ہدایات

اصلاح و تربیت کے لیے ایک گرانقدر کتاب

خطبہ مسنونہ کے بعد : رفقائے عزیز چار دن کے اجتماع کے بعد اب ہم لوگ ایک دوسرے سےرخصت ہو رہے ہیں۔ جتنا کام اس اجتماع میں کرتا تھا ہم کر چکےہیں اور ایک حد تک ہم اس کا جائزہ بھی اپنے اجتماع خاص میں لے چکے ہیں۔اب رخصت ہونے سے پہلےمیں چاہتا ہوں کہ اپنے رفقاء سے- - - ارکان اور متفقین سب سے- - - خطاب کر کےانہیں وہ ضروری ہدایات دے دوں جو آیندہ اس کام کو صحیح طریقے پر چلانے کے لیے مطلوب ہیں۔

تعلق بالله

اس معاملہ میں ہمارےدرمیان دورائیں نہیں ہیں کہ تعلق باللہ ہی ہمارےاس کام کی جان ہے۔ جماعت کا کوئی رفیق الحمد للہ کہ اس کی اہمیت کے احساس سےغافل نہیں ہے۔ البتہ جو سوالات اکثر لوگوں کو پریشان رکھتےہیں وہ یہ ہیں کہ تعلق باللہ سےٹھیک مراد کیا ہے؟ اس کو پیدا کرنےاور بڑھانےکا طریقہ کیا ہے؟ اور آخر کس طرح یہ معلوم کریں کہ ہمارا تعلق واقعی اللہ سے ہے یا نہیں، اور ہے تو کتنا ہے؟ ان سوالات کا کوئی واضح جواب معلوم نہ ہونے کی وجہ سے میں نے اکثر یہ محسوس کیا ہے کہ لوگ گویا اپنے آپ کو ایک بے نشان صحرا میں پارہے ہیں جہاں کچھ پتہ نہیں چلتا کہ ان کی منزل مقصود ٹھیک کس سمت میں ہے اور کوئی اندازہ نہیں ہوتا کہ انہوں نےکتنا راستہ طے کیا اور اب کس مرحلےمیں ہیں اور آگےکتنےمراحل باقی ہیں۔اسی وجہ سےبسا اوقات ہمارا کوئی رفیق ھبہم تصورات میں کم ہونے لگتا ہےکوئی ایسےطریقوں کی طرف مائل ہو جاتا ہےجو موصل الی المقصود نہیں ہیں،کسی کے لیے مقصود سےقریب کا تعلق اور دور کا تعلق رکھنےوالی چیزوں میں،امتیاز کرنا مشکل ہو رہا ہےاور کسی پر حیرت کا عالم طاری ہے۔ اس لیے آج میں صرف تعلق باللہ کی نصیحت ہی پر اکتفانہ کروں گا بلکہ اپنےعلم کی حد تک ان سوالات کا بھی ایک واضح جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

تعلق باللہ کے معنی

" خدایا! میں تیرا ہی مطیع فرمان ہوا اور تجھی پر ایمان لایا اور تیرے ہی اوپر میں نے بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف میں نے رجوع کیا اور تیری ہی وجہ سے میں لڑا اور تیرے ہی حضور اپنا مقدمہ لایا۔

