اقامت دین کے کام میں رفقاء کو جیسا انتہاک ہونا چاہیے اس میں بھی ابھی مجھے بہت کی محسوس ہوتی ہے۔ بعض رفیق تو بلاشبہ پوری سرگرمی سےکام کر رہےہیں۔ جسے دیکھ کر جی خوش ہو جاتا ہےاور دل سےان کےحق میں دعا نکلتی ہےمگر بیشتر حضرات میں ابھی تک دل کی لگن نظر نہیں آتی۔ فسق و فجور کی گرم بازاری اور خدا کےدین کی بے بسی دیکھ کر ایک مومن کے قلب میں جو آگ لگنی چاہیے اس کی تپش کم ہی لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ آپ کو اس پر کم سےکم اتنی بے چینی تو لاحق ہو جتنی اپنے بچےکو بیمار دیکھ کر یا اپنے گھر میں آگ لگنےکا خطرہ محسوس کر کےلاحق ہوا کرتی ہے۔ یہ معاملہ بھی ایسانہیں ہےجس میں کوئی شخص کسی دوسرےشخص کےلیےسرگرمی اور انهماک کی حد تجویز کر سکتا ہو۔ اس کا فیصلہ تو ہر شخص کو اپنے ضمیر کا جائزہ لے کر خود ہی کرنا چاہیےکہ کتنا کچھ کام کو کے وہ یہ سمجھنےمیں حق بجانب ہو سکتا ہےکہ حق پرستی کےتقاضےاس نے پورےکر دیے ہیں۔ البته آپ کی عبرت کے لیے ان باطل پرستوں کی سرگرمیوں پر ایک نگاہ ڈال لینا کافی ہے جو دنیا میں کسی نہ کسی دین باطل کو فروغ دینےکے درپے ہیں اور اس کے لیے سر دھڑ کی بازیاں لگارہے ہیں۔
| کتاب | ہدایات |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | Oct. 29, 2025 |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |