ہدایات

ترجیح آخرت

حضرات یہ ہےاصل حقیقت مگر یہ ایسی حقیقت ہےجسےمحض ایک دفعہ کچھ لیتا اور مان جاناکافی نہیں ہے بلکہ اسے ہر وقت ذہن میں تازہ رکھنے کی سخت کوشش کرنی پڑتی ہے اور نہ ہر وقت اس کا امکان رہتا ہےکہ ہم آخرت کےمنکر نہ ہونے کے باوجود دنیا میں اس طریقے پر کام کرنے لگیں جو آخرت کو بھول کر دنیا کو مقصود بنا کر کام کرنےوالوں کا طریقہ ہےاس کی وجہ یہ ہےکہ آخرت ایک غیر محسوس چیز ہے جو مرنے کے بعد سامنےآنے والی ہے۔اس دنیا میں ہم اس کا اور اس کے اچھے برے نتائج کا اور اک صرف ذہنی توجہ ہی نےکر سکتےہیں۔ اس کےبرعکس دنیا ایک محسوس چیز ہےجو اپنی تلخیاں اور شیرینیاں ہر وقت ہمیں چکھاتی رہتی ہے اور جس کے اچھےاور برے نہ انج ہر آن ہمارے سامنے آکر ہمیں یہ دھوکا دیتےرہتےہیں که اصل نتائج بس ہی ہیں۔آخرت مجرےتو اس کی تھوڑی بہت بھی ہمیں صرف ایک دل کے چھپے ہوئے تعمیر میں محسوس ہوتی ہے بشرطیکہ وہ زندہ ہو ۔ مگر دنیا بگڑےتو اس کی چھین ہمارا رونگھا رونگھا محسوس کرتا ہےاور ہمارے بال بچےعزیز و اقارب دوست آشنا اور سوسائٹی کے عام لوگ سب مل جل کر اسے محسوس کرتے اور کراتے ہیں۔ اسی طرح آخرت سنورے تو اس کی کوئی ٹھنڈک ہمیں ایک گوشہ دل کے سوا کہیں محسوس نہیں ہوتی اور وہاں بھی صرف اس صورت میں محسوس ہوتی ہے جب کہ غفلت نےدل کے اس گوشے کوسن نہ کر دیا ہو۔ مگر اپنی دنیا کا ستوار ہمارے پورے وجود کے لیےلذت بن جاتا ہے، ہمارے تمام حواس اس کو محسوس کرتے ہیں اور ہمارا سارا ماحول اس کے احساس میں شریک ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کو بطور ایک عقیدے کےمان لینا چاہےبہت مشکل نہ ہو مگر اسےانداز فکر اور اخلاق و اعمال کےپورےنظام کی بنیاد بنا کر زندگی بھر کام کرنا سخت مشکل ہے۔ اور دنیا کو زبان سے بیچ کہہ دینا چاہے کتنا ہی آسان ہو مگر دل سے اس کی محبوبیت اور خیال سےاس کی مطلوبیت کو نکال پھینکنا آسان کام نہیں ہے۔یہ کیفیت بڑی کوشش سے حاصل ہوتی ہے اور پیہم کوشش کرتےرہنے سے قائم رہ سکتی ہے۔

کتاب ہدایات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت Oct. 29, 2025
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

ہدایت