تعلق بالله بڑھانے کا طریقہ

لیکن یہ فکری طریقہ اس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا، بلکہ زیادہ دیر تک نباہا بھی نہیں جا سکتا جب تک کہ عملی طریقے سے اس کو مد داور قوت نہ پہنچائی جائے ۔ اور وہ عملی طریقہ ہے احکام الہی کی مخلصانہ اطاعت اور ہر اس کام میں جان لڑا کر دوڑ دھوپ کرنا جس کے متعلق آدمی کو معلوم ہو جائے کہ اس میں اللہ کی رضا ہے۔ احکام ابھی کی مخلصانہ اطاعت کا مطلب یہ ہے کہ جن کاموں کا اللہ نےحکم دیا ہےان کو بادل نخواسته نہیں بلکہ اپنےدل کی رغبت اور شوق کےساتھ خفیہ اور علانیہ انجام دیں اور اس میں کسی دنیوی غرض کو نہیں بلکہ صرف اللہ کی خوشنودی کو ملحوظ خاطر رکھیں۔اور جن کاموں سےاللہ نے روکا ہے ان سےقلیمی نفرت و کراهت کےساتھ خفیہ اور علانیه پرهیز کریں۔اوراس پر چیز کا محرک کوئی دنیوی نقصان کا خوف نہیں بلکہ اللہ کے غضب کا خوف ہو۔ یہ طرز محمل آپ کو تقویٰ کے مقام پر پہنچا دے گا۔ اور اس کے بعد دوسرا طرز عمل آپکو احسان کی منزل پر پہنچائے گا، یعنی یہ کہ آپ دنیا میں ہر اس بھلائی کو فروغ دینے کی کوشش کرین جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ہر اس برائی کو دبانے کی کوشش کریں جسے اللہ نا پسند فرماتا ہے اور اس کوشش میں جان، مال وقت محنت اور دل و دماغ کی قابلیت غرض کسی چیز کے قربان کرنے میں بھی بھل سے کام نہ لیں۔ پھر اس راہ میں جو قربانی بھی آپ کریں اس پر کوئی نظر آپ کے دل میں پیدا نہ ہو نہ یہ خیال کبھی آپ کے دل میں آئے کہ آپ نے کسی پر احسان کیا ہے بلکہ بڑی سے بڑی قربانی کر کے بھی آپ یہی سمجھتے رہیں کہ آپ کے خالق کا جو حق آپ پر تھاوہ پھر بھی ادا نہیں ہو سکا ہے۔

تعلق باللہ کی افزائش کے وسائل

یہ وہ سیدھا سادھا سلوک ہے جو قرآن اور سنت نےہمیں بتایا ہے۔اس پر اگر آپ عمل کریں تو ریاضتوں اور مجاہدوں اور مراقبوں کے بغیر ہی آپ اپنے گھروں میں اپنے بال بچوں کے درمیان رہتے ہوئے اور اپنے سارے دنیوی کاروبار انجام دیتے ہوئے اپنے خدا سے تعلق بڑھا سکتے ہیں۔

تعلق باللہ کو ناپنے کا پیمانہ

" جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے یقینا ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو نہ غم کرو اور خوش ہو جاؤ اس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔“

ترجیح آخرت

حضرات یہ ہےاصل حقیقت مگر یہ ایسی حقیقت ہےجسےمحض ایک دفعہ کچھ لیتا اور مان جاناکافی نہیں ہے بلکہ اسے ہر وقت ذہن میں تازہ رکھنے کی سخت کوشش کرنی پڑتی ہے اور نہ ہر وقت اس کا امکان رہتا ہےکہ ہم آخرت کےمنکر نہ ہونے کے باوجود دنیا میں اس طریقے پر کام کرنے لگیں جو آخرت کو بھول کر دنیا کو مقصود بنا کر کام کرنےوالوں کا طریقہ ہےاس کی وجہ یہ ہےکہ آخرت ایک غیر محسوس چیز ہے جو مرنے کے بعد سامنےآنے والی ہے۔اس دنیا میں ہم اس کا اور اس کے اچھے برے نتائج کا اور اک صرف ذہنی توجہ ہی نےکر سکتےہیں۔ اس کےبرعکس دنیا ایک محسوس چیز ہےجو اپنی تلخیاں اور شیرینیاں ہر وقت ہمیں چکھاتی رہتی ہے اور جس کے اچھےاور برے نہ انج ہر آن ہمارے سامنے آکر ہمیں یہ دھوکا دیتےرہتےہیں که اصل نتائج بس ہی ہیں۔آخرت مجرےتو اس کی تھوڑی بہت بھی ہمیں صرف ایک دل کے چھپے ہوئے تعمیر میں محسوس ہوتی ہے بشرطیکہ وہ زندہ ہو ۔ مگر دنیا بگڑےتو اس کی چھین ہمارا رونگھا رونگھا محسوس کرتا ہےاور ہمارے بال بچےعزیز و اقارب دوست آشنا اور سوسائٹی کے عام لوگ سب مل جل کر اسے محسوس کرتے اور کراتے ہیں۔ اسی طرح آخرت سنورے تو اس کی کوئی ٹھنڈک ہمیں ایک گوشہ دل کے سوا کہیں محسوس نہیں ہوتی اور وہاں بھی صرف اس صورت میں محسوس ہوتی ہے جب کہ غفلت نےدل کے اس گوشے کوسن نہ کر دیا ہو۔ مگر اپنی دنیا کا ستوار ہمارے پورے وجود کے لیےلذت بن جاتا ہے، ہمارے تمام حواس اس کو محسوس کرتے ہیں اور ہمارا سارا ماحول اس کے احساس میں شریک ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کو بطور ایک عقیدے کےمان لینا چاہےبہت مشکل نہ ہو مگر اسےانداز فکر اور اخلاق و اعمال کےپورےنظام کی بنیاد بنا کر زندگی بھر کام کرنا سخت مشکل ہے۔ اور دنیا کو زبان سے بیچ کہہ دینا چاہے کتنا ہی آسان ہو مگر دل سے اس کی محبوبیت اور خیال سےاس کی مطلوبیت کو نکال پھینکنا آسان کام نہیں ہے۔یہ کیفیت بڑی کوشش سے حاصل ہوتی ہے اور پیہم کوشش کرتےرہنے سے قائم رہ سکتی ہے۔

