اور ان کی مخالفت حرام تھی۔ پھر علامہ سید شریف فرماتے ہیں کہ یہ خطا بعض کےنزدیک تفسیق کی حد کو نہیں پہنچتی لیکن ہمارے اصحاب کی کثیر تعداد نے حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کے مقاتلین کی تفسیق بھی کی ہےاس پر عثمانی صاحب کہتےہیں کہ انہوں نےتفسیق کی نسبت خطا کی طرف کی ہے،حضرت معاویہؓ کی طرف نہیں۔ خدا جانے ان الفاظ کا مطلب کیا ہے کہ تفسیق کی نسبت خطا کی طرف ہے مگر حضرت معاویہ کی طرف نہیں۔ خطا اگر ہے تو امیر معاویہ ہی کی ہے،پھر ان کی طرف نسبت نہ ہونے اور خطا کی طرف ہونے کے معنی آخر کیا ہیں؟ پھر سید جرجانی تخطئه اور تفسیق کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں جس سے مراد لا ز ما کسی شخص یا اشخاص ہی کو خطاوار یا فسق کا مرتکب ٹھہرانا ہے۔یہ بات البتہ صحیح ہے کہ ایک یا چند افعال فسق سے یہ لازم نہیں آتا کہ انکا فاعل اپنی پوری زندگی یا اس کےاکثر و غالب احوال میں فاسق قرار پائےاور صفت عدالت اس سےبالکل منتقی ہو جائے ۔ اس کے قائل اگر عثمانی صاحب ہیں تو ہم بھی اس کے منکر نہیں ہیں۔
میں نے اشارہ فقط دو حوالوں پر اس لیے اکتفا کیا تھا کہ مولانا مودودی فستق یا فاسق کا لفظ اپنی تحریر میں کہیں لائے ہی نہ تھے اور میں خواہ مخواہ اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا تھا کہ ان الفاظ کا اطلاق دوسروں نے امیر معاویہ کی ذات پر کیا ہےلیکن عثمانی صاحب چونکہ مصر ہیں کہ دو آدمیوں کا قول جمہور امت کےمقابلے میں ہرگز قابل قبول نہ ہو گا، اس لیے میں مزید دو اقوال کا حوالہ دیتا ہوں جن میں سے ایک مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی کا ہے اور جسے میں پہلے بھی نقل کر چکا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں:
"معاویہ کا محاربہ حضرت امیر کے ساتھ جو ہوا تو اہل سنت اس کو کب بھلا اور جائز کہتےہیں ۔ ذرا کوئی کتاب اہل سنت کی دیکھی ہوتی۔اہل سنت ان کو اس فعل میں خاطی کہتے ہیں۔مگر معاویہ اس خطا کے سبب ایمان سے نہیں نکل گئے کیونکہ حق تعالیٰ خود قرآن شریف میں فرماتا ہے:وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا تو دیکھو کہ حق تعالی با وصی مقاتلہ با ہمی ان کو مومنین تعبیر فرماتا ہےاور سوا اسکےصدہا آیات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فستق و گناہ کبیرہ سے مسلمان کا فرنہیں ہوتا ۔ ( ہدایت الشیعہ ص۳۰)
دوسرا حوالہ امام ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی کی سنن کبری کا ہے۔ آپ قتال اہل البغی کے باب میں ایک روایت بیان کرتے ہیں اور حضرت عمار تک اس کی سند پہنچاتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
(السنن الکبری، الجزء الثامن، المطبعة الاولی ، حیدرآباد، دکن ۱۳۵۴ صفحه ۱۷۴)
حضرت عمار کے اس قول کا واضح رُخ امیر معاویہ اوران کے ساتھیوں کی طرف ہے جو حضرت علی کی خلافت کو نہیں مانتے تھے۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب امیر معاویہ اور آپ کے رفقاء پر بغاوت کا الزام تسلیم ہے اور بے شمار علمائے اہل سنت نے انہیں بغاۃ قرار دیا ہے۔ کیا فسق یا بدعت کا لفظ بغاوت و محاربت کے لفظ سے سخت تر ہے کہ عثمانی صاحب اسے دیکھ کر یا سن کر لرزه بر اندام ہو رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے قلم سے بھی یہ الفاظ آخر ٹپک ہی پڑے کہ حضرت معاویہ کافعل في نفس فسق و گناہ کبیرہ ہے اگر چہ اخروی احکام کے اعتبار سے یہ اجتہادی غلطی کے ذیل میں آتا ہے۔
میں نے عدالت صحابہ کی بحث میں یہ سوال بھی عثمانی صاحب سے کیا تھا کہ عدالت کا جو بلند معیار آپ صحابہ کرام کے لیے وضع کر رہے ہیں، کیا آپ اس کو پورے سلسلہ رواۃ پر نافذ اور چسپاں کریں گے؟ میرا امد عا یہ تھا کہ صحابہ کرام اور راویان حدیث کی عدالت کا مسئلہ روایت حدیث ہی کےسلسلہ میں زیر بحث آتا ہے اور ہم تک حدیث صحابہ کرام سے براہِ راست نہیں پہنچی بلکہ بہت سےدوسرے غیر صحابی راویوں کے ذریعے سے پہنچی ہے۔ اب صحابہ کرام کی خطائیں خواہ وہ اجتہادی ہوں یا وہ صغیرہ یا کبیرہ گناہ ہوں، وہ سب انگلیوں پر گنےجاسکتےہیں۔مثال کےطور پر امیر معاویہؓ کےایسے افعال دس یا پندرہ یا میں ہی ہوں گے جن کےمقابلے میں ان کی روزانہ پانچ وقت کی نمازیں ہیں،روزے ہیں، حج وزکوٰۃ ہے،جہاد ہے اور دوسرے بے شمار اعمال حسنہ ہیں جن کا کوئی شمار نہیں۔ اس ساری نیکیوں اور بھلائیوں کے باوجود اگر امیر معاویہ گنتی کے چند گناہوں کی وجہ سے غیر عادل ہو جاتے ہیں تو پھر دوسرے راویوں کا کیا حال ہوگا جو امیر معاویہ سےزیادہ خاطی اور گناہ گار ہوں گے، اس لیے عدالت کی وہی تعریف صحیح اور قابل قبول ہے جس پر ہر وہ راوی پورا اتر سکے جس کی نیکیوں کا پلہ بحیثیت مجموعی برائیوں پر بھاری ہو اور جس کے متعلق ظن غالب یہ ہو کہ وہ حدیث میں غلط بیانی سے کام نہ لے گا۔ صحابہ کرام کی خطاؤں کے متعلق تو آپ کہہ دیں گے کہ یہ سب اجتہاد ہے لیکن ہر راوی کی ہر خطا کو کون اجتہاد کہے گا ؟ میرے اس سوال کا سیدھا جواب دینےکے بجائے پھر عثمانی صاحب اس بات کو دہراتے ہیں کہ عدالت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان فاسق نہ ہو، یہ شرط آج میں نے اپنی جانب سے نہیں گھڑ دی ہے، اصول حدیث کی جو کتاب چاہیں، کھول کر دیکھ لیجئے ، اس میں یہ شرط لکھی ہوئی ملے گی۔“
پہلے عثمانی صاحب نے اپنے جی سے گھڑ کر عدالت صحابہ کی تین تعریفات بیان کی تھیں جن میں سے کسی ایک کے حق میں کوئی ایک سند یا قول میرے مطالبے کے باوجود وہ پیش نہ کر سکے۔اب انہوں نے عدالت راوی کی پھر ایک منفی تعریف لکھ دی ہے جسکی تائید میں کوئی حوالہ نہیں دیا، نہ یہ ہی بتایا ہےکہ فاسق کا اطلاق ان کےنزدیک آیا اس شخص پر ہوتا ہے جس پر فسق یعنی عدم طاعت کی روش غالب آ جائے یا جس سے محض چند مرتبہ فسق کا صدور ہو۔اس میں شک نہیں کہ بعض محدثین نےفسق کو موجب جرح سمجھا ہےلیکن اس سے مراد غلبہ فسق ہے ورنہ کس انسان کے متعلق یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ اس کی زندگی فستق یا نا فرمانی سے یکسر خالی ہے۔ حافظ ابن حجر نے نزہتہ النظر میں جہاں راوی پر اسباب طعن گنوائے ہیں، ان میں پانچواں، سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:فمن فحش غلطه او كثرت غفلتة او ظهر فسقه فحديثه منکر . اس کا مطلب یہ ہےکہ جس راوی کی غلطیاں فاحش ہوں،جس کی غفلت حد سے زیادہ ہو اور جس کا فسق ظاہر وباہر اس کی حدیث منکر ہے۔ اس کا صاف مفہوم دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ جس میں غلطی غفلت اور فسق غالب نہ ہو اس کی حدیث قابل اخذ ہے۔ اس سے پہلے حافظ ابن حجر نے فحش غلطه کی تشریح ای کثرتہ سے کر دی ہے۔ اس کی مزید وضاحت شرح الشرح میں یوں بیان ہے:
"راوی کی اغلاط فاحش سے مراد یہ ہے کہ غلطیاں صواب سے زیادہ ہوں یا دونوں برابر ہوں کیونکہ غلطی سے خالی تو کوئی انسان نہیں۔“
یہ تو قولی یا فعلی فسق کی تشریح ہےآگےچل کر فسق اعتقادی کی بحث حافظ موصوف نےطعن کےنویں سبب البدعة “کےتحت کی ہےگویا کہ فسق بالمعتقد بھی بدعت کی ایک قسم ہےیہاں کی پوری عبارت اور اس کاترجمہ میں پہلے دے چکا ہوں جس میں وہ فرماتےہیں کہ بعض بدعت کا مرتکب یا معتقد کفر یا فتق کو جا پہنچتا ہے، مر تکفیر تفسیق میں چونکه ہر گروہ مبالغہ سےکام لیتا ہے،اس لیے روایت صرف اس راوی کی رڈ ہوگی جو کسی ایسےشرعی امر کا منکر ہو جو بالتواتر ثابت ہو یا اس کا ضروریات دین میں ہونا معلوم ومعروف ہو اس کا صاف مدعا یہ ہےکہ ہر فسق و بدعت موجب طعن یا منافی عدالت نہیں۔پھر میں نےخطیب البغدادی کی الکفایه سے پوری عبارت نقل کی تھی کہ خود صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین نے خوارج اور دوسرے ان فساق سے حدیث قبول کی ہےجو روایت حدیث میں صادق تھے اور اپنی زندگی میں بالعموم ممنوعات و مذمومات سےبچتے تھے۔ جو اہل بدعت اپنی بدعت کے داعی و مبلغ نہ تھے ، ان کی روایات سے کتب حدیث لبریز ہیں۔ حافظ ابوعمرو بن صالح اپنی کتاب علوم الحدیث (المعروف بمقدمہ بن صلاح) میں ایسےراویوں کےمتعلق لکھتےہیں کہ ائمہ حدیث کی کتابیں ان سے بھری پڑی ہیں (ان كتبهم طافحة بالرواية عن المبتدعة غير الدعاة و في الصحيحين كثير من احاديثهم ) پھر میں یہ بھی بیان کر چکا ہوں کہ اہل بدعت میں داعی و غیر داعی کی تفریق غیر حقیقی اور محض اعتباری ہے۔ امام ابن حزم نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر یہ تقسیم صحیح ہو تو پھر جو راوی اپنے مبتدعانہ نظریات کے داعی تھے اگر وہ حدیث میں کذب بیانی نہ کریں تو ان کی حدیث دوسروں کی بہ نسبت زیادہ قابل قبول ہےکہ ان کے عقیدہ و عمل میں تضاد تو نہیں اور وہ جس بات کو صحیح سمجھتےہیں،اسکی علانیہ دعوت بھی دیتے ہیں جب کہ غیر داعی مبتدع اپنی دعوت کو چھپاتے ہیں۔ پھر میری اس بحث پر عثمانی صاحب کا یہ معارضہ بھی عجیب و غریب ہے کہ البلاغ کی ساری بحث تو فسق کے بارے میں تھی ، بدعت کے بارے میں نہ تھی۔ فستق اور بدعت کوئی الگ الگ ممیز اشیاء نہیں بلکہ اعتقاد عمل ہی کے دو گونہ پہلو ہیں جیسا کہ بحث سابق سےواضح ہے۔اسی لیےمحدثین نے تعدیل و تجریح کے ضمن میں دونوں کا ذکر ایک ساتھ کیا ہے۔اگر عثمانی صاحب کے خیال میں فسق بدعت کے سوا کوئی اور چیز ہے اور دونوں میں کسی طرح کا کوئی علاقہ نہیں ہے تو ابن حجر کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ البدعة تكون بمفسق. "بدعت فسق سے بھی وجود میں آتی ہے۔“
جناب محمد تقی صاحب نےاس مقام پر جنگ صفین کے فریقین کی صحیح حیثیت کےزیر عنوان بھی ایک بحث کی ہےجس میں وہ فرماتےہیں کہ اگر امیر معاویہ صراحة برسر بغاوت تھے تو قرآن کریم کا یہ حکم کھلا ہوا تھا کہ ان سےقتال کیا جائےپھر صحابہ کی اکثریت نےاس قرآنی حکم کو کیوں پس پشت ڈال دیا حتی کہ صفین کی جنگ میں بدری صحابہ میں سےسوائےحضرت خزیمہ بن ثابت کےکوئی شریک نہیں ہوا۔محمد تقی عثمانی صاحب کی تحقیق حضرت عمار بن یاسر کےمتعلق کیا ہےکیا وہ بدری صحابی نہیں ہیں یا انہوں نےحضرت علی کےساتھ جنگ صفین میں شرکت نہیں کی؟ان میں سے جو بات درست ہے اسے وہ دلائل کے ساتھ بیان فرمائیں اور ہماری معلومات میں اضافہ کریں۔باقی رہا یہ سوال کہ کتنےصحابہ کرام نےاس جنگ میں شرکت کی یا نہ کی تو اسکا جواب بڑی طوالت کا خواہاں ہےکیونکہ یہ سوال محاصره عثمان، واقعہ حرہ اور ہر اس جنگ کے بارے میں پیدا ہوتا ہے جو عہد نبوی کے بعد کفار مرتدین کے خلاف لڑی گئی یا مسلمانوں میں باہمی طور پر پیش آئی۔ ہزاروں،لاکھوں صحابہ کرام میں سے کتنے اصحاب کی فہرشت عثمانی صاحب یا کوئی دوسرا شخص فراہم کر سکتا ہےکہ یہ یہ صحابہ فلاں اور فلاں جنگ میں شریک تھے اور فلاں میں نہ تھے۔ ہر جنگ خواہ وہ کتنی اہم ہو اس کےمتعلق یہ ثابت کرنا محال ہےکہ اس میں ہر صحابی یا ہر مسلمان کی شمولیت فرض عین ہے اور جو اس میں شامل نہ ہوا،اس نےکھلے ہوئےقرآنی حکم کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا۔خلافت راشدہ اور دو رفتن کی لڑائیوں میں بعض صحابہ کرام کے شریک نہ ہونے یا نہ ہو سکنےکےمتعدد وجوہ واسباب ہیں جن پر یہاں بحث ممکن نہیں ہے۔ اگر عثمانی صاحب کا موقف یہی ہے کہ امیر معاویہ کا خیال یہ تھا کہ حضرت علی نےان کے خلاف بغاوت کی ہے اور حضرت علیؓ کا خیال یہ تھا کہ امیر معاویہ نےانکےخلاف بغاوت کی ہے اور عثمانی صاحب کےنزدیک یہ دونوں خیال درست ہیں تو وہ اس موقف پر قائم رہ سکتے ہیں۔ لیکن ہر خیال کا حقیقت نفس الامری کے مطابق ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہ بات تاریخ سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ شام کے ماسواء پورے عالم اسلام نے حضرت علیؓ کے حق میں بیعت کر لی تھی بلکہ شام کے بہت سے مسلمان بھی حضرت علیؓ کے زیر بیعت تھے۔ انوار الباری کی جس جلد کا حوالہ اوپر دیا جا چکا ہے اس جلد کے اگلے صفحہ ۳۰ پر مصنف مولانا انور شاہ صاحب کا قول نقل کرتےہوئے جنگ صفین ہی کی بحث میں فرماتے ہیں کہ اکثر صحابہ کرام حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ تھے اور میرے علم میں انصار تو سب ہی اور مہارجرین میں سے زیادہ حضرت علی کے ساتھ تھے۔“
لاریب قرآن مجید کی تصریح کے مطابق اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام سے راضی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے راضی ہیں لیکن اس کےساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض صحابہ کرام سے کہائر وصفائر کا صدور ہوا ہے جن پر انہوں نے تو بہ بھی کی ہے اور وہ تو یہ اللہ تعالیٰ نے قبول بھی فرمالی ہےاس کے باوجود ان خطاؤں کا ذکر قرآن مجید اور صحیح ترین احادیث میں متعدد مقامات پر موجود ہے۔پھر ان پر امت کے بڑے بڑے علماء وفقہاء نرم یا گرم انداز میں ہمیشہ تبصرہ کرتے چلے آئے ہیں۔ان بز ردگانِ سلف کےقلوب اللہ، اس کےرسول اور صحابہ رسول کی محبت سے معمور تھے۔ اللہ کےبرگزیدہ نبی اور آپ کے اصحاب کی تعظیم کےجس مقام بلند پر ہمارے اسلاف فائز تھے ہم اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ لیکن ان اسلاف نے صحابہ کرام کی غلطیوں پر بر ملا تنقید کی ہے۔ مثال کےطور پر میں قاضی محمد بن علی الشور کانی کو لیتا ہوں جن کی تفسیر فتح القدیر اور فقہ الحدیث کی کتاب نیل الاوطار نہایت مشہور و متداول ہے۔ ان کی بے شمار دیگر تصانیف میں سے ایک وبل الغمام علی شفاء الاوام“ ہے۔ اس کا ایک اقتباس علامہ سید صدیق حسن صاحب اپنی کتاب اکلیل الکرام میں نقل فرماتے ہیں اور وہ یہ ہے:
قال الشوكاني في وبل الغمام لاشک ولا شبهة ان الحق بيد على في جميع مواطنه اما طلحة والزبير ومن معهم فلا نهم كانوا بايعره ونكثوا بيعته بغيًا عليه فوجب عليه قتالهم وأما قتاله للخوارج فلا ريب في ذلك وأما أهل الصفين ببغيهم ظاهر ولو لم يكن فى ذلك لقوله صلى الله عليه وسلم لعمار تقتلك الفئة الباغية لكان ذلك مفيد للمطلوب. ثم ليس معاوية من يصلح لمعارضته ولكنه أراد طلب الرياسة والدنيا بين أقوام اغتنام لا يعرفون معروفًا ولا ينكرون منكرا اف خادعهم بأنه طالب بدم عثمان فنفق ذلك عليهم وبذلوا بين يديه وماء هم وأموالهم ونصحوا له حتى كان يقول على لاهل العراق انه يود ان يصرف العشرة منهم بواحد من اهل الشام صرف الدراهم والدينار وليس العجب من مثل العوام الشام إنما العجب ممن له بصيرة ودين كبعض الصحابة المائلين اليه وبعض فضلاء التابعين فليت شعري اى امر اشتبه عليهم في ذلك الامر حتى نصر و المبطلين وخذلوا المحقين وقد سمعوا الأحاديث المتواترة الله في تحريم عصيان الأئمة ما لم يروا كفرا بواحا وسمعوا قول النبي صلى عليه وسلّم لعمار انها تقتله الفئة الباغية ولو لا عظيم قدر الصحبة ورفيع فضل خير القرون لقلت حب المال والشرف قد فتن سلف هذه الامة كما فتن خلفها اللهم اغفر انتهى كلامه.
١- مولانا محمد زکریا صاحب اور جزء المسالک شرح موطا مالک جلد ۵ صفحه ۴۳۴ پر فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے ساتھ نوے بدری صحابی،سات سوال بیعت رضوان، تمام مهاجرین اور انصار چارسو کی تعداد میں جنگ صفین میں شریک تھے۔
"امام شوکانی وبل الغمام میں لکھتے ہیں کہ بلا شک و شبہ تمام لڑائیوں میں حق علی کے ساتھ تھا۔اس لیے کہ طلحہ وزبیر اور ان کےساتھیوں نےپہلےعلی کی بیعت کی تھی،پھر اسےتوڑ دیا،پس مٹی پر ان سےلڑنا واجب تھا جہاں تک خوارج کا تعلق ہےان سےقتال میں تو کوئی شبہ ہی نہیں۔ رہےاہل صفین تو ان کی بغاوت بھی ظاہر ہے اور اگر اسکےبارے میں صرف یہ ایک ارشاد نبوی ہی ہوتا جو آنحضور نے عمار سے فرمایا کہ تجھے باغی گروہ قتل کرےگا تو یہی اثبات مدعا کےلیےکافی تھا۔ پھر معاویہ علی کی مخالفت کےحقدار نہ تھےلیکن انہوں نےسرداری اور دنیا کو طلب کرنےکا اراده ایسےلوگوں کےبل پر کیا جوانان تھےاور معروف و منکر کونہیں پہچانتے تھے، پس انہیں دھوکا دیا گیا کہ وہ حضرت عثمان کا قصاص چاہتے ہیں۔ یہ تدبیر ان پر کارگر ہوگئی اور انہوں نے حضرت معاویہ کےلیے جان اور مال کی قربانیاں دیں اور ان کے خیر خواہ بن گئے یہاں تک کہ علی اہل عراق سے کہتےتھے کہ میں چاہتا ہوں کہ تمہارے دس کے بدلے میں اہل شام کا ایک آدمی لے لوں جس طرح درہم دینار سے بدلا جاتا ہے۔ شامی عوام پر تو تعجب نہیں۔ تعجب ان حضرات پر ہے جو اہل دین و بصیرت تھے،مثلاً بعض صحابہ کرام و تابعین عظام جو معاویہ کی جانب مائل تھےمیری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس معاملےمیں کیا چیز ان پر مشتبہ رہ گئی کہ انہوں نےاہل باطل کی مدد کی اور اہل حق کا ساتھ چھوڑ دیا حالانکہ انہوں نے ارشاد الہی سن رکھا تھا کہ اگر ایک گروہ دوسرے کے خلاف بغاوت کرے تو باغی گروہ سےلڑو یہاں تک کہ وہ امر اللہ کی طرف لوٹے انہوں نے وہ احادیث متواترہ بھی سنی تھیں کہ جب تک صریح کفر کا ارتکاب امراء سے نہ دیکھو، ان کی نافرمانی حرام ہے اور انہوں نے آنحضور کا یہ قول بھی سنا تھا جو آپ نے عمار سے فرمایا تھا۔اگر صحابیت کا مرتبہ عظیم نہ ہوتا اور خیر القرون کا فضل بلند نہ ہوتا تو میں کہتا کہ حب مال و جاہ نےاس امت کےسلف کو بھی اسی طرح آزمائش میں ڈالا جس طرح سے اس نے خلف کو ڈالا ۔ اے اللہ تو مغفرت فرما۔ امام شوکائی کا کلام ختم ہوا۔“
(اکلیل الكوامہ فی تبیان مقاصد الا مامتہ مطبع صدیقی، بھوپال ۱۳۹۳، صفحه ۱۲)
اب میں فاضل اجل جناب محمد اعلیٰ بن علی تھانوی کی مشہور تالیف کشاف اصطلاحات الفنون“ سے ایک اقتباس پر عدالت صحابہ کی بحث ختم کرتا ہوں۔ فاضل موصوف لفظ ”صحابی کےتحت آخر میں شرح النخبه ، اس کی شروح، جامع الرموز، بر جندی وغیرہ کے حوالے سے حسب ذیل خلاصه درج فرماتے ہیں:
"جان لو کہ صحابہ کرام روایت حدیث کے معاملے میں سب کے سب عدول ہیں اگرچہ ان میں سے بعض کسی دوسرے معاملے میں غیر عدل ہوں۔“
( کتاب اصطلاحات الفنون، جلد ا ص ۸۰۹ طبع کلکته ۱۸۲۲ء)۔
واضح رہےکہ یہ کتاب ایک مستند دائرۃ المعارف(انسائیکلو پیڈیا) ہےجو اورنگ زیب عالمگیر کےعہد،۱۱۵۸ھ میں مرتب کی گئی تھی۔محمد تقی صاحب کی ساری بحث کی جڑ کاٹ دینےکےلیےصرف یہی ایک قول کافی ہے۔
[ "خلافت و ملوکیت" پر تنقید کا جو سلسلہ ”البلاغ‘ میں شروع ہوا تھا،اس کی چند قسطیں ”بینات (کراچی) میں بھی نقل کی گئی تھیں۔ اس سےپہلے اور بعد میں بھی اس ماہنامےمیں مولانا مودودی اور جماعت اسلامی پر کھلی اور چھپی چوٹیں رہتی ہیں۔میں اپنی بحث میں ایک مقام پر مروان کاذکر احیاناجس انداز میں کر بیٹھا، وہ بھی ادارہ ”بینات کو بہت ناگوار گزرا اور انہوں نے نهایت ناملایم اور غیر سنجیده طریق پر میرے خلاف خامه فرسائی فرمائی۔ اس وقت میں نے ضرورت محسوس کی کہ حدیث اور مسلک سلف کی روشنی میں مروان اور اس کے والد حکم کا اصلی مقام متعین کیا جائے۔ چنانچہ البلاغ کے جواب میں اپنی بحث کو چھوڑ کر میں نے ترجمان القرآن میں ”بینات“ کا جواب دیا جو اس باب میں نقل کیا جارہا ہے۔ آخر میں چند ضروری اضافے کر دیئے گئے ہیں۔ غلام علی ۔]
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی تصنیف ” خلافت و ملوکیت "کے خلاف پہلے کئی سال تک دیوبندی حضرات کا ایک خاص گروہ پورے ملک میں گلی گلی اور کوچےکوچےسب و شتم اور اشتعال و منافرت کا ایک طوفان برپا کرتا رہا۔ اس کے بعد اب ایک دوسرا گروه ایک دوسرے انداز میں پیش قدمی کر رہا ہے اور طرح طرح کےاعتراضات کو بزعم خویش مدلل و مزخرف بنا بنا کرسامنےلا رہا ہےاس سلسلےمیں مولانا مفتی شفیع صاحب کے صاحبزادے محمد تقی عثمانی صاحب نےالبلاغ میں جو کچھ لکھا، اس کی علمی حیثیت میں واضح کر چکا ہوں جسے دیکھ کر اہل علم خود رائے قائم کر سکتے ہیں کہ اس مخالفت کی تہ میں علم و استدلال کا کتنا وزن ہے۔اب مولانا محمد یوسف بنوری صاحب کےرسالہ بینات نے اس میدان میں قدم رکھا ہے اور اس کی ربیع الثانی ۱۳۹۱ھ کی اشاعت میں محمد الحق سندیلوی صاحب مولاناولی حسن ٹونکی صاحب اور مولانا محمد ادریس صاحب کی نگارشات شائع ہوئی ہیں۔ سندیلوی صاحب کی بحث پر اس وقت کچھ لکھنا میرے پیش نظر نہیں ہے۔لیکن دوسرے دو اصحاب نے جو خصوصی توجہ وعنایت میرے حال پر فرمائی ہے، اس کے متعلق کچھ عرض کرنےکا ارادہ ہے۔حقیقت یہ ہےکہ اس بحث کو طول دینے سےہماری طبیعت ابا کرتی ہے اور عام ناظرین کےلیے بھی یہ ایک تھکا دینےوالی بحث ہوگی لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ بغض مودودی بعض حضرات کو کسی طرح چین نہیں لینے دیتا اور وہ پے در پےاپنے بودے اور بے جان دلائل لا لا کر محض مولانا مودودی کی ضد میں بنوامیہ کے ہر فرد کی وکالت کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو اکابر امت میں سے کسی نے آج تک نہیں کی۔ ” خلافت و ملوکیت کے سلسلےمیں میری اب تک کی بحث میں ضمنا بعض مقامات پر مروان کا ذکر آ گیا ہےبینات (کراچی) کےمذکورہ شمارے میں مردان سے متعلق ان مندرجات کا تعاقب کیا گیا ہے۔ اس کا تفصیلی جائزہ لینا تو سر دست ممکن نہیں ہے، تا ہم اس تعاقب کے بعض اجزاء ایسےہیں جن پر تبصرہ و استدراک ضروری محسوس ہوتا ہے۔
مولانا مودودی نےخلافت و ملوکیت میں صفحہ ہےاپر مروان کےمتعلق البدایہ کی ایک روایت کاحوالہ دیا تھا۔ مدیر البلاغ نے اس روایت کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے ایک وجہ یہ بیان کی تھی کہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو ألفاظ لعن الله الحكم وما ولد منسوب کیےگئےہیں وہ مشکوک معلوم ہوتے ہیں۔ میں نے اسکےجواب میں تحریر کیا تھا کہ ایسی متعدد روایات حدیث و تاریخ میں موجود ہیں۔مثلاً مستدرک امام حاکم جلدہ صفحہ ۴۸ پر حضرت عبد اللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےحکم اور اس کے بیٹے(مروان )پر لعنت کی ہےاور اس روایت کے متعلق امام ذہبی نےبھی فرمایا ہےکہ صحیح ہے۔محمد تقی صاحب نے اس پر لکھا تھا کہ توجہ دلانے پر میں نے مستدرک سے رجوع کیا اور مجھے یہ حدیث سند صحیح کے ساتھ مل گئی_١"
اس پر تنقید کرتےہوئےبینات میں مولانا مفتی ولی حسن صاحب ٹونکی نےجو کچھ فرمایا ہےاس کا حاصل یہ ہے کہ تلخیص ذہبی میں صحیح نظر آنےکا مطلب یہ نہیں ہے کہ حافظ ذہبی نےصحت تسلیم کرلی۔ہاں اگر صحیح کہیں اور پھر کوئی کلام نہ کریں تب مطلب یہی ہوگا کہ اس کی صحت تسلیم کرلی گئی۔ یہ روایت جسے مولانا عثمانی نے فراخدلی سےقبول فرمالیا ہےبیچ نہیں۔ نہ حافظ ذہبی نےاسکی تصحیح پر صاد کیا ہے،نہ اصول حدیث کے معیار ہی پر پوری اترتی ہے، اس روایت کا مدار ابن رشدین پر ہے جو خود اور اس کا گھرانہ کذاب تھا۔ مروان اور بنوامیہ کے بارے میں بیشتر روایات و حکایات کا یہی حال ہے کہ وہ کارخانہ رفض کی پیداوار ہیں اور یہ ایک الگ مقالے کا موضوع ہے۔“اب مولانا ٹونکی صاحب کی ایک ایک بات پر علیحدہ اور مفصل کلام کیا جائے تو یہ بھی شاید کئی مقالوں کا موضوع بن جائے گا۔ اس لیے میں موجودہ جائزے میں ضروری باتیں عرض کرنے پر اکتفا کروں گا۔
١- بعد میں محمدتقی صاحب نے پھر اپنے اس موقف سے رجوع کرتے ہوئے لکھ دیا کہ انکا اعتراف صحیح نہ تھا اور بینات والوں کی بات درست ہے۔ تفصیل مضمون کے آخر میں ملاحظہ ہو ۔
پہلی بات یہ ہےکہ امام حاکم کی تصحیح سے امام ذہبی جب کبھی اظہار اختلاف کرتےہیں یا "صحیح" لکھنے کے بعد زاید کلام کرتےہیں،تو اس سےہر حال میں یہ لازم نہیں آتا کہ وہ حدیث کو موضوع و مردود قرار دے رہے ہیں۔ اسی لیے امام ذہبی کا انداز اور الفاظ ہر جگہ یکساں نہیں ہوتے۔کسی جگہ وہ بختی اور قطعیت کے ساتھ لا، واللہ وغیرہ الفاظ کے ساتھ تنقید کرتے ہیں، اور بعض دفعه نرم الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ صورت واقعی یہ ہے کہ امام حاکم نےجو احادیث مستدرک میں جمع کی ہیں،ان کے نزدیک یہ احادیث اکثر و بیشتر بخاری و مسلم کی شرائط پر پوری اترتی ہیں اور ہر علت سےخالی ہیں۔اس کےبرعکس امام ذہبی کے بیان اختلاف کا مقصود بالعموم یہ ہوتا ہے کہ فلاں حدیث شیخین یا ان میں سے کسی ایک کی شرط پر نہیں ہے یا اس میں کوئی مخفی علت ایسی ہے جس کی بنا پر اسےامام بخاری یا امام مسلم نےنہیں لیا۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ مستدرک کی کوئی حدیث علی شرط "الشیخین نہیں تو اب وہ کارخانہ رفض ہی کی پیداوار ہے۔"اس طرح تو مستدرک ہی نہیں بلکہ صحاح کی بہت سی احادیث سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔
