ہدایات

سمع وطاعت اور نظم جماعت کی پابندی

اسلامی نقطہ نظر سےاقامت دین کی سعی کرنےوالی ایک جماعت میں جماعت کےاولی الامر کی اطاعت فی المعروف دراصل اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا ایک جز ہے۔ جو شخص اللہ کا کام سمجھ کر یہ کام کر رہا ہے اور اللہ ہی کے کام کی خاطر جس نے کسی کو اپنا امیر مانتا ہے وہ اس کے جائز حکام کی اطاعت کر کے دراصل اس کی نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے۔ جس قدر اللہ سے اور اس کے دین سے آدمی کا تعلق زیادہ ہو گا اتنا ہی وہ سمع و طاعت میں بڑھا ہوا ہو گا، اور جتنی اس تعلق میں کمی ہوگی اتنی ہی سمع و طاعت میں بھی کمی ہوگی۔ اس سے بڑی قابل قدر قربانی اور کیا ہو سکتی ہے کہ جس شخص کا آپ پر کوئی زور نہیں ہے اور جسے محض خدا کے کام کے لیے امیر مانا ہے اس کا حکم آپ ایک وفادار ماتحت کی طرح مانیں اور اپنی خواہش اور پسند اور مفاد کے خلاف اس کے ناگوار احکام تک کی بسر و چشم تعمیل کرتےچلے جائیں۔ یہ قربانی چونکہ اللہ کے لیے ہے اس لیے اس کا اجر بھی اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اس کام میں شریک ہونے کے بعد بھی کسی حال میں چھوٹا بننے پر راضی نہ ہو اور اطاعت کو اپنے مرتبے سے گری ہوئی چیز سمجھے یا حکم کی چوٹ اپنے نفس کی گہرائیوں میں محسوس کرے اور مٹی کے ساتھ اس پر تلملائے یا اپنی خواہش اور مفاد کے خلاف احکام کو مانے میں ہچکچائے، وہ دراصل اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ ابھی اس کے نفس نے اللہ کے آگے پوری طرح سر اطاعت غم نہیں کیا ہے اور ابھی اس کی انانیت اپنے دعوؤں سے دست بردار نہیں ہوئی ہے۔

کتاب ہدایات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت Oct. 29, 2025
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

ہدایت