فکر آخرت کی تربیت کے ذرائع

اس کے بعد عملی طریقے کو لیجئے ۔ آپ کو دنیا میں رہتے ہوئے اپنی گھر یلو زندگی میں اپنے محلے اور اپنی برادری کی زندگی میں اپنے حلقہ احباب اور حلقہ تعارف میں اپنے شہر اور اپنے ملک کے معاملات میں اپنے لین دین اور اپنی معاش کےکاموں میں، غرض ہر طرف ہر آن قدم قدم پر ایسے دورا ہے ملتے ہیں جن میں سےایک راستےکی طرف جانا ایمان بالآخرۃ کا تقاضا ہوتا ہے اور دوسرے کو اختیار کرنا دنیا پرستی کا تقاضا۔ ایسے ہر موقع پر پوری کوشش کیجئے کہ آپ کا قدم پہلے راستے ہی کی طرف بڑھے۔ اور اگر نفس کی کمزوری سے یا مغفلت کی وجہ سے بھی دوسرے راستے پر آپ چل نکلے ہوں، تو ہوش آتے ہی پلٹنےکی کوشش کیجئے، خواہ کتنے ہی دور پہنچ چکےہوں۔پھر وقتا فوقتا اپنا حساب لےکر دیکھتے رہیے کہ کتنے مواقع پر دنیا آپ کو کھینچنےمیں کامیاب ہوئی، اور کتنی بار آپ آخرت کی طرف کھینچنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ جائزہ آپ کو خود ہی ناپ تول کر بتا تا ر ہے گا کہ آپ کے اندر فکر آخرت نے کتنا نشوونما پایا اور ابھی کتنی کچھ کی آپ کو پوری کرنی ہے۔ جس قدر کی آپ خود محسوس کریں اسے خودی پورا کرنےکی کوشش کریں۔ بیرونی مدد آپ کو زیادہ سے زیادہ بم بھی سکتی ہےتو اس طرح پہنچ سکتی ہےکہ دنیا پرست لوگوں کو چھوڑ کر ایسےصالح لوگوں سے رابط بڑھائیں جو آپ کے علم میں دنیا پر آخرت کو ترجیح دینےوالے ہوں۔ مگر یاد رکھیے کہ آج تک کوئی ذریعہ ایسا دریافت نہیں ہو سکا ہے جو آپ کے اندر خود آپ کی اپنی کوشش کےبغیر کسی صفت کو کھٹا سکے یا بڑھا سکے یا ایسی کوئی نئی صفت آپ میں پیدا کر سکے جس کا مادہ آپ کی طبیعت میں موجود نہ ہو۔

بیجا پندار سے احتراز

١- ٹھیک یہی مضمون ہے ایک حدیث کا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: متن نظر في دينه الى من هو فوقة فاقتدي به ونظر في دنياء الى من هو دونه فحمد الله على ما فضله الله عليه كتبه الله شاكراً صابراً. ومن نظر في دينه الى من هو دونه ونظر في دنياه الي من هو فوقه تاسف على ما فاته منه لم يكتبه الله شاكراً ولا صابراً. (بقیه حاشیه صفحه ۲۳ پر)

تربیت گاہوں سے فائدہ اٹھائیے

ہماری دلی خواہش تھی کہ ایسی تربیت گاہیں کم از کم ہر ضلع میں قائم کی جائیں اور ہمہ وقتی کام کرتی رہیں۔ لیکن ابھی ہمارے پاس ایسےآدمیوں کی کمی ہےجو اس کام کو چلانےکےاہل ہوں اور دوسرے ضروری وسائل بھی کافی نہیں ہیں۔اس لیےسردست صرف لاہور راولپنڈی،ملتان اور کراچی میں تھوڑی تھوڑی مدت کےلیےاس کا انتظام کیا گیا ہے۔ تاہم مجھے توقع ہے کہ اس تھوڑے سےانتظام کا بھی آپ کو بہت کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انشاء اللہ اس کورس سے گزر کر آپ خود محسوس کریں گے کہ یہ ایک بڑا مفید پروگرام ہے جو جماعت نے شروع کیا ہے۔ میں تمام رفقاء سےدرخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا ئیں۔