مثال کے طور پر مستدرک جلد اوّل صفحہ ۲۳ کی دوسری حدیث پر امام حاکم لکھتے ہیں کہ یہ حدیث صحیحین کی شرط پر ہے۔ مجھے اس میں کسی علت کا علم نہیں، لیکن بخاری و مسلم نے اسے نہیں لیا۔ اس پر امام ذہبی فرماتےہیں کہ اس میں ایک راوی ایسا ہےجس سے فقط بخاری نے تخریج کی ہے، مسلم نے نہیں کی۔ اب ذہبی کے اس ریمارک سے کیا یہ حدیث بالکل معلول اور ساقط الاعتبار ہو جائے گی ؟ آگے صفحہ ۳۲ پر ایک حدیث پر امام ذہبی فرماتے ہیں کہ اس کا ایک راوی عزیز الحدیث ہے اور اس سےصحیحین میں روایت نہیں لی گئی۔اسی طرح صفحہ ۵۳ پر ایک حدیث کےایک راوی کےمتعلق فرماتے ہیں کہ وہ کثیر الوہم ہے۔ اب کیا یہ سب احادیث موضوع قرار پائیں گی؟ یہی حال اس حدیث کا ہےجس کےمتعلق مفتی صاحب فتویٰ دےرہےہیں کہ وہ اصول حدیث کے معیار ہی پر پوری نہیں اترتی۔ امام ذہبی نےاس حدیث کے ایک راوی احمد بن محمد بن حجاج رشدینی کے متعلق صرف یہ کہا ہے کہ اسےابن عدی نےضعیف کہا ہے۔اب یہ تو ایسی جرح ہے کہ صحاح ستہ کے بھی بے شمار روادی ایسےہیں جو اس سےمحفوظ نہیں رہ سکےصحاح کےرجال اور شروح حدیث کا جس نے بھی مطالعہ کیا ہےوہ اس سے بےخبر نہیں ہو سکتا۔ابن عدی کی تضعیف سےابن رشدین کا رافضی یا جھوٹا ہونا لازم نہیں آتا۔
یہ بات فی الواقع بڑی عجیب و غریب ہےکہ جس راوی کی روایت مولانا مودودی یا ان کی تائید میں راقم کی طرف سےنقل کردی جاتی ہےاس میں فوراً کیڑےپڑ جاتے ہیں اور وہ راوی جھٹ سے رافضی اور کذاب بن جاتا ہے۔ میں نےاسکی متعدد مثالیں محمد تقی صاحب کے مضامین میں بھی دیکھی ہیں۔مثلاً: ابن جریر کی ایک روایت جسکا خلافت و ملوکیت میں حوالہ دیا گیا تھا،اس کا ایک راوی مجالد بن سعید ہےاسکےمتعلق اصحاب رجال کےاقوال میں کتر بیونت کرتے ہوئےاپنی کتاب کے صفحہ ۳۰ پر عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ اس راوی کے تو ضعیف ہونے پر تمام ائمہ حدیث کا اتفاق ہے، یہ جھوٹا ہے،شیعہ ہے،مجہول ہے،متروک ہے" - - - - حالانکہ حافظ ابن حجر اور حافظ محمد بن طاہر المقدسی کی تصریح کے مطابق اس مجالد بن سعید سے امام مسلم نے اپنی صحیح میں حدیث لی ہے اور ابوداؤد، نسائی،ترمذی، ابن ماجہ چاروں نے اس سے روایت کی ہے۔ائمہ احناف نے اس راوی کی روایات اپنی کتابوں میں درج کی ہیں۔ مثال کے طور پر امام ابو یوسف نے الرد علی سیر الاوزاعی (لجنۃ احیاء المعارف النعمانیہ، حیدرآباد، صفحہ ۵) میں اس سے روایت لی ہے اور مولانا ابو الوفاء الافغانی_١ حاشیےمیں اس روای کےمتعلق فرماتےہیں: احد الاعیان، یعنی یہ نمایاں اور سربر آورده رواۃ حدیث میں سے ہیں اور ان سےانکے بیٹےاسماعیل_٢ امام سفیان ثوری، اصحاب سنن اربعہ، ابن المبارک اور خلق کثیر نے روایت کی ہے۔ اب ایک طرف ان ائمہ حدیث وفقہ کور کیے اوردوسری طرف علم وفن کے ان اجارہ داروں کو دیکھیے جو بلا تکلف ہر روادی کے بارے میں لکھ دیتےہیں کہ اس کے پیچھے تو تالیاں پیٹی جاتی تھیں اور اس کے پاس جو بھی جا تا تھا وہ بہت جھوٹ لکھ کر لاتا جو جاتا تھاوہ تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان مدعیانِ علم نے اپنے سوا ہر دوسرے شخص کو جاہل مطلق سمجھ رکھا ہے۔
١- مولانا ابوالوفاء افغانی ایک بلند پایہ فی عالم میں جنہوں نے احناف کی متعدد امہات کتب تحقیق و تنقیح کےساتھ مصر اور حیدر آباد دکن میں شائع کرائی ہیں اور اس غرض کےلیےلجنة احیاء المعارف النعمانیه کےنام سےمستقل ادارہ قائم کیا ہے۔ یہ مدرسہ نظامیہ میں استاذ بھی تھے۔ان کےسامنےمحمد تقی عثمانی صاحب جیسوں کی حیثیت طفل مکتب کی بھی نہیں ہے۔مجالد کےبیٹے اسماعمل اور خود مجالد سے ایک مرفوع روایت میزان اور دوسری کتب میں مروی ہےکہ اہل جنت آسماں کے درخشاں ستاروں کو الیقین میں دیکھیں گے اور ان ستاروں میں ابوبکر وعمر بھی ہوں گے۔ اب ایسے راویوں کو شیعہ کہنا کتنی بو الجھی ہے؟
٢- ان اسماعیل سےامام بخاری نے بیج میں حدیث کی ہےاور مکی بن معین و احمد بن سلیمان جیسے محدثین ان کےشاگرد ہیں جوحضرت ابو بکر کے اسلام لانےکی روایت ان سے بیان کرتےہیں(کتاب الجمع بین رجال الحسین ، امام بن طاہر المقدسی صفحه ۲۷) ۔
اب اس راوی ابن رشدین کا بھی یہی حال ہےکہ اسے محض اس لیےرگیدا جارہا ہےکہ اسکی روایت میں نے مولانا مودودی کی ضمنی تائید میں پیش کردی ہےاور رگیدنےوالےیہ بھول جاتےہیں کہ اسطرح کےاقوال جرح تو چھانٹ کر امام ابو حنیفہ کے خلاف بھی بہت سے پیش کیے جاسکتےہیں اور کیےجاتے ہیں۔ مفتی صاحبان کو چاہیے کہ وہ ہر بات کو پہلے اچھی طرح تو لیں، پھر بولیں۔امام بخاری تاریخ کبیر میں امام ابو حنیفہ کے متعلق کہتے ہیں،
" ابو حنیفہ مرجئی تھے۔ ان کی فقہ اور حدیث کے متعلق سکوت کیا گیا ہے۔“
تاریخ صغیر میں اس سے بھی سخت تر الفاظ ہیں جو میں نقل نہیں کرتا چاہتا۔مسند احمد صحاح ستہ حتی کہ سنن دارمی میں امام ابوحنیفہ سےکوئی حدیث روایت نہیں کی گئی۔مگر کیااس بنا پروہ متروک و مجہول شمار کیےجائیں گے؟رجال کی کتابوں میں سےکسی راوی کےمتعلق جرح نکال کر دیکھ لیا اور بس فقط اس کی بنا پر کسی روایت کورڈ کر دینا علم حدیث کا محض سطحی مطالعہ کرنےوالوں کا کام ہےجرح و تعدیل کی کتابوں میں کم ہی راوی ایسے ملیں گے جن کی سب نے تعدیل کی ہو، ورنہ بیشتر پر کسی نہ کسی نےجرح کی ہے،مگر اس کے باوجود کبار محدثین نے ان مجروحین کی احادیث نہ صرف یہ کہ اپنی کتابوں میں لی ہیں، بلکہ محدثین وفقہاء اپنے مسلک کی تائید میں جن احادیث سے استدلال کرتے ہیں، ان میں سے بکثرت ایسی ہیں جن کے راوی کسی نہ کسی کے نزدیک مجروح ہیں۔ یہ اصول محدثین کےہاں مسلم ہے جسے تدریب الراوی وغیرہ میں بیان کیا گیا ہے کہ ائمہ جرح و تعدیل میں سےکسی ایک نےبھی اگر ایک راوی کی توثیق و تعدیل کردی ہو تو اس راوی پر مجمل جرح اثر انداز نہیں ہوگی۔ امام نسائی کا یہ مشہور مسلک ہےاور اسے دوسروں نے بھی اختیار کیا ہے کہ جس رادی کے ترک پر محدثین کا اجماع نہ ہو ، وہ متروک و مجروح شمار نہ ہوگا اور اس سے حدیث لی جائےگی۔
میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر کی جس حدیث کا حوالہ مستدرک سے دیا ہے، اس کےساتھ مفتی ولی حسن صاحب نےمستدرک کی اسی مضمون کی بعض دوسری روایات میں بھی انقطاع اور ایک مجہول راوی کی نشان دہی فرمائی ہے۔میری سمجھ میں نہیں آسکا کہ جن روایات کو میں نےخود ہی قابل نقل نہیں سمجھا، ان پر خامہ فرسائی کی کیا حاجت تھی۔تاہم مفتی صاحب موصوف سےیہ امر تو مخفی نہ ہو گا کہ کسی روایت کی کسی ایک سند میں کلام ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا متن ضرور غیر صحیح یا موضوع ہو۔ عین ممکن ہے کہ یہ متن یا اسکےتوابع و شواهد دوسری اسناد صحیح سےمروی ہوں۔امام ابن جوزئی نےاس طرح بعض احادیث پر جن میں صحاح بلکہ صحیحین کی احادیث بھی ہیں ) موضوع ہونےکا حکم لگا دیا اور محض اس بنا پر لگا دیا کہ جو سند ان کےسامنےتھی اس کےراوی مجروح تھے۔اب یہی صورت یہاں در پیش ہے کہ یہ لعنت والا مضمون متعدد احادیث میں مذکور ہے جن میں سےسر دست میں مسند احمد کی ایک حدیث نقل کرتا ہوں جو مسند عبداللہ بن زبیر" میں مروی ہے۔
حدثنا عبد الرزاق انا ابن عيينة عن اسماعيل بن ابي خالد عن الشعبي قال سمعت عبد الله بن الزبير وهو مستند الى الكعبة وهو يقول ورب هذه الكعبة لقد لعن رسول الله صلى الله عليه وسلّم فلانا وما ولد من صلبه.
" ہم سے عبدالرزاق نے ، ان سے ابن عیینہ نے ، ان سےاسماعیل نے اور ان سےشعمی نےحدیث بیان کی کہ میں نے عبداللہ ابن زبیر کو خانہ کعبہ سے ٹیک لگائے یہ فرماتےہوئے سنا کہ اس کعبےکی رب کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلان اور اس کے صلبی بیٹے پر لعنت کی ہے۔“
یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ حضرت ابن زبیر نے جب یہ حدیث بیان کی ہوگی تو اس میں اس شخص اور اس کے لڑکے کی ضرور تصریح فرمائی ہوگی جس پر آنحضور نے لعنت فرمائی تھی ، ورنہ ارشادِ نبوی بالکل مبہم اور غیر واضح رہتا لیکن راویان حدیث کا یہ طریقہ ہے کہ کسی فرد متعین کا ذکر جب بار بار ایک ہی مفہوم پر مشتمل احادیث میں آتا ہو تو بعض اوقات وہ نام کو حذف کر کے فقط فلاں کا لفظ کہہ دیتے ہیں کیونکہ کہنے والے اور سننے والے خوب جانتے ہوتے ہیں کہ یہاں کون شخص مراد ہے۔ اس حدیث میں بھی جس باپ بیٹے کا ذکر ہے وہ حکم اور مروان کے سوا کوئی ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ کوئی اور باپ بیٹا ایسا احادیث میں مذکور ہی نہیں جو مور د لعنت نبوی ہوا ہو ۔ اب اگر مولانا ولی حسن صاحب پسند کریں اس حدیث اور اس کے رواۃ پر بھی طبع آزمائی فرما ئیں مگر اس وادی میں قدم رکھتے ہوئےیہ بھی با درکھیں کہ امام احمد بن مقبل بالإجماع اعرف بالحدیث ہیں اور ان کے مسند کی جن مرویات پر تنقید کی بھی گئی ہے، ان میں سے ایک ایک کا دفاع حافظ ابن حجر اور دوسرے محدثین نے کر دیا ہے۔اس لیے محض کتب رجال کے چند اقوال کے بل پر کچھ کہہ دینے سے کام نہیں چلے گا۔ اس معاملےمیں بھی آپ کو تنگ دلی نہیں بلکہ چار و ناچار فراخدلی ہی دکھائی پڑے گی جس کا طعنہ آپ محمد تقی صاحب عثمانی کو دے رہے ہیں۔
صحیح بخاری، کتاب التفسیر سورہ احقاف کے تحت ایک حدیث ہے جس میں بیان ہے کہ امیر معاویہ نے جب مروان کو مدینےکاعامل بنایا تو اسنےبیعت یزید پر لوگوں کو آمادہ کرنےکےلیےخطبہ دیا۔اس پر حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر نے ٹوکا تو مروان نےکہا پکڑوا سے۔حضرت عبد الرحمن نے بھاگ کر حضرت عائشہ کے گھر میں پناہ لی۔ مروان نے وہاں جا کر کہا کہ یہ وہ شخص ہے جس کےمتعلق قرآن میں ہے وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ اُفَ لَكُمَا .... حضرت عائشہ نے پردے کےپیچھےسےفرمایا کہ حضرت ابو بکر کےگھر والوں کےمتعلق قرآن میں کچھ نہیں اتر اسوائے اس کےکہ اللہ نےمیری برات نازل فرمائی۔بخاری میں تو اتنا ہی واقعہ بیان کیا گیا ہے،لیکن سورہ احقاف کے اس مقام کی تفسیر میں اور اس حدیث کی تشریح میں اکثر مفسرین و محدثین نے لکھا ہے مردان کی اس غلط بیانی کے جواب میں حضرت عبدالرحمن اور حضرت عائشہ نے مروان کو یہ بھی یاد دلایا تھا کہ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے۔ مثال کے طور پر تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئےامام ابن ابی حاتم کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ مروان سے حضرت عبدالرحمن نے کہا تھا:
پھر حافظ ابن کثیر امام نسائی کی ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے مروان کی الزام تراشی کے جواب میں فرمایا: ” مروان جھوٹ کہتا ہے۔ مزید فرمایا:
بخاری کی مذکورہ بالا حدیث کی شرح میں علامہ بدرالدین عینی نے محدث الاسماعیلی سے ایک روایت بیان کی ہے جس میں حضرت عائشہؓ کا یہی قول نقل کیا ہے کہ لکن رسول اللہ صلی الله علیه وسلّم لعن ابامروان في صلبه فمروان فضض اى قطعه من لعنة الله عزوجل پھر حافظ ابن حجر فتح الباری میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے محدث ابو یعلی کی روایت نقل کرتے ہیں کہ جب سروان اور حضرت ابن ابی بکر کے مابین تکرار ہوئی اور مروان نےحضرت عبدالرحمن پر جھوٹا انتہام عاید کیا تو انہوں نے فرمایا:
پھر حافظ ابن حجر نے بھی اسماعیلی کے حوالے سے حضرت عائشہ کا قول نقل کیا ہے کہ:
امام سیوطی کی تاریخ الخلفاء ایک مشهور و متداول کتاب ہے جو مدتہائے دراز سے درس نظامی کا جزور ہی ہے۔ یہ دراصل امام ذہبی کی تاریخ کا ایک جامع خلاصہ ہے۔ اس میں بھی حضرت معاویہؓ کے حالات کے آخر میں امام نسائی اور ابن ابی حاتم کے حوالے سے حضرت عائشہؓ کی حدیث نقل کی گئی ہے:
ان جمله مفسرین، محدثین ، اور مورخین نے مردان کے لعنت زدہ ہونے پر دلالت کرنے والی یہ ساری احادیث اپنی کتابوں میں بلا تنقید نقل کی ہیں اور ان پر درلینڈ یا روایہ کوئی اعتراض وارد نہیں کیا ہے۔ اس طرح کے متعدد دیگر اقوال سلف بھی پیش کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے بعد میں بینات کےمقالہ نویسوں سے پوچھتا ہوں کہ آیا یہ سارےحضرات رافضی اور کذاب ہیں جو ام المومنین حضرت عائشہ اور ان کےبرادر بزرگوار سےیہ نقل کر رہے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےمروان اور اس کےباپ حکم پر لعنت بھیجی ہے؟یا معاذ اللہ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ابن ابی بکر محض مروان کو مطعون کرنے کےلیےآنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے غلط بات منسوب کر رہے ہیں؟ کیا سنی کہلانے اور صحابہ کرام کا احترام کرنے کا مطلب آپ کے نزدیک یہ ہے کہ مردان کی ہر حال میں وکالت و مدافعت کی جائے ، اپنے سوا ساری دنیا کو رافضی ٹھہرایا جائے اور مروان پر کسی حدیث صحیح کی زد پڑتی ہو تو اس کا بھی انکار کر دیا جائے؟
مفتی ولی حسن صاحب فرماتےہیں کہ بنوامیہ کےبارے میں بیشتر روایات و حکایات کارخانه رفض کی پیداوار ہیں مگر میں مفتی صاحب کو یقین دلاتا ہوں کہ مسند احمد اور صحاح کےمصنفین کا اس کارخانےسےکوئی تعلق نہیں تھا۔ہاں البته روایات کی بہت سی فیکٹریاں خود بنو امیہ اور بنو عباس کےہاں بھی چالو تھیں۔ چنانچہ مولانا شبلی نعمانی سیرۃ النبی کے دیباچے میں فرماتے ہیں:
"فن تاریخ و روایت پر جو خارجی اسباب اثر کرتے ہیں، ان میں سب سے بڑا قوی اثر حکومت کا ہوتا ہے لیکن مسلمانوں کو ہمیشہ اس پر فخر کا موقع حاصل رہےگا کہ ان کا قلم تلوار سےنہیں دیا۔حدیثوں کی تدوین بنو امیہ کےزمانےمیں ہوئی ہےجنہوں نےپورے نوے_١ برس تک سندھ سے ایشیائےکو چک اور اندلس تک مساجد میں آل فاطمہ کی توہین کی اور جمعہ میں برسر منبر حضرت علی پر ان کہلوایا سینکڑوں حدیثیں امیر معاویہ وغیرہ کےفضائل میں بنوائیں۔ عباسیوں کےزمانےمیں ایک ایک خلیفہ کےنام بنام پیشین گوئیاں حدیثوں میں داخل ہوئیں۔ لیکن نتیجہ کیا ہوا، عین اسی زمانے میں محدثین نےعلانیہ منادی کردی کہ یہ سب جھوٹی روایتیں ہیں۔ آج حدیث کا فن اس خس وخاشاک سے پاک ہے اور بنو امیہ اور عباسیہ جوظل اللہ اور جانشین پیغمبر تھے ، اسی مقام پر نظر آتےہیں جہاں انہیں ہونا چاہیے تھا۔“
(سیرة النبی حصہ اول طبع ہفتم ، اعظم گڑھ ، ۱۹۲۵ء صفحه ۲۶)
بہر کیف محدثین رحمہم اللہ کی قبور اللہ نور سےمعمور فرمائےانہوں نےنہ صرف روافض و نواصب اور بنو امیہ و بنو عباس کےان کارخانوں کی مصنوعات کا تارو پود بکھیر کر رکھ دیا،بلکہ انہوں نےایسی صحیح احادیث کو بھی علانیہ بیان فرمایا جن میں سیئات بنی امیہ کی پیشین گوئی کی گئی تھی اور بنوامیہ ہی کےزمانے میں اپنی جان پر کھیل کر حضرت علی اور اہل بیت کے ان مناقب کی بھی نشر واشاعت کی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرماتے تھے، اور جنہیں لوگوں کے دلوں سے محو کرنے کے لیےحضرت علی اور ان کے گھرانے پر لعنت بھیجی جاتی تھی۔
سر دست مولانا مفتی ولی حسن صاحب کےتعقبات کےجواب میں گزارشات بالا پر اکتفا کرتےہوئے اب میں چند باتیں اس” تزییل کےبارے میں عرض کروں گا جو محترم مولانا محمد ادریس صاحب مدیر بینات“ نے رقم فرمائی ہیں۔ سب سے پہلے مجھے مروان کے متعلق ان کےدرج ذیل ارشاد پر اپنی گزارش پیش کرتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
١- نوے سال یوں بنتے ہیں کہ اس میں امیر معاویہ خلیفہ بنے اور ۱۳۲ھ میں جا کر ابو العباس سفاح نے اموی خلافت کا خاتمہ کر کے عباسی سلطنت کی بنا ڈالی۔ اس پورے دور میں (حضرت عمر بن عبد العزیز اور یزید بن ولید کے مختصر عہد کو چھوڑ کر ) حضرت علی دبنو فاطمہ پر بر سر منبر لعنت کی جاتی رہی۔
" اگر مروان کا باپ اور اس کی ماری نسل .... بقول ملک صاحب ..... ملعون على لسان نبوت تھی تو ملک صاحب اس کی کیا توجیہ کریں گے کہ معاذ اللہ اس خاندان کے صلیبی لڑکے عبدالعزیز کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے خاندان نے حضرت عمرؓ کی پوتی بیاہ دی اور اس کے بطن سے عمر بن عبد العزیز بن مروان بن حکم پیدا ہوئے جنہیں مولانا مودودی خلیفہ راشد تسلیم کرتے ہوں گے۔کیا فاروقی گھرانے کو اس ملعونیت عامہ کا انکشاف نہیں ہوا تھا؟“
مولانا موصوف نے میری عبارت پر یہ اعتراض و اشکال وار کرتے ہوئے ترجمان القرآن،مئی ٧١ء کا حوالہ دیا ہے۔ لیکن میں نے اس ماہ کے ترجمان میں کہیں بھی یہ بات نہیں لکھی کہ "مردان کا باپ اور اس کی ساری نسل" معلون علی لسان نبوت تھی۔میں نے اس پرچےمیں ایک جگہ صرف مروان کا "ملعون علی لسانِ نبوت ہونا" بیان کیا ہے (صفحہ ۱۹) اور اگلے صفحے پر بھی صرف مروان کو لعنت زدہ لکھا ہے۔ اس سے اگلے صفحے پر بھی ایک جگہ مروان اور دوسری جگہ”مردانیوں کی معنونی ذریت"کےالفاظ میرےقلم سےنکلےہیں۔یہاں مروانیوں سےمیری مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے گفتار و کردار میں مروان اور اس کے باپ سے ملتے جلتے ہیں۔ اس سے مراد ہرگز ساری نسل مروان نہیں ہے۔ میرے الفاظ معنوی ذریت میرے مدعا پر شہادت ودلالت کےلیےکافی ہیں۔ترجمان کے مئی کےاس شمارے کےعلاوہ بھی ، جہاں تک مجھے یاد ہے اور جہاں تک میں اپنی پوری بحث کی ورق گردانی کر سکا ہوں،میں نے یہ بات کہیں بھی نہیں لکھی کہ مروان یا اس کےباپ کی”ساری نسل"ملعون علی لسان نبوت تھی۔ تاہم میں مولانا محمد ادریس صاحب اور جملہ حضراتِ قارئین کےسامنے یہ بات نہایت صفائی اور وضاحت کے ساتھ بیان کیےدیتا ہوں کہ اگر بھی میں نےایسی بات کہی ہو یا میری کسی بات سےیہ مفہوم اخذ ہوتا ہو کہ میں خدانخواستہ مروان کی تاقیامت پوری نیچےتک کی نسل کو اللہ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت کا مستحق سمجھتا ہوں تو میں اس سے عند اللہ قطعی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ میں ہزار بار اللہ کی پناہ طلب کرتاہوں اس خیال باطل سےکہ عمر ثانی،پانچویں خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبد العزیز کو معاذ اللہ)اس لعنت کا مصداق سمجھوں جو احادیث مذکورہ میں وارد ہےمیں تو ترجمان جلد ۷ عدد ۶ میں خلافت و ملوکیت پر بحث کرتےہوئے حضرت نعمان بن بشیر کی ایک حدیث نقل کر چکا ہوں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خونخوار ملوکیت اور جبر و استبداد کی حکومت کے بعد دوبارہ خلافت علی منہاج نبوت کے قیام کی خوشخبری دی ہے اور یہ بھی لکھ چکا ہوں کہ اس حدیث کے ایک راوی حبیب بن سالم جو حضرت عمر بن عبد العزیز کے ہم عصر تھے، انہوں نے بطور تبشیر و تذکیر یہ حدیث حضرت ابن عبدالعزیز کو لکھ بھیجی تھی اور ساتھ تحریر کیا تھا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ ہی وہ امیر المومنین ہوں گےجو از سر نو خلافت علی منہاج النبوۃ کا احیاء کریں گے اور حضرت عمرؓ اس پر بڑے مسرور و شادماں ہوئے یہ بات بھی میں اپنےسلسلہ مضامین میں واضح کر چکا ہوں کہ حضرت عمر ثانی ہی نے بنو امیہ اور مروان کی متعدد بدعات وستیات کا خاتمہ کیا، مثلاً فدک کو مروان نےاپنی ذاتی جاگیر بنالیا تھا اور اس کا ورثہ حضرت عمر تک بھی پہنچا مگر آپ نےاسےدوبارہ ریاستی املاک میں شامل کیا، منبروں پر لعن طعن کا خاتمہ آپ ہی نےکیا۔ اس کے بعد مجھ پر یہ بہتان کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ میں حکم اور مروان کے ساتھ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو بھی خدا نخواسته ملعون سمجھتا ہوں؟
حقیقت یہ ہےکہ ان احادیث میں حکم کےساتھ جو ماولد کےالفاظ ہیں،ان سےمراد میرےنزدیک کلم کا بیٹا مروان یا پھر حکم اور مردانکی وہ اولاد ہے جو اپنے اوصاف واخلاق میں اس باپ بیٹےسےملتی جلتی ہے۔ اس میں حکم یا مردان کی ساری اولا د شامل نہیں ہےحکم اپنے ان افعال کی وجہ سے لعنت کا مستحق ہوا جو اس سے حضور نبوت میں سرزد ہوئےاور جن کی وجہ سےاسےاور اس کےساتھ مروان کو مدینہ بدر ہونا پڑا اور مروان اپنےان افعال شنیعہ کی وجہ سےاس لعنت کا مستحق بنا جو افعال عہد نبوی کے بعد اس سے صادر ہوئے اور جن کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی دی گئی تھی۔ظاہر ہےکہ جب مروان اور اسکا والد اپنےافعال ہی کی بنا پرمور دلعنت بنا،تو پھر مروان اور حکم کی ساری اولا د کس طرح ملعون قرار پاسکتی ہے۔ حکم کے بیس بیٹے تھے جن میں سے ایک مردان تھا اور مروان کے بھی آگے بارہ بیٹے تھے۔ یہ سب عادات و خصائل میں اپنے باپ کے مشابہ نہ تھے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان سب پر وعید نبوی کو چسپاں کیا جائے۔ حکم کا ایک بیٹا اور مروان کا بھائی عبد الرحمن بن حکم بھی تو تھا جس کے متعلق علامہ ابن عبدالبر استیعاب میں لکھتے ہیں-
اب آخر کیا وجہ ہے کہ میں عبدالرحمن کو بھی ملعون سمجھوں۔ میرے خلاف اور میری پیش کردہ ااحادیث کے خلاف بینات“ کا یہ اعتراض اسی طرح کا ہےجس طرح کا اعتراض بنوامیہ کےبعض دوسرے حامی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کے خلاف کرتے ہیں جو بنو امیہ اور بنو مروان کی مذمت میں دیگر احادیث میں وار ہیں اور دلیل یہی دی جاتی ہے کہ ان کی زد حضرت عثمان اور عمر بن عبدالعزیز پر پڑتی ہے، حالانکہ ان میں سے متعدد احادیث کی سند بالکل صحیح ہےاور محدثین و شارحین نےان سےحضرت عثمان اور حضرت ابن عبدالعزیز کو خارج ومستثنی قرار دیا ہے۔ بہر کیف جس پر اللہ اور اس کے رسول نے اس کے کرتوتوں کی بنا پر لعنت کی ہو، مجھے اسے ملعون على لسان نبوت سمجھنے یا کہنے میں کوئی تردد نہیں ہے۔ یہ چیز کسی پر شاق گزرتی ہے تو گزرتی رہے۔
مولانا محمد ادریس صاحب مجھ سےاس بات پر خفا ہیں کہ میں نے”غریب مروان کو خوب پیٹ بھر کر صلواتیں سنائی ہیں اور میری تحریر منہ بول کر کہہ رہی ہے کہ یہ نی کے قلم کی تراوش نہیں بلکہ کسی جلے کے رافضی کی تخلیق ہے ۔ پھر فرماتے ہیں انہیں ذوق مودودیت کی وکالت کے بنیادی حق سے کون روک سکتا ہے، تاہم وہ یہ نہ بھولیں کہ مردان کو اکثر محدثین صغار صحابہ میں شمار کرتےہیں۔ ان سے روایت کرنے والوں میں اجلہ تابعین کےعلاوہ جلیل القدر صحابی حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔امام بخاری مروان کی احادیث روایت کرتے ہیں، امام مالک نے موطا میں ان کے فتاویٰ اور فیصلوں کو بطور حجت نقل کیا ہے۔ اگر مردان اسی قماش کا آدمی تھا جیسا کہ رافضی افسانوں کے سہارے محترم ملک صاحب باور کرانا چاہتے ہیں، تو وہ بتا ئیں کہ اس صورت میں ان کے عطا کردہ خطابات کا مستحق کیا صرف مروان رہ جاتا ہے اور کیا صحابہ وتابعین وغیرہ اس کی لپیٹ میں نہیں آجاتے ؟“
جناب مولانا محمد اور لیس صاحب نے اپنے قلم سے جولولوئے لالا یہاں (اور آگے چل کر )بکھیرے ہیں ان پر پورے واشگاف انداز میں کچھ عرض کرنا تو شاید سوء ادب ہو لیکن میں کیا یہ دریافت کر سکتا ہوں کہ جب مروان کو اکثر محدثین صغار صحابہ میں شمار کرتے ہیں اور امام بخاری کے اس سے روایت بیان کرنے کی بنا پر مروان کی جلالت قدر میں اور اضافہ ہو جاتا ہےتو پھر آپ "غریب مروان" اور "اس قماش کا آدمی“ کہہ کر کیوں تو ہین صحابہ کا ارتکاب فرمارہے ہیں۔یہ الفاظ بھی تو کسی سنی کے قلم سے نہیں پکنے چاہئیں، آپ کی زبان قلم کو تو رافضی افسانوں سے کوئی اثر قبول نہیں کرنا چاہیے اور بعض دوسرے مستیوں کی طرح جب بھی مروان کا ذکر خیر ہو، تو آپ کو بھی حضرت مروان رضی اللہ عنہ رقم فرمانا چاہیے۔ یہ نیچے دروں نیچے بروں کی پالیسی آپ کےشایانِ شان نہیں ہے۔ مروان کے صحابی یا غیر صحابی ہونے کےمسئلےپر میں انشاء اللہ بھی تفصیل سےلکھوں گا،البتہ روایت حدیث کے معاملے میں حقیقت حال اور صحیح موقف وہی ہے جو میں پہلے عدالت صحابہ و عدالت رواۃ کی بحث میں بیان کر چکا ہوں۔ جو راوی بھی صادق القول فی روایت الحدیث ہےوہ خواه مبتدع ہو، مرتکب کبیرہ ہو، اس کی روایت بلا تامل کی جاسکتی ہےاور لی گئی ہے،صحیح بخاری میں بھی مروان سےروایت اسی بنا پر اخذ کی گئی ہےاس سے مروان کی صحابیت و جلالت کا ثبوت فراہم نہیں ہوتا، امام بخاری نے بالعموم مروان کی روایت حضرت مسور بن محزمہ کو ساتھ مقرون والحق کر کےلی ہےتاہم اس سےتنہا کوئی روایت مروی ہو تو وہ بھی قابل قبول ہے کیونکہ امام بخاری کے نزدیک حضرت عروہ بن زبیر کے قول کے مطابق مردان متہم فی الحدیث نہیں تھا، اس کے متعلق حافظ ابن حجر کی تصریح درج ذیل ہے، جسے انہوں نے ہدی الشاری، الفصل التاسع میں مجروح راویوں پر بحث کرتے ہوئے مروان کے زیر عنوان دیا ہے:
فإنما حمل عنه سهل بن سعد وعروة وعلى بن الحسين وأبو بكر بن عبدالرحمن بن الحارث وهؤلاء أخرج البخاري أحاديثهم عنه في صحيحه لما كان أميرا عندهم بالمدينة قبل ان يبدو منه فى الخلاف على بن الزبير مابدا .
" مروان سےحضرت سہل بن سعد، عروہ علی بن حسین اور ابوبکر بن عبد الرحمن نےجو حدیث لی ہےاور ان کی تخریج امام بخاری نے صحیح میں کی ہے، یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ ان اصحاب کی موجودگی میں امیر مدینہ تھا اور جب تک اس سے حضرت ابن زبیر کی مخالفت کا صدور نہیں ہوا تھا۔"
ابن حجر کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ان مذکورہ بالا حضرات نے مروان سے اس وقت تک روایت اخذ کی ہے۔ جب تک اس نے حضرت عبداللہ بن زبیر کے مقابلے میں اپنی سلطنت قائم کرنے کے لیے اپنی تلوار نیام سے نہیں نکالی تھی اور اسی زمانے کے مرویات مروان کو امام بخاری نے صحیح میں لیا ہے۔ مگر میرے خیال میں یہ تحدید تخصیص کچھ زیادہ مفید نہیں ہے کیونکہ مروان کےکارنامے پہلے بھی کچھ کم نہ تھے۔ صحیح تر بات یہی ہے کہ مردان کی ساری زیادتیوں کے باوجود جب اس سے کذب فی الحدیث کا ثبوت نہیں ملتا تو اس کی روایت بلا تامل لی گئی ہے اور لی جانی چاہیے مگر اس سے اس کے معائب ومثالب کالعدم نہیں ہو جاتے ۔ باقی رہی یہ بات کہ امام مالک نےمروان کے فقہی فتاویٰ اور فیصلوں کو بطور حجت پیش کیا ہےتو اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلے دراصل مـديـنـة النبی کے مکین اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اجماعی عمل پر بنی تھی جس کی خلاف ورزی مدینہ میں رہتے ہوئے آسان نہ تھی۔ اس کے باوجود مروان نے متعدد بدعات ومحدثات کو رائج کرنےکی کوشش کی جن کی تصویب نہ امام مالک یا کسی دوسرےمحدث وفقیہ نےکی اور نہ جن پر عمل کرنے کی جرات آج مدیر بینات یا کسی دوسرے شخص کو ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر عیدین کےلیے خطبہ نماز سے پہلے دینا اور اس کے لیے منبر کا اہتمام کرنا، آخران ” مروانی فیصلوں کو امت مسلمہ میں کس نےاس وقت سے لے کر آج تک ”حجت مانا ہے۔ امام مالک نے موطا میں آنحضور اور خلفائے راشدین کی سنت بیان کی ہے کہ وہ خطبہ عیدین نماز کے بعد پڑھتے تھے مگر مروان کی سنت کا ذکر نہیں کیا۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے مستویٰ میں تقریباً ساٹھ اجلہ شیوخ مالک کو نام بنام بیان کیا ہےمگر مروان کا نام مجھےان میں کہیں نظر نہیں آیا، بلکہ امام ابن حزم نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ مالکیہ کا عمل اہل مدینہ کو بطور حجت پیش کرنا بےکار ہے، کیونکہ وہاں مروان ہی کےزمانے سے تغیر سُٹن کا آغاز ہو گیا تھا_١
صحیح بخاری،ابواب العیدین،باب الخروج بغیر منبر اور دوسری کتب حدیث میں تصریح ہےکہ مروان نے جو منبر نماز عید کےلیےخاص طور پر بنوایا تھا جب وہ اس پر نماز عید سے پہلےہی چڑھنےلگا تو حضرت ابو سعید خدری نےاس کا دامن پکڑ کر کھینچ لیا مگر مروان دامن چھڑا کر منبر پر براجمان ہو گیا۔اس کےبعد حضرت ابوسعید فرماتے ہیں:
"میں نے مروان سے کہا خدا کی قسم تم نے(امر شریعت میں ) تغیر و تبدیل کر دیا۔ تو مروان کہنے لگا، ابوسعید جو کچھ تم جانتے ہو ، اس کا دور گزر چکا۔ میں نے (حضرت ابوسعید نے ) جواب دیا: خدا کی قسم جو کچھ میں جانتا ہوں وہ اس سے بہتر ہے جو میں نہیں جانتا۔“
١- الاحکام لابن جزم صفحه ۸۵۴ مطبعة العاصمه، قاہرہ ۔
اب ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ حضرت ابوسعید خدری تو مروان کو اس پر ٹوک رہے ہیں کہ تو نےاحکام شریعت میں تبدیلی کر کےخطبےکو نماز عید پر مقدم کر دیا اور مروان اس خلاف ورزی سنت پر نادم ہونے کے بجائے کہ رہا ہے کہ ابوسعید جس علم کا مظاہرہ تم کر رہے ہو، وہ تو قصہ ماضی اور داستانِ پارینہ ہے۔ کیا الٹا چور کوتوال کو ڈانٹےکی مثال اس سےموزوں تر کوئی اور ہو سکتی ہے؟ کوئی صاحب اگر ہم سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہم محض طعنہ رفض اور الزام تو ہمین صحابہ “ سے بچنےکے لیذ ترک سنت، مخالف شریعت کی بھی داد دے سکیں گے تو یہ بہت مشکل ہے۔"تعظیم صحابہ" کی آخر یہ کون سی قسم ہے کہ جس شخص کےسامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پیش کی جاتی ہے اور وہ جواب میں کہتا ہے کہ اس کا دوراب لد گیا ہم ایسے شخص کی تعظیم و تکریم کریں۔ اگر ایسے شخص کےخلاف لب کشائی جائز نہیں تو فضل الرحمن اور پرویز صاحب کے خلاف زبان کھولنا کیسے جائز ہے؟
پھر مولانا محمد اور لیس صاحب فرماتے ہیں ” جہاں تک ہمارے اور ہمارے اکابر کے مسلک کا تعلق ہے، وہ یہ ہے کہ ہم مروان کے بارےمیں افراط و تفریط دونوں کو مناسب نہیں سمجھتے،جس شخصیت کے مناقب و مثالت دونوں تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہوں،اگر اس کی مدح و ثنا کو آپ کا جی نہیں چاہتا تو نہ کیجئےمگر اس کے حق میں لعن طعن کی زبان بھی مت کھو لیے۔ اس کے ماحول کےالجھے ہوئے حالات سے بھی آنکھیں بند نہ کیجئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنےمردوں کو برا بھلامت کہو، انہوں نے جو کچھ آگے بھیجا تھا، وہ اسے پاچکے ہیں ۔ اس کے جواب میں میری گزارش یہ ہے کہ مجھے تو مروان یا کسی دوسرے فرد متعین کے حق میں لعن طعن کی زبان کھولنےسےخاص شغف نہیں ہےلیکن کیا مجھےاس بات کا بھی حق نہیں پہنچتا کہ میں بی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا وہ ارشاد بھی بیان کروں جس میں کسی شخص پر لعنت کا ذکر ہو۔ بلاشبہ آنحضور نے مردوں بلکہ زندوں کو بھی بلا وجہ برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے، لیکن دوسری طرف قرآن وحدیث ہی میں ایسی مستثنی مثالیں موجود ہیں جن میں بعض افراد پر اللہ اور اس کےرسول کی لعنت مذکور ہے۔ پھر مولانا موصوف نےاپنےجن اکبار کےمسلک کی ترجمانی فرمائی ہے،معلوم نہیں اس فہرست میں کون کون بزرگ شامل ہیں اور ان کا افراط و تفریط سے میرا مسلک کس مقام پر بیان ہوا ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی یقیناً ان اکابر میں شامل ہوں گے جنہوں نے رفض و تشیع کے رد میں ایک مبسوط کتاب تحفہ اثنا عشر دیکھی ہے، ان سے درج ذیل سوال و جواب فتاوی عزیزی میں منقول ہے:
جواب اہل بیت کی محبت فرائض ایمان سےہےنہ لوازمِ سنت۔اور محبت اہل بیت سے ہے کہ مروان علیہ الملعنہ کو برا کہنا چاہیےاور اس سےدل سےبیزار رہنا چاہیے۔علی الخصوص اس نےنہایت بدسلوکی کی حضرت امام حسین اور اہل بیت کے ساتھ اور کامل عداوت ان حضرات سے رکھتا تھا اس خیال سے اس شیطان سے نہایت ہی بیزار رہنا چاہیے۔
(فتاوی عزیزی صفحه ۲۲۵، باہتمام حاجی محمد ذکی، ناشر سعید کمپنی، ادب منزل، پاکستان چوک، کراچی، ۱۳۸۷ھ)
علمائے دیوبند کےاستاد الاساتذة مولانا احمد علی صاحب سہانپوری، بخاری، کتاب الفتن،حديث : هلكة امتى على يدي غلمة من قریش کی شرح میں فرماتے ہیں:
اس کے بعد دیوبند کے شیخ المشائخ مولانا محمود الحسن صاحب کا درج ذیل قول ملاحظہ ہو جو سنن ترندی، صلوٰۃ عیدین کی تقریر میں منقول ہے:
يقال ان اول من خطب قبل الصلوة فى العيدين مروان بن الحكم. كان مروان بن الحكم ظالما فحاشا مستدبرا عن سنة عليه السلام وكان يسب الناس في المجامع مثال الجمعة والأعياد والناس كانوا لا ينتظرون بعد الصلوة الى الخطبة لسبه فى أثناء الخطبة فقدم الخطبة على الصلوة لئلا ينتشر الناس وكانوا ينتظرون للصلواة لا محالة.
"کہا جاتا ہے کہ جس نے سب سے پہلے نماز عیدین سے قبل خطبہ دیا وہ مروان بن حکم تھا۔ مروان بے حد پرلے درجے کا ظالم اور سنت نبوی کو پیٹھ دکھانے والا اور اس سے منہ موڑنے والا تھا اور لوگوں پر جمعےاور عیدین کےمجمع ہائےعام میں سب وشتم کرتا تھا اور لوگ اس سب و شتم کی وجہ سےنماز عید کےبعد اس کےخطبے کا انتظار کیے بغیر چلے جاتے تھے۔ اسی لیے اس نے نماز پر خطبے کو مقدم کیا تا کہ لوگ منتشر نہ ہوسکیں کیونکہ ان کے لیے نماز کا انتظار تو ناگزیر تھا۔“
( التقرير الترمذی، مولانا محمود الحسن مکتبہ رحیمیہ دیوبندی ۱۳۷ه ص ۱۹)
مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب کے افادات ترندی جو مولا نا محمد بیٹی صاحب کاندھلوی نے الکواکب الدری کے زیر عنوان جمع کر کے چھپوائے ہیں ، ان میں اسی حدیث کی شرح میں فرماتےہیں:
اول من خطب قبل الصلوة مروان بنيّة فاسدة، فكان يعرض في خطبته بأهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم ويستى الأدب بهم فلما رأى الناس ذلك وان ليس لهم صبر على استماع أذاهم رضى الله عنهم جعلوا يذهبون إذا فرغوا من الصلوة فقدم مروان الخطبة ليلجئهم الى سماعها فكان فعله ذالک خبنا ظاهرًا فأنكروا عليه.
"مروان نےسب سےپہلےبری نیت کےساتھ عید کا خطبہ نماز پر مقدم کیا۔وہ اپنےخطبےمیں اہل بیت النبی پر طعن و تعریض کرتا تھا اور ان کےحق میں بےادبی کرتا تھا۔جب لوگوں نےیہ دیکھا اور وہ اہل بیت کی اس ایذارسانی پر صبر نہ کر سکے تو وہ نماز کے بعد چلے جاتے تھے۔ تب مروان نے خطبہ مقدم کیا تا کہ لوگوں کو مجبور کر کے ایسا خطبہ سنائے ، پس اس کا یہ فعل خبث کا مظاہرہ تھا جس پر لوگوں نے اظہار نفرت کیا)۔
یہ بات بخاری ، صلوٰۃ العیدین کی اس حدیث میں بھی مذکور ہے جس کا کچھ حصہ میں پہلےنقل کر آیا ہوں کہ مروان نے خود حضرت ابو سعید سے کہا کہ لوگ نماز عید کےبعد ہمارےلیےبیٹھتےہی نہیں،اس لیےخطبہ کو مقدم کرنا پڑا_١اب جو لوگ مردان کو صغار صحابہ میں شمار کرکےاسکےمناقب بیان کرتےہیں،انہیں خدارا کچھ تو سوچنا چاہیےاور سوچ کر اس سوال کا جواب دینا چاہیےکہ آخر سب مسلمان بشمول صحابہ کرام اس صغیر صحابی کا خطبہ عید سننےسے کیوں اتنا دُور بھاگتےتھےحالانکہ خطبہ سننا مسنون اور ایک طرح سےنماز کاحصہ ہے؟مولانا محمد ادریس صاحب اپنےاکابر کا جو مسلک بیان فرما رہےہیں،اس بیان کردہ مسلک کی روشنی میں وہ ان اکابر کےبارےمیں کیا ارشاد فرماتےہیں جن کےاقوال میں نےابھی درج کیےہیں؟دیوبندی مسلک کےاصل ترجمان یہ حضرات ہیں یا آپ ہیں؟ آپ فرماتےہیں کہ تم مردان کم کارناموں اور اسکےماحول کےالجھےہوئےحالات سےبھی آنکھیں بند نہ کرو۔اس نصیحت کےہم شکر گزار ہیں مگر آپ بھی مروان کےان کارناموں سے چشم پوشی نہ فرمائیں جنہوں نے اس ماحول کےحالات کو الجھانےمیں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔آپ کہتے ہیں اور امام ذہبی کا حوالہ دیتےہیں کہ خدا سے بغض رکھنے والوں نے،جن کا اوڑھنا بچھونا کذب و نفاق تھا، انہوں نے طوفانِ بدتمیزی سے طومار تیار کیے اور آپ کو شاید معلوم نہیں کہ خود امام ذہبی نے مروان کے بارے میں اپنی متعدد تصانیف میں کیا کچھ لکھا ہے؟ مگر محدثین نے جو کچھ مروان کے متعلق فرمایا ہےسر دست میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ تا ہم آپ نےجو باصرار اس امر کا اعلان کیا کہ ہمارے بزرگوں کا ذوق یہی ہے کہ وہ مروان پر زبان طعن دراز نہیں کرتے ، اس کے جواب میں آپ کے بزرگوں کے چند اقوال نمونہ پیش کر دیئے گئےجنہوں نے "مروان پر زبان طعن دراز" کی ہے۔۔١
١- مردان اور حضرت ابو سعید کا یہ واقعہ معمولی لفظی اختلاف کے ساتھ صحیح مسلم ، دیگر کتب حدیث میں بھی وارد ہے۔
مولانا محمد ادریس صاحب نےآخر میں ایک حیرت انگیز بات ارشاد فرمائی ہےفرماتے ہیں "ملک صاحب کو غالباً کسی دار الحدیث میں کتب حدیث کی سماعت کا اتفاق ہوا ہو گا اور طلبہ حدیث کی اس عادت کا بھی علم ہوگا کہ وہ ہر حدیث کی سند پڑھنےکےبعد متن حدیث شروع کرنے سےپہلےصحابی کے نام پر رضی اللہ عنہ و عنہم کہنےکا التزام کرتے ہیں۔اب بخاری شریف کی قرآت کرتےہوئےجہاں مروان بن الحکم کےنام پر سند ختم ہو جاتی ہے، وہاں ملک صاحب رضی اللہ عنہا کہنے کا فتویٰ دیں گے یا معاذ الله لعنة الله عليهم کا؟ بینوا توجروا۔‘اس صریح اشتعال آمیز اور مغالطه خیز عبارت کو بغور پڑھنےکےباوجود میں یہ سمجھنےسےقاصر ہوں کہ اس کا منشاء ومدعا کیا ہے اور اسکی بنا کیا ہے؟ اگر مولانامحمد اور لیس صاحب یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ امام بخاری نے مروان یا حکم کو صحابی قرار دیتے ہوئے ان سے کوئی مرفوع و متصل حدیث براہ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح بخاری شریف میں تخریج کی ہے، تو یہ بات بالکل غلط ہے۔ امام بخاری نے صحیح میں ایسی کوئی حدیث نہیں لی ہےنہ وہ ان کو صحابہ میں شمار کرتے ہیں۔اپنی تاریخ میں ان کا قاعدہ ہےکہ وہ بالعموم صحابی کے ساتھ له صحبة وغیرہ سے الفاظ درج کرتے ہیں یا کوئی ایسی حدیث نقل کرتے ہیں جوان صحابی نے بلاواسطہ آنحضور سے روایت کی ہو لیکن تاریخ کبیر جلد ۴ صفحہ ۳۶۸ ( دائرۃ المعارف) میں مروان کے ترجمے میں ایسی کوئی تصریح نہیں، بلکہ صرف یہ ہے کہ
١- محمد تقی صاحب نے اس حقیقت سےانکار کرنے پر بڑاز دور لگایا تھا کہ حضرت معاویہ اور ان کےگورنر مردان و غیره حضرت علی اور اہلِ بیت پر جمعہ کےخطبوں میں سب و شتم لعن طعن کرتےتھے۔اب وہ مزید میری اس بحث کو بھی دیکھ لیں جس میں مولانا شبلی نعمانی اور دیو بند کے اکابر اس سب و شتم کو بطور ایک والد مسلّمہ کے ہی کر رہے ہیں اور اس کے لیے کسی حوالے کی ضرورت نہیں محسوس کرتے بےشمار دیگر ائمہ سلف طرح بیان ہے۔ اس کے بویا و شخص کا نہ مانوں کی رٹ لگانا چاہے، اسے کون روک سکتا ہے؟
امام ذہبی میزان الاعتدال میں مروان کے ترجمے میں صاف فرماتے ہیں:
” بخاری کہتے ہیں: مروان نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ میں (ذہبی ) کہتا ہوں کہ اس نے بسر ہ ( بنت صفوان ) اور عثمان سے روایت کی ہے اور اس کے اعمال ہلاکت خیز ہیں، ہم اللہ سے سلامتی طلب کرتے ہیں۔ مروان نے حضرت طلحہ کو تیر مارا اور بہت سے نا گفتنی افعال کا ارتکاب کیا۔“
طبقات ابن سعد میں حضرت طلحہ کے ترجمہ میں پانچ مختلف اسناد سے مروی ہے کہ مروان ہی نے حضرت طلحہ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ ان میں ایک روایت عبدالملک بن مروان کی ہےجو مروان کا اپنا بیٹا ہے۔ امام بخاری کا یہ قول تہذیب التہذیب اور دوسری کتابوں میں بھی منقول ہے کہ مروان صحابی نہیں۔ مردان کی مذمت میں امام ذہبی کے اس سے شدید تر اقوال بھی موجود ہیں۔ امام نووی تہذیب الاسماء میں فرماتے ہیں:
صحیح بخاری کے جو نسخےمتداول ہیں اور جن کی سندامام بخاری تک پہنچتی ہے، ان میں جہاں کسی صحابی تک سلسلہ اسناد پہنچتا ہے وہاں اکثر و بیشتر صحابی کے ساتھ رضی اللہ عنہ کے الفاظ موجود ہیں ۔ کسی ایک جگہ اگر یہ رہ گئے ہیں تو دوسرے مقام پر ان صحابی کےساتھ ان الفاظ کا اضافہ کر دیا گیا ہےلیکن مروان یا حکم کا نام جہاں بھی آیا ہےوہاں رضی اللہ عنہ نہیں لکھا گیا ہےمثلاً بخاری،کتاب الشروط کی پہلی ہی حدیث حضرت عروہ بن زبیر سے مروی ہے انه سمع مروان والمسور بن مخرمہ رضی الله عنهما .... اب اس سند میں رضی اللہ عنہما کے متعلق کسی کو یہ شبہ نہیں ہونا چاہیےکہ اس میں ھما اشارہ مروان اور حضرت مسور کی جانب ہے۔ نہیں، بلکہ اشارہ حضرت مسور آوران کے والد حضرت مکرمہ کی جانب ہے جو دونوں صحابی ہیں اور انہی کو امام بخاری نے رضی اللہ عنہما کہا ہے۔ اگر مروان کو بھی امام بخاری شامل کرتےتو رضی اللہ عنہم کہتے۔اب یہاں سرےسےرضی اللہ - - - -کے الفاظ نہ ہوتےتب بھی ایک بات تھی لیکن امام بخاری صاف طور پر دو صحابیوں کے ساتھ یہ الفاظ لائےہیں اور مرواج کو خارج کر دیا ہےکوئی صاحب اگر مزید اطمینان کرنا چاہیں تو وہ عمدة القاری میں اس حدیث کی شرح دیکھ لیں۔وہاں علامه امینی حضرت مسور اور حضرت مخرمه کے متعلق لکھتے ہیں:
١- حافظ ابن حجر نے بھی تقریب میں مردان کے متعلق لکھا ہے، لا تُثبت له صحبة " اس کی صحابیت ثابت نہیں ۔ امام عبد الرحمن بن محمد اپنی کتاب المراسیل میں فرماتے ہیں: مروان بن الحكم لم يسمع عن النبي صلى الله عليه وسلّم شيئًا. كان مروان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم ابن خمس سنین او نحوه "مروان بن حکم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ بھی نہیں سنا۔ وہ عہد نبوی میں تقریبا پانچ سال کا تھا۔" (کتاب المراسیل - مکتبہ اپنی پانچ سال کا تھا۔ )
پھر فرماتے ہیں:
امـامــوان فانه لا يصح له سماع من النبي صلى الله عليه وسلّم ولا صحبة لانة خرج الى الطائف طفلا لا يعقل لما نفى النبي صلى الله عليه وسلم أباه الحكم وكان مع أبيه بالطائف حتى استخلف عثمان فردّهما.
