ہدایات

امرائے جماعت کو نصیحت

ارکان جماعت کو اطاعت محکم کی نصیحت کرنےکے ساتھ میں امرائےجماعت کو بھی یہ نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ حکم چلانےکا صحیح طریقه سیکھیں۔جس شخص کو بھی نظم جماعت کے اندر کسی ذمہ داری کا منصب سونپا جائےاور کچھ لوگ اس کےتحت امر دیےجائیں، اس کے لیے یہ ہرگز حلال نہیں ہےکہ وہ اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھنے لگے اور اپنے تابع رفقاء پر بے جا تحکم جتانے لگے۔ اسے حکم چلانے میں کبریائی کی لذت نہ لینی چاہیے۔اسے اپنے رفقاء سے نرمی اور ملاطفت کےساتھ کام لینا چاہیے۔اسے اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں کسی کارکن میں عدم اطاعت اور خود سری کا جذہ یہ ابھار دینے کی ذمہ داری خود اس کے اپنے کسی غلط طریق کار پر عائد نہ ہو جائے۔ اسے جوان اور بوڑھے کمزور اور طاقت ور خوش حال اور خستہ حال سب کو ایک لکڑی سے نہ ہانکنا چاہیے بلکہ جماعت کے مختلف افراد کی مخصوص انفرادی حالتوں پر نگاہ رکھنی چاہیے اور جو جس لحاظ سے بھی بجا طور پر رعایت کا مستحق ہو اس کو ویسی ہی رعایت دینی چاہیے۔ اسے جماعت کو ایسے طریقے پر تربیت دینی چاہیے کہ امیر جو کچھ مشورے اور اپیل کے انداز میں کہئے رفقاء اس کو حکم کے انداز میں لیں اور اس کی تعمیل کریں۔ یہ در اصل جماعتی شعور کی کمی کا نتیجہ ہے کہ امیر کی اپیل اثر انداز نہ ہو اور وہ مجبور ہو کر حکم دینے کی ضرورت محسوس کرے۔ حکم تو تنخواہ دار فوج کے سپاہیوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ رضا کا رسپاہی جو اپنے دل کے جذبے سے اپنےخدا کی خاطر ا کٹھے ہوئے ہوں خدا کے کام میں خود اپنے بنائے ہوئے امیر کی اطاعت کے لیے حکم کے محتاج نہیں ہوا کرتے۔ ان کو تو صرف یہ اشارہ مل جانا کافی ہے کہ فلاں جگہ تم کو اپنے رب کی فلاں خدمت بجالانے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ کیفیت جس روز امرائے جماعت اور رفقائے جماعت میں پیدا ہو جائے گی، آپ دیکھیں گے کہ آپس کی وہ بہت کی بدمزگیاں آپ سے آپ ختم ہو جائیں گی جو اب وقتا فوقتا امیروں اور ماموروں کے درمیان پیدا ہوتی رہتی ہیں۔

کتاب ہدایات
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت Oct. 29, 2025
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

ہدایت