اپنے گھروں کی طرف توجہ کیجئے

اس معاملے میں رفقاء کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی زندگی میں دلچسپی لیں اور نہ صرف اپنی اولاد کو بلکہ اپنے رفقاء کی اولاد کو بھی سنوارنے میں حصہ لیں۔ہا رہا ایسا ہوتا ہے کہ ایک بچہ اپنے باپ کا اثر قبول نہیں کرتا مگر اپنے باپ کے دوستوں کا اثر قبول کر لیتا ہے۔

آپس کی اصلاح اور اس کا طریقہ

باہمی اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہےکہ جس شخص کی کوئی بات آپ کو کھٹکنےیا جس سےکوئی شکایت آپ کو ہو اس کےمعاملہ میں آپ جلدی نہ کریں، بلکہ پہلےاسےاچھی طرح سمجھنےکی کوشش کریں۔پھر اولین فرصت میں خود اس شخص سےمل کر تخلیه میں اس سےبات کریں۔اس پر اگراصلاح نہ ہو اور معاملہ آپ کی نگاہ میں کچھ اہمیت رکھتا ہو تو اسےاپنےعلاقےکےامیر جماعت کے نوٹس میں لائیں۔وہ پہلےخود اصلاح کی کوشش کرےاور پھر ضرورت ہو تو جماعت کےاجتماع میں اسےپیش کرے۔ اس پوری مدت میں اس معاملہ کا ذکر غیر متعلق لوگوں سےکرنا،اور شخص متعلق کی غیرموجودگی میں اس کا چرچا کرنا صریحا غیبت ہے، جس سے قطعی اجتناب کرنا چاہیے۔نیز ایسے معاملات میں مرکز کی طرف رجوع کرنا اس وقت تک صحیح نہیں ہے جب تک مقامی جماعت اصلاح کی سعی میں ناکام ہو کر مرکز سے مدد لینے کی ضرورت محسوس نہ کرے۔

اجتماعی تنقید کا صحیح طریقہ

ان حدود کو ملحوظ رکھ کر جو تنقید کی جائےوہ نہ صرف یہ کہ مفید ہےبلکہ جماعتی زندگی کو درست رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی جماعت زیادہ دیر تک صحیح راستے پر گامزن نہیں رہ سکتی ۔ اس تنقید سے کسی کو بھی بالاتر نہ ہونا چاہیئے خواہ وہ آپ کا امیر ہو یا مجلس شوری ہویا پوری جماعت ہو۔ میں اس کو جماعت کی صحت برقرار رکھنےکےلیےناگزیر سمجھتا ہوں اور مجھےیقین ہے کہ جس روز خدا نخواستہ ہماری جماعت میں اس کا دروازہ بند ہوا اسی روز ہمارے بگاڑ کا دروازہ کھل جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ میں ابتدا سےہر اجتماع عام کےبعد ارکان جماعت کا ایک اجتماع خاص اس غرض کےلیےمنعقد کرتا رہا ہوں کہ اس میں جماعت کےکام اور نظام کا پورا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ایسے اجتماعات میں سب سےپہلے میں خود اپنے آپ کو تنقید کے لیےپیش کرتا ہوں تا کہ جس کو مجھ پر یا میرےکام پر کوئی اعتراض ہو وہ اسےسب کےسامنےبےتکلف پیش کرےاور اس کی تنقید سےیا تو میری اصلاح ہو جائے یا میرےجواب سے اس کی اور اس کی طرح سوچنے والے دوسرے لوگوں کی غلط نہیں رفع ہو جائے چنانچہ اس طرح کا ایک اجتماع کل رات ہی کو منعقد ہو چکا ہے جس میں کھلی اور آزادانہ تنقید کا منظر سب رفتار دیکھ چکےہیں- - - مجھے یہ معلوم کر کےحیرت ہوئی کہ یہ منظر ہمارےبعض نئےرفقاء کےلیے جنہیں ایسےمناظر دیکھنےکا پہلی ہی مرتبہ اتفاق ہوا تھا، سخت صدمے کا موجب ہوا ۔ نہ معلوم انہوں نے کس نگاہ سے اس کو دیکھا کہ انہیں صدمہ ہوا۔ بصیرت کی نگاہ سے دیکھتے تو ان کے دل میں جماعت کی وقعت پہلےسے زیادہ بڑھ جاتی۔ آخر اس سر زمین پر جماعت اسلامی کے سوا اور کون سی جماعت ایسی ہے جس میں تین چار سو آدمیوں کےمجمع میں کئی گھنٹےتک ایسی کھلی اور آزادانہ تنقیدیں ہوں اور پھر نہ کرسیاں اچھلیں، نہ سر پھوٹیں۔ بلکہ اجتماع کےخاتمے پر کسی کےدل میں کسی کی طرف سے غبار تک نہ ہو؟