” جہاں تک مروان کا تعلق ہے، اس کی سماعت حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح وثابت نہیں ہے اور نہ وہ صحابی ہےکیونکہ وہ ایک طفل نادان تھا جبکہ اسے اپنے باپ کےساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے سے طائف کی طرف جلا وطن کر دیا تھاوہ اپنے باپ کے ساتھ طائف ہی میں رہا حتی کہ حضرت عثمان خلیفہ ہوئے اور انہوں نے دونوں کو واپس بلا لیا۔“
صحیح بخاری میں مروان کی دوسری روایات کا بھی یہی معاملہ ہےکہ جہاں مردان کےنام پر انکی سند کا خاتمہ ہوا ہےوہ سب مرسل روایتیں ہیں،یعنی مردوان کےبعد کسی صحابی کا نام غیر مذکور ہےجن سے مروان نے روایت کی ہے۔ یہ احادیث مروان نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر گز نہیں سنی ہیں۔ اب اس کےبعد ہر صاحب علم یہ دیکھ سکتا ہےکہ مولانامحمد ادریس صاحب کا یہ سوال کتنا عجیب و غریب ہےکہ ”بخاری شریف میں جہاں مروان بن حکم کےنام پر سند ختم ہوتی ہےوہاں ملک صاحب رضی اللہ عنہما کہیں گےیا لعنتہ اللہ کا فتویٰ دیں گے؟میں نہ مفتی ہوں،نہ مجھےلعنت بھیجنےکا ذوق و شوق ہےمگر بخاری شریف پڑھتےہوئےمیں اس کے مصنف امام بخاری ہی کےطریقےپر عمل کروں گا اور مروان اور حکم کو رضی اللہ عنہا ہر گز نہیں کہوں گا،جب کہ میرے نزدیک وہ صحابی نہیں اور ان پر حدیث میں لعنت بھی وارد ہےمجھےمعلوم نہیں کہ وہ کونسا ”دارالحدیث ہےیا تھا جس میں بخاری کا درس دیتےہوئےجب اس باپ بیٹےکا نام آتا ہے، وہاں طلبہ واساتذہ مروان بن الحکم رضی اللہ عنہما کہنےکا اہتمام فرماتےہیں؟ مولانا موصوف سےدرخواست ہےکہ میری اوردوسرےطالبان علم کی معلومات میں اضافہ فرمائیں اور ذرا چند ایسےدارالحدیث اور ان کےمعلمین و فارغین کےنام شائع فرمادیں جو قرآت بخاری کے دوران میں مروان بن حکم رضی اللہ عنہما کا ورد کرتے رہتے ہیں۔ پھر یہ بھی واضح فرمادیں کہ یہ فعل اس مزعومہ ”مسلک اکا بڑ“ سے کہاں تک موافق ہے جس کی رو سے اب باپ بیٹے کے لیے نہ رضی اللہ عنہا کہنا روا ہے نہ لعنہما اللہ کہنا۔
پھر غضب بالائے منصب یہ ہے کہ فاضل مدیر ہونات مروان کے ساتھ محکم کو بھی شریک کر کےدونوں کے حق میں رضی اللہ عنہا کی قرآت کا التزام چاہتے ہیں اور غالب مدیر موصوف پہلے شخص ہیں جنہوں نے حکم کو بھی رضی اللہ عنہ بنانے کی سعی فرمائی ہے۔ حکم وہ شخص ہے جو منافقین مدینہ سےساز باز رکھ کر انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کےراز اور خفیہ امور سےآگاہ کرتا تھا۔محدثین و مؤرخین کا بیان ہے کہ وہ بھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےنطق مبارک کی نقل اتارتےہوئے ایک مصنوعی انداز میں بولتا تھا، کبھی چلتے ہوئے آنحضور کی خصوصی رفتار مبارک کی نقلیں اتارتا تھا،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےمعجزات میں اسکو شمار کیا گیا ہے کہ اس شخص کی گفتار و رفتار میں ایک طرح کا تصنع اور فساد پیدا ہو گیا کیونکہ آنحضور نے فرمایا تھا کن کذلک. بعض اقوال کے مطابق یہ شخص گھروں میں جھانکتا تھا۔ غرض یہ کہ ان حرکات کی بنا پر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ بدر کر کے طائف میں قید کر دیا تھا اور کوشش کے باوجود حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں واپس آنے کی اجازت اسے نہ مل سکی۔ مروان اور اس کےباپ کے متعلق حافظ ابن کثیر البدایه ( جلد ۸ صفحہ ۲۵۹) میں لکھتے ہیں:
وقد كان ابوه الحكم من اكبر اعداء النبي صلى الله عليه وسلم وانما اسلم يوم الفتح وقدم الحكم مدينة ثم طرده النبي صلى الله عليه وسلم إلى الطائف ومات بها ومروان كان اكبر الاسباب في حصار عثمان.
اور مروان کا باپ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین دشمنوں میں سے تھا، فتح مکہ کے روز ایمان لایا اور مدینے پہنچا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طائف کی طرف جلا وطن کر دیا اور وہیں وہ فوت ہوا اور مروان حضرت عثمان کے محصور ہونے کا سب سے بڑا سبب تھا_١"
اب اگر ایسا باپ اور بیٹا بھی رضی اللہ عنہما ہیں تو پھر کہہ دیجیےکہ عبداللہ بن ابی بھی رضی اللہ عنہ ہے ۔ وہ مرتے دم تک مدینے میں مسلمانوں کےمعاشرے میں رہا ہے اور مسلمانوں کےقبرستان میں دفن ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ بھی پڑھایا اور اس کے کفن کےلیےاپنا پیر ہین مبارک بھی عطا فر مایا۔جو لوگ اپنا ذوق یہ بتا رہے ہیں کہ حکم اور اس کے بیٹے پر زبان طعن دراز نہ کی جائےان کی نگاہ سےسورہ احزاب کی وہ آیت تو گزری ہوگی جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
اپنے مضمون میں محض ضمنا میں نے یہ لکھ دیا تھا کہ حدیث میں حکم اور اس کےبیٹےپر لعنت وارد ہے اور یہ ان چند مقامات میں سےایک ہےجہاں محمد تقی صاحب عثمانی نےمجھ سےاظہار اتفاق کر لیا تھا۔لیکن عجیب بات ہےکہ "بینات“ نےاس پر فوراً ” البلاغ "کو لقمہ دینا ضروری سمجھا اور مولانا ٹونکی صاحب اور مولانا محمد اور لیس صاحب نےمل کر عثمانی صاحب کو کمک پہنچانےاور مروان اور حکم کےمناقب بیان فرمانےکی کوشش کی۔یہ کوشش کس حد تک کامیاب ہےاس کا اندازہ قارئین خود ہی کر سکتےہیں۔دوسری طرف جناب محمد تقی صاحب نےجو الٹی زقند لگائی ہے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ البلاغ کےجمادی الا ولی ۱۳۹۱ھ کےشمارے میں لکھتے ہیں:
"احقر نے ذی الحجہ کے البلاغ میں لکھ دیا تھا کہ ملک صاحب کے دیئےہوئےحوالےکےمطابق مستدرک صفحہ ۴۸۱ جلد پر مجھے یہ حدیث سند صحیح کے ساتھ مل گئی جس کی حافظ محمد ذہبی نے بھی توثیق کی ہے۔ اب ربیع الثانی کےبینات میں حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب ٹونکی کا ایک مضمون شائع ہوا ہےجس میں انہوں نے میری اس عبارت پر گرفت کر کے حدیث کی مفصل تحقیق درج فرمائی ہے۔ اب میں مولانا مفتی ولی حسن صاحب مدظلہم کی تحقیق پر مطمئن ہوں اور اس تنبیہ پر ان کا شکر گزار ہوں۔ مجھے مدیر بینات کے ان الفاظ سے پورا اتفاق ہے کہ ہمارے بزرگوں کا ذوق یہی ہے کہ مروانکو نہ صحابہ کرام کے مخصوص لقب رضی اللہ عنہ سے جابجا یاد کرتے ہیں، نہ اس پر زبانِ طعن دراز کرتے ہیں۔“
١- شاہ عبد العزیز محدث کا قول پہلے نقل ہو چکا ہے کہ مردان کامل عداوات حضرات اہل بیت سےرکھتا تھا۔“
اب البلاغ کی یہ مراجعت کیا اس امر کا واضح ثبوت نہیں ہےکہ یہ لوگ اپنےگروہ کی حد تک "من خرا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو"کی روش پر کار بند ہیں۔صحیح بات سےہٹنا اور غلط بات پر ڈٹنا اسکےلیےبالکل سہل ہے جسےیہ اپنےحلقےکا آدمی سمجھتے ہیں، وہ اگر نہایت کمزور اور واہی بات کہہ دے، تب بھی اسے لپک کر لیں گے اور جو ان کی یونین کا ممبر نہ ہو،اس کےمعاملےمیں انکی "فراخدلی" فوراً ان کا ساتھ چھوڑ دےگی۔ ان حضرات سے میری یہ گزارش ہے کہ ”جمہور اہل سنت کے مسلک“ اور ” آپ کے اکابر کے ذوق کی تحقیق کے تقاضے محض ستائش باہمی سے پورے نہیں ہو سکتے، نہ علمی بحثوں میں بودا اور غیر محکم استدلال محض اس طرح کی پھبتیوں سے موثر اور جاندار ہو سکتا ہے کہ آپ دوسروں کے لیے- - - - "جلا کٹا رافضی ، ذوق مودودیت کا وکیل، رافضیت کا جدید ایڈیشن،کارخانه رفض کی پیداوار"- - - - اور اس طرح کےدوسرے عامیانہ اور معیار شرافت و ثقاہت سے فروتر الفاظ استعمال کریں۔ اگر آپ انبیاء علیہم السلام کے وارث اور ان کے خلق کےحامل ہیں، تو آپ کو یہ تنابز بالالقاب اور فقرےبازیاں زیب نہیں دیتیں، نہ ان کی مدد سے ہوائی اور غیر علمی باتوں کو وزن و قرار نصیب ہو سکتا ہے۔ دلیل سے بات مانیے اور منوائے محض طعن و تشنیع اور ہمز ولمز سے کام نکالنے کی سعی نا کام نہ فرمائیے۔
آخر میں ایک اور مفتی صاحب کا بصیرت افروز فتوی بھی ہدیہ قارئین ہے۔ یہ "تعلیم القرآن"(راولپنڈی) جمادی الاولی ۱۳۹۱ھ میں شائع ہوا ہےمفتی صاحب سےپوچھا گیا کہ "کیا مروان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابی تھےاور کیا انکو خبیث کہنا جائز ہےاور جو امام ایسا کہےاسکےپیچھےاقتداء کرنی جائز ہے؟“مفتی صاحب فرماتے ہیں:
"مروان کو اسماء الرجال کی کتابوں میں صحابہ کےسلسلہ میں لکھتےہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان کی پیدائش ہوئی ہے بعد از ہجرت ان کے باپ کو پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام نےطائف کی جانب نکال دیا تھا اور یہ بوجہ چھوٹا ہونے کے باپ کے ساتھ ہی رہے اور پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کو انہوں نے دیکھا نہیں۔ان کی روایت صحاح ستہ میں ہےحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کےمعتمد خاص تھےان کو نا شائستہ الفاظ میں ذکر کرنا مسلک اہل سنت والجماعت کےخلاف ہےاور خیر القرون مشہود لہا بالخیر کےمتعلق بے با کی۔ فلہذا جو اس جسارت کا مرتکب ہےایسےشخص کو سمجھانا چاہیے.اگر امام مذکور اصلاح قبول کرے تو اس کی اقتداء درست ہے، ورنہ مکروہ ہے کیونکہ وہ مبتدع ہے اور مبتدع کی اقتداء فقہاء کرام نے مکروہ لکھی ہے۔“
عبدالرشید مفتی دارالعلوم تعلیم القرآن
اب ان مفتی صاحب نے جو فتوی داغا ہے اور حضرت مروان کی شان میں ناشایسته الفاظ کہنےوالوں کو جس طرح مسلک اہل سنت کا مخالف، بےباک،جسارت کا مرتکب،مبتدع اور امامت صلوٰۃ کےلیےنا اہل قرار دیا ہے،ذرا اس فتوےکی روشنی میں ان سارےاکابر_١کےاقوال مندرجہ بالاکو دوباره دیکھیےاور پھر غور کیجئےکہ یہ لوگ کس ضد اور شقاق میں مبتلا ہیں۔ اس فتوے کی زبان یہ بتا رہی ہے کہ اس کا روئےسخن ایسےشخص کی طرف ہے جسے مودودی کا ہم خیال فرض کر لیا گیا ہے، اور اسی مفروضے کا یہ نتیجہ ہے کہ:
١- ان اکابر میں سےایک کا ذکر اسی رسالےکےصفحہ ایر ان الفاظ میں کیا گیا ہے" شیخ محدث وقت حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ"۔ یہ بھی یادر ہے کہ مولانا گنگوہی نے مروان کے لیے وہی لفظ حبٹ استعمال کیا ہے جو سائل کے سوال میں مذکور ہے۔
بحث گزشتہ میں مروان اور اس کےباپ کا ملعون على لسان النبوۃ ہونا ثابت اور واضح کیا جا چکا ہے۔اپنی کتاب کےدیباچےہی میں شاہ عبدالعزیز صاحب محدث کا قول بھی نقل کر چکا ہوں کہ ناصبیوں اور اہل بیت نبوی سے بغض رکھنےوالوں کےٹولے کا سردار اور بانی مبانی مروان ہی تھا۔تا ہم آج کل چونکہ اہل حدیث اور دیوبندی حنفی سب مردان اور حکم کی مدح وثنا میں رطب اللسان ہیں،اس لیےمیں اس ضمن میں چند احادیث اور اقوال سلف مزید پیش کر دینا مناسب سمجھتا ہوں تا کہ جو لوگ تعظیم صحابہ کے پردے میں اس باپ بیٹے کی تو قیر و تکریم کے علمبر دار بن گئےہیں،ان کےفریب کا پردہ اچھی طرح چاک ہو جائے۔مسند احمد اور دوسری کتابوں کی روایات نقل کر دینےکےبعد مستدرک کی اس روایت کی توثیق و تائید پوری طرح ہو جاتی ہےجسےکارخانہ رفض کی پیداوار قرار دیا گیا ہے۔لیکن اس روایت کی تضعیف چونکہ امام ذہبی کےایک قول کےبل پر کی گئی ہے، اس لیے میں سب سے پہلے یہاں امام ذہبی کی کتاب البیر کا ایک حوالہ دیتا ہوں۔ یہ بھی واضح رہے کہ یہ کتاب رطب و یابس اور حشووز واید سے پاک ہے۔ امام ذہبی اس کے شروع میں لکھتے ہیں کہ میں نے اس میں تاریخ اسلامی کے مشہور ترین حوادث کا ذکر کیا ہے جن کا حفظ وضبط کرنا ہر ذہین عالم کےلیے ضروری ہے۔ کتاب کے آخر میں پھر لکھتے ہیں کہ اس میں صرف بڑے بڑے اہم واقعات وحوادث درج کیے گئے ہیں۔ اس میں اس کے واقعات میں فرماتے ہیں:
فيها توفى الحكم بن ابی العاص ولد مروان أسلم يوم الفتح كان يُشى سر النبي صلى الله عليه وسلم وقيل كان يحاكيه في مشيته فطرده الى الطائف وسبه فلم يزل طريدًا الى ان استخلف عثمان فأدخله المدينة وأعطاه مئة ألف .
"اس سال مروان کا والد حکم بن ابی العاص فوت ہوا۔وہ فتح مکہ کےروز مسلمان ہوا تھا مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےراز فاش کر دیا کرتا تھا اور یہ بھی کہا جاتا ہےکہ آنحضور کی رفتار مبارک کی نقلیں اتارتا تھا۔پس آپ نے اسےطائف میں جلا وطن کر دیا اور اس پر لعنت بھیجی۔ وہ جلا وطن ہی رہا حتی کہ حضرت عثمان خلیفہ ہوئے تو اسے مدینے میں داخل کیا اور ایک لاکھ کا عطیہ اسے دیا۔“
(العمر في خبر من غیر ، جز ، اول صفحہ ۳۲)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکم کا ملعون ہونا بالکل جھوٹ ہے اور امام ذہبی کے نزدیک بھی اس پر دلالت کرنےوالی روایات سب مکذوب و موضوع ہیں تو امام ذہبی اس پر سب اور لعنت کا ذکر کیسےکر رہے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ امام ذہبی نے اپنے متعدد اقوال میں مروان کی شدید مذمت کی ہے جن میں سے ایک میزان الاعتدال کا قول پہلے نقل کیا جا چکا ہے۔ نواب سید محمد صدیق حسن خاں صاحب نے اپنی کتاب ہدایۃ السائل میں ایسے بہت سے اقوال جمع کر دیئے ہیں۔ مثلاً امام ذہبی کی اعلام سِیرِ النبلاء کے حوالے سے لکھتے ہیں:
اس تصریح است بفسق ولے۔
"یہ مروان کے فسق کی تصریح ہے۔“
سیر النبلاء میں حضرت طلحہ کے ترجمے میں امام ذہبی مروان قاتل طلحہ کے متعلق لکھتے ہیں:
پھر امام ابن حزم کا قول نقل کرتے ہیں:
"مروان نے سب سے پہلے مسلمانوں کی وحدت کو بغیر کسی شبہ و تاویل کے پارہ پارہ کیا،حضرت نعمان بن بشیر انصاری کو قتل کیا جو صحابی رسول اور انصار کے اسلام میں اولین مولود تھے اور حضرت عبد اللہ بن زبیر سے بیعت کرنے کے بعد ان کے خلاف خروج کیا۔“
اس پر نواب موصوف اپنے رائے کا اظہار فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
"مروان کی طرف سے یہ عذر پیش کرنا کہ اس نے حضرت طلحہ کو تاویل کی بنا پر قتل کیا تھا، یہ ایک ایسا عذر ہے جس کے بعد کسی عاصی کی معصیت کا سوال باقی نہیں رہتا اور ہر ایک کی طرف سےتاویل کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔“
(هداية السائل إلى أدلة المسائل صفحة ۵۱۰)
عن عبد الله بن عمر وقال كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم وقد ذهب عمرو بن العاص يلبس ثيابه ليلحقني فقال ونحن عنده ليدخلن عليكم رجل لعين فوالله مازلت وجلاً اتشوف خارجًا و ذاخلا حتى دخل فلان یعنی الحكم.
"حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھےاور ( میرے والد ) حضرت عمرو بن عاص ( گھر میں ) کپڑے پہن رہے تھے تا کہ وہ بھی اسی مجلس میں آجائیں۔ ہم حضور نبوی میں بیٹھے تھے کہ آنحضور نے فرمایا کہ ابھی تمہارے پاس ایک ملعون شخص آنے والا ہے۔ خدا کی قسم میں خوف زدہ ہو کر برابر باہر اندر دیکھتا رہا ( کہ کہیں میرے والد ہی نہ ہوں ) ، یہاں تک کہ مروان کا باپ حکم داخل مجلس ہو گیا ۔“
مسند احمد کی جو حدیث میں پہلے مسند احمد سے نقل کر چکا، اس میں نام کی تصریح نہ تھی اگرچہ قرینہ واضح تھا مگر اس حدیث میں صراحت کے ساتھ نام موجود ہے۔ اوپر والی حدیث کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر وہی سے دوسری روایت ہے:
وعنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليطلعن عليكم رجل يُبعث يوم القيامة على غير سُنّتی او علی غیر ملتی و کنت ترکت ابی فی المنزل فخفت ان يكون هو فاطلع رجل غيره.
"حضرت عبد اللہ بن عمر ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی تمہارے پاس آنے والا ہے جو قیامت کے روز میری سنت یا میری ملت پر نہیں اٹھایا جائے گا۔“
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کو گھر چھوڑ آیا تھا اور میں ڈر رہا تھا کہ کہیں وہی مراد نہ ہوں۔ لیکن اسی اثنا میں ایک دوسرا شخص (یعنی حکم ) سامنے آ گیا۔“
اس کے بعد ان ہی حضرت عبداللہ سے تیسری روایت ہے:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يطلع عليكم رجل من هذا الفج من اهل النار وكنت تركت ابي يتوضأ فخشيت ان يكون هو فاطلع غيره فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو هذا.
"رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےایک مرتبہ فرمایا کہ اس گھائی سے ایک شخص تمہارے سامنےنمودار ہوگا اور وہ اہل دوزخ میں سے ہوگا۔حضرت عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے پیچھے اپنے والد کو وضو کرتے چھوڑا تھا اور میں ڈر رہا تھا کہ وہی نہ آنے والے ہوں۔ لیکن ایک دوسرا شخص آ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ شخص ہے۔“
( مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، دارا کتاب بیروت، طبعه ثانیه، ۱۹۶۷، جلد اول، صفحه ۱۱۲)
میں سمجھتا ہوں کہ مروان اور اس کے باپ کے متعلق جو تصریحات میں پیش کر چکا ہوں، ان پر اضافے کی مزید حاجت نہیں ہے۔ فيها الكفاية لمن له درايه.
مدیر البلاغ اور مدیر بینات نے یہ جو دعویٰ کیا تھا کہ ہمارا اور ہمارے بزرگوں اور اکابر کا مسلک اور ذوق یہ ہے کہ مردان کو نہ صحابہ کرام کےمخصوص لقب رضی اللہ عنہ سے یاد کیا جائے،نہ اس کےخلاف طعن کی زبان کھولی جائے،اس کے متعلق میں پہلے عرض کر چکا کہ اس انوکھے مسلک کی خلاف ورزی شاه عبدالعزیز صاحب، مولانا محمود الحسن صاحب اور مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب نے تو اس طرح کی کہ مردان کے خلاف بر ملا زبان طعن دراز کی اور خود مدیر بینات نےاسطرح اس مسلک متوازن کی خلاف ورزی کی کہ مروان اور حکم کو رضی اللہ عنہما کہنے کی مجھے نصیحت فرمائی۔اب میں ایک مثال آخر میں ایسی پیش کرنا چاہتا ہوں جو جو بتائے گی کہ بعض دیوبندی بزرگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس رکھ رکھاؤ اور کفت لسان کو بالکل بالائے طاق رکھ دیا ہے جس کا ادعاء البلاغ و بینات والے کر رہے ہیں اور جو علانیہ مروان کے لیے رضی اللہ عنہ اور حضرت کی گردان کر رہےہیں۔ میں نے اس کا ذکر پہلے اشارہ کر دیا تھا کہ بھارت میں بھی علمائے دیو بند ” خلافت و ملوکیت“ کے خلاف سرگرمی سے مہم چلا رہے ہیں۔ چنانچہ مولانا سید محمد میاں صاحب، جو جمعیت علمائے ہندکے ممتاز ترین عمائد میں سےہیں، انہوں نے ایک کتاب ” شواہد تقدس“ کے نام سےتصنیف فرمائی ہےجس میں ” مودودی صاحب کی شیعیت کو آئینے میں پیش کیا گیا ہے اور اس کے سو نسخے بطورِ انعام طلبہ میں تقسیم ہوئے ہیں۔ اس کتاب میں ایک بحث کا عنوان ” حضرت مروان کی تقریر اور فتنہ انگیزی کا افسانہ ہے اس میں پندرہ میں مقامات پر جہاں بھی مروان کا نام آیا ہے اسے حضرت مروان لکھا گیا ہے۔ حضرت عثمانؓ کی تقریر جس کا حوالہ مولانا مودودی نے دیا تھا، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مولا نا محمد میاں صاحب فرماتے ہیں:
"اگر یہ تقریر صحیح ہےتو اس کا حاصل یہ ہےکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راضی ہو گئےتھےکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنےنظریات قربان کر دیں اور جام شہادت کےمقابلہ میں نظریات کی قربانی منظور کر لیں۔ مگر حضرت مروان کا قدم استقامت نہیں ڈگمگایا۔ انہوں نےحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی قربانی کی تلقین کی اور اگر چہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ممانعت کے سبب سے وہ اپنا حوصلہ پورا نہیں کر سکے مگر جیسے ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نےاپنی قربانی دی،حضرت مروان بھی قربان ہونے کےلیےمیدان میں آگئے۔بلوائیوں کا مقابلہ کیا اور ایسے زخمی ہو گئے کہ بلوائی ان کو مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے ۔ حضرت مودودی صاحب تو شاید یہ ہمت نہ کرسکیں، البتہ حضرات ناظرین فیصلہ فرمائیں کہ اگر واقدی کی یہ ڈرامائی روایت تسلیم کی جاتی ہے تو مستحق مبارکباد کون ہوتا ہے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ یا حضرت مروان رضی اللہ عنہ “
( شواهد تقدس ، شائع کرده کتابستان، قاسم جان اسٹریٹ ، دہلی مطبع اوّل صفحہ ۲۱۴۔۲۱۵)
اب ایک طرف دیو بند کے وہ اکابر ہیں جو مروان کو شیطان، ملعون، خبیث، ظالم ، فحاش،سنت نبوی کو پس پشت ڈالنے والا اور بے ادب کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف ان اکابر کے یہ اخلاف ہیں جو حضرت مروان رضی اللہ عنہ کے یہ مناقب و فضائل بیان فرمارہے ہیں!