سمع وطاعت اور نظم جماعت کی پابندی

اسلامی نقطہ نظر سےاقامت دین کی سعی کرنےوالی ایک جماعت میں جماعت کےاولی الامر کی اطاعت فی المعروف دراصل اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا ایک جز ہے۔ جو شخص اللہ کا کام سمجھ کر یہ کام کر رہا ہے اور اللہ ہی کے کام کی خاطر جس نے کسی کو اپنا امیر مانتا ہے وہ اس کے جائز حکام کی اطاعت کر کے دراصل اس کی نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے۔ جس قدر اللہ سے اور اس کے دین سے آدمی کا تعلق زیادہ ہو گا اتنا ہی وہ سمع و طاعت میں بڑھا ہوا ہو گا، اور جتنی اس تعلق میں کمی ہوگی اتنی ہی سمع و طاعت میں بھی کمی ہوگی۔ اس سے بڑی قابل قدر قربانی اور کیا ہو سکتی ہے کہ جس شخص کا آپ پر کوئی زور نہیں ہے اور جسے محض خدا کے کام کے لیے امیر مانا ہے اس کا حکم آپ ایک وفادار ماتحت کی طرح مانیں اور اپنی خواہش اور پسند اور مفاد کے خلاف اس کے ناگوار احکام تک کی بسر و چشم تعمیل کرتےچلے جائیں۔ یہ قربانی چونکہ اللہ کے لیے ہے اس لیے اس کا اجر بھی اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اس کام میں شریک ہونے کے بعد بھی کسی حال میں چھوٹا بننے پر راضی نہ ہو اور اطاعت کو اپنے مرتبے سے گری ہوئی چیز سمجھے یا حکم کی چوٹ اپنے نفس کی گہرائیوں میں محسوس کرے اور مٹی کے ساتھ اس پر تلملائے یا اپنی خواہش اور مفاد کے خلاف احکام کو مانے میں ہچکچائے، وہ دراصل اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ ابھی اس کے نفس نے اللہ کے آگے پوری طرح سر اطاعت غم نہیں کیا ہے اور ابھی اس کی انانیت اپنے دعوؤں سے دست بردار نہیں ہوئی ہے۔

امرائے جماعت کو نصیحت

ارکان جماعت کو اطاعت محکم کی نصیحت کرنےکے ساتھ میں امرائےجماعت کو بھی یہ نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ حکم چلانےکا صحیح طریقه سیکھیں۔جس شخص کو بھی نظم جماعت کے اندر کسی ذمہ داری کا منصب سونپا جائےاور کچھ لوگ اس کےتحت امر دیےجائیں، اس کے لیے یہ ہرگز حلال نہیں ہےکہ وہ اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھنے لگے اور اپنے تابع رفقاء پر بے جا تحکم جتانے لگے۔ اسے حکم چلانے میں کبریائی کی لذت نہ لینی چاہیے۔اسے اپنے رفقاء سے نرمی اور ملاطفت کےساتھ کام لینا چاہیے۔اسے اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں کسی کارکن میں عدم اطاعت اور خود سری کا جذہ یہ ابھار دینے کی ذمہ داری خود اس کے اپنے کسی غلط طریق کار پر عائد نہ ہو جائے۔ اسے جوان اور بوڑھے کمزور اور طاقت ور خوش حال اور خستہ حال سب کو ایک لکڑی سے نہ ہانکنا چاہیے بلکہ جماعت کے مختلف افراد کی مخصوص انفرادی حالتوں پر نگاہ رکھنی چاہیے اور جو جس لحاظ سے بھی بجا طور پر رعایت کا مستحق ہو اس کو ویسی ہی رعایت دینی چاہیے۔ اسے جماعت کو ایسے طریقے پر تربیت دینی چاہیے کہ امیر جو کچھ مشورے اور اپیل کے انداز میں کہئے رفقاء اس کو حکم کے انداز میں لیں اور اس کی تعمیل کریں۔ یہ در اصل جماعتی شعور کی کمی کا نتیجہ ہے کہ امیر کی اپیل اثر انداز نہ ہو اور وہ مجبور ہو کر حکم دینے کی ضرورت محسوس کرے۔ حکم تو تنخواہ دار فوج کے سپاہیوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ رضا کا رسپاہی جو اپنے دل کے جذبے سے اپنےخدا کی خاطر ا کٹھے ہوئے ہوں خدا کے کام میں خود اپنے بنائے ہوئے امیر کی اطاعت کے لیے حکم کے محتاج نہیں ہوا کرتے۔ ان کو تو صرف یہ اشارہ مل جانا کافی ہے کہ فلاں جگہ تم کو اپنے رب کی فلاں خدمت بجالانے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ کیفیت جس روز امرائے جماعت اور رفقائے جماعت میں پیدا ہو جائے گی، آپ دیکھیں گے کہ آپس کی وہ بہت کی بدمزگیاں آپ سے آپ ختم ہو جائیں گی جو اب وقتا فوقتا امیروں اور ماموروں کے درمیان پیدا ہوتی رہتی ہیں۔