مروان کی فتنہ پرداز یاں کہاں تک بیان کی جائیں۔اسکی بدزبانی اور ایذارسانی سےانتہات المؤمنین تک محفوظ نہ رہ سکیں۔یہ واقعہ پہلےبیان ہو چکا کہ جب وہ یزید کی ولی عہدی کا پرچار اور اس کےلیےزمین ہموار کر رہا تھا اور حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر نےاس پر اعتراض کیا تواس شخص نےحضرت عبدالرحمن کا تعاقب حضرت عائشہ کےگھر تک کیا اور ان کےدروازے پر کھڑے ہو کر الزام تراشی کی جس کا جواب خود حضرت عائشہ کو دینا پڑا۔ صحیح بخاری، کتاب النکاح، فاطمہ بنت قیس کے قصے میں مذکور ہے کہ مروان نے حضرت عائشہ سے کہا: ان کان بک شر فحسبک مابین هذين بن الشر.مان لیا کہ جس مطلقہ کے سکنی و نفقہ کا مسئلہ یہاں زیر بحث تھا ، وہ مختلف فیہ تھا مگر ازواج مطہرات اور ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا مروان اس سے زیادہ شریفانہ اور مہذب تر انداز اختیار نہیں کر سکتا تھا؟
حضرت حسنؓ کی میت تدفین کے موقعہ پر جس بد تمیزی کا مروان نے مظاہرہ کیا، اس کی تفصیل تواریخ میں منقول ہےنبی صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کی آرامگاہوں کےقریب جگہ موجود تھی جہاں دفن کیےجانےکی خواہش اور وصیت حضرت حسنؓ نےفرمائی تھی۔مروان ڈٹ کر کھڑا ہو گیا کہ حسن کو یہاں دفن نہیں ہونےدیا جائےگا۔مولاناسید سلیمان ندوی نے"سیرت عائشہ" میں استیعاب،اسد الغابه اور امام سیوطی کی تاریخ الخلفاء متینوں کے حوالے سے لکھا ہے:
"جب حضرت حسنؓ کا انتقال ہوا تو حضرت حسینؓ نے جا کر حضرت عائشہ سے اجازت ( تدفین ) طلب کی ۔ انہوں نےکہا بخوشی۔مروان کو معلوم ہوا تو اس نےکہا حسین اور عائشہ دونوں جھوٹ کہتےہیں( کذب و کذب)۔ حسن یہاں کبھی دفن نہیں کیے جاسکتے ۔“
(سیرت عائشہ صفحہ ۱۴۴ طبع چہارم ، ۱۳۷۲، اعظم گڑھ)
مروان کی اس روش پر حضرت ابو ہریرہ جیسے مرنجاں مرنج بزرگ نے بیچ بچاؤ کرایا ورنہ خونریزی کا خطرہ تھا۔ مگر حضرت ابو ہریرہ نےمروان کو جو کھری کھری سنائیں ان کی ساری تفصیل_١ البدایه و النهایه اور دوسری تاریخوں میں موجود ہے۔ مروان کے مداح نکال کر خود پڑھ سکتے ہیں۔ واقعہ 7 ہ اور حرم نبوی کی المناک اور دلدوز تو ہین کا باعث و محرک بھی یہی مروان ہے جیسا کہ مورخین نے تصریح کی ہے۔ امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں مروان کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
١- ملاحظہ ہو البدایہ جلد ۸ صفحہ ۱۰۸
واضح رہے کہ ابن عقبہ یزید کا سپہ سالار تھا جس نے مدینہ منورہ میں ایسی غارتگری کی جس کےبیان سے زبان قلم عاجز ہے۔ اس شخص کا نام مسلم بن عقبہ تھا لیکن مؤرخین نے اس کے حد سےگزرے ہوئے ظلم وستم کی بنا پر اسکا نام مسرف بن عقبہ رکھ چھوڑا ہے اور مروان اس کے مظالم میں برابر کا شریک و ستم ہےبلکہ فتنه حره کا بانی مبانی اور سرانه ہے۔ اس کےباوجود کچھ لوگ ہیں جو اسےحضرت مردان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں! ناطقہ سر بگر یہاں ہے اسے کیا کہیے؟؟؟
[ البلاغ کی تنقید کا جواب دینے کے علاوہ میں وقتا فوقتا بعض دوسرے اعتراضات کا جواب بھی دیتا رہا ہوں جو جماعت اسلامی اور مولانا مودودی پر عائد کیےجاتےہیں اور جن کا مدعا یہی ہوتا ہےکہ ہم صحابہ کرام پر تنقید کرتے ہیں اور ان کے افعال و اقوال کو حجت نہیں سمجھتے۔میری یہ جوابات ترجمان میں شائع ہوئے ہیں اور میں نے مناسب سمجھا ہےکہ ان کا ضروری حصہ اپنی اس کتاب میں بھی شامل کر دوں۔چنانچہ اس سلسلے کا ایک مضمون اور بعض سوالات و جوابات اس باب میں دیےجار ہےہیں۔سب سےآخر میں مولانا مودودی کا ایک جواب بھی میں نے ربیع الثانی ۱۳۸۸ھ ترجمان القرآن سے نقل کر دیا ہے کیونکہ یہ اس موضوع پر ایک مختصر مگر جامع جواب ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو افراط و تفریط سے بچائے اور حق کا طرفدار اور متبع بنائے ، آمین ! ]
جماعت اسلامی کےخلاف جو بےسروپا اور خلاف واقعہ الزامات عائد کیےجاتے ہیں،ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ جماعت صحابہ کرام کو معیار حق نہیں مانتی اور ان پر تنقید کو جائز رکھتی ہے۔حالانکہ مسلمانوں کو صحابہ کرام کی عیب چینی سےمنع فرمایا گیا ہےاور قرآن وحدیث صحابہ کےفضائل و مناقب سےلبریز ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں، جس کی بھی تم پیروی کرو گے راہ پاؤ گے۔“
جماعت اسلامی سے وابستگی رکھنے والا ہر شخص اگر چہ اللہ کےفضل و کرم سےایک بچےمسلمان کی طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس انسانی گروہ کےلیےسب سے زیادہ محبت تعظیم کے جذبات اپنے دل میں رکھتا ہے، وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کی جماعت ہے اور وہ اپنی حد تک اس غلط الزام سےاپنے آپ کو بری الزمہ سمجھتا ہے،تایم لمسلیمین کو بدگمانی سے بچانے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اصل حقیقت کو واضح کیا جائےاور بتایا جائےکہ جماعت اسلامی کا موقف اس مسئلےمیں کیا ہےاور آیا وہ کتاب و سنت اور ائمہ سلف کے مسلمہ مسلک کے مطابق ہےیا اس کے مخالف۔ اس وضاحت سے امید ہے کہ جماعت کے افراد کو بھی اطمینانِ قلب حاصل ہوگا اور معترضین کا بھی اگر منہ بند نہ ہو گا تو کم از کم عام مسلمانوں کے غلط فہمی میں مبتلا ہونے کا امکان باقی نہ رہے گا۔ اسی غرض کو سامنےرکھ کر یہاں چند ضروری تصریحات پیش کی جارہی ہیں۔
جماعت اسلامی کےخلاف مندرجہ بالا الزام کی بنیاد جماعت کےدستور کی ایک عبادت پر رکھی جاتی ہےجس کے پورے الفاظ بھی معترضین نقل نہیں کرتےبلکہ ایک دو فقروں کو سیاق عبارت سےالگ کرکےپیش کرتےہیں۔اس لیےمناسب معلوم ہوتا ہےکہ مزید بحث سےقبل دستورِ جماعت اسلامی کی وہ پوری عبارت یہاں نقل کردی جائے جس کو بنیاد بنا کر یہ اعتراض بار بار اٹھایا جاتا ہے۔ دستور جماعت کی دفعہ نمبرس کی متعلقه شق نمبر ٦ درج ذیل ہے
" رسول خدا کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے، کسی کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھے کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو۔ ہر ایک کو خدا کے بنائے ہوئے اسی معیار کامل پر جانچے اور پر کھے اور جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجہ میں ہو اس کو اسی درجہ میں رکھے۔“
بس یہی وہ عبارت ہے جس سے وہ سارا الزام برآمد کیا گیا ہے حالانکہ اس میں یہ بات سرےسے مذکور ہی نہیں ہے کہ صحابہ کرام کی جماعت پر تنقید ہوسکتی ہےیا نہیں، بلکہ اس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ اصل معیار حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس کےاندر سےمعنی آفرینی اور حاشیه آرائی کرکےیہ بات معترضین نے خود نکالی ہے کہ نبی کے سوا کسی کو تنقید سےبالا تر نہ سمجھنےسے صحابہ پر تنقید کا جواز لازم آتا ہے لہذا جماعت اسلامی اس کی قائل ہےپھر تنقید کو تنقیص اور عیب چینی کا ہم معنی بھی خود معترضین ہی نے بنایا ہے تا کہ ہم پر یہ الزام چسپاں کیا جاسکے کہ ہم صحابہ کی عیب چینی کو جائز سمجھتے ہیں اور اس کا ارتکاب بھی کرتے ہیں۔ اس کے بعد معترضین کا مزید کر تب یہ ہے کہ وہ اس عبارت کا یہ فقرہ صاف نظر انداز کر جاتے ہیں کہ جو اس معیار کےلحاظ سےجس درجےمیں ہو اس کو اسی درجے میں رکھے۔ چونکہ یہ فقرہ ان کےاعتراضات کی پوری بنیاد ہی کو منہدم کر دیتا ہے۔ اس لیے وہ سرے سے اس کا کوئی ذکر ہی نہیں کرتے۔اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان حضرات پر الزام تراشی کا شوق کس قدر غالب ہے اور ان کے لیے دوسروں کے دین وایمان میں کیڑے ڈالنا کس طرح ایک محبوب مشغلہ بن گیا ہے۔
اس پر مزید ستم یہ ہے کہ ان لوگوں کی اس الزام تراشی کےجواب میں مذکوره بالا عبارت کی جو تشریح بارہا کی گئی ہے،اس سےانہوں نےہمیشہ آنکھیں بند رکھی ہیں اور اپنےاصل اعتراض ہی کو بار بارڈ ہراتےاور پھیلاتےچلے گئے ہیں۔مثال کےطور پردیکھیےدستورکی اس شق اور بالخصوص اسکےالفاظ معیار حق اور تنقید کی تشریح جماعت اسلامی پاکستان کےموجود امیر مولانا ابوالاعلی مودودی نےبعض سوالات کا جواب دیتےہوئےیوں کی ہے۔
”ہمارے نزدیک معیار حق سےمراد وہ چیز ہے جس سے مطابقت رکھنا حق ہو اور جس کےخلاف ہونا باطل ہو۔ اس لحاظ سےمعیار حق صرف خدا کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ رستم کی سنت ہے۔ صحابہ کرام معیار حق نہیں ہیں بلکہ کتاب وسنت کے معیار پر پورے اترتےہیں ۔ کتاب وسنت کے معیار پر جانچ کر ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ برحق ہے۔ ان کے اجماع کو ہم اسی بنا پر حجت مانتے ہیں کہ ان کا کتاب وسنت کی ادنی سی خلاف ورزی پر بھی متفق ہو جانا ہمارے نزدیک ممکن نہیں ہے۔“
( ترجمان القرآن، رسائل و مسائل جلد ۵۶، عدد۵ )
پھر ایک دوسرے مقام پر وہ لکھتے ہیں :
"تنقید کےمعنی عیب چینی ایک جاہل آدمی تو سمجھ سکتا ہےمگر کسی صاحب علم آدمی سےیہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس لفظ کا یہ مفہوم سمجھےگا۔ تنقید کےمعنی جانچنے اور پر کھنے کےہیں اور خود دستور کی مذکورہ بالا عبارت میں اس معنی کی تصریح بھی کر دی گئی ہے۔ اس کے بعد عیب چینی مراد لینے کی گنجائش صرف ایک فتنہ پرداز آدمی ہی اس لفظ سے نکال سکتا ہے۔ مزید برآں اس فقرے میں یہ تصریح بھی کر دی گئی ہے کہ رسول خدا کو معیار قرار دینےکےبعد جس کا جو مرتبہ بھی اس لحاظ سے قرار پائے گا، اسے اسی درجہ میں رکھا جائے گا۔ اس سے یہ مطلب آخر کیسے نکل آیا کہ صحابہ کرام کے جو محامد و فضائل کتاب اللہ اور احادیث نبویہ میں مذکور ہیں ، وہ واجب التسلیم نہیں ہیں۔“
(رسالہ " کیا جماعت اسلامی حق پر ہے؟)
جماعت اسلامی کے دستور کی مندرجہ بالا عبارت اور اس کی پیش کردہ وضاحت سلیس اور عام فہم ہے اور ہر پڑھا لکھا آدمی اس کو پڑھ کر بآسانی یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ آیا اس سےصحابہ کرام کی تنقیص و توہین کا پہلو نکلتا ہے یا اس سے ان کی تعظیم و توقیر ثابت ہوتی ہے۔ اس عبارت میں اگر لفظ تنقید استعمال ہوا ہے تو اسے خواہ مخواہ ہو ابنا لینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔اس کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم فقط یہ ہے کہ کسی شے کی حقیقت و ماہیت کو جانچا جائے۔ اگر وہ شے فی الاصل زر خالص اور کامل المعیار ہے تو معیار پر کسے جانے کے بعد اس کی جو ہر حسن و کمال اور زیادہ نکھر جائے گا۔
کتاب وسنت کےبموجب صحابہ کرام کےمن حیث الجماعت واجب الاحترام ہونےاور اجماع صحابه کےتجت شرعی تسلیم کیےجانےکےبعد اس ضمن میں ایک مسئلہ بحث طلب رہ جاتا ہے۔وہ مسئلہ یہ ہے کہ ایک ایک صحابی کے منفر د قول و فعل یا چند صحابہ کےمختلف اقوال کا شمار ادلہ شرعیہ میں ہو سکتا ہےیا نہیں اور کتاب وسنت کی کسوٹی پر جانچے بغیر بلا تنقید اور بے چون و چرا محض قول و فعل صحابی ہونے کی بنا پر انہیں واجب التقلید سمجھا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس معاملے میں جب ہم سب سے پہلے کتاب اللہ کی جانب رجوع کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کسی مقام پر بھی صحابہ کرام کے انفرادی افعال و اعمال کو ہمارے لیے مستقل اسوہ اوز مرجع قرار نہیں دیا گیا بلکہ تمام مسلمانوں کے ساتھ خود صحابہ کرام کو بھی یہ تعلیم فرمائی گئی ہے کہ جب کسی معاملےمیں تمہارےدرمیان تنازع اور اختلاف پیدا ہو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی جانب لوٹاؤ۔ فَإِنْ تَنَزَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدَّوْهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ-اس ارشادِر بانی کےاولین مخاطب خود صحابہ کرام ہی ہیں۔اور اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ ہی یہ فیصلہ فرما دیا ہےکہ ایک ایک صحابی بجائےخود معیار حق نہیں ہےبلکہ اختلاف کی صورت میں صحابہ کے لیے بھی مرجع کتاب وسنت ہی ہے۔
قرآن مجید کےبعد جب ہم حدیث رسول سےرجوع کرتےہیں صحابہ کرام کےانفرادی اقوال و افعال کے واجب الاتباع ہونےپر کوئی دلیل نہیں ملتی۔اس میں شک نہیں کہ بعض احادیث میں وارد ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرےبعد ابوبکر اور عمر(رضی اللہ عنہا)کی اقتدا کرو لیکن اس سےمراد انکی ذاتی حیثیت میں مطلقاً پیروی نہیں ہےبلکہ اس سےمراد خلیفہ راشد ہونے کی حیثیت سے ان کی سنت کی پیروی ہے جسے اجماع صحابہ کی تائید و توثیق حاصل ہوتی ہےاگر یہ بات نہ ہوتی تو یہ دونوں بزرگ دوسرےصحابہ کو اپنی آراء پر بحث و کلام کی دعوت،اور اپنےخیالات سےاختلاف کی اجازت نہ دیتے،اور خود صحابہ بھی ان سےاختلاف کی جرات نہ کرتے۔
اقتدائے شیخین سےمتعلق ان احادیث کے علاوہ صرف ایک روایت ایسی پائی جاتی ہےجس سےبظاہر صحابہ کرام کے منفرد اقوال کی حجیت کے حق میں استدلال ہوسکتا ہے۔ یہ روایت بالعموم اس طرح بیان کی جاتی ہے:
اگرچہ اصول فقہ کی کتابوں میں اس روایت کا جابجاذ کر کیا جاتا ہے لیکن میرے علم میں کوئی ایک اصولی یا فقیہ بھی ایسا نہیں ہے جس نے اس روایت سے صحابی کے قول و عمل کو مطلقا تجبت ثابت کرنے کی کوشش کی ہو۔ علمائے اصول اس روایت کی کچھ دوسری تاویلات کرتے ہیں جن کے ذکر کا یہاں موقع اور حل نہیں ہے۔
اس روایت اور اس سے ملتےجلتےالفاظ پر مشتمل بعض دیگر روایات جو صحابہ اور اہلِ بیت کےحق میں مروی ہیں۔ ان کے متعلق جو اولین اور ضروری بات قابلِ ذکر ہے وہ یہ ہے کہ محد ثین اور فن رجال کے ماہرین کے نزدیک ان سب کی سند نہایت کمزور ہے،اس لیےعقائد واحکام کی بحث میں ان سےاستدلال جائز نہیں ہے،بلکہ فضائل و مناقب کے سلسلے میں بھی ان کے ضعف کی صراحت کیے بغیر ان کا بیان کرنا صحیح نہیں ہے۔ صحاح ستہ یا حدیث کی کسی دوسری مستند کتاب میں ان کی تخریج نہیں کی گئی۔حافظ ابن عبدالبر نےجامع بیان اعلم میں روایت مذکورہ بالا کی سند کو نقل کر کے لکھا ہے:
ابن حزم نے الاحکام میں اس کے راویوں پر جرح کرنے کے بعد لکھا ہے:
حافظ ابن حجر نے تخریج کشاف میں اس روایت اور دیگر متقارب الالفاظ روایات کی ساری سندوں کا ذکر کر کے انہیں ضعیف اور واہی قرار دیا ہے۔ امام شوکانی نے ارشاد الفحول ص ۸۳ میں اجماع پر بحث کرتے ہوئے یہ حدیث نقل کی ہے اور پھر لکھا ہے:
اور تصریح کی ہے کہ اس کا ایک راوی نہایت ضعیف اور دوسرا ابن معین کے نزدیک کذاب ہے اور امام بخاری کے نزدیک متروک ہے۔ ایک دوسرے طریقے کے راوی کو ابو حاتم نے ضعیف جدا اور بخاری نے منکر الحدیث کہا ہے ( امام بخاری کے جرح کے یہ الفاظ انتہائی سخت ہیں ) ۔ ابن معین نے اس کے متعلق کہا ہے
ابن عدی نے اس راوی کی روایات کو موضوع قرار دیا ہے۔حافظ ابن قیم نے اعلام الموقعين ،جلد ثانی، القول فی الا تقلید میں اس روایات کو غیر صحیح ثابت کیا ہے۔
بہر کیف قول صحابی کےحجت ہونےپر کتاب وسنت میں کوئی نص موجود نہیں ہےاور یہی وجہ ہےکہ امت کا اس مسئلے میں تقریباً اتفاق ہے کہ اگر کسی معاملے میں صرف ایک یا چند صحابہ کا عمل یا قول ہی ماثور ہو تو اس کا شمار اولہ شرعیہ میں نہیں ہو سکتا، چاہے اس کے خلاف کوئی دوسرا قول صحابی موجود نہ ہو۔ اسے کتاب وسنت کی کسوٹی پر جانچنا ناگزیر ہو گا ، اسی طرح جن مسائل میں صحابہ کرام کے مابین اختلاف رونما ہوا ہے،وہاں بھی لامحالہ چھالا،بین اور تحقیق و ترجیح کی ضرورت لاحق ہوگی اور جو قول کتاب وسنت کےاصل معیار کےجتنا زیادہ مطابق ہوگا،اتنا ہی زیادہ وہ قابل اخذ و ترجیح ہو گا اور اس کےبالمقابل دوسرا قول قابل ترک ہو گا۔اسی تحقیق و تفتیش اور جانچ پڑتال کا دوسرا نام تنقید ہے۔ اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرنے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ چند مستند ائمہ و فقہا کے اقوال و آرا کو یہاں نقل کر دیا جائے۔
امام ابو حنیفہ کےدو اقوال مولانا مودودی نےخلافت و ملوکیت میں مستند حوالوں سےنقل کیےہیں۔ایک قول یہ ہےکہ ”جب مجھےکتاب و سنت میں کرزئی حکم نہیں ملتا تو میں اجماع صحابہ کی پیروی کرتا ہوں اور اختلاف کی صورت میں جس صحابی کا قول چاہتا ہوں قبول کرتا ہوں اور جس کا چاہتا ہوں چھوڑ دیتا ہوں دوسرا قول یہ ہے کہ " جب صحابہ میں اختلاف ہو تو قیاس کرتا ہوں۔“
مذہب حنفی کے نامور فقیہ شمس الائمہ امام سرخسی ، اپنی کتاب الاصول جلد اول میں اجماع صحابہ بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وإنما كان الإجماع حجة باعتبار ظهور وجه الصواب فيه بالاجتماع عليه وإنما يظهر هذا في قول الجماعة لافي قول الواحد الاترى ان قول لواحد لا يكون موجباً للعلم وان لم يكن بمقابلته جماعة يخالفونه.
" اور اجماع کا حجت ہونا اس وجہ سے ہے کہ ایک بات پر اتفاق ہو جانے کے باعث حق و صواب کا پہلو واضح ہو جاتا ہے۔ یہ بات قول واحد کے معاملے میں نہیں بلکہ قول جماعت ہی میں ظاہر ہوتی ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ قول واحد اس صورت میں بھی موجب علم نہیں ہوتا جب کہ کسی جماعت نے اس کی مخالفت نہ کی ہو۔“
اس سے معلوم ہوا کہ قول منفر د حجت نہیں ہے، خواہ اس سے مختلف یا اس کی مخالفت میں کوئی دوسرا قول موجود ہو یا نہ ہو۔ اسی جلد کے آخری دو صفحات میں امام مذکور نے یہ تصریح بھی کی ہے کہ صحابی اگر یوں کہے کہ
تب بھی صحابی کے ایسا فرمانے سے اس فعل کا امر رسول یا سنت رسول ہو نا لازم نہیں آتا، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس میں کسی خاص امیر کے حکم یا کسی خاص شہر یا علاقے کے عمل یا طریقے کا ذکر ہو۔
پھر امام سرخسی اسی کتاب کی جلد دوم ص ۵۰۱ پر ایک فصل کا عنوان قائم کرتے ہیں :
فصل في تقليد الصحابي اذا قال قولاً ولا يعرف له مخالف. اس باب میں بھی وہ صحابی کےایسےقول کی تقلید و عدم تقلید پربحث فرماتےہیں جس کے مخالف کوئی دوسرا قول صحابی معلوم و معروف نہیں ہے۔ اس عنوان کے تحت وہ لکھتے ہیں:
قد ظهر من الصحابة الفتوى بالرأي ظهور لايمكن انكاره والرائي قد يخطئ فكان فتوى الواحد منهم محتملاً متردداً بين الصواب والخطأ ولا يجوز ترك الرأى بمثله كما لا يترك بقول التابعي
" صحابہ سے رائے کی بنا پر بعض فتوے صادر ہوئے ہیں۔ یہ ایسی کھلی ہوئی بات ہے جس سےانکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور رائے کبھی غلط بھی ہوتی ہے۔ پس صحابہ کے انفرادی فتوی میں صواب و خطا دونوں کا احتمال ہے۔ اس طرح کے فتوے کے بالمقابل رائے کو ترک کرنا جائز نہیں۔“
آگے چل کر امام مرضی نے مسلک احناف کی جو تفصیل بیان کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قول صحابی کسی ایسے معاملےسےمتعلق ہو جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کا امکان ہو،وہاں صحابی کے فتوے کو اپنی رائے پر ترجیح دی جائے گی۔ مثال کے طور پر جس مسئلے میں قیاس کو دخل نہ ہو یا صحابی کا قول جس مسئلےمیں خلاف قیاس ہو،یعنی عام قیاس جس بات کا مقتضی ہو،صحابی کا قول اسکے مخالف ہو ، اس طرح کے مسئلے میں قول صحابی ہی کو مقدم سمجھا جائے گا اور قیاس کو ترک کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابی کے غیر قیاسی یا خلاف قیاس قول کے معاملےمیں زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ قول صاحب وحی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہو گا اور صحابی نے اپنے جی سے یہ بات نہیں کہی ہوگی۔ اس قول کا قبول کیا جانا مجتر دقول صحابی ہونے کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ اس بنا پر ہے کہ اس کے قول رسول ہونے کا قرینہ اور احتمال موجود ہے۔
اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ حنفیہ نے قول صحابی کے بارےمیں مدرک بالقیاس اور غیر مدرک بالقیاس، مطابق اور مخالف قیاس کی یہ جو تفریق قائم کی ہے، اور جس کی بنا پر ایک قسم کے قول صحابی کو اپنے اجتہاد پر ترجیح دی ہے اور دوسری قسم میں اجتہاد کو قول صحابی پر مقدم رکھا ہے، یہ تفریق و ترجیح بھی در حقیقت تنفید ہی کی ایک شکل ہے۔ پھر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ اوپر کی یہ ساری بحث صحابی کے اس قول و فعل سے متعلق ہے جس کے خلاف کسی دوسرے صحابی کا قول و فعل موجود نہ ہو۔ جہاں صحابہ کے قول ہی کو قول مختار قرار دینا پڑے گا، دوسرےلفظوں میں صاحب اجتہاد کو اس صورت میں بھی تقلید کے بجائے تنقید وترجیح کے مسلک ہی پر کار بند ہونا ہوگا۔
اس کے بعد اب مسلک شافعی کو لیجیے۔ امام غزالی المستصفی،جز ءاول ص ۱۳۵ میں باب الاصل الثانی بین الاصول الموہومہ۔ قول الصحابی کے تحت بحث کرتے ہوئے پہلے فرماتے ہیں کہ بعض کے نزدیک مذہب صحابی علی الاطلاق حجت ہے، بعض کے نزدیک غیر قیاسی مسائل میں حجت . ہے اور بعض کے نزدیک صرف حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کا قول حجت ہے۔ اس کے بعد کہتے ہیں:
والكل باطل عندنا. فان من يجوز عليه الغلط والسهو ولم تثبت عصمته فلا حجة في قوله. فكيف يحتج بقولهم مع جواز الخطأ وكيف تدعى عصمتهم من غير حجة متواترة وكيف يتصور عصمة قوم يجوز عليهم الاختلاف؟ وكيف يختلف المسمومان. كيف وقد اتفقت الصحابة على جواز مخالفة الصحابة فلم ينكر ابو بكر و عمر على من خالفهما بالاجتهاد على كل مجتهد ان يتبع اجتهاد نفسه ذا نفعاء الدليل على العصمة ووقوع الاختلاف بينهم و نفرحهم بجواز مخالفتهم فيه ثلاثة ادلة قاطعة.
" ہمارے نزدیک (مذہب صحابی کی حجیت کے حق میں ) یہ سارے اقوال باطل ہیں۔ جس انسان کو غلطی اور سہولا حق ہونا ممکن ہو اور جس کے لیے عصمت ثابت نہ ہو، اس کے قول میں کوئی حجت نہیں۔ پس صحابہ کےقول سےکیسےسند پکڑی جا سکتی ہےجبکہ ان سےخطا کا صدور جائز ہےکسی حجت متواترہ کےبغیر ان کی عصمت کا دعوی کیسے کیا جاسکتا ہے اور اس گروہ کو کیسے معصوم متصور کیا جا سکتا ہے جس میں اختلاف واقع ہو؟یہ سب کچھ کیسےممکن ہےجب کہ صحابہ نےخود صحابہ سےاختلاف کےجواز پر اتفاق کیا ہےاور حضرت ابوبکر و عمر نے اپنے خلاف اجتہاد کرنے والوں پر نکیر نہیں کی بلکہ مسائل اجتہاد میں ہر مجتہد پر اس کے اپنے اجتہاد کی پیروی لازم کی ہے۔ صحابہ کے معصوم ہونے پر کوئی دلیل نہ ہونا، اور ان کے درمیان اختلاف کا پایا جانا اور ان کا خود اس امر کی تصریح کرنا کہ ان سےاختلاف کیا جا سکتا ہے،یہ تین باتیں ایسی ہیں جو ہمارےمسلک کے حق میں دلیل قاطع ہیں۔
اس کے بعد امام غزالی نے امام شافعی کے دو قول نقل کیے ہیں۔ پہلے ان کا قول یہ تھا کہ اگر صحابی کا قول مشہور ہو جائے اور اس کے خلاف کوئی قول منقول نہ ہو تو صحابی کی تقلید جائز ہے ( واجب نہیں)۔ بعد میں اس قول سے رجوع کرتے ہوئے آخری اور جدید مسلک جس کےامام شافعی قائل ہوئے یہ ہے کہ:
پھر مام غزالی فرماتے ہیں:
" یہی بات ہمارےنزدیک صحیح اور قابل اختیار وترجیح ہے کیونکہ ایک عالم کے لیے دوسرےعالم کی تقلید فی الجمله جن دلائل کی بنا پر حرام ہے، ان کے لحاظ سے صحابی اور غیر صحابی میں فرق نہیں کیا جاسکتا۔“
اس کے بعد امام غزالی ان اصحاب کے دلائل کا ذکر کرتے ہیں جو فضائل صحابہ پر مشتمل آیات واحادیث سے تقلید صحابہ کو جائز یا لازم سمجھتے ہیں اور اس کے جواب میں فرماتے ہیں:
" ہم کہتے ہیں کہ یہ تمام ثنا ہے جس سے صحابہ کرام کے عمل ، دین اور اللہ کے ہاں ان کےمرتبے کے بارے میں حسن اعتقاد لازم آتا ہے۔ لیکن اس سے ان کی تقلید کا نہ جواز لازم آتا ہے نہ وجوب ۔"
پھر یہ جواب ان الفاظ پر ختم ہوتا ہے:
علامہ سیف الدین آمدی کی رائے جسے انہوں نے الاحکام فی اصول الاحکام جزء ثالث مذہب الصحابی کے آغاز بحث میں بیان کیا ہے یہ ہے کہ غیر صحابی کے لیے قول صحابی کے حجت ہونےمیں اختلاف ہے۔ اشاعرہ معتزلہ، امام شافعی اور امام ابن حنبل کے ایک قول کے مطابق اور امام ابوالحسن حنفی کے نزدیک قول صحابی حجت نہیں ہے۔ بعض کے نزدیک مخالف قیاس قول حجت ہےاور بعض کے نزدیک قول ابی بکر و عمر حجت ہے۔ پھر فرماتے ہیں۔
آگے چل کر المسئلۃ الثانیہ کے زیر عنوان علامہ موصوف یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ” جب یہ ثابت ہو گیا کہ مذہب صحابی حجت واجب لا اتباع نہیں تو کیا غیر صحابی کے لیے اس کی تقلید جائز بھی ہے؟ پھر اس کا جواب یہ دینے ہیں :
" قابل ترجیح مسلک یہ ہے کہ تابعین و مجتہدین کے لیے صحابی کی تقلید مطلقا ممنوع ہے۔“
والحق أنه ليس بحجة فإن الله سبحانه لم يبعث الى هذه الأمة إلا نبينا محمدا صلى الله عليه وسلّم وليس لنا الا رسول واحد و کتاب واحد و جميع الامة مأمور باتباع كتابه وسنة نبيه ولا فرق بين الصحابة ومن بعدهم في ذلك فكلهم مكلفون بالتكاليف الشرعية واتباع الكتاب والسنة فمن قال انها تقوم الحجة في دين الله عز وجل بغير كتاب الله وسنة رسوله وما يرجع إليهما فقد قال في دين الله بما لا يثبت.
" حق یہ ہے کہ (قول صحابی ) حجت نہیں ہے۔ اللہ سبحانہ نے اس امت کی طرف صرف ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے۔ ہمارے لیے بس ایک ہی رسول اور ایک ہی کتاب ہے۔ تمام امت اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کے اتباع پر مامور ہے اور اس معاملے میں صحابہ اور غیر صحابہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ سب کے سب تکالیف شرعیہ اور اتباع کتاب وسنت کےمکلف ہیں۔ جس شخص نے یہ کہا ہے کہ اللہ کے دین میں کتاب وسنت یا جو کچھ ان دونوں کی طرف راجع ہوتا ہے، اس کے سوا کسی اور چیز سے بھی حجت قائم ہوسکتی ہے،اس نے دین کے معاملے میں ایک بے ثبوت بات کہی ۔“
قد سح إجماع الصحابة كلهم أولهم عن آخرهم و إجماع التابعين أولهم عن آخرهم و إجماع تابعى التابعين أولهم عن آخرهم على الامتناع والمنع من ان يقصد منهم أحد الى قول إنسان منهم او ممن قبلهم فياخذه كله.
" صحابہ کا از اوّل تا آخر اور تابعین کا از اوّل تا آخر اور تبع تابعین کا بھی از اوّل تا آخر اس بات پر کامل اتفاق ثابت ہے کہ یہ بات ممنوع اور ممتنع ہے کہ ان سب کے قول کا قصد کرے اور اسےکلی طور پر قبول کر لے ۔“
اس کے بعد شاہ صاحب نے الیواقیت والجواہر سے ائمہ مذاہب کے اقوال ذیل نقل کیسےہیں:
یه مختصر بحث اور چند حوالہ جات اس حقیقت کو واضح کر دینےکےلیےکافی ہیں کہ دین میں واجب التسلیم جو سند کتاب وسنت ہےیا پھر اجماع صحابہ۔ایک صحابی یا چند صحابی کرام کےاقوال و افعال کو کتاب و سنت اور ان سےغیر مشروط تمسنک نہیں کیا جا سکتا جماعت اسلامی سےکےدستور ہیں جو اصولی بات بیان کی گئی ہے اس کے اندر سے نتیجہ بھی اگر کوئی مزید بات نکالی جاسکتی ہے تو - - بس اتنی ہی ہے اور بجائے خود یہ بات بالکل صحیح وصدا ئب ہے۔اس سےنہ تنقیص صحابہ لازم آنی ہے، نہ اس سے مسلک ملف کی خلاف ورزی ہوتی۔جماعت محض عقیدہ و نظریہ کی حد تک ارکان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ نبی اور غیر نبی کے مابین امتیازکریں اور غیر نبی کو تہ سے بالاتر نہ سمجھیں۔اس سے زبردستی یہ مطلب نکالنا صریح زیادتی ہے کہ جماعت کے قیام سےاب تک کوئی ایک مثال بھی ایسی موجود نہیں ہے کہ کسی رُکن جماعت نے اس عبارت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر کسی صحابی کےقول و فعل کے معاملے میں توہین آمیز طریقے پر لب کشائی کی ہو، یا صحابہ کرام کی جناب میں کوئی دوسری ادنی سی منافی احترام حرکت ہی کی ہو۔
سطور بالا میں جو کچھ پیش کیا گیا ہےاس سے یہ مدعا ہر گز نہیں ہے کہ صحابہ کرام کے آثار و اقوال کسی درجے میں بھی قابلِ اعتنا نہیں ہیں اور ان سے ہمیں سرے سے کوئی رہنمائی ہی نہیں مل سکتی۔ اوپر جن بزرگوں کے اقوال نقل کیے گئے ہیں، ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو آثارِ صحابہ کو بالکل اٹھا کر پھینک دینے کا قائل ہو،اور نہ یہ جماعت اسلامی کےکسی فرد کا مسلک یا نقطہ نظر ہے۔جماعت اسلامی کا لٹریچر جس شخص کی نظر میں ہو ، وہ خود بآسانی اندازہ کر سکتا ہے کہ اس میں مختلف مسائل حیات کے متعلق اسلام کا نظریہ پیش کرنے کے لیے کتاب وسنت کے ساتھ آثارِ صحابہ ہی سے نہیں بلکہ اقوال تابعین محمد ثین و ائمہ مجتہدین سے بھی استشہاد کیا گیا ہے۔ حق یہ ہے کہ یہ ساراذ خیرہ ہمارا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ اور ورثہ ہے جس سے ہم کبھی بھی بے نیاز نہیں ہو سکتےبحث جو کچھ ہے وہ فقط اس امر میں ہے کہ آیا صحابی کا ہر قول بجائے خود کتاب وسنت کی طرح واجب الاتباع ہے یا اسے اخذ کرنے سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کتاب وسنت سےکہاں تک مطابقت رکھتا ہے_١
١- اس سلسلہ بحث میں مولانا بدر عالم مدنی کا قول مندرجہ صفر ۱۳۳ بھی لائق ملاحظہ ہے۔
سوال یہ صورت حال بڑی افسوس ناک ہےکہ مولانا مودودی کی بعض تحرہرں کہ نیاد پر ان کےاور جماعت نا کے خلاف بعض لوگوں نےمدت سےایک مہم چلا ہےاور انہیں زمیں به کا مرتکب قرار دینےکی کوشش کی جارہی ہے اس سلسلےمیں مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔مولانا مودودی نےپہلےتجدید و احیائےدین میں لکھا تھا کہ حضرت عثمان ان خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیش روؤں کو عطا ہوئی تھیں۔ خلافت و ملوکیت میں بھی یہ بات دہرائی گئی ہے کہ حضرت عثمان نےشیخین کی پالیسی سےہٹ کر جو روش اختیار کی وہ بلحاظ تدبیر نامناسب بھی تھی اور عملاً سخت نقصان دہ بھی ثابت ہوئی۔ انہوں نے اپنے اقرباء کو بڑے بڑے عہدے اور عطیے دیئےجس سے خرابیاں پیدا ہوئیں۔ اس سلسلے میں مروان پر بھی تنقید کی گئی ہے۔
اسی طرح امیر معاویہ کے بارے میں مولانا نے لکھا ہے کہ وہ حضرت علی کے خلاف خروج اور بغاوت کے مرتکب ہوئے۔ان کےوالد حضرت ابو سفیان کے بارے میں بھی بعض تنقیدی ریمارک خلافت و ملوکیت میں موجود ہیں۔ ان سب باتوں کو صحابہ کرام کی بے ادبی اور گستاخی پر محمول کیا گیاہے۔ خلافت و ملوکیت میں جو واقعات درج ہیں،ان سب کا حوالہ تو دے دیا گیا ہےلیکن اس میں جس طرح کےتبصرہ کی مثال کسی دوسرےمصنف یا مورخ کےہاں بھی ملتی ہے، اور وہاں بھی یہ انداز تنقید پایا جاتا ہے یا نہیں؟ اگر اس کی کوئی نظیر پیش کر دی جائے تو شاید ان لوگوں کے لیے موجب اطمینان ہو جو ضد میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ محض ہنگامہ آرائی سے متاثر ہیں۔“
جواب: مولانا مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت ( طبع جدید) کے ضمیمے میں ایسا مواد موجود ہے جو ایک حق پسند انسان کی تشفی کےلیےکافی ہےتا ہم میں تو ضیحات اپنی طرف سےدرج کیےدیتا ہوں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یا دوسرے صحابہ کرام کےمتعلق مولانا مودودی کےقلم سےکوئی بات ایسی نہیں نکلی جسے معاذ اللہ سب و ستم یا مطاعن ومثالب کےزیر عنوان لایا جاسکے۔مولانا نےجو کچھ لکھا ہے ائمہ اہلِ سنت اور اصحاب تاریخ و سیر سلف سےخلف تک کم و پیش اسیطرح کی باتیں لکھتےچلےآئےہیں۔مگر میں چاہتا ہوں کہ سر دست سب سےپہلے امام ابن تیمیہ کی کتاب منہاج السنہ کے چند حوالے یہاں درج کر دوں۔ امام ممدوح اور ان کی اس تصنیف کو میں نےدو وجوہ کی بنا پر منتخب کیا ہے۔پہلی وجہ یہ ہے کہ مولانا مودودی کے خلاف جن حضرات نے اپنی زبان و قلم کی باگیں ڈھیلی کی ہیں۔ ان کی دستبرد اور تعدی سے ابن جریر، ابن عبدالبر اور ابن کثیر جیسے جلیل القدر ائمہ فن بھی محفوظ نہیں رہےلیکن علنیمت ہے کہ ان حضرات کے ہاں ابھی تک ابن تیمیہ اور بالخصوص ان کی کتاب منہاج السنہ کا اعتبار قائم ہےاور وہ جابجا انہیں شیخ الاسلام کےلقب سے یاد کر کے اس کتاب کی عبارتیں نقل کرتے ہیں۔ دوسری وجہ میرے انتخاب کی یہ ہے کہ فی الواقع ہزار سےزاید صفحات کی یہ کتاب ایک شیعہ مصنف کے رد میں لکھی گئی ہے اور اس میں خلفائے راشدین اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دفاع میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا گیا ہتی کہ مردان اور یزید کےحق میں جتنی صفائی پیش کی جا سکتی تھی،اس میں بھی کسر باقی نہیں رہنےدی گئی۔بعد میں آنےوالےاور اس موضوع پر لکھنےوالےسب امام ابن تیمیہ کے خوشہ چین ہیں۔
منہاج السنہ کی چوتھی اور آخری جلد کی ایک فصل میں اس امر پر بحث کی گئی ہے کہ تاریخی واقعات کے صدق و کذب کا معیار باعتبار سند کیا ہونا چاہیے۔اس فصل کا آغاز ان الفاظ سےہوتا ہے: وهنا طريق يمكن سلوكها لمن لم تكن له معرفة بالأخبار ..... اس میں پہلے ابن تیمیہ حضرت ابو بکر کی سیرت بیان فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے منصب خلافت کو اس حال میں چھوڑا کہ نہ کسی سے ترجیحی سلوک روا رکھا اور نہ اپنے قرابت داروں کو عہدے دار بنایا۔ اس کےبعد حضرت عمرؓ کے بارے میں لکھتے ہیں:
لم يتلوث لهم بمال ولا ولى أحدا من أقاربه ولاية فهذا أمر يعرفه، كل أحد وأما عثمان فإنه بنى على أمر قد استقر قبله بسكينة وحلم وهدى ورحمة وكرم ولم يكن فيه قوة عمر ولا فيه كمال عدله وزهده فطمع فيه بعض الطمع رتوسـعـوافـي الدنيا وضعف خوفهم من الله ومنه ومن ضعفه هو وما حصل من أقاربه في الولاية والمال ما أوجب الفتنة حتى قتل مظلوماً شهيدًا.
( ص نمبر ۱۲۱ منہاج السنہ، الجزء الرابع ، بالمطبیقہ الامیریه، بولاق مصر ۱۳۲۲)
"حضرت عمرؓ نےلوگوں کو مال سےآلودہ نہ کیا اور نہ اپنےکسی رشتہ دار کو کوئی عہدہ دیا۔یہ ایسی بات ہے جسے ہر ایک جانتا ہےرہے حضرت عثمان تو انہوں نےسکونِ قلب اور بردباری اور راست روی اور رحمت اور کرم کےساتھ اس نظام کو چلایا جو ان سے پہلے قائم ہو چکا تھا مگر ان میں نہ حضرت عمر جیسی قوت تھی ، نہ ان کی سی سیاست، نہ اس درجہ کا کمال عدل و زہد ۔ اس لیے بعض لوگوں نےاس سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور وہ دنیا کی طلب میں منہمک ہو گئے اور ان کے اقارب کو جو مناصب و مال حاصل ہوئے تھے ، انہوں نے فتنے کو جنم دیانتی کہ آپ مظلومی کی حالت میں شہید ہو گئے ۔“
پھر آگے اسی فصل میں ص نمبر ۱۷ پر پر مانے ہیں :
وكان ابو بكر وعمر افضل سيرة واشرف سريرة من عثمان و علی رضی الله عنهم اجمعين فلهذا كانا بعد من الملام واولى بالثناء العام حتى لم يقع في زمنهما شيء من الفتن.
" حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اپنی سیرت اور طینت میں حضرت عثمان وعلی (رضی اللہ عنہم اجمعین) سے افضل واشرف تھے، اسی وجہ سے حضرت ابو بکر و عمر ملامت سے محفوظ اور عام تعریف کے مستحق رہے۔ اور اسی بنا پر دونوں کے عہد میں کوئی فتنہ رونما نہ ہو سکا۔“
منہاج السنہ کی اسی چوتھی جلد میں ایک فصل قال الرافضی الخامس اخیارہ بالغائب کے الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ص ۷۹ اپر یہ عبارت موجود ہے:
"صحابہ اور تابعین میں سے کسی نے معاویہ پر تو منافقت کا الزام نہیں لگایا ہے، مگر ان کےباپ کے معاملہ میں ان کے درمیان اختلاف رہا ہے۔“
میں اس عبارت کو دشنام طراز اور فتوی باز حضرات کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے حق میں کیا فتویٰ رسید کرتے ہیں؟
علامہ محب الدین طبری شافعی نےاپنی کتاب "الریاض النضرہ فی مناقب العشرة" میں حضرت سعید بن مسیب کا جو قول حضرت عثمان کے متعلق نقل کیا ہے وہ خلافت و ملوکیت کے ضمیمےمیں موجود ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام حضرت عثمان کے اس طریقے کو پسند نہیں کرتےتھے کہ انہوں نے غیر صحابی بنوامیہ کو بڑی تعداد میں عہدے دیئے،ان عہد ہداروں سے نا پسندیدہ افعال سرزد ہوئے اور توجہ دلانے پر بھی ان شکایات کا ازالہ نہ ہو سکا۔ الریاض النضرہ کے متعلق میں یہ امر مزید واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس کتاب کا اصل موضوع تاریخ نہیں بلکہ یہ خاص طور پر خارجی و شیعی عقاید سےابطال اور سنی عقائد اور انکی حقانیت کے اثبات کی غرض سے لکھی گئی ہے اور اس میں ان دس صحابہ کرام کی فضائل، ومناقب بیان کیے گئے ہیں جنہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی خصوصی بشارت دی تھی اور مورخیں اہلِ سنت عشرہ مبشرہ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔حافظ محب الدین البصری کے اسی قول کو بنیاد بنا ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ نے مرقاۃ شرح مشکوۃ ، ابواب المناقب میں حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان کی سیرتوں کا فرق یوں واضح فرمایا ہے
وان اتفق خلاف الك فى بادی النظر رجعوا اليه في ثانية مستصوبين راي ترفين ان الحق كان معه كمافي قتال اهل الردّه او نحو ذالك معنى فُقد في عثمان فانهم خالفوا ايه كثير من ابعه ولم . اليه بل اصروا على انكار هم عليه حتى قتل وكان مع ذال ، على الحق ما شهدت به الاحاديث وكان ر : صالحًا على مادل هذا الحديث فالنقص انما ود كان عما يثبت للشيخين قبله ما حققه الطبري في الرياض النضره.
" (حضرت ابو بکر ؟ ) سے اگر بادی النظر میں صحابہ کرام کو اختلاف ہوا تب بھی دوبارہ غور و فکر کے بعد انہوں نے حضرت ابو بکر کی راے صحیح سمجھ کر ان کی طرف رجوع کیا ۔ ان کے بر سر حق ہونے کا اعتراف کیا، جیسا کہ مرتدین و غیرہ کےمعاملےمیں ہوا۔ یہ بات حضرت عثمان کے معاملےمیں ہوا-یہ بات حضرت عثمان کےمعاملے میں مفقود ہوگئی۔ بہت سے واقعات میں صحابہ نےان کی رائےسےاختلاف کیا اور ان سے متفق نہ ہوئے بلکہ اپنے انکار و اختلاف پر مصرر ہے،یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے ۔ اس کے باوجود آپ حق پر تھے جیسا کہ احادیث شاہد ہیں ۔ اس حدیث کی رو سے بھی آپ مرد صالح تھے۔ آپ میں کمی یا نقص صرف اس معیار کےلحاظ سےتھا جو ان سے پہلے شیخین کے حق میں ثابت ہو چکا تھا۔ طبری نےالریاض النضرہ میں اپنی تحقیق یہی بیان کی ہے۔“
شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ”ازالۃ الخفا عن خلافة الخلفاء“ کا موضوع بحث بھی یہی ہے۔ اس میں بھی خوارج وشیعہ کے نظریات کا رد، خلافت راشدہ کی حجیت اور خلفائےراشدین کے اسوہ اور ان کے کارنامہ کا بیان ہے ۔۔ اب ازالۃ الخفا ، مقصد اوّل صفحہ ۱۵۰ کی درج ذیل عبارت ملاحظہ ہو :
سیرت حضرت ذی النورین به نسبت سیرت شیخین مغایر تے داشت، زیرا کہ گاہے از عزیمیت برخصت تنزل می نمود و امراء حضرت ذی النورین نه بر صفت امراء شیخین بودند -
حضرت بارانبارین کی سیرت حضور شیخی سیرت سے مغایر ومختل تھی کیونکہ نفرت عثمان بعض اوقات عزیمت کے بجائے رخصت پر اتر آتے تھے ا کے بام در شیخرج کے امراء ہال جیسی صفات نہ تھیں۔“
شاہ ولی اللہ صاحب کے تلف الرشید شاہ عبدالعزیز نہ دہلوی نے بھی اہل تشیع کی تردید میں ایک مستقل کتاب تحفہ اثنا عشریہ کے نام سےلکھی ہے۔ اس میں صاف طور پر حضرت امیر معاویه کو باغی قرار دیا گیا ہے ، اس طرح انہوں نے اپنے فتاوی اور دوسری تحریریں - - - پر لکھا کہ امیر معاویہ شاہ نے آیت سے خالی نہ تھے۔ میں ذیل میں ممتاز اہل حدیث عالم نواب صديق حسن خاں صاحب کی ایک عبارت نقل کرتا ہوا جس یہ شاہ - - - صاحب کا حوالا بھی مذکور ہےاس لیےیہ اہل حدیث و احناف سب کےلیے انت متناء ، نواب صاحب مرحوم اپنی کتاب "ہدایۃ السائل الی نہ المسائل کےصفحہ ٥١٠ پر پہلےتو لکھتےہیں کہ مروان حضرت طلحہ اور حضرت نعمان بن بشیر کا قاتل تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے امام ذہبی ، ابن حزم اور ابن حبان کی نہایت سخت رائے مروان کے خلاف نقل کی ہے۔ پھر فرماتے ہیں:
این اعتذار که قتل طلحہ تاویل ما کر وه عذری هست که باوجورش هیچ معصیت برائے هیچ ہی باقی نمی ماند بلکہ برائے وی دعوی تاویل میرسد و ایں ہیچ تا و بل کسی سر- - - که از طرف معاویه در فاقر دی تاویل کرده گفته که دی در بینی خود مجتهد بود و در عواصم و قد اعترف أهل الحديث بأجمعهم ان المحاربين لعلى رضى الله عنه معاوية وجميع من تبعة بغاة عليه وأنه صاحب الحق، انتهى. گویم مختار شاه عبدالعزیز دہلوی در بعض افادات خودش نیز همین است که حرب معاویه با علی کرم اللہ وجہہ خالی از شائبه نفسانیت نبود وقول بخطائے اجتهادی ضعیف است۔
"مروان کی طرف سےیہ عذر پیش کرنا کہ اس نےحضرت طلحہ کو کسی تاویل و توجیه کی بنا پر قتل کیا تھا، ایک ایسی معذرت ہےجس کو پیش کر کے ہر گنہ گار کو بے گناہ قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کے حق میں تاویل کا دعوی کیا جا سکتا ہے۔یہ تاویل اس شخص کی تاویل کی مانند ہےجس نےحضرت معاویہؓ کی غلط کارروائیوں کی تاویل کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے حضرت علی کے خلاف بغاوت بر بنائےاجتہاد کی تھی ۔ محمد بن ابراہیم الوزیر نے عواصم میں لکھا ہے کہ تمام اہل حدیث مانتے ہیں کہ معاویہ اور ان کے تمام ساتھی جنہوں نے حضرت علی سے جنگ کی وہ حضرت علیؓ کے باغی تھےاور حضرت علیؓ حق پر تھے ۔میں (نواب صدیق حسن خان ) کہتا ہوں کہ شاہ عبدالعزیز دہلوی کے ارشادات میں بھی قول مختار یہی ہے کہ حضرت معاویہ کی حضرت علی کے ساتھ لڑائی شائبہ نفانسیت سے خالی نہ تھی۔اور یہ قول ضعیف ہے کہ امیر معاویہ کی خطا اجتہادی تھی۔“
سوال یہ ہےکہ جو اصحاب اہل سنت کےامام اور اہل تشیع کےبالمقابل سنی مسلک کےبہترین حامی و ترجمان شمار کیےجاتےہیں،وہ اگر مندرجہ بالا اقوال کےصرف ناقل ہی نہیں بلکہ قائل بھی ہیں اور ان کےیہ اقوال ایسی کتابوں میں درج ہیں جو شیعوں کی تردید میں لکھی گئی ہیں،تو مولانا مودودی نےاگر خلافت و ملوکیت کی تاریخی بحث کےدوران میں یہی کچھ لکھ دیا ہےتو آخر کس جرم کا ارتکاب کیا ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین علی قدر مراتب واجب الاحترام ہیں مگر معصوم نہیں ہیں۔ ان کی بعض خطائیں خود قرآن میں مذکور ہیں، جس سےکسی مسلمان کو مجال انکار نہیں ہے۔مولانا مودودی نے صحابہ کرام کے متعلق جو بات بھی لکھی ہے وہ محتاط پیرائے میں ان کا شرف صحابیت ملحوظ رکھتے ہوئے لکھی ہے،جسے کوئی ذی علم اور انصاف پسند آدمی تو بین صحابہ پر محمول نہیں کر سکتا۔
حضرت عثمان اپنے عزیزوں سےجو فیاضانہ بر تاور وار کھتےتھے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کے طرزعمل سے اس کا موازنہ کرتے ہوئے مولانا مودودی نےاسےصرف خلاف احتیاط اور غیر اولی قرار دیا ہے، یہ نہیں کہا کہ یہ کی حکم شرعی کے خلاف اور ممنوع تھا۔ ان کے اپنے الفاظ میں درج ذیل ہیں:
" صلہ رحمی کے شرعی احکام کی تاویل کرتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بحیثیت خلیفہ اپنے اقرباء کے ساتھ جو سلوک کیا اس کے کسی جز کو بھی شرعاً نا جائز نہیں کہا جاسکتا۔ ظاہر ہے کہ شریعت میں ایسا کوئی حکم نہیں ہےکہ خلیفہ کسی ایسےشخص کو عہد نہ دےجو اسکےخاندان یا برادری سے تعلق رکھتا ہو۔ نہ شمس کی تقسیم یا بیت المال سے امداد دینے کے معاملے میں کوئی ایسا شرعی ضابطہ موجود تھا جس کی انہوں نے خلاف ورزی کی ہو ۔اس لیےان پر یہ الزام ہرگز نہیں لگایا جا سکتا کہ انہوں نے اس معاملےمیں حد جواز سے کوئی تجاوز کیا تھا۔ لیکن کیا اس کا بھی انکار کیا جاسکتا ہے کہ تدبیر کے لحاظ سے صحیح ترین پالیسی وہی تھی جو حضرت ابوبکر و عمر نے اپنے اقرباء کے معاملے میں اختیار فرمائی اور جس کی وصیت حضرت عمر نے اپنے تمام امکانی جانشینوں کو کی تھی؟“
( خلافت و ملوکیت صفحه ۳۲۲)
مولانا کے نزدیک حضرت عثمان کی سیرت کا بس یہی ایک پہلو اپنے پیشروؤں سے مختلف تھا، ورنہ وہ ہر لحاظ سے ایک مثالی حکمران اور خلیفہ راشد تھے۔ آپ کی شہادت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے مولانا نے لکھا ہے:
" حقیقت یہ ہے کہ اس انتہائی نازک موقع پر حضرت عثمان نے وہ طرز عمل اختیار کیا جو ایک خلیفہ اور ایک بادشاہ کے فرق کو صاف صاف نمایاں کر کے رکھ دیتا ہے۔ ان کی جگہ کوئی بادشاہ ہوتا تو اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے کوئی بازی کھیل جانے میں بھی اسے باک نہ ہوتا۔ اس کی طرف سے اگر مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بج جاتی ، انصار و مہاجرین کا قتل عام ہو جاتا ، ازواج مطہرات کی تو ہین ہوتی اور مسجد نبوی بھی مسمار ہو جاتی تو وہ کوئی پروانہ کرتا۔ مگر وہ خلیفہ راشد تھے۔ انہوں نے سخت سےسخت لمحوں میں بھی اس بات کو محوظ رکھا کہ ایک خدا ترس فرمانروا اپنے اقتدار کی حفاظت کے لیےکہاں تک جا سکتا ہے اور کس حد پر پہنچ کر اسے رک جانا چاہیے۔ وہ اپنی جان دے دینے کو اس سےہلکی چیز سمجھتے تھے کہ ان کی بدولت وہ حرمتیں پامال ہوں جو ایک مسلمان کو ہر چیز سے بڑھ کر عزیز ہونی چاہئیں۔“
(خلافت و ملوکیت صفحه ۱۲۰)
کیا یہ انداز تحریر کسی ایسےشخص کا ہو سکتا ہےجس کےدل میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی توہین و تذلیل کا ادنی شائبہ بھی موجود ہو؟ کیا تعظیم اور تو ہین کے جذبات ایک ساتھ کسی قلب میں جمع اور جاگزیں ہو سکتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ فعل تو ہین کا تعلق انسان کے الفاظ واقوال سے زیادہ اس کی نیت اور قلبی کیفیت سے ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کسی خاص واقعہ یا مسئلہ کے بیان میں ایک ایسا طرز تعبیر اختیار کرے جو اس کے نزدیک حدود ادب کے اندر ہو اور دوسرا شخص اس میں کوئی تجاوز محسوس کرے۔ لیکن کسی صاحب تقوی مسلمان کو اپنےایک دینی بھائی کےمتعلق یہ سوءظن تو نہیں کرنا چاہیےکہ وہ ان ہستیوں کی توہین و استخفاف دیدہ و دانستہ ملوث ہو گا جس کی محبت وعقیدہ سے ہر مسلمان سرشار ہے۔ کسی شخص کو ان کی تو ہین کا مرتکب قرار دینے کے معنی یہ ہیں کہ اس نے دانستہ ان کی اہانت کی ہے اور اس کا دل ان کےاحترام سےخالی ہے۔ مگر کیا اتنا بڑا الزام اس کے کسی ایک فقرے یا چند الفاظ کی بناپر لگادینا صحیح ہے جب کہ اسکی عمر بھر کی تحریر یں اور تقریریں اور کوششیں ان ہی بزرگوں کی تعریف و تحسین اور ان ہی کےاسوہ کی پیروی کی طرف دنیاکو دعوت دینےمیں صرف ہوئی ہوں؟لیکن آج یہ ہماری بڑی بد قسمتی ہےکہ مذہبی حلقوں میں ایک دوسرے کےخلاف،خدا کی تو ہین،انبیاء کی تو ہین،صحابہ کرام کی توہین کے الزمات اس سہولت اور اس کثرت سے عائد کر دیئے جاتے ہیں کہ یہ اب بچوں کا کھیل بن کر رہ گیا ہے۔ ہر دی ، دوسرے کے چند اقوال جھانٹ کر یا سیاق و سباق سے الگ کچھ اقتباسات نکال کر ان سے کفر وضلالت برآمد کر رہا ہے۔بریلوی، یو بندی اور اہل حدیث سب اس معاملے میں مہارت فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ہر فریق اس طرح کے ہتھکنڈوں کا مزہ خود چکھ چکا ہے اور ان کی شکایت بھی رات دن کرتا رہا۔مگر دوسروں کے خلاف ان کے استعمال سے باز نہیں رہتا۔ شاہ اسماعیل شہید اور بعض دوسرے حضرات کے اقوال پر جود دوطرفہ بخشیں ہوتی رہی ہیں، وہ آخر کس سے مخفی ہیں؟ '' طرز استدلال سے آج مولانا مودودی کو انبیاء و صحابہ کی تو ہین کا مجرم ٹھیرایا جارہا ہے، ٹھیک اسی طرز استدلال کی بنا پر دیو بندی حضرات کو فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی نہیں، خدا کی تو ہین تک کا مرتکب ٹھہرایا جا چکا ہے اور یہ کہا جا چکا ہے کہ ان کے نزدیک نعوذ باللہ خدا جھوٹ بول سکتا ہے اور شیطان کا علم نبی کے علم سےزیادہ ہے! مکان کذب باری علم غیب اور اس طرح کے مسائل پر دفتر کے دفتر سیاہ کیے جاچکے ہیں۔
ایک طرف یہ دین کے نام لیوا ہیں جو باہم دست وگر یہاں اور بلا ادنی جواز مسلمانوں کی تکفیر و تفسیق میں سرگرم ہیں اور دوسری طرف ملاحده وزنادقه اور اعدائے دین کو کھلی چھٹی مل گئی ہے کہ وہ اللہ، اس کے رسول اور رسول کے صحابہ سے منسوب ہونے والی اور ان کی یاد دلانے والی ہر شے کی علانیہ توہین و تضحیک کریں اور اس ملیا میٹ کرنے کے لیے در پے ہوں۔ کاش صاحب احساس حق پسند اور غیرت مند مسلمان اب بھی متنبہ ہوتے اور اس صورت حال کا تدارک کرتے۔
مشرقی پاکستان میں جو سانحہ عظیمہ رونما ہوا ہے، اگر چہ اس میں عوام و خواص کی بداعمالیوں اور اعدائے اسلام کی دسیسہ کاریوں کو بڑا دخل ہے لیکن علمائے کرام بھی بالکل بری الذمہ نہیں ہیں۔دیو بندی علماء کے جتنے وسیع اثرات وہاں تھے انہیں بالعموم مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کی مخالفت میں استعمال کیا گیا۔مسلمانوں کےدلوں میں طرح طرح کی وسوسہ انداز کی گئی۔ دیو بند سےجاری شدہ جماعت کےخلاف فتوے اردو اور بنگلہ میں ترجمہ کرا کےبکثرت پھیلائے گئے۔بہت سےعلماء نے مغربی پاکستان میں بیٹھ کر یہاں جماعت اسلامی کے بارے میں اگر کچھ موافقانہ رائےظاہر کی تو مشرقی پاکستان کے مسلمانوں کے سامنے بالکل دوسری ہی رائے کا اظہار کیا اور کہا کہ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے لوگوں کےعقائد صحیح نہیں، ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ بعض علمائے کرام نے وہاں سے الٹی میٹیم بھیجے کہ فلاں تاریخ تک خلافت و ملوکیت کی فلاں فلاں عبارتوں سے رجوع کرو، ورنہ- - - - - - - - - - -
اس طرح فتووں سےبے دین عناصر نے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور لوگوں کو ان کے ذریعے سےجماعت کے ساتھ تعاون کرنے سے روکا اور ہم سے برگشتہ کیا۔ آخری وقت میں کچھ اتحاد واتفاق کی فضا قائم ہوئی مگر اس وقت پانی سر سے گزر چکا تھا۔ افسوس کہ اتنی بڑی چوٹ کھانے کے باوجود جس طرح عوام کی آنکھیں نہیں کھلیں ، اُسی طرح علماء کو بھی اپنی غلطی کا احساس نہیں ہو سکا۔ ہم نے کسی دینی گروہ کے خلاف محاذ کھولنے میں بھی سبقت نہیں کی ، مگر جب ہم جھوٹے اتہامات کا نشانہ بنتےہیں تو مجبوراً ہمیں بھی مدافعت کرنی ہی پڑتی ہے۔ آخر ہمارے لیے ان سنگین اور غلط الزامات کو اپنےاوپر اوڑھ لینا کیسے ممکن ہے؟
سوال: مولانا مودودی نےاپنی کتاب” خلافت و ملوکیت" صفحہ ۱۸۸ میں لکھا ہےکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے وہ تمام جائیدادیں واپس کر دیں جو انکےناجائز طریقےسےوراثت میں ملی تھیں اور یہ کہا تھا کہ جب فرمانروا کے اپنےعزیز و اقرباء ظلم کریں اور فرمانروا اس کا ازالہ نہ کرےتو وہ دوسروں کو کیا منہ لے کر ظلم سےروک سکتا ہے؟ ان واقعات کے ثبوت میں مولانا نے البدایہ اور ابن اخیر کی تاریخوں کا حوالہ دیا ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ان تاریخی کتابوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ بنو عباس اور بعض دوسرےعناصر نےمردان اور بن مروان کو بدنام کرنے کے لیے ایسے قصےکہانیاں تصنیف کر لیے تھے اور یہی مواد تاریخی کتابوں میں راہ پا گیا، ورنہ در حقیقت بنوامیہ کا دور ایک مثالی دور تھا۔
جواب آپ کے سوالات کے جواب میں پہلی گزارش یہ ہے کہ تاریخی بحثوں اور تاریخی واقعات میں کتب تاریخ پر انحصار ایک ناگزیر امر ہے۔ جو واقعات نزول قرآن اور عہد نبوی کے بعد رونما ہوئے ہیں، ان کے بارے میں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتاکہ انکا تفصیلی بیان قرآن یا حدیث میں ہوگا۔ان کےمتعلق پیشین گوئیوں کی شکل میں بعض اشارات تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےارشادات میں مل سکتےہیں اور ملتےہیں،مگر ان کی تفصیلات بہر حال ہمیں تاریخ ہی میں مل سکتی ہےاور انہیں معلوم کرنےکےلیےلامحالہ ہمیں تاریخ کی کتابوں ہی کی جانب رجوع کرنا ہوگا۔ یہ ایک فطری ضرورت ہے اور اسی کےپیش نظر ہمارے مؤرخین نے تاریخی کتابیں مرتب کی ہیں۔ ان مؤرخین میں سے بیشتر مفسرین و محدثین بھی ہیں۔ اور ان کے متعلق یہ باور کر لینا محال ہے کہ انہوں نے بے سروپا اور جھوٹے قصےکہانیاں جمع کر دی ہوں گی اور پھر پوری امت کے اہل علم انہیں آنکھیں بند کر کے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرتے چلے آئے ہوں گے۔
آپ نے جن تاریخی واقعات کا سوال میں ذکر کیا ہے،اگر چہ مولانا مودودی نے انہیں تاریخی مآخذ سےنقل کیا ہے، لیکن اس سے آپ یہ نہ سمجھیں کہ حدیث کی کتابیں ان سے بالکل خالی ہیں۔ آپ نے جن واقعات پر تعجب کا اظہار کیا ہے وہ حدیث کی کتابوں حتی کہ صحاح ستہ میں بھی مروی ہیں،جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
سنن اپنی داؤد، کتاب الخراج کی ایک روایت ملاحظہ ہو:
حدثنا عبد الله بن الجراح حدثنا جرير عن المغيرة قال جمع عمر بن عبدالعزیز بنی مروان حين استخلف فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كانت له فدک فكان ينفق منها على صغير بني هاشم ويزوج منها أيمهم وان فاطمة سألته ان يجعلها لها فابى فكانت كذلك في حيوة رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى مضى لسبيله فلما ان ولى أبوبكر عمل فيها بما عمل النبي صلى الله عليه وسلم في حياته حتى مضى لسبيله فلما ولى عمر عمل فيها بمثل ما عملا حتى مضى لسبيله ثم أقطعها مروان ثم صارت لعمر بن عبدالعزيز قال عمر یعنی ابن عبدالعزیز فرأيت امرًا منعه النبي صلى الله عليه وسلّم فاطمة ليس لي بحق و انى اشهدك انى قد رددتها على ما كانت يعني على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلّم.