آخری نصیحت

اقامت دین کے کام میں رفقاء کو جیسا انتہاک ہونا چاہیے اس میں بھی ابھی مجھے بہت کی محسوس ہوتی ہے۔ بعض رفیق تو بلاشبہ پوری سرگرمی سےکام کر رہےہیں۔ جسے دیکھ کر جی خوش ہو جاتا ہےاور دل سےان کےحق میں دعا نکلتی ہےمگر بیشتر حضرات میں ابھی تک دل کی لگن نظر نہیں آتی۔ فسق و فجور کی گرم بازاری اور خدا کےدین کی بے بسی دیکھ کر ایک مومن کے قلب میں جو آگ لگنی چاہیے اس کی تپش کم ہی لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ آپ کو اس پر کم سےکم اتنی بے چینی تو لاحق ہو جتنی اپنے بچےکو بیمار دیکھ کر یا اپنے گھر میں آگ لگنےکا خطرہ محسوس کر کےلاحق ہوا کرتی ہے۔ یہ معاملہ بھی ایسانہیں ہےجس میں کوئی شخص کسی دوسرےشخص کےلیےسرگرمی اور انهماک کی حد تجویز کر سکتا ہو۔ اس کا فیصلہ تو ہر شخص کو اپنے ضمیر کا جائزہ لے کر خود ہی کرنا چاہیےکہ کتنا کچھ کام کو کے وہ یہ سمجھنےمیں حق بجانب ہو سکتا ہےکہ حق پرستی کےتقاضےاس نے پورےکر دیے ہیں۔ البته آپ کی عبرت کے لیے ان باطل پرستوں کی سرگرمیوں پر ایک نگاہ ڈال لینا کافی ہے جو دنیا میں کسی نہ کسی دین باطل کو فروغ دینےکے درپے ہیں اور اس کے لیے سر دھڑ کی بازیاں لگارہے ہیں۔

مخالفتین

آخر اس تعلیم قرآن و حدیث کا حاصل کیا جس سے آدمی حق پرستی کےبجائے استاد پرستی اور پیر پرستی سیکھنے اور اسلامی حمیت کے بجائے گروہی عصبیت کا سبق لے۔

دعوت کا مختصر کورس

مگر جماعت کے ساتھ وابستہ ہو جانے کے بعد اسے پورا الٹر کچھ پڑھنے کا مشورہ ضرور دیجئے۔ اس کے بغیر اس کی ذہنیت اور سیرت اچھی طرح تیار نہ : وسکے گی اور زندگی کے مختلف مسائل و معاملات میں اسلامی نقطہ نظر کو وہ ٹھیک ٹھیک سمجھنےکےقابل نہ ہو سکےگا۔البتہ پورے لچڑ پچر کا مطالعہ جماعت میں داخل ہونے سے پہلے کر لینا ضروری نہیں ہے۔

خواتین کے لیے ہدایات

یه تقریر ۱۳ نومبر ۱۹۵۱ء کو اجتماع عام منعقدہ کراچی کے آخری اجلاس میں کی تھی تھی

کتاب ہدایات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت Oct. 29, 2025
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

ہدایت