" ہم سےعبداللہ ابن الجراح نےبیان کیا،ان سےجریر نےمغیرہ کےحوالےسےبیان کیا کہ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ ہوئے تو انہوں نےبنو مروان کو جمع کیا۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس فدک کے باغات تھے۔ آپ اس میں سےبنو ہاشم کےنابالغ افراد پر خرچ کرتےتھےاور بیوہ یا غیر شادی شدہ کا نکاح کرتے تھے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ سےمطالبہ کیا کہ یہ جائیداد انہیں دے دی جائے مگر آنحضور نے انکار فرما دیا۔ حیات نبوی میں یہی صورت رہی حتی کہ آپ کا وصال ہو گیا۔ پھر جب ابوبکر خلیفہ ہوئےتو آپ نےبھی عمل نبوی کے مطابق عمل کیا حتی کہ آپ بھی وفات پاگئے ۔ جب حضرت عمر خلیفہ بنے تو آپ نے بھی دونوں پیشروؤں کی کارروائی کے موافق عمل کیا یہاں تک کہ حضرت عمرؓ کا انتقال ہو گیا۔ پھر مروان نے فدک کو اپنی جاگیر بنالیا اور یہ عمر بن عبد العزیز کو ورثے میں ملی۔ انہوں نے فرمایا: میری یہ رائے ہے کہ جس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو منع فرمادیا، وہ میرے لے جائز نہیں اور میں تمہیں گواہ بنا تا ہوں کہ میں اس جائیداد کی وہی حیثیت بحال کرتا ہوں جو عہد نبوی میں تھی۔“
خط کشیدہ الفاظ کا جو ترجمہ میں نے کیا ہے وہ سیاق وسباق کے بالکل مطابق ہے اور شارحین نے اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے۔
چنانچہ صاحب بذل المجہو داس روایت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اہل سنت کے ہاں یہ بات بالکل مسلم ہے کہ یہ جائیداد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی جائیداد یا مالکیت سات بلکہ بحیث قوم ان کے منصب اور عہدے کا مالی معاوضہ اس سے فراہم ہوتا تھا۔لہذا آنحضور کے وصال کے بعد آپ کا جو بھی جانشین ہوگا، وہ اس سے مستفید ہوگا۔ابوداود کی اسی باب کی دیگر احادیث اور صحارح کی متعدد دوسری احادیث سے یہ امر قطعی طور پر واضح ہو جاتا ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں جو جائیداد خالصہ قرار دی گئی تھی اور شمس وغنائم کا جو مال آنحضور کے پاس آتا تھا،وہ آپ کے درہ کے طور پر ورثاء میں قابل تقسیم نہ تھا۔ یہ گویا اسلامی ٹیسٹ اور حکومت وقت کی تحویل میں رہے گا۔ اس سے ازواج مطہرات کا نفقہ ادا کیا جائے گا اور جوشخص بھی امت کا متولی امر ہو گا، اس کی اور اس کے اہل وعیال کی کفالت بھی اس سےہوگی۔مگر مروان نےان حکام صریحہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فدک کو ذاتی جاگیر بنالیا، حالانکہ خود حضرت علی کی روش اس معاملےمیں یہ تھی کہ عہد صدیقی و فاروقی میں اگرچہ حضرت فاطمہ کا وکیل یا وارث ہونےکی حیثیت سےانہوں نےاس جائیداد میں استحقاق کا مطالبہ کیا تھا لیکن جب خود امیر ہوئےتو اس جائیداد کی وہی پوزیشن برقرار رکھی جو پہلے طے ہو چکی تھی۔
مروان ہی کا یہ کارنامہ بھی ہےکہ اس نے قرآن مجید کا وہ نسخہ نذر آتش کر دیا جسکی کتابت حضرت ابوبکر نے حضرت زید بن ثابت سےکرائی تھی اور جس کی مزید نقول حضرت عثمان نےکرا کر بلاد اسلامیہ میں بھجوائی تھیں۔ اس کی تفصیل امام طحاوی نے یوں بیان کی ہے:
كانت تلك الكتب عند أبي بكر حتى توفي ثم كانت عمر حتى توفي ثم كانت عند حفصة زوج النبي صلى الله عليه وآله وسلم فأرسل إليها عثمان قالت ان تدفعها إليه حتى عاهدها ليردنها إليها فبعثت بها إليه في نسخها عثمان في هذه المصاحف ثم ردها ايهما فلم تزل عندها حتى أرسل مروان بن الحكم فأخذها فخرقها.
( مشکل الآثار - جزء ثالث ، صفحیم ، مطبعه دائرۃ المعارف، دکن ،۱۳۳۳)
" قرآن مجید کے یہ مکتوب اجزاء ابوبکر کے پاس ان کی وفات تک رہے۔ پھر یہ حضرت عمر کے پاس ان کی وفات تک رہے۔ پھر ام المومنین حضرت حفصہ کی تحویل میں یہ مصحف رہا۔حضرت عثمان نے اسے طلب فرمایا مگر حضرت حفصہ نےواپسی کی شرط کے بغیر اسےدینےسےانکار فرمایا اور اس شرط پر اسےحضرت عثمان کے حوالے کیا ۔ حضرت عثمان نے اس کی نقول تیار کر کےاسے واپس کر دیا اور یہ حضرت حفصہ نہی کےپاس رہا یہاں تک کہ مروان نے بعد میں اسے منگوایا اور جلا دیا۔
ایسی بیش قیمت تاریخی یادگار اور مقدس تبرک کو آگ میں جھونکنے کی جرات مردان کے سوا اور کون کر سکتا تھا؟
سوال: مولانا مودودی کی کتاب ”خلافت و ملوکیت"پر تو خوب لےدےہو رہی ہےاور اس سلسلےکےبعض سوالات کا جواب آپ نےبھی دیا ہےمگر اس موضوع سےمتعلق جو کتاہیں محمود احمد عباسی اور ان کے بھتیجے علی احمد عباسی نےلکھی ہیں،تعجب ہےکہ ان میں اہل سنت کے مسلک و عقیدہ کو جس طرح مسخ کیا گیا ہے اور حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ کےبالمقابل امیر معاویہ اور یزید کی شخصیت کو جس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے،اس کی تردید کسی نےضروری نہیں سمجھی۔تردید کیا معنی ان کتابوں کےمواد کو کسی نہ کسی صورت میں دوسرےحضرات نےاپنی تصانیف اور تحریروں میں سمو دیا ہےحتی کہ ایک کتاب”سیدنا معاویہ،شخصیت و کردار کےبارے میں تو عباسی صاحب کو یہ شکایت کرنی پڑی ہے کہ اس کے مؤلف نے ان کے بھتیجے کی کتاب” حضرت معاویہ کی سیاسی زندگی کو سامنے رکھ کر اپنی کتاب مرتب کر ڈالی ہے، قدرے تغیر کے ساتھ مضمون بھی وہی،عنوانات بھی وہی ہیں۔
حضرت معاویہؓ کی سیاسی زندگی اور "خلافت معاویه ویزید تو غالبا ضبط ہو چکی ہیں مگران سے ملتی جلتی عباس صاحب کی ایک دوسری کتاب تحقیق مزید" کے نام سے چھپ گئی ہے۔ اگر یہ کتاب آپ کی نظر سے نہ گزری ہو، تو اسے بھی دیکھیں۔ اس میں دو سو بہتر صحابہ کرام اور پانچ ازواج مطہرات کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں سے کسی ایک کی مخالفت یا خروج یزید کےخلاف ثابت نہیں ، گویا یہ سب یزید کی ولی عہدی اور خلافت کی بیعت میں داخل تھے۔ صرف امام حسین اور حضرت ابن زبیر نے خروج کیا۔ کا یہ واقعات کی صحیح تصویر ہے اور کیا ان دو حضرات کو چھوڑ کر باقی سب نے یزید کی بیعت برضاء ورغبت قبول کر لی تھی؟
اس سلسلےمیں ایک اور واقعہ تحقیق طلب ہے"خلافت و ملوکیت"اور دوسری تاریخوں میں بالعموم یہ بیان کیا گیا ہےکہ حضرت عمار بن یاسر حضرت علی کےہمراہ جنگ صفین میں شریک تھےاور امیر معاویہ کےلشکریوں کے ہاتھوں شہید ہوئےاور اسی بنا پر حضرت عمار کےمتعلق ارشاد نبوی تقتلك فئة باغية میں باغی گروہ کا اطلاق امیر معاویہ اور ان کےساتھیوں پر کیا جاتا ہے لیکن محمود عباسی صاحب نے حضرت عمار کی جنگ صفین میں شرکت کی تردید کی ہے اور اپنی کتاب حقیقت خلافت و ملوکیت صفحه ۱۸۱ پر لکھا ہے کہ جو حقیقت ہے وہ خود طبری کی روایت سے منکشف ہے کہ حضرت عمر کو بلوائیوں نے مصر میں مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی قتل کر دیا (وقد اغتيل ) صحیح صورت واقعہ کی مزید وضاحت درکار ہے۔
جواب: خوارج اور بعض معتزلہ کےماسوا پوری امت مسلمہ اور علمائےاہل سنت میں سلف سےخلف تک اس امر پر ہمیشہ اجماع رہا ہے کہ حضرت علی مسلمانوں کے چوتھے اور آخری خلیفہ راشد تھےاور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشین گوئی کے بموجب ان پر خلافت راشدہ کا خاتمہ ہو گیا۔ حضرت امیر معاویہ کو بعض اہل علم نے صاف طور پر امام جائز اور حضرت علی کے بالمقابل باغی و خاطی کہا ہےحتی کہ نسبت فق تک کی ہےاور بعض نےحضرت علی کےخلاف ان کےنزاع وقتال کو خطائےاجتہادی سےتعبیرکیا ہےامیر معاویہ کی خلافت کا انعقاد خلافت علی کی موجودگی میں تو ہی نہیں سکتا تھاحضرت علی کی شہادت کےبعد بھی انکی خلافت اس وقت سےتسلیم کی گئی جب حضرت حسن نےان سےمصالحت کر لی اور خلافت سےدست بردار ہو گئےاس وقت امیر معاویہؓ کی خلافت منعقد تو ہوگئی مگر خلافت راشدہ کا درجہ اسےپھر بھی حاصل نہ ہوسکا۔ بہر حال کوئی وجہ تو تھی کہ ان کی صحابیت کے با وصف اور ان کو فقیه و مجتہد قرار دینےکے باوجود علمائے اہل سنت نے کبھی ان کا شمار خلفائے راشدین میں نہیں کیا اور انہیں ایک بادشاہ ہی کہا۔
پھر اپنے عہد خلافت میں حضرت معاویہؓ نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا۔ یہ محض ایک جانشینی کی تجویز یا مشورہ نہیں تھا بلکہ بیٹے کو تخت خلافت کا با قاعدہ وارث نامزدکر کے اس کی ولی عہدی کے حق میں پوری مملکت کے طول و عرض میں بیعت عام حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کےلیے حکومت کی طاقت وسطوت اور ذ رائع و وسائل کو کام میں لایا گیا۔
اس فعل کو حق بجانب ثابت کرنے کےلیےزیادہ سےزیادہ جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہےکہ اس کی وجہ محض باپ کی بیٹےسےمحبت نہ تھی،بلکہ اس میں مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ پنہاں تھا۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائےراشدین کی سنت میں اس بات کی کوئی دلیل یا نظیر نہیں ملتی کہ مسلمانوں کا امیر یا خلیفہ اپنےکسی قرابت دار کو اپنی زندگی ہی میں ولی عہد مقرر کرےاور اپنی بیعت کےساتھ ایک دوسری بیعت کا قلاوہ بھی ہر سلمان کے گلے میں ڈال دے اور امت کو ایک پیشگی عہد اطاعت کا پابند بنانے کی سعی کرے۔ نیز یہ بھی ایک نا قابل انکار تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت معاویہ کے اس فعل کے بعد یہ بات ایک سنت جاریہ اور عادت مستمرہ کی حیثیت اختیار کر گئی کہ خلیفہ اپنی زندگی ہی میں اپنے خاندان کے کسی فرد کو ولی عہد مقرر کر دے اور اس کی بیعت لےلے۔اس سے مسلمانوں میں انتخابی خلافت کا طریقہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا اور اس کی جگہ بادشاہت یا آمریت نے لے لی۔ جہاں تک یزید کا تعلق ہے، بعض علمائے اہل سنت نے اب تک اس کےدفاع میں جو کچھ کہا ہےوہ بس اس حد تک ہےکہ اسےکافر کہنا اور اس پر لعنت کرنا جائز نہیں۔وہ ایک مسلمان حکمران تھا۔ ولایت عہد کے وقت تک اس کا فسق و فجو را کثر کے علم میں نہ تھا اور امام حسین کا قتل اس کے ایماء پر نہیں ہوا، اگر چہ اس نے قاتلین حسین سے باز پرس بھی ضروری نہیں مجھی ۔ اس سے آگے بڑھ کر علمائے اہل سنت میں کسی نے بھی کوئی بات یزید کے حق میں نہیں کہی ہے۔
اب اہل سنت کے اس محتاط مسلک اور ان پیش کردہ تصریحات کے بالکل برعکس اور عین ضد میں ایک نیا موقف ہےجسےمحمود عباسی صاحب نے اختیار کیا ہے۔ انہوں نے حضرت علیؓ کی خلافت کے انعقاد ہی کو سرے سے مشتبہ بنانے کی سعی ناکام کی ہے تا کہ ان کا خلیفہ راشد ہونا اور اپنے مخالفین کے مقابل میں برسر حق یا کم از کم اولی بالحق ہونا ہی مشکوک ہو جائے۔ پھر جب نوبت یز ید تک پہنچی ہے تو یہاں آکر عباسی صاحب کی دیدہ دلیری اور خیزہ چشمی اپنی آخری حد کو پہنچ گئی ہے۔ان کے نزدیک امیر المومنین یزید کی خلافت پر جیسا اجماع امت ہوا ہے ایسا اجماع حضرت ابوبکر و عمر کو بھی نصیب نہیں ہوا تھا اور ان کے بقول:
" صحابہ وتابعین، ہاشمی اور اموی اکابرین سب نے ہر دلعزیز ولی عہد کی بیعت خلافت خوشدلی کے ساتھ کی۔ البته مسند نشینی کی خبر سنتے ہی دونوں طالبان خلافت،حضرت حسین وابن الزبیر کسی سوچی کبھی اسکیم کے مطابق گورنرمدینہ کو چکمہ دے کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کا یہ طرز عمل اس بات کی بنین دلیل ہے کہ موت معاویہ کا انتظار ہورہا تھا۔“
ہٹ دھرمی کا کمال یہ ہے کہ امام حسین کے سرفروشانہ اور مجاهدانه اقدام کو عباسی صاحب نےامیر یزید کی خلافت کےخلاف باغیانہ خروج قرار دیا ہےاور ابن خلدون نےیزید اور اسکی ولایت عہد کےمتعلق ہر ممکن صفائی پیش کرنے کے باوجود چونکہ یزید کے فسق و فجور کو صراحت کےساتھ بیان کیا گیا ہےاور ابن العربی کے اس قول کو غلط قرار دیا ہے کہ امام حسین کا قتل شرعاً جائز تھا کیونکہ وہ یزید کے بالمقابل مدعی خلافت تھے، اس لیے عباسی صاحب کہتے ہیں کہ :
" ابن خلدون نےحضرت حسین کےاقدام خروج پر جہاں گفتگو کی ہےوہاں ان کی پوزیشن کو صاف (یعنی داغدار؟) کرنے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ انہوں نے ولی عہدی کی بیعت کے سلسلہ میں تو بہت اچھی بحث کی ہے، جسے کتاب ” خلافت معاویہ و یزید میں نقل کرتےہوئے تحسین بھی کی گئی لیکن اقدام خروج کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے میں شاید عقیدت حسین ان کے مانع آئی۔ عقیدت کی بات اور ہے اور وقائع تاریخی کی بے لاگ ریسرچ شے دیگر است."
اس "ریسرچ ھئے دیگر است“ کے نادر نمو نے عباسی صاحب کی تحریروں میں جابجا بکھرےہوئے ہیں۔ صرف دو طالبانِ خلافت کے ماسوا پوری امت مسلمہ نے ہر دلعزیز ولی عہد کی بیعت جس بے قراری کے ساتھ کی، اس کا ثبوت فراہم کرنے کےلیے عباسی صاحب نے تحقیق مزید میں ایک باب صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یزید کی بیعت ولی عہدی و خلافت“کےنام سےرقم کیا ہے اور سو سے زاید صفحات میں ان تمام صحابہ کرام اور امہات المؤمنین کے اسماء و تراجم بیان کر دیئے ہیں جو یزید کی ولی عہدی کے وقت زندہ تھے اور جن کے حالات مولف کو مل سکے ہیں گویا ان اصحاب کا بقید حیات ہونا اور بیعت یزید کے وقت دنیا سےاٹھ نہ جانا بجائےخود اس امر کا زندہ ثبوت ہےکہ انہوں نےپوری خوشدلی اور آمادگی کےساتھ لپک کر یزید کےدست حق پرست پر بیعت کرلی تھی۔عباسی صاحب نےفقط ان حضرات کےنام گنوانےپر اکتفا نہیں کیا،بلکہ اسکےساتھ ساتھ احادیث صحیحہ کا مفہوم مسخ کرنے اور واقعات ثابتہ کا حلیہ بگاڑنے میں بھی کو تا ہی نہیں کی۔ اس کوشش کا ایک نمونہ میں یہاں پیش کیے دیتا ہوں، جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تاریخی واقعات بیان کرنے میں عباسی صاحب نے کیسی دیانت سے کام لیا ہے۔ ام المؤمنین حضرت حفصہ کے حالات میں لکھتے ہیں :
" یہ محترم خاتون امیر یزید کے زمانہ ولی عہدی میں حیات تھیں۔ صحیح بخاری میں بیان کیا گیا کہ اپنے بھائی حضرت عبداللہ بن عمر کو ہدایت کی کہ اس مجلس میں فورا شریک ہوں،جس کےلیےان کو بلایا جارہا تھا، ایسا نہ ہو کہ عدم شرکت کی بنا پر کوئی صورت اختلاف کی پیدا ہو- - - -یہ معامله تحکیم ( ثالثی) کا نہ تھا بلکہ امیر یزید کی ولی عہدی کا مسئلہ تھا۔حضرت ابن عمرؓ نےامیر یزید کی ولی عہدی اور خلافت کی بیعت بلا تذبذب کی تھی۔ ان کے اس عمل سے ان کی محترم بہن کے موقف پر بھی روشنی پڑتی ہے۔“
اس طرح بخاری کےحوالےسے یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہےکہ دونوں بہن بھائی امیر المؤمنین کی بیعت کے لیے سخت بے چین اور بے تاب تھے۔ دوسرے مقامات پر بالعموم عباسی صاحب کتابوں کے صفحات کا حوالہ دے دیتے ہیں لیکن یہاں انہوں نے بخاری کی کتاب، باب یا صفحے کا حوالہ نہیں دیا- - - - - - بہر کیف یہ حدیث بخاری کتاب المغازی، باب غزوہ خندق میں موجود ہے اور اس کا ترجمہ درج ذیل ہے:
" حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں حضرت حفصہ کے ہاں گیا۔وہ نہائی تھیں اور پانی ان کےبالوں سے ٹپک رہا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ لوگوں کا حال تو آپ دیکھ رہی ہیں مگر میرا تو امارت سے کوئی سروکار نہیں رہنے دیا گیا۔حفصہ بولیں: آپ جائیں، لوگ آپ کے منتظر ہیں اور میں ڈرتی ہوں کہ آپ کے وہاں نہ جانےسےپھوٹ پڑ جائے گی ۔ غرض حضرت حفصہ نےانہیں اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک وہ مجمع میں نہ چلےگئےجب لوگ الگ الگ ہو گئےتو میر معاویہؓ نےتقریر میں کہا کہ جو شخص اس امارت یا بیعت کے معاملے میں کچھ کہنے کا ارادہ رکھتا ہےوہ ذرا اپنا سینگ تو اونچا کرے۔ ہم اس سے اور اس کے باپ سے زیادہ امارت کے حقدار ہیں۔ حبیب بن مسلمہ نے پوچھا کہ آپ نےاس کا جواب نہ دیا؟ حضرت ابن عمرؓ نےفرمایا کہ میں نے اپنی چادر اتاری اور ارادہ کیا کہ امیر معاویہ سےکہوں کہ تم سےزیادہ حقدار امارت کا وہ ہےجس نےتم سےاور تمہارے باپ سے اسلام کی خاطر لڑائی کی۔ پھر مجھے خدشہ ہوا کہ میری بات سے تفرقہ پیدا ہوگا،خونریزی کی نوبت آئے گی اور میری بات سے کچھ اور ہی مفہوم لیا جائے گا۔ پس میں نے ان نعمتوں کی یاد دل میں تازہ کی جو اللہ نے جنت میں تیار کی ہیں (اور خاموش رہا ) ۔ حبیب کہنے لگے کہ آپ محفوظ رہے اور بچ گئے ۔“
اب اس روایت کےتیور اور انداز بیان کو دیکھیے اور عباسی صاحب اس سےجو مطلب نچوڑنا چاہتےہیں اسے بھی دیکھئے اگر یہ تسلیم کر لیا جائےکہ یہاں تحکیم کےبجائےیزید کی ولی عہدی زیر بحث ہےتب بھی مکالمہ کے الفاظ صاف طور پر بتارہے ہیں کہ بیعت ولی عہدی کا معاملہ جس طرح طےکیا جارہا تھا ،حضرت عبداللہ ابن عمر اس پر غیر مطمئن اور رنجیده تھے لیکن آپ چونکہ طبعا جھگڑوں اور فتنوں سے دامن بچا کر رکھنا چاہتے تھے اور آپ کےوالد ماجد نےبھی آپ کو امیدواری خلافت سے روک دیا تھا، اس لیےآپ اس مجمع میں حاضر ہونا پسند نہیں فرماتے تھےجس میں امیر معاویہ کی تقریر کا پروگرام تھا۔ لیکن حضرت حفصہ نےانہیں باصرار وہاں جانےپر آمادہ کیا کیونکہ وہاں انکی غیر حاضری کو محسوس کیا جارہا تھا اور حضرت حفصہ کا خیال یہ تھا کہ ان کےجانے سے کچھ تو فائدہ ہو گا اور فساد د بےگا۔بہر کیف حضرت عبداللہ بن مراس مجلس میں تشریف لے گئے۔ اس کے بعد امیر معاویہ نےتقریر فرمائی اور تہدید آمیز انداز میں کہا کہ"جو شخص میرے یا میرے بیٹے کے خلاف لب کشائی کی جرات رکھتاہےوہ یہاں ذرا سر اٹھا کر دیکھےتو سہی،ہم اس سےاور اس کےباپ سےزیادہ خلافت کےحقدار ہیں۔محدثین کےبیان کےمطابق یہاں حضرت عبداللہ ابن عمرؓ،حضرت حسین ابن علی اور حضرت عبداللہ ابن زبیر کے خلاف طعن و تعریض اور ان پر اپنی فوقیت جتانا مقصود تھا جسے حضرت ابن عمر جیسے متحمل اور مصالحت پسند بزرگ بھی مشکل ہی سےبرداشت کر سکتےتھےچنانچہ انکےجی میں آیا کہ وہ یہ کہیں کہ جناب آپ سےزیادہ خلافت کےمستحق وہ ہیں جنہوں نےآپ کے اور آپ کےوالد ابوسفیان کے خلاف قتال کیا جب کہ آپ دونوں کفر کی حالت میں ہمارے خلاف پرے جمارہے تھے ۔ مگر آپ یہ بات کہتے کہتے صرف اس خطرے کی بنا پر رک گئےکہ میری اس بات کو طلب خلافت کے معنی پہنائے جائیں گے اور جولوگ بزور شمشیر اس مسئلے کو طےکر رہے ہیں وہ برافروختہ ہو کر مزید خون خرابہ کریں گے۔
یہ واقعہ تو حضرت ابن عمر کا ہوا۔ اسی سے ملتا جلنا ایک دوسرا واقعہ بھی بخاری ( تفسیر الاحقاف) میں روایت کیا گیا ہے کہ حضرت معاویہ نے مروان کو مدینے کا گورنر بنایا۔ اس نے اپنے ایک خطبےمیں یزید کی ولی عہدی کا ذکر شروع کیا تو عبد الرحمن بن ابی بکر نے اس پر اعتراض کیا۔ مروان کہنے لگا "پکڑوا سے" عبدالرحمن بھاگ کر حضرت عائشہ کے گھر میں پناہ لی ۔ مروان نے وہاں تک پیچھا کیا اور حضرت عائشہ کے ساتھ بھی تلخ کلامی کی۔
یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ حضرت علی سے لے کر عبدالملک بن مروان کے عہد تک جتنی بھی لڑائیاں جھگڑے ہوئےان سےحضرت عبد اللہ بن عمر الگ تھلگ رہے اور حضرت علیؓ کےبعد جس نے بھی خلافت پر قبضہ کر لیا، اس کی حکومت کو جس طرح دوسرے مسلمانوں نے چار و ناچار تسلیم کر لیا ، اسی طرح آپ نے بھی کر لیا۔ لیکن یہ کہنا در اصل حقائق کا منہ چڑانا ہے کہ حضرت ابن عمرؓ یا دوسرے کبار صحابه و تابعین نے بطیب خاطر ان متقلبین کی اطاعت قبول کی تھی۔
" افضل کے مقابلے میں مفضول کی بیعت جائز نہیں، الا یہ کہ فتنے کا خدشہ ہو۔ اسی لیےحضرت ابن عمرؓ نے حضرت علیؓ کے بعد حضرت معاویہؓ کی اور پھر ان کے لڑکے یزید کی بیعت کی اور اپنے بیٹوں کو اس کی بیعت توڑنے سے روکا اور اس کے بعد عبدالملک بن مروان کی بھی بیعت کی۔“
محمود عباسی جیسے لوگ جو ہر امیر المؤمنین کے آگے دیدہ و دل فرش راہ کرنے پر آمادہ و مستعد رہتے ہیں، وہ بیچارےاپنےاوپر ان سلف صالحین کو بھی قیاس کرتے ہیں۔عباسی صاحب کی باطنی کیفیت کا عکس انکی اس تحریر میں دیکھا جا سکتا ہےجو میں نےدیباچےمیں نقل کی ہےجس میں انہوں نےایوب خان کی مدح سرائی کی ہے۔
ظاہر ہے کہ جس محقق کی چشم بینا کو پوری اسلامی تاریخ میں یہی ایک قابل تقلید مثال نظر آئی ہو، اس سے اگر مقام حسین مخفی رہے اور یزید سے ہر دلعزیز امیرالمؤمنین نظر آئے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔
حضرت عمار بن یاسر کا جنگ صفین میں حضرت علیؓ کا ساتھ دینا اور امیر معاویہ کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہونا ایک قطعی الثبوت واقعہ ہے جو تاریخ کی کتابوں ہی میں نہیں بلکہ کتب حدیث میں بھی مذکور ہے۔ تمام مؤرخین ومحدثین نے اسے بالاتفاق تسلیم کیا ہے۔ بلکہ مسند احمد اور دیگر کتب میں یہ واقعہ بھی بہ سند بیان ہوا ہے کہ حضرت عمار کی شہادت کی خبر دے کر امیر معاویہ کو تقتلک فئة باغية والی حدیث بھی سنائی گئی اور بعض روایات میں حضرت معاویہ کا یہ عجیب جواب بھی مذکور ہے کہ ہم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ ان کے قتل کا اصل باعث علی ہیں جو انہیں ساتھ لائے ۔محمود عباس اولین شخص ہیں جنہوں نے اس واقعہ کا انکار کیا ہے اور یہ بات تصنیف کی ہے کہ عمار تو دو سال پہلے مصر میں ہلاک کر دیئے گئے تھے۔ اس دروغ بافی کا تانا بانا علامہ ابن جریر طبری کےصرف ایک فقرے سے تیار کیا گیا ہے جو انہوں نے اس سلسلہ بیان میں لکھا ہے کہ حضرت عثمان نےحضرت عمار کو اہل مصر کی شکایات کی تحقیق کے لیے مصر بھیجا تھا اور وہاں انہیں لوگوں نے اتنا عرصہ روکے رکھا کہ یہ گمان کیا جانے لگا کہ انہیں دھو کے سے مار ڈالا گیا ہے۔“
ویسےتو عباسی صاحب طبری کو ہر جگہ رافضی لکھتےہیں،لیکن مطلب برآری کے لیے ان کےہاں شیعہ، عیسائی، یہودی،دہر یہ ہر شخص ثقہ بن جاتا ہےاور اگر کسی شخص کے قول سے وہ مطلب نکلتا نظر نہ آتا ہو، جو عباسی صاحب کو پسند ہو،تو وہ اس قول کو چھیل بنا کر اور اپنی تحقیق انیق کےخراد پر چڑھا کر حسب منشا صورت میں ڈھال لینےمیں بڑےماہر ہیں۔طبری کا اصل فقرہ یہ ہے:واستبطاً الناس عمارا حتی ظنوا انه اغتيل بس لوگوں کے اس گمان کو بنیاد بنا کر جھور کا یحل تعمیر کیا گیا ہے کہ عمار تو مصر میں قتل کر دیئے گئے تھے۔
سوال: میں نے"خلافت و ملوکیت" کا بھی مطالعہ کیا ہےاور اس سلسلےکےجو مضامین آپ نے ترجمان میں لکھے ہیں وہ بھی پڑھے ہیں۔مجھے ان سے کوئی خاص اختلاف نہیں۔ مگر میں نےان میں ایک کمی یا خلا ضرور محسوس کیا ہے وہ یہ کہ آپ نے دیوبندی علماء کے متعدد اقتباس اپنی تحریروں میں دیئے ہیں مگر کسی بریلوی عالم کا کوئی ایک قول بھی میری نظر سے نہیں گزرا، حالانکہ ملک کا سواد اعظم یہی گروہ ہے۔ کیا اس سے میں یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہوں کہ بریلوی علماء کی تحریروں پر آپ کی نگاہ نہیں رہتی یا ان میں کوئی چیز آپ کو اپنے حق میں نہیں مل سکی؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ محمود احمد عباسی صاحب جیسے لوگوں کی ئے میں ئے ملاتے ہوئےاب علمائے اہل سنت نے بھی حضرت علیؓ کےمقابلےمیں امیر معاویہ اور امام حسین کے مقابلے میں یزید کے موقف کو اس انداز سےپیش کرنا شروع کر دیا ہےجس سےحضرت علی اور امام حسین کا مقام و موقف بر حق و صواب ہونےکے بجائےشبہات و اشکالات کا مورد بن جاتا ہے۔اگر آپ کی نگاہ میں کوئی ایسی تحریر یا قول ہو جو اس مسئلےمیں بریلوی مسلک کے علماء کا موقف واضح کرتا ہو، تو اسے بھی منظر عام پر لانا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں اہل سنت کا جو مسلک ہمیشہ سے رہا ہے، اسے مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ عجیب گھپلا پیدا کیا جارہا ہےکہ خلیفہ راشد بھی برحق اور اس سےآخر دم تک لڑنے والے بھی برحق بلکہ اب تو رفتہ رفتہ یہ کہا جانےلگا ہےکہ خلافت راشدہ اور ملوکیت میں کوئی خاص فرق نہیں،خلفائے راشدین کی کوئی تعداد یا خلافت راشدہ کی کوئی مدت معین نہیں ہے۔“
جواب: یہ بات اپنی جگہ پر سیح ہے کہ خلافت و ملوکیت اور حضرت امیر معاویہ کے موضوع پر جو بحث میں نےترجمان القرآن کےصفحات میں کی ہے،اس میں بریلوی مسلک کےعلماء کی تحریروں میں سے کوئی حوالہ درج نہیں کیا گیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں کسی علمی تعصب میں مبتلا ہوں اور کسی خاص گروہ یا جماعت کی کتابیں پڑھنے سے گریز کرتا ہوں۔یہ بات بھی نہیں ہےکہ جدید دور کے علماء میں سےصرف دیوبندی یا اہل حدیث حضرات ہی کی تحریروں میں مجھےتائیدی حوالےمل سکتےہیں اور بریلوی مشرب کےعلماء کی نگار شات میں مجھےکوئی ایسی چیز نہیں مل سکی۔ فی الحقیقت بات یہ ہے کہ میں نے اپنے سلسلہ مضامین میں جو طریق بحث و استدلال اختیار کیا ہےوہ یہ ہےکہ میں نےزیر بحث مسائل میں سب سےپہلےنصوص کتاب و سنت کی روشنی میں ان اعتراضات و تنقیدات کا جائزہ لینےکی کوشش کی ہےجو مولانا مودودی کی عبارتوں پر وارد کیےگئےہیں۔اس کےبعد میں نےائمہ سلف،جن میں محدثین،مفسرین،مؤرخین اور فقہائےمجتہدین بھی شامل ہیں، ان سب کے ایسے اقوال پیش کیے ہیں جو ان مسائل و واقعات سےتعلق رکھتےہیں۔پھر میں نے سب سےآخر میں بعض جدید علماء کی تحریریں بھی نقل کر دی ہیں تا کہ کوئی شخص یہ نہ کہہ سکےکہ جو قول قدیم زمانے میں جائز و حلال تھا، اس کا دہرانا اس زمانے میں ممنوع و حرام ہے اور اس فعل کا ارتکاب اگر کیا ہے تو تنہا ایک ہی شخص نے کیا ہے۔ بس اس خیال کے پیش نظر میں نے علمائے حاضر کے بھی چند اقوال دے دیئے ہیں، ورنہ ان کی عدم موجودگی سے میرے استدلال میں کوئی خلا یا خلل واقع نہیں ہوتا۔
باقی رہا یہ سوال کہ میری نظر انتخاب بالعموم دیوبندی علماء کی تحریروں تک ہی کیوں محدود رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت تک خلافت و ملوکیت کےخلاف سب سے زیادہ زور اسی حلقےسےانتساب رکھنے والے بعض افراد نے صرف کیا ہے اور ناصبیت کے جدید علمبرداروں کو دانسته د نادانسته طور پر ان ہی نے پوری کمک پہنچائی ہے۔ پس قدرتی طور پر میرا روئے سخن چون که ان حضرات کی جانب تھا، اس لیے ان ہی کے بعض اکابر کے اقوال درج کر دینا میں نے مناسب اور کافی خیال کیا۔ لیکن جہاں تک حضرت علی کے بالمقابل امیر معاویہ کے موقف کا تعلق ہے،اسےجس طرح خلافت و ملوکیت میں بیان کیا گیا ہے اور جس کی مزید وضاحت میرے مضامین میں کر دی گئی ہے، علمائے بریلی کا موقف ومسلک اس سے مختلف نہیں ہے۔ مثال کے طور پر میں یہاں مولانا امجد علی صاحب موصوف مولانا احمد رضا خاں صاحب مرحوم کے شاگرد رشید ہیں۔ بہارِ شریعت ان کی ضخیم تالیف ہے جو سترہ جلدوں پر مشتمل ہے اور مؤلف کےاستاذ کی تقریظ و تصویب کےساتھ اشاعت پذیر ہوئی ہے۔ اس کتاب کی جلد اوّل صفحہ ۷۵ پر وہ فرماتے ہیں:
”عقیدہ: امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجتہد تھے۔ ان کا مجتہد ہونا حضرت سید نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حدیث صحیح بخاری میں بیان فرمایا ہے۔ مجتہد سے صواب، وخطارونوں صادر ہوتے ہیں۔ خطا دو قسم ہے، خطاء عنادی، یہ مجتہد کی شان نہیں اور خطاء اجتہادی، یہ مجتہد سےہوتی ہے اور اس میں اس پر اصلا عید اللہ مواخذہ نہیں۔ مگر احکام دنیا میں وہ
سوال: میں آپ کی کتاب ” خلافت و ملوکیت کا بغور مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ آپ کی چند باتیں اہل سنت والجماعت کے اجماعی عقائد کے بالکل خلاف نظر آ رہی ہیں۔ صحابہ کرام میں سے کسی کا بھی عیب بیان کرنا اہل سنت والجماعت کے مسلک کے خلاف ہے۔ جو ایسا کرے گا وہ اہل سنت والجماعت سے خارج ہو جائے گا۔ آپ کی عبارتیں اس عقیدے کے خلاف ہیں۔
براہ کرم آپ بتائیں کہ صحابہ کرام کے بارے میں آپ اہل سنت والجماعت کے اجماعی عقیدے کو غلط سمجھتے ہیں یا صحیح ؟“
جواب: قبل اس کے کہ میں آپ کے سوالات کا جواب دوں براہ کرم آپ مجھے یہ بتائیں کہ:
٣- یا آپ اس بات کے قائل ہیں کہ افراد صحابہ سے غلطی کا صدور ممکن بھی تھا،اور صدور ہوا بھی ،مگر اس کو بیان کرنا جائز نہیں ہے، اور نہ صحابی کی کسی غلطی کو غلطی کہنا جائز ہے؟
ان میں سے جس بات کے بھی آپ قائل ہوں اس کی تصریح فرما دیں تا کہ مجھے یہ معلوم ہو سکے کہ آپ خود بھی اہل سنت و الجماعت میں سے ہیں یا نہیں۔ اگر آپ پہلی بات کے قائل ہیں تو وہ اہل سنت میں سے کسی کا عقیدہ بھی نہیں ہے۔ اور اگر دوسری بات کے قائل ہیں تو اس کا غلط ہونا ایسےنا قابل انکار واقعات سے ثابت ہے جو قرآن پاک اور بکثرت احادیث صحیحہ اور اکابر اہل سنت کی نقل کرده کثیر روایات میں بیان ہوئےہیں۔ اور اگر تیسری بات کےقائل ہیں تو وہ بھی قطعی بےبنیاد ہےکیونکہ متعدد مقامات پر خود قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نےصحابہ کرام کی بعض غلطیوں کا ذکر فرمایا ہے، اور محدثین نے ان کے مفصل واقعات نقل کیے ہیں، اور مفسرین میں سے شاید کسی کا بھی آپ نام نہیں لے سکتے جس نے اپنی تفسیر میں ان واقعات کو بیان نہ کیا ہو۔رہا اہل سنت کا عقیدہ جس کا آپ ذکر فرما رہےہیں تو وہ صرف یہ ہےکہ صحابہ پر طعن کرنا اور انکی مذمت کرنا جائز نہیں ہے،اور اس فعل کا ارتکاب خدا کے فضل سے میں نے کبھی اپنی کسی تحریر میں نہیں کیا ہے۔ مگر تاریخی واقعات کو کسی علمی بحث میں بیان کرنا علمائےاہل سنت کےنزدیک کبھی نا جائز نہیں رہا ہےنہ علمائے اہل سنت نے کبھی اس سے اجتناب کیا ہے، اور نہ کسی عالم نے کبھی یہ کہا ہے کہ صحابی سے اگر غلطی ہو تو اسے صحیح قرار دو، یا اس کو غلطی نہ کہو ۔ آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ میں نے جو واقعات بیان کیے ہیں وہ اکابر اہل سنت ہی کی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ ان کا ان واقعات کو اپنی کتابوں میں نقل کرنا دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ اگر انہوں نے صحیح سمجھتے ہوئے نقل کیا ہے تو آپ کی رائے کے مطابق وہ سب بھی اہل سنت سے خارج ہونے چاہئیں، اور اگر غلط یا مشتبہ سمجھتے ہوئے انہیں پھیلایا اور آئندہ نسلوں تک پہنچایا ہے تو پھر آپ کو کہنا چاہیے کہ وہ کفی بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّتَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ کے مصداق تھے۔
آخری سطر میں مولانامحترم نے حدیث صحیح نقل کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ " آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ جو بات سنے اسے آگے بیان اور روایت کر دئے ۔ یہ بھی واضح رہے کہ جن بزرگ نے یہ سوال کیا تھا، ان کی جانب سے پھر کوئی سوال و جواب نہیں ہوا۔
میری کتاب کے گزشتہ ابواب سے یہ حقیقت پوری طرح منکشف ہو چکی کہ مولانا مودودی نے اپنی تصنیف ” خلافت و ملوکیت میں جو کچھ ضمنا اور اجمالاً حضرت معاویہ کے متعلق لکھا ہے اس میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو غیر ثابت اور نقل صحیح کے خلاف ہو یا جس سے توهین وتحقیر مقصود یا لازم آتی ہو۔ یہ ایک ناگزیرعلمی و تاریخی بحث ہے جو اس وقت پیش آتی ہے جب خلافت اور ملوکیت کےمابین فرق و امتیاز بیان کیا جاتا ہے اور خلافت کے ملوکیت میں انتقال کے اسباب واضح کیے جاتےہیں۔ مولا نا محترم نے اپنی ساڑے تین سو صفحات کی کتاب میں صرف بارہ تیرہ صفحے اس بحث کی نذر کیے ہیں جس کے رد میں کتابوں پر کتابیں لکھی جارہی ہیں اور یہ ساہی پھیلتی ہی چلی جارہی ہے۔ اس لیےاس ردو کر کا جواب دینےکےلیے مجھے بھی کسی حد تک تفصیل واطناب سے کام لینا پڑا ہےاور امیر معاویہ کےمتعلق جو کچھ سلف نےلکھا ہے مجبوراً اس کے چند اجزاء نقل کرنےپڑےہیں۔آج کل افراط و تفریط کا دور دورہ ہے۔ایک طرف اگر صحابہ کرام کےمعصوم و محفوظ ہونے کا اختراعی عقیدہ وضع کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف اس کا بھی خدشہ ہے کہ بعض لوگ جائز حدود سے تجاوز کر کے امیر معاویہؓ کے شرف صحابیت اور آپ کی دینی خدمات کو نظر انداز نہ کر دیں اور آپ کو بالکل دنیا کے عام بادشاہوں اور فرمانرواؤں پر قیاس نہ کر لیں۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ حضرت معاویہ کے چند محامد و مناقب کے بیان پر اپنی بحث کا خاتمہ کروں۔
یہاں پہلے یہ واضح کر دینا بھی مناسب ہے کہ مولانا مودودی نے اگر اپنی کتاب میں حضرت معاویہ کے فضائل کی تفصیل درج نہیں کی تو اسکی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں ان فضائل کو تسلیم یا بیان کرنے سے انکار ہے۔ اسی طرح اگر انہوں نے حضرت معاویہ کے کسی فعل پر اظہار نقد و اختلاف کیا ہے، تو اس کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ کسی صحابی رسول کی ذات کو خدا نخواسته مطعون کیا جائے۔اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ خلافت و ملوکیت کوئی سیرت و سواخ یا تاریخ کی ایسی کتاب نہیں ہےجس میں اُس دور کے سارے واقعات بیان کرنے مقصود ہوتے ، بلکہ اس کا اصل موضوع چونکہ صرف وہ واقعاتی و تاریخی پس منظر بیان کرنا ہےجس کے تحت خلافت راشدہ کا دور ختم ہوا اور ملوکیت نے اس کی جگہ لی، اس لیے بحث میں ناگزیر طور پر بعض ان محلِ نظر افعال ہی کا ذکر آیا ہے جو اس تبدیلی کا باعث بنے،خواہ ان کا صدور کسی صحابی سے ہوا ہے یا غیر صحابی سے۔ جس موضوع میں صحابہ کرام کے مناقب کا بیان موقع محل کے لحاظ سے ضروری نہ ہو، وہاں ان کے عدم ذکر کا مطلب عدم اعتراف نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر میں متعد دائمہ احناف کے اقوال نقل کر چکا ہوں جنہوں نےقضاء بالیمین والشاہد کی بحث میں امیر معاویہ کے فیصلے کو بدعت کہا ہے اور وہاں ان کے مناقب کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ کیا کوئی عظمند اس سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ یہ حضرات امیر معاویہ کے فضائل کے منکر تھے۔ صرف ان کا تخطیہ ہی کرنا چاہتے تھے۔ تاہم میری اس وضاحت سے کسی صاحب کو یہ غلط فہمی بھی نہ ہو کہ مولانا مودودی کی کتاب فضائل معاویہ کےذکر سےبالکل ہی خالی ہےوہ صفحہ ۱۵۳ کےآخر میں لکھتے ہیں:
" حضرت معاویہ کے محامد ومناقب اپنی جگہ پر ہیں، ان کا شرف صحابیت بھی واجب الاحترام ہے۔ ان کی یہ خدمت بھی نا قابل انکار ہے کہ انہوں نے پھر سے دنیائے اسلام کو ایک جھنڈے تلےجمع کیا اور دنیا میں اسلام کے غلبے کا دائرہ زیادہ وسیع کر دیا۔ ان پر جو شخص لعن طعن کرتا ہے، وہ بلاشبہ زیادتی کرتا ہے۔“
مناقب معاویہ کے معاملے میں بعض محدثین نے تو تشدد برتتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا ہےکہ کوئی حدیث صحیح آپ کےفضائل و مناقب میں وارد نہیں لیکن اسکا مطلب در اصل یہ ہےکہ ایسی کوئی حدیث سند کےاعلیٰ ترین معیار تک نہیں پہنچتی اور نہ سنن ترمذی،کتاب المناقب میں دوائیسی احادیث موجود ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امیر معاویہ کے حق میں دعا منقول ہے۔ ایک کےالفاظ یہ ہیں:
دوسری حدیث میں صرف آخری حصہ دعا کا آیا ہے۔ ان میں سے پہلی حدیث کو امام ترمذی نے حسن غریب اور دوسری کو غریب کہا ہے۔ اگر چہ ان کی سند میں ضعف ہے مگر یہ احادیث موضوع و مکذوب بہر حال نہیں اور ان سے امیر معاویہ کی منقبت کا استدلال بالکل درست ہے۔ان احادیث سے یہ الجھن بھی پیش نہیں آنی چاہیے کہ حضرت معاویہ کے حق میں اس دعائے نبوی کےبعد ان سے غلطیوں کا صدور کیسے ہو سکتا ہے؟ اس دعا کا ثمرہ یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی امیر معاویہ ا پنی زندگی میں ہدایت یافتہ تھے اور آپ جس نظام حکومت کے سربراہ تھے غالب احوال کے لحاظ مسلم و غیرمسلم سب کے لیے وسیله هدایت بنا۔ بعض دوسرے صحابہ کرام کےحق میں بھی ایسی دعائیں منقول ہیں اور ان سے بعض خطائیں بھی سرزد ہوئیں لیکن ان کا پورا کارنامہ حیات خیر و صلاح سےبھر پور تھا۔
یہ بات بھی تاریخ وسیرت کی کتابوں سے ثابت ہے کہ امیر معاویہؓ کاتب وحی تھے۔ بعض مورخین کا بیان ہے کہ امیر معاویہ کا تب مصحف بھی تھےاور بعض کے نزدیک امراء و ملوک سےجو خط و کتابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوتی تھی وہ ان کے سپر د تھی ۔ دونوں میں سے جو بات بھی صحیح ہو،اس سے بہر حال یہ واضح ہے کہ امیر معاویہ پر آنحضور کا کلی اعتماد و اطمینان تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ارشاد گرامی بھی مبنی بر وحی ہوتا تھا یا وحی کے مطابق ہوتا تھا لا یہ کہ کسی دوسری وحی کے ذریعےسے اس میں تبدیلی واقع ہو۔ پھر ایسی مراسلت تو اتنی نازک اور راز دارانہ ہوتی ہے کہ جس شخص کےبارے میں ذرہ برابر بھی خلش ہو، اس کی تحویل میں ایسا کام نہیں دیا جا سکتا۔ حضرت معاویہ کےمتعلق ہرگز کوئی ایسی بات ان کا شدید ترین مخالف و ناقد بھی نہیں کہہ سکتا کہ آپ نےآنحضور کےاس اعتماد کو خدا نخواستہ کوئی ادنی ٹھیس پہنچائی ہو، اس ذمہ داری میں تساہل برتا ہو یا کوئی راز کی بات کبھی افشا کی ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ اتنی بڑی سنگین ذمہ داری کا آپ پر ڈالا جاتا اور پھر اس بار کا باحسن طریق متحمل ہونا،صرف یہی ایک بات امیر معاویہ کے حق میں عظیم فضیلت ومنقبت کا ثبوت بہم پہنچاتی ہے۔
پھر جہاد فی سبیل اللہ اللہ کی راہ میں کفار سے لڑنا حدیث صحیح کی رو سے افضل ترین اور چوٹی کی عبادت ہےاور یہ ثابت ہےکہ امیر معاویہ نےغزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں شرکت کی ہے اور بعد میں بھی رومی عیسائیوں کےخلاف بحر و بر میں لشکر کشی کی ہے۔بلاشبہ آپ نےحضرت علی کے خلاف معرکہ آرائی کی ہے لیکن آپ نے ہمسایہ کفار کو اس کا موقع نہیں دیا کہ وہ مسلمانوں کے باہمی قتال سے فائدہ اٹھا کر حملہ آور ہو جائیں۔بلکہ آپ نےقیصر روم کو صاف طور پر کہلا بھیجا تھا کہ اگر تم نےہماری خانہ جنگی سےفائدہ اٹھانا چاہا تو تمہارےلیےروئےزمین پر کوئی ٹھکانہ نہ رہے گا اور ہم سب مل کر تمہارا دماغ درست کر دیں گے_١ افسوس کہ یہ صورت بھی بعد کی حکومتوں میں باقی نہ رہی اور ان میں آج تک ایسے غدار اور قوم فروش نمودار ہورہے ہیں جو اپنوں کے خلاف غیروں کو دعوت دیتے ہیں اور غیروں سے مل کر اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے گلے کاٹتے ہیں اور ان کی عزت و آبرو پامال کرتے ہیں۔ مورخین نے امیر معاویہ کے متعلق بالکل سچ کہا ہے کہ
اسی چیز کی طرف مولانا مودودی نے اپنی کتاب (صفحہ ۳۰۱) میں اشارہ کیا ہے کہ ۲۲ یعنی شہادت عثمان تک تو اسلامی حکومت اپنی بہترین خصوصیات کے ساتھ چلتی رہی ہے مگر ان ساری خصوصیات کا خاتمہ ۶ھ میں جا کر ہوا ہے، جب امیر معاویہ کا انتقال ہوا ہے۔
١- ملاحظہ ہوالبدایہ والنہایہ جلد ۲ صفحہ ۱۱۹۔ یہاں حافظ ابن کثیر نے امیر معاویہ کے جو الفاظ نقل (بقہ حواشی گزشتہ صفحه ملاحظه فرما سکسی) - - - - - - - کیے ہیں وہ یہ ہیں کہ انہوں نے قیصر کو لکھا: والله ان لم تنته وترجع اني بلادك لأصطلحن انا وابن عمی علیک و لا خرجنک من جميع بلادك ولا ضيقن عليك الأرض بما رحبت (اگر تو باز نہیں آئے گا اور ہماری سرحد سے اپنے علاقے کی طرف نہیں لوٹ جائےگا تو میں اور میرا پیچازاد بھائی علی باہم مل کر کےتیرے خلاف نکلیں گے۔تجھےاپنےعلاقوں سے بھی نکال باہر کریں گے اور زمین اپنی فراخی کے باوجود تم پر تنگ کر دی جائے گی۔)
حضرت امیر معاویہ کےجن محل نظر افعال کا ذکر ” خلافت و ملوکیت" میں ہےانہیں بلاشبہ بعض حضرات نے ایسے اجتهادات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جن پر امیر معاویہ عنداللہ ماجور ہوں گے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ بعض دوسرے اصحاب نے اس رائے سے اختلاف کیا ہےاور ان کاموں کو خطائے اجتہادی کے بجائے محض خطا قرار دیا ہےبلکہ ان پربحث کرتےہوئےتنقیدی انداز بھی اختیار کیا ہے۔ یہ دونوں گروہ اہل سنت کے ہیں اور اگر پہلا فریق اپنے حق میں دلائل لاتا ہے تو دوسرے گروہ کا موقف بھی وزن و دلیل سے تہی نہیں ہے۔ مثال کےطور پر اگر حضرت علی اور حضرت معاویہ با ہمی قتال میں دونوں مجتہد ہیں تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مجتہد فیہ مسائل تو باہمی مذاکرات اور لسانی مجادلات سےطےہونے چاہئیں،ان میں تلوار کا استعمال طرفین میں سے کسی ایک یا دوسرے دونوں کے لیے کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ کیا کتاب وسنت میں سےاس کے حق میں کوئی محکم دلیل پیش کی جاتی ہےکہ جن اجتہادی امور میں مجتہد تخطی اور مجتہد مصیب دونوں ماجور ہیں ان میں اجتہادی اختلاف کو ہر فریق بزور شمشیر حل کرنے میں حق بجانب ہے؟ امام ابو عبد الله محمد بن مرتضی ایمانی جنہیں آٹھویں صدی کےمجہتدین میں شمار کیا جاتا ہےوہ اپنی کتاب ایثار الحق على الحق (مطبعہ الآداب، القاہرہ ۱۳۱۸) کے صفحہ ۴۵۸ پر حضرت علی اور حضرت معاویہؓ ہی کے معاملے میں لکھتے ہیں کہ امام عادل سے لڑنے والا عاصی و آئم ہے کیونکہ یہ بغاوت و تعادی مسائل فروع سے متعلق نہیں ہے۔پھر فرماتے ہیں:
اسی مقام پر انہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ اس مسئلے پر اپنی دوسری کتاب الروض الباسم في الذب عن سنّۃ ابی القاسم “ میں تفصیلی بحث کر چکے ہیں۔
بہر کیف میری گزارش کا مقصود یہ ہے کہ امیر معاویہ کے بعض اعمال، مثلاً آپ کا حضرت علیؓ کے خلاف جنگ کرنا، یزید کو ولی عہد بنانا یا حضرت حجر کو قتل کرنا ، یہ ایسے کام ہیں کہ جن کے بارے
| کتاب